إِنَّ عِيْسَى لَمْ يَمُتْ وَإِنَّهُ رَاجِعٌ إِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (الحديث)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں فوت ہوئے اور تحقیق وہ تمہاری طرف قیامت سے قبل لوٹیں گے
قادیانی شبہات کے جوابات
جلد دوم
حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
مُناظِر خَتمِ نُبُوَّت حَضرَت مَولَانَا اللہ وسایا حَفِظَهُ اللّٰهُ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
انتساب !
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ..... حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ..... حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ..... اور دیگر وہ تمام حضرات جن کی کتب سے اس کتاب کی تدوین میں مدد لی گئی ان کے نام منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان حضرات سے اس نسبت کے باعث فقیر کی نجات فرمادیں۔ آمین!
مولف!
بسم الله الرحمن الرحيم !
نام کتاب : قادیانی شبہات کے جوابات جلد دوم (حیات عیسیٰ ؑ) ترتیب : مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ صفحات : ۴۱۶ طبع اول : جولائی ۲۰۰۴ء قیمت : ۱۵۰ روپے مطبع : اصغر پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
اعتراف قصور و طلب معافی!
محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم و احسان و توفیق، عنایت و مہربانی سے ”قادیانی شبہات کے جوابات“ کی دوسری جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر مشتمل ہے۔ قادیانی شبہات کے جوابات کی جلد اول رجب ۱۴۲۰ھ میں شائع ہوئی تھی۔ اب جمادی الاول ۱۴۲۵ھ میں دوسری جلد شائع ہو رہی ہے۔ چار سال دس ماہ کی طویل مدت تک رفقاء کو انتظار کرنا پڑا۔ پہلی جلد کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے پاکستان میں اس وقت تک متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ مخدوم محترم حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے اس پر نظر ثانی فرما کر اسے ہندوستان سے بھی شائع کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے درجہ تخصص فی ختم نبوت میں اسے شامل کورس کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شعبان میں منعقدہ سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر میں اسے پڑھایا جاتا ہے۔ رفقاء نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کی قدردانی اور فقیر کی حوصلہ افزائی کی۔ متعدد حضرات نے حیات مسیح علیہ السلام پر دوسری جلد کی اشاعت کا تقاضہ کیا۔ لیکن فقیر راقم احتساب قادیانیت شائع کرنے کے کام میں ایسا مستغرق ہوا کہ اس کی تو ۱۳ جلدیں شائع ہوگئیں۔ مگر قادیانی شبہات کے جوابات کی جلد ثانی مکمل نہ کر پایا۔ حالانکہ مسودہ تقریباً تیار تھا۔ اب گزشتہ دو ماہ سے تبلیغی اسفار کے باوجود اسے ترجیحاً شائع کرنے کا نظم بنایا۔ مسودہ پر نظر ثانی کی اور عجلت میں کمپوزنگ کے لئے بھجوا دیا۔ عجلت اس لئے ہوئی کہ آج سے دس دن بعد سفر برطانیہ درپیش ہے۔ سفر برطانیہ سے واپسی پر چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس و کورس کا کام سر پر سوار ہوگا۔ یہ رہ گئی تو سال بھر اس کی اشاعت مؤخر ہو جائے گی۔ پہلے بھی یہی ہوا۔ اب بھی اسی کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو کچھ ہو سکا پیش خدمت ہے۔ یہ کام عجلت میں ہوا اور بہت ہی عجلت میں ہوا۔ اس میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ مزید محنت درکار تھی جو نہیں ہوسکی۔ اس
میں بعض مقامات پر آپ کو تکرار ملے گا۔ بعض جگہ تو اجمال و تفصیل کے باعث تکرار ناگزیر تھا اور بعض مقامات پر عجلت کے باعث تکرار رہ گیا۔ جو کسی کتاب کے لئے بدنما داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر میں اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت اور اس کے بندوں سے معافی چاہتا ہوں۔ کاش حضرت مولانا محمد انور اوکاڑوی، حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری، حضرت مولانا محمد عابد صاحب، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد ابراہیم واسوی، حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹی، پروفیسر مولانا مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم ایسا کوئی محسن اس پر نظر ثانی سے توجہ فرما کر اس کے جھول دور کر کے تکرارات کو حذف اور مفید اضافے کر دے۔ ”بہتر نقش ثانی از نقش اوّل“ ہو جائے۔ وما ذالک على الله بعزیز!
اس کے سات ابواب ہیں۔ حیات مسیح پر قرآنی دلائل میں حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی کتاب حیات مسیح کو اور آیات قرآنی میں قادیانی تحریفات کے جوابات کے لئے حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتاب غایت المرام کو بنیاد بنا کر اس پر اضافے کئے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز تمام تر کوتاہیوں کے باوصف اس موضوع پر یہ کتاب تمام قدیم ماخذ و محنت بزرگان کا نچوڑ ثابت ہوگی۔
جو کچھ مواد ہے یہ بزرگوں کی محنت ہے۔ فقیر اس کا جامع یا مرتب ہے۔ مانگ تانگ سے کشکول گدائی بھر گیا تو صاحب ہم بھی مصنف ہو گئے۔ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں۔
سراپا تقصیر مجموعہ خطاء امت محمدیہ کا سیاہ دل و سیاہ رو اس کے علاوہ اور کیا عرض کر سکتا ہے۔ اے باری تعالیٰ اپنے عاجز و مسکین گنہگار بندہ کی خطاؤں کو معاف فرما اور قادیانی شبہات کے جوابات کی تیسری جلد ”کذب قادیانی“ بھی مرتب کرنے کی توفیق سے مالا مال فرمائیں۔
آمین! بحرمة النبی الکریم خاتم النبیین!
فقیر ...... اللہ وسایا
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
۱۱ / جمادی الاولی ۱۴۲۵ھ/ یکم جولائی ۲۰۰۴ء
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست!
اعتراف و معانی ۳
قادیانیوں سے گفتگو کیلئے رہنما اصول ۱۵
باب اوّل : تمہیدات خمسہ!
تمہید اوّل: رفع و نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اور آنحضرت ﷺ کا فرض منصبی ۲۳
تمہید دوم: نزول مسیح علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان ۳۵
تمہید سوم: امکان رفع کی بحث ۳۷
تمہید چہارم: رفع و نزول کی حکمتیں ۴۲
تمہید پنجم: رفع و نزول مسیح پر چند گزارشات ۴۴
باب دوم : حیات عیسیٰ ؑ کے قرآنی دلائل!
دلیل نمبر ۱ ...... وما قتلوہ وما صلبوہ کی تفسیر! ۵۰
آٹھ تفسیری شواہد ۶۰
قادیانی اعتراضات کے جوابات
اعتراض نمبر ۱...... مسیح کی شکل دوسرے شخص پر کیسے ۶۲
اعتراض نمبر ۲...... مسیح کی شکل دشمن پر ۶۳
اعتراض نمبر ۳...... بل ابطالیہ کیسے؟ ۶۳
اعتراض نمبر ۴...... رفع سے مراد عزت کی موت ۶۴
اعتراض نمبر ۵...... رفع روحانی ۶۵
اعتراض نمبر ٦...... آسمان کا ذکر کہاں ہے ٦٧ اعتراض نمبر ٧...... صلیب کا معنی صلیب پر مارنا ٦٩ اعتراض نمبر ٨...... آسمان پر کیسے درمیان میں رکے ہوئے ہیں ٧٠ حیات موسیٰ ؑ پر قادیانی اہم حوالہ! ٧٠ اعتراض نمبر ٩...... اس حوالہ پر قادیانی اشکالات کے جوابات ٧٣ اعتراض نمبر ١٠...... ثم اقبرہ کا جواب ٧٤ اعتراض نمبر ١١...... تواضع العبد کا جواب ٧٥ دلیل نمبر ٢...... وان من اھل الکتاب! ٧٦ آیت کی تفسیر قول اول ٧٧ تفسیر بالحدیث وقول ثانی ٧٨ دونوں اقوال میں تطبیق ٨١ گیارہ تفسیری شواہد ٨٢
آیت پر قادیانی اعتراضات کے جوابات
اعتراض نمبر ١...... تمام اہل کتاب کیسے ایمان لائیں گے؟ ٨٧ اعتراض نمبر ٢...... قبل موتہم! کا جواب؟ ٨٩ اعتراض نمبر ٣...... نزول کے وقت کے اہل کتاب کیسے؟ ٩٣ اعتراض نمبر ٤...... بہ کی ضمیر میں اختلاف کا جواب؟ ٩٤ اعتراض نمبر ٥...... القینا بینہم العداوۃ! کا جواب؟ ٩٤ اعتراض نمبر ٦...... جب سب مومن تو غلبہ کن کافروں پر کا جواب؟ ٩٨ دلیل نمبر ٣...... مکروا ومکر اللہ! ٩٨ چودہ تفسیری شواہد ٩٩
چیلنج ۱۰۴
آیت پر قادیانی اعتراضات کے جوابات
اعتراض نمبر ۱...... مسیح کا ہم شکل کون تھا؟ ۱۰۴ اعتراض نمبر ۲...... یہود نے یہ تدبیر کیوں کی؟ ۱۰۵ اعتراض نمبر ۳...... مکر سے مراد قتل ہے؟ ۱۰۵ اعتراض نمبر ۴...... ماکرین کو عذاب؟ ۱۰۷ اعتراض نمبر ۵...... تدبیر کے مقابلہ میں قدرت؟ ۱۰۹ اعتراض نمبر ۶...... ہو بہو شکل کیسے؟ ۱۰۹ اعتراض نمبر ۷...... آسمانوں پر کیوں؟ ۱۰۹ سوال از روح مرزا ۱۱۰ دلیل نمبر ٤...... یا عیسیٰ انی متوفیك! ۱۱۰ لفظ توفی کی تحقیق ۱۱۲ توفی کا لغوی معنی ۱۱۳ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں ۱۱۴ توفی کا مجازی معنی نیند ۱۱۶ توفی کا مجازی معنی موت کہاں؟ ۱۱۶ بیس تفسیری شواہد ۱۲۳ دلیل نمبر ۵...... وانه لعلم للساعة! ۱۲۹ تفسیری شواہد ۱۲۹ تفسیر نبوی چھ حوالہ جات ۱۳۲ اس آیت پر قادیانی اعتراض نمبر ایک انہ کی ضمیر میں اختلاف ۱۳۴
قادیانی اعتراض نمبر دو ۱۳۵
مضحکہ خیز قادیانی تفسیر ۱۳۸
اس آیت کی تصدیق از انجیل ۱۴۱
دلیل نمبر ۶...... واذ كففت بنی اسرائیل عنك! ۱۴۲
تفسیری شواہد ۱۴۵
قادیانی اعتراض نمبر ۱ ۱۵۰
قادیانی اعتراض نمبر ۲ ۱۵۲
دلیل نمبر ۷...... وجيهاً فی الدنيا والآخرة! ۱۵۴
قرآنی تفسیر ۱۵۶
تفسیری شواہد ۱۵۷
قادیانی نظریہ کی حقیقت ۱۶۰
دلیل نمبر ۸...... اذ علمتك الكتاب والحكمة! ۱۶۲
تفسیری شواہد ۱۶۳
دلیل نمبر ۹...... يكلم الناس فی المهد وكهلا! ۱۶۴
تفسیری شواہد ۱۶۵
دلیل نمبر ۱۰...... ليظهره على الدين كله! ۱۶۷
تفسیر نبوی ﷺ ۱۶۸
تفسیری شواہد ۱۶۹
دلیل نمبر ۱۱...... ايدناه بروح القدس! ۱۷۲
تفسیری شواہد ۱۷۵
دلیل نمبر ۱۲...... وجعلنا لهم ازواجاً وذرية! ۱۷۶
تفسیر نبوی ﷺ ۱۷۶
باب سوم:
حیات مسیح ؑ احادیث کی روشنی میں ۱۷۹ حدیث نمبر ۱: الانبیاء اخوۃ ۱۸۵ حدیث نمبر ۲: ان عیسی لم یمت! ۱۸۸ حدیث نمبر ۳: اذا نزل ابن مریم فیکم! ۱۹۰ حدیث نمبر ۴: ینزل اخی عیسی بن مریم من السماء! ۱۹۴ حدیث نمبر ۵: فیتزوج ویولد! ۱۹۴ حدیث نمبر ۶: یدفن عیسی مع رسول اللہ ﷺ! ۲۰۰ حدیث نمبر ۷: کیف تہلک امة انا فی اولها! ۲۰۲ حدیث نمبر ۸: قصہ ابن صیاد ۲۰۲ حدیث نمبر ۹: حدیث معراج ۲۰۲ حدیث نمبر ۱۰: آنحضرت ﷺ کا انصاری سے مباحثہ ۲۰۵
باب چہارم:
حیات عیسیٰ علیہ السلام اور اجماع امت ۲۱۰
باب پنجم
مرزا قادیانی اور عقیدہ حیات عیسیٰ کے تین دور ۲۱۴
تیس قادیانی استدلال کے جوابات
پہلی آیت ”انی متوفیک“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۲۴ دوسری آیت ”بل رفعه الله“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۳۴ تیسری آیت ”توفیتنی“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۳۶
چوتھی آیت ”لیؤمنن بہ قبل موتہ“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۳۳ پانچویں آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۴۶ چھٹی آیت ”وما جعلناہم جسدا لا یاکلون الطعام“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۴۹ ساتویں آیت ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۵۲ آٹھویں آیت ”وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۵۶ نویں آیت ”تلک امۃ قد خلت“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۵۷ دسویں آیت ”اوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۵۸ گیارہویں آیت ”یوم ولدت ویوم اموت“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۶۱ بارھویں آیت ”ومنکم من یرد الیٰ ارذل العمر“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۶۳ تیرھویں آیت ”ولکم فی الارض مستقر“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۶۶ چودھویں آیت ”ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۰ پندرھویں آیت ”اللّٰہ الذی خلقکم من ضعف“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۲ سولہویں آیت ”انما مثل الحیوٰۃ الدنیا“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۳ سترھویں آیت ”ثم انکم بعد ذالک لمیتون“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۴ اٹھارھویں آیت ”الم تر ان اللّٰہ انزل من السماء“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۴ انیسویں آیت ”لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۵ بیسویں آیت ”اموات غیر احیاء“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۷۷ اکیسویں آیت ”ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۸۰ بائیسویں آیت ”فاسئلوا اھل الذکر“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۸۴ تیئسویں آیت ”فادخلی فی عبادی ، ودخلی جنتی“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۲ چوبیسویں آیت ”ثم یمیتکم ثم یحییکم“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۳
پچیسویں آیت ”کل من علیہا فان“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۴ چھبیسویں آیت ”ان المتقین فی جنت ونہر“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۶ ستائیسویں آیت ”ما اشتہت انفسہم خالدون“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۷ اٹھائیسویں آیت ”اینما تکونوا یدرککم الموت“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۲۹۸ انتیسویں آیت ”ما آتاکم الرسول فخذوہ“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۳۰۰ تیسویں آیت ”او ترقی فی السماء“ میں قادیانی تحریف کا جواب ۳۰۳
باب ششم!
حیات مسیح اور بزرگان امت ۳۰۶ حضرت امام حسینؓ ۳۰۶ حضرت امام بخاریؒ ۳۰۸ حضرت امام مالکؒ ۳۱۰ حضرت امام ابوحنیفہؒ و حضرت امام احمد بن حنبلؒ ۳۱۱ حضرت علامہ ابن حزمؒ ۳۱۱ حضرت مولانا عبدالحق و نواب صدیق حسن خانؒ ۳۱۲ حضرت امام ابن قیمؒ ۳۱۳ حافظ لکھویؒ ۳۱۴ ابن عربیؒ ۳۱۵ ابن جریرؒ ۳۱۶ علامہ شعرانی صاحبؒ الیواقیت والجواہر ۳۱۷ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ ۳۱۸ حضرت امام جبائیؒ ۳۲۱
حافظ ابن تیمیہؒ ۳۲۲ حضرت مجدد الف ثانیؒ ۳۲۳ حضرت خواجہ اجمیریؒ ۳۲۳ حضرت ابن عباسؓ ۳۲۳
باب ہفتم: متفرق قادیانی شبہات کے جوابات!
قادیانی سوال...... ۱ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نبی ہوں گے یا نہ؟ ۔ ۳۲۹ قادیانی سوال...... ۲ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کس شریعت پر عمل کریں گے؟ ۳۳۰ قادیانی سوال...... ۳ نزول عیسیٰ علیہ السلام ہوا تو باب نبوت بند نہ ہوا؟ ۳۳۰ قادیانی سوال...... ۴ نزول عیسیٰ کے وقت سیڑھی کیوں؟ ۳۳۱ قادیانی سوال...... ۵ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی شہرت کس ملک کی ہوگی؟ ۳۳۲ قادیانی سوال...... ۶ کیا عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے؟ ۳۳۶ قادیانی سوال...... ۷ غیر معقول بات؟ ۳۳۶ قادیانی سوال...... ۸ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد رفع کی آیات کا کیا بنے گا؟ ۳۳۷ قادیانی سوال...... ۹ قتل دجال‘ تلوار سے یا قلم سے؟ ۳۳۷ قادیانی سوال...... ۱۰ دجال کہاں قتل ہوگا؟ ۳۳۸ قادیانی سوال...... ۱۱ انزلنا الحدید! کا نزول سے پیدائش مراد؟ ۳۳۸ قادیانی سوال...... ۱۲ علامات مسیح اور مرزا قادیانی؟ ۳۵۱
قادیانیوں سے سوال؟
قادیانی سوال...... ۱۳ نزول کے وقت کیفیت کیا ہوگی؟ ۳۵۳ قادیانی سوال...... ۱۴ دو فرشتوں سے مراد؟ ۳۵۳ قادیانی سوال...... ۱۵ عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے؟ ۳۵۴
قادیانی سوال...... ۱۶ سر سے پانی ٹپکے گا؟ ۳۵۴
قادیانی سوال...... ۱۷ بیت اللہ کا طواف؟ ۳۵۵
قادیانی سوال...... ۱۸ کسر صلیب؟ ۳۵۶
قادیانی سوال...... ۱۹ شادی کریں گے؟ ۳۵۷
قادیانی سوال...... ۲۰ قتل دجال سے مراد دجالی فتنہ روبزوال؟ ۳۵۷
قادیانی سوال...... ۲۱ عیسیٰ علیہ السلام کی جائے تدفین اور مرزا قادیانی؟ ۳۵۹
قادیانی سوال...... ۲۲ روضہ مطہرہ کھولا جائے گا؟ ۳۵۹
قادیانی سوال...... ۲۳ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تصریحات؟ ۳۶۱
قادیانی سوال...... ۲۴ مومن کی قبر فراخ کا جواب؟ ۳۶۳
قادیانی سوال...... ۲۵ آنحضرتﷺ زمین پر عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر؟ ۳۶۴
قادیانی سوال...... ۲۶ آنحضرتﷺ کی حفاظت زمین اور مسیح کی آسمانوں پر؟ ۳۶۷
قادیانی سوال...... ۲۷ یاجوج ماجوج؟ ۳۶۸
قادیانی سوال...... ۲۸ اہل دجال کا گدھا؟ ۳۶۹
قادیانی سوال...... ۲۹ آسمانوں پر عیسیٰ علیہ السلام کیا کھاتے ہوں گے؟ ۳۶۹
قادیانی سوال...... ۳۰ حیات مسیح پر بحث کے لئے اصرار کا جواب؟ ۳۷۳
قادیانی سوال...... ۳۱ عیسیٰ علیہ السلام میدان حشر میں؟ ۳۷۴
قادیانی سوال...... ۳۲ لوکان موسی وعیسی حیین ؛ ۳۷۴
قادیانی سوال...... ۳۳ لامہدی الاعیسیٰ؟ ۳۷۷
قادیانی سوال...... ۳۴ علامات قیامت موجود تو مہدی کون؟ ۳۸۱
قادیانی سوال...... ۳۵ دمدار ستارہ؟ ۳۸۵
قادیانی سوال...... ۳۶ رفع کا حقیقی معنی؟ ۳۸۶
قادیانی سوال...... ۳۷ اللہ فاعل ذی روح مفعول باب توفی؟ ۳۸۷
قادیانی سوال...... ۳۸ آپ ﷺ کا رفع مسیح علیہ السلام جیسا؟ ۳۹۱
قادیانی سوال...... ۳۹ حدیث اقول کما قال العبد الصالح؟ ۳۹۱
قادیانی سوال...... ۴۰ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا تقاضہ ہے کہ مسیح نہ آئیں؟ ۳۹۴
قادیانی سوال...... ۴۱ تمام روئے زمین کے لوگ سو سال میں مر جائیں گے؟ ۳۹۶
قادیانی سوال...... ۴۲ ینزل فیکم سے مراد صحابہؓ ؟ ۳۹۶
قادیانی سوال...... ۴۳ مبشراً برسول یاتی من بعدی! سے مراد وفات؟ ۳۹۷
قادیانی سوال...... ۴۴ معراج کی رات؟ ۳۹۷
قادیانی سوال...... ۴۵ زمین و آسمان کی طویل مسافت؟ ۳۹۸
قادیانی سوال...... ۴۶ عقل میں نہیں آتا؟ ۴۰۰
قادیانی سوال...... ۴۷ ایلیاء کی پیشگوئی یحییٰ سے پوری ہوئی؟ ۴۰۱
قادیانی سوال...... ۴۸ طبری میں کتبہ قبر مسیح کا ذکر ہے؟ ۴۰۳
قادیانی سوال...... ۴۹ عمر مسیح علیہ السلام پر اختلاف؟ ۴۰۴
قادیانی سوال...... ۵۰ کرہ ناریہ سے گزر کیسے؟ ۴۰۷
قادیانی سوال...... ۵۱ بعض اکابر کی عبارات؟ ۴۰۸
قادیانی سوال...... ۵۲ حلیے دو؟ ۴۰۸
قادیانی سوال...... ۵۳ عیسیٰ علیہ السلام مخصوص کیوں؟ ۴۱۰
قادیانی سوال...... ۵۴ قبور انبیاء سجدہ گاہ؟ ۴۱۰
قادیانی سوال...... ۵۵ مسلمانو! عیسیٰ علیہ السلام کو اتار لاؤ؟ ۴۱۲
قادیانی سوال...... ۵۶ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کس فرقہ سے ہوں گے ۴۱۳
قادیانی سوال...... ۵۷ تقدیم و تاخیر ۴۱۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
قادیانیوں سے گفتگو کے لئے رہنما اصول!
