رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا احمد بزرگ مکی
- جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیری
- حضرت مولانا حافظ عبدالسلام لکھنوی
- حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی
- حضرت مولانا حافظ حکیم عبدالشکور حنفی
- حضرت مولانا محمد یعقوب مونگیری
- حضرت مولانا علم الدین ساکن قادیان
- جناب محترم مکرم منشی محمد شفیع امرتسری
- حضرت مولانا علم الدین حافظ آبادی
- جناب قاضی اشرف حسین رحمانی
احتساب قادیانیت
جلد ٣٠
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4514122
رَدّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٣٠
- جناب حاجی سید عبدالرحمٰن مونگیریؒ
- حضرت مولانا احمد بزرگ سکنتی
- حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ
- حضرت مولانا حافظ عبدالسلام کھتویؒ
- حضرت مولانا محمد یعقوب مونگیریؒ
- حضرت مولانا حافظ حکیم ابوالشکور حقیؒ
- جناب مکرم منشی محمد شفیع امرتسریؒ
- حضرت مولانا ظفر الدین ساکن قادیان
- جناب قاضی اشرف حسین رحمانیؒ
- حضرت مولانا علم الدین حافظ آبادیؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم الله الرحمن الرحيم !
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد تیس (٣٠) نام مصنفین : حضرت مولانا احمد بزرگ سملکیؒ حضرت مولانا حافظ عبدالسلام لکھنویؒ حضرت مولانا حافظ حکیم عبدالشکور حقیؒ حضرت مولانا علم الدین ساکن قادیان حضرت مولانا کلیم دین حافظ آبادیؒ جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ جناب محترم المکرم منشی محمد شفیع امرتسریؒ جناب قاضی اشرف حسین رحمانیؒ
صفحات : ٦٨٠ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : ستمبر ٢٠٠٩ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الرحيم! احتساب قادیانیت جلد تیس (٣٠) حضرت مولانا احمد بزرگ سملکیؒ حضرت مولانا حافظ عبدالسلام لکھنویؒ حضرت مولانا حافظ حکیم عبدالشکور رنقیؒ حضرت مولانا علم الدین ساکن قادیان حضرت مولانا علم دین حافظ آبادیؒ جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ جناب محترم المکرم منشی محمد شفیع امرتسریؒ جناب قاضی اشرف حسین رحمانیؒ
: ٢٨٠ : ٣٥٠ روپے : ناصر آرٹ پریس لاہور : ستمبر ٢٠٠٩ء : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٠
عرض مرتب ٤ ١...... روئیداد مباحثہ رنگون حضرت مولانا احمد بزرگ سملکیؒ ١١ ٢...... صولت محمدیہ بر فرقہ غلمدیہ حضرت مولانا حافظ عبدالسلام لکھنویؒ ١٥٧ ٣...... تحفہ محمدیہ برائے فرقہ غلمدیہ حضرت مولانا حافظ حکیم عبدالشکور رنقیؒ ٢١١ ٤...... حقیقت مرزائیت مع ختم نبوت بجواب اجراء نبوت حضرت مولانا علم الدینؒ ٢٩٧ ٥...... چودھویں صدی کا دجال کون؟ مولانا علم دین حافظ آبادیؒ ٤٠١ ٦...... آئینہ قادیانی جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ ٤١٣ ٧...... تنبیہ قادیانی // // ٤٢٥ ٨...... حق طلب کی سچی فریاد // // ٤٣٥ ٩...... قادیانی نبوت کا خاتمہ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ ٤٥٧ ١٠...... صاعقہ آسمانی بر فتنہ قادیانی حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ ٤٧٥ ١١...... عبد الماجد قادیانی کی کھلی چٹھی کا مفصل جواب // // ٥٠٩ ١٢...... مرزائیت کے متعلق جزیرہ ٹرینی ڈاڈ کے مسلمانوں کے سات سوالات کے جوابات // // ٥١٩ ١٣...... اسلامیہ تبلیغی انسائیکلو پیڈیا جناب منشی محمد شفیع امرتسریؒ ٥٧٩ ١٤...... جواب حقانی جناب قاضی اشرف حسین رحمانیؒ ٦٤٥
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، امابعد! قارئین کرام! لیجئے اللہ رب العزت کی توفیق وعنایت سے احتساب قادیانیت کی تیسویں (٣٠) جلد پیش خدمت ہے۔ اس میں چودہ کتب ورسائل جمع کئے گئے ہیں۔
- 1 ...... روئیداد مباحثہ رنگون :
١٩٢٠ء میں لاہوری مرزائی گروہ کے نفس ناطقہ خواجہ کمال الدین رنگون برما گئے اور برما کے مسلمانوں سے چندہ بٹورنے کے لئے اپنے کو اور اپنے گروہ لاہوری مرزائیوں کو اسلام کے روپ میں پیش کیا۔ اس زمانہ میں برما میں مولانا احمد بزرگ سملکیؒ وہاں مسلمانوں کے نامور عالم دین تھے۔ آپ نے خواجہ کمال الدین کے کذب ودجل کو پارہ پارہ کرنے کے لئے لکھنو سے مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کو برما تشریف لانے کی دعوت دی۔ آپ کی تشریف آوری پر برما کے مسلمانوں کے لئے پردہ غیب سے رحمت خداوندی کا مظاہرہ ہوا۔ خواجہ کمال الدین کو مباحثہ کے لئے خطوط لکھے گئے۔ اس کے شبہات کے جوابات دیئے گئے۔ جگہ جگہ اس کی تردید میں اجتماعات منعقد ہوئے۔ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ عالم دین، حاضر جواب، مناظر اور بلا کے خطیب تھے۔ برصغیر میں ردِ رفض پر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ محدث دہلوی کے بعد سب سے زیادہ آپ نے کام کیا۔ اس زمانہ میں اس مباحثہ کی تمام کاروائی کو ”صحیفہ رنگون بر پیروان دجال زبون“ کے نام سے مولانا احمد بزرگ سملکیؒ نے مرتب کر کے شائع کیا۔ اب چند سال ہوئے دینی تعلیمی ٹرسٹ لکھنو نے اسے جدید خطوط پر مرتب کر کے روئیداد مباحثہ رنگون کے نام پر شائع کیا۔ اب تیسری بار احتساب قادیانیت کی
اس جلد میں اس کو شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم فلحمد لله !
- 2 ...... صولت محمدیہ بر فرقہ غلمدیہ:
یکم رجب المرجب ١٣٥١ھ سے ١٢؍ رجب لکھنویؒ شہرہ آفاق مقدمہ بہاولپور کی پیروی کے لئے صاحبزادہ مولانا حافظ عبدالسلام آپ کے ہمراہ تھے۔اس بہاولپور کے لئے جو مواد جمع کیا اس کتاب میں آپ کے کر دیا۔ اس کتاب کے چار فصل اور ایک خاتمہ ہے۔ ف لئے چند ضروری ہدایات، فصل دوم: میں مقدمہ بہاو غلمد یہ وقادیانیہ، مرزائیہ کی مختصر تاریخ ہے۔ فصل چہار چند ضروری معلومات (عقائد کفریہ) ہیں۔ خاتمہ: می چشم دید حالات ہیں۔ اسی کتاب سے مرزا ملعون کے میں بھی درج کیا گیا۔ بہت سا مواد ایک ہی ہے۔ چ مرزا قادیانی کے کفر کو واضح کیا گیا۔ ہم نے بھی اس ک رہنے دیا۔ موقعہ کی مناسبت سے اس کے سوا چارہ نہ تھا۔
- 3 ...... تحفہ محمدیہ برائے فرقہ غلمدیہ (قادیانیہ، مرز
مرزاپور انڈیا کے حضرت مولانا حافظ عبدا ایک پیروکار کے رسالہ ”نور ہدایت“ کا تحفہ محمدیہ کے ن لکھنو سے شائع ہوا۔ اولاً یہ ماہنامہ رسالہ النجم لکھنؤ نب قسط وار شائع ہوا۔ بعدہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ ا
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
نحمدہ ونصلی على رسوله الكريم . اما بعد! ! لیجئے اللہ رب العزت کی توفیق و عنایت سے احتساب قادیانیت کی خدمت ہے۔ اس میں چودہ کتب و رسائل جمع کئے گئے ہیں۔
رنگون: لاہوری مرزائی گروہ کے نفس ناطقہ خواجہ کمال الدین رنگون برما گئے سے چندہ بٹورنے کے لئے اپنے کو اور اپنے گروہ لاہوری مرزائیوں کو کیا۔ اس زمانہ میں برما میں مولانا احمد بزرگ سملکیؒ وہاں مسلمانوں ۔ آپ نے خواجہ کمال الدین کے کذب و دجل کو پارہ پارہ کرنے کے م حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کو برما تشریف لانے کی دعوت دی۔ ، برما کے مسلمانوں کے لئے پردہ غیب سے رحمت خداوندی کا مظاہرہ مباحثہ کے لئے خطوط لکھے گئے۔ اس کے شبہات کے جوابات دیئے وید میں اجتماعات منعقد ہوئے۔ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ عالم دین، بلا کے خطیب تھے۔ برصغیر میں ردرفض پر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ ب سے زیادہ آپ نے کام کیا۔ اس زمانہ میں اس مباحثہ کی تمام بر پیروان دجال زبون“ کے نام سے مولانا احمد بزرگ سملکیؒ نے اب چند سال ہوئے دینی تعلیمی ٹرسٹ لکھنؤ نے اسے جدید خطوط پر حثہ رنگون کے نام پر شائع کیا۔ اب تیسری بار احتساب قادیانیت کی
اس جلد میں اس کو شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سعادت حاصل کر رہی ہے۔
فلحمد لله !
- 2....... صولت محمدیہ برفرقہ غلمدیہ:
یکم رجب المرجب ١٣٥١ھ سے ١٢ رجب المرجب تک حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ شہرہ آفاق مقدمہ بہاولپور کی پیروی کے لئے بہاولپور تشریف لائے۔ آپ کے صاحبزادہ مولانا حافظ عبدالسلام آپ کے ہمراہ تھے۔ اس زمانہ میں حضرت لکھنویؒ نے مقدمہ بہاولپور کے لئے جو مواد جمع کیا اس کتاب میں آپ کے صاحبزادہ صاحب نے محفوظ و مرتب کر دیا۔ اس کتاب کے چار فصل اور ایک خاتمہ ہے۔ فصل اوّل: میں برادران اسلامی کے لئے چند ضروری ہدایات، فصل دوم: میں مقدمہ بہاولپور کے واقعات، فصل سوم: میں فرقہ غلمدیہ و قادیانیہ، مرزائیہ کی مختصر تاریخ ہے۔ فصل چہارم: میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق چند ضروری معلومات (عقائد کفریہ) ہیں۔ خاتمہ: میں ریاست بہاولپور کے کچھ مسرت انگیز چشم دید حالات ہیں۔ اسی کتاب سے مرزا ملعون کے کفریہ عقائد ونظریات کو مباحثہ رنگون میں بھی درج کیا گیا۔ بہت سا مواد ایک ہی ہے۔ چونکہ دونوں جگہ انہیں حوالہ جات سے مرزا قادیانی کے کفر کو واضح کیا گیا۔ ہم نے بھی اس کتاب میں اس طرح تکرار کے باوجود رہنے دیا۔ موقعہ کی مناسبت سے اس کے سوا چارہ نہ تھا۔
- 3....... تحفہ محمدیہ برائے فرقہ غلمدیہ (قادیانیہ، مرزائیہ)
مرزاپور انڈیا کے حضرت مولانا حافظ عبدالشکور حنفیؒ نے مرزا قادیانی ملعون کے ایک پیروکار کے رسالہ ”نور ہدایت“ کا تحفہ محمدیہ کے نام سے جواب تحریر فرمایا۔ عمدۃ المطابع لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اوّلاً یہ ماہنامہ رسالہ النجم لکھنؤ نمبر ١٣ تا ١٦، رجب، شعبان ١٣٤٩ھ میں قسط وار شائع ہوا۔ بعدہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اب دوسری بار ستمبر ٢٠٠٩ء میں مجلس تحفظ
ختم نبوت اس کی اشاعت کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔ فلحمد لله!
- 4...... حقیقت مرزائیت مع ختم نبوت، بجواب اجرائے نبوت:
اس کتاب کے مصنف مولانا علم الدین ساکن خاص قادیان ہیں۔ مولانا علم الدین بعد میں جامع مسجد کمل پور (اٹک) کے خطیب بھی رہے۔ آپ کے قیام اٹک کے دوران میں ایک قادیانی ملعون نے چہار ورقی پمفلٹ بنام ”اجرائے نبوت“ شائع کیا۔ مولانا علم الدین نے اس کے جواب میں یہ کتاب شائع فرمائی۔ جو ٢١؍شعبان ١٣٤٧ھ کو آپ نے مکمل فرمائی۔ اس کتاب میں قادیانی گروہ کی کتب سے قادیانیت کو باطل ثابت کیا گیا اور مسئلہ ختم نبوت کو تحقیق و الزام ہر دو طریق پر روشن کر کے دیکھا گیا ہے۔ اس جلد میں یہ بھی شامل ہے۔
- 5...... چودھویں صدی کا دجال کون؟
مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک پیرو نے ”چودھویں صدی کا چاند“ نامی رسالہ شائع کیا۔ حافظ آباد کی جامع مسجد اہل حدیث کے خطیب مولانا علم دین نے جواب میں ”چودھویں صدی کا دجال کون؟“ یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ معروف اہل حدیث رہنما مولانا نور حسین گرجاکھی گوجرانوالہ شہر نے اس رسالہ کو شائع فرمایا۔ اب دوبارہ احتساب کی اس جلد میں اسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شائع کر رہی ہے۔ فلحمد لله!
- 6...... آئینہ قادیانی:
خانقاہ رحمانی مونگیر کے متوسلین میں ایک بڑا نام حضرت حاجی سید عبدالرحمن صاحب کا ہے۔ آپ حضرت قبلہ مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کے مریدان با صفا میں سے تھے۔ آپ نے ”آئینہ قادیانی“ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی کتب واقوال سے قادیانیت کے مکروہ عقائد وعزائم سے عوام کو باخبر کرتے ہوئے قادیانیت کی حالت واقعی کو بیان کیا ہے۔
اولاً خانقاہ مونگیر سے یہ شائع ہوا۔ اب اس ہو رہی ہے۔ فلحمد لله !
- 7...... تنبیہ قادیانی:
یہ رسالہ بھی خانقاہ رحمانیہ مونگیر ۔ عبدالرحمن صاحب ہیں۔ اس کے پہلے ایڈیشن
فتنہ در دین محمـ
ی نہد فضل خود
ژاژ خاید زبانـ
قصه دیرینه غلا
حالیاً تازہ زوسـ
گاہ عیسیٰ گاہ ۔
گاہ ابن اللہ گا ۔
پہلے شعر میں جہاں کے بعد اور آ میں اس کے چوبیس صفحات تھے۔ اب مکمل اللہ تعالیٰ مرحوم مصنف کی تربت پر اپنی رحمتوں
- 8...... حق طلب کی سچی فریاد:
عبدالمجید نامی ایک ماسٹر قادیانی خط مولانا عصمت اللہ مدرس سوپول کو لکھا ا بھی کر دیا گیا۔ جو خط اپنے بھائی کو لکھا ا
اولاً خانقاہ مونگیر سے یہ شائع ہوا۔ اب اس جلد میں شائع کرنے کی ہمیں سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ فالحمد للہ!
7 ........ تنبیہ قادیانی:
یہ رسالہ بھی خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے شائع ہوا۔ اس کے مصنف بھی حضرت حاجی عبدالرحمن صاحب ہیں۔ اس کے پہلے ایڈیشن کے ٹائٹل پر فارسی کے یہ اشعار درج تھے۔
فتنہ در دین محمد مصطفےٰ خواہد شدن
می نہد فضل خودش برنور عین مصطفےٰ
ژاژ می خاید زباںش بیحیا خواہد شدن
قصہ دیرینہ ظلم یزید پر جفا
حالیا تازہ ز دست میرزا خواہد شدن
گاہ عیسٰی گاہ موسیٰ گاہ فخر انبیاء
گاہ ابن اللہ گا ہے خود خدا خواہد شدن
پہلے شعر میں جہاں کے بعد اور قادیان سے پہلے کا لفظ مٹا ہوا ہے۔ پہلی اشاعت میں اس کے چوبیس صفحات تھے۔ اب مکمل کمپیوٹر اشاعت اس جلد میں شائع ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم مصنف کی تربت پر اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائیں۔
8 ........ حق طلب کی سچی فریاد:
عبدالمجید نامی ایک ماسٹر قادیانیت سے متاثر تھے۔ انہوں نے دو خط لکھے۔ ایک خط مولانا عصمت اللہ مدرس سوپول کو لکھا اور دوسرا خط اپنے بھائی عبدالحمید کو لکھا۔ جسے شائع بھی کر دیا گیا۔ جو خط اپنے بھائی کو لکھا اسے معروف قادیانی عبد الماجد نے شائع کرایا۔
دونوں خطوط کا جواب حضرت حاجی سید عبدالرحمن صاحب نے تحریر فرمایا۔ کان پور سے اولاً یہ شائع ہوا۔ اس جلد میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائیں۔
- 9 ...... قادیانی نبوت کا خاتمہ ..... مرزائیوں سے چند سوال:
لدھیانہ کے معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ تھے۔ آپ کے خاندان کے اکابر نے اولاً مرزا قادیانی ملعون پر کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ، بانی احرار، رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے رشتہ میں چچا لگتے تھے۔ تقسیم کے بعد آپ منڈی بہاء الدین میں عرصہ تک جامع مسجد کے خطیب رہے۔ ١٩٦٣ء میں فیصل آباد جناح کالونی کی جامع مسجد میں بطور خطیب کے تشریف لائے۔ ١٩٧٠ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ جب آپ لدھیانہ میں تھے۔ تب آپ لدھیانہ کے مفتی تھے۔ آپ نے یہ رسالہ ١٤؍ نومبر ١٩٣٣ء کو تحریر فرمایا۔ قادیانیوں نے ٢٢؍ اکتوبر ١٩٣٣ء کو پورے ہندوستان میں یوم تبلیغ منانے کا اعلان کیا۔ اس موقعہ پر ”کیا آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعی کے اجراء کا قائل کافر ہے؟“ دو ورقہ پمفلٹ قادیانی جماعت نے قادیان سے شائع کیا۔ جس کا حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ نے یہ جواب تحریر فرمایا۔ پون صدی کے بعد اس جلد میں اسے شائع کرنے کی توفیق ایزدی پر سجدہ شکر بجالتے ہیں۔ فالحمد والشكر لله!
- 10 ...... صاعقہ آسمانی برفتنۂ قادیانی:
حضرت حکیم محمد یعسوب صاحب خانقاہ رحمانیہ مونگیر کے متوسلین میں سے تھے۔ ”صاعقہ آسمانی برفتنۂ قادیانی“ آپ کا تالیف کردہ رسالہ ہے۔ آپ نے اس کا تعارف یوں لکھا۔ ”اللہ دتہ صاحب قادیانی کے مایہ ناز رسالہ ”خاتمِ مسیح آسمانی“ کا برہانی جواب ان کے بہتر (٧٢) مطالبات کا انہیں پر انقلاب (پھیر دینا) قابل دید ہے۔ پھر حیات ونزول عیسیٰ
علیہ السلام کا ثبوت قرآن وحدیث ہے۔“ ٢٨؍ جنوری ١٩٢٢ء کو بائی پ ہے۔ فالحمد للہ!
- 11 ...... عبدالماجد قادیانی کی کھلی
انڈیا میں پورینی کے مقا مونگیریؒ وہاں (پورینی) تشریف آپ کے ہمراہ تھے۔ پورے علاقہ عبدالماجد قادیانی کے پاؤں تلے س چٹھی شائع کی۔ موقعہ پر اجمالی جوا رام کر دی۔ بعد میں اس رسالہ کی ٹ جلد میں شامل ہے۔ یہ ١٦؍ مئی ١٩١٦
- 12 ...... مرزائیت کے متعلق ج
جوابات:
حضرت مولانا حکیم محمد یو اہل سنت ایسے اکابر نے اس کی تائ
- 13 ...... اسلامیہ تبلیغی انسائیکلو پیڈ
مولانا منشی محمد شفیع امرتسر عیسائیت، یہودیت، ہندومت، سک کے رد میں ابواب وار خامہ فرسائی مشتمل ہے۔ رد قادیانیت کی بحث
ت حاجی سید عبدالرحمن صاحب نے تحریر فرمایا۔ کان پور سے آئی ہے ل ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائیں۔
- یا خاتمہ.....مرزائیوں سے چند سوال:
روف عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ تھے۔ آپ کے اُ مرزا قادیانی ملعون پر کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ مولانا مفتی محمد نعیم س الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کے رشتہ میں چچا پ منڈی بہاء الدین میں عرصہ تک جامع مسجد کے خطیب رہے۔ تاج کالونی کی جامع مسجد میں بطور خطیب کے تشریف لائے۔ میں آپ کا انتقال ہوا۔ جب آپ لدھیانہ میں تھے۔ تب آپ آپ نے یہ رسالہ ١٢؍ نومبر ١٩٣٣ء کو تحریر فرمایا۔ قادیانیوں نے ے ہندوستان میں یوم تبلیغ منانے کا اعلان کیا۔ اس موقعہ پر ”کیا وت غیر تشریعی کے اجراء کا قائل کافر ہے؟“ دو ورقہ پمفلٹ قادیانی شائع کیا۔ جس کا حضرتؒ مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ نے یہ جواب کے بعد اس جلد میں اسے شائع کرنے کی توفیق ایزدی پر سجدہ شکر الشکر لله!
- ...... بر فتنہ قادیانی:
محمد یعقوب صاحب خانقاہ رحمانیہ مونگیر کے متوسلین میں سے تھے۔ یانی“ آپ کا تالیف کردہ رسالہ ہے۔ آپ نے اس کا تعارف یوں ادیانی کے مایہ ناز رسالہ ”خاتمہ مسیح آسمانی“ کا برہانی جواب ان کے نہیں پر انقلاب (پھیر دینا) قابل دید ہے۔ پھر حیات ونزول عیسیٰ
علیہ السلام کا ثبوت قرآن وحدیث سے اور مرزا کا اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹا ہونا اس پر مزید ہے۔ ٢٨؍ جنوری ١٩٢٢ء کو بانکی پور پٹنہ سے شائع ہوا۔ اس جلد میں اسے بھی شامل کیا گیا ہے۔ فلحمد لله!
- 11 ...... عبد الماجد قادیانی کی کھلی چٹھی کا مفصل جواب:
انڈیا میں پورینی کے مقام پر عبد الماجد قادیانی رہتے تھے۔ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ وہاں (پورینی) تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ پورے علاقہ میں دھوم دھام سے ہر دو بزرگان کے بیانات ہوئے۔ عبدالماجد قادیانی کے پاؤں تلے سے زمین سرکنے لگی۔ اپنی خفت مٹانے کے لئے اس نے کھلی چٹھی شائع کی۔ موقعہ پر اجمالی جواب حضرت چاند پوریؒ نے دے کر قادیانی عبدالماجد کی بولتی بند کر دی۔ بعد میں اس رسالہ کی شکل میں حکیم محمد یعقوبؒ نے تفصیلی جواب دیا۔ یہ بھی اس جلد میں شامل ہے۔ یہ ١٦؍ مئی ١٩١٦ء کو لکھا گیا تھا۔ خانقاہ رحمانیہ مونگیر سے شائع ہوا۔
- 12 ...... مرزائیت کے متعلق جزیرہ ٹرینی ڈاڈ کے مسلمانوں کے سات سوالات کے
جوابات:
حضرت مولانا حکیم محمد یعقوبؒ نے جوابات تحریر کئے۔ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ امام اہل سنت ایسے اکابر نے اس کی تائید وتوثیق فرمائی۔
- 13 ...... اسلامیہ تبلیغی انسائیکلوپیڈیا یعنی تحقیق المذاہب:
مولانا منشی محمد شفیع امرتسریؒ نے یہ اسلامیہ تبلیغی انسائیکلوپیڈیا مرتب فرمائی۔ اس میں عیسائیت، یہودیت، ہندومت، سکھ مت، آریہ دھرم، پارسی مذہب، کمیونزم اور قادیانیت کے رد میں ابواب وار خامہ فرسائی کی ۔ باب نہم ص ١١١ سے ٢٠٨ تک قادیانیت کی تردید پر مشتمل ہے۔ رد قادیانیت کی بحث اس کتاب میں شامل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے
ہیں۔ اس کا تیسرا ایڈیشن لاہور سے اگست ١٩٥٢ء میں شائع ہوا۔ اب اسے ٢٠٠٩ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت شائع کر رہی ہے۔
14...... جواب حقانی ملقب بہ آئینہ صداقت:
ایک قادیانی نے اسرار نہانی لکھی۔ اس کا جواب یہ رسالہ ہے۔ جو مولانا قاضی اشرف حسینؒ نے شائع فرمایا۔ خانقاہ مونگیر سے ١٣٣٢ھ کو بار اول شائع ہوا۔
یوں احتساب قادیانیت کی تیسویں (٣٠) جلد
مولانا احمد بزرگ سملکیؒ کا ١ رسالہ حافظ عبدالسلام لکھنویؒ کا ١ رسالہ حکیم عبدالشکور حنفیؒ کا ١ رسالہ حضرت مولانا علم الدینؒ کا ١ رسالہ مولانا علم الدینؒ کا ١ رسالہ حاجی عبدالرحمٰن صاحبؒ کے ٣ رسائل مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ کا ١ رسالہ حکیم محمد یعقوبؒ کے ٣ رسائل منشی محمد شفیع امرتسریؒ کا ١ رسالہ قاضی اشرف حسینؒ کا ١ رسالہ
کل ١٤ رسائل پر یہ جلد مشتمل ہے۔
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ٢٠؍ رمضان المبارک ١٤٣٠ھ ١١؍ ستمبر ٢٠٠٩ء
لاہور سے اگست ١٩٥٦ء میں شائع ہوا۔ اب اسے ٢٠٠٩ء میں مجلس ہے۔
ب بہ آئینہ صداقت: نے اسرار نہانی لکھی۔ اس کا جواب یہ رسالہ ہے۔ جو مولانا قاضی یا۔ خانقاہ مونگیر سے ١٣٣٢ھ کو بارِ اوّل شائع ہوا۔
ادیانیت کی تیسویں (٣٠) جلد
سملکیؒ کا ١ رسالہ لکھنویؒ کا ١ رسالہ تیؒ کا ١ رسالہ ام الدینؒ کا ١ رسالہ کا ١ رسالہ صاحبؒ کے ٣ رسائل انویؒ کا ١ رسالہ کے ٣ رسائل ریؒ کا ١ رسالہ نؒ کا ١ رسالہ
١٤ رسائل پر یہ جلد مشتمل ہے۔
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ملتان ٢٠؍ رمضان المبارک ١٤٣٠ھ ١١؍ ستمبر ٢٠٠٩ء
خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
روئیداد
مباحثہ رنگون
(صحیفہ رنگون بر پیروان دجال زبون)
افادات (حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ)
ترتیب (حضرت مولانا احمد بزرگ سملکیؒ)
عرض ناشر
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً ومسلماً! الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وخاتم النبیین سیدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین!
”عقیدہ ختم نبوت“ دین اسلام کا بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے اور رسول خدا ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک ہر دور اور ہر مقام کے تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ورسالت ختم ہوچکی۔ آپؐ کے بعد قیامت تک کسی بھی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ جو شخص نبی ﷺ کے بعد ”نبوت“ کا دعویٰ کرے وہ ”کذاب، دجال“ اور کھلا ہوا کافر ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے صاف اور کھلے لفظوں میں اپنے نبی ورسول ہونے کا اعلان اور دعویٰ کیا تو علماء حق نے اپنا دینی فریضہ تصور کرتے ہوئے اس عظیم فتنہ کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ ہزاروں کتابوں، مناظروں اور مباحثوں کے ذریعہ قادیانی مذہب کا رد کیا اور ہر محاذ پر قادیانیت کی سرکوبی کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔
زیر نظر کتاب بھی اسی مبارک سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو رنگون میں قادیانی فتنہ کے خلاف ہونے والی کوششوں کی روداد ہے۔ ١٩٢٠ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص الخاص مصاحب اور لاہوری پارٹی کے رہنما خواجہ کمال الدین بی۔اے، ایل۔ایل۔بی نے رنگون میں مقیم سورتی تاجروں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے کے لئے خط و کتابت کی اور ان خطوط میں اپنے رنگون آنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ یہاں آکر قادیانیت کی تخم ریزی کریں اور اپنا تیار کردہ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ شائع کرنے کے لئے لوگوں سے چندہ وصول کریں۔ کسی حد تک خواجہ کمال الدین اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے اپنے لیکچروں کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو متاثر کیا اور ترجمہ قرآن کے نام پر مسلمانوں سے خاصی رقم بھی جمع کی۔
رنگون میں قائم جمعیت علماء اور دینی مدارس کے ذمہ داروں کو جب اس تشویشناک صورتحال کا پتہ چلا کہ خواجہ کمال الدین رنگون آرہا ہے تو معززین شہر اور جمعیت علماء کی طرف سے پورے شہر میں اشتہارات تقسیم کر دیئے گئے۔ ان اشتہارات میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات اور مرزائی مذہب کی تفصیلات کو ظاہر کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو ان اشتہارات سے کسی قدر
٢
عرض ناشر
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً ومسلماً! والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وخاتم النبیین سیدنا محمد وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین!
ت‘ دین اسلام کا بنیادی اور ضروری عقیدہ ہے اور رسول خداﷺ تک ہر دور اور ہر مقام کے تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع رہا ہے کہ رسالت ختم ہو چکی۔ آپؐ کے بعد قیامت تک کسی بھی قسم کا کوئی نبی کے بعد ”نبوت“ کا دعویٰ کرے وہ ”کذاب، دجال“ اور کھلا
کے اوائل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے صاف اور کھلے لفظوں میں لان اور دعویٰ کیا تو علماء حق نے اپنا دینی فریضہ تصور کرتے ہوئے اس ساتھ مقابلہ کیا۔ ہزاروں کتابوں، مناظروں اور مباحثوں کے ذریعہ حاذ پر قادیانیت کی سرکوبی کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔
ی اسی مبارک سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو رنگون میں قادیانی فتنہ کے کی روداد ہے۔ ١٩٢٠ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص الخاص کے رہنما خواجہ کمال الدین بی۔اے، ایل۔ایل۔بی نے رنگون میں ام فریب میں گرفتار کرنے کے لئے خط و کتابت کی اور ان خطوط میں ظاہر کی تا کہ وہ یہاں آ کر قادیانیت کی تخم ریزی کریں اور اپنا تیار کردہ شائع کرنے کے لئے لوگوں سے چندہ وصول کریں۔ کسی حد تک خواجہ میں کامیاب بھی ہوئے اور انہوں نے اپنے لیکچروں کے ذریعہ سادہ ترجمہ قرآن کے نام پر مسلمانوں سے خاصی رقم بھی جمع کی۔
جمعیت علماء اور دینی مدارس کے ذمہ داروں کو جب اس تشویشناک ل الدین رنگون آ رہا ہے تو معززین شہر اور جمعیت علماء کی طرف سے ام کر دیئے گئے۔ ان اشتہارات میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات ت کو ظاہر کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو ان اشتہارات سے کسی قدر
٢
”قادیانیت“ سے واقفیت حاصل ہو چکی تھی۔ تاہم جمعیت علماء رنگون خصوصاً حضرت مولانا احمد بزرگ سملکیؒ، مفتی اعظم جامع سورتی رنگون نے مسلمانوں کو قادیانیت کے زہریلے اثرات سے بچانے اور قادیانی مذہب سے واقف کرانے کی غرض سے طے کیا کہ لکھنؤ سے امام اہل سنت حضرت مولانا محمد عبد الشکور فاروقیؒ کو دعوت دی جائے تا کہ قادیانی فتنہ اور خواجہ کمال الدین کی ریشہ دوانیوں کا پوری قلع قمع ہو جائے۔
جمعیت علماء رنگون کی دعوت پر حضرت امام اہل سنتؒ رنگون رونق افروز ہوئے۔ آپ نے اس فتنہ کے خلاف جو سعی بلیغ فرمائی اور خواجہ کمال الدین کی اصل حقیقت کو بے نقاب کیا تو حق واضح ہو کر مسلمانوں کے سامنے آ گیا اور خواجہ کمال الدین کو بڑی رسوائی اور ذلت کے ساتھ رنگون چھوڑنا پڑا۔
١٩٢٠ء میں یہ کتاب ”صحیفۂ رنگون بر پیروانِ دجالِ زبون“ کے نام سے ”اصح المطابع“ لکھنؤ سے شائع ہوئی اور ایک عرصہ سے نایاب تھی۔ کئی مرتبہ اس کتاب کی اشاعت کا دل میں داعیہ پیدا ہوا۔ مگر میری غیر معمولی مصروفیات اور وسائل کی کمی کے باعث یہ کام معرض التواء میں پڑا رہا۔ اب جب کہ یہ ناکارہ ”عقیدۂ ختم نبوت“ کی اشاعت وحفاظت اور لکھنؤ کے قرب و جوار کے اضلاع میں ”قادیانی فتنہ“ کی سرکوبی کے لئے اپنی بساط کے مطابق جدوجہد کر رہا ہے تو اس کتاب کی ضرورت اور اشاعت کی فکر بڑی شدت سے محسوس ہوئی۔ چونکہ حضرت امام اہل سنتؒ کی علمی بحثوں اور خاص طور پر مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کی تردید میں میرے علم ومطالعہ میں اس سے زیادہ مفید ومدلل اور اس ترتیب وتفصیل کے ساتھ یکجا طور پر اتنا مواد کسی دوسری کتاب میں موجود نہیں ہے اور بجا طور پر یہ حضرت امام اہل سنتؒ کے علمی تبرکات اور باقیات صالحات میں سے ہے۔ قادیانیت کے رد میں کام کرنے والے علماء کرام اور دارالعلوم دیوبند میں اپنے بعض رفقاء سے کئی ملاقاتوں میں راقم الحروف نے اس کتاب کی افادیت اور اشاعت کا تذکرہ کیا تو تمام دوستوں نے میری رائے سے اتفاق کیا اور کتاب کی اشاعت پر زور دیا۔
”دینی تعلیمی ٹرسٹ“ لکھنؤ جس کے قیام کا مقصد ہی دین اسلام کی اشاعت اور باطل فرقوں کی تردید ہے اور جو گذشتہ سالوں سے لکھنؤ کے قرب و جوار میں دینی کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہے۔ اس کے اہتمام سے اب یہ کتاب منظر عام پر آ رہی ہے اور ”روداد مباحثہ رنگون“ کے نئے نام سے شائع کی جا رہی ہے۔
اللہ پاک جزائے خیر دے۔ عزیز گرامی مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند
٣
مجلس تحفظ ختم نبوت دار العلوم دیوبند کو کہ انہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اصل کتاب کو سامنے رکھ کر قادیانیوں کی قدیم کتابوں سے مراجعت کی اور کتاب میں درج حوالوں کو ’’روحانی خزائن‘‘ (جو مرزا غلام احمد قادیانی کے خرافات کا ٢٣ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم مجموعہ ہے) سے ملا کر کتاب کے معیار و اعتبار کو چار چاند لگا دیئے۔
اللہ پاک ’’دینی تعلیمی ٹرسٹ‘‘ لکھنؤ کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ہمیں اس کتاب سے استفادہ کر کے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کی توفیق بخشے۔
عبدالعلیم فاروقی چیئرمین دینی تعلیمی ٹرسٹ ٢٧/٤٩، چوہدری گڑھیا لکھنؤ ٢٢٦٠٠٣
کچھ کتاب کے بارے میں
قادیانی مذہب کی لاہوری شاخ کا مکروہ چہرہ عوام کو دکھانے کے لئے چھوٹی بڑی اب تک جو کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں یہ کتاب مختصر بھی ہے اور اصولی بھی۔ رہی کتاب کی افادیت کی بات تو یہ ’’مشک آنست کہ خود ببوید‘‘ کی مصداق ہے۔ اس کو معرض بحث میں لانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہاں ایک بات سپرد قلم کرتا چلوں ممکن ہے کہ عام لوگوں کی رسائی وہاں تک نہ ہو۔ وہ یہ کہ قاطع مرزائیت شیر اسلام حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کے قلمی مسودات کے مطالعہ کے دوران راقم سطور کی نظر سے گزرا کہ حضرت چاند پوریؒ اس کتاب پر اعتماد فرماتے ہیں اور جو کچھ قادیانیوں پر گرفت اس کتاب میں کی گئی ہے۔ بالخصوص قادیانیوں کے شائع کردہ ترجمہ قرآن مجید میں قادیانی تحریفات کے سلسلہ میں اسے حضرت چاند پوریؒ اسی کتاب کے حوالہ سے بلا نقد و تبصرہ اپنے مسودہ میں درج فرماتے ہیں۔
کتاب پر ایک صدی گزر گئی۔ وقت کا تقاضا تھا کہ اس کی افادیت کو عام کرنے اور اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے بطور مقدمہ مختصرًا ہی سہی چند ضروری باتیں شامل اشاعت کر دی جائیں۔ مثلاً لاہوری گروپ کی تاریخ، لاہوریوں کی منافقانہ پالیسی تاریخ کے آئینہ میں لاہوریوں اور قادیانیوں کے درمیان اختلاف کے مکروہ اسباب، محمد علی اور خواجہ کمال الدین کی شخصیت اور حیثیت، لاہوری گروپ کی خطرناکی اور زہرناکی وغیرہ۔ مگر یہ سب کچھ کتاب کی طباعت و اشاعت بلا تاخیر مطلوب ہونے کے باعث نہ ہو سکا۔ ’’لعل اللّٰه یحدث بعد ذلک امراً‘‘
٤
یہ وضاحت شاید قارئ لئے مذکورۃ الصدر جملہ عناوین پر پیش ہیں۔ تا کہ ناظرین کو بخوبی رنگون کا پالا پڑا تھا اس سے نمٹنا اما کے مقابل آکر فتح وظفر کا جھنڈا لہ
قادیانی مذہب میں خ چلتا ہے کہ ابتداءً مرزا قادیانی او عیسائی کی موت سے متعلق مرزا کچھ تزلزل نہ آیا۔ چنانچہ ضمیمہ ان خواجہ کمال الدین بی اے بڑی چہرے پر نیک بختی کے نشان پاتا
(تریاق القلوب ص ٩١
گواہوں میں شمار کرایا اور اپنی خا مقدمات میں خواجہ نے بحیثیت میں اچھی خاصی مرزا کی حجامت کتاب نے اپنے حاشیہ میں کذ مقدمہ خواجہ سے ہی متعلق تھا اور کی جو گت بنوائی ہے اس کی تفص نے بین القوسین نوٹ لگا کر مرتا ہے تا کہ تصنیفی اصول کے خلاف مرزا قادیانی کی الہام بازی کی ت
١٩١٤ء میں جب لاہ مسٹر محمد علی لاہوری کے دست و باز کا سبق مرزا قادیانی سے انہوں۔ کچھ تبصرہ کرے مناسب سمجھتا ہے ہیں۔ جن کی روشنی میں خواجہ کی زند
العلوم دیوبند کو کہ انہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود اصل دیانیوں کی قدیم کتابوں سے مراجعت کی اور کتاب میں درج حوالوں کو ز اغلام احمد قادیانی کے خرافات کا ٢٣ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم مجموعہ معیار واعتبار کو چار چاند لگا دیئے۔ نی تعلیمی ٹرسٹ‘‘ لکھنو کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ہمیں اس کتاب تم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کی توفیق بخشے۔
عبدالعلیم فاروقی چیئرمین دینی تعلیمی ٹرسٹ ٤٩/ ٢٧٠ چوہدری گڑھیا لکھنو ٢٢٦٠٠٣
ے میں
کی لاہوری شاخ کا مکر وہ چہرہ عوام کو دکھانے کے لئے چھوٹی بڑی اب ۔ ان میں یہ کتاب مختصر بھی ہے اور اصولی بھی۔ رہی کتاب کی افادیت کہ خود جوید‘‘ کی مصداق ہے۔ اس کو معرض بحث میں لانے کی ضرورت پر قلم کرتا چلوں ممکن ہے کہ عام لوگوں کی رسائی وہاں تک نہ ہو۔ وہ یہ کہ حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کے قلمی مسودات کے مطالعہ کے سے گزرا کہ حضرت چاند پوریؒ اس کتاب پر اعتماد فرماتے ہیں اور جو کچھ اب میں کی گئی ہے۔ بالخصوص قادیانیوں کے شائع کردہ ترجمہ قرآن مجید سلسلہ میں اسے حضرت چاند پوریؒ اسی کتاب کے حوالہ سے بلا نقد و تبصرہ تے ہیں۔
صدی گزر گئی ۔ وقت کا تقاضا تھا کہ اس کی افادیت کو عام کرنے اور نے کے لئے بطور مقدمہ مختصراً ہی سہی چند ضروری باتیں شامل اشاعت وری گروپ کی تاریخ، لاہوریوں کی منافقانہ پالیسی تاریخ کے آئینہ نوں کے درمیان اختلاف کے مکروہ اسباب، محمد علی اور خواجہ کمال یت، لاہوری گروپ کی خطرناکی اور زہرناکی وغیرہ۔ مگر یہ سب کچھ ت بلا تاخیر مطلوب ہونے کے باعث نہ ہوسکا۔ ”لعل اللہ یحدث
٤
یہ وضاحت شاید قارئین کی شکایت کا باعث بنے کہ پھر اشارہ ہی کیوں کیا گیا۔ اس لئے مذکورۃ الصدر جملہ عناوین پر تو نہیں۔ البتہ خواجہ کمال الدین کی شخصیت وحیثیت پر چند سطریں پیش ہیں۔ تاکہ ناظرین کو بخوبی یہ اندازہ ہو سکے کہ جس مکروہ شخص اور قادیانی عفریت سے اہل رنگون کا پالا پڑا تھا اس سے نمٹنا امام اہل سنت ہی کا حصہ تھا۔ ہر شخص کے بس کا یہ روگ نہ تھا جو خواجہ کے مقابل آکر فتح وظفر کا جھنڈا لہرادیتا۔
قادیانی مذہب میں خواجہ کمال الدین کا ایک ممتاز مقام ہے۔ مرزائی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ابتداءً مرزا قادیانی اور خواجہ کمال الدین کے تعلقات خلوص پر مبنی تھے۔ عبداللہ آتھم عیسائی کی موت سے متعلق مرزا کی پیشین گوئی صاف طور پر جھوٹی نکلنے پر بھی خواجہ کے اعتقاد میں کچھ تزلزل نہ آیا۔ چنانچہ ضمیمہ انجام آتھم میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے ۔ ”ہمارے نوعمر دوست، خواجہ کمال الدین بی اے بڑی سرگرمی سے دین کی اشاعت میں کوشش کرتے ہیں۔ ان کے چہرے پر نیک بختی کے نشان پاتا ہوں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١٥)
(تریاق القلوب ص ٩١، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٤) میں مرزا قادیانی نے خواجہ کو اپنے مخصوص گواہوں میں شمار کرایا اور اپنی خانہ ساز پیشین گوئیوں پر بطور فخر گواہ ٹھہرایا ہے۔ علاوہ ازیں کئی ایک مقدمات میں خواجہ نے بحیثیت وکیل مرزا کی خدمت کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض مقدمات میں اچھی خاصی مرزا کی حجامت بھی بنوادی ہے۔ جیسا کہ آپ اسی کتاب میں پڑھیں گے۔ مرتب کتاب نے اپنے حاشیہ میں کذبات مرزا کے ضمن میں اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔ لیکن چونکہ وہ مقدمہ خواجہ سے ہی متعلق تھا اور اسی مقدمہ میں خواجہ ہی کی وکالت میں اللہ رب العزت نے مرزا کی جو گت بنوائی ہے اس کی تفصیل مرزا کی زبانی ضروری معلوم ہوتی تھی۔ اس وجہ سے راقم سطور نے بین القوسین نوٹ لگا کر مرتب کے حاشیہ کو داخل متن کر کے اس پر ضروری تفصیل کا اضافہ کر دیا ہے تاکہ تصنیفی اصول کے خلاف بھی نہ ہو اور قارئین حاشیہ در حاشیہ کی الجھن سے بچتے ہوئے مرزا قادیانی کی الہام بازی کی تاریخی حقیقت سے واقف بھی ہو جائیں۔
١٩١٤ء میں جب لاہوری گروپ کی شکل میں قادیانی مذہب تقسیم ہوا تو یہی خواجہ کمال الدین، مسٹر محمد علی لاہوری کے دست وبازو بن گئے۔ جہاں سے خواجہ کی زندگی کا وہ منافقانہ دور شروع ہوتا ہے جس کا سبق مرزا قادیانی سے انہوں نے سیکھا تھا۔ قبل ازیں کہ راقم سطور خواجہ کے اس دوسرے دور سے متعلق کچھ تبصرہ کرے مناسب سمجھتا ہے کہ قادیانی اخبار ”الفضل قادیان“ نے خواجہ کے قول وعمل جو محفوظ کر رکھے ہیں۔ جن کی روشنی میں خواجہ کی زندگی خوب واضح ہو کر سامنے آتی ہے وہ ملاحظہ فرمائیے۔
٥
- ١....... ”ایک نہایت عجیب بات ہے کہ خواجہ صاحب (مرزا قادیانی کی) حقیقی
پیش گوئیوں کو وقعت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ پیش گوئیاں کیا بلاء ہوتی ہیں۔ ایسی پیش گوئیاں تو عام لوگ کر دیتے ہیں۔ ابھی میرے پاس ایک کتاب تھی۔ جس میں اس جنگ (جون ١٩١٩ء میں ہوئی تھی) کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہوئی تھیں۔ جو بعینہ صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔“
(الفضل ١٢ جنوری ١٩٢٠ء ج ٧ ش ٥١)
- ٢....... ”ووکنگ مشن کے کارکنوں (جس کے سرغنہ خواجہ کمال الدین تھے) کے
دکھانے کے دانت اور ہیں اور کھانے کے اور۔ جلسے پر آنے والوں کے لئے تو یہ دکھانے کے لئے کہ ہم اشاعت احمدیت کو کس قدر ضروری سمجھتے ہیں۔ لکھ دیا لوگوں کو احمدی بنانے میں کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن ان کا اپنا عمل یہ ہے کہ ولایت میں احمدیت کا ذکر کرنا اور حضرت مسیح موعود کا نام لینا سم قاتل سمجھتے ہیں۔“
(الفضل ١٩ فروری ١٩٢٠ء ص ١٤)
مرزا کے ایک قریبی دوست کے قول و عمل میں جہاں لاہوریوں اور مرزائیوں کے لئے عبرت کا سبق ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خواجہ اور مرزا کی گہری دوستی اپنے اخیر مرحلے میں کھٹی ہوتی نظر آتی ہے اور مرزا نے اپنی کوڑھ مغزی سے خواجہ کے چہرے میں نیک بختی کے جو نشان دیکھے تھے اور اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں پر خواجہ کو گواہ بنایا کرتا تھا۔ وہ سب کچھ اخیر میں رفو چکر ہوتا نظر آتا ہے اور یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ خواجہ اور مسٹر محمد علی لاہوری اپنے انہی دو خطرناک دانتوں کے سہارے زندگی بھر مسلمانوں بلکہ بعض اہل علم اور دانشوروں کا شکار کرتے رہے۔
”صحیفہ رنگون“ (جواب روداد مباحثہ رنگون کے نام سے شائع ہوا ہے) کے بعض مضامین سے اس کا اشارہ ملتا ہے کہ علماء رنگون نے قادیانیت کے خلاف ہزار ہا اشتہارات شائع کئے اور بے شمار جلسے جلوس بھی کئے۔ لیکن اپنے جگری دوست مرزا قادیانی سے سیکھی سکھائی منافقانہ پینترے بازیوں میں کامل خواجہ کمال الدین اس وقت تک زیر نہ ہوا۔ جب تک امام اہل سنت نے رنگون پہنچ کر خواجہ کی شہ رگ نہ دبائی۔ یہ حضرت امام اہل سنت کے گہرے مطالعہ اور موضوع سے متعلق وسیع تر معلومات نیز مرزائیوں کی کتابوں اور کتابچوں تک رسائی کی بات ہے کہ آپ نے ١٩٠٩ء کی خواجہ کی تصنیف ”صحیفہ آصفیہ“ کو رنگون پہنچتے ہی جب پیش کیا اور لاہوری نفاق کی دبیز تہوں میں چھپے خواجہ کے بھیانک جرائم طشت از بام کئے تو وہ خواجہ جی جو اپنی چکنی چپڑی باتوں
٦
"ایک نہایت عجیب بات ہے کہ خواجہ صاحب (مرزا قادیانی کی) حقیقی نظرسے نہیں دیکھتے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔ پیش گوئیاں کیا بلاء ہوتی عام لوگ کر دیتے ہیں۔ ابھی میرے پاس ایک کتاب تھی۔ جس میں اس ہوئی تھی) کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہوئی تھیں۔ جو بعینہ صحیح ثابت
(الفضل ١٢/ جنوری ١٩٢٠ء ج ٧ نمبر ٥١)
"ووکنگ مشن کے کارکنوں (جس کے سرغنہ خواجہ کمال الدین تھے) کے اور کھانے کے اور۔ جلسے پر آنے والوں کے لئے تو یہ دکھانے کے لئے کس قدر ضروری سمجھتے ہیں۔ لکھ دیا لوگوں کو احمدی بنانے میں کوشش کرنی سنا یہ ہے کہ ولایت میں احمدیت کا ذکر کرنا اور حضرت مسیح موعود کا نام لینا
(الفضل ١٩/ فروری ١٩٢٠ء ص ١٤)
قریبی دوست کے قول وعمل میں جہاں لاہوریوں اور مرزائیوں کے لئے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خواجہ اور مرزا کی گہری دوستی اپنے اخیر آتی ہے اور مرزا نے اپنی کوڑھ مغزی سے خواجہ کے چہرے میں نیک بختی اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں پر خواجہ کو گواہ بنایا کرتا تھا۔ وہ سب کچھ اخیر میں یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ خواجہ اور مسٹر محمد علی لاہوری اپنے کے سہارے زندگی بھر مسلمانوں بلکہ بعض اہل علم اور دانشوروں کا شکار
" (جواب روداد مباحثہ رنگون کے نام سے شائع ہورہی ہے) کے بعض وملتا ہے کہ علماء رنگون نے قادیانیت کے خلاف ہزار ہا اشتہارات شائع بھی کئے۔ لیکن اپنے جگری دوست مرزا قادیانی سے سیکھی سکھائی منافقانہ خواجہ کمال الدین اس وقت تک زیر نہ ہوا۔ جب تک امام اہل سنتؒ نے ل نہ دہائی۔ یہ حضرت امام اہل سنتؒ کے گہرے مطالعہ اور موضوع سے نیز مرزائیوں کی کتابوں اور کتابچوں تک رسائی کی بات ہے کہ آپ نے "صحیفہ آصفیہ" کو رنگون پہنچتے ہی جب پیش کیا اور لاہوری نفاق کی کے بھیانک جرائم طشت از بام کئے تو وہ خواجہ جی جو اپنی چکنی چپڑی باتوں
٦
میں پورے شہر اور رئیس رنگون سر جمال جیسوں کو یرغمال بنائے بیٹھا تھا۔ ساری اکڑفوں بھول، رنگون سے یوں بھاگنے لگا جیسے مجرم پولیس کو دیکھ کر چھپتا بھاگتا ہے اور دیکھا یہ گیا کہ خواجہ کبھی حلف اٹھا کر ایمان کی دہائی دیتا ہے۔ کبھی یارِ غار مرزا قادیانی سے برأت ظاہر کرتا اور کبھی جھوٹے حوالوں اور کتابوں کی بندر بھبکی دیتا ہے۔ جب بات کسی طرح بنتی نظر نہیں آتی تو کہتا ہے صاحب ہمیں ایک پیسہ نہ دو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔ مگر ہوا یہ کہ امام اہل سنتؒ نے خواجہ کی شہ رگ جو دبا رکھی تھی خواجہ کے سامنے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
ناظرین! یہ تھے خواجہ کمال الدین جن کی شخصیت وحیثیت جاننے کے بعد ہمارے اکابر سے ان کی صف آرائی کا ایک منظر آپ کتاب ہذا میں پڑھیں گے۔ اس سے متعلق ہمیں کچھ نہیں کہنا۔ ہاں کتاب کو ایک صدی کے بعد منظرِ عام پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا گیا۔ اس کی وضاحت ضروری ہے تاکہ راقم سطور پر تصنیفی اصول کی خلاف ورزی کا الزام نہ عائد ہو۔
- ......١ کتاب کی زبان صدی گزرنے کے بعد بھی قابل تفہیم اور رواں ہے۔ اس
لئے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ خال خال کہیں ضرورت پڑی تو سادہ قوسین () کے درمیان اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
- ......٢ مرتب کتاب کا حاشیہ پہلے سے کتاب میں ہے۔ جس پر اخیر میں علامت
١٢؎ کی لگی ہوئی ہے۔ راقم سطور نے جن امور کی وضاحت حاشیہ میں ضروری سمجھی اس کے اخیر میں ’’ش ، ع‘‘ لکھ دیا ہے تاکہ مرتب کے حاشیہ سے امتیاز رہے۔
- ......٣ قدیم طرز کتابت کی وجہ سے کتاب میں پیراگراف کی تبدیلی اور ان کے
درمیان ذیلی سرخیوں کا اضافہ اسی طرح علاماتِ ترقیم، فل اسٹاپ، کاما، رابطہ، ندائیہ، سوالیہ، سیمی کولن وغیرہ لگانا ناگزیر تھا۔ راقم نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ لیکن اس کا خاص خیال رکھا ہے کہ جہاں کام بن گیا وہاں خود حضرت مرتب کتاب ہی کی عبارتوں کو ذیلی سرخی میں تبدیل کیا۔ اگر مرتب کی موزوں عبارت نہ ملی تب اپنی جانب سے کسی مناسب جملہ کا اضافہ کیا ہے۔
- ......٤ قادیانی کتب اور دیگر کتابوں کے حوالوں کی مراجعت خود راقم سطور نے
کی ہے۔ جدید حوالے اور جہاں حوالے نہیں تھے۔ ان کا اضافہ راقم نے قوسین ﴿﴾ کے درمیان کیا ہے جو قدیم حوالوں کے ساتھ ہی لکھا گیا ہے تاکہ چھوٹی سی کتاب حاشیوں کا جنگل نہ بن جائے۔ چونکہ فن مناظرہ میں اطمینانِ قلبی کے لئے قاری کا ذہن خاص طور پر حوالوں کی جانب
٧
مرکوز رہتا ہے کہ آیا کہی ہوئی بات صحیح ہے اور اس کے حوالے اور ماخذ بھی دستیاب ہیں یا نہیں۔ اگر مستقل یہ حوالے حاشیہ میں درج کئے جاتے تو سطر دو سطر کے بعد حاشیہ کا مطالعہ یقینا قاری کے لئے الجھن کا باعث بنتا۔ ہاں! قادیانی کتابوں کے حوالے ”روحانی خزائن“ نامی سیٹ سے لئے گئے ہیں۔ قوسین میں ”خ“ سے مراد یہی مرزا قادیانی کی روحانی خطاؤں کا مجموعہ ہے اور ”ج“ سے مراد جلد ہے۔
- ٥...... بعض مقامات پر عنوانات میں ترتیب قائم کرنے کی غرض سے مضامین
میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہے۔ اس سے عبارت یا مرتب کتاب کے منشاء و مقصود میں کوئی کمی تو نہیں آئی۔ البتہ ترتیب کی وجہ سے افادیت میں اضافہ ہو گیا۔
- ٦...... کتاب میں مرزائی کتب کے بعض حوالے ایسے بھی ملے کی عبارت
مرزا قادیانی ہی کی ہے۔ لیکن کتاب کا نام بدلا ہوا ہے۔ شاید یہ کاتب کا سہو ہو یا بوقت طباعت نظر ثانی کی کمی ہو بہر کیف جو کچھ بھی ہو بندہ نے اس کی تصحیح کر دی ہے اور اس پر کوئی حاشیہ یا نوٹ اس لئے نہیں لگایا کہ کتاب کے طبع ثانی میں غلط حوالوں کی تصحیح کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر حاشیہ آرائی کی۔
- ٧...... رنگ و مزاج میں اختلاف کے باعث بعض احباب تو یہ کہیں گے کہ جو کچھ
کیا خوب کیا اور بعض کہیں گے کہ جو کچھ کیا سب غلط کیا۔ لیکن جس صورت میں بعض اعذار کے سبب تصنیفی اصولوں کے مکمل خیال نہ رکھ سکنے کا اور اپنی خامیوں کا اعتراف بندہ کو ہے تو اب مبصرین ناقدین کے لئے کتاب پر تنقید کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ہاں! ضرورت اس کی ہے خامیوں سے بندہ کو مطلع کیا جاوے تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح ہو سکے۔
اخیر میں اپنے محسن و کرم فرما حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب فاروقی دامت برکاتہم چیئرمین ”دینی تعلیمی ٹرسٹ“ مہتمم دارالمبلغین لکھنؤ اور رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھ کو امام اہل سنت حضرت مولانا محمد عبدالشکور فاروقی علیہ الرحمۃ کی علمی تحقیقات پر کچھ کام کرنے کا موقع عنایت فرمایا بلکہ استفادہ کی سعادت بخشی۔ یقینا حضرت مولانا موصوف رد قادیانیت پر کام کرنے والے تمام افراد کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ مولانا نے اس نایاب اور قیمتی کتاب کو اپنے ٹرسٹ کی طرف سے شائع فرمایا۔ فجزاہم اللہ خیر الجزا عنا وعن جمیع المسلمین“
والسلام!
شاہ عالم گورکھپوری، دارالعلوم دیوبند
٨
ہوئی بات صحیح ہے اور اس کے حوالے اور مآخذ بھی دستیاب ہیں یا نہیں۔ میں درج کئے جاتے تو سطر دو سطر کے بعد حاشیہ کا مطالعہ یقیناً قاری کے ۔ ہاں! قادیانی کتابوں کے حوالے ”روحانی خزائن“ نامی سیٹ سے لئے خ“ سے مراد یہی مرزا قادیانی کی روحانی خطاؤں کا مجموعہ ہے اور ”ج“
بعض مقامات پر عنوانات میں ترتیب قائم کرنے کی غرض سے مضامین ہے۔ اس سے عبارت یا مرتب کتاب کے منشاء ومقصود میں کوئی کمی تو نہیں ے افادیت میں اضافہ ہوگیا۔
کتاب میں مرزائی کتب کے بعض حوالے ایسے بھی ملے کی عبارت لیکن کتاب کا نام بدلا ہوا ہے۔ شاید یہ کاتب کا سہو ہو یا بوقت طباعت نظرثانی ی ہو بندہ نے اس کی تصحیح کر دی ہے اور اس پر کوئی حاشیہ یا نوٹ اس لئے نہیں میں غلط حوالوں کی تصحیح کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر حاشیہ آرائی کی۔
رنگ و مزاج میں اختلاف کے باعث بعض احباب تو یہ کہیں گے کہ جو کچھ ں گے کہ ساتواں نمبر یہی ہے کہ جو کچھ کیا سب غلط کیا۔ لیکن جس صورت صنیفی اصولوں کے مکمل خیال نہ رکھ سکنے کا اور اپنی خامیوں کا اعتراف بندہ تدین کے لئے کتاب پر تنقید کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ہاں! ضرورت اس کو مطلع کیا جاوے تا کہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح ہوسکے۔
ے محسن و کرم فرما حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی دامت برکاتہم ت“ مہتمم دارالمبلغین لکھنؤ اور رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کا بے حد ممنون مام اہل سنت حضرت مولانا محمد عبدالشکور فاروقی علیہ الرحمۃ کی علمی تحقیقات عنایت فرمایا بلکہ استفادہ کی سعادت بخشی۔ یقیناً حضرت مولانا موصوف ے والے تمام افراد کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ مولانا نے اس پنے ٹرسٹ کی طرف سے شائع فرمایا۔ ” فجزاہم الله خير الجزأ لمين “
والسلام! شاہ عالم گورکھپوری، دارالعلوم دیوبند
٨
جمیع برادرانِ اسلام خصوصاً تاجرانِ رنگون سے گزارش
خدا کے لئے غور سے پڑھو!
اے برادران اسلام! اے ہمدردان ملت! کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ دنیا میں کس قدر مذاہب ہیں اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ یقیناً آپ کو یہ سب کچھ معلوم ہے۔ خود آپ کے شہر رنگون میں قریب سو مذہب کے موجود ہیں اور ان مذہبوں کے ماننے والے اپنے اپنے مذہب کی اشاعت وحمایت میں سرگرم ہیں اور کوئی طریقہ کوشش کا ایسا نہیں جو ان سے چھوٹ جاتا ہو۔ روئے زمین پر فقط ایک ہم مسلمانان اہل سنت و جماعت ہیں جو خواب خرگوش میں سو رہے ہیں۔
فقط ایک ہم ہیں کہ بے بال و پر ہیں
جن مسلمانوں کو اپنے دین پاک کی خدمت کا شوق بھی ہے۔ ان میں اکثر کی حالت یہ ہے کہ روپیہ سے خالی ہیں اور بعض کے پاس روپیہ ہے تو ان کو کام اور بے کام کی پہچان نہیں ہے۔ خواجہ کمال الدین کو کہتے سنا ہے کہ میں لندن میں جا کر تبلیغ اسلام کروں گا۔ ان کو ہزاروں لاکھوں روپیہ دے دیا۔ پھر کسی نے تحقیق بھی نہ کی کہ انہوں نے لندن میں جا کر کیا کیا۔ اسلام کی اشاعت کی یا مرزائیت پھیلائی؟ کسی نے ان سے یہ بھی نہ کہا کہ حضرت آپ لندن میں مسلمان بنانے کے لئے جارہے ہیں کیا اب ہندوستان میں کوئی غیر مسلم باقی نہیں؟ سب کو مسلمان کرچکے۔ بہرحال مسلمانوں کی حالت رنج کے قابل ہے۔ کسی کو توجہ نہیں اور کسی کو سلیقہ نہیں۔ طبقہ علماء میں امراء کی شکایت ہے کہ وہ لوگ روپیہ کو دین و ایمان سے بھی عزیز سمجھتے ہیں اور طبقہ امراء میں علماء کا شکوہ ہے کہ وہ دین کی خدمت نہیں کرتے نہ کر سکتے ہیں۔ وہ صرف چند کتابوں کا پڑھا دینا یا فتویٰ لکھ دینا جانتے ہیں اور جو ضرورتیں اس وقت درپیش ہیں ان سے بالکل بے خبر ہیں۔
برادران من! ان دونوں طبقوں کی شکایتیں ایک حد تک درست ہیں۔ ابھی تازہ واقعہ ہے جب عالی جناب (امام اہل سنت) حضرت مولانا محمد عبدالشکور صاحب فاروقی ”مدیر النجم“ لکھنؤ سے رنگون تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی اور اس کی خدمات کو دو شعبوں پر منقسم کیا۔
- اوّل! یہ کہ مسلمانوں کو مسلمان بنانے، اپنے مذہب سے واقف کرنے کی کوشش کی
جائے۔
- دوم! یہ کہ غیر مسلموں کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اور یہ بھی فرمایا کہ پہلا کام بہ
٩
نسبت دوسرے کے سہل بھی ہے اور مفید اور ضروری ہونے میں بھی دوسرے کام پر فوقیت رکھتا ہے اور جناب ممدوح نے ان دونوں خدمات کے نہایت سہل اور نتیجہ خیز طریقے بھی متعین کئے۔ جن میں تقریری اور تحریری دونوں قسم کی خدمات کا مفصل تذکرہ تھا۔ اگر ان تجویزوں پر عمل ہوتا تو تھوڑے ہی دنوں میں کیا سے کیا ہوجاتا۔
اس جلسہ میں تمام رنگون کے ائمہ مساجد اور بعض تاجران عالی ہمت بھی موجود تھے۔ سب نے اس تجویز پر لبیک کہی اور اس کے مفید اور نتیجہ بخش ہونے کا یقین ظاہر کیا۔ بعض ذی رتبہ تاجروں نے سچے جوش میں بڑی بڑی رقموں کے دینے کا وعدہ کیا۔ جن میں عارف معلم صاحب اور حاجی یوسف صاحب، داؤد صاحب خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ عارف معلم صاحب نے اپنا مکان دو سو روپیہ ماہوار کرایہ کا دفتر انجمن کے لئے اور پچاس روپیہ ماہوار مصارف کے لئے پیش کیا۔ ”وعلی ھذا القیاس“ مگر مولانا صاحب ممدوح کے تشریف لے جانے کے بعد یہ سب باتیں افسانہ خواب ثابت ہوئیں۔ معلوم نہیں یہ کوتاہی کس کی طرف سے ہوئی۔ علماء کی طرف سے یا امراء کی طرف سے۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت مولانا صاحب موصوف سے سورتی تاجروں کی درخواست تھی کہ آپ رنگون میں قیام کریں۔ مگر انہوں نے منظور نہ کیا۔ اگر وہ وہاں رہتے تو بلاشک زبانی اور کتابی تقریری وتحریری دونوں طرح کا درس تبلیغ اس پیمانہ پر جاری ہوجاتا جو تجویز ہوا تھا اور اس کام میں جس قدر روپیہ کی ضرورت ہوتی تاجران رنگون کی ادنیٰ توجہ سے بآسانی فراہم ہوجاتا اور اس کا نفع نہ صرف ملک برما، بلکہ سارے ہندوستان بلکہ تمام دنیا کو پہنچتا۔ مگر یہ خیال دل کے سمجھانے کے لئے چنداں مفید نہیں۔ اچھا اگر حضرت مولانا صاحب ممدوح دوسری مہمات وضروریات کے باعث ترک وطن کر کے رنگون میں مقیم نہ ہوسکے تو دوسرے علماء رنگون میں موجود تھے اور ہیں، ان سے یہ کام کیوں نہ لیا گیا؟ یا اب کیوں نہیں لیا جاتا؟ اے مسلمانوں! خدا کے لئے جاگو اور دین الہی کی حمایت کرو۔ جس پر آج چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور کچھ نہیں ہوسکتا تو کیا مسلمانوں کو اسلام پر قائم رکھنے کی کوشش بھی تم سے نہیں ہوسکتی؟
چاہتے ہو تم سند اور امتحان دیتے نہیں
اے مردان بکوشید و جامہ زناں نپوشید۔ وما علینا الا البلاغ! راقم: ایک جگر سوختہ مسلمان اور مسلمانوں کا ادنیٰ خادم ١٠
الحمد للہ وحدہ وا وصحبہ الذین بھم تکامل جندہ اما بعد! برادران ایمانی قادیانی مدعی نبوت کے بعض متبعین رنگون میں دوچار مرزائی ہیں۔ مگر د کہ خواجہ کمال الدین جو بوجہ اشتہار حاصل کرچکے ہیں۔ رنگون قدم رنج حق تعالیٰ جزائے خیر د پر متوجہ ہوگئے اور انہوں نے اس ف سے بچالیا۔ ان صاحبوں نے بہا مولانا محمد عبدالشکور (فاروقی) صا ”بارك اللہ علیھم فی الدنی یہ اسی معرکہ خیز واقعہ ک رکھا گیا اور اس کو ایک مقدمہ اور دو مقدمہ میں ”مرزا اور میں خواجہ صاحب کے رنگون آ۔ لانے کے بعد خواجہ صاحب کے بیان ہے۔
دوسرے باب میں مر بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلہ می
- ١...... مرزا کا کذاب ہونا،
- ٢...... مرزا کے اقوال متعلق
- ٣...... مرزا کا دعویٰ نبوت۔
بھی ہے اور مفید اور ضروری ہونے میں بھی دوسرے کام پر فوقیت رکھتا ہے دونوں خدمات کے نہایت سہل اور نتیجہ خیز طریقے بھی متعین کئے۔ جن نوں قسم کی خدمات کا مفصل تذکرہ تھا۔ اگر ان تجویزوں پر عمل ہوتا تو سے کیا ہوجاتا۔
تمام رنگون کے ائمہ مساجد اور بعض تاجران عالی ہمت بھی موجود تھے۔ کی اور اس کے مفید اور نتیجہ بخش ہونے کا یقین ظاہر کیا۔ بعض ذی رتبہ ں بڑی بڑی رقموں کے دینے کا وعدہ کیا۔ جن میں عارف معلم صاحب داؤد صاحب خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ عارف معلم صاحب ہوار کرایہ کا دفتر انجمن کے لئے اور پچاس روپیہ ماہوار مصارف کے لئے القياس “ مگر مولانا صاحب ممدوح کے تشریف لے جانے کے بعد یہ ابت ہوئیں۔ معلوم نہیں یہ کوتاہی کس کی طرف سے ہوئی۔ علماء کی طرف
حضرت مولانا صاحب موصوف سے سورتی تاجروں کی درخواست تھی یں۔ مگر انہوں نے منظور نہ کیا۔ اگر وہ وہاں رہتے تو بلا شک زبانی اور طرح کا درس تبلیغ اس پیمانہ پر جاری ہوجاتا جو تجویز ہوا تھا اور اس کام ت ہوتی تاجران رنگون کی ادنیٰ توجہ سے بآسانی فراہم ہوجاتا اور اس کا سارے ہندوستان بلکہ تمام دنیا کو پہنچتا۔ مگر یہ خیال دل کے سمجھانے اچھا اگر حضرت مولانا صاحب ممدوح دوسری مہمات وضروریات کے ن میں مقیم نہ ہوسکے تو دوسرے علماء رنگون میں موجود تھے اور ہیں، ان اب کیوں نہیں لیا جاتا؟ اے مسلمانو! خدا کے لئے جاگو اور دین الہٰی ج چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں اور کچھ نہیں ہوسکتا تو کیا نے کی کوشش بھی تم سے نہیں ہوسکتی؟
چکے ہو تم سند اور امتحان دیتے نہیں
نہ جامہ زناں بپوشید ۔ و ما علینا الا البلاغ!
راقم : ایک جگر سوختہ مسلمان اور مسلمانوں کا ادنیٰ خادم
١٠
بسم الله الرحمن الرحیم
ابتدائیہ
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ نبیہ الذی لا نبی بعدہ وعلیٰ الہ وصحبہ الذین بھم تکامل جندہ!
اما بعد! برادران ایمانی کی خدمت میں گزارش ہے کہ گزشتہ ایام میں مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے بعض متبعین نے ارادہ کیا کہ ملک برما میں مرزائیت کی تخم ریزی کریں۔ شہر رنگون میں دو چار مرزائی ہیں۔ مگر وہ بالکل گمنامی اور کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ لہٰذا تجویز ہوئی کہ خواجہ کمال الدین جو بوجہ اشتہارات تبلیغ اسلام کے، سادہ لوح مسلمانوں کی نظر میں کچھ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ رنگون قدم رنجہ فرمائیں۔ چنانچہ صاحب ممدوح تشریف لائے۔
حق تعالیٰ جزائے خیر دے مسلمانان رنگون کو بالخصوص سورتی تاجروں کو کہ وہ عین وقت پر متوجہ ہوگئے اور انہوں نے اس فتنہ کا آغاز ہی میں مقابلہ کر کے تمام ملک برما کو اس مہلکہ عظیمہ سے بچالیا۔ ان صاحبو ں نے یہاں تک کوشش کی کہ ہندوستان سے عالی جناب (امام اہل سنت) مولانا محمد عبدالشکور (فاروقی) صاحب مدیر ”النجم“ لکھنوی کو تکلیف دی اور خوب خوب کام کیا۔
”بارك اللہ علیھم فی الدنیا والآخرۃ“
یہ اسی معرکہ خیز واقعہ کی روئیداد ہے۔ نام اس کا ”صحیفۂ رنگون بر پیروان دجال زبوں“ رکھا گیا اور اس کو ایک مقدمہ اور دو باب اور ایک خاتمہ پر مرتب کیا گیا۔
مقدمہ میں ”مرزا اور مرزائیت“ کی مختصر دلچسپ تاریخ بیان کی گئی ہے اور پہلے باب میں خواجہ صاحب کے رنگون آنے کا اور حضرت مولانا صاحب مدیر ”النجم“ عَمَّ فِیْضُہ کے تشریف لانے کے بعد خواجہ صاحب کے مقابلہ میں اتمام حق کی جس قدر کارروائیاں ہوئیں ان کا مفصل بیان ہے۔
دوسرے باب میں مرزا اور مرزائیت کے باطل اور خارج از اسلام ہونے کے دلائل بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں حسب ذیل امور بیان ہوئے ہیں۔
- ١...... مرزا کا کذاب ہونا، اس کے بکثرت جھوٹ خود اسی کی کتابوں سے۔
- ٢...... مرزا کے اقوالِ متعلق توہین انبیاء علیہم السلام۔
- ٣...... مرزا کا دعویٰ نبوت۔
١١
- ٤...... مرزا کا منکر ضروریات دین ہونا۔
- ٥...... ختم نبوت کی بحث۔
- ٦...... حیات مسیح علیہ السلام کی بحث۔
- ٧...... مرزائیوں کے انگریزی ترجمہ قرآن مجید کا نمونہ۔
- ٨...... خاتمہ میں علماء اسلام کے فتوے، مرزا اور مرزائیوں کے کفر پر نقل کئے گئے ہیں اور یہ
کہ نہ ان سے مناکحت جائز ہے نہ ان کو ہماری مساجد و قبرستانوں میں کوئی حق ہے۔
- ٩...... اس کے بعد حکومت وقت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس میں مرزائیوں کا خارج از اسلام
ہونا اور مسلمانوں کے قبرستان سے ان کا بے دخل ہونا دکھایا گیا ہے۔
الحمدللہ! یہ کتاب ایسی جامع ومکمل تیار ہوگئی کہ جو شخص اس کو اوّل سے آخر تک دیکھ لے مرزائیت کی پوری حقیقت سے واقف ہونے کے علاوہ بڑے سے بڑے مرزائی کو بحث میں مغلوب و مبہوت کر سکتا ہے۔ خواہ وہ قادیانی پارٹی کا ہو یا لاہوری پارٹی کا۔
جو لوگ اس کتاب سے فائدہ اٹھائیں۔ ان سے التجا ہے کہ اس کتاب کے مؤلف اور نیز ان تمام مسلمانان رنگون کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعائے خیر کریں جن کی مساعی جمیلہ سے یہ کام ہوا اور جن کے مصارف سے یہ کتاب چھپی۔ ”والله ولينا في الدارين وهو حسبنا رب المشرقین ورب المغربین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ رسولہ الثقلین سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ الی وجود الملوین وطلوع القمرین“ راقم خاکسار: احمد بزرگ عفی عنہ سورتی سملکی، مفتی جامع سورتی، شہر رنگون
مقدمہ
مرزا اور مرزائیت کی مختصر تاریخ
حدیث شریف میں ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ: میرے بعد تیس دجال، کذاب، ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
(مسلم، ترمذی، ابوداؤد ج٢ ص٢٨٨)
اس ارشاد نبوی کے مطابق بہت سے دجال مدعی نبوت دنیا میں پیدا ہوچکے۔ اسی سلسلہ کا ایک شخص ہمارے زمانہ میں سرزمین پنجاب سے ظاہر ہوا۔ جس کا نام مرزا غلام احمد تھا۔ پنجاب (ہندوستان) میں ضلع گورداسپور کے متعلق ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے۔ امرتسر سے شمال مشرق
١٢
کو جو ریلوے لائن جاتی ہے۔ اس میں ایک بڑا اسٹیشن بٹالہ ہے۔ جو ایک پرانا اور مشہور قصبہ ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ”قادیان“ ہے۔ مرزا غلام احمد اسی مقام ”قادیان“ کے رہنے والے تھے۔ جس کو انہوں نے قادیان مشہور کیا۔
مرزا غلام احمد (مرزائیوں کے بقول) ١٢٦١ھ مطابق ١٨٤٥ء (اور اپنے بقول ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء) میں پیدا ہوئے اور ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مر گئے۔
(کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضیٰ پیشہ طبابت کرتے تھے اور کچھ مختصر سی زمینداری بھی تھی۔ مرزا قادیانی نے ابتداء عمر میں فارسی اور کچھ عربی پڑھی۔ کتب درسیہ تمام نہیں ہونے پائیں کہ (اوباش دوستوں اور اپنی آوارہ گردی کی بدولت) فکر معاش نے پریشان کر دیا۔ تحصیل علم چھوڑ کر نوکری کی تلاش شروع کی۔ مرزا کا ابتدائی زمانہ نہایت گمنامی اور عسرت میں گزرا۔ جیسا کہ خود مرزا نے اپنی کتاب ”استفتاء“ میں بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی مفلسی اور تنگدستی کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میرے باپ دادا انہیں سختیوں میں مر گئے۔
(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٤)
المختصر مرزا غلام احمد بہت سرگردانی و پریشانی کے بعد کسی طرح سیالکوٹ کی کچہری میں (١٨٦٤ء میں منشی گیری کے لئے) پندرہ روپیہ ماہوار کے ملازم ہوگئے۔ مگر اس قلیل رقم میں فراغت کے ساتھ بسر نہ ہوسکی تو یہ سوچا کہ مختاری (وکالت) کا قانون پاس کر کے مختاری شروع کریں۔ چنانچہ بڑی محنت سے قانون یاد کرنا شروع کیا۔ لیکن امتحان دیا تو کامیاب نہ ہوئے۔ آدمی تھے چلتے ہوئے۔ لہٰذا (١٨٦٨ء میں منشی گیری چھوڑ کر) ایک دوسرا راستہ اپنے لئے تجویز کیا۔ اشتہار بازی اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ سے شہرت حاصل کرنے کے درپے ہوئے۔ سب سے پہلے آریوں کے مقابلہ میں آپ نے اشتہار بازی شروع کی۔ بڑے بڑے اشتہار نہایت آب و تاب سے ہزاروں شائع کئے۔ راقم کی نظر سے مرزا قادیانی کے کئی ابتدائی اشتہارات گزر چکے ہیں۔ ایک اشتہار پر ٢؍ مارچ ١٨٧٨ء کی تاریخ ہے۔
١؎ صحیح نام اس مقام کا یہی ہے۔ اہل پنجاب اس کو اب بھی کادیان کہتے ہیں۔ پنجابی زبان میں کادی کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں کیوڑا فروش لوگ رہتے تھے۔ مرزا نے بہت روپیہ صرف کر کے سرکاری کاغذات میں اس کو قادیان لکھوایا اور لکھا کہ یہ لفظ دراصل قاضیان تھا حالانکہ یہ سب جھوٹ اور گناہ بے لذت ہے۔
١٣
جب اس طریقہ سے ایک حد تک شہرت حاصل کر چکے تو (١٨٨٠ء میں) ایک کتاب ”براہین احمدیہ“ آریوں کے مقابلہ میں تصنیف کی اور اس کے لئے (٢٠ صفحہ کی کتاب پر ٦٠ ہزار سے زائد) بڑے بڑے اشتہارات نکالے اور مسلمانوں سے چندہ لیا اور خوب لیا۔ ہزاروں روپیہ اس بہانہ سے مرزا قادیانی نے وصول کیا اور اب کچھ فراغت واطمینان سے بسر ہونے لگی۔
غالباً مرزا قادیانی نے اسی وقت سے اپنے دماغ میں یہ خیالات قائم کر لئے تھے کہ بتدریج مجددیت و مسیحیت و نبوت ورسالت کے دعوے کرنا چاہئے۔ اگر یہ دعویٰ چل گئے تو پھر کیا ہے۔ اچھی خاصی بادشاہت کا لطف آجائے گا اور اگر نہ چلے تو اب کون سی عزت حاصل ہے۔ جس کے جانے کا خوف ہو۔ بنا ان دعوؤں کی ان کے ابتدائی اشتہارات میں بھی کچھ کچھ موجود ہے۔ خوش قسمتی سے مرزا قادیانی کو اسی ابتدائی زمانہ میں کچھ دنوں سرسید احمد خان علی گڑھی کی صحبت بھی نصیب ہوگئی اور ان کے روشن خیالات نے مرزا قادیانی کے لئے ان کے مجوزہ راستہ کو کچھ سہل کر دیا۔ سرسید نے اس زمانہ میں یہ مسئلہ اختراع کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے۔ کوئی انسان اتنے دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ بس مرزا قادیانی نے بھی اپنے آغاز کے لئے اس مسئلہ کو پسند کیا اور اس پر بڑا زور دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے۔ بڑے بڑے اشتہار بھی شائع کئے۔ علاوہ عقلی استبعادات اور خانہ ساز الہامات کے کئی آیات قرآنیہ اور کئی حدیثوں کو بھی دور از کار تاویلات کر کے اپنے استدلال میں پیش کیا۔ علماء اسلام کو مباحثہ کے چیلنج دیئے اور کئی مقام پر مباحثہ بھی کیا۔ سب سے زیادہ مشہور مباحثہ جو اس مسئلہ میں ہوا وہ ہے جو بمقام دہلی جناب مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی مرحوم سے (١٩؍ ربیع الاول ١٣٠٩ھ بروز جمعہ دہلی بعد نماز جمعہ بمکان خسر مرزا قادیانی) ہوا۔ جس میں مرزا قادیانی نے بالآخر اپنی عاجزی و مغلوبیت دیکھ کر یہ بہانہ کیا کہ میرے گھر (قادیان) سے تار آیا۔ میرے خسر صاحب بیمار ہیں۔ اب میں نہیں ٹھہر سکتا اور راہ فرار اختیار کی۔ کارروائی اس مباحثہ کی چھپ گئی ہے۔ جس کا نام ”الحـــــق الصریح فی اثبات حیاۃ المسیح“ ہے۔ یہ مسئلہ چونکہ انگریزی دانوں کے مذاق کے مطابق تھا۔ اس لئے انگریزی دان طبقہ کی توجہ بھی آپ کی طرف مائل ہوئی اور مقصود بھی یہی تھا کہ دولت مند طبقہ کو متوجہ کیا جائے۔
موقع پا کر مرزا قادیانی نے پہلے تو اپنے کو ایک روشن ضمیر صوفی ظاہر کیا اور خفیہ طور پر دین دار لوگوں کو ترغیب دے کر اپنا مرید کرایا۔ ریاست مینڈھو، ضلع علی
١٤
نہ سے ایک حد تک شہرت حاصل کر چکے تو (١٨٨٠ء میں) ایک کتاب کے مقابلہ میں تصنیف کی اور اس کے لئے (٢٠ صفحہ کی کتاب پر ٦٠ ہزار تہارات نکالے اور مسلمانوں سے چندہ لیا اور خوب لیا۔ ہزاروں روپیہ نے وصول کیا اور اب کچھ فراغت واطمینان سے بسر ہونے لگی۔ انی نے اسی وقت سے اپنے دماغ میں یہ خیالات قائم کر لئے تھے کہ ونبوت ورسالت کے دعویٰ کرنا چاہئے۔ اگر یہ دعوے چل گئے تو پھر کیا ت کا لطف آجائے گا اور اگر نہ چلے تو اب کون سی عزت حاصل ہے۔ ۔ بنیاد ان دعوؤں کی ان کے ابتدائی اشتہارات میں بھی کچھ کچھ موجود قادیانی کو اسی ابتدائی زمانہ میں کچھ دنوں سرسید احمد خان علی گڑھی کی ان کی روشن خیالات نے مرزا قادیانی کے لئے ان کے مجوزہ راستہ کو اس زمانہ میں یہ مسئلہ اختراع کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے ۔ زندہ نہیں رہ سکتا۔ بس مرزا قادیانی نے بھی اپنے آغاز کے لئے اس وازہ دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے۔ بڑے بڑے اشتہار بھی ادات اور خانہ ساز الہامات کے کئی آیات قرآنیہ اور کئی حدیثوں کو بھی اپنے استدلال میں پیش کیا۔ علماء اسلام کو مباحثہ کے چیلنج دیئے اور کئی ب سے زیادہ مشہور مباحثہ جو اس مسئلہ میں ہوا وہ ہے جو بمقام دہلی ب سہسوانی مرحوم سے (١٩ ربیع الاول ١٣٠٩ھ بروز جمعہ دہلی بعد نماز ی) ہوا۔ جس میں مرزا قادیانی نے بالآخر اپنی عاجزی ومغلوبیت دیکھ (قادیان) سے تار آیا۔ میرے خسر صاحب بیمار ہیں۔ اب میں نہیں ا۔ کارروائی اس مباحثہ کی چھپ گئی ہے۔ جس کا نام ”الحق حیاة المسیح“ ہے۔ یہ مسئلہ چونکہ انگریزی دانوں کے مذاق کے زی دان طبقہ کی توجہ بھی آپ کی طرف مائل ہوئی اور مقصود بھی یہی تھا جائے۔
قادیانی نے پہلے تو اپنے کو ایک روشن ضمیر صوفی ظاہر کیا اور خفیہ طور پر غیب دے کر مرزا قادیانی کے مرید کرائیں۔ ریاست مینڈھو، ضلع علی ١٤
٢٥ گڑھ کے ایک واقعہ نے اس راز کو ظاہر کر دیا۔ پھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا، پھر مہدی ہونے کا ادعا کیا۔ مریم بھی بنے اور ابن مریم بھی بنے اور اس کے بعد ختم نبوت کا انکار کر کے اپنے نبی ورسول، صاحب وحی وصاحب شریعت ہونے کا اعلان کیا اور اپنے کو تمام انبیائے سابقین سے اعلیٰ وافضل قرار دیا۔ آخر میں کرشن ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا۔
(تذکرہ ص٤٢٣)
ان مختلف ومتناقض دعوؤں میں عجیب عجیب رنگ مرزا قادیانی نے بدلے۔ کبھی تو یہ کہا کہ میں نہ نبی ہوں اور نہ رسول، ہر قسم کی نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوچکی۔ کبھی یہ کہا کہ میں نبی ہوں، رسول ہوں، صاحب شریعت ہوں، تمام نبیوں سے افضل ہوں، حتیٰ کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے۔ بلکہ انصاف یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ ”الوہیت“ کا بھی فرمایا ہے۔ غرض کوئی رتبہ مرزا قادیانی سے چھوٹے نہیں پایا۔ جیسا کہ عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ خود ان کے اقوال بلفظہ نقل کئے جائیں گے۔
الحاصل: مرزا قادیانی نے خوب نام پیدا کیا اور خوب عیش کیا۔ عمدہ عمدہ غذائیں (مشک وعنبر کے ساتھ ٹانک وائن شراب اور ایسے معجون جن میں غالب حصہ افیون کا ہوتا تھا خطوط امام بنام غلام ص ٥) نفیس نفیس لباس جو کبھی ان کے باپ دادا کو نصیب نہ ہوئے تھے استعمال فرماتے رہے۔ اتنی دولت کمائی کہ اپنی اولاد کے لئے بڑا ذخیرہ چھوڑ گئے۔ یہ سب کچھ تو ہوچکا مگر اب وہ ہیں اور دارالجزاء ہے۔ جہاں نہ اشتہار بازی کام آسکتی ہے نہ دلفریب دعویٰ۔
مرزا غلام احمد کے بعد ان کے دوست حکیم نورالدین صاحب خلیفہ ہوئے اور وہ بھی چل بسے۔ اب آج کل ان کے خلیفہ دوم ان کے فرزند ارجمند مرزا محمود قادیانی ہیں۔ ١؎
١؎ حکیم نورالدین ١٩١٤ء میں مرا۔ اس کے بعد بشیر الدین محمود خلیفہ ہوا جو علماء اسلام بالخصوص حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ سے مباہلہ کی پاداش میں ١٩٦٥ء میں مرگیا۔ اس کے بعد مرزا محمود ہی کا بڑا بیٹا مرزا ناصر خلیفہ بنا۔ وہ بھی مولانا چنیوٹی کے دعاء مباہلہ سے ٩؍ جون ١٩٨٢ء میں اس طرح ہلاک ہوا کہ ایک نوجوان لڑکی سے بڑھاپے میں اس نے شادی کی اور کشتہ کھا کر کشتہ ہوگیا۔ ناصر کے بعد اس کے چھوٹے بھائی مرزا طاہر نے خلافت کی کمان سنبھالی۔ اس نے بھی مباہلوں کا خوب ڈھونگ رچایا۔ مگر الحمد للہ ١٩؍ اپریل ٢٠٠٣ء میں خدا نے اس سے بھی دنیا کو پاک کرکے تیسری بار قادیانیوں کے لئے عبرت کا سامان فراہم کیا ”فماذا بعد الحق الا الضلال“ اب مرزا مسرور پانچواں خلیفہ بنا ہے۔ اگر اس نے اپنے پچھلوں کے انجام سے سبق حاصل نہ کیا تو انشاء اللہ وہ بھی اپنے انجام کو جلد ہی پہنچے گا۔ ١٥
خلیفہ دوم صاحب کے زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین میں باہم افتراق پڑا اور اس وقت تک پانچ فرقہ ان میں ہوچکے ہیں۔
مرزائی پارٹیوں کا اجمالی تعارف
- ١.......لاہوری پارٹی: جس کے امام مسٹر محمدعلی صاحب اور رکن اعظم خواجہ کمال الدین
ہیں ۔( یہ دونوں مرزا قادیانی کے قدیم اور قریبی مرید ہیں )
- ٢.......محمودی پارٹی: جس کے امام مرزا محمود (پسر مرزا قادیانی) ہیں۔
- ٣.......ظہیری پارٹی: جس کا پیشوا ظہیر الدین اروپی (مرید مرزا قادیانی) ساکن
گوجرانوالہ (پاکستان) ہے۔
- ٤.......تیمارپوری پارٹی: جس کا سرگروہ عبداللہ تیمارپوری (مرید مرزا قادیانی) ہے۔
- ٥.......سمبڑیالی پارٹی: جس کا مقتدا محمد سعید ہے۔ سمبڑیال ایک گاؤں (پاکستان
میں ) ضلع سیالکوٹ کے پاس ہے۔ یہ شخص اسی گاؤں کا باشندہ ہے۔
لاہوری پارٹی اور محمودی پارٹی میں بظاہر تو اختلاف ضرور ہے اور اس اختلاف کی بنیاد یوں پڑی کہ مسٹر محمد علی یہ چاہتے تھے کہ حکیم نورالدین کے بعد (١٩١٤ء میں) میں خلیفہ بنایا جاؤں۔ مرزا محمود کے سامنے ان کی نہ چلی۔ لہذا دونوں میں رنجش ہوگئی۔ مگر عقائد کے اعتبار سے دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ جو کچھ فرق ہے وہ ایک عقلمند کی نظر میں جنگ زرگری سے زیادہ نہیں ہے۔
بہر کیف جو کچھ اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ لاہوری پارٹی مرزا کو مقتدا، پیشوا، مسیح موعود، مجدد وقت، سب کچھ مانتی ہے۔ مگر ان کی نبوت کے متعلق اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مجازی طور پر نبی کہے گئے ہیں۔ حقیقی نبی نہ تھے اور مرزا قادیانی نے جن جن الفاظ میں دعویٰ نبوت کا کیا ہے۔ ان الفاظ کی دور از کار تاویلات کر کے چاہتی ہے کہ حقیقت حال پر پردہ ڈالے۔
محمودی پارٹی کہتی ہے کہ مرزا حقیقی طور پر نبی تھا۔ جیسے اور انبیاء ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کا نہ ماننے والا بھی کافر ہے۔ جیسے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نہ ماننے والا۔ یہ پارٹی مرزا قادیانی کے کلمات کی تاویل نہیں کرتی اور اس کے دعویٰ نبوت کو چھپانا پسند نہیں کرتی۔ بلکہ (اپنے من گھڑت تاویلات کے پردہ میں ) ختم نبوت کا انکار کرتی ہے۔
لاہوری پارٹی دراصل بڑی (نفاق کی) پالیسی سے کام لے رہی ہے۔ اس نے دیکھا کہ ان دعوؤں کی وجہ سے بھڑکتے ہیں اور ایسے متوحش ہوتے ہیں کہ پھر ان کے جال میں پھنسنے کی امید نہیں کی جاسکتی اور چندہ وغیرہ جو کچھ وصول ہوتے ہیں وہ مسلمانوں ہی سے وصول ہوتے
١٦
کے زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین میں باہم افتراق پڑا میں ہوچکے ہیں۔
ا تعارف
ٹی: جس کے امام مسٹر محمدعلی صاحب اور رکن اعظم خواجہ کمال الدین کے قدیم اور قریبی مرید ہیں)
ٹی: جس کے امام مرزامحمود (پسر مرزا قادیانی) ہیں۔
ٹی: جس کا پیشوا ظہیرالدین اروپی (مرید مرزا قادیانی) ساکن
ٹی: جس کا سرگروہ عبداللہ تماپوری (مرید مرزا قادیانی) ہے۔
ٹی: جس کا مقتدا محمد سعید ہے۔ سمبڑیال ایک گاؤں (پاکستان ہے۔ یہ شخص اسی گاؤں کا باشندہ ہے۔
مودی پارٹی میں بظاہر تو اختلاف ضرور ہے اور اس اختلاف کی بنیاد تھے کہ حکیم نورالدین کے بعد (١٩١٤ء میں) میں خلیفہ بنایا جاؤں۔
ا۔ لہٰذا دونوں میں رنجش ہوگئی۔ مگر عقائد کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہے وہ ایک عقلمند کی نظر میں جنگ زرگری سے زیادہ نہیں ہے۔
لاف ہے وہ یہ ہے کہ لاہوری پارٹی مرزا کو مقتدا، پیشوا، مسیح موعود، مگر ان کی نبوت کے متعلق اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ مجازی طور تھے اور مرزا قادیانی نے جن جن الفاظ میں دعوئی نبوت کا کیا ہے۔
ر کے چاہتی ہے کہ حقیقت حال پر پردہ ڈالے۔
ہے کہ مرزا حقیقی طور پر نبی تھا۔ جیسے اور انبیاء ہوچکے ہیں۔ کافر ہے۔ جیسے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نہ ماننے والا۔ یہ تاویل نہیں کرتی اور اس کے دعوئی نبوت کو چھپانا پسند نہیں کرتی۔
کے پردہ میں) ختم نبوت کا انکار کرتی ہے۔
یا بڑی (نفاق کی) پالیسی سے کام لے رہی ہے۔ اس نے دیکھا سکتے ہیں اور ایسے متوحش ہوتے ہیں کہ پھر ان کے جال میں پھنسنے
وغیرہ جو کچھ وصول ہوتے ہیں وہ مسلمانوں ہی سے وصول ہوتے
١٦
ہیں ۔ اس لئے اس نے یہ روش اختیار کی ہے کہ ہم مرزا کو نبی نہیں مانتے اور مرزا کے نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہتے ۔ چنانچہ اس پالیسی سے بہت کچھ فائدہ اٹھا رہی ہے اور مسلمان جس قدر اس کے فریب میں آجاتے ہیں محمودی پارٹی کے فریب میں نہیں آتے ۔
محمودی پارٹی اس کی پرواہ نہیں کرتی ۔ کیونکہ اس کے امام مرزا محمود کو اپنے باپ کے ترکہ نے پورے طور پر مستغنی کردیا ہے۔ نیز وہ دیکھتی ہے کہ مرزا کا دعوئی نبوت کسی تاویل سے چھپ نہیں سکتا ۔
مرزائیوں کی یہی دونوں پارٹیاں بڑی ہیں اور اس کتاب میں انہیں دونوں کی حقیقت انشاء اللہ تعالیٰ دکھائی جائے گی۔ باقی تین پارٹیاں بہت مختصر مختصر ہیں اور انہیں دونوں کے رد سے وہ بھی مردود ہوجاتی ہیں ۔ لہٰذا محض بغرض علم کچھ اجمالی تذکرہ ان کا اس مقام پر لکھا جاتا ہے اور بس ۔
ظہیری پارٹی، مرزا کو نبی ورسول سے بالاتر خدا کا مظہر قرار دیتی ہے اور اپنے اس اعتقاد کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے وہ کلمات پیش کرتی ہے ۔ جن میں الوہیت کا دعوئی ہے۔ اس پارٹی کا ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ ظہیر الدین اروپی جو اس فرقہ کا امام ہے۔ وہ یوسف موعود ہے۔ مرزا قادیانی نے ایک پیشین گوئی یہ بھی کی تھی کہ: ”میرے بعد یوسف آئے گا ۔ بس اسے یوں سمجھ لو کہ خدا ہی اترا ہے ۔“
ظہیر الدین کہتا ہے کہ وہ یوسف میں ہوں اور میں بھی خدا کا مظہر ہوں ۔ ”نعوذ باللہ من ہذہ الکفریات الصریحۃ“
ظہیری پارٹی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز قادیان کی طرف منہ کر کے پڑھنا چاہئے ۔ کیونکہ قادیان مکہ ہے وہاں خدا کے ایک رسول نے جنم لیا تھا ۔
تمار پوری پارٹی ، بھی مرزا کو نبی ورسول مانتی ہے ۔ مگر اس کا پیشوا عبداللہ تما پوری مرزا سے سبقت لے گیا ۔ وہ کہتا ہے مجھے خود اپنے بازو سے الہام ہوتا ہے ۔ اس شخص نے اپنی کتاب ”تفسیر آسمانی“ میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوا کے ساتھ خلاف وضع فطرت ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے ۔ (نعوذ باللہ منہ)
سمبڑیالی پارٹی ، سب سے سابق القدم ہے ۔ محمد سعید جو اس کا پیشوا ہے ۔ کہتا ہے خدا نے مجھے قمر الانبیاء فرمایا اور کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کوئی شریعت نہیں لایا تھا وہ شریعت محمدیہ کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے ۔ مگر اس کا موقع پورے طور پر ان کو نہیں ملا ۔ یہ شخص جو اصلاحات شریعت محمدیہ کی (مرزا قادیانی کی اصلاحات کے علاوہ ) اب تک پیش کر چکا ہے ان میں سے چند یہ ہیں ۔
١٧
- ١....... شراب حلال ہے۔
- ٢....... اپنی رشتہ داری میں مثلاً خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، کی لڑکی سے نکاح حرام ہے۔
- ٣....... ختنہ حرام ہے۔ "وغير ذلك من الخرافات نعوذ بالله منها"
یہ پانچوں پارٹیاں آپس میں اس قدر اختلاف ظاہر کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کو کافر کہتی ہیں۔ مگر دین اسلام کے تباہ کرنے اور مسلمانوں کے لوٹنے میں سب مشترکہ سعی کر رہی ہیں۔ سب کی یہ متفقہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ظلِ رحمت سے نکال کر مرزا غلام احمد قادیانی کی امت بنایا جائے۔ خدا اس بلا سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ ورنہ ان کے مکر و فریب سے بچنا ہر ایک کا کام نہیں۔
تنبیہ ضروری
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کس لقب سے یاد کئے جائیں۔ اس میں بھی بعض ناواقف سخت غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ عرف عام اور کافہ اہل اسلام نے اس فرقہ کو مرزائی کا لقب دیا ہے۔ اس لقب کا رواج بھی کافی ہو چکا ہے۔ بعض لوگ اس فرقہ کو قادیانی بھی کہتے ہیں۔ یہ لقب بھی پوری شہرت حاصل کر چکا ہے۔ سمجھنے میں تامل نہیں ہوتا اور خانقاہ رحمانیہ مونگیر (بہار) سے اس طائفہ کو "جدید عیسائی" کا خطاب ملا ہے جو واقعی بہت موزوں اور بامعنی ہے۔ عالی جناب (امام اہل سنتؒ) حضرت مولانا صاحب مدیر "النجم" عم فیضہ نے بمقام بھاگلپور مولوی عبد الماجد صاحب مرزائی کے اس اصرار پر کہ ہمیں غلام احمد کے نام کی طرف نسبت دیجئے۔ ان کو غلمدی کا لقب دیا تھا۔ یہ لقب بھی بعض اہل علم کی مطبوعہ تحریرات میں آچکا ہے۔ پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس فرقہ کو انہی چار ناموں میں سے کسی کے ساتھ یاد کیا کریں۔
١....... مرزائی۔ ٢....... قادیانی۔ ٣....... جدید عیسائی۔ ٤....... غلمدی۔
اس فرقہ کی خواہش ہے کہ ان کو "احمدی" کہا جائے اور اپنی تحریرات میں وہ اپنے کو احمدی لکھتے ہیں۔ مگر مسلمان اس خواہش کو ہرگز پورا نہیں کر سکتے۔ بدو وجہ۔
اوّل ! یہ کہ اس لفظ میں شبہ ہوتا ہے کہ شاید رسول خدا ﷺ کی طرف نسبت مراد ہو۔
دوم : اس وجہ سے کہ آج کئی سو برس سے لفظ احمدی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی کے متبعین کے نام کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ ان حضرات کی مہروں میں یہ لفظ کندہ ہے۔ حضرت مولانا شاہ غلام علی صاحب کی مہر ہے۔ (غلام علی احمدی) حضرت مولانا شاہ احمد سعید صاحب کی مہر ہے۔ (احمد سعید احمدی)
١٨
لہٰذا مرزائیوں کے لئے اس لفظ کا استعمال ایک طرح کا غصب ہوگا۔ کسی مسلمان نے کبھی اس فرقہ کو احمدی لکھا ہو تو یہ اس کی ناواقفیت ہے یا سبقت قلم۔
"عافانا اللہ من جمیع ما یکرہ"
پہلا باب
رنگون میں مسلمانوں اور مرزائیوں کے مقابلہ کے واقعات
خواجہ کمال الدین صاحب جو مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے سرگرم مبلغ بلکہ اس پارٹی کے وزیر اعظم ہیں۔ پہلے لاہور میں وکالت کرتے تھے۔ مگر اس میں چنداں کامیابی نہ تھی۔ لہٰذا اس کو ترک کر کے آپ نے سارے ہندوستان میں اعلان کر دیا کہ میں تبلیغ اسلام کے لئے لندن جاؤں گا۔ مسلمان اس دلفریب لفظ کو سن کر گرویدہ ہو گئے اور خوب خوب چندہ دیا۔ خواجہ صاحب لندن تشریف لے گئے اور وہاں خوب عیش سے ہوٹلوں میں قیام فرماتے ہوئے مرزائیت کی ترویج میں مشغول ہوئے۔ مسلمانوں کی برابر سادہ لوح قوم شاید ہی دوسری ہو۔ غالباً آج کوئی عیسائی ان سے کہے کہ میں تبلیغ اسلام کا کام کروں گا۔ مجھے چندہ دو تو وہ اس کو بھی چندہ دینے کے لئے آمادہ ہو جائیں۔
خواجہ صاحب کی جماعت نے ایک انگریزی ترجمہ قرآن مجید تیار کیا اور اس کے لئے مسلمانوں سے چندہ مانگا۔ دوسرے مقامات سے جس قدر رقمیں ملی ہوں ان کا تو حساب نہیں۔ صرف رنگون سے تقریباً سولہ ہزار روپیہ دیا گیا۔ وہ ترجمہ لندن میں چھپوایا گیا اور اب معقول قیمت پر بیچا جا رہا ہے۔ اس ترجمہ میں شروع سے لے کر آخر تک تمام خرافات مرزائیت کے بھرے ہوئے ہیں۔ جو دین اسلام کے بالکل خلاف ہیں۔ جیسا کہ عنقریب نمونہ اس کا پیش کیا جائے گا۔
خواجہ کمال الدین کی نظر برما پر
اسی سلسلہ میں خواجہ صاحب کو رنگون کی طرف توجہ ہوئی اور آپ نے بعض اہل رنگون سے خط و کتابت کر کے (ماہ ستمبر ١٩٢٠ء کی ابتدائی تاریخوں میں) رنگون تشریف لانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ رنگون تشریف لانے سے آپ کے دو مقصد تھے۔
- اوّل! یہ کہ صوبہ برما میں مرزائیت کی اشاعت کریں۔
- دوم! یہ کہ مسلمانوں سے جن کے دین کی بیخ کنی آپ فرماتے ہیں۔ چندہ بھی لیں۔ سنا
ہے کہ بعض تاجران رنگون نے ان سے وعدہ کر لیا تھا کہ کم از کم ایک لاکھ روپیہ چندہ کر کے فراہم کر
١٩
دیا جائے گا۔ مگر خوش قسمتی سے رنگون میں جمعیت العلماء قائم ہے اور کئی مدارس اسلامیہ ہیں۔ جن کی وجہ سے علمائے کرام کی ایک جماعت رنگون میں مقیم ہے۔ جمعیت علماء کو جب خواجہ صاحب کی تشریف آوری کی خبر ملی تو ان حضرات کو محض بوجہ حمیت دینی اس کا خیال پیدا ہوا اور وہ خدا کا نام لے کر اس بات کے لئے مستعد ہوئے کہ خواجہ صاحب کو مرزائیت کی اشاعت میں کامیابی نہ ہونے پائے۔ چندہ چاہے ایک لاکھ کی جگہ دولاکھ لگ جائیں۔ اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ چنانچہ خواجہ صاحب کے تشریف لاتے ہی کئی اشتہارات جن میں مرزا کے حالات اور مرزائیت کی حقیقت پورے طور پر ظاہر کی گئی تھی۔ معززین شہر اور جمعیت العلماء کی طرف سے تمام شہر میں تقسیم اور چسپاں کئے گئے۔
حضرت مولانا عبدالشکور صاحب کی رنگون تشریف آوری
ان اشتہارات سے فی الجملہ واقفیت ”مرزائی مذہب“ سے مسلمانان رنگون کو حاصل ہوچکی تھی۔ مگر اس کے بعد جمعیت العلماء نے یہ رائے طے کی کہ عالی جناب (امام اہل سنت) مولانا عبدالشکور صاحب فاروقی مدظلہ مدیر ”النجم“ لکھنو کو رنگون آنے کی تکلیف دی جائے تاکہ اس فتنہ کا پورے طور پر قلع قمع ہوجائے۔
چنانچہ ایک تار آپ کی خدمت میں بھیجا گیا اور آپ نے بمقتضائے حمیت دینی اس طویل سفر کو گوارا فرمایا۔ ٧ محرم الحرام ١٣٣٨ھ (بمطابق اگست ١٩٢٠ء) کو آپ رونق افروز رنگون ہوئے اور آپ نے سعی بلیغ، اس فتنہ کے قلع وقمع میں مبذول فرمائی۔ حق تعالیٰ نے آپ کی سعی جمیل کو مشکور کیا اور نتیجہ حسب مراد نکلا۔
جو جو کوششیں جناب ممدوح نے کیں ان سب کا علیٰ التفصیل ذکر کرنا تو بہت طول چاہتا ہے۔ لہٰذا جو بڑی بڑی باتیں ہیں اور جن کا ذکر کرنا مسلمانوں کے لئے مفید ہے۔ حوالہ قلم کی جاتی ہیں اور ان کو تین عنوان پر تقسیم کیا جاتا ہے:۔
- اول ...... خواجہ صاحب کو آپ نے جو تحریرات بھیجیں مع جواب وجواب الجواب۔
- دوم ...... جو اشتہارات آپ نے شائع کرائے یا خواجہ کمال الدین کی طرف سے شائع ہوئے۔
- سوم ...... جو مواعظ آپ نے بیان فرمائے۔
سلسلۂ تحریرات
جناب ممدوح نے تشریف لاتے ہی ایک تحریر خواجہ صاحب کو لکھی جو جمعیت العلماء کی طرف سے خواجہ صاحب کو بھیجی گئی۔ وہو ھذا!
٢٠
سے رنگون میں جمعیت العلماء قائم ہے اور کئی مدارس اسلامیہ ہیں۔ جن ایک جماعت رنگون میں مقیم ہے۔ جمعیت علماء کو جب خواجہ صاحب کی ان حضرات کو محض بوجہ حمیت دینی اس کا خیال پیدا ہوا اور وہ خدا کا نام مستعد ہوئے کہ خواجہ صاحب کو مرزائیت کی اشاعت میں کامیابی نہ ایک لاکھ کی جگہ دو لاکھ لے جائیں۔ اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ چنانچہ خواجہ ہی کئی اشتہارات جن میں مرزا کے حالات اور مرزائیت کی حقیقت ۔ معززین شہر اور جمعیت العلماء کی طرف سے تمام شہر میں تقسیم اور
اور صاحب کی رنگون تشریف آوری
سے فی الجملہ واقفیت 'مرزائی مذہب' سے مسلمانانِ رنگون کو حاصل جمعیت العلماء نے یہ رائے طے کی کہ عالی جناب (امام اہل سنت) روقی مدظلہ مدیر 'النجم' لکھنؤ کو رنگون آنے کی تکلیف دی جائے تا کہ اس ہو جائے۔
آپ کی خدمت میں بھیجا گیا اور آپ نے بمقتضائے حمیت دینی اس محرم الحرام ١٣٣٨ھ (بمطابق اگست ١٩٢٠ء) کو آپ رونق افروز رنگون ، اس فتنہ کے قلع وقمع میں مبذول فرمائی۔ حق تعالیٰ نے آپ کو سعی جمیل اوگلا۔
جناب ممدوح نے کیں ان سب کا علیٰ التفصیل ذکر کرنا تو بہت طویل باتیں ہیں اور جن کا ذکر کرنا مسلمانوں کے لئے مفید ہے۔ حوالہ قلم کی پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
و آپ نے جو تحریرات بھیجیں مع جواب و جواب الجواب۔ آپ نے شائع کرائے یا خواجہ کمال الدین کی طرف سے شائع ہوئے۔ نے بیان فرمائے۔
نے تشریف لاتے ہی ایک تحریر خواجہ صاحب کو لکھی جو جمعیت العلماء کی بھیجی گئی۔ وهو هذا!
٢٠
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حامداً ومصلياً اما بعد!
بخدمت شریف جناب خواجہ کمال الدین صاحب ! بالقابہ
بعد ما ہوا المسنون واضح ہو۔ جناب کو معلوم ہو چکا ہے کہ باستدعائے مسلمانان رنگون جناب مولانا محمد عبد الشکور صاحب لکھنوی وارد رنگون ہوئے ہیں۔ "فالحمدللہ علیٰ ذلک"
لہٰذا یہ بہترین موقع اس امر کا ہے کہ جناب ممدوح کے سامنے جلسہ عام میں آپ ان شکوک کو دور کریں جو آپ کے مذہب کے متعلق مسلمانوں کو ہیں اور دراں حالیکہ آپ انہی مسلمانوں کے نائب بن کر انہیں سے روپیہ لے کر تبلیغ کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ درحقیقت آپ مذہبباً سنی حنفی ہیں اور بقول آپ کے مرزاغلام احمد بھی مسلمان بلکہ سنی حنفی تھے اور انہوں نے نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور یہ کہ شریعت اسلامیہ ان جیسے شخص کو "رجل صالح" سمجھنے سے منع نہیں کرتی تو پھر مسلمانوں کو آپ کی طرف سے کوئی شک نہ رہے گا اور سب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ ورنہ حقیقت حال کا انکشاف ایک عمدہ نتیجہ ہوگا۔ فقط!
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
"الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذی اصطفیٰ اما بعد"
جمعیت العلماء کی طرف سے جناب خواجہ کمال الدین صاحب کو واضح ہو کہ جو تحریر ملفوف، عامہ اہل اسلام کی طرف سے آپ کی خدمت میں کل بھیجی گئی تھی۔ مگر آپ نہ ملے، آج پھر بھیجی جاتی ہے۔ قوی امید ہے کہ آپ اس تحریر کی استدعا کو قبول فرما کر اپنے کو ایک اہم فریضہ سے سبکدوش فرمائیں گے۔ ایسا کرنے سے آپ کا مذہب جو اکثر عوام کے نزدیک مشتبہ و نامعلوم ہے۔ بالکل آشکارا ہو جائے گا اور اس کے بعد آپ پر دھوکہ دینے اور فریب کرنے کا الزام عائد نہ ہوسکے گا۔
آپ کی طرف سے نوید قبول ملنے کے بعد جمعیت ہذا تعیین وقت ومقام سے آپ کو اطلاع دے گی۔ آخر میں اس قدر عرض اور ہے کہ اس علمی اور مہذب گفتگو سے آپ اگر کوئی عذر یا انکار فرمائیں گے تو بہت ہی نامناسب ہوگا اور اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ آپ اپنا مذہب پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں اور اس کا نتیجہ جو کچھ آپ کے مشن پر پڑے گا اس کو خود سمجھ سکتے ہیں۔ فقط
٢١
نوٹس
مسٹر کمال الدین صاحب بی۔ اے، ایل۔ ایل۔ بی! واضح ہو کہ بہت کچھ تحقیق و تفتیش کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے اور ہمیں اس وقت اس میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کہ آپ کے عقائد، اسلام کے بالکل خلاف ہیں اور آپ اسلام سے خارج ہیں۔ اس لئے آپ کو مسلمانوں کی طرف سے تبلیغ اسلام کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ نہ آپ مسلمانوں کے جائز سفیر کہلا سکتے ہیں۔ اصول اسلام مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ آپ کی مالی یا جانی کسی قسم کی امداد کریں۔ اگر آپ کو اس نتیجہ میں کچھ کلام ہے اور اپنے آپ کو اہل اسلام کا جائز سفیر ثابت کر سکتے ہیں تو با قاعدہ تقریری مناظرہ کے لئے بتاریخ ١٩ ستمبر ١٩٢٠ء بروز اتوار مدرسہ راندیر یہ نمبر ٤ مغل اسٹریٹ میں بوقت ٩ بجے صبح تشریف لاکر مناظرہ کرلیں۔ فقط!
جمعیت العلماء نمبر ٢٦ مغل اسٹریٹ رنگون
اس کے بعد ١٩ ستمبر کو ایک جلسہ مدرسہ محمدیہ راندیر یہ ہال میں ہوا اور اس جلسہ کی طرف سے حسب ذیل تحریر بنام جناب سر جمال صاحب (جن کے گھر خواجہ صاحب مقیم تھے) بھیجی گئی۔
خط بنام سر جمال صاحب رئیس رنگون
مہربان عالی شان جناب آنریبل سر عبد الکریم بن حاجی عبد الشکور جمال صاحب سی۔ آئی۔ ای رنگون۔ آپ کی خدمت میں ہم حسب ذیل صاحبان کی عرض ہے کہ عالی جناب خواجہ کمال الدین صاحب بی اے، ایل ایل بی رنگون میں تشریف لائے ہیں اور آپ کے مہمان ہیں۔ انہوں نے (لاہوری گروپ کا سرغنہ اور مرزا قادیانی کا مرید خاص ہونے کے باوجود) اپنے لیکچروں میں کہا کہ میں سنی حنفی ہوں۔ اس وجہ سے یہاں کے لوگوں میں وسوسہ ہو گیا ہے۔ ہم نے سنی جماعت کے علماء سے دریافت کیا اور باہر یعنی ہندوستان کے سنی علماء کرام سے بھی دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگوں کو جو وسوسہ ہوا تھا اس میں کمی نہیں ہوئی۔ اس لئے اور زیادہ گڑبڑی ہوئی ہے۔
آپ دانا و بینا ہو اور سب باتوں کو سمجھنے والے ہو۔ قوم میں اتفاق کرانے میں آپ کا کمال ہے اور عام طور سے سب کو معلوم ہے کہ ایسے کاموں میں آپ کی بہت کوششیں ہیں۔ مگر اب اپنی ہی قوم میں یہ مرض پھیل گیا ہے۔ اس کو دور کرنا چاہئے۔ اس لئے اپنی قوم کے لیڈروں کا فرض ہے کہ اس بات کو طے کریں اور سب مسلمانوں کو جمع کر کے سنی جماعت کے علماء کرام کو اور خواجہ
٢٢
کمال الدین کو بھی بلایا جائے اور سب جما عوام کا وہم دور ہو جائے اور یہ سب باقاع جیسا کہ اس کے قبل تھا ہم کو امید ہے ویسا ہماری اس عرض کو آپ ضرور قبول فرماویں اس کام کو اچھی طور سے انجام دیں گے۔ آ بجالاویں گے۔ ایسی ہم کو امید ہے اور ح ضرور اس کا انتظام کریں گے اور آپ کی بھی
اس تحریر پر علاوہ پریسیڈنٹ کے بڑی کوششوں کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب
نقل خط خواجہ کمال الدین صاحب
بسم اللہ
مکرمی جناب محمد حاجی احمد باو اسمعیل واید۔ سلیمان موسیٰ ملا۔ غلام حسین ا
السلام عليكم ورحمته ا آپ کا عنایت نامہ مجھے ملا۔ آپ کو میرے معتقدات کے متعلق صاف ہوئے نہیں ہیں۔ نہ میں نے انہیں کبھی پو آدمیوں کے سامنے بیان کیا۔ اس کے علا بعض کو پرائیویٹ طور پر اور پھر عام پبلک دے دیا۔ ایک خدا ترس مسلمان کا فرض تھ شبہ نہ لاتا۔ ہاں ممکن ہے کہ آپ میں سے ب یہاں لکھ دیتا ہوں۔
”اشهد ان لا اله الا الله وملائكته وكتبه ورسوله واليو والبعث بعد الموت“
نوٹس
صاحب بی۔اے۔ ایل۔ایل۔بی! جو تحقیق و تفتیش کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے اور ہمیں اس وقت اس کہ آپ کے عقائد، اسلام کے بالکل خلاف ہیں اور آپ اسلام سے مسلمانوں کی طرف سے تبلیغ اسلام کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ نہ کہلا سکتے ہیں۔ اصول اسلام مسلمانوں کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ امداد کریں۔ اگر آپ کو اس نتیجہ میں کچھ کلام ہے اور اپنے آپ کو اہل سمجھتے ہیں تو باقاعدہ تقریری مناظرہ کے لئے بتاریخ ١٩ ستمبر ١٩٢٠ء بروز اسٹریٹ میں بوقت ٩ بجے صبح تشریف لا کر مناظرہ کر لیں۔ فقط! جمعیت العلماء نمبر ٣٦، مغل اسٹریٹ رنگون
جو کہ ایک جلسہ مدرسہ محمدیہ راندیریہ ہال میں ہوا اور اس جلسہ کی طرف سے جناب سر جمال صاحب (جن کے گھر خواجہ صاحب مقیم تھے ) بھیجی گئی۔
بخدمت رئیس رنگون
سیٹھ جناب آنریبل سر عبدالکریم بن حاجی عبدالشکور جمال صاحب کی خدمت میں ہم حسب ذیل صاحبان کی عرض ہے کہ عالی جناب خواجہ، ایل ایل بی رنگون میں تشریف لائے ہیں اور آپ کے مہمان جو کہ لاہوری جماعت کا سرغنہ اور مرزا قادیانی کا مرید خاص ہونے کے باوجود ) اپنے کہتے ہوں۔ اس وجہ سے یہاں کے لوگوں میں وسوسہ ہو گیا ہے۔ مقامات کے علماء سے دریافت کیا اور باہر یعنی ہندوستان کے سنی علماء کرام یہ ہوا کہ یہاں کے لوگوں کو جو وسوسہ ہوا تھا اس میں کمی نہیں ہوئی۔ اس اور سب باتوں کو سمجھنے والے ہو۔ قوم میں اتفاق کرانے میں آپ کا کو معلوم ہے کہ ایسے کاموں میں آپ کی بہت کوششیں ہیں۔ مگر اب نا چاہیے۔ اس کو دور کرنا چاہئے۔ اس لئے اپنی قوم کے لیڈروں کا فرض اور سب مسلمانوں کو جمع کر کے سنی جماعت کے علماء کرام کو اور خواجہ
٢٢
کمال الدین کو بھی بلایا جائے اور سب جماعت کے روبرو ان کی بحث ہونی چاہئے کہ جس سے عوام کا وہم دور ہو جائے اور یہ سب باقاعدہ تقریریں خلاصہ ہونا چاہئے اور اپنی قوم کا بھی اتفاق جیسا کہ اس کے قبل تھا ہم کو امید ہے ویسا ہو جائے گا اور یہ سب بلا دور ہو جائے گی۔ اس لئے ہماری اس عرض کو آپ ضرور قبول فرماویں گے اور اس کارخیر میں ضرور ہماری امداد کریں گے اور اس کام کو اچھی طور سے انجام دیں گے۔ آپ مسلمان قوم کے بڑے لیڈر ہیں تو لیڈرانہ فرض ضرور بجالاویں گے۔ ایسی ہم کو امید ہے اور جو وقت آپ مناسب سمجھو وہ ہم کو اطلاع دیں۔ ہم ضرور اس کا انتظام کریں گے اور آپ کی بھی ہم اس کام میں مدد کریں گے۔
یوسف ہاشم ودیلی پریسیڈینٹ جلسہ
اس تحریر پر علاوہ پریسیڈنٹ کے پینتیس معزز تاجران رنگون کے دستخط تھے۔ ان تمام پے در پے کوششوں کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب کی مہر سکوت ٹوٹی اور ہزار مشکل حسب ذیل تحریر آئی۔
نقل خط خواجہ کمال الدین صاحب مرزائی
بسم الله الرحمن الرحیم! مکرمی جناب محمد حاجی احمد باوا موسیٰ جی قاسم۔ ابراہیم باجوا، ابراہیم اسمعیل پٹیل احمد اسمعیل واید۔ سلیمان موسیٰ ملا۔ غلام حسین ابراہیم باجوا۔ موسیٰ محمد وغیرہ صاحبان۔ السلام علیکم ورحمته الله وبركاته!
آپ کا عنایت نامہ مجھے ملا۔ میرے نزدیک آپ کا مطالبہ یہاں تک تو صحیح ہے کہ آپ کو میرے معتقدات کے متعلق صاف طور پر علم ہو جائے کہ وہ کیا ہیں۔ سو وہ دنیا سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ نہ میں نے انہیں کبھی پوشیدہ رکھا۔ یہاں آ کر بھی قریباً ہر ایک لیکچر میں ہزار ہا آدمیوں کے سامنے بیان کیا۔ اس کے علاوہ ان آٹھ سوالوں کا جواب بھی میں نے آپ میں سے بعض کو پرائیویٹ طور پر اور پھر عام پبلک میں بصدارت جناب سر جمال صاحب جوبلی ہال میں دے دیا۔ ایک خدا ترس مسلمان کا فرض تھا کہ وہ اس کے بعد خاموش ہو جاتا اور میرے اسلام پر شبہ نہ لاتا۔ ہاں ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض کو میرے معتقدات کا علم نہ ہو۔ اس لئے میں انہیں یہاں لکھ دیتا ہوں۔
”اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً عبده ورسوله آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت“
٢٣
میں خدا کو ایک جانتا ہوں۔ حضرت محمد ﷺ کو نبی برحق اور ان پر سلسلۂ رسالت و نبوت کو ختم شدہ مانتا ہوں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ میرے نزدیک کافر، کاذب اور خارج از اسلام ہے۔ میں قرآن کریم کو آخری کتاب اور شریعت محمدیہ کو آخری شریعت مانتا ہوں۔
میں اپنی ہدایت کے لئے اول قرآن کو اس کے بعد حدیث اور ان دونوں کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ صاحب کے اجتہاد کو اوروں پر ترجیح دیتا ہوں۔ میں اہل قبلہ ہوں اور میں مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتا ہوں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہوں۔
میں آنحضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات پر اور آپ کی معراج پر ایمان رکھتا ہوں۔ جو ایک شخص کے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک یہ باتیں کسی کو مسلمان نہیں بناتیں تو مجھے آپ سے پرخاش نہیں۔ ایسا ہی اگر یہ میری تحریر میرے اسلام کے لئے آپ کے نزدیک کافی نہیں تو اس کی بھی مجھے ذرہ بھر پرواہ نہیں۔ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ اب آپ خدا کے آگے ذمہ دار ہیں۔ میں مولویانہ اکھاڑوں کا دشمن اور فرقی مباحثات کو اسلام کی تباہی کا موجب سمجھتا ہوں۔ اس میرے مسلک سے دنیا واقف ہے اور میں اس پر بفضلہ قائم ہوں اور کسی قسم کے لالچ سے اپنے اس اصول کو توڑ نہیں سکتا۔
آپ نے حضرت مرزا قادیانی مغفور کے دعوائے رسالت و نبوت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میں نہ ان کی طرف سے مبلغ ہوں نہ ان کے دعاوی کا معلم بن کر آیا ہوں اور نہ اس تعلیم و تبلیغ کے لئے ولایت گیا ہوں۔ ان کے دعاوی کے جو اس وقت مبلغ اور معلم ہیں۔ ان سے آپ ان کے متعلق فیصلہ کرلیں وہ یہاں آسکتے ہیں۔ اگر آپ کو اس قدر شوق ہے۔ رہا میں ان کی نبوت ورسالت کے متعلق کیا عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں کسی شخص کو خواہ وہ مرزا قادیانی ہوں یا کوئی اور۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں مانتا اور ہرگز نہیں مانتا ہوں اور مدعی نبوت کو آنحضرت کے بعد کافر کاذب جانتا ہوں۔ ہاں میری اپنی تحقیق میں اور میرے علم و یقین میں یہی ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت نہ تھے۔ بروئے حدیث شریف ”لَم یبق من النبوۃ الا المبشرات“ نبوت کے کل اجزاء تو ختم ہو چکے ہیں۔ صرف ایک جزو یعنی مبشرات امت محمدیہ میں جاری ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعض غلام، خدا سے مبشرات پائیں گے۔ ایسا ہی قرآن میں ”لھم البشریٰ فی الحیوٰۃ الدنیا“ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے مراد خدا کا انسان سے ہم کلام ہونا
٢٤
جانتا ہوں ۔ حضرت محمدﷺ کو نبی برحق اور ان پر سلسلۂ رسالت و نبوت آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ کے بعد جو نبوت کا یک کافر، کاذب اور خارج از اسلام ہے۔ میں قرآن کریم کو آخری خری شریعت مانتا ہوں ۔ ہ کے لئے اوّل قرآن کو اس کے بعد حدیث اور ان دونوں کے بعد امام مجتہد کو اوروں پر ترجیح دیتا ہوں۔ میں اہل قبلہ ہوں اور میں مسلمانوں کا للہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہوں ۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات پر اور آپ کی معراج پر ایمان رکھتا مان ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک یہ باتیں کسی کو پ سے پرخاش نہیں۔ ایسا ہی اگر یہ میری تحریر میرے اسلام کے لئے تو اس کی بھی مجھے ذرہ بھر پرواہ نہیں۔ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ۔ اب ہیں۔ میں مولویانہ اکھاڑوں کا دشمن اور فرقی مباحثات کو اسلام کی تباہی میرے مسلک سے دنیا واقف ہے اور میں اس پر بفضلہ قائم ہوں اور اس اصول کو توڑ نہیں سکتا۔
ت مرزا قادیانی مغفور کے دعوائے رسالت و نبوت کی طرف اشارہ کیا سے مبلغ ہوں نہ ان کے دعاوی کا معلم بن کر آیا ہوں اور نہ اس تعلیم وتبلیغ ان کے دعاوی کے جو اس وقت مبلغ اور معلم ہیں۔ ان سے آپ ان ماں آ سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اس قدر شوق ہے۔ رہا میں ان کی نبوت دہ رکھتا ہوں۔ میں کسی شخص کو خواہ وہ مرزا قادیانی ہوں یا کوئی اور۔ نہیں مانتا اور ہرگز نہیں مانتا ہوں اور مدعی نبوت کو آنحضرت کے بعد میری اپنی تحقیق میں اور میرے علم ویقین میں یہی ہے کہ مرزا قادیانی دیث شریف ’لم یبق من النبوۃ الا المبشرات‘ نبوت کے ا۔ صرف ایک جزو یعنی مبشرات امت محمدیہ میں جاری ہے۔ یعنی م، خدا سے مبشرات پائیں گے۔ ایسا ہی قرآن میں ’لھم البشریٰ‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے مراد خدا کا انسان سے ہم کلام ہونا
٢٤
ہے۔ اسی کا نام الہام ولایت ہے۔ یہ امت محمدیہ میں جاری ہے اور میرے علم ویقین میں مرزا قادیانی اسی کے مدعی تھے۔ وہ آنحضرتﷺ پر نبوت اور رسالت کو منقطع سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ١٩٠٥ء میں علماء دین سے ایک استفتاء کیا۔ اس میں ذیل کی عبارت درج ہے۔
” والنبوة قد انقطعت بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ولا کتاب بعد الفرقان الذى هو خير الصحف السابقة ولا شريعة بعد الشريعة المحمدية بيد انى سميت نبياً على لسان خير البرية وذلك امر ظلى من بركات المتابعة وها ارى فى نفسى خيراً ووجدت كلما وجدت من هذه النفس المقدسة وما عنى الله من نبوتى الا كثرة المكالمة والمخاطبة ولعنة الله على من اراد فوق ذلك وحسب نفسه شيئاً او اخرج عنقه من الربقة النبوية وان رسولنا خاتم النبيين عليه انقطعت سلسلة المرسلين فليس حق احد ان يدعى النبوة بعد رسولنا المصطفىٰ على الطريقة المستقلة وما بقى بعده الا كثرة المكالمة، وهو بشرط الاتباع لا بغير مبايعة خير البرية ووالله ما حصل لى هذا المقام الا من انوار اتباع الاشعة المصطفوية، وسميت نبيا من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقة “
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩)
یہاں نہ صرف صفائی سے یہ کہا ہے کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ بھی اقرار کیا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا اطاعت رسول میں ملا اور جس نبوت کو میں اپنی طرف منسوب کرتا ہوں وہ مجازی ہے نہ حقیقی اور اپنا ایمان وہ اس طرح لکھتے ہیں: ”وبعزة الله وجلاله انى مؤمن مسلم وآمن بالله وكتبه ورسله وملائكته وابعث بعد الموت وبان رسولنا محمد المصطفى ﷺ افضل الرسل وخاتم النبيين“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
اپنے دعویٰ کے متعلق جہاں تک مجھے علم ہے۔ جناب مرزا قادیانی کی یہ آخری تحریر ١
١ مرزا قادیانی کی یہ تحریر ١٨٩٣ء کی ہے۔ خواجہ صاحب اسے ”آخری تحریر“ بتا کر جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ١٩٠٠ء میں کھل کر نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد دعویٰ نبوت سے متعلق مرزا قادیانی کی بے شمار تحریریں ہیں۔
٢٥
ہے ۔ مجھے مرزا قادیانی اس تحریر میں رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ ممکن ہے اس تحریر سے پہلے ان کی کسی تصنیف میں کوئی ایسا امر ہو جس سے ان کے دعویٰ کے متعلق کوئی شک پیدا ہوسکے ۔ لیکن جس صورت میں اس مضمون پر یہ ان کی آخری تحریر ہے اور اس کے بعد اس کے خلاف میرے علم میں آپ کی کوئی تحریر نہیں تو اس تحریر کے ہوتے ہوئے وہ میرے نزدیک مدعی نبوت نہیں ہیں ۔ اگر اس تحریر پر بھی کوئی شخص انہیں رسالت کا دعویدار سمجھتا ہے تو اس کا جواب یہ کہ انہوں نے بیشک مجازی طور پر اپنے متعلق لفظ نبوت یا نبی کا استعمال کیا ہے ۔
لیکن اس طرح مجازی طور پر لفظ نبی یا مرسل کا استعمال جناب مرزا قادیانی سے پہلے بھی سلف صالحین میں موجود ہے ۔ آپ چاہیں گے تو میں حوالے لکھ بھیجوں گا ۔ ١؎
آپ کی تشفی کے لئے میں نے یہ باتیں لکھ دی ہیں اور میرے نزدیک کافی ہیں ۔ میں ایک کارِ خیر میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں ۔ جس کی خاطر میں نے اپنی ہزاروں روپیہ کی آمدنی چھوڑ دی اور اب تک خود بھی اس کام میں اپنی گرہ سے خرچ کرتا ہوں ۔ ابھی گذشتہ دسمبر میں میں نے تین ہزار روپیہ اپنی جیب سے دیا ہے ۔ یہ کام بروئے تعلیم قرآن بہترین کارِ خیر ہے ۔ اس کی طرف آپ کو بھی بلاتا ہوں ۔ اگر آپ شریک ہوتے ہیں تو بسم اللہ ! اور اگر آپ اس کارِ خیر میں ایسے شخص کے ذریعہ روپیہ خرچ کرانا چاہتے ہیں کہ جس نے اپنے عقائد اس خط میں آپ کو لکھ دیئے ہیں جس
١؎ آج تک سلف صالحین میں سے کسی نے اپنے متعلق نبی یا رسول کا لفظ استعمال نہیں کیا نہ حقیقتاً نہ مجازاً۔ مرزائی دھوکہ بازوں کا یہ صریح جھوٹ اور فریب ہے ۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ١٦٤) میں لکھا ہے ۔ ”اسم النبى زال بعد رسول اللہ ﷺ “ حضور ﷺ کے بعد نبی کا اسم ہی زائل ہو گیا ۔ یعنی اپنی ذات سے متعلق کوئی شخص نبی یا مرسل کا لفظ استعمال کرے یہ جائز نہیں ۔ دوسری جگہ شیخ اکبر لکھتے ہیں ۔ ” فاخبر رسول اللہ ﷺ ان الرؤيا جزء من اجزاء النبوة فقد بقى للناس فى النبوة هذا وغيره ومع هذا لا يطلق اسم النبوة ولا النبى الا على المشرع خاصة ، فحجر هذا الاسم لخصوص وصف معين فى النبوة “ (ج ٢ ص ٤٩٥) یعنی نبوت کے اجزاء میں سے رؤیا وغیرہ باقی ہے ۔ لیکن باوجود اس کے نبی اور رسول کا لفظ اپنی ذات پر اطلاق کرنے سے روک دیا گیا ۔ لہٰذا سلف صالحین میں سے کسی نے اپنی ذات پر مرزا قادیانی کی طرح نبوت کا لفظ استعمال کیا ہو اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔ حوالہ لکھ بھیجنے کی بات کرنا یہ خواجہ کمال الدین کی صرف بندر بھبکی ہے اور بس ۔
٢٦
تحریر میں رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ممکن کی کسی تصنیف میں کوئی ایسا امر ہو جس سے ان کے دعویٰ کے متعلق کوئی صورت میں اس مضمون پر یہ ان کی آخری تحریر ہے اور اس کے بعد اس پ کی کوئی تحریر نہیں تو اس تحریر کے ہوتے ہوئے وہ میرے نزدیک مدعی ر پر بھی کوئی شخص انہیں رسالت کا دعویدار سمجھتا ہے تو اس کا جواب یہ کہ پر اپنے متعلق لفظ نبوت یا نبی کا استعمال کیا ہے۔ مجازی طور پر لفظ نبی یا مرسل کا استعمال جناب مرزا قادیانی سے پہلے د ہے۔ آپ چاہیں گے تو میں حوالے لکھ بھیجوں گا۔ ١؎ کے لئے میں نے یہ باتیں لکھ دی ہیں اور میرے نزدیک کافی ہیں۔ میں کو بلاتا ہوں۔ جس کی خاطر میں نے اپنی ہزاروں روپیہ کی آمدنی چھوڑ کام میں اپنی گرہ سے خرچ کرتا ہوں۔ ابھی گذشتہ دسمبر میں میں نے تین یا ہے۔ یہ کام بروئے تعلیم قرآن بہترین کار خیر ہے۔ اس کی طرف پ شریک ہوتے ہیں تو بسم اللہ ! اور اگر آپ اس کار خیر میں ایسے شخص چاہتے ہیں کہ جس نے اپنے عقائد اس خط میں آپ کو لکھ دیئے ہیں جس صالحین میں سے کسی نے اپنے متعلق نبی یا رسول کا لفظ استعمال نہیں دھوکہ بازوں کا یہ صریح جھوٹ اور فریب ہے۔ شیخ اکبر محی الدین ابن ٢٧٣) میں لکھا ہے ۔ ”اسم النبی زال بعد رسول اللہ ﷺ“ م ہی زائل ہو گیا۔ یعنی اپنی ذات سے متعلق کوئی شخص نبی یا مرسل کا لفظ ۔ دوسری جگہ شیخ اکبر لکھتے ہیں ۔ ”فاخبر رسول اللہ ﷺ ان ء النبوة فقد بقی للناس فی النبوة ہذا وغیرہ ومع ہذا وہ ولا النبی الا علی المشرع خاصة . فجبر ہذا الاسم عین فی النبوة “ (ج ٢ ص ٤٩٥) یعنی نبوت کے اجزاء میں سے رویا اس کے نبی اور رسول کا لفظ اپنی ذات پر اطلاق کرنے سے روک دیا ا سے کسی نے اپنی ذات پر مرزا قادیانی کی طرف نبوت کا لفظ استعمال ل سکتی۔ حوالہ لکھ بھیجنے کی بات کرنا یہ خواجہ کمال الدین کی صرف بندر ٢٦
نے جب سے یہ کام شروع کیا ہے اپنے آپ کو فرقی بحثوں سے الگ کر دیا ہے۔ اس معاملہ میں یہاں بھی معتبر سے معتبر شہادت آپ کو مل سکتی ہے کہ میں نے جب سے انگلستان میں اشاعت اسلام کا کام شروع کیا ہے تب سے کسی خاص فرقہ کی اشاعت میں نے نہیں کی۔ میں نے اس دن سے کوئی لفظ ایسا نہیں کہا جو کسی فرقہ کی تعلیم سے تعلق رکھتا ہو۔ میں نے صرف قرآن اور حدیث کو پیش کیا ہے اور آئندہ بھی میں اپنا مشن کسی فرقہ کی تعلیم سے وابستہ نہیں کروں گا۔ اگر آپ کا ایمان اور ضمیر آپ کو اجازت دیتا ہے تو آپ اپنا روپیہ مجھے دیں اور اشاعت اسلام کے لئے آپ اپنا وکیل مجھے کریں اور یہ بھی یاد رہے کہ میں حق وکالت نہیں لیتا ہوں جو کرتا ہوں بلا مزد اور عنداللہ کرتا ہوں۔ ان حالات پر بھی اگر آپ کی تشفی نہیں تو آپ پر حرام ہے کہ ایک پیسہ بھی اس راہ خدا میں مجھے دیں۔
میں ایک نصیحت آپ کو کرتا ہوں کہ اسلام نے جو نقصان اٹھایا وہ ان اندرونی تنازعات اور باہمی فرقی مباحثات سے اٹھایا۔ آج اسلامی سلطنتیں زیادہ تر انہیں جھگڑوں سے تباہ ہوگئی ہیں۔ ایران اور ترکی میں تنازعہ فرقہ کے باعث جو دشمنان اسلام نے فائدہ اٹھایا اور اس کا نتیجہ جو ہوا وہ آپ پر بھی ظاہر ہے۔ اگر آپ نے ابھی یہ نہیں سمجھا تو آج مجھ سے سمجھ لیں کہ ہماری تباہی کا ایک بڑا موجب یہی فرقی مباحثات ہیں۔ میں گذشتہ آٹھ سال سے ہر جگہ یہی وعظ کرتا ہوں۔ یہی میری تحریریں بھی ہیں کہ مسلمانو ! خدا کے واسطے ان آپس کے تنازعات سے بچو۔ ان اختلاف فرقی کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بقول پیغمبر زحمت ہیں۔ لیکن تاجران مذہب اور پیشہ ور مناظرین نے انہیں ہمارے لئے مصیبت بنا دیا ہے۔ بہر حال میرا یہ اصول ہے کہ مسلمانوں کو مباحث فرقیہ سے روکوں اور ان کو متفقہ اصول اسلام کی اشاعت پر بلاؤں اور یہ میں نے کیا ہے اور کامیاب ہوا ہوں۔ جو میرا اعلان شدہ اصول ہو اس اصول کے خلاف مجھے آج بلانا عقلمندوں کے شایان شان نہیں۔ جس صاحب کو کسی نے لکھنؤ سے یہاں فرقی تنازعات کے میدان گرم کرنے کے لئے بلوایا ہے۔ ان کو بھی میرے اس اصول کا علم ہے۔ آپ جیسے چند شرفا کے نام پر یہ صاحب میرے پاس لکھنؤ میں آئے اور میں نے ان کو اس وقت بھی مباحثہ یا مناظرہ کی اجازت نہیں دی۔ صرف میں نے اسی قدر ان کو اجازت دی کہ میں ان کو لکھا دوں کہ میں کیا مانتا ہوں اور کیا نہیں مانتا ہوں۔ میں نے اس کے علاوہ برنگ مناظرہ کچھ بولنے کی اجازت ان کو نہیں دی۔ اس چٹھی میں میں نے بالتفصیل اپنے عقائد لکھ دیئے۔ اگر آپ یہ باتیں میرے منہ ٢٧
سے سننا چاہتے ہیں تو کسی لیکچر کے بعد میں اس چٹھی کو پڑھ دوں گا اور اسی لئے یہ چٹھی میں نے خود پڑھ کر سنادی ہے۔ خدا سے ڈرو۔ اسلام کی رہی سہی حیثیت کو ان فرقہ بندیوں کے باعث تباہ نہ کرو۔ اب ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے۔ سلطنت، طاقت، شوکت سب چلی گئی۔ صرف علمی طور سے اور دلائل کے ساتھ ہم آج اسلام کی حقانیت دوسروں پر ظاہر کر سکتے ہیں۔ سوائے اس کے ہمارے پلے اور کیا رہ گیا۔ کیا آپ لوگ اس کام سے بھی ہمیں روکنا چاہتے ہیں۔ چاہئے تھا کہ آپ لوگ اور ایسے ہی یہ مولوی صاحبان مجھے غیر مسلموں کے مقابل میں اصول اسلام پیش کرنے میں امداد دیتے۔ کیا آپ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ میرے یہاں کے لیکچروں نے یہاں کے بعض انگریزی خواں مسلمانوں کو بے دینی سے بچایا اور ایک طرح انہیں از سرنو مسلمان کیا۔ بدھ مذہب والوں اور ہندوؤں کو اسلام کے قریب کیا۔ ان کے دلوں میں اسلام کی عظمت پیدا کی۔ یہی کام علماء کا ہونا چاہئے تھا جو انہوں نے چھوڑ دیا اور فرقتی مباحثات میں پڑ گئے۔ میں جس دن سے یہاں آیا ہوں مختلف قسم کے شکوک، مسلمان لوگ میرے پاس لے کر آئے۔ انہیں شکوک کے دفعیہ میں میں نے بعض لیکچر دیئے۔ ایک خط میرے پاس ابھی آیا ہے جس میں چند اور سوال کا جواب مجھ سے طلب ہوا ہے۔ میں ان کا ترجمہ ذیل میں آپ کو لکھ دیتا ہوں۔ اگر کسی کو کچھ بھی غیرت اسلام ہے تو کیوں میرے ساتھ اس معاملہ میں امداد نہیں کرتا۔ اگر آپ کو محبت اسلام ہے تو جو روپیہ کسی ایک مولوی صاحب کو لکھنؤ سے بلانے میں خرچ ہوا ہے وہ بھی نفع بخش ہو جائے گا۔ آپ ان سوالات کو ان علماء کی خدمت میں پیش کردیں۔ وہ پبلک جلسہ میں اس کا جواب دے دیں اور اس کا جواب اگر انگریزی میں ہی دینا ہو۔ کیونکہ شاید سائل اردو نہیں سمجھتا اور چٹھی بھی انگریزی میں ہے تو ان علماء سے جواب لکھا کر مجھے بھیج دیں میں مشکور ہوں گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ کہاں تک آپ مسلمانوں کو آنحضرتﷺ اور قرآن سے محبت ہے یا کہاں تک لوگ دو بڑے ١؎ مولویوں کو آپس میں لڑا کر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔
اب میں ان سوالات کا خلاصہ لکھ دیتا ہوں جن کے جواب میں آپ کو اگر کچھ بھی غیرت اسلام ہے تو میری مدد کریں۔ وہ یہ ہے۔
باگلے صاحب کے سوالات
- ١...... جس صورت میں قرآن بعض مذاہب دیگران کا خدا کی طرف سے آنا
تسلیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر قوم کو نبی دیا گیا پھر کہتا ہے نبی قوم کی زبان میں آتا ہے اور یہ بھی فرماتا
١؎ خدا کی قدرت خواجہ صاحب اپنے کو بھی مولوی سمجھتے ہیں۔
٢٨
ہے کہ قرآن عربی میں اس لئے آیا کہ تم سمجھو بن کر آئے؟ وہ عربی نہ بولنے والی قوموں کے
- ٢...... کتب سابقہ خدا نے
قرآن نے پوری کی تو سابقین کو کیوں اس کہ کسی خدا کی بنائی ہوئی چیز کی موجودگی میں
- ٣...... بہائی لوگ کہتے ہیں
وہ جب تک بنی آدم رہیں گے وہ وعدہ جا آنحضرتﷺ کیوں خاتم النبیین ہیں۔
- ٤...... بروئے تعلیم قرآن
کافی ہیں۔ کسی خاص رسالت پر ایمان آنحضرتﷺ کی رسالت منوانا ضروری ہے
ناظرین ! نے دیکھا کہ یہ تحریر جواب میں سب باتوں سے قطع نظر کر کے ص تاکہ تحریر کو طول نہ ہو! اور بات خلاف بحث ن مثلاً شروع خط میں لکھا ہے کہ می رنگون میں بھی اپنا مذہب چھپایا۔ لوگوں کے پرائیویٹ جواب دینا چہ معنی؟ اور مثلاً اندرونی و فرقتی تنازعا اپنے پیشوا مرزا غلام احمد کو کچھ نہ کہا کہ اس اپنے دل سے گھڑ گھڑ کر بیان کیں؟ کیوں اور مثلاً لکھا کہ میں لندن میں م اشاعت اسلام بابت فروری و اگست ١٩٢٠ء لکھا کہ : ”میں نے لکھنؤ میں جناب مولانا دی۔“ یہ کس قدر نخوت وانانیت کا کلمہ ہے
کسی لیکچر کے بعد میں اس چٹھی کو پڑھ دوں گا اور اسی لئے یہ چٹھی میں نے خود خدا سے ڈرو۔ اسلام کی رہی سہی حیثیت کو ان فرقہ بندیوں کے باعث تباہ نہ کیا رہ گیا ہے۔ سلطنت، طاقت، شوکت سب چلی گئی۔ صرف علمی طور سے آج اسلام کی حقانیت دوسروں پر ظاہر کر سکتے ہیں۔ سوائے اس کے ہمارے آپ لوگ اس کام سے بھی ہمیں روکنا چاہتے ہیں۔ چاہئے تھا کہ آپ لوگ صاحبان مجھے غیر مسلموں کے مقابل میں اصول اسلام پیش کرنے میں امداد سے انکار کر سکتے ہیں کہ میرے یہاں کے لیکچروں نے یہاں کے بعض لوگوں کو بے دینی سے بچایا اور ایک طرح انہیں از سر نو مسلمان کیا۔ بدھ مذہب اسلام کے قریب کیا۔ ان کے دلوں میں اسلام کی عظمت پیدا کی۔ یہی کام انہوں نے چھوڑ دیا اور فرقہ مباحثات میں پڑ گئے۔ میں جس دن سے یہاں لوگ، مسلمان لوگ میرے پاس لے کر آئے۔ انہیں شکوک کے دفعیہ میں ہے۔ ایک خط میرے پاس ابھی آیا ہے جس میں چند اور سوال کا جواب مجھ ان کا ترجمہ ذیل میں آپ کو لکھ دیتا ہوں۔ اگر کسی کو کچھ بھی غیرت اسلام ہوتا اس معاملہ میں امداد نہیں کرتا۔ اگر آپ کو محبت اسلام ہے تو جو روپیہ کسی ضلعوں سے بلانے میں خرچ ہوا ہے وہ بھی نفع بخش ہو جائے گا۔ آپ ان خدمت میں پیش کر دیں۔ وہ پبلک جلسہ میں اس کا جواب دے دیں اور اس کا جواب ہی دینا ہو ۔ کیونکہ شاید سائل اردو نہیں سمجھتا اور چٹھی بھی انگریزی میں ہے تو کر مجھے بھیج دیں میں مشکور ہوں گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ کہاں آنحضرت ﷺ اور قرآن سے محبت ہے یا کہاں تک لوگ بڑے مولویوں کو چاہتے ہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اِن سوالات کا خلاصہ لکھ دیتا ہوں جن کے جواب میں آپ کو اگر کچھ بھی انکار نہ کریں۔ وہ یہ ہے۔
سوالات
جس صورت میں قرآن بعض مذاہب دیگراں کا خدا کی طرف سے آنا کہ ہر قوم کو نبی دیا گیا پھر کہتا ہے نبی قوم کی زبان میں آتا ہے اور یہ بھی فرماتا
اور خواجہ صاحب اپنے کو بھی مولوی سمجھتے ہیں۔
٢٨
٣٩
ہے کہ قرآن عربی میں اس لئے آیا کہ تم سمجھ سکو۔ پھر کیوں آنحضرت ﷺ کل دنیا کے لئے رسول بن کر آئے ؟ وہ عربی نہ بولنے والی قوموں کے نبی نہیں ہو سکتے ۔
- .......٢ کتب سابقہ خدا نے بھیج کر کیوں منسوخ کیں۔ اگر ان میں کوئی کمی تھی جو
قرآن نے پوری کی تو سابقین کو کیوں اس سے محروم کیا گیا۔ صحیفہ قدرت میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی خدا کی بنائی ہوئی چیز کی موجودگی میں اسے باطل اور بے مصرف خدا نے نہیں کیا۔
- .......٣ بہائی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں جناب آدم سے ہدایت کا وعدہ تھا
وہ جب تک بنی آدم رہیں گے وہ وعدہ جاری رہے گا۔ پھر قرآن کیوں خاتم ہدایت ہے اور آنحضرت ﷺ کیوں خاتم النبیین ہیں۔
- .......٤ بروئے تعلیم قرآن ایمان باللہ، ایمان بالآخرۃ، عمل صالح ،نجات کے لئے
کافی ہیں۔ کسی خاص رسالت پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ (سورۃ بقرۃ آیت ٦٢) پھر کیوں آنحضرت ﷺ کی رسالت منوانا ضروری ہے۔ اس خط کی نقل رکھ لی گئی۔ والسلام !
خواجہ کمال الدین فقط مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٢٠ء
ناظرین ! نے دیکھا کہ یہ تحریر کس قدر پرفریب کارروائیوں سے بھری ہوئی ہے۔ جواب میں سب باتوں سے قطع نظر کر کے صرف اصل مقصد کے متعلق ان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاکہ تحریر کو طول نہ ہو اور بات خلاف مبحث نہ چلی جائے۔
مثلاً شروع خط میں لکھا ہے کہ میں نے اپنا مذہب کبھی چھپایا نہیں ۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ رنگون میں بھی اپنا مذہب چھپایا۔ لوگوں کے سوالات کے جواب نہ دیئے۔ مطبوعہ آٹھ سوالوں کا پرائیویٹ جواب دینا چہ معنی؟
اور مثلاً اندرونی و فرقتی تنازعات کے متعلق بہت کچھ نصیحتیں مسلمانوں کو کیں۔ لیکن اپنے پیشوا مرزا غلام احمد کو کچھ نہ کہا کہ اس نے کیوں یہ نزاعات برپا کئے؟ کیوں نئی نئی موحش باتیں اپنے دل سے گڑھ گڑھ کر بیان کیں؟ کیوں تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر بنایا؟
اور مثلاً لکھا کہ میں لندن میں مرزائیت کی تبلیغ نہیں کرتا یہ کیسا سفید جھوٹ ہے۔ رسالہ اشاعت اسلام بابت فروری و اگست ١٩٢٠ء سے خاص مرزائیت کی تبلیغ کا پورا ثبوت ملتا ہے اور مثلاً لکھا کہ : ”میں نے لکھنؤ میں جناب مولانا عبد الشکور صاحب کو اس سے زیادہ بولنے کی اجازت نہ دی“۔ یہ کس قدر نخوت و انانیت کا کلمہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لکھنؤ میں برسر حکومت تھے اور
٢٩
مولانا ممدوح آپ کی اجازت کے محتاج تھے۔ علاوہ ازیں جھوٹ بھی ہے۔ لکھنؤ کی تقریر کا اشتہار اسی دن چھپ گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے خود ہی معافی مانگی تھی۔ اور مثلاً باگلے صاحب کو آمادہ کر کے ایک مضمون شائع کرا دیا تا کہ ان کا پیچھا چھوٹ جائے۔ مگر رائے اس کو انہیں پر الٹ دیا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! حامداً ومصلیاً
جناب من: کمال الدین صاحب! بعد ماہو المسنون واضح ہو۔ کل بعد مغرب آپ کا عنایت نامہ کئی روز کے انتظار شدید اور وعدہ امروز و فردا کے بعد ملا۔ جس کا شکریہ قبول فرمائیے۔ اگرچہ بعض کلمات آپ کے قلم سے ہمارے علمائے دین کی شان میں خلافِ ادب نکل گئے ہیں۔ لیکن ہم اس سے درگزر کر کے آپ کی باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ صرف دو تین باتوں کے متعلق اپنی تشفی چاہتے ہیں۔ افسوس ہے کہ آپ نے بالمشافہ ہمارے علمائے کرام کے سامنے گفتگو کرنے سے صاف انکار کر دیا ورنہ معاملہ بہت جلد صاف ہو جاتا اور یہ نزاع فرقی جس سے آپ اپنا تنفر ظاہر کرتے ہیں اور اس کو باعث تنزل اہل اسلام بیان کرتے ہیں، یقیناً مٹ جاتا۔ خیر اب امور ذیل کا تشفی بخش جواب دیجئے۔ لیکن براہ کرم مثل سابق وعدہ امروز و فردا میں وقت گزاری نہ فرمائیے۔
- ١....... اپنے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت آپ نے لکھا ہے کہ انہوں نے
نبوت کا دعویٰ مجازی طور پر کیا ہے اور ان کی کتاب ”استفتاء“ کی ایک عبارت نقل کی ہے جس میں آنحضرتﷺ پر نبوت ختم ہو جانے کی تصریح ہے۔ اس موقع پر دو باتیں جواب طلب ہیں۔
اول یہ کہ مرزا قادیانی نے جابجا تمام نبیوں سے خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنا افضل ہونا بیان کیا ہے اور اپنے الہام و وحی کو کتب الہیہ اور قرآن شریف کا ہم پایہ قرار دیا ہے۔
دیکھئے اسی کتاب حقیقت الوحی میں جس کے ضمیمہ کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، مطبوعہ ١٩٠٧ء)
زحمت کے محتاج تھے۔ علاوہ ازیں جھوٹ بھی ہے۔ لکھنؤ کی تقریر کا اشتہار معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے خود ہی معافی مانگی تھی۔ صاحب کو آمادہ کر کے ایک مضمون شائع کرا دیا تا کہ ان کا پیچھا چھوٹ ہیں پر الٹ دیا۔
بسم الله الرحمن الرحيم !
حامداً ومصلياً
ال الدین صاحب!
ن واضح ہو۔ کل بعد مغرب آپ کا عنایت نامہ کئی روز کے انتظار شدید ملا۔ جس کا شکریہ قبول فرمائیے۔ اگر چہ بعض کلمات آپ کے قلم سے ن میں خلاف ادب نکل گئے ہیں۔ لیکن ہم اس سے درگزر کر کے آپ کی نے آمادہ ہیں۔ صرف دو تین باتوں کے متعلق اپنی تشفی چاہتے ہیں۔ آپ نے بالمشافہ ہمارے علمائے کرام کے سامنے گفتگو کرنے سے ملہ بہت جلد صاف ہو جاتا اور یہ نزاع فرقی جس سے آپ اپنا تنفر ظاہر ث تنزل اہل اسلام بیان کرتے ہیں، یقیناً مٹ جاتا۔ خیر اب امور ذیل لیکن براہ کرم مثل سابق وعدہ امروز و فردا میں وقت گزاری نہ فرمائیے۔
پنے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت آپ نے لکھا ہے کہ انہوں نے رکیا ہے اور ان کی کتاب ”استفتاء“ کی ایک عبارت نقل کی ہے جس میں م ہو جانے کی تصریح ہے۔ اس موقع پر دو باتیں جواب طلب ہیں۔
اقادیانی نے جا بجا تمام نبیوں سے خاص کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اور اپنے الہام و وحی کو کتب الہیہ اور قرآن شریف کا ہم پایہ قرار دیا ہے۔ لوحی میں جس کے ضمیمہ کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے ہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، مطبوعہ ١٩٠٧ء)
٣٠
نیز اسی کتاب میں ہے: ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
دوسری کتابوں میں مرزا قادیانی نے اس سے بھی بہت زیادہ لکھا ہے۔ مگر چونکہ آپ نے ضمیمہ حقیقت الوحی کا حوالہ دیا ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی اسی پر قناعت کی۔
نیز تتمہ حقیقت الوحی میں ہے کہ : ”خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٠)
پس اب سوال یہ ہے کہ کیا مجازی نبی حقیقی نبی سے افضل ہو سکتا ہے؟ یا اس کا الہام حقیقی نبی کے الہام کے برابر قطعی اور یقینی ہو سکتا ہے؟ یہ دعویٰ افضلیت ومساوات کی روشن دلیل اس بات کی ہے کہ مرزا قادیانی نے مجازی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔
دوم یہ کہ : (استفتاء ص ٢٣) میں جس کی عبارت کا حوالہ آپ نے دیا ہے۔ مرزا قادیانی ختم نبوت کے ساتھ ایک استثناء لگا چکے ہیں۔ (لہٰذا) آپ کی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ص ٢٢ کی عبارت ملاحظہ ہو: ”و ان نبيا خاتم الانبياء لا نبى بعده الا الذى ينور بنوره ويكون ظهوره ظل ظهوره فالوحى لنا حق وملك بعد الاتباع “
(الاستفتاء ص ٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٤)
(ترجمہ) بے شک ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہ شخص نبی ہو سکتا ہے جو حضورﷺ کے نور سے منور ہو اور اس کا ظہور حضور کے ظل کا ظہور ہو۔ لہٰذا حضور کی اتباع کئے بعد وحی کے ہم حق دار اور مالک ہیں۔
پس جب مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ ختم نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع کا دعویٰ کر نیوالے کے لئے نہیں ہوا تو آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی ختم نبوت کے قائل ہیں۔ کس طرح قابل تسلیم ہو سکتا ہے۔
- ......٢ معراج شریف پر ایمان رکھنے والے کو آپ مسلمان ہونے کے لئے
٣١
ضروری لکھتے ہیں۔ لیکن آپ کے مرزا قادیانی اس کے منکر ہیں اور معراج کو ایک قسم کا کشف کہتے ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں کہ: ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
پھر چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
اس عبارت میں یہ گستاخی قابل دید ہے کہ رسول رب العالمین ﷺ کے جسم انور کو کثیف کہا۔ (معاذ اللہ منہ)
- ٣....... مرزا قادیانی نے صرف یہی ایک بات خلاف قرآن کے اور خلاف دین
اسلام کے نہیں کہی کہ ختم نبوت میں ایک استثناء لگایا اور اس کا انکار کیا اور اپنی نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۔ بلکہ اور بھی بہت سی باتیں ان میں ایسی ہیں کہ ان میں کی ایک بات بھی اسلام سے خارج کرنے کے لئے کافی ہے۔
مثلاً انہوں نے اپنی جھوٹی باتوں کا جواب دینے کی ضرورت سے یہ لکھا کہ اگلے نبیوں اور خاص کر سرور عالم ﷺ کی بعض پیشین گوئیاں ٹل گئیں یا جھوٹی ہو گئیں۔
(ضرورة الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٨، ازالہ اوہام ص ٤٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٩٥)
اور مثلاً انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو عمل مسمریزم اور قابل نفرت ومکروہ لکھا اور ان کی سخت توہین کی۔
(ازالہ ص ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
اور مثلاً انہوں نے نبیوں کی نسبت لکھا کہ وحی کے سمجھنے میں ان سے غلطی بھی ہو جاتی ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣، ازالہ اوہام ص ٧٣٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٦)
اور مثلاً انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان اقدس و ارفع میں یہ لکھا کہ: ”دجال وغیرہ کی حقیقت ان پر منکشف نہ ہوئی تھی۔ مجھ پر منکشف ہوئی۔“
(ازالہ ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
اور مثلاً انہوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ایک خانہ ساز وحی میں صاحب اولاد قرار دیا اور اس کو خنثیٰ ٹھہرایا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، ١٠٦)
اور مثلاً اعجاز احمدی میں احادیث نبویہ کی نسبت لکھا کہ: ”جو حدیث ہماری وحی کے خلاف ہو اس کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
اور آنحضرت ﷺ کی توہین کے لئے مرزا قادیانی کا یہ شعر کافی ہے۔
٣٢
پ کے مرزا قادیانی اس کے منکر ہیں اور معراج کو ایک قسم کا کشف کہتے ں لکھتے ہیں کہ: ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ “
(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
ہا یہ گستاخی قابل دید ہے کہ رسول رب العالمینﷺ کے جسم انور کو ( ا قادیانی نے صرف یہی ایک بات خلاف قرآن کے اور خلاف دین رت میں ایک استثناء لگایا اور اس کا انکار کیا اور اپنی نبوت ورسالت کا ا باتیں ان میں ایسی ہیں کہ ان میں کی ایک بات بھی اسلام سے خارج
اپنی جھوٹی باتوں کا جواب دینے کی ضرورت سے یہ لکھا کہ اگلے نبیوں بعض پیشین گوئیاں ٹل گئیں یا جھوٹی ہوگئیں۔
الہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨، ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٩٥)
نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو عمل مسمریزم اور قابل نفرت ومکروہ لکھا
(ازالہ ص ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
نے نبیوں کی نسبت لکھا کہ وحی کے سمجھنے میں ان سے غلطی بھی ہوجاتی
احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣، ازالہ اوہام ص ٣٦٦، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦)
نے آنحضرتﷺ کی شان اقدس وارفع میں یہ لکھا کہ: ”دجال وغیرہ وئی تھی۔ مجھ پر منکشف ہوئی۔“
(ازالہ ص ٢٩٢، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧)
نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ایک خانہ ساز وحی میں صاحب اولاد قرار دیا اور اس
(حقیقت الوحی ص ٨٦، ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، ١٠٦)
ی میں احادیث نبویہ کی نسبت لکھا کہ: ”جو حدیث ہماری وحی کے رح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
یے کی توہین کے لئے مرزا قادیانی کا یہ شعر کافی ہے۔
٣٢
وانتم عن الموتى رويتم ففكروا
(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)
(ترجمہ) ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی و قیوم اور وحدہ لا شریک ہے اور تم لوگ (اے مسلمانو) مردوں یعنی محمدﷺ اور صحابہ، اہل بیت، تابعین تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، ائمہ محدثین اور اولیاء کرام سے روایت کرتے ہو۔
”وغیر ذلك مما لا تعد ولا تحصٰی“ پس ہمارا منشا یہ ہے کہ آپ مرزا قادیانی سے تبری کر کے ہمارے ہم خیال ہوجائیں۔ یا مرزا قادیانی کی ان تمام باتوں کا صحیح مطلب ہم کو سمجھادیں۔ اس لئے ہم زبانی گفتگو کے متدعی تھے۔ جس سے آپ نے مصلحتاً انکار کردیا۔
- ٤....... باگلے صاحب کی جس انگریزی تحریر کا ذکر آپ نے لکھا ہے اور ان کے
اعتراضات کے جواب میں ہمارے علماء کرام سے مدد مانگی ہے۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ علماء اسلام ہمیشہ مخالفین اسلام کا جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں اور انہیں کی سعی مشکور اور تبلیغ اسلام کا نتیجہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کا آفتاب چمک رہا ہے۔ لیکن باگلے صاحب نے اپنی تحریر کو شروع میں صاف لکھ دیا ہے کہ یہ اعتراضات ان کو نیز اور بہت سے لوگوں کو آپ کے لیکچروں سے پیدا ہوئے ہیں۔ پس جب کہ آپ کے لیکچر قرآن اور دین اسلام کے خلاف ہیں تو جو اعتراضات ان سے پیدا ہوں ان کے ذمہ دار آپ ہیں۔ نہ اسلام اور علماء اسلام۔ تاہم باگلے صاحب کے نفس اعتراض کا جواب شافی و کافی اصل قرآن کی تعلیم کے مطابق علماء اسلام دیں گے۔
آخر میں اس قدر عرض اور ہے کہ علماء دین کے لئے تو آپ تکفیر کو ایک بہت بڑا جرم قرار دیا کرتے ہیں۔ مگر کیا وجہ ہے کہ اس تحریر میں آپ نے رنگون کے انگریزی دان مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔ کیا یہ چیز آپ کے لئے جائز ہے؟
باگلے صاحب کی تحریر پر آپ کو توجہ کرنا چاہئے کہ آپ کے لیکچروں نے غیر مسلموں کی نظر میں اسلام کو اس قدر ذلیل کردیا ہے۔ فقط جواب بدست حامل ہذا عنایت ہو۔
غلام حسین مانجوا چیف اسٹریٹ رنگون
اس تحریر کے ختم ہونے کے بعد ایک اشتہار مطبوعہ آپ کا ملا۔ چونکہ اس اشتہار کے مضامین وہی ہیں جو کل آپ ہمارے سامنے کہہ چکے تھے۔ لہٰذا سب نے سمجھ لیا کہ یہ اشتہار آپ کا
٣٣
ہے اور دوسرے کا نام فرضی ہے۔ تعجب ہے کہ جب آپ علماء کے سامنے نہیں آنا چاہتے اور نزاعی فرقے سے دور رہنا چاہتے ہیں تو اشتہار بازی اور وہ بھی در پردہ کیوں ہے؟ کاش یہ اشتہار اپنے نام سے دیا ہوتا تو اس کا جواب بھی ہم اسی کے ساتھ شامل کر دیتے۔ فقط
غلام حسین ابراہیم مانجوا !
اس کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب نے جلدی سے ایک جلسہ اپنے میزبان سر جمال صاحب کی صدارت میں منعقد کر دیا اور مسلمانوں میں مشہور کیا کہ میں باگلے صاحب کے لایحل اعتراضات کا جواب دوں گا۔ یہ خبر جمعیت العلماء میں بھی پہنچ گئی اور اسی وقت باگلے صاحب کا جواب جو (امام اہل سنت) عالی جناب مولانا محمد عبدالشکور صاحب نے قلم برداشتہ لکھ دیا تھا۔ اسے جلسہ میں بھیج دیا گیا اور خواجہ صاحب کو ایک خط پھر اس کے ساتھ بھیج دیا گیا اور صدر جلسہ سے اجازت مانگی گئی کہ یہ خط اور باگلے صاحب کا جواب جلسہ عام میں پڑھ کر سنا دیا جائے۔ مگر خواجہ صاحب نے بڑی چالاکی سے صدر صاحب کو اجازت دینے سے روکا۔ خود خواجہ صاحب نے البتہ اس تحریر کو پڑھ لیا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔ اپنی تقریر میں اکثر حصہ ہمارے جواب کا بیان کر کے اپنا نام کیا۔ لیکن ہمارے قاصدوں نے ایک کاپی جلسہ کے دروازے پر آویزاں کر دی تھی۔ جس سے تمام حقیقت کھل گئی۔ و ہو ہذا !
جناب خواجہ کمال الدین صاحب کی خدمت میں
”بعد ماہو المسنون “ عرض ہے کہ یہ تو آپ نے پہلے تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آپ کے پیشوا ہیں اور اب آپ نے اپنی تحریر مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٢٠ء میں تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا کیا ہے۔ اب صرف ذرا سی بات باقی ہے کہ آپ ان کے دعویٰ نبوت میں یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مجازی نبوت مراد ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ذیل کی باتیں آپ کی تاویل کے قبول کرنے سے مانع ہیں۔
- .......١ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو حقیقی نبیوں سے افضل کہا ہے۔
- .......٢ مرزا قادیانی نے اپنے الہام کو حقیقی نبیوں کی وحی کا ہم رتبہ قرار دیا۔
- .......٣ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے منکروں بلکہ شک کرنے والوں اور بیعت
نہ کرنے والوں غرض کہ کل مسلمانوں کو باستثناء اپنے فرقہ کے کافر بنا دیا۔١؎
١؎ چونکہ یہ حوالہ جات اس کتاب میں جا بجا خصوصاً دوسرے باب میں آچکے ہیں۔ اس لئے یہاں درج نہیں کئے گئے۔
٣٤
ے تعجب ہے کہ جب آپ علماء کے سامنے نہیں آنا چاہتے اور نزاعی تو اشتہار بازی اور وہ بھی در پردہ کیوں ہے؟ کاش یہ اشتہار اپنے نام ی ہم اسی کے ساتھ شامل کر دیتے۔ فقط
غلام حسین ابراہیم مانجوا!
ہ کمال الدین صاحب نے جلدی سے ایک جلسہ اپنے میزبان سر جمال نعقد کر دیا اور مسلمانوں میں مشہور کیا کہ میں باگلے صاحب کے لائحمل ہے۔ یہ خبر جمعیت العلماء میں بھی پہنچ گئی اور اسی وقت باگلے صاحب کا عالی جناب مولانا محمد عبد الشکور صاحب نے قلم برداشتہ لکھ دیا تھا۔ اسے ہ صاحب کو ایک خط پھر اس کے ساتھ بھیج دیا گیا اور صدر جلسہ سے کہ باگلے صاحب کا جواب جلسہ عام میں پڑھ کر سنا دیا جائے۔ مگر خواجہ ے صدر صاحب کو اجازت دینے سے روکا۔ خود خواجہ صاحب نے البتہ فائدہ اٹھایا۔ اپنی تقریر میں اکثر حصہ ہمارے جواب کا بیان کر کے اپنا وں نے ایک کاپی جلسہ کے دروازے پر آویزاں کر دی تھی۔ جس سے
ن صاحب کی خدمت میں
مضمون ”عرض ہے کہ یہ تو آپ نے پہلے تسلیم کر لیا ہے کہ مرزا غلام ں اور اب آپ نے اپنی تحریر مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٢٠ء میں تسلیم کر لیا ہے کہ کا کیا ہے۔ اب صرف ذرا سی بات باقی ہے کہ آپ ان کے دعویٰ یں کہ اس سے مجازی نبوت مراد ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ذیل کی باتیں نے سے مانع ہیں۔
- ١۔ غلام احمد قادیانی نے اپنے کو حقیقی نبیوں سے افضل کہا ہے۔
- اقادیانی نے اپنے الہام کو حقیقی نبیوں کی وحی کا ہم رتبہ قرار دیا۔
- اقادیانی نے اپنی نبوت کے منکروں بلکہ شک کرنے والوں اور بیعت
لمانوں کو باستثناء اپنے فرقہ کے کافر بنا دیا۔ ١؎
یات اس کتاب میں جابجا خصوصاً دوسرے باب میں آچکے ہیں۔ اس ے۔
٣٤
پس اب گذارش ہے کہ آپ اپنی تاویل واپس لیں یا سمجھا دیں کہ مجازی نبوت میں یہ تینوں باتیں کیسے بن سکتی ہیں۔ للہ جواب تحریری جلد عنایت کیجئے۔
باگلے صاحب کی چٹھی کا جواب
”باسمہ تعالیٰ حامداً و مصلیاً“
باگلے صاحب نے ایک چٹھی انگریزی میں چھاپی ہے۔ جس میں انہوں نے چار اعتراض اسلام پر کئے ہیں اور نتیجہ سب کا یہ نکالا ہے کہ دین محمدی کو قبول کرنا ضروری نہیں۔ اگرچہ باگلے صاحب نے اس چٹھی میں یہ لکھ کر کہ خواجہ صاحب عنقریب رنگون چھوڑنے والے ہیں۔ ہمارے علماء خاص کر عالی جناب حضرت مولانا محمد عبدالشکور صاحب لکھنوی ”عم فیضهم“ سے بھی ان اعتراضات کے جواب کی امید ظاہر کی ہے۔ لیکن چونکہ باگلے صاحب نے آغاز تحریر میں یہ تصریح کر دی ہے کہ یہ اعتراضات ان کو اور نیز بہت سے انگریزی دانوں کو جو اسلام سے دلچسپی لے رہے ہیں۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے قابلانہ لیکچروں سے پیدا ہوئے ہیں۔ پھر یہ چٹھی باگلے صاحب نے ہمارے علماء کی خدمت میں بھیجی بھی نہیں اور خواجہ صاحب ابھی رنگون میں مقیم بھی ہیں۔ لہٰذا کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم اپنے علمائے کرام کو ان اعتراضات کے جواب کی طرف متوجہ کریں۔ مگر خواجہ کمال الدین نے اپنی تحریر مورخہ ٢٢ ستمبر ١٩٢٠ء میں ان اعتراضات کے جواب کے لئے ہمارے علماء سے مدد مانگی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب جواب دینے سے عاجز ہیں اور اندیشہ ہے کہ جو لوگ خواجہ صاحب کے مذہب سے ناواقف ہیں۔ وہ شاید ان کی عاجزی کو علمائے اسلام کی عاجزی تصور کریں۔ اس لئے عالی جناب مولانا صاحب مدیر النجم لکھنؤ سے جواب حاصل کر کے ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔
محمد ضمیر الدین مدرس مدرسہ اسلامیہ نمبر ٤٨ مرچنٹ اسٹریٹ رنگون
اعتراضوں کا جواب
پہلا اعتراض یہ ہے کہ قرآن شریف نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ہر رسول پر اسی قوم کی زبان میں وحی آئی ہے۔ جس کی طرف وہ بھیجا گیا اور یہ بھی کہا کہ قرآن عربی زبان میں اس لئے آیا کہ تم سمجھو اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اور محمد ﷺ صرف عرب کے لئے ہیں۔ پس یہ دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لئے ہے؟
٣٥
جواب یہ ہے کہ قرآن شریف نے مذکورہ بالا مضمون صرف ان نبیوں کی بابت بیان کیا ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے آئے تھے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کسی نبی کی نبوت ساری دنیا کے لئے نہیں ہوئی۔ ہر نبی صرف ایک خاص قوم کے لئے ہوتا تھا اور اسی قوم کی زبان میں ان پر وحی اترتی تھی۔ اس قضیہ کو الٹ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ جس نبی کی جو زبان ہو اس کی نبوت اسی قوم کے ساتھ مخصوص ہے غلط ہے۔ قرآن عربی زبان میں اس لئے آیا کہ سب سے پہلے اہل عرب اور ان کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اس روشنی کا پھیلانا مقصود تھا۔
قولہ تعالیٰ: ”لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيداً (بقرہ:) “﴿تا کہ تم اے اہل عرب سب لوگوں کے سامنے گواہی دینے والے بنو اور رسول تمہارے سامنے گواہی دینے والے بنیں۔﴾
قرآن شریف تصریح کر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کی ہدایت ساری دنیا کے لئے ہے۔ حسب ذیل آیتیں پڑھو۔
- ١....... ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً الذى له
ملك السمٰوات والارض لا اله الا هو يحيى ويميت فامنوا بالله ورسوله النبى الامى (اعراف:) “﴿اے نبی کہہ دیجئے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ جس کی حکومت ہے۔ آسمانوں اور زمین میں، کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا۔ وہی جلاتا ہے۔ وہی مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر۔﴾
- ٢....... ”وما ارسلناك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً (سباء:)“
﴿یعنی اے نبی ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔﴾
- ٣....... ”واوحى الىّ هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (انعام)“
﴿یعنی یہ قرآن مجھ پر وحی کیا گیا تا کہ میں تم کو اس کے ذریعہ سے ڈراؤں اور نیز ان تمام لوگوں کو جن تک قرآن پہنچ جائے۔﴾
- ٤....... ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين
نذيراً (فرقان) “﴿برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندوں پر قرآن اتارا تا کہ وہ تمام دنیا کے لئے ڈرانے والا بنے۔﴾
٤٦
پس جب قرآن کی یہ تصریح ہے تو اس کے خلاف کسی آیت کا مطلب لینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کسی کلام سے کوئی ایسا مفہوم استنباط کرنا جو اس کلام کے دوسرے حصہ کی تصریح کے خلاف ہو۔ عقلاً بھی جائز نہیں۔
- ٢...... دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن دوسرے مذاہب کے خدائی آغاز کو تسلیم کرتا
ہے اور توریت کو نور و ہدایت کہتا ہے۔ پس ایسی حالت میں اگر یہ وحیاں کامل تھیں تو کیوں منسوخ ہوئیں۔ نا کامل تھیں تو وہ لوگ کیوں کامل چیز سے محروم کئے گئے۔
جواب یہ ہے کہ قرآن شریف نے بیشک یہ بیان کیا ہے کہ ہر قوم اور ہر ملک میں نبی آئے اور ہدایت اتری۔ مگر یہ کہیں نہیں بیان کیا کہ دنیا کے موجودہ مذاہب وہی ہیں۔ جن کی تعلیم نبیوں نے دی۔ بلکہ یہ تصریح اکثر آیتوں میں ہے کہ انبیاء کی تعلیمات اور خدائی کتابوں میں ان نبیوں کے بعد بہت کچھ تحریف و تبدیل لوگوں نے کر دی۔ اس تحریف و تبدیل کا ثبوت تاریخی واقعات اور دوسرے دلائل سے بھی ہم کو ملتا ہے۔
پس اب سمجھ لینا چاہئے کہ اگلی شریعتوں کے منسوخ ہونے کی دو وجہ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ شریعتیں اصلی حالت پر باقی نہ تھیں۔ ان میں بہت تحریف ہوگئی تھی۔ دوسرے یہ کہ قرآن دین کامل لے کر آیا ہے اور اگلی شریعتیں بہ نسبت شریعت محمدیہ کے دین کامل لے کر نہیں آئی تھیں۔ جیسا کہ فرمایا: ”اليوم اكملت لكم دينكم (مائدہ)“ آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا۔ بہ نسبت اگلی شریعتوں کے، شریعت محمدی کا مکمل ہونا دونوں شریعتوں کے مسائل دیکھنے سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔
باقی رہا کہنا کہ اگلی قومیں کیوں ایسے دین کامل سے محروم کی گئیں۔ ایک بیجا اعتراض ہے۔ نظام عالم ہم کو بتلا رہا ہے کہ قانون قدرت یہی ہے کہ ترقی بتدریج ہوتی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے اس وقت کمزور ہوتا ہے۔ بولنا چلنا پھرنا اور تمام وہ قوتیں جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔ بتدریج اس میں پیدا ہوتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں۔ اب اس پر یہ اعتراض کرنا کہ پہلے ہی سے سب قوتیں انسان کو کیوں نہ مل گئیں اور بچے اس کمال سے کیوں محروم کئے گئے۔ قانون فطرت پر اعتراض کرنا ہے۔
- ٣...... تیسرا اعتراض یہ ہے کہ بہائی لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبری ختم نہیں ہوئی۔ خدا
نے حضرت آدم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم وقتاً فوقتاً پیغمبر بھیجتے رہیں گے۔ پس بنی آدم میں ہمیشہ سلسلہ نبوت کا قائم رہنا چاہئے۔ محمدﷺ پر نبوت ختم ہونے کا عقیدہ غلط ہے۔
جواب یہ ہے کہ بہائی لوگوں کا یا ان سے سیکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرووں کا یہ کہنا کہ نبوت ختم نہیں ہوئی ۔ قرآن اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن صاف تصریح کر رہا ہے کہ نبوت محمد ﷺ پر ختم ہوگئی ۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب) “ ﴿یعنی محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔﴾
قرآن کی وہ دو آیتیں جن کا حوالہ اعتراض میں ہے۔ ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو بہائی اور مرزائی بیان کرتے ہیں ۔ بلکہ ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ خدا کی طرف سے نبی آئیں گے اور ہدایت آئے گی ۔ یہ کسی لفظ سے اشارہ بھی نہیں نکلتا کہ نبوت کبھی ختم نہ ہوگی ۔ یہ بات دوسرے اعتراض کے جواب میں بیان ہو چکی ہے کہ اگلی شریعتیں کیوں منسوخ ہوئیں ۔ پس چونکہ وہ وجہ منسوخیت کی شریعت محمدیہ میں نہیں ہے ۔ اس لئے محمد ﷺ پر نبوت کا ختم ہو جانا عقل کے بھی موافق ہے ۔ اگلی شریعتیں دین کامل نہ تھیں اور شریعت محمدیہ دین کامل ہے ۔ اگلی شریعتوں میں تحریف ہوگئی تھی ۔ لیکن شریعت محمدیہ کے محفوظ رہنے کا خدا ذمہ دار ہے ۔
”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر:) “ ﴿یعنی یہ نصیحت ہم نے اتاری ہے اور ہم خود اس کے محافظ ہیں ۔ ﴾
شریعت محمدیہ کا محفوظ رہنا ان سلسلہ اسانید کے علاوہ جو اہل اسلام کے پاس ہیں ۔ تاریخی واقعات اور غیر مسلم اصحاب کی شہادت سے بخوبی ظاہر ہے۔
٤ ....... چوتھا اعتراض یہ ہے کہ قرآن کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کو منحصر نہیں کہتا ۔ جیسا کہ دوسرے پارہ کی آیت سے ظاہر ہے ۔ پس اب کیا ضرورت دین اسلام قبول کرنے کی ہے۔
جواب یہ ہے کہ کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کا منحصر نہ ہونا صرف خواجہ کمال الدین صاحب کا قول ہے ۔ ورنہ قرآن کی بہت سی آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ نجات دین اسلام میں منحصر ہے: ”ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه (آل عمران) “ ﴿یعنی جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا تو ہرگز اس سے نہ قبول کیا جائے گا۔ ﴾
باقی رہی کسی دوسرے پارہ کی آیت جس کو لائق معترض نے نقل کیا ہے ۔ اس کا مطلب خواجہ صاحب نے صحیح نہیں بیان کیا ۔ اس آیت کا منشا صرف اس قدر ہے کہ قرآن نجات کو کسی قوم
٤٨
کہ بھائی لوگوں کا یا ان سے سیکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ختم نہیں ہوئی۔ قرآن اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ قرآن صاف نبوت محمدﷺ پر ختم ہوگئی۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب: ٤٠) “ (یعنی محمدﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔)
یہ وہ آیتیں ہیں جن کا حوالہ اعتراض میں ہے۔ ان کا وہ مطلب نہیں ہے جو نکالتے ہیں۔ بلکہ ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ خدا کی طرف سے نبی آئیں گے۔ یہ کسی لفظ سے اشارہ بھی نہیں نکلتا کہ نبوت کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ بات جواب میں بیان ہوچکی ہے کہ اگلی شریعتیں کیوں منسوخ ہوئیں۔ پس ضرورت شریعت محمدیہ میں نہیں ہے۔ اس لئے محمدﷺ پر نبوت کا ختم ہوجانا عقل کے خلاف نہیں۔ ان میں دین کامل نہیں اور شریعت محمدیہ دین کامل ہے۔ اگلی شریعتوں میں تحریف ہوگئی تھی جبکہ شریعت محمدیہ کے محفوظ رہنے کا خدا ذمہ دار ہے۔ ”انا نزلنا الذكر وانا له لحافظون (حجر: ٩) “ (یعنی یہ نصیحت ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے حافظ ہیں۔) اس کا محفوظ رہنا ان سلسلہ اسانید کے علاوہ جو اہل اسلام کے پاس ہیں۔ اغیار کی شہادت سے بخوبی ظاہر ہے۔
چوتھا اعتراض یہ ہے کہ قرآن کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کو منحصر نہیں کرتا یہ پہلے پارہ کی آیت سے ظاہر ہے۔ پس اب کیا ضرورت دین اسلام قبول کرنے کی۔ جواب یہ ہے کہ کسی خاص پیغمبر کی پیروی میں نجات کا منحصر نہ ہونا صرف خواجہ کمال الدین کا قول ہے۔ ورنہ قرآن کی بہت سی آیتوں میں بیان ہوا ہے کہ نجات دین اسلام ومن يبتغ غیر الاسلام دينا فلن يقبل منه (آل عمران: ٨٥) “ (یعنی جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے گا تو ہرگز اس سے نہ قبول کیا جائے گا۔) باقی رہی دوسرے پارہ کی آیت جس کو لائق معترض نے نقل کیا ہے۔ اس کا مطلب خواجہ صاحب نے غلط بیان کیا۔ اس آیت کا منشا صرف اس قدر ہے کہ قرآن نجات کو کسی قوم
٣٨
کے ساتھ مخصوص نہیں بتاتا۔ جیسا کہ یہودیوں کا قول تھا۔ ”الذین آمنوا“ اور ”نصاریٰ“ اور ”صابئین“ وغیرہ الفاظ مذہبی حیثیت سے متجاوز ہو کر قومیت کے معنی میں مستعمل ہونے لگے تھے۔ جس طرح لفظ عرب کو جو قومیت کے لئے موضوع ہے۔ تمدن عرب کا مصنف مذہبی معنی میں استعمال کرتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو خواہ وہ کسی قوم کے ہوں عرب کہتا ہے۔ پس قرآن نے یہ بتایا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے خواہ وہ کسی قوم کا ہو وہ نجات کا حقدار ہے اور اگر آیت کے معنی وہ لئے جائیں جو خواجہ صاحب کہتے ہیں تو معاذ اللہ یہ ایک مہمل کلام ہوا جاتا ہے۔ اس لئے کہ: ”الذین آمنوا “ کے ساتھ ”من آمن “ کا لفظ کسی طرح نہیں لگ سکتا۔ یعنی ایمان والوں کے لئے یہ شرط لگانا کہ وہ ایمان لائیں بے معنی ہے۔ فقط ! والسلام على من اتبع الهدى!
تحریرات بالا کے بعد ایک تحریر اور خواجہ صاحب کو بھیجی گئی اور اتمام حجت قطعی طور پر کر دیا گیا نقل اس کی حسب ذیل ہے۔
جناب خواجہ کمال الدین صاحب!
گزارش ہے کہ بتاریخ ١٠ محرم الحرام ١٣٣٩ھ بعد نماز جمعہ آپ کی ایک تحریر جو آپ نے چند حضرات اہل سنت کے نام روانہ فرمائی ہے۔ سورتی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کے سننے سے ہمیں سخت تعجب ہوا کہ آپ نے ہمارے آٹھ سوالات کے جواب اپنے لیکچروں میں خصوصاً جوبلی ہال کے لیکچر میں بیان کئے۔ بڑے غیرت کی بات ہے کہ ہم نے بذریعہ پوسٹ رجسٹری اور دستی تحریریں آپ کی خدمت میں روانہ کیں اور ایک کھلی چٹھی بھی شائع کی اور اسی امید میں رہے کہ آپ براہ راست ہمیں جواب دیں گے۔ لیکن آپ کی حمیت نے یہ گوارا نہ کیا کہ آپ صاف طور پر نمبر وار ہر سوال کا جواب تحریر فرما کر ہمارے پاس بھیج دیتے یا بذریعہ اشتہار شائع کرتے۔ نہ کسی روز آپ نے ہمیں یہ اطلاع دی کہ آج لیکچر میں ان سوالات کا جواب دیا جائے گا۔
جوبلی ہال کا لیکچر ایک دوسرے عنوان سے مشتہر کیا گیا تھا۔ جس کو دیکھ کر یہ وہم و گمان بھی نہ ہوتا تھا کہ آپ ہمارے آٹھ سوالات کی طرف توجہ کریں گے۔ بڑا افسوس ہمیں اس تحریر کو سن کر یہ ہوا کہ آپ نے باوجود طویل مضمون لکھنے کے ان خاص سوالات کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔ بلکہ نہایت چالاکی سے اپنا عقیدہ چھپانے کی کوشش کی ہے اور بہت سی غیر ضروری باتوں سے کاغذ سیاہ کر کے اصل مقصد سے کوسوں دور جا کھڑے ہوئے ہیں۔
خواجہ صاحب ! افسوس ہے کہ جس قدر اپنے خیال میں آپ اپنی صفائی مسلمانوں کو
٣٩
دکھانا چاہتے ہیں۔ اسی قدر آپ کی طرف بدگمانی بڑھتی جاتی ہے اور وہ محض اسی لئے کہ آپ نے مسلمانوں کے حسب منشا ہر سوال کا جواب سادے اور مختصر الفاظ میں نہیں دیا۔ بلکہ تقریر کی طرح تحریر کو بھی ملمع سازی سے ”سوال از آسماں جواب از ریسماں“ کا مصداق بنا دیا اور مسلمانوں کو دھوکا دینے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔
یہ ہم نے مانا کہ آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ مسلمان اب ایسے بھولے بھالے نہیں رہے کہ آپ کی وکالت کا جادو ان پر اثر کر جائے اور آپ جس طرح چاہیں ان سے روپیہ وصول کر کے اسلام کے پردہ میں قادیانی مشن کی اشاعت کریں۔ ہم اب بھی آپ سے یہی کہتے ہیں کہ دورنگی باتوں کو چھوڑ کر یا تو صاف طور پر اہل سنت کے عقائد سے اتفاق ظاہر کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہہ دیں یا کھلم کھلا قادیانی بن کر مسلمان کو اس مکر و فریب سے نجات بخشیں۔
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
موسیٰ کاکا عفی عنہ پریذیڈنٹ اسلامیہ لٹریری سوسائٹی نمبر ٤٨ مرچنٹ اسٹریٹ رنگون ١٩ ستمبر ١٩٢٠ء
اس کے بعد جب شہر رنگون میں ہر طرف غوغا ہوا اور عام طور پر ہر جگہ خواجہ کمال الدین کی بے دینی کا چرچا ہونے لگا اور یہ کہ ان کے طرفدار نہایت بے انصاف ہیں تو سر جمال صاحب نے بھی خواجہ صاحب سے مطالبہ کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ مسلمانوں کے سوالات کا جواب نہیں دیتے اور اپنا مذہب چھپاتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے اس کے جواب میں سر جمال صاحب کو ایک خط لکھا جو سر جمال صاحب نے ٢٨ ستمبر کو بدست ملا احمد صاحب سیکرٹری راندیریہ انسٹیٹیوشن دفتر جمعیت العلماء میں بھیجا جس کی نقل حسب ذیل ہے۔
مکرم سر جمال صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
جس معاملہ کی صفائی کے لئے آپ کو بعض سورتی صاحبان نے کہا ہے وہ دراصل ہو چکا ہے۔ چند ایک سورتی صاحبان میرے پاس ایک خط لائے تھے اور میرے عقائد معلوم کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ان کے جواب میں ایک مفصل خط لکھ دیا اور ان کو سنا دیا اس کا ایک حصہ میں یہاں
٤٠
آپ کی طرف بدگمانی بڑھتی جاتی ہے اور وہ محض اسی لئے کہ آپ نے سوال کا جواب سادے اور مختصر الفاظ میں نہیں دیا۔ بلکہ تقریر کی طرح سوال از آسماں جواب از ریسماں“ کا مصداق بنا دیا اور مسلمانوں کو اٹھا رکھا۔ آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ مسلمان اب ہے کہ آپ کی وکالت کا جادو ان پر اثر کر جائے اور آپ جس طرح کے اسلام کے پردہ میں قادیانی مشن کی اشاعت کریں۔ ہم اب بھی گی باتوں کو چھوڑ کر یا تو صاف طور پر اہل سنت کے عقائد سے اتفاق نا کو کافر کہہ دیں یا کھلم کھلا قادیانی بن کر مسلمان کو اس مکر و فریب سے
موم ہو یا سنگ ہو جا
موسیٰ کاکاغذی عفی عنہ پریسیڈنٹ اسلامیہ لٹریری سوسائٹی نمبر ٤٨ مرچنٹ اسٹریٹ رنگون ١٩؍ ستمبر ١٩٢٠ء
رنگون میں ہر طرف غوغا ہوا اور عام طور پر ہر جگہ خواجہ کمال الدین ر یہ کہ ان کے طرفدار نہایت بے انصاف ہیں تو سر جمال صاحب کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ مسلمانوں کے سوالات کا جواب نہیں ا۔ خواجہ صاحب نے اس کے جواب میں سر جمال صاحب کو ایک ٢٨؍ستمبر کو بدست ملا احمد صاحب سیکرٹری راندیر یہ انسٹیٹیوشن دفتر حسب ذیل ہے۔ ب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! کے لئے آپ کو بعض سورتی صاحبان نے کہا ہے وہ دراصل ہو چکا رے پاس ایک خط لائے تھے اور میرے عقائد معلوم کرنا چاہتے ا ایک مفصل خط لکھ دیا اور ان کو سنا دیا اس کا ایک حصہ میں یہاں ٤٠
لفظاً لفظاً نقل کر دیتا ہوں۔ (اس کے بعد اپنے خط مورخہ ٢٢؍ستمبر کی عبارت نقل کی ہے۔ یہ خط اوپر درج ہو چکا) اس خط کے جواب میں مجھے جو خط آیا ہے اور جو میں نے آپ کو دکھایا تھا اس میں لکھا ہے کہ ہم آپ کی باتیں ماننے کو تیار ہیں۔ لیکن ہم کو سمجھا دو کہ مرزا قادیانی کی فلاں فلاں عبارت سے کیا مطلب ہے۔ میں نہ مرزا قادیانی کی طرف سے واعظ بن کر یہاں آیا ہوں نہ ان کے دعوٰی کو کسی پر پیش کرتا ہوں۔ بلکہ جب سے میں نے یہ مشن نکالا ہے۔ تب سے میں نے اپنی ذات کو مرزا قادیانی کے متعلق کچھ لکھنے یا بولنے سے الگ کر لیا ہے اور آئندہ بھی میرا یہی پختہ ارادہ ہے۔ پھر مجھ سے مرزا قادیانی کے متعلق کیوں پوچھتے ہیں۔ مجھے جو پہلے خط آیا تھا۔ اس میں دس بارہ آدمیوں کے دستخط تھے۔ اب جو خط آیا ہے۔ اس پر صرف ایک آدمی کا دستخط ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی اصحاب اس امر سے الگ ہو گئے ہیں۔ اس خط میں مجھ سے ایک اور درخواست کی گئی ہے کہ میں مرزا قادیانی سے تبرا ؎١ کروں نہ معلوم یہ کس دل سے بات نکلی ہے۔ تیرہ سو برس سے تبرا کرنے والوں سے جو تکلیف اہل سنت والجماعت کو پہنچی ہے وہ ظاہر ہے نہ معلوم پھر تبرا کے خواہشمند کیوں ہو گئے۔ مجھ پر اعتراض تو ہوتا اگر میرا مذکورہ بالا عقیدہ اسلام کے مطابق نہ ہوتا۔ میں نے یہ معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ میرا خط لوگوں کو دکھلایا نہیں گیا ؎٢ نہ سنایا گیا۔ صرف کسی نے کہہ دیا کہ اس نے یہ یہ لکھا ہے۔ اصل خط نہیں سنایا گیا۔ اس لئے ممکن ہے بعض سورتی صاحبان کو اطمینان نہ ہوا ہوگا۔ اس وجہ سے میں نے زبانی کہنے کے علاوہ یہ تحریر آپ کو لکھ دی ہے کہ آپ اس خط کو یا چھاپ دیں یا مکتبہ جہاں چاہیں بھیج دیں۔ اس سے زیادہ میں کسی کی تشفی نہیں کر سکتا اور نہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
میں ایک غیر مسلم کے مقابل آنے کو ہر منٹ تیار ہوں۔ میں مسلمان کے مقابل کسی تنازعہ فرقی کے لئے باہر آنا برا سمجھتا ہوں۔ اسی موضوع پر میں نے لکھا ہے اور کتابیں تصنیف کی ہیں۔ میں اسلام کے لئے وہ دن مبارک سمجھوں گا جب ہم میں سے فرقی تنازعہ مٹ جائے گا اور میں رات دن اس کوشش میں ہوں۔ کیا عجب بات ہے کہ جس بات سے مجھے نفرت ہے اس کے لئے مجھے بلایا جاتا ہے۔
اب ایک بات پر میں اس خط کو ختم کرتا ہوں۔ مجھے انگلستان کے مشہور و معروف
؎١ خواجہ صاحب کے علم کا یہ حال ہے کہ تبریٰ کا تبرا لکھتے ہیں۔ ؎٢ کیسا سفید جھوٹ ہے جس کا جھوٹ ہونا سارا رنگون جانتا ہے۔ ٤١
مصنف ایچ جی ویل نے ایک چٹھی لکھی تھی کہ تم آنحضرت ﷺ کو کیوں آخری نبی مانتے ہو۔ اس کے جواب میں جو میں نے لکھا اس کو رسالہ جنوری ١٩١٧ء میں اور پھر مئی ١٩١٩ء میں درج کردیا۔ وہ رسالہ میں بھیجتا ہوں۔ اب آپ خود سوچیں جو شخص لندن میں بیٹھ کر لندن کے مشہور و معروف آدمیوں کو یہ لکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں وہ کیسے اس کے الٹ کر سکتا ہے۔ ایسا ہی ١٩١٧ء میں میں نے آنحضرت ﷺ کے اخلاق پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں بھی میں نے یہی لکھا ہے وہ بھی بھیجتا ہوں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس جگہ بعض اشخاص کس قسم کے ہیں۔ اسلامی مشاہیر میں سے ہندوستان میں سے کون ہے جس نے میرے مشن سے محبت اور اس کی مدد نہیں کی۔ مولانا ابوالکلام نے کلکتہ میں میری حمایت میں جلسہ کیا۔ الہلال میں میرے کام کی تعریف میں مضمون لکھے۔ مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی نے لکھنؤ میں میری خاطر گھر گھر چندہ مانگا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار میں کئی دفعہ لکھا کہ: ”جو کام ہمارا تھا وہ اس نے کیا (یعنی میں نے) اور یہ خدا کا فضل ہے۔“
آج کل مسلمانوں کے مذہبی لیڈر مکرمی مولانا محمد علی صاحب و شوکت علی صاحبان ہیں ہمارے انگریزی ترجمہ قرآن مجید کے نکلنے پر وہ ایک خط لکھتے ہیں۔ ترجمہ کی از حد تعریف کرتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین بہادروں کی طرح مرد میدان بن کر کام کرتا ہے۔ میں بھی (یعنی محمد علی صاحب) یہی کام کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سابقون الاولون میں سے ہے۔ میرے لئے عزت و فخر کا مقام ہوگا اگر میں قدم بقدم ان کی پیروی کروں۔ پھر اخیر خط میں لکھتے ہیں کہ اگر ان کا مکتوب الیہ (مرزا یعقوب صاحب) مجھے خط لکھے تو یہ بھی لکھے کہ محمد علی میری ریش چومنے کی خواہش کرتا ہے۔ جو اجمل خان صاحب نے لکھا ہے اس کا تار آپ کو مل چکا ہے۔
خواجہ کمال الدین مورخہ ٢٨؍ ستمبر ١٩٢٠ء
اس کے بعد پے در پے حسب ذیل دو اشتہار ہماری طرف سے شائع ہوئے۔
سلسلۂ اشتہارات
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً
مرزا غلام احمد قادیانی کے مدعی نبوت ہونے کا ثبوت اور اس کے کفریات
خواجہ کمال الدین اور رنگون کی لاہوری پارٹی مرزائی اور عبدالقادر مرزائی محمد امین
٤٢
مرزائی اپنے اور اپنے پیشوا غلام احمد کو مسلمان ثابت کر
- ......١ غلام احمد (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨
ص ٤٩) میں لکھتا ہے کہ : ”ہم آنحضرت ﷺ کے معجزات ہزار معجزہ ہیں۔ اس (خدا) نے میری تصدیق کے لئے تک پہنچتے ہیں۔“
مرزائیو! کیا یہ کفر کا کلمہ نہیں ہے؟ اور دعویٰ حضور ﷺ سے اپنے کو فضیلت نہیں دی؟ کسی امتی ۔ ثابت کرو۔
- ......٢ مرزا حدیثوں کے متعلق لکھت
کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حد سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے
دوسری جگہ مرزا لکھتا ہے: ”اور دوسری ہیں۔“
مرزا اپنے قصیدہ میں لکھتا ہے: ”ھل ال بعدہ نتخیر “ ﴿خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل ک کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔﴾
”وقد مزق الاخبار کل ممزق“ ”اخذنا من الحی الذی لا ففکروا“ ﴿ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی و قیوم اور مردوں (یعنی محمد ﷺ اور صحابہ اہل بیت اور تابعین کرام) سے روایت کرتے ہو۔﴾
مرزائیو! کیا یہ کفر کلمہ نہیں ہے؟ اور دعویٰ (مرزا نے) اپنے کو فضیلت نہیں دی؟ کسی امتی ۔ ایمان ثابت کرو۔
٣
سا نے ایک چٹھی لکھی تھی کہ تم آنحضرت ﷺ کو کیوں آخری نبی مانتے ہو۔ اس میں نے لکھا اس کو رسالہ جنوری ١٩١٧ء میں اور پھر مئی ١٩١٩ء میں درج کر دیا۔ وہ سا۔ اب آپ خود سوچیں جو شخص لندن میں بیٹھ کر لندن کے مشہور و معروف ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبین ہیں وہ کیسے اس کے الٹ کر سکتا ہے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے اخلاق پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں بھی میں نے یہی ہوں۔
نہیں آتی کہ اس جگہ بعض اشخاص کس قسم کے ہیں۔ اسلامی مشاہیر میں سے ون ہے جس نے میرے مشن سے محبت اور اس کی مدد نہیں کی۔ مولانا ابوالکلام مایت میں جلسہ کیا۔ الہلال میں میرے کام کی تعریف میں مضمون لکھے۔ مولانا رنگی محلی نے لکھنؤ میں میری خاطر گھر گھر چندہ مانگا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب بار میں کئی دفعہ لکھا کہ: ”جو کام ہمارا تھا وہ اس نے کیا (یعنی میں نے) اور یہ
مسلمانوں کے مذہبی لیڈر مکرمی مولانا محمد علی صاحب و شوکت علی صاحبان ہیں مہ قرآن مجید کے نکلنے پر وہ ایک خط لکھتے ہیں۔ ترجمہ کی از حد تعریف کرتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین بہادروں کی طرح مرد میدان بن کر کام کرتا ہے۔ احب) یہی کام کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سابقوں الاولون میں سے ہے۔ میرے ، ہوگا اگر میں قدم بقدم ان کی پیروی کروں۔ پھر اخیر خط میں لکھتے ہیں کہ اگر یعقوب صاحب) مجھے خط لکھے تو یہ بھی لکھے کہ محمد علی میری ریش چومنے کی مل خان صاحب نے لکھا ہے اس کا تار آپ کو مل چکا ہے۔ خواجہ کمال الدین مورخہ ٢٨ ستمبر ١٩٢٠ء
ر پے درپے حسب ذیل دو اشتہار ہماری طرف سے شائع ہوئے۔
سلسلۂ اشتہارات
باسمه تعالیٰ حامداً ومصلیاً
نی کے مدعی نبوت ہونے کا ثبوت اور اس کے کفریات
لدین اور رنگون کی لاہوری پارٹی مرزائی اور عبدالقادر مرزائی محمد امین ٤٢
مرزائی اپنے اور اپنے پیشوا غلام احمد کو مسلمان ثابت کریں اور ان کے کفریات کا جواب دیں۔
- ١...... غلام احمد (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣، مکتوبات احمدیہ نمبر ٤ ج ٣
ص ٤٩) میں لکھتا ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ کے معجزات جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہیں۔ اس (خدا) نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔“ مرزائیو! کیا یہ کفر کا کلمہ نہیں ہے؟ اور دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ اور کیا (مرزانے) حضور ﷺ سے اپنے کو فضیلت نہیں دی؟ کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ اپنے پیر کا اور اپنا ایمان ثابت کرو۔
- ٢...... مرزا حدیثوں کے متعلق لکھتا ہے کہ: ”خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے
کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں۔ یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥١)
دوسری جگہ مرزا لکھتا ہے: ”اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٩ص ١٤٠)
مرزا اپنے قصیدہ میں لکھتا ہے: ”هل النقل شى بعد ايحاء ربنا فای حديث بعده نتخير“ ”خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس ہم خدائے تعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٦، خزائن ج ١٩ص ١٦٨)
”وقد مزق الاخبار کل ممزق“ ”اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔“ ”اخذنا من الحي الذي ليس مثله ، وانتم عن الموتى رويتم ففكروا“ ”ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی و قیوم اور واحد لاشریک ہے اور تم لوگ (اے مسلمانوں) مردوں (یعنی محمد ﷺ اور صحابہ اہل بیت اور تابعین و تبع تابعین ائمہ مجتہدین ائمہ محدثین اولیاء کرام) سے روایت کرتے ہو۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ص ١٦٩)
مرزائیو! کیا یہ کفر کلمہ نہیں ہے؟ اور دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ اور کیا حضور ﷺ سے (مرزانے) اپنے کو فضیلت نہیں دی؟ کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ مرزائیو! اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔ ٤٣
- ٣....... مرزا لکھتا ہے: ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ
توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ (یعنی حدیثوں) کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔“
(اربعین نمبر ٤، ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
مرزائیو! کیا یہ کفر کا کلمہ نہیں ہے؟ اور دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ کیا کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ مرزائیو! اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
- ٤....... مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”میرا نہ ماننے والا مجھ سے بیعت نہ کرنے والا میرا
منکر کافر ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ در حاشیہ، ج ١٧ ص ٤٣٥، حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
مرزائیو! کیا تمام دنیا کے ٣٥ کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کو کافر بلاوجہ کہنا کفر نہیں ہے؟ اور کیا یہ دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ اور کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ کہ میرا نہ ماننے والا کافر ہے۔
- ٥....... مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں لکھتا ہے:
”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) میں ہے: ”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
مرزائیو! کیا یہ دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ کیا کوئی امتی بڑے سے بڑا کسی نبی سے افضل ہو سکتا ہے؟ کیا کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ کیا یہ کلمہ کفر کا نہیں ہے؟ جواب دو اور اپنا اور اپنے پیشوا کا اسلام ثابت کرو۔
- ٦....... مرزا حضورﷺ کے معراج کی نسبت لکھتا ہے کہ: ”میرا معراج اس جسم
کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (یعنی غلام احمد) صاحب تجربہ ہے۔ (یعنی کئی مرتبہ ایسی کشفی معراج مجھے ہوچکی ہے)“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، ٤٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
٤٤
مرزائیو! کیا معراج کی یہی حقیقت ہے؟ اور یہ مرزا قادیانی کا دعویٰ حضور ﷺ سے افضلیت کا نہیں ہے؟ کیا یہ کفر کا کلمہ نہیں ہے؟ اور کیا حقیقی نبوت کا یہ دعویٰ نہیں ہے؟ کسی امتی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
- ٧....... مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٢٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) میں لکھتا ہے:
”حضور ﷺ پر ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی اور مجھ پر کھلے طور سے منکشف کر دی گئی ۔“
مرزائیو! کیا یہ گستاخانہ کلمہ کفر نہیں؟ اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
- ٨....... مرزا لکھتا ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن
فيكون “ اے مرزا تو جس چیز کے لئے کہے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
”اريد ما تريدون “ میں (خدا تعالیٰ) وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا (مرزا کا) ارادہ ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی“ کہہ (اے غلام احمد کہ اے لوگو) اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔ (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
”قل انما انا بشر مثلكم يوحى الیٰ“ کہہ (اے غلام احمد اے لوگو) میں انسان ہوں میری طرف یہ وحی ہوئی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٤)
”واتل عليهم ما اوحى اليك من ربك “ جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے سنا۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً“ کہہ دے (اے غلام احمد) اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر بھیجا گیا ہوں۔ (تذکرہ ص ٣٥٢، مطبوعہ ربوہ)
”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔ (حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
”وما ارسلناك الا رحمة للعالمين“ اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)
٤٥
”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ اور یہ (غلام احمد ) اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
”سچا شفیع میں ہوں۔“ (مفہوم)
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
”لولاك لما خلقت الافلاك“ (اے غلام احمد ) اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
مرزائیو! کیا یہ حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے؟ اور کیا یہ کفر کی بات نہیں ہے؟ اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
مرزائیو! نبی کی دو قسم ایک حقیقی دوسری مجازی، یہ اللہ تعالیٰ کی فرمائی ہوئی ہے؟ یا رسول اللہ ﷺ نے یا صحابہ کرامؓ نے یا تابعینؒ نے یا تبع تابعینؒ نے یا ائمہ مجتہدینؒ نے یا ائمہ حدیثؒ نے فرمائی ہے؟ اگر کسی نے نہیں فرمایا یہ تو سب تمہاری من گھڑت ہے توبہ کرو توبہ کرو۔
- ٩...... مرزا لکھتا ہے: ”انت منى بمنزلة توحيدى“ تو مجھ سے ایسا ہے
جیسا کہ میری توحید۔ ”انت منى وانا منك“ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ ”انت منى بمنزلة ولدى“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
”انی مع الرسول اجيب اخطی واصیب“ میں رسول (غلام احمد ) کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ میں (میں اپنے کچھ کہنے اور کرنے میں) خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔ (یعنی جو چاہوں گا کبھی کروں گا کبھی نہیں)
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
مرزائیو! کیا یہ حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے؟ اور کیا یہ کفریات نہیں ہیں؟ اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
٤٦
- ١٠...... مرزا، انبیاء علیہم الـ
خسف القمر المنير وان لي ، غسا چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرـ ہونے کا) انکار کرے گا۔
مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمدیہ کوئی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی
”بعض پیشین گوئیوں کی نسبـ اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
”عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔
- ١١...... حضرت حسینؓ ۔
کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے ”صد حسین ست در گریبانم ۔
- ١٢...... مرزا قادیانی ۔
اچھی نہیں رکھتا تھا۔“ ”حق بات یہ ہے کہ ابن مر
مرزائیو! کیا ایسی گستاخی ۔ ہے؟ کیا مجازی نبی، حقیقی نبی سے افضل اقوالِ مذکورۂ بالا سے مفصلـ
- ١..... دعویٰ الوہیت ۔
- ٢..... دعویٰ نبوت ورسالت ۔
عن الهوى ان هو الا وحى يوحى ”اور یہ (غلام احمد ) اپنی تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧)
جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
ا۔“ (مفہوم)
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
جی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام ات ٹھہرایا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
قت الافلاك ” (اے غلام احمد ) اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا آسمانوں
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
نبوت کا دعویٰ نہیں ہے؟ اور کیا یہ کفر کی بات نہیں ہے؟ اپنا اور اپنے
تم ایک حقیقی دوسری مجازی، یہ اللہ تعالیٰ کی فرمائی ہوئی ہے؟ یا رسول یا تابعینؒ نے یا تبع تابعینؒ نے یا ائمہ مجتہدینؒ نے یا ائمہ حدیثؒ نے مایا یہ تو سب تمہاری من گھڑت ہے تو بہ کرو تو بہ کرو۔
کتا ہے، ”انت منى بمنزلة توحيدى ”تو مجھ سے ایسا ہے منى وانا منك ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔“ انت منى حزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
خت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
سول اجيب اخطى واصیب ”میں رسول (غلام احمد ) کے ں (میں اپنے کچھ کہنے اور کرنے میں ) خطا بھی کروں گا اور صواب کروں گا کبھی نہیں )
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
ئی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے؟ اور کیا یہ کفریات نہیں ہیں؟ اپنا اور اپنے
٤٦
- .......١٠ مرزا، انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت اس طرح ظاہر کرتا ہے۔ ”لــــــــــه
خسف القمر المنير وان لى . غسا القمران المشرقان اتنكر “ حضورﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو (میرے افضل ہونے کا ) انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار متکبر خود بیں خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمد یہ نمبر ٣ ج ٣ ص ٢٣، نور القرآن نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ٩ ص ٣٨٧) کوئی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔
(اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)
”بعض پیشین گوئیوں کی نسبت حضرتﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ج ١ ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
”عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم۔“
(ازالۃ اوہام ج ١ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- .......١١ حضرت حسینؓ سے اپنے کو مرزا قادیانی نے افضل کہا۔ ”میں سچ کہتا ہوں
کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”صد حسین ست در گریبانم ۔ سوحسین میرے گریبان میں ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- .......١٢ مرزا قادیانی نے صحابہؓ کی توہین کی ہے۔ ”ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت
اچھی نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)
”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔“
(ازالۃ اوہام ج ١ ص ٢٨٦، خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)
مرزائیو! کیا ایسی گستاخی سے آدمی مسلمان رہ سکتا ہے؟ کیا یہ دعویٰ حقیقی نبوت کا نہیں ہے؟ کیا مجازی نبی، حقیقی نبی سے افضل ہو سکتا ہے؟ اپنا اور اپنے پیشوا کا ایمان ثابت کرو۔
اقوال مذکورہ بالا سے مفصلہ ذیل دعویٰ مرزا غلام احمد کے بخوبی ظاہر ہیں۔
- .......١ دعویٰ الوہیت۔
- .......٢ دعویٰ نبوت ورسالت۔
٤٧
- ٣...... اپنی ذات کو موجب تخلیق عالم کہنا۔
- ٤...... رحمۃ للعالمین کا وصف اپنے لئے ثابت کرنا۔
- ٥...... حضورﷺ سے اپنے کو افضل سمجھنا۔
- ٦...... ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے کو افضل سمجھنا۔
- ٧...... دشنام دہی نبی۔
- ٨...... تذلیل و تحقیر نبی۔
- ٩...... اپنی وحی کو قرآن مجید کے مثل قطعی اور یقینی سمجھنا۔
- ١٠...... تحقیر احادیث نبویہ۔
- ١١...... اپنے معجزات کو حضورﷺ کے معجزات سے زیادہ کہنا۔
- ١٢...... اپنی وحی کے مقابلہ میں حضورﷺ کی احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینا۔
- ١٣...... حضرت حسینؓ سے اور صحابہ کرامؓ واہل بیتؓ وتابعینؓ وتبع تابعینؓ، ائمہ مجتہدینؒ وائمہ
حدیثؒ واولیاء کرامؒ سے اپنے کو افضل کہنا اور ان کی تحقیر کرنا۔
- ١٤...... ٣٥ کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کو کافر کہنا۔ وغیرہ وغیرہ
اے مسلمانو! اب انصاف سے کہو کہ جس شخص کے ایسے عقائد واقوال ہوں۔ اس کے خارج اسلام ہونے میں کسی مسلمان کو تردد ہوسکتا ہے؟ لہذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ معتقدین خارج اسلام ہیں۔ ان سے کوئی اسلامی معاملہ شرعاً جائز نہیں نہ ان کی مجلسوں میں شریک ہونا جائز ہے۔ جس طرح سے یہود ونصاریٰ و ہندو سے اہل اسلام مذہبًا علیحدہ رہتے ہیں ان سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔
وما علینا الا البلاغ ! فقط : خادم اسلام بندہ: ابراہیم ایلہ والا مدرسہ اسلامیہ نمبر ٤٨ مرچنٹ اسٹریٹ رنگون
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً
خواجہ کمال الدین صاحب کے اصلی مذہب کا انکشاف
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور
خواجہ کمال الدین صاحب کو رنگون آئے ہوئے قریب دو ماہ کے ہوئے۔ اس مدت
٤٨
موجب تخلیق عالم کہنا۔ کا وصف اپنے لئے ثابت کرنا۔ سے اپنے کو افضل سمجھنا۔ ت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے کو افضل سمجھنا۔ ۔ ن مجید کے مثل قطعی اور یقینی سمجھنا۔ نبویہ۔ حضورﷺ کے معجزات سے زیادہ کہنا۔ ابلہ میں حضورﷺ کی احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینا۔ سے اور صحابہ کرامؓ واہل بیتؒ وتابعینؒ وتبع تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ وائمہ رام سے اپنے کو افضل کہنا اور ان کی تحقیر کرنا۔ یادہ مسلمانوں کو کافر کہنا۔ وغیرہ وغیرہ اب انصاف سے کہو کہ جس شخص کے ایسے عقائد واقوال ہوں۔ اس کسی مسلمان کو تردد ہو سکتا ہے؟ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ہیں۔ ان سے کوئی اسلامی معاملہ شرعاً جائز نہیں نہ ان کی مجلسوں میں رح سے یہود ونصاریٰ و ہنود سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔
وما علينا الا البلاغ ! فقط : خادم اسلام بندہ : ابراہیم ایلہ والا مدرسہ اسلامیہ نمبر ٤٨ مرچنٹ اسٹریٹ رنگون
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلياً
ین صاحب کے اصلی مذہب کا انکشاف
کے اور دکھانے کے اور
صاحب کو رنگون آئے ہوئے قریب دو ماہ کے ہوئے۔ اس مدت ٤٨
٥٩ میں متعدد لیکچر آپ نے مختلف مقامات میں دیئے۔ اگرچہ ان لیکچروں میں زیادہ تر انگریزی دان اور وہی لوگ ہوتے تھے جن کو دین ومذہب سے کوئی مضبوط تعلق نہیں اور خواجہ صاحب کی توجہ بھی تمام دولت مندوں ہی کی طرف ہے۔ کیونکہ جس مقصد کے لئے آپ نے رنگون کا دور و دراز سفر اختیار کیا ہے وہ انہیں سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم کچھ دیندار غرباء بھی آپ کے لیکچروں میں پہنچ جاتے تھے۔ خواجہ صاحب نے بتدریج اپنے لیکچروں میں مرزائیت کی اشاعت شروع کی جس کو محسوس کر کے مسلمانوں میں عام طور پر ایک بے چینی پیدا ہوگئی۔ مسلمانوں نے رنگون کی جمعیت العلماء سے فتویٰ بھی اس کے متعلق حاصل کیا اور اس کو چھپوا کر شائع کیا اور جمعیت العلماء کے علماء نے مختلف مقامات پر کمال الدین صاحب ومرزا قادیانی کی رد میں وعظ کہے۔ پھر آٹھ سوالات بھی طبع کرا کر مشتہر کئے گئے۔ لیکن خواجہ صاحب نے بجائے اس کے کہ ان سوالات کا جواب دے کر مسلمانوں کی بے چینی دور کرتے اور اپنے مذہب کی طرف سے یہ کہہ کر کہ میں سنی حنفی ہوں اور کلمہ پڑھتا ہوں۔ لوگوں کو دھوکہ میں نہ رکھتے، غریب مسلمانوں کی کسی بات کی پرواہ نہ کی۔
نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمانوں نے خواجہ صاحب سے بالمشافہ گفتگو کرنے کی تیاری کی اور اس لئے حضرت (امام اہل سنت) مولانا مولوی محمد عبدالشکور صاحب (فاروقی) لکھنوی مدظلہ کی خدمت میں بذریعہ تار سب حال عرض کیا اور جناب مولانا ممدوح کو رنگون آنے کی تکلیف دی۔
جناب ممدوح کے تشریف لانے کے بعد ایک چٹھی سرجمال صاحب رئیس رنگون کی خدمت میں اور متعدد تحریریں خواجہ صاحب کے نام بھیجی گئیں۔ لیکن نہ سرجمال صاحب نے کچھ جواب دیا نہ خواجہ صاحب نے۔ بڑی مشکل سے کئی روز دوڑا کر اور وعدۂ امروز و فردا سے پریشان کر کے خواجہ صاحب نے صرف ایک تحریر کا جواب بھی دیا تو یہ کہ میں مباحثہ نہ کروں گا۔ خواجہ صاحب کی یہ پوری تحریر لفظاً سورتی جامع مسجد میں بتاریخ ١٠؍محرم الحرام ١٣٣٩ھ مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع کو سنا دی گئی اور اس کا جواب بھی مجمع کو سنا دیا گیا جو بہت مختصر تھا اور خواجہ صاحب کی خدمت میں بھیج دیا گیا۔ مگر خواجہ صاحب نے جواب الجواب نہ دیا۔
بتاریخ ٩؍ محرم ١٣٣٩ھ باگلے صاحب نے اپنی اور نیز بہت سے انگریزی دان کی طرف سے ایک تحریر انگلش میں شائع کی کہ خواجہ صاحب کے لیکچروں نے حسب ذیل چار اعتراض ہمارے دماغوں میں پیدا کر دیئے ہیں۔ جن کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کو ہم غیر ضروری ٤٩
سمجھنے لگے۔ خواجہ صاحب یا اور کوئی مولوی صاحب ان اعتراضات کا جواب دیں۔ خواجہ صاحب نے ان اعتراضات کا جواب دینے کے لئے جو جلسہ منعقد کیا اس جلسہ میں باستدعائے خواجہ صاحب، ان چاروں اعتراضوں کے جواب مع ایک نہایت مختصر اور فیصلہ کن تحریر کے خواجہ کو دیئے گئے۔ لیکن خواجہ صاحب نے نہ تو اعتراضات کے جوابات اہل جلسہ کو پڑھ کر سنائے نہ اس تحریر کا کچھ جواب دیا۔
بات ختم ہو چکی اور حق اچھی طرح واضح ہو گیا۔ حضرت مولانا صاحب موصوف الصدر عم فیضہ کے مواعظ حسنہ نے علاوہ اور بہت سے فوائد دینیہ کے عام طور پر مسلمانوں کو خواجہ کمال الدین اور ان کے پیغمبر مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و مذہب سے کافی آگاہی بخشی۔ نیز مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ خواجہ کمال الدین وغیرہ نے جو ترجمہ قرآن شریف کا انگلش میں شائع کیا ہے۔ جس کے لئے سولہ ہزار روپیہ مسلمانان رنگون نے دیا اس ترجمہ میں شروع سے آخر تک کھلم کھلا مرزائیت کی باتیں درج ہیں جو دین و ایمان کے بالکل خلاف ہیں اور مسلمانوں کا روپیہ بجائے ترجمہ قرآن کے، مرزائیت کی اشاعت میں صرف ہوا ہے۔ ان سب امور کا نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے چندہ میں کچھ خلل پڑ گیا اور بعض امراء کو جو ان کے طرف دار ہیں یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ عام مسلمانوں کی ناراضی کا کم سے کم یہ اثر ضرور ہوگا کہ قوم میں جو عزت ہماری ہے وہ قائم نہ رہے گی۔ اس خیال نے اعلیٰ طبقہ میں کچھ جنبش پیدا کی اور اتمام حجت میں شاید کچھ کمی تھی خدا نے پوری کردی۔ یعنی سر جمال صاحب کی کوشش بھی خواجہ صاحب کو اظہار حق یا قبول حق پر آمادہ نہ کرسکی۔
مناظرہ کی تیاری
سر جمال صاحب رنگون کے بڑے دولت مند شخص ہیں اور خواجہ صاحب کے میزبان بھی ہیں۔ انہوں نے ملا احمد صاحب بن ملا داؤد صاحب کو بلا بھیجا اور بالآخر مناظرہ کا جلسہ کرنے کا وعدہ کر لیا۔ پختہ زبان دے دی۔ تاریخ بھی ٢٨؍ستمبر ١٩٢٠ء مقرر کر دی۔ طرفین کے شرکائے جلسہ کی تعداد بھی معین کر دی اور جوبلی ہال کے پاس جس مکان میں خواجہ صاحب فروکش ہیں وہی مکان جلسہ مناظرہ کے لئے معین کیا اور یہ بھی اصرار کیا کہ علمائے مسلمین سے سوا جناب مولانا عبدالشکور صاحب اور جناب مولانا مفتی احمد بزرگ صاحب عم فیضہما کے کوئی شریک جلسہ نہ ہو۔ ہمارے علمائے کرام نے قطع حجت کے لئے سب باتیں منظور کر لیں۔ سر جمال صاحب نے ملا احمد داؤد صاحب سے کہا کہ کل ٢٧؍ستمبر کو وقت آغاز جلسہ کا بتلادوں گا۔
٥٠
خواجہ کمال الدین کا فرار
دوسرے دن حسب وعدہ ملا احمد صاحب وقت پوچھنے گئے تو خواجہ کمال الدین بھی مع اور چند اصحاب سر جمال صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ سر جمال صاحب نے کہا کہ خواجہ صاحب مباحثہ کرنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا جلسہ نہ ہوگا۔
ناظرین! غور کریں کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ کو اپنی زبان کا خیال ہوتا ہے تو کیا سر جمال صاحب جیسے امیر ورئیس کو اپنے ایسے پختہ اقرار کا کچھ خیال نہ ہوا ہوگا۔ ضرور ہوا ہوگا مگر خواجہ صاحب پر ان کا زور نہ چل سکا۔ خواجہ صاحب کو یقین کامل ہے کہ کسی واقف کار کے سامنے جاکر اپنی مرزائیت کو ہرگز نہیں چھپا سکتے اور نہ مرزا کے مسلمان اور راست باز، نیک چلن، ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ نبی ورسول ہونا تو بڑی بات ہے۔
ملا احمد صاحب نے خواجہ صاحب سے کہا کہ صاحب یہ تو بڑی مشکل ہوئی۔ اب عام مسلمانوں کی نظر میں یا تو میں جھوٹا قرار پاؤں گا یا آپ۔ خواجہ صاحب نے کہا یہ کچھ بھی نہ ہوگا۔ میں تحریر لکھے دیتا ہوں۔ چنانچہ ایک تحریر لکھ دی جس میں علاوہ انکار مباحثہ کے اور بھی بہت سے لطائف ہیں۔ خواجہ صاحب نے یہ تحریر ملا احمد صاحب کو دے کر کہا کہ یہ تحریر علماء کو دکھلا کر پھر مجھے واپس دیجئے۔ چنانچہ اس کی نقل لے کر تحریر واپس کر دی گئی۔
خواجہ صاحب کی رسوائی کا آخری منظر
ملا احمد صاحب نے آخر میں یہ بھی کہا کہ خواجہ صاحب آپ نے کوئی کتاب صحیفہ آصفیہ حضور نظام دکن کو مرزائی بنانے کے لئے لکھی ہے اور کئی ہزار کاپیاں اس کی حیدرآباد دکن میں شائع کی ہیں؟ خواجہ صاحب یہ سن کر سراسیمہ ہوگئے اور کہنے لگے ہاں میں نے لکھی تو ہے، وہ کتاب کس کے پاس ہے۔ ملا احمد صاحب نے کہا کسی کے پاس ہو اس سے کیا مطلب مگر میں خود اپنی آنکھ سے دیکھ کر آیا ہوں کہ آپ نے صحیفہ آصفیہ میں مرزا غلام احمد کو خدا کا نبی، رسول، خدا کا برگزیدہ مرسل، نذیر و بشیر، پیغمبر بہت جگہ لکھا ہے۔ حالانکہ آپ اپنے لیکچروں میں کہتے ہیں کہ میں ان کو نبی نہیں مانتا۔ نہ انہوں نے دعویٰ نبوت کا کیا۔ بولئے آپ نے لکھا یا نہیں؟ خواجہ صاحب نے اس کے جواب میں کچھ نہ کہا۔ ملا احمد صاحب کی یہ تمام گفتگو مفصل لکھوائی گئی ہے جو خواجہ صاحب کی اس آخری تحریر کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ ہدیہ ناظرین ہوگی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس واقعہ کے ظہور نے چار چاند لگا دیئے اور ہر طبقہ پر اصل حقیقت کھل گئی۔
٥١ گئی تھی۔
٥١
حضرت مولانا محمد عبدالشکور صاحب کے رخصتی کے کلمات
”بعد الحمد والصلوٰۃ“
یہ ناچیز مسلمانان رنگون کا بلایا ہوا یہاں آیا اور الحمد للہ کہ حجت خدا پوری ہوگئی۔ خواجہ صاحب اور کوئی مرزائی رنگون سے چندہ چاہے جس قدر لے جائیں۔ مگر انشاء اللہ تعالیٰ مرزائیت کی اشاعت کا موقعہ ان کو رنگون میں نہیں مل سکتا۔ ابھی رنگون میں اس ناچیز کا قیام چار روز اور ہے۔ یعنی ١٧ اکتوبر کو انشاء اللہ تعالیٰ عزم روانگی ہے۔ اگر کسی کو امور ذیل میں اب بھی کچھ شک رہ گیا ہو تو وہ اس ناچیز کے پاس آکر خواجہ صاحب اور مرزا قادیانی کی خاص تصنیف دیکھ کر اپنا شک دور کر سکتا ہے۔
- ١...... خواجہ کمال الدین پکے مرزائی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصنیف میں مرزا کو خدا کا نبی
رسول برگزیدہ مرسل وغیرہ وغیرہ لکھا ہے اور کوئی تاویل مجازی بروزی نبوت کی وہاں نہیں چل سکتی۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے نبوت رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے کو تمام نبیوں سے حتیٰ کہ
آنحضرت ﷺ سے افضل قرار دیا ہے۔
- ٣...... مرزا نے تمام نبیوں کی اور خاص کر آنحضرت ﷺ کی سخت سے سخت توہین کی ہے۔
- ٤...... مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے مسلمانوں کو کافر لکھا ہے۔
- ٥...... مرزا قادیانی جھوٹ بہت بولتا تھا۔
- ٦...... مرزا قادیانی کا ان خرافات سے توبہ کر کے مرنا ثابت نہیں۔
اس ناچیز کے چلے جانے کے بعد اگر کوئی مرزائی مستعد ہو یا کسی مسلمان نے ان امور میں شک ظاہر کیا تو اس کا فیصلہ بروز قیامت خدا کے سامنے ہوگا۔ ”وما علینا الا البلاغ المبین وان اجری الا علیٰ رب العلمین ٠ کتبہ افقر عباد اللہ محمد عبدالشکور عافاہ مولاہ“
باسمه تعالیٰ حامداً ومصلیاً
خواجہ کمال الدین اور تبلیغ اسلام
مسلمانو! خدا کے لئے انصاف کرو اور ایمان سے فیصلہ کرو
٥٢
صاحب کے رخصتی کے کلمات
لوٰۃ“ کا بلایا ہوا یہاں آیا اور الحمد للہ کہ حجت خدا پوری ہو گئی۔ خواجہ چندہ چاہیے جس قدر لے جائیں۔ مگر انشاء اللہ تعالیٰ مرزائیت کی مل سکتا۔ ابھی رنگون میں اس ناچیز کا قیام چار روز اور ہے۔ یعنی تا ہے۔ اگر کسی کو امور ذیل میں اب بھی کچھ شک رہ گیا ہو تو وہ اس مرزا قادیانی کی خاص تصنیف دیکھ کر اپنا شک دور کر سکتا ہے۔ یہ مرزائی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصنیف میں مرزا کو خدا کا نبی وغیرہ وغیرہ لکھا ہے اور کوئی تاویل مجازی بروزی نبوت کی وہاں
ت رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے کو تمام نبیوں سے حتیٰ کہ فضل قرار دیا ہے۔ اور خاص کر آنحضرت ﷺ کی سخت سے سخت توہین کی ہے۔ نہ ماننے والے مسلمانوں کو کافر لکھا ہے۔ ہت بولتا تھا۔ فات سے توبہ کر کے مرنا ثابت نہیں۔ نے کے بعد اگر کوئی مرزائی مستعد ہو یا کسی مسلمان نے ان امور قیامت خدا کے سامنے ہوگا۔” وما علينا الا البلاغ سی رب العالمين، كتبه افقر عباد الله محمد
سمه تعالى حامداً ومصلياً
مال الدین اور تبلیغ اسلام
ت کرو اور ایمان سے فیصلہ کرو
کہ فردا پشیماں شوی
٥٢
٦٣
- .......١ ایک وقت وہ تھا کہ خواجہ کمال الدین تمہارے سامنے لیکچروں میں کہتے
تھے کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کبھی نبی ورسول نہیں کہا، اور نہ اب کہتا ہوں اور جو کہے وہ کافر اور خود مرزا قادیانی نے بھی کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ میں سنی حنفی ہوں اور مرزا قادیانی بھی سنی حنفی تھا۔ یہی مضمون خواجہ صاحب نے پرچہ اشاعت اسلام میں بھی لکھا۔ مگر اب چونکہ تمام رنگون خواجہ صاحب اور ان کے پیغمبر قادیانی کی تصنیفات سے گونج اٹھا اور سب نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ خواجہ صاحب نے مرزا قادیانی کو خدا کا نبی، رسول، مرسل، برگزیدہ، مرسل نذیر، بشیر، مسیح موعود، مہدی معہود، وغیرہ وغیرہ لکھا اور مرزا قادیانی نے صاف صاف نبی بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ لہٰذا اب خواجہ صاحب اسی زبان سے تمہارے سامنے کہتے ہیں اور اپنی تحریروں میں لکھتے ہیں کہ ہاں میں نے مرزا غلام احمد کو مرسل و پیغمبر لکھا۔ کیا یہ اختلاف بیانی خواجہ صاحب کی سچائی اور ان کے حیاء غیرت کے ثبوت میں کافی نہیں ہے؟ اور کیا اس کے بعد خواجہ صاحب کی کسی بات پر اعتبار کرنا ایمان دار کا کام ہے؟
- .......٢ خواجہ صاحب اپنی تحریر موسومہ یوسف سلیمان ہال میں جو ٣؍ اکتوبر کو دستی
پریس میں چھپ کر خاص خاص لوگوں میں تقسیم ہوئی۔ لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام پیروں نے مرزا کو مجازی طور پر نبی ورسول پیغمبر وغیرہ کہا ہے۔“ تحریر کے علاوہ تقریر میں بھی وہ ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو حقیقی نبیوں سے افضل کہا۔ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر لکھا اور خود تم نے بھی صحیفہ آصفیہ میں مرزا کے نہ ماننے والوں کو کافر بنایا۔ قرآن شریف کا جھٹلانے والا کہا، قحط اور طاعون اور یورپ کی لڑائیوں کو قہر الٰہی اور اس قہر الٰہی کا سبب مرزا کے نہ ماننے کو قرار دیا۔ تو اب مجازی معنی کیسے بن سکتے ہیں۔ اس کا کچھ جواب خواجہ صاحب نہیں دیتے۔ کئی تحریریں بھی ان کو بھیجی گئیں۔ جن میں سے آخری تحریر باگلے صاحب والے جلسہ میں ان کو دی گئی جو بہت مختصر تھی اور جس میں خدا کا واسطہ دے کر جواب مانگا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے کسی تحریر کا جواب نہ دیا۔
- .......٣ قرآن شریف میں ہے: ”ومن الناس من یقول اٰمنا بالله
وباليوم الآخر وماهم بمؤمنین (بقرہ:)“ بعضے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت پر ایمان لائے۔ حالانکہ وہ مؤمن نہیں ہوئے۔ اور فرمایا: ”اَحَسِبَ النّاس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وهم لا یفتنون (عنکبوت:)“ کیا لوگوں نے سمجھا ہے کہ صرف آمنا یعنی آمنت باللہ وغیرہ کہنے سے وہ چھوٹ ٥٣
جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔
غرض کہ بہت سی آیات قرآنیہ میں یہ حکم ہے کہ کسی کے زبانی کلمہ پڑھ لینے پر اعتبار نہ کرو۔ درصورت یہ کہ اس کے خلاف باتیں اس میں موجود ہوں۔ پس کیا اب سب مسلمانوں پر فرض نہیں ہے کہ خواجہ صاحب کی زبانی کلمہ گوئی پر اعتبار نہ کریں۔ کیونکہ اس کلمہ کے خلاف باتیں ہم ان میں دیکھ رہے ہیں۔ جن سے نہ تو قاعدہ کے طور پر توبہ کرتے ہیں نہ صفائی پیش کرتے ہیں۔
- ٤...... خواجہ صاحب کا یہ کہنا کہ جب سے تبلیغ اسلام کا کام میں نے شروع کیا
ہے۔ کسی خاص فرقہ کی تعلیم نہیں کرتا۔ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ جب کہ انگریزی ترجمہ قرآن جس کی اشاعت میں اب بھی وہ سرگرم ہیں۔ بالکل مرزائیت کی باتوں سے بھرا ہوا ہے جو دین اسلام کے بالکل خلاف ہیں۔ جس کو تم نے خود دیکھا اور سنا۔
- ٥...... خواجہ صاحب کا زبانی مباحثہ سے گریز سب پر ظاہر ہو چکا۔ وہ اپنی تحریر
وتقریر میں صاف صاف کہہ چکے۔ حتیٰ کہ سرجمال صاحب نے خود انہیں کے قیام گاہ میں ہمارے علماء کو بلایا، تاریخ مباحثہ مقرر کی اور حاضرین جلسہ کی تعداد بھی اتنی کم رکھی کہ مثل نہ ہونے کے ہمارے علماء نے سب کچھ منظور کر لیا۔ مگر خواجہ صاحب نے اپنے میزبان کی عزت کا بھی کچھ خیال نہ کر کے انکار کر دیا۔ پس کیا اب بھی کسی کو ان کے برسر حق ہونے کا وہم ہو سکتا ہے۔
نوٹ: اب رہی یہ بات کہ آیا مجازی طور پر کسی کو نبی کہنا جائز ہے یا نہیں اور جو حوالے کتب تفاسیر وغیرہ کے خواجہ صاحب دیتے ہیں کہاں تک صحیح ہیں اور ختم نبوت جس کا اقرار خواجہ صاحب کرتے ہیں ختم نبوت کے کیا معنی انہوں نے اور ان کے پیغمبر نے گھڑے ہیں۔ اگر مباحثہ ہوتا تو ان سب باتوں کا فیصلہ ہو جاتا اور سب کو معلوم ہو جاتا کہ یہ بھی خواجہ صاحب کا ایک بے مثل فریب ہے۔ فقط! الداعیة الی الخیر!
جمعیت العلماء رنگون
باسمه تعالیٰ حامداً ومصلیاً
شریعت ربانی کی عدالت سے
خواجہ کمال الدین پر فرد جرم
بعد تحقیق کے خواجہ صاحب پر حسب ذیل جرائم قائم کئے گئے ہیں۔ جو اخلاقاً وقانوناً بھی سنگین جرم ہیں۔
٥٤
- ١...... خواجہ صا
کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی اسی طرح کی فریبی باتیں کہہ کر اسلام کے نام سے چندہ وصول کر اپنی تصنیفات میں مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے اور ان کفریات صری
- ٢...... خواجہ صا
نبوت کا نہیں کیا اور یہ کہ وہ سنی حنفی میں صاف صاف دعویٰ نبوت کا ک توہین کی ہے۔ ان کی حدیثوں کو کے معجزہ شق القمر کا انکار کیا وغیرہ و ہیں اور ان کے لئے حوالہ قرآن کا گالیاں دیا کریں۔
- ٣...... خواجہ صا
کو نبی، رسول، پیغمبر لکھا ہے تو اس ورسول و پیغمبر کہا ہے اور مرزا و نیز غلط ہے۔ کیونکہ خواجہ صاحب نے کا مکذب قرار دیا اور مرزا قادیانی مرزا قادیانی کی نبوت پر ان آیات مرزا قادیانی نے اپنے کو حقیقی نبیوں طرح واجب الایمان اور قطعی لکھا نہیں بن سکتی۔
- ٤...... خواجہ صا
انگریزی ترجمہ قرآن کی اشاعت دوسرے مقامات سے وصول کیں
مائش کی جائے گی۔﴾ سی آیات قرآنیہ میں یہ حکم ہے کہ کسی کے زبانی کلمہ پڑھ لینے پر اعتبار نہ ں کے خلاف باتیں اس میں موجود ہوں۔ پس کیا اب سب مسلمانوں پر حب کی زبانی کلمہ گوئی پر اعتبار نہ کریں۔ کیونکہ اس کلمہ کے خلاف باتیں ۔ جن سے نہ تو قاعدہ کے طور پر توبہ کرتے ہیں نہ صفائی پیش کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب کا یہ کہنا کہ جب سے تبلیغ اسلام کا کام میں نے شروع کیا لیم نہیں کرتا۔ کیونکہ صحیح ہو سکتا ہے۔ جب کہ انگریزی ترجمہ قرآن جس کی سرگرم ہیں۔ بالکل مرزائیت کی باتوں سے بھرا ہوا ہے جو دین اسلام کے ہم نے خود دیکھا اور سنا۔
خواجہ صاحب کا زبانی مباحثہ سے گریز سب پر ظاہر ہو چکا۔ وہ اپنی تحریر کہہ چکے حتیٰ کہ سر جمال صاحب نے خود انہیں کے قیام گاہ میں ہمارے مقرر کی اور حاضرین جلسہ کی تعداد بھی اتنی کم رکھی کہ مثل نہ ہونے کے یہ منظور کر لیا۔ مگر خواجہ صاحب نے اپنے میزبان کی عزت کا بھی کچھ خیال کیا اب بھی کسی کو ان کے برسر حق ہونے کا وہم ہو سکتا ہے۔
رہی یہ بات کہ آیا مجازی طور پر کسی کو نبی کہنا جائز ہے یا نہیں اور جو حوالے خواجہ صاحب دیتے ہیں کہاں تک صحیح ہیں اور ختم نبوت جس کا اقرار خواجہ بوت کے کیا معنی انہوں نے اور ان کے پیغمبر نے گھڑے ہیں۔ اگر مباحثہ فیصلہ ہو جاتا اور سب کو معلوم ہو جاتا کہ یہ بھی خواجہ صاحب کا ایک بے مثل نیتہ الی الخیر! جمعیت العلماء رنگون
باسمہ تعالیٰ حامداً ومصلیاً
شریعت ربانی کی عدالت سے
فرد جرم
کہ خواجہ صاحب پر حسب ذیل جرائم قائم کئے گئے ہیں۔ جو اخلاقاً و قانوناً ٥٤
- ......١ خواجہ صاحب نے دوسرے مقامات کی طرح مسلمانان رنگون کو دھوکہ دیا
کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کبھی نبی و رسول نہیں کہا نہ کہتا ہوں اور جو کہے وہ کافر ۔ غرضکہ اسی طرح کی فریبی باتیں کہہ کر ناواقفوں کو اپنا مسلمان، بلکہ سنی حنفی ہونا باور کرایا اور ان سے تبلیغ اسلام کے نام سے چندہ وصول کرنا شروع کیا۔ حالانکہ خواجہ صاحب نے خلاف دین اسلام کے اپنی تصنیفات میں مرزا قادیانی کو خدا کا نبی ، رسول ، برگزیدہ مرسل وغیرہ کہا۔ جس کا اب ان کو خود بھی اقرار ہے اور ان کفریات صریحہ سے کوئی توبہ نامہ اب تک نہیں شائع کیا۔
- ......٢ خواجہ صاحب نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ
نبوت کا نہیں کیا اور یہ کہ وہ سنی حنفی تھا۔ حالانکہ مرزا قطعاً خارج از اسلام تھا۔ اس نے اپنی کتابوں میں صاف صاف دعویٰ نبوت کا کیا ہے اور تمام نبیوں کی، خاص کر حضرت سرور انبیاء ﷺ کی سخت توہین کی ہے۔ ان کی حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دینے کے لئے کہا۔ آپ کو مردہ کہا۔ آپؐ کے معجزہ شق القمر کا انکار کیا وغیرہ وغیرہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت ہی بری بری گالیاں دی ہیں اور ان کے لئے حوالہ قرآن کا دیا ہے تا کہ قرآنی حکم سمجھ کر تمام مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیا کریں۔
- ......٣ خواجہ صاحب نے بعد خرابی بسیار ، یہ اقرار کیا کہ ہاں میں نے مرزا قادیانی
کو نبی ، رسول، پیغمبر لکھا ہے تو اس کے ساتھ یہ ابلہ فریب فقرہ لگا دیا کہ مجازی طور پر میں نے نبی ورسول و پیغمبر کہا ہے اور مرزا و نیز اس کے تمام پیروں کی مراد بھی یہی ہے۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خواجہ صاحب نے مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو صحیفہ آصفیہ میں کافر یعنی قرآن کا مکذب قرار دیا اور مرزا قادیانی کے انکار کرنے کی وجہ سے دنیا پر قہر الٰہی کا نازل ہونا بیان کیا۔ مرزا قادیانی کی نبوت پر ان آیات قرآنیہ کو منطبق کیا جن میں اولوالعزم پیغمبروں کا بیان ہے اور خود مرزا قادیانی نے اپنے کو حقیقی نبیوں سے افضل کہا۔ اپنے الہام کو قرآن شریف و دیگر کتب الٰہیہ کی طرح واجب الایمان اور قطعی لکھا۔ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر لکھا۔ لہٰذا مجازی نبوت کسی طرح نہیں بن سکتی۔
- ......٤ خواجہ صاحب اور ان کی ساری جماعت نے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر
انگریزی ترجمہ قرآن کی اشاعت کے لئے ہزاروں روپیہ رنگون سے اور اسی طرح کی رقوم دوسرے مقامات سے وصول کیں۔ حالانکہ اس ترجمہ قرآن میں انہوں نے از راہ خیانت اپنے ٥٥
نوٹ اضافہ کئے ہیں۔ جن میں سراسر مرزائیت کی باتیں بھری ہیں اور ضروریات دین اسلام کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
- ٥...... خواجہ صاحب نے علمائے کرام کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے
اور جب ان کو مباحثہ کی دعوت دی گئی جو درحقیقت ان سے جرائم مذکورہ بالا کی صفائی کا مطالبہ تھا تو انہوں نے یہ چلتا ہوا فقرہ کہہ کر کہ میں مسلمانوں سے بحث نہیں کرتا۔ قرآن کو قرآن سے نہیں لڑاتا مباحثہ سے گریز کیا۔
لہٰذا حکم ہوا کہ
خواجہ صاحب کو ہدایت کی جائے کہ آج سے کل تک ان تین باتوں میں کسی بات کو اختیار کرلیں اور جو بات ان کو پسند ہو اس کی منظوری اپنے دستخط سے لکھ کر جمعیتہ العلماء میں فی الفور بھیج دیں۔
- الف...... حضرات علمائے کرام دامت برکاتہم کی خدمت میں بمقام جامع رنگون
حاضر ہو کر باقاعدہ توبہ کریں اور اپنا توبہ نامہ چھپوا کر شائع کردیں۔
- ب...... یہ نہ منظور ہو تو مسلمانوں کے عام جلسہ میں کسی عالم کے سامنے جو
جمعیتہ العلماء کی طرف سے منتخب ہوں گے اپنی صفائی پیش کریں اور ثبوت جرم کی شہادتوں کا جواب دیں۔
- ج...... یہ دونوں باتیں منظور نہ ہوں تو جس قدر روپیہ مسلمانوں سے یا مسلمانوں
کے اثر سے کسی دوسری قوم سے تبلیغ اسلام کا فریب دے کر وصول کیا ہے۔ فی الفور دینے والوں کو واپس کردیں۔ ترجمہ قرآن کی رقوم البتہ اپنی سہولت کا لحاظ رکھ کر باقساط ادا کریں اور اگر خواجہ صاحب کو تینوں باتیں منظور نہ ہوں یا اس ہدایت نامہ کا جواب نہ دیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ: ”پئے زجر تو قرآن ایستادست“ ”ان الذين اجرموا سيصيبهم صغار من عند الله وعذاب شديد بما كانوا يمكرون “ ﴿بہ تحقیق وہ لوگ کہ انہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا۔ عنقریب ان کو پہنچے گی ذلت اللہ کی طرف سے اور سخت عذاب، بسبب اس کے کہ وہ مکر کرتے تھے۔﴾ فقط! جمعیتہ العلماء رنگون۔
٣٦ مغل اسٹریٹ، مورخہ ٥؍ اکتوبر ١٩٢٠ء
ان اشتہارات نے خواجہ صاحب کے لئے تمام راستے بند کر دیئے اور مرزائیت کی حقیقت پوری طرح کھول دی۔ مردانہ وار توبہ کرنا بڑا کام ہے۔ اس کی تو کیا امید کی جاسکتی۔ مگر
٥٦
میں سراسر مرزائیت کی باتیں بھری ہیں اور ضروریات دین اسلام کو غلط ہے۔
خواجہ صاحب نے علمائے کرام کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے دعوت دی گئی جو درحقیقت ان سے جرائم مذکورہ بالا کی صفائی کا مطالبہ تھا تو کہہ کر کہ میں مسلمانوں سے بحث نہیں کرتا۔ قرآن کو قرآن سے نہیں لڑاتا ان کو ہدایت کی جائے کہ آج سے کل تک ان تین باتوں میں کسی بات کو جن کو پسند ہو اس کی منظوری اپنے دستخط سے لکھ کر جمعیت العلماء میں فی حضرات علمائے کرام دامت برکاتہم کی خدمت میں بمقام جامع رنگون میں اور اپنا توبہ نامہ چھپوا کر شائع کردیں۔
نہ منظور ہو تو مسلمانوں کے عام جلسہ میں کسی عالم کے سامنے جو سے منتخب ہوں گے اپنی صفائی پیش کریں اور ثبوت جرم کی شہادتوں کا
یہ دونوں باتیں منظور نہ ہوں تو جس قدر روپیہ مسلمانوں سے یا مسلمانوں نام سے تبلیغ اسلام کا فریب دے کر وصول کیا ہے۔ فی الفور دینے والوں کو ان کی رقوم البتہ اپنی سہولت کا لحاظ رکھ کر باقساط ادا کریں اور اگر خواجہ منظور نہ ہوں یا اس ہدایت نامہ کا جواب نہ دیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ: دست ”ان الذين اجرموا سيصيبهم صغار من عند الله ما كانوا يمكرون “ ﴿ بہ تحقیق وہ لوگ کہ انہوں نے جرائم کا ارتکاب ہوگی ذلت اللہ کی طرف سے اور سخت عذاب، بسبب اس کے کہ وہ مکر
فقط ! جمعیت العلماء رنگون ۔
٣٦ مغل اسٹریٹ، مورخہ ٥ / اکتوبر ١٩٢٠ء
جمعیت نے خواجہ صاحب کے لئے تمام راستے بند کر دیئے اور مرزائیت کی س دی ۔ مردانہ وار توبہ کرنا بڑا کام ہے۔ اس کی تو کیا امید کی جاسکتی ۔ مگر
٥٦
بادل ناخواستہ رنگون سے ان کو اپنا ڈیرہ اٹھانا پڑا۔ لیکن چلتے چلتے ایک مطبوعہ اشتہار اور ایک قلمی تحریر دستی پریس میں چھاپ کر خاص خاص لوگوں کو دیتے گئے۔ جن کی نقل حسب ذیل ہے۔
خواجہ کمال الدین کی طرف سے مطبوعہ آخری اشتہار
خدا واسطے مسلمان غور کریں۔
اس شہر میں چند ہفتوں سے خواجہ کمال الدین صاحب وارد ہیں۔ ان کی خدمات اور ان کے کام کے متعلق میں یہاں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ جس معاملہ میں یہاں چند اصحاب نے ایک چرچا کر رکھا ہے۔ اس کے متعلق میں (منشی عبدالقادر لاہوری مرزائی) کچھ عرض کرتا ہوں۔
خواجہ صاحب نے اپنے پبلک لیکچروں میں اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا۔ ان سے جو آٹھ سوال پوچھے گئے۔ ان کا جواب جوبلی ہال میں انہوں نے دے دیا۔ جو باعث اطمینان ١ ہوا
لیکن اب ایک طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ خواجہ صاحب کے اعلان کردہ ٢ عقائد تو درست ہیں ۔ لیکن جس کے وہ مرید ہیں وہ مدعی نبوت ہے اور وہ کافر ہے۔
خود خواجہ صاحب نے کئی دفعہ رنگون پبلک کے سامنے اعلان کیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر کاذب اور خارج از دائرہ اسلام سمجھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی خواجہ صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت نہ تھے۔ اس بات کے لئے مجھے مرزا قادیانی کی بعض تصانیف دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
مرزا قادیانی نے ١٨٩٢ء میں ایک اشتہار دہلی میں دیا تھا۔ پھر جامع مسجد میں کھڑے ہو کر اس اشتہار کے مطلب کو حلفاً بیان کیا تھا۔ اس اشتہار میں ذیل کے الفاظ درج ہیں۔
”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ، ملائک کا منکر، بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات و معراج نبوی سے بکلی منکر ہے۔ لہذا میں اظہاراً للحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر ۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی
١ اپنے منہ میاں مٹھو بننا اسی کو کہتے ہیں۔
٢ غلط یہ آواز کسی طرف سے نہیں آئی۔ بلکہ یہ آواز آئی کہ خواجہ صاحب کا یہ اعلان مکر و فریب ہے۔ وہ اپنے عقائد اس کے خلاف اپنی تصانیف میں لکھ چکے ہیں۔ جن سے انہوں نے اب تک توبہ کی نہ اب کرتے ہیں۔
٥٧
عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔ ”آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت وآمنت بكتاب الله العظيم القرآن الكريم“ اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و سمیع اول الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی مسلمان کہلانے لگتا ہے۔ میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
پھر کتاب (ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٣٠، مصنفہ مرزا قادیانی) میں ذیل کی عبارت درج ہے۔ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
پھر کتاب (نشان آسمانی ص ٢٩، خزائن ج ٤ ص ٣٩١، مصنفہ مرزا قادیانی) پر ہمیں ذیل کی عبارت ملتی ہے۔ ”نہ مجھے دعوٰی نبوت وخروج از امت، اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں۔“
پھر (کتاب البریہ ص ٢٨٢، خزائن ج ١٣ ص ٢١٦) پر ذیل کی عبارت درج ہے۔ ”افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعوٰی کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ تمام افتراء ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہل سنت کے قائل ہیں۔“
اس قسم کی تحریریں مرزا قادیانی کی تصنیف میں بکثرت ہیں۔ جن میں وہ انکار نبوت
٥٨
کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو لم النبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے ور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت وع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ ”آمـنـت ورسله والبعث بعد الموت وآمنت بكتاب الله العظيم ی تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و سمیع اوّل الشاہدین ہے۔ ہوں جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور غیر مذہب کا آدمی بھی معا مسلمان کہلانے لگتا ہے۔ میں ان تمام امور ر احادیث صحیحہ میں درج ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
یام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ٢٣٠، مصنفہ مرزا قادیانی) میں ذیل کی عبارت خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
آسمانی ص ٢٩، خزائن ج ٤ ص ٣٩١، مصنفہ مرزا قادیانی) پر ہمیں ذیل کی ممانعت و خروج از امت، اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلۃ حضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض تے ہیں۔“
ص ٢٢، خزائن ج ١٣ ص ٢١٦) پر ذیل کی عبارت درج ہے: ”افتراء کے کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کہ یہ تمام افتراء ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ حضرت اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہل سنت کے قائل ہیں۔“
مرزا قادیانی کی تصنیف میں بکثرت ہیں۔ جن میں وہ انکار نبوت ٥٨
کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے: ”لم یبق من النبوة الا المبشرات“ یعنی نبوت کے مختلف اجزاء ہیں۔ ان میں سے صرف ایک جزو مبشرات یعنی رویائے صالح جاری رہیں گے۔ رویائے صالح چھیا لیسواں حصہ نبوت کا آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ اس قسم کے مکالمہ مخاطبہ کے مدعی ہمیشہ امت مرحومہ میں ہوتے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی سے پہلے بھی بعض نے ایسا دعویٰ کیا ہے۔ اسی قسم کے مدعی مرزا قادیانی ہیں۔ اسی کا نام وہ جزوی، بروزی نبوت رکھتے ہیں اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں حقیقی معنوں میں نبی یا مرسل نہیں ہوں۔ بلکہ مجازی طور پر ہوں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی ایک آخری تصنیف میں ایک استفتاء کیا ہے اور اسے اپنی کتاب حقیقت الوحی کے ساتھ بطور ضمیمہ لگایا ہے اس میں وہ لکھتے ہیں۔
"والنبوة قد انقطعت بعد نبینا ﷺ ولا كتاب بعد الفرقان الذی هو خير الصحف السابقة، ولا شريعة بعد الشريعة المحمدية، بيد انی سميت نبيا على لسان خير البرية، وذلك امر ظلی من بركات المتابعة وما ارى فى نفسى خيراً وجدت كلما وجدت من هذه النفس المقدسة وما عنى الله من نبوتى الا كثرة المكالمة والمخاطبة ولعنة الله على من اراد فوق ذلك اوحسب نفسه شيئاً اواخرج عنقه من الربقة النبوية، وان رسولنا خاتم النبيين عليه انقطعت سلسلة المرسلين فليس حق احد ان يدعى النبوة بعد رسولنا المصطفىٰ على الطريقة المستقلة وما بقى بعد الا كثرة المكالمة وهو بشرط الاتباع لا غير متابعة خير البرية ووالله ماحصل لى هذا المقام الا من انوار اتباع الاشعة المصطفوية وسميت نبيا من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقة“
(الاستفتاء ملحقہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩)
اس عبارت کا مطلب یہ ہے یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: نبوت تو آنحضرت ﷺ کے بعد منقطع ہو چکی ہے۔ قرآن کے بعد نہ کسی کتاب کا آنا ہے اور نہ شریعت محمدیہ کے بعد کوئی اور شریعت آ سکتی ہے۔ میری نبوت جو ہے وہ ایک امر ظلی ہے۔ یعنی وہ نبوت حقیقی نہیں۔ بلکہ نبوت کا سایہ ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ مجھ میں کوئی خیر و برکت نہیں۔ مگر وہی جو اس مقدس انسان یعنی آنحضرت ﷺ سے مجھے ملی ہے اور میری نبوت سے مراد خدا تعالیٰ نے صرف کثرت مکالمہ رکھی ہے۔ یعنی خدا سے بولنا اور جو اس سے زیادہ ذرا بھی ارادہ کرے اس ٥٩
پر لعنت خدا کی ہو، ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں۔ ان پر مرسلین کا سلسلہ قطع ہو چکا ہے اور آپ کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ مستقل طور پر نبوت کا دعویٰ کرے۔ کیونکہ آپ کے بعد صرف کثرت مکالمہ باقی رہ گیا اور اس کے لئے بھی اطاعت آنحضرت ﷺ کی شرط ہے۔ مجھے جو کچھ حاصل ہوا وہ محض آپ کی اطاعت سے ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبی کہہ کر پکارا تو محض مجاز کے طور پر نہ حقیقتاً ۔“
یہ ان کی اس مضمون پر آخری تحریر ہے۔ وہ اس کے ذریعہ علماء سے اپنے عقائد کا استفسار چاہتے ہیں باقی اور عقائد کا بھی اسی طرح ذکر ہے۔
اب خدارا اے مسلمانوں اس امر کو نہ بھولو کہ ایک کلمہ گو کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ اب اس عبارت کے ہوتے ہوئے کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ظلم ہے کہ ان کی تحریر میں سے کوئی بے جوڑ ٹکڑا یا سطر لے لی جائے اور کفر کا مصالح جمع کر لیا جائے۔ ہم حنفی ہیں اور امام صاحب کے اس حکم کو نہ بھولو۔ اگر کسی میں ٩٩ ١؎ وجوہ کفر ہوں اور ایک وجہ اسلام ہو تو وہ مسلمان ہے۔ پھر اس عبارت کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح اسے مدعی نبوت ٹھہرائیں اور اس پر کفر کا فتویٰ تجویز کریں۔
میں مانتا ہوں کہ ان کی تحریروں میں بعض الفاظ متشابہ ہوں گے۔ بعض سے کچھ شبہ پڑتا ہوگا۔ لیکن جب ان کی آخری تحریر ”استفتاء“ مذکورہ بالا میں ہے اور اس کے بعد اس کے خلاف کوئی اور تحریر نہیں تو پھر ہم مرزا قادیانی کو کافر ٹھہرا کر خدا کو کیا جواب دیں گے۔ اگر مرزا قادیانی نے لفظ مرسل یا نبی اپنے متعلق استعمال کیا ہے تو پھر قرآن بھی لفظ مرسل کو غیر نبی پر استعمال کرتا ہے۔ ”فقالوا انا الیکم مرسلون“ یہاں مرسل ”حوارین مسیح“ کو کہا گیا ہے۔ بیہقی کی ایک روایت غالباً روح المعانی میں درج ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ قرآن کے پڑھنے والے کو نبی ٹھہراتے ہیں۔ ”من قرأ ثلث القرآن اعطی ثلث النبوة“ یعنی جس نے ایک تہائی قرآن پڑھا اسے ایک تہائی نبوت دی گئی۔ جس نے کل قرآن پڑھا اسے کل نبوت دی گئی۔ اب یہاں نبوت سے مراد حقیقی نہیں بلکہ مجازی نبوت مراد ہے۔
١؎ غلط ہے فقہ کی کسی کتاب میں یہ مضمون نہیں۔ ہاں عوام جہلا میں البتہ مشہور ہے۔ خواجہ صاحب کی علمی قابلیت اسی ایک بات سے ظاہر ہو گئی۔ کتب فقہ میں اگر ہو تو یہ مضمون ہے کہ کسی مسلمان کے کسی کلام میں اگر سو مطلب ہو سکتے ہوں۔ ان میں ٩٩ کفر ہوں اور ایک اسلام تو اس کے کلام کا وہی مطلب مراد لینا چاہئے جو اسلام کے مطابق ہو۔
٦٠
ے رسول خاتم النبیین ہیں۔ ان پر مرسلین کا سلسلہ قطع ہو چکا ہے اور آپ بتا کہ مستقل طور پر نبوت کا دعویٰ کرے۔ کیونکہ آپ کے بعد صرف کثرت کے لئے بھی اطاعت آنحضرتﷺ کی شرط ہے۔ مجھے جو کچھ حاصل ہوا سے ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبی کہہ کر پکارا تو محض مجاز کے طور پر نہ حقیقتاً۔“ مضمون پر آخری تحریر ہے۔ وہ اس کے ذریعہ علماء سے اپنے عقائد کا ور عقائد کا بھی اسی طرح ذکر ہے۔ ے مسلمانوں اس امر کو نہ بھولو کہ ایک کلمہ گو کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ تے ہوئے کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں سے کوئی بے جوڑ ٹکڑا یا سطر لے لی جائے اور کفر کا مصالح جمع کر لیا ام صاحب کے اس حکم کو نہ بھولو۔ اگر کسی میں ٩٩ ١؎ وجوہ کفر ہوں اور ایک ا ہے۔ پھر اس عبارت کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح اسے مدعی نبوت فتویٰ تجویز کریں۔ سکہ ان کی تحریروں میں بعض الفاظ متشابہ ہوں گے۔ بعض سے کچھ شبہ پڑتا خری تحریر ”استفتاء“ مذکورہ بالا میں ہے اور اس کے بعد اس کے خلاف کوئی زا قادیانی کو کافر ٹھہرا کر خدا کو کیا جواب دیں گے۔ اگر مرزا قادیانی نے لفظ استعمال کیا ہے تو پھر قرآن بھی لفظ مرسل کو غیر نبی پر استعمال کرتا ہے۔ تم مرسلون “ یہاں مرسل ”حوارین مسیح“ کو کہا گیا ہے۔ بیہقی کی ایک میں درج ہے۔ جس میں آنحضرتﷺ قرآن کے پڑھنے والے کو نبی رأ ثلث القرآن اعطی ثلث النبوۃ “ یعنی جس نے ایک تہائی تہائی نبوت دی گئی۔ جس نے کل قرآن پڑھا اسے کل نبوت دی گئی۔ اب نہیں بلکہ مجازی نبوت مراد ہے۔
فقہ کی کسی کتاب میں یہ مضمون نہیں۔ ہاں عوام جہلا میں البتہ مشہور ہے۔ میت اسی ایک بات سے ظاہر ہو گئی۔ کتب فقہ میں اگر ہو تو یہ مضمون ہے کہ م میں اگر سو مطلب ہو سکتے ہوں۔ ان میں ٩٩ کفر ہوں اور ایک اسلام تو ب مراد لینا چاہئے جو اسلام کے مطابق ہو۔
٦٠
اس قسم کے الفاظ سابقین نے مجازاً استعمال کئے ہیں۔ مولانا روم مرشد کے متعلق فرماتے ہیں۔
حضرت محی الدین بن عربی لکھتے ہیں : ” فالنبوة سارية الی یوم القيامة فی الخلق وان كان التشريع قد انقطع “ یعنی نبوت تو مخلوق میں قیامت تک جاری رہے گی۔ لیکن شریعت کا آنا بند ہو چکا۔ پھر حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا ایک قول کتاب ”الیواقیت والجواہر“ میں یوں درج ہے ۔ ” اوتی الانبیاء اسم النبوۃ واوتينا اللقب “ یعنی انبیاء کو تو نبوت اسماء ملی ہمیں لقباً۔
اس قسم کی تحریر سب اولیاء کرام نے ایک نہ ایک رنگ میں لکھی ہیں۔ مگر حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں۔ اگر مرزا قادیانی ان لفظوں کے استعمال سے کافر ٹھہرتے ہیں تو پھر ان بزرگوں کو ہم کیا کہیں۔ لیکن ان بزرگوں کو بھی علماء وقت نے کافر ٹھہرایا ہے۔
اے مسلمانو! کیا تم ایسے شخص کو کافر کہو گے جو آنحضرتﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر کاذب ٹھہراتا ہے اور اپنا عقیدہ یوں لکھتا ہے۔ ” وبعزة الله وجلاله اني مؤمن مسلم واومن بالله وكتبه ورسله والملئكة والبعث بعد الموت وبان رسولنا محمد مصطفیٰﷺ افضل الرسل وخاتم النبيين “
میں نے یہ باتیں اس لئے لکھیں کہ ہم اہل رنگون کار خیر میں ہمیشہ سبقت لیتے رہے ہیں۔ آج ایک شخص ہم میں آتا ہے۔ اس کے ہاتھ سے خدائے تعالیٰ وہ کام کرا رہا ہے۔ جو سب کاموں سے بہترین ہے۔ اس کا گذشتہ آٹھ سالوں کا کام ہمارے سامنے ہے۔ خدائے تعالیٰ نے اسے فوق الفوق کامیابی بخشی ہے۔ وہ کبھی فرعی بحثوں میں نہیں پڑا وہ ہمیں کار خیر میں شامل کرنے کے لئے یہاں آیا ہے۔ یہ ہمارے لئے سخت بدبختی ہوگی۔ اگر ہم اس میں شامل نہ ہوں۔ میں نے یہ اشتہار اس لئے دیا اس کے بعد بھی اگر کوئی عقیدہ کی بحث چھیڑے تو یہ سمجھا جائے گا۔ محض روپیہ بچانے کے بہانے ہیں۔
مسئلہ وفات مسیح کوئی مرزا قادیانی کا نیا مسئلہ نہیں ہے۔ پہلے بھی لوگ مانتے آئے ہیں۔ مثلاً امام مالک صاحب کا ایک قول مجمع البحار میں درج ہے۔ لیکن اگر یہاں کے مفتی صاحبان کو مزید تشفی کرنی ہے تو دنیا میں بہت سے لوگ یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہاں ہم ایسے اصحاب کو
٦١
بنوائیں گے جو یہاں کے مفتی صاحبان کو بروئے تعلیم قرآن قائل کردیں گے کہ مسیح مر گیا۔ بشرطیکہ یہ صاحب اگر تحریری بحث کرنے کا وعدہ دیں تو ایسا ہو سکتا ہے۔ محبت اور آشتی سے معاملہ طے ہو سکتا ہے۔ البتہ ہمارے پاس ہماری اس تحریر کا مخاطب کوئی پیشہ ور نہیں ہے۔ اخیر میری یہ عرض ہے کہ مدتوں بعد ایک شخص ہم میں پیدا ہوا ہے۔ جس نے فرعی تنازعات سے علیحدہ ہو کر منکران اسلام کو اپنا مقابل بنایا۔ اس کی تحریریں تقریریں فرعی عقائد اور امتیازوں سے خالی ہیں۔ للہ اس کی راہ میں نہ آؤ اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ المشتہر: منشی عبدالقادر، تاجر روڈ رنگون۔
خواجہ صاحب کی دوسری تحریر دستی پریس کی
ایک ضروری اطلاع
”نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد!“ دورانِ قیام رنگون میں مجھ سے کئی دفعہ میرے عقائد کے متعلق پوچھا گیا اور میرے نزدیک ایک مسلمان کا حق ١؎ ہے وہ دوسرے مسلمان سے ایسا سوال کرے اس کے جواب میں میں نے مختلف لیکچروں ٢؎ میں اپنے عقائد کھول کر بیان کر دیئے۔ پھر بعض مولانا صاحبان کے اشارے پر بعض احباب نے مجھے خط لکھے۔ جس کا جواب بھی میں نے مفصل دے دیا۔ اگر وہ مکتوب عام پبلک میں سنا دیا جاتا تو یہ تنازع ختم ہو جاتا۔ لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ اس لئے اب میں اپنا عقیدہ محض دوستوں کی درخواست پر شائع بھی کر دیتا ہوں۔ وھو ھذا! ”اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد عبده ورسوله. آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت“ میں خدا کو ایک جانتا ہوں اور حضرت محمد ﷺ کو نبی برحق اور آپ پر سلسلہ رسالت و نبوت کو منقطع اور ختم مانتا ہوں اور آپ کے بعد مدعی نبوت کا کافر کاذب اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔ میں اپنی ہدایت کے لئے اوّل قرآن کو پھر حدیث اور اس کے بعد امام اعظم
١؎ خدا خدا کر کے آپ نے حق تو تسلیم کیا پہلے تو اس سوال کو چلتی ہوئی گاڑی میں روڑا
اٹکانا کہتے تھے۔
٢؎ چہ خوش سوال تحریری جواب زبانی۔
٦٢
مفتی صاحبان کو بروئے تعلیم قرآن قائل کردیں گے کہ مسیح مر گیا۔ بشرطیکہ کرنے کا وعدہ دیں تو ایسا ہو سکتا ہے۔ محبت اور آشتی سے معاملہ طے پس ہماری اس تحریر کا مخاطب کوئی پیشہ ور نہیں ہے۔ عرض ہے کہ مدتوں بعد ایک شخص ہم میں پیدا ہوا ہے۔ جس نے فرنگی منکران اسلام کو اپنا مقابل بنایا۔ اس کی تحریریں تقریریں قرآنی عقائد اور للہ اس کی راہ میں روڑا نہ ڈالو۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ الشتہر : منشی عبدالقادر ، تاجر ٹمبر رنگون ۔
صاحب کی دوسری تحریری دستی پریس کی
بسم الله الرحمن الرحيم!
نصلی علیٰ رسوله الكريم . اما بعد! ”دوران قیام رنگون میں مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا اور میرے نزدیک ایک مسلمان کا حق ہے وہ سوال کرے اس کے جواب میں میں نے مختلف لیکچروں میں اپنے دیئے۔ پھر بعض مولانا صاحبان کے اشارے پر بعض احباب نے مجھے خط میں نے مفصل دے دیا۔ اگر وہ عقیدہ عام پبلک میں سنا دیا جاتا تو یہ تنازع آگیا۔ اس لئے اب میں اپنا عقیدہ محض دوستوں کی درخواست پر شائع ہوں! لا اله الا الله واشهد ان محمد عبده ورسوله. آمنت تبہ ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله وت“ میں خدا کو ایک جانتا ہوں اور حضرت محمدﷺ کو نبی برحق اور آپ مطلق اور خاتم مانتا ہوں اور آپ کے بعد مدعی نبوت کو کافر کاذب اور خارج کی ہدایت کے لئے اول قرآن کو پھر حدیث اور اس کے بعد امام اعظم
جبکہ آپ نے حق تو تسلیم کیا پہلے تو اس سوال کو چلتی ہوئی گاڑی میں روڑا
تحریری جواب زبانی ۔
٦٢
صاحب کے اجتہاد کو دوسروں پر ترجیح ١؎ دیتا ہوں۔ میں اہل قبلہ ہوں، کلمہ گویوں مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتا ہوں۔ معراج لیلۃ القدر اور معجزات آنحضرتﷺ اور دیگر انبیاء مندرجہ قرآن پر ایمان رکھتا ہوں۔ فقط !
آج میرے ہاتھ میں ایک مقدس کام ہے۔ جس کی کامیابی پر مسلمانوں کی آئندہ فلاح بہت حد تک منحصر ہے۔ میں نے ہزاروں روپیہ اس پر خرچ کئے۔ ابھی گزشتہ دسمبر میں ووکنگ مشن کے متعلق ایک مستقل مشنری فنڈ کھولنے کے لئے میں نے تین ہزار روپیہ دیا۔ میں اس کار خیر کی طرف آپ کو بھی بلاتا ہوں۔ اگر میرے ان عقائد پر آپ مجھے مسلمان سمجھتے ہیں تو بسم اللہ اور اگر اس تحریر کے بعد آپ کو میرے اسلام پر شبہ ہے پھر آپ پر حرام ہے کہ مجھے اشاعت اسلام کے لئے ایک کوڑی دو۔ بس میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
یہ امر سچ ہے کہ میں نے ایک کتاب صحیفہ آصفیہ ١٩٠٩ء میں لکھی تھی۔ جس میں میں نے لفظ مرسل یا پیغمبر قادیان جناب مرزا قادیانی کے متعلق لکھے۔ جس کی بناء پر یہاں کے بعض شخص یہ زور دیتے ہیں کہ میں جناب مرزا قادیانی کو نبی مانتا ہوں۔ اگر ایسا کہنے والے ایمان اور دیانت سے کام لیتے تو ان کا فرض تھا کہ وہ صحیفہ آصفیہ کے آخری دو صفحہ بھی مسلمان بھائیوں کو پڑھ کر سنا دیتے۔ جہاں میں نے اپنا ایمان کھول کر بیان کیا ہے کہ حضرت محمدﷺ خیر الرسل اور خیر الانام ہیں اور ان پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ جب میں نے اس کتاب کے خاتمہ پر اپنے ایمان کا خلاصہ لکھ دیا اور آنحضرتﷺ پر ختم نبوت کا اقرار کر دیا تو پھر یہ کس قدر خیانت ہے کہ میری کتاب کا ایک آدھ فقرہ لوگوں کو سنا دیا جائے اور میرے متعلق وہ باتیں منسوب کی جائیں جس کے خلاف میرا ایمان کتاب میں درج ہے۔ سوال یہ ہو سکتا ہے کہ جب میں صحیفہ آصفیہ میں ختم نبوت کا قائل ہوں تو پھر میں نے کیوں آنحضرتﷺ کے بعد ایک امتی کے متعلق خواہ وہ مرزا قادیانی ہوں یا کوئی اور۔ لفظ مرسل یا رسول یا پیغمبر استعمال کیا۔ یہ سوال ان کی طرف سے تو ہو سکتا ہے جو اہل علم نہیں۔ لیکن اگر ایک ذی علم یہ اعتراض کرتا ہے تو یا تو وہ خلق خدا کو دھوکہ دیتا ہے یا وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اہل علم سے نہیں۔
١؎ خواجہ صاحب کیوں اپنے منہ سے اتنا بڑا دعویٰ کرتے ہو۔ جو شخص عربی زبان نہ جانے، چاروں مذہب کے فقہ پر کجا، فقہ حنفی پر بھی نظر نہ رکھتا ہو وہ کیا ترجیح دے گا۔ خواجہ صاحب کو یہ بھی خبر نہیں کہ اصحاب ترجیح ایک طبقہ ہے مجتہدین میں سے۔
٢؎ خواجہ صاحب نے خود اپنے دھوکہ دہی کا اقرار کر لیا۔ کیونکہ ان کو تسلیم ہے کہ جو اہل علم نہیں وہ اس اختلاف بیانی سے شک میں پڑیں گے اور ظاہر ہے کہ صحیفہ آصفیہ جو اردو کی ایک معمولی کتاب ہے۔ اہل علم کے لئے نہیں لکھی گئی۔
٦٣
لفظ پیغمبر عربی لفظ نہیں۔ وہ آج بھی عام بول چال میں کسی پیغام رساں پر بولا جاسکتا ہے۔ بہرحال لفظ پیغمبر یا رسول یا مرسل سب کا مفہوم ایک ہے۔ یعنی قاصد بھیجا ہوا فرستادہ۔
سوال صرف یہ ہے کہ آیا کسی غیر نبی یا امتی پر لفظ مرسل بولا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ لوگ اہل علم اور تفسیروں سے واقف ١؎ ہوتے یا ضدی نہ ہوتے تو مجھ پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ میں نے کیوں لفظ مرسل ایک غیر نبی یا امتی پر بولا ہے۔
سورۃ یٰسٓ میں تین اشخاص کو خدائے تعالیٰ مرسل کہتا ہے ۔ ”اذ جآء ھا المرسلون“ مفسرین نے ان مرسلوں کو حواری مسیح کہا ہے۔ بعض نے ان کے نام بھی دیئے ہیں۔ مثلاً یوحنا، شمعون، متیٰ، تھوما، صدوق وغیرہ وغیرہ۔ کسی کے نزدیک کہ یہ لوگ حواری تھے نبی نہ تھے بلکہ امتی تھے۔ لیکن خدا نے قرآن میں ان کو اپنے رسول کہا ہے۔ ملاحظہ ہو (تفسیر روح المعانی ج ٧ ص ٢٨٢، تفسیر خازن مع المعالم ج ٦ ص ٤، تفسیر سواطع الالہام ص ٥٤٩، تفسیر ابن عباس ص ٢٧٢، مطبوعہ ازہری مصری، تفسیر جلالین ج ٢ ص ٧٥) ایسا ہی دیکھو (بیضاوی، کشاف، رازی، مدارک)
پھر اگر سلف صالحین نے لفظ مرسل کو ایک امتی پر بولا جانا تسلیم کر لیا ہے تو پھر میں نے کیا غلطی کی ہے۔ لیکن چونکہ یہ لفظ حقیقی رسولوں اور نبی پر بھی بولا جاتا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتے۔ اس لئے لوگوں کو غلطی سے بچانے کے لئے میں نے کتاب کے آخری دو صفحوں میں اپنا عقیدہ لکھ دیا کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی۔
بدقسمتی سے ہم میں علم کا چرچا نہیں رہا۔ جہاں مدعیان علم کا یہ حال ہو تو دوسروں کا کیا قصور۔ اس لئے اگر بے علم بھائیوں پر ناواقفیت کے باعث میرے الفاظ مرسل یا پیغمبر شاق گزرتے تو درست تھا۔ بلکہ یہ تو ان کے عزت اور محبت رسول کا نشان ہے اور مجھے بھی ان کی خاطر منظور ہے۔ مجھے اپنے بھائیوں سے نہ نفرت منظور ہے نہ کسی کی تکلیف مجھے گوارا ہے۔ اس لئے اگر وہ ان لفظوں ٢؎ سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ لفظ شاق گزرتے ہیں تو ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث یا خدا سے خبر پانے والا کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح سے مجھ کو مسلمانوں میں نفرت اور نفاق منظور نہیں۔ میں نے عمر بھر
١؎ الحمدللہ ہمارے علماء علم تفسیر سے خوب واقف ہیں۔ آپ کی طرح بے فائدہ ورق گردانی کا نام علم تفسیر کی واقفیت نہیں ہے۔ چنانچہ عنقریب آپ کو معلوم ہوگا۔
٢؎ خواجہ صاحب صرف یہ الفاظ نہیں بلکہ آپ نے اور خود مرزا قادیانی نے اپنے اوصاف رسالت بلکہ اس سے بالاتر ثابت کئے ہیں۔ جیسا کہ آپ کو بارہا لکھا گیا۔
٦٤
میں کوئی لفظ مرزا قادیانی نبی پر استعمال کیا ہے۔ حضرت محی الد فی الخلق وان التد لیکن نبوت شریعت قطع ہو کی جلد دوم ص ٣٩ میں ح شیخ عبدالقادر جیلانی کا قول نبوت اسماعیلی ہے اور
پھر ابن عبا
(روح المعانی ج اول ص
حصہ قرآن پڑھا اسے دو تہائی جس نے کل قر عمل بالقرآن ہے۔ اسی طرح
ملاحظہ ہو۔ ان حوالہ نبوت حقیقی نہیں۔ حقیق کہ آنحضرت ﷺ ایک جزو یعنی مبشرات ”لھم البشریٰ ف رہا ہے۔ ایک حد عبدالقادر جیلانی کو ما ہیں۔ یہ دروازہ صرف اس شہ
میں کوئی لفظ مرزا قادیانی کے متعلق ایسا استعمال نہیں کیا۔ لیکن اسلاف نے لفظ نبی کو امتی اور غیر نبی پر استعمال کیا ہے۔
حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں ۔ ”فالنبوة سارية الى يوم القيامة في الخلق وان التشريع قد انقطع“ یعنی خلق میں قیامت تک نبوت جاری رہے گی۔ لیکن نبوت شریعت قطع ہو گئی۔ کتاب الیواقیت والجواہر میں جو امام شعرانی کے عقائد میں ہے۔ اس کی جلد دوم ص ٣٩ میں حضرت محی الدین ابن عربی کا حوالہ دے کر یہی عقیدہ لکھا ہے۔ پھر اسی جگہ شیخ عبدالقادر جیلانی کا قول ”واوتی الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب“ یعنی انبیاء کو نبوت اسماء ملی ہے اور ہمیں لقبًا۔ اسی طرح مولانا روم مرشد کے متعلق فرماتے ہیں۔
پھر ابن عباس ”یؤتی الحکمة“ کی تفسیر میں حکمت سے نبوت مراد لیتے ہیں۔ (روح المعانی ج ١ ص ٢٩) پر ایک حدیث درج ہے جہاں حضرت فرماتے ہیں جس نے ثلث حصہ قرآن پڑھا اسے ثلث نبوت ملی۔ جس نے نصف پڑھا اسے نصف جس نے دو تہائی اسے دو تہائی جس نے کل قرآن پڑھا اسے کل نبوت ملی۔ یہاں پڑھنے سے مراد تفقہ فی القرآن اور عمل بالقرآن ہے۔
اسی طرح آسیہ، ام موسیٰ، سارہ، ہاجرہ، حوا، مریم کی نبوت پر بھی بعض کا خیال ہے۔
ملاحظہ ہو۔ (روح المعانی ج اول ص ٥٧٧)
ان حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لفظ نبی اور نبوت امتی اور غیر نبی پر بولا گیا ہے۔ یہ نبوت حقیقی نہیں۔ حقیقی نبوت ختم ہوگئی۔ اس نبوت سے مراد صرف انسان کا خدا سے بولنا ہے۔ جیسے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”لم يبق من النبوة الا المبشرات“ نبوت ختم ہوگئی اس کی ایک جزو یعنی مبشرات یا رویاء صادقہ، یعنی خدا کا بولنا باقی رہ گیا ہے۔ قرآن بھی اس پر شاہد ہے۔ ”لهم البشرى في الحيوة الدنيا“ اسی نبوت کا نام نبوت ناقصہ، بروزی، مجازی لوگوں نے رکھا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق یہ چھیالیسواں حصہ نبوت کا ہے۔ اسی نبوت کا لقب شیخ عبدالقادر جیلانی کو ملا۔ اسی کی طرف حضرت ابن عربی نے اشارہ کیا اور اسی کے مدعی مرزا قادیانی ہیں۔ یہ دروازہ صرف امت محمدیہ پر کھلا ہے۔
اس شہر رنگون میں بعض غیر احمدی دوست ہیں۔ جن پر حسب مقدور یہ خدا کا فضل ہوتا
ہے۔ یعنی ان کو خدا سے خبر ملتی ہے۔ والا اصلی اور حقیقی نبوت حضرت محمد علیہ الف الف صلوۃ و سلام پر ختم ہو گئی۔ اخیر میں یہاں میں مولانا بزرگ احمد صاحب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چند تفسیر بھیج کر مجھے مشکور فرمایا۔ میں ان سے یہ بھی عرض کرتا ہوں وہ خدا کے واسطے شہادت دیں کہ آیا جو حوالے میں نے مفسرین کے دیئے وہ درست ہیں یا نہیں اور ان کی رو سے لفظ مرسل وغیرہ غیر نبی پر اور امتی پر بولا گیا ہے یا نہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اس زمانہ میں جب علم مفقود ہو گیا ہے اور عام مسلمانوں میں بھی علم کا چرچا نہ رہا تو بیشک ان لفظوں سے مسلمانوں کو دھوکہ لگتا ہے۔ میں کسی کا کیوں گلہ کروں۔ خود ہمارے بھائیوں نے جو آج کل قادیان میں ہیں ان لفظوں سے دھوکہ کھایا اور مرزا قادیانی کی نبوت کو حقیقی نبوت سمجھ لیا اور انہیں نبی بنایا۔ اس وجہ سے ہم ان سے بیزار ہو گئے اور ان سے قطع تعلق کیا اور بالفاظ دیگر مرزا قادیانی نے ایسے شخص کو اور ایسے شخص کے ماننے والے کو اسلام سے خارج سمجھا جو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہو۔ وہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ جو آپ نے دہلی میں ایک اشتہار میں شائع کئے اور پھر ہزار مخلوق کے سامنے خانہ خدا میں کھڑے ہو کر دہرائے۔ وهو هذا!
”میں سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ امنت بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت وآمنت بكتاب الله العظيم القرآن الكريم“
یہ ان کی تحریر ١٨٩٢ء کی ہے اور ١٩٠٥ء میں اس مضمون پر ان کی آخری عربی تحریر شائع ہوئی۔ ایک اشتہار مشتہرہ منشی عبد القادر صاحب تانبو روڈ رنگون میں درج ہے۔ جو دس دن ہوئے شائع ہوا۔ اس کا ترجمہ ذیل میں لکھتا ہوں۔
نبوت تو آنحضرت ﷺ پر منقطع ہو چکی ہے۔ قرآن کے بعد نہ کسی کتاب کو آنا ہے اور نہ شریعت محمدیہ کے بعد کوئی اور شریعت آسکتی ہے۔ میری نبوت جو ہے وہ ایک امر ظلی ہے۔ یعنی وہ نبوت حقیقی نہیں بلکہ نبوت کا سایہ ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ مجھ میں کوئی خیر و برکت نہیں مگر وہی جو اس مقدس انسان یعنی نبی کریم ﷺ سے مجھے ملی ہے اور میری نبوت سے مراد خدا تعالیٰ نے صرف کثرت مکالمہ رکھی ہے یعنی خدا سے بولنا اور جو اس سے زیادہ
٦٦
برحق ہے۔ ولا اصلی اور حقیقی نبوت حضرت محمد علیہ الف الف صلوٰۃ وسلام وں میں مولانا بزرگ احمد صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے چند رمایا۔ میں ان سے یہ بھی عرض کرتا ہوں وہ خدا کے واسطے شہادت دیں کہ آیا یان کے دیئے وہ درست ہیں یا نہیں اور ان کی رو سے لفظ مرسل وغیرہ غیر نبی نہیں۔
جب نہیں کہ اس زمانہ میں جب علم مفقود ہو گیا ہے اور عام مسلمانوں میں بھی ان لفظوں سے مسلمانوں کو دھوکہ لگتا ہے۔ میں کسی کا کیوں گلہ کروں۔ خود و آج کل قادیان میں ہیں ان لفظوں سے دھوکہ کھایا اور مرزا قادیانی کی اور انہیں نبی بنایا۔ اس وجہ سے ہم ان سے بیزار ہو گئے اور ان سے قطع مرزا قادیانی نے ایسے شخص کو اور ایسے شخص کے ماننے والے کو اسلام سے مد ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہو۔ وہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں۔ جو آپ س میں شائع کئے اور پھر ہزار مخلوق کے سامنے خانہ خدا میں کھڑے ہو کر
و مولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع حمد ﷺ پر ختم ہو گئی۔ امنت بالله وملائکته وکتبه ورسله وامنت بکتاب الله العظیم القرآن الکریم“
١٨٩١ء کی ہے اور ١٩٠٥ء میں اس مضمون پر ان کی آخری عربی تحریر شائع منشی عبدالقادر صاحب تانبورہ ڈرنگون میں درج ہے۔ جو دس دن ہوئے ل میں لکھتا ہوں۔
نبوت ﷺ پر منقطع ہو چکی ہے۔ قرآن کے بعد نہ کسی کتاب کو آنا ہے اور ں اور شریعت آ سکتی ہے۔ میری نبوت جو ہے وہ ایک امر ظلی ہے۔ یعنی وہ کا سایہ ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ مجھ بروزی حواس مقدس انسان یعنی نبی کریم ﷺ سے مجھے ملی ہے اور میری نے صرف کثرت مکالمہ رکھی ہے یعنی خدا سے بولنا اور جو اس سے زیادہ
٦٦
٧٧ ذرا بھی ارادہ کرے اس پر لعنت خدا کی؟ ۔ ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں۔ ان پر مرسلین کا سلسلہ قطع ہو چکا ہے اور آپ کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ مستقل طریق پر نبوت کا دعویٰ کرے۔ کیونکہ آپ کے بعد صرف کثرت مکالمہ باقی رہ گیا اور اس کے لئے بھی اطاعت آنحضرت ﷺ شرط ہے۔ مجھے جو کچھ حاصل ہوا۔ محض آپ کی اطاعت سے ہوا مجھے اگر اللہ نے نبی کہہ کر پکارا تو محض مجاز کے طور پر نہ حقیقتاً۔
یہ مرزا قادیانی کی اس مضمون پر آخری تحریر ہے جو سب شبہات کو دور کر دیتی ہے۔ وہ نبوت کو آنحضرت ﷺ پر منقطع سمجھتے ہیں اور اس مجازی نبوت کے مدعی ہیں۔ جس کے مدعی حضرت ابن عربی اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور دیگر بزرگان دین رہے ہیں۔ اگر اس تحریر کے بعد کوئی ان کی تکفیر پر اصرار کرے تو اس کا معاملہ خدا سے ہے۔ والسلام فقط ! خواجہ کمال الدین بقلم خود، مورخہ ٢؍ اکتوبر ١٩٢٠ء
خلاصہ تحریرات و اشتہارات
جس قدر تحریرات خواجہ کمال الدین کے ساتھ ہوئیں اور جو اشتہارات شائع ہوئے سب ہدیۂ ناظرین ہو چکے۔ اب ان کا نہایت مختصر خلاصہ بھی درج کیا جاتا ہے تا کہ نتیجہ نکالنا ہر شخص کے لئے آسان ہو جائے۔
- ١...... خواجہ صاحب کو مناظرہ کی دعوت دی گئی۔ ان کے ملنے والوں نے خاص کر
ان کے میزبان نے بھی ان کو مجبور کیا۔ لیکن انہوں نے کسی طرح ہمت نہ کی۔ اس سے ان کی حقیقت سب کو معلوم ہو گئی۔
- ٢...... حسب عادت رنگون میں بھی خواجہ کمال الدین نے یہی ظاہر کیا کہ نہ میں
نے کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کہا نہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
- ٣...... جب علمائے اہل سنت کی طرف سے خواجہ کمال الدین کی کتاب صحیفہ
آصفیہ کی تشہیر ہوئی کہ اس میں صاف صاف انہوں نے مرزا قادیانی کو نبی و رسول و پیغمبر لکھا ہے اور خود مرزا قادیانی کی تصنیفات رنگون میں مسلمانوں کو دکھلائی گئیں کہ اس نے بڑی صراحت کے ساتھ دعویٰ نبوت و رسالت کا کیا ہے تو خواجہ صاحب مجبور ہوئے اور انکار کی گنجائش نہ دیکھی۔
- ٤...... بالآخر خواجہ صاحب نے بڑی بیباکی سے کہا کہ ہاں میں نے مرزا قادیانی
کو نبی کہا ہے اور مرزا قادیانی نے بھی دعویٰ نبوت کا کیا ہے۔ مگر اس میں کوئی خرابی نہیں۔ کیونکہ
٦٧
میری اور مرزا قادیانی کی دونوں کی مراد نبوت مجازی ہے اور مجازاً غیر نبی کو نبی کہنا جائز ہے اور اس کے دلائل خواجہ صاحب نے حسب ذیل پیش کئے۔
- الف....... میں اور مرزا قادیانی دونوں کلمہ ایمان پڑھتے ہیں اور رسول خدا ﷺ کی ختم نبوت کا
اقرار کرتے ہیں۔
- ب....... مرزا قادیانی نے خود اپنی مراد بیان کر دی ہے کہ میری مراد نبوت سے مجازی ہے اور میں
بھی کہتا ہوں کہ جہاں کہیں میں نے ان کو نبی لکھا ہے اس سے مراد مجازی نبوت ہے۔
- ج....... غیر نبی پر مرسل کا اطلاق قرآن میں ہے۔ قولہ تعالیٰ: ” واضرب لهم مثلاً
اصحاب القرية اذ جاء ها المرسلون “
- د....... حدیث میں بعض اجزائے نبوت کے باقی رہنے کی خبر ہے۔ ”لم يبق من النبوة
الا المبشرات“ (الحدیث)
- ہ....... حدیث میں قرآن پڑھنے والے کو نبوت کا ملنا بیان ہوا ہے۔
- و....... ابن عباس نے حکمت سے نبوت مراد لی ہے۔
- ز....... امام شعرانی اور غوث الاعظم جیلانی نے نبوت کا سلسلہ قائم مانا۔ مولانا روم نے بھی
پیر کو نبی کہا۔
یہ کل سات باتیں ہیں جو وقتاً فوقتاً خواجہ صاحب کی طرف سے پیش ہوئیں۔ جن کے جوابات بار بار اس طرف سے دیئے گئے اور خواجہ صاحب جواب الجواب سے عاجز رہے۔
مابقیہ سوالات کے جوابات
ہاں آخری چند نمبروں کا جواب نہیں دیا گیا۔ کچھ تو اس وجہ سے کہ حقیقت حال واضح ہوچکی تھی اور ہمارے جوابات سابقہ سے ان کا جواب بھی بآسانی مستنبط ہوتا تھا اور کچھ اس وجہ سے کہ وہ باتیں خواجہ صاحب کی طرف سے حضرت مولانا صاحب مدیر النجم کے تشریف لے جانے کے بعد ظاہر ہوئی تھیں۔ لہٰذا اب ہم یہاں ان تمام نمبروں کے جوابات بھی یکجا کئے دیتے ہیں۔
- جواب: الف....... کلمہ ایمان پڑھنا اس وقت قابل اعتبار ہوتا ہے کہ اس کے
خلاف کوئی بات نہ ہو اور تمہاری ونیز تمہارے مرزا قادیانی کی خلاف باتیں بکثرت موجود ہیں۔ جن کا کچھ جواب تم نہ دے سکے۔ از آنجملہ یہ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تم نے بھی اس کو نبی و رسول کہا۔ ایسی کلمہ خوانی کو قرآن کریم واجب الرد قرار دیتا ہے۔
٦٨
”ومن الناس من يقول أمنا بالله وباليوم الآخر وماهم بمؤمنين (بقرہ:٨) ”بعض لوگ ایسے ہیں کہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ حالانکہ وہ مؤمن نہیں۔﴾
رہا ختم نبوت کا اقرار تو وہ محض فریب ہی فریب ہے۔ ختم نبوت کے معنی میں تم تاویل کرتے ہو۔ اور کہتے ہو نبوت مستقلہ تشریعیہ ختم ہوئی ہے نہ مطلق نبوت۔ پھر دوسری طرف اس کے بھی خلاف مرزا نے نبوت تشریعی کا بھی دعویٰ کیا ہے جیسا کہ آئندہ منقول ہوگا۔
جواب ب: ........... صاف وصریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی۔ قطع نظر اس سے مرزا اور نیز تم نے صرف دعویٰ نبوت پر اکتفا نہیں کی۔ بلکہ انبیاء کے صفات مخصوصہ اپنے لئے ثابت کئے۔ جیسا کہ آئندہ منقول ہوگا۔ پس اب نیت کا بیان کرنا بالکل ایسا ہے کہ کوئی شخص کلمہ کفر کہہ کر مکر جائے۔ قرآن مجید میں ایسے مکر جانے والوں کی نسبت فرمایا: ”یحلفون باللہ ماقالوا ولقد قالوا کلمة الکفر وکفروا بعد اسلامھم“ ﴿اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ نہیں کہا۔ حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور بعد مسلمان ہونے کے کافر ہوگئے۔﴾
فائدہ
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں نے مجازاً اپنے کو نبی کہا یا تمہارا یہ کہنا کہ ہم مرزا کو مجازاً نبی کہتے ہیں۔ ہرگز قابل قبول نہیں بوجوہ ذیل:
- ......١۔ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی کہا۔ (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٣)
- ......٢۔ مرزا قادیانی نے اپنے کو حقیقی انبیاء بلکہ سیدالانبیاء سے افضل کہا۔
(براہین پنجم ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)
- ......٣۔ مرزا قادیانی نے اپنے معجزات تمام نبیوں سے زیادہ بیان کئے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ......٤۔ مرزا قادیانی نے اپنے الہامات کو وحی الٰہی کہا اور ایسا قطعی اور واجب الایمان کہا۔
جیسے قرآن شریف۔ (اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
- ......٥۔ تم نے صحیفہ آصفیہ میں مرزا قادیانی کو نبی ورسول کہہ کر ان آیات قرآنی کا مصداق
بیان کیا جو انبیائے اولوالعزم کی شان میں ہیں اور مرزا قادیانی کے منکر کو مستحق عذاب لکھا ہے۔ (مطبوعہ رفاہ عام اسٹیم پریس لاہور ١٩٠٩ء) ٦٩
٧٨ نوں کی مراد نبوت مجازی ہے اور مجازاً غیر نبی کو نبی کہنا جائز ہے اور اس حسب ذیل پیش کئے۔ دیانی دونوں کلمہ ایمان پڑھتے ہیں اور رسول خدا ﷺ کی ختم نبوت کا
- ١۔
نے خود اپنی مراد بیان کر دی ہے کہ میری مراد نبوت سے مجازی ہے اور میں ر جہاں کہیں میں نے ان کو نبی لکھا ہے اس سے مراد مجازی نبوت ہے۔ کا اطلاق قرآن میں ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”واضرب لھم مثلاً ریة اذ جاء ھا المرسلون“ ں اجزائے نبوت کے باقی رہنے کی خبر ہے۔ ”لم یبق من النبوۃ ت“ (الحدیث) آن پڑھنے والے کو نبوت کا ملنا بیان ہوا ہے۔ حکمت سے نبوت مراد لی ہے۔ غوث الاعظم جیلانی نے نبوت کا سلسلہ قائم مانا۔ مولانا روم نے بھی
ں ہیں جو وقتاً فوقتاً خواجہ صاحب کی طرف سے پیش ہوئیں۔ جن کے سے دیئے گئے اور خواجہ صاحب جواب الجواب سے عاجز رہے۔
بات
نبروں کا جواب نہیں دیا گیا۔ کچھ تو اس وجہ سے کہ حقیقت حال واضح ت سابقہ سے ان کا جواب بھی بآسانی مستنبط ہوتا تھا اور کچھ اس وجہ سے ی طرف سے حضرت مولانا صاحب مدیر النجم کے تشریف لے جانے ا اب ہم یہاں ان تمام نمبروں کے جوابات بھی یکجا کئے دیتے ہیں۔ کلمہ ایمان پڑھنا اس وقت قابل اعتبار ہوتا ہے کہ اس کے ماری ونیز تمہارے مرزا قادیانی کی خلاف باتیں بکثرت موجود ہیں۔ سکے۔ ازآنجملہ یہ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تم نے بھی خوانی کو قرآن کریم واجب الرد قرار دیتا ہے۔ ٦٨
پس باوجود ان باتوں کے مجازی نبوت کیسے مراد ہو سکتی ہے اور اگر یہ مجاز ہے تو حقیقی نبوت میں اس سے زیادہ اور کیا ہوتا ہے بیان کرو۔ ان باتوں کے بعد یہ کہنا کہ مجازی نبوت مراد ہے۔ یقیناً مخلوق خدا کو دھوکہ دینا ہے۔
جواب: ج ...... غلط ہے ہرگز آیت مذکورہ میں غیر نبی پر مرسل کا اطلاق نہیں ہوا۔ سیاق آیت صاف بتا رہی ہے کہ یہ لوگ درحقیقت خدا کے رسول تھے۔ خاص کر یہ آیت بہت صفائی سے بتا رہی ہے کہ انہوں نے اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رسول نہیں بلکہ خدا کا رسول بیان کیا تھا۔ ”قالوا ان انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئ ان انتم الا تکذبون“ ﴿یعنی کافروں نے کہا کہ تم ہمارے مثل انسان ہو خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم جھوٹ بولتے ہو۔﴾
اگر یہ لوگ اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رسول کہتے تو انسان ہونے کا اعتراض نہ کیا جاتا۔ کافروں کے خیال میں انسان ہونا خدا کی رسالت کے منافی تھا۔ نہ انسان کی رسالت کے۔
رہا حوالہ تفسیروں کا اس میں خواجہ صاحب نے سخت خیانت کی ہے۔ اکثر معتبر تفسیروں میں دو قول لکھے ہیں ایک یہ کہ: درحقیقت وہ خدا کے رسول تھے۔ دوسرے یہ کہ: وہ حضرت عیسیٰ کے رسول تھے۔ دیکھو تفسیر ابن جریر وغیرہ۔ بلکہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے رسول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ نے ان کو رسالت کے لئے منتخب کیا تھا۔ جیسے حضرت موسیٰ نے ہارون کو۔
اور اگر ہم مان بھی لیں کہ خدا نے ان کو مجازاً رسول کہا تو وہاں تو وجہ مجاز کی موجود ہے کہ خدا کے رسول کے رسول تھے۔ مرزا پر کس وجہ سے مجازاً نبوت کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ مرزا کس رسول کا فرستادہ ہے؟
جواب: د ...... یہ محض آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے۔ بعض اجزائے نبوت کے باقی رہنے سے نبوت کا باقی رہنا کسی طرح لازم نہیں آتا۔ اذان کے بعض اجزاء اگر کوئی کہے تو اس کو اذان نہ کہیں گے۔ نماز کے بعض اجزاء کو نماز نہیں کہیں گے۔ یہ بالکل موٹی بات ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ بعض اجزائے نبوت مجھ میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ وہ تو اپنے اندر پوری صفت کا مدعی ہے۔ (اور صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی ہے)
(اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
٧٠
توں کے مجازی نبوت کیسے مراد ہو سکتی ہے اور اگر یہ مجاز ہے تو حقیقی کیا ہوتا ہے بیان کرو۔ ان باتوں کے بعد یہ کہنا کہ مجازی نبوت مراد دیتا ہے۔
غلط ہے ہرگز آیت مذکورہ میں غیر نبی پر مرسل کا اطلاق نہیں ی ہے کہ یہ لوگ درحقیقت خدا کے رسول تھے۔ خاص کر یہ آیت بہت وں نے اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رسول نہیں بلکہ خدا کا رسول تم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئ ان انتم الا وں نے کہا کہ تم ہمارے مثل انسان ہو خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رسول کہتے تو انسان ہونے کا اعتراض نہ کیا انسان ہونا خدا کی رسالت کے منافی تھا۔ نہ انسان کی رسالت کے۔ کا اس میں خواجہ صاحب نے سخت خیانت کی ہے۔ اکثر معتبر تفسیروں لہ: درحقیقت وہ خدا کے رسول تھے۔ دوسرے یہ کہ: وہ حضرت عیسیٰ ن جریر وغیرہ۔ بلکہ میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے رسول رت عیسیٰ نے ان کو رسالت کے لئے منتخب کیا تھا۔ جیسے حضرت موسیٰ
لیں کہ خدا نے ان کو مجازاً رسول کہا تو وہاں تو وجہ مجاز کی موجود ہے کہ ۔ مرزا پر کس وجہ سے مجازاً نبوت کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ مرزا کس رسول
محض آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے۔ بعض اجزائے نبوت کے ہنا کسی طرح لازم نہیں آتا۔ اذان کے بعض اجزا اگر کوئی کہے تو اس کو بعض اجزاء کو نماز نہیں کہیں گے۔ یہ بالکل موٹی بات ہے اور ہے کہ بعض اجزائے نبوت مجھ میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ وہ تو اپنے (اور صاحب شریعت نبی ہونے کا مدعی ہے )
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
٧٠
جواب : ہ ....... اول تو اس حدیث کی صحت ثابت کرو۔ پوری سند بیان کرو۔ راویوں کی توثیق کرو۔ دوسرے تمہارا مدعا پھر ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہ جس معنی میں نبی کہتے ہو وہ نبوت ایسی معمولی چیز نہیں جو ہر قرآن پڑھنے والے کو حاصل ہے۔ مرزا کہتا ہے۔ ’’اس تیرہ سو برس میں صرف میں نبی ہوا مجھ سے پہلے کوئی نہیں ہوا ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
جواب : و ....... یہ استدلال بھی عجیب ہے۔ حکمت سے نبوت مراد ہونے سے تمہیں کیا فائدہ؟ جو لوگ حکمت سے نبوت مراد لیں گے وہ سوائے نبیوں کے دوسرے کو حکمت کا ملنا کب جائز رکھیں گے۔ وہ نبوت کی طرح حکمت کو بھی آنحضرت ﷺ پر ختم کہیں گے۔
جواب : ز ....... یہ محض تمہارا افتراء ہے کوئی مسلمان سلسلۂ نبوت کے باقی رہنے کا قائل نہیں۔ دیکھو رسالہ خاتم النبیین مطبوعہ مونگیر کہ اس میں اکابر صوفیہ کے اقوال بکثرت منقول ہیں۔ رہا مولانا روم کا قول تو تم خود اقرار کرتے ہو کہ انہوں نے مجازاً نبوت کا اطلاق کیا اور اس مجاز کے قرائن ان کے کلام میں موجود ہیں۔ بخلاف تمہارے مرزا کے کہ اس کے کلام میں کوئی قرینہ مجاز کا نہیں بلکہ دلائل قطعیہ اس بات کے موجود ہیں کہ سوا معنی حقیقی کے معنی مجازی کسی طرح مراد ہو ہی نہیں سکتے۔
خلاصہ کلام : یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اوصاف مخصوصۂ نبوت اپنے لئے ثابت کئے یا تم نے اس کے لئے ثابت کئے جب تک اس کا معقول جواب نہ دو گے اس وقت تک نہ مرزا کفر سے بچ سکتا ہے نہ تم۔ اگر ایسی دور از کار تاویلات کی جائیں تو دنیا میں کسی بت پرست و یہودی وعیسائی کو بھی کافر نہ کہہ سکیں گے۔
سلسلہ مواعظ
جناب مولانا صاحب ممدوح کے مواعظ نے بھی بہت فائدہ مسلمانانِ رنگون کو پہنچایا۔ تاریخ ورود رنگون کے دوسرے دن سے وعظ کا سلسلہ شروع ہوا اور روانگی کے دو روز پہلے تک قائم رہا۔ شہر کے مختلف مقامات میں آپ کے وعظ ہوئے۔ تمام رنگون اعلائے کلمۃ الحق کے اعلان سے گونج اٹھا۔ اکثر وعظ پہلے سے بذریعہ اعلان مشتہر کر دیئے جاتے تھے۔ بڑا مجمع ہوتا تھا۔ آخر میں عبدالعزیز صاحب مریکار کے یہاں جو وعظ ہوا اس میں رنگون کے تمام اہل علم جمع تھے۔ بعض پرانے لوگوں کا بیان ہے کہ اس قدر مجمع اہل علم کا کسی وعظ میں اس سے پہلے نہیں ہوا۔
٧١
مولانا صاحب ممدوح کے علاوہ دوسرے علماء کی بھی تقریریں ہوتی تھیں۔ آخر آخر میں جناب مولوی غلام قادر صاحب بھی آ گئے تھے۔ جو ڈنڈیگلی تامل یعنی مدراسی زبان میں وعظ کہتے تھے۔ ان وعظوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات کا بیان اور یہ کہ اس نے کس قدر توہین آنحضرت ﷺ کی، اور دینِ اسلام کی کی۔ خود اس کی عبارتیں پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سنائی گئیں اور مرزائیوں کی دونوں پارٹیوں یعنی لاہوری وقادیانی کی حالت ایسی مفصل بیان کی گئی کہ انشاء اللہ تعالیٰ جو لوگ ان وعظوں میں شریک ہو چکے ہیں امید ہے کہ کسی مرزائی کے فریب میں نہ آئیں گے۔
رد مرزائیت کے موجودہ ان وعظوں میں خود مسلمانوں کی ہدایت کے لئے کافی ذخیرہ ہوتا تھا۔ خصوصاً نماز اور جماعت کے متعلق بہت نفیس اور مؤثر مضامین ارشاد فرمائے گئے۔ بعض مضامین ان وعظوں کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے اخبارات واشتہارات میں بھی شائع کئے گئے۔ جن سے تمام صوبہ برما کو نفع عظیم پہنچا۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانان رنگون کی سعی جمیل مشکور ہوئی اور نتیجہ خاطر خواہ نکلا۔ ایک فتنہ عظیم جس کی تخم ریزی صوبہ برما میں ہو چکی تھی۔ دفع ہو گیا اور جو کچھ ہوا سب خدا کا فضل تھا۔ ”والحمدللّٰہ علی ذلک“
دوسرا باب
مرزا اور مرزائیت کے بطلان اور خارج از اسلام ہونے کے دلائل
مقدمہ میں بیان ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد مرزائیوں میں کس طرح افتراق پیدا ہوا اور ان میں اب تک کتنے فرقے ہو چکے ہیں۔ ان فرقوں میں مابہ الفرق عقائد کا کچھ مختصر ذکر ہو چکا ہے۔ چونکہ ان فرقوں میں نسبتاً بڑے اور مشہور یہی دو فرق ہیں۔ لاہوری، جس کے رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہیں اور قادیانی جس کے امام مرزا کے فرزند ارجمند مرزا محمود ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر ہم انہیں دونوں کا ابطال کافی سمجھتے ہیں۔ ومن اللّٰہ التوفیق!
١ ؎ کاش امام اہل سنت اور دیگر علماء کے مواعظ محفوظ کر لئے جاتے تو پوری امت اس سے فائدہ اٹھاتی اور خاص کر موجودہ قادیانیوں کے لئے عبرت کا ایک کامیاب سبق ہوتا۔ بعض تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مواعظ اُس وقت کے اخبارات ورسائل میں شائع ہوئے ہیں۔ اگر یہ مواعظ کسی صاحب کے پاس محفوظ ہوں تو وہ راقم کے پتے پر بھیج دیں یا پھر یہ کہ مطلع فرمائیں تاکہ اسے حاصل کر کے منظرِ عام پر لایا جاسکے۔ فقط: شاہ عالم گورکھپوری۔ دارالعلوم دیوبند
٧٢
ممدوح کے علاوہ دوسرے علماء کی بھی تقریریں ہوتی تھیں۔ آخر آخر ر صاحب بھی آ گئے تھے۔ جو ڈنڈیگلی تامل یعنی مدراسی زبان میں میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات کا بیان اور یہ کہ اس نے کس کی ، اور دین اسلام کی کی۔ خود اسی کی عبارتیں پڑھ پڑھ کر لوگوں کو دونوں پارٹیوں یعنی لاہوری وقادیانی کی حالت ایسی مفصل بیان کی سب ان وعظوں میں شریک ہو چکے ہیں امید ہے کہ کسی مرزائی کے
موجودہ ان وعظوں میں خود مسلمانوں کی ہدایت کے لئے کافی ر جماعت کے متعلق بہت نفیس اور مؤثر مضامین ارشاد فرمائے گئے۔ مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے اخبارات واشتہارات میں بھی شائع برما کو نفع عظیم پہنچا۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانان رنگون کی سعی جمیل نکلا۔ ایک فتنہ عظیم جس کی تخم ریزی صوبہ برما میں ہو چکی تھی۔ دفع فضل تھا۔ ”والحمد لله على ذلك“
دوسرا باب
بطلان اور خارج از اسلام ہونے کے دلائل
ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد مرزائیوں میں ان میں اب تک کتنے فرقے ہو چکے ہیں۔ ان فرقوں میں مابہ الفرق ہے۔ چونکہ ان فرقوں میں نسبتاً بڑے اور مشہور یہی دو فرق ہیں۔ واجہ کمال الدین ہیں اور قادیانی جس کے امام مرزا کے فرزند ارجمند ہم انہیں دونوں کا ابطال کافی سمجھتے ہیں۔ ومن الله التوفيق!
صنف اور دیگر علماء کے مواعظ محفوظ کر لئے جاتے تو پوری امت اس موجودہ قادیانیوں کے لئے عبرت کا ایک کامیاب سبق ہوتا۔ بعض کہ بعض مواعظ اس وقت کے اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے کے پاس محفوظ ہوں تو وہ راقم کے پتے پر بھیج دیں یا پھر یہ کہ مطلع سے منظر عام پر لایا جا سکے۔ فقط : شاہ عالم گورکھپوری۔ دارالعلوم دیوبند
٧٢
واضح رہے کہ یہ دونوں فرقے واقف کار علمائے اسلام کے سامنے آنے سے ہمیشہ گھبراتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ بنیاد ان کی ہوا پر ہے۔ لیکن اگر کبھی پھنس گئے تو وفات وحیات مسیح علیہ السلام کی بحث چھیڑ دیتے ہیں اور قادیانی فرقہ کبھی کبھی اس بحث کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔
مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک بڑا کید اس فرقہ کا ہے۔ ہرگز ہرگز کسی طرح ان دونوں بحثوں کے چھیڑنے کا موقع ان کو نہ دینا چاہئے۔ کیونکہ ان دونوں بحثوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی حالت نہیں کھلتی اور نام ہو جاتا ہے کہ مرزائیوں نے مسلمانوں سے بحث کی اور ان دونوں بحثوں کو مرزا قادیانی سے کوئی تعلق بھی نہیں۔ بالفرض اگر مسیح علیہ السلام کی وفات ہو چکی اور نعوذ باللہ سلسلہ نبوت بھی ختم نہیں ہوا تو اس سے مرزا قادیانی کیوں کر مسیح موعود یا خدا کا نبی ہو سکتا ہے۔
ور ہما از جہاں شود معدوم
مرزا قادیانی کے حالات دیکھو وہ بڑا کذاب تھا۔ انبیاء علیہم السلام کی بہت سخت بد زبانی کے ساتھ اس نے توہین کی ہے اور ایسا شخص کسی شریعت میں کسی عقلمند کے نزدیک نیک آدمی ہی نہیں ہو سکتا۔ نبی ورسول ہونا تو بڑی بات ہے۔ ہاں مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام یا مسئلہ ختم نبوت کی تحقیق بجائے خود جس کو سمجھنا ہو وہ سمجھ لے۔ لہذا ہم اس بات میں حسب ذیل عنوانات پر محققانہ بحث کرتے ہیں۔
- ١....... مرزا غلام احمد قادیانی بڑا کاذب تھا۔
- ٢....... مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی۔
- ٣....... مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ورسول اور صاحب شریعت ہونے کا بلکہ افضل الانبیاء
ہونے کا دعویٰ کیا۔
- ٤....... مرزا غلام احمد قادیانی منکر ضروریات دین اسلام تھا۔
اس کے بعد محض واقفیت ناظرین کے لئے
- ٥....... ختم نبوت اور۔
- ٦....... حیات مسیح علیہ السلام کی بحث بھی اختصار کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ لکھ دی جائے گی۔
٧٣
مرزا غلام احمد قادیانی کا کذاب ہونا
دنیا میں ہمیشہ ہر زمانہ میں تمام اہل مذاہب اور لامذہبوں نے جھوٹ کو بدترین عیب سمجھا ہے۔ ایک جھوٹے شخص کو نبی ورسول ماننا اس کو افضل الانبیاء سمجھنا مامور من اللہ کہنا اس کے نہ ماننے والے کو کافر قرار دینا شاید مرزائی صاحبان کی نمایاں خصوصیات میں سے ہو اور اس پر جس قدر وہ فخر کریں بجا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا ناقابل انکار ہے کہ خود ان کے جان نثاروں کو بھی ماننا پڑا۔ چنانچہ قادیان سے ایک رسالہ شائع ہوا۔ جس کا نام ”نبی کی پہچان“ ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں دس سے زیادہ جھوٹی ثابت نہیں ہوئیں۔ اس شخص کے نزدیک دس باتوں کا جھوٹ ہو جانا کچھ عیب نہیں۔
مگر افسوس! یہ کہنا بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے صرف دس جھوٹ ثابت ہوئے۔ اگر اور علماء کی تصنیفات سے قطع نظر کر کے صرف ان کتب ورسائل کو دیکھا جائے جو خانقاہ رحمانی مونگیر سے چھپ کر شائع ہو چکے ہیں تو دس کہنے والے کا کذب آشکارا ہو جائے۔
سنو! فیصلہ آسمانی حصہ اوّل مع تتمہ میں ١٥٩ جھوٹ اور فریب مرزا کے دکھائے گئے ہیں اور فیصلہ آسمانی حصہ دوم میں ٦٩ اور حصہ سوم میں ٩٠۔ دوسری شہادت آسمانی میں ٤٥۔ النجم الثاقب حصہ اوّل میں ٤٢۔ مسیح کاذب میں دو درجن یعنی ٢٤ ہدیہ عثمانیہ میں ٧۔ کل میزان چار سو چھیالیس ہوئی۔ ”صحیفہ رحمانیہ“ اور ”صحیفہ محمدیہ“ کے متعدد نمبروں میں جو جھوٹ شائع کئے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔
یہ سب حالات دیکھ کر بعض مرزائیوں کو مثل مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کے ”منہاج نبوت“ تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنا تمام نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔ گویا کذب خاصہ نبوت ہے۔ (نعوذ باللہ منہ) اس منہاج نبوت کی بنیاد خود مرزا قادیانی اپنے دست مبارک سے رکھ گئے تھے۔ جیسا کہ عنقریب معلوم ہوگا۔
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹ بولنے کے ایسے عادی تھے کہ کوئی امکانی جھوٹ شاید ہی ان سے چھوٹا ہو۔ عقلاً جھوٹ کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں۔
- ١....... گزشتہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا۔
- ٢....... موجودہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا۔
- ٣....... آئندہ واقعات کو جھوٹ بیان کرنا۔
٧٤
نبی کا کذاب ہونا
تہ ہر زمانہ میں تمام اہل مذاہب اور لادینوں نے جھوٹ کو بدترین عیب شخص کو نبی ورسول ماننا اس کو افضل الانبیاء سمجھنا مامور من اللہ کہنا اس کے نہ ینا شاید مرزائی صاحبان کی نمایاں خصوصیات میں سے ہو اور اس پر جس ر قادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا نا قابل انکار ہے کہ خود ان کے جان نثاروں کو بھی سے ایک رسالہ شائع ہوا۔ جس کا نام ”نبی کی پہچان“ ہے۔ اس میں لکھا ہے ن گوئیاں دس سے زیادہ جھوٹی ثابت نہیں ہوتیں۔ اس شخص کے نزدیک نا کچھ عیب نہیں۔
یہ کہنا بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے صرف دس جھوٹ ثابت ہوئے۔ اگر طع نظر کر کے صرف ان کتب ورسائل کو دیکھا جائے جو خانقاہ رحمانی مونگیر ہیں تو اس کہنے والے کا کذب آشکارا ہو جائے۔ سانی حصہ اول مع تتمہ میں ١٥٩ جھوٹ اور فریب مرزا کے دکھائے گئے دوم میں ٦٩ اور حصہ سوم میں ٩٠۔ دوسری شہادت آسمانی میں ٤٥۔ انجم ا۔ مسیح کاذب میں دو درجن یعنی ٢٤؍ ہدیہ عثمانیہ میں ٧۔ کل میزان چار سو مانیہ“ اور ”صحیفہ محمدیہ“ کے متعد نمبروں میں جو جھوٹ شائع کئے گئے وہ ت دیکھ کر بعض مرزائیوں کو مثل مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کے ہ کرنی پڑی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنا تمام نبیوں کا ب خاصہ نبوت ہے۔ (نعوذ باللہ منہ) اس منہاج نبوت کی بنیاد خود مبارک سے رکھ گئے تھے۔ جیسا کہ عنقریب معلوم ہوگا۔
قادیانی جھوٹ بولنے کے ایسے عادی تھے کہ کوئی امکانی جھوٹ شاید ہی وٹ کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا۔ موجودہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا۔ آئندہ واقعات کو جھوٹ بیان کرنا۔ ٧٤
ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی تالیفات وتصنیفات میں یہ تینوں قسمیں جھوٹ کی موجود ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ کوئی شخص ان کو یکجا کرنا چاہے تو بڑی ضخیم کتاب بن جائے۔ یہاں ہم تینوں قسموں کی کچھ کچھ مثالیں لکھتے ہیں۔ جن کی تعداد انشاء اللہ تعالیٰ ایک درجن سے زائد ہوگی۔ نمونہ کے طور پر چند مثالیں یہاں درج ہیں۔
١...... مولوی اسماعیل علی گڑھی کی تالیف کے سلسلہ میں جھوٹ
مرزا قادیانی اپنی کتاب اربعین میں لکھتے ہیں: ”مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مرگئے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
حالانکہ ان دونوں نے اپنی کسی کتاب میں یہ مضمون نہیں لکھا۔ کتاب ’دعویٰ مرزا‘ میں اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے کے لئے پانچ سو روپیہ انعام کا اعلان ہوا۔ پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر اول مطبوعہ ١٣٣٢ھ میں پھر صحیفہ محمدیہ نمبر ٨ مطبوعہ ١٣٣٥ھ میں مطالبہ کیا گیا۔ مگر کسی مرزائی نے آج تک جواب نہ دیا نہ دے سکتا ہے۔
٢...... مباہلہ سے متعلق مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ
اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی کا قول ہے کہ: ”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے سب کے سب ہلاک ہوئے۔“
حالانکہ سوا صوفی عبد الحق صاحب کے کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور صوفی صاحب اب تک زندہ ہیں۔ مرزا البتہ مرگیا۔ مگر امتیوں کی کذب پرستی قابل داد ہے کہ اپنے پیغمبر کے اس جھوٹے دعویٰ کو سچ مان کر اب تک یہی کہے جاتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین پیغام صلح مطبوعہ ٢١؍ دسمبر ١٩١٦ء میں لکھتے ہیں: ”کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہوکر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔“
سچ ہے کاذب کے پیرو بھی کاذب ہی ہوتے ہیں۔ (یا یوں کہئے کہ خواجہ صاحب کی گواہی پر چور کا گواہ گرہ کٹ۔ کا مثل صادق آتا ہے)
٣...... ایک سانس میں تین جھوٹ
مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤) میں فرماتے ہیں: ”یہ ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ٧٥
ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے۔“
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے چھ جھوٹ بولے۔ کیونکہ تین باتیں لکھی ہیں۔ اوّل یہ کہ مسیح علمائے اسلام کے ہاتھ سے دکھ پائے گا۔ دوم یہ کہ وہ مسیح کو کافر کہیں گے۔ سوم یہ کہ وہ مسیح کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔
اور ان تینوں کا قرآن میں ہونا بھی بیان کیا گیا اور حدیث میں بھی۔ حالانکہ یہ مضامین نہ قرآن میں کہیں ہیں نہ کسی حدیث میں۔ مرزا قادیانی کا خالص افتراء ہے۔ اس بیباکی کے ساتھ جھوٹ بولنا کہ قرآن جیسی متداول کتاب کا غلط حوالہ دیتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ مرزا ہی کا کام تھا۔ خواجہ صاحب! اسی بیباک جھوٹے کو تم نبی و برگزیدہ مرسل و مامور من اللہ کہتے ہو؟
٤...... ایک سانس میں نو جھوٹ
مرزا قادیانی اپنے (رسالہ تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦) میں لکھتے ہیں۔ ”(١) قرآن نے میری گواہی دی ہے۔ (٢) رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ (٣) پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا کہ (٤) جو یہی زمانہ ہے (٥) اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے جو کہ (٦) یہی زمانہ ہے (٧) اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور (٨) زمین نے بھی اور (٩) کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔“
اس عبارت میں نو جھوٹ ہوئے جیسا کہ ہم نے عبارت پر ہندسہ لگا دیا ہے۔ مگر سب سے زیادہ لطیف پانچواں جھوٹ ہے کہ قرآن نے ان کے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے۔ کیوں خواجہ صاحب! اس جھوٹ کو آپ یا کوئی دوسرا مرزائی سچ بنا سکتا ہے؟ قرآن میں مسیح کے آنے کا زمانہ دکھا سکتا ہے؟ کیا ایسے بے شرم بیباک دروغ گو کو تم رسول اور مرسل کہتے ہو۔ استغفر اللہ !
٥...... من گھڑت حدیث سے استدلال
مرزا قادیانی اپنی کتاب شہادۃ القرآن میں لکھتے ہیں۔ ”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہے۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ”هذا خليفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو ایسی
ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے گے “
ت میں مرزا قادیانی نے چھ جھوٹ بولے۔ کیونکہ تین باتیں لکھی ہیں۔ اوّل کے ہاتھ سے دکھ پائے گا۔ مسیح کو کافر کہیں گے۔ مسیح کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔ ں کا قرآن میں ہونا بھی بیان کیا گیا اور حدیث میں بھی۔ حالانکہ یہ مضامین نہ کسی حدیث میں۔ مرزا قادیانی کا خالص افتراء ہے۔ اس بیباکی کے ساتھ جیسی متداول کتاب کا غلط حوالہ دیتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ مرزا ہی کا کام بیباک جھوٹے کو تم نبی و برگزیدہ مرسل و مامور من اللہ کہتے ہو؟
میں نو جھوٹ
ا اپنے (رسالہ تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦) میں لکھتے ہیں ۔ ”(١) قرآن ہے۔ (٢) رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ (٣) پہلے نبیوں نے ن کردیا کہ (٤) جو یہی زمانہ ہے (٥) اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ (٦) یہی زمانہ ہے (٧) اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور (٩) کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔“
میں نو جھوٹ ہوئے جیسا کہ ہم نے عبارت پر ہندسہ لگا دیا ہے۔ مگر سب جھوٹ ہے کہ قرآن نے ان کے آنے کا زمانہ متعین کردیا ہے۔ کیوں ت کو آپ یا کوئی دوسرا مرزائی سچ بنا سکتا ہے؟ قرآن میں مسیح کے آنے کا یسے بے شرم بیباک دروغ گو کو تم رسول اور مرسل کہتے ہو۔ استغفر اللہ!
دیث سے استدلال
اپنی کتاب شہادۃ القرآن میں لکھتے ہیں ۔ ”اگر حدیث کے بیان پر توں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ی کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی لله المھدی “ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو ایسی
٧٦
کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“ (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
کوئی مرزائی ہے جو اس مضمون کی ایک روایت بھی بخاری میں دکھا دے؟ اور اپنے پیغمبر کی پیشانی سے اس داغ کو مٹائے؟ مگر یادرہے کہ یہ ناممکن ہے۔
٦....... افتراء علی الرسول کا ایک نمونہ
مرزا قادیانی (نشان آسمانی ص ١٦، خزائن ج ٤ ص ٣٧٨) میں لکھتے ہیں۔ ”جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا۔“
خدا کی پناہ جھوٹ کی کچھ حد ہے۔ کسی حدیث میں نہ چودھویں صدی کا ذکر ہے نہ چودھویں صدی میں مہدی کے آنے کا۔ نہ چودھویں صدی کے مجدد کے بارہ میں خصوصیت کے ساتھ کوئی اشارات یا بشارت ہے۔ کسی مرزائی میں ہمت ہے کہ کوئی ایک روایت اس مضمون کی پیش کردے؟ کیوں مرزائیو! نبی ایسے ہوتے ہیں کہ جھوٹے حوالے کتابوں کے دے دے کر جاہلوں کو بہکایا کریں؟
٧...... تاریخ کے حوالہ سے تاریخی جھوٹ
چشمہ معرفت میں مرزا قادیانی کا قول ہے کہ: ”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ (آنحضرت ﷺ) کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩)
کیا تاریخ وسیر وحدیث کی کسی کتاب سے کوئی مرزائی ثابت کرسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ بیٹے ہوئے؟ فوت ہو جانا تو پیچھے کی بات ہے۔ حیرت ہے کہ ایسے جھوٹے دغاباز شخص کو کوئی انسان کیوں کر مان سکتا ہے۔ مگر سچ ہے۔
٨... ایک اور جھوٹی حدیث
مرزا قادیانی اپنے اشتہار مورخہ ٢٩ اگست ١٩٠٧ء میں جس کی سرخی ہے۔ ”تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت“ لکھتے ہیں کہ: ”اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے
٧٧
کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔“
(تحریر: خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود مورخہ ٢٢ اگست ١٩٠٧ء، اخبار بدر قادیان ص ٣٥ ج ٦ ص ٩)
لیجئے صاحب آپ تو بڑی وسیع النظری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مجتہد ہونے کے مدعی ہیں۔ خدا کے لئے اپنے پیغمبر کی اس بات کو سچا کر دیجئے؟ کسی روایت حدیث میں طاعونی مقام سے بھاگ جانے کا حکم نکال دیجئے۔ بیچارے کی عزت بچائیے۔
٩...... خدا کی شان میں جھوٹ
مرزا قادیانی (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں فرماتے ہیں۔ ”یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“
پھر اسی رسالہ میں لکھتے ہیں کہ: ”وعید یعنی عذاب کی پیش گوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیش گوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔“
(تحفہ غزنویہ ص ٦ ، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٦)
حالانکہ یہ سب کذب صریح ہے اور تمام دنیا پر افتراء ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کی سنت کہنا مرزا قادیانی کی بے دینی اور گستاخی کی روشن دلیل ہے۔ کسی مرزائی میں ہمت ہو تو کسی کتاب سے اس عقیدہ کو دکھلا دے ورنہ ”لعنة الله على الكاذبين“
قرآن صاف پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ: ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ یعنی خدا اپنے وعدہ کو خاص کر اپنے رسولوں سے خلاف نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی اس آیت کے خلاف خدا کی وعدہ خلافی کو متفق علیہ عقیدہ اور سنت اللہ کہہ رہے ہیں۔
١٠...... خدا اور رسول کے ساتھ مفسرین پر افتراء
(انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ (تفسیر کبیر ص ١٦٢) اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔“
پھر اسی (انجام آتھم ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢) میں لکھتے ہیں: ”جس حالت میں خدا اور رسول ﷺ اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی
٧٨
زل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ والے ٹھہریں گے۔“ ام احمد قادیانی مسیح موعود مورخہ ٢٢ اگست ١٩٠٧ء، اخبار بدر قادیان ش ٢٥ ج ٦ ص ٩) آپ تو بڑی وسیع النظری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مجتہد ہونے کے اپنے پیغمبر کی اس بات کو سچا کر دیجئے؟ کسی روایت حدیث میں طاعونی حکم نکال دیجئے۔ بیچارے کی عزت بچائیے۔
میں جھوٹ
تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں فرماتے ہیں: ”یہ تمام دنیا کا مانا نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی بغیر ف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“ میں لکھتے ہیں کہ: ”وعید یعنی عذاب کی پیش گوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی گو اس میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔“
(تحفہ غزنویہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٦)
یہ کذب صریح ہے اور تمام دنیا پر افتراء ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کی سنت کہنا اور گستاخی کی روشن دلیل ہے۔ کسی مرزائی میں ہمت ہو تو کسی کتاب سے نَةُ لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ “ ب پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ: ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ خاص کر اپنے رسولوں سے خلاف نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی اس آیت کے کو متفق علیہ عقیدہ اور سنت اللہ کہہ رہے ہیں۔
کے ساتھ مفسرین پر افتراء
ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے نس وابن جب تک عذاب ٹالنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے نہیں۔ جیسا کہ (تفسیر کبیر ص ١٩٢) اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث کی موجود ہے۔“ جام آتھم ص ٢١، ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢) میں لکھتے ہیں: ”جس حالت میں خدا اور یوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی ٧٨
شرط نہ ہو۔ تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔“
مرزا قادیانی نے اس عبارت میں بھی کئی جھوٹ بولے۔ خدا پر افتراء کیا۔ حضرت یونس علیہ السلام پر افتراء کیا۔ تفسیر کبیر پر افتراء کیا۔ تفسیر درمنثور پر افتراء کیا۔ ہرگز کسی کتاب میں نہیں ہے کہ قطعی وعدہ چالیس روز کا تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٨٨) میں صاف موجود ہے کہ نزول عذاب کا وعدہ مشروط تھا کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔
مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جب جھوٹی نکلیں اور لوگوں نے ان کو سخت پکڑا تو اس کے لئے یہ بات بنائی گئی کہ میں ہی تنہا اس جرم کا مرتکب نہیں اور نبیوں کی پیشین گوئیاں بھی غلط ہو چکی ہیں۔ خدا کی عادت ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی کرتا ہے اور اس میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔ پھر بھی اسے ٹال دیتا ہے۔ نعوذ باللہ !
کیوں خواجہ صاحب یہی مفتری کذاب آپ کا رسول و برگزیدہ مرسل ہے۔ اسی کو آپ ظلی و بروزی نبی کہتے ہیں؟ اسی کی بابت آپ مجازی طور پر رسالت کا اقرار رکھتے ہیں؟
١١...... قرآن مجید اور صحف سماوی پر افتراء
مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں لکھتے ہیں: ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
کچھ حد اس دلیری و بے باکی کی ہے؟ قرآن کا جھوٹ حوالہ بار بار دیتا ہے اور شرم نہیں کرتا۔ خواجہ صاحب آپ تو مرزا قادیانی کے عاشق زار ہیں اور قرآن دانی کے بھی مدعی ہیں۔ برائے خدا قرآن میں دکھلا دیجئے کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون ہوگا۔ خواجہ صاحب اگر یہ مضمون قرآن میں دکھلا دو تو گھر بیٹھے تم کو وہ رقم دلوادی جائے۔ جس کے لئے تم رنگون آئے تھے۔
١٢...... جھوٹ کے ساتھ تضاد بیانی بھی
مرزا قادیانی کی امت میں ایک بڑے نامور شخص مولوی عبدالکریم تھے۔ ان کو سرطان کا پھوڑا نکل آیا۔ مرزا قادیانی نے ان کے لئے بڑی زور شور کی دعائیں مانگیں۔ بالآخر ان کے متعلق الہام شائع کئے کہ خدا نے مجھے خوشخبری دی ہے کہ وہ اچھے ہو جائیں گے۔ اخبار الحکم ٧٩
قادیان کے پرچے ٣١؍ اگست ١٩٠٥ء لغایت اکتوبر ١٩٠٥ء دیکھو کہ کس قدر پیشین گوئیاں مولوی عبدالکریم کے متعلق ہیں۔ ان میں سے ایک پرچہ کی عبارت بلفظہ یہ ہے۔
”حضرت اقدس (مرزا غلام احمد) حسب معمول تشریف لے آئے اور ایک رویا بیان کی جو بڑی ہی مبارک اور مبشر ہے۔ جس کو میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا ہے۔ فرماتے تھے آج تک جس قدر الہامات ومبشرات ہوئے ان میں نام نہ تھا۔ لیکن آج تو اللہ تعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔“
(الحکم ٩؍ ستمبر ١٩٠٥ء، تذکرہ ص ٥٦٥)
مگر جب مولوی عبدالکریم اسی بیماری میں مر گئے تو مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٩) میں لکھتے ہیں: ”١١؍ اکتوبر کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اسی کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے بھی میں نے بہت دعاء کی تھی۔ مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
اب بتاؤ اس جھوٹ کی کچھ حد ہے؟ یہاں دو جھوٹ مرزا قادیانی کے ثابت ہوئے۔ اوّل یہ کہ مولوی عبدالکریم کی صحت پیشین گوئی کی مگر ان کو صحت نہ ہوئی۔ دوم یہ کہ مولوی عبدالکریم کی صحت کی بشارت اپنے الہامات میں شائع کر چکے تھے اور پھر لکھا کہ ان کی صحت کے متعلق کوئی بشارت بھی نہیں ہوئی۔
١٣...... جھوٹ اور تضاد کا دوسرا نمونہ
مرزا قادیانی (دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں لکھتے ہیں: ”خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
مرزائیوں نے اپنے پیغمبر کی اس پیشین گوئی کو بڑے متکبرانہ لہجہ میں شائع کیا اور مرزا خود بھی حسب عادت بہت اترایا۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرزائی نے ایک بڑا مضمون لکھا کہ یہ مرزا کی شفاعت کبریٰ کی منصب کا ثبوت ہے کہ قادیان کے تمام لوگوں کو مسلم ہوں یا غیر مسلم اپنے سایۂ شفاعت میں لے لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
مگر تمام دنیا جانتی ہے کہ قادیان میں طاعون پھیلا اور خوب پھیلا۔ قادیان کی کل مردم شماری ٢٨٠٠ ہے۔ اس میں ١٣١٣ اموات طاعون سے ہوئیں۔ پہلے مرزائیوں نے چھپانے کی کوشش کی۔ مگر ناممکن امر کی کوشش میں کون کامیاب ہو سکتا ہے۔ بالآخر اقرار کرنا پڑا۔ دیکھو اخبار بدر قادیان مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء، مورخہ ٢٤؍ اپریل ١٩٠٢ء، مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٠٢ء۔
٨٠
١ اگست ١٩٠٥ء لغایت اکتوبر ١٩٠٥ء دیکھو کہ کس قدر پیشین گوئیاں مولوی ۔ ان میں سے ایک پرچہ کی عبارت بلفظہ یہ ہے۔ قدس (مرزا غلام احمد) حسب معمول تشریف لے آئے اور ایک رویا بیان کی رہے۔ جس کو میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا ہے۔ فرماتے تھے ت و مبشرات ہوئے ان میں نام نہ تھا۔ لیکن آج تو اللہ تعالیٰ نے خود مولوی ر صاف طور پر بشارت دی ہے۔“
(الحکم ٩ ستمبر ١٩٠٥ء، تذکرہ ص ٥٦٥)
وی عبد الکریم اسی بیماری میں مر گئے تو مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣٢٦، لکھتے ہیں: ”١١ اکتوبر کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم یعنی سرطان سے فوت ہوگئے تھے۔ ان کے لئے بھی میں نے بہت دعاء ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
جھوٹ کی کچھ حد ہے؟ یہاں دو جھوٹ مرزا قادیانی کے ثابت ہوئے۔ کی صحت پیشین گوئی کی مگر ان کو صحت نہ ہوئی۔ دوم یہ کہ مولوی عبدالکریم الہامات میں شائع کراچکے تھے اور پھر لکھا کہ ان کی صحت کے متعلق کوئی
ب کا دوسرا نمونہ
افع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں لکھتے ہیں: ”خدا نے سبقت کر ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
اپنے پیغمبر کی اس پیشین گوئی کو بڑے متکبرانہ لہجہ میں شائع کیا اور ہت اترایا۔ مولوی عبد الکریم صاحب مرزائی نے ایک بڑا مضمون لکھا کی منصب کا ثبوت ہے کہ قادیان کے تمام لوگوں کو مسلم ہوں یا غیر مسلم یا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہے کہ قادیان میں طاعون پھیلا اور خوب پھیلا۔ قادیان کی کل مردم ١٣١١ اموات طاعون سے ہوئیں۔ پہلے مرزائیوں نے چھپانے کی شش میں کون کامیاب ہوسکتا ہے۔ بالآخر اقرار کرنا پڑا۔ دیکھو اخبار ، مورخہ ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء، مورخہ ١٦ اپریل ١٩٠٢ء۔
٨٠
مرزا قادیانی نے اپنے اس جھوٹ کی تاویل کی کہ وحی الٰہی میں قادیان کا لفظ نہ تھا قریہ کا لفظ تھا۔ دیکھو بدر مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠٢ء۔ یہ دوسرا جھوٹ مرزا قادیانی کا ہے اور سب سے زیادہ پر لطف ہے کہ خود اپنی ہی کتاب کے خلاف بیان فرمارہے ہیں۔ دافع البلاء کی عبارت اوپر نقل ہوچکی کہ خدا نے قادیان کا نام لے دیا۔ (جیسا کہ ترجمہ میں قادیان کے لفظ کی مرزا قادیانی نے وضاحت کی ہے ) اب فرماتے ہیں خدا نے قادیان کا نام نہیں لیا تھا۔ بہرکیف مرزا قادیانی کی پیشانی سے کذب کا داغ مٹ نہیں سکتا۔ ”ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ“
١٤..... انگریزی عدالت میں الہام بازی سے توبہ
اپنے مخالفوں کو موت وعذاب وغیرہ کی پیشین گوئیاں کر کے ڈرانا مرزا قادیانی کی عادت میں داخل ہو گیا تھا اور اس کا سلسلہ بوجہ بے حیائی کے روز بروز بڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی مرحوم کے متعلق ایک پیشین گوئی اس قسم کی بیان فرمائی۔ اس پر مقدمہ چل گیا۔ مرزا قادیانی نے بڑی کوششیں کیں۔ مگر سب بے سود رہیں۔ آخر بڑی ذلت کے ساتھ کچہری جانا پڑا اور سب سے زیادہ ذلت یہ کہ عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزا قادیانی سے ایک اقرار نامہ لے لیا جائے کہ آئندہ ایسی حرکت کسی مسلمان یا ہندو یا عیسائی کے ساتھ نہ کریں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اقرار نامہ لکھ کر داخل کیا۔ اس اقرار نامہ میں صاف الفاظ میں یہ لکھا کہ اب میں کسی کے متعلق ایسی پیشین گوئی نہیں کروں گا۔ نہ کبھی کسی کے لئے بددعا شائع کروں گا۔ (بخوف طوالت تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے صرف حلف نامہ نقل کرنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے البتہ قارئین حلف نامہ کے ہر ہر جز پر غور ضرور کریں کہ کیا ایسا ڈھونگی بھی نبی، مسیح، مہدی اور خواجہ کمال الدین کی زبان میں مجدد کہلانے کے قابل ہے؟)
”میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر جان کر یہ اقرار صالح کرتا ہوں کہ آئندہ:۔
- ١...... ایسی پیش گوئی جس سے کسی شخص کی تحقیر (ذلت) کی جائے یا مناسب طور
سے حقارت (ذلت) سمجھی جاوے یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو۔ شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔
- ٢...... میں اس سے بھی اجتناب کروں گا۔ شائع کرنے سے کہ خدا کی درگاہ میں
دعاء کی جاوے کہ کسی شخص کو تحقیر (ذلیل) کرنے کے واسطے۔ جس سے ایسا نشان ظاہر ہو کہ وہ شخص مورد عتاب الٰہی بنے یا یہ ظاہر کرے کہ مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔
٨١
- ٣....... ایسے الہام کی اشاعت سے بھی پرہیز کروں گا۔ جس سے کسی شخص کا حقیر
(ذلیل ) ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے اظہار کے وجوہ پائے جاتے ہوں۔
- ٤....... میں اجتناب کروں گا ایسے مباحثے میں مولوی ابوسعید محمد حسین یا اس
کے کسی دوست یا پیرو کے برخلاف گالی گلوچ کا مضمون یا تحریر لکھوں یا شائع کروں۔ جس سے اس کو درد پہنچے۔
میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے کسی دوست یا پیرو کے برخلاف اس قسم کے الفاظ استعمال نہ کروں گا۔ جیسا کہ دجال، کافر، کاذب، بطالوی میں کبھی اس کی آزادانہ زندگی یا خاندانی رشتہ داروں کے خلاف کچھ شائع نہ کروں گا۔ جس سے اس کو آزار پہنچے۔
- ٥....... میں اجتناب کروں گا مولوی ابو سعید محمد حسین یا اس کے کسی دوست یا پیرو کو
مباہلہ کے لئے بلاؤں۔ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے کہ مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔ نہ میں اس میں محمد حسین یا اس کے کسی دوست یا پیرو کو اس بات کے لئے بلاؤں گا کہ وہ کسی کے متعلق کوئی پیشین گوئی کریں۔
- ٦....... میں حتی الوسع ہر ایک شخص کو جس پر میرا اثر ہو سکتا ہے اس طرح کاربند
ہونے کی ترغیب دوں گا۔ جیسا کہ میں نے فقرہ نمبر ١، ٢، ٣، ٤، ٥، میں اقرار کیا ہے۔
٢٤؍فروری ١٨٩٩ء دستخط :مسٹر ڈوئی بحروف انگریزی۔ دستخط : مرزا غلام احمد۔ دستخط : کمال الدین پلیڈر۔ وکیل مرزا قادیانی۔
( تازیانہ عبرت ٧٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٤)
یہ فیصلہ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء کا ہے جو قابل دید ہے۔ سمجھدار کے لئے ( بالخصوص خواجہ کمال الدین کے لئے جن کی وکالت نے مرزا قادیانی کو یہ دن دکھائے ) تو یہی واقعہ مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے۔ اگر مرزا قادیانی مامور من اللہ ہوتا تو کبھی ایسا اقرار نہ کرتا۔ صاف کہہ دیتا کہ میں خدا کے حکم سے یہ کام کرتا ہوں۔ کسی کے کہنے سے چھوڑ نہیں سکتا۔ چاہے مجھے مار ڈالو۔
دیکھو رسول خدا ﷺ سے جب کفار مکہ نے کہا کہ آپ تبلیغ نہ کیجئے اور ابو طالب نے بھی آپ کو سمجھایا۔ تو آپ نے صاف منع کر دیا کہ اے چچا ! میں خدا کے حکم سے یہ کام کرتا ہوں اور
٨٢
اگر میرے ایک ہاتھ میں آفتاب دوسرے میں ماہتاب رکھ دیا جائے تب بھی رک نہیں سکتا ہوں۔
(البدایۃ النہایۃ ج ٣ ص ٥٣، مطبوعہ بیروت)
١٥...... ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کے موت کی پیشین گوئی
یہ ایک بڑے معرکہ کی پیشین گوئی ہے اور اس کے جھوٹے ہونے پر مرزا قادیانی کی ذلت بھی ایسی ہوئی کہ کوئی باحیا ہوتا تو پھر منہ نہ دکھاتا۔ مرزا قادیانی سے امرتسر میں عیسائیوں سے مباحثہ ہوا۔ اس کے بعد ٥؍ جون ١٨٩٣ء کو آپ نے اپنے حریف مسٹر عبداللہ آتھم کے متعلق یہ پیشین گوئی کی۔ جنگ مقدس میں لکھتے ہیں: ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
یہ عبارت مرزا قادیانی کی انہیں کے الفاظ میں ہے۔ مرزا قادیانی جانتے تھے کہ اس پیشین گوئی اور اس کے پر زور الفاظ سے آتھم ڈر جائے گا اور ڈر کر مرزا قادیانی کا مرید ہو جائے گا۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ پندرہ مہینہ گزر گئے اور آتھم بدستور صحیح و سالم موجود رہا۔ نہ وہ مرا نہ ہاویہ میں گرا۔
٨٣
عیسائیوں نے ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کو جب مرزا قادیانی کے پیشین گوئی کی تکذیب ہو چکی ہر جگہ جشن کئے بڑے بڑے اشتہار نکالے اور مرزا قادیانی کو خوب ہی ذلیل کیا کہ اس ذلت کو خیال کر کے آج رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ عبرت کے لئے بعض اشتہارات کی نقل حسب ذیل ہے۔ اہل لدھیانہ کی طرف سے حسب ذیل اشتہار نکلا۔
اشعار ١؎
بنمائے بہ صاحب نظرے گوہر خودرا عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِے چند
ارے او خود غرض خود کام مرزا ارے منحوس نافرجام مرزا
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو رسولِ حق باستحکام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے ظلام مرزا
تیری تکذیب کی شمس و قمر نے ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے کہیں کیا اے بدوبد نام مرزا
مرزا قادیانی نے خود اپنی تحریرات میں لکھا ہے کہ پیشین گوئی کی میعاد ختم ہونے پر مخالفوں نے بہت خوشی کی اور مرزا کی تذلیل و توہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔
چنانچہ (سراج منیر ص ٧، خزائن ج ١٢ ص ٥٤) میں لکھتے ہیں: ”انہوں نے پشاور سے لے کر آلہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دینِ اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“
اب یہ تماشا بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ جب اس طرح کھلم کھلا مرزا قادیانی کا جھوٹ ظاہر ہوا اور ایسے زور شور کی پیشین گوئی ان کی غلط ہو گئی تو انہوں نے کس طرح اپنے جال میں پھنسے
١؎ یہاں چند اشعار نقل کئے گئے ہیں۔ ورنہ اصل کتاب میں اس موقع پر بہت سے اشعار درج ہیں۔ جن میں سے بعض اشعار پر مرتب کتاب نے حاشیہ بھی لگایا ہے وہ تمام اشعار کتاب کے آخر میں ملاحظہ کریں۔
٨٤
ہوئے لوگوں کو سمجھایا۔ مرزا قادیانی نے اس موقع پر کئی رنگ بدلے اور پے در پے کئی مختلف تاویلیں کیں۔ جن کو ہم ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
تاویل نمبر : ١
”جو فریق جھوٹا ہو وہ پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“ اس سے مراد صرف آتھم نہ تھا بلکہ تمام وہ عیسائی جو اس مباحثہ میں اس کے معاون تھے۔
(انوار الاسلام ص٢، خزائن ج٩ ص٢)
جواب اوّل
خود مرزا قادیانی کی تصریح موجود ہے کہ یہ پیشین گوئی خاص آتھم کے متعلق تھی۔ دیکھو کرامات الصادقین مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”ومنها ما وعدنی ربی اذ جادلنی رجل من المنتصرين الذين اسمه عبدالله اتھم....... فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الى خمسة عشر اشهر“
(کرامات الصادقین ص آخر، خزائن ج٧ ص١٦٣)
نیز تریاق القلوب میں لکھتے ہیں۔ ”آتھم کے موت کی جو پیشین گوئی کی گئی تھی۔ جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینہ کے میعاد میں حق کی طرف رجوع کرلیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔“
(تریاق القلوب ص١١، خزائن ج١٥ ص١٤٨)
جواب : دوم
اچھا صرف آتھم مراد نہ تھا تو اور بھی پریشانی مرزا کو لاحق ہو گئی۔ آتھم کے علاوہ تمام ان عیسائیوں کا جو شریک بحث تھے پندرہ ماہ کے اندر مر کر ہاویہ میں گرنا ثابت کرنا پڑے گا۔
تاویل نمبر : ٢
دوسری تاویل یہ کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کر لیا۔ اس لئے نہیں مرا اور حق کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس پیشین گوئی سے ڈر گیا تھا۔
(انوار الاسلام ص٢، خزائن ج٩ ص٢)
جواب
جواب اس کا یہ کہ حق کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی ہرگز نہیں ہو سکتے کہ ڈر جائے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی الہامی عبارت کا سیاق و سباق صاف بتلا رہا ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آتھم عیسائیت کو ترک کر کے مرزائی ہو جائے۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”جو
٨٥
شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو مراد سچ کی ہے اس کی طرف رجوع مراد ہے۔
مرزا قادیانی نے اس بات کے ثبوت کے لئے کہ آتھم ڈر گیا اپنا پورا زور ختم کر دیا۔ بڑے بڑے اشتہار دیئے۔ آتھم کو لکھا کہ قسم کھا جاؤ کہ ڈرے نہیں تو ایک ہزار بلکہ دو ہزار بلکہ تین ہزار بلکہ چار ہزار انعام دوں گا۔ آتھم نے بجواب اس کے لکھا کہ قسم کھانا میرے مذہب میں منع ہے اور انجیل کا حوالہ دیا۔ مرزا قادیانی نے بجواب اس کے لکھا کہ عیسائیوں کے پیشواؤں نے عدالت میں قسمیں کھائی ہیں۔ آتھم نے لکھا کہ مجھے بھی عدالت میں طلب کرلو۔ عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں گا۔ (لیکن کبھی مرزا قادیانی میں یہ جرأت نہ ہوئی)
ایک موقع پر مرزا قادیانی نے بدحواس ہو کر یہ بھی لکھ دیا کہ: ”آتھم نے عین جلسہ مباحثہ میں حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اس وجہ سے پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔‘‘ (کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦) میں لکھتے ہیں ۔ ”اس (آتھم ) نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور پیشین گوئی کی بنا یہی تھی کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو دجال کہا تھا۔“
مرزا قادیانی کی حالت پر افسوس ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ اس نے عین جلسہ میں رجوع کر لیا تھا تو آپ نے جلسہ کے اختتام کے بعد پیشین گوئی کیوں کی؟ عجب خبط ہے جس کا سر ہے نہ پیر۔
تاویل نمبر: ٣
تیسری تاویل مرزا قادیانی نے سب سے لطیف یہ کی کہ عبداللہ آتھم چونکہ میری پیشین گوئی سے ڈر گیا اور بہت گھبرایا۔ اس گھبراہٹ نے اس کی زندگی کو تلخ کر دیا۔ یہی مصیبت اور تلخی ہاویہ ہے۔ جس میں وہ گرا۔ لہٰذا پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ باقی رہی موت کی پیشین گوئی تو وہ اصل الہامی عبارت میں نہیں ہے۔ ١؎ مطلب یہ کہ وہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے بغیر الہام کے کر دی تھی۔ اصل
١؎ علاوہ ازیں مرزا قادیانی! آپ کا دعویٰ ہے کہ جب بھی میں نے کوئی بات کہی تو خدا کے حکم سے کہی۔ اپنی جانب سے میں نے کبھی نہ کچھ کہا نہ کیا۔ (مواہب الرحمٰن ص٣، خزائن ج ١٩ص٢٢١) تو سوال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ نے خدائی الہام کے بغیر اپنی جانب سے موت کا پیچ کیوں لگایا؟ اور اگر آپ نے لگایا جیسا کہ امر واقعہ ہے تو آپ کا نہ یہ فعل درست نہ دعویٰ درست۔ آپ کی اس تاویل نے آپ کے جھوٹ میں دو نمبروں کا اور اضافہ کر دیا اور اسے عذر گناہ بدتر از گناہ بنا دیا۔ ٨٦
الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔ (انوا ... ”ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ ... کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے ... کے دامنگیر ہو گیا اور ہول اور خوف ... اس کے کمال کے لئے ہے۔ جس کا ق ... ایک ہاویہ تھا۔ جس کو عبداللہ آتھم نے ...
ناظرین! ذرا انصاف سے ... طرف رجوع کیا۔ اس لئے وہ ہاویہ می ... یہ بدحواسی نہیں ہے تو کیا ہے۔
مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ... ہے۔ الہامی عبارت میں ہو یا نہ ہو۔ آ ... کر لکھا ہے۔ ”پندرہ ماہ کے عرصہ میں ... ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوا ... رسا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا ج ... کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے ...
تاویل نمبر: ٤
چوتھی بات جو نہایت عجی ... ہونے کے کئی سال بعد یعنی ٢٧؍ جولا ... ہیں۔ میری پیشین گوئی پوری ہوگئی۔
(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزا ...
ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجذوم ہو جا ... جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جا ... نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔"
جواب
اہل انصاف دیکھیں کہ ... کوئی الہام میں تھی ہی نہیں۔ کبھی فر ...
الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔ (انوار الاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٦) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظِ الہام ہیں۔ وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامنگیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے۔ جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں۔ بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا۔ جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔“
ناظرین! ذرا انصاف سے دیکھیں! کبھی تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا۔ اس لئے وہ ہاویہ میں گرنے سے بچ گیا اور کبھی فرماتے ہیں کہ وہ ہاویہ میں گرا۔ یہ بدحواسی نہیں ہے تو کیا ہے۔
مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ سزائے موت کا ذکر الہامی عبارت میں نہیں ہے۔ عجب لطیفہ ہے۔ الہامی عبارت میں ہو یا نہ ہو۔ آپ کی پیشین گوئی میں صاف صاف ہے اور آپ نے قسم کھا کر لکھا ہے۔ ”پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسّا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اللہ جل شانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔“
تاویل نمبر:٤
چوتھی بات جو نہایت عجیب وغریب ہے یہ ہے کہ جب آتھم میعاد پیشین گوئی ختم ہونے کے کئی سال بعد یعنی ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو مر گیا تو مرزا قادیانی بہت خوش ہوئے اور فرماتے ہیں۔ میری پیشین گوئی پوری ہوگئی۔
(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣) میں ہے کہ: ”اگر کسی کی نسبت یہ پیشین گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینہ میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفسِ واقعہ پر نظر چاہئے ۔“
جواب
اہل انصاف دیکھیں کہ مرزا قادیانی کیا لکھ رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ موت کی پیشین گوئی الہام میں تھی ہی نہیں۔ کبھی فرماتے ہیں کہ اس مدت کے بعد بھی وہ مر گیا تو موت کی پیشین
٨٧
گوئی پوری ہوگئی۔ (مرزا قادیانی واقعہ کی روشنی میں اپنے کلام میں جھوٹے نکلے اور اپنے فتوے کی روشنی میں مجنون اور پاگل، پاگل اور مجنون کے کلام میں تناقض ہوتا ہے)
تاویل نمبر:٥
اس سے بھی زیادہ لطیف بات جو ایمان دار کو حیرت میں ڈال دے یہ ہے کہ مرزا قادیانی (کشتی نوح ص٦، خزائن ج١٩ ص٦) پر لکھتے ہیں کہ: ”پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ (آتھم) مجھ سے پہلے مرگیا۔“
ناظرین! پیشین گوئی کے الفاظ اوپر نقل ہوچکے ہیں۔ پھر دوبارہ دیکھ لیں۔ اس میں پہلے پیچھے کا ذکر نہیں پندرہ مہینہ کی قید ہے جھوٹ بولے تو اتنا تو بولے۔ ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“
آخر میں مرزا قادیانی نے دیکھا ان تاویلات سے بات بنتی نہیں۔ لہٰذا آپ نے یہ مسئلہ ایجاد کیا کہ انبیاء علیہم السلام کی سب پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ خود رسول اللہ ﷺ کی بعض پیشین گوئیاں (خاکم بدہن) غلط ہوگئیں۔ اس کا جواب انشاء اللہ آئندہ دیا جائے گا۔
خواجہ کمال الدین صاحب! اسی بے حیا جھوٹے کو آپ ”نبی“ برگزیدہ مرسل کہتے ہیں؟ اور بروزی رسالت کا منصب اس کو دیتے ہیں؟ استغفراللہ!
١٦......منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی
یہ بھی ایک بڑے معرکہ کی پیشین گوئی ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹے اور بد سے بدتر ہونے کے لئے قطعی شہادت ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مسماۃ محمدی بیگم جو مرزا احمد بیگ کی لڑکی تھی اور مرزا غلام احمد کی قریبی رشتہ دار تھی۔ جو مرزا قادیانی کو پسند آگئی اور اس کے عشق نے مرزا قادیانی کے دل و دماغ پر ایسا قبضہ کیا کہ بے چین ہوگئے۔ اگر سیدھے سادھے طریقہ سے نکاح کی درخواست کریں تو منظوری کی امید نہیں۔ کون اپنی (نوخیز) نوجوان لڑکی (محمدی بیگم کی عمر اس وقت ٩ برس تھی) (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٦٠) کا نکاح ایک ایسے بوڑھے کے ساتھ کردیتا (جس کی عمر ١٨٣٩ء میں پیدائش، کے حساب سے پچاس برس کے قریب تھی) جس کے بی بی بچے بھی موجود ہیں اور ساتھ ہی کذاب و دجال بھی ہے۔ لہٰذا جھٹ مرزا قادیانی نے (١٨٨٨ء میں) ایک وحی تصنیف کی کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی بیگم تیرے عقد میں آئے گی اور اس کا نکاح
٨٨
تے کی روشنی میں اپنے کلام میں جھوٹے نکلے اور اپنے فتوے کی مجنون کے کلام میں تناقض ہوتا ہے )
ف بات جو ایمان دار کو حیرت میں ڈال دے یہ ہے کہ ج ١٩ ص ٦) پر لکھتے ہیں کہ : ”پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ (آتھم ) مجھ سے
کے الفاظ اوپر نقل ہو چکے ہیں۔ پھر دوبارہ دیکھ لیں۔ اس کی قید ہے جھوٹ بولے تو اتنا تو بولے۔ ”لا حول ولا
دیکھا ان تاویلات سے بات بنتی نہیں۔ لہذا آپ نے یہ ب پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ حضرت یونس علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی بعض پیشین گوئیاں (خاکم بدہن ) غلط دیا جائے گا۔
! اسی بے حیا جھوٹے کو آپ ’نبی‘ برگزیدہ مرسل کہتے ہیں؟ تے ہیں؟ استغفر الله!
گوئی
پیشین گوئی ہے اور مرزا قادیانی کے جھوٹے اور بد سے بدتر کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مسماۃ محمدی بیگم جو مرزا احمد بیگ کی لڑکی تھی۔ جو مرزا قادیانی کو پسند آ گئی اور اس کے عشق نے کیا کہ بے چین ہو گئے۔ اگر سیدھے سادے طریقے سے امید نہیں۔ کون اپنی (نوخیز ) نوجوان لڑکی (محمدی بیگم کی ت ج ا ص ١٦٠) کا نکاح ایک ایسے بوڑھے کے ساتھ کر دیتا ساب سے پچاس برس کے قریب تھی ) جس کے بی بی بچے بھی ہے۔ لہذا جھٹ مرزا قادیانی نے (١٨٨٨ء میں) ہے کہ محمدی بیگم تیرے عقد میں آئے گی اور اس کا نکاح
٨٨
٩٩
آسمان پر تیرے ساتھ پڑھ دیا گیا۔ اب تو دنیا میں اس نکاح کی سلسلہ جنبانی کر۔ اگر لڑکی کا باپ راضی ہو گیا تو بڑی خیر و برکت اس نکاح میں ہوگی اور لڑکی کے باپ کو بھی بہت فوائد ہوں گے اور اگر اس نے تمہارے ساتھ نکاح منظور نہ کیا تو لڑکی کا انجام برا ہوگا۔ جس دوسرے شخص کے ساتھ وہ بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک اور لڑکی کا باپ تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ اس وحی کے بعد مرزا قادیانی نے بڑے بڑے اشتہارات حسب عادت شائع کئے اور اس پیشین گوئی کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا اور اعلان دیا کہ یہ پیشین گوئی اگر پوری نہ ہو تو بیشک میں جھوٹا اور بد سے بدتر ہوں۔ یہ بھی لکھا کہ یہ نکاح میرے سچ موعود ہونے کی خاص علامت ہے۔ جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔
ان اشتہارات کے بعد مخفی کوششیں بھی مرزا قادیانی نے بہت کیں۔ احمد بیگ کو بھی خط لکھے، احمد بیگ کی بہن کی لڑکی عزت بی بی مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کے نکاح میں تھی۔ اس لڑکے سے بھی خط لکھوائے۔ یہ بھی لکھا کہ اگر محمدی کا نکاح میرے ساتھ نہ ہوا تو میں قسم کھاتا ہوں کہ عزت بی بی کو اپنے لڑکے سے طلاق دلوا دوں گا۔ یہ سب کچھ ہوا (مرزا قادیانی نے ظلم و جبر سے اپنی بہو کو بلا کسی عذر شرعی کے طلاق دلوا بھی دی) مگر محمدی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ احمد بیگ نے فوراً اس کا نکاح (٧ ستمبر ١٨٩٢ء میں آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠) مرزا سلطان محمد سے کر دیا۔ (جو مقام پٹی ضلع لاہور کا رہنے والا تھا) مرزا غلام احمد نے بہت کچھ پیچ و تاب کھایا مگر ہو کیا سکتا تھا۔ پیشین گوئی بڑی دھوم سے جھوٹی ہوگئی۔ محمدی بیگم کے نکاح کے بعد مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ میں نے کب کہا تھا کہ وہ باکرہ ہونے کی حالت میں میرے عقد میں آئے گی۔ وہ ضرور بیوہ ہوگی اور ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ جلدی کیوں کرتے ہو۔ اگر یہ نکاح نہ ہو تو میں جھوٹا۔ مگر افسوس اور ہزار افسوس! مرزا قادیانی مر گئے اور محمدی بیگم مع اپنے شوہر مرزا سلطان محمد کے خوش و خرم موجود ہے۔ (محمدی بیگم کا ١٩٦٦ء میں انتقال ہوا۔ جب کہ مرزا سلطان احمد صاحب ١٩٤٩ء بمقام لاہور بحالت اسلام فوت ہوئے)
یہ قصہ اگر پوری تفصیل سے دیکھنا ہو تو کتاب فیصلہ آسمانی جو مونگیر سے ملے گی اور الہامات مرزا جو امرتسر سے ملے گا دیکھو۔ یہاں بھی چند مختصر ضروری عبارتیں مرزا قادیانی کی نقل کی جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے اشتہار مرقومہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء میں لکھتے ہیں۔ ”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح
٨٩
تمہارے لئے موجب برکت اور ایک امت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
پھر مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں: ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیشین گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
پھر محمدی بیگم کے نکاح ہو جانے کے بعد جب مرزا قادیانی پر اعتراض ہوا کہ محمدی بیگم دوسری جگہ کیوں بیاہی گئی تو مرزا قادیانی الحکم مورخہ ٣٠؍جون میں حسب ذیل جواب دیتے ہیں۔ ”وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔“
پھر مرزا قادیانی نے (شہادۃ القرآن ص ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں یہ بھی تصریح کر دی کہ یہ پیشین گوئی دراصل چھ پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ان میں وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- ٥...... اور پھر یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔
مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣١) میں لکھتے ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم (یعنی کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں) اس کی انتظار
رکت اور ایک امت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ وری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور رمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
یانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں: ”چاہئے تھا اس پیشین گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے جی یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت یا چوہوں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
کے نکاح ہو جانے کے بعد جب مرزا قادیانی پر اعتراض ہوا کہ محمدی بیگم تو مرزا قادیانی الحکم مورخہ ٣٠؍ جون میں حسب ذیل جواب دیتے ہیں۔ کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔“
یانی نے (شہادۃ القرآن ص ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں یہ بھی تصریح کردی چھ پیشین گوئیوں پر شامل ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ان میں وہ پیشین تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
ت ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
ہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
نیز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
عاجز سے نکاح ہو جائے۔
(انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣١) میں لکھتے ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں حمد بیگ کی تقدیر مبرم (یعنی کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں) اس کی انتظار
٩٠
کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
پھر (انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٢٨) پر لکھتے ہیں: ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز (یعنی داماد احمد بیگ کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
لیکن جب مرزا قادیانی کی مقررہ میعاد گزرگئی اور محمدی بیگم کا شوہر نہ مرا نہ کوئی بلا محمدی بیگم پر آئی تو مرزا قادیانی کس صفائی سے جواب دیتے ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) میں ہے ۔ ”احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا۔ یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیش گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔“
اور (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں۔ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھایا گیا ہے یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’ایتها المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک‘ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
یہ بھی لطیفہ ہے مرزا قادیانی جس شرط کا ذکر کر رہے ہیں وہ شرط اگر تھی تو بلا کے ٹل جانے کے لئے کیا محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے ساتھ نکاح ہو جانا کوئی بلا تھا۔ جو شرط کے پورا کرنے سے ٹل گیا؟ یہ مرزا قادیانی کی بدحواسی نہیں تو کیا ہے۔
اس نکاح پر بڑی بحثیں مرزا قادیانی کے مرجانے کے بعد ہوئیں۔ نورالدین صاحب خلیفہ اوّل تو فرماتے ہیں کہ: ”میرے عقیدہ میں کچھ فرق نہیں آیا۔ قیام قیامت تک محمدی بیگم کی اولاد میں سے کسی کا مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نکاح ہو جائے گا تو بھی یہ پیشین گوئی پوری ہو جائے گی اور قاضی اکمل صاحب جو جماعت مرزائیہ کے ایک رکن اعظم ہیں۔ (رسالہ تشحیذ الاذہان ص ٢٢٤، مئی ١٩١٣ء) میں لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی سے منکوحہ آسمانی کے الہام کے سمجھنے میں غلطی ہوگئی اور بہ خود مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں کہ انبیاء سے وحی کے سمجھنے میں غلطی ہو جاتی ہے۔
٩١
پس آخری جواب یہی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط نکل گئی تو کوئی عیب نہیں اور نبیوں کی پیشین گوئیاں بھی غلط ہوچکیں ہیں۔ نعوذ باللہ! کیوں خواجہ کمال الدین صاحب ! اسی بے حیا کو جو اس قدر بے تکان جھوٹ بولتا ہے۔ آپ مجدد اور محدث اور مسیح موعود مہدی مسعود کہتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے مناظرہ کی ہمت انہی وجوہ سے نہیں کی کہ مرزا قادیانی کے جھوٹ کو سچ بنانا۔ یا کوئی تاویل کرنا ان کے امکان سے باہر تھا۔
١٧...... مرزا قادیانی کا اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹا ہونا
مرزا قادیانی کئی دفعہ اپنے قسمیہ اقراروں سے کافر، کاذب، ملعون، خائن، بے ایمان، دجال ثابت ہو چکے ہیں اور یہ سب الفاظ مرزا قادیانی ہی کے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠ تا ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٦ تا ٣١٩، مورخہ ٢٢ جنوری ١٨٩٧ء) میں لکھتے ہیں: ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدائے تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا دوسرا رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کروں گا۔“
خواجہ کمال الدین صاحب بلکہ کل مرزائی صاحبان لاہوری ہوں یا قادیانی بتلائیں کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پوری ہوئی؟ یا مرزا قادیانی اپنے قسمیہ اقرار سے کاذب قرار پائے اگر پیش گوئی کا پورا ہونا کوئی مرزائی دکھا دے تو اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ یہاں تک سترہ جھوٹ مرزا قادیانی کے ہم نے دکھلائے اور اگر انصاف سے دیکھو تو ہر جھوٹ کے اندر کئی کئی جھوٹ شامل ہیں۔ ان سب کو شمار کرو تو تعداد بہت زیادہ ہو جائے ۔ بنظر اختصار اس وقت اسی مقدار پر اکتفا کی جاتی ہے۔
مرزا غلام احمد کا جھوٹا ہونا بلکہ بڑا جھوٹا ہونا تو ثابت ہو گیا۔ اب مرزائیوں کا یہ کہنا کہ جھوٹ بولنا کوئی عیب نہیں یا جھوٹا بھی نبی ہوسکتا ہے۔ ایک ایسی بات ہے کہ اس کے بطلان پر
٩٢
جواب یہی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط نکل گئی تو کوئی عیب نہیں بھی غلط ہو چکیں ہیں۔ نعوذ باللہ ! کمال الدین صاحب ! اسی بے حیا کو جو اس قدر بے تکان جھوٹ بولتا ہے اور مسیح موعود مہدی مسعود کہتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے مناظرہ کی دیکھا کہ مرزا قادیانی کے جھوٹ کو سچ بنانا۔ یا کوئی تاویل کرنا ان کے
کا اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹا ہونا
کئی دفعہ اپنے قسمیہ اقراروں سے کافر ، کاذب، ملعون، خائن، بے ایمان، یہ سب الفاظ مرزا قادیانی ہی کے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک واقعہ یہاں
اپنی کتاب ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠ تا ٣٥، خزائن ج ١١ص ٣١٤ تا ٣١٩، مورخہ لکھتے ہیں: ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا کی تائید سے ایسا اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدائے تعالیٰ ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کروں گا۔“ کمال الدین صاحب بلکہ کل مرزائی صاحبان لاہوری ہوں یا قادیانی بتلائیں کہ پیشین گوئی پوری ہوئی؟ یا مرزا قادیانی اپنے قسمیہ اقرار سے کاذب قرار پائے اگر سچائی دکھا دے تو اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ یہاں تک مقررہ ہم نے دکھلائے اور اگر انصاف سے دیکھو تو ہر جھوٹ کے اندر کئی کئی کو شمار کرو تو تعداد بہت زیادہ ہو جائے۔ بنظر اختصار اس وقت اسی
جھوٹا ہونا بلکہ بڑا جھوٹا ہونا تو ثابت ہو گیا۔ اب مرزائیوں کا یہ کہنا کہ جھوٹا بھی نبی ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی بات ہے کہ اس کے بطلان پر ٩٢
دلائل پیش کرنا فضول ہے۔ قرآن وحدیث میں جھوٹے پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ: ”کونوا مع الصادقین “ سچوں کے ساتھ رہو جھوٹوں کی رفاقت ممنوع ہے۔ تو ان کی اقتداء کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک جھوٹ بولنا منہاج نبوت نہیں۔ بلکہ معیار نبوت ہو تو ایسی نبوت ان کو مبارک رہے۔ لیکن دنیا میں کوئی صاحب عقل جھوٹے کو اچھا آدمی بھی نہیں کہہ سکتا۔ نبی ورسول تو بڑی چیز ہیں۔
جھوٹ بولنا اگر عمدہ چیز ہے تو اس کا ثواب واجر عظیم مرزا قادیانی کو آخرت میں ملے گا۔ دنیا میں ان کا ذلیل وخوار و بے اعتبار ہونا ضروری ہے۔
کہ کاذب بود خوار و بے اعتبار
کسی شخص کا عمر بھر میں ایک جھوٹ ثابت ہو جائے تو محدثین کے نزدیک اس کی ہر روایت موضوع و نا قابل اعتبار ہو جاتی ہے۔ معمولی راویوں میں تو یہ احتیاط، مگر نبی کا جھوٹا ہونا کچھ عیب نہیں۔ ”ان ھذا الشی عجیـب “ جس مذہب کا نبی ایسا کذاب ہو اس کے امتی کیسے ہوں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال متعلق توہین انبیاء علیہم السلام
خدا کی قسم مخلوق میں سب سے اعلیٰ رتبہ انبیاء علیہم السلام کا ہے۔ خدا نے ان کو ہدایت خلق کے لئے بھیجا اور ان کے اقوال اور افعال اور احوال کو اپنے بندوں کے لئے حجت اور واجب الاقتدا قرار دیا۔ ان پر ایمان لانے کی تاکید کی اور نجات آخرت کو اسی ایمان پر منحصر کیا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے باوصف سید الانبیاء ہونے کے منع فرمایا کہ مجھے یونس علیہ السلام پر بھی فضیلت نہ دو۔ قرآن کریم نے بار بار بڑے اہتمام سے اس مقدس جماعت کی عظمت وجلالت کا عقیدہ کیا اور ان کی توہین کو کفر قرار دیا۔ پھر جو شخص اس جماعت کی توہین کرے ان کی شان میں گستاخانہ الفاظ لکھے۔ کیا وہ خدا کے یہاں کسی رتبہ کا مستحق ہو سکتا ہے؟ نبی ورسول ہونا تو بڑی بات ہے ایسا شخص اچھا آدمی بھی نہیں کہا جاسکتا۔
مرزا غلام احمد کے متعلق اس مبحث میں بھی قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے جس قدر توہین انبیاء علیہم السلام کی کی ہے۔ اس کی کچھ حد نہیں۔ نمونہ کے طور پر چند کلمات اس کے درج ذیل ہیں۔ ٩٣
- ١...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی نسبت لکھتے ہیں: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
- ٢...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) میں لکھتے ہیں: ”عیسائیوں
نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
- ٣...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں لکھتے ہیں: ”ممکن ہے کہ اپنی
معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیمار کا علاج کیا ہو۔“
- ٤...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں ہے: ”آپ کے ہاتھ میں سوا
مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
فائدہ: کس قدر صریح توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے اور ان کے معجزات کا کیسا صاف انکار ہے۔ نعوذ باللہ!
- ٥...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں ہے: ”آپ کا خاندان بھی
نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
- ٦...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (معیار المذاہب ص ٨٠، خزائن ج ٩ ص ٤٧٩) میں
لکھتے ہیں: ”یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورت بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔“
فائدہ: جب مسلمانوں کی طرف سے مرزا قادیانی پر اعتراض ہوئے کہ مدعی اسلام ہو کر تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس قدر توہین کی اب تمہارے مرتد ہونے میں کیا شک رہا؟ تو مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو یسوع کو کہا ہے۔ چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٣٩) پر لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کو واضح
٩٤
ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یہ یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
ضمیمہ انجام آتھم ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) میں لکھتے ہیں: ”عیسائیوں کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں لکھتے ہیں: ”ممکن ہے کہ اپنی شب کوری وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیمار کا علاج کیا ہو۔“
ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں ہے: ”آپ کے ہاتھ میں سوا کیا تھا۔“
صریح توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے اور ان کے معجزات کا کیسا استغفر اللہ!
ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں ہے: ”آپ کا خاندان بھی تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے وجود پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں کی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
مرزا قادیانی اپنی کتاب (معیار المذاہب ص ٨٠، خزائن ج ٩ ص ٤٧٩) میں دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بے گناہ کو شہوت کرایا اور دلالہ عورت بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اپنا مال حرام کاری میں ضائع کیا۔“
مسلمانوں کی طرف سے مرزا قادیانی پر اعتراض ہوئے کہ مدعی اسلام ہو کر اسلام کی اس قدر توہین کی اب تمہارے مرتد ہونے میں کیا شک رہا؟ تو جواب دیا کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٣٩) پر لکھتے ہیں: ”مسلمانوں کو واضح
رہے کہ خدائے تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔“
مگر افسوس! کہ مرزا قادیانی پر وہی مثل صادق آگئی کہ ”دروغ گورا حافظہ نباشد“ کیونکہ خود ہی اپنی تصانیف میں لکھ چکے ہیں کہ یسوع اور عیسیٰ دونوں نام حضرت مسیح ابن مریم ہی کے ہیں۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں ہے۔ ”دوسرے مسیح بن مریم کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
- .......٧ دافع البلاء میں لکھتے ہیں: ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے
راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر حضرت مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصہ اس نام کے رکھنے سے مانع تھے“ (دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
فائدہ: اس عبارت میں قرآن شریف کے حوالہ نے اس رکیک تاویل کا دروازہ بند کر دیا۔ جو بعضے مرزائی کہہ بیٹھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے مقابلہ میں الزامی طور پر ایسا لکھا ہے۔ ورنہ خود مرزا قادیانی کا ذاتی عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت ایسا نہ تھا۔ قرآن شریف کے حوالہ نے بتلا دیا کہ یہ تقریر الزامی نہیں ہے۔
- .......٨ (ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھتے ہیں: ”کچھ تعجب کی جگہ
نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“
فائدہ: اس عبارت سے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزہ پر جو تمسخر کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان کے بے باپ ہونے کا بھی انکار ہے جو صریح تکذیب نص قرآن کی ہے۔
- ٩...... (ازالۃ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”کچھ تعجب
نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔“
- ١٠...... نیز (ازالۃ اوہام ص ٣٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦) میں ہے: ”ماسوا اس کے یہ بھی
قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزم کی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں ۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔“
- ١١...... نیز (ازالۃ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں ہے: ”اب یہ بات قطعی
اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا۔ مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہوسکیں ۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں ۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“
فائدہ: کیسی سخت توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوئی۔ اوّل تو ان کے معجزہ احیائے موتیٰ کا انکار کیا اور اس کو مسمریزم کا عمل بتایا۔ دوم مسیح علیہ السلام کے کام کو مکروہ اور قابل نفرت کہا۔
- ١٢...... (ازالۃ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں ہے: ”واضح ہو کہ اس عمل
جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی
٩٦
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتے ہیں: ”کہ کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو کہ عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض ایسے پرند بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور اندر کی کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦) میں ہے: ”ماسوا اس کے یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ہو۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے عجائبات ہیں کہ پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان کو زندہ نما کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی سے بالکل بے جان میں جان ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات ایسے طور سے صادر ہوا کرتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں ہے: ”اب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن الٰہی یسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ یسع کی لاش سے بھی وہ گرمی اس کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا۔ مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم لگنے سے زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ ماسوا اس کے زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سحر نہیں۔ جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ جانتا خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
فائدہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہوئی۔ اوّل تو ان کے معجزہ احیائے موتیٰ کو عمل الترب یعنی مسمریزم کا عمل بتایا۔ دوم مسیح علیہ السلام کے کام کو مکروہ اور قابل نفرت کہا۔
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں ہے: ”واضح ہو کہ اس عمل الترب کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی
٩٦
١٠٧
مرضوں کے دفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے۔ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کو کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔“
١٣...... (اعجاز احمدی ص ٣١٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) میں ہے: ”ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کا معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
فائدہ: کیسی صریح توہین حدیث رسول ﷺ کی ہے۔ ناظرین اس قول کو یاد رکھیں۔ کیونکہ آئندہ بحث نبوت میں بھی اس سے کام لینا ہے۔
١٤...... (ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) میں ہے: ”یہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔“ پھر چند سطروں کے بعد لکھتا ہے ۔ ”اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (یعنی مرزا) صاحب تجربہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
فائدہ: مرزائیوں کے نزدیک معراج ایک قسم کا کشف تھا۔ فی الواقع نہ جانا تھا نہ آنا تھا۔ اہل انصاف کے نزدیک یہ صاف انکار معراج کا ہے۔ یہ بھی قابل دید ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو اس معاملہ میں صاحب تجربہ کہتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ خود اِس کو کئی مرتبہ ایسی معراج ہوچکی ہے۔ پھر اس عبارت میں رسول خدا ﷺ کے جسم لطیف و الطف کو کثیف کہنا کیسی سخت گستاخی ہے جو کسی ایماندار سے ہرگز ممکن نہیں۔
١٥...... (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٧٣) میں ہے: ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ
٩٧
تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے، اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔“
فائدہ: مرزا قادیانی نے جب فرمایا کہ دجال سے مراد پادری یاجوج ماجوج سے انگریز۔ خر دجال سے مراد ریل گاڑی ہے تو ان پر اعتراض ہوا کہ یہ مراد آپ کی ازروئے احادیث غلط ہوئی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے عبارت مذکورہ بالا لکھی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دجال وغیرہ کی حقیقت سمجھنے میں حضرت محمدﷺ سے غلطی ہوگئی۔ کیونکہ یہ چیزیں ان کے زمانہ میں غیب محض تھیں۔ کوئی نمونہ ان کا موجود نہ تھا اور میرے زمانہ میں چونکہ نمونہ موجود ہے۔ لہذا میں ان چیزوں کی اصلی حقیقت سمجھ گیا۔
اہل ایمان غور کریں کہ رسول خداﷺ کی کس قدر توہین ہوئی اور شریعت الہیہ کس طرح بازیچہ طفلاں بن گئی۔ جب دجال وغیرہ کی حقیقت بوجہ غیب محض ہونے کے سمجھ میں نہ آئی تو جنت دوزخ اور عالم آخرت کے متعلق جو کچھ آپ نے خبر دی اس پر کیا وثوق رہ گیا۔ کیونکہ وہ تو غیب الغیب ہیں۔ نعوذ باللہ!
مرزا قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کے متعلق صاف طور پر لکھا ہے کہ: ”کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔“
(اعجاز احمدی ص ٤٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)
”بعض پیشین گوئیوں کی نسبت حضرتﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٠٠، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧)
- ١٦...... مرزا قادیانی نے انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی
توہین کا ثواب بھی اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کرایا ہے۔ چنانچہ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٧) میں ہے: ”جیسا کہ ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔“
نیز (ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) میں ہے: ”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعودؓ ایک معمولی انسان تھا۔“
نیز (اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤) میں ہے:
- ١...... ”وقالوا على الحسنين فضل نفسه“ اور انہوں نے کہا کہ اس
شخص نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔
٩٨
ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ رقت کلمہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی ذریعہ سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔“ یانی نے جب فرمایا کہ دجال سے مراد پادری یا جوج ماجوج سے ل گاڑی ہے تو ان پر اعتراض ہوا کہ یہ مراد آپ کی از روئے احادیث جواب میں مرزا قادیانی نے عبارت مذکورہ بالا لکھی۔ جس کا خلاصہ یہ ت سمجھنے میں حضرت محمدﷺ سے غلطی ہو گئی۔ کیونکہ یہ چیزیں ان کے ئی نمونہ ان کا موجود نہ تھا اور میرے زمانہ میں چونکہ نمونہ موجود ہے۔ یقیت سمجھ گیا۔ یں کہ رسول خداﷺ کی کس قدر توہین ہوئی اور شریعت الہیہ کس طرح دجال وغیرہ کی حقیقت بوجہ غیب محض ہونے کے سمجھ میں نہ آئی تو جنت علق جو کچھ آپ نے خبر دی اس پر کیا وثوق رہ گیا۔ کیونکہ وہ تو غیب
انبیاء علیہم السلام کے متعلق صاف طور پر لکھا ہے کہ: ”کوئی نبی نہیں ہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)
نبیوں کی نسبت حضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی ائی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)
قادیانی نے انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی مہ اعمال میں اضافہ کرایا ہے۔ چنانچہ (اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ د ہر بیوقوف غبی تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔“ ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) میں ہے: ”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعودؓ
٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤) میں ہے: الوا علی الحسنين فضل نفسه“ اور انہوں نے کہا کہ اس ن سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔
٩٨
”اقول نعم والله ربی سیظھر“ میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کردے گا۔
- .......٢ ”وشتان ما بینی وبین حسینکم“ اور مجھ میں اور تمہارے حسین
بڑا فرق ہے۔
”فانی اوید کل آن وانصر“ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی۔
(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
- .......٣ ”اما حسین فاذا کروا دشت کربلا“ مگر حسین پر تم دشت کربلا کو
یاد کر لو۔
”الی ھذہ الایام تبکون فانظروا“ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔
(ایضاً)
- .......٤ ”ووالله لیست فیه منی زیادة“ اور بخدا اس میں مجھ سے کچھ
زیادہ نہیں۔
”وعندی شھادات من الله فانظروا“ اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو۔
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
- .......٥ ”وانی قتیل الحب لکن حسینکم“ اور میں خدا کی محبت کا کشتہ
ہوں لیکن تمہارا حسین۔
”قتیل العدی فالفرق اجلی واظھر“ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
(ایضاً)
مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت
قادیانی گروہ تو، بہ تعلیم مرزا محمود فرزند خلیفہ مرزا قادیانی صاف صاف مرزا کے مدعی نبوت ہونے کا مقر اور ختم نبوت کا منکر ہے۔ لہٰذا اس فرقہ کے سامنے ہم کو صرف یہ ثابت کر دینا کافی ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ واحادیث متواترہ کی دلالت قطعیہ سے ثابت ہے کہ نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوچکی اور آپ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال ہے۔ کذاب ہے مردود ملعون ہے۔
لیکن لاہوری پارٹی جس کے رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہیں۔ اوّل تو ناواقفوں کی فریب دہی کے لئے مرزا قادیانی کے مدعی نبوت ہونے سے بالکل انکار کرتی ہے اور اگر بدقسمتی
٩٩
سے کوئی واقف کار مل گیا اور یہ فریب کھل گیا تو کہنے لگتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ تو کیا ہے مگر مجازی نبوت کا، ظلی بروزی کا، غیر مستقل نبوت کا۔ صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ جیسا کہ رنگون میں خواجہ کمال الدین سے یہ سب کچھ ظہور میں آچکا۔
لہٰذا اس فرقہ کے مقابلہ میں ہم کو مرزا قادیانی کے اقوال دکھانا پڑتے ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ چونکہ لاہوری گروہ زیادہ خطرناک ہے۔ مسلمان اس کے فریب میں جلد آجاتے ہیں۔ لہٰذا پہلے اسی گروہ کی سرکوبی مناسب سمجھ کر مرزا قادیانی کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ختم نبوت کی بحث بھی مختصر طریقہ سے انشاء اللہ تعالیٰ لکھ دی جائے گی۔
اقوال مرزا غلام احمد
طریق اوّل
- ......١
(انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ ص٦٢) میں ہے: ”الہامات میں میری نسبت
بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ، خدا کا مامور ، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
- ......٢
(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١) میں ہے: ”سچا خدا وہی ہے جس نے
قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
- ......٣
(دافع البلاء ص١٠، خزائن ج١٨ ص٢٣٠) میں ہے: ”تیسری بات جو اس وحی
سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں ہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے دور ہوسکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔“
فائدہ: اس قسم کے اقوال بے شمار ہیں۔ اب ہم وہ اقوال نقل کرتے ہیں۔ جن میں صاحب شریعت نبی ہونے کی تصریح ہے۔
١٠٠
- ......٤
(اعجاز احمدی ص
قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو بالهدی ودین الحق لیظهرہ ع فائدہ: یہ آیت قرآن مجی ان کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھی سے صاف ثابت ہوا کہ مرزا ہدایت صاحب شریعت کا ہے۔
- ......٥
(اربعین نمبر ٣
نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدا
- ......٦
(اربعین نمبر ٤
شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید ن جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چ کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ ب میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ويحفظوا فروجهم ذلك ازك اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مد ہیں اور نہی بھی۔“
فائدہ: دیکھئے کیسی صفائی
طریق دوم
اب ہم ایک دوسرے مدعی ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے اگر بقول خواجہ کمال الدین دعویٰ نب مجدد تو بہت گزرے ہیں۔
- ......٧
(حقیقت ا
یہ فریب کھل گیا تو کہنے لگتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ تو بروزی کا، غیر مستقل نبوت کا۔ صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہیں ال الدین سے یہ سب کچھ ظہور میں آچکا۔
مقابلہ میں ہم کو مرزا قادیانی کے اقوال دکھانا پڑتے ہیں۔ جن سے نے حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ چونکہ لاہوری گروہ زیادہ خطرناک میں جلد آجاتے ہیں۔ لہٰذا پہلے اسی گروہ کی سرکوبی مناسب سمجھ کر کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ختم نبوت کی بحث بھی مختصر طریقہ سے
اقوال مرزا غلام احمد
تھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) میں ہے: ”الہامات میں میری نسبت ا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو س کا دشمن جہنمی ہے۔“
لام ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں ہے: ”سچا خدا وہی ہے جس نے
لام ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں ہے: ”تیسری بات جو اس وحی خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں ہے گو ستر برس تک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور ۔ اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں شمنی اور نافرمانی اس رسول کے دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت
قوال بے شمار ہیں۔ اب ہم وہ اقوال نقل کرتے ہیں۔ جن شروع ہے۔
١٠٠
- ٤....... (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں ہے: ”مجھے بتلایا گیا کہ تیری خبر
قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“
فائدہ: یہ آیت قرآن مجید کی ہے۔ اس میں حضرت محمدﷺ کی نسبت فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ مرزا کہتا ہے کہ اس آیت کا مصداق میں ہی ہوں۔ جس سے صاف ثابت ہوا کہ مرزا ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث ہونے کا مدعی ہے۔ یہی مطلب صاحب شریعت کا ہے۔
- ٥....... (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) میں ہے: ”خدا وہی خدا ہے جس
نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
- ٦....... (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں ہے: ”اور اگر کہو کہ صاحب
شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو خود یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
فائدہ: دیکھئے کیسی صفائی سے صاحب شریعت رسول ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
طریق دوم
اب ہم ایک دوسرے طریقہ سے ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نبوت حقیقیہ کے مدعی ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ مجھ سے پہلے اس تیرہ سو برس میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ اگر بقول خواجہ کمال الدین دعویٰ نبوت سے مراد ان کی مجددیت کا دعویٰ ہوتا تو ایسا نہ کہتے۔ کیونکہ مجدد تو بہت گزرے ہیں۔
- ٧....... (حقیقۃ الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں ہے: ”اور یہ بات ایک
١٠١
ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو با ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیرہ وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ۔‘‘
طریق سوم
اب ہم ایک تیسرے طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقتاً ہونا ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو تمام انبیاء سے حتیٰ کہ حضرت محمدﷺ سے بھی افضل کہا۔ اگر مجازی نبوت کے مدعی ہوتے تو حقیقی انبیاء سے اپنے کو افضل نہ کہتے۔
- ......٨ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں ہے: ”خدا نے اس امت میں
سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
- ......٩ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں ہے: ”خدا نے اس امت
میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔ وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
- ......١٠ (حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں ہے: ”اوائل میں میرا
بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
فائدہ: اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام پر اپنے کو فضیلت کلی دے رہے ہیں۔ لہٰذا اب اس کہنے کی گنجائش نہ رہی کہ فضیلت جزئی تو غیر نبی کو بھی نبی پر ہو سکتی ہے۔
١٠٢
قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس یک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام وص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
تیسرے طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقتاً ہونا ثابت کرتے ب نے اپنے کو تمام انبیاء سے حتیٰ کہ حضرت محمد ﷺ سے بھی افضل کہا۔ اگر تے تو حقیقی انبیاء سے اپنے کو افضل نہ کہتے۔
دافع البلا ص ١٣، خزائن ج ١٨ص ٢٣٣) میں ہے: ’’خدا نے اس امت میں پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح
حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں ہے: ’’خدا نے اس امت پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا شان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں ہے: ’’اوائل میں میرا مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین مر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا ن کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر ور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
ارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام پر اپنے کو ۔ لہٰذا اب اس کہنے کی گنجائش نہ رہی کہ فضیلت جزئی تو غیر نبی کو بھی نبی
١٠٢
- ١١...... (حقیقت الوحی ص ٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) میں ہے: ’’اور جب کہ خدا نے
اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
- ١٢...... (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) میں ہے: ’’بلکہ خدا تعالیٰ
کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔‘‘
فائدہ: یہاں تو آنحضرت ﷺ کو مستثنیٰ کیا ہے۔ مگر آئندہ آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی مستثنیٰ نہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے معجزات آپ علیہ السلام سے بھی زیادہ بتلائے ہیں۔
- ١٣...... (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) میں ہے: ’’اور میں اس خدا
کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
- ١٤...... (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) میں ہے: ’’دنیا میں کئی تخت اترے
پر تیرا (یعنی مرزا کا) تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
- ١٥...... (استفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) میں ہے: ’’و آتانی مالم یؤت
احداً من العالمین‘‘ خدا نے جو کچھ مجھے (مرزا کو) دیا سارے جہاں میں کسی کو نہیں دیا۔
- ١٦...... (مکتوبات احمدیہ نمبر ٥ ج ٣ ص ٤٩) میں ہے: ’’آنحضرت ﷺ کے معجزات
جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں وہ تین ہزار معجزہ ہیں۔ اس خدا نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک ہیں۔‘‘
فائدہ: مرزا قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ص ١٥٣) میں بھی آنحضرت ﷺ کے معجزات کو تین ہزار بیان کیا ہے۔
- ١٧...... (قصیدہ اعجازیہ ص ٧٠، خزائن ج ١٩ص ١٨٣) میں ہے:
غسا القمران المشرقان اتنکر
١٠٣
فائدہ: مرزا قادیانی نے اس شعر کا ترجمہ بھی خود کیا ہے کہ: ”اس (یعنی آنحضرتﷺ) کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔“
کس قدر گستاخی کے ساتھ اپنا مقابلہ رسول خداﷺ کے ساتھ کر کے اپنے کو فضیلت دی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے۔ آنحضرتﷺ کے معجزہ شق القمر کو مرزا قادیانی چاند گہن کہتا ہے۔ خواجہ کمال الدین کہتے ہیں کہ مرزا اور ہم معجزہ شق القمر کے منکر نہیں۔ شق القمر کو چاند گہن کہنا انکار سے بدتر ہے۔ مناظرہ میں آتے تو حقیقت کھل جاتی اور بحمد اللہ اب بھی کھل گئی۔
طریق چہارم
اب ہم چوتھے طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقتاً ہونا ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنی خانہ ساز وحی کو قرآن شریف کے مثل قطعی اور واجب الایمان کہا۔ اگر مجازی نبوت کے مدعی ہوتے تو اپنی وحی کو حقیقی نبیوں کی وحی کا ہم رتبہ نہ کہتے۔
١٨...... (اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) میں ہے: ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر
ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات وغیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں۔ جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔“
١٩...... (حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) میں ہے: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا
کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے۔“
طریق پنجم
اب ہم پانچویں طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقیہ ہونا ثابت کرتے ہیں ۔ وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا۔ نجات کو اپنے ماننے والوں میں منحصر قرار دیا۔ اگر مجازی نبوت کا مدعی ہوتا تو ایسا ہرگز نہ کہتا۔ کیونکہ یہ شان حقیقی نبیوں کی ہے کہ ان کے نہ ماننے سے کافر ہو جائے اور بغیر ان کے مانے ہوئے نجات نصیب نہ ہو۔
١٠٢
قادیانی نے اس شعر کا ترجمہ بھی خود کیا ہے کہ: ”اس (یعنی لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو
گستاخی کے ساتھ اپنا مقابلہ رسول خداﷺ کے ساتھ کر کے اپنے کو فضیلت کی بات ہے۔ آنحضرتﷺ کے معجزہ شق القمر کو مرزا قادیانی چاند گہن کہتا کہتے ہیں کہ مرزا اور ہم معجزہ شق القمر کے منکر نہیں۔ شق القمر کو چاند گہن کہنا رہ میں آتے تو حقیقت کھل جاتی اور بحمد اللہ اب بھی کھل گئی۔
طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقتاً ہونا ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ خانہ ساز وحی کو قرآن شریف کے مثل قطعی اور واجب الایمان کہا۔ اگر تے تو اپنی وحی کو حقیقی نبیوں کی وحی کا ہم رتبہ نہ کہتے۔ اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) میں ہے: ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ، بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں۔ جس کی حق
حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) میں ہے: ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا ہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی ے اوپر نازل ہوتا ہے۔“
س طریقہ سے مرزا قادیانی کا مدعی نبوت حقیقتاً ہونا ثابت کرتے س نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع والوں میں منحصر قرار دیا۔ اگر مجازی نبوت کا مدعی ہوتا تو ایسا ہرگز نہ نبیوں کی ہے کہ ان کے نہ ماننے سے کافر ہو جائے اور بغیر ان کے نہ ہو۔
١٠٤
٢٠...... (حقیقت الوحی ج ٢ ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٤) میں ہے: ”ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مواخذہ ہوگا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں۔ بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا۔ یعنی حضرتﷺ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا مکذب نہیں۔ بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے آنے کی پیشین گوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کے بارہ میں ہے کہ جس شخص کو آنحضرتﷺ کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک آنحضرتﷺ کی رسالت کے بارہ میں اس پر اتمام حجت ہو چکا ہے۔ وہ اگر کفر پر مر گیا تو ہمیشہ کی جہنم کا سزاوار ہوگا ۔“
٢١...... (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میں ہے: ”کفر دو قسم پر ہے۔ (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
٢٢...... (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) میں ہے: ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو ۔“
٢٣...... (فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢) میں ہے: ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے۔ نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو ۔“
٢٤...... (فتاویٰ احمدیہ ج ٢ ص ١٨) میں ہے: ”١٠ ستمبر ١٩٠١ء کو سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں۔ وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز
١٠٥
پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔“
یہ چوبیس اقوال مرزا قادیانی کے ہوئے جن کے دیکھنے کے بعد یہ کہنا کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ انصاف اور حیا کا خون کرنا ہے۔ بلکہ وہ قطعاً و یقیناً نہ صرف نبی بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی ہیں۔
خدائی کا دعویٰ
اب ہم کچھ اقوال ان کے وہ بھی دکھلاتے ہیں جن میں دعویٰ الوہیت اور ابن اللہ ہونے کا ہے۔
- ٢٥...... (حقیقت الوحی ص١٠٥، خزائن ج٢٢ ص١٠٨) میں مرزا قادیانی نے اپنی چند
وحیاں جمع کی ہیں جن میں سے ایک جملہ حسب ذیل ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ یعنی خدا نے فرمایا کہ اے مرزا تیری یہ شان ہے کہ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔
قرآن مجید میں خدا نے یہ شان اپنی بیان فرمائی ہے۔
- ٢٦...... (حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩) میں ہے: ”انت منی بمنزلة
ولدی“ یعنی خدا نے فرمایا اے مرزا تو میرے لڑکے کے برابر ہے۔
- ٢٧...... (آئینہ کمالات اسلام ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص٥٦٤) میں ہے: ”رأيتني فی
المنام عين الله وتيقنت اننی هو..... ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں ہی خدا ہوں..... پھر میں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا منکر ضروریات دین ہونا
اس سے اوپر جو اقوال مرزا قادیانی کے نقل ہوئے ان سے ناظرین نے سمجھ لیا ہوگا کہ مرزا نے کھلم کھلا دین اسلام کی کس قدر مخالفت کی۔ زبان سے تو کہتا ہی ہے۔ ما مسلمانیم از فضل خدا۔ مصطفےٰ ما را امام و پیشوا۔ مگر اس کے عقائد اس کی تعلیمات اس کے اعمال سب اس کے خلاف ہیں۔ یہاں ہم نمونہ کے طور پر چند باتیں ان کی درج کرتے ہیں۔
١٠٦
یا صدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا ات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ فرمایا ان کو پہلے تبلیغ جائیں گے یا مکذب۔“ ل مرزا قادیانی کے ہوئے جن کے دیکھنے کے بعد یہ کہنا کہ مرزا قادیانی س کیا۔ انصاف اور حیا کا خون کرنا ہے۔ بلکہ وہ قطعاً ویقیناً نہ صرف نبی کے مدعی ہیں۔
وال ان کے وہ بھی دکھلاتے ہیں جن میں دعویٰ الوہیت اور ابن اللہ
حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں مرزا قادیانی نے اپنی چند سے ایک جملہ حسب ذیل ہے: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان یعنی خدا نے فرمایا کہ اے مرزا تیری یہ شان ہے کہ تو جس بات کا ارادہ فی الفور ہو جاتی ہے۔ خدا نے یہ شان اپنی بیان فرمائی ہے۔
حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں ہے: ”انت منی بمنزلة اے مرزا تو میرے لڑکے کے برابر ہے۔
ئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) میں ہے: ”رأيتني في قت اننی هو ...... ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا یح ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین .. پھر میں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں نے کہا کہ ہم نے زینت دی۔
کا منکر ضروریات دین ہونا
اقوال مرزا قادیانی کے نقل ہوئے ان سے ناظرین نے سمجھ لیا ہوگا کہ کی کس قدر مخالفت کی۔ زبان سے تو کہتا ہی ہے۔ ما بمسلمانیم از فضل مگر اس کے عقائد اس کی تعلیمات اس کے اعمال سب اس کے خلاف پر چند باتیں ان کی درج کرتے ہیں۔
١٠٦
- ١...... خدائے تعالیٰ (معاذ اللہ) جھوٹ بولتا ہے۔ یعنی اپنی خبر کو غلط کر دیتا ہے۔
اپنے نبیوں سے عذاب نازل کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور اس وعدہ میں کوئی شرط بھی نہیں ہوتی۔ مگر وہ وعدہ ٹل جاتا ہے۔ یہ مضمون اوپر کے حوالہ جات سے ثابت ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام بلکہ خود رسول خدا ﷺ کی پیشین گوئیوں کی نسبت مرزا قادیانی نے ایسا لکھا ہے۔ حالانکہ یہ عقیدہ نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔ ”ان الله لا يخلف الميعاد“
- ٢...... نبیوں سے وحی کے سمجھنے میں غلطی ہو جاتی ہے۔ (اوپر کے حوالہ جات دیکھو)
- ٣...... نبیوں سے گناہ اور کبیرہ گناہ ہوتے ہیں۔ (اوپر کے حوالہ جات دیکھو)
مرزا قادیانی نے حضرت مسیح اور حضرت داؤد علیہم السلام کی نسبت کیا لکھا۔ حالانکہ دین اسلام کی قطعی تعلیم ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔
- ٤...... حضرت مسیح علیہ السلام کے بے باپ پیدا ہونے کا، ان کے معجزات کا،
مرزا کو قطعاً انکار ہے۔ (اوپر کے حوالہ جات دیکھو) حالانکہ یہ نصوص قرآنیہ کے خلاف ہے۔
- ٥...... معراج کا انکار کیا کہ وہ ایک قسم کا کشف تھا۔ معجزہ شق القمر کا انکار کیا کہ وہ شق
نہ تھا بلکہ وہ چاند گہن تھا۔ مرزا قادیانی دراصل ایک ملحد دہریہ تھا۔ اسی قسم کی تاویلات رکیکہ کر کے تمام نبیوں کے معجزات کا اس نے انکار کیا ہے۔ جن میں سے اکثر قرآن شریف میں بصراحت مذکور ہیں۔
- ٦...... ملائکہ کا انکار کیا۔ آئینہ کمالات اسلام میں ہے: ”جبرائیل آسمان پر قائم
ہے۔ وہ بذات خود نازل نہیں ہوتا۔“
(آئینہ کمالات ص ١٢٢، خزائن ج ٥ ص ١٢٢)
توضیح المرام میں ہے: ”محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور یہ خیال بہ بداہت باطل بھی ہے۔“
(توضیح مرام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ٦٦)
نیز اسی کتاب میں ہے۔ ”فرشتے اپنی اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خدا کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔“
(توضیح مرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧)
حالانکہ قرآن شریف میں فرشتوں کا زمین پر آنا زمین سے آسمانوں پر جانا بتصریح بہت سی آیتوں میں مذکور ہے۔ شب قدر میں فرشتوں کا اترنا۔ غزوہ بدر میں فرشتوں کا مسلمانوں کی مدد کے لئے آنا، کس قدر وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں ہے۔ پس ان سب باتوں کا انکار کرنا فرشتوں کا انکار کرنا ہے۔ یہیں سے شب قدر کا انکار بھی ثابت ہو گیا۔
- ٧...... حشر جسمانی اور جنت و دوزخ کا انکار۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ جسم
١٠٧
انسانی غذا کا محتاج ہے اور جب غذا ہوگی تو پاخانہ پیشاب کی حاجت سے مفر نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ جنت و دوزخ لذت و تکلیف روحانی کا نام ہے۔ (دیکھو کتاب جلسۃ المذاہب)
- ٨...... دجال، خردجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج کا انکار۔
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ دجال سے مراد پادری، خردجال سے مراد ریل، دابۃ الارض سے مراد مسلمانوں کے مولوی، یاجوج ماجوج سے مراد اقوام یورپ۔
(ازالۃ اوہام خزائن ج ٣ ص ٤٩٣، ٤٧٢، ٤٧٣)
انہیں خرافات کو لکھتے لکھتے مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھ مارا کہ حضرت محمدﷺ وحی الٰہی کو نہیں سمجھے۔ لہذا ان چیزوں کی مراد بیان کرنے میں ان سے غلطی ہوگئی۔
(ازالہ ص ٤٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
- ٩....... ختم نبوت کا انکار۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ آیت خاتم النبیین کا مطلب یہ
ہے کہ آنحضرتﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ یعنی اب جس کو منصب نبوت ملے گا۔ آپ کی مہر سے ملے گا۔ یعنی وہ آپ کے متبعین میں سے ہوگا۔ دیکھو کتاب استفتاء وغیرہ۔
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
- ١٠....... تناسخ یعنی دوبارہ جنم کا عقیدہ۔ دین اسلام نے اس عقیدہ کی بیخ و بنیاد
اکھاڑ دی ۔ مگر مرزا قادیانی بڑی دھوم سے خود اپنے ہی اندر اس عقیدہ کا مشاہدہ کرا رہے ہیں۔ نبوت بروزی کا لفظ جو بار بار مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے زبان و قلم پر آتا ہے۔ اس کا یہی مطلب ہے۔ مرزا قادیانی اپنے اندر حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ حضرت مسیح علیہم السلام حتی کہ حضرت سید الانبیاءﷺ کے بروز کے قائل ہیں۔ پھر اپنے کو کرشن اوتار بھی فرماتے ہیں۔ تریاق القلوب میں فرماتے ہیں۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
نمونہ اور محض نمونہ کے طور پر یہ دس باتیں (ہم نے ) بیان کیں اور بہت سی چھوڑ دیں۔ مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کا انکار وغیرہ وغیرہ۔
ختم نبوت کی بحث
آنحضرتﷺ پر دور نبوت کا ختم ہو جانا ایک ایسا ضروری اور منصوص، قطعی، مسئلہ
١٠٨
ر جب غذا ہو گی تو پاخانہ پیشاب کی حاجت سے مفر نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ف روحانی کا نام ہے۔ (دیکھو کتاب جلسۃ المذاہب) دجال، خر دجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج کا انکار۔ کہتا ہے کہ دجال سے مراد پادری، خر دجال سے مراد ریل، دابۃ الارض وی، یاجوج ماجوج سے مراد اقوام یورپ۔
(ازالہ اوہام، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣،٤٧٤،٤٩٣)
کو لکھتے لکھتے مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھ مارا کہ حضرت محمد ﷺ وحی الہی کو نا کی مراد بیان کرنے میں ان سے غلطی ہو گئی۔
(ازالہ ص ٤٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
م نبوت کا انکار۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ آیت خاتم النبیین کا مطلب یہ ن کی مہر ہیں۔ یعنی اب جس کو منصب نبوت ملے گا۔ آپ کی مہر سے ان میں سے ہوگا۔ دیکھو کتاب استفتاء وغیرہ۔
(حقیقۃ الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
خ یعنی دوبارہ جنم کا عقیدہ۔ دین اسلام نے اس عقیدہ کی بیخ و بنیاد بڑی دھوم سے خود اپنے ہی اندر اس عقیدہ کا مشاہدہ کرا رہے ہیں۔ ار مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے زبان و قلم پر آتا ہے۔ اس کا یہی اپنے اندر حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ حضرت مسیح علیہم یا ﷺ کے بروز کے قائل ہیں۔ پھر اپنے کو کرشن اوتار بھی فرماتے تے ہیں۔
محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
کے طور پر یہ دس باتیں (ہم نے) بیان کیں اور بہت سی چھوڑ دیں۔ یات کا انکار وغیرہ وغیرہ۔
اور نبوت کا ختم ہو جانا ایک ایسا ضروری اور منصوص، قطعی، مسئلہ ١٠٨
١١٩ اسلام کا ہے کہ کبھی وہم بھی نہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص اسلام کا دعویدار بن کر ختم نبوت کا انکار کر سکے گا یا اس انکار کے بعد پھر اس منکر کو کوئی شخص مسلمان سمجھنے کی جرات کرے گا۔
مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے پر مکر و فریب ڈھٹائی سے اس ناشدنی کفر کا ارتکاب کر کے شریعت الہیہ سے دجالیت کا خطاب حاصل کر لیا اور پھر اپنے کو مسلمان کہتا اور کہلواتا ہے۔
اس موقع پر یہ ظاہر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہیں کہ اس معرکہ میں مرزائی اپنے مرشد سے بھی سبقت لے گئے۔ مرزا کا طرز عمل یہ تھا کہ ابتداء میں تو وہ دعویٰ نبوت سے برملا انکار کرتا رہا اور کہتا رہا کہ: ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ اور ”ہر نبوت را برو شد اختتام“ مگر اس کے بعد بتدریج اس نے نبوت کا دعویٰ شروع کیا۔ اس دعویٰ میں اگر چہ کوئی حد بلند پروازی کی باقی نہیں رہی اور ختم نبوت کا صاف انکار ہے۔ مگر پھر بھی جب کوئی ایسا موقع پیش آجاتا ہے تو نبوت کا اقرار کر لیتا تھا۔ ختم نبوت کے معنی میں البتہ کچھ رکیک تاویلات کرتا تھا۔ اپنے دعویٰ نبوت کو کبھی مجازی کہہ دیتا تھا۔ گو یہ محض اس کا فریب تھا۔ لیکن پھر بھی ایک پردہ تھا۔ برائے نام سہی۔
لیکن مرزائی صاحبان بالخصوص قادیانی پارٹی اس پردہ میں بھی نہ رہی اور کھلم کھلا ختم نبوت کا انکار اور مرزا قادیانی کے نبی ورسول ہونے کا اور اس کے منکرین کے کافر ہونے کا اظہار کر رہی ہے۔
ختم نبوت کی بحث میں علمائے اسلام کی طرف سے متعدد مستقل تصانیف ہو چکی ہیں۔ خاص کر النجم لکھنؤ نمبر ١٣، ج ١٠ جس میں جناب (امام اہل سنت) مولانا محمد عبد الشکور صاحب نے لکھا ہے کہ خلیفہ نور الدین قادیانی نے ممدوح کے مناظرہ کے لئے مولوی سرور شاہ، مفتی محمد صادق میر قاسم علی دہلوی کو لکھنؤ بھیجا اور ان لوگوں نے زبانی مناظرہ سے گریز کر کے تحریری کی خواہش کی۔ چنانچہ ممدوح نے ایک مضمون ختم نبوت پر اور ایک حیات مسیح علیہ السلام پر لکھا جو النجم نمبر مذکور میں درج ہے۔ آج تک کسی مرزائی نے اس کا جواب نہ دیا۔ اب ہم یہاں بہت اختصار کے ساتھ ایک نئے طرز سے چند دلائل لکھتے ہیں۔ کچھ عقلی اور کچھ نقلی اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ طالب حق کے لئے کافی ہوں گے۔
ختم نبوت کی روشن دلیل
- ١...... قرآن مجید کا اعلان عام
قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ”تبیاناً لکل شئ“ فرمایا اور قرآن مجید میں جابجا ١٠٩
صرف آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کو اور آپ کی اتباع کرنے کو نجات کے لئے کافی قرار دیا۔ کہیں یہ نہ فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی اور انبیاء آئیں گے۔ ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ قرآن تو قرآن ، احادیث میں بھی کہیں یہ مضمون نہ فرمایا گیا۔ لہٰذا اگر نبوت ختم نہ مانی جائے تو یہ ایک بہت بڑا نقص قرآن وحدیث دونوں میں ماننا پڑے گا۔
٢...... احادیث اور قرآن میں آپ علیہ السلام کی متعین حیثیت
آنحضرت ﷺ کی شان قرآن کریم میں رحمتہ للعالمین بیان کی گئی ۔ لیکن اگر سلسلہ نبوت ختم نہ ہو تو معاذ اللہ یہ صفت آپ میں باقی نہیں رہتی۔ اس لئے کہ اس صورت میں آدمی باوجود یکہ آپ پر ایمان رکھتا ہو۔ آپ کی تعلیمات پر عمل کرتا ہو۔ نجات سے محروم ہو سکتا ہے۔ بوجہ اس کے کہ اس نے انبیائے مابعد کو نہیں مانا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اپنے نہ ماننے کے سبب سے کافر بنا دیا ہے۔
٣...... مسلمانوں کا اجماع قطعی ہے
کہ رسول خدا ﷺ کے زمانہ سے اس وقت تک ہر زمانہ اور ہر مقام کے مسلمانوں کا اس پر اجماع رہا کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکی۔ جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب، دجال ہے۔ قطعاً کافر ہے اور اس اجماع کی حکایت بھی متواتر ہے۔ جس کا جی چاہے کتب کلام و فقہ وغیرہ دیکھ لے۔
٤...... عقیدہ ختم نبوت عقل سلیم کے عین مطابق ہے
سلسلہ نبوت کے آنحضرت ﷺ کے وقت تک جاری رہنے کے تین سبب ہیں۔
- اوّل...... آپ سے پہلے کسی نبی کی نبوت عام نہ ہوتی تھی۔ ہر نبی ایک خاص قوم اور
خاص بستی کے لئے ہوتا تھا۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ دوسری قوم اور دوسری بستی کے لئے دوسرا نبی مبعوث ہو۔
- دوم...... نبی کی وفات کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی۔ خدا نے کسی
شریعت کے محفوظ رکھنے کا ذمہ نہ لیا تھا۔ لہٰذا ضرورت ہوتی تھی کہ پھر نبی بھیجا جائے اور اس کو نئی شریعت دی جائے یا شریعت سابقہ کی تحریفات کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کی جائے۔
- سوم...... آپ سے پہلے کوئی نبی کامل دین لے کر نہیں آیا تھا۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ
ایک نبی کے بعد دوسرا نبی بھیجا جائے اور دوسری شریعت اترے۔ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید میں ان تینوں امور سے مطمئن کر دیا گیا۔ نبوت بھی آپ
١١٠
کی تمام مخلوق کے لئے عام کی گئی۔ قولہ تعالیٰ آپ کی شریعت کو تحریف وغیرہ نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظو آپ کو دین بھی کامل دیا گیا۔ لہٰذا عقل سلیم بھی چاہتی ہے کہ جب کہ اب نبی کی بعثت بے ضرورت اور فضو اب ایک بات باقی رہ گئی کہ موقوف ہو گیا ہو اس کو از سر نو پھر رائج کرنا اس کے لئے نبی کی ضرورت نہیں اور آ کر دیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: میری امـ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ یہاں تک تو اجماعی اور عقلی قرآنیہ اور احادیث نبویہ دیکھو۔
ختم نبوت قرآن مجید کی روشنی میں
- ٥ ..... "ماکان مـ
وخاتم النبیین (احزاب)" نبی رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ فائدہ: اس آیت میں لفظ خـ ہو جانے پر دلالت کرتی ہے۔ مگر مرزا معنوی کی ہے۔ کبھی تو کہتے ہیں۔ خاتم ہوا کہ حضرت سید الانبیاء ہیں۔ یعنی ان یعنی آپ کے بعد جو نبی ہو گا وہ آپ کا اور کبھی کہتے ہیں کہ میں اس قسم کے خرافات بہت بکے ہیں۔ کـ مستحق نہیں۔ کیونکہ لغت عرب ان کی بمعنی آخر القوم،،مستعمل ہوتا
ایمان لانے کو اور آپ کی اتباع کرنے کو نجات کے لئے کافی قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی اور انبیاء آئیں گے۔ ان پر ایمان لانا بھی ضروری احادیث میں بھی کہیں یہ مضمون نہ فرمایا گیا۔ لہٰذا اگر نبوت ختم نہ مانی جائے قرآن وحدیث دونوں میں ماننا پڑے گا۔
قرآن میں آپ علیہ السلام کی متعین حیثیت
آپ کی شان قرآن کریم میں رحمۃ اللعالمین بیان کی گئی۔ لیکن اگر سلسلہ یہ صفت آپ میں باقی نہیں رہتی۔ اس لئے کہ اس صورت میں آدمی پیدا ہوتا ہو۔ آپ کی تعلیمات پر عمل کرتا ہو۔ نجات سے محروم ہو سکتا ہے۔ بوجہ جس نے مابعد کو نہیں مانا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر بنا ہی دیا۔
اجماع قطعی ہے
نبی ﷺ کے زمانہ سے اس وقت تک ہر زمانہ اور ہر مقام کے مسلمانوں کا آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکی ۔ جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے کافر ہے اور اس اجماع کی حکایت بھی متواتر ہے۔ جس کا جی چاہے لے۔
عقل سلیم کے عین مطابق ہے
آنحضرت ﷺ کے وقت تک جاری رہنے کے تین سبب ہیں۔
سب سے پہلے کسی نبی کی نبوت عام نہ ہوتی تھی۔ ہر نبی ایک خاص قوم اور لہٰذا ضرورت تھی کہ دوسری قوم اور دوسری بستی کے لئے دوسرا نبی مبعوث ہو۔
کی وفات کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی۔ خدا نے کسی نہ لیا تھا۔ لہٰذا ضرورت ہوتی تھی کہ پھر نبی بھیجا جائے اور اس کو نئی سابقہ کی تحریفات کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کی جائے۔
سب سے پہلے کوئی نبی کامل دین لے کر نہیں آیا تھا۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ آجائے اور دوسری شریعت اترے۔
قرآن مجید میں ان تینوں امور سے مطمئن کر دیا گیا۔ نبوت بھی آپ
١١٠
کی تمام مخلوق کے لئے عام کی گئی۔ قولہ تعالیٰ ”كافة للناس بشيراً ونذيراً“
آپ کی شریعت کو تحریف وغیرہ سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری لے لی گئی۔ قولہ تعالیٰ ”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون“
آپ کو دین بھی کامل دیا گیا۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم“
لہٰذا عقل سلیم بھی چاہتی ہے کہ سلسلہ نبوت ختم ہو جانا چاہئے اور عقل سلیم قطعا یہ حکم لگاتی ہے کہ اب نبی کی بعثت بے ضرورت اور فعل عبث ہے۔ ”تعالیٰ الله عن ذلک“
اب ایک بات باقی رہ گئی کہ احکام شرعیہ کا امت میں رائج رکھنا اگر کسی حکم کا رواج موقوف ہو گیا ہو اس کو از سر نو پھر رائج کرنا۔ کوئی نئی بات پیدا ہو گئی ہو اس کو مٹانا تو یہ کام مجدد کا ہے۔ اس کے لئے نبی کی ضرورت نہیں اور آنحضرت ﷺ کو خداوند علیم و حکیم نے اس سے بھی مطمئن کر دیا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: میری امت میں ہمیشہ مجدد ہوتے رہیں گے۔ میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔
یہاں تک تو اجماعی اور عقلی دلیلیں تھیں۔ اب آپ (قدرے تفصیل سے) دلائل قرآنیہ اور احادیث نبویہ دیکھو۔
ختم نبوت قرآن مجید کی روشنی میں
- ٥....... ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله
وخاتم النبيين (احزاب)“ نہیں ہیں محمد ﷺ باپ تم میں سے کسی مرد کے لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔
فائدہ: اس آیت میں لفظ خاتم النبیین کس قدر صاف وصریح طور پر سلسلہ نبوت کے ختم ہو جانے پر دلالت کرتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے خوب دل کھول کر اس کی تحریف معنوی کی ہے۔ کبھی تو کہتے ہیں۔ خاتم بمعنی مہر کے ہے اور مہر سند کے لئے ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ حضرت سند الانبیاء ہیں۔ یعنی اگلے نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں یا انبیائے مابعد کی سند ہیں۔ یعنی آپ کے بعد جو نبی ہوگا وہ آپ کا پیرو ہوگا۔
اور کبھی کہتے ہیں کہ نبیین سے مراد مستقل نبی ہیں۔ یعنی مستقل نبیوں کا آنا ختم ہو چکا۔ اس قسم کے خرافات بہت بکے ہیں۔ مگر یہ سب خرافات دروغ بے فروغ سے زیادہ کسی لقب کے مستحق نہیں۔ کیونکہ لغت عرب ان کی تائید نہیں کرتی۔ تمام اہل لغت لکھتے ہیں کہ: ”خاتم القوم بمعنی آخر القوم“ مستعمل ہوتا ہے۔
١١١
(لسان العرب ج ١٥ ص ٥٥ مطبوعہ مصر) میں ہے۔ ”ختام القوم وخاتمهم آخرهم ومحمد ﷺ خاتم الانبياء“ پھر آگے لکھتے ہیں۔ ”وخاتم النبيين اى آخرهم“ اسی طرح اور کتب لغت میں بھی ہے۔ دیکھو رسالہ ”خاتم النبیین“ اور رسالہ ”ختم النبوۃ“ جو مونگیر خانقاہ رحمانی سے شائع ہوئے۔
ان رسالوں کے دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ تمام مفسرین نے طبقہ اولیٰ سے لے کر اس چودھویں صدی تک اس آیت کی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔ سب نے اس آیت سے ختم نبوت پر استدلال کیا ہے۔ باقی رہا یہ کہ نبی سے نبی مستقل مراد ہیں۔ اوّل تو جب آیت میں قید مستقل کی نہیں تو مرزا قادیانی کو کیا حق ہے کہ اپنی طرف سے اس قید کو بڑھائے۔ دوسرے یہ کہ نبی کی دو قسمیں مستقل اور غیر مستقل مرزا قادیانی کی ایجاد ہیں۔ جو ہرگز کسی مسلمان کے نزدیک قابل سماعت نہیں۔ ابھی آیات قرآنیہ اور ہیں۔ مگر اب میں چند احادیث لکھتا ہوں۔
ختم نبوت احادیث کی روشنی میں
- .......٦ ”انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى
وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مسلم، ترمذی، ابوداود ج ٢ ص ٨٥٤) ﴿ میری امت میں تیس جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ وہ سب دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ﴾
- .......٧ ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى
خلفه نبى آخر وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء (بخاری ج ٢ ص ٥٠) ﴿ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرا نبی ان کا جانشین ہو جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔ ﴾
- .......٨ ”انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى
(بخاری ج ٢ ص ٣٠) ﴿ اے علی تم میری طرف سے اس مرتبہ پر ہو جس مرتبہ پر ہارون، موسیٰ کی طرف سے تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ﴾
- .......٩ ”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم (ابن ماجه ج ٢ ص ٣٤)“
﴿ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ ﴾
- .......١٠ ”لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب (ترمذی ج ٢
ص ٢٠٩) ﴿ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ضرور نبی ہوتے۔ ﴾
١١٢
ج ٥ ص ٥٥ مطبوعہ مصر) میں ہے۔ ”ختام القوم وخاتمہم آخرہم نبیاء“ پھر آگے لکھتے ہیں۔ ”وخاتم النبیین ای آخرہم“ اسی لی ہے۔ دیکھو رسالہ ”خاتم النبیین“ اور رسالہ ”ختم النبوۃ“ جو مونگیر خانقاہ
کے دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ تمام مفسرین نے طبقہ اولیٰ سے لے کر س آیت کی تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔ سب نے اس آیت سے ختم نبوت یا ہے کہ نبی سے نبی مستقل مراد ہیں۔ اوّل تو جب آیت میں قید مستقل کی ت ہے کہ اپنی طرف سے اس قید کو بڑھائے۔ دوسرے یہ کہ نبی کی دو ا مرزا قادیانی کی ایجاد ہیں۔ جو ہرگز کسی مسلمان کے نزدیک قابل آنچہ اور ہیں۔ مگر اب میں چند احادیث لکھتا ہوں۔
روشنی میں
ہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انه نبی بی بعدی (مسلم، ترمذی، ابوداود ج ٢ ص ٨٥٤) ”میری والے ہوں گے۔ وہ سب دعویٰ کریں گے کہ ہم اللہ کے نبی ہیں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾
نت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی نبی بعدی وسیکون خلفاء (بخاری ج ٢ ص ٥٠٠) ”بنی رتے تھے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرا نبی ان کا جانشین ہو ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔﴾
ت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی ے علیؓ تم میری طرف سے اس مرتبہ پر ہو جس مرتبہ پر ہارونؑ، موسیٰؑ بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴾
خر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجه ج ٢ ص ٣٤) ” ی امت ہو۔﴾
ان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (ترمذی ج ٢ ا نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ضرور نبی ہوتے۔﴾
١١٢
١٢٣
(ان احادیث سے بوضاحت تمام ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا) آپ کے بعد سلسلہ نبوت کو غیر مختتم ماننا کفر نہیں تو اور کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی گرفت سے گھبرا کر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت سے انکار کر جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ خواجہ کمال الدین وغیرہ ناواقفوں کے سامنے صاف انکار کر بیٹھتے ہیں کہ نہ ہم مرزا قادیانی کو نبی ورسول مانتے ہیں نہ مرزا قادیانی نے کبھی ایسا دعویٰ کیا۔ لیکن واقف کار کے سامنے یہ منافقانہ حرکت فروغ نہیں پاسکتی۔
”یحلفون باللہ ما قالوا ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامہم“ ﴿اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں کہ نہیں کہا۔ حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو گئے۔﴾
یہ لطیفہ بھی سننے کے لائق ہے کہ مرزائیوں نے آیت قرآنی سے اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ وہ آیت یہ ہے ۔ ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتي فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون“ ﴿اے بنی آدم آئیں گے تمہارے پاس رسول تمہارے جنس سے بیان کریں گے۔ تم سے احکام میرے پس جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اچھے کام کریں گے۔ ان پر کچھ خوف نہ ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔﴾
مرزائی کہتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول ہمیشہ آتے رہیں گے۔ رسولوں کا آنا بند نہیں ہوا۔
جواب، اس کا یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب بنی آدم سے ہے نہ امت محمدیہ سے۔ جیسا کہ الفاظ آیت بتلا رہے ہیں۔ یہ آیت اس وقت کا قصہ بیان کر رہی ہے۔ جب کہ آدم علیہ السلام زمین پر اتارے گئے اور ان کی پشت سے خدا نے ان کی ذریت کو نکالا۔ اس وقت ان سے فرمایا کہ اے بنی آدم الخ پس مطلب یہ ہوا کہ بنی آدم سے روز ازل میں خدا نے وعدہ کیا تھا کہ تم میں رسول آئیں گے۔ چنانچہ آئے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ سے فرمایا کہ تمہارے پاس رسول آئیں گے۔ نہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہمیشہ تا قیام قیامت رسول آیا کریں گے۔ کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا یہ مطلب ہو سکے۔ مرزائیوں کا استدلال اس آیت سے روشن دلیل اس بات کی ہے کہ قرآن کریم سے وہ بالکل بے گانہ ہیں۔
١١٣
حیات مسیح علیہ السلام کی بحث
اس بحث میں بھی مرزائیوں نے عجب خبط کیا ہے اور طرح طرح سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور آخر میں کفر والحاد کی باتیں بکنے لگتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ان کے چند خرافات درج ذیل ہیں۔
مرزائیوں کے عقلی دلائل وفات مسیح پر
مرزائی دلیل نمبر: ١
مسیح علیہ السلام اگر زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے تو وہ کھاتے پیتے کیا ہیں۔ اگر کہو کچھ نہیں تو آیت قرآنی کے خلاف ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”وما جعلناهم جسداً الا یاكلون الطعام “ یعنی ہم نے انسانوں کا ایسا جسم نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور اگر کہو کہ وہ کھاتے ہیں تو کھانا وہاں کہاں؟ اور بالفرض ہو بھی تو جب کھانا کھائیں گے تو پیشاب پاخانہ کی حاجت لازم۔ پیشاب پاخانہ کے لئے کس مقام پر جاتے ہیں؟
جواب
اللہ تعالیٰ خلاف عادت کرنے پر قادر ہے اور خلاف عادت ہی کو معجزہ کہتے ہیں۔ پس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر کچھ نہ کھائیں۔ آیت قرآنی میں جو بیان ہے وہ ایک عام عادت کا بیان ہے۔ خدا نے خلاف عادت عامہ بغیر باپ کے پیدا کیا اور خلاف عادت عامہ زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی طرح خلاف عادت ان کو بغیر کھائے زندہ رکھا۔ خود قرآن مجید میں اصحاب کہف کا تین سو برس تک بغیر کھائے پیئے ایک غار میں سوتے رہنا مذکور ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”ولبثوا في كهفهم ثلث مائة سنين وازدادوا تسعاً “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھاتے ہوں، جنت کی غذائیں ان کو ملتی ہوں، جن میں پاخانہ پیشاب کی حاجت نہیں ہوتی۔
مرزا قادیانی نے اصحاب کہف کے واقعہ کا جو جواب دیا ہو مجھے علم نہیں۔ مگر آخری بات کا جواب یہ دیا ہے کہ جنت کا اور حشر جسمانی کا انکار کر دیا۔ جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ حالانکہ یہ انکار کفر صریح ہے۔
مرزائی دلیل نمبر: ٢
مسیح علیہ السلام کا اتنے دنوں تک زندہ رہنا خلاف عقل ہے۔
١١٤
جواب
ہرگز خلاف عقل نہیں۔ اصحا
مرزائی دلیل نمبر: ٣
مسیح علیہ السلام اگر زندہ ہو لازم آتا ہے۔ کیونکہ آپ کی وفات ہوگ
جواب
ہرگز یہ لازم نہیں آتا۔ آ قانون ایسا نہیں ہے کہ زیادہ عمر والا کم ہوگا۔ ”نعوذ بالله منه“ علی ہذ ہیں۔ مگر باجماع اہل اسلام انبیاء عل
مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ال
مرزائی دلیل نمبر: ٤
مسیح علیہ السلام کا آسمان سے کیسے پار ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نہیں چڑھ سکتا۔ اگر چڑھے تو مر جا
جواب
جواب یہ ہے کہ یہ سب زندہ آسمانوں پر تشریف لے گئے
مرزا قادیانی نے اس قسم کا کشف تھا۔ نہ یہ کہ آپ کہیں نقل کر چکے ہیں۔
مرزائی دلیل نمبر: ٥
مسیح علیہ السلام اگر قر لئے کہ مسیح علیہ السلام بعد نازل ہ چھینی گئی؟ کیا قصور ان سے ہوا او
جواب
ہرگز خلاف عقل نہیں۔ اصحاب کہف کا قصہ شاہد ہے۔
مرزائی دلیل نمبر: ٣
مسیح علیہ السلام اگر زندہ ہوں اور آسمان پر ہوں تو آنحضرت ﷺ سے ان کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ آپ کی وفات ہو گئی اور آپ زمین پر ہیں۔
جواب
ہرگز یہ لازم نہیں آتا۔ آخر مسیح علیہ السلام کو بھی موت آئے گی۔ شریعت میں کوئی قانون ایسا نہیں ہے کہ زیادہ عمر والا کم عمر والے سے افضل کہا جائے۔ ورنہ ابلیس سب سے افضل ہوگا۔ ”نعوذ باللہ منہ“ علی ہذا آسمان پر ہونا بھی افضلیت کی دلیل نہیں۔ فرشتے آسمان پر ہیں۔ مگر باجماع اہل اسلام انبیاء علیہم السلام خصوصاً سید الانبیاء ﷺ ان سے افضل ہیں۔
مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ابلیس اور ملائکہ کے وجود شخصی سے انکار کر دیا۔
مرزائی دلیل نمبر: ٤
مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ جانا ممکن نہیں۔ درمیان میں آگ کا کرہ ہے۔ اس سے کیسے پار ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سائنس سے ثابت ہے کہ فضائے ہوا میں زیادہ دور تک آدمی نہیں چڑھ سکتا۔ اگر چڑھے تو مرجائے۔
جواب
جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں ملحدانہ خرافات ہیں۔ آنحضرت ﷺ شب معراج میں زندہ آسمانوں پر تشریف لے گئے تھے۔
مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں معراج سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ وہ ایک قسم کا کشف تھا۔ نہ یہ کہ آپ کہیں تشریف لے گئے تھے۔ جیسا کہ ہم اوپر مرزا قادیانی کا قول نقل کر چکے ہیں۔
مرزائی دلیل نمبر: ٥
مسیح علیہ السلام اگر قرب قیامت پھر دنیا میں آئیں تو ختم نبوت کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ مسیح علیہ السلام بعد نازل ہونے کے نبی ہوں گے یا نہیں۔ اگر کہو کہ نہیں تو ان کی نبوت کیوں چھینی گئی؟ کیا قصور ان سے ہوا اور اگر کہو کہ ہاں! تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کیسے آیا؟
١١٥
جواب
بیشک وہ نازل ہونے کے بعد نبی ہوں گے جیسے کہ تھے۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ پہلے وہ شریعت موسویہ پر عمل کرتے تھے۔ اب شریعت محمدیہ پر عامل اور اس کے مبلغ ہوں گے۔ لہٰذا رتبہ ان کا گھٹا نہیں بلکہ بڑھ گیا۔ رہا ان کی نبوت کا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہونا۔ یہ بھی محض فریب ہے۔ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت نہیں ملے گی اور حضرت مسیح علیہ السلام کو نبوت پہلے سے ملی ہوئی ہے نہ یہ کہ اب ملی۔ لہٰذا عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف نہ ہوا۔ یہاں تک تو عقلی دلائل تھے۔ اب ذرا نقلی دلائل بھی سن لیجئے۔
مرزائی نقلی دلیل
”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تم کو موت دینے والا ہوں اور تم کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ صلیب پر تمہاری موت نہ ہوگی بلکہ میں تم کو موت طبعی دے کر اپنے پاس بلالوں گا۔
جواب
اس آیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت پر استدلال دو باتوں پر موقوف ہے۔ اوّل یہ کہ توفی جس کا مشتق اس آیت میں ہے موت دینے کے معنی میں ہو۔ دوم یہ کہ توفی رفع یعنی اٹھانے سے پہلے ہو۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں لغت عرب سے ثابت نہیں ہوتیں۔ توفی لغت میں بمعنی موت کے نہیں ہے۔ بلکہ اس کے معنی لغت میں ”پورا لے لینا“ ہیں۔ دیکھو کتب لغت مصباح، قاموس وغیرہ۔ خود قرآن کریم میں یہ لفظ موت کے سوا دوسرے معنی میں مستعمل ہے۔ قولہ تعالیٰ: ”اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا“ اللہ اٹھالیتا ہے جانوں کو بوقت ان کی موت کے اور جو نہیں مرے ان کو سونے کی حالت میں۔ یہ بحث ”صحیفہ رحمانیہ“ کے کئی نمبروں میں اور ”الحق الصریح“ وغیرہ میں بہت مدلل ومبسوط ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ سکتا ہے۔
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اپنے عقیدہ کے خلاف اگر کہیں صریح موت کا لفظ بھی دیکھ لیں تو تاویل ١؎ کردیتے ہیں کہ یہاں حقیقت مرجانا مراد نہیں اور اس آیت میں صریح
١؎ چنانچہ آگے جہاں ہم ترجمہ قرآن کا نمونہ دکھائیں گے معلوم ہوگا کہ کتنی جگہ قرآن شریف میں موت کے لفظ سے مرزائیوں نے مرجانا مراد لیا اور خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ اماتت کے معنی حقیقی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلا دینا اور بے ہوش کرنا بھی ہے۔
(ازالہ ص٩٤٣، خزائن ج٣ ص٦٢١)
١١٦
ہونے کے بعد نبی ہوں گے جیسے کہ تھے۔ فرق صرف یہ ہو گا کہ پہلے وہ تی تھے۔ اب شریعت محمدیہ پر عامل اور اس کے مبلغ ہوں گے۔ لہذا رتبہ رہا ان کی نبوت کا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہوتا۔ یہ بھی محض فریب ہے کہ کسی کو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت نہیں ملے گی اور حضرت مسیح ملی ہوئی ہے نہ یہ کہ اب ملی۔ لہذا عقیدہ ختم نبوت کے خلاف نہ ہوا۔ دلائل تھے۔ اب ذرا نقلی دلائل بھی سن لیجئے۔
انی متوفیک ورافعک الیٰ ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تم کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ بلکہ میں تم کو موت طبعی دے کر اپنے پاس بلالوں گا۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی موت پر استدلال دو باتوں پر موقوف ہے۔ آیت میں ہے موت دینے کے معنی میں ہو۔ دوم یہ کہ توفی رفع یعنی یہ دونوں باتیں لغت عرب سے ثابت نہیں ہوتیں۔ توفی لغت میں بلکہ اس کے معنی لغت میں ”پورا لے لینا“ ہیں۔ دیکھو کتب لغت آن کریم میں یہ لفظ موت کے سوا دوسرے معنی میں مستعمل ہے۔ ”نفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها“ اللہ اٹھا لیتا کے اور جو نہیں مرے ان کو سونے کی حالت میں۔ کے کئی نمبروں میں اور ”الحق الصریح“ وغیرہ میں بہت مدلل لکھ سکتا ہے۔
قادیانی اور مرزائی اپنے عقیدہ کے خلاف اگر کہیں صریح موت کا لفظ دیتے ہیں کہ یہاں حقیقت مرجانا مراد نہیں اور اس آیت میں صریح جو قرآن کا نمونہ دکھائیں گے معلوم ہو گا کہ کتنی جگہ قرآن شریف میں موت لیا اور خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ اماتت کے معنی حقیقی مارنا اور بے ہوش کرنا بھی ہے۔
(ازالہ ص ٩٤٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢١)
١١٦
لفظ موت موجود نہیں تو بھی ضد ہے کہ توفی ہی کی موت کے معنی لے کر حقیقت مرجانا مراد لیں گے۔ بفرض محال ہم مان بھی لیں کہ یہ لفظ یہاں موت کے معنی میں ہے تو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ خدا نے یہ فرمایا ہے کہ: اے عیسیٰ میں تم کو موت دینے والا ہوں۔ موت دینے کا کوئی زمانہ متعین نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ تمام اہل اسلام قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت آئے گی۔
رہی دوسری بات یعنی توفی کا رفع سے پہلے ہونا وہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ لغت عرب میں واو ترتیب کے لئے نہیں آتا۔ چند چیزیں واو کے ساتھ بیان کی جائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو چیز پہلے بیان ہوئی اس کا وقوع بھی پہلے ہے۔ یہ تھا عمدہ نمونہ مرزائیوں کی خرافات کا۔
اہل اسلام کے دلائل حیات مسیح
واضح رہے کہ اہل اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے۔ بلکہ خدا نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ ہیں۔ قریب قیامت پھر دنیا میں آئیں گے اور شریعت محمدی ”علی صاحبها الصلوة والسلام“ کی تعلیم و ترویج کریں گے۔ اس کے بعد ان کو موت آئے گی۔ پس اس عقیدہ میں تین چیزیں جدا جدا ہیں۔
- ١....... مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا۔
- ٢....... مسیح علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا۔
- ٣....... دوبارہ ان کا زمین پر آنا۔
پہلی چیز تو قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ مذکور ہے اور دوسری اور تیسری اس وضاحت کے ساتھ نہیں ہے۔ ہاں صحیح احادیث میں جو بتصریح محدثین حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ نہایت تفصیل و توضیح کے ساتھ مذکور ہیں۔
نمونہ کے طور پر چند آیات و احادیث زیب رقم کی جاتی ہیں۔
دلیل نمبر :١
قال الله تعالیٰ: ”وان من اهل الکتب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩) ﴿ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ضرور ایمان لے آئے گا عیسیٰ پر ان کے مرنے سے پہلے۔﴾
مطلب صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے جتنے اہل
١١٧
کتاب اس وقت ہوں گے سب ایمان لے آئیں گے۔ یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں۔ بلکہ ان کے مرنے سے پہلے ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس وقت کے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ وقت ابھی نہیں آیا۔ اس آیت سے مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نزول بھی مفہوم ہو رہا ہے اور ان کا زندہ ہونا تو صراحۃً مذکور ہی ہے۔
اس آیت میں ”بہ“ اور ”موتہ“ کی ضمیر قطعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی طرف ضمیر کا پھیرنا سیاق آیت کے خلاف ہے اور اہل کتاب کی طرف پھیرنا بالکل نامعقول بات ہے۔ کیونکہ مطلب یہ ہو جائے گا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتا ہے۔ حالانکہ یہ امر مشاہدہ کے خلاف ہے۔ ہزاروں لاکھوں کتابی مر گئے اور مرتے ہیں کوئی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتا اور اگر کہا جائے کہ عین قبض روح کے وقت ایمان لاتے ہیں۔ جب کہ ان کو بولنے کی طاقت نہیں ہوتی تو اس وقت کا ایمان شرعاً معتبر نہیں۔ اس کو ایمان ہی نہیں کہتے۔ ہم نے اس آیت کی تقریر بہت مختصر لکھی۔ اس لئے کہ اس کی نہایت عمدہ تقریر ”الحق الصریح“ میں لکھی ہے۔ جو مولوی محمد بشیر سہسوانی مرحوم نے مرزا غلام احمد کے سامنے بیان کی تھی۔ جس کے جواب سے مرزا عاجز ہو کر دہلی سے بھاگ گیا تھا۔
دلیل نمبر:٢
”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شك منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (النساء:)“ نہیں قتل کیا یہودیوں نے عیسیٰ کو اور نہ صلیب دی ان کو لیکن مشابہ کر دیا گیا۔ (عیسیٰ کے ایک دوسرا شخص) یہودیوں کے لئے اور جولوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور نہیں قتل کیا یہودیوں نے عیسیٰ کو بے شک بلکہ اٹھا لیا عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف۔ ﴾
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قتل اور صلیب دونوں کی نفی کر کے فرمایا بلکہ اللہ نے ان کو اٹھا لیا۔ زبان عرب میں لفظ ”بل“ جب نفی کے بعد آتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ مضمون سابق جس کی نفی کی گئی اس کے خلاف مضمون ”بل“ کے بعد بیان کیا گیا ہے اور اٹھا لینا قتل کے منافی جب ہی ہو سکتا ہے کہ جب زندہ مع جسم اٹھا لینا مراد لیا جائے۔ ورنہ مرتبہ کا بلند کرنا جیسا کہ مرزائی کہتے ہیں۔ قتل کے منافی ہرگز نہیں۔ منافی ہونا چہ معنی، قتل فی سبیل اللہ تو بلندی رتبہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ ١١٨
اس موقعہ پر مرزا ق سبب ہے۔ مگر انبیاء کے لئے مرزا قادیانی کا یہ قول صریح آ السلام بھی مقتول ہوئے۔ قولہ الانبیاء بغیر حق (النساء ہے کہ انبیاء کبھی مقتول نہیں ہو
دلیل نمبر:٣
”ویکلم الناس کریں گے عیسیٰ لوگوں سے گہوا ہوں گے یعنی نبی ہوں گے۔﴾
یہ آیت اس موقع فرزند ارجمند کے فضائل ومناق اوصاف ہوں گے۔
اس آیت میں حضر جو آیت میں ہیں۔ ان تینوں۔ کلام کرنا اور تیسری چیز یعنی نیکو میں کلام کرنا ایک ایسی مافوق ال ہی کیسے کلام کر سکتا ہے۔ قولہ تعا قرآن شریف میں ہے۔ ”عل اور ہر انسان میں نہیں پایا جاتا۔ بھی غیر معمولی وصف کے معنی ہے کہ موافق عقیدہ اہل اسلام انسان نہ پہنچتے ہوں۔ ورنہ جو عم عمر میں کلام کرنا کوئی غیر معمو انسان اس عمر تک پہنچتے ہیں اور ہی کیا ہوا۔ نعوذ باللہ آیت لغوہو
سب ایمان لے آئیں گے۔ یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ مان کے مرنے سے پہلے ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس وقت کے تمام آئیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ وقت ابھی نہیں آیا۔ اس آیت سے مسیح علیہ وم ہو رہا ہے اور ان کا زندہ ہونا تو صراحتہ مذکور ہی ہے۔ بہ“ اور ”موتہ“ کی ضمیر قطعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ف ضمیر کا پھیرنا سیاق آیت کے خلاف ہے اور اہل کتاب کی طرف ہے۔ کیونکہ مطلب یہ ہو جائے گا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے یمان لے آتا ہے۔ حالانکہ یہ امر مشاہدہ کے خلاف ہے۔ ہزاروں تے ہیں کوئی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتا اور اگر کہا وقت ایمان لاتے ہیں۔ جب کہ ان کو بولنے کی طاقت نہیں ہوتی تو ہیں ۔ اس کو ایمان ہی نہیں کہتے ۔ ہم نے اس آیت کی تقریر بہت مختصر بیت عمدہ تقریر ”الحق الصریح“ میں لکھی ہے۔ جو مولوی محمد بشیر سہسوانی سامنے بیان کی تھی۔ جس کے جواب سے مرزا عاجز ہو کر دہلی سے
ما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى ن علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه ودیوں نے عیسیٰ کو اور نہ صلیب دی ان کو لیکن مشابہ کر دیا گیا۔ (عیسیٰ ں کے لئے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اس کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور نہیں قتل کیا لکہ اٹھا لیا عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف۔ ﴾
تعالیٰ نے قتل اور صلیب دونوں کی نفی کر کے فرمایا بلکہ اللہ نے ان کو بل ” جب نفی کے بعد آتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ مضمون سابق ضمون ” بل“ کے بعد بیان کیا گیا ہے اور اٹھا لینا قتل کے منافی جب سم اٹھا لینا مراد لیا جائے۔ ورنہ مرتبہ کا بلند کرنا جیسا کہ مرزا جی کہتے نافی ہوتا چہ معنی قتل فی سبیل اللہ تو بلندی رتبہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ ١١٨
اس موقعہ پر مرزا قادیانی یہ کہتا ہے کہ قتل فی سبیل اللہ غیر انبیاء کے لئے بلندی رتبہ کا سبب ہے۔ مگر انبیاء کے لئے نقص ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ کے لئے بلندی رتبہ منافی قتل ہے۔
مرزا قادیانی کا یہ قول صریح آیات قرآنیہ کے خلاف ہے۔ جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ انبیاء علیہم السلام بھی مقتول ہوئے۔ قولہ تعالیٰ : "ويقتلون النبيين بغير الحق" اور "وقتلهم الانبياء بغير حق (النساء: )" مرزا قادیانی ان سب آیات اور تاریخی واقعات کے خلاف کہتا ہے کہ انبیاء کبھی مقتول نہیں ہوئے اور قتل ہونا خلاف شان نبوت ہے۔ نعوذ بالله منه!
دلیل نمبر :٣
” ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصلحين (آل عمران) “ ﴿ کلام کریں گے عیسیٰ لوگوں سے گہوارہ میں یعنی حالت نوزائیدگی میں اور بڑی عمر میں اور نیکوں میں سے ہوں گے یعنی نبی ہوں گے۔ ﴾
یہ آیت اس موقع کی ہے جب حضرت مریم صدیقہ کو بشارت فرزند کی سنائی گئی تو اس فرزند ارجمند کے فضائل ومناقب بھی ان کو بتائے گئے کہ وہ کوئی معمولی لڑکا نہ ہوگا۔ اس میں یہ یہ اوصاف ہوں گے۔
اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل بیان ہورہے ہیں۔ لہذا تین چیزیں جو آیت میں ہیں۔ ان تینوں سے اس کی فضیلت ثابت ہونی چاہئے۔ چنانچہ پہلی چیز یعنی گہوارہ میں کلام کرنا اور تیسری چیز یعنی نیکوں میں سے ہونا۔ بلاشبہ غیر معمولی فضیلت ہے۔ حالت نوزائیدگی میں کلام کرنا ایک ایسی مافوق العادت صفت ہے جس پر منکروں کو بھی تعجب تھا کہ کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی کیسے کلام کر سکتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : "قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبياً“ یہ پورا واقعہ قرآن شریف میں ہے۔ ”علیٰ ھذا “ نبی ہونا بھی ایک ایسا وصف ہے جو یقیناً قابل تعریف ہے اور ہر انسان میں نہیں پایا جاتا۔ پس ضروری ہوا کہ درمیانی چیز یعنی بڑی عمر میں لوگوں سے کلام کرنا بھی غیر معمولی وصف کے معنی میں لیا جائے اور اس کا غیر معمولی وصف ہونا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ موافق عقیدہ اہل اسلام کے وہ ایک ایسی مدت دراز تک زندہ مانے جائیں کہ اس عمر تک عادۃً انسان نہ پہنچتے ہوں۔ ورنہ جو عمر ان کی بوقت رفع یا بقول مرزائیہ بوقت موت بیان کی جاتی ہے۔ اس عمر میں کلام کرنا کوئی غیر معمولی صفت نہیں۔ بلکہ اوصاف میں شمار کرنے کے قابل ہی نہیں۔ اکثر انسان اس عمر تک پہنچتے ہیں اور لوگوں سے کلام کرتے ہیں۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کمال ہی کیا ہوا۔ نعوذ باللہ آیت لغو ہو گئی۔ جیسا کہ ایک شاعر اپنے محبوب کی تعریف میں کہتا ہے ۔ ١١٩
چشمان تو زیر ابرو ہانند
یعنی تیرے دانت منہ کے اندر ہیں اور تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ بھلا بتلائیے تعریف ہی کیا ہوئی سب کے دانت منہ میں اور سب کی آنکھیں ابرو کے نیچے ہوتی ہیں۔ مرزائی چاہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اس شعر کے مثل ہو جائے خدا کا کلام لغو ہو جائے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت تو ثابت ہو جائے۔
اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ایک ایسی عمر دراز ثابت ہوئی کہ اس عمر تک پہنچنا مثل حالت نوزائیدگی میں کلام کرنے کے خلاف عادت انسانی ہو اور معجزات میں شمار کی جاسکے۔ پھر دوبارہ ان کا نازل ہونا بھی اس سے مفہوم ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا وہ لوگوں کہولت کلام کریں گے۔
دلیل نمبر : ٤
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا (الزخرف:)“ ﴿ تحقیق وہ ( عیسیٰ علیہ السلام ) قیامت کی نشانی ہیں ۔ لہذا تم ہرگز قیامت میں شک نہ کرو۔ ﴾
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو علامت قیامت قرار دیا اور ظاہر ہے کہ ان کی موت علامت قیامت نہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ دوبارہ ان کا نزول پھر ہوگا اور وہ علامت قیامت قرار پائے گا۔ جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علامت قیامت ہونا بغیر ان کی حیات اور نزول کے مانے ہوئے ناممکن ہے۔ لہذا اس آیت سے حیات ونزول دونوں کا ثبوت ہوا۔
انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر بلا قرینہ قرآن شریف کی طرف پھیرنی قواعد زبان عرب ہے اور ایسی تاویلات کا نام تحریف معنوی ہے۔ اگر ایسی تاویلات کا دروازہ کھل جائے تو کسی شخص کا کوئی کلام اپنے اصلی معنی پر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ چار آیتیں ہم نے لکھ دیں اور بہت مختصر ان کی تقریر کردی۔ اب چند احادیث سنئے۔
حضرت مسیح علیہ السلام احادیث کی روشنی میں
دلیل نمبر : ٥
”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير
١٢٠
ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة اقرأؤا ان شئتم وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، مسلم ج ١ ص ٨٧، ابوداؤد، ترمذی) ﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے منصف ہوں گے۔ پھر وہ صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور مال بہتا پھر گا یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہو جائے گا۔﴾
پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر ( قرآن شریف سے اس کی سند ) چاہو تو یہ آیت پڑھو: ”وان من اهل الكتاب الى آخره“ مرزا قادیانی نے اس حدیث پر ایک اعتراض یہ کیا کہ کیا ان احادیث پر اجماع ہو سکتا ہے کہ مسیح آ کر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔
(ازالۃ اوہام ص ٤٤٨، خزائن ج ٣ ص ١٣٣)
اس جاہل سے کوئی پوچھے کہ تو نے کوئی کتاب علم معانی کی نہیں پڑھی تو کیا قرآن میں بھی نہیں دیکھا کہ ”یذبح ابنائهم“ کیا اس آیت پر بھی تو یہی اعتراض کرے گا کہ فرعون اپنے ہاتھ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا پھرتا تھا۔ بادشاہوں کے یہ کام نہیں۔ بلکہ ان کے حکم سے جو کام کیا جائے وہ کام ان کی طرف منسوب ہو جاتا ہے۔
دلیل نمبر : ٦
”عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين الى يوم القيامة فينزل عيسىٰ بن مريم فيقول اميرهم صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (صحیح بخاری)“
﴿حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ حق کے لئے قتال کرتا رہے گا۔ (دشمنوں پر) قیامت تک غالب رہے گا۔ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ ان کا سردار ان سے کہے گا کہ تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھا دیجئے۔ وہ جواب دیں گے آپ نماز پڑھائیں میں مقتدی بنوں گا۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے امام بنو بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ اعزاز دیا ہے۔﴾
فائدہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان اور ان کے سردار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بڑی عزت کریں گے۔ اس کے ساتھ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو ملاؤ کہ قرآن مجید میں پیشین
١٢١
گوئی ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ اسے جھوٹا قرار دیں گے اور اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔
دلیل نمبر: ٧
"عن ابى هريرة مرفوعاً: ليس بينى وبينه يعنى عيسى نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل ويهلك الله المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعون ثم يموت فيصلى عليه المسلمون (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٣٨)“
﴿حضرت ابو ہریرہؓ رسول خدا ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان میں کوئی نبی نہیں اور بے شک وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم انہیں دیکھو تو پہچان لو درمیانہ قد ہوں گے۔ رنگ سرخ وسفید ہوگا۔ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے۔ (بدن شفاف ہوگا) گویا ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تری پہنچی نہ ہو۔ اسلام کے لئے لوگوں سے قتال کریں گے۔ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے۔ ان کے زمانہ میں اللہ سب دینوں کو سوا اسلام کے مٹادے گا اور ان کے زمانہ میں اللہ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ بعد اس کے ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔﴾
فائدہ: شیخ الاسلام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی (فتح الباری ج ١ ص ٦١٠، حدیث ٣٤٣٩) میں اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں: ”روی احمد وابوداؤد باسناد صحيح“ امام احمد بن حنبل اور امام ابوداؤد نے بسند صحیح اس کو روایت کیا ہے۔
دلیل نمبر: ٨
"عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ لقيت ليلة اسرى بی ابراهيم وموسى وعيسى (عليهم السلام) فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها فردوا الامر الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا الامر الى عيسى فقال اما وجبتها فلم يعلمها احد الا الله ذلك وفيما عهد الى ربى عزوجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رآنى ذاب كما يذوب الرصاص (مسند امام احمد ج ١ ص ٣٧٥، مصنف ابن ابی شیبه سنن
١٢٢
بیہقی) ” ﴿ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ مجھے معراج ہوئی۔ میں نے ابراہیم اور موسیٰ سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طر معلوم نہیں۔ پھر سب نے حضرت موسیٰ علیہ کا علم نہیں۔ پھر سب نے حضرت عیسیٰ علیہ کسی کو سوا اللہ کے معلوم نہیں۔ مگر جو احکام یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس وقت میرے پا پگھل جائے گا جیسے سیسہ پگھل جاتا ہے۔
دلیل نمبر: ٩
"عن الحسن انه قال: قـ قال الحسن قال رسول الله ﷺ قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير : ہے کہ انہوں نے آیت ”انی متوفیک“ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواب کی حالت نے یہودیوں سے فرمایا کہ عیسیٰ نہیں مر آنے والے ہیں۔﴾
فائدہ: یہ حدیث اگرچہ مرسل احادیث اس کی مؤید ہیں۔
دلیل نمبر: ١٠
"عن مجمع بن جا الدجال بباب لد . هذا حديث صـ بن عينه وابي برزة وحذيفة بن العاص وجابر وابي امامة وابن مـ والنواس بن سمعان وعمرو بن عـ
﴿ حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے میں (جواب موجودہ اسرائیل کا ائیر پورٹ
اہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ اسے جھوٹا قرار دیں گے دین گے۔
ى هريرة مرفوعاً: ليس بينى وبينه يعنى عيسى نبى وانه ا عرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض كان راسه يقطر فيقاتل الناس على الاسلام يكسر الصليب ويقتل الخنزير يهلك الله فى زمانه الملل ويهلك الله المسيح الدجال فيمكث ن ثم يموت فيصلى عليه المسلمون (ابوداؤد ج٢ ص٢٣٨)“
ل خدا ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان شک وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم میں نازل ہوں تو پہچان لو درمیانہ قد و سفید ہوگا۔ دورنگین کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے۔ (بدن شفاف ہوگا) ا ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تری پہنچی نہ ہو۔ اسلام کے لئے لوگوں سے توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے۔ ان دینوں کو سوا اسلام کے مٹا دے گا اور ان کے زمانہ میں اللہ مسیح دجال کو ہلاک السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ بعد اس کے ان کی وفات ہوگی ماز پڑھیں گے۔ ﴾
الاسلام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی (فتح الباری ج ١ ص٢١٠، حدیث ٣٣٣٩) لکھتے ہیں۔ ”روی احمد وابوداؤد باسناد صحیح“ امام احمد نے بسند صحیح اس کو روایت کیا ہے۔
ن مسعودؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ لقیت لیلۃ اسری بی عیسٰی (علیہم السلام) فتذاکروا امر الساعۃ فردوا امرھم ل لا علم لی بھا فردوا الامر الٰی موسٰی فقال لا علم لی بھا عیسٰی فقال اما وجبتھا فلم یعلمھا احد الا اللہ ذلک وفیما و جل ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا رآنی ذاب کما (مسند امام احمد ج ١ ص ٣٧٥، مصنف ابن ابی شیبہ سنن
١٢٢
بیہقی) ﴿ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ جس شب کو مجھے معراج ہوئی۔ میں نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ سے ملاقات کی۔ پھر کچھ تذکرہ قیامت کا ہوا تو سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے فرمایا مجھے قیامت کا وقت معلوم نہیں۔ پھر سب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا مجھے بھی اس کا علم نہیں۔ پھر سب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا اس کا وقت تو کسی کو سوا اللہ کے معلوم نہیں۔ مگر جو احکام میرے پروردگار نے مجھے دیئے ہیں ان میں ایک بات یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس وقت میرے پاس دو لکڑیاں ہوں گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جیسے سیسہ پگھل جاتا ہے۔ ﴾
(واللفظ لمسند امام احمد)
دلیل نمبر: ٩
”عن الحسن انه قال: في قوله تعالى انى متوفيك يعنى وفاة المنام قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وهو راجع اليكم قبل يوم القيامة (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٤٧٨)“ ﴿ حضرت امام حسن بصری سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت ”انی متوفیک“ میں توفی کے معنی خواب کے بیان کئے ہیں۔ (یعنی خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواب کی حالت میں اٹھالیا) امام حسن بصری نے کہا کہ رسول خدا ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ عیسیٰ نہیں مرے اور بہ تحقیق وہ قیامت سے پہلے تمہارے پاس لوٹ کر آنے والے ہیں۔ ﴾
فائدہ: یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے۔ مگر ثقہ کا مرسل مقبول ہوتا ہے۔ علاوہ اس کے اور احادیث اس کی مؤید ہیں۔
دلیل نمبر: ١٠
”عن مجمع بن جارية عن رسول اللہ ﷺ قال يقتل ابن مريم الدجال بباب لد ٠ هذا حديث صحيح وفى الباب عن عمران ابن حصين ونافع بن عينه وابي برزة وحذيفة بن اسيد وابي هريرة وكيسان وعثمان بن ابی العاص وجابر وابى امامة وابن مسعود وعبدالله ابن عمرو وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان (ترمذى ج ٢ ص ٤٩)“
﴿ حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ ابن مریم دجال کو مقام لد میں (جواب موجودہ اسرائیل کا ائیرپورٹ ہے) قتل کریں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس روایت کو
١٢٣
دیگر حضرات نے جیسے عمران بن حصین اور نافع بن عینیہ اور حضرت ابو برزہ اور حضرت حذیفہ بن اسید اور ابوہریرہ اور حضرت کیسان اور حضرت عثمان بن ابی العاص اور حضرت جابر اور حضرت ابوامامہ وابن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت نواس بن سمعان اور حضرت عمرو بن عوف اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے حدیثیں منقول ہیں ۔ ﴾
فائدہ: یہ سولہ صحابہ ہیں جو رسول خداﷺ سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ زمین پر آنا روایت کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کو ان اصحاب کرام پر بڑا غصہ ہے ۔ توہین انبیاء کی بحث میں ہم نقل کر چکے ہیں کہ اس دریدہ دہن بے تمیز نے کیسی گستاخیاں خاصان خدا کی شان میں کی ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی حدیثیں حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ابن کثیر محدث اپنی تفسیر (ج ٢ ص ١٦٣) میں لکھتے ہیں ۔ ” وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللّٰہ ﷺ انه اخبر بنزول عیسیٰ علیه السلام قبل یوم القیامة اماماً عادلاً “ ﴿یعنی متواتر حدیثیں رسول خداﷺ سے منقول ہیں کہ آپ نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے سردار منصف ہو کر نازل ہوں گے۔﴾
علامہ شوکانی اپنی کتاب توضیح میں لکھتے ہیں: ” وجمیع ما سقناه بالغ حد التواتر کما لا یخفی علی من له فضل اطلاع فتقرر بجمیع ما سقناه فی هذا الباب ان الاحادیث الواردة فی المهدی المنتظر متواترة والاحادیث الواردة فی نزول عیسیٰ متواترة “ ﴿یعنی سب وہ روایتیں جو ہم نے بیان کیں حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ چنانچہ جس کو مزید اطلاع کتب حدیث پر ہے۔ اس سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے۔ پس ہماری اس تمام تقریر سے جو باب ہذا میں ہے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام مہدی کے متعلق حدیثیں متواتر ہیں اور نزول عیسیٰ کے متعلق حدیثیں متواتر ہیں ۔﴾
مرزا قادیانی نے ان بیشمار احادیث کا جواب یہ دیا ہے کہ میں صاحب وحی ہوں۔ مجھے اختیار ہے جس حدیث کو چاہوں رد کردوں۔ خصوصاً جو حدیث میری وحی کے خلاف ہو۔
خدا کا شکر ہے کہ جس قدر مباحث اس رسالہ میں مقصود تھے۔ سب باحسن وجوہ پورے ہوگئے۔ حق تعالیٰ ذریعہ ہدایت بنائے آمین ۔ اب بطور تکملہ کے کچھ تھوڑا سا نمونہ اس ترجمہ قرآن کا پیش کیا جاتا ہے۔ جو خواجہ کمال الدین کی پارٹی نے شائع کیا ہے۔ جس پر ان کو بڑا ناز ہے۔
مرزائیوں کے انگریزی ترجمہ قرآن مجید کا نمونہ
یہ واقعہ بھی کم قابل افسوس نہیں ہے کہ مرزائیوں کی لاہوری پارٹی نے مسلمان بن کر
١٢٤
مسلمانوں سے اپیل کی کہ انگریزی میں کوئی عمدہ ترجمہ قرآن شریف کا نہیں ہے۔ اگر مسلمان معقول رقم چندہ کی فراہم کردیں تو ہم اس کا انتظام کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اطمینان دلایا گیا کہ اس ترجمہ میں کوئی اختلافی بات نہ ہوگی اور مرزا یا مرزائیت کی کسی بات کو اس میں دخل نہ ہوگا۔ مسلمان مطمئن ہوگئے اور انہوں نے بڑی فراخ دلی سے چندہ دیا۔ صرف رنگون سے تقریباً سولہ ہزار روپیہ دیا گیا۔
مرزائیوں نے اس ترجمہ کو لندن میں چھپوایا اور خوب گراں قیمت پر فروخت کیا۔ خیر یہ تو سب ہوچکا۔ لیکن جب وہ ترجمہ دیکھا گیا اور سرتاپا مرزا کی کفریات سے لبریز نکلا اور دیباچہ میں یہ تصریح بھی ملی کہ ترجمہ کرنے والے نے مرزا غلام احمد قادیانی سے ترجمہ کے مطالب کا استفادہ کیا ہے تو اب بتلایئے کہ کیسے صبر کیا جائے۔ کیا یہ صریح خیانت نہیں ہے؟ اور کیا اس خیانت کے بعد بھی اب کوئی عقلمند خواجہ کمال الدین کے اس فریب میں آسکتا ہے کہ ہم ولایت میں تبلیغ اسلام کریں گے۔ ہمیں چندہ دو۔ ہم اپنی تبلیغ میں مرزائیت کی اشاعت نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
یہ ترجمہ قرآن شریف کا بہت کوشش سے دستیاب ہوا۔ اگر پورے ترجمہ کی حالت ظاہر کی جائے تو بہت طول ہو۔ اس لئے حسب ذیل چند باتوں پر کفایت کی جاتی ہے۔
تحریف نمبر:١
دیباچہ ص ٩٤ میں (سرچشمہ تحریف کا پتہ دیتے ہوئے) لکھتے ہیں۔ ”اور بالآخر موجودہ زمانے کے سب سے بڑے رہبر مرزا غلام احمد ساکن قادیان نے میرے دل کو ان سب باتوں سے منور کیا ہے جو اس ترجمہ میں سب عمدہ ہیں۔ میں نے پورا گھونٹ اس چشمہ علم سے پیا ہے جو اس بڑے مصلح، موجودہ صدی کے مجدد، مہدی اسلام اور قائم کنندہ تحریک احمدیت نے جاری کیا ہے۔“
تحریف نمبر:٢
(سورہ بقرہ ص٢٦) آدم علیہ السلام زمین پر پیدا کئے گئے اور جنت میں رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ آرام سے رکھے گئے اور شیطان نے ان کو بہکایا اور جنت سے نکالے گئے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان ان کی حالت میں تبدیلی کا سبب ہوا۔ پھر وہ تکلیف میں رہنے لگے۔ مراد جنت سے زمین پر ایک باغیچہ ہے۔
ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا بلکہ جن تھا۔ اس سے برائی کی طاقت ظاہر کرنا مقصود ہے۔ ابلیس اور شیطان دونوں ایک ہی معنی کے واسطے آتا ہے۔ قرآن لفظ ابلیس کو اس جگہ استعمال کرتا ہے جہاں برے شخص کی برائی محدود رہے اور شیطان کا لفظ اس موقع پر استعمال کرتا ہے جہاں
١٢٥
برے شخص کی برائی دوسرے شخص کی برائی پر بھی اثر کرے۔ درخت جس کے کھانے سے آدم کو منع کیا گیا تھا اس سے مراد برائی ہے۔
تحریف نمبر : ٣
(ص٣٤)
”اضرب بعصاك الحجر “ کا یہ مطلب نہیں کہ پتھر میں لاٹھی مارو پانی نکلنے لگے گا۔ بلکہ مراد یہ کہ پہاڑ میں اپنی قوم کے ساتھ راستہ نکالو۔
تحریف نمبر : ٤
”ورفعنا فوقكم الطور “ مراد ان پر پہاڑ کھڑا کر دینا جو کہ مشہور ہے نہیں ہے۔ یہ بے بنیاد بات ہے کوئی لفظ قرآن کا اس بات کا مؤید نہیں۔ یہ بات رد کر دینے کے قابل ہے۔ پھر ٣٦٥ میں اسی قصہ کے تحت میں لکھا کہ وہ نیچے پہاڑ کے تھے۔ ایک بڑا زلزلہ آیا اور وہ خوف زدہ تھے کہ کہیں الٹ کر گر نہ پڑے۔
تحریف نمبر : ٥
(ص٣٨)
”كونوا قردة خاسئين “ مراد بندر کی شکل بن جانا نہیں اور نہ ایسا ہوا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کے اخلاق بندروں کے جیسے ہو گئے۔
تحریف نمبر : ٦
(سورہ بقرہ ص٤١)
”واذ قتلتم نفساً “ مراد یہ نہیں یہ جو مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک آدمی مارا گیا تھا۔ اس کا قاتل معلوم نہ تھا۔ اس لئے گائے ذبح کر کے اس کے بعض اعضاء اس مقتول کے مارے گئے اور وہ زندہ ہو گیا اور اس نے قاتل کا نام بتلا دیا۔ یہ بات غلط ہے اس کا ثبوت نہیں۔ مراد اس قتل سے ظاہراً مارا جانا عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ یہودیوں کے ہاتھ سے۔
فائدہ : کیسا کفر صریح ہے۔ قرآن کریم تو کہے کہ : ”ما قتلوہ وما صلبوہ “ یعنی یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ صلیب دی اور مرزائی کہتے ہیں کہ وہ یہود کے ہاتھ سے مقتول ہوئے۔ سچ ہے مرزا قادیانی کی تعلیم کے خلاف قرآن کی بات کیسے مان لی جائے۔
رو بسوی خانہ خمار دارد پیر ما
تحریف نمبر : ٧
(سورة البقره ص ٧١)
”ولا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات بل
١٤٦
احیاء“ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو لڑائی میں مارے گئے غلط اور حاسدانہ خیا طرح ہے لوگ مرنے کے بعد زندہ رہتے
تحریف نمبر : ٨
(ص١١٣)
”فقال لهم الل بلکہ بری حالت میں رہنا پھر اچھی حالت ب
تحریف نمبر : ٩
”مما ترك ال موسى ان لوگوں کے دل میں اچھی بات ڈالنا۔
تحریف نمبر : ١٠
”فاماته الله مأة عام ہونا اور بعثت سے مراد پھر ترقی ہونا۔
تحریف نمبر : ١١
”رب ارنی کیف ت تجیی سے مراد ترقی پر آنے والی۔ مراد سوال کیا جواب میں کہا گیا کہ چار چڑ کے پاس بلانے سے دوڑ کر آتی ہیں آجائیں گی اور چار چڑیوں کو مار کر ٹکڑ یہ سب غلط ہے۔
تحریف نمبر : ١٢
(ص١٥١)
”وجدا ع پجاری لوگ تحفہ لایا کرتے تھے۔ خا خدا کی طرف نسبت کردی۔
فائدہ : پھر معلوم نہیں حو هذا“ اے مریم یہ رزق کہاں سے
رے شخص کی برائی پر بھی اثر کرے۔ درخت جس کے کھانے سے آدم کو منع برائی ہے۔
ضرب بعصاك الحجر “ کا یہ مطلب نہیں کہ پتھر میں لاٹھی مارو پانی نہ پہاڑ میں اپنی قوم کے ساتھ راستہ نکالو۔
فوقكم الطور “ مراد ان پر پہاڑ کھڑا کر دینا جو کہ مشہور ہے نہیں ہے۔ لفظ قرآن کا اس بات کا مؤید نہیں۔ یہ بات رد کر دینے کے قابل ہے۔ تحت میں لکھا کہ وہ نیچے پہاڑ کے تھے۔ ایک بڑا زلزلہ آیا اور وہ خوف زدہ ہو گئے۔
ونوا قردة خاسئین “ مراد بندر کی شکل بن جانا نہیں اور نہ ایسا ہوا۔ خلاق بندروں کے جیسے ہو گئے۔
) ” واذ قتلتم نفساً “ مراد یہ نہیں یہ جو مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک ل معلوم نہ تھا۔ اس لئے گائے ذبح کر کے اس کے بعض اعضاء اس وہ زندہ ہو گیا اور اس نے قاتل کا نام بتلا دیا۔ یہ بات غلط ہے اس کا ے ظاہر مارا جانا عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ یہودیوں کے ہاتھ سے۔ صریح ہے۔ قرآن کریم تو کہے کہ : ” ما قتلوه وما صلبوه “ یعنی م کو نہ قتل کیا نہ صلیب دی اور مرزائی کہتے ہیں کہ وہ یہود کے ہاتھ سے قادیانی کی تعلیم کے خلاف قرآن کی بات کیسے مان لی جائے۔
سوی خانہ خمار دارد پیر ما
” (ولا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات بل
١٢٦
١٣٧ احیاء “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو سچائی پر مرے اور یہ مراد لینا کہ جو کافروں کے مقابلہ میں لڑائی میں مارے گئے غلط اور حاسدانہ خیال ہے۔ مراد یہ ہے کہ جیسے سچائی زندہ رہتی ہے۔ اس طرح سچے لوگ مرنے کے بعد زندہ رہتے ہیں۔ یعنی وہ نجات پاتے ہیں ان کو رنج و غم نہیں ہوتا۔
تحریف نمبر : ٨
(ص١١٣) ” فقال لهم الله موتوا ثم احياهم “ مراد مرنے سے حقیقتاً مرنا نہیں بلکہ بری حالت میں رہنا پھر اچھی حالت میں ہو جانا ہے۔
تحریف نمبر : ٩
” مما ترك آل موسیٰ “ مراد تابوت سے دل ہے اور مما ترک سے مراد فرشتوں کا ان لوگوں کے دل میں اچھی بات ڈالنا۔
تحریف نمبر : ١٠
” فاماته الله مأة عام ثم بعثه “ مراد حقیقتاً مرجانا نہیں بلکہ اس قوم کا تنزل میں ہونا اور بعثت سے مراد پھر ترقی ہونا۔
تحریف نمبر : ١١
” رب ارنى كيف تحيى الموتی “ مراد موتی سے قوم تنزل میں پڑی ہوئی اور تحیی سے مراد ترقی پر آنے والی۔ مراد یہ کہ ابراہیم نے تنزل میں پڑی ہوئی قوم کے لئے ترقی کا سوال کیا جواب میں کہا گیا کہ چار چڑیاں پالی جائیں اور مختلف پہاڑوں پر رکھی جائیں تو وہ مالک کے پاس بلانے سے دوڑ کر آتی ہیں۔ اسی طرح قومیں بھی اللہ کو مالک سمجھیں گی تو وہ ترقی پر آ جائیں گی اور چار چڑیوں کو مار کر ٹکڑے کر کے پہاڑ پر رکھنا پھر ان کو بلایا تو زندہ ہو کر چلی آئیں۔ یہ سب غلط ہے۔
تحریف نمبر : ١٢
(ص ١٥١) ” وجدا عندها رزقا “ مراد اس سے کوئی فوق العادت بات نہیں ہے۔ پجاری لوگ تحفہ لایا کرتے تھے۔ خدا کی مہربانی سے وہ تحائف حضرت مریم پاتی تھیں۔ اس لئے خدا کی طرف نسبت کر دی۔
فائدہ: پھر معلوم نہیں حضرت زکریا نے کیوں تعجب سے پوچھا کہ ”یا مریم انی لك هذا “ اے مریم یہ رزق کہاں سے آیا؟
١٢٧
تحریف نمبر : ١٣
(ص١٥٥) ”ویکلم الناس فی المہد وکہلا “ ان کا بات کرنا دونوں حالت میں یہ کوئی معجزہ نہیں۔ بچہ گہوارہ میں بولتا ہے اور بوڑھے بھی بولتے ہی رہتے ہیں۔ مراد خوش خبری سے یہ ہے کہ وہ لڑکا تندرست ہوگا اور جلدی بچپن میں نہیں مرے گا۔
فائدہ : اگر یہی مراد ہے تو پھر قوم کے لوگوں نے کیوں تعجب وانکار سے کہا تھا کہ: ”کیف نکلم من کان فی المہد صبیاً (سورہ مریم:) “ یعنی ہم کس طرح ایسے بچہ سے کلام کریں جو گہوارہ میں ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام سے مراد مطلق آواز نہیں ہے۔ جیسا کہ مترجم مرزائی نے لکھا اور بے معنی آواز کو کلام کہتے بھی نہیں۔ پھر نوزائیدہ بچہ تو سوا رونے کے کسی قسم کی آواز بھی منہ سے نہیں نکالتا۔
تحریف نمبر : ١٤
(ص١٥٦) ”قالت انی یکون لی ولد “ یہ مریم کے الفاظ ہیں۔ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ قانون قدرت کے خلاف بغیر مرد کے حمل رہا ہو۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ مریم کے دوسری اولاد بھی تھیں۔ جن کو کوئی گمان نہیں کرتا کہ قانون قدرت کے خلاف ان کا حمل رہا ہو۔
تحریف نمبر : ١٥
(ص١٥٦) ”انی اخلق لکم من الطین “ یہ کوئی معجزہ نہیں ہے مراد لفظی معنی نہیں ہیں۔ وہ مٹی سے چڑیا نہیں بناتے تھے۔ مراد چڑیا سے وہ شخص ہے جو روحانی حصوں میں بلند ہوتا ہے اور زمین میں نہیں اترتا۔ یعنی لوگوں میں ایسے ہیں کہ جو زمین پر رہتے ہیں اور تعلقات کشفی سے بلند نہیں ہوتے اور دوسرے ایسے ہیں جو روحانی مقامات میں بلند ہو جاتے ہیں۔
تحریف نمبر : ١٦
(ص١٥٧) ”وابری الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ “ مراد روحانی امراض سے اچھا کرنا ہے یہ نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور اندھوں کو اچھا کرتے تھے۔
تحریف نمبر : ١٧
”انی متوفیک ورافعک “ مراد، مار دینا اور عزت بخشنا ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ اس کو آسمان پر اٹھا لیا۔ مطلب یہ کہ وہ مر چکے ہیں۔ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ پھر (ص ٢٤٢) میں لکھا ہے کہ ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے اترنے کے بعد مع قبیلہ بھاگ کر
١٣٨
ويكلم الناس في المهد وكهلا ”ان کا بات کرنا دونوں حالت میں ہوارے میں بولتا ہے اور بوڑھے بھی بولتے ہی رہتے ہیں۔ مراد خوش خبری سے ہوگا اور جلدی بچپن میں نہیں مرے گا۔ یہی مراد ہے تو پھر قوم کے لوگوں نے کیوں تعجب وانکار سے کہا تھا کہ: ن في المهد صبياً (سورہ مریم:) ”یعنی ہم کس طرح ایسے بچہ سے ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کلام سے مراد مطلق آواز نہیں ہے۔ جیسا کہ مترجم تنی آواز کو کلام کہتے بھی نہیں۔ پھر نوزائیدہ بچہ تو سوا رونے کے کسی قسم کی تا۔
قالت انى يكون لى ولد ”یہ مریم کے الفاظ ہیں۔ اس سے یہ نہیں کے خلاف بغیر مرد کے حمل رہا ہو۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ مریم کے کو کوئی گمان نہیں کرتا کہ قانون قدرت کے خلاف ان کا حمل رہا ہو۔
نى اخلق لكم من الطين ”یہ کوئی معجزہ نہیں ہے مراد لفظی معنی نہیں بناتے تھے۔ مراد چڑیا ہے وہ شخص ہے جو روحانی حصوں میں بلند ہوتا تا۔ یعنی لوگوں میں ایسے ہیں کہ جو زمین پر رہتے ہیں اور تعلقات کشفی مرے ایسے ہیں جو روحانی مقامات میں بلند ہو جاتے ہیں۔
ابرى الاكمه والابرص واحى الموتى ”مراد روحانی امراض ہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور اندھوں کو اچھا کرتے تھے۔
ك ورافعك ”مراد، مار دینا اور عزت بخشنا ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ اس یہ کہ وہ مرچکے ہیں۔ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے۔ پھر (ص ٦٣٦) میں ا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے اترنے کے بعد مع قبیلہ بھاگ کر
١٢٨
١٣٩
کشمیر میں چلے آئے تھے یہیں رہے اور یہیں مرے۔
تحریف نمبر:١٨
(ص ١٦٨) ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم“ مراد یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام دوسرے انسانوں کی طرح فانی ہیں اور اگر مراد آدم سے خاص لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ جس طرح آدم خاک سے پیدا کئے گئے پھر چنے گئے اور صاف کئے گئے۔ اسی طرح عیسیٰ بھی خاک سے پیدا کئے گئے اور چنا جانا بھی آدم کی طرح تھا۔ ان دونوں صورتوں میں کوئی ثبوت نہیں کہ وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے اور یہ کہیں سے ثابت نہیں۔
تحریف نمبر:١٩
(ص ٥٦١) ”سبحان الذي اسرى“ رات کو مکہ سے چلے گئے مدینہ کی طرف اور مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد جو بننے والی تھی یا خاص مدینہ کی طرف اشارہ ہے۔ مراد ہجرت ہے۔ یروشلم بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جو نعمت اسرائیلی پیغمبروں کو ملی تھی وہ آپ کو بھی ملے گی۔ مع پاک زمین کے۔ یا برتری و بلندی اسلام مراد ہے۔
تحریف نمبر:٢٠
(ص ٥٧٢) معراج میں اختلاف ہے بڑی جماعت جسمانی کی قائل ہے اور عائشہ ومعاویہ روحانی کے قائل ہیں۔ انہیں کی بات معتبر ہے۔ پہلی بات قابل التفات نہیں۔
فائدہ: بالکل غلط معراج جسمانی کا کوئی منکر نہیں ہے۔ حضرت عائشہ و حضرت معاویہؓ کے انکار کی روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔
تحریف نمبر:٢١
(ص ١٠٢٢) ”وانشق القمر“ چاند کے دو ٹکڑے ہونا طبیعیات کی رو سے غلط ہے۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ چاند کو گہن لگا۔ آدھا گہن سے غائب ہو گیا آدھا باقی رہا۔ یا مراد یہ ہے کہ بات ظاہر ہوگئی اور عربوں کی قوت ٹوٹ گئی۔
یہ تھا نمونہ اس ترجمہ قرآن کا جس کو خواجہ کمال الدین اب شائع کرتے پھرتے ہیں اور پھر اس پر یہ دعویٰ ہے کہ میں مرزائیت کی اشاعت نہیں کرتا۔ جھوٹ بولنا لوگوں کو فریب دینا اس فرقہ کا شیوہ ہے۔ کیوں نہ ہو ان کے پیغمبر کی سنت ہے۔
اس ترجمہ قرآن کو دیکھو علاوہ اس کے اس میں مرزائیت کے کفریات تمام موجود ہیں۔
١٢٩
خود قرآن کریم کے ساتھ کیسا تمسخر کیا گیا ہے اور اس کے الفاظ کو کیسا بگاڑا گیا ہے۔ مسلمانوں سے روپیہ لے کر ان کے گلے پر چھری رکھی گئی۔ خدا بہترین منتقم ہے۔
خاتمہ
اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل وکرم سے سب مباحث ختم ہو گئے۔ اب ہم اس بیان کو خاتمہ کلام بناتے ہیں کہ ہندوستان کے تمام علماء نے بالاتفاق مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے متعلق فتویٰ دیا ہے کہ یہ لوگ قطعاً کافر ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی اسلامی معاملہ جائز نہیں نہ ان کے ساتھ مناکحت درست ہے۔ نہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے۔ نہ ان کو اپنی مسجدوں میں نماز کی اجازت دینی چاہئے۔ نہ ان کے مردہ کو اپنے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ علماء کرام کے یہ فتویٰ تفصیل وار اگر کسی کو دیکھنا ہوں تو رسالہ ”القول الصحيح فی مكائد المسيح“ جو مطبع قاسمی دیوبند ضلع سہارنپور سے ملے گا اور رسالہ ”استنكاف المسلمين عن مخالطة المرزائيين“ جو انجمن حفظ المسلمین امرتسر سے ملے گا مطالعہ کریں۔ ہم یہاں صرف نام ان علماء کے نقل کرتے ہیں جنہوں نے امور مذکورہ بالا پر دستخط کئے ہیں اور فتوے دیئے ہیں۔
آگرہ
(١) جناب مولوی محمد حسام صاحب امام جامع مسجد آگرہ۔ (٢) جناب مولوی سید عبداللطیف صاحب مدرس مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ۔ (٣) جناب مولوی دیدار علی صاحب مفتی جامع مسجد آگرہ۔
الور
(٤) جناب مولوی محمد عمادالدین صاحب سنبھلی۔ (٥) جناب مولوی محمد ابوالبرکات صاحب الوری۔
امرتسر
(٦) جناب مولوی غلام مصطفیٰ صاحب۔ (٧) جناب مولوی محمد جمال صاحب امام دھولی مسجد کوچہ مئی۔ (٨) جناب مولوی عبدالغفور صاحب غزنوی۔ (٩) محمد حسین صاحب مدرس مدرسہ سلفیہ غزنویہ۔ (١٠) جناب مولوی ابواسحاق نیک محمد صاحب مدرس مدرسہ غزنویہ۔ (١١) جناب مولوی تاج الدین صاحب مدرس بی این ہائی سکول۔ (١٢) جناب مولوی سید عطاء اللہ
١٤٠
شاہ صاحب بخاری۔ (١٣) جناب مول صاحب۔ (١٥) جناب مولوی ابوترا صاحب۔ (١٧) جناب مولوی محمد دال پسروری۔ (١٩) جناب مولوی غلام مح اسلامیہ ہائی سکول۔ (٢٠) جناب مول اسلامیہ ہائی سکول۔ (٢١) جناب مول صاحب ایڈیٹر اخبار اہل حدیث۔
آرہ
(٢٣) جناب مولوی ابو محمد طاہر صاحب۔ (٢٥) جناب مولو
آلہ آباد
(٢٦) جناب مولوی ریا مولوی محمد الدین احمد صاحب۔ (٢٩) جناب مولوی ابومحمد عبدالمجید مدرس مدرسہ سبحانیہ (٣١) جناب مو صاحب منڈا روی۔ (٣٣) جناب
بمبئی
(٣٤) جناب مولوی ن دین محمد صاحب مدرس مدرسہ ہاث مدرسہ نظامیہ۔ (٣٧) جناب مولو مولوی سیف الدین صاحب مدر تلیاری مدرس مدرسہ جامع مسجد۔
بدایوں
(٤١) جناب مولوی (٤٣) جناب مولوی محمد حافظ ا
شاہ صاحب بخاری۔ (١٣) جناب مولوی سلطان محمد صاحب۔ (١٤) جناب مولوی سلام الدین صاحب۔ (١٥) جناب مولوی ابوتراب محمد عبدالحق صاحب۔ (١٦) جناب مولوی شمس الحق صاحب۔ (١٧) جناب مولوی محمد داؤد صاحب غزنوی۔ (١٨) جناب مولوی نور احمد صاحب پسروری۔ (١٩) جناب مولوی غلام محمد صاحب مولوی فاضل، منشی فاضل مدرس اول دینیات اسلامیہ ہائی سکول۔ (٢٠) جناب مولوی محمد نور عالم صاحب مولوی فاضل منشی فاضل مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول۔ (٢١) جناب مولوی محمد علی صاحب۔ (٢٢) جناب مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار اہل حدیث۔
آرہ
(٢٣) جناب مولوی ابوطاہر صاحب مدرس اوّل مدرسہ احمدیہ۔ (٢٤) جناب مولوی محمد طاہر صاحب۔ (٢٥) جناب مولوی محمد مجیب الرحمن دربھنگوی۔
آلہ آباد
(٢٦) جناب مولوی ریاست حسین صاحب سابق مہتمم مدرسہ سبحانیہ۔ (٢٧) جناب مولوی محمد الدین احمد صاحب۔ (٢٨) جناب مولوی ولی محمد صاحب مدرس مدرسہ سبحانیہ۔ (٢٩) جناب مولوی ابو محمد عبدالمجید صاحب مدرس سبحانیہ۔ (٣٠) جناب مولوی عبدالرحمن صاحب مدرس مدرسہ سبحانیہ۔ (٣١) جناب مولوی سید محمد صاحب اعظم گڑھی۔ (٣٢) جناب مولوی حسین صاحب منڈاروی۔ (٣٣) جناب مولوی نذیر احمد صاحب۔
بمبئی
(٣٤) جناب مولوی محمد سلیم صاحب صدر مدرس مدرسہ ہاشمیہ۔ (٣٥) جناب مولوی دین محمد صاحب مدرس مدرسہ ہاشمیہ۔ (٣٦) جناب مولوی ظہیر الدین صاحب خطیب مدرس مدرسہ نظامیہ۔ (٣٧) جناب مولوی عبدالمجید صاحب سومالی مدرس مدرسہ نظامیہ۔ (٣٨) جناب مولوی سیف الدین صاحب مدرس مدرسہ نظامیہ۔ (٣٩) جناب مولوی قاضی غلام احمد صاحب تلیاری مدرس مدرسہ جامع مسجد۔ (٤٠) جناب مولوی عبدالمنعم صاحب واعظ خطیب جامع مسجد۔
بدایوں
(٤١) جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب۔ (٤٢) جناب مولوی محمد قدیر الحسن۔ (٤٣) جناب مولوی محمد حافظ الحسن صاحب مدرس مدرسہ محمدیہ۔ (٤٤) جناب مولوی احمد الدین
١٤١
صاحب مدرس مدرسہ شمس العلوم۔ (٤٥) جناب مولوی شمس الدین صاحب قادری فریدی۔ (٤٦) جناب مولوی محمد عبدالحمید صاحب۔ (٤٧) جناب مولوی حسین احمد مدرس مدرسہ اسلامیہ۔ (٤٨) جناب مولوی واحد حسین صاحب۔ (٤٩) جناب مولوی عبدالرحیم صاحب قادری۔ (٥٠) جناب مولوی محمد عبدالماجد صاحب مہتمم مدرسہ شمس العلوم۔ (٥١) جناب مولوی فضل الرحمٰن صاحب ولایتی۔ (٥٢) جناب مولوی عبدالستار صاحب۔
بلند شہر
(٥٣) جناب مولوی محمد مبارک حسین صاحب مدرس مدرسہ قاسم العلوم خورجہ ضلع بلند شہر۔
بنارس
(٥٤) جناب مولوی محمد ابوالقاسم صاحب مدرس مدرسہ عربیہ۔ (٥٥) جناب مولوی محمد شیر خان مدرس۔ (٥٦) جناب مولوی حکیم محمد حسین خاں صاحب۔ (٥٧) جناب مولوی محمد عبداللہ صاحب کانپوری۔ (٥٨) جناب مولوی محمد حیات احمد صاحب۔ (٥٩) جناب مولوی حکیم عبدالمجید صاحب۔
بھوپال
(٦٠) جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب مفتی ریاست (جو بالفعل ملک محروسہ بھوپال کے قاضی شریعت ہیں)
پشاور
(٦١) جناب مولوی محمد عبدالرحمٰن صاحب ہزاروی۔ (٦٢) جناب مولوی مفتی عبدالرحیم صاحب پشاوری۔ (٦٣) جناب مولوی محمود صاحب۔ (٦٤) جناب مولوی عبدالواحد صاحب۔ (٦٥) جناب مولوی محمد صاحب خان پوری۔ (٦٦) جناب مولوی محمد رمضان صاحب پشاوری۔ (٦٧) جناب مولوی حافظ عبداللہ صاحب نقشبندی۔ (٦٨) جناب مولوی عبدالکریم صاحب پشاوری۔
جہلم
(٦٩) جناب مولوی محمد کرم الدین صاحب بھین ضلع جہلم ۔ (٧٠) جناب مولوی نور حسین صاحب بادشاہانی ضلع جہلم ۔ (٧١) جناب مولوی محمد فیض الحسن صاحب بھین ضلع جہلم ۔
١٣٢
دہلی
(٧٢) جناب مولوی محمد کفایت مولوی سید ابوالحسن صاحب ۔ (٧٤) جنا (٧٥) جناب مولوی محمد عبید اللہ صاحب صاحب مدرس مدرسہ مسجد حاجی علی جان دار الہدیٰ ۔ (٧٨) جناب مولوی عبدال (٧٩) جناب مولوی عبدالعزیز صاحب۔ مولوی عبدالسلام صاحب۔ (٨٢) جناب مولوی ابوزبیر محمد یونس صاحب پرتابگڑھ قاسم صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٥ (٨٦) جناب مولوی انتظار حسین صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٨) جناب مولو مولوی عبدالمنان صاحب مدرس مدرس مدرس مدرسہ فتح پوری۔ (٩١) جناب مولو مولوی قطب الدین صاحب مدرس مدر مدرس مدرسہ نعمانیہ۔ (٩٤) جناب مولوی
دیوبند
(٩٥) جناب مولوی محمد سہول صاحب صدر المدرسین۔ (٩٧) جناب صاحب ۔ (٩٩) جناب مولوی محمد انو صاحب۔ (١٠١) جناب مولوی مرتضیٰ ح (١٠٣) جناب مولوی عبدالسمیع صاح (١٠٥) مولوی نور حسن شاہ صاحب (١٠٧) جناب مولوی عبدالرحمٰن صاحب (١٠٩) جناب مولوی ادریس صاحب۔
العلوم ۔ (٤٥) جناب مولوی شمس الدین صاحب قادری فریدی۔ الحمید صاحب۔ (٤٦) جناب مولوی حسین احمد مدرس مدرسہ اسلامیہ۔ حسین صاحب۔ (٤٧) جناب مولوی عبدالرحیم صاحب قادری۔ الماجد صاحب مہتمم مدرسہ شمس العلوم۔ (٥١) جناب مولوی فضل الرحمن اب مولوی عبدالستار صاحب۔
مولوی محمد مبارک حسین صاحب مدرس مدرسہ قاسم العلوم خورجہ ضلع بلند
مولوی محمد ابوالقاسم صاحب مدرس مدرسہ عربیہ۔ (٥٥) جناب مولوی جناب مولوی حکیم محمد حسین خاں صاحب۔ (٥٧) جناب مولوی محمد (٥٨) جناب مولوی محمد حیات احمد صاحب۔ (٥٩) جناب مولوی حکیم
ولوی محمد یحییٰ صاحب مفتی ریاست (جو بالفعل ملک محروسہ بھوپال کے
ولوی محمد عبدالرحمٰن صاحب ہزاروی۔ (٦٢) جناب مولوی مفتی ۔ (٦٣) جناب مولوی محمود صاحب۔ (٦٤) جناب مولوی عبدالواحد لوی محمد صاحب خان پوری۔ (٦٦) جناب مولوی محمد رمضان صاحب لوی حافظ عبداللہ صاحب نقشبندی۔ (٦٨) جناب مولوی عبدالکریم
لوی محمد کرم الدین صاحب بھین ضلع جہلم ۔ (٧٠) جناب مولوی نور جہلم۔ (٧١) جناب مولوی محمد فیض الحسن صاحب بھین ضلع جہلم۔
١٤٢
١٤٣
دہلی
(٧٢) جناب مولوی محمد کفایت اللہ صاحب مدرس مفتی مدرسہ امینیہ۔ (٧٣) جناب مولوی سید ابوالحسن صاحب ۔ (٧٤) جناب مولوی احمد صاحب مدرس مدرسہ حاجی علی جان۔ (٧٥) جناب مولوی محمد عبیداللہ صاحب مدرس مدرسہ دارالہدیٰ۔ (٧٦) جناب مولوی احمد اللہ صاحب مدرس مدرسہ مسجد حاجی علی جان۔ (٧٧) جناب مولوی عبدالرحمٰن صاحب مدرس مدرسہ دارالہدیٰ۔ (٧٨) جناب مولوی عبدالستار صاحب کلانوری مفتی مدرسہ دارالکتاب والسنۃ۔ (٧٩) جناب مولوی عبدالعزیز صاحب۔ (٨٠) جناب مولوی عبدالرحمٰن صاحب۔ (٨١) جناب مولوی عبدالسلام صاحب۔ (٨٢) جناب مولوی ابوتراب عبدالوہاب صاحب۔ (٨٣) جناب مولوی ابوزبیر محمد یونس صاحب پرتاپگڑھی مدرس مدرسہ حاجی علی جان۔ (٨٤) جناب مولوی محمد قاسم صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٥) جناب مولوی ضیاء الحق صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٦) جناب مولوی انظار حسین صاحب مدرس امینیہ۔ (٨٧) جناب مولوی محمد امین صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٨) جناب مولوی عبدالغفور صاحب مدرس مدرسہ امینیہ۔ (٨٩) جناب مولوی عبدالمنان صاحب مدرس مدرسہ فتح پوری۔ (٩٠) جناب مولوی سیف الرحمٰن صاحب مدرس مدرسہ فتح پوری۔ (٩١) جناب مولوی محمد عالم صاحب مدرس مدرسہ فتح پوری۔ (٩٢) جناب مولوی قطب الدین صاحب مدرس مدرسہ فتح پوری۔ (٩٣) جناب مولوی محمد پردل صاحب صدر مدرس مدرسہ نعمانیہ۔ (٩٤) جناب مولوی حکیم ابراہیم صاحب مفتی مدرسہ حسینیہ۔
دیوبند
(٩٥) جناب مولوی محمد سہول صاحب مدرس دارالعلوم ۔ (٩٦) جناب مولانا محمود الحسن صاحب صدر المدرسین۔ (٩٧) جناب مولوی محمد حسن صاحب۔ (٩٨) جناب مولوی شبیر صاحب۔ (٩٩) جناب مولوی محمد انور شاہ صاحب کشمیری ۔ (١٠٠) جناب مولوی سراج احمد صاحب۔ (١٠١) جناب مولوی مرتضیٰ حسن صاحب۔ (١٠٢) جناب مولوی گل محمد خان صاحب۔ (١٠٣) جناب مولوی عبدالسمیع صاحب۔ (١٠٤) مولوی محمد علی اظہر صاحب بلیاوی۔ (١٠٥) مولوی نور حسن شاہ صاحب۔ (١٠٦) جناب مولوی احسان اللہ خان صاحب۔ (١٠٧) جناب مولوی عبدالرحمٰن صاحب پونوی۔ (١٠٨) جناب مولوی نصیر الدین صاحب کوہاٹی۔ (١٠٩) جناب مولوی ادریس صاحب۔ (١١٠) جناب مولوی عزیز الرحمٰن صاحب مفتی دارالعلوم۔
١٤٣
(١١١) جناب مولوی ابراہیم صاحب بلیاوی۔ (١١٢) جناب مولوی سید حسن صاحب۔ (١١٣) جناب مولوی نبیہ حسن صاحب۔ (١١٤) جناب مولوی احمد حسن صاحب کیرانوی۔ (١١٥) جناب مولوی اعجاز علی صاحب۔ (١١٦) جناب مولوی محمد شفیع صاحب لدھیانوی۔ (١١٧) جناب مولوی عبد الماجد صاحب دربھنگوی۔ (١١٨) جناب مولوی عبد الوہاب صاحب کوہانی۔ (١١٩) جناب مولوی علی صغیر صاحب اعظم گڑھی۔ (١٢٠) جناب مولوی محمد اسماعیل صاحب بارہ بنکوی۔ (١٢١) جناب مولوی محمد جان صاحب قزانی روسی۔ (١٢٢) جناب مولوی محمد عبید اللہ صاحب مولوی فاضل سیالکوٹی۔ (١٢٣) جناب مولوی غلام رسول صاحب ملتانی۔ (١٢٤) جناب مولوی ابراہیم صاحب میانوالی۔ (١٢٥) جناب مولوی باز محمد صاحب متوطن ڈیرہ اسماعیل خان۔ (١٢٦) جناب مولوی ادریس صاحب کھرلائی۔ (١٢٧) جناب مولوی عزیز الرحمٰن صاحب نظام پوری۔ (١٢٨) جناب مولوی محمد شفیق صاحب پنجابی۔ (١٢٩) جناب مولوی محمد رفیق صاحب رئیس الحق صاحب بہاولی۔ (١٣٠) جناب مولوی قسیم الدین صاحب میمن سنگی۔ (١٣١) جناب مولوی عبد الحکیم صاحب نواکھالی۔ (١٣٢) جناب مولوی محمد منیر صاحب چاٹ گامی۔ (١٣٣) جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب دربھنگوی۔ (١٣٤) جناب مولوی محمد قربان صاحب بخاری۔ (١٣٥) جناب مولوی رضا صاحب منی پوری۔ (١٣٦) جناب مولوی محمد اسماعیل صاحب نواکھالی۔ (١٣٧) جناب مولوی طفیل احمد صاحب شیرکوٹی۔ (١٣٨) جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب بردوانی۔ (١٣٩) جناب مولوی عزیز اللہ صاحب نواکھالی۔ (١٤٠) جناب مولوی نذیر حسین صاحب امروہی۔ (١٤١) جناب مولوی محمد رمضان صاحب شاہپوری۔ (١٤٢) جناب مولوی منصور علی صاحب مصنف فتح المبین۔ (١٤٣) جناب مولوی سید شریف صاحب ہزاروی۔ (١٤٤) جناب مولوی سعادت علی صاحب گینوی۔ (١٤٥) جناب مولوی عبداللہ صاحب بنوی۔ (١٤٦) جناب مولوی محمد بہرام صاحب ہزاروی۔ (١٤٧) جناب مولوی محمد خالد صاحب بصری عربی۔ (١٤٨) جناب مولوی سلطان محمود صاحب کوٹلہ شیخان ضلع گجرات۔ (١٤٩) جناب مولوی غلام مصطفیٰ صاحب راولپنڈی۔ (١٥٠) جناب مولوی عیسیٰ خان صاحب پشاوری۔ (١٥١) جناب مولوی محمد صدیق صاحب شاہ پوری۔ (١٥٢) جناب مولوی محمد امیر صاحب مظفر نگری۔ (١٥٣) جناب مولوی محمد احمد صاحب اعظم گڑھی۔ (١٥٤) جناب مولوی محمد عبد الحفیظ صاحب دربھنگوی۔ (١٥٥) جناب مولوی حامد اللہ صاحب ملتانی۔ (١٥٦) جناب مولوی محمد عبد المجید ١٤٤
ابراہیم صاحب بلیاوی۔ (١١٢) جناب مولوی سید حسن صاحب۔ نا نبیہ حسن صاحب۔ (١١٤) جناب مولوی احمد حسن صاحب کیرانوی۔ اعجاز علی صاحب۔ (١١٦) جناب مولوی محمد شفیع صاحب لدھیانوی۔ عبدالماجد صاحب دربھنگوی۔ (١١٨) جناب مولوی عبدالوہاب صاحب ب مولوی علی صغیر صاحب اعظم گڑھی۔ (١٢٠) جناب مولوی محمد اسماعیل (١٢١) جناب مولوی محمد جان صاحب قرانوی۔ (١٢٢) جناب مولوی محمد وی فاضل سیالکوٹی۔ (١٢٣) جناب مولوی غلام رسول صاحب ملتانی۔ ابراہیم صاحب میانوالی۔ (١٢٥) جناب مولوی باز محمد صاحب متوطن ڈیرہ ) جناب مولوی ادریس صاحب کملائی۔ (١٢٧) جناب مولوی عزیز الرحمن ١٢٨) جناب مولوی محمد شفیق صاحب پنجابی۔ (١٢٩) جناب مولوی محمد رفیق صاحب بہاولی۔ (١٣٠) جناب مولوی نسیم الدین صاحب میمن سنگی۔ عبدالحکیم صاحب نواکھالی۔ (١٣٢) جناب مولوی محمد منیر صاحب چاٹ مولوی محمد یحییٰ صاحب دربھنگوی۔ (١٣٤) جناب مولوی محمد قربان صاحب مولوی رضا صاحب منی پوری۔ (١٣٦) جناب مولوی محمد اسماعیل صاحب ب مولوی طفیل احمد صاحب شیرکوٹی۔ (١٣٨) جناب مولوی محمد ابراہیم ١١) جناب مولوی عزیز اللہ صاحب نواکھالی۔ (١٤٠) جناب مولوی نذیر ۔ (١٤١) جناب مولوی محمد رمضان صاحب شاہپوری۔ (١٤٢) جناب مصنف فتح المبین۔ (١٤٣) جناب مولوی سید شریف صاحب ہزاروی۔ عادت علی صاحب نگینوی۔ (١٤٥) جناب مولوی عبداللہ صاحب بنوی۔ بہرام صاحب ہزاروی۔ (١٤٧) جناب مولوی محمد خالد صاحب بصری لوی سلطان محمود صاحب کوٹلہ شیخان ضلع گجرات۔ (١٤٨) جناب مولوی نڈی۔ (١٥٠) جناب مولوی عیسیٰ خان صاحب پشاوری۔ (١٥١) جناب ب شاہ پوری۔ (١٥٢) جناب مولوی محمد امیر صاحب مظفرنگری۔ احمد صاحب اعظم گڑھی۔ (١٥٤) جناب مولوی محمد عبدالحفیظ صاحب ب مولوی حامد اللہ صاحب ملتانی۔ (١٥٦) جناب مولوی محمد عبدالمجید ١٤٤
١٤٥ صاحب بریالی۔ (١٥٧) جناب مولوی محمد عبدالرحمن صاحب دربھنگوی۔ (١٥٨) جناب مولوی محمد عتیق اللہ صاحب مظفر پوری۔ (١٥٩) جناب مولوی محمد عبدالحی صاحب میمن سنگی۔ (١٦٠) جناب مولوی نور محمد صاحب میانوالی۔ (١٦١) جناب مولوی عبدالحمید صاحب پشاوری۔ (١٦٢) جناب مولوی شائق صاحب عثمانی۔
ڈھاکہ
(١٦٣) جناب مولوی ابوالفضل محمد حفیظ اللہ صاحب مدرس اعلیٰ مدرسہ ڈھاکہ۔ (١٦٤) جناب مولوی محمد عصام الدین صاحب مدرس۔ (١٦٥) جناب مولوی ابو محمود محمد عبدالرحمن صاحب مدرس اعلیٰ مدرسہ رحمانیہ حمادیہ۔ (١٦٦) جناب مولوی ابو جعفر اختر الدین صاحب مدرس۔ (١٦٧) جناب مولوی عبدالغنی صاحب مدرس۔
راولپنڈی
(١٦٨) جناب مولوی عبدالاحمد صاحب خانپوری۔ (١٦٩) جناب مولوی عبداللہ صاحب مدرس مدرسہ سینیہ۔ (١٧٠) جناب مولوی سید علی اکبر صاحب متصل جامع مسجد۔ (١٧١) جناب مولوی محمد سمیع صاحب مکرانی۔ (١٧٢) جناب مولوی محمد مجید صاحب امام الجمعہ۔ (١٧٣) جناب مولوی محمد عصام الدین صاحب مدرس مدرسہ احیاء العلوم۔ (١٧٤) جناب مولوی عبدالرحمن صاحب ابن مولوی محمد ہدایت اللہ صاحب امام مسجد اہل حدیث۔ (١٧٥) جناب مولوی پیر فقیر شاہ صاحب۔
سہارنپور
(١٧٦) جناب مولوی عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہر علوم۔ (١٧٧) جناب مولانا خلیل احمد صاحب۔ (١٧٨) جناب مولوی ثابت علی صاحب۔ (١٧٩) جناب مولوی عبدالرحمن صاحب۔ (١٨٠) جناب مولوی عبداللطیف صاحب۔ (١٨١) جناب مولوی عبدالوحید صاحب سنبھلی۔ (١٨٢) جناب مولوی ممتاز علی صاحب میرٹھی۔ (١٨٣) جناب مولوی منظور احمد صاحب۔ (١٨٤) جناب مولوی محمد ادریس صاحب۔ (١٨٥) جناب مولوی عبدالقوی صاحب۔ (١٨٦) جناب مولوی محمد فاضل صاحب۔ (١٨٧) جناب مولوی سید عالم صاحب میرٹھی۔ (١٨٨) جناب مولوی علم الدین صاحب۔ (١٨٩) جناب مولوی غلام حبیب صاحب پشاوری۔ (١٩٠) جناب مولوی عبدالکریم صاحب نوگاوی۔ (١٩١) جناب مولوی فصیح الدین صاحب ١٤٥
سہارنپوری۔ (١٩٢) جناب مولوی محمد روشن الدین صاحب محمد پوری۔ (١٩٣) جناب مولوی محمد نورالدین صاحب۔ (١٩٤) جناب مولوی دلیل الرحمٰن صاحب بلوچستانی۔ (١٩٥) جناب مولوی ظریف احمد صاحب مظفرنگری۔ (١٩٦) جناب مولوی حبیب اللہ صاحب۔
رائے پور ضلع سہارنپور
(١٩٧) جناب مولوی نور محمد صاحب لدھیانوی۔ (١٩٨) جناب مولوی شاہ عبدالقادر صاحب شاہ پوری۔ (١٩٩) جناب مولوی مقبول سبحانی صاحب کشمیری۔ (٢٠٠) جناب مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری۔ (٢٠١) جناب مولوی خدا بخش صاحب فیروز پوری۔
(٢٠٢) جناب مولوی محمد سراج الحق صاحب۔ (٢٠٣) جناب مولوی محمد صادق صاحب شاہ پوری۔ (٢٠٤) جناب مولوی احمد شاہ صاحب امام جامع مسجد۔ (٢٠٥) جناب مولوی الہ بخش صاحب بہاول نگر۔ (٢٠٦) جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانہ بھون ضلع سہارنپور۔
سیالکوٹ
(٢٠٧) جناب مولوی ابو یوسف محمد شریف صاحب کوٹلی لوہاراں ۔ (٢٠٨) جناب مولوی ابو الیاس محمد امام الدین صاحب کوٹلی لوہاراں۔ (٢٠٩) جناب مولوی عبدالقادر محمد عبداللہ صاحب امام جامع مسجد کوٹلی۔ (٢١٠) جناب مولوی سید میر حسن کوٹلی لوہاراں۔ (٢١١) جناب مولوی سید فتح علی شاہ صاحب کھرونڈ سیدان۔
شاہجہانپور
(٢١٢) جناب مولوی محمد امتیاز احمد صاحب مدرس اول مدرسہ سعیدیہ۔ (٢١٣) جناب مولوی امید علی صاحب مدرس دوم۔ (٢١٤) جناب مولوی عبدالمجید صاحب پہانوی۔ (٢١٥) جناب مولوی عبدالحمید صاحب پہانوی۔ (٢١٦) جناب مولوی عبدالخالق صاحب مدرس مدرسہ عین العلم۔
کلکتہ
(٢١٧) جناب مولوی عبدالنور صاحب مدرس اوّل مدرسہ دارالہدیٰ۔ (٢١٨) جناب مولوی افاض الدین صاحب۔ (٢١٩) جناب مولوی ابوالحسن محمد عباس صاحب۔ (٢٢٠) جناب مولوی محمد سلیمان صاحب مدرس مدرسہ دارالکتاب والسنۃ شمس العلماء۔ (٢٢١) جناب مولوی مفتی محمد عبداللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ۔ (٢٢٢) جناب مولوی احمد سعید صاحب سہارنپوری۔
١٤٦
(٢٢٣) جناب مولوی عبدالرحیم صاحب۔ (٢٢٥) جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب مدرس دوم صاحب۔ (٢٢٧) جناب مولوی عبدالصمد صاح مولوی صفی اللہ صاحب مدرس۔ (٢٢٩) جناب دارالہدیٰ۔ (٢٣٠) جناب مولوی محمد زبیر صاحب اہل حدیث۔ (٢٣٢) جناب مولوی ابوالبر
(٢٣٣) جناب مولوی عبدالاحد صاحب۔ (٢٣ مدرسہ عالیہ ہوگلی۔
گوجرانوالہ
(٢٣٥) جناب مولوی حافظ محمد ال (٢٣٦) جناب مولوی عبداللہ صاحب عرف غلا نظام آبادی۔ (٢٣٨) جناب مولوی عمر الدین صا (٢٤٠) جناب مولوی احمد علی صاحب بن غلام حسن
گجرات (پنجاب)
(٢٤١) جناب مولوی شیخ عبداللہ صاح ملکہ۔
گورداسپور
(٢٤٣) جناب مولوی عبدالحق صاح صاحب ابن مولوی محمد اعظم صاحب فتح گڑھ ضل صاحب فتح گڑھ۔
لاہور
(٢٤٦) جناب مولوی نور بخش صاحب
لکھنؤ
(٢٤٧) جناب مولوی محمد عبداللہ صا مولوی محمد شبلی صاحب مدرس دوم دارالعلوم ندوہ۔
٧
جناب مولوی محمد روشن الدین صاحب محمد پوری۔ (١٩٣) جناب مولوی محمد (١٩٤) جناب مولوی دلیل الرحمن صاحب بلوچستانی۔ (١٩٥) جناب مولوی ظفر نگری۔ (١٩٦) جناب مولوی حبیب اللہ صاحب۔
رنپور
جناب مولوی نور محمد صاحب لدھیانوی۔ (١٩٨) جناب مولوی شاہ عبدالقادر (١٩٩) جناب مولوی مقبول سبحانی صاحب کشمیری۔ (٢٠٠) جناب مولانا شاہ رائے پوری۔ (٢٠١) جناب مولوی خدا بخش صاحب فیروز پوری۔ محمد سراج الحق صاحب۔ (٢٠٣) جناب مولوی محمد صادق صاحب شاہ مولوی احمد شاہ صاحب امام جامع مسجد۔ (٢٠٥) جناب مولوی الہ بخش ٢٠) جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانہ بھون ضلع سہارنپور۔
اب مولوی ابویوسف محمد شریف صاحب کوٹلی لوہاراں۔ (٢٠٨) جناب م الدین صاحب کوٹلی لوہاراں۔ (٢٠٩) جناب مولوی عبدالقادر محمد عبداللہ کوٹلی۔ (٢١٠) جناب مولوی سید میر حسن کوٹلی لوہاراں۔ (٢١١) جناب مولوی کھرونہ سیدان۔
ب مولوی محمد امتیاز احمد صاحب مدرس اوّل مدرسہ سعیدیہ۔ (٢١٣) جناب ب مدرس دوم۔ (٢١٤) جناب مولوی عبدالمجید صاحب پہانوی۔ دالحمید صاحب پہانوی۔ (٢١٦) جناب مولوی عبدالخالق صاحب مدرس
ب مولوی عبدالنور حب مدرس اوّل مدرسہ دارالہدیٰ۔ (٢١٨) جناب حب۔ (٢١٩) جناب مولوی ابوالحسن محمد عباس صاحب۔ (٢٢٠) جناب مدرس مدرسہ دارالکتاب والسنۃ شمس العلماء۔ (٢٢١) جناب مولوی مفتی رس مدرسہ عالیہ۔ (٢٢٢) جناب مولوی احمد سعید صاحب سہارنپوری۔
١٤٦
(٢٢٣) جناب مولوی عبدالرحیم صاحب۔ (٢٢٤) جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب۔ (٢٢٥) جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب مدرس دوم مدرسہ عالیہ۔ (٢٢٦) جناب مولوی محمد مظہر علی صاحب۔ (٢٢٧) جناب مولوی عبدالصمد صاحب اسلام آبادی شمس العلماء۔ (٢٢٨) جناب مولوی صفی اللہ صاحب مدرس۔ (٢٢٩) جناب مولوی عبدالواحد صاحب مدرس دوم مدرسہ دارالہدیٰ۔ (٢٣٠) جناب مولوی محمد زبیر صاحب۔ (٢٣١) جناب مولوی ضیاء الرحمن صاحب مسجد اہل حدیث۔ (٢٣٢) جناب مولوی ابوالبرکات محمد عبدالرؤف صاحب دانا پوری۔ (٢٣٣) جناب مولوی عبدالاحد صاحب۔ (٢٣٤) جناب مولوی ظہور احمد مدرس جماعت سینئر مدرسہ عالیہ ہوگلی۔
گوجرانوالہ
(٢٣٥) جناب مولوی حافظ محمد الدین صاحب مدرس مسجد حافظ عبدالمنان۔ (٢٣٦) جناب مولوی عبداللہ صاحب عرف غلام نبی۔ (٢٣٧) جناب مولوی محی الدین صاحب نظام آبادی۔ (٢٣٨) جناب مولوی عمر الدین صاحب۔ (٢٣٩) جناب مولوی عبدالغنی صاحب۔ (٢٤٠) جناب مولوی احمد علی صاحب بن غلام حسن صاحب۔
گجرات (پنجاب)
(٢٤١) جناب مولوی شیخ عبداللہ صاحب ملکہ۔ (٢٤٢) جناب مولوی عبیداللہ صاحب ملکہ۔
گورداسپور
(٢٤٣) جناب مولوی عبدالحق صاحب دینا نگری۔ (٢٤٤) جناب مولوی محمد فاضل صاحب ابن مولوی محمد اعظم صاحب فتح گڑھ ضلع گورداسپور۔ (٢٤٥) جناب مولوی محمد عبداللہ صاحب فتح گڑھ۔
لاہور
(٢٤٦) جناب مولوی نور بخش صاحب ایم۔ اے ناظم انجمن نعمانیہ۔
لکھنؤ
(٢٤٧) جناب مولوی محمد عبداللہ صاحب مدرس اعلیٰ ندوۃ العلماء۔ (٢٤٨) جناب مولوی محمد شبلی صاحب مدرس دوم دارالعلوم ندوہ۔ (٢٤٩) جناب مولوی عبدالودود صاحب مدرس
١٤٧
ندوہ۔ (٢٥٠) جناب مولوی امیر علی صاحب مہتمم دارالعلوم ندوہ۔ (٢٥١) جناب مولوی حیدر شاہ صاحب فقیہ دوم دارالعلوم ندوہ۔ (٢٥٢) جناب مولوی عبد الہادی صاحب فرنگی محلی۔ (٢٥٣) جناب مولوی فتح اللہ صاحب مدرس اوّل انجمن اصلاح المسلمین۔ (٢٥٤) جناب مولوی عبدالکریم صاحب قریشی علوی فقیہ اوّل دارالعلوم ندوہ۔
لودھیانہ
(٢٥٥) جناب مولوی علی محمد صاحب مدرس مدرسہ حسینیہ۔ (٢٥٦) جناب مولوی رحمت علی مدرس مدرسہ غزنویہ۔ (٢٥٧) جناب مولوی عبداللہ صاحب مدرس مدرسہ غزنویہ۔ (٢٥٨) جناب مولوی نور محمد صاحب۔ (٢٥٩) جناب مولوی نجم الدین صاحب مہتمم مدرسہ بستان الاسلام۔ (٢٦٠) جناب مولوی محمد آفاق صاحب۔ (٢٦١) جناب مولوی عبدالواحد صاحب۔ (٢٦٢) جناب مولوی عبدالرشید صاحب۔ (٢٦٣) جناب مولوی نظام الدین صاحب۔ (٢٦٤) جناب مولوی نظام اللہ صاحب۔ (٢٦٥) جناب مولوی میاں جی رحمت اللہ صاحب امام مسجد چٹان۔ (٢٦٦) جناب مولوی حبیب الرحمن صاحب۔
مونگیر
(٢٦٧) جناب مولوی محمد عمر صاحب مدرس اوّل مدرسہ انجمن حمایت اسلام۔ (٢٦٨) جناب مولوی حکیم محمد یعقوب صاحب۔ (٢٦٩) جناب مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی۔ (٢٧٠) جناب مولوی محمد عبدالرحمن ہیڈ مولوی ضلع سکول۔ (٢٧١) جناب مولوی محبوب علی صاحب مدرس دوم ضلع سکول۔
ملتان
(٢٧٢) جناب مولوی عبدالحق ملتانوی۔ (٢٧٣) جناب مولوی خدا بخش صاحب۔ (٢٧٤) جناب مولوی محمد صاحب۔
مراد آباد
(٢٧٥) جناب مولوی محمود حسن صاحب مدرس اوّل مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٦) جناب مولوی فخر الدین صاحب مدرس دوم مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٧) جناب مولوی ولایت احمد صاحب مدرس مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٨) جناب مولوی رضوان علی صاحب مدرس مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٩) جناب مولوی کبیر الدین صاحب۔ (٢٨٠) جناب مولوی علی نظر
١٣٨
مولوی امیر علی صاحب مہتمم دارالعلوم ندوہ۔ (٢٥١) جناب مولوی حیدر شاہ ارالعلوم ندوہ۔ (٢٥٢) جناب مولوی عبد الہادی صاحب فرنگی محلی۔ فتح اللہ صاحب مدرس اوّل انجمن اصلاح المسلمین۔ (٢٥٤) جناب مولوی ی علوی فقیہ اوّل دارالعلوم ندوہ۔
جناب مولوی علی محمد صاحب مدرس مدرسہ حسینیہ۔ (٢٥٦) جناب مولوی سہ غزنویہ۔ (٢٥٧) جناب مولوی عبد اللہ صاحب مدرس مدرسہ غزنویہ۔ و محمد صاحب۔ (٢٥٩) جناب مولوی محمد الدین صاحب مہتمم مدرسہ بستان ب مولوی محمد آفاق صاحب۔ (٢٦١) جناب مولوی عبدالواحد صاحب۔ عبدالرشید صاحب۔ (٢٦٣) جناب مولوی نظام الدین صاحب۔ نظام اللہ صاحب۔ (٢٦٥) جناب مولوی میاں جی رحمت اللہ صاحب امام جناب مولوی حبیب الرحمٰن صاحب۔
جناب مولوی محمد عمر صاحب مدرس اوّل مدرسہ انجمن حمایت اسلام۔ حکیم محمد یعقوب صاحب۔ (٢٦٩) جناب مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی۔ ر عبدالرحمٰن ہیڈ مولوی ضلع سکول۔ (٢٧١) جناب مولوی محبوب علی صاحب
ب مولوی عبدالحق ملتانوی۔ (٢٧٣) جناب مولوی خدا بخش صاحب۔ ر صاحب۔
ب مولوی محمود حسن صاحب مدرس اوّل مدرسہ شاہی مسجد۔ ز الدین صاحب مدرس دوم مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٧) جناب مولوی س مدرسہ شاہی مسجد۔ (٢٧٨) جناب مولوی رضوان علی صاحب مدرس ٧٩) جناب مولوی کبیر الدین صاحب۔ (٢٨٠) جناب مولوی علی نظر
١٣٨
١٤٩
صاحب۔ (٢٨١) جناب مولوی ابوالمظفر عبدالرشید صاحب بلند شہری۔ (٢٨٢) جناب مولوی احمد حسن صاحب مدرس دینیات ہیوٹ مسلم سکول۔ (٢٨٣) جناب مولوی ابو حامد محمد نصر اللہ صاحب۔ (٢٨٤) جناب مولوی فرخ بیگ صاحب۔ (٢٨٥) جناب مولوی غلام احمد صاحب۔
ہوشیار پور
(٢٨٦) جناب مولوی غلام محمد صاحب فاضل ہوشیار پور۔ (٢٨٧) جناب مولوی احمد علی صاحب نور محلی۔
حکومت وقت کی رائے
مرزائیوں کا خارج از اسلام ہونا اس درجہ ظاہر ہو گیا کہ علمائے کرام نے اگر فتوٰی دیئے تو کچھ عجب نہیں۔ بات تو یہ ہے کہ سلطنت وقت کو بھی محسوس ہو گیا کہ یہ فرقہ دین اسلام سے خارج ہے اور اس بناء پر اس قسم کے کئی فیصلے ہوئے کہ مرزائیوں کو کوئی حق مسلمانوں کی مساجد میں نماز پڑھنے کا نہیں ہے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں کسی قسم کا حق ہے۔ چنانچہ اس مقام پر ایک فیصلہ جو اخبار ، دی اڑیا کٹک مورخہ ٢٦ / مارچ ١٩١٩ء میں چھپا ہے۔ ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے۔
مقدمہ قادیانی
مسلمانان اڑیسہ ١؎ اب دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک تو سنیوں کی یعنی پکے مسلمانوں کی جماعت ہے۔ دوسری قادیانیوں کی جو پیرو مسائل مرزا غلام احمد ساکن ضلع گورداسپور پنجاب کے ہیں۔ ان دونوں جماعتوں میں اختلاف بہ نسبت استحقاق استعمال مسجد وقبرستان کے شروع ہوا۔ مسٹر ادریئڈ سابق کلکٹر نے باہم صلح کرا دینے کی کوشش کی مگر یہ لوگ راضی نہ ہوئے۔ تکرار بڑھتا گیا اور پھر جیسا قبل سے ہی اندیشہ تھا مقدمہ کی نوبت پہنچی قادیانیوں کے چالان ہوئے اور ضمانت ہوئی۔ سنیوں پر ان کے مقبوضہ قبرستان سے ایک قادیانی عورت کی لاش کو جو وہاں مدفون تھی اکھاڑ کر پھینک دینے کا مقدمہ چلایا گیا۔ مجسٹریٹ نے سنیوں کی سزا مطابق دفعات ٢٩٧، ١٤٧ کے کی اس پر سیشن جج کے یہاں اپیل ہوئی۔ جنہوں نے مدعا علیہم کو بے قصور سمجھا اور رہا کر دیا۔
١؎ مرزا قادیانی بجائے اس کے باشندگان اڑیسہ یا اسی کے ہم معنی اور کوئی لفظ لکھتے تو اچھا تھا۔ کیونکہ قادیانی کسی طرح دائر اسلام میں داخل نہیں ہیں۔
١٣٩
سنیوں کی طرف سے عدالت اپیل میں مسٹر داس نے کام کیا اور معلوم ہوا ہے کہ بغیر فیس کے پوری ہمدردی اور محنت کے ساتھ کام کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ جس میں مسٹر داس نے بے فیس کے کام کیا ہے۔ مثالیں موجود ہیں کہ مسٹر داس نے فریق کی طرف سے جو اپنے مذہبی جائز حقوق کے مطالبہ کے لئے لڑتے ہوں۔ متواتر بہت دنوں تک بے فیس کے پوری محنت کے ساتھ کام کیا اور اس کو بالکل لحاظ نہ کیا کہ فریقین کس مذہب اور ملت کے ہیں۔
اس مقدمہ میں مسٹر داس نے مسلمانوں کی طرف سے کام کیا۔ سنیوں کے ساتھ ساتھ مسٹر داس ان کی اس بلند حوصلگی پر جس کی مثال نہیں مل سکتی ہے مبارک باد دیتے ہیں۔ یہ ہمارے نوجوان وکلا کے لئے ایک سبق ہے۔ اگر مسٹر داس کے اس ایثار سے ان لوگوں نے سبق حاصل نہ کیا تو کسی پند و نصائح سے کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا۔
رائے عدالت
فوج داری اپیل نمبر ١٣، ١٩١٩ء اپیل از فیصلہ بابو۔ آر کے، داس سب ڈویژنل مجسٹریٹ مورخہ ١٠؍فروری ١٩١٩ء، فضل الرحمٰن وغیرہ۔ اپیلانٹ بنام سرکار بہادر۔ رسپانڈنٹ مسٹر ایم ایس داس۔ سی آئی اے وکیل جانب اپیلانٹ بابو ڈی پی داس گپتا وکیل سرکار۔
فیصلہ
لائق سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے ان گیارہ مجرموں کی سزا مطابق دفعات ١٤٧، ١٤٧، ١٤١۔ تعزیرات ہند کے کی ہے اور از روئے دفعہ اوّل قید سخت واسطے دو ماہ ومبلغ پچاس پچاس روپیہ فی کس جرمانہ کا حکم صادر کیا ہے اور موافق دفعہ مابعد کے ایک ماہ قید سخت کا اضافہ کیا ہے۔ ہر دو فریق کے وکلاء نے پورا دن بحث میں لیا اور میرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے اگر صرف ان ضروری ایشوؤں (مباحث) پر جس پر میں روشنی ڈالتا ہوں بحث کی ہوتی تو بہتر تھا۔
مدعیان کا مقدمہ جیسا کہ شہادت سے ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ قادیانی جماعت کے چند افراد نے اپنی جماعت میں سے ایک شخص کی بی بی کو سنیوں کے قبرستان میں مدفون کیا۔ اس کے بعد وہ لوگ قبرستان کے متصل ایک مکان پر گئے۔ جہاں سنیاں کی ایک جماعت نے جس میں اپیلانٹ بھی شریک تھے قادیانیوں پر حملہ کیا۔ دوران ہنگامہ میں دو قادیانیوں کو صدمہ پہنچا۔ ایک کی ناک پر اینٹ کی چوٹ لگی اور دوسرے پر لاٹھی کی ضرب پڑی۔ اپیلانٹ نے لاش کو قبر سے نکال کر اس مکان میں ڈال دیا۔
١٤٠
مقدمہ بوقت تجویز اظہار سنی آئے اور تجہیز میں مزاحمت کی قا اس قریب والے مکان میں پناہ گزیر سے لا کر سنیوں نے اس مکان میں ڈا
مقدمہ بوقت تجویز اظہار سنی آئے اور تجہیز میں مزاحمت کی ، تو اس قریب والے مکان میں پناہ گزیر سے لا کر سنیوں نے اس مکان میں ڈ کہ لاش دفن ہو چکی تھی۔ یہ قرین قیاس دونوں قصوں کو ملانے ۔ ہے۔ لائق مجسٹریٹ نے شہادت کی ہے کہ واقعہ کیا ہوا۔ بہر کیف صرف ہوئے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آ مجرموں کا یہ جواب ہے وجہ سے کہ وہ حرامی تھی۔ یعنی ناجائز یہ نسبت جرم دفعہ ١٤٧ فیصلہ میں رقمطراز ہیں کہ دفن کو رو دفعہ ١٤١ کے مطابق یہ عمدہ اور کافی بیان تحریری وطرز صفائی سے ظاہر نہیں ہوا ہو۔ میرے خیال میں ی طریقہ سے قائم کیا جاتا تو اس کا م حق جو ان (قادیانیوں) کو مسلما کا حاصل ہے جتلاتا تھا۔ اگر چارج (مباحث کرتے کہ ان کو (قادیانیوں کو) حق حاصل ہے اور یہ کہ انہوں نے
رف سے عدالت اپیل میں مسٹر داس نے کام کیا اور معلوم ہوا ہے کہ بغیر ور محنت کے ساتھ کام کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ جس میں مسٹر داس نے مثالیں موجود ہیں کہ مسٹر داس نے فریق کی طرف سے جو اپنے مذہبی جائز لڑتے ہوں ۔ متواتر بہت دنوں تک بے فیس کے پوری محنت کے ساتھ لحاظ نہ کیا کہ فریقین کس مذہب اور ملت کے ہیں۔ مسٹر داس نے مسلمانوں کی طرف سے کام کیا۔ سنیوں کے ساتھ ساتھ حوصلگی پر جس کی مثال نہیں مل سکتی ہے مبارک باد دیتے ہیں ۔ یہ ہمارے سبق ہے۔ اگر مسٹر داس کے اس ایثار سے ان لوگوں نے سبق حاصل نہ کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا۔
یل نمبر ١٣، ١٩١٩ء بابو۔ آر کے، داس سب ڈویژنل مجسٹریٹ ری ١٩١٩ء، فضل الرحمن وغیرہ۔ سرکار بہادر ۔ یم ایس داس سی آئی اے وکیل جانب اپلانٹ با بوڈی پی داس گپتا وکیل سرکار ۔
ڈل مجسٹریٹ نے ان گیارہ مجرموں کی سزا مطابق دفعات ٢٩٧ ، ١٤٧ ، ہے اور از روئے دفعہ اول قید سخت واسطے دو ماہ و مبلغ پچاس پچاس روپیہ یا ہے اور موافق دفعہ ما بعد کے ایک ماہ قید سخت کا اضافہ کیا ہے۔ ہر دو بحث میں لیا اور میرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے اگر صرف ان ضروری پر میں روشنی ڈالتا ہوں بحث کی ہوتی تو بہتر تھا۔ جیسا کہ شہادت سے ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ قادیانی جماعت کے چند افراد ب شخص کی بی بی کو سنیوں کے قبرستان میں مدفون کیا۔ اس کے بعد وہ لوگ پر گئے۔ جہاں سنیوں کی ایک جماعت نے جس میں اپیلانٹ بھی شریک ت ہنگامہ میں دو قادیانیوں کو صدمہ پہنچا۔ ایک کی ناک پر اینٹ کی چوٹ لگی کہ اپیلانٹ نے لاش کو قبر سے نکال کر اس مکان میں ڈال دیا۔
١٤٠
١٥١
مقدمہ بوقت تجویز اطلاع اوّل سے جدا گانہ ہے۔ اطلاع اوّل میں یہ درج پایا ہے کہ سنی آئے اور تجہیز میں مزاحمت کی قادیانی قبرستان سے بھاگے۔ سنیوں نے تعاقب کیا۔ قادیانی اس قریب والے مکان میں پناہ گزین ہوئے اور جب قادیانی باہر آئے تو دیکھا کہ نعش کو قبرستان سے لا کر سنیوں نے اس مکان میں ڈال دیا ہے۔
مقدمہ بوقت تجویز اطلاع اوّل سے جدا گانہ ہے۔ اطلاع اوّل میں یہ درج پایا ہے کہ سنی آئے اور تجہیز میں مزاحمت کی، قادیانی قبرستان سے بھاگے۔ سنیوں نے تعاقب کیا۔ قادیانی اس قریب والے مکان میں پناہ گزین ہوئے اور جب قادیانی باہر آئے تو دیکھا کہ نعش کو قبرستان سے لا کر سنیوں نے اس مکان میں ڈال دیا ہے۔ اطلاع اوّل میں کوئی تذکرہ اس بات کا نہیں ہے کہ نعش دفن ہو چکی تھی۔ یہ قرین قیاس ہے کہ نعش دفن کے لئے قبر کے پاس رکھی گئی تھی۔
دونوں قصوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قبر سے نعش نکالنے کا الزام بعد کی بناوٹ ہے۔ لائق مجسٹریٹ نے شہادت کی ناقابل وثوق حالت پر رائے زنی کی ہے اور یہ پتہ چلنا مشکل ہے کہ واقعہ کیا ہوا۔ بہر کیف صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سنی بغرض روکنے دفن اس عورت کے مجتمع ہوئے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ کوئی جرم بھی ہے؟
مجرموں کا یہ جواب ہے کہ دفن اس وجہ سے نہیں روکا گیا کہ متوفی قادیانی تھی بلکہ اس وجہ سے کہ وہ حرامی تھی۔ یعنی ناجائز شادی کی اولاد تھی۔
یہ نسبت جرم دفعہ ١٤٧ لائق مجسٹریٹ نے ارادہ مشترک نہیں بیان کیا ہے۔ وہ اپنے فیصلہ میں رقمطراز ہیں کہ دفن کو روکنا ہی ارادہ مشترک تھا اور ان کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ دفعہ ١٤١ کے مطابق یہ عمدہ اور کافی ارادہ مشترک ہے۔ ان کی یہ بھی رائے ہے کہ اپیلانٹ کے بیان تحریری وطرز صفائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا کوئی نقصان ارادہ مشترک ہونے سے نہیں ہوا ہو۔ میرے خیال میں بیان تحریری وطرز صفائی متضاد نتیجے ظاہر کرتے ہیں۔ اگر جرم صحیح طریقہ سے قائم کیا جاتا تو اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے تھا کہ مجرموں کا ارادہ مشترک اپنا حق یا فرضی حق جو ان (قادیانیوں) کو مسلمانوں کے قبرستان میں اپنے مردوں کو دفن کرنے سے باز رکھنے کا حاصل ہے جتلاتا تھا۔
اگر چارج (مباحثہ) اس طریقہ سے قائم کیا گیا ہوتا تو مجرمان اس بناء پر اس کی تردید کرتے کہ ان کو (قادیانیوں کو) مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرنے سے باز رکھنے کا حق حاصل ہے اور یہ کہ انہوں نے صرف قادیانیوں کو ان کے فرضی حق کو جتلانے کی کوشش سے باز
١٤١
رکھا ہے۔ چارج غلط قائم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرموں کی توجہ اس طرف بالکل نہیں ہوئی اور ان لوگوں نے صرف اسی بات کی تردید کرنی کافی سمجھی کہ انہوں نے ایک حرامی کے دفن کو روکا ہے۔ یہ ایک صفائی ہے جو چارج کہ جس طرح سے قائم ہوا ہے اور ارادہ مشترک کو، جو لائق مجسٹریٹ نے بیان کیا ہے بالکل مطابق ہے۔ میں نے بھی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے ابتدائی پادریوں کی تقلید صحیح چارج کے عنوان تک پہنچنے میں کی ہے۔ جس میں کہ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ سنیوں اور قادیانیوں کے باہمی جھگڑے کا ہے۔ کہ آیا قادیانی مستحق اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے ہیں۔ لیکن سنیوں کی شہادت سے پتہ نہیں چلتا کہ مجرموں کی مخالفت کی یہی وجہ تھی۔ گواہان کے بیان سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مجرموں نے اس بناء پر مزاحمت کی کہ قادیانیوں کو کوئی حق قبرستان میں دفن کرنے کا نہیں تھا۔ یہ بالکل نہیں بیان کیا جاتا کہ مجرموں نے آیا قادیانی یا حرامی ہونے کی وجہ سے روکا تو پھر مجرموں کو کیونکر پتہ چلتا کہ وہ لوگ حق کو جتلانے کی وجہ سے (جو ظاہر نہیں کیا جاتا ہے) مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔
”قادیانی“ مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف فرقہ ہے اور پکے مسلمان اپنے قبرستان کا قادیانیوں کے لئے استعمال کیا جانا پسند نہیں کرتے اور وہ ان کو ذات، برادری سے خارج خیال کرتے ہیں۔ (رپورٹ مردم شماری ج ١ پارہ ٦٥٥) صرف چند سال ہوئے کہ یہ فرقہ اڑیسہ میں ظاہر ہوا ہے۔ مدعیوں کے گواہ نمبر ٢ کی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانیوں اور پکے مسلمانوں کا اختلاف گذشتہ جنوری سے پہلے نمایاں نہیں ہوا۔
قادیانیوں کے مسلمانوں کے قبرستان کے استعمال کرنے کے مستحق ہونے کی شہادت کو ان وجوہات کے ساتھ غور کرنا چاہئے اور وہ شہادت کیا ہے۔ عام طور پر صرف یہ ایک دعویٰ ہے کہ قادیانیوں نے اس قبرستان کو اب تک استعمال کیا ہے۔ اس قسم کی شہادت بیرون مقدمہ ہے۔ صرف سوال یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس کو بحیثیت قادیانی کے استعمال کیا ہے یا نہیں۔
مدعیوں کا گواہ نمبر ٥ بیان کرتا ہے کہ قادیانی وسنی اس قبرستان کو استعمال کرتے ہیں۔ گواہ نمبر ٨ بھی یہی کہتا ہے۔ دوسرے دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ متوفی کی ایک لڑکی تیرہ سالہ دو ماہ قبل اس واقعہ کے اس میں دفن ہوئی ہے۔
حاصل کلام تمام شہادتوں کا یہی ہے کہ قادیانی مستحق استعمال کرنے اس قبرستان کے ہیں اور وکیل سرکار کہتے ہیں کہ اس شہادت کی تردید نہیں ہوئی ہے۔ مگر ان کا ایسا کہنا تعصب کی بناء پر ہے۔ اگر جرم صحیح طور پر قائم کیا جاتا تو مجرموں کو ضرور معلوم ہوا ہوتا کہ اس شہادت کی تردید کرنی
١٤٢
قائم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرموں کی توجہ اس طرف بالکل نہیں ہوئی اور ان بات کی تردید کرنی کافی سمجھی کہ انہوں نے ایک حرامی کے دفن کو روکا ہے۔ یہ نیز یہ کہ جس طرح سے قائم ہوا ہے اور ارادہ مشترک کو، جو لائق مجسٹریٹ نے نکالا ہے۔ میں نے بھی مجسٹریٹ کے فیصلہ کے ابتدائی پیراگرافوں کی تقلید صحیح سمجھی ہے۔ جس میں کہ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ سنیوں اور جھگڑے کا ہے۔ کہ آیا قادیانی مستحق اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان حق ہے۔ لیکن سنیوں کی شہادت سے پتہ نہیں چلتا کہ مجرموں کی مخالفت کی یہی وجہ تھی۔ صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مجرموں نے اس بناء پر مزاحمت کی کہ قبرستان میں دفن کرنے کا حق نہیں تھا۔ یہ بالکل نہیں بیان کیا جاتا کہ مجرموں نے ان کو کیوں روکا تو پھر مجرموں کو کیونکر پتہ چلتا کہ وہ لوگ حق کو جتلانے کی کوشاں تھے) مجرم قرار دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف فرقہ ہے اور پکے مسلمان اپنے قبرستان کا استعمال کیا جانا پسند نہیں کرتے اور وہ ان کو ذات، برادری سے خارج خیال کرتے ہیں۔ (مردم شماری ج ١ پارہ ٣٥٥) صرف چند سال ہوئے کہ یہ فرقہ اڑیسہ میں آیا ہے۔ گواہ نمبر ٢ کی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانیوں اور پکے مسلمانوں کا جھگڑا اس سے پہلے نمایاں نہیں ہوا۔ پکے مسلمانوں کے قبرستان کے استعمال کرنے کے مستحق ہونے کی شہادت پیش کرنا چاہتے اور وہ شہادت کیا ہے۔ عام طور پر صرف یہ ایک دعوٰی ہے کہ انہوں نے اس قبرستان کو اب تک استعمال کیا ہے۔ اس قسم کی شہادت بیرون مقدمہ ہے۔ گواہ نمبر ٥ بیان کرتا ہے کہ قادیانی و سنی اس قبرستان کو استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ متوفی کی ایک لڑکی تیرہ سالہ دو ماہ قبل اس جگہ دفن کی گئی ہے۔ خلاصہ تمام شہادتوں کا یہی ہے کہ قادیانی مستحق استعمال کرنے اس قبرستان کے نہیں ہیں۔ گو اس شہادت کی تردید نہیں ہوئی ہے۔ مگر ان کا ایسا کہنا تعصب کی بناء پر ہے۔ اگر جرم قائم کیا جاتا تو مجرموں کو ضرور معلوم ہوا ہوتا کہ اس شہادت کی تردید کرنی ١٤٢
١٥٣ ضروری ہے۔ بوجوہات صدر میں اس شہادت کو قابل وثوق نہیں سمجھتا اور تجویز کرتا ہوں کہ مدعیان اس کے ثابت کرنے میں کہ قادیانی مستحق اس قبرستان کے استعمال کے ہیں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے جہاں تک مدعیوں کی شہادت سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ نہیں معلوم ہوتا کہ مجرمان دفن کے روکنے میں حق بجانب نہیں تھے۔ وہ لوگ کسی حق کے جتلانے میں کوشاں نہیں تھے۔ بلکہ اپنے حق کے قائم رکھنے میں اور اس لئے مدعیان جرم کے کسی جز کو دفعہ ١٤١ کے مطابق ٹھہرانے میں ناکام رہے۔ اس لئے سزا مطابق ١٤٧ کے قائم نہیں رہ سکتی۔ دفعہ ٢٩٧ کے بارے میں قبل بھی لکھ چکا ہوں کہ حقیقت میں لاش اکھاڑی نہیں گئی۔ مجرموں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ نعش کو قبرستان سے باہر کر دیا یہ مانتے ہوئے کہ جس پر میں مجبور ہوں کہ قادیانیوں کو کوئی حق اس قبرستان کو استعمال کرنے کا نہیں تھا۔ میں یہ تجویز نہیں کر سکتا ہوں کہ واقعات جو پیدا ہوئے۔ جرم مطابق دفعہ ٢٩٧ کے ہو سکتے ہیں۔ اس لئے میں مجرموں کو رہا کرتا ہوں۔
هذا آخر الكلام فى هذا المقام والحمد لله تعالى والصلوة على النبى وآله تتوالى!