قادیانیوں سے گفتگو کرنی ہو تو ہماری پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کے کذب پر گفتگو ہو۔ اس موضوع سے قادیانی اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شکار تیر سے۔ اس لئے کہ قادیانی کتب سے مرزا قادیانی کی جو بھیانک صورت اجاگر ہوتی ہے اس سے قادیانیوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ بدیں وجہ قادیانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو آڑ بنا کر‘ تحریف کے نشتر چلا کر‘ استعارہ کی اوٹ لے کر اور بات کا بتنگڑ بنا کر مرزا قادیانی کی حقیقت پر پردہ پوشی کریں۔ لہٰذا حیات مسیح علیہ السلام پر جب گفتگو کرنی پڑے تو اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز یہ مفید اور کارگر ہتھیار ثابت ہو گی۔ قادیانی تمام شبہات کا اس میں جواب موجود ہے۔ لیکن جب آپ گفتگو کریں تو قادیانیوں اور سامعین پر واضح کریں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ اسے نازل ہوئے چودہ سو صدیاں بیت گئیں۔ آیا اسے آج تک کسی نے سمجھا بھی ہے یا نہیں؟۔ یقیناً اس کا وہ جواب ہاں میں دیں گے۔ تو پھر آپ موقف اختیار کریں کہ قرآن مجید کی جس آیت کا ترجمہ و مفہوم سمجھنا ہو امت کے قدیم مفسرین‘ مجددین و محدثین کی تفہیم کی روشنی میں ہم اسے سمجھیں گے۔ یعنی جو آیت زیر بحث ہو اس کا ہم یا قادیانی جو ترجمہ و مفہوم بیان کریں وہ چودہ سو سالہ امت کی رائے کے خلاف نہ ہو۔ اگر ہم نیا ترجمہ کرتے ہیں تو لازم آئے گا کہ چودہ سو سال میں امت سے قرآن مجید کو کسی نے نہیں سمجھا۔ اور یہ محال ہے۔ مرزا قادیانی کے فتنہ کو سو سال ہو گئے۔ اس سے اختلاف ہوا۔ اس سے قبل جو امت کے مفسرین‘ مجددین یا محدثین ہیں وہ تو متفقہ ہیں۔ اس لئے فریقین جو آیت پیش کریں اس کا ترجمہ و مفہوم امت کی سابقہ تفسیروں سے دکھائیں۔ جو تفسیر فریقین کے نزدیک مسلم ہو۔ اس کو مدار بنائیں۔ ایک نہیں دس سابقہ قدیم تفاسیر کو مدار بنا کر گفتگو کریں جو ترجمہ و مفہوم ہو ہم ان تفاسیر میں دکھانے
کے پابند ہوں اور قادیانی بھی ’’جی بسم اللہ‘‘ قادیانی کسی ایک قدیم تفسیر یا تفاسیر جتنی چاہیں ان کے نام بتائیں۔ جس آیت کا ترجمہ و مفہوم پوچھنا ہو ان سے پوچھیں گے۔ اس نکتہ پر قادیانی کبھی نہ آئیں گے۔ تو ان کا بار بار کہنا کہ قرآن سے قرآن سے قرآن سے بحث کریں وہ سامعین پر واضح ہو جائے گا کہ یہ جو قرآن کا نام لے کر قرآن مجید پر الحاد کا کلہاڑا چلانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لغت سے ترجمہ نہ ہو۔ لیکن لغت میں ایک لفظ کے کئی معنی ہیں۔ یہاں کونسا معنی مراد ہے۔ اس کے لئے قدیم مفسرین پر فیصلہ کی فریقین پابندی کریں۔ آخر قدیم مفسرین بھی تو لغت جانتے تھے۔ آج کے دور میں فہم قرآن پر ہم پابندی نہیں لگا رہے۔ بلکہ اپنے فہم کو امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ سلسلۃ الذہب سے منسلک کر رہے ہیں۔ تا کہ الحاد سے بچ جائیں۔
- ۲...... ہمارے نزدیک ہر صدی میں مجدد یا مجددین کا ہونا صحیح ہے۔ لیکن وہ کون
ہے؟۔ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن قادیانیوں نے از خود مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد بنانے کے لئے تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست شائع کر دی ہے۔ جو یہ ہے:
’’پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں: (۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول۔ علاوہ ان کے اور بھی اس صدی میں مجدد مانے گئے ہیں۔ چونکہ جو مجدد جامع صفات حسنیٰ ہوتا ہے وہ سب کا سردار اور فی الحقیقت وہی مجدد فی نفسہ مانا جاتا ہے۔ دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) امام محمد ادریس ابو عبداللہ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحییٰ بن معین بن عون عطفانی (۴) شہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (۵) ابو عمر مالکی مصری (۶) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنید بن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن رحلہ شافعی (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداللہ صوفی بغدادی (۱۱) اور بقول قاضی القضات علامہ عینی۔ احمد بن خالد الخلال، ابو جعفر حنبلی بغدادی۔ (دیکھو نجم الثاقب جلد ۲ ص ۱۴ قرۃ العیون و مجالس الابرار تعریف الاحیاء بفضائل الاحیا ص ۳۲) تیسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابو الحسن اشعری متکلم شافعی (۳) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب (۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶) خلیفہ مقتدر باللہ عباسی (۷) حضرت شبلی صوفی (۸) عبید اللہ بن حسنین (۹) ابو الحسن کرخی صوفی حنفی
(۱۰) امام یحییٰ بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث ۔ (دیکھو تعریف الاحیا بفضائل الاحیاء ص ۳۳ و نجم الثاقب وقرۃ العیون ومجالس الابرار) چوتھی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) امام ابو بکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باللہ عباسی (۳) ابو حامد اسفرانی (۴) حافظ ابو نعیم (۵) ابو بکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اللہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم نیشاپوری (۷) امام بیہقی (۸) حضرت ابو طالب مکی صاحب قوت القلوب جو طبقہ صوفیا سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی (۱۰) ابو اسحق شیرازی (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ ومحدث ۔ پانچویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی (۲) بقول عینی وکرمانی حضرت راعونی حنفی (۳) خلیفہ مستظہر باللہ بن مقتدی باللہ عباسی (۴) عبداللہ بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی (۵) ابو طاہر سلفی (۶) محمد بن احمد ابو بکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی۔ چھٹی صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) محمد بن عمر ابو عبداللہ فخر الدین رازی (۲) علی بن محمد (۳) عزالدین ابن اثیر (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا (۵) یحییٰ بن حبش بن امیرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (۶) یحییٰ بن شرف بن حسن محی الدین نووی (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی (۸) حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سرتاج طریقہ قادری۔ ساتویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم یحییٰ منیری (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی زرعی دمشقی حنبلی (۶) عبداللہ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن فلاح ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ شبلی حنفی دمشقی۔ آٹھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن رسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شاذلی ابن بنت میلک ۔ نویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) عبدالرحمن بن کمال الدین شافعی معروف بامام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جون پوری۔ اور بعض دسویں صدی کے مجددین حضرت امیر تیمور صاحب قرآن فاتح عظیم الشان۔ دسویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) ملا علی قاری
(۲) محمد طاہر فتنی گجراتی محی الدین محی السنۃ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بعلی متقی ہندی مکی۔ گیارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) عالمگیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم بنوری صوفی (۳) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی۔ معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی۔ بارھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (۲) مرزا مظہر جاناں دہلوی (۳) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکبانی (۴) حضرت احمد شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (۵) امام شوکانی (۶) علامہ سید محمد بن اسماعیل امیر یمن (۷) محمد حیات بن ملا طلاز یہ سندھی مدنی۔ تیرھویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں: (۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں ان کی اطلاع نہ ملی ہو۔“
(عسل مصفیٰ ص ۱۶۲ تا ۱۶۵‘ خدا بخش مرزا کی تصدیق شدہ از مرزا غلام احمد قادیانی)
لیجئے اس فہرست میں جو حضرات فریقین کے ہاں مسلم ہوں ان پر اتفاق کر لیا جائے۔
- (الف)...... جس آیت کا وہ جو ترجمہ کریں دونوں فریق قبول کریں۔
- (ب)...... وہ فرمادیں کہ مسیح علیہ السلام زندہ تو ہم دونوں فریق قبول کریں۔ وہ کہہ
دیں فوت ہو گئے تو بھی فریقین قبول کریں۔
- (ج)...... وہ ختم نبوت کے مسئلہ پر جو موقف رکھتے ہوں فریقین مان لیں۔ قادیانیوں
کو اس کا پابند کریں۔ فیصلہ آسان ہوگا۔ قارئین یقین فرمائیے تیرہ صدیوں کا ایک بھی مسلمہ مفسر ومجدد ایسا نہیں جو حیات مسیح کا منکر یا اجرائے نبوت کا قائل ہو۔ قادیانی اس پر آ جائیں۔ لیکن قادیانی اس سے بھاگیں گے۔ اس پر نہیں آئیں گے۔ حیات مسیح، ختم نبوت پر ان بزرگوں کے جو وہ حوالہ جات دیتے ہیں سب میں تحریف کرتے ہیں۔ کانٹ چھانٹ اور ہیر پھیر سے کام لیتے ہیں۔ دجل کرتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں ایک بھی مسلمہ بزرگ ان مسائل میں امت کے خلاف موقف نہیں رکھتا۔ جیسا کہ آپ اس کتاب میں ملاحظہ کریں گے۔
- ۳....... قادیانی اس پر کبھی نہ آئیں گے۔ تو پھر آپ ان سے سوال کریں کہ تیرہ
صدیوں کے مسلمہ مجدد حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل۔ چودھویں صدی کا ایک آپ کا نام نہاد مجدد مرزا قادیانی ان کا منکر آیا تیرہ صدیوں کے مجدد صحیح ہیں یا یہ ایک۔ اس لئے کہ ایک مسئلہ پر تیرہ صدیوں کے مسلمہ بزرگوں کی رائے ایک ہے۔ اکیلے مرزا قادیانی کی ایک طرف۔ اگر تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر ہیں تو مرزا قادیانی حق پر نہ ہوا۔ اگر مرزا قادیانی حق پر ہے تو تیرہ صدیوں کے حضرات حق پر نہ ہوئے۔ اب مرزا کی تیرہ صدیوں کے مسلمہ مجددین کا انکار کریں یا ایک کا؟۔ اس سے بھی سامعین اور انصاف پسند قادیانی سمجھ جائیں گے کہ حق کس طرف ہے۔
- ۴....... ذیل میں چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ ان پر گفتگو کے وقت نظر
رہے۔ نیز سابقہ نکات کی تائید کے لئے بھی یہ کارآمد ہیں۔
حوالہ نمبر ۱: ”مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ۵۵‘ خزائن ج ۶ ص ۳۵۱)
حوالہ نمبر ۲: ”ایسے آئمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔ جنہوں نے قرآن کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے قرآن کی پاک اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔“
(ایام الصلح ص ۵۵‘ خزائن ج ۱۴ ص ۲۸۸)
حوالہ نمبر ۳: ”مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔“
(کرامات الصادقین ص ۲۰‘ خزائن ج ۷ ص ۶۲)
حوالہ نمبر ۴: ”غرض برخلاف اس متبادر مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف میں ...... اول سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۲۵‘ خزائن ج ۳ ص ۵۰۱)
حوالہ نمبر ۵: ”کسی اجماعی عقیدہ سے انکار وانحراف موجب لعنت کلی ہے۔“
(انجام آتھم ص ۱۴۴‘ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
ان حوالہ جات سے جو نتائج برآمد ہوئے وہ یہ ہیں:
- (الف) مومنوں کو قرآن کا علم و عمل عطا کیا گیا۔
- (ب) ہر صدی میں آئمہ اکابر قرآن مجید کے فہم کو جاننے والے موجود رہے ۔
- (ج) مدار ایمان چیزیں ہر زمانہ میں شائع ( مشہور عام ) رہیں ۔
- (د) تواتر مسلسل معنوں کے خلاف قرآن میں معنی گھڑنا الحاد و تحریف ہے ۔
مرزا قادیانی کے ان حوالوں کی روشنی میں قادیانی گزشتہ صدیوں کے آئمہ واکابر کے فہم قرآن کے خلاف نئے معنی گھڑ کر الحاد و تحریف اختیار کرنے کی بجائے ہمارے ساتھ تمام مختلف فیہ مسائل میں تمام قرآنی آیات جو پیش ہوں ان کا ترجمہ کریں۔ اس فہم کو پیش کریں جو مرزا قادیانی سے پہلے سے گزشتہ صدیوں کے آئمہ واکابر کی تفاسیر سے معلوم و متعین ہیں ۔ تا کہ بات کسی نتیجہ پر پہنچ سکے ۔
اختلاف تفاسیر: قادیانی تفاسیر کی آراء کے اختلاف کی بابت سوال کریں تو ان سے کہا جائے کہ امت کے اکابر نے دیانت داری سے جتنے اقوال و تشریحات ہو سکتی تھیں سب کو بیان کر دیا۔ ان آراء کے باوجود جو مختار رائج بلکہ ارجح معنی و مفہوم تھا اسے بھی بیان کیا ۔ اس کے مطابق جو عقیدہ اختیار کیا اس کو ماننا چاہئے ۔ اب حیات مسیح، ختم نبوت پر جو امت کے اکابر و آئمہ کا عقیدہ ہے اسے مانیں ۔ وہ سب حیات مسیح اور ختم نبوت کے قائل تھے ۔ ہاں اگر اختلاف اقوال کو دیکھا جا سکتا ہے تو وہ مختلف حضرات کے مختلف اقوال تھے۔ مختلف آیات کی ہر ایک نے ترجمہ و تفسیر کی۔ جس آیت کی جتنی تشریح یا جو جو آیت کا مفہوم ہو سکتا تھا بیان کیا۔ لیکن کسی نے ایک ہی مسئلہ پر کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ۔ کہ فوت ہو گئے ۔ کہ ختم نبوت نہیں اجرائے نبوت ہے ۔ یہ نہیں کہا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ان امور پر کیا کردار تھا۔ دور نہ جائیں قادیانیوں کے گھر کی شہادت پیش خدمت ہے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا سالا مرزا محمود کا ماموں میر اسماعیل قادیانی نے لاہوری قادیانی اختلاف کے سلسلہ میں ”نبوت حضرت مسیح موعود پر ایک شہادت“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو فرقان قادیان جولائی ۱۹۳۳ء میں شائع ہوا ۔ اسی مضمون کو دوبارہ الفرقان ربوہ مئی جون ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں شائع کیا گیا ۔ جس میں وہ لاہوریوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
”اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) ہر دو فریق کے مقتداء ہیں۔ نیز ہمارے اور آپ کے نزدیک وہ صادق اور راستباز ہیں۔ ان باتوں کے باوجود (۱)...... حضور ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری زندہ ہیں۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ (۲)...... اور یہ کہتے ہیں کہ مسیح ناصری آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ وہ ہرگز آسمان سے نازل نہیں ہوں گے ۔ (۳)...... پھر کہتے ہیں مسیح اور مہدی دو شخص ہوں گے ۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہرگز نہیں مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے ۔ (۴)...... کبھی فرماتے ہیں کہ مہدی تو بنی فاطمہ سے ہوگا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں مہدی ہوں ۔ (۵)...... کہیں فرماتے ہیں کہ مجھے عیسیٰ سے کیا نسبت وہ عظیم الشان نبی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں مسیح ناصری سے افضل اور ہر شان میں بڑھ کر ہوں ۔ (۶)...... کہیں فرماتے ہیں کہ میں نبی نہیں ہوں صرف مجدد اور محدث ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ (۷)...... اسی طرح فرماتے ہیں کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ میرا منکر کافر ہے۔ (۸)...... غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے بھی رہے پھر حرام بھی فرمادیں ۔ (۹)...... ان سے رشتے ناطے بھی کرتے تھے ۔ پھر منسوخ بھی کر دیئے ۔ (۱۰)...... متوفیک کے معنے کئے کہ پوری نعمت دوں گا ۔ پھر کہا کہ ہزار روپیہ انعام اگر سوائے موت۔ اس کے کوئی اور معنے ثابت ہوں ۔ (۱۱)...... فرماتے تھے کہ ایک نبی دوسرے کا متبع نہیں ہوتا ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی نبی کے ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو ۔ (۱۲)...... ایک کتاب میں نبی کی تعریف اور کی ہے۔ دوسری میں اس کے کچھ مخالف کی ہے۔ (۱۳)...... کبھی کہا کہ میں تو مسیح کا صرف مثیل ہو کر آیا ہوں۔ وہ خود بھی آئے گا۔ پھر کہا کہ میں ہی مسیح ہوں اور کوئی نہیں آئے گا ۔ غرض حضور کی تصانیف میں دس حوالے اگر آپ ایک طرح کے دکھا سکتے ہیں تو سو ہم دوسری طرح کے ۔“
(مسیح موعود نمبر الفرقان ربوہ مئی جون ۱۹۶۵ء ص ۴۳)
قادیانی دوست فرمائیں کہ یہ آپ کے مجدد، مہدی، مسیح، نبی کی یہ شان تھی ۔ اعمال میں نہیں ۔ عقائد و اخبار میں بھی تفاوت اقوال ہے۔ کیا عقائد و اخبار میں بھی نسخ ہوتا ہے؟۔
باب اول
تمہیدات خمسہ
تمہید اوّل
رفع و نزول مسیح ؑ کا عقیدہ اور آنحضرت ﷺ کا فرض منصبی
الحمد للّٰہ و کفیٰ و سلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی اما بعد۔
حضور سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت سرزمین عرب میں تین طبقے خصوصیت سے موجود تھے۔ (۱)...... مشرکین مکہ (۲)...... نصاریٰ نجران (۳)...... یہود (خیبر میں)
اب ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآن مجید کی رو سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کے کیا فرائض تھے؟
(الف)...... چنانچہ آپ ﷺ کی بعثت سے قبل کے جو طریق منہاج ابراہیمی کے موافق تھے ان میں تغیر و تبدل نہ ہوا تھا ان کو آپ ﷺ نے اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم فرمایا اور جن امور میں تحریف، فساد یا شعائر شرک و کفر مل گئے تھے ان کا آپ ﷺ نے بڑی شدت سے علی الاعلان ردّ فرمایا۔ جن امور کا تعلق عبادات و اعمال سے تھا ان کے آداب و رسومات اور مکروہات کو واضح کیا۔ رسومات فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور طریقہائے صالحہ کو مروج فرمایا اور جس مسئلہ شریعت کو پہلی امتوں نے چھوڑ رکھا تھا یا انبیاء سابقہ نے اسے مکمل نہ کیا تھا ان کو آپ ﷺ نے تر و تازگی دے کر رائج فرمایا اور کامل و مکمل کر دیا۔
(ب)...... اسی طرح آپ ﷺ سے قبل مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں جن امور پر اختلاف تھا آپ ﷺ ان کے لیے فیصل (فیصلہ کرنے والے) اور حکم بن کر تشریف لائے آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید اور اس کی تفسیر (حدیث) کے ذریعے مختلف فیہ امور میں جو فیصلہ صادر ہو جائے وہ حتمی اور اٹل ہے (اس سے روگردانی و انحراف موجب ہلاکت و خسران اور اسے دل سے تسلیم کرنا سعادت مندی اور اقبال بختی
کی دلیل ہے) چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَهُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ (النحل ۶۴) ”اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں اور سیدھی راہ سمجھانے کو اور بخشش واسطے ایمان لانے والوں کے۔“
اب ہم دیکھتے ہیں کہ تینوں طبقات کے کون کون سے عقائد و اعمال صحیح یا غلط تھے اور ان کا آپ ﷺ نے کیا فیصلہ فرمایا؟
- مشرکین مکہ ۱....... شرک میں مبتلا تھے۔ بتوں کی پوجا کرتے تھے چنانچہ قرآن مجید
نے تردید شرک اور اثبات توحید باری تعالیٰ پر جتنا زور دیا ہے اور جس طرح شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑا ہے۔ بتوں کی عبادت کی تردید اور ابطال کا قرآن مجید نے جو انداز اختیار کیا ہے۔ کیا کسی آسمانی مذہب یا آسمانی کتاب میں اس کی نظیر پیش کی جاسکتی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ آپ ﷺ نے جس طرح معبودان باطلہ کو للکارا وہ صرف اور صرف آپ ﷺ ہی کا حصہ تھا۔
- ۲....... مشرکین مکہ بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ یہ عمل ان کا صحیح تھا۔ اسلام نے اس کو
نہ صرف قائم رکھا بلکہ زمانہ نبوت سے تا ابد الآباد اس کو اسلامی عبادت کا بہترین حصہ قرار دیا۔ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ. (الحج ۲۹) (اور طواف کریں پس قدیم گھر کا) طواف امر الٰہی اور حکم ربی ہے۔ ہاں مشرکین نے طواف میں جو غلط رسوم شامل کر لی تھیں۔ مثلاً وہ ننگے طواف کرتے تھے یہ بیہودہ امر تھا اس کو محو کر دیا۔
- ۳....... مشرکین مکہ حجاج کو ستو پلایا کرتے تھے حجاج کی عزت وتکریم کرتے تھے۔ حجاج کو،
بیت اللہ کے زائرین کو، ضیوف اللہ سمجھتے تھے یہ امر صحیح تھا۔ اس لیے اس کی توثیق فرمائی۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ سِقَايَةَ الْحَاجِّ (توبہ ۱۹) (حاجیوں کو پانی پلانا) اس سے قبل بیت اللہ الحرام کی تعمیر اور اس میں حاجیوں کا پانی پلانا ذکر فرما کر ان امور خیر کی توثیق فرمائی۔
- ۴....... مشرکین عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ ان کا یہ فعل قبیح اور حرام
تھا۔ اس سے پیغمبر اسلام نے نہ صرف روکا بلکہ بچیوں کی تربیت کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری سے نوازا۔ بچیوں کے قتل پر قرآن مجید میں ارشاد ہے وَاِذَا الْمَوْءُدَةُ سُئِلَتْ بِاَىِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ (تکویر ۸،۹) اور جب بیٹی زندہ گاڑ دی گئی تو پوچھیں کہ کس گناہ پر وہ ماری گئی۔“
غرض قرآن مجید نے مشرکین کے غلط عقائد و رسوم کو مٹایا اور صحیح کاموں کی
توفیق کی اور ان کو اور زیادہ راسخ اور مستحکم کیا۔
- یہود کے عقائد ۱....... یہود بے بہود حضرت عزیر ؑ کو ابن اللہ قرار دیتے تھے۔
وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ نِ ابْنُ اللّٰهِ (توبہ ۳۰) ’’اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘ قرآن مجید نے اس کی تردید کی۔ تَكَادُ السَّمٰوَتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا. (مریم ۹۰ تا ۹۲) ’’ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے اور ٹکڑے ہو زمین اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کر اس پر کہ پکارتے ہیں رحمٰن کے نام پر اولاد اور نہیں پھبتا رحمٰن کو کہ رکھے اولاد۔‘‘
- ۲....... یہود حضرت عیسیٰ بن مریم کے قتل کا اعتقاد رکھتے اور اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ
مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ (النساء ۱۵۷) (ہم نے قتل کیا مسیح، عیسیٰ، مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا) جتنی پختگی سے وہ دعویٰ کرتے تھے اس سے زیادہ زور دار بیان سے قرآن مجید نے وَمَا قَتَلُوْهُ (اور انھوں نے نہ اس کو مارا) کہہ کر قتل مسیح کی مطلق نفی کر کے اس غلط دعویٰ کی تردید فرمائی۔
- ۳....... اور وہ حضرت مریم عذراء علیہا السلام کی پاکدامنی کے خلاف تھے۔ قرآن مجید نے
وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰكِ عَلٰى نِسَاءِ الْعٰلَمِيْنَ. (آل عمران ۴۲) (اور جب فرشتے بولے اے مریم اللہ نے تجھ کو پسند کیا اور ستھرا بنایا اور پسند کیا تجھ کو سب جہان کی عورتوں پر) وَ اُمُّهُ صِدِّيْقَةٌ. (مائدہ ۷۵) (اور اس کی ماں ولی ہے) کہہ کر یہود کے عقیدۂ بد کی تردید فرمائی۔
خود مرزا قادیانی کو بھی اعتراف ہے چنانچہ اس نے لکھا کہ: ’’یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل بھی کیے گئے اور صلیب بھی دیے گئے بعض یہود کہتے ہیں پہلے قتل کر کے پھر صلیب پر لٹکائے گئے اور بعض کہتے ہیں۔ پہلے صلیب دے کر پھر ان کو قتل کیا گیا۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۷۶ خزائن ج ۲۱ ص ۳۳۵)
غرض یہود کے ان غلط دعوؤں کو وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا کے زور دار الفاظ سے ڈنکے کی چوٹ پر قرآن مجید نے نہ صرف رد کیا بلکہ قتلِ مطلق اور صلب مطلق کی نفی کی تلوار سے ان دعوؤں کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیا وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا تو ایسا قرآنی بم ہے جس نے یہود کے دعویٰ کو ملیا میٹ اور زمین بوس کر دیا۔
- نصاریٰ کے عقائد ۱....... نصاریٰ تثلیث کے قائل تھے ان کا یہ عقیدہ بداہتہً باطل تھا
قرآن مجید نے اس کا رد فرمایا۔ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ. (مائدہ ۷۳) (بیشک کافر ہوئے جنھوں نے کہا اللہ ہے تین میں کا ایک) نیز فرمایا وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (مائدہ ۷۳) (حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے)
- ۲....... نصاریٰ الوہیت مسیح کے قائل تھے ان کا یہ عقیدہ بھی بداہتاً باطل تھا چنانچہ صراحتاً
قرآن مجید نے اس کی تردید فرمائی۔ لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ. (مائدہ ۷۲) (بیشک کافر ہوئے جنھوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا) نیز فرمایا مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ (مائدہ ۷۵) (نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول)
- ۳....... نصاریٰ عیسیٰ بن مریم کو ابن اللہ قرار دیتے تھے۔ وَقَالَتِ النَّصَارَی الْمَسِیْحُ ابْنُ
اللّٰہِ (توبہ ۳۰) (اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے)
ان کا یہ عقیدہ بھی بداہتاً باطل تھا۔ قرآن مجید نے صراحتاً اس کی بھی تردید فرمائی۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ. (اخلاص) (تو کہہ وہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی)
نیز سورۃ مریم کی آیات ۹۰ تا ۹۲ پہلے گزر چکی ہیں۔ غرض نصاریٰ کے اس (ابنیت مسیح) عقیدہ باطل کی بھی قرآن مجید نے تردید کی۔
- ۴....... نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام پھانسی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو
گئے۔ ان کے عقیدۂ کفارہ کی بنیاد مسیح علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا تھا۔ قرآن مجید نے اس کی تردید کی وما صلبوہ (النساء ۱۵۷) کہ وہ قطعاً پھانسی پر نہیں چڑھائے گئے تو عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہی قرآن مجید نے گرا دی کہ جب وہ سرے سے صلیب پر نہیں چڑھائے گئے تو تمھارے گناہوں کا کفارہ کا عقیدہ ہی سرے سے بے بنیاد ہوا۔
چونکہ یہ عقیدہ اصولاً غلط تھا۔ چنانچہ قرآن مجید نے صرف نفی صلیب پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ واقعاتی تردید کے ساتھ ساتھ اصولی اور معقولی تردید بھی کی وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی (فاطر ۱۸) ”اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا۔“
نیز فرمایا فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ. (زلزال ۷۔۸) (سو جس نے ذرہ بھر بھلائی کی وہ دیکھ لے گا اسے اور جس نے کی ذرہ برابر برائی وہ دیکھ لے گا اسے) مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے کہ نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ:
”مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لیے کفارہ ہوا۔ (ازالہ اوہام ص ۳۷۳ خزائن ج ۳ ص ۲۹۲)
نصاریٰ کا عقیدہ کفارہ غلط تھا قرآن مجید نے بغیر رعایت کے اپنا فرض منصبی ادا کرتے ہوئے اس کی تردید کا علم بلند کیا۔
- ۵۔ نصاریٰ کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع جسمانی ہوا اور وہ دوبارہ اس
دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ حضرت مسیح کے رفع الی السماء حیات مسیح اور نزول مسیح من السماء کے نصاریٰ قائل تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی بھی مانتا ہے کہ ”اس خیال پر تمام فرقے نصاریٰ کے متفق ہیں کہ (مسیح) آسمان کی طرف اٹھائے گئے ۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۴۸ خزائن ج ۳ ص ۲۲۵)
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
”ان عقيده حياته قد جاء ت فى المسلمين من الملة النصرانية“
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ۳۹ خزائن ج ۲۲ ص ۶۶۰)
(حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں امت نصاریٰ سے آیا ہے)
قادیانیوں سے سوال...... !
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ نصاریٰ قوم کی طرف سے آیا ہے۔ آیا حیات مسیح کا عقیدہ صحیح تھا یا غلط؟ اگر غلط تھا تو آنحضرت ﷺ نے والذي نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰) (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تحقیق ضرور بالضرور عیسیٰ بیٹا مریم کا تم میں نازل ہوگا) ان عيسٰى لم يمت و انه راجع اليكم قبل يوم القيامة.
(ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶، ابن جریر ج ۳ ص ۲۸۹)
تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور وہی تمہاری (امت محمدیہ) طرف واپس لوٹیں گے اور قرآن مجید نے بل رفعه الله الیه میں نصاریٰ کے غلط عقیدے کو قبول کرلیا؟ ۱۱۲ احادیث صحیحہ میں آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کے غلط عقیدہ کی ترجمانی کرتے رہے؟ اور چودہ سو سال سے امت مسلمہ اس غلط عقیدہ کی ترجمانی کرتی چلی آ رہی ہے؟ قرآن مجید غلط عقائد کی ترجمانی کرتا رہا؟ کیا کوئی بڑے سے بڑا دشمن رسول آنحضرت ﷺ پر اتنے بڑے افتراء کی جرات کر سکتا ہے جو مرزا نے کی؟ مرزا قادیانی کے اس الزام کو صحیح مان لیا جائے تو اس حالت میں معاذ اللہ آپ ﷺ عیسائیت کے ترجمان ٹھہریں گے۔ نہ ترجمان حق۔ خداوند کریم اور آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی کے اس افتراء کی دنیا کا کوئی قادیانی صفائی دے سکتا ہے؟
اصل صورتحال اب ہم اصل صورت حال قارئین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ واقعۂ رفع و نزول مسیح کا عقیدہ مسیحی حضرات کا تھا۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے یہ عقیدہ اس قوم میں پایا جاتا تھا مگر چونکہ یہ عقیدہ صحیح تھا۔ عین واقعہ کے مطابق تھا۔ تبھی قرآن مجید کے ذریعہ اللہ رب العزت نے اور آنحضرت ﷺ نے اس عقیدہ کی توثیق فرمائی۔ پھانسی پر چڑھنے، موت کا واقع ہونے اور پھر زندہ ہونے کی باتیں غلط تھیں۔ ان کی وما قتلوہ، وما صلبوہ، وما قتلوہ یقیناً میں واشگاف الفاظ سے تردید کر دی۔ ہاں مسیح علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ نازل ہونے کی بات صحیح تھی۔ اس حصہ کی خدا تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے تصدیق و توثیق فرمائی۔
رفع و نزول مسیح اور انجیل
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہی دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ جیسا کہ خود عیسائی کتب میں ہے۔
- ۱...... ”غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔“
(مرقس باب ۱۶ آیت ۱۹)
- ۲...... ”ان (حواریوں) سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔“ (لوقا باب ۲۴ آیت ۵۱) ان
دونوں حوالہ جات میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے آسمانوں پر رفع کا جس صراحت سے ذکر ہے اس کا اندازہ قارئین خود فرما لیں کہ آیا اس سے زیادہ صراحت ہو سکتی ہے؟ یہ دو حوالہ جات آپ نے رفع کے ملاحظہ کیے اب دو حوالہ جات نزول مسیح علیہ السلام کے بھی ملاحظہ فرمائیں۔
- ۳...... ”اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا اور اس وقت زمین کی سب
قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم (عیسیٰ علیہ السلام) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔“
(متی باب ۲۴ آیت ۳۰)
- ۴...... ”اس وقت لوگ ابن آدم (عیسیٰ علیہ السلام) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ
بادلوں میں آتے دیکھیں گے۔“ (مرقس باب ۱۳ آیت ۲۶) قارئین حوالہ نمبر ۴ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا وہ جواب نقل کیا ہے جب آپ کے حواریوں نے پوچھا کہ آپ کا آنا کب ہوگا۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو فرمایا وہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مرقس اور متی کے بیان کے تقریباً الفاظ بھی ایک ہیں۔ اب اس سے زیادہ مزے کی بات ملاحظہ ہو۔
- ۵...... ”ہم کو بتا یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا
ہوگا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبر دار کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے۔ (مرزا قادیانی و بہاء اللہ ایرانی) اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔“
(متی باب ۲۴ آیت ۳ تا ۶)
- ٦...... ”اور بہت سے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔“
(متی باب ۲۴ آیت ۱۱)
- ۷...... قارئین اب مرقس کا بیان ملاحظہ ہو ”اور اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں
(قادیان) یا دیکھو وہاں (ایران) ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور نشان اور عجیب کام دکھائیں گے تاکہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر دیں لیکن تم خبردار رہو دیکھو میں نے تم سے سب کچھ پہلے کہہ دیا ہے۔“ (مرقس باب ۱۳ آیت نمبر ۲۲۔۲۳) غرض مسیح علیہ السلام کے رفع و نزول اور جھوٹے مسیحیت کے دعویداروں کے بیان کے ساتھ ثابت ہوا کہ مسیحی کتب اور خود مرزا قادیانی کے اقرار کے بموجب مسیحی قوم رفع و نزول کے عقیدہ کی قائل تھی۔ اگر رفع مسیح کا عقیدہ، نصاریٰ کے دیگر عقائد کی طرح غلط تھا تو جس طرح قرآن مجید نے مسیحیوں کے دیگر غلط عقائد کی تردید کی۔ قرآن مجید اس غلط عقیدہ کی بھی دو ٹوک الفاظ میں تردید کرتا۔ وضاحت سے قرآن مجید اور صاحب قرآن محمد عربی ﷺ ما رفع ولا ينزل ارشاد فرماتے۔
قادیانیوں سے سوال ......۲
کیا ساری دنیا کے قادیانی مل کر قرآن مجید اور ذخیرہ احادیث سے ما رفعہ اللہ ولا ينزل عیسیٰ بن مریم دکھا سکتے ہیں؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ رہتی دنیا تک کوئی قادیانی ہمارے اس مطالبہ کو پورا نہیں کر سکتا۔
حقیقت حال پھر جب یہ تسلیم ہے کہ عیسائیوں کا عقیدہ رفع و نزول کا تھا۔ اگر یہ عقیدہ غلط تھا تو قرآن مجید اس کی تردید کرتا اگر تردید نہ کرتا اور صرف سکوت اختیار کر لیا جاتا تو بھی یہ عقیدہ صحیح تسلیم کر لیا جاتا۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کوئی بات یا کوئی کام ہو تو نبوت کا سکوت بھی تسلیم و رضا کی دلیل اور شریعت کا حکم بن جاتا ہے۔ خود مرزا قادیانی کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ لکھتا ہے۔
”واقعہ صلیب کے متعلق قرآن کیا کہتا ہے اگر یہ خاموش ہے تو پتہ چلا کہ یہود و نصاریٰ اپنے خیالات میں حق پر ہیں“ (ریویو آف ریلیجنز شمارہ نمبر ۱ ج ۹ ص ۱۴۹۔۱۵۰) اب
ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں قرآن حکیم اور رسول کریم ﷺ نے ہمیں کیا تعلیم دی؟ یہ ظاہر ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا عقیدہ اسلام کا پیدا کردہ نہیں بلکہ مسیح علیہ السلام کا وہ ارشاد اور پیشگوئی ہے جو آپ نے ظالم فریسیوں کے پنجہ میں گرفتار ہونے سے چند روز پیشتر باطلاع خداوندی اپنی قوم کو دی تھی۔ غرض یہ عقیدہ اس زاہد اور مظلوم نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کی بناء پر عیسائیوں میں قائم ہوا اور برابر ظہور نبی ﷺ (تقریباً چھ سو برس) تک کمال استحکام کے عیسائیوں میں چلا آیا اور حضرت مسیح کا بجسدہ العنصری آسمان سے اترنا اور بادلوں پر سے اترتے ہوئے نظر آنا مسیحیوں کا نہایت مسلم عقیدہ رہا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ وہ پاک اسلام جس نے ملتہائے متفرقہ کی افراط و تفریط کو دور کر کے صراط مستقیم کو قائم کیا اور ادیان سابقہ کے دروازہ تحریف کو بند کر کے ابواب تنقیح و تصحیح کو کھولا۔ ہم کو اس عقیدہ رفع و نزول مسیح کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟ وہ نبی جس کی شان ہے۔ ھُوَ الَّذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ. (الجمعة۲) (وہی ہے جس نے اٹھایا ان پڑھوں سے ایک رسول انھیں میں پڑھ کر سناتا ہے ان کو ان کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقلمندی اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں) وہ مزکی نبی خداوند کریم کے حکم سے، وحی سے، کافہ اہل عالم کو اس عقیدہ کے بارہ میں کیا کھول کھول کر سناتے ہیں؟ کہ ۱...... مسیح دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ ۲...... خدا کی قسم ضرور آئیں گے۔ ۳...... اس شان و شوکت کے ساتھ آئیں گے۔ ۴...... ایسے زمانہ میں آئیں گے۔ ۵...... ایسی جگہ پر آئیں گے۔ ۶...... آ کر یہ کام کریں گے۔ ۷...... اتنا عرصہ دنیا میں زندہ رہیں گے۔ ۸...... پھر وفات پائیں گے۔ ۹...... میرے ساتھ روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ ۱۰...... اور قیامت کے دن میرے ساتھ اٹھیں گے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی وہ مختصر پیشگوئی جس کی کیفیت مسیحیوں میں بہت کچھ اجمالی تھی اس کی شرح و تفسیر تفصیل و توضیح رسول اللہ ﷺ نے ایسی فرمائی کہ جس سے بڑھ کر تشریح و تفصیل ممکن ہی نہیں۔ دوسو نو علامات رفع و نزول سے متعلق آپ ﷺ نے ارشاد فرمائیں۔ (علامات قیامت و نزول مسیح ص ۱۷۳) اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْىٌ يُّوْحٰى (النجم ۴۔۳) (اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا)
لیکن ان تمام توضیحات و اعلان قرآنی کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک ایسے عقیدہ کو مشتہر کیا جا رہا ہے کہ مسیح نہیں آئیں گے جس مسیح کے آنے کا انتظار ہے اس کے آنے سے درحقیقت ایک شخص کا پیدا ہونا ہے جو اپنی ذات میں کمالات مسیح کو لیے ہوئے ہو۔ تو یہ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجیل میں تحریف ہونا ممکن (اس لفظی و معنوی تحریف کی ہمارے علماء کرام نے تصریح بھی کی) اس پیشگوئی (رفع و نزول) میں تحریف وتفسیر یا من گھڑت ہونا انجیل میں شامل کیا جاتا۔ ہمارے نزدیک ممکن الوقوع۔ لیکن کیا یہی محرف و مبدل، غیر اسلامی و غیر سماوی عقیدہ مسلمانوں میں، اسلام میں، حضور علیہ السلام کی زبان مقدسہ سے، قرآن مجید کی آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰہُ سے شامل ہو گیا کیا یہ قرین قیاس ہے؟ ۱۔ وہ رسول جن کو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ و ان لم تفعل فما بلغت رسلتہ (مائدہ ۶۷) (اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام) کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا۔ ۲۔ جس نبی ﷺ کی یہ نشانی بتائی گئی۔ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ (مائدہ آیت ۱۵) (اے کتاب والو تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے) ۳۔ یا وہ رسول وَلَاتَلْبِسُوْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُو الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (بقرہ ۴۲) (اور مت ملاؤ سچ میں غلط اور مت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر) کہہ کر اہل کتاب کو جھٹلاتے تھے وہ نبی خود معاذ اللہ ان پر معاملہ مشتبہ ہو گیا؟ وہ تلبس کا شکار ہو گئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جن علامات کو اپنی پیشین گوئی میں بیان نہ کیا تھا ان کو نبی ﷺ نے باوجود اصل واقعہ کے موضوع ہونے کو شامل عقائد کر لیا؟ اور وہ عقائد جو مرزا قادیانی کے نزدیک شرک تک پہنچتے ہیں۔ اسلام میں داخل ہو گئے اور وہ بھی نبوت کی زبان سے؟ اے بدباطن خبردار؟ رسول اللہ ﷺ کی جناب میں یہ بے ہودہ خیال نہ کر، معصوم نبی ﷺ کی شان میں تہمت نہ تراش، چاند پہ تھوکنا اپنے منہ پر تھوکنا ہے اور آفتاب پہ غبار ڈالنا اپنی آنکھوں کو خاک آلودہ کرنا ہے۔ حذر کن
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام ص ۵۵۷ (خزائن ج ۳ ص ۴۰۰) پر لکھا ہے کہ ”پس کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشینگوئیوں کو جو خیرالقرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بہ موضوعات داخل کر دیں یہ بات
پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشینگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشینگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشینگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشینگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے انجیل بھی اس کی مصدق ہے اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کی عظمت باقی نہیں رہی اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔“
اوّل درجہ کی پیشینگوئی جس کو تواتر کا درجہ حاصل ہے کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”متواترات کا انکار کرنا گویا اسلام کا انکار کرنا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ۸۸۔ خزائن ج ۱۳ ص ۲۰۶)
”اور پھر ایام الصلح کے ص ۷۲ (خزائن ج ۱۴ ص ۲۹۸) پر لکھا ہے کہ ”ہمیں اس بات کو اوّل درجہ کی دلیل قرار دینا چاہیے کہ ایک قوم باوجود ہزاروں اور لاکھوں اپنے افراد کے پھر ایک بات پر متفق ہو۔“ اسی طرح ازالہ اوہام ص ۵۵۶ (خزائن ج ۳ ص ۳۹۹) پر لکھا ہے کہ ”تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“
عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے تشریف لانے کو اوّل درجہ کی پیشینگوئی قرار دے کر شرک قرار دینا کتنا بڑا شاخسانہ ہے جیسا کہ اس نے اپنی کتاب الاستفتاء ص ۳۹۔ (خزائن ج ۲۲ ص ۶۶۰) پر لکھا ہے کہ ”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات وان هو الا شرک عظیم.“
اور پھر لطف یہ کہ اقرار کرتا ہے کہ ”میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے۔“ (حقیقت الوحی ص ۱۴۹، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲) گویا یہ خود مثیل مسیح بننے سے پہلے مشرک رہا اور اب مسیح علیہ السلام کا دوبارہ آنا جو انجیل کی تعلیم سے مسیحیوں کا عقیدہ ہے اس کا طلسم صرف ادنیٰ اظہار حقیقت سے ٹوٹ سکتا ہے کہ اس کے مثیل کا دنیا میں پیدا ہونا مان لیا جائے جبکہ مرزا خود لکھتا ہے کہ ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان نہیں کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور بھی دس ہزار
مثیل مسیح آ جائیں ...... کسی زمانہ میں ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۹۰ خزائن ج ۳ ص ۱۹۲) اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ”اوّل تو یہ جاننا چاہیے کہ مسیح علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو ہو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا پیشینگوئیوں میں سے یہ ایک پیشینگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۱۴۰ خزائن ج ۳ ص ۱۷۱) یہ بھی یاد رہے کہ مرزا نے لکھا ہے کہ ”اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیالی کر بیٹھے ہیں۔ -
(ازالہ اوہام ص ۱۹۰، خزائن ج ۳ ص ۱۹۲)
- ۱...... مسیح ابن مریم کے رفع اور نزول کو اوّل درجہ کی پیشینگوئی قرار دینا۔
- ۲...... قرآن و انجیل کی تصدیق شدہ ہونا قرار دینا۔
- ۳...... تواتر کا درجہ اس کے لیے ماننا۔
- ۴...... غیر قوموں کے تواتر کو بھی حجت ماننا۔
- ۵...... تواتر کے انکار کو کفر قرار دینا۔
- ۶...... پھر حیات عیسیٰؑ کے عقیدے کو شرک قرار دینا۔
- ۷...... اسے صدہا پیشینگوئیوں میں سے ایک پیشینگوئی قرار دینا جس کا حقیقت اسلام سے
کچھ تعلق نہیں۔
- ۸...... پھر مثیل مسیح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ کرنا۔
- ۹...... جو اسے مسیح موعود سمجھے اسے کم فہم قرار دینا۔
- ۱۰...... پھر دس ہزار مثیل مسیح کا آنا ماننا۔
- ۱۱...... پھر ایسے مثیل مسیح کا آنا ماننا جس پہ حدیث کے ظاہری الفاظ بھی صادق آ سکیں۔
ان تمام مندرجہ بالا نتائج کو سامنے رکھ کر سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ
یا پھر
کیا رسول اکرم ﷺ نے عیسائیوں کو یہ نہ فرمایا کہ تم مجاز کو حقیقت سمجھتے ہو اور مسیح علیہ السلام کی دقیق تعلیم کو نہیں سمجھتے جس مسیح علیہ السلام کا تم انتظار کرتے ہو وہ تو میرے امتیوں میں سے ایک امتی ہوگا بلکہ اس کے علی الرغم یہود و نصاریٰ کے دو بڑے گروہوں میں رب کریم نے حکم بن کر اِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ (سورۃ الطارق ۱۳-۱۴) کی
شان کو دکھلایا ہے اور دونوں گروہوں کے معتقدات میں سے جو حصہ درست اور صحیح تھا اسے درست و صحیح کہا اور جو حصہ غلطی یا کفر و شرک سے بھرا ہوا تھا اسے غلط و باطل فرمایا پس ایسی حالت میں فریقین متنازعین کے درمیان فیصلہ صادر کیا جائے۔ کون عقل مند یہ تجویز کر سکتا ہے کہ اس فیصلہ میں اصل حقیقت اس لیے ظاہر نہیں کی گئی کہ فلاں تیسرا شخص بھی اس حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔
یاد رکھو کہ قرآن مجید اور رسول کریم ﷺ نے اس زمانہ کے موجودہ مذاہب کے لوگوں میں جن مسائل میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے خوب کھول کھول کر فیصلے سنائے۔ پھر اعتقادات و ایمانیات میں سے فروگذاشت کیا کرنی تھی۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ ابن مریم علیہ السلام دنیا پر پھر آئے گا، بادشاہت کرے گا جبکہ یہود کہتے ہیں کہ وہ مر گیا کبھی مردہ بھی پھر آیا ہے؟ رسول اکرم ﷺ دونوں کا بیان سن لیں اور ارشاد فرمائیں کہ ہاں ابن مریم علیہ السلام ضرور آئے گا، اور قوانین اسلام پر چلے گا تو ان بیانات پر کیا سمجھا جاتا ہے کہ وہی ابن مریم علیہ السلام جس کے بارے میں جھگڑا تھا یا کوئی اور؟ اگر یہ عیسائیوں کا گھڑا ہوا عقیدہ تھا تو عیسیٰ علیہ السلام ایک نبی کی پیشینگوئی کو دوسرے نبی حضرت محمد ﷺ نے چیستان بنا دیا اور بھی پیچیدہ کر دیا۔ نہ پہلے نے حق رسالت ادا کیا اور نہ دوسرے نے حق تبلیغ؟ جس نبی ﷺ نے جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا پڑھ کر سنایا۔ جس نے اہل کتاب کو راستبازی اور انصاف سے ملزم ٹھہرایا۔ جس نے یہود و نصاریٰ کو ان کے افعال ملعونہ پر شرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی تعلیمات کو نفسانی تاویلات سے علیحدہ کر کے دکھلایا۔ اب اس نئی روشنی کے زمانہ میں اس نبی کی نسبت مرزا قادیانی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے بھی ہم کو دھوکہ میں رکھا اور جس مسیح کی مسیحی انتظار کر رہے تھے اسی انتظار کی مصیبت میں اپنی امت کو بھی شریک کر دیا۔ (معاذ اللہ) کیا نبی علیہ السلام نے ایسے ناقص المعانی الفاظ کا استعمال کیا اور مغلق پیرایا اختیار فرمایا لفظی و معنوی الجھنوں کو کام میں لائے۔ کہ خود حضور ﷺ کے فیضان صحبت سے مستفید ہونے والے صحابی مقصود محمدی ﷺ کو صحیح نہ سمجھ سکے اور نہ امت، وارثان علم نبوت، آج تک اسے سمجھ سکی۔ کیا آج تک اس سے بھی بڑا کفر چودہ سو سال میں کسی کے خیال و ذہن میں آیا ہے جس کا مرزا قادیانی مرتکب ہو رہا ہے؟
تمہید دوم
نزول مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی جلالت شان
اللہ رب العزت نے حضور نبی کریم ﷺ کی جلالت شان کی سیادت و قیادت کو صرف مسلمانوں تک محدود نہ رکھا بلکہ ایک خرق عادت امر کا ظہور مقدر فرمایا جس کے سامنے موافق و مخالف، مسلمان و اہل کتاب کو خوشی یا ناگواری سے سرتسلیم خم کرنا ہوگا۔ جب حق و باطل کی فیصلہ کن گھڑی آن پہنچے گی۔ اس وقت بنی اسرائیل کے خاتم حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو خاتم مطلق و سید برحق آنحضرت ﷺ کا نائب اور امت محمدیہ ﷺ کا قائد بنا کر نہایت اکرام و اجلال کے ساتھ آسمان سے زمین پر بھیجا جائے گا۔ یہودیت و مسیحیت تمام ادیان وملل کا خاتمہ ہو گا۔ اسلام کا چہار سو عالم غلغلہ بلند ہوگا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام یہ سب کچھ اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے آقا و سید آنحضرت ﷺ کے نام سے سرانجام دیں گے۔ جن کے آپ نائب بنا کر بھیجے جائیں گے۔ وہ انجیل کی طرف نہیں قرآن وسنت کی طرف مخلوق خدا کو بلائیں گے۔ جو مقدس وجود نہایت اکرام کے ساتھ آسمانوں پر اٹھایا گیا۔ وہ وجود آج آنحضرت ﷺ کے دین کی سربلندی اور آئین محمدی ﷺ کی اتباع کو فخر سمجھ کر نزول فرمائیں۔ سبحان اللہ وہ کیسا منظر قابل فخر ہوگا کہ بنی اسرائیل کے خاتم آنحضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی قیادت و سیادت کا علم لیے ہوں گے۔ ذرا ایمان وجدان کی نظروں سے اس کا تصور ذہن میں لائیے جب ایک جلیل القدر نبی و رسول، آنحضرت ﷺ کی امت میں صف باندھے کھڑا آپ ﷺ کی سروری و سرداری کی علی رؤس الاشہاد گواہی دے رہا ہوگا۔ وہ منظر اتنا جاذب اور ایمان افروز ہوگا۔ جس کی اہمیت کی طرف خود آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی امت کو متوجہ فرمایا کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم (بخاری ومسلم) فرمایا اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب عیسیٰ بیٹا مریم علیہ السلام کا تم میں نازل ہوگا۔ افسوس امت محمدیہ ﷺ میں مسیحیت و یہودیت کے ایجنٹ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر کے آنحضرت ﷺ کی اس جلالت شان کو دنیا پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ قادیانی گروہ دجال کی نمائندگی کر کے، سیدنا
مسیح علیہ السلام کی وفات کا پروپیگنڈہ کر کے، خود مسیح بن کر، جہاں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کے اظہار میں روڑے اٹکاتا ہے۔ وہاں وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کو قتل سے بچانے کے لیے کوشاں ہے لیکن ذات باری تعالیٰ کے ارادہ و حکم کے سامنے نہ آج تک کسی فرعون و دجال کی تدبیر چلی نہ آئندہ چلے گی۔ آنحضرت ﷺ کی جلالت شان علی رؤس الاشہاد ظاہر و باہر ہو گی اور ضرور ہوگی۔ رب کریم ایسا ضرور فرمائیں گے۔ ہم نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ فرماتے۔ والذی نفسی بیدہ ان ینزل فیکم ابن مریم (بخاری۔ مسلم) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری (آنحضرت ﷺ کی) جان ہے۔ ضرور عیسیٰ بیٹا مریم کا نازل ہوگا۔ آپ ﷺ کے اس قسمیہ و حلفیہ اعلان کو جو شخص پس پشت ڈالتا ہے وہ ارادۂ خداوندی اور آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کا انکاری ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام کے نزول میں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کا وقوع میں آنے کا دراصل وہ وقت عیسائیت کے لیے اتنا خفت و ذلت کا باعث ہوگا کہ جس ذات کو اپنا معبود و الہ مانتے ہیں وہ خود اسلام کا نمائندہ بن کر ان مسیحیوں کو داخل اسلام کر رہا ہوگا۔ ان کے سفید فام آقاؤں کو ذلت سے بچانے کے لیے قادیانی حیات و نزول کا منکر ہو رہا ہے۔ خود مسیح بن کر سفید فام آقاؤں کی غلامی کا دم بھر رہا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کے نزول سے انکار کا باعث یہی وہ امر ہے جس کی مرزا کو رعایت مقصود ہے۔ (فافہم)
مسلمانو ہوشیار رہو ان سفید فام انگریزوں کے چیلوں کی باتوں میں نہ آؤ۔ مسیح علیہ السلام کے نزول کو ہونے دو۔ ان کا آنا ہی، مسیحیت و یہودیت، دجال زمان و دجال قادیان کے کفر کا جانا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے نائب اعظم (سیدنا مسیح علیہ السلام) کی حیات میں کفر کی موت ہے۔ يهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ان کی آمد پر تمام ملتیں نیست و نابود ہو جائیں گی۔ ان کی آمد سے کل عالم پر اسلام کا غلبہ ہوگا۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (القرآن) کا ایک بار پھر زمین و آسمان والے ایسا مسحور کن نظارہ دیکھیں گے کہ کل عالم مرحبا مرحبا کی صداؤں سے معمور و مخمور ہو جائے گا۔ اللهم انصر من نصر دين محمد ﷺ و اجعلنا منهم.