اشعار
بنمائے بصاحب نظرے گوہر خود را عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرچند
١
خدائی چھوڑ کر احمد بنا تو رسول حق کا ہم نام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے ظلام مرزا
تیری تکذیب کی شمس و قمر نے ہوا حجت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیش گوئی جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
١٤٣
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
نہ کہتا کچھ اگر منہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
گلے میں اب ترے رسا پڑے گا سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
سزا بھی کم سے کم اتنی تو ہوگی کہ ہو جائے تجھے سرسام مرزا
ہے سولی اور پھانسی کار سرکار رعایا کا نہیں یہ کام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا پڑا کہلا نبی تام مرزا
کہ اک بھائی ہے مرشد بھنگیوں کا اور اک ہجڑوں کا ہے امام مرزا
کہا اسلامیوں نے خلف پاکر ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
تو ہے اک انبیائے بطل میں سے سلف کو دے رہے دشنام مرزا
زمین و آسماں قائم ہیں اب تک ترے وہ مٹ گئے احلام مرزا
براہین سے ٹھگے تو نے مسلماں کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
بحمدللہ کہ چھپ کر فتح وتوضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
در توبہ ہے وا ہو جا مسلماں یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
١۔ یہ اشارہ ہے مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کی طرف جو انہوں نے اپنے اشتہار مرقومہ ١٨؍اپریل ١٨٨٢ء میں کی تھی کہ: ”خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ جس کا نام عموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس لڑکے کے اوصاف مرزا قادیانی نے کئی سطروں میں لکھے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا۔ مسیح نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ یکم اگست ١٨٨٧ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ وہ لڑکا میرے یہاں پیدا ہو گیا اور اس پر بڑی تحدی مخالفوں کو کی۔ مگر وہ لڑکا سولہ مہینہ کی عمر میں مر گیا اور مرزا کا کذب سب پر ظاہر ہو گیا۔ تو یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا نام ”حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر“ رکھا۔ اس رسالہ میں خود اپنی شائع کردہ تحریر کے خلاف بڑی بیباکی سے مرزا قادیانی نے لکھا کہ میں نے یہ ہرگز نہیں لکھا کہ وہ فرزند موعود یہی لڑکا ہے۔ اس دلیری سے جھوٹ بولنا حقیقتاً مرزا قادیانی ہی کا حصہ تھا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
١٤٤
کو زندہ درگور دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
پھر بھی مرزا یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
نہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
رسوا پڑے گا سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
اتنی تو ہوگی کہ ہو جائے تجھے سرسام مرزا
ی کار سرکار رعایہ کا نہیں یہ کام مرزا
کو واسطہ کیا پڑا کہلا نبی تام مرزا
شد بھنگیوں کا اور اک ہجڑوں کا بے اندام مرزا
خلف پاکر ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
ئل میں سے سلف کو دے رہے دشنام مرزا
ہیں اب تک ترے وہ ٹل گئے احلام مرزا
نے مسلماں کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
فتح و توضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
جا مسلماں یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
رزا قادیانی کی اس پیش گوئی کی طرف جو انہوں نے اپنے اشتہار کی تھی کہ: ”خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا ور بشیر بھی ہے۔ اس لڑکے کے اوصاف مرزا قادیانی نے کئی سطروں بند یہ ہیں۔ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا۔ مسیحی نفس اور روح بیماریوں سے صاف کرے گا۔ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔ علوم ظاہری اگست ١٨٨٦ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ وہ لڑکا میرے تحدی مخالفوں کو کی۔ مگر وہ لڑکا سولہ برس کی عمر میں مر گیا اور مرزا کا کم دسمبر ١٨٨٨ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا نام ہر“ رکھا۔ اس رسالہ میں خود اپنی شائع کردہ تحریر کے خلاف بڑی یا کہ میں نے یہ ہرگز نہیں لکھا کہ وہ فرزند موعود یہی لڑکا ہے۔ اس ا قادیانی ہی کا حصہ تھا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
١٤٤
٢
ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم یہ ریل جو تیرا خر چھٹی ستمبر کی ١
ذلیل و خوار ندامت چھپا رہی تھی کہ تھا تیرے مریدوں میں محشر چھٹی ستمبر کی
یہ لودھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی کہ جینا ہوگیا دوبھر چھٹی ستمبر کی
سو برس کے تھے امیدوار سب مایوس مرید اعرج واعور چھٹی ستمبر کی
مسیح و مہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی تھی گھر گھر چھٹی ستمبر کی
ہے روسیاہ مثیل مسیلم واسود ملاحدہ کا وہ رہبر چھٹی ستمبر کی
یہ قادیانی کی تذلیل کے لئے تھی نہ تھا مباہلہ کا اثر گر چھٹی ستمبر کی
عیسائیوں کا ایک اشتہار بھی ملاحظہ ہو
خاتمہ ہوگا اب نبوت کا پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
رسول قادیانی کو پھر الہام ہوا
نہ باز آیا تو کچھ بکنے سے اب بھی بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر یہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
نچاویں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
٤
آتھم اب زندہ ہیں آکر دیکھ لو آنکھوں سے خود بات یہ کب چھپ سکے ہے اب چھپائی آپ کی
١ اشارہ ہے مرزا قادیانی کے اس قول کی طرف کہ اس نے لکھا ہے کہ خردجال ۔ ۔ ۔ ریل گاڑی ہے۔
١٤٥
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
ہو گیا ثابت ہے سب اقوال بد سے آپ کے کر رہا بیشک ہے شیطاں رہنمائی آپ کی
اپنے پنجہ سے نہیں دیتا تمہیں شیطاں نجات اس کو کب منظور ہے ایک دم جدائی آپ کی
تم ہو اس کے اور اب وہ ہے تمہارا یار غار رات دن کرتا وہی ہے پیشوائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
ہر طرف سے لعنت و پھٹکار اور دھتکار ہے دیکھو کیسی ناک میں ہے جان آئی آپ کی
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
اب بتاؤ ہیں کہاں سب آپ کے پیر و مرید جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا ڈوم کنجر دھرئیے چوہڑے قصائی آپ کی
آپ نے خلقت کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
کچھ کرو خوف خدا کیا حشر میں دو گے جواب کام کس آئے گی یہ دولت کمائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوئے سوار فیصلہ کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
آپ کے دعووں کو باطل کر دیا حق نے تمام اب بھی تائب ہو اسی میں ہے بھلائی آپ کی
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
سخت گمراہ ہو نہیں سمجھے مسیح کی شان کو راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
خاتمہ بالخیر ہوگا اور ہوگے سرخرو ہو گئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپ کی
اب دام مکر اور کس جا بچھائیے بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے
تمت بالخیر ! ٭٭٭٭ ١٤٦
جھوٹ بتلانا صریح کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
کوئی قادیانی کے کبھی بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
عقائد سے آپ کے کر رہا بیشک ہے شیطاں رہنمائی آپ کی
میں شیطان نجات اس کو کب منظور ہے ایک دم جدائی آپ کی
وہ ہے تمہارا یار غار رات دن کرتا وہی ہے پیشوائی آپ کی
ان کا کہا مانو نہ یار کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
مکار اور دھتکار ہے دیکھو کیسی ناک میں ہے جان آئی آپ کی
الہام والا وہ خدا آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
جس کا تمہیں الہام تھا کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
آپ کے پیر و مرید جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
رتبہ حاصل اس سے کیا ڈوم کنجر دھرئیے کنجرے قصائی آپ کی
نکالا ہے یہ ڈھنگ جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
میں دو گے جواب کام کس آئے گی یہ دولت کمائی آپ کی
نہیں ہوتے ہیں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
نہیں ہوئے سوار فیصلہ کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
دیا حق نے تمام اب بھی تائب ہو اسی میں ہے بھلائی آپ کی
عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گا یہ مہلت گنوائی آپ کی
مسیح کی شان کو راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
ہو گے سرخرو ہو گئی اب بھی مسیح سے کرم فرمائی آپ کی
جاں جا بچائیے بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے
تمت بالخیر!
❖❖❖❖
١٤٦
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں
میرے بعد کوئی نبی نہیں
صولت محمدیہ
بر
فرقہ غلمدیہ
(بطش الصادقین بطاغوت المارقین)
از افادات (حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ)
ترتیب (مولانا حافظ عبدالسلام لکھنویؒ)
باسمہ سبحانہ!
مرزائیت کی موت
جملہ مرزائیوں کو واضح ہو کہ میں نے ستمبر ١٩٢٨ء کے العدل میں ایک مکتوب مفتوح بنام مرزا محمود احمد قادیانی شائع کیا تھا کہ میں مرزا کے انعامی اشتہار دربارہ لفظ توفی کی دوسری شق کے مطابق ثابت کر دوں گا کہ اس کے معنی جسم مع روح کو بہیئت کذائی وصورت مجموعی اپنے قبضہ میں لے لینے کے ہیں۔ آپ میرے ساتھ منصفانہ شرائط طے کرنے کے بعد فیصلہ کر لیں۔ لیکن مرزائیت کے علمبردار نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد مختلف مواقع پر مرزائی مولویوں کو مناظروں میں فیصلہ کی دعوت دی گئی۔ مگر صدائے برنخاست مارچ ١٩٣٢ء کے رسالہ شمس الاسلام بھیرہ میں مکرر بعنوان ”اتمام حجت“ اس مضمون کو مشتہر کیا گیا۔ لیکن مرزائیوں کی طرف سے کوئی آمادگی نہ ہوئی۔
العدل وشمس الاسلام کے پرچے بذریعہ رجسٹری خلیفہ قادیان کے پاس بھیجے گئے۔ پھر بھی انہیں مقابلہ کا حوصلہ نہ ہوا۔ حق کا رعب ان کے دل پر مسلط ہو چکا ہے۔ لہٰذا ان میں جرأت نہیں ہے کہ اس فیصلہ پر آمادہ ہوں۔ بھیرہ کے مناظرہ کے موقع پر اسی عنوان سے اشتہار شائع کیا گیا تھا۔ مگر مرزائی مولویوں کو حوصلہ نہ ہوا۔ جملہ مرزائیوں کو لازم ہے کہ اپنے خلیفہ کو اس فیصلہ پر آمادہ کریں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ مرزائیت مر گئی۔ لہٰذا اس کی تجہیز و تکفین کر کے میرے ہاتھ پر توبہ کر لیں۔ حجت تمام ہو چکی۔ خدا کے حضور میں تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ اگر تمہارے مولوی اس فیصلہ پر آمادہ ہوں تو فوراً اپنے خلیفہ سے اپنی نیابت کی تصدیق حاصل کریں اور خلیفہ صاحب لکھ دیں کہ ان علماء کا ساختہ پرداختہ میرا ساختہ پرداختہ ہے۔ ان کی فتح میری فتح اور ان کی شکست میری شکست ہے۔
خلیفہ صاحب اور ان کے حواری محض دفع الوقتی کر رہے ہیں اور کریں گے۔ مرزائیوں کا فرض ہے کہ اپنا پورا زور ان پر ڈالیں۔ جو مرزائی فیصلہ کرنا چاہے۔ سب سے پہلے سند نیابت حاصل کرے۔ بعد ازاں ثالث اور دیگر شرائط کا فیصلہ کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔ ”وما علينا الا البلاغ“ ابوالقاسم محمد حسین عفی عنہ مولوی فاضل کوٹلہ تارڑ ضلع گوجرانوالہ مورخہ ٢٥ ستمبر ١٩٣٢ء
٢
باسمه سبحانه!
مرزائیت کی موت
کہ میں نے ستمبر ١٩٢٨ء کے العدل میں ایک مکتوب مفتوح بنام میں مرزا کے انعامی اشتہار دربارہ لفظ توفی کی دوسری شق کے عنی جسم مع روح کو بہیئت کذائی وصورت مجموعی اپنے قبضہ میں ساتھ منصفانہ شرائط طے کرنے کے بعد فیصلہ کرلیں۔ لیکن ب نہ دیا۔ اس کے بعد مختلف مواقع پر مرزائی مولویوں کو ۔ مگر صدائے برنخواست مارچ ١٩٣٢ء کے رسالہ شمس الاسلام اس مضمون کو مشتہر کیا گیا۔ لیکن مرزائیوں کی طرف سے کوئی
یہ پرچے بذریعہ رجسٹری خلیفہ قادیان کے پاس بھیجے گئے۔ پھر کا رعب ان کے دل پر مسلط ہو چکا ہے۔ لہٰذا ان میں جرأت ۔ بھیرہ کے مناظرہ کے موقع پر اسی عنوان سے اشتہار شائع ملہ نہ ہوا۔ جملہ مرزائیوں کو لازم ہے کہ اپنے خلیفہ کو اس فیصلہ حمیت مر گئی۔ لہٰذا اس کی تجہیز و تکفین کرکے میرے ہاتھ پر توبہ کر ور میں تمہارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ اگر تمہارے مولوی اس رسے اپنی نیابت کی تصدیق حاصل کریں اور خلیفہ صاحب لکھ ساختہ پرداختہ ہے۔ ان کی فتح میری فتح اور ان کی شکست میری
ے حواری محض دفع الوقتی کر رہے ہیں اور کریں گے۔ مرزائیوں لیں۔ جو مرزائی فیصلہ کرنا چاہے۔ سب سے پہلے سند نیابت یگر شرائط کا فیصلہ کرنے پر آمادگی ظاہر کرے۔ ”وما علینا ابوالقاسم محمد حسین عفی عنہ مولوی فاضل کوٹلہ تارڑ ضلع گوجرانوالہ مورخہ ٢٥؍ستمبر ١٩٣٢ء
٢
بسم الله الرحمن الرحيم !
حامداً ومصلياً ومسلماً
حق جل شانہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ دجالی فتنہ متنبی قادیانی کا جو پنجاب سے شروع ہوکر نہ صرف پنجاب بلکہ دوسرے مقامات کے لئے بلائے ناگہانی بن گیا۔ اس کو آخری منزل تک پہنچانے کا سامان بھی پنجاب ہی میں رونما ہوا۔
آج کل ایک مقدمہ مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان میں بمقام ریاست بہاولپور چل رہا ہے۔ جس کے سلسلہ میں باصرار حضرت مولانا غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ، جامعہ عباسیہ بہاولپور حضرت والدی الماجد مولانا محمد عبدالشکور صاحب دام ظلہم العالی مادامت الایام واللیالی کو بہاولپور تشریف لے جانا پڑا۔ اس سفر میں یہ حقیر کمترین بھی ہمرکاب تھا۔ یکم رجب ١٣٥١ھ سے ١٢؍رجب تک پورے بارہ دن بہاولپور میں قیام رہا۔ واپسی کے بعد دل میں آیا کہ اس مقدمہ کے حالات مع دوسرے فوائد کے برادرانِ اسلامی کے سامنے پیش کئے جائیں۔ لہٰذا اس رسالہ کی تالیف عمل میں آئی۔ مقصد صرف یہ ہے کہ برادرانِ دینی کو آگاہی حاصل ہو اور سب مقدمہ کی کامیابی کے لئے بارگاہِ خداوندی میں دعاء کریں۔ ”بيده الخير وهو على كل شئ قدير“
اس رسالہ کو چار فصلوں اور ایک خاتمہ پر تقسیم کرتا ہوں تاکہ ہر مضمون جدا جدا رہے اور پڑھنے میں سہولت ہو۔
فصل اوّل ...... میں برادرانِ اسلامی کے لئے چند ضروری ہدایات ہیں۔ فصل دوم ...... میں مقدمہ مذکورہ کے واقعات ہیں۔ فصل سوم ...... میں فرقہ مرزائیہ کی مختصر تاریخ ہے۔ فصل چہارم ...... میں بطور نمونہ کے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق چند ضروری معلومات ہیں۔ خاتمہ ...... میں ریاست بہاولپور کے کچھ مسرت انگیز چشم دید حالات ہیں۔
فصل اوّل ...... برادرانِ اسلامی کے لئے چند ضروری ہدایات
ہدایت اوّل
مرزا غلام احمد قادیانی ایک دجال تھا۔ ان دجالوں میں سے جن کی خبر سید المرسلین خاتم
٣
النبیین ﷺ نے دی تھی کہ: ”میرے بعد تیس دجال کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
اس دجال کے پیرو اپنے کو احمدی کہلانے کا بہت شوق رکھتے ہیں اور یہ شوق ان کا مسلمانوں کے ہاتھوں پورا ہوا اور ہو رہا ہے۔ مسلمان اپنی نادانی وغفلت سے ان کو احمدی کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو احمدی کہنے میں تین گناہ ہیں اور نہایت سخت گناہ ہیں۔
اول ..... یہ کہ احمدیہ کہنا گویا اس دجال کے اس افتراء کی تصدیق کرنا ہے جو وہ اپنی کتابوں میں لکھ گیا ہے کہ: ”مبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد“ کا مصداق میں ہوں۔
دوم ..... یہ کہ احمدی کہنے میں اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ نسبت سید الانبیاء ﷺ کے نام مبارک احمد کی طرف ہے اور ظاہر ہے کہ ایک دجال باغی کی امت کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرنا کس قدر توہین آپ کی ہے۔
سوم ..... یہ کہ آج سے بہت پہلے یہ لفظ احمدی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کے متوسلین کا مخصوص لقب رہ چکا ہے۔ اس سلسلہ قدسیہ کے اکابر اس لقب کو بطور شعار کے اپنے لئے استعمال فرماتے رہے۔ ان حضرات کی مہروں میں یہ لقب کندہ ہے۔ مثلاً غلام علی احمدی، احمد سعید احمدی و غیرہم رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ پس اس فرقہ کو احمدی کہنا گویا ان اکابر امت کی ایک امتیازی لقب کا غصب کرنا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کو ہوش میں رہنا چاہئے۔ مشہور نام اس گمراہ فرقہ کا مرزائی ہے۔ لیکن یہ لوگ اس نام سے چڑتے ہیں اور خواہ مخواہ مسلمان ان کی دلداری کرنا چاہتے ہیں۔ تو بقول حضرت مولانا سید محمد علی صاحب مونگیریؒ جدید عیسائی، کہیں کیونکہ ان کا مقتداء عیسیٰ ہونے کا مدعی تھا اور اس سے بھی بہتر نام اس فرقہ کا ”غلمدی“ ہے۔ جو حضرت والدی العلام ادام اللہ تعالیٰ ظلہ العالی نے تجویز فرمایا اور حضرت مونگیریؒ نے اس کو بہت پسند فرمایا اور ان کے خدام برابر اس نام کا استعمال مطبوعہ و غیر مطبوعہ تحریروں وتقریروں میں کر رہے ہیں۔ غلام احمد کے نام میں دو جز ہیں۔ دونوں کی طرف نسبت اس نام میں آگئی اور بقاعدہ عربیت یہ طریق نسبت کثیر الاستعمال ہے۔ جیسے عبد شمس کی طرف عبشمی عبد الدار کی طرف عبدری عبد القیس کی طرف عبقسی وغیرہ وغیرہ۔
ہدایت دوم
جس طرح ایک مسلمان کو کافر کہنا بدترین جرم ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا
٤
”میرے بعد تیس دجال کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اس لیے یہ لوگ اپنے آپ کو احمدی کہلانے کا بہت شوق رکھتے ہیں اور یہ شوق ان کا غلط فہمی پر مبنی ہے۔ عام مسلمان اپنی نادانی وغفلت سے ان کو احمدی کہہ دیتے ہیں اور گنہگار ہوتے ہیں۔ ان کو احمدی کہنے میں تین گناہ ہیں اور نہایت سخت گناہ ہیں۔
پہلا یہ کہ ان کو احمدی کہنے والا گویا اس دجال کے اس افتراء کی تصدیق کرتا ہے جو وہ اس آیت کے متعلق کرتا ہے کہ : ”مبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد“ کا مصداق میں ہوں۔
دوسرا یہ کہ ان کو احمدی کہنے میں اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ نسبت سید الانبیاء ﷺ کی طرف ہے، حالانکہ وہ یہ نسبت ایک دجال باغی کی امت کو آنحضرت ﷺ کی طرف کر رہا ہے۔ جو نہایت سخت توہین آپ کی ہے۔
تیسرا گناہ یہ ہے کہ آج سے بہت پہلے یہ لفظ احمدی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کا مخصوص لقب رہ چکا ہے۔ اس سلسلۂ قدسیہ کے اکابر اس لقب کو بطور تفاخر اور تبرک کے استعمال فرماتے رہے۔ ان حضرات کی مہروں میں یہ لقب کندہ ہے۔ مثلاً غلام محی الدین احمدی، عبدالرحیم احمدی و غیرہم رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ پس اس فرقہ کو احمدی کہنا گویا ان اکابر کا لقب چھین کر ایک مرتد کے غصب کرتا ہے۔
مسلمان کو ہمیشہ ہوش میں رہنا چاہئے۔ مشہور نام اس گمراہ فرقہ کا مرزائی ہے۔ لیکن یہ شاید ان کو برا معلوم ہوتا ہو۔ اور خواہ مخواہ مسلمان ان کی دلداری کرنا چاہتے ہیں۔ تو بقول حضرت مونگیریؒ جدید عیسائی کہیں کیونکہ ان کا مقتداء عیسیٰ ہونے کا مدعی تھا اور اس لیے اس کا نام ”غلمدی“ ہے۔ جو حضرت والدی العلام ادام اللہ تعالیٰ ظلہ العالی نے اس کے مختلف ناموں پر غور فرما کر یہ نام تجویز فرمایا اور ان کے خدام برابر اس نام کا استعمال اپنی تحریروں اور تقریروں میں کر رہے ہیں۔ غلام احمد کے نام میں دو جز ہیں۔ دونوں کو ملا کر ایک نام بنانا عربی اور بقاعدہ عربیت یہ طریق نسبت کثیر الاستعمال ہے۔ جیسے عبدشمس والوں کی طرف عبشمی عبدالقیس کی طرف عبقسی وغیرہ وغیرہ۔
ایک مسلمان کو کافر کہنا بدترین جرم ہے۔ اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا
٤
بھی بڑا گناہ ہے۔ آیات قرآنیہ سے دونوں گناہ ایک درجہ کے معلوم ہوتے ہیں۔ رہا یہ کہ اہل قبلہ کو کافر نہ کہنا چاہئے۔ جیسا کہ ہمارے امام اعظم امام ابو حنیفہؒ سے منقول ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص کعبہ مکرمہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے وہ اہل قبلہ ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قبلہ کی ملت میں جس قدر چیزیں قطعی طور پر ضروریات دین میں ہیں۔ ان سب کو مانتا ہو۔
(دیکھو شرح فقہ اکبر علامہ علی قاری مکیؒ) مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین متفق علیہ ضروریات دین کا انکار کرنے کے سبب سے ہرگز اہل قبلہ نہیں ہیں اور ان کو باوجود ان کی کفریات کے علم کے کافر نہ کہنا یقیناً سخت ترین گناہ ہے۔
ہدایت سوم
کافر دو قسم کے ہیں۔ ایک کافر اصلی جو ابتدا ہی سے کافر ہو۔ دوسرے مرتد جو کلمۂ اسلام پڑھنے اور دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد کفر اختیار کرے۔
قرآن مجید میں ہم کو کافر اصلی کے ساتھ بشرطیکہ وہ ہمارے دین میں مزاحمت نہ کرے نیک سلوک کرنے اور انسانی اخلاق برتنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر مرتد کے ساتھ انسانی اخلاق کو برتنا قطعاً ناجائز و حرام ہے۔ سوا اس صورت کے کہ کوئی مسلمان حالت اکراہ میں یعنی کسی ایسی مجبوری میں پھنس گیا ہو کہ مرتد کے ساتھ اخلاقی برتاؤ کرنے سے اس کو مفر نہ ہو۔ مگر یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ مجبوری محض فرضی و خیالی ہے یا اصلی و واقعی۔
ہدایت چہارم
کسی مسلمان کو اگر کسی غلمدی سے مذہبی مباحثہ کی نوبت پیش آجائے تو جلد سے جلد فیصلہ کر دینے والی اور نہایت آسانی سے اس بحث کو ختم کر دینے والی صورت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے اس کے جھوٹ دکھلائے جائیں اور حضرات انبیاء علیہم السلام کو جو گالیاں اس نے دی ہیں اور ان کی جو توہین اس نے کی ہے۔ اس کو پیش کر دیا جائے۔ اس موضوع کے شروع ہوتے ہی بڑے سے بڑا حیادار غلمدی بھی مبہوت ہو جاتا ہے۔
کسی دوسری بحث میں اس قدر جلد صحیح نتیجہ نہیں نکلتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات و حیات کی بحث یا ختم نبوت کی بحث اگر ہو بھی تو بعد اس بحث کے ہونی چاہئے۔
ہدایت پنجم
آج کل بعض انگریزی تعلیم یافتہ ہمارے بھائی ایسے ہیں جو اپنی مذہبی معلومات سے
٥
بالکل نا آشنا ہیں۔ مگر اپنے کو ہمہ دان سمجھ کر ہر چیز میں دخیل بنتے ہیں۔ وہ غلمدیوں کا نظام دیکھ کر یورپ وغیرہ میں ان کے خود ساختہ تبلیغی کارنامے سن کر ان کے مداح بن جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بڑا دھوکا ہے۔ زہر جب دیا جاتا ہے تو شیرینی میں ملا کر دیا جاتا ہے۔ غلمدیوں کے تبلیغی کارناموں اور نام نہاد اسلامی خدمتوں کو اگر بہ نظر تحقیق دیکھا جائے تو اوّل تو ایک پروپیگنڈے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ پھر اگر وہ اسلام کی تبلیغ کرتے بھی ہیں تو اس اسلام کی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے تعلیم دیا، نہ اس اسلام کی جس کے معلم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ رہا نظام جماعت اگر پسند ہے تو خود تم کیوں اپنا نظام درست نہیں کرتے۔ پھر ہندوؤں کا نظام ان سے بدرجہا فائق ہے۔ ان کی مدح سرائی کیوں نہیں کرتے۔
ہدایت ہشتم
جس مقام پر غلمدیت کا کچھ بھی چرچا ہو وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ جو علمائے اسلام اس بحث میں مہارت رکھتے ہیں ان کے وعظ کرائیں یا علمائے اسلام کی جو عمدہ کتابیں غلمدیوں کے رد میں ہیں۔ ان کی اشاعت کریں۔ جیسے خانقاہ رحمانی مونگیر (صوبہ بہار) کی کتابیں یا دارالعلوم دیوبند کی کتابیں۔ وغیر ذلک!
فصل دوم ...... مقدمہ بہاولپور کے واقعات
یہ مقدمہ تقریباً چھ سال سے چل رہا ہے۔ ابتداء یوں ہوئی کہ بہاولپور کے مضافات میں ایک مولوی صاحب رہتے ہیں۔ جن کا نام الٰہی بخش ہے۔ انہوں نے اپنی دختر کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کیا۔ ابھی رخصتی کی نوبت نہ آئی تھی کہ وہ شخص مرتد ہو کر غلمدی بن گیا۔
مولوی الٰہی بخش صاحب نے عدالت میں دعویٰ فسخ نکاح کا دائر کیا۔ بعض روشن دماغ افسران ریاست نے برٹش گورنمنٹ کے قانون کے مطابق اس دعویٰ کو خارج کردیا۔ یعنی نکاح کو نا قابل فسخ قرار دیا۔ مولوی الٰہی بخش صاحب نے ریاست کی عدالت بالا میں اپیل کی۔ وہاں بھی شنوائی نہ ہوئی۔ بالآخر دربار معلیٰ میں جو ریاست کی آخری عدالت اور خاص فرمانروائے بہاولپور دام بالا قبال والسرور کی کچہری ہے۔ فریاد کی گئی اور مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ اسلامی ریاست ہے اور ہمیشہ سے یہ بات طے شدہ چلی آرہی ہے کہ نکاح و طلاق وغیرہ کے مقدمات کا شرعِ مقدس کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اب یہ نئی بات کیوں ہورہی ہے۔
٦
اپنے کو ہمہ دان سمجھ کر ہر چیز میں دخیل بنتے ہیں۔ وہ غلمدیوں کا نظام دیکھ کر کے خودساختہ تبلیغی کارنامے سن کر ان کے مداح بن جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بڑا دیا جاتا ہے تو شیرینی میں ملا کر دیا جاتا ہے۔ غلمدیوں کے تبلیغی کارناموں اور کو اگر بہ نظر تحقیق دیکھا جائے تو اوّل تو ایک پروپیگنڈے سے زیادہ حیثیت ہ اسلام کی تبلیغ کرتے بھی ہیں تو اس اسلام کی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے کی جس کے معلم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ رہا نظام جماعت اگر پسند ام درست نہیں کرتے۔ پھر ہندوؤں کا نظام ان سے بدرجہا فائق ہے۔ ان ل کرتے۔
پر غلمدیت کا کچھ بھی چرچا ہو وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ جو علمائے مہارت رکھتے ہیں ان کے وعظ کرائیں یا علمائے اسلام کی جو عمدہ کتابیں ہیں۔ ان کی اشاعت کریں۔ جیسے خانقاہ رحمانی مونگیر (صوبہ بہار) کی بند کی کتابیں۔ وغیر ذلک!
صل دوم...... مقدمہ بہاولپور کے واقعات
ریباً چھ سال سے چل رہا ہے۔ ابتداء یوں ہوئی کہ بہاولپور کے مضافات رہتے ہیں۔ جن کا نام الٰہی بخش ہے۔ انہوں نے اپنی دختر کا نکاح ایک ی رخصتی کی نوبت نہ آئی تھی کہ وہ شخص مرتد ہو کر غلمدی بن گیا۔ بخش صاحب نے عدالت میں دعویٰ فسخ نکاح کا دائر کیا۔ بعض روشن دماغ ئق گورنمنٹ کے قانون کے مطابق اس دعویٰ کو خارج کر دیا۔ یعنی نکاح کو لوی الٰہی بخش صاحب نے ریاست کی عدالت بالا میں اپیل کی۔ وہاں بھی دربار معلیٰ میں جو ریاست کی آخری عدالت اور خاص فرمانروائے بہاولپور ی کچہری ہے۔ فریاد کی گئی اور مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی کہ یہ ر ہمیشہ سے یہ بات طے شدہ چلی آرہی ہے کہ نکاح و طلاق وغیرہ کے ب کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اب یہ نئی بات کیوں ہورہی ہے۔
٦
دربار معلیٰ نے مسلمانوں کے اس متفقہ اور جائز احتجاج کو قبول فرما کر حکم دیا کہ یقیناً اس مقدمہ کا فیصلہ شریعت الٰہیہ کے مطابق ہونا چاہئے اور فریقین کو موقع دینا چاہئے کہ وہ اپنے اپنے مشہور اور مستند علماء کی مذہبی شہادت عدالت میں پیش کریں۔ چنانچہ وہ مقدمہ پھر ابتدائی عدالت میں واپس آیا اور بحکم سرکار، شریعت کے مطابق مقدمہ کی تحقیقات شروع ہوئی اور فریقین کو عدالت نے نوٹس دیا کہ اپنے اپنے علماء کو عدالت میں پیش کر کے شرعی دلائل بیان کرائیں۔ یہاں تک مقدمہ کو پہنچتے پہنچتے کئی سال ہوگئے اور اب یہ مقدمہ بجائے شخصی معاملہ کے قومی حیثیت میں آگیا۔ (اور آنا ہی چاہئے تھا) انجمن مؤید الاسلام بہاولپور نے اس کی باگ اپنے ہاتھ میں لی۔
حضرت شیخ الجامعہ نے جو ریاست کے مذہبی امور کے گویا صدرالصدور ہیں۔ مشاہیر علمائے اسلام کو جو فرقہ غلمدیہ کے اباطیل سے کافی واقفیت رکھتے تھے۔ اس اہم مذہبی خدمت کی دعوت بھیجی۔ حضرت والدی الماجد دامت برکاتہم کے نام بھی موصوف کا دعوت نامہ پہنچا۔ مگر چونکہ آپ اب سفر کرنے سے فی الجملہ معذور ہیں اور ان دنوں مزاج مبارک بھی ناساز تھا۔ اس لئے تشریف نہ لے جاسکے۔ لیکن دوسرے اکابر و اماثل پہنچ گئے اور چھ حضرات نے عدالت کے سامنے یکے بعد دیگرے شہادت دی۔ حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب، شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب صدر المدرسین مدرسہ امدادیہ مراد آباد، حضرت مولانا نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، حضرت مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حسین صاحب مولوی فاضل پنجاب یونیورسٹی ساکن کوٹلہ روڈ ضلع گوجرانوالہ۔
ان حضرات کی شہادتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کافر و مرتد ہیں۔ ان کے ساتھ مناکحت حرام ہے اور بعد نکاح اگر کوئی شخص مرزائی ہو جائے۔ (والعیاذ باللہ منہ) تو وہ نکاح بغیر قضائے قاضی فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی منکوحہ کو دوسری جگہ نکاح کر لینا درست ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کافر مرتد ہونے کے پانچ وجوہ بیان کئے گئے۔
- اوّل ...... اس نے اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا دعویٰ کیا۔
- دوم ...... اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
- سوم ...... اس نے حضرت انبیاء علیہم السلام کی حتیٰ کہ حضرت سید الانبیاء ﷺ کی شان میں سخت
گستاخیاں کیں۔
٧
- چہارم ...... اس نے ضروریات دین کا مثل حشر جسمانی وغیرہ کے انکار کیا۔
- پنجم ...... اس نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو اس کو نہیں مانتے کافر کہا۔
ان پانچوں وجوہ کا ثبوت دجال مذکور کی کتابوں سے اور ان کا کفر ہونا کتاب وسنت واقوال و فتاویٰ اکابر امت سے ثابت کیا گیا۔ کتابوں کی عبارتیں پیش کی گئیں۔ ان تمام شہادتوں کو عدالت نے حرف بحرف قلم بند کیا۔ پھر فریق مخالف کو حق دیا کہ وہ ان مذہبی مقدس گواہوں پر بے دھڑک جرح کرے۔ یہ تمام شہادتیں مع جرح کے آٹھ نو دن میں ختم ہوئیں۔
ان شہادتوں سے پہلے مدعا علیہ یعنی مرتد غلمدی کا بیان عدالت لے چکی تھی۔ جس نے بہت صفائی کے ساتھ یہ بیان دیا تھا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود اور خدا کا نبی مانتا ہوں۔ مثل ان انبیاء کے جو ہو چکے ہیں۔
علمائے اسلام ادام اللہ دامت برکاتہم کی شہادتوں کے بعد عدالت نے مقدمہ کی پیشی بڑھا دی اور آئندہ پیشی ڈھائی مہینہ کے بعد یعنی ٥ نومبر ١٩٣٢ء سے مقرر فرمائی۔ حضرت شیخ الجامعہ نے حضرت والدی الماجد عم فیضہم کو ان تمام واقعات کی اطلاع دے کر پھر مزید اصرار فرمایا کہ مرزائی مولویوں کی شہادت سننے اور ان پر جرح کرنے کے لئے آپ کا تشریف لانا ضروری ہے۔ چنانچہ حضرت ممدوح یکم رجب المرجب ١٣٥١ھ مطابق یکم نومبر ١٩٣٢ء کو رونق افروز بہاولپور ہوئے۔
غلمدیوں نے اپنی طرف سے پہلا گواہ جلال الدین شمس کو قرار دیا۔ جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ دمشق و مصر وغیرہ وغیرہ میں رہ کر اس نے عربی پڑھی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس فرقہ کا سب سے زیادہ مستند عالم یہی ہے۔
ڈھائی مہینہ کی طویل مدت میں خاص قادیان کے اندر پاپائے قادیان اور امت غلمدیہ کے دوسرے کہنہ مشق لوگوں کے متفقہ مشورہ اور جانکاہ محنت کے ساتھ شہادت مرتب کی گئی۔ فل سکیپ سائز کے کاغذ پر لکھی گئی۔ غلمدی مذکور یہ لکھا ہوا ضخیم دفتر لئے ہوئے حاضر عدالت ہوئے اور اسی کو دیکھ دیکھ کر پڑھنا شروع کیا اور پورے سات دن تک اس سبق خوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔
روزانہ دس بجے دن سے ڈھائی بجے تک یہ شہادت ہوتی تھی۔ ہمارے علمائے کرام بھی بڑی پابندی سے کچہری تشریف لے جاتے تھے اور باجازت عدالت دو آدمی ہمارے اس شہادت کو حرف بحرف قلمبند کرتے تھے۔ باوجودیکہ یہ شہادت اس قدر محنت اور اتنی مدت میں تیار
٨
یات دین کا مثل حشر جسمانی وغیرہ کے انکار کیا۔ نیا کے مسلمانوں کو جو اس کو نہیں مانتے کافر کہا۔ دہ کا ثبوت دجال مذکور کی کتابوں سے اور ان کا کفر ہونا کتاب وسنت سے ثابت کیا گیا۔ کتابوں کی عبارتیں پیش کی گئیں۔ ان تمام شہادتوں کو بند کیا۔ پھر فریق مخالف کو حق دیا کہ وہ ان مذہبی مقدس گواہوں پر بے م شہادتیں مع جرح کے آٹھ نو دن میں ختم ہوئیں۔ سے پہلے مدعاعلیہ یعنی مرتد غلمدی کا بیان عدالت لے چکی تھی۔ جس نے یان دیا تھا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود اور خدا کا نبی مانتا ہو چکے ہیں۔ ام اللہ دامت برکاتہم کی شہادتوں کے بعد عدالت نے مقدمہ کی پیشی وائی مبینہ کے بعد یعنی ٥ نومبر ١٩٣٢ء سے مقرر فرمائی۔ حضرت شیخ لماجد تفہیم کو ان تمام واقعات کی اطلاع دے کر پھر مزید اصرار فرمایا دت سننے اور ان پر جرح کرنے کے لئے آپ کا تشریف لانا ضروری یخ یکم رجب المرجب ١٣٥١ھ مطابق یکم نومبر ١٩٣٢ء کو رونق افروز
پنی طرف سے پہلا گواہ جلال الدین شمس کو قرار دیا۔ جس کی بابت کہا ہ وغیرہ میں رہ کر اس نے عربی پڑھی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس فرقہ کا لتا ہے۔ طویل مدت میں خاص قادیان کے اندر پاپائے قادیان اور امت لوگوں کے متفقہ مشورہ اور جانکاہ محنت کے ساتھ شہادت مرتب کی گئی۔ کھی گئی۔ غلمدی مذکور یہ لکھا ہوا ضخیم دفتر لئے ہوئے حاضر عدالت ہوئے روع کیا اور پورے سات دن تک اس سبق خوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ دن سے ڈھائی بجے تک یہ شہادت ہوتی تھی۔ ہمارے علمائے کرام ں تشریف لے جاتے تھے اور باجازت عدالت دو آدمی ہمارے اس کرتے تھے۔ باوجودیکہ یہ شہادت اس قدر محنت اور اتنی مدت میں تیار
٨
کی گئی تھی۔ مگر الفاظ اور معانی کا بے ربط و بے محل ہونا عبارت کا اکثر مقامات میں خبط ہونا تطویل لا طائل اور مکرر الفاظ کا بے فائدہ بار بار لانا عربی الفاظ اور اعراب تو درکنار معمولی فارسی عبارت مثلاً مولانا جامی کے عقائد نامہ کے اشعار کا غلط پڑھنا یہ اور اس کے مثل اور بہت سی چیزیں بتا رہی تھیں کہ اس مقدمہ نے تمام غلمدیوں کو بدحواس کر دیا ہے۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ شہادت بڑے معرکہ کی شہادت تھی اور پاپائے قادیان موسیو بشیر صاحب خلیفۃ الدجال کی پوری طاقت اس میں ختم ہوئی۔ لیکن حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دینا کسی کے امکان میں ہوتا تو دین اسلام دنیا سے کب کا رخصت ہو چکا تھا۔ اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایک سال کامل اگر مرزا اور مرزائیوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاتا تو بھی اس کے کفریات کی حقیقت اتنی منکشف نہ ہوتی ۔ جتنی کہ اس ہفت روزہ شہادت سے منکشف ہوئی۔ سچ ہے زبان اور قلم میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ” فتبارك الله احسن الخالقين“
جج صاحب نے جن کے اجلاس میں یہ مقدمہ ہے پہلے ہی حکم سنا دیا تھا کہ اس وقت نومبر کو میں اس مقدمہ کی سماعت کروں گا۔ اس کے بعد سال تمام کی وجہ سے مجھے دوسرے سرکاری کاموں کا انصرام کرنا ہے۔ جلال الدین شمس غلمدی نے جب اپنی شہادت ١٢ نومبر ١٩٣٢ء مطابق ١٢ رجب ١٣٥١ھ بروز شنبہ بوقت ڈیڑھ بجے دن کے ختم کر دی تو جج صاحب نے ہمارے علمائے کرام سے پوچھا کہ آپ حضرات کو اس شہادت پر کچھ جرح کرنا ہے۔ ہماری طرف سے کہا گیا کہ ہم جرح کے لئے تیار ہیں اور کم سے کم پندرہ دن جرح کریں گے اور ہماری جرح میں انشاء اللہ ایسے ضروری امور ہوں گے کہ مقدمہ زیر بحث کا پورا انکشاف ہو جائے گا اور عدالت کو اصل حقیقت کے سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں بہت سہولت ہوگی۔ کچھ ردوکد کے بعد عدالت نے اس کو منظور کر لیا۔ مگر ساتھ ہی یہ حکم سنایا کہ اب اس مقدمہ کی پیشی مارچ میں ہوگی۔ اتنی مدت طویلہ کا انتظار اکثر حضرات کو بہت شاق گزرا اور عدالت کو اس طرف توجہ بھی دلائی گئی مگر جج صاحب نے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر فرمایا۔ غرضکہ مقدمہ اب مارچ میں انشاء اللہ تعالیٰ ہوگا اور علمائے اسلام کی طرف سے پندرہ دن کامل بحول اللہ تعالیٰ وقوتہ جرح ہوگی اور انشاء اللہ ثم انشاء اللہ اس زلزلہ افگن منشور ربانی کا منظر دنیا کے سامنے آجائے گا۔ ”فاذا نزل بساحتهم فساء صباح المنذرین“
دولطف انگیز کارروائیاں
- ١....... ابتدائے مقدمہ میں عدالت سے یہ بات طے ہو گئی تھی کہ فریقین میں سے
٩
کسی کی طرف سے کوئی وکیل بیرسٹر نہ ہوگا۔ مگر غلمدیوں نے اپنی شہادت کے وقت اس قرارداد کے خلاف ایک غلمدی بیرسٹر صاحب کو لاہور سے بلایا جو بار بار خواہ مخواہ عدالت کو قانونی بحثوں میں جا و بیجا الجھاتا تھا۔ بالفاظ دیگر اصل بحث کو مغالطات کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔ عدالت کے روکنے پر بھی نہ رکتا تھا۔ ایک روز اس نے عدالت کی شان کے خلاف بھی کچھ باتیں کیں۔ جن پر بالآخر اس نے معافی مانگ لی۔
- ٢....... غلمدی صاحبان نے ملتان میں انگریزی عدالت میں مولوی الٰہی بخش
صاحب پدر دختر مذکورہ کو ضلع ملتان کا ساکن ١؎ قرار دے کر استغاثہ دائر کر دیا کہ لڑکی کو رخصت کرا دیا جائے اور دستی سمن لے کر عدالت بہاولپور میں پیشی مقدمہ کے وقت مولوی الٰہی بخش صاحب پر تعمیل کرا دی۔ مطلب یہ تھا کہ مولوی الٰہی بخش کو انگریزی عدالت میں الجھا کر بہاولپور کے مقدمہ کو خورد برد کر دیں۔ مگر انشاء اللہ تعالیٰ یہ کید ان کا رائیگاں ہو جائے گا ملتان میں یک طرفہ ڈگری بھی اگر غلمدیوں کو مل جائے تو انگریزی عدالت کی ڈگری کا اجراء بہاولپور میں نہیں ہو سکتا۔
فصل سوم...... فرقہ غلمدیہ کی مختصر تاریخ
فرقہ غلمدیہ کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبہ قادیان ضلع گورداسپور کا رہنے والا تھا۔ شہر امرتسر سے شمال مشرق کو جو ریلوے لائن جاتی ہے۔ اس میں ایک بڑا اسٹیشن بٹالہ ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر قادیان ہے اور اب کئی سال ہوئے بٹالہ سے قادیان کو ریلوے لائن بن گئی ہے۔ راقم الحروف نے قادیان کو دیکھا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے وطن کے نام کو بھی دجل و فریب سے خالی نہیں رکھا۔ یعنی اس کو قادیان ٢؎ مشہور کیا اور اس نام کے مشہور کرنے میں بڑی بڑی کوششیں کرنا پڑیں۔ روپیہ بھی صرف ہوا رشوتوں کی داد و ستد بھی ہوئی۔
١؎ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ مولوی الٰہی بخش صاحب ریاست بہاولپور کے ساکن ہیں۔ مگر غلمدیوں کے مذہب میں جھوٹ بولنا ان کے متنبی کی سنت ہے۔
٢؎ قادیان پنجابی میں کیوڑے کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں چونکہ کیوڑا فروش لوگ رہتے تھے۔ اس واسطے اس کو قادیان کہنے لگے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے سرکاری کاغذات میں ڈاکخانہ کی مہر میں اس کو قادیان لکھوایا اور کہا کہ یہ لفظ دراصل قاضیان سے ہے۔ تاکہ مرزا قادیانی کو عالی نسب شخص سمجھا جائے۔ اس کے باپ دادا قاضی تھے نہ قادی فروش۔
١٠
وکیل بیرسٹر نہ ہوگا۔ مگر غلمدیوں نے اپنی شہادت کے وقت اس قرار داد بیرسٹر صاحب کو لاہور سے بلایا جو بار بار خواہ مخواہ عدالت کو قانونی بحثوں بالفاظ دیگر اصل بحث کو مغالطات کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرتا پر بھی نہ رکتا تھا۔ ایک روز اس نے عدالت کی شان کے خلاف بھی کچھ کہا جس پر اس نے معافی مانگ لی۔
غلمدی صاحبان نے ملتان میں انگریزی عدالت میں مولوی الہی بخش کو ضلع ملتان کا ساکن ١ قرار دے کر استغاثہ دائر کر دیا کہ لڑکی کو رخصت سمن لے کر عدالت بہاولپور میں پیشی مقدمہ کے وقت مولوی الہی بخش مطلب یہ تھا کہ مولوی الہی بخش کو انگریزی عدالت میں الجھا کر بہاولپور دیں۔ مگر انشاء اللہ تعالیٰ یہ کید ان کا رائیگاں ہو جائے گا ملتان میں یک طرفہ مل جائے تو انگریزی عدالت کی ڈگری کا اجراء بہاولپور میں نہیں ہو سکتا۔
فصل سوم...... فرقہ غلمدیہ کی مختصر تاریخ
بانی مرزا غلام احمد قادیانی پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبہ قادیان ضلع تھا۔ شہر امرتسر سے شمال مشرق کو جو ریلوے لائن جاتی ہے۔ اس میں ایک بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصل پر قادیان ہے اور اب کئی سال ہوئے بٹالہ سے بن گئی ہے۔ راقم الحروف نے قادیان کو دیکھا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کبھی دجل و فریب سے خالی نہیں رکھا۔ یعنی اس کو قادیان ٢ مشہور کیا اور اس میں بڑی بڑی کوششیں کرنا پڑیں۔ روپیہ بھی صرف ہوا رشوتوں کی دادوستد
بالکل جھوٹ ہے۔ مولوی الہی بخش صاحب ریاست بہاولپور کے ساکن مذہب میں جھوٹ بولنا ان کے متنبی کی سنت ہے۔
پنجابی میں کیوڑے کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں چونکہ کیوڑا فروش لوگ رہتے کادیان کہنے لگے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے سرکاری کاغذات میں قادیان لکھوایا اور کہا کہ یہ لفظ دراصل قاضیان سے ہے۔ یہ کہ مرزا قادیانی جائے۔ اس کے باپ دادا قاضی تھے نہ کادی فروش۔
١٠
مرزا غلام احمد قادیانی مذکور ١٢٦١ھ مطابق ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا اور ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ طبابت کا پیشہ کرتے تھے اور کچھ مختصر سی زمینداری بھی تھی۔ مرزا قادیانی نے ابتدائی عمر میں فارسی اور کچھ عربی پڑھی۔ کتب درسیہ تمام نہیں ہونے پائیں کہ فکر معاش نے پریشان کر دیا۔ تحصیل علم چھوڑ کر نوکری کی تلاش میں سرگردان ہونا پڑا۔ مرزا قادیانی کا ابتدائی زمانہ نہایت گمنامی اور تنگدستی میں گزرا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب استفتاء میں بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی مفلسی اور پریشان حالی کو بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میرے باپ دادا انہیں سختیوں میں مر گئے۔
خدا جانے کس طرح اور کس کس کی چوکھٹ پر جبہ فرسائی کے بعد سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار کی نوکری مل گئی۔ مگر اس قلیل رقم میں فراغت کے ساتھ بسر نہ ہوسکی۔ چنانچہ اب یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ مختاری کا قانون پاس کر کے مختاری کا پیشہ شروع کریں۔ بڑی محنت سے قانون انگریزی یاد کیا۔ مگر امتحان میں ناکامی کا داغ پیشانی پر لگا۔
چالاکی تو فطرت میں تھی ہی۔ لہٰذا مختاری کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد آپ نے ایک دوسرا راستہ اپنے معاش کے لئے تجویز کیا۔ یعنی اشتہار بازی اور تصنیف و تالیف کے ذریعہ سے شہرت حاصل کرنے اور اس شہرت کو ذریعہ معاش بنانے کے در پے ہوئے۔ سب سے پہلے آپ نے آریوں کے مقابلہ میں اشتہار بازی کی۔ بڑے بڑے اشتہار نہایت آب و تاب سے ہزاروں کی تعداد میں شائع کئے۔ راقم کی نظر سے مرزا قادیانی کے کئی ابتدائی اشتہارات گزر چکے ہیں۔ ایک اشتہار پر ٢/ مارچ ١٨٧٨ء کی تاریخ ہے۔
جب اس طریقہ سے ایک حد تک شہرت حاصل ہو چکی تو ایک کتاب براہین احمدیہ آریوں کے مقابلہ میں تصنیف کی اور اس کے لئے بڑے بڑے اشتہارات نکالے۔ مسلمانوں سے چندہ لیا اور خوب لیا۔ ہزاروں روپیہ اس بہانہ سے وصول کر لیا اور کچھ فراغت واطمینان سے دن بسر ہونے لگے۔ غالباً مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی وقت سے اپنے دماغ میں یہ خیالات قائم کر لئے تھے کہ بتدریج مجددیت پھر مسیحیت پھر نبوت رسالت کے دعویٰ کرنا چاہئے۔ اگر یہ دعویٰ چل گئے تو پھر کیا ہے اچھی خاصی بادشاہت کا لطف آجائے گا اور اگر نہ چلے تو اب کون سی عزت حاصل ہے۔ جس کے چلے جانے کا خوف ہو۔ بنیاد ان دعوؤں کی ان کے ابتدائی اشتہارات میں بھی کچھ کچھ موجود ہے۔ خوش قسمتی سے مرزا غلام احمد قادیانی کو اسی ابتدائی زمانہ میں کچھ دنوں سرسید احمد خان علی گڑھی کی صحبت بھی نصیب ہوگئی اور ان کے آزاد خیالات نے مرزا قادیانی کے لئے اس
١١
کے مجوزہ راستہ کو کچھ سہل کر دیا۔ اس زمانہ میں سرسید یہ مسئلہ اختراع کر چکے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے۔ کوئی انسان اتنے دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ انگریزی دان طبقہ اس مسئلہ سے مانوس ہو چکا تھا۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آغازِ مقصد کے لئے اسی مسئلہ کو منتخب کر لیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتداء اسی پر بڑا زور دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے۔ بڑے بڑے اشتہار بھی شائع کئے۔ علاوہ عقلی استبعادات اور خانہ ساز الہامات کے کئی آیات قرآنیہ اور کئی حدیثوں کو بھی دور از کار تاویلات کا لباس پہنا کر اپنے استدلال میں پیش کیا۔ علمائے اسلام کو مباحثہ کے لئے چیلنج دیئے اور کئی مقام پر مباحثہ بھی کیا۔ سب سے بڑا مباحثہ جو اس مسئلہ پر ہوا وہ بمقام دہلی جناب مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی مرحوم سے تھا۔ جس میں مرزا قادیانی نے بالآخر اپنی عاجزی و مغلوبیت دیکھ کر یہ بہانہ کیا کہ میرے گھر سے تار آیا ہے۔ میرے خسر بیمار ہیں اب میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ کہہ کر راہ فرار اختیار کی۔ روئیداد اس مباحثہ کی چھپ گئی ہے۔ جس کا نام ”الحق الصریح فی اثبات حیاۃ المسیح“ ہے۔
یہ مسئلہ چونکہ انگریزی دانوں کے مذاق کے مطابق تھا۔ اس طبقہ کی توجہ آپ کی طرف زیادہ مبذول ہوئی اور مقصود بھی یہی تھا کہ یہ دولت مند اور دخیل حکومت طبقہ متوجہ ہو۔ آج بھی غلامدیوں میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کو ابتداء میں خوش قسمتی سے کچھ شیعہ علماء کی صحبت بھی حاصل ہوئی۔ چنانچہ ایک صاحب جو شیعہ مذہب کے عالم تھے۔ مدتوں آپ کے استاد بھی رہے۔ اس ذریعہ سے آپ کو شیعوں کے مسئلہ امامت پر کافی اطلاع حاصل ہوئی اور ختم نبوت کے انکار کا راستہ آپ کے لئے سہل ہو گیا اور آپ کے ذہن رسا نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ کس طرح ایک نئے مذہب کی بنیاد پڑتی ہے اور اس کے لئے کس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
موقع پا کر مرزا قادیانی نے پہلے اپنے کو ایک روشن ضمیر صوفی ظاہر کیا اور خفیہ طور پر دلال مقرر کئے کہ امیروں کو ترغیب دے کر مرید کر لائیں۔ ریاست مینڈھو ؎١ ضلع علی گڑھ کے ایک واقعہ نے اس راز کو ظاہر کر دیا۔ پھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا پھر مہدی
؎١ جناب مولوی امیر شاہ خان صاحب ساکن مینڈھو جنکی وفات کو چند سال ہوئے۔ معمر آدمی تھے۔ قبل غدر کے بزرگوں کے ملنے والے تھے۔ وہ بیان کرتے تھے کہ مرزا غلام احمد نے خود مجھ سے کہا تھا کہ رئیس مینڈھو کو میرا مرید کرا دیجئے۔ جناب مولوی امیر شاہ خان صاحب کے بیان کئے ہوئے واقعات کتاب سیر الروایات میں ہیں جو خانقاہ اشرفیہ سے شائع ہوئی۔
١٢
دیا۔ اس زمانہ میں سرسید یہ مسئلہ اختراع کر چکے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اتنے دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ انگریزی دان طبقہ اس مسئلہ سے ام احمد قادیانی نے اپنے آغاز مقصد کے لئے اسی مسئلہ کو منتخب کر لیا۔ دیانی نے ابتداء اسی پر بڑا زور دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے۔ ع کئے۔ علاوہ عقلی استبعادات اور خانہ ساز الہامات کے کئی آیات ور از کار تاویلات کا لباس پہنا کر اپنے استدلال میں پیش کیا۔ علمائے دیئے اور کئی مقام پر مباحثہ بھی کیا۔ سب سے بڑا مباحثہ جو اس مسئلہ پر ی محمد بشیر صاحب بھسوانی مرحوم سے تھا۔ جس میں مرزا قادیانی نے دیکھ کر یہ بہانہ کیا کہ میرے گھر سے تار آیا ہے۔ میرے خسر بیمار ہیں یہ کہہ کر راہ فرار اختیار کی۔ روئیداد اس مباحثہ کی چھپ گئی ہے۔ جس کا ثبات حیاۃ المسیح“ ہے۔ یزی دانوں کے مذاق کے مطابق تھا۔ اس طبقہ کی توجہ آپ کی طرف بھی یہی تھا کہ یہ دولت مند اور دخیل حکومت طبقہ متوجہ ہو۔ آج بھی ی لوگ ہیں۔
دیانی کو ابتداء میں خوش قسمتی سے کچھ شیعہ علماء کی صحبت بھی حاصل جو شیعہ مذہب کے عالم تھے۔ مدتوں آپ کے استاد بھی رہے۔ اس مسئلہ امامت پر کافی اطلاع حاصل ہوئی اور ختم نبوت کے انکار کا راستہ پ کے ذہن رسا نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ کس طرح ایک ور اس کے لئے کس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
دیانی نے پہلے اپنے کو ایک روشن ضمیر صوفی ظاہر کیا اور خفیہ طور پر غیب دے کر مرید کرنا شروع کئے۔ ریاست مینڈھو ١ ضلع علی گڑھ کے کر دیا۔ پھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا پھر مہدی
١ میر شاہ خان صاحب ساکن مینڈھو جنکی وفات کو چند سال ہوئے۔ زرگوں کے ملنے والے تھے۔ وہ بیان کرتے تھے کہ مرزا غلام احمد نے ڑھو کو میرا مرید کرا دیجئے۔ جناب مولوی امیر شاہ خان صاحب کے ب امیر الروایات میں ہیں جو خانقاہ اشرفیہ سے شائع ہوئی۔
١٢
ہونے کا ادعا کیا۔ مریم بھی بنے اور ابن مریم بھی بنے۔ اس کے بعد ختم نبوت کا انکار کر کے نبی بن گئے۔ کچھ دنوں اپنے کو ظلی و بروزی نبی کہتے رہے اور ١٩٠١ء کے بعد اپنے کو حقیقی نبی و رسول صاحب شریعت فرمانے لگے۔ اپنے کو تمام انبیاء سے اعلیٰ وافضل قرار دیا اور اپنے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا اور ان کو طرح طرح کی گالیاں دیں اور آخر آخر میں کرشن ہونے کا شرف بھی حاصل کر لیا۔ بلکہ انصاف ہے کہ مرزا قادیانی نے الوہیت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ کوئی رتبہ مرزا قادیانی سے چھوٹنے نہیں پایا۔
ان مختلف دعوؤں میں مرزا نے عجیب عجیب رنگ بدلے ہیں اور عجیب دجل سے کام لیا ہے اور ایسی ترکیب رکھی ہے۔ اگر کہیں کسی وقت کسی دعویٰ سے کچھ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو فوراً اس سے انکار کر جائیں۔ مرزا اور مرزائیوں کی کتابوں کا پورا مطالعہ کرنے کے بعد اس دجل کا راز کھلتا ہے اور پھر کوئی بڑے سے بڑا چالاک مرزائی بھی تاویل کر کے بچ نہیں سکتا۔
غرضیکہ ان ترکیبوں سے مرزا کو خوب شہرت حاصل ہوئی اور سادہ لوحوں کو خوب شکار کیا خوب دولت حاصل کی اور خوب عیش کیا۔ عمدہ عمدہ غذائیں نفیس نفیس لباس جو کبھی اس کے باپ دادا کو بھی نصیب نہ ہوئے تھے۔ استعمال کرتا رہا اور اپنی اولاد کے لئے دولت دنیا کا بڑا ذخیرہ جمع کر گیا۔ یہ سب کچھ تو ہو چکا مگر اب وہ ہے اور دارالجزاء ہے۔ جہاں نہ اشتہار بازی کام آسکتی ہے نہ دجل وفریب کے دعوے نہ حکومت انگلیشیہ کی سرپرستی ان کو عذاب الٰہی سے نجات دلاسکتی ہے نہ مسلمانوں کی بدخواہی اور دشنام دہی سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مرزا غلام احمد کے بعد اس کا دوست حکیم نورالدین خلیفہ ہوا اور مرزا قادیانی کی فریب کاریوں میں زندگی کے آخری دن بسر کرنے کے بعد وہ بھی چل بسا۔ اب آج کل مرزا قادیانی کا خلیفہ دوم اس کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود ہے۔ جو پورا مصداق اس مثل مشہور کا ہے۔ ”اگر پدر نتواند پسر تمام کند“
اپنے باپ کے مشن کو ترقی دینے اور گورنمنٹ برطانیہ کی حمایت حاصل کرنے کی تدبیروں کو اپنے باپ سے بہتر جانتا ہے۔ مگر با ایں ہمہ، دروغ کو کہاں تک فروغ ہو سکتا ہے۔ اب غلمدیت روبہ تنزل ہے اور باوجودیکہ اس دور فتن میں جو فتنہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے۔ لیکن غلمدیت پر فنا کے آثار طاری ہوچکے ہیں۔ خلیفہ دوم کے زمانہ میں غلمدیوں میں باہم سخت افتراق پیدا ہو گیا ہے۔ اس وقت تک ان میں پانچ فرقے مستقل پیدا ہوچکے ہیں۔
١٣
فرقہ اول، قادیانی پارٹی جس کا مقتداء خود خلیفہ دوم مرزا محمود ہے۔ فرقہ دوم، لاہوری پارٹی جس کا امام مسٹر محمد علی اور رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہے۔ فرقہ سوم، ظہیری پارٹی جس کا پیشوا ظہیر الدین اروپی ساکن گوجرانوالہ ہے۔ فرقہ چہارم، تیمار پوری پارٹی جس کا گرو عبداللہ تیمار پوری ہے۔ فرقہ پنجم، سمبڑیالی پارٹی جس کا مقتداء محمد سعید سمبڑیالی ہے۔ سمبڑیال ایک گاؤں ضلع سیالکوٹ کے پاس ہے۔ یہ شخص اسی گاؤں کا باشندہ ہے۔
ان پانچوں فرقوں میں بڑے فرقے دو ہی ہیں۔ قادیانی اور لاہوری۔ ان دونوں کے افتراق کی بنیاد یوں پڑی کہ حکیم نورالدین کے بعد مسٹر محمد علی چاہتے تھے کہ میں خلیفہ بنایا جاؤں اور کچھ لوگ علمی قابلیت کے سبب سے ان کے طرفدار بھی تھے۔ مگر مرزا محمود کے سامنے ان کی نہ چلی اور باہم سخت رنجش پڑ گئی۔ عقائد کے اعتبار سے ان دونوں فرقوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ جو کچھ فرق بظاہر نظر آتا ہے وہ عقلمندوں کی نظر میں جنگ زرگری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ بہر حال ان پانچوں فرقوں کے اختلاف کا بیان حسب ذیل ہے۔
قادیانی پارٹی
برملا اعلان کے ساتھ کہتی ہے کہ مرزا حقیقی طور پر نبی تھا۔ جیسے اور انبیاء ہو چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کا یا اس کی وحی کا نہ ماننے والا ویسا ہی قطعی کافر ہے۔ جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اور قرآن مجید کا نہ ماننے والا۔ یہ پارٹی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو چھپانا اور انکار ختم نبوت پر پردہ ڈالنا پسند نہیں کرتی اور کہتی ہے کہ مرزا کی تعلیمات پر صحیح طور سے ہمارا ہی عمل ہے۔
لاہوری پارٹی
کہتی ہے کہ مرزا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور مرزا قادیانی نے جن الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان سب الفاظ کی دور از کار تاویلات کر کے یہ پارٹی حقیقت حال کو پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہ پارٹی مرزا قادیانی کو اپنا مقتداء، پیشوا، مجدد وقت، محدث، مسیح موعود سب کچھ مانتی ہے اور کہتی ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیمات پر ہم ہی لوگ قائم ہیں۔ مگر انصاف یہ ہے کہ اس معاملہ میں قادیانی پارٹی برسر حق ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی تعلیمات پر اسی کا عمل ہے۔
لاہوری پارٹی دراصل بڑی پالیسی سے کام لے رہی ہے۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان دعویٰ نبوت سے بھڑکتے ہیں اور ایسے متوحش ہوتے ہیں کہ پھر کسی طرح ان کے شکار کی امید نہیں کی جاسکتی اور ظاہر ہے کہ چندہ وغیرہ جو کچھ وصول ہو سکتا ہے۔ وہ یا تو مسلمانوں سے وصول ہو سکتا
١٤
ہے۔ یا غلمد یوں سے، غلمدی تو مر صرف مسلمانوں سے ہے۔ اس لئے مرزا کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر نہیں سادہ لوح مسلمان جس قدر جلد ان آتے۔ خواجہ کمال الدین کے پے در مسلمانوں ہی کے چندہ سے پورے مسلمانوں ہی کے روپیہ سے یورپ کا دیا ہوا ہے۔
قادیانی پارٹی اس مصلح اپنے باپ کے ترکہ نے پورے طور ساتھ اور مرزا قادیانی کے مقرر کئے ہے۔ اس پارٹی کے پاس اس قدر کا مقابلہ کرسکیں۔ ابھی چند سال ہو کر دیا اور خزانے کا ایک کونہ بھی خا
ظہیری پارٹی
مرزا قادیانی کو نبی ور میں مرزا قادیانی کے وہ کلمات پیش
١؎ تاجران رنگون کہ ج ہزار روپیہ ان سے لیا گیا تھا، مرزا قادیانی کی تعلیمات درج کی نوٹس خواجہ کمال الدین سے جو ان روپیہ کا واپس کرنا کارے دار۔
٢؎ یورپ کے سفر میں تھا کہ انگریز خلیفہ المسیح کہیں۔ م زمیندار کے فائل۔
یانی پارٹی جس کا مقتداء خود خلیفہ دوم مرزا محمود ہے۔ فرقہ دوم، لاہوری ور رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہے۔ فرقہ سوم، ظہیری پارٹی جس کا پیشوا جرانوالہ ہے۔ فرقہ چہارم، تیمار پوری پارٹی جس کا گرو عبداللہ تیما پوری رٹی جس کا مقتداء محمد سعید سمڑیالی ہے۔ سمڑیال ایک گاؤں ضلع خص اسی گاؤں کا باشندہ ہے۔ ں میں بڑے فرقے دو ہی ہیں۔ قادیانی اور لاہوری۔ ان دونوں کے حکیم نورالدین کے بعد مسٹر محمد علی چاہتے تھے کہ میں خلیفہ بنایا جاؤں اور ب سے ان کے طرفدار بھی تھے۔ مگر مرزا محمود کے سامنے ان کی نہ چلی عقائد کے اعتبار سے ان دونوں فرقوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ جو عقلمندوں کی نظر میں جنگ زرگری سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ بہرحال ف کا بیان حسب ذیل ہے۔
ساتھ کہتی ہے کہ مرزا حقیقی طور پر نبی تھا۔ جیسے اور انبیاء ہوچکے ہیں۔ کا نہ ماننے والا ویسا ہی قطعی کافر ہے۔ جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا لا۔ یہ پارٹی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو چھپانا اور انکار ختم نبوت پر تی ہے کہ مرزا کی تعلیمات پر صحیح طور سے ہمارا ہی عمل ہے۔
ا قادیانی نے حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور مرزا قادیانی نے جن الفاظ ان سب الفاظ کی دور از کار تاویلات کر کے یہ پارٹی حقیقت حال کو پارٹی مرزا قادیانی کو اپنا مقتداء، پیشوا، مجدد وقت، محدث، مسیح موعود ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیمات پر ہم ہی لوگ قائم ہیں۔ مگر انصاف یہ پارٹی برحق ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی تعلیمات پر اسی کا عمل ہے۔ راصل بڑی پالیسی سے کام لے رہی ہے۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان اور ایسے متوحش ہوتے ہیں کہ پھر کسی طرح ان کے شکار کی امید نہیں کی ، غیرہ جو کچھ وصول ہوسکتا ہے۔ وہ یا تو مسلمانوں سے وصول ہوسکتا
١٤
١٧١ ہے۔ یا غلمدیوں سے، غلمدی تو موسیو بشیر الدین محمود کے زیر اثر ہیں۔ اب جو کچھ توقع ہے وہ صرف مسلمانوں سے ہے۔ اس لئے لاہوری پارٹی نے یہ اعلان کیا کہ ہم مرزا کو نبی نہیں مانتے اور مرزا کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہتے۔ چنانچہ اسی پالیسی سے وہ بہت کچھ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سادہ لوح مسلمان جس قدر جلد ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ قادیانی پارٹی کے قریب میں نہیں آتے۔ خواجہ کمال الدین کے پے در پے یورپ کے سفر اور ان سفروں کے پیش قرار اخراجات سب مسلمانوں ہی کے چندہ سے پورے ہو رہے ہیں۔ مسٹر محمد علی صاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن مجید مسلمانوں ہی کے روپیہ سے یورپ میں طبع ہوا۔ یکمشت سولہ ہزار روپیہ تو تاجران ١؎ رنگون ہی کا دیا ہوا ہے۔
قادیانی پارٹی اس مصلحت کی پروا اس وجہ سے نہیں کرتی کہ اس کے امام موسیو بشیر کو اپنے باپ کے ترکہ نے پورے طور پر مستغنی کر دیا ہے اور غلمدیوں کا دولت مند طبقہ اکثر اس کے ساتھ اور مرزا قادیانی کے مقرر کئے ہوئے اصول کے مطابق ماہوار چندوں کے دینے میں سرگرم ہے۔ اس پارٹی کے پاس اس قدر دولت ہے کہ شاید کہ والیان ملک ہی ہوں گے جو دولت میں اس کا مقابلہ کرسکیں۔ ابھی چند سال ہوئے کہ موسیو بشیر نے یورپ ٢؎ کے سفر میں لاکھ روپیہ صرف کر دیا اور خزانے کا ایک کونہ بھی خالی نہیں ہوا۔
ظہیری پارٹی
مرزا قادیانی کو نبی و رسول سے بالاتر یعنی خدا کا مظہر اور اپنے اس اعتقاد کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے وہ کلمات پیش کرتی ہے۔ جن میں الوہیت کا دعویٰ ہے۔ اس پارٹی کا ایک
١؎ تاجران رنگون کہ جب یہ معلوم ہوا کہ جس انگریزی ترجمہ قرآن مجید کے لئے سولہ ہزار روپیہ ان سے لیا گیا تھا۔ اس میں مرزائیت کی تبلیغ کی گئی ہے اور ترجمہ کے حاشیہ میں مرزا قادیانی کی تعلیمات درج کی گئی ہیں۔ تو تاجران رنگون نے ١٥؍اکتوبر ١٩٢٠ء کو بذریعہ مطبوعہ نوٹس خواجہ کمال الدین سے جو ان دنوں رنگون میں مقیم تھے۔ اپنے روپیہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ مگر روپیہ کا واپس کرنا کارے دارد۔
٢؎ یورپ کے سفر میں موسیو بشیر صاحب کو ٹل مسیح کا خطاب انگریزوں سے ملا، مقصود یہ تھا کہ انگریز خلیفہ المسیح کہیں۔ مگر ان کی زبان سے ٹل مسیح نکلا اور وہی مشہور ہوگیا۔ دیکھو اخبار زمیندار کے فائل۔
١٥
عقیدہ یہ بھی ہے کہ اس فرقہ کا امام یعنی ظہیر الدین اروپی یوسف موعود ہے۔ مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی یہ تھی کہ میرے بعد یوسف آئے گا۔ پس اسے یوں ہی سمجھ لو کہ خدا ہی اترا ہے۔ ظہیر الدین کہتا ہے وہ یوسف میں ہوں اور میں ہی خدا کا مظہر ہوں۔ اس پارٹی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز قادیان کی طرف منہ کر کے پڑھنی چاہئے۔ کیونکہ قادیان مکہ ہے۔ وہاں خدا کے ایک رسول (یعنی مرزا) نے جنم لیا تھا۔
تیما پوری پارٹی
بھی مرزا قادیانی کو نبی ورسول مانتی ہے۔ مگر اس کا پیشوا عبداللہ تیما پوری مرزا سے بھی سبقت لے گیا۔ وہ کہتا ہے مجھے خود اپنے بازو سے الہام ہوتا ہے۔ اس شخص نے اپنی کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوا کے ساتھ خلاف وضع فطری فعل کا مرتکب قرار دیا ہے۔ (معاذ اللہ منہ)
سمہویالی پارٹی
ان سب سے سابق القدم ہے۔ محمد سعید جو اس کا پیشوا ہے۔ کہتا ہے کہ خدا نے مجھے قمر الانبیاء فرمایا اور کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نئی شریعت ملی تھی۔ وہ شریعت محمدیہ کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔ مگر اس کا موقع پورے طور پر انہیں نہیں ملا۔ یہ شخص جو اصلاحات شریعت محمدیہ کی اب تک پیش کر چکا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔ شراب حلال ہے۔ اپنی رشتہ داری میں مثلاً خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں کی لڑکی سے نکاح حرام ہے۔ ختنہ حرام ہے۔ وغير ذلك من الخرافات!
ان پارٹیوں کے علاوہ شخصی طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کی برکات سے جو لوگ رونما ہورہے ہیں ان کا تو شمار ہی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک شخص غالباً ضلع گوجرانوالہ ضلع کا رہنے والا ہے۔ جس نے اپنا نام ”رجل يسعى“ رکھا ہے اور اس نام کے رکھتے ہی اس نے اپنا گھر بستی کے کنارہ بنا لیا ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے منارۃ المسیح بنایا۔ یہ شخص کہتا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ”وجاء من اقصي المدينة رجل يسعى (يسين)“ میں ہی مراد ہوں۔ میرا نام ”رجل يسعى“ ہے۔ یہ شخص ایک بڑا ٹوپ پہنتا ہے۔ جس میں صرف آنکھیں اور ناک
١؎ جس طرح اس نے ریش کو جو عربی زبان میں بمعنی زینت ہے۔ فارسی کا لفظ قرار دے کر داڑھی کے معنی میں لے لیا۔ اسی طرح رجل یسعیٰ کو نام بتا رہا ہے۔ حالانکہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ بستی کے کنارہ سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔
١٦
وغیرہ کھلی رہتی ہے اور داڑھی چھپی رہتی ہے۔ کیو ہے۔ ”لباسا یواری سوآتکم وریشاً“ خلاصہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۔ اس رخنہ سے بے تعداد مفاسد رونما ہوتے چلے کسی طرح مسلمانوں کو حضرت رحمۃ اللعالمین نبی کریم ﷺ کی امت پر رحم فرمائے اور اس بلا طوق گردن سے جدا کرے۔ آمین ثم آمین
تا بہ حشر
فصل چہارم ...... مرزا غلام احم
مرزا قادیانی نے جو فتنے دین میں کہ قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی تعلیم کے سا اگر نمونہ کے طور پر بھی بیان کیا جائے تو یہ رسا صرف تین اوصاف بیان کئے جاتے ہیں۔ اق علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں بہت کثر ہونے کا دعویٰ کیا۔
مرزا قادیانی کا کذاب ہونا
دنیا میں ہمیشہ تمام اہل مذاہب بک سوا قادیانیوں اور شیعوں کے کسی نے جھو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا ناقابل انکار واق قادیان سے ایک رسالہ شائع ہوا ہے۔ جس مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں دس سے زیادہ باتوں کا جھوٹ ہو جانا کوئی عیب نہیں۔ مگر ا تصنیفات سے قطع نظر کر کے صرف ان کتب و ہو چکے ہیں تو دس جھوٹ کہنے والے کا جھوٹا ہو
وغیرہ کھلی رہتی ہے اور داڑھی چھپی رہتی ہے۔ کہتا ہے کہ داڑھی کا چھپانا فرض ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”لباسا یواری سواتکم و ریشا“ یعنی ایسا لباس جو ریش یعنی داڑھی کو چھپائے۔
خلاصہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دین اسلام میں ایک ایسا رخنہ پیدا کر دیا کہ اب اس رخنہ سے بےتعداد مفاسد رونما ہوتے چلے جارہے ہیں اور سب کا نصب العین یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو حضرت رحمۃ اللعالمین کے ظل رحمت سے نکال دیا جائے۔ حق تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کی امت پر رحم فرمائے اور اس بلاء کو جلد دفع فرمادے اور سرور انبیاء ﷺ کی غلامی کا طوق گردن سے جدا نہ کرے۔ آمین ثم آمین!
تا بہ حشرم مہار بینی باد
فصل چہارم...... مرزا غلام احمد کے متعلق چند ضروری معلومات
مرزا قادیانی نے جو فتنے دین میں پیدا کئے اور ضروریات دین کا جس طرح انکار کر کے قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی تعلیم کے ساتھ تمسخر کیا اور الحاد و زندقہ کو پھیلایا ان سب باتوں کو اگر نمونہ کے طور پر بھی بیان کیا جائے تو یہ رسالہ ایک بڑی کتاب بن جائے۔ لہٰذا یہاں اس کے صرف تین اوصاف بیان کئے جاتے ہیں۔ اوّل! یہ کہ وہ بڑا کذاب تھا۔ دوم! یہ کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں بہت کیں۔ سوم! یہ کہ اس نے نبی و رسول بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔
مرزا قادیانی کا کذاب ہونا
دنیا میں ہمیشہ تمام اہل مذاہب بلکہ لامذہبوں نے بھی جھوٹ کو بدترین عیب سمجھا ہے۔ سوا غالیوں اور شیعوں کے کسی نے جھوٹے شخص کو نبی یا پیشوائے واجب الاطاعۃ نہیں مانا۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ایسا ناقابل انکار واقعہ ہے کہ خود اس کے جانثاروں کو بھی ماننا پڑا۔ چنانچہ قادیان سے ایک رسالہ شائع ہوا ہے۔ جس کا نام ”نبی کی پہچان“ ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں دس سے زیادہ جھوٹی ثابت نہیں ہوئیں۔ ان لوگوں کے نزدیک دس باتوں کا جھوٹ ہو جانا کوئی عیب نہیں۔ مگر افسوس کہ یہ کہنا بھی غلط ہے۔ اگر اور علمائے کرام کی تصنیفات سے قطع نظر کر کے صرف ان کتب و رسائل کو دیکھا جائے جو خانقاہ رحمانی مونگیر سے شائع ہو چکے ہیں تو دس جھوٹ کہنے والے کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو جائے۔
١٧
سنو! فیصلہ آسمانی حصہ اوّل مع تتمہ میں ١٥٩ مرزا کے فریب اور جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ فیصلہ آسمانی حصہ دوم میں ٤٢، مسیح کاذب میں دو درجن یعنی ٢٤، ہدیہ عثمانیہ میں ١٧۔ کل میزان چار سو چھیالیس ہوئی۔ صحیفہ رحمانیہ اور صحیفہ محمدیہ کے متعدد نمبروں میں جو جھوٹ مرزا قادیانی کے دکھائے گئے ہیں ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
جھوٹ کی یہ کثرت دیکھ کر بعض غامدیوں کو مثل مولوی عبدالماجد بھاگلپوری کے منہاج نبوت تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنا تمام نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔ گویا کذب خاصۂ نبوت ہے۔ (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) اس منہاج نبوت کی بنیاد خود مرزا قادیانی اپنے ہاتھ سے رکھ گیا تھا۔ جیسا کہ انشاء اللہ تعالیٰ آگے معلوم ہوگا۔
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹ بولنے میں ایسا مشاق تھا کہ شاید ہی کوئی امکانی جھوٹ اس سے چھوٹا ہو۔ عقلاً جھوٹ کی تین قسمیں ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا موجودہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا آئندہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا یعنی جھوٹی پیشین گوئیاں بیان کرنا مرزا قادیانی کے کلام میں یہ تینوں قسمیں جھوٹ کی بکثرت موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
- ١...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں لکھتا
ہے۔ ”مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کے سامنے مر جائے گا۔“ حالانکہ ان دونوں نے اپنی کتاب میں یہ مضمون نہیں لکھا۔ کتاب دعوائے مرزا میں اس جھوٹ کو سچ کرنے والے کے لئے مبلغ پانچ سو روپیہ نقد انعام کا اعلان ہوا۔ پھر صحیفہ رحمانیہ نمبر اوّل مطبوعہ ١٣٣٢ھ میں پھر صحیفہ محمدیہ نمبر ٨ مطبوعہ ١٣٣٥ھ میں مطالبہ کیا گیا۔ مگر کسی غامدی نے آج تک انعام حاصل کرنے کی جرأت نہ کی اور نہ اب کر سکتا ہے۔
- ٢...... (اخبار بدر قادیان ج ٢ ش ٥٢ ص ٥، مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء) میں مرزا قادیانی کا
قول ہے کہ: ”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے۔ سب ہلاک ہوئے۔“ حالانکہ سوا صوفی عبدالحق صاحب کے کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ کیا ہی نہیں اور صوفی صاحب مرزا قادیانی کے مرجانے کے بعد بہت دنوں تک زندہ رہے۔ غامدیوں کی کذب پرستی قابل آفرین ہے کہ اپنے پیغمبر کے اس جھوٹ کو اب تک گا رہے ہیں۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین پیغام صلح مورخہ ٢١؍ دسمبر ١٩١٦ء میں لکھتے ہیں کہ: ”کئی ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہوکر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے اس مامور کی صداقت پر مہر لگا گئے۔“ سچ ہے کاذب کے پیرو بھی کاذب ہی ہوتے ہیں۔
١٨
- ٣.......مرزا (اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤) میں لکھتا ہے کہ : ’’یہ
ضرور تھا کہ قرآن کریم وحدیث کی پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں یہ لکھا تھا کہ مسیح جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اسے کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے۔‘‘
اس عبارت میں چھ جھوٹ ہیں۔ کیونکہ تین باتیں بیان کی ہیں۔ ایک، یہ کہ مسیح علمائے اسلام کے ہاتھوں دکھ اٹھائے گا۔ دوسرے، یہ کہ علمائے اسلام مسیح کو کافر کہیں گے۔ تیسرے، یہ کہ علمائے اسلام مسیح کے قتل کا فتویٰ دیں گے اور ان تینوں باتوں میں سے ہر ایک کے لئے قرآن مجید کا حوالہ بھی دیا اور حدیث کا بھی۔ حالانکہ یہ مضامین نہ قرآن مجید میں ہیں نہ احادیث میں۔
بہاولپور کے مقدمہ میں جلال الدین شمس غامدی نے بھی اپنی شہادت میں یہ جھوٹ بولا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جرح میں پوری حقیقت کھل جائے گی۔
- ٤.......مرزا اپنے رسالہ (تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦) میں لکھتا ہے کہ:
’’(١) قرآن نے میری گواہی دی ہے۔ (٢) رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ (٣) پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ (٤) جو یہی زمانہ ہے اور (٥) قرآن نے بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ (٦) جو یہی زمانہ ہے اور (٧) میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور (٨) زمین نے بھی اور (٩) کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔‘‘
اس عبارت میں نو جھوٹ ہیں۔ ہر جھوٹ پر ہندسہ لگا دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ پرلطف پانچواں جھوٹ ہے کہ قرآن نے مرزا قادیانی کے آنے کا زمانہ متعین کیا ہے۔ کیا کوئی غامدی اس جھوٹ کو سچ بنا سکتا ہے۔
- ٥.......مرزا قادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں لکھتا
ہے کہ: ’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفہ کی نسبت کی خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ: ’’هذا خليفة الله المهدى‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے کہ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔‘‘
ہے کوئی غامدی جو اس مضمون کی ایک روایت بھی صحیح بخاری میں دکھا کر اپنے پیغمبر کی
١٩
آسمانی حصہ اول مع تتمہ میں ١٥٩ مرزا کے فریب اور جھوٹ دکھائے گئے دوم میں ٤٢، مسیح کاذب میں دو درجن یعنی ٢٤، ہدیہ عثمانیہ میں ١٧۔ کل ہوئی۔ صحیفہ رحمانیہ اور صحیفہ محمدیہ کے متعدد نمبروں میں جو جھوٹ مرزا قادیانی کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
یہ کثرت دیکھ کر بعض غامدیوں کو مثل مولوی عبد الماجد بھاگلپوری کے منہاج ہے۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جھوٹ بولنا تمام نبیوں کا شیوہ رہا ہے۔ ہے۔ (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) اس منہاج نبوت کی بنیاد خود مرزا قادیانی ہے۔ جیسا کہ انشاء اللہ تعالیٰ آگے معلوم ہوگا۔
مرزا قادیانی جھوٹ بولنے میں ایسا مشاق تھا کہ شاید ہی کوئی امکانی جھوٹ اس ت کی تین قسمیں ہوسکتی ہیں۔ گذشتہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا موجودہ ٹ بولنا آئندہ واقعات کے متعلق جھوٹ بولنا یعنی جھوٹی پیشین گوئیاں بیان م میں یہ تینوں قسمیں جھوٹ کی بکثرت موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں لکھتا ر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی نے لکھا ہے کہ جھوٹا ے گا۔‘‘ حالانکہ ان دونوں نے اپنی کتاب میں یہ مضمون نہیں لکھا۔ کتاب ھوٹ کو سچ کرنے والے کے لئے مبلغ پانچ سو روپیہ نقد انعام کا اعلان ہوا۔ مطبوعہ ١٣٢٤ھ میں پھر صحیفہ محمدیہ نمبر ٨ مطبوعہ ١٣٢٥ھ میں مطالبہ کیا گیا۔ مگر ٹ انعام حاصل کرنے کی جرات نہ کی اور نہ اب کر سکتا ہے۔
(اخبار بدر قادیان ج ٢ ش ٥٢ ص ٥، مورخہ ٢٧؍دسمبر ١٩٠٦ء) میں مرزا قادیانی کا مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے۔ سب ہلاک ہوئے۔‘‘ حالانکہ سوا کے کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ کیا ہی نہیں اور صوفی صاحب مرزا قادیانی ت مدتوں تک زندہ رہے۔ غامدیوں کی کذب پرستی قابل آفرین ہے کہ اپنے تک گا رہے ہیں۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین پیغام صلح مورخہ ٢١؍ دسمبر ١٩١٦ء ایک مخالفین بالمقابل کھڑے ہوکر اور مباہلہ کر کے اپنی ہلاکت سے خدا کے لگا گئے۔‘‘ سچ ہے کاذب کے پیرو بھی کاذب ہی ہوتی ہیں۔
١٨
پیشانی سے اس داغ کو مٹائے۔
- ......٦ مرزا قادیانی اپنی کتاب (نشان آسمانی ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨) میں لکھتا
ہے کہ: ”جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ہوچکی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہوسکتا۔“
خدا کی پناہ اس جھوٹ کی کوئی حد ہے۔ کسی حدیث میں نہ چودھویں صدی کا ذکر ہے نہ چودھویں صدی میں مہدی کے آنے کا، نہ چودھویں صدی کے مجدد کے بارہ میں خصوصیت کے ساتھ کوئی اشارات یا بشارت ہے۔ کیا کسی قادیانی میں ہمت ہے کہ کوئی ایک روایت اس مضمون کی کسی کتاب میں دکھلا دے۔
کیوں قادیانیو! نبی ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جھوٹے حوالے کتابوں کے دے دے کر جاہلوں کو بہکایا کریں۔
- ......٧ (چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) میں مرزا نے لکھا ہے کہ:
”ہمارے نبی کریم ﷺ کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔“
کیا تاریخ وسیر یا حدیث کی کسی کتاب میں کوئی قادیانی دکھا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ بیٹے ہوئے فوت ہو جانا تو پیچھے کی بات ہے۔
- ......٨ مرزا قادیانی اپنے اشتہار مورخہ ١٢؍ اگست ١٩٠٧ء میں جس کی سرخی ہے۔
”عام مریدوں کی ہدایت“ لکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔
کیا کوئی قادیانی کسی روایت، حدیث میں وبائی مقام سے بھاگ جانے کا حکم دکھا کر اپنے پیغمبر کو دروغ گوئی کی ذلت و خواری سے بچا سکتا ہے۔
- ......٩ مرزا قادیانی (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں لکھتا ہے: ”یہ تمام
دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ و یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“
٢٠
ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (نشان آسمانی ص١٨، خزائن ج٤ ص٣٧٨) میں لکھتا ہے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ہوچکی ہے کہ اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے چودھویں صدی کے لئے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان موقعہ پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں جو ان سے کوئی
جھوٹ کی کوئی حد ہے۔ کسی حدیث میں نہ چودھویں صدی کا ذکر ہے نہ اس کے آنے کا، نہ چودھویں صدی کے مجدد کے بارہ میں خصوصیت کے ساتھ بشارت ہے۔ کیا کسی غامدی میں ہمت ہے کہ کوئی ایک روایت اس مضمون کی دکھائے۔ قادیانی ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جھوٹے حوالے کتابوں کے دے دے کر
(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩) میں مرزا نے لکھا ہے کہ: اس کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے۔“ تفسیر یا حدیث کی کسی کتاب میں کوئی غامدی دکھا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بیٹا پیدا ہو جانا تو پیچھے کی بات ہے۔
مرزا قادیانی اپنے اشتہار مورخہ ١٢ اگست ١٩٠٧ء میں جس کی سرخی ہے۔ لکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل حکم ہے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ کیا کسی روایت، حدیث میں وبائی مقام سے بھاگ جانے کا حکم دکھا کر کوئی ذلت وخواری سے بچا سکتا ہے۔
مرزا قادیانی (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں لکھتا ہے: ”یہ تمام انبیاء، اسلام اور نصاریٰ و یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی استغفار اور خوف سے بھی ٹل سکتی ہے۔“
٢٠
پھر اسی رسالہ (تحفہ غزنویہ ص ٦ ، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٦) میں لکھتا ہے: ”وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی کی نسبت خدائے تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشین گوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔“
حالانکہ یہ سب کذب صریح ہے اور تمام دنیا پر افتراء ہے اور اس کو خدائے تعالیٰ کی سنت کہنا مرزا قادیانی کی بے دینی اور گستاخی کی روشن دلیل ہے۔ کیا کوئی غامدی کسی کتاب سے اس عقیدہ کو دکھلا کر مرزا قادیانی کو دروغ گوئی کی لعنت سے بچا سکتا ہے۔
قرآن مجید پکار پکار کر اعلان کر رہا ہے کہ: ”لا تحسبن الله مخلف وعده رسله “ ، یعنی خدا اپنا وعدہ (خصوصاً) اپنے رسولوں سے خلاف نہیں کرتا۔ مگر مرزا قادیانی اس قرآنی اعلان کے خلاف خدا کی وعدہ خلافی کو متفق علیہ عقیدہ اور سنت اللہ کہہ رہا ہے۔
- ١٠........ مرزا قادیانی اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣٠) میں لکھتا ہے
کہ: ”خدائے تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل کرنے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا۔ جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر ص ١١٦٢ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔“
پھر اسی (انجام آتھم ص ٣٢،٣١، خزائن ج ١١ ص ٣٢،٣١) میں ہے کہ: ”جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کے شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشین گوئی میں بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔“
اس عبارت میں چھ عدد جھوٹ وافترا ہیں۔ خدا پر افتراء، رسول یعنی آنحضرت ﷺ پر افتراء، حضرت یونس علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر افتراء، تفسیر کبیر پر افتراء، تفسیر درمنثور پر افتراء، اجماعی عقیدہ کہہ کر تمام امت پر افتراء، ہرگز ہرگز کسی کتاب میں نہیں ہے کہ قطعی وعدہ چالیس روز کا تھا۔ بلکہ برعکس اس کے (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٨٨) میں صاف موجود ہے کہ نزولِ عذاب کا وعدہ مشروط تھا کہ اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب آئے گا اور ہرگز ہرگز کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں ہے، نہ ہوسکتا ہے کہ خدا کا وعدہ اور پھر وہ بھی قطعی ٹل جاتا ہے۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیوں پر جب گرفت ہوئی تو اس نے یہ بات بنائی کہ تنہا میں ہی جھوٹا نہیں ہوں۔ بلکہ اور نبیوں کی پیشین گوئیاں بھی غلط ہوچکی ہیں۔ خدا کی عادت یہی ہے
٢١
کہ عذاب کی پیشین گوئی کہ جو اگرچہ وہ مشروط بھی نہ ہو ٹال دیا کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ)
- ١١...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں لکھتا ہے:
”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“
کچھ حد اس بیباکی کی ہے کہ قرآن شریف کا جھوٹا حوالہ دیتے ہوئے بھی شرم نہیں کرتا۔
ہے کوئی احمدی جو قرآن شریف میں یہ مضمون دکھلا کر اپنے پیغمبر کو کذب کی روسیاہی سے بچالے۔
- ١٢...... احمدیوں میں ایک بڑا نامور شخص مولوی عبدالکریم تھا۔ اس کے سرطان کا
پھوڑا نکل آیا۔ مرزا قادیانی نے اس کے لئے بڑی دعائیں مانگیں اور اپنے الہام شائع کئے کہ خدا نے مجھے خوشخبری دی ہے کہ وہ شفا پائیں گے۔ اخبار الحکم قادیان کے پرچے ٣١؍ اگست ١٩٠٥ء لغایت اکتوبر ١٩٠٥ء دیکھو کہ کس قدر پیشین گوئیاں مولوی عبدالکریم کے متعلق ہیں۔ ان میں سے ایک پرچہ کی عبارت بلفظہ یہ ہے۔ ”حضرت اقدس (یعنی مرزا غلام احمد ) حسب معمول تشریف لائے اور ایک رؤیا بیان کی جو بڑی ہی مبارک اور مبشر ہے۔ جس کو میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا ہے۔ فرماتے تھے۔ آج تک جس قدر الہامات ومبشرات ہوئے۔ ان میں نام نہ تھا۔ لیکن آج تو اللہ تعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھلا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔
(الحکم ج ٩ ش ٣٢ ص ٢، مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩٠٥ء)
مگر جب مولوی عبدالکریم اسی بیماری میں مر گئے تو مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٣٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٩) میں لکھا کہ: ”١١؍ اکتوبر ١٩٠٥ء کو ہمارے ایک مخلص دوست مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے بھی میں نے دعاء کی تھی۔ مگر ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
یہاں دو جھوٹ مرزا قادیانی نے بولے۔ اوّل! یہ کہ مولوی عبدالکریم کے صحت کی جھوٹی پیشین گوئی کی دوم! یہ کہ مولوی عبدالکریم کی صحت کے متعلق اپنا الہام شائع کر چکے تھے اور اس کو صاف طور پر بشارت کہہ چکے تھے۔ مگر اب کہتے ہیں کہ کوئی تسلی بخش الہام تھا ہی نہیں۔
- ١٣...... مرزا قادیانی اپنی کتاب (دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں لکھتا
ہے: ”خدا نے سبقت کر کے قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
٢٢
گوئی کہ جو اگر چہ وہ مشروط بھی نہ ہو ٹال دیا کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ) مرزا قادیانی اپنی کتاب (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں لکھتا ہے: ”کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح ن پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن ین گوئیاں ٹل جائیں۔“
س بیباکی کی ہے کہ قرآن شریف کا جھوٹا حوالہ دیتے ہوئے بھی شرم نہیں کرتا۔ ان شریف میں یہ مضمون دکھلا کر اپنے پیغمبر کو کذب کی روسیاہی سے بچا لے۔
غلمدیوں میں ایک بڑا نامور شخص مولوی عبدالکریم تھا۔ اس کے سرطان کا قادیانی نے اس کے لئے بڑی دعائیں مانگیں اور اپنے الہام شائع کئے کہ خدا ہے کہ وہ شفا پائیں گے۔ اخبار الحکم قادیان کے پرچے ٣١ اگست ١٩٠٥ء دیکھو کہ کس قدر پیشین گوئیاں مولوی عبدالکریم کے متعلق ہیں۔ ان میں سے بلفظہ یہ ہے۔ ”حضرت اقدس (یعنی مرزا غلام احمد) حسب معمول تشریف ن کی جو بڑی ہی مبارک اور مبشر ہے۔ جس کو میں نے اس مضمون کے آخر فرماتے تھے۔ آج تک جس قدر الہامات ومبشرات ہوئے۔ ان میں نام نہ لی نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٢ ص ٢، مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٠٥ء)
مولوی عبدالکریم اسی بیماری میں مر گئے تو مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص٣٣٩) میں لکھا کہ: ”١١ اکتوبر ١٩٠٥ء کو ہمارے ایک مخلص دوست مولوی یم اسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے بھی ایک بھی الہام ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
موت مرزا قادیانی نے بولے۔ اول ! یہ کہ مولوی عبدالکریم کی صحت کی وم ! یہ کہ مولوی عبدالکریم کی صحت کے متعلق اپنا الہام شائع کر چکے تھے اور ت کہہ چکے تھے۔ مگر اب کہتے ہیں کہ کوئی تسلی بخش الہام تھا ہی نہیں۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں لکھتا کہ قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
٢٢
غلمدیوں نے اپنے پیغمبر کی اس پیشین گوئی کو نہایت متکبرانہ لہجہ میں شائع کیا اور مرزا قادیانی خود بھی حسب عادت بہت اترایا۔ مولوی عبدالکریم مذکور الصدر نے بھی ایک بڑا مضمون اس پر لکھا اور لکھا کہ یہ مرزا قادیانی کے لئے شفاعت کبریٰ کے منصب کا ثبوت ہے کہ قادیان کے تمام لوگوں کو مسلم ہوں یا غیر مسلم اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
مگر تمام دنیا جانتی ہے کہ قادیان میں طاعون پھیلا اور خوب پھیلا۔ قادیان کی کل مردم شماری اس وقت ٢٨٠٠ تھی۔ جس میں سے ١٣١٣ء موتیں طاعون سے ہوئیں۔ پہلے تو غلمدیوں نے اس واقعہ کے چھپانے کی کوشش کی۔ مگر بالآخر اقرار کرنا پڑا۔
(اخبار بدر قادیان ج ١ ش ٨ ص ٥٨، مورخہ ١١ دسمبر ١٩٠٢ء، مورخہ ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء، مورخہ ١٦ اپریل ١٩٠٢ء)
مرزا قادیانی نے اپنے اس جھوٹ کی یہ تاویل کی کہ وحی الٰہی میں قادیان کا لفظ نہ تھا، قریہ کا لفظ تھا۔ دیکھو اخبار (بدر ج ١ ش ١ ص ٦، مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠٢ء) یہ دوسرا جھوٹ مرزا قادیانی کا ہوا کہ خود ہی دافع البلاء میں لکھا کہ خدائے قادیان کا نام لے دیا اور اب کہتا ہے کہ وحی میں قادیان کا نام نہ تھا۔
- ١٤....... ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کی پیشین گوئی ! جو ایک بڑے معرکہ کی
پیشین گوئی تھی اور اس کے جھوٹے ہونے پر مرزا قادیانی کی ذلت بھی ایسی ہوئی کہ کوئی باحیا ہوتا تو پھر منہ نہ دکھاتا۔
١؎ اپنے مخالفوں کو موت وعذاب وغیرہ کی پیشین گوئیاں کر کے ڈرانا مرزا قادیانی کی عادت میں داخل ہو گیا تھا اور اس کا سلسلہ بوجہ بے حیائی کے روز بروز بڑھتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی مرحوم کے متعلق ایک پیشین گوئی اسی قسم کی بیان فرمائی۔ اس پر مقدمہ چل گیا۔ مرزا قادیانی نے بڑی کوششیں کیں۔ مگر سب بے سود رہیں۔ آخر بڑی ذلت کے ساتھ کچہری جانا پڑا اور سب سے زیادہ ذلت یہ کہ عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزا قادیانی سے ایک اقرار نامہ لے لیا جائے کہ آئندہ ایسی حرکت کسی مسلمان یا ہندو یا عیسائی کے ساتھ نہ کریں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اقرار نامہ لکھ کر داخل کیا۔ اس اقرار نامہ میں صاف الفاظ میں لکھا کہ اب میں کسی کے متعلق ایسی پیشین گوئی نہیں کروں گا۔ نہ کبھی کسی کے لئے بددعاء شائع کروں گا۔ یہ فیصلہ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء کا ہے۔ قابل دید ہے سمجھدار کے لئے تو یہی واقعہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے۔ اگر مرزا قادیانی مامور من اللہ ہوتا تو کبھی ایسا اقرار نہ کرتا۔ صاف کہہ دیتا کہ میں خدا کے حکم سے یہ کام کرتا ہوں کسی کے کہنے سے چھوڑ نہیں سکتا۔ چاہے مجھے مار ڈالو۔ دیکھو رسول خدا ﷺ سے جب کفار مکہ نے کہا آپ ﷺ تبلیغ نہ کیجئے اور ابوطالب نے بھی آپ ﷺ کو سمجھایا تو آپ نے صاف کہہ دیا کہ اے چچا میں خدا کے حکم سے یہ کام کرتا ہوں اور اگر میرے ایک ہاتھ میں آفتاب دوسرے میں ماہتاب رکھ دیا جائے تب بھی چھوڑ نہیں سکتا۔
٢٣
مرزا قادیانی نے امرتسر میں عیسائیوں سے مباحثہ کے بعد ٥؍ جون ١٨٩٢ء کو اپنے حریف مسٹر عبداللہ آتھم کے متعلق یہ پیشین گوئی کی۔
(جنگ مقدس ص١٨٨،خزائن ج٦ ص٢٩٢،٢٩٣)
میں لکھتے ہیں کہ: ”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص١٨٨،خزائن ج٦ ص٢٩٢،٢٩٣)
یہ عبارت مرزا قادیانی کی انہیں کے الفاظ میں ہے۔ مرزا قادیانی جانتے تھے کہ اس پیشین گوئی اور اس کے پرزور الفاظ سے آتھم ڈر جائے گا اور ڈر کر مرزا قادیانی کا مرید ہو جائے گا۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ پندرہ مہینہ گزر گئے اور آتھم بدستور صحیح و سالم موجود رہا، نہ وہ مرا، نہ ہاویہ میں گرا۔
عیسائیوں نے ٦؍ ستمبر ١٨٩٣ء کو جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کی تکذیب ہوچکی۔ ہرجگہ جشن کئے بڑے بڑے اشتہارات نکالے اور مرزا قادیانی کو خوب ہی ذلیل کیا کہ اس ذلت کو خیال کر کے آج رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ عبرت کے لئے بعض اشتہارات کی نقل حسب ذیل ہے۔ اہل لدھیانہ کی طرف سے حسب ذیل اشتہار نکلا۔
٢٤
مرزا نے امرتسر میں عیسائیوں سے مباحثہ کے بعد ٥؍ جون ١٨٩٢ء کو اپنے مخالف کے متعلق یہ پیشین گوئی کی۔
(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)
آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابہتہال سے دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں جو راہ اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے ایک مہینہ لے کر پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے نہ رجوع کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجا کھے کئے جاویں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔‘‘
قادیانی لکھتے ہیں :۔ ’’میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق خیال بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں سزا کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے اور مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس
(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)
مرزا قادیانی کی انہیں کے الفاظ میں ہے۔ مرزا قادیانی جانتے تھے کہ اس ان کے پر زور الفاظ سے آتھم ڈر جائے گا اور ڈر کر مرزا قادیانی کا مرید بن جائے گا۔ ایسا نہ ہوا۔ پندرہ مہینہ گزر گئے اور آتھم بدستور صحیح و سالم موجود رہا، نہ وہ مرا۔
٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء کو جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کی تکذیب ہو چکی۔ تو عیسائیوں نے یہ اشتہارات نکالے اور مرزا قادیانی کو خوب ہی ذلیل کیا کہ اس ذلت کو عمر بھ ر روتے رہے ہیں۔ عبرت کے لئے بعض اشتہارات کی نقل حسب ذیل ہے جن میں سے حسب ذیل اشتہار نکلا۔
٢٤
قول صائب
بنمائی بہ صاحب نظرے گوہر خود را عیسیٰ نتواں گشت بتصدیقِ خرِے چند
ارے او خود غرض خود کام مرزا ارے منحوس نافرجام مرزا
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو رسول حق باستحکام مرزا
مسیح ومہدی موعود بن کر بچائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ اے ظلام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیان کا نام تو نے کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیش گوئی جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
بشیر ١؎ آیا تھا کیا کم کر گیا تھا ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
١؎ یہ اشارہ ہے مرزا کی اس پیشین گوئی کی طرف جو انہوں نے اپنے اشتہار مرقومہ (١٨ اپریل ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١) میں کی تھی کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ جس کا نام عمانوئیل اور بشیر بھی ہے۔ اس لڑکے کے اوصاف مرزا قادیانی نے کئی سطروں میں لکھے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا۔ مسیح نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ گویا کہ خدا آسمان سے اترا زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ (٧ اگست ١٨٨٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١) کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ وہ لڑکا میرے یہاں پیدا ہو گیا اور اس پر بڑی تحدی مخالفوں کو کی۔ مگر جب وہ لڑکا سولہ ماہ کی عمر میں مر گیا اور مرزا قادیانی کا کذب سب پر ظاہر ہو گیا تو (یکم دسمبر ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٥) کو مرزا قادیانی نے ایک رسالہ شائع کیا۔ جس کا نام ’’حقانی تقریر واقعہ وفات بشیر‘‘ رکھا۔ اس رسالہ میں خود اپنی شائع کردہ تحریرات کے خلاف بڑی بیباکی سے مرزا قادیانی نے لکھا کہ میں نے یہ ہرگز نہیں لکھا کہ وہ فرزند موعود یہی لڑکا ہے۔ اس دلیری سے جھوٹ بولنا حقیقتاً مرزا قادیانی ہی کا حصہ تھا۔
٢٥
نہ کہتا کچھ اگر منہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
گلے میں اب ترے رسا پڑے گا سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
سزا بھی کم سے کم اتنی تو ہوگی کہ ہو جاوے تجھے سرسام مرزا
ہے سولی اور پھانسی کار سرکار رعایا کا نہیں یہ کام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا بڑا کہلا نبی تام مرزا
کہ اک بھائی ہے مرشد بھنگیوں کا اور اک ہجڑوں کا بے اندام مرزا
کہا اسلامیوں نے حلف پاکر ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
تو ہے اک انبیائے بعل میں سے سلف کو دے رہا دشنام مرزا
زمین و آسماں قائم ہیں اب تک ترے وہ ٹل گئے احلام مرزا
براہین سے بہکائے تو نے مسلمان کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
بحمد اللہ کہ چھپ گئی فتح و توضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
در توبہ ہے وا ہو جا مسلمان یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
ایضاً دیگر
ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم یہ گونج اٹھی امرتسر چھٹی ستمبر کی
ترے حریف کو فیروز پور سے لائی یہ ریل ہے تیرا خر ١ چھٹی ستمبر کی
ذلیل و خوار ندامت چھپا رہی تھی کہ تھا ترے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی
یہ لودھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی کہ جینا ہو گیا دوبھر چھٹی ستمبر کی
سوا برس کے تھے امیدوار سب مایوس مرید اعرج واعور چھٹی ستمبر کی
مسیح و مہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب یہ کہتی پھرتی تھی گھر گھر چھٹی ستمبر کی
ہے روسیاہ مثیل مسیح و اسود ملاحدہ کا وہ رہبر چھٹی ستمبر کی
یہ قادیانی کی تذلیل کے لئے کافی نہ تھا ؟ مباہلہ کا اثر گر چھٹی ستمبر کی
١ اشارہ ہے مرزا قادیانی کے اس قول کی طرف کہ اس نے لکھا ہے کہ خر دجال سے مراد ریل ہے۔
٢٦
منہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
بے رسا پڑے گا سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
کم اتنی تو ہوگی کہ ہو جاوے تجھے سرسام مرزا
سپاہی کار سرکار رعایا کا نہیں یہ کام مرزا
تجھ کو واسطہ کیا پڑا کہلا نبی تام مرزا
مرشد بھنگیوں کا اور اک ہجڑوں کا بے اندام مرزا
نے خلف پاکر ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
یہ بغل میں سے سلف کو دے رہا دشنام مرزا
ہیں اب تک ترے وہ ٹل گئے اعلام مرزا
تو نے مسلمان کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
کر فتح و توضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
ہو جا مسلمان یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
ایضاً دیگر
مرا نہیں آتھم یہ گونج اٹھا امرتسر چھٹی ستمبر کی
پور سے لائی یہ ریل ہے تیرا خرام چھٹی ستمبر کی
یاری تھی کہ تھا ترے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی
کی حالت تھی کہ جینا ہوگیا دوبھر چھٹی ستمبر کی
وار سب مایوس مرید اعرج واعور چھٹی ستمبر کی
دکھائی خوب یہ کہتی پھرتی تھی گھر گھر چھٹی ستمبر کی
مسیح واسود ملاحدہ کا وہ رہبر چھٹی ستمبر کی
لئے بھی نہ تھا مباہلہ کا اثر گر چھٹی ستمبر کی
قادیانی کے اس قول کی طرف کہ اس نے لکھا ہے کہ خر دجال سے مراد
٢٦
عیسائیوں کا ایک اشتہار بھی ملاحظہ ہو
خاتمہ ہوگا اب نبوت کا پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
ارے سن او رسول قادیانی لعین و بے حیاء شیطان ثانی
نہ باز آیا تو کبھی بکنے سے اب بھی بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر یہ کہہ کہہ کر تری مرجاوے نانی
نچاویں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
رسول قادیانی کو پھر الہام ہوا
آتھم اب زندہ ہیں آکر دیکھ لو آنکھوں سے خود بات یہ کب چھپ سکے گی اب چھپائی آپ کی
کچھ کرو شرم وحیا تاویل کا اب کام کیا بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپ کی
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعویٰ قادیانی کے سبھی بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
ہوگیا ثابت ہے سب اقوال بد سے آپ کے کر رہا بیشک ہے شیطان رہنمائی آپ کی
اپنے پنجہ سے نہیں شیطان تمہیں دیتا نجات اس کو کب منظور ہے اک دم جدائی آپ کی
تم ہو اس کے اور اب وہ ہے تمہارا یار غار رات دن کرتا وہی ہے پیشوائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
ہرطرف سے لعنت اور پھٹکار اور دھتکار ہے دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
اب بتاؤ ہیں کہاں وہ آپ کے پیرومرید جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا ڈوم کنجر دھرئیے کنجرے قصائی آپ کی
آپ نے خلقت کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
٢٧
ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں عالم میں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے سوار فیصلہ کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
داڑھی سر او مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
آپ کے دعوؤں کو باطل کر دیا حق نے تمام اب بھی تائب ہو اسی میں بھلائی آپ کی
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
سخت گمراہ ہو نہیں سمجھے مسیح کی شان کو راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
خاتمہ بالخیر ہوگا اور ہو گے سرخرو ہوگئی اب بھی مسیح سے کر صفائی آپ کی
اب دام مکر اور کسی جا بچھائیے بس ہوچکی نماز مصلّی اٹھائیے
مرزا قادیانی نے خود بھی اپنی تحریرات میں لکھا ہے کہ پیشین گوئی کی میعاد ختم ہونے پر مخالفوں نے بہت خوشی کی اور مرزا قادیانی کی تذلیل و توہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ چنانچہ (سراج منیر ص ٧، خزائن ج ١٢ ص ٥٤) میں لکھتے ہیں۔ ”انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“
اب یہ تماشا بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ جب اس طرح کھلم کھلا مرزا قادیانی کا جھوٹ ظاہر ہوا اور ایسے زور و شور کی پیش گوئی ان کی غلط ہو گئی تو انہوں نے کس طرح اپنے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو سمجھایا۔ مرزا قادیانی نے اس موقع پر کئی رنگ بدلے اور پے در پے کئی مختلف تاویلیں کیں جن کو ہم ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
پہلی تاویل
”یہ ہے کہ جو فریق جھوٹا ہو وہ پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اس سے مراد صرف آتھم نہ تھا بلکہ تمام وہ عیسائی جو اس مباحثہ میں اس کے معاون تھے۔“
(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)
جواب اوّل....... یہ کہ خود مرزا قادیانی کی تصریح موجود ہے کہ یہ پیشین گوئی خاص آتھم کے متعلق تھی۔ (کرامات الصادقین اخیر صفحہ، خزائن ج ٧ ص ١٦٣) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”ومنها ماوعد نی ربی اذ جادلنی رجل من المتنصرين الذی اسمه
٢٨
عبداللہ آتھم الی ان قال فاذا بشره شہر“ نیز (تریاق القلوب ص ١١، خزائن ج ١٥ گئی تھی۔ جس میں شرط یہ تھی کہ اگر آتھم پند موت سے بچ جائیں گے۔“
دوسرا جواب....... یہ کہ ا ہو گئی۔ آتھم کے علاوہ تمام ان عیسائیوں کا ثابت کرنا پڑے گا۔
دوسری تاویل
یہ کہ آتھم نے حق کی طرف ر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس پیشین گوئی
جواب....... اس کا یہ ہے کہ حق ڈر جائے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی الہامی عبا رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آتھم عیسا لکھتے ہیں ۔ ” جو شخص سچ پر ہے اور سچے خد ہے اسی کی طرف رجوع مراد ہے۔
مرزا قادیانی نے اس بات کر دیا۔ بڑے بڑے اشتہار دیئے۔ آتھ ہزار بلکہ تین ہزار بلکہ چار ہزار انعام و مذہب میں منع ہے اور انجیل کا حوالہ دی پیشواؤں نے عدالت میں قسمیں کھائی عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں
ایک موقع پر مرزا قادیانی میں حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اس ج١٩ ص ٦) میں لکھتے ہیں ۔ ” اس ( آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے
تے ہیں عالم میں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
یوں نہیں ہوتے سوار فیصلہ کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
کر دیا حق نے تمام اب بھی تائب ہو اسی میں بھلائی آپ کی
عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
مسیح کی شان کو راہِ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
ہو گے سرخرو ہو گئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپ کی
کسی جا بچھائیے بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے
نے خود بھی اپنی تحریرات میں لکھا ہے کہ پیشین گوئی کی میعاد ختم ہونے پر اور مرزا قادیانی کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ چنانچہ ص٥٤) میں لکھتے ہیں۔ ”انہوں نے پشاور سے لے کر الٰہ آباد اور بمبئی تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دینِ اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“ دیکھنے کے قابل ہے کہ جب اس طرح کھلم کھلا مرزا قادیانی کا جھوٹ پیش گوئی ان کی غلط ہوگئی تو انہوں نے کس طرح اپنے جال میں پھنسے قادیانی نے اس موقع پر کئی رنگ بدلے اور پے در پے کئی مختلف عذریں کرتے ہیں۔
جھوٹا ہو وہ پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بلکہ تمام وہ عیسائی جو اس مباحثہ میں اس کے معاون تھے۔“
(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)
یہ کہ خود مرزا قادیانی کی تصریح موجود ہے کہ یہ پیشین گوئی کرامات الصادقین اخیرہ صفحہ، خزائن ج ٧ ص ١٦٣) میں مرزا قادیانی لکھتے ں ربی اذ جادلنی رجل من المتنصرین الذی اسمه
٢٨
عبداللہ آتھم الی ان قال فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الی خمسة عشرا شهرا“ نیز (تریاق القلوب ص ١١، خزائن ج ١٥ ص ١٣٨) میں لکھتے ہیں۔ ”آتھم کے موت کی جو پیشین گوئی تھی۔ جس میں شرط یہ تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔“
دوسرا جواب ...... یہ کہ اچھا صرف آتھم مراد نہ تھا تو اور بھی پریشانی مرزا کو لاحق ہوگئی۔ آتھم کے علاوہ تمام ان عیسائیوں کا جو شریک بحث تھے پندرہ ماہ کے اندر مرکز ہاویہ میں گرنا ثابت کرنا پڑے گا۔
دوسری تاویل
یہ کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کرلیا۔ اس لئے نہیں مرا اور حق کی طرف رجوع نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس پیشین گوئی سے ڈر گیا تھا۔
(انوار الاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٥)
جواب ..... اس کا یہ ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی ہرگز نہیں ہو سکتے کہ ڈر جائے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی الہامی عبارت کا سیاق و سباق صاف بتلا رہا ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آتھم عیسائیت کو ترک کرکے مرزائی ہو جاوے۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو مراد سچ کی ہے اسی کی طرف رجوع مراد ہے۔
مرزا قادیانی نے اس بات کے ثبوت کے لئے کہ آتھم ڈر گیا تھا۔ اپنا پورا زور ختم کر دیا۔ بڑے بڑے اشتہار دیئے۔ آتھم کو لکھا کہ تم قسم کھا جاؤ کہ ڈرے نہیں۔ تو ایک ہزار بلکہ دو ہزار بلکہ تین ہزار بلکہ چار ہزار انعام دوں گا۔ آتھم نے بجواب اس کے لکھا کہ قسم کھانا میرے مذہب میں منع ہے اور انجیل کا حوالہ دیا۔ مرزا قادیانی نے بجواب اس کے لکھا کہ عیسائیوں کے پیشواؤں نے عدالت میں قسمیں کھائی ہیں۔ آتھم نے لکھا کہ مجھے بھی عدالت میں طلب کر لو عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں گا۔
ایک موقع پر مرزا قادیانی نے بدحواس ہو کر یہ بھی لکھ دیا کہ آتھم نے عین جلسہ مباحثہ میں حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اس وجہ سے پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔
(کشتی نوح ص ٦، خزائن
ج ١٩ ص ٩) میں لکھتے ہیں۔ ”اس (آتھم) نے عین جلسہ میں ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرتﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور پیشین گوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے
٢٩
آنحضرت ﷺ کو دجال کیا تھا۔“ مرزا قادیانی کی حالت پر افسوس ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ اس نے عین جلسہ میں رجوع کر لیا تھا تو آپ نے جلسہ کے اختتام کے بعد پیشین گوئی کیوں کی، عجب خبط ہے جس کا سر نہ پیر۔
تیسری تاویل
مرزا قادیانی نے سب سے لطیف یہ کی کہ عبداللہ آتھم چونکہ میری پیشین گوئی سے ڈر گیا اور بہت گھبرایا۔ اس گھبراہٹ نے اس کی زندگی تلخ کر دی۔ یہی مصیبت اور تلخی ہاویہ ہے۔ جس میں وہ گرا۔ لہٰذا پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ باقی رہی موت کی پیشین گوئی تو وہ اصل الہامی عبارت میں نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ وہ میں نے اپنی طرف سے بغیر الہام کر دی تھی۔ اصل الفاظ مرزا قادیانی کے یہ ہیں۔ (انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢) میں لکھتے ہیں۔ ”ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کا دامنگیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے۔ جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں۔ بیشک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا۔ جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔“
ناظرین کرام! ذرا انصاف سے دیکھیں کبھی تو مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا۔ اس لئے وہ ہاویہ میں گرنے سے بچ گیا اور کبھی فرماتے ہیں کہ وہ ہاویہ میں گرا، یہ بدحواسی نہیں ہے تو کیا ہے؟
مرزا قادیانی کا یہ لکھنا سزائے موت کا ذکر الہامی عبارت میں نہیں ہے۔ عجب لطیفہ ہے۔ الہامی عبارت میں ہو آپ کی پیشین گوئی میں صاف صاف ہے اور آپ نے قسم کھا کر لکھا ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیا کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا۔
چوتھی بات جو نہایت عجیب وغریب ہے یہ ہے کہ جب آتھم میعاد پیشین گوئی ختم
٣٠
ہونے کے کئی سال بعد یعنی ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو مر گیا تو مرزا قادیانی بہت خوش ہوئے اور فرماتے ہیں ۔ میری پیشین گوئی پوری ہو گئی اور (حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣) میں ہے ۔ ”اگر کسی کی نسبت یہ پیشین گوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ مہینے کے بیسویں مہینہ میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے ۔“ اہل انصاف دیکھیں کہ مرزا قادیانی کیا لکھ رہے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں کہ موت کی پیشین گوئی الہام میں تھی ہی نہیں۔ کبھی فرماتے ہیں کہ اس مدت کے بعد بھی وہ مر گیا تو موت کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔
اس سے بھی زیادہ لطیف بات جو ایماندار کو حیرت میں ڈال دے یہ ہے کہ مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦) میں لکھتے ہیں کہ: ” پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا ۔ سو وہ آتھم مجھ سے پہلے مر گیا ۔“ ناظرین پیشین گوئی کے الفاظ اوپر نقل ہو چکے ۔ پھر دوبارہ دیکھ لیں اس میں پہلے پیچھے کا ذکر نہیں پندرہ مہینہ کی موت قید ہے ۔ جھوٹ بولے تو اتنا تو نہ بولے ۔ ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ !
- ١٥ ........ منکوحہ آسمانی کی جھوٹی پیشین گوئی جو ایک بڑے معرکہ کی پیشین گوئی تھی
اور مرزا قادیانی کے جھوٹے اور بد سے بدتر ہونے کے لئے قطعی شہادت ہے۔ منکوحہ آسمانی کا قصہ بہت دلچسپ ہے ۔ مگر یہاں پوری تفصیل سے نہیں لکھا جا سکتا۔ مختصر یہ ہے کہ مسماۃ محمدی بیگم دختر مرزا احمد بیگ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی قریبی رشتہ دار تھی ۔ مرزا کو اس کے ساتھ عشق و محبت کی کیفیت پیدا ہوئی۔ یہ سودا جس سر میں سماتا ہے ۔ اس کی جو حالت ہوتی ہے سب جانتے ہیں۔ سیدھے سادے طریقہ سے نکاح کی درخواست کی جاتی تو منظوری کی امید نہ تھی ۔ کون اپنی نوجوان لڑکی کا نکاح ایک ایسے بوڑھے کے ساتھ کر دیتا جس کے بی بی بچے بھی ہوں اور اس کے ساتھ ہی کذاب و دجال بھی ہو۔
لہٰذا مرزا قادیانی نے ایک وحی تصنیف کی کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی بیگم تیرے عقد میں آئے گی اور اس کا نکاح آسمان پر تیرے ساتھ پڑھ دیا گیا ۔ اب تو دنیا میں اس نکاح کی سلسلہ جنبانی کر ۔ اگر لڑکی کا باپ اس نکاح پر آمادہ ہو گیا تو بڑی خیر و برکت لڑکی اور اس کے باپ دونوں کے لئے ہوگی۔ ورنہ دونوں کا انجام برا ہوگا ۔ جس شخص کے ساتھ وہ بیاہی جائے گی وہ شخص نکاح کے دن سے ڈھائی سال تک اور لڑکی کا باپ تین سال تک مر جائے گا۔
٣١
اپنی اس وحی کو مرزا قادیانی نے حسب عادت بڑے بڑے اشتہارات میں شائع کیا اور اس پیشین گوئی کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا اور اعلان دیا کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ تو بے شک میں جھوٹا اور بد سے بدتر ہوں اور یہ نکاح میرے سچ موعود ہونے کی خاص علامت ہے۔
ان اشتہارات کے بعد مخفی کوششیں بھی مرزا قادیانی نے بہت کیں۔ مسماۃ مذکورہ کے باپ احمد بیگ کے بہن کی لڑکی عزت بی بی مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کے نکاح میں تھی مرزا قادیانی نے اپنے لڑکے سے بھی خط لکھوائے اور خود بھی لکھے۔ ایک خط میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ نہ ہوا تو میں قسم کھاتا ہوں کہ عزت بی بی کو اپنے لڑکے سے طلاق دلوا دوں گا۔ غرضیکہ تدبیر اور کوشش میں مرزا قادیانی نے کمی نہیں کی ۔ مگر قسمت سیدھی نہ تھی۔ احمد بیگ نے فوراً اس کا نکاح مرزا سلطان محمد سے کر دیا۔ مرزا غلام احمد نے بہت کچھ پیچ و تاب کھایا۔ مگر ہو کیا سکتا تھا پیشین گوئی بڑی دھوم سے جھوٹی ہو گئی۔
جب محمدی بیگم کا نکاح دوسرے شخص سے ہو گیا تو مرزا قادیانی نے بڑی صفائی سے کہہ دیا کہ میں نے یہ کب کہا تھا کہ وہ باکرہ ہونے کی حالت میں میرے عقد میں آئے گی۔ وہ ضرور بیوہ ہوگی اور ضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ جلدی کیوں کرتے ہو۔ اگر یہ نکاح نہ ہو تو میں جھوٹا۔ جھوٹے مدعی نبوت کو خدا اسی طرح ذلیل کرتا ہے۔ مرزا قادیانی مر گیا اور محمدی بیگم سے اس کا نکاح نہ ہوا اور محمدی بیگم مع اپنے شوہر مرزا سلطان محمد کے خوش و خرم موجود ہے۔ (نوٹ: محمدی بیگم ٢١؍نومبر ١٩٦٦ء کو لاہور میں وفات پا گئیں۔ مرتب)
اب اس قصہ کے متعلق چند مختصر ضروری عبارتیں مرزا کی نقل کی جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے اشتہار مرقومہ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨، مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء) میں لکھتا ہے۔ ”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور تم ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی ١؎ سال تک
١؎ ایسی زبردست پیشین گوئی کا (جس میں ایسی قریب کی مدت معین کر کے اس طرح کسی کی موت اور اس کی اولاد کی بربادی و تباہی اس طرح صاف صاف بیان کی گئی ہو) پورا نہ ہونا محض قدرت خداوندی ہے۔
٣٢
اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فو پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر ۔
پھر مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آ کہ ہمارے نادان مخالف اس پیشین گو بدگو ہری ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا جس وقت یہ ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھا جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے من
پھر محمدی بیگم کا دوسرے شخص گئی تو اس نے الحکم مورخہ ٣٠؍جون میں ح جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔“
پھر مرزا قادیانی نے (شہاد دی کہ یہ پیشین گوئی دراصل چھ پیشین گو میں وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تع اجزاء یہ ہیں۔
- ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری
- ٢...... پھر اس کا داماد اڑھائی سال
- ٣...... پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز
- ٤...... پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح
- ٥...... پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام و
- ٦...... پھر کہ اس عاجز سے نکاح ہ
پھر مرزا قادیانی (انجام آتھم نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر
١؎ یہاں سے اخیر عبارت تک کا عمدہ نمونہ ہے
اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“
پھر مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتا ہے۔ ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیشین گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بے بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
پھر محمدی بیگم کا دوسرے شخص کے ساتھ نکاح ہونے پر جب مرزا قادیانی کی گرفت کی گئی تو اس نے الحکم مورخہ ٣٠ جون میں حسب ذیل جواب دیا۔ ”وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔“
پھر مرزا قادیانی نے (شہادۃ القرآن ص ٨١ ، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں یہ بھی تصریح کر دی کہ یہ پیشین گوئی دراصل چھ پیشین گوئیوں پر شامل ہے۔ عبارت اس کی بلفظہ یہ ہے۔ ”ان میں وہ پیشین گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... پھر اس کا داماد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی فوت نہ ہو۔
- ٥...... پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے نہ ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... پھر کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔“
پھر مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣١) لکھتا ہے۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ (یعنی کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ) اس کی
لے یہاں سے اخیر عبارت تک سب الفاظ دیکھتے جاؤ مرزا قادیانی کی شرافت وتہذیب کا عمدہ نمونہ ہے
٣٣
انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
پھر (انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٥٥) میں لکھتا ہے:۔ ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسرے جز (یعنی داماد احمد بیگ کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
لیکن جب مقررہ میعاد گزر گئی اور محمدی بیگم کا شوہر نہ مرا نہ کوئی بلا محمدی بیگم پر آئی تو کس دلیری کے ساتھ (حقیقت الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) میں لکھتا ہے۔ ”احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آگیا۔ یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے خط بھی لکھے کہ دعاء کرو۔ پس خدا نے ان کے اس خوف، اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشین گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔“
اور (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتا ہے۔ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’ایتھا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبك‘ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی نے جس شرط کا ذکر کیا ہے۔ اگر وہ شرط تھی بھی تو بلا کے ٹل جانے کے لئے تھی۔ کیا محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کوئی بلا تھا کہ جو شرط کے پورا کر دینے سے ٹل گیا۔ مرزا قادیانی کے مرجانے کے بعد اس کے خلیفہ اوّل نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میرے عقیدہ میں کچھ فرق نہیں آیا۔ قیام قیامت محمدی بیگم کی اولاد میں سے کسی کا مرزا قادیانی کی اولاد کسی کے ساتھ نکاح ہو جائے گا۔ تب بھی یہ پیشین گوئی پوری ہو جائے گی۔“ قاضی اکمل جو غلمدیوں کے رکن اعظم ہیں۔ اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان میں مئی ١٩١٣ء کے ص ٤٤ میں لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی سے منکوحہ آسمانی کے سمجھنے میں غلطی ہوگئی تھی اور یہ بات خود مرزا قادیانی لکھ چکے ہیں کہ انبیاء سے وحی کے سمجھنے میں غلطی بھی ہو جاتی ہے۔“
- ١٦...... مرزا غلام احمد قادیانی قسمیہ اقراروں سے کئی دفعہ کافر، کاذب، ملعون،
خائن، بے ایمان، دجال ثابت ہو چکا ہے اور سب الفاظ خود مرزا قادیانی کے ہیں۔ جو اس نے
٣٤
اپنے اوپر چسپاں کئے ہیں۔ یہاں بطور نمونہ کے ایک واقعہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠، خزائن ج ١١ ص ٣١٤) میں لکھتا ہے: ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدائے تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میری ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدائے تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کروں گا۔“
کیا کوئی غلمدی یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور ادیان باطلہ پر موت طاری ہوگئی۔ ہر طرف سے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو گیا اور دنیا اور رنگ پر آگئی۔ اگر یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں تو مرزا قادیانی اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹا ہوا یا نہیں۔
یہاں تک سولہ جھوٹ مرزا قادیانی کے ہم نے بیان کئے۔ لیکن انصاف سے دیکھا جائے تو ہر جھوٹ کے اندر کئی کئی جھوٹ شامل ہیں۔ بھلا اتنا بڑا جھوٹا کذاب شرعاً عرفاً کسی طرح بھی اچھا آدمی کہا جا سکتا ہے۔ نبی ورسول ہونا تو بہت بڑی بات ہے۔
مرزا کا حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا گالی دینا
ہر شخص جانتا ہے کہ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کی توہین کرنا اس کو گالی دینا سخت معصیت ہے اور اس کا مرتکب ہرگز اچھی نظر سے دیکھنے کے لائق نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا ان کو گالی دینا جو قطعاً کفر ہے اور اس کفر کا مرتکب کسی مہذب انسان کی نظر میں انسان بھی نہیں قرار پاسکتا۔
قرآن مجید نے بار بار بڑے اہتمام سے انبیاء علیہم السلام کی عظمت وجلالت کا عقیدہ تعلیم کیا ہے اور مسلمانوں کو سب پر ایمان لانے اور سب کو یکساں واجب التعظیم سمجھنے کی تاکید فرمائی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جس طرح اس کے دروغ گوئیوں سے قطعی فیصلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ چیز بھی فیصلہ کر دیتی ہے۔ کیونکہ اس نے نہایت کمینہ پن سے بازاری الفاظ میں
٣٥
انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دی ہیں اور ان کی توہین کی ہے۔ نمونہ کے طور پر چند کلمات اس کے حسب ذیل ہیں۔
- ١....... (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی نسبت لکھتا ہے۔ ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
- ٢....... ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٣....... ”ممکن ہے کہ اپنی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا
کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مذکور ہیں۔ اندھوں کو اچھا کر دینے کا تذکرہ بھی کئی آیتوں میں ہے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور یہ کہ معمولی تدبیر سے کسی (اندھے کو نہیں) شب کور کو اچھا کیا ہوگا۔ اول درجہ کی بے ایمانی نہیں تو کیا ہے۔ عیسائیوں کے الزام دینے کے لئے یہ عنوان بیان ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یوں ہونا چاہئے تھا کہ بائبل کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ عنوان کو افترا ہی کہنا انصاف کا خون کرنا ہے۔ خود مرزا قادیانی بھی اپنے ان کفریات کو افترا ہی نہیں قرار دیتا۔
- ٤....... نیز (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں ہے۔ ”آپ کے ہاتھ
میں سوا مکر وفریب کے کچھ نہیں تھا۔“
- ٥....... نیز اسی صفحہ میں ہے۔ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔
تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
- ٦....... مرزا قادیانی کی کتاب (معیار المذاہب ص ٢٠، خزائن ج ٩ ص ٤٧٩) میں
ہے۔ یسوع کے دادا صاحب داؤد نے تو سارے برے کام کئے۔ ایک بیگناہ کو شہوت رانی کے
٣٦
لئے فریب سے قتل کرایا اور د سے زنا کیا اور بہت سا مال ز
- ف....... جبکہ
عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ نہیں م ص ٢٩٣) پر لکھتا ہے۔ ”مسا میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون خدائی کا دعویٰ کیا۔“
مگر افسوس کہ مر ہی اپنی تصانیف میں لکھ چکے ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) ”د
- ٧....... (دا
اپنے زمانے میں دوسرے فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شرا کے مال سے اس کے سر پر ع تعلق جو ان عورت اس کی ن مگر مسیح کا نام یہ نہیں رکھا۔
- ف....... اس
دروازہ بند ہو گیا۔ جو بعض مقابل ہمیں مرزا قادیانی کے بائبل کا حوالہ چاہئے تھ
- ٨....... (
کہ خدائے تعالیٰ نے حضر کسی کل کے دبانے کسی ب اگر پرواز نہیں تو پیروں س برس کی مدت تک نجاری ک
لئے فریب سے قتل کرایا اور دلالہ عورت بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا اور اس کو شراب پلائی اور اس سے زنا کیا اور بہت سا مال زنا کاری میں ضائع کیا۔
ف...... جب مسلمانوں نے مرزا پر سخت سرزنش کی تو کہنے لگا کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو یسوع کو کہا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص٩، خزائن ج١١ ص٢٩٣) پر لکھتا ہے۔ ”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدائے تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔“
مگر افسوس کہ مرزا قادیانی پر وہی مثل صادق آگئی کہ دروغ گو را حافظہ نباشد کیونکہ خود ہی اپنی تصانیف میں لکھ چکے ہیں کہ یسوع اور عیسیٰ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔ (توضیح المرام ص٣، خزائن ج٣ ص٥٢) ”دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
- ٧...... (دافع البلاء ص آخری ج١٨ ص٢٢٠) میں لکھتا ہے۔ ”مسیح کی راست بازی
اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام یہ نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
ف...... اس عبارت میں قرآن شریف کے حوالے سے اس نامعقول تاویل کا دروازہ بند ہوگیا۔ جو بعض غامدی کہہ بیٹھتے ہیں کہ عیسائیوں کے الزام دینے کے لئے عیسائیوں کے مقابل ہمیں مرزا قادیانی نے ایسا لکھا ہے۔ عیسائیوں کو الزام دینے کے لئے بجائے قرآن مجید کے بائبل کا حوالہ چاہئے تھا۔
- ٨...... (توضیح المرام ص٦، خزائن ج٣ ص٢٥٣) میں لکھتا ہے۔ ”کچھ تعجب کی جگہ نہیں
کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دی ہو۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے کسی پھونک مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام
٣٧
ہے۔ جس میں کھلونوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کے صنعتوں کے ایجاد کرتے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“ اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے ساتھ جو مسخراپن کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان کے بے باپ ہونے کا بھی انکار ہے۔ جو صریح تکذیب قرآن مجید کی ہے۔
٩....... (ازالہ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥) میں لکھتا ہے۔ ”کچھ تعجب نہیں کرنا
چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ کل کے ذریعہ سے بعض چڑیاں پرواز بھی کرتی ہیں۔“
١٠....... (ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦) میں ہے۔ ”ماسوا اس کے یہ بھی
قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے مانند کر دکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہو ڈال سکتے ہیں تب جماد سے بعض حرکات صادر ہوتے ہیں۔“
١١....... (ازالہ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں ہے۔ ”اب یہ بات قطعی اور
یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں۔ جیسا عام الناس خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
١٢....... (ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) میں ہے۔ ”واضح ہو کہ اس عمل
٣٨
جسمانی میں ایک نہایت بڑا خاصہ یہ ہے کہ جو کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دما تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریا اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو ا اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلو نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے
١٣....... (ازالہ اوہام ص ٣١٠، ٣١
میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں اور وہ وحی جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائید شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے مطا پھینک دیتے ہیں۔“
ف....... کیسی صریح توہین آ مرزا کی وحی کے خلاف ہوں۔ ردی کی طرح سے آگے کام لینا ہے۔
١٤....... نیز (ازالہ اوہام ص ٩٦
کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت ل چاہئے۔“ پھر چند سطروں کے بعد لکھتا ہے صاحب تجربہ ہے۔“
ف ....... عقلیوں کے نزدی آنا۔ اہل انصاف کے نزدیک یہ صاف انکا کہہ کر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کو بارہا معرا عبارت مذکورہ میں سب سے سید الانبیاء ﷺ کے جسم لطیف والطف کو اس
١٥....... نیز (ازالہ اوہام ص
جسمانی میں ایک نہایت بڑا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے۔ وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں۔ بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے۔ اس کے ہاتھ سے بہت کم اثر پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے ہیں۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم رکھنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
- ١٣...... (ازالہ اوہام ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٦٠) میں ہے۔ ”ہم اس کے جواب
میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔ بلکہ قرآن اور وہ وحی جو میرے پر نازل ہوئی ہاں تائید کے طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
- ف...... کیسی صریح توہین آنحضرت ﷺ کی ہے کہ آپ کی حدیثوں کو جب کہ وہ
مرزا کی وحی کے خلاف ہوں۔ ردی کی طرح پھینکنے کو کہہ رہا ہے۔ اس توہین کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس سے آگے کام لینا ہے۔
- ١٤...... نیز (ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٣) میں ہے۔ ”سیر معراج اس جسم
کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔“ پھر چند سطروں کے بعد لکھتا ہے۔ ”اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف (یعنی مرزا) صاحب تجربہ ہے۔“
- ف...... غلمدیوں کے نزدیک معراج ایک قسم کا کشف تھا۔ فی الواقع نہ جانا تھا نہ
آنا۔ اہل انصاف کے نزدیک یہ صاف انکار معراج کا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے کو صاحب تجربہ کہہ کر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کو بارہا معراج ہو چکی ہے۔
عبارت مذکورہ میں سب سے بڑا کفر اور سب سے بڑی توہین یہ بھی ہے کہ سیدالانبیاء ﷺ کے جسم لطیف والطف کو اس بے دین نے کثیف کہہ کر اپنا نامہ اعمال کثیف کیا ہے۔
- ١٥...... نیز (ازالہ اوہام ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٤) میں ہے۔ ”اگر
٣٩
آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے وہ منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کے عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہو۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔“
- ف....... مرزا قادیانی نے جب ارشاد کیا کہ دجال سے مراد پادری ، یاجوج ماجوج
سے انگریز ، خر دجال سے مراد ریل گاڑی ہے تو ان پر اعتراض ہوا یہ مراد آپ کی از روئے احادیث غلط ہوئی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی فرما رہے ہیں۔ ان چیزوں کی پوری حقیقت آنحضرت ﷺ پر منکشف نہیں ہوئی۔ مطلب یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ان چیزوں کو جیسا غلط سمجھا تھا ویسا ہی غلط بیان کر دیا۔ لہٰذا میرے بیان سے ان کی حدیثوں کا تطابق نہیں ہوسکتا۔
- ١٦...... (اعجاز احمدی ص٤٤، خزائن ج١٩ ص١٣٣) میں لکھتا ہے۔ ”کوئی نبی نہیں جس
نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔“
- ١٧...... (ازالہ اوہام ص٤٠، خزائن ج٣ ص٤٧٠) میں ہے۔ ”بعض پیشین گوئیوں کی
نسبت حضرت ﷺ نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلی حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
- ف....... مرزا قادیانی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین صحابہ کرامؓ اور دوسرے
بزرگان دین اسلام کی توہین سے اپنا دامن رنگین کیا ہے بطور نمونہ ملاحظہ ہو۔
- ١٨...... (اعجاز احمدی ص٥٢، خزائن ج١٩ ص١٢٧) میں ہے۔ ”جیسا کہ ابوہریرہؓ جو غبی
تھا اور درایت اچھا نہیں رکھتا تھا۔“
- ١٩...... (ازالہ ص٥٩٦، خزائن ج٣ ص٤٢٢) میں ہے۔ ”حق بات یہ ہے کہ ابن
مسعود ایک معمولی انسان تھا۔“
- ٢٠...... (اعجاز احمدی ص٨٢، خزائن ج١٩ ص١٩٣) میں یہ عربی اشعار مع ترجمہ حضرات
حسنینؓ کی نسبت ہیں۔
اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسین میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ظاہر کر
سے اپنے تئیں اچھا سمجھا دے گا
٤٠
اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے
واما حسين فاذكروا دشت كربلا الى هذه الايام تبكون فانظروا
مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو اب تک تم روتے ہو، پس سوچ لو
(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ص ١٨١)
اور بخدا اس میں مجھ سے کچھ زیادہ نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو
واني قتيل الحب لكن حسينكم قتيل العدى والفرق اجلى واظهر
اور میں خدا کی محبت کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا ظاہر ہے
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ص ١٩٣)
مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت ونزول وحی شریعت
غلمدیوں میں گو قادیانی پارٹی مرزا قادیانی کے فرزند و خلیفہ موعود بشیر کی تعلیم کی بناء پر صاف طریقہ سے مرزا قادیانی کو نبی کہتی ہے اور مرزا قادیانی کے ادعائے نبوت کو تسلیم کرنے لگی ہے۔ مگر صاحب شریعت نبی ہونے اور اس کا ادعا کرنے کو چھپاتی ہے اور لاہوری پارٹی تو قطعاً اپنے مصالح کی بناء پر مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتی ہے اور اس کے ادعائے نبوت کو پردۂ راز میں رکھنے کی ناکام کوشش میں سرگرم ہے۔ لہٰذا اس وقت مرزا قادیانی کی تصنیفات سے دعویٰ نبوت کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال جو نقل کئے جاتے ہیں وہ ان دونوں پارٹیوں کا دجل معلوم کرنے کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ بکار آمد ہوں گے۔ ملاحظہ کیجئے:
- ١...... (انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢) میں ہے۔ ”الہامات میں میری نسبت
بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
- ٢...... (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ص ٢٣١) میں ہے۔ ”سچا خدا وہی ہے جس نے
قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
- ٣...... (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں ہے۔ ”تیسری بات جو اس وحی
سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک
٤١
رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ اب اگر خدائے تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے یہ بلا دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔“
ف ....... اس قسم کے اقوال مرزا کے بہت ہیں۔ اب وہ اقوال اس کے ملاحظہ ہوں جن میں صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ہے۔
- ٤....... (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں ہے ۔ ”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری
خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدی ودین الحق ليظهر على الدين كله“
ف ....... یہ آیت قرآن مجید کی ہے۔ جب معاذ اللہ مرزا قادیانی اس کا مصداق ہو تو دین حق کے ساتھ اس کا مبعوث ہونا صاحب شریعت ہونا نہیں تو کیا ہے۔
- ٥....... (اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) میں ہے۔ ”خدا وہی خدا ہے کہ
جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
- ٦....... (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں ہے۔ ”اگر کہو کہ صاحب
شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازکٰی لهم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
ف ....... اب ہم مرزا قادیانی کے وہ اقوال نقل کرتے ہیں۔ جن میں صاحب شریعت ہونے کی تصریح تو نہیں ہے۔ مگر جو لوگ اس کے دعویٰ کو مجددیت یا محدثیت پر ٹالنا چاہتے ہیں۔ جیسے لاہوری پارٹی ان کا صاف ابطال ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
٤٢
کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ نئے نشان ہے۔ اب اگر خدائے تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار اپنی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود اور نافرمانی اس رسول کے یہ بلا دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل
اس قسم کے اقوال مرزا کے بہت ہیں۔ اب وہ اقوال اس کے ملاحظہ ہوں شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں ہے ۔ ” مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ” هو الذي ارسل دين الحق ليظهره على الدين كله “ یہ آیت قرآن مجید کی ہے۔ جب معاذ اللہ مرزا قادیانی اس کا مصداق ہو تو کا مبعوث ہونا صاحب شریعت ہونا نہیں تو کیا ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) میں ہے۔ ”خدا وہی خدا ہے کہ یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں ہے ۔ ” اگر کہو کہ صاحب ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کوئی قید نہیں لگائی ۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں ۔ کیونکہ میری وحی ی۔ مثلاً یہ الہام ” قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا لهم “ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی اور نہی بھی اور اس گزرگئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“
اب ہم مرزا قادیانی کے وہ اقوال نقل کرتے ہیں۔ جن میں صاحب تو نہیں ہے۔ مگر جو لوگ اس کے دعویٰ کو مجددیت یا محدثیت پر ٹالنا چاہتے ان کا صاف ابطال ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
٤٢
- ......٧ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں ہے۔ ” اور یہ بات ایک
طے شدہ امر ہے کہ جس قدر خدائے تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال و اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے لوگ تمام اس نام کے مستحق نہیں۔“
- ف ...... اب مرزا قادیانی کے وہ اقوال ملاحظہ ہوں جن میں اس نے اپنے کو تمام
انبیاء حتیٰ کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی افضل قرار دیا ہے۔
- ......٨ (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں ہے۔ ”خدا نے اس امت میں
سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس کا نام غلام احمد رکھا ۔“
- ......٩ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢) میں ہے۔ ” خدا نے اس امت
میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلاتا۔“
- ......١٠ (حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں ہے۔ ” اوائل میں میرا
بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا۔“
- ف ...... اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے مرزا قادیانی اپنے کو حضرت عیسیٰ
علیہ السلام پر فضیلت جزئی دیتا تھا۔ مگر بعد میں فضیلت کلی دینے لگا۔
- ......١١ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤) میں ہے ۔ ” بلکہ خدائے
تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ
٤٣
سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثنائے ہمارے نبی ﷺ کے باقی انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔‘‘
ف....... آئندہ چل کر آنحضرت ﷺ کا استثناء بھی جاتا رہا۔
١٢...... (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج٢٢ ص ١٥٩) میں ہے: ”اور جب کہ خدا نے
اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخر زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔‘‘
١٣...... (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج٢٢ ص ٥٠٣) میں ہے: ”اور میں اس خدا
کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
١٤...... (حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) میں ہے۔ ”تمام دنیا میں کئی تخت
اترے پر تیرا (یعنی مرزا قادیانی کا) تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
١٥...... (استفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) میں ہے۔ ”واتانی ما لم یؤت
احد من العالمین“ خدا نے جو کچھ مجھے دیا سارے جہاں میں کسی کو نہیں دیا۔
١٦...... (مکتوبات احمدیہ نمبر ٢ ج ٣ ص ٤٩) میں ہے ۔ ”آنحضرت ﷺ کے معجزات
جو صحابہ کی شہادتوں سے ثابت ہیں۔ وہ تین ہزار معجزہ ہیں۔ اس خدا نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ ہیں۔‘‘
ف....... مرزا قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں بھی آنحضرت ﷺ کے معجزات کو تین ہزار بیان کیا ہے۔
١٧...... (اعجاز احمدی ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) میں یہ شعر ہے جس کا اردو ترجمہ بھی
خود مرزا قادیانی کا کیا ہوا ۔
غسا القمران المشرقان اتنکر
ترجمہ: اس کے لئے (یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
٤٤
ف....... کس قدر گستاخی سرور انبیاء ﷺ کی شان میں ہے۔ اوّل تو اپنا تقابل ان کے ساتھ پھر اپنی فوقیت کا اظہار۔ اس شعر میں معجزہ شق القمر کو مرزا قادیانی نے چاند گہن کہا ہے۔ ”نعوذ بالله من هذه الكفريات“
- ١٨...... (اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٥) میں ہے۔ ”جب کہ مجھے اپنی وحی پر
ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا کہ توریت و انجیل و قرآن کریم پر تو کیا۔ انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں گا۔ جس کی حق الیقین پر بناء ہے۔“
- ١٩...... (حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) میں ہے۔ ”میں خدائے تعالیٰ کی
قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے۔“
- ٢٠...... مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کو مثل اور انبیاء علیہم السلام کے نہ
ماننے والوں کے کافر قرار دیا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) میں لکھتا ہے۔ ”ہاں میں یہ کہتا ہوں چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے۔ وہ قابل مواخذہ ہوگا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا دادخواہ میں نہیں بلکہ ایک وہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا یعنی حضرت ﷺ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا مکذب نہیں بلکہ اس کا فرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشین گوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے بارے میں ہے کہ جس شخص کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پہنچ گئی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہو چکا ہے اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی رسالت کے بارے میں اس پر اتمام حجت ہو چکا وہ اگر کفر پر مر گیا تو ہمیشہ کے لئے جہنم کا سزاوار ہوگا۔“
- ٢١...... (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) میں ہے۔ ”ایک یہ کفر کہ ایک
شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے
٤٥
کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
- ٢٢...... (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) میں ہے۔ ”خدا نے مجھے
اطلاع دی ہے کہ تمہارے اوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو ۔“
- ٢٣...... (فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢) میں ہے۔ ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور
کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف بناؤ۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے نماز ضائع نہ کر اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
- ٢٤...... (فتاویٰ احمدیہ ج ٢ ص ١٨) میں ہے۔ ”١٠؍ستمبر ١٩٠١ء کو سید عبداللہ صاحب
عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں۔ وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ وہ لوگ حضورﷺ کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذب۔“
یہ چوبیس اقوال مرزا قادیانی کے جو دعویٰ نبوت کے متعلق نقل کئے گئے بہت کافی ہیں۔ اگر چہ نسبت ان اقوال کے جو ہم نے نقل نہیں کئے یہ مقدار بہت کم ہے۔
مرزا قادیانی کی وحیان بھی بجائے خود عجیب و غریب چیز ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے عجائب خانہ میں رکھنے کے قابل ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی کا وہ رویا کہ ”خدا نے اپنی قوت رجولیت مرزا پر استعمال کی۔“ (اسلامی قربانی) اور مثلاً (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں یہ وحی ہے کہ: ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ یعنی خدا نے فرمایا کہ اے مرزا تیری یہ شان ہے کہ تو جس چیز کو چاہے کہہ دے کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔
اور مثلاً (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں یہ وحی ہے کہ: ”انت منی بمنزلة ولدی“ یعنی خدا نے فرمایا کہ اے مرزا تو میرے لڑکے کے برابر ہے۔
اور مثلاً (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) میں یہ رویا کہ: ”رایتنی فی
٤٦
رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں میں داخل ہیں۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) میں ہے۔ ”خدا نے مجھے رے اوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز ی ہو جو تم میں سے ہو ۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢) میں ہے۔ ”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ کر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے نماز ضائع نہ کر اور اگر کوئی خاموش نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے۔ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ٢ ص ١٨) میں ہے۔ ”١٠ ستمبر ١٩٠١ء کو سید عبداللہ صاحب میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں ۔ وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز بایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی فرمایا ان کو پہلے تبلیغ ہو جائیں گے یا مکذب۔“
وال مرزا قادیانی کے جو دعویٰ نبوت کے متعلق نقل کئے گئے بہت کافی وال کے جو ہم نے نقل نہیں کئے یہ مقدار بہت کم ہے۔
کی وحیان بھی بجائے خود عجیب وغریب چیز ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے کے قائل ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی کا وہ رویا کہ ”خدا نے اپنی قوت رجولیت سلامی قربانی) اور مثلاً (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) میں یہ وحی اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون “ یعنی خدا نے فرمایا کہ ہے تو جس چیز کو چاہے کہہ دے کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔
ت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) میں یہ وحی ہے کہ : ” انت منی ا نے فرمایا کہ اے مرزا تو میرے لڑکے کی برابر ہے۔
کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) میں یہ رویا کہ : ”رایتنی فی
٤٦
المنام عين الله وتيقنت اننى هو فخلقت السموات والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح “ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں وہی ہوں ۔ پھر میں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی۔
ایک ضروری فیصلہ
مرزا قادیانی کے اقوال ہر معاملہ میں اس قدر مختلف ہوتے ہیں کہ جیسا کہ موقع ہو ویسی بات بنائی جاسکے۔ بڑی وجہ اس اختلاف کی اس کی دجالیت ہے اور کچھ وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے دعوؤں میں بتدریج ترقی کی ہے۔ جیسا کہ فصل سوم میں بیان ہوچکا۔
ادعائے نبوت میں بھی اس کے اقوال متضاد ہیں۔ کہیں تو صاف انکار اپنی نبوت کا ہے اور آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا اقرار ہے اور کہیں دعویٰ نبوت کا تو ہے۔ مگر صاحب شریعت نبی ہونے کا انکار ہے اور کہیں صاحب شریعت نبی ہونے کا بھی ادعاء ہے۔
لاہوری پارٹی مرزا قادیانی کے ان اقوال کو پیش کرتی ہے۔ جن میں نبوت کا انکار ہے اور دوسرے اقوال کو چھپاتی ہے یا دور از کار تاویلات کرتی ہے اور قادیانی پارٹی بھی جہاں دیکھتی ہے کہ دعویٰ نبوت سے مسلمان بھڑک جائیں گے۔ وہاں انہیں اقوال کو پیش کر دیتی ہے کہ مرزا قادیانی تو خود کہتا ہے کہ؎
یا ان اقوال کو پیش کر دیتی ہے جن میں نبوت کا دعویٰ تو ہے مگر صاحب شریعت ہونے کی نفی ہے۔ لہٰذا اس مقام پر اس کا محققانہ فیصلہ خود مرزا قادیانی کے فرزند اور خلیفہ میاں محمود کی زبان سے درج کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد پھر کسی غلطی کو چون و چرا کی یا کسی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی اور چونکہ وہ فیصلہ حقیقت پر مبنی ہے۔ لہٰذا لاہوری پارٹی بھی اس کے آگے سرنگوں ہے۔
سنو! میاں محمود اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ١٢٠، ١٢١) میں بجواب محمد علی لاہوری لکھتا ہے۔ ”چونکہ میں نے مسیح موعود کی کتب میں سے وہ حوالے جن سے آپ کی نبوت کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے اوپر نقل کر دیئے ہیں اور ان کو دو حصوں پر تقسیم کیا ہے۔ ایک ١٩٠١ء سے پہلے کے اور ایک ١٩٠١ء کے بعد کے اس لئے ہر ایک شخص بہ آسانی معلوم کرسکتا ہے کہ جن کتب میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے صریح الفاظ میں انکار کیا ہے اور اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص اور
٤٧
محدثوں کی نبوت قرار دیا ہے۔ وہ سب کے سب بلا استثناء ١٩٠١ء سے پہلے کی کتب ہیں اور یہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ تریاق القلوب بھی انہیں کتب میں سے ہے اور ١٩٠١ء کے بعد کی کتب میں سے ایک کتاب میں بھی اپنی نبوت کو جزئی قرار نہیں دیا اور نہ ناقص اور نہ نبوت محدثیت اور نہ صاف الفاظ میں کہیں لکھا ہے کہ میں نبی نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میں شریعت لانے والا نبی اور براہ راست نبوت پانے والا نبی نہیں ہوں۔ ہاں ایسا نبی ضرور ہوں ۔ جس نے نبوت کا فیضان بواسطہ آنحضرت ﷺ پایا ہے۔
اس اختلاف سے اتنا تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں حضرت مسیح موعود نے اپنے عقیدہ میں ایک تبدیلی ضرور کی ہے۔ یعنی پہلے اپنی نبوت کو محدثیت قرار دیتے تھے۔ لیکن بعد میں اس کا نام نبوت ہی رکھتے ہیں اور نبوت کا انکار نہیں کرتے۔ بلکہ شریعت جدیدہ لانے اور براہ راست نبوت پانے کا انکار کرتے ہیں۔
پھر اس کے بعد بفاصلہ دس سطور لکھتا ہے۔ ”اور چونکہ تریاق القلوب کے زمانہ تک آپ نے اپنے کو مسیح سے کلی طور پر افضل ہونے کا انکار کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٠ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان میں برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ ١٩٠١ء سے پہلے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے اور دوسری طرف حقیقت الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
اس عبارت میں بھی اگرچہ دجل و فریب بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ کہ عقائد میں تبدیلی اور نسخ کو جائز رکھا ہے۔ حالانکہ عقلاً ونقلاً انبیاء علیہم السلام کے عقائد میں ہرگز تبدیلی نہیں ہوتی کہ
١؎ یہ بھی دجل ہے کہ یہاں مطلق شریعت لانے کی نفی ہے اور آگے چل کر شریعت جدیدہ لانے کی نفی جس سے شریعت غیر جدیدہ لانے کا اقرار ہوتا ہے اور کتاب اربعین میں اس کی صاف تصریح بھی ہے۔ جیسا کہ اوپر منقول ہوا۔
٤٨
پہلے ایک چیز کا عقیدہ ہو اس کے بعد اس کے ضد کا عقیدہ قائم ہو جائے۔ نیز عقائد میں نسخ بھی نہیں ہوتا۔ نسخ صرف اعمال میں ہوتا ہے۔
مگر با ایں ہمہ اس بات کا قطعی اور واقعی فیصلہ ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے ١٩٠١ء کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کے اقوال جو لوگ پیش کر کے مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں وہ اس دجال سے بڑھ کر دجالی کر رہے ہیں۔
خاتمہ
ریاست بہاولپور کے کچھ مسرت انگیز چشم دید حالات
- ١...... بہاولپور ایک قدیم اسلامی ریاست ہے۔ مسلمانوں کے دور اقبال کی ایک
یادگار ہے۔ پنجاب کا آخری حصہ ہے۔ سرحد صوبہ سندھ سے ملی ہوئی ہے۔ علاقہ اکثر ریگستان اور غیر آباد ہے۔ ورنہ سرکار نظام کے سوا اور تمام ہندوستانی ریاستوں سے اس کی مالی حالت فائق ہوتی۔
- ٢...... ریاست میں ماشاء اللہ دینداری کا بہت چرچا ہے۔ جمعہ کے دن تعطیل
ہوتی ہے۔ سرکاری دفاتر بند رہتے ہیں۔ اتوار کے دن تمام کچہریاں اور سرکاری دفاتر کھلے رہتے ہیں۔ جامع مسجد کے قریب ہم لوگوں کا قیام تھا۔ پانچوں وقت بڑی بڑی جماعتوں کے ساتھ نماز ہوتی تھی۔ فرمانروائے بہاولپور شہر سے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ لیکن جب کبھی جمعہ میں آجاتے ہیں تو خطبہ بھی خود ہی پڑھتے اور امامت نماز بھی خود ہی فرماتے ہیں۔
- ٣...... ریاست بہاولپور کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہ مقام ان
مفتوحات میں سے ہے جو صحابہ کرامؓ کے عہد میں ہوئی تھیں۔ صحابہ کرامؓ کے قدوم متبرکہ سے یہ سرزمین منور ہوچکی ہے اور مقام اچ شریف میں جو ریاست کے علاقہ میں ایک مشہور بستی ہے وہ حضرات مدفون بھی ہیں۔ اس وقت ان کی قبروں کا کچھ نشان نہیں ملتا۔ مگر جو نورانیت اس سرزمین میں ہے اور جو دینداری اور برکت ہے وہ روشن دلیل اس کی ہے۔
- ٤...... اس سرزمین میں اہل عرب کے ورود کی شہادت کھجور کے درخت دے رہے
ہیں۔ جنگل کے جنگل کھجوروں کے ہیں۔ کوئی مکان ایسا نہیں جس میں دو تین درخت کھجور کے نہ ہوں۔ یہ کھجوریں شکل اور ذائقہ میں عرب کے کھجوروں سے قریب ہیں اور سال بھر تک رکھ کر کھائی جاتی ہیں۔
- ٥...... سرزمین بہاولپور کی دینداری کا ایک عمدہ نمونہ جس نے ہم لوگوں کو بہاولپور
پہنچتے ہی خوش کیا وہ رمضان مبارک کے احترام کے لئے ایک سرکاری اعلان تھا جو دیواروں پر چسپاں تھا۔
٤٩
جس کی چند کاپیاں وہاں سے حاصل کر کے میں اپنے ہمراہ لایا تھا۔ اس کی نقل بلفظہ حسب ذیل ہے۔
نقل اعلان سرکاری ریاست بہاولپور، بابت احترام رمضان المبارک
حرمت رمضان المبارک کے قائم رکھنے کے لئے ہر سال دربار سے احکام جاری ہوتے ہیں۔ لیکن دیکھا جاتا ہے کہ ان احکام کی پوری پابندی نہیں ہوتی۔ اس لئے بطور قانون مختص الامر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمان (مرد یا عورت) عاقل بالغ بماہ رمضان دن کے وقت بلا عذر شرعی اعلانیہ کوئی چیز کھاتا ہوا یا پیتا ہوا یا حقہ نوشی وغیرہ کرتا ہوا پایا جائے، یا کوئی مسلمان نان بائی، فالودہ فروش، حلوائی، شیر فروش، سوڈا لیمونیڈ فروش، شربت فروش، چھابڑے والا، تنور والا دن کے وقت، علانیہ کاروبار فروخت یا تیاری اشیاء خوردنی کرے۔ الا ایسے اوقات میں جس سے پایا جاتا ہے کہ افطار روزہ کے واسطے تیاری مقصود ہے تو ہر اہل کار پولیس کو جس کا درجہ سارجنٹ سے کم نہ ہو۔ اختیار ہوگا کہ ایسے شخص یا اشخاص کو بلا وارنٹ اپنی حراست میں لائے اور عدالت مجسٹریٹ مقامی میں پیش کرے۔ جہاں سے بشرط ثبوت جرم سزا قید محض تا سہ یوم یا سزائے جرمانہ تک کی دی جائے گی۔ ایسی سزائے قید پر قواعد عوضانہ جاری نہ ہوں گے۔
- ......٦...... آج کل غلمدیوں کے متعلق عام طور پر مسلمانوں کا جوش نہایت قابل
ستائش ہے۔ قریب قریب روزانہ اسی موضوع پر وعظ ہوتے رہتے ہیں اور وعظوں میں اجتماع بھی خوب ہوتا ہے۔ لوگوں کو اس فرقہ کے متعلق معلومات بھی خوب ہو گئی ہیں۔
- ......٧...... غلمدیوں نے دوسرے مقامات کی طرح بہاولپور میں بھی سیرۃ النبی کے
جلسے بڑی کوشش سے کئے اور عوام کی دلچسپی کے سامان بھی بہت فراہم کئے۔ مگر ایک متنفس مسلمان تماشا دیکھنے کی نیت سے بھی ان کے جلسہ میں نہ گیا۔ سوا ان حکام کے جو انتظاماً وہاں متعین تھے۔
- ......٨...... مسلمانوں کی بیداری اور جوش کو قائم رکھنے کے لئے پے در پے اشتہارات
بھی خوب تقسیم ہوئے۔ ہر اشتہار کے ایک جانب تو غلمدیوں کے مذکورہ بالا جلسہ سیرت کی مضرتوں کا بیان ہے کہ اس پردہ میں کس طرح غلمدیت کی تحریک کی جاتی ہے اور دوسری جانب مرزا غلام احمد کے متعلق بہت کارآمد معلومات ہیں۔ مثلاً ایک اشتہار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو گالیاں مرزا قادیانی نے دی ہیں ان کی دادیوں اور نانیوں کو زنا کار کہا ہے۔ ان کا بیان ہے اور ایک اشتہار میں مرزا قادیانی سے پہلے جو دجال مدعیان نبوت گزرے ہیں ان کا تذکرہ ہے اور ایک اشتہار میں خلیفہ قادیانی کے تین فتوے اس کی کتابوں سے نقل کئے ہیں۔ مثلاً یہ غیر احمدی بچہ کا جنازہ مت پڑھو۔ غیر احمدی ہندو اور عیسائیوں کی طرح کافر ہیں۔ غیر احمدیوں سے رشتہ ناطہ نہ چاہئے اور ایک
٥٠
اشتہار میں مرزا قادیانی کی چند وحیاں ہیں۔ جن میں مسلمانوں کی تکفیر اور اپنی بڑائی کا گیت گایا ہے۔ راقم الحروف آٹھ دس اشتہار اپنے ہمراہ لایا ہے۔
- ٩...... شہر بہاولپور میں ایک مجلس مشاعرہ قائم ہوتی ہے اور اب اس میں بجائے
واہی تباہی اشعار کے غلمدیوں کے رد کے مضامین نظم کئے جاتے ہیں اور روزانہ کوئی عمدہ نئی نظم جامع مسجد کے مشرقی دروازہ پر چسپاں کی جاتی ہے۔ اس قسم کی کئی دلچسپ نظموں کی نقل راقم الحروف اپنے ہمراہ لایا ہے۔
- ١٠...... ریاست میں کچھ شیعہ بھی ہیں۔ حکومت کی طرف سے تو دنیاوی امور میں
شیعہ سنی ہندو عیسائی کا کوئی امتیاز نہیں۔ حتیٰ کہ غلمدیوں کو بھی سیرۃ النبی کے فرضی نام سے جلسے کرنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن عام طور پر مسلمان جس طرح غلمدیوں کو دین اسلام کا مخالف جانتے ہیں۔ اسی طرح شیعوں کو بھی۔
خدا کا کرنا یہ کہ انہیں شیعوں میں ایک سید صاحب (نوٹ: حضرت مولانا سید محمد علی شاہ صاحب ساکن بستی راجن ضلع بہاولپور مراد ہیں۔ جن کا تذکرہ راقم کی کتاب ”فراقِ یاراں“ میں تفصیل سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مرتب) کو توفیق ملی اور وہ سنی ہو گئے۔ چونکہ ذی علم بھی ہیں۔ اس لئے ان سے بہت ہدایت ہورہی ہے۔ ”بارك الله علينا وعليه“ آگے تبدیل مذہب کے اسباب اور ہدایت کے واقعات وہ خود ہی لکھ کر انشاء اللہ تعالیٰ بھیجیں گے جو النجم میں شائع ہوں گے۔ ”ھذا آخر الكلام والحمد لله رب العالمين والصلوٰۃ والسلام على خاتم النبیین وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ اجمعین“
لکھنؤ میں غلمدیوں کی پریشانی اور بے چینی
عجب تماشا ہے۔ مقدمہ ہو بہاولپور میں اور بے چین ہوں لکھنؤ کے غلمدی۔
مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل نورالدین ١ کے وقت سے اب تک غلمدیوں کو لکھنؤ میں
١ ندوۃ العلماء کے ایک جلسہ میں مسٹر بشیر پاپائے قادیان لکھنؤ آئے۔ ان کو مناظرہ کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ کی۔ مگر یہاں سے جا کر نورالدین کے سامنے اپنے فرار کا رونا روئے۔ انہوں نے مفتی محمد صادق ایڈیٹر اخبار بدر اور مفتی سرور شاہ اور میر قاسم علی دہلوی کو حضرت والد ماجد دامت برکاتہم سے مناظرہ کے لئے لکھنؤ بھیجا۔ اخبار بدر میں اعلان بھی ہوا مگر لکھنؤ پہنچ کر ان تینوں نے صاف کہہ دیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم کو زبانی مناظرے سے منع کیا ہے۔ لہٰذا ہم مناظرہ نہ کریں گے۔ یہ ذلت کچھ کم نہ تھی کہ اخبار میں اعلان دے کر اس طرح کروفر سے آئے اور یوں بھاگے۔
٥١
جو ذلت آمیز شکستوں پر شکستیں نصیب ہوتی رہیں۔ کیا وہ کبھی فراموش ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً محلہ گنیش گنج کا واقعہ کہ پادری جوالا سنگھ کی انجمن جویان معرفت میں جب مولانا عبد الکریم صاحب مرحوم صدر المدرسین ندوۃ العلماء کے بعد حضرت والدی الماجد دامت برکاتہم نے غلمدیوں کے مناظرہ کا سلسلہ اپنے ہاتھ میں لیا تو غلمدی لوگ میدان بحث سے جس طرح بدحواس ہو کر بھاگے تھے اس کے دیکھنے والے سینکڑوں موجود ہیں۔
غلمدیوں کی ایک انجمن بھی لکھنؤ میں مدتوں سے قائم ہے۔ مگر بیچاروں کی کوئی نہیں سنتا۔ کوئی مسلمان حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ظل رحمت سے جدا ہو کر جدید عیسائی بننا منظور نہیں کرتا۔ تین چار پنجابی اور ایک ریلوے گارڈ صاحب جو پہلے سے اس بلا میں گرفتار ہو چکے تھے۔ بس یہاں یہی چند نفر غلمدی ہیں۔ کوئی نیا شخص دام میں نہیں پھنستا۔ ’’والحمد لله علیٰ ذلک‘‘
غرضکہ لکھنؤ میں غلمدیت کی تحریک بہت دنوں سے مردہ ہو چکی تھی اور اب تو بفضلہ تعالیٰ ہر جگہ اس پر مردنی طاری ہو رہی ہے۔ اس حالت پر لکھنؤ کے غلمدی صاحبان اگر کسی امر میں پیش قدمی کریں تو سوا اس کے کیا کہا جائے کہ؎
واقعہ یہ ہے کہ آخر شعبان میں جو مواعظ حضرت والدی الماجد دامت برکاتہم کے بتقریب استقبال ماہ مبارک ہوئے۔ جن میں نہایت اختصار کے ساتھ مقدمہ بہاولپور کا بھی کچھ تذکرہ فرمایا گیا۔ کیونکہ مسلمان بہت مشتاق و منتظر تھے۔ تو غلمدیوں نے دخل در معقولات کے طور پر ایک شخص کے ذریعہ سے کچھ سوالات پیش کر دیئے۔ حضرت ممدوح نے اولاً ان کے جواب سے اعراض کیا اور فرمایا کہ ہماری اس محفل کا یہ مقصد نہیں ہے۔ مگر جب پھر بار بار ان کا اصرار ہوا تو آپ نے جواباً ان باتوں کو ضروری تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا۔ جن کو پہلے ترک کر دیا تھا۔
مواعظ کا سلسلہ تو ختم ہو گیا۔ مگر غلمدیوں کی بے چینی نہ ختم ہوئی اور انجمن غلمدیہ کی طرف سے پانچ صفحہ کا ایک پمفلٹ یا اشتہار شائع ہوا۔ جس کا عنوان یہ ہے۔ ’’جناب مولوی عبد الشکور صاحب کے اعتراضات اور انکے جوابات‘‘ جواب تو ایک بات کا بھی نہیں دیا ہاں کچھ بے سر و پا کفریات ضرور لکھی ہیں۔ جن میں اکثر باتیں وہ ہیں جو غلمدیوں کے علامہ نے بہاولپور کی عدالت عالیہ میں پیش کی ہیں اور ہماری طرف سے ان پر جرح کرنے کے لئے عدالت نے مارچ
٥٢
ں پر شکستیں نصیب ہوتی رہیں۔ کیا وہ کبھی فراموش ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً محلہ پادری جوالا سنگھ کی انجمن جویان معرفت میں جب مولانا عبدالکریم صاحب ندوۃ العلماء کے بعد حضرت والدی الماجد دامت برکاتہم نے غلمدیوں کے ہاتھ میں لیا تو غلمدی لوگ میدان بحث سے جس طرح بدحواس ہو کر بھاگے لے سینکڑوں موجود ہیں۔ کی ایک انجمن بھی لکھنؤ میں مدتوں سے قائم ہے۔ مگر بیچاروں کی کوئی نہیں حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے ظل رحمت سے جدا ہو کر جدید عیسائی بننا ناچار پنجابی اور ایک ریلوے گارڈ صاحب جو پہلے سے اس بلا میں گرفتار ہاں یہی چند نفر غلمدی ہیں۔ کوئی نیا شخص دام میں نہیں پھنستا۔ ’’والحمد
لکھنؤ میں غلمدیت کی تحریک بہت دنوں سے مردہ ہو چکی تھی اور اب تو بفضلہٖ نی طاری ہورہی ہے۔ اس حالت پر لکھنؤ کے غلمدی صاحبان اگر کسی امر میں اس کے کیا کہا جائے کہ؎
ہے کہ آخر شعبان میں جو مواعظ حضرت والدی الماجد دامت برکاتہم کے مبارک ہوئے۔ جن میں نہایت اختصار کے ساتھ مقدمہ بہاولپور کا بھی کچھ یہ مسلمان بہت مشتاق و منتظر تھے۔ تو غلمدیوں نے دخل در معقولات کے طور سے کچھ سوالات پیش کر دیئے۔ حضرت ممدوح نے اولاً ان کے جواب سے ، ہماری اس محفل کا یہ مقصد نہیں ہے۔ مگر جب پھر بار بار ان کا اصرار ہوا تو ں کو ضروری تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا۔ جن کو پہلے ترک کر دیا تھا۔ سلسلہ تو ختم ہو گیا۔ مگر غلمدیوں کی بے چینی نہ ختم ہوئی اور انجمن غلمدیہ کی ہا ایک پمفلٹ یا اشتہار شائع ہوا۔ جس کا عنوان یہ ہے۔ ’’جناب مولوی اعتراضات اور ان کے جوابات‘‘ جواب تو ایک بات کا بھی نہیں دیا ہاں کچھ لکھی ہیں۔ جن میں اکثر باتیں وہ ہیں جو غلمدیوں کے علامہ نے بہاولپور کی لی ہیں اور ہماری طرف سے ان پر جرح کرنے کے لئے عدالت نے مارچ ٥٢
کا مہینہ مقرر کیا ہے۔ غالباً مقصد یہ ہے کہ ان باتوں کو یہاں پیش کر کے قبل از وقت جرح کو معلوم کریں۔ اس کے جواب میں ہمیں صرف یہ کہہ دینا کافی تھا کہ مارچ کے مہینہ کا انتظار کرو۔ انشاء اللہ تعالیٰ صحیح ہو جائے گی۔ الیس الصبح بقریب!
لیکن اس وقت ہم بقدر ضرورت اس اشتہار کی حقیقت بھی ظاہر کئے دیتے ہیں۔ سنئے۔
- ......١ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے جن علمائے اسلام کے
حوالے دیئے ہیں۔ معاذ اللہ وہ بھی اس کفر میں غلمدیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ سب افتراء ہے۔ جس کا انکشاف انشاء اللہ جرح میں ہوگا۔
اسی سلسلہ میں یہ لطیفہ بھی غلمدیوں نے خوب لکھا کہ: ’’یہی روشن (یعنی نبوت کی روشنی) کبھی شیخ عبدالقادر جیلانی کے وجود میں ظاہر ہوئی اور کبھی حضرت مجدد الف ثانی کے وجود میں اور کبھی شیخ معین الدین چشتی میں عیاں ہوئی اور کبھی قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اندر نمایاں ہوئی ۔‘‘ انتہیٰ ملخصاً!
اس کا جواب یہ ہے کہ در کفر ہم ثابت نہ زنار را رسوا مکن خود مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتا ہے کہ: ’’تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی ۔‘‘
- ......٢ لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کبھی اپنے کو آنحضرت ﷺ پر افضلیت نہیں
دی اور اس کی تائید میں کچھ اقوال مرزا قادیانی کے نقل کئے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے ان اقوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جن کی بناء پر یہ الزام قائم ہوا ہے۔ مثلاً (مکتوبات احمدیہ نمبر ٥ ج ٣ ص ٤٩) میں یہ قول کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور میرے تین لاکھ اور مثلاً (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) کا وہ شعر جس میں مرزا قادیانی نے اپنا اور آنحضرت ﷺ کا تقابل کرتے ہوئے لکھا کہ اس کے لئے چاند میں گہن لگا اور میرے لئے چاند و سورج دونوں میں۔
غسا القمران المشرقان اتنکر
- ......٣ اس الزام کا بھی انکار کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
گالیاں نہیں دیں۔ مگر یہاں بھی وہی کارروائی کی ہے کہ مرزا قادیانی کے ان اقوال کا جواب نہیں ٥٣
دیا ۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں اور نانیوں کو زنا کار لکھا ہے اور بحوالہ قرآن ان کے پارسائی اور پرہیز گاری کا انکار کیا ہے۔ نیز اپنے کو ان پر فضیلت دی ہے۔ یہ سب اقوال اس رسالہ میں موجود ہیں نکال کر دیکھو۔
- ٤...... اس اشتہار میں مرزا قادیانی کی دروغ گوئیوں کو عمدہ صفت بنانے کے
لئے یہ کفر بھی لکھا ہے کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں وعید کے متعلق ٹل جایا کرتی ہیں اور اس کے ثبوت میں مکتوبات امام ربانی اور تکمیل الایمان شیخ دہلوی کا حوالہ دیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ان حوالوں کے متعلق تو مقدمہ بہاولپور کی جرح کا انتظار کیا جائے۔ مگر اتنا اس وقت بھی سن لو کہ خدا اور رسول کی کوئی پیشین گوئی خواہ وعدہ کے متعلق ہو یا وعید کے۔ ہر گز نہیں ٹل سکتی۔ ہر گز نہیں ٹل سکتی۔ ہر گز نہیں ٹل سکتی۔ جو اس کا قائل ہو وہ کافر اکفر ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”ان اللہ لا یخلف المیعاد“ اور ”من اصدق من اللہ قیلا“ اس مضمون کی آیات بہت ہیں۔
اور قطع نظر اس سے مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں تو وعید کے علاوہ بھی جھوٹی ہوئیں۔ مثلاً محمدی بیگم کے نکاح کی پیشین گوئی اس کے والد یا شوہر کے مرجانے کی پیشین گوئی کو وعید کہوگے۔ مگر نفس نکاح کی پیشین گوئی تو وعید نہ تھی۔
- ٥...... آخر میں شیعوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بھی لکھ دیا کہ مرزا قادیانی نے
حضرت امام حسینؓ کی تحقیر نہیں کی۔ مگر یہاں بھی وہی کارروائی ہے کہ مرزا قادیانی کے ان اقوال کا مطلق جواب نہ دیا جن سے یہ الزام قائم ہوا ہے۔ مثلاً (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٧) میں مرزا قادیانی کا یہ قول کہ : ”صد حسین است در گریبانم“ یعنی سو حسین میری گریبان میں ہیں اور مثلاً قصیدہ اعجازیہ کے وہ اشعار جو رسالہ ہٰذا میں منقول ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر اپنے کو امام حسینؓ سے افضل کہا اور ان سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ میں عشق الہٰی کا مقتول ہوں اور وہ دشمنوں کا مقتول تھا۔ مجھ میں اور اس میں بڑا فرق ہے۔
یہ تھی کائنات غلمدیوں کے اشتہار کی۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ اس حرکت بے معنی سے سوا ذلت کے تم کو کیا حاصل ہوا۔ مگر ان کا عمل تو اس پر ہے کہ ؎
فقط والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ !
٭٭٭٭
٥٤
وزنا کا لکھا ہے اور بحوالہ قرآن ان کے دلیل دی ہے۔ یہ سب اقوال اس رسالہ
دروغ گوئیوں کو عمدہ صفت بنانے کے طلق ٹل جایا کرتی ہیں اور اس کے ثبوت دیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ان حوالوں کے کا اس وقت بھی سن لو کہ خدا اور رسول کی ں ٹل سکتی۔ ہرگز نہیں ٹل سکتی۔ ہرگز نہیں ہے۔ ”ان الله لا يخلف کی آیات بہت ہیں۔ ئیاں تو وعید کے علاوہ بھی جھوٹی ہوئیں۔ قہر کے مر جانے کی پیشین گوئی کو وعید
لئے یہ بھی لکھ دیا کہ مرزا قادیانی نے ئی ہے کہ مرزا قادیانی کے ان اقوال کا فع البلا، ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧) میں سو حسیں میری گریبان میں ہیں اور مثلاً تن میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر نے کہا کہ میں عشق الہی کا مقتول ہوں
ان سے پوچھئے کہ اس حرکت بے معنی ہے کہ کام نہ ہوگا والسلام على من اتبع الهدى!
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تحفہ محمدیہ
برائے
فرقہ احمدیہ
(مولانا حافظ حکیم عبدالشکور حنفیؔ مرزاپوری)
بسم الله الرحمن الرحیم!
”الحمدلله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد خاتم النبیین وعلی الہ واصحابہ اجمعین . اما بعد“
مدت ہوئی کسی مرزائی نے ایک رسالہ (مسلمانوں کا اس زمانہ کا امام کون ہے) لکھا تھا۔ مکرمی مولوی عبدالحلیم صاحب سوداگر چرم (اشرف منزل، کرنیل گنج کانپور) نے ١٣٤٥ھ، بمطابق ١٩٢٦ء میں اس کا جواب (راہ حق متعلقہ رد قادیان) حضرت مولانا اشرف علی تھانوی مدظلہ کو دکھلا کر طبع و شائع کرایا۔ جو مرزائیوں تک بھی پہنچا اور ان میں سے حافظ عبدالمجید صاحب مرزائی (امیر جماعت مرزائی کوہ منصوری) نے مولوی صاحب موصوف کے پاس دو خط اور دو رسالے (ایک قول الحق، دوسرا رسول کریم اور آپ کی تعلیم) پھر ١٣٤٧ھ، مطابق ١٩٢٨ء میں راہ حق کا مطبوعہ جواب بنام (نور ہدایت) روانہ کیا۔ اسی اثناء میں شرکت جلسہ کے لئے میرا جانا کانپور ہوا تو یہ قصہ معلوم ہوا۔ مولوی صاحب موصوف کو عدیم الفرصت دیکھ کر مذکور الصدر خطوط و رسائل بغرض جواب میں اپنے ساتھ لایا۔ جس کی اطلاع مولوی صاحب موصوف نے حافظ صاحب مذکور کو بھی کر دی۔ اب جواب کے لئے مولوی صاحب کا تقاضا شروع ہوا۔ مگر میں نے اس لئے تاخیر کی کہ مرزائیوں کی طرف سے حافظ صاحب نے جو کچھ لکھا ہے۔ اس پر ہمارے متعدد علماء اپنی اکثر کتابوں میں کافی بحث کر چکے ہیں۔ اسی عرصہ میں بتوفیق خدا، حافظ صاحب کی شاید اس پر نظر پڑ جائے اور ان کی سمجھ میں آ جائے تو وہی بس ہے۔ لیکن افسوس نہ یہ ہوا، نہ حافظ صاحب نے ملک کی موجودہ نامناسب فضاء کا خیال کیا اور کیا تو یہ کہ مرزائی اخبار الفضل قادیان ج ٨٥، ماہ ٧؍ اگست ١٩٣٠ء میں مولوی صاحب کے نام کھلی چٹھی شائع کی۔ جسے مولوی صاحب نے ستمبر ١٩٣٠ء میں میرے پاس بھیج کر سخت تقاضا کیا کہ جواب لکھو یا خطوط و رسائل واپس کرو۔ اخبار کھولا تو ص ٨ پر وہ چٹھی نظر پڑی جس کا حاصل یہ ہے کہ نور ہدایت کو بھیجے ہوئے دو برس ہوئے۔ نہ آپ نے جواب دیا۔ نہ مولوی عبدالشکور صاحب مرزاپوری ایڈیٹر النجم ١؎ لکھنوی نے توجہ کی۔ نہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے خط اور رجسٹری شدہ کتاب وصول کر کے جواب کی تکلیف کی، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی بھی شکایت کی ہے کہ ان کو بھی کتاب بھیجی۔ مگر جواب نہیں دیا۔ الغرض جب نوبت یہاں تک پہنچی تو مجبوراً مجھے جواب لکھنا پڑا۔ وما توفیقی الا بالله!
١؎ ایڈیٹر النجم جناب مولانا محمد عبدالشکور صاحب لکھنوی ہیں۔ نہ کہ خاکسار عبدالشکور مرزاپوری۔ پھر حافظ صاحب نے غلطی سے یا نہ معلوم کس خیال سے دونوں کو ایک بنا دیا ہے۔
٢
مولوی صاحب نے اپنے رسالہ (راہ حق ص ٢٦) میں اوّل یہ کیا ہے کہ مرزائی کے رسالہ مسلمانوں کا اس زمانہ کا امام کون ہے" کے قابل جواب ضروری مضامین کا آٹھ نمبروں میں خلاصہ بیان کیا ہے۔ پھر ہر ایک کا نمبر وار جواب باصواب لکھا ہے۔ اس کے بعد حافظ صاحب کے پاس دو خط بھی بھیجے تھے۔ حافظ صاحب نے نور ہدایت میں راہ حق کا رد کرنے اور ہر دو خط کا بھی جواب دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ حافظ صاحب نے مولوی صاحب کے پاس جو دو خط اور دو رسالے ١؎ بھیجے تھے۔ جس میں مرزائیوں کے عقیدہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق جو کچھ درج ہے تقریباً وہ سب باتیں کم و بیش اجمالاً یا تفصیلاً نور ہدایت میں زیر بحث آ گئی ہیں۔ اس لئے میرے خیال میں ہر دو خط و رسالہ کا الگ جواب لکھنے کے بجائے صرف نور ہدایت پر بحث کرنی کافی ہے۔
میری تحریر میں مولوی صاحب سے مراد مولوی عبد الحلیم صاحب کانپوری مؤلف راہ حق اور حافظ صاحب سے مراد جناب حافظ سید عبدالمجید صاحب مرزائی مصنف نور ہدایت ہیں۔ کیونکہ اوّل الذکر کو تو میں خود جانتا ہوں کہ مولوی ہیں اور آخر الذکر کو گو میں نہیں جانتا ہوں تاہم وہ لکھتے ہیں کہ: "مجھے لوگ حافظ صاحب کہہ مخاطب کرتے ہیں۔ اس لئے کہ میں خدا کے فضل سے قرآن کریم کا حافظ ہوں۔ لیکن عموماً بالخصوص پنجاب میں حافظ اندھے کو بھی کہتے ہیں۔ سو میری مثال بھی ایسی ہی ہے۔"
(نور ہدایت ص ١٩)
ناظرین! سابقاً جو کچھ لکھا گیا وہ طرفین کے ابتدائی تحریری مناظرانہ تعلق کا مشترکہ قصہ تھا۔ پھر مولوی صاحب کی کتاب راہ حق کا اجمالی خاکہ پیش کیا گیا۔ اب حافظ صاحب کی کتاب نور ہدایت کا بھی حال سن لیجئے۔ اس کے لئے مجھے خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ حافظ صاحب آپ ہی فرماتے ہیں کہ: "کتاب نور ہدایت میں آپ صاحبان مختلفہ اقسام کی غلطیاں پائیں گے۔ مضامین کی ترتیب میں بھی بے قاعدگیاں نظر آئیں گی۔ ان غلطیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں نہ عالم ہوں اور نہ ہی میدان تصنیف کا شہسوار۔ بلکہ ایک تجارت پیشہ آدمی ہوں۔ بعض میرے واقف کار جو میری علمی قابلیت سے واقف ہیں۔ انہوں نے جب یہ سنا کہ میں کوئی کتاب لکھ رہا ہوں تو ان کو
١؎ ہر دو رسالہ دراصل مرزائیوں کے خلیفۃ المسیح ثانی کے دو لیکچر ہیں۔ ایک کا نام قول الحق ہے جو ٣؍اپریل ١٩٢٣ء کو غیر مرزائیوں کے جلسہ قادیان کے اعتراضات کے جواب میں ان کی مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا۔ دوسرے کا نام رسول کریم اور آپ کی تعلیم ہے اور لکھا ہے کہ ٢٨؍ستمبر ١٩٢٤ء کو بزبان انگریزی لندن میں دیا گیا تھا۔
٣
حیرت ہوئی کہ یہ بے علم اور بیوقوف آدمی کیا کتاب لکھے گا۔ اس سے زیادہ بے علمی کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ جب میں نے کچھ مضمون نور ہدایت کا لکھ کر مخدومی مکرمی جناب سید محمد اسحاق صاحب مولوی فاضل بغرض اصلاح دکھایا تو موصوف نے اس کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ لیکن ایک غلطی کی طرف توجہ دلائی کہ ایک مضمون پر میں نے ابجد کے قاعدہ سے نمبر لگا دیئے تھے جو میری سادگی سے اس طرح لگ گئے ۔ ا، ب، ت، ث، حالانکہ یوں چاہئے تھا ا، ب، ج، د، وغیرہ۔ دیکھ کر بجائے اس کے کہ شرمندہ ہوں۔ مجھ پر عالم وجد طاری ہو گیا اور بے اختیار منہ سے سبحان اللہ نکلا کہ اس پاک ذات نے مجھ جیسے بیوقوف انسان سے جو ابجد کے قاعدہ سے بھی واقف نہ ہو ایسا اچھا مضمون لکھوا دیا جس کی تعریف ایک ایسے بزرگ عالم و فاضل نے کی جو احمدی جماعت میں کیا بلحاظ علم وفہم اور کیا بلحاظ تقدس بزرگی ایک بے نظیر انسان ہے۔"
(نور ہدایت ص ٢٠)
"مگر میرے اندر یہ خلجان باقی رہا کہ معاذ اللہ میر صاحب نے کہیں میری دل شکنی کا خیال کر کے تعریف نہ کر دی ہو۔ چونکہ خاص مصلحتوں کے ماتحت خدائے تعالیٰ نے یہ مبارک کام میرے ہاتھوں سے کرانا تھا۔ اس لئے میرا دل مضبوط کرنے کے لئے مجھ ناچیز پر یہ انعام فرمایا کہ بذریعہ اپنے رسول پاک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میری تسلی و تشفی فرمائی کہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٨ء کی شب کو میں نے حضرت مسیح موعود کو خواب میں دیکھا۔ تبسم آمیز لہجہ میں خاکسار کو مخاطب کر کے فرمانے لگے کہ تمہارے مضمون سے ہم بہت خوش ہوئے اور تمہارا آیت "والذین آمنوا بالباطل وكفروا بالله اولئک ہم الخسرون" کا فلاں مقام پر چسپاں کرنا تو ہمیں بے حد پسند آیا۔ ایک اور اس سے پہلے غالباً جنوری ١٩٢٨ء کے اخیر میں بشارت ہوئی تھی۔ جب کہ نور ہدایت لکھنے کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ مخدومی مکرمی جناب ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ایک مقام پر بیٹھے ہیں۔ میں نے ان سے اپنے خاتمہ بالخیر کے لئے دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ کہا تم کو چاہئے کہ مجھ سے تعلق پیدا کرو۔ میں نے دوبارہ کہا تو پھر یہی جواب دیا۔ اس مکرر خشک جواب سے میں نہایت ناخوش غصہ کی حالت میں اٹھ کھڑا ہوا۔ جھٹ میر صاحب نے اپنے دونوں ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھا دیئے۔ مجھے مصافحہ کرنا پڑا۔ اگرچہ دل میں ناراضی تھی۔ لیکن مصافحہ کرتے وقت کچھ عجیب قسم کا سرور حاصل ہورہا تھا۔ اس سرور کی تہ کو نور ہدایت میں دیکھ رہا ہوں۔ الغرض بعد از مصافحہ میں آپ کے پاس سے چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ غضب ہو گیا کہ ایسے مقدس انسان سے ناراض ہو کر آیا۔ جس کی یہی سنت ہے۔ آنکھ کھل گئی سوچتا رہا کہ تعبیر کیا ہے۔ یکا یک حضرت مسیح موعود کے یہ اشعار
٤
زبان پر جاری ہو گئے۔ جاری ہونا تھا کہ فوراً منجانب اللہ تفہیم ہوئی کہ رات میر صاحب نہ تھے۔ بلکہ ان کی شکل میں وہی پاک ذات تھی جس کا نام اللہ ہے۔“
(نور ہدایت ص ٢١، ٢٢)
”اس مقدس خواب کے بعد ہی خدائے تعالیٰ نے مجھے نور ہدایت لکھنے کی توفیق عطاء فرمائی اور میرا یقین ہے کہ خدا نے مجھ سے جو مصافحہ کیا تھا یہ سب اسی کی برکت ہے۔ ہاں اس کتاب کی تکمیل میں دعاؤں کا بھی بہت بڑا اثر ہے۔ شائد اس قدر دعائیں کسی اور کتاب کے لئے نہ کی گئی ہوں گی۔“
(نور ہدایت ص ٢٣)
”یہ دعائیں اور بشارتیں تو خدا کی طرف سے ایک اسباب کی صورت میں عطاء ہوئی تھیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں ہوئیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے جس کی وجہ سے خدا نے مجھ جیسے نالائق اور گنہگار انسان سے یہ معجزانہ کتاب نور ہدایت لکھوائی ہے کہ مصنف رد قادیان کا ایک دعویٰ تو یہ تھا کہ مجھے خود علوم عربیہ و قرآن و حدیث کی باقاعدہ سند حاصل ہے۔
دوسری بات اس نے یہ لکھی تھی کہ مرزا قادیانی جو بانی سلسلہ تھے کماحقہ عربی زبان اور اس کے محاورات اور حتیٰ کہ پوری صرف و نحو بھی نہیں جانتے تھے تو پھر بھلا ان کے مقلدین کیا جانیں گے۔ اس کے اس متکبرانہ دعویٰ سے اور حضرت مسیح موعود کی ہتک سے وہ العزیز الجبار المتکبر اس سے اور اس کے مددگاروں سے سخت ناراض ہو گیا اور اپنے وعید اور وعدہ کے مطابق اس قادر مطلق خدا نے مجھ مشت خاک کو ان سورماؤں کے مقابلہ پر کھڑا کر کے ان کو ذلیل کیا اور میری مدد کی اور ساتھی ان مدعیان علم کو یہ بھی بتا دیا کہ ہم سے ملنے یا ہمارا مقرب بننے کے لئے صرف و نحو کی ضرورت نہیں۔ پس خدا کے فضل سے میری کتاب نور ہدایت بھی مولویانہ ہتھکنڈوں اور صرف و نحو کے گورکھ دھندوں سے پاک ہے۔ احمدی بزرگوں اور بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ صاحبان بھی اس نور ہدایت کو معمولی کتاب نہ تصور فرمائیں۔ بلکہ اس کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک زبردست نشان سمجھیں۔“
(نور ہدایت ص ٢٤، ٢٥)
”حضرت خلیفۃ المسیح ثانی اور تمام ان بزرگوں، عزیزوں، دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری غریبانہ درخواست پر نور ہدایت کی کامیابی کے لئے دعاء فرمائی اور جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں مجھ کو اس کار خیر کے متعلق امداد دی۔“
(نور ہدایت ص ٢٦)
اللہ اللہ حافظ صاحب بڑے خوش نصیب ہیں کہ ان کے بزرگوں، عزیزوں، دوستوں نے ان کی مدد کی۔ نیز ان سبھوں نے حتیٰ کہ خلیفۃ المسیح ثانی نے بھی اتنی دعائیں کیں کہ کسی کتاب کے لئے نہ ہوئیں۔ بینظیر انسان نے پسند کی۔ اصلاح دی، خود مسیح موعود نے بشارت دی، مقدس
٥
انسان کی شکل میں مسیح موعود، خلیفۃ المسیح ثانی کی طرح اللہ کی زیارت ہوئی۔ بلکہ اللہ نے مصافحہ بھی کیا۔ بھلا جس کتاب کی یہ شان اور اس کے لئے یہ سامان ہو اس کتاب ہی کو غیر معمولی اور معجزانہ نہیں بلکہ اس کے مصنف کو بھی نبی و رسول نہیں تو کم از کم اس کے لگ بھگ ضرور ہونا چاہئے۔ شاید اسی لئے مرزا قادیانی کی طرح امی ہو کر حافظ صاحب نے بھی مدعیان علم سورماؤں کے مقابلہ میں ایسا اچھا مضمون لکھ دیا جس میں (مختلف اقسام کی غلطیاں، مضامین کی ترتیب میں بھی بے قاعدگیاں) کیا کوئی معمولی بات ہے؟ اس کا مولویانہ ہتھکنڈوں (باتوں) اور صرف ونحو کے گورکھ دھندوں (قاعدوں) سے پاک ہونا کیا کوئی چھوٹا معجزہ ہے؟ غرض ایسی امدادوں، اصلاحوں، دعاؤں، بشارتوں، تائیدوں، تعریفوں اور خدا کی زیارت و مصافحہ کے اثر و برکت یا باالفاظ دیگر از عرش تا فرش روحانیت و جسمانیات کی صرف طاقت کی بدولت حافظ صاحب کو نور ہدایت غلط ، بے ترتیب ، مولویانہ باتوں سے خالی صرف نحوی قاعدوں سے پاک کتم عدم سے عرصہ شہود میں آئی جو علاوہ ٹائٹل ١٨٤ صفحہ کی کتاب ہے۔ جس میں طول فضول بہت زیادہ ہے۔ صفحہ دو تک فہرست، چھبیس تک دیباچہ، ایک سو اڑسٹھ تک اصل کتاب میں حافظ صاحب کے خیال کے مطابق مولوی صاحب کے راہ حق نیز دو خط کا جواب اور ایک سو چوراسی تک خاتمہ ہے۔ اصل کتاب میں بھی ایک صفحہ پر صرف نور ہدایت اور ایک صفحہ پر محض یہ صفحہ ضرورتاً خالی چھوڑنا پڑا۔ درج ہے غلطیوں اور ترتیب مضمون کی بے قاعدگیوں کا عجیب حال ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ قلمی خط کا جواب بذریعہ قلمی خط اور مطبوعہ رسالہ کا جواب بذریعہ مطبوعہ کتاب دیتے، نیز مولوی صاحب کی طرح نمبر وار بااصول چلتے۔ اس میں حافظ صاحب کو بھی آسانی تھی۔ مجھے بھی سہولت ہوتی۔ مگر حافظ صاحب نے شائد خلاف معجزہ سمجھ کر اپنی غیر معمولی معجزانہ کتاب میں ایسا نہیں کیا۔ ہاں کتاب میں جو مسیح موعود کی صداقت کا زبردست نشان ہے۔ مختلف اقسام کی غلطیوں اور ترتیب مضامین کی بے قاعدگیوں سے چار چاند البتہ لگا دیا ہے۔ نہ یقین آئے تو نمونۃً کچھ ملاحظہ فرمائیے۔
مختلف اقسام کی غلطیاں
دیباچہ کی غلطیاں
- .......١ مولوی صاحب کی کتاب کا نام راہ حق ہے۔ چنانچہ کتاب پر بخط جلی راہ حق
اس کے نیچے بخط خفی متعلقہ اور اس کے نیچے قدرے جلی رد قادیان لکھا ہوا ہے۔ با ایں ہمہ حافظ صاحب اس کا نام رد قادیان فرض کر کے ص ٩ پر جوش غضب میں لکھتے ہیں کہ: ”جناب مولوی ٦
صاحب نے اپنے رسالہ میں نام راہ قادیا کتاب کا نام بجائے نور ہدایت کے رکھ یا کوئی جناب سید پیر جماعت علی شاہ دے۔ یا جناب مولوی احمد رضا خان کا نام رد بریلی رکھ دے تو کیا یہ بات اللہ کی بیجا مخالفت سے ان (یعنی مولو ہیں اور ان کا علم و عقل فہم و تقویٰ ، دی لیکن راہ حق کا خواہ مخواہ صاحب سے کون پوچھے کہ یہ کس کی ایمان سلب ہو چکا ہے۔
- .......٢ حافظ صاح
مولوی صاحب نے ان کو خط میں لکھ میں فرماتے ہیں کہ قول الحق کا جوا نے جواب لکھتے وقت خود خیال نہ فر
- .......٣ حافظ صاح
حق میں مرزا قادیانی اور مرزا ئیت لکھتے ہیں کہ (احمدی جماعت کے کہ شائد حافظ صاحب اپنا یہ مقول جائیں تو سو گالیوں سے کم طویل فی
١؎ اصل لفظ قادیا کادی جوہڑ کو کہتے ہیں۔ یہاں ب کو چھوڑ کر یہ غلط بیان کیا ہے کہ صرف کر کے سرکاری کاغذات ذریعہ شہرت دی۔ اب ان کی مرزائی لوگ قادیان کو دار الاما ارض حرم قادیان محترم کا لفظ است
موعود، خلیفۃ المسیح ثانی کی طرح اللہ کی زیارت ہوئی۔ بلکہ اللہ نے مصافحہ بھی کیا یہ شان اور اس کے لئے یہ سامان ہو اس کتاب ہی کو غیر معمولی اور معجزانہ کو بھی نبی ورسول نہیں تو کم از کم اس کے لگ بھگ ضرور ہونا چاہئے۔ شاید کی طرح امی ہو کر حافظ صاحب نے بھی مدعیان علم سورماؤں کے مقابلہ میں جس میں (مختلف اقسام کی غلطیاں، مضامین کی ترتیب میں بھی بے ہوئی بات ہے؟ اس کا مولویانہ ہتھکنڈوں (باتوں) اور صرف ونحو کے گورکھ سے پاک ہونا کیا کوئی چھوٹا معجزہ ہے؟ غرض ایسی امدادوں، اصلاحوں، دوں، تعریفوں اور خدا کی زیارت ومصافحہ کے اثر و برکت یا باالفاظ دیگر از جسمانیات کی صرف طاقت کی بدولت حافظ صاحب کو نور ہدایت غلط، بے سے خالی صرف نحوی قاعدوں سے پاک کتم عدم سے عرصہ شہود میں آئی جو کتاب ہے۔ جس میں طول فضول بہت زیادہ ہے۔ صفحہ دو تک فہرست، سواڑسٹھ تک اصل کتاب میں حافظ صاحب کے خیال کے مطابق مولوی خط کا جواب اور ایک سو چوراسی تک خاتمہ ہے۔ اصل کتاب میں بھی ایک اور ایک صفحہ پر محض یہ صفحہ ضرورتاً خالی چھوڑنا پڑا۔ درج ہے غلطیوں اور مدکیوں کا عجیب حال ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ قلمی خط کا جواب بذریعہ قلمی جواب بذریعہ مطبوعہ کتاب دیتے، نیز مولوی صاحب کی طرح نمبر وار حافظ صاحب کو بھی آسانی تھی۔ مجھے بھی سہولت ہوتی۔ مگر حافظ صاحب کر اپنی غیر معمولی معجزانہ کتاب میں ایسا نہیں کیا۔ ہاں کتاب میں جو کچھ دست نشان ہے۔ مختلف اقسام کی غلطیاں اور ترتیب مضامین کی بے پتہ لگا دیا ہے۔ نہ یقین آئے تو نمونۃً کچھ ملاحظہ فرمائیے۔
مختلف اقسام کی غلطیاں
مولوی صاحب کی کتاب کا نام راہ حق ہے۔ چنانچہ کتاب پر بخط جلی راہ حق ہے اور اس کے نیچے قدرے جلی رو قادیان لکھا ہوا ہے۔ با ایں ہمہ حافظ یان فرض کر کے ص ٩ پر جوش غضب میں لکھتے ہیں کہ: ”جناب مولوی ٦
صاحب نے اپنے رسالہ کا نام رو قادیان رکھا ہے۔ کیا قادیان نے کوئی دعویٰ کیا ہے۔ اگر میں اپنی کتاب کا نام بجائے نور ہدایت کے روکانپور رکھ دوں کہ رو قادیان کا مصنف کانپور کا رہنے والا ہے یا کوئی جناب سید پیر جماعت علی شاہ صاحب کے خلاف کوئی رسالہ لکھ کر اس کا نام روعلی پور رکھ دے۔ یا جناب مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کے خلاف ان کے کفرنامہ کا جواب لکھ کر اس کا نام رو بریلی رکھ دے تو کیا یہ بات علم وعقل کے مطابق ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مامور من اللہ کی بیجا مخالفت سے ان (یعنی مولوی صاحب) لوگوں کی فطرتیں اور روحانی صورتیں مسخ ہوگئی ہیں اور ان کا علم وعقل، فہم وتقویٰ، دین و ایمان سب کچھ سلب ہوچکا ہے۔“
لیکن راہ حق کا خواہ مخواہ رو قادیان نام فرض کر کے ناحق اعتراض کرنے پر اب حافظ صاحب سے کون پوچھے کہ یہ کس کی روحانی صورت مسخ ہو گئی۔ کس کا علم وعقل، فہم و تقویٰ اور دین ایمان سلب ہو چکا ہے۔
- ......٢ حافظ صاحب نے مولوی صاحب کے پاس رسالہ قول الحق بھیجا تھا۔
مولوی صاحب نے ان کو خط میں لکھا تھا کہ اس کا جواب لکھوں گا۔ اس پر حافظ صاحب ص ٢٨، ٢٩ میں فرماتے ہیں کہ قول الحق کا جواب بجز قول الباطل اور کیا ہو سکتا ہے۔ مگر افسوس! حافظ صاحب نے جواب لکھتے وقت خود خیال نہ فرمایا کہ راہ حق کا جواب بجز راہ باطل اور کیا ہو سکتا ہے۔
- ......٣ حافظ صاحب شاکی ہیں کہ مولوی صاحب نے اپنے خطوط اور رسالہ راہ
حق میں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو گالیاں دی ہیں اور ص٤ پر ٢٦ گالیاں دکھا کر ص ٥ میں فخریہ لکھتے ہیں کہ (احمدی جماعت کے لوگ گالیوں کے بدلے گالیاں نہیں دیا کرتے) لیکن آگے چل کر شائد حافظ صاحب اپنا یہ مقولہ بھول گئے۔ یعنی اتنی گالیاں دیں کہ اگر بقیہ ص و سطر لکھ کر شمار کی جائیں تو سو گالیوں سے کم طویل فہرست نہ ہوگی جن میں سے مثلاً بعض یہ ہیں: بدنام کنندہ، دریدہ
١؎ اصل لفظ کادیان ہے۔ اہل پنجاب اب بھی کادیان ہی کہتے ہیں۔ پنجابی زبان میں کادی کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ یہاں بھی کیوڑہ فروش لوگ رہتے تھے۔ مرزا قادیانی نے اس کی وجہ تسمیہ کو چھوڑ کر یہ غلط بیان کیا ہے کہ اصل لفظ قاضیان ہے۔ مرزا قادیانی نے بہت کوشش کی اور روپیہ صرف کر کے سرکاری کاغذات میں قادیان لکھوایا۔ اپنے اشتہاروں، رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ شہرت دی۔ اب ان کی جماعت دانستہ اور دوسرے بھی اکثر نادانستہ قادیان کہتے ہیں۔ مرزائی لوگ قادیان کو دارالامان بلکہ ارض حرم بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ حافظ صاحب نے ص ٨١ میں ارض حرم قادیان محترم کا لفظ استعمال کیا ہے۔
دہن، مثیل دیانند و شردہا نند، لیکھرام و راجپال، یہودی صفت، مسلوب العلم والفہم والشیم والتقویٰ والدین والا یمان، مسخ شدہ فطرت و روحانی صورت، گدھا، بندر، سور، ناری جہنمی، چوہڑ، کافر، بدترین خلائق، کھلاڑی، فتنہ پرداز، مفقودالروحانیت، ذلیل، ناخدا ترس، بے انصاف وغیرہ۔ یہ صرف ص٢٦ تک کی گالیاں ہیں۔ اسی سے قیاس کر لیا جائے کہ آگے ص ٨٤ تک اور کتنی گالیاں دی ہوں گی۔
- ٤....... کتاب راہ حق پر جیسا کہ دستور ہے نہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب
مدظلہ نے کوئی تقریظ لکھی۔ نہ کتاب میں چھپی۔ ہاں شائد خط میں مولوی صاحب کو لکھا تھا۔ اسی کا حوالہ مولوی صاحب نے اعتذار میں دیا کہ (یہ بھی تحریر فرمایا کہ میں نے حرفاً دیکھا بہت ارفع پایا) ظاہر ہے کہ اولا تو مولوی صاحب نے گالی نہیں دی۔ ثانیاً بخیال حافظ صاحب اگر دی تو مولانا موصوف نے مضمون کو نافع فرمایا نہ کہ گالی کو۔ ورنہ خود مولانا موصوف کی یہ تحریر و تقریر اس سے یقیناً پاک نہ ہوتی۔ مگر حافظ صاحب ص ١٦٦ میں فرماتے ہیں کہ جب ان کا مرید ایک بے گناہ شخص کو اپنی کتاب رد قادیان میں گالیاں دیتا ہے تو جناب حکیم الامۃ اس کی تائید میں فرماتے ہیں ہاں بہت ہی ٹھیک کیا ہے۔
- ٥....... گالی کا شکوہ کرتے ہوئے مولوی صاحب اور حضرت مولانا کے متعلق لکھتے
ہیں کہ (مرید صاحب کے دعویٰ علمیت اور جناب پیر صاحب کی شان قدوسیت کو دیکھ کر میں تو نہایت حیران ہوں کہ خدایا یہ تو اپنے آپ کو قرآن وحدیث کا عالم اور عامل بتاتے ہیں۔ لیکن ان ہر دو پیر صاحب اور مرید صاحب نے قرآن وحدیث کا کیا اچھا نمونہ دکھایا ہے ۔ ) حالانکہ نہ مولوی صاحب نے گالی دی نہ مولانا صاحب نے تائید کی۔ با ایں ہمہ اگر یہ امر خلاف قرآن وحدیث اور شان قدوسیت ہے تو مرزائیوں نے جو اپنی تحریر و تقریر میں گالیاں دیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء وعلماء نے اس کی تائید وحمایت کی۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں اتنی گالیاں دیں جس کی بترتیب حروف تہجی لوگوں نے صاعقہ آسمانی وغیرہ میں فہرست شائع کی۔ آریوں اور شیعوں پر ان کو ترجیح دی۔ ابھی دنیا کو یاد ہے۔ کیا حافظ صاحب یہ سب بھول گئے۔ کیا یہ قرآن وحدیث کے مطابق اور مرزا قادیانی کی مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت، رسالت، جامعیت اہلیت وغیرہ کے شایان شان ہے؟۔
- ٦....... حضرت مولانا کو مخاطب کر کے حافظ صاحب لکھتے ہیں (جناب مولانا حکیم
الامت کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ مطمئن رہیں۔ ایک ایک گالی کے بالعوض ہزاروں سعید
٨
مانند لیکھرام دراجپال، یہودی صفت، مسلوب العلم والفہم والحق والتقویٰ شدہ فطرت و روحانی صورت، گدھا، بندر، سور، ناری جہنمی، چوہڑ، کافر، فتنہ پرداز، مفقودالروحانیت، ذلیل، ناخدا ترس، بے انصاف وغیرہ ۔ یہ گالیاں ہیں۔ اسی سے قیاس کر لیا جائے کہ آگے ص ٨٤ تک اور کتنی گالیاں دی
کتاب راہ حق پر جیسا کہ دستور ہے نہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب نہ کتاب میں چھپی۔ ہاں شائد خط میں مولوی صاحب کو لکھا تھا۔ اسی کا اعتذار میں دیا کہ (یہ بھی تحریر فرمایا کہ میں نے حرفاً دیکھا بہت ارفع پایا) صاحب نے گالی نہیں دی۔ ثانیاً بخیال حافظ صاحب اگر دی تو مولانا فرمایا نہ کہ گالی کو۔ ورنہ خود مولانا موصوف کی یہ تحریر و تقریر اس سے یقیناً تب ص ١٩٠٦ میں فرماتے ہیں کہ جب ان کا مرید ایک بے گناہ شخص کو گالیاں دیتا ہے تو جناب حکیم الامۃ اس کی تائید میں فرماتے ہیں ہاں بہت
کا شکوہ کرتے ہوئے مولوی صاحب اور حضرت مولانا کے متعلق لکھتے دعویٰ علمیت اور جناب پیر صاحب کی شان قدوسیت کو دیکھ کر میں تو ہے تو اپنے آپ کو قرآن وحدیث کا عالم اور عامل بتاتے ہیں۔ لیکن ان سب نے قرآن وحدیث کا کیا اچھا نمونہ دکھایا ہے۔) حالانکہ نہ مولوی صاحب نے تائید کی۔ با ایں ہمہ اگر یہ امر خلاف قرآن وحدیث اور سا نے جو اپنی تحریر و تقریر میں گالیاں دیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے جماعت کی۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں اتنی گالیاں دیں سا نے صاعقہ آسمانی وغیرہ میں فہرست شائع کی۔ آریوں اور شیعوں دی ہے۔ کیا حافظ صاحب یہ سب بھول گئے۔ کیا یہ قرآن وحدیث مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت، رسالت، جامعیت اہلیت
مولانا کو مخاطب کر کے حافظ صاحب لکھتے ہیں (جناب مولانا حکیم ہوں کہ وہ مطمئن رہیں۔ ایک ایک گالی کے بالعوض ہزاروں سعید
٨
الفطرت لوگ حضرت مسیح موعود پر ایمان لائیں گے اور گالیاں دینے والوں پر ہزاروں ہزار لعنتیں برسائیں گے ) اگر یہ سچ ہے تو حافظ صاحب یقیناً اپنے مرزا قادیانی کی گالیوں کو بھی بابرکت خیال فرما کر غیر مرزائی سعید الفطرت لوگوں کو بھی وہی ہزاروں ہزار برتاؤ کی اجازت دیں گے۔ دیدہ باید!
- ٧۔۔۔۔۔۔ اسی شکوہ گالی کے سلسلہ میں حافظ صاحب نے مشکوٰۃ سے دو حدیث نقل کر
کے ،دیں ترجمہ پھر اس کی تفسیر کی ہے۔ ترجمہ ١: حدیث اول عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت پر بالکل ویسے ہی حالات آئیں گے جس طرح کے حالات بنی اسرائیل پر آئے تھے۔ جیسے ایک جوتی دوسری جوتی کے نمونہ پر تیار کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے علانیہ پر اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں سے بھی ضرور کوئی ہوگا جو ایسا ہی کرے گا اور بنی اسرائیل کے بہتر (٧٢) فرقے ہوگئے تھے۔ مگر میری امت کے تہتر (٧٣) فرقے ہوں گے۔ جن میں سے ایک فرقہ کے سوا باقی تمام فرقے جہنم میں جائیں گے۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا ناجی فرقہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا کہ جو اس صفت اور حال پر ہوگا۔ جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔
ترجمہ حدیث دوم۔۔۔۔۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لوگوں پر جلد ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور باقی کچھ نہ رہے گا۔ قرآن رسم کے طور پر رہے گا۔ مگر حقیقت نہ رہے گی۔ ان لوگوں کی مسجدیں آباد ہوں گی۔ لیکن ہدایت و روحانیت سے بالکل اجڑی ہوئی ہوں گی۔ ان کے علماء تمام ان لوگوں سے بدتر ہوں جو روئے زمین پر آسمان کے نیچے ہوں گے۔ فتنہ انہی کے یہاں سے پیدا ہوگا اور انہی کی طرف عود کرے گا۔
حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ (ان ہر دو حدیثوں کے متعلق تمام علمائے متقدمین و مفسرین اور مجددین رحمہم اللہ علیہم اجمعین بالاتفاق یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ حدیثیں حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے جو لوگ ہیں ان کے متعلق ہیں۔ ص ١١) حالانکہ یہ دعویٰ اتفاق اور حصر معنی ہذا قطعاً غلط ہے۔ حافظ صاحب کی اسی جرأت پر حیرت ہے۔
- ٨۔۔۔۔۔۔ ہر دو حدیث کی تفسیر میں فرماتے ہیں (حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری
اُمّت کے وہ لوگ جو مسیح موعود کے زمانہ میں ہوں گے وہ کامل طور پر یہودی صفت ہوں گے ) خود
١ یہ ہر دو ترجمہ خود حافظ صاحب کا لکھا ہوا ہے۔ حدیث کو سامنے رکھ کر ترجمہ بھی قابل دید بلکہ لائق داد ہے۔
٩
حافظ صاحب کا ترجمہ موجود ہے۔ دیکھو اس میں نہ مسیح موعود کا ذکر ہے نہ ان کے وقت کے علماء کا اشارہ۔ مگر حافظ صاحب ہیں کہ خلاف حدیث، خانہ ساز تفسیر کر کے نہ معلوم حدیث کے کس لفظ یا جملہ کے ماتحت خواہ مخواہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود قرار دے کر زمانہ حال کے علماء بالخصوص مؤلف راہ حق اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب کو یہودی صفت کہنے پر آمادہ ہیں۔
- ٩...... نیز حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ (واضح رہے کہ اس حدیث ٧٣ فرقوں
والی کا جو تعلق ہے وہ صرف ان لوگوں سے ہے کہ جو حضرت مسیح موعود کی بعثت کے بعد ہوئے ہیں اور مسیح موعود کی آمد سے پہلے پہلے جو گزر چکے ہیں اس کے اثر سے بالکل مستثنیٰ ہیں) حالانکہ حافظ صاحب کی پیش کردہ حدیث میں اس کا اشارہ تک نہیں ہے۔
- ١٠...... اور لکھتے ہیں کہ (بالخصوص فرقہ حنفیہ سے جن کو اپنے ناجی ہونے پر بڑا ناز
ہے اور گویا وہ اپنے زعم میں جنت کے واحد ٹھیکیدار ہیں یہ پوچھتا ہوں کہ جب صرف آپ کے فرقہ کے لوگ ناجی ہوئے تو جس قدر ٧٢ فرقے کے لوگ ہیں وہ آپ کے نزدیک ناری ہیں یا نہیں) حالانکہ فرقہ حنفیہ کا یہ نہ خیال ہے اور نہ دعویٰ ہے کہ صرف ہم ہی ناجی ہیں ١؎ مگر حافظ صاحب ہیں کہ اپنی طرف سے اوّل ایک دعویٰ فرض کرتے ہیں۔ پھر اسے حنفیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ازاں بعد ان پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کا مطلق خیال نہیں فرماتے کہ یہ اپنے ہی اختراعی اور فرضی دعویٰ پر اعتراض ہے۔
- ١١...... گالی کا شکوہ کرتے ہوئے یہ لکھ کر کہ (ہر ایک صرف گالیوں سے ہی اندازہ
لگا سکتا ہے کہ بیشک اس وقت مصلح کی ایک خاص ضرورت ہے) پھر مرزا قادیانی کو مصلح، مسیح موعود وغیرہ مان کر نیز ان کو حدیث مذکور کا مصداق اور اس وقت کے جملہ غیر مرزائی (اہل اسلام) کو یہودی صفت قرار ٢؎ دے کر حافظ صاحب ص ١١ پر لکھتے ہیں کہ: ”اب اگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مخالفین یہ کہیں کہ چونکہ ابھی مسیح موعود نہیں آیا۔ لہٰذا ہم لوگ ان حدیثوں کے مصداق نہیں ہو سکتے تو میرے نزدیک اس وقت یہ بحث فضول ٣؎ ہے۔ صرف یہ دیکھنا کافی ہے
١؎ ہاں یہ دعویٰ ضرور ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق ما انا علیہ واصحابی کے مصداق ناجی ہیں اور وہ اہل سنت و جماعت ہیں۔ مگر اس پر اعتراض کیا؟
٢؎ مگر حیرت ہے کہ مرزا قادیانی و دیگر مرزائی خود حافظ صاحب دنیا بھر کو گالی دے کر نہ معلوم کس کی صفت کے مظہر بنتے ہیں۔ افسوس!
٣؎ یہی تو اصل بحث ہے پھر فضول نہیں ہے؟
١٠
کہ جو باتیں ان حدیثوں میں بیان کی گئی ہیں وہ اس زمانہ کے علماء لوگوں اور مولویوں میں موجود ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو لازماً ماننا پڑے گا کہ مسیح موعود بھی آچکا اور وہ مرزا قادیانی ہی ہیں۔ ہاں اگر یہ اوصاف جو حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں اور ان لوگوں میں موجود نہیں تو پھر بیشک ان لوگوں کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ ابھی مسیح موعود نہیں آیا۔“
مگر اولاً تو یہ بنا ہی بے بنیاد ہے کہ پیش کردہ حدیث صرف عہد مسیح موعود کے لوگوں سے متعلق ہے۔ ثانیاً یہ عجیب بات ہے کہ جب وہ احادیث صحیحہ پیش کی جاتی ہیں جس میں خود امام مہدی اور حضرت مسیح علیہ السلام کی صفات وعلامات مذکور ہیں اور کہا جاتا ہے کہ آؤ دیکھیں یہ صفات وعلامات اگر مرزا قادیانی میں موجود ہیں تو وہ صادق ہیں ورنہ انہیں کاذب جانو، تو فوراً مرزائیوں کے تیور بدل جاتے ہیں اور لغت ، محاورات عرب، ظاہر الفاظ ، سیاق و سباق کے خلاف اپنے حسب منشاء خانہ ساز تاویل بلکہ تحریف کرنے لگتے ہیں۔ خیر اب حافظ صاحب کی صداقت دیکھنی ہے۔ حدیث مذکور میں تو وہ فیل ہو گئے۔ حدیث مسلم کا جہاں حوالہ دیں گے وہاں اسی کے بیان کردہ صفات سے دیکھوں گا کہ مرزا قادیانی بدین صفت موصوف ہیں یا نہیں۔ کاش اس وقت حافظ صاحب اپنی اسی بات پر قائم رہتے۔
- ١٢...... حافظ صاحب جوش انتقام میں ص ٥ پر لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے نزدیک آپ
کی اور آپ کے ہم خیال لوگوں کی وہی پوزیشن ہے جو ہمارے اور آپ کے نزدیک جناب سوامی دیانند جی مہاراج اور سوامی شردھانند جی اور پنڈت لیکھرام جی اور مہاشہ راجپال جی صاحبان وغیرہ کی ہے۔ اگر آپ لوگوں کے نزدیک حضرت مسیح موعود کو گالیاں دینا اس لئے جائز ہیں کہ آپ کے نزدیک حضرت مرزا قادیانی معاذ اللہ کاذب ہیں تو پھر مہاشہ راجپال جی وغیرہ کے نزدیک بھی تو بانی اسلام علیہ التحیۃ والسلام کی وہی پوزیشن ہے جو آپ لوگوں کے نزدیک بانی سلسلۂ عالیہ احمدیہ کی ہے۔ پس اگر وہ حضور سرور کائنات ﷺ کی شان والا میں گستاخیاں اور بد زبانیاں کرتے ہیں تو مسلمان کیوں چیختے ہیں۔ اگر فی الحقیقت مخالفین اسلام کا یہ طرز عمل برا اور غیر شریفانہ ہے۔ (ہاں ضرور ہے ) اور اگر مسلمانوں کا گلہ وشکوہ درست اور بجا ہے (ہاں بالکل بجا ہے ) تو پھر آپ لوگوں کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق یہ نازیبا اور غیر شریفانہ سلوک کب روا ہے۔“
مگر حافظ صاحب نہ معلوم کیوں یہ بھول جاتے ہیں یا تجاہل عارفانہ کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور مرزائی خود حافظ صاحب کو گالیاں دیتے ہیں مرزا قادیانی کے گالیوں کی طویل فہرست تک شائع ہو گئی ہے کہ بحق اسلام واہل اسلام، شیعوں اور آریوں سے بدزبانی میں
١١
مرزا قادیانی کا نمبر اول ہے۔ کیا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے اس شریفانہ طرز عمل کو دیکھ کر ہمیں یہ کہنے کی اجازت دیتے ہیں کہ:
تم قتل بھی کرتے ہو تو چرچا نہیں ہوتا
دور کیوں جائے خود اپنی اسی عبارت میں ملاحظہ فرمائیے۔ نہ سمجھ میں آئے تو مجھ سے سنئے۔
- اولاً ...... میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ جملہ اہل اسلام بالخصوص مصنف راہ حق اور
حضرت مولانا اشرف علی صاحب آپ کے مرزا قادیانی کو دجال، کذاب، کافر، مرتد وغیرہ الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ جسے آپ گالی کہتے ہیں اور یہ آپ کو بھی تسلیم ہے کہ منکر نبی متنبی ( جھوٹا نبی) اور اس کے متبعین شرعاً کافر ہیں۔ کاذب ہیں گمراہ ہیں۔ بددین ہیں۔ ناری ہیں اور آپ کو اس سے بھی انکار نہیں کہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔ رسول ہیں جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ (حضرت مرزا قادیانی مسیح موعود مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور صحابہ کرام کے قائم مقام مرزا قادیانی کے صحابہ ہیں۔ میں ان ٧٢ فرقے والوں سے پوچھتا ہوں کہ ان کے اندر کوئی ایسا فرقہ ہے جس میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ ص١٥) حتیٰ کہ آپ نے ص ١٨٤ میں مرزا قادیانی کو جامع النبیین تک لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کی تصانیف بھی صراحتاً شاہد ہیں کہ انہوں نے نبی، رسول بلکہ افضل الانبیاء، اکمل الرسل حتیٰ کہ شریک خدا ہونے تک کا دعویٰ کیا ہے۔ قرآن حدیث پر ایمان ہونے کا بھی آپ کو اقرار ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ قرآن وحدیث کے رو سے مرزا قادیانی کیا ثابت ہوتے ہیں۔ اگر دجال، کذاب، کافر، مرتد ثابت ہوں تو ایسا کہنے والوں کا آپ کو شریک ہونا چاہئے۔ نہ یہ کہ الٹی شکایت، اچھا اب آئے ہم آپ دونوں مرزا قادیانی کو قرآن وحدیث کے آئینے میں دیکھیں کہ وہ کیسے نظر آتے ہیں۔
- الف ....... قرآن شریف: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن
رسول الله وخاتم النبيين“ ﴿محمد کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ ﴾
” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه “ ﴿ نہیں بھیجا ہم نے کسی رسول کو مگر اسی کی قوم کی زبان میں۔ ﴾
- ب ....... حدیث شریف : ”أنا آخر الانبياء وانتم آخر الامم (ابن
١٢
ماجہ) ”میں آخرالانبی ”انه سی خاتم النبيين لا ن يضرهم من خالفهم ، میں کذاب ہوں گے۔ ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی کرے گا۔ ان کو نقصان نہی ”وفی رو فریبی) کذاب (بڑے جھ ہر دو آیت وہ
- اول .......
- دوم .......
نہیں۔ کونکہ مرزا قادیانی نور الدین صاحب بھی ت وہی صحیح ہے۔ پس حضور النبیین کا معنی بس آخر ا لکھا ہے کہ خاتم الانبیاء
- سوم .......
کذاب ہے۔ ایسوں ہے کہ ٢٧ ہوں گے جن
- چہارم .......
دین حق کی حامی ہوگی۔
- پنجم .......