تمہید سوم
امکان رفع کی بحث
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول پر بحث سے قبل یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا ”امکان رفع“ ہے؟ قرآن وسنت اور واقعات عالم پر نظر دوڑائیں کہ اس کی کوئی مثال ہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا؟ واقعات سے اگر ثابت ہو جائے کہ رفع کا امکان ہے۔ ایک ثابت شدہ واقعہ کا انکار یا حقیقت واقعہ کا انکار سوائے احمقوں کے اور کوئی نہیں کیا کرتا۔ اس بحث سے ہم قادیانی عقائد کو نہیں لیتے کہ وہ ان سب واقعات کے انکاری محض اس لیے ہیں کہ ان واقعات کے اقرار سے رفع و نزول کی اگر مثال قائم ہو گئی، تو مسیح علیہ السلام کے رفع و نزول کا انکار بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ جس سے ان کے خود ساختہ مسیح کے دجل و کذب، افتراء و تلبیس کی پوری عمارت دھڑام سے گر پڑے گی۔ اس لیے وہ ان واقعات سے انکاری ہیں۔
ہم یہاں صرف مسلمانوں کے ایمان کی زیادتی کے لیے قرآن وسنت و تاریخ و سوانح کے حوالہ سے، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ رفع و نزول کے نظائر موجود ہیں۔ جن سے امکان رفع نہیں بلکہ وقوع رفع ثابت ہوتا ہے۔
در بیان امکان رفع جسمانی
مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پا کر مدفون ہو چکے اور دلیل یہ ہے کہ ”کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے“ جیسا کہ ازالہ اوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶ ہے۔
- جواب.......۱ یہ ہے کہ جس طرح نبی اکرم محمد مصطفے ﷺ کا جسد اطہر کے ساتھ لیلۃ
المعراج میں جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے۔
- ۲....... جس طرح آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف ہبوط ہوا ہے۔ اسی طرح
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے۔ اِنَّ مَثَلَ
عِيسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ.
- ۳....... جعفر بن ابی طالب کا فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑنا صحیح اور قوی حدیثوں
سے ثابت ہے۔ اسی وجہ سے ان کو جعفر طیار کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اخرج الطبرانی باسنادٍ حسنٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بن جَعْفَرٍ قال قال رسولُ اللّٰهِ ﷺ هنيالك ابوک یطیر مع الملائكة فی السماء امام طبرانی نے باسناد حسن عبداللہؓ بیٹے جعفرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفر کے بیٹے عبداللہ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفر جبرائیل و میکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے۔ ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوۂ موتہ میں کٹ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دو بازو عطا فرما دیے ہیں) اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے۔ (الترغیب ج ۴ ص ۴۸۷ حدیث ۶۰۲۵۔ جامع الاحادیث ج ۱۱ ص ۱۷۹ حدیث ۳۴۳۸۹ زرقانی ص ۲۷۵ ج ۲ و فتح الباری ص ۷۶ ج ۷) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے۔
يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ ابْنُ أُمِّى
(وہ جعفر کہ جو صبح و شام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے)
- ۴....... عامر بن فہیرہؓ کا غزوۂ بئر معونہ میں شہید ہونا، اور پھر ان کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا
جانا روایات میں مذکور ہے جیسا کہ حافظ عسقلانی نے (اصابہ ج ۲ ص ۱۵۶ القسم الاول حرف العین) میں اور حافظ ابن عبدالبر نے استیعاب ج ۲ ص ۳۴۵ میں اور علامہ زرقانی نے شرح مواہب ص ۷۸ ج ۲ میں ذکر کیا ہے۔ جبار بن سلمیٰ جو عامر بن فہیرہؓ کے قاتل تھے وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاکؓ بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور یہ کہا۔
دعانى الى الاسلام ما رايتُ مِنْ مَقْتَلِ عَامر بن فُهيرة وَمَن رَفعه الى السماءِ. عامر بن فہیرہؓ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔ عامر ابن فہیرہؓ حضرت عائشہؓ کے ماں کی طرف سے بھائی طفیل بن سخبرۃ کے غلام تھے۔ ہجرت کی شب یہی عامر ابن فہیرہؓ حضور سرور کائنات ﷺ کو غار ثور پر بکریاں چراتے چراتے لے جا کر دودھ دیا کرتے تھے۔ عامر ابن فہیرہؓ بئر معونہ کے واقعہ میں قتل ہوئے بخاری شریف میں ہشام ابن عروہؓ سے روایت ہے کہ فقال لقد رأيته بعد ماقتل رفع الى السماء حتى انى لانظر الى السماء بينه و بين الارض ثم وضع فاتى
نبی ﷺ خبرهم.
(بخاری ج ۲ ص ۵۸۷ باب غزوة الرجيع وبئر معونه)
ضحاکؓ نے یہ تمام واقعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ فان الملائكة وارت جثته وانزل فی عليين. فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپا لیا اور وہ علیین میں اتارے گئے۔ ضحاک ابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقی اور ابونعیم اصفہانی دونوں نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں بیان کیا ۔
(شرح الصدور فی احوال الموتیٰ والقبور للعلامۃ السیوطی ص ۲۵۷ طبع بیروت و دلائل النبوۃ للبیہقی ج ۳ ص ۴۵۳)
اور حافظ عسقلانی نے (اصابہ ج ۱ ص ۲۲۰ القسم الاول حرف الجیم) میں جبار بن سلمیٰ کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے۔
شیخ جلال الدین سیوطیؒ شرح الصدور ص ۲۵۸ میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہؓ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد ج ۳ ص ۱۷۴ نمبر ۲۹ اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔
- ۵...... واقعہ رجیع، رجيع اسمه لموضع من بلاد هذيل كانت الواقعه بالقرب
منه فی صفر سنة اربعة.
(حاشیہ بخاری ج ۲ ص ۵۸۵)
واقعہ رجیع میں جب قریش نے خبیب بن عدیؓ کو سولی پر لٹکایا تو آنحضرت ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمریؓ کو خبیبؓ کی نعش اتار لانے کے لیے روانہ فرمایا۔ عمروؓ بن امیہ وہاں پہنچے اور خبیبؓ کی نعش کو اتارا دفعۃً ایک دھماکا سنائی دیا۔ پیچھے پھر کر دیکھا اتنی دیر میں نعش غائب ہو گئی۔ عمروؓ بن امیہ فرماتے ہیں گویا زمین نے ان کو نگل لیا۔ اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس روایت کو امام ابن حنبلؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
(زرقانی شرح مواہب ص ۷۳ ج ۲)
شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ خبیبؓ کو زمین نے نگلا اسی وجہ سے ان کا لقب بلیع الارض ہو گیا اور ابونعیم اصفہانی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہؓ کی طرح خبیبؓ کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھا لے گئے۔ ابونعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے عامر بن فہیرہؓ اور خبیب بن عدیؓ اور علاء بن حضرمیؓ کو آسمان پر اٹھایا۔ انتہیٰ۔
- ۶...... ومما يقوى قصة الرفع الى السماء ما اخرجه النسائى والبيهقى والطبرانى
وغيرهم من حديث جابر ان طلحة اصيبت اناملہ یوم احدٍ فقال حسّ، فقال رسول الله ﷺ لو قلت بسم الله لرفعتک الملائکۃ والناس ینظرون الیک حَتّٰی تلج بک فی جَوّ السماء. (شرح الصدور ص ۲۵۸ نسائی ج ۶ ص ۳۴۶ حدیث ۴۱۴۹) شیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہؓ اور خبیبؓ کے واقعہ رفع الی السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابر بن عبداللہؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوۂ احد میں حضرت طلحہؓ کی انگلیاں زخمی ہوگئیں تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے حس یہ لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو بجائے حس کے بسم اللہ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوئے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھا کر لے جاتے یہاں تک کہ تجھ کو آسمان میں لے کر گھس جاتے۔
۷........ علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ اولیاء کا الہام و کرامت انبیاء کرام کی وحی اور معجزات کی وراثت ہے۔
واخرج ابن ابی الدنیا فی ذکر الموتی عن زید بن اسلمؒ قال کان فی بنی اسرائیل رجل قد اعتزل الناس فی کھف جبل و کان اَھلُ زمانہٖ اذا قَحطُوْا استغَاثُوْا بہ فدعی اللہ فسقاہُمُ فَمَاتَ فاخذوا فی جھازہ بینھم کَذٰلِک اِذَا ھُمْ بسریر فرفع فی عنان السماء حتی انتھی الیہ فقام رجل فاخذہُ فوضعہ علی السریر والناس لینظرون الیہ فی الھواء حتی غَابَ عَنھُمُ (شرح الصدور ص ۲۵۷) ”ابن ابی الدنیا نے ذکر الموتیٰ میں زید بن اسلمؒ سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ میں رہتا تھا جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے وہ دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے بارانِ رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہوگیا۔ لوگ اس کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا یہاں تک کہ اس عابد کے قریب آکر رکھا گیا۔ ایک شخص نے کھڑے ہوکر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا، لوگ دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غائب ہوگیا۔“
۸....... اور حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا مستدرک حاکم میں مفصل مذکور ہے۔
(مستدرک ص ۵۷۹ ج ۲)
۹...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً
مذکور ہے کما قال تعالیٰ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ (الى قوله تعالیٰ) قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ o قَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ.
(سورۃ مائدہ ۱۱۴-۱۱۵)
- ۱۰......سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لیے من و سلویٰ آسمانوں سے اترا تھا۔ اس کے
لیے (ان تمام کروں سے) آنا قرآن سے ثابت ہے۔ پس کھانا انبیاء علیہم السلام کے اجساد سے زیادہ مادی جسم ہے۔ کھانے کی نسبت انبیاء علیہم السلام کا وجود زیادہ لطیف بلکہ الطف ہے۔ اگر مادی جسم آسمانوں سے آنا محال نہیں تو ان سے لطیف بلکہ الطف اجساد کا آنا کیوں کر محال ہے؟
مقصد ان واقعات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اور ملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہٗ نے اپنے محبین اور مخلصین کی اس خاص طریقہ سے بار ہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح و سالم فرشتوں سے آسمانوں پر اٹھوا لیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے تاکہ اس کی قدرتِ کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات و کرامات کی رسوائی و ذلت آشکارا ہو اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مومنین اور مصدقین کے لیے موجب طمانیت اور مکذبین کے لیے اتمام حجت کا کام دے۔
ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہو گیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے نہ سنت اللہ کے متصادم ہے بلکہ ایسی حالت میں سنت اللہ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے تاکہ اس مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ کی اپنے خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں بلکہ ممکن اور واقع ہے۔
تمہید چہارم
رفع الی السماء اور نزول من السماء الی الارض کی حکمت
- ۱....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کی حکمت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ یہود
کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ کما قال و قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی قوم یہود سے ہوگا اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لیے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے تاکہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا وہ سب غلط ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمھارے قتل اور بربادی کے لیے اتارا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے ان کو قتل نہیں کر سکے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے قتل کے لیے نازل کیا اور یہ حکمت فتح الباری کے باب نزول عیسیٰ ص ۳۵۷ ج ۱۰ پر مذکور ہے۔
- ۲....... حضرت عیسیٰ ؑ ملک شام سے آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور ملک شام ہی میں
نزول ہوگا تاکہ اس ملک کو فتح فرمائیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لیے تشریف لائے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور وفات سے کچھ عرصہ پہلے شام کو فتح کرنے کے لیے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے اور نازل ہونے کے بعد صلیب کا توڑنا بھی اسی طرف اشارہ ہوگا کہ یہود اور نصاریٰ کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ اس لیے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام و نشان بھی نہ چھوڑیں گے۔
- ۳...... اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد
لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم ﷺ کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد
کرنا۔ کما قال تعالى لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لیے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تاکہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی امت کی مدد فرمائیں۔
کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تاکہ امت محمدیہ ﷺ کی نصرت و اعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کر چکے ہیں وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالۃً ایفاء فرمائیں فافہم ذلک فانہ لطیف۔
- ۴...... اور بعض علماء نے یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب
انجیل میں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور آپ ﷺ کی امت کے اوصاف دیکھے تو حق تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی کہ مجھے بھی امت محمدیہ ﷺ میں سے کر دیجئے۔ حق تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ان کو آخر زمانہ تک باقی رکھا اور قیامت کے قریب دین اسلام کے لیے ایک مجدد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تاکہ قیامت کے نزدیک ان کا حشر امت محمدیہ ﷺ کے زمرہ میں ہو۔
وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى أَعْلَمُ
تمہید پنجم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کے متعلق چند مختصر اور منصفانہ گزارشات
- ۱....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول بے شک عالم کے عام دستور کے
خلاف ہے۔ لیکن ذرا اس پر بھی تو غور فرمائیے کہ ان کی ولادت کیا عالم کے عام دستور کے موافق ہے؟۔ باایں ہمہ اس اعجازی ولادت کا ذکر خود قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ پھر ان کا نزول عالم کے درمیانی واقعات میں سے نہیں بلکہ عالم کی تخریب کے علامات میں شمار ہے اور تخریب عالم یعنی قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک علامت بھی ایسی نہیں جو عالم کے عام دستور کے موافق ہو۔ لہٰذا اگر ان کے نزول کو قیاس کرنا ہی ہے تو عالم کے تعمیری دور کی بجائے اس کے تخریبی دور پر قیاس کرنا چاہئے۔
- ۲....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا مسئلہ صرف عام انسانوں کی موت پر
قیاس کر کے طے کر دینا صحیح نہیں۔ کیونکہ عام انسانوں کی حیات وموت سے مذہبی عقیدہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ صرف ظن وتخمین سے بھی طے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف اس اولوالعزم رسول کی موت وحیات کا مسئلہ ہے۔ اس سے مذہبی عقیدے کا تعلق ہے۔ مزید برآں یہاں ایک طرف کتاب وسنت کی تصریحات دوسری طرف نصاریٰ کی مذہبی تاریخ ان کی حیات کی گواہی بھی دے رہی ہے۔ اس لئے اس کو صرف قیاس سے کیسے طے کیا جاسکتا ہے۔
- ۳....... یہ بات بہت زیادہ غور کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں پہلے بہت سے
رسول گزر چکے ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کو یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ مگر کیا ان کی موت میں کسی متنفس کو بھی اختلاف ہے۔ پھر خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے معاملہ میں بات کیا ہے کہ ان کی موت وحیات میں آج تک ان کی امت کو بھی اختلاف ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ ان کی موت کا معاملہ ضرور دوسروں سے کچھ مختلف ہے۔
- ۴....... لغت عرب میں موت کے لئے ایک صریح لفظ ”موت“ کا موجود ہے۔
پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہوچکی تھی تو کیا وجہ ہے کہ ان کے معاملہ میں قرآن کریم نے اس صریح لفظ کو کہیں استعمال نہیں فرمایا۔ تاکہ ایک طرف ان کی موت کا مسئلہ طے ہوجاتا اور دوسری طرف ان کی الوہیت کا افسانہ بھی باطل ہوجاتا۔
- ۵....... یہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی
تھی تو آج تک ان کی قبر کیسے لاپتہ رہی۔ جبکہ ان کی امت میں ان کے موافق اور مخالف دونوں فریق کسی انقطاع کے بغیر مسلسل چلے آرہے ہیں۔ دیکھئے اس امت میں نہ معلوم کتنے اولیاء اللہ گزر چکے ہیں۔ جن کی وفات کو بڑی بڑی مدتیں گزر چکی ہیں۔ مگر ان کی قبروں کا لاپتہ ہونا تو درکنار اب تک وہ زندہ یادگاریں بنی ہوئی ہیں۔ پھر یہ کیسے قرین قیاس ہے کہ نصاریٰ کی اس فرط عقیدت کے باوجود ان کی قبر لاپتہ ہو جاتی۔
- ۶....... ہم ہرگز اس امر کے مجاز نہیں کہ کسی اولوالعزم رسول کی اپنی جانب سے کوئی
ایسی جدید تاریخ بنا ڈالیں جو اس کے موافق ومخالف میں سے کسی کو بھی مسلم نہ ہو۔ اور نہ اس کے لئے کوئی اور خارجی قطعی ثبوت موجود ہو۔ مثلاً یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی دیئے گئے۔ مگر وہ اس پر مرے نہیں بلکہ کشمیر جا کر مدتوں کے بعد اپنی موت سے مر گئے ہیں۔ یہ ان کی ایک ایسی جدید تاریخ ہے جس کا دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں اور نہ اس کے لئے خارجی کوئی قطعی شہادت موجود ہے۔
- ۷....... اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ سلف صالحین کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ وہ وفات پاچکے ہیں تو پھر تاریخی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مسلمانوں میں ان کی حیات کا عقیدہ کب سے پیدا ہوا۔ یہ واضح رہنا چاہئے کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سب کے نزدیک بالاتفاق ثابت ہے۔ جو موت کہ متنازع فیہ ہے وہ ان کی گزشتہ موت ہے۔ پس اگر کسی کے قلم سے موت کا لفظ نکلا بھی ہو تو جب تک یہ بھی ثابت نہ کیا جائے کہ وہ ان کی گزشتہ موت کا قائل ہے اور آیت نزول کا منکر ہے۔ اس وقت تک صرف موت کا لفظ پیش کرنا بالکل بے سود ہے۔
........۸ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں قرآنی آیتوں کی تفسیر صرف لغت کی مدد سے کرنی صحیح نہیں۔ بلکہ اس پر بھی نظر رکھنی لازم ہے کہ یہاں مدعین کے بیانات کیا نقل کئے گئے ہیں اور ان کے معاملہ کی پوری روئیداد کیا ہے۔ پھر جو قرآنی فیصلہ ہے وہ بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔
........۹ قرآن کریم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اصل لفظ جو قابل بحث ہے وہ ”رفع“ کا ہے۔ اس لئے اس نے اسی لفظ کو اپنے فیصلہ میں لیا ہے اور اسی پر زور دیا ہے اور توفی کا لفظ اپنے فیصلہ میں لیا ہی نہیں۔ یعنی ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ“ فرمایا ہے اور ”بل توفاہ اللہ“ نہیں فرمایا۔
........۱۰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں زیر بحث ان کا جسم ہی تھا۔ یہود اس کے قتل کے مدعی تھے اور نصاریٰ اس کے رفع کے قائل تھے۔ روح کا معاملہ نہ زیر بحث تھا۔ نہ یہ معاملہ زیر بحث آنے کے قابل تھا۔ ظاہر ہے کہ روح کا معاملہ ایک غیبی اور پوشیدہ معاملہ ہے۔ اس پر کوئی حجت قائم نہیں کی جا سکتی۔ نیز جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ابھی ثابت ہی نہیں ہے تو ان کی روح زیر بحث آ ہی کیا سکتی۔ اس کے علاوہ جب رفع روحانی میں عام مومنین بھی شریک ہو سکتے ہیں تو انبیاء علیہم السلام کے متعلق اس میں شبہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔
........۱۱ یہ بات بڑی اہمیت کے ساتھ غور کرنے کے قابل ہے کہ جب دوسرے انبیاء علیہم السلام کا مقتول ہونا قرآن کریم نے خود تسلیم کر لیا ہے۔ حالانکہ ان کے قاتلین بھی وہی یہود تھے جو یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے مدعی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اگر کسی کے مقتول ہونے سے اس کے رفع روحانی میں شبہ پیدا ہو سکتا تھا تو قرآن کریم نے ان کے رفع روحانی کی تصریح نہیں کی اور خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ تصریح کرنی کیوں ضروری سمجھی ہے۔ حالانکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے قتل سے بھی ان کا مقصد ان کے رفع روحانی کا انکار کرنا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کا مقتول ہو جانا اس کے لعنتی ہونے کا ہرگز ثبوت نہیں بن سکتا۔ ورنہ دوسرے مقتول انبیاء علیہم السلام کا لعنتی ہونا ماننا پڑے گا۔ والعیاذ باللہ!