ترجمان سے لفظ دجال نبی نے کذاب کہا جو ہم اپنی امت کو تعلیم دی کہ
ماجہ) "﴿ میں آخر الانبیاء ہوں اور تم آخر الامم ہو۔﴾
"انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتى امر الله (ترمذی وابوداؤد) "﴿ بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے۔ ہر ایک ان میں کا مدعی ہوگا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ حالانکہ میں آخر الانبیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر ہوگا جو ان کی مخالفت کرے گا۔ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔﴾
"وفى رواية البخارى دجالون كذابون" ﴿ بخاری میں ہے دجال (بڑا فریبی) کذاب (بڑے جھوٹے) ہوں گے۔﴾
ہر دو آیت وحدیث سے امور ذیل صراحۃً ثابت ہیں۔
- اول ....... نبی پر خدا اسی زبان میں وحی کرتا ہے جو اس کے قوم کی زبان ہوتی ہے۔
- دوم ...... نبی عربی فداہ ابی وامی ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی
نہیں ۔ کیونکہ مرزا قادیانی (تتمہ حقیقت الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٨) میں اور ان کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین صاحب بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ وحی والہام کا جو معنی خود صاحب وحی والہام بیان کرے وہی صحیح ہے۔ پس حضور ﷺ کے ”انا اخر الانبیاء“ فرمانے سے صاف معلوم ہو گیا کہ خاتم النبیین کا معنی بس آخر النبیین ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨) میں لکھا ہے کہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا؟
- سوم ...... حضور ﷺ کے بعد جو آپ کا امتی کہلا کر دعویٰ نبوت کرے وہ دجال ہے
کذاب ہے۔ ایسوں کی تعداد تیس ہوگی۔ (کنز العمال ج ٧ ص ١٠٧) میں احمد وطبرانی سے روایت ہے کہ ٢٧ ہوں گے جن میں ٤ عورتیں ہوں گی۔
- چہارم ...... ہمیشہ امت محمدی کی ایک برسر حق جماعت، دجال، کذاب کی مخالف ہو کر
دین حق کی حامی ہوگی۔
- پنجم ...... حضور ﷺ نے اپنی نبوت کے بعد والے مدعی نبوت پر خود اپنی زبان فیض
ترجمان سے لفظ دجال اور کذاب کا اطلاق فرمایا۔ چنانچہ اپنے وقت کے مدعی نبوت مسیلمہ کو آپ ہی نے کذاب کہا جو ہمیشہ کے لئے اس کے نام کا جزء لاینفک ہو گیا۔ اس طرح قولاً عملاً آپ نے اپنی امت کو تعلیم دی کہ جھوٹے نبی کو دجال، کذاب سمجھو اور کہو۔
١٣
اب انصاف سے دیکھا جائے مرزا قادیانی قوم کے مضل ہیں۔ پنجابی ہیں مگر ان پر الہام ان کی قوم کے خلاف زبان میں ہوا جو قطعاً نص صریح کے خلاف اور ان کی تکذیب کی بین شہادت ہے۔ وہ اپنے کو حضورﷺ کا امتی کہتے ہیں۔ پھر دعویٰ نبوت ورسالت بھی کرتے ہیں۔ جو حسب ارشاد حضورﷺ، مرزا قادیانی کے دجل وکذب کی یقینی علامت ہے۔ خود مرزا قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے۔ چنانچہ ان کے دعویٰ نبوت ورسالت پر جب علمائے اسلام نے فتویٰ کفر وارتداد دیا تو مرزا قادیانی نے جواب میں اشتہار دیا جس میں لکھا کہ: ’’سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں ۔‘‘
(دعوت عمل ص ٢٣)
مولوی محمد علی امیر جماعت مرزائی لاہور یہ مرزا قادیانی کے اپنے دعویٰ نبوت ورسالت پر خود ان کا ہی فتویٰ کذب و کفر ہے۔ حضورﷺ کی ہدایت اور مرزا قادیانی کے فتوے کے موافق اہل سنت وجماعت نے ان کی مخالفت کی اور مرزا قادیانی کو دجال، کذاب، کافر مرتد کہا۔ تو فرمائیے یہ عین شریعت کی تعمیل ہوئی نہ کہ گالی۔
باایں ہمہ حافظ صاحب یہ کہتے ہیں کہ: ’’اگر حضرت مرزا قادیانی نے معاذ اللہ ان کے خیال میں نبوت ورسالت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو وہ خدائے تعالیٰ کے گنہگار ہیں۔ ان گالیاں دینے والوں کا انہوں نے کیا بگاڑا ہے۔ جو ان کو گالیاں دینے کی ضرورت پیش آئی۔‘‘
(نور ہدایت ص ١٦)
سبحان اللہ! مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والے جملہ غیر مرزائی (اہل اسلام) کی تکفیر کی، دجال اکبر، امام مہدی، حضرت عیسیٰ، دابۃ الارض، خر دجال وغیرہ علامات قیامت اور قیامت، ملائکہ، انبیاء، کتاب اللہ، خدا کے متعلق حضورﷺ کے تعلیم کردہ مسلمانوں کے عقائد پر حملہ کیا۔ صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی، انبیاء خصوصاً حضورﷺ کی توہین وتنقیص وتکذیب کی۔ اپنے الہام کے سامنے قرآن وحدیث کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا۔ قمر الانبیاء، ابن اللہ اور شریک اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ سب کچھ کیا مگر حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کا کچھ بگاڑا ہی نہیں۔ چہ خوش! اگر مرزا قادیانی کی طرف سے یہ سب وشتم نہیں افتراء و بہتان نہیں۔ کذب وفریب نہیں، شرک وکفر نہیں تو پھر معلوم نہیں دین اسلام کس چیز کا نام ہے۔ ارتداد کے لئے اور کس سامان کی ضرورت ہے اور دنیا میں دجال، کذاب، مفتری، مردود، ملعون، کافر، مرتد کس کو کہا جائے گا؟
حافظ صاحب! کچھ تو انصاف کیجئے۔ خود مرزا قادیانی کا اقرار دیکھئے۔ ابھی ان کا مقولہ
١٤
بحوالہ اوپر نقل کر چکا ہوں کہ حضورﷺ کی نبوت ورسالت کے بعد دوسرا مدعی نبوت ورسالت کاذب ہے، کافر ہے۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے بالمقابل آخری فیصلہ میں علانیہ کہا اور دعا کی کہ اگر میں مفسد، مفتری، کذاب، دجال ہوں تو مولوی ثناء اللہ سے پہلے مرجاؤں۔ پیر مہر علی شاہ کے مقابلہ میں اشتہار دیا کہ ان سے مناظرہ کے لئے لاہور نہ جاؤں تو کاذب، مردود، ملعون ہوں۔ ٥؍نومبر ١٨٩٩ء کو بڑا دو ورقہ اشتہار شائع کیا۔ جس میں یہ دعا تھی کہ خدا جنوری ١٩٠٠ء سے آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔ پھر لکھا کہ میری یہ دعاء قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود، ملعون، کافر، بیدین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔
(نور ہدایت ص ٣)
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩) میں تصریح کی کہ یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔ (قصیدہ اعجازیہ ص ٥٨، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠) کے ایک شعر میں لکھا ہے کہ میں اشر الناس (بدترین انسان) ہوں گا۔ اگر اہانت کرنے والے اپنی اہانت نہیں دیکھ لیں گے۔
فرمائیے حافظ صاحب! جب مرزا قادیانی نے حضورﷺ کی نبوت ورسالت کے بعد آپ کے نزدیک بھی نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۔ آپ کے فریق مخالف اہل اسلام کی تحقیق میں مرزا قادیانی، مولوی ثناء اللہ سے پہلے مر گئے۔ پیر مہر علی شاہ سے مناظرہ کے لئے لاہور نہ گئے۔ مذکورہ میعاد میں خدا نے انسانی طاقت سے بالا تر نشان نہیں دکھلایا۔ اہانت کرنے والے مثلاً ڈاکٹر عبدالحکیم خان، مولوی عبدالحق غزنوی وغیرہ نے مرزا قادیانی کے سامنے جرم اہانت کی سزا نہیں پائی تو ہم اہل اسلام خصوصاً مولوی عبدالحلیم صاحب کانپور یا مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کس کو اشرالناس، دجال، بیدین، خائن، کاذب، کافر، مردود، مفسد، مفتری اور مرتد کہتے جائیں۔
اچھا حافظ صاحب! یہ بھی جانے دیجئے اور اب آپ ہی اپنے دین وایمان سے کہئے کیا مرزائیوں نے رسالہ نبی کی پہچان مطبوعہ قادیان میں نہیں لکھا کہ مرزا قادیانی کی دس پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں۔ کیا کمالی یا لاہوری مرزائی پارٹی نے نہیں اقرار کیا کہ مرزا قادیانی کی سو پیشین گوئیوں میں ساٹھ جھوٹی ہوئیں۔
(اخبار اہل حدیث ١٩؍ محرم الحرام ١٣٣٧ھ ج ١٥ نمبر ٥١، از اخبار الفضل مورخہ ٨؍ اکتوبر)
ہاں یہ دوسری بات ہے کہ آپ قسم کھا کر یہی کہے جائیں۔ ’’حضرت مرزا قادیانی کی ایک بھی پیشین گوئی نہیں جو خدائے تعالیٰ سے علم پا کر کی گئی ہو اور وہ غلط یا جھوٹی ہوئی ہو۔‘‘
(نور ہدایت ص ١٨٤)
١٥
بلکہ یہاں تک فرمائیں کہ اب اگر خدانخواستہ حضرت مرزا قادیانی کی تمام پیشین گوئیاں بھی غلط یا جھوٹی ہوں تو بفضل خدا ہمیں کسی کی پرواہ نہیں۔
(نور ہدایت ص١٧٦)
مگر اس کو کیا کیجئے گا کہ آپ کی بدقسمتی سے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے اپنی پیشین گوئیوں کو معیار قرار دیا ہے۔ جس میں سے ایک کا بھی جھوٹا ہونا کافی ہے نہ کہ بقول مرزائی فی صدی دس بلکہ ساٹھ جھوٹی ہوئیں۔ لہٰذا خود مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے اپنے جھوٹا ماننے اور کہنے پر دنیا کو مجبور کر دیا ہے۔ اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ پس آپ ناحق خفا ہو کر شکوہ، شکایت کرتے ہیں۔
ثانیاً...... آپ نے لکھنے کو تو یہ لکھ دیا کہ ہمارے نزدیک غیر مرزائی مسلمانوں کی وہی حیثیت (صاف کیوں نہیں کہتے کہ آریوں کی طرح ہم مسلمان بھی واجب القتل ہیں) ہے جو دیانند، شردھانند، لیکھرام، راجپال کی ہے اور یہ خیال نہ فرمایا کہ آریہ تو مطلقاً نبوت ورسالت ہی کے منکر ہیں۔ نیز حضرت آدم علیہ السلام سے حضور ﷺ تک جتنے انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔ سب کی توہین وتکذیب کرتے ہیں۔ لیکن ہم مسلمان نبوت ورسالت کے قائل ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور ﷺ تک جملہ انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ دین اسلام کو برحق، کامل، ناسخ الادیان اور قیامت تک کے لئے کافی سمجھتے ہیں اور اسی پر عمل کرتے ہیں۔ ہم بیشک مرزا قادیانی کو کاذب سمجھتے ہیں۔ مگر دین اسلام کے ماتحت جسے بظاہر آپ بھی حق کہتے ہیں مگر آریہ نہ صرف مرزا قادیانی کی بلکہ جملہ انبیاء کی اپنے اس دین کے ماتحت تکذیب کرتے ہیں۔ جسے ہم آپ دونوں بالاتفاق باطل مانتے ہیں۔ پس آپ کا آریوں اور مسلمانوں کو یوں متحد الحیثیت قرار دینا ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟
ثالثاً...... آپ تو حضور ﷺ سے محبت کرنے اور ان پر ایمان رکھنے میں ہم مسلمانوں کو ناقص، اپنے مرزائیوں کو کامل کہتے ہیں۔ پھر آپ سے یہ کیسے لکھتے بنا کہ آریہ حضور کی شان میں گستاخی وبدزبانی کرتے ہیں تو مسلمان کیوں چیختے ہیں۔ کیا ایمان اور محبت کا یہی مقتضیٰ ہے۔ آپ مدعی ہیں کہ روحانیت ہم میں ہے۔ اسلام کے حامی ومبلغ ہم ہیں۔ فرمائیے کیا روحانیت کی یہی علامت ہے۔ اسلام کے حامی ومبلغ کی یہی شان ہے۔ کیا آپ کے قمر الانبیاء جامع النبیین نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے۔ افسوس!
کہتے جاتے ہیں مگر منہ سے معاذ اللہ بھی
١٦
رابعاً: .... آپ نے گالی کی بڑی شکایت کی ہے۔ اس کا ایک جواب مرزا قادیانی کی زبانی بھی سن لیجئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ”اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو۔ محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام دہی تصور کر لیتے ہیں۔ حالانکہ دشنام اور سب و شتم فقط ایک مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٣، خزائن ج ٣ ص ١٠٩)
جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک امر واقعی ہے اور ایک امر غیر واقعی۔ پھر امر غیر واقعی کے استعمال کی دو حیثیت ہیں۔ ایک بغرض آزار رسانی اور ایک بلاغرض آزار رسانی۔ ان میں سے دشنام، سب و شتم یا گالی صرف امر غیر واقعی بغرض آزار رسانی کا نام ہے۔ پس مرزا قادیانی کو ہمارے علماء جو دجال، کذاب، کافر، مرتد کہتے ہیں وہ صرف امر واقعی کا اظہار ہے نہ کہ دشنام دہی، ہاں مرزا قادیانی اپنی تعریف کے مطابق خود البتہ گالی دیا کرتے تھے۔ جس کے وہ آپ ہی معترف ہیں کہ: ”و من او را بکلمات درد رسانندہ غضب آوردم والفاظ دل آزار گفتم تا باشد کہ او برائے جنگ من برخیزد“
(انجام آتھم ص ٢٢٥، خزائن ج ١١ ص ٢٢٥)
اور سخت الفاظ استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہو جاتے ہیں۔ ہندوؤں کی قوم کو سخت الفاظ سے چھیڑنا نہایت ضروری ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ٨٧)
اس سے صرف اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی امر غیر واقعی کو دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کرنے کو مذموم ہی نہیں جانتے تھے بلکہ استعمال بھی کیا کرتے تھے اور جو الفاظ استعمال کرتے تھے وہ بکثرت ہیں۔ بترتیب حروف تہجی جن کی طویل فہرست، کتاب عصائے موسیٰ سے صاحب عشرہ کاملہ نے نقل کی ہے۔ ان میں سے مثلاً بعض یہ ہیں۔
- ١ ؎ حافظ صاحب بھی فرماتے ہیں کہ جھوٹے کو جھوٹا کہنا کوئی جرم نہیں۔ (نور ہدایت ص ٧٤)
- ٢ ؎ اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں: (١) مرزا قادیانی جھوٹ بولتے تھے۔
(٢) جھوٹ سے دوسروں کو آزار پہنچاتے تھے۔ (٣) اسی دروغ یا گالی کا لازمی نتیجہ تھا یا ہوا کہ عیسائی، اگرچہ جواباً بانی اسلام کی شان میں گستاخی و بدزبانی کرنے لگے جس طرح مرزا قادیانی الزاماً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلواتیں سنانے لگے تھے جس کا اقرار اور اس پر فخر حافظ صاحب نے بھی ص ٣٦، ٣٧ میں کیا ہے۔
١٧
”بدذات فرقہ مولویاں، جنگل کے وحشی، پلید، اوباش، بدچلن، بیوقوف، ثعلب (لومڑی) چوہڑے، چمار، حمار (گدھا)، خنزیر (سور) سے زیادہ پلید، خفاش، (چمگادڑ) ڈوموں کی طرح مسخرہ، سگ بچگان، شریر، مکار، کتے، کمینہ، مردار خوار مولویو، نمک حرام، ناپکار قوم، ہندوزادہ وغیرہ۔“
(نور ہدایت ص ١٢٧ تا ١٢٩)
نظم میں مولوی سعد اللہ لدھیانوی کو سگ دیوانہ، خر اور ان کے استاد کو دوغلا، نمرود، شداد، مسخرا، منہ پھٹا اوباش وغیرہ۔
(نور ہدایت ص ١٣٠)
اپنے مخالف غیر مرزائی مسلمانوں کو ذریۃ البغایا یعنی چھنال عورتوں کی اولاد۔
(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
دیکھا حافظ صاحب! گالی اسے کہتے ہیں جب نبی کا یہ حال ہے۔ اس کی امت کا کیا کہنا۔
حیرت ہے مسلمان امر واقعی کا اظہار کریں تو مرزا قادیانی فوراً جوش غضب میں نظم فرمائیں کہ ؎
جس دل میں ہے نجاست بیت الخلا وہی ہے
(عشرہ کاملہ ص ١٢٦)
اور خود مرزا قادیانی بدترین امر غیر واقعی سے ایذا پہنچائیں تو مرزائی شربت کے گھونٹ کی طرح پی جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے۔
خامساً...... اچھا حافظ صاحب آئیے اب ہم آپ ہی کی زبان سے قول فیصل سناتے ہیں۔ سنئے مسیح موعود کے ہم آپ دونوں قائل ہیں۔ مصداق میں اختلاف ہے ہم کہتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہوں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔ دجال اکبر کا زمین سے خروج ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ پھر کچھ دنوں زندہ رہ کر وفات فرمائیں گے۔ مگر یہ واقعات چونکہ ابھی نہیں ہوئے۔ لہٰذا ہم نے نہیں دیکھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں دجال کو بھی بوجہ اس کی صفات کے دیکھا اور فضل خدا سے حضرت مسیح (مرزا قادیانی) کو بھی ان کے کارناموں کے ساتھ دیکھا۔ آخری بات یہ ہے کہ دجال کو نیزہ کی انی سے قتل ہوتے بھی دیکھا۔
(نور ہدایت ص ٦٢)
١٨
پھر قتل ہوتے پر خود ہی حاشیہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کی وفات ہی دراصل قتل دجال کے مترادف ہے۔ اس کے بعد اس کی تفصیل میں آپ نے بات بنانے کی بڑی کوشش کی ہے۔ مگر بے سود۔ (اور دوسرا مطلب آپ کے دل کا مطلب ہے آپ کے الفاظ کا نہیں۔)
دیکھا حافظ صاحب! حق بر زبان جاری۔ اس کو کہتے ہیں فرمائیے! وفات مسیح اور قتل دجال ہر دو لفظ کے مترادف ہم معنی ہونے کے اس کے سوا اور کیا معنی ہیں کہ مرزا قادیانی ہی دجال تھے جو قتل ہوئے۔ جس کا آپ نے مشاہدہ بھی کیا۔ مرزا قادیانی کا مولوی صاحب یا مولانا اشرف علی صاحب یا دیگر اہل اسلام و علماء اسلام اگر دجال کہیں تو آپ خفا ہوتے ہیں کہ یہ نازیبا اور غیر شریفانہ سلوک ہے اور گلا پھاڑ کر آپ دجال کہیں تو وہی سلوک زیبا۔ شریفانہ اور حق بجانب ہے۔ بہتر ہے، بیش باد ایں کار از تو آید و مردان چنیں کنند۔
- ١٣....... حافظ صاحب نے اپنے نبی مرزا قادیانی کے اصحاب کو ص ١٥ میں
حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے قائم مقام ، اور ص ١٣٧ میں مرزا قادیانی کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین صاحب کو ابو بکر ثانی، ص ٨٨ میں خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود ولد مرزا غلام احمد کو حضرت عمر اقرار دیا ہے۔ یعنی اسی طرح بالفاظ دیگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضور ﷺ کی صحبت کا جو اثر تھا وہی اثر مرزا قادیانی کی صحبت کا تھا اور جس طرح حضور ﷺ کی صحبت کے اثر سے متاثر ہو کر آپ کے صحابہ قرآن میں قابل مدح اور امت کے پیشوا قرار پائے۔ مرزا قادیانی کے اصحاب بھی ویسے ہی ہیں۔ لیکن حافظ صاحب یہ نہ معلوم کیوں بھول گئے کہ: ”مرزائیوں کی نسبت خود مرزا قادیانی نے ان کی درندگی ، وحشت طبعی ، بدتہذیبی ، بدکلامی ، سب و شتم اور فحش گوئی کا ذکر شہادت القرآن کے آخری اشتہار میں کیا ہے اور حکیم نور الدین کی رائے لکھی ہے کہ یہ لوگ یہاں (قادیان) اگر بجائے درست ہونے کے زیادہ خراب ہو جاتے ہیں اور آپس میں ذرہ بھی پاس ولحاظ نہیں رکھتے۔ لہٰذا یہ سالانہ جلسہ بند کیجئے اور مریدوں کا اس طرح جمع ہونا بند فرمائیے۔ پھر انہیں کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ میری جماعت موسیٰؑ کی جماعت سے ہزاروں درجہ بڑھ کر ہے۔ ان میں صحابہ کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔“
(رسالۃ المسیح الدجال ص ٢٢، مصنفہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان سابق مرید مرزا قادیانی)
- ١٤....... حافظ صاحب دوسروں کو فرماتے ہیں کہ: ”غیر احمدی لوگوں میں روحانیت
مفقود ہوچکی ہے۔“ !
(نور ہدایت ص ٢٣)
اے کمال تو جب ہے کہ یہ ترتیب منقطع نہ ہو۔ دیکھنا ہے مرزا قادیانی کا کون نواسہ حسین اور خلیفہ یزید بنتا ہے۔
حالانکہ اصحاب مرزا کا نا گفتنی حال وہ تھا جو ابھی مذکور ہوا۔ خود صحابہ مرزا ہو کر اپنے متعلق اوپر قریب ہی لکھ چکے ہیں کہ خدا سے مصافحہ کر کے خواب کے بعد یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ قریباً بیس سال کے عرصہ سے تو احمدیت میں داخل ہے۔ لیکن افسوس خدائے تعالیٰ کے ساتھ اب تک تیرا ذرہ بھی تعلق نہیں ہوا۔ جب تعلق نہیں تو خاتمہ بالخیر کیونکر ہوگا۔
(نور ہدایت ص ٢٢،٢٣)
- ١٥...... حافظ صاحب کی پیش کردہ مذکورہ حدیث میں جس فتنہ کی خبر ہے ۔ حافظ
صاحب کے نزدیک اس کا مصداق مرزا قادیانی کے مخالف علماء اسلام ہیں۔ ان کے مذہبی اختلاف کی شکایت کرتے ہیں کہ: ”ذرا ذرا سی بات پر آپس میں کفر بازی، فتویٰ بازی ہونے کے علاوہ دنیا میں کوئی بازی ایسی نہیں ہے۔ جس کے یہ لوگ کھلاڑی نہ ہوں۔ صبح کو ایک فتویٰ قرآن وحدیث کے نام سے جاری کیا جاتا ہے اور شام کو ہی اس کے خلاف دوسرا فتویٰ جاری ہوتا ہے۔“
(نور ہدایت ص ١٩)
مگر اپنے مرزا قادیانی کے اختلاف بیانیوں اور مرزائیوں کے فرقہ بندیوں کو نہ معلوم کیوں بھول جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اختلاف بیانیاں تو اس کثرت سے ہیں کہ اس کی تفصیل کے لئے مستقل رسالہ کی ضرورت ہے۔ مرزائیوں کے فرقہ بندی کا اجمالی حال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے اور ایسی قلیل مدت میں اتنے فرقے ہو گئے۔ اوّل محمودی، جس کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود ولد مرزا غلام احمد قادیانی خلیفہ ثانی ہیں۔ دوم لاہوری، اس کے امام مسٹر محمد علی اور رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہیں۔ سوم ظہیری، اس کے مقتداء ظہیر الدین اروپی ساکن گوجرانوالہ ہیں۔ چہارم تیاپوری۔ اس کے بانی عبداللہ تیاپوری ہیں۔ پنجم سمبڑیالی، اس کے سرغنہ محمد سعید ساکن سمبڑیال تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ہیں۔ سنا ہے کہ بعض شاخیں رنگون میں بھی ہیں اور ان سبھوں میں باہم آسمان و زمین کا اختلاف ہے۔
غرض حافظ صاحب باوجود اپنے یہاں کے اس شدید اختلاف اور بدترین گالیوں کے علماء اسلام پر پھر بھی تھوڑے نہیں بڑے مہربان ہیں۔ چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں کہ ہم کسی موقع پر تم کو یہودی صفت کہہ دیں تو یہ ہماری بڑی مہربانی ہے۔
(نور ہدایت ص ١٨)
میری طرف سے اس مہربانی کا یہ شکریہ بھی قبول ہو۔
تو دشنام دہ من دعائے کنم
ناظرین! یہ تو دیباچہ کی پندرہ غلطیاں تھیں۔ اب کتاب کی بھی کچھ غلطیاں ملاحظہ ہوں۔
٢٠
صحاب مرزا کا ناگفتنی حال وہ تھا جو ابھی مذکور ہوا۔ خود صحابہ مرزا ہو کر اپنے لکھ چکے ہیں کہ خدا سے مصافحہ کر کے خواب کے بعد یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ قریباً سے تو احمدیت میں داخل ہے۔ لیکن افسوس خدائے تعالیٰ کے ساتھ اب تک دا۔ جب تعلق نہیں تو خاتمہ بالخیر کیونکر ہوگا۔
(نور ہدایت ص ٢٢، ٢٣)
حافظ صاحب کی پیش کردہ مذکورہ حدیث میں جس فتنہ کی خبر ہے۔ حافظ س کا مصداق مرزا قادیانی کے مخالف علماء اسلام ہیں۔ ان کے مذہبی تے ہیں کہ: ”ذرا ذرا سی بات پر آپس میں کفر بازی، فتویٰ بازی ہونے کے التی نہیں ہے۔ جس کے یہ لوگ کھلاڑی نہ ہوں۔ صبح کو ایک فتویٰ قرآن ری کیا جاتا ہے اور شام کو ہی اس کے خلاف دوسرا فتویٰ جاری ہوتا ہے۔“
(نور ہدایت ص ١٩)
ا قادیانی کے اختلاف بیانیوں اور مرزائیوں کے فرقہ بندیوں کو نہ معلوم مرزا قادیانی کی اختلاف بیانیاں تو اس کثرت سے ہیں کہ اس کی تفصیل ن ضرورت ہے۔ مرزائیوں کے فرقہ بندی کا اجمالی حال یہ ہے کہ ئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے اور ایسی قلیل مدت میں اتنے فرقے کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود ولد مرزا غلام احمد قادیانی خلیفہ ثانی ہیں۔ م سر محمد علی اور رکن اعظم خواجہ کمال الدین ہیں۔ سوم ظہیری، اس کے ساکن گوجرانوالہ ہیں۔ چہارم نیچاپوری۔ اس کے بانی عبداللہ نیچاپوری سرغنہ محمد سعید ساکن سمبڑیال تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ہیں۔ سنا ہے کہ ہیں اور ان سبھوں میں باہم آسمان و زمین کا اختلاف ہے۔
جب باوجود اپنے یہاں کے اس شدید اختلاف اور بدترین گالیوں کے نہیں بڑے مہربان ہیں۔ چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں کہ ہم کسی موقع پر تم کو ری بڑی مہربانی ہے۔
(نور ہدایت ص ١٨)
ے اس مہربانی کا یہ شکریہ بھی قبول ہو۔
دشنام دہ من دعائے کنم
آپ کی پندرہ غلطیاں تھیں۔ اب کتاب کی بھی کچھ غلطیاں ملاحظہ ہوں۔
٢٠
کتاب کی غلطیاں
- ١٦...... مولوی صاحب نے حافظ صاحب کو خط میں لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے
کذاب اور مفتری ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے کو نبی ورسول کہتے ہیں۔ حالانکہ نبوت وررسالت حضور ﷺ پر ختم ہو چکی ہے۔ حافظ صاحب کے جواب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے دلیل میں آیۂ ختم نبوت اور حدیث لا نبی بعدی لکھا تھا۔ لیکن حافظ صاحب پھر بھی نہایت بھولے پن سے لکھتے ہیں کہ: ”آپ کی یہ خود ساختہ دلیل ختم نبوت کے متعلق بالکل غلط ہے۔ اس کو دلیل نہیں کہتے۔ یہ تو آپ کا دعویٰ ہے۔ افسوس دلیل اور دعویٰ میں آپ فرق نہیں کر سکتے۔ آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو قرآن حدیث سے ثبوت پیش کریں۔ صرف یہ کہہ دینا کہ حدیث میں لا نبی بعدی اور قرآن میں خاتم النبیین آیا ہے۔ آپ کے مصنوعی دعویٰ کو کوئی تقویت نہیں پہنچا سکتا۔“
(نور ہدایت ص ٢٩)
حافظ صاحب کی سینہ زوری دیکھئے۔ مولوی صاحب تو دعویٰ کی دلیل میں قرآن وحدیث پیش کرتے ہیں اور حافظ صاحب اس دلیل کو دعویٰ کہہ کر الٹے مولوی صاحب کو کہتے ہیں کہ آپ دعویٰ، دلیل میں فرق نہیں کر سکتے۔ قرآن وحدیث پیش کرنے پر اسے ناکافی بھی کہتے ہیں اور پھر اسی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ حافظ صاحب کی یہ حالت واقعی قابل رحم ودعا ہے۔
- ١٧...... حافظ صاحب مولوی صاحب کو لکھتے ہیں کہ آپ نے اپنی کتاب رد قادیان
میں بطور سرقہ وہی بے سروپا، بیہودہ اور فرسودہ باتیں جو آپ کے بھائی ہند مولوی اپنی گندی کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ جن کا جواب ہمارے سلسلہ کی طرف سے بار ہا دیا جا چکا ہے۔ نقل کر کے اپنے نام سے شائع کر دیا ہے۔ یہ کوئی آپ کا ذاتی کمال نہیں ہے۔ جس کا مقابلہ سوائے آریوں اور عیسائیوں کے کوئی بھلا مانس نہیں کر سکتا۔
(نور ہدایت ص ٢٢)
مگر حافظ صاحب اپنی کتاب نور ہدایت میں خود اپنا کچھ ذاتی کمال نہیں دکھاتے اور وہی کرتے ہیں جس کا الزام مولوی صاحب کو دیتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی بھلا مانس مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پھر آپ ہی مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ مولوی صاحب کو لکھتے ہیں کہ: ”اپنے واجب الاحترام پیر و مرشد (مولانا اشرف علی صاحب) کو بھی بدنام کیا۔“ مگر خود اسی حرکت سے اپنے فخرالانبیاء جامع النبیین مرزا غلام احمد قادیانی کی جو عزت افزائی کی اس کی خبر ہی نہیں۔
- ١٨...... مولوی صاحب نے راہِ حق ص ١٨ میں لکھا تھا کہ (مرزا قادیانی)
اور سنئے پھر کہتے ہیں: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست
٢١
باتوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع ہیں۔“
(دافع البلاء ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
اسے خوب غور سے دیکھئے۔ اس میں وہ ایک نبی کے مقابلہ اور قرآن کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کر رہے ہیں اور کہتے ہیں: ”یسوع (حضرت عیسیٰ) کے دادا صاحب داؤد نے تو: ١....... سارے برے کام کئے۔ ٢...... ایک بے گناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا۔ ٣....... اور دلالہ بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا۔ ٤....... اور اس کو شراب پلائی۔ ٥....... اور اس سے زنا کیا۔ ٦....... اور بہت سا مال زنا کاری میں ضائع کیا۔“
(معیار المذہب ص ٨، خزائن ج ٩ ص ٣٨٣)
لیکن اب مرزا قادیانی کی صداقت کا زبردست نشان یا حافظ صاحب کا معجزہ دیکھئے کہ حافظ صاحب نے غلطی سے درمیانی عبارت کو بجائے دافع البلاء کے معیار المذہب کی عبارت سے متعلق سمجھ کر اپنا تین صفحہ سیاہ کر ڈالا اور اول صرف درمیانی و معیار المذہب کی عبارت راہ حق سے نقل کی۔ پھر مرزا قادیانی کی معیار المذہب سے طویل عبارت درج کی اور دجالیت اس کا نام ہے کہہ کر دوبارہ راہ حق والی درمیانی عبارت لکھ کر ناظرین سے فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی (اس تمام عبارت میں نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ تمام باتیں قرآن کریم کے حوالہ سے آپ نے لکھی ہیں۔ یعنی حافظ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب نے بحوالہ معیار المذہب جھوٹ لکھا کہ مرزا قادیانی نے ایک نبی کے مقابلہ اور قرآن کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی) اور ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ صرف حافظ صاحب کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے نہ کہ مولوی صاحب کی تحریر کا۔ پس حافظ صاحب نے مولوی صاحب کو جس جرم کا مرتکب سمجھ کر ان کو یہودی صفت، بدترین خلائق، شیطان، دجال فرمایا ہے اب اس جرم کے مجرم خود حافظ صاحب ہی نکلے۔ دیکھیں حافظ صاحب اپنے متعلق بھی یہی شیریں الفاظ استعمال فرماتے ہیں یا نہیں۔
١٩....... حافظ صاحب اپنے مرزا قادیانی کی امامت کے ثبوت میں ص ٥٤، ٥٥ میں فرماتے ہیں کہ (حضورﷺ نے فرمایا امامکم منکم کہ وہی (مرزا قادیانی) تمہارا ہادی اور امام ہوگا اور وہ تم میں سے ہی ہوگا۔ کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ ملخصاً) خیر اس سے مرزا قادیانی کی امامت
٢٢
کا ثبوت تو معلوم ہے۔ اس وقت کہنا یہ ہے کہ چونکہ حافظ صاحب کا مقصود مرزا قادیانی کو امام مہدی ثابت کرنا ہے۔ لہٰذا یہاں منکم کا ترجمہ تم میں سے ہی ہوگا کیا، لیکن یہی منکم جب قرآن کی آیت اولی الامر منکم میں بادشاہ کی اطاعت کے متعلق بھی آیا تو عیسائیوں کی عزت واحترام کو مدنظر رکھ کر ص ١٣١، ١٣٠ فرمایا کہ غیر احمدی علماء اور ان کے متبعین و معتقدین منافق ہیں۔ ان کا دل انگریزوں کی اطاعت کرنے کو نہیں چاہتا نہ کریں۔ لیکن قرآن کی آڑ لے کر اسلام اور قرآن کو کیوں بدنام کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اولی الامر منکم سے مراد یہ ہے کہ تم میں ١؎ سے بادشاہ ہو اس کی اطاعت کرو اگر کافر بادشاہ ہو تو ہرگز اس کی اطاعت نہ کرو۔ ملخصاً۔ یہی حال ہے تو خدانخواستہ کوئی مرزائی بادشاہ ہوئے تو فوراً رجعت قہقری کر کے امامت کی طرح اسی منکم سے اس کی اطاعت کا فرض ہونا ثابت کرنے لگیں گے۔
- ٢٠...... حافظ فرماتے ہیں کہ غیر مرزائی مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ چونکہ حضرت نبی
کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس لئے اب کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا اور اس عقیدہ پر یہاں تک تشدد کے ساتھ قائم ہیں کہ بقول ان کے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے واپس تشریف لائیں گے تو اپنی نبوت کو بھی امانت خانہ میں رکھوا کر آئیں گے۔ اس خوف سے کہ میں اپنی نبوت ساتھ لے گیا تو کہیں مہر نبوت نہ ٹوٹ جائے۔
(نور ہدایت ص ٣١)
حالانکہ بالکل غلط ہے۔ ہمارا صرف یہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ آخر النبیین ہیں۔ آپ کے بعد نہ نبی کی ضرورت ہے نہ کسی کو نبوت ملے گی۔ مگر یہ عقیدہ ہرگز نہیں ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے جو نبی ہو چکے ہیں ان میں سے کوئی نہ آئے ٢؎ یا ان کا آنا منافی ختم نبوت ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے سابق نبوت سے معزول ہو کر آئیں گے۔ یا دوبارہ وہ آئیں گے تو نبوت کرنے آئیں گے۔
- ٢١...... نیز لکھتے ہیں۔ "حضرت رسول کریم ﷺ نے اپنے سے بعد میں آنے
والوں کو اس طرح تصدیق کی کہ میرے بعد وہی نبی ہوگا جو میرا کامل متبع ہوگا۔"
(نور ہدایت ص ٤١)
حالانکہ حضور ﷺ نے ایسا کہیں نہیں فرمایا۔
١؎ مرزا قادیانی ! مرزائیوں کو مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام کہتے ہوئے اپنی امت کو حکم دیتے ہیں کہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٨) کیا حافظ صاحب اپنے مرزا قادیانی کے "تم میں سے ہو" پر بھی یہی اعتراض اور طعن کریں گے؟۔
٢؎ جیسا لاہوری مرزائی کہتے اور لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی پرانا نبی بھی نہ آئے گا۔
٢٣
٢٢....... اور پھر بلافصل فرماتے ہیں کہ: ”حضور نے فرمایا اگر کوئی مدعی نبوت اپنا دعویٰ اس رنگ میں پیش کرے کہ مجھ کو محمد کی نبوت سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی محمد کی شریعت پر میرے دین کا انحصار ہے۔ میں نے جو کچھ پایا بلاواسطہ براہ راست خدا سے پایا تو سمجھ لینا کہ اس قسم کا مدعی کذاب اور مفتری ہے۔“
(نور ہدایت ص ٤١)
حالانکہ حضور ﷺ نے ایسا کہیں نہیں فرمایا کہ میرا کامل متبع تو نبی اور بالکل غیر متبع کذاب ومفتری ہوگا۔ ہاں یہ البتہ فرمایا ہے کہ جو میرا امتی بن کر اپنے کو نبی کہے وہ کذاب ودجال ہے۔ جس کا یہ لازمی نتیجہ ظاہر ہے کہ غیر امتی مدعی نبوت بدرجہ اولیٰ دجال وکذاب ہوگا۔ اب مرزا قادیانی متبع ہوں یا غیر متبع۔ ہر صورت میں نبی بن کر شرعاً دوسروں سے اپنے کو خود کذاب ومفتری کہلواتے ہیں۔ حافظ صاحب نے مرزا قادیانی کو اس زد سے بچانے کے لئے معلوم نہیں کہاں سے لکھ دیا کہ صرف بالکل غیر متبع مدعی نبوت کذاب ومفتری ہے۔
٢٣....... نمبر ٢١، ٢٢ کی منقولہ عبارت سے حافظ صاحب کا یہ دعویٰ صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کے کامل متبع نبی ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نمبر ٢٢ والی عبارت کے مصداق ہیں۔ جسے لکھتے وقت حافظ صاحب شاید اپنے مرزا قادیانی کے وہ الہامات بھول گئے جن سے ویسا ہی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ لازم آتا ہے۔ جیسا کہ کذاب ومفتری ہونے والا حافظ صاحب نے لکھا ہے۔ ”کیونکہ شریعت نام ہے تعلیم محمدی کا جو قرآن اور حدیث میں بتمامہ موجود ہے۔ مرزا قادیانی قرآن کے متعلق اس کی تفسیر کے معیار صحت پر بحث کرتے ہوئے ساتواں معیار لکھتے ١ ہیں کہ ولایت اور مکاشفات محدثین ہیں اور یہ معیار گویا سب معیاروں پر حاوی ہے۔“
(برکات الدعاء ص ١٣ تا ١٥)
اور حدیث کی بابت فرماتے ہیں ۔”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥٠)
”حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)
ا۔ اور (توضیح المرام ص ٢٧، ٢٨) میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ صحیح کشف، الہام وخواب اولیاء انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بعض دفعہ فساق، فجار بدکار کو بھی صحیح الہام سچا خواب ہوتا ہے۔
٢٤
پھر بلا فصل فرماتے ہیں کہ: ”حضور نے فرمایا اگر کوئی مدعی نبوت اپنا سے کہ مجھ کو محمد کی نبوت سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی محمد کی شریعت پر میں نے جو کچھ پایا بلا واسطہ براہ راست خدا سے پایا تو سمجھ لینا کہ اس قسم ...“
(نور ہدایت ص ٤١)
میں نے ایسا کہیں نہیں فرمایا کہ میرا کامل متبع تو نبی اور بالکل غیر متبع یہ البتہ فرمایا ہے کہ جو میرا امتی بن کر اپنے کو نبی کہے وہ کذاب و دجال ظاہر ہے کہ غیر امتی مدعی نبوت بدرجہ اولیٰ دجال و کذاب ہوگا۔ اب تا۔ ہر صورت میں نبی بن کر شرعاً دوسروں سے اپنے کو خود کذاب صاحب نے مرزا قادیانی کو اس زد سے بچانے کے لئے معلوم نہیں ں غیر متبع مدعی نبوت کذاب و مفتری ہے۔
٢٢ کی منقولہ عبارت سے حافظ صاحب کا یہ دعویٰ صاف ظاہر ہے کامل متبع نبی ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نمبر ٢٢ والی عبارت کے حافظ صاحب شاید اپنے مرزا قادیانی کے وہ الہامات بھول گئے جن ہونے کا دعویٰ لازم آتا ہے۔ جیسا کہ کذاب ومفتری ہونے والا کیونکہ شریعت نام ہے تعلیم محمدی کا جو قرآن اور حدیث میں بتمامہ ا کے متعلق اس کی تفسیر کے معیار صحت پر بحث کرتے ہوئے ہدایت اور مکاشفات محدثین ہیں اور یہ معیار گویا سب معیاروں پر
(برکات الدعاء ص ١٣ تا ١٥)
فرماتے ہیں ۔ ”جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں ہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥٠)
اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس ع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)
(٤٨) میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ صحیح کشف، الہام و خواب اولیاء کو فساق، فجار بدکار کو بھی صحیح الہام سچا خواب ہوتا ہے۔
٢٤
”جو حدیث میری وحی کے خلاف ہو وہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے کے قابل ہے۔“
(شہادت القرآن ملخصاً، خزائن ج ٦ ص ٣١١)
حافظ صاحب! دیکھئے مرزا قادیانی کس صفائی سے قرآن وحدیث کو اپنے خواب، کشف، الہام، وحی کے ماتحت قرار دے کر تعلیم محمدی کو کس خوبصورتی سے منسوخ یا اپنی تعلیم مرزائی کے تابع بناتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھ پر ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله “ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٨) کی وحی ہوئی ہے۔ لیجئے اب تو کوئی کسر باقی نہیں رہی۔
٢٣...... (نور ہدایت ص ٤٩، ٥٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ مولوی صاحبان خود قرآن کریم کی رو سے حضرت داؤد کو ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اپنی فوج کے سپاہی کی عورت کو کوٹھے پر نہاتے ہوئے دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے اور انہوں نے مکر وفریب سے اس کے خاوند اوریا کو لڑائی پر بھیج کر قتل کروادیا اور پھر اس غریب کی عورت پر قبضہ کرلیا۔“
دیکھئے اس عبارت میں تو دعویٰ کرتے ہیں کہ مولوی صاحبان قرآن کے رو سے ایسا مانتے ہیں۔ مگر اس کے بعد ہی اس کا ثبوت یوں دیتے ہیں کہ: ”اس قصہ کی اگر کسی کو پوری تفصیل دیکھنی منظور ہو تو ان مولویوں کی تفسیروں کو نکال کر دیکھ لے۔ میں مولوی صاحب کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ حضرت داؤد کی نسبت ایسی گندی اور شرمناک باتیں آپ کی تفسیروں میں حتیٰ کہ قرآن شریف کے حاشیوں میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔“ بھلا غور تو کیجئے۔ کجا قرآن اور کجا تفسیر و حاشیہ پھر محققین نے تفسیروں میں جو ایسی روایتوں کو داخل اسرائیلیات کر کے ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔ حافظ صاحب اس کا نام تک نہیں لیتے اور زبردستی اس روایت سے تمام مولویوں کو الزام دیتے ہیں۔
یہ الزام دراصل قصہ طلب ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے عزیزوں میں محمدی بیگم نامی ایک نوجوان لڑکی تھی۔ سن رسیدہ مرزا قادیانی کا اپنا یہ الہامی بیان ہے کہ اس لڑکی سے آسمان پر میرا نکاح ہو گیا۔ اب وہ زمین پر باکرہ یا فلاں مدت میں بیوہ ہو کر میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ اس سے اولاد ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ ایسا نہ ہو تو میں اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہوں۔ پھر اسی اثناء میں اس لڑکی کو اپنے نکاح میں لانے کی خفیہ اور علانیہ ہر قسم کی انتہائی دنیاوی تدبیریں بھی کیں۔
مگر اللہ کی شان کہ ایسا نہیں ہوا۔ یعنی محمدی بیگم نہ مرزا قادیانی کی زوجیت میں آئی۔ نہ بیوہ ہوئی۔ خود مرزا قادیانی مر گئے اور وہ لڑکی اپنے سابق شوہر کے پاس خوش و خرم صاحب اولاد
٢٥
موجود رہی۔ مخالفین نے اس الہام یا پیشین گوئی کے جھوٹے ہونے پر مرزا قادیانی ہی کے فیصلہ کے مطابق ان کی تکذیب کی۔ لیکن مرزائی،
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
پر بجائے نادم ہونے کے نہایت استقلال اور دلیری سے ہنوز اسی کی تصدیق و تائید کر رہے ہیں کہ
گر بشاشید گفت باران باشد
- ١٦ اسی تکذیب مرزا کے جوش انتقام میں بے محل حافظ صاحب مذکورہ غلط الزام کے بعد
مولوی صاحب کو بڑے غصہ میں فرماتے ہیں۔ ”کیا اسی برتے پر محمدی بیگم والا اعتراض کیا کرتے ہو。“
(نور ہدایت ص ٥٠)
اور اس حیلہ سے بذریعہ غلط روایت حضرت داؤد علیہ السلام کو صلواتیں سنا کر اپنے دل کا بخار نکالتے ہیں اور خود شرمندہ ہونے کے بجائے الٹے مولوی صاحب سے کہتے ہیں خدا کے لئے کچھ تو شرماؤ۔
- ٢٥...... (نور ہدایت ص ٥٤) میں لکھتے ہیں۔ ”جناب مولوی صاحب شاید آپ یا
آپ کے بھائی بند کہیں کہ تمہارے امن کے شہزادہ غلام احمد سے ہمیں تو نقصان کے سوا کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ ہاں صاحب آپ کے نقصان کا ہمیں بھی افسوس ہے کہ یہ امن کا شہزادہ تمہاری اس دیرینہ آرزو کو پورا نہ کر سکا۔ جس کی امید ابن مریم سے تھی کہ وہ آکر مال دے گا۔ رہا فائدہ سو یہ اس امن کے شہزادہ پر ایمان لانے والوں ہی کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ زمانہ حاضرہ ہی میں دیکھ لو۔ مسلمانوں کی کوئی جماعت تمام جھگڑوں سے امن میں ہے تو وہ صرف غلام احمد مسیح موعود ہی کی جماعت ہے۔“ لیکن یہ لکھتے وقت حافظ صاحب نے نہ ان جھگڑوں کو تام بنام بتایا۔ جس سے صرف مرزائی امن میں ہیں۔ نہ انہیں اطاعت نصاریٰ کو ضروری سمجھنا اور اس پر فخر کرنا یاد رہا، نہ ان کو بھی خیال رہا کہ دنیائے اسلام، مرزائیوں کی تکذیب و تکفیر کر رہی ہے۔ انہیں کے دوسرے مرزائی فرقے لاہوری، ظہیری وغیرہ خم ٹھوک کر مد مقابل ہیں۔ خود انہیں کی جماعت سے لوگ مرزائیت سے تائب ہو ہو کر مرزائیت کے خانگی نا گفتنی راز ہائے نہانی کو طشت از بام کر رہے ہیں۔ کیا اخبار مباہلہ کی خبر نہیں؟ حافظ صاحب نے بڑی غلطی کی۔ ورنہ اگر اسی کا نام امن ہے تو ایسا
٢٦
امن تو دوسروں کو بلا مسیح موعود کے حاصل ہے۔
- ٢٦....... قرآن شاہد ہے کہ اہل عرب امی تھے اور حضورﷺ بھی امی تھے۔
دوسروں کا امی ہونا باعتبار علوم وفنون اور معارف ربانیہ کے اضافی تھا۔ لیکن حضورﷺ کا امی ہونا حقیقی تھا کہ عرب میں قدر قلیل جن چیزوں کی تعلیم وتعلم کا معمولی رواج تھا آپ اس سے بھی پاک تھے۔
اب حافظ صاحب کی سنئے۔ (نور ہدایت ص ٧٥) میں فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ کی طرح مرزا قادیانی بھی امی تھے۔“ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ زمیندار اور طبیب تھے۔ مرزا قادیانی نے اردو، فارسی، عربی کی تعلیم پائی تھی۔ ان کے استاد مولوی گل شاہ شیعہ تھے۔ مرزا قادیانی نے مختاری کا بھی امتحان دیا مگر بدقسمتی سے فیل ہو گئے۔ (تاریخ مرزا ص ٤) ساری عمر مطالعہ کتب اور تصنیف وتالیف کا مشغلہ رہا۔ مرزا قادیانی دیگر دعووں کی طرح اگر دعویٰ امیت بھی کرتے تو ان کا کوئی کیا کر لیتا۔ لیکن جہاں تک یاد پڑتا ہے، انہوں نے شاید نہ اپنے امی ہونے کا دعویٰ کیا نہ اس کا ان پر الہام ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی نے خود بھی تسلیم کیا ہے (ازالۃ الاوہام ص ٨١٧، خزائن ج ٣ ص ٥٤٢) کہ وہ فضل احمد وغیرہ کے شاگرد ہیں۔ پھر حافظ صاحب نے مرزا قادیانی کو امی نہ معلوم کیوں کہا۔ اگر اس لئے کہا کہ بہ خیال حافظ صاحب، مرزا قادیانی حضورﷺ کے بروز کامل تھے۔ (ص ٧٥) متبع کامل تھے اور اسی لئے مرزا قادیانی محمد تھے۔ (٧٨) نبی تھے۔ (٤١) امی تھے۔ (ص ٧٦، ٧٧، ٧٨) تو اس قاعدہ کے مطابق حافظ صاحب کو اولاً ہر متبع کامل وفنا فی الرسول امتی کو محمد نبی امی کہنا چاہئے۔ ثانیاً اللہ تعالیٰ کے ہر متبع کامل، فنا فی اللہ بندہ کو اللہ اور صفات الوہیت سے موصوف ماننا چاہئے۔ ورنہ ان کو اپنی غلطی تسلیم کر کے دعویٰ امیت مرزا سے دست بردار ہو کر مرزائیت سے انہیں توبہ کرنا لازم ہے۔
- ٢٧....... حافظ صاحب نے عبارت مذکورہ میں مرزا قادیانی کے امی ہونے کی یہ وجہ
لکھی ہے کہ وہ حضورﷺ کے بروز کامل تھے۔ مگر (نور ہدایت ص ٧٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”حضرت رسول کریمﷺ کی طرح انہوں (مرزا قادیانی) نے بھی امی کا لقب مصدقین اور مکذبین دونوں سے پایا۔“ غور فرمائیے کجا امیت کی وجہ بروزیت اور کجا مصدقین ومکذبین کا عطیہ۔
- ٢٨....... دیکھئے، مذکورہ عبارت میں صاف لکھا ہے کہ: ”حضورﷺ کو امی کا لقب
مصدقین ومکذبین نے دیا۔“ جو قطعاً غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ خود خدا نے دیا جس پر قرآن شاہد ہے۔
- ٢٩....... یہ کہنا بھی کہ حضورﷺ کو امی کا لقب مکذبین نے دیا۔ کتنی بڑی جسارت
٢٧
ہے ۔ حضورﷺ تعلیم یافتہ ہوتے اور آپ پر قرآن نازل ہوتا تو گو منکرین کو اس اہتمام کی گنجائش ہوتی کہ پڑھے لکھے تھے۔ خود بنالیا ہوگا۔ تاہم قرآن جیسا معجزہ ہے ویسا ہی معجزہ ہوتا۔ لیکن امی ہونے کی صورت میں تو اس وہم کی بھی گنجائش نہ رہی اور اعجاز قرآن بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم قرار پایا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس امر کو قرآن میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ ”ماکنت تتلوا من قبله من کتاب ولا تخطه بيمينك اذا لارتاب المبطلون“ تم نہیں پڑھتے تھے (اے نبی) اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ لکھتے تھے اس کو اپنے دست راست سے۔ ورنہ اہل باطل شک کرتے۔
کہنے کو تو منکرین نے کہا۔”لو نشاء لقلنا مثل ھذا “ کہ اگر ہم چاہیں تو قرآن کا مثل بنا سکتے ہیں۔ لیکن ”ليس ھذا قول البشر“ کے سوا کچھ نہ کہہ سکے۔ آخر اعجاز قرآن کے مقابلہ میں عاجز اور حیران ہوکر حضورﷺ کی ذات بابرکات پر ندامت مٹانے کو لگے بہتان اور افتراء پردازی کرنے۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ : ”كذلك نصرف الايات وليقولوا درست “ (اس طرح ہم پھیر پھیر کر آیتیں بیان کرتے ہیں۔ (تاکہ کافر متحیر ہوں) اور کہیں کہ پڑھا ہے تو نے۔)
غرض زمانہ نزول قرآن کے عرب منکرین نے بطور تجاہل عارفانہ اور بعد کے منکرین نے جیسے عیسائی آریہ وغیرہ بطور یقین حضورﷺ کو غیر امی اور قرآن کو ان کی تصنیف خیال کیا ہے۔ نہ کہ آپ کو امی کا لقب دیا ہے۔
- ٣٠...... حافظ صاحب نے مرزا قادیانی کو امی بنا کر ان کا یہ معجزہ لکھا ہے کہ: ”اس
علمی زمانہ میں مدعیان علمیت پر اتمام حجت کے لئے خدا نے مرزا قادیانی کو کئی ایک زبردست علمی معجزات بھی دیئے۔ چنانچہ انہوں نے باوجود امی ہونے کے عربی زبان میں خطبہ الہامیہ دیا۔ کثرت سے نظم ونثر میں کتابیں لکھیں۔ بعض کتابوں پر جواب دینے کی صورت میں انعام بھی مقرر کئے اور دنیا بھر کے عالموں کو چیلنج دیا کہ عالم ہو تو جواب لکھو۔ سب کا نہیں تو چھوٹی ہی کتاب کا سہی۔ تنہا نہیں تو سب مل کر لکھو۔ جواب درست ہونے پر دس ہزار روپیہ انعام لو اور قرآن کی طرح تحدی بھی کی ۔”فاء توا بمثله ان كنتم صادقين فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی “ مگر کوئی مرد میدان بن کر مقابل نہ ہوا۔ سب ایسے دم بخود ہوئے گویا دنیا میں ہیں ہی نہیں۔ ہاں بعض نے اپنی خفت مٹانے کے لئے قرآن کی غلطیاں نکالنے والے مخالفین کی طرح کچھ غلطیاں نکالیں ۔ جن کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔“
(نور ہدایت ص ٥٧،٥٩)
٢٨
بعض انعامی کتابوں۔ المسیح اور اعجاز احمدی ہے۔ مگر خطبہ ا ہے اس کا واقعہ یہ ہے۔
- اول...... مرزا قادیا
حضرت پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑ میرے ساتھ بپابندی شرائط مخصوص تفسیر لکھیں۔ فریقین کو ٧ گھنٹہ سے ٣ بجے تک علماء دیکھ کر حلفاً جس کو تف کی تحریروں میں جتنی غلطیاں ہوں وجہالت پر محمول ہوں گی۔ مرزا قا کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر م کرلیں۔ مناظرہ کے لئے اگست ٠٠ و معززین اسلام لاہور پہنچے۔ ٢٩ ؍ا باتفاق حاضرین جلسہ قرار پایا کہ م اپنی دوکانداری چلانا چاہتے ہیں۔ کی کسی تحریر کی پروا نہ کریں۔ جلسہ ک شہرت کو مٹانے کے لئے خاص طو ١٧؍ جنوری ١٩٠٤ء کے قادیانی اخ میں بجائے چار جز کے ساڑھے صاحب کے پاس بذریعہ رجسٹری کی آخری تاریخ ٢٥؍ فروری ١٩٠١
- دوم...... ٥؍ نومبر ٩
ہے کہ اگر میں سچا ہوں تو آخر دسمبر اگر میری یہ دعاء قبول نہ ہو تو میں ای گیا ہے۔ مگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ موضع مڈ ضلع امرتسر میں مولوی ثناء ا
قرآن نازل ہوتا تو گو منکرین کو اس اہتمام کی گنجائش ہم قرآن جیسا معجزہ ہے ویسا ہی معجزہ ہوتا۔ لیکن امی ش نہ رہی اور اعجاز قرآن بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم قرار میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ ”ما کنت تتلوا من اذا لارتاب المبطلون“ تم نہیں پڑھتے تھے (اے یا اس کو اپنے دست راست سے۔ ورنہ اہل باطل شک
نشاء لقلنا مثل هذا“ کہ اگر ہم چاہیں تو قرآن کا البشر“ کے سوا کچھ نہ کہہ سکے۔ آخر اعجاز قرآن کے ا ذات بابرکات پر ندامت مٹانے کو لگے بہتان اور ہے کہ : ”كذلك نصرف الايات وليقولوا تیں بیان کرتے ہیں۔ (تاکہ فتنہ گیر ہوں) اور کہیں کہ
ہ منکرین نے بطور تجاہل عارفانہ اور بعد کے منکرین نے کو غیرامی اور قرآن کو ان کی تصنیف خیال کیا ہے۔
رزا قادیانی کو امی بنا کر ان کا یہ معجزہ لکھا ہے کہ: ”اس کے لئے خدا نے مرزا قادیانی کو کئی ایک زبردست علمی و عملی ہونے کے عربی زبان میں خطبہ الہامیہ دیا۔ ں کتابوں پر جواب دینے کی صورت میں انعام بھی عالم ہو تو جواب لکھو۔ سب کا نہیں تو چھوٹی ہی کتاب کا ت ہوئے پر دس ہزار روپیہ انعام لو اور قرآن کی طرح صادقین فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا ہانہ ہوا۔ سب ایسے دم بخود ہوئے گویا دنیا میں ہیں ہی لئے قرآن کی غلطیاں نکالنے والے مخالفین کی طرح گیا۔“
(نور ہدایت ص ٥٧ تا ٥٩)
٢٨
بعض انعامی کتابوں سے غالباً حافظ صاحب کی مراد مرزا قادیانی کی دو کتابیں اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی ہے۔ مگر خطبہ الہامیہ کے سوا اسکا نام نہیں لیتے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اس کا واقعہ یہ ہے۔
- اول ..... مرزا قادیانی نے مورخہ ٢٠، ٢٢؍ جولائی ١٩٠٠ء کو پنجاب کے مشہور بزرگ
حضرت پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑہ شریف سے مناظرہ کا اشتہار دیا کہ وہ معہ دیگر علماء لاہور آ کر میرے ساتھ پابندی شرائط مخصوصہ فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کی چالیس آیات یا اس قدر سورہ کی تفسیر لکھیں۔ فریقین کو ٧ گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے۔ ہر دو تحریرات ٢٠ ورق سے کم نہ ہوں۔ اس کو ٣ ثقہ علماء دیکھ کر حلفاً جس کو فصیح و بلیغ کہہ دیں گے وہ فریق سچا اور دوسرا جھوٹا ہوگا۔ ہر دو فریق کی تحریروں میں جتنی غلطیاں ہوں گی وہ اس فریق کے سہو و نسیان پر نہیں بلکہ اس کی واقعی نادانی و جہالت پر محمول ہوں گی۔ مرزا قادیانی نے اشتہار میں یہ بھی لکھا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں مردود، ملعون، جھوٹا ہوں۔ پیر صاحب نے تمام شرطیں منظور کرلیں۔ مناظرہ کے لئے اگست ١٩٠٠ء کی ٢٥ تاریخ مقرر ہوئی۔ پیر صاحب ٢٤ اگست کو معہ علماء و معززین اسلام لاہور پہنچے۔ ٢٩ اگست تک مقیم رہے۔ مگر مرزا قادیانی کو نہ آنا تھا آخر نہ آئے۔ باتفاق حاضرین جلسہ قرار پایا کہ مرزا قادیانی ہرگز قابل خطاب نہیں۔ وہ شرمناک دروغگوئی سے اپنی دوکانداری چلانا چاہتے ہیں۔ اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا صاحب یا ان کی حواریوں کی کسی تحریر کی پروا نہ کریں۔ جلسہ کی روئیداد شائع ہوئی۔ مرزا قادیانی نے اپنی اسی رسوائی و ذلت کی شہرت کو مٹانے کے لئے خاص طور پر پیر صاحب کے بالمقابل تحدی کے ساتھ اعجاز المسیح لکھا۔ ١٧؍ جنوری ١٩٠٢ء کے قادیانی اخبار الحکم ص ٥ میں مذکور ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ رسالہ ستر دن میں بجائے چار جز کے ساڑھے بارہ جز میں لکھ کر طبع کرا کر شائع کیا۔ ٢٣؍ فروری ١٩٠١ء کو پیر صاحب کے پاس بذریعہ رجسٹری روانہ کیا گیا کہ بس ستر دن میں جواب دیں۔ لطف یہ کہ اس میعاد کی آخری تاریخ ٢٥؍ فروری ١٩٠١ء قرار دی۔
- دوم ..... ٥؍ نومبر ١٨٩٩ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ میں نے خدا سے دعاء کی
ہے کہ اگر میں سچا ہوں تو آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ اگر میری یہ دعاء مقبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود، ملعون، کافر، بیدین، خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ مگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ مدت ختم ہونے میں صرف ایک مہینہ باقی تھا کہ اسی ١٩٠٢ء میں موضع مدھلج امرتسر میں مولوی ثناء اللہ صاحب مدیر اہل حدیث امرتسر نے مناظرہ میں مرزائیوں کو
٢٩
سخت شکست دی۔ جس کی کیفیت ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء کے ضمیمہ شحنہ ہند میں شائع ہوئی۔ مرزا قادیانی نے اس بدترین ذلت کو دیکھ کر فوراً رسالہ اعجاز احمدی کا اشتہار دیا کہ: ”اگر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے۔ پانچ روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ انہیں انعام دوں گا۔ اگر وہ اس کے جواب سے عاجز رہے تو سمجھ لیا جائے کہ یہی قصیدہ وہ نشان ہے جس کے ظہور کے لئے میں نے دعاء کی تھی کہ تین سال کے اندر اس کا ظہور ہو۔ اس رسالہ میں یہ پیشین گوئی بھی کی کہ مولوی ثناء اللہ قادیان میں میرے پاس تمام پیشین گوئیوں کی جانچ کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے اور اس رسالہ کے مطبوعہ جواب کی میعاد بیس روز تھی۔ جو دس دسمبر ١٩٠٢ء کو ختم ہوچکی۔“
ناظرین! یہ ہے۔ رسالہ اعجاز المسیح اور رسالہ اعجاز احمدی کا شان نزول پھر حافظ صاحب نے معلوم نہیں کیوں یہ غلط بات لکھ دی کہ مرزا قادیانی نے باوجود امی ہونے کے یہ کتاب لکھ کر دنیا بھر کے عالموں کو چیلنج دیا۔
- ٣١........ حافظ صاحب نے یہ تو لکھا کہ دنیا بھر کے عالموں کو چیلنج دیا۔ (حالانکہ
صرف پیر صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کو چیلنج دیا تھا) لیکن مدت جواب اور اس مدت کی اوّل وآخر تاریخ شاید غلطی سے لکھنا بھول گئے۔ خیر اب سہی۔
- ٣٢........ معجزہ نبوت کی علامت ہے نہ کہ قابلیت علم ظاہر کی نشانی مگر حافظ صاحب
کے الفاظ (مدعیانِ علمیت، عالموں کو چیلنج، عالم ہو تو جواب دو۔ دس ہزار روپیہ انعام لو) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی کے قائل ہیں جو قطعاً غلط ہے۔
- ٣٣........ حافظ صاحب نے بالکل غلط لکھا کہ کوئی مقابل نہ ہوا۔ سب دم بخود
ہو گئے۔ گویا دنیا میں موجود ہی نہیں۔ کیا حافظ صاحب کو علم نہیں جو ١٣؍ اگست ١٩٠٠ء کے سراج الاخبار ص ٦ میں علامہ فیض ؎١ مرحوم کی چٹھی شائع ہوئی تھی۔ مرحوم نے لاہور والے مناظرہ کی تاریخ ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء سے پہلے پانچ اگست ١٩٠٠ء کو مرزا قادیانی کو خط لکھا تھا کہ میں آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم ونثر لکھنے کو تیار ہوں۔ تاریخ کا تقرر آپ ہی کر دیجئے اور مجھے اطلاع دیجئے کہ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر کروں۔ لیکن مرزا قادیانی نے جواب کے نام سانس تک نہ لی۔
؎١ یعنی ابوالفیض مولوی محمد حسن صاحب فیض ساکن بھیں ضلع جہلم تحصیل چکوال، مدرس دارالعلوم نعمانیہ لاہور۔
٣٠
کیا آپ کو علامہ مرحوم کے اس شائع ہوا تھا کہ میں ١٣؍ فروری ١٩٠٢ء کو مسج جہاں وہ معہ حوارین رونق افروز تھے۔ ان کچھ اشعار رسالہ رسائل اعجازیہ مطبوعہ مطبع کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ ک مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنادیں۔ عبارت بھی نہ آئی جو خوشخط عربی میں تھی۔ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو پتہ نہیں ملتا۔ آ دیتا ہوں کہ اگر وہ سچے ہیں تو آئیں صد ہوں۔ تحریری کریں یا تقریر میں ہو تو شہر میں سنائیے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ایک چپ
کیا آپ کو اس کی اطلاع سوپول بضلع بھاگل پور نے مرزا قادیانی خط لکھا کہ تفسیر اعجاز المسیح و قصیدہ اعجازیہ ۔ ہے تو جواب دینے والے کو کن کن شرائ طرف سے میر محمد صادق صاحب نے ج میعاد ١٠؍ دسمبر ١٩٠٢ء تک اور اعجاز المسیح ۔ تک ختم ہو چکی۔ اچھا علمی اور انعامی ال ہو گیا۔ اب اس سے کوئی کتنا ہی بہتر قصید
کیا حافظ صاحب نے مرزا کو نہیں دیکھا جو علماء نے نکالی ہیں۔ مثلاً
- .......١ بقول مولانا شبلی نعمانی مرز
نہایت کثرت سے دکھائی
- .......٢ پیر مہر علی شاہ صاحب نے
- .......٣ مولوی ثناء اللہ صاحب ۔
کیا آپ کو علامہ مرحوم کے اس اعلان کی خبر نہیں جو ٢؍مئی ١٩٠٢ء کے اخبار مذکورہ میں شائع ہوا تھا کہ میں ١٣؍فروری ١٩٠٢ء کو مسجد حکیم حسام الدین سیالکوٹ میں مرزا قادیانی سے ملا جہاں وہ معہ حواریین رونق افروز تھے۔ ان کی خدمت میں اپنا غیر منقوط عربی قصیدہ (اس قصیدہ کے کچھ اشعار رسالہ رسائل اعجازیہ مطبوعہ مطبع رحمانیہ مونگیر ص ٣١ میں بھی منقول ہیں) پیش کیا اور کہا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنادیں۔ مرزا قادیانی دیر تک چپکے دیکھتے رہے۔ مگر انکو اس کی عبارت بھی نہ آئی جو خوشخط عربی میں تھی۔ پھر انہوں نے اپنے ایک فاضل حواری کو دیا جو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو پتہ نہیں ملتا۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ آخر میں میں مرزا قادیانی کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ سچے ہیں تو آئیں صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں۔ میں حاضر ہوں۔ تحریری کریں یا تقریری ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں۔ عربی ہو یا فارسی اردو۔ آئیے سنئے اور سنائیے۔ لیکن مرزا قادیانی نے ایک چپ سے ہزار بلا کو ٹال دیا۔
کیا آپ کو اس کی اطلاع نہیں کہ ٢٣؍نومبر ١٩١٢ء کو مولوی محمد عصمت اللہ صاحب سوپول، ضلع بھاگل پور نے مرزا قادیانی کے دست راست اور خلیفہ اوّل حکیم نورالدین قادیان کو خط لکھا کہ تفسیر اعجاز المسیح وقصیدہ اعجازیہ کے جواب دینے کی مدت ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے۔ اگر باقی ہے تو جواب دینے والے کو کن کن شرائط کی رعایت کرنی ہوگی۔ ٤؍دسمبر ١٩١٢ء کو حکیم صاحب کی طرف سے میر محمد صادق صاحب نے جواب دیا کہ انعامی رسالہ اعجاز احمدی کے بالمقابل لکھنے کی میعاد ١٠؍دسمبر ١٩٠٢ء تک اور اعجاز المسیح کے بالمقابل تفسیر سورہ فاتحہ لکھنے کی میعاد ٢٥؍فروری ١٩٠١ء تک ختم ہوچکی۔ اچھا علمی اور انعامی اعجاز تھا کہ بجائے مستمر ہونے کے تاریخ مذکور تک رخصت ہو گیا۔ اب اس سے کوئی کتنا ہی بہتر قصیدہ اور عمدہ تفسیر لکھ دے مگر جواب نہ ہوگا۔ چہ خوش!
کیا حافظ صاحب نے مرزا قادیانی کے بیس دن اور ستر دن کے علمی اعجاز کی ان غلطیوں کو نہیں دیکھا جو علماء نے نکالی ہیں۔ مثلاً:
- ......١ بقول مولانا شبلی نعمانی مرحوم مصر کے مشہور رسالہ (غالباً المنار) نے اس کی غلطیاں
نہایت کثرت سے دکھائی ہیں۔
- ......٢ پیر مہر علی شاہ صاحب نے اعتراضات کئے۔
- ......٣ مولوی ثناء اللہ صاحب نے رسالہ الہامات مرزا میں۔
٣١
- ٤...... مولانا سید غنیمت حسین صاحب ساکن مخدوم چک مونگیر نے رسالہ ابطال اعجاز مرزا حصہ اوّل میں بکثرت غلطیاں نکال کر پیش کی ہیں۔
- ٥...... رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو مطبع فیض عام لاہور میں چھپ کر شائع ہوا۔
- ٦...... مولانا محمد علی صاحب مونگیری نے بھی اپنے بعض رسائل میں کچھ غلطیاں نکال کر نمونہ پیش کیں ہیں۔
کیا حافظ صاحب نے جناب قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم اور مولانا غنیمت حسین صاحب کے قصیدہ جوابیہ کی زیارت نہیں کی جن میں سے پہلا شروع ١٩٠٧ء میں اخبار اہل حدیث میں، پھر بمعہ شرح الہامات مرزا میں اور دوسرا رسالہ ابطال اعجاز مرزا حصہ دوم میں طبع ہو کر مدت ہوئی شائع ہو چکا ہے۔ مرزا قادیانی کا علمی اعجاز تو وقتی اور غلط ١؎ تھا۔ مگر یہ ہر دو جوابی قصیدہ اپنی خوبی و عمدگی میں مستمر اور غلطی سے پاک ہیں۔
- ٣٤...... حافظ صاحب نے یہ بالکل غلط لکھا کہ ان غلطیوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ ورنہ بتایا جائے کہ ان تمام سر توڑ غلطیوں کا منہ توڑ جواب کس نے دیا۔ کب دیا۔ کہاں طبع ہوا۔ کس نام سے شائع ہوا اور کس قیمت پر کہاں ملے گا؟۔
- ٣٥...... حافظ صاحب نے بڑی غلطی کی جو مرزا قادیانی کے نام نہاد چیلنج کو تحدی سمجھ کر اعجاز قرآن کی توہین کی۔ نیز علمائے اسلام پر افتراء کیا کہ جواب نہ دے سکے۔ ورنہ بتایا جائے کہ مرزا قادیانی نے خطبہ الہامیہ کے لئے کیوں نہ علماء کو دعوت دی کہ آؤ عام مجمع میں آمنے سامنے میری طرح عربی میں خطبہ دو۔
- ٣٦...... حافظ صاحب کی مذکورہ عبارت میں اس کا بھی صاف اقرار ہے کہ مخالفین نے قرآن میں غلطیاں نکالیں جو قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ کیونکہ مخالفین قرآن دو قسم کے ہیں۔ ایک زمانہ نزول قرآن کے وہ عرب جن کی قومی عربی زبان انسانی حیثیت سے انتہائی فصاحت و بلاغت کو پہنچ چکی تھی۔ جس پر ان کو فخر تھا اور جس سے آج عربیت میں سند لی جاتی ہے۔ دوسرے وہ جن کی دیسی عربی زبان نہیں یا عربی کے سوا دوسری زبان ہے۔ قسم دوم کے مخالفین مثلاً عیسائی، آریہ وغیرہ اگر قرآن میں آج غلطی نکالیں تو اس کی وقعت اہل علم پر ظاہر ہے۔ ہاں! قسم
١؎ مرزا قادیانی کا کلام واقعی اپنا آپ ہی نظیر ہے کہ اس کا اعجاز وقتی اور غلطی دائمی ہے۔ پھر ایسا لا جواب ہے کہ اس سے بہتر اور نقص سے مبرّا جواب ہیچ ہے۔ چودہ صدی کے نبی کی یہ عجیب نشانی واقعی چشم فلک نے بھی کبھی نہ دیکھی ہوگی۔
٣٢
اوّل کے مخالفین ایسا کرتے تو البتہ آبرو دی، جان دی، لیکن یہ نہ کرسکے فصحائے عرب میں سے کسی ایسے مستند جیسے کہ مرزا قادیانی کے ہمعصر اہل علم سے جواب ناممکن ہے۔
- ٣٧...... حافظ صاحب کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی کے علمی ہیں۔ کیونکہ غلطی نکالنے والوں میں کثرت کا یہ حال ہے کہ اگر صرف ن ایک ہزار سے کم غلطیوں کی تعداد نہ
- ٣٨...... مولوی صا خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود ولد مر ص ٨٤ میں مولوی صاحب کو لکھتے لگایا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ہر ہوئی۔) قولِ الحق جو مرزا بشیر الد کہتے ہیں کہ قرآن میں یہی لکھا رہے ہیں کہ ان کی ساری باتیں جھ جھوٹے کو جھوٹا کہنا کوئی جرم نہیں ایمانداری سے ثبوت نہ دینا ظلم عظ صاحب آپ مجھے بتائیں۔ اس م مخالف یہ کہا کرتے تھے کہ تمہاری قرآن وحدیث سے پیش کریں۔
ناظرین! خدارا انصا ہے...........الخ۔‘‘ حافظ صاحب مناظرہ بار ثبوت حافظ صاحب دینے کے خود ایک دعویٰ بنا کر مولو
اَوّل کے مخالفین ایسا کرتے تو البتہ قابل توجہ ہوتا مگر انہوں نے تو مخالفت میں مال دیا، عزت آبرو دی، جان دی، لیکن یہ نہ کر سکے کہ قرآن میں غلطی نکالتے۔ ورنہ حافظ صاحب کو چاہئے کہ ان فصحائے عرب میں سے کسی ایسے مستند صاحب زبان کی نکالی ہوئی قرآن کی غلطی کا بسند صحیح پتہ دیں جیسے کہ مرزا قادیانی کے ہمعصر اہل علم نے ان کے علم و اعجاز کی ایسی واقعی قلعی کھولی ہے کہ مرزائیوں سے جواب ناممکن ہے۔
٣٧....... حافظ صاحب نے (بعض نے کچھ غلطیاں نکالیں) لکھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی کے علمی، اعجازی، انعامی رسالہ میں کم لوگوں نے تھوڑی غلطیاں نکالی ہیں۔ کیونکہ غلطی نکالنے والوں میں سے چھ اہل علم کا ذکر تو اوپر میں بھی کر چکا ہوں اور غلطیوں کی کثرت کا یہ حال ہے کہ اگر صرف مذکور الصدر پتہ ہی پر قناعت کر کے شمار کیا جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ ایک ہزار سے کم غلطیوں کی تعداد نہ ہوگی۔
٣٨....... مولوی صاحب نے حافظ صاحب کو خط میں بحوالہ رسالہ قول الحق ان کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود ولد مرزا غلام احمد قادیانی کا دوسرا جھوٹ لکھا تھا۔ چنانچہ حافظ صاحب ص ٨٤ میں مولوی صاحب کو لکھتے ہیں کہ (آپ نے خلیفہ المسیح پر ایک اور دوسرے جھوٹ کا الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ ہر نبی کو اس کے مخالفوں نے یہی کہا کہ ان کی کوئی بات بھی سچی نہیں ہوئی۔) قول الحق جو مرزا بشیر الدین کا لیکچر ہے اس میں ص ٥ پر ان کے اصل الفاظ یہ ہیں (ہم کہتے ہیں کہ قرآن میں یہی لکھا ہے کہ سب انبیاء کو ان کے مخالفین بھی کہتے رہے ہیں بلکہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی ساری باتیں جھوٹی نکلیں نقل عبارت خط سے پہلے حافظ صاحب لکھ چکے ہیں۔ جھوٹے کو جھوٹا کہنا کوئی جرم نہیں۔ مگر صادقوں کو کاذبوں کا خطاب دینا پھر ان کے کذب کا ایمانداری سے ثبوت نہ دینا ظلم عظیم ہے اور اب اعتراض کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں جناب مولوی صاحب آپ مجھے بتائیں۔ اس میں آپ کو کون سا جھوٹ نظر آیا۔ کیا آپ کے نزدیک نبیوں کے مخالف یہ کہا کرتے تھے کہ تمہاری فلاں بات سچی اور فلاں جھوٹی ہوئی۔ پس اپنے دعویٰ کا ثبوت قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ ورنہ خدا کی لعنت سے ڈریں جو ہمیشہ جھوٹوں پر پڑا کرتی ہے۔
ناظرین! خدارا انصاف کریں۔ دعویٰ خلیفہ المسیح ثانی کا ہے کہ: ”قرآن میں یہی لکھا ہے..........الخ۔“ حافظ صاحب اس کے حامی ہیں اور مولوی صاحب منکر۔ پس حسب اصول مناظرہ بار ثبوت حافظ صاحب پر ہے نہ کہ مولوی صاحب پر۔ لیکن حافظ صاحب بجائے ثبوت دینے کے خود ایک دعویٰ بنا کر مولوی صاحب کو اس کا مدعی قرار دے کر ان سے اس کا مطالبہ کرتے
٣٣
ہیں لعنت سے ڈراتے ہیں۔ پھر لطف یہ کہ اگر مولوی صاحب خلاف ادب مناظرہ ثبوت بھی دیں تو فرماتے ہیں اگر آپ نے ثبوت بہم پہنچا دیا تو حضرت خلیفتہ المسیح کی یہ میں ایک غلطی سمجھوں گا نہ کہ جھوٹ۔ چہ خوش!
- ٣٩...... حافظ صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے خط میں یہ
بھی لکھا تھا کہ پہلے مخالفین انبیاء اسی طرح تکذیب نہیں کیا کرتے تھے۔ بلکہ وہ تاویل کیا کرتے تھے کہ پیشین گوئیوں کو کہانت اور معجزہ کو سحر پر محمول کرتے تھے۔
(نور ہدایت ص٧٥)
اس پر حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ میں فی الحال اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ آپ کی بات صحیح ہے یا غلط بلکہ فرضی طور پر صحیح مان کر یہ کہوں گا کہ وہ یعنی پہلے انبیاء کے مخالفین بڑے شریف اور نہایت مہذب انسان تھے اور زمانہ حال کے مخالفین کی طرح شریر اور بداخلاق نہ تھے۔ مولوی صاحب کیا کہتے ہیں۔ حافظ صاحب کیا سمجھتے ہیں۔ اس کی داد تو ناظرین با انصاف دیں گے۔ لیکن ہاں میں حافظ صاحب سے اتنا ضرور عرض کروں گا کہ وہ اپنی اس بدترین غلطی سے فوراً توبہ کریں کہ نبی کی پیشین گوئی کو کہانت معجزہ کو سحر کہنے والا بڑا شریف، نہایت مہذب انسان ہے۔ ورنہ انہیں اپنے مرزا قادیانی کو بھی مثلاً فرعون، ابوجہل، ابولہب وغیرہ کی طرح بڑا بلکہ بہت بڑا شریف نہایت مہذب انسان تسلیم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ انہوں نے تو نبی کو کاہن، ساحر وغیرہ مخالف بن کر کہا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو اس سے بڑھ کر موافق بن کر کہا ہے اور ایسا کہا ہے کہ اگر زیادہ تحقیق کی جائے تو کیا عجب ان کا مرتبہ زمانہ حال کے شریر اور بداخلاق مخالفین انبیاء سے بھی بڑھ جائے۔ چنانچہ جس کی نظر وسیع مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تصانیف پر ہے۔ اس پر یہ امر ہرگز پوشیدہ نہیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو میں بحث پر ایک مستقل رسالہ (توہین انبیاء اور تصانیف مرزا) لکھ کر پیش کر دوں گا۔
- ٤٠...... مرزا قادیانی کا یہ شعر ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین ص٥٣)
مولوی صاحب نے اس کو پیش کیا تھا کہ اس میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ حافظ صاحب نے (نور ہدایت ص٥٠،٥٦) تک اس شعر کی عجیب وغریب شرح کی ہے۔ ایک جگہ مولوی صاحب کو لکھتے ہیں۔ شاید آپ لوگ اس فاسد عقیدہ کی بناء پر ابن
٣٤
مریم کے ذکر کو ضروری سمجھتے ہوں گے کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں۔ جو بروقت واپسی اپنے ساتھ بہت بڑا خزانہ لادیں گے اور مولوی صاحبان کی جو خالی جھولیاں پڑی ہیں ان کو مال وزر سے خوب بھریں گے۔
(نور ہدایت ص ٥١)
حالانکہ ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اپنے ساتھ بہت بڑا خزانہ لا کر ہمیں دیں گے۔ مگر حافظ صاحب خود یہ عقیدہ گھڑ کر زبردستی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں۔
- ٣١....... ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے شعر مذکور کے مصرع ثانی میں جو غلام احمد کا
استعمال کیا ہے۔ وہ خود ان کا اسم ذات اور علم ہے۔ پس مرزا قادیانی کا مطلب صاف ہے کہ ابن مریم مجھ سے کمتر ہے۔ میں اس سے بہتر ہوں۔ لہٰذا اس کمتر کے ذکر چھوڑو۔ مجھ بہتر کا ذکر کرو۔
حافظ صاحب غلطی سے فرماتے ہیں کہ (مرزا قادیانی) نے (حضور ﷺ) کو احمد فرمایا جو درحقیقت سب سے بڑے احمد ہیں اور اپنے کو انکا غلام فرمایا۔ اس صورت میں غلام مضاف اور احمد مضاف الیہ ہوگا اور مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہ رہے گی۔ حضور ﷺ کے ہر غلام کو ابن مریم سے بہتر کہنا پڑے گا۔ جس کے قائل خود حافظ صاحب بھی نہ ہوں گے اور حافظ صاحب کا یہ کہنا بھی بیکار ہو جائے گا کہ مصرع ثانی میں مرزا قادیانی نے اپنے کو حضور ﷺ کا غلام فرمایا۔ یہ اپنے کو کہنا جب ہی باکار ہوگا کہ حافظ صاحب اپنی غلطی کو واپس لے کر مصرع میں غلام احمد کو مرزا قادیانی کا علم تسلیم کر لیں اور اگر یہی کہا جائے کہ مضاف سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔ جیسا کہ حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ اپنے کو ان کا غلام فرمایا۔ تو شعر کا مفہوم جو علم کی صورت میں تھا وہی جز مرکب کے تعین کی صورت میں ہوگا اور اہانت مسیح علیہ السلام پھر بھی رہی یعنی میرا ذکر بہتر ہے ان کے ذکر سے۔ نعوذ باللہ!
- ٣٢....... حافظ صاحب کی یہ غلطی بھی قابل داد ہے۔ فرماتے ہیں۔ ”ہمارا بجز اس
بات کے کہ ہم ابن مریم کی نبوت پر ایمان رکھیں اور ان کو تمام نبیوں کی طرح پاک اور مقدس سمجھیں اور کوئی تعلق نہیں تو پھر ان کے ذکر سے کیا فائدہ۔“
(نور ہدایت ص ٥٢)
اگر ابن مریم کا ذکر بے فائدہ ہے تو یہ سوال اوّل اللہ ورسول سے کرنا چاہئے کہ قرآن وحدیث میں ابنِ مریم بلکہ ان سے پہلے کے انبیاء علیہ السلام کے بکثرت ذکر کا کیا فائدہ؟ حیرت ہے کہ جس کو مثیل مسیح بننے کا اتنا شوق۔ اس کو اصل مسیح سے اتنی نفرت کہ ذکر بھی ناپسند ہے۔ استغفر اللہ!
٣٥
...... ٤٣ ...... (نور ہدایت ص ٨٦) میں لکھتے ہیں۔ مولوی صاحبان بڑے فخر سے فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی میں تین جھوٹے بولے۔ میرے نزدیک مولوی صاحبوں نے بڑی دوراندیشی سے کام لیا کہ تین جھوٹ تک نبوت کو قائم رکھا ہے۔ حالانکہ یہ محض افتراء ہے۔ اگر کسی نے ایسا کہا ہے تو علماء نے اس کی تردید کی ہے نہ کہ تائید۔
...... ٤٤ ...... (نور ہدایت ص ٩٢) پر مولوی صاحب سے فرماتے ہیں کہ : ”مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز احمدی انعامی دس ہزار کے جواب سے آپ نے اپنے اور اپنے بھائی بند علماء کو عاجز پا کر اپنے عجز پردہ ڈالنے کے لئے مرزا قادیانی پر شاعر ہونے کا الزام لگایا ہے۔“ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین صاحب تو اعجاز احمدی کی مدت اعجاز کی کائنات صرف بیس روز اقرار دیں اور فرمائیں کہ جواب کی میعاد ١٠/دسمبر ١٩٠٢ء کو ختم ہو گئی اور حافظ صاحب ہیں کہ اب تک اس سے بیخبر ہیں۔ یا تجاہل عارفانہ فرما کر جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اچھا حافظ صاحب جواب شائع ہو گیا ہے۔ جس کا ذکر اوپر کر آیا ہوں۔ ملاحظہ فرما کر مرزائیت سے توبہ کیجئے۔
...... ٤٥ ...... اسی صفحہ پر حافظ صاحب نے مولوی صاحب کے خط کی عبارت نقل کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہو کر شاعر بھی تھے۔ حالانکہ کوئی نبی شاعر نہیں ہوا۔ قرآن میں نبی سے شعر کی نفی اور شعراء کی مذمت مذکور ہے۔ مگر حافظ صاحب نے نقل عبارت کے بعد ص ٩٢ میں لکھا ہے کہ مولوی صاحب نے محض شاعری کو مانع نبوت قرار دیا ہے۔ اس زبردستی کا کوئی ٹھکانا ہے۔ مولوی صاحب کی عبارت میں حصر کا نام و نشان تک نہیں۔ مگر حافظ صاحب صرف شاعری کا مانع نبوت ہونا ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کچھ خیال نہیں فرماتے کہ کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا۔
...... ٤٦ ...... (نور ہدایت ص ٩٨) میں آپ لکھتے ہیں کہ : ”حضرت نبی کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ میری امت کیونکر تباہ ہو سکتی ہے۔ جس کے ہم دو پشتیاں ہیں۔ یعنی اوّل میں اور آخر وہ جس کا نام مہدی و مسیح ہے۔“ حالانکہ حدیث میں اس طرح نہیں ہے۔ اگر ہو تو حافظ صاحب اصل حدیث معہ حوالہ ہمت کر کے پیش کریں۔
...... ٤٧ ...... (نور ہدایت ص ١٤١) پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ : ” یہ حضرات غیر مرزائی مسلمان علماء ظواہر سرے سے الہام ہی کے منکر ہیں ۔ “ حالانکہ قطعا ًغلط اور سراسر افتراء ہے۔ ہم وحی کے منکر ہیں نہ کہ الہام کے اور وحی میں بھی صرف حضور ﷺ کے بعد کسی پر نزول کے منکر ہیں نہ کہ سرے سے وحی کے۔
٣٦
...... ٤٨ ...... (نور ہد خدا کا وہ برگزیدہ انسان ہے جس صاحب کو چاہئے کہ مشاہیر امت
...... ٤٩ ...... پھر بلا محبوب انسان ہے جس کو آپ ہے۔ ورنہ مہربانی فرما کر حاف مرزا قادیانی کو اپنے سلام کی وص
...... ٥٠ ...... حافظ رقمطراز ہیں۔ ”دیکھ لو صحیح احادی بیت سے ہوگا۔ مگر اس کی تشر کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کھول کر بتا دیا تھا کہ دیکھو وہ سے نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ فارسی الن
اس سے مقصد حا ہیں، فارسی النسل ہیں۔ حالا نہیں ہے۔ ورنہ حافظ صاحب دیں۔ اگر نہ دے سکیں اور ی سلمان فارسی کی نسل سے ثاب ہونے کی کوئی دلیل پیش کر ی
ان کے موجودہ امام معہ اپ مرزا قادیانی سلمان النسل یا
ہاں یہ صحیح ہے ک حاشیہ میں حافظ صاحب کو امت کی ہلاک کنندہ قوم ک خاندان میں پہلا شخص ہے کرنے میں بہت کوشش کی
- ......٤٨ (نور ہدایت ص ١٥٢) پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ (مرزا غلام احمد قادیانی)
خدا کا وہ برگزیدہ انسان ہے جس کا ١٤ سو سال سے برابر انتظار کیا جا رہا تھا۔“ اگر یہ سچ ہے تو حافظ صاحب کو چاہئے کہ مشاہیر امت میں سے کسی ایک ہی منتظر کا نام اور بتصریح اس کا انتظار بتائیں۔
- ......٤٩ پھر بلا فصل فرماتے ہیں کہ: ”یہ (مرزا قادیانی) حضرت نبی کریم ﷺ کا وہ
محبوب انسان ہے جس کو آپ نے اپنا سلام پہنچانے کی وصیت فرمائی تھی ۔“ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ ورنہ مہربانی فرما کر حافظ صاحب ذرا وہ حدیث پیش کریں جس میں حضور ﷺ نے مرزا قادیانی کو اپنے سلام کی وصیت کی ہے۔
- ......٥٠ حافظ صاحب بڑے جوش کے ساتھ (نور ہدایت ص ١٤١، ١٤٢) کے حاشیہ میں
رقمطراز ہیں ۔ ”دیکھ لو صحیح احادیث کو جہاں پہلے تو آپ (حضور ﷺ) نے فرمایا کہ مہدی میری اہل بیت سے ہوگا۔ مگر اس کی تشریح یوں کر دی کہ حضرت سلمان صحابی جو فارسی النسل تھے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ وہ مہدی اس کی نسل میں سے ہوگا۔ آپ (حضور ﷺ) نے تو کھول کر بتا دیا تھا کہ دیکھو وہ مہدی جو میری امت میں پیدا ہونے والا ہے اس کا جسمانی تعلق مجھ سے نہ ہوگا ۔ کیونکہ وہ فارسی النسل ہوگا۔“
اس سے مقصد حافظ کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کے اہل بیت سے ہیں ۔ مہدی ہیں ، فارسی النسل ہیں ۔ حالانکہ جس حدیث پر بھروسہ کر کے یہ کہا گیا ہے۔ اس میں اس طرح ہرگز نہیں ہے۔ ورنہ حافظ صاحب ضرور پیش کرتے ۔ خیر اب سہی ۔ ذرا پیش کر کے اپنی سچائی کا ثبوت دیں ۔ اگر نہ دے سکیں اور یقیناً نہ دے سکیں گے تو کم از کم اتنا ہی کریں کہ مرزا قادیانی کو حضرت سلمان فارسی کی نسل سے ثابت کر دیں ۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ان کے فارسی النسل یا فارسی الاصل ہی ہونے کی کوئی دلیل پیش کریں ۔ لیکن میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ حافظ صاحب تو کیا چیز ہیں ۔ ان کے موجودہ امام معہ اپنی پوری مرزائی جماعت کے بھی قیامت تک نہیں ثابت کر سکتے کہ مرزا قادیانی سلمان النسل یا فارسی النسل یا فارسی الاصل تھے۔
ہاں یہ صحیح ہے کہ مرزا قادیانی قوم کے مغل (مرزا قادیانی کی یہ قومیت (ص ١٢٨) کے حاشیہ میں حافظ صاحب کو بھی تسلیم ہے) اور تاتاری الاصل ہیں ۔ جس کو ابوداؤد کی حدیث میں امت کی ہلاک کنندہ قوم کہا گیا ہے۔ چنگیز خان، ہلاکو وغیرہ اسی نسل سے ہیں ۔ ابو الفضل مغل خاندان میں پہلا شخص ہے جس نے الہام کشف ولایت معبودیت اور محبوبیت کے شرف ثابت کرنے میں بہت کوشش کی ۔ (تائید الاسلام ص ٢٧) خود مرزا قادیانی نے سمرقندی الاصل ہونے کا
٣٧
اقرار کیا ہے۔ (ازالۃ الاوہام ص ١٢٠، خزائن ج ٣ ص ١٥٨ حاشیہ) نہ کہ فارسی الاصل ہونے کا، اور سمرقند فارس میں نہیں ہے۔ لطف یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ اقرار بھی غلط ہے۔ وجہ یہ کہ جب مرزا قادیانی نویں صدی سے چودھویں صدی تک ہندوستان میں رہنے سے ہندی الاصل نہ بنے تو ان کے آباؤ اجداد سمرقند میں چند روزہ قیام سے سمرقندی الاصل کیونکر ہو سکتے ہیں۔ غرض مرزا قادیانی نہ سلمانی النسل ہیں نہ فارسی الاصل۔ بلکہ سمرقندی الاصل بھی نہیں۔ پھر حافظ صاحب ناحق غلط نویسی میں مصروف ہیں۔
ناظرین! مختلف اقسام کی غلطیوں میں پندرہ دیباچہ کی اور پینتیس کتاب کی یہ پچاس غلطیاں آپ کے سامنے ہیں۔ اسے مرزا قادیانی کی صداقت کے پچاس زبردست نشان اور حافظ صاحب کی غیر معمولی کتاب کا پچاس معجزہ سمجھنا چاہئے۔ ابھی ایسی ہی اتنی اور بھی غلطیاں ہیں کہ سب لکھی جائیں تو حافظ صاحب کی کتاب کی تعداد صفحات ١٨٤ سے زیادہ ہی ہوں گی۔ لیکن اس کا نمونہ ہی اتنا ہو گیا ہے کہ میرا لکھتے لکھتے اور آپ کا دیکھتے دیکھتے جی گھبرا گیا ہے، لیکن جب کتاب کی یہی کائنات ہی تھی تو آخر میں کیا کرتا۔ مجبور تھا اچھا لیجئے اب تھوڑی دیر ترتیب مضامین کی بے قاعدگیوں کی بھی سیر کر لیجئے۔
ترتیب مضامین بے قاعدگیاں
حافظ صاحب کی ١٨٤ صفحہ کی کتاب سے اگر ان کی گالیوں، غیر متعلق، بیکار اور مکرر باتوں کو نکال دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ دو جز ١؎ (٣٢ صفحہ) کی کتاب رہ جائے گی۔ پھر بھی اس کو مولوی صاحب کی کتاب راہ حق کا جواب کہنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ ساری کتاب میں بس مولوی صاحب کے خطوط ٢؎ ہی کا رونا ہے۔ راہ حق متعلقہ رد قادیان کا دو چار مقام کے سوا کہیں ذکر بھی نہیں۔ باایں ہمہ حافظ صاحب نے نور ہدایت کے نیچے بجائے (بجواب خطوط مولوی صاحب) نہ معلوم کیوں (بجواب رسالہ رد قادیان) لکھا ہے۔ اس کا کافی اندازہ ان کی مذکورہ غلطیوں اور ذیل کی بے قاعدگیوں سے بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مرزائی رسالہ ٣؎ (مسلمانوں کا اس زمانہ کا امام کون ہے) کا مولوی
١؎ اور اگر غلطیاں بھی حذف کر دی جائیں تو ١٨٤ کی بجائے صفر ہی رہ جائے گا۔ ٢؎ افسوس کہ وہ خطوط حافظ صاحب کے سوا نہ مولوی صاحب کے پاس ہیں نہ میرے سامنے۔ ٣؎ افسوس کہ یہ رسالہ بھی باوجود بڑی تلاش کے مجھے کہیں نہ مل سکا۔
٣٨
صاحب نے راہ حق میں آٹھ نمبروں میں خلاصہ کیا ہے۔ میں اسی کو نمبر وار لکھ کر ہر نمبر کا انہوں نے جو رد کیا ہے اس کا جواب بغرض رد حافظ صاحب کی کتاب نور ہدایت میں تلاش کر کے دیکھوں گا کہ حافظ صاحب کہاں کہاں مولوی صاحب کے بالمقابل نظر آتے ہیں اور کہاں کہاں بھاگتے دکھائی دیتے ہیں اور اسی کے ضمن میں ترتیب مضامین میں بے قاعدگیاں بھی خود بخود ظاہر ہو جائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ !
- نمبر:١...... ہر مسلمان پر فرض ہے کہ امام زمان کو پہچانے ورنہ اس کا خاتمہ کفار جاہلیت
کا سا ہوگا۔ پھر قیامت میں اس کی بریت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ فقط !
مولوی صاحب نے اوّل بحوالہ شرح نخبہ ونور الانوار وحسامی وغیرہ تین اصول موضوعہ لکھ کر پھر مرزا کی پیش کردہ تین حدیث نقل کر کے جواب دیا ہے کہ:
- ١...... یہ خبر آحاد ہے جو مفید ظن ہے اور اس کا منکر غیر کافر ہے۔
- ٢...... لفظ امام منقول شرعی ہے۔ ہر سہ حدیث میں اس کے معنی صاحب سلطنت کے ہیں۔
حدیث اوّل و دوم میں بادشاہ کی اطاعت کرنے اور سوم میں اس سے بغاوت نہ کرنے کی ترغیب و ترہیب ہے نہ کہ امام سے مراد مجدد اور اس کی معرفت کا حکم بطور فرض۔
- ٣...... بریت کی کوئی صورت کافر کی نہ ہوگی نہ کہ امام بمعنی مجدد کے منکر کی۔
- ٤...... فرقہ مرزائیہ بدو وجہ جہنمی ہے۔ اوّل اس لئے کہ اس نے حضورﷺ پر یہ افتراء کیا کہ
مجدد کی معرفت فرض ، اس کا منکر نبی کے منکر کی طرح کافر اور ابدی جہنمی ہے۔ دوم اس لئے کہ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسا ہی مجدد مانا۔ انتہیٰ مختصراً !
حافظ صاحب نے کتاب بھر میں نہ صرف اس نمبر کا بلکہ کسی نمبر کا ترتیب کا کیا ذکر ہے۔ بلا ترتیب بھی کہیں نام تک نہیں لیا۔ شاید اس لئے کہ پھر ہر نمبر نیز اس کی ہر بات کا جواب لکھنا پڑتا۔ جس سے وہ عاجز تھے۔ اسی کو چھپانے کے لئے ادھر ادھر کی باتیں لکھ کر نام کرنا چاہا کہ راہ حق کا جواب ہو گیا۔ لیکن خیر مجھ سے وہ چھپ کر جائیں گے ایسے کہاں کے ہیں۔
میں نے نور ہدایت کا ہر صفحہ دیکھا مولوی صاحب کے جواب نمبر ایک کی ہر بات کے سامنے حافظ صاحب کو غائب ہی پایا اور حافظ صاحب کے نزدیک جواب نہ دینا تسلیم کی علامت ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر مولوی صاحب نے ص ١٦٥ میں لکھا ہے کہ: ”قول الحق کے چالیس عنوان ہیں۔ جس میں تقریباً مولوی صاحبان کے ہر اعتراض کا جواب ہے۔ آپ نے بمشکل پانچ کا ناواجب جواب دیا ہے۔ باقی کا نہیں۔ جن باتوں کا جواب نہیں دیا غالباً آپ نے انہیں تسلیم کر لیا ہے۔
٣٩
ورنہ مولوی آن باشد کہ چپ نشود، ملخصاً‘‘ لہٰذا ہمیں بھی یہ کہنے کی اجازت ملنی چاہئے کہ مولوی صاحب نے اس نمبر و دیگر نمبروں کا جو جواب دیا ہے اور ان میں سے بیشتر باتوں کا حافظ صاحب نے جواب نہیں دیا ہے۔ ان جوابوں کو غالباً حافظ صاحب نے تسلیم کرلیا ہے۔ ورنہ مرزائی آن باشد کہ چپ نشود۔
اصول موضوعہ اور پہلی بات کے تو قریب سے بھی نہ گزرے۔ ہاں دوسری بات میں سے صرف آخری یعنی فرضیت معرفت مجدد کے متعلق ایک جگہ ص ٨٩ میں جا کر نظر آتے ہیں وہ بھی اس طرح کہ
چنانچہ اس عنوان سے حضرت امام الزمان کے متعلق ایک مختصر مگر نتیجہ خیز جواب فرماتے ہیں۔ اب میں آپ کی اس بحث کا جو رسالہ رد قادیان میں امام الزمان اور مجدد وقت کے متعلق ہے اور اس فضول ؎١ بحث کے لئے آپ نے پندرہ بیس صفحہ سیاہ کئے ہیں۔ مختصر جواب دے کر اپنے رسالہ نور ہدایت کو ختم کرتا ہوں۔ پھر کچھ شوخی، تعلی اور ظرافت آمیز حکایت کے بعد لکھتے ہیں کہ آپ نے امام الزمان کی شناخت کرنے سے قاصر رہ کر گنوار کی طرح کہہ دیا کہ امام الزمان کی شناخت ہمارے فرائض میں دخل نہیں اور نہ ہی امام ومجدد کا انکار کفر میں داخل ہے۔ ٹھیک فرمایا خدائے تعالیٰ نے ’’اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما‘‘ جھٹلایا تم نے میرے نشان کو اس لئے تمہاری سمجھ میں نہ آیا۔
مرزا قادیانی نے (توضیح المرام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ٥٨) میں جب الفاظ قرآنی کو دہقانی کہہ دیا تو ان کے امتی کا مولوی صاحب کو گنوار کہہ دینا کون سی بڑی بات ہے۔ حافظ صاحب! بقول آپ کے مولوی صاحب نے تو گنوار پن کیا۔ مگر آپ نے مرزا قادیانی کے صداقت کا نشان یا اپنی کتاب کا معجزہ دکھانے کے لئے کون سا نور برسایا۔ آپ کے بھائی مرزائی نے فرضیت معرفت مجدد کے لئے حدیث پیش کی۔ مولوی صاحب نے بدلیل کہا وہ اس سے ثابت نہیں۔ آپ نے بھی حامی بن کر ثابت نہ کیا۔ پس آپ شناخت کرا نہ سکے۔ نہ کہ مولوی صاحب شناخت کر نہ سکے۔ آپ کا فرض تھا کہ مرزائی کی پیش کردہ حدیث سے ثابت کرتے کہ امام بمعنی مجدد کی معرفت فرض ہے۔ اس کا انکار کفر اور منکر قطعی کافر ابدی دوزخی ہے۔ لیکن یہ تو کر نہ سکے۔ الٹا چور کوتوال کو
؎١ پھر کیوں فضول بحث میں مرزا قادیانی نے اپنی عمر برباد کی۔ مرزائی جماعت نے اپنا نامہ اعمال اور آپ نے ١٨٤ صفحہ سیاہ کیا؟
٤٠
ڈانٹنے لگے۔ مولوی صاحب کو گنوار بنانے۔
رہی آیت ”اکذبتم“ تو واضح رہے ایسے ہی آپ نے ایک آیت کا حوالہ ص ٤٤ میں بھی دیا ہے کہ خدا نے حضور ﷺ کے سر پر خاتم النبیین کا تاج رکھ کر اس بات کی گارنٹی دے دی ہے کہ جو نعمت ہم نے اپنے پیارے رسول کو دی ہے وہ عطاء غیر مجذوذ ہے۔ یعنی یہ ایسی نعمت ہے جس کا کبھی انقطاع نہیں کیا جائے گا۔ قیامت تک اگر ہزاروں لاکھوں نبی بھی آئیں تو وہ سب آپ کی نسل روحانی میں سے ہوں گے اور نبی کریم ﷺ کے تاج و تخت کے وارث ہوتے چلے جائیں گے۔
حالانکہ سورۂ ہود رکوع ٨ میں آیت کے اس جز میں قیامت کے دن جنت میں نیک لوگوں کو جو نعمت ملے گی اس نعمت کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل جنت سے غیر منقطع نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ اس جملہ کو نہ نبوت سے کوئی تعلق ہے نہ ختم یا عدم ختم نبوت سے واسطہ۔ اس میں نہ حضور ﷺ کا ذکر، نہ آپ کی نسل کا بیان۔ لیکن حافظ صاحب نے ناواقفوں کو دھوکا دینے کے لئے اس کو زبردستی اپنے باطل عقیدہ سے چسپاں کردیا۔
یہی حال ”اکذبتم“ کا بھی ہے جو آیت نہیں بلکہ پ سورہ نمل رکوع ٢ کی آیت کا درمیانی جزو ہے۔ یہاں بھی اوپر سے اللہ تعالیٰ قیامت کا ذکر فرمارہے ہیں کہ جس دن ہم جمع کریں گے ہر امت میں سے اس گروہ کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پھر وہ صف بہ صف کھڑے کئے جائیں گے۔
”حتی اذا جاءو قال اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما اما اذا کنتم تعملون“ ﴿یہاں تک کہ جب وہ حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ کیا تم نے جھٹلایا میری آیتوں کو حالانکہ تم نے ان کے علم کا احاطہ نہ کیا تھا۔ یا تم کیا عمل کرتے تھے۔﴾
بایتی میں آیات جمع ہے۔ جس کا صحیح ترجمہ آیتوں یا نشانیوں ہے۔ حافظ صاحب نے اس کا ترجمہ نشان بلفظ مفرد و غلط کیا ہے۔ غرض آیت میں قیامت کا ذکر ہے۔ اس کو فرضیت معرفت مجدد سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر دو سطر بعد ص ٩٠ پر یہ لکھ کر مولوی صاحب آپ کی علمی لیاقت کو دیکھ کر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کو ایسے طریق پر آپ کے سامنے رکھا جائے۔ جس سے بآسانی آپ اس کی حقیقت اور ضرورت کو سمجھ سکیں اور یہ مسئلہ دینی و دنیاوی دونوں طریق سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ سمجھنے والا سلیم الفطرت اور خدا ترس انسان ہو۔
اصل بات یوں سمجھاتے ہیں۔ ”دیکھو دنیا کا امام بادشاہ وقت ہوتا ہے۔ جس کی
٤١
اطاعت فرض ہوتی ہے۔ خواہ وہ بادشاہ کافر ہو یا مسلمان اور اس کے جو نائب اور نائب کے بعد سلسلہ دار عہدے دار اہلکار حتیٰ کہ ادنیٰ چپڑاسی تک کا بھی حکم ماننا ضروری ہوتا ہے۔ بادشاہ کا کوئی تعلق دار خواہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، بادشاہ کے نام سے کوئی بات کہے اور لوگوں کو اس کے ماننے کا حکم دے تو جو شخص اس کے حکم کی خلاف ورزی کرے گا۔ وہ سزا کا مستوجب ہوگا اور یہ سزا حکم دینے والے کی حیثیت کے مطابق ہوگی۔ پس اسی طرح نبی ورسول عالم روحانی کے امام ہیں۔ پھر ان کے بعد ان کے خلفاء مجددین و بزرگان دین و علماء کرام جن کا تعلق اس نبی سے ہوتا ہے۔ ان سب کی اطاعت کرنی اس نبی پر ایمان لانے والوں اور رکھنے والوں پر فرض ہوتی ہے۔ اگر ان روحانیت کے علمبرداروں میں سے کوئی نبی کی طرف سے سچی بات کہے تو اس کا انکار خدا کے یہاں قابل مواخذہ ہے اور یہ مواخذہ اسی حد تک ہوگا۔ جس حد تک حکم دینے والے کی حیثیت ہوگی۔“
حافظ صاحب اپنے اس مثال یا چونی کی دلیل کے بعد اب یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ ”پس چونکہ حضرت مرزا قادیان مسیح موعود مہدی مسعود ہونے کے علاوہ نبی بھی ہیں اور رسول بھی۔ امام بھی ہیں اور مجدد بھی۔ غرض ہر پہلو سے ان کو شناخت کرنا اور ان پر ایمان لانا فرض ہے۔ جو شخص ان کا انکار کرے گا۔ وہ ان کی حیثیت اور درجات کے مطابق سزا پائے گا۔“
ناظرین! یہ ہے مولوی صاحب کے مقابلہ میں حافظ صاحب کا مختصر مگر نتیجہ خیز جواب اب اس پر میری مختصر مگر معنی خیز تنقید بھی ملاحظہ ہو۔ اوّلاً اور اصل بحث یہ تھی کہ مرزا جی کی پیش کردہ حدیث سے فرضیت معرفت امام بمعنی مجدد ثابت ہے یا نہیں۔ مرزا جی کا دعویٰ تھا کہ ہاں، اور مولوی صاحب نے فرمایا کہ نہیں۔ حافظ صاحب مرزا کی حمایت کو آئے۔ لیکن حدیث کا نام تک نہیں لیتے اور بجائے دلیل ایک مثال پیش کر کے نتیجہ نکال دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر جس کا ماحصل یہ ہے کہ: ”چونکہ نائب بادشاہ و نائب رسول کی اطاعت فرض ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی معرفت اور ان پر ایمان لانا فرض ہے ۔“ حافظ صاحب! آپ ہی انصاف سے فرمائیے کجا ثبوت فرضیت معرفت امام بمعنی مجدد من الحدیث، کجا ثبوت فرضیت معرفت مرزا من المثال اور کجا فرضیت اطاعت نائب بادشاہ و نائب رسول، کجا فرضیت معرفت و ایمان مرزا مدعی نبوت اور رسالت۔ اس کو کہتے ہیں۔ سوال از آسمان جواب از ریسمان کے لئے آپ کا جواب۔ مختصر مگر نتیجہ خیز ہے۔ یا میری تنقید مختصر مگر معنی خیز ہے۔ بین تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ یہ مختصر سمجھ میں نہ آئے تو لیجئے کچھ مفصل بھی سن لیجئے اور اپنے جواب کے لطائف ذیل سے عبرت حاصل کیجئے۔
- .......١ مولوی صاحب کی علمی لیاقت پر تو آپ کو رحم آیا۔ لیکن اپنی روحانی قابلیت
٤٢
پر ترس نہ آیا۔ مدعی روحانیت ہو کر کسی عالم دین کو (مدعی بے پردہ ہو اور مدعا پردہ میں ہو ) کی طرح جاہل کہنا یہ کہاں کا روحانی خلق ہے؟ دنیاوی بادشاہ خواہ کافر ہو یا مسلمان، اس کی اطاعت کے فرض ہونے کا صاف یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان بادشاہ کی طرح کافر بادشاہ کی بھی اطاعت فرض ہے۔ معلوم نہیں آپ کے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ بادشاہ وقت نصاریٰ ہے اور نصاریٰ بقول مرزا قادیانی دجال ١؎ ہیں۔ تو کیا مسلمانوں پر دجال کی بھی اطاعت فرض ہے۔
- ٣....... اب تک تو یہ سنتے آئے تھے کہ سزا جرم کی حیثیت کے مطابق ہونی
چاہئے۔ مگر قادیانی مذہب کا اس کے برعکس یہ نیا قانون آپ سے معلوم ہوا کہ سزا حاکم کی حیثیت کے مطابق ہونی چاہئے۔
- ٤....... پہلے دعویٰ تھا فرضیت معرفت امام بمعنی مجدد کا اور اب اس کو بدل دیا کہ امام
بمعنی مجدد و نبی کی معرفت فرض ہے۔ چنانچہ اس پر آپ کا نتیجہ شاہد ہے۔
- ٥....... پہلے فرضیت معرفت مجدد کا دعویٰ مطلق تھا اور اب آپ نے اس کو بنام مرزا
مقید کر دیا۔
- ٦....... پہلے مطلق میں صرف امام و مجدد تھا اور اب مقید میں آپ نے یہ اضافہ کیا
کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں، مہدی مسعود ہیں، نبی ہیں، رسول ہیں اور ہر پہلو لکھ کر آپ نے گویا یہ بھی کہہ دیا کہ وہ محدث ہیں، کرشن ہیں، سلمان ہیں، آدم ہیں، نوح ہیں، ابراہیم ہیں، یعقوب ہیں، موسیٰ ہیں، داؤد ہیں، شیث ہیں، یوسف ہیں، الحق ہیں، یحییٰ ہیں، اسمعیل ہیں، مریم ہیں، ابن مریم ہیں، حارث ہیں، منصور ہیں، میکائیل ہیں، آریوں کے بادشاہ ہیں، حجر اسود ہیں، بیت اللہ ہیں، ابن اللہ ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی تحریر سے شبہ ہوتا ہے کہ بڑے نہیں تو چھوٹے اللہ ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنے متعلق خود یہ دعاویٰ کئے ہیں اور ان کی تصانیف میں مذکور ہیں۔ (دیکھو دعاوی مرزا مطبوعہ مطبع قاسمی دیوبند )
- ٧....... آپ کی اس نتیجہ خیز تحریر کے تین حصے ہیں۔ اوّلاً مثال، ثانیاً نتیجہ کی ابتدائی
عبارت (پس چونکہ) سے (ہر پہلو سے) تک ثالثاً آخری عبارت (ان کو شناخت کرنا) سے (سزا پائے گا) تک اور ظاہر ہے کہ آخری عبارت میں جدید اور مقید دعویٰ فرضیت معرفت مرزا ہے۔ اب فرمائیے اس کی کیا دلیل ہے؟ مثال اس کو کہہ نہیں سکتے۔ ورنہ مثال اور دلیل کو ایک ماننا پڑے گا
١؎ باقبال قومیں دجال ہیں۔ (ازالہ ص١٣٦، خزائن ج٣ ص١٧٤) پادری دجال ہیں۔ ایضاً ص ٢٧٩، ٢٨٠
٤٣
جو غلط ہے اور ابتدائی عبارت کو بھی گو اس میں چونکہ بے دلیل نہیں کہہ سکتے۔ ورنہ مصادرہ علی المطلوب لازم آئے گا۔ جو ناجائز اور غیر مفید مدعا ہے۔ نتیجہ یہ کہ دعویٰ اتنا بڑا لیکن دلیل ندارد۔
تیسری بات کہ غیر معترف یا منکر امام زمان کی قیامت میں بریت کی کوئی صورت ہوگی یا نہیں۔ حدیث پیش کرنے والے مرزائی نے کہا تھا کہ نہیں مولوی صاحب نے فرمایا تھا کہ ہاں۔ حافظ صاحب آئے تو اپنے بھائی مرزائی کی حمایت کو لیکن بجائے نہیں کے مولوی صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ چنانچہ ص ١٧٧ سے ١٨١ تک حاشیہ میں کافر و مشرک کی ابدی سزا کا صاف انکار اور انجام کار اس کے نجات کا علانیہ اقرار کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ خود مرزا قادیانی کا بھی یہی مذہب ہے۔ (چشمہ مسیحی ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦٩) جس میں پھر غیر معترف امام زمان کیا معنی منکر مرزا بھی داخل ہونا بدرجہ اولیٰ ظاہر ہے۔
چوتھی بات میں سے بھی امر اوّل کا کہیں اشارۃً بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ ہاں امر دوم کا اقرار کیا ہے اور اس اقرار سے ساری کتاب بھری ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی ایسے امام مجدد ہیں کہ نبی ہیں اور نبی بھی ایسے کہ جامع النبیین ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ جامع جمیع کمالات نبوت ہونے کا دعویٰ، صاف افضل الانبیاء ہونے کا دعویٰ ہے۔ اب خود مرزا قادیانی کا فتویٰ سنئے۔ وہ (حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں فرماتے ہیں۔ ”ما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ میرے لئے ناجائز ہے کہ مدعی نبوت ہو کر اسلام سے خارج اور کافروں میں داخل ہو جاؤں۔
نتیجہ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جب مدعی نبوت اسلام سے خارج اور کافر ہے تو ایسے خارج از اسلام کافر کو نبی اور افضل الانبیاء کہنے والا کیوں نہ اسلام سے خارج اور کافر ہوگا۔ افسوس کہ حافظ صاحب اور جمیع مرزائی اسی جرم کے مجرم ہیں۔ کاش مرزائی سمجھتے اور مولوی صاحب کی طرح حق پر ہوتے۔
- نمبر:٢...... دین حق صرف اسلام ہے۔ مگر یہ مشکل ہے کہ بہتر (٧٢) فرقوں میں سے
ہر فرقہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتا ہے۔ اس لئے حق کا امتیاز مشکل ہے۔ خدائے تعالیٰ نے اس دشواری کے رفع کرنے کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
”مولوی صاحب نے مجدد کی بعثت اور اس کی غایت والی مرزائی کی سند حدیث کو بحوالہ نقل اور اس کا ترجمہ کر کے جواب میں لکھا ہے کہ اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مجدد امت محمدیہ کے افادہ کے لئے ہوگا۔ یعنی وہ صرف مسلمانوں کے اس تعلق کو اسلام سے وابستہ کر
٤٤
دے گا جو انہوں نے قطع یا کتر و برد کر د روح پھونک دے گا۔ نہ کہ اس کو دیگر سکھائے گا۔“
حافظ صاحب نے ان میں بر تقدیر تسلیم یہ بھی لکھا تھا کہ پھر مرزائی کہ مسلمانوں میں وحدت فی المذہب میں بھی تفرقہ کا منشا کیا، بہم بھی نہ ہوا۔ بلکہ کی طرح پی گئے۔ البتہ دیباچہ میں مرز کارنامہ لکھا ہے۔ حالانکہ ان کی نبوت دیتی۔ بلکہ اسلام سے خارج کر کے اور ہے۔ ایسے شخص کو مسلمان کہہ کر بھی اس کہا جائے۔
- نمبر:٣...... جس نے اس
اطاعت نہ کی اس کی نجات نہیں ہو سکتی
مولوی صاحب نے جوا
- ١...... امیر و امام اور مجدد کا ایک
سے مجدد مراد نہیں اور نہ کے نام ہیں۔
- ٢...... امیر و امام کی اطاعت دا
مستحق عذاب ہے۔ مگر ہے۔ یہ امر دیگر ہے کہ میں مجدد کی کوئی خصوصیہ بخلاف امیر یا امام کے نیک و بد کی اطاعت کر ہے اور مجدد میں مجدد ہے۔ جس میں مجدد اور
دے گا جو انہوں نے قطع یا کمزور کر دیا ہے اور قرآن وحدیث کے ذریعہ سے امت میں مذہبی روح پھونک دے گا۔ نہ کہ اس کو دیگر مذاہب سے زیادہ تر بالذات سروکار ہوگا یا کوئی نیا مذہب سکھائے گا۔‘‘
حافظ صاحب نے ان میں سے کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ ہاں مولوی صاحب نے بر تقدیر تسلیم یہ بھی لکھا تھا کہ پھر مرزائی کے پیش کردہ سابق مجددین کے دور تجدید میں تفرقہ مٹ کر۔ مسلمانوں میں وحدت فی المذہب ہونا چاہئے تھا مگر نہیں ہوا۔ خود مرزا قادیانی کے عہد تجدید میں بھی تفرقہ کا مٹنا کیا، کم بھی نہ ہوا۔ بلکہ اور زیادہ ہو گیا۔ حافظ صاحب اس کو بھی شربت کے گھونٹ کی طرح پی گئے۔ البتہ دیباچہ میں مرزا قادیانی کی مجددیت کے بجائے ان کی نبوت کا ایک فرضی کارنامہ لکھا ہے۔ حالانکہ ان کی نبوت ہی انہیں مجدد کیا معنی، ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی نہیں رہنے دیتی۔ بلکہ اسلام سے خارج کر کے ادنیٰ ترین میں بھی نہیں، اعلیٰ ترین کافر کے صف میں جگہ دیتی ہے۔ ایسے شخص کو مسلمان کہہ کر بھی اپنے ایمان کو کھونا ہے نہ یہ کہ اسے امام مجدد، نبی، جامع النبیین کہا جائے۔
- نمبر:٣...... جس نے اس مجدد کو جسے امیر یا امام زمان بھی کہتے ہیں نہ پہچانا یا اس کی
اطاعت نہ کی اس کی نجات نہیں ہو سکتی۔
مولوی صاحب نے جواب دیا تھا کہ:
- .......١ امیر وامام اور مجدد کا ایک ہونا غلط ہے۔ احادیث میں جہاں کہیں امیر وامام آیا ہے اس
سے مجدد مراد نہیں اور نہ مجدد سے امیر وامام مراد ہے۔ بلکہ یہ دونوں جدا گانہ مرتبوں کے نام ہیں۔
- .......٢ امیر وامام کی اطاعت واجب ہے۔ ان سے منحرف دنیا میں مستوجب قتل اور عقبیٰ میں
مستحق عذاب ہے۔ مگر یہ قطعاً غلط ہے کہ مجدد کی اطاعت بھی فرض یا کم از کم واجب ہے۔ یہ امر دیگر ہے کہ مجدد کی حق بات کو حق ہونے کی جہت سے ماننا لازم ہے۔ جس میں مجدد کی کوئی خصوصیت نہیں وہی حق بات ادنیٰ عامی بھی کہے تو بھی ماننا لازم ہے۔ بخلاف امیر یا امام کے کیونکہ حدیث میں ہے اطیعوا کل بر وفاجر کہ ہر امام نیک وبد کی اطاعت کرو۔ یہاں امیر وامامت کی حیثیت اطاعت کو ضروری ٹھہراتی ہے اور مجدد میں مجددیت نہیں۔ بلکہ حقیقت کی حیثیت اطاعت کو واجب قرار دیتی ہے۔ جس میں مجدد اور غیر مجدد سب برابر ہیں۔
٤٥
- ......٣
ورنہ ضروری تھا کہ مرزائی کے پیش کردہ مجددین سابق غیر مقلد ہوتے ۔ حالانکہ ان میں سے سوائے ایک کے سب مقلد تھے۔ مثلاً امام غزالیؒ، امام شافعیؒ کے، حضرت غوث اعظمؒ امام احمد بن حنبلؒ کے، خواجہ معین الدین اجمیریؒ ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، حضرت امامنا الاعظم ابو حنیفہؒ کے مقلد تھے۔ پھر ان ائمہ علیہ الرحمۃ کی تقلید بھی واجب بغیرہ ہے۔ نہ کہ واجب للذاتہ تو مجدد ان کے مقلد ہیں۔ ان کی اطاعت کب واجب ہو سکتی ہے؟
حافظ صاحب ان میں سے کسی ایک امر کا بھی جواب تو کیا دیتے۔ ادھر نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہ کی۔
- نمبر:٤...... مرزاغلام احمد قادیانی کوئی نئے مجدد نہیں ہیں۔ بلکہ ان سے پہلے برابر مجدد
ہوتے رہے۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی، شافعی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت قطب الاقطاب غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی حنبلیؒ، حضرت قطب اعظم خواجہ معین الدین چشتی حنفیؒ، حضرت مخدوم الہند محمد شیخ احمد سرہندی حنفی مجدد الف ثانیؒ، حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب حنفی دہلویؒ، اور سید محمد جو نپوری بانی فرقہ مہدویہ حفظہ اللہ المسلمین عن شرہ۔
مولوی صاحب نے اصل جواب آئندہ نمبروں میں دیا ہے۔ لہٰذا ہم بھی حافظ صاحب کو وہیں دیکھیں گے۔
- نمبر:٥...... مجدد کی علامت یہ ہے کہ دعویٰ مجددیت کے ساتھ دلائل کے طور پر پیشین
گوئیاں بھی کرے۔ فقط ۔
مولوی صاحب نے جواب میں لکھا تھا کہ مجدد کے لئے دعویٰ مجددیت اور پیشین گوئی ضروری ہوتی تو:
- ......١
تیرہ صدی کے سب مجددوں کے دعویٰ کی یہ علامت بیان فرماتے: انتہیٰ مختصراً۔
حافظ صاحب نے اس بھی کچھ جواب نہیں دیا۔ ہاں ص ١٤٨ پر حاشیہ میں ضمناً صرف حضرت مجدد الف ثانیؒ کے متعلق بلا حوالہ اتنا لکھا ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے لوگوں کی اصلاح کے لئے مامور فرمایا ہے۔ حالانکہ اولاً! یہ غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ ورنہ حافظ صاحب کو چاہئے کہ صحیح پتہ دیں۔ ثانیاً! اصلاح کے لئے مامور من اللہ ایک تو مذہبًا ہوتا ہے۔ دوسرے الہاماً۔ حضرت مجدد صاحب نے اگر دعویٰ کیا ہے تو وہ مذہبًا تھے جس میں ان کی یا کسی مجدد کی کوئی تخصیص نہیں۔ ہر عالم دین حتیٰ کہ جسے دین کی ایک بات بھی معلوم ہے بحوالہ بلغوا
٤٦
عنی ولواية ،وہ بھی تبلیغ واصلاح۔ چاہیے کہ ان کے خیال کے مطابق مرزا قا ہونے کی وحی من اللہ نازل ہوئی تھی۔مگر۔
- نمبر:٦...... چودھویں صدی
ہیں۔ فقط!
مولوی صاحب نے اس نمبر کام لیا ہے۔ اول یہ لکھا ہے کہ اس نمبر میں ہے کہ نبوت ہے۔ اس کے بعد درجہ مجدد مراتب کے لئے اسلام لازم ہے۔ گویا مرزا قادیانی کی درجہ بدرجہ تحقیق کرنی چا
- ......١
یہ دعویٰ کیا کہ م ایک مرزا قادیانی کا عقیدہ کفریہ کہ نعوذ اپنے رسول سے نہایت پختہ وعدہ کر کے علیہم السلام کی توہین کرنا۔ اس سلسلے داؤد علیہ السلام کی جو صراحۃً ناپاک او ص ٧، فتح مسیح ص ٤٧، دافع البلاء، معیار المذ بھی ثابت کیا ہے کہ یسوع ، عیسیٰ، مسیح،
- ......٢
حضرت امام م مسلم، ابوداؤد، ترمذی، مشکوٰۃ، سے اح قادیانی نہ مجدد ہیں، نہ مہدی ہیں، نہ مسی
حافظ صاحب نے مولوی کی طرح پی کر ص ٣٢ سے ص ٥٢ تک سی غیر متعلق باتیں بھی درج کر دی ہیں سے زیادہ نہ ہوگی جس کا خلاصہ بس اتن
- ......١
’’مرزا قادیان دی ہیں جس کی تصریح انہوں نے خود ا
زائی کے پیش کردہ مجددین سابق غیر مقلد ہوتے۔ حالانکہ ان کے سب مقلد تھے۔ مثلاً امام غزالیؒ، امام شافعیؒ کے، حضرت حنبلؒ کے، خواجہ معین الدین اجمیریؒ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ث دہلویؒ، حضرت امامنا الاعظم ابو حنیفہؒ کے مقلد تھے۔ پھر ان بھی واجب لغیرہ ہے۔ نہ کہ واجب للذاتہ تو مجددان کے مقلد ب واجب ہو سکتی ہے؟ سے کسی ایک امر کا بھی جواب تو کیا دیتے۔ ادھر نظر اٹھا کر دیکھنے
حمد قادیانی کوئی نئے مجدد نہیں ہیں۔ بلکہ ان سے پہلے برابر مجدد نام یہ ہیں۔ محمد بن محمد ابو حامد امام غزالیؒ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ، م شیخ عبد القادر جیلانی حنبلیؒ، حضرت قطب اعظم خواجہ معین الدینؒ، مجدد شیخ احمد سرہندی حنفی مجدد الف ثانیؒ، حضرت مولانا سید محمد جو نپوری بانی فرقہ مہدویہ حفظنا اللہ والمسلمین عن شرہ۔
س جواب آئندہ نمبروں میں دیا ہے۔ لہٰذا ہم بھی حافظ صاحب ت یہ ہے کہ دعویٰ مجددیت کے ساتھ دلائل کے طور پر پیشین ب میں لکھا تھا کہ مجدد کے لئے دعویٰ مجددیت اور پیشین گوئی کے سب مجددوں کے دعویٰ کی یہ علامت بیان فرماتے: انتہیٰ مختصراً۔
بھی کچھ جواب نہیں دیا۔ ہاں ص ١٢٨ پر حاشیہ میں ضمناً صرف حوالہ اتنا لکھا ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ حالانکہ اولاً! یہ غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ ورنہ حافظ انیاً! اصلاح کے لئے مامور من اللہ ایک تو نبیاً ہوتا ہے۔ نے اگر دعویٰ کیا ہے تو وہ نبیاً تھے جس میں ان کی یا کسی مجدد کہ جسے دین کی ایک بات بھی معلوم ہے بقولہ بلغوا
٤٦
عنّی ولو آیۃ، وہ بھی تبلیغ و اصلاح کے لئے مامور من اللہ ہے۔ ورنہ حافظ صاحب کو ثابت کرنا چاہئے کہ ان کے خیال کے مطابق مرزا قادیانی کی طرح حضرت مجدد الف ثانیؒ پر بھی مامور من اللہ ہونے کی وحی من اللہ نازل ہوئی تھی۔ مگر یہ تاقیامت ناممکن ہے۔
- نمبر : ٦ ...... چودھویں صدی کے مجدد اور مسیح موعود مہدی معہود مرزا غلام احمد قادیانی
ہیں۔ فقط !
مولوی صاحب نے اس نمبر کے جواب میں ص ٣ سے ص ٢٦ تک قدرے تفصیل سے کام لیا ہے۔ اول یہ لکھا ہے کہ اس نمبر میں مرزا قادیانی کو مجدد، مہدی، مسیح مانا ہے۔ مرتبہ مسیحیت بڑا ہے کہ نبوت ہے۔ اس کے بعد درجہ مہدویت ہے کہ امامت ہے۔ پھر عہدہ مجددیت ہے اور ہر سہ مراتب کے لئے اسلام لازم ہے۔ گویا بلحاظ مراتب مذکورہ مسلمان ہونا ادنیٰ درجہ ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی درجہ بدرجہ تحقیق کرنی چاہئے۔ اس کے بعد:
- ......1 یہ دعویٰ کیا کہ مرزا قادیانی مسلمان نہیں ہیں اور اس پر دو دلیل پیش کی۔
ایک مرزا قادیانی کا عقیدہ کفریہ کہ نعوذ باللہ خدا جھوٹ بولتا ہے۔ خدا وعدہ خلافی کرتا ہے۔ خدا اپنے رسول سے نہایت پختہ وعدہ کر کے بعض وقت پورا نہیں کرتا۔ دوسرے مرزا قادیانی کا انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا۔ اس سلسلے میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی جو صراحۃً ناپاک اور بدترین توہین کی ہے اسے ان کی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، فتح اسلام ص ٤٧، دافع البلاء، معیار المذہب ص ٨) سے نقل کر کے انہیں کی توضیح مرام ص ٣٠ سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یسوع، عیسیٰ، مسیح بن مریم ایک ہی ذات کے نام اور وصف عنوانی ہیں۔
- ......2 حضرت امام مہدی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کے متعلق بخاری،
مسلم، ابو داؤد، ترمذی، مشکوٰۃ، سے احادیث نقل کر کے معہ دیگر فوائد کے یہ واضح کیا ہے کہ مرزا قادیانی نہ مجدد ہیں، نہ مہدی ہیں، نہ مسیح ہیں۔ انتہیٰ مختصراً۔
حافظ صاحب نے مولوی صاحب کی پہلی بات دعویٰ کی اول دلیل کو شربت کے گھونٹ کی طرح پی کر ص ٣٢ سے ص ٥٢ تک دلیل دوم پر خامہ فرسائی کی ہے جس میں حسب عادت بہت سی غیر متعلق باتیں بھی درج کر دی ہیں۔ ان سے قطع نظر کر لیا جائے تو قابل جواب بات ایک صفحہ سے زیادہ نہ ہوگی جس کا خلاصہ بس اتنا ہے کہ:
- ......1 ”مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں نہیں دیں بلکہ یسوع کو
دی ہیں جس کی تصریح انہوں نے خود اس ذکر سے پہلے اسی کتاب انجام آتھم ص ٧ میں کر دی ہے۔“
٤٧
- ٢....... ”انجیل یسوع اور ہے اور قرآنی عیسیٰ دوسرے ہیں جو واجب الاحترام
ہیں ۔“
- ٣....... ”یسوع کو جو گالیاں دی گئیں الزاماً ہیں نہ کہ تحقیقاً۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مرزا
قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی۔ ان پر بہتان عظیم ہے۔“
ناظرین! حافظ صاحب کا خیال ہے کہ مرزا قادیانی نے گالی۔ یسوع کو دی، الزاماً دی، مولوی صاحب کا اور میرا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے گالی دی اور حضرت عیسیٰ کو دی، الزاماً بھی دی، تحقیقاً بھی دی۔ حافظ صاحب کو یہ تو تسلیم ہے کہ ان کے مرزا قادیانی نے گالی دی۔ الزاماً دی، اختلاف صرف اس میں رہ گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی اور تحقیقاً دی۔ اگر یہ ہر دو باتیں بھی ثابت ہو جائیں تو ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی نے جرم توہین انبیاء کیا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ حافظ صاحب مرزا قادیانی کو مسلمان کہہ کر اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالیں۔ سنئے:
امر اول کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دی۔
- ١....... مولوی صاحب بحوالہ (توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢، مصنفہ مرزا قادیانی)
یہ لکھ چکے ہیں کہ: ”مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ لیکن حافظ صاحب نے اس کا کچھ خیال نہ فرمایا۔
- ٢....... بحیات مرزا قادیانی، امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی نے ان کی طرح نبوت کا
دعویٰ کیا تھا۔ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی نے ایک طویل تحریر میں لکھا تھا کہ: ”ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے ۔ مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی جانتا ہوں ۔“
(رسالہ ریویو ج ١ ش ٩ ص ٣٤٤، بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء، مرقع قادیان ص ٥)
- ٣....... ”اس (مریم) کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا وہی
عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)
- ٤....... ”ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں تیس برس تک
موسیٰ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)
- ٥....... ”اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ میں
دیکھتا ہوں کہ اس نے مجھے نہیں چھوڑا ۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٧)
- ٦....... ”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان
٤٨
کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں ۔ افسوس پادری صاحبان تہذیب سے کام لیں ۔ ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہ دیں تو مسلمانوں کی طرف سے بھی ان سے بیس حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔“ (ایضاً ص ٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)
- .......٧ ”تعجب ہے کہ عیسائیوں کو کس بات پر ناز ہے۔ اگر ان کا خدا ہے تو وہ وہی
ہے جو مدت ہوئی کہ مر گیا اور سری نگر محلہ خانیار کشمیر میں اس کی قبر ہے۔“ اور نیز مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے اور نہ آسمان پر چڑھے۔ بلکہ یہود کے قتل کے ارادہ سے مخلصی پا کر ہندوستان میں آئے اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر کشمیر میں فوت ہوئے۔“
(راز حقیقت ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٦)
- .......٨ ”وہ نبی جو ہمارے نبی ﷺ سے چھ سو برس پہلے گزرا ہے وہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں اور یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا نہایت قرین قیاس ہے۔ کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جیسس بنا لیا ہے تو یوز آسف میں جیسس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں ہے۔ یہ لفظ سنسکرت سے ہرگز مناسبت نہیں رکھتا۔ صریح عبرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں کیوں تشریف لائے ۔ اس کا سبب ظاہر ہے کہ جبکہ ملک شام کے یہودیوں نے آپ کی تبلیغ کو قبول نہ کیا اور آپ کو صلیب پر قتل کرنا چاہا تو خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب سے نجات دے دی۔“
(راز حقیقت ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٧)
- .......٩ ”یہ نبی حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس
پہلے گزرے ہیں۔ اس مدت میں بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی نبی شہزادہ کے نام سے کبھی مشہور نہیں ہوا....... پھر یوز آسف کا نام جو یسوع کے لفظ سے بہت ملتا ہے۔ ان تمام یقینی باتوں کو اور بھی قوت بخشتا ہے۔“
(راز حقیقت ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ١٦٩)
- .......١٠ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیسس یا یوز آسف کے نام سے بھی
مشہور ہیں۔ یہ انکا مزار ہے۔“
(راز حقیقت ص ١٨، خزائن ج ١٤ ص ١٧٠)
- .......١١ ”ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یوز آسف حضرت یسوع کا نام ہے۔ جس میں
زبان کے پھیر کی وجہ سے قدرے تغیر ہو گیا ہے۔ اب بھی بعض کشمیری بجائے یوز آسف کے عیسیٰ صاحب ہی کہتے ہیں۔ جیسا کہ لکھا گیا۔“
(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)
اے چہ خوش ، گالی تو خود اپنی طرف سے دیں اور نام کریں مسلمانوں کی طرف سے۔
٤٩
١٢....... حافظ صاحب نے اس ثبوت میں کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو گالی دی ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ کو جو عبارت انجام آتھم کی نقل ہے۔ اس کے بعد یہ فقرے بھی قابل توجہ ہیں کہ: ”یسوع ..... جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ اپنے سے پہلے نبیوں کو چور و بٹمار کہا۔ اپنے سے بعد آنے والے نبیوں کو جن میں حضور ﷺ بھی شامل ہیں جھوٹا اور مکار کہا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ہم ایک مقدس انسان اور خدائے تعالیٰ کا برگزیدہ رسول مانتے ہیں اور ہر طرح ان کو واجب الاحترام سمجھتے ہیں۔ اس قرآنی عیسیٰ نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کسی نبی کی شان میں کوئی گستاخی کی۔“
یہ ایک درجن حوالہ ہے۔ ایسے ابھی صد ہا حوالے ہیں جنہیں بخوف طوالت نظر انداز کرتا ہوں۔ حافظ صاحب کو مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الزامی گالی دینے کا انکار تھا۔ مگر حوالہ نمبر ٦ میں مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الزامی گالی دی۔
مذکورہ حوالوں کو پھر دیکھو کس صراحت سے مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ یسوع ، مسیح ، عیسیٰ تینوں اسی ایک مبارک ہستی کا نام ہے جو حضرت مریم کا بیٹا ہے۔ مقدس واجب الاحترام ہے خدا کا مقرب ہے۔ نبی ہے برگزیدہ رسول ہے۔
ورنہ مہربانی فرما کر حافظ صاحب بتائیں کہ حوالہ نمبر ١ میں مسیح بن مریم، عیسیٰ یسوع اور نمبر ٢ میں یسوع ، مسیح ، نبی اور نمبر ٣ میں مریم کا بیٹا، عیسیٰ ، یسوع اور نمبر ٤ میں عیسیٰ ، یسوع ، خدا کا مقرب اور نمبر ٥ میں یسوع مسیح اور نمبر ٦ میں عیسیٰ اور نمبر ٨ میں عیسیٰ ، یسوع ، مسیح اور نمبر ٩ میں مسیح ، عیسیٰ ، یسوع اور نمبر ١٠ میں عیسیٰ ، یسوع اور نمبر ١١ میں یسوع ، عیسیٰ ، کس کو کہا گیا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ ہی کا نام یسوع نہیں تو حوالہ نمبر ٧ میں مرزا قادیانی نے نصاریٰ کو عیسائی کیوں کہا۔ نیز انہیں یسوع کو مسیح نہیں کہتے تو آپ لوگ عیسائیوں کو مسیحی کیوں کہتے ہیں۔ انجیلی یسوع کا نام عیسیٰ نہیں تو حوالہ نمبر ١٢ میں قرآنی عیسیٰ کہنے کا کیا مطلب ہے۔ اگر انجیلی عیسیٰ کوئی دوسرا تھا اور قرآنی عیسیٰ کوئی اور تو خدا نے قرآن میں رسول نے حدیث میں بمقابلہ یہود و نصاریٰ انجیلی عیسیٰ کی حمایت و برأت کیوں کی؟
غرض مرزا قادیانی نے پاک ابن مریم صدیقہ کو الزامی گالی بنام یسوع بھی دی اور بنام عیسیٰ بھی اور چشمہ مسیحی میں بنام مسیح یوں گالی دی کہ مجھے کہتے ہیں کہ: ”مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا۔ مگر سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی (عربی) کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہوسکتا ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٢)
٥٠
’’آنحضرت ﷺ کا روحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے۔ بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنیٰ کو مسیح بنا سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے اس عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی) کو بنایا۔‘‘
(نور ہدایت ص ٣٦)
امر دوم کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تحقیقاً بھی گالی دی۔
- ١...... (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کی کمتری اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے یہ شعر لکھا ہے۔ جسے حافظ صاحب نے بھی متعدد جگہ درج فرمایا ہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
- ٢...... اینک منم کہ حسب بشارات آمدم ...... عیسیٰ کجا است تا بنہد پایہ منبرم
(ازالہ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
بتایا جائے کہ مرزا قادیانی نے یہ دونوں شعر کس کے مقابلہ میں لکھے اور اس کا مخاطب کون ہے۔ کس سے اپنے کو برتر وافضل اور کس کو اپنے سے کمتر وادنیٰ کہا ہے۔ کیا یہ بھی الزامی گالی ہے؟
- ٣...... ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ) کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی
عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
دیکھئے یہ الزام نہیں ہے۔ ورنہ حوالہ دے کر مرزا قادیانی یوں کہتے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ کو ایسا سمجھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کے یہ اقوال بھی ملا لیجئے۔ ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
’’جھوٹ بولنا بے ایمانی اور گوہ کھانے کے برابر ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)
’’ظاہر ہے کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
’’جیسا کہ بت پوجنا شرک ہے۔ ویسے ہی جھوٹ بولنا بھی شرک ہے۔‘‘
(الحکم ١١؍ صفر ١٣٢٣ھ، از افادۃ الافہام ج ٢ ص ٢٥٠)
اور اب نتیجہ نکالئے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ جھوٹا بنا کر کیا کیا کہہ گئے۔
- ٤...... ’’عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کے لکھے
٥١
ہیں ۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
حالانکہ خدا نے فرمایا ہے ۔ ” واتینا عیسی ابن مریم البینات “ کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے ۔ اسی حق بات کے سلسلہ میں مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت فرماتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ بتایا جائے کیا مرزا قادیانی کی یہ حق بات بھی الزامی گالی ہے؟
٥....... ”مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو گڑھے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا ...... کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق کو دور نہیں کرتا ۔“
(ازالہ ص ٦، خزائن ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦)
اس کلام میں مرزا قادیانی کے مخاطب یہودی اور عیسائی نہیں بلکہ اسلامی علماء ہیں۔ کیا اس کو بھی الزامی جواب کہا جائے گا؟
٦....... مسلم علماء کو خطاب ہے کہ: ” ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقیدہ کو حل کر سکے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کی یہ عبارت بھی ملا لیجئے ۔ ” ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں ۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
تو نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے ۔
٧....... ” خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے ۔“
(دافع البلاء ص ١٣، حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
” اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا ۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
” مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
” یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)
کیا مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ میں افضل ہوں اور مسیح ابن مریم مفضول ہیں۔ الزامی
دعویٰ ہے۔
- ٨....... ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح صرف مٹی کے
پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“
(ازالہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
”عمل الترب یعنی مسمریزم میں مسیح بھی کس درجے تک مشق رکھتے تھے۔“
(ازالہ ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔
(ازالہ ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
”یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦ حاشیہ)
بتایا جائے یہ کرشمہ مسمریزم بھی کیا کوئی الہامی اعجوبہ نمائی ہے؟ نیز خیال رہے کہ مسمریزم کا اتہام مرزا قادیانی نے ازالۃ الاوہام میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام پر بھی لگایا ہے۔
- ٩....... ”وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ میں دیکھتا
ہوں کہ اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور مسیح کی طرح میرے اوپر بھی بہت حملے ہوئے۔ مگر ہر ایک حملہ میں دشمن ناکام رہے اور مجھے پھانسی دینے کے لئے اس نے بڑے بڑے معجزات دکھلائے اور بڑے بڑے قوی ہاتھ دکھائے۔ میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا۔ یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا۔ ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق اپنے نفس کو دیکھتا ہوں۔ بلکہ ان سے زیادہ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے۔ جس کے مدارج ومراتب سے دنیا بے خبر ہے۔ یعنی سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔“
(چشمہ مسیحی ص ١٣، ١٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤)
عجیب بات ہے امت میں صحابہ کرام سے زیادہ کیا معنی ان کے برابر اولیائے عظام نے بھی حضور ﷺ کی کامل پیروی نہ کی اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔ وہ تو اس شرف سے محروم رہے۔ مگر اس تیرہویں صدی میں مرزا قادیانی صحابہ کا کیا ذکر ہے۔ حضرت ابن مریم سے بھی بڑھ گئے۔
٥٣
کہاں ہیں حافظ صاحب ۔ آئیں اور بتائیں کہ مثیل مسیح کا اصیل مسیح سے بڑا ہونا کس کا الزام جواب ہے؟
١٠...... ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کا عطر اس کے سر پر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا اور مسیح کا یہ نام نہیں رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء صفحہ آخر، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
یہ وہ حوالہ ہے جسے مولوی صاحب نے بھی راہ حق میں پیش کیا تھا اور اس کے نتیجہ والی عبارت کو معیار المذہب کی عبارت سے متعلق سمجھ کر دھوکا کھایا اور دون کی لے کر مولوی صاحب کو دجال لکھ کر اپنا نامہ اعمال سیاہ کیا تھا۔ مولوی صاحب کا مقصود یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے اس میں قرآنی عیسیٰ کی توہین کی ہے اور یہ الزام نہیں بلکہ ان کی تحقیق ہے ورنہ مرزا قادیانی بنام قرآن استدلال نہ کرتے۔ لیکن حافظ صاحب نے اس کو ہضم کر کے یہی رٹنا شروع کر دیا کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو الزامی گالی دی ہے۔
اس حوالہ میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو علانیہ شرابی کہا ہے۔ جو بخیال الزام نہیں بلکہ بطور تحقیق کیونکہ مرزا قادیانی کے ایک دوست نے ان کو بوجہ مرض ڈیابیطس افیون کھانے کی صلاح دی تو مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی (ریویو آف ریلیجنز ج ٢ ش ٣ ص ١١٦، اپریل ١٩٠٣ء، عشرہ کاملہ ص ١١٥) کیا اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الزاماً شرابی کہا ہے؟
١١...... ”مسیح کے حالات پر متوجہ شخص اس لائق نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔“
(الحکم ٢١؍فروری ١٩٠٢ء)
١٢...... ”افغان، یہودیوں کی نسبت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے۔ بعضے پہاڑی خواتین کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر
٥٤
٢٦ کہ مثیل مسیح کا اصیل مسیح سے بڑا ہونا کس کا الزام اپنے زمانہ کے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کے سر پر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کو ت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ یسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء صفحہ آخر، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
نے بھی راہ حق میں پیش کیا تھا اور اس کے نتیجہ والی سمجھ کر دھوکا کھایا اور دون تعلی کی لے کر مولوی ۔ مولوی صاحب کا مقصود یہ تھا کہ مرزا قادیانی نے نہیں بلکہ ان کی تحقیق سے ورنہ مرزا قادیانی بنام نے اس کو ہضم کر کے یہی رٹنا شروع کر دیا کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو علانیہ شرابی کہا ہے ۔ جو یانی کے ایک دوست نے ان کو بوجہ مرض ذیابیطس جواب دیا کہ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے ئی (ریویو آف ریلیجنز ج ٢ ش ٣ ص ١١٦، اپریل ١٩٠٣ء، مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الزاماً
وہ شخص اس لائق نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔“
(الحکم ٢١ فروری ١٩٠٢ء)
بت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ لڑکیوں کو نے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر
٥
اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٦٥ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)
”مریم نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح ہو گیا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
حالانکہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شان میں ”وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ اور حضرت مریم صدیقہ کے حق میں ”لَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ“ وارد ہے۔ مگر حافظ صاحب دیکھیں کہ مرزا قادیانی تحقیقاً نہ کہ الزاماً اعتراض کے جواب میں حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں مریم علیہا السلام کو کیا کہہ گئے۔ با ایں ہمہ مرزا قادیانی کی اس جرأت کو دیکھئے۔ کہتے ہیں کہ: ”مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧)
”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٧)
طرفہ تماشا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ: ”انہوں نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)
مگر خود ہی گالی ایک نبی کو دیتے ہوئے اپنے اخلاق کریمہ نہ معلوم کیوں بھول گئے۔ یہ تو عزت کی اور اگر بے عزتی کرنے پر آتے تو نہ معلوم اور کیا لکھتے۔
حافظ صاحب! یہ ایک درجن حوالے دیکھئے، کیا اب بھی کہئے گا کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حقیقتاً گالی نہیں دی؟ جب ہر دو امر ثابت ہو گئے تو اب اس میں کیا شک رہا کہ یسوع، مسیح، عیسیٰ، تینوں نام قرآنی ابن مریم کے ہیں۔ جسے انہیں ناموں سے عیسائی بھی
٥٥
پکارتے ہیں اور مرزا قادیانی نے اسی کو ہر سہ نام سے الزاماً بھی گالی دی ہے اور تحقیقاً بھی جو نبی کی شان میں بدترین توہین ہے اور نبی کی توہین کرنے والا قطعاً کافر ہے۔ پس مولوی صاحب نے بہت صحیح لکھا ہے کہ مرزا قادیانی مسلمان ہی نہیں پھر ان کا مجدد، مہدی، مسیح ہونا چہ معنی دارد؟
رہی دوسری بات تو اس کے متعلق حافظ صاحب نے بے ترتیب رطب دیا۔ بس جو کچھ لکھا ہے۔ ان سب کا دارومدار انہیں کے الفاظ میں اس پر ہے کہ جس قدر پیشین گوئیاں آخری زمانہ کے متعلق ہیں۔ وہ سب استعارات پر مبنی ہیں اور آخری زمانہ کی پیشین گوئی سے آپ کی مراد آخری زمانہ کے وہ واقعات ہیں جو حضرت مسیح و مہدی، دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کے متعلق ہیں۔ ان پیشین گوئیوں یا واقعات کا استعاری یا مبنی بر استعارہ ہونا مرزا قادیانی کا ذاتی اختراع ہے۔ وہی راگ ان کے امتی بھی گاتے ہیں۔ یہی حافظ صاحب نے بھی ص ٩٧ ، ٩٩ پر بھی فرمایا کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ استعارات کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔
لیکن استعاری ہونا یا مبنی پر حقیقت نہ ہونا۔ حافظ صاحب کا خیال ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی ایجاد نہیں بلکہ خود حضور ﷺ نے قبل از وقت ہی مسلمانوں کو متنبہ فرما دیا تھا کہ دیکھو یہ باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور لطف یہ کہ بنام حدیث لکھا ہے۔ مگر الفاظ حدیث نقل نہیں کئے۔ ورنہ قلعی کھل جاتی۔
مولوی صاحب نے بحوالہ حدیث امام مہدی، حضرت عیسیٰ علیہما السلام اور دجال وغیرہ کے متعلق آخری زمانہ کے انہیں پیشین گوئیوں یا واقعات کو لکھ کر ثابت کیا تھا کہ مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہیں۔ حافظ صاحب نے جس پر برہم ہو کر لکھا ہے کہ: ”آپ نے جو حضرت مسیح مہدی کے فرضی اوصاف بیان فرما کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی میں یہ اوصاف نہ تھے۔ اس لئے وہ کیسے مسیح و مہدی ہو سکتے ہیں۔ سو جواباً گزارش ہے کہ ان جملہ اوصاف کو آپ لوگ اگر حقیقت پر مبنی سمجھتے ہیں تو یاد رکھو کہ ان اوصاف کی صاحب عقل لوگوں کے نزدیک ہرنی نامہ سے زیادہ وقعت نہیں ہے۔“
(نور ہدایت ص ٩٩)
”دوسری جگہ اور غصہ میں ہو کر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی استعارہ نہ سمجھے تو پھر وہ ہمیں سمجھائے کہ یہ حدیث کی باتیں جو سراسر خلاف عقل ہیں۔ کیونکر پوری ہو سکتی ہیں۔ اگر کہو خدا کی قدرت سے تو یہ نرے درجہ کا جواب ہے۔ جس سے خدا کے قدرت کی سخت توہین ہے اور سوائے بیوقوف اور جاہل لوگوں کے کوئی صاحب عقل اس قسم کا لغو جواب نہیں دے سکتا۔ جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسے موقعہ پر قدرت کی آڑ لینے والوں کے پاس کوئی معقول جواب نہیں جو کسی ٥٦ متلاشی حق کی تشفی کا موجب ہو سکے
اس کے جواب میں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ : ”جس کئے جاتے ہیں۔ تو کیونکر ثابت ہو چیز تو مابہ الامتیاز چاہئے اور صرف ہو سکتی ۔ کیونکہ باتیں انسان بھی بن نہیں ہے ۔ بلکہ خدا وہ ہے جو اپنے خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے خدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہو تا کہ اسلام ہے۔“
یہ تو معقولیت کے ح ہدایت سنئے۔ لکھتے ہیں کہ : ”میر نہ ہو گی۔ خدا میں اور بندہ میں ب سو وہ اس قوم کے اصول کو ایک خدائے تعالیٰ کی قدرتوں پر حا سنتے ہیں۔ اس کو نہایت تحقیر او کے عام خیالات اسی طرح بد لوگوں میں بھیڑیا چال چلنے کا سو اس فطرت اور عادت کے ن الفور اس میں کود پڑے ہیں اور عقلمند کا قول ہے۔ لیکن ایک استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے ہے۔ بغایت درجہ عقل و ایمان تجربہ میں ترقیات کیں۔ یہاں دریائے غیر متناہی علم و قدر
ہر سہ نام سے الزاماً بھی گالی دی ہے اور تحقیقاً بھی جو نبی کی توہین کرنے والا قطعاً کافر ہے۔ پس مولوی صاحب نے ہی نہیں پھر ان کا مجدد ، مہدی، مسیح ہونا چہ معنی دارد؟ تعلق حافظ صاحب نے بے ترتیب رطب دیا۔ بس جو کچھ کے الفاظ میں اس پر ہے کہ جس قدر پیشین گوئیاں آخری پر مبنی ہیں اور آخری زمانہ کی پیشین گوئی سے آپ کی مراد حضرت مسیح و مہدی، دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ کے متعلق عاریہ امتی بر استعارہ ہونا مرزا قادیانی کا ذاتی اختراع ہے۔ ۔ یہی حافظ صاحب نے بھی ص ٩٧، ٩٩ پر بھی فرمایا کہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔ حقیقت نہ ہونا۔ حافظ صاحب کا خیال ہے کہ یہ مرزا قادیانی از وقت ہی مسلمانوں کو متنبہ فرما دیا تھا کہ دیکھو یہ باتیں حدیث لکھا ہے۔ مگر الفاظ حدیث نقل نہیں کئے۔ ورنہ قلعی
حدیث امام مہدی، حضرت عیسیٰ علیہما السلام اور دجال وغیرہ گوئیوں یا واقعات کو لکھ کر ثابت کیا تھا کہ مرزا قادیانی اس عنہ جس پر برہم ہو کر لکھا ہے کہ: ”آپ نے جو حضرت مسیح نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی میں یہ اوصاف نہ تھے۔ پس جواباً گذارش ہے کہ ان جملہ اوصاف کو آپ لوگ اگر اصناف کی صاحب عقل لوگوں کے نزدیک ہرنی نامہ سے
(نور ہدایت ص ٩٩)
کر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی استعارہ نہ سمجھے تو پھر وہ ہمیں خلاف عقل ہیں۔ کیونکہ پوری ہو سکتی ہیں۔ اگر کہو خدا کی ۔ جس سے خدا کے قدرت کی سخت توہین ہے اور سوائے عقل اس قسم کا لغو جواب نہیں دے سکتا۔ جو اس بات پر آڑ لینے والوں کے پاس کوئی معقول جواب نہیں جو کسی
٥٦
٢٦٧
متلاشی حق کی تشفی کا موجب ہو سکے یا اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا منہ بند کر سکے۔“
(نور ہدایت ص ٦٨)
اس کے جواب میں ہمیں خود مرزا قادیانی کی حسب ذیل عبارت کا نقل کر دینا کافی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”جس حالت میں دنیا میں ہزار ہا مذہب خدائے تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ تو کیونکر ثابت ہو کہ وہ درحقیقت منجانب اللہ ہیں۔ آخر سچے مذہب کے لئے کوئی چیز تو مابہ الامتیاز چاہئے اور صرف معقولیت کا دعویٰ کسی مذہب کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ باتیں انسان بھی بیان کر سکتا ہے اور جو خدا محض انسانی دلائل سے پیدا ہوتا ہے وہ خدا نہیں ہے۔ بلکہ خدا وہ ہے جو اپنے تئیں قوی نشانوں کے ساتھ آپ ظاہر کرتا ہے۔ وہ مذہب جو محض خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہو تاکہ معلوم ہو کہ وہ خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے ہے۔ سو یہ مذہب اسلام ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١)
یہ تو معقولیت کے متعلق مرزا قادیانی کی تنبیہ تھی۔ اب خدا کی قدرت کی بابت ان کی ہدایت سنئے۔ لکھتے ہیں کہ: ”میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں جو چیز بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خود بینی اور تکبری ہے۔ سو وہ اس قوم کے اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے کہ گویا انہی کے حصہ میں آگئی ہے۔ یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس سے منہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں۔ اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نوخیزوں کے عام خیالات اسی طرح بڑھتے جاتے ہیں یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں۔ بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑیا چال چلنے کا بہت سامان موجود ہے۔ جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستثنیٰ نہیں۔ سو اس فطرت اور عادت کے جو لوگ ہیں وہ ایک بڑی داڑھی والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خدائے تعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے خیالات کو کہ خدائے تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے۔ بغایت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا ہے۔ ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں۔ یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم و تجربہ نہیں۔ سچ ہے دریائے غیر متناہی علم و قدرت باری جل شانہ کے آگے ذرہ ناچیز انسان کیا حقیقت ہے کہ دم
٥٧
ہمارے اور اس کا علم و تجربہ کیا شے ہے کہ اس پر ناز کرے۔ کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہ عقیدہ ہے کہ جو کچھ اس سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہ سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے۔ یہی طریق اہل حق ہے۔ جس سے خدائے تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے۔ جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے۔ نہ یہ کہ چند محدود باتیں اس غیر محدود کے گلے کا ہار بنائے جائیں اور یہ خیال کیا جائے کہ گویا اس نے اپنے ازلی وابدی زمانہ میں ہمیشہ اسی قدر قدرتوں میں اپنی جمع طاقتوں کو محدود کر رکھا ہے یا اسی حد پر کسی قاسر سے مجبور ہو رہا ہے۔ اگر خدائے تعالیٰ ایسا ہی محدود القدرت ہوتا تو اس کے بندوں کے لئے بڑے ماتم اور مصیبت کی جگہ تھی۔ وہ عظیم الشان قدرتوں والا اپنی ذات میں لایدرک ولا انتہاء ہے۔ کون جانتا ہے کہ پہلے کیا کیا کام کیا اور آئندہ کیا کیا کرے گا۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی گمراہی نہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیمانہ سے باری عزاسمہ کے ملک کو ناپنا چاہے۔ یہ بیانات بہت صاف ہیں۔ جن کے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں۔"
(سرمہ چشم آریہ ص ٥٥، خزائن ج ٢ ص ١٠٣)
حافظ صاحب! دیکھئے مرزا قادیانی نے آپ کی معقولیت کو خاک میں ملا دیا اور خدا کی قدرت کو کیسا وسیع بیان فرمایا۔ اگر میری نہیں سنتے تو للّٰہ اپنے نبی ہی کی مان لیجئے اور اقرار کیجئے کہ مولوی صاحب کی پیش کردہ احادیث صحیحہ کی باتیں خلاف عقل نہیں بلکہ خود اپنی عقل ہی خلاف عقل و ایمان ہے۔
جواب میں گو مذکورہ عبارت کافی ہے۔ تاہم مزید اطمینان کے لئے کچھ اور عرض کرتا ہوں۔ یاد رکھئے کہ حافظ صاحب کی معقولیت کی حقیقت آخری زمانہ کی پیشین گوئی کا بس استعارہ ہونا ہے۔ اب اس استعارہ کا اصلی معنی سمجھنے کا نسخہ سنئے۔ حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ سمجھنے کے لئے:
- ١...... روحانی آنکھوں اور قلب سلیم، علم روحانی اور ایمان کی ضرورت ہے۔
- ٢...... جو صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لانے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔
نتیجہ ظاہر ہے کہ جیسے عیسائیوں کے ہاں بلا عیسائی ہوئے تثلیث سمجھ میں نہیں آتی۔ ویسے ہی مرزائیوں کے ہاں بلا مرزائی ہوئے استعارہ سمجھ میں نہیں آتا۔ مگر یہ بات ہر استعارہ میں نہیں۔ صرف قرآن و حدیث کے استعارہ میں ہے۔ جیسا کہ حافظ صاحب کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کی باتیں بالخصوص پیشین گوئیوں کی حقیقت جو اکثر استعارات پر
٥٨
مبنی ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لئے علم روحانی کی ضرورت ہے۔ مگر استعارہ تو استعارہ پھر اس خصوصیت کی کیا وجہ کہ اور استعارے تو سمجھ میں آئیں۔ لیکن قرآن وحدیث کے استعارے بلامرزائی ہوئے سمجھ میں نہ آئیں؟
دنیا جانتی ہے کہ استعارہ از قسم مجاز ہے۔ نیز لفظ مجاز اور حقیقت ہر دو متقابل ہیں۔ اہل علم پر روشن ہے کہ حقیقت، حقیقت ہے اور مجاز، مجاز نیز بلا قرینہ صارفہ حقیقت سے مجاز کی طرف عدول ناجائز ہے اور معنی مجازی اسی قرینہ سے سمجھ میں آتا ہے۔ پھر استعارہ کے بھی اقسام ہیں اور سب میں یہ رعایت ملحوظ ہوتی ہے جو ہر استعارہ کے لئے عام ہے۔ لیکن حافظ صاحب نے معانی و بیان کے اس علمی کارخانہ کو درہم برہم کر کے قرآن وحدیث کی استعاری باتوں بالخصوص پیشین گوئیوں کو جدا کیا اور اس کے سمجھنے کے لئے یہ نئی تھیوری قائم کی کہ ایمان بالمرزا پر موقوف ہے۔ پھر مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ العالی حافظ صاحب کی کتاب واپس نہ کرتے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جواب نہ دیتے۔ مولوی عبدالحلیم صاحب کانپوری دوسرے کے حوالہ نہ فرماتے تو اور کیا کرتے۔ خدا کی شان یہ بات میری ہی قسمت میں لکھی تھی کہ حافظ صاحب کو انکی اس جدت پر مبارک باد دوں۔
خیر حافظ صاحب کی اس جدت طرازی سے کم از کم یہ بات تو واضح ہوگئی کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کو حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ ان کی مثیلیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت وغیرہ کا سارا کارخانہ بس مجاز پر ہے۔ لیکن افسوس مرزا قادیانی یا حافظ صاحب نے یہ نہ ظاہر فرمایا کہ مجازی عمارت کس قسم کے استعارہ پر بنائی جارہی ہے۔ اچھا بنائیے لیکن یہ یاد رکھئے کہ ایسی چالیں پہلے بھی کچھ لوگ چل چکے ہیں۔ مگر نہ چل سکیں کیونکہ ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں۔
جب یہ بات معلوم ہوچکی کہ قرآن وحدیث کا استعارہ مرزا قادیانی اور مرزائی کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ جیسا کہ حافظ صاحب لکھتے ہیں۔ ”سچی بات یہ ہے کہ ان باتوں کی اصل حقیقت جو ہم پر بذریعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کھولی گئی ہے۔ تو مرزا قادیانی کے وقت سے قیامت تک کے غیر مرزائی مسلمان جو اصل حقیقت سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ بھی ظاہر ہوگئی کہ وہ روحانی آنکھ، قلب سلیم، ایمان علم روحانیت سے ظاہر پرست مولوی صاحبان بالکل تہی دست اور بے نصیب ہیں اور یہ باتیں مرزا قادیانی پر بلا ایمان لائے حاصل نہیں ہوتیں۔“ نتیجہ یہ کہ جملہ غیر مرزائی مسلمان بے ایمان، کافر ہیں اور ان کے حقیقت سے محرومی کی وجہ کفر ہے۔
دیکھئے حافظ صاحب! کس صفائی سے آپ کی عبارت از مرزا قادیانی تاقیامت کے
٥٩
جملہ غیر مرزائی مسلمانوں کو کافر بنا رہی ہے۔ پر کس منہ سے علماء اسلام کو غدار یہودی صفت مولوی لکھ کر آپ انہیں فرماتے ہیں کہ کافروں کو مسلمان بنانے کے بجائے جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کو بھی یہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا آپ کے شغل تکفیر اور اتہام تکفیر کے لئے ہم مسلمان ہی تختہ مشق بننے کے لئے رہ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی امت پر رحم فرمائے۔
یہ قصہ تو مرزا قادیانی کے بعد کا تھا۔ اب ان سے پہلے چلئے اور اس وقت کے اہل اسلام کو دیکھئے وہ بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی طرح واقف تھے۔ یا ہم بے نصیب مسلمانوں کی طرح بے خبر تھے۔ ان میں اول نمبر انبیاء خصوصاً خاتم النبیین رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے جو حامل وحی اور صاحب شریعت تھے۔ پھر حضور ﷺ کی امت میں صحابہ کرام اولیائے عظام، علمائے ذی الاحترام کا مرتبہ ہے۔ جنہیں بلفظ علماء اسلام بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ جن کی شان میں حضور نے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرمایا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ تقریباً ہر امر کے متعلق مرزا قادیانی کے دو مختلف قول ہیں۔ ایک صحیح مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے۔ دوسرا غیر صحیح۔ اپنے دعویٰ اور مذہب ثابت کرنے کے لئے۔ چنانچہ اس معاملہ میں بھی ان کے ہر دو قسم کے قول موجود ہیں۔ نبی اور حضور ﷺ کی بابت مسلمانوں کو دھوکا دینے والے قول یہ ہیں۔
- ١....... ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)
اس سے خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب کو بھی اتفاق ہے۔
- ٢....... ”جب تک خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر تمام مراتب کسی پیشین گوئی کے
آپ پر نہ کھولے تب تک آپ نے اس کی کسی شق خاص کا کبھی دعویٰ نہ کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٠٦، خزائن ج ٣ ص ٣١٠)
مگر جب خود مسیح بننا ہوا تو یہ کہی ہوئی بات بھول گئے اور بے تکلف اس کے خلاف فرما دیا کہ: ”انبیاء پیشین گوئیوں کی تاویل اور تعبیر میں غلطی کھاتے ہیں۔“
(ازالہ ص ٦٩٠، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال وغیرہ کی حقیقت موبمو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
٦٠
یہی حال مرزا قادیانی کے اُمی حافظ صاحب کا ہے کہ ایک جگہ تو لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس حقیقت سے قبل از وقت ہی متنبہ فرما دیا تھا۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:
- ١...... اصل حقیقت ہم پر مرزا قادیانی کے ذریعہ کھولی گئی۔
- ٢...... پیشین گوئیوں کے متعلق نبیوں کو بھی صحیح علم نہیں دیا جاتا۔
- ٣...... پیشین گوئیوں کی چار قسمیں ہیں۔ بینات، متشابہات، شرطیہ، استعاری۔ ہر ایک
میں نبی سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں ہے۔
- ٤...... جس میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس میں نبی سے اجتہادی غلطی کرا دیتا ہے۔
- ٥...... بیشک نبیوں سے اجتہادی غلطیوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔
- ٦...... بسا اوقات شیطان کو رخنہ اندازی کا موقعہ دیا جاتا ہے کہ وہ نبی کے اجتہاد میں کچھ اپنی
طرف سے بھی آمیزش کردے۔
- ٧...... اللہ تعالیٰ ملہم من اللہ کو بھی قبل از وقت پیشین گوئیوں کی اصل حقیقت اور اس کا راز
نہیں بتاتا۔
- ٨...... آیت ختم نبوت ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ “ میں حضور ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کے
وفات کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ چونکہ یہ وحی الٰہی قبل از وقت تھی۔ اس لئے کسی نے بھی اصل مطلب کی طرف توجہ نہ کی۔
اس پر حافظ صاحب بڑے فخر سے اتراتے یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس میں غیر احمدیوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے جو طنزاً کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اچھے نبی تھے جو اپنے وحی و الہام کے مطلب کو بھی نہ سمجھتے تھے۔
جب نبیوں کی یہ عزت ہے تو ظاہر ہے کہ علماء اسلام کس شمار میں ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے صحابی حافظ صاحب، علماء کے متعلق بھی وہی دورنگی چال چلے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ: ”سلف، خلف کے لئے بطور وکیل کے ہیں اور ان کی شہادت آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
مسئلہ عرض الحدیث علی القرآن کی بابت مرزا قادیانی کی عبارت سے مستفاد ہوتا ہے کہ کسی معتبر عالم کا کتاب میں لکھ دینا قابل اعتماد ہے۔
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٨، خزائن ج ٣ ص ٥٧٥)
١؎ بینات میں غلطی وہ بھی نبی سے ۔ دیکھئے حافظ صاحب مرزا قادیانی کی تعلیم کیا کیا کراتی ہے۔
٦١
”گو اجمالی طور پر قرآن اکمل واتم کتاب ہے۔ مگر ایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہم نے لیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
مگر دوسری طرف جوش دعاوی باطلہ میں یہ سب فراموش کر کے اس کے خلاف نہایت بیباکی سے فرماتے ہیں کہ: ”کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے مولویوں کو بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی اور دماغی قویٰ پر اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کے لئے ضرور ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے۔ کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتیں اور نہ ایمانی حالت پر اثر ڈالتی ہیں۔ بلکہ فطری سعادت اور نیک روشنی کے مزاحم ہو رہی ہیں۔“
(ازالہ ص ٧٢٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)
”کیوں جائز نہیں ہے کہ راویوں نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطا کی ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٠، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)
”اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں۔ والظن لا یغنی من الحق شیئاً۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٥٢، خزائن ج ٣ ص ٤٥٣)
اگر پدر نتواند پسر تمام کند، مرزا قادیانی کے فرزند میاں محمود خلیفہ ثانی نے لکھا ہے کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنیں۔“
(الفضل ٣٠؍اپریل ١٩١٥ء، ہینڈ بل ص ٣، از رسالہ دین مرزا کفر خالص ص ٤٧ حوالہ نمبر ٢٣)
”الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
دیکھئے باپ اور بیٹے نے مل کر تفسیر اور حدیث کے ساتھ مفسرین، محدثین، علماء پر کیسا ہاتھ صاف کیا ہے۔ یہی حال ہے حافظ صاحب کا جو ایک جگہ تو لکھتے ہیں کہ دراصل اس تعریف ومدح کی جو قرآن وحدیث میں علمائے کرام کے متعلق ہے یا تو وہ عالم ربانی مستحق تھے۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یا اب وہ ہیں جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لائے ہیں۔
مگر انہیں علماء کے متعلق دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ مفسرین رحمہم اللہ نے جو کچھ آخری زمانہ کی پیشین گوئیوں کے متعلق فرمایا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ اپنے اصل کے لحاظ سے وہ سب
٦٢
درست اور قرآن وحدیث کے مطابق ہیں۔ البتہ انہوں نے جو ان باتوں کی تشریح کی ہے۔ اگرچہ وہ زمانہ حاضرہ میں بعید از عقل معلوم ہوتی ہے۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ ان کی اصل حقیقت ہم پر بذریعہ مرزا قادیانی کھولی گئی ہے۔ یہ حقیقت اگر ان بزرگوں کے سامنے پیش کی جاتی تو وہ ضرور اس کو بعید از عقل سمجھتے۔ جس طرح آج کوئی کم سمجھ ان بزرگوں کے علم وعقل کا مضحکہ اڑاتا ہے۔ اسی طرح جو ان بزرگوں کے سامنے ان باتوں کا اصل مطلب بیان کرتا تو وہ نہ معلوم اس کو کیا سمجھتے اور کیا کچھ سناتے۔ کیونکہ یہ تمام باتیں ایسی ہیں جن کے سامنے طلسم ہوشربا کی بھی کچھ حقیقت نہیں ہم جانتے ہیں کہ وہ اس سے زیادہ کچھ نہ کر سکتے تھے۔ یہ بیشک اپنے زمانہ کے بہت بڑے پایہ کے علامہ تھے۔ مگر ملہم من اللہ نہ تھے۔ اگر وہ ملہم من اللہ بھی ہوتے تو خدا ان کو ان پیشین گوئیوں کی قبل از وقت اصل حقیقت نہ بتاتا۔ ان بیچارے مفسرین پر کیا منحصر ہے، پیشین گوئیوں کے متعلق تو نبیوں کو بھی صحیح علم نہیں دیا جاتا۔“ (از صفحہ ١١١ تا ١١٣ ملخصاً) آگے ایک جگہ حاشیہ میں اس سے بھی صاف فرماتے ہیں کہ: ”میں بک نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح علماء متقدمین نے دیگر مسائل ختم نبوت اور حیات مسیح وغیرہ کے مفہوم قائم کرنے میں غلطی کھائی ہے۔ اسی طرح اہل بیت کے مفہوم کو بھی غلط طور پر سمجھ کر ایسا خطرناک عقیدہ قائم کر دیا ہے۔ جس سے تمام مسلمانوں کو ازحد نقصان پہنچا اور پہنچ رہا ہے۔“ مطلب یہ کہ حافظ صاحب کے نزدیک سابق علماء ربانی نے غلط تشریح ہی نہیں کی بلکہ ایسا باطل مفہوم بتایا کہ جملہ مسلمانوں کو بیحد نقصان پہنچا اور ہنوز پہنچ رہا ہے۔
لیجئے اب مطلع صاف ہے کہ پیشین گوئیوں کی اصل حقیقت سے ہماری طرح مرزا قادیانی سے پہلے کے علماء اسلام حتیٰ کہ خود نبی حضورﷺ بھی بیخبر تھے۔ سوال یہ ہے کہ اصل حقیقت سے ہماری محرومی کی وجہ تو کفر (عدم ایمان بر مرزا) تھی۔ مگر ان علماء ربانی خصوصاً نبی حامل وحی کے بیخبری کی کیا وجہ ہے؟
اگر کہا جائے کہ پیشین گوئیوں کا محض استعاری ہونا ہے تو ہم نے کیا قصور کیا ہے جو ہمارے لئے اس کے سوا دوسری علت تجویز کی جاتی ہے۔ دوسرے جب آج بھی قرآن وحدیث کے وہی الفاظ ہیں تو وہ مرزا قادیانی کے لئے بھی استعاری ہیں۔ پھر ان پر اس کی اصل حقیقت کیونکر منکشف ہو گئی۔ رہی ان کی نبوت تو وہ مرزائیوں کے لئے حجت ہوگی۔ ہمارے لئے تو ان کی نبوت ہی نہ صرف ان کی حقیقت بلکہ ان کی بیان کردہ حقیقت کے بھی بطلان کی دلیل ہے۔
اور اگر کہا جائے کہ پیشین گوئیوں کا قبل از وقت ہونا ہے تو حضورﷺ نے بلا علم حقیقت
٦٣
قبل از وقت اس سے دوسروں کو کیونکر متنبہ کیا۔ کیا نبی کے لئے تعلیم بالمجہول جائز ہے؟ دوسرے یہ کہ جب آپ کے نزدیک وہ حقیقت تیرہ صدی کے بعد اب مرزا قادیانی کی مجددیت، مہدویت، مسیحیت سے ظاہر ہوگئی اور لوگوں نے دیکھ لیا تو باوجود عینی مشاہدہ کے غیر مرزائی مسلمانوں نے مرزا قادیانی کی تکذیب کیوں کی۔ وجہ یہ کہ حافظ صاحب مان چکے ہیں کہ مایہ النزاع پیش گوئیوں کی وہ غلط تشریح جو علمائے ربانی نے کی ہے۔ اگر ظاہر ہو جائیں تو پھر وہ کون ایسا شخص ہوگا کہ باوجود عینی مشاہدات کے پھر بھی کافر ہی رہے گا اور ان تمام سچی باتوں کی تکذیب ہی کرتا رہے گا۔ جب غلط اور جھوٹی تشریح کے عینی مشاہدہ میں یہ برکت ہوئی تو اب صحیح اور سچی حقیقت کے عینی مشاہدہ میں وہ کرامت کیوں نہ ظاہر ہوئی؟ پھر خود مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی (محمدی بیگم) اور پادری آتھم والی پیشین گوئی میں بعد از وقت (کیونکہ بخیال مرزائیاں وہ پوری ہوئیں) ایسا خفا کیوں رہا کہ بقول حافظ صاحب ان میں مرزا قادیانی کو اجتہادی غلطی نہیں لگی بلکہ خود لوگوں کو اجتہادی غلطی لگ گئی اور اس غلطی کی بناء پر جو مرزا قادیانی کو غیر صادق کہتے ہیں انہیں غیر مسلم کیوں کہا جاتا ہے؟
اور اگر عدم علم حقیقت کی وجہ کفر ہی کو قرار دیا جائے تو حافظ صاحب ہی انصاف سے فرمائیں کہ بہت بڑے پایہ کے علمائے ربانی، خصوصاً حضور ﷺ کو نعوذ باللہ کیا کہئے گا؟ آپ ہی کا مقولہ ہے کہ جو حضرت نبی کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ بے ایمان ہے۔ مگر اس صورت میں تو نبوت ہی رخصت ہوئی جاتی ہے۔ کہئے جو نبی کو نہ مانے وہ کیا ہے؟
یہ ساری گفتگو اور تمام خرابیاں آخری زمانہ کے پیش گوئیوں کو استعاری کہنے پر تھیں۔ حالانکہ سرے سے یہ بات ہی غلط ہے کہ یہ باتیں مبنی بر استعارہ ہیں۔ افسوس جب مرزا قادیانی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مابین مباہلہ ہوا اور مولوی صاحب نے اس میں کاذب پر فوری عذاب نازل ہونے کی شرط پیش کی تو مرزا قادیانی نے اشتہار ٢١ نومبر ١٨٩٨ء میں جواب دیا کہ یہ خلاف سنت ہے۔ حدیث کے لفظ کی رعایت کر کے مباہلہ کی مدت کو ایک سال سے کم نہیں کرنا چاہئے۔ (راز حقیقت ص٢ در حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٧٣) مگر عروج مسیح، حیات مسیح، نزول مسیح، ظہور مہدی، خروج دجال وغیرہ علامات قیامت کے متعلق الفاظ حدیث کی رعایت کو بالائے طاق رکھ کر زبردستی استعارہ کی پناہ لیتے ہیں۔
یہی روش حافظ صاحب کی بھی ہے۔ چنانچہ دیباچہ ص ١١ سے دیکھئے۔ اپنے مخالف علماء اسلام کو یہودی بنانے کی دھن میں مشکوٰۃ سے دو حدیث نقل کر کے لکھ دیا کہ ان ہر دو حدیثوں کے
٦٤
متعلق تمام علمائے متقدمین ومفسرین اور مجددین بالاتفاق یہی لکھتے چلے آئے ہیں کہ یہ حدیثیں مسیح موعود کے زمانہ کے جو لوگ ہیں۔ ان کے متعلق ہیں۔ اگر مخالفین کہیں کہ ابھی مسیح موعود نہیں آیا۔ لہٰذا ہم ان حدیثوں کے مصداق نہیں ہو سکتے تو میرے نزدیک اس وقت پر بحث فضول ہے۔ صرف یہ دیکھنا کافی ہے کہ جو جو باتیں ان حدیثوں میں بیان کی گئی ہیں۔ وہ اس زمانہ کے عام لوگوں اور مولویوں میں موجود ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو لازماً ماننا پڑے گا کہ مسیح موعود بھی آچکا اور وہ مرزا قادیانی ہی ہیں۔ ہاں اگر یہ اوصاف جو حدیثوں میں بیان کئے گئے ہیں وہ ان لوگوں میں موجود نہیں تو پھر بیشک ان لوگوں کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ ابھی مسیح موعود نہیں آیا۔
مگر یہی بات جب مولوی صاحب نے کی کہ مسیح موعود کے آنے، نہ آنے سے قطع نظر کر کے حدیثیں نقل کیں اور یہ دیکھا کہ ان میں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے جو حالات وصفات بلا استعارہ صراحۃً منجانب رسول اللہ ﷺ مذکور ہیں۔ وہ مدعی مہدویت ومسیحیت جناب مرزا غلام احمد قادیانی میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے نہیں پایا۔ لہٰذا کہہ دیا کہ مرزا قادیانی نہ مہدی ہیں نہ مسیح ہیں۔
تو حافظ صاحب فوراً میدان سے باہر ہو کر ص ٩٩ میں فرمانے لگے کہ آپ نے جن فرضی اوصاف بیان کر کے مرزا قادیانی میں نہ پا کر ان کے مہدی و مسیح ہونے سے انکار کیا ہے۔ وہ اوصاف حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ لیکن حقیقت پر مبنی نہ ہونے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں لکھتے کہ جو باتیں احادیث صحیحہ کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتی ہیں اور جسے مولوی صاحب نے بیان کی ہیں۔ یا دیگر غیر مرزائی علماء اسلام لکھتے ہیں۔ وہ فرضی ہیں۔ ہرنی نامہ سے زیادہ نہیں، طلسم ہوشربا سے کم نہیں۔ بعید از عقل ہوں، ناممکن ہیں۔ مگر کیوں ہیں۔ ہنوز اس کا جواب ندارد۔
عجیب طریقہ ہے کہ جب الفاظ سے خود کام لینا ہوتا ہے تو پیروی سنت کی ہدایت کی جاتی ہے۔ حدیث کے لفظ کی رعایت ہوتی ہے۔ ظاہری معنی واقعی ہو جاتے ہیں۔ مگر جب الفاظ ساتھ نہیں دیتے اور اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے مخالفین مرزا قادیانی اس سے کام لیتے ہیں تو مرزا قادیانی اور مرزائیوں خصوصاً حافظ صاحب کو نہ اتباع سنت کی توفیق ہوتی ہے نہ حدیث کے لفظ کی رعایت کی جاتی ہے۔ ظاہری معنی فرضی، خلاف عقل، ناممکن ہو جاتے ہیں اور وہی الفاظ جنہیں ساری دنیا مبنی بر حقیقت سمجھتی ہے نہ معلوم کیوں کر مبنی بر استعارہ ہو کر اس سے مرزا قادیانی کے موافق کہاں سے بلا قرینہ باطنی معنی پیدا ہو جاتے ہیں کہ نہ خدا کسی کو بتاتا ہے۔ نہ نبی کو خبر ہوتی ہے نہ علماء ربانی کو سوجھتی ہے۔ تیرہ صدی تک ان الفاظ والی آیات واحادیث مہمل اور بیکار پڑی
٦٥
رہتی ہیں۔ اٹکل سے باطل معنی سمجھ کر دنیائے اسلام گمراہ ہو جاتے ہیں۔ خدا خدا کر کے وہ حقیقت جو کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آئی تھی۔ اب مرزا قادیانی پر منکشف ہوتی ہے۔ مگر ہنوز مرزا قادیانی پر بلا ایمان لائے کسی کے سمجھ میں نہیں آسکتی۔
یہ بحث بالکل فضول ہوگی کہ مولوی صاحب کی پیش کردہ احادیث کو حافظ صاحب نے مبنی بر استعارہ کہہ کر مرزا قادیانی کی بیان کردہ لغو تاویل جو لکھی ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔ کیونکہ ان کی اصل بنیاد احادیث کا مبنی بر غیر حقیقت ہونا ہی جب غلط ہے تو مجاز ہی غائب ہے۔ پھر استعارہ چہ معنی۔
ورنہ اولاً برعایت کتب فن بتایا جائے کہ مسیح کا لفظ انجیل میں عیسیٰ بن مریم نبی اللہ اور مسیح ١؎ عیسیٰ بن مریم رسول اللہ وغیرہ الفاظ قرآن واحادیث میں جو وارد ہیں یہ حقیقت نہیں مجاز ہے تو مجاز کی کون سی قسم ہے۔ لغوی یا شرعی ، عرفی خاص یا عرفی عام، نیز اقسام استعارہ میں سے کون سا استعارہ ہے۔ جب تک یہ نہ بتایا جائے اس وقت تک خواہ مخواہ یہ دعویٰ کرنا کہ حقیقت پر مبنی نہیں یا مبنی بر استعارہ ہے کہاں کا انصاف ہے۔
ثانیاً فرمایا جائے ، شارع کو اظہار حقیقت ہی مقصود ہوتا اور حضور ﷺ کو عروج، حیات، نزول ابن مریم ،ظہور مہدی اور خروج دجال وغیرہ کی صریح طور پر خبر دینی منظور ہوتی تو اس کے علاوہ علم، لقب، کنیت ، خطاب و دیگر حالات وصفات کے لئے اور کون سے الفاظ استعمال فرماتے جو حقیقی اور صریح ہوتے۔
جب تک ہر دو امر کا شافی جواب نہ دیا جائے اس وقت تک مولوی صاحب ہی کی بات کو کہ مرزا قادیانی نہ مسلمان ہیں نہ مجدد ہیں۔ نہ مہدی ہیں نہ مسیح ہیں۔ حق ماننا پڑے گا۔ اس بحث میں میری یہ آخری گفتگو تھی جو ختم ہوگئی۔ کاش حافظ صاحب اس کو بنظر غور وانصاف دیکھتے اور سمجھتے۔ اللہم امین!
- نمبر ٧: ...... ان (مرزا قادیانی) کے ان دعوؤں (مجددیت ، مہدویت ، مسیحیت)
کی دلیل یہ ہے کہ ان کے مقابلہ میں کوئی اور مجددیت ، مسیحیت اور مہدویت کا مدعی نہیں ہوا۔ ان کے دعویٰ کی تصدیق کے لئے آسمان پر سورج گرہن اور زمین پر طاعون والی پیشین گوئی کا صحیح ہونا کافی ہے۔
١؎ حافظ صاحب کو خود بھی تسلیم ہے کہ مسیح اوّل کا پورا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو قرآن کے رو سے اسم ذات ہے۔
٦٦
اس نمبر میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کی دلیل کا بیان ہے کہ ان کے مقابلہ میں دوسرا کوئی مجدد وہ مہدی، مسیح ہونے کا مدعی نہیں ہوا۔ انکی پیشین گوئیاں صحیح ہوتی تھیں۔
مولوی صاحب نے دلیل کے ہر دو جزو پر حسب ضرورت مناسب روشنی ڈالی ہے۔
الف....... پہلے حصے رد میں لکھا ہے کہ:
- ١...... مولوی احمد رضا خان صاحب مرحوم بریلوی نے مجدد (نہ حاضرہ و موجودہ صدی کا
مجدد) ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
- ٢...... اور مدعی نہ بھی ہوتا تو حدیث ثلاثون دجالون کذابون الحدیث کے مطابق مرزا قادیانی
دجال و کذاب تھے۔
- ٣...... اور انکے کذب، پر بلفظہ اسمہ احمد ایک آیت سے بھی استدلال کیا ہے۔
ب....... دوسرے حصہ کا جواب دیا ہے کہ:
- ١...... پیشین گوئی کی صحت، دلیل صداقت نہیں۔
- ٢...... مرزا قادیانی کی چھ پیشین گوئیوں کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جھوٹی ہوئی اور نتیجہ
نکالا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں کاذب ہیں۔
حافظ صاحب نے (الف) پہلے حصہ کے کسی بات کا بطور جواب تو کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔ ہاں گذشتہ نمبروں کی طرح بلا جواب دوسری باتوں کے ضمن میں اتفاقیہ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ میرا احسان ہے کہ ان منتشر اور بلا ترتیب باتوں کو جواب فرض کر کے نمبر وار ذکر کر رہا ہوں۔۔ چنانچہ یہاں بھی ان کی کتاب سے تلاش کر کے پیش کرتا ہوں۔ پہلی بات کے جواب کے لائق حافظ صاحب نے کچھ بھی نہیں لکھا۔ ہاں تکرار دعویٰ البتہ کیا کہ حضور ﷺ کے قائم مقام مرزا قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود نے بھی ١؎ نبوت کا دعویٰ کیا۔ میں ٧٢ فرقے والوں سے پوچھتا ہوں کہ ان کے اندر کوئی ایسا فرقہ ہے۔ جس میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ ہر گز نہیں۔
حافظ صاحب کو مرزائیوں میں سے قادیان کے محمودی فرقہ سے تعلق ہے۔ نمبر ہذا میں مرزائی نے اور نور ہدایت میں حافظ صاحب نے جو دعویٰ پیش کیا ہے۔ گو بظاہر دونوں میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں متحد ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے تصریح کی ہے کہ: ”امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٦)
١؎ دیکھئے یہ بھی جملہ اوّل کو خلاف مقصود اور جملہ ثانی کو مبائن تو نہیں بناتا۔
٦٧
اور وہ وہی دعویٰ ہے جس کے بالفاظ دیگر خود مرزا قادیانی مدعی ہو چکے ہیں کہ: ”علماء بتلادیں کہ کس نے اس صدی کے سر پر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٨)
”اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں لے کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
حیرت ہے۔ دیکھئے دعویٰ تو اس زور شور کا مگر مرزا قادیانی یا ان کا کوئی امتی آج تک یہ نہ بتا سکا کہ کسی اور کے دعویٰ نہ کرنے کو مرزا قادیانی کے مجدد، مہدی، مسیح، نبی ہونے سے آخر کیا تعلق ہے؟ کسی کا دعویٰ نہ کرنا اگر مرزا قادیانی کے صادق ہونے کی دلیل ہے تو اوروں کا مدعی ہونا بلاشبہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ ورنہ دوسرے مدعی کا مطالبہ بے سود ہوگا اور اس مطالبہ پر آپ کو بڑا فخر واصرار ہے۔ اچھا آئیے مدعیوں کو پہچانئے۔
مجددیت کا مدعی مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کو تو خود مولوی صاحب نے پیش کیا ہے۔ جس پر حافظ صاحب نے سانس تک نہ لی اور نہ معلوم شربت کے گھونٹ کی طرح پی گئے۔ مرزا قادیانی کے حیات میں قصبہ گھوسی ضلع اعظم گڑھ میں مولوی عبدالقادر صاحب ایک ذی علم اور سنسکرت کے ماہر آدمی تھے۔ جن کے اعزہ ہنوز موجود ہیں۔ ان کو امام وقت ہونے کا دعویٰ تھا۔ تیرہ سو برس میں تو ہر قسم کے متعدد مدعی گزرے ہیں۔ مثلاً ملل ونحل میں ہے کہ ابوالخطاب نے امام الزمان ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد فرقہ معمریہ نے معمر کو فرقہ بزیغیہ نے بزیغ کا اپنا امام الزمان تسلیم کیا تھا۔ نیز اسی میں ہے کہ احمد کیال، مغیرہ ابن سعید عجلی اور خوزستانی کے ساتھی ومعین ذکرویہ یحییٰ، بنام محمد بن عبداللہ (تاریخ دول اسلامیہ) امام الزمان ہونے کے مدعی تھے۔ ابوالخطاب معمر، بزیغ، احمد، مغیرہ، یحییٰ نے جو دعویٰ کیا تھا وہ وہی امام زمان کا دعویٰ تھا جو بقول مرزا قادیانی محدثیت، مجددیت، نبوت، رسالت سب کا جامع ہے۔ یحییٰ مذکور اور عبیداللہ مہدی صاحب افریقہ، (ابن خلدون ج ٤، ابن اثیر جلد ٨) سید محمد جونپوری اور علی محمد باب (ہدایت الاسلام ص ٢٢٤) نے مہدی محمد بن تومرت سوسی نے مہدی موعود (فتوحات اسلامیہ) محمد احمد سوڈانی، (مذاہب الاسلام ص ٢٣٤) اور صالح بن ظریف نے مہدی اکبر (ابن خلدون) ہونے کا دعویٰ کیا۔ فارس بن
لے پھر تو کوئی مدعی الوہیت ہو کر بھی اپنی صداقت پر یہی دلیل پیش کر سکتا ہے۔
٦٨
یحییٰ مثیل مسیح (کتاب المختار) اور عیسیٰ موعود (افادة الافہام ج ١ ص ٨٤) ہونے کا مدعی تھا۔ صالح اور فارس اور مغیرہ مذکور نبوت کا بھی اور ابو منصور بانی فرقہ منصوریہ کو رسالت (منہاج السنۃ) کا دعویٰ تھا۔ غرض ناظر کتب تاریخ کو ایسی مثالیں بکثرت مل سکتی ہیں۔
دیکھئے مسلمانوں میں سے مرزا قادیانی کی زندگی میں مولوی احمد رضا خان نے مجدد مولوی عبدالقادر صاحب نے امام زمان سابق میں فارس بن یحییٰ نے مثیل مسیح و عیسیٰ موعود ہونے کا دعویٰ کر کے مرزا قادیانی کے دلیل دعویٰ کو باطل اور ان کو کاذب کر دیا۔
اصل تو یہ ہے کہ کوئی اور مدعی ہو یا نہ ہو۔ بہر صورت حسب ارشاد حضور ﷺ ملعون دجالون، کذابون الحدیث مرزا قادیانی کا بوجہ دعویٰ نبوت دجال اور کاذب ہونا ثابت ومحقق ہے۔ جیسا کہ مولوی صاحب نے بھی لکھا ہے اور کچھ بمناسبت مقام پیشتر میں نے بھی درج کیا ہے جو کافی ہے اور یہی دوسری بات بھی تھی مگر حافظ صاحب نے اس کا بھی کچھ جواب نہیں دیا۔
تیسری بات کا ذکر ایک جگہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اور انبیاء کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی آخر الانبیاء احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کی بشارت (پیشین گوئی) دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اسکی خبر دی ہے کہ: ”جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توریت ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ۔“ ”ومبشراً برسولٍ یاتی من بعدی“ اور میرے بعد ایک رسول آنے والے ہیں جن کا نام احمد ہوگا۔ اسمه احمد! ان کی بشارت دینے والا ہوں۔
مرزا قادیانی کے کارنامہ مجددیت میں سے ایک جدت یہ بھی ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بشارت حضور احمد مدنی ﷺ کی بابت نہیں بلکہ میری (غلام احمد قادیانی) نسبت ہے۔ مولوی صاحب نے ان کے اسی دعویٰ کو دلیل کذب مرزا بنایا تھا۔ حافظ صاحب سے اور کچھ تو بن نہ پڑا۔ اسی دعویٰ کو بلا دلیل عجب عاجزانہ انداز سے یوں دہرایا کہ: ”غیر احمدی مسلمانوں کو یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ چونکہ ہم احمدی (مرزائی) مسلمان بموجب ارشاد حضرت نبی کریم ﷺ حضرت احمد (مرزا قادیانی) کو آپ سے جدا نہیں سمجھتے۔ بلکہ حضور ﷺ کا حقیقی وارث اور تمام روحانی املاک کا مالک سمجھتے ہیں۔ اس لئے جو کچھ حضرت محمد ﷺ کا ہے وہ سب حضرت احمد (مرزا قادیانی) کا ہے اور جو حضرت احمد (مرزا قادیانی) کا ہے وہ سب حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ پس اس لحاظ سے اگر ایک پیشین گوئی کو جو غلطی سے حضرت نبی کریم ﷺ کے متعلق سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے وارث حضرت احمد (مرزا قادیانی) کی طرف منسوب کر دی تو اس سے آپ لوگوں کا کیا نقصان ہوا۔“
(نور ہدایت ص ١٠٥ در حاشیہ)
٦٩
بھلا اس گپ کی بھی کچھ حد ہے کہ بموجب ارشاد حضور ﷺ آپ سے مرزا قادیانی جدا نہیں ۔ حافظ صاحب اگر آپ سچے ہیں تو ذرا ہمت کر کے پتہ دیجئے کہ حضور ﷺ نے ایسا کہاں فرمایا ہے؟ ہاں یہ بھی فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے سوا اب حضور ﷺ کا حقیقی وارث اور تمام روحانی املاک کا مالک کوئی اور بھی ہوا یا نہیں ۔ اگر ہوا خصوصاً جس کا اسم ذات احمد ہو تو انہوں نے اس پیشین گوئی کا مصداق اپنے کو اوروں نے ان کو کیوں نہیں سمجھا اور خود حضور ﷺ نے بذریعہ وحی یا خبر ہونے پر بھی خبر کیوں نہ دی اور اگر نہیں ہوا تو ذرا اپنے مقولہ کو یاد کیجئے کہ حضور ﷺ کے بعد ان کا متبع کامل نبی ہوگا ۔ پھر نمبر چار میں اپنے بھائی مرزائی کی پیش کردہ مجددین کی فہرست دیکھئے۔ اس کے بعد مباحثہ لدھیانہ کے موقعہ پر سردار بچن سنگھ حکم اور میر قاسم علی صاحب مرزائی مناظر کا (جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے مد مقابل تھے ) یہ سوال و جواب ملاحظہ فرمائیے ۔
سوال ..... آیا مرزا قادیانی کا دعویٰ دیگر انبیاء کے ہم رتبہ و ہم پلہ ہونے کا تھا یا کم و بیش؟
جواب ..... اسلام میں انبیاء دو قسم کے ہیں ۔ ایک صاحب شریعت و صاحب امت ۔ دوم جو اسی نبی اور اسی شریعت کے ماتحت ہوں ۔ پہلی قسم کی مثال حضرت محمد ﷺ نبی اسلام کی ہے ۔ دوسری مثال حضرت یحییٰ ۔ مرزا قادیانی قسم دوم کے نبی تھے۔
سوال ..... ان دونوں اقسام کے انبیاء میں روحانیت کے لحاظ سے کچھ فرق ہوتا ہے اور کیا ؟
جواب ..... ہاں اوّل قسم کے انبیاء پورے کمال کو پہنچے ہوئے اور قسم دوم کے ان سے کم درجے پر ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ مالک اور نوکر کی حیثیت ۔
سوال ..... حضرت محمد صاحب کے بعد آپ کی مقرر کردہ قسم دوم میں کون کون نبی ہوئے ہیں؟
جواب ..... ہمارے عقیدہ میں جتنے نائب ( خلفاء یا مجددین ) حضرت محمد صاحب کے بعد ہوئے ہیں وہ سب کے سب قسم دوم کے نبی تھے۔ جیسا کہ حضرت محمد صاحب نے فرمایا ہے۔ ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں ۔
سوال ..... قسم دوم کے انبیاء بھی صاحب وحی و الہام ہوتے ہیں؟
جواب ..... ہاں ۔ (منقولہ از رسالہ فاتح قادیان (روئیداد مباحثہ لدھیانہ ) ص ٤٥، مطبوعہ لال سٹیم پریس لاہور ١٣٢٨ھ )
اگر ان سب کی مختصر لفظوں میں صاف اور صریح تشریح سننی ہو تو وہ بھی سنئے ۔ آپ کے دوسرے بھائی مرزائی سناتے ہیں کہ : ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی اور ہوں گے ۔“
(انوار خلافت ص ٦٢ ، ٹائٹل ص ٢)
٧٠
کی بھی کچھ حد ہے کہ بموجب ارشاد حضور ﷺ آپ سے مرزا قادیانی جدا پ چکے ہیں تو ذرا ہمت کر کے پتہ دیجئے کہ حضور ﷺ نے ایسا کہاں یے کہ مرزا قادیانی کے سوا اب حضور ﷺ کا حقیقی وارث اور تمام روحانی ہوا یا نہیں۔ اگر ہوا خصوصاً جس کا اسم ذات احمد ہو تو انہوں نے اس کو اوروں نے ان کو کیوں نہیں نہ سمجھا اور خود حضور ﷺ نے بذریعہ وحی یا دی اور اگر نہیں ہوا تو ذرا اپنے مقولہ کو یاد کیجئے کہ حضور ﷺ کے بعد ان کا بارے میں اپنے بھائی مرزائی کی پیش کردہ مجددین کی فہرست دیکھئے۔ اس موقعہ پر سردار بچن سنگھ حاکم اور میر قاسم علی صاحب مرزائی مناظر کا (جو ر مقابل تھے) یہ سوال و جواب ملاحظہ فرمائیے۔
کا دعویٰ دیگر انبیاء کے ہم رتبہ و ہم پلہ ہونے کا تھا یا کم و بیش؟ م دوم کے ہیں۔ ایک صاحب شریعت وصاحب امت۔ دوم جو اسی عیت کے ماتحت ہوں۔ پہلی قسم کی مثال حضرت محمد ﷺ نبی اسلام کی ثال حضرت یحییٰ۔ مرزا قادیانی قسم دوم کے نبی تھے۔ م کے انبیاء میں روحانیت کے لحاظ سے کچھ فرق ہوتا ہے اور کیا؟ انبیاء پورے کمال کو پہنچے ہوئے اور قسم دوم کے ان سے کم درجے پر ہا کہ مالک اور نوکر کی حیثیت۔ ب کے بعد آپ کی مقرر کردہ قسم دوم میں کون کون نبی ہوئے ہیں؟ جتنے نائب (خلفاء یا مجددین) حضرت محمد صاحب کے بعد ہوئے ہیں وہ وم کے نبی تھے۔ جیسا کہ حضرت محمد صاحب نے فرمایا ہے۔ ”علماء امتی ائیل“ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔ بھی صاحب وحی والہام ہوتے ہیں؟ رسالہ فاتح قادیان (روئیداد مباحثہ لدھیانہ) ص ٤٥، مطبوعہ لال سٹیم پریس
الفظوں میں صاف اور صریح تصریح سنی ہو تو وہ بھی سنئے۔ آپ کے ا کہ: ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی اور ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢، ہنڈ بل ص ٢)
٧٠
اب نہ ہونے سے ہونے کی طرف رجعت قہقری فرمائیے اور مذکور الصدر استفسارات کا جواب دیجئے۔
دنیا جانتی ہے کہ حضور ﷺ کے اسم ذات دو ہیں محمد اور احمد۔ مگر مرزا قادیانی کا اسم ذات نہ محمد ہے نہ احمد۔ بلکہ ان کا اسم ذات غلام احمد ہے۔ آیت میں بشارت بھی بنام احمد ہے نہ کہ بنام غلام احمد۔ پھر یہ بشارت عیسوی حضرت احمد مدنی ﷺ کو چھوڑ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی کیونکر ہوگئی؟۔
قرآن کی آیت مذکورہ میں جب صاف اسمہ احمد ہے تو حضور ﷺ کو اس کا مصداق سمجھنے میں دنیائے اسلام حق بجانب ہے نہ کہ غلطی پر۔ ہاں اگر یہ کہہ دیجئے کہ بشارت مرزا قادیانی کی ہے جن کا نام غلام احمد ہے اور خدا نے اسمہ غلام احمد کے بجائے اسمہ احمد غلط وحی کر دی اور بقول مجذوب جو عندالمرزا صحیح وتسلیم ہے کہ: ”عیسیٰ قادیان میں ہے جوان ہوگا اور لدھیانے میں آکر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
اسی طرح قرآن ہی کو غلط اور اپنے عیسیٰ (مرزا قادیانی) کو قرآن میں غلطیاں نکالنے والا مان لیجئے تو دوسری بات ہے۔
جناب نے یہ خوب فرمایا ہے کہ پیشین گوئی کو مرزا قادیانی کی طرف نسبت کرنے سے آپ لوگوں کا کیا نقصان ہوا۔ یہی عاجزی آپ ایک جگہ اور دکھا چکے ہیں کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت ورسالت میں جھوٹ ہیں تو خدا کے گنہگار ہیں۔ گالی دینے والوں کا کیا بگاڑا ہے۔ یہ دراصل مرزا قادیانی کی نقل ہے۔ چنانچہ اپنے دعویٰ کی نسبت وہ بھی لکھ چکے ہیں کہ: ”میرے اس دعویٰ پر ایمان لانا جس کی الہام الہی پر بنیاد ہے کون سے اندیشے کی جگہ ہے۔ بفرض محال اگر میرا یہ کشف غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہورہا ہے۔ اس کے سمجھنے میں دھوکا کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں ہرج ہی کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٢، خزائن ج ٣ ص ١٨٨)
سبحان اللہ! یہاں ماننے والے کا ایمان رخصت ہوگیا۔ وہاں مرزا قادیانی فرمارہے ہیں۔ ہرج ہی کیا یہی حال مرزا قادیانی کے صحابی حافظ صاحب کا ہے کہ یہاں مرزا قادیانی کو نبی و رسول حتیٰ کہ مسلمان کہنے والا خارج از اسلام ہوگیا۔ زیر بحث پیشین گوئی کا انہیں مصداق بنانے نے خدا کی توہین کی۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ اور محمد رسول اللہ علیہما السلام کی تکذیب کی۔ دنیائے اسلام کی تضلیل کی اور جس نے مرزا قادیانی کو مصداق بنایا۔ اس کے ایمان واسلام کی ساری کائنات لٹ گئی۔ مگر حافظ صاحب کے یہاں ابھی کچھ بگڑا ہی نہیں اور کچھ نقصان ہی نہیں ہوا۔ انا
٧١
للّٰہ! پس مولوی صاحب کا یہ فرمانا کہ مرزا قادیانی کا اپنے کو اسمہ احمد کا مصداق بتانا ہی ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ حق اور بجا ہے۔
دوسرے حصہ کی پہلی بات کہ پیشین گوئی کی صحت، دلیل صداقت نہیں ہے۔ حافظ صاحب نے اس کے متعلق کچھ گہر افشانی کی ہے۔ مگر ایسی کہ نہ کہنا ہی بہتر تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی بالکل حافظ صاحب ہی ہیں اور علوم دینیہ سے قطعاً نابلد ہیں۔ ورنہ ذی علم سے تو یہ طرز بعید ہے۔ خیر سنئے اصل قصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جب دعویٰ کیا کہ میں مجدد، مہدی، مسیح، نبی، رسول وغیرہ ہوں اور ثبوت میں پیش کیا کہ میری پیشین گوئیاں صحیح ہوتی ہیں تو چونکہ یہ اس قاعدہ کو تسلیم کر لینے پر مبنی تھا کہ پیشین گوئی کا پورا ہونا دلیل نبوت ہے۔ حالانکہ یہ غیر مسلم ہے۔ لہٰذا اصل بناء کے غلط ہونے کی وجہ سے ادھر سے علماء اسلام نے جواب دیا کہ آپ کے دعویٰ کی دلیل غیر صحیح ہے۔ یہی مولوی صاحب نے یہی لکھا تھا۔ مگر حافظ صاحب ہیں کہ مرزا قادیانی کی تقلید میں ہمیں غلط قاعدہ کو صحیح منوانے کے در پے ہیں اور اس کے لئے اوّل نبوت کی تعریف کرتے ہیں کہ مولانا نبی تو کہتے ہیں اس کو ہیں جو دعویٰ نبوت کرے۔ ١
(نور الہدیٰ ص ٨٢، خزائن ج ٨ ص ٨٧)
علمی دنیا میں فن معقول کا یہ قانون مشہور اور مسلم ہے کہ شے کی تعریف بالمعروف جائز ہے اور بالمجہول ناجائز۔ لیکن مرزائی نہ معلوم کس دنیا میں رہتے ہیں۔ جہاں الٹی ہی گنگا بہتی ہے۔
چنانچہ خود مرزا قادیانی ہی کو دیکھئے۔ بقول خود وہ نبی ہیں۔ ایسے کہ قرآن ان کے منہ کی باتیں ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
الفاظ قرآنی دہقانی ہیں۔ قرآن پر ان کا کشف حاوی ہے۔ ان کے نزدیک قرآن میں قواعد صرف و نحو کا التزام بدعت ہے۔
(مناظرہ دہلی ص ٦١)
اور عیسیٰ ہیں ایسے کہ قرآن میں غلطیاں نکالیں گے۔ یہی حال ان کے امتی حافظ صاحب کا ہے کہ ان کی کتاب صرف و نحو کے قاعدوں سے معرا، مولویانہ باتوں سے مبرا تو تھی ہی اب معلوم ہوا کہ معقولی جھگڑوں سے بھی خالی ہے کہ نبی کی نبوت سے تعریف بالمجہول کرتے ہیں۔
اسی لئے بلا فصل آگے اس کی انہیں یوں تشریح کی ضرورت پیش آئی کہ: ”یعنی خدا کی طرف سے جو غیب کی باتیں لوگوں کو بتائے۔“ اور اسی کو پیشین گوئی کہتے ہیں۔ تو آپ کی اس تشریح کے مطابق نبی کی تعریف یوں بھی ہوئی کہ نبی وہ ہے جو خدا کی طرف سے غیب کی باتیں بتائے اور پیشین گوئی
١ دنیا میں الاشیاء تعرف باضداد ہا مشہور ہے۔ مگر اس تعریف سے معلوم ہوا کہ مرزائیوں کا ”بعینہا“ پر عمل ہے۔
٧٢
کی بھی تعریف معلوم ہوئی کہ ہے۔ لہٰذا یوں بھی نبی کی تعریف
علاوہ ازیں ص ٥ غیب کی باتیں بتانے والا چ اصطلاحی معنوں کا اطلاق ص خبریں معلوم کر کے بطور پیشی
غیب کی باتیں بتانے والا کہا عبارت میں جب پیشین گو پیشین گوئی بیان کرنے کا کیا
غرض اس عبار سے براہ راست غیب کی خبر میں غیب کا وہی غیر معروف ہر دو عبارت ملانے سے در نجومی رمال قسم اوّل کے نب دے یا پیشین گوئی کرے و تعریف خود حافظ صاحب تعریف کے
کہیں خط میں رسول کی تع نہیں ہوتا۔ حافظ صاحب رسول ہوتا ہے اور ہر رسو کے لفظی معنی صرف اتنے اصطلاحی معنوں میں رسو کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
وہ صاحب شریعت ہوں نبی نہیں جو رسول یعنی خ خبریں نہ بتائی ہوں۔
کی بھی تعریف معلوم ہوئی کہ غیب کا نام ہے۔ مگر غیب آپ کی عبارت میں چونکہ خود غیر معروف ہے لہذا یوں بھی نبی کی تعریف بالمجہول ہی رہی۔
علاوہ ازیں ص ١٦٥ پر آپ نے لکھا ہے کہ نبی کے لفظی معنی تو صرف اس قدر ہیں کہ غیب کی باتیں بتانے والا چونکہ نجومی و رمال وغیرہ بھی غیب کی خبریں بتایا کرتے ہیں۔ اس لئے اصطلاحی معنوں کا اطلاق صرف اس شخص پر ہوتا ہے جو خدائے تعالیٰ سے براہ راست غیب کی خبریں معلوم کر کے بطور پیشین گوئی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مگر یہ نہ بتایا کہ نبی کا لفظی معنی غیب کی باتیں بتانے والا کہاں لکھا ہے اور نہ یہ ظاہر کیا کہ یہ لفظی معنی لغوی ہے یا عرفی یا شرعی۔ پہلی عبارت میں جب پیشین گوئی غیب کو کہہ چکے ہیں تو اب پچھلی عبارت میں غیب کی خبریں بطور پیشین گوئی بیان کرنے کا کیا مطلب ہے؟
غرض اس عبارت سے نبی کا لفظی معنی غیب کی باتیں بتانے والا اور اصطلاحی معنی خدا سے براہ راست غیب کی خبر معلوم کر کے بطور پیشین گوئی بیان کرنے والا معلوم ہوا۔ مگر ہر دو تعریف میں غیب کا وہی غیر معروف لفظ داخل ہے جس سے تعریف بالمجہول لازم آتی ہے جو ناجائز ہے۔ ہر دو عبارت ملانے سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ نبی کی دو قسم ہے۔ لفظی اور اصطلاحی۔ نجومی رمال قسم اوّل کے نبی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اصطلاح میں نبی وہ ہے جو منجانب اللہ غیب کی خبر دے یا پیشین گوئی کرے یا غیب کو بطور پیشین گوئی بیان کرے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم و تعریف خود حافظ صاحب کی طبع زاد ہے۔ ورنہ حوالہ دینا چاہئے تھا۔
تعریف کے سلسلہ میں ایک لطیفہ اور بھی سن لیجئے۔ مولوی صاحب نے حافظ صاحب کو کہیں خط میں رسول کی تعریف لکھی تھی کہ جو مستقل شریعت لاتا ہے اور کسی اگلے رسول کا ماتحت نہیں ہوتا۔ حافظ صاحب نے جواب میں اوّل بہت کچھ غیظ و غضب کا اظہار فرمایا ہے۔ ”پھر ہر نبی رسول ہوتا ہے اور ہر رسول نبی“ کا عنوان قائم کر کے مذکورہ پچھلی عبارت کے بعد لکھا ہے کہ رسول کے لفظی معنی صرف اتنے ہیں بھیجا ہوا۔ چونکہ ہر شخص خدا کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہے۔ اس لئے اصطلاحی معنوں میں رسول اسے کہتے ہیں جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ پس نبی و رسول دونوں تمام نبیوں اور رسولوں پر استعمال ہوتے ہیں۔ خواہ وہ صاحب شریعت ہوں یا نہ ہوں۔ خواہ کسی اگلے رسول کے ماتحت ہوں یا آزاد ہوں۔ یعنی کوئی نبی نہیں جو رسول یعنی خدا کا بھیجا ہوا نہ ہو اور کوئی رسول نہیں جو نبی نہ ہو۔ یعنی اس نے غیب کی خبریں نہ بتائی ہوں۔
٧٣
عبارت خصوصاً تعریف کے بیان لطائف میں طوالت ہوگی۔ مگر یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جیسے پہلے نبی کی نبوت سے تعریف کی تھی۔ ویسے ہی اب رسول کی تعریف کردی۔ ایسی مسلسل غلطی میں کروں تو یقیناً علماء مرزائیہ اس کا سبب سہو کو نہیں بلکہ جہل کو قرار دیں گے۔ مگر حافظ صاحب کو اصلاح دعا بشارت اور مدد دینے والوں کی طرح وہ کاہے کو کچھ کہیں گے۔
حافظ صاحب کا مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ نبی ورسول میں کچھ فرق نہیں جو جمہور معتزلہ کا مذہب ہے۔ مگر وہ اظہار مدعا پر قادر نہیں ہیں۔ کیونکہ لفظاً فرق تو ظاہر ہے۔ معناً فرق خود انہوں نے تعریف میں کر دیا ہے۔ یعنی اصلاح کی قید رسول کی تعریف میں ہے۔ مگر نبی کی تعریف میں نہیں۔ پھر وہی نبی صاحب شریعت آزاد اور نبی بلاشریعت ماتحت بھی کہتے ہیں۔ باایں ہمہ کہتے جاتے ہیں کچھ فرق نہیں۔ مولوی صاحب کی طرح آزاد اور ماتحت کا فرق جب آپ کو تسلیم ہے تو ان کی طرح شارع کی طرف سے کوئی ایسا لفظ آپ بھی پیش کیجئے جس سے مصداقاً بھی یہ فرق ظاہر ہو۔ ہمارے پاس تو رسول کا لفظ ہے جس کی دلیل یہ ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول ولا نبی“ ﴿اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول اور نہ نبی۔﴾ آیت ہذا میں رسول کے بعد نبی کا ذکر بغرض تعمیم بعد التخصیص ہے۔ حضرت ابوذرؓ حضورﷺ سے راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ: ”کان الانبیاء مائة الف واربعة وعشرين الفا وكان الرسل خمسة عشر وثلثمائة رجل منهم اولهم آدم الى قوله اخرهم محمد“ ﴿انبیاء ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوئے اور رسول تین سو پندرہ۔ ان میں سے اول آدم اور آخر محمد ہیں۔﴾
حافظ صاحب! مجھے حیرت ہے کہ آپ نے ص ١٦٤ پر آخر کس بھروسہ پر اپنی غلط تعریف کو اصلی تعریف لکھا اور بناء پر مولوی صاحب کی صحیح اور مدلل تعریف کو ہزلی نامہ کہہ کر مضحکہ اڑایا ہے؟
یہ تو تعریف کا حال تھا اب اس دلیل کو بھی دیکھنا چاہئے۔ جس کے لئے ایسی غلط تعریف گڑھی گئی ہے۔ یعنی پیشین گوئی کا دلیل نبوت ہونا۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں۔ ہر نبی کو اپنی صداقت منوانے کے لئے نبوت یعنی پیشین گوئیوں کا کرنا ضروری ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔ کیونکہ نبی اور نبوت دونوں لازم وملزوم ہیں۔ ص ٨٣ نبی کے لئے پیشین گوئیوں کا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ نبی دو قسم کی پیشین گوئیاں کرتا ہے۔ کچھ دنیا کے متعلق، کچھ آخرت کے متعلق۔ چونکہ آخرت کا معاملہ مخفی اور صیغہ راز میں ہے۔ اس پر ایمان ویقین لانے کے لئے ایک
٧٤
کامل مشاہدہ کی ضرورت ہے اور مشاہدہ دنیاوی پیشین گوئیوں کے پورا ہونے پر منحصر ہے۔ جب لوگ دنیا میں اس نبی کی باتوں کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں تو عادۃً اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ بیشک یہ سچا نبی ہے اور جو کچھ اس نے عالم آخرت کے متعلق خبر دی ہے وہ سب سچ اور برحق ہے۔ ص ٨٥
اول یہ معلوم رہے کہ حقیقتاً خبر کا تعلق واقعہ گذشتہ سے اور پیشین گوئی کا واسطہ واقعہ آئندہ سے ہوتا ہے۔ خبر کا اطلاق پیشین گوئی پر مجاز ہے۔ پیشین گوئی کی حقیقت واقعہ آئندہ کا قبل از وقت بیان کرنا ہے۔ پیشین گوئی کا کرنا اور چیز ہے پیشین گوئی کا پورا ہونا امر آخر ہے۔ پیشین گوئی بوحی الہی نبی بھی کرتے ہیں اور نجوم، رمل، جفر وغیرہ کے ذریعہ سے غیر نبی بھی کرتے ہیں۔ پیشین گوئیاں دونوں کی پوری ہوتی ہیں۔ مگر نبی کی سب اور غیر نبی کی کم۔ نیز نبی کی پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے اور غیر نبی کا غیر ضروری۔ غالباً حافظ صاحب کو اس سے اختلاف نہ ہوگا اور نہ ہونا چاہئے۔
اب منقولہ عبارت میں تلاش کیجئے پیشین گوئی کرنا یا اس کا پورا ہونا دلیل نبوت ہے۔ اس کی دلیل اس میں یہاں ہے؟ عبارت کا ماحصل تو صرف یہ ہے کہ:
- ١....... نبی پر پیشین گوئی کرنا فرض ہے۔
- ٢....... اس کی دنیاوی پیشین گوئی پوری ہونا ضروری ہے۔
- ٣....... دنیاوی پیشین گوئی پوری ہوتے دیکھ کر لوگ اس کو سچا نبی سمجھتے ہیں۔ بھلا اس میں سے
کون سی بات دلیل ہے؟
پہلا امر خود ایک جدید دعویٰ ہے جو بلا دلیل ہے۔ دوسرا امر گو صحیح ہو مگر دلیل نہیں۔ تیسرا امر آپ کی مرزائی جماعت کے لئے دلیل ہو تو ہو ہمیں تو اس کی ضرورت ہے کہ جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گوئی کو اپنے لئے معیار صداقت قرار دیا اور اپنی نبوت کے لئے دوسروں کے سامنے اس کو بطور دلیل پیش کیا۔ قرآن وحدیث سے اسی طرح حضور ﷺ کی پیشین گوئی دکھلائے جس کو حضور ﷺ نے اپنا معیار صداقت بتا کر اوروں کے سامنے بطور دلیل نبوت پیش کیا ہو۔ ”فان لم تفعلوا فاتقوا النار“ حافظ صاحب کی مذکورہ عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کی نبوت اور اس کی صداقت اس کی پیشین گوئی خصوصاً دنیاوی پیشین گوئی کے پوری ہونے پر موقوف ہے اور اس پر ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگایا ہے۔ مگر اب انہیں کی دوسری عبارت سے اس کے برعکس تصور کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کا قابل ہے۔ فرماتے ہیں ص ٣٠ پر مولوی صاحب کو لکھا کہ نبوت کے بعد دوسری ٹھوکر پیشین گوئی میں اس کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے لگی۔
٧٥
مگر خود بجائے حقیقت لکھنے کے بطور الزام بلا نقل عبارت حضورﷺ پر اعتراض کیا کہ آپ کی پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔ پھر ص ١١٦ پر یہ عنوان قائم کیا۔ پیشین گوئیوں کی اصل حقیقت کیا ہے۔ مگر یہاں بھی اظہار حقیقت کی جگہ لکھے۔ پیشین گوئی کی تقسیم کر کے چار قسم ہے۔ جس کو سابقہ نقل کر چکا ہوں اور وہیں ان کی وہ عبارت بھی درج کر چکا ہوں۔ جن میں مذکور ہے کہ:
- ١...... اکثر پیشین گوئیاں مبنی بر استعارہ ہوتی ہیں۔
(ص ١٠٨، ١٦٠)
- ٢...... جن کی اصل حقیقت قبل از وقت ملہم من اللہ پر بھی منکشف نہیں ہوتی۔
(ص ١١٢)
- ٣...... پیشین گوئیوں کا قبل از وقت نبیوں کو بھی صحیح علم نہیں دیا جاتا۔
(ص ١١٣)
- ٤...... پیشین گوئی کی ہر قسم بینات وغیرہ میں نبی سے اجتہادی غلطی ہوتی ہے۔
(ص ١١٦)
- ٥...... ان سے اجتہادی غلطی ضروری ہے۔
(ص ١١٤)
- ٦...... ان سے خود خدا اجتہادی غلطی کراتا ہے۔
(ص ١١٧)
- ٧...... شیطان کو رخنہ اندازی کا موقع دیا جاتا ہے کہ نبی کے اجتہاد میں اپنی طرف سے
آمیزش کر دے۔
(ص ١١٥)
ناظرین ! ذرا تصور کا پہلا رخ پھر دیکھ لیں جس میں حافظ صاحب نے کس شدومد سے پیشین گوئی کو دلیل نبوت ذریعہ ہدایت اور ایمان کا موقوف علیہ قرار دیا تھا۔ مگر اب دوسرے رخ میں اسی کو اس جدوجہد سے ایسا مشکل الفہم ، مشکوک اور ناقابل اعتبار بنا دیا کہ اسی بناء پر انہیں خود لکھنا پڑا کہ:
- ١...... نبی میں یہ صفت بھی ہونی چاہئے کہ کبھی جھوٹ نہ بولا ہو۔ مگر نبی کے لئے پیشین
گوئیوں کا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔
- ٢...... خدا نے پیشین گوئیوں کا راستہ ہی صاف (مطلب یہ کہ خدا نے کہہ دیا کہ پیشین گوئی
دلیل نبوت نہیں ہے۔ اب دیکھنا ہے آپ خدا کی بھی مانتے ہیں یا نہیں) کر دیا کہ اگر کسی پیشین گوئی کے خلاف بھی دیکھو تو جلدی نہ کرو کہ مدعی نبوت کی تکذیب کرنے لگو۔ بلکہ پیشین گوئی کے تمام پہلوؤں پر غور کرو۔ پھر بھی سمجھ میں نہ آئے تو پیشین گوئی کے پیچھے نہ پڑو۔ نبی کی مقدس اور مجرب تعلیم سے اس کی نبوت پر ایمان رکھو۔ اس کے جھوٹا ہونے کا خیال بھی نہ کرو۔
- ٣...... نبی کی تعلیم میں ضرور کوئی بات ایسی بھی ہوتی ہے جس کے مقابلہ پر اگر ظاہر بین
لوگوں کی نظروں میں اس کی ہزاروں پیشین گوئیاں بھی غلط اور جھوٹی ثابت ہوں تب بھی صرف اس ایک بات کی وجہ سے اس مدعی نبوت پر ایمان لے آنا چاہئے۔
٧٦
- ٤۔ مرزا قادیانی کا یہ طرزِ عمل اور جماعت کے لئے تعلیم ان کی صداقت پر ایسی زبردست
دلیل ہے کہ جس کے بعد کسی دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر ان کی تمام پیشین گوئیاں بھی غلط یا جھوٹی ہوں تو ہمیں کسی کی پرواہ نہیں۔ ہمارے لئے ان کی اتنی ہی تعلیم ١؎ کافی ہے۔ جس پر چل کر ہم منزلِ مقصود پر پہنچ سکتے ہیں۔
حافظ صاحب سے کوئی پوچھے کہ نبی کی دنیاوی پیشین گوئی پوری ہونے کے یعنی مشاہدہ پر اظہارِ صدقِ نبوت اور ایمان و ہدایتِ خلق کا وہ انحصار اب کیا ہوا۔ کسی کو ٹھوکر لگی اور کون منہ کے بل گرا۔ آپ یا مولوی صاحب؟ یہ امر قابلِ غور ہے کہ جب حافظ صاحب کے نزدیک بھی پیشین گوئی صادق و کاذب یا نبی اور غیر نبی میں امرِ مشترک ہے اور اسی لئے بقول حافظ صاحب یہ ہو سکتا ہے کہ سچے نبی کو نجومی اور نجومی کو نبی سمجھ لیا جاوے تو کیا وجہ ہے کہ وہ صادق یا نبی کے لئے تو دلیل صداقت و برہانِ نبوت ہو۔ مگر کاذب یا غیر نبی کے حق میں ثبوتِ صدق و حجتِ نبوت نہ ہو۔ یہ میں نے مولوی صاحب کے سوال کی تقریر کی ہے۔ اس سوال پر حافظ صاحب نے بہت برہم ہو کر مولوی صاحب کو لکھا کہ اس قدر جرأت سے کام لیا کہ نبیوں اور نجومیوں کو ایک اسٹیج پر جا بٹھایا۔ آپ کا یہ ناروا فعل انبیاء کی شان میں سخت گستاخی اور ان کی توہین کا موجب ہے اور آپ کی یہ بات ہمارے لئے بالکل ناقابلِ تسلیم ہے۔ مگر خود جو نبی کو نجومی اور نجومی کو نبی سمجھا جا سکنے کی وہی جرأت کی اسکی خبر ہی نہیں۔
سوال کا جو جواب مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کاذب یا غیر نبی پیشین گوئی کنندہ دو قسم ہوتے ہیں۔ ایک مدعی نبوت دوسرے غیر مدعی نبوت۔ قسم اوّل مفتری علی اللہ ہے۔ اگر ایسا کاذب منجانب اللہ پیشین گوئی بیان کرنے کا دعویٰ کرے تو خدا اس کو بلا مہلت ہلاک کرے گا اور وہ کامیاب نہ ہوگا۔
حافظ صاحب نے بھی اپنے پنجابی نبی کی اتباع کی ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا
١؎ یعنی مرزا قادیانی بلفظ ”اللّٰہم انصر من نصر دین محمد“ خود دعاء بددعا کرتے اور اپنی جماعت کو اس کی تلقین فرماتے جو مرزائی اپنی پنجگانہ نمازوں میں اس کا بکثرت ورد رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اسی طرزِ عمل کو حافظ صاحب ان کی نبوت و صداقت کی دلیل کہہ رہے ہیں۔
٧٧
دعویٰ کر کے پیشین گوئی کرے اور کہے کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ ایسا ہوگا تو آپ یقین مانئے کہ ایسا کہنے والے کو فوراً سزا دی جاتی ہے۔ یہ سنت اللہ قدیم سے چلی آتی ہے۔ (ص ٨٥، ٨٦) مذکورہ عبارتوں میں نبی اور امتی دونوں نے مل کر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ:
- ١...... پیشین گوئی نبی اور غیر نبی میں مشترک ہے۔
- ٢...... یہ دھوکا ہو سکتا ہے کہ نبی کو غیر نبی اور غیر نبی کو نبی سمجھ لیا جائے۔
- ٣...... کاذب مدعی نبوت (متنبی) بھی پیشین گوئی کر سکتا ہے
اب اختلاف صرف اس امر میں رہ گیا ہے کہ:
- ١...... مفتری علی اللہ صرف جھوٹے نبی کو کہتے ہیں۔
- ٢...... مفتری کو فوراً سزا دی جاتی ہے۔
- ٣...... ہ مفتری کامیاب نہیں ہوتا۔
امر اوّل کہ مفتری علی اللہ محض جھوٹے نبی کو کہتے۔ تخصیص بلا مخصص اور دعویٰ بلا دلیل ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بات خلاف واقعہ کہنا کذب اور اس کو کسی طرف منسوب کرنا افتراء، اتہام، بہتان ہے۔ جس کا حاصل جھوٹ بنانا ہے اور جو ایسا کرے وہ مفتری ہے۔ پس افتراء اور مفتری عام ہے۔ ہر وہ جھوٹ افتراء اور اس کا مرتکب مفتری ہے جو انسان پر اتہام لگائے یا خدا پر اور خدا پر جھوٹا مدعی نبوت بہتان باندھے یا جھوٹا غیر مدعی نبوت۔ اس لئے خدا پر افتراء کرنے والوں میں سے خدا نے قرآن میں فرعون کی جماعت کو بھی ، یہود کو بھی ، نصاریٰ کو بھی ، مشرکین کو بھی ، جھوٹے مدعی نبوت کو بھی ، مفتری علی اللہ فرمایا ہے۔ مثلاً فرعون کی جماعت کو فرمایا۔ ”وقد خاب من افتری“ لہٰذا مرزا قادیانی اور حافظ صاحب کا محض قسم اخیر کو مفتری علی اللہ کہنا یہ خود ان کا افتراء علی اللہ ہے۔
امر دوم کہ مفتری علی اللہ کو فوراً سزا دیجاتی ہے۔ ہاں سزا بیشک ملتی ہے۔ مگر بلا مہلت اور فوراً یہ ادّعائے محض ہے۔ پھر فوراً اور بلا مہلت سے مراد اگر یہ ہے کہ ادھر زبان سے افتراء نکلا۔ ادھر بلا فصل مفتری کے سر پر بجلی گری تو یہ بھی قطعاً بے اصل ہے اور اگر جرم افتراء کے بعد سزا میں تاخیر ہوتی ہے چاہے وہ طرفۃ العین اور ایک سکنڈ کی ہو یا فرعون مدعی الوہیت کی طرح سیکڑوں برس
٧٨
کہے کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ ایسا ہوگا تو آپ یقین مانئے کہ ایسا ہے۔ یہ سنت اللہ قدیم سے چلی آتی ہے۔ (ص ٨٥، ٨٦) مذکورہ لیل کو یہ تسلیم کر لیا ہے کہ: نبی میں مشترک ہے۔ کو غیر نبی اور غیر نبی کو نبی سمجھ لیا جائے۔ تی) بھی پیشین گوئی کر سکتا ہے اس امر میں رہ گیا ہے کہ: ھوٹے نبی کو کہتے ہیں۔ تی ہے۔ وتا۔ شخص جھوٹے نبی کو کہے۔ تخصیص بلا مخصص اور دعویٰ بلا دلیل ف واقع کہنا کذب اور اس کو کسی طرف منسوب کرنا افتراء، ھوٹ بناتا ہے اور جو ایسا کرے وہ مفتری ہے۔ پس افتراء اور اور اس کا مرتکب مفتری ہے جو انسان پر اتہام لگائے یا خدا پر ٹھے یا جھوٹا غیر مدعی نبوت۔ اس لئے خدا پر افتراء کرنے فرعون کی جماعت کو بھی، یہود کو بھی، نصاریٰ کو بھی، مشرکین کو ی علی اللہ فرمایا ہے۔ مثلاً فرعون کی جماعت کو فرمایا۔ ”وقد یانی اور حافظ صاحب کا محض قسم اخیر کو مفتری علی اللہ کہنا یہ خود ان
فوراً سزا دیجاتی ہے۔ ہاں سزا بیشک ملتی ہے۔ مگر بلا مہلت اور ر بلا مہلت سے مراد اگر یہ ہے کہ ادھر زبان سے افتراء نکلا۔ تو یہ بھی قطعی بے اصل ہے اور اگر جرم افتراء کے بعد سزا میں اور ایک سکنڈی ہو یا فرعون مدعی الوہیت کی طرح سیکڑوں برس
٧٨
کی ہو تو مرزا قادیانی یا حافظ صاحب کو شریعت سے اس مدت تاخیر کی وہ حد بتانی چاہئے جس پر بلا مہلت اور فوراً کا بھی اطلاق ہو سکے۔ لیکن ان سے یہ بھی ناممکن ہے۔
مرزا قادیانی اور حافظ صاحب کے بلامہلت و فوراً کے برعکس قرآن وحدیث میں تاخیر منصوص ہے۔ کسی کے لئے تعین مدت کے ساتھ جیسے ابلیس کے لئے الٰی یوم یبعثون قیامت تک کی مہلت۔ بعض کے لئے بلا تعین مدت جس کے نظائر قرآن وحدیث میں بکثرت ہیں۔ پھر بھی یہ کہنا کہ مفتری پر بلا مہلت فوراً عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت قدیم سے چلی آتی ہے۔ بجائے خود افتراء علی اللہ ہے۔
امر سوم کہ مفتری علی اللہ کامیاب نہیں ہوتا۔ کہاں کامیاب نہیں ہوتا۔ عقبیٰ میں یا دنیا میں؟ پہلی صورت میں ہر عاصی مستحق عذاب اور کافر و مشرک کا بھی انجام ہوگا۔ پھر مفتری علی اللہ کی اس میں کیا خصوصیت ہوئی؟ دوسری صورت میں کامیابی سے مراد پیشین گوئی کا پورا نہ ہونا یا عزت وقعت دولت و جاہت حکومت کا نہ ملنا یا عمر کا دراز ہونا ہے تو یہ سب باتیں غلط ہیں جس کا قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس امثال موجود ہیں۔ مثلاً فرعون ہی لئے موجود ہے۔
علاوہ ازیں مفتری علی اللہ ہی کا کامیاب نہ ہونا یہ خصوصیت خود بلاوجہ ہے۔ مرزا قادیانی کا اربعین میں یہ وجہ بیان کرنا کہ اس کی گمراہی دنیا میں نہ پھیلے۔ عجیب مضحکہ خیز وجہ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ دنیا میں گمراہی صرف جھوٹے نبی ہی نہیں بلکہ دیگر لوگوں سے بھی بسا اوقات زیادہ پھیلتی ہے۔ آج بھی محض ایرانی بابی اور صرف پنجابی نبی جیسے کذابوں ہی سے نہیں بلکہ دہریہ، آریہ، ہنود، یہود، نصاریٰ بکثرت موجود ہیں جن سے گمراہی اشاعت پذیر ہے۔ پس مرزا قادیانی کا مفتری علی اللہ کو خاص کرنا اگر افتراء علی اللہ نہیں تو اور کیا ہے؟۔
غرض جب پیشین گوئی کا دلیل نبوت ہونا غلط ہو گیا تو مرزا قادیانی لاکھ پیشین گوئی کیا
١؎ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨، ٩ مسمی بہ عبرت خیز مونگیر ملاحظہ ہو جس میں بحوالہ تاریخ متعدد کامیاب جھوٹے مدعیان نبوت کا مفصل ذکر ہے۔
٧٩
کریں اور وہ پوری بھی ہوا کریں تو وہ اس سے نبی نہیں ہو سکتے۔ بلکہ حضور ﷺ کے بعد بوجہ مدعی نبوت ہونے کے بجائے صدق کے اپنے کذب پر مہر کرنے والے ہوئے اور حافظ صاحب کا سارا تانا بانا بگڑ گیا اور اب وہ بلا نبی کے ہو گئے۔
دوسرے حصہ کی دوسری بات مرزا قادیانی کی چھ پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا ہے جس میں سماوی وارضی پیشین گوئی بھی داخل ہے۔ ان چھ پیشین گوئیوں میں سے:
- ……١…… پیشین گوئی منکوحہ آسمانی (محمدی بیگم) کے متعلق ہے۔ جس کا مختصر حصہ
پہلے لکھ چکا ہوں اور تعارف کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ مرزا قادیانی اس میں بہت بدنام ہوئے۔
- ……٢…… پیشین گوئی پادری آتھم کے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی نے ٥؍ جون
١٨٩٣ء کو الہاماً کہا تھا کہ پادری آتھم پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت داخل ہاویہ ہوگا۔ مگر وہ اس مدت میں نہ مرا تو الٹاً مدراس سے پنجاب تک کے پادریوں نے علانیہ جشن منا کر مرزا قادیانی کا خوب مضحکہ اڑایا۔ مرزا قادیانی کی اس میں بھی بڑی کرکری ہوئی۔
- ……٣…… پیشین گوئی بصورت دعا مولوی ثناء اللہ صاحب غیر مقلد امرتسری کے
بالمقابل تھی کہ خدایا ہم دونوں میں سے جو کاذب ہو وہ صادق کے سامنے تیری سزا سے مر جائے۔ پھر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کا یہ قول بھی چھپا کہ: ”میں نے جو ثناء اللہ کے حق میں دعا کی تو الہام ہوا اجیب دعوۃ الداع یعنی یہ تیری دعا قبول ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی نے اول مشترک پھر خاص دعا کی اور خاص کا الہام ہوا کہ قبول ہوئی۔ ان باتوں کا انہوں نے اعلان بھی کیا۔ یہ سب کچھ ہوا مگر ظہور برعکس ہوا۔ یعنی تعبیر خواب کی طرح قبولیت دعا الٹی ہوگئی۔ کہ مرزا قادیانی مر گئے اور مولوی ثناء اللہ صاحب اہل حدیث ہنوز موجود ہیں۔ اس پیشین گوئی کے پوری ہونے نہ ہونے پر مولوی ثناء اللہ صاحب سے لدھیانہ مناظرہ بھی ہوا۔ مرزائیوں کو شکست ہوئی۔ حسب قرارداد بحیثیت فاتح مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزائیوں سے تین سو روپیہ بھی وصول کیا۔ رد مرزا کے لئے اللہ تعالیٰ ان کی حیات میں اور ترقی دے۔ آمین!
حافظ صاحب نے جواب میں فرمایا ہے کہ منکوحہ آسمانی، پادری آتھم کی پیشین گوئی ٨٠
میں مرزا قادیانی کو نہیں بلکہ دیکھئے۔ (ص١٥٩، ١٦٠) مولوی احمدی رسالہ کا اس دعا و فیصلہ ادھر سے بھی جوا حصہ از مولانا محمد علی قدس سرہ محمد یعقوب صاحب مولف جواب آئینہ حق نما از مولانا ہو کر دین اسلام قبول کیجئے سابقہ جلدوں میں یہ تمام رس اولاً و آخراً۔ مرتب)
- ……٤…… آ
صاحب نے کچھ جواب دیا
- ……٥…… پیش
نے پیشین گوئی کی کہ قادی (دافع البلا ص١٠، ١١، خزائن میں طاعون آیا اور زوروں ہے۔ قادیان میں نسبتاً آ شریف احمد بیمار ہوا۔ ( قادیان میں طاعون کی چہ قادیانی کے الہام کے م صفائی شروع کر دی۔ (اب حافظ صاح ایں ہم غنیمت است۔
میں مرزا قادیانی کو نہیں بلکہ دوسروں کو اجتہادی غلطی لگی۔ جس کا جی چاہے مکمل ریکارڈوں کو دیکھئے۔ (ص ١٥٩، ١٦٠) مولوی ثناء اللہ صاحب کے بالمقابل پیشین گوئی کی بابت ہدایت کی ہے کہ احمدی رسالہ کا اس دعا و فیصلہ والا نمبر اور کتاب آئینہ حق نما دیکھنا چاہئے۔ (ص ٧٦، ٧٧)
ادھر سے بھی جواباً عرض ہے کہ خانقاہ رحمانیہ، مقصود پور، مونگیر سے فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ از مولانا محمد علی قدس سرہ اور تجارتی کتب خانہ قاسمی، دیوبند، ضلع سہارنپور تحقیق لاثانی از مولوی محمد یعقوب صاحب مولف عشرہ کاملہ اور دفتر اہل حدیث امرتسر پنجاب سے الہامات مرزا بمع جواب آئینہ حق نما از مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری منگا کر ملاحظہ فرمائے اور مرزائیت سے تائب ہو کر دین اسلام قبول کیجئے۔ (نوٹ: اللہ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں یہ تمام رسائل و کتب شائع کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ فلحمد للّٰہ اولاً و آخراً۔ مرتب)
- ٤...... آسمانی پیشین گوئی چاند اور سورج گرہن کے متعلق ہے۔ مگر اس کا نہ حافظ
صاحب نے کچھ جواب دیا اور نہ مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔
- ٥...... پیشین گوئی طاعون والی ہے۔ یعنی پنجاب میں طاعون تھا۔ مرزا قادیانی
نے پیشین گوئی کی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ (دافع البلاء ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) لیکن خدا نے پنجابی رسول کا تخت الٹ دیا۔ یعنی قادیان میں طاعون آیا اور زوروں پر آیا۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ (البدر ١٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء) قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔ (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) اور ان کے مریدوں نے لکھا کہ قادیان میں طاعون کی چند وارداتیں ہوئیں۔ (البدر ٢٣؍اپریل ١٩١٢ء) قادیان میں طاعون (مرزا قادیانی کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔ (ایضاً ١٦؍مئی) قادیان میں طاعون نے صفائی شروع کردی۔ (ایضاً ١٦؍اپریل ١٩٠٤ء)
حافظ صاحب نے اس کی بابت بھی سکوت فرما کر مجھے کچھ لکھنے سے سبکدوش کردیا۔
ایں ہم غنیمت است۔
٨١
٦....... پیشین گوئی کسر صلیب کے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی نے فرمایا تھا کہ: "میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔ اگر میں نہ توڑوں تو گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔" راہ حق (ص٣١) مولوی صاحب!
حدیث میں ہے کہ جب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے تو صلیب کو بھی توڑیں گے۔ مرزا قادیانی نے چونکہ عیسیٰ موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ لہٰذا انہوں نے لوازمات مسیحیت کا بھی دعویٰ کیا۔ جن میں سے کسر صلیب بھی ہے اور اس پیشین گوئی میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے سے تعبیر کیا ہے۔ ہم اہل اسلام تو لفظ حدیث یعنی فیکسر الصلیب کا حقیقی معنے لیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنا اختراعی مرادی معنی لکھتے ہیں کہ: "صلیب کے توڑنے سے روحانی طور پر صلیب کو توڑنا اور صلیبی مذہب کو پاش پاش کرنا مراد ہے۔" اور حافظ صاحب بھی اسی کے قریب قریب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات کو ثابت کر کے ان دجالوں (پادریوں یا عیسائیوں) کے خدا کی ہستی کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ (ص٦٢ در حاشیہ)
مگر حقیقی معنی کرنے میں چونکہ کوئی خرابی نہیں۔ لہٰذا مرزائی مرادی یا مجازی معنی بلاقرینہ لینا غلط ہے۔ اور اگر تنزلاً مجازی معنی مان لیں تو بھی مرزا قادیانی کو کچھ مفید نہیں۔ کیونکہ اسلام کی طرف سے عیسائیوں کے مقابلہ میں وہ کونسی دینی خدمت ہے کہ مرزا قادیانی نے کی اور علمائے اسلام نے نہیں کی۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بجائے خدمت کے اسلام کی توہین کی اور بجائے تردید کے یہودیت و نصرانیت کی تائید کی۔ عروج مسیح، حیات مسیح، نزول مسیح، ظہور مہدی، خروج دجال، ختم نبوت وغیرہ مسائل اسلامیہ کے حقیقی وجود کو غائب کر دیا۔ بجائے کسر صلیب کے خود تثلیث کی تعلیم دی۔ چنانچہ فرماتے ہیں: "اور ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر نرو مادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الٰہی کی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔"
(توضیح مرام ص ٤٨، خزائن ج ٣ ص ٦٢)
غرض کسر صلیب کی پیشین گوئی بھی خود مرزا قادیانی کے ہاتھوں جھوٹی ثابت ہوئی۔
٨٢
مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔“ (آئینہ کمالات ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ان کے پیش کردہ معیار صدق و کذب کے مطابق ان پیشین گوئیوں سے دنیا نے ان کا امتحان لیا۔ پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ لہٰذا دنیا ان کو جھوٹا سمجھنے پر مجبور ہے۔ مگر حافظ صاحب حب مرزا میں ظلمت کذب کو ہنوز صبح صادق ہی سمجھ رہے ہیں جو فرماتے ہیں کہ: ”ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں، جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مرزا قادیانی کی ایک بھی پیشین گوئی نہیں جو خدا سے علم پا کر کی گئی ہو اور وہ غلط یا جھوٹی ہوئی ۔ ص ١٧٤“
پس مولوی صاحب نے جو نتیجہ نکالا تھا وہ صحیح ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں کاذب ہیں۔
- ٨.......مسیح ابن مریم علیہا السلام کی حسب آیت فلما توفیتنی وفات ہو چکی۔ فقط !
مولوی صاحب نے اس آیت اور دوسری دو آیت سے بھی حیات مسیح ثابت کر کے مرزائی کا اچھا جواب دیا ہے۔ جواب الجواب میں حافظ صاحب سے کچھ نہ ہو سکا۔ بس دعویٰ کر دیا کہ خدا نے دو جگہ تو صراحتاً اور اکثر جگہ اشارتاً حضرت مسیح کی وفات کا ذکر کر کے اس قضیہ نامرضیہ کا فیصلہ کر دیا۔ (ص ٨٧) مگر صراحۃً اور اشارۃً والی نقل نہ کی۔ ہاں دو ہدایات البتہ کی۔
اول یہ کہ (ص٨٠) پر ہدایت کی کہ مرزا قادیانی کی کتاب نزول المسیح اور مسیح ہندوستان میں دیکھئے۔ جواباً ادھر سے بھی گزارش ہے کہ قاضی سلیمان صاحب مرحوم کی کتاب تائید الاسلام اور غایۃ المرام مولوی ابراہیم صاحب کی کتاب شہادۃ القرآن ہر دو حصہ اور اثمر الصحیح عن قبر المسیح مولوی حکیم خدا بخش صاحب کی کتاب البیان الصحیح فی حیاۃ المسیح ، مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی مدرس ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کی کتاب کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ ، مولانا محمد عبدالشکور مدیر النجم لکھنوی کی بمقابلہ مرزائیاں بحث حیات حضرت مسیح بن مریم ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی مدظلہ العالی کی الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح وغیرہ ملاحظہ فرمائے۔ (نوٹ: یہ اکثر کتب احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں۔مرتب)
دوم یہ کہ (ص٩٧) پر چیلنج دیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے اور فوت شدہ دنیا میں واپس نہیں آسکتا۔ اگر آپ لوگوں میں اس فیصلہ کے توڑنے کی قوت ہے تو حیات مسیح اور ان کا
٨٣
زندہ بجسدہ عنصری آسمان پر جانا قرآن وحدیث سے ثابت کریں اور ہمارے موجودہ امام علیہ السلام (مرزا بشیر الدین محمود خلیفۃ المسیح ثانی ولد مرزا غلام احمد قادیانی) سے مبلغ تیس ہزار روپے کا انعام حاصل کریں۔ پھر اس کے بعد ایک سیکنڈ کے لئے بھی سلسلہ احمدیہ (مرزائیہ) میں رہنا ہمارے لئے حرام ہوگا اور ہم خدا کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہم بلا کسی دلیل اور ثبوت کے حضرت مسیح ناصری کی آمد کا انتظار کریں گے خواہ انتظار کرتے کرتے قیامت ہی کیوں نہ آجائے۔
جواباً عرض ہے کہ ہمیں آپ کا یہ چیلنج بسر و چشم منظور ہے۔ لیکن اوّلاً یہ فرمائیے کہ جب کتب مذکورہ خصوصاً غایۃ المرام اور تائید الاسلام میں قاضی سلیمان صاحب مرحوم نے اور شہادت القرآن ہر دو حصہ میں مولوی ابراہیم صاحب نے بفضلہ تعالیٰ عروج مسیح اور حیات مسیح کو بدلیل صحیح قرآن وحدیث سے کما حقہ ثابت کر دیا جس کا جواب نہ خود مرزا قادیانی سے ہو سکا۔ نہ آپ کے موجودہ امام سے بن پڑا اور الحمد للہ وہ کتابیں ہنوز لاجواب ہیں تو مرزا محمود صاحب نے انہیں انعام مذکور کیوں نہ دیا اور آپ نے مرزائیت سے توبہ کر کے دین اسلام کیوں نہ قبول کیا؟ ثانیاً اس چیلنج کے شرائط اور دیگر امور ضروریہ کی بابت معاملہ مجھ سے آپ طے کریں گے یا آپ کے موجودہ امام صاحب کیا میں امید رکھوں کہ آپ مجھے مناسب اور جلد جواب دیں گے؟
ناظرین! مرزائی نے نمبر ٨ میں ثبوت وفات مسیح میں جو آیت پیش کی ہے اور اس کی حمایت میں بجواب مولوی صاحب جو کچھ حافظ صاحب نے فرمایا ہے وہ وہی ہے جس کا جواب ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ لیکن بخاطر ناظرین ایک بات اور عرض کرتا ہوں کہ مرزائی نے یہ آیت ثبوت وفات مسیح میں پیش کی ہے۔ قیامت کے دن نصاریٰ کے متعلق خدا کے سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰ ابن مریم فرمائیں گے کہ: ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علیٰ کل شئ شھید (مائدہ) “ ﴿پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا تو آپ ان پر مطلع رہے اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔﴾
آیت میں مابہ النزاع لفظ توفیتنی ہے۔ جس کا مادہ توفی ہے۔ آیۃ ہذا میں ہم اس کو بمعنی رفع لیتے ہیں اور مرزا قادیانی بمعنی موت۔ مرزا قادیانی نے ازالہ میں بزعم خود ثبوت وفات مسیح کے لئے تیس آیتیں جو پیش کی ہیں ان میں سے ایک تو یہ تھی جو مرزائی نے لکھی ہے اور ایک آیت یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ الایہ بھی ہے۔ اس میں بھی انہوں نے متوفیک کو بمعنی ممیتک اور اس کے مادہ توفی کو بمعنی موت لیا ہے۔ جس کی دلیل یہ لکھی ہے کہ توفی کے معنی اماتت اور قبض روح کے
٨٤
ہیں ۔ ”بعض علماء نے الحادا
خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نص
ہے۔ قرآن شریف میں اوّ
یہ تو مرزا قادیا
علماء اسلام پر الزام الحاد وتحر
مرز قادیانی کا حال سنئے۔
١......
میں (بلفظ متوفیک) مو
(ج ٣ ص ٣٠٢) پر مان لیا۔
مراد ہے ۔ “ نیز اسی کتاب
مراد باعزت موت ہے
قبول کر لیا ہے۔“
دیکھئے مرزا
تھا۔ مگر کس صفائی سے آ
اور نیند کی طرف اتر آ۔
٢......
میں لکھا ہے کہ مرزا قا
آپ کو خدا بنایا ہے۔ ا
ذی روح اور اس سے
کے کسی اور معنی میں مست
٣......
”براہین احمدیہ میں ج
سیدہ فاطمہ زہرا نے ہ
عیسیٰ انی متوفیک کا ا
ہیں ۔ ”بعض علماء نے الحاد اور تحریف سے اس جگہ توفیتنی سے رفعتنی مراد لیا ہے اور اس طرف ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے۔ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی معنی کا التزام کیا گیا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٠١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٢٦)
یہ تو مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق لغت ، قرآن ، حدیث کے خلاف معنی کر کے علماء اسلام جرائم الحاد وتحریف کے مرتکب اور اس لئے محرف وملحد یعنی کافر ہوئے ۔ مگر اب مرزا قادیانی کا حال سنئے ۔
- ١....... (ازالہ ص ٣٩٤، خزائن ج ٣ ص ٣٠٣) پر اقرار کیا ہے کہ : ” آیت متوفیک
میں ( بلفظ متوفیک ) موت کا وعدہ ہے ۔ نہ کہ موت کی دلیل یا خبر ۔“ اور (ازالہ ص ٣٩٢، خزائن ج ٣ ص ٣٠٢) پر مان لیا ہے کہ : ” متوفیک میں موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے۔“ نیز اسی کتاب میں متعدد مقام پر تسلیم کر لیا ہے کہ بقرینہ متوفیک ورافعک الیٰ سے مراد باعزت موت ہے اور (ازالہ ص ٣٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٧٩) پر ”توفی کا معنی بظاہر نیند ہونا قبول کر لیا ہے۔“
دیکھئے مرزا قادیانی نے توفی کا حقیقی معنی موت لیا اور آیت کو دلیل موت میں پیش کیا تھا۔ مگر کس صفائی سے اسی آیت اور اسی لفظ کی بحث میں وعدۂ موت، مجازی موت، باعزت موت اور نیند کی طرف اتر آئے ۔ ابھی کیا ہے اور دیکھئے۔
- ٢....... مولوی ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی نے (شہادۃ القرآن طبع سوم ج ١ ص ١١٠)
میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں جہاں اپنے آپ کو خدا بنایا ہے۔ استوفانی لکھا ہے اور اس جگہ فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور مفعول خود مرزا قادیانی ذی روح اور اس سے مراد موت نہیں ہے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ لفظ توفی سوائے قبض روح کے کسی اور معنی میں مستعمل نہیں ہوتا۔ بالکل غلط اور مردود ٹھہرا۔
- ٣....... قاضی سلیمان مرحوم نے (تائید الاسلام طبع دوم ص ١٦) میں لکھا ہے کہ:
” براہین احمدیہ میں جس کو مرزا قادیانی نے خدا کے حکم والہام سے لکھا اور جس کو کشف میں حضرت سیدہ فاطمہ زہرا نے مرزا قادیانی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ تفسیر علی مرتضیٰ ہے۔ مرزا قادیانی نے آیت یا عیسیٰ انی متوفیک کا اپنے اوپر الہام ہونا لکھا ہے اور پھر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے
٨٥
پوری نعمت دوں گا۔ ظاہر ہے کہ اگر متوفیک کے معنی حقیقی تجھے ماروں گا ہوتے تو الہامی کتاب اور کشفی تفسیر میں یہ ترجمہ اس کا نہ کیا جاتا۔ مرزا قادیانی اس وقت بھی کچھ جاہل نہ تھے جو توفی کے معنی نہ جانتے ہوں۔ پس اگر یہ ترجمہ ان کے لئے جائز اور صحیح ترجمہ تھا تو حضرت مسیح کے لئے کیوں یہ ترجمہ صحیح نہیں ۔‘‘
مرزا قادیانی نے جس جرم کی بناء پر علماء اسلام کو محرف ، ملحد بنایا تھا۔ اسی جرم کے مجرم وہ خود بھی ہیں۔ علماء اسلام تو خیر عالم ہی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی تو مجدد، مہدی، مسیح، نبی، قمر الانبیاء، جامع النبیین، خاتم النبیین ١؎ ابن اللہ وغیرہ بڑے سنگین مجرم ہوئے۔ مگر اب کون کہے کہ لغت قرآن، حدیث، التزام کے خلاف تحریف اور الحاد کر کے خود مرزا قادیانی کیا ہوئے؟
معزز ناظرین! سچی بات یہ ہے کہ جو شخص کسی کے مقابلہ میں علاوہ بدزبانی اور فضول طول نویسی کے اپنی کتاب میں اتنی غلطیاں کرے۔ ایسی بے ترتیب باتیں لکھے۔ نہ وہ قابل خطاب ہے نہ اس کی کتاب لائق جواب، مگر صرف اس خیال سے کہ عوام کچھ کا کچھ نہ سمجھ بیٹھیں ۔ مولوی صاحب کی طرف سے حافظ صاحب کی غلطی اور بے ترتیبی ظاہر کر کے دکھلانا پڑا کہ یہ ہے حافظ صاحب کی قابلیت اور ان کے غیر معمولی کتاب کی معجزانہ حالت اور یہ ہیں مدد، اصلاح، دعا، بشارت کردہ اور خدائی مصافحہ والی تحریر میں مرزا قادیانی کی صداقت کے ہزاروں نشان، شاید اسی لئے کتاب حافظ صاحب کے موجودہ امام کی تائیدی و تصدیقی دستخط سے بھی محروم ہے۔
خدا کرے میری یہ تحریر مرزائیوں کے لئے ذریعہ ہدایت اور دیگر بھائیوں کے حق میں باعث مزید بصیرت ہو۔ آمین یا رب العالمین!
حکیم محمد عبدالشکور حنفی مرزاپوری، یکم نومبر ١٩٣٠ء
١؎ جیسا کہ مرزائی کتاب (کلمۃ الفصل ص ١١٦، عقائد محمودیہ ص ١٦) میں لکھا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔‘‘ نعوذ بالله من هذا الهفوات!
٨٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مجھے آخری نبی مانو سچے دل سے تسلیم کرو
حقیقت مرزائیت
مع ختم نبوت
بجواب
اجرائے نبوت
(حضرت مولانا علم الدینؒ ساکن خاص قادیان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم“
دیباچہ
پہلے مجھے دیکھئے
صوبہ پنجاب کے ضلع گورداسپور، قصبہ قادیان میں ایک صاحب مرزا غلام احمد قادیانی پیدا ہوئے ہیں۔ جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح موعود مہدی مسعود وکرشن اور نبی و رسول وغیرہ وغیرہ ہوں اور میرا منکر کافر ہے۔ علمائے اسلام سے آپ کی بحثیں بھی ہوئیں اور ہر جگہ آپ کو شکست فاش ہوئی۔ لیکن آپ نے باطل کا دامن نہیں چھوڑا۔ حالانکہ آپ کے تمام متحدیانہ دعاوی غلط ثابت ہوئے۔ تاہم آپ بولنے سے بند نہیں ہوئے۔ آپ کی سیرت کے نمونہ ایک صاحب مسمی ابراہیم قادیانی مرزائی جو مولوی بھی کہلاتے ہیں اور جناب مرزا قادیانی کے مخلص مرید ہیں۔ چند ماہ سے شہر کیمبلپور میں تشریف فرما ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دے کر قادیانی مسیح کی نبوت منواتے ہیں۔ جناب کو قادیانی بھیڑوں کی طرح میمیانے کی بہت عادت ہے۔ آپ نے حال میں ایک چار ورقہ ٹریکٹ بنام ”اجرائے نبوت“ شائع کیا ہے۔ جس میں اپنے پیر کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔ چونکہ آپ کے اس ٹریکٹ اور میمیاہٹ مجادلانہ سے مسلمانوں کے شبہ میں پڑنے کا احتمال تھا۔ کیونکہ اس علاقہ کے لوگ مرزائیوں کی چال سے ناواقف ہیں۔ بنابریں یہ چند اوراق ہدیہ ناظرین ہیں۔ جن میں اجراء نبوت کی قلعی کھولی گئی ہے اور شروع میں حقیقت مرزائیت کے نام سے چند ابواب درج کر دیئے گئے ہیں جن میں مرزائی مذہب پر لایحل سوالات کئے گئے ہیں۔ جن کا امت مرزائی قیامت تک جواب نہیں دے سکتی۔ ان ابواب میں مسیح قادیانی کی حقیقت کا پورا انکشاف کیا گیا ہے۔
مجموعہ کا نام ”حقیقت مرزائیت معہ ختم النبوۃ بجواب اجراء نبوت“ رکھتا ہوں۔ امید ہے ناظرین اس رسالہ کو اس بحث میں اچھا پائیں گے اور اس سے خود واقف ہو کر سادہ لوح مسلمانوں کو مرزائیوں کی گمراہی سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ ”ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم“
(نوٹ) مخالف کو منکر اور اپنے آپ کو مثبت سے تعبیر کروں گا۔
خادم المسلمین علم الدین ساکن خاص قادیان حال خطیب جامع مسجد کیمبلپور شہر
٢
حقیقت مرزائیت
باب الوہیت مرزا (خدائی دعویٰ)
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ ہو بہو خدا ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ بے شک میں خدا ہوں۔ اسی حالت میں میں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو پہلے تو میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح“ بیشک ہم نے زینت دی ہے آسمان دنیا کو ستاروں سے۔ پھر میں کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، کتاب البریہ ص ٧٩)
کیا کسی نبی نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔ اگر نہیں کیا تو کیا مرزا قادیانی بقول خود کہ:
”بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں۔ تا کہ کسی نبی کی خصوصیت منجر بہ شرک نہ ہو جائے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٠، خزائن ج ١٧ ص ٩٥)
خدائی دعویٰ مرزا قادیانی ہی کی خصوصیت ہے اور کسی نبی نے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
تنبیہ: حقیقت مرزائیت میں مرزا قادیانی پر جو اعتراضات ہیں ان کی نظیر کسی نبی میں دکھانی ہوگی۔ اولیاء کے اقوال اس بارے میں مسموع نہیں ہوں گے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو نبی ہونے کا دعویٰ ہے نہ کہ صرف ولی ہونے کا اور نبیوں کو نبیوں پر قیاس کیا جاتا ہے۔ نہ اولیاء پر۔
باب شرک مرزا
حیات مسیح مشرکانہ عقیدہ اور شرک عظیم ہے
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”اس جگہ مولوی احمد حسن صاحب امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقع مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تاکہ کسی طرح مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنادیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔“
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
٣
- ٢...... "فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات وان ھو الا
شرك عظيم ياكل الحسنات"
(استفتاء ملحقہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠)
ترجمہ: یہ بے ادبی ہے کہ کہا جائے کہ بے شک عیسیٰ نہیں مرے اور یہ بہت بڑا شرک ہے۔ جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔
- ٣...... "اور درحقیقت صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی
طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔"
(حقیقت الوحی ص ٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧)
- ٤...... "کلا بل ھو میت ولا یعود الی الدنیا الی یوم یبعثون
ومن قال متعمداً خلاف ذالك فھو من الذین ھم بالقرآن یکفرون"
(استفتاء ص ٤٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٦)
ترجمہ: یاد رکھو بلکہ وہ مر چکا ہے اور وہ قیامت تک واپس نہیں آئے گا اور جو شخص اس کے خلاف کہے وہ ان لوگوں میں سے ہے جو قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔
- ٥...... "ولا شك ان حیات عیسیٰ وعقیدہ نزولہ باب من ابواب
الاضلال ولا یتوقع منہ الانواع الوبال"
(استفتاء ص ٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٠)
ترجمہ: اس میں شک نہیں کہ حیات عیسیٰ اور ان کے نزول کا عقیدہ گمراہی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس سے سوائے قسم قسم کی مصیبتوں کے اور کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
تصویر کا دوسرا رخ
مرزا قادیانی خود باون برس تک حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل رہے چنانچہ فرماتے ہیں:
- ١...... "جس زمانہ میں خدا نے براہین احمدیہ میں یہ فرمایا۔ اس وقت تو میں اس
دقیقہ معرفت سے خود بے خبر تھا۔ جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں اپنا عقیدہ بھی ظاہر کر دیا کہ عیسیٰ آسمان سے آنے والا ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥١)
- ٢...... "اور مجھے کب خواہش تھی کہ مسیح موعود بنتا۔ اگر مجھے یہ خواہش ہوتی تو میں
براہین احمدیہ میں اپنے پہلا اعتقاد کی بناء پر کیوں لکھتا کہ مسیح آسمان سے آئے گا۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٢)
٤
٣...... ”مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر سے نازل ہوں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)
٤...... ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
٥...... ”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا۔ جب بارہ برس گذر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
نتیجہ
مرزا قادیانی چالیس برس کے تھے جب آپ کو الہام ہونا شروع ہوا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں۔ ”یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر اس صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے اور یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“ اور الہام شروع ہونے کے بعد بھی مرزا قادیانی بارہ برس تک عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے رہے۔ بلکہ اس عقیدہ پر خوب جمے رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا بقول مرزا قادیانی مشرکانہ عقیدہ اور بہت بڑا شرک، نیکیوں کو کھانے والا، گمراہی کا دروازہ، قرآن کا کفر وغیرہ وغیرہ ہے۔ تو پھر مرزا قادیانی چالیس برس الہام سے پہلے اور بارہ برس الہام کے بعد باوجود نبی ہونے کے کیوں اس مشرکانہ عقیدہ اور شرک عظیم پر بڑی سختی کے ساتھ جمے رہے اور چالیس اور بارہ گویا باون برس تک مشرک رہے۔ کیا کوئی نبی ایسا ہوا؟ جو باون برس تک ایسے عقیدے پر جما رہا ہے جس کو بعد میں شرک عظیم اور گمراہی بتلا دے؟ اور کیا وہ شخص نبی ہوسکتا ہے؟ جو زمانہ الہام میں بھی بارہ برس تک مشرک
٥
رہے؟ کیا اس کی نظیر بتلائی جا سکتی ہے؟ کہ ایک شخص باون برس تک ایک عقیدہ پر قائم رہے۔ اس کے بعد اس عقیدہ کو شرکانہ عقیدہ اور شرک عظیم کہے اور وہ نبی بھی ہو؟
اگر اس کی نظیر سابق انبیاء میں نہیں تو مرزا قادیانی بقول خود سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٩٥)
جھوٹے ثابت ہوئے اور نیز بقول خود باون برس تک مشرک رہے۔ حالانکہ نبی کبھی مشرک نہیں ہوتا۔ نہ نبوت سے پہلے اور نہ نبوت کے بعد اور مرزا قادیانی نبوت ملنے کے بعد بھی بارہ برس تک مشرک رہے۔ پھر یہ کیسے نبی ہوئے؟
(باب) توہین عیسیٰ علیہ السلام
مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ١....... ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز
کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
اس عبارت میں عیسیٰ علیہ السلام پر چوری اور دھوکہ دہی کا الزام ہے۔
- ٢....... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٣....... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٤....... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شائد اسی وجہ ہو کہ جدی
مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ان عبارات میں مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو گندی گالیاں دی ہیں۔ ان گالیوں کی نسبت مرزا قادیانی کا عذر لنگ یہ ہے۔
٦
”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٩ حاشیہ خزائن ج١١ ص٢٩٣)
حاصل یہ ہے کہ گالیاں عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں دی گئیں۔ بلکہ یسوع کو اور یسوع ایسا شخص تھا کہ اس کو بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔ تصویر کا دوسرا رخ۔
حالانکہ مرزا قادیانی خود (توضیح مرام ص٣، خزائن ج٣ ص٥٢) میں فرماتے ہیں کہ: ”دوسرے مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“ اور (تحفہ قیصریہ ص٢٠، ٢١، خزائن ج١٢ ص٢٧٢) میں فرماتے ہیں۔ ”اس (خدا) نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ جدا نہیں مگر خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں ہے جو تھوڑے ہیں۔“
اور (تحفہ قیصریہ ص٢٣، خزائن ج١٢ ص٢٧٥) میں فرماتے ہیں۔ ”اس جگہ اس قدر لکھنے کی میں نے اس لئے جرأت کی کہ حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے دل میں ہے اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنی اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر باادب التماس کروں۔“ پہلے جس کو گالیاں دیں۔ اس کی محبت وعظمت اور ایلچی پن کا اظہار نہایت تملق سے کر رہے ہیں۔ اس (تحفہ قیصریہ ص٢٤، خزائن ج١٢ ص٢٧٦) پر فرماتے ہیں۔ ”یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے جو میں پہنچاتا ہوں۔“ اسی کے (تحفہ قیصریہ ص٢٤، خزائن ج١٢ ص٢٧٦) پر فرماتے ہیں ”اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے۔“ (بہت اچھا) (تحفہ قیصریہ ص٢٥، خزائن ج١٢ ص٢٧٧) پر فرماتے ہیں۔ ”اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں۔ (کیوں نہ ہو) اور محض اس کی طرف سے رسالت لے کر
٧
بحیثیت ایک سفیر کے اپنے عادل بادشاہ کے حضور میں کھڑے ہیں۔‘‘ ( کیا کہنا ) لیکن باوجود سفیر محض ہونے کے پھر بھی عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
علاوہ اس کے پادری لوگ جس کو خدا مانتے ہیں۔ وہ تو عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ’’عیسائیوں مشرکوں نے عیسیٰ ابن مریم کو خدا بنایا۔‘‘
( دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
پھر یسوع کوئی جدا شخص نہیں ہو سکتا اور پادریوں کا یسوع کی طرف غلط باتیں نسبت کرنا اس سے یسوع پر کوئی الزام نہیں آ سکتا۔ یوں کہنا چاہئے تھا کہ یہ امور ان کی طرف غلط نسبت کئے گئے ہیں۔ نہ کہ خود یسوع کو گالیاں دینا۔ جن کی نبوت یقینی طور پر قرآن شریف سے ثابت ہے۔
جب مرزائیوں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کا جواب انہیں کے اقوال سے غلط ہو گیا تو یہ جواب دینا شروع کیا کہ جو کچھ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا گیا ہے۔ وہ الزامی طور پر عیسائیوں کے مقابلہ میں فرضی عیسیٰ کو لکھا گیا ہے۔ نہ واقعی طور پر حقیقی عیسیٰ علیہ السلام کو۔ مگر یہ جواب بالکل غلط ہے۔ کیونکہ شدید ترین فحش گالی جو مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو عبارت نمبر ٤ میں دی ہے۔ اسی فحش اور شنیع امر کو مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دافع البلاء کے اخیر صفحہ میں نسبت کر کے قرآن مجید کی آیت کی تفسیر میں بیان فرما کر ان تاویلات کو غلط فرما گئے۔ نہ وہاں پادری مخاطب ہیں اور نہ یسوع کا نام ہے۔ سنئے فرماتے ہیں : ’’ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانے کے لوگوں سے البتہ اچھے تھے ۔‘‘ واللہ اعلم !