- ۱۲....... یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب یہود نے: ''انا قتلنا'' کہا (یعنی ہم نے
ان کو یقیناً قتل کر ڈالا ہے ۔ ) تو قرآن کریم نے ان کی تردید میں دو بار: ''وما قتلوہ'' فرمایا (یعنی ہرگز ان کو قتل نہیں کیا ۔ ) لیکن جب عیسائیوں نے : ''ان عیسی رفع'' کہا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام اٹھا لئے گئے ۔ ) تو اس نے ایک بار بھی : ''وما رفع'' نہیں کہا (یعنی ہرگز نہیں اٹھائے گئے) بلکہ: ''بل رفعہ اللہ الیہ ،'' کہہ کر ان کی اور تائید فرمادی۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اتنی بات میں یعنی ان کے رفع کے بارے میں نصاریٰ کا عقیدہ درست تھا۔
- ۱۳....... قرآن کریم سے کہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اہل کتاب نے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے نزول کا مقدمہ کبھی آپ کے سامنے پیش کیا تھا۔ بلکہ ان کے نزدیک وہ پیش کرنے کے قابل ہی نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو فریق ان کے قتل کا یقین رکھتا ہو وہ ان کے نزول کی بحث ہی کیا کر سکتا تھا۔ ہاں جو فریق ان کے رفع جسمانی کا مدعی تھا وہ لازمی طور پر ان کے نزول کا بھی قائل تھا۔ پس براہ راست ان کے نزول کا مسئلہ نہ ان کے نزدیک قابل بحث تھا نہ ان کے نزدیک۔ لہٰذا جب اس وقت یہ مسئلہ زیر بحث ہی نہ تھا تو قرآن کریم اس صریح لفظ کے ساتھ اس پر بحث کیسے کرتا۔ اس لئے یہ خیال کتنا غلط ہے کہ قرآن کریم میں چونکہ نزول کا صریح لفظ کہیں موجود نہیں۔ اس لئے ان کا نزول قابل تسلیم نہیں۔ جی ہاں رفع کا لفظ جہاں موجود تھا۔ کیا آپ نے اس کو مان لیا۔
- ۱۴....... قرآن کریم اور حدیث پر سرسری نظر ڈالنے سے ہم کو یہ ثابت ہوتا ہے کہ
جہاں قرآن کریم کسی خاص مقصد سے بحث کا ایک پہلو لے لیتا ہے۔ وہاں حدیث فوراً اس کا دوسرا پہلو اپنے بیان میں لے لیتی ہے اور اس طرح اس کے دونوں پہلو سامنے آجاتے ہیں اور در حقیقت حدیث کے بیان ہونے کا بھی منشاء یہی ہے۔ اسی اصول کے مطابق چونکہ یہاں قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا پہلو لے لیا تھا۔ اس لئے حدیث نے اس کا دوسرا پہلو یعنی نزول کا لے لیا ہے اور اس کو اتنا روشن کیا ہے۔ اس کی اتنی تفصیلات بیان کی ہیں اور اس کو اتنا پھیلایا ہے کہ اس کے بعد قرآن کریم میں رفع سے جسمانی رفع کے سوا روحانی رفع کا احتمال ہی باقی نہیں رہتا۔ ظاہر ہے کہ حدیثوں میں جو تفصیلات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی مذکور ہیں۔
اس میں جسمانی نزول کے سوا دور کا بھی کوئی دوسرا احتمال نہیں۔ لہذا ماننا پڑتا ہے کہ جو شخص اپنے جسم کے ساتھ اترے گا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا اور اس طرح اب آپ جتنا قرآنی رفع کو حدیثی نزول اور حدیثی نزول کو قرآنی رفع کے ساتھ ملا ملا کر پڑھتے جائیں گے اتنا ہی آپ پر یہ روشن ہوتا چلا جائے گا کہ جو شخص جسم کے ساتھ اترے گا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا اور جو جسم کے ساتھ اٹھایا گیا تھا وہ ضرور اپنے جسم ہی کے ساتھ اترے گا۔
- ۱۵....... یہ سوال بھی کتنا عجیب ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم ہی کے
ساتھ نازل ہوں گے تو کیا لوگ ان کو اپنی آنکھوں سے اترتا ہوا بھی دیکھیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ سوال ان کے آسمان پر جانے کے متعلق ہو سکتا ہے تو اترنے کے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی جیسا یہ کہا جائے کہ اگر عرش بلقیس کا حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آنا تسلیم کر لیا جائے تو کیا اس کو لوگوں نے اڑتا ہوا بھی دیکھا تھا؟۔ یا مثلاً اگر شق القمر کا معجزہ تسلیم کیا جائے تو کیا اس کو دو ٹکڑے ہو کر اس کا پھر مل جانا عام لوگوں نے بھی دیکھا تھا۔ پس جو حیثیت اس سوال کی ان ثابت شدہ مقامات میں ہوگی وہی حیثیت اس کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں سمجھنی چاہئے۔
- ۱۶....... یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ جب کوئی واقعہ اپنے دلائل کے ساتھ ثابت
ہو جاتا ہے تو اس میں ضمنی اختلافات کا پیدا ہو جانا اس کی واقعیت پر ذرا اثر انداز نہیں ہوتا۔ آخر آنحضرت ﷺ کی تاریخ ولادت اور آپ ﷺ کی عمر شریف میں بھی اختلافات منقول ہیں۔ مگر اس وجہ سے آپ ﷺ کی ولادت یا آپ ﷺ کی وفات میں کوئی ادنیٰ شبہ پیدا ہو سکتا ہے؟۔ پھر یہ کتنی نا انصافی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں راویوں نے بعض غیر متعلق باتوں میں اختلاف کیا ہے تو اس کی وجہ سے ایک متفق علیہ واقعہ کا بھی انکار کر دیا جائے۔ کیا نماز کی ہیئت یا زکوٰۃ یا روزے اور حج کی روایات میں اختلاف نہیں؟۔ پھر کیا اس کی وجہ سے ان کے ثبوت بلکہ ان کی رکنیت میں کسی مسلمان کو ادنیٰ شبہ ہے؟۔
- ۱۷....... دین اسلام کا یہ بھی ایک طرۂ امتیاز ہے کہ اس کے بیانات میں غیر متعارف
مجازات اور نامانوس استعارات کا کہیں استعمال نہیں ہوا اور درحقیقت ایک آخری دین کی یہی صفت ہونی بھی چاہئے ۔ اس کے برخلاف یہود ونصاریٰ ہیں جن کے ہاں بات بات میں استعارات حتیٰ کہ توحید جو کہ اصول دین میں داخل ہے۔ اس میں بھی مجاز واستعارہ کا دخل موجود ہے۔
۱۸...... صریح الفاظ کی تاویل کرنی کبھی مبارک نہیں ہوئی۔ اسی منحوس عادت کی بدولت یہودونصاریٰ آنحضرتﷺ کے متعلق صریح پیشگوئیوں کے منکر ہوگئے اور اسی کی بدولت یہود نے پہلی بار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح ہدایت ہونے کا انکار کیا اور آخر میں ان کی بجائے دجال کی تصدیق کریں گے۔ یعنی ان کو مسیح ہدایت مانیں گے۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس صاف پیشگوئی میں پھر وہی تاویل کی راہ اختیار کی گئی تو وہ بھی ہرگز مبارک نہیں ہوگی اور اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ جب مسیح برحق نازل ہوں تو ان کا انکار کردیا جائے اور اگر بالفرض ان صریح بیانات کی تاویل کرنی بھی درست ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہودونصاریٰ آپ کی آمد کی پیشگوئیوں میں تاویل کرنے میں معذور نہ ٹھہرائے جائیں۔ فاعتبروا یاولی الابصار!
۱۹...... آخر میں یہ تنبیہ کرنی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں ان کی حیات و وفات پر بحث کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیونکہ مسلمان اگر ان کی حیات کے قائل ہیں تو وہ صرف ان کی عام حیات کے قائل نہیں بلکہ اس حیات کے قائل ہیں جو رفع کے بعد اس وقت بھی آسمانوں میں ان کو حاصل ہے۔ اسی طرح یہود اگر ان کی موت کے قائل ہیں تو وہ بھی ان کی عام موت کے قائل نہیں ہیں ۔ بلکہ اس موت کے قائل ہیں جو خود ان کے فعل سے واقع ہوئی ہے۔ اب اگر آپ ان کی حیات وموت کو رفع وقتل کی بحث سے الگ کر کے دیکھیں تو پھر خود انصاف فرمائیے کہ اس کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے۔ جس بات سے ان کی حیات وموت کی اہمیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف ان کے رفع وقتل کا مسئلہ ہے۔ اس لئے یہاں حیات ووفات کو اصل موضوع بنائے رکھنا بالکل ایک عبث مشغلہ ہے اور اسی طرح اس کی جواب دہی میں مصروف رہنا بھی اضاعت وقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کے رفع وقتل ہی کو موضوع بحث بنایا ہے اور صرف حیات وموت کو بحث کے قابل نہیں سمجھا۔
باب دوم
حیات عیسیٰ ؑ پر قرآنی دلائل
حیاتِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پہلی دلیل
قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا O وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا O وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ط وَ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ط وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِىْ شَكٍّ مِّنْهُ ط مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا ۢ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ط وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا O
(نساء: ۱۵۵۔۱۵۸)
”ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کر دی ان کے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لاتے مگر کم۔ اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا۔ اور انھوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا۔“ (ترجمہ شیخ الہند)
فائدہ:۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں، واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ
السلام کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو وہ آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھالیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔ (تفسیر عثمانی)
(ربط) حق جل شانہ نے ان آیات شریفہ میں یہود بے بہود کے ملعون اور مغضوب اور مطرود و مردود ہونے کے کچھ وجوہ و اسباب ذکر کیے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے یہود کو متعدد وجوہ کی بنا پر مورد لعنت وغضب بنایا۔ ۱....... نقض عہد کی وجہ سے ۲....... اور آیات الٰہی کی تکذیب اور انکار کی وجہ سے۔ ۳....... اور خدا کے پیغمبروں کو بے وجہ محض عناد اور دشمنی کی بنا پر قتل کرنے کی وجہ سے ۴....... اور اس قسم کے متکبرانہ کلمات کی وجہ سے کہ مثلاً ہمارے قلوب علم اور حکمت کے ظرف ہیں ہمیں تمہاری ہدایت اور ارشاد کی ضرورت نہیں۔ ان کے قلوب علم اور حکمت اور رشد و ہدایت سے اس لیے بالکل خالی ہیں کہ اللہ نے ان کے عناد اور تکبر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے قلوب میں جہالت اور ضلالت بند ہے اوپر سے مہر لگی ہوئی ہے اندر کا کفر باہر نہیں آسکتا اور باہر سے کوئی رشد اور ہدایت کا اثر اندر نہیں داخل ہوسکتا۔ (پس اس گروہ میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں مگر کوئی شاذ و نادر جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء) ۵....... اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر و عداوت کی وجہ سے۔ ۶....... اور حضرت مریم علیھا السلام پر عظیم بہتان لگانے کی وجہ سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت اور تکذیب کو بھی مستلزم ہے۔ اہانت تو اس لیے کہ کسی کی والدہ کو زانیہ اور بدکار کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص ولد الزنا ہے اور العیاذ باللہ نبی کے حق میں ایسا تصور بھی بدترین کفر ہے اور تکذیب اس طرح لازم آتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے حضرت مریم علیھا السلام کی برأت اور نزاہت ثابت ہوچکی ہے اور تہمت لگانا برأت اور نزاہت کا صاف انکار کرنا ہے۔ ۷....... اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ جو بطور تفاخر کہتے تھے کہ ہم نے مسیح بن مریم جو رسول اللہ ہونے کے مدعی تھے ان کو قتل کر ڈالا۔ نبی کا قتل کرنا بھی کفر ہے بلکہ ارادۂ قتل بھی کفر ہے اور پھر اس قتل پر فخر کرنا یہ اس سے بڑھ کر
کفر ہے اور حالانکہ ان کا یہ قول کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر ڈالا بالکل غلط ہے ان لوگوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ حضرت مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ سب شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی صحیح علم اور صحیح معرفت نہیں سوائے گمان کی پیروی کے کچھ بھی نہیں۔ خوب سمجھ لیں کہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ حضرت مسیح کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شبیہ اور ہم شکل بنا دیا اور حضرت عیسیٰ سمجھ کر اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا اور اسی وجہ سے یہود کو اشتباہ ہوا اور پھر اس اشتباہ کی وجہ سے اختلاف ہوا اور یہ سب اللہ کی قدرت اور حکمت سے کوئی بعید نہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں کہ اپنی قدرت اور حکمت سے نبی کو دشمنوں سے بچا لیا اور زندہ آسمان پر اٹھایا اور ان کی جگہ ایک شخص کو ان کے ہم شکل بنا کر قتل کرایا اور تمام قاتلین کو قیامت تک اشتباہ اور اختلاف میں ڈال دیا۔
یہ آیات شریفہ حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع جسمی میں نص صریح ہیں۔
- ۱...... ان آیات میں یہود بے بہود پر لعنت کے اسباب کو ذکر فرمایا ہے۔ ان میں ایک
سبب یہ ہے وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا یعنی حضرت مریم علیہا السلام پر طوفان اور بہتان لگانا۔ اس طوفان اور بہتان عظیم میں مرزا قادیانی کا قدم یہود سے کہیں آگے ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں حضرت مریم علیہا السلام پر جو بہتان کا طوفان برپا کیا ہے یہود کی کتابوں میں اس کا چالیسواں حصہ بھی نہ ملے گا۔
- ۲...... آیات کا سیاق و سباق بلکہ سارا قرآن روز روشن کی طرح اس امر کی شہادت دے
رہا ہے کہ یہود بے بہود کی ملعونیت اور مغضوبیت کا اصل سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عداوت اور دشمنی ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت کی زبان اور قلم سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بغض اور عداوت کا جو منظر دنیا نے دیکھا ہے وہ یہود کے وہم و گمان سے بالا اور برتر ہے۔ مرزا قادیانی کے لفظ لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دشمنی ٹپکتی ہے۔ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُط (العمران ۱۱۸) انتہائی بغض اور عداوت خود بخود ان کے منہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور جو عداوت ان کے سینوں میں مخفی اور پوشیدہ ہے وہ تمھارے خواب و خیال سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
مرزا قادیانی نے نصاریٰ کے الزام کے بہانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
شان میں اپنے دل کی عداوت دل کھول کر نکالی جس کے تصور سے بھی کلیجہ شق ہوتا ہے۔
- ۳... پہلی آیت میں وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ فرمایا۔ یعنی انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے
ملعون اور مغضوب ہوئے اور اس آیت میں وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ فرمایا یعنی اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ محض قول ہی قول ہے اور قتل کا محض زبانی دعویٰ ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی طرح حضرت مسیح واقع میں مقتول ہوئے تھے تو جس طرح پہلی آیت میں وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ فرمایا تھا اسی طرح اس آیت میں وقتلهم و صلبهم المسيح عیسی بن مریم رسول الله فرماتے۔ پہلی آیت میں لعنت کا سبب قتل انبیاء ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں لعنت کا یہ سبب ان کا ایک قول بتلایا۔ یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر ڈالا۔ معلوم ہوا کہ جو شخص یہ کہے کہ مسیح بن مریم مقتول اور مصلوب ہوئے وہ شخص بلاشبہ ملعون اور مغضوب ہے۔ نیز اس آیت میں حضرت مسیح کے دعویٰ قتل کو بیان کر کے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ فرمایا اور انبیاء سابقین کے قتل کو بیان کر کے بل رفعہم الله نہیں فرمایا۔ حالانکہ قتل کے بعد ان کی ارواح طیبہ آسمان پر اٹھائی گئیں۔ ثابت ہوا کہ مسیح کے رفع جسمانی کا بیان ہے نہ کہ رفع روح کا۔
- ۴...... اس مقام پر حق جل شانہ نے دو لفظ استعمال فرمائے۔ ایک مَا قَتَلُوهُ جس میں قتل
کی نفی فرمائی۔ دوسرا وَمَا صَلَبُوهُ جس میں صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی فرمائی اس لیے کہ اگر فقط وَمَا قَتَلُوهُ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے قتل نہ کیے گئے ہوں لیکن صلیب پر چڑھائے گئے ہوں اور علیٰ ہٰذا اگر فقط وَمَا صَلَبُوهُ فرماتے تو یہ احتمال رہ جاتا کہ ممکن ہے صلیب تو نہ دیے گئے ہوں لیکن قتل کر دیے گئے ہوں۔ علاوہ ازیں بعض مرتبہ یہود ایسا بھی کرتے تھے کہ اوّل قتل کرتے اور پھر صلیب پر چڑھاتے۔ اس لیے حق تعالیٰ شانہ نے قتل اور صلیب کو علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ایک حرفِ نفی پر اکتفا نہ فرمایا یعنی وَمَا قَتَلُوهُ وَصَلَبُوهُ نہیں فرمایا ہے بلکہ حرف نفی یعنی کلمہ ما کو قتلوا اور صلبوا کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ذکر فرمایا اور پھر ماقتلوہ اور پھر ماصلبوہ فرمایا تا کہ ہر ایک کی نفی اور ہر ایک کا جداگانہ مستقلاً رد ہو جائے اور خوب واضح ہو جائے کہ ہلاکت کی کوئی صورت ہی پیش نہیں آئی نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے اور نہ قتل کر کے صلیب پر لٹکائے گئے۔ دشمنوں نے ایڑی چوٹی کا سارا زور ختم کر دیا مگر سب بے کار گیا۔ قادر و توانا جس کو بچانا چاہے اسے کون ہلاک کر سکتا ہے؟
قادیانی اشکال مرزائی جماعت کا یہ خیال ہے کہ اس آیت میں مطلق قتل اور صلب کی نفی
مراد نہیں بلکہ ذلت اور لعنت کی موت کی نفی مراد ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ محض وسوسہ شیطانی ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ جیسے ماضربوہ میں ضرب مطلق کی نفی ہے کہ اس پر سرے سے فعل ضرب واقع نہیں ہوا۔ اسی طرح مَا قَتَلُوْهُ اور وَمَا صَلَبُوْهُ میں بھی قتل مطلق اور صلب مطلق کی نفی ہے کہ فعل قتل وصلب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر سرے سے واقع نہیں ہوا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہود کے خیال کی تردید ہے تو تب بھی آیت میں یہود کا، پورا رد ہے۔ اس لیے کہ یہود کا گمان یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام العیاذ باللہ جھوٹے نبی ہیں اور جھوٹا نبی ضرور قتل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ وہ قتل بھی نہیں کیے گئے اور نہ صلیب پر چڑھائے گئے اس لیے کہ وہ خدا کے سچے نبی تھے۔ علاوہ ازیں اگر یہود کے اس عزم کی رعایت کی جائے تو وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ اور يَقْتُلُوْنَ النَّبِيِّينَ کے یہ معنی ہونے چاہئیں کہ معاذ اللہ وہ انبیاء ذلت اور لعنت کی موت مرے۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُوْلُوْنَ إِلَّا كَذِبًا. (کہف ۵) ”کیا بڑی بات نکلتی ہے ان کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں ۔“ ۵...... وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ یعنی ان کے لیے اشتباہ پیدا کر دیا گیا، شبہ کی ضمیر حضرت مسیح کی طرف راجع کرو اور اس طرح ترجمہ کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ایک شبیہ اور ہم شکل ان کے سامنے کر دیا گیا تاکہ عیسیٰ سمجھ کر اس کو قتل کریں اور ہمیشہ کے لیے اشتباہ اور التباس میں پڑ جائیں۔ حضرت شاہ عبدالقادرؒ اس طرح ترجمہ فرماتے ہیں ”لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے۔“ یہ ترجمہ اسی اشتباہ کی تفسیر ہے۔ یعنی اس صورت سے وہ اشتباہ اور التباس میں پڑ گئے۔
بعض روایات میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رفع الی السماء سے پہلے حواریین کی دعوت فرمائی اور خود اپنے دست مبارک سے ان کے ہاتھ دُھلائے اور بجائے رومال کے اپنے جسم مبارک کے کپڑوں سے ان کے ہاتھ پونچھے ۔ یہ روایت تفسیر ابن کثیر ص ۲۲۹ ج ۳ پر ہے۔
گویا کہ یہ دعوت رفع الی السماء کا ولیمہ اور رخصتانہ تھا اور احباب و اصحاب کی الوداعی دعوت تھی۔ الغرض غسل فرما کر برآمد ہونا اور احباب کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا یہ سب آسمان پر جانے کی تیاری تھی۔ جب فارغ ہو گئے تو اپنے ایک عاشق جاں نثار پر اپنی شباہت ڈال کر روح القدس کی معیت میں عروج کے لیے آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رفع الی السماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عروج جسمانی تھی جس طرح نبی اکرم ﷺ
جبرائیل امین کی معیت میں آسمانوں کی معراج کے لیے روانہ ہوئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبرائیل ؑ کی معیت میں عروج کے لیے آسمان پر روانہ ہوئے۔
فائدہ :۔ صحیح مسلم میں نواس بن سمعانؓ کی حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب دمشق کے منارہ شرقیہ پر اتریں گے تو سر مبارک سے پانی ٹپکتا ہوا ہوگا۔ سبحان اللہ جس وقت آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت بھی سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور جس وقت قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے اس وقت بھی سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے ہوں گے۔ جس شان سے تشریف لے گئے تھے اسی شان سے تشریف آوری ہوگی اور مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔
تنبیہ سلف میں اس کا اختلاف ہے کہ جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ یہودی تھا یا منافق عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص حواری گزشتہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مومن مخلص تھا۔ اس لیے کہ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس پر میری شباہت ڈالی جائے گی وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ کی تفسیر
یعنی یہودی حضرت مسیح کو نہ قتل کر سکے اور نہ صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ امام رازی نے وَآيَّدْنَاهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرائیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص خصوصیت تھی کہ انھیں کے نفحہ سے پیدا ہوئے، انھیں کی تربیت میں رہے اور وہی ان کو آسمان پر چڑھا کر لے گئے۔ (تفسیر کبیر ج ۱ ص ۳۴۶) جیسا کہ شب معراج میں حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے۔ (صحیح البخاری ج ۱ ص ۴۷۱ باب ذکر ادریس علیہ السلام) میں ہے ثم اخذ بیدی فعرج بی الی السماء۔
یہ آیت رفع جسمی کے بارے میں نص صریح ہے کہ حق جل شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ اور صحیح اور سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ اب ہم اس کے دلائل اور براہین ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ غور سے پڑھیں۔
- ۱...... یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے کہ
جس طرف مَا قَتَلُوْهُ اور مَا صَلَبُوْهُ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ مَا قَتَلُوْهُ اور
مَا صَلَبُوهُ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لیے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہو گی جس جسم کی طرف مَا قَتَلُوهُ اور مَا صَلَبُوهُ کی ضمیریں راجع ہیں۔
۲...... دوم یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کے قتل کے مدعی تھے اور بل رفعہ اللہ میں اس کی تردید کی گئی لہٰذا بل رفعہ سے جسم ہی مراد ہوگا۔
بل کی بحث اس لیے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لیے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (الانبیاء ۲۶) ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ (مؤمنون ۷۰) (ترجمہ (یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات) مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب اللہ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور منافی ہیں یکجا جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ کا لانے والا مجنون ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہے وہ مرفوعیت الی اللہ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ شہدا کا جسم تو قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھا لی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے اس لیے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا اور درجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لیے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَکَ (الم نشرح ۴) (اور بلند کیا ہم نے مذکور تیرا) اور يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط (المجادلہ ۱۱) (اللہ بلند کرے گا ان کے لیے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم ان کے درجے)
یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ابطال کے لیے بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ فرمایا۔ یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم
کو قتل کیا، یا صلیب پر چڑھایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیا۔
قتل سے قبل رفع جسمانی
اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے بعد رفعہ کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمھارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ جیسا کہ بَلْ جَاءَ هُمْ بِالْحَقِّ میں صیغہ ماضی اس لیے لایا گیا کہ یہ بتلا دیا جائے کہ آپ ﷺ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔ اسی طرح بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔
- ۳...... جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہو گی تو اس جگہ یقیناً جسم کا رفع
مراد ہوگا اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ (البقرہ ۶۳) ”اور بلند کیا تمھارے اوپر کوہ طور کو۔“ اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (الرعد ۲) ”اللہ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر ستون دیکھتے ہو“ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ (البقرہ ۱۲۷) ”اور یاد کر جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل“ وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ (یوسف ۱۰۰) ”اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر“ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام میں مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ہم نے آپ علیہ السلام کا ذکر بلند کیا اور وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (الزخرف ۳۲) ”اور بلند کر دیے درجے بعض کے بعض پر“ اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لیے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید مذکور ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا۔ اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں۔ باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع بھی اس کے مناسب ہوگا۔
۴....... اس آیت کا صریح مفہوم اور مدلول یہ ہے کہ جس وقت یہود نے حضرت مسیح کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہو سکا کہ اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام کا اللہ کی طرف رفع ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ ؑ کو پہلے سے حاصل نہ تھا بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے اور رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (آل عمران ۴۵) ”مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں اور اللہ کے مقربوں میں“ کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہو چکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہو سکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادہ قتل کے وقت حاصل ہوا یعنی رفع جسمی اور رفع عزت و منزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔
۵....... یہ کہ رفع کا لفظ قرآن کریم میں صرف دو پیغمبروں کے لیے آیا ہے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے ادریس علیہ السلام کے لیے۔ کما قال تعالیٰ وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا o (مریم ۵۶۔۵۷) ”اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر“ اور ادریس علیہ السلام کا رفع جسمانی کا مفصل تذکرہ تفاسیر میں مذکور ہے۔ (روح المعانی ص ۱۸۷ ج ۵ و خصائص کبریٰ ص ۱۶۷۔۱۶۸ ج ۱۔ ص ۱۷۴ ج ۱۔ وتفسیر کبیر ص ۵۳۵ ج ۵ وارشاد الساری ص ۳۷۰ ج ۵ و فتح الباری ص ۲۲۵ ج ۱۳ و مرقات ص ۲۲۳ ج ۵ و معالم التنزیل ص ۷ ج ۳ و فی عمدة القاری ص ۳۶۷ ج ۷۔ القول الصحیح بانہ رفع وہو حی و درمنثور ص ۲۴۶ ج ۴ وفی التفسیر ابن جریر ص ۶۳ ج ۱۶۔ ان الله رفعه وهو حی الی السما. الرابعة و فی الفتوحات المكیة (ص ۳۴۱ ج ۳) والیواقیت الجواھر (ص ۲۴ ج ۲) فاذا انا بادریس بجسمه فانه ما مات الی الآن بل رفعه الله مكانا علیا و فی الفتوحات (ص ۵ ج ۲) ادریس علیه السلام بقى حیا بجسد واسكنه الله الی السماء الرابعة) لہٰذا تمام انبیاء کرام میں انھیں دو پیغمبروں کو رفع کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا؟ رفع درجات میں تمام انبیاء، شریک ہیں۔
۶....... وَمَاقَتَلُوْهُ، وَمَاصَلَبُوْهُ اور وَمَاقَتَلُوْهُ یَقِیْنًا اور بَلْ رَّفَعَهُ میں تمام ضمائر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جن کو مسیح اور ابن مریم اور رسول اللہ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ اور مسیح اور ابن مریم اور رسول یہ جسم معین اور جسد خاص کے نام اور لقب
ہیں ۔ روح کے اسماء اور القاب نہیں ۔ اس لیے کہ جب تک روح کا تعلق کسی بدن اور جسم کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک وہ روح کسی اسم کے ساتھ موسوم اور کسی لقب کے ساتھ ملقب نہیں ہوتی وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (الاعراف ۱۷۲) ”اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو“ وقولہ ﷺ الارواح جنود مجندة الحديث.