( دافع البلاء ص آخیر ، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠) اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں۔ ’’یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں خدا تعالیٰ کی زمین پر بعض راست باز اپنی ریاضت بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایا ہے۔ "وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ" ، جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانے کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔ اس
٨
سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کر تھے۔ بلکہ اس بات کا امکان نکلتا ہے کہ بعض مقرب ان کے زمانہ کے ان سے بہتر تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموں سے ان کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو لم نقصص میں داخل ہیں ۔ یہ ان سے بہتر اور افضل ہوں گے اور جیسا کہ حضرت موسیٰ کے مقابل پر آخر ایک انسان نکل آیا۔ جس کی نسبت خدا نے ’’علمناہ من لدنا‘‘ فرمایا تو پھر حضرت عیسیٰ کی نسبت جو موسیٰ سے کمتر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے اور ختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے۔ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بلا اطلاق اپنے وقت کے تمام راست بازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے انہیں خدا بنایا۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں۔ یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ علیہ السلام نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور (معصوم) رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں۔ جو پیچھے ایلیا بنایا گیا۔ اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے۔ کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔ پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں ان کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باللہ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو یہ اس امر کا ردّ ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں ٩
ہو سکتے۔ یہ الزام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں پر لگائے گئے تھے یہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ان معنوں میں وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو کبھی پیش نہیں آیا۔‘‘
(دافع البلاء ص آخر حاشیہ)
ناظرین عبارت پر غور کریں۔ مرزا قادیانی یحییٰ علیہ السلام کو عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیتے ہیں اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ شراب خوری، بے تکلف جوان عورت سے تعلق، فاحشہ عورت کی کمائی سے عطر کا استعمال، فاحشہ عورت کا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھونا، اپنے گناہوں سے کسی کے ہاتھ پر توبہ کرنا وغیرہ سے پاک اور بری تھے۔ تو اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ تمام برے کام عیسیٰ علیہ السلام میں نعوذباللہ موجود تھے اور اگر عیسیٰ علیہ السلام بھی یحییٰ علیہ السلام کی طرح مرزا قادیانی کے نزدیک ان برے کاموں سے بری ہیں۔ جیسا کہ واقع میں ایسا ہی ہے تو پھر یحییٰ علیہ السلام ان برے کاموں سے بری اور پاک ہونے کی وجہ سے افضل کیسے ہوئے؟ اور پھر مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ علیہ السلام کا نام حصور (معصوم و پاک دامن) رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ صاف بتلا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ سب برے کام عیسیٰ علیہ السلام میں موجود تھے۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی خدا نے ان برے قصوں کا اعتبار کرکے مسیح کا نام حصور (معصوم) نہیں رکھا اور خدا جھوٹے قصوں کا اعتبار نہیں کیا کرتا اور مرزا قادیانی کا یحییٰ علیہ السلام کے متعلق یہ فرمانا کہ ان کا معصوم (پاک ہونا) بدیہی امر ہے۔ صاف بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام کے پاک ہونے میں شک ہے۔ حالانکہ کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جب تک ہر ایک نبی کو معصوم تسلیم نہ کرے۔
اور نیز یہ برے کام مرزا قادیانی ہی کے نزدیک یحییٰ علیہ السلام میں موجود نہیں بلکہ بقول مرزا قادیانی خدا بھی ان قصوں کو صحیح اور حق جانتا ہے۔ جن کی بناء پر عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن میں حصور (معصوم) نہ کہا۔ اس میں مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو تو گالی دی ہی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی جناب اقدس پر بھی ہاتھ صاف کر دیا۔ یعنی ایسے لوگ بھی جو رنڈیوں سے ایسا میل جول رکھیں جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی کوئی پرہیزگار آدمی نہ رکھے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی بھی ہوتے ہیں اور رسول بھی اور مقرب بھی اور وجیہا فی الدنیا والآخرہ بھی۔ اس سے نہ کوئی نبی قابل اعتبار رہتا ہے اور نہ قرآن اور نہ معاذ اللہ خود خدا۔ تو پھر احادیث کی کیا حقیقت ہے
١٠
اور مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں۔ ان کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ صاف تصریح ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کو مذکورہ امور شنیعہ سے بری نہیں سمجھتے۔ ورنہ مسلمانوں کا خیال جو حدیث پر مبنی ہے اس کے رد کی ضرورت نہ تھی۔ فافہم!
مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جب جھوٹی نکلیں تو کہہ دیا کہ اور انبیاء کی پیشین گوئیاں بھی تو غلط نکلی ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں: ”اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس امر یہ ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔“
(ازالہ ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
اس کے ساتھ اگر کشتی نوح کی یہ عبارت بھی ملائی جائے: ”اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
تو نتیجہ بالکل صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں۔ کیونکہ ان کی پیشین گوئیاں ٹلیں اور غلط نکلیں اور نبی کی پیشین گوئی کا غلط ہونا ناممکن ہے۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کا نبی ہونا بھی ناممکن ہے۔
- ......٦ ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین
پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔ (نعوذ باللہ) اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“ (آپ جو ہیں)
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
- ......٧ ”کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال کی
مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
اس عبارت میں عیسیٰ علیہ السلام کا باپ ثابت کیا ہے۔ جو صریح قرآن شریف کے برخلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی بہت کچھ توہین کی ہے۔ لیکن ہم بوجہ اختصار اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عیسائی لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے تھے؟ پھر کیا محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی مرزا قادیانی کی طرح عیسائیوں کو الزام دینے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام پر ایسے ایسے اتہامات لگائے ہیں؟ کیا امت مرزائیت ثابت کر سکتی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کسی مناظرہ میں عیسائیوں کو یہ کہا ہو کہ اے عیسائیو! جس کو تم خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہو وہ تو تمہاری کتابوں اور تعلیم
١١
کی رو سے چور، جھوٹا، فریبی، مکار، بدمعاش، متکبر، راست بازوں کا دشمن، اس کی تین دادیاں زنا کار، زنا کی کمائی کا عطر ملنے والا، بے تعلق عورتوں سے تعلق رکھنے والا، موٹی عقل والا، گندی گالیاں دینے والا، شیطان کے پیچھے جانے والا، لڑکیوں پر عاشق ہونے والا ثابت ہوتا ہے۔ تو کیا ایسا شخص خدا یا خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے؟
اے امت مرزائیہ! اگر ایک شخص اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دے اور اس کو کہا جائے کہ تو تو اپنی ہی ماں کو گالی دے رہا ہے۔ کیونکہ تیری ماں ہی تیرے حقیقی بھائی کی ماں ہے اور وہ ملامت سے بچنے کے لئے یہ عذر لنگ پیش کرے کہ میں نے اس کو اس حیثیت سے گالی دی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے نہ اس حیثیت سے کہ وہ میری ماں ہے تو کیا اس نالائق کا یہ عذر قبول ہو گا؟ ہر گز نہیں۔
اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دینا ہے۔ کیونکہ وہ صرف عیسائیوں ہی کے بزرگ نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی بزرگ ہیں اور تمام پیغمبروں کی تعظیم وحرمت مسلمانوں پر فرض ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کے عیسائیوں کے ساتھ بہت مناظرے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک مناظرہ ہم نقل کرتے ہیں تا کہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ عیسائیوں کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں نہیں دیا کرتے تھے۔
تفسیر درمنثور میں سورہ آل عمران کے شان نزول میں امام جلال الدین سیوطیؒ نے نقل کیا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کی ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عیسیٰ علیہ السلام کے خدا اور خدا کا بیٹا ہونے پر ان معجزات سے استدلال کیا۔ جو قرآن شریف میں مذکور ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام باذن الٰہی مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مادر زاد اندھوں کو اچھا کرتے تھے اور غیب کی خبریں دیتے تھے اور مٹی سے پرندوں کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ باذن الٰہی اڑنے لگتا تھا۔ نیز عیسائیوں نے کہا کہ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں ہے۔ لہٰذا وہ خدا کے بیٹے ہیں تو آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کے جواب میں نہ تو عیسیٰ بن مریم کے بلا باپ پیدا ہونے سے انکار کیا اور نہ مرزا قادیانی کی طرح ان کے معجزات سے انکار کیا اور نہ مرزا قادیانی کی طرح ان معجزات کو مسمریزم، لہو ولعب، کھیل کی قسم، مشرکانہ خیال، متشابہات، شعبدہ بازی، نادان لوگ وغیرہ وغیرہ کہا۔ بلکہ ان عیسائیوں کو فرمایا کہ کیا تمہیں علم نہیں کہ بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا بیشک۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے۔ کبھی نہیں مرے گا۔
١٢
”وان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء“ اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ انہوں نے کہا ہاں تو آپؐ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہر ایک چیز کی حفاظت کرتا ہے اور رزق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اختیار ان میں سے کسی پر ہے۔ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں۔ انہوں نے کہا بے شک۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام بھی اس میں سے کچھ جانتے ہیں۔ سوائے اس کے جو اللہ نے ان کو بتا دیا۔ انہوں نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا۔ پس ہمارے رب نے عیسیٰ علیہ السلام کی صورت ان کی والدہ کے رحم میں جیسی چاہی بنا دی۔ یعنی بلا باپ پیدا ہونے سے انکا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔
آپؐ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ پروردگار عالم نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، نہ پیشاب پاخانہ وغیرہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بے شک۔ تو آپؐ نے فرمایا کیا تمہیں علم نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا۔ جیسا کہ عورت کو حمل ہوتا ہے۔ پھر اس نے عیسیٰ کو جنا۔ جس طرح عورت اپنے بچے کو جنتی ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو غذا دی گئی۔ جس طرح عورت اپنے بچے کو غذا دیتی ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کھانا بھی کھاتے تھے اور پانی بھی پیتے تھے اور پیشاب پاخانہ بھی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا بے شک۔ تو آپؐ نے فرمایا پھر یہ تمہارا دعویٰ (عیسیٰ علیہ السلام کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کا) کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔
(درمنثور ج ٢ ص ٣)
کیونکہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام میں خدا کی کوئی صفت بھی نہیں۔
پھر خدا کا بیٹا کیسا؟
دیکھئے! اس مناظرہ میں آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کے دعویٰ الوہیت مسیح وابن اللہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے اور کیسی جامع مانع تقریر ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح گالیاں نہیں دیں اور نہ لمبی چوڑی تقریر کی ہے۔ بلکہ ہر ایک لفظ گوہر نایاب ہے۔
باب دعاوی مرزا
مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ١.......
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
١٣
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
ترجمہ: انبیاء گرچہ بہت ہوئے ہیں۔ لیکن میں بھی معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں ۔ یقیناً میں ان تمام انبیاء سے کم نہیں ہوں ۔ جو شخص کہے جھوٹ ہے اور وہ لعنتی ہے ۔
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٢...... جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں:۔ ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء کا مظہر
ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، اسحق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
- ٣......
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(درِ ثمین اردو ص ١٢٩)
- ٤...... مرزا قادیانی کا یہ قول بھی ہے ۔ ” دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے
نہیں دیا گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
- ٥...... نیز فرماتے ہیں ۔
آدمم نیز احمد مختار در برم جملہ ہمہ ابرار
آنچہ دادست ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام
(درِ ثمین فارسی ص ٢٨٧)
ترجمہ: میں ہر وقت کربلا میں سیر کرتا ہوں ۔ سو امام حسین تو میری جیب میں ہیں ۔ میں آدم ہوں ۔ حضرت احمد ہوں ۔ تمام نیکوں کے لباس میں ہوں ۔ خدا نے جو پیالیاں ہر نبی کو دی ہیں ۔ ان پیالیوں کا مجموعہ مجھے دیا ہے ۔
- ٦...... مسیح قادیانی فرماتے ہیں ۔ ” میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں
١٤
کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا۔ جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“
(اخبار بدر ج ٢ ش ٢٩ ص ٤، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
نتیجہ: مرزا قادیانی کے یہ دعاویٰ ان کے اصلی الفاظ میں پیش کر کے ہم اپنے ناظرین سے عموماً اور امت مرزائی سے خصوصاً سوال کرتے ہیں کہ کیا عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹ گیا؟ کیا بجائے تثلیث کے توحید پھیل گئی؟ کیا تمام مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا؟ کیا مرزا قادیانی ابھی مرے نہیں؟
ان سوالوں کا جواب صرف ایک ہی ہے۔ جس سے کسی کو انکار نہیں کہ عیسیٰ پرستی اور صلیب پرستی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ اگر شک ہو تو سنئے۔ لاہوری احمدی جماعت کا اخبار پیغام صلح لکھتا ہے۔ ”آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ آج پچاس لاکھ کے قریب ہے۔“
(پیغام صلح مورخہ ٦ مارچ ١٩٢٨ء)
اور سنئے : ”١٩٢٧ء میں عیسائیوں نے ١١ لاکھ ٨ ہزار نسخے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں بائبل کے شائع کئے ہیں۔“
(پیغام صلح مورخہ ٣ مارچ ١٩٢٨ء)
اور سنئے اور دل لگا کر سنئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ عیسیٰ پرستی کا ستون کہاں تک گرا ہے۔ یا گڑا ہے۔ پیغام صلح بتاتا ہے۔
مسیحی انجمنیں
اس وقت دنیا میں مسیحیت کی اشاعت کے لئے جو بڑی بڑی انجمنیں سرگرمی اور مستعدی سے کام کر رہی ہیں ان کی تعداد سات سو ہے اور یہ صرف انگلیکن اور پراٹسٹنٹ سوسائٹیاں ہیں۔ رومن کیتھولک، کلیسا کی جمعیتیں ان کے علاوہ ہیں۔ ١٩٣٢ء میں جن ممالک میں اوّل الذکر انجمنوں کو مالی امداد دی ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔
امریکہ ٩٧ لاکھ ٣٦ ہزار ٨٤ پونڈ کینیڈا ٧ لاکھ ٢٢ ہزار ٩٤ پونڈ
١٥
برطانی جماعتیں ٢٧ لاکھ ٦٩ ہزار ٣٥٣ پونڈ ناروے، سویڈن ٧ لاکھ ٨٠ ہزار ٩٢٠ پونڈ ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ ٧ لاکھ ٨٠ ہزار ٩٢٠ پونڈ جرمنی ٦ ہزار ٤٩٥ پونڈ میزان: ایک کروڑ ٤١ لاکھ ١٤ ہزار ٨٣٦ پونڈ
اس طرح تمام ممالک میں تثلیث پھیلتی جاتی ہے اور یہ مرزا قادیانی کے وجود کی برکت ہے۔
احمدی دوستو! خدارا زبانی باتوں اور لچھے دار تقریروں کو چھوڑ کر دل میں سوچو کہ کیا مرزا قادیانی نے جو کام اپنا بتلایا تھا وہ کر گئے؟ مرزا قادیانی کی نامرادی اور ناکامی کی حالت میں تشریف لے جانا بہت بڑا صدمہ ہے اور اس صدمے کی وجہ سے ہم کہتے ہیں۔
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا
باب تصوف مرزا
الحاد کی بنیاد
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”شرعی والہامی امور الگ الگ رہتے ہیں۔ اس لئے کشفی یا الہامی امور کو شریعت کے تابع نہیں رکھنا چاہئے۔ وحی الٰہی کا معاملہ اور ہی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی ایک دو نظیریں نہیں۔ بلکہ ہزاروں نظائر موجود ہیں۔ بعض وقت ملہم کو الہام کی رو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کی رو سے ان کی بجا آوری درست نہیں ہوتی۔ مگر ملہم کا یہ فرض ہوتا ہے کہ ان کی بجا آوری میں ہمہ تن مصروف رہے۔ ورنہ گنہگار ہوگا۔ حالانکہ شریعت اسے گنہگار نہیں ٹھہراتی۔ یہ تمام باتیں من لدنا علما کے ماتحت ہوتی ہیں۔ ایک جاہل بے بصیرت بے شک اسے خلاف شریعت قرار دے گا۔ مگر یہ اس کی اپنی جہالت و کور باطنی ہے کہ ان باتوں کو خلاف شریعت سمجھے۔ دراصل اہل باطن کے لئے وہ بھی ایک شریعت ہوتی ہے۔ جس کی بجا آوری ان پر فرض ہوتی ہے۔ ابتداء دنیا سے یہ باتیں دوش بدوش چلی آتی ہیں۔“
(اخبار الحکم ج ٧ نمبر ٣٢ ص ١٥، مورخہ ٢٤؍ جون ١٩٠٣ء، مندرجہ خزینۃ العرفان ص ٥٨٢)
ناظرین! کیا اچھا عارفانہ و متصوفانہ نکتہ ہے۔ جس کو ہر ایک ملحد زندیق سامنے رکھ کر
١٦
خلاف شرع امور کو رواج دے سکتا ہے۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جب ان کو خلاف شرع امور سے روکا جائے تو وہ صاحب جواب دیتے ہیں کہ تم کو حقیقت و معرفت وباطن کا علم نہیں۔
حضرات! یہ ہیں مسیح موعود، اسلام کے مصلح اعظم ؎
نوش دارو نے کیا کیا اثر سم پیدا
باب معیار مرزا
پہلا معیار پیش گوئی
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
مطلب بالکل صاف ہے کہ مرزا قادیانی کا سچ جھوٹ پرکھنے کے لئے ان کی پیش گوئیوں سے بڑھ کر کوئی کسوٹی نہیں۔ سو جناب مرزا قادیانی کے فرمان کے مطابق ہم آپ کی پیش گوئیوں پر غور کرتے ہیں۔
نکاح مرزا
پہلی پیش گوئی
مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے ایک پیش گوئی فرمائی تھی۔ جس کی وجہ یہ پیش آئی تھی کہ جناب مرزا قادیانی نے اپنے قریبی رشتہ میں ایک نوعمر لڑکی سے نکاح کا پیغام دیا۔ جس کی بابت لکھتے ہیں۔ ”وھی حديثة السن وانا متجاوز على الخمسين“ یعنی وہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میں پچاس سال سے زیادہ ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)
اس لڑکی کے والد نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تو مرزا قادیانی نے اعلان پر اعلان اور اشتہار پر اشتہار دینے شروع کر دیئے اور کہا کہ اس لڑکی کا نکاح خدا نے میرے ساتھ کر دیا ہے اور خدا نے مجھے بذریعہ الہام فرمایا ہے کہ اگر یہ لڑکی کسی اور جگہ بیاہی گئی تو تین سال کے عرصہ میں اس کا خاوند مر جائے گا وہ بیوہ ہو کر میرے ساتھ بیاہی جائے گی۔
١٧
چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”دعوت ربی بالتضرع والابتهال ومددت اليه ايدى السوال فالهمنی ربی وقال ساريهم . آية من انفسهم واخبرني وقال انى ساجعل بنتا من بناتهم . آية لهم فسماها بعد موتها ولا يكون احدهما من العاصمين“
(سرورق کتاب کرامات الصادقین ص اخیر)
ترجمہ : میں (مرزا قادیانی) نے بڑی بڑی عاجزی سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔
خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اس کا خاوند اور باپ نکاح کے دن سے تیسرے سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہیں سکے گا۔
بظاہر تو یہ ایک پیش گوئی ہے۔ لیکن اس کے اندر کئی پیش گوئیاں ہیں جیسا کہ خود مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ............................................ ”اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد (محمدی بیگم کے خاوند) کی مدت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ (یعنی اگست ١٨٩٤ء تک اس کی زندگی کا خاتمہ ہے۔ اس سے آگے نہیں۔ حالانکہ وہ اب تک زندہ ہے) یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ ذرا آگے چل کر فرماتے ہیں۔ وہ پیش گوئی جو مسلمان کی قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- ١...... کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی معیاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں (محمدی بیگم کا شوہر ہے) اڑھائی سال کے اندر
فوت ہو۔
- ٣...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... اور پھر یہ کہ وہ دختر کبھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے (جو مرزا قادیانی
سے ہونا تھا) فوت نہ ہو۔
- ٥...... اور پھر یہ عاجز (مرزا قادیانی) بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔
(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
١٨
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو بہت ہی عظیم الشان بتلایا ہے اور اس کے اجزاء بھی تفصیل سے بیان کر دیئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی پر اتنا زور دیا ہے کہ اگر تمام عبارات متعلقہ پیش گوئی ہذا جمع کی جائیں تو ایک کتاب بن جائے۔ لیکن ہم مختصراً چند عبارتیں بطور نمونہ پیش کرتے ہیں۔ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ١...... ”سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے
ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔“
(الحکم ١٠؍اگست ١٩٠١ء)
- ٢...... وہ عورت (محمدی بیگم) اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت
ضرور آئے گی۔ (پھر کیا ہوا)
مرزا قادیانی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں۔
- ٣...... ”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ
ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
جب مسماۃ مذکورہ کی شادی ہو گئی اور معترضین نے اعتراض کئے تو مرزا قادیانی نے جواب دیا۔
- ٤...... الجواب: وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔ بلکہ یہ
تھا کہ ضرور...... کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں ۔ 'سیکفیکہم اللہ ویردھا الیک' یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ (آخیر میں فرماتے ہیں) پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔“ (کیا ہوا)
(الحکم ٢٠؍جون ١٩٠٥ء)
اس عبارت سے مرزا قادیانی کے عزم واستقلال کا کمال ثبوت ملتا ہے کہ باوجودیکہ منکوحہ دوسری جگہ بیاہی گئی تھی۔ تاہم مرزا قادیانی امید لگائے بیٹھے ہیں کیا سچ ہے ؎
کہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
١٩
ناظرین! کیا ان عبارات کو دیکھ کر اس نکاح کے یقینی ہونے میں کسی قسم کا شبہ رہ سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ تاہم مرزا قادیانی نے اس نکاح کو رجسٹری بھی کرایا اور رجسٹری بھی کسی انگریزی محکمہ میں نہیں بلکہ محکمہ محمدیہ ”علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام“ میں اس کی تصدیق کرائی۔ تا کہ کسی مسلمان کو چون و چرا کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ پس اس رجسٹری کی عبارت سنئے۔ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
٥...... ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے۔ ”یتزوج ویولدلہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ یتزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ یتزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٣٣٧)
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ آسمانی نکاح مدینہ طیبہ کی عدالت عالیہ میں رجسٹری ہو چکا ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ ظہور پذیر نہ ہو۔ بہت خوب۔ مگر کیا ہوا۔ آہ! اس کا جواب بڑا دلشگار ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
مرزا قادیانی نے اس نکاح کے لئے لالچ دیا۔ دھمکی بھی دی اور ہر ایک تدبیر کو کام میں لائے۔ لیکن خدا کی مرضی سے نامراد ہی رہے۔
ایک مقام پر فرماتے ہیں۔
٦...... ”اس خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط پر کیا جاوے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔ (یہ لالچ ہے) لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔“ (یہ دھمکی ہے)
(اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء، مندرجہ آئینہ کمالات اسلام ص٢٨٦، خزائن ج٥ ص٢٨٦)
٢٠
اس پیش گوئی نے امت مرزائیہ کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ فرماتا ہے۔ لیکن جناب مرزا قادیانی نے ان سب کا جواب دینے سے ہم کو سبکدوش فرما دیا ہے۔ کیونکہ آپ بذات خود اس پیش گوئی کے متعلق ایک اعلان دے چکے ہیں۔ جس کے سامنے اور کسی کی چل نہیں سکتی۔ امت مرزائیہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حضرت مرزا قادیانی کا فرمان سنیں۔ حضرت موصوف فرماتے ہیں۔ ”نفس پیش گوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا قادیانی) کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم (اٹل) ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ یعنی میری (اللہ کی) یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(اشتہار ٢؍ اکتوبر ١٨٩٤ء، مندرجہ کتاب تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)
ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی صاف گوئی ہوگی۔ جو حضرت مرزا قادیانی نے اس عبارت میں فرمائی ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ خدا جس امر کی بابت خبر دے پھر اس کی تائید کے لئے لا تبدیل فرمائے۔ پھر وہ تبدیل ہو جائے۔ تو خدائی کلام کے جھوٹ ہونے میں کچھ شک رہتا ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح مرزا قادیانی سے ہو گیا۔ آہ! اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کے دن بیچارے اس حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب ان کی قبر سے گویا یہ آواز آتی ہے ؎
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
کیا کسی نبی کی ایسی حتمی اور قطعی پیش گوئی جھوٹی نکلی؟ جس کو اس نبی نے اپنے صدق یا کذب کا معیار ٹھہرایا ہو اور خدا نے بار بار اس کو پورا ہونے کی تاکید فرمائی ہو تو پھر خدا کا کیا اعتبار رہا؟ جو انسان سے بھی زیادہ جھوٹا ہو۔ وہ خدا کیسا؟ کیونکہ اتنے پختہ وعدہ کا تو انسان بھی کچھ پاس کرتا ہے۔ خدا تو خدا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”وہ (خدا) ہر بات پر قادر ہے۔ مگر اپنی صفات قدیمہ اور اپنے عہد اور وعدے کے برخلاف نہیں کرتا اور سب کچھ کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٨٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠١)
اور (توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥) پر فرماتے ہیں ”کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدا تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا؟ ان لغو باتوں سے خدا تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی نہیں ہوگی؟“ (ضرور ہوگی)
٢١
نکاح کا الہام تھا اور نکاح نہیں ہوا
(مولوی محمد علی ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ لاہور کا قول)
شہد شاہد من اھلھا
مولوی محمد علی صاحب لاہوری احمدی جماعت کی ایک شاخ کے امیر ہیں۔ آپ اس پیش گوئی کی نسبت جو رائے رکھتے ہیں۔ وہ قابل دید و شنید ہے۔ آپ فرماتے ہیں ۔ ” یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا ۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور ١٦؍ جنوری ١٩٢١ء)
دوسری پیش گوئی
داماد احمد بیگ سلطان خاوند محمدی بیگم کی موت کے متعلق
جناب مرزا قادیانی اس کے متعلق فرماتے ہیں ۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ ( سلطان محمد ) کی تقدیر مبرم (اٹل ) ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ص ٣١)
اس میں مرزا قادیانی صاف فرمارہے ہیں کہ اگر سلطان محمد کی موت کی پیش گوئی جس کی میعاد اگست ١٨٩٤ء تک ہے۔ کما مر پوری نہ ہوئی۔ یعنی وہ اس میعاد کے اندر نہ مرا۔ تو میں جھوٹا ہوں۔ پھر کیا ہوا؟ مرزا قادیانی انتقال فرما گئے اور سلطان محمد اب تک زندہ ہے۔
اب ہم ایک آخری فیصلہ سناتے ہیں۔ جو مرزا سلطان محمد (رقیب خاص) کے نہ مرنے کی صورت میں مرزا قادیانی نے اپنے حق میں کیا ہوا ہے۔ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے اس کے دو جز قرار دیئے ہیں۔ ایک مرزا احمد بیگ والد منکوحہ کی موت، دوسرا سلطان محمد کی موت اس دوسرے جزو کی بابت فرماتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں نہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص ٣٣٨)
بالکل ٹھیک ہے خدا کی باتیں نہیں ٹلتیں اور جو ٹل جائیں وہ خدا کی باتیں نہیں۔ ”آمنا وصدقنا“
٢٢
اب ہم مرزا قا مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ رہتے اور پہلے ہی سے ا جائیں گی تو کیا اس دن یہ ا تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہی صفائی سے ناک کٹ جا کی طرح کردیں گے۔“
احمدی دوستو!
پیش گوئی کے خاتمہ پر ایسا آ
آہ! مرزا قادی آرہی ہے۔ جو آرزو ہے
تیسری پیش گوئی ڈا
جناب مرزا قا عبدالحکیم خان ہے اور وہ ف کی زندگی میں ہی ١٤؍ اگ ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ
چنانچہ ایسا ہی دن دارفانی سے کوچ کر ہلاکت کی پیش گوئی کی مرزا قادیانی فرماتے ہیں میں مبتلا کیا جائے اور خ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خ صادق ہے خدا اس کی مد
اب ہم مرزا قادیانی کا آخری نوٹس ان کے مریدوں کو سنا کر ایک سوال کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف اس پیش گوئی کے انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٣٣٦)
احمدی دوستو! سنتے ہو مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں؟ آپ کا مطلب یہ ہے نہ کہ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ایسا ہوگا۔ واقعہ جس کے خلاف ہوا پھر کیا ہوا؟ بس تم خود سمجھ لو۔
آہ! مرزا قادیانی اس حسرت کو دل ہی میں لے گئے۔ بلکہ آج ان کی قبر سے گویا آواز آ رہی ہے۔ جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال۔ اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو۔
تیسری پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم کے متعلق
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بالآخر آخری دشمن ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مرزا قادیانی عبدالحکیم کی پیش گوئی کے مطابق ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کے دن دارفانی سے کوچ کر گئے۔ عبدالحکیم کی پیشین گوئی کے مقابل مرزا قادیانی نے بھی عبدالحکیم کی ہلاکت کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن وہ صاف طور پر جھوٹی نکلی۔ پیش گوئی کی عبارت سنئے۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٢ حصہ دوم، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)
٢٣
معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے۔ ورنہ خدا ان کی مدد کرتا اور ان کے دشمن عبدالحکیم کو ان کے سامنے ان کی پیش گوئی کے مطابق ہلاک کرتا۔ باوجود یکہ مرزا قادیانی نے یہ دعا بھی کی ”رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق“ یعنی اے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے (اور عبدالحکیم کو یہ پیش گوئی بھی سنائی) کہ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔“
(دیکھو اشتہار ملحقہ حقیقت الوحی ص ٣٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤١١)
مگر نہ دعا ہی قبول ہوئی اور نہ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار نے عبدالحکیم کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ مرزا قادیانی کی بہت سی پیش گوئیاں اور الہامات اور دعائیں غلط اور جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔ مثلاً منشی عبداللہ آتھم والی پیش گوئی جو صاف طور پر جھوٹی نکلی مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم و ملا محمد بخش مالک اخبار جعفر زٹلی لاہور اور مولوی ابوالحسن تبتی کے متعلق پیش گوئی کی۔ جو سراسر جھوٹی نکلی۔ حفاظت قادیان از طاعون والی پیش گوئی بھی غلط نکلی۔ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ جس میں مرزا قادیانی صاحب صریح کاذب ٹھہرے۔ اپنی عمر کا الہام بالکل جھوٹا نکلا۔ مکہ یا مدینہ میں مرنے کا الہام بھی غلط نکلا۔ غرضیکہ بہت سے الہامات و پیشین گوئیاں اور دعائیں اور مکاشفات جھوٹے ثابت ہوئے۔ جن کی اگر تفصیل کی جائے تو ایک بہت بڑی ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی۔ لیکن ہمیں چونکہ اختصار مطلوب ہے۔ لہٰذا یہ سلسلہ ہم اس شعر پر ختم کرتے ہیں۔
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
اور ناظرین کے سامنے دوسرا معیار پیش کرتے ہیں۔
دوسرا معیار کذب مرزا
سچ بھی اس کا جھوٹ سمجھا جائے گا
جناب مرزا قادیانی نے بھی جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی گناہ نہیں ۔“ ......١
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
٢٤
٢...... ”ظاہر ہے جب ایک اس پر اعتبار نہیں رہتا۔ ٣...... ”جو لوگ دنیا کی اصلاح پھیلا دیں اور جھوٹ ہوتے ہیں۔“ لیکن جس طرح ہاتھی مرزا قادیانی کی تحریروں میں بھی جو پیش کرتے ہیں۔
پہلا جھوٹ
جناب مرزا قادیانی فر ١...... ”اگر حدی جو صحت اور وثوق میں اس حدیث آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے ک مرزا قادیانی نے یہ با المہدی “ بخاری کی حدیث۔ اپنے مرشد کو جھوٹ سے بری ثاب
دوسرا جھوٹ
مرزا قادیانی فرماتے ٢...... ”ایک مر کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ فى الهند نبياً اسود اللون نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی گھٹیا جس
- ٢...... ”ظاہر ہے جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں پر بھی
اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ص٢٣١)
- ٣...... ”جو لوگ دنیا کی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔ ان کا فرض ہوتا ہے کہ سچائی کو زمین پر
پھیلا دیں اور جھوٹ کی بیخ کنی کریں۔ وہ سچائی کے دوست اور جھوٹ کے دشمن ہوتے ہیں۔“
(ریویو ج ٢ ص ٢٠٩)
لیکن جس طرح ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔ مرزا قادیانی کی تحریروں میں بھی جھوٹ کی بہت ملاوٹ پائی جاتی ہے۔ بطور نمونہ ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔
پہلا جھوٹ
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- ١...... ”اگر حدیث کے بیان پر اعتماد ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے۔
جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی۔ ”هذا خليفه الله المهدى“ اب سوچو یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ص ٣٣٧)
مرزا قادیانی نے یہ بالکل جھوٹ بطور دھوکہ دہی لکھا ہے کہ: ”هذا خليفه الله المهدى“ بخاری کی حدیث ہے۔ امت مرزائیہ ہمت کر کے بخاری میں یہ حدیث دکھائیں اور اپنے مرشد کو جھوٹ سے بری ثابت کریں۔
دوسرا جھوٹ
مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ٢...... ”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال
کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ : ”كان فى الهند نبياً اسود اللون اسمه كاهناً“ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“
(تتمہ چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ص ٣٨٣)
٢٥
یہ بھی مرزا قادیانی کا جھوٹ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کسی حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ ”کان فی الھند نبیاً اسود اللون اسمہ کاھناً“ اگر امت مرزائیہ مرزا قادیانی کو جھوٹ سے بری سمجھتی ہے تو کسی حدیث کی کتاب سے ”کان فی الھند نبیاً“ نکال کر دکھائے۔ ورنہ اپنے پیر کے کذب کا اقرار کرے۔ درحقیقت یہ جھوٹ خود کرشن بننے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ پہلے کرشن جی مہاراج کو جھوٹ بول کر نبی ثابت کیا اور پھر خود کرشن بن بیٹھے۔ جیسا کہ خود فرماتے ہیں: ”ہر ایک نبی کا نام مجھے دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو ردر گوپال بھی کہتے ہیں۔ یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا۔ اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں۔ وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
مرزا قادیانی نے لوگوں کو جس چیز کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا اسی کا دعویٰ کر دیا۔ ہندوؤں کو کرشن کے ظہور کا منتظر دیکھا تو کہہ دیا کہ میں کرشن ہوں۔ مسلمانوں کو امام مہدی علیہ السلام کا منتظر دیکھ کر فرمایا کہ میں عیسیٰ ومہدی سب کچھ میں ہی ہوں۔ اگر آپ کرشن ہیں تو گوپیاں کہاں ہیں؟۔
تیسرا جھوٹ
....... ٣ ...... ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی محمد اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔ وہ ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٧)
امت مرزائیہ بتلائے کہ ان دونوں صاحبان نے کہاں ایسا لکھا ہے۔ یہ بالکل مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے کہ مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے ایسا لکھا ہے۔ اگر بقول مرزا قادیانی ان کی تصانیف دنیا میں شائع ہوچکی ہیں تو کوئی مرزائی بتلائے کہ وہ کونسی کتابیں ہیں اور ان میں وہ مضمون کہاں لکھا ہے۔ جس کو مرزا قادیانی ان صاحبان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ ورنہ اپنے مسیح کے کذب کا اقرار کر لیجئے کہ ان کو جھوٹ بول کر اپنی
٢٦
صداقت ثابت کرنے کی بھی عادت تھی۔ اس جگہ تو کہتے ہیں کہ: ”ایسا ہی مسلمانوں میں سے ایک شخص جو قصور ضلع کا رہنے والا تھا اٹھا اور نام اس کا غلام دستگیر تھا اور مولوی کہلاتا تھا۔ اس نے کاذب ٹھہرا کر دعا کے ذریعہ میری ہلاکت چاہی اور جھوٹے پر عذاب مانگا اور اس میں ایک رسالہ بھی لکھا۔ مگر اس رسالہ کو ابھی شائع نہ کرنے پایا تھا کہ وہ اپنی اسی بددعا کے اثر سے ہلاک ہو گیا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٠ حصہ دوم، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)
اس جگہ اقرار ہے کہ وہ رسالہ شائع نہیں ہوا اور اربعین کے حوالہ گزشتہ اور حقیقت الوحی اور اعجاز احمدی وغیرہ میں صاف تصریح ہے کہ رسالہ شائع ہو چکا تھا اور حقیقت الوحی وغیرہ میں اس کا نام فتح الرحمانی بتایا ہے اور اس کے صفحات کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی کو ایک جھوٹ بولنے کے لئے دوسرا جھوٹ اور دوسرے کے لئے تیسرا جھوٹ گھڑنا پڑا ہے اور حقیقت میں نہ کوئی ایسا رسالہ شائع ہوا اور نہ اس میں ایسا لکھا گیا جس کو مرزا قادیانی ان دونوں صاحبوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ کیا نبی اسی طرح جھوٹ بولا کرتے ہیں جس طرح مرزا قادیانی؟ اور باوجود اس کے پھر بھی قمر الانبیاء اور مرسل ربانی، نبی حقانی، مسیح قادیانی محمد ثانی، خلیفہ رحمانی آئی بائی تانی وغیرہ کی گردان پڑھی جاتی ہے۔
چوتھا جھوٹ
- ٤....... ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری
ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٦، ٤٠٧)
یہ مرزا قادیانی کا بالکل سفید جھوٹ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے ساتھ اسلامی علماء ایسا کریں گے۔ امت مرزائیہ بتائے کہ یہ قرآن کی کس آیت کا ترجمہ ہے اور کس حدیث میں ایسا آیا ہے۔ کوئی ایک ہی حدیث بتادی جائے۔ مرزا قادیانی یہ محض دھوکہ کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں۔ تاکہ مسلمان علمائے اسلام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میرے جھوٹ پر افتراء، غلط گوئی تحریف قرآنی تفسیر نفسانی پر ایمان لے آئیں۔ مرزا قادیانی کے دھوکے اور جھوٹ تو بہت ہیں۔ لیکن بوجہ اختصار بطور نمونہ چند ذکر کر دیئے گئے ہیں۔
٢٧
تیسرا معیار الہام مرزا
اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں:
"وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم" ﴿اور ہم نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں الہام دے کر بھیجا ہے۔ تاکہ وہ ان کو سمجھا سکے۔﴾
اس آیت کا مطلب بالکل صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی و رسول کو اسی زبان میں الہام کیا ہے جو زبان اس نبی کی قوم کی تھی۔ جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو عربی زبان میں قرآن مجید دیا گیا۔ کیونکہ آپ کی قوم کی زبان عربی تھی۔ اسی طرح ہر ایک نبی کو اس کی قوم کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے احکام دیئے ہیں۔
باوجود یکہ محمد رسول اللہ ﷺ تمام دنیا کی طرف بھیجے گئے ہیں اور دنیا میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ کا کلام عربی زبان میں دیا گیا۔ کیونکہ آپ کی قوم کی زبان عربی تھی اور اس معیار کا خلاف ثابت نہیں۔
یہ تو ہوا قرآنی معیار لیکن مرزائی آیات کی گردن مروڑ کر اپنے توہمات کے موافق بنانے کے چونکہ عادی ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ اس کی بھی کوئی باطل تاویل کرلیں۔ لہٰذا ان کے لئے مرزا قادیانی کا فرمان پیش کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
"اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩ خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
نیز فرماتے ہیں۔ "پس یاد رکھنا چاہئے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق تو یہی عادت رہی ہے کہ وہ ہر ایک قوم کے لئے اسی زبان میں ہدایت کرتا ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، ٢١٠ خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
جناب مرزا قادیانی کے نزدیک کسی انسان کو ایسی زبان میں الہام ہونا جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے اور سنت اللہ بھی یہی ہے کہ ہر قوم کو اس کی زبان میں ہدایت کی جائے۔ ہم مرزا قادیانی ہی کے مقرر کردہ معیار کو لے کر ان کے الہامات کو پرکھتے ہیں۔
٢٨
سو جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میں انگریزی سے بالکل بے بہرہ ہوں۔ تاہم خدا تعالیٰ نے بعض پیش گوئیوں کو بطور موہبت انگریزی میں میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٦)
اور (حقیقۃ الوحی ص ٣٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٧) پر فرماتے ہیں: ”میں انگریزی خواں نہیں ہوں اور بکلی اس زبان سے ناواقف ہوں۔“ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ میں انگریزی زبان سے بالکل بے بہرہ اور ناواقف ہوں۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی کو انگریزی میں الہامات ہوئے ہیں۔ سنئے فرماتے ہیں۔
God is coming by his army. He is with you to kill enemy.
(تلفظ اردو میں) گاڈ از کمنگ بئی ہز آرمی۔ ہی از ود یو ٹو کل انیمی۔ (ترجمہ از مرزا قادیانی) خدا تمہاری طرف ایک لشکر کے ساتھ چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ٣٠٣، ٣٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٦، ٣١٧)
انگریزی اور تلفظ اردو میں اور ترجمہ سب کچھ مرزا قادیانی کا ہے۔ مرزا قادیانی کو اور بھی انگریزی میں بہت الہام ہوئے ہیں۔ بوجہ اختصار نمونہ نقل کر دیا گیا ہے۔
- ٢...... ”ھو شعنا نعسا“ یہ الہام شاید عبرانی ہے۔ جس کے معنی نہیں کھلے۔
(البشریٰ ص ٢٣، جلد اوّل)
دیکھئے مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ الہام کس زبان کا ہے۔ فرماتے ہیں شاید عبرانی ہو۔ واہ رے رسول قادیانی۔ پھر فرماتے ہیں جس کے معنی نہیں کھلے۔ پھر الہام کس واسطے ہوا؟ یہ کوئی متشابہات میں سے تو نہیں۔
- ٣...... ”ایلی آوس۔ بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے
ہیں۔“ (بشریٰ ج ١ ص ٣٦) جبرائیل کو کہا ہوتا کہ اتنی جلدی نہ کرتے۔
- ٤...... ”پریشن، عمر براطوس، یا پلاطوس۔
نوٹ: آخری لفظ پڑطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہی ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔“
(بشریٰ ج ١ ص ٥١)
٢٩
سبحان اللہ! یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کس زبان کے لفظ ہیں۔ معنی معلوم ہونا تو کجا۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ ایسی زبان میں الہام کرنا جس کو رسول قادیان بالکل نہیں جانتے تھے۔ جیسے انگریزی یا ایسی زبان میں الہام کرنا جس کی کسی لغت سے تعین بھی نہ ہو سکی۔ جیسا ”ھوشعنا نعسا“
یا ایسا الہام نازل کرنا جس کے متعلق مسیح قادیانی کو یہ بھی علم نہیں کہ یہ کس زبان کے الفاظ ہیں۔ جیسے پریشن، براطوس وغیرہ تو اس قسم کے الہامات کا فائدہ ہی بقول مرزا قادیانی کیا ہوا؟
اور پھر بقول مرزا قادیانی کیا یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر نہیں؟ کہ مرزا قادیانی کی اصل زبان تو اور ہو اور الہام ان کو اور زبانوں میں ہو۔ جن کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتے۔ جیسا کہ خود تسلیم کرتے ہیں۔ پھر کیا جس کو غیر معقول اور بیہودہ الہام ہو۔ وہ نبی ہو سکتا ہے۔ نبی کیا ایسا شخص تو ولی بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ غیر معقول اور بیہودہ الہام کو خدا کی طرف منسوب کرنا افتراء علی اللہ ہے اور افتراء علی اللہ کفر ہے۔ فافہم!
جب مرزا قادیانی کی اصل زبان پنجابی تھی تو ان کو پنجابی میں تمام الہام کیوں نہ ہوئے؟ سوائے چند الہاموں کے باقی تمام الہامات دوسری زبانوں مثلاً انگریزی، فارسی، عربی، ہندی، عبرانی وغیرہ میں کیوں ہوئے؟ کیا کوئی ایسا نبی ہوا ہے؟ جس کو اس کی اصلی زبان میں صرف چند الہام ہوئے ہوں اور باقی تمام الہامات دوسری مختلف زبانوں میں ہوئے ہوں۔ نظیر پیش کرو۔ ورنہ مرزا قادیانی کے کذب کا اقرار کرو۔ بتاؤ کیوں مرزا قادیانی کو قرآنی معیار کے برخلاف الہام ہوئے۔ کیا اب بھی مرزا قادیانی کو نبی مانو گے؟
مرزا قادیانی کے مقرر کردہ معیار اور بھی ہیں۔ جن پر مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اختصار کی وجہ سے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اب ہم ناظرین کو دوسرے عالم کی سیر کراتے ہیں۔
کیا مرزا قادیانی عورت تھے؟
باب حیض مرزا
”يريدون ان يروا طمثك یعنی وہ تیرا حیض دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“ مرزا قادیانی خود اس کی تشریح فرماتے ہیں۔ ”یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض
٣٠
دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ اب حیض نہیں۔ اب بچہ بن گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلے مرزا قادیانی میں حیض تھا۔ کیا ایسا الہام کسی نبی کو ہوا ہے؟ اور اگر حیض سے مراد پلیدی اور ناپاکی روحانی ہے۔ یعنی گناہ، تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی گنہگار تھے اور نبی گنہگار نہیں ہوتا۔ بلکہ معصوم ہوتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نبی نہ ہوئے۔
- ٢...... مرزا قادیانی کے ایک مرید قاضی یار محمد صاحب بی۔او۔ایل پلیڈر اپنے
(ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی ص ١٢، مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) میں لکھتے ہیں۔ ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار کیا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘ اَستغفراللہ!
باب حمل مرزا
- ٣...... جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ
کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی مہینوں کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں ۔ (یعنی حمل کی مدت کے قریب قریب) بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٥٦) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔‘‘
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)
مرزا قادیانی نے کتنا بڑا کمال کیا ہے کہ پہلے مریم بنے حاملہ ہوئے۔ پھر عیسیٰ بن گئے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥) کے حاشیہ میں اس کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔‘‘
مداری کی طرح بہت تھوڑی مدت میں غلام احمد سے مریم اور مریم کو حمل اور حمل سے عیسیٰ مسیح قادیانی پیدا ہوئے۔ لہٰذا مرزا قادیانی ابن مریم ہیں۔ اب کسی کو حق نہیں کہ یہ اعتراض
٣١
کرے کہ آنے والا مسیح تو ابن مریم ہے۔ آپ کیسے مسیح بن گئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام تو چراغ بی بی ہے۔ ( عوام میں جو گھسیٹی مشہور ہے وہ غلط ہے ) کیونکہ تجویز مذکورہ سے آپ ابن مریم بن گئے ہیں۔ ابن مریم بننے کے لئے مرزا قادیانی نے بہت ہی مشقت اٹھائی ہے۔ ہم ان کی محنت کی داد دیتے ہیں۔
باب مخاض مرزا (دروزہ)
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دروزہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)
کیا کسی اور نبی نے بھی دوسرے نبی کا لقب حاصل کرنے کے لئے یہ تجویز نکالی تھی کہ میں فلاں نبی کی والدہ ہوں اور پھر اس والدہ کو جس سے مراد میں ہوں۔ حمل ہوا۔ پھر وہ نبی یعنی میں پیدا ہوا۔ لہٰذا میں فلاں نبی ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کو خصوصاً اس تجویز کی بہت ضرورت تھی۔ کیونکہ یہودی بقول مرزا قادیانی اسی واسطے عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے کہ ان کے گمان میں عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے الیاس نبی کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا ضروری ہے۔ پھر کیا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی مرزا قادیانی کی طرح حاملہ ہو کر الیاس بننے کی کوشش کی تھی؟
باب عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا تعلق
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ١...... ”میری مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایسی ہے کہ ملأ اعلیٰ میں
دونوں میں تمیز مشکل ہے۔“ (کیا کہنا)
(براہین احمدیہ ج ٤)
اور (تبلیغ ص ٧٩، ٨٠) میں اس سے بھی بڑھ کر اتصال ثابت کیا ہے اور کہا ہے کہ: ”وہ تخیل سے بڑھ کر ہے۔“ اور کشتی نوح میں فرماتے ہیں:
- ٢...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب یہ
تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شائد کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧٠)
جب عیسیٰ علیہ السلام بقول مرزا قادیانی شراب خور تھے اور وہ عیب بھی عیسیٰ علیہ السلام میں بقول مرزا قادیانی نعوذ باللہ موجود تھے جن کا ذکر باب توہین عیسیٰ علیہ السلام میں گزر چکا ہے اور مرزا قادیانی اور عیسیٰ علیہ السلام کا ایسا تعلق اور اتصال ہے کہ دونوں میں تمیز مشکل ہے:
٣٢
- ١...... تو کیا مرزا قادیانی بھی شراب پیا کرتے تھے؟
- ٢...... کیا مرزا قادیانی کی پیدائش ناجائز طریق سے تھی؟
- ٣...... کیا مرزا قادیانی بھی ناپاک خیال، متکبر، راستبازوں کے دشمن تھے؟
- ٤...... کیا مرزا قادیانی بھی کسی لڑکی پر عاشق ہوئے تھے؟
- ٥...... کیا آپ کسی جوان بے تعلق عورت سے تعلق رکھتے تھے؟
- ٦...... کیا زنا کی کمائی کا عطر ملوایا کرتے تھے؟
- ٧...... کیا جھوٹ بولنے کی آپ کو اکثر عادت تھی؟
الغرض عیسیٰ علیہ السلام پر جو جو الزامات مرزا قادیانی نے لگائے ہیں وہ سب مرزا قادیانی میں موجود تھے؟۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا وجود بقول مرزا قادیانی ایک ہی ہے اور مرزا قادیانی ابن مریم کے وجود کے ٹکڑے ہیں۔
باب اختلاف مرزا
ویسے تو ناظرین کو گزشتہ ابواب سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ مرزا قادیانی کے کلام میں کتنا بڑا اختلاف ہے۔ اب ہم خصوصیت سے ایک باب میں مرزا قادیانی کے اختلاف کا نمونہ دکھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ’’ولوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیراً‘‘ ﴿یعنی یہ کلام اللہ کے سوائے اور کسی کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے اختلاف پائے جاتے۔﴾
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں سچے اور جھوٹے مدعیان الہام کی شناخت کا ایک عظیم الشان معیار بتایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر یہ قرآن شریف ہماری طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔ معلوم ہوا کہ جو الہام خدا کی طرف سے ہو اس میں اختلاف نہیں ہوتا اور جو خدا کی طرف منسوب کیا جائے اور درحقیقت خدا کی طرف سے نہ ہو اس میں اختلاف ہوتا ہے۔ پس جس کلام میں اختلاف ہو گا وہ خدائی کلام نہیں کہلا سکتا۔
مرزا قادیانی نے بھی اس معیار کو (چشمہ معرفت ص ١٩٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٩٨) میں تسلیم کیا ہے اور ست بچن میں فرماتے ہیں: ’’جو پرلے درجے کا جاہل ہو جو اپنے بیانوں میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔‘‘
(حاشیہ ست بچن ص ٣٢، خزائن ج ١٠ ص ١٤٠)
اسی کتاب (ست بچن ص ٣٠، ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢، ١٤٣) میں فرماتے ہیں: ’’ظاہر ہے
٣٣
کہ سچا اور عقلمند صاف دل انسانوں کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون اور ایسا منافق ہو......الخ۔“
اب ان حوالوں کی رو سے دیکھئے۔ مرزا قادیانی بقول خود کیسے پرلے درجے کے جاہل، مجنون، بے عقل، پاگل اور منافق ثابت ہوتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی تصانیف وتالیفات کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ وقت اور موقع کی مناسبت دیکھ کر لکھتے اور کہتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں کثرت سے اختلاف پائے جاتے ہیں اور اختلافات بھی معمولی نہیں بلکہ اصولی۔ اس سخن آرائی کی بدولت مرزا قادیانی کی حالت ان اشعار کی مصداق تھی:
پاؤ گے کسی فن میں کہیں بند نہ اس کو
موجود سخن گو ہیں جہاں وہاں ہیں طبیب آپ
اور جاتے ہیں بن آپ طبیبوں میں سخن گو
دونوں میں سے کوئی نہ ہو تو آپ ہیں سب کچھ
پر ہیچ ہیں جس وقت کہ موجود ہوں دونوں
اور اس ضرب المثل کے آپ پورے مصداق تھے۔ پیش ملا طبیب وپیش طبیب ملا وپیش ہر دو ہیچ وپیش ہیچ ہر دو۔
اب مرزا قادیانی کی متناقض باتیں اور اختلافات سنئے:
- ١...... دعویٰ محدثیت اور نبوت کا انکار واقرار
- الف....... مرزا قادیانی سے سوال ہوا کہ آپ نے فتح اسلام میں دعوے نبوت کیا
ہے۔ جواب دیا کہ نبوت کا دعوے نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعوے ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ب....... (توضیح مرام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ٧٥) میں بھی جو الہامی کتاب ہے اپنا
محدث ہونا درج کیا ہے۔
- ج....... حمامتہ البشریٰ میں بھی محدثیت کا ہی اقرار ہے۔ (ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٧٩)
جب نبی بننے کی فکر دامن گیر ہوئی تو مذکورہ بالا تحریروں کو بھلا کر لکھتے ہیں: ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر ٣٧
کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں غیب نہیں۔“
حوالہ: الف میں محدث کا اقرا نبوت کا دعوے ہے اور محدثیت سے انکا ہوا ہے جس نے پہلے مجدد ہونے کا دعوے سابق انبیاء میں اس کی نظیر نہیں تو مرزا قاد
- ٢...... متعلق کفر و اسلام محمد یاں
- الف....... مرزا قادیانی فر
انکار کرنے والے کو کافر کہنا۔ یہ صرف ال احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب ش جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں او کافر نہیں بن جاتا۔“
- ب....... ”جو شخص ایک
اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس ہے۔ کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرائیں۔ بعض احکام ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں وہی اسلا مقبول ﷺ ہیں جو پہلے تھے اور وہی چھوڑنی نہیں پڑی۔ جس سے اس ق احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس کے سا حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ اعتقادات پر کچھ اثر نہیں۔ (پھرا۔
مذکورہ بالا نرمیوں کو د ذرا دوکان جمی اور خریداروں کی آ ہیں۔ ان دونوں حوالوں کا خلاصہ
کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی لغت کسی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“
(دیکھو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
حوالہ: الف میں محدث کا اقرار ہے اور نبوت کا انکار مگر عبارت ایک غلطی کا ازالہ میں نبوت کا دعوے ہے اور محدثیت سے انکار۔ پس بقول خود نہ آپ محدث ہیں نہ نبی ۔ کیا کوئی ایسا نبی ہوا ہے جس نے پہلے مجدد ہونے کا دعوے کیا ہو، پھر محدث ہونے کا، پھر تدریجاً نبی بن گیا ہو۔ اگر سابق انبیاء میں اس کی نظیر نہیں تو مرزا قادیانی بقول خود جھوٹے ثابت ہوئے۔
٢...... متعلق کفر و اسلام محمدیاں
الف...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا۔ یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
ب...... ”جو شخص ایک نبی متبوع (محمد) علیہ السلام کا متبع ہو اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔ کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرائیں۔ بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لادیں۔ لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔ وہی نمازیں ہیں جو پہلے تھیں۔ وہی رسول مقبول ﷺ ہیں جو پہلے تھے اور وہی کتاب کریم ہے جو پہلے تھی۔ اصل دین میں سے کوئی بات چھوڑنی نہیں پڑی۔ جس سے اس قدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعویٰ اس حالت میں گراں اور قابل احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس کے ساتھ نعوذ باللہ کوئی دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔“ (فرق آگے آتا ہے) دعویٰ مسیح موعود کا اسلامی اعتقادات پر کچھ اثر نہیں۔ (پھر اپنے منکروں پر کفر کا فتویٰ کیوں دیا)
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩)
مذکورہ بالا نرمیوں کو دیکھو جو ایک نئے دوکاندار کے لئے لازمی ہیں۔ اس کے بعد جب ذرا دوکان جمی اور خریداروں کی تعداد بڑھی پھر تو وہ گرم مزاجیاں دکھائیں کہ جو قابل دید و شنید ہیں۔ ان دونوں حوالوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ اب
٣٥
وہ گرم مزاجیاں ملاحظہ فرمائیے۔ جو بعد میں ظہور پذیر ہوئیں۔ چنانچہ جناب حضرت مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں ۔
- ج...... ”جو شخص تیری (مرزا قادیانی کی) پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل
نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥، مندرجہ اشتہار معیار الاخیار ص ٨)
- و...... انجمن حمایت الاسلام لاہور کے علماء کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ: ”تمہاری
دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ کیونکہ تمہارے حسب حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وما دعا الكافرين الا فی ضلال“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)
اس میں صاف تصریح ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ کافر ہے۔
- ھ...... ”قطع دابر القوم الذين لا يؤمنون“ یعنی جو قوم مرزا قادیانی پر
ایمان نہیں لائے گی۔ اس کی جڑ بنیاد کاٹ دی جائے گی۔“
(الہام مندرجہ بدر مورخہ ١٩ جنوری ١٩٠٦ء)
- ز...... مرزا قادیانی کا الہام نص صریح ہے اور نص صریح کا منکر کافر ہے۔
(الحکم مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٨٩٩ء)
- س...... ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ:
”یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
- ص...... ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے
اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم سے ہو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
لاہوری احمدی بتلائیں کہ اگر مرزا قادیانی نے رسول ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور انکے انکار سے کوئی کافر نہیں بنتا تو متردد کے پیچھے نماز پڑھنا مرزا قادیانی نے کیوں قطعی حرام قرار دیا ہے؟
لاہوری اور قادیانی دونوں جواب دیں کہ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ میں کوئی نیا حکم نہیں لایا۔ کسی طرح صحیح سمجھا جا سکتا ہے؟ جب کہ مرزا قادیانی کی رسالت میں شک کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ہو گیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی سے پہلے ١٣ سو سال تک اسلام کا یہ حکم تھا: ”صلوا خلف كل برو فاجر“ (مشکوٰۃ) یعنی ہر ایک نیک و بد کے پیچھے نماز پڑھ لیا
٣٦
ر دیا۔ مرزا قادیانی نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
دوسرے، تیرہ سو سال تک اسلام کا یہ حکم تھا کہ کسی مجدد، محدث، ولی، قطب، غوث کے انکار سے مسلمان کافر نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ (کمامر) لیکن مرزا قادیانی ایسے محدث ہوئے کہ اس حکم کو بھی منسوخ کر کے اپنے منکرین کو کافر قرار دیا۔
تیسرے، جہاد کو حرام قرار دے کر جہاد کی فرضیت کو قیامت تک کے لئے منسوخ کر دیا۔ حالانکہ احادیث میں صاف تصریح ہے کہ جہاد قیامت تک رہے گا۔ اگر اس کو نسخ نہیں کہتے تو نسخ کس بلا کا نام ہے؟
ط...... ”بہر حال خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
ع...... خلیفہ اوّل مولوی نور الدین صاحب مرزا قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں۔
آں غلام احمد است و میرزائے قادیان
گر کسے آرد شکے در شانِ او آں کافر است
جائے او باز جہنم بیشک وریب وگماں
(الحکم ٧؍ اگست ١٩٠٨ء)
خلیفہ صاحب کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ میں شک کرنے والا کافر اور جہنمی ہے اور جو مرزا قادیانی کا صاف انکار کرنے والے ہیں وہ تو ضرور ہی کافر ہوں گے۔
ف...... ایک دوسری جگہ خلیفہ صاحب نے بالکل صاف فیصلہ کر دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا قادیانی کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو مدار نجات ماننا میرا ایمان ہے۔“
(بدر ١٤؍ مئی ١٩١٤ء)
جناب مرزا قادیانی ایک سائل کا سوال نقل کر کے جواب دیتے ہیں۔
ق...... ”سوال نمبر ٦ حضور عالی (مرزا قادیانی) نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مؤمنوں کے
٣٧
جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں۔ صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں۔ (وہ خط جو حوالہ بالا میں گزرا) کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔
الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے صاف فرما دیا ہے اور تسلیم کرلیا ہے کہ بے شک میرے نہ ماننے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ مرزا قادیانی کو کافر بھی نہ کہے اور تناقض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ معلوم ہوا کہ تناقض کو خود بھی تسلیم کرلیا۔
ل...... ”علاوہ اس کے جو مجھے (مرزا قادیانی کو ) نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
م...... ”چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ کافر کا لفظ مؤمن کے مقابلہ پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔
اوّل ...... ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔
دوم ...... دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود (مرزا قادیانی ) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود تمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔
پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
مرزا قادیانی کو مجدد و محدث ماننے والے اس عبارت کو غور سے پڑھیں کہ مرزا قادیانی اپنے منکرین کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ تریاق القلوب میں تسلیم کر چکے ہیں کہ مجدد و محدث خواہ کتنی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ کیا
٣٨
گذشتہ مجددین ومحدثین نے بھی یہ کہا ہے کہ چونکہ خدا اور رسول نے اس امت میں مجدد ومحدث پیدا ہونے کی خبر دی ہے اور ان کے ماننے اور ان کو سچا جاننے کی تاکید کی ہے۔ لہٰذا جو شخص ہمارے مجدد ومحدث ہونے سے انکار کرتا ہے۔ چونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے جب مرزا قادیانی کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ تو دعویٰ رسالت ونبوت میں کیا شبہ مرزا قادیانی کو نبی ورسول ماننے والے یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے تریاق القلوب وغیرہ کے بیانات اور ان بیانات میں تناقض ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے خود بھی تسلیم کرلیا ہے۔
چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں تناقض کیوں پیدا ہو گیا۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو۔ (بہت اچھا) کہ یہ اس قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)
دیکھئے! مرزا قادیانی نے تسلیم کرلیا ہے کہ بیشک میرے کلام میں تناقض ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا نبی کے کلام میں تناقض ہو جاتا ہے؟ تو پھر ”ولو کان من عند غیر اللّٰہ الایۃ“ کا کیا مطلب ہے۔ کیا کوئی ایسا رسول یا نبی ہوا ہے جس کو خدا نے بذریعہ الہام کہا ہو کہ تو نبی ورسول ہے۔ لیکن وہ لوگوں کو کہے کہ نہیں میں مجازی معنوں میں نبی ورسول ہوں اور میرے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ بلکہ میں مجدد ومحدث ہوں اور کچھ مدت کے بعد کہے۔ جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ کافر ہے۔ اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ خدا ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتا ہے۔ جن کی طرف بارہ برس تک خدائی الہام آئے اور اس کو اس الہام میں نبی ورسول کا خطاب دیا جائے۔ لیکن وہ ایسا غبی ہے کہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ میں لغوی نبی ورسول ہوں یا شرعی اور میرا منکر کافر ہے یا نہیں۔ اگر اس کی نظیر پیش نہ کرسکو تو مرزا قادیانی کے کذب کا اقرار کرو۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کو الہام ہونا شروع ہوا اور ان کو نبی ورسول کا خطاب دیا گیا تو کیا اس وقت آپ نبی ورسول تھے یا نہیں؟ اگر آپ اس وقت نبی تھے تو پھر کیوں اپنے آپ کو مجدد ومحدث قرار دیتے رہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے مشرکانہ عقیدہ پر جمے رہے اور یہ فرماتے رہے کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا اور اگر آپ اس وقت نبی نہیں تھے تو پھر کیوں جابجا اس وقت کے الہامات کو دعویٰ رسالت کے ثبوت میں پیش کیا ہے؟ پس معلوم ہوا کہ یہ ایک منافقانہ چال ہے۔ پہلے ان الہامات کی تاویلیں کرتے رہے۔ جب کچھ دکان جم گئی
٣٩
تو صاف اعلان کر دیا کہ میرا منکر کافر ہے۔ نبی ایسا نہیں کیا کرتے۔ ان کو جب خدا کہتا ہے کہ تم نبی ہو تو وہ دنیا کو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم کو خدا نے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ وہ یہ نہیں کرتے کہ لوگوں کی مخالفت کے ڈر سے خدائی الہام کی تاویلیں کریں اور جب ذرا معتقدین زیادہ ہو جائیں تو کہہ دیں کہ ان الہامات کا وہ مطلب نہیں جو پہلے بیان کیا گیا۔ بلکہ یہ ہے۔
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
٣...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق
- الف...... ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ
نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا۔ پھر زندہ ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
- ب...... ”ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور
مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بہ سال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔“
(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٨)
- ج...... ”اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔
کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔“
(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٥)
ناظرین! ان تینوں قولوں پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا قادیانی کی کون سی بات کو سچ مانا جائے۔ پہلے مسیح کی قبر ان کے وطن گلیل بتلاتے ہیں۔ پھر بلاد شام میں اور پھر ان دونوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں، کیا ایک عیسیٰ علیہ السلام تین جگہ مرے؟ اور تین مقامات پر دفن ہوئے؟ یہ مختلف باتیں الہامی دماغ سے نکلی ہیں یا خلل دماغ کا نتیجہ ہے۔ سچ ہے دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔“
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اپریل ١٩٠٢ء ص ١٥٣ حاشیہ)
باب...... باپ بیٹے کی لڑائی
جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
- (١) ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے
ان کی امت میں ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔“
(الحکم ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء)
میاں بشیر الدین قادیانی خلیفہ ثانی فرماتے ہیں۔
- (١) ”اور سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی
اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کے اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔“
(القول الفصل ص ١٤)
٤٠
(٢) ”صاحب نبوت ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ“ یعنی ہر رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے اس غرض سے نہیں کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“
(ازالہ ص ٤٣٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٧)
(٢) ”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ“ (پھر نادان کون ہوا؟)
(حقیقت النبوۃ ص ١٥٥)
(٣) ”ایلی ایلی لما سبقتنی کرم ہائی تو مارا کرد گستاخ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٥٥، ٢٥٦، بشریٰ ص ٤٣)
(٣) ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا وہ کون ہے؟ کرم ہائی تو مارا کرد گستاخ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“
(ملفوظات خلیفہ صاحب از الفضل ٢٤ جنوری ١٩١٧ء)
بتلائیے۔ سچا کون ہے؟ مسیح قادیانی یا خلیفہ ثانی۔
باب ...... امت مرزائیہ کا مذہب
اسلام میں تفرقہ کا باعث کون ہے؟ ...... خلیفہ قادیانی کے فتوے
- ١...... تمام اہل اسلام کافر خارج از دائرہ اسلام ہیں
”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ٢...... کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں
”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا کچھ اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
٤١
- ٣...... جائز نہیں! جائز نہیں!! جائز نہیں !!!
”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے۔ اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٨٩)
- ٤...... غیر احمدی کافر ہے، لہٰذا اس کا جنازہ جائز نہیں
”غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق ہم نے محکمات کو دیکھنا ہے۔ محکم کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ محکم کیا ہے۔ نبی کا منکر ”اولئک ہم الکافرون حقا “کے فتویٰ کے نیچے ہے۔ محکم کیا ہے۔ کافر کا جنازہ جائز نہیں۔“
(الفضل ج ٢ نمبر ١٣٢ مورخہ ٦؍اپریل ١٩١٥ء)
- ٥...... ”ہر ایک جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر ہے۔ جو حضرت
صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٩ ص ١٣٠)
- ٦...... غیر احمدی کے بچہ کا بھی جنازہ مت پڑھو
”پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
- ٧...... غیر احمدی ہندو اور عیسائی کی طرح کافر ہیں
”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے۔ وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)
- ٨...... مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں
”غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں۔ اس کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو تباہ کر لیتی ہیں۔“
(برکات خلافت ص ٧٣)
٤٤
٩......ختم نبوت اور خلیفہ قادیان
”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے ۔ کذاب ہے۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
١٠......ہزاروں نبی آ سکتے ہیں
”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے ۔“
(انوار خلافت ص ٦٢)
ختم نبوت بجواب اجراء نبوت
منکر:...... ”واقعہ یہ ہے کہ میں چند دن ہوئے مولوی صاحب کے مکان پر گیا۔ وہاں باتوں ہی باتوں میں خاتم النبیین کے معنی کے متعلق بات شروع ہو گئی ۔ مولوی صاحب نے میرے دریافت کرنے پر اس کے معنی نبیوں کا بند کرنے والا کئے۔“
(اجراء نبوت ص ١)
مثبت:......
آخر کو کھل ہی جاتی ہے رنگت خضاب کی
مخالف نے اصل واقعہ کو بالکل حذف کر دیا ہے اور اپنی حاشیہ آرائیوں سے صداقت کو چھپانے کی بے سود کوشش کی ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ منکر صاحب ایک دن حافظ خدا بخش صاحب امام مسجد پولیس لائن کی معیت میں میرے پاس آئے ۔ حافظ صاحب نے کہا کہ یہ صاحب منکر، خاتم النبیین کے کچھ اور ہی معنی کرتے ہیں۔ میں نے منکر صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ فرمائیے۔ آپ کیا معنی کرتے ہیں ۔ تو آپ نے کہا کہ ہم خاتم النبیین کے معنی ”نبی گر“ کرتے ہیں۔ یعنی آئندہ نبی بنانے والا۔ خاکسار نے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ چھ چیزیں مجھ کو دی گئی ہیں ۔ جن کی وجہ سے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت ہے۔ ان چھ میں سے ایک یہ ہے ۔ ” وخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ “ مجھ پر پیغمبروں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صاف تشریح فرما رہے ہیں کہ ختم نبوت میرا خاصہ ہے اور یہ عہدہ صرف مجھے ہی عنایت کیا گیا ہے۔
٤٣
اور یہ عہدہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسی صورت میں مخصوص ہو سکتا ہے کہ آپ کو آخری نبی تسلیم کیا جائے۔ اگر خاتم النبیین بمعنی ”نبی گر“ ہو تو نبی بنانے کا کام تو بقول مرزا قادیانی اور نبی بھی کرتے رہے ہیں۔ تو یہ آنحضرت ﷺ کی کیا خصوصیت اور فضیلت ہوئی۔ حالانکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ فضیلت و خصوصیت مجھے ہی بخشی گئی ہے۔ پس خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہوں گے۔ اس پر منکر صاحب نے کہا کہ پہلے انبیاء یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ صرف حضور ﷺ ہی کا کام ہے۔ لہٰذا آپ کی خصوصیت ثابت ہو گئی۔ میں نے عرض کیا کہ مرزا قادیانی کو آپ نبی مانتے ہیں اور ان کی ہر ایک بات آپ کے لئے واجب التسلیم ہے۔ اگر میں مرزا قادیانی کا لکھا ہوا دکھا دوں کہ پہلے انبیاء بھی نبی گری کا کام کرتے تھے تو پھر یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت تو نہ رہے گی اور ہمارا معنی آخر النبیین صحیح ہو جائے گا تو آپ نے فرمایا کہ اچھا دکھایئے میں نے مرزا قادیانی کا یہ فرمان ان کی کتاب چشمہ مسیحی سے نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔
فرمان مرزا قادیانی
”ظاہر ہے کہ زبان عرب میں لکن کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے۔ یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا اس کے حصول کی دوسرے پیرایہ میں خبر دیتا ہے۔ جس کی رو سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی۔ مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہ ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنی تھے۔ جن کو الٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا۔ حالانکہ اس انکار میں آنحضرت ﷺ کی سراسر مذمت اور منقصت ہے۔ کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کر دے اور روحانی امور میں ان کی پوری پرورش کر کے دکھاوے۔ اسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خدا شناسی کا دودھ پلاتے ہیں۔ پس اگر آنحضرت ﷺ کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔ مگر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر رکھا ہے۔ جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنا دیتا ہے اور اگر نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ میں فیض روحانی نہیں تو پھر دنیا میں آپ کا مبعوث ہونا ہی عبث ہوا اور دوسری طرف خدائے تعالیٰ بھی دھوکہ دینے والا ٹھہرا۔ جس نے دعا یہ سکھائی کہ تم تمام نبیوں کے کمالات طلب کرو۔“
(چشمہ مسیحی ص ٣٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨)
٤٤
رسالہ چشمہ مسیحی منکر صاحب کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ آپ آٹھ بجے سے بارہ بجے تک اس کو لے کر بیٹھے رہے۔ کبھی اس عبارت کو دیکھتے تھے اور کبھی کاغذ قلم لے کر کچھ لکھتے تھے۔ جیسے کہ ضرب تقسیم کے سوال حل کر رہے ہیں۔ کبھی رسالہ کی ورق گردانی کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ غرضیکہ عجیب عالم حیرانی و پریشانی میں مبتلا تھے۔ حافظ خدا بخش صاحب پندرہ بیس منٹ کے بعد کہہ دیتے کہ کیوں صاحب اب جواب کیوں نہیں دیتے؟۔ پہلے تو بڑے اچھلتے تھے۔ لیکن آپ فرماتے تمہیں یہ معمولی بات معلوم ہوتی ہے۔ بڑا مشکل سوال ہے۔ سوچ سمجھ کر جواب دوں گا۔ اسی طرح آپ بارہ بجے تک سوچتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن پھر تشریف لائے اور اس کی مہمل تاویلیں کرنی شروع کیں۔ میں نے کہا یہ تاویلیں یہاں نہیں چل سکتیں۔ بے فائدہ وقت ضائع نہ کیجئے۔
ناظرین کرام! موٹے الفاظ کو غور سے پڑھیں۔ مرزا قادیانی فرمارہے ہیں کہ آنحضرتﷺ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ آپ نبی بنائیں گے۔ کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے۔ یعنی ظلی نبی، بروزی نبی بنادے اور اسی قسم کی نبوت کو مرزا قادیانی نے اپنے لئے ثابت کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اسی غرض کے لئے نبی آتے ہیں۔
دیکھئے مرزا قادیانی کے یہ الفاظ کہ نبی کا کمال یہ ہے کہ اور اسی غرض کے لئے نبی آتے ہیں۔ صاف بتلارہے ہیں کہ نبی گری تمام انبیاء کرتے چلے آئے ہیں۔ تو پھر حضورﷺ کی کیا خصوصیت ہوئی؟۔
منکر:...... میں مولانا سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جو شخص کسی کے جواب سے عاجز آ جاتا ہے کیا وہ دوسرے کے مکان پر جا کر حملہ کیا کرتا ہے۔
مثبت:...... واہ! واہ! کیا خوب حملہ کیا کہ خود اپنے ہی حملہ کی ضرب سے بارہ بجے تک بیہوش پڑے رہے:
خدا آپ کو حق گوئی کی توفیق عطا کرے
منکر:...... کیا آپ کے پاس محاورات عرب کی کوئی مثال ہے جس میں لفظ خاتم مضاف ہو اور اس کا مضاف الیہ جمع ہو اور اس کے معنے بند کرنے والا کے ہوں۔
٤٥
ثابت : ......
- ١ ...... سنئے لسان العرب میں ہے خاتمهم وخاتمهم آخرهم یعنی خاتم خواہ
زیر سے ہو یا زبر سے دونوں کے معنے آخری کے ہیں۔
- ٢ ...... قاموس میں ہے والخاتم آخر القوم کالخاتم ومنه قوله
تعالیٰ خاتم النبیین اے آخرھم۔ یعنی خاتم کا معنی خاتم کی طرح آخری کے ہیں اور اسی معنی سے ہے خاتم النبیین۔ یعنی انبیاء میں سے آخری۔
- ٣ ...... ابوالبقا نے کلیات میں کہا ہے وتسمية نبينا خاتم الانبیاء لان
الخاتم آخر القوم! ترجمہ: ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء اس لئے ہے کہ خاتم قوم کے آخری شخص کو کہتے ہیں۔ دیکھئے ان تینوں حوالوں میں آئمہ لغت نے کیسے صاف تصریح کر دی ہے کہ خاتم ہو یا خاتم جب جمع کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخری کے ہوتے ہیں اور کسی نوع کا آخری فرد وہی کہلائے گا جس کے بعد اس نوع کا دوسرا فرد اس وصف کے ساتھ موصوف نہ ہو۔ جس وصف کے ساتھ پہلے افراد موصوف ہیں۔ مثلاً آخرالاولاد اس کو کہیں گے جس کے بعد دوسرا لڑکا پیدا نہ ہو۔ اسی طرح آخرالنبیین اس کو کہیں گے جس کے بعد دوسرا نبی پیدا نہ ہو۔ فلاں آخرالاولاد کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اور سب مر چکے ہیں اور یہی باقی ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ صفت ولد کے ساتھ موصوف ہوتے ہیں۔ یہ سب سے آخری ہے۔ اس کے بعد صفت ولد کے ساتھ کوئی دوسرا موصوف نہیں ہوا۔ بعینہ آخرالنبیین اسی کو کہیں گے جو سب انبیاء کے بعد صفت نبوت کے ساتھ موصوف ہوا ہو اور اس کے بعد دوسرا صفت نبوت حاصل نہ کر سکے جو پہلے اس صفت سے موصوف ہو چکے وہ ہو چکے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام وغیرہم۔ انبیاء علیہم السلام۔ جیسے آخرالاولاد کی موجودگی یا عدم موجودگی سے باقی اولاد کا مرنا لازم نہیں آتا۔ اسی طرح خاتم النبیین کی موجودگی یا عدم موجودگی سے باقی انبیاء علیہم السلام کا مرنا لازم نہیں آتا۔ گو واقع میں خواہ وفات پا گئے ہوں یا کوئی ان میں سے زندہ ہو۔
علیٰ ہٰذا القیاس آخر الجالسین، آخر الراحلین۔ آخر الذاھبین وغیرہ میں بھی یہی مراد ہوتی ہے کہ مضاف الیہ کی وصف آخر پر ختم ہے۔ کیا آپ کا مطالبہ پورا ہوا یا نہیں ۔ ’’ فهل انتم مسلمون “
منکر : میرا یہ سوال سنتے ہی مولوی صاحب کے حواس باختہ ہو گئے اور سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ دے سکے۔
٤٦
ثبت:...... ہاں ہاں فرمائیے۔ ١٢ بجے تک کیا قصہ ہوا تھا؟
منکر:...... میں کئی مرتبہ مولوی صاحب کے ہاں جا چکا ہوں۔ مگر مولوی صاحب اس کی ایک مثال پیش کرنے پر قادر نہیں ہو سکے۔
ثبت:...... ١٢ بجے کی طرح۔
منکر:...... ”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا“
ثبت:...... ”فعلنا ولکنکم قوم تجہلون“
منکر:...... علاوہ اس کے فیصلہ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم وحدیث اور اقوال سلف صالحین کی طرف رجوع کریں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”واطیعوا الله واطیعوا الرسول واولی الامر منکم“ جب کوئی جھگڑا ہو تو قرآن اور حدیث اور مسلمہ بزرگوں کے سامنے اس کو پیش کرو۔
ثبت:......
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
آپ نے مرزا قادیانی کے برخلاف اولی الامر منکم کا ترجمہ مسلمہ بزرگ کیوں کیا ہے؟ یوں کیوں نہ فرمایا کہ قرآن اور حدیث اور انگریزی حکومت کے سامنے اس مسئلہ کو پیش کیا جائے۔ پھر سر مسلم ہیلی اور مسٹر جی۔ بی لیپرٹ وغیرہ اساطین دین جو فیصلہ صادر فرمائیں وہی تمام مسلمانوں کے لئے اسلام کا بنیادی پتھر قرار دیا جائے۔
جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزی حکومت کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)
اسی واسطے جناب مرزا قادیانی انگریزوں کی غلامی اور خدمت گزاری کو اپنا مقصد وحید ظاہر کرتے رہے۔ چنانچہ اپنی خدمت گزاری کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام
٤٧
ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
اسی کا نتیجہ ہے کہ جنگ عظیم میں جب ترکوں کی اسلامی حکومت بغداد سے اٹھی اور انگریزی حکومت غالب آئی تو قادیانی اخبار میں یہ نوٹ نکلا ۔ ” میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات میں غور اور فکر کرنے کے عادی ہیں۔ ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ اور بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں۔ آج ١٣٣٥ھ میں وہ ظاہر ہوکر ہمارے سامنے آ گئیں۔“
(اخبار الفضل مورخہ ١٠، ١٢ اپریل ١٩١٧ء ص ٣، ٤)
اس سے مرزا قادیانی کی پولیٹیکل پوزیشن بھی کلیر ہو جاتی ہے کہ آپ مسلمانوں کے بڑے زبردست دشمن تھے۔ جناب مرزا قادیانی کا فرمان بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ امیر امان اللہ خان خلد اللہ ملکہ وسلطنتہ کو اولیٰ الامر میں داخل کرنے سے اپنے مصنوعی مذہب کا خاتمہ ہوتا ہے۔ صاحب آپ کا مذہب تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی جو حدیث مرزا قادیانی کے الہام کے مخالف ہو اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ نعوذ بالله من هذا الكفر ! پھر آپ مسلمہ بزرگوں کا نام کس منہ سے لیتے ہیں۔ جب آپ محمد رسول اللہ ﷺ (فداہ ابی وامی) کی حدیث خواہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ کی ہو۔ بڑی دلیری اور جرأت کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ تو بزرگ بیچارے آپ کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ باتیں محض سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے کی ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں۔ حدیث کو مانتے ہیں۔ بزرگوں کو مانتے ہیں۔ درحقیقت آپ مرزا قادیانی کی بات کے سوا نہ قرآن کو مانتے ہیں نہ حدیث کو اور نہ سلف صالحین اور بزرگان دین کے اقوال کو۔ جو بات مرزا قادیانی کی تعلیم کے برخلاف ہو خواہ وہ صحیح حدیث ہو یا صحابہ کا اجماع ہو۔ یا بزرگان دین کا عقیدہ ہو۔ آپ اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔
سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن
اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
احادیث میں جو علامات مسیح موعود کے لئے مقرر ہیں۔ جب آپ میں وہ نہ پائی گئیں تو تنگ آ کر کہہ دیا کہ حدیثوں پر ہمارے دعویٰ کی بنیاد نہیں۔ حدیث کی علامات خواہ ہم میں پائی جائیں یا نہ پائی جائیں۔ بس ہم مسیح موعود ہیں۔ تمہیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔
جو حدیث ، قرآن شریف کے مطابق نہیں اس کو نہ ماننا تو درست اگرچہ اس میں بھی تفصیل ہے۔ کیونکہ فرق باطلہ پہلے قرآن شریف کا ایک معنی اپنی خواہش و شیطانی الہام کے مطابق گھڑ لیتے ہیں اور اس من گھڑت معنی کے برخلاف اگر صحیح حدیث پیش کی جاوے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث قرآن کے برخلاف ہے۔ لہٰذا مقبول نہیں۔ لیکن یہ فرمانا کہ جو حدیث میری وحی کے معارض ہو۔ اس کو بھی ردی کی طرح پھینک دیا جائے گا۔ اس کا تو صاف مطلب یہ ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو دنیا سے نیست و نابود کر دیا جائے۔ کیونکہ ہر ایک ملحد قرآن کا معنی اپنی خواہش کے مطابق گھڑ کر حدیث کو یہ کہہ کر یہ قرآن کے برخلاف ہے ٹال دے گا۔ آپ کے لئے تو راستہ بالکل صاف ہے۔ جو بات مرزا قادیانی کی تعلیم کے برخلاف کوئی مسلمان بھول کر پیش کرے تو آپ اس کو فرما دیجئے کہ صاحب یہ مرزا قادیانی کی وحی کے برخلاف ہے۔ لہٰذا مردود ہے اگر وہ کہے کہ یہ بات حضور ﷺ یا صحابہؓ یا بزرگان سلف نے فرمائی ہے تو آپ یوں فرما دیا کریں کہ بہت سی چیزوں کی حقیقت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی نہیں سمجھی اور اسی طرح صحابہؓ و غیرہم نے ، یہ حقیقت صرف مرزا قادیانی پر ہی منکشف ہوئی ہے۔
بزرگوں کا نام محض آپ دھوکہ دہی کے لئے لے رہے ہیں۔ ھداک اللہ ! ورنہ آپ کو بزرگوں سے کیا تعلق۔
مکر:...... اور میں نے ثابت کیا کہ جو معنی انہوں نے کئے ہیں وہ عقل ونقل کے بھی خلاف ہیں۔ کیونکہ یہ معنی زیر بحث آیت میں لگ نہیں سکتے۔ ان معنی کو لینے سے آیت کا مطلب خبط ہو جاتا ہے۔ کفار نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ ابتر کہا کرتے تھے اور ابتر اسے کہتے ہیں جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ اس لئے وہ آپ کی ذات پر طعن کرتے تھے کہ یہ کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔ مگر خدا نے اسے نرینہ اولاد ہی نہیں دی ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
٤٩
اس صورت میں یہ معنی بن جائیں گے کہ محمد ﷺ بے شک کسی مرد کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے بند کرنے والے ہیں۔ کیا کوئی عقلمند اس کو تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ اس کا تو دوسرے لفظوں میں یہ مطلب ہوا کہ جس طرح نبی کریم ﷺ جسمانی اولاد سے محروم ہیں۔ اسی طرح آپ روحانی اولاد سے بھی محروم ہیں۔
یہ کفار کے اعتراض کا جواب نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ تو نبی کریم ﷺ کی پرلے درجے کی مذمت ہے۔ یہ آپ کی مدح نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس سے تو کفار کا اعتراض اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ آپ کی پیروی سے آئندہ نبی بن سکتے ہیں تو کفار کا اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی مدح بھی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے کفار جسمانی اولاد کچھ چیز نہیں ہوتی۔ کیونکہ جسمانی اولاد تو منکر بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ نوح کا بیٹا تھا اور وہ گمراہ ہی رہا تو کہتے ہو کہ یہ رسول نہیں۔ یہ رسول ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ نبی گر ہے کہ اس کی پیروی سے آئندہ نبی پیدا ہوں گے۔ یہ استاد کامل ہے۔ اس جسمانی نرینہ اولاد کے بدلے ہم نے اس کو روحانی اولاد عطاء کی ہے۔ جو نہ صرف ہدایت یافتہ ہوگی بلکہ دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بھی ہوگی۔
مثبت : ...... ناظرین کرام! یہ ہے وہ دلیل جس کو امت مرزائیہ بڑے فخر اور دعویٰ کے ساتھ خاتم النبیین کے معنی حل کرنے میں پیش کیا کرتی ہے اور مرزا قادیانی نے اس کو اپنی کتابوں میں متعدد موضع میں پیش کیا ہے اور منکرین ختم نبوت کو اس پر بڑا ناز ہے۔
اگرچہ آپ کا اس طویل عبارت کے پڑھنے میں تھوڑا سا وقت تو خرچ ہوا ہوگا۔ لیکن میں اس طویل عبارت کو آپ کے سامنے اس واسطے نقل کیا ہے کہ آپ امت مرزائیت کی مایہ ناز دلیل کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑتی ہوئی دیکھیں۔ آپ ذرا الفاظ کو غور سے پڑھیں۔ منکر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر خاتم النبیین کے معنی نبیوں کے بند کرنے والا کئے جائیں (جیسا کہ تمام مسلمان کرتے ہیں) تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جس طرح نبی کریم ﷺ جسمانی اولاد سے محروم ہیں۔ اسی طرح آپ روحانی اولاد سے بھی محروم ہیں۔ یعنی منکر صاحب کے نزدیک اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو تو آنحضرت ﷺ روحانی اولاد سے محروم ہو جاتے ہیں۔ العیاذ باللہ ! منکر صاحب فرمائیں کہ گذشتہ تیرہ سو سال میں کون نبی ہوا ہے۔ اگر کوئی نہیں ہوا جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے
٥٠
میں ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)
- ١....... تو کیا تیرہ سو سال تک آنحضرتﷺ (فداہ ابی وامی) روحانی اولاد سے
محروم ہی رہے اور آج مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے صاحب اولاد ہوئے؟
- ٢....... پھر تیرہ سو سال کے کفار کے لئے کیا جواب ہوا؟
- ٣....... کیا صحابہؓ یا تابعین نے کفار کے اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اے کفار!
اگرچہ بالفعل آپ روحانی اولاد سے بھی محروم ہیں۔ لیکن جب تیرہ سو سال کے بعد رئیس قادیان کی برکت سے آپ صاحب اولاد ہوں گے تو اس وقت تم کیا منہ دکھاؤ گے جو ابتر کا اعتراض کرتے ہو؟
- ٤....... کیا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آنحضرتﷺ کی روحانی
اولاد نہیں ہیں؟
جن کے بارہ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”آنحضرتﷺ کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے سچ مچ عضو واحد کی طرح ہو گئے تھے۔ ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ آنحضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھیں ۔“
(فتح اسلام ص ٣٥، ٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢١)
اور سنئے: ”کیونکہ حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنحضرتﷺ کا ہی وجود تھا ۔“
(سر الخلافۃ ص ٣٢، خزائن ج ٨ ص ٣٥٥)
”اور آپ (یعنی ابوبکر صدیقؓ) کتاب نبوت کے اجمالی نسخہ تھے ۔“
(سر الخلافۃ ص ٣٢، خزائن ج ٨ ص ٣٥٥)
جب صحابہؓ آپ کی عکسی تصویریں تھیں اور ان کے ظاہر و باطن میں انوار نبوت رچے ہوئے تھے اور حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر آنحضرتﷺ کا ہی وجود تھا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نبوت کے اجمالی نسخہ تھے۔ (یعنی نبوت کا نچوڑ و خلاصہ ) تو پھر یہ آنحضرتﷺ کی روحانی اولاد کیوں نہیں ہو سکتے؟
٥١
اور اگر صحابہؓ و تابعین و تبع تابعین و بزرگان دین وائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی روحانی اولاد ہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہے اور آپ کو مجبوراً ماننا پڑے گا تو پھر خاتم النبیین کے معنی نبیوں کا ختم کرنے والا کرنے سے یہ کیسے لازم آیا کہ آپ روحانی اولاد سے محروم ہیں؟ کیا جس شخص کی لاکھوں، کروڑوں جانباز روحانی اولاد صحابہؓ و بزرگان دین جیسی ہو۔ اس کو اولاد سے محروم کہا جائے گا؟
خدا آپ کو عقل صحیح عنایت فرمائے۔ جب حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر آنحضرت ﷺ کا ہی وجود تھا تو کیوں انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا۔ جب کہ حضور ﷺ نے بھی ان کے نبی بننے کی صلاحیت ان لفظوں میں بیان فرمادی کہ ”لو کان بعدی نبی لکان عمرؓ“ کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔
اور مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں کہ: ”میں ظلی طور پر محمد ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ فاروق ظلی طور پر عین محمد ﷺ ہوتے ہوئے ظلی نبوت کا دعویٰ نہ کریں اور نہ کسی کو یہ کہیں کہ جو مجھے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے اور اس کی نجات نہیں ہوگی۔ لیکن مرزا قادیانی ظلی طور پر عین محمد ﷺ کے ادعا کی بناء پر نبوت کا دعویٰ کریں اور اپنے منکرین کو کافر کہیں وجہ فرق معقول بیان فرمائیے۔ ورنہ مسلمان ہو جائیے۔ یہ مہمل عذر مسموع نہیں ہوگا کہ خدا نے جس کو چاہا نبی بنا دیا۔ کیونکہ اس کا تو بقول مرزا قادیانی یہ مطلب ہوگا کہ خدا نے پہلے وعدہ کیا کہ تم نبوت کے کمالات حاصل کرو اور دعا کرو ہم تم کو نبی بنادیں گے۔ لیکن جب حضرت عمرؓ نے نبوت کے کمالات حاصل کر لئے۔ فنا فی الرسول ہوکر عین محمد ﷺ ہوگئے۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کے نبی ہونے کی صلاحیت بھی بیان فرمادی۔ وہ پانچ نمازوں کے اندر نبی بننے کی دعاء بھی کرتے رہے۔ خدا نے وعدہ بھی کیا کہ تم کو نبی بنادیں گے۔ مگر پورا کرنے کا ارادہ نہ کیا۔
اور جب بقول مرزا قادیانی صحابہؓ آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں تھیں تو کیوں وہ مرزا قادیانی کی طرح اس عبارت کا مصداق بن کر مدعی نبوت نہ ہوئے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروز میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔
پس صحابہؓ کا باوجود آنحضرت ﷺ کی عکسی تصویریں اور ظلی طور پر عین محمد ہونے کے نبوت کا دعویٰ نہ کرنا انقطاع نبوت حقیقیہ وظلیہ وبروزیہ وغیرہ پر زبردست عملی ثبوت ہے۔ فافہم فانہ
٥٢
عزیز! اب ذرا گوش ہوش سے سنئے کہ خاتم النبیین کا معنی نبی گر کیوں غلط ہے اور اس میں کیا کیا خرابیاں مضمر ہیں۔ پہلے چند کلمات تمہید یہ سنئے جو کہ مرزا قادیانی آنجہانی کے ہیں فرماتے ہیں۔ ”وان من امۃ الا خلا فیہا نذیر فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید“ یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ڈرانے والا نبی نہیں بھیجا گیا۔ یہ اس لئے کہ ہر قوم میں ایک گواہ ہو کر خدا موجود ہے اور وہ اپنے نبی دنیا میں بھیجا کرتا ہے۔ پھر جب ان قوموں میں ایک مدت دراز گذرنے کے بعد باہمی تعلقات پیدا ہونے شروع ہوگئے اور ایک ملک کا دوسرے ملک سے تعارف اور شناسائی اور آمدورفت کا کسی قدر دروازہ بھی کھل گیا اور دنیا میں مخلوق پرستی اور ہر ایک قسم کا گناہ بھی انتہاء کو پہنچ گیا تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تاکہ بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنادے اور جیسا کہ وہ واحد لاشریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کردے تاکہ وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تاکہ پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی۔ یعنی جس کا خدا نے آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا۔ یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو۔ کیونکہ وہ واحد ہے۔ اس لئے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٨٢، خزائن ج٢٣ ص٩٠)
ایک دوسری جگہ اسی کے قریب قریب لکھتے ہیں کہ: ”جب دنیا نے پھر اتحاد اور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہو گئے اور باہمی تعارف کے لئے انواع و اقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے تب وہ وقت آ گیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے۔ تب خدا نے سب دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک مذہب پر جمع کرے اور تا وہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی۔ آخر میں بھی وہ ایک قوم بنا دے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٣٩ حصہ دوم)
میں نے یہ مختصراً نقل کیا ہے۔ مرزا قادیانی اس کو بڑی تفصیل اور زور کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔ اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا نزول اور محمد ﷺ کی بعثت کی اصلی غرض اور مقصد وحید تمام اقوام دنیا کو ایک مرکز اسلام پر جمع کرنا ہے۔
٥٣
آمدم بر سر مطلب۔ پس اگر ہم خاتم النبیین کے معنی نبی گر یعنی نبی بنانے والا کریں تو نزول قرآن و بعثت محمدیہ کی اصلی غرض بالکل مفقود ہو جائے گی اور بجائے اتحاد کے اختلاف اور بجائے اسلام کے کفر سے دنیا بھر جائے گی۔ کیونکہ جب نبیوں کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے اور ہر ایک نبی پر قرآن کی طرح قطعی اور یقینی وحی بھی نازل ہوگی اور ہر ایک نبی اور اس پر نازل شدہ وحی پر ایمان لانا بھی ضروری ہوا اور ان کا انکار یا تکذیب یا ان کی رسالت و نبوت میں تردد کفر ہوا۔ تو قیامت تک کروڑوں کافر قومیں بن جائیں گی۔
مثلاً اب دنیا میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے انکار سے سوائے مرزائیوں کے اور سب کافر ہو گئے۔ اس طرح مرزا قادیانی کے بعد عبد اللطیف گناچوری اور نبی بخش معراجکے کے اور مولوی چراغ الدین جموی اور عبد اللہ تیماپوری وغیرہم مریدان مرزا قادیانی مدعیان نبوت کے انکار سے مرزائی بھی کافر ہو گئے اور اسی طرح چند نبی اور آگئے۔ جیسا کہ جناب مرزا بشیر الدین صاحب خلیفہ ثانی مرزا قادیانی کے فرمان عالی شان سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔“ (اتنا غصہ)
(انوار خلافت ص ٦٥)
- ٢....... ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی اور ہوں گے۔“ (شاباش)
(انوار خلافت ص ٦٢)
تو پھر اسلام کی خیر نہیں۔ ہزاروں نبی ہوں گے اور ہزاروں قومیں مسلمان ان کے انکار سے کافر ہو جائیں گی۔ واضح رہے کہ مرزا قادیانی کے بعد بقول مرزا قادیانی وہی نبی ہو سکتا ہے جو مرزا قادیانی کو نبی مانتا ہو اور جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ ان میں سے قیامت تک کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اسی واسطے امت مرزائیہ سے ہر سال کیڑوں کی طرح نبی ظاہر ہو رہے ہیں۔ پس چالیس کروڑ مسلمان تو مرزا قادیانی کی نبوت کے انکار سے کافر ہو گئے اور اب نئے نبیوں سے جو کافر بنیں گے وہ صرف مرزائی ہی ہوں گے۔
الحاصل یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں وغیرہ کا مسلمان ہونا اور تمام کا ایک ہی مذہب اسلام پر ہو جانا اور ایک ہی وجود کی طرح ہو کر خدا کی عبادت کرنا تو درکنار سابق مسلمان بھی کافر ہو جائیں گے اور آنے والے نبی ایک ایک کو چن چن کر کافر بنائیں گے اور چند ہی دنوں تک دنیا سے مسلمانوں کا بیج ختم ہو جائے گا۔
٥٤
آنے والے نبی ایسے برخوردار ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہودیوں، عیسائیوں وغیرہ کو مسلمان بنائیں اور ان میں اپنی پیری مریدی جمائیں۔ بیچارے مسلمانوں کو ہی کافر بنائیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے کیا۔ الغرض ایک نبی اور ایک قرآن کا مقصود تو یہ تھا کہ تمام اقوام دنیا کو ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔ لیکن جریان نبوت سے خود قرآن کے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول ماننے والے بھی کافر ہوکر ہزاروں جماعتوں میں منقسم ہوئے جاتے ہیں تو اوروں کو کیا مرکز اسلام پر جمع کریں گے۔ یہ ساری خرابی اس سے پیدا ہوئی کہ خاتم النبیین کے معنی نبی گر کئے اور قرآن ومحمد رسول اللہ کے علاوہ آنے والے نبیوں اور ان کی وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا اور پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک تھا۔ پھر ساری دنیا کی طرف ایک قرآن اور ایک رسول بھیجنے کا کیا فائدہ ہوا؟ اگر قرآن شریف قیامت تک کے لئے کافی ہے تو پھر آئندہ وحی پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر آئندہ وحی ورسول پر ایمان لانا بھی ضروری ہے تو پھر محمد رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لانا تو کافی نہ ہوا۔ حالانکہ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ پر ایمان لانے سے آدمی مسلمان ہو جاتا ہے۔
جب آنے والی وحی بھی قرآن کی طرح قطعی ہے اور ان کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو نبوت ظلیہ، بروزیہ، مجازیہ وغیرہ مخترعات کیا بلا ہیں۔ اگر مرزا قادیانی تشریعی نبی ہوں تب بھی مسلمان کافر، اگر مستقل نبی ہوں تب بھی کافر۔ اگر ظلی و بروزی ہوں تب بھی کافر، کیا جریان نبوت کا عقیدہ اسلام کو نیست و نابود کرنے کا ہم معنی نہیں ہے؟
یادرکھئے ہمارے نزدیک قرآن کریم پر ایمان لانے کے علاوہ اور کسی نئی چیز پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ خواہ کسی بزرگ کا الہام ہو یا کشف ہو یا خواب ہو۔ پیش گوئی ہو یا امر ہو یا نہی ہو۔ قرآن پر ایمان لانے میں خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور تمام پیغمبر و مبدء و معاد داخل ہیں۔ شاید آپ کو شبہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو ان پر ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ کان کھول کر سن لیجئے کہ تمام مسلمان اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول مانتے ہیں۔ اگر اس وقت کوئی شخص عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو رسول نہیں مانتا تو وہ کافر ہے۔ اسی طرح ان کے نزول کے وقت اگر کوئی شخص ان کو رسول تسلیم نہیں کرے گا تو وہ کافر ہوگا۔ نہ بایں معنی کہ ایمانیات اسلام میں عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا اضافہ کیا جائے گا۔ بلکہ بایں معنی کہ جیسا اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح اس وقت ہوگا۔
٥٥
الغرض ایمانیات اسلام میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوگا۔ بلکہ جتنی چیزوں پر اب ایمان لانا ضروری ہے۔ اتنی ہی چیزوں پر اس وقت ایمان لانا ضروری ہوگا۔ برخلاف مرزا قادیانی کی وحی کے، کہ پہلے اس پر ایمان لانا ضروری نہیں تھا۔ کتب شریعت خصوصاً کتب عقائد اٹھا کر دیکھئے۔ آپ کو یہ کہیں نہیں ملے گا کہ قرآن کے بعد آنے والی وحی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ جب تیرہ سو سال کے مسلمانوں کے ایمانیات میں نہیں ہے۔ تو پھر نئی وحی پر ایمان لانا شریعت محمدیہ پر اضافہ ہوا اور یہی تشریع ہے۔ پھر کس منہ سے آپ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی نہیں ہیں۔
ناظرین کرام! یہ ہے مرزائیوں کی مایہ ناز دلیل جریان نبوت پر جس کے پول کو کھول کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ انصاف آپ پر ہے۔ ہم بھی اس دلیل میں غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
خاتم النبیین بمعنی آخر النبیین
”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیاء میں سے آخری ہیں۔﴾
شان نزول
زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ اپنے منہ بولے بیٹے (متبنیٰ) کو تمام احکام میں بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ میراث میں بھی، جب اسلام آیا تو اس نے بہت سی خرابیوں کی وجہ سے جو اس رسم میں تھیں اس کو مٹانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ ”وما جعل ادعیاءکم ابناءکم ذالک قولکم بافواہکم واللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل ادعوہم لآباءہم ہو اقسط عند اللہ (احزاب)“ ﴿اور خدا نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا نہیں بنا دیا۔ یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات فرماتے ہیں اور وہی سیدھا راستہ بتلاتے ہیں۔ تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے۔﴾
اور حضور ﷺ نے اس سے پہلے زید بن حارثہ ؓ کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنایا ہوا تھا۔
٥٦
یہاں تک کہ ان کو زید بن محمد کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان کو زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ پھر جب کہ رسوم باطلہ جو کہ قوم میں رائج تھیں۔ ان کی مخالفت بہت بڑا دشوار امر تھا۔ بوجہ اس کے کہ مخالفت کرنے والا طعن و تشنیع و ملامت کا نشانہ بن جاتا تھا اور ان کی مخالفت پر وہی شخص جرأت کر سکتا تھا۔ جو خدا کے حکم میں سوائے خدا کے کسی طعن و ملامت کی پرواہ نہ کرے تو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو زینب بنت جحش کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا جو کہ اس سے پہلے حضرت زید بن حارثہ آنحضرت ﷺ کے متبنے کے نکاح میں تھیں اور زید بن حارثہ نے ان کو طلاق دے دی تھی۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فلما قضى زيد منها وطراً زوجنكها لكى لا يكون على المؤمنين حرج فى ازواج ادعياءهم اذا قضوا منهن وطرا (احزاب) ”پھر جب زید نے اس کو طلاق دے دی ہم نے آپ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کچھ تنگی نہ رہے۔ جب وہ ان کو طلاق دے دیں۔﴾
اور آنحضرت ﷺ کا زینب سے نکاح فعلی تبلیغ تھی تاکہ مسلمان منہ بولے بیٹے کی بیوی کو حرام نہ سمجھیں اور اس سے نکاح کرنے سے نفرت نہ کریں۔ جب رسول نے نکاح کیا تو پھر اور کس مسلمان کی جرأت ہے کہ رسول کی سنت سے نفرت کرے۔
یہ عمدہ طریقہ ہے۔ اس رسم کے مٹانے کا الحاصل جب رسول اللہ ﷺ نے خدا کے حکم سے حضرت زینب سے نکاح کیا تو کفار کہنے لگے کہ یہ کیسا رسول ہے جس نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا تو خدا تعالیٰ نے یہ آیت ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ اتاری۔ مطلب یہ ہوا کہ جب محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے حقیقتاً باپ نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے بیٹے کی بیوی باپ پر حرام ہوتی ہے۔ تو پھر منہ بولے بیٹے کی بیوی سے طلاق کے بعد اگر انہوں نے نکاح کر لیا ہے تو یہ کون سی جرم کی بات ہوئی۔
جملہ: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم“ اور ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ کا آپس میں کیا تعلق ہے تو جواب یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں تو یہاں چند شبہات پیدا ہونے کا احتمال تھا۔
- ١....... جب آپ باپ نہیں ہیں تو باپ میں جو شفقت پدری ہوتی ہے۔ وہ بھی
آپ میں نہیں ہوگی۔ حالانکہ نبی کی شفقت اپنی امت پر لوازم نبوت سے ہے۔
٥٧
- ٢....... ہر ایک نبی اپنی قوم وامت کا باپ ہوتا ہے۔ جیسا کہ راغب اصفہانی نے
مفردات میں کہا ہے کہ جو شخص کسی چیز کی ایجاد یا ظہور یا اصلاح میں سبب ہو۔ اس کو باپ کہا جاتا ہے اور اسی واسطے ہمارے نبی ﷺ کو مومنوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”النبی اولیٰ بالمومنین من انفسهم وازواجه امهاتهم وبعض القرأت هو اب لهم انتهی کلام الراغب “ یعنی نبی مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے۔ بہ نسبت ان کی جانوں کے اور آپ کی بیوئیں مسلمانوں کی مائیں ہیں اور بعض قرأتوں میں ہے کہ آپ مسلمان کے باپ ہیں۔ جب آپ کی بیوئیں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ تو ضرور آپ باپ ہوں گے۔ پس یہ کہنے سے کہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔
کسی کو یہ وہم ہو سکتا تھا کہ آپ روحانی باپ یعنی رسول بھی نہیں ہیں۔ ظاہر نظر میں یہ کہنے سے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کی شان میں کمی کا اظہار ہے اور کفار کے اس طعن میں جو حضور پر کیا کرتے تھے کہ یہ ابتر (لاولد بے نام ونشان ہونے والا) ہے۔ ان کو ڈھیل دینا ہے کہ وہ خوب اعتراض کر کے دل خوش کریں۔
پس ان اوہام وشبہات کے ازالہ کے لئے ”لکن رسول الله وخاتم النبیین“ لایا گیا ہے اور لکن عربی زبان میں اسی واسطے موضوع ہے کہ اس سے پہلے کلام میں جو شبہ پیدا ہو سکتا تھا۔ اس کا ازالہ کر دے۔ لہٰذا ”لکن رسول الله وخاتم النبیین“ کہنے سے تمام شبہات زائل ہو گئے۔ پہلے شبہ کا ازالہ تو اس طرح ہوا کہ ”لکن رسول الله“ کہہ کر آپ کے لئے رسالت ثابت کی اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ لہٰذا پہلے جملے یعنی ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ میں جسمانی باپ ہونے کی نفی ہوگی اور ”ولکن رسول الله“ میں روحانی باپ ہونے کا ثبوت ہوگا۔
پس گویا کہ یوں کہا گیا کہ اگرچہ آپ جسمانی باپ نہیں ہیں۔ لیکن آپ روحانی باپ ہیں اور روحانی باپ اپنی روحانی اولاد پر زیادہ شفیق زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ بہ نسبت جسمانی باپ کے پھر آپ میں شفقت کیوں نہیں ہوگی۔
اور دوسرے شبہ کا ازالہ بالکل واضح ہے کہ: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ میں جسمانی باپ ہونے کی نفی ہے جو نبوت کے لئے لازم نہیں اور روحانی باپ ہونا نبوت کے لئے لازم ہے۔ سو اس کی نفی نہیں اور تیسرے شبہ کا ازالہ اس طرح ہوا کہ آپ رسول
٥٨
ہونے کی وجہ سے اپنی امت کے باپ ہیں اور باپ بھی ایسے کہ آپ کی روحانی اولاد کا شمار سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔
قیامت تک آپ کی اولاد بڑھتی چلی جائے گی نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ اس کے انکار سے کافر ہوکر آپ کی اولاد سے کوئی نکلے گا اور نہ محدث، مجدد، ولی، قطب، غوث، ابدال کے انکار سے کوئی کافر ہوگا۔ ان کو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں مسلمان رہیں گے۔ اس طرح پر آنحضرت ﷺ کی بے شمار روحانی اولاد ہوگی اور ان کے ذریعہ سے آپ کا نام تمام دنیا میں ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ تو اے کفار جس شخص کے بعد کروڑ ہا انسان اس کا نام روشن کرنے والے ہوں تم اس کو ابتر (بے نام ونشان ہوجانے والا) کہتے ہو۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔
اور آپ کے دشمنوں کے متعلق حضور ﷺ کو ارشاد ہوا۔ ”ان شانئک ھو الابتر“ یقیناً تیرا دشمن بے نام ونشان ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان معنوں میں تو حضور ﷺ کی بہت بڑی مدح ہے اور اس سے آپ کی شان ظاہر ہوتی ہے۔
برخلاف اس کے خاتم النبیین بمعنی نبی گر لینے سے تو آپ کی صریح مذمت ہے۔ کیونکہ ہر ایک نبی کے آنے پر آپ کی روحانی اولاد انکار سے کافر ہوکر آپ کی اولاد سے نکلتی جائے گی اور بہت ہی تھوڑے عرصے میں دنیا آپ کی اولاد سے خالی ہوجائے گی اور دنیا پر آپ کا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا اور بیچاری تمام امت کافر ہوکر جہنم میں چلی جائے گی اور جنت صرف نئے نبیوں اور ان کے چند ہمراہیوں کے لئے کبڈی گاہ بنادی جائے گی اور ہمراہیوں کا ساتھ ہونا بھی احتمالی ہے۔ کیونکہ نئے نبیوں نے کافروں کو تو مسلمان بنانا نہیں۔ صرف مسلمانوں کو ہی کافر بنانا ان کا کام ہوگا تو مسلمان بیچارے کب تک ان انبیاء کی کفر کی مشین گنوں کا مقابلہ کریں گے۔ کچھ تو شرم کرو۔
وہ الزام ہم کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
منکر :....... پس خاتم کے معنی مہر ہیں۔ آگے مہر کی دو غرضیں ہوتی ہیں۔
- ١...... تصدیق۔ ٢...... تزئین۔
مثبت:...... غلط ہے۔ خاتم آلہ ختم کو کہتے ہیں۔ جب آپ خاتم کو اسم آلہ تسلیم کر چکے ہیں۔ دیکھئے اسم آلہ وہ ہوتا ہے کہ جس فعل سے اس کو بنایا جاوے۔ اس فعل کے کرنے کا آلہ ہو۔ جیسے مضراب مارنے کا آلہ۔ مقراض کاٹنے کا آلہ۔ مجلاب کھینچنے کا
٥٩
آلہ۔ علی ہذا القیاس خاتم کا معنی ختم کرنے کا آلہ ہوگا۔ کیونکہ یہ فعل ختم سے بنا ہے اور ختم کے معنی اختتام اور انتہاء کے ہیں۔
سنئے۔ ختم الشئ من باب ضرب یعنی چیز ختم ہو گئی۔
ختم اللہ بخیر یعنی خدا نے اس کا خاتمہ بخیر کیا۔ ختم القرآن آخرہ ختم قرآن کے معنی اخیر تک پڑھ جانا۔
”والخاتم بفتح التاء وكسرها الختام والخاتام كله بمعنى وخاتمته الشئ آخره “(مختار الصحاح ص ٢٧٥) یعنی خاتم خواہ تا کی زبر کے ساتھ ہو یا زیر کے ساتھ اور ختام وخاتام سب کے ایک ہی معنی ہیں اور وہ ایک معنی یہی ہیں۔ ختم کرنے والا۔ کیونکہ خاتم بالکسر ختم سے اسم فاعل ہے اور اس کے معنی ختم کرنے والا کے ہیں نہ کوئی اور۔ تو جب خاتم بالفتح کو بھی خاتم بالکسر کا ہم معنی قرار دیا تو دونوں کے معنی ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ لیجئے صاحب آپ تو یہ کہہ کر کہ یہ اسم فاعل نہیں ہے۔ بلکہ اسم آلہ ہے۔ ختم کرنے کے معنی سے بھاگتے تھے۔ لیکن وہ پھر آپ کے گلے کا ہار ہو گئے۔ خاتم النبیین کا معنی یہ ہوگا کہ آپ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور خاتم کے معنی مہر یا انگوٹھی اس وقت ہوتا ہے۔ جب اس کا مضاف الیہ ایسا ہو۔ جس کی مہر یا انگوٹھی بنتی ہے۔ خاتم فضۃ چاندی کی انگوٹھی۔ خاتم ذہب سونے کی انگوٹھی۔ خاتم حدید لوہے کی انگوٹھی اور جب اس کا مضاف الیہ ذوی العقول ہو۔ تو اس وقت اس کا معنی انگوٹھی یا مہر نہیں ہوتا۔ ورنہ عربی لغت اور محاورات عرب سے ایک مثال پیش کیجئے کہ خاتم مضاف ہو اور مضاف الیہ جمع ذوی العقول ہو اور آئمہ لغت نے تصریح کی ہو کہ یہاں اس کے معنی مہر کے ہیں۔ جیسا کہ میں نے خاتم بمعنی آخری کی تصریح پیش کر دی ہے اور بالفرض اگر آپ کے کہنے سے تھوڑی دیر کے لئے مان لیں کہ خاتم النبیین میں خاتم کے معنی مہر کے ہیں۔ تب بھی نبی گری ثابت نہیں ہوگی۔ کیونکہ مہر کرنے کا مقصد جس طرح تصدیق ہوتی ہے۔ اسی طرح بند کرنا بھی ہوتا ہے۔ مضمون ختم کر کے مہر لگائی جاتی ہے اور اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی اور مہر کو توڑنا جرم ہے۔ کیونکہ مہر توڑنے سے یا کسی چیز کا نکالنا مقصود ہوگا۔ یا اس میں داخل کرنا اور مہر لگنے کے بعد یہ دونوں چیزیں ممنوع ہیں۔ پس مرزا قادیانی خاتم النبیین کی مہر توڑ کر بڑے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسی طرح بادشاہوں کے کھانوں پر مہر لگی ہوتی ہے تاکہ اس میں سے کوئی نکال نہ لے۔ یا اس میں کوئی مہلک چیز داخل نہ کر دے۔ اسی طرح خاتم النبیین کے ذریعہ تمام پیغمبروں
٦٠
پر مہر لگا دی گئی ہے کہ وہ سب سچے تھے۔ تاکہ کوئی ملحد زندیق ، کذاب ، دجال اپنا زہر آلود جسم پیغمبروں میں داخل کرنے کی کوشش نہ کرے اور مسلمان اس کو پیغمبر خیال کر کے اس کے زہر سے ہلاک نہ ہو جائیں ۔ یہ کلام اس تقدیر پر ہے کہ ختم بمعنی مہر کرنا لیا جائے اور اس میں تصدیق اور اختتام دونوں ملحوظ ہوں اور بسا اوقات ختم بمعنی مہر کرنا ہوتا ہے اور اس میں تصدیق کا معنی بالکل ملحوظ نہیں ہوتا ۔
سنئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ خَتَمَ اللهُ عَلىٰ قُلُوبِهِم یعنی اللہ نے کافروں کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور ان کے متعلق فرماتے ہیں ۔ لا یومنون کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو معلوم ہوا کہ جس چیز پر مہر لگائی جاتی ہے اس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکتی ہے اور نہ نکل سکتی ہے۔ چنانچہ اس مثال کو غور سے دیکھئے کہ ان کے دلوں پر مہر ہے ۔ نہ تو ان کے اندر ایمان داخل ہوگا اور نہ ان میں سے کفر نکلے گا۔ اگر ایمان داخل ہو جائے تو قرآن کی پیشگوئی غلط ہوگی۔ نعوذ باللہ من ذالک !
ملک الشعراء کہتا ہے:
بِحُبِّکَ اِن یَحُلَّ بہِ سِواکا
ترجمہ : میں تجھ سے اس حال میں رخصت ہوتا ہوں کہ تو نے میرے دل پر اپنی محبت کی مہر لگا دی ہے۔ اس خیال سے کہ اس میں کوئی اور نہ اترے۔ دیکھئے اس شعر میں مہر کرنے کی غرض یہی بیان کی گئی ہے کہ مختوم کے اندر اور کوئی چیز داخل نہ ہو سکے ۔ ورنہ شعر کی نزاکت باقی نہیں رہ سکتی ۔
اس طرح سے خاتم النبیین کا یہ معنی ہوگا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کے گروہ پر مہر لگا دی ہے۔ اب ان میں کوئی شخص داخل نہیں ہو سکتا اور اگر محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام نبیوں کا ختم کرنے والا نہ تسلیم کیا جائے تو صاحب شریعت نبیوں کا ختم کرنے والا کس آیت سے آپ ثابت کریں گے۔ جب خاتم النبیین کے معنی افضل الرسل یا زینت انبیاء یا نبی گر ہوئے تو اگر کوئی جھوٹی موٹی شریعت لے آئے اور بعض احکام کی مصالح رکیکہ کی وجہ سے ترمیم کر دے تو آپ کس آیت سے اس کا منہ بند کریں گے ۔ جب وحی الٰہی آ سکتی ہے جس کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے تو بعض احکام جدید لانے والے کے انکار سے بھی تو کافر ہی ہوگا۔ پھر نئی شریعت کیوں نہیں آسکتی ۔ جب ایمانیات میں نئی چیزیں داخل ہو سکتی ہیں تو اعمال میں کیوں نہیں ہوسکتیں ۔ جس طرح آپ
٦١
نے باطل تاویلوں سے مرزا قادیانی کی وحی اور ان کی رسالت کو ایمانیات کے اندر داخل کر دیا ہے۔ کیا اسی طرح اگر کوئی شخص اعمال میں کمی بیشی کرے تو کیا مزید استحالہ لازم آئے گا؟۔ ذرا سوچ سمجھ کر وضاحت کرنی ہوگی۔
کہ اس دشت میں برہنہ پا بھی ہیں
منکر: ...... غرضیکہ بند کرنے کے معنی کسی جگہ نہیں ہوتے۔
مثبت: ...... بالکل سفید جھوٹ ہے۔ لغت کے حوالے تو آپ نے سن لئے۔ اب اپنے مبلغ علم کا حوالہ بھی سن لیجئے۔ خاتم بفتح تا ہو تو تین معنی رکھتا ہے۔ مہر، انگوٹھی، آخر!
(احمدیہ نوٹ بک ص ٣١٣)
فرمائیے آخر کے یہاں کیا معنی ہیں۔ آخری کے یا زینت مہر کے۔
منکر: ...... نبی کریم ﷺ کو ان معنوں میں خاتم النبیین کہا گیا ہے کہ آپ کی پیروی سے جہاں صالح ، شہید اور صدیق کا درجہ ملتا ہے۔ وہاں آپ کی پیروی سے نبوت کا درجہ بھی مل سکتا تھا۔
مثبت: ...... صالح ، شہید، صدیق کے متعلق تو نصوص شریعت کے اندر تصریح ہے کہ یہ تینوں درجے اس امت کو ملیں گے۔
اور اس سے بڑھ کر یہ صدیق ، شہید، صالح اس امت میں پیدا ہوئے جو فریقین کو مسلم ہے تو کیا وجہ ہے کہ نبی جو سب سے بڑا درجہ تھا۔ اس کے متعلق قرآن یا حدیث یا اقوال سلف میں کہیں تصریح نہیں ہے کہ محمد ﷺ کے بعد آپ کی امت میں آپ کی پیروی سے نبی بنیں گے اور ان پر ایمان لانا فرض ہوگا اور ان کا منکر کافر ہوگا۔ چھوٹے درجے بیان فرما دیئے اور بڑا درجہ بیان نہ فرمایا اور نہ کسی نے بڑا درجہ آج تک حاصل کیا۔ یہ قطعی دلیل ہے اس بات پر کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی کسی قسم کا پیدا نہیں ہوگا۔ فافہم!
منکر: ...... آخری کے یا بند کرنا کے معنی کرنے کی صورت میں چونکہ آپ اپنے پہلے نبیوں کی نسبت سے آخری بنتے ہیں۔ باقی نبی بھی اپنے پہلے نبیوں کی نسبت آخری ہیں پھر ان کو اور بھی خاتم کہنا پڑے گا؟
مثبت: ...... یہ تو ہماری دلیل ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں۔ اگر اس کے معنی آخری نبی کے نہ ہوتے تو اور انبیاء کو بھی خاتم النبیین کہا جاتا۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں
٦٢
اور کسی نبی کو خاتم النبیین نہیں کہا گیا۔ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کا عہدہ صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہی دیا گیا ہے اور آپ کے ساتھ خاص اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ کو آخر النبیین تسلیم کیا جائے۔
منکر: ...... ان کے (عیسیٰ علیہ السلام) بعد تا قیامت بنی اسرائیل میں سے ان کی شرارتوں کی وجہ سے نبی پیدا ہونے بند ہو گئے۔
مثبت: .......
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
جناب ! جب بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو مرزا قادیانی بھی تو اسرائیلی ہیں۔ وہ کیسے نبی بن بیٹھے؟۔
سنئے: مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
منکر: ...... اس جگہ سوال تو بعدیت کا ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آگئے تو نفی ٹوٹ گئی۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت مغیرہؓ کی حدیث میں جہاں مسئلہ اجرا نبوت کی بحث موجود ہے۔ وہاں مولانا کے اس سوال کا جواب بھی موجود ہے۔ مغیرہؓ نے ایک شخص کو لَا نَبِیَّ بَعدِی (میرے بعد نبی نہیں) کہنے سے ڈانٹا اور فرمایا: ”كفاك اذا قلت انه خاتم الانبياء فانا كنا نحدث ان عيسى خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده ! کہ بھائی لَا نَبِیَّ بَعدِی مت کہا کرو۔ اس سے لوگوں کو دھوکہ لگتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے تو آپ کے بعد ہی ہوں گے۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
ناظرین کرام! منکر صاحب نے ہوشیاری تو بڑی کی ۔ لیکن خدا کی قدرت خود ہی پھنس گئے۔ حضرت مغیرہؓ کی روایت منکر صاحب کے تمام شبہات کے ازالہ کے لئے کافی ہے۔ جب منکر صاحب نے خود اس روایت کو نقل کیا ہے تو اب اس کی صحت سے انکار نہیں کر سکتے۔ اولاً میں آپ کے سامنے مذکورہ روایت کے الفاظ معہ حوالہ نقل کرتا ہوں۔ بعدہ اس کا لفظ بلفظ ترجمہ کر دیتا ہوں۔ آپ خود ترجمہ ہی سے سمجھ جائیں گے کہ حضرت مغیرہؓ کی روایت کیا کہہ رہی ہے۔
٦٣
”عن الشعبی قال قال رجل عند المغیرة بن شعبة صلے اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ فقال المغیرة بن شعبة حسبک واذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ (درمنثور ج٥ ص٢٠٤)“ ﴾امام شعبیؒ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کے سامنے یہ کہا کہ صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ (یعنی اللہ درود بھیجے محمدﷺ پر جو نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ جن کے بعد کوئی نبی نہیں ہے) تو حضرت مغیرہؓ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء کہنا تجھ کو کافی ہے۔ کیونکہ ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام نکلیں گے۔ پس جب وہ نکلیں گے تو وہ آنحضرتﷺ کے پہلے بھی ہیں اور بعد بھی ہیں۔﴿
ناظرین کرام! اس روایت میں آپ خوب غور کریں کہ حضرت مغیرہؓ کس طرح عوام الناس کے عقائد کو بچا رہے ہیں کہ لا نبی بعدہ نہ کہا کرو۔ صرف خاتم الانبیاء کہنا کافی ہے۔
کیونکہ لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں) میں جو ”لا“ ہے اس کو عربی زبان میں لائے نفی جنس کہتے ہیں اور جو چیز اس کے بعد ہو اس کے وجود کی بالکلیہ نفی کرتا ہے۔ مثلاً ”لا رجل فی الدار“ (گھر میں کوئی مرد نہیں) اس وقت کہا جائے گا جب گھر میں کسی مرد کا وجود نہ ہو۔ نہ ایک ہو نہ دو نہ چار۔ بالکل گھر میں کوئی مرد نہ ہو۔ جب لائے نفی جنس کا استعمال بالکلیہ وجود کی نفی کے لئے ہے تو لا نبی بعدی کہنے سے ظاہر نظر میں یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا موجود ہونا بھی ممکن نہیں۔ گو وہ پہلے انبیاء میں سے ہی ہو۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے نزول پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
اس لئے حضرت مغیرہؓ نے لا نبی بعدی کہنے سے روکا کہ اس سے بظاہر عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کی نفی ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ آنحضرتﷺ کے بعد زندہ ہیں اور جو معنی خاتم النبیین کے ہیں۔ وہ خاتم الانبیاء (یعنی نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے) کہنے سے ادا ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا لا نبی بعدہ کو خاتم الانبیاء کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس شخص نے خاتم الانبیاء کو لا نبی بعدہ کے ساتھ ملا کر یوں کہا تھا؟
”صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ“ اور ملانے سے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کی نفی کا شبہ اور زیادہ قوی ہو جاتا تھا۔ کیونکہ خاتم الانبیاء کے معنی نبیوں کا ختم
٦٤
کرنے والا ہوئے۔ یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تو لا نبی بعدہ سے یہی سمجھ میں آوے گا کہ پہلے نبیوں میں سے بھی آپؐ کے بعد کسی کا وجود ثابت نہیں۔ اس مفسدے کی وجہ سے حضرت مغیرہؓ نے لا نبی بعدہ کو خاتم الانبیاء کے ساتھ ملانے سے روک دیا۔ اس روایت سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
- ١...... عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی نازل ہوں گے۔ نہ کوئی اور، اس کے
لئے حضرت مغیرہؓ کے ان لفظوں کو پڑھئے: ’’كنا نحدث ان عيسىٰ عليه السلام فان خارج هو فقد كان قبله وبعده ‘‘ کہ ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے۔ پس جب وہ نکلیں گے تو وہ آپ سے پہلے بھی ہیں اور بعد بھی ہیں۔
حضرت مغیرہؓ فرماتے ہیں کہ جو عیسیٰ آنے والا ہے وہ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی ہے اور بعد بھی ہے اور وہ صرف عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں نہ کوئی اور۔ ’’فقد كان قبله وبعده‘‘ زیر نظر رہے۔ منکر صاحب بتائیں کہ قبلہ و بعدہ کا کیا مطلب ہے۔
منکر صاحب کی دیانت پر مجھے سخت افسوس ہے کہ آپ نے لفظ قبلہ نقل تو کیا۔ لیکن مطلب بیان کرتے وقت اس کو کھا گئے۔
ناظرین کرام! منکر صاحب کا ترجمہ بھی ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں کہ بھائی لا نبی بعدی مت کہا کرو۔ اس سے لوگوں کو دھوکہ لگتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے تو وہ آپ کے بعد ہی ہوں گے۔
اچھا بعدہ کا ترجمہ تو بعد ہی ہوں گے۔ ہوا تو قبلہ کا ترجمہ۔ کہاں گیا یہ مرزا قادیانی کے کمالات کا پرتو ہے۔ مرزائی حضرات میں یہی ایک کمال ہے کہ عبارت کو قطع و برید کر کے اپنا مطلب نکالنا۔ حوالہ غلط دینا۔ عبارت نقل کر کے بعض الفاظ کا ترجمہ جو ان کے مطلب کے مخالف ہو۔ چھوڑ دینا اور اگر کچھ بھی نہ ہو سکے تو ایسی تاویل کرنا جو شیطان کو بھی کبھی نہ سوجھی ہو۔
- ٢...... صحابہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے۔ کیونکہ حضرت مغیرہؓ
صحابی ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ وہ عیسیٰ آئیں گے۔ جو آپ سے پہلے بھی ہیں اور بعد بھی۔ صحابی جب تابعی کو کہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے۔ تو اس کی مراد یہی ہوتی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ ایسا کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں تو جب صحابہؓ یوں کہا کرتے تھے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے جو محمد رسول اللہ سے پہلے ہیں۔ تو معلوم ہوا تو صحابہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے معتقد تھے اور صحابہؓ کا عقیدہ
٦٥
حضورﷺ کے بتلانے کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے ان کو بتایا تھا۔ لہذا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ صحابہؓ وفات کے معتقد تھے۔ ان کی پیش کردہ روایت سے باطل ہو گیا۔
- ٣...... معلوم ہوا کہ صحابہؓ کا عقیدہ تھا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں
آسکتا۔ کیونکہ حضرت مغیرہؓ نے لا نبی بعدہ سے روکنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ آنحضرتﷺ کے بعد وہ نبی آئے گا۔ جو آنحضرتﷺ کے پہلے بھی ہے اور بعد بھی۔ دیکھو ان کے لفظ ”فقد کان قبله وبعده“ اور اگر آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا نبی یا بہت سے نئے نبی آنے ہوتے۔ جیسا کہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیانی فرماتے ہیں۔ تو حضرت مغیرہؓ یوں فرماتے کہ بھائی لا نبی بعدی مت کہو۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے بعد فلاں نبی پیدا ہوگا۔ یا بہت سے نبی پیدا ہوں گے اور قبلہ و بعدہ کی قید نہ لگاتے۔ فافھم فانہ عزیز!
- ٤...... صحابہؓ میں جنہوں نے لا نبی بعدی کہنے سے روکا ہے۔ جیسے حضرت صدیقہ
عائشہؓ ان کی بھی یہی مراد ہے جو حضرت مغیرہؓ کی ہے۔
- ٥...... صحابہؓ خاتم الانبیاء کا یہی مطلب سمجھتے تھے کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا ظلی،
بروزی، حقیقی، غیر حقیقی، مستقل، غیر مستقل نبی نہیں ہوگا۔ ورنہ جس طرح حضرت مغیرہؓ نے قبلہ وبعدہ کا ذکر کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو بیان فرما دیا۔ اسی طرح دوسرے آنے والے نبیوں کا بھی ذکر ضروری تھا۔ کیونکہ لا نبی بعدہ نے ہر قسم کی نفی کر دی تھی۔ حضرت مغیرہؓ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کر کے باقی تمام اقسام کو مد نفی میں ڈال دیا۔
- ٦...... آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ صحابہ و تابعین میں اتنا زور
پکڑ گیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کی نفی کے احتمال سے بعض صحابہؓ نے لا نبی بعدی کہنے سے روکا۔ تاکہ عوام عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا انکار ہی نہ کر بیٹھیں۔ اگر کوئی نیا نبی آنا ہوتا تو اس کی بھی استثناء ضروری تھی۔
منکر:...... چنانچہ خود نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ ”کیف تهلك امة انا اولها وعيسىٰ بن مريم آخرها“ کہ وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے۔ جس کی ابتداء میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ہیں۔
مثبت:......
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے دلربا پہلے
٦٦
مگر یہ مرزا قادیانی آنجہانی کا پرتو ہے۔
ناظرین کرام! دیکھئے منکر صاحب دن دھاڑے حدیث پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ حدیث دراصل یوں ہے ۔”کیف تہلک امۃ انا اولہا والمهدی وسطہا والمسیح آخرہا“ ”ولکن بین ذالک فیج اعوج لیسوا منی ولا انا منہم (رواہ رزین مشکوۃ ص ٥٨٣، باب ثواب ہذا الامۃ)“ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کی ابتدا میں میں ہوں اور درمیان میں امام مہدی اور اخیر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن اس کے درمیان (یعنی میرے بعد اور مہدی سے پہلے) ایک جماعت ہوگی جن کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں نہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ اس سے مراد مدعیان نبوت اور فرق باطلہ ہیں۔
منکر صاحب والمهدی وسطہا کے لفظ کو بالکل کھا گئے:
چونکہ آنحضرتؐ کے بعد امام مہدی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام دو شخصوں کا آنا مرزا قادیانی کے دعوے کی تکذیب ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو جب مہدی بننے کی سوجھی تو دل میں خیال کیا کہ حدیثوں سے امام مہدی کے بعد ان کے زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ثابت ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس کو تسلیم کرتے ہیں تو جھٹ کہہ دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ بھی میں ہی ہوں۔ مہدی بھی ہوں عیسیٰ بھی اور یہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ مہدی عیسیٰ سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔ لیکن اس حدیث میں چونکہ حضورﷺ کا صاف ارشاد موجود ہے۔
کہ امت کی ابتداء میں میں ہوں اور درمیان میں امام مہدی علیہ السلام ہیں اور اخیر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جس سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دو شخص ہیں۔ لہٰذا منکر صاحب نے والمهدی وسطہا کو حذف کرکے تحریف میں مرزا قادیانی کے اتباع کا پورا ثبوت دیا۔ شاباش! مردان چنیں کنند!
منکر :....... کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ آپ کے شاگرد کے آنے سے تو خاتمیت محمدی میں فرق آجائے۔ لیکن ایک غیر شاگرد کے آنے سے جس نے ان کی پیروی سے نبوت حاصل نہیں کی۔ خاتمیت میں کوئی فرق نہ آئے۔
٦٧
ثبت: ....... چونکہ خاتمیت محمدی کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت دی نہیں جائے گی۔ لہٰذا جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ مجھ کو آپ کے بعد نبوت دی گئی ہے تو یہ خاتمیت محمدی کے صریح بر خلاف ہے۔ برعکس اس کے کسی پہلے پیغمبر کا آپ کے بعد آنا خاتمیت محمدی کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس کو آنحضرت ﷺ سے پہلے نبوت مل چکی ہے۔ خاتم النبیین کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ کے بعد نبی بننے بند ہو گئے ہیں نہ یہ کہ خاتم النبیین کے بعد اگر پہلے انبیاء میں سے کوئی زندہ ہو تو وہ بھی مرجائے۔ خدارا سوچو تو سہی۔ کیوں لوگوں کو گمراہ کر کے دگنے عذاب کے مستحق بن رہے ہو۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام دنیا ہی پر رہتے اور محمد رسول اللہ ختم الرسل تشریف لے آتے تو کیا آنحضرت ﷺ عیسیٰ علیہ السلام کو کہتے کہ اب تو مرجاؤ۔ کیونکہ میں آخری نبی ہو کر آگیا ہوں۔ اگر آنحضرت ﷺ کے وقت میں کسی پہلے نبی کے زندہ رہنے سے خاتمیت محمدی میں فرق آتا ہے تو آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو یہ کیوں فرمایا؟۔
”ولوکان موسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی (رواہ احمد والبیہقی مشکوۃ ص ٣٠)“
کہ اگر موسٰی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے سوا چارہ نہیں تھا۔ یوں کیوں نہ فرمایا۔ عمرؓ کچھ ہوش کرو۔ میرے بعد موسٰیؑ سے بھی افضل پیغمبر پیدا ہوگا۔ (مرزا قادیانی) وہ بھی میری پیروی کرے گا اور میری ہی باتوں کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے گا اور تم یہودیوں کی باتیں سنتے ہو۔ کیسی اچھی بات تھی۔ محمد رسول اللہ کا سید المرسلین ہونا ایسا ثابت ہو جاتا جس سے زیادہ واضح طریق اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ اسی واسطے نہیں فرمایا کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
منکر: ....... وہ کونسی حکمت ہے جس کی وجہ سے ایک پچھلی امت کے نبی کو خیرالامم کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ مبعوث کرے گا۔ آخر کوئی معقول وجہ ہونی چاہئے نئے نبی کے آنے سے کونسا فتنہ پیدا ہوتا ہے جو پرانے نبی کے آنے سے برپا نہیں ہوتا؟۔
ثبت: ....... جب نصوص شرعیہ مسلّمہ عندالخصم سے ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آخری زمانہ میں نزول فرمائیں گے تو اب اس کی حکمت پوچھنا کہ کیوں ایسا ہوگا؟ یہ راز تکوین کا دریافت کرنا ہے۔ سو یہ دریائے خون ہے۔ اس میں قدم رکھنا اپنے آپ کو ہلاکت عظیم میں سپرد کرنا ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس میں کوئی حکمت معقول نہیں ہے۔ ضرور ہے۔ مگر ہماری عقلیں اس کے ادراک سے عاجز ہیں۔ اس لئے کہ:
٦٨
اگر خواہی سلامت برکنار است
اس لئے شریعت نے براہ شفقت ایسے امور کی کھود کرید سے روک دیا ہے اور ضروری کاموں میں لگا دیا ہے:
کہ کس نگشود و نگشاید بہ حکمت ایں معما را
اور سنئے مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں۔“
(چشمہ معرفت ص٢٧٩، خزائن ج ٢٣ ص٢٨٦)
اور فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کی دریافت کرسکے۔ بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص٢٧٨، خزائن ج ٢٣ ص٢٨٠)
اور سنئے فرماتے ہیں: ”یہ خیال بھی سراسر حماقت ہے کہ جس قدر قانون قدرت ظاہر ہو چکا ہے اسی پر خدا کے مخفی ارادوں اور مخفی قدرتوں کا قیاس کرنا چاہئے۔“
(حاشیہ چشمہ معرفت ص٢٧٨، خزائن ج ٢٣ ص٢٨٠)
جب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق خدا کا ارادہ ہو چکا ہے تو اب اوہام مخترعہ کی بنا پر اس کی حکمت پوچھنا بقول مرزا قادیانی حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟۔ لیکن ملاحدہ کی کثرت اس امر کی مقتضی ہے کہ نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی حکمتیں جو علماء اسلام کثرہم اللہ پر خدا کی طرف سے منکشف ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک حکمت ذکر کر دی جائے۔
حکمت نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام
امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کی تمام مخلوق سے افضل ہیں۔ ایسے ہی آپ تمام انبیاء سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ بعض محققین نے یہاں تک لکھا ہے کہ آپ کے جسم مبارک کے ساتھ جو خاک متصل ہے وہ عرش معلیٰ سے افضل ہے۔
اور اس افضلیت کو خود حضور ﷺ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتصریح بیان فرما دیا ہے۔
...... ”انا حبیب اللہ ولا فخر وانا حامل لواء الحمد یوم القیٰمۃ تحتہ آدم فمن دونہ ولا فخر (ترمذی شریف)“ میں اللہ کا حبیب ہوں۔
٦٩
بلافخر اور میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں گا۔ جس کے نیچے آدم اور ان کے علاوہ تمام لوگ ہوں گے۔ ﴾
- ٢...... ”اذا كان يوم القيامة كنت امام النبيين وخطيبهم
(ترمذی)“ ﴿ میں قیامت کے دن تمام انبیاء کا امام ہوں گا اور ان کا خطیب۔﴾
- ٣...... ”انا خطيبهم اذا انصتوا (ترمذی)“ ﴿ میں ان کی طرف سے
کلام کروں گا جب وہ سب چپ ہو جائیں گے۔ ﴾
قرآن حدیث میں حضور ﷺ کی افضلیت مصرح ہے تو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جس طرح ہمارے حبیب کی افضلیت پر قولی شہادت قائم ہوگئی ہے۔ اسی طرح عملی شہادت بھی قائم کر دی جائے۔ اس کے لئے منجملہ اور شہادتوں کے عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آخری زمانہ میں مقدر کیا اور اس نزول سے آنحضرت ﷺ کی افضلیت پر شہادت اس طور پر ہوئی کہ ایک عظیم الشان مستقل صاحب کتاب وصاحب شریعت نبی آنحضرت ﷺ کی شریعت کا متبع ہوا اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والا اور آپ کا امتی ہوا اور آپ کی امت میں داخل ہونے کو اپنا فخر سمجھا۔
تو جس نبی کی امت میں اتنا بڑا جلیل القدر پیغمبر ایک امتی ہو کر رہے اور باوجود صاحب کتاب وشریعت ہونے کے ایک حکم کو بھی بدل نہ سکے تو اس نبی ﷺ کی کتنی بڑی شان ہوگی اور باقی انبیاء پر اس کی فضیلت نہایت وضاحت اور صفائی کے ساتھ ثابت ہوجائے گی۔ کیونکہ انبیاء کی جماعت میں سے ایک ایسا نبی جو صاحب کتاب اور اکثر انبیاء سے افضل اور بعض انبیاء کے برابر ہے۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں ہوگا اور آپ کی تعلیم کی پیروی کرے گا اور قرآن کا نسخ تو درکنار آنحضرت ﷺ کی سنت میں بھی کسی قسم کی تبدیلی کا مجاز نہ ہوگا۔ تو آنحضرت ﷺ کی افضلیت باقی انبیاء پر جو کہ آنحضرت ﷺ کے ایک متبع نبی جیسے ہیں۔ روز روشن کی طرح ثابت ہوجائے گی۔
یعنی آپ کی امت میں جب پہلے انبیاء کے برابر کا ایک صاحب کتاب نبی موجود ہے تو آپ کے درجے کو کون پہنچ سکتا ہے اور آپ کی شان اور درجے کا علم کما حقہ سوائے خدا کے کس کو ہو سکتا ہے۔ (فافہم فانہ لطیف)
اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں ایک اور لطیف اشارہ ہے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر وصاحب کتاب نبی ہو کر شریعت محمدیہ کے متبع ہوں گے۔ اسی طرح اگر تمام پیغمبر صاحب شریعت وغیر صاحب شریعت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے سوا چارہ نہیں تھا۔
٧٠
اور وہ اپنی شریعتوں پر عمل نہ کر سکتے اور ان کی شریعتیں ان کی موجودگی میں منسوخ قرار دی جاتیں۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام صاحب کتاب ہو کر بھی اپنی کتاب پر عمل نہیں کر سکیں گے اور یہ عملی شہادت پہلے پیغمبروں میں سے صرف ایک کے بھیجنے سے پوری ہو سکتی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس کے لئے خدا تعالیٰ نے مقدر کیا۔ ہذا! برخلاف اس کے اگر آپ کی امت میں سے کوئی شخص نبی بنے تو مقصود مذکور حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس نبی کو نئی کتاب و شریعت تو دی نہیں جائے گی۔ لہٰذا یہ صاحب کتاب وصاحب شریعت نہیں ہوگا۔ جیسا کہ مخالف کو بھی مسلم ہے تو جو پہلے صاحب کتاب وصاحب شریعت نبی ہیں۔ ان کے ساتھ برابر نہیں ہوتا۔ جب یہ امتی نبی پہلے نبیوں کے ساتھ برابر نہ ہوا تو ہو سکتا ہے کہ یہ تو پہلے نبیوں سے کم درجے کا ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ ان کے برابر کے نبی ہوں۔ (ہذا تخالف) اور دوسری بڑی زبردست خرابی یہ ہے کہ آپ کے بعد نبوت کو جاری ماننا پڑے گا اور پھر جب بقول خلافت پناہی ہزاروں نبی ہوں گے تو امت مسلمہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ کما مر بالتفصیل! برخلاف اس کے جب مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور اس عقیدے پر وہ جمے رہیں تو پھر خواہ کتنے دجال نبوت کا دعویٰ کریں۔ مسلمانوں کا شیرازہ منتشر نہیں ہو سکتا۔
دیکھئے! تیرہ سو سال سے اگر مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی بن سکتا ہے۔ تو ہزاروں جھوٹے نبی پیدا ہو جاتے اور ہزاروں شیطانی وساوس میں پھنس کر مدعی نبوت بن جاتے اور امت مسلمہ کا شیرازہ پارہ پارہ ہو جاتا اور جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے معتقد ہوئے ان کے پھسلنے کی یہی وجہ تھی کہ ان مدعیان مہدویت و عیسویت نے مرزا قادیانی کی طرح باطل تاویلیں کیں اور سادہ لوح ان کے دام تزویر میں آگئے۔ اگر وہ ختم نبوت کے عقیدے پر جمے رہتے اور ان مدعیوں کی باطل تاویلیں نہ سنتے تو ایمان بچا نکلتے۔ با وجود اس کے کہ سابق مسلمان ختم نبوت کے عقیدے پر جمے ہوئے تھے۔ پھر بھی ان میں سے بعض شیطانی دھوکے میں آگئے۔ لیکن جب مرزا قادیانی نے نبوت کا پھاٹک کھول دیا ہے اور ہر ایک نتھو خیرا نبوت کا مدعی بن بیٹھا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے بہت نے نبوت کے دعوے کئے ہیں اور ہر ایک وہمی اپنے اوہام کو وحی خیال کرنے لگ گیا ہے تو اگر یہی خیال ترقی کرتا گیا تو مسلمانوں کی خیر نظر نہیں آتی۔
منکر :...... ”لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیاً“ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔
٧١
مثبت :...... حدیث نہایت درجے کی ضعیف ہے اور قابل استدلال نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان عبسی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ ” کما قال ابن حجر وسید جمال الدین المحدث فی روضة الاحباب “ لیکن جس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے اور اس میں حضرت ابراہیم ابن رسول اللہ کی وفات کا ذکر ہے۔ اس سے ختم نبوت بالکلیہ روز روشن کی طرح ثابت ہوتی ہے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب من سمی باسماء الانبیاء میں یہ حدیث ذکر کی ہے۔ ” مات وهو صغير ولو قضى ان يكون بعد محمد ﷺ نبي لعاش ابنه ولكن لا نبي بعده “ ﴿ ابراہیم ابن رسول اللہ فوت ہو گیا اور اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾
اس حدیث کو ابن ماجہ نے بھی صحیح سند کے ساتھ اس باب میں ذکر کیا ہے۔ جس میں ” لو عاش ابراهيم الحديث “ کو ذکر کیا ہے۔ لیکن آپ نے صحیح حدیث کو چھوڑ دیا جو اجراء نبوت بعد آنحضرت ﷺ کی جڑ بالکلیہ کاٹتی ہے اور ختم نبوت کو روشن کرتی ہے۔
منکر :...... حضرت صدیقہ عائشہؓ فرماتی ہیں: ” قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبی بعدہ (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤ ، مجمع البحار) “
مثبت :...... اس کا جواب حضرت مغیرہ کے قول کی شرح میں گزر چکا ہے۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔
منکر :...... ” انا سيد الاولين والآخرين من النبيين ولا فخر “
مثبت :...... ثبوت ندارد۔ برتقدیر صحت آخرین وہ انبیاء ہیں جو پہلوں کی نسبت آخری ہیں نہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کے نبی اور حقیقی آخری آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔
منکر :...... ” قال رسول الله للعباس فيكم النبوة والمملكة “ کہ تم میں نبوت بھی ہوگی اور سلطنت بھی۔
مثبت :...... تحریف سے کام نہیں چل سکتا۔ نبوت سے مراد آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کا زمانہ ہے۔ اسی کے لئے مندرجہ ذیل احادیث پر غور کیجئے۔
- ......١ ” عن النعمان بن بشير وحذيفة قال قال رسول الله ﷺ
تكون النبوة فيكم ماشاء الله ان تكون ثم يرفعها الله ثم تكون ملكا جبريه
٧٢
فتکون ماشاء اللہ ان تکون ثم یرفعہا اللہ ثم تکون خلافۃ علی منہاج النبوۃ ثم سکت (مشکوٰۃ کتاب الفتن، احمدیہ نوٹ بک ص ٣٦٦) ”حضرت نعمان بن بشیر وحذیفہ سے مروی ہے کہ تم میں نبوت رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔ پھر اس کو خدا اٹھالے گا۔ پھر نبوت کے طریق پر خلافت ہوگی۔“
- ٢...... ”عن سفینۃ قال سمعت النبی ﷺ یقول الخلافۃ ثلاثون
سنۃ ثم تکون ملکاً ثم یقول سفینۃ امسک وخلافۃ ابی بکر سنتین وعمر عشرۃ وعثمان اثنتی عشرۃ وعلی ستۃ (رواہ احمد وترمذی وابوداؤد ومشکوٰۃ ص ٤٦٣) ”حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خلافت تیس سال تک ہوگی۔ پھر سلطنت ہو جائے گی۔ پھر حضرت سفینہ (یہ حدیث بیان کرکے) فرمایا کرتے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے دو سال شمار کر اور حضرت عمر کی خلافت کے دس اور حضرت عثمان کی خلافت کے بارہ اور حضرت علی کی خلافت کے چھ (تو یہ کل تیس برس ہوئے)۔“
- ٣...... ”قال رسول اللہ ﷺ خلافۃ النبوۃ ثلاثون عا ماً ثم
یکون ملک فاستاء لہا رسول اللہ ﷺ یعنی نساء ہ ذلک فقال خلافۃ نبوۃ ثم یوتی اللہ الملک من یشاء (ترمذی ابوداؤد) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کی خلافت تیس برس تک ہوگی۔ پھر سلطنت بن جائے گی۔ آنحضرت ﷺ کو اس سے رنج ہوا۔ پس فرمایا کہ نبوت کی خلافت ہوگی۔ پھر خدا جس کو چاہے گا سلطنت دے گا۔“
- ٤...... ”لی النبوۃ ولکم الخلافۃ (کنزالعمال ج ٦ ص ١٨٠) “
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میرے واسطے ہے اور خلافت تمہارے واسطے۔ یہ صاف تصریح ہے کہ آپ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملے گی۔“
- ٥...... ”عن ابی مالک الاشعری قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ
تعالیٰ بدا ھذا الامر نبوۃ ورحمۃ وکائنا خلافۃ ورحمۃ وکائنا ملکا عضوضاً وکائنا عتواً وجبریۃ وفساداً فی الامۃ (طبرانی کنزالعمال ج ٦ ص ٢٩) “ ”ابو مالک اشعری سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس کام کو (شریعت اسلام) کو نبوت اور رحمت سے شروع کیا ہے اور پھر خلافت اور رحمت ہو جائے گا اور پھر سلطنت ہوگی۔ لڑائی جھگڑے کی اور ظلم ہوگا اور امت میں فساد ہوگا۔“
٧٣
ان پانچ روایتوں پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا۔ بعض دفعہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اور خلفاء راشدین کے زمانہ کو نبوت کا زمانہ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ١ میں ہے اور بعض دفعہ خلافت کا علیحدہ ذکر کیا ہے اور اس کے بعد سلطنت ہو جانے کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ٢،٣،٤،٥ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ منکر کی پیش کردہ روایت ”منكم النبوة والمملكة“ اور روایت نمبر ١ میں نبوت سے مراد آنحضرت ﷺ خلفاء راشدین کا زمانہ ہے۔ کیونکہ ان دونوں روایتوں میں نبوت کے بعد ملوکیت ہو جانے کا ذکر ہے۔ حالانکہ نبوت کے بعد تیس سال تک منہاج نبوت پر خلافت ہوئی اور اس کے بعد سلطنت ہوئی۔ جیسا کہ روایت نمبر ٢ تا ٥ میں نبوت کے بعد منہاج نبوت پر خلافت ہونے کا ذکر ہے۔ پس اگر فیکم النبوة اور تکون النبوۃ فیکم میں نبوت سے مراد آنحضرت ﷺ اور خلفاء راشدین کا زمانہ نہ ہو تو اس کا کیا مطلب ہوگا کہ تم میں نبوت ہوگی۔ پھر خدا تعالیٰ اس کو اٹھا لے گا اور پھر جبریہ سلطنت ہو جائے گی۔ پھر اس کو بھی خداوند تعالیٰ اٹھا لے گا اور منہاج نبوت پر خلافت ہوگی۔ جیسا کہ روایت نمبر ١ میں ہے۔ ان سب روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد خلافت منہاج نبوت پر ہوگی اور اس کا زمانہ تیس برس ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ٢،٣ میں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملے گی۔ خلافت ملے گی جیسا کہ روایت نمبر ٣ تا ٥ سے ظاہر ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد سلطنت ہو جائے گی۔ جیسا کہ ایسا ہی ہوا۔ آخیر میں پھر منہاج نبوت پر خلافت ہوگی۔ جو امام مہدی اور عیسیٰ علیہما السلام کا زمانہ ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ١ سے ظاہر ہے۔
ان روایات میں غور کرو کہ حضور ﷺ نے اپنے بعد خلافت ملنے کا ذکر تو کیا ہے۔ لیکن نبوت ملنے کا ذکر بالکل ترک کر دیا۔ بلکہ اس کی نفی فرمادی۔
منکر:....... ”مطلق النبوة لم يرتفع وانما ارتفع نبوة التشريع
(الیواقیت والجواہر ج٢ ص ٢٧)“
”لا نبي بعدي اے لا نبي شرعه مجمع البحار“ کا تکملہ ص ٨٥ ”لا انه لا يكون بعده نبي بل النبوة سارية الى يوم القيامة فتوحات مكيه“
مثبت:....... منکر صاحب کے ان حوالہ جات کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ عبدالوہاب شعرانی صاحب الیواقیت اور مصنف مجمع البحار اور حضرت محی الدین ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بزعم منکر اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مطلقاً نبوت بند نہیں ہے۔ بلکہ
٧٤
صاحب شریعت نبی کا آنا بند ہے اور غیر صاحب شریعت جو آنحضرت ﷺ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے آسکتا ہے۔
ناظرین کرام! یہ مخفی نہیں ہے کہ دھوکہ دہی و تحریف و بزرگان دین کے اقوال کی قطع برید امت مرزائیہ کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ لوگ مذکورہ بزرگوں پر یہ اتہام لگاتے ہیں کہ یہ بزرگان دین جریان نبوت کے قائل تھے۔ شاید آپ سوال کریں کہ جب یہ بزرگ فرما رہے ہیں کہ صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔ ایسا نبی آئے گا جو قرآن کو منسوخ نہ کرے اور شریعت محمدیہ کا متبع ہو اور نبوت قیامت تک جاری ہے۔ وغیرہ وغیرہ تو ان اقوال کا کیا مطلب ہے۔ سو غور سے سنئے کہ احادیث سے دو چیزیں ثابت ہیں۔
- .......١ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا۔
- .......٢ دوسرے سچی خوابیں۔
کشف والہام یعنی سوتے یا جاگتے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا دل میں ڈال دیا جانا۔ فرشتوں کا مؤمنین سے ملاقات کرنا اور ان کو صبر کی تلقین کرنا اور ان کو بشارت سنانا۔
سو بعض بزرگان دین کی کتب واقوال میں جو یہ پایا جاتا ہے کہ ایسا نبی نہیں ہوگا جو شریعت محمدیہ کا ناسخ ہو۔ بلکہ جب آپ کی شریعت کے حکم کے ماتحت ہو تو ختم نبوت کے منافی نہیں۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کی طرف اشارہ ہے اور بزرگوں کے اس قول (جو آپ کی شریعت کا تابع ہو ) کا مصداق سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کوئی نہیں۔ اگرچہ بعض بزرگوں کے اقوال سے ایک مفہوم کلی (جو نبی بھی آپ کی شریعت کا تابع ہو ) سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن اس مفہوم کلی کا ایک ہی فرد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جیسا شمس (سورج) کہ مفہوم کلی ہے۔ لیکن اس کا فرد دنیا میں صرف ایک ہی ہے۔
”كما في كتب المنطق “ ان بزرگوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نبی تابع شریعت محمدیہ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور بھی کوئی ہوگا اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبوت عطاء کی جائے گی۔ کیونکہ ان بزرگوں نے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا ذکر کیا ہے۔ وہاں بظاہر ختم نبوت کے خلاف جو شبہ واقع ہو سکتا تھا اس کو یہ کہہ کر دور کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بوقت نزول آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔ چونکہ نبوت ان کو پہلے مل چکی ہے۔ لہٰذا یہ کسی طرح بھی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ کیونکہ ختم نبوت کی مخالفت دو ہی صورتوں سے ہو سکتی ہے۔ کسی کو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت عطاء کی جائے یا نبوت تو آپ سے پہلے مل چکی ہو۔ لیکن بعض احکام کو منسوخ
٧٥
کردے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہ دونوں عذر لازم نہیں آتے۔ پس ان بزرگوں نے جہاں نبی کا آنحضرت ﷺ کی شریعت کے تابع ہونا لکھا ہے۔ وہاں عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد ہیں۔ خواہ وہاں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ یہ بزرگ آنحضرت ﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی نبی کے وجود کے قائل نہیں ہیں۔ لہٰذا بزرگوں کی مطلق عبارتوں سے لوگوں کو دھوکہ نہ دیا جائے۔ بلکہ ان کے اقوال مطلقہ کو مقیدہ پر محمول کیا جائے تو نتیجہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے سوائے اور کچھ نہیں۔
- ......٢ دوسری چیز کے لئے ذیل کی روایات ملاحظہ ہوں۔
- ......١ ”قال رسول اللہ ﷺ لم یبق من النبوۃ الا المبشرات
(بخاری) ”﴿نبوت میں سے کوئی چیز نہیں رہی سوائے بشارات کے۔﴾
- ......٢ ”رویاء المومن جزء من ستة واربعين جزا من النبوة
(بخاری ومسلم) ”﴿مومن کی خواب نبوت میں سے چھیالیسواں حصہ ہے۔﴾
- ......٣ ”ولقد کان فیما قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی
احد فانہ عمرؓ (بخاری ومسلم) ”﴿تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ پس اگر میری امت میں کوئی ہے تو عمرؓ ہے۔ محدث دال کی زبر اور تشدید کے ساتھ اس شخص کو کہتے ہیں جس کے دل میں سوتے یا جاگتے میں خدا کی طرف سے سچی باتیں ڈالی جائیں۔ جیسے حضرت عمرؓ کی بہت سی باتیں خدائی احکام کے مطابق نکلیں۔ یہ اسی واسطے کہ خدا ان کے دل میں ڈال دیتا تھا۔﴾
اور ایک جگہ قرآن شریف میں ارشاد ہے: ”ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیاکم فی الحیاۃ الدنیا والآخرۃ (حم سجدہ)“
یعنی مومنوں کے پاس فرشتے آتے ہیں اور ان کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور جنت کی بشارت سناتے ہیں۔ پس بعض بزرگان دین کا یہ فرمانا کہ نبوت قیامت تک جاری ہے۔ اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ نبوت جمیع اجزاء ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے بعض اجزاء باقی ہیں۔
- ......١ جیسے سچی خوابیں۔
- ......٢ سوتے جاگتے میں خدا کی طرف سے کسی بات کا دل میں ڈال دیا جانا۔
- ......٣ فرشتوں کا مومنوں کو ملنا اور ان کو تسلی دینا اور بشارات سنانا۔
٧٦
- ٤ ....... بعض احکام شرعیہ کے حکم کا انکشاف ہو جانا۔ جب بزرگان دین یہ کہتے
ہیں کہ غیر تشریعی نبوت باقی ہے تو ان کی مراد یہی اجزاء ہوتے ہیں۔ تا کہ مسلمان یہ نہ سمجھ لیں کہ جب نبوت ختم ہو گئی تو جتنی چیزیں نبوت میں تھیں۔ وہ سب ختم ہو گئیں۔ بلکہ بعض اجزاء نبوت کے باقی ہیں۔ لیکن یہ اجزاء جس میں پائے جائیں وہ نبی نہیں کہلا سکتا۔ ورنہ تمام مومنین کو نبی ماننا پڑے گا۔ کیونکہ حسب آیت مذکورہ ان کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ ان کو تسلی دیتے ہیں اور ان کو بشارتیں سناتے ہیں اور یہ نبوت کے اجزاء ہیں۔ حالانکہ تیرہ سو سال میں کسی بڑے سے بڑے مومن نے بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ مرزا قادیانی کی طرح اپنے منکروں کو کافر کہا۔ اسی طرح سوتے یا جاگتے میں کسی پر بعض امور گزشتہ یا آئندہ یا بعض احکام شرعیہ کی حکمتوں یا مطالب کا انکشاف ہو جائے تو وہ شخص نبی نہیں کہلا سکتا جیسا کہ حضرت عمرؓ پر خصوصاً اور دیگر صحابہ پر عموماً ایسے ایسے انکشافات ہوتے رہتے تھے اور اسی طرح دیگر بزرگان دین کی ہزاروں پیش گوئیاں ہزاروں کرامتیں ہزاروں مکاشفات ہیں۔ لیکن نہ صحابہ میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ مابعد کے بزرگوں سے معلوم ہوا کہ نبوت کے بعض اجزاء جس میں ہوں وہ نبی نہیں کہلا سکتا۔ حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ یہ کہا کہ جو مجھ کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ حالانکہ ان کو حدیث میں محدث کہا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے نزدیک ”محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو بروزی نبوت ایجاد کی ہے جس کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے اس کا وجود سلف میں بالکل نہیں تھا۔ یہ مرزا قادیانی کا اپنا اختراع ہے۔
اب میں ناظرین کرام کے سامنے ان بزرگوں کی عبارتیں پیش کرتا ہوں جن کا نام لے کر امت مرزائیہ مسلمانوں کو دھوکہ دیا کرتی ہے اور ان عبارات سے پہلے جن میں نبوت تشریعیہ وغیر تشریعیہ کی تشریح ہو گی ان بزرگوں کا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے متعلق عقیدہ، ان عبارات سے پیش کرتا ہوں۔ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی فتوحات کے باب ٣٦٧ میں حدیث معراج میں فرماتے ہیں: ”فلما دخل اذا بعیسٰی علیه السلام بجسده عینه فانه لم یمت الی الان بل رفعه الله الیٰ هذه السما واسکنه بها“ ﴿یعنی آنحضرت ﷺ نے شب معراج میں عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری پایا۔ کیونکہ وہ اب تک مرے نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کو اس آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے ........ الخ۔﴾
٧٧
امام عبدالوہاب شعرانیؒ (الیواقیت والجواہر ص ٩١ جلد دوم) میں فرماتے ہیں: ” والحق ان المسيح رفع بجسده الى السماء والايمان بذالك واجب “ ﴿ حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جسدہ عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ ﴾
اسی طرح صاحب مجمع البحار نے (تکملہ ص ٨٥) پر حیات عیسیٰ علیہ السلام کی صاف تصریح کی ہے۔
ختم نبوت اور شیخ محی الدین ابن عربی
......١ شیخ محی الدین ابن عربی فصوص کے فص عزیزی میں کہا ہے: ”واعلم ان الولاية هى الفلك المحيط العام ولهذا لم تنقطع ولها البقاء العام واما نبوة التشريع والرسالة فمنقطعة وفى محمدﷺ فقد انقطعت فلانبى بعده مشرعاً او مشرعا ولا رسول وهو المشرع وهذا لحديث قصم ظهور اولياء الله لانه يتضمن انقطاع ذوق العبودية الكاملة التامة (اليواقيت والجواهر مبحث حادى عشر) “ ﴿ جاننا چاہئے کہ ولایت ایک فلک محیط عام ہے اور اس واسطے وہ منقطع نہیں ہوئی۔ باقی تشریع اور رسالت منقطع ہے اور وہ (نبوت ورسالت) محمدﷺ پر آ کر منقطع ہوگئی۔ پس آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے۔ خواہ وہ شریعت والا نبی ہو یا مشرعالہ ہو (یعنی کسی شریعت والے نبی کا نائب ہو) نہ کوئی رسول ہے کہ وہ شریعت والا نبی ہے اور اس حدیث نے تمام اولیاء اللہ کی کمریں توڑ دی ہیں۔ کیونکہ اس میں عبودیت کاملہ تامہ کے انقطاع کی خبر ہے۔ ﴾
دیکھئے شیخ نے کیسی صفائی کے ساتھ صاحب شریعت و غیر صاحب شریعت نبی دونوں کی مشرعا اور مشرعالہ کہہ کر نفی کر دی ہے جو چیز شیخ کے نزدیک باقی ہے وہ ولایت ہے۔ جس کو فلک محیط عام کہا ہے۔ یعنی اس ولایت میں نبوت تشریع و غیر تشریع صدیقیت، شہادت، صالحیت، ایمان وغیرہ تمام چیزیں داخل ہیں۔ جس میں سے نبوت تشریع و غیر تشریع دونوں ختم ہوگئیں اور باقی چیزیں باقی ہیں۔ شیخ نے ولایت کو جو فلک محیط کہا ہے اس کو یوں سمجھئے کہ مثلاً حیوان، کہ انسان، گھوڑے، اونٹ، گدھے، ہاتھی، شیر، چیتے، خرگوش، بلی، چوہا، چھپکلی، ٹڈی، چیونٹی وغیرہ وغیرہ انسان سے لے کر چیونٹی تک تمام حیوانوں کے نیچے داخل ہیں اور ہر ایک جاندار کو حیوان کہتے ہیں۔ کیونکہ حیوان کے معنی جاندار کے ہیں اور جاندار ہونا جیسا انسان پر صادق آتا ہے اسی طرح
٧٨
ہاتھی گھوڑے، اونٹ، چیونٹی وغیرہ پر صادق آتا ہے۔ اگرچہ تمام حیوانات میں سے انسان افضل اور تمام کا سردار ہے اور سب پر حاکم ہے اور اسی طرح دوسرے حیوانات میں بھی تفاوت ہے کوئی ادنیٰ ہے اور کوئی اعلیٰ۔ لیکن جاندار کا لفظ سب پر بولا جاتا ہے۔ پس اگر یوں کہا جائے کہ انسان دنیا سے ختم ہوگئے ہیں اور کوئی انسان دنیا پر نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ باقی جاندار مثلاً ہاتھی، گھوڑا، شیر و چیتا وغیرہ بھی ختم ہوگئے ہیں۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ دنیا سے گھوڑے بالکل ختم ہوگئے ہیں تو یہ مراد نہیں ہوگی کہ بکری بھیڑ بھی کوئی نہیں رہی۔
پس بعینہ اسی طرح ولایت کو سمجھئے کہ اس میں نبی تشریعی و غیر تشریعی، صدیق، شہید، صالح، مؤمن، کامل ومومن ناقص تمام شامل ہیں۔ کیونکہ ولایت کا معنی خدا کا قرب ہے اور یہ سب میں موجود ہے۔ کیونکہ مؤمن ناقص کو بھی ایک قرب خداوندی حاصل ہے۔ جو کافر کو حاصل نہیں۔ لیکن یہ ولایت بعض میں بہت زیادہ ہے۔ جیسے انبیاء کرام علیہم السلام کہ ان کے مرتبے کو کوئی ولی نہیں پہنچ سکتا اور انبیاء کرام تمام بنی نوع انسان کے سردار ہیں۔ انبیاء کے سردار ہمارے آقا و مولیٰ محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ انبیاء کرام کے بعد اولیاء اللہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد مؤمنین کا۔ پس جب نبوت تشریعی و غیر تشریعی ختم ہوگئی تو ولایت جو کہ عام ہے۔ اس کا ختم ہونا لازم نہیں آتا اور اسی ولایت کو جو باقی ہے کبھی کبھی شیخ نبوۃ عامہ غیر تشریعیہ سے تعبیر کرتے ہیں اور عامہ کی قید اسی واسطے لگاتے ہیں کہ اس سے مراد ولایت ہے۔ کیونکہ عام تو ولایت ہی ہے نہ کہ نبوت۔ فافہم فانہ عزیز!
دوسرے شیخ کا یہ فرمانا کہ اس حدیث لا نبی بعدی نے اولیاء کی کمریں توڑ دی ہیں۔ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔ جس کی اطاعت ضروری ہو اور اس کا انکار کفر ہو۔
٢....... ”واللہ لم یسم نبی ولا رسول ویسمّیٰ بالولی واتصف بہٰذا الاسم فقال اللّٰہ ولی الذین آمنوا وقال ھو الولی الحمید وھذا الاسم باق جار علی عباد اللّٰہ دنیا و آخرۃ فلم یبق اسم یختص بہ العبد دون الحق بانقطاع النبوۃ والرسالۃ الا ان اللّٰہ لطیف بعبادہ فابقی لہم النبوۃ العامۃ التی لا تشریع فیہا “ ﴿اللہ تعالیٰ کو نبی و رسول نہیں کہا جاتا اور اس کو ولی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ خود فرمایا اللہ ولی الذین آمنوا کہ اللہ دوست ہے مسلمانوں کا اور فرمایا ھو الولی الحمید کہ وہ دوست ہے اور صاحب تعریف ہے اور یہ نام (ولی) اللہ کے بندوں پر دنیا اور آخرت میں جاری ہے۔ پس
٧٩
نبوت اور رسالت کے انقطاع کی وجہ سے کوئی نام ایسا باقی نہ رہا جو سوائے خدا تعالیٰ کے بندے کے ساتھ خاص ہو۔ لیکن چونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اس لئے اس نے اپنے بندوں کے لئے نبوت عامہ غیر تشریعیہ (یعنی ولایت کیونکہ عام وہی ہے) باقی رکھی۔ ﴿ دیکھئے! شیخ صاحب صاف تصریح فرمارہے ہیں کہ نبوت ورسالت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے نبی و رسول کا نام بھی اولیاء کے لئے باقی نہیں رہا۔ صرف ولی کا نام باقی ہے۔
- ٣...... " اعلم ان لوحى لا ينزل به الملك على غير قلب نبى
اصلاً ولا يامر غير نبى بامر الهى الى قوله فانقطع الامر الالهى بانقطاع النبوة والرسالت " ﴾ جاننا چاہئے کہ فرشتہ وحی لے کر بجز قلب نبی کے کسی پر نازل نہیں ہوتا اور نہ غیر نبی کو کسی امر الٰہی کا حکم دیتا ہے۔ پس اوامر الٰہیہ انقطاع نبوت ورسالت سے منقطع ہو چکے ہیں۔ انتہی ! ﴿
(فتوحات ب ٣١٠، ج ٢ ص ٤٨)
حالانکہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ” میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ٤...... " اعلم انه لا ذوق لنا فى مقام النبوة لنتكلم عليه انما
نتكلم على ذلك بقدرما اعطينا من مقام الارث فقط لا نه لا يصح لا حد منا دخول مقام النبوة وانما نراه كالنجوم على السماء " ﴾ شیخ فرماتے ہیں کہ جاننا چاہئے کہ ہم کو مقام نبوت میں ذرا بھی ذوق نہیں تا کہ ہم اس پر کلام کر سکیں۔ ہم تو اس پر صرف اسی قدر کلام کر سکتے ہیں جس قدر ہم کو مقام ارث سے عطاء ہوا ہے۔ کیونکہ ہم میں سے کسی کو مقام نبوت میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ ہم اس کو اس طرح دیکھتے ہیں۔ جیسے ستاروں کو آسمان پر ۔ ﴿
(فتوحات ب ٤٦٢، ج ٢ ص ٧٢، بحث ٢٢)
دیکھئے شیخ تو فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو مقام نبوت میں داخل ہونا ممکن بھی نہیں۔ بلکہ مقام نبوت کا ذوق بھی نہیں۔
- ٥...... " اعلم انه لم يجئ لنا خبر الهى ان بعد رسول الله ﷺ
وحى تشريع ابدا انما لنا وحى الالهام قال الله تعالى ولقد اوحى اليك والى الذين من قبلك الخ ولم يذكر ان بعده وحيا ابدا " ﴾ جاننا چاہئے کہ ہمارے پاس کوئی شرعی دلیل اس پر نہیں آئی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی احکام کا وجود ہو۔ ہمارے لئے صرف وحی
٨٠
الہام ہے۔ (جو فرمائی گئی ہے۔ آ کی طرف اور آپ وحی ہوگی۔ ﴿ ................ شیخ الہام کو حصر کے سا
- ٦......
وانسدات اب شريعته او بعد آج اولیاء ۔ ہو چکے ہیں۔ اس وحی شریعت آنے شیخ نہیں کہ اس کو ذ ہو وہ صاحب شر مرز اور صاحب شری شیخ عبدالو ہا شیخ مكلفا ضر ﴾ پھر اگر وہ مد اور اگر مکلف نہ فر اب تو شاید آ فرماتے ہیں۔
الہام ہے۔ (جو شرعی اصطلاحی وحی سے عام ہے) جیسے آیت میں شہد کی مکھی کے لئے وحی ثابت فرمائی گئی ہے۔ آگے وحی حقیقی کی نفی پر دلیل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بے شک آپ کی طرف اور آپ سے پہلے رسول کی طرف وحی بھیجی گئی اور یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے بعد بھی کبھی وحی ہوگی۔﴾
(فتوحات ب ٣٥٣، ج ٢ ص ٨٤، مبحث ٤٦)
شیخ نے اس قول میں آنحضرت ﷺ کے بعد وحی حقیقی کی نفی تصریحاً بھی فرمادی اور وجود الہام کو حصر کے ساتھ ذکر فرما کر بھی وحی حقیقی کی نفی کر دی تو پھر مرزا قادیانی پر کہاں سے وحی آگئی۔
- ٢...... "فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات
وانسدت ابواب الاوامر والنواهى فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدع شريعته اوحى بها الله سواء وافق بها شرعنا او خالف ﴿ نبوت اٹھ جانے کے بعد آج اولیاء کے لئے بجز تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر ونواہی کے سب دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اب جو کوئی محمد ﷺ کے بعد امر ونہی کا مدعی ہو۔ (جیسے مرزا قادیانی) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے۔ خواہ وہ ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔﴾
(فتوحات مکیہ ج ٣ ص ٥١)
شیخ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صاحب شریعت نبی ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کو نئی شریعت پہلی شریعت کے مخالف دی جائے بلکہ ہر وہ شخص جو امر ونہی کی وحی کا مدعی ہو وہ صاحب شریعت ہے۔
مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہوئے۔ کیونکہ ان کی وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی اور صاحب شریعت نبی آنحضرت ﷺ کے بعد آ نہیں سکتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔
شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ اور ختم نبوت
شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ نے شیخ کی اس عبارت پر اتنا اور زیادہ کیا ہے۔ ”فان کان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحا (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ٣٤)“ ﴿ پھر اگر وہ مدعی وحی شریعت مکلف ہے۔ (یعنی مجنون وغیرہ نہیں ہے) تو ہم اس کو قتل کریں گے اور اگر مکلف نہیں تو ہم اس سے کنارہ کشی کریں گے۔﴾
فرمائیے منکر صاحب مرزا قادیانی کے لئے شیخ عبدالوہاب شعرانی کیا حکم دیتے ہیں۔ اب تو شاید آپ صاحب یواقیت کی بزرگی کا بھی انکار کر دیں گے اور سنئے صاحب یواقیت کیا فرماتے ہیں۔
٨١
- ٧...... "قال الشيخ الاكبر في الباب الحادي والعشرين من
الفتوحات من قال ان الله تعالى امره بشئ فليس ذالك بصحيح انما ذالك تلبيس لان الامر من قسم الكلام وصفه وذلك باب مسدود من دون الناس (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ٣٤)" ﴿شیخ اکبر فتوحات کے اکیسویں باب میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی (بعد نبی کریمﷺ) یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی چیز کا امر کیا ہے۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی) تو یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ یہ محض شیطانی تلبیس ہے۔ کیونکہ امر کلام کی قسم ہے اور اس کی صفات میں سے ہے اور یہ (کلام کا دروازہ) لوگوں پر بند کیا جا چکا ہے۔﴾
- ٨...... "فأخبر رسول اللهﷺ ان الروياء جزء من اجزاء
النبوة فقد بقى للناس في النبوة هذا وغيره ومع هذا لا يطلق اسم النبوة ولا النبى الا على المشرع خاصة فحجر هذا الاسم بمخصوص وصف معين في النبوة (فتوحات ج ٢ ص ٤٩٥)" ﴿رسول اللہﷺ نے ہم کو بتایا کہ خواب (سچا) اجزاء نبوت میں سے ایک جز ہے۔ سو لوگوں کے واسطے نبوت میں سے یہ جزء (خواب) وغیرہ باقی رہ گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی نبوت کا لفظ اور نبی کا نام بجز مشرع (امر و نہی لانے والے) کے اور کسی پر بولا نہیں جاسکتا۔ تو نبوت میں ایک خاص معین کی موجودگی کی وجہ سے اس تمام (نبی) کی بندش کردی گئی۔﴾
شیخ نے کیسے صاف تصریح کر دی ہے کہ نبوت کے بعض اجزاء بے شک موجود ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے کسی پر نبی کا لفظ نہیں بولا جائے گا۔
- ٩...... "كمن يوحى اليه فى المبشرات وهى جزء من اجزاء
النبوة ولم يكن صاحب المبشرة نبيا فتفطن لعموم رحمة الله فما تطلق النبوة الا لمن اتصف بالعموم فذالك النبى وتلك النبوة التي حجرت علينا وانقطعت فان من جملتها التشريع بالوحى الملكي في التشريع وذلك لا يكون الا النبى خاصة (فتوحات مکیه ج ٣ ص ٥٦٨)" ﴿جیسے کسی کی طرف بشارت کی وحی آئے اور وہ مبشرات اجزاء نبوت میں سے ہیں۔ اگرچہ صاحب بشارت نبی نہیں ہو جاتا۔ پس رحمت الٰہی کے عموم کو سمجھو تو نبوت کا اطلاق اسی پر ہو سکتا ہے جو تمام اجزاء النبوۃ سے متصف ہو۔ سو
٨٢
یہی نبی اور یہی نبوت ہے جو منقطع ہو چکی اور ہم سے روک دی گئی۔ کیونکہ نبوت کے اجزاء میں سے تشریع بھی ہے جو وحی فرشتہ سے ہوتی ہے اور یہ بات صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہے۔﴾ اس میں شیخ نے صاف فرما دیا کہ نبی اس کو کہتے ہیں جس میں تمام اجزاء نبوت موجود ہوں اور یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
- ......١٠ " اعلم ان الملك ياتى النبى بالوحى على حالين تارة
ينزل على قلبه وتارة ياتيه فى صورة جسدية من خارج الى ان قال وهذا باب الوحی بعد موت محمدﷺ فلا يفتح لاحد الى يوم القيامة ولكن بقى للاولياء وحى الالهام الذى لا تشريع فيه فانما هو لفساد حكم قال بعض الناس بصحة دليله ونحو ذلك فيعمل به فى نفسه فقط (فتوحات ب ١٧ ج٢ ص٣٧) " جاننا چاہئے کہ فرشتہ نبی پر دو طرح پر وحی لاتا ہے۔ کبھی تو اس کے دل پر نازل ہوتا ہے اور کبھی اس کے پاس خارج سے صورت جسمیہ میں آتا ہے۔ آگے کہا ہے کہ یہ ایک دروازہ ہے جو آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد بند کر دیا گیا ہے اور قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔ لیکن اولیاء کے لئے وہ وحی جس کی حقیقت الہام ہے باقی رہ گئی ہے۔ جس میں تشریع (یعنی احکام) نہیں ہے وہ صرف ایسی باتوں کی نسبت ہوتا ہے جیسے کسی مسئلہ کی عدم صحت جس کی دلیل کی صحت کے بعض لوگ قائل ہو گئے ہوں اور اس کے مثل اور کوئی بات پس وہ اس پر بذات خود عمل کر لیتا ہے۔﴾ (وہ بھی ظنی طور پر جیسا کہ یہ اپنی جگہ میں ثابت ہے اور دوسروں پر بھی حجت نہیں تو اس کا درجہ مجتہد کے اجتہاد سے بھی کم رہا۔ کیونکہ وہ مقلد کے لئے حجت ہے۔ چنانچہ یہ مضمون شیخ کے کلام سے عنقریب نقل کیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ ایسے الہام سے کون شخص نبی ہو سکتا ہے۔ کیا نبی کا درجہ مجتہد سے کم ہوا کرتا ہے)
شیخ کے اس کلام سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئیں۔
- ......١ فرشتہ جو وحی نبی کے پاس لایا کرتا تھا وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔
- ......٢ اولیاء کے لئے وحی کی ایک قسم جو الہام کہلاتی ہے باقی ہے اور یہی وحی غیر
تشریع ہے اور اس کی غرض صرف یہ ہے کہ اولیاء بعض ان احکام کا صحیح یا غلط ہونا معلوم کر لیں۔ جن کو بعض لوگوں نے الٹا سمجھا اور اسی کی مثل اور باتیں اور بذات خود ان پر عمل کریں۔ اے امت مرزائیہ ! خدارا انصاف کرو اور دیکھو کہ اس عبارت میں شیخ وحی غیر تشریع کس کو کہہ رہے ہیں۔ جو
٨٣
تمام اولیاء اکرام کا حصہ ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کرتا۔ اسی طرح شیخ نے نبوت غیر تشریعی کا اطلاق بعض اجزاء نبوت سچی خواب وغیرہ پر کیا ہے۔ جو تمام مسلمانوں میں کم و بیش موجود ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی کیا خصوصیت ہے۔ باقی امت مرزائیہ کی نبوت غیر تشریعیہ بمعنی نئی کتاب نہ ہو۔ نئے احکام نہ ہوں۔ آنحضرت ﷺ کی پیروی سے نبی بن جائے اور اس کی طرف وحی آئے جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ اس کو نبی نہ ماننے والا کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔
اس کا وجود شیخ کے کلام میں بالکل نہیں ہے۔ اگر ہے تو امت مرزائی دکھائے کہ شیخ نے کہاں لکھا ہے کہ وحی غیر تشریعی اور نبوت غیر تشریعیہ یہ ہے کہ نئی شریعت نہ ہو۔ بغیر پیروی آنحضرت ﷺ کے نبی نہ ہو۔ بلکہ آپ کی پیروی سے نبی بنے اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہو اور اس کا منکر کافر ہو اور وہ پہلے اکثر انبیاء سے افضل ہو۔ اگر امت مرزائیہ ہمارا یہ مطالبہ شیخ کے کلام سے دکھا دے تو ان کو یکصد روپیہ انعام بفیصلہ منصف دیا جاوے گا۔ بلکہ شیخ نے صاف تصریح فرمادی ہے کہ وحی غیر تشریعی وہ الہام ہے جو اولیاء کے لئے باقی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سوائے مرزا قادیانی کے اور کسی ولی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ اپنے منکرین کو ہی کافر کہا۔ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی نبوت غیر تشریعیہ اور وحی غیر تشریعی خود ان کی ایجاد کردہ ہے۔
١١...... ”لما اغلق الله تعالى باب الرسالة بعد رسول الله ﷺ كان ذلك من اشد ما تجرعته الاولياء ...... لانقطاع الوصلة بينهم وبين من يكون واسطتهم الى الله تعالى فرحمهم الحق الله تعالى بان ابقى عليهم اسم الولى الى ان قال ولما علم رسول الله ﷺ ان في امته من تجرع كاس انقطاع الوحى والرسالة فجعل لخصوص امته نصيبا من الرسالة فقال ليبلغ الشاهد الغائب فامرهم بالتبليغ . ليصدق عليهم اسم الرسل (فتوحات ب ٣٨ ج ٢ ص ٨٦) “ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد رسالت کا دروازہ بند کر دیا تو یہ امر ان سب امور میں سخت ہوا۔ جن کی تلخی کو اولیاء نے بتکلف گلے سے اتارا۔ اس لئے کہ ان کے اور ان لوگوں کے درمیان جو ان کا واسطہ الی اللہ ہوتے اتصال قطع ہو گیا۔ پس حق تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اس طور پر کہ ان کے لئے ولی کا نام باقی رکھا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ کی امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جو انقطاع وحی کے جام کو ناگواری سے نوش کریں گے تو آپ نے اپنے خاص خاص امتیوں کے لئے رسالت کا ایک حصہ
٨٤
تجویز فرمایا اور ارشاد فرما فرمایا تا کہ ان پر رسولوں کـ دیکھئے شیخ فر اور مجازاً مطلق تبلیغ احکام میں کروڑوں جانباز مبـ مرزا قادیانی کی طرح کافر
١٢...... موجود عند اهل الـ رسول الا على المـ چاہئے کہ نبوت جس کے میں موجود ہے۔ ( کیونکـ ان میں سے کسی پر نبی یا مختلف کاموں کے لئے اور ان کو نبی نہیں کہا جاـ دیکھئے شیخ ۔ ہر ایک چیز نبی بن جاـ کافر ہو جائے گا اور کیا اس لئے شیخ نے ساتھ فرمایا ہے کہ نبوت قیاـ الشی (کسی چیز کی خبر د طرح لوگوں کے سامنے پیران پیر شیخ عبد
١٣...... اسم النبوة وثـ يخبرنا في سر ص ٣٩) ”شیخ محـ
تجویز فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ حاضرین (یہ احکام) غیر حاضرین کو پہنچا دیں۔ پس ان کو تبلیغ کا حکم فرمایا تا کہ ان پر رسولوں کا نام صادق آسکے۔ ﴾
دیکھئے شیخ فرماتے ہیں کہ ختم رسالت کے بعد ولی کا نام حقیقتاً باقی رہ گیا ہے اور کچھ نہیں اور مجازاً مطلق تبلیغ احکام کو رسالت کہہ دیا۔ ورنہ اگر مبلغین احکام حقیقتاً رسول ہیں تو تیرہ سو سال میں کروڑوں جانباز مبلغ ہوئے۔ پھر کس نے نبوت رسالت کا دعویٰ کیا اور اپنے منکروں کو مرزا قادیانی کی طرح کافر کہا؟
- ١٢....... ”اعلم ان النبوة التي هى الاخبار عن شئ سارية في كل
موجود عند اهل الكشف والوجود لكنه لا يطلق على احد منهم اسم نبى ولا رسول الا على الملائكة الذين هم رسل (اليواقيت ب ٥٥ ج ١ ص ١١٨) ﴿ جاننا چاہئے کہ نبوت جس کے معنی ہیں کسی چیز کی خبر دینا اہل کشف و وجود کے نزدیک تمام موجودات میں موجود ہے۔ (کیونکہ وہ کشف سے ہر موجود کو بعض حقائق کی خبر دیتے ہوئے پاتے ہیں) لیکن ان میں سے کسی پر نبی یا رسول کا لفظ نہیں بولا جائے گا۔ بجز ان فرشتوں کے جو رسول ہیں (یعنی جو مختلف کاموں کے لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں۔ ان پر رسول کا لفظ (بمعنی بھیجا ہوا) بولا جائے گا اور ان کو نبی نہیں کہا جائے گا) ﴾
دیکھئے شیخ نے اس قول میں ہر ایک موجود کے لئے نبوت ثابت کی ہے۔ کیا اس سے ہر ایک چیز نبی بن جائے گی اور گائے، بھینس، بکری، بلی، چوہا، چیونٹی کی نبوت کے انکار سے انسان کافر ہو جائے گا اور کیا آپ کافروں کو بھی نبی مانیں گے۔ کیونکہ یہ معنی تو ان میں بھی موجود ہے۔ اس لئے شیخ نے ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ نبی اور رسول کا نام کسی پر نہیں بولا جائے گا۔ شیخ نے جو یہ فرمایا ہے کہ نبوت قیامت تک جاری ہے۔ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ نبوت بمعنی مطلق اخبار عن الشئ (کسی چیز کی خبر دینا) قیامت تک جاری ہے نہ کوئی اور لیکن مرزائی حضرات اسی کو بار بار سادہ لوح لوگوں کے سامنے پیش کر کے دھوکا دیتے ہیں۔
پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی اور ختم نبوت
- ١٣....... ”وقد كان الشيخ عبدالقادر الجيلى يقول اوتى الانبياء
اسم النبوة واوتينا اللقب اى حجر علينا اسم النبى مع ان الحق تعالى يخبرنا في سرائرنا بمعانى كلام وكلام رسول الله ﷺ (فتوحات ب ٧٣ ج ٢ ص ٢٩)“ ﴿ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کو تو نبوت کا کام (بطور عہدہ کے)
٨٥
دیا گیا ہے اور ہم کو بعض مدعی عنوان دیا گیا ہے۔ یعنی ہم پر نبی کا نام جائز نہیں رکھا گیا۔ باوجودیکہ حق تعالیٰ ہم کو ہمارے باطن میں اپنے کلام اور اپنے رسولﷺ کے کلام کے معنی کی خبر دیتا ہے۔ (جو کمالات نبوت میں سے ایک کمال ہے مگر محض کوئی کمال بطور نیابت کے عطاء ہو جانا یہ نہیں چاہتا کہ نائب اصل بن جائے۔)
اس کی شرعی مثال ایسی ہے کہ یہ تو کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بعض غیوب کا علم عطاء فرمایا ہے۔ مگر ان انبیاء کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ صفت کے درجے میں خدا تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اسی طرح یہاں یہ کہنا جائز ہوگا کہ اولیاء کو بعض کمالات نبوت خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں۔ مگر ان اولیاء کو نبی کہنا جائز نہ ہوگا۔ فافہم!
١٤...... ”(قال بعد كلام طويل فى مدح المجتهدين) فعلم ان المجتهدين هم الذين ورثوا الانبياء حقيقة لانهم فى منازل الانبياء والرسل من حيث الاجتهاد وذلك لا نه صلى الله عليه وسلم اباح لهم الاجتهاد فى الاحكام وذالك تشريع عن امر الشارع فكل مجتهد مصيب من حيث تشريعيه بالاجتهاد كما ان كل نبى معصوم قال انما عبداللہ المجتهدين بذلك يحصل لهم نصيب من التشريع ويثبت لهم فيه القدم الراسخة ولا يتقدم عليهم فى الاخرة سوى نبيهم صلى الله عليه وسلم فيحشر علما هذه الامة حفاظ الشريعة المحمدية فى صفوف الانبياء والرسل لا فى صفوف الامم (فتوحات ب٣٦٩ ج٢ ص٩٧) “ ﴿مدح مجتہدین میں ایک کلام طویل کے بعد فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ مجتہدین ہی حقیقت میں انبیاء کے وارث ہیں۔ کیونکہ وہ اجتہاد کی حیثیت سے انبیاء والرسل کے مدارج میں ہیں اور یہ اس طرح ہے کہ ان کے لئے نبیﷺ نے احکام میں اجتہاد کو جائز فرمایا ہے اور یہ بامر شارع ایک تشریع ہے۔ پس ہر مجتہد اپنی تشریح اجتہادی کی حیثیت سے مصیب ہے۔ جیسا ہر نبی معصوم ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجتہدین کے لئے اجتہاد کو عبادت بنا دیا ہے۔ وہ صرف اس لئے ہے کہ ان کو بھی تشریع کا ایک حصہ نصیب ہو جائے اور اجتہاد میں ان کا قدم راسخ ہو جائے اور آخرت میں کوئی شخص (امت محمدیہ) میں سے بجز ان کے نبیﷺ کے ان پر مقدم نہ ہوسکے۔ پس اس امت کے جو علماء شریعت محمدیہ کے محافظ ہیں۔ وہ انبیاء ورسل کی صفوں میں اٹھائے جائیں گے نہ امتوں کی صفوں میں۔﴾
٨٦
دیکھئے! شیخ نے مجتہدین کے لئے ایک گونہ تشریع بھی ثابت کی ہے اور ان کو مصیب بھی کہا ہے۔ لیکن باوجود اس کے کسی مجتہد نے نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ اپنے منکروں کو (مرزا قادیانی کی طرح) کافر کہا اور شیخ نے نبوت عامہ مجازیہ کے ساتھ جن کو موصوف کہا ہے۔ ان کو جو وحی ہوتی ہے۔ وہ صرف ان ہی کی ذات تک محدود ہے۔ کما مر اور وہ بھی خاص معارف میں نہ کہ تشریع میں اور علماء مجتہدین کا اجتہاد تشریع کے رنگ میں دوسروں پر بھی حجت ہوتا ہے تو پھر ان انبیاء الاولیاء کا درجہ مجتہدین سے بھی کم ہوا۔ اس سے اس نبوت عامہ مجازیہ کا اندازہ کر لیا جائے۔ تو جب مجتہدین جن کو شیخ نے ایک گونہ تشریع کا حقدار ٹھہرایا ہے۔ نبی نہ بن سکے تو بیچارے نبوت غیر تشریعیہ والے جن کو تشریع میں کچھ دخل نہیں۔ کیسے نبی بن سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شیخ کا مجتہدین کے لئے تشریع ثابت کرنا اولیاء کے لئے نبوت غیر تشریعیہ ثابت کرنا۔ اولیاء کے الہام کو وحی غیر تشریعی کہنا، نبوت کو ہر ایک مخلوق کے لئے ثابت کرنا وغیرہ وغیرہ۔ شیخ کی اپنی اصطلاحات ہیں۔ جن کو نبوت شرعیہ سے کچھ تعلق نہیں۔ ورنہ مجتہدین کو تشریعی نبی ماننا پڑے گا اور تمام اولیاء کو غیر تشریعی نبی تسلیم کرنا پڑے گا۔ بھیڑ بکری بھی نبی بن جائے گی۔ بلکہ اصنام کو بھی نبی تسلیم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اہل کشف کو وہ بھی بعض حقائق کی خبر دیتے ہیں اور شیخ نے نبوت بمعنی اخبار عن شی (کسی چیز کی خبر دینا) ہی کو باقی کہا ہے اور شیخ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مجتہدین کو ایک حصہ تشریع کا نصیب ہوتا ہے۔ اس کی تفسیر قول آئندہ میں خود فرماتے ہیں۔
١٥...... ” وجعل وحى المجتهدين في اجتهادهم اذا المجتهد لم يحكم الا بما اراه الله تعالى في اجتهاده وكذلك حرم الله تعالى على المجتهد ان يخالف ما اوحى اليه الاجتهاد وليعلم ان الاجتهاد نفحة كما حرم على الرسل ان تخالف ما اوحى به اليهم من نفحات التشريع ما هو عين التشريع الى ان قال فقد اشبه المجتهدون الانبياء من حيث تقدير الشارع لهم كل ما اجتهدوا فيه وجعله حكما شرعيا (فتوحات باب الجنائز ج٢ ص٩٧) “ اللہ تعالیٰ نے مجتہدین کی وحی ان کے اجتہاد میں رکھی ہے۔ کیونکہ مجتہد نے وہی حکم کیا ہے۔ جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے اجتہاد میں بتایا ہے اور اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے مجتہد پر حرام کر دیا ہے کہ وہ اس امر کی مخالفت کریں۔ جس کی ان کی طرف وحی کی گئی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اجتہاد تشریع کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔ عین تشریع نہیں۔ پس مجتہدین انبیاء کے مشابہ ہو گئے۔ اس طرح سے کہ شارع نے ان کے اجتہادی احکام کو ثابت کر رکھا ہے اور اس کو حکم شرعی قرار دیا ہے۔
٨٧
شیخ نے اس عبارت میں اجتہاد کو وحی کہا ہے۔ حالانکہ یقیناً اجتہاد شرعی معنوں سے وحی نہیں ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے سو اولیاء کا الہام جس کو شیخ وحی غیر تشریعی کہتے ہیں۔ اس سے بھی کم درجہ ہے۔ جیسا کہ مذکور ہوا۔ پھر اس کو شرعی معنوں سے وحی کہنا کیسے درست ہوگا۔
جب مجتہدین با وجود ان اوصاف جلیلہ کے جو شیخ نے اس عبارت میں ان کے لئے ثابت کئے ہیں۔ نبی نہ ہوئے اور نہ شیخ نے ان کو نبی کہا تو پھر وحی غیر تشریعی جن کے لئے شیخ نے ثابت کیا ہے۔ (یعنی اولیاء) وہ کیسے نبی ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ ان میں اوصاف مذکورہ میں سے کوئی وصف بھی نہیں پایا جاتا۔
قاضی عیاض اور ختم نبوت
......١٦
”ومن ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصفا القلب الى مرتبتها كالفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة او انه يصعد الى السماء ويدخل الجنة وياكل من ثمارها ويعانق الحور العين فهولاء كلهم كفار مكذبون . للنبي ﷺ لانه اخبر انه ﷺ خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهوم المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هولاء الطوائف كلها قطعاً واجماعاً وسمعاً (شفاء ص٣٦٢) ”جو شخص اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کا حاصل کرنا جائز سمجھے اور صفائی قلب سے نبوت کے مرتبے تک پہنچنا ممکن سمجھے۔ جیسا کہ فلاسفہ اور حدود شرعیہ سے نکلے ہوئے صوفی کہلانے والوں کا خیال ہے اور اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس کو منجانب اللہ وحی ہوتی ہے۔ گو وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا یہ کہے کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے میوہ جات کھاتا ہے اور حور عین سے معانقہ کرتا ہے۔ پس یہ تمام لوگ کافر اور نبی ﷺ کے جھٹلانے والے ہیں ۔“
اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور تمام امت محمدیہ کا اجماع ہے کہ اس کلام (خاتم النبیین ولا نبی بعدہ) کا ظاہری معنی ہی مراد ہے اور اس میں کوئی تاویل (ظلی بروزی وغیرہ) نہیں ہے اور نہ کوئی تخصیص (مثل غیر شرعی وغیرہ ) ہے۔ لہٰذا ایسے لوگ بلا ریب کافر ہیں۔ فرمائیے منکر صاحب مرزا قادیانی کے متعلق قاضی عیاض کیا فتویٰ دیتے ہیں۔
٨٨
ملا علی قاری اور ختم نبوت
- ١٧...... "ودعوی النبوة بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع (شرح فقه
اکبر ص ٢٠٢) "ہمارے نبیﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے۔"﴾
علامہ ابن حجر مکی اور ختم نبوت
- ١٨...... "من اعتقد وحياً بعد محمدﷺ کفر باجماع
المسلمين " ﴿جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد وحی آنے کا اعتقاد رکھے وہ تمام مسلمانوں کے اجماع سے کافر ہے۔﴾
علامہ ابن کثیر اور ختم نبوت
- ١٩...... "وقد اخبر الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه ورسولهﷺ
فى السنة المتواترة عنه انه لا نبی بعده ليعلم ان من ادعى هذا المقام بعده وهو كذاب افاك دجال ضال مضل ولو تخرق وشعبذ واتى بانواع السحر (تفسیر ابن کثیر ج ٨ ص ٩٠) " ﴿اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی ہے اور رسولﷺ نے اپنی متواتر حدیث میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تاکہ مسلمان اس بات کو جان لیں کہ جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب مفتری دجال گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔﴾
- ٢٠...... "فتاویٰ ہندیہ میں ہے اذا لم یعرف الرجل ان محمدﷺ آخر
الانبیاء فلیس مسلم " ﴿جب انسان محمد رسول اللہﷺ کو آخری پیغمبر نہ سمجھے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔﴾
عارف باللہ مولانا عبدالرحمٰن صاحب جامیؒ اور ختم نبوت
آپ اپنے رسالہ عقائد جامی میں فرماتے ہیں:
وز پئے او رسول دیگر نیست بعد ازاں ہیچکس پیغمبر نیست
چوں در آخر زماں بقول رسول کند از آسماں مسیح نزول
پیرو دین و شرع او باشد تابع اصل و فرع او باشد
دین ہمہ دین و شرع او داند ہمہ کس را بدین او خواند
٨٩
مولانا محمد قاسم بانی دارالعلوم دیوبند اور ختم نبوت
منکر صاحب نے چونکہ مولانا صاحب کے کلام سے اجراء نبوت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے مولانا صاحب کا مسلک ناظرین کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ تاکہ ناظرین خود غور فرمائیں:
- .......1 مولانا اپنے رسالہ تحذیر الناس ص٨ پر ارشاد فرماتے ہیں:
بالجملہ رسول اللہ ﷺ وصف نبوت میں موصوف بالذات ہیں اور سوائے آپ کے اور انبیاء موصوف بالعرض۔ اس صورت میں اگر رسول اللہ ﷺ کو اول یا اوسط میں رکھئے تو انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف دین محمدی ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا۔ حالانکہ خود فرماتے ہیں: ”ما ننسخ من آیة او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا“ اور کیوں یوں ہو تو اعطاء دین منجملہ رحمت نہ رہے۔ آثار غضب میں سے ہو جائے۔ ہاں اگر یہ بات متصور ہوتی کہ اعلیٰ درجہ کے علماء کے علوم ادنیٰ درجہ کے علماء سے کمتر اور دون ہوتے ہیں تو مضائقہ بھی نہ تھا۔ پر سب جانتے ہیں کہ کسی عالم کا عالی مرتبت ہونا مراتب علوم پر موقوف ہے۔ یہ نہیں تو وہ بھی نہیں اور انبیاء متاخرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیاء متاخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا۔ ورنہ نبوت کے پھر کیا معنی۔ سو اس صورت میں اگر وحی علوم محمدی ہوتے تو بعد وعدہ محکم انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون کے بعد جو بہ نسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہئے اور بشہادت آیت و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئی جامع العلوم ہے۔ کیا ضرورت تھی اور اگر علوم انبیاء متاخرین علوم محمدی کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا تبیانا لکل شئی ہونا غلط ہو جاتا۔ بالجملہ جیسے ایسے نبی جامع العلوم کے لئے ایسی ہی کتاب جامع چاہئے تھی۔ تاکہ علو مراتب نبوت جو لاجرم علو مراتب علمی ہے۔ چنانچہ معروض ہو چکا۔ میسر آئے ورنہ یہ علو مراتب نبوت بے شک ایک قول دروغ اور حکایت غلط ہوتی۔ ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تاخر زمانی لازم ہے۔ انتہیٰ!
دیکھئے! مولانا نے صاف تصریح فرمادی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا نبی بھی نہیں آسکتا جس کو وحی دین محمدی کے موافق ہو۔ کیونکہ ایسی وحی کی ضرورت ہی کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے لئے تاخر زمانی کی بھی تصریح فرمادی ہے۔ باقی مولانا کا اسی رسالہ کے ص٣ پر یہ فرمانا کہ تاخر زمانی (آخری نبی ہونا) میں بالذات کچھ فضیلت نہیں اور اس کو عوام کا خیال فرمانا
٩٠
اس واسطے ہے کہ آنحضرت ﷺ سب انبیاء کے اخیر میں مبعوث ہونے کی وجہ سے تمام انبیاء سے افضل نہیں ہیں۔ بلکہ آپ کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ آپ تمام کمالات کا سرچشمہ ومنبع ہیں اور تمام کمالات کی انتہاء آپ پر ہے۔ چنانچہ اسی رسالہ کے ص ٢١ پر فرماتے ہیں: ”منجملہ حرکات سلسلۂ نبوت بھی تھی۔ سو بوجہ مقصود اعظم ذات محمدی ﷺ وہ حرکت مبدل بسکون ہوئی۔ البتہ اور حرکتیں ابھی باقی ہیں اور زمانہ آخر میں آپ کے ظہور کی ایک یہ بھی وجہ ہے۔ غرض باعتبار زمانہ اگر شرف ہے تو مستقبل میں ہے کہ وہ صرف مقصود ہے۔ نہ یہ کہ زمانہ مستقبل فی حد ذاتہ اشرف ہے۔ انتہی !
دیکھئے! اس عبارت میں ختم نبوت کی کیسے صاف تصریح فرمادی ہے کہ دنیا میں بہت سی حرکتیں ہیں۔ کسی قوم کی حرکت ترقی کی طرف، کسی کی تنزل کی طرف۔ کوئی قوم ہدایت کی طرف حرکت کر رہی ہے اور کوئی گمراہی کی طرف۔ کوئی علم کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ کوئی جہالت کی طرف جا رہا ہے۔ ایک زمین کی حرکت ہے اور ایک آسمان کی حرکت ہے۔ ایک ستارے کی ہے، ایک ریل کی حرکت ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
الغرض کروڑوں حرکات ہیں اور ہر ایک حرکت کرنے والی چیز کے سامنے ایک مقصود ہے جس کی طرف وہ حرکت کر کے جا رہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جب متحرک چیز اپنے مقصود کو پالیتی ہے تو وہاں ٹھہر جاتی ہے اور بجائے حرکت کے سکون ہو جاتا ہے۔ پس منجملہ حرکات کے سلسلۂ نبوت بھی ایک حرکت ہے جو آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر اور حرکت کرتے کرتے محمد رسول اللہ ﷺ پر آکر ختم ہوگئی۔ کیونکہ حرکت نبوت نے اپنا مقصود پالیا۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اگر آنحضرت ﷺ کے بعد پھر نبوت حرکت کرے اور آپ ﷺ کے بعد بھی نبی پیدا ہوں تو لازم آئے گا کہ حرکت نبوت کا مقصد محمد رسول اللہ ﷺ نہیں تھے۔ بلکہ اس کا مقصود اور مطلوب اور ہے جس کی طرف حرکت کر کے جارہی ہے۔ اگر حرکت نبوت کا مقصود ومطلوب آپ ہوتے تو وہ آپ پر ٹھہر جاتی۔ کیونکہ ہر ایک متحرک اپنے مقصود پر پہنچ کر ساکن ہوجاتا ہے اور یہ لازم چونکہ باطل ہے۔ لہٰذا اس کا ملزوم یعنی سلسلۂ نبوت کا جاری رہنا بھی باطل ہوگا۔
پس حرکت نبوت تو آنحضرت ﷺ پر آکر ساکن ہوگئی ہے اور دنیا کی دیگر حرکات باقی ہیں۔ مولانا نے یہ بھی تصریح فرمادی کہ آخری زمانہ کو آنحضرت ﷺ کی وجہ سے شرف ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کو آخری زمانہ کی وجہ سے، عوام بیچارے یہی سمجھتے ہیں کہ آپ آخری نبی ہونے کی وجہ سے ہی افضل ہیں اور مولانا کا مطلب یہ ہے کہ ہیں تو آپ آخری نبی۔ لیکن افضلیت زمانہ کی
٩١
وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ آخری زمانہ آپ کی وجہ سے مشرف ہو گیا ہے اور آپ کی افضلیت آپ کی ذات میں موجود ہے اور مولانا نے اسی رسالہ کے ص ١٠ پر ہر خاتمیت زمانی کے منکر کو کافر کہا ہے۔ باقی مولانا کا یہ فرمانا کہ بالفرض اگر آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدیؐ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی کہے کہ بالفرض اگر عیسیٰ علیہ السلام فوت بھی ہو گئے ہوں۔ تب بھی مرزا قادیانی مسیح نہیں ہو سکتے۔ جیسا یہ کہنے والا عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ نہیں سمجھتا۔ اسی طرح سے مولانا بھی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا جائز نہیں سمجھتے۔ ورنہ خاتمیت زمانی کے منکر کو کافر کیوں کہتے۔ کہاں بالفرض اور کہاں نبوت کا وقوع کچھ تو سمجھو۔
بالفرض کا تو معنی ہی یہ ہوتا ہے کہ ایسا ہو گا تو نہیں۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ ایسا ہو گا تو بھی مضائقہ نہیں۔ فرض تو اسی چیز کو کیا جاتا ہے جس کا وقوع عقیدۃً خارج میں نہیں ہوتا۔
منکر:....... ”ابوبکر خیر الناس بعدی الا ان یکون نبی“ کہ میرے بعد ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہوں گے۔ ہاں میرے بعد جو نبی ہوگا اس سے وہ افضل نہ ہوں گے۔
مثبت:....... اگر صداقت انسان میں نہ ہو تو حیاء تو اڑ جاتی ہے۔ ”ابوبکر خیر الناس بعدی الا ان یکون“ نبی کا مطلب بالکل صاف تھا کہ ابوبکر میرے بعد تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ لیکن وہ نبی نہیں ہیں۔ جو کہ ختم نبوت کی دلیل ہے۔
مگر منکر صاحب کی تحریف کو ملاحظہ فرمائیے فرماتے ہیں۔ ہاں میرے بعد جو نبی ہوگا۔ اس سے وہ افضل نہیں ہوں گے۔ منکر صاحب بتائیے؟ ہاں میرے بعد جو نبی ہوگا اس سے وہ افضل نہیں ہوں گے۔ یہ کن الفاظ کا ترجمہ اور مطلب ہے۔ لیکن جس میں حیا ہی نہ ہو اس پر افسوس ہی کیا ۔
منکر:....... کیا ہندوستانیوں کو یہ بات پسند ہے کہ غیر ملک کے لوگ ان پر حکومت کریں اور خود ان کے اپنے گھر سے کوئی وزارت و بادشاہت کے قابل پیدا نہ ہو۔
مثبت:....... پھر امت مرزائیہ کیوں انگریزوں کے برخلاف علم جہاد بلند نہیں کرتی؟ اور کیوں غیروں کی حکومت کو رحمت خداوندی خیال کرتی ہے؟ کیا امت مرزائیہ میں باوجود نبوت کی بارش کے اور زمین و آسمان کے اختیارات کے کوئی وزارت اور بادشاہت کے قابل نہیں ہے؟ اگر ہے تو بہت جلد اعلان کیا جائے تا کہ ہندوستانی اس کی قیادت میں غلامی کی لعنت سے آزاد ہو جائیں۔
٩٢
کیا محمد رسول اور کیا ان ۔ تمہارا تو پیغمبر بھی تمام عمـ کی زنجیروں کو خوب مضبـ کی خواب بھی نہیں آسکتی بروز محشـ طرح کی ان کی خوشامد علیہ السلام کا نزول سوار ”الانبیاء اخوة لحاظ سے تمام انبیاء امـ اولاد چچا کی زیر نگرانی علیہ السلام زندہ ہیں تو نہیں ہوتا۔ جب آنحـ روحانی باپ ہیں۔ تو جـ مرزا یہ عیسیٰ علیہ السلا مرزائی لوگ دوسرے غیر سمجھ کر اس کی حکومت اس سے لڑ کر اپنا ملک آ اسی طرح اہلِ اسلام کا اصول یہ نبی کے امت محمدیہ میں اور بیگانہ سمجھا جائے۔ کے نزدیک پیغمبروں ملک والوں کو ایک قو ہے اور اس لئے لڑتی
کیا محمد رسول اللہ ﷺ بھی ساری عمر کفار کے محکوم رہے؟ اور کیا ان کے خلفاء کفار کی غلامی کا طوق پہنے ہوئے تھے؟ تمہیں شرم نہیں آتی۔ تمہارا تو پیغمبر بھی تمام عمر انگریزوں کی مدح اور حمایت اور خوشامدیں کرتا رہا اور اس طرح غلامی کی زنجیروں کو خوب مضبوط کر گیا۔ جہاں تمہارا وجود ہوگا وہاں وزارت اور بادشاہت یا آزادی کی ہوا بھی نہیں آسکتی۔
بروز محمد ﷺ کا دعویٰ اور انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کو حرام کر دیا اور طرح طرح کی ان کی خوشامدیں کیں۔ زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ کر کے دکھایا ہوتا۔ رہا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول سو اس میں امت محمدیہ کی ذرہ بھر بھی توہین نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ: "الانبیاء اخوۃ العلات" کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ دیکھو (مسند احمد وابوداؤد) اس لحاظ سے تمام انبیاء امت محمدیہ کے روحانی چچا ہوئے اور قاعدہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اولاد چچا کی زیر نگرانی ہوتی ہے اور اس میں اولاد کی بالکل توہین نہیں سمجھی جاتی۔ پس جب عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو ان کا اس امت میں آنا بالکل روحانی چچا کی حیثیت سے ہوگا اور چچا غیر نہیں ہوتا۔ جب آنحضرت ﷺ نے تمام انبیاء کو اپنے بھائی قرار دیا ہے اور آپ امت کے روحانی باپ ہیں۔ تو جو آپ کے روحانی بھائی ہیں وہ امت کے روحانی چچا ہوں گے۔ اگر امت مرزائیہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو امت محمدیہ کی توہین سمجھتی ہے تو اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ مرزائی لوگ دوسرے انبیاء کو غیر سمجھتے ہیں اور ان کو اپنا نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ ایک قوم دوسری قوم کو غیر سمجھ کر اس کی حکومت کو اپنے لئے توہین خیال کرتی ہے اور اس سے بغض و عداوت رکھتی ہے اور اس سے لڑ کر اپنا ملک آزاد کراتی ہے۔
اسی طرح مرزائی لوگ بھی دوسرے انبیاء سے اسی طرح کا برتاؤ کرنا چاہتے ہیں۔ جب
- ٭ اہل اسلام کا اصول یہ ہے کہ تمام انبیاء کو اپنا سمجھو ان کو غیر نہ سمجھو۔ ان کی عزت کرو۔ تو پھر کسی سابق
نبی کے امت محمدیہ میں آنے سے امت محمدیہ کی توہین کیسے ہوگی؟ توہین تو تبھی ہوگی جب ان کو غیر اور بیگانہ سمجھا جائے۔ جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ منکر صاحب کی مثال سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک پیغمبروں کو غیر اور بیگانہ سمجھا جائے۔ جس طرح ایک ملک کے رہنے والے دوسرے ملک والوں کو ایک قوم دوسری قوم کو غیر و بیگانہ سمجھتی ہے اور غیر کی حکومت کو اپنے لئے عار خیال کرتی ہے اور اس لئے لڑتی بھڑتی ہے۔ تف ایسی عقل پر۔
٩٣
انگریزوں و کافروں کی حکومت تو مرزائیوں کے لئے رحمت خداوندی ہو اور اسلامی حکومتوں کی تباہی پر خوشی منائی جائے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام کا اس امت میں آنا توہین خیال کیا جائے۔ لعنت ایسی عقل پر۔
ختم نبوت از قرآن شریف
- ......١ ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك
وبالآخرة هم يوقنون (البقره)“ ﴿متقیوں کے اوصاف میں فرماتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں۔ اس وحی پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔﴾
وجہ استدلال
اگر آپ کے بعد کوئی وحی نازل ہونی ہوتی تو ”وما انزل من بعدك“ اور اس پر جو آپ کے بعد نازل کی جائے گی، کا ذکر ضروری تھا۔ جب ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی وحی نازل نہیں ہوگی۔
- ......٢ ”قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم
واسمعيل واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون (بقره)“ ﴿کہہ دو ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ابراہیم واسماعیل و اسحق و یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا گیا ہے اور اس پر جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا جا چکا ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں۔﴾
وجہ استدلال
اس آیت میں قرآن اور پہلی وحی اور پہلے انبیاء پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اگر قرآن کے بعد کوئی وحی نازل ہونی تھی یا کوئی نبی پیدا ہونا تھا تو اس کا بھی ذکر ضروری تھا۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم میں متعدد مواضع میں قرآن اور پہلی وحی مثل توراۃ وانجیل وغیرہ اور پہلے انبیاء پر ایمان لانے کا ذکر نہایت وضاحت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ مگر سارے قرآن میں ایک جگہ بھی نہیں ہے کہ قرآن کے بعد کی وحی اور آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے انبیاء پر ایمان لانا بھی مسلمانوں کا فرض ہے۔ قرآن میں یہ تو کئی جگہ ملے گا کہ: ”وما انزل اليك وما انزل من
٩٤
قبلك“ لیکن ”وما انزل من بعدك“ (جو وحی آپ کے بعد نازل ہوگی) سارے قرآن میں ایک جگہ بھی نہیں ہے۔ جب آپ کے بعد انبیاء پیدا ہونے تھے اور ان کی طرف وحی بھی نازل ہونی تھی تو کیوں نہ کہا گیا؟
”وما انزل من بعدك الی غلام احمد قادیانی وعبداللطیف گنا چوری وچراغ دین جموی ونبی بخش معراجکی وعبداللہ تیماپوری وغیرہم من الرسل والانبیاء“
- ٣...... ”والمؤمنون يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك
(النساء) “ ﴿مسلمان ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور اس پر جو آپ سے پہلے اتارا گیا۔﴾
وجہ استدلال
بعد کی وحی کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ معلوم ہوا کہ قرآن کے بعد نہ کوئی وحی آئے گی اور نہ کوئی نبی پیدا ہوگا۔
- ٤...... ”يا ايها الذين آمنوا آمنوا بالله ورسوله والكتاب الذى
نزل على رسوله والكتب الذى انزل من قبل (النساء)“ ﴿اے ایمان والو! ایمان رکھو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو خدا نے آپ کی طرف اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئی ہیں۔﴾
وجہ استدلال
قرآن کے بعد کی وحی کا ذکر بالکل نہیں کیا۔ بڑی تعجب کی بات ہے کہ ہر نبی اپنے بعد آنے والے کے لئے پیش گوئی کرے اور اپنی قوم کو آگاہ کرے اور ان کو وصیت کرے کہ جب وہ بعد میں آنے والا رسول آ جاوے تو اس کی اطاعت کرنا۔ لیکن محمد رسول اللہ کی زبانی قرآن میں ایک جگہ بھی موجود نہیں ہے کہ میرے بعد فلاں نبی ہوگا۔ اس پر وحی نازل ہوگی۔ تم اس کی اطاعت کرنا اور اس پر ایمان لانا۔ برعکس اس کے حدیث میں بار بار فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم آئے گا۔ جب عیسیٰ بن مریم بقول مرزا فوت ہو چکا تھا تو کیوں عیسیٰ بن مریم کے نام سے پیش گوئی کی اور کیوں نہ صاف فرما دیا کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہو چکا ہے۔ میری امت میں ایک شخص مسمی غلام احمد نبی پیدا ہوگا کہ وہ عیسیٰ بن مریم سے افضل بلکہ اکثر انبیاء سے افضل ہوگا۔ اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ خدا خود لوگوں کو نعوذ باللہ گمراہ کرتا ہے۔ آنے والے رسول غلام احمد کا پتہ تو کچھ دیتا نہیں بلکہ بہت سی آیتیں
٩٥
اس قسم کی بھیج دیتا ہے جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی رسول پیدا نہیں ہوگا اور نہ کوئی وحی آئے گی۔ لیکن پھر اچانک غلام احمد قادیانی کو اولوالعزم رسول بنا کر بھیج دیتا ہے تا کہ مسلمان اگر قرآن پر عمل کریں تو انکار مرزا سے کافر بنیں۔ یا قرآن کو چھوڑیں اور مرزا قادیانی کو رسول مان کر کافر بنیں۔ ادھر محمد رسول اللہ ﷺ پر نعوذ باللہ دھوکا دہی کا الزام عائد ہوگا کہ باوجود عیسیٰ بن مریم کے مر جانے کے اور ان کی وفات کے متعلق تیس آیتیں بقول مرزا قادیانی قرآن میں موجود ہونے کے ایک جگہ بھی صاف طور پر نہیں فرمایا کہ عیسیٰ مر گیا۔ بلکہ عیسیٰ بن مریم ہی کا نام لے کر پیش گوئی کرتے رہے۔ تا کہ امت محمدیہ تو عیسیٰ بن مریم ہی کی منتظر رہے اور غلام احمد قادیانی رسول ہو کر آجائیں اور تمام مسلمان عیسیٰ بن مریم کے انتظار میں کافر ہو جائیں۔ کیا اس کی کوئی نظیر آپ بتلا سکتے ہیں؟ کہ ایک مضمون کے متعلق قرآن میں تیس آیتیں موجود ہوں۔ لیکن سنت نبوی اور اقوال صحابہ میں ایک جگہ بھی اس کا ذکر نہ ہو۔
- ٥....... ”ولقد اوحينا اليك والى الذين من قبلك (الزمر)“ البتہ
وحی بھیجی ہم نے آپ کی طرف اور ان انبیاء کی طرف جو آپ سے پہلے تھے۔ ﴿
وجہ استدلال
آنحضرت ﷺ کے بعد کی وحی کا ذکر ضروری تھا۔ لیکن کہیں نہیں معلوم ہوا کہ کوئی وحی نہیں آئے گی۔ قرآن کریم میں اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ منصف کے لئے اتنا کافی ہے۔
ختم نبوت از حدیث شریف
- ١....... ”عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ قال ان مثلى ومثل
الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا حسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ومسلم وترمذی)“ ﴿ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے مکان بنایا۔ سو اس نے نہایت عمدہ اور خوبصورت بنایا۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ ایک کونے میں باقی رہ گئی تو لوگ اس مکان کے گرد پھرنے لگے اور تعجب سے کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی اور میں خاتم النبیین ہوں۔﴿
اور مسلم شریف میں ہے ”فجئت انا فاتممت تلك اللبنة “ کہ میں آیا اور اس اینٹ کو پورا کر دیا اور ”کنز العمال“ میں ہے ”فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم
٩٦
بی البنیان وختم بالرسل ”کہ میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پورا کر دیا اور مجھ پر عمارت نبوت ختم ہوگئی اور مجھ پر رسول ختم کر دیئے گئے۔
دیکھئے اس حدیث میں سلسلۂ نبوت کو ایک مکان کی طرح فرمایا ہے اور انبیاء کو خواہ وہ شریعت والے ہوں یا نہ ہوں۔ اس مکان کی اینٹیں قرار دیا ہے۔ اس مکان نبوت میں حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی نبوتوں کی اینٹیں لگ چکی ہیں۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ جس کو آنحضرت ﷺ نے پر کر دیا۔ اب جو انبیاء آئیں گے ان کی نبوت کی اینٹ کہاں لگے گی؟ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق شبہ ہو تو ان کی نبوت کی اینٹ لگ چکی ہے۔ نزول کے وقت ان کو نئی نبوت نہیں دی جائے گی۔
مرزا قادیانی کی نبوت
چونکہ قصر نبوت کی تکمیل ہو چکی ہے۔ لہٰذا ان کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ ہاں مسیلمہ کذاب کی نبوت کے مکان میں ممکن ہے جگہ ہو اور یہ اینٹ وہاں لگادی جائے۔ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں مثال دے کر ختم نبوت کو ایسا واضح کر دیا ہے کہ ایک مسلم کے لئے بالکل شک کی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن جو ازلی کمبخت ہیں۔ ان کے لئے تاویل کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ کون سی بات ہے جس کی کچھ نہ کچھ باطل تاویل نہیں ہو سکتی۔ فرقِ باطلہ کا کام ہی یہی ہے کہ وہ محکمات کی باطل تاویلیں کر کے ان کو اپنے اغراضِ نفسانیہ کے موافق بناتے ہیں اور کوئی ان کا منہ بند نہیں کر سکتا۔
کفار میں اور فرقِ باطلہ میں صرف فرق ہے تو یہ ہے کہ کفار کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو نہیں مانتے اور فرق باطلہ مسلمان کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں۔ لیکن احکام قرآن کی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح کفر ہیں تو کفر میں یہ سب برابر ہیں۔
- (٢)........ ”عن ابی حازم قال قاعدت اباھریرة خمس سنین
فسمعت یحدث عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون قالوا فما تأمرنا قال فوا ببیعة الاول فالاول عطوھم حقھم فان اللہ سائلھم عما استرعاھم (بخاری ومسلم) ” ابو حازمؒ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پانچ سال حضرت ابوہریرہؓ کی مجلس کی ہے۔ پس میں نے ان سے سنا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی اصلاح انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب ایک
٩٧
نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہو جاتا تھا اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور خلفاء ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کی تو پھر آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں۔ (یعنی جب بہت ہوں گے اور اختلاف ہو گا تو ہم اس وقت کس کا حکم مانیں) تو آپ نے فرمایا پہلے کی بیعت پوری کرو اور پہلوں کو ان کا حق دو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعیت کے متعلق سوال کرے گا۔ اس حدیث میں کئی طریق سے صاف تصریح ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا ظلی، بروزی، غیر تشریعی وغیرہ نبی نہیں ہو سکتا۔ ﴾
- .......١ نص، لا نبی بعدی ہر قسم کے نبی کی نفی کرتی ہے۔
- .......٢ لا نبی بعدی میں نبی کا لفظ نکرہ ہے اور نکرہ بعد نفی کے عموم کا فائدہ دیتا ہے۔
پس آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کے نبی کی نفی ہو گئی۔
- .......٣ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد ان انبیاء کی مثل کی نفی کی
ہے جو بنی اسرائیل کی اصلاح کیا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ وہ صاحب شریعت نہیں تھے۔ بلکہ توریت ہی پر عمل کراتے تھے اور ان کو نئی شریعت کوئی نہیں دی گئی تھی۔ تو جب ان جیسے انبیاء کی آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد نفی کر دی اور وہ غیر تشریعی ہی تھے۔ پس آپ کے بعد غیر تشریعی نبی بھی نہیں آ سکتا۔
ایک شبہ کا ازالہ
امت مرزائیہ کہا کرتی ہے کہ ”لا نبی بعدی“ میں کامل موصوف کی نفی ہے نہ ہر ایک نبی کی۔ یعنی آپ کی شان اور درجے کا نبی نہیں ہو گا۔ جیسے ذیل کی مثالوں میں کامل موصوف کی نفی ہے۔
- .......١ ”لا فتی الا علی“ ﴿کہ سوائے علیؓ کے کوئی جوان نہیں۔ یعنی علیؓ
جیسا۔ ﴾
- .......٢ ”لا سیف الا ذوالفقار“ ﴿کہ سوائے ذوالفقار کے اور کوئی تلوار
نہیں۔ یعنی اس جیسی۔ ﴾
- .......٣ ”اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ“ ﴿کہ جب کسریٰ (لقب
ہے فارس کے بادشاہوں کا) ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا۔ یعنی اس کی شان کا وغیرہ وغیرہ۔ ﴾
لیکن یہ محض دھوکا دہی ہے۔ کیونکہ ”لا نبی بعدی“ میں جو ”لا“ ہے یہ لائے نفی جنس ہے۔ یعنی جس چیز پر یہ لا داخل ہوتا ہے اس کی جنس کی نفی کر دیتا ہے۔ نہ کہ اس کی جنس میں سے
٩٨
کامل کی۔ لیکن کبھی کبھی مجازاً قرائن قویہ کی وجہ سے اس سے کامل موصوف کی نفی مراد لی جاتی ہے۔ جیسے امثلہ مذکورہ میں۔
دیکھئے! جب ”لا فتی الا علی“ (کہ علیؓ کے سوا کوئی جوان نہیں) کہا گیا تو یہ کہنے کے وقت ہی ہزاروں جوان موجود تھے۔ پس جب حضرت علیؓ کے زمانے میں ان کو لا فتی الا علی کہا گیا۔ ہزاروں جوان موجود تھے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ علیؓ جیسا کوئی نہیں۔ لا فتی الا علی (علیؓ کے سوا کوئی جوان نہیں) کہنے کے وقت اور اس کے بعد ہزاروں جوانوں کا موجود ہونا اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ لا فتی الا علی کا حقیقی معنی کہ علیؓ کے سوا واقع میں کوئی بھی جوان نہیں۔ مراد نہیں ہے۔ بلکہ بطریق مجاز یہ مراد ہے کہ علیؓ جیسا کوئی نہیں تو واقع میں کروڑوں جوان ہوں۔ اس طرح ہزاروں کروڑوں تلواروں کی موجودگی میں یہ کہنا کہ ”لا سیف الا ذو الفقار“ (کہ ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں) اس بات پر قرینہ ہے کہ اس کا حقیقی معنی کہ واقع میں ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں مراد نہیں ہے بلکہ بطور مجاز مراد یہ ہے کہ ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں۔
اسی طرح اگر کسی ولی کو دیگر اولیاء کی موجودگی میں خاتم الاولیاء کہا جائے تو دوسرے اولیاء کا موجود ہونا اس بات پر زبردست قرینہ ہوگا کہ خاتم الاولیاء کا حقیقی معنی کہ اس نے سب اولیاء کو ختم کر دیا ہے مراد نہیں ہے۔ بلکہ بطریق مجاز مراد یہ ہے کہ یہ اتنے بڑے ولی ہیں کہ ان کے مقابلے میں دوسرے اولیاء گویا کہ ولی ہی نہیں ہیں۔ یعنی یہ سب سے افضل ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ لائے نفی جنس کے استعمال کے وقت اگر کوئی قرینہ مخالف معنی حقیقی موجود نہ ہو تو جس چیز پر لا داخل ہوا ہے۔ اس کی جڑ سے نفی کردے گا اور اس چیز کا کوئی فرد کامل یا ناقص نفی سے باہر نہیں رہے گا اور اگر کسی چیز کے جنس کی نفی کی جا رہی ہے بوقت نفی واقع میں بہت سے افراد موجود ہوں یا دلائل قویہ یقینیہ سے بعض افراد کا آئندہ میں موجود ہونا ثابت ہو تو مجازاً وہاں نفی کمال مراد ہوگی۔
اسی طرح خاتم الاولیاء، خاتم المناظرین، خاتم المحدثین وغیرہ کا معنی بطریق مجاز، افضل الاولیاء، افضل المناظرین، افضل المحدثین وغیرہ ہوگا۔ کیونکہ حقیقی معنی جس کا حاصل یہ ہے کہ ولایت مناظرہ ومحدثیت بالکل ختم ہو گئی ہے اور آئندہ کوئی ولی مناظر محدث وغیرہ نہیں ہوگا۔ بوجہ قرائن شرعیہ اور مشاہدہ سے مراد نہیں لیا جا سکتا۔ کیونکہ دلائل شرعیہ اور مشاہدے سے ثابت ہے کہ اس امت میں ولی محدث وغیرہ ہوں گے۔ لہٰذا کسی کو خاتم الاولیاء وغیرہ کہنے سے ماثبت بالشرع والمشاہدہ کی نفی نہیں ہوگی۔ بلکہ مجازی معنی مراد ہوں گے۔ پس جہاں حقیقی معنی سے پھیرنے کے لئے کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔ وہاں حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں۔ کیونکہ مجازی معنی
٩٩
اس وقت لیا جاتا ہے۔ جب حقیقی معنی نہ بن سکے۔ ورنہ ملحدین احکام شرعیہ کے کچھ نہ کچھ مجازی معنی تراش کر اسلام کی بیخ کنی کریں گے۔ جیسا کہ کر رہے ہیں۔
پس لا نبی بعدی میں مجازی معنی کہ کامل نبی اور آپ کی شان کا نبی نہیں ہوگا۔ مراد لینا بالکل قواعد شرعیہ وعربیت کے مخالف ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے لا نبی بعدی فرمانے کے وقت بھی کوئی نبی پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ آپ کے بعد آج تک کوئی پیدا ہوا اور نہ دلائل شرعیہ سے آئندہ کسی نبی کا پیدا ہونا ثابت ہے۔ تو پھر کس طرح لا نبی بعدی کو حقیقی معنی سے پھیر کر مجازی معنی مراد لیا جا سکتا ہے۔ جب مجازی معنی مراد لینے کے لئے کوئی قرینہ شرعیہ یا عقلیہ یا مشاہدہ موجود نہیں تو پھر خواہ مخواہ ہوائے نفس مجازی معنی مراد لینا الحاد نہیں تو اور کیا ہے۔
کیا امت مرزائیہ ”لا الہ الا اللہ“ اور ”لا شریک لہ ولا نظیر لہ“ وغیرہ میں بھی لا کو نفی کمال پر محمول کر کے یہ کہیں گے کہ لا الہ کے معنی یہ ہیں کہ معبود کامل اور اللہ تعالیٰ کی شان کا کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ سے کم درجہ کا معبود ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اس کے برابر شریک نہیں اور اس سے کم درجہ کا شریک ہو سکتا ہے۔ جس طرح اس قسم کی امثلہ میں نفی کمال مراد لینا قطعاً باطل ہے۔ اسی طرح سے لا نبی بعدی میں نفی کمال مراد لینا یقیناً باطل ہے اور اگر مرزا قادیانی فنا فی الرسول ہو کر نبی بن گئے ہیں تو کیا پہلے تیرہ سو سال میں کوئی فنافی الرسول نہیں ہوا؟
پھر وہ کیوں نبی نہ کہلائے؟ اور اگر فنافی الرسول ہو کر ایک شخص نبی کا نام حاصل کر لیتا ہے اور نبوت کے تمام کمالات ولوازمات اس کے اندر آجاتے ہیں تو اگر کوئی شخص ظلی اور بروزی طور سے خدائی کا دعویٰ کرے تو کیا اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور کیا اس شخص کا یہ عذر لنگ وتاویل مہمل قابل قبول ہوگی؟ کہ میں نے حقیقتاً خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تا کہ تعدد لازم آئے بلکہ ظلی طور پر میں نے اس میں فنا ہو کر اس کا نام پایا ہے۔ اس کا علم پایا ہے اس کا حکم پایا ہے اور اس طور سے میں ظلی خدا ہوں۔ لہٰذا خدا کی خدائی اس کے پاس رہی نہ کسی دوسرے کے پاس۔ لہٰذا مجھ کو مشرک نہ کہو۔
حالانکہ مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص١٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٧) میں فرماتے ہیں۔ ”اسی طرح جس کو شعلہ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لے لیتا ہے۔ وہ بھی مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے۔ بلکہ ایک بندہ ہے۔“ انتہی!
بالکل اسی طور سمجھو کہ اگر کوئی شخص مظہر تجلیات نبویہ کا مدعی ہو تو اس کو ظلی بروزی نبی بھی نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ایک امتی ہوگا۔
١٠٠
- ٣...... ”عن ثوبان قال قال رسول الله ﷺ سيكون فى امتى
كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مسلم، ترمذی، ابوداؤد) ”حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے نبی پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ۔ ﴾
دیکھئے! اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے بعد ہر ایک مدعی نبوت کو جھوٹا قرار دے کر امت کو ان کے شر سے بچنے کے لئے اطلاع دے دی ہے۔ اگر اس قسم کی واضح عبارات میں بھی تاویل ہوسکتی ہے تو آریوں کا قرآنی آیات میں تاویل کر کے مسئلہ تناسخ ثابت کرنا بھی صحیح ماننا پڑے گا اور اسی طرح تمام فرق باطلہ کی تاویلات صحیح ماننی پڑیں گی۔ وهو كما ترى!
- ٤...... ”قال رسول الله ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن
الخطاب (ترمذی) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ آپ کے بعد کوئی نبی ظلی، بروزی وغیرہ نہیں ہوگا۔ ﴾
- ٥...... ”قال رسول الله ﷺ ان الرسالت والنبوة قد انقطعت فلا
رسول بعدى ولا نبی (ترمذی) ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی۔ سو نہ میرے بعد کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔ ﴾
دیکھئے! اس حدیث میں بھی مطلقاً نبوت کی نفی کر دی گئی ہے اور نبوت ورسالت کے ختم ہونے کا مطلب بھی آنحضرت ﷺ نے خود انقطعت کے بعد فلا رسول بعدی ولا نبی کہہ کر واضح کر دیا۔ نبوت ورسالت کے ختم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی نبی ورسول نہیں ہوگا اور یہ مطلب نہیں کہ نبوت کے تمام اجزاء ختم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں جتنی نیک باتیں ہیں وہ تمام نبوت کے اجزاء ہیں۔ جیسا کہ خود ارشاد فرمایا ہے کہ نبوت میں سے بشارات وغیرہ باقی ہیں۔ کما مر اگر نبوت بجمیع اجزائے ختم ہوجائے تو اسلام کا ختم ہونا لازم آتا ہے۔ بشارات وغیرہ اجزائے نبوت ہی کے اعتبار سے شیخ محی الدین ابن عربی وغیرہ بزرگان دین نے نبوت کو باقی کہا ہے۔ نہ یہ کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی ہوگا۔ یہ حدیث تمام احادیث اور اقوال بزرگان دین کے حل کرنے کے لئے کافی ہے اور اس کے بعد ایک مؤمن کے دل میں ذرہ بھر شبہ نہیں رہتا۔ منکر صاحب اس حدیث پر غور کریں کہ انقطعت کے بعد فلا رسول بعدی ولا نبی کیا سمجھا رہا ہے۔ انقطعت کے بعد فلا رسول کو کیوں ذکر کیا گیا ہے؟ کاش کہ خدا تمہیں سمجھا دے۔ دلائل بہت ہیں خوف طوالت سے اختصار کیا گیا ہے۔
١٠١
باب، مسیح موعود علیہ السلام کون ہے؟
چونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ احادیث میں جس عیسیٰ موعود کی خبر آئی ہے کہ وہ دنیا میں قرب قیامت کے ظاہر ہوں گے وہ میں ہوں۔ اس لئے ہم احادیث صحیحہ اور اقوال مرزا قادیانی سے چند شہادتیں پیش کرتے ہیں تاکہ ناظرین معلوم کرسکیں کہ مسیح موعود علیہ السلام کون ہے؟ پہلے ہم مرزا قادیانی کا ایک اصول نقل کرتے ہیں جو اس بحث میں بہت مفید ہے۔ چنانچہ جناب مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ جہاں ”رسول اکرم ﷺ حلفا بیان کریں اس کی کوئی تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ قسم اخبار میں ظاہر پر دلالت کرتی ہے اور قسم کا فائدہ بھی یہی ہے کہ کلام کو ظاہر پر حمل کیا جائے اور اس میں تاویل اور استثناء نہ کیا جائے۔ اگر اس میں بھی تاویل اور استثناء روا ہو تو قسم کا فائدہ ہی کیا ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص١٤ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
اور ادھر عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو آنحضرت ﷺ نے اس طرح قسم کھا کر بیان فرمایا ہے۔
- ١....... ”عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی
بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدة خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرہ فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (بخاری ومسلم مشکوٰۃ ص٤٧٩ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ ﴿ ”حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے۔ پھر وہ عیسائیت کی صلیب کو (جس کو وہ پوجتے ہیں) توڑ دیں گے اور خنزیر (جو خلاف حکم شریعت) عیسائی کھاتے ہیں اس کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے موقوف کردیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال ومتاع سے اچھا معلوم ہوگا (حدیث کے الفاظ سنا کر) ابو ہریرہؓ کہتے تھے تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ ان من اہل الکتاب آخر تک۔﴾
اس ﴿ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے اترتے وقت کل اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھا کر نزول عیسیٰ علیہ السلام کو بیان فرمایا ہے اور جہاں آپ قسم کھا کر بیان فرمائیں وہاں بقول مرزا قادیانی کوئی تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ
١٠٢
اس کو ظاہر پر حمل کرنا چاہئے اور اس حدیث میں ابن مریم کے نزول کا ذکر ہے نہ کہ مرزا قادیانی کا۔ ابن مریم سے مرزا قادیانی مراد لینا تاویل ہے اور یہ مرزا قادیانی کے نزدیک جائز نہیں۔ دوسرے اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کو حاکم عادل قرار دیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے پاس حکومت نہ تھی۔ لہٰذا مرزا قادیانی قاعدہ کے برخلاف ہے کہ قسم کی جگہ تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ نیز علماء بلاغت کے نزدیک مجازی معنی وہاں لیا جاتا ہے جہاں حقیقی معنی لینا صحیح اور ممکن نہ ہو اور حدیث مذکور میں حقیقی معنی بالکل ممکن ہے۔ پھر تاویل کیوں کی جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی مسیح بھی آجائے۔ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا ہے۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان کی مراد بھی پوری ہو جائے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
اس عبارت میں مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ حقیقت مسیحیت محال نہیں۔ بلکہ ممکن ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کی حقیقت حکومت ظاہریہ ہے جو مجھ میں نہیں ہے۔ جب حقیقت ممکن ہے تو امکان حقیقت کے وقت مجاز کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے:
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
گو مرزا قادیانی کے اقرار کے بعد کسی شہادت کی ضرورت نہیں۔ تاہم ایک گواہ ایسا پیش کیا جاتا ہے جس کی توثیق مرزا قادیانی نے خود اعلیٰ درجہ کی کی ہوئی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”مولوی نورالدین صاحب بھیروی کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کرسکوں۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے اپنی خدمتوں میں جانثار پایا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧٧، خزائن ج ٣ ص ٥٢٠)
یہی مولوی صاحب ہیں جو مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد خلیفہ اول ہوئے۔ وہی مولوی نورالدین اصولی طور پر ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد، منافق، بدعتی، اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لاسکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔“
(ضمیمہ ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٦٣١)
١٠٣
پس ثابت ہوا کہ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنا اصلی حقیقت کے ساتھ آنا ممکن ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی عیسیٰ موعود نہیں۔
٢...... "عن النبیﷺ والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا اومعتمرا اويثنيهما صحيح مسلم باب جواز التمتع فى الحج والقرآن " ﴿رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ قسم ہے اللہ پاک کی مسیح موعود فج الروحاء سے (جو مکہ مدینہ کے درمیان کی جگہ ہے۔ نووی شرح مسلم) حج کا احرام باندھیں گے۔﴾
یہ حدیث حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعین کرتی ہے۔ مرزا قادیانی کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلم ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا۔ پھر مسیح موعود کیسے؟۔ نیز اس حدیث میں بھی آنحضرتﷺ نے قسم کھائی ہے اور قسم کی جگہ مرزا قادیانی کے نزدیک کوئی تاویل نہیں کرنی چاہئے۔
لہٰذا ابن مریم سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے نہ مرزا قادیانی اور اگر یہ عذر لنگ پیش کیا جائے کہ حج کے شرائط میں سے راستے کا امن اور مالدار ہونا بھی ہے اور مرزا قادیانی کو راستہ میں خطرہ تھا اور نیز مالدار بھی نہیں تھے۔ تو یہ عذر بالکل مہمل اور طفل تسلی ہے اور لازم آئے گا کہ خدا نے محمد رسول اللہﷺ کو مسیح موعود کے حج کرنے اور مقام فج الروحاء سے احرام باندھنے کی خبر تو دے دی اور کہہ دیا کہ تم پیشگوئی کر دو کہ مسیح موعود حج کرے گا۔ لیکن دل میں یہ رکھا کہ جب مسیح موعود ظاہر ہوگا تو راستہ کو پر خطر بنادوں گا اور مسیح موعود کو مال بھی نہیں دوں گا کہ وہ حج کر سکے۔ تاکہ محمدﷺ کی پیشگوئی جھوٹی ہو۔ العیاذ باللہ!
اس طرح تو خدا اور رسول دونوں پر جھوٹ اور دھوکہ دہی کا الزام عائد ہوگا۔ احادیث اس مضمون کی بکثرت ہیں۔ مگر ہم نے اختصار کے لئے بطور نمونہ انہی دو حدیثوں پر اکتفاء کیا ہے۔ کیونکہ ماننے والے کے لئے یہ بھی کافی ہیں اور نہ ماننے والے کو بہت بھی کچھ نہیں:
بخوانی آیدش بازیچہ در گوش
مورخہ ٢١؍شعبان المعظم ١٣٢٧ھ
صلی اللہ تعالیٰ علی خاتم النبیین والہ واصحابہ اجمعین!
١٠٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
چودہویں صدی کا دجال کون؟
بجواب
چودہویں صدی کا چاند
(مولانا علم دین حافظ آبادیؒ)
مرزا قادیانی کے دس جھوٹ
سو روپیہ انعام
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : ”جھوٹ بولنا مرتد ، نہایت شریر اور بدذات اور پلید طبع لوگوں کا کام ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦، آریہ دھرم ص ١٩، خزائن ج ١٠ ص ١٣)
- ......١ ”قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی ہجری میں
آئے گا۔“
(تقریروں کا مجموعہ ص ٣٦)
- ......٢ ”قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے
گی۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
- ......٣ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“ (معاذ اللہ)
(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ......٤ آنحضور ﷺ نے بطور تشریح فرما دیا۔ ”بل هو امامكم منكم“
(ازالہ اوہام ص ٩٣، خزائن ج ٣ ص ١٥٢)
- ......٥ ”صحیح مسلم میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(نزول المسیح ص ٤١، ٤٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦)
- ......٦ صحیح بخاری میں ہے۔ ”هذا خليفة الله المهدى“
(شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
- ......٧ ”احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت انتشار
نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔“
(ضرورت الامام ص ٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)
- ......٨ ”احادیث نبویہ پکار پکار کر کہتی ہے کہ تیرہویں صدی کے بعد ظہور مسیح
ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٤٠)
- ......٩ ”احادیث میں ہے کہ پہلے مسیح کو بڑے زور شور سے کافر ٹھہرایا جائے گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
٢
- ......١٠ مرزا قادیانی نے ١٩٠٢ء میں فرمایا کہ: ” مکہ اور مدینہ کے راہ میں ریل تیار
ہو رہی ہے ۔“
(کشتی نوح ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ٩)
مبلغ سو روپیہ انعام اس شخص کو دیا جائے گا جو یہ باتیں سچی ثابت کر دے۔ اگر نہ کر سکو تو کہو ۔ ”لعنة اللہ علی الکذبین ...... وکونوا مع الصدقین“
- ......١ محمدی بیگم میرے نکاح میں ضرور آئے گی ۔ (لیکن نہیں آئی )
- ......٢ ڈاکٹر عبدالحکیم میرے سامنے ہلاک ہوگا۔ (لیکن نہیں ہوا)
- ......٣ سلطان محمد داماد احمد بیگ میری زندگی میں مر جائے گا اگر یہ بات پوری نہ
ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ لہٰذا اس رسالہ کا نام چودھویں صدی کا دجال رکھا گیا۔ کیونکہ چودھویں صدی کا ذکر اگلے اوراق میں آئے گا۔ ناظرین اس کو غور سے پڑھیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! ”الحمدلله وحده والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ“ اس وقت میرے سامنے ایک رسالہ بنام ”بدر کامل یعنی چودھویں کا چاند“ ہے جس کے شروع میں مصنف رسالہ نے یہ لکھا ہے۔
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
ان کا یہ لکھنا کہ میں بدر کامل یعنی چودھویں کا چاند دیکھ کر بے کل ہو گیا بالکل بے معنی ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بدر کامل کو دیکھ کر بے کل نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی بے کل ہونے کی بات ہے۔ ہاں اگر بدر کامل کو گرہن لگ جائے تو ضرور انسان اس کو دیکھ کر بے کل ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف رسالہ کی نظر سے مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل گزری ہوگی۔ جس میں فرماتے ہیں کہ: ”آسمان پر چاند نے میرے لئے گواہی دی ۔“ لیکن دنیا گواہ ہے کہ چاند نے مرزا قادیانی کی پیدائش سے لے کر موت تک کسی شخص کو زبان قال سے یہ نہیں کہا کہ مرزا قادیانی سچے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی الفاظ کے گرہن سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چاند نے میرے دعویٰ کے بعد میری صداقت کی گواہی دی۔ غالباً مصنف رسالہ کا بھی اسی طرف اشارہ ہوگا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ چاند کی گواہی آپ کے خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے بعد چاند نے بے نور ہو کر بزبان حال
٣
یہ گواہی دی کہ جس طرح میں اس وقت بے نور اور سیاہ ہو گیا ہوں۔ اسی طرح اس وقت جو شخص مدعی مجددیت ومہدویت ومسیحیت ونبوت ہے۔ وہ بھی نور سے خالی ہے۔ جو شخص اس کے پاس جائے گا وہ بھی نور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ایسی گواہی سن کر بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے۔
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
اس کے بعد مصنف رسالہ نے ابوداؤد کی حدیث نقل کی ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتے رہیں گے اور مرزا قادیانی اس صدی کے مجدد ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ان تمام مجددین نے جو تیرہ صدیوں میں گزرے ہیں سب کے سب مرزا قادیانی کو کافر، بے ایمان اور اسلام سے خارج سمجھتے تھے اور مرزا قادیانی ان کو مشرک اور بے دین کہتے ہیں۔
- ١...... وہ اس طرح کہ امام ابن حجرؒ (جس کو مصنف رسالہ آٹھویں صدی کا مجدد
مانتا ہے) فرماتے ہیں۔ ”واما رفع عیسیٰ فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علیٰ انہ رفع ببدنہ حیاً“
(تلخیص الحبیر ج٢ ص ٣١٩)
کہ تمام محدثین (جن میں امام شافعی اور احمد بن حنبل دوسری صدی کے مجدد بھی شامل ہیں) اور مفسرین (جن میں علامہ ابن کثیر اور علامہ فخرالدین رازی اور علامہ سیوطی وغیرہ بھی شامل ہیں جو آٹھویں اور نویں صدی کے مجدد ہیں) کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں۔
- ٢...... نیز مجدد اعظم امام ابن حجرؒ حضرت حسنؓ سے نقل کرتے ہیں۔ ”واللہ انہ
الآن لحی ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون“
(فتح الباری ج٦ ص ٣٥٧)
خدا کی قسم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں اور جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب لوگ ان پر ایمان لے آئیں گے۔
- ٣...... نیز علامہ ابن حجرؒ فرماتے ہیں۔ ”من اعتقد وحیاً بعد محمد ﷺ
کفر باجماع المسلمین (فتاویٰ ابن حجر) ”کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر وحی آتی ہے وہ کافر ہے۔
- ٤...... دسویں صدی کے مجدد ملا علی قاریؒ جن کا نام مصنف نے چھوڑ دیا اور نمبر ٨
٤
کے آگے نمبر ٥ لکھ دیا ہے وہ فرماتے ہیں۔ ”ینزل عیسیٰ من السماء“ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
(مرقات ج ٥ ص ١٦١)
- ٥...... ”ودعویٰ النبوۃ بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع (شرح فقہ
اکبر ص ٢٠٢)“ ملا علی قاری دسویں صدی کے مجدد فرماتے ہیں کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ کافر ہے۔ ساتھ اجماع سلف اور خلف کے یعنی صحابہ کرام سے لے کر تمام تابعین تبع تابعین، مجتہدین، مجددین، محدثین، مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدعی نبوت کو کافر قرار دیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی بقول مجددین کافر اور بے ایمان ہوئے اور تمام مجددین بوجہ عقیدہ حیات عیسیٰ کے بقول مرزا قادیانی مشرک ہوئے۔ پس مرزا قادیانی کے کذاب ہونے کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ انہوں نے سابقہ تمام مجددین کی مخالفت کی ہے۔ ایک بھی ان کا ہم خیال نظر نہیں آتا۔
ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ اگر مصنف رسالہ سابقین مجددین سے یہ ثابت کردے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور نبیﷺ کے بعد نیا نبی آسکتا ہے تو ایک صد روپیہ انعام ان کو دیا جائے گا۔
اس کے بعد مصنف رسالہ لکھتا ہے کہ علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کو بہت گالیاں دی ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ ایک طرف مرزا قادیانی کی گالیاں رکھی جائیں تو دوسری طرف تمام علماء کی گالیاں مرزا قادیانی کی گالیوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر مرزا قادیانی کی بدزبانی دیکھنی ہو تو ضمیمہ انجام آتھم ملاحظہ فرماویں۔ یا عصائے موسیٰ دیکھنے کی تکلیف گوارا کرلیں۔ جس میں مرزا قادیانی کی تمام گالیاں حروف تہجی کے حساب سے جمع کی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی کی قلم نے تو تمام اہل اسلام، مجددین، مفسرین، صحابہ کرام بلکہ انبیاء علیہم السلام کے جگر کو بھی چاک کر ڈالا جو اپنی قبروں میں بھی کہتے ہوں گے؎
زباں تیری اترتی ہے چھری بن کر کلیجے میں
رسالے میں قابل جواب باتیں تو صرف اسی قدر تھیں جن کا جواب دیا گیا۔ اب ہم مرزا قادیانی یا بقول چوہدری اکبر علی صاحب بدر کامل اور چودھویں کے چاند کی حقیقت بذریعہ انجیل و احادیث نبوی آشکارا کرتے ہیں۔
٥
حضرت مسیح کے ارشادات
- ١...... حضرت مسیح اپنے حواریوں کو فرماتے ہیں۔ ”خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر
دے۔‘‘ ”فان کثیرین سیاتون باسمی قایلین انا هو المسیح ویضلون کثیرین“ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔
(متی: ٥ب٢٤)
حضرت مسیح نے اس آیت میں جھوٹے مسیح کی آمد (جو کہے گا کہ میں مسیح ہوں) کا زمانہ بھی بتا دیا ہے کہ میرے اتنے سال بعد آئے گا۔ سنئے:
(کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں) اس کے عدد بحساب ابجد ١٨٨٢ ہیں اور مرزا قادیانی نے بھی ١٨٨٢ء میں اپنے آپ کو مسیح قرار دیا۔
- ٢...... نیز فرماتے ہیں۔ ”بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ
میں ہی ہوں۔“
(لوقا: ٨ب٢١)
مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔
(ازالۃ اوہام ص٩١، خزائن ج٣ص١٢١)
- ٣...... نیز فرمایا کہ مسیح کذاب کے وقت لڑائی اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔
(متی: ٦ب٢٤)
مرزا قادیانی کے وقت لڑائیاں ہوتی رہیں۔
- ٤...... جگہ جگہ کال اور مری پڑے گی۔
(لوقا: ١١ب٢١)
مرزا قادیانی کے وقت سخت کال تھا اور ١٨٩٧ء اور ١٨٩٨ء میں طاعون پڑی۔ لیکن مریدوں نے کچھ پرواہ نہ کی۔
- ٥...... اور بھونچال آئیں گے۔
(متی: ٨ب٢٤)
چنانچہ مرزا قادیانی کے وقت ٤ اپریل ١٩٠٥ء کو سخت زلزلہ آیا۔ اس کے بعد ٦ فروری ١٩٠٦ء میں بھی زلزلہ آیا۔ (افسوس کہ مرزائیوں نے اس وقت بھی عبرت حاصل نہ کی)
- ٦...... اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
(متی: ١١ب٢٤)
چنانچہ مرزا قادیانی کے بعد کئی جھوٹے نبی اٹھے۔ جیسا کہ (١) احمد نور کابلی قادیان
٦
میں ۔ (٢) عبداللطیف گناپور میں۔ (٣)محبوب گوجرانوالہ میں ۔ (٤) رجل یسعیٰ عبداللہ چیچاوطنی میں۔ (٥) غلام حیدر جہلم میں۔ (٦) نبی بخش معراجکے ضلع سیالکوٹ میں۔ (٧) ایم۔ایم فضل چنگا بنگیال متصل گوجرخان میں۔
- ......٧ وہ جھوٹے مسیح اور کذاب نبی بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے۔
(متی:٢٤۔ب٢٤، مرقس: باب ١٣ آیت ٢٢)
- ......١ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:”ان نشانوں کو جو میری تائید میں ظہور
میں آچکے ہیں۔ آج کے دن تک شمار کیا جائے تو وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“
(حقیقت الوحی ص ٤٦،خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)
- ......٢ ”خدا کی قسم میرے نشان تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٧،خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
- ......٣ ”تمام نشان تخمیناً دس لاکھ ہیں۔“
(براہین احمدیہ پنجم ص ٥٨،خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
- ......٤ ”میرے اتنے نشان ہیں کہ اگر ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی
نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“ گویا کہ مرزا قادیانی بقول خود ہزار نبی سے افضل ہیں۔
(چشمہ معرفت ص ٣١٧،خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ......٥ ”میرے معجزے ایک لاکھ کے قریب ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٣،خزائن ج ٢٣ ص ٤٠)
- ......٦ آخر ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو فرماتے ہیں کہ: ”خدا نے ہزار ہا نشان میرے ہاتھ
پر ظاہر کئے اور کر رہا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٧١)
گویا مرنے سے دو دن پہلے دس لاکھ کے ہزار ہا ہو گئے۔
- ......٧ ”میرے معجزات بجز نبی ﷺ کے سب انبیاء سے زیادہ ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٦،خزائن ج ٢٢ ص ١٣٩)
- ......٨ بڑے بڑے لوگوں کو گمراہ کرلیں گے۔ (متی: ٢٤،٢٤، مرقس: ٢٢،١٣)
چنانچہ مرزا قادیانی نے بڑے بڑے لوگ ایم ۔ اے، بی۔اے وغیرہ گمراہ کرلئے۔
٧
- ......٩ اور لوگ ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔
(متی: ٢٤:١٠)
چنانچہ مرزا قادیانی کے وقت سے سب لوگوں میں دشمنی اور عداوت ہے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے لاہوری اور قادیانی آپس میں عداوت رکھتے ہیں۔ (دیکھو النبوۃ فی الاسلام ١ حقیقت النبوۃ)
- ......١٠ ”اس وقت کوئی اگر تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے۔ (یعنی
قادیان ہے) تو یقین نہ کرنا۔“ کیونکہ ١٨٨٢ء میں جھوٹا مسیح آئے گا اور کہے گا کہ وہ میں ہی ہوں۔
(متی: ٢٤:٢٣، لوقا: ٢١:٨، متی: ٢٤:٥)
اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کے ارشادات
- ......١ ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد (صف)“
﴿اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح نے حواریوں کو فرمایا کہ میں تم کو ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور نام ان کا احمد ہوگا۔ (ﷺ)﴾
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔“
(ڈائری ص ١٩٠١،٥ء)
- ......٢ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: ”انا بشارة عیسٰی بن مریم (مشکوة)“
کہ آیت بالا میں جس نبی کے آنے کی بشارت حضرت عیسٰی علیہ السلام نے دی ہے اس کا مصداق میں ہوں۔
- ......٣ ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب (صف)“ اور اس
سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو کہے گا کہ وہ احمد جس کی بشارت حضرت مسیح نے دی تھی۔ اس کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”اسمہ احمد“ کے مصداق محمد ﷺ نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا نام احمد نہ تھا۔ بلکہ اس آیت کے مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ تم احمدی کہلاؤ۔
(الفضل ١٨؍ اپریل ١٩١٤ء)
٨
دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔ (متی: ٢٤،١٠) امت سے سب لوگوں میں دشمنی اور عداوت ہے۔ حتیٰ کہ اور قادیانی آپس میں عداوت رکھتے ہیں۔ (دیکھو النبوۃ فی
کوئی آکر تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے۔ (یعنی ١٨٨١ء میں جھوٹا مسیح آئے گا اور کہے گا کہ وہ میں ہی ہوں۔
(متی: ٢٤، ٢٣، لوقا: ٢١،٨، متی: ٢٤،٥)
کے ارشادات "برسول يأتى من بعدى اسمه احمد (صف)" نے حواریوں کو فرمایا کہ میں تم کو ایک رسول کی بشارت دیتا احمد ہوگا۔ (ﷺ)﴾
کہ: "من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔" (ڈائری ص ١٠٥، ١٩٠١ء)
نے فرمایا: "انا بشارة عيسى بن مريم (مشكوة)" بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے اس کا مصداق
لم ممن افترى على الله الكذب (صف)" اور اس واحمد جس کی بشارت حضرت مسیح نے دی تھی۔ اس کا مصداق
تے ہیں کہ: "اسمه احمد" کے مصداق محمدﷺ نہیں ہیں۔ ت کے مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ
(الفضل ١٨ اپریل ١٩١٤ء)
٨
غرض کوئی بھی ہو۔ خواہ مرزا قادیانی نے خود اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہو یا خلیفہ صاحب نے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مفتری علی اللہ اور کذاب ہے۔
- ٤...... "وهو يدعى الى الاسلام" پھر اس کو اسلام کی طرف بلایا جائے گا
کہ تمہارا یہ عقیدہ کہ اسمہ احمد کا مصداق غلام احمد قادیانی ہے۔ سراسر کفر ہے۔ اس کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جاؤ اور کہو کہ اسمہ احمد کا مصداق محمد مدنی ہے۔ (ﷺ)
- ٥...... "والله لا يهدى القوم الظلمين " لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کی وجہ
سے ان کو ہدایت نہیں کرتا۔
- ٦...... "يريدون ليطفؤا نور الله بافواههم " ان کے ارادے یہ ہیں
کہ کس طرح رسول مدنی کے اسلام کی روشنی مٹ جائے اور غلام قادیانی کے مذہب کا عروج ہو جائے۔
- ٧...... "والله متم نوره " لیکن خدا تعالیٰ خود اسلام کا محافظ ہے۔ ان کے
مٹانے سے ہرگز نہ مٹے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا بول بالا کرے گا۔
- ٨...... "ولو كره الكافرون " اگرچہ اسمہ احمد کا مصداق مرزا قادیانی کو قرار
دینے والے ناخوش ہی ہوں۔
- ٩...... "هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدين كله" وہی اللہ تعالیٰ اس دین کا بول بالا کرے گا۔ جس نے اسمہ احمد کے مصداق رسول مدنی کو ہدایت قرآن پاک اور دین حق یعنی اسلام دے کر اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اس دین اسلام کو ادیان باطلہ پر غالب کر دے۔ چنانچہ کر دیا اور اسلام دن بدن پھیل رہا ہے اور پھیلتا رہے گا۔
- ١٠...... "ولوكره المشركين" خواہ مشرک یعنی شرک فی الرسالۃ کرنے
والے اور اسمہ احمد کی پیش گوئی میں غلام قادیانی کو شریک کرنے والے برا ہی منائیں۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جس اسلام کو پھیلانے کے لئے رسول خداﷺ نے ٢٣ سال تک تکلیفیں اٹھائیں۔ صحابہ کرام نے دن رات ایک کر دیا۔ تابعین، تبع تابعین، مجددین، مجتہدین، مفسرین، محدثین و دیگر علمائے اسلام نے بصد مشکل اہل اسلام کی تعداد بقول مرزا قادیانی نوے کروڑ تک پہنچائی تھی۔ ان حضرات یعنی المشرکون کے مصداقوں نے یا خود اسمہ احمد کے فرضی مصداق نے سب
٩
کے سبب نوے کروڑ اہل اسلام کو کافر قرار دیا۔ صرف اس وجہ سے کہ اسمہ احمد کا مصداق کیوں رسول مدنی کو قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو کافر سمجھیں۔
حالات مرزائے قادیانی، رسول مدنی کی زبانی
- ا...... ”اللهم انی اعوذبک من فتنة المسيح الدجال“ رسول
خداﷺ نے اپنی امت کو ہر نماز میں یہ دعاء پڑھنے کو ارشاد فرمایا کہ خداوندا ہم مسیح دجال (جس کی خبر ہر نبی نے اور خصوصاً مسیح نے دی تھی کہ وہ آخر زمانہ میں کہے گا کہ میں ہی مسیح ہوں) کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
- ٢...... ”ان الله لم يبعث نبياً الا حذر امته الدجال“ نیز فرمایا کہ ہر
نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال کے فتنہ سے ڈرایا۔
(ابن ماجہ ص ٣٠٧)
- ٣...... ”انی انذرکم کما انذر به نوح قومه“ میں بھی تم کو اس کے فتنہ
سے ڈراتا ہوں۔ جس طرح نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔
(بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص ٤٧٣)
- ٤...... اور اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ کیونکہ مسیح ابن
مریم نبی تھا اور میں اس کے نام پر آیا ہوں۔ لہٰذا میں بھی نبی ہوں۔ ”وانا اخر الانبياء“ اور حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس لئے جو کہے میں مسیح اور نبی ہوں۔ تم سمجھ لو کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔
- ٥...... ”يا عباد الله فاثبتوا فانه يبدأ فيقول انا نبی لا نبی
بعدی“ اے اللہ کے بندوں۔ میری امت کے لوگو۔ تم نے ثابت قدم رہنا اور اس کے انا نبی کہنے پر عمل نہ کرنا۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔
(ابن ماجہ ص ٣٠٧)
- ٦...... نیز فرمایا کہ اس کا خروج خراسان سے ہوگا۔ ”يقال لها خراسان
(ترمذی، مشکوٰۃ)“ یعنی وہ دجال خراسانی ہوگا۔ مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد خراسان سے ہی نکلے تھے۔
(سوانح مسیح موعود ص ٢)
- ٧...... ”يأتى المسيح من قبل المشرق“ رسول خداﷺ نے فرمایا کہ مسیح
دجال مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا۔
(مسلم، مشکوٰۃ)
١٠
چنانچہ قادیان مدینہ سے مشرق کی طرف ہے۔ جس کا آپ نے اشارہ فرمادیا۔
- ٨...... ”ويكثر الزلازل (بخاری، مسلم، مشكوة) “ نیز فرمایا کہ مسیح دجال
کے وقت زلزلہ کثرت سے آئیں گے۔
چنانچہ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء ، ٦؍ فروری ١٩٠٦ء میں اور ان کے علاوہ کئی زلزلے آئے ہیں۔
- ٩...... ” يتبع الدجال من امتى سبعون الفاً“ اور فرمایا کہ میری امت
کے ستر ہزار آدمی جو پہلے اسمہ احمد کا مصداق مجھ کو قرار دیتے تھے۔ اس کے ساتھ مل کر اس کا مصداق اس مسیح دجال کو قرار دیں گے۔
(مشكوة)
- ١٠...... ” يتبعه اقوام “ میری امت کے علاوہ اور کئی قومیں عیسائی ، سکھ، یہودی
وغیرہ بھی اس کے ساتھ مل جائیں گے۔
( ترمذی ، مشکوۃ)
- ١١...... ” معه اصناف الناس“ اس کے ساتھ قسم قسم کے لوگ ہوں گے۔
(کنزالعمال ج ص ٢٩٧٤)
- ١٢...... ” وانه لا يبقى شئ من الارض الا وطه وظهر عليه الا
مكة والمدينة “ اور فرمایا کہ مسیح دجال کا اثر دور دور ملکوں میں پھیل جائے گا۔ لیکن وہ خود اور اس کے مبلغ اور اس کا اثر وغلبہ مکہ ومدینہ میں نہیں جاسکے گا۔
(کنزالعمال ج ٧ ص ٢٠٢٨)
چنانچہ مرزا قادیانی کو حج بیت اللہ اور مدینہ کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔
- ١٣...... ”معه بمثل الجنة والنار“ اور اس کا ایک فرضی بہشت ( بہشتی
مقبرہ ) ہوگا جو فی الحقیقت دوزخ ہے اور ایک دوزخ یعنی اپنے مخالفوں کو جہنمی قرار دے گا۔
( بخاری ، مشکوۃ ص ٤٧٣)
- ١٤...... ” ياتى على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ثم يأتى القوم
فيدعوهم فيردون عليه قوله“ پھر وہ مسیح دجال ایک قوم کے سامنے دعویٰ پیش کرے گا۔ وہ مان لیں گے اور ایک دوسری قوم کے سامنے وہ دعویٰ مسیحیت پیش کرے گا۔ لوگ اس کا دعویٰ اس کے منہ پر ماریں گے اور کہیں گے کہ آپ تیس دجالوں میں سے ایک دجال ہیں۔ آپ اپنا دعویٰ اپنے پاس رکھئے اور تشریف لے جائیے۔
( مسلم ، مشکوۃ)
١١
١٥...... ”فيقول رجل من المؤمنين لا نطلقن الى هذا الرجل فانظرن اهو الذى انذرنا رسول الله ﷺ ام لا“ پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص زبردست مناظر اس کے مقابلہ کے لئے اس کے گاؤں (قادیان) میں جائے گا اور کہے گا کہ میں اس سے مناظرہ کر کے دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ وہی مسیح دجال ہے جس سے ہم کو رسول خدا ﷺ نے ڈرایا ہے یا کوئی اور ہے۔ پھر وہ واپس آ کر لوگوں میں اس کی دجالیت کا اعلان کر دے گا۔
(کنز العمال)
چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان گئے اور مقابلہ کے لئے بلایا اور وہ حضرت سامنے نہ آئے۔ آخر انہوں نے واپس آ کر ان کی بطالت کا اعلان کر دیا اور فرمایا۔
بطالت ہے بطالت ہے بطالت
١٦...... ”ليصحبن الرجال اقوام يقولون انا لنصحبة انا لنعلم انه الكافر و لكنا لنصحبه ناكل من طعامه “ بہت سے مولوی یا ملازمت پیشہ لوگ اس کے ساتھ مل جائیں گے اور دل میں کہیں گے ہم جانتے ہیں کہ مدعی نبوت کافر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہم خیال ہونے سے ہمیں تنخواہ مل جاتی ہے۔
(کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٩٢)
١٧...... ”ويبعث معه الشياطين تكلم الناس “ بہت سے مولوی شیطان خصلت اس کے دعویٰ نبوت کی نہ صرف تصدیق کریں گے بلکہ دوسرے لوگوں سے مناظرہ بھی کریں گے۔
(کنز العمال ج ٧ ص ٢١٠٤)
١٨...... ”ما من نبى الا قد انذر امته “ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال سے ڈرایا۔ جو کہے گا کہ میں مسیح ہوں اور دعویٰ نبوت کرے گا۔
(بخاری، مسلم، ابن ماجہ)
١٩...... مرزا قادیانی اس کی تصدیق فرماتے ہیں کہ: ”میرے آنے کی تمام نبیوں نے خبر دی ہے۔“
(تذکرہ شہادتین ص ٦٢، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)
٢٠...... نیز مرزا قادیانی اقرار کرتے ہیں۔ ”ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)
اپنے دعویٰ کو وہ بندہ آپ جھوٹا کر گیا
١٢
جل من المؤمنين لا نطلقن الى هذا الرجل رسول اللہ ﷺ ام لا“ پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص ئے اس کے گاؤں (قادیان) میں جائے گا اور کہے گا کہ میں گا کہ کیا یہ وہی مسیح دجال ہے جس سے ہم کو رسول خدا ﷺ میں آکر لوگوں میں اس کی دجالیت کا اعلان کر دے گا۔
(کنزالعمال)
یہ قادیان گئے اور مقابلہ کے لئے بلایا اور وہ حضرت سامنے کی بطالت کا اعلان کر دیا اور فرمایا۔
یہ بطالت ہے بطالت
ن الرجال اقوام یقولون انا لنصحبہ انا لنعلم من طعامہ“ بہت سے مولوی یا ملازمت پیشہ لوگ اس ں گے ہم جانتے ہیں کہ مدعی نبوت کافر ہے۔ لیکن اس کے جاتی ہے۔
(کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٩٢)
الشیاطین تکلم الناس“ بہت سے مولوی شیطان تصدیق کریں گے بلکہ دوسرے لوگوں سے مناظرہ بھی
(کنز العمال ج ٧ ص ٢١٠٤)
لا قد انذر امتہ“ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال دعوٰی نبوت کرے گا۔
(بخاری، مسلم، ابن ماجہ)
کی تصدیق فرماتے ہیں کہ: ”میرے آنے کی تمام نبیوں
(تذکرہ شہادتین ص ٦٢، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)
اقرار کرتے ہیں۔ ”ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)
وہ بندہ آپ جھوٹا ہوگیا
١٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
آئینہ
قادیانی
(جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
بزرگان اسلام کی خدمت میں ضروری التماس
”الحمد للہ العظیم ونصلی علی رسولہ الکریم“
معززین اسلام و برگزیدگان قوم! مجھے کبھی بحث مباحثہ کا شوق نہیں ہوا۔ اسلامی فرقوں کے مناظرہ کو میں نے کبھی پسند نہیں کیا۔ مگر مرزا قادیانی کے اقوال وعقائد اس طرح کے دیکھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو درہم و برہم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اسلام کے پردہ میں یعنی اپنے آپ کو کامل مسلمان اور اپنے وقت کا امام اور محدث بنا کر ہمارے مقدس مذہب کی جو صورت سید المرسلینﷺ اور آپ کے جانشین اور آل اطہار اور اصحاب کبار اور اولیاء عظام وعلمائے کرام نے بیان کی ہے۔ اسے غلط بتا کر کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوں میں ہوں۔ میرا کہنا مانو تب نجات ہوگی۔ اب اس کی وجہ خواہ ان کی غلط فہمی ہو خواہ ان کے الہامات وانکشافات ہوں۔ جن کی حالت یقینی طور سے شہادت دیتی ہے کہ وہ شیطانی ہیں۔ ان کے چند اقوال وعقائد نقل کئے جاتے ہیں۔ انہیں آپ غور سے ملاحظہ کریں۔
تمام اسلام کی برہمی
- .......١ قرآن مجید کے جو معنی ہم بیان کریں وہ صحیح ہیں اور اگر اس کے خلاف
کسی صحابی یا تابعی وغیرہما نے بیان کیا ہو۔ وہ غلط ہے۔
- .......٢ جو حدیث ہمارے الہام کے مطابق ہے۔ اسے ہم مانیں گے اور جو اس
کے خلاف ہیں۔ انہیں ردی کی طرح پھینک دیں گے۔ ؎١ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید وحدیث کا ذکر صرف مسلمانوں کے دھوکا دینے کے لئے ہے۔ دراصل دین ومذہب مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ تمام بزرگان دین نے الہام کے صحیح ہونے کی علامت بیان کی ہے کہ قرآن وحدیث کے مطابق ہو ؎٢ یہاں برعکس ہے۔ یعنی قرآن مجید کے معنی اور حدیث کی صحت الہام سے ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن مجید وحدیث جو مسلمانوں کا دین وایمان ہے وہ بیکار ہو گیا۔
؎١ یہ دونوں قول ان کے متعدد تحریروں میں ہیں۔ جماعت احمدیہ کا ہم کو امتحان کرنا ہے۔ جب وہ کسی کے سامنے انکار کریں گے تو پورا پورا حوالہ دیا جائے گا۔
؎٢ اس کی وجہ یہی ہے کہ کشف والہام میں شیطان کو بھی دخل ہو سکتا ہے اور اس کا معلوم ہونا نہایت دشوار ہے۔ جو حدیثیں علماء ناقدین کے نزدیک صحیح ہیں۔ اگرچہ ان کا ثبوت ظنی ہو۔ مگر ایسے الہامات سے تو انہیں ہر طرح فوقیت ہے۔
٢
مرزا قادیانی جو کہیں وہی دین ہے
اس کی وجہ بار بار یہ لکھتے ہیں کہ میں مسیح ہوں اور مسیح موعود کو حدیث میں حکم کہا ہے۔ یعنی فیصلہ کرنے والا۔ اس لئے جو میں کہوں اسے مانو۔ مگر مسلمان ان سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کس نے مانا جو آپ اپنے کو حکم سمجھ رہے ہیں اور زبردستی فیصلہ کر رہے ہیں۔ مسیح ہونے کی جو دلیلیں آپ نے بیان کی تھیں۔ وہ تو سب غلط نکلیں۔ آپ نے جن نشانات کو اپنی سچائی کا معیار بتایا تھا وہ سب جھوٹے ثابت ہو گئے۔ آپ کے اقوال آپ کے افعال آپ کی روش بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ آپ کو ہدایت وارشاد سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ آپ کی تقریر آپ کی تحریریں منہاج ہدایت و نبوت سے بالکل علیحدہ ہیں۔ بے انتہاء تعلی اور نفسانیت سے آپ کے رسالے اور اشتہارات بھرے ہیں۔ مرزا قادیانی کے محض غلط دعوے ایسے زور کے ساتھ ہوتے ہیں کہ کوئی ناواقف مسلمان اس کے غلط ہونے کا وہم و خیال بھی نہیں کر سکتا۔ بلکہ بے ساختہ اس کے دل میں یہ سما جاتا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ محض غلط دعویٰ اس زور کے ساتھ کیا جائے۔ ایسے ہی دعوؤں نے بہت مسلمانوں کے ایمان تباہ کئے اور پھر وہ خیر خواہ ہونے کے تحریر کو مخالفانہ تحریر خیال کر کے اسے لائق توجہ نہ سمجھے۔ افسوس صد افسوس!
جنہیں اس کی تصدیق منظور ہو وہ افادۃ الافہام، الذکر الحکیم، عصائے موسیٰ، فیصلہ آسمانی، شہادت آسمانی وغیرہ انصاف سے دیکھیں۔
انبیاء کی توہین
- ٣....... مرزا قادیانی (ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٨٠) میں کہتے ہیں۔
عیسیٰ کجا است تابنہد پا بمنبرم
میں ہوں کہ بشارتوں کے بموجب آیا ہوں۔ عیسیٰ کا کیا رتبہ جو میرے منبر پر قدم رکھے۔ یہ تعلی اور نبی اولوالعزم کی تحقیر ملاحظہ ہو۔ سید المرسلین، خاتم النبیین نے کسی نبی کی ایسی تحقیر نہیں کی۔ بلکہ متعدد حدیثوں میں ارشاد ہوا ہے کہ مجھے یونس بن متی پر بھی فضیلت مت دو مصلحین اور انبیاء کی یہ شان ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ بھی شعر ہے ؎
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
٣
اس قسم کے اقوال حضرت مسیح کی توہین میں مرزا قادیانی کے بہت ہیں۔ چنانچہ چند اقوال وغیرہ سے انتخاب کر کے پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی خدا کے برگزیدہ رسولوں کی کیسی بے حرمتی کرتے ہیں اور ان کے مریدین اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) میں حضرت یسوع مسیح کی نسبت لکھتے ہیں ۔ ” آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“ پھر لکھتے ہیں یہ بھی یاد رہے کہ : ” آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
یہاں دو صفتیں حضرت یسوع مسیح کی مرزا قادیانی نے بتائیں۔ ایک یہ کہ گالیاں دینے اور بدزبانی کرنے کی انہیں عادت تھی۔ دوسرے یہ کہ جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ یہ نہیں کہ اتفاقیہ کبھی جھوٹ بولا ہو یا بدزبانی کی ہو۔ بلکہ بدزبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ اب چونکہ مرزا قادیانی کا اوّل دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا تھا اور مسیح کی یہ عادتیں بیان کرتے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے مرزا قادیانی ان صفتوں میں مشاق تھے۔ اپنے مخالفین علماء کو بہت کچھ گالیاں دی ہیں اور بدزبانی کی ہے اور جھوٹ کا بھی اعلیٰ مرتبہ اختیار کیا ہے۔ یعنی قرآن وحدیث اور کتب سابقہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں۔ جن کا نام ونشان بھی ان میں نہیں ہے۔ غرضیکہ اپنے مثیل مسیح ہونے کے دعویٰ کو اس بیان سے ثابت کرتے ہیں۔ شاید یہ بھی غرض ہو کہ کوئی راست باز مرزا قادیانی میں اس صفت کو دیکھ کر اعتراض نہ کرے۔ کیونکہ ایسے نبی میں یہ صفت موجود ہے۔ جنہیں مسلمان اور عیسائی دونوں خدا کا سچا رسول مانتے ہیں۔ اے راست بازو کیا برگزیدہ خدا، اور بالخصوص اس کے سچے رسولوں کی شان ہو سکتی ہے؟ اور جس میں یہ صفت ہو وہ خدا کا رسول ہو سکتا ہے؟ خوف خدا کو دل میں لا کر اس میں غور کرو۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) میں کچھ اور بھی فرماتے ہیں۔ ” آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“ اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں۔
- ١...... یہ ظاہر ہوا کہ جن بزرگ کے صفات مرزا قادیانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ
وہی ہیں جن کی طرف انجیل منسوب ہے اور یہ دنیا جانتی ہے کہ انجیل وہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی۔ انجیل میں ان کا نام یسوع بھی ہے۔ کوئی دوسرے شخص نہیں ہیں۔
- ٢...... انجیل میں جو عمدہ تعلیم ہے وہ الہامی خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ
چرائے ہوئے مضامین ہیں اور قرآن مجید میں جو ارشاد ہے کہ : ”وآتیناہ الانجیل“ یہ غلط ہے۔
٤
- ٣....... حضرت مسیح نے فریب دیا۔ یعنی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے
دوسری کتاب کی تعلیم کو اپنی طرف منسوب کیا۔ اس پر خوب نظر رکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے یہاں تک حضرت مسیح پر تین الزام دیئے۔
- اول...... گالیاں دینے اور بدزبانی کی عادت تھی۔ یعنی یہ نہیں کہ اتفاقاً کسی وقت گالی زبان
سے نکلی ہو اور بد زبانی کی ہو۔ بلکہ بد زبانی کی عادت تھی۔
- دوم...... جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔
- سوم...... لوگوں کو فریب دیتے تھے۔
اس کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) میں لکھتے ہیں ۔ ” حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور کو اچھا کیا ہو۔ اسی زمانے میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔“
برادران اسلام! اگر ایمان کا شائبہ ہے تو دیکھو کہ ایک نبی اولوالعزم کی کیسی حقارت اور فضیحت مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ یہ وہی یسوع مسیح ہیں۔ جن کی شان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”وجيهاً في الدنيا والآخرة ومن المقربين “ یعنی حضرت مسیح کی شان یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں صاحب عزت اور ذی وجاہت بنایا ہے اور اپنے مقرب اور پیارے بندوں میں انہیں شمار کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی انہیں اس قدر فضيحت کرتے ہیں کہ پرہیزگار انسان بھی نہیں بکتے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ”ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
آخری جملہ میں مرزا قادیانی، کیسے الزام کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور الکنایۃ ابلغ من التصریح سے کام لے رہے ہیں۔ افسوس ہمارے بھائی غیرت کی نظر سے دیکھیں کہ جس نبی مرسل پر ہم اور آپ ایمان لائے ہیں۔ جن کے انکار سے خدا اور رسول کے ارشاد کے بموجب
٥
`p-419.png`
مسلمان کافر ہو جاتا ہے۔ انہیں مرزا قادیانی بازاری، عیاش، زنا کار یا اس کے مثل بتا رہے ہیں۔ غضب ہے۔ استغفر اللہ جس شخص کے دل میں ایک رسول برحق عالی مرتبہ کی عظمت و شان ذرا بھی نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کا یقین کریں کہ دوسرے انبیاء کی عظمت ان کے قلب میں ایسی ہے جیسی ایک مسلمان کے دل میں ہونی چاہئے۔ اس سخت کلامی اور توہین رسول کے جواب میں پہلے یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ کہا ہے وہ یسوع کو کہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں کہا۔ مگر ص ٦ کے قول سے ہم یقین دلاتے ہیں کہ یسوع اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں۔ اب خود مرزا قادیانی کے کلام سے اس کی صراحت ملاحظہ کر لیجئے۔
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں۔ ”دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“ لیجئے اب تو نہایت صراحت سے مرزا قادیانی نے کہہ دیا کہ یسوع اور مسیح اور عیسیٰ تینوں ایک ہی انسان کے نام ہیں۔ اب تو اقرار کیجئے کہ مرزا قادیانی نے ایک نہایت ذی شان رسول کی سخت توہین کی۔ مگر حضرات مرزائی صاحبان سچی بات کا اقرار نہیں کرتے۔ بلکہ حق کو دبا کر دوسرے پہلو اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک پادری نے جناب رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کی تھی۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے الزاماً لکھا ہے۔ مگر یہ سخت جاہلانہ اور ابلہ فریب جواب ہے۔ کیونکہ پادری تو دولت ایمانی سے محروم منکر رسالت سرور انبیاء علیہ السلام ہے۔ اس لئے اس نے اپنا منہ کالا کیا اس کے جواب میں کسی ایماندار کا یہ تقاضا کب ہو سکتا ہے کہ جس رسول برحق پر وہ ایمان لایا ہے۔ جسے برگزیدہ خدا یقین کر رہا ہے اسے ایسی بے حرمتی سے یاد کرے کہ کوئی بھلا آدمی کسی شہدے کو ایسے کلمات کہنا پسند نہیں کرتا اور نہ شریعت اسے جائز بتاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہتا ہوں کہ جس طرح پہلا جواب محض غلط تھا۔ اسی طرح یہ جواب بھی غلط ہے۔ یعنی جس طرح پہلے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ سخت کلامی یسوع کے ساتھ کی گئی ہے۔ حضرت مسیح کے ساتھ نہیں۔ جس طرح یہ جواب غلط تھا اور ناواقفوں کو دھوکہ دینا منظور تھا، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ یہ کلمات الزاماً پادری کے جواب میں کہے گئے ہیں۔ واقعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین منظور نہیں ہے۔ کیونکہ دافع البلاء میں مختصراً اسی قسم کے الزام دیئے ہیں۔ رسالہ کے آخری صفحہ کا حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
ایسے تحریروں کے بعد ان مضامین پر کیونکر سچائی کا گمان ہو سکتا ہے۔ جہاں تمام انبیاء کی یا خاص حضرت مسیح کی تعریف کی ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی پیچیدہ تحریریں اسی خیال پر مجبور کرتے ہیں جو (حقیقت الوحی ص ٣٥ تا ٣٩) میں لکھا گیا ہے۔ اسے غور سے ملاحظہ کر کے انصاف کیا جائے۔
٦
٤....... ”نبی اس نکلی“۔ یعنی انبیاء کی باتیں بعض یقین نہیں ہو سکتا۔ چونکہ مرزا قاد لئے یہ پیش بندی ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی ٥...... مرزا قا مفہوم مفہوم
یعنی میں موسیٰ ہوں یہ صراحتاً برابری کا دعویٰ ہے اور ہے۔ بعض کو یہ بھی کہتے سنا کہ منصور نے انا الحق کہا ہے۔ مگر الرسول کا لفظ سنا ہے اور مرزا قا دریافت کرتا ہوں کہ جتنے اولیاء کہا ہے۔ انا الحق تو حالت سکر علاوہ مرزا قادیانی کے اور دعوٰیٰ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا نفاذ
لہ غسـ
ترجمہ: اس کے۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ اس شعر سے مرز نشان ظاہر ہوا اور میرے ۔ مرزا قادیانی کے رسالے اور
مسلمان کافر ہو جاتا ہے۔ انہیں مرزا قادیانی بازاری، عیاش، زنا کار یا اس کے مثل بتا رہے ہیں۔ غضب ہے۔ استغفر اللہ جس شخص کے دل میں ایک رسول برحق عالی مرتبہ کی عظمت و شان ذرا بھی نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کا یقین کریں کہ دوسرے انبیاء کی عظمت ان کے قلب میں ایسی ہے جیسی ایک مسلمان کے دل میں ہونی چاہئے۔ اس سخت کلامی اور توہین رسول کے جواب میں پہلے یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ کہا ہے وہ یسوع کو کہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں کہا۔ مگر ص ٦ کے قول سے ہم یقین دلاتے ہیں کہ یسوع اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں۔ اب خود مرزا قادیانی کے کلام سے اس کی صراحت ملاحظہ کر لیجئے۔
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں۔ ”دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“ لیجئے اب تو نہایت صراحت سے مرزا قادیانی نے کہہ دیا کہ یسوع اور مسیح اور عیسیٰ تینوں ایک ہی انسان کے نام ہیں۔ اب تو اقرار کیجئے کہ مرزا قادیانی نے ایک نہایت ذی شان رسول کی سخت توہین کی۔ مگر حضرات مرزائی صاحبان سچی بات کا اقرار نہیں کرتے۔ بلکہ حق کو دبا کر دوسرے پہلو اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک پادری نے جناب رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کی تھی۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے الزاماً لکھا ہے۔ مگر یہ سخت جاہلانہ اور ابلہ فریب جواب ہے۔ کیونکہ پادری تو دولت ایمانی سے محروم منکر رسالت سرور انبیاء علیہ السلام ہے۔ اس لئے اس نے اپنا منہ کالا کیا اس کے جواب میں کسی ایماندار کا یہ تقاضا کب ہو سکتا ہے کہ جس رسول برحق پر وہ ایمان لایا ہے۔ جسے برگزیدہ خدا یقین کر رہا ہے اسے ایسی بے حرمتی سے یاد کرے کہ کوئی بھلا آدمی کسی شہدے کو ایسے کلمات کہنا پسند نہیں کرتا اور نہ شریعت اسے جائز بتاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہتا ہوں کہ جس طرح پہلا جواب محض غلط تھا۔ اسی طرح یہ جواب بھی غلط ہے۔ یعنی جس طرح پہلے جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ سخت کلامی یسوع کے ساتھ کی گئی ہے۔ حضرت مسیح کے ساتھ نہیں۔ جس طرح یہ جواب غلط تھا اور ناواقفوں کو دھوکہ دینا منظور تھا، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ یہ کلمات الزاماً پادری کے جواب میں کہے گئے ہیں۔ واقعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین منظور نہیں ہے۔ کیونکہ دافع البلاء میں مختصراً اسی قسم کے الزام دیئے ہیں۔ رسالہ کے آخری صفحہ کا حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
ایسے تحریروں کے بعد ان مضامین پر کیونکر سچائی کا گمان ہو سکتا ہے۔ جہاں تمام انبیاء کی یا خاص حضرت مسیح کی تعریف کی ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی پیچیدہ تحریریں اسی خیال پر مجبور کرتے ہیں جو (حقیقت الوحی ص ٣٥ تا ٣٩) میں لکھا گیا ہے۔ اسے غور سے ملاحظہ کر کے انصاف کیا جائے۔
٦
٤....... ”نبی اس نکلی“۔ یعنی انبیاء کی باتیں بعض یقین نہیں ہو سکتا۔ چونکہ مرزا قاد لئے یہ پیش بندی ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی ٥...... مرزا قا مفہوم مفہوم
یعنی میں موسیٰ ہوں یہ صراحتاً برابری کا دعویٰ ہے اور ہے۔ بعض کو یہ بھی کہتے سنا کہ منصور نے انا الحق کہا ہے۔ مگر الرسول کا لفظ سنا ہے اور مرزا قا دریافت کرتا ہوں کہ جتنے اولیاء کہا ہے۔ انا الحق تو حالت سکر علاوہ مرزا قادیانی کے اور دعوٰیٰ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا نفاذ
لہ غسـ
ترجمہ: اس کے۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔ اس شعر سے مرز نشان ظاہر ہوا اور میرے ۔ مرزا قادیانی کے رسالے اور
- ٤....... ”بنی اسرائیل کے چار سو نبی نے ایک بادشاہ کے فتح کی خبر دی اور وہ غلط
نکلی۔‘ یعنی انبیاء کی باتیں بعض غلط بھی ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی نبی کی بات پر سچائی کا یقین نہیں ہوسکتا۔ چونکہ مرزا قادیانی کی اپنی بہت پیشین گوئیاں غلط ہوئیں۔ اس کے جواب کے لئے یہ پیش بندی ہے۔
جناب رسول اللہ ﷺ کی توہین
- ٥...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(درثمین فارسی ص ١٣٨)
یعنی میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں محمد مجتبیٰ ہوں، تمام انبیاؤں کا مرتبہ مجھے ملا ہے۔ یہ صراحتاً برابری کا دعویٰ ہے اور ظاہر ہے غلام اگر مولیٰ کی برابری کا دعویٰ کرے تو مولیٰ کی سخت توہین ہے۔ بعض کو یہ بھی کہتے سنا کہ مرزا قادیانی فنا فی الرسول تھے۔ اس لئے ایسا کہتے تھے۔ جس طرح منصور نے انا الحق کہا ہے۔ مگر ان حضرات کو حالات صوفیائے کرام سے واقفیت نہیں ہے۔ فنا فی الرسول کا لفظ سنا ہے اور مرزا قادیانی کے معتقد ہوگئے۔ اس لئے تاویل کرنے لگے میں ان سے یہ دریافت کرتا ہوں کہ کتنے اولیاء کبار گزرے ہیں۔ فنا فی الرسول تو سب ہوتے ہیں۔ کسی نے بھی ایسا کہا ہے۔ انا الحق تو حالت سکر میں کہا ہے۔ مگر انا محمد کسی نے نہیں کہا۔ یہ عجب راز الٰہی ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے اور دعوؤں کو بھی ملاحظہ کیجئے۔ جن سے وہ اپنی فوقیت جناب رسول اللہ ﷺ پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا فنا فی الرسول کی ایسی حالت ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ملاحظہ ہو۔
غسا القمران المشرقان اتنکر
(درثمین عربی ص ٢٣٠)
ترجمہ: اس کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔
اس شعر سے مرزا قادیانی اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہیں کہ حضور انور کے لئے ایک نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے دو نشان ظاہر ہوئے۔ غرضیکہ اسی قسم کے دعوے اور تعلیوں سے مرزا قادیانی کے رسالے اور اشتہارات بھرے ہیں۔ یا ان میں مخالفین پر سب وشتم ہے۔ ہدایت
٧
وارشاد کی کوئی بات اتفاقیہ ضمناً آ گئی ہے ورنہ نہیں۔ اس وقت کے مناسب تہذیب نفس کا کوئی طریقہ مخلوق کو نہیں بتایا جاتا۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک جس مرزائی کو دیکھو جھگڑنے کو آمادہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے حیات وممات پر کچھ باتیں ان کو یاد کرادی گئی ہیں اور باہم ان ہی کی مشق کیا کرتے ہیں۔ تہذیب نفس اور طلب حق سے کچھ بحث نہیں جو کتابیں ان کی اصلاح کے لئے لکھی گئی ہیں۔ انہیں مطلقاً نہیں دیکھتے جو حالت فرقہ باطنیہ کی کتابوں میں لکھی ہے اور حسن بن صباح اور اس کے مریدین کا جو حال لکھا ہے۔ اسی طرح حال مرزا اور اس کے مریدین کا ہے۔ اس نے فردوس بریں بنایا تھا۔ مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ تعمیر کرایا۔ ناظرین مطبع دلگداز لکھنؤ سے حسن بن صباح کا حال منگا کر دیکھیں۔
- ٦ ...... (ازالۃ اوہام حصہ دوم، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣) میں مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ
کے لئے عیسیٰ ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت کے منکشف نہ ہونے کے قائل ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی پر تو ان کی حقیقت منکشف ہوئی۔ لیکن ان کا علم اور کشف سید المرسلین ﷺ کے علم سے بڑھ گیا۔ (معاذ اللہ ) اس قول میں مرزا قادیانی کی تعلیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی توہین کو اہل اسلام ملاحظہ کریں۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہے اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما حقہ ظاہر فرمادی گئی اور صرف اس قرینہ اور صور متشابہ اور امور تمثیلیہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قوت کے ممکن ہو اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“
حضرات ناظرین! خیال رکھیں میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی انہوں نے کامل مدح نہیں کی یا اپنے آپ کو حضور کا غلام نہیں کہا۔ مگر اپنی تعلیٰ میں یہ کلمات بھی ان کے ہیں۔ اب ایسے سخت اختلاف کی کیا وجہ ہے۔ میرے خیال میں اس کی دو ہی وجہ ہو سکتی ہے۔ غالب وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ میں خودی اور علو اس قدر سما گیا ہے۔ جس کی انتہاء نہیں وہ نبوت سے گذر کر مرتبہ خدائی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اس لئے وہ کسی مقام پر دبی زبان سے اپنا علو بیان کرتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تعریف زور و شور سے اس لئے ہے کہ جس قدر لوگ ان پر ایمان لائے ہیں۔ وہ سب امت محمدی ہیں۔ کوئی عیسائی یا آریہ یا ہندو ان پر ایمان نہیں لایا اور آئندہ بھی مسلمانوں ہی کے ایمان لانے کی امید ہوگی۔ اب اگر حضور ﷺ کی مدح نہ ہوتی تو کون ان کے دام میں آتا۔
٨
اہل بیت اطہار واولیاء کرام اور علماء عظام کی تحقیر
- ٧...... تمام اولیاء امت اور علماء ورثۃ الانبیاء کی نسبت (اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن
ج ٩ ص ١٨١) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں:
الى آخر الايام لا تتكدر
پہلے جتنے گزر گئے ان کا پانی میلا اور مکدر ہو گیا اور ہمارا پانی آخر زمانہ تک مکدر نہیں ہوگا۔
جس عربی شعر کا یہ ترجمہ ہے وہ ایسا عام ہے کہ تمام انبیاء اور اولیاء کو شامل ہے۔ یعنی ہم سے پہلے جتنے انبیاء کرام گزرے ان کا پانی مکدر ہو گیا۔ ان کی شریعت میلی ہو گئی۔ عمل کرنے کے لائق نہ رہی۔ مرزا قادیانی جو شریعت بیان کریں وہ صاف ہے اور قیامت تک صاف رہے گی اور اولیاء کرام جن میں تمام صحابہ کبار اور آل اطہار داخل ہیں۔ سب ہی کی عظمت وشان مرزا کے مقابلے میں جاتی رہی۔ مرزا قادیانی کی عظمت قیامت تک نہیں جائے گی۔ اب آپ ملاحظہ فرمائیں۔ ان تعلیوں کی کچھ انتہاء ہے۔ اس کے بعد خاص امام حسین کی نسبت مرزا قادیانی کے کلمات گستاخانہ اور بے ادبانہ (جس کے اعادہ کرنے سے قلم لرزتا ہے) اگر چہ نقل کفر کفر نباشد اس کے عربی اشعار ملاحظہ ہوں:
اقول نعم والله ربى سيظهر
مطلب یہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو امام حسن اور حسین پر فضیلت دیتے ہو۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں خدا کی قسم میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔
وعندى شهادات من الله فانظروا
خدا کی قسم حسین میں کوئی بزرگی مجھ سے زیادہ نہیں۔ بلکہ میرے پاس خدا کی شہادتیں ہیں جو حسین کے پاس نہیں۔
فماذا لكم من خيره يا معذر
اس شعر میں غور کرو کیا تو تمام دنیا سے اسے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے۔ یعنی تیرا سمجھنا غلط ہے۔ اے مبالغہ کرنے والے بھلا یہ تو بتلا کہ تجھے دینی فائدہ اس سے یعنی حسین سے کیا پہنچا ہے۔
٩
یعنی مسلمانوں کے لئے حضرت امام حسین کا وجود بیکار تھا۔ مرزا قادیانی سے دینی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس لئے وہ افضل ہیں۔ (نعوذباللہ) مرزا قادیانی کے نزدیک فائدہ جب پہنچتا کہ حضرت امام کمالات ولایت سے گزر کر نبوت کا دعویٰ کرتے اور بذریعہ اشتہارات ورسائل اپنے نانا کی امت سے منواتے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے کیا اس وقت دینی فائدہ ان سے پہنچتا۔ قرب الٰہی اور فیضان ولایت جو ہزاروں اور لاکھوں امت محمدیہ کو آپ کی ذات بابرکات سے پہنچا اور مسلمانوں کے دل صاف ہو کر آئینہ خدا نما ہو گئے اور سچی تہذیب سے مہذب ہو کر سچائی اور حقانیت کی صورت بن گئے۔ یہ کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس فائدے سے آشنا ہی نہیں اور سنئے مرزا قادیانی کہتے ہیں۔
فانی اوید کل آن وانصر
مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت مدد اور تائید مل رہی ہے۔
الى ھذا الايام تبکون فانظروا
اور حسین کے دشت کربلا کو یاد کرو۔ (کہ وہاں کس قدر مصیبت اسے پہنچی) جسے تم خیال کر کے اب تک روتے ہو۔ اس میں غور کرو۔ ناظرین پہلے تو اس میں غور کریں کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ اس کلام سے معلوم ہوا کہ قرۃ العینین رسول الثقلین حضرت امام حسینؓ ہمارے ہیں۔ (الحمدللہ) اور مرزا قادیانی کے نہیں ہیں۔ یہاں سے ہمارے ان کے جو فرق ہے وہ ظاہر ہو گیا۔ جو عاشق رسول اللہ ﷺ اور فانی الرسول ہیں۔ ان کی زبان سے ان کے قلم سے جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت ایسے کلمات گستاخانہ نہیں نکل سکتے۔ جو شخص رسول الثقلین پر ایمان رکھتا ہو اور ان کے قرۃ العینین کو اپنا نہ سمجھے۔ بلکہ یوں کہے کہ تمہارے حسین یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی کون اور کیسے ہیں۔ اس کے بعد ان کے کلام کا جواب سنئے۔ اگر ایسی ہی مدد ملنا افضلیت کا باعث ہو سکتا ہے تو اس وقت کے منکرین اسلام اور دہریے وغیرہ تمام مسلمانوں پر اور خصوصاً مرزا قادیانی پر اپنی افضلیت ثابت کر سکتے ہیں۔ دیکھئے کس عیش وعشرت اور حکومت میں زندگی ان کی بسر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بات میسر نہیں خصوصاً مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کو اور زیادہ مناسبت تو مرزا قادیانی کے حال سے فرعون کو ہے۔ دیکھئے اس قسم کی مدد کئی سو برس تک اسے ملتی رہی ہے۔ بلکہ اس سے بہت زیادہ کیونکہ اس نے بادشاہی کی اور خدائی کا دعویٰ بھی کیا اور ماننے والوں نے اسے مان بھی لیا اور بہتوں نے مانا۔
١٠
مرزا قادیانی کے پاس صرف قلیل جائیداد تھی اور مریدوں کے طفیل سے قورمہ پلاؤ کھانے کو عنبر و مشک وزعفران استعمال کو مل جاتا تھا۔ پھر اس میں اور بادشاہت میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے ماننے والوں نے تو مرزا کو امام اور نبی ہی مانا۔ فرعون کے ماننے والوں نے اسے خدا مان لیا۔ پھر خدائی اور نبوت میں تو بہت ہی عظیم الشان فرق ہے۔ اس لئے فرعون کو مرزا قادیانی پر بہت زیادہ فضیلت ہوئی۔ البتہ مرزا قادیانی نے اپنے کو خدا منوانے کی تمہید شروع کر دی تھی۔
چنانچہ (کتاب البریہ ص ٨٥ خزائن ج ١٣ص١٠٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور (الحکم مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء) میں ان کا الہام ہے۔ ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون“ یہ صفت خاص خدائے تعالیٰ کی ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے۔ اس کا وجود فقط اس کے حکم سے ہو جائے۔ اس الہام سے معلوم ہوا کہ یہ صفت مرزا قادیانی میں ہے یا اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عنایت کر دی ہو۔ غرضیکہ خدائی کشف بھی انہیں ہو چکا اور الہام بھی ہوا اور پہلے سے کہہ دیا گیا ہے کہ قرآن وحدیث کے معنی اور صحت کا مدار میرے کشف والہام پر ہے۔ پھر خدائی کا ثبوت کیا دشوار ہے۔ مگر دیر آید درست آید کا مضمون پیش نظر رہا اور مریدین کے استقامت کا امتحان بھی درپیش ہوگا۔ اس لئے خدائی کا صریح دعویٰ ملتوی رہا۔ اگر کچھ دنوں عمر اور وفا کرتی تو یہ مرحلہ بھی طے ہو جاتا۔ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی نے بتدریج اپنے مراتب کو منایا۔ صرف ایک درجہ خدائی کا رہ گیا تھا کہ خود ہی خاک میں مل گئے۔ مریدوں کی حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے بھی قبول کر لیتے اور قرآن مجید وحدیث شریف سے اسے ثابت کرنے کو موجود ہو جاتے۔ خیر یہ تو ہو گیا۔ اب اور سنئے۔ مرزا قادیانی اپنے عیش وعشرت اور امن وعافیت سے رہنے کو خدا کی تائید اور مدد بتا کر حضرت امام حسینؓ کی مصیبت کو دکھا کر فخر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب میں کیا دوں واقف کار انبیاء اور اولیاء کی مصیبتوں اور ان کے دشمنوں کی کامرانیوں سے واقف ہیں اور اب بھی منکرین اور مسلمین کی حالت معائنہ کر رہے ہیں۔ غضب ہے کہ ان امور سے چشم پوشی کر کے قرۃ العینین رسول الثقلین کی مذمت ہو رہی ہے اور اسلام کا دعویٰ ہے اور ان کے ماننے والے آنکھ بند کر کے انہیں فنافی الرسول اور رسول مان رہے ہیں۔ (استغفر اللہ نعوذ باللہ ) حضرات! اگر محبت اہل بیت نہیں ہے تو ایمان ندارد، امت محمدیہ یقین کر لیں کہ معرکہ دشت کربلا عشق ومحبت کا ایک تماشا تھا اور حضرت قرۃ العینین رسول الثقلین کو سید الشہداء کا مرتبہ دینا تھا۔ ایسے موقع پر عشاق کے زبان حال پر یہ شعر جاری ہوتا ہے۔
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
١١
قتیل الحب یہی حضرات ہیں جن کی محبت کا امتحان عالم کے روبرو ہو گیا اور سارے زمین و آسمان نے اس کی شہادت دے دی اور قورمہ پلاؤ کھا کر اور مشک و زعفران کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کو قتیل الحب کہنا محض جھوٹا دعویٰ کرنا اور نادانوں کو دھوکا دینا ہے۔ مسلمانو! حضرت امام ممدوح کی نسبت جو گستاخی اور تحقیر کی گئی اس کا بہت بڑا اثر حضرت رسول کریمﷺ اور مذہب مقدس اسلام پر پڑتا ہے۔ اس لئے کہ مخالفین اسلام جب مرزا قادیانی کے ان اقوال کو دیکھتے ہوں گے تو ضرور کہتے ہوں گے کہ تمام دنیا کے مسلمان جنہیں دینی امام بڑے زور و شور سے مان رہے ہیں۔ ان سے افضل اور بہتر مرزا غلام احمد ہیں۔ لاکھوں مسلمان اسے مان چکے ہیں اور مرزا قادیانی کیسے ہیں اور ان کی کیا حالت ہے۔ اس کا پتہ ان کے خاص مرید ڈاکٹر عبدالحکیم خان اسسٹنٹ سرجن اور ان کے مخصوص رفیق ممدوح منشی الٰہی بخش صاحب کی تصانیف سے معلوم ہوتا ہے۔ جسے خواص و عوام دیکھ رہے ہیں اور ہر طرف سے مرزا قادیانی پر نہایت نفرت سے نظر پڑ رہی ہے۔ اسی پر امام صاحب کے حال کو قیاس کرنا چاہئے۔ یہ خیال کر کے مخالفین کو اس کہنے کا موقع ضرور ہے کہ جب مسلمانوں نے ایسی ناپاک حالت والے شخص کو نبی مان لیا اور حسینؑ کو دینی امام مان لیا جو مرزا قادیانی سے بھی کم مرتبہ ہیں تو ان کے مذہب کی حالت معلوم ہوئی۔
اس وقت میں اسی مختصر تقریر پر اکتفا کرتا ہوں اور حق کے طالبوں سے بہ منت کہتا ہوں کہ غور سے ملاحظہ کریں اور کتابوں میں مرزا قادیانی کے عقائد تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔ انہیں ضرور ملاحظہ کیجئے۔ آخر میں مجھے اس کی اطلاع دینی بھی ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال میں بہت اختلاف ہے۔ مثلاً کہیں نبوت کا دعویٰ سے انکار اور کسی مقام پر بڑے زور و شور سے دعویٰ ہو رہا ہے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ حضرات امامین کی تعریف میں کوئی اشتہار چھپوا رکھا ہے۔ جہاں اس کی ضرورت دیکھتے ہیں۔ اسے پیش کر دیتے ہیں۔ یا چونکہ یہ زمانہ پولیٹکل چالوں کا ہے۔ اس کا برتاؤ مرزا قادیانی اور ان کے پیرو جلب منفعت کے لئے کرتے ہیں۔ تاکہ سادہ لوحوں کو ہر پہلو سے گمراہ کر سکیں۔ واللّٰہ اعلم! اس وقت مسلمانوں کو عموماً اور اہل علم کو خصوصاً نہایت ضرور ہے کہ جن کتابوں کا حوالہ اس تحریر میں دیا گیا اور جن کے نام رسالہ اظہار حق کے آخر میں لکھے گئے ہیں۔ انہیں ضرور دیکھیں اور جب کسی بات میں شک ہو تو کسی ایسے ذی علم سے دریافت کریں جو مرزا قادیانی اور ان کی تصانیف سے واقف جیسے مولانا سید محمد تقی حسن صاحب چاند پوری اور مونگیر میں ناظم دارالاشاعت رحمانی سے دریافت کریں اور کسی مرزائی کے بہکانے میں نہ آئیں۔ واللّٰہ الموفق والمعین!
١٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
تنبیہ
قادیانی
(جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیریؒ)
وما توفیقی الا بالله!
بسم الله الرحمن الرحيم!
"حامداً ومصليا علی رسولہ الکریم . والہ وصحبہ اجمعین"
مجھے ہمیشہ اس امر کی کوشش رہتی ہے کہ تحریروں میں تہذیب قائم رہے۔ مخالفین کا جواب نرم لفظوں میں دیا جائے۔ بازاری لہجہ سے بچتا رہوں۔ مگر جب اخبار بدر مورخہ ١٩؍ستمبر ١٩١٢ء کو دیکھتا ہوں تو خواہ مخواہ من حیث بشریت طبیعت پریشان ہو جاتی ہے اور ترکی بہ ترکی جواب دینا نامناسب معلوم نہیں ہوتا کہ آہن بہ آہن تواں کرد نرم۔ مشہور مقولہ ہے جب دارالغدر قادیان کے اخبار کا ایسا گندہ مضمون نکلتا ہے اور زبان قلم کو اپنے اندرونی نجس الفاظ سے ناپاک کرتے ہیں۔ باوجودیکہ خلیفہ صاحب وہیں موجود ہیں اور مضمون ان کی منظوری سے درج اخبار ہوتا ہے۔ مگر تعجب ہے کہ اس گندگی پر ذرا بھی ان کو اعتنا نہ ہوئی۔ تو پھر دوسرے مرزائیوں کا کیا ٹھکانا ہے۔ لہٰذا جماعت احمدیہ مجھے ترکی بہ ترکی جواب دینے میں معذور سمجھے۔ اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست جب سے رسالہ فیصلہ آسمانی شائع ہوا ہے۔ قادیانیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ہر طرف بہکتے پھرتے ہیں۔ جواب دینے کے نام پر ان کے دلوں میں لرزہ آتا ہے۔ مونگیر اور بھاگلپور کی مرزائی مشنری کا شیرازہ ٹوٹا جاتا ہے۔ جدھر دیکھئے ہر طرف سے ان پر نفریں کی بوچھاڑ پڑ رہی ہے۔ نیا الو کوئی دام میں نہیں آتا۔ چندیں حیل برائے اکل کا قافیہ تنگ ہونے لگا۔ فریاد و زاری کی صدائیں قادیان تک پہنچنے لگیں۔ مرزائی مشین ڈھیلی پڑ گئی۔ تمام صوبہ بہار میں اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں فیصلہ آسمانی کا چرچا ہے۔ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی پر ١٠ برس کے بچہ سے لے کر ٨٠ برس کا بڈھا بھی مضحکہ اڑا رہا ہے۔ مگر مخالفین کی غیرت خدا جانے کس جزیرہ میں روپوش ہو گئی کہ ان کو ذرا شرم نہیں آتی اور بڑی ڈھٹائی سے کبھی ایک مدرس صاحب کسی اخبار میں بے سروتال کی الاپ اپنے بھائیوں کی حمایت میں الاپتے ہیں۔ کسی میں مفتی صاحب ڈفالیوں کی طرح بہانہ لے کر بے سرا تان لگاتے ہیں۔ مگر اس سے ہوتا کیا ہے۔ فیصلہ آسمانی کا جواب دیں اور اشتہار کے مطابق ہزار روپیہ کی تھیلی مفت را چہ باید گفت حاضر ہے۔
اجی آپ تو کیا اگر مرزا قادیانی آنجہانی بھی زندہ رہتے تو فیصلہ آسمانی کا جواب ہرگز نہ دے سکتے۔ بات بنانا دوسری بات ہے اور جواب باصواب دینا اور شے ہے۔ لازم تو یہ تھا کہ خود جناب خلیفۃ ٢
مسیح صاحب اپنے رسول کی گردن سے اس منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی کے جھوٹ ہونے کا الزام اتارتے۔ مگر ایسا نہیں کر سکتے اور ہرگز نہیں کر سکتے۔ پبلک کی نظر میں اس بدیہی واقعہ کا بطلان مشکل نہیں بلکہ محال ہے۔ دروغ را فروغ نباشد مقولہ مشہور ہے۔
چند ہفتے ہوئے کہ نام نہاد مولوی اسماعیل صاحب مدرس مدرسہ قادیان نے ایک مضمون اخبار بدر میں لکھا تھا، جس کی سرخی نکاح والی پیشین گوئی تھی۔ اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔ دوسرا پرچہ بدر مورخہ ١٩ ستمبر ١٩١٢ء میری نظر سے گزرا۔ جس میں کرشن قادیانی کی جوتیوں کی خاک مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر نے فیصلہ آسمانی کے عنوان سے ایک مضمون لکھ کر اپنی بے بصری اور مرزا قادیانی کے لائق مرید ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ بازاریوں کا انداز ۔ بدتہذیبوں کا شعار اختیار کیا ہے۔ اس پر جھوٹا دعویٰ یہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا طریق عمل یہ ہے کہ جو گالی دے اس کو ہم دعا دیتے ہیں۔ اس قدر موٹا جھوٹ ہے۔ نعوذ باللہ جس گروہ کے مفتی کا یہ حال ہو اس گروہ کے مقبرہ پر جہنم کے چند پھول میں بھی چڑھا دیتا ہوں کہ ان کی ارواح خوش ہو جائیں۔ سچ ہے۔
انچنین ارکان مذہب باعث خواری بود
ایڈیٹر صاحب کو غالباً خبیث مادہ کا تخمہ ہو گیا ہوگا اور ان کے معالج حکیم نے یہی تدبیر بتائی کہ اس خبیث مادہ کو استفراغ کر کے نکال دو۔ تدبیر تو واقعی مناسب تھی۔ مگر مادہ ایسا خبیث تھا کہ ان کے منہ سے نکلا تو سہی مگر اس کی گندگی سے لوگ پریشان ہو گئے۔ البتہ ایڈیٹر صاحب اور ان کے تیمار داران کو اب کچھ سکون ہو گیا ہوگا۔ کیونکہ مریض نے جان توڑ کر اندرونی فاسد زہریلا مادہ اگل دیا۔ یہ سب کچھ سہی، بھونکو، کاٹو، برا لہجہ اختیار کرو، کوسو، اپنی جھوٹائی پر ڈھٹائی کرو۔ اس سے اب کچھ نہیں بنتا۔ پبلک کو انتظار ہے کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کو سچ کر دکھاؤ۔ یا بقول خود مرزا قادیانی کے ”ان کو جھوٹا مانو“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١) اور ”ہر بد سے بدتر ٹھہراؤ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ص٣٣٨) فیصلہ آسمانی کا جواب خود حکیم صاحب خلیفۃ المسیح بن کر علمی حیثیت سے کیوں نہیں دیتے یہ تو انہی کا منصب ہے۔ نہ کہ بازاری کتوں کا۔ یہ تو فقط اسی کام کے ہیں کہ دو روٹیاں سامنے پھینک دیں دم ہلا کر لگے کھانے اور بھونکنے۔
اب جناب خلیفۃ المسیح صاحب کے سکوت پر یقین ہوتا جاتا ہے اور پبلک پر اظہر من
٣
الشمس ہو رہا ہے کہ ان کے نزدیک بھی فیصلہ آسمانی کے دلائل قاطع ہیں۔ اس کا جواب وہ ہرگز نہ دیں گے۔ کیونکہ وہ ذی علم مناظر ہیں۔ دلائل قاطعہ کے جواب میں زٹل قافیہ اڑانا ان کی شان سے دور ہے۔ لہٰذا کبھی کبھی احمد کی پگڑی محمود کے سر پر رکھ دیا کرتے ہیں اور اپنے گروہ کو خوش کر لیا کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی احقاق حق کے خلاف ہے۔ سیدھی بات تو یہ ہے کہ سچ کو سچ مان لیجئے اور دنیاوی شرم ولحاظ کو لات مار دیجئے۔ شرم تو خدا سے چاہیے جو ”مالك يوم الدين“ ہے۔ جس کے سامنے ایک روز جوابدہی کے لئے کھڑا ہونا ضرور ہے اور وہاں یہ دکھلایا جائے گا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اور عیسیٰ بن مریم (علیہما الصلوٰۃ والسلام) یہ ہیں نہ مرزا غلام احمد قادیانی، اس وقت کیا جواب دیجئے گا۔ اس کو بھی آپ از روئے علم خوب جانتے ہیں کہ وہاں نہ تو جھوٹی شہادتیں کام آئیں گی نہ بات بنانے کی کسی کو جرات ہوگی۔ اب حکیم صاحب خود تخلیہ میں اس ناچیز کی تقریر کو غور سے سوچ کر اپنا فیصلہ آپ کر لیں۔ زیادہ حد ادب ”وما علينا الا البلاغ المبين“ ایڈیٹر صاحب البدر نے جو زہر اگلا ہے۔ انہیں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور آگے چل کر پبلک کو واضح طور پر دکھایا جائے گا کہ ایڈیٹر صاحب نے کس قدر موٹا جھوٹ اپنے کالموں میں بھرا ہے اور مناظرہ کا کیا بازاری لہجہ رکھا ہے۔ ہاں پبلک مجھے اس جواب کے طرز تحریر بدلنے اور کچھ سختی سے کام لینے میں معذور سمجھے گی۔ کیونکہ ان کی بدزبانی کا جواب ہے۔ ورنہ فیصلہ آسمانی آئینہ قادیانی وغیرہ موجود ہے۔ اس کو دیکھ لیا جائے کہ کس شائستگی سے اس کا انداز رہا ہے۔
ایڈیٹر صاحب یوں لکھتے ہیں۔ آسمانی باتوں کی مثالیں بہت کچھ دنیوی حالات میں ملتی ہیں۔ جب کوئی سرکاری سپاہی کسی گاؤں میں جاتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ کسی ظالم اور بدکار کے لئے باعث خوف اور کسی مظلوم اور نیکو کاروں کے واسطے خوشی کا موجب ہو۔ بدکار اس سے بھاگتے ہیں۔ گالیاں سناتے ہیں اور بدکاروں کے مظہر گاؤں کے کتے سب سے اوّل اس پر بھونکنا شروع کرتے ہیں۔ بلکہ عوام کو اس کے آنے کی خبر بھی اسی سے لگتی ہے۔ یہی حال روحانی مامورین کے آنے کے وقت ہوتا ہے۔ ہر ایک متکبر جفاکار اس کے مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے اور اپنے گھمنڈ میں جوش مارتا ہے کہ اسے کچل ڈالے۔ مگر پرانے شیطان کی طرح آخر اس کا اپنا ہی سر کچلا جاتا ہے۔ ایسا ہی تمام انبیاء کے وقت ہوتا آیا ہے اور یہی واقعہ حضرت مسیح کے وقت میں بھی ہوا۔ سب سے پہلے تو یہود کے ہی علماء اٹھے۔ کسی نے یہاں سر نکالا اور کچلا گیا۔ کوئی وہاں اٹھا اور مارا گیا۔ کوئی ٤
چند روز ابال کھا کر سوڈا واٹر پورا کیا۔ آج کل یہ جوش بہا اور نامردی کے اپنا نام ظاہر ہے۔ یہ تو کسی کو جرات نہیں مفتی صاحب آ ابھی تک اخباری تہذیب ب زمیندار، یا الکشمیر مراد آباد ک عقل سلیم کو زائل کر دیا۔ لقت ز کیا آپ کے جیسی سچے انبیاء علیہم السلا نبیوں اور مہدیوں کی مخالفت کوشش نہ کرتے تو حضر جزائے خیر عنایت کرے نے اسلام کی حمایت کر اسلام کو قائم رکھا۔ کیا آ اسلام کی مخالفت کرنی چ تو مرتد، محمد احمد سوڈانی میں جھوٹے تھے ان کی اخبار کے علم تاریخ میں بھ کیا ان لوگو اے تمہارے یہاں سے تین بھیجے ل
چند روز ابال کھا کر سوڈا واٹر کی جھاگ کی طرح ٹھنڈا ہو کر بیٹھ گیا۔ سب نے باری باری اپنا حصہ پورا کیا۔ آج کل یہ جوش بہار کے علاقہ میں ابال کھا رہا ہے۔ وہاں کسی مولوی نے جو یہ سب بزدلی اور نامردی کے اپنا نام ظاہر کرنے سے ڈرتا ہے ایک رسالہ چھاپا ہے۔ جس کا نام فیصلہ آسمانی رکھا ہے۔ یہ تو کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ ایک رسالہ ہمارے پاس بھیج دیتا۔
مفتی صاحب آپ کی حالت پر افسوس ہے۔ اتنے دنوں سے تو ایڈیٹری کرتے ہو۔ مگر ابھی تک اخباری تہذیب کا بھی ڈھنگ نہ آیا۔ لاہور جاؤ چند دنوں پیسہ اخبار، وکیل، وطن، زمیندار، یا المشیر مرادآبادی کے یہاں رہ کر سبق لو پھر ایڈیٹری کرو۔ بات یہ ہے کہ لقمہ چرب نے عقل سلیم کو زائل کر دیا۔
زانکہ بسیار مال مردم خورد
کیا آپ کے نزدیک جھوٹے نبیوں اور جھوٹے مہدیوں کی مخالفت بھی ایسی ہے۔ جیسی سچے انبیاء علیہم السلام کی۔ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیا کرو۔ اگر مرزا قادیانی جیسے جھوٹے نبیوں اور مہدیوں کی مخالفت نہ ہوتی اور علماء حقانیین ان کے ناپاک اثر اور خباثت کو زائل کرنے کی کوشش نہ کرتے تو حضرت جی آج دنیا سے اسلام کافور ہوا رہتا۔ اللہ تعالیٰ ان علمائے صالحین کو جزائے خیر عنایت کرے اور ساتھ ہی ان کے ان بادشاہان اسلام کو بھی جزائے خیر دیوے۔ جنہوں نے اسلام کی حمایت کر کے ایسے جھوٹے نبیوں اور کذاب مہدیوں کا نام غلط صفحہ ہستی سے مٹا کر اسلام کو قائم رکھا۔ کیا آپ کے نزدیک کسی جھوٹے مدعی نبوت، ابلہ فریب، مکار، دغا باز، برہم کن اسلام کی مخالفت کرنی، متکبر، جفا کار کا کام ہے تو پھر مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، عبید اللہ مہدی، ابن تومرت، محمد احمد سوڈانی، علی محمد بابی، سید محمد جونپوری وغیرہ جو اپنے اپنے دعویٰ نبوت اور مہدویت میں جھوٹے تھے ان کی مخالفت کرنے والے کو آپ کیا کہیں گے۔ ماشاء اللہ آپ کو قطع نظر ایڈیٹری اخبار کے علم تاریخ میں بھی پوری دستگاہ معلوم ہوتی ہے۔ کیوں نہ ہو آخر مفتی ہیں نا۔
کیا ان لوگوں نے بھی نبوت و مہدویت و روحانی پیشوا اور ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ تمہارے گرو گھنٹال کرشن قادیانی کے خلیفہ جی کے پاس تم ایک رسالہ مانگتے ہو۔ یہاں سے تین بھیجے گئے تینوں ان سے لے کر دیکھو۔
٥
کیا؟ شاید آپ کے نزدیک تو وہ لوگ بھی مرزا قادیانی کی طرح مامور من اللہ ہوں گے۔ (اگر آپ کو نہ معلوم ہو تو حضرت خلیفہ المسیح صاحب سے اسے دریافت کیجئے ) ان کی مخالفت بھی موجب کفر ہوگی۔ نعوذ باللہ! اور ایسے کفر سے بچنے کے لئے مرزا قادیانی آنجہانی پر آپ لوگوں سے پہلے ان مدعیان نبوت ملہم من اللہ کی دعوت اسلام قبول کرنی لازم آتی تھی۔ یہ ہے آپ کی تحریر کا نتیجہ۔ آپ ہی جیسے، ضعیف الایمان، آزاد منش اصول دین سے ناواقف جدت پسند طبیعت والوں نے ان جھوٹوں کا ساتھ دیا ہوگا۔ مامور من اللہ مانا ہوگا۔ جن کی تعداد دس لاکھ سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی۔ یہاں تک کہ سلطنت کے مالک ہو گئے اور بیچارہ مرزا قادیانی کو تو بوجہ سطوت اور جبروت سلطنت برطانیہ کے کبھی دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔ آپ کی ایسی لچر منطق پر ہنسی آتی ہے۔ مباحثہ مونگیر میں بھی آپ کے بھائیوں نے اس قسم کی جہالت کی منطق چھانٹی تھی۔ ”لقد استہزئ برسل من قبلك“ مرزا قادیانی کے ثبوت نبوت میں پیش کیا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا اور مرزا قادیانی کے ساتھ بھی لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی بھی رسول ہیں۔
در دہنش خاک باد بازی طفلانہ کرد
قربان جائیے مرزائیوں کی منطق پر۔ ایسی سمجھ ہے تب تو مرزائی ہوئے۔ ان کی اس منطق سے ہر پاگل، دیوانہ، مخبوط الحواس (نعوذ باللہ ) رسول بننے کا استعداد رکھتا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ استہزاء اور تمسخر لوگ کرتے ہیں۔ کیوں مفتی صاحب آپ کے بھائیوں کی اس منطق کا نتیجہ تو یہی ہوگا کہ جس کسی کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کیا جائے وہ رسول ہو جائے گا۔ کیونکہ استہزاء شرط اور نبوت مشروط، نعوذ باللہ، استغفر اللہ۔ یہ جہالت کی منطق آپ ہی لوگوں کو مبارک رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو عقل سلیم دے۔ ورنہ دنیا میں بہتیرے حیوان ناطق ہیں۔ مفتی صاحب! ذرا ایمان سے بتلائیے تو کون کون غیر احمدی عالم مقابل کا سر مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کچلا گیا ہے۔ میرے سامنے کل مناظرہ کی روئیداد موجود ہے۔ اس قدر بے سروپا جھوٹ جس کو ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ مرزا قادیانی کے تمام مناظروں کا کچا چٹھا یہاں موجود ہے۔ آپ کو نہ معلوم ہو تو ”چودھویں صدی کا مسیح“ خوب دیکھ لیجئے۔ اس وقت حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کے اشد مخالفین میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، ڈاکٹر مولوی عبدالحکیم خانصاحب
٦
اسسٹنٹ سرجن ،شمس العلماء مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، سید مظہر حسین مصنف چودھویں صدی کا مسیح، منشی الٰہی بخش صاحب عصائے موسیٰ، شمس العلماء، مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی، مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی، مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی، علامہ پیر مولا نا مہر علی صاحب وغیرہ وغیرہ سینکڑوں سر بر آوردہ علماء اور فہمیدہ بزرگوار تھے اور اب تک ان میں سے موجود بھی ہیں۔ جن کے مقابلہ سے دہلی اور لاہور وغیرہ شہروں سے مرزا قادیانی نے فرار درزی کی اور اپنی بزدلی اور نامردی کو پبلک پر روز روشن کی طرح دکھا گئے اور خلقت پر مرزا قادیانی کی حقیقت کھل گئی۔ بقول خواجہ آتش لکھنوی۔
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
جن کی زور دار تحریروں نے مرزا قادیانی کی ناک میں دم کر دیا۔ ان کی خیالی نبوت کا قلع و قمع کر دیا۔ ان کی تمام مصنوعی عمارتوں کو ڈھا دیا۔ ان کی جھوٹی پیشین گوئیوں پر پانی پھیر دیا۔ پبلک پر از شرق تا غرب جھوٹا نبی ثابت کر دیا۔ ان کی ابلہ فریبیوں کو اظہر من الشمس کر دکھایا۔ ان کے کاغذی گھوڑوں کی ٹانگ توڑ دی۔ اس پر ایسا سنہرا جھوٹ کیوں نہ ہو۔ ایڈیٹری اخبار کا منصب اور اس کا فرض خوب ادا کیا۔ شرم ،شرم، ہزار شرم، مفتی صاحب! اب اس جھوٹ سے کام نہیں چلتا۔ پہلے مرزا قادیانی کے کرتوت لوگوں کو معلوم نہ تھے۔ اب دنیا پر بخوبی ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی کیسے تھے۔ لیجئے! اب مجھ سے اس کی تفصیل سن لیجئے اور خود مرزا قادیانی کی زبان سے۔
جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے
مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کے حق میں سینکڑوں بد دعائیں کیں۔ بیوہ عورتوں کی طرح کوسا، کاٹا، ان کے سامنے اپنی موت کو ذلت کی موت قرار دیا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
......١ اگر میں کذاب اور مفتری ہوں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
لے اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کر دکھایا کہ مرزا قادیانی کو مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں ہلاک کر کے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ وہ کذاب تھے۔
٧
- ٢...... اگر طاعون ١؎ یا ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں
وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
- ٣...... اے میرے بھیجنے والے میں تیری ہی تقدیس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری
جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں فیصلہ فرما اور جو تیری ٢؎ نگاہ میں مفسد اور کذاب ہے ۔ اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے۔
ایڈیٹر صاحب! خدا لگتی فرمائیے۔ ایک بار تو سچ کہہ دیجئے۔ مرزا قادیانی کی اس عاجزانہ اور بیکسانہ دعاء پر نظر کیجئے کہ باوجود ایسی الحاح وزاری کے اس دربار میں کچھ شنوائی نہ ہوئی اور اس کا الٹا اثر پڑا۔ یہ ہے غیرت خداوندی تعالیٰ اللہ عما یصفون۔
غیرت حق فزود ومرگش برد
مرزائیو! بتاؤ کس کا سر کچلا گیا اور کون شیروں کی طرح اب تک امرتسر وغیرہ میں ڈکارتا ہے؟ اور کون مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو خاک میں ملا کر فائز المرام ہے۔ مولوی ثناء اللہ یا مرزا قادیانی؟ آخر مرزا قادیانی مرض ہیضہ یا اسہال ہی میں راہی برزخ ہو کر اپنے حق میں سچا فیصلہ کر گئے۔ کہئے جناب مفتی صاحب کس کا سر کچلا گیا ۔ ’’ ان بطش ربک لشدید ‘‘ تلاوت فرمائیے اور آپ ہی سچ سچ بتا دیجئے کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں بقول دعاء مرزا قادیانی کذاب اور مفتری ثابت ہو کر کون ہلاک کیا گیا؟ مرزا قادیانی یا مولوی ثناء اللہ؟ یہ ہے آسمانی فیصلہ کہ مرزا قادیانی کے سارے افترائی تار و پود کو تار عنکبوت کی طرح غیرت خداوندی نے دار البوار کو پہنچا کر دنیا پر ظاہر کر دیا کہ جھوٹے مدعی نبوت کا خاتمہ اس طرح ذلت کی موت کے ساتھ کر دیا جاتا ہے۔ ’’ سبحان اللہ الذی لا یطاق انتقامہ احد ‘‘ یہ ہے فیصلہ آسمانی۔ کہئے ایڈیٹر
١؎ بحمد اللہ وہ مع الخیر اب تک دنیا میں موجود ہیں اور مرزا قادیانی کا گوشت پوست بھی باقی نہ ہوگا۔
٢؎ ایسا ہی ہوا۔ یہ دعاء مرزا قادیانی کی بطور نمونہ کے تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور اپنے بندوں کو مرزا قادیانی کے کذب اور فساد سے محفوظ رکھا اور بین طور سے دکھایا کہ مرزا کاذب ہے اور ثناء اللہ صادق۔
٨
طاعون یا ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں طرف سے نہیں۔ اے میرے بھیجنے والے میں تیری ہی تقدیس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری اور ثناء اللہ میں فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں مفسد اور کذاب میں دنیا سے اٹھالے۔ انصاف فرمائیے۔ ایک بار تو سچ کہہ دیجئے۔ مرزا قادیانی کی اس دعا کا باوجود ایسی الحاح وزاری کے اس دربار میں کچھ شنوائی نہ ہوئی ذات خداوندی تعالیٰ اللہ عما یصفون ۔
حق فزود و مرگش برد
کچلا گیا اور کون شیروں کی طرح اب تک امرتسر وغیرہ میں ڈکارتا کی نبوت کو خاک میں ملا کر فائز المرام ہے۔ مولوی ثناء اللہ یا مرض ہیضہ یا اسہال ہی میں راہی برزخ ہو کر اپنے حق میں سچا اب کس کا سر کچلا گیا۔ ”ان بطش ربک لشدید“ تلاوت کیجئے کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں بقول و دعاء مرزا قادیانی کون ہلاک کیا گیا؟ مرزا قادیانی یا مولوی ثناء اللہ؟ یہ ہے آسمانی مرزائی تارو پود کو تار عنکبوت کی طرح غیرت خداوندی نے دار البوار جھوٹے مدعی نبوت کا خاتمہ اس طرح ذلت کی موت کے ساتھ کر دیا لا يطاق انتقامه احد “ یہ ہے فیصلہ آسمانی ۔ کہئے ایڈیٹر اب تک دنیا میں موجود ہیں اور مرزا قادیانی کا گوشت پوست بھی
مرزا قادیانی کی بطور نمونہ کے تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا کذب اور فساد سے محفوظ رکھا اور بین طور سے دکھایا کہ ٨
صاحب اب تو دل میں آپ شرمائے ہوں گے۔ یہ تو حشر مرزا قادیانی کا ہوا۔ اب ان کے متبعین کی حالت اندوہناک پر بھی ماتم کے لئے تیار ہو جائیے اور دو آنسو گرا لیجئے۔ صاحبزادہ عبد اللطیف وغیرہ کا کابل میں کیا حشر ہوا۔ پتھر اور گولیوں سے سنگسار اور بھونا کون ہوا۔ کس ١؎ کا بھیجا نکلوادیا گیا بقول آتش؎
خاک برابر کیا پشہ نے نمرود کو
کس کا سر غرور لگد زن پیر و جوان ہوا۔ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ کا یا کسی ان کے مخالف کا۔ خیریت یہ ہے کہ اس واقعہ کو آپ کے پیر و مرشد و گرو جی ٢؎ نے لکھ دیا ہے۔ ورنہ اس کا بھی اپنی عادت کے موافق آپ حضرات انکار ہی کرتے ؎
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
مفتی صاحب! یہ انگریزی سلطنت ہے۔ ہر طرح کی مذہبی آزادی ہے۔ کوئی ملحد بن جائے ۔ دہریہ ہو جائے۔ خدائی کا دعویٰ کرلے۔ سلطنت کو اس کی کچھ اعتنا نہیں۔ آپ جیسے آزاد مذہب والوں کے لئے ہندوستان ظل عاطفت ہے۔ ہاں ذرا اسلامی سلطنت کی سرحد میں قدم رکھئے اور مرزا قادیانی کی نبوت بگھاریئے تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے۔ صاحبزادہ کی طرح مرزائی نبوت اور جھوٹی مسیحیت کے لئے ہر جگہ پوری خاطر داری اور مہمان نوازی کی رسد و سامان خاطر خواہ مہیا ہو سکتا ہے۔ فقط جانے کی دیر ہے۔ ذرا ہمت تو کیجئے۔ قدم آگے کو بڑھائیے۔ دور نہیں تو صاحبزادہ کے مرقد کی زیارت ہی کر آئیے۔ قادیانی بیت المال خالی ہو گیا ہو تو بخدا میں اپنی طرف سے حسبتہ للہ خیرات زادراہ دینے کو حاضر ہوں۔ کیونکہ آپ تبلیغ اسلام کو جائیے گا ۔ مگر شرط ہے کہ نبی قادیان کی کل تصانیف آپ کے ساتھ ضرور ہوں اور ہر رسالہ کے ٹائٹل پر آپ اپنا پورا
١؎ مرزا قادیانی کا رسالہ تذکرۃ الشہادتین جو دونوں کے مرثیہ میں لکھا گیا ہے۔ امسال
عشرہ محرم میں ضرور پڑھئے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو تو حضرات حسنین علیہما السلام سے بد عقیدگی تھی۔ غالباً آپ کا بھی وہی برا عقیدہ ہوگا۔
٢؎ گروجی اس معنی کر کے کہ مرزا قادیانی کرشن بھی تو ہیں۔
٩
دستخط بتبدل لقب مفتی ثبت کر کے اس قدر عبارت لکھ دیجئے کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور مسیح موعود مانتا ہوں اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مر گئے ۔ جیتے نہیں۔ میں بھی کل اخراجات سفر کابل دہلی میں جمع کر دیتا ہوں۔ لیجئے ایڈیٹر صاحب یہ چیک حاضر ہے۔ ہمت ہو تو منظور کر لیجئے۔ پھر مفت کا سفر نصیب ہونے کا نہیں۔
ہاں جناب ایڈیٹر صاحب! اب فرمائیے کس کا سر کچلا گیا اور کون مارا گیا؟ اس قدر سفید جھوٹ سے اپنے اخباری کالم کو روسیاہ کیا۔ اب پبلک کے سامنے آپ کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی۔ غیرت ہو تو طرابلس میں جا کر جان دیجئے اور شہیدوں میں نام لکھائیے۔ تب آپ کا کفارہ ہوگا۔
ہندوستان میں بھی باوجود سلطنت انگریزی ہونے کے آپ ہی لوگوں کا سر کچلا جا رہا ہے۔ مگر مرزائیوں کے جسم پر فالج کا سخت مادہ نازل ہو رہا ہے۔ اس لئے حس صحیح ان سے زائل ہو گیا اور برابر سر کچلتے کچلتے درد والم اس کا مساوات ہو کر احساس باقی نہ رہا۔ ابتداء میں پنجاب کے علمائے حقانیین نے مرزائی فتنہ کی پوری مزاحمت کی۔ ان کے عقائد باطلہ سے پبلک کو آگاہ کیا۔ براہین احمدیہ کے سبز باغ کو بوضاحت تمام معلوم کرایا۔ الہامات مرزا، الذکر الحکیم، عصائے موسیٰ سے مرزا قادیانی کی خبر لی گئی۔ اس پر ١؎ بھی یہ ڈھٹائی کہ غیر احمدیوں کا سر کچلا گیا۔
واہ ! مفتی صاحب حق نمک ادا ہو تو ایسا ہو۔ روٹی کی خاک جھاڑنا کوئی آپ ہی سیکھے۔ دیکھا! کیسا سر کچلا گیا اور کس کا بڑی خیریت ہوئی کہ مرزائیوں میں غیرت اور شرم نہیں۔ ورنہ سینکڑوں اس سر کچلے جانے کے بعد دھیلے کی سنکھیا منگا کر خود کشی کر کے حرام موت مرتے۔ مفتی صاحب! ازماست کہ برماست پیش نظر رکھ کر فیصلہ کیا کیجئے۔ سابق کے چند رسالے اس ناچیز کے شائع ہو چکے ہیں۔ آئینہ قادیانی، اظہار حق وغیرہ ذرا غور سے ملاحظہ کیجئے اور دکھا دیجئے کہ مرزا قادیانی یا جناب حکیم خلیفۃ المسیح یا دیگر حضرات کی شان میں کوئی خلاف تہذیب یا بازاری لہجہ
١؎ دہلی میں منشی قاسم علی نے سر اٹھایا احمدی پرچہ جاری کر کے اپنے تمام مخالفین کو عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان کو خصوصاً گالیاں دینا شروع کیا۔ چند ہی مہینوں کے بعد لدھیانے میں ان کا سر کچلا گیا اور ان کے فریق نے بفتوائے ”من قتل قتیلا فله سلبہ“ مبلغ تین سو روپے ان سے وصول کئے۔ جس کی تاریخ اس شعر سے نکلتی ہے۔ شعر، قادیانی کا سر اڑا کے لکھو۔ ہاں موذی نصیب غازی ہے۔
١٠
سے کام لیا گیا ہے؟ پھر جو آپ نے حضرت مولانا ابو احمد رحمانی مصنف رسالہ فیصلہ آسمانی کے اوپر دور سے رامپوری گرے ہونڈ کی طرح زور زور سے بھونکنا شروع کیا۔ یہ کیوں؟ جواب باصواب دینا اور شے ہے اور جب لوگ جواب دینے سے عاجز آجاتے ہیں تو گالیاں سناتے ہیں۔ وہی انداز آپ کا رہا۔ اس لئے میں بھی بشری حیثیت رکھتا ہوں اور اہل قلم ہوں۔ آپ ہی کے لہجہ میں جواب دیا گیا۔ آپ شائستگی اختیار کیجئے گا تو میں دس گنا تہذیب کو برتوں گا۔ رکھ پت رکھا ڈ پت۔ محققانہ جواب عالمانہ اعتراضات فلسفیانہ استدلالات کیجئے۔ پبلک جس کو میزان عقل سے تولے تاکہ احقاق حق و ابطال باطل ہو جائے۔ شریفانہ روش تو یہ تھی جس کو آپ نے غصہ میں آ کر کالے کوس دور پھینک دیا اور بازاری لہجہ میں خدا جانے کیا اؤل فول بکا اور ناحق اپنے اخبار کا منہ دروغ بے فروغ سے کالا کیا۔
مفتی صاحب! مونگیر و بھاگلپور ہی کو دیکھئے۔ مباحثہ کے پیشتر آپ کے بھائیوں نے کیا کیا جال پھیلایا۔ کیسے کیسے اشتہارات شائع کر کے مباحثہ کے خواہاں ہوئے۔ پہلے تو علماء کرام نے ان کی طرف مطلق توجہ نہ فرمائی۔ کیونکہ خطاب کے لائق تو وہی ہوتا ہے جس میں کچھ بھی بوئے صداقت پائی جائے۔ آپ کے گروہ کا تو من اولہ یہی دستور رہا کہ جھوٹ کا تو مار باندھ کر نشانات نبوت قرار دیتے آئے۔ اب جو بعض علماء کرام نے اس کی اشد ضرورت دیکھی تو امر بالمعروف کا حکم بجالایا۔ فقط اشارہ کی دیر تھی۔ مناظرہ کے لئے بڑے پیمانہ پر بحمدہ سامان بہم ہو گیا، اور دور دور سے علماء وفضلا وخواص وعوام مدعو ہو کر قدم رنجہ فرماتے گئے اور بحمدہ تعالیٰ اس ہادی گمراہاں کے فضل کی ایسی بارش ہوئی اور یہ کر دکھایا کہ پانچ چھ ہزار آدمیوں کے سامنے آپ کے بھائیوں کو شکست فاش ہوئی اور ذلت کی بو چھاڑ نے ان کو ایسا شرابور کر دیا کہ بھاگتے وقت قدم اٹھنا دشوار ہو گیا تھا۔ جناب ایڈیٹر صاحب! ایسا تو ہو گیا کہ بعد مباحثہ مونگیر ہمارے قدیم دوست مولوی ماجد صاحب بھاگلپوری (مرزائیوں کے سرگروہ) عام مجلسوں میں بھی لوگوں سے دبکتے پھرتے ہیں۔ مقابلہ یا مواجہ سے ان کو شرمندگی ہوتی ہے۔ جدھر نکلے ادھر انگلی اٹھ گئی کہ مولوی ماجد مرزائی ہو گئے۔ حکیم عبدالسلام مرحوم کی مسجد میں جمعہ پڑھاتے تھے۔ مسلمانوں نے ان کی امامت موقوف کر دی۔ مسجد سے نکال دیئے گئے یا تو اسی بھاگلپور میں لوگ عزت وتوقیر کی نگاہ
١١
سے دیکھتے تھے۔ یا اب جدھر نکلتے ہیں۔ لوگ نفریں کرتے ہیں اور بجائے مولوی ماجد صاحب کے مرزا ماجد پکارتے ہیں۔ حقیقتاً یہ ہے ذلت کی مار، جو دشمنان دین کو نصیب ہوتی ہے۔ آپ کی مرزائی مشن جو بڑے زوروں پر یہاں چل رہی تھی۔ مباحثہ ہی کے زور سے ٹوٹنی شروع ہوئی اور ہر طرف سے نفریں ولعنت کی آواز کے ساتھ غل تھا کہ سب دھوکا تھا دھوکا۔ یہ ہے علمائے ربانیین کے ارادوں کا اثر اور کوشش کے نتیجے اور مرزائی گروہ کی ذلت۔ ایڈیٹر صاحب! اگلے مدعیان نبوت اور مہدویت کی کامیابی کے کارنامے۔ آپ کو معلوم نہیں۔ بڑی بڑی مستند تاریخوں میں دیکھیے۔ جھوٹے تو تھے۔ مگر لاکھوں نے ساتھ دیا۔ بعضوں نے صدہا برس سلطنت کی تو کیا اس کامیابی سے ان سب کو آپ سچا مان لیں گے؟ دنیاوی کامیابی دلیل برگزیدگی نہیں ہو سکتی۔ ورنہ گرو نانک جی یا دیانند سروتی جی کا چیلا بننا پڑے گا۔ ان کی کامیابی کے مقابلہ میں بیچارہ مرزا قادیانی کی کچھ ہستی ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔ آپ کے یہاں تو چند ڈھلمل یقین سادہ لوح، سیدھے سادے کٹھ ملاؤں نے ساتھ دیا۔ بقول آپ کے لاکھ دو لاکھ (اس تعداد کی صحت کو آپ جانئے یا آپ کا ایمان جانے) عوام الناس ماننے لگے۔ دوہزار کا چندہ آنے لگا۔ لقمہ تر کی صورت ہو گئی۔ دس پانچ نفر حاشیہ نشینان نے ہر وقت تعریفیں کر کے مرزا قادیانی کے دماغ کو پریشان کر دیا۔ اسی کو کامیابی اور ان کی صداقت کی دلیل ٹھہراتے ہیں تو پھر جن جھوٹوں مکاروں کو ان سے ہزار گنا کامیابی ہو رہی ہے۔ وہ تو مرزا قادیانی سے بھی بڑھ کر گرو گھنٹال ٹھہریں گے اور آپ لوگوں پر ان کی اقتدا لازم ہوگی۔ (نعوذ باللہ)
بس جناب لقمہ چرب اڑائے جائیے۔ معلوم ہو گیا حشر میں پینا شراب کا۔ مگر بھائی صاحب یاد رکھئے آسمانی عدالت کے روبرو ایک دن جانا ضرور ہے۔ جب کاذبین کے گروہ روبرو حاضر کئے جائیں گے اور ہاتھوں میں فرد قرار داد جرم دیا جائے گا اور فالس پرسنیشن ( False Persenation) یعنی جھوٹے نبی کو سچا نبی ماننے کا دفعہ سنایا جائے گا اور جھوٹی شہادت کی مجال نہ رہے گی۔ اس وقت اپنی اپنی شامت اعمال کا افسوس ہوگا اور صدائے ”یا لیتنی کنت تراباً“ بالکل بے سود ہوگی۔ خدا کے واسطے ذرا تخلیہ میں اس پر غور کیجئے۔ ہٹ دھرمی، ضد، پاس سخن، بیجا تعصب دل سے نکال دیجئے۔ خدا شاہد ہے۔ فقط اسلامی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ اپنے
١٢
بچھڑے ہوئے بھائیوں کو اکٹھا کروں اور اللہ کے واسطے جو کچھ ان کے خیالات کی غلطی ہو عام طور سے بلا رو و رعایت ظاہر کردوں۔ اگر مان گئے تو ان کا بھلا ہوا۔ نہ مانیں تو میں بری الذمہ ہوں۔
”ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم“
مفتی صاحب! رسالہ فیصلہ آسمانی گمنام نہیں چھپا ہے۔ عینک لگا کر دیکھئے ٹائٹل ہی پر مؤلف کا نام حضرت مولانا سید ابو احمد رحمانی صاف طور سے لکھا ہوا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔ پبلک کے سامنے اس صریح جھوٹ کا آپ کے پاس کچھ جواب ہے جو آپ نے لکھا ہے۔ ”کسی مولوی نے جو بسبب بزدلی اور نامردی کے اپنا نام ظاہر کرنے سے ڈرتا ہے ایک رسالہ چھاپا ہے۔ جس کا نام فیصلہ آسمانی رکھا ہے۔“
یہاں پر ناظرین سے التماس ہے کہ رسالہ فیصلہ آسمانی خود ملاحظہ کر کے ایڈیٹر صاحب کی راست بازی اور نیک دلی کی داد دیویں۔ کیا اخبار کے ایڈیٹر کا یہی شیوہ ہے کہ صریح جھوٹ لکھے اور بدیہی واقعات کا انکار کرے۔ شرم ہزار شرم ۔ شاباش ایڈیٹری کو بھی بدنام کیا۔ جھوٹ بول کر اپنی وقعت خود انسان کھوتا ہے۔ آئندہ اس کی تحریر پر ذرا برابر وثوق نہیں رہتا۔ اس میں مؤلف صاحب کا کیا بگڑا۔ آپ خود اپنے ہاتھ سے اپنی عزت کا خون کرتے ہیں۔ بقول سعدیؔ۔
مفتی از دست خویشتن فریاد
لیجئے اب بزدلی اور نامردی کا بھی سبق جس کو دل سے بھلا دیا ہے یاد کر لیجئے اور ایسا نقش کالحجر کر لیجئے کہ پھر کبھی سہو اور خطا نہ ہونے پائے۔ بزدلی اور نامردی تو خود مرزا قادیانی نے بارہا دہلی کے مناظرہ میں، لاہور میں، قادیان میں بمقابلہ شمس العلماء مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی، پیر مولانا مہر علی شاہ صاحب، مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہم ایسی دکھائی ہے کہ ناگفتہ بہ۔ اہل حق کے سامنے آنے سے ان کی روح کانپ جاتی تھی۔ اشتہارات تو لمبے چوڑے مرقومہ اکتوبر ١٨٩١ء شائع کر دیئے تھے۔ مگر جب مقابلہ کے لئے بلائے گئے ایک نہ ایک عذر مجہول و حیلہ نامعقول کر کے کافور ہی ہو گئے۔ شمس العلماء مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی بھوپالی کا واقعہ روئیداد مناظرہ میں طشت از بام ہو چکا ہے اور چھپ کر تمام
١٣
ہندوستان میں شائع ہو گیا ہے۔ ہزار حاجی محمد احمد صاحب نے ان کو روکا۔ مگر اپنے خسر کے مجہول علالت کا حیلہ کر کے فرار کیا۔ علاوہ اس کے چودھویں صدی کا مسیح میں اس کا کچا چٹھہ درج ہے۔ اسی کو دیکھ لیجئے اور اپنا بھولا ہوا سبق پھر یاد کر لیجئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت مرزا قادیانی نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ وہ قادیان میں ہرگز نہ آئیں گے۔ مگر وہ شیر مرد فاتح قادیان وہاں پہنچ کے مقابلہ کے لئے خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا اور للکارا۔ مگر مرزا قادیانی اپنے زنانہ گھر سے باہر نہ نکلے۔ کہئے مفتی صاحب یہ کس قدر شرمناک بزدلی اور نامردی ہے کہ حریف میرے گھر پر امرتسر سے آوے اور آپ زنانہ سے باہر نہ نکلیں۔ اب فرمائیے بھولا ہوا سبق یاد ہو گیا یا نہیں؟ واہ ری بے حیائی ۔ خدا تیرا ناس کرے تو ان کے ہر رگ و پے میں گھسی ہوئی ہے۔
تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہربان کے لئے
میرے مہربان ایڈیٹر صاحب! جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب کی خدمت میں دو رسالے فیصلہ آسمانی کے مونگیر اور ایک کلکتہ سے بھیجے گئے ہیں۔ ان کی رسید موجود ہے۔ مونگیر اور بھاگلپور کے اکثر قادیانیوں میں مفت تقسیم کئے گئے۔ حالانکہ ان کے لئے نصف قیمت رکھی گئی تھی۔ لاہور، امرتسر، پشاور، لائل پور، شکرپور، سیالکوٹ، گورداسپور، بلوچستان، دہلی، مراد آباد، ممباسہ، افریقہ، زنجبار، بریلی، بنارس، لدھیانہ، کشمیر، کلکتہ، عظیم آباد، آرہ، مظفر پور، دربھنگہ، گیا، پورنیہ، چاٹگام وغیرہ وغیرہ سینکڑوں شہر میں یہ رسالہ بہ قبولیت تمام شائع ہوا۔ اس کے متعلق اشتہارات عام شاہراہوں پر لگائے گئے۔ اہل حدیث، اہل فقہ، البشیر میں اشتہار دیئے گئے اور ڈنکے کی چوٹ پر ایڈیٹر صاحب کی سماعت کام نہ دے تو سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ ”ولہم اذان لا یسمعون بھا۔ فرداً فرداً مرزائی اخبار کا بھیجنا میرا فرض نہ تھا۔ آپ کو اگر ضرورت تھی تو خود منگواتے۔ قیمتاً نہ سہی مفت ہی طلب کرتے۔ کیونکہ آپ تو مفتی صاحب ہیں نہ بھیجتا تو البتہ کوئی الزام عائد ہو سکتا تھا۔
خیر ایڈیٹر صاحب! آپ کہتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی پوری ہوئی اور جناب حکیم خلیفہ المسیح صاحب جو آپ کے بجائے مرشد کے ہیں۔ جس کی اتباع آپ سب مرزائیوں
١٤
پر لازم اور واجب کی اولاد و احفاد آپ یا خلیفہ المسیح اور اس بتائیے کہ کس طرح ہو گیا۔ ہرگز نہیں صریح جھوٹ کو پو پیش گوئی کسی کی ج مکرات و مرات کتابوں میں بتلا میں کچھ آجائے۔ ”ک امر من لدنا لا تبديل لك الخطاب انا تجھے کفایت کر سے ہے اور ہم سے ہے تو شک چاہتا ہے وہ بال ہیں۔ آج میں ن
یہ کے منکوحہ آسما
پر لازم اور واجب ہے وہ فرماتے ہیں کہ پیش گوئی ابھی پوری نہ ہوئی۔ ممکن ہے کہ آگے چل کر ان کی اولاد واحفاد سے پوری ہو جائے۔ اب یہ فرمائیے کہ ان دونوں میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ آپ یا خلیفہ المسیح۔
اور اس پیشین گوئی پوری ہونے کے کیا معنی مراد ہے۔ ذرا مہربانی کر کے اس کی تفصیل بتائیے کہ کس طرح پوری ہوئی آیا احمد بیگ کا داماد مر گیا اور محمدی کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ ہو گیا۔ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ پھر واقعہ صریحہ کے خلاف پیشین گوئی پوری ہونا چہ معنی دارد۔ ایسے صریح جھوٹ کو پورا ہونا کیونکر کہتے ہیں۔ پھر تو دنیا میں جھوٹ کوئی بات باقی نہیں رہ سکتی اور نہ کوئی پیش گوئی کسی کی جھوٹی ہو سکتی ہے۔ منکوحہ آسمانی کے متعلق ذرا مرزا قادیانی آنجہانی کے الہامات بکرات ومرات ملاحظہ کیجئے اور ان کے اقوال موثق پر غور فرمائیے اور اس کا جواب مرزا قادیانی کی کتابوں میں بتلائیے۔ یا جناب حکیم صاحب کو اس کی تفسیر کی تکلیف دیجئے۔ شاید ان کے خیال میں کچھ آجائے۔
”كذبوا باياتی وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجنكها الحق من ربك فلا تكونن من الممترين لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد . انا رادوها اليك توجهت لفصل الخطاب انا رادوها“ انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر واپس لانا ہماری طرف سے ہے اور ہم یہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے ہے تو شک کرنے والے میں سے مت ہو۔ خدائی کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ آج میں فیصلہ کرنے کو متوجہ ہوا ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ ص ٦٠، ٦١)
یہ اردو ترجمہ اور عربی الہامات مرزا قادیانی کے ہیں۔ ان میں بلا شرط اور بغیر کسی قید کے منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا بیان ہوا ہے اور اس کے وقوع میں آنے کو اس زور سے بیان کیا
١٥
ہے اور یقین دلایا ہے کہ اس سے زیادہ یقین دلانے کا کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح احمد بیگ کے داماد کی موت کی پیش گوئی بڑے زور سے کی ہے کہ اڑھائی برس میں مر جائے گا۔ جب نہ مرا تو یہ کہا گیا کہ خوف و ہراس سے میعاد ٹل گئی۔ مگر میرے سامنے اس کا مرنا ضرور ہے۔ اگر میرے سامنے وہ نہ مرا اور میں مر گیا تو میں جھوٹا ہوں۔ پھر مرزا قادیانی اپنے الہام کی تفسیر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جزو (یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ ١؎ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“
(انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
پھر مرزا قادیانی اسی (انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص٢٢٣) میں فارسی الہام بیان فرماتے ہیں وہ یہ ہے۔ باز شما را ایں نگفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر با تمام رسید و نتیجہ آخری ہمان است کہ بظہور آمد حقیقت پیش گوئی بر ہماں ختم شد۔ بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است و ہیچکس با حیلہ خود او را رد نتواند کرد و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیرے ٢؎ مبرم است وعنقریب وقت آں خواہد آمد۔ پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ برائے ما مبعوث فرمود او را بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق ست وعنقریب خواہی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم و من نگفتم الا بعد ازآنکہ از رب خود خبر دادہ شدم۔
یہ ہیں مرزا قادیانی کے الہامات جن کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہے۔ مگر
١؎ جب ہی تو صاحب فیصلہ آسمانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی رسول نہیں اور نہ الہام ربانی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے کہ ہم اپنے رسول سے خلاف وعدگی نہیں کرتے۔ اگر مرزا قادیانی رسول ہوتے اور یہ ربانی الہام ہوتا تو ضرور پورا ہوتا اور ان کے سامنے مرتا
٢؎ مرزا قادیانی کی الہامی تقدیر مبرم کو ناظرین دیکھیں کہ کیا معلق اڑگئی۔ اب عقل والا اس الہام کو ربانی کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
١٦
مرزا قادیانی کی قسمت، نہ احمد بیگ کا داماد مرا نہ منکوحہ آسمانی لوٹ کر آئی۔ یہ حسرت اپنے ساتھ لے گئے اور پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور مستند اقرار سے کاذب بلکہ اکذب ثابت ہوئے۔ بدیہی واقعہ تو یہ ہے کیا اس کا آپ انکار کر سکتے ہیں؟ کسی نے خوب کہا ہے؎
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
اب کہئے مفتی صاحب یہ پیشین گوئیاں پوری ہو گئیں؟ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مر گیا۔ یا مرزا قادیانی اس کے سامنے مر گئے؟ ذرا شرم ہو تو اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالیئے اور صریح جھوٹ کے بے سری تان اڑایا کیجئے۔ مگر پبلک پر آپ لوگوں کی حقیقت بالکل کھل گئی۔ اب کوئی دھوکے میں نہیں آنے کا۔ فیصلہ آسمان کے ان باتوں کا آپ کے پاس کیا جواب ہے۔ دعویٰ تو کر دیا اب مرزا قادیانی کی تصانیف ہے اس کا جواب نکال کر پبلک میں پیش کیجئے۔ تب تو مردانگی ہے۔ ورنہ سکوت اختیار کر کے زنانہ میں بیٹھے رہیئے۔ سفاکانہ جھوٹ کا طومار باندھ کر خلائق کی نظر میں کیوں ذلیل ہوتے ہیں۔ اب اس سے کام نہ چلے گا۔
بھائی صاحب ذرا غور کیجئے کہ آپ کے مخالف علماء صالحین نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا۔ براہین احمدیہ کی طرح پیشگی چندہ، سراج منیر کی زر پیشگی وصول کر کے بندگان خدا کو فریب نہ دیا۔ تائید اسلام اور لنگر خانہ کے نام پر ہزاروں ہزار چندہ نہیں لیا۔ بیواؤں اور یتیموں اور رنڈیوں؎١
؎١ مرزا قادیانی کے حقیقی خسر صاحب کا قصیدہ چھپ کر اشاعت السنۃ ج ١٤ میں شائع ہو چکا ہے ”اھل البیت ادریٰ بما فیہ“ چند شعر بطور نمونہ لکھے جاتے ہیں۔
تاکہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو
رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے
بو مسلم آج احمد بن گئے
مرزا قادیانی کی نظر سے یہ قصیدہ گزرا ہوا ہے۔ مگر جواب ندارد۔
١٧
کے مال پر دانت نہیں لگائے۔ خیر ان سب رقموں کا حساب تو مرزا قادیانی آنجہانی پر چھوڑیئے۔ وہ جانیں اور ان کے کرتوت۔ اب آپ ذرا ایمان کو راہ دے کر یہ فرمائیے کہ دنیا کا کتا کون ہوا۔ خود بدولت یا مخالف علماء صالحین؟
مرزا قادیانی کی تکذیب کی سینکڑوں دلیلیں موجود ہیں۔ وقتا فوقتا علی الترتیب سبھوں پر روشنی ڈالی جائے گی اور پبلک کے سامنے تنقید کے لئے پیش کی جائے گی۔ ابھی تو بسم اللہ ہوئی ہے اسی پر آپ لوگ گھبرا کر چیخنے لگے۔
آگے آگے دیکھ تو ہوتا ہے کیا؟
فیصلہ آسمانی میں تو فقط جن باتوں کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا عظیم الشان نشان قرار دیا تھا اور وہ سب سرے سے جھوٹی ثابت ہو گئیں۔ اسی کا ذکر کر کے پبلک کو ہوشیار کیا گیا ہے۔ تاکہ ان کا کذب روز روشن کی طرح دنیا پر ظاہر ہو جائے اور ہر خواص و عام کو مرزا قادیانی کی ابلہ فریبیوں پر دھوکہ کھانے کا موقع باقی نہ رہے۔ الحمد للہ علی ذلک!
اس ہادی برحق کے فضل سے ایسا ہی ہو رہا ہے اور فیصلہ آسمانی کی قبولیت علماء و فضلاء و محققین و دانشمندوں کے گروہ میں پورے طور سے روز افزوں ہے۔ آخر میں اس رسالہ کے ان بزرگواروں کی رائے اور اثر قبولیت کا مضمون درج ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیے گا۔ مفتی صاحب! یہ امر آخر ہے کہ آپ کے نزدیک کسی مخالف کو زکام یا درد سر ہو جائے تو آپ مرزا قادیانی کی کرامت سمجھتے ہیں یا کوئی اپنی موت سے مر جائے ان کی صداقت کی دلیل ہو جائے۔ یہ وہم کی بیماری ہے اس کی دوا افلاطون کے پاس بھی نہیں۔
گر بشاشید گفت باراں شد
مفتی صاحب! میں اخیر میں مودبانہ التماس کرتا ہوں کہ آپ من حیث ایڈیٹر اخبار جس کو ہر مخالف اور ہر موافق لیتا ہے۔ لہجہ کو بازاری لہجہ نہ بنائیے۔ جو کچھ لکھئے تہذیب سے نہ گریئے کہ اس کا جواب ویسا ہی مہذبانہ نہ ہو تو قلم آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بدزبانی اور ناشائستگی سے ایک تو آپ خود پبلک میں بدنام ہوتے ہیں۔ دوسرے مجیب کو بھی آپ بدتہذیبی کا اشتعال
١٨
دیتے ہیں۔ مجھ کو اس امر کا سخت افسوس ہے۔ مہذبانہ برتاؤ رکھئے کہ مخالف وموافق کو مضمون سے دلچسپی رہے اور اسلامی تقاضا اور محبت سے کہتا ہوں۔ اگر کچھ گراں خاطر گزرا ہووے تو معاف فرمائیے اور جناب قدیم وجدید صاحب خلیفۃ المسیح کی جناب میں بھی دست بستہ گذارش ہے کہ مجھے ترکی بہ ترکی جواب دینے میں معذور سمجھیں۔ فیصلہ آسمانی، آئینہ قادیانی وغیرہ وغیرہ تصانیف میں علمی مذاق کی حیثیت سے داب مناظرہ برابر مرعی رہا۔ لہجہ شریفانہ رکھا گیا۔ آپ کی جناب میں یا مرزا قادیانی آنجہانی کی شان میں کوئی ذاتی حملہ ناشائستہ کبھی نہ ہوا۔ فقط واقعات کا اظہار کرتا رہا۔ شاید مفتی صاحب کو یہ طرز شائستہ پسند نہ آیا اور بازاری لہجہ منظور خاطر ہو گیا۔ اس لئے میں بھی معذور ہو گیا۔ 'والعذر عند کرام الناس مقبول' میں آپ کی جناب گستاخانہ عرض کرتا ہوں اور تعجب کرتا ہوں کہ آپ جیسے ذی علم مناظر کہنہ مشق خلیفۃ المسیح کی موجودگی میں دارالصدر قادیان سے اخبار نکلے اور یہ بازاری لہجہ رہے تو پھر اوروں کا کیا حال ہوگا۔ مجھ کو آپ کی جناب میں باوجود مرزائیت کے ہنوز کچھ ایسا حسن ظن ہے کہ ظاہر نہیں کر سکتا۔ کبھی موقع ہو تو بالمشافہ آپ پر ظاہر ہو جائے گا۔ زیادہ حد ادب۔ والسلام علی من اتبع الهدی!
جناب مفتی صاحب! میں بڑی جرأت سے بے باکانہ عرض کرتا ہوں کہ آپ کو کسی نے غلط خبر دی کہ فیصلہ آسمانی گمنام ہے۔ آپ نے بغیر ملاحظہ کئے ہوئے اس خبر کو خلاف منصب ایڈیٹری اخبار باور کر لیا اور مضمون دھر گھسیٹا۔ اخباری شان سے باہر ہے۔ پہلے اس کو دیکھ تو لیتے۔ وہیں تو حضرت خلیفۃ المسیح کے یہاں موجود تھا۔ فیصلہ آسمانی کے مؤلف حضرت مولانا مجمع الکمالات مجدد دوراں مولانا سید احمد رحمانی ہیں۔ (متع الله المسلمين بطول بقائه) یہ کیفیت صاف طور سے ٹائٹل پر درج ہے اور ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں شائع ہو چکا ہے۔ نظر سے گزر چکا ہے۔ کیسی خفت کی بات ہے کہ آپ نے گمنام لکھا ہے۔ پبلک کی نظر میں کیسی سبکی ہوئی ہوگی اور یہ تو فرمائیے کہ اگر کوئی باخدا بہتر طریقہ سے امر حق کو خلق پر ظاہر کرے اور اپنی عاجزی اور انکساری سے اپنے نام کی شہرت نہ چاہے اور اس خیال سے اسے اپنے آپ کو مشہور کرنا پسند نہ ہو تو یہ اس کی بے ریا کوشش دینی ہوگی یا نامردی۔ ذرا شرم کیجئے اور جناب خلیفۃ المسیح سے اس مسئلہ کو دریافت کر کے کہئے۔ اب فیصلہ آسمانی کی قبولیت کی چٹھی سنداً ملاحظہ کیجئے۔
١٩
- ١...... پہلی تحریر جناب مولانا مولوی سید علی محمد (خان بہادر المتخلص بہ شاد) افصح
الفصحا ابلغ البلغا صاحب تصانیف کثیرہ ناظم بے مثل، ناشر بے بدل آنریری مجسٹریٹ پٹنہ جو بصلہ ممتاز ادیب ہونے کے پولیٹیکل پنشن گورنمنٹ عالیہ برطانیہ سے سرفراز ہیں۔
رسالوں کا پمفلٹ (فیصلہ آسمانی و نمک سلیمانی وغیرہ) اور سرفراز نامہ پا کر بے حد منت گزار جہاں تک اس وقت ممکن ہوا رسالوں کو دیکھا۔ بیچارے قادیانیوں کو تو آپ نے اور دیگر اہل علم نے واقعی کہیں کا نہ رکھا۔ روس و جاپان کی جنگ کی تصویر آنکھوں میں پھر گئی۔ اللہ اکبر! مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کے تفصیلی حالات کیا معلوم تھے۔ آپ نے واقعی مسلمانوں پر رحم کھایا۔ توحید جو اصل اسلام ہے تعجب ہے کہ مرزا قادیانی ضمناً اس کے بھی مخالف نظر آتے ہیں۔ اگر آپ ان سب باتوں کو بہ تفصیل عام فہم اور فصیح مہذب زبان میں بیان نہ کرتے تو غضب کا دھوکا مسلمانوں نے کھایا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بتصدق اپنے حبیب برحق کے اس درماندہ قوم کو شر اشرار و موجدان مذہب کے ہاتھوں سے بچائے۔ آمین! السید علی محمد شاد!
- ٢...... دوسری تحریر جناب مولانا مولوی حکیم ڈاکٹر سید محمد جواد صاحب عظیم آبادی
جن کی فصاحت اور بلاغت اظہر من الشمس ہے۔ حبیب لبیب ادیب اریب دام لطفکم۔ السلام علیکم، رسائل مرسلہ پہنچے۔ سبب دلچسپی کے ہوئے۔ چھوٹے چھوٹے رسالے تو اس قدر دلکش نہ ہوئے۔ مگر حصہ دوم، فیصلہ آسمانی میں خوب جی لگا۔ اردو سلیس طرز تحریر سلجھا ہوا ہے۔ خصوصاً آخر حصہ کے مطالعہ سے یہ بھی مستنبط و مستفاد ہوتا ہے کہ لکھنے والا مشاق اور اس کی نظر وسیع اور قوت متفکرہ قوی ہے۔ حقیر محمد جواد عفی عنہ
- ٣...... تیسری تحریر مولانا نور احمد صاحب امرتسری کی بھی ملاحظہ فرمائیے۔ بعد
تسلیم نیاز مندانہ المرام بالاجمال آنکہ رسالہ فیصلہ آسمانی کو جن بزرگوں نے دیکھا بنظر وقعت و پسندیدگی دیکھا ہے۔ اس کی اشاعت میں حتی الامکان کوشاں ہوں۔ امتثالاً لامرکم الشریف اشتہارات مقامات متعددہ میں شائع کئے گئے۔ امرتسر، گورداسپور، پشاور، لائل پور، سڑکپور، لدھیانہ وغیرہ قادیانیوں کی عادت ہو رہی ہے کہ اوّل تو ایسی تحریر کو دیکھتے نہیں۔ اگر دیکھیں بھی تو نظر غور سے نہیں دیکھتے۔ ماہو الانقیاد وتسلیم و اتباع حق ان میں نہیں رہا۔ الا ماشاء اللہ! فضول جھگڑوں سے ان کو کام ہے۔ ”وما تغنی الایات والنذر“ نور احمد عفی عنہ
بقیہ اسناد ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اب مہربانی فرما کر فیصلہ آسمانی کے ساتھ شہادت آسمانی اور تنزیہ ربانی کو بھی ملاحظہ کیجئے۔ راقم: ابوالمجد عبد الرحمٰن!
٢٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
حق طلب
کی
سچی فریاد
(جناب حاجی سید عبدالرحمن مونگیری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم! ” نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وآلہ واصحابہ اجمعین“ انسان ضعیف البنیان قدرتاً اپنے دو مختلف خیالات کا بندہ ہے۔ جس کو طریق سلوک میں توفیق اور خذلان سے تعبیر کرتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں استقامت کہئے جو توفیق کا مفہوم ہے اور ذلت جو خذلان کا مقتضی ہے۔ دنیاوی کاروبار میں ان ہی دو مخالف اور متضاد مفہوموں کو پختگی اور تلون طبعی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بندوں کے لئے اصل برکات کی ابتداء توفیق ہی سے شروع ہوتی ہے۔ اگر توفیق الٰہی نہ ہوتی تو کوئی کار خیر اس سے سرزد ہی نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کی تعلیم بھی ایسی ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ ”وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب“
پس مبارک وہ بندگان خدا ہیں۔ جن کو اس نے توفیق بخشی اور اس پر استقامت کی قوت بھی عنایت کی۔ ”ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء“ اسی طرح سے شقاوت اور ضلالت کی بنیاد بندوں کی طبیعت میں اس حکیم وعلیم وخبیر کی طرف سے اپنی حکمت بالغہ کے مناسب حال ودیعت ہوتی ہے۔ جس سے طرح طرح کے تخیلات لایعنی مضر صراط مستقیم بندوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بندہ صراط مستقیم سے دور جاتا رہتا ہے اور بجائے استقامت اور پختگی خیالات سلیمہ کے اس کے دل و دماغ میں تلون کا عجیب وغریب جزر و مد اور طوفان اٹھتا رہتا ہے۔ گاہے چنیں گاہے چناں بحور میں کبھی ڈوبتا ہے۔ کبھی نکلتا ہے جس سے اس کی استقامت بالکل جاتی رہتی ہے اور اپنے نفس امارہ کا اس وقت بندہ ہو جاتا ہے اور بعضے وقت اسے خود بھی اس کی خبر نہیں رہتی۔ ”نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ“ اس وقت میرے سامنے ماسٹر مولوی عبدالمجید صاحب بی۔ اے ساکن موضع حسینا ضلع مونگیر (جو میرے بڑے قدیم دوست مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور مجھ کو ان کے ساتھ اور ان کے بھائی مولوی عبدالحمید سلمہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور محبت ہے) کے دونوں خطوط پیش نظر ہیں۔ ایک تو وہ خط مرقوم دہم اکتوبر کا جو کلکتہ سے بنام مولانا عصمت اللہ صاحب مدرس سوپول کے لکھا ہے۔ دوسرا وہ خط ہے جو انہوں نے اپنے بھائی کو لکھا ہے اور چھپ کر مشتہر ہو چکا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ یہ خط ہمارے قدیم دوست مولوی عبد الماجد صاحب نے شائع کرایا ہے۔ بنظر خیر خواہی اہل اسلام مجھے نہایت ضروری معلوم ہوا کہ میں پہلا خط بھی شائع کردوں تا کہ ماسٹر صاحب کی واقعی حالت معلوم کر کے دیکھنے والے فیصلہ کریں کہ بنظر ٢
تحقیق اور حق پسندی کون سے خیالات لائق قبول ہیں اور اس پر بھی نظر کریں کہ ایک ہی شخص کے دو قسم کے خیالات ہیں۔ پھر ایک شائع کیا گیا اور دوسرے پر پردہ ڈالا گیا۔ اس کی کیا وجہ ہے۔
نقل خط مورخہ ١٠؍ اکتوبر نوشتہ ماسٹر عبدالمجید صاحب
بنام مولانا مولوی عصمت اللہ صاحب مدرس سوپول
١٠؍ اکتوبر، کلکتہ، حضرت مرزا قادیانی کی بعض تحریر، بعض خواب، بعض الہام وغیرہ وغیرہ کے متعلق شبہات ہوتے ہیں۔ اس کو سوالوں کے طرز پر لکھوں گا۔ امید ہے کہ ہمارے دوست میری تشفی کے قابل جواب دیں گے۔ کیونکہ ہر حیثیت سے وہ ہم سے بہت زیادہ قابل ہیں۔ غرض وہ خط احمدی نقطہ خیال سے ہمارے تاریک پہلو کو ظاہر کرے گا۔ اس خط کا ایک مسودہ تو ضرور اپنے پاس رکھوں گا اور عندالملاقات حضور کو دکھلاؤں گا، لیکن اگر ہمت نے یاری کی تو ممکن ہے کہ ایک نقل بھی روانہ کروں۔ وہ خط کیا ہوگا اس کا مضمون کس طرز کا ہوگا۔ نمونۃً لے کچھ نیچے درج کرتا ہوں۔
- نمبر:١..... مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”اريك زلزلة الساعة“ یعنی میں تجھ کو
قیامت خیز زلزلہ دکھاؤں گا۔
(البشریٰ ج ٢ ص ١١١)
اب سوال یہ ہے کہ اس زلزلے کو آپ کی زندگی میں آنا چاہئے یا نہیں؟ اگر الہام پانے والے کے لئے دیکھنا ضرور نہیں ہے بلکہ اس کی زندگی کے بعد اس کے جانشین کا ایسے زلزلہ کو مشاہدہ کرنا الہام کو سچا کرتا ہے تو اس کی مثال قرآن مجید سے لانا چاہئے۔ اگر الہام پانے والے ہی کو دیکھنا
لے لفظ نمونۃً پر خوب نظر رہے۔ اس لفظ سے بخوبی واضح ہے کہ جس خط میں ماسٹر صاحب نے اعتراضات لکھے ہیں۔ وہ طویل خط ہے اور بہت اعتراضات اس میں لکھے ہیں۔ اب بالکل حق پوشی اور ناواقفوں کی کامل بدخواہی ہے کہ ماسٹر صاحب متردد ہوں اور دو قسم کے خیالات مرزا قادیانی کے نسبت رکھتے ہوں اور صرف ایک قسم کے خیالات مشتہر کئے جائیں جو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے مفید ہیں اور عوام اس سے متاثر ہوں اور وہ خیالات جو ان کے مضر ہیں پوشیدہ رکھے جائیں۔ صداقت اور دیانت اور خیرخواہی کا یہ تقاضا تھا کہ دونوں قسم کے خیالات کو مشتہر کیا ہوتا۔ تاکہ ہر ایک منصف بطور خود فیصلہ کرلیتا۔ اب ماسٹر صاحب خوف خدا کو دل میں لا کر غور کریں۔ کہ اگر وہ خیالات عنداللہ سچے ہیں جن کو انہوں نے پوشیدہ رکھا تو ضرور گنہگار ہوئے اور حق پوشی کے جرم میں مواخذہ اخروی کے ضرور مستحق ٹھہرے اور جو ناواقف مشتہرہ باطل خیالات سے متاثر ہوگا۔ اس کا گناہ بھی ماسٹر صاحب پر ضرور ہوگا۔ اس پر غور کیجئے میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں۔
٣
ضروری ہے تو انصافا فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں اس الہام کے بعد کب ایسا ١؎ زلزلہ آیا۔
نمبر: ٢...... مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“ اب سوال یہ ہے کہ:
١...... اس الہام کے بعد سے مرزا قادیانی وحی الٰہی سے بولنے لگے تھے۔ یا بچپن ہی سے یا بعثت کے بعد سے؟ اگر اس الہام کے بعد سے وحی الٰہی کے مطابق آپ بولنے لگے تو اس کے قبل والے کلمات طیبات کو کس نظر سے دیکھنا چاہئے؟
٢...... یہ لفظ ینطق ٢؎ سب پر حاوی ہے یا نہیں۔ یعنی کیا مرزا قادیانی کی زبانی بات ہی الہام سے ہوتی تھی یا جو کچھ وہ لکھتے تھے اور بولتے تھے وہ بھی غرض زبانی باتیں اور لکھی ہوئی باتوں میں سے کون سی عن الہویٰ ہوتی تھی۔ اگر کوئی بھی نہیں یعنی اگر ہر دو وحی الٰہی سے ہوتی
١؎ مولوی عبدالمجید سلمہ کے تعمق نظر اور راست بازی اور صفائی پر میں ان کو مبارک باد دیتا ہوں اور ہر گھڑی دل سے دعاء نکلتی ہے کہ خیالات کی پراگندگی سے جو انسانی خاصہ ہے۔ ان کو یکسوئی اور طریق مستقیم نصیب ہو۔ اس خاکسار کے خیال میں اس سوال کا جواب شافی کوئی صاحب مرزائی جماعت سے دیویں ناممکن ہے۔ کیونکہ جس طرح اس الہام میں خاص مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے پیشین گوئی کی گئی ہے اور اس کا ظہور مرزا قادیانی کے وقت میں نہ ہوا۔ اس طرح قرآن مجید میں جناب رسول اللہ ﷺ سے خطاب کر کے کوئی پیشین گوئی نہیں کی گئی۔ جس کا ظہور جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نہ ہوا ہو۔ غرض یہ پیشین گوئی ضرور غلط ہوئی۔ اس کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا۔
٢؎ ١٠ اکتوبر تک تو ہمارے عزیز مولوی عبدالمجید سلمہ نے مثل ایک پورے مقنن جج کے معاملات متعلقہ الہام مرزا قادیانی میں نہایت انصافانہ (٩) ایشو یعنی امور تنقیح طلب قائم کئے ہیں۔ ضمیمہ نمبر ١ میں دو ایشو اور ضمیمہ نمبر ٢ میں (٧) ایشو مگر مجھ کو ان کی دیانت اور عدالت سے تعجب یہ ہوتا ہے کہ جس عادل جج کے ایشو ایسے عمیق اور تجویز طلب ہوں۔ پھر وہی جج چند ہی روز کے بعد بغیر اس کے کہ ان ایشو کا کوئی جواب لیوے اور کچھ ثبوت عدالت میں پیش ہو۔ فریق سے مل کر ایک طرفہ فیصلہ کر کے حق طلب کی فریاد کے نام سے اپنا فیصلہ شائع کرے۔ اسی خاطر راقم نے دیباچہ میں عرض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ استقامت دیوے۔ یہ کوئی مروت نہیں ہے کہ معرفت دیرینہ کے خیال سے چہار چشمی کے لحاظ سے فیصلہ غلط کر کے اپنی دیانت پر دھبہ لگائیں۔ بلکہ یہ تو صریح اخلاق کریمہ کا ضعف ہے۔
٤
تھی تو نمبر ١ ثناء اللہ والا اشتہار وحی الہی سے تھا یا نہیں؟
- .......٢ احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کی ہمشیرہ وغیرہ کو جو خطوط لکھے گئے وہ وحی
الہی سے تھے یا نہیں۔ اگر وحی الہی سے لکھے گئے تو چونکہ ان خطوط کا کوئی نتیجہ نہیں ہوا۔ اس لئے وحی الہی نے ایک فعل عبث کیا یا نہیں؟
- .......٣ احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی کے متعلق اور نکاح آسمانی کے متعلق جتنی
تحدی کے الفاظ تھے سب وحی الہی سے تھے یا نہیں؟
- .......٤ دنیاوی امور کے متعلق جو آپ فرمایا کرتے تھے وہ بھی وحی الہی سے ہوتے
تھے یا صرف دینی امور کی باتیں واضح ہو کہ الزامی جواب بیکار ہوتا ہے۔ تحقیقی جواب ہونا چاہئے۔
نمبر٣:...... مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”انما امرك اذا اردت شيئا ان يقول له كن فيكون“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٣)
اس کے متعلق ذیل کے سوالات ٢؎ ہیں۔
١؎ مولوی ثناء اللہ والا اشتہار مرزا قادیانی کے دوسرے قول کے بموجب قطعاً الہام سے تھا۔ مولوی نے لدھیانہ کے مناظرہ میں عام مخلوق کے روبرو ثابت کر دیا اور ایک غیر مذہب تعلیم یافتہ نے اس کا فیصلہ بھی کر دیا۔ اگر طلب حق ہے تو رسالہ فاتح قادیان ملاحظہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کو مان لیا جائے کہ وہ اشتہار الہامی نہ تھا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی عاجزانہ دعا تھی تو بنظر انصاف مرزا قادیانی کے ان الہامات پر نظر کی جائے جو انہوں نے تقرب الہی میں بیان کئے ہیں اور خاص کر قبولیت دعاء کے نسبت ان کا الہام ہے۔ باایں ہمہ ان کی ایسی عاجزانہ دعاء قبول نہ ہو۔ جس کی قبولیت اور عدم قبولیت پر مرزا قادیانی نے اپنے صدق وکذب کو منحصر کیا ہے اور قبول نہ ہونے کی بتقدیر عام مخلوق کے روبرو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب اور مفتری ٹھہرتے ہیں۔ یہ نہایت تعجب اور حیرت ہی کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ اشتہار ان الہامات کو غلط بتاتا ہے جو انہوں نے اپنے قرب کی نسبت بیان کئے ہیں۔ خصوصاً وہ الہام جسے ہمارے عزیز نے نمبر٣ میں بیان کیا ہے ادھر مرزا قادیانی اپنے بیان سے کاذب اور مفتری قرار پاتے ہیں۔
٢؎ ماشاء اللہ کیسی متانت اور غور و فکر بلیغ سے یہ اعتراض کئے گئے ہیں۔ ان اعتراضوں کا کچھ جواب ہو سکتا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ اعتراضات ہیں۔ جو کسی مخالف کے قلم سے نہیں نکلے۔ جزاک اللہ! یہاں میں اپنے عزیز سے اس قدر کہوں گا کہ اس الہام سے جناب رسول اللہ ﷺ پر جزئی فضیلت سمجھنا یعنی تھوڑی سی بات میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٥
- ١....... یہ الہام مرزا قادیانی کی فضیلت کی دلیل ہے یا نہیں؟
- ٢....... اگر فضیلت کی دلیل ہے تو حضرت رسول اکرمﷺ (فداہ روحی) کو بھی یہ
الہام ہوا تھا یا نہیں۔ اگر نہیں ہوا تھا تو آپ اس فضیلت سے (نعوذ باللہ ) محروم رکھے گئے یا نہیں اور اس طرح پر مرزا قادیانی کو حضرت رسول اکرمﷺ پر فضیلت (اگرچہ جزوی ہی سہی) ہوئی یا نہیں۔
- ٣....... اگر اس الہام کی کچھ بھی اصلیت تھی یعنی اگر صرف بات ہی بات نہ تھی تو
کیوں نہیں مرزا قادیانی نے لفظ کن سے اپنا سب کام کر لیا۔ احمد بیگ اور اس کی ہمشیرہ کے پاس خوشامد اور دھمکی کے خط لکھنے کی زحمت اٹھانے کے بدلے کیوں نہیں ایک کن سے سب کو راضی کر کے شادی کر لی۔ بالفرض اگر غیر سے شادی ہو چکی تھی تو ایک یا دو یا حد تین کن سے سب موانع دور کر سکتے تھے اور پھر محمدی بیگم کے ساتھ عقد کر لیتے۔ (سبحان اللہ! کیسے سچے اعتراضات ہیں۔)
- ٤....... مرزا قادیانی کے الہامات میں یہ ذیل کے فقرے ہیں: ”اصنع
ماشئت“ (خزائن ج ٧ ص ٣٥٥) تو جو چاہے کر۔ کیونکہ تو مغفور ہے؟۔ اس کے متعلق سوالات ذیل کا جواب درکار ہے:
- ١....... کیا اس آزادی کا اجازت دینے والا اللہ تعالیٰ ہو سکتا ہے؟۔
- ٢....... کیا اس الہام کے بنا پر شریعت کا روک مرزا قادیانی پر سے اٹھ نہیں گیا تھا؟۔
- ٣....... کیا ایسے الہام پانے والے کا درجہ اس سے بڑھا ہوا معلوم نہیں ہوتا ہے۔
جس کو حکم ہوتا ہے: ١...... فصل لربك۔ ٢......قم فأنذر ۔٣......وثيابك فطهر۔ وغیرہ وغیرہ!
(البشریٰ ص ١٠٩)
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) فضیلت خیال کرنا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایسی عظیم الشان فضیلت ہے کہ فضیلت کلی سے اس کا مرتبہ بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ اس الہام کا حاصل یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت اپنی خدائی مرزا قادیانی کے حوالے کر دی۔ نہایت ظاہر اور یقینی بات ہے کہ یہ صفت اور قدرت خاص خدائے تعالیٰ کی ہے کہ ہر شے اس کے کن کہنے یعنی حکم کرنے سے موجود ہو جائے۔ جب یہ خاص صفت خدائی مرزا قادیانی کو دی گئی اور وہ مراتب عالی تقرب جو اور دوسرے الہامات میں مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔ پہلے سے حاصل تھے۔ تو بالیقین فضیلت کلی ثابت ہوئی اور فضیلت کلی بھی معمولی طور سے نہیں بلکہ نہایت ہی عظیم الشان فضیلت جناب رسول اللہﷺ پر ہوئی۔ میں اس کی زیادہ شرح نہیں کرتا۔ ماسٹر صاحب خود ہی غور کریں۔ ہمارے بعض معزز دوست اس الہام کو آئندہ دعویٰ خدائی کی تمہید کہتے ہیں۔
٦
- ٤...... کیا اس
- ٥...... کیا اس
ہے۔ جو کہتے ہیں کہ کھاؤ پیو خوش نمبر : ٥ ..... آتھم
١؎ (راقم تقریباً) قادیانی کے الہام سے پانچ ا شافی جواب کسی سے سوائے دیانت اور تفقہ سے نکالی ہیں کے فلاسفروں کے اقوال اور فلسفیانہ خیالات کے مغز سخن ک پر قائم ہوگئے۔ مرحبا جز ہی ہے جیسا حضرت شیخ عبد اخبار الاخیار میں لکھتے ہیں کہ میں ایک عجیب و غریب صور نے مجھ پر سب سے چیزیں م الخ ! یہ بالکل ترجمہ ہے خداوندی تھے۔ اس لئے اعوذ بالله من الشي قادیانی ایسے الہاموں کی وج طرح کے مکاید شیطانی سے
٢؎ الہامات مر آتھم والے مضمون کو اگرچہ جس متانت اور خوبی سے مر بلکہ قابل تعریف اور آفرین تعالیٰ احسن جزاء فی الدنیا معلوم کرنے کے لئے الہام
- ٤...... کیا اس مضمون کا الہام کسی گزشتہ نبی یا ولی کو ہوا ہے؟۔
- ٥...... کیا اس الہام کا مفہوم عقبیٰ کے منکر فلاسفروں ١؎ کے قول سے نہیں ملتا جلتا
ہے۔ جو کہتے ہیں کہ کھاؤ پیو خوش رہو۔ نقد کو دیکھو، ادھار پر بھروسہ نہ کرو۔ (ضرور ملتا ہے)
- نمبر : ٥...... آہتھم ٢؎ کے متعلق جو مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا اس کا مفہوم یہ تھا کہ
١؎ (راقم تقریظ) میرے عزیز مولوی عبدالمجید سلمہ نے اس ایک فقرہ اصنع ما شئت مرزا قادیانی کے الہام سے پانچ اعتراضات مرزا قادیانی پر ایسے جمائے ہیں کہ قیامت تک اس کا شافی جواب کسی سے سوائے مان لینے کے نہیں ہو سکتا۔ میرے عزیز نے کیسی سچی باتیں اپنی دیانت اور تفقہ سے نکالی ہیں اور چونکہ ان کو فلسفہ میں نظر عمیق معلوم ہوتی ہے اور منکرین آخرت کے فلاسفروں کے اقوال اور اعتقاد سے واقفیت تامہ رکھتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے فلسفیانہ خیالات کے مغز تک پہنچ کر جو ایک سچے دیندار اہل اسلام کی رائے سلیم ہو سکتی تھی اس پر قائم ہو گئے۔ مرحبا جزاک اللہ ! اب یہ بھی معلوم کر لیں کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام بعینہ ویسا ہی ہے جیسا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو واقعہ پیش آیا تھا۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی اخبار الاخیار میں لکھتے ہیں کہ حضرت ممدوح ایک میدان میں تھے۔ وہ انوار سے بھر گیا اور اس میں ایک عجیب و غریب صورت نظر آئی اور مجھے اس نے پکار کر کہا کہ میں پروردگار تیرا ہوں۔ میں نے تجھ پر سب چیزیں حلال کر دیں۔ بگیر انچه طلبی وبکن هرچه خواهی...... الخ! یہ بالکل ترجمہ ہے۔ اصنع ما شئت کا مگر چونکہ حضرت شیخ کمال علمی کے علاوہ مقبول خاص خداوندی تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے کید شیطانی کو ان پر منکشف کر دیا اور انہوں نے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اس شیطانی فریب سے نجات پائی اور مرزا قادیانی ایسے الہاموں کی وجہ سے اور زیادہ اس کے پابند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو بھی ہر طرح کے مکاید شیطانی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
٢؎ الہامات مرزا مؤلفہ مولوی ثناء اللہ صاحب مطبوعہ ١٩٠٤ء میں ص ١٠ لغایت ٣٠ آتھم والے مضمون کو اگرچہ بڑے شدومد سے لکھا ہے۔ مگر میرے عزیز مولوی عبدالمجید سلمہ نے جس متانت اور خوبی سے مرزا قادیانی پر اعتراضوں کا پہاڑ توڑا ہے وہ واقعی معمولی بات نہیں ہے۔ بلکہ قابل تعریف اور آفرین کے ہے۔ لہٰذا ان مضامین پر ہم نے خط امتیازی دے دیا ہے جزاہ اللہ تعالیٰ احسن جزاء فی الدنیا والآخرۃ۔ چونکہ عزیز موصوف نے مختصر لکھا ہے اس لئے پوری کیفیت معلوم کرنے کے لئے الہامات مرزا ص ١٠ تا ٣٠ ضرور ملاحظہ کرنا چاہئے۔
٧
دونوں فریق میں سے جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ آج سے پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ رجوع الی الحق نہ کرے۔ اب مضمون صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے گا تو ہاویہ ١؎ میں گرایا جائے گا۔ یعنی اگر رجوع کرے گا تو ہاویہ کی سزا سے بچ جائے گا۔
(خزائن ج٦ ص٢٩٢)
رجوع الی الحق اور سزائے ہاویہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے آتھم کے بھاگے پھرنے اور ہراساں ہونے کا نام رجوع الی الحق بھی رکھا ہے اور ہاویہ میں گرنا بھی۔ اس جگہ عزیز موصوف مرزا قادیانی پر ایک مزے دار سوال کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ رجوع اور ہاویہ کا جمع ہونا تو الہام کے رو سے ناممکن ہے۔ بیچارہ آتھم اگر رجوع کر چکا تو پھر ہاویہ اس پر کہاں سے آگیا یا تو رجوع ہی کرتا یا ہاویہ میں گرتا۔ تاویل جس میں اجتماع ضدین ہے۔ ماینطق عن الهوى......الخ ۔ والے الہام کے ماتحت ہو کر وحی الٰہی سے ہوا تھا یا نہیں۔ پھر لکھتے ہیں:
نمبر: ٦...... اس آتھم کے متعلق زمانہ کے بعد کشتی نوح میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں ”پیشین گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کے رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ (آتھم) مجھ سے پہلے مر گیا۔“ پیشین گوئی میں جو مضمون تھا وہ تو اوپر نمبر ٥ میں بیان ہو چکا ہے۔ لیکن کشتی نوح میں جو اس کا خلاصہ درج ہوا ہے وہ بھی غور سے ملاحظہ کیجئے اور انصافاً
١؎ مرزا قادیانی خود ہی بڑی صفائی سے تشریح فرماتے ہیں کہ: ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ ذلیل کیا جاؤں، روسیاہ کیا جاؤں، وغیرہ وغیرہ! اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ یعنی آتھم کو ١٥ ماہ کے اندر ہلاک کر کے ہاویہ میں ڈالے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص٢١٠، خزائن ج٦ ص٢٩٣)
ناظرین! انصاف سے ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی نے جس الہامی پیشین گوئی کو حلف کر کے پبلک میں دعوے کے ساتھ ظاہر کیا اس کا یہ حال ہے کیا مرزائیوں کے نزدیک کوئی ایسا بھی خدا ہے جو اپنے سچے رسولوں کو اس طرح ذلیل و رسوا کیا کرے۔
٨
فرمائیے کہ کیا ١ اس طرح کا خلاصہ لکھنا جائز ہے؟ ۔ کیا پندرہ ماہ کی مدت کو پس انداز کرنے سے رجوع الحق کی شرط کو چھوڑنے سے پیشین گوئی کی وہی حیثیت رہی جو پہلے تھی۔ یقیناً نہیں رہی۔ اس طرح کا خلاصہ اور مختصر بیانی سے ایک فریق کو یعنی مرزا قادیانی کو بہت زیادہ ناجائز فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ کیونکہ برسوں کے بعد جب آتھم دنیا سے گزر چکا ہے ایک ناواقف شخص کشتی نوح کی مذکورہ بالا عبارت کو پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ایک فریق زندہ موجود ہے اور دوسرا مر چکا۔ وہ فوراً زندہ فریق کے حق میں ڈگری دے دیتا ہے۔ حالانکہ اگر اصل کیفیت معلوم ہو کہ مدت پندرہ ماہ مقرر تھی۔ شرط رجوع الی الحق تھی اور سزا ہاویہ میں گرایا جانا جس کے معنی صرف گھبرا کر سراسیمہ پھرنا کہا گیا تھا۔ تو قرینہ غالب ہے کہ وہ اس پیشین گوئی کے بارے میں کچھ اور رائے قائم کر سکتا تھا۔ پس پیشین گوئی کو اس طرح مختصر کرنے سے ایک ناواقف کو دھوکہ لگنے کا احتمال ہے یا نہیں؟۔ میرے خیال میں ضرور احتمال ہے اور قوی احتمال ہے۔ احتیاط اور حزم کے خلاف ہے۔ اب میں بہت تھک گیا ہوں اور یہ تو مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ عاجز راقم عبدالمجید، ١٠؍اکتوبر کلکتہ
اب میں تمام اہل حق سے اور بالخصوص اپنے عزیز کاتب خط سے ضرور کہوں گا کہ مرزا قادیانی کی صرف آتھم والی پیشین گوئی مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے کامل معیار ہے۔ اگر انصاف اور حق پرستی کی نظر سے دیکھی جائے۔ اول تو اصل پیشین گوئی کو دیکھا جائے کہ کس زور سے پندرہ ماہ کے اندر مرکر اس کا ہاویہ میں گرایا جانا لکھا ہے اور جب اس وثوق اور یقینی میعاد کے اندر وہ آتھم نہیں مرا تو مرزا قادیانی نے کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ آخر میں عاجز ہوکر کشتی نوح میں اپنے دعوے کو بالکل بدل کر یہ کہتے ہیں کہ فریقین میں سے جو شخص جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ کہاں پندرہ ماہ کے اندر مرنا اور کہاں اس کے مرنے کے بعد یہ کہہ دینا کہ جھوٹا پہلے مرے گا۔ یہ صریح جھوٹ اور علانیہ بناوٹ ہے جو مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے غلط ہو جانے پر کی ہے۔ نہایت روشن طریقے سے ان کے کاذب ہونے کو ثابت کر رہی ہے۔ اب جس کا جی چاہے وہ اس کھلی صداقت کو قبول کرے اور جس کا جی چاہے علانیہ کذب کی پیروی میں رہے۔
١ میرے عزیز سلمہ کو ابھی تک وہی دنیاوی لحاظ مرزا قادیانی سے باقی ہے۔ اسی وجہ سے لفظوں میں ان کی جانب داری کرتے جاتے ہیں۔ نمبر ٥ والی پیشین گوئی کے خلاصہ سے کشتی نوح کے مضمون کو کیا نسبت۔ صاف یہ نہیں کہتے کہ اس طرح کا خلاف واقعہ جھوٹ لکھنا جائز ہے؟۔ دینی امور میں اس قسم کی رعایت کا نام مداہنت ہے اور قانونی اصول کے رو سے خلاف دیانت۔ ارباب نظر کے لئے میری تقریر پر غور لازم ہے۔
٩
اب میں ناظرین ! کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ہمارے عزیز نے ابتدائے خط میں لکھا ہے کہ جو کچھ اس خط میں ہم لکھیں گے وہ اس طویل خط کا نمونہ ہے۔ جس میں شبہات کا اظہار کیا گیا ہے اور پھر آخر میں اس سے زیادہ تصریح کرتے ہیں اور جو اعتراضات اس خط میں کئے ہیں۔ انہیں مشتے نمونہ از خروارے بتاتے ہیں۔ اب ہم عزیز ممدوح کی حق طلبی اور خیر خواہی سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس طویل خط کو خود شائع کریں گے۔ اگر مولوی عبد الماجد صاحب کی صحبت سے اور ان کی تعلیم سے ان کی دلی سچائی اور حق طلبی زائل نہ ہو گئی ۔ (خدا ئے تعالیٰ ایسا نہ کرے) میرا خیال ہے کہ میرے عزیز کے شبہات کثیرہ میں ذیل کے شبہات بھی ضرور ہوں گے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ چھ نمبر تو انہوں نے اپنے قلم سے لکھے ہیں۔ چار میرے قلم سے لکھے جائیں اور پورے دس کی تعداد ہو جائے اور تلک عشرۃ کاملۃ کا پورا مصداق ہو جائے وہ شبہات حسب ذیل ہیں۔
نمبر:٧......(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٨) میں مرزا قادیانی نے ٥؍نومبر ١٩٠٧ء کو (یعنی اپنے مرنے سے سات مہینے اکیس روز قبل ) ڈاکٹر عبد الحکیم خان اور اپنے دوسرے مخالفین کے نسبت ایک طویل الہامی اشتہار شائع کیا۔ جس کا نام تبصرہ رکھا اور اپنی جماعت کو حکم دیا کہ اس پیشین گوئی کو خوب ١؎ شائع کریں۔ چنانچہ ان کے مریدین نے بھی بموجب حکم مرزا قادیانی کے اچھی طرح سے شائع کی۔ اس الہام کی تفصیل ذیل میں بلفظہ کی جاتی ہے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
”اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ میں تیری عمر بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا۔ دشمن جو
١؎ مرزا قادیانی کو اپنی ان الہامی پیشین گوئیوں پر اس قدر وثوق کامل تھا کہ یہ سب ان کے مرنے سے پہلے ہی ہو کر رہیں گی۔ اس لئے اس کی اشاعت کے لئے تاکیدی فرمان جاری فرمایا تھا۔ مگر خیر سے ہوا کچھ نہیں۔ کبیر داس کی الٹی بانی ہو گئی اور حکیم مومن خان دہلوی کے مصرعہ کے مطابق ہوا۔ چونکہ مصرعہ برجستہ اس جگہ چسپاں ہو گیا۔ اس لئے ربط کے لئے بنظر دلچسپی کے مصرعہ اولیٰ راقم نے بڑھا دیا ہے۔ معاف فرمائیے گا۔
ہم الٹے بات الٹی
١٠
تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔ تیرے مخالفوں کا اخزا اور افنا تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔“
راقم ...... کہنے کو تو ایک پیشین گوئی ہے۔ مگر درحقیقت یہ چار پیشین گوئیوں کا مجموعہ خود یہ ایک پیشین گوئی ہے۔ ناظرین ملاحظہ کریں۔
- ......١ تیری عمر بڑھادوں گا۔
- ......٢ ان سب کو جھوٹا کروں گا۔
- ......٣ دشمن تیرے سامنے نابود اور تباہ ہوگا۔
- ......٤ تیرے دشمن کی ہلاکت تیرے ہاتھ سے مقدر تھی۔
اب ہمارے دوست مولوی صاحب جواب دیویں کہ مطابق الہام کے مرزا قادیانی کی عمر بڑھائی گئی؟ اگر بڑھائی گئی تو کتنی؟ اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان اس پیشین گوئی کے مطابق جھوٹے ہوئے یا مرزا قادیانی؟ ڈاکٹر عبدالحکیم خان مثل اصحاب فیل نابود اور تباہ ہوئے یا کوئی دوسرا؟ یا خود بدولت؟ عبدالحکیم خان کی ہلاکت یا اخزاء مرزا قادیانی کے ہاتھ سے جو مقدر تھی وہ پوری ہوگئی؟ یا برعکس مرزا قادیانی ہی اندر میعاد مقررہ عبدالحکیم کے چل بسے۔
جواب ذرا متانت اور شائستگی سے سمجھ بوجھ کر عنایت فرمائیے اور تین مہینے کی کامل مہلت آپ کو دی جاتی ہے۔
نمبر:٨...... اب تحریر ڈاکٹر عبدالحکیم خان مرقومہ ١٢؍ جولائی ١٩٠٦ء جس میں مرزا قادیانی کے مرنے کی پیشین گوئی ڈاکٹر صاحب نے کی تھی مرزا قادیانی نے ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء میں مفصلہ ذیل اشتہار دیا کہ: ”میں سلامتی کا شاہزادہ ہوں۔ کوئی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔ بلکہ خود عبدالحکیم خان میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہو جائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٩)
راقم...... اب میرے معزز دوست مولوی عبدالماجد قادیانی فرماویں کہ مطابق الہام مرزا قادیانی کے ڈاکٹر صاحب ہلاک ہو گئے یا خود بدولت اندر میعاد مقررہ ڈاکٹر صاحب کے ہلاک ہوئے اور ہمارے عزیز مولوی عبدالمجید سلمہ صرف اس امر پر غور کریں کہ ڈاکٹر صاحب نہ مدعی مجددیت نہ دعویٰ دار نبوت صرف الہام کے مدعی ہیں۔ مگر ان کی پیشین گوئی مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کیسی سچی ہوئی اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئی ان کے مقابلہ میں کیسی صریح غلط ثابت ہوئی۔ جس سے مرزا قادیانی اپنے اقرار اور اپنے الہام کے رو سے کاذب ٹھہرے۔ سخت افسوس
١١
ہے کہ ان صریح واقعات کے بعد بھی حضرات مرزائی پیشین گوئی کو معیار صداقت سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کو کاذب اور مرزا قادیانی کو صادق مان رہے ہیں۔
نمبر :٩....... اسی اشتہار میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ شریر ١؎ مفتری کے سامنے صادق ٢؎ اور مصلح فنا ہوجائے۔“
راقم....... مولوی صاحب براہ دیانت فرمادیں کہ جیسا مرزا قادیانی کا الہام تھا ویسا ہی وقوع میں آیا یا اس کے بالکل برعکس یعنی شریر اور مفتری عبدالحکیم خان کے سامنے صادق اور مصلح مرزا قادیانی تاریخ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے اور فنا ہوگئے۔ اب فرمائیے کہ صادق اور مصلح کون ہوا۔
نمبر :١٠....... اسی اشتہار میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”یہ کبھی نہیں ہوگا کہ میں ایسی ذلت اور لعنت کی موت سے مروں کہ عبدالحکیم خان کی پیشین گوئی کی میعاد میں ہلاک ہو جاؤں۔ (مگر خدا کے فضل سے ہوا تو ایسا ہی مشیئت سے کیا زور ہے)“
راقم....... خود ہمارے مولوی صاحب اور دیگر حضرات جماعت مرزائیہ اس الہام کی شدت وثوق اور تاکید مؤکد پر ایک نظر ڈال کر ارشاد فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام درست نکلا یا بالکل غلط ثابت ہوا۔ مشیئت ایزدی نے الہام مرزا قادیانی کے خلاف دنیا پر ظاہر کردیا کہ خود بقول جناب مرزا قادیانی جس ذلت اور لعنت کی موت سے اپنا مرنا تنفر اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اسی میں اس جہان سے کوچ فرمایا اور ذلت کی موت سے اس جہان سے سفر کیا۔ جس کو انہوں نے جھوٹے کا نشان قرار دیا تھا۔ کیا کوئی مثال ایسی شدید اور مؤکد الہام کے وقوع میں نہ آنے کی ابتدائے آفرینش عالم سے تا ایندم مل سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ واللہ ہرگز نہیں۔ ثم باللہ ہرگز نہیں۔ کیا ممکن ہے کہ کوئی برگزیدہ رسول ایسی پختگی سے خبر دے اور بار بار مختلف عنوان سے بیان کرے اور پھر وہ خبر جھوٹی نکلے؟ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ ہے فیصلہ آسمانی جس نے مرزا قادیانی کی حالت کو ظاہر کردیا۔ بہی خواہ مسلمانان عزیز من اس میں خوب غور کرو اور اچھی طرح سمجھو۔
محمد عبدالرحمٰن قادری مجددی عظیم آبادی!
١؎ شریر اور مفتری کہنے سے غرض مرزا قادیانی کی ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب تھے اور الہامی شان تشدد کو لحاظ کریں کہ کبھی یہ نہیں ہوسکتا۔
٢؎ اور صادق اور مصلح سے اشارہ مرزا قادیانی کا اپنی طرف تھا۔
١٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی نبوت
کا خاتمہ
(مرزائیوں سے چند سوال)
(حضرت مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ)
بسم الله الرحمن الرحیم!
”ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا اوقال اوحی الی ولم یوحی الیه شئی“ ﴿اور اس شخص سے زیادہ وہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی۔﴾
”الحمد لله وسلام علی عباده الذی اصطفےٰ“
قادیان کا یوم تبلیغ اور اس کی حقیقت
تمام برادران اسلام کی اطلاع کے لئے عرض کیا جاتا ہے کہ قادیانی جماعت کی طرف سے مورخہ ٢٢؍ اکتوبر ١٩٣٣ء کو تمام ہندوستان میں یوم تبلیغ منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد غیر مذاہب میں تبلیغ کرنے کی بجائے صرف مسلمانوں کو دین قیم سے نکال کر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا معتقد بنانا تھا۔ جو کہ جمہور اہل اسلام کے عقیدہ کے مطابق خاتم الانبیاء ﷺ کی علانیہ توہین کا مترادف تھا۔ اس سلسلہ میں ناظر دعوت وتبلیغ قادیان کی طرف سے ایک دو ورقہ پمفلٹ بھی شائع کیا گیا تھا۔ جس کا عنوان ”کیا آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعی کے اجراء کا قائل کافر ہے“ تھا۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت قبول کرنے میں جو بڑی دقت اہل اسلام کو امت مرزائیہ کے نقطہ نگاہ کے مطابق پیش آتی ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد چونکہ دعویٰ نبوت کفر ہے۔ لہٰذا آپ کا دعویٰ قابل قبول اور صحیح نہیں ہوسکتا۔“ کو دور کرنے کی انتہائی کوشش کی گئی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت تشریعی کافر ہے اور مدعی نبوت غیر تشریعی کافر نہیں ہے۔ آپ کی خاتمیت نبوت تشریعی کے اعتبار سے ہے۔ نبوت غیر تشریعی کے لحاظ سے نہیں ہے۔ لیکن جناب مرزا قادیانی نبوت غیر تشریعی کے مدعی ہیں اور تشریعی نبوت کے مدعی کو مرزا قادیانی بھی کافر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ناظر موصوف نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی چند تحریریں بھی پیش فرمائی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض محدثین، اولیاء اللہ اور بزرگان امت رحمۃ اللہ علیہم کے چند ناتمام اقوال پیش فرما کر ناواقف حال مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کی بے حد کوشش فرمائی ہے۔
ہم پہلے ناظر دعوت وتبلیغ قادیان کی خدمت میں یہ گذارش کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ان عبارات کے مطابق جو جناب نے اپنے پمفلٹ میں شائع فرمائی ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت تشریعی کا مدعی کافر ہے اور نبوت غیر تشریعی کا مدعی کافر نہیں ہے۔ جیسا کہ
٢
آپ کے نبوت کو تشریعی اور غیر تشریعی کی طرف منقسم کرنے اور مدعی نبوت تشریعی کو مندرجہ ذیل عبارت میں کافر قرار دینے سے ظاہر ہے۔ ”نبوت کی دو قسمیں ہیں۔ اول تشریعی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام ہوں۔ دوم غیر تشریعی یعنی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام نہ ہوں۔ (پمفلٹ ص١) ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ (پمفلٹ ص٢) لیکن اگر ہم جناب مرزا قادیانی کو ان کی اپنی عبارات سے نئی شریعت اور نئے احکام لانے والا صاحب وحی اور صاحب شریعت یعنی تشریعی نبی ہونا ثابت کر دیں۔ پھر تو جناب مرزا قادیانی خود اپنے نیز آپ کے اور بزرگان ملت کے اقوال کے ان معنی کے مطابق جنہیں آپ پمفلٹ میں شائع فرما چکے ہیں۔ تشریعی نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے کافر ہو جائیں گے؟ یا پھر تشریعی نبوت کے کوئی اور ایسے معنی بیان کئے جائیں گے جس سے مرزا قادیانی اپنے نیز آپ کے اور بزرگان ملت کے عائد کردہ کفر سے بچ جائیں۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
لیجئے! مرزا قادیانی نے خود ہی اپنی مندرجہ ذیل عبارات میں اپنے صاحب شریعت جدیدہ اور صاحب وحی یعنی تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ فرما دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم یا محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)
جس کا حاصل یہ ہے کہ چونکہ میں شریعت اور احکام جدیدہ لانے والا نہیں ہوں۔ اس لئے میرا منکر کافر نہیں ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے خود صاحب شریعت صاحب وحی اور اپنی وحی کو مثل قرآن کریم خطا سے پاک اور منزہ اور دیگر انبیاء کے برابر بلکہ ان سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ فرما کر اپنے اس مندرجہ بالا بیان کی خود تغلیط فرمادی ہے۔ جیسا کہ آپ کی مندرجہ ذیل عبارات سے ظاہر ہے:
مرزا قادیانی تشریعی نبوت کے مدعی تھے
- ١...... ”ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی
٣
کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ صاحب شریعت یعنی تشریعی نبی تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
- ٢......
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں است ایمانم
(رسالہ نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی میری وحی قرآن کریم کی طرح خطا سے پاک اور منزہ ہے اور یہی میرا ایمان ہے۔ اس میں قرآن کریم کی برابری کا دعویٰ ہے جو قرآن کریم کی مثل نہ لا سکنے کے سراسر مخالف ہے۔ دوسرا ارشاد ہوتا ہے۔
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(رسالہ نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی انبیاء اگرچہ بہت ہو چکے ہیں۔ لیکن خدا کی معرفت میں میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ یہ ایک یقینی امر ہے جو اس کو جھوٹا جانے وہ لعنتی ہے۔ ان اشعار میں تمام انبیاء علیہم السلام کی برابری کا دعویٰ ہے۔ جس میں خاتم الانبیاءﷺ بھی شامل ہیں جو صریحاً کفر ہے۔ تیسرا اعلان فرماتے ہیں
(رسالہ نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
٤
یعنی خدا نے اپنی معرفت اور احکام کا جو جام ہر نبی کو دیا ہے وہ تمام کا تمام مجھ اکیلے کو دے دیا ہے۔ چونکہ ہر نبی میں حضورﷺ بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس شعر میں مرزا قادیانی نے آپ سے افضل ہونے کا دعویٰ بھی فرما دیا ہے۔
ان مذکورہ بالا حوالہ جات کے علاوہ مرزا قادیانی نے نہایت صاف اور واضح الفاظ میں بلا قید تشریعی یا غیر تشریعی یہ اعلان فرما دیا ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی عبارات ذیل سے ظاہر ہے۔
- ٣....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار البدر ٥/ مارچ ١٩٠٨ء)
- ٤....... ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٥....... ”قادیان اس واسطے محفوظ رہے گا۔ (طاعون سے) کہ یہ اس کے رسول
کی تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
امر واقعہ یہ ہے کہ قادیان میں طاعون پھیلا اور مرزا قادیانی کے متعلقین میں سے بھی بہت سے لوگ مرے جو مرزا قادیانی کے کذاب ہونے کی کھلی نشانی ہے۔ نیز مرزا قادیانی نے اپنے منکر کو کافر بنا کر اپنے مکفر، مکذب اور متردد کے پیچھے نماز ناجائز قرار دیتے ہوئے ساڑھے تیرہ سو سال کے اسلامی حکم حدیث نبویﷺ ”صلوا خلف کل بروفاجر (مشکوٰۃ)“ ﴿ہر نیک اور گنہگار کے پیچھے نماز جائز ہے۔﴾ کو منسوخ فرما کر نیز اپنے آقا و مولیٰ نعمت حکومت برطانیہ کی خوشنودی مزاج کی خاطر جن کی اطاعت آپ کا جزو ایمان ہے۔ جن کے ساتھ جہاد کا خیال تک رکھنا سخت بے ایمانی ہے اور جن کا زوال چاہنا خدا اور رسول کے دشمنوں کا کام ہے۔ حدیث نبویﷺ ”الجہاد ماض الی یوم القیٰمۃ“ ﴿جہاد کا حکم قیامت تک جاری رہے گا۔﴾ پر خط تنسیخ کھینچ کر مسلمانوں اور ان کے بچوں تک کا جنازہ ناجائز اور ان کو لڑکی دینا ہندوؤں اور عیسائیوں کو لڑکی دینے کے برابر قرار دے کر اس امر کو بالکل واضح فرما دیا ہے کہ مرزا قادیانی نئی شریعت نئے احکام لانے والے صاحب شریعت اور صاحب وحی یعنی تشریعی نبوت کے مدعی ہیں۔ جیسا کہ تریاق القلوب اور اربعین کی مندرجہ بالا عبارات سے ظاہر ہے۔ ورنہ اپنے منکرین کو کافر قرار دینے، مسلمانوں کے بچوں تک کے جنازے ناجائز، ان کے پیچھے نماز ناجائز، ان سے رشتہ ناطہ ناجائز نیز قیامت تک جہاد یعنی کافروں پر تلوار اٹھانے کو حرام قرار دینے کے کیا معنی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کی مندرجہ ذیل عبارات سے ظاہر ہے۔
٥
مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے
- ......١
"جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔" (یعنی میرا منکر کافر ہے)
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ......٢
"کفر دو قسم کا ہے۔ ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا اور دوسرے یہ کفر کہ وہ مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں (یعنی مرزا قادیانی کے) خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔"
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
ان عبارات کو تریاق القلوب کی مندرجہ بالا عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ ورنہ اپنے منکر کو خاتم الانبیاء کے انکار کرنے والے کے برابر کافر کیوں قرار دیتے۔ چنانچہ یہی مذہب موجودہ امت مرزائیہ کا ہے۔ جیسا کہ خلیفہ نور الدین صاحب خلیفہ اوّل کے مندرجہ ذیل اشعار سے ظاہر ہے۔
مرزا قادیانی کے منکرین کے متعلق خلیفہ اوّل کا فیصلہ
آں غلام احمد است ومرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے درشان او آں کافر است
جائے او باشد جہنم بیشک وریب وگماں
(الحکم ٧؍ اگست ١٩٠٨ء)
جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں شک کرنے والا بھی کافر اور جہنمی ہے تو اب منکر کے کافر اور جہنمی ہونے میں کیا شک رہا۔ نیز جیسا کہ خلیفہ بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی جماعت قادیان کے ارشادات گرامی سے بھی ظاہر ہے۔
مسلمانوں کے متعلق خلیفہ ثانی کا فیصلہ
- ......١
"ہم کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی ہیں۔ بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد ﷺ۔ پھر کیا ہے۔ نبی کا منکر اولئک ہم الکافرون حقا کے فتویٰ کے نیچے ہے۔" (یعنی مرزا قادیانی کا منکر ویسا ہی پکا کافر ہے جیسا کہ حضور ﷺ کا منکر کافر
٦
ہے)
- ......٢
حضرت مسیح موعود (مرزا ہیں۔"
- ......٣
ہے۔ جو حضرت صاحـ
- ......٤
مزید اطمینان کے لئے کو سچا قرار دیتا ہے او ہے۔"
ان ہر دو بلکہ سچا سمجھ کر بیعت القلوب والی مندرجہ مرزا قادیانی نبوت تشر اور سچا سمجھ کر بیعت مـ
کسی مسلمان اور ا مرزا قاد
- ......١
قطعی حرام ہے کہ کسـ
- ......٢
اسی پرآ ہے۔ جب تک توبـ
- ......٣
نہ کرے اس کے پچـ
ہے)
(الفضل ج ٢ ص ٣٢، نمبر ١٢٢، ١٣٣، مورخہ ٤، ٦؍اپریل ١٩١٤ء)
- ......٢ "قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے اور ہم لوگ
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ اس لئے ہم آپ کے منکروں کافر سمجھتے ہیں۔"
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ش ٤ ص ١٢١، اپریل ١٩١١ء)
- ......٣ "ہر ایک جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر
ہے۔ جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا، ور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔"
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ش ٤ ص ١٤٠، ١٤١، اپریل ١٩١١ء)
- ......٤ "آپ نے (مرزا قادیانی نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔ مگر
مزید اطمینان کے لئے بھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو دل میں آپ کو سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف کافر ٹھہرایا ہے۔"
(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠، ١٤١)
ان ہر دو خلیفہ صاحبان کی مندرجہ بالا عبارت کو جن میں مرزا قادیانی کے نہ صرف منکر بلکہ سچا سمجھ کر بیعت میں توقف کرنے والے کو بھی کافر قرار دیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کی تریاق القلوب والی مندرجہ بالا عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے یہ صاف نتیجہ نکل آتا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت تشریعی کے مدعی تھے۔ نہ غیر تشریعی کے، ورنہ ہر دو خلیفہ صاحبان آپ کے منکر اور سچا سمجھ کر بیعت میں توقف کرنے والے کو کافر کیسے قرار دیتے۔
کسی مسلمان اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مرزائی کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں
مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ......١ "پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پر حرام اور
قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ......٢ "میرے منکروں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔"
(فتاویٰ احمدی ص ١٨)
اسی پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ: "جو احمدی ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ جب تک توبہ نہ کرے۔ اس کے پیچھے بھی نماز نہ پڑھو۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
- ......٣ "جو احمدی ان کے (مسلمانوں کے) پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ جب تک توبہ
نہ کرے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔"
(فتاویٰ احمدی ص ٢٧)
٧
مسلمان کافر ہے اور اس کا جنازہ جائز نہیں
- ٤....... ’’غیر احمدی کے جنازے کے متعلق ہم نے محکمات کو دیکھنا ہے۔ محکم کیا
ہے۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی ہیں۔ بلحاظ نفس نبوت یقیناً ایسے جیسے ہمارے آقا سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ، محکم کیا ہے نبی کا منکر ’’اولٰئک ہم الکفرون حقا‘‘ کے فتویٰ کے نیچے ہے۔ محکم کیا ہے کافر کا جنازہ جائز نہیں۔‘‘
(الفضل ج ٢ ص ١٢٢،١٢٣ مورخہ ١٤،٦ اپریل ١٩١٥ء ص ٢،٤ ش ٣٠)
’’خاوند احمدی ہے۔ مگر بیوی نے بیعت نہیں کی تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔‘‘
- ٥....... ’’ایک شخص نے دریافت کیا کہ احمدی کی بیوی فوت ہو جائے اور اندیشہ
ہے کہ غیر احمدی اس کا جنازہ نہ پڑھیں گے۔ مگر تمام گھر کے آدمی احمدی ہوں اور بیوی مذکور نے بیعت نہ کی ہو تو اس کے جنازہ کا کیا حکم ہے۔ فرمایا جس کا ایمان کامل نہیں۔ اس کے جنازے کا کیا فائدہ؟‘‘
(الفضل مذکور ص٢)
مسلمان بچے کا جنازہ جائز نہیں
- ٦....... ’’پس غیر احمدی کا بچہ غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس جنازہ بھی نہ پڑھنا
چاہئے۔‘‘
(انوار خلافت ص٩٣)
مسلمان ہندوؤں اور عیسائیوں کی طرح کافر ہیں ان کو اپنی لڑکی مت دو
- ٧....... ’’کیا کوئی غیر احمدیوں (مسلمانوں) میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا
عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔‘‘
(ملائکۃ اللہ ص٤٦)
جہاد قطعاً حرام ہے
- ٨....... ’’ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے۔ اسی
روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔‘‘ (ضمیمہ رسالہ جہاد ص٧) ’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص٨١، خزائن ج٦ ص٣٨٠)
٨
......٩ ”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمادیا ہے کہ مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی کے) آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور (یعنی مرزا قادیانی) کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔“
اشتہار چندہ مینارۃ المسیح
......١٠ ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔ نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔“
(اشتہار واجب الاظہار ٤؍نومبر ١٩٠٠ء ص١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)
کیا یہ مسیح (مرزا قادیانی) پاگل ہے یا منافق؟
اچھے مسیح آئے کہ جس قوم کو دجال اور یاجوج ماجوج بتلائیں اور اس کو شکست دینے کے لئے اپنی مسیحیت ظاہر کریں اور اسی کی اطاعت اپنا جزو ایمان قرار دیں اور اسی سے قیامت تک کے لئے جہاد حرام فرمائیں۔
مشہور مقولے کے مطابق آپ جیسے مدعی مسیحیت سے ایسے متعارض کلمات کی امید تھی جو آپ کے پاگل یا منافق ہونے کی کھلی نشانی ہے۔ جیسا کہ آپ ہی کی مندرجہ ذیل کلام سے ظاہر ہے ”اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج١٠ ص ١٤٣)
مرزائیوں سے ایک سوال
کیا ابا جان کی اسی بہادری پر صاحبزادہ بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی قادیان اپنے پمفلٹ ”ندائے ایمان“ میں تبلیغ حق کے لئے مسیحی فوج میں بھرتی ہوکر اپنے ابا جان کے مندرجہ بالا ارشادات گرامی کے بمطابق مسلمانوں کے مقابلہ میں خون کی ندیاں بہانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ کے مندرجہ ذیل تبلیغی ٹریکٹ نمبر ٤ کی عبارت سے ظاہر ہے۔ ”حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں پر ایمان لاتے ہوئے احمدیت کو قبول کرو۔
٩
تاکہ یہ مصیبت کے دن ٹل جائیں۔ اگر وفادار ہوتو دیر نہ لگاؤ۔ اٹھو اور اپنے خونوں سے اس باغ کے درخت کو سیراب کرو۔ آسمانی باغ کنوؤں کے پانیوں سے نہیں بلکہ مومنوں کے خون سے سینچے جاتے ہیں۔‘‘ تبلیغی ٹریکٹ نمبر ٤، مذکورہ بالا عبارات میں مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود نے ساڑھے تیرہ سو سال کے متفقہ مسائل کو منسوخ فرما کر اس امر کی کامل تصدیق فرمادی ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے۔ غیر تشریعی کا نہیں۔ جیسا کہ ناظر دعوت وتبلیغ قادیان نے ناواقف لوگوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش فرمائی ہے۔ ورنہ اپنے منکر کو کافر اور اسلام کے مذکورہ بالا متفقہ مسائل پر خط تنسیخ کھینچنے کے کیا معنی۔ کیا ناظر دعوت وتبلیغ قادیان اور ان کے اذناب وانیاب کو ان تصریحات کے باوجود یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبی نہ تھے۔ کیا اب بھی بزرگان ملت کے ان اقوال کے مطابق جنہیں ناظر موصوف نے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے پمفلٹ میں شائع فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی کافر نہیں ہیں؟
آپ کے بعد ہر مدعی نبوت کافر ہے
دوسرے برادرانِ اسلام پر ہم اس امر کو بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ تمام اسلامی فرقے کتاب اللہ سنت رسول اللہ ﷺ اور اجماع امت کے مطابق اس امر پر متفق ہیں کہ آپ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اس پر اصرار کرنے والا واجب القتل ہے۔ جیسا کہ روح المعانی میں ہے۔ ”وکون صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطقت بہ الکتب وصدعت بہ السنۃ واجمعت بہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر“
(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٥)
حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے پر (نہ صرف قرآن کریم بلکہ) تمام آسمانی کتابیں ناطق ہیں اور احادیث نبویہ نے نہایت وضاحت سے اس مسئلہ کو بیان کر دیا ہے اور تمام امت نے اس پر اجماع اور اتفاق کیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اگر اصرار کرے تو واجب القتل ہے۔
خلاصۃ الفتاوٰی اور فصول عمادی میں ہے۔ ”ولوادعی رجل النبوۃ وطلب رجل المعجزۃ قال بعضہم یکفر وقال بعضہم ان کان غرضہ اظہار عجزہ وافتضاحہ لا یکفر“
(خلاصۃ ج ٤ ص ٣٨٦ فصول ص ١٣٠)
آپ کے بعد اگر کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کسی مسلمان نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض ائمہ نے کہا یہ معجزہ طلب کرنے والا بھی مطلقاً کافر ہے۔ (مدعی تو آپ کے بعد دعویٰ
١٠
نبوت کرنے کی وج سے کافر ہے اور فرمائی ہے) کہ ام کیا ہے تو کافر ٹھہر ہونے کے یہی مع آپ کے بعد پیا نبوت نہیں عطا ک پیدا بھی ہو چکے دوسرے گورنر لائیں گے جو ہذ فضیلت کو دیکھ کر ہو کر آپ کے ا تحفہ وجود نبی
(از اکفار ص ٢٢)
علیہ السلام (چو (دوبار آنے) ختم نبوت۔ بؤ ان مثلی و موضع ال وضعت ہذ الفضائل الفاظہ فک بن عساکر) مثال پہلے انب
نبوت کرنے کی وجہ سے کافر ہے اور طالب معجزہ آپ کے آخری نبی ہونے میں شک کرنے کی وجہ سے کافر ہے اور یہی قول امام اعظم ابو حنیفہ کا ہے۔ (خیرات الحسان ص ٥٠) اور بعض نے (یہ تفصیل فرمائی ہے) کہ اگر دوسرے مسلمان نے اس مدعی نبوت کو عاجز اور رسوا کرنے کے لئے معجزہ طلب کیا ہے تو کافر نہیں ہے۔ (آپ کے خاتم النبیین ہونے کے کیا معنی ہیں) اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کے یہی معنی ہیں کہ آپ کے بعد مطلقا منصب نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا اور نہ کوئی نیا نبی آپ کے بعد پیدا ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام جو آپ کے بعد تشریف لائیں گے۔ ان کو کوئی نیا منصب نبوت نہیں عطا کیا جائے گا۔ بلکہ آپ سے پہلے ان کو یہ منصب دیا جا چکا ہے اور وہ آپ سے پہلے پیدا بھی ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ ایک صوبہ کا گورنر دوسرے صوبہ میں آئے تو وہ بذاتہ گورنر بھی ہے اور دوسرے گورنر کے احکام کا پابند بھی ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام آپ کی امت میں تشریف لائیں گے جو بذاتہ رسول ہیں۔ لیکن تبلیغ احکام میں آپ کی شریعت کے تابع ہوں گے تا کہ آپ کی فضیلت کو دیگر انبیاء پر عملاً ثابت کر دیا جائے کہ اولو العزم صاحب شریعت جدیدہ آپ کے ماتحت ہو کر آپ کے احکام کی تبلیغ فرمائیں گے اور کسی نبی کو یہ فضیلت نہیں دی گئی۔
تحفہ شرح منہاج میں کلمات کفر شمار کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ”او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وعیسیٰ علیہ السلام نبی قبل فلا یرد“ (از اکفار ص ٤٢) (یعنی یہ بھی کفر ہے) کہ کسی کی نبوت آنحضرت ﷺ کے بعد جائز رکھے اور عیسیٰ علیہ السلام (چونکہ) آپ سے پہلے نبی بن کر منصب نبوت پا چکے ہیں۔ اس لئے ان کے نزول (دوبار آنے) سے آپ کے خاتم النبیین ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
ختم نبوت کے متعلق خود حضور ﷺ کا فیصلہ
بخاری اور مسلم میں ہے۔ حدیث ”عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع اللبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون ویعجبون لہ ویقولون ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ وانا خاتم النبیین (رواہ البخاری فی کتاب الانبیاء ومسلم فی الفضائل ج ٢ ص ٢٤٨، احمد فی مسندہ ج ٢ ص ٣٩٨، والنسائی والترمذی وفی بعض الفاظہ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ وختم بی البیان وختم بی الرسل ہکذا فی کنز لا بن عساکر) “ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میری مثال پچھلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے نہایت اچھا گھر بنایا۔ مگر اس کے ایک گوشہ
١١
میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر میں چھوڑ دی۔ پس لوگ اس گھر کو دیکھنے کے لئے جوق جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ ( تاکہ مکان نبوت کی تعمیر پوری ہو جاتی ) چنانچہ میں نے اس گوشہ کو پر کر دیا اور مجھ سے قصر نبوت مکمل ہوا اور میں خاتم النبیین ہوں یا مجھ پر تمام رسول ختم کر دیئے گئے۔ ﴾
جو لوگ مسئلہ ختم نبوت کو صرف نبوت تشریعیہ کے ساتھ خاص کر دینا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ امت مرزائی کا خیال ہے۔ اس حدیث کے مضمون پر غور فرمائیں کہ آنحضرت ﷺ نے کیسی بلیغ تمثیل کے ساتھ ان کے اوہام باطلہ کا استیصال فرما دیا ہے۔ کیونکہ اس تمثیل کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ایک عالی شان محل کی طرح پر ہے۔ جس کے ارکان انبیاء علیہم السلام ہیں خاتم الانبیاء ﷺ کے اس عالم میں تشریف لانے سے پہلے یہ محل بالکل تیار ہو چکا تھا۔ لیکن ایک اینٹ کی کمی اس کی تعمیر میں باقی تھی۔ جس کو خاتم الانبیاء ﷺ نے پورا فرما کر قصر نبوت کی تکمیل فرمادی۔ اب اس میں نہ تو نبوت تشریعیہ کی اینٹ کی گنجائش ہے اور نہ غیر تشریعیہ وغیرہ کی۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ مثل الانبیاء من قبلی کے عموم سے ظاہر ہے۔ جن میں انبیائے شریعت جدیدہ اور پہلے شریعتوں کے متبع سب شامل ہیں۔ کیونکہ ان سب کے مجموعہ ہی سے قصر نبوت بنا تھا۔ جس میں صرف ایک اینٹ کی کمی تھی جسے خاتم الانبیاء ﷺ نے پورا فرما کر ہمیشہ کے لئے اس کمی کا خاتمہ فرما دیا۔ اب آپ کے بعد کسی قسم کے نبی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
تفسیر ابن کثیر بر حاشیہ فتح الرحمان میں ہے:
حدیث نمبر ٢...... ” قال رسول الله ﷺ انا اول النبيين فى الخلق وآخرهم فى البعث “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں پیدائش میں تمام انبیاء علیہم السلام سے پہلے تھا اور بعثت میں سب سے آخر ہوں ۔ ﴾
اس حدیث نے اس امر کو بالکل واضح کر دیا ہے کہ اگر کوئی نیا نبی مرزا قادیانی کی طرح آپ کے بعد مبعوث ہوگا تو بعثت میں آپ کا سب سے آخر ہونا صحیح ثابت نہ ہوگا۔ جو مضمون حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے بخاری میں ہے:
حدیث نمبر ٣...... ” قال رسول الله ﷺ لم يبق من النبوة الا المبشرات “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبوت میں سے مبشرات کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ ﴾
اس سے بھی زیادہ مفصل حضرت عائشہ صدیقہ سے کنز العمال میں ہے:
حدیث نمبر ٤...... ” عن النبی ﷺ انه قال لا يبقى بعده من النبوة شئی
١٢
الامبشرات قالوا يارسول الله وماالمبشرات قال الرؤيا الصالحة يراها المسلم اوترى له ” آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد مبشرات کے سوا نبوت میں سے کوئی جز باقی نہیں رہے گا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ مبشرات کیا چیز ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھی خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔ ﴿
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ہر دو مذکورہ بالا حدیثوں نے بھی اس امر کو بالکل واضح کر دیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت تشریعی ہو خواہ غیر تشریعی سب کا خاتمہ ہے۔ اگر کوئی شخص مبشرات یعنی محض اچھا خواب دیکھنے کی وجہ سے نبی کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے تو پھر اس میں مرزا قادیانی کی کیا خصوصیت ہے۔ حضرت عائشہؓ ہی سے کنز العمال میں ہے:
حدیث نمبر ٥ ......” قال رسول الله ﷺ انا خاتم الانبياء ومسجدی خاتم مساجد الانبياء “ ” آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد مساجد انبیاء کی خاتم ہے۔ یعنی چونکہ میں نبیوں کا ختم کر دینے والا ہوں اور میری مسجد مساجد انبیاء کی ختم کر دینے والی ہے۔ اس لئے میرے بعد نہ تو کوئی نبی بنایا جائے گا اور نہ کوئی نبی کی مسجد بنے گی۔ ﴿
اُس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ دنیا میں میرے بعد کوئی بھی مسجد نہ بنے گی۔ جیسا کہ امت مرزائیہ اس حدیث کے جواب سے تنگ آ کر ایسا غلط معنی کیا کرتی ہے۔
کیا ان تصریحات کے بعد کسی مسلمان بلکہ کسی منصف انسان کو یہ حق باقی رہتا ہے کہ حضرت عائشہؓ پر افتراء باندھے کہ آپ ختم نبوت سے انکار فرماتی ہیں۔ (العیاذ باللہ ) جیسا کہ ناظر دعوت وتبلیغ قادیان نے اپنے پمفلٹ میں ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔
حضرت عائشہؓ پر مرزائیوں کا جھوٹا الزام اور اس کا جواب
گومذکورہ بالا صحیح اور معتبر روایت کی موجودگی میں :”قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبی بعدہ “ ﴿یہ تو کہو کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾ جیسی ضعیف روایت کا جواب ( جسے حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ) دینے کی چنداں ضرورت اور حاجت نہ تھی۔ لیکن چونکہ قصر مرزائیت کا سنگ بنیاد ناظر دعوت وتبلیغ قادیان نے اپنی تحریر میں اسی روایت کو قرار دیا ہے۔ اس لئے اس کے متعلق جواباً عرض کیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چونکہ قائل ہیں جیسا کہ جمہور صحابہ اور جمہور امت کا مذہب ہے اور لا نبی بعدہ سے بظاہر اس عقیدہ کی نفی لازم آتی ہے جو جمہور امت کے خلاف ہے۔
١٣
اس لئے فرماتی ہیں: ”قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبى بعده“ یعنی آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء تو بے شک کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد تشریف لانے والے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کے مندرجہ ذیل ارشاد سے حضرت عائشہؓ کی یہ مراد ظاہر ہے:
”حسبك اذا قلت خاتم الانبياء فانا كنا نحدث ان عيسى عليه السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده (درمنثور ص٢٠٤ج٥)“
﴿تمہارے لئے صرف خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے (لا نبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں) کیونکہ ہم سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نکلنے والے ہیں۔ پس جب وہ نکلیں گے تو وہ آپ سے پہلے بھی ہوئے اور بعد میں بھی۔ حضرت مغیرہ کے اس ارشاد نے اس امر کو بھی واضح کر دیا کہ آنے والے عیسیٰ علیہ السلام سے وہی مراد ہیں جو آپ سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی ہوں گے۔ مرزا قادیانی ہرگز مراد نہیں جو نہ پہلے تھا اور نہ بعد میں ہے۔﴾
حضرت عائشہؓ کے اس ارشاد کا یہ ہرگز منشاء نہ تھا کہ عائشہؓ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی اور نئے نبی یعنی مرزا قادیانی جیسے کے تشریف لانے کا عقیدہ رکھتی ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ بالا حدیثوں سے ظاہر ہے جن کے روایت کرنے والوں میں خود عائشہؓ بھی ہیں۔ (طاہر سندھی کی مراد)
یہی مراد اس عبارت کی ہے جسے ناظر صاحب موصوف نے سید محمد طاہر سندھی کے حوالہ سے تکملہ مجمع البحار سے نقل کیا ہے۔ جیسا کہ ان کے الفاظ ”هذا ناظر الى نزول عيسى وهذا ايضاً لا ينافي لانبي بعدي“ یعنی حضرت عائشہؓ کا یہ قول ”لا تقولوا لانبی بعدہ“ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کو مدنظر رکھ کر کہا گیا ہے اور یہ حضور کے ارشاد ”لانبی بعدی“ کے بھی مخالف نہیں ہے۔ ظاہر ہے طاہر سندھی کا یہ ہرگز منشا نہیں ہے کہ عائشہؓ صدیقہؓ عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی اور نبی کے آنے کی قائل نہیں۔ کیونکہ یہ امر عائشہؓ کی مذکورہ بالا روایت کے قطعاً مخالف ہے۔
اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی مراد
اور یہی مراد بزرگان ملت کے ان اقوال کی ہے۔ جنہیں ناظر دعوۃ وتبلیغ قادیان نے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے پیش کیا ہے۔ کیونکہ اگر مرزا قادیانی اور ناظر صاحب کے بیان کردہ معنی نبوت کے مطابق ان بزرگان ملت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی اور نبی غیر تشریعی کا آنا ثابت ہوتا ہے اور بروایۃ ابن ماجہ ”لو عاش ابراهيم لكان نبياً“ اگر ابراہیم علیہ السلام زندہ
١٤
رہتے تو البتہ نبی ہوتے۔ کے یہ معنی ہوتے کہ آپ کے بعد سچے نبی آئیں گے جو کہ حضرت انس کے بیان کردہ معنی ”ولو بقى لكان نبياً لكن لم يبق لان نبيكم واخر الانبياء“ اور اگر ابراہیم باقی رہتے تو نبی ہوتے۔ لیکن اس لئے باقی نہ رہے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں کے قطعاً مخالف ہے تو ملا علی قاری بلاقید تشریعی آپ کے بعد مدعی نبوت کو کافر قرار نہ دیتے۔ جیسا کہ علامہ موصوف شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں کہ: ”دعوى النبوة بعد نبيناﷺ كفر بالاجماع (شرح فقہ اکبر ص٢٠٦)“ ﴿اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبیﷺ کے بعد بالاجماع کفر ہے۔﴾
نیز علامہ موصوف شرح شمائل میں مہر نبوت کو نبوت کی طرف اضافت فرما کر بیت نبوت میں کسی آنے والے نبی کا داخلہ ممنوع قرار دیتے۔ جیسا کہ شرح شمائل میں ہے: ”واضافة الى النبوة لانه ختم به بيت النبوة حتى لا يدخل بعده احد“ ﴿مہر نبوت کی اضافت نبوت کی طرف اس لئے ہے کہ اس کے ذریعے سے محل نبوت پر مہر لگ چکی ہے۔﴾
یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی اس میں داخل نہ ہوگا۔ نیز آیۃ قرآنیہ ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا“ ﴿اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو البتہ زمین وآسمان برباد ہو جاتے۔﴾ کے بھی یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے سوا اور معبود بھی ہو سکتے ہیں۔
نیز ”لو كان للرحمن ولداً فانا اول العابدين“ ﴿اگر خدا کے لئے بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔﴾ کے بھی یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ قطعاً باطل ہے۔ اسی طرح مذکورہ بالا روایۃ ابن ماجہ کے یہ معنی لینا کہ آپ کے بعد نبی ہو سکتے ہیں۔ بھی باطل ہے۔ ورنہ خدا کا شریک اور خدا کا بیٹا ماننا پڑے گا۔ جو قطعاً باطل ہے۔
علامہ موصوف کی ان تصریحات نے محل نبوت پر مہر لگا کر مرزا قادیانی کی ایجاد کردہ نبوت تشریعی اور غیر تشریعی دونوں کا خاتمہ فرما دیا ہے۔ (نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کے بیان کردہ معنی غلط ہیں) نیز شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کے نزدیک مرزا قادیانی کے بیان کردہ معنی نبوت کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اگر کسی غیر تشریعی نبی کا آنا ثابت ہوتا تو اپنی کتاب (فتوحات مکیہ ج٣ ص٥١) پر مندرجہ ذیل تصریح فرما کر مرزا قادیانی اور ان کے اذناب وانیاب کی امیدوں پر ہمیشہ کے لئے پانی نہ پھیر جاتے۔ جیسا کہ ارشاد فرماتے ہیں۔ ”فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات وانسدت ابواب الاوامر والنواهي فمن ادعا مقاما بعد محمدﷺ فهو مدعى شريعة اوجبها الله سواء وافق بها شرعنا او خالف“، یعنی آج اولیاء کے لئے نبوت اٹھ جانے کے بعد بجز تعریفات کچھ باقی نہیں رہا اور
١٥
امر ونواہی کے سب دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اب جو کوئی محمد ﷺ کے بعد امر ونہی کا مدعی ہو (جیسے مرزا قادیانی اربعین نمبر ٤ ص ٦،٧) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے خواہ وہ وحی ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔
شیخ اکبر کی اس عبارت نے اس امر کو بالکل واضح کردیا کہ مرزا قادیانی اور ناظر صاحب کے بیان کردہ معنی نبوت تشریعی اور غیر تشریعی غلط ہیں۔ بلکہ آپ کے بعد ”ہر مدعی نبوت خواہ اس کی وحی پہلی وحی کے مطابق ہو جسے مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی فرماتے ہیں یا مخالف۔ جسے آپ تشریعی نبی قرار دیتے ہیں“ اصطلاح شریعت میں تشریعی نبی کہلاتا ہے۔ جو مرزا قادیانی نیز ناظر صاحب موصوف کے بیان کردہ معنی نبوت کے سراسر خلاف ہے۔ نیز امام عبدالوہاب شعرانی نے (الیواقیت والجواہر ص٢٣ ج٢) شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت پر عبارت ذیل ”فان کان مکلفاً ضربنا عنقہ والاضربنا عنہ صفحا“ ﴿پھر اگر وہ مدعی نبوت مکلف ہے یعنی مجنون وغیرہ نہیں تو ہم اسے قتل کریں گے اور اگر مکلف نہیں یعنی دیوانہ ہے تو اس سے اعراض کریں گے۔﴾ کا اضافہ فرما کر اس امر کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ امام موصوف کی عبارت مندرجہ پمفلٹ کا وہ مطلب نہیں ہے جسے ناظر قادیان نے بیان کیا ہے۔ بلکہ ایسی نبوت یعنی غیر تشریعی کے مدعی کو بھی امام موصوف واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت پر امام موصوف کے اضافہ سے ظاہر ہے۔
شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت میں جب یہ امر طے کردیا گیا ہے کہ ہر مدعی نبوت خواہ احکام جدیدہ لانے والا ہو خواہ پہلی شریعت کا تابع ہوکر دعویٰ نبوت کرنے والا ہو۔ اصطلاح شریعت میں تشریعی نبی کہلاتا ہے تو ناظر موصوف کا عارف ربانی عبدالکریم جیلانی اور شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نیز علامہ لکھنویؒ کی نقل کردہ عبارات میں انقطاع نبوت تشریعی کا یہ معنی بیان کرنا کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے غیر تشریعی نبی جو پہلی شریعت پر عامل ہو۔ آسکتا ہے۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع امت نیز شیخ اکبر کی مندرجہ بالا تصریح کے قطعاً مخالف ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہے اور یہ ان بزرگان ملت پر امت مرزائیہ کی طرف سے علانیہ احکام شرعیہ کی مخالفت کا جھوٹا الزام ہے۔
اسی طرح مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند کی غیر متعلقہ عبارتوں کو اوّل آخر کاٹ کر غلط طریق پیش کرنے سے مولانا موصوف کے خلاف غلط فہمی پھیلانا ہے۔ جس سے ناظر موصوف کی دیانت کا پتہ چلتا ہے۔ ورنہ مولانا مرحوم کا مقصد آنحضرت ﷺ کے کمالات
١٦
امر و نواہی کے سب دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اب جو کوئی محمدﷺ کے بعد امرونہی کا مدعی ہو (جیسے مرزا قادیانی اربعین نمبر ٤ ص ٧،٦) وہ اپنی طرف وحی شریعت آنے کا مدعی ہے خواہ وہ وحی ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔
شیخ اکبر کی اس عبارت نے اس امر کو بالکل واضح کردیا کہ مرزا قادیانی اور ناظر صاحب کے بیان کردہ معنی نبوت تشریعی اور غیر تشریعی غلط ہیں۔ بلکہ آپ کے بعد ”ہر مدعی نبوت خواہ اس کی وحی پہلی وحی کے مطابق ہو جسے مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی فرماتے ہیں یا مخالف۔ جسے آپ تشریعی نبی قرار دیتے ہیں“ اصطلاح شریعت میں تشریعی نبی کہلاتا ہے۔ جو مرزا قادیانی نیز ناظر صاحب موصوف کے بیان کردہ معنی نبوت کے سراسر خلاف ہے۔ نیز امام عبدالوہاب شعرانی نے (الیواقیت والجواہر ص ٣٢ ج ٢) شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت پر عبارت ذیل ”فــــــان كان مكلفاً ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً“ ﴿پھر اگر وہ مدعی نبوت مکلف ہے یعنی مجنون وغیرہ نہیں تو ہم اسے قتل کریں گے اور اگر مکلف نہیں یعنی دیوانہ ہے تو اس سے اعراض کریں گے۔﴾ کا اضافہ فرما کر اس امر کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ امام موصوف کی عبارت مندرجہ بالا کا وہ مطلب نہیں ہے جسے ناظر قادیان نے بیان کیا ہے۔ بلکہ ایسی نبوت یعنی غیر تشریعی کے مدعی کو بھی امام موصوف واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت پر امام موصوف کے اضافہ سے ظاہر ہے۔
شیخ اکبر کی مندرجہ بالا عبارت میں جب یہ امر طے کر دیا گیا ہے کہ ہر مدعی نبوت خواہ احکام جدیدہ لانے والا ہو خواہ پہلی شریعت کا تابع ہو کر دعویٰ نبوت کرنے والا ہو۔ اصطلاح شریعت میں تشریعی نبی کہلاتا ہے تو ناظر موصوف کا عارف ربانی عبدالکریم جیلانی اور شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نیز علامہ لکھنویؒ کی نقل کردہ عبارات میں انقطاع نبوت تشریعی کا یہ معنی بیان کرنا کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے و غیر تشریعی نبی جو پہلی شریعت پر عامل ہو۔ آسکتا ہے۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع امت نیز شیخ اکبر کی مندرجہ بالا تصریح کے قطعاً مخالف ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہے اور یہ ان بزرگان ملت پر امت مرزائیہ کی طرف سے علانیہ احکام شرعیہ کی مخالفت کا جھوٹا الزام ہے۔
اسی طرح مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند کی غیر متعلقہ عبارتوں کو اوّل آخر کاٹ چھانٹ کر غلط رنگ میں پیش کرنے سے مولانا موصوف کے خلاف غلط فہمی پھیلاتا ہے۔ جس سے ناظر موصوف کی دیانت کا پتہ چلتا ہے۔ ورنہ مولانا مرحوم کا مقصد آنحضرتﷺ کے کمالات
١٦
مرزائیوں سے چند سوال
- ......١ مرزا قادیانی نے لکھا تھا: ’’میرے زمانہ میں دنیا کی تمام قومیں ایک مسلم
قوم کی شکل بن جائیں گی۔‘‘ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ص ٢٣١) کیا ایسا ہو گیا ؟
- ......٢ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’میرے زمانہ میں مکہ مدینہ کے درمیان ریل
جاری ہو جائے گی۔‘‘ (اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ص ١٠٨) کیا یہ کام ہو گیا ؟
- ......٣ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’میں دجال کو مسلمان بنا کر ساتھ لے کر حج
کروں گا۔‘‘ (ایام الصلح فارسی ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ص ٤١٦) کیا ایسا ہو گیا ؟
- ......٤ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’میں مدینہ میں روضہ نبویہ میں دفن ہوں گا۔‘‘
(ازالہ ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢) کیا ایسا ہوا ؟
- ......٥ مرزا قادیانی نے لکھا تھا۔ ’’عبداللہ آتھم پادری پندرہ ماہ میں (٦؍ستمبر
١٨٩٤ء تک مر جائے گا)‘‘ (جنگ مقدس ص ١٨٨) کیا ایسا ہوا ؟
- ......٦ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’مرزا احمد بیگ کی بیٹی سے میرا نکاح آسمان
پر ہو چکا ہے۔ دنیا میں اگر یہ بیوی میرے پاس نہ آئے تو میں جھوٹا ۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) کیا یہ منکوحہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے مطابق ان کے گھر میں آ گئیں؟
- ......٧ مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ: ’’مجھ سے خدا نے فرمایا ہے ۔ ’’انما امرک
اذا اردت شیئاً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ یعنی اے مرزا قادیانی تو جب کسی چیز کو موجود ہونے کا حکم دے گا تو فوراً ہو جائے گی ۔‘‘ (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) کیا ایسا دعویٰ کسی نبی نے کیا ؟
- ......٨ مرزا قادیانی نے شائع کیا تھا کہ: ’’مولوی ثناء اللہ اور میں ہم دونوں میں
سے جو خدا کے نزدیک جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔‘‘
(اشتہار ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧٨)
مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے اور مولوی ثناء اللہ صاحب آج نومبر ١٩٣٣ء تک زندہ ہیں۔ پھر تم کو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا شبہ ہے؟
نوٹ: ایک آنہ کا ٹکٹ آنے پر یہ رسالہ مفت روانہ کیا جائے گا۔ مؤلف رسالہ ہذا سے طلب فرمائیں۔ نیز رسالہ شعبان المعظم اور شب برأت کے احکام ایک آنہ کا ٹکٹ آنے پر روانہ ہوگا۔ العبد بندہ محمد نعیم عفا اللہ عنہ ،مفتی لدھیانہ، پنجاب!
١٨
ے زمانہ میں دنیا کی تمام قومیں ایک مسلم ٤٢ ص ٢٣١) کیا ایسا ہو گیا؟ ے زمانہ میں مکہ مدینہ کے درمیان ریل یہ کام ہو گیا؟ دجال کو مسلمان بنا کر ساتھ لے کر حج ایسا ہو گیا؟ مدینہ میں روضہ نبویہ میں دفن ہوں گا۔‘‘ ؟ عبداللہ آتھم پادری پندرہ ماہ میں (٦ ستمبر ؟ احمد بیگ کی بیٹی سے میرا نکاح آسمان میں جھوٹا ۔‘‘ (شہادة القرآن ص ٨٠، خزائن ابق ان کے گھر میں آگئیں؟ سے خدا نے فرمایا ہے ۔’’انما امرك سے مرزا قادیانی تو جب کسی چیز کو موجود ا، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) کیا ایسا دعویٰ کسی
مولوی ثناء اللہ اور میں ہم دونوں میں
١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨) ر مولوی ثناء اللہ صاحب آج نومبر نے میں کیا شبہ ہے؟ روانہ کیا جائے گا۔ مؤلف رسالہ ہذا کے احکام ایک آنہ کا ٹکٹ آنے پر اللہ عنہ، مفتی لدھیانہ پنجاب!
خاتم النبيين لا نبي بعدي
سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صاعقہ آسمانی
بر
فتنہ قادیانی
(حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ)
بسم الله الرحمن الرحيم!
”الحمدلله الذي بعث الينا اشرف الرسل خاتم النبيين داعيا الى اقوم السبل بلسان عربی مبین فصلے الله تعالیٰ علیه وعلىٰ اله وصحبه اجمعين وعلى الذين اتبعواهم باحسان الى يوم الدين“
اما بعد! واضح ہو کہ اس زمانہ میں جب کہ تمام باشندگان ہند خصوصاً اہل اسلام چند در چند مصائب میں مبتلا اور نہایت اہم افکار میں مشغول ہیں اور ایک مشترک مقصد نے ہندو اور مسلمانوں کو باہم متفق بنا دیا ہے۔ بعض اسلام کا نام لینے والے مگر درحقیقت اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ حرکات میں اسی طرح منہمک ہیں جیسا کے تھے۔ ان دشمنان اسلام میں مرزائی صاحبان کا نمبر شاید سب سے اول ہے۔ سبحان اللہ ! مسلم و ہندو باہم متفق شدند لیکن مرزائیان با اہل اسلام ہنوز جنگ باقی است۔
ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مارچ ١٩٢١ء میں جو عظیم الشان جلسہ اہل اسلام کا خاص مقام قادیان میں ہوا اور نامور علمائے ہندوستان نے اس دارالکفر والتکفیر میں کلمہ حق کو بلند کیا۔ کون مرزائی ہے جس کے سینے میں اس کا داغ نہ ہو اور جس کے دل میں اس کا خار حسرت نہ چبھا ہو۔ جلسہ تو بخیر و خوبی بڑی شان وشوکت سے ختم ہو گیا اور کسی مرزائی میں حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے فرزند ارجمند اور خلیفہ ثانی مرزا محمود میں جرأت نہ ہوئی کہ گھر سے باہر نکلتے اور علمائے اسلام کے مقابلہ میں آتے۔ البتہ جلسہ کے بعد اب اپنے گھروں میں بیٹھ کر زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور رسالے لکھ لکھ کر سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنانے میں مشغول ہیں۔ چنانچہ فی الحال ایک رسالہ موسوم بہ ”خاتمہ مسیح آسمانی“ میاں اللہ دتہ صاحب قادیانی نے شائع کیا ہے جو اپنا نام اب عمر قادیانی ظاہر کرتے ہیں۔ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ اس رسالہ میں اپنے خانہ ساز پیغمبر کی سنت کے مطابق یہ تحدید کی ہے کہ ٣١؍ جنوری تک اگر علمائے اسلام اس کا جواب نہ شائع کریں تو پھر ہمیشہ کے لئے حیات مسیح کے اثبات میں سکوت اختیار کریں۔ چنانچہ پیر بخش صاحب لاہوری سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور جو اصلی مخاطب اس رسالہ کے ہیں۔ انہوں نے فی الفور حسب ذیل اعلان اپنے رسالہ تائید الاسلام بابت ماہ جنوری میں شائع کر دیا ہے۔
- ١ انجمن تائید الاسلام نے کئی رسالے اثبات حیات مسیح علیہ السلام میں اور کئی رسالے رد
وفات مسیح علیہ السلام میں اور کئی ان کے رفع کے ثبوت میں کئی ان کے نزول کے بیان میں شائع ہو چکے ہیں۔ اللہ دتہ صاحب نے کسی کا جواب نہ دیا۔ صرف ان کی تقریر قادیان کا جواب دینا چہ معنی۔
٢
”برادران اسلام! قادیان سے ایک چیلنج موسومہ ”خاتمہ مسیح آسانی“ میرے نام رجسٹری ہو کر آیا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ اس کا جواب ٣١؍جنوری ١٩٢٢ء تک دو۔ چیلنج کیا ہے ایک ذخیرہ خرافات اور ہفوات الجاہلین اور سراسر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک اور بے حرمتی ہے۔ میاں اللہ دتہ صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حیاتِ مسیح کی تردید کر کے وفاتِ مسیح ثابت کروں گا اور خاکسار کے دلائل کا (جو پہلے انجیل اور پھر قرآن اور احادیث نبوی سے پیش کئے گئے تھے) جواب دوں گا۔ مگر میاں اللہ دتہ صاحب نے میری ایک بات کا بھی جواب نہیں دیا۔ البتہ علمائے اسلام جو کہ جلسہ قادیان میں شامل تھے اور جنہوں نے تقریریں کی تھیں۔ ایک ایک کا نام لے کر ہتک آمیز اور خلاف تہذیب الفاظ استعمال کر کے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کیا ہے اور ’من اکرم علماء امتی فاکرمنی ومن اخذل علماء امتی فاخذلنی‘ یعنی جس نے میری امت کے علماء کی عزت کی میری عزت کی اور جس نے ہتک کی میری ہتک کی۔
ارشادِ نبی کریم ﷺ کی خوب مخالفت کی ہے۔ خاص کر میرے پر بہت ہی دل کی بھڑاس نکالی ہے اور دل کھول کر ہتک آمیز خلافِ تہذیب کلمات منہ سے نکالے ہیں اور اصل مضمون زیر بحث حیات و وفاتِ مسیح سے گریز کر کے یہودیانہ طرز کے ٢٧ سوالات من گھڑت ایجاد کر کے جواب طلب کیا ہے اور ایک آیت یا حدیث یا قول سلف صالحین کا بھی پیش نہیں کیا۔ جس میں لکھا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر موت وارد ہو گئی ہے یا خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار دیا ہے۔ ہاں بالکل جھوٹ بلا دلیل لکھ دیا ہے کہ علمائے اسلام حیاتِ مسیح ثابت نہ کر سکے۔ میاں اللہ دتہ صاحب کو واضح ہو کہ انجمن تائید الاسلام لاہور کی طرف سے ان کے چیلنج کا جواب دیا جائے گا۔ مگر میعاد ٢١ دن کی اس تاریخ سے محسوب ہوگی۔ جس تاریخ کا آپ کا جواب موصول ہوگا۔ مگر پہلے آپ ذیل کے سوالات کا جواب دیں۔ آپ کے جواب آنے پر ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔
- ١....... آپ نے ص ٨ پر لکھا ہے کہ جس وقت یہود نامسعود یہ سوالات مسیح سے کریں گے تو
مسیح کیا جواب دیں گے۔ آپ کے اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ سائل یہودی ہے۔ آپ سائل کا مذہب بتا دیں۔
- ٢....... خلیفہ صاحب قادیانی کی اجازت سے یہ چیلنج دیا ہے یا خود بخود۔
- ٣....... جناب اکمل صاحب، سید سرور شاہ صاحب، میر قاسم علی صاحب وغیرہم کے مشورہ
سے یہ ٢٧ سوالات کئے ہیں۔
٣
- ٤۔ جوابات یہودیوں کی کتاب سے دیئے جائیں یا مسلمانوں کی کتابوں سے۔
جواب کا منتظر پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید الاسلام !“
اس مضمون کے بعد اب کسی کو حاجت میاں اللہ دتہ کے رسالہ کا جواب لکھنے کی نہ تھی۔ مگر چونکہ حضرت اقدس مخدوم ومطاع مسلمین جناب مولانا سید محمد علی صاحب مونگیری دامت برکاتہم دعت کو بھی مخاطب بنایا گیا ہے۔ اس لئے خانقاہ دین پناہ رحمانی سے ایک رسالہ بنام ”رسائل لاثانی“ شائع کر دیا گیا۔ جس میں علاوہ دوسری مفید اور کارآمد باتوں کے ان چودہ کتب ورسائل کے نام مع مختصر کیفیت درج کی گئی ہیں۔ جو علمائے اسلام کی طرف سے حیات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن کے جواب سے تمام مرزائی عاجز و ساکت ہیں۔ ان میں بعض کتب وہ ہیں جو خود مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں شائع ہوئیں اور وہ ان کا جواب نہ دے سکے۔ بعض کتب وہ ہیں جو ان کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین قادیانی کے وقت میں شائع ہوئیں اور وہ بھی ان کے جواب سے قاصر رہے۔
حق تو یہ ہے کہ اب مسئلہ حیات و وفات مسیح علیہ السلام پر لب کشائی مرزائیوں کے لئے بالکل خلاف حیا وانصاف تھے۔ تا وقتیکہ وہ ان چودہ کتب کا جواب نہ دے لیں۔ جن میں زبردست براہین ودلائل آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت کی گئی ہے اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے جس قدر دلائل وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق پیش کئے تھے سب کا شافی و کافی جواب دے کر روز روشن کی طرح دکھا دیا گیا ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا منکر نہ صرف اجماع قطعی کا مخالف بلکہ در حقیقت خدا اور خدا کے رسول خاتم الانبیاء ﷺ کا مکذب ہے۔
رسائل لاثانی میں سو سے زائد ان کتب ورسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جن میں مرزائیوں کے خانہ ساز پیغمبر مرزا غلام احمد قادیانی کا کذاب و دجال ہونا اور خود اسی کے قول سے اس کا بد سے بدتر ہونا ثابت کیا گیا ہے اور ان کتب کا بھی کوئی مرزائی باوجود ایں ہمہ مشق یاوہ گوئی جواب نہیں دے سکا۔ مرزائیوں کو شرم کرنا چاہئے۔ اب وہ کس منہ سے مسلمانوں کے سامنے یہ لاف وگزاف بکتے ہیں۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
الغرض ! اب اس رسالہ نوزائیدہ کی طرف توجہ کرنے کی بالکل حاجت نہ تھی۔ کیونکہ جواب کافی بلکہ اکفی ہو چکا تھا۔ لیکن محض اس خیال سے کہ ناواقفوں کو یہ کہہ کر بہکایا جائے کہ ہمارے بہتر مطالبات کا جواب نہ دیا گیا۔ یہ رسالہ ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ جس میں ایک نکتہ ہے اور دو لطیفہ اور ایک خاتمہ۔
٤
نکتہ یعنی ایک نہایت ضروری بات
جو مرزائیوں کے مقابلہ میں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے یہ ہے کہ مرزائیوں کا ایک خاص کید ہے جو انہوں نے اپنے خانہ ساز پیغمبر سے سیکھا ہے کہ کبھی حیات و وفات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کی چھیڑ دیتے ہیں۔ کبھی ختم نبوت کی بحث لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ ان مباحث کو مرزا قادیانی کی ذات سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ ان مباحث میں مسلمانوں کو مشغول رکھ کر یہ موقع نہ دیں کہ مرزا قادیانی کے حالات سے ان کو واقفیت ہو اور اس کی دجالیت پر پردہ پڑا رہے۔
الغرض بالفرض کفرض المحال مسیح علیہ السلام کی وفات مان لی جائے اور تمام دلائل قرآن و حدیث سے آنکھ بند کر دی جائے اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے ۔ تسلیم المکذوبات کہ نعوذ باللہ نبوت حضرت محمدﷺ پر ختم نہیں ہوئی تو اس سے یہ کیونکر ثابت ہو سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جو ایک جھوٹا اور مکار دغا باز ناخدا ترس خدا کے نبیوں کی توہین کرنے والا اور خود اپنے اقوال وافعال کی رو سے بد سے بدتر شخص تھا۔ مسیح موعود بن جائے اور خدا کا نبی و رسول ہو جائے؟
مان لو کہ ایک بادشاہ مر گیا اور اس کا تخت خالی ہے اور بادشاہت کا سلسلہ بھی بند نہیں ہوا تو اس سے یہ نتیجہ کیونکر نکلے گا کہ فلاں چمار یا بھنگی جس میں نہ کسی قسم کی لیاقت ہے نہ قابلیت۔ بلکہ تمام وہ باتیں اس میں موجود ہیں جو منصب بادشاہی کے منافی و مخالف ہیں۔ اس بادشاہ کا قائم مقام اور تاج شاہی کا مستحق و مالک ہو جائے۔
ور ہما از جہان شود معدوم
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جب کوئی مرزائی ان سے حیات وفات یا ختم نبوت کی بحث کرنا چاہے تو اس سے کہہ دیں کہ ان مسائل پر بحث اس وقت ہوگی جب تم مرزا قادیانی میں اوصاف نبوت ثابت کر دو اور شریعت ربانی کی طرف سے مرزا قادیانی پر جو فرد جرم لگائی گئی ہے۔ اس کی صفائی پیش کردو۔ ”وانی لھم ذلک“
مرزا غلام احمد قادیانی کے اوصاف مذکورہ خصوصاً ان کے جھوٹ بولنے اور انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کے واقعات معلوم کرنے کے لئے منجملہ زائد از یکصد رسائل کے جو خانقاہ عالیہ رحمانی سے شائع ہوچکے ہیں۔ اس وقت صرف دو رسالوں کا نام لکھا جاتا ہے جو ہر شخص خصوصاً مرزائی صاحبان کو صرف محصول ڈاک کا ٹکٹ بھیجنے سے بلا قیمت مل سکتے ہیں۔ اوّل آئینہ
٥
کمالات مرزا دوم چیلنج محمدیہ وصولت فاروقیہ۔
پہلا لطیفہ یعنی اللہ دتہ صاحب کے ٧٢ مطالبات
اللہ دتہ صاحب نے کمال یہ کیا ہے کہ پیر بخش صاحب سیکرٹری انجمن تائید الاسلام کی مطبوعہ ٦ صفحہ کی تقریر میں سے ایک ناتمام ٹکڑا ص ٥ سے نقل کر کے اس پر محض بے مغز و بے معنی ٧٢ سوالات قائم کر دیئے ہیں۔ بس یہی دو باتیں پورے رسالے کی کائنات ہیں۔
پہلے ٹکڑے کی حقیقت
یہ ہے کہ پیر بخش صاحب نے اس آیت سے حیات مسیح علیہ السلام کو ثابت کیا ہے۔
”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“
﴿نہیں قتل کیا یہودیوں نے عیسیٰ کو اور نہ صلیب دی ان کو ولیکن مشابہ کر دیا گیا۔ (عیسیٰ کے ایک دوسرا شخص) یہودیوں کے لئے اور نہیں قتل کیا یہودیوں نے عیسیٰ کو یقین کے ساتھ بلکہ اٹھا لیا عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف۔ ﴾
واقعی یہ آیت بڑی وضاحت کے ساتھ مسیح علیہ السلام کے مع جسم زندہ اٹھالئے جانے پر دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کرنے اور صلیب دینے ، دونوں کی نفی کر کے فرمایا کہ انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے ان کو اٹھا لیا۔ زبان عرب میں لفظ بل اضراب کے لئے آتا ہے۔ یعنی مضمون ماقبل کی نفی کر کے اس کے منافی مضمون ثابت کرنے کے واسطے اور رفع یعنی اٹھا لینا قتل کے منافی جبھی ہوگا کہ زندہ مع جسم اٹھا لینا مراد لیا جائے۔ ورنہ جیسا کہ مرزائی کہتے ہیں کہ رفع سے یہاں مراد مرتبہ کا بلند کرنا ہے۔ اس صورت میں رفع منافی قتل کے نہ رہے گا۔ منافات چہ معنی ، قتل فی سبیل اللہ تو مرتبہ کی بلندی کا ایک اعلیٰ سبب ہے۔ باقی رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مقتول ہونا غیر انبیاء کے لئے باعث بلندی رتبہ ہے اور انبیاء کے لئے باعث ذلت اور شان نبوت کے خلاف ہے۔ ایک نامعقول یہودیانہ مقولہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے یہودیوں سے لیا ہے۔ دین اسلام نے قتل فی سبیل اللہ کو نبی غیر نبی سب کے لئے بلا تفریق باعث فضیلت قرار دیا ہے۔ سید الانبیاءﷺ فرماتے ہیں۔ ”انی احب ان اقتل فی سبیل اللہ ثم احیی ثم اقتل ثم احیی ثم اقتل (بخاری)“ یعنی میں آرزو رکھتا ہوں کہ راہ خدا میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔
قرآن شریف میں ہے۔ ”ویقتلون النبیین بغیر حق“ اور ”وقتلہم الانبیاء بغیر حق“ یعنی یہودیوں نے نبیوں کو قتل کیا تھا اور خاص سرور انبیاءﷺ کے لئے
٦
فرمایا ۔ ”افائن مات اوقتل انقلبتم على اعقابكم“ یعنی اگر محمدﷺ کو موت آ جائے یا وہ قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے ۔ معلوم ہوا کہ قتل ہو جانا خاص کر راہ خدا میں ہرگز منافی شان نبوت نہیں ۔ پس رفع کے معنی بلندی رتبہ لینا کسی طرح قتل کے منافی نہیں ہو سکتا اور لفظ بل بتا رہا ہے کہ یہاں رفع منافی قتل ہے ۔ لہٰذا قطعاً ثابت ہو گیا کہ رفع سے مراد زندہ مع جسم اٹھا لینا ہے ۔ یہ تقریر استدلال کی اس تقریر سے بالکل جدا ہے ۔ جو رفعہ کی ضمیر سے کیا گیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھر رہی ہے۔ جن کی طرف ”ماقتلوہ“ اور ”ماصلبوہ“ کی ضمیریں پھر رہی ہیں ۔ تو جس طرح وہاں جسم و روح دونوں کے مجموعہ کی طرف ضمیر پھرتی ہے ۔ اسی طرح رفعہ میں بھی دونوں کے مجموعہ کی طرف پھرنا قطعی ہے ۔
اللہ دتہ کا اعتراض اس مقام پر یہ ہے۔
اول ...... تو ”رفع الى السماء بجسده العنصری“ کے الفاظ آیت متذکرہ بالا میں دکھاؤ ورنہ کذب بیانی اور دھوکا دہی سے بچو ۔ اب لے دے کر رفعہ پر رہی کہ رفعہ آسمان پر ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہاں تو رفعہ کے ساتھ الی السماء موجود نہیں اور اگر ہو بھی تو تب بھی کوئی شخص رفعہ کے ہونے سے آسمان پر نہیں جا سکتا ۔ مثال کے طور پر ایک حدیث درج کرتا ہوں ۔ ”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة رواہ الخرائطے فی مکارم الاخلاق عن ابن عباس“ خرائطی اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے کہ جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا کر لے جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو
(کنز العمال ج ٢ ص ١٢٥)
اگر چہ ہماری تقریر بالا کے بعد اس اعتراض کی کچھ وقعت نہ رہی ۔ کیونکہ ہمارا استدلال صرف رفع کے لفظ سے نہیں ہے۔ مگر پھر بھی چند لطائف اس کے علاوہ علمی اغلاط کے حسب ذیل ہیں۔
- ١ ...... یہ کہنا کہ بجسدہ العنصری کا لفظ آیت میں نہیں، معلوم ہوا کہ اگر صرف
بجسدہ کا لفظ بغیر قید عنصری کے ہوتا۔ تب بھی مرزائی نہ مانتے اور میں کہتا ہوں کہ بالفرض یہ الفاظ بھی ہوتے تب بھی مرزائی نہ مانتے۔ جیسی تاویلات بدتر از تحریفات مرزائیوں کا خانہ ساز پیغمبر کیا کرتا ہے۔ ان کا دروازہ تو اب بھی بند ہوتا۔ کہہ دیتا کہ جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ صلیب سے اتار لئے گئے اور ان کے جسد عنصری کو یہ رفعت حاصل ہوئی کہ صلیب پر مرنا جو منافی شان نبوت ہے اس سے بچا لیا گیا۔ چنانچہ یہی اس کا قول بھی ہے۔
٧
مرزائیوں کی یہ باتیں کفار مکہ کی باتوں کے مشابہ ہیں کہ وہ رسول خداﷺ سے کہتے تھے کہ لکھی لکھائی کتاب آسمان سے اتر آئے۔ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جائیں وغیرہ وغیرہ۔ تو ہم آپ کو نبی مانیں، خدا نے فرمایا کہ یہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہو جائیں تب بھی یہ ماننے والے نہیں۔ سچ ہے جب دل سیاہ ہو جاتا ہے تو یہی کیفیت ہوتی ہے۔
- ٢....... ایک روایت جو پیش کی ہے کہ اس میں رفع سے بلندی رتبہ مراد ہے۔
(قطع نظر اس سے کہ اس روایت کی صحت ثابت نہیں کی) ایک عجیب کارروائی ہے۔ کسی قرینہ کی وجہ سے کسی لفظ کے کہیں معنی مجازی مراد ہو جائیں تو کیا وہ لفظ اس معنی مجازی کے ساتھ مخصوص ہو جاتی ہے اور ہمیشہ ہی معنی مجازی مراد ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ لفظ اسد کے معنی شیر کے نہیں بلکہ بہادر آدمی کے ہیں۔ اور مثال میں یہ مقولہ پیش کردے رایت اسد ا یرمی یعنی میں نے اس کو دیکھا کہ وہ تیر مار رہا تھا تو کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ اسد کے حقیقی معنی شیر کے نہیں ہیں اور یہ لفظ ہمیشہ بہادر آدمی ہی کے معنی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ بلکہ اس مقولہ میں بہادر آدمی کے معنی محض یرمی کے قرینہ سے لئے گئے۔
بالکل اسی طرح کنز العمال کی روایت مذکورہ میں رفع کے معنی رتبہ کی بلندی کے مجازاً بوجہ قرائن کے لئے گئے ہیں۔ منجملہ ان قرائن کے ایک بہت بڑا قرینہ یہ ہے کہ وہ روایت ہے جو کنز العمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال مذکور ہے۔ وہی ہذہ ”من يتواضع لله درجة يرفعه الله درجة حتى يجعله فى عليين“ اس روایت میں صاف درجہ کا لفظ مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے کہ الحدیث ”يفسر بعضه بعضا“ مگر میاں اللہ دتہ نے اس حدیث کو نقل نہ کیا۔ اب بتاؤ کہ دھوکا دہی یہ ہے جو تم نے کی یا وہ جو تم مسلمانوں پر تہمت رکھتے تھے؟
حقیقت ومجاز میں تمیز نہ کرنا مرزائیوں کا موروثی شیوہ ہے۔ بیچاروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ معنی حقیقی کس کو کہتے ہیں اور معنی مجازی کس کو موضوع لہ اور مستعمل فیہ میں کیا فرق ہے۔ معنی حقیقی کیونکر ثابت کئے جاتے ہیں اور مجازی کیونکر۔
نفیس حکایت
راقم حروف سے اتفاقاً ایک مرزائی سے اسی آیت کے متعلق گفتگو ہوئی۔ مرزائی صاحب کہنے لگے کہ قرآن میں رفع کا لفظ جسم کے اٹھانے کے لئے اگر کہیں بھی دکھا دیجئے تو میں مان لوں گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم اٹھا لیا گیا۔ اس ناچیز نے یہ آیت پڑھی ”ورفعنا فوقكم الطور“ یعنی ہم نے تم پر کوہ طور کو اٹھایا۔ مرزائی صاحب نے فرمایا کہ کوہ طور تو جسم بیجان ہے۔
٨
کہیں جاندار جسم کے لئے یہ لفظ دکھایئے ۔ تو میں ضرور مان لوں گا۔ ناچیز نے یہ آیت پڑھی۔ ”ورفع ابویه علی العرش “ یعنی یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اٹھایا۔ ” فبہت الذی کفر“
.......٣....... یہ کہنا کہ اب لے دے کر بحث رفع پر رہی کہ رفع آسمان پر ہوتا ہے۔ کس قدر ابلہ فریب بات ہے۔ کس نے کہا کہ رفع کے معنی آسمان پر اٹھانے کے ہیں اور کس نے کہا کہ صرف رفع کا لفظ مدار استدلال ہے۔ رفع کے معنی تو اونچا کرنے کے ہیں۔ آسمان پر اٹھانا الیہ کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے۔ جس کی توضیح احادیث میں ہے۔
ابھی لطائف اس اعتراض کے بہت ہیں۔ مگر نمونہ کے لئے اس قدر کافی ہے۔ دوسرے ٹکڑے کی حقیقت یہ ہے کہ پیر بخش صاحب نے اس آیہ کریمہ سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت کی ہے۔ ” وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته “ ﴿اور نہیں اہل کتاب میں سے کوئی مگر یہ کہ ضرور ضرور ایمان لے آئے گا عیسیٰ پر ان کے مرنے سے پہلے ۔﴾
یہ آیت بھی صاف بتا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں ہیں۔ ان کے مرنے سے پہلے یہودیوں کا ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اب رہی یہ بات کہ وہ مرے نہیں تو کہاں ہیں اور دنیا میں کیونکر آئیں گے اور یہودی ان پر کیسے ایمان لائیں گے۔ یہ سب باتیں احادیث میں مذکور ہیں۔ یہ آیت صرف حیات کی دلیل ہے۔
دقیقہ
اس مقام پر تین چیزیں جدا جدا ہیں۔ اوّل، مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا۔ دوم، مسیح علیہ السلام کا زندہ مع جسم آسمان پر اٹھا لیا جانا۔ سوم، پھر دوبارہ ان کا دنیا میں نازل ہونا۔ آیات قرآنیہ میں پہلی چیز تو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور دوسری اور تیسری چیز آیات قرآنیہ میں اس وضاحت کے ساتھ نہیں ہے۔ البتہ احادیث صحیحہ میں جو حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ان میں تفصیل وتوضیح کے ساتھ مذکور ہے۔ مرزائی صاحبان اپنی بے تمیزی سے ان تینوں چیزوں میں کچھ فرق نہیں کرتے اور عجب خلط مبحث کر دیتے ہیں۔ جہاں حیات مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں کوئی آیت پیش کی گئی تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ اس میں آسمان کا لفظ تو ہے نہیں۔ اس میں دوبارہ نزول کا تو ذکر ہی نہیں۔ یہ سب اُسی بے تمیزی کا نتیجہ ہے۔
اب سنئے ! اللہ دتہ صاحب اس پر کیا اعتراض کرتے ہیں اور کیسے نفیس بہتر مطالبات قائم فرماتے ہیں۔ میں ان کی پوری عبارت بلفظہ نقل کئے دیتا ہوں۔ اگرچہ فضول طول ہوگا۔
٩
ملاحظہ فرماویں اس قدر تو معلوم ہو جائے گا کہ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ نے مرزائیوں کو کس قدر مخبوط الحواس کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر وہ قلم اٹھاتے ہیں تو ان کے دماغ کی کیا حالت ہو جاتی ہے۔ ان تہتر سوالات کا مختصر مختصر جواب بھی حاشیہ پر انشاء اللہ تعالیٰ دے دیا جائے گا۔ دوسری دلیل جو آپ نے اپنی تقریر کے ص ٤ میں درج فرمائی ہے وہ آپ کی وہی پرانی رام کہانی ہے۔ یہ وہی دلیل ہے جس کو اہل حدیث کے ایڈووکیٹ محمد حسین بٹالوی نے لدھیانہ میں حضرت اقدس کے سامنے پیش کرنا چاہا تو ایک شخص احمدی ١؎ ہو گیا۔ پھر اسی آیت کو محمد بشیر سہسوانی نے دہلی میں پیش کرنا چاہا تو لوگوں نے اس کا ساتھ ٢؎ نہ دیا۔ کیوں وہ جانتے تھے کہ یہ آیت پیش کرنے سے ہم اعتراضات کا یوں بے طرح تختہ مشق بنیں گے کہ یہ روسیاہی ٣؎ جو ڈامر پالش سے کم نہیں۔ الی یوم القیامہ دھوئے نہیں دھلے گی۔ وہ تمام اعتراضات آج ہدیہ ناظرین کئے دیتا ہوں۔ وباللہ التوفیق!
آپ (یعنی پیر بخش صاحب) فرماتے ہیں۔ اسی حیات مسیح کی تصدیق قرآن شریف بھی فرماتا ہے۔ ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ یعنی کوئی اہل کتاب میں سے نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے گا۔ اس کی موت سے پہلے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور کوئی اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ سے نہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لائے اور عیسیٰ علیہ السلام ان پر قیامت کے دن گواہ ہوگا۔
(بلفظہ سطر ١٨ تا ٢١)
١؎ پیش کرنا چاہا اس پر تو ایک شخص مرزائی ہو گیا اور شاید پیش کر دیتے تو سارا لدھیانہ مرزائی ہو جاتا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
٢؎ مطبوعہ تحریرات کے خلاف بھی جھوٹ بولتے ہوئے تم کو شرم نہیں آتی۔ خیر یہ تو سنت تمہارے پیغمبر کی ہے۔ رسالہ الحق الصریح مطبوعہ انصاری دہلی دیکھو۔ جناب مولانا محمد بشیر صاحب مرحوم نے یہ آیت پیش کر دی تھی۔ پوری تقریر ان کی رسالہ مذکورہ میں درج ہے۔ جس کو سن کر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے عزیز کی بیماری کا جھوٹا بہانہ کر کے دہلی سے بھاگ گیا۔ غضب تو یہ ہے کہ تم خود اپنے پیغمبر کی چھپوائی ہوئی روئیداد مباحثہ دہلی کے بھی خلاف لکھ رہے ہو۔ دیکھو الحق مطبوعہ قادیان۔
٣؎ یہ روسیاہی تمہارے پیغمبر اور اس کے دونوں خلیفہ کے لگ چکی ہے۔ اس سے تم کو تجربہ ہے۔
١٠
اس کے جواب میں عرض ہے کہ اوّل تو آپ نے ترجمہ ہی نہایت غلط کیا ہے۔ واللّٰہ اعلم آسمان پر اٹھائے گئے کس آیت کا ترجمہ ١ ہے۔ خیر بہرکیف کچھ بھی ہو ہمیں آپ کا ترجمہ منظور ٢ ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نزول مسیح کے وقت سے لے کر ان کے مرنے تک تمام یہود و نصاریٰ کا ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کے متعلق میں پہلے آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ جب تمام یہود و نصاریٰ مسلمان ہو جائیں گے تو ”جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ“ کی پیش گوئی ٣ کس طرح پوری ہوگی۔ جب کہ نون تاکیدیہ اور نون ثقیلہ ہے اور نون ثقیلہ شاذ و نادر کے طور پر بھی یہود کو باہر نہیں رہنے دیتا۔ دوسری بات جو میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول مسیح کے وقت اگر یہود نامسعود بغیر کسی قسم کی حیل و حجت کے اس کو قبول کرلیں گے تو کیا ٤ وجہ ہے کہ وہ اب قبول نہیں کرتے۔ آپ تو اس بات کا جواب جب دیں گے اور جو بھی دیں گے اس وقت انشاء اللہ تعالیٰ غور کیا جائے گا۔
فی الحال یہودیوں کا جواب درج کرتا ہوں وہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ سلاطین باب٢ درس گیارہ میں لکھا ہے۔ ”ایلیاہ بگولے میں ہوکر آسمان پر جاتا رہا“ اور ایلیاہ کی نسبت ملاکی نبی نے اپنی کتاب کے باب٤ درس ٥ میں یوں پیش گوئی کی ہے۔ ”دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن آنے سے پہلے میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ سو جب تک ایلیاہ نہ آئے مسیح کا آنا محال بلکہ بعید از خیال ہے۔“ باز آمدم بر سر مطلب۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اگر مسیح علیہ
١ یہ تو ترجمہ نہیں مطلب کے لفظ سے انہوں نے بیان کیا ہے۔ تم کو ترجمہ و مطلب کا فرق بھی معلوم نہیں تو مصنف بننے کی ہوس کیوں کی۔
٢ منظور کیوں نہ ہوتا پیربخش صاحب نے اس کو بائبل سے ثابت کردیا۔ جس پر ایمان رکھنے کی تمہارے پیغمبر نے تاکید کی ہے۔
٣ یہ پیشین گوئی تو اس حالت میں پوری نہ کہی جائے گی کہ متبعین اور کافرین دونوں موجود ہوں اور متبعین کو کافرین پر فوقیت نہ ملے اور جب کہ دونوں فرقہ موجود نہ رہیں یا دونوں میں سے ایک موجود نہ ہو تو پیشین گوئی کے پورے ہونے میں کیا خلل؟ ذرا ہوش کی باتیں کیجئے۔ پھر الیٰ یوم القیامۃ کا لفظ بمعنی ابداً بھی مستعمل ہوتا ہے۔ تحدید خاص مقصود نہیں ہوتی۔
٤ ایسے امور کی وجہ وہی شخص پوچھ سکتا ہے جو خدا اور خدا کی قدرت و مشیت پر ایمان نہ رکھتا ہو؟ اور پھر یہاں تو ظاہری وجہ بھی موجود ہے۔ یعنی ان کے نزول کا مشاہدہ۔
١١
السلام بقول آپ کے آسمان سے تشریف لے آئیں تو یہودی تو یقیناً ١ نہیں مانیں گے۔ کیونکہ وہ اب تک الیاس کا انتظار کر رہے ہیں اور سخت مضطر ہیں کہ دیکھیں وہ کب آسمان سے اترے۔ اب اگر مسیح آسمان سے اتریں تو انکو نصف النہار کی طرح یقین ہو جائے گا کہ ایلیاہ یقیناً یقیناً آسمان ہی پر گیا ہے اور عنقریب آئے گا۔ کیونکہ مسیح جو آسمان پر سے آ گیا ہے۔ اب اگر یہودیوں نے وہی سلاطین کی پیش گوئی پیش کی کہ تم کو تو ایلیاہ کے بعد آنا تھا۔ پہلے کیوں آ گئے تو وہ کیا جواب دیں گے۔ نیز اگر کہیں کہ تمہاری بابت تو یسعیاہ نبی نے اپنی کتاب کے باب ٧ درس ١٤ میں یوں پیشین گوئی کی تھی کہ : ’’ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بچہ جنے گی اور اس کا نام عمانوئیل رکھے گی۔‘‘ آپ بجائے کنواری کے پیٹ سے نکلنے کے آسمان سے کیسے تشریف آور ہوئے۔ اب اگر مسیح علیہ السلام اپنی آمد اولیٰ کا ذکر کریں تو ان کا آمد ایلیاہ کا سوال ٢ بحال ہے۔
اب بتاؤ مسیح علیہ السلام یہودیوں کو کیا جواب دیں گے۔ آخر وہ بھی دماغ ٣ رکھتے ہیں اور ان میں عقل بھی ہے۔ قصہ مختصر اب میں پوچھتا ہوں کہ مسیح علیہ السلام یہودیوں سے کس طرح جان چھڑائیں گے اور اگر یہودیوں نے کہا کہ جائیے آپ واپس تشریف لے جائیے اور براہ نوازش ایلیاہ کو بھیجئے۔ کیونکہ سلاطین سے ثابت ہے کہ وہ بھی آسمان پر ہے اور اگر تم خود آسمان سے آ گئے ہو تو وہ کیوں نہیں آ سکتا۔ لہٰذا اب آپ جائیے اور انہیں بھیج دیجئے۔ بعد میں اب اپنے وقت پر تشریف لائیے۔ لیکن یاد رکھئے آپ کی نسبت یسعیاہ نبی کی پیش گوئی ہے کہ وہ کنواری کے پیٹ سے پیدا ہوگا۔ لہٰذا اگر آپ آسمان سے آئیں گے تو تب بھی قابل قبول نہ ہوں گے۔ کیونکہ
١ یہودی یقیناً یقیناً مان جائیں گے کہ ان کا عقیدہ نزول الیاس علیہ السلام کا غلط تھا اور ان کی بائبل محرف تھی۔
٢ آمد ایلیاہ کا سوال یہودی ہرگز نہ کریں گے۔ کیونکہ ان کو بائبل کے محرف ہونے کا یقین ہو جائے گا اور بالفرض تمہارا جیسا کوئی یہودی یہ سوال بھی کرے تو مسیح علیہ السلام جواب دیں گے کہ اے بے حیا تو بائبل کا حوالہ میرے سامنے دیتا ہے۔ جس کا محرف ہونا علمائے اسلام نے ایسے زبردست دلائل سے ثابت کر دیا تھا کہ تیرے اسلاف سب مبہوت ہو گئے تھے تو اس جواب سے وہ یہودی کس طرح جان چھڑائے گا۔
٣ یہاں سے لے کر بہت دور تک مکرر اور فضول باتوں کے علاوہ خدا کے نبی اولوالعزم حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے۔ جس کے جواب میں ہم بھی کہیں گے کہ جزاك الله جزاء وافياً ۔
١٢
آپ کے لئے کنواری کے پیٹ سے نکلنا مقدر ہو چکا ہے اور اگر کہو کہ میں وہی مسیح ہوں جو اب سے ١٩٢١ء برس پہلے مریم دوشیزہ کے پیٹ سے نکلا تھا تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہے کہ ایلیاہ کے آنے سے پہلے ہی نکل آئے اور اب بھی آنے میں جلدی کی۔ لہٰذا تم کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ کیا ہم سلاطین اور یسعیاہ اور ملاکی نبی کی کتابوں کو جلا ١؎ دیں۔
نیز بتاؤ کہ آمد اولیٰ میں اگر تم ہی مریم کے پیٹ سے نکلے تھے تو تمہارے لئے میکہ نبی نے اپنی کتاب کے باب ٦ میں یسعیاہ نے باب ٤ درس دوم میں اور یرمیاہ باب ٢ درس ٥ میں تجھے اقبال مند عادل بادشاہ لکھا ہے۔ اس لحاظ سے بھی آپ آمد اولیٰ میں قابل قبول ٢؎ نہ تھے۔ لہٰذا آپ کے لئے بہتر یہی ہے کہ آپ براہ نوازش تشریف لے جائیے کہ خیر اسی میں ہے۔ ورنہ ابھی صلیب پر کھینچ دیں گے اور تم پڑے ایلی ایلی لما سبقتنی پکارو گے۔ آپ جائیے اور ایلیاہ کو بھیجئے تاوہ آپ کا راستہ صاف کرے۔ بعد میں کسی کنواری کے پیٹ میں سے ہو کر آئیے اور زمین میں سے برآمد ہو جائیے۔ تب کہیں جا کر آپ قابل قبول ہوں گے۔ ایسے اناپ شناپ دعاوی اور بے موقع دیدار دینے سے کام نہیں بنے گا۔ ہاں جب سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ ٣؎ اعظم ہونے کے دعویدار ہیں۔ لہٰذا ہمیں طالمود کی اس پیش گوئی کا مطلب بھی سمجھاتے جائیے۔ جس میں دو مسیحوں کا جدا گانہ ذکر ہے۔ پس اگر آپ پرانے مسیح ہیں تو بھی قابل قبول نہیں۔ کیونکہ دوسرے مسیح کا وجود ہی الگ ہے اور اگر نئے ہو یعنی پہلے مسیح تم ہی ہو تو پھر تمہارا کنواری کے پیٹ سے برآمد ہونا ضروری ہے اور تم آسمان پر سے ہو۔ خواری کرتے ہوئے آئے ہو۔
١؎ بیشک یہ کتابیں اگر بالفرض محرف بھی نہ ہوتیں تو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تشریف
آوری کے بعد بیکار تھیں۔ جس کی شان یہ ہے کہ: ”لوکان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی“ یعنی موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کو سوا میری پیروی کے چارہ کار نہ ہوتا۔
٢؎ چلئے اب تو صاف معلوم ہو گیا کہ یہودی انکار مسیح علیہ السلام میں بے قصور ہیں۔
کیونکہ آمد اولیٰ میں بھی از روئے بائبل قابل قبول نہ تھے اور چونکہ مرزائی بھی بتعلیم مرزا بائبل پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا مرزائی بھی مسیح علیہ السلام کے آمد اولیٰ کے منکر ٹھہرے۔ اب تو مرزا قادیانی کی یہودیت بالکل آشکارا ہو گئی۔
٣؎ اے یہودیوں کے وکیل اگر تو سچا ہے تو حضرت مسیح کا مدعی خلافت موسویٰ ہونا
قرآن شریف یا حدیث سے ثابت کر۔ نعوذ باللہ وہ مستقل پیغمبر تھے۔ حضرت موسیٰ کے خلیفہ مگر یہودیوں کو قرآن وحدیث سے کیا واسطہ؟
١٣
اب میں عرض کرتا ہوں کہ جس وقت یہود نامسعود یہ سوالات حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کریں گے تو:
- ١...... مسیح علیہ السلام کیا جواب دے دیں گے۔
- ٢...... اگر نہیں دیں گے۔ جیسا کہ یقیناً نہیں دیں گے تو کیا واپس تشریف لے جائیں گے۔
- ٣...... اگر واپس تشریف لے جائیں گے تو کیا فرشتوں کے کندھوں پر یا کسی غبارہ اور ہوائی
جہاز میں۔
- ٤...... اس ناکام واپسی کے بعد از نزول کی خبر قرآن شریف اور احادیث کے کن کن مقامات
سے ثابت ہے۔
- ٥...... اور اگر بفرضِ محال وہ آسمان پر واپس چلے بھی جائیں تو کیا کسی کنواری (نعوذ باللہ کس
قدر فحش گستاخی ہے) کو بھی ہمراہ لے جائیں گے یا یہیں کسی دوشیزہ کے حلق میں گھس جائیں گے۔
- ٦...... اور اگر گھسیں گے تو ہوا بن کر یا کسی اور طریق سے۔ کیونکہ یہودیوں کے نزدیک مسیح
علیہ السلام کا کنواری کے پیٹ سے نکلنا مقدر ہو چکا ہے۔
- ٧...... یہ کنواری کون ہو گی۔ اس کی ولدیت قومیت سکونت قرآن کریم اور احادیث سے کہاں
بیان کی ہے۔
- ٨...... اور اگر کہو کہ آمد مسیح بہر کیف نزول ایلیاہ کے بعد ہے۔ وہ دو الگ الگ مسیحیوں کے
وجود کے قائل ہیں اور دونوں کی آمد بعد از نزول ایلیاہ ہے۔ پس کہو کہ مسیح ایلیاہ کو جا کر بھیجیں گے یا نہیں۔
- ٩...... اگر بھیجیں گے تو آپ بھی ان کی اتباع کریں گے یا نہیں۔
- ١٠...... اور اگر کرو گے تو مسیح اور محمد ﷺ اور انجیل اور قرآن پر آپ کا ایمان ہو گا یا نہیں۔
١ حواشی سابقہ میں ہم بتا چکے ہیں کہ یہودی ایسے لاطائل ان سے کر ہی نہ سکیں گے۔ کیونکہ ان کو بائبل کا محرف و غیر معتبر ہونا تسلیم ہے اور پھر تسلیم کرنا پڑے اور اگر تمہارا جیسا کوئی بھی تو حضرت مسیح علیہ السلام کو تکلف فرمانے کی حاجت نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہم لوگ بائبل کا محرف ہونا ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔
٢ یہ خوب کہی مسیح علیہ السلام کو بھی تم نے مرزا سمجھا ہے۔ نبوت و رسالت کوئی کھیل نہیں ہے۔ تمہارا ایمان کسی سچے نبی پر ہوتا تو تم کو شانِ نبوت معلوم ہوتی۔
١٤
- ١١....... اگر ہوگا تو کیوں۔ کیونکہ ایلیاہ کا نہ آنا مسیح اور دو نبی کے آنے میں مانع ١ ہے۔
- ١٢....... اس صورت میں انجیل اور قرآن شریف کو کس کی طرف منسوب کرو گے۔
- ١٣....... اور اگر ان پر ایمان نہ ہوگا تو کیا تم یہودی کہلاؤ گے یا مسلمان؟
- ١٤....... اگر مسلمان کہلاؤ گے تو کیوں؟
- ١٥....... باز آمدم ، بر سر مطلب اور اگر مسیح ایلیاہ ٢ نہ پہنچیں گے تو آپ پھر آئیں گے یا نہیں۔
- ١٦....... اگر آئیں گے تو یہودی پھر نہ مانیں گے۔
- ١٧....... اگر یہودی نہیں مانیں گے تو قرآنی پیش گوئی پوری ہوگی یا نہیں۔
- ١٨....... اب پوری نہ ہونے کی صورت میں اس کی کیا تاویل کرو گے۔
- ١٩....... اور اگر نہیں آئیں گے تو قرآن کریم اور احادیث کی پیش گوئیاں جو دربارہ مسیح ہیں ان
کا کیا مطلب سمجھا جائے گا۔
- ٢٠....... اگر یہ سمجھا جائے کہ وہ آئیں گے تو غلط ہے۔ اگر یہ مانو کہ نہیں آئیں گے تو آنحضرت ﷺ
کو صادق سمجھو گے یا (معاذ اللہ) دروغگو ۔
- ٢١....... ناکام واپسی بعد از نزول کے بعد نزول کا ذکر قرآن کریم اور احادیث میں کہاں کہاں
پر آیا ہے؟
- ٢٢....... جاتے وقت مسیح اپنی تیسری بار آنے کا وقت اور علامات کیا کیا بتائیں گے۔
- ٢٣....... اگر یہی علامات بتائیں گے جو اب بہت سی ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ جن کو تو اب صدیق
حسن خان صاحب بھی مانتے ہیں تو یہ ان کے نزول کا وقت ہے۔ مگر اس وقت میں تو وہ ایلیاہ کو بھیجیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ وہ وقت اور علامات جو آپ اپنے تیسری بار آنے کے متعلق بیان کریں گے خود تراشیدہ ہوں گی۔ پس ان من گھڑت ڈھکوسلوں کو
١؎ تمہارے نزدیک مانع ہے۔ لہٰذا تمہارا اور تمہارے مرزا کا ایمان نہ مسیح علیہ السلام پر ہوسکتا ہے نہ محمد ﷺ پر نہ انجیل پر نہ قرآن پر۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔ اس کے بعد بھی نمبر ١٥ تک اپنے سوالات کے جوابات تمہارے ذمہ ہیں۔ کیونکہ بائبل پر تمہارا بھی ایمان ہے۔ اور یہ مضامین بھی بائبل سے تم ہی نقل کر رہے ہو۔
٢؎ کیسا ایلیاہ کا بھیجنا یہ کہاں کی خرافات بکتے ہو۔
١٥
آپ احادیث اور قرآن شریف کے کن کن مقامات سے تطبیق ١؎ کر دیں گے۔
- ٢٤...... بفرض محال اگر ایلیاہ آجائے تو یہودیوں کی کتابوں میں جو مسیح اور وہ نبی کی پیش گوئی
ہے وہ کہاں سے تشریف لائیں گے۔
- ٢٥...... اگر آئیں گے تو آپ کے پاس مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیا دلائل ہیں۔
- ٢٦...... اگر نہیں آئیں گے جیسا کہ یقیناً نہیں آئیں گے تو یہود مسلمان کیسے ہوں گے؟ کیونکہ
وہ تو پہلے ایلیاہ پھر مسیح پھر وہ نبی کے منتظر ہیں۔
- ٢٧...... اگر وہ نبی نہ آیا تو مسیح کی آمد ثانی غلط کہے یا صحیح جب کہ مسیح کی آمد ثانی وہ نبی کے بعد ہے۔
- ٢٨...... اگر بفرض محال مسیح کی آمد ثانی ہو بھی جائے تو وہ وہی پرانا مسیح ہوگا یا کوئی دوسرا۔
- ٢٩...... اگر وہی دو ہزار برس کا پرانا مسیح ہوگا تو علاوہ وہ حواس درست نہ ہونے کے قابل قبول ہوگا یا
نہیں؟ کیونکہ یہودی از روئے تالمود دو مسیحوں کے منتظر ہیں۔ جن میں سے ہر ایک نیا ہے۔
- ٣٠...... پرانا مسیح ہونے کی صورت میں یہود تالمود کی اس پیش گوئی کا کیا مطلب سمجھیں گے۔
- ٣١...... یہودی مسیح کے آسمان سے آنے کے قطعاً قائل نہیں۔ اس صورت میں وہ پرانے مسیح کو
کس طرح مانیں گے؟
- ٣٢...... اگر پرانا مسیح ہو تو یہودی نہیں مانیں گے اور اگر نیا ہو تو تم نہیں مانو گے۔ اس گورکھ
دھندے کو کون سلجھائے ٢؎ گا۔
- ٣٣...... جو بھی سلجھائے گا اس کا نام، مقام ولدیت، سکونت، کسی معتبر کتاب سے پیش کرو۔
- ٣٤...... بتاؤ وہ تالمود کی تردید کرے گا یا قرآن شریف اور احادیث کی۔
- ٣٥...... اگر احادیث کی کرے گا تو کوئی سند پیش کرو کہ ایک وہ وقت آئے گا کہ ایک ثالث کے
ذریعے نبوی پیش گوئیاں ردی میں پھینک دی جائیں گی اور تالمود کو ترجیح دی جائے گی۔
- ٣٦...... اگر بقول تمہارے اہل کتاب مسیح کو مان لیں تو ”فاغرينا بينهم العداوة والبغضاء“
١؎ نمبر ١٧ سے یہاں تک کے سوالات کی بناء اس پر ہے کہ مسیح علیہ السلام یہودیوں کے نہ ماننے سے واپس چلے جائیں۔ حالانکہ یہ سب تمہارا طبع زاد ہے۔ قرآن وحدیث ناطق ہے کہ یہودی سب ایمان لے آئیں گے۔
٢؎ اس گورکھ دھندے کی بناء اس پر ہے کہ بائبل غیر محرف ہو اور بحوالہ بائبل جو مضامین تم بیان کرتے ہو وہ بھی صحیح ہوں۔ لہٰذا اس کے سلجھانے نہ سلجھانے کے ذمہ دار تم خود ہو۔
١٦
کے کیا معنی لئے ہوئے؟
- ٣٧...... ہاں اگر طالمود کی پیش گوئیاں ثالث ردی کرے گا تو ایک تو اس لحاظ سے اور دوم سِن
سے جواب نہ بن آنے کے لحاظ سے یہودی یقیناً مسیح پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ بلکہ اسے واپس جانے اور ایلیاہ کو بھیجنے کو کہیں گے اور ایلیاہ کا نہ آنا قطعاً ناممکن ہے۔ وہ الیٰ یوم القیام نہیں آسکے گا اور اگر آئے تو بہت سے فسادات لازم آتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے دکھایا جا چکا ہے تو کیا مسیح اور یہود الیٰ یوم القیام زندہ رہیں گے؟ کیونکہ بقول تمہارے یہود کا ایمان نہ لانا فریقین کی زندگی کا باعث ہے۔
- ٣٨...... اگر فریقین زندہ رہیں گے تو کوئی شرعی سند پیش کرو اور بتاؤ کہ کب تک زندہ رہیں گے۔
- ٣٩...... اگر اسی کشمکش میں قیامت آگئی تو کیا پھر بھی یہود اور مسیح فنا نہیں ہوں گے؟
- ٤٠...... اگر نہیں ہوں گے تو قرآن شریف سے ثبوت پیش کرو۔
- ٤١...... اور اگر ہوں گے تو اس صورت میں آیت "ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ
قبل موتہ" کی تصدیق کس طرح ہوگی۔
- ٤٢...... کیا اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو جو حضور کی کم فہمی اور بدقسمتی سے غلط معنی سمجھنے سے پیش
آگئی ہے آپ سے سلجھوائے گا یا میر سیالکوٹی کے در دولت پر حاضر ہوگا یا حضرت شیر پنجاب کی منت سماجت کرے گا یا مونگیری پیر مغان سے مشورہ کرے گا یا پیر گولڑوی سے اس مشکل کا حل چاہے گا۔ (معاذ اللہ ) الغرض کرے گا تو کیا اور جائے گا تو کہاں؟
- ٤٣...... کیا قیامت کو ملتوی کردے گا؟
- ٤٤...... اگر دے گا تو ثبوت دو۔
- ٤٥...... اور اگر نہیں کرے گا تو کیا اپنا کلام واپس لے گا؟
- ٤٦...... اگر واپس نہیں لے گا تو اس کا کیا مطلب سمجھا جائے گا؟
- ٤٧...... اور جو سمجھا جائے گا وہ کس کو سمجھائے گا۔ اس کی ولدیت، سکونت، قومیت کسی مستند
کتاب سے پیش کرو۔
١؎ اس وقت یہود و نصاریٰ ہی باقی نہ ہوں گے۔ وہ باقی ہوتے اور ان میں عداوت نہ ہوتی تو البتہ اس کے معنی پوچھنے کی ضرورت ہوتی۔
٢؎ یہ تم اپنے فرضی خدا کا حال بیان کر رہے ہو۔ جو مرزا قادیانی پر وحی بھیجتا تھا۔ وہ بیچارہ البتہ ایسی مشکلات میں ہے کہ مرزا قادیانی بھی باایں ہمہ شیادی اس کی مشکل کشائی سے عاجز رہا۔
١٧
- ٤٨...... اگر پیش کرو گے تو پہلے اس سوال کا جواب سوچ رکھو کہ وہ تفہیم کس طرح ہوگی۔ اگر کہو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا، اے محمد یہ میرا زمین میں آخری دفعہ کا آنا ہے۔ اب وحی بند ہوگئی۔ اب مجھے دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں رہی۔
(معیار عقائد قادیانی ص ٧ سطر ١٢ تا ١٣)
- ٤٩...... پس اگر کسی شخص واحد کو تفہیم ہوگی تو کیونکر کیا خدا خود زمین پر آکر سمجھائے گا؟
- ٥٠...... اگر خود خدا اترے گا تو بشر کو یہ رتبہ حاصل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے بغیر وحی اور حجاب کے بلاواسطہ کلام کرے۔
(معیار ص ٧ سطر ٧ تا ٩)
- ٥١...... اگر نہیں اترے گا تو کیسے اس آیت کا مطلب درست سمجھا جائے گا؟
- ٥٢...... اگر کہو کہ کشف اور الہام کے ذریعے تو نصوص شرعیہ یعنی قرآن شریف وحدیث کے مقابلہ میں کشف والہام حجت شرعی نہیں ہے۔ (معیار ٥ سطر ٢٢، ٢٣) نیز جب وحی بند ہے تو الہام کیسا؟
- ٥٣...... پس اب آخری صورت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کو واپس لے یا قیامت کو موقوف کردے۔ اگر یہ دو صورتیں نہیں تو تیسری صورت پیش کرو۔
- ٥٤...... اگر وہ اپنا کلام واپس لے تو اس کامل ذات میں نقص لازم آتا ہے اور یہ نقص اس کی خدائی کا ابطال کرتا ہے۔ اس صورت میں یہ کلام شیطان ہوگا یا رحمٰن۔
- ٥٥...... اگر کلام رحمٰن ہوگا تو یہ سقم کیوں ہے۔
- ٥٦...... اس سقم کی صورت میں قرآن تو (معاذ اللہ) کلام شیطان ٹھہرا۔ اب خدا کی خدائی کا اہل اسلام کے ہاتھ میں کیا ثبوت ہے؟ غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ انجمن تائید الاسلام۔
- ٥٧...... دوسری صورت قیامت کے موقوف کردینے کی ہے۔ اس پر اوّل تو شرعی سند پیش کرو کہ اللہ تعالیٰ ایک وقت مجبور ہوکر قیامت موقوف کردے گا؟ دوم پھر آخرت پر ایمان لانے سے کیا مزید فائدہ ہوگا؟ اور جزاوسزا کا علم عین الیقین کے رتبہ کو کیسے پہنچے گا۔
- ٥٨...... کیا پھر بھی آخرت پر یقین رکھو گے یا تناسخ کو مانو گے؟ اگر نہیں مانو گے تو کیوں؟
- ٥٩...... اگر مانو گے تو کیا آریوں کے دیگر عقائد بھی اختیار کرو گے۔
١٨
- ٦٠...... تناسخ ١؎ ماننے کی صورت میں ( کیونکہ اگر قیامت موقوف ہو گئی تو تناسخ کا قائل ہونا
ضروری ہے ) تمہارا رہنما قرآن ہوگا یا وید۔
- ٦١...... اگر وید ہوگا۔ کیونکہ یہی تناسخ کی تعلیم دیتا ہے تو قرآن شریف کو مکمل کتاب مانو گے یا
ناقص ۔ ہر دو کی کیا وجوہ ہیں؟
- ٦٢...... اگر تیسری صورت پیش کرو کہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو خود بخود ایک راستہ کی طرف پھیر
دے گا تو اس آیتہ کا کیا مطلب سمجھو گے ۔ ” ولو شاء ربك لجعل الناس امة واحدة ولا يزالون مختلفين (هود)“
- ٦٣...... اگر ثابت کرنے کی کوشش کرو گے تو واقعات صحیحہ سے ثابت کرنا پڑے گا کہ مخلوق کو
خود بخود ایک راستہ پر چلانا قدیم سے سنت ٢؎ الہی ہے۔
- ٦٤...... اگر یہ واقعی سنت رہی ہے تو ١٩١٠ء میں اس کا ظہور کیوں نہ ہوا۔ جب کہ گروہی اختلاف
سے نیچے اتر کر شخصی اختلافات اس درجہ پر تھے کہ الامان والحفیظ ۔ ایک ہی فرقے کے ایک ہی مذہب کے دو پیرو اتنا اختلاف رکھتے تھے کہ دیکھنے والا باور نہیں کر سکتا کہ ایک نوع یا ایک صنف کے دو فرد ہیں۔
(اہل حدیث ١٨؍ مارچ ١٩١٠ء)
١؎ تناسخ کا قائل خود تمہارا مرزا قادیانی تھا جو اپنے کو بہت لوگوں کا بروز کہتا تھا۔ حتیٰ کہ اپنے کو کرشن بھی کہتا تھا اور خواجہ کمال الدین کرشن کے اس مقولہ کو ۔
نمایم خود را بشکل کسے
کا مصداق بھی کہتے ہیں۔
٢؎ سنت الہی کی کوئی کتاب یعنی ایسی کتاب جس میں سنت الہی تمام و کمال بیان کی گئی ہو۔ پیش کرو۔ اس کے بعد کسی چیز کو خلاف سنت کہنا زیبا ہے اور اگر آپ اسی طرح کی سنت پر چلیں گے تو پھر قیامت اور قیامت کے تمام عجیب اور انوکھے واقعات خلاف سنت قرار پا کر ناممکن ہو جائیں گے۔ لیجئے آپ بھی کیا یاد کیجئے گا۔ میں قرآن مجید سے ثابت کئے دیتا ہوں۔ آدمیوں کا مسلمان ہو جانا اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ ہے۔ ”کان الناس امة واحدة“ یعنی شروع میں سب لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پس جب شروع میں سب مسلمان تھے تو آخر میں ایسا ہو جانا بالکل مطابق فطرت ہے۔ اول آخر سنتی ست۔
١٩
- ٦٥...... اس صورت میں جب کہ اختلاف کا یہ حال تھا تو آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے۔
”کثرت الاختلاف فی شئے دلیل کذبھا“ یعنی کسی شے میں اختلاف کی کثرت اس شے کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔
- ٦٦...... پھر بتاؤ کہ آپ لوگ اس اختلاف کے ہوتے ہوئے بموجب آیت ’ان الذین
فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منہم فی شئے‘ مسلمان ہیں۔
- ٦٧...... اگر ہیں تو پھر آپ درست کہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ؟
- ٦٨...... اگر اللہ تعالیٰ کا قول صحیح ہے تو آپ مسلمان ہیں یا نہیں۔
- ٦٩...... اور اگر آپ کا قول صحیح ہے تو قول الٰہی درست ہے یا نہیں۔
- ٧٠...... ہر دو اقوال میں سے کون سا قول صحیح ہے۔
- ٧١...... اگر قول الٰہی صحیح ہے۔ جیسا کہ یقیناً صحیح ہے تو آپ کے اس مسلمان ہونے کے کیا دلائل ہیں۔
- ٧٢...... اور اگر قول الٰہی صحیح نہیں تو کیوں؟ یا تو جلدی جواب دیجئے یا میری طرح از سر نو
مسلمان ہو جائیے۔ سچ ہے۔
مسلمان را مسلمان باز کردند
میاں اللہ دتہ صاحب
آپ کے قابل قدر بہتر مطالبات سب تمام ہو گئے۔ جن کی بنیاد محض آپ کے اس وہم و اختراعی بات پر تھی کہ مسیح علیہ السلام کا نزول بلکہ ان کی پہلی آمد بھی بائبل کے خلاف ہے اور یہودی بائبل سے کسی طرح نہ ہٹیں گے۔ بلکہ بعض مطالبات تو آپ نے اپنی خوش فہمی سے خود اپنے ہی اوپر وارد کر لئے ہیں۔ لیکن اب ہم آپ کو قسم دلاتے ہیں۔ آپ کے اس خانہ ساز پیغمبر کی جس نے آپ کو یہ رشک یہودیت تعلیم دی اور قسم دلاتے ہیں۔ اس کی محکم ساز وحیوں کی اور قسم دلاتے ہیں آپ کے اس فرضی خیالی خدا کی جس کی وحیاں آپ کے مرزا قادیانی پر اترتی تھیں کہ اب ہمارے مطالبات پر توجہ کیجئے۔
اب الحمد للہ تم نے اقرار کر لیا کہ تمہارا فرضی اسلام ایک نیا اسلام ہے۔ وہ اسلام نہیں ہے جو صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور تمام مسلمین کا اب تک رہا ہے اور معلوم ہوا کہ تمہارا مقولہ بھی تمام سلف صالحین کی بابت وہی ہے جو کفار و منافقین کا اصحاب نبی علیہ السلام کی بابت تھا کہ ”أنؤمن کما آمن السفہاء“ ؟
٢٠
دوسرے علمائے اسلام کے مطالبات کو ابھی رہنے دیجئے۔ صرف خانقاہ عالی جاہ رحمانیہ سے جو رسائل آپ کے پیغمبر صاحب کے ابطال میں شائع ہوئے۔ اگر ہر رسالہ کو ایک مطالبہ سمجھئے تو ایک سو سے زائد مطالبات ہوئے اور اگر ان رسائل کے مضامین کا لحاظ کیا جائے تو ایک ایک رسالے میں بیسیوں مطالبات موجود ہیں۔ اس حساب سے کئی ہزار مطالبات ہو گئے۔ اگر کچھ بھی معیار انصاف ہو تو اپنے خلیفہ صاحب اور ان کے تمام ذریات کو مجبور کیجئے کہ وہ ان رسائل کا جواب ایک ماہ نہیں بلکہ ایک سال میں لکھ دیں۔
اور اگر نہ لکھیں اور ہرگز نہ لکھ سکیں گے۔ "ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا" تو آپ پر لازم ہے کہ اپنی توبہ کا اعلان کیجئے اور صدق دل سے تائب ہو کر مرزائیت کی ظلمت و حرص سے نکل کر اسلام کے ظل رحمت و نور میں آ جائیے۔ حضرت رحمۃ اللعالمین ﷺ کے دامن عاطفت میں پناہ لیجئے۔ آئندہ آپ کو اختیار ہے۔ "وما علينا الا البلاغ"
دوسرا لطیفہ ...... یعنی دلائل حیات مسیح علیہ السلام
جاننا چاہئے کہ مسیح علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھا لئے جانے اور پھر قریب قیامت دنیا میں نازل ہونے کا عقیدہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔ رسول خدا ﷺ کے وقت سے لے کر صحابہ کرام تابعین تبع تابعین غرضیکہ آج تک کسی عالم دین اسلام نے اس عقیدہ سے انکار نہیں کیا اور اس اجماع کی روایت بھی متواتر ہے۔ جیسا کہ النجم لکھنو ج ١٠ نمبر ١٣ میں ثابت کیا گیا ہے اور سند اس اجماع کی آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ پر ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ نہ صرف اجماع امت بلکہ قرآن شریف کی آیات کثیرہ اور احادیث صحیحہ بلکہ متواتر کے بالکل خلاف ہے۔ ہندوستان میں سب سے پہلے سرسید علی گڑھی نے یہ مسئلہ ایجاد کیا۔ مرزا غلام احمد اس مسئلہ میں انہیں کے مقلد ہیں۔ مرزا غلام احمد پہلے خود بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح معتقد حیات مسیح تھے اور ابتداءً اپنا عقیدہ بدلنے کی وجہ اپنی خانہ ساز وحیوں کو بیان کرتے تھے۔ مگر آخر میں آیات قرآنیہ کو بھی کھینچ تان کر اپنے مدعا پر منطبق کرنے لگے۔ لہذا اب میں نمونہ کے طور پر بعض آیات و احادیث کی تقریر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ جن سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔
آیات قرآنیہ
- ١....... "ويكلم الناس في المهد وكهلا ومن الصالحين" "اور عیسیٰ
کلام کریں گے لوگوں سے گہوارہ میں یعنی حالت نوزائیدگی اور بڑی عمر میں نیکوں میں سے
٢١
ہوں گے یعنی نبی ہوں گے۔﴾
ف:١....... حضرت مریم صدیقہ کو جب بشارۃ فرزند کی سنائی گئی تو اس فرزند ارجمند کے فضائل ومناقب بھی ان کو بتائے گئے کہ وہ کوئی معمولی لڑکا نہیں بلکہ وہ بڑے رتبہ کا انسان ہوگا۔ اس میں یہ یہ اوصاف ہوں گے۔
ف:٢....... ظاہر ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل ومناقب بیان کر رہی ہے۔ لہٰذا تین چیزیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ ان تینوں سے ان کی فضیلت ثابت ہونی چاہئے۔ چنانچہ پہلی چیز یعنی گہوارہ میں کلام کرنا اور تیسری چیز یعنی نیکوں میں سے ہونا بلا اختلاف غیر معمولی فضیلت ہے۔ کیونکہ حالت نوزائیدگی میں کلام کرنا اور نیکوں میں سے ہونا یعنی نبی ہونا ایک فوق العادۃ وصف ہے جو ہر انسان میں نہیں پایا جاتا۔ چنانچہ منکروں کو بھی اس پر تعجب تھا کہ کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی کیسے کلام کر سکتا ہے۔ ’’قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا‘‘ یہ پورا واقعہ قرآن شریف میں ہے۔ پس ضروری ہوا کہ دوسری چیز یعنی بڑی عمر میں لوگوں سے کلام کرنا غیر معمولی وصف کے معنی میں لیا جائے اور اس کا غیر معمولی وصف ہونا اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ موافق عقیدہ اہل اسلام وہ ایک ایسی مدت دراز تک زندہ مانے جائیں کہ عمر تک عادۃً انسان نہ پہنچتے ہوں۔ ورنہ جو عمر ان کی بوقت رفع یا بقول مرزائیہ بوقت موت بیان کی جاتی ہے۔ اس عمر میں کلام کرنا کوئی غیر معمولی صفت نہیں۔ اکثر وبیشتر انسان اس عمر تک پہنچتے ہیں اور لوگوں سے کلام کرتے ہیں۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام ہی کیا ہوا۔ نعوذ باللہ آیت لغو ہو گئی۔ جیسا کہ ایک شاعر اپنے محبوب کی تعریف میں کہتا ہے۔
چشمان تو زیر ابروان اند
یعنی تیرے دانت منہ کے اندر ہیں اور تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ بھلا کہئے تو کہ یہ کیا تعریف ہوئی۔ سب کے دانت منہ میں اور سب کی آنکھیں ابرو کے نیچے ہوتی ہیں۔ مرزائی چاہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اسی شعر کے مثل ایک لغو اور بے فائدہ کلام ہو جائے۔ خدا کا کلام لغو ہو جائے تو ہو جائے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تو ثابت ہو جائے۔ استغفر اللہ منہ!