(بخاری ج ۱ ص ۳۶۹ باب الارواح جنود مجندة کنزالعمال ج ۹ ص ۲۳ حدیث ۳۳۷۴۱)
۷...... یہ کہ یہود کی ذلت و رسوائی اور حسرت اور ناکامی اور عیسیٰ علیہ السلام کی کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔
۸...... یہ کہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ کما قال تعالیٰ يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ (مجادلہ ۱۱) ”بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔“
۹...... یہ کہ اگر آیت میں رفع روحانی بمعنی موت مراد ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ أَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَ هُمْ بِالْحَقِّ وَيَقُوْلُوْنَ أَئِنَّا لَتَارِكُوْا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ہ بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ (الصافات ۳۶۔۳۷) میں آنحضرت ﷺ کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا حالانکہ مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں مرزا قادیانی تو (العیاذ باللہ) یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہو کر فلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقیہ حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعد یعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منہم و ذہب الی کشمیر واقام فیہم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اللہ ورفع الیہ. کیا کہیں قرآن مجید اور ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی عبارت ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔
۱۰...... یہ کہ رفع روحانی بمعنی موت لینے سے وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا کے ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لیے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی
جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ اس مقام پر عَزِیزاً حَکِیْماً کو خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔ وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے۔ وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بنا کر انہیں کے ہاتھ سے اس کو قتل کرا دیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔
رفع کا معنی عزت کی موت
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ:
کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا“
(ازالہ اوہام ص ۵۹۹ خزائن ج ۳ ص ۴۲۳)
پھر تحریر کرتے ہیں۔
جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لیے ہوتی ہے کہ بعد موت کے ان کی روحیں
علیین تک پہنچائی جاتی ہیں فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيك مُقْتَدِرٍ“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۵ خزائن ج ۳ ص ۴۲۴)
رفع کے معنی عزت کی موت نہ کسی لغت سے ثابت ہیں اور نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح ہے۔ محض مرزا قادیانی کی اختراع اور گھڑت ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے مگر اعزاز رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہو سکتے ہیں نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا قادیانی کے ہی مناسب ہیں۔
تفسیری شواہد اب ہم ذیل میں مفسرین حضرات کے چند تفسیری شواہد نقل کرتے ہیں۔
- ۱..... تفسیر روح المعانی میں علامہ سید محمود آلوسی (و ۱۲۷۰ھ) اس آیت کے تحت جزء
سادس ص ۹ پر فرماتے ہیں۔ کہ سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ سے مروی کہ جب یہود مسیح علیہ السلام کے قتل کے لیے جمع ہو کر ان کی طرف گئے تا کہ ان کو قتل کر دیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام مسیح علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوئے۔ مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا کر لے گئے۔ ص ۱۱ پر فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر زندہ تشریف فرما ہیں۔ واپس دنیا میں تشریف لائیں گے اور دنیا میں ان کا انتقال ہوگا۔“
- ۲...... علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی تفسیر درمنثور ج ۲ ص ۲۳۸ پر بھی سیدنا ابن عباسؓ
کی مذکورہ روایت کو نقل فرمایا ہے۔
- ۳...... علامہ ابن جریر طبری (م ۳۱۰ھ) اپنی تفسیر جامع البیان جزء ۶ ص ۱۴، اس آیت
کے تحت حضرت سدیؒ سے روایت کرتے ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ ص ۱۵ پر حضرت مجاہدؒ سے روایت کرتے ہیں کہ ”سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا۔“
- ۴...... علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۱۲ پر حضرت مجاہدؒ کی روایت کو یوں
نقل فرمایا۔ ”صلبوا رجلا شبها بعیسی و رفع اللہ عزوجل عیسی الی السماء حیا“ یہود نے ایک شخص کو جو مسیح کا شبیہ تھا صلیب پر لٹکایا جبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔“
- ۵...... تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباسؓ ج ۱ ص ۶۸ میں ابی طاہر محمد بن یعقوب فیروز
آبادی فرماتے ہیں۔ ”انھوں (یہود) نے یقیناً عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانوں پر اٹھا لیا۔“
- ۶...... تفسیر کشاف میں علامہ جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری (م ۵۲۸ھ) اس آیت کے تحت
ج ۱ ص ۵۷۸ طبع بیروت پر فرماتے ہیں۔ ”جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لیے جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ علیہ السلام کو خبر دی کہ ہم آپ کو آسمانوں پر اٹھاتے ہیں اور یہود کی ناپاک صحبت سے پاک کرتے ہیں۔“
- ۷...... تفسیر مظہری میں علامہ ثناء اللہ مظہری (م ۱۲۲۵ھ) اس آیت کے تحت ج ۲ ص ۲۷۱
پر فرماتے ہیں کہ بل رفعہ اللہ الیہ میں ردّ قتل (مسیح علیہ السلام) اور اثبات رفع (مسیح علیہ السلام) ہے۔
- ۸...... تفسیر کبیر میں علامہ فخر الدین رازی اس آیت کے تحت جز ۱۱ ص ۱۰۳ پر فرماتے ہیں
”کہ اس آیت (بل رفعہ اللہ) سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ثابت ہے جیسا کہ آیت آل عمران انی متوفیک و رافعک و مطھرک اس کی نظیر ہے۔ جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کو مصیبت و مشقت (یہود سے) پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کے لیے آسمان و جنت کے دروازے وا کر دیے۔ ان کے جسم کو (رفع سے) تمام راحتیں نصیب ہو گئیں۔ (جن کے جسم کی رفعتوں کا یہ عالم ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں) تو اس آیت سے ان کی روحانی رفعتوں کا بھی خود بخود اندازہ کر لو (یعنی رفع جسمانی کو رفع روحانی خود بخود لازم ہے) اس صفحہ پر آیت کان اللہ عزیزا حکیما کے تحت تحریر فرماتے ہیں۔
”عزت سے مراد کمال قدرت اور حکمت سے مراد کمال علم (ان الفاظ عَزِيزًا حَكِيمًا) سے یہ جتلانا مقصود ہے کہ رفع عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمانوں کی طرف انسان کے لیے ایسا کرنا تو مشکل ہے۔ لیکن میری (اللہ تعالیٰ) قدرت و حکمت کے لیے تو کوئی مشکل نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ اَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً میں فرماتے ہیں کہ معراج (سماوی) آنحضرت ﷺ کے لیے خود بخود تو مشکل تھا۔ لیکن قدرت حق (تعالیٰ سبحانہ) کے لیے تو آسان ہے۔“
قادیانی سوال......۱
ایک شخص کی شکل ہو بہو عیسیٰ علیہ السلام جیسی کیسے ہوگئی؟
- جواب......۱ جس طرح فرشتوں کا بشکل بشر متمثل ہونا۔
- ۲...... اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدہا بن جانا قرآن کریم میں منصوص ہے۔
- ۳...... انبیاء کرام کے لیے پانی کا شراب اور خون بن جانا نصاریٰ کے نزدیک مسلم
ہے۔ پس اسی طرح اگر کسی شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ اور ہم شکل بنا دیا جائے تو کیا استبعاد ہے؟
- ۴...... احیاء موتیٰ کا معجزہ القاء شبیہ کے معجزہ سے کہیں زیادہ بلند تھا۔ لہٰذا احیاء موتیٰ کی
طرح القاء شبیہ کے معجزہ کو بھی بلاشبہ اور بلا تردد تسلیم کرنا چاہیے۔
- ۵...... نیز موجودہ سائنس کے دور میں پلاسٹک سرجری سے چہروں کی شباہت تبدیل کی
جاتی ہے یہ انسان اپنے ذرائع سے کر رہا ہے۔ اگر حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایک شخص کی شباہت دوسرے شخص پر ڈال دی تو وجہ استعجاب کیا ہے؟
قادیانی سوال.....۲
جس شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈالی گئی وہ آپ کا دشمن تھا۔ یا حواری، اگر دشمن پر ڈالی گئی تو اسے مسیح بنا کر عزت دی گئی کافر کو عزت دی گئی۔ اگر حواری تھا تو اس پر ظلم ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہے۔
جواب اس آیت کی تفسیر میں پہلے نقل ہو چکا ہے کہ اس میں مفسرین کے دو قول ہیں کیونکہ قرآن مجید تاریخی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا منبع ہے۔ یہ تاریخ کا موضوع ہے کہ وہ شخص جو پھانسی دیا گیا وہ کون ہے؟ قرآن مجید صرف اتنا بتلانا چاہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ پھانسی دیے گئے۔ یہود کا قول قتل مسیح کا دعویٰ غلط ہے۔ اب وہ شخص کون تھا؟ تو اس میں سابقہ کتب میں دو اقوال ہیں کہ وہ دشمن تھا، وہ حواری تھا۔ اس لیے مفسرین نے دونوں اقوال نقل کیے۔ اب کہ وہ دشمن تھا۔ تو نبی کی شکل کیسے دے کر اعزاز دیا گیا؟ یہ قادیانیوں کی نادانی ہے۔ اس دشمن کو مسیح کی شکل دے کر اعزاز نہیں دیا گیا بلکہ عذاب دیا گیا کہ وہ پھانسی پر لٹکایا گیا۔ کیوں؟ اس کا جواب قرآن نے دیا۔ شبہ لھم۔ اور دوسرا قول کہ مسیح علیہ السلام کا حواری تھا اس پر اشکال کہ بے قصور تھا۔ اس پر ظلم ہوا۔ اس کا جواب بھی تفسیروں اور کتب سابقہ میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ کون شخص ہے جو میری جگہ پھانسی پر چڑھے اور قیامت کے دن جنت میں میرا رفیق بنے۔ یہ سوال تین بار کیا تو تینوں دفعہ مخلص حواری اٹھا جو اپنے نبی کی جگہ قربانی کے لیے آمادہ ہوا۔ یہ ایثار و قربانی کی بیمثال روایت ہے کہ اپنے نبی کے لیے جان قربان کر کے رفیق جنت بننے پر آمادہ ہوا اور ایسے کر کے وہ اعزاز کا مستحق ہوا نہ کہ اعتراض کا۔ وہ درجہ شہادت پر فائز ہوا۔ قادیانی، مخلص حواری مسیح کی شہادت کو ظلم سے تعبیر کریں تو جو لوگ اپنے دین و ایمان اسلام و قرآن انبیاء کرام کی عزتوں کے تحفظ کے لیے شہید ہوئے تو کیا ان سب پر ظلم ہوا؟ معاذ اللہ۔
قادیانی سوال......۳
آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ میں لفظ ”بل“ ابطالیہ نہیں۔ نحویوں نے لکھا ہے کہ لفظ
(مرزائی پاکٹ بک)
”بل قرآن میں نہیں آسکتا۔“ الجواب.......! پھر تو یہ مطلب ہوا کہ کافر یہود سچے ہیں جو کہتے تھے ہم نے مسیح کو قتل وغیرہ کر دیا۔ اے جناب! تم نے خود بحوالہ کتب نحو لکھا ہے کہ ”جب خدا کفار کا قول نقل کرے تو بغرض تردید، اس میں ”بل“ آ سکتا ہے۔ (احمدیہ پاکٹ بک ص ۲۴۲) یہی معاملہ
اس جگہ ہے۔ خود مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ اس جگہ لفظ بَلْ تردید قول کفار کے لیے ہے۔ ”مسیح مصلوب مقتول ہو کر نہیں مرا...... بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۹۸ خزائن ج ۳ ص ۴۲۳)
جواب ......۲ قرآن مجید میں قول کفار کی تردید کے لیے متعدد بار بل ابطالیہ استعمال ہوا ہے
- ۱...... وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه بل له مافى السموت والارض (بقرہ ۱۱۶) ”اور
کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں۔“
- ۲..... وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحانه بل عباد مكرمون. (الانبياء ۲۶) ”اور کہتے ہیں
رحمٰن نے کر لیا کسی کو بیٹا وہ ہرگز اس لائق نہیں لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے۔“
- ۳...... ام يقولون به جنة بل جاء هم بالحق. (مومنون ۷۰) ”یا کہتے ہیں اس کو سودا
ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات۔“
- ۴...... ام يقولون افتراه بل هوالحق من ربک. (الم سجدہ ۳) ”کیا کہتے ہیں کہ یہ
جھوٹ باندھ لیا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے۔“
قادیانی سوال......۴
رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔
(مرزائی پاکٹ بک)
جواب وعدہ بلا توقف و بمجرد رفع کا تھا۔ اگر آپ کے معنی صحیح ہوں تو مطلب یہ ہوا کہ مسیح اسی وقت عزت کے ساتھ مر گیا تھا اور کون نہیں جانتا کہ یہ یہود کی تائید ہے۔ چونکہ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام اس زمانے میں فوت نہیں ہوئے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے۔ لہٰذا اس وقت جو رفع ہوا وہ یقیناً زندہ آسمان پر اٹھایا جانا تھا۔ اس کے علاوہ رفع کے معنی عزت کی موت لینے نہ صرف بوجہ تمام کتب لغت کے خلاف ہونے کے مردود ہیں۔ بلکہ اس میں یہ نقص ہے کہ کلام ربانی درجہ فصاحت سے گر جاتا ہے کیونکہ دوسری آیت میں رافعک سے پہلے مُتَوَفِّیْکَ کا وعدہ موجود ہے اور توفی کے معنی جیسا کہ کتب عربیہ اور تحریرات مرزا سے کسی چیز کو پورا لینے کے ہیں۔ پس یہ کہنا کہ زندہ اٹھا لیا۔ پھر ساتھ ہی یہ کہنا کہ عزت کی موت دے کر اٹھا لیا۔ یہ متضاد کلام خدا کی شان سے بعید ہے۔ اگر کہا جائے کہ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی بھی موت ہیں تو بھی خلافِ فصاحت ہے کیونکہ جو بات ایک لفظ (موت) سے ادا ہو سکتی تھی اس کو دو فقروں میں بیان کرنا بھی شان بلاغت پر دھبہ ہے۔ حاصل یہ کہ یہود کہتے تھے کہ ہم
نے مسیح علیہ السلام کو مار دیا۔ ان کے جواب میں یہ کہنا کہ ہاں مار تو دیا تھا مگر یہ عزت کی موت ہے۔ یہود کی تردید نہیں بلکہ تصدیق ہے حالانکہ خداوند تعالیٰ اس عقیدہ کو لعنتی قرار دیتا ہے جو قادیانیوں کو مبارک ہے۔
جواب ......۲ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ کی تفسیر میں تیرہ سو سال کے کسی ایک مفسر یا محدث یا امام لغت نے رفع درجات یا رفع روحانی مراد نہیں لیا۔ یہ خالصتہً قادیانی تحریف کا شاخسانہ جس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ اپنے دعوٰی رفع درجات یا روحانی رفع کے لیے اس آیت کی تفسیر میں سلف کا ایک قول پیش نہیں کر سکتے۔
قادیانی سوال ...... ۵
یہود صلیب کی موت کو لعنتی قرار دیتے ہیں اس لیے بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ فرمایا گیا کہ ان کا رفع روحانی ہوا۔
جواب ......۱ قرآن مجید نے ماقتلوہ سے یہود کے عقیدہ کی تردید کی۔ جس کے لیے وہ اِنَّا قَتَلْنَا سے قطعی دعویٰ کرتے تھے۔ وَمَا صَلَبُوهُ سے نصارٰی کے عقیدہ کفارہ کی تردید کی جو یہ کہتے ہیں کہ پھانسی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گئے۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ سے مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کو جو قتل کے منافی ہے بیان کر کے حقیقت کو واضح کیا۔ ورنہ يقتلون الانبياء بغير حق میں دیگر انبیاء کے قتل میں یہود کے فعل بد کی نشاندہی فرمائی۔ اگر قتل اور صلیب لعنتی موت سے رفع روحانی مراد ہوتا تو کیا باقی انبیاء علیہم السلام کا رفع روحانی نہیں ہوا ان کے لیے بَلْ رَّفَعَهُمُ اللّٰهُ کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ پس ثابت ہوا کہ یہ رفع روحانی کا تذکرہ نہیں بلکہ رفع جسمانی کا اثبات و بیان ہے۔
۲...... درجات کی بلندی اور رفع روحانی کی انتہاء تو نبوت ہے۔ نبوت سے بڑھ کر اور کیا رفع درجات ہو سکتا ہے؟ وہ تو یہود کے قول قتل سے قبل مسیح علیہ السلام کو حاصل تھا اس کا یہاں بیان ایک بے مقصد بات اور فضول دعوٰی ہے جس کے قادیانی مرتکب ہو رہے ہیں۔
۳...... کیا ہر مصلوب لعنتی ہوتا ہے اگرچہ وہ بیگناہ ہی کیوں نہ ہو کیا بیگناہ مقتول شہید نہیں ہوتا؟ کیا وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ قرآن میں نہیں ہے؟
۴...... کیا تیرہ سو سالہ مفسرین کی تفسیری آراء کو یکسر نظر انداز کر کے ان کے مقابلہ میں محرف و مبدل تورات و کتب سابقہ سے اپنے اختراعی موقف کو ثابت کرنا کسی طرح جائز ہے؟ بُهِتُوا وَتُؤْجَرُوْا.
۵...... مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ہر مصلوب ملعون ہوتا ہے۔ جھوٹ ہے۔ ذیل میں حوالہ
ملاحظہ ہو۔ ”اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت پر لٹکائے تو اس کی لاش رات بھر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اس دن اسے گاڑھ دے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے۔ خدا کا ملعون ہے اس لیے چاہیے کہ تیری زمین جس کا وارث خداوند تیرا خدا تجھ کو کرتا ہے ناپاک نہ کی جائے۔
(استثناء باب ۲۱ آیت ۲۲، ۲۳ کتاب مقدس مطبوعہ ۱۹۲۷ء ص ۱۷۹)
اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ صلیب دیے جانے والا وہی شخص ملعون ہے جو کسی گناہ اور جرم کی پاداش میں صلیب دیا گیا ہو۔ ہر مصلوب لعنت کا مستحق نہیں حوالہ میں ”وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے“ میں لفظ ”وہ“ کا اشارہ اس مجرم گناہگار کی طرف ہے۔ اگر ہر مصلوب کی ملعونیت ثابت کرنا مقصود ہوتی تو آیت کا یہ فقرہ یوں نہ ہوتا۔ بلکہ آیت میں ”وہ جو“ موصول ہے۔ وہ پھانسی دیا جانا اس کا صلہ ہے۔ چونکہ موصول پر حکم لگانے سے پہلے صلہ کا جاننا ضروری ہے۔ اس لیے مصلوب ہونے کے متعلق وہی علم ہوگا۔ جو بائیسویں آیت سے حاصل ہو رہا ہے۔ بائیسویں آیت میں مجرم اپنے گناہ کی سزا میں مصلوب ہونا مذکور ہے اس لیے یہاں بھی ”وہ جو“ پھانسی دیا جاتا ہے۔ اس سے مجرم ہی مراد ہے۔
- ٦....... سورۃ طہ ۷۱ میں ہے وَلَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ۔ فرعون نے کہا کہ میں
سب کو کھجور کے تنوں کے ساتھ پھانسی دوں گا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کو فرعون نے صلیب پر لٹکایا۔ وہ سب کے سب مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔ ایک بھی ملعون نہ تھا۔ فرعون نے اپنا ارادہ پورا کیا اور سب کو دار پر لٹکا دیا۔ تفسیر کبیر ج ۶ ص ۵۶ پر ہے قال ابن عباسؓ کانوا فی اوّل النھار سحرۃ و فی آخرھا شھداء۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ وہ دن کے پہلے وقت میں ساحر تھے۔ دن کے آخری وقت میں شہداء میں شامل ہوئے۔ اسی طرح بخاری و مسلم میں حضرت خبیبؓ کا جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں سولی پر مارا جانا مذکور ہے چونکہ عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ غیر مجرم تھے۔ اس لیے ان کا سولی دیا جانا لعنت کا باعث کیسے ہو سکتا تھا؟ پس عدم قتل کے مقابلہ میں رفع۔ رفع جسمانی ہے۔
- ۷....... اگر یہودی مسیح علیہ السلام کو لعنتی ثابت کرنا چاہتے اور ہر مصلوب ان کے نزدیک
ملعون ہوتا جیسا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے تو یہودی بجائے اِنَّا قَتَلْنَا کے اِنَّا صَلَبْنَا کہتے اور ان کے جواب میں وما قتلوہ کی بجائے صرف وما صلبوہ ہوتا تاکہ ان کی پوری تردید ہو جاتی۔ یا ما ھو بملعون بل رفعہ کہہ کر صاف لفظوں میں یہود کا رد کیا جاتا۔ لہٰذا
یہودیوں کا قتل مسیح کا زور دار دعویٰ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ان کی تردید میں قتل ہی کی تردید کرنے سے ظاہر ہے کہ یہودیوں نے نہ کبھی ان کے لعنتی ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ اس کے رد میں کوئی آیت نازل ہوئی بلکہ مَا قَتَلُوهُ سے یہود کی تردید اور وَمَا صَلَبُوهُ سے نصاریٰ کی تردید مقصود ہے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا۔ عدم قتل اور رفع الی السماء سب باتیں صادق ہیں۔
قادیانی سوال ...... ۶
رَفَعَهُ اللّٰهُ میں خدا کی طرف اٹھانا مرقوم ہے۔ آسمان کا کہاں ذکر ہے؟
- الجواب ...... ۱ خدا کے لیے فوق و علو ہے۔ انہی معنوں سے قرآن میں کہا گیا ہے۔
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ (الملک ۱۶) ”کیا تم نڈر ہو گئے اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں۔“ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا۔ (الملک ۱۷) ”کیا نڈر ہو گئے ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا۔“
ایسا ہی آنحضرت ﷺ انتظار وحی کے وقت آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ (البقرہ ۱۴۴) ”بیشک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف۔“
اسی طرح خود مرزا قادیانی نے رَفَعَهُ اللّٰهُ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ ”رافعک کے یہی معنی ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۶۶ خزائن ج ۳ ص ۲۴۳)
”مرنے کے بعد ہر مومن کی روح خدا کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ رب کی طرف واپس چلی جاتی ہے اور بہشت میں داخل ہو جاتی ہے۔“
(ملحقہ ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ۱۷ خزائن ج ۲۱ ص ۳۴۱)
”حضرت مسیح علیہ السلام تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
حاشیہ (براہین احمدیہ ص ۳۶۱ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)
تین قرآنی آیات اور تین مرزا کے حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی بابت یہ اختلاف نہیں کہ کس طرف اٹھائے گئے۔ قادیانیوں کو بھی مسلم ہے کہ مرفوع چیز آسمانوں کی طرف اٹھائی گئی۔ مرفوع میں اختلاف ہے جہت رفع میں نہیں۔ فافہم۔
- ۲...... بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ (اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا) اس کلام کے معنی ہی
یہ ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ تَعْرُجُ الْمَلٰئِكَةُ وَالرُّوْحُ إِلَيْهِ (المعارج ۴) ”چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح“ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ فرشتے اور روح الامین اللہ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر ۱۰) ”اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا اور کام نیک اس کو اٹھا لیتا ہے“ یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی طرح بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے وہ سمجھ سکتا ہے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی، یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔
- ۳...... اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے باسنادِ صحیح یہ منقول ہے لما اراد اللہ
ان يرفع عيسى الى السماء تفسير ابن كثير ص ۹ ج ۳ (جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا الی آخر القصہ)
- ۴...... مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسے
مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچائی جاتی ہیں۔“ (حوالہ مذکور) اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لیے کہ ”علیین“ اور ”مقعد صدق“ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہرحال آسمان پر جانا تو مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے؟ سو یہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔ ذیل میں خود مرزا کے ہم تین حوالے پیش کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے آسمان پر ہونے اور رفع الی السماء کا ثبوت ہوتا ہے، دیکھیے:
- حوالہ ۱...... فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء
(تذکرہ ص ۱۸۵) معلوم ہوا کہ مرزا کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے۔
- حوالہ ۲...... الا يعلمون ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومه.