ف:٣....... اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایسی دراز پہنچنی چاہئے کہ اس عمر تک پہنچنا مثل کلام فی المہد کے خلاف عادت انسانی ہو۔
٢٢
دوسرے یہ کہ وہ پھر دوبارہ لوگوں کے سامنے آئیں گے اور ان سے کلام کریں گے۔ اب باقی رہی یہ بات کہ حضرت مسیح علیہ السلام کہاں ہیں اور پھر اس دنیا میں کیونکر آئیں گے۔ اس کی تفصیل رسول خداﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ کیونکہ آپ ہی اصل مفسر کلام الہی کے ہیں۔ ”ولا بیان بعد بیانهﷺ“ ناظرین اس آیت کی تقریر کو بغور دیکھیں۔ شاید کہ منظور نظر چیز ہو۔
- ٢....... ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا“ ﴿تحقیق عیسیٰ علیہ السلام
نشانی قیامت کی ہیں۔ لہٰذا تم اس میں ہرگز شک مت کرو۔﴾
- ف:١....... اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو علامت قیامت قرار دیا اور ظاہر
ہے کہ ان کی آمد اوّل علامت قیامت نہیں ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ دوبارہ ان کا نزول پھر دنیا میں ہوگا اور وہ نزول بالکل قرب قیامت ہوگا اور قیامت کی علامت قرار پائے گا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں بیان ہوا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علامت قیامت ہونا بغیر ان کی حیات اور نزول کے مانے ہوئے ناممکن ہے۔ لہٰذا اس آیت سے ان کی حیات اور ان کا نزول دونوں کا ثبوت ہوا۔
- ف:٢....... انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر بلا قرینہ و بلا دلیل قرآن شریف
کی طرف پھیرنا خلاف قواعد لغت عرب ہے اور ایسی ہی تاویلات کا نام تحریف معنوی ہے۔ اگر ایسی تاویلات کا دروازہ کھل جائے تو کسی شخص کا کوئی کلام اپنے معنی پر قائم نہیں رہ سکتا۔
دو آیتوں کی مکمل تقریر ہم نے یہاں لکھ دی اور دو آیتوں کی تقریر پہلے لطیفہ میں بیان ہوچکی۔ آیت ”بل رفعہ“ کی مکمل اور ”لیؤمنن“ کی مختصر کیونکہ لیؤمنن کی تقریر مباحثہ دہلی میں خود مرزا قادیانی کے سامنے مولانا محمد بشیر صاحب نے ایسی کامل و مکمل بیان فرمائی ہے کہ اس کے بعد کسی دوسری تقریر کی حاجت نہیں رہی۔ دیکھو۔ رسالہ الحق الصریح مطبوعہ انصاری دہلی۔ پس یہ کل چار آیتوں کی تقریر ہوئی۔ نمونہ کے لئے اس قدر کافی ہے۔ اب حدیثیں سنئے۔
احادیث شریفہ
- ١....... ”عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہﷺ والذی نفسی
بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما مقسطاً فیکسر الصلیب ویقتل
٢٣
الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة اقرءوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی) ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ضرور عنقریب اتریں گے تمہارے درمیان میں ابن مریم۔ حاکم منصف ہو کر پھر توڑ دیں گے وہ صلیب کو اور قتل کر دیں گے وہ خنزیر کو اور موقوف کر دیں گے جزیہ کو اور مال ( کی یہ کثرت ہو گی کہ ) بہتا پھرے گا یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا اس کو کوئی اور ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو جائے گا۔ (یعنی عبادت مالی کا موقع نہ ملنے کی وجہ سے عبادت بدنی کی طرف تمام تر توجہ ہو جائے گی) پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے تھے کہ اگر (قرآن شریف سے اس کی سند ) چاہو تو یہ آیت پڑھو ”وان من اهل الكتاب“ یعنی نہ ہوگا اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر یہ کہ وہ ضرور ضرور ایمان لے آئے گا۔ عیسیٰ پر عیسیٰ کے مرنے سے پہلے۔﴾
ف........ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس حدیث پر ایک اعتراض کیا ہے کہ: ”کیا ان احادیث پر اجماع ہوسکتا ہے کہ مسیح آکر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٣٨)
اس جاہل سے کوئی پوچھے کہ تو نے کوئی کتاب علم معانی کی نہیں پڑھی تو کیا قرآن بھی نہیں دیکھا۔ ”یذبح ابناء ھم“ کا کیا یہی مطلب ہے کہ فرعون اپنے ہاتھ سے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا پھرتا تھا۔ بادشاہوں کے یہ کام نہیں۔ بلکہ ان کے حکم سے کام ہوتے ہیں اور وہ کام انہیں کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام حکم دیں گے کہ دنیا بھر کی صلیب توڑ دی جائے۔ خنزیر قتل کر دیئے جائیں۔ چونکہ یہ کام ان کے حکم سے ہوں گے۔ لہٰذا ان کی طرف منسوب ہوئے۔ علیٰ ہٰذا !
جزیہ کے موقوف کر دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شریعت محمدیہ کو منسوخ کر دیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اعتراض کیا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں کوئی غیر مسلم باقی ہی نہ رہے گا۔ لہٰذا جزیہ موقوف ہو جائے گا۔ مرزائیو! یہی تمہارا پیغمبر ہے جو ایسی جاہلانہ اور ابلہانہ حماقتیں کرتا ہے۔
٢........”عن جابر قال قال رسول الله ﷺ لا تزال طائفة من
٤٤
امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله تعالىٰ لهذه الامة (صحیح مسلم) ﴿حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ ہمیشہ میری امت کا ایک گروہ دین برحق کے لئے قتال کرتا رہے گا۔ (دشمنوں پر) قیامت تک غالب رہے گا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم آئیں گے تو مسلمانوں کا سردار ان سے کہے گا کہ تشریف لائیے۔ ہمیں نماز پڑھادیجئے۔ وہ جواب دیں گے کہ نہیں۔ (میں امام نہ بنوں گا) تم آپس میں ایک دوسرے کے امام ہو۔ بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بزرگی دی ہے۔﴾
- ٣....... عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ كيف بكم اذا
نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (سنن بيهقی) ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور اس وقت تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔﴾
- ٤....... عن أبي هريرة مرفوعا ليس بيني وبين عيسىٰ نبي
وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ينزل بين ممصرتين كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون (ابوداؤد) ﴿حضرت ابوہریرہؓ مرفوعاً یعنی رسول خدا ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا اور بیشک وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا وہ ایک میانہ شخص ہوں گے۔ رنگ ان کا سرخ سفید ہوگا۔ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے۔ (جسم ان کا ایسا شفاف ہوگا کہ) گویا ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تری نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ اسلام کے لئے لوگوں سے قتال کریں گے۔ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔ اُن کے زمانے میں اللہ سب مذاہب کو مٹا دے گا۔ سوا اسلام کے اور ان کے زمانے میں اللہ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ اس کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔﴾
٢٥
٤ ....... شیخ الاسلام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی شرح بخاری میں اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں۔ ”روی احمد وابوداؤد باسناد صحیح یعنی امام احمد حنبل“ ٥ ...... ”عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ لقیت لیلة اسری بی ابراھیم وموسیٰ وعیسٰی علیھم الاسلام فذکروا امر الساعة فردوا امرھم الی ابراھیم فقال لا علم لی بھا فردوا امرھم الی موسٰی فقال لا علم لی بھا فردوا امرھم الی عیسٰی فقال اما وجبتھا فلم یعلم بھا احد الا اللہ وفیما عھد الی ربی ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا ارانی ذاب کما یذوب الرصاص (مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ سنن بیہقی)“ ﴿حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ شب معراج میں میں ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام سے ملا تو انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا اور سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے فرمایا مجھے قیامت کا وقت معلوم نہیں۔ پھر انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے وقوع کا علم تو کسی کو سوا اللہ کے نہیں ہے۔ مگر جو احکام مجھے خدا نے دیئے ہیں ان میں ایک بات یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور اس وقت میرے پاس دو لکڑیاں ہوں گی۔ جب وہ مجھ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔﴾
٦....... ”عن ابی ھریرة مرفوعا لیھبطن عیسٰی بن مریم حکما واماماً مقسطا ولیسلکن فجاً حاجاً او معتمرا ولیاتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیه (مستدرک حاکم) “ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے رسول خدا ﷺ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا عیسیٰ بن مریم ضرور ضرور اتریں گے۔ حاکم ہوکر سردار منصف ہوکر اور ضرور وہ سفر کریں گے۔ حج یا عمرہ کے لئے اور ضرور وہ آئیں گے میری قبر کے پاس اور مجھے سلام کریں گے اور میں ان کو جواب دوں گا۔﴾
٧...... ”عن الحسن انه قال فی قوله تعالٰی انی متوفیک یعنی وفاة المنام رفعه اللہ فی منامه قال الحسن قال رسول اللہ ﷺ للیهود ان عیسٰی لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة (تفسیر ابن کثیر) “ ﴿حضرت
٢٦
امام حسن بصری سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت انی متوفیک میں توفی کے معنی خواب کے بیان کئے۔ یعنی خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواب کی حالت میں اٹھالیا۔ امام حسن بصری نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ کا ارشاد ہے کہ آپ نے یہودیوں سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے اور تحقیق وہ قیامت سے پہلے پھر لوٹ کر تمہارے پاس آئیں گے۔
- ٨...... "عن مجمع بن جارية عن رسول اللہ ﷺ قال يقتل ابن
مريم الدجال بباب لد هذا حديث صحيح وفي الباب عن عمران بن حصين ونافع ابن عيينة وابي برزة وحذيفة بن اسيد وابي هريرة وكيسان وعثمان بن ابی العاص وجابر وابي امامة وابن مسعود وعبدالله بن عمرو وسمرة ابن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان (ترمذی) " ﴿حضرت مجمع بن جاریہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ابن مریم دجال باب لد (دمشق میں ایک جگہ ہے) میں قتل کریں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں عمران بن حصین اور نافع ابن عیینہ اور ابو برزہ اور حذیفہ بن اسید اور ابو ہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابو امامہ اور ابن مسعود اور عبداللہ بن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے حدیثیں منقول ہیں۔﴾
حدیثیں تو ابھی بہت ہیں۔ نمونہ کے لئے اس قدر کافی ہے۔ ورنہ ان حدیثوں کے جمع کرنے کا ارادہ کیا جائے تو ایک بڑا ضخیم دفتر تیار ہوجائے۔ کیونکہ حیات نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حدیثیں حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ حافظ ابن کثیر محدث اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ "وقد تواترت الاحاديث عن رسول اللہ ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماما عادلاً" یعنی متواتر حدیثیں رسول خدا ﷺ سے منقول ہیں کہ آپ نے خبر دی کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے سردار منصف ہوکر نازل ہوں گے۔
اور علامہ شوکانی اپنی کتاب توضیح میں لکھتے ہیں۔ "وجميع ما سقناه بالغ حد التواتر كما لا يخفى على من له فضل اطلاع فتقرر بجميع ما سقناه في هذا الجواب الخ الاحاديث الواردة في المهدى المنتظر متواترة والاحاديث الواردة في الدجال متواترة والاحاديث الواردة في نزول عيسى متواترة "
٢٧
یعنی سب وہ روایتیں جو ہم نے بیان کیں حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ چنانچہ جس کو مزید اطلاع کتب حدیث پر ہے اس سے بات پوشیدہ نہیں ہے۔ پس ہماری اس تمام تقریر سے جو جواب ہذا میں ہے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام مہدی کے متعلق حدیثیں متواتر ہیں۔ دجال کے متعلق حدیثیں متواتر ہیں۔ نزول عیسیٰ کے متعلق حدیثیں متواتر ہیں۔
اب مرزا قادیانی کی دلیری دیکھئے
پہلے تو آپ کو یہ سودا سمایا کہ ان روایات پر محدثانہ جرح کریں۔ مگر اس کی گنجائش نہ ملی تو صحابہ کرام پر زبان طعن کھولنا شروع کی۔ حضرت ابوہریرہؓ کی نسبت لکھ دیا کہ وہ غبی شخص تھا۔
(اعجاز احمدی ص ٥٦، ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود کی نسبت لکھا کہ وہ ایک معمولی انسان تھا۔
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)
مگر جب علمائے اسلام نے احادیث حیات مسیح علیہ السلام کا ایک دفتر پیش کر دیا تو مرزا قادیانی کی آنکھیں کھلیں کہ ایک بڑی جماعت صحابہ کرام کی ہے۔ چنانچہ سولہ نام صحابہ کرام کے ترمذی کی روایت منقولہ میں درج ہیں تو مرزا قادیانی نے ایک دوسری چال سوچی۔ کہہ دیا کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی تھی۔
(ازالۃ الاوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ حدیثیں حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔ نہ ان کی صحت پر کوئی حملہ کارگر ہو سکتا ہے اور نہ کوئی بات بنائے بن سکتی ہے تو یہاں تک گستاخی پر اتر آیا کہ (اعجاز احمدی ص ٢٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) میں لکھتا ہے کہ جو حدیثیں ہماری وحی کے خلاف ہوں ان کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔
احادیث نبویہ کے متعلق مرزا قادیانی یہاں تک دریدہ دہنی کی کہ (قصیدہ اعجازیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨) میں لکھتا ہے۔
فایّ حدیث بعدہ نتخیّر
٢٨
اور خدا کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔ پس ہم خدا تعالیٰ کی حدیث کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔
وکل بما ہو عنده یستبشر
اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہوتا ہے۔
وانتم عن الموتی رویتم ففکروا
ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی قیوم وحدہ لا شریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔
کیوں میاں اللہ دتہ یہی تمہارا پیغمبر ہے جو اپنے کو غلام احمد کہتا تھا۔ یہ شخص اگر غلام تھا تو سخت نمک حرام غلام تھا۔ جس نے اپنے آقا کی توہین کی اور اس کی برابری کا دعویٰ کیا۔
رود بر مسند مولئے نشیند
مرزا قادیانی نے ان سب حرکتوں کے بعد حیات مسیح علیہ السلام پر تمسخر بھی بہت کیا کہ وہ آسمان پر کھاتے کیا ہیں۔ بول و براز کی حاجت کہاں رفع کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور ان ہذلیات کا نام عقلی دلائل رکھا۔ اب ہم اس لطیفہ کو بھی ختم کرتے ہیں۔
خاتمہ..... مسیح قادیانی کا اپنے قسمیہ اقرار سے جھوٹا ہونا
جس طرح رسائل لاثانی کے آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا خود اسی کے قول سے جھوٹا اور بد سے بدتر ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ اسی طرح ناظرین کی تفریح طبع اور میاں اللہ دتہ صاحب کے تفنن دماغ کے واسطے ایک اور اقراری جھوٹ مرزا قادیانی کا یہاں بھی درج کیا جاتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ضمیمہ انجام آتھم (جس کو اب مرزائیوں نے بڑے اہتمام سے مخفی کرنے کی کوشش کی ہے) مورخہ ٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء میں لکھتے ہیں۔ ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ
٢٩
ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ شان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کروں گا۔‘‘
یہ عبارت ضمیمہ انجام آتھم مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان ص ٣٠ سے شروع ہو کر ص ٣٥ پر ختم ہوئی۔
(خزائن ج ١١ ص ٣١٦)
بسم الله الرحمن الرحیم!
بقیہ رسالہ صاعقہ آسمانی
یہاں تک تو میاں اللہ دتہ کے نظم ونثر کا کامل جواب دیا گیا۔ کوئی بات ان کی باقی نہیں رہی اور اس سے پہلے ان کی ایک مہینہ کی میعاد کے اندر چھ ہی سات روز میں جو ایک رسالہ بھیجا گیا جس کا نام رسائل لاثانی ہے۔ جس میں انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے مرشد اور فریب دہندہ کے کاذب ہونے کے ثبوت میں ١٤ رسائل لکھے گئے ہیں۔ جن میں یہ ثابت کیا گیا کہ حضرت مسیح اسرائیلی زندہ ہیں۔ جن سے کامل طور سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح قادیانی بالیقین جھوٹے ہیں۔
اب آپ کو چاہئے تھا کہ خدا سے ڈرتے اور اپنی عاقبت کی خبر لیتے اور ان رسالوں کو منگا کر دیکھتے۔ مگر گمراہوں اور بے دینوں کی صحبت نے آپ کے دل کو ایسا خراب و سیاہ کر دیا ہے کہ کسی بھلے کام کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔ مگر خیر خواہانہ میں اور رسائل پیش کرتا ہوں۔ جن سے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کا کاذب اور جھوٹا ہونا روشن ہو رہا ہے۔ مگر خدا کے لئے دل سے تعصب اور ہٹ دھرمی کو علیحدہ کر کے ملاحظہ کیجئے۔
چودہ رسالوں کا نام تو میں پہلے آپ کو دکھا چکا ہوں اور یہ پندرھواں رسالہ ہے۔ یعنی صاعقہ آسمانی، فیصلہ آسمانی۔ اس کے تین حصے ہیں اور ہر ایک حصہ مستقل رسالہ ہے۔ اس لئے ان کو تین رسالے سمجھنا چاہئے۔ اس میں مرزا قادیانی کے نہایت عظیم الشان منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کو جھوٹا دکھا کر مختلف طور سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور بہت سے ان کے جھوٹ دکھائے ہیں۔
٣٠
اس کا پہلا حصہ تین مرتبہ چھپا ہے۔ پہلی بار ١٣٣٠ھ میں چھپا تھا۔ اسے بھی گیارہ برس ہوئے دوسری بار ١٣٣٤ھ میں چھپا ہے۔ تیسرا حصہ پہلی مرتبہ ١٣٣٢ھ میں چھپا ہے۔ جس کو دسواں برس ہوتا ہے۔ دوسری بار ١٣٣٧ھ میں چھپا ہے۔
اب کوئی مرزائی بتائے کہ اس رسالے کو چھپے ہوئے اس قدر برسیں گزر گئیں۔ کسی نے اس کا جواب دیا، مولوی عبد الماجد صاحب نے دوسرے حصے کے جواب میں کچھ باتیں بتائیں تھیں ۔ جس کے جواب میں چھ رسالے لکھ کر مشتہر کئے گئے ۔ مگر کسی رسالے کے جواب میں کچھ نہیں لکھ سکے۔
(٢٠،١٩) شہادت آسمانی ، دوسری شہادت آسمانی ان دونوں رسالوں میں ان کی آسمانی شہادت کو خاک میں ملا کر مرزا قادیانی کا جھوٹا اور فریبی ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ دوسری شہادت آسمانی ١٣٣٣ھ میں چھپی ہے اور شہادت آسمانی اس سے پہلے کی چھپی ہوئی ہے۔ مگر اس کے جواب میں تمام مرزائیوں کے قلم سوکھ گئے ۔
(٢١) صحیفہ انواریہ ۔ (٢٢) حقیقت المسیح ۔ (٢٣) معیار المسیح ۔ (٢٤) دعویٰ نبوتِ مرزا ۔ (٢٥) مسیح قادیان کی حالت کا بیان ۔ (٢٦) تنزیہہ ربانی ۔ (٢٧) معیار صداقت ۔ (٢٨) دوستانہ نصیحت ۔ (٢٩) رسالہ عبرت خیز ۔ (٣٠) حقیقت رسائل اعجازیہ۔ (٣١) نامہ رشد و ہدایت ۔ (٣٢) مسیح کاذب۔
(٣٣) تائید ربانی ۔ ان رسائل میں مختلف طریقوں سے قرآن وحدیث اور ان کے خود پختہ اقراروں سے مرزا قادیانی کا جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہونا ثابت کر کے دکھا دیا گیا ہے۔
(٣٤) ابطال اعجاز مرزا حصہ اوّل ۔
(٣٥) ایضاً حصہ دوم۔ پہلے رسالہ میں مرزا قادیانی کے مایہ ناز قصیدۂ اعجازیہ کی غلطیاں اور ان کے بکثرت جھوٹ وفریب دکھائے ہیں اور دوسرے میں ایک لاجواب اور نہایت عمدہ قصیدہ ہے۔ مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جواب میں اسے چھپے ہوئے بھی نواں برس ہے۔
نوٹ: اے ہمارے بھائی مسلمان بالخصوص اہلِ علم اس کو ضرور دیکھیں تاکہ مرزا قادیانی کے دعووں کی حقیقت آپ پر روشن ہو جائے ۔
٣١
- (٣٦) محکمات ربانی۔ (٣٧) انوار ایمانی۔ (٣٨) اغلاط ماجدیہ۔ (٣٩) صحیفہ رحمانیہ
نمبر١٠۔
- (٤٠) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١، ١٢۔ ان میں مولوی عبدالماجد صاحب بھاگلپوری کے رسالہ
القائے قادیانی کی غلطیاں خوب واضح کر کے دکھائی ہیں۔ ان کو چھپے ہوئے آٹھ برس کے قریب ہوئے مگر مولوی صاحب دم بخود ہیں۔ جس طرح ان رسالوں کے جواب سے عاجز ہوئے۔ اسی طرح وہ زبانی مناظرہ میں جو ان کے مکان پر مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی سے ہوا علانیہ جلسہ میں ایسے عاجز ہوئے کہ مرزائی مذہب سے بیزار ہو کر اپنے بیٹے کے سامنے مسلمان ہونا ظاہر کیا۔ مگر بیٹے نے ایسی دھمکی دی کہ ان کا ایمان تحمل نہ کر سکا اور جہنم میں جانا قبول کر لیا۔
- (٤١) تعبیر رویائے حقانی۔
- (٤٢) جواب حقانی۔ اس میں بد زبانی حکیم خلیل احمد مرزائی کے اسرار نہانی کا نہایت
مہذبانہ جواب ہے اور مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے۔
- (٤٣) تذکرۂ یونس۔ مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی پیشین گوئی پر پردہ ڈالنے کے
لئے حضرت یونس علیہ السلام پر جھوٹی پیشین گوئی کا الزام لگایا ہے۔ اس رسالہ میں ان کی سچی حالت دکھا کر مرزا قادیانی کی جہالت اور جھوٹ دکھائے ہیں۔ ١٣٣٢ھ میں چھپا ہے۔ جسے ساتواں برس ہے۔
- (٤٤) چشمہ ہدایت یعنی مسیح قادیان پر اقراری ڈگریاں۔
- (٤٥) چیلنج محمدیہ یعنی صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٨۔ پہلے رسالہ میں پندرہ اقوال نقل کئے ہیں اور
دوسرے میں مرزا قادیانی کے سات پختہ اقرار لکھ کر دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے ان اقراروں سے نہایت کاذب اور ہر بد سے بدتر ٹھہرتے ہیں۔ چیلنج میں تو اسی کے قریب جھوٹ بھی دکھائے ہیں۔
- (٤٦) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٣۔ (٤٧) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٥۔ (٤٨) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٦۔
- (٤٩) صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧۔ (٥٠) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١۔
- (٥١) مرزا محمود کی تشریف آوری میں ختم نبوت کی بحث ہے۔ جس میں ہر طرح پر
دکھا دیا گیا ہے کہ حضور انورﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ اس بحث میں ایک مستقل رسالہ بہت بسط کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ مگر ابھی چھپا نہیں۔
٣٢
(٥٦) صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٢ میں مرزا قادیانی کے عقائد کا مخالف قرآن وحدیث ہونا دکھایا گیا ہے۔ اس نمبر میں اور نمبر ٢١ میں ان کا دہریہ ہونا بھی ثابت کیا ہے۔ مذکورہ نمبروں کے علاوہ دوسرے دس نمبروں میں مرزائیت کا قلع وقمع کیا گیا ہے۔ یہاں تک باسٹھ رسالے ہوئے۔
(٥٧) صحائف محمدیہ۔ یہ تیرہ نمبروں میں ہے اور ہر ایک نمبر مرزائی دجل کے اظہار میں ایک مستقل رسالہ ہے۔ نمبر ٨ ، ١٣ میں تو مرزا قادیانی کے بیشمار جھوٹ دکھائے ہیں۔ چونکہ یہ بڑے دو ورقوں پر چھپا ہے۔ اس لئے شروع کے پانچ نمبروں کو جمع کر کے رسالہ کی صورت پر چھپوایا ہے۔ نظر ثانی کے بعد کچھ تغیر بھی ہو گیا ہے۔ جس کا نام۔ (٥٨) آئینہ کمالات مرزا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی رسالے ہیں۔ گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ان کے نام نہیں لکھے گئے۔ جنگی مستقل فہرست علیحدہ ہے۔ ان رسالوں کو چھپ کر مشتہر ہوئے برسیں گزر گئیں۔ مگر کسی ایک کا بھی جواب کوئی مرزائی نہ دے سکا۔ چونکہ خلیفہ مسیح قادیانی کی گزر اوقات اس پر ہے اور تمام مریدین چندہ دیتے رہتے ہیں۔ اس لئے خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنے قلموں کو نہیں توڑتے اور اپنے مبلغین کی کونچیں نہیں کاٹتے۔ وما علینا الا البلاغ!
المشتہر: محمد یعقوب عفی عنہ
قطعہ
ہم کو بس قرآن پر حجت تمام پھر حدیث مصطفےٰ معیار ہے
پڑھ لے ما قتلوہ کو قرآن میں پھر وما صلبوہ کا اظہار ہے
رفعہ الله سے ترفع ہے بجسم ملحدو قرآن سے بھی انکار ہے
قرب حق میں آسمان پر ہیں مکیں اس کا منکر کاذب وغدار ہے
جھوٹ تہمت سولی کی عیسیٰ پہ ہے یہ یہودی کی غلط گفتار ہے
ابن مریم آئے گا حق کی قسم شاہد اس کا احمد مختار ہے
تب مرے گا اور گڑے گا میرے پاس پھر مدینہ مدفن آخر کار ہے
ہو نہیں سکتا خلاف اس میں کبھی یہ تو قول سید الابرار ہے
٣٣
مرزا کا جھوٹ تھا الہام سب قبر میں اس پر الہی مار ہے
جھوٹ بولا مرزا حق کی قسم جھوٹا تھا اور جھوٹوں کا سردار ہے
قبر میں کس نے رکھا کشمیر میں جھوٹ لکھنے پر ترے پھٹکار ہے
تھوک ایسے جھوٹ پر برسا کرے فیض ابلیسی کی یہ پھوہار ہے
کون سی تاریخ ہے اس کی گواہ یا فقط الہام یہ دم دار ہے
روپ دھارن پر ہزارہ لعنتیں جو مسیحا اور کرشن اوتار ہے
خود لکھا مرزا نے آخر صاف صاف مرگ پر عیسیٰ کے کیوں اصرار ہے
بے مرے ان کے غلط دعوٰی مرا زیست عیسیٰ، میرے حق میں خار ہے
بہر زیب دعوٰی پیغمبری مرگ عیسیٰ ہی گلے کا ہار ہے
جھوٹ سے مرزا کے بچنا دوستو! جھوٹ بکنے کا اسے آزار ہے
مر گیا لاہور میں لعنت کی موت قبر میں اس پر بڑی بھرمار ہے
سینہ کوبی آتشین گرزوں سے ہے عالم برزخ میں گیرودار ہے
اس پہ طرہ بھینٹیاں بھی ہیں وہاں نسل چنگیزی بڑی خونخوار ہے
خود لکھا ہے نسل چنگیزی ہوں میں پھر تو وہ اک غول مردم خوار ہے
پیٹ اس کا مقبرہ کشمیر کا مسکن کژدم ومورومار ہے
پیٹ کی خاطر ہوا رسوائے خلق عاقبت میں بھی خدائی خوار ہے
جوڑ لو اب سال کی قطع و برید اس میں ہجری سال کا اظہار ہے
پائے واہی توڑ کر پھر سر کو کاٹ واہ بھئی، واہی کے سر پر بار ہے
اک صفت ہے خاص مرزا میں بھی
مرزا واہی پیغمبر خوار ہے
☆.........................☆
١؎ لطیفہ عجیب، دمدار اور مرزا کے اعداد بالکل متصل یعنی فقط ایک فرق ہے اس کی کسر ہے۔ ورنہ برابر۔ دمدار:٢٤٩، مرزا: ٢٤٨۔
٣٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
عبدالماجد قادیانی
کی کھلی چٹھی کا
مفصل جواب
(حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! حامداً ومصلیاً
ناظرین! اس چٹھی کا اجمالی جواب مولانا ابن شیر خدا دے چکے ہیں۔ میں تفصیلی جواب دیتا ہوں۔ تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ حسب خواہش بعض مخلصین کے حضرت اقدس مولانا مولوی سید ابواحمد صاحب رحمانی عم فیضہم پورنی تشریف لے گئے۔ یعنی جہاں مولوی عبد الماجد قادیانی کا مکان ہے۔ چند معتقدین قادیانی ان کے وہاں ہیں۔ حضرت کے ہمراہ جناب مولانا مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب بھی تھے۔ ان کے وعظ بھی وہاں دھوم دھام سے ہوئے۔ یہ حالت دیکھ کر مولوی صاحب گھبرائے۔ خیال کیا ہوگا کہ چند ہمارے یہاں ہم خیال ہیں۔ اگر یہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے تو دشواری پیش آئے گی۔ اس لئے یہ چٹھی مشتہر کی تاکہ معتقدین ہمارے دام میں پھنسے رہیں۔
اب میں کہتا ہوں کہ چار برس سے آپ کہاں سورہے تھے۔ حضرت اقدس قبلہ عالم عم فیضہم کا رسالہ فیصلہ آسمانی حصہ اوّل کو چھپے ہوئے چار برس سے زیادہ ہوئے۔ ١٣٣٠ھ میں چھپا ہے۔ اس وقت ١٣٣٤ھ ہے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی کیسی شرمناک حالت دکھائی ہے۔ کیسے بدیہی الزامات انہیں کے قول سے انہیں دیئے ہیں۔ ان کے الہامات کی غلطی دکھائی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا یقینی طور سے ثابت ہو گیا اور رسالہ یہاں سے قادیان تک بھیجا گیا۔ چیلنج اسے کہتے ہیں۔ حضرت اقدس نے اس رسالہ میں اپنے دعویٰ کے ساتھ نہایت مستحکم دلیل کو پیش کر کے ساری دنیا میں جواب کے لئے مشتہر کیا۔ آپ کے پاس بھی بھیجا گیا۔ مگر اس وقت تک مولوی صاحب سر بگریبان مہر بدہاں ہو کر حیران ہیں۔ کچھ جواب نہیں دے سکتے۔ پھر اب حضرت ممدوح سے کیا بیان کرانا چاہتے ہیں۔ حضرت موصوف تو بہت کچھ بیان کرچکے اور کئی برس سے مفصل چیلنج دے رہے ہیں اور صاف طور سے کہہ رہے ہیں کہ قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکتے اور ان کے ارشاد کی سچائی دنیا دیکھ رہی ہے کہ کئی برس ہوئے اس وقت تک نہ آپ نے کچھ جواب دیا نہ آپ کے کسی برادر کلاں دینگے اور نہ خورد نے۔ پھر مولوی صاحب کا یہ جھوٹا چیلنج دینا کس قدر شرم کی بات ہے۔
٢
ناظرین! کچھ ایک ہی رسالہ تو حضرت اقدس نے نہیں لکھا۔ متعدد رسالے لکھے ہیں۔ حصہ اوّل کے علاوہ حصہ دوم و حصہ سوم بھی لکھا اور مشتہر کیا۔ حصہ دوم کے جواب میں کچھ قلم فرسائی کر کے اپنی قابلیت اور دیانت اور راستی کا نمونہ دکھایا تھا۔ مگر جب ان کی قابلیت کا اظہار اہل حق کی طرف سے ہوا تو پھر بجز عجز اور سکوت کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس وقت تک مولوی صاحب کے القا کے جواب میں اٹھ رسالے لکھے گئے ہیں۔ ان میں سے رسائل ذیل طبع ہو کر انہیں پہنچ چکے ہیں۔ (١) انوار ایمانی۔ (٢) محکمات ربانی۔ (٣) نمونہ القاء قادیانی جو صحیفہ رحمانیہ کے نمبر ١٠ و نمبر ١١، ١٢ میں چھپا ہے۔ (٤) رسالہ عبرت خیز جو صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨، ٩ میں چھپا ہے۔ ان مختصر رسالوں میں کاتب چٹھی کی جو بددیانتیاں دکھائی گئی ہیں اور ان کی قابلیت کی پردہ دری کی گئی ہے وہ لائق دید ہے۔
ان رسالوں کے چھپے ہوئے دو برس ہو گئے۔ ان میں علانیہ چیلنج بھی دیا گیا ہے۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١، ١٢ صفحہ ٤٤ دیکھا جائے۔ مگر کاتب چٹھی کا یہ حوصلہ تو نہ ہوا کہ اپنے الزامات کو اٹھائیں اور سامنے آئیں۔ ان کے کسی شاگرد یا نام کے فاضل ایم۔اے کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ اپنے بزرگ اور بڑے کی شرم رکھیں اور کچھ جواب دیں۔ ابتداء میں اس رسالہ کی نسبت حکیم نورالدین کے وقت میں اخبار بدر میں ایک مضمون نکلا تھا۔ جس کے جواب میں حضرت مولانا عمّ فیضہم نے دو رسالے لکھے۔ تنزیہہ بانی۔ معیار صداقت۔ مگر اس کے بعد تو علمائے قادیان کا بھی ناطقہ بند رہا اور اب تک ہے۔ اس سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ فیصلہ آسمانی حصہ دوم بھی اسی طرح لاجواب ہے۔ جس طرح اس کا پہلا حصہ لاجواب ہے۔ اس کا تیسرا حصہ تو اپنی عظمت اور شان میں ان سب سے بڑھا ہوا ہے۔ جماعت احمدیہ دیکھئے کہ اس میں مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی پر کیسی گہری نظر ڈال کر مرزا قادیانی کے راز کو فاش کیا ہے اور پبلک پر ان کا اصلی منشاء ظاہر کر دیا ہے۔ مگر کسی قادیانی کو اس سیاہ داغ مٹانے کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر کس منہ سے کاتب چٹھی۔ حضرت مولانا کو چیلنج دیتے ہیں۔ حضرت اقدس نے تو مرزا قادیانی کا کذاب ہونا ایسی ایسی دلیلوں سے ثابت کر کے آپ کو دکھا دیا ہے کہ باوجود آپ کے کمال تکبر علم کے ان کے جواب سے عاجز ہیں۔ اس رسالہ میں ایک بحث تحقیق خلف وعدہ وعید میں کی گئی ہے اور نہایت کامل طور سے آیات قرآنی سے ثابت
٣
کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کسی وعدہ اور وعید میں خلف نہیں ہو سکتا۔ جس طرح کوئی وعدہ نہیں ٹلتا۔ اسی طرح اس کے حتمی وعید بھی نہیں ٹلتی۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ خوف کی وجہ سے وعید کا ٹل جانا سنت اللہ ہے۔ محض غلط ہے۔
(ص ٧١ سے ٨٩ تک ملاحظہ ہو)
پھر منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی کا غلط ہونا اظہر من الشمس کیا ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو اس جھوٹی پیشین گوئی کے سچ بنانے میں کوشش کی ہے اور حضرت مولانا نے اس کا غلط ہونا بیان کیا ہے۔ وہ نہایت ہی لائق دید ہے۔
(ص ١١٥ سے آخر تک ملاحظہ ہو)
اس پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے کی بڑی وجہ سب سے پہلے مرزا قادیانی حقیقت الوحی میں یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی شرطی تھی۔ جب وہ شرط پوری کر دی گئی تو نکاح فسخ ہو گیا۔ اس جواب کے غلط ہونے کی نو وجہیں نہایت مفصل اور مدلل ایسی بیان کی ہیں کہ قیامت تک ان کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ بلکہ جس کے دل میں کچھ بھی نور ایمان ہے وہ انہیں دیکھ کر نہایت کشادہ پیشانی سے مرزا قادیانی کو جھوٹا یقین کرے گا۔ یہ رسالہ اسٹیم پریس امرتسر میں ١٣٣٢ھ میں چھپا ہے۔
ناظرین! دیکھیں کہ حضرت اقدس کی طرف سے کیا مفصل چیلنج ہوا ہے۔ مگر مولوی صاحب کو اسے دیکھ کر بھی غیرت نہ ہوئی کہ جواب لکھے اسے چھپے ہوئے تیسرا برس ہے۔ کہئے مولوی صاحب یہ چیلنج تو میرا یا کسی دوسرے ذی علم کا نہیں ہے۔ بلکہ انہیں بزرگ کا ہے جنہیں آپ اپنا مخاطب صحیح سمجھتے ہیں۔ پھر اب تک کیوں نہیں جواب دیا۔ اب ان سب سے آنکھ بند کر کے ١٣٣٤ھ میں یہ چٹھی چھاپنا کس قدر بے غیرتی کی بات ہے۔ کاتب چٹھی سے کہئے کہ حضرت اقدس تو بہت چیلنج دے چکے ہیں اور ساری دنیا میں مرزا قادیانی کا کاذب ہونا نہایت مستحکم دلیلوں سے ثابت کر کے مشتہر کر چکے ہیں۔ کیا آپ خواب غفلت میں پڑے سوتے تھے اور اب جان بوجھ کر اپنے گرفتاروں کو پھسلاتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ ہم چیلنج دیتے ہیں اور وہ سامنے نہیں آتے۔ سچ ہے ”بے حیا باش ہر چہ خواہی کن“
جماعت احمدیہ! اگر ہمارے رسالوں کے دیکھنے سے تمہیں ممانعت کی گئی ہے تو ان کی چٹھی کا جواب تو دیکھ لو اور اپنے جانوں پر رحم کر کے مولوی صاحب کے فریب کو ملاحظہ کرو کہ جب
م
حضرت اقدس متعدد رسالے مرزا قادیانی کے کذب میں لکھ کر شائع کر چکے ہیں اور برسوں سے وہ رسالے شائع ہو رہے ہیں۔ اب انہیں تقریر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ میں اگر لکھنے کی قدرت نہیں ہے اور ڈرتے ہیں کہ اگر بیہودہ اور غلط باتیں لکھ کر شائع کیں تو ملک میں اور زیادہ بدنامی ہوگی اور اگر چند آدمیوں کے روبرو کچھ بیہودہ گوئی کی تو بہت کم حضرات اس سے واقف ہوں گے۔ اس لئے اس پر اصرار ہے کہ جلسہ عام میں بیان نہ ہو۔ خاص جلسہ ہو تاکہ کم لوگ واقف ہوں۔ اس لئے میں حاضر ہوں کہ آپ مجمع کریں یا ہمیں اس کی اجازت تحریری دیں کہ ہم مجمع کریں اور ہم مذکورہ رسالوں میں سے ایک کو کھڑے ہو کر سنادیں اور آپ اس کا جواب دیں۔ مگر اتنا کہنا ہمیں شریعت محمدیہ کے رو سے ضرور ہوگا کہ اگر آپ کے بیان میں کوئی بات قرآن مجید یا صحیح حدیث کے رو سے غلط ہوگی تو ہم علانیہ طور سے کہہ دیں گے کہ مولوی صاحب یہ غلط بیان کر رہے ہیں۔ قرآن وحدیث میں یہ نہیں ہے۔
اسی طرح اگر اور کوئی بات غلط کہیں گے تو ہم کھڑے ہو کر کہہ دیں گے کہ مولوی صاحب یہ غلط بیان کر رہے ہیں۔ آپ کے بیان کے بعد اگر حاضرین جلسہ غلطی کی وجہ بیان کرنے کے لئے کہیں گے اور ہم سے غلطی کا ثبوت چاہیں گے تو ہم اسے ظاہر کر دیں گے۔ یہ ہمارا چیلنج ہے اور جماعت احمدیہ ہی انصاف کرے کہ کیسا فیصلہ کن چیلنج ہے اور یہ تو ایسا ہے کہ حضرت اقدس ہی سے مناظرہ ہوا۔ کیونکہ انہیں کا بیان پڑھا جائے گا۔
اب مولوی صاحب کے فریب آمیز چیلنج کو ملاحظہ کیجئے۔ لکھتے ہیں کہ کسی جلسہ میں حضرت اقدس خود مرزا قادیانی کے متعلق زبانی اعتراض کریں اور ہم اس کا جواب دیں۔ لیکن جانبین سے صرف ایک ایک گھنٹہ تقریر ہو۔ یعنی اعتراض کے بعد ایک گھنٹہ آپ کا جواب ہو اور بیان کی حالت میں یا اس کے بعد کوئی کچھ نہ بولے۔ چاہے آپ جھوٹی باتیں اور جھوٹا حوالہ اپنی تقریر میں کیوں نہ بول جائیں اور جھوٹی باتیں قرآن وحدیث کی طرف منسوب کیوں نہ کر دیں۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ اس شرط کے ساتھ آپ کے چیلنج کا سوائے اس کے اور کیا مقصود ہو سکتا ہے کہ پبلک پر اپنی مستعدی دکھائیں اور دھوکا دیں۔ نہیں تو ایسی شرط لگانا کیا معنی؟ کوئی حق پسند ایک
٥
منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور ظاہر ہے کہ جب آپ کے مرشد محض جھوٹی باتیں قرآن و حدیث کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں اور آپ نے بھی اپنے مرشد کی پیروی سے بعض جگہ بیان کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ چودھویں صدی میں مسیح موعود آوے گا۔ حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں ہے۔ جب آپ کا یہ مذہب ہے اور آپ کی یہ حالت ہے تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ کی تقریر کو جس میں جھوٹ کے ذخیرہ ہونے کا ظن غالب ہو، علمائے حقانی آپ کا بیان اس شرط پر سننا گوارا فرما دیں اور جھوٹی باتیں سنتے رہیں اور اس کے بعد ان کو جواب کا بھی موقع نہ دیا جائے اور خواہ مخواہ الساکت عن الحق شیطان اخرس کا مصداق بنیں۔ آپ کی کھلی چٹھی کا یہ پہلا فریب تھا۔ دوسرا، فریب آپ کا یہ ہے کہ آپ حضرت اقدس کے رسالوں پر جو چار پانچ برس سے مرزا قادیانی کی پیشانی پر سے جھوٹ وکذب وافترا و دجل کے بڑے بڑے بد نما داغ مٹانے کے لئے آپ کو چیلنج دے رہے ہیں۔ پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ مولوی صاحب آپ کا یہ خیال محض خام اور باطل ہے۔ آپ چاہے جس قدر اپنی جھوٹی اور مصنوعی مستعدی زبانی گفتگو کے لئے دکھائیں۔ لیکن اس سے وہ کتابیں ضائع نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مشعل ہدایت بن کر مسلمانوں کو راہ مستقیم دکھاتی رہیں گی۔ چاہے اس سے مرزا قادیانی کی ہڈیاں قبر میں جل کر خاک سیاہ کیوں نہ ہو جائیں۔ غرضکہ آپ ہزار جتن کریں۔ لیکن کتابوں پر پردہ نہیں پڑ سکتا اور اس طور سے آپ کی دوسری غرض بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔
سوم، آپ لکھتے ہیں کہ آپ کے اشتہار کا جواب حضرت ہی تحریر فرمائیں۔ کسی اور کے جواب کی طرف آپ توجہ نہیں کریں گے۔ آپ کا یہ قول بھی دجل کے پورا کرنے میں کم نہیں ہے۔ کیونکہ یہ قول صاف بتا رہا ہے کہ آپ کو اظہار حق مقصود نہیں ہے۔ بلکہ آپ صرف برابری دکھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اولاً اظہار حق کے لئے کسی کی تخصیص نہیں ہو سکتی ہے۔ چاہے کوئی طالب حق کیوں نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ بھاگلپور میں جس ڈرانے والی صدا سے قادیانیوں کی ہڈی لرزہ میں آئی تھیں، جو مولانا مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب کی صدا تھی اور وہ بھاگلپور ہی میں تھے۔ نیز آپ یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت مولانا بوجہ ضعف پیری کے ایک گھنٹہ مسلسل مجمع میں تقریر نہیں فرما سکتے اور
٦
اب تو مدت سے مجمع میں جانا ہی آپ نے چھوڑ دیا ہے۔ اگر کسی وقت چند آدمی کا مجمع آپ کے سامنے ہو جاتا ہے تو آپ پریشان ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں یا لوگوں کو رخصت کر دیتے ہیں۔ انہیں باتوں کو معلوم کر کے خاص حضرت مولانا کو تقریر کے لئے چیلنج دیتے ہیں اور جواب کے لئے بھی حضرت ہی کی تخصیص کرتے ہیں اور مولانا سید مرتضیٰ حسن صاحب کی طرف آپ ایک اشارہ بھی نہیں کرتے۔ اس سے کیا یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ مرزا قادیانی کے متعلق گفتگو کرنے سے جان چراتے ہیں اور حضرت مولانا کے نام چیلنج صرف برابر دکھانے کے لئے اور پبلک پر اپنی ظاہری مستعدی ثابت کرنے کے لئے دیتے ہیں۔ اگر کچھ قابلیت جواب کی ہے تو مذکورہ رسالوں کا جواب لکھو۔ ورنہ گمراہی سے توبہ کرو۔
واضح رہے کہ آپ کی یہ دونوں غرضیں بھی کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ آپ اپنی برابری حضرت قبلہ سے کیا دکھائیں گے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ سینکڑوں آپ کے ہم رتبہ اور افضل علماء حضرت مولانا کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں۔ یہاں سے چاٹگام تک پورب میں اور پچھم میں کابل و غزنی تک سینکڑوں علماء حلقہ بگوش ہیں۔ ہوشیار پور کے ایک مشہور عالم آ کر ابھی بیعت کر گئے ہیں۔ فیض صحبت کی غرض سے کئی ماہ صحبت میں رہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے حضرات داخل سلسلہ ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا کہ مسجد نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے امام و خطیب آ کر مرید ہو گئے ہیں۔ صرف چاٹگام کے متعدد علماء کے نام میں جانتا ہوں۔ جو حضرت قبلہ کے مرید ہیں اور ان میں سے بعض آپ سے افضل ضرور ہیں۔ جیسے مولانا اشرف علی صاحب جو وہاں کے استاذ الاساتذہ ہیں۔ مولانا مولوی واجد علی صاحب بانی مدرسہ واجدیہ و مولانا ابوالحسن صاحب و مولانا مولوی جمال الدین صاحب پروفیسر کالج چاٹگام و مولانا مولوی محمد یعقوب صاحب نواکھالی۔ اسی طرح دوسرے ضلعوں میں بھی بعض کے نام جانتا ہوں۔ مثلاً مولانا ابواللیث صاحب سپرنٹنڈنٹ نارمل سکول سلہٹ جو عربی اور انگریزی دونوں میں ماہر ہیں اور غالباً تین سو روپیہ ماہوار پاتے ہیں۔ بتائیے یہ لوگ کس بات میں آپ سے کم ہیں۔ جب ایسے ایسے ذی مرتبہ اور ذی شان لوگ حضرت کے مرید ہیں تو آپ برابری کا دعویٰ کریں؟ خدا کی شان۔
٧
ہاں اب میں آپ کے دوسرے مضامین کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ غور سے ملاحظہ فرمائیں۔
- ١...... آپ بہت خفا ہیں کہ رؤف العالم صاحب کا توبہ نامہ کیوں شائع ہوا۔
مولوی صاحب اگر اس وجہ سے آپ خفا ہیں کہ آپ کی پردہ دری ہوئی اور اندرونی بات آپ کی پبلک پر ظاہر ہو گئی تو اس میں آپ حق بجانب ہیں۔ لیکن اس کے کیا معنی کہ آپ رؤف عالم صاحب کے بیان کو بلا ثبوت تو کہتے ہیں۔ لیکن اس سے انکار کرنے کی ہمت آپ کو نہیں ہوتی ہے، اگر آپ نے حقیقت میں وہ الفاظ استعمال نہیں کئے ہیں تو آپ کو چاہئے تھا کہ جس طرح سے رؤف عالم صاحب نے حلفیہ اپنا اظہار شائع کیا تھا۔ آپ بھی اس کے مقابل حلفیہ انکار کرتے، نہ یہ کہ آپ کو انکار سے بھی انکار ہے اور اس پر یہ خواہش ہے کہ لوگ رؤف عالم صاحب کے بیان کو غلط سمجھ لیں۔ مولوی صاحب یہ ناممکن ہے۔
- ٢...... حضرت اقدس نے کہیں پر حکیم نور الدین صاحب کے متعلق ایک روایت
بیان فرمائی تھی۔ اپنے اشتہار میں آپ اس کو بھی بے ثبوت کہتے ہیں اور گویا ثبوت چاہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ثبوت سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا۔ خلیفہ جی تو درکنار جب آپ کے اصل پیر مرزا قادیانی کا اسی قسم کا واقعہ اور ایک کمسن لڑکی سے عشق ظاہر کیا گیا اور ثبوت میں انہیں کے اقوال اور انہیں کے خانگی خطوط دکھائے گئے اس وقت آپ کو کیا فائدہ ہوا۔ جو اس وقت امید کی جائے۔
علاوہ بریں خلیفہ جی کے متعلق جو روایت بیان کی گئی ہے اس سے ان کے متعلق کوئی ناپاک الزام تو صراحۃً لگایا نہیں گیا تھا۔ جس سے آپ کو ان کے نام کے بعد قدس سرہ بڑھانے کی ضرورت پڑی۔
ناظرین! آپ کو مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کا واقعہ مفصل معلوم نہ ہوگا۔ اس لئے تھوڑی تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے کچھ عرض کرتا ہوں۔ اگر پوری تفصیل آپ کو مقصود ہو تو الہامات مرزا یا چودھویں صدی کا مسیح ملاحظہ فرمادیں۔
- ٭ مرزا قادیانی کے لڑکے کے سسرال میں ایک لڑکی نہایت حسین وخوبصورت تھی۔ وہ ان
کے لڑکے کے یہاں کسی تقریب پر آئی اور مرزا قادیانی دیکھ کر اس پر فریفتہ ہوگئے۔ اگرچہ سینہ میں
٨
حسرت و تمناؤں کا تلاطم ہو گیا۔ لیکن اظہار محبت و پیغام نکاح کا کوئی موقع سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ وہ لڑکی ابھی کمسن ہے اور یہ اس وقت بڈھے فرتوت ہو گئے تھے۔ اس لئے ڈر تھا کہ لوگ یہ نہ کہہ دیں کہ تم بڈھے ہو اور وہ کمسن ہے۔ تمہارا اس کا میل نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ مذہبی مخالف ہو گیا۔ مرزا قادیانی اسی خوف سے مدتوں اپنے اوپر فراق کی مصیبتیں سہتے رہتے۔ لیکن زبان سے ایک لفظ نہیں نکالا اور ہمیشہ فکر میں مبتلا رہے۔ (اسی موقع پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ہم آسمانی نشان کے لئے دعاء میں مصروف تھے) آخر خدا خدا کر کے مرزا قادیانی کو اظہار محبت کا ایک موقع ہاتھ آ گیا اور جو کچھ ان کے جی میں تھا کہہ بھی سنایا۔ وہ موقع یہ تھا کہ لڑکی کے باپ کو ایک ہبہ نامہ پر ان سے گواہی کرانے کی ضرورت پڑی اور یہ گواہی ان کی ایسی تھی کہ بغیر اس کے وہ کاغذ مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا فوراً کہہ دیا کہ اپنی لڑکی کو میرے نکاح میں دو جب ہم گواہی کریں گے۔ (ان کے الفاظ یہ تھے)
”چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہمارے رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بتمامتر عجز و انکسار سے ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ نامہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا۔“
(آئینہ کمالات اسلام، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)
ناظرین! ملاحظہ کریں کہ یہ مرزا قادیانی کی کیسی صریح بناوٹ ہے۔ واقف کار حضرات جانتے ہیں کہ استخارہ وہیں کرتے ہیں جہاں انجام کی حالت معلوم نہیں ہوتی کہ کیا ہوگا اور جو امر خیر باعث ثواب ہے۔ ان میں استخارہ کرنا چہ معنی۔ نہایت مشہور مقولہ ہے کہ در کار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست۔ یعنی نیک کام میں استخارہ کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ جو نیک کام جس
٩
وقت پیش آوے اور اس سے ہو سکے بے تامل کرے۔ اس میں استخارہ کی کیا ضرورت۔ اس کا انجام یقینی معلوم ہے کہ اس کام کے کرنے سے ہمیں ثواب ملے گا۔ مثلاً کسی غریب محتاج کو کچھ دینا ہے تو اس کے لئے استخارہ کرنا کس قدر حماقت کی بات ہے۔ مرزا قادیانی کے ایک عزیز نے اپنی ایک حاجت پیش کی تھی۔ مرزا قادیانی کو چاہئے تھا کہ اسے پوری کر دیتے۔ جیسا کہ اہل اللہ کا شیوہ ہے۔ نہ کہ اس کی حاجت روائی سے انکار کر کے ایک طوفان برپا کر دیا اور انجام کار ذلت اٹھائی۔ کیونکہ ان کی حالت ظاہر ہو گئی اور معلوم ہوا کہ اس کی لڑکی پر فریفتہ تھے۔ آخر عمر تک اس کی آرزو میں تدبیریں کرتے رہے۔ مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو بہت مخلوق کو اس گمراہی سے بچانا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی آرزو پوری نہ ہوئی اور دست حسرت ملتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے اور ساری دنیا کے نزدیک کاذب و مفتری ٹھہرے۔ اگر کسی ایسے بزرگ کا کوئی خواب بالفرض اچھا نہ ہو جس کی ولایت کے سینکڑوں شواہد لوگ دیکھ رہے ہیں تو اس سے ان کی ولایت نہیں جاتی۔ فتوحات مکیہ وغیرہ دیکھو، اور جس خواب کو آپ بار بار پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی تفصیل تو جواب حقانی میں دیکھئے۔ وہ چھپ کر آپ کے پاس پہنچ چکی ہے۔ کیا اندھیر ہے کہ باوجود صریح جواب مشتہر ہو جانے کے عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔
میاں عبد الماجد صاحب! اس خواب کو تو حضرت مخدوم الملک شرف الدین بہاری علیہ الرحمہ کمال اسلام کا نشان بتاتے ہیں اور حضرت مجدد الف ثانی بھی انہیں کے ہمزبان ہیں۔ حضرت زبیدہ خاتون نے بھی اسی قسم کا خواب دیکھا تھا۔ جس قسم کے خواب پر آپ بہکے ہوئے ہیں اور حضرت امام مالکؒ نے اس کی نہایت عمدہ تعبیر دی تھی۔ پہلے ان کاملین اولیاء اللہ کے جھوٹے ہونے کا اعلان دیجئے اور چونکہ حضرت مجدد علیہ الرحمہ کو مجدد الف ثانی آپ بھی مان چکے ہیں۔ اس لئے اپنے آپ کو بھی جھوٹا ٹھہرائیے۔ اس کے بعد اس خواب میں گفتگو کیجئے گا۔ آپ کے اسرار نہانی کے دو جواب ہو چکے ہیں۔ یہ نہ سمجھئے گا کہ جس طرح آپ اور آپ کی جماعت اہل حق کے جواب سے عاجز ہے۔ اہل حق بھی کسی باطل پرست کے جواب سے ساکت ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ واللہ ولی التوفیق! خاکسار: محمد یعسوب عفی عنہ!
١٠
مل کرے۔ اس میں استخارہ کی کیا ضرورت۔ اس کا ے ہمیں ثواب ملے گا۔ مثلاً کسی غریب محتاج کو کچھ دینا ت کی بات ہے۔ مرزا قادیانی کے ایک عزیز نے اپنی ہتے تھا کہ اسے پوری کر دیتے۔ جیسا کہ اہل اللہ کا شیوہ کے ایک طوفان برپا کر دیا اور انجام کار ذلت اٹھائی۔ کہ اس کی لڑکی پر فریفتہ تھے۔ آخر عمر تک اس کی آرزو س کو بہت مخلوق کو اس گمراہی سے بچانا تھا۔ اس لئے ت حسرت ملتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے اور ے۔ اگر کسی ایسے بزرگ کا کوئی خواب بالفرض اچھا نہ دیکھ رہے ہیں تو اس سے ان کی ولایت نہیں جاتی۔ پ بار بار پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی تفصیل تو جواب پہنچ چکی ہے۔ کیا اندھیر ہے کہ باوجود صریح جواب ا۔
ب کو تو حضرت مخدوم الملک شرف الدین بہاری علیہ ضرت مجدد الف ثانیؒ بھی انہیں کے ہمزبان ہیں۔ ب دیکھا تھا۔ جس قسم کے خواب پر آپ بہکے ہوئے ہت عمدہ تعبیر دی تھی۔ پہلے ان کاملین اولیاء اللہ کے رت مجدد علیہ الرحمہ کو مجدد الف ثانی آپ بھی مان چکے ہے۔ اس کے بعد اس خواب میں گفتگو کیجئے گا۔ آپ نہ سمجھے گا کہ جس طرح آپ اور آپ کی جماعت اہل ی باطل پرست کے جواب سے ساکت ہیں۔ یہ نہیں خاکسار: محمد یعقوب عفی عنہ! ١٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد انهم اوتوا الكتاب من قبلنا
مرزائیت کے متعلق
جزیرہ ٹرینی ڈاڈ کے
مسلمانوں کے
سات سوالات کے جوابات
(حضرت مولانا حکیم محمد یعقوب مونگیریؒ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
بعد حمد ونعت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثناء یہ خاکسار ہمدردان اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ خدا کے واسطے آپ حضرات اس پر غور فرمائیں کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد چالیس پچاس کروڑ کہی جاتی ہے۔ مگر باوجود اس کثرت کے ان کا ضعف ایمانی اور اپنے دین پاک سے بے پرواہی کم تعجب انگیز نہیں ہے۔ ایک دن وہ تھا کہ مسلمان بہت ہی کم تھے اور ساری دنیا مخالفین اسلام سے بھری پڑی تھی تو کیا مسلمان مقدس اسلام کی خدمت وحفاظت سے باز رہے۔ ہرگز نہیں۔ اگرچہ اس وقت مسلمان کمزور اور غریب تھے۔ مگر اپنے پاک مذہب کی حفاظت میں انہیں جان ومال کی کچھ پرواہ نہ تھی۔ وہ جو کچھ کماتے تھے اسلام پر قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اگرچہ تعداد میں کم تھے۔ مگر مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے اور تمام دنیا میں اسلام پھیلا دیا۔ انہیں کی بدولت اس وقت دنیا میں پچاس کروڑ مسلمان نظر آ رہے ہیں۔ ظاہر میں تو جماعت بہت بڑی ہے۔ مگر افسوس وحیرت ہے کہ چاروں طرف سے دشمنان اسلام کے حملے ہو رہے ہیں اور ہمارے مقدس مذہب کو کس کس طرح مٹایا جا رہا ہے۔ مگر یہاں احساس تک نہیں۔
جان تو کیا دے سکتے ہیں تھوڑا سا مال صرف کرنا بھی ہم پسند نہیں کرتے۔ صدمہ تو اس کا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف عیسائی عرصہ سے اسلام کے فنا کر دینے کے لئے ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے مذہب کی اشاعت میں کروڑوں روپے پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ لاکھوں مسلمان ان کے فریب میں آ کر عیسائی بن گئے اور آئے دن ہوتے جاتے ہیں۔ دوسری طرف آریوں کا زور ہے۔ ان کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں جان ومال سے ہر جائز وناجائز کوشش کو عمل میں لا رہے ہیں اور ہزاروں مسلمان آریہ ہوتے جاتے ہیں۔ تیسرا دشمن مگر سب سے زیادہ خطرناک دشمن مرزا غلام احمد قادیانی کا گروہ ہے جو بظاہر اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور دکھلاتا ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے اپنی زبان وقلم سے اسلام اور بزرگان اسلام کی سخت توہین کی ہے۔ مرزا قادیانی نے صاف طور پر اپنے کو رسول کہا ہے اور اپنی رسالت کا زوروں کے ساتھ دعویٰ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
٢
اس کے ماسوائے بہت سے ان کے اقوال ہیں۔ رسالہ دعویٰ نبوت مرزا ملاحظہ ہو۔ دعویٰ نبوت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے کو تمام انبیاء کرام سے افضل کہا ہے اور حضور نبی کریمﷺ سے بھی اپنے کو افضل کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے ہیں وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
(اخبار البدر قادیان مورخہ ١٦ جولائی ١٩٠٦ء) اور آقائے دو جہاں کی نسبت لکھتے ہیں کہ تین ہزار معجزے ہمارے نبیﷺ سے ظہور میں آئے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
اب دیکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کس صفائی کے ساتھ حضور پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے ہیں کہ میرے نشانات اور معجزے تین لاکھ سے زیادہ ہیں اور نبی کریمﷺ کے تین ہی ہزار ہیں۔ سو حصے سے زیادہ اپنی فضیلت ظاہر کی ہے۔ دوسری جگہ کس بیباکی کے ساتھ حضورﷺ پر اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ”آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصلی کیفیت کھلی اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی ۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٤٨٢ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضورﷺ پر تو حقیقت نہ کھلی ۔ مگر مرزا قادیانی پر پورے طور سے کھل گئی ۔ اس قسم کے اقوال اور بھی ہیں جو دوسرے رسالوں میں دکھائے گئے ہیں۔
اب ناظرین خود سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کے دل میں کس قدر وقعت اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے۔ ایسا گستاخی کرنے والا انسان کبھی بزرگ یا نبی ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ بنام مسلمان بھی نہیں کہا جاسکتا۔ محض مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اسلام کا دعویٰ ہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے بظاہر محض ذاتی اغراض کی بنیاد پر دو گروہ ہو گئے ہیں۔ ایک مرزا قادیانی کے صاحبزادے مرزا محمود صاحب کا گروہ ہے جو محمدی پارٹی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ کھلم کھلا مرزا قادیانی کو نبی کہتا ہے اور ان کے نہ ماننے والے کو کافر قرار دیتا ہے۔ یہ جماعت جنوبی امریکہ اور افریقہ وغیرہ میں اپنی دروغ بافی کی اشاعت کر رہی ہے۔ دوسرا گروہ خواجہ کمال صاحب کا ہے جو لاہوری پارٹی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مسلمانوں سے روپیہ وصول کرنے اور اندرونی طور پر مرزائیت کی تبلیغ کرنے کی غرض سے بالاعلان مرزا قادیانی کو نبی نہیں کہتا مگر مرزا قادیانی کے صریح قول جو دعویٰ نبوت کے متعلق ہیں۔ ان میں
٣
تاویلیں کرتا ہے اور یہ دکھلاتا ہے کہ جیسے بعض بزرگوں نے حالت جذب میں انا الحق وغیرہ کہا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی دعویٰ نبوت اور دعویٰ خدائی وغیرہ کئے۔ حالانکہ یہ محض ان کا فریب ہے۔ اگر کسی میں ہمت ہو تو یہ ثابت کرے کہ جن بزرگوں سے اضطراری حالت میں وہ الفاظ نکلے۔ ان کا انہوں نے کبھی دعویٰ بھی کیا اور اس پر اصرار اور زور بھی دیا یا انہوں نے اس کی اشاعت رسالوں اور اخباروں کے ذریعہ سے کی۔ ہرگز نہیں اور انہوں نے کہیں یہ بھی کہا کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہے اور مرزا قادیانی کی طرح انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میرا اپنے الہاموں پر ویسا ہی ایمان ہے۔ جیسا قرآن مجید پر، کوئی سمجھدار مرزا قادیانی کے ان زوردار دعوؤں کو دیکھ کر ایک لحظہ کے لئے اسے نہیں مان سکتا کہ مرزا قادیانی کے اس قسم کے زوردار دعوے جس میں دفتر کے دفتر سیاہ ہوئے ہوں اور اپنے مخالفین کو ان کے نہ ماننے پر سخت برے الفاظ استعمال کئے ہوں۔ یہاں تک کہ ان کو کافر کہا ہو جو ایک بھلا آدمی زبان پر نہیں لاسکتا۔ جذب اور بیہوشی کی حالت پر محمول کئے جاسکتے ہیں؟
یہاں پر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جن بزرگوں نے انا الحق وغیرہ اضطراری حالت میں کہا تو انہوں نے بظاہر دعویٰ خدائی کیا۔ مگر دعویٰ نبوت کسی سچے مسلمان نے نہیں کیا۔ کیونکہ دعویٰ خدائی مدہوشی میں کرے گا یا اس طور پر ہوگا کہ اس کا جھوٹا ہونا خاص و عام سب سمجھ لیں گے۔ دعویٰ نبوت جو کرے گا وہ جھوٹ و فریب سے کرے گا اور عوام پر اس کا جھوٹ فریب چھپ سکے گا۔ جیسے کہ بہت سے جھوٹے مدعیوں نے کیا اور بہت سے لوگ ان کے فریب میں آگئے اور انا الحق کہنے والوں کو کسی نے خدا نہیں مانا۔ لاہوری پارٹی کا اس سے انکار کرنا اور اس قسم کی باتیں بنانا محض اس غرض سے ہے کہ کہیں مسلمان برافروختہ ہو کر ان کے دام تزویر سے نکل نہ بھاگیں اور جو ان کا مطمع نظر ہے وہ حاصل نہ ہو۔
خواجہ صاحب بڑے شان دار لفظوں میں کہتے ہیں اور اس کا شور و غل ہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کرتا ہوں۔ مگر افسوس مسلمان اس ظاہر داری پر فریفتہ اور خاموش ہیں کہ فی الحقیقت خواجہ صاحب حقیقی اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس خبر سے پھولے نہیں سماتے اور ان کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں یہ اسلام کی مدد نہیں ہے۔ بلکہ گمراہی اور دجالیت کی شان ہے اور اسلام کے دشمنوں کی مدد ہے جو اسلام کی تباہی میں کوشاں ہیں۔ کیونکہ یہ تو اس مذہب کی تبلیغ ہے۔ جس کے بانی نے قرآن مجید میں تحریف کی اور احادیث نبوی علیہ الصلوٰۃ
٤
والسلام کو ردی قرار دیا۔ خدا پر اور اس کے رسولوں پر الزام لگائے اور اس کے رسولوں کی توہین کی۔ اسی کو خواجہ صاحب اسلام کہتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ جب خواجہ صاحب علی گڑھ میں گئے تو وہاں کی شاندار مسجد میں نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ قادیانی لڑکوں کے ساتھ ایک کوٹھری میں جو ان لڑکوں نے اپنی نماز کے لئے مخصوص کر رکھی تھی نماز پڑھی۔ مسلمان طلباء نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی تو خواجہ صاحب نے کہا کہ آپ کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔ یہ نہایت صحیح واقعہ ہے۔ علی گڑھ کے طلباء اس کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کو ان سوالات سے جو آپ آگے چل کر ملاحظہ کریں گے۔ ان کے اسلام اور تبلیغ کی حالت اظہر من الشمس ہو جائے گی۔ یہ بات جدا ہے کہ خواجہ صاحب کو کام کرنے کا ڈھنگ خوب معلوم ہے۔ بہت مستعد اور دھن کے پکے آدمی ہیں۔ کام کرنا اور مستعدی اور بات ہے اور سچائی اور خلوص کے ساتھ حقیقی اسلام کی خدمت کرنا دوسری چیز ہے۔ کیونکہ تجربہ اور واقعات عالم اس کے شاہد ہیں اور بہت سی ایسی نظیریں ہیں کہ وہ لوگ جو زہد و تقویٰ اور اسلام کی خدمت میں مشہور تھے اور اس صورت سے ایک عالم کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لیا۔ مگر دیکھا کہ ہمارا سکہ پورا جم گیا تو اپنے اصلی مقصد کا اظہار کیا اور لوگ انہیں مان گئے۔ ایسے لوگوں کے مختصر حالات (رسالہ فیصلہ آسمانی حصہ دوم اور رسالہ عبرت خیز میں ملاحظہ ہوں)
رسالہ لکھنے کا سبب
اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس رسالہ کے لکھنے کا کیا سبب ہوا۔ شمالی امریکہ میں ایک جزیرہ ٹرینی ڈاڈ ہے۔ جہاں حبشی اور ہندوستانی مسلمان مزدور آباد ہیں۔ ایک مذہبی جھگڑے کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں نے محض اس خیال سے کہ یہ باہمی جھگڑا دور ہو اور مسلمانوں کی اصلاح ہو جائے۔ ایک خط ندوۃ العلماء میں لکھا اور ایک خواجہ کمال الدین صاحب کو، مگر افسوس اور صدمہ اس کا ہے کہ ہمارے علماء کی بے اعتنائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اس کا کچھ خیال نہیں کیا اور اسے بے حقیقت بات سمجھ کر وہاں کے مسلمانوں کی خبر نہ لی، اور ان کی فریاد و زاری نہ سنی۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ خواجہ صاحب نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنا ایک مبلغ فضل کریم خان بی اے قادیانی کو وہاں بھیج دیا۔ اس مبلغ نے وہاں پہنچ کر بڑے زور و شور سے مرزائی اسلام کی اشاعت شروع کر دی اور وہاں کی روش کے موافق باتیں کیں۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ بیچارے بہت سے مسلمان ان کے دام میں آ گئے۔ مگر چونکہ (مرزائی اسلام کی تبلیغ) عین گمراہی کی تعلیم تھی۔ وہاں کے صاحب بصیرت
٥
مسلمان چونک پڑے اور کہا یہ کیسا اسلام ہے۔ ایسی تعلیم تو قرآن وحدیث نے نہیں دی ہے۔ تو مبلغ صاحب فرمانے لگے کہ علمائے اسلام نے قرآن مجید کو نہیں سمجھا۔ (معاذ اللہ ) یہ کیسی گمراہی کی بات ہے۔ علمائے اسلام تو وہ بزرگ ہیں جن کی شان میں جناب رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ: ”العلماء ورثة الانبیاء“ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انہیں حضرات کے علم وفضل زہد واتقاء اور علو ہمتی کی بدولت قرآن وحدیث کی سچی اور پاک تعلیم بآسانی گھر گھر پہنچی نور ہدایت چمکا گمراہی دور ہوئی۔ اگر یہ حضرات ماہرین قرآن نہ ہوتے تو اس وقت دنیا گمراہ رہتی۔
ناظرین! مرزا قادیانی کی گمراہ تعلیم کو خواجہ صاحب اسلام کہتے ہیں اور اسی کی اشاعت میں اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی بہت سی باتیں اور ان کے دعویٰ ایسے ہیں جو اسلام کے بالکل خلاف ہیں اور ان کے جھوٹ فریب تو بیشمار رسالوں میں دکھائے گئے ہیں۔ اس رسالہ میں محض آپ کی آگاہی کے لئے دو تین قول ان کے دکھا دیئے گئے ہیں۔ جن کو پڑھ کر دنیا مرزا قادیانی کو ایک اچھا آدمی بھی نہیں کہہ سکتی۔ مجدد اور امام ہونا تو بڑی بات ہے۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب ظاہر میں ان کو نبی تو نہیں مانتے۔ مگر مجدد اور امام اور مصلح ضرور مانتے ہیں۔ مجدد اور امام کی تو بڑی شان ہے۔ ان کو تو ایک ادنیٰ مؤمن کہنا یہ بھی مؤمن کی توہین ہے۔ مگر خواجہ صاحب تو مرزا قادیانی کے وہ اوصاف بیان کرتے ہیں جو خاص نبیوں کی شان ہے۔
مرزا قادیانی میں نبیوں کے تمام فرضی آثار بتاتے ہیں۔ مگر نبی کا لفظ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال نہیں کرتے۔ مگر افسوس کہ ہمارے بھائی مسلمان ان باتوں پر غور نہیں کرتے اور اپنے سچے بہی خواہوں کی نہیں سنتے اور اپنی مالی مدد سے کفر وضلالت کی اعانت کر رہے ہیں اور اس ارشاد خداوندی کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔ ”لا تعاونوا علی الاثم والعدوان“ گناہ اور سرکشی کی (باتوں میں) معین ومددگار مت ہو۔ بلکہ ایسے لوگوں سے ترک موالات کی تاکید ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: ”یأیھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولياء وایای فاتقوا “ اے مومنوں میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ اور مجھ ہی سے ڈرو۔ میں ٹرینی ڈاڈ کے ان مسلمانوں کا اور بالخصوص میاں رکن الدین صاحب پنجابی کا جنہوں نے محض اپنی قوت ایمانی اور اخلاص سے بہت مستعدی کے ساتھ اسلام کی خدمت کی اور کر رہے ہیں۔ یہاں سے اور دوسرے جگہوں سے کتابیں منگا کر وہاں کے بہت سے مسلمانوں کو گمراہی سے بچایا اور اسی طرح میاں گوہر علی صاحب بھی قابل ذکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی دے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو اسلام کی خدمت کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین!
٦
ان حضرات کا میں نہایت ممنون ہوں کہ انہوں نے خواجہ صاحب کے بھیجے ہوئے مبلغ کے تعلیمی عقائد چند سوالات کی صورت میں میرے پاس بھیجے۔ جن میں بعض ایسے سوال ہیں۔ جن کو ہر وہ مسلمان جو کچھ بھی اپنی مذہبی معلومات رکھتا ہے خوب جانتا ہے۔ اس لئے ان سوالوں کا جواب ذکر نہیں کیا گیا۔ مثلاً:
- ١...... جانور کا گلا کاٹ کر خون بہا دینے سے اس کا گوشت حلال ہو جاتا ہے۔ خواہ اس کا ذبح
کرنے والا کوئی بھی ہو۔
- ٢...... غلام احمد قادیانی ایک اعلیٰ پایہ کے بزرگ تھے۔
- ٣...... غلام احمد قادیانی نے جو اپنے کو نبی وغیرہ کہا ہے وہ مجذوبانہ حالت میں کہا ہے۔ جس
طرح حضرت منصور نے اناالحق کہا تھا۔
- ٤...... نماز ایک قسم کی ورزش ہے۔
- ٥...... روزہ بھوکا مرنا ہے۔
مسلمانو! غور کرو یہی اسلامی تعلیم ہے جو وہاں پھیلائی جارہی ہے۔ یا رسول کی تعلیم کو مضحکہ بنایا جا رہا ہے اور در پردہ فرائض خداوندی سے انکار ہے اور اسی کا نام تبلیغ اسلام رکھ چھوڑا ہے۔ بس یہی مرزا قادیانی کے ماننے کا نتیجہ ہے جو سراسر دہریت کی تعلیم ہے۔ مگر چونکہ آزادی کا زمانہ ہے۔ اس لئے اس قسم کی باتوں کو ہمارے بھائی مسلمان بھی پسند کرتے ہیں اور اس پر فریفتہ ہیں۔
جب میں نے دیکھا کہ یہ سوالات قرآن وحدیث اور مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کے بالکل خلاف ہیں اور معاذ اللہ سراسر کفر وضلالت کی کھلی اشاعت ہے تو ان کے جوابات رسالہ کی صورت میں قرآن وحدیث اور اجماع امت سے مدلل کر کے لکھے گئے جو عین اسلام کی تعلیم اور جمہور مسلمانوں کے عقائد ہیں۔ ان کا ترجمہ انگریزی میں بھی کرایا گیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ چھپوا کر بھیجا جائے گا۔ اب جو اس کے مخالف باتیں بنائے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ میں اپنے ٹرینی ڈاڈ کے مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ جو بات آپ کو دریافت کرنی ہو بلا تکلف مجھ سے دریافت کر لیا کریں۔ حتی الوسع اس کے جواب دینے میں پوری کوشش کی جائے گی۔
اور آپ اپنی ہمت کو نہ ہاریں اور ان دشمنان اسلام کے فریب سے بچتے رہیں۔
مرزا قادیانی اور خواجہ صاحب کے مختصر حالات معلوم کرنا چاہیں تو کم از کم ذیل کی کتابیں منیجر کتب خانہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر صوبہ بہار سے منگا کر ضرور ملاحظہ کریں۔
٧
فیصلہ آسمانی حصہ اوّل، دوم، وسوم مسیح قادیان کی حالت کا بیان معیار الحق ہدیہ عثمانیہ چیلنج محمدیہ دوسری شہادت آسمانی رسالہ عبرت خیز دعویٰ نبوت مرزا وغیرہ
(نوٹ : بحمدہ تعالیٰ احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں یہ تمام کتب ورسائل شائع ہو گئے ۔ مرتب)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں۔
سوال نمبر : ١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے یا ان کے باپ یوسف نجار تھے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے کیا ثابت ہے اور جو شخص کہتا ہے کہ یوسف نجار ان کے باپ تھے۔ اس کا یہ کہنا از روئے شرع کے کیسا ہے؟
جواب نمبر : ١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ قرآن مجید کی آیتیں اس پر نص صریح ہیں۔ یوسف نجار یا دوسرا کوئی شخص ان کا باپ ہرگز نہیں تھا اور جو شخص یوسف نجار کو ان کا باپ کہتا ہے وہ صریح قرآن شریف کے خلاف کہتا ہے اور اگر اس کو اس پر اصرار ہے تو بیشک وہ بیدین اور اسلام کا دشمن ہے۔ پہلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے پر نصوص قرآنیہ پیش کرتا ہوں اس کے بعد مسئلہ کی دوسری شق پر روشنی ڈالوں گا۔
”واذکر فی الکتاب مریم ٠ اذا انتبذت من اهلها مكاناً شرقياً فاتخذت من دونهم حجاباً فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشراً سويا ٠ قالت انى اعوذ بالرحمن منك ان كنت تقياً قال انما انا رسول ربك لا هب لك غلاماً ذكيا ٠ قالت انى يكون لى غلام ولم يمسسنى بشر ولم اك بغيا قال كذلك قال ربك هو علىّ هين ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امراً مقضياً فحملته فانتبذت به مكانا قصيا ٠ فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت يليتنى مت قبل هذا وكنت نسياً منسياً ٠ فناداها من تحتها الا تحزنى قد
٨
جعل ربك تحتك سريا وهزى اليك بجذع النخلة تسقط عليك رطباً جنيا . فكلى واشربى وقرى عينا فاما ترين من البشر احداً فقولي اني نذرت للرحمن صوماً فلن اكلم اليوم انسياً فاتت به قومها تحمله قالوا يامريم لقد جئت شيئاً فريا . يا اخت هارون ماكان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغياً فاشآرت اليه قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبياً قال انى عبدالله اتنى الكتب وجعلنى نبيا وجعلنى مبركاً اين ماكنت واوصني بالصلوة والزكوة مادمت حياً وبرا بوالدتى ولم يجعلنى جبارًا شقياً “ اس کتاب میں مریم کو یاد کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی مکان میں چلی گئی اور سبھوں سے پردہ کر لیا تو (اسی حالت میں) میں نے اپنے فرشتہ کو بھیجا جو پورے قد کے انسان کے ہم شکل ہو کر مریم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ مریم نے (دیکھ کر) کہا میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تو خوف خدا رکھتا ہے (اس پر) فرشتہ نے جواب دیا میں اور کچھ نہیں ہوں۔ صرف تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ تاکہ تم کو ایک پاک لڑکا عطاء کروں۔ مریم نے کہا مجھ کو کیونکر لڑکا ہوگا۔ مجھ کو تو نہ کسی مرد نے اب تک چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں (پھر میرے لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے) فرشتہ نے کہا اسی طرح ہوگا۔ (یعنی بغیر مرد کے چھوئے اور بغیر بدکاری کئے) تمہارے رب نے کہا ہے کہ اس طرح لڑکا پیدا کرنا مجھ پر آسان ہے اور ایسا اس لئے کروں گا کہ اس بات کو لوگوں کے لئے ایک نشان اور سبب رحمت بناؤں اور یہ حکم اٹل ہے (اس سوال و جواب کے بعد) مریم نے اس کو حمل میں لے لیا (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے شکم میں روح کو ڈال دیا بعد ازاں) وہ کنارے کے مکان میں چلی گئیں۔ اس کے بعد درد زہ کا قصہ ہے اور چند آیتوں کے بعد پھر ارشاد ہے۔ پس وہ لڑکے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لائیں۔ یہ دیکھ کر اس کی قوم نے کہا اے مریم تو خوب تحفہ لے کر آئی۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ برا تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی (پھر تجھ میں یہ اثر کہاں سے آیا) اس پر مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کیا (کہ حقیقت حال اس سے پوچھ لو) قوم نے کہا کہ ہم ایک گود کے بچے سے کیونکر بات کریں (اس پر) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا۔ بیشک میں خدا کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب دی اور مجھ کو نبی بنایا اور جہاں میں رہوں گا۔ مجھ پر خدا کی برکت رہے گی اور خدا نے مجھ کو نماز و زکوٰۃ کی وصیت کی ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، اور مجھ کو اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے متکبر اور شقی نہیں بنایا۔ ﴾
٩
یہاں تک قرآن شریف کی سترہ آیتیں نقل کر کے ان کے صحیح معانی بیان کئے گئے ہیں۔ اب جو ان کے خلاف معنی بیان کرے اور ان معنوں کو غلط بتا کر قادیان کے ترجمہ کو صحیح کہے وہ محض جاہل اور فریب دینے والا ہے۔ وہ ہمارے سامنے آئے۔ ہم اس کی جہالت مجمع کے سامنے بیان کر کے دکھادیں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جو ایماندار ان آیتوں کو اور ان کے ترجمے کو پڑھے گا وہ بلا تامل کہے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہ مضمون ان آیتوں میں ایک ہی طریقہ سے نہیں بیان ہوا ہے۔ بلکہ چند طریقوں سے بار بار دہرایا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ جب مریم سے فرشتہ نے کہا کہ میں تم کو لڑکا دینے آیا ہوں تو حضرت مریم نے چونکہ وہ مسجد پر وقف تھیں۔ ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور نہ آئندہ شادی کی امید تھی۔ اس لئے فرشتہ کو جواب دیا کہ مجھ کو نہ اب تک کسی مرد نے نکاح کے ذریعہ سے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔ پھر مجھے کیسے لڑکا ہوگا۔ اس پر فرشتہ نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری شادی ہوگی اور تم مرد سے ملوگی۔ بلکہ کہا تو یہ کہا کہ تم کو اسی طرح یعنی بغیر مرد سے ملے لڑکا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ فرشتہ نے مزید اطمینان کے لئے اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی سنا دیا کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا میرے لئے آسان ہے۔ میں اس پر قادر ہوں۔ جب میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بے ماں باپ کے پیدا کیا تو تمہارے پیٹ سے بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔ ”قال ربک ھو علی ھین“ کا اس کے سوا اور کچھ مطلب نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر کوئی معمولی بات ہوتی جو روز مرہ ہوتی رہتی ہے تو اس کے لئے نہ حضرت مریم اشکال بیان کرتیں اور نہ خداوند تعالیٰ اپنی شان قدرت بیان کر کے حضرت مریم کو خاموش کرتا اور نہ اس پیدائش کو خصوصیت کے ساتھ اپنی شان خلاقی کا نشان قرار دیتا۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک انبیاء کی عظمت نہیں ہے۔ خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ١؎ کی اس وجہ سے وہ اور ان کے مریدین ایسے قدرت والے نشان سے انکار کر کے مسلمانوں کو بہکاتے ہیں۔ تیسری صورت سے اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا کہ جب حضرت مریم بچہ لے کر قوم کے سامنے گئیں تو ان کی قوم نے طعنہ دیا اور ملامت کی کہ اے مریم تیرے والدین برے نہ تھے۔ تیرا خاندان ایسا اعلیٰ وارفع ہے کہ تو ہارون علیہ السلام کی بہنوں میں شمار ہوتی ہے۔ پھر تجھ سے ایسا ناروا فعل کیونکر سرزد
١؎ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بڑی سخت ہجو کی ہے اور انہیں مکار وفریبی بتایا ہے اور ان کی نانی وغیرہ کو کسبیان اور زنا کار کہا ہے (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی کا (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢١٩) ملاحظہ ہو۔
١٠
ہوا۔ اب اگر وہ شوہر دار ہوتیں تو کیوں قوم طعنہ دیتی اور ملامت کیوں کرتی۔ ان کی ملامت سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مریم کے کوئی شوہر نہ تھا۔ بغیر شوہر کے لڑکا پیدا ہوا۔ اس لئے ان کی قوم نے اس بچہ کو ناجائز سمجھ کر ملامت کی اور ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ بغیر مرد کے ملے ہوئے بھی عورت کے لڑکا ہو سکتا ہے۔ جس کا جواب اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی ماں کی گود ہی سے قوم کو دے دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ جس کی حکمت اور قدرت کے تم بھی قائل ہو۔ لہٰذا تعجب نہ کرو اور دیکھو خدا کی حکمت اور قدرت ایسی ہے کہ میں اسی کے سہارے اپنی ماں کی گود ہی میں بول رہا ہوں اور اس سے بڑھ کر تعجب انگیز یہ ہے کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنایا۔ مجھ کو کتاب دی اور مجھ کو نماز اور زکوٰۃ اور اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کہنا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت کی ہے یہ چوتھی دلیل ہے۔ اس بات پر کہ بغیر باپ کے تھے۔ کیونکہ اس سورہ کے پہلے رکوع میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے ماں و باپ دونوں کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے۔ نیز تمام مسلمانوں کو اور بنی اسرائیل کو اور عام بنی آدم کو قرآن میں کہا گیا ہے کہ ماں باپ دونوں کے ساتھ نیکی کرو۔ یہ کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے کو کہا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے صرف ماں ہی تھیں۔ باپ نہیں تھے۔ جن کا تذکرہ کیا جاتا اور ان کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کو کہا جاتا۔ انجیل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ انجیل متی کا پہلا باب ملاحظہ ہو۔
عادۃ اللہ کے خلاف قدرت الٰہی کا ظہور
” ان مثل عيسىٰ عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون الحق من ربك فلا تكن من الممترين (آل عمران: ٦٠) “ ﴿ اللہ کے یہاں جیسے آدم ویسے عیسیٰ کہ (خدا نے) مٹی سے آدم (کے پتلے) کو بنا کر اس کو حکم دیا کہ (آدم) بن اور وہ (آدم) بن گیا (اے پیغمبر یہ ہے) حق بات جو تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے (بتائی جاتی ہے) تو کہیں تم بھی شک کرنے والوں میں نہ ہو جانا۔ ﴾
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار یہود کو جواب دیا ہے اور اپنے سچے نبی کی صداقت کو ظاہر فرمایا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بے باپ پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم صدیقہ جس وقت حاملہ ہوئی ہیں اس وقت ان کا کوئی شوہر نہ تھا۔ کفار یہ واقعہ معلوم کر کے
١١
متعجب ہوئے اور حضرت مریم علیہا السلام کو سخت الزام دینے لگے۔ جس طرح کہ اس وقت مرزا قادیانی اور ان کے پیرو دیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو جواب دیتا ہے اور حضرت مریم علیہا السلام کی پاکبازی ظاہر فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش نہایت عجیب وغریب طور پر نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح پر ہے جس طرح تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زیادہ تعجب خیز ہے کہ ان کے تو ماں اور باپ کوئی بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے محض مٹی کی تصویر بنا کر اسے آدمی ہو جانے کا حکم کر دیا۔ وہ آدمی ہو گئے۔ جن کا نام آدم رکھا گیا۔ جن کی اولاد تمام عالم میں ہے۔ جن کو آدمی کہتے ہیں۔ جب حضرت آدم علیہ السلام بغیر ماں و باپ صرف خدا کے حکم سے پیدا ہوئے پھر اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو کیا تعجب ہے۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی کی صورت بنا کر انسانی روح اس میں پھونک دی۔ اسی طرح حضرت مریم کے پیٹ میں بغیر کسی ظاہری سبب کے شکل بنا کر اس میں انسانی روح پھونک دی اور اسے حسب دستور پیدا کر کے نبوت کا کام لیا۔ اس آیت کی یہی تشریح ہے۔
افسوس ہے مرزا اور مرزا کے مریدوں پر کہ ایسے صریح اور کھلے بیان کو نہیں سمجھتے اور حضرت مریم پر کافروں کے مثل تہمت لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح کو صرف پیدائش میں حضرت آدم کے مثل قرار دیتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح آدم کو بغیر ماں و باپ کے پیدا کیا تھا اسی طرح حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ اب کوئی مرزائی بتائے اگر یہ مطلب نہیں ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو پیدائش میں حضرت آدم علیہ السلام کے مثل کا کیا مطلب ہے۔ آیت نے تو صاف طور سے پیدائش میں مثال بیان کی ہے۔ یعنی جس طرح حضرت آدم بغیر ماں و باپ کے پیدا ہوئے۔ اسی طرح حضرت مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کے باپ ہوتے تو پیدائش میں حضرت آدم سے ان کو مثال دینا محض غلط ہو جاتا اور کلام الٰہی جھوٹا ٹھہرتا۔ (معاذ اللہ)
اس بیان سے بالیقین ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کلام الٰہی کو نہیں مانتا تھا۔ محض دہریہ تھا۔ اپنی محدود عقل کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی لامحدود قدرت کا احاطہ کرنا گویا خدا کی قدرت کو محدود کرنا ہے۔ اس کی قدرت کا یہ دنیا ایک ادنیٰ مظہر ہے۔ وہی حکیم مطلق ہے جو اپنی قدرت کو مختلف طور سے ظاہر کرتا ہے اور اسی کی یہ قدرت ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے
١٢
ہے۔ اسطور سے کہ نطفہ اختیار کی بعد ازاں اس حضرت آدم علیہ السلام اور نطفہ کی ضرورت نہیں کو حضرت آدم علیہ السلا نہیں ہوئی۔ صرف لفظ ک نہیں ہوئی اور لفظ کن سے کی نسبت تو یہ کہتے ہیں ک السلام کے لئے بے باپ صورت بنا کر روح پھونک سلیمہ عطا ء فرمائی ہے اور ا کل شئ قدیر “ ان کی پیدائش میں متعدد ط بعد پھر اس وقت تک ہمیشہ آپ کی پیدائش ہوئی۔ خاص طور کے حوائج متعا وغریب بات یہ ہوئی کہ ہوتو بتاوے کہ حضرت حو مگر ہم یہ کہو کے خلاف ان کی پیدائش صحبت کریں۔ چھٹا یہ کہ ساتواں پھر اس مٹی می شناخت کی قوت عنایت ہوا کہ دنیا میں جو حادث ے تو رات آ
ہے ۔ اس طور سے کہ نطفہ پہلے خون بستہ ہوا۔ اس کے بعد گوشت کا لوتھڑا بنا۔ پھر صورت انسانی اختیار کی بعد ازاں اس میں روح ڈالی گئی ۔ غرضیکہ حضرت آدم کی اولاد تدریجاً پیدا ہوئی۔ مگر خود حضرت آدم علیہ السلام دفعۃً پیدا کئے گئے۔ یعنی مٹی کا سانچا تیار کر کے اس میں روح ڈال دی گئی اور نطفہ کی ضرورت نہیں ہوئی تو اب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے مشابہ بیان فرمایا کہ جس طرح اس میں نطفہ کی ضرورت نہیں ہوئی۔ صرف لفظ کن سے پیدا کیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں نطفہ کی ضرورت نہیں ہوئی اور لفظ کن سے ان کو بھی پیدا کر دیا۔ مگر حیرت یہ ہے کہ قادیانی حضرات، آدم علیہ السلام کی نسبت تو یہ کہتے ہیں کہ ان کی صورت بنائی اور اس میں روح پھونک دی۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بے باپ کا پیدا ہونا خلاف عقل سمجھتے ہیں تو اگر یہاں حضرت مریم کے پیٹ میں صورت بنا کر روح پھونک دی تو اس میں کیا دشواری ہے۔ اب جن کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑی بھی عقل سلیم عطا فرمائی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے پر ایمان ہے اور آیت ”ان الله علیٰ کل شئ قدیر“ ان کے پیش نظر ہے وہ اس سے کبھی انکار نہیں کر سکتے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش میں متعدد طور سے اللہ تعالیٰ کی قدرتیں ظاہر ہوئیں۔ جن کا ظہور آپ کی پیدائش کے بعد پھر اس وقت تک نہیں ہوا۔ پہلا اعجاز آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ دوسرا اعجاز بغیر ماں کے آپ کی پیدائش ہوئی۔ تیسرا اعجاز یہ کہ اس جسم میں خاص طور سے اعضاء بنے ۔ جس سے خاص خاص طور کے حوائج متعلق ہیں۔ چوتھا اعجاز ان کے جسم سے حوا بنیں ا؎۔ اب اس میں تو عجیب وغریب بات یہ ہوئی کہ ایک مرد سے ایک عورت پیدا ہو گئی ۔ اب اگر کسی بے ایمان کو اس سے انکار ہو تو بتاوے کہ حضرت حوا کس طرح پیدا ہوئیں۔
مگر ہم یہ کہیں گے کہ جس طرح پیدا ہوئی ہوں تمام دنیا کے مشاہدہ اور تمام علوم ظاہری کے خلاف ان کی پیدائش ضروری ہوئی۔ پانچواں اعجاز یہ ہے کہ ان کو یہ قدرت دی گئی کہ بیوی سے صحبت کریں۔ چھٹا یہ کہ ان کے نطفہ میں یہ قدرت دی گئی کہ نطفہ بن کر حوا کے پیٹ میں ٹھہرے۔ ساتواں پھر اس مٹی میں بولنے اور بات کرنے کی قدرت دی۔ آٹھواں اپنی اور دوسروں کی شناخت کی قوت عنایت کی نواں وحی الٰہی کو معلوم کیا۔ ان نو قدرتوں کے ظہور سے یہ بالیقین ثابت ہوا کہ دنیا میں جو عادت اللہ جاری ہے اس کے خلاف بھی کسی وقت قدرت الٰہی کا ظہور ہوتا ہے۔
١؎ تورات کتاب پیدائش ب ٢ درس ٢٤ ملاحظہ ہو اور حدیثوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔
١٣
کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے محض کنز مخفی تھا یا کوئی دوسری مخلوق۔ اس نے پیدا کی تھی جو اس آدم علیہ السلام کے علاوہ تھی اور یہ اسی کے علم میں ہے۔ اب نئے عالم کا سلسلہ شروع کیا اور ہزاروں برس گزرنے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش میں دو قدرتوں کا ظہور اپنی معمولی قدرت کے خلاف ظاہر فرمایا۔ یعنی بغیر باپ کے پیدا کیا اور بچپن میں بات کرنے کی قدرت دی جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو دی تھی۔
الحاصل جس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہ ہو اور جس قادر مطلق نے حضرت آدم کی پیدائش میں ایسی عظیم الشان نو باتیں عجیب وغریب ظاہر کی ہوں تو اب اگر اس نے کئی ہزار برس کے بعد منکرین قدرت الہی کو پھر اپنا تماشا دکھایا اور اتنے زمانہ گزرنے پر اپنی معمولی عادت کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا تو کوئی دشواری اور تعجب کی بات نہیں ہے اور نہ اس میں کسی سمجھدار انسان کو شک ہو سکتا ہے۔
یہاں تک تو قرآن مجید کی آیتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بے باپ ہونے کا ثبوت ہو گیا۔ جو ایک سچے مسلمان کے لئے کافی ہے۔ لیکن مزید اطمینان کے لئے بخوف طوالت صرف ایک حدیث تفسیر درمنثور اور ایک حدیث بخاری شریف سے نقل کرتا ہوں۔ امام بخاریؒ آیت ”یا اهل الكتاب لا تغلوا فى دينكم ولا تقولوا على الله الا الحق انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه“ کی تحت میں حضرت عبادہؓ سے روایت کرتے ہیں۔
پہلی حدیث
”عن النبي ﷺ قال من شهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمداً عبده ورسوله وان عيسى عبده ورسوله وكلمته القاها الى مريم وروح منه والجنة حق والنار حق ادخله الله الجنة على ماكان من العمل (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦ کتاب بدء الخلق) “ حضرت عبادہ کہتے ہیں کہ فرمایا جناب رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے گواہی دی کہ سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی گواہی دی کہ بیشک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور شہادت دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور خدا کا کلمہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور اس کی روح ہیں اور شہادت دی کہ جنت اور جہنم حق ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ چاہے کسی عمل پر اس کا خاتمہ ہو۔﴿
١٤
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ شارح بخاری آیت وكفى بالله وكيلا کے تحت میں حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
اصل عبارت
”كافيا تدبير المخلوقات وحفظ المحدث لا يحتاج معه الى أله آخر يعينه مستغنيا عن من يخلفه من ولد اوغيره (قال ابوعبيد) القاسم ابن سلام (كلمته) في قوله تعالى انما المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وكلمته هي قوله جل وعلا (كن فكان) من غير واسطة اب ولا نطفة (ارشاد الساری ج ٧ ص ١٩٨) “ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کے نظم وحفاظت کے واسطے کافی ہے۔ اس کو کسی ایسے شریک کی حاجت نہیں ہے۔ جو اس کی مدد کرے اور بے پرواہ ہے۔ اپنے قائم مقام سے چاہے اولاد ہو یا غیر اولاد۔ کہا ابو عبید قاسم بن سلام نے کہ (کلمہ) سے مراد خدا کا حکم کن ہے۔ جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ اور نطفہ کے پیدا ہوئے۔ ﴾
دوسری حدیث ملاحظہ ہو ۔
”اخرج ابن جرير عن السدي قال لما بعث رسول الله ﷺ وسمع به اهل نجران اتاه منه اربعة نفر من خيارهم منهم السيد والعاقب وما سرجس ومار بخر ، فسألوه ماتقول فى عيسى قال هو عبدالله وروحه وكلمته قالوا هم لا ولكنه هو الله نزل من ملكه فدخل فى جوف مريم ثم خرج منها فارانا قدرته وامره فهل رايت انسانا قسط خلق من غيراب فانزل الله ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم (تفسير درمنثور ج ٢ ص ٢٧) “ سدی سے ابن جریر کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو نجران سے چند معززین سید اور عاقب اور ما سرجس اور مار بحر نامی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ خدا کے بندے اور خدا کی روح اور خدا کے کلمہ ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ وہ خدا ہیں۔ کیا آپ نے کسی انسان کو دیکھا ہے کہ کبھی بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو۔ اس پر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی کہ: ”ان مثل عيسى عند الله مثل آدم “ بیشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی (بغیر باپ کے پیدا ہونے کی) مثال حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے۔ ﴾
١٥
یعنی جس طرح حضرت آدم علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور وہ انسان تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور انسان ہیں۔ مذکورہ حدیثوں نے بھی اس بات کو ثابت کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام محض اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ پہلی حدیث سے تو یہ بات معلوم ہوئی کہ جس طرح نجات کے لئے کلمہ توحید و رسالت کا اعتقاد اور اس پر کامل یقین ہونا ضروری اور داخل ایمان ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور ان کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے اس حدیث کو امام بخاری آیت مذکورہ کے ضمن میں لکھتے ہیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلمہ اور روح فرمایا ہے اور یہاں کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا محض اسی کے حکم سے ظہور میں آنا ہے۔ جس کو علامہ قسطلانی نے صاف کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود بغیر باپ اور نطفہ کے ہوا۔
دوسری حدیث نے اس مضمون کو اور صاف کر دیا۔ کیونکہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ نصاریٰ اہل نجران نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں حضور انورﷺ سے سوال کیا۔ آپ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ وہ خدا کے بندے اور اس کی روح ہیں۔ اس لئے انہوں نے انکار کیا۔ کیونکہ یہ تو ان کے عقیدے اور مذہب کے خلاف ہے۔ وہ تو خدا کا بیٹا بلکہ خدا مانتے ہیں۔ اس کے جواب میں وحی نازل ہوئی اور آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنا دی۔ ان مثل عیسی عند الله كمثل آدم یہ قرآنی آیت اس مدعا کے ثبوت میں پیش بھی کی جا چکی ہے۔ اس حدیث میں اس آیت کے شان نزول کو بھی متعین فرما دیا۔ جس سے روشن ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ غرضیکہ خود صاحب وحی نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر دلیل قرار دیا اور نصاریٰ نجران کو ساکت فرمایا۔
اب میں آپ سے کہتا ہوں کہ تمام دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا اور ہر جاہل سے جاہل بھی اس بات کو خوب سمجھتا اور جانتا ہے کہ عام طور پر لڑکے کی نسبت باپ ہی کی طرف ہوتی ہے۔ ماں کی طرف کوئی بھی نسبت نہیں کرتا۔ یعنی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ لڑکا فلاں مرد کا ہے۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ فلاں عورت کا ہے۔ لیکن یہ خصوصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہے کہ آپ کو عام طور پر ابن مریم ہی کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کے
١٦
علاوہ جہاں بھی آپ کا ذکر ہے وہ ابن مریم ہی کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کے باپ ہوتے تو بالضرور آپ اسی طرح منسوب ہوتے ۔ دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف آپ کی نسبت ہرگز ماں کی طرف نہ کی جاتی۔ ماں کی طرف منسوب ہونا ہی اس بات کی بہت صاف اور زبردست دلیل ہے۔ اب جس کو اس کے خلاف دعویٰ ہو تو وہ ثابت کرے اور سامنے آئے۔ اب ایسے بیانات کے ہوتے ہوئے قادیانی نہیں مانتے تو سوائے اس کے اور کیا کہا جائے کہ قرآنی آیتوں اور احادیث صحیحہ کا انہیں انکار ہے اور صرف انہیں آیتوں کی وہ مخالفت نہیں کرتے۔ بلکہ جن جن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم صدیقہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برتری اور تقدس کا بیان کیا ہے۔ قادیانی ان سب کی مخالفت اور تکذیب کے لئے ان دونوں مقدسین پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے۔ ”وجيهاً في الدنيا والآخرة ومن المقربین“ عیسیٰ دین و دنیا دونوں جگہ عزت والا اور مقرب بارگاہ ایزدی ہے۔ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق ارشاد ہے۔ ”التی احصنت فرجها“ مریم وہ ہے جس نے اپنے آپ کو ہمیشہ با عصمت رکھا۔
”یا مريم ان الله اصطفك وطهرك واصطفك على نساء العلمین“ اے مریم تجھ کو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا اور پاک بنایا اور سارے جہاں کی عورتوں سے برگزیدہ کیا۔ اس تعریف کی کچھ حد ہے۔ ایسے برگزیدہ پر مرزا قادیانی الزام بدکاری لگاتا ہے۔ (نعوذ باللہ)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کی فضیلت میں اس قسم کی بہت آیتیں ہیں۔ لیکن دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی نے ان دونوں مقدسین کو کیسی کیسی گالیاں دی ہیں۔
چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”آپ کے ہاتھ میں سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
١٧
یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہوا۔ اب ملاحظہ ہو کہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی نسبت مرزا قادیانی (کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨) میں لکھتے ہیں۔
حضرت مریم پر مرزا قادیانی کا اتہام ”اور مریم کی وہ شان ہے۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کے پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
اب خیال کیجئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی اس عبارت میں حضرت مریم علیہا السلام پر کیا کیا اتہام لگائے ہیں۔ اوّل! یہ کہ قبل نکاح کے ان کو ناجائز حمل رہ گیا تھا۔ دوم! یہ کہ حمل کی حالت میں ان کا نکاح کرنا توریت کی بناء پر ناجائز تھا۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ نکاح کے بعد بھی جو اولاد ہوئی وہ ناجائز نکاح سے پیدا ہوئی تھی۔ سوم! یہ کہ اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کنواری رہنے کا عہد کیا تھا۔ اس کو توڑ ڈالا۔ ان الزامات کے علاوہ اور بھی بہت گندہ گندہ الزامات مرزا قادیانی نے ان دونوں مقدسین پر لگائے ہیں اور مذکورہ آیتوں کا صریح انکار کیا ہے۔ جب ان کی یہ حالت ہے تو ایسی صورت میں ان سے یا ان کے مبلغین سے اس کی امید رکھنا کہ یہ سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روح اللہ اور آیت اللہ یعنی بغیر باپ کے پیدا ہونے کے قائل ہو جائیں گے عبث خیال ہے۔ پس جب کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت کر دیا تو اس مسئلہ کا دوسرا رخ بھی ظاہر ہو گیا۔ یعنی جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ یوسف نجار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باپ تھے۔ قرآن مجید کا منکر ہے۔ اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
قرآن پاک اور احادیث صحیحہ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی طرح یقیناً بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ انجیل کی بھی شہادت اوپر گزر چکی ہے۔ اب متی اور مرقس کی تفسیر مصنفہ پادری اے۔ ایف اسکاٹ جلد اوّل مطبوعہ الہ آباد ١٨٦٦ء ص ٢٣ باب اوّل آیت ١٨ کی شرح میں مرقوم ہے۔ لوقا کے پہلے باب میں ٢٦ سے ٣٦ تک لکھا ہے کہ جبرئیل فرشتہ خدا کی طرف سے مریم نام ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا اور اسے سلام
١٨
کر کے کہا کہ تو عورتوں میں مبارک ہے۔ جب وہ گھبرائی تب فرشتہ نے کہا مت ڈر۔ کیونکہ تو نے خدا کے نزدیک فضل پایا اور دیکھ تو حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام یسوع رکھے گی۔ تب مریم نے فرشتہ سے کہا یہ کیونکر ہوگا۔ حالانکہ میں مرد سے واقف نہیں ہوں۔ فرشتہ نے جواب دے کر اس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر اترے گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت کا سایہ تجھ پر ہوگا۔ اس مضمون میں کنواری کا لفظ صاف موجود ہے۔ اگر حضرت مریم کی شادی ہو چکی تو فرشتہ کی بشارت پر کیسے کہتیں کہ یہ کیونکر ہوگا۔ اس لئے کہ مرد سے واقف نہیں ہوں۔ اس عبارت سے مطلب روز روشن کی طرح واضح ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش حضرت مریم علیہا السلام کے کنوارے پن کی حالت میں ہوئی تھی۔ اس کی مفصل حالت انشاء اللہ دوسری کتاب میں بیان کی جائے گی۔
یہ آسمانی کتابیں اور ان کی شرحوں کے فیصلے تھے۔ اب ان کے بعد بھی انکار، نصوص قطعیہ کے انکار ہیں اور یہ وہ انکار ہے جس سے انسان یقیناً کافر ہو جاتا ہے۔ اب میں تاریخی شواہد پیش کرتا ہوں۔ تاریخ (ابن خلدون ج ٢ ص ١٤٣) اور تاریخ (طبری ج ٢ ص ١٥) میں حضرت مریم علیہا السلام کا حاملہ ہونا عالم دوشیزگی میں ثابت کیا ہے۔
اب رہیں معقولات کی بحثیں سو انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد ایک علیحدہ کتاب کی صورت میں حاضر خدمت ہوں گی۔ جن میں منقولی بحثوں کے علاوہ فلسفہ کی نادر بحثیں سائنس کے قیمتی انکشافات سے ثابت کیا جائے گا کہ عورت کو بغیر مرد کے تعلق کے لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ قانون فطرت کے مخالف نہیں۔ بلکہ عین قانون قدرت ہے۔ میں مزید اطمینان کے لئے چند فلسفی اقوال نقل کئے دیتا ہوں اور کچھ طبی مشاہدات بھی پیش کرتا ہوں۔ حکیم ارزانی قانونچہ کی شرح مفرح القلوب کے مقالۃ الثانی فی التشریح میں لکھتے ہیں کہ: ”حصول ولد از منی واحد جائز بل واقع است لیکن قلیل ونادر۔“ یعنی بلا مرد کے ملے صرف عورت کی منی سے لڑکے کا پیدا ہونا ممکن ہے اور ہوا بھی ہے۔ مگر اس کا وجود نادر و قلیل ہے۔ یہ مقولہ نفیسی کے حاشیہ میں بھی موجود ہے۔ علامہ ابوعلی سینا نے اپنی مستند کتاب قانون میں جو ایک عرصہ تک یورپ کے شاہی میڈیکل کالجوں میں فضیلت کی ڈگری کے لئے داخل درس رہا اور اب بھی طب یونانی کے نصاب میں یہی آخری کتاب ہے۔ اس پر فضیلت کی پگڑی بندھی ہے۔ پوری بحث کی ہے میں اس کا مختصر خلاصہ لکھتا ہوں کہ عورتوں کی منی میں دو قوت موجود ہے عاقدہ اور منعقدہ۔ منعقدہ کے غلبہ کی وجہ سے عورت بلا شرکت مرد حاملہ نہیں ہو سکتی۔ اگر بامتزاج عناصر عاقدہ کا غلبہ ہو گیا۔ جو ممکن ہے تو بلا قربت مرد صرف عورت کی منی واحد سے بچہ کا پیدا ہونا ممکن ٹھہرے گا۔ شرح
١٩
اسباب میں لکھا ہے کہ عناصر کے امتزاج کی خامی کی وجہ سے جو عورتیں حاملہ ہوئیں۔ ان کے بچے ناقص الخلقت پیدا ہوئے۔ انسانوں کے علاوہ جانوروں میں بلا جوڑے کے تولید نسل بکثرت مشاہدہ میں آرہی ہے۔ بالوں کے سڑنے کی وجہ سے عناصر کا کچھ ایسا امتزاج ظہور میں آتا ہے۔ جس سے سانپ کی پیدائش ہوتی ہے۔ مختلف گھانسوں کے سڑنے کی وجہ سے بچھو پیدا ہوتا ہے۔ مٹی اور غلوں کے سڑنے کی وجہ سے جو گیس پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اخلاط و امتزاج سے چوہے کا وجود ہوتا ہے۔ نباتات اور ایسے جمادات جو بآسانی حل ہو سکیں۔ برسات کے پانی کی وجہ سے جب سڑ جاتے ہیں۔ تو ان عناصر کے امتزاج و آمیزش سے مینڈک اور ہزاروں قسم کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ مزید معلومات کے لئے (تفسیر کبیر ج ٧ ص ١٦٧) اور تفسیر طبری ملاحظہ ہو۔
علم العناصر، علم الحیات، علم الجراثیم، پھر طول تجارب ومشاہدات کے مطالعہ سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں مخلوقات خدا دنیا میں بلا زوج و مخالطت ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہم مختصر عمر اور محدود تجربہ سے موجودات ومحدثات عالم کے غیر متناہی سلسلہ کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہم اپنی عادت مستمرہ کو قانون قدرت کے نام سے پکارتے ہیں۔ حالانکہ قانون قدرت وہ غیر محدود اوصاف الٰہیہ ہیں۔ جن کا ادراک حیطۂ بشریت کے بالکل خلاف ہے۔ قانون قدرت اس کے اوصاف ہیں اور اوصاف اس کی ذات اور اس کی ذات کا احاطہ کرنا غیر ممکن ہے۔ جیسا کہ کتاب العقل کے ص ١٢٢ میں لکھا ہے۔ کل حکماء قائل ہیں کہ حق تعالیٰ کی ذات کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی مذہب ہے کہ صفات عین ذات ہیں تو معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کی نہ ذات کا ادراک ممکن ہے نہ صفات کا اور ظاہر ہے کہ تخلیق اور ابداع بھی صفت ہے۔ پس عقل کا گھوڑا خلقت کے میدان کو سر نہیں کر سکتا۔ عقل مخلوق اور بعد والی چیز ہے۔ پھر اپنے پہلے کی چیز کو کیسے دریافت کر سکتی ہے۔ اگر ہم اپنی عادت مستمرہ ہی کو قانون قدرت کہیں تو ہزاروں چیزیں ایسی نظر آئیں گی۔ جن کو ہم اپنی عادت کے خلاف ہونے کی وجہ سے قانون قدرت کے خلاف کہہ دیں گے۔ پھر قانون قدرت کہاں رہا۔ میں نہایت ہی اختصار کے طور پر قانون قدرت کے چند نمونے پیش کرتا ہوں۔
- ١...... کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال لاہور میں ایک عورت کو پانچ گھنٹہ کے عرصہ
میں پانچ لڑکے پیدا ہوئے۔ ماں اور بچے تندرست اور صحیح و سلامت ہیں۔ ہزارہا لوگ ان بچوں کو دیکھنے کے لئے ہسپتال جا رہے ہیں۔
٢٠
کی خامی کی وجہ سے جو عورتیں حاملہ ہوئیں۔ ان کے بچے علاوہ جانوروں میں بلا جوڑے کے تولید نسل بکثرت مشاہدہ سے عناصر کا کچھ ایسا امتزاج ظہور میں آتا ہے۔ جس سے وں کے سڑنے کی وجہ سے مچھر پیدا ہوتا ہے۔ مٹی اور غلوں ہے۔ اس کے اخلاط وامتزاج سے چوہے کا وجود ہوتا ہے۔ و گئیں۔ برسات کے پانی کی وجہ سے جب سڑ جاتے ہیں۔ تو مینڈک اور ہزاروں قسم کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔ مزید اور تفسیر طبری ملاحظہ ہو۔ الجراثیم، پھر طول تجارب و مشاہدات کے مطالعہ سے اس خدا دنیا میں بلا زوج و مخالطت ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہم و محدثات عالم کے غیر متناہی سلسلہ کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ وقانون قدرت کے نام سے پکارتے ہیں۔ حالانکہ قانون جن کا ادراک حیطہ بشریت کے بالکل خلاف ہے۔ قانون ف اس کی ذات اور اس کی ذات کا احاطہ کرنا غیر ممکن ہے۔ ھا ہے۔ کل حکما قائل ہیں کہ حق تعالیٰ کی ذات کا ادراک ہے کہ صفات عین ذات ہیں تو معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کی نہ ور ظاہر ہے کہ تخلیق اور ابداع بھی صفت ہے۔ پس عقل کا سکتا۔ عقل مخلوق اور بعد والی چیز ہے۔ پھر اپنے پہلے کی چیز کو عادت مستمرہ ہی کو قانون قدرت کہیں تو ہزاروں چیزیں ایسی کے خلاف ہونے کی وجہ سے قانون قدرت کے خلاف کہہ ا۔ میں نہایت ہی اختصار کے طور پر قانون قدرت کے چند
میموریل ہسپتال لاہور میں ایک عورت کو پانچ گھنٹہ کے عرصہ بچے تندرست اور صحیح و سلامت ہیں۔ ہزار ہا لوگ ان بچوں کو
٢٠
- ٢...... کلکتہ میڈیکل کالج ہسپتال میں دو لڑکیاں لائی گئیں۔ ایک کی عمر اڑھائی برس
اور دوسری کی عمر تین سال کی تھی اور دونوں حاملہ تھیں۔ چنانچہ مدت معمولہ کے بعد بچے بھی پیدا ہوئے۔
- ٣...... بمبئی صدر ہسپتال میں ایسے دو شخص لائے گئے۔ جن میں سے ایک کو کبھی
بھی بول و براز کی ضرورت نہیں پڑی اور دوسرا غذا کی جگہ آگ کھاتا تھا۔
- ٤...... ضلع کشنا تعلقہ نندیکامہ موضع ہولم پلی میں ایک بیوہ عورت قوم برہمنی سے
عمر ٥٠ سالہ ہنوز موجود ہے۔ اس کا بیان ہے کہ جب اس کی عمر ٣٠ سال سے تجاوز کر گئی تھی اور اس وقت تک تین اولادیں بھی اس کے ہو چکی تھیں۔ یکا یک رحم کے شدید درد میں مبتلا ہو گئی۔ چونکہ درد کی شدت حد درجہ بڑھ گئی تھی اور برداشت کرنا سخت دشوار تھا۔ بغرض علاج روتی پیٹتی کسی مقام کو جارہی تھی کہ راستہ میں ایک سادھو سے ملاقات ہوئی۔ جس نے پہلے عورت کی رضامندی لے کر کہ وہ آئندہ غذا کے متروک ہو جانے کے متعلق شکایت نہ کرے گی۔ وہیں سے کوئی پتی لاکر عرق حلق میں نچوڑ دیا اور کہا کہ جا اب تجھے بالکل آرام آ جائے گا۔ دو تین دن میں درد کو بالکل آرام تو آ گیا۔ مگر ساتھ ہی اشتہاء بند ہو گئی ۔ اب یہ عورت عرصہ ٢٠ سال سے نہ تو کچھ کھاتی نہ پیتی ہے۔ حلق سے معدہ تک جسم سخت مثل پتھر کے معلوم ہوتا ہے۔ اگر کچھ پیا جاوے تو حلق سے گذر نہیں سکتا۔ دیگر ضروریات زندگی سے بالکل فارغ ہے۔ اس عرصہ بیس سال میں درد سر کی شکایت بھی نہیں ہوئی اور جسم معمولی رہتا ہے۔ گھر کا کام کاج کرتی بلکہ بغیر کسی تھکاوٹ کے ١٠، ١٢ میل پیدل چل سکتی ہے۔
ایک عجیب چڑیا کے متعلق جو بلامذکر پیدا ہوتی ہے۔ اس کی حالت صاحب برہان نے اپنی کتاب میں یوں لکھی ہے کہ ققنس نامی ایک چڑیا ہے۔ جس کی آواز سے حکما نے موسیقی کا استخراج کیا ہے۔ اس کی عمر ہزار سال کی ہے۔ جوڑا نہیں ہوتا پیدائش یوں ہوتی ہے کہ جب یہ بوڑھی ہو جاتی ہے۔ لکڑیاں جمع کر کے اس میں بیٹھ جاتی ہے اور اپنی منقار سے جس میں بہت سے سوراخ ہیں آواز نکالتی ہے۔ اس کے منقار کے ہر سوراخ سے ایک علیحدہ سر نکلتا ہے اور نیز وہ سر جس کو ہندی میں دیپک کہتے ہیں بلند ہوتے ہی لکڑیوں میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ چڑیا جل کر راکھ کا ڈھیر ہو جاتی ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس کے منقار میں ٣٦٠ سوراخ ہیں۔ جب اس کی موت آتی ہے تو وہ لکڑیوں میں بیٹھ کر گانا شروع کرتی ہے اور اپنی آواز میں مست ہو کر پھڑپھڑانے لگتی ہے۔ جس سے آگ بھڑک اٹھتی ہے اور اس کو جلا دیتی ہے۔ قدرت الٰہی
٢١
سے اس تودہ راکھ پر بارش ہونے لگتی ہے اور اس راکھ سے ایک بیضہ ظاہر ہوتا ہے۔ جس سے وہی چڑیا پھر پیدا ہو جاتی ہے۔
واقعات مندرجہ بالا نہایت سچے واقعات ہیں تو کیا ان سے مفروضہ قانون قدرت نہیں ٹوٹتا۔ جس کو ہم غیر ممکن کہتے ہیں وہ خدا کے نزدیک ممکن ہے۔ اطباء وحکما کے اقوال اور مشاہدات کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ لڑکے کا بلا باپ کے پیدا ہونا غیر ممکن نہیں۔ لیکن اطباء قدیم کے نزدیک اس کا وقوع بہت قلیل ہے۔ قدرت کا کھیل عجیب ہے۔ اپنی عادت کے آنے سے قدرت کی پیمائش ایسی ہے جیسے بچوں کا چاند کو پکڑنے کی کوشش کرنا۔
۔ ”فبأی حدیث بعدہ یؤمنون“
سوال نمبر:٢
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں۔ اگر زندہ نہیں ہیں تو ان کی قبر کشمیر میں ہے یا نہیں؟
جواب نمبر:٢
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ موجود ہیں اور ان کی حیات ثابت ہے۔ اس کے ثبوت میں ہمارے علماء نے متعددرسالے لکھے ہیں۔ چنانچہ (١،٢) مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے رسالہ شہادۃ القرآن دو باب میں لکھا ہے اور اس کا پہلا باب ١٣٣٠ھ میں دوبارہ لکھ کر طبع کرایا ہے اور دوسرا باب ١٣٢٣ھ میں پہلے باب سے علیحدہ چھپوایا ہے اور چونکہ ہر ایک باب حیات مسیح کے ثبوت میں ایک کامل رسالہ ہے۔ اس لئے دونوں بابوں کو علیحدہ علیحدہ چھپوایا ہے۔ تیسرا رسالہ سیف چشتیائی ہے۔ اس کے مؤلف مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب ہیں۔ مطبع مصطفائی لاہور میں ٣٢٦ صفحوں پر چھپا ہے۔ چوتھا رسالہ شمس الہدایت یہ ہے اس کے مصنف بھی مولانا ممدوح ہیں۔ یہ بھی مطبع مصطفائی لاہور میں ١٣٢٦ھ میں چھپا ہے۔ پانچواں رسالہ بیان للناس ہے۔ یہ ١٣٠٩ھ میں چھپا ہے۔ اس رسالہ میں مولانا عبدالمجید صاحب دہلوی اور مولوی احمد حسن صاحب امروہی کی خط و کتابت ہے۔ چھٹا رسالہ شفاء للناس ہے۔ اس کے مؤلف مولانا عبداللہ صاحب شاہ جہانپوری ہیں۔ ١٣٠٩ھ میں طبع ہوا ہے۔ ساتواں رسالہ الہام الحق فی اثبات حیات المسیح ہے۔ اس کو مولوی ابوالحسن پیر غلام مصطفیٰ صاحب نے لکھا ہے اور ١٣١١ھ میں چھپا ہے۔ یہ سات رسالے میرے پاس موجود ہیں۔ ان کے سوائے بارہ رسالے میرے علم میں اور ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ آٹھواں رسالہ الفتح الربانی، نواں رسالہ البیان الحق فی حیات المسیح ، دسواں رسالہ مذاہب فی الاسلام، گیارھواں
٢٢
رسالہ صحیفہ رحمانیہ چودھواں رسالہ درح المسیح، سترھواں رس الصرع فی حیات ا انیس ر واضح طریقہ سے ح انشاء اللہ تفصیلی معل اللہ ﷺ کے یہاں بقضائے الٰہی آپ اور افتراء ہیں۔ یح لفظوں میں مذکور کا نزول فرمانا صحیح ح پہنچ گئی ہیں۔ اتنے اب ایک سچے مسلما اور کسی مسلمان کا یہ ع رکھنا اور ایسے عقید اللہ ﷺ کو جھٹلانا ہے کے متعلق حضور ﷺ ”قال فیکم ابن مری ویفیض المال الدنیا وما فیہ لیومن بہ قبل م مریم تم میں نازل ہ کریں گے اور جزیہ ہوگی کہ انہیں ایک سجد
رسالہ صحیفہ رحمانیہ نمبر٥، بارھواں رسالہ انجم لکھنو ج ١٠ نمبر١٣، تیرھواں رسالہ موازنۃ الحقائق، چودھواں رسالہ درۃ الدرانی علی رد القادیانی، پندرھواں رسالہ السیف الاعظم، سولہواں رسالہ حیات المسیح، سترھواں رسالہ فتح ربانی، اٹھارھواں رسالہ تشیید المبانی لرد القادیانی، انیسواں رسالہ الحق الصریح فی حیات المسیح۔
انیس رسالوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی گئی ہے اور مدلل اور واضح طریقہ سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت کی گئی ہے۔ طالبین حق ضرور ان کو منگوا کر دیکھیں۔ انشاء اللہ تفصیلی معلومات حاصل ہوں گی اور تسکین خاطر کے واسطے مختصراً چند اقوال جناب رسول اللہ ﷺ کے یہاں بھی لکھے جاتے ہیں۔ قادیانیوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسیٰ زندہ نہیں ہیں۔ بلکہ بقضائے الٰہی آپ کی وفات ہو چکی ہے اور آپ کی قبر کشمیر میں ہے۔ یہ دونوں باتیں محض جھوٹ اور افتراء ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم بلکہ جملہ صحاح میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق صریح لفظوں میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول فرمانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور اس کے متعلق اتنی صحیح حدیثیں مروی ہیں جو حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ اتنے سچے لوگوں نے انہیں بیان کیا ہے کہ ان کے سچے ہونے میں شبہ نہیں ہو سکتا۔ اب ایک سچے مسلمان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور زندہ رہنے کے متعلق کیا شبہ رہ سکتا ہے اور کسی مسلمان کا یہ عقیدہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنا اور ایسے عقیدہ کی اشاعت کرنی صریحاً حدیث شریف کی تکذیب ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتا ہے۔ کیونکہ جس امر کو جناب رسول کریم ﷺ قسم کھا کر بیان فرمائیں اور جس امر کے متعلق حضور ﷺ کا یہ صاف و صریح ارشاد صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہو۔
”قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمن به قبل موته“ (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ضرور ابن مریم تم میں نازل ہوں گے جو حاکم و عادل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور سور کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور مال اتنا ہو جائے گا کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے گا اور یہ حالت ہوگی کہ انہیں ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا۔)
٢٣
پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم کو اس میں شک ہو تو یہ آیت پڑھو۔ ”وان من“ اس صریح حدیث کا انکار کرنا اور اس کے مقابلہ میں دلیری سے یہ کہنا کہ آپ وفات پاچکے اور آپ کی قبر کشمیر میں ہے۔ کیسی ناپاک جرات اور بددینی۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانا بجز بددین قادیانیوں کے کوئی مسلمان اس کی جرات نہیں کر سکتا۔ امام شوکانی اپنی کتاب توضیح میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔ ’وقد ورد فی نزول عیسیٰ علیه السلام من الاحادیث تسعة وعشرون حدیثاً“ ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق انتیس حدیثیں مروی ہیں۔﴾
اس کے بعد آپ حدیثوں کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔ ”وجمیع ما سقناه بالغ حداً التواتر کما لا یخفی علی من له فضل اطلاع“ ﴿یعنی یہ حدیثیں جو ہم نے نقل کی ہیں۔ حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ جن کو کامل اطلاع ہے۔ ان پر پوشیدہ نہیں ہے۔﴾
اسی طرح فتح الباری میں ہے۔ ”تواترت الاخبار بان المہدی من ھذه الامة وعیسیٰ علیه السلام یصلی خلفه وقال الحافظ ایضاً الصحیح ان عیسیٰ رفع وهو حی انتھی“ ﴿یعنی حضرت مہدی علیہ السلام کے اس امت سے ہونے کے متعلق اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق احادیث تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں۔﴾
اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام شریعت محمدیہ کے پیرو ہوں گے اور دوسری جگہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور آپ آسمان پر زندہ ہیں۔ حاصل یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور پھر ان کا قریب قیامت کے نزول فرمانا ایسا مسئلہ ہے۔ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے۔ جس کا انکار نہ کوئی مسلمان کر سکتا ہے اور نہ ایسے شخص کو جو متواتر حدیث کا منکر ہو باتفاق علماء اسلام مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا دعوٰی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے اور وہ مسیح جس کی پیشین گوئی اور وعدہ ہے۔ وہ میں ہوں۔ متواتر احادیث کی تکذیب ہے اور جناب حضرت نبی کریم ﷺ کو جھٹلانا ہے۔ جس پر جاہل قادیانی آنکھ بند کر کے ایمان لائے اور اس کی اشاعت کرتے ہیں اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے اور بالفرض کوئی دوسرا بزرگ مسیح موعود ہوگا، جس کے برکات بہت کچھ حدیثوں میں آئے ہیں۔
٢٤
جن کا حاصل یہ ہے کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور سب یہود و نصاریٰ مسلمان ہو جاویں گے اور مال و دولت کی یہ کثرت ہوگی کہ کسی مسلمان کو روپیہ و پیسہ کا خیال بھی نہیں رہے گا۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے وجود سے ان باتوں کا کہیں نشان پایا گیا۔ ہرگز نہیں۔ جنہوں نے ان کی حالت کو ان کے زمانے کو بغور ملاحظہ کیا ہے۔ وہ بالیقین کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے وجود سے مخالفین اسلام کو اہل اللہ پر جھوٹ بولنے اور فریب دینے کا گمان ہوا اور ان کے وجود سے دنیا پر ہر طرح کی بلائیں آئیں۔ اور تنگدستی میں مبتلا ہوئے۔ کیا کوئی قادیانی دعویٰ کر سکتا ہے کہ دنیا سے عداوت اٹھ گئی۔ لوگوں کے دلوں میں بغض و حسد باقی نہیں رہا اور لوگوں کی خوشحالی اس حد کو پہنچ گئی کہ جس کسی کو دنیاوی مال و متاع دیا جائے وہ اس کے لینے سے انکار کر دے اور کیا لوگوں کی توجہ دینی امور اور عبادت خداوندی کی طرف اس حد کو پہنچ گئی کہ ان کے نزدیک اللہ کے لئے ایک سجدہ ادا کرنا دنیا کی ساری نعمتوں سے زیادہ محبوب ہو اور کیا خود مرزا میں یہ کیفیت تھی۔ وہ تو خود نمازیں قضا کرتا تھا اور باتیں بناتا تھا۔ مسلمانوں سے بہت کچھ روپیہ لوٹا مگر حج کو نہ گیا اور کیا دنیا سے صلیب پرستی مٹ گئی اور عیسائیت کی بنیاد کھد گئی اور کیا ساری دنیا میں اسلام کا ایسا تسلط اور غلبہ ہو گیا کہ تمام یہودی اور عیسائی مسلمان ہو گئے اور کیا مرزا قادیانی کو اپنی زندگی کی آخری سانس تک حج اور عمرہ کرنا نصیب ہوا اور کیا مرزا قادیانی کو روضۂ نبوی پر حاضر ہو کر سلام پڑھنے کا موقع ملا۔ یعنی یہ سب وہ علامتیں ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کے لئے ضرور ہیں۔ اب اگر ان علامتوں کا ظہور نہ ہو اور ان کو اس کا موقع نہ ملا اور دنیا اس حالت کو نہ پہنچی اور علانیہ دیکھ رہے ہیں کہ نہیں پہنچی تو پھر کس قدر حیرت ہے کہ جاہل قادیانی آنکھ بند کر کے ان کو مسیح موجود مان رہے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد حسب ارشاد نبوی ان تمام باتوں کا ظہور میں آنا ضروری ہے۔ صحیح مسلم میں ہے۔
"ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد" ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد عداوت دور ہو جائے گی اور بغض وحسد کے جذبات نہیں رہیں گے اور لوگ مال و متاع دینے کے لئے بلاویں گے۔ مگر کوئی شخص اس کو قبول نہیں کرے گا۔﴾
صحیحین یعنی بخاری اور مسلم میں ہے۔ "ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى يكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها" ﴿مال کی افزائش اس قدر
٢٥
بڑھ جائے گی کہ کوئی اس کو قبول کرنے والا نہیں ملے گا اور ایک سجدہ دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر سمجھا جائے گا۔﴾
مسند امام احمد میں حضرت ابو سعید سے مروی ہے۔ ”يكسر الصليب ويكون الدعوة واحدة“ ﴿یعنی عیسائیت مٹ جائے گی اور ساری دنیا میں دین واحد ہوگا یعنی اسلام ۔﴾
حاکم کی روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے ہے کہ: ”ليسلكن فجاء حاجا او معتمرا وليأتين قبرى حتى يسلم“ ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکہ میں حج وعمرہ ادا کریں گے اور میری قبر پر حاضر ہوں گے اور سلام پڑھیں گے۔﴾
اسی طرح اور بھی بہت سی حدیثیں اس مضمون کی ہیں۔ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول فرمانا اور آپ کے عہد میں ان تبرکات کا ظہور میں آنا بتصریح موجود ہے۔ اب اگر ان علامتوں سے آپ انکار کریں گے تو حضرت مسیح کے آنے کا ثبوت بھی کسی طرح نہیں ہو سکتا اور اگر حضرت مسیح کا آنا ضرور ہے تو ایسی صورت میں جاہل قادیانیوں کا مرزا قادیانی کی اس تعلیم پر عقیدہ رکھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ انتہاء درجہ کی بد دینی اور حدیث نبوی کی تکذیب ہے۔ کیونکہ جب اتنی حدیثوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور نزول فرمانا ثابت ہے جو تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں تو پھر ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ وفات پاچکے اور جب وفات پانا غلط ثابت ہو گیا تو پھر بقول مرزا کشمیر میں آپ کا مزار کس طرح ہو سکتا ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دروغ کس طرح فروغ پاسکتا ہے۔ مگر مرزائیوں کی خیر خواہی کے لئے مرزا قادیانی کی اس دلیل پر بھی روشنی ڈالتا ہوں جو انہوں نے حضرت عیسیٰ کی قبر کشمیر میں ہے۔ اس کے متعلق پہلی دلیل یہ ہے کہ ابھی سطور بالا میں حدیث نمبر ٥ لکھ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام روضۂ اطہر پر پہنچیں گے اور سلام عرض کریں گے۔ اب اس کے بعد دوسری روایت ہے۔ جس میں ارشادِ نبوی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاص روضۂ پاک میں مدفون ہوں گے۔ وہ حدیث شریف یہ ہے۔ ”ثم يموت فيد فن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسىٰ ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر (مشكوة باب نزول عيسىٰ)“ ﴿بعدہ آپ کی وفات ہو جائے گی اور میرے ساتھ میرے مقبرہ میں مدفون ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ علیہ السلام ایک مقبرے سے ابو بکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اٹھوں گا۔﴾
٢٦
ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ بطور پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام مدینہ منورہ تشریف لے جائیں گے اور وہیں آپ کا انتقال ہوگا اور خاص روضہ مطہرہ میں مدفون ہوں گے۔ جب حضرت رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی فرمادی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر خاص میرے روضہ شریف میں ہوگی تو اب ایک جھوٹے شخص کا اپنی غرض ثابت کرنے کے لئے یہ کہنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر فلاں جگہ ہے۔ اس کو ایماندار کیونکر باور کر سکتا ہے اور یہ آخری حدیث کوئی معمولی حدیث بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس کی صحت اور اس کے خاص فرمودہ حضرت رسول اللہ ﷺ ہونے کے قائل مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہیں۔ چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں وہ اس حدیث کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں لائے ہیں اور اگر مرزا قادیانی اس کو صحیح نہ بھی مانیں جب بھی اس کے صحیح ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ یہ مضمون یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا خاص روضہ مطہرہ میں ہونا پانچ طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ ایک حدیث جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری روایت حضرت عبداللہ ابن سلام سے مشکوٰۃ شریف کے باب فضائل سید المرسلین کی فصل ثانی میں ہے۔ تیسری روایت (ابن کثیر جلد ثالث ص ٢٤٥) میں ہے۔ چوتھی حدیث کنز العمال کی ساتویں جلد کے ص ٢٦٨ میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے۔ پانچویں روایت امام زرقانی مالکی نے شرح مواہب لدنیہ کی دوسری جلد کے ص ٥٠٢ میں بیان کی ہے۔ اب غور کرو کہ جو حدیث اتنے طریقوں سے ثابت ہو وہ کیونکر صحیح نہ ہوگی اور اس حدیث شریف کے ہوتے ہوئے حضرت رسول اکرم ﷺ پر ایمان رکھنے والا کیونکر نہ باور کرے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک خاص روضہ پاک میں ہوگی۔ لیکن مرزائیوں کا تو حدیثوں پر ایمان ہی نہیں ہے۔ اس لئے وہ اس کو نہ مانیں تو نہ مانیں۔
اب دوسری دلیل ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا پتہ کشمیر میں دیا ہے تو وہاں ایک قبر شہزادہ یوز آسف کی ہے۔ اسی کو وہ قبر مسیح بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لفظ یسوع سے بگڑ کر یوز آسف ہو گیا ہے اور اس کی تصدیق کے لئے وہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ کا مطالعہ کرنے کو کہتے ہیں۔ اب جو میں اس کتاب کو دیکھتا ہوں تو معاملہ بالکل برعکس نظر آتا ہے اور مرزا قادیانی کی ڈھٹائی پر سخت حیرت ہوتی ہے کہ کس بات کو کیا لکھ دیا۔ اس پر بھی وہ اس کتاب کو دیکھنے کی فرمائش کرتے ہیں۔
٢٧
اسی کو کہتے ہیں، اس جگہ اس کتاب کے چند اقتباسات کا ترجمہ لکھتا ہوں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ کشمیر والی قبر کس کی ہے اور مرزا قادیانی کی ڈھٹائی کیسی ہے۔ شیخ ابن بابویہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمۃ میں بسند خود محمد بن زکریا سے نقل کرتے ہیں کہ ممالک ہندوستان میں ایک بادشاہ تھا۔ جس امر کو امور دنیا سے چاہتا تھا اسے بآسانی میسر ہوتا تھا۔ اس کے ملک میں دین اسلام داخل ہو چکا تھا۔ جب یہ تخت پر بیٹھا تو اہل دین سے بغض رکھنے لگا اور ان کو ستانے لگا۔ بعض کو قتل کرا دیا اور بعض کو جلاوطن کر دیا اور بعض اس کے خوف سے روپوش ہو گئے۔ ایک دن بادشاہ نے ان لوگوں میں سے جو اس کے نزدیک نظر عزت سے دیکھے جاتے تھے۔ ایک شخص کی نسبت دریافت کیا تو وزراء نے عرض کیا کہ وہ چند ایام سے تارک دنیا ہو کر گوشہ نشین ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے اس کی طلبی کا حکم دیا اور اس کو لباس زہاد و عباد میں دیکھ کر بہت خفگی ظاہر کی۔ اس باخدا کے ساتھ بادشاہ کی بہت باتیں ہوئیں اس نے بہت حکمت آمیز باتیں کیں۔ لیکن بادشاہ کو کچھ اثر نہ ہوا اور اسے اپنی مملکت سے نکلوا دیا۔ بعد اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ نہ گزرا تھا کہ بادشاہ کے یہاں بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام یوذآسف رکھا۔ شاہزادے کی ولادت پر منجمون نے اس کے طالع کی نسبت بالاتفاق کہا کہ یہ شہزادہ فرخندہ طلعت نیک اختر نہایت اقبالمند ہوگا۔ لیکن ایک بوڑھے منجم نے کہا کہ اس کا طالع واقبال دنیوی جاہ وحشم کے متعلق نہیں۔ بلکہ یہ سعادت مندی عاقبت کی ہوگی اور گمان قوی ہے کہ یہ شہزادہ پیشویان زہاد و عباد سے ہوگا۔ بادشاہ یہ سن کر نہایت حیران وغمگین ہوا اور اس کی تربیت کے لئے حکم دیا کہ ایک شہر اور قلعہ خالی کرایا جائے۔ جس میں صرف شہزادہ اور اس کے خادم سکونت کریں اور سب کو نہایت تاکید کی کہ آپس میں کوئی تذکرہ دین حق اور مرگ اور آخرت کا ہرگز نہ کریں۔ تاکہ یہ خیالات اس کے کان میں نہ پڑیں۔ اس کے بعد کئی سو صفحوں تک شہزادہ کی تربیت اور دین حق کی طرف اس کی رغبت اور علم دین کی تعلیم اور ترک سلطنت اور اختیار فقر کا ذکر ہے۔ اس بیان سے صاف واضح ہے کہ شہزادہ یوذآسف ممالک ہندوستان کے شہزادوں میں سے ایک باہدایت و باایمان شہزادہ ہوا ہے۔ جسے حق تعالیٰ نے اپنے دین کی راہ دکھلائی اور دوسری کتاب شہزادہ یوذآسف اور حکیم بلوہر نامی جس کو ڈاکٹر صفدر علی صاحب نے تصنیف کی ہے اور یہ کتاب حیدرآباد کے مدرسوں میں داخل درس ہے۔ اس کے آخر میں لکھا ہے کہ شہزادہ یوذآسف نے کشمیر کو آباد کیا اور یہیں انتقال کیا۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل ملک کشمیر میں آئے اور یہیں فوت ہوئے۔
٢٨
ہم مرزا قادیانی کے مقلدوں کو پکار کر کہتے ہیں اور چیلنج دیتے ہیں کہ وہ کتاب اکمال الدین اور اتمام النعمہ کو نکال کر کسی مجلس میں ہمارے سامنے یہ دکھا دیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے پیغمبر اس میں مدفون ہیں۔ ورنہ اپنے مرشد کے جھوٹ کا اقرار کر لیں اور کہیں۔
یہ کتاب اکمال الدین اور اتمام النعمۃ لندن کے سرکاری کتب خانہ میں زبان فارسی موجود ہے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب بیرسٹر کا ایک خط جو انہوں نے سفر ولایت کے ایام میں لندن سے لکھا تھا اور پیسہ اخبار لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے اس کتاب کے دیکھنے کا ذکر کیا ہے اور اس کی بعض عبارتیں اصلی فارسی زبان میں نقل کی تھیں۔ جن کا ذکر ہماری عبارت منقولہ بالا میں آ گیا ہے اور اس تمام کتاب کا اردو ترجمہ بنام تنبیہ الغافلین مطبع صبح صادق میں چھپ چکا ہے۔ لاہور وغیرہ سے دستیاب ہو سکتا ہے۔ مزید اطمینان کے لئے شائقین کتاب خود منگوا کر تسلی کر لیں۔
تیسری دلیل میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہمارے علمائے کرام نے حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق میرے علم میں انیس رسالے لکھے ہیں اور دلائل قطعیہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسد عنصری اب تک زندہ ہیں۔ اب جب کہ ان کی حیات ثابت ہے تو ایسی حالت میں ان کی قبر کا پتہ دینا کیا معنی، کیا زندہ آدمی کی بھی قبر ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بتاتا ہے وہ جھوٹا ہے اور چونکہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق میرے علم میں انیس رسالے لکھے گئے ہیں۔ اس لئے اس شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ رسالے کم از کم اور انیس دلیلیں ہوئیں۔
سوال نمبر: ٣
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن شریف سے یہ ثابت ہے یا نہیں کہ مشرکین کے ہاتھوں سے وہ آگ میں ڈالے گئے تھے یا نہیں۔ یہاں بعض قادیانی ہیں جو کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ قرآن مجید سے ثابت نہیں اور جو لوگ اس کے قائل ہیں انہوں نے قرآن شریف غلط سمجھا ہے۔
جواب نمبر: ٣
حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں جلانے کے لئے ضرور ڈالے گئے۔ مگر خداوند جل
٢٩
جلالہ نے نار کو آپ پر گلزار کر دیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر سترہ سو برس سے اس وقت تک تمام علمائے کاملین اور مفسرین ماہرین کا اتفاق ہے تو اب ایک ایسے امر کے متعلق ایک ایماندار مسلمان کا یہ خیال ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان بڑے بڑے مفسروں نے اور ان بڑے بڑے ماہرین علوم عربیہ نے قرآن شریف کے معنی غلط سمجھے ہیں یا اپنی طرف سے اس واقعہ کو تراش لیا ہے۔ پھر ایسی عظیم الشان غلطی میں تمام صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین باوجود قرب زمانہ نبوی کے اور تیرہ سو برس کے تمام علماء مبتلا ہیں۔ اگر یہ مان لیا جاوے کہ تیرہ سو برس کے تمام علمائے صالحین غلطی پر رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام کے احکام جن لوگوں کے ذریعہ سے ہم کو پہنچے ہیں وہ اس قابل ہر گز نہیں ہیں جن پر اطمینان کر کے ان باتوں کو مان لیا جائے۔ تو اب اسلام اور اس کے تمام احکام باطل ہو جاتے ہیں۔ ہم کو جو کچھ اپنے مذہب کی باتیں پہنچی ہیں وہ پہلے علماء کاملین و صالحین کے واسطہ سے اور ان کو اپنے پہلے کے لوگوں کے ذریعہ سے اگر اس پورے سلسلہ کو غلط راستہ پر مان لیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ ان لوگوں نے قرآن شریف غلط سمجھا ہے تو یہ کہنا در پردہ اسلام کو مٹانا ہے۔ ایک دیندار مسلمان کو یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ چودہ صدی تک کے علمائے محققین اور تمام مفسرین ماہرین اس واقعہ کی اصلیت سے بے خبر رہے اور اس پر طرہ یہ کہ اس واقعہ کی حقیقت کھلی تو چند بیدین جاہل قادیانیوں پر جو نہ علوم عربیہ کے ماہر ہیں اور نہ زبان عربی کا ذوق رکھتے ہیں اور نہ بدقسمتی سے ان کو علماء کی خدمت کا موقع ملا ہے۔ ان قادیانیوں کا اصل مقصود یہ ہے کہ اسلامی مسائل کا مدار عقلی ڈھکوسلوں پر ہے۔
انبیاء کرام سے معجزے نہیں ہوئے اور اس انکار کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ کیونکہ جھوٹوں سے معجزہ نہیں ہو سکتا۔ مگر جھوٹا دعویٰ کر دیتا ہے کہ مجھ سے سوا تین لاکھ معجزے ہوئے یا قادیانی کا مقصود یہ ہے کہ دراصل یہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔ تاکہ (نعوذ باللہ) قرآن شریف کی تکذیب ہو جو اس مذہب باطل کے بانی کا مقصود اصلی ہے۔ مگر ابھی مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے صرف اتنا ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ قرآن شریف سے ثابت نہیں ہے۔ دراصل قادیانی جماعت اپنے کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو فریب دیتی ہے اور مسائل اسلامیہ میں بحث کرتی ہے۔ اس جماعت سے پہلے تو مرزا قادیانی کے کفر وایمان میں بحث کرنا چاہئے کہ ایک ایسا شخص
١ تمام مفسرین و محدثین کے علاوہ تمام مورخین کا بھی اس واقعہ پر اتفاق ہے۔ چنانچہ اس زمانہ جدید کی معتبر تاریخ عالم انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی یہ واقعہ لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو ج ١٧ ص ٥١١ بار نہم۔
٣٠
جو کہ نبوت کا مدعی ہو اور تمام اُولوالعزم نبیوں کی توہین کرتا ہو کیا ایسا شخص مسلمان ہوسکتا ہے۔ مسائل اسلامیہ میں بحث کرنا تو علمائے اسلام کی شان ہے اور جو گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہو تو اس کا اسلامی مسائل پر بحث کرنا یا تو اسلام کے ساتھ استہزاء ہے یا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے۔ اب میں یہاں مختصر طور پر علمائے مفسرین کے اقوال نقل کرتا ہوں جو مقتضائے اسلام ہے اور ان کے تحت میں بعض وہ حدیثیں بھی نقل کروں گا جو اس بارہ میں مروی ہیں۔ جن کے ملاحظہ سے ہر دیندار مسلمان کو یقین ہو جائے گا کہ یہ واقعہ ثابت ہے اور یقیناً ثابت ہے۔ سب سے پہلے اس واقعہ کے متعلق حضرت شیخ محی الدین المعروف بہ شیخ زادہ علیہ الرحمۃ کی وہ عبارت نقل کی جاتی ہے جو انہوں نے تفسیر بیضاوی کے حاشیہ میں تحریر فرمائی ہے۔
”كيفية القصة انه لما اجتمع نمرود وقومه لاحراق ابراهيم حبسوه فی بيت وبنوا بنيانا كالحظيرة ثم جمعوا الحطب الكثير ثم اوقدوها فلما اشتعلت النار صار الهواء بحيث لو مر الطير فی اقصی الجو لا حترق من شدة وهجها ثم عمدوا الی ابراهيم عليه الصلوة والسلام فصنعوه فی المنجنيق مقيد مغلولا ورموه الی النار فاتاه جبريل فقال له يا ابراهيم الك حاجة قال اما اليك فلا قال فاسئل ربك قال حسبی من سوالی علمه بحالی فقال الله تعالیٰ يا نار کونی بردا وسلاما علی ابراهيم (انتہی ملخصا حصہ ٢ ص ٣٥٦، مطبوعہ مصر) ” ﴿جب نمرود اور اس کی قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کا مصمم ارادہ کر لیا تو آپ کو گرفتار کر کے ایک گھر میں مقید رکھا اور ایک احاطہ چار دیواری گھیری اس میں بہت سی لکڑیاں جمع کر کے آگ روشن کی۔ اس کے شعلے کے بھڑکنے سے ہوا اتنی گرم ہوگئی کہ اگر کوئی چڑیا اس کی بلندی سے گزرتی تو جل کر خاک سیاہ ہو جاتی۔ پھر لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ کو پابزنجیر کر کے گوپھن میں باندھ کر آگ میں پھینک دیا۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کیا آپ کو کسی بات کی ضرورت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ مگر آپ سے مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا تو اپنے خدا سے درخواست کیجئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اس کو میری جان کی خبر ہے۔ مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈک اور راحت ہو جا۔﴾
٣١
اس واقعہ کے متفرق اجزاء مختلف صحابہ عظام سے مروی ہیں۔ چنانچہ تفسیر جامع البیان میں علامہ طبری حضرت کعبؓ سے روایت کرتے ہیں۔ ”ما احرقت النار من ابراهيم الا وثاقه (تفسیر طبری ج ١٧ ص ٢٩، در منثور ج ٤ ص ٣٢٢) ﴿”آگ نے سوائے آپ کے بندھنوں کے اور کسی چیز کو نہیں جلایا۔﴾
ابویعلی وابونعیم ابن مردویہ اور خطیب نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ”قال قال رسول الله ﷺ لما القی ابراهيم فی النار قال اللهم انك فی السماء واحد وانا فی الارض واحد عبدك (در منثور ج ٤ ص ٣٢٢) ﴿”جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں داخل کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ اے اللہ تو آسمان پر یکتا ہے اور میں زمین میں اکیلا تیری عبادت کرتا ہوں۔﴾
مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ: ”اوّل كلمة قالها ابراهيم حين القی فی النار حسبنا الله ونعم الوكيل (در منثور ج ٤ ص ٣٢٢) ﴿”حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں داخل کئے گئے تو سب سے پہلے جو کلام اپنی زبان سے نکالا تھا وہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل تھا۔﴾
ایک روایت ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت منہال ابن عمر سے کی ہے۔ ”ان ابراهيم القى فى النار وكان فيها اما خمسين واما اربعين قال ما كنت اياماً وليالى قط اطیب عيشا اذ كنت فيها (در منثور ج ٤ ص ٣٢٢) ﴿”حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تو اس میں چالیس یا پچاس دن کے قریب رہے اور آپ نے فرمایا کہ میرے وہ ایام نہایت آرام سے گزرے۔﴾
اب یہ روایتیں صاف طور پر ثابت کرتی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ضرور آگ میں داخل ہوئے اور ان روایتوں کو نہایت مستند محدثین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان کے علاوہ اور بہت سی روایتیں ہیں۔ جن سے صراحۃً اور کنایۃً آپ کا آگ میں داخل ہونا ثابت ہے۔ اب اتنی حدیثوں کے بعد کسی مسلمان کو آپ کے آگ میں ڈالے جانے کے بارہ میں کوئی شک ہو سکتا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اگرچہ اب ایک دیندار مسلمان کو اس میں شک کرنے کا بالکل موقع نہیں اور ایک ایماندار کے لئے اتنی حدیثوں کے بعد اس کی اصلاً ضرورت باقی نہیں رہتی کہ اس کا ثبوت قرآن شریف سے بھی دیا جائے۔ کیونکہ مسلمان کے نزدیک جناب شارع علیہ السلام کا
٣٢
ثبوت کافی ہے۔ خواہ قرآن شریف سے ہو یا حدیث شریف سے۔ مگر آپ کی فرمائش کے مطابق قرآن مجید کے ان مقامات کو نقل کریں گے۔ جہاں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس کا صاف ترجمہ بیان کریں گے۔ جس سے ذرا غور کرنے کے بعد منصف مزاج خود سمجھ لے گا کہ قرآن شریف یہی کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں داخل کئے گئے۔ بڑے بڑے مفسرین نے جو اس کے معانی بیان کئے ہیں۔ اس کو بھی نقل کر دیں گے۔ اس کے قبل
- ایک ضروری امر قابل گذارش ہے وہ یہ کہ قرآن شریف چونکہ نہایت فصیح و بلیغ ہے اور ایجاز و اختصار فصاحت و بلاغت کا اہم جزو ہے۔ اس لئے اس کی عبارت اکثر جگہ مختصر واقع ہوئی ہے اور ایسے جملے اور کلمے حذف کر دیئے گئے کہ بغیر اس کے ذکر کئے ظاہر عبارت سے سمجھ میں آتے ہیں۔ اب جہاں کہیں قرآن کریم میں اختصار و حذف ہے اور فحوائے کلام اس پر روشنی ڈالتا ہے تو ہر سمجھدار ذی علم اس آیت کے پہلے اور بعد کے مضمون کو دیکھتے ہی سمجھ جاتا ہے کہ فلاں لفظ یا فلاں جملہ محذوف ہے۔ یا اس کے قبل اور بعد کے مضمون کے دیکھنے ہی سے اس بات کا پورا یقین ہو جاتا ہے کہ فلاں جملہ یا کلمہ محذوف ہے اور اس کے سوا دوسرا نہیں اور کبھی یہ امر صاف طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔ اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ پاک کلام جس پاک ذات کے ذریعہ سے ہم تک پہنچا ہے اس مقدس نفس نے اس موقع پر کون سے لفظ یا جملے کو متعین فرمایا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک اس متبرک ذات سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہے جو خدا کے کلام کو اس سے زیادہ سمجھتا ہو۔ یعنی ہم کو ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس کے متعلق جناب رسالت مآب ﷺ سے کوئی حدیث مروی ہے یا نہیں اور اس کو معلوم کریں کہ حدیث نے کس لفظ کو متعین کر دیا ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے ہر مسلمان یقینی طور پر سمجھ لیتا ہے کہ یہاں یہی جملہ محذوف ہے۔ دوسرا نہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظاہر معنی سے اس لفظ یا جملہ کی تعین ہو جاتی ہے اور ہم کو اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ اس کے متعلق حدیث کو تلاش کریں۔ مگر بعض حدیثیں ایسی مل جاتی ہیں جو ہمارے معنی کی تائید کرتی ہیں۔ (یہی حال آیات زیر بحث کا ہے) مثلاً ملاحظہ فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ارشاد فرماتا ہے۔
”وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ (بقرہ:٦٠)“ ﴿جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے پانی کی درخواست کی تو ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پتھر
٣٣٣
پر مارو۔ (انہوں نے مارا) پس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور (ان میں سے ) سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر لیا۔﴾
اب آپ ملاحظہ فرمائیے کہ اس آیت میں دو جگہ حذف واقع ہوا ہے۔ اوّل تو فاضرب بعصاک الحجر کے بعد یعنی حضرت موسیٰ کی درخواست پر جب یہ حکم دیا گیا کہ پتھر پر اپنے عصا کو مارو تو اس کے بعد یہ جملہ کہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر لکڑی ماری محذوف ہے۔ مگر چونکہ فحوائے کلام خود اس کو بتلا رہا ہے۔ اس لئے حذف کر دیا گیا۔ کیونکہ اس حکم کے بعد کہ پتھر پر مارو، خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ بغیر اس کے کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارشادِ خداوندی کی تعمیل نہ کی ہو۔ بلکہ ضرور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر لکڑی ماری اور پھر پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ سمجھ والا بھی بغیر کسی شک و شبہ کے سمجھ سکتا ہے کہ یہاں سے فضربہ کا لفظ محذوف ہے۔ دوسرے کل اناس کے بعد منہم کا لفظ محذوف ہے۔ کیونکہ اگر منہم کا لفظ محذوف نہ ہو تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ سارے جہاں کے لوگوں نے اپنے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جماعت کے تمام لوگوں نے اپنے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا۔ اس تمثیل کے بعد اب میں یہ کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ قرآن شریف میں دو مقام پر ہے۔ پہلی جگہ سورۂ انبیاء سترھویں پارہ میں دوسری جگہ سورۂ والصافات تئیسویں پارہ میں پہلی جگہ ارشادِ خداوندی ہے۔
”قالوا حرقوه وانصروا الهتكم ان كنتم فاعلين قلنا يا ناركونى برداً وسلاماً علىٰ ابراهيم وارادوا به كيدا فجعلناهم الاخسرين (انبياء) “ ﴿مشرکین نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ اگر تم کو مدد کرنی ہے (پھر کافروں نے آگ میں ڈالا ) تو ہم نے (آگ کو مخاطب کر کے ) کہا کہ اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا موجب بن جا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے اور انہوں نے آگ میں ڈالنے سے شرارت کا ارادہ کیا تو ہم نے ان کو (ان کی شرارت کے ارادہ میں) ناکامیاب رکھا۔﴾
اس آیت میں فاعلین کے بعد فالقوہ محذوف ہے۔ یعنی ان کو آگ میں ڈال دیا اور یہ حذف ایسا ہے کہ ظاہر عبارت سے سمجھ میں آتا ہے اور فحوائے کلام خود اس کو بتلاتا ہے کہ یہاں اتنا جملہ محذوف ہے۔ کیونکہ اگر اس جملہ کو محذوف نہ مانا جائے تو خدائے تعالیٰ کا آگ کی طرف خطاب کر کے یہ فرمانا کہ اے آگ تو ٹھنڈی ہو جا۔ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا آگ کو حکم دینا
٣٤
خود اس کو بتلا رہا ہے کہ اس میں آپ داخل کئے گئے اور آپ سے آگ کا تعلق ہوا ورنہ آگ سے ان الفاظ سے مخاطبہ باری تعالیٰ ”کونی برداً وسلاماً علی ابراهیم“ بالکل لغو ہوگا۔ اس کے علاوہ علی ابراہیم کا لفظ بھی بتلا رہا ہے کہ حضرت اس میں داخل تھے۔ ورنہ ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ ارشاد کہ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی ہو جا صریح طور پر بتلا رہا ہے کہ آگ کو ابراہیم علیہ السلام سے خاص تعلق تھا۔ ورنہ زیادہ سے زیادہ محض یہ فرما دیا جاتا کہ بجھ جا یا ٹھنڈی ہو جا۔ ”علی ابراهیم“ کا لفظ بالکل زائد ولغو ہو جاتا ہے۔ ”کونی برداً وسلاماً علی ابراهیم“ تو اسی وقت درست ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو اور اندیشہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ آگ کو آپ سے تعلق ہو اور آپ اس میں داخل کئے جائیں۔ غرضیکہ ماننا ہوگا کہ اس آیت میں ”فـاوقـدوا له نارا ثم القوه فيها“ محذوف ہے۔ مختلف حدیثوں اور بڑے بڑے مفسرین کی تفسیروں کے علاوہ خود سیاق مضمون اس کو بتلا رہا ہے۔ اب اس کے بعد اس سے انکار کرنا تعصب اور جہالت اور ہٹ دھرمی اور فریب نہیں ہے تو اور کیا ہے اور نص صریح اور کلام عرب کے فحوائے کے خلاف معنی کرنا گویا اہل زبان کو کلام خداوندی پر مضحکہ کا موقع دینا ہے۔
دوسری جگہ خدا تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: ”قالوا ابنوا له بنياناً فالقوه فی الجحیم فارادوا به کیداً فجعلناهم الاسفلین“ ﴿مشرکین نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ایک عمارت بناؤ اور (اتنی بلند کہ اس پر چڑھ کر) ان کو دہکتی آگ میں ڈالو۔ پس ارادہ کیا تھا انہوں نے آپ کو آگ میں ڈالنے سے شرارت کا تو ہم نے ان کو نیچا دکھلا دیا۔﴾
قاضی بیضاوی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ”فـارادوا بـه كـيـدا بالقائه في النار لتهلك فـجـعـلـنـاهم الاسفلين المقهورين فخرج من النار سالماً“ ﴿یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالنے سے ان کا مقصود شرارت تھا۔ ہم نے ان کو ناکام یاب رکھا۔ اس طریقہ سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے بالکل محفوظ رہے۔﴾
اب آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثبوت کے بعد اور محققین علمائے اسلام کی تحقیق کے بعد بھی کسی مسلمان کو کیا انکار ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس آیت کے تحقیقی معنی جو تھے اور بڑے بڑے علماء کرام اور مفسرین اور محدثین نے جو اس کے معنی بیان کئے تھے اور جس کے ماننے کے لئے ایک مسلمان کو کوئی عذر نہیں ہوسکتا وہ لکھ دیئے گئے۔ یورپ کے مشہور فاضل مستشرق اڈوارڈ سخو جو برلن دارالحکومت جرمن کے ملک پروشیا اور مشرقیہ کالج کے ڈائریکٹر ہیں خاص ان
٣٥
کے اہتمام سے ملک پروسیہ میں ایک علمی انجمن بنام الجمعیۃ العلمیۃ الکبریٰ قائم ہے۔ اس انجمن نے طبقات ابن سعد کو جو دنیا سے ناپید تھی متعدد افاضل علمائے مستشرقین کی تصحیح و تنظیم سے مع جرمنی شرح کے آٹھ جلدوں میں دو قسم پر مطبع بریل شہر لیڈن سے شائع کیا ہے۔ اس کے جلد اول قسم اوّل کے ص ٢١ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے اور سلامت نکلنے کے متعلق ہشام بن محمد بن السائب الکلبی سے مروی ہے:۔
”فلما بلغ ابراهیم و خالف قومہ ودعاهم الى عبادہ الله بلغ ذلك الملك نمرود فزجه فى السجن سبع سنين ثم بنى له الحير بكوثى واوقده بالحطب الجزل والقى ابراهيم فيه فقال حسبى الله ونعم الوكيل فخرج منها سالما لم يُكلم“ ﴿جب ابراہیم علیہ السلام بالغ ہوئے تو اپنی قوم کی مخالفت کی اور ان کو عبادت الٰہی کی دعوت دی۔ جب یہ خبر نمرود کو ملی تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گرفتار کر کے سات سال تک قید میں رکھا۔ پھر بڑی حکمت سے ایک احاطہ بنا کر اس میں بڑی بڑی لکڑیوں سے آگ روشن کی اور ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈال دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حسبی اللہ ونعم الوکیل پڑھا اور بلا کسی تکلیف کے آگ سے سلامت نکل آئے ۔﴾
اس کتاب کا حوالہ جدید تعلیم یافتہ کے مزید معلومات اور جمعیت خاطر کے لئے دیا گیا ہے اور جس کو ضرورت ہو وہ کتب خانہ خانقاہ رحمانیہ مونگیر میں آکر دیکھ سکتا ہے۔ اب ان جاہل اور فریب خوردہ قادیانیوں کے لئے ان کے خلیفۃ المسیح اور خود ان کے مسیح موعود کا اقرار اس امر کے متعلق کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے۔ ان کی کتابوں سے ہم نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد اگر وہ نہ مانیں تو بس صاف سمجھو کہ مرزا قادیانی کی دہریت کا اثر ہے۔ جس سے ہمیشہ انہوں نے معجزات قرآنی کے متعلق ناپاک تاویلات اور توہمات سے کام لیا ہے۔ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ قرآن شریف کی پرواہ تھی نہ حدیث کی۔ مگر اس وجہ سے کہ ان کے ماننے والے سب مسلمان تھے۔ اس لئے صاف انکار نہیں کیا تاکہ چند جاہل جو ان کے جال میں پھنس گئے ہیں وہ بھی نہ نکل جائیں۔ ملاحظہ کیجئے۔ ان کے خلیفۃ المسیح نور الدین قادیانی ترجمہ قرآن مطبوعہ مطبع مرتضوی آگرہ ١٣٣٣ھ میں اس آیت کے ترجمہ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”غرضکہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا۔“
قادیانی جماعت خود اپنے خلیفہ کی طرف سے جواب دے کہ انہوں نے یہ کہاں سے سمجھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اور ایسا ہی مرزا قادیانی (حقیقت الوحی
٣٦
ص ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لئے ہر ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی۔ جب کہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے آگ کو اس کے لئے سرد کر دیا۔“
سوال نمبر:٤
آنحضرت ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی یا روحانی۔
جواب نمبر:٤
معراج جناب رسالت مآب ﷺ کو روحانی وجسمانی دونوں ہوئی ہیں۔ چنانچہ علمائے اسلام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ: ”الاظہر ان المعراجہ علیہ السلام اربع وثلثون مرۃ واحدۃ بجسدہ والباقی بروحہ فتوحات مکیہ (نقلاً عن افادۃ الالھام ج٢) ”﴿آپ کو چونتیس بار معراج ہوئی۔ جس میں ایک بار جسمانی معراج ہوئی۔﴾
دوسری جگہ حضرت شیخ اکبر (فتوحات مکیہ ج٣ باب ٣٥٤) میں فرماتے ہیں۔ ”ان الاسراء کان بجسدہ ﷺ“ یعنی معراج لیلۃ الاسراء میں جسمانی ہوئی تھی۔
اب میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کو مختصر طور پر بیان کروں۔ مگر اس سے پہلے چند امور قابل گذارش ہیں۔ معراج کا مسئلہ اسلام میں ایک ایسا عظیم الشان مسئلہ ہے جو کہ خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کفر وایمان کا مدار تھا اور اس لئے علمائے اسلام نے اس کے منکر کو کافر لکھا ہے۔ علامہ کستلی شرح عقائد نسفی کے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔ ”اما انکار اصل المعراج فھو کفر بلا شک“ ﴿اور نفس واقعہ معراج کا انکار کرنا بلاشک کفر ہے۔﴾
یہ ایک واقعہ ہے کہ اس مسئلہ میں اکثر ایسی باتیں ہیں جو معمولی سمجھ والوں کی سمجھ سے بالا ہیں اور ان کو ان امور کا تسلیم کرنا گوارا نہیں۔ مثلاً اتنی قلیل مدت میں دور دراز سفر طے کرنا اور سینے کا شق ہونا، براق پر سوار ہونا اور پھر اس دور ضلالت میں جس کو روشنی کا زمانہ کہا جاتا ہے اور اس قادر مطلق کی بے انتہاء قدرت کو اپنی معمولی عقل کے اندر محدود سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت میں آسمان کا وجود تسلیم کرنا اور پھر اس کے طبقات کو ماننا دشوار ہے۔ غرضیکہ اس میں بیسیوں ایسی باتیں ہیں جس کی نظیر کسی دوسرے معجزے میں نہیں ملتی اور اسی وجہ سے یہ عظیم الشان معجزہ ٹھہرا۔ مگر غور کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا عقل سے معلوم ہونا ممکن نہیں بلکہ بعض عارف تو اس عالم کے تمام امور کے متعلق یہ کہہ چکے ہیں۔ مصرعہ کہ
٣٧
مگر عادت کی وجہ سے نہ ان میں غور کرنے کی نوبت آتی ہے اور نہ خلاف عقل معلوم ہوتے ہیں۔ دور نہ جائیے ۔ روشنی ورنگ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز ان سے خالی نہیں۔ مگر کیا کوئی ان کی حقیقت بیان کرسکتا ہے اور کسی مادر زاد نابینا کو روشنی کی حقیقت بتلائی جاسکتی ہے۔ بجز اس کے کہ اس نور کے ادراک کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو قوت عطاء کی گئی ہے اس سے مدد نہ لی جائے اور بغیر اس کی حقیقت پر غور کئے اس کو مان نہ لیا جائے۔ اب یہ معمولی امور ہیں کہ جن کی حقیقت گویا راز الٰہی ہے۔ مگر محض اسی وجہ سے کہ ہم ان کو روزانہ برتتے ہیں۔ خلاف عادت نہیں معلوم ہوتے۔ اسی طرح اگر آسمان پر آنا جانا جنت اور دوزخ کی رویت امور عادی ہوتیں تو یہ بھی مستبعد اور محال نہ معلوم ہوتیں۔ اس زمانہ جدید کے فلسفیوں نے روشنی کو ایک جوہر بلکہ ایک جسم مان لیا ہے اور اپنی تحقیق بڑی زور سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتی ہے اور اسی طرح بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ تمام زمین کے گرد گھوم سکتی ہے۔ بعض دمدار ستاروں کی صرف دم تین کروڑ بیس لاکھ میل کی ہے اور ان کی رفتار ایک گھنٹہ میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل ثابت ہوئی ہے۔ ہیئت قدیم میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ فلک تاسع کے نچلے حصہ کا ہر نقطہ ایک دن میں دس کروڑ اکہتر لاکھ میل حرکت کرتا ہے۔
شیدایانِ مذہب ذرا توجہ کریں کہ آج ہم لوگ ایک ستارہ کی حرکت کو ایک منٹ میں کروڑوں میل تسلیم کر لیتے ہیں اور چون و چرا کی گنجائش بھی نہیں سمجھتے۔ اب اگر خدا اور اس کے رسول کی باتوں کو اس طریقہ پر تسلیم کر لیا جائے تو کیا محال لازم آتا ہے۔ نہایت افسوس ہے ان لوگوں پر جو معراج اور اس قسم کے مسائل پر ایمان لانے کے لئے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور ناپاک تاویلات کرتے ہیں اور کبھی دریدہ دہنی سے یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا اور کبھی یوں تاویل کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ وہ ایماندار جس کو خدا تعالیٰ کی قدرت کا پورا پورا یقین ہے اور اس پر ایمان ہے کہ حق تعالیٰ صرف لفظ کن سے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس پر اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ ایک منٹ میں بعض اجسام کثیفہ کو کروڑوں میل چلاتا ہے۔ کیا اس کو اس میں شک ہوسکتا ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ جن کا جسد مبارک ہماری جانوں سے بھی زیادہ لطیف تھا۔ ان کو تھوڑے عرصہ میں آسمانوں کی سیر کرائی۔ کیا مسلمانوں کے نزدیک خداوند جل جلالہ اور اس کے سچے نبی ﷺ کی بات کی اتنی بھی وقعت نہیں جو آج وہ اہل یورپ کی کرتے ہیں۔ اب جو کہ ان مسئلوں کا انکار کرتے ہیں تو دراصل ان کو نہ خدا تعالیٰ کے وجود کا یقین ہے اور نہ نبی کریم ﷺ کی صداقت کا اعتقاد ہے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ضعیف حدیث بھی اگر معراج یا
٣٨
کسی اور معجزہ کے متعلق ہوتی تو مان لی جاتی۔ چہ جائیکہ وہ معجزات جو کہ نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں۔
الغرض یہی حال تمام معجزات کا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں داخل ہونا اور آگ سے آپ کو ضرر نہ پہنچنا۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا سو برس تک مردہ رہ کر پھر زندہ ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بے باپ کے پیدا ہونا اور آپ کا آسمان پر اس وقت تک تشریف رکھنا، مگر ان باتوں کو وہی تسلیم کرتا ہے اور وہی مانتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے نور ایمان عطاء فرمایا ہو۔ مگر مشیت ایزدی میں یہ امر طے پاچکا تھا اور قرآن شریف میں یہ صفت قرار دے دی گئی تھی۔ ”یضل بہ کثیراً ویھدی بہ کثیراً “ اس لئے ہزار ہا اشقیاء خود معجزات دیکھنے کے بعد بھی اس دولت سے محروم رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو خود منظور نہ تھا کہ یہ دولت اتنی عام اور بے قدر ہو جائے۔ ”ولو شاء لھداکم اجمعین “ یعنی خدا چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا۔ کفار کے سوال پر آنحضرت ﷺ نے بیت المقدس کی نشانیاں بتلادیں۔ حتیٰ کہ آپ نے یہ بھی فرمادیا۔
”ثم انتھیت الی عیر بنی فلان فی التنعیم یقدمھا جمل اورق وماھی ذھہ تطلع علیکم من الثنیۃ فقال الولید بن مغیرۃ ساحر فانطلقوا فنظروا فوجدوا کما قال (درمنثور ج٤ ص١٤٩) “ ﴿کہ آخر میں مقام تنعیم میں مجھ کو ایک قافلہ ملا جس میں آگے خاکستری رنگ کا اونٹ تھا اور وہ یہیں قریب میں ابھی وہ تمہارے سامنے اس گھاٹی سے آئے گا۔ ولید ابن مغیرہ نے کہا کہ یہ ساحر ہیں۔ کچھ لوگ امتحاناً گئے تو قافلہ کو اسی حالت میں پایا۔ جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا۔﴾
مبارک تھیں وہ ذاتیں جنہوں نے اس واقعہ کو سنتے ہی کہہ دیا کہ ”صدقت یا رسول اللہ “ اور بد نصیب تھے وہ بدبخت جنہوں نے ”اتحدثنا انک سرت مسیرۃ شھرین فی لیلۃ واحدۃ “ آپ ہم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دو ماہ کی راہ ایک شب میں طے کر لی۔ کہہ کر مرتد ہوگئے۔
یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ معراج کا واقعہ کسوٹی ہے۔ جس نے اس سے انکار کیا وہ اوندھے منہ گمراہی کے گڑھے میں گرا اور اس کی شقاوت ازلی کا حال معلوم ہوگیا۔ معراج جسمانی کا ثبوت قرآنی آیات سے بعد میں عرض کروں گا۔ چند باتوں پر اس وقت میں ناظرین کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
٣٩
اول ...... یہ کہ اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو انسان خواب میں لاکھوں بلکہ کروڑوں میل کی سیر کرتا ہے اور ہزاروں عجیب وغریب اشیاء دیکھتا ہے تو اس میں کفار آپ کی کیا تکذیب کر سکتے تھے اور خواب کے متعلق کیا تعجب کا موقعہ تھا اور وہ بدقسمت لوگ کیوں مرتد ہوگئے۔ یہ سب بڑی دلیل ہے۔ اس بات کی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہی فرمایا کہ میں نے خواب نہیں دیکھا۔ بلکہ اس جسم کے ساتھ بیت المقدس گیا اور وہاں سے تمام آسمانوں کی سیر کی۔
دوم ....... حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو محض خواب کی تصدیق کی بناء پر صدیق کا خطاب عطاء فرمایا تھا۔ ہرگز نہیں کیونکہ خواب کی تصدیق تو ہر موافق ومخالف کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ اتنے عظیم الشان خطاب کی سرفرازی محض اس بنا پر ہرگز نہیں ہو سکتی۔
سوم ....... " عن ام هانئ قالت قال رسول الله ﷺ انا اريد ان اخرج الى قريش فاخبرهم ما رأيت فاخذت بثوبه فقلت انى اذكرك الله انك تأتى قوما يكذبونك ويذكرون مقالتك فاخاف ان يسطوبك قالت فضرب ثوبه من يديه ثم خرج اليهم وايتهم وهم جلوس (انتهى ملخصاً در منثور) “
﴿حضرت ام ہانیؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف جانا چاہتا ہوں۔ تا کہ جو کچھ میں نے رات کو دیکھا ہے وہ ان سے بیان کر دوں تو میں نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور کہا کہ آپ ایسی قوم کے پاس جاتے ہیں جو آپ کی پہلے سے تکذیب کرتی ہے۔ مجھ کو خوف ہے کہ وہ آپ پر حملہ نہ کر بیٹھے۔ حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ آپ نے جھٹکا مار کر دامن چھڑا لیا اور ان کے پاس چلے گئے اور ان سے سب واقعات بیان کئے۔ ﴾
اس حدیث میں حضرت ام ہانیؓ کا دامن پکڑنا اور اصرار کرنا کہ آپ تشریف نہ لے جائیے۔ یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ آپ خواب کا واقعہ بیان کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ واقعہ بیداری کا تھا۔
چہارم ...... کفار کا آپ سے بیت المقدس اور راستہ کی بعض علامتیں دریافت کرنا اور آپ کا جواب باصواب عنایت فرمانا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ اپنی بیداری کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں نہ خواب کا۔ خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کو اتنی اہمیت دی ہے کہ قرآن شریف میں اپنی تنزیہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور اپنی حمد کے موقع پر اس کو ذکر کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”سبحان الذى اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى“ ﴿پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی۔﴾
٤٠
اس آیت میں نہایت صریح و صاف طور پر بتلایا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف گئے ۔ عبدہ کا لفظ جس کے معنی بندہ کے ہیں ۔ روح مع الجسم کو کہتے ہیں ۔ صرف روح کو عبد نہیں کہتے ۔ یہ ایک نص صریح ہے ۔ اس بات پر کہ آنحضرت ﷺ اس جسم کے ساتھ معراج میں تشریف لے گئے تھے۔
امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے صاف اور واضح طور پر منقول ہے کہ حضور ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی۔
(بخاری شریف ج٢ ص٦٨٦، باب قوله وما جعلنا الرؤيا التى اريناك الا فتنة للناس)
"حدثنا على ابن عبداللہ قال حدثنا سفيان عن عمرو عن عكرمة عن ابن عباس وما جعلنا الرؤيا التى اريناك الا فتنة للناس قال هي رؤيا عين اريها رسول الله ﷺ ليلة اسرى به" ﴿وما جعلنا﴾ کے باب میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ وما جعلنا الرؤیا سے مراد بیداری کی حالت میں آسمانی آنکھ سے دیکھنا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے بیداری کی حالت میں لیلۃ الاسریٰ میں دیکھا ۔ اور مواہب لدنیہ میں سفیان آسمانی آنکھ کہ یہ خواب نہیں ہے۔
اور (مواہب لدنیہ ج ٢ ص ٣) میں ہے۔ "وزاد سعيد بن منصور عن سفيان فى آخر الحديث ولرؤيا منام"
دوسری جگہ ارشاد ہے ۔ "ولقد رآه نزلة اخرى عند سدرة المنتهى عندها جنة الماوى . اذ يغشى السدرة ما يغشى . مازاغ البصر وما طغى . لقد رأى من آيات ربه الكبرى (النجم)" ﴿اور بیشک دوسری مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ۔ جس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جس وقت کہ چھا رہا تھا سدرۃ المنتہیٰ پر (فرشتوں کا خاص جلوہ یا محض انوار الٰہی جو ہمارے بیان اور سمجھ سے باہر ہے) رسول اللہ ﷺ کی نگاہ مبارک بہکی نہیں اور نہ حد سے بڑھی ۔ بیشک دیکھیں رسول مقبول ﷺ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں ۔﴾
اس دوسری آیت میں یہ ارشاد ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دوسری بار سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ۔ زیادہ تاکید کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ سدرۃ المنتہیٰ کہاں ہے۔
١؎ جناب رسول کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہلی بار غار حرا میں دیکھا تھا۔ ان کی اصلی صورت پر، اس مرتبہ دوسری بار دیکھا۔
٤١
”عندها جنة المأوى“ یعنی سدرۃ المنتہیٰ جنۃ الماویٰ کے پاس ہے۔ خداوند عالم الغیب کے علم ازلی میں یہ پہلے سے تھا کہ دنیا کے اخیر زمانہ میں گمراہ کرنے والے کثرت سے پیدا ہوں گے اور خدا کی نشانیوں اور معجزات کا صاف انکار کریں گے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ”مـــازاغ البـــصـــر ومـا طغی“ (نہ آنکھ بہکی نہ اچٹی) فرما کر اس باب کا موقعہ بھی نہ رہنے دیا کہ گمراہ کرنے والوں کو تاویل کا موقعہ یعنی جناب رسالت مآب ﷺ نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی کہ جس پر آنکھ اچھی طور پر نہ جمی ہو اور اس پر سے اچٹ گئی ہو۔ اس طرح کہ ایک چیز کو ملاحظہ فرما رہے ہوں اور پھر اچانک کسی خیال کے یا کوئی امر پیش ہو جانے کے سبب سے آپ دوسری طرف متوجہ ہو گئے ہوں اور اس وجہ سے سب کو اچھی طرح نہ دیکھ سکے ہوں۔ غرضیکہ آپ نے وہاں کی چیزوں کے دیکھنے میں کسی قسم کی غلطی نہیں کی اور ہر چیز کو اچھی طرح دیکھا اور یہ سب چیزیں آنکھ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نہ روح سے اس مضمون کے آخر میں خدا تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لئے یہ بھی فرما دیا۔ ”لـقـد رای من آیات ربہ الکبریٰ“ بے شک آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ تاکہ ان کو حضرت جبرئیل علیہ السلام اور جنت و دوزخ کے دیکھنے پر تعجب نہ ہو۔ کیونکہ یہ تمام باتیں خدا تعالیٰ نے بطور معجزہ دکھائیں تھیں اور یہ سب خدا کی نشانیاں تھیں۔
او دوسری آیت کا مضمون اس بات کو صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے تھے۔ اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ اب اس کے لئے ایک دوسرا بڑا قرینہ اور موجود ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”مازاغ البصر“ (آپ کی آنکھ بہکی نہیں) خدا کا یہ فرمانا کہ آنکھ بہکی نہیں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ آپ جنت الماویٰ میں اس جسم کے ساتھ تھے۔ کیونکہ آنکھ جسم کے لئے ہوتی ہے۔ روح کے لئے آنکھ نہیں ہوا کرتی۔ اس آیت میں ذرا غور کرنے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آنکھ کا بہکنا اور اچکنا بیداری میں ہوا کرتا ہے۔ نہ خواب ہی میں۔
صحیح حدیثیں اس کے متعلق بہت آئی ہیں۔ تطویل کے خیال سے اس کو چھوڑتا ہوں۔ مگر چونکہ اس مسئلہ کا ثبوت قرآن اور حدیث کے علاوہ اجماع امت سے بھی ہے۔ اس لئے میں
١ گویا یہاں تک چار دلیلیں قرآن سے اس بات پر ہوئیں کہ آنحضرت ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی اور اپنے جسد مبارک کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے۔ پہلی دلیل اسریٰ بعبدہ ہے۔ دوسری دلیل لقد راہ نزلۃ اخریٰ عند سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ تیسری دلیل خدا تعالیٰ کا یہ فرمایا کہ آپ کی آنکھ بہکی نہیں۔ آنکھ جسم کے لئے ہوتی ہے نہ روح کے لئے چوتھی دلیل بہکنا اور اچٹنا آنکھ کا بیداری میں ہوتا ہے نہ کہ خواب میں۔
٤٤
علم عقائد کی بعض کتابوں سے اس کے متعلق نقل کرتا ہوں۔ شرح عقائد نسفی میں ہے۔ ”معراج رسول اللہ ﷺ فی الیقظۃ بشخصہ الی السماء ثم الی ماشاء اللہ من العلی حق ای ثابت بالخبر المشہور حتی ان منکرہ یکون مبتدعا“ ﴿معراج رسول اللہ ﷺ کی بیداری کی حالت میں اس جسم کے ساتھ آسمان تک اور پھر وہاں سے جہاں تک خدا کی مرضی ہوئی۔ سچ ہے یعنی حدیث مشہور سے ثابت ہے۔ حتیٰ کہ اس کا منکر بدعتی ہے۔﴾
تہذیب الکلام میں ہے۔ ”دل الکتاب علی معراجہ ﷺ الی المسجد الاقصیٰ واجماع القرن الثانی علی بالیقظۃ وبالجسد“ ﴿قرآن شریف اس بات کو بتلاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو معراج مسجد اقصیٰ کی طرف ہوئی اور قرن ثانی کا اجماع اس بات پر ہے کہ بیداری میں جسمانی معراج ہوئی۔﴾
اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن شریف سے جو بات ثابت ہو اس کا منکر مسلمان باقی نہیں رہتا۔ مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رکیک تاویل کرنا بھی انکار میں داخل ہے۔ اب جسمانی معراج کی کوئی شخص یہ تاویل کرے کہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ وہ دراصل نفس واقعہ معراج سے انکار کرتا ہے۔ مگر چونکہ یہ مسلمانوں کا ایسا اجماعی عقیدہ ہے کہ عوام بھی اس عقیدہ سے واقف ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے انکار کی یہ صورت اختیار کی۔ تاکہ سیدھے لوگ جو اس کے دام میں آگئے ہیں۔ بھڑک نہ جائیں۔ غرضکہ یہ مسئلہ قرآن وحدیث اور اجماع امت اور جمہور سلف صالحین کے اقوال سے ثابت ہے۔ چنانچہ عینی فتح الباری، روح المعانی، تفسیر ابن کثیر، شرح ملا علی قاری میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اس مسئلہ کو مولانا انوار اللہ خان صاحب حیدر آبادی نے بہت مفصل طور پر ”افادۃ الافہام“ میں لکھا ہے اور مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اس کے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”سلم الوصول“ ہے اور شائع ہو چکا ہے (نوٹ: یہ دونوں رسائل احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ فالحمدللہ! مرتب) اور بعض نے جو حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کا مذہب بیان کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات معراج جسمانی کے منکر ہیں۔ محض غلط ہے۔ جس روایت سے یہ غلطی واقع ہوئی ہے وہ روایت چند وجوہ سے غلط ہے۔
اول ...... یہ روایت صحاح میں نہیں ہے۔ نہ اس کے راوی اس قابل ہیں کہ ان کی روایت قبول کی جائے۔ خصوصاً حضرت عائشہؓ کی طرف جو روایت منسوب ہے اس کے متعلق علامہ زرقانی شرح مواہب اللدنیہ میں لکھتے ہیں کہ روایت منقطع ہے اور اس کا راوی مجہول ہے۔ علامہ
٤٣
ابن دحیہ تنویر میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس روایت کے جتنے راوی ہیں ۔ صحابہ کے علاوہ سب ضعیف ہیں ۔ اس روایت کے پہلے راوی محمد بن اسحاق ہیں ۔ مالک ان کو ضعیف کہتے ہیں اور ان کے متعلق ان کا قول ہے۔ ”کان دجالا من الدجاجلة“ دجالوں میں سے ایک دجال یہ بھی تھا۔
دوسرے راوی سلمہ بن الفضل الابرش الانصاری کے متعلق امام بخاری لکھتے ہیں۔ ”عنده مناکیر“ اس کے پاس مردود روایتیں ہیں۔ امام نسائی ضعیف کہتے ہیں۔ اس روایت کے تیسرے راوی محمد بن حمید بن حبان الرازی کو یعقوب بن شیبہ نے کثیر المناکیر کہا ہے۔ امام بخاری ان کی حدیثوں کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ علامہ جرجانی ان کو بددین اور غیر ثقہ کہتے ہیں۔ امام نسائی کبھی غیر ثقہ اور کبھی کذاب (یعنی بڑا جھوٹا) کہتے ہیں۔
دوم....... اس کے معارض کثرت سے احادیث بڑے بڑے جلیل القدر صحابیوں سے مروی ہیں اور خود حضرت عائشہ سے بھی معراج جسمانی کے متعلق روایت ہے جو صحاح ستہ میں ہونے کے علاوہ سند کے لحاظ سے بھی ان آثار سے نہایت اعلیٰ وارفع ہیں۔ اس حدیث کے متعلق تفصیلی مباحث کے لئے افادة الافہام ج ٢ مصنفہ انوار اللہ خان صاحب مرحوم (معین المہام امور مذہبی) ملاحظہ کریں۔ (احتساب قادیانیت کی سابقہ جلدوں میں اس کتاب افادة الافہام کی دونوں جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ مرتب )
سوال نمبر : ٥
انگریزی لباس ہمیشہ پہنے رہنا اور انگریزی لباس سے نماز پڑھنا کیسا ہے اور جو شخص انگریزی لباس سے نماز پڑھائے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔
جواب نمبر : ٥
مسلمانوں کو انگریزی لباس پہنے رہنا اس طرح کہ نصاریٰ سے بالکل مشابہت ہو جائے ۔ بہت برا ہے۔ ہرگز ہرگز نہ چاہئے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے مشرکین و یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنے کو سخت منع فرمایا ہے اور ابوداؤد اور مشکوٰۃ شریف میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ”من تشبه بقوم فهو منهم“ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں شمار کیا جائے گا۔
اس حدیث کو صاحب مشکوٰۃ کتاب اللباس میں لائے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک لباس کی مشابہت خصوصیت سے قابل توجہ ہے اور صاحب مرقاۃ بھی اس
٤٤
ممنوع ہے کہ دوسرے یہ کہ اس روایت کے جتنے راوی روایت کے پہلے راوی محمد بن اسحاق ہیں۔ مالک ان کو ہے۔ ”كان دجالا من الدجاجلة“ دجالوں
الابرش الانصاری کے متعلق امام بخاریؒ لکھتے ہیں۔ روایتیں ہیں۔ امام نسائیؒ ضعیف کہتے ہیں۔ اس روایت رازی کو یعقوب بن شیبہ نے کثیر المناکیر کہا ہے۔ امام تے ہیں۔ علامہ جرجانی ان کو بددین اور غیر ثقہ کہتے ہیں۔ (جھوٹا) کہتے ہیں۔
کثرت سے احادیث بڑے بڑے جلیل القدر صحابیوںؓ معراج جسمانی کے متعلق روایت ہے جو صحاح ستہ میں تواتر سے نہایت اعلیٰ و ارفع ہیں۔ اس حدیث کے متعلق مصنف انوار اللہ خان صاحب مرحوم (معین المہام امور کی سابقہ جلدوں میں اس کتاب افادۃ الافہام کی دونوں
اور انگریزی لباس سے نماز پڑھنا کیسا ہے اور جو شخص پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے۔
پہنے رہنا اس طرح کہ نصاریٰ سے بالکل مشابہت ہو ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے مشرکین و یہود و نصاریٰ کی اور ابوداؤد اور مشکوٰۃ شریف میں رسول اللہﷺ کا ارشاد منهم“ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں کتاب اللباس میں لائے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا عمومیت سے قابل توجہ ہے اور صاحب مرقاۃ بھی اس
٤٤
حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ ”ای من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره فهو منهم“ یعنی جس نے اپنے کو کافروں کی مشابہ لباس وغیرہ میں بنایا وہ انہیں میں شمار کیا جائے گا۔ ﴿
یہی رائے علامہ شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلویؒ کی ہے۔ لمعات میں فرماتے ہیں۔ ”والمتعارف فى التشبه هو التلبيس بلباس قوم“ ﴿ تشبیہ اس کو کہتے ہیں کہ کسی قسم کا لباس پہنے۔ ﴿
اور اسی تشبہ کو جناب رسول اللہﷺ صاف طور سے منع فرما رہے ہیں اور اس کا انجام ایسے عنوان اور ایسے عام لفظ سے فرماتے ہیں جو نہایت خطرناک ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے۔ ”فهو منهم“ جس کے صاف معنی تو یہی ہیں کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہے۔ اس کا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔
اب خیال کیا جائے کہ اس تشبہ کا انجام کیا ہوگا۔ اس حدیث کے علاوہ اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے یہود و نصاریٰ کی مشابہت کرنے کو منع فرمایا ہے۔ چند حدیثیں اور نقل کرتا ہوں۔ ابن حمزہ شرح بخاری شریف میں لکھتے ہیں۔ ”نهی النبيﷺ عن التشبه باهل الكتاب ، ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى (جامع ترمذی) “ ﴿ یعنی منع فرمایا آنحضرتﷺ نے اہل کتاب یہودی اور انگریزوں کی مشابہت سے۔ فرمایا رسول اللہﷺ نے میری امت سے وہ شخص نہیں ہے جو غیر قوم کی مشابہت اختیار کرے۔ یہود و نصاریٰ کی مشابہت مت کرو۔ ﴿
اس حدیث میں عام تشبہ کو منع کرنے کے بعد خاص طور سے یہود و نصاریٰ کی تشبہ کو منع فرمایا۔ جس سے اس کی تاکید زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم میں بھی اس مضمون کی حدیثیں ہیں اور ان کے علاوہ اور بہت سی حدیثیں جن میں صاف صاف حضرت رسالت پناہﷺ کا حکم ہے۔ مشرکین، منافقین، مجوسین، یہود و نصاریٰ کی وضع قطع و سلام و کلام میں مخالفت کی جائے۔ ایسے صاف و صریح ارشادات نبوی کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کو زیبا نہیں ہے کہ انگریز یا کسی دوسری قوم کی وضع اختیار کرے۔ محبت رسول پاک کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو لباس حضورﷺ کو پسند تھا وہی لباس اختیار کیا جائے اور اگر کسی وجہ سے مسنون و مستحب لباس نہیں پہن سکتا ہے تو تقاضائے ایمان سے اتنا تو ضرور ہونا چاہئے کہ غیر قوم خصوصاً دشمنانِ اسلام کی وضع اور لباس کے اختیار کرنے سے بچے۔ جس کو حضور اکرمﷺ نے صاف صاف اور مختلف طریقوں سے منع فرمایا
٤٥
ہے ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شائبہ مشابہت سے تیر کی طرح بھاگتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ جن کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے وہ فرمایا کرتے تھے۔ ”ایاکم وزی الاعاجم“ ﴿اپنے کو غیر قوموں کے طریقے اور رسم سے بچاؤ۔﴾
ان حوالوں سے یہ بات متحقق ہوگئی کہ مسلمانوں کو غیر قوموں کی وضع اختیار کرنا سخت مکروہ اور ناجائز ہے اور ان کو وضع قطع لباس میں غیروں سے ممتاز رہنا چاہئے اور جب خارج صلوٰۃ تشبہ اغیار سے ممنوع ہوا تو ظاہر ہے کہ نماز کے اندر خصوصاً جب کہ وہ امام ہو تشبہ بالنصاریٰ یعنی انگریزی لباس اس طرح پہن کر کھڑا ہونا کہ عیسائی ومسلم میں فرق محسوس نہ ہو۔ بہت زیادہ ممنوع اور ناجائز ہوگا۔ کیونکہ نماز معراج المومنین ہے۔ یعنی جس وقت تک بندہ نماز میں رہتا ہے وہ وقت اس کا دربار الٰہی میں حاضری کا ہوتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جو لباس اللہ تعالیٰ کو غیر اوقات میں ناپسند ہے وہ اپنے دربار میں حاضری کے وقت کیونکر پسند فرمائے گا۔ خصوصاً جب کوئی بندہ مشرکین ودشمنان اسلام اور مخربین اسلام کا لباس پہن کر دربار الٰہی یعنی نماز میں حاضر ہو تو یہ زیادہ باعث اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ہوگا۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے ان مشرکین و دشمنان اسلام سے ترک محبت کا حکم فرمایا ہے اور اس فعل سے ان قوموں کی محبت اور رسول اللہ ﷺ کے احکام سے بے پرواہی ٹپکتی ہے جو قطعاً حرام ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم اولياء بعض ومن يتولهم منكم فانه منهم (مائده: ٥١)“ ﴿اے ایمان والو یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کو دوست اور مددگار بنائے وہ بھی انہی میں سے ہے۔﴾
مگر قادیانی حضرات اس آیت کے بالکل خلاف کر رہے ہیں اور آپ کا یہ لکھنا کہ شیخ الاسلام انگریزی ٹوپی پہنتے ہیں۔ یہ محض غلط ہے۔ ہندوستان میں انگریزی لباس ایسے لوگوں کا ہے جو کہ محض آزاد اور نیچری خیال کے ہیں اور اتباع شریعت سے انہیں کچھ واسطہ نہیں ہے اور اس کرتہ کو ہندوؤں کا لباس کہنا محض جھوٹ ہے۔ جس طرح کا جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کرتہ پہنتے تھے اس طرح کا کرتہ ہندو ہرگز نہیں پہنتے۔ یہ علانیہ جھوٹ بولنا مرزا قادیانی کی پیروی کا اثر ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا لباس کرتہ ٹخنوں کے قریب تک اور تہبند اور چادر اسی قدر نیچی اور آپ نے پائجامہ بھی پسند فرمایا ہے اور خرید کیا ہے اور خلفائے راشدین کا بھی یہی لباس رہا ہے۔
٤٦
مگر ترکوں کے لباس پر شبہ لازم نہیں آتا۔ کیونکہ وہ ان کا خاندانی اور مخصوص لباس ہے۔ اس کے علاوہ ان کا لباس کوئی حجت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ فوجی لوگ ہیں۔ ہاں اگر علماء وصلحاء کا لباس ہوتا تو گنجائش تھی۔
سوال نمبر : ٦
قادیانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب نمبر : ٦
قادیانی کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں۔ چاہے وہ قادیانی مرزا محمود کی جماعت کا ہو یا خواجہ کمال الدین کی پارٹی کا۔ اس لئے کہ مرزا محمود اور اس کے ہم خیال صراحۃً مرزا غلام احمد کو صاحب شریعت نبی اور رسول مانتے ہیں جو صریح نص قطعی اور ارشاد خداوندی ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کا انکار ہے اور نص قطعی کا منکر اجماع ملت اسلامیہ کافر ہے۔ لہٰذا مرزا محمود اور ان کی جماعت نص قطعی کی منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہے اور کافر کے پیچھے نماز جائز نہیں ہو سکتی ہے۔ بحرالرائق میں ہے۔ ”وقیده فی المحیط والخلاصة والمجتبیٰ وغیرها بان لا تكون بدعته تكفره فان كانت تكفره فالصلوٰة خلفه لا تجوز (باب الامامة ج ١ ص ٢٧٠)“ ﴿یعنی محیط اور خلاصہ اور مجتبیٰ اور اس کے علاوہ اور فتاویٰ کی کتابوں میں بدعتی کی امامت کے لئے یہ قید لگا دی گئی ہے کہ اس کی بدعت نے کفر تک اس کو نہ پہنچا دیا ہو اور اگر اس کی بدعت نے اس کو کفر تک پہنچا دیا ہو تو اس کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں۔﴾
اسی طرح درمختار میں اس شخص کے لئے جو اسلام کے ایسے مسئلہ کا منکر ہو جس کا ثبوت نہایت ظاہر ہو۔ چنانچہ لکھا ہے کہ : ”لا یصح الاقتداء اصلا (باب الامامة ص ٤١٤)“ یعنی ایسے شخص کے ساتھ اقتدا کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے، کہ اسی طرح خواجہ کمال الدین اور ان کے ہم خیال لوگ جو بظاہر زبان سے مرزا قادیانی کو نبی نہیں کہتے ہیں۔ مگر اس کو سچا اور بزرگ بلکہ مجدد سمجھتے ہیں اور اس کے دوسرے عقائد کفریہ کو مانتے ہیں۔ مثلاً یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں نہیں ڈالے گئے۔ حالانکہ قرآن شریف میں نہایت ظاہر طور پر مذکور ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باپ یوسف نجار کو کہتے ہیں جو تمام اجماع امت محمدیہ کے خلاف ہے اور مرزا قادیانی کے صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کے صریح دعویٰ کی تاویل کرتے ہیں اور قرآن شریف کے صحیح معنی کو غلط بتاتے ہیں۔ ان کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ اس ثبوت کے بعد کہ مرزا کافر اور دہریہ شخص تھا اور اس کا ایمان نہ قرآن مجید پر تھا نہ حدیث
٤٧
شریف پر۔ بلکہ قرآن شریف کی صریح اور قطعی آیتوں کا منکر تھا اور جھوٹی وحی کے مقابلہ میں حدیث شریف کو ردی بتاتا تھا اور اپنے کو جناب نبی کریم ﷺ سے سو حصہ افضل کہتا تھا اور اپنے معجزے سواتین لاکھ بتاتا تھا اور آنحضرت ﷺ کے تین ہزار (حقیقت الوحی ص ٦٧) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا منکر تھا۔ خواجہ کمال الدین اور ان کی پارٹی کا مرزا قادیانی کو کافر نہ سمجھنا اپنے کو کافر بنانا ہے۔ شفاء میں ہے۔ ”من لم يكفر من دان بغير ملة المسلمين من الملل او وقف فيه او شک او صح مذهبهم وان ظهر مع ذلك الاسلام واعتقده واعتقد ابطال كل مذهب سواه فهو کافر“ ﴿یعنی جو شخص کافر کو کافر نہ کہے یا اس کے کفر میں توقف یا شک کرے یا اس کے مذہب کی صحت کے درپے ہو کافر ہے۔ اگرچہ وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے اور اس کا اعتقاد رکھے اور اسلام کے سوا کل مذہب کو باطل سمجھے۔﴾
اسی طرح درمختار میں ہے کہ: ”من شك في عذابه وكفره كفر “ ﴿یعنی جو شخص کافر کے عذاب میں اور کفر میں شک کرے گا وہ کافر ہوگا۔﴾
اب ایسی حالت میں کہ خواجہ کمال الدین اور ان کی جماعت کے لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر نہیں کہتے ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کو مسلمان اور اس سے بھی بڑھ کر اس صدی کے کل مسلمانوں کے لئے مجدد مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کے صریح دعویٰ نبوت اور رسالت کے اقوال میں مرزا قادیانی کے مذہب کو فروغ دینے کے لئے رکیک تاویلات کرتے ہیں۔ ہرگز ان کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا ہے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہوسکتا ہے۔ بلکہ خواجہ کمال اور ان کی پارٹی کا وہی حکم ہوگا جو مرزا محمود قادیانی اور اس کی جماعت کا ہے۔ کیونکہ قطع نظر اس دلیل فقہی کے نص قرآنی کی رو سے بھی خواجہ صاحب کو اسی حالت میں مسلمان نہیں کہا جاسکتا ہے۔ جب کہ وہ مرزا قادیانی کے کفر کا علم رکھنے کے باوجود ان کی اتباع اور ان کے خیالات واقوال کی پیروی کرتے ہیں اور ان کو اپنا مرشد اور راہنما سمجھتے ہیں اور اپنی تقریر اور تحریر میں اس کا صاف لفظوں میں اعتراف واقرار کرتے ہیں۔ سورہ بقرہ کے سترھویں رکوع میں ارشاد ہے۔ ”لئن اتبعت اهواء هم من بعد ماجاءك من العلم انك اذاً من الظلمين“ ﴿اگر تم علم ودانست کے بعد بھی کافروں کی خواہشات وخیالات کی اتباع کرو گے تو بیشک ایسی حالت میں تم ان ظالموں سے ہوگے۔﴾
مطلب یہ ہے کہ جو شخص علم ودانست کے بعد کافر شخص کی اتباع اور اس کے خیالات کی پیروی کرے گا وہ انہیں ظالم کافر لوگوں میں سے خدا کے نزدیک شمار کیا جائے گا یعنی وہ کافر سمجھا
٤٨
جائے گا۔ پس خواجہ صاحب کے پیچھے کسی طرح نماز پڑھنا جائز نہیں ہو سکتا ہے۔ جب کہ وہ مرزا قادیانی کے پیرو ہیں اور اپنا مرشد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا کفر قطعی طریقہ پر ثابت ہو چکا ہے اور علمائے اسلام کا متفقہ فتویٰ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کے متعلق شائع ہو چکا ہے۔ مختصر لفظوں میں چند وجوہ اس جگہ بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انبیائے کرام کی سخت توہین کرتا ہے۔ حضرت سردار انبیاء علیہ السلام سے اپنے آپ کو بہت عالی مرتبہ کہتا ہے اور فریب دینے کی غرض سے کہیں تعریف بھی کر دی ہے۔ (رسالہ دعویٰ نبوت مرزا قادیانی اور آئینہ کمالات مرزا دیکھئے) اس کے جھوٹے ہونے اور کفر میں متعدد رسالے لکھے گئے ہیں۔ (رسالہ فیصلہ آسمانی اور القول الصحیح فی مکائد المسیح وغیرہ دیکھا جائے) قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے نص صریح سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آخر النبیین ہیں۔ آپ کی نبوت کا آفتاب قیامت تک سارے جہاں کے لئے درخشاں رہے گا اور آپ کی امت کے علماء مثل انبیاء بنی اسرائیل اس نور سے ساری امت کو مستفید کرتے رہیں گے اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کی صداقت ظاہر ہوتی رہے گی۔ مگر آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس مضمون کا ثبوت قرآن مجید کے نص قطعی سے ہے اور کثرت سے احادیث صحیحہ اس کے مؤید ہیں اور اجماع امت بھی اس کا شاہد ہے۔ مگر یہ گروہ ان سب کا منکر ہے اور جھوٹی باتیں بناتا ہے اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر کہہ کر خود کفر کا مستحق بنتا ہے اور جب ان کے عقائد کفریہ ہوئے تو ان کے پیچھے کیونکر نماز درست ہو سکتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ متعدد ہیں۔ ان میں سے بعض کو لکھتا ہوں۔
- ......١ ختم نبوت کا منکر اور خود نبوت ورسالت کا مدعی ہے۔ حالانکہ
آنحضرت ﷺ کا خاتم الانبیاء والرسل ہونا نص قطعی "ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین" اور احادیث متواتر المعنی واللفظ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ جن کا انکار کفر ہے۔
- ......٢ اللہ تعالیٰ کا ارشاد قرآن مجید میں ہے۔ "مـــن کــــان عــــدو اللہ
وملئکتہ ورسلہ وجبریل ومیکئل فان اللہ عدو للکفرین (بقرہ)" ﴿جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا خصوصاً جبریل اور میکائیل کا دشمن ہے اللہ بھی ایسے کافروں کا دشمن ہے۔﴾
مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سخت گالیاں دی ہیں۔ جیسا کہ سوال نمبر ١ میں دیکھا گیا ہے۔ اس لئے وہ مسیح کے دشمن ہوئے اور خدا نے فرمایا ہے کہ رسول کی دشمنی کفر ہے۔
- ......٣ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ " ومریم ابنت عمران التی
٤٩
احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا وصدقت بكلمات ربها وكتبه وكانت من القنتين “ ﴿عمران کی بیٹی مریم جنہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں (اپنی قدرت سے ) روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرتی رہیں اور وہ فرمانبردار بندوں میں تھیں۔ ﴾
خدا ان کو اپنے کلامِ پاک میں محصنہ پاک دامن باعصمت فرماتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کشتی نوح ص ١٦ میں اس کے خلاف ان کو ناجائز طریقہ پر حاملہ ہونا یعنی بدکار کہتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔ ”اور مریم کی وہ شان ہے ۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا ۔‘‘ پس مرزا قادیانی نے اپنے اس قول سے قرآن مجید کی آیت مذکورہ بالا کا انکار کیا اور قرآن کی آیت کا انکار کفر ہے۔
- ٢....... اور (کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ١٨) میں مرزا قادیانی نے حضرت
مسیح علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا بتایا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”یسوع کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
اور یہ نصوص قطعیہ کے خلاف ہے۔ جیسا کہ جواب سوال نمبر ١ سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے اور اس کا انکار کفر ہے۔
سوال نمبر : ٧
شفاعت مسلمانوں کی رسول اللہ ﷺ کریں گے یا نہیں۔
جواب نمبر : ٧
گنہگار مسلمانوں کی شفاعت آپ ضرور فرمائیں گے۔ قرآن شریف سے اور احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ”عسٰی ان یبعثك ربك مقاماً محموداً “ ﴿اور عنقریب اٹھائے گا تمہارا رب مقام محمود میں۔ ﴾
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مقام محمود کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ مقام شفاعت ہے۔ یعنی جہاں کھڑے ہوکر میں شفاعت کروں گا اور تفسیر جلالین و تفسیر معالم التنزیل میں ہے ۔”هو مقام الشفاعة عند الجمهور “ مقام محمود جمہور کے نزدیک مقام شفاعت ہے۔ فتوحات الہیہ مشہور بجمل ص ١٧٧ میں ہے۔ ”اجمع المفسرون علیٰ انه مقام الشفاعة “ تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ مقام محمود مقام شفاعت ہے۔ اس کو امام رازی نے بھی اپنی تفسیر کبیر میں نہایت واضح
٥٠
طریقہ سے لکھا ہے۔ ”فی تفسیر المقام المحمود اقوال (الاول) انه الشفاعة قال الواحدی اجمع المفسرون علی انه مقام الشفاعة کما قال النبی ﷺ فی هذه الایة هو المقام الذی اشفع فیه لامتی (تفسیر کبیر جلد ٥ ص ٦٣٠)“ ﴿مقام محمود کی تفسیر میں چند قول ہیں۔ (پہلا قول) بیشک (مقام محمود سے مراد) مقام شفاعت ہے۔ واحدی کہتے ہیں کہ مفسروں کا اس پر اتفاق ہے کہ (مقام محمود سے مراد) مقام شفاعت ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ (یعنی مقام محمود) وہی مقام ہے جہاں میں اپنی امت کی سفارش کروں گا۔﴾
تفسیر مدارک میں اس آیت کے متعلق یہ لکھا ہے۔ ”عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً نصب علی الظرف ای عسی ان یبعثک یوم القیامة فیقیمک مقاماً محموداً اوضمن یبعثک معنی یقیمک وهو مقام الشفاعة عند الجمهور (تفسیر مدارک ص ٣٦٠)“ ﴿عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً لفظ مقاما محموداً کو نصب ہے۔ یعنی ظرف مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے یعنی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اٹھائے گا آپ کو قیامت کے دن اور کھڑا کرے گا آپ کو مقام محمود میں یا لفظ یبعثک معنی میں یقیمک کے ہے۔﴾
جس کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھڑا کرے گا۔ مقام محمود میں اور یہی مقام شفاعت جمہور کے نزدیک، تفسیر حقانی کی پانچویں جلد ص ٩٦، ٩٧ میں اس پر پوری روشنی ڈالی گئی ہے۔ عسی ان یبعثک مقاما محموداً کہ خدا تعالیٰ عنقریب تجھ کو شافع محشر بنا کر مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے۔ یہ وہ کرامت وعزت ہے کہ بنی آدم میں بجز آنحضرت ﷺ کے کسی کو نصیب نہیں مقام محمود سے مراد اس آیت میں کہ جہاں کھڑا کرنے کا اللہ تعالیٰ جناب محمد ﷺ سے وعدہ فرمایا ہے۔ بالاتفاق تمام مفسرین وہ مقام ہے کہ جہاں حضرت ﷺ قیامت کے روز عاصیوں کے لئے شفاعت کرنے کو کھڑے ہوں گے۔ جس روز حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک انبیاء نفسی نفسی کہیں گے اور کسی کو مجال نہ ہوگی کہ کرسی شفاعت پر بیٹھے۔
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحبؒ اپنی تفسیر موضح القرآن کی چوتھی منزل کے ص ١٩ میں لکھتے ہیں کہ: ”قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ مقام محمود میں کھڑے ہو کر امت کو بخشوائیں گے۔“ لغت حدیث کی معتبر اور نہایت قابل وثوق کتاب مجمع البحار میں علامہ طاہرؒ لکھتے ہیں۔ فیوذن له فی الشفاعة وهو مقاما محمودا پھر آپ کو شفاعت کی اجازت دیجائے گی اور یہی مقام محمود ہے۔
٥١
شارح مسلم امام نووی اور ان کے علاوہ اور بہت محدثین کا بھی خیال ہے کہ مقام محمود سے مراد مقام شفاعت ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں مقام محمود کی تفسیر مقام شفاعت کی گئی ہے۔ اگرچہ اطلاق ظاہری اور معنی لغوی کے اعتبار سے مقام محمود کا لفظ ہر مقام کرامت کو شامل ہے۔ جیسا کہ تفسیر بیضاوی میں ہے۔ ”وهو مطلق فى كل مقام يتضمن كرامته والمشهور هو مقام الشفاعة“ یعنی لفظ مقام محمود مطلق ہے اور ہر ایسے مقام کو جو کرامت پر مشتمل ہو مقام محمود کہہ سکتے ہیں۔ مگر مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد مقام شفاعت ہے۔ اس بناء پر آیت کے معنی یہ ہوئے کہ خدا آپ کو مقام محمود میں قیامت کے دن اٹھا کر جگہ دے گا۔ یعنی قیامت کے دن آپ کو ایسی جگہ بارگاہ خداوندی سے ملے گی جس کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ وہ مقام حمد اور سب لوگوں کی تعریف و تحسین کے لائق ہوگا اور وہ جگہ اپنی کرامت کے اعتبار سے جملہ اماکن اور مقام سے محمود ہوگی۔ جس کی حقیقت کو انسان نہ پہنچ سکتا ہے نہ اس کی کیفیت بیان کر سکتا ہے۔ جبکہ الہام الہی میں خود خدا نے اس مقام کو محمود کہا ہے اور قابل ستائش فرمایا ہے۔
دوسرے مقام میں ارشاد خداوندی ہے۔ ”ولسوف يعطيك ربك فترضى“ ﴿عنقریب تجھ کو خدا دے گا پھر تو خوش ہو جائے گا۔﴾
اکثر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ اس موقع پر بھی شفاعت ہی مراد ہے۔ امام فخر الدین رازیؒ اس مقام پر تحریر فرماتے ہیں۔ ”فالمروى عن على ابن ابی طالب وابن عباس ان هذا هو الشفاعة فى الامة يروى انه عليه السلام لما نزلت هذه الآية قال اذا لارض وواجد من امتى فى النار (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٩٩) “ حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اس بخشش وعطاء سے امت کی شفاعت مراد ہے۔ یعنی خدا آپ کی شفاعت پر اس قدر امت عاصی کی بخشش فرمائے گا کہ آپ راضی اور خوش ہو جائیں گے اور آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ہرگز خوش نہ ہوں گا جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا۔﴾
اس کے بعد امام رازیؒ بڑے زور سے لکھتے ہیں۔ ”واعلم ان الحمل علی الشفاعة “ یہاں شفاعت کے معنی متعین ہیں اور کسی دوسرے معنی کی گنجائش نہیں۔ شفاعت اگرچہ قرآن شریف سے صاف طور پر ثابت ہوچکی۔ مگر حدیثوں میں بھی اس کا بیان نہایت صراحت سے کیا گیا ہے اور اس کی تمام صورتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خود صحاح میں اس کے متعلق بہت سی روایتیں موجود ہیں جن میں سے چند روایتیں نقل کرتا ہوں۔
٥٢
کے علاوہ اور بہت محدثین کا بھی خیال ہے کہ مقام محمود ث صحیحہ میں مقام محمود کی تفسیر مقام شفاعت کی گئی ہے۔ رے مقام محمود کا لفظ ہر مقام کرامت کو شامل ہے۔ جیسا ، في كل مقام يتضمن كرامته والمشهور هو نا ہے اور ہر ایسے مقام کو جو کرامت پر مشتمل ہو مقام محمود ے مراد مقام شفاعت ہے۔ اس بناء پر آیت کے معنی یہ کے دن اٹھا کر جگہ دے گا۔ یعنی قیامت کے دن آپ کو کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ وہ مقام حمد اور سب لوگوں پنی کرامت کے اعتبار سے جملہ اماکن اور مقام سے محمود جہ نہ اس کی کیفیت بیان کر سکتا ہے۔ جبکہ الہام الہی میں ستائش فرمایا ہے۔
ری ہے۔ ”ولسوف يعطيك ربك فترضى“ ے گا۔
لہ اس موقع پر بھی شفاعت ہی مراد ہے۔ امام فخر الدین مروى عن على ابن ابی طالب وابن عباس ى انه عليه السلام لما نزلت هذه الآية قال مار (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٩٩) حضرت علیؓ اور طاء سے امت کی شفاعت مراد ہے، یعنی خدا آپ کی فرمائے گا کہ آپ راضی اور خوش ہو جائیں گے اور آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ہرگز خوش نہ ہوں گا۔
رے لکھتے ہیں ۔”واعلم ان الحمل علی عین ہیں اور کسی دوسرے معنی کی گنجائش نہیں۔ شفاعت ت ہو چکی۔ مگر حدیثوں میں بھی اس کا بیان نہایت وں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خود صحاح میں اس کے متعلق روایتیں نقل کرتا ہوں۔
٥٢
پہلی روایت بخاری شریف باب صفۃ الجنۃ والنار میں عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ :”عن عمران ابن حصين يخرج قوم من النار بشفاعة محمدﷺ فيدخلون الجنة “ ﴿ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی شفاعت پر جہنم سے نکالی جائے گی اور جنت میں داخل کی جائے گی ۔﴾
دوسری روایت کتاب الدعوات میں امام بخاریؒ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عن انس عن النبی ﷺ قال لكل نبی دعوة قددعا بها فاستجيب فجعلت دعوتي شفاعة لامتى يوم القيامة“ ﴿ہر نبی کی ایک دعا تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوئی۔ میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن کے واسطے اٹھا رکھی ہے۔﴾ یہی روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں نقل کی ہے۔
تیسری روایت باب صفۃ الجنۃ والنار میں امام بخاریؒ حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں: ”عن جابر أن النبى ﷺ قال يخرج من النار بالشفاعة“ ﴿لوگ قیامت میں شفاعت کے سبب سے جہنم سے نکالے جائیں گے ۔﴾
چوتھی روایت ترمذی وابو داؤد نے حضرت انسؓ سے اور ابن ماجہ نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے : ”ان النبیﷺ قال شفاعتى لا هل الكبائر من امتى (مشكوة شریف ص ٤٢٩ ، باب الارض بالشفاعة) “ ﴿جناب رسالتمآب ﷺ نے فرمایا کہ میری شفاعت امت کے بڑے گنہگار لوگوں کے لئے ہے۔﴾
شفاعت کے متعلق ایک بہت بڑی حدیث جس کو امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے اپنے صحیحین میں نقل کیا ہے۔ اس کا ضروری اقتباس یہاں پر لکھتا ہوں۔
پانچویں روایت: ”عن انسؓ قال قال رسول اللهﷺ يجمع الله الناس يوم القيامة فيقولون لو استشفعنا على ربنا حتى ينجينا من مكاننا فياتون آدم فيقولون انت الذي خلقك الله بيده ونفخ فيه من روحه وامرالملئكة فسجدوا لك فاشفع لنا عند ربنا فيقول لست هنلكم (الى أن قال رسول اللهﷺ) فيأتونى فاستاذن على ربى فاذا رايته وقعت له ساجدا فيد عنى ماشاء الله ثم يقال لى ارفع راسك وسل تعطه وقل يسمع واشفع تشفع فارفع راسى فاحمد ربى بتحميد يعلمنى ثم اشفع فيحدى حداثم اخرجهم من النار وادخلهم الجنة ثم اعود فاقع ساجداً مثله فى الثالثة والرابعة حتى
٥٣
ما يبقى في النار الا من حبسه القرآن (بخاری شریف باب صفة الجنة والنار) “ ﴿حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ لوگ کہیں گے کاش ہم لوگ کسی کو خدا کے یہاں شفیع ٹھہراتے پھر یہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور شفاعت کی درخواست کریں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے میں اس قابل نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہ لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں خدا سے حضوری کی اجازت حاصل کر کے خدا کے دیدار سے مشرف ہو کر سجدہ میں گر پڑوں گا اور جتنی دیر تک خدا چاہے گا مجھ کو اسی حالت میں چھوڑ دے گا۔ پھر ارشاد ہو گا کہ سر اٹھاؤ اور جو کچھ چاہتے ہو مانگو دیا جائے گا اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس اپنا سر اٹھاؤں گا پھر میں دیر تک حمد کرتا رہوں گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لئے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ پھر میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا اور پھر لوٹ کر آؤں گا اور سجدہ میں پہلے مرتبہ کی طرح تین چار مرتبہ گروں گا۔ یہاں تک کہ جہنم میں بجز ان مسلمانوں کے جن کے عقائد مشرکانہ ہیں کوئی مؤمن باقی نہ رہے گا۔﴾
حضرت امام اعظمؒ جو تمام احناف کے سردار اور مقتداء ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کا بہت بڑا حصہ جن کی پیروی اور ان کے طریقہ پر چلنے کا فخر رکھتا ہے۔ آپ نے اپنی سند میں بہت سی حدیثیں شفاعت کے متعلق نقل کی ہیں۔ ان میں سے بغرض اختصار صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔”عن ابی سعيد عن النبى ﷺ في قوله تعالىٰ عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا قال المقام المحمود الشفاعة يعذب الله تعالىٰ قوماً من اهل الايمان بذنوبهم ثم يخرج بشفاعة محمد ﷺ (مسند امام اعظم كتاب الايمان ص١٦) “ ﴿حضرت ابی سعیدؓ جناب نبی کریم ﷺ سے عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ فرمایا جناب نبی کریم ﷺ نے کہ مقام محمود مقام شفاعت ہے۔ خداوند تعالیٰ اہل ایمان کی ایک جماعت کو ان کے گناہوں کے سبب سے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ پھر حضور ﷺ نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے ان لوگوں کو عذاب سے نجات دے گا۔﴾
اب میں اس مضمون کو عقائد کی بعض مستند کتابوں سے دکھاتا ہوں کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے عقائد میں داخل ہے۔ پہلے میں امام صاحب کا ہی قول نقل کرتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔ ” شفاعة الانبياء عليهم الصلوة والسلام حق وشفاعة نبينا عليه الصلوة
٥٤
والسلام للمؤمـ ثابت (فقه اكبر مـ امت کے لئے اور گناہ شرح فقـ والسنة واجماع من كذب بها لم ينـ ﴿یعنی حضور ﷺ کا شـ ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ شخص شفاعت کو جھٹلائے حضرت ا من هو من اهل الـ جو ان کے لئے بھی ہما اس کی شر الصلوة والسلام ربك مقاماً محمو ہوں کہ امت کے گنـ ہے۔ جیسا کہ خدا کا ا امام شافع ﷺ شفاعتی لاهل الكبـ ان يبعثك ربك مـ الكبائر من امتى ان لوگوں کے لئے جـ فرمانا حق اور ثابت ۔ اور حضور مقام محمودا نے اپنـ
والسلام للمؤمنين المذنبين ولا هل الكبائر منهم مستوجبين العقاب حق ثابت (فقه اکبر مطبوعه مصر ص ٧) ” تمام انبیاء اور آنحضرت ﷺ کی شفاعت گنہگار امت کے لئے اور گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لئے جو مستحق عذاب کے تھے حق اور ثابت ہے۔ ﴿
شرح فقہ اکبر میں امام صاحب کی مندرجہ بالا عبارت نقل کر کے لکھتے ہیں: ”بالكتاب والسنة واجماع الامة قال رسول الله ﷺ شفاعتي لا هل الكبائر من امتى من كذب بها لم ينلها (ملخصا ص ٤٠ مطبوعه دايرة المعارف حيدر آباد دکن“ یعنی حضور ﷺ کا شفاعت فرمانا قرآن مجید اور احادیث شریف اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری شفاعت امت کے بڑے گنہگار لوگوں کے لئے ہے اور جو شخص شفاعت کو جھٹلا دے یعنی میری شفاعت سے انکار کرے وہ شفاعت سے محروم رہے گا۔ ﴿
حضرت امام اعظمؒ کے وصایا میں ہے کہ: ”شفاعة نبينا محمد ﷺ حق لكل من هو من اهل الجنة وان كان صاحب كبيرة “ ”ایسے جنتی جنہوں نے گناہ کبیرہ کیا ہو ان کے لئے بھی ہمارے نبی کریم ﷺ محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت فرمانا حق اور ثابت ہے۔ ﴿
اس کی شرح میں شارح لکھتے ہیں: ”اقول بان شفاعة نبينا عليه افضل الصلوة والسلام يوم القيامة لعصاة الامة حق كما قال الله تعالى عسى يبعثك ربك مقاماً محموداً (جواهر المنیفه في شرح وصية الامام الاعظم ص ٣٠) “ ” میں کہتا ہوں کہ امت کے گنہگار لوگوں کے لئے نبی کریم ﷺ کی شفاعت قیامت کے دن حق و ثابت ہے۔ جیسا کہ خدا کا ارشاد ہے عسیٰ ان یبعثک ربک مقام محمودا۔ ﴿
امام شافعیؒ اپنی کتاب فقہ اکبر میں لکھتے ہیں۔ ”واعلموا ان شفاعة الرسول ﷺ لا هل الكبائر من امتى فى القيامة حق والدليل عليه قوله تعالى عسىٰ ان يبعثك ربك مقاما محموداً تعنى الشفاعة وقال ﷺ اذخرت شفاعتى لاهل الكبائر من امتى (مطبوعه مصر ص ٣٤) “ ﴿ سمجھ لو کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی امت کے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے گناہ کبیرہ کیا ہے قیامت کے دن جناب رسول اللہ ﷺ کا شفاعت فرمانا حق اور ثابت ہے۔ ﴿
اور حضور ﷺ کی اس شفاعت فرمانے پر خدا کا ارشاد ہے۔ ”عسىٰ ان يبعثك ربك مقام محمودا “ دلیل ہے۔ یعنی اس سے مراد شفاعت ہے اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میں نے اپنے گنہگار امتیوں کے لئے اپنی شفاعت کو محفوظ رکھا ہے۔
٥٥
الحاصل قرآن مجید اور مفسرین کے اقوال اور احادیث صحیحہ اور علمائے مجتہدین کے اقوال سے خوب وضاحت کے ساتھ روشن کر کے دکھا دیا گیا کہ جناب رسول کریم ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے اور اس مسئلہ پر تمام امت محمدیہ کا اتفاق ہے اور اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اب جو شخص اس کے خلاف کہے وہ مسلمانوں کو فریب دیتا ہے اور درپردہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹاتا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان کو گھٹاتا ہے۔ ایسا شخص در حقیقت قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا منکر ہے اور وہ درپردہ اسلام کا دشمن ہے۔
سوال نمبر : ٨
قرآن شریف پڑھ کر میت مؤمن کی روح کو بخشنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب نمبر : ٨
مردہ کو قرآن شریف کا ثواب پہنچانا جناب نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ طبرانی نے معجم کبیر میں صحیح اسناد سے اس کے متعلق حضرت ابو خالد سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ” یا بنى اذ انا مت فالحد لی فاذا وضعتنى فى لحدی فقل بسم الله علی ملة رسول الله ثم سن على التراب سنا ثم اقرء عند راسى بفاتحة البقر وخاتمتها فانى سمعت رسول الله ﷺ يقول ذلك“ ﴿اے میرے بیٹے جب میں مر جاؤں تو میرے لئے لحد تیار کیجیو اور جب مجھ کو لحد میں رکھیو تو بسم اللہ علی ملۃ رسول اللہ پڑھیو۔ پھر مٹی ڈال کر فارغ ہو جاؤ۔ تو میرے سرہانے میں سورہ بقر کی ابتدائی اور آخری آیتیں پڑھیو۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کہتے سنا ہے۔﴾
اسی طرح بیہقی کی سنن کبیر میں یہ روایت ان لفظوں میں مذکور ہے کہ: ”ویقرأ علی القبر بعد الدفن اول سورة البقر وخاتمتها“ ﴿بعد دفن کے قبر پر سورہ بقر کی ابتدائی اور خاتمہ کی آیتیں پڑھی جائیں۔﴾
اسی طرح حضرت حضرت امام غزالی احیاء العلوم میں حضرت ابن حنبل سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے: ”اذا دخلتم المقابر فاقرؤ الفاتحة الكتاب والمعوذتين وقل هو الله احد واجعلوا ثواب ذلك لا هل المقابر فانه يصل اليهم“ ﴿جب قبرستان میں جاؤ تو فاتحہ یعنی سورۃ الحمد اور معوذتین یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس اور قل ہو اللہ پڑھو اور اس کا ثواب مردوں کو بخش دو۔ اس لئے کہ اس کا ثواب ان مردوں کو پہنچتا ہے۔﴾
٥٦
اسی طرح حضرت امام نووی مہذب کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: ”وان ختموا القرآن علی القبر کان افضل وکان امام احمد بن حنبل الی حین بلغہ“ قبر پر قرآن شریف اگر لوگ ختم کریں تو افضل ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو جب تک اس کے متعلق حدیث نہ معلوم ہوئی تھی۔ اس کا انکار کرتے تھے۔ جب ان کو اس کے متعلق حدیث معلوم ہو گئی تو آپ نے اس خیال سے رجوع کر لیا اور مردے پر ثواب پہنچنے کو ماننے لگے۔ ﴿
اسی طرح حضرت امام جلال الدین سیوطیؒ نے شرح الصدور میں اس کو اجماعی امر فرمایا ہے کہ ہمیشہ ہر زمانہ میں بغیر انکار کے مردوں کے لئے لوگ مجتمع ہو کر قرآن شریف پڑھتے تھے۔ بہر حال قرآن شریف کا ثواب مردہ کو پہنچنا حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اسی طرح اگر مردہ کے نام کوئی چیز صدقہ یا خیرات کی جائے تو اس کا ثواب بھی مردہ کو پہنچتا ہے۔
جس کے متعلق متعدد حدیثیں صحیح بخاری شریف میں جناب نبی کریم ﷺ سے مروی ہیں۔ ایک حدیث حضرت سعد بن عبادہؓ سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ۔ ”ان سعد بن عبادة توفيت امہ وہو غائب عنہا فقال یا رسول اللہ امی توفيت وانا غائب عنہا أینفعہا شئ ان تصدقت بہ عنہا قال نعم قال فانی اشہدک ان حائطی المحراب صدقۃ علیہا (بخاری) “ یعنی حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ ان کی عدم موجودگی میں وفات کر گئیں۔ انہوں نے حضرت نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اپنی والدہ کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو کیا ان کو اس صدقہ سے نفع پہنچے گا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں اس پر سعد ابن عبادہؓ نے فرمایا کہ میں اپنی والدہ کے لئے باغ صدقہ میں دیتا ہوں۔ ﴿
دوسری حدیث حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ : ” ان رجلا قال للنبی ﷺ ان امی قتلت نفسہا واراہا لو تکلمت تصدقت افا صدق عنہا قال نعم تصدق عنہا (بخاری) “ ایک شخص نے جناب نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ میری والدہ وفات کر گئیں اور ان کو صدقہ کرنے کے لئے وصیت کرنے کا موقع نہ ملا اور میرا خیال ہے کہ اگر ان کو موقع ملتا تو ضرور وہ صدقہ کے لئے کہتیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اس کی جانب سے صدقہ کردو۔ ﴿
حاصل یہ کہ مردہ کو قرآن شریف کا ثواب پہنچنا یا کوئی چیز مردہ کے نام صدقہ کی جائے اس کا ثواب ملنا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔ جس کا انکار کوئی مسلمان قرآن وحدیث پر ایمان رکھ کر نہیں کر سکتا۔
٥٧
چنانچہ فتویٰ کی کتاب میں انہیں حدیثوں کی بناء پر صاف لفظوں میں اس کی تصریح کر دی گئی ہے کہ انسان اپنی نماز یا روزہ یا صدقہ وغیرہ کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے۔ شامی میں ہے کہ: ”صرح علماءنا في باب الحج عن الغير للانسان ان يجعل ثواب عمله لغيره صلوة او صوما او صدقه او غيرها (شامی ج اول ص ٦٢٥) ﴿یعنی غیر کی طرف سے حج کرنے کے بیان میں علماء کرام نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ ایک شخص اپنی نماز یا روزہ یا صدقہ وغیرہ کا ثواب دوسرے شخص کو پہنچا سکتا ہے۔﴾
مرزائیو! میں نے جس قدر حوالے اس کتاب میں دیئے ہیں وہ نہایت صحیح اور ٹھیک ہیں۔ چونکہ مرزائی جماعت کی عادت قدیم ہے کہ وقت پر کہہ دیتے ہیں کہ حوالہ غلط ہے۔ اس لئے میں ڈنکے کی چوٹ اعلان دیتا ہوں اور تمام جماعت مرزائی کو عموماً اور فضل کریم پادری کے ہم خیال متبعین کو خصوصاً چیلنج دیتا ہوں کہ اگر اس کے حوالے کو غلط ثابت کر دیں تو مجھ سے پانچ سو روپے انعام لے لیں۔ مگر میں یقین اور پر زور دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہرگز کسی مرزائی میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ اس کی جانچ اور پڑتال کے لئے ہمارے سامنے آئے۔ کیونکہ یہ حوالے صحیح اور حق ہیں۔ پھر کبھی باطل اس کے سامنے نہیں آ سکتا اور اگر آ جائے تو چور چور ہو جائے گا۔ ”بل نقذف بالحق على الباطل فيد مغه فاذا هو زاهق“ ہم حق کو باطل کے سر پر کھینچ مارتے ہیں اور وہ اس کے سر کو کچل دیتا ہے اور باطل فنا ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر:٩
مرزائیوں کے نکاح میں مسلمہ عورت کا دینا اور مسلمان مرد کا مرزائیہ عورت سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب نمبر:٩
مرزائیوں کے نکاح میں مسلمان عورتوں کا دینا یا مرزائیہ عورت کا اپنے نکاح میں لانا ہرگز جائز نہیں۔ اس لئے کہ باتفاق علماء اسلام جب یہ لوگ اپنے عقائد کفریہ کی وجہ سے کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو کسی مرزائیہ سے نکاح کرنا یا کسی مسلمہ عورت کو کسی مرزائی کے نکاح میں دینا وہی حکم رکھتا ہے۔ جو حکم ایک کافر کا ہے یعنی جس طرح کسی مسلمان عورت کا کافر مرد سے اور مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح درست نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی مرزائی سے نکاح بحکم شریعت صحیح نہیں ہو سکتا ہے۔
٥٨
قرآن شریف میں ارشاد ہے: ”ولا تنکحوا المشرکات حتی یؤمن ولامة مومنة خیر من مشرکة ولو اعجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا ولعبد مومن خیر من مشرک ولو اعجبکم اولئک یدعون الی النار والله یدعوا الی الجنة والمغفرة باذنه ویبین آیاته للناس لعلهم یتذکرون (بقرۃ:٢٢١)“ ﴿مشرکہ یعنی کافرہ عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لاویں نکاح نہ کرو۔ اگرچہ وہ بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہوں اور مشرکوں یعنی کافروں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرو۔ مسلمان غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے۔ اگرچہ بظاہر تمہیں (دنیاوی اعتبار سے) مشرکین اچھے معلوم ہوتے ہوں۔ یہ لوگ تو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں اور خدا اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ خدا لوگوں کے لئے اپنی آیتوں کو بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پذیر ہوں۔﴾
اس آیت میں صاف یہ حکم فرمایا گیا ہے کہ مشرکوں سے یعنی کافروں سے نکاح نہ کرو۔ کیونکہ یہ مشرکین یعنی کفار جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ پس شب و روز کی صحبت میں اپنے عقائد کفریہ سے اس کے خیال کو بدل کر جہنم کا مستحق بنادیں گے۔ اس جگہ ایک بات سمجھ لینے کی یہ ہے کہ قرآن شریف میں یہاں لفظ مشرک لغوی معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ شرعی معنی میں اور شریعت کی اصطلاح میں ہر کافر کو مشرک کہا جاتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج دوم ص ٤٤٠) میں ہے۔
”قال الجبائی والقاضی ھذا الاسم من جملة الاسماء الشرعیة واحتجا علی ذلک بانه قد تواتر النقل عن الرسول علیه الصلوة والسلام انه کان یسمی کل من کان کافرا بالمشرک“ ﴿جبائی اور قاضی کا قول ہے کہ یہ لفظ اسماء شرعیہ سے ہے۔ یعنی لغوی معنی مراد نہیں ہے۔ انہوں نے دلیل اس پر یہ بیان کی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ سے حدیث متواتر اس کے متعلق مروی ہے کہ حضور ﷺ ہر کافر کو مشرک فرماتے تھے۔﴾
اسی طرح (تفسیر نیشا پوری جلد دوم ص ٣١٩) میں مختلف توجیہات کے بعد مذکور ہے کہ:
”بل یجب اندراج کل کافر تحت ھذا الاسم لا سیما قد تواتر النقل عن النبی ﷺ بانه یسمی کل من کان کافرا بانه مشرک“ ﴿اس لفظ مشرک کے تحت میں ہر کافر کا داخل کرنا واجب ہے۔ اس لئے کہ جناب نبی کریم ﷺ سے بتواتر مروی ہے کہ آپ ہر کافر کو مشرک فرماتے تھے۔﴾
٥٩
بہر حال قرآن شریف کی اس آیت میں مشرک بمعنی کافر ہے اور مشرک اور کافر کے درمیان اس جگہ فرق کرنا حدیث نبوی اور قرآن شریف کی اصطلاح اور معنی شرعی کے خلاف ہے اور چونکہ یہاں مشرک بمعنی کافر ہے۔ صاحب ہدایہ فرقہ وثنیہ جو بت پرست ہے اور خدا کی ذات میں کسی کو شریک نہیں مانتا ہے۔ ان سے نکاح کی حرمت کی دلیل میں اسی آیت کو پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ لکھتے ہیں ۔ ”قال ولا الوثنيات لقوله تعالى ولا تنكحوا المشركات حتى يومن “ ﴿یعنی وثنیہ عورتوں سے بھی نکاح جائز نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو۔﴾
اب میں چند حوالے فقہ کے اس ثبوت میں پیش کرتا ہوں کہ کافروں سے نکاح مسلمان عورتوں کا جائز نہیں۔ (طحطاوی ج دوم ص ٢١) میں ہے۔ ”وكل مذهب يكفر معتقده فلا يجوز مناكحتهم بحر وفي النهر من خالف لقواطع المعلومة من الدين باالضرورة كالقائل بقدم العالم ونفى العلم بالجزئيات كافر على ماصرح به المحققون“ ﴿ہر ایسا مذہب کہ اس کا معتقد عند الشرع کافر ہے۔ ایسے مذہب والوں سے نکاح جائز نہیں اور یہی حکم ہے اس شخص کا جو اسلام کے ایسے مسئلوں کا خلاف کرے جو بداہتہ اسلام کے قطعی مسائل سے ہیں وہ کافر ہے۔ جیسے قدم عالم کا قائل ہونا اور خدا سے جزئیات کے علم کی نفی کرنی۔﴾
فتاویٰ فقہیہ کے ان حوالوں سے صاف لفظوں میں معلوم ہو گیا کہ جو شخص ایسا مذہب رکھتا ہو جس کا اعتقاد شرعاً موجب کفر ہے۔ ان سے نکاح جائز نہیں ہے۔ نیز ایسے شخص سے بھی جو ایسے مسائل کا خلاف کرتا ہو۔ جس کا ثبوت شریعت میں قطعی طریقہ پر موجود ہے۔ نکاح جائز نہیں ہوسکتا ہے۔ پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو اور ان کے عقائد کفریہ کے معتقد ہیں اور قطعی آیتوں کے خلاف اپنے باطل مذہب کی اشاعت اور تبلیغ کرتے ہیں۔ نکاح جائز نہیں ہو سکتا ہے اور مرزائیوں کا کافر ہونا ایسا مسئلہ ہے جس پر جملہ علمائے اسلام کا متفقہ فتویٰ چھپ کر شائع ہو چکا ہے اور مختصراً سوال نمبر ٦ میں بھی ان کے کفر کے متعلق دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ فقط کتبہ محمد یعقوب، جوابات صحیح ہیں۔ ابو عمر زکریا عُفی عنہ از خانقاہ رحمانیہ مونگیر۔ تمام جواب صحیح ہیں۔ غنیمت حسین، باسمہ تعالیٰ حامداً و مصلیاً۔ اما بعد ! اس ناچیز نے رسالہ ہذا کو دیکھا فی الواقع اسم بامسمی پایا جوابات سب شافی و کافی تحقیقات سب نفیس و عجیب امید ہے کہ جو شخص انصاف کے ساتھ مطالعہ کرے گا اس پر حق ضرور واضح ہو جائے گا۔ والله الموفق!
٦٠
ت میں مشرک بمعنی کافر ہے اور مشرک اور کافر کے ن شریف کی اصطلاح اور معنی شرعی کے خلاف ہے ہابیہ فرقہ و شیعہ جو بت پرست ہے اور خدا کی ذات کی حرمت کی دلیل میں اسی آیت کو پیش کرتے ہیں۔ ات لقوله تعالى ولا تنكحوا المشركات نکاح جائز نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
ثبوت میں پیش کرتا ہوں کہ کافروں سے نکاح س (٢١) میں ہے۔ ”وكل مذهب يكفر وفي النهر من خالف لقواطع المعلومة قدم العالم ونفي العلم بالجزئيات كافر سیا مذہب کہ اس کا معتقد عندالشرع کافر ہے۔ ایسے م ہے اس شخص کا جو اسلام کے لئے ایسے مسئلوں کا ا سے ہیں وہ کافر ہے۔ جیسے قدم عالم کا قائل ہونا
صاف لفظوں میں معلوم ہو گیا کہ جو شخص ایسا مذہب ن سے نکاح جائز نہیں ہے۔ نیز ایسے شخص سے بھی جو ریعت میں قطعی طریقہ پر موجود ہے۔ نکاح جائز نہیں ے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو اور ان کے عقائد اپنے باطل مذہب کی اشاعت اور تبلیغ کرتے ہیں۔ ز ہوتا ایسا مسئلہ ہے جس پر جملہ علمائے اسلام کا متفقہ نمبر ٦ میں بھی ان کے کفر کے متعلق دلیلیں بیان کی گئی ابوبکر زکریا عفی عنہ از خانقاہ رحمانیہ مونگیر۔ تمام جواب ملا۔ اما بعد! اس ناچیز نے رسالہ ہذا کو دیکھا فی الواقع ت سب نفیس وعجیب امید ہے کہ جو شخص انصاف کے جائے گا۔ والله الموفق! ٦٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اسلامیہ تبلیغی
انسائیکلوپیڈیا
یعنی تحقیق المذاہب
(معین لمبلغین)
(جناب منشی محمد شفیع امرتسریؒ)
بسم الله الرحمن الرحیم !
”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوقال اوحی الی ولم یوحی الیه (انعام)“ ﴿اور بڑا ہی ظالم ہے وہ جو جھوٹ باندھے اللہ پر یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر وحی نہ کی گئی ہو۔﴾
”وانه سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلهم یزعم انه نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج ٢ ص ٤٠)“ ﴿ضرور میری امت میں تیس جھوٹے نکلیں گے وہ سب نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں نبیوں کو ختم کر چکا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔﴾
مسیح نے کہا: ”جھوٹے مسیحوں اور جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو۔ جو تمہارے پاس بھیڑوں کے لباس میں آتے ہیں اور باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔“
(انجیل متی باب ٢٤ آیت ٢٤)
قادیانی، مرزائی یا احمدی مذہب
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد
دعویٰ نبوت
- ......١ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ......٢ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٨ء)
- ......٣
منم محمد واحد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
خدائی دعویٰ
- ......١ ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں
وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
٢
.....٢ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھے الہام کیا کہ تیرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا۔“ ”کان اللہ نزل من السماء“ گویا خدا آسمانوں سے اتر آیا ہے۔
(اشتہار مرزا ٢٠/ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠١)
خدا کی بیوی
.....١ مرزا قادیانی کا ایک مرید قاضی یار محمد قادیانی اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ یعنی اسلامی قربانی میں لکھتا ہے کہ: ”مرزا قادیانی نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
.....٢ ”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١)
.....٣ ”میرا نام ابن مریم رکھا گیا اور عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص٤٧، خزائن ج١٩ ص٥٠)
مرزائی فرشتے
١..... ٹیچی بوقت قلت آمدنی ”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا ہے۔ مگر انسان نہیں۔ بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اور اس نے بہت سا روپیہ میری جھولی میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا کہ میرا کچھ نام نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ہے ٹیچی۔“
(حقیقت الوحی ص٣٣٢، خزائن ج٢٢ ص٣٤٦، مکاشفات ص٣٨)
٢..... خیراتی ”تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوئے۔ جن میں سے ایک کا نام خیراتی تھا۔“
(نزول المسیح ص٢٣٦، تریاق القلوب ص٩٤، خزائن ج١٨ ص٦١٤)
٣..... انگریزی فرشتہ ”ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت اس کی مثل
٣
انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“
(تذکرہ ص ٣١)
٤...... مٹھن لال
”خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔“
(تذکرہ ص ٥١٥)
جیسی نبی ویسے فرشتے
تمام مسلمان کافر
”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥، مصنفہ مرزا محمود احمد)
کسی غیراحمدی کا جنازہ نہ پڑھو
”چھٹی بات غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنا ہے۔ ایسے لوگ ہیں جو جنازے پڑھتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک غلطی ہے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے وہ غیراحمدی بخشا جاتا ہے؟ یا تم اس بات کے ذمہ دار ہو؟ کہ وہ جہنم سے بچ جائے۔ اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھتے ہو؟ کیا یہی نہیں کہ تم رشتہ داروں یا تعلق والوں کا منہ رکھتے ہو؟ اور کہتے ہو اگر جنازہ نہ پڑھا تو ان کو کیا منہ دکھائیں گے؟ حالانکہ وہی منہ دکھانا قابل عزت وفخر ہو سکتا ہے۔ جو بے عیب ہو۔ مگر جو کافر کا جنازہ پڑھتا ہے اس کا منہ تو چھپانے کے قابل ہے نہ دکھانے کے قابل۔“
(رسالہ تقریر خلیفۃ المسیح ثانی، ٢٧ دسمبر ١٩٢٠ء ص ٣٨، ٣٩)
غیر احمدیوں میں لڑکیوں کے رشتے نہ کرو
”پانچویں جو اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے وہ غیراحمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیراحمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر
١ اِسی لئے کسی مرزائی نے حتیٰ کہ سر ظفر اللہ نے بھی قائداعظم محمد علی جناح اور خان لیاقت علی خان وغیرہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
٤
ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو ۔“
(رسالہ تقریر فضل عمر خلیفہ المسیح ثانی ٢٧ دسمبر ١٩٢٠ء ص ٢٦)
مسلم لیگ کی مخالفت
”ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے مصلح حقیقی اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود مہدی آخرالزمان علیہ السلام ۔ کے حضور میں جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور (مرزا قادیانی) نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی تھی ۔ پس کیا کوئی ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے۔ مسلمانوں کے حق میں سازگار و بابرکت ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع وضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے باز رہیں۔ جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا فائدہ دے سکتے ہیں۔ نہ دین کا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کئی سال سے یہ نیشنل کانگریس کی نقل ہوتی ہے۔ اس سے مسلمانوں نے کیا کچھ حاصل کیا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٢ ص ٢٨، مورخہ ٨ جنوری ١٩١٦ء)
اکھنڈ ہندوستان
”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا رہیں۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“
(اخبار الفضل ٥؍اپریل ١٩٤٧ء، ج ٣٥ ص ٨٢)
فتح بغداد اور مرزائی خوشیاں
”فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے۔ جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا۔ تا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے اس قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔“
(الفضل قادیان ج ٦ ص ٩ نمبر ٤٢، مورخہ ١٧ دسمبر ١٩١٨ء)
فلسطین
”بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک (انگلستان) میں بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ میں نے ایک یہاں کے اخبار میں اس پر ایک آرٹیکل دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہود کو عطاء کی گئی تھی۔ مگر نبیوں کے انکار اور بالاخر مسیح کی عداوت سے یہود کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی۔ جو بت پرست قوم تھی۔ بعد میں عیسائیوں کو ملی ۔ پھر مسلمانوں کو جن کے پاس ایک لمبے عرصہ تک رہی ۔ اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا مستحق تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا؟
٥
سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے ہیں۔ آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ اس زمانہ میں کوئی مذہبی جنگ نہیں ہے۔ بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں انگلستان کے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائیڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔‘‘
(قادیانی مبلغ کا ایک خط مندرجہ اخبار الفضل ج ٥ ص ٨ نمبر ٧٥، مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩١٨ء)
توہین آنحضرت ﷺ
’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی ہو اور دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت نہ کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی ہو۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٢٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)
مگر اپنے مریدوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ’’اب رہی اپنی جماعت، خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے دمشق کے مینارہ پر مسیح کے اترنے کی حقیقت، دجال کی حقیقت، ایسا ہی دابۃ الارض (کے متعلق) خدا نے تم کو معرفت کے مقام تک پہنچا دیا ہے۔‘‘
(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)
- ......٢ ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ
پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘
(ڈائری مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان ثانی، مطبوعہ اخبار الفضل ج ١٠ ش ٦٥ ص ٥، مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
- ......٣ ’’حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ
میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔‘‘
(ریویو قادیان ماہ مئی ١٩٢٩ء)
- ......٤ ’’نبی کریم ﷺ کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ
کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ کیا اب تم انکار کرو گے؟‘‘
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
- ......٥ ’’خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے
ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
(چشمۂ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
٦
- ......٦
اور آگے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
”یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعہ کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ تعالیٰ! کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان کا ثبوت دے۔“
(الفضل مورخہ ٢٣؍اگست ١٩٣٣ء)
- ......٧ ”آنحضرت ﷺ اور صحابہ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ
مشہور تھا کہ اس پنیر میں خنزیر کی چربی پڑتی ہے۔ صحابہ کرام منی آلودہ کپڑے کو خشک ہونے کے بعد صرف جھاڑ لیا کرتے تھے۔ ایسے کنوئیں کا پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لتے پڑتے تھے۔ کسی مرض کے وقت اونٹ کا پیشاب بھی پی لیتے تھے۔“
(مکتوب مرزا مندرجہ اخبار الفضل ج ١١ ش ٦٦ ص ٩، مورخہ ٢٢؍ فروری ١٩٢٤ء)
- ......٨ ”کیا تم نہیں جانتے کہ کتنی صدیاں گزر گئیں؟ کہ لوگ مسیح موعود کا انتظار کر
رہے تھے۔ بڑے بڑے علماء مسیح موعود کو دیکھنے کی حسرت لے کر چلے گئے۔ لیکن تم کو خدا تعالیٰ نے اس کا زمانہ عطاء کر دیا ہے۔ تم کو وہ ہادی ملا ہے۔ جس کی تعریف رسول کریم نے کی ہے اور جس کی تعریف عرش پر بھی کی گئی ہے کہ: ”لولاك لما خلقت الافلاک“ اگر تو (مرزا قادیانی) نہ ہوتا تو میں افلاک کو ہی پیدا نہ کرتا۔“
(رسالہ تقریر فضل عمر خلیفہ ثانی ص ٨٣، ١٩٢٠ء)
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
مرزا قادیانی نے اکثر انبیاء کرام کی توہین کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو کھلے طور پر گالیاں دیں۔ حالانکہ خود اس بات کو مانتے ہیں کہ کسی نبی کی توہین کرنا کفر ہے۔
- ......١ ”اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کرنا کفر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)
٧
- ٢...... ”وہ شخص بڑا ہی خبیث اور ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ اور
مقدس لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔“
(ابلاغ المبین ص١٩)
مگر جب مراق کا دورہ سوار ہوا تو لگے توہین کرنے۔ ملاحظہ ہو:
- ١...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ بدزبانی میں
اس قدر بڑھ گئے تھے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت گالیاں دیں۔“
(چشمہ مسیحی ص٩، خزائن ج٢٠ص٣٣٦)
- ٢...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ
سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔“
(کشتی نوح ص٦٥ حاشیہ، خزائن ج١٩ص٧١)
قادیان کی فضیلت اور توہین مکہ، مدینہ و مسجد اقصیٰ، بیت المقدس
- ١...... ”قادیان تمام بستیوں کی ام (ماں) ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں
رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟“
(حقیقت الرؤیا ص٤٦)
- ٢...... ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینہ کی نمازوں کا اور جگہ کی نمازیں
مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ دیکھو مکہ کے لوگ اب گندے ہو گئے ہیں۔ پانچواں فائدہ قادیان آنے کا یہ ہے کہ یہاں کی نماز یہاں کا روزہ، یہاں کی عبادت، یہاں کا درس باہر کے مقابلہ میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ یہاں ہی وہ مسجد اقصیٰ ہے جس کی نسبت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہاں ہی وہ مسجد ہے جس میں خدا کا مسیح اترا۔ پھر یہاں ہی وہ مسجد ہے جہاں راتوں رات رسول کریم ﷺ تشریف لائے۔“
(رسالہ تقریر فضل عمر خلیفہ قادیانی ١٩٢٠ء ص ٥٨، ٥٩)
توہین حضرت امام حسین علیہ السلام
- ١...... ”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں
سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اب میری طرف دوڑو کہ سچا شفیع میں ہوں۔“
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ص٢٣٣)
٨
- ......٢ ”صد حسین است در گریبانم۔ یعنی میرے گریبان میں سو حسین پڑے
ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یزید کی تعریف
”اصل بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ بدنام یزید ہے۔ اگر اس کی شراکت سے امام حسین کی شہادت ہوئی تو برا کیا۔ لیکن آج کل کے شیعہ بھی مل کر وہ دینی کام نہیں کر سکتے جو اس (یزید) نے کیا۔“
(ملفوظات احمد ص ٤٢٥)
چوہدری ظفر اللہ کا سلام ٹریکٹ
دس نبی اور ایک بندے کا انتخاب:
- ......١ خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو۔
- ......٢ خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو۔
- ......٣ خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو۔
- ......٤ خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو۔
- ......٥ خدا کے راست باز نبی کنفیسوس پر سلامتی ہو۔
- ......٦ خدا کے راست باز نبی ابراہیم پر سلامتی ہو۔
- ......٧ خدا کے راست باز نبی موسیٰ پر سلامتی ہو۔
- ......٨ خدا کے راست باز نبی مسیح پر سلامتی ہو۔
- ......٩ خدا کے راست باز نبی محمد صلعم پر سلامتی ہو۔
- ......١٠ خدا کے راست باز نبی احمد پر سلامتی ہو۔
- ......١١ خدا کے راست باز بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو۔
(چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی بیرسٹر کا ٹریکٹ مارچ ١٩٣٣ء میں بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا)
اس ٹریکٹ سے چوہدری ظفر اللہ کے ایمان کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس کے نزدیک حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی طرح رام چندر اور کرشن بھی نبی اور رسول تھے۔ اہل اسلام کے نزدیک تو سرور عالم ﷺ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو رام چندر اور کرشن کے ساتھ ذکر کرنا سراسر گستاخی اور گمراہی ہے۔ البتہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کرشن اور رام چندر کے ساتھ ذکر کرنا نہایت مناسب ہے۔ یہ سب کے سب ائمۃ الکفر اور کافروں کے پیشوا تھے۔
(روزنامہ زمیندار لاہور ”ختم نبوت نمبر“ ج ٤١ ش ٢٠٢ ص ١٣، مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٩٥٢ء بروز اتوار)
٩
توہین حضرت عمرؓ، خلیفہ محمود کو فضل عمر ہونے کا جنون
مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ انبیاء پر فوقیت کا جنون ہوا تو بیٹے کو حضرت عمرؓ سے افضل اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہم پلہ ہونے کا مراق سوار ہو گیا۔ چنانچہ جس مرزائی سے دریافت کرو تو وہ کہتا ہے بیشک ہمارا ایمان ہے کہ ہمارا موجودہ خلیفہ حضرت عمرؓ سے افضل ہے۔ میرے پاس ایک رسالہ موسومہ ”تقریب حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح“ موجود ہے۔ اسی طرح فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ، فضل عمر میٹل ورکس وغیرہ متعدد جگہ پر اسی نام سے مراد مرزا محمود کا لقب ہی ہے۔ چنانچہ ہم ناظرین کے روبرو اس جعلی فضل عمر کا اصلی عمرؓ سے موازنہ کئے دیتے ہیں۔
اصلی عمرؓ
حضرت عمرؓ کا حال ایک غیر قوم کے فرد سے سنئے: مشہور مؤرخ ایڈورڈ گبن لکھتا ہے کہ: ”حضرت عمرؓ کی سادگی اور خوبیاں حضرت ابوبکرؓ سے کم نہ تھیں۔ آپ کی خوراک جو کی روٹی یا کھجوریں، پینے کو صرف پانی اور پہننے کو ایک پھٹا ہوا یا بارہ پیوند کا چغہ ہوا کرتا تھا۔“
(دی ڈکلائن اینڈ فال آف دی رومن امپائر ج ٥ ص ٤٠٠)
جس کی اصل انگریزی عبارت دیکھنا ہو تو اس کتاب کے پہلے باب میں ملاحظہ کریں۔ اسی طرح حضرت عمر کا بیت المقدس کا مشہور سفر متعدد کتب تاریخ میں آیا ہے کہ آپ ایک اونٹ اور ایک غلام لے کر روانہ ہوئے۔ ایک منزل آپ سوار ہوتے اور ایک منزل غلام سوار ہوتا اور آپ پیدل چلتے۔ حتیٰ کہ بیت المقدس کے قریب آ پہنچے اور باوجود غلام کے بار بار اصرار کرنے پر بھی آپ نے غلام کی باری قبول نہ کی اور اونٹ کی باگ پکڑے ہوئے بیت المقدس کے قلعہ تک پہنچے۔ رہائش آپ کی اور حضرت ابوبکر صدیق کی ایک معمولی مکان میں تھی۔ جس کو ہم نے اسی کتاب کے پہلے باب میں دوسروں کے قول سے ثابت کر دیا ہے۔
نقلی عمر
خلیفہ محمود اکثر کراچی سے لاہور فرسٹ کلاس ائر کنڈیشنڈ کا پورا ڈبہ ریزرو کرا کر سفر کیا کرتے ہیں۔ جس میں کم از کم ایک ہزار روپیہ خرچہ آیا کرتا ہے اور غریب مریدوں سے زندگیاں ریزرو کرا کر ان کی تنخواہ کا بیشتر حصہ ربوہ پہنچ جاتا ہے۔ زندگی وقف کیا ہوا مرید تو ستر اسی روپیہ ماہوار پر گزارا کرے اور خلیفہ ایک دن کے سفر میں ایک ہزار روپیہ اڑا دے۔
١٠
یہ تو رہا ریلوے سفر ، اب روزمرہ کا حال بھی سنئے : ”خلیفہ صاحب اعلیٰ سے اعلیٰ قسم کی کار میں سفر کیا کرتے ہیں ۔ متعد د نوکر ، بہترین کوٹھی ، رہائش کے لئے غرضیکہ خلیفہ صاحب نے اپنے لئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں ۔“
برطانیہ کا خودکاشتہ پودا
- ١...... ”ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام یہ راقم (مرزا قادیانی) ہے ۔ پنجاب
اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں موجود ہے ۔ میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں حضور لفٹنٹ گورنر بہادر دام اقبالہ کو آگاہ کروں ۔ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہزاروں مسلمانوں نے مجھے اور میری جماعت کو کافر قرار دیا ہے۔ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ ہے اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں ۔ اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے ۔“
(نورالحق حصہ اول ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٤٠)
- ٢...... ”میرا دعویٰ ہے کہ تمام دنیا گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی
گورنمنٹ نہیں ۔ جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت کر سکتے ہیں ۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں سکتے ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- ٣...... ”اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل
جائیں تو ہمارا مکہ میں گزارا ہو سکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں ۔ تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں ۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٤٦)
- ٤...... ”میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے
اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔“
(تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
یک جان دو قالب
”تمام سچے احمدی جو حضرت صاحب کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں ۔ بدوں کسی خوشامد اور چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ اپنی ہستی خیال کرتے ہیں ۔“ (الفضل ج ٢ ص ٢٤٨، مورخہ ١٣ ستمبر ١٩١٤ء)
١١
قادیانی اسلام کے دو حصے
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہے۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ اس محسن گورنمنٹ کا مجھ پر سب سے زیادہ شکر واجب ہے۔ کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کس اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہوسکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٣١)
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
جہاد فی سبیل اللہ
دین اسلام میں جس طرح نماز، روزہ اور زکوٰۃ کو ضروری اور لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو دین اور جان و مال کی حفاظت کے لئے جہاد فی سبیل اللہ بھی عین فرض ہے۔ بلکہ بعض مواقع پر تو تمام فرائض سے افضل قرار دیا ہے۔ مگر چودھویں صدی کے مدعی نبوت نے انگریزوں کی دلجوئی کے لئے جہاد کو حرام اور موقوف کہہ دیا ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں ہم ناظرین کے روبرو ایک طرف اسلامی عقائد اور دوسری طرف مرزائی عقائد لکھ کر پوری حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔
جہاد کے متعلق اسلامی عقائد
- ١...... ”كتب عليكم القتال (بقر)“ ﴿(اے مسلمانو) تم پر جہاد فرض
کر دیا گیا ہے۔﴾
- ٢...... ”يايها النبي حرض المؤمنين على القتال ان يكن منكم
عشرون صابرون يغلبوا مائتين وان يكن منكم مائة يغلبوا الفا من الذين كفروا بانهم قوم لا يفقهون (انفال)“ ﴿اے نبی شوق دلا مسلمانوں کو جہاد کا۔ اگر ہوویں تم میں سے بیس ثابت قدم غالب آویں گے دو صد پر اور اگر ہوویں تم میں سے سو ثابت قدم غالب آویں گے ہزار پر۔ ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے۔ سبب اس کے وہ قوم ہیں کہ نہیں سمجھتے۔﴾
- ٣...... ”ان الله اشترى من المؤمنين انفسهم واموالهم بان لهم الجنة
١٢
يقاتلون فی سبيل الله فيقتلون ويقتلون (توبه) ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے ان کے مال اور جانیں جنت کے بدلے میں خرید لی ہیں اور ان کے ذمہ یہ فرض لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کافروں کو قتل کریں گے اور خود بھی شہید ہوں گے۔“
- ......٤ ان الله يحب الذين يقاتلون فى سبيله صفا كانهم
بنيان مرصوص (الصف) ”بیشک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے ان لوگوں کو جو اس کی راہ میں صف بہ صف ہو کر اس طرح جنگ کرتے ہیں۔ گویا کہ وہ سیسہ کی پگھلائی ہوئی دیوار ہیں۔“
- ......٥ الجهاد ماض الى يوم القيامة (حديث) ”جہاد قیامت تک
کے لئے جاری رہنا ہے۔“
- ......٦ لن يبر هذا الدين قائماً يقاتل عليه عصابة من المسلمين
حتىٰ تقوم الساعة (مسلم، مشكوة، كتاب الجهاد فصل اوّل) ”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہمیشہ رہے گا یہ دین قائم۔ لڑتی رہے گی اس دین پر ایک جماعت مسلمانوں میں سے۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔“
- ......٧ من مات ولم يغزو لم يحدث به نفسه مات على شعبة من
نفاق (رواه مسلم، مشكوة، كتاب الجهاد) ”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ نہ تو اس نے اپنی زندگی میں جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں کبھی جہاد کا شوق پیدا ہوا تو وہ نفاق کی سی حالت میں مرا۔“
- ......٨ عن ابى هريرة قال وعدنا رسول الله ﷺ غزوة الهند
فان ادركتها انفق فيها نفسى ومالى فان اقتل كنت من افضل الشهداء وان ارجع فانا ابوهریرة المحرر (نسائی مطبوعه ج ٢ ص ٦٧ كتاب الجهاد باب غزوة الهند) ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ وعدہ کیا ہم سے آنحضرت ﷺ نے کہ میری امت ہندوستان میں جنگ کرے گی۔ ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس وقت میں ہوا تو اپنی جان و مال دونوں قربان کردوں گا۔ اگر میں قتل ہو گیا تو بہترین شہید ہوں گا اور اگر واپس آگیا تو آگ سے آزاد کیا ہوا ابو ہریرہؓ ہوں گا۔“
جہاد کے متعلق مرزائی عقائد
- ......١ ”یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام
کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“ (تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٤)
١٣
- ......٢
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
لوگوں کو یہ بتاؤ کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
(درثمین اردو ص٥٤)
- ......٣...... ”میں یقین کرتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے
مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج١ ص١٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩)
- ......٤...... ”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے۔ اس
روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص٧، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٤٧)
- ......٥...... ”میری اور میری جماعت کی پناہ یہ سلطنت ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت
کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے نہ مدینہ منورہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت اپنے دلوں میں مخفی رکھتے ہیں۔ ان کو میں سخت نادان بدقسمت اور ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔“
(تریاق القلوب ص٢٨، خزائن ج١٥ ص١٥٦)
- ......٦...... ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ ختم کرتا گیا
ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر نبی کریمﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر٤ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٤٤٣)
- ......٧...... ”فرقہ احمدیہ کی خاص علامت یہ ہے کہ وہ نہ صرف جہاد کو موجودہ حالت
میں ہی رد کرتا ہے بلکہ آئندہ بھی کسی وقت اس کا منتظر نہیں ہے۔“
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ١٧ فروری ١٩٠٣ء)
١٤
- ٨...... ”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب
سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“
(رسالہ جہاد ص١٤، خزائن ج١٧ ص١٥)
- ٩...... ”اگر فرض بھی کرلیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا۔ جیسا کہ ان مولویوں کا
خیال ہے۔ تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے۔ مسیح موعود جو آنے والا تھا آچکا۔“
(رسالہ جہاد ص٧، خزائن ج١٧ ص٩)
- ١٠...... ”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور
مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص١٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے ٢٢ برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔“
(تبلیغ رسالت ج١٠ ص٢٦)
مرزا قادیانی کے اس خود ساختہ عقیدے کا جواب مفکر اسلام حضرت علامہ اقبالؒ نے خوب دیا ہے ؎
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بیخبر
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد کی دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات اسلام کا محاسبہ یورپ سے درگزر
مرزائی عذر
”ہم جہادِ اکبر یعنی تبلیغ یا قلم کا جہاد کرتے ہیں اور تم لوگ جہادِ اصغر یعنی تلوار کا جہاد کرتے ہو۔ قرآن میں بھی یہ حکم ہے کہ: ”وجاھدھم جھاداً کبیرا“
(احمدیہ پاکٹ بک وغیرہ)
الجواب
تبلیغ دین کو جہاد اکبر کہنا تمہارے جیسے ہٹ دھرمیوں کا ہی کام ہے۔ جس طرح بعض
١؎ انگریزوں کی فتح کے لئے دن رات دعائیں ہو رہی تھیں اور ممالک اسلامیہ بالخصوص ترکی و بغداد اور فلسطین کے سقوط اور تباہی پر قادیان میں اس وقت چراغاں کیا جارہا تھا۔
١٥
جاہل پیروں نے باطن کی نمازیں گھڑ لی ہیں۔ تم نے تبلیغ کو جہاد اکبر بنالیا۔ اس طرح تو ہر احکام خداوندی کا نام تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گویا شریعت تو کھیل بن گئی۔ تمہاری پیش کردہ پوری آیت اس طرح ہے۔ ”لا تطع الکافرین وجاهدهم جهاداً كبيراً (پ ٢٩)“ ﴿یعنی کافروں کی اطاعت مت کرو اور ان سے زبردست جنگ کرو۔﴾
مشکوٰۃ کتاب الجہاد میں ابوداؤد و نسائی کی حدیث ہے کہ عبداللہ بن حبشی کہتے ہیں کہ سوال کئے گئے آنحضرت ﷺ ”ای الجهاد افضل قال من جاهد المشرکین بما له ونفسه“ یعنی کون سا جہاد افضل ہے؟ فرمایا کہ جہاد کرے مشرکوں سے ساتھ مال اور جان اپنی کے۔ اسی باب میں صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ : ”ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف“ یعنی بہشت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں۔
مرزا قادیانی کا غیر محرم عورتوں سے پیر دبوانا
- ١...... ”موسم سرما کی اندھیری راتوں میں غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا
اور اختلاط و مس کرنا کار ثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔“
(الحکم ١٧/اپریل ١٩٠٧ء وسیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٣)
- ٢...... (اخبار الفضل ٢٠/مارچ ١٩٢٨ء ص ٦،٧) میں ایک مراسلہ زیر عنوان محترمہ
عائشہ مرحومہ بنت شادی خان کے حالات زندگی شائع ہوا۔ اس مراسلہ میں لکھا تھا کہ: ”محترمہ عائشہ پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں مسیح موعود کے پاس آئیں۔ حضور (مرزا قادیانی) کو مرحومہ (عائشہ) کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔“
تھیٹر سنیما
”تھیٹر اور سنیما میں ننگی عورتوں کا ناچ دیکھنا جائز ہے۔ اس کے دیکھنے سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔“
(ذکر حبیب ص ١٨، الفضل ٢٨/جنوری ١٩٣٢ء)
بشارات اسمہ احمد
”واذ قال عیسٰی ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد ؕ فلما جاء هم بالبینت قالوا هذا سحر مبین (سوره الصف) “ اور جس وقت کہا عیسیٰ بن مریم نے کہ اے بنی اسرائیل تحقیق میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں۔ تصدیق کرتا ہوں تو رات کی جو پہلے مجھ سے آ چکی ہے اور خوشخبری دیتا ہوں اس ایک رسول کی جو میرے بعد
١٦
آئے گا۔ نام اس کا احمد ہے۔ پس آیا جب وہ ان لوگوں کے پاس ساتھ کھلی نشانیوں کے تو کہا انہوں نے یہ تو کھلا جادو ہے۔﴾
مرزائیوں نے اس پیش گوئی کا مصداق مرزا قادیانی کو ٹھہرایا ہے۔
ناظرین! اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیش گوئی کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کی تھی کہ میرے بعد احمد رسول آئے گا۔ ”فلما جاء“ ماضی کا صیغہ ہے۔ اسی طرح ”قالوا هذا سحر مبین“ بھی ماضی کا صیغہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جب وہ رسول آیا ساتھ نشانیوں کے تو ان لوگوں نے اس کی نشانیوں کے سبب اسے جادوگر کہہ دیا۔
پھر مرزا قادیانی کا نام تو غلام احمد تھا نہ کہ احمد۔
مشکوٰۃ شریف باب فضائل سید المرسلین فصل ثانی میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ”وساخبرکم باول امری دعوۃ ابراهيم وبشارة عیسیٰ“ ﴿اور اب خبر دوں تم کو ساتھ اوّل امر اپنے کے کہ میں دعاء ابراہیم کی ہوں اور بشارت حضرت عیسیٰ کی ہوں۔﴾
الزامی جواب
- ١....... ”تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبی ﷺ کے دو نام ہیں۔ ایک محمد ﷺ اور یہ
نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے۔ دوسرا نام احمد ﷺ ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“
(رسالہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
- ٢....... ”حضرت رسول کریم ﷺ کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے
کیا۔ ”یاتی من بعدی اسمه احمد“ من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔
(کتاب ملفوظات احمدیہ یعنی ڈائری ١٩٠١ء، اخبار الحکم ج ٥ ش ٢ ص ١٠، مورخہ ٣١؍جنوری ١٩٠١ء)
چاند و سورج گرہن والی روایت
”ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق الله السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه“ ﴿ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ہیں۔ رمضان میں چاند کو پہلی رات کو اور سورج کو درمیانے دن گرہن لگے گا۔﴾
١٧
یہ گرہن مرزا قادیانی کے وقت چاند کو ١٣؍ تاریخ اور سورج کو ٢٨ تاریخ لگا۔
(مرزائی پاکٹ بک ایڈیشن ١٩٤٥ء ص ٦٢٨، ٦٢٩، بحوالہ دارقطنی ص ٣٨٨)
الجواب
یہ حدیث نبوی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ محمد بن علی کا قول ہے جو کہ مجہول ہے۔ اس نام کے کئی راوی ہیں۔ معلوم نہیں کہ کون سا محمد بن علی ہے۔ اس روایت کی سند ص ١٤٠ پر دیکھو۔
اس روایت کا ایک راوی عمرو بن شمر سخت ضعیف ہے۔ ”قال الجوزجانی زائغ کذاب وقال ابن حباب رافضی . وقال البخارى منكر الحديث وقال النسائى والدارقطني وغيرهما متروك الحديث“
(میزان الاعتدال مطبوعہ مصر ج ٢ ص ٢٩١، ٢٩٢)
جوزجانی نے کہا از حد جھوٹا تھا۔ ابن حبان نے کہا رافضی تھا۔ امام بخاری نے کہا اس کی حدیث سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ امام نسائی اور دارقطنی وغیرہ نے کہا کہ اس راوی کی روایت ترک کر دی جاتی ہے۔
اس روایت کا تیسرا راوی جابر ہے۔ اس نام کے بھی بہت سے راوی ہیں۔ مثلاً ایک جابر جعفی ہے۔ جس کی نسبت امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا اور عطا سے زیادہ افضل کوئی نہ دیکھا۔ امام نسائی نے کہا متروک ”وقال ابوداؤد ليس بالقوى“
(تقریب التہذیب ص ٧٦، میزان الاعتدال ج ١ ص ١٧٦)
تمہاری پیش کردہ روایت کے مطابق ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند کو اور ١٥ تاریخ کو سورج کو گرہن لگنا چاہئے تھا۔ مگر وہ حسب معمول ١٣ اور ٢٨ کو لگا۔ حالانکہ روایت کے الفاظ ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو بنایا ہے۔ اس وقت سے لے کر مہدی کے زمانہ تک ایسا کبھی گرہن نہ لگے گا۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ج ٢٧ میں گہن کے متعلق ٧٦٣ برس قبل مسیح سے ١٩٠١ء تک کا تجربہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ گہن ٢٢٣ برس قبل اور بعد اسی قسم کا گہن ہوتا ہے۔
اس قسم کا گہن مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل اور بعد بھی لگ چکا ہے۔ مسٹر کیتھ کی کتاب یوز آف دی گلوبس مطبوعہ لندن ١٨٦٩ء ایڈیشن کے ص ٢٧٣ تا ٢٧٦ میں پورے سو سال کی فہرست دی ہے۔ یعنی ١٨٠١ء سے ١٩٠٠ء تک۔ اس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس میں پانچ مرتبہ سورج اور چاند گہن کا اجتماع ماہ رمضان میں ہوا ہے۔ اس طرح حدائق النجوم فارسی مطبع محمدی لکھنؤ ص ٧١٢، ٧٤١ میں گہنوں کی فہرست میں تین مرتبہ چاند وسورج کو گہن ماہ رمضان میں ثابت کیا گیا ہے۔
١٨
چاند کو ١٣ تاریخ اور سورج کو ٢٨ تاریخ لگا۔
(مطبوعہ ایک ایڈیشن ١٩٢٥ء ص ٦٢٨، ٦٢٩، بحوالہ دارقطنی ص ٣٨٨)
بلکہ محمد بن علی کا قول ہے جو کہ مجہول ہے۔ اس نام کے راوی ہیں۔ اس روایت کی سند ص ١٤٠ پر دیکھو۔ یہ سخت ضعیف ہے۔ ”قال الجوز جانی زائغ قال البخاری منکر الحدیث وقال النسائی حدیث“ (میزان الاعتدال مطبوعہ مصر ج ٢ ص ٢٩١، ٢٩٢) ابن حبان نے کہا رافضی تھا۔ امام بخاری نے کہا اس نسائی اور دارقطنی وغیرہ نے کہا کہ اس راوی کی روایت
ہے۔ اس نام کے بھی بہت سے راوی ہیں۔ مثلاً ایک فرماتے ہیں کہ میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا اور عطا کو متروک’ وقال ابوداؤد ليس بالقوی“
(تقریب التہذیب ص ٧٦، میزان الاعتدال ج ١ ص ١٧٦)
مطابق ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند کو اور ١٥ تاریخ کو گہن ١٣ اور ٢٨ کو لگا۔ حالانکہ روایت کے الفاظ ہیں کو بتایا ہے۔ اس وقت سے لے کر مہدی کے زمانہ تک
مہینوں کے متعلق ٧٣ برس قبل مسیح سے ١٩٠١ء تک کا تجربہ اسی قسم کا گہن ہوتا ہے۔ دعویٰ نبوت سے قبل اور بعد بھی لگ چکا ہے۔ مسٹر کیتھ کی ١٨٩٩ء ایڈیشن کے ص ٢٧٣ تا ٢٧٦ میں پورے سو سال کی اس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس میں پانچ مرتبہ ہوا ہے۔ اس طرح حدائق النجوم فارسی مطبع محمدی لکھنو مرتبہ چاند و سورج کو گہن ماہ رمضان میں ثابت کیا گیا ہے۔
١٨
قمر
قمر کا لفظ جس طرح تیسری یا چوتھی یا ساتویں تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں۔ اسی طرح مہینہ کی اول شب سے لے کر آخر تک کے چاند کو بھی قمر کہتے ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھ لو کہ چاند کے نام مختلف اوقات اور صفات کے لحاظ سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ ’ھلال، بدر‘ وغیرہ اس لئے ضرور ہے کہ اس کا کوئی اصل نام بھی ہو۔ جس پر یہ مختلف حالتیں طاری ہوتی ہیں اور وہ سب میں مشترک ہو وہ لفظ قمر ہے۔
ان مشاہدوں کے علاوہ قرآن مجید کا محاورہ ملاحظہ ہو۔
- ١....... ”والقمر قدرناہ منازل حتى عاد كالعرجون القديم“ یعنی
قمر کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں۔ اسکے بموجب ترقی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ مثل سوکھی ہوئی ٹہنی کے ہو جاتا ہے۔
- ٢....... ”هو الذى جعل الشمس ضياء والقمر نوراً وقدره منازل
لتعلموا عدد السنين والحساب“ یعنی اللہ وہی ہے جس نے سورج کو چمکدار اور قمر کو نور بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں۔ تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب کر سکو۔
ان دونوں آیتوں میں پورے مہینے کے چاند کو قمر کہا ہے۔ خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری رات کا اور یہ صرف دو ہی جگہ نہیں بہت جگہ پورے مہینے کے چاند کو قرآن میں قمر ہی کہا گیا ہے۔
بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ’ان الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت احد ولا لحياته (مشكوة باب صلوٰة الخسوف فصل اوّل) “ تحقیق سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں۔ اللہ کی نشانیوں میں سے۔ لیکن یہ کسی کے مرنے یا زندہ ہونے کی علامت نہیں ہوتے۔ ﴿
ایک مشہور واقعہ
محمد ﷺ کے زمانہ میں ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ آپ کا ایک ہی صاحبزادہ تھا اور اس کا نام ابراہیم تھا۔ یہ لڑکا ماریہ قبطیہ نامی حرم سے پیدا ہوا تھا۔ جب آپ ٦٣ برس کے ہوئے تو اس صاحبزادے نے سترہ مہینہ کی عمر میں انتقال کیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ کو بہت رنج ہوا اور بقائے نسل و نام کی امید جاتی رہی۔ جس وقت اس صاحبزادے کا انتقال ہوا۔ اسی لمحہ کسوف آفتاب ہوا۔ عوام الناس نے یہ خیال کیا کہ آسمانوں نے بھی آپ کے صاحبزادے کا غم کیا۔ مگر آپ نے ان کی اس بداعتقادی کو رفع کیا اور ان تمام جہلا کو اپنے پاس بلایا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ اے
١٩
ہم وطنو! آفتاب اور ستارے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ ان کو کسی آدمی کی پیدائش یا موت وغیرہ سے گہن نہیں لگتا۔
(اپالوجی فار محمد اینڈ قرآن ص٤٠، اردو ترجمہ مصنفہ مسٹر جان ڈیون پورٹ)
پس ثابت ہوا چاند وسورج گرہن کو کسی کی پیدائش یا وفات یا صداقت وغیرہ کی دلیل ماننا کم عقیدہ : جاہلوں کا شیوہ ہے۔ یہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ محمد بن علی کا قول ہے۔ جیسا کہ اس کی سند سے ثابت ہے۔ ”حدثنا ابو سعيد الاصطخرى ثنا محمد بن عبدالله بن نوفل ثناء عبيد بن بعيش ثنا يونس بن بكير عن عمرو بن شمر بن جابر عن محمد بن علی قال ان اللمهدينا (سنن دارقطنی ص ٢٨٨)“
مرزا قادیانی کی غلط پیش گوئیاں
- ......١ ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسوله ان الله عزيز ذوا
انتقام (ابراھیم)“ ﴿ہرگز گمان مت کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کا خلاف کرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ غالب منتقم ہے۔﴾
- ......٢ ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص٥، خزائن ج١٩ ص٥)
- ......٣ ”کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر
رسوائی ہے۔“
(تریاق القلوب ص٢٦٨، خزائن ج١٥ ص٣٨٢)
- ......٤ ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کو ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک
امتحان نہیں۔“
(آئینہ کمالات ص٢٨٠، خزائن ج٥ ص٢٨٨)
پیش گوئی محمدی بیگم منکوحہ آسمانی
مرزا قادیانی کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک صاحب مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری بھی تھے۔ ایک دفعہ کسی ضروری کام کے لئے ان کو مرزا قادیانی کے پاس آنا پڑا۔ مرزا قادیانی نے موقع مناسب جان کر اس وقت استخارہ وغیرہ کا بہانہ کر کے ٹال دیا۔ آخر کچھ دن بعد اس سلوک کا معاوضہ اس کی دختر کلاں کا رشتہ الہامی طور پر طلب کیا۔ مگر اس خلاف تہذیب مطالبہ کا الٹا اثر پڑا اور اس نے صاف انکار کر دیا۔ ادھر مرزا قادیانی کے خفیہ اور خیراتی فرشتوں کو بھی غصہ آ گیا اور جھٹ یہ الہام جڑا۔ ”یہ لوگ مجھ کو میرے دعویٰ الہام میں مکار اور دروغگو جانتے تھے۔ کئی دفعہ ان کے لئے دعاء کی گئی۔ دعاء قبول ہو کر خدا نے یہ تقریب پیدا کی کہ والد اس دختر کا ایک ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ قریب تھا کہ ہم (اس کی درخواست پر) دستخط کر دیتے۔ لیکن خیال
٢٠
آیا کہ استخارہ کر لینا چاہئے۔ پھر استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا نشان آسمانی کی درخواست کا وقت آ پہنچا۔ اس قادر حکیم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی دختر کلاں کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا۔ اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا۔ جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کا ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(اشتہار مرزا مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء منقول از آئینہ کمالات ص ٢٨١ تا ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨١، ٢٨٨)
اس اشتہار میں صاف طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اگر دوسری جگہ نکاح کیا تو اس عورت کا خاوند اڑھائی سال تک اور والد اس کا تین سال تک فوت ہوگا۔ یہ بقول مرزا قادیانی کا اٹل فیصلہ ہے۔ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بالآخر مرزا قادیانی سے نکاح ہو کر رہے گا۔
اور سنئے! مرزا قادیانی رسالہ (شہادت القرآن ص ٨٠، ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں فرماتے ہیں۔ ”بعض عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔ یہ تینوں پیش گوئیاں پنجاب کی تین بڑی قوموں پر حاوی ہیں اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔“
- ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ٢...... داماد اس کا اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ٣...... احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ٤...... وہ دختر بھی تا نکاح ثانی اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- ٥...... یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦...... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔
(شہادت القرآن ص ٨٠، ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٤، ٣٧٥)
اس پیش گوئی میں اوّل چالاکی مرزا قادیانی نے یہ کی کہ اصل پیش گوئی میں پہلا نمبر احمد بیگ کے داماد کی موت کا تھا۔ کیونکہ اس کی مدت بھی ڈھائی سال بتلائی تھی اور دوسرا نمبر احمد بیگ کی موت تھی۔ جس کی معیاد تین سال تھی۔ بخلاف اس کے چونکہ اس تحریر کے وقت احمد بیگ جو کہ بوڑھا آدمی تھا۔ فوت ہو گیا تھا۔ حالانکہ اسے داماد کے بعد مرنا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اس تحریر میں یہ چالاکی کی کہ احمد بیگ کی موت کا پہلے ذکر کیا اور داماد کی موت کا ذکر دوسرے نمبر پر کیا۔
٢١
دوسری چالاکی یہ کی کہ اصل پیش گوئی میں بیوہ کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن اس تحریر کے وقت اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہو چکا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے پیش گوئی کے ایک حصہ باکرہ کو ہضم کر کے صرف بیوہ والا حصہ ظاہر کیا۔
یہ تھیں مرزا قادیانی کی چالیں، بہرحال مرزا قادیانی کی ان دھمکی آمیز پیش گوئیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فریق ثانی نے محمدی بیگم کو مورخہ ٧/اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے بیاہ دیا۔
(آئینہ کمالات ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)
اور مرزا قادیانی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
مزید سنئے : ”نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ”لا تبديل لكلمات الله“ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(اشتہار مرزا مورخہ ٦/اکتوبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
مرزائی عذر
تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے اور اس میں بھی شرط ہوتی ہے۔
الجواب
یہ سب غلط ہے۔ ہم اس وقت مرزا قادیانی کے الہامات پر بحث کر رہے ہیں۔ پس اس معاملہ میں تقدیر مبرم کی تشریح جو مرزا قادیانی نے کی ہوگی۔ فیصلہ بھی اسی پر ہوگا۔ ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں۔
- ١...... ”گو بظاہر کوئی وعید کی پیش گوئی شرط سے خالی ہو۔ مگر اس کے ساتھ
پوشیدہ طور پر شرط ہوتی ہے۔ بجز ایسے الہام کے جس میں یہ ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔ پس ایسی صورت میں وہ قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پاتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ١٠)
- ٢...... ”اس آیت کا مدعا تو یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آجاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی۔“
(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٤)
- ٣...... ”تقدیر مبرم تو ان لوگوں کی دعاء سے بھی نہیں ٹلتی۔ جن کی زبان ہر وقت
خدا کی زبان ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦، ١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠، ٢١)
٢٢
گوئی میں بیوہ کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن اس تحریر کے وقت لئے مرزا قادیانی نے پیش گوئی کے ایک حصہ باکرہ کو
بہر حال مرزا قادیانی کی ان دھمکی آمیز پیش گوئیوں کا ١٧ اپریل ١٨٩٢ء کو مرزا سلطان محمد ساکن پٹی سے بیاہ
(آئینہ کمالات ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)
رہ گئے۔
اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ بات ہر گز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام
نامہ مرزا مورخہ ١٦ اکتوبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ن میں بھی شرط ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی کے الہامات پر بحث کر رہے ہیں۔ پس قادیانی نے کی ہوگی ۔ فیصلہ بھی اسی پر ہوگا۔ ملاحظہ ہو۔
ید کی پیش گوئی شرط سے خالی ہو۔ مگر اس کے ساتھ م کے جس میں یہ ظاہر کیا جائے کہ اس کے ساتھ کوئی صلہ ہو جاتا ہے اور تقدیر مبرم قرار پاتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ١٠)
بات یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آ جاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی ۔“
(اشتہار انعامی تین ہزارص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٤)
لوگوں کی دعاء سے بھی نہیں ٹلتی۔ جن کی زبان ہر وقت
(حقیقت الوحی ص ١٦، ١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠، ٢١)
٢٢
عذر
سلطان محمد نے توبہ سے فائدہ اٹھایا۔ اس لئے بچ گیا۔ اس کے علاوہ اسے تکذیب کا اشتہار دینے کو کہا۔ مگر اس نے نہ دیا۔
الجواب
یہ سب جھوٹ ہے کہ سلطان محمد نے توبہ کی ۔ مرزائیو! اگر لفظ توبہ سلطان محمد کی طرف سے دکھلاؤ تو منہ مانگا انعام پاؤ۔ اس کے علاوہ سلطان محمد کی توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی موت تو تقدیر مبرم تھی اور تقدیر مبرم میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔ باقی رہا تکذیب کا اشتہار تو وہ تو اس ہارے ہوئے پہلوان کی مثال ہے۔ جو جتنی مرتبہ ہارے اتنی مرتبہ اپنے مد مقابل سے دوبارہ کشتی لڑنے کی تمنا کرتا ہے کہ کسی طرح پھر موقع مل جائے۔ پھر تکذیب کے اشتہار پر ہی بس کہاں تھی ۔ اس میں بھی تو ایک سال مدت بڑھائی جارہی تھی۔
محمدی بیگم کو حاصل کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ حتی کہ احمد بیگ اور مرزا علی شیر بیگ کو یہاں تک دھمکی دی کہ اگر تم نے یہ رشتہ نہ دیا تو میں اپنے بیٹے فضل احمد کو کہہ کر تمہاری لڑکی عزت بی بی کو طلاق دلوا دوں گا۔ جیسا کہ احمدیہ پاکٹ بک والا بھی تسلیم کرتا ہے۔
حضرت مسیح موعود نے بیشک احمد بیگ وغیرہ کو یہ لکھا تھا کہ اگر تم یہ رشتہ نہ دو گے تو میں اپنے بیٹے فضل احمد کو کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص ٧٩٨، ١٩٤٥ء)
واہ رے چودھویں صدی کے بناسپتی نبی خود کو رشتہ نہیں ملا تو بے قصور بیٹے کا ہی گھر اجاڑنے لگ گئے ۔ القصہ مختصر یہ پیش گوئی قطعی جھوٹی ثابت ہوئی ۔
مرزائی عذر
حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو پیش گوئی کی کہ تم پر چالیس یوم میں عذاب آئے گا۔ جو نہ آیا ۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت مسیح علیہ السلام کو ایک دھوبی کی موت کی خبر دی۔ مگر اس نے تین روٹیاں صدقہ کر دیں جس کے سبب مرنے سے بچ گیا۔
الجواب
حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب کی کوئی پیش گوئی نہیں کی تھی ۔ بلکہ خدا کی سنت بتلائی تھی کہ جو قوم نافرمانی کرتی ہے اس پر عذاب آیا کرتا ہے۔ قرآن شریف میں آتا ہے کہ: ”لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزی (یونس) جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
٢٣
عذاب کھول دیا یا دور کر دیا۔ کشف کے معنی کھولنے اور دور کرنے کے ہیں نہ یہ کہ شروع سے ہی عذاب نہ آیا ہو۔ معلوم ہوا کہ اس عذاب کے اٹھ جانے میں توبہ کی شرط تھی۔ مگر عذاب کا نہ آنا ثابت نہیں ہے۔ ﴿
جو پیش گوئی خدا کا نبی اپنی صداقت پر پیش کرتا ہے۔ اس میں اگر شرط مذکور نہ ہو اور وہ ظاہری الفاظ پر پورے نہ نکلیں تو دلیل تو کجا الٹا اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔
باقی رہا تفسیر روح البیان کا حوالہ۔ ہم اس کے مفسر کو نبی یا ملہم نہیں مانتے۔ اس کے کہنے سے ہزاروں سال قبل کا واقعہ غلط ثابت نہیں ہوسکتا۔ یہ تفسیر غیر مستند ہے۔
سلطان محمد کی توبہ کا مرزائی ثبوت
یہ پیش گوئی مشروط تھی۔ جیسا کہ اس الہام سے ظاہر ہے۔ ”توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ اے عورت توبہ کر توبہ کر تیری لڑکی کی لڑکی پر بلا آنے والی ہے۔
سلطان محمد نے سسر کی موت سے خوف کھا کر توبہ کر لی۔ جیسا کہ اس کے مندرجہ ذیل خط سے ثابت ہے۔
از انبالہ چھاؤنی ٢١، ٣، ١٣
برادرم سلمہ! نوازش نامہ آپ کا پہنچا۔ یاد آوری کا مشکور ہوں۔ میں جناب مرزا جی صاحب کو نیک بزرگ۔ اسلام کا خدمت گزار۔ شریف النفس۔ خدا یاد پہلے بھی اور اب بھی خیال کر رہا ہوں۔ مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں ہے۔ بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چند ایک امورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کا شرف حاصل نہ کر سکا۔
نیاز مند سلطان محمد از انبالہ
(مرزائی پاکٹ بک ١٩٤٥ء ص ٧٧٧ یا ٧٧٩)
الجواب
یہ محض دھوکہ ہے کہ سلطان محمد نے توبہ کر لی۔ ”توبی توبی“ والا الہام تو صیغۂ مونث ہے جو محمدی بیگم کی نانی کی طرف اشارہ ہے اور محمدی بیگم کی نانی کی توبہ بھی یہی ہونی چاہئے تھی کہ وہ اپنی نواسی مرزا قادیانی کی دلوا دیتی۔ سلطان محمد کی توبہ بھی تب ہی قبول ہونی تھی کہ وہ اس رشتہ کو مرزا قادیانی کی طرف پھیر دیتا۔ سلطان کا قصور ہی صرف یہ تھا۔ ملاحظہ ہو: ”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے
٢٤
کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے التفات نہ کی۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔“
(اشتہار انعامی ٤ ہزار ص ٤ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)
سلطان محمد کا خط
مرزائیوں کا پیش کردہ خط جعلی اور غیر مستند ہے۔ پھر لطف یہ کہ اس خط میں بھی توبہ کا لفظ کسی جگہ درج نہیں۔ بلکہ وہ صاف کہہ رہا ہے کہ مرزا قادیانی کو میں جیسا پہلے تصور کرتا تھا ویسا اب بھی کرتا ہوں۔ قریبی رشتہ داری جو ٹھہری۔
اب ہم مرزا سلطان محمد کا اصلی اور مستند خط ناظرین کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ جو کہ - اخبار اہل حدیث مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٢٤ء و تحقیق لاثانی ص ١١٩ میں شائع ہو چکا ہے۔
سلطان محمد کا اصلی خط
جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگانِ اسلام کا پیرو ہوں۔
(٤؍ مارچ ١٩٢٤ء دستخط مرزا سلطان محمد)
تصدیقی دستخط
- ١...... مولوی عبداللہ امام مسجد مبارک۔
- ٢...... مولوی مولا بخش خطیب جامع مسجد پٹی بقلم خود۔
- ٣...... مولوی عبدالمجید ساکن پٹی بقلم خود۔
- ٤...... مستری محمد حسین نقشہ نویس پٹی بقلم خود۔
- ٥...... مولوی احمد اللہ صاحب امرتسر۔
(اخبار اہلحدیث امرتسر مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٢٤ء، تحقیق لاثانی ص ١١٩)
اس خط کے متعلق اخبار اہلحدیث امرتسر میں اعلان ہوا تھا کہ اگر مرزائی اس خط کو غیر صحیح ثابت کر دیں تو وہی تین صد روپیہ لدھیانہ کا انعام جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے میر قاسم علی مرزائی سے جیتا تھا واپس کر دیں گے۔ مگر کسی مرزائی نے دم نہ مارا۔
عذر
(فتح البیان ج ٧ ص ١٠٠، فردوس الاخبار دیلمی ص ٣٥٨) کہ طبرانی اور ابن عساکر نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا کہ اے خدیجہ کیا تجھے معلوم نہیں
٢٥
کہ خدا نے میرا نکاح پڑھ دیا ہے۔ عیسیٰ کی ماں مریم، موسیٰ کی بہن کلثوم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ۔ حضرت خدیجہؓ نے فرمایا یا رسول اللہ آپ کو مبارک ہو۔ نیز آنحضرتﷺ کو الہام ہوا کہ حضرت زینبؓ آپ کی بیوی ہیں۔ پھر بھی حضرت زینبؓ زید کے پاس رہیں۔
(مرزائی پاکٹ بک ص٧٩٤، ٧٩٢ ایڈیشن ١٩٤٥ء)
الجواب
یہ ایک کشفی معاملہ ہے۔ کیونکہ مریم صدیقہ وغیرہ آنحضرتﷺ سے سینکڑوں برس قبل فوت ہو چکی تھیں۔
جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ ”بعض آثار میں ایسا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ والدہ مسیح علیہ السلام عالم آخرت میں زوجہ مطہرہ آنحضرتﷺ کی ہوگی۔“
(سرمہ چشم ص٢٤٢، خزائن ج٢ ص٢٩٢)
پس اس نکاح کو محمدی بیگم کے نکاح سے مشابہت دینا سراسر بددیانتی ہے۔ اب سنئے حضرت زینبؓ سے آنحضرتﷺ کے نکاح والے الہام کی حقیقت۔ فتح البیان اور فردوس الاخبار دیلمی میں حضرت زینبؓ کے نکاح کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ البتہ (جلالین مع کمالین مجتبائی ص٣٥٣) میں ایک غیر مستند روایت آئی ہے جسے مرزائی پاکٹ بک والے نے درج کیا ہے کہ: ”آنحضرتﷺ نے ارادہ فرمایا کہ زینبؓ کا نکاح زید کے ساتھ کردیں۔ لیکن پہلے حضرت زینبؓ نے کراہت کی۔ پھر بعد میں راضی ہوگئیں۔ پس ان دونوں کی شادی ہوگئی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو بتایا کہ زینبؓ آپ کی بیویوں میں سے ہے۔“
(مرزائی پاکٹ بک ص٧٩٤)
مرزائیوں کے پیش کردہ اس حوالہ سے تو مرزا قادیانی کی تکذیب ہو رہی ہے۔ اس حوالہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی مرضی سے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ کا نکاح زید سے کردیا۔ حالانکہ حضرت زینبؓ اس نکاح سے کراہت کرتی تھیں۔ مگر حضورﷺ کے سمجھانے پر خاموش ہوگئیں۔ (یہ تھی سچے نبی کی صداقت) پھر بعد کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ یہ تیری بیویوں میں سے ہے۔ آخر ایسا ہوکر رہا۔ حضرت زینبؓ بغیر کسی کوشش کے آنحضرتﷺ کے نکاح میں آئیں۔
اسی طرح صحیح بخاری حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ کو فرشتہ ایک ریشم کے ٹکڑے پر حضرت عائشہؓ کی تصویر دکھلاتا اور کہتا ہے کہ یہ تیری بیوی ہے۔
(تجرید البخاری ص٧٠٧)
سبحان اللہ! آنحضرتﷺ کی پیش گوئی بھی پوری ہوئی۔
٢٦
پیش گوئی ڈپٹی عبداللہ آتھم امرتسری
”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے۔ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثوں کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“
(جنگ مقدس تقریر مرزا صفحات آخری ،خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
اس پیش گوئی کی تشریح
”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ ( ٥ جون ١٨٩٣ء) سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس تقریر مرزا صفحات آخری خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
ناظرین! جانتے ہو کہ پھر کیا ہوا۔ یہ کہ آتھم مرزا قادیانی کی بتلائی ہوئی میعاد کے اندر نہیں مرا اور مرزا قادیانی اس مقابلہ میں بھی ہار گئے۔ جب سب طرف سے لوگوں نے پھبتی اڑانا شروع کی تو مرزا قادیانی نے پھر پینترا بدلا۔
عذر مرزا
”ہم آتھم کی موت کی پیش گوئی ہماری ذاتی رائے تھی۔ اصل پیش گوئی میں ہاویہ کا لفظ اور پیش گوئی کے دونوں میں عبداللہ آتھم کا ڈرتے رہنا اور شہر بہ شہر بھاگتے پھرنا اس کا ہاویہ ہے۔“
(انوار الاسلام ج ٢ ص ٥ ،خزائن ج ٩ ص ٥)
الجواب
مرزائیو! مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے الفاظ ذرا آنکھوں کا پردہ ہٹا کر دیکھو۔ کس قدر زور دار ہیں۔ پھر یہ عاجزی اور بے بسی کیا معنی رکھتی ہے۔ اگر ہاویہ سے مراد موت نہ تھی تو پھر مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل اقوال کے کیا معنی ہوئے۔
٢٧
- .......١ ”الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کا وعدہ تھا۔“
(انوارالاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٥)
- .......٢ ”آتھم نے رجوع کا حصہ لے لیا۔ جس حصہ نے اس کے وعدۂ موت
میں تاخیر ڈال دی۔“
(انوارالاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)
- .......٣ ”نفس پیش گوئی تو اس کی موت تھی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣)
دوسرا عذر
آتھم کو قسم کھانے کے لئے کہا گیا۔ مگر اس نے نہ کھائی۔
الجواب
- .......١ عیسائی مذہب میں قسم کھانی جائز نہیں۔ ملاحظہ ہو: ”میں تم سے یہ کہتا ہوں
کہ بالکل قسم نہ کھانا نہ آسمان کی۔ کیونکہ وہ خدا کا تخت ہے نہ زمین کی نہ یروشلم کی نہ اپنے سر کی۔“
(رسالہ شاہی فرمان ص ٦، انجیل متی، یعقوب باب ٥ آیت ١٢)
- .......٢ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اے مسلمانوں! قرآن تمہیں انجیل کی طرف
یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھاؤ۔“
(کشتی نوح ص ٧٢، خزائن ج ١٩ ص ٢٩)
ناظرین! مرزا قادیانی کی چالاکی یہ تھی کہ اگر آتھم قسم کھا گیا تو ہم فوراً کہہ دیں گے کہ دیکھ لو ہماری بات سچی نکلی کہ آتھم عیسائیت سے منحرف ہو گیا ہے۔ کیونکہ عیسائی مذہب میں قسم نہیں کھائی جاتی اور اگر نہ کھائی تو بھی پوں بارہ کہ دیکھ لو جھوٹا ہے۔ تب ہی تو قسم نہیں کھا رہا۔
دوسرا راز یہ تھا کہ کسی طرح ایک سال مدت اور بڑھ جائے تا کہ موجودہ ذلت اور رسوائی کا داغ دھونے کے لئے کوئی اور بہانہ تلاش کیا جا سکے۔
ڈوئی کی موت
ڈوئی کی موت کی پیش گوئی کہ مباہلہ کرے یا نہ کرے تب بھی اس کو اللہ ہلاک کرے گا۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٦١٢)
الجواب
اس طرح کی بلا میعادی پیش گوئی تو ہر شخص کر سکتا ہے کہ خلیفہ قادیان ہلاک ہوگا۔ کل مرزائی مر جائیں گے اور ہاویہ میں پڑیں گے۔
٢٨
پیش گوئی عالم کباب یا مصلح موعود
مرزا قادیانی کا اکثر یہ دستور رہا ہے کہ اگر کبھی ان کی بیوی حاملہ ہوتی تو بیٹے کی پیش گوئی جڑ دیتے اور اگر بہو کو حاملہ دیکھتے تو پوتے کی خوشخبری گھڑ لیتے۔ اگر کسی مرید کی بیوی حاملہ ہوتی تو اس کے حق میں لڑکا یا لڑکی کی پیش گوئی بنا ڈالتے۔ مگر ساتھ ہی راہ فرار کے لئے ممکن کی آڑ بھی لگا دیا کرتے تھے۔
چنانچہ فروری ١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی کے مرید میاں منظور محمد کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے فوراً ایک الہام گھڑ لیا: ”دیکھا کہ منظور محمد صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔ دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔ تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا کہ ”بشیر الدولہ“ فرمایا کہ کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی۔ معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔“
(ریویو قادیان ص ١٢٢، مارچ ١٩٠٦ء ج ٥ ش ٣)
اس گول مول الہام میں مرزا قادیانی نے عجیب ہوشیاری سے کام لیا۔ یعنی اگر آئندہ منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو چاندی کھری ہے کہہ دیں گے یہی مراد تھا۔ ورنہ کسی اور پر چسپاں کر دیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ کو مرزا قادیانی کی رسوائی منظور نہ تھی۔ اس لئے اس الہام کے ساڑھے چار ماہ بعد مرزا قادیانی کے قلم سے یہ لکھوا لیا: ”٧؍ جون ١٩٠٦ء بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر یعنی محمدی بیگم (زوجہ منظور محمد) کے ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے دو نام ہوں گے۔ بشیر الدولہ، عالم کباب۔ یہ دو نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔ بشیر الدولہ سے مراد ہماری دولت و اقبال کے لئے بشارت دینے والا، عالم کباب سے یہ مراد ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے چند ماہ بعد تک یا جب تک کہ وہ اپنی برائی بھلائی شناخت کرے۔ دنیا پر ایک لخت تباہی آئے گی۔ گویا کہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خدا کے الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دنیا کے سرکش لوگوں کے لئے کچھ مہلت منظور ہے تب بالفعل لڑکا نہیں لڑکی پیدا ہوگی اور لڑکا بعد میں پیدا ہوگا۔ مگر ضرور ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا کا نشان ہے۔“
(ملخص ریویو ج ٥ ش ٤ ص ٢٣٤، جون ١٩٠٦ء)
اگرچہ یہ عبارت بھی پر فریب ہے۔ مگر پھر بھی اتنا ضرور واضح ہو گیا ہے کہ منظور محمد کے گھر ضرور عالم کباب پیدا ہوگا۔ مرزا قادیانی کی اس الہام بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے ایک ماہ دس یوم بعد منظور محمد گھر ١٧؍ جولائی ١٩٠٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی اور اس کے بعد منظور محمد کی بیوی انتقال کر گئی اور لڑکے کی امید ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ لے گئی۔
٢٩
مرزائی عذر
حضرت صاحب نے فرما دیا ہے کہ منظور محمد کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔ پس منظور محمد سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں اور عالم کباب سے مراد خلیفہ ثانی میاں محمود احمد ہیں۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٦١، ١٩٤٥ء)
الجواب
یہ سراسر جھوٹ ہے۔ کیونکہ جس وقت یہ پیش گوئی کی گئی تھی اس وقت مرزا محمود احمد سترہ سال کے تھے۔ مرزا قادیانی نے مصلح موعود جس لڑکے کو ٹھہرایا تھا وہ تو سولہ ماہ کے اندر ہی فوت ہو گیا تھا۔ جس کی تاریخ پیدائش ٧؍ اگست ١٨٨٧ء ہے۔
مرزائیوں کا دوسرا بہانہ
بعض مخالف کہا کرتے ہیں کہ ١٩٠٦ء میں جب یہ پیش گوئی حضرت صاحب نے کی تھی اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی پیدا ہو چکے تھے تو جواب اس کا یہ ہے کہ الہام میں ولادت سے ولادت جسمانی نہیں بلکہ ولادت معنوی مراد ہے۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٧٠٨، ١٩٤٥ء)
الجواب
ان تاویلانہ مغالطہ آمیزیوں سے مرزائیوں کا دجل چھپ نہیں سکتا۔ مرزا قادیانی نے ریویو ١٩٠٦ء میں صاف اور واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ: ”منظور محمد کے گھر یعنی محمدی بیگم (زوجہ منظور محمد) کے ایک لڑکا پیدا ہوگا۔“
پیش گوئی ہٰذا کے جھوٹا ہونے پر مرزائیوں کی بوکھلاہٹ
مرزا قادیانی کے ایک مرید مسمی ابوالفضل محمد منظور الٰہی نے حکیم نورالدین کے عہد خلافت میں مرزا قادیانی کے جملہ الہامات کو ایک رسالہ ”البشریٰ“ میں جمع کیا ہے۔ اس رسالہ کے ص ١١٦ ج ٢ میں لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی۔ گو حضرت اقدس نے اس کا وقوعہ محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا۔ مگر چونکہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ اس لئے اب نام کی تخصیص نہ رہی۔ بہر صورت یہ پیش گوئی متشابہات سے ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)
مرزا قادیانی کی الہامی بوتل
مرزا قادیانی کی ساری عمر گول مول الہام بازیوں میں گزری۔ جس طرح ایک چالاک
٣٠
ہے کہ منظور محمد کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔ پس منظور محمد نے کہا اب سے مراد خلیفہ ثانی میاں محمود احمد ہیں۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٦١، ١٩٣٥ء)
س وقت یہ پیش گوئی کی گئی تھی اس وقت مرزا محمود احمد سترہ موعود جس لڑکے کو ٹھہرایا تھا وہ تو سولہ ماہ کے اندر ہی فوت ئی ١٨٨٧ء ہے۔
١٩٠٦ء میں جب یہ پیش گوئی حضرت صاحب نے کی تھی چکے تھے تو جواب اس کا یہ ہے کہ الہام میں ولادت سے مراد ہے۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٨٠، ١٩٣٥ء)
ا سے مرزائیوں کا دجل چھپ نہیں سکتا۔ مرزا قادیانی نے لکھ دیا ہے کہ: ”منظور محمد کے گھر یعنی محمدی بیگم (زوجہ منظور
مرزائیوں کی بوکھلاہٹ
مسمی ابوالفضل محمد منظور الٰہی نے حکیم نورالدین کے عہد ت کو ایک رسالہ ”البشریٰ“ میں جمع کیا ہے۔ اس رسالہ کے بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا۔ مگر چونکہ وہ فوت ہو چکی ا۔ بہر صورت یہ پیش گوئی متشابہات سے ہے۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ١١٦)
ل مول الہام بازیوں میں گزری۔ جس طرح ایک چالاک
٣٠
٦٠٩
عطار ایک ہی بوتل سے کئی قسم کے شربت گاہکوں کو دے کر اپنا الو سیدھا کر لیا کرتا ہے۔ یہی حالت مرزا قادیانی کی تھی کہ ایک الہام کو متعدد جگہ چسپاں کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ ٩ جنوری ١٩٠٣ء کو الہام ہوا: ”قتل خيبة وزيد هيبة“ ایک شخص جو مخالفانہ کچھ امید رکھتا تھا وہ ناامیدی سے ہلاک ہو گیا اور اس کا مرنا ہیبت ناک ہوگا۔
(البشریٰ ج ٢ بحوالہ بدر ج ١ ص ١٢)
اس الہام میں اولاً تو دورنگی ہے۔ یعنی ناامیدی سے مر گیا مگر آگے آتا ہے کہ اس کا مرنا ہیبت ناک ہوگا۔ یعنی آئندہ ۔ خدا جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ اس الہام کے چند روز بعد ایک غریب ماشکی مر گیا تو مرزا قادیانی نے جھٹ فرما دیا: ”ایک سقہ مر گیا۔ اسی دن اس کی شادی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ قتل خيبة وزيد هيبة جو وحی ہوئی تھی وہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔“
(اخبار بدر نمبر ٥ ج ٣ مورخہ ٢٠ فروری ١٩٠٤ء)
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ کابل میں مرزا قادیانی کے دو مرید سنگسار کئے گئے تو مرزا قادیانی نے فرما دیا: ”ایک صریح وحی الٰہی مولوی عبداللطیف کی نسبت ہوئی تھی۔ یہ وحی بدر ٦ جنوری ١٩٠٣ء کالم نمبر ٢ میں شائع ہو چکی ہے جو مولوی صاحب کے مارے جانے کے بارے میں ہے اور وہ یہ ہے قتل خیبۃ وزید ہیبۃ ۔ یعنی ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ہیبت ناک امر تھا۔ یعنی لوگوں کو بہت ہیبت ناک معلوم ہوا اور اس کا بڑا اثر دلوں پر ہوا۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٧٥)
ڈاکٹر عبدالحکیم اور مرزا قادیانی کی الہام بازی
مرزا قادیانی کے نزدیک ڈاکٹر صاحب کا مقام
ڈاکٹر صاحب کو مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مہدویت ومسیحیت میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
- ......١ ”حدیث میں آچکا ہے کہ مہدی کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی
جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔ بموجب منشا حدیث کے یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالہ وغیرہم!“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)
- ......٢ ”حبی فی اللہ میاں عبدالحکیم خان جوانِ صالح ہے۔ علامات رشدہ
٣١
و سعادت اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہیں۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٨٠٨،خزائن ج٣ ص ٥٤٧)
ڈاکٹر صاحب کا قبول حق
نیکوں کی ہے یہ سیرت راہ ہدیٰ یہی ہے
الہام ڈاکٹر عبدالحکیم خان
”مرزا مسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر ہلاک ہوگا۔“
(اشتہار ص ٢ ملحقہ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٠)
مرزا قادیانی کا جوابی الہام
- ١....... ”الہام۔ خدا نے مجھے فرمایا کہ میں رحمان ہوں۔ میری مدد کا منتظر رہ اور
اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا اور پھر فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ میں اس کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست کا بیان فرمایا ہے اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔“
(اشتہار تبصرہ ٥؍نومبر ١٩٠٧ء، تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٣١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
- ٢....... ”آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ
ڈاکٹر ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ اس نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور میں اس کو ہلاک کروں گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، ٣٢٢،خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)
٣٢
- ٣..... ”میں امام الزمان ہوں۔“
(ضرورۃ الامام ص ٢٤،خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
”امام الزمان کی الہامی پیش گوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو۔“
(رسالہ ضرورۃ الامام ص ١٣،خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)
مرزائیو! جانتے ہو پھر کیا ہوا؟ مرزا قادیانی نے جانے میں اتنی جلدی کی کہ ڈاکٹر صاحب کی بتلائی ہوئی میعاد سے دو ماہ قبل یعنی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو ہی راہی ملک عدم ہو گئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم ١٩٢٢ء تک زندہ رہا۔
اشتہار آخری فیصلہ
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! ”يستنبئونك احق ھو قل ای وربی انہ لحق“ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب! ”السلام علی من اتبع الھدی“ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعوٰی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب ومفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے
٣٣
طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم و خبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میری نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر گئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں ”لا تقف مالیس لک بہ علم“ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اسلئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین ! ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین . آمین“ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ
٣٤
ریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے ۔ جو میرے ہے ۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میری نفس کا افتراء ہے اور ب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے ناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ن کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے ۔ آمین ۔ مگر اے میرے کامل خدا ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر ۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر
یا رب العالمین !
سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی ن چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بدزبانیوں میں’ لا تقف مالیس یا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ سند اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی کے طالبوں پر برا اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اسلئے رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے مین ثم آمین ! ”ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق ۔ آمین “ بالاخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس پ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ
٣٤
٦١٣
میں ہے۔ الراقم : عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ واید مرقومہ : یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ ، ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء
(تبلیغ رسالت ج ١٠ص١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
اس دعاء کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی جو کہ خدا کی نظر میں جھوٹے تھے ایک سال بعد یعنی ” مورخہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء بروز منگل قریباً دس بجے دن بمرض ہیضہ اس طرح کہ ایک بڑا دست آیا اور نبض بالکل بند ہوگئی ۔ “
(اخبار بدر قادیان ٢؍جون ١٩٠٨ء)
اور مولوی ثناء اللہ صاحب جو خدا کی نظر میں صادق تھے ۔ بہ فضل تعالیٰ پاکستان قائم ہونے کے بعد تک زندہ و سلامت رہے ۔
دوسری شہادت بمرض ہیضہ
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے اپنی کتاب (سیرۃ المہدی) میں لکھتے ہیں ۔
” خاکسار نے یہ روایت جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے تصدیق بیان کی تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے بعد آیا تھا۔ کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا ۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں ۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانے نہ جا سکتے تھے۔ اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر آپ فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی ۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی ۔ جب آپ سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی ۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے ۔ تو آپ نے کہا کہ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئی تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے ۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہاں ۔ تھوڑی دیر تک غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہر آن سانسوں کے درمیان کا وقفہ لمبا ہوتا گیا ۔ حتیٰ کہ آپ نے ایک لمبا سانس لیا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔ “
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٠)
مرزا قادیانی کی اپنی شہادت
مرزا قادیانی کے خسر نواب میر ناصر فرماتے ہیں کہ: ” حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا ۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا
٣٥
گیا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا تو آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔‘‘
(رسالہ حیات نواب میر ناصر ص١٤)
اس آسمانی شکست کے بعد بھی مرزائیوں کو صبر نہ آیا تو خدا تعالیٰ نے زمینی شکست بھی دے دی۔ وہ اس طرح کہ مرزائیوں نے اپریل ١٩١٢ء کو شہر لدھیانہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو تین صد روپیہ کا انعامی چیلنج بابت آخری فیصلہ دے دیا۔ فریقین کی منظوری سے سردار گربچن سنگھ پلیڈر کو ثالث مقرر کیا گیا۔ جس میں مرزائی مناظر میر قاسم علی کو شکست فاش ہوئی اور مولوی ثناء اللہ صاحب تین صد روپیہ انعام لے کر فاتح قادیان بن کر امرتسر واپس آئے۔
”قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے۔ سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔“
(استفتاء اردو ص ٨،٧، حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١١٦)
ان پے در پے شکستوں کے بعد مرزائیوں کو خدا سے توبہ کرنی چاہئے کہ ایک دن اس خالق حقیقی کو منہ دکھانا ہے۔
مرزائی عذر
”آخری فیصلہ اگر محض دعا ہوتی تو نہ ٹلتی۔ وہ دعائے مباہلہ تھی۔“
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٨٤٠، ١٩٤٥ء)
الجواب
آخری فیصلہ مباہلہ ہرگز نہیں تھا۔ بلکہ محض دعا تھی اور محض دعا میں دوسرے فریق کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ آخری فیصلہ مباہلہ اس لئے نہیں کہلا سکتا کہ مرزا قادیانی اس سے کئی ماہ قبل رسم مباہلہ کو ختم کر چکے تھے۔ جیسا کہ وہ خود ہی لکھتے ہیں۔ ”سلسلہ مباہلات جس کے بہت نمونے دنیا نے دیکھ لئے ہیں میں کافی مقدار دیکھنے کے بعد رسم مباہلہ کو اپنی طرف سے ختم کر چکا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٨ ،خزائن ج ٢٢ ص ٧١)
یہ تحریر جولائی ١٩٠٦ء کی ہے۔ جیسا کہ (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١) پر اس کی وضاحت ہے۔ حالانکہ اشتہار آخری فیصلہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کا ہے۔ پس آخری فیصلہ کو مباہلہ کہنا آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔
٣٦
”مباہلہ کے لئے تو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب انجام آتھم میں تمام مولویوں، گدی نشینوں وغیرہ کو دعوت دی تھی۔ جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا گیارھواں نمبر تھا۔“
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٨٢٢)
جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کا جوابی چیلنج اہل حدیث ٢٩/مارچ ١٩٠٧ء میں دیا تو مرزا قادیانی نے اس کا جواب اخبار الحکم مورخہ ٣١/ مارچ ١٩٠٧ء اور بدر ٤/اپریل ١٩٠٧ء میں یہ دیا تھا کہ: ”ہم آپ (مولوی ثناء اللہ صاحب) سے اس چیلنج کے مطابق اس وقت مباہلہ کریں گے جب ہماری کتاب حقیقۃ الوحی شائع ہو جائے گی اور وہ کتاب آپ کو بھیج کر معلوم کریں گے کہ آپ نے اس کو پڑھ لیا ہے۔ پھر بعد اس کے مباہلہ کریں گے۔“
(الحکم ٣١/ مارچ ١٩٠٧ء، بدر ج ٩ ش ١٤ ص٤، مورخہ ٤/ اپریل ١٩٠٧ء)
مرزا قادیانی کی اس تحریر نے صاف طور پر فیصلہ کر دیا ہے کہ آخری فیصلہ سے قبل جو سلسلہ مباہلہ کا ذکر اخبارات میں جاری تھا وہ حقیقۃ الوحی کے بعد ہوگا اور یہ کتاب حقیقۃ الوحی ١٥/مئی ١٩٠٧ء کو شائع ہوئی ہے اور آخری فیصلہ حقیقۃ الوحی سے ایک ماہ قبل کا ہے۔ پس وہ سابقہ مباہلہ کی کڑی میں داخل نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ جب حقیقۃ الوحی شائع ہو گئی تو مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کے نام خط لکھا کہ حقیقۃ الوحی روانہ کرو تاکہ اسے پڑھ کر مباہلہ کے لئے تیار ہو جاؤں۔ اگر وہ آخری فیصلہ ہی مباہلہ تھا تو مرزا قادیانی صاف کہہ دیتے کہ مباہلہ تو ہو چکا ہے۔ اب مزید مباہلہ کیسا۔ چنانچہ مولوی صاحب کے خط کا جواب اخبار بدر قادیان ١٣/ جون ١٩٠٧ء میں اس طرح دیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمادیں:
- ١...... ”آپ کا کارڈ مرسلہ ٢/جون ١٩٠٧ء حضرت مسیح موعود کی خدمت میں
پہنچا۔ جس میں آپ نے ٤/ اپریل ١٩٠٧ء کے بدر کا حوالہ دے کر جس میں قسم کھانے والا مباہلہ بعد حقیقۃ الوحی موقوف رکھا گیا ہے۔ حقیقۃ الوحی کا ایک نسخہ مانگا۔ اس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقۃ الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیا گیا تھا جب کہ آپ کو مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا۔ (اب) مشیت ایزدی نے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجۃ اللہ کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعاء کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔ اس واسطے مباہلہ (سابقہ) کے ساتھ جو شروط تھے وہ سب کے سب بوجہ نہ قرار پانے مباہلہ کے منسوخ ہوئے۔ لہٰذا آپ کی طرف کتاب (حقیقۃ الوحی) بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی۔“
(اخبار بدر قادیان ج ٦ ش ٢٤ ص٢، مورخہ ١٣/ جون ١٩٠٧ء)
٣٧
٢...... پھر بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ رات کو الہام ہوا کہ ’’اجیب دعوۃ الداع‘‘ تیری دعا سنی گئی۔ صوفیا کے نزدیک بڑی کرامت ! اجابت دعا ہی ہے۔‘‘
(اخبار بدر قادیان ج ٦ ش ١٧ ص ٧، مورخہ ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء)
مرزائی عذر
مرزا قادیانی تو آخری دم تک اپنی اسی دعاء کے نتیجہ پر اڑے رہے۔ مولوی ثناء اللہ نے خود لکھ دیا تھا کہ اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی۔ تمہاری یہ تحریر کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٨٢٦)
الجواب
مولوی ثناء اللہ کی قبولیت کا سوال تو جب پیدا ہوتا۔ جب کہ آخری فیصلہ مباہلہ ہوتا۔ مرزا قادیانی نے تو محض دعاء کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا تھا۔ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب کی منظوری اس دعاء میں لازمی ہوتی تو بقول مرزا قادیانی خدا اسے قبول کیوں کرلیتا؟ پھر مرزا قادیانی نے مولانا صاحب کے انکار (جو ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء کے پرچہ میں کیا گیا تھا) کے بعد ١٣؍جون ١٩٠٧ء کے اخبار بدر میں واضح الفاظ میں آخری فیصلہ مباہلہ نہ تھا صرف دعا تھی کیوں لکھا؟ ایڈیٹر بدر اور مرزا قادیانی کے تمام خریداروں نے کیوں اس کی تردید نہ کی۔ اسی طرح مفتی محمد احسن کا آخری فیصلہ کو بعد وفات مرزا محض دعا بتا کر عذر کرنا کہ نبیوں کی بعض دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں۔
(ریویو قادیان ج ٧ ش ٦، ٧ ص ٢٨٤، ١٩٠٨ء)
آخری فیصلہ کو صرف دعا ہی ثابت کیا ہے۔
مرزائی عذر
مولوی ثناء اللہ نے خود اس دعا کو مباہلہ لکھ دیا تھا۔
الجواب
مولوی ثناء اللہ صاحب نے شروع شروع میں اسے دعا ہی فرمایا ہے۔
(دیکھو اخبار اہلحدیث ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء واحمدیہ پاکٹ بک ص ٨٢٦، ١٩٣٥ء)
البتہ چونکہ مرزا قادیانی بعض دفعہ یک طرفہ دعاؤں کا نام بھی مباہلہ رکھ لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤) پر حافظ مولوی محمد الدین کی نسبت لکھتے ہیں: ’’اس نے اپنی کتاب
٣٨
میں میری نسبت کئی لفظ بطور مباہلہ استعمال کئے اور جھوٹے کے لئے خدا تعالیٰ کے غضب اور لعنت کی درخواست کی تھی۔ پھر مر گیا؟“
لطیفہ
ہم مرزا کی کتب سے ثابت کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی ہیضہ کی موت اور پھر منہ مانگی موت مرا۔ اور ہیضہ کی موت کا عبرتناک ہونا الفضل سے سنئے: ”محمد عاشق نائب صدر مجلس احرار قصور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں بے حد بدزبانی کیا کرتا تھا ٢٩؍جولائی کو ہیضہ سے نہایت عبرتناک موت مر گیا۔ قصور کے دوسرے احرار کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ۔“
(اخبار الفضل ج ٢٤ نمبر ٣٠، ٤؍اگست ١٩٣٦ء)
مرزائیو! اپنے اس قاعدہ کلیہ کی بناء پر مرزا قادیانی کی موت کو بھی ایک عبرتناک موت تصور کرو۔
رقصہا گردِ کلیسا کرد و مرد
ترجمہ: مرزا قادیانی اپنے دشمنِ اسلام حکومت نصاریٰ کو رحمت شمار کیا اور تمام عمر صلیب کے گرد ناچ کیا اور مر گیا۔
مراق مرزا
تعریف مراق
”مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔“
(بیاض حکیم نور الدین خلیفہ اول قادیانی ص ٢١١)
مراقی، وہمی اور ناقابل اعتبار ہوتا ہے مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے متعلق لکھتے ہیں: ”مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔“
(کتاب البریۃ حاشیہ ص ٢٣٩، خزائن ج ١٣ ص ٢٧٤)
مرزا قادیانی کو بھی مراق تھا
پھر یہی مراقی اپنی نسبت لکھتے ہیں : ”مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کی دھڑ کی ۔ یعنی مراق اور ایک نیچے کی دھڑ کی۔ یعنی کثرت بول ۔“
(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ج ١ ش ٥ ص ٥٠، جون ١٩٠٦ء)
٣٩
مرزا قادیانی کو مراق کے علاوہ ہسٹریا بھی تھا
مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر احمد اپنی کتاب سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣ میں لکھتا ہے: ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا ١؎ کا دورہ بشیراول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد
آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣)
ہسٹریا کا مریض نبی نہیں ہو سکتا
ڈاکٹر شاہ نواز مرزائی رسالہ (ریویو اگست ١٩٢٦ء) میں لکھتا ہے: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“
عذر: ١
”حضرت نے بے شک مراق کا لفظ اپنی نسبت بولا ہے مگر اس سے مراد ہوائے دورانِ سر کے اور کچھ نہیں۔ حضرت نے کب کہا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ میاں بشیر احمد نے حضرت ام المومنین کی زبانی ہسٹریا لکھا ہے۔ مگر آپ کوئی ڈاکٹر نہیں ہیں کہ جو ترجمہ مراق کا زیادہ درست ہو۔ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب ایم بی بی ایس نے (ریویو اگست ١٩٢٦ء) میں ثابت کیا ہے کہ مراق کا ترجمہ قطعا ہسٹریا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر شاہ نواز نے طبی نقطہ نگاہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت کو قطعا
ہسٹریا نہ تھا۔“ (احمدیہ پاکٹ بک ص ٤٩٠ ایڈیشن ١٩٣٢ء)
جواب: ١
مرزا قادیانی کو دوران سر اور مراق دو بیماریاں تھیں۔ خود ڈاکٹر شاہ نواز نے دونوں بیماریوں کو علیحدہ علیحدہ لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”واضح رہے کہ حضرت صاحب کی تمام تکلیف مثلاً دوران سر، سردرد، کمی خواب، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث کمزوری تھا۔“
(قادیانی ریویو ج٢٦ نمبر ٥ ص ٢٦)
دیگر مرزا قادیانی کی بیوی تو بے شک ڈاکٹر نہیں تھیں۔ مگر مرزا قادیانی تو بڑے مانے ہوئے حکیم تھے۔ یعنی بقول خود: ”ایک ہزار سے زیادہ حکمت کی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔“
(حاشیہ راز حقیقت ص ٦، خزائن ج ١٤ ص ١٥٨)
١؎ یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے، اگرچہ شاذ و نادر مرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ (مخزن حکمت، ص ٤٩، ج ٢٩)
٤٠
عذر ٢:
"حضرت مسیح موعود نے یہ ہرگز نہیں تحریر کیا کہ مجھ کو مراق ہے۔ بدر ١٧؍ جون ١٩٠٦ء جس کا حوالہ معترض نے دیا ہے وہ حضرت کی تحریر نہیں بلکہ ڈائری ہے۔"
(احمدیہ پاکٹ بک ایڈیشن ١٩٤٥ء ص ١٠٦٤)
جواب ٢:
یہ عبارت مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کے روبرو ان کی طرف سے ان کے اپنے ہی اخباروں میں شائع ہوئی اور خود مرزا قادیانی کے قلم سے جیسا کہ صیغہ متکلم سے صاف ظاہر ہو رہا ہے۔ اگر یہ حوالہ غلط ہوتا تو یقیناً مرزا قادیانی اس کی تردید کر دیتے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے تردید نہیں کی۔ اس لئے یہ انہیں کے الفاظ تصور ہوں گے۔ مرزا محمود احمد نے بھی متعدد جگہ ڈائری کے حوالہ پیش کئے ہیں۔ پس مرزائیوں کا یہ عذر بھی باطل ٹھہرا۔
عذر ٣:
اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ مجنون ہی کہا جاتا ہے۔
جواب ٣:
کجا بہتان لگانا اور کجا مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں وغیرہ کا خود اقرار کرنا۔ اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
مرزا قادیانی کی بیوی کو بھی مراق تھا
"میری بیوی کو بھی مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔"
(منظور الہی ص ٢٤٤، بحوالہ الحکم ج ٥ ش ٢٩ ص ١٤، مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء)
خلیفہ محمود بھی مراقی ہے
ڈاکٹر شاہ نواز مرزائی لکھتا ہے۔ "جب خاندان سے اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا۔ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ پڑتا ہے۔
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ ش ٨ ص ١١، اگست ١٩٢٦ء)
نبی کا استاد خدا ہوتا ہے وہ کسی کا شاگرد نہیں ہوتا
"عن عبداللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ انا امة امية لا نكتب ولا نحسب (بخاری مسلم)" ﴿حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے
٤١
فرمایا کہ ہم پیغمبر ناخواندہ گروہ ہیں۔ نہ لکھنا جانتے ہیں اور نہ ہی ہم نے حساب کتاب سیکھا ہے۔ ﴿ یورپین مورخ سر ولیم میور لکھتا ہے۔ THE PROPHET HIMSELF NEITHER READ NOR WROTE. (LIFE OF MOHD CHAP.1.MUIR) ترجمہ : ”(مسلمانوں کا) پیغمبر نہ تو پڑھا ہوا تھا اور نہ ہی لکھنا جانتا تھا۔“
(لائف آف محمد باب پہلا، مصنف سرولیم میور)
انبیاء کرام کی نامراد نقالی
مرزا قادیانی کو اپنے امی اور ناخواندہ ہونے کے دعویٰ کی جرأت تو نہ ہوئی۔ البتہ اپنی طرف سے یہ میخ لگادی کہ امام الزمان کے لئے لازم ہے کہ وہ دینی امور میں کسی کا شاگرد و مرید نہ ہو۔ بلکہ اس کا استاد و مرشد صرف خدا ہو۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
- ......١ ”حالت فاسدہ زمانہ کی یہی چاہتی ہے کہ ایسے گندے زمانہ میں جو امام
آخر الزمان آوے۔ وہ خدا سے مہدی ہو اور دینی امور میں کسی کا شاگرد نہ ہو۔ اس لئے ضرور ہے کہ ظاہر ہونے والا آدم کی طرح ظاہر ہو جس کا استاد و مرشد صرف خدا ہو اور نوع انسان میں سے اس کا دین کے علوم میں کوئی استاد و مرشد نہ ہو۔ بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہو۔ مہدی کے مفہوم میں یہ معنی ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد نہ ہو۔“
(اربعین نمبر ٢ ص١٢،١٣، خزائن ج ١٧ ص٣٦٠)
- ......٢ ”آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ
آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہ ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہ ہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)
مسیح قادیانی کی تعلیم
- ......١ ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات
سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خوان مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد
٤٢
انتے ہیں اور نہ ہی ہم نے حساب کتاب سیکھا ہے۔ ﴿ ہے۔
THE PROPHET HIMS NOR WROTE. (LIFE OF MOHD C تو پڑھا ہوا تھا اور نہ ہی لکھنا جانتا تھا۔“
(لائف آف محمد باب پہلا ،مصنف سر ولیم میور)
خواندہ ہونے کے دعویٰ کی جرات تو نہ ہوئی۔ البتہ اپنی لئے لازم ہے کہ وہ دینی امور میں کسی کا شاگرد و مرید نہ انچہ لکھتے ہیں:
اللہ کی یہی چاہتی ہے کہ ایسے گندے زمانہ میں جو امام ردینی امور میں کسی کا شاگرد نہ ہو۔ اس لئے ضرور ہے س کا استاد و مرشد صرف خدا ہو اور نوع انسان میں سے ہو۔ بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہو۔ مہدی ن کا علم دین میں شاگرد نہ ہو۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ١٤، ١٣، خزائن ج ١٧ ص٣٦٠)
جو مہدی رکھا گیا ہے۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہ ہوگا۔ ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٤)
س میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی تا تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد ٤٢
تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگ وار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔“
(کتاب البریہ ص ١٤٩، ١٥٠ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٨)
- ......٢ مرزا قادیانی کے بیٹے بشیر احمد کی شہادت۔ ”آپ کے استاد فضل الٰہی
قادیان کے باشندہ حنفی تھے۔ دوسرے استاد فضل احمد فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ اہل حدیث تھے۔ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی (مرزائی) ان ہی کے بیٹے تھے۔ تیسرے استاد سید گل علی شاہ بٹالہ کے باشندہ شیعہ تھے۔“
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ٢٣٣)
ختم نبوت فی القرآن
- ......١ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله
وخاتم النبیین (احزاب)“ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہیں اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
- ......٢ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی
ورضیت لکم الاسلام دینا (مائده)“ ﴿آج کے دن میں نے قرآن کے اتارنے اور تکمیل نفوس سے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کیا۔﴾
”قرآن شریف جیسا کہ آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم“ اور آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٨٣، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٠)
- ......٣ ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة
ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرونه (بقره) “اور یاد کر کہ جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا۔ جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣)
٤٣
”خدا نے اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٥)
٤....... ”وما ارسلنك الا كافۃ للناس بشيراً ونذيراً (سبا)“ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٤٥، خزائن ج ١ ص ٦٥٣)
٥....... ”خدا نے سب دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا کہ وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تا جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی۔ آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٣٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٤٤)
ختم نبوت فی الحدیث
١....... ”عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤد، ترمذی ج ٢ ص ٤٠ ، مشکوٰۃ کتاب الفتن)“ ﴿حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ضرور میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے یہی کہے گا کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
”حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔“
(کتاب البریہ ص ١٨٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)
”حدیث لا نبی بعدی میں لا نفی عام ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)
”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک تیس کے قریب دجال پیدا ہوں گے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
٢....... ”كانت بنوا اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى انه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (صحیح بخاری ج ١ ص ٤١٩ ، مسلم کتاب الایمان، ابن ماجہ مسند احمد ج ١ ص ٢٩٧)“ ﴿فرمایا آنحضرت ﷺ نے کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین نبی ہی ہوا کرتا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا سلسلہ شروع ہوگا۔ جو کہ بکثرت ہوں گے۔﴾
٤٤
تابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو
(حقیقت الوحی ص ١٤١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٥)
ك الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً (سبا)“ کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٤٥، خزائن ج ١ ص ٦٥٤)
نیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا کہ وہ سب قوموں کو ایک میں ایک قوم تھی۔ آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٣٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٤٤)
قال قال رسول الله ﷺ انہ سیکون فی انہ نبی الله وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی کتاب الفتن) ” حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾ ور سہی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا۔“
(کتاب البریہ ص ١٨٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)
عام ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)
ہیں کہ دنیا کے اخیر تک تیس کے قریب دجال پیدا
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
ا اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی سیکون خلفاء فیکثرون (صحیح بخاری ج ١ ن ماجہ مسند احمد ج ١ ص ٢٩٧) ” فرمایا است خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی تا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ عنقریب خلفاء کا ﴾
٤٤
”وحی ورسالت ختم ہوگئی۔ مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہ ہوگی۔“
(قول مرزا مندرجہ تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ١)
......٣ ”قال رسول الله ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (صحیح بخاری، صحیح مسلم، مشکوۃ باب مناقب علی) ” فرمایا نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہ اے علیؓ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے ہارون تھا۔ موسیٰؑ سے۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ﴾
......٤ ”وعن ابی ہریرۃ ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت بجوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطہوراً وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون “ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں ٦ باتوں میں جملہ انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں، کلمات جامع مجھے دیئے گئے۔ فتح دیا گیا ساتھ رعب کے، حلال کی گئیں میرے لئے غنیمتیں، اور کی گئی میرے لئے زمین مسجد اور پاک کرنے والی، رسول بنایا گیا ہوں میں تمام کافہ ناس کے لئے ، ختم کئے گئے میرے ساتھ انبیاء۔ ﴾
......٥ حضرت آدم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ”من محمد قال آخر من ولدک من الانبیاء (کنز العمال ج ٦ ) ” یعنی کون ہے محمدؐ تو جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ کی اولاد میں نبیوں میں سے جو سب سے بعد میں پیدا ہوگا۔ ﴾
......٦ ”لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (مشکوۃ باب مناقب عمر، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) ” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ ﴾
(ازالہ اوہام ص ٢٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢١٩)
عذر
اوّل تو یہ حدیث غریب ہے۔ دوسرے اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔ پہلا مشرح بن ہاعان اور دوسرا بکر بن عمرو العافری
(مرزائی پاکٹ بک ص ٥٢٨، ٥٢٩)
الجواب
کیا غریب حدیث ضعیف ہوتی ہے۔ ہرگز نہیں؟ اس حدیث کو ضعیف کہنا مرزا قادیانی کی تکذیب کرنا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ازالہ اوہام میں ختم نبوت کی تائید میں یہ حدیث لکھی ہے۔ ”کسی کے محض یہ کہہ دینے سے کہ فلاں راوی ضعیف ہے۔ درحقیقت وہ راوی ناقابل اعتبار نہیں
٤٥
ہو جاتا۔ جب تک اس کی تضعیف کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ کیونکہ اس امر میں اختلاف یسیر موجود ہے۔“
(مرزائی پاکٹ بک ص٤٨٢)
اب سنئے ! راویوں کا حال۔
- ١...... مشرح بن ہاعان:”قال عثمان الدارمى عن ابن معين ثقة
وقال ابن حبان فى الثقات“
(تہذیب التہذیب ج ١٠ ص ١٥٥، میزان الاعتدال ج ٣ ص ١٧٢)
ترجمہ: عثمان دارمی نے ابن معین سے روایت کی ہے کہ یہ راوی ثقہ یعنی قابل اعتماد ہے اور ابن حبان نے بھی اس راوی کو ثقہ راویوں میں شمار کیا تھا۔
اسی طرح (تقریب التہذیب ص٢٩٣) میں حافظ ابن حجر نے اس راوی کو مقبول لکھا ہے۔
دوسرا راوی (بکر بن عمرو المعافری): ”قال ابن معين وابوزرعة والنسائى ثقة وذكره ابن حبان فى الثقات“
(تہذیب التہذیب ج ١ ص ٤٨٦، تقریب التہذیب ص ٦٦)
ترجمہ: ابن معین وابوزرعہ ونسائی وابن ماجہ نے اس راوی کو ثقہ لکھا ہے۔
- ٧...... ”عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل
الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين“
(بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، باب فضائل سید المرسلین)
﴿ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا آنحضرت ﷺ نے میری اور دوسرے نبیوں کی مثال ایک ایسے محل کی ہے جس کی تعمیر بہت ہی عمدہ ہوئی ہو۔ اس کی تعمیر میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ اس عمارت کو دیکھنے والے آتے ہیں۔ اس کی بناوٹ کو دیکھ کر تعجب کرتے ہیں۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ سو میں نے اس اینٹ کی جگہ کو بھر دیا۔ میری آمد سے وہ عمارت مکمل ہوگئی ہے۔ اسی طرح ختم ہو گیا میری ذات پر نبیوں کا سلسلہ اور ایک روایت میں ہے۔ پس میں ہوں مثال اس اینٹ کی اور میں ہوں ختم کرنے والا نبیوں کا۔ دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔ ﴾
(سرمہ چشم آریہ ص١٩٨، خزائن ج٢ ص٢٣٦)
عذر:
اس روایت میں پہلے طریق میں ١...... زہیر بن محمد تمیمی ضعیف ہے۔ دوسرے میں ١...... عبداللہ بن دینار مولیٰ عمر ۔٢...... اور ابوصالح الخوزی ضعیف ہے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص٥٣٦)
٤٦
جواب
اس روایت کے دونوں طریق کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ ملاحظہ ہو:
- ا...... ”زہیر بن محمد تمیمی: قال حنبل عن احمد ثقہ وقال
ابوبکر المروزی عن احمد لاباس بہ وقال الجوزجانی عن احمد مستقیم الحدیث وقال المیمونی عن احمد مقارب الحدیث وقال عثمان الدارمی وصالح ابن محمد ثقہ صدوق وقال یعقوب ابن شیبۃ صدوق صالح الحدیث وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال العجلی جائز الحدیث“
(تہذیب التہذیب ج٢ص٣٢٩،٣٥٠، میزان الاعتدال ج١ص٣٥٣)
امام احمد کے نزدیک متعدد اقوال سے یہ راوی ثقہ مستقیم الحدیث مقارب الحدیث اور اس کی روایت لینے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے اور کہا عثمان دارمی وصالح بن محمد نے ثقہ صدوق اور کہا یعقوب بن شیبہ نے صدوق صالح الحدیث اور ذکر کیا ابن حبان نے ثقہ راویوں میں اور عجلی نے کہا جائز الحدیث۔
اسی طرح امام بخاری نے بھی اس راوی کے متعلق لکھا ہے کہ جو روایت یہ راوی اہل بصرہ سے لے وہ صحیح ہوتی ہے۔
(تہذیب التہذیب ج٢ص٣٥٠)
مرزائی پاکٹ بک والے نے اس طریق کے باقی راویوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ وہ انتہائی درجہ کے ثقہ ہیں۔
اسی طرح دوسرے طریق سے بھی صرف دو راوی لکھے ہیں۔ باقیوں کو چھوڑ دیا۔ کیونکہ باقی راوی بھی اعلیٰ درجہ کے پائیدار راوی ہیں۔
(یہ عاجز طوالت مضمون کے خوف سے مجبور ہے۔ ورنہ تمام راویوں کا مفصل ذکر کر دیتا۔ مضمون بہت زیادہ ہے اور گنجائش کم ہے۔ مؤلف)
اب سنئے دوسرے طریق کے دو راوی:
عبداللہ بن دینار مولیٰ عمر: ”قال صالح بن احمد عن ابیہ ثقہ مستقیم الحدیث وقال ابن معین وابوزرعۃ وابوحاتم ومحمد بن سعد والنسائی ثقۃ زاد بن سعد کثیر الحدیث وقال العجلی ثقہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات“
(تہذیب التہذیب ج٥ص٢٠٢)
٤٧
کہا صالح بن احمد نے سنا اس نے اپنے باپ سے کہ ثقہ اور سیدھا تھا حدیث بیان کرنے میں اور کہا ابن معین وابوزرعہ وابوحاتم ومحمد بن سعد اور نسائی اور عجلی نے کہ ثقہ تھا اور ابن سعد نے کہا کہ کثیر الحدیث بھی تھا اور ذکر کیا ابن حبان نے ثقہ راویوں میں۔
ابوصالح الحوزی: ”وقال ابوزرعة لا باس به“
(تہذیب التہذیب ج ١٢ ص ١٣١)
ابوزرعہ نے کہا کہ اس راوی کی حدیث میں کچھ خطر نہیں۔
جاننا چاہئے کہ اس راوی کو صرف ابن معین نے ضعیف لکھا ہے۔ حالانکہ امام جلال الدین سیوطی جو کہ بقول مرزائی پاکٹ بک ص ٢٣٥ نویں صدی کے مجدد تھے نے ابن معین کے متعلق لکھا ہے کہ: ”ابن معین کذاب“
(موضوعات سیوطی مطبوعہ مصر، کتاب اللالی ج ١ ص ١١)
یعنی ابن معین بہت جھوٹا تھا۔ پس ابن معین کی بیان کردہ تضعیف ناقابل اعتبار ثابت ہوئی۔
- ......٨ ”يا ايها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم...... وانتم
تسئلون عنی (مسند احمد ج ٢ ص ٣٩١)“ ﴿آنحضرت ﷺ نے حجة الوداع میں قریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار نفوس کے سامنے فرمایا اے لوگو یاد رکھو کہ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور تمہارے بعد کوئی امت نہ ہوگی۔ کیونکہ تم آخری امت ہو اور تم سے قیامت کے دن صرف میری نسبت ہی سوال ہوگا۔﴾
- ......٩ ”انه ليس یبقی بعدی من النبوة الا الرؤيا الصالحة
(نسائی، ابوداؤد)“ ﴿حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد سوائے نیک خواب کے نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا۔﴾
- ......١٠ ”لا نبوة بعدی (مسلم ج ٢ ص ٢٧٥)“ ﴿یعنی میرے بعد نبوت ہی
ختم ہے۔﴾
مندرجہ بالا دونوں احادیث سے تشریعی، غیر تشریعی اور مرزائیوں کے فرضی ڈھکوسلہ یعنی ظلی بروزی وغیرہ کی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
عذر
اس لا نبوة بعدی والی روایت کے چار راویوں میں سے تین ضعیف ہیں۔ (١) قتیبہ۔ (٢) بکیر بن مسمار الزہری۔ (٣) حاتم بن اسماعیل المدنی۔
(مرزائی پاکٹ بک ٤٥٤)
٣٨
الجواب
- ١...... قتیبہ بن سعید: "قال ابن معين وابو حاتم والنسائى ثقة زاد النسائى صدوق قال ابن حبان فى الثقات"
(تہذیب التہذیب ج ٨ ص ٣٦٠، ٣٦١)
ابن معین اور ابو حاتم نے کہا کہ ثقہ تھا امام نسائی نے کہا کہ ثقہ اور صدوق یعنی سچا تھا اور ابن حبان نے بھی اس کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔
- ٢...... بکیر بن مسمار الزہری: "قال العجلى ثقة وقال النسائى ليس به باس وقال ابن عدى مستقيم الحديث وقال ابن حبان فى الثقات"
(تہذیب التہذیب ج ١ ص ٣٩٥)
عجلی نے کہا ثقہ۔ امام نسائی نے کہا کہ اس کی روایت لینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ ابن عدی نے کہا مستقیم تھا اور ابن حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا تھا۔
- ٣...... حاتم بن اسماعیل المدنی: "قال ابن سعد ثقة مامونا كثير الحديث قال ابن حبان ثقة وكذاعنه البخارى ايضافى التاريخ الكبير فى الاوسط ايضاً وقال العجلى ثقة وقال ابن المدينى روى عن ابيه احاديث مراسل اسندها"
(تہذیب التہذیب ج ٢ ص ١٢٨)
ابن سعد نے کہا کہ ثقہ مامون اور کثیر الحدیث کہا ابن حبان نے ثقہ اور اسی طرح امام بخاری نے اپنی تاریخ الکبیر میں ذکر کیا اور عجلی نے کہا کہ ثقہ تھا اور ابن مدینی (استاد امام بخاری) نے کہا یہ اپنے باپ سے مرسل احادیث سند کے ساتھ لیا کرتا تھا۔
لفظ خاتم کے معنی، کتب تفاسیر سے
- ١...... "وخاتم النبيين فهو آخرهم الذى ختمهم" پس وہ سب سے آخری نبی ہے۔ جس نے سب نبیوں کو ختم کر دیا۔
(الجواہر فی تفسیر القرآن ج ١٦ ص ٢٩)
- ٢...... "وخاتم النبيين الذى ختم النبوة فطبع عليهم فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة" آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ پس نبوت پر مہر لگا دی گئی ہے۔ اس لئے نبوت کا دروازہ آپ کے بعد قیامت تک کسی پر نہیں کھولا جائے گا۔
(تفسیر ابن جریر ج ٢١)
- ٣...... "وآخرهم الذى ختمهم" اور آپ سب سے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ نے سب پیغمبروں کو ختم کر دیا ہے۔
(تفسیر بیضاوی ج ٢)
٤٩
کتب لغت سے
- ......١ ”وخاتم النبيين لا نه ختم النبوة ای تممها بمجيئه“
(مفردات راغب ص ١٤٢)
- ......٢ ”خاتمهم وخاتمهم آخرهم“
(لسان العرب)
”خاتم وخاتم“ کے معنی آخر ہیں۔
- ......٣ ”ومن اسمائه عليه السلام الخاتم والخاتم وهو الذى
ختم النبوة بمجيئه“ اور آپ کے ناموں میں خاتم وخاتم اور وہ ہے جس نے آکر نبوت کو ختم کر دیا۔
(تاج العروس)
مرزائی کتب سے
- ......١ ”محمدﷺ کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٠)
- ......٢ ”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام عیسیٰ ہے۔“
(خاتمہ نصرۃ الحق)
- ......٣ ”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی
پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
- ......٤ ”اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو اور
خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(فیصلہ آسمانی ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص )
- ......٥ ”آنحضرتﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
اور حدیث ’لا نبی بعدی‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا۔ فی الحقیقت ہمارے نبیﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٨٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧)
عذر
”يقتلون النبيين“ میں بعض انبیاء کیوں مراد ہیں۔
٥٠
الجواب
اس میں الف لام عہد خارجی کا ہے۔ واقعات سے بھی ثابت ہے کہ سب انبیاء قتل نہیں ہوئے بلکہ بعض ہوئے۔
مرزائی دلائل اجرائے نبوت کی تردید
پہلی تحریف
”ومن يطع الله والرسول فأولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصلحين وحسن اولئك رفيقاً (نساء)“
مرزائی ترجمہ: جولوگ اطاعت کریں گے اللہ کی اور اس کے رسول کی پس وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یعنی نبی، صدیق، شہید اور صالح۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی سے ایک انسان صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچتا ہے۔
الجواب
کتب تفاسیر میں اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت ثوبانؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے دن ہم آپ سے کیسے ملیں گے۔ آپ کا درجہ تو ہم سے زیادہ ہے۔ آپ کسی اوپر کے درجے میں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اگر کوئی کہے کہ زید فلاں مرزائی کے ساتھ کراچی گیا تو کیا کراچی کا سفر ایک ساتھ کرنے سے زید مرزائی بن گیا؟ ہرگز نہیں۔ مع بمعنی من کسی مرزائی لغت میں ہوگا۔ ہم مرزائیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں بھی درجات ملنے کا وعدہ ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں آیا۔ بلکہ صدیق تک ہی معاملہ رک گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ......١ ”والذين أمنوا وعملوا الصلحت لندخلنهم فى الصلحين
(عنکبوت)“ ﴿جولوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے وہ صالحین میں داخل کئے جائیں گے۔﴾
- ......٢ ”ان المصدقين والمصدقات واقرضوا الله قرضاً حسناً
يضعف لهم ولهم اجر كريم والذين أمنوا بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم لهم اجرهم ونورهم (حديد)“ ﴿بیشک جو مرد وعورتیں خیرات کرنے والے ہیں۔ وہ گویا قرض دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ کو اور اللہ تعالیٰ ان کو اس کے عوض میں
٥١
زیادہ اجر کریم دے گا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہ خدا کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں اور ان کے لئے بڑا اجر اور نور ہے۔ ﴾
حدیث شریف ہے۔ ” التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء (ترمذی ج ١ ص ١٤٥) “ ﴿ سچا اور دیانت دار تاجر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ہمراہ ہوگا۔ ﴾
مرزائی بتلائیں کہ ساڑھے تیرہ سو برس سے کتنے لوگ تجارت کرنے سے نبی بن گئے۔
عذر
یہ روایت ضعیف ہے۔ کیونکہ اس روایت کے ایک راوی قبیصہ بن عقبہ کوفی کے متعلق یحییٰ ابن معین کا قول ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے۔ سوائے اس روایت کے جو سفیان ثوری کی ہو۔ احمد کے نزدیک بھی یہ راوی کثیر الغلط ہے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ٤٦١، بحوالہ میزان الاعتدال)
الجواب
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن لکھا ہے اور حسن صحیح ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہ حدیث دو طریق سے مروی ہے۔ ایک طریق میں ہناد، قبیصہ، سفیان ثوری، ابوحمزہ، حسن اور ابی سعید راوی ہیں۔ دوسرے طریق میں سوید، عبداللہ بن مبارک، سفیان ثوری، ابی حمزہ راوی ہیں۔
دوسرے طریق کے راویوں کے متعلق تمہارا کیا جواب ہے؟
تمہاری پیش کردہ دلیل سے اس حدیث کی ساری ذمہ داری سفیان ثوری پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا پہلے ہم سفیان ثوری کے متعلق یحییٰ ابن معین و دیگر محدثین کی آراء پیش کرتے ہیں۔
” قال شعبة وابن عیینة وابو عاصم وابن معین وغیر واحد من العلماء سفیان امیر المؤمنین فی الحدیث وقال الدوری رأیت یحییٰ ابن معین لایقدم علی سفیان فی زمانہ احدا فی الفقہ والحدیث والزہد وکل شئ وقال ابن حبان کان من سادات الناس فقہا واتقانا “
(تہذیب التہذیب ج ٤ ص ١١٣، الاکمال فی اسماء الرجال)
کہا شعبہ وابن عیینہ وابو عاصم اور ابن معین وغیرہ نے کہ سفیان علماء میں واحد اور حدیث میں امیر المؤمنین تھا اور دوری نے کہا۔ سنا میں نے یحییٰ ابن معین سے کہ سفیان ثوری اپنے زمانہ میں فقہ اور حدیث اور زہد وغیرہ میں یکتائے زمانہ تھا اور ابن حبان نے کہا کہ سادات الناس اور فقیہہ تھا۔
٥٢
قبیصہ : ”صدوق جلیل وسئل ابوزرعة عن ابی نعیم وقبیصة فقال قبیصة افضل الرجلين وقال ابوحاتم لم ار من المحدثين من يحفظ وياتی بالحديث على لفظه لا يغيره سوى قبيصة ، قال اسحاق ابن سيار ما رأيت شيخا احفظ من قبيصة وقال النسائى ليس به باس“
(میزان اعتدال ج ٢ ص ٣٤٤، ٣٤٥)
قبیصہ بن عقبہ سچا جلیل تھا اور سوال کیا گیا ابو زرعہ سے ابی نعیم اور قبیصہ کے متعلق تو جواب دیا کہ قبیصہ دونوں میں سے افضل تھا اور کہا ابو حاتم نے کہ نہیں دیکھا میں نے محدثین میں سے کوئی ایسا شخص جو کہ محفوظ رکھے اور لائے حدیث کو لفظ بہ لفظ کہ جس میں تغیر نہ ہو۔ سوائے قبیصہ کے اور کہا اسحاق بن سیار نے کہ نہیں دیکھا میں نے قبیصہ سے زیادہ حافظ حدیث اور امام نسائی نے کہا کہ اس کی روایت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
دوسری تحریف
”يابنى آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم اياتى فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون (اعراف)“
مرزائی ترجمہ : اے بنی آدم البتہ ضرور آویں گے تمہارے پاس رسول ...... یہ آیت آنحضرتﷺ پر نازل ہوئی۔ اس میں تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی آویں گے۔
الجواب
غلط ترجمہ کرنے میں تو مرزائیوں نے یہودیوں کے بھی کان کتر لئے ہیں۔ صحیح ترجمہ یہ ہے ۔ ”اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں سے میری طرف سے رسول آویں اور میری نشانیاں بیان کریں۔ پس جو شخص تقویٰ اختیار کرے تو ایسے لوگوں کو کوئی خوف نہیں ہوگا۔“
اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں جب مسلمانوں کو مخاطب کرتا ہے تو ”یایها الذین امنوا “ آتا ہے۔ مگر اس آیت میں بنی آدم کہہ کر آدم کی اولین اولاد کو مخاطب کیا ہے۔ قرآن شریف میں جہاں یہ آیت آئی وہاں حضرت آدم اور شیطان کا قصہ ملے گا۔ ”اما یاتینکم رسل “ میں اگر دوامی طور پر رسولوں کا آنا مراد ہے تو پھر ”اما یاتینکم منی ھدی “ میں دوامی طور پر ہدایتوں کا وعدہ ماننا پڑے گا۔
٥٣
عذر
”يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد (اعراف)“ ﴿اے اولاد آدم ہر مسجد (یا نماز ) میں اپنی زینت قائم رکھو۔﴾ اس آیت میں مسجد کا لفظ آ گیا ہے اور یہ صرف امت محمدی کے عبادت گاہ کے لئے ہے۔
الجواب
مسجد کا لفظ امم سابقہ کے لئے بھی آیا ہے۔ اصحاب کہف کے بعد جھگڑا ہوا کہ ان کی یادگار میں کیا بنایا جائے تو فریق غالب نے یہ مشورہ دیا کہ مسجد بنائی جائے۔ دیکھو سورہ کہف۔
الزامی جواب
”رسول کا لفظ عام ہے۔ جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٢٢، خزائن ج٥ ص٣٢٢)
تیسری تحریف
”يايها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً (مؤمنون)“ ﴿اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔﴾ یہ جملہ اسمیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رسل بصیغہ جمع کم از کم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے۔ آنحضرتﷺ تو اکیلے رسول تھے۔ آپ کے زمانہ میں بھی کوئی اور رسول نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرتﷺ کے بعد رسول آئیں گے۔ ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات یافتہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے کہ اٹھو اور پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو؟
(مرزائی پاکٹ بک ص ٤٦٧، ١٩٤٥ء)
الجواب
اس آیت میں بھی یہودیانہ تحریف کی ہے۔ قرآن شریف کھول کر سورۂ مؤمنون کے دوسرے رکوع سے اس آیت تک دیکھا جائے تو ساری حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس آیت میں سابقہ نبیوں کا ذکر ہے اور سب کے آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے۔
موضوع روایات کا جواب
- ١....... ”لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (ابن ماجه ج ١ ص ٢٤٧،
ابن عساکر ج ١ ص ٢٩٢)“ ﴿آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔﴾
(مرزائی پاکٹ بک ص٤٨٠ تا ٤٨٥، ١٩٤٥ء)
٥٤
نكم عند كل مسجد (اعراف) ”اے اولاد آدم ﴿ ہے اور یہ صرف امت محمدی کے عبادت گاہ کے لئے ہے۔
بھی آیا ہے۔ اصحاب کہف کے بعد جھگڑا ہوا کہ ان کی یہ مشورہ دیا کہ مسجد بنائی جائے۔ دیکھو سورہ کہف۔
میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٢، خزائن ج ٥ ص ٣٢٢)
الطيبات واعملوا صالحاً (مؤمنون) ”اے ﴿ یہ جملہ اسمیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے وہ رسولوں کو چاہتا ہے۔ آنحضرت ﷺ تو اکیلے رسول ل نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہ یافتہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے کہ اٹھو اور پاک کھانے
(مرزائی پاکٹ بک ص ٣٤٧، ١٩٤٥ء)
یف کی ہے۔ قرآن شریف کھول کر سورۂ مؤمنون کے ئے تو ساری حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے۔
هيم لكان صديقاً نبياً (ابن ماجه ج ١ ص ٢٣٧، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی
(مرزائی پاکٹ بک ص ٣٨٠ تا ٣٨٥، ١٩٤٥ء)
٥٤
الجواب
اول تو ابن ماجہ کے حاشیہ پر ہی لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس حدیث کے متعلق امام نووی فرماتے ہیں۔ ہذا الحدیث باطل کہ یہ حدیث باطل ہے۔
(موضوعات کبیر ملا علی قاری ص ٥٨)
آگے چل کر حافظ ابن حجر (جو کہ آٹھویں صدی کے مجدد تھے مرزائی پاکٹ بک ص ٢٣٥) نے اسی صفحہ پر اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس حدیث کا ایک راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان عبسی سخت ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو: ”قال احمد ويحيى وابوداؤد ضعيف وقال البخارى سكتوا عنه وقال الترمذى منكر الحديث وقال النسائى متروك الحديث“
(تہذیب التہذیب ج ١ ص ١٤٤، ١٤٥، ومیزان الاعتدال مطبوعہ مصر ج ١ ص ٢٣)
کہا احمد اور یحییٰ وابوداؤد نے ضعیف کہا امام بخاری نے ”سكتوا عنه“ ترمذی نے کہا منکر الحدیث نسائی نے کہا متروک الحدیث۔
یہ روایت ابن عساکر میں ہونے کے باعث ہی کمزور ہے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ١٤٢)
- ٢...... ”ابوبكر خير الناس بعدى الا ان يكون نبى“
(کنز العمال ج ٦ ص ١٤٨)
الجواب
اس کے آگے ہی لکھا ہے کہ ”هذا الحديث اشد ما انكر“ یعنی یہ حدیث جعلی ہے۔ جس پر انکار کیا گیا ہے۔
حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- ١...... ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما
قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا. بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما. وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته. ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (نساء)“ ﴿ (یہودی) کہتے ہیں کہ ہم نے قتل کر دیا عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو۔ حالانکہ نہ ہی قتل کیا اس کو اور نہ ہی سولی پر چڑھایا اس کو۔ لیکن شبہ ڈالا گیا واسطے ان کے اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا انہوں نے بیچ اس کے البتہ بیچ شک کے ہیں پر ان کو اس بات کے
٥٥
متعلق کچھ علم نہیں۔ مگر صرف گمان ہی کرتے ہیں اور یقینی بات ہے کہ اسے نہیں مارا بلکہ اٹھالیا اس کو اللہ نے طرف اپنی اور وہ ہے غالب حکمت والا اور نہیں کوئی اہل کتاب سے البتہ ایمان لائے گا۔ عیسیٰ پر (جب کہ وہ دوبارہ نازل ہوگا) عیسیٰ کی موت سے پہلے اور قیامت کے روز وہ ان لوگوں کا (جو ایمان لائے تھے) گواہ ہوگا۔ ﴾
مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام میں بخاری مسلم کی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”والذي نفسی بیده لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ويضع الجزية ویفیض المال حتى لا یقبله احد ثم یقول ابوهریرة فاقرءوا ان شئتم وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته (بخاری، مسلم، مشکوٰة، باب نزول عیسیٰ) “ ﴿رسول خدا نے فرمایا قسم بخدا قریب ہے کہ ضرور ابن مریم حاکم عادل ہو کر تم میں نازل ہوگا۔ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور ٹیکس معاف کرے گا اور مال کو اس قدر عام کر دے گا کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔ اس کے بعد راوی حدیث ابو ہریرہؓ نے مجمع صحابہ میں کہا نزول مسیح کی تصدیق کے لئے آیت ”وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به“ پڑھو۔﴾
اس حدیث کے ذیل میں حافظ ابن حجر نے (جن کو مرزائی پاکٹ بک والے نے (ص ٦٣٥) میں آٹھویں صدی کا مجدد لکھا ہے) فرمایا: ”ولاحمد من وجه آخر عن ابي هریرة اقرءوه من رسول الله وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته (فتح البارى شرح صحيح بخاری ج ١٢ ص ٢٨١) “ ﴿ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اس آیت کی یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے کہ عیسیٰ کے مرنے سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لے آویں گے جب وہ نازل ہوں گے۔﴾
آنحضرت ﷺ قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم نازل ہوگا اور مرزا قادیانی راقم ہیں کہ: ”نبی کا کسی بات کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے۔ نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کیا جاوے۔ ورنہ قسم سے فائدہ ہی کیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
عذر
کئی اہل کتاب نزول مسیح سے قبل فوت ہو چکے ہیں اور کئی نزول مسیح کے بعد مقتول ہوں گے۔ کیا سب کو ایمان یافتہ تسلیم کر لیا جاوے۔
٥٦
ہیں اور یقینی بات ہے کہ اسے نہیں مارا بلکہ اٹھا لیا اس کو والا اور نہیں کوئی اہل کتاب سے البتہ ایمان لائے گا۔ کی موت سے پہلے اور قیامت کے روز وہ ان لوگوں کا
علیہ السلام میں بخاری مسلم کی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ ”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل سر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية يقول ابوهريرة فاقرء وان شئتم وان من
(بخاری، مسلم، مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ) “
ضرور ابن مریم حاکم عادل ہو کر تم میں نازل ہوگا۔ معاف کرے گا اور مال کو اس قدر عام کر دے گا کہ اوی حدیث ابو ہریرہؓ نے مجمع صحابہ میں کہا نزول مسیح لكتاب الا ليؤمنن به“ پڑھو۔ ﴿
بن جریر نے (جن کو مرزائی پاکٹ بک والے نے فرمایا: ”ولا نجد من وجه آخر عن ابی من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ص ٢٨١) “ ﴿ ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اس آیت کی یہ کے مرنے سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لے
تے ہیں کہ مسیح ابن مریم نازل ہوگا اور مرزا قادیانی نا اس بات پر گواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی ے۔ ورنہ قسم سے فائدہ ہی کیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ١٤، خزائن ج ٧ ص ١٩٢)
ت ہو چکے ہیں اور کئی نزول مسیح کے بعد مقتول
٥
الجواب
- .....١ اس آیت میں صرف ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو نزول مسیح کے بعد ان پر
ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ الفاظ ’لیؤمنن بہ‘ سے ظاہر ہے۔
- .....٢ صیغہ مضارع مؤکد بہ نون ثقیلہ ہے جو مضارع میں تاکید مع خصوصیت
زمانہ مستقبل کرتا ہے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ٥٠٢، ١٩٣٢ء)
”وان من اهل الكتاب احد الا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى وهم اهل الكتاب الذين يكونون فى زمانه فتكون ملة واحدة وهى ملة الاسلام وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد ابن جبير عنه باسناد صحيح“
(ارشاد الساری شرح صحیح بخاری)
یعنی حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام لائیں گے۔
اعتراض
ابن جریر ١؎ میں سعید بن جبیر کے طریق سے صرف دو روایات درج ہیں۔ پہلی روایت میں محمد ابن بشار ضعیف ہے۔ کیونکہ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٨١) میں لکھا ہے کہ عبداللہ بن محمد بن سیار کہتے ہیں کہ عمر بن علی نے حلف اٹھا کر کہا کہ محمد بن بشار بندار یحییٰ کی روایت میں جھوٹ بولتا تھا۔ اسی طرح علی بن المدینی نے محمد بشار کی ابن مہدی والی روایت کو غلط کہا۔ یحییٰ اور دارمی بھی اسے پسند نہ کرتے تھے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ٣٩٦، ١٩٤٥ء)
الجواب
”کسی کے محض یہ کہہ دینے سے کہ فلاں راوی ضعیف ہے اور حقیقت وہ راوی ناقابل اعتبار نہیں ہو جاتا۔ جب تک اس کی تضعیف کو کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ کیونکہ اس امر میں اختلاف یسیر موجود ہے۔“
(مرزائی پاکٹ بک ص ٤٨٢، ١٩٤٥ء)
محمد ابن بشار البصری بندار کی تضعیف میں مرزائیوں نے انتہائی دھوکہ سے کام لیا ہے۔ یہ راوی تو ایسا جلیل القدر ہے کہ ساری کتب صحاح ستہ اس کی احادیث سے پر ہیں۔ چنانچہ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٧٢، ٧٣) میں لکھا ہے کہ امام بخاری نے اس راوی سے دو صد
١؎ ”ابن جریر جو نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٥٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١)
٥٧
پانچ احادیث نقل کیں ۔ امام مسلم نے چار صد ساٹھ احادیث نقل کیں ۔ امام ابوداؤد نے تو پچاس ہزار احادیث اس سے لی ہیں ۔ یہ دنیا کا دستور ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی پرہیز گار کیوں نہ ہو اسے کوئی نہ کوئی ناپسند کرنے والا بھی ضرور ہوتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ ناپسند کرنے والا کس پوزیشن کا ہے اور بلند پایہ محدثین کی غالب اکثریت کا فیصلہ کیا ہے؟ راویوں کے پرکھنے کا یہی ایک آسان طریقہ ہے۔
- ا....... محمد ابن بشار البصری بندار کے متعلق عمر بن علی کی قسم باطل ہونے کے دو
سبب ہیں۔ اوّل یہ کہ عمر بن علی بن عطاء البصری کے متعلق محدثین نے لکھا ہے۔ ”یــــدلـــــــس تـدلیساً شـدیداً“
(میزان الاعتدال ج١ص٢٦٦، تہذیب التہذیب ج٧ص٤٨٦)
اب ظاہر ہے کہ جو راوی از حد تدلیس کرتا ہو۔ اس کی قسم پر کیا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے۔ عبداللہ بن سیار نے کہا کہ عمر بن علی نے قسم کھا کر کہا کہ بندار یحییٰ کی روایت میں جھوٹ بولتا تھا۔ اس کے آگے ساتھ ہی اسی صفحہ پر لکھا ہے۔ ”قال ابن سیار بندار وابو موسىٰ ثقتان“
(تہذیب التہذیب ج٩ص٧١)
ابن سیار نے کہا کہ بندار اور ابوموسیٰ دونوں ثقہ تھے۔ گویا عمر بن علی کے حلف کی تردید خود عبداللہ بن محمد بن سیار ہی نے کردی۔
- ب....... ابن مدینی نے ہرگز بندار کی کسی روایت پر اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ انہوں
نے اپنے باپ کا قول نقل کیا ہے جو کہ محدثین صحاح ستہ کے نزدیک بے وقعت ہے۔
- ج....... ”وقال ابوداؤد لولا سلامة فيه لتركت حديثه وقال
الازدى بندار قد كتب عنه الناس وقبلوه وليس قول يحيى والقوارير مما يجرحـه ومـا رأيت احدا ذكره الا بخير وصدق وقال ابن خزيمة فى كتاب التـوحيـد حـدثـنـا امام اهل زمانه وقال ابن حبان فى الثقات وقال العجلى بـصرى ثقة كثير الحديث وقال ابوحاتم صدوق وقال النسائى صالح لا باس به“
(تہذیب التہذیب ج٩ص٧١،٧٠، میزان الاعتدال مطبوعہ مصر ج٣ص٣٠)
اور امام ابوداؤد نے کہا کہ اگر بندار ثقہ نہ ہوتا تو میں اس کی حدیث نہ لیتا اور ازدی نے کہا کہ بندار سے لوگوں نے حدیث لی اور قبول کی اور یحییٰ اور قواریری کے قول سے اس پر کوئی حرف نہیں آسکتا اور نہیں دیکھا میں نے کسی شخص کو کہ ذکر کرتا ہو اس کا مگر ساتھ خیر اور صدق کے اور کہا ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں کہ بندار اپنے زمانے کا امام تھا اور ذکر کیا ابن حبان نے ثقہ
٥٨
نے چار صد ساٹھ احادیث نقل کیں۔ امام ابو داؤد نے تو ۔ یہ دنیا کا دستور ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی پرہیز گار کیوں بھی ضرور ہوتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ ناپسند کرنے والا کس غالب اکثریت کا فیصلہ کیا ہے؟ راویوں کے پرکھنے کا یہی
بصری بندار کے متعلق عمر بن علی کی قسم باطل ہونے کے دو المصری کے متعلق محدثین نے لکھا ہے۔ ”یدلس
(میزان الاعتدال ج ١ ص ٢٦٦، تہذیب التہذیب ج ٢ ص ٣٨٦)
جو تدلیس کرتا ہو۔ اس کی قسم پر کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ نے کہا کہ عمر بن علی نے قسم کھا کر کہا کہ بندار یحییٰ کی روایت ہی اسی صفحہ پر لکھا ہے۔ ”قال ابن سیار بندار وابو
(تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٧١)
ابوموسیٰ دونوں ثقہ تھے۔ ردید خود عبداللہ بن محمد بن سیار ہی نے کر دی۔ ہرگز بندار کی کسی روایت پر اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ انہوں ین صحاح ستہ کے نزدیک بے وقعت ہے۔
اؤد لولا سلامة فيه لتركت حديثه وقال اس وقبلوه وليس قول يحيى والقوارير مما الا بخير وصدق وقال ابن خزيمة فى كتاب انه وقال ابن حبان في الثقات وقال العجل بوحاتم صدوق وقال النسائی صالح لا باس
ذیب ج ٩ ص ٧١، ٧٢، میزان الاعتدال مطبوعہ مصر ج ٣ ص ٣٠)
ندار ثقہ نہ ہوتا تو میں اس کی حدیث نہ لیتا اور ازدی نے دل کی اور یحییٰ اور قواریری کے قول سے اس پر کوئی حرف کو نہ ذکر کرتا ہو اس کا مگر ساتھ خیر اور صدق کے اور کہا اپنے زمانے کا امام تھا اور ذکر کیا ابن حبان نے ثقہ
٥٨
راویوں میں اور عجلی نے کہا ثقہ و کثیر الحدیث تھا اور کہا ابو حاتم نے کہ سچا تھا اور کہا امام نسائی نے کہ صالح تھا اور اس کی حدیث میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔
عذر
کہ صلیب اور قتل خنزیر کے اگر ظاہری معنی لئے جاویں تو اس کا مطلب یہ ہوگا۔ حضرت مسیح دنیا بھر کے صلیبی نشانوں اور سوروں کو قتل کرتے پھریں گے جو نبی کی شایان شان نہ ہے۔
الجواب
کہ صلیب اور قتل خنزیر کے معنی بھی ظاہری لئے جاویں گے۔ اس قسم کے دو واقعات آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی ہو چکے ہیں۔
- .......١ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کو بھیجا کہ
جہاں تجھ کو تصویر اور اونچی قبر نظر آئے پس مٹا دے اس کو۔
- .......٢ اسی طرح مشکوٰۃ باب التصاویر میں صحیح مسلم کی حدیث حضرت ابن عباسؓ
سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ تم نے وعدہ کیا تھا مجھ سے ملنے کا شب گزشتہ کا۔ کہا کہ ہاں لیکن ہم نہیں داخل ہوتے اس گھر میں کہ ہو اس میں کتا یا تصویر۔ پس صبح کی آنحضرت ﷺ نے ”فامر بقتل الکلاب“ یعنی پھر حکم دیا مار ڈالنے کتوں کے۔
اعتراض
قرآن تو کہتا ہے کہ اہل کتاب میں قیامت تک عداوت رہے گی۔ جب وہ سب ایمان لے آئیں گے تو مسیح کے ماننے والے کن کافروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔
الجواب
عداوت یہود نصاریٰ کے وجود تک ہے جب وہ سب اسلام لا کر مسلمان ہو جاویں گے۔ اس وقت سب عداوتیں ختم ہو جائیں گی۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: ’ليس بين اثنين عداوة (مشكوة باب لاتقوم الساعة)‘ اسی سے مراد قرب قیامت ہے۔ کیونکہ فنا عالم کے غالباً چالیس سال کے بعد قیامت کا دن ہوگا۔ جیسا کہ مشکوٰۃ باب لا تقوم الساعۃ صحیح مسلم کی روایت آئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے بعد بھی پھر گمراہی پھیل جائے گی اور لوگ اپنے پرانے مذہب کی طرف پھر لوٹ جاویں گے۔
٥٩
عذر
”قبل موتہ“ کی جگہ دوسری قرأت میں ”موتھم“ آیا ہے۔
الجواب
قرآن مجید کو خلفائے راشدین و زید بن ثابت کاتب وحی وغیرہ کے متفقہ فیصلہ کے بعد یکجا جمع کیا گیا ہے۔ پس ”قبل موتہ“ والی قرأت چونکہ درست تھی۔ اس لئے اسے برقرار رکھا گیا اور دوسری کو ترک کر دیا گیا۔
مرزائیو! اگر تمہارے ہاتھ میں کچھ عرصہ کے لئے حکومت آجاوے تو تم سے کچھ بعید نہیں کہ قرآن میں تحریف کرنے سے باز نہ آؤ گے۔
تمہارا یہ بیان اگر کوئی آریہ یا عیسائی پڑھے تو وہ تم کو یہ منوا کر رہے گا کہ قرآن میں بھی غلطیاں رہ گئی ہیں۔ اسی بات پر شیخیاں مارا کرتے ہو کہ آریوں و عیسائیوں کو جو ہم جواب دے سکتے ہیں وہ دوسرا نہیں دے سکتا۔
عذر
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو کیا کریں گے؟
الجواب
وہی کریں گے جو مرزا قادیانی براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہیں کہ: ”جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣)
عذر
”رفع الله الیہ“ میں خدا کی طرف اٹھانا مرقوم ہے۔ آسمان کا تو کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔
الجواب
خدا کے لئے فوق علو اکثر استعمال ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ وحی کے انتظار کے وقت آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ ”قد نری تقلب وجھك فی السماء (بقر)“ یعنی البتہ ہم دیکھتے ہیں تیرا آسمانوں کی طرف منہ کرنا سو ہم تیری حسب خواہش تیرا منہ اسی قبلہ کی طرف پھیریں گے۔
٦٠
اسی طرح سورہ الملک میں آیا ہے۔ ”ء امنتم من في السماء ان يخسف بكم الارض ام امنتم من فى السماء ان يرسل عليكم حاصباً “کیا تم خدا سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان پر ہے یا تم اس ذات سے خوف نہیں کرتے جو آسمان پر ہے کہ تمہیں زمین دھنسا دے یا تم پر ہواؤں سے پتھراؤ کرے۔
رفع کا استعمال
”فالرفع فى الاجسام حقيقة فى الحركة والانتقال وفي المعانى على ما يقتضيه المقام“
(مصباح منیر مصری ج اول ص ١٧)
یعنی لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقت میں حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے اور معانی کے متعلق جیسا موقع ومقام ہو۔
- ٢...... ”قال ابوهريرة لسارق التمر لا رفعنك الى رسول الله “
یعنی ابوہریرہؓ نے (شیطان کو) کہا آج تو میں تجھے ضرور بالضرور رسول اللہ کے پاس تیری شکایت کے لئے لے چلوں گا۔
اگر رفع کے معنی درجہ بلند کرنا ہوں تو شیطان کا بھی درجہ بلند کرنا مقصود تھا؟
- ٣...... مشکوٰۃ کتاب الایمان میں حضرت ابی بن کعب نے آیت میثاق عام کی
تفسیر میں فرمایا کہ جب اولاد آدم کو حضرت آدم کی پشت سے نکالا اور ان سے عہد لیا اس کے بعد آتا ہے کہ ”ورفع عليهم آدم ينظر اليهم فراى الغنى والفقير وحسن الصورة ودون ذالك (مشکوة کتاب الایمان)“ ﴿اور اٹھائے گئے ان پر آدم پس دیکھتے تھے طرف ان کی پھر دیکھا انہوں نے مالدار کو اور فقیر کو اور نیک صورت اور بدصورتوں کو ۔﴾
اس حدیث میں بھی صاف طور پر رفع کا لفظ رفع جسمانی میں استعمال ہوا ہے۔ البتہ بعض جگہ درجات کا ذکر ہے۔ وہاں رفع روحانی مراد ہے۔
- ٤...... ”ولما ضرب ابن مريم مثلاً اذا قومك منه يصدون وانه
لعلم للساعة فلا تمترن بها (الزخرف)“ ﴿اے نبی جوں ہی ابن مریم کا ذکر کیا جاتا ہے۔ تیری قوم تالیاں بجاتی ہے۔ لاریب وہ تو قیامت کی نشانی ہے۔ اس میں شک مت کرو۔﴾
اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ:” خروج عيسٰی قبل يوم القيامة (مسند احمد ج ١ ص ٣١٧)“ ﴿یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل واپس آئیں گے۔﴾
٦١
- ٣...... ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على
الدين كله ولو کره المشركون ، عن ابى هريرة رضى الله عنه فى قوله قال حين خروج عيسى (ابن جرير ج٢٥ ص٥٤) ”اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ہدایت ودین حق کا حامل بنا کر بھیجا تا کہ غالب کر دے۔ دین الٰہی کو جمیع ادیان باطلہ پر۔ اگر چہ مشرک برا منائیں۔ ابن عباسؓ و ابو ہریرہؓ۔ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ غلبہ کاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خروج کے وقت ہوگا۔﴾
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٦٤٢ ، ١٩٤٥ء)
اس آیت کی تفسیر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج١ ص ٥٩٣)
”اس کتاب (براہین احمدیہ) کا متولی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت رب العالمین ہے۔ کچھ معلوم نہیں کہ کس انداز اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٣ حصہ آخری، خزائن ج١ ص ٦٧٣)
- ٤...... ”عن عبدالله ابن عمر وقال قال رسول الله ﷺ ينزل
عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر وعمر (مشكوة باب نزول عيسى فصل ٣) ”عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جاوے گی ان کے لئے اولاد اور پینتالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور میری قبر کے پاس دفن کر دیئے جائیں گے۔ پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ بن مریم حشر کے روز درمیان ابی بکرؓ وعمرؓ کے۔﴾
”جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ :”یتزوج ويولد له“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا۔ نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان
٦٢
، رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على ن ابى هريرة رضى الله عنه في قوله قال ٢ ص ٥٤) ”اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول ب کر دے۔ دین الہی کو جمیع ادیان باطلہ پر۔ اگر چہ
ساتھ غلبہ کاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خروج کے
(احمدیہ پاکٹ بک ص ٦٤٢، ١٩٤٥ء)
تی فرماتے ہیں کہ: ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف قطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
متولی اور مہتمم ظاہراً و باطناً حضرت رب العالمین س کو پہنچانے کا ارادہ ہے۔“
(براہین احمدیہ ج ٣ ص آخری، خزائن ج ١ ص ٦٧٣)
عن عمر وقال قال رسول الله ﷺ ينزل ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة قوم انا وعيسى ابن مريم في قبر واحد عیسیٰ فصل ٣) ” عبد اللہ بن عمر سے روایت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ پس نکاح گے اولاد اور پینتالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات آئیں گے۔ پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ بن مریم حشر
پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ”یتزوج نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان
٦١
سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
عذر
”فی قبری“ کے معنی تو ہوئے کہ میری قبر میں دفن ہوگا۔
الجواب
”ان کو (ابوبکر و عمرؓ) یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کئے گئے۔ گویا ایک ہی قبر ہے۔“
(نزول مسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥)
- ٥ ..... ”عن عبدالله بن مسعود قال لما كان ليلة اسرى برسول
الله ﷺ لقى ابراهيم وموسى وعيسى فتذاكروا الساعة فبدءوا بابراهيم فسالوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سالوا موسى فلم يكن عنده منها علم فرد الحديث الى عيسى بن مريم فقال قد عهد الىّ فيما دون وجبتها اما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله وفى رواية لا حمد قال رسول الله لقيت ليلة اسرى بی
(ابن ماجه مصری ج ٢ ص ٢٦٨،
مسند احمد مصری ج ١ ص ٣٧٥) ” حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کتاب حدیث ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں مرفوعاً روایت ہے۔ معراج کی رات انبیاء سے ملاقات کے وقت قیامت کا تذکرہ ہوا۔ سب نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ نے کہا کہ قیامت کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پس آپ نے دجال کا ذکر چھیڑا اور کہا کہ میں نازل ہوں گا اور اسے قتل کروں گا۔ ﴾
اس حدیث نے مرزائیوں کی نزول والی بحث کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے معراج والی رات جو مسیح ملاقات ہوئی نازل ہوگا۔
عذر
یہ عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے حدیث نبوی نہیں ہے۔
اس روایت کا پہلا راوی محمد بن بشار ضعیف ہے۔ اسی طرح اس روایت کا دوسرا راوی یزید بن ہارون کے متعلق یحییٰ ابن معین کا قول ہے کہ یہ راوی تو حدیث جاننے والوں میں سے تھا ہی نہیں۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ٤٢٢ ، ٤٢٣ ، ١٩٤٥ء)
٦٣
الجواب
مسند احمد میں یہ حدیث مرفوع ہے۔ پس اسے حدیث نبوی نہ کہنا جہالت ہے۔ مسند احمد میں یہ حدیث دوسرے طریق سے مروی ہے۔ جس میں یہ دونوں راوی نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک یہ دونوں راوی بھی نہایت بلند پایہ ہیں۔ ملاحظہ ہو:
- ١...... محمد ابن بشار البصری بندار: اس راوی کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے۔
- ٢...... یزید بن ہارون: یہ تو بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں۔ اس راوی کے متعلق
یحییٰ ابن معین نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ یزید بن ہارون اصحاب حدیث میں سے نہ تھا۔ بلکہ دوسرے شخص (ابن ابی خیثمہ) نے یحییٰ بن معین کی طرف منسوب کیا۔ جیسا کہ: ”قال وسمعت یحیی ابن معین“ (تہذیب التہذیب ج ١١ ص ٣٦٨) کا لفظ بتلا رہا ہے۔ یحییٰ ابن معین نے تو اس راوی کو ثقہ لکھا ہے۔ جیسا کہ ذیل میں آئے گا۔
محدثین کے نزدیک اس راوی کا مقام
وقال ابن مدينى هو من ثقات وقال ابن معين ثقة وقال العجلى ثقة ثبت فى
الحديث وقال ابو حاتم ثقة امام صدوق لا تسئل عن مثله وقال عمر بن عون
عن هشيم ما بالبصريين مثل يزيد وقال الفضل ابن زياد قيل لاحمد يزيد
بن هارون له فقه قال نعم ما كان افطنه واذكاه وافهمه“
(تہذیب التہذیب ج ١١ ص ٣٦٧، ٣٦٨)
کہا ابو طالب نے کہ سنا احمد سے کہ حافظ حدیث تھا اور صحیح تھا حدیث میں۔ کہا ابن مدینی نے کہ ثقہ راویوں میں سے تھا۔ کہا ابن معین نے ثقہ تھا اور کہا عجلی نے ثقہ اور مضبوط تھا حدیث میں۔ کہا ابو حاتم نے ثقہ اور سچا امام تھا۔ اس جیسوں سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کہا عمر بن عون نے سنا اس نے ہشیم سے کہ بصریوں میں یزید بن ہارون کی مثل کوئی نہ تھا اور کہا فضل بن زیاد نے کہ امام احمد سے پوچھا گیا کہ کیا یزید بن ہارون فقیہ تھا؟ تو جواب دیا کہ ہاں اور نہیں تھا اس جیسا کوئی سمجھ دار ذکی اور فہیم۔
تردید دلائل وفات مسیح
- ١...... ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل“ محمد ایک
رسول ہیں۔ ان سے پہلے کے رسول گزر گئے فوت ہو گئے۔
(مرزائی پاکٹ بک ص ٣٣٥)
٦٢
الجواب
صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ”محمد ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے۔“
(جنگ مقدس تقریر اوّل ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٨٩)
- ٢...... "وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت
الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد (مائدہ) ”اور جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران تھا۔ جب تو نے مجھ کو موت دے دی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔﴾
(مرزائی پاکٹ بک ص ٣٢٥، ١٩٣٥ء)
الجواب
اگر توفی بمعنی موت بھی لیا جائے تو بھی موت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سوال جواب قیامت کو ہوں گے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل ضرور فوت ہو جاویں گے۔
آیت شریف میں ما دمت فیہم آیا ہے۔ یعنی جب تک میں اپنی قوم میں رہا۔ (اس میں دونوں زمانہ آ جاتے ہیں ایک رفع سے قبل اور دوسرا نزول کے بعد) تب تک ان کا نگران رہا۔ لیکن جب میں ان سے جدا ہوا تو پھر تو ہی بہتر جانتا رہا۔
اس آیت کو بھلا وفات مسیح سے کیا واسطہ۔
- ٣...... "اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك“ اے عیسیٰ میں تجھے موت
دوں گا۔
الجواب
اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چار وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کئے تھے۔ (١) موت۔ (٢) رفع۔ (٣) تطہیر۔ (٤) غلبہ متبعین۔
اب تک تین وعدے تو پورے ہوگئے۔ البتہ وعدہ موت باقی ہے اور یہ وعدہ بموجب حدیث مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ اس طرح پورا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ زمین پر اتریں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی۔ ٤٥ سال قیام کریں گے۔ ثم یموت یعنی پھر وفات پائیں گے۔
عذر
آیت میں تو پہلے وعدہ موت ہے۔
٦٥
الجواب
قرآن شریف میں ہے کہ: ”واقیموا الصلوۃ وآتو الزکوۃ وارکعوا مع الراکعین“ اور قائم کرو نماز اور دو زکوٰۃ اور رکوع کرو ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔ اب تم جیسا کوئی عقل مند جب زکوٰۃ دینے لگے تو پہلے نماز پڑھے اور پھر زکوٰۃ دینے کے بعد رکوع کرے۔ حالانکہ آیت کا مطلب یہ نہیں۔ خود مرزا قادیانی مانتے ہیں۔ ”یہ ضروری نہیں کہ واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو۔“ (تریاق القلوب ص ٣٥٣، خزائن ج ١٥ ص ٤٥٤)
- ٤...... ”انه لم یکن نبی الا عاش نصف الذی قبله واخبرنی ان
عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائۃ وانی لا ارانی الا ذاہبا علی رأس الستین (کنزالعمال ج ٦ ص ١٢٠) “ آنحضرتﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ جو نبی دنیا میں بھیجا گیا وہ اپنے سے پہلے والے کی نصف عمر پاتا رہا۔ تحقیق عیسیٰ بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہا اور میں ساٹھ سال میں کوچ کر جاؤں گا۔
الجواب
- ١...... اگر حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو مرزا قادیانی کی نبوت ختم ہو جاتی ہے۔
کیونکہ حدیث کے بیان کردہ اصول کے مطابق مرزا قادیانی کو آنحضرتﷺ کی نصف عمر یعنی تیس سال میں وفات پانی چاہئے تھی۔ مگر وہ تو قریباً ستر سال کے ہوکر فوت ہوئے۔ لہٰذا مرزائی خود ہی فیصلہ کرلیں۔
- ٢...... اس حدیث کا ایک راوی عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو:
”قال البخاری عن الحمیدی کان یحییٰ بن سعید لا یراہ شیئاً وقال ابن المدینی عن ابن مہدی لا احمل عنہ قلیلاً ولا کثیراً وقال عبدالکریم بن عبدالرحمن النسائی عن ابیہ لیس بثقۃ“
(تہذیب التہذیب ج ٥ ص ٣٧٢، موضوعات سیوطی مطبوعہ مصر ج ١ ص ١٩٥، تاریخ بغداد ج ١١ ص ١١٣)
امام بخاری نے حمیدی سے سنا کہ یحییٰ بن سعید اسے ثقہ نہیں جانتے تھے اور ابن مدینی کہتے ہیں کہ ابن مہدی نے کہا کہ اس سے تھوڑا لو نہ زیادہ اور عبدالکریم بن عبدالرحمن نسائی کے باپ نے کہا کہ یہ راوی ثقہ نہ تھا۔
ختم شد!
٦٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
جواب حقانی
(آئینہ صداقت)
(جناب قاضی اشرف حسین رحمانیؒ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی محمد والہ واصحابہ اجمعین!
عزیزم بابو محمد حسن ہداکم اللہ۔ السلام علیکم!
تمہارا لفافہ پہنچا۔ میں جو کچھ جواب تمہارے خط کا لکھ رہا ہوں اسے بغور پڑھو اور میرے پہلے خط کو بھی اچھی طرح پھر پڑھو۔ میں نے سمجھا تھا کہ میرا پہلا خط تمہارے خیالات کی تبدیلی کے لئے کافی ہوگا۔ مگر تمہارے خط کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری سمجھ الٹی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھ عنایت کرے اور راہ راست نصیب فرمائے۔ آمین!
جس روز تمہارا خط آیا تھا اس کے کئی روز کے بعد مجھ کو معلوم ہوا کہ تم سوپول آئے تھے اور چار پانچ روز تک سوپول میں مقیم رہے۔ مگر افسوس کہ تم ہم سے نہ ملے۔ اگر ملتے تو پھر اس خط کے لکھنے کی شاید مجھ کو حاجت نہ ہوتی۔ جائے قیام سے تمہارے میرا قیام گاہ صرف ایک دو بیگھہ کا فصل ہے۔ بجز اس کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مضمون خط عزیز کا نہیں تھا کسی دوسرے احمدی کا تھا۔ جس نے تم کو بہکایا ہے۔ اگر مجھ کو تمہارے آنے کی خبر پہلے سے ہوتی تو میں خود تم سے مل کر تمہاری تشفی کر دیتا۔
سنو اور خوب غور سے سنو! مرزا قادیانی نہ نبی تھے نہ مامور من اللہ نہ مسیح موعود اور نہ کرشن جی رودر ١؎ گوپال۔ بلکہ مطابق اپنے اقرار کے جھوٹے، مفسد دجال، کذاب۔ جیسا کہ ان کے قول سے مفہوم ہوتا ہے۔ ایسے جھوٹے دعویٰ نبوت کرنے والے کے جال پھندے سے نکلنے کی جلد کوشش کرو۔ اپنے ایمان کے دشمن مت بنو۔ واضح ہو کہ قیامت کے دن جس روز اللہ جل شانہ عدالت فرمائے گا اور وہ دن ایسا سخت ہوگا جس کے شان میں ”یوم یفر المرء من اخیہ و امہ و ابیہ وصاحبتہ وبنیہ“ الخ اس میں بھائی اپنے بھائی سے بھاگے گا اور بیٹا اپنے ماں باپ سے اور شوہر اپنی بیوی سے اور ماں باپ اپنی اولاد سے بھاگیں گے۔ اس خیال سے کہ اس کی بلا میرے اوپر نہ آجائے۔ الخ وغیرہ وغیرہ آیا ہے۔ تمہارے بہکانے والے تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔ بلکہ خود مبتلائے عذاب ہوں گے اور تمہارے گروہ کے بہکانے والے مرزا قادیانی بھی یہ کہہ کر اس روز تم لوگوں سے علیحدہ ہو جائیں گے کہ ہم نے بار بار کہہ دیا تھا کہ اگر میری فلاں فلاں پیش گوئی پوری نہ ہو تو میں ہر بد سے بدتر اور جھوٹے سے جھوٹا، مفسد، دجال، کذاب ہوں۔
١؎ کرشن جی رودر گوپال ہونے کا الہام البدر، ٢٩؍ اکتوبر، ٨؍ نومبر ١٩٠٣ء میں درج ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (البشریٰ ص ٥٦)
٢
سو وہ سب پیش گوئیاں جس کے بارے میں میں نے تحدی کے ساتھ بیان کیا تھا۔ سب کی سب بلاشک وشبہ غلط ہوگئیں۔ اس پر بھی ان لوگوں نے مجھے نہیں چھوڑا اور مجھ کو نبی ورسول مانتے رہے۔ اس کے مجرم یہ لوگ خود ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس جواب پر کف افسوس ملو گے اور پچھتاؤ گے۔ مگر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم کر دی اور خود حضور انور ﷺ نے صاف فرما دیا کہ میرے بعد میری امت میں جھوٹے، دجال، کذاب، دعویٰ نبوت کرنے والے پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
اب یہ تو بتلاؤ کہ اس فرمان خدا اور رسول کے بعد کیا صالح بن ظریف محمد بن تومرت، ابو منصور عیسیٰ، حسن بن صباح، ابو عبداللہ مہدی، مرزا غلام احمد قادیانی ١؎ وغیرہ وغیرہ کے دعویٰ نبوت ومہدویت نے ثابت نہیں کر دیا کہ یہ لوگ جھوٹے دجال کذاب تھے؟ بیشک ان لوگوں کے دعویٰ نبوت کرنے سے فرمان حضور انور ﷺ کا سچا ہونا اور یہ لوگ مطابق احادیث صحیحہ کے کذاب ثابت ہوئے۔ افسوس صد ہزار افسوس! ایسی ایسی بین باتوں کو بھی نہیں دیکھتے ہو اور دکھلانے والے کو برے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہو۔
١؎ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا ثبوت ملاحظہ ہو: (١) قادیان اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ (٢) سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (دافع البلاء) (٣) میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨) (٤) ہم نے غلام احمد قادیانی کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن قوم نے اس سے اعتراض کیا اور کہا کہ جھوٹا ہے۔ (اربعین ص ١٦، ١٧) (٥) خدا وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ (اربعین ص ٤٣، ٤٤) (٦) مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ (اللہ تعالیٰ تو رسول اللہ ﷺ کو اس آیت کا مصداق بتلارہا ہے اور مرزا قادیانی اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کررہا ہے۔ مرزا قادیانی نے لوگوں کو دھوکا دے کر اس آیت کا مصداق اپنے کو بتلا کر کس قدر صفائی کے ساتھ دعویٰ نبوت تشریعی ورسالت کیا ہے۔ ان کے ماننے والوں پر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے اس فریب کو بھی نہیں دیکھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو اس آیت کا مصداق سمجھ رہے ہیں) (اعجاز احمدی ص ٧) (٧) مرزا قادیانی نے صاحب شریعت نبی ہونے کا بھی صاف طور سے دعویٰ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو (اربعین نمبر ٤ ص ٦) میں لکھتے ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٣
غرض مرزا قادیانی قیامت کے دن صاف جواب دے دیں گے کہ ہم نے دعوٰی نبوت کیا تھا۔ اس کے مجرم ہم ضرور ہیں۔ مگر جو لوگ مجھ کو بعد حدیث رسول اللہ ﷺ و آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے پھر بھی نبی مانتے رہے وہ اس کے مجرم خود ہی ہیں۔ مرزا قادیانی تو اپنے پیچدار تحریرات کو پیش کر کے جماعت مرزائیہ سے علیحدہ ہو جائیں گے اور تم اور تمہارے بہکانے والے خدا کے نزدیک ماخوذ ہوں گے۔
اب اپنے خط کا جواب ملاحظہ کرو
تم قبول کر رہے ہو کہ سلسلہ احمدیہ کے مخالفین خصوصاً ابواحمد صاحب رحمانی اور ان کے حاشیہ نشینوں کے مقابلہ میں مطابق اجازت قرآنی ”جزاء سیئة سیئة مثلها“ کی سختی برتی جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اہل مونگیر نے مرزا قادیانی سے پہلے سختی برتی ہے۔ اب اسرار نہانی والے اس کے بدلے میں سختی برتنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ کیسا صریح جھوٹ ہے۔ حضرات مونگیر کو اس طرف توجہ بھی نہ تھی۔ تمہاری جماعت کی سختیوں اور بیجا دعووں نے انہیں متوجہ کیا اور مرزا قادیانی کی کتابوں کو انہوں نے دیکھا۔ علماء کو اور اہل اسلام کو ایسے ایسے سخت الفاظ سے یاد کیا ہے کہ کوئی مہذب شخص ان الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتا اور انبیاء اور بزرگوں کی تو بڑی شان ہے۔ حضرات مونگیر نے ہرگز ایسے سخت الفاظ نہیں بولے۔ جیسے مرزا قادیانی نے لکھے ہیں اور اگر کسی نے کچھ لکھا تو بلاشک اس نے ”جزاء سیئة سیئة“ پر عمل کیا۔ اب تمہارا لکھنا صریح ظلم ہے۔ اس کے
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذلک ازکیٰ لھم“ مرزا قادیانی کی اس تحریر سے صاف روشن ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی کو صاحب شریعت نبی ہونے کا دعوٰی تھا۔ جس سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے انہیں انکار ہے۔ مگر چونکہ خوف ہوا کہ مسلمان شور مچائیں گے کہ مرزا قادیانی کو آیت قرآنی سے انکار ہے اور رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ اس لئے نہایت صاف و صریح دعوٰی کے بعد کہہ دیا کہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اے میاں جب مرزا قادیانی کو مستقل نبی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ہے اور اپنا الہام بتا رہے ہیں کہ اللہ نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین اور آخر النبیین کیسے ہوئے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ ﷺ آخر النبیین بھی ہوں اور مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت بھی سچا ہو۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں تو مرزا قادیانی ضرور جھوٹے ہیں۔ یہ بطور نمونہ اس جگہ پر تھوڑا لکھا گیا ہے۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦، ٧ دیکھو۔ مرزا قادیانی تو رسول اللہ ﷺ پر بھی اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧
٤
علاوہ میں کہتا ہوں کہ تمہارے کرشن جی رودر گوپال تو اس کے خلاف ہیں اور سختی برتنے والے کو اپنی جماعت سے خارج کر رہے ہیں۔ ان کی تحریر دیکھو۔ (التوائے جلسہ ٢٧؍دسمبر ١٨٩٣ء ص٣) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں غصہ کو کھانا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔“
پھر (رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ص٨٣) میں اپنے مریدین کو نصیحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔ ”اب خیال فرمائیے یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے۔ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا کیا منشاء ہے۔ اگر مخالف گالی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دو۔ بلکہ صبر کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل ہوکر خود ہی نادم اور شرمندہ ہوگا۔“
اور (ص٩٩) میں تحریر کرتے ہیں۔ جب کوئی شریر گالی دے تو مؤمن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال صادق آئے گی۔ مطابق قول مرزا قادیانی کے گالی سے اعراض کرنے والا خطابات ذیل کا مستحق ہوسکتا ہے۔
سعادت کے آثار، جوانمرد، صابر، مومن اور جو اس کے خلاف عمل کرے اس پر وہی کت پن کی مثال صادق آوے گی۔
اب یہ تو بتلاؤ کہ مرزا قادیانی نے اپنے وقت کے علماء کو خصوصاً مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو (ضمیمہ انجام آتھم ص٤٦ تا ٥٢، خزائن ج١١ ص٣٣٠ تا ٣٣٧) میں لکھا ہے۔ اس زمانہ کے ظالم مولوی خاص کر رئیس الدجال مولوی عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ ”علیہم نعال لعن اللّٰہ الف الف مرة“ (خدا کی لعنت کی دس لاکھ جوتی ان پر پڑیں) ناپاک اشتہار، اے پلید دجال، تعصب کے غبار نے اندھا کردیا۔ احمقانہ عذر، ان احمقوں نے، اے نادان، آنکھوں کے اندھے، مولویت کو بدنام کرنے والو، مگر یہ خالی گدھے ہیں۔ جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے۔ ظالم مولوی، اے اسلام کے عار مولویو، جہالت کی زندگی سے موت بہتر ہے۔ چو کافر شناسا تر از مولوی است۔ بریں مولویت بباید گریست۔ اے احمق، کیا تمہارا نماز جنازہ پڑھوادیا جائے۔ حماقت ظاہر ہوئی۔ تمہارا گندہ جھوٹ۔ مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے جھوٹ کا گوہ کھایا۔ پس اے بدذات، خبیث، دشمن اللہ ورسول، یہودیانہ تحریف، مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔ اس نابکار کی تزویر اور تلبیس ہے۔ ان کی عقلوں پر ضلالت کا گرہن لگ گیا۔ تمام دنیا سے بدتر، ایمانی روشنی مسلوب ان کے دلوں پر انکار کی ظلمت کا خسوف وکسوف لگ گیا۔ سب مخالفوں سے کہتے ہیں کہ جس وقت یہ سب باتیں پوری ہوجائیں گی۔ (یعنی
٥
احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مر جائے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں آجائے گی) تو اس دن نہایت صفائی سے (مخالفوں کی) ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔
اے عزیز! اب تو وہ باتیں پوری نہ ہوئیں۔ اب کس کے منحوس چہرے بندروں اور سوروں کی طرح ہوئے۔ مرزا قادیانی تو مر گئے۔ قبر میں انہیں کون دیکھے۔ اب تو ان کے ماننے والے موجود ہیں۔ اس سخت کلامی کے مصداق وہی ہوں گے۔ نہایت افسوس ہے کہ تم بھی انہیں میں شامل ہونا چاہتے ہو۔ یہ سخت کلامی تو صرف ان کے ایک رسالہ کے ایک مقام سے دکھائی گئی اور دوسرے مقامات پر بہت کچھ سخت کلامی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب و مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولانا نذیر حسین صاحب دہلوی وغیرہ وغیرہ کو گالیاں دیتے رہے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو بڑے مرتبہ کے نبی ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان کی شان میں کیا کیا نہ کہا۔ جس کے سننے سے ہر مسلمان کا دل دہل جاتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠) یہ کیوں ہوا۔ کیا مرزا قادیانی کو آیات قرآنی واحادیث نسیا منسیا ہو گئیں تھیں۔ پھر یہ کہ اپنی تحریرات کا بھی خیال نہ رہا۔ بالفرض اگر مولوی عبدالحق صاحب وغیرہ نے مرزا قادیانی کو گالیاں دی تھیں۔ تو مرزا قادیانی کو سعادت کے آثار، جوانمردی کا طریقہ، صبر جس کا نتیجہ دشمنوں کا شرمندہ ہوکر فضیلت کا قائل ہو جانا تھا اور مؤمن کی صفت اختیار کرنا چاہئے تھا نہ کہ گالی کے عوض گالی دے کر وہی کتے پن کی مثال اپنے اوپر صادق کرنا لازم تھا۔
پھر مرزا قادیانی (کتاب البریہ ص ١٥، خزائن ج ١٣ ص ١٥) میں تحریر کرتے ہیں۔ اے دوستو! اس اصول کو محکم پکڑو اور ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔ جو شخص یہ طریقہ اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالف کی گالیوں اور سخت گوئیوں پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت سے چارہ جوئی کرے۔ مگر یہ مناسب نہیں کہ سختی کے مقابل میں سختی کر کے کسی مفسدہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔
مرزا قادیانی ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی و بردباری سے پیش آنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے عقل بڑھے گی۔ گہرے خیال پیدا ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی نے مخالف کی گالیوں پر کیوں نہیں صبر کیا۔ نرمی اور بردباری کو چھوڑ کر ایسی سخت کلامی کیوں کی اور خود جماعت
٦
سے خارج ہونے کے لائق کیوں ہو گئے۔
کتاب البریہ کی تحریر دیکھنے کے بعد اب تم لوگوں کو لازم ہے کہ مطابق قول مرزا قادیانی کے سب سے پہلے مرزا قادیانی کو مولوی عبدالحق صاحب وغیرہ کو گالیاں دینے کے عوض میں اپنی جماعت سے خارج کر دو۔ یا خود ہی ان سے خارج ہو جاؤ۔ کیونکہ یہ مقولہ کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ بہت ہی صحیح ثابت ہوا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں اور گالی بکنے والے کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں۔ مگر خود ہی جماعت سے خارج ہونے کا کام کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کے مریدین سے بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مصنف اسرار نہانی نے بھی اسی اثر سے کہ جس درخت کے وہ پھل ہیں۔ ایک خواب کی تعبیر میں اپنی کم علمی اور اس بغض وعداوت کی وجہ سے کہ حضرت مصنف فیصلہ آسمانی نے جو مرزا قادیانی پر اٹل اعتراضات کئے ہیں کہ جس سے مرزا قادیانی کی نبوت ومسیحیت درہم برہم ہوگئی اور مونگیر سے قادیان تک جماعت مرزائیہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ جواب سے عاجز ہیں ہر ذی علم مرزا قادیانی سے نفرت کرنے لگا ہے اور مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ مرزائیوں کے فریب سے بچ گیا ہے۔ ان کی واقعی حالت لوگوں پر روشن ہوگئی ہے۔ سب جان گئے کہ مرزا قادیانی قرآن مجید سے، صحیح حدیث سے اپنے اقرار سے جھوٹے ہیں، اور بالیقین جھوٹے ہیں۔ اصل اعتراضات کے جواب سے عاجز آ کر گالیاں دینا شروع کر دی۔ تا کہ مسلمانوں کو دوسری طرف متوجہ کریں۔ پھر کیا مسیح موعود اور ان کے حواری ایسے جھوٹے ہو سکتے ہیں۔ شرم شرم۔
تم لکھتے ہو کہ جو معیار ولایت وصداقت ابواحمد صاحب رحمانی نے اپنی کتاب ارشاد رحمانی میں تحریر کی ہے وہ بالکل گندہ جھوٹ، فریب اور مکاری ہے اور جو معیار قرآن کریم کے پیش کئے ہیں اس کے رو سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بالکل صادق اور راست باز ثابت ہوتے ہیں۔
اے عزیز! حضرت ابواحمد صاحب کی معیار ولایت کی صداقت تو بڑے بڑے اولیاء اللہ کر رہے ہیں کہ ان میں وہ بھی بزرگ ہیں۔ جنہیں تمہارے بہکانے والے مجدد اور نبی مان رہے ہیں۔ ان کو دیکھو! مگر تم اپنی سخت نادانی سے قرآن مجید پر سخت حملہ کرتے ہو۔ یعنی یہ کہتے ہو کہ قرآن مجید ایسے جھوٹے مدعی کی صداقت بیان کرتا ہے جس کا جھوٹا ہونا دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ کانوں سے سن رہی ہے۔ جس کی زبان نے جس کی تحریر نے انہیں جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ یہ کیا غضب ہے۔ تمہاری عقل کہاں چلی گئی۔ کیا ایسے جھوٹے کی تصدیق قرآن مجید میں
٧
ہوسکتی ہے۔ توبہ کرو توبہ۔ اب تم اس جگہ پر اپنے مسیح کاذب کی دروغگوئی اور فریب دہی اور ان کا جھوٹا ہونا ملاحظہ کرو۔ مرزا قادیانی کی گندہ دہنی کو تو اوپر دکھلا چکا ہوں۔ اب اس کے جھوٹ کا نمونہ دیکھو اور خدا کے لئے غور کرو۔
- ١...... مرزا قادیانی (شہادۃ القرآن ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) میں تحریر کرتے
ہیں۔ پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے اختیار میں ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ قول سراسر غلط ہے۔ کیونکہ پیشین گوئیاں تو رمال، جفار، نجومی، کاہن وغیرہ سب ہی کیا کرتے ہیں۔ ایسی مشترک چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ جل شانہ ہی کے اختیار میں ہے صریح جھوٹ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ کیا مسیح موعود ایسا ہی جھوٹ بول کر لوگوں پر قبضہ حاصل کریں گے۔ مرزا قادیانی کی یہ دروغ بیانی قابل دید ہے۔
- ٢...... مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ وعید کی پیشین گوئی کا خوف سے ٹل جانا سنت اللہ ہے۔
- ٣...... وعید کی میعاد کا خوف سے ٹل جانے کا ثبوت قرآن وحدیث سے بتانا۔
- ٤...... اس کو اجماعی عقیدہ کہنا۔ یہ تینوں دعوٰی متعدد مقامات سے ثابت ہیں۔
مثلاً (انجام آتھم ص ٢٩ تا ٣٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨، ٢٩) دیکھو۔ حالانکہ یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں۔ نہ یہ اجماعی عقیدہ ہے اور نہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہے۔ بلکہ اس کا خلاف ثابت ہے۔ دیکھو فیصلہ آسمانی حصہ سوم۔
- ٥...... مرزا قادیانی (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) میں تحریر کرتے ہیں۔
علماء ہند کی خدمت میں نیاز نامہ
اے برادران دین و شرع متین آپ صاحبان میرے ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں ہے جو آج میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ میں کئی مقامات پر یہ تصریح درج کر دیا ہے۔ جس کو شائع کرنے پر سات سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔
پھر (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧) میں تحریر کرتے ہیں۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔
٨
پر اپنے مسیح کاذب کی دروغگوئی اور فریب دہی اور ان کا دعویٰ کوتاہ پر دکھلا چکا ہوں۔ اب اس کے جھوٹ کا نمونہ
ادۃ القرآن ص ٩٧، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) میں تحریر کرتے ہے۔ جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ ل سراسر غلط ہے۔ کیونکہ پیشین گوئیاں تو رمال، جفار، ایسی مشترک چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ جل شانہ ہے تو اور کیا ہے۔ کیا مسیح موعود ایسا ہی جھوٹ بول کر لوگوں یہ دروغ بیانی قابل دید ہے۔
کہ وعید کی پیشین گوئی کا خوف سے ٹل جانا سنت اللہ ہے۔ سے ٹل جانے کا ثبوت قرآن وحدیث سے بتانا۔ ہ کہنا۔ یہ تینوں دعوےٰ متعدد مقامات سے ثابت ہیں۔ ٢٩) دیکھو۔ حالانکہ یہ تینوں دعوےٰ محض غلط ہیں۔ نہ یہ اس کا ثبوت ہے۔ بلکہ اس کا خلاف ثابت ہے۔ دیکھو
الاوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٢) میں تحریر کرتے ہیں۔
آپ صاحبان میرے ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں عویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے منہ سے بنایا گیا ہو۔ بلکہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے استہ پر بہ تصریح درج کر دیا ہے۔ جس کو شائع کرنے پر ا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم راسر مفتری اور کذاب ہے۔
ص ١٩٧) میں تحریر کرتے ہیں۔ میں نے صرف مثیل مسیح ہے کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ یسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔
٨
(ازالۃ الاوہام) کی تحریر سے روشن ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی کو صرف مثیل مسیح کا دعویٰ تھا۔ جو لوگ مرزا قادیانی کو مسیح موعود خیال کرے وہ مطابق قول مرزا قادیانی کے کم فہم ہیں۔ کیونکہ مسیح موعود تو ایک ہی شخص آنے والے ہیں اور مرزا قادیانی اپنے جیسے دس ہزار تک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دے رہے ہیں اور مرزا قادیانی مسیح بن مریم بھی نہیں ہیں۔ جو شخص یہ الزام مرزا قادیانی پر لگاوے وہ مطابق فتویٰ مرزا قادیانی کے کذاب ومفتری ہے۔
اس کے بعد (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١) میں تحریر کرتے ہیں۔ مگر جب وقت آ گیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بہ تصریح درج کیا گیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اس دروغ گوئی کی کوئی حد ہے یا نہیں کہ پہلے تو اسی براہین احمدیہ کے الہامات سے انہوں نے اپنے کو مثیل مسیح سمجھا اور ازالۃ الاوہام میں صاف لکھ دیا کہ میں مسیح موعود نہیں ہوں۔ ایسا خیال کرنے والا کم فہم ہے اور پھر کشتی نوح میں اسی براہین احمدیہ کے الہامات سے اپنے آپ کو مسیح موعود خیال کر لیا اور غلط تحریر کر دیا کہ اس دعویٰ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ چونکہ مسیح موعود ایک ہی ہوں گے اور مرزا قادیانی پہلے لکھ چکے ہیں کہ میرے جیسے دس ہزار تک آ سکتے ہیں۔ اس لئے کشتی نوح والی تحریر میں یکدم نئی بات ہو گئی جو ان کی پہلی تحریر سے جھوٹ ہو جاتی ہے۔
٦ ......... (کشتی نوح ص ، خزائن ج ١٩ ص ٥٢) میں مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری ہی نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔
عزیزم ! دیکھو مرزا قادیانی اپنی پہلی تحریر میں مسیح بن مریم سے انکار کر رہے ہیں۔ جو شخص مرزا قادیانی کو مسیح بن مریم کہے۔ اس کو مرزا قادیانی مفتری اور کذاب کہہ رہے ہیں۔ اب تمہیں ایماناً دل پر ہاتھ رکھ کر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اپنے کانشنس سے جواب طلب کرو کہ ایسا شخص جس کے ہوش و حواس درست نہ ہوں۔ جس کو اپنی تحریرات کا خیال نہ ہو کہ کہیں کچھ لکھ دیا اور کہیں کچھ۔ جو شخص اپنے ایک ہی الہام کا مطلب کہیں کچھ کہتا ہے اور کہیں صریح اس کے مخالف بیان کرتا ہے۔ پھر جس الہام کے معنی وہ مسیح موعود سمجھے کیا وجہ ہے کہ یہ نہ کہا جائے کہ اس کے معنی یہ تھے کہ تو مسیح موعود نہیں ہے اور مرزا قادیانی نے غلطی سے اس کے معنی یہ سمجھ لئے کہ میں مسیح موعود
٩
ہوں۔ اب غور کرو کہ جس کے صریح اقوال اسے جھوٹا بتاتے ہوں وہ مسیح موعود ہو سکتا ہے؟ جب تعصب سے علیحدہ ہو کر خیال کرو گے تو ضرور دل یہی جواب دے گا کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے اور یہ بھی بتلاؤ کہ ان دونوں تحریروں میں سے کون سی تحریر کو جھوٹی تسلیم کرتے ہو۔ اگر ایک جھوٹی ہے تو پھر دوسری کے جھوٹی نہ ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی بدحواسی اور دیکھو۔ مرزا قادیانی خود ہی ابن مریم بھی بنے ہیں۔ (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”میں پہلے مریم بنایا گیا اور مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں ہے۔ بذریعہ اس الہام کے جو (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
ذرا غور کرو۔ یہ کیسے مہملات ہیں۔ جو مسیح موعود بننے کے لئے کئے گئے ہیں۔ کسی اور نبی اور رسول نے ایسی باتیں بنائی ہیں؟ انبیاء علیہم السلام کی شان ایسے مہملات سے مبرا ہے۔ ایسی ہی مہملات کے سنبھالنے کے لئے ایک منہاج نبوت بنایا گیا ہے جس کی حقیقت اور لغویت انشاء اللہ عنقریب ظاہر ہو جائے گی۔
اب یہ تو بتلاؤ! مرزا قادیانی کتنی مدت تک مریم رہے۔ اتنے دنوں تک کسی غیر محرم کے سامنے آتے جاتے تھے یا نہیں اور جب استعارہ کے رنگ میں وہ حاملہ تھے تو کوئی بوجھ حمل کا ان پر ہوا تھا یا نہیں اور جس وقت مریم سے عیسیٰ پیدا ہوئے کوئی تکلیف دردزہ کی ہوئی یا نہیں اور کچھ زمانہ تک نماز روزہ بھی معاف ہو گیا تھا یا نہیں۔ کیونکہ وہ زمانہ عورتوں کے معافی کا ہے۔ پھر عیسیٰ ہونے کے ساتویں دن بعد عقیقہ ہوا تھا یا نہیں۔ کیونکہ یہ ایک سنت ہے اور مسیح موعود سے سنت کا ترک ہونا محال ہے۔ اس عقیقہ کے دعوت میں کتنے لوگ شریک ہوئے تھے۔ بکرا، یا بکری ذبح کی گئی تھی یا نہیں اور پھر جب عیسیٰ ہو چکے اور اپنے کو ظلی عیسیٰ کہنے لگے تو اصلی عیسیٰ علیہ السلام کی سنت کو چھوڑ کر شادی کیوں کر لی اور شادی کرنے کے بعد آخر عمر میں ایک نو سالہ لڑکی پر عاشق کیوں ہو گئے۔ جذبہ عشق میں آکر عقل سلیم کو بھی خیر باد کہہ کر اس لڑکی کے پھوپھا و پھوپھی کو جو مرزا قادیانی کے سمدھی تھے، اور اس کے والد کو خوشامد چاپلوسی و دھمکی کے خطوط کیوں لکھنے گئے۔ شادی نہیں کر دینے پر اس کے پھوپھا کی لڑکی کو جو مرزا قادیانی کے لڑکے کی بیوی تھی اپنے بیٹے سے طلاق کیوں دلوانے لگے اور پھر طلاق نہیں دینے پر اپنے بیٹے کو عاق کیوں کر دیا اور عاق کر دینے پر ترکہ سے محروم کیوں کر دیا۔ یہ مسئلہ کس شرع کا ہے۔ کیا یہی شان مسیح موعود کی ہوگی؟ نہیں ہرگز نہیں۔
١٠
ہائے افسوس! مرزا قادیانی کی حالت پر کوئی مرزائی غور نہیں کرتا ہے اور دکھلانے والوں کو برے الفاظ کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ اپنے مسیح کاذب کی دروغگوئی ، مکاری ، فریب دہی کو ملاحظہ کرو کہ کس کس چال سے وہ اپنے کو مسیح موعود منوانا چاہتے ہیں اور نہ ماننے والوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اب اگر جواب میں کسی نے کچھ کہا تو اس نے جزاء سیئة سیئة پر عمل کیا۔
- ٧...... یہ بات ثابت کر دی گئی کہ پیشین گوئی کرنا سچے ہونے کی دلیل نہیں
ہو سکتی۔ بہت جھوٹے رمال پیشین گوئی کرتے پھرتے ہیں۔ پیشین گوئی کو نبوت کا نشان کہنا محض غلط ہے۔ مگر انہیں پیشین گوئیوں کو مرزا قادیانی اپنا نشان کہتے ہیں۔ اے عزیزو! تمہیں نہیں معلوم کہ پنڈت اور رمال پیشین گوئیاں کرتے پھرتے ہیں۔ پھر جو بات معمولی لوگ کرتے ہیں وہ کسی مقدس یا نبی کا نشان کیسے ہو سکتا ہے۔ ذرا تو سوچو۔
اس کے بعد ہمارے علماء نے یہ بھی دکھا دیا کہ اگر تمہاری غلط بات سمجھانے کے لئے صحیح مان لی جائے تو وہ پیشین گوئیاں جنہیں مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار اور نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا وہ بالکل غلط ثابت ہوئیں اور اس میں جو متعدد وعدے خداوندی مرزا قادیانی نے بیان کئے تھے وہ سب غلط ہوگئے۔ اس لئے بموجب ارشاد خداوندی مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ ان نصوص کا بیان متعدد رسالوں میں کیا گیا ہے۔ خصوصاً فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ ملاحظہ ہو:
- ٨...... جو کچھ میں نے بیان کیا اس کے لئے ضرور ہے کہ تم ہمارے علماء کے
رسالے دیکھو۔ مگر تمہارے مولوی نے ان کے دیکھنے کو منع کر دیا ہوگا۔ اس لئے میں مرزا قادیانی ہی کا قول پیش کرتا ہوں۔ اسے تو دیکھو کہ مرزا قادیانی اپنے صاف اقرار سے جھوٹے ہیں۔ (رسالہ البدر ص ٤، مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء) میں مرزا قادیانی کا یہ قول ہے کہ میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود، مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔
اے عزیز! یہ مرزا قادیانی کا کلام ہے۔ اس میں نہایت صاف طور سے مسیح موعود کے تین کام بتائے ہیں۔ پہلا کام عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنا۔ دوسرا کام تثلیث پرستی کی جگہ توحید
١١
پھیلانا۔ یعنی یہ نہیں کہ تثلیث کی جگہ بت پرستی کرائیں۔ بلکہ توحید پھیلائیں۔ تیسرا کام رسول اللہ ﷺ کی جلالت شان کا ظاہر کرنا۔
اب تم بتاؤ کہ مرزا قادیانی نے جو مسیح موعود کے تین کام بتائے تھے۔ ان میں سے ایک کام بھی کیا؟ خدا کے لئے ذرا سر جھکا کر غور کرو۔ تثلیث پرستی کا ستون توڑنا تو بہت بڑی بات تھی۔ ان کی وجہ سے تو سو دوسو عیسائیوں نے تثلیث پرستی سے توبہ بھی نہیں کی۔ ان کے اس قدر شور و غل سے سو پچاس بت پرست ایمان نہیں لائے اور توحید پرست نہیں ہوئے۔ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی جلالت شان کیا ظاہر کی۔ بلکہ اس کے برعکس اپنے اقوال سے آپ کی توہین ثابت کی اور ان کے مریدین کر رہے ہیں۔ مثلاً ضمیمہ انجام آتھم میں رسول اللہ ﷺ کی دو پیشین گوئیاں اپنی نسبت بیان کیں اور وہ دونوں جھوٹی ہوئیں۔ پھر کہیں رسول اللہ ﷺ کی غلط فہمی ثابت کی جاتی ہے۔ دیکھو (القائے شیطانی ص ٥٤) اے عزیز! آنکھیں کھول کر دیکھو کہ مرزا قادیانی جو کام مسیح موعود کو بتایا تھا وہ ہرگز نہیں ہوا۔ بلکہ برعکس کیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ان کے قول کے بموجب تم انہیں جھوٹا نہیں کہتے اور ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی نہیں دیتے۔ یہ کیا اندھیر ہے۔ اب میں تمہیں دوسری طرح سے سمجھاتا ہوں۔ خدا کے لئے غور سے دیکھو۔
مرزا قادیانی کی تحریر سے روشن ہورہا ہے کہ جولائی ١٩٠٦ء تک مرزا قادیانی سے یہ کام انجام نہیں پایا تھا اور اس وقت تک یہ علت غائی ظہور میں نہ آئی تھی۔ یعنی اس وقت تک نہ تثلیث پرستی ٹوٹی اور نہ توحید پھیلی تھی۔ اسی وجہ سے صاف کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ علت غائی میری زندگی میں ظہور میں نہ آئی تو میں جھوٹا ہوں۔
مرزا قادیانی ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء میں مر گئے۔ اب یہ تو بتلاؤ جولائی ١٩٠٦ء سے مئی ١٩٠٨ء تک مرزا قادیانی نے عیسیٰ پرستی کے ستون کو کیا توڑا اور اس کی جگہ پر کہاں توحید پھیلائی اور کیا حمایت اسلام کی؟
اب غالباً تمہارے بہکانے والے تمہیں اس طرح بہکائیں گے کہ مرزا قادیانی نے ایک رسالہ لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ اس سے تثلیث باطل ہوگئی اور تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ گیا۔ میں کہتا ہوں کہ کیسی نادانی کی بات ہے۔ تم بھی غور کرو کہ چند اوراق سیاہ کرنے سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ گیا اور اس کے ماننے والے نہ رہے۔ تثلیث کا بطلان تو اگلے علماء نے بہت کچھ کیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح کی موت بھی عیسائیوں کی اور یہود کی کتاب سے ثابت کی ہے۔ پھر اس سے کیا وہ مسیح موعود ہوگئے۔ تمہیں اور تمہاری جماعت کو تو
١٢
وہ کام دکھانا چاہئے۔ جو مسیح موعود سے مخصوص ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں۔ اگر تثلیث کا بطلان دیکھنا چاہتے ہو تو مولوی رحمت اللہ مرحوم کی کتابیں دیکھو، جو مرزا قادیانی کے وجود سے قبل لکھی گئی ہیں اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت چاہتے ہو تو مولوی چراغ علی مرحوم اور سرسید کی تحریریں دیکھو۔ انہوں نے عیسائیوں کی عبرانی اور یونانی کتابوں سے ثابت کیا ہے اور قرآن شریف سے بھی، مرزا قادیانی نے تو کہیں سے چرا کر لمبی چوڑی باتیں بنائی ہیں۔ جن کا رد مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے کر دیا ہے، اور لطف یہ ہے کہ تمہارے بہکانے والوں کے جواب کا رد تو خود مرزا قادیانی کی تحریر سے ظاہر ہے کیونکہ تثلیث کا ستون توڑنے کے لئے ١٩٠٦ء میں وعدہ کر رہے ہیں اور اشاعت توحید اور حمایت اسلام کر دکھانے کا بھی وعدہ دے رہے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کے ثبوت میں جو (ازالۃ الاوہام ص ٢٤٦) وغیرہ میں لکھا ہے وہ اس دعویٰ کے پندرہ برس پہلے لکھا جا چکا ہے۔ کیونکہ (ازالۃ الاوہام، ١٨٩١ء) میں شائع ہوا ہے۔ اگر اس کا لکھنا ستون کو توڑنا تھا تو مرزا قادیانی یہ لکھتے کہ میں نے ستون توڑ دیا۔ مگر یہ نہیں لکھا۔ بلکہ آئندہ توڑنے کا وعدہ کیا۔ جس سے بہکانے والوں کا رد مرزا قادیانی ہی نے کر دیا۔ اس کے علاوہ میں تم سے ایک بڑے پایہ کی بات کہتا ہوں۔ جو تمہارے بہکانے والوں کے خیال میں بھی نہ ہو گی۔ وہ یہ کہ تثلیث پرستوں کا یہ اعتقاد تو نہیں ہے کہ جب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آئے۔ جس کو انیس سو برس ہوتے ہیں۔ اس وقت سے تثلیث شروع ہوئی اور ان کے دنیاوی وجود پر اس کا ثبوت منحصر ہے۔ جب وہ پیدا نہ ہوئے تھے اس وقت تثلیث نہ تھی۔ اسی طرح اگر وہ مر جائیں تو تثلیث باطل ہو جائے۔ یہ خیال نہایت ناواقفی اور کم علمی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ تثلیث پرستوں کے خیال میں تو تثلیث خدا تعالیٰ کی ذات میں داخل ہے۔ اس لئے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیاوی وجود سے پہلے ان کے روحانی وجود سے تثلیث قائم تھی۔ اسی طرح اگر ان کا جسمانی وجود نہ رہے تو ان کے خیال کے بموجب ان کے روحانی وجود سے تثلیث قائم رہے گی۔ پھر ان کی موت ثابت کرنے سے تثلیث کا ستون کیسے ٹوٹ گیا۔ یہ نہایت صاف بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے ان کی خیالی تثلیث کا بطلان ہرگز نہیں ہوتا۔ اس لئے تمہاری جماعت کا مذکورہ جواب بالکل غلط ہے۔ کئی وجہ سے اس کی غلطی ظاہر ہے اور مرزا قادیانی بالیقین اپنے مقرر کردہ معیار سے جھوٹے ہیں۔ اگر تمہاری جماعت کو ان کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے تو ہماری باتوں کا جواب دے اور جو کام مسیح موعود کے خود مرزا قادیانی نے اس قول میں بیان کئے ہیں ان کا وجود دکھلائے۔ انہوں نے توحید کہاں پھیلائی؟ کون سے مشرکوں کو انہوں نے مسلمان بنایا؟
١٣
اسلام کی حمایت انہوں نے کیا کی؟ اے عزیز ! کیا یہی حمایت کی کہ دنیا میں جو چالیس کروڑ مسلمان تھے ان کو کافر کر کے دنیائے اسلام کو گویا ناپید کر دیا۔ یہ اسلام کی تائید ہوئی۔ سبحان اللہ ! اس پر غور کر کے کچھ شرم کرو اور یہ کہو کہ مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب تم ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی کیوں نہیں دیتے۔ اس میں تمہیں اور تمہاری جماعت کو کیا عذر ہے۔ جو جھوٹا عذر کر سکتے تھے اس کا جواب دیا گیا اور نہایت شافی جواب دیا گیا۔ اب بھی اگر اس سچی شہادت دینے میں کوئی عذر ہو تو ضرور بیان کرو میں اس کے سننے کا مشتاق ہوں۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اس قول نے مرزا قادیانی کے سارے نشانات ہی بیکار کر دیئے۔ اب تو تمہارے مرشد بے نشان رہ گئے اور اپنے اقرار سے جھوٹے ہو گئے۔ پھر ایسے شخص کی سچائی قرآن مجید سے ثابت کرنا چاہتے ہو۔ شرم شرم!
اس کے بعد ایک اور قول بھی دیکھو جس سے مذکورہ قول کی شرح ہوتی ہے اور ان کے جھوٹے ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٠ تا ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٤ تا ٣١٩) میں تحریر کرتے ہیں۔ اگر سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مر جانا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جاوے اور دنیا اور رنگت نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔
یہ مرزا قادیانی کا قول ہے۔ اس پر خوب نظر کرو۔ اس میں مرزا قادیانی اپنی صداقت کے ثبوت میں تین علامتیں بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ سات برس کے اندر اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر ہوں۔ دوسری یہ کہ اس سات برس کی مدت میں مسیح کے ہاتھ سے یعنی میرے ذریعہ سے ادیان باطلہ یعنی جھوٹے دینوں کا مثلاً عیسائی، ہنود وغیرہ کا مذہب مر جائے گا۔ تیسری یہ کہ عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے گا اور دنیا اور رنگ پکڑ جائے گی۔ یہاں مرزا قادیانی نے نہایت صفائی سے مسیح موعود کے کام اور ان کے نشانات بیان کئے۔ جس سے پہلے قول کی بخوبی تشریح ہوگئی اور معلوم ہوگیا کہ تثلیث پرستی کے ستون توڑنے سے ان کا یہ مقصود تھا کہ تثلیث پرستوں کا مذہب مردہ ہو جائے گا اور عیسائی مسلمان ہوں گے۔ یہاں یہ خوب خیال رہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود کا کام بتاتے ہیں اور حدیثوں سے بھی مسیح موعود کا یہی کام معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ حقیقت المسیح میں وہ حدیث لکھی ہے اور جو دینی کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کے لئے
١٤
معین ہو چکا ہے وہ ہر طرح انہیں کرنا ضرور ہے۔ وہ کریں گے۔ خلق انہیں تکلیف دے اور ان کی سنے یا نہ سنے۔ بہرحال اس علامت کا پایا جانا مرزا قادیانی ضروری بتاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر اس سات برس کی مدت میں ان باتوں کا ظہور نہ ہو تو میں اپنے تئیں جھوٹا خیال کرلوں گا۔ مرزا قادیانی کا یہ قول ٢٢؍ جنوری ١٨٩٧ء کا ہے۔ اس کے بعد پورے گیارہ برس زندہ رہے۔ اب ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ساتھ برس کیا گیارہ برس میں بھی ان علامتوں کا نشان بھی نہیں پایا گیا۔ اے عزیزو! تم بھی آنکھیں کھول کر دیکھو کہ اسلام کی خدمت میں ان کا کیا اثر نمایاں ہوا؟ ان کی وجہ سے کتنے آریہ اور عیسائی وغیرہ ایمان لائے؟ کون سا جھوٹا دین ان کی وجہ سے مردہ ہوا؟ دنیا نے کون سی اچھی رنگت پکڑی؟ یہ تو نہایت ظاہر ہے کہ یہ کچھ نہیں ہوا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم انہیں جھوٹا خیال نہیں کرتے اور اپنی عاقبت برباد کر رہے ہو۔ کیا تمہیں اب بھی خیال نہ ہوگا کہ مرزا قادیانی کی صداقت کے ثبوت میں جو آیتیں پیش کی گئی ہیں۔ وہ تمہیں اور عوام کو دھوکا دیا گیا ہے۔ بھلا ایسے جھوٹے شخص کی صداقت قرآن شریف میں ہو سکتی ہے؟ جس کا جھوٹا ہونا خود اس کے متعدد اقراروں سے ظاہر ہو۔ تم اس کا یقین کرو کہ مسیح موعود کی جو علامتیں حدیث میں آئی ہیں اور حقانی علماء نے لکھی ہیں وہ مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں پائی گئیں اور خدا کا شکر ہے کہ اس نے ان کی زبان سے اس کا فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد بھی مرزا قادیانی کو سچا نبی اور مسیح موعود مانتے رہنا کس قدر بے ایمانی اور بددیانتی کی بات ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی میں وہ حالت نہیں پائی گئی جو مسیح موعود کے لئے حدیثوں میں آئی ہے اور وہ خود بتلا رہے ہیں۔ بلکہ مطابق اپنے پختہ اقرار کے جھوٹے ثابت ہو گئے۔
غرضکہ اس نومبر میں اچھی طرح سے دکھلا دیا گیا کہ مرزا قادیانی مطابق معیار قرآن مجید وحدیث کے اور اپنے قول وفعل اور اقرار سے سچے کاذب ثابت ہو رہے ہیں۔ پھر ایسے مسیح کاذب کو مسیح صادق کہے جانا ”ختم اللہ علیٰ قلوبھم“ کی نشانی نہیں ہے تو کیا ہے۔ یہی لاجواب اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں اور مرزائی جماعت ان کے جواب سے عاجز ہے۔ اس لئے ایک خواب کو پیش کر کے عوام کو دھوکا دینا چاہتی ہے۔
تمہاری تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو خواب حضرت ابو احمد رحمانی مدفیوضہم نے دیکھا تھا اور جس کو تم گندگی سے تعبیر کرتے ہو اور مصنف اسرار نہانی نے اپنی تمام کتاب میں اسی جملہ کے
١؎ یعنی جنہوں نے سچی بات کو نہ مانا اور اپنے جھوٹے مذہب پر اڑے رہے اور ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے۔ یہ حق بات کبھی نہ مانیں گے۔ ١٥
اور ان کی ولایت اور درویشی کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنی طرف سے معیار قرار دے لیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مصنف اسرار نہانی کو جہل مرکب کے علاوہ تعصب اور طمع دنیا نے اندھا کر دیا اور حضرت اقدس کے لاجواب رسالوں کو دیکھ کر وہ اس کے معین اور مددگار سب جواب سے عاجز ہو کر یہ رسالہ لکھا تا کہ حضرت مؤلف مدفیضہم کی توجہ دوسری طرف پھرے اور ہم کو اعتراضوں سے مہلت ملے۔ عوام بھی دوسری طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس کے ساتھ انہیں یہ بھی امید تھی کہ قادیان میں ہماری قدر و منزلت ہوگی۔ چنانچہ ان کی امید پوری ہوئی اور پچاس روپے کی تنخواہ جو ان کی حیثیت سے بہت زیادہ ہے مقرر ہو گئی اور دنیا میں انہیں اس کا نتیجہ تھوڑے دن کے لئے مل گیا۔ جیسا اس وقت بہت بیدینوں اور کافروں کو مل رہا ہے۔ آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ دیکھیں گے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر تمہیں اور انہیں خوف خدا کے ساتھ کچھ علم ہوتا تو ہرگز ایسا رسالہ شائع نہ کرتے اور نہ تم ایسا خط میرے پاس بھیجتے۔ چونکہ تم لوگوں کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے۔ اس لئے تم لوگوں کو اچھی بات بھی بری معلوم ہوتی ہے۔ دیکھو اور خوب غور سے دیکھو۔ اس کو میں واضح طور سے بیان کر دیتا ہوں۔ شاید اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو توبہ کی توفیق عنایت فرماوے۔
خواب کی تعبیر نہایت مشکل ہے۔ اسی وجہ سے اگلے بزرگوں میں بعض بزرگ تعبیر دینے میں مشہور ہیں۔ مثلاً ابن سیرینؒ۔ اگر مؤلف اسرار نہانی کے مثل عام لوگ خواب کی تعبیر دے سکتے تو یہ خصوصیت کیوں ہوتی کہ ابن سیرین خواب تعبیر دیتے ہیں۔ بعض خوابوں کی تعبیر بالکل الٹی ہوتی ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ جو کوئی اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو مردہ دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہوگی۔ آپ کے مرزا قادیانی بھی جا بجا لکھتے ہیں کہ بعض وقت خواب کی تعبیر الٹی ہوتی ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ ایک ہی خواب کی تعبیر دیکھنے والے کے لحاظ و حالت سے مختلف ہوتی ہے۔ اس قسم کے خواب کی مثالیں لکھی ہیں۔ مگر یہاں لکھنا فضول معلوم ہوتا ہے۔ البتہ دو خواب اور ان کی عجیب و غریب تعبیریں نقل کرتا ہوں۔ تم دیکھو۔
حضرت باوا فرید گنج شکر ابن سیرین کی تعریف کرتے ہیں اور بعض خواب لکھتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک شخص ماہ رمضان میں آپ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ انگشتری میرے ہاتھ میں ہے اور میں لوگوں کے منہ اور عورتوں کے فرجوں پر مہریں لگا رہا ہوں۔ ابن سیرین نے کہا کیا تو مؤذن ہے۔ کہا ہاں فرمایا پھر تو اذان ٹھیک وقت پر کیوں نہیں دیتا۔ ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ روغن تلوں سے نکالتے ہیں اور میں پھر اسی تلوں میں ملا دیتا ہوں۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ جو عورت تیرے گھر میں ہے وہ ایسا نہ ہو کہ
١٦
تیری ماں ہو تو اچھی طرح تحقیقات کر۔ وہ شخص گھر میں آیا اور اس کی تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت اس کی والدہ تھی۔ اب ان خوابوں میں ان کی تعبیر میں غور کرو کہ بزرگوں نے اسے عجیب وغریب لکھا ہے اور حضرت اقدس کا خواب تو ایسا مشہور اور مستند ہے کہ بہت بزرگوں سے اس خواب کا عمدہ ہونا بیان کیا ہے۔ اگر خوف خدا اور حق طلبی ہے تو دیکھو اور انصاف کرو۔ اس سے تمہارے بہکانے والے کی حالت معلوم ہو جائے گی۔
اول یہ بات نہایت مشہور ہے کہ بی بی زبیدہ خاتون نے یہ خواب دیکھا تھا کہ میں لیٹی ہوں اور انسان اور جانور چلے آتے ہیں اور ہر ایک مجھ سے صحبت کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ جس کی تعبیر حضرت امام مالکؒ نے یہ بتائی تھی کہ اس عورت سے کوئی ایسا کام ہوگا جس سے کثرت سے لوگ و جانور فیضیاب ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بی بی زبیدہ خاتون نے مکہ معظمہ میں نہر بنوائی۔ جہاں شیریں پانی کی نہایت ضرورت تھی۔ جس کی وجہ سے ساکنان مکہ معظمہ اور تمام دنیا کے حاجی اور چرند و پرند فیضیاب ہوتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ ظاہراً یہ خواب کیسا برا معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کی تعبیر کیسی عمدہ ہے اور ایسا خواب دیکھنے والے سے کس قدر فیض جاری ہوا۔
دوسرے حضرت مخدوم شرف الدین بہاریؒ جو اپنے وقت کے قطب الاقطاب تھے۔ ارشاد السالکین میں تحریر فرماتے ہیں:۔ ”تا سالک سر برادر خود را نہ برد مسلمان نشود و تا بمادر خود جفت نشود مسلمان نشود“ حضرت ممدوح اس خواب پر ولایت و مسلمانی کو منحصر فرماتے ہیں۔ یعنی جو کامل مسلمان اور ولی ہوگا وہ ضرور اس خواب کو دیکھے گا۔
اب اپنی جماعت پر افسوس کرو کہ کیسی عمدہ بات کو گندہ بتا رہی ہے اور ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک یہاں تک کہ جو مدعی کے صحابی اور خلیفہ ہیں۔ ان باتوں کو نہیں جانتے جو بڑے بڑے اولیاء اللہ نے لکھی ہیں اور اپنے گروہ کی بیہودہ گوئی اور غلط بیانی کو نہیں روکتے۔ اس سے ان کی حالت بھی خوب معلوم ہو جاتی ہے۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ جنہیں تمہارے مولوی عبد الماجد دوسری ہزار کا مجدد اور نبی مانتے ہیں وہ اپنے مکتوبات میں حضرت مخدوم شرف الدین صاحب بہاریؒ کے مذکورہ قول کی شرح میں بہت کچھ لکھتے ہیں۔ مکتوبات (مکتوب امام ربانی ج ٣ ص ٣٣) دیکھو۔ اگر کچھ خوف خدا ہے۔ میں طوالت کے خوف سے نقل نہیں کرتا۔ اب دل میں غور کرو کہ ان بزرگوں کے مقابلہ میں میاں خلیل اور مولوی عبد الماجد کی کچھ ہستی ہے؟ جو ان بزرگوں کو چھوڑ کر ان کی بات مانی جائے۔
١٧
حضرت جناب شاہ محمد آفاق صاحبؒ اس خواب کی یوں تعبیر فرماتے ہیں کہ ”جفت مادر“ کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح سے ماں کے پیٹ سے انسان کی پیدائش ہے اور ماں اس کی اصل ہے۔ اسی طرح کل انسانوں کی اصل مٹی ہے۔ اس لئے ماں کے ساتھ صحبت کرنے سے یہ اشارہ ہے کہ اپنے اصل سے جاملا یعنی خاک ہوگیا اور خاک ہونے کے بعد سالک کمال کو پہنچتا ہے۔ دیکھو کیسی صاف بات فرمائی ہے۔
تشریح قول حضرت شاہ محمد آفاق صاحبؒ جب کوئی انسان مرد کامل بننا چاہتا ہے اور توفیق ربانی اس کے شامل حال ہوتی ہے اور ”الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا“ کے مطابق پوری سعی کرتا ہے اور مطابق ارشاد خداوندی ”واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا“ کے ہر علائق وعوائق کو چھوڑ کر اس معبود حقیقی کی طرف رجوع ہو جاتا ہے اور عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے اور ”موتوا قبل ان تموتوا“ کے درجہ پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی کامل طور سے اپنے وجود بشریت کی نفی کر لیتا ہے اور پورا متقی ہو جاتا ہے تو اس وقت مطابق ارشاد خداوندی ”لہم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا“ اس کو دنیاوی زندگی میں بشارتیں دی جاتی ہیں۔ یہ بشارت بہت ذریعہ سے ہوتی ہے۔ کبھی بذریعہ الہام، کبھی بذریعہ کشف کے کبھی بذریعہ رویا صادقہ یعنی خواب وغیرہ وغیرہ منجملہ بشارتوں کے ایک بشارت یہ بھی ہے کہ بذریعہ خواب دکھایا جاتا ہے کہ تو اپنی اصل مٹی سے مل گیا۔ یعنی اولیاء اللہ میں شامل ہوگیا۔ چونکہ صحبت کرتے وقت دو انسان مل جاتے ہیں۔ غیریت باقی نہیں رہتی اور چونکہ مرد کامل بھی اپنے وجود بشریت کو چھوڑ کر اپنی ہستی کی نفی کر چکا ہے اور اپنے اصل یعنی خاک سے جاملا ہے۔ اس لئے اس کو اپنے اصل یعنی ماں کے ساتھ جس کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے جو اس کی مجازی اصل ہے صحبت کرتے ہوئے دکھلایا جاتا ہے۔ حالانکہ اس مجازی اصل سے ملنے کے معنی حقیقی اصل مٹی سے ملنا مراد ہوتا ہے۔ چونکہ تمہاری جماعت بڑکی اور بزرگوں کے حالات سے بے بہرہ ہے۔ اس لئے ان باتوں سے واقف نہیں۔
جب خودی اپنی مٹاتے ہیں خدا ملتا ہے
جب فنا اپنے کو کر دیتے ہیں عشاق تمام
پھر ہمیشہ کے لئے ان کو بقا ملتا ہے
اعلیٰ حضرت جناب سیدنا مولانا شاہ فضل رحمن صاحب قدس سرہ العزیز نے بھی یہی خواب دیکھا تھا۔ حضرت موصوف ایسے ولی کامل گزرے ہیں کہ آپ کی ولایت کا ڈنکا ہندوستان
١٨
کے علاوہ عرب سے عجم تک بج گیا اور تمام ملکوں کے لوگ آ کر مرید ہوئے۔ ایک زمانہ آپ کو قطب دوران غوث وقت تسلیم کر رہا ہے۔ جس کے ثبوت میں صرف اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ وہاں سے نہ کوئی اشتہار بازی کی جاتی تھی اور نہ کوئی ماہواری رسالہ شائع ہوتا تھا اور نہ کسی کو بذریعہ خطوط بلایا جاتا تھا۔ (جیسے کہ مرزا قادیانی اپنے مشہور ہونے کے لئے کارروائیاں کیا کرتے تھے) اس پر بھی حضرت موصوف کے یہاں روزانہ اتنے لوگ جاتے تھے اور فیض حاصل کرتے تھے کہ مرزا قادیانی کو کبھی خواب میں بھی نصیب نہ ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ وہاں لوگوں کے رہنے کی جگہ بھی نہ تھی۔ محض تھوڑی سی جگہ میں بڑے بڑے امیر الامراء غریبوں کے ساتھ رہ کر دال روٹی کھا کر وہاں سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتے تھے۔ یہ آپ کے ولی کامل ہونے کا اثر تھا کہ لوگوں کے قلوب خود بخود کھنچے چلے آتے تھے۔ یہ بہت بڑی کرامت آپ کی تھی۔ جس سے کوئی مرزائی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ آپ غیر ملکوں میں بھی بہت ہی مشہور تھے۔ چنانچہ آپ کے وصال کے بعد امام مدینہ منورہ نے منبر پر چڑھ کر اعلان کیا کہ حضرت مولانا فضل رحمن صاحب قطب الہند کا وصال ہو گیا ہے۔ ان کے جنازہ کی نماز ہونی چاہئے۔ چنانچہ سب لوگوں نے آپ کے جنازہ کی غائبانہ نماز مدینہ منورہ میں پڑھی۔
غرضیکہ یہ بات پوری طور سے ثابت ہو گئی کہ ایسا خواب دیکھنے والی ولی کامل خدا کا بہت بڑا دوست ہے۔ اس کا ثبوت ہر وہ جس کی آنکھیں ہیں۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ حضرت سیدنا مولانا محمد علی صاحب قبلہ مدظلہم ایک گوشہ میں بیٹھے ہیں۔ نہ اپنی تعریف کا اشتہار کسی وقت دیا نہ زبانی کسی قسم کا دعویٰ ہے نہ کسی طریقہ سے کسی سے چندہ مانگا۔ (جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے لئے اختیار کیا تھا) مگر اللہ تعالیٰ مشہور کر رہا ہے اور سارے کاموں کا کفیل ہے۔ خود بخود ہزاروں ہزار مخلوقات حضور کی خدمت مبارک میں آتی ہے اور اپنے اپنے استعداد کے مطابق فائدہ دینی و دنیاوی حاصل کیا کرتی ہے۔ بعض دفعہ دنیا داروں پر ڈانٹیں بھی پڑتی ہیں۔ مگر مخلوق ہے کہ مانتی ہے جوق در جوق چلی آتی ہے اور فیض حاصل کر رہی ہے۔ یہ آپ کی ولایت کا اثر اور ولی کامل ہونے کا نہایت کھلا ہوا ثبوت ہے۔ خدا نے جن کے دلوں میں ایمان کی روشنی عنایت فرمائی ہے وہ دیکھتے ہیں اور فیض حاصل کیا کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ ”ختم اللہ علی قلوبھم“ کے مصداق ہو چکے ہیں۔ انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ درحقیقت وہ اندھے، بہرے گونگے ہیں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”صم بکم عمی فھم لا یعقلون“ اس جگہ پر ایک گودام دار اسمی پنوخان کا خط جو انہوں نے ایک خواب دیکھنے کے بعد حضرت اقدس کے پاس میاں عبدالرحیم ساکن گوگری سے
١٩
لکھوا کر بھیجا ہے۔ نقل کیا جاتا ہے۔ جس کے دیکھنے سے حضرت اقدس کی کرامت اور گروہ مرزائیہ کی گمراہی کا پورا پتہ چلتا ہے۔ وہ خط یہ ہے۔
اسرار نہانی کے متعلق ایک خوفناک خواب
فرقہ قادیانی سے دو شخص مقام کاس نگر میں ایک گودام دار چرسہ کے پاس پہنچے اور ایک کتاب موسومہ اسرار نہانی مفت گودام دار صاحب کو اس نے دی اور زبانی بھی اپنی بہت کچھ صفائی دکھلائی۔ یہاں تک کہ گودام دار صاحب کے عقیدہ میں بھی خرابی پیدا ہوگئی۔ خدا کی شان کہ چند روز کے بعد انہوں نے یعنی گودام دار صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ ایک دریا بہت بڑا ہے اور میں پار اترنا چاہتا ہوں۔ مگر گھاٹ پر دو بوچے ۔ منہ کھولے ہوئے بیٹھے ہیں اور مجھ کو نگل جانے کو چاہتے ہیں۔ میں بہت پریشان کھڑا تھا کہ اس اثنا میں حضرت افضل الفضلاء اکمل الکملا جناب مولانا سید محمد علی صاحب عم فیضہم باشوکت و شان تشریف فرما ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ جوان خوف مت کھاؤ۔ اڑ کر پار ہو جاؤ۔ اس ارشاد کے وقت حضور نے اس نحیف کے پشت پر ہاتھ بھی پھیرا۔ خدا کی شان کہ میں اڑ کر دریا پار ہو گیا اور ان بوچوں سے نجات حاصل ہو گئی۔ اس کی صبح سے ہمارا عقیدہ جناب مولانا صاحب کی طرف خوب درست ہو گیا اور سمجھ گیا کہ کم بخت وہ دونوں قادیانی در حقیقت دو بوچے تھے جو مجھے کھا جانا یعنی میرے ایمان کو لینا چاہتے تھے اور بہکا کر جہنم میں ڈالتے تھے۔ مگر حضرت اقدس نے خدا کے فضل سے دستگیری فرما کر اس سے چھڑایا۔ میں مولانا کا مرید نہیں ہوں۔ مگر خدا نے چاہا تو عنقریب حاضر خدمت ہو کر قدم بوسی حاصل کروں گا۔ (راقم عبد الرحیم ساکن گوگری )
اے عزیز! تم اس خط کو مکرر پڑھو اور غور کرو کہ ہمارے حضرت اقدس کی یہ کھلی کرامت ہے۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ اگلے بزرگوں نے جو مذکورہ خواب کی تعبیر بیان کی ہے وہ نہایت صحیح ہے۔ یعنی اس خواب کا دیکھنے والا کامل اولیاء اللہ میں ہے اور جو ان کے مخالف ہیں وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ ان سے ایسا ہی بچنا چاہئے ۔ جیسے انسان کو بوچہ سے بچنا چاہئے اور یہ بھی اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بچنے کے لئے حضرت اقدس ہی کا دامن پکڑنا ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں کے طفیل سے ان دینی دشمنوں سے بچا سکتا ہے۔ اے عزیز اگر ایسی باتیں بھی دیکھ کر تمہارا ایمان درست نہ ہو تو بڑی افسوس کی بات ہے۔ خدا سے ڈرو اور بری صحبت سے بچو۔
حضرت مولانا یعقوب چرخی قدس اللہ سرہ جو متقدمین کے اکابر اولیاء اللہ میں سے ہوئے ہیں اپنے رسالہ انیسیہ کے ص ٣٥ میں تحریر فرماتے ہیں۔
٢٠
از انم گبر مے خوانند کز مادر زنا کردم
ترجمہ: جس ماں سے کہ میں پیدا ہوا۔ دوسری مرتبہ اس سے جفت ہوا۔ اس وجہ سے مجھ کو گبر لوگ کہتے ہیں کہ میں نے ماں سے زنا کیا۔
ظاہراً مفہوم تو اس کا جو ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے ہر بے علم شخص الزام لگا سکتا ہے۔ مگر حقیقت کی نظر سے دیکھئے۔ فرماتے ہیں کہ ماں دراصل خاک ہے۔ جس سے میری طینت ہوئی اور میں پیدا ہوا۔ اب دوبارہ اسی خاک سے ملنا کمال انکساری کی دلیل ہے جو بہر صورت مستحسن ہے۔ چنانچہ مولانا خود فرماتے ہیں۔ ”مراد زین مادر طبیعت ست و بندہ بترک اختیار خود تفویض جزئیات و کلیات بخدا بمقام ’بی یسمع و بی یبصر می رسید“ حضرت مولانا ابو احمد رحمانی مدفیوضہم پر بھی یہی اعتراض مرزائی لگاتے ہیں۔ حضرت ممدوح تو اس کا کچھ جواب نہیں دیتے ہیں اور خاموش ہیں۔ مگر حضرت مولانا یعقوب چرخی رحمہ اللہ علیہ ایسے الزام لگانے والوں کو گبر کے لفظ سے یاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ اسی شعر سے ظاہر ہوتا ہے۔ سچ ہے۔
میلش اندر طعنہ پاکان برد
خود حضرت رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ میں سونے کا کنگن پہنے ہوئے ہوں۔ حالانکہ مرد کو سونے کا کنگن پہننا حرام ہے۔ گو یہ خواب بظاہر برا معلوم ہوتا ہے۔ مگر تعبیر اس کی اچھی ہے۔ جس کی تشریح حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ طوالت کے خیال سے چھوڑتا ہوں۔
غرض بزرگان دین کے اقوال اور مذکورہ دونوں خواب اسرار نہانی کے مؤلف کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں۔ مرزائیوں کی بے علمی پر سخت حیرت ہوتی ہے کہ ایسی مشہور بات بھی نہیں جانتے ہیں اور ایسے مبارک خواب کو گندگی اور جھوٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ افسوس تو اس پر زیادہ ہے کہ مولوی عبد الماجد صاحب مرزائی بھی ان بے علموں کو نہیں سمجھاتے ہیں۔ ہاں وہ کیوں سمجھانے لگے۔ وہ تو خود ان سب باتوں سے بے علم ہیں۔ انہیں تصوف کی باتوں سے کیا علاقہ۔ ان کی کتاب القاء شیطانی سے ان کی دیانت و قابلیت کا پتہ چلتا ہے۔
(رسالہ انوار ایمانی و محکمات ربانی وصحیفہ رحمانیہ نمبر ١٢٢٨)
٢١
تم اور مصنف اسرار نہانی ان سب باتوں سے بے خبر ہو، اس کو دیکھ کر آئندہ کے لئے متنبہ ہو جاؤ۔ بلکہ مصنف اسرار نہانی کو اپنے رسالہ کی تردید کر دینی چاہئے۔ مگر اب تو اس کی بدولت پچاس روپے ماہوار کے نوکر ہو گئے۔ اب کیوں لکھیں گے۔ اب تو انہیں صرف گمراہ کرنے کے لئے معقول تنخواہ ملتی ہے۔
تم لکھتے ہو کہ محمدی بیگم کا باپ پیش گوئی کے مطابق اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ بعد اس کے مرنے کے اس کے خاندان کے لوگ چلا اٹھے اور مرزا قادیانی سے معافی اور دعاء کے لئے خط پر خط لکھنے لگے۔ کئی شخص اس خاندان کے احمدی ہو گئے اور کئی شخص اپنی حالتوں میں تبدیلی پیدا کرتے گئے اور خود اس کا شوہر جس نے چند ہی ماہ پہلے مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو جھوٹا سمجھ کر نہایت دلیری سے نکاح کر لیا تھا۔ بعد مرنے اپنے سسر کے وہ بھی گھبراتا ہے اور لوگوں سے خط حضرت مرزا قادیانی کو معافی اور دعاء کے لئے لکھواتا ہے اور مرزا قادیانی کو ولی اور بزرگ یقین کرنے لگا اور مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک اسی یقین پر رہا۔ جیسا کہ اس کے خط سے ظاہر ہوتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں نے اپنی حالتوں میں تبدیلی کر لی۔ اس لئے اس پر سزا کا حکم جاری نہ رکھا گیا۔ یعنی مرنے سے بچ گیا اور جب وہ مرنے سے بچ گیا۔ اس لئے نکاح آسمانی بھی ٹل گیا۔
عزیزم خوب دل لگا کر سنو۔ ان سب باتوں کا نہایت ہی عمدہ جواب انوار ایمانی، فیصلہ آسمانی، ہر سہ حصہ اور انجم الثاقب وغیرہ میں اچھی طرح دیا جا چکا ہے۔ اگر تم اُن سب کتابوں کو غور سے پڑھے ہوتے تو ہرگز ایسا خط ہمارے پاس نہیں لکھتے۔ میں تمہیں کہتا ہوں کہ ان سب کتابوں کو بغور پڑھو۔ ان سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے بالکل غلط اور نہایت بناوٹ ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریروں کے مطابق احمد بیگ کے داماد کا مرنا اور اس کی بیٹی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضرور ہے۔ یہ خدا کا وعدہ کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ مگر چونکہ تمہاری بہی خواہی مجبور کرتی ہے۔ اس لئے محض مختصر طور سے آنعزیز کو سمجھانے کی غرض سے تحریر کرتا ہوں۔
مرزا قادیانی (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٧، ١٨٨٨ء) میں الہاماً پیش گوئی کرتے ہیں کہ اس قادر مطلق نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی دختر کلاں کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور اگر احمد بیگ نے اس نکاح سے انحراف کیا تو یہ لڑکی جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور آخر کار وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آوے گی۔ اس جگہ پر غور کرو کہ ان دونوں وعیدوں میں شوہر کے مرنے کی مدت اڑھائی سال اور اس کے والد کے مرنے کی مدت تین سال بتلائی گئی۔ اس
٢٢
الہام کا اقتضاء نہایت ظاہر طور سے یہ ہے کہ پہلے اس کا شوہر مرے۔ پھر اس کا باپ۔ کیونکہ شوہر کے مرنے کی مدت کم اور باپ کے مرنے کی مدت زیادہ ہے۔ اس لئے یہ الہام صاف بتا رہا ہے کہ پہلے اس کا شوہر مرے گا۔ اس کے بعد اس کا باپ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ احمد بیگ الہام کے مطابق نہیں مرا اور بالیقین معلوم ہوا کہ یہ الہام ربانی نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب کو تو ہر شخص کے موت کی خبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کب مرے گا۔ اپنے علم کے خلاف وہ عالم الغیوب الہام نہیں کر سکتا ہے۔ مطابق الہام کے ظہور ہونے میں فائدہ یہ ہوتا کہ پہلے اس کا شوہر مرتا۔ پھر اس کا باپ، تو یہ دونوں وعیدیں بھی پوری ہو جاتیں اور ان دونوں کے مرنے کے بعد مطابق وعدہ خداوندی کے اس لڑکی سے مرزا قادیانی کا نکاح بھی ہو جاتا۔ غرض ہر طور سے الہام اس علام الغیوب کا جو مرزا قادیانی کو کیا گیا تھا۔ پورا ہو جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اگر اس کے باپ ہی کا پہلے مرنا تقدیر الٰہی میں مقدر ہو چکا تھا اور اس کے باپ کے مرنے کی وجہ سے اس کے شوہر کو خوف، ہراس، غم، الم کا ہونا اور مرزا قادیانی سے قصور معاف کرانا ان کو خط لکھنا یا لکھوانا اور مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک اس کے شوہر کا زندہ رہنا اور تازیست اپنے بی بی کو اپنے قبضہ میں رکھنا تقدیر الٰہی میں مقدر ہو چکا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے مرزا قادیانی سے ایسا کیوں کہا کہ ڈھائی برس کے اندر اس کا شوہر مرے گا اور تین برس کے اندر اس کا باپ اور انجام کار وآخر کار وہ لڑکی تیرے نکاح میں آوے گی اور سب موانع دور ہو جائیں گے اور بار بار الہام ہوا کہ آخر کار اور انجام کار وہ لڑکی تمہارے نکاح میں ضرور آئے گی۔ اس قدر اصرار اور تاکید سے وعدہ الٰہی کیوں ہوا۔
اب خوب غور سے خیال کرو کہ جو مانع پیش آیا تھا اس کا علم بھی تو اللہ تعالیٰ کو تھا۔ اگر تمہاری جماعت کے اعتقاد میں اللہ تعالیٰ اس مانع کے دور کرنے پر قادر نہ تھا۔ یا کسی وجہ سے وہ دور نہیں ہو سکتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کا باصرار بار بار یہ کہنا کہ انجام کار وہ لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی اور سب مانع دور ہو جائیں گے۔ کیسا صریح غلط ہوا۔ کیا خدائے پاک کی ایسی شان ہو سکتی ہے کہ وہ ایسا محکم وعدہ کر کے پورا نہ کرے؟ اگر کوئی شریف آدمی اس طرح وعدہ کر کے پورا نہ کرے تو کس قدر اسے برا سمجھا جاتا ہے۔ پھر اس ذات پاک پر ایسا الزام لگانا کس قدر بے ایمانی کی بات ہے۔ چونکہ یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔ اس کو ضرور خبر تھی کہ سب مانع دور نہ ہوں گے۔ باوجود اس علم کے بھی مرزا قادیانی سے اس نے حتمی وعدہ کر لیا اور نہایت زور سے نکاح میں لانے کا انہیں یقین دلایا۔ اس کا نتیجہ یہ ضرور ہوا کہ اس نے قصداً جھوٹا وعدہ کیا۔
٢٣
اے عزیز! اللہ تعالیٰ کی نسبت ایسی بدگمانی مت رکھو۔ اللہ تعالیٰ علام الغیوب اور ہر عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس لئے یہاں پر اب ضرور تسلیم کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام شیطانی تھا یا مرزا قادیانی نے شادی ہو جانے کی غرض سے خدا پر افتراء کیا۔ مرزائی حضرات اگر اللہ تعالیٰ کو علام الغیوب اور صادق الوعد سمجھتے ہیں تو مرزا قادیانی کے اس الہام کو الہام شیطانی یا افتراء کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتے اور اگر مرزا قادیانی کو سچا جانتے ہیں اور اس الہام کو الہام ربانی کہتے ہیں تو گویا خدا پر الزام دیتے ہیں۔ گو ظاہر الفاظ میں نہ ہو۔ مگر معنیً ضرور دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے پہلے خط میں لکھا تھا کہ تم لوگ خدا کو جھوٹ بولنے والا اور جھوٹا وعدہ کرنے والا سمجھتے ہو۔
غرض مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق نہ اس کا باپ مرا اور نہ کوئی مانع دور ہوا۔ اس لئے مرزا قادیانی ضرور مفتری ثابت ہوئے۔ چونکہ اس کا باپ اپنی اتفاقیہ موت سے مرا تب مرزا قادیانی نے غل مچانا شروع کیا کہ پیش گوئی کا ایک جزو پورا ہو گیا۔ تب اس طرف لوگوں کی پوری نظر ہوگئی اور اس کے داماد کی موت کا انتظار کرنے لگے۔ بعد گزرنے میعاد ڈھائی برس کے جب اس کا شوہر زندہ رہ گیا اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط ہوگئی اور اہل حق مرزا قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ڈالنے لگے اور مرزا قادیانی رسوا اور ذلیل ہونے لگے۔ تب اپنی سیاہی کو دور کرنے کے لئے پھر دوسری پیش گوئی اُس کے داماد کے موت کی کرنے لگے۔ وہ دوسری پیش گوئی (انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١) میں یوں درج ہے۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
اور پھر اس پیش گوئی کو تفصیل کے ساتھ (انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣) میں یوں تحریر کرتے ہیں۔ ”بلکہ اصل امر برحال خود قائم است و ہیچکس باحیلہ خود او را رد نتوان کرد و این تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آن خواہد آمد پس قسم آں خدائیکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود او را بہترین مخلوقات گردانید۔ ایں حق است و عنقریب خواہی دید و من این را برائے صدق خود یا کذب خود معیاری گردانم و من نہ گفتم الا بعد از ان کہ از رب خود خبر دادہ شدم۔“
پھر (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں یوں تحریر کرتے ہیں۔ ”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی۔ یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا۔ تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو یہ انسان کا افتراء نہیں کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ
٢٤
خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔“
اے عزیز یہ کہنا رہ گیا اس لئے حاشیہ لکھتا ہوں۔ میں نے تین قول مرزا قادیانی کے نقل کئے ہیں ۔ انہیں میں غور کرنے سے مرزا قادیانی کے سچے جھوٹے ہونے کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ پھر کوئی بات باقی نہیں رہتی ۔ آخر کے دونوں قول میں خوب غور کرو ان سے وہ سب باتیں غلط ہو جاتی ہیں جو اس غلط پیشین گوئی کے جواب میں بنائی جاتی ہیں ۔ (١) دیکھو کہتے ہیں کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ یعنی ان وعدوں میں سے نہیں ہے جو کسی وجہ سے جھوٹے ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ ان باتوں میں ہے جو بدلتی نہیں ۔ اس لئے اس کا پورا ہونا ضرور ہے۔ اب اس کے لئے کوئی مانع مرزا قادیانی کے قول کے بموجب نہیں ہو سکتا ۔ (٢) اور دیکھو! لکھتے ہیں کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا ۔ اب تم غور کرو کہ کوئی خدا کا رسول اپنی صداقت کے بیان میں بغیر الہام الٰہی اس طرح نہیں کہہ سکتا جس طرح مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں اور جب یہ مقولہ بالہام الٰہی ہے تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ وہ عالم الغیب باوجود جاننے موانعات کے مرزا قادیانی کی زبان سے یہ کہلائے کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ جب ایسا کہلایا تو معلوم ہوا کہ اس کے لئے کوئی مانع نہیں ہو سکتا ۔ اس کا ظہور ہر طرح ہو گا ۔ اب جو باتیں بنائی جاتی ہیں ان سب کو یہ قول جھوٹا ٹھہراتا ہے اور بالفرض اگر مرزا قادیانی نے غلطی سے ایسا کہا تو ضرور تھا کہ قبل مشتہر ہونے اور مخالفوں تک پہنچنے کے اس کی طرف سے اطلاع ہوتی اور بالفرض اگر غلطی سے مشتہر ہو گیا تھا تو فوراً اس کے بعد ہی اس کی غلطی کو مشتہر کرتے اور تنبیہ الٰہی کو دنیا پر ظاہر کرتے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے بالیقین معلوم ہوا کہ یہ وعدہ الٰہی نہ تھا ۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اسے جھوٹا کر کے دنیا کو اس کا کاذب ہونا دکھا دیا۔ (٣) پھر دوسرے قول میں دیکھو کہ فارسی میں سخت قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اس پیشین گوئی کا پورا ہونا سچ ہے ۔ یعنی اس بات پر قسم کھاتے ہیں کہ احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مرے گا اور اس قول کے سچ ہونے کو تو عنقریب دیکھ لے گا۔ میں اس کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں۔ یہ سب باتیں کہہ کر آخر میں یہ کہتے ہیں کہ : ”من نہ گفتم الا بعد ازاں کہ از رب خود خبر دادہ شدم ۔“ یعنی جو میں نے کہا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہا۔ بلکہ وہی کہا ہے جس کی اطلاع میرے پروردگار نے مجھے دی ہے۔ تمام باتیں کہہ کر آخر میں یہ جملہ کہنا صاف بتا رہا ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ بیان کیا گیا وہ سب الہامی ہے۔ اے عزیزو! آنکھیں کھولو اور خدا کا خوف دل میں لا کر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے یقین اور پختگی سے وعدہ کیا ہے کہ مرزا قادیانی اس کے پورا ہونے پر قسم کھا رہے ہیں اور اپنے صدق و کذب کا اسے معیار بتا رہے ہیں ۔ پھر کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی ایسا مانع پیش آئے ۔ جس کی وجہ سے اس کا ظہور نہ ہو اور خدا تعالیٰ (١) اپنے رسول کی قسم کو جھوٹا کر دے اور قسم اس بات پر ہے۔ (٢) جس کے پورا کرنے کا پختہ وعدہ اس خدائے صادق الوعد نے کیا ہے۔ جس کی باتیں نہیں ٹلتیں اور وہ وعدہ (٣) جسے خدا تعالیٰ نے اس کی صداقت کا عظیم الشان نشان ٹھہرایا ہے۔ (٤) جسے اس کے برگزیدہ رسول نے دنیا کے روبرو اپنی صداقت کا معیار ٹھہرایا ہے۔ (٥) جس کے ظہور میں نہ آنے سے وہ رسول اپنے پختہ اقرار سے جھوٹا ٹھہرتا ہے۔ (٦) وہ نشان جس کے جھوٹا ہونے کا انتظار آریہ اور عیسائی دشمنان اسلام کر رہے ہیں ۔ (٧) جس کے ظہور کے لئے بقول مرزا قادیانی ہزاروں مسلمان دعا کر رہے ہیں ۔ بایں ہمہ خدا تعالیٰ اس نشان کو ظاہر نہ کرے یہ کیسا غضب ہے۔ کہ ایسا مہتم بالشان نشان جس کے ظہور کے لئے سات وجہیں یقین دلاتی ہوں کہ اس نشان کا ظہور ضرور ہو گا اور ایک حیلہ کسی (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٥
اگر اس کا داماد اپنے سسر کے مرنے کے بعد خوف والم سے ہراس ہو کر توبہ اور رجوع کر لیا اور ڈھائی سال کے اندر مطابق پیش گوئی مرزا قادیانی کے نہیں مرا یعنی توبہ اور رجوع کی وجہ سے وہ جرم سے رہا کر دیا گیا اور سزائے موت سے بچ گیا تو پھر ”انجام آتھم“ میں اس کے موت کی دوسری پیش گوئی کرنے کی مرزا قادیانی کو کیا ضرورت پڑی اور اس کے مرنے کو خدا کا سچا وعدہ کیوں کہا۔ پھر اس کا داماد توبہ اور رجوع کے بعد کس جرم کا مجرم ہو گیا کہ سزائے موت کے پانے کا مستحق ہو گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے مطابق بھی اس کا داماد مرزا قادیانی کی زندگی کے اندر نہیں مرا۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی اس کے سامنے مر گئے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ دوسری پیش گوئی بھی جھوٹی ہو گئی۔
اب یہ تو بتلاؤ کہ مرزا قادیانی سے اس کے ملہم نے ایسی جھوٹی بات کیوں کہی کہ احمد بیگ کے داماد کا تمہاری زندگی کے اندر مرنا تقدیر مبرم ہے اور پھر وہ نہ مرا۔ پہلی دفعہ تو مرزا قادیانی کے ملہم سے غلطی ہو چکی تھی۔ کیا پھر بھی مرزا قادیانی کے ملہم کو اس کی خبر نہیں تھی کہ مرزا قادیانی کی عمر سے اس کے داماد کی عمر زیادہ ہے۔ یہاں پر بھی مرزا قادیانی کے ملہم نے غلطی کی۔ یا مرزا قادیانی اس کہنے میں خود مفتری تھے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو گذشتہ اور آئندہ کا علم پورا ہے۔ اس لئے داماد احمد بیگ کے نہ مرنے سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہ سب الہامات بھی الہام ربانی نہیں تھے۔ بلکہ
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) قوی ہے کہ اگر اس وعدہ کا ظہور نہ ہو تو خدا تعالیٰ کا کوئی وعدہ اور وعید لائق اعتبار نہ رہے۔ تمام شریعت درہم برہم ہو جائے اور اس کا خاص رسول اپنے مقرر کردہ معیار کے بموجب دنیا کے روبرو جھوٹا ثابت ہو جائے۔ یہ ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا نہ ہو سکے تو کیا وجہ ہے کہ منکرین اسلام مذہب اسلام پر مضحکہ نہ کریں۔ دہریہ خدا کی قدرت کا انکار نہ کریں۔ اے عزیز! ذرا ہوش سنبھال کر اس کا جواب دو اور تم کیا دو گے۔ یہاں سے قادیان تک اپنی ساری جماعت سے دریافت کرو۔ مگر سب کو اس کے جواب سے عاجز پاؤ گے۔ اب یہ بھی کہو کہ اس وعید کی پیش گوئیوں کو کسی بادشاہ سلامت کے قیدی چھوڑنے اور مجرم کو رہا کرنے سے کیا واسطہ۔ دونوں میں آسمان وزمین کے فرد سے بھی بہت زیادہ فرق ہے۔ اس پیشین گوئی کے قیدی کو چھوڑ دینے سے اس کا سچا رسول جھوٹا ٹھہرتا ہے۔ اس کی قسم جھوٹی ہوتی ہے۔ وہ اپنے اقرار سے کاذب قرار پاتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا اسے جھوٹا ماننے پر مجبور ہے۔ اب اگر وہ سچا رسول ہے تو اس کے نہ ماننے والوں کو جہنمی ٹھہرانا اوروں پر ظلم ہے۔ کیونکہ مرزائی خیال کے بموجب خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے ایسی باتیں ظہور میں لائیں۔ جس سے انسان اس کے جھوٹا جاننے پر مجبور ہوئے۔ کسی بادشاہ سلامت کے قیدی چھوڑنے میں ان میں سے ایک خرابی بھی نہیں پائی جاتی۔ اب دونوں کو یکساں سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ دیکھو یہ کیسی صاف تقریر ہے جس کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا اور صرف اسی بات پر مرزا قادیانی کا خاتمہ ہے اب کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ جس کا جھوٹا ہونا نہایت صفائی سے اس کے متعدد اقوال سے ثابت ہوا۔ کہ اس کی صداقت قرآن مجید سے ثابت ہو سکے بلکہ ایسا کہنا قرآن مجید پر سخت الزام لگانا ہے۔
٢٦
ڈرانے دھمکانے کے لئے بار بار کہا جاتا تھا۔ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اس کا داماد پہلی دفعہ مطابق پیش گوئی مرزا قادیانی کے ڈھائی برس کے اندر نہیں مرا، اور مرزا قادیانی اس میں جھوٹے ہو گئے اور لوگوں کی طرف سے مرزا قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ پڑنے لگی تو پھر مرزا قادیانی نے اپنی زندگی بھر کی قید لگا دی اور یہ کہہ دیا کہ میری زندگی کے اندر اس کا مرنا تقدیر مبرم ہے۔ وہ میرے سامنے ضرور مرے گا۔ بڑے سوچ سمجھ سے مرزا قادیانی نے زندگی بھر کی قید لگائی تھی۔ ایسا کہنے میں ہر صورت سے مرزا قادیانی کو فائدہ تھا۔
- ١...... اگر کہیں اتفاقیہ اس کا داماد مرزا قادیانی کی زندگی کے اندر مر گیا تب تو
مرزا قادیانی کی چاندی چوکھی ہوگئی۔
- ٢...... اور اگر مرزا قادیانی پہلے مر گئے اور وہ زندہ رہ گیا تو بھی اچھے لئے کہ
اعتراضات کی بوچھاڑ سے چھٹکارا ہو گیا۔
چونکہ ایسی پیش گوئی کرنے میں مرزا قادیانی پر ان کی زندگی بھر میں کوئی اعتراض کا موقع نہیں پیدا ہوتا تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اس کو نہایت ہی زور سے بیان کیا اور لوگوں کو یقین دلانے کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ مرزا قادیانی نے بڑی عقلمندی سے یہ جملہ کہا تھا کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔ اپنی موت کی شرط کیا اچھی شرط ہے۔ یعنی ہم مر جائیں گے تو کون مجھ کو جھوٹا کہے گا اور ماننے والے کچھ بات بنا ہی دیں گے۔ چنانچہ تم کیسی غلط باتیں بتا رہے ہو اور ایسی باتیں خود مرزا قادیانی کے قول سے غلط ثابت ہوتی ہیں۔ اس کی تفصیل ”بیان حقانی توضیح حصہ دوم فیصلہ آسمانی“ میں خوب کی گئی ہے۔ وہاں دیکھو! واقعات نے تو یہ شہادت دے دی کہ نہ مرزا قادیانی کے سامنے اس کا شوہر مرا اور نہ مرزا قادیانی سے اس کی بی بی کی شادی ہوئی۔ جس کا نہایت پختہ وعدہ تھا۔ اب یہ تو بتلاؤ کہ مرزا قادیانی کے ساتھ کس خبیث مفتری کا کاروبار تھا کہ جس کی کل باتیں ٹل گئیں۔ جب مرزا قادیانی کے سامنے اس کا شوہر نہیں مرا تو مرزا قادیانی اپنے اقرار کے مطابق ہر بد سے بدتر ہوئے یا نہیں اور اپنے مقرر کردہ معیار کے بموجب جھوٹے ہوئے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ ہم وعدہ کے سچے ہیں۔ ہم اپنے رسولوں سے خلاف وعدگی نہیں کرتے ہیں۔ اس جگہ پر ضرور یقین کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی
٢٧
کے ساتھ خدا کا وعدہ نہیں تھا۔ بلکہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار تھا۔ اوپر والے مضمون کے نتیجہ کو نمبر وار درج کرتا ہوں۔ اس کا جواب اپنے کانشنس سے طلب کرو۔
- نمبر ١ ...... مطابق خیال مرزائیوں کے اگر اس کا داماد توبہ اور رجوع کی وجہ سے ڈھائی
سال کے اندر نہیں مرا۔ مگر اس کے بعد دوسری پیش گوئی کے مطابق مرزا قادیانی کی زندگی کے اندر کیوں نہیں مرا۔ مرزا قادیانی کی دوسری پیش گوئی کیوں جھوٹی ہوئی۔ اس جگہ پر اس کے داماد نے کس توبہ اور رجوع سے فائدہ اٹھایا؟
- نمبر ٢ ...... اگر اس کے داماد کا مرنا مرزا قادیانی کی زندگی میں تقدیر مبرم تھا تو پھر یہ
تقدیر کہاں اٹک رہی؟ اس جگہ پر یا تو مرزا قادیانی کو مفتری کہا جائے یا یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو مفتری کہنا ضرور ہے۔ تم مرزا قادیانی کو مفتری کہو گے یا اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے سے انکار کرو گے۔
- نمبر ٣ ...... مرزا قادیانی نے جو اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کے پورے ہونے کا یقین
دلایا تھا وہ قسم سچی ہوئی یا جھوٹی۔
- نمبر ٤ ...... مرزا قادیانی اس کے پورے نہ ہونے پر اپنے کو جھوٹا اور ہر بد سے
بدتر قرار دیتے ہیں۔ مطابق اپنے اقرار کے مرزا قادیانی جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہوئے یا نہیں۔ اگر جھوٹا نہیں مانتے تو اس کی وجہ بیان کرو۔ میں نے انہیں کا قول نقل کیا ہے۔ کوئی بات اپنی طرف سے نہیں لکھی۔
- نمبر ٥ ...... مرزا قادیانی کے ساتھ کس خبیث مفتری کا کاروبار تھا۔ جس کی باتیں بدل گئیں۔
- نمبر ٦ ...... یہ انسانی افتراء نہیں تھا تو کیا تھا؟
- نمبر ٧ ...... مرزا قادیانی اس کو خدا کا سچا وعدہ بتلاتے ہیں۔ اب کہو کہ یہ وعدہ سچا ہوا یا جھوٹا؟
اور جھوٹا ہونا تو ظاہر ہے تو اس کے جھوٹا ہونے سے کون جھوٹا ہوا۔ مرزا قادیانی یا اللہ تعالیٰ؟ (نعوذ باللہ )
- نمبر ٨ ...... خدا صدق الوعد ہے یا نہیں۔ وعدہ خلافی اس کی شان سے بعید ہے یا
نہیں۔ اس جگہ پر مرزا قادیانی جو اس کو خدا کا سچا وعدہ بتلاتے ہیں۔ اس کہنے میں مرزا قادیانی سچے ہیں یا خدا وعدہ خلافی کر گیا؟
اگر تم یہ کہو کہ خدا کے سب وعدے اور وعیدیں پوری نہیں ہوتی ہیں بعض ہوتی ہیں تو
٢٨
مرزا قادیانی کا یہ قول نہایت صاف کا وعدہ ان جھوٹے وعدوں میں نہ اب اس بات کا جو مرزا قادیانی اس کہنے میں بھی ج قول بھی جھوٹا ہو جاتا ہے۔
اپریل ١٨٩٢ء میں م کی) سلطان محمد بیگ سے کر دی ا مطابق پیش گوئی مرزا قادیانی ک اس کی موت کی۔ جیسا کہ میں لکھ میں اس کی موت کی دوسری پیش یعنی شادی ہونے کے پانچ برس کے بعد یوں تحریر کرتے ہیں: ” شان سخت شد چنانکہ عادت جا نمودند پس عنقریب امر خدا بر ای
مرزا قادیانی کی ا میں زیادتی کرنے لگا۔ پہلے ۔ کی تحریر پکار پکار کر کہہ رہی ہے
- ١ ...... کیونک
مان لیتا اور اس کے پاس عاجز
- ٢ ...... اگر ا
لکھواتا یا لکھتا تو اپنی عادت ک موٹے موٹے حرفوں میں لکھ ک ہے کہ جب مرزا قادیانی پر اعت دریدہ گوئی سے یہ کہہ دیا کہ توبہ او
مرزا قادیانی کا یہ قول نہایت صاف طور سے یہ کہہ رہا ہے کہ یہ وعدہ یعنی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کا وعدہ ان جھوٹے وعدوں میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ سچا وعدہ ہے۔ بہر حال اس کا پورا ہونا ضرور ہے۔ اب اس بات کا جواب ملاحظہ کرو کہ اس کا داماد توبہ اور رجوع کی وجہ سے بچ گیا یا مرزا قادیانی اس کہنے میں بھی جھوٹے ہیں؟ تحریف تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی ہی کی تحریر سے یہ قول بھی جھوٹا ہو جاتا ہے۔
اپریل ١٨٩٢ء میں مرزا احمد بیگ نے اپنی لڑکی کی شادی (یعنی مرزا قادیانی کی محبوبہ کی) سلطان محمد بیگ سے کر دی اور ڈھائی برس تک یعنی ستمبر ١٨٩٤ء تک اس کا داماد سلطان محمد بیگ مطابق پیش گوئی مرزا قادیانی کے نہیں مرا۔ تب پھر مرزا قادیانی نے ١٨٩٧ء میں دوسری پیش گوئی اس کی موت کی۔ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں اور الہام بھی ان کا نقل کر چکا ہوں۔ جس ”انجام آتھم“ میں اس کی موت کی دوسری پیش گوئی درج ہے۔ اسی (انجام آتھم ص٢٢٤، خزائن ج١١ ص٢٢٤) میں یعنی شادی ہونے کے پانچ برس بعد اور مرزا قادیانی کی پہلی پیش گوئی جھوٹی ہونے کے ڈھائی برس کے بعد یوں تحریر کرتے ہیں۔ ”من می بینم کہ اوشاں سوئے عادتاہائے پیشین میل کردہ اند ودلہاے شان سخت شد چنانکہ عادت جاہلان است و ایام خوف را فراموش کردند وسوئے زیادتی وتکذیب عود نمودند پس عنقریب امر خدا بر ایشان نازل خواہد شد چون خواہد دید کہ ایشان در غلو زیادت کردند۔“ مرزا قادیانی کی اس عبارت سے روشن ہو رہا ہے کہ اس کا داماد مرزا قادیانی کی تکذیب میں زیادتی کرنے لگا۔ پہلے سے زیادہ سخت ہو گیا۔ اس لئے اس پر عذاب آوے گا۔ مرزا قادیانی کی تحریر پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس نے توبہ اور رجوع نہیں کی تھی۔
- .......١ کیونکہ اگر خوف کی وجہ سے توبہ اور رجوع کرتا اور مرزا قادیانی کو بزرگ
مان لیتا اور اس کے پاس عاجزی کا خط لکھواتا تو پھر تکذیب میں زیادتی کرنے کے کیا معنی؟
- .......٢ اگر اس کا داماد خوف کی وجہ سے توبہ اور رجوع کرتا اور مرزا قادیانی کے پاس خط
لکھواتا یا لکھتا تو اپنی عادت کے بموجب مرزا قادیانی معترضین کو ساکت کرنے کے لئے اس کے خط کو موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر تمام دنیا میں شائع کر دیتے۔ مگر شائع نہیں کیا۔ اس سے بخوبی سمجھا جاتا ہے کہ جب مرزا قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور مرزا قادیانی بغلیں جھانکنے لگے تو محض دروغگوئی سے یہ کہہ دیا کہ توبہ اور رجوع کی وجہ سے زندہ رہ گیا۔ اس پر نہ کوئی تحریری ثبوت لائق اعتبار ہے اور
٢٩
نہ کوئی زبانی شہادت قابل وثوق۔ بلکہ اس کے خلاف رسالہ (اشاعۃ السنۃ بابت ١١، ١٢) میں لکھا ہے کہ سلطان محمد سے کئی سوال کئے گئے تھے۔ ان میں تیسرے سوال کے جواب میں وہ لکھتے ہیں۔
مرزا سلطان محمد بیگ کا جواب
مرزا قادیانی کو میں جھوٹا اور دروغ گو جانتا تھا اور جانتا ہوں اور میں مسلمان آدمی ہوں خدا کا ہر وقت شکر گذار ہوں۔
سلطان محمد بیگ بقلم خود
(نمبر ٦ ج ١٦ ص ١٩١ سطر ١٣) میں یہ تحریر بائیس برس کی چھپی ہوئی موجود ہے۔ مرزا قادیانی اس وقت خوب زوروں پر تھے۔ مگر اس کا غلط ہونا نہ مرزا قادیانی نے لکھا اور نہ ان کے خلیفہ اوّل نے اس لئے اب جو خط شائع کیا گیا وہ بالکل غلط ہے۔ ہرگز لائق اعتبار نہیں ہو سکتا۔ بلکہ پہلا خط جو ”اشاعۃ السنۃ“ میں ہے۔ سچا اور لائق اعتبار ہے۔
- ٣...... مرزا محمود نے جو مرزا قادیانی کے مرنے کے پانچ چھ برس کے بعد ایک خط
چھاپا ہے۔ اس میں اسی قدر ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو پہلے بھی بزرگ سمجھتے تھے اور اب بھی سمجھتے ہیں۔ یہ خط بھی مرزا قادیانی کے انجام آتھم والے مضمون سے غلط ثابت ہو رہا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کی تکذیب کی زیادتی کو لکھ رہے ہیں اور خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کبھی زیادتی ہی نہیں کی۔ ہمیشہ مرزا قادیانی کو بزرگ سمجھتا رہا۔ اگر خط سچا ہے تو مرزا قادیانی جھوٹے ہوتے ہیں اور اگر مرزا قادیانی کی تحریر سچی ہے تو مرزا محمود کی یہ کارروائی جعلی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے اقوال سے اس کے خط کی صریح تکذیب ہو رہی ہے اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی آخری عمر تک اسے کوستے رہے اور اپنے سامنے اس کے مرنے کو وعدہ الٰہی بتاتے رہے اور اس کی بی بی سے اپنا نکاح کرنا بیان کرتے رہے۔ پھر اتنے ہونے پر وہ مرزا قادیانی کو کیونکر بزرگ سمجھ سکتا ہے۔ انسانی طبیعت کا تقاضا یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ایسے مخالف کو اپنا بزرگ سمجھے۔ خصوصاً جب کہ وہ اپنی ہی پیشین گوئی میں جھوٹا دیکھ رہا ہو۔
- ٤...... بفرض محال بزرگ سمجھنے سے بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی
سوائے اپنے مریدین کے اور سب کو جہنم ١؎ میں اوندھا گرا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا دشمن قرار
١؎ الحکم ٢٤؍اکتوبر ١٨٩٩ء میں تحریر کرتے ہیں۔ آج چودھویں صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کا رسول اس کی طرف سے خلقت کے لئے رحمت و برکت ہے۔ ہاں جو اللہ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے وہ جہنم میں اوندھا گرے گا۔
٣٠
دے رہے ہیں۔ اس کا داماد تو مرزا قادیانی کا مرید نہیں ہوا اور مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے مرزا قادیانی کے نزدیک جہنم میں اوندھا گرانے کے لائق ہو گیا اور جہنم میں وہی جائے گا جو اللہ کا دشمن ہوگا۔ پھر ایسے خدا کے دشمن کے مقابلہ میں مرزا قادیانی مطابق اپنے اقرار کے ہر بد سے بدتر اور جھوٹے سے جھوٹا ہو کر کیوں چل بسا۔ مرزا قادیانی کے ملہم نے جب کن فیکون کا اختیار مرزا قادیانی کو عطاء کر دیا اور گویا اپنی خدائی میں شریک کر لیا اور اپنے اختیارات سے مرزا غلام احمد قادیانی کو کئی برس کے لئے مریم بنادیا۔ پھر اپنی روح پھونک کر حمل ٹھہرا کر دس مہینے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا کر دیا گویا مرد سے عورت پھر عورت سے مرد بنادیا تو پھر یہاں بھی انہیں اختیارات سے ایک دشمن جہنمی کو فنا کر کے مرزا قادیانی کو ہر بد سے بدتر اور جھوٹے سے جھوٹا کہنے سے کیوں نہ بچایا۔ غرض مرزا قادیانی کے الہامات سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان کا کوئی الہام الہام ربانی نہیں تھا۔ بلکہ ان کی خیالی الہامات اور دلی آرزوئیں تھیں۔ جنہیں وہ الہام الٰہی سمجھتے تھے یا قصداً افتراء کرتے تھے۔
تم لکھتے ہو کہ خدا کے غیبوں سے جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر ہو کر پورے ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک پیش گوئی کا ذکر کیا ہے جو احمد بیگ اور اس کے داماد کے متعلق ہے۔ اس پیش گوئی کا ذکر کئی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کو ذرا ہوش کے ساتھ دیکھو اور اپنی جماعت کو دکھلاؤ۔
- ١...... اس کو مرزا قادیانی نے اپنا نہایت ہی عظیم الشان نشان کہا ہے۔ جب اس
نہایت عظیم الشان نشان میں گفتگو طے ہوجائے اور مرزائی صاحبان اقرار کرلیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی ہوئی تو ہم دوسری پیشین گوئی میں گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہاں معاملہ علماء سے ہے۔ جہلا سے نہیں ہے کہ ایک بحث شروع کی اور اسے ناتمام چھوڑ کر دوسری بحث شروع کرنے لگے۔ اسی طرح تیسری چوتھی بحث پر پہنچے۔ بالآخر کوئی نتیجہ ظاہر نہ ہوا۔ جماعت احمدیہ چونکہ علم سے بے بہرہ ہے۔ اس لئے وہ جاہلوں کی سی باتیں چاہتی ہے اور اس کے پڑھے لکھے اسی دھوکے میں رہتے ہیں۔
- ٢...... یہ پیشین گوئی ایسی ظاہر ہے کہ اس میں نہ کوئی لفظ ایسا ہے کہ اس کے معنی
میں گفتگو ہو سکے نہ ایچ پیچ چل سکتا ہے اور پھر ادنیٰ اور اعلیٰ اس کا یقین کرسکتا ہے۔ اس میں کسی گواہ شاہد کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اس لئے اس میں فیصلہ آسانی سے ہوسکتا ہے۔
- ٣...... اس پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا ایسا اظہر من الشمس ہو گیا کہ کسی پر پوشیدہ نہیں
رہا۔ بجز ان کے جنہیں روز روشن میں بھی سورج نظر نہ آئے۔
- ٤...... اس پیشین گوئی کی نسبت جس قدر باتیں بنائی گئیں اور اپنے خیال میں جواب
دیئے گئے ۔ سب کا غلط ہونا نہایت کافی دلیلوں سے دکھایا گیا اور اب تک کسی نے ان کا جواب نہیں دیا اور نہ کوئی دے سکتا ہے۔ اگر کسی کو دعویٰ ہو تو اس سے کہو کہ چند آدمیوں کے سامنے گفتگو کرے۔
- ٥...... جب مرزا قادیانی کی ایک نہایت ہی عظیم الشان پیشین گوئی غلط ہوگئی تو
اب کسی پیشین گوئی کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی کے جھوٹا ہونے سے اس کا کذب قرآن مجید سے اور توریت سے ثابت ہے تو اب اگر وہ جھوٹا سو نہیں ہزار پیشین گوئی کرے اور بالفرض وہ سب سچی بھی ہو جائیں تو وہ سچا نہیں ہو سکتا۔ ایک کاہنہ جو قطعی کافرہ تھی۔ تیس برس تک اس کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہوئی اور بڑے بڑے علماء نے اس کی شہادت دی۔
(فیصلہ آسمانی ص ٦٤، ٦٥)
اے عزیز بڑا افسوس ہے کہ تم ان کتابوں کو نہیں دیکھتے اور ایسی کھلی ہوئی باتوں میں نظر نہیں کرتے اور یہ لکھتے ہو کہ مرزا قادیانی کی بہت سی غیب کی باتیں پوری ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔
- ٦...... چھٹی وجہ ذکر نہ کرنے کی یہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کا قول نقل کر آئے
ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔ اگر میں یہ کام نہ کروں اور کروڑ نشان دکھاؤں تو بھی میں جھوٹا ہوں۔ جب ہم نے اور ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ کام کچھ نہیں کیا۔ تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنا تو بڑی بات تھی ان سے تو یہ بھی نہ ہوا کہ ان کی زندگی میں سو دو سو تثلیث پرست ایمان لے آتے اور تثلیث پرستی سے توبہ کرتے۔ اس لئے وہ اپنے اس اقرار سے جھوٹے ٹھہرے۔ اب سو پیشین گوئیاں بلکہ کروڑ پیشین گوئیاں بھی انہیں کے قول کے مطابق بیکار ہیں۔ اب تو ہم ان کے ارشاد کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی دیتے ہیں۔ تمہیں بھی دینی چاہئے۔ اگر کچھ خدا کا خوف ہے۔ اب ان کی پیشین گوئیوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ایک پیشین گوئی جسے مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان کہا تھا۔ بطور نمونہ اس کا ذکر کر دیا۔ جس سے ان کا جھوٹا ہونا دوسرے طریقے سے ظاہر ہو گیا۔ اب گمراہوں کو ہدایت پر لانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے بندہ کا کام نہیں۔
اس کے علاوہ اس تحریر میں صریح دو جھوٹ ہیں۔ ایک یہ کہنا کہ صرف ایک پیشین گوئی کا ذکر کیا یہ بالکل غلط ہے۔ فیصلہ آسمانی اور انجم الثاقب اور مسیح کاذب وغیرہ دیکھو کہ کتنی پیشین گوئیاں جھوٹی بیان کی گئی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ تمہارے گمراہ کرنے والے تمہیں رسالے دیکھنے نہیں دیتے اور تم ان کے کہنے پر اپنا ایمان قربان کر رہے ہو اور ان کی وجہ سے ایسا صریح جھوٹ
٣٤
کی نسبت جس قدر باتیں بتائی گئیں اور اپنے خیال میں جواب دلیلوں سے دکھایا گیا اور اب تک کسی نے ان کا جواب نہیں دیا تو اس سے کہو کہ چند آدمیوں کے سامنے گفتگو کرے۔
یانی کی ایک نہایت ہی عظیم الشان پیشین گوئی غلط ہو گئی تو ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی کے ید سے اور توریت سے ثابت ہے تو اب اگر وہ جھوٹا سو نہیں ب سچی بھی ہو جائیں تو وہ سچا نہیں ہو سکتا۔ ایک کاہنہ جو قطعی شین گوئی جھوٹی نہیں ہوئی اور بڑے بڑے علماء نے اس کی
(فیصلہ آسمانی ص ٦٤ ، ٦٥)
تم ان کتابوں کو نہیں دیکھتے اور ایسی کھلی ہوئی باتوں میں نظر کی بہت سی غیب کی باتیں پوری ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ کرنے کی یہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کا قول نقل کر آئے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔ اگر میں یہ کام نہ کروں وں۔ جب ہم نے اور ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ کام کچھ تو بڑی بات تھی ان سے تو یہ بھی نہ ہوا کہ ان کی زندگی میں اور تثلیث پرستی سے توبہ کرتے۔ اس لئے وہ اپنے اس ان گوئیاں بلکہ کروڑ پیشین گوئیاں بھی انہیں کے قول کے رشاد کے بموجب ان کے جھوٹے ہونے پر گواہی دیتے را کا خوف ہے۔ اب ان کی پیشین گوئیوں کی طرف توجہ ن گوئی جسے مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان کہا تھا۔ ا جھوٹا ہونا دوسرے طریقے سے ظاہر ہو گیا۔ اب گمراہوں کا کام نہیں۔
صریح دو جھوٹ ہیں۔ ایک یہ کہنا کہ صرف ایک پیشین گوئی اور النجم الثاقب اور مسیح کا ذب وغیرہ دیکھو کہ کتنی پیشین یہ ہے کہ تمہارے گمراہ کرنے والے تمہیں رسالے دیکھنے ن قربان کر رہے ہو اور ان کی وجہ سے ایسا صریح جھوٹ ٣٤
بول رہے ہو۔ اس کے سوا مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کی ساری پیشین گوئیوں کو غلط کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ہم ساری پیشین گوئیوں کے پڑتال کے لئے موجود ہیں۔ مناظرہ کر لو۔ مرزا قادیانی نے اس کے مقابلہ میں بڑے زور سے انہیں قادیان بلایا اور پھر یہ پیشین گوئی کی کہ وہ ہرگز نہ آئیں گے مگر وہ پہنچ گئے اور مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے اور مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو گئی۔ ان کے مرنے کے بعد مولوی صاحب نے اعلان دیا کہ پیشین گوئی کے پڑتال کے لئے لاہور میں جلسہ کر لیا جائے۔ مگر کوئی مرزائی سامنے نہیں آیا۔ پھر یہ کہنا کیسا غلط ہے کہ صرف ایک پیشین گوئی کا ذکر کیا دوسری کا نہیں کیا۔ خاص مونگیر میں بھی بہت سی پیشین گوئیوں کا ذکر ہوا ہے اور دوسری جگہ ساری پیشین گوئیوں کو جھوٹا کہا ہے۔ جب تم اور تمہاری جماعت آنکھوں پر پٹی باندھ لے اور نکلے سورج کو نہ دیکھے تو آپ اندھیرے میں گر کر وہیں جائے گی کہ جہاں اس کو جانا چاہئے۔
دوسرے یہ کہ جس پیشین گوئی کو تم ایک کہہ رہے ہو اس میں تو درحقیقت چھ پیشین گوئیاں ہیں اور چھوں غلط ہوئیں۔ اب ان چھوں کو ایک کہنا صریح غلط ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم انہیں جھوٹا نہیں جانتے۔ ہم نے تو ان کے قول کے بموجب انہیں جانچا اور جھوٹا پایا۔
دیکھو مرزا قادیانی کا اشتہار (١٠ جولائی ١٨٨٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٩) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“ مطابق اس قول کے ہم نے ان کی پیش گوئیوں کو جانچا اور خاص کر وہ پیش گوئی جس کو انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان کہا تھا وہ غلط ہوئی اور یقیناً غلط ہوئی۔ اب تمہارے عذرات پیش کرنا بھی بیکار ہیں۔ کیونکہ سچے رسول کی پیش گوئی کبھی غلط نہیں ہو سکتی اور غلط ہونے کے بعد کوئی عذر قابل سماعت نہیں ہو سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی باتیں انسانوں کی طرح نہیں ہیں کہ جب وہ نہیں ہو سکا تو پھر عذر کرنے لگے۔
تم لکھتے ہو کہ کوئی بادشاہ کسی شخص کی شرارت اور بغاوت کی تحقیق کے بعد حکم سزا نافذ فرما دیں اور پھر قبل اس کے کہ وہ سزا بھگتے یا کچھ بھگت چکنے پر کسی اس کی تغیر حالت کی وجہ سے یا محض ترحم خسروانہ سے اس کو معاف فرما دیں اور اس پر سزا عائد نہ ہو تو کیا اس کو جھوٹ اور فریب سے کام لینا کہیں گے۔ فرض کیجئے کہ اس حکم سزا سے بادشاہ سلامت کسی اپنے دوست کو آگاہ بھی کر دیں اور پھر قبل اس کے کہ سزا عائد کی جائے معاف بھی کر دیں تو کیا اس دوست کو حق ہو گا کہ بادشاہ سلامت کو جھوٹ بولنے والا اور جھوٹا وعدہ کرنے والا ٹھہرا دے۔
اے عزیز! تم نے اس مثال میں بڑا دھوکا کھایا۔ اگر تم اپنے اوپر رحم کر کے اس مثال میں اور مرزا قادیانی کی الہامی وعید احمد بیگ کے داماد میں ذرا بھی انصاف سے غور کرو گے تو آسمان وزمین کا فرق پاؤ گے۔ تم ایسے نادان تو نہ تھے۔ مرزا قادیانی کو مان کر عقل و سمجھ سب کھو بیٹھے۔ احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی کی حالت میں مفصل بیان کر آیا ہوں۔ اسے غور سے دیکھو۔ متن کے علاوہ حاشیہ میں سات وجہیں نہایت صاف اور صریح ایسی بیان کی ہیں ۔ جن سے بخوبی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس مثال میں اور اس وعدہ الٰہی میں کوئی نسبت نہیں ہے اور اس وعدہ کا پورا ہونا ضرور ہے۔ ص ٤٢ سے ٤٣ تک یہ حاشیہ ہے۔ اسے ضرور دیکھو۔ اس کے بعد تم میں کچھ خوف خدا ہے تو اس مثال کو یقیناً غلط سمجھو گے۔ تم خدا تعالیٰ کے حال کو انسان کی حالت پر قیاس کرتے ہو۔ یہ کیسی نادانی ہے۔ انسان ضعیف البنیان کو اس قادر مطلق سے کیا نسبت ۔ وہ عالم الغیب ہے۔ اس پر آئندہ اور گزشتہ کی کوئی خبر اور کوئی حالت مخفی نہیں رہ سکتی۔ جس بات کو وہ کہے گا اس کے انجام کو وہ دیکھتا ہے۔ اس لئے وہ ایسا وعدہ ہرگز نہ کرے گا۔ جس کے انجام میں کوئی مانع یا کوئی وجہ ایسی پیش آئے۔ جس کی وجہ سے وہ وعدہ پورا نہ ہو۔ بھلا وہ ذات تو ہر عیب سے پاک ہے۔ کوئی شریف انسان بھی ایسا وعدہ نہیں کرتا۔ جس کے انجام کو وہ جانتا ہو کہ یہ پورا نہ ہو سکے گا۔ دنیاوی بادشاہ یا کسی اعلیٰ افسر کے لئے یہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ کی حالت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کسی شخص کے بارہ میں کوئی حکم سزا نافذ کرے یا کسی شخص کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کرے۔ مگر اس کے بعد اسے ذاتی یا ملکی اغراض ایسے پیش آسکتے ہیں کہ وہ اپنے وعدہ یا وعید کو پورا نہ کرے۔ اس کے پورا کرنے میں اسے کسی قسم کا خوف خطرہ پیش آجائے یا اس کی حالت میں تغیر آجائے۔ جس سے اللہ تعالیٰ منزہ اور پاک ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں اس کا ارشاد ہے ۔ ”لا تبديل لكلمات الله“ یعنی اللہ تعالیٰ کی باتیں بدلتی نہیں۔ اب اگر اس کا وعدہ یا وعید بدل جائے تو صریح اس آیت قرآنی کے خلاف ہوگا۔ اب سمجھ لو کہ وعید الٰہی کے مقام پر یہ مثال پیش کرنا آیت قرآنی کے خلاف ہے۔ یہ بھی خیال رکھو کہ یہ وعید ایسی ہے کہ اگر پوری نہ ہو تو ایک نہایت حتمی اور قطعی وعدہ اس کی بیوی کے نکاح میں آنے کا پورا نہ ہوگا اور ایسے حتمی وعدہ کو پورا نہ کرنا تو معزز انسان کی شان سے بعید ہے اور خدا کی شان تو بہت ہی اعلیٰ اور اشرف ہے۔ اس کے بعد میں تمہیں دوسری طرح سمجھاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عالم الغیب صادق الوعد اور غیر متغیر ہے۔ ٣٤
اپنے کسی وعدہ یا وعید کو ٹال نہیں سکتا۔ کیونکہ عالم الغیب وہی وعدہ کرے گا جس کا پورا ہونا اس کے علم میں قرار پاچکا ہے اور جو وقوع میں آنے کو ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ جس وعدہ کے پورا نہ ہونے کو وہ یقیناً جانتا ہے۔ اس کی نسبت اس طرح کہہ دے کہ میں ضرور ایسا ہی کروں گا۔ جیسا کہ منکوحہ آسمانی کی نسبت کہا گیا کہ آخر کار اور انجام کار احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی ۔ جب وہ عالم الغیب اس کہنے سے پہلے جانتا تھا کہ ایسی باتیں پیش آئیں گی جن کی وجہ سے وہ نکاح میں نہ آئے گی اور باوجود اس علم کے یہ وعدہ کرنا کہ انجام کار وہ لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی جھوٹ اور صریح فریب نہیں تو کیا ہے۔
ذرا کچھ تو غور کرو۔ تم لوگ اس کو نہیں دیکھتے کہ اس وعدہ کے پورا نہ ہونے سے اللہ تعالیٰ پر کیسا بھاری الزام آتا ہے۔ یہ کہہ دیتے ہو کہ اس کے خوف کی وجہ سے وعید پوری نہ ہوئی ۔ اس لئے وعدہ بھی ٹل گیا ۔ اس وعدے کے ٹلنے میں خدا پر سخت الزام آتا ہے۔ اس لئے بھی داماد احمد بیگ کی وعید کا پورا ہونا ضرور ہے اور پھر خاص کر اس کے مرنے کی دو مرتبہ الہاماً پیش گوئی کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ اس کی شادی کے دن سے ڈھائی برس کے اندر اس کی موت بتلاتے ہیں اور دوسرے مرتبہ اپنی زندگی کے اندر اس کے مرنے کو کہتے ہیں اور انجام کار میں اس کی بی بی سے اپنی شادی ہو جانا کہتے ہیں۔ جو واقعات گزر چکے ہیں۔ ان سے معلوم ہو رہا ہے کہ داماد احمد بیگ نہ ڈھائی برس کے اندر مرا اور نہ مرزا قادیانی کی زندگی کے اندر مرا اور نہ اس کی بی بی مرزا قادیانی کے پاس آئی ۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی مر گئے۔
غرضکہ مرزا قادیانی سے جو وعدہ الٰہی الہامات میں ہوا تھا۔ اس کی صورتیں اوپر مذکور ہو چکی ہیں۔ اس کا پورا ہونا ضرور ہے اور اگر ایسے وعدے پورے نہ ہوں تو تمام وعدے الٰہی اور وعدے رسول بیکار ہو جاویں گے۔ کوئی قابل اعتبار نہیں رہے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں۔ ” کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدے کا ٹوٹ جانا خدا تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا ؟“
(توضیح المرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
اس کے یہی معنی ہیں کہ تمام وعدوں میں زلزلہ پڑ جائے گا اور کوئی وعدہ لائق وثوق نہ رہے گا۔ جس وعدہ الٰہی کو مرزا قادیانی نے یہاں بیان کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس کے پورا نہ ہونے سے اس کے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑ جائے گا۔ اس سے بہت زیادہ یہ وعدہ ہے جو مرزا قادیانی نکاح میں آنے کے لئے بتارہے ہیں۔ ایسے ہی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی وعید ہے۔ اس زور سے ٣٥
اس کے پورا ہونے کا وثوق دلایا گیا ہے کہ اس کے پورا ہونے میں کسی قسم کا تردد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ازالۃ الاوہام میں لکھتے ہیں کہ آخر کار انجام کار وہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی اور اس وعید کی نسبت لکھتے ہیں کہ اگر یہ پوری نہ ہو تو میں جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اگر ایسے وعدہ اور وعید پورے نہ ہوں تو پھر شریعت الٰہی کے کسی بات کا اعتبار نہ رہے اور نبی کے تمام اقوال سے وثوق اٹھ جائے اس کے علاوہ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ شخصی وعید ضرور پوری ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید اور حدیث سے اور تمام مفسرین کے کلام سے ظاہر ہے۔ دیکھو فیصلہ آسمانی حصہ سوم۔ فقط تمت!
نیا اعتراض و جواب
بعض مرزائی اپنے خیر خواہوں پر یہ الزام دیتے ہیں کہ اعتراض میں مرزا قادیانی کا بعینہ قول نقل نہیں کرتے۔ لفظ کو بدلتے ہیں۔ بھائیو! تمہارے اس کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے بہکانے والے اصل اعتراض کے جواب سے عاجز ہیں۔ اپنے خیر خواہوں پر کچھ الزام لگا کر کم علموں کو گمراہی پر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ اپنے دل میں اس جواب کو مہمل سمجھتے ہیں۔ ورنہ ضرور اس امر کو مشتہر کرتے۔ اب مجھ سے اس کا جواب سنئے۔ ہماری جماعت نے اکثر جگہ مرزا قادیانی کے بعینہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ آپ سامنے آئیں تو وہ مقامات کھول کر دکھائے جائیں اور بعض مقام پر بعینہ عبارت نقل نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عبارت میں بہت طوالت ہوتی ہے۔ اصل مطلب بہت کم ہوتا ہے۔ اس لئے پوری عبارت نہیں لکھی جاتی۔ اصل مطلب بیان کر دیا جاتا ہے۔ بعض وقت رسالہ میں ایک جگہ پوری عبارت لکھ دی گئی ہے اور دوسری جگہ اس کا حاصل لکھا گیا ہے۔ اب یہ بتائیے کہ اس میں کیا الزام ہے۔ ہاں اگر ہمارا حوالہ غلط ہو یا مرزا قادیانی کی عبارت کا جو خلاصہ ہم نے بیان کیا ہے وہ غلط ہو اگر ایسا ہوا ہے تو ہمیں دکھائیے کہ ہم نے کیا غلطی یا بددیانتی کی ہے۔ ہم حق پرست ہیں۔ حق بات کے ماننے میں اور کہنے میں کبھی ہم کو تامل نہیں ہوسکتا۔ البتہ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت ایک خاص امر میں بحث ہورہی ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کے صادق یا کاذب ہونے میں اس کے ثبوت میں جو ذی علم ہماری غلطی ثابت کرے گا اس کا جواب دیں گے اور اگر ہم سے غلطی ہوگئی ہو اسے ہم بخوشی مانیں گے۔ بلکہ ان کے ممنون ہوں گے اور جنہیں علم نہیں ہے ان کے خیال میں جو غلطی معلوم ہو وہ علمائے موقر سے بیان کریں۔ ان کی پوری تسلیم کر دی جائے گی۔ اب مقابلہ پر آئیے اور اس کا تجربہ کیجئے اور یوں عوام کے بہکانے کو ایک بات بنا کر کہہ دینا اہل حق کا کام نہیں ہے۔
٣٦