(آئینہ کمالات اسلام خزائن ص ۴۰۹ ج ۵)
”کیا لوگ نہیں جانتے کہ مسیح آسمان سے تمام علوم کے ساتھ اتریں گے۔“ پتا چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے ہی آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جبھی تو وہاں سے نازل ہوں گے۔
- حوالہ ۳...... ”ہر ایک اپنے درجہ کے موافق آسمانوں کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اپنے
قرب کے انداز کے موافق رفع سے حصہ لیتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی روح اگرچہ دنیوی حیات کے زمانہ میں زمین پر ہو مگر پھر بھی اس آسمان سے اس کا تعلق ہوتا ہے، جو اس کی روح کے لیے حد رفع ٹھہرایا گیا ہے، اور موت کے بعد وہ روح اس آسمان میں جا ٹھہرتی ہے جو اس کے لیے حد رفع مقرر کیا گیا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۳۴۵ خزائن ج ۳ ص ۲۷۶)
اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ الیہ سے مراد آسمان ہی ہے اور جہت رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ اختلاف مرفوع شی میں ہے کہ آیا صرف روح اٹھائی گئی، یا اس کے ساتھ جسم بھی تھا؟
قادیانی سوال ...... ۷
”صلب کا معنی صلیب پر مارنا ہے۔“
جواب لغت میں صلب کا معنی صرف سولی پر چڑھانا ہے۔ اسے موت لازم نہیں۔
- ۱...... صراح میں ہے۔ صلب بردار کردن۔ صلیب پر چڑھانا۔
- ۲...... غیاث اللغات ص ۳۰۹ مطبوعہ مجیدی کانپور میں صلیب کے لفظ کے تحت لکھا ہے۔
”بمعنی بردار کردن وجہش آنکہ چوں عیسیٰ علیہ السلام را بر آسمان بردند۔ طرطوس نام شخصے را کہ بشکل عیسیٰ علیہ السلام بود۔ بردار کشیدند“ صلیب پر چڑھایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا تو طرطوس نامی شخص جو عیسیٰ علیہ السلام کا ہمشکل تھا۔ صلیب پر چڑھا دیا۔
- ۳...... حضرت شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں۔ ”ونہ کشتند اورا و بردار نکردند اورا۔“ نہ انھوں
(یہود) نے ان (عیسیٰ) کو قتل کیا اور نہ ان کو چڑھایا (صلیب پر)
- ۴...... حضرت شاہ رفیع الدینؒ لکھتے ہیں ”اور نہیں مارا اس کو اور نہ سولی دی۔“
- ۵...... حضرت شاہ عبدالقادرؒ لکھتے ہیں ”اور نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا۔“ ان
تصریحات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ صلبوہ کا معنی اسے صلیب پر چڑھانا۔ وما صلبوہ کا معنی اس کو صلیب پر نہیں چڑھایا۔
قادیانیوں سے سوال ...... ۳
اگر صلب کا معنی صلیب پر چڑھا کر مارنا ہے اور مصلوب کا معنی صلیب پر چڑھا کر مارا ہوا، تو صرف سولی پر چڑھانے اور سولی پر چڑھائے ہوئے، کے لیے کونسا لفظ ہے؟ پوری دنیا کے قادیانی مل کر مطلق صلب کے لیے کوئی لفظ بتا سکتے ہیں؟
قادیانی سوال ...... ۸
مرزائی کہتے ہیں کہ بھلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہوتے ہوئے آسمان پر کیسے جا سکتے ہیں۔ آسمان و زمین کے بیچ کئی (ناری کرے) ہیں جن سے گزرنے کی تاب انسان نہیں رکھتا اسی وجہ سے جب مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ آسمان پر جائیں تو ہم ایمان لائیں گے تو آپ ﷺ نے جواب دیا تھا کہ ھل کنت الا بشراً رسولا معلوم ہوا انسان یہ کام نہیں کر سکتا۔
جواب ...... ۱: ایک انتہائی ضروری حوالہ
یہ حوالہ نہیں بلکہ ایسا کیمیاوی ایٹم بم ہے جو صرف مذکورہ سوال ہی نہیں بلکہ وفات عیسیٰ کے بارے میں مرزائیوں کے تمام اشکالات کو بھسم کر دیتا ہے۔ اور جگہ جگہ کام آئے گا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ملاحظہ کریں۔ جواب کے الفاظ یہ ہیں:
"حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناری کروں سے گزر کر آسمان پر ایسے ہی چلے گئے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام چلے گئے اور جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔" اور یہ کوئی ہماری ایجاد نہیں بلکہ خود مرزائیوں کے حضرت صاحب نے لکھا ہے دیکھیے حوالہ نمبر ۱: بل حیاۃ کلیم اللہ ثابت بنص القرآن الکریم الا تقرء فی القرآن ما قال اللہ تعالیٰ عزوجل، فلا تکن فی مریۃ من لقائہ وانت تعلم ان ھذہ الایۃ نزلت فی موسیٰ فھی دلیل صریح علیٰ حیاۃ موسیٰ علیہ السلام لانہ لقی رسول اللہ ﷺ والاموات لا یلاقون الاحیاء ولا تجد مثل ھذہ الایات فی شان عیسیٰ ؑ نعم جاء ذکر وفاتہ فی مقامات شتی۔ (حمامۃ البشریٰ ص ۵۵ خزائن ص ۲۴۱ ج ۷) بلکہ حیات کلیم اللہ (موسیٰ ؑ) نص قرآن کریم سے ثابت ہے کیا تو نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ آپ ﷺ شک نہ کریں ان کی ملاقات سے یہ آیت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ آیت دلیل صریح ہے موسیٰ علیہ السلام کی حیات پر۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی موسیٰ علیہ السلام سے (معراج میں) ملاقات ہوئی اور (اگر موسیٰ علیہ السلام فوت شدہ ہوتے) مردے زندوں سے نہیں ملا کرتے۔ ایسی آیات تو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں بلکہ مختلف مقامات پر ان کی وفات کا ذکر ہے۔"
حوالہ ...... ۲ "ھذا ھو موسیٰ فتی اللہ الذی اشار اللہ فی کتابہ الی حیاتہ و
فرض علينا ان نؤمن بانه حي في السماء ولم يمت وليس من الميتين. ترجمہ: یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔‘‘
(نور الحق ص ۵۰ خزائن ص ۶۹ ج ۸)
- جواب.....۲ مذکورہ بالا اعتراض و عذر کا جواب یہ ہے کہ...... یہاں بحث خود جانے کی
نہیں بلکہ خدا کے لے جانے کی ہے۔ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ بھی کسی کو آسمان پر لے جانے کی قدرت نہیں رکھتا؟ اور آنحضرت ﷺ نے اپنی بشریت کا اقرار کر کے مطالبہ پورا کرنے سے جو عذر کیا ہے اس میں خود جانے کی نفی ہے اللہ تعالیٰ کے لے جانے کی نفی نہیں ہے۔ چنانچہ معراج میں آپ ﷺ منجانب خداوندی آسمان پر لے جائے گئے نہ کہ خود گئے۔
- ۳...... مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمان پر بجسم عنصری جانا ناممکن نہیں بلکہ ممکن
ہے۔ مرزا کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ”ہماری طرف سے یہ جواب ہی کافی ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ۲۱۹ خزائن ج ۲۳ ص ۲۲۸)
- ۴...... مرزائیوں پر تعجب ہے کہ بابا گرو نانک کے چولہ کا آسمان پر سے اترنا تو مرزا کے
نزدیک تسلیم ہو سکتا ہے اور اس کو آگ نہیں جلاتی، لیکن حضرت مسیح کے جانے یا آنے سے کرہ زمہریر یا کرہ ناریہ مانع ہے؟
مرزا کا یہ اقرار ست بچن ص ۳۷ خزائن ج ۱۰ ص ۱۷۵ پر ملاحظہ فرمائیں: ”بعض لوگ اٹکل کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے، مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں، کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور پھر نازل ہونا مرزا خود انجیل کے حوالہ سے تسلیم کرتا ہے۔ مرزا کی اپنی عبارت ملاحظہ فرمائیں: ”اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی مندرجہ ذیل آیت ہے اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی ساری قومیں
چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمانوں کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص ۳۸ خزائن ج ۱۵ ص ۳۸)
حاصل کلام یہ ہوا کہ قرآن و حدیث و بائبل سب مسیح کے حیات و نزول جسمانی و رفع جسمانی کے قائل ہیں لہٰذا اب کوئی آیت یا حدیث یا بائبل پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
- ۵...... اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسد عنصری آسمانوں پر لے گئے اور ناری
کرہ ان کے لیے رکاوٹ نہ بنا اللہ تعالیٰ نے اس ناری کرہ کو اسی طرح ٹھنڈا کر دیا جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حواء کے لیے ٹھنڈا کیا اور انھیں جنت سے زمین پر اتارا اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی ناری کرہ کو ٹھنڈا کر دیا مرزا خود اعتراف کرتا ہے، وہ لکھتا ہے:
- ۱...... ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا اس لیے ہر
ایک ابتلاء کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲)
- ۲......
کہ نانک بچا جس سے وقتِ خطر
بچا آگ سے اور بچا آب سے
اسی کے اثر سے نہ اسباب سے
(ست بچن ص ۴۲ خزائن ج ۱۰ ص ۱۶۲)
خلاصہ بحث اللہ رب العزت عام قوانین فطرت کے خلاف بھی کبھی کام کرتے ہیں۔ یہ اس کے خاص نوامیس فطرت ہیں یہ بات مرزا قادیانی کے ہاں بھی مسلم ہے۔ اگر مرزا کی پیش کردہ مثالیں درست ہیں تو پھر ناری کروں کی موجودگی کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام کا اترنا اور حضرت عیسیٰ ؑ کا رفع و نزول بھی عام قانون قدرت کے خلاف ممکن ہے۔ اگر قادیانیوں نے یہی کہنا ہے کہ کوا سفید ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناری کرہ سے کیسے گزر گئے؟ تو مرزائی ہم سے سوال کرنے سے قبل یہ اعلان کریں کہ مذکورہ حوالوں میں مرزا قادیانی نے یکے بعد دیگرے کئی جھوٹ بولے ہیں ۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
قادیانی اشکال بحوالہ مذکورہ
مرزائی عموماً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفع کو ہی رفع روحانی پر محمول کر کے جان چھڑانا چاہتے ہیں مگر جان چھوٹ جانا اتنا آسان تھوڑا ہی ہے۔ اس تاویل کا تحقیقی جواب یہ ہے:
حوالہ بالا میں خود مرزا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقابل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو زندہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ یہ تقابل اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جسمانی موت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جسمانی حیات مراد لی جائے مذہب قادیانی میں یہی ہے۔ قادیانی اس عبارت کی تاویل کرتے ہیں کہ حی فی السماء سے مراد روحانی حیات ہے اور آگے لم یمت سے نفی بھی روحانی موت کی ہی ہو رہی ہے۔ یہ تاویل چند وجوہ سے باطل ہے۔
اولاً...... کوئی شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روحانی موت کا قائل نہیں ہے کہ ان کی روحانی حیات ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔
ثانیاً...... تریاق میں مذکورہ عبارت کی چند سطروں کے بعد مرزا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تقابل کیا ہے، کہتا ہے: ولا تجد مثل هذه الآیات فی شان عیسٰی۔ اگر یہ تقابل مانا جائے اور مرزائیوں کی تاویل بھی مانی جائے تو اس عبارت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی موت کا اقرار کرنا پڑے گا اور یہ کفر ہے لہٰذا دونوں جگہ جسمانی حیات ہی مراد لی جانی چاہیے۔
قادیانی سوال...... ۹
مرزائی یہ کہتے ہیں کہ رفعہ میں ضمیر کے مرجع کا فرق صنعت استخدام کے قبیل سے ہے...... اس کا جواب یہ ہے کہ صنعت استخدام اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم کے دو معنی ہوں ، جس کا دنیا میں کوئی قائل نہیں ہے اور اس کے باوصف اسے استخدام کی صنعت قرار دینا مرزائیوں کی جہالت پر بین دلیل ہے۔ اس لیے کہ:
صنعت استخدام کی تعریف یہ ہے کہ
ایک لفظ کے دو معنی ہوں اور لفظ بول کر اس کا ایک معنی مراد لیا جائے اور جب اس لفظ کی طرف ضمیر لوٹے تو دوسرے معنی مراد ہوں یا دو ضمیریں ہوں ایک ضمیر لوٹا کر ایک معنی اور دوسری ضمیر لوٹا کر دوسرا معنی مراد لیا جائے۔
(از تلخیص المفتاح ص ۷۱)
رعيناه وان كانوا غضابا
سماء کا معنی بارش ہے اور دوسرا معنی جس کی طرف رعيناه کی ضمیر لوٹتی ہے سبزہ ہے جو اس بارش سے اُگا۔
قادیانیوں کا سوال ...... ۱۰
تھک ہار کر مرزائی ایک بہت دور کی کوڑی لائے کہ آیت بالا سے اثبات رفع اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ وما قتلوہ اور رفعہ دونوں کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی کیفیت جسد مع الروح کی طرف راجع ہو۔ ہم اس کو نہیں مانتے بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ رفعہ کی ضمیر کا مرجع صرف روح عیسوی ہے نہ کہ جسد اور اس کی نظیر قرآن کریم کی یہ آیت ہے ثم اماتہ فاقبرہ جس میں بالاتفاق پہلی ضمیر کا مرجع جسد مع الروح اور دوسری ضمیر کا مرجع صرف روح یا صرف جسد ہے۔
جواب ......! مرزائی اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ ہم نے یہ اعتراض کر کے کوئی بڑا تیر مار لیا ہے کیونکہ جس آیت سے مرزائیوں نے استدلال کیا ہے وہ آیت مبحوث عنہا کی نظیر ہرگز نہیں بن سکتی کیونکہ اماتہ کہنے کے بعد لامحالہ روح اور جسد میں انفصال ہو گیا تو اب اقبرہ کی ضمیر دونوں کی طرف راجع نہیں ہو سکتی ہے، ایک ہی کی طرف راجع ہو گی اور ہماری ذکر کردہ آیت وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ میں قتل کی نفی کے بعد رفع کا اثبات کیا جا رہا ہے۔ گویا کہ صراحتاً جسد و روح کے انفصال کی نفی کی جا رہی ہے۔ اس لیے یہاں جسد مع الروح ہی مرجع قرار دیا جا سکتا ہے کسی ایک کو لینا اور دوسرے کو چھوڑنا درست نہ ہوگا۔
- ۲...... مندرجہ بالا آیت میں موت واقع ہونے کے بعد جبکہ جسد اور روح میں انفصال ہو
گیا تو لامحالہ دوسری ضمیر کا مرجع یا صرف جسد ہوگا یا صرف روح۔ دونوں نہیں بن سکتے بخلاف متنازعہ فیہ آیت کے کہ اس میں قتل اور صلیب (یعنی موت کی نفی) کے بعد رفع
کے ساتھ ضمیر آ رہی ہے تو لامحالہ یہاں رفع جسد مع الروح کا ہوگا نہ کہ فقط روح کا۔ لہٰذا اس آیت پر قیاس، قیاس مع الفارق کے قبیل سے ہے جو درست نہیں۔
- ۳ .... یہ ہے کہ اماتہ فاقبرہ میں بھی دونوں جگہ مرجع جسد مع الروح ہی ہے اور اس میں
انسان کے متعدد احوال ذکر ہو رہے ہیں جو انسان معہود فی الذہن ہے۔
یہاں رفع روحانی اس لیے بھی نہیں ہو سکتا کہ یہاں پر چار جگہ واحد مذکر غائب کی ضمیر آئی ہے جن میں تین ضمیروں کا مرجع بالاتفاق عیسیٰ بن مریم جسد مع الروح ہے، ان ضمیروں کا مرجع نہ صرف جسد ہے اور نہ صرف روح ہے کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل تب ہی واقع ہو سکتا ہے جب جسد اور روح اکٹھے ہوں تو لامحالہ یہاں پر رفع کی ضمیر کا مرجع بھی جسد مع الروح ہی ہوگا، نہ کہ فقط روح نیز یہاں پر كان الله عزيزاً حكيما کا جملہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ یہاں رفع جسمانی ہی ہے ورنہ رفع روحانی کے لیے ان صفات کے لانے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں زائد جملہ ہو جائے گا اور یہ ہو نہیں سکتا قرآن کا ہر جملہ معنی خیز ہے۔
قادیانی اعتراض ...... ۱۱
ایک حدیث میں ہے اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق ....... جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتے ہیں۔ اس حدیث کو خرائطی نے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔
(کنزالعمال ج ۳ ص ۱۱۰ حدیث ۵۷۲۰ باب التواضع)
اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہو کر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔
جواب یہاں مجاز کے لیے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے یعنی جو بندہ لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور درجہ اللہ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اور اونچا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لیے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے تو اس کے لیے قرینہ لفظیہ بھی موجود ہے۔ وہ یہ کہ کنزالعمال ج ۳ ص ۱۱۰ حدیث ۵۷۲۱ میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے من یتواضع لله درجة يرفعه الله درجة
حتی یجعلہ فی علیین یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا اسی کے مناسب اللہ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ کا مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے۔ الحدیث یفسر بعضہ بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔ غرض قرآن و حدیث میں جہاں کہیں رفع کو درجات کی بلندی میں استعمال کیا گیا وہاں کوئی نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے جو ادنیٰ تامل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ مجازی معنی میں اس وجہ سے استعمال ہو رہا ہے۔ فافہم۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری دلیل
قال اللہ عزوجل وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ۚ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا ․ (نساء ۱۵۹) ”اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔“
ف:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر، جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لاکر اسے قتل کریں گے یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔ (تفسیر عثمانی)
ربط: یہ آیت گذشتہ آیت ہی کے سلسلہ کی ہے گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا ذکر تھا، جس سے طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اب رفع الی السماء کے بعد کیا ہوگا؟ اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے کہ وہ اس وقت تو آسمان پر زندہ ہیں مگر قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت تمام اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور چند روز دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے اور روضہ اقدس میں مدفون ہوں گے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے اور یہود بے بہبود جو ان کے قتل کے مدعی ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھ کر اپنی غلطی پر ذلیل اور نادم ہوں گے۔
بیان ربط بعنوان دیگر
گذشتہ آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہود کے کفر اور عداوت کا
ذکر تھا۔ اس آیت میں ان کے ایمان کا ذکر ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے اگرچہ یہود حضرت مسیح ؑ کی نبوت سے منکر تھے، مگر نزول من السماء کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی نبوت کی تصدیق کریں گے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آئندہ زمانے میں کوئی شخص اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا مگر عیسیٰ ؑ کے مرنے سے پہلے ان کی نبوت و رسالت پر ضرور بالضرور ایمان لے آئے گا۔ (لام تاکید ونون تاکید) رفع الی السماء سے پہلے تکذیب اور عداوت تھی نزول کے بعد تصدیق اور محبت ہوگی اور پھر اس سب کے بعد قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان کی تصدیق و تکذیب اور محبت اور عداوت کی شہادت دیں گے تاکہ شہادت کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کی وفات سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
تفسیر آیت اس آیت کی تفسیر میں صحابہؓ و تابعینؒ و علماء مفسرین کے دو قول ہیں۔
قولِ اوّل مشہور اور جمہور کے نزدیک مقبول اور راجح یہ ہے کہ لَيُؤْمِنَنَّ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور بِہٖ اور قَبْلَ مَوْتِہٖ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں ”کہ نہیں رہے گا کوئی شخص اہل کتاب میں مگر البتہ ضرور ایمان لے آئے گا (زمانہ آئندہ یعنی زمانہ نزول میں) عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے ۔“
چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہٗ اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں۔ ”نباشد ہیچ کس از اہل کتاب الا البتہ ایمان آرد بعیسیٰ پیش از مردن و روز قیامت عیسیٰ گواہ باشد برایشاں۔“ (ف) مترجم می گوید یعنی یہودی کہ حاضر شوند، نزول عیسیٰ را البتہ ایمان آرند۔ انتہیٰ۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کے اس ترجمہ اور فائدہ تفسیریہ سے صاف ظاہر ہے کہ بِہٖ اور مَوْتِہٖ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں جیسا کہ آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ وَمَا قَتَلُوْہُ اور وَمَا صَلَبُوْہُ اور مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا اور بَلْ رَّفَعَہُ تمام ضَمَائِر مفعول حضرت مسیح بن مریم ؑ ہی کی طرف راجع ہیں اور پھر آئندہ آیت وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَھِیْدًا میں یَکُوْنُ کی ضمیریں بھی حضرت مسیح ؑ ہی کی طرف راجع ہوں گی تاکہ سیاق اور سباق کے خلاف نہ ہو۔
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے باسنادِ صحیح منقول ہے کہ بِہٖ اور مَوْتِہٖ کی ضمیریں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ دیکھئے فتح الباری ص ۳۵۷ ج ۶ ۔ اور قتادہؒ اور ابو مالکؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔
(تفسیر ابن جریر ج ۶ ص ۱۴)
تفسیر از روئے حدیث
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک روایت میں ہے جس کو امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے روایت کیا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔
عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب و یفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا لہ من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرةؓ واقروا ان شئتم وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ و یوم القیمة یکون علیھم شھیدا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بے شک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو ختم کر دیں گے، مال کو بہا دیں گے یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ یہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس حدیث کی تصدیق کے لیے یہ آیت پڑھو
وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ط وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا O
(بخاری شریف کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم ص ۴۹۰ جلد اول طبع مجتبائی مسلم شریف
جلد اول ص ۳۹۹ تا ص ۴۰۱۔ طبع بجنور فتح الملہم، باب نزول عیسیٰ ابن مریم)
حافظ عسقلانیؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔
وھذا مصیر من ابی ھریرة الی ان الضمیر فی قولہ بہ و موتہ یعود علی عیسیٰ ؑ ای الا لیؤمنن بعیسی قبل موت عیسیٰ۔
(فتح الباری ج ۶ ص ۳۵۷)
یعنی حضرت ابو ہریرہؓ کا اس طرح آیت کا پڑھنا اس کی دلیل ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں یعنی ہر شخص زمانہ آئندہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ پر ضرور ایمان لے آئے گا۔
حافظ عسقلانی ” فتح الباری میں فرماتے ہیں۔ وقد اختار كون الضمير لعيسى، ابن جرير و به قال جماعة من السلف وهو الظاهر لانه تقدم ذكر عيسىٰ وذهب كثير من التابعين فمن بعدهم الى ان المراد قبل موت عيسى كما روى عن ابن عباس قبل هذا۔
(فتح الباری)
دونوں ضمیروں کا یعنی بہ اور موتہ کی ضمیروں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا اس کو امام ابن جریر اور سلف کی ایک جماعت نے راجح قرار دیا ہے اور قرآن کریم کا سیاق بھی اس کو مقتضی ہے کیونکہ گذشتہ کلام میں حضرت عیسیٰ ؑ ہی کا ذکر ہے اور تابعین اور تبع تابعین کثرت سے اسی طرف ہیں کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ قبل موت عیسیٰ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے جیسا کہ ابن عباسؓ سے مروی ہے۔
قول ثانی آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ بہ کی ضمیر تو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور ان کی عبدیت پر ایمان لے آتا ہے جیسا کہ ابی بن کعبؓ کی قرأت وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنُنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِهِمْ اسی معنی کی صریح مؤید ہے یعنی نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر۔ یعنی اس بات پر کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ خدا اور خدا کے بیٹے نہیں تھے۔ مگر یہ ایمان چونکہ خروج روح کے وقت ہوتا ہے۔ اس لیے شرعاً معتبر نہیں اور نہ آخرت میں نجات کے لیے کافی ہے۔ اس قرأت میں بجائے ”قَبْلَ مَوْتِہٖ کے قَبْلَ مَوْتِهِمْ بصیغہ جمع آیا ہے جو صراحتہً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قَبْلَ مَوْتِهِمْ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا اسی طرح دوسری قرأت میں بھی قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہونی چاہیے تاکہ دونوں قرأتیں متفق ہو جائیں۔ حافظ عسقلانیؒ فرماتے ہیں۔
ورجح جماعة هذا المذهب بقراء ة ابى بن كعب الا ليؤمنن بالضم به قبل موتهم اى اهل الكتب قال النووى معنى الآية على هذا ليس من اهل الكتب اذا يحضره الموت الا آمن عند المعاينة قبل خروج روحه بعيسى عليه السلام انه عبدالله ولكن لا ينفعه هذا الايمان فى تلك الحالة كما قال الله عزوجل وليست التوبة للذين يعملون السيأت حتى اذا حضر احدهم الموت قال انى تبت الان۔
(فتح الباری ج ۶ ص ۳۵۷)
”علماء کی ایک جماعت نے ابی بن کعبؓ کی قرأت کی بنا پر اس قول کو راجح قرار دیا ہے کہ موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے اور اس قول کی بنا پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر کتابی اپنی روح نکلنے سے پہلے اس بات پر ایمان لے آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ مگر ایسی حالت میں ایمان اس کو نافع اور مفید نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ الخ یعنی جب موت آ جائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔“
ترجیح ارجح وتصحیح اصح
جمہور سلف اور خلف کے نزدیک آیت کی تفسیر میں راجح اور مختار قول اول ہے اور دوسرا قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ اس قول کا دار و مدار ابی بن کعبؓ کی قرأت پر ہے اور یہ قرأت شاذ ہے۔ کسی صحیح یا حسن سند سے بھی ثابت نہیں۔ سند کے راوی ضعیف اور مجروح ہیں۔ تفسیر ابن جریر میں اس قرأت کی اسانید مذکور ہیں اور علیٰ ہذا اس باب میں جس قدر روایتیں ابن عباسؓ سے مروی ہیں وہ بھی ضعیف ہیں امام جلیل و کبیر حافظ عمادالدین ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
واولى هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهو انه لا يبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عيسى عليه السلام الا امن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام ولاشك ان هذا الذى قاله ابن جرير هو الصحيح لانه مقصود من سياق الاية وهذا القول هو الحق كما سنبينه بالدليل القاطع ان شاء الله تعالى وبه الثقة و عليه التكلان آه.
(تفسیر ابن کثیر ص ۲۳۳ ج ۳)
”حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ صحیح قول فقط یہی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے گی کہ آئندہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جس میں تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ایمان لے آئیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے شک رسول ہیں اور یہی ابن جریر طبریؒ نے اختیار فرمایا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی صحیح اور درست ہے کیونکہ سیاق آیت سے عیسیٰ علیہ السلام ہی کا ذکر مقصود ہے اور یہی قول حق ہے جیسا کہ ہم اس کو دلیل قطعی سے ثابت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔“
اور دلیل قطعی سے وہ احادیث متواترہ مراد ہیں کہ جن میں صراحۃً یہ مروی ہے کہ قیامت کے قریب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس وقت کوئی شخص ایسا باقی نہ
رہے گا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے۔
(یاد رہے کہ ابن کثیرؒ قادیانیوں کے ہاں بھی مسلمہ مجدد ہیں)
تطبیق و توفیق جاننا چاہیے کہ دو قرأتیں دو مستقل آیتوں کا حکم رکھتی ہیں۔ ابی بن کعبؓ کی قرأت سے ہر کتابی کا اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا معلوم ہوتا ہے اور قرأت متواترہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ آئندہ میں تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان دونوں قرأتوں میں کوئی تعارض نہیں دونوں حق ہیں۔ ہر ایک قرأت بمنزلہ مستقل آیت کے ہے جو حجت ہے۔ ہر کتابی اپنے مرنے کے وقت بھی حضرت مسیح ؑ کی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور جب قیامت کے قریب حضرت مسیح ؑ آسمان سے نازل ہوں گے اس وقت بھی موجود ہر کتابی حضرت مسیح ؑ کی موت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ قرأت متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول اور اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے جو نزول کے بعد لائیں۔
اور ابی بن کعبؓ کی قرأت شاذہ میں حضرت مسیح ؑ کی حیات اور نزول کا ذکر نہیں۔ نہ حیات کا ذکر ہے نہ وفات کا۔ فقط اہل کتاب کے اس ایمان کا ذکر ہے کہ جو اہل کتاب اپنی روح نکلتے وقت لاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر قرأت میں ایک جدا واقعہ کا ذکر ہے جیسا کہ الم غُلِبَتِ الرُّوْمُ میں دو قرأتیں ہیں۔ ایک معروف اور ایک مجہول اور ہر قرأت میں علیحدہ علیحدہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن حضرات صحابہؓ اور تابعینؒ سے یہ قرأت شاذہ منقول ہے وہ سب کے سب بالاتفاق حضرت مسیح علیہ السلام کے بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بھی قائل ہیں۔ چنانچہ تفسیر در منثور میں ام المومنین ام سلمہؓ اور محمد بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح ؑ کے نزول سے پہلے مریں گے وہ اپنی موت کے وقت حضرت مسیح ؑ پر ایمان لاتے ہیں اور جو اہل کتاب حضرت مسیح ؑ کے زمانہ نزول کو پائیں گے وہ تمام حضرت مسیح ؑ پر حضرت مسیح ؑ کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ لہٰذا ابی بن کعبؓ کی قرأت نزول عیسیٰ ؑ سے پہلے مرنے والوں کے حق میں ہے اور قرأت متواترہ ان لوگوں کے حق میں ہے کہ جو نزول کے بعد حضرت مسیح ؑ کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔
پھر یہ کہ اہل کتاب جو اپنے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں وہ بھی یہی
ایمان لاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ صحیح و سالم آسمان پر اٹھا لیے گئے جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
"اخرج عبد بن حميد و ابن المنذر عن شهر بن حوشب فى قوله تعالى و ان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته عن محمد بن على بن ابى طالب وهو ابن الحنفية قال قال ليس من اهل الكتب احد الا اتته الملئكة يضربون وجهه و دبره ثم يقال يا عدو الله ان عيسى روح الله و كلمته كذبت على الله و زعمت انه الله ان عيسى لم يمت وانه رفع الى السماء وهو نازل قبل ان تقوم الساعة فلا يبقى يهودى ولا نصرانى الا امن به."
(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳۴۱)
"عبد بن حمید اور ابن منذر نے بروایت شہر بن حوشب محمد (بن علی ابن الحنفیہ) سے آیت وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ الخ کی تفسیر اس طرح روایت کی ہے کہ نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر آتے ہیں فرشتے اس کی موت کے وقت اور خوب مارتے ہیں اس کے چہرے اور سرین پر اور کہتے ہیں کہ اے اللہ کے دشمن! بے شک عیسیٰ اللہ کی خاص روح ہیں اس کا کلمہ ہیں۔ تو نے اللہ پر جھوٹ بولا اور گمان کیا کہ عیسیٰ، اللہ ہیں تحقیق عیسیٰ ابھی نہیں مرے اور تحقیق آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہ رہے گا مگر حضرت مسیح علیہ السلام پر ضرور ایمان لائے گا۔"
عجب نہیں کہ جس طرح مشرکین کو مرنے کے وقت عقیدۂ فاسدہ پر توبیخ اور سرزنش کی جاتی ہے اسی طرح اہل کتاب کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلط عقیدہ کی بنا پر توبیخ کی جاتی ہو۔ کما قال تعالیٰ اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْءٍ۔
(نساء ۹۷)
امام ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ جب موت کا وقت ہوتا ہے تو حق اور باطل کا فرق واضح ہو جاتا ہے جب تک دینِ حق اور دینِ باطل کا امتیاز نہ ہو جائے اس وقت تک روح نہیں نکلتی۔ اسی طرح ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس پر حق واضح ہو جاتا ہے۔
تفسیری شواہد
- ۱۔ ...... حضرت شاہ ولی اللہؒ۔
- ۲۔ ... فتح الباری۔
- ۳...... ابن جریر طبری۔ ۴...... ابن کثیر۔
- ۵...... در منثور کے حوالہ جات پہلے نقل ہو چکے۔ مزید تفسیری حوالہ جات اس آیت
کے ذیل میں ملاحظہ ہوں۔
- ۶...... تفسیر کشاف میں زیر آیت ہٰذا ج ۱ ص ۵۸۹ پر حضرت علامہ زمخشری فرماتے ہیں۔
”وان منهم احد الا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى و هم اهل الكتاب والذين يكونون فى زمان نزوله روى انه ينزل من السماء فى آخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتى تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال.“ ان (اہل کتاب) میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوگا مگر وہ ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔ (اس سے وہ اہل کتاب مراد ہیں) جو عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں موجود ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے تو ایک بھی اہل کتاب سے ایسا باقی نہ بچے گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔ اس وقت ایک ملت ہو جائے گی اور وہ ملت اسلام ہے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے۔“
- ۷...... اس کی تفسیر میں علامہ عثمانیؒ لکھتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں۔ آسمان پر جب دجال خارج ہوگا۔ تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود و نصاریٰ (وغیرہم کفار) ان پر ایمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا۔ (فوائد عثمانیہ ص ۱۳۳)
- ۸...... حافظ ابن کثیرؒ بطریق ابی رجاءؒ یہ تفسیر نقل کرتے ہیں کہ
عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قبل موت عيسىٰ عليه السلام والله انه لحى الان عندالله تعالى ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون الخ.
(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۶)
حضرت حسنؒ (بصری) نے وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ (الایہ) کی تفسیر یہ کی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لائے بخدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہیں اور
جب نازل ہوں گے تو سبھی ہی ان پر ایمان لائیں گے۔ اور دوسرے طریق سے تفسیر یوں نقل کرتے ہیں کہ ان رجلا قال للحسنؒ يا ابا سعيد قول الله عزوجل وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسىٰ عليه السلام ان الله تعالىٰ رفع اليه عيسىٰ عليه السلام وهو باعثه قبل يوم القيمة مقاما يؤمن به البر والفاجر وكذا قال قتادة و عبدالرحمٰن بن زيد بن اسلم وغير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعده بالدليل القاطع ان شاء الله تعالىٰ الخ.
(تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۶)
”ایک شخص نے حضرت حسنؒ (بصری) سے دریافت کیا کہ اے ابوسعیدؒ (یہ ان کی کنیت تھی) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ رہے گا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا، کیا معنی ہے؟ حسن بصریؒ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسی جگہ بھیجے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے تمام نیک و بد ان پر ایمان لائیں گے اور یہی تفسیر حضرت قتادہؒ عبدالرحمٰنؒ بن زید بن اسلمؒ اور بے شمار مفسرین نے کی ہے اور یہی تفسیر حق ہے ہم آگے دلیل قاطع سے اسے بیان کریں گے انشاء اللہ العزیز۔“
اس کے بعد حافظ ابن کثیرؒ نے نصوص قرآنیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کے حوالہ سے اسے مبرہن کیا ہے۔ قرآن کریم کے اس روشن بیان سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات اور ان کی وفات سے قبل یہود و نصاریٰ وغیرہم کفار کا ان پر ایمان لانا ثابت ہے لا ریب فیہ اور ان کی آمد و نزول سے پہلے ساری دنیا کفر ظلم و جور اور قتل و غارت اور بے حیائی سے بھری ہوئی ہوگی مگر ؎
وہی پیدا کرے گا دن بھی، کی ہے جس نے شب پیدا
کتب تفاسیر میں اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ کی دو تفسیریں نقل کی گئی ہیں ایک یہ کہ بہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے اور قبل موتہ میں ضمیر کتابی یعنی یہود و نصاریٰ کے ہر ہر فرد کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر یہودی اور نصرانی اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے گا وہ یوں کہ نزع اور جان کنی کے وقت انھیں اپنے باطل عقیدے پر بخوبی اطلاع ہو جائے گی اور
وہ مجبور ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لائیں گے اگرچہ کتب تفسیر میں یہ تفسیر بھی موجود و مذکور ہے مگر دلائل اور سیاق و سباق سے اس کی تائید نہیں ہوتی...... اول اس لیے کہ نزع کی حالت کا ایمان، ایمان نہیں اور نہ عنداللہ تعالیٰ اس کی قبولیت ہے، حالانکہ آیت کریمہ میں لام تاکید اول میں اور نون تاکید ثقیلہ آخر میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضرور بالضرور ایمان لائیں گے اور اس ایمان سے ایسا ایمان مراد ہے جو عنداللہ ایمان ہو اور مقبول بھی ہو اور مرتے وقت یہودی اور نصرانی کا ایمان، ایمان ہی نہیں تو وہ اس لَیُؤْمِنَنَّ کا مصداق کیسے ہو سکتا ہے؟...... ثانیاً اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ یعنی ہر مکلف سے وہ ایمان مطلوب ہے جو اس کی مرضی اور مشیت سے ہو اور نزع کے وقت جب فرشتے سامنے ہوں تو اس وقت کا ایمان مجبوری کا ایمان ہوگا جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے...... ثالثاً اس لیے کہ قرآن کریم سے زیادہ فصاحت اور بلاغت والی کتاب دنیا میں موجود نہیں ہے اگر موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہو تو آگے ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا میں یکون میں ھو ضمیر یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے تو انتشارِ ضمائر لازم آئے گا کہ ایک ضمیر تو کتابی کی طرف راجع ہو اور دوسری ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جو فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے، اس لیے یہی بات راجح اور متعین ہے کہ قبل موتہ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود و نصاریٰ کو جب اپنی غلطی کا اقرار و احساس ہوگا تو اپنے نزع سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائیں گے اور وہ ایمان، ایمان ہوگا اور مقبول ہوگا۔
۹...... علامہ اندلسیؒ فرماتے ہیں۔
والظاهر ان الضميرين فى به و موته عائدان على عيسىٰ عليه السلام وهو سياق الكلام والمعنى ان من اهل الكتاب الذين يكونون فى زمان نزوله روى انه ينزل من السماء فى آخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتى تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام قاله ابن عباس والحسن وابو مالكؒ اه.
(البحر المحیط ج ۳ ص ۵۵۴، ۵۵۵ طبع بیروت)
”اور ظاہر یہی ہے کہ بہ اور موتہ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں اور سیاق کلام بھی اسی کو چاہتا ہے اور معنی یہ ہے کہ جو اہل
کتاب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول کے وقت ہوں گے، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی ان پر ایمان لائے بغیر نہیں رہے گا حتیٰ کہ اس وقت ایک ہی ملت باقی رہے گی اور وہ صرف ملت اسلام ہی ہوگی یہی بات حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت حسنؓ (بصری) اور ابو مالکؒ نے بیان کی ہے۔‘‘
علامہ موصوف کی تفسیر سے واضح ہو گیا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور سیاق و سباق اسی کو چاہتا ہے کہ بہ کی طرح قبل موتہ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے۔
- ١٠.......قاضی بیضاویؒ (عبداللہ بن عمر بیضاوی المتوفی ٦٨٥ھ) نے بھی یہ تفسیر نقل کی ہے۔
وقیل الضمیران لعیسیٰ علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام والمعنیٰ انہ اذا نزل من السماء آمن بہ اہل الملل کلہا روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ینزل من السماء اھ۔
(تفسیر بیضاوی ج ١ ص ٢٥٥)
”اور یہ کہا گیا ہے (اور یہی صحیح اور راجح ہے) کہ دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ ان پر افضل صلوٰۃ و سلام ہوں، کی طرف راجع ہیں اور معنی یہ ہے کہ جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے تو تمام ملتوں والے ان پر ایمان لائیں گے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘
قاضی بیضاویؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس تفسیر کی جس میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں، اس کی وہ احادیث بھی تائید کرتی ہیں (جو متواتر ہیں) جن میں ان کے آسمان سے نازل ہونے اور تمام اہل ملل کے ان پر ایمان لانے کا واضح ذکر ہے
- ١١.......اور حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ
والقول الصحیح الذی علیہ الجمہور قبل موت المسیح اھ۔
(الجواب الصحیح ج ١ ص ٣٣١ و ج ٢ ص ١١٣)
”اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صحیح قول (اور تفسیر) وہی ہے جس پر جمہور اہل اسلام ہیں کہ موتہ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہے۔‘‘
پہلی آیت کریمہ اور اس میں نقل کردہ تفاسیر کی طرح اس دوسری آیت کریمہ اور اس کی تفسیر میں نقل کردہ ٹھوس اور مضبوط حوالوں سے یہ بات بالکل عیاں ہوگئی ہے
کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کا رفع الی السماء ان کی حیات اور قیامت سے پہلے ان کا زمین پر نازل ہونا نصوص قطعیہ قرآنی آیات سے ثابت ہے جس کا انکار کافر ملحد اور زندیق کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا مگر باطل پرستوں پر براہین قاطعہ اور ادلّہ ساطعہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا وہ اپنی انا اور ضد پر قائم رہتے ہیں بھلا شیطان کی ہدایت کس کے بس میں ہے۔
وگرنہ ساغر و مینا بدل جانے سے کیا ہوگا
قادیانی اعتراض......۱
”اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل (اہل اسلام) نے سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال بالبداہت باطل ہے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۶۷ خزائن ج ۳ ص ۲۸۸)
الجواب......۱ اس آیت میں ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو نزول مسیح کے بعد ان پر ایمان لائیں گے چنانچہ الفاظ بہِ اس پر دلیل ہیں۔ فقرہ لَیُؤْمِنَنَّ. ”مضارع موکد بہ نون ثقیلہ ہے جو مضارع میں تاکید مع خصوصیت زمانہ مستقبل کرتا ہے۔“
(مرزائی پاکٹ بک ص ۵۰۲ وص ۴۲۶)
چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ جن کو خود مرزائی مجدد صدی مانتے ہیں اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں۔
”ونباشد، ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بعیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ و روز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشاں (حاشیہ میں اس کا حاصل مطلب یہ لکھتے ہیں) یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ علیہ السلام را البتہ ایمان آرند“
۲...... ”نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لائے گا، ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر اس کے گواہ“
(فصل الخطاب مصنفہ نورالدین خلیفہ اول قادیان ص ۸۰ ج ۲)
۳...... وان من اہل الکتاب احد الا لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وہم اہل
الكتاب الذين يكونون فى زمانه فتكون ملة واحدة وهى ملة الاسلام و بهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جریر من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح (ارشاد الساری شرح صحیح بخاری ج ۵ ص ۵۱۸، ۵۱۹) ابن جریر جو نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے (حاشیہ چشمہ معرفت ص ۲۵۰ خزائن ج ۲۳ ص ۲۷۱) بلکہ ”رئیس المفسرین“ ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۱۶۸ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے جو قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں ہیں اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے (ازالہ اوہام ص ۴۲۷ خزائن ج ۳ ص ۴۲۵) باسناد صحیح روایت لائے ہیں کہ آیت اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ میں وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اس زمانہ میں ہوں گے پس وہ ایک ہی مذہب اسلام پر آ جائیں گے۔
۴...... اب سنئے مرزا قادیانی کا ترجمہ۔
”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے۔“
(الحق دہلی ص ۲۲ خزائن ج ۴ ص ۳۴)
مرزا قادیانی نے آدھا ترجمہ صحیح کیا ہے آدھا غلط۔ بہرحال ان تراجم اربعہ سے یہ امر صاف اور واضح ہے کہ آیت کا مطلب بلکہ ”دلالت صریحہ“ یہی ہے کہ آئندہ زمانہ میں اہل کتاب مسیح پر ایمان لائیں گے فہذا مرادنا۔
جواب...... ۲ معترض کا پہلا اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد نہیں ہو سکتے۔ اس آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مثلاً اس فقرہ کا کہ ۳۰۰۰ سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ۳۰۰۰ کے بعد کوئی مرزائی حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے لیکن ۳۰۰۰ کے بعد مرزائی کا نام و نشان نہیں رہے گا۔
دوسری مثال ”مولانا فضل الرحمٰن دسمبر ۲۰۰۳ء کو لاہور تشریف لائیں گے۔ آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لیے حاضر ہو جائیں گے۔“
کون بے وقوف ہے جو اس کا مطلب یہ لے گا ”کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (۱۰ فروری ۲۰۰۳ء) کے اہل لاہور مراد ہیں۔ ممکن ہے۔ بعض مر جائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آ جائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔ پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔
قادیانی اعتراض......۲
- ۱...... دوسری قرأت اس آیت میں بجائے قبل موتہ قبل موتہم موجود ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۳۴ خزائن ج ۲۲ ص ۳۶)
- ۲...... ابی بن کعبؓ کی قرأت سے ثابت ہوا کہ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف
نہیں پھرتی بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔“ (حمامۃ البشریٰ ص ۴۸ خزائن ج ۷ ص ۳۲۱)
الجواب ۱: قرآن پاک میں قبل موتہ مذکور ہے حضرت ابیؓ کی یہ قرأت بوجہ شاذ ہونے کے متروک ہے۔ حضرت عمرؓ و دیگر صحابہؓ حضرت ابیؓ کی اس قسم کی قرأتوں کو نہیں مانتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری ج ۲ ص ۷۳۳ و ۷۴۸ میں ہے قال عمر ابی اقرء نا و انا لندع من لحن ابیؓ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابیؓ بڑے قاری ہیں تو بھی ہم صحابہؓ لوگ ان کی قرأتوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔ ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب و نور الدین قادیانی بغور ملاحظہ ہو۔ نیز قبل موتہم والی قرأت جو ابن عباسؓ سے مروی ہے کذب محض ہے کیونکہ اس میں دو راوی مجروح ہیں۔ اول حصیف دوم عتاب ابن بشیر، تقریب ص ۱۳۶ میں حصیف کے متعلق مندرج ہے سَيِّئُ الْحِفْظِ خَلَطَ بَاخِرِهِ رُمِيَ بِالْاِرْجَاءِ. (مرزا قادیانی کی طرح) خراب حافظہ والا۔ اس پر مرجیہ ہونے کا الزام دھرا گیا۔ میزان الاعتدال میں ہے ضَعَّفَهُ اَحْمَدُ وَقَالَ اَبُوْحَاتِمٍ نَتَكَلَّم فِیْ سُوْءِ حِفْظِهِ وقال احمد ایضاً نُكَلِّمُ فِی الْاِرْجَاءِ وقال عثمان بن عبد الرحمن رأيت على خصيف لباسا سوداً كَانَ عَلی بیت المال (میزان الاعتدال ج ۲ ص ۴۴۲، ۴۴۳، الخ) یعنی ضعیف الحدیث اور سیئ الحافظ اور مرجیہ ہونے کے علاوہ چور بھی تھا۔ بیت المال سے اس نے چادر اڑا کر امیرانہ ٹھاٹھ بنانے کو مونڈھوں پر لٹکا لی چہ خوش!
اب سنیے! دوسرے صاحب ”عتاب“ کا احوال، وہ بھی ضعیف ہیں چنانچہ میزان میں ہے۔ قال النسائی لیس ھذاک فی الحدیث وقال ابن المدینی کان اصحابنا یضعفونہ وقال علی ضربنا علی حدیثہ انتھی ملخصا (میزان ج ۵ ص ۳۶ حرف العین) اس روایت کے جھوٹی اور بناوٹی ہونے پر یہ دلیل ہے کہ ہم ارشاد الساری شرح صحیح بخاری سے بحوالہ روایت ابن جریر انھیں حضرت ابن عباسؓ کی صحیح السند روایت درج کر آئے ہیں جس میں صاف الفاظ ہیں لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ، پس موتھم والی روایت مردود ہے۔
- ۲...... قرأت ابی بن کعبؓ ”قبل موتھم“ شاذ ہے اور ”قبل موتہ“ قرأت متواترہ ہے۔
حضرت ابی بن کعبؓ کی قرأت شاذہ قرأت متواترہ کے تابع ہو گی۔ لا بالعکس۔
- ۳...... یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے جو مرزا قادیانی
کے نزدیک نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے یعنی مفسر و محدث ابن جریر۔
(دیکھو چشمہ معرفت ص ۲۵۰ حاشیہ خزائن ج ۲۳ ص ۲۶۱)
نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزا قادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔ ”اجمع العلماء المعتبرون علی انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ (اتقان ج ۲ ص ۳۲۵ النوع الثمانون فی طبقات المفسرین) معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔“
اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ قبل موتہ سے مراد ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے“ ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت سے پہلے۔ دیکھو تفسیر ابن جریر۔
- ۴...... خود مرزا قادیانی نے موتہ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم
کیا ہے۔
(دیکھو ازالہ اوہام ص ۳۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۹۱)
ہاں کلام اللہ کے الفاظ کو نعوذ باللہ ناکافی بتلا کر ایسے ایسے محذوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔
- ۵...... نورالدین خلیفہ اوّل مرزا قادیانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص ۸۰ میں
اسی آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ”اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس (حضرت مسیح کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن
قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر ائمہ تفسیر کے اقوال پیش کیے ہیں۔
- ۶....... جمہور علماء اسلام ہمیشہ قبل موتہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال
کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
- ۷....... بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے جیسا کہ پہلے ہم بیان
کر آئے ہیں۔
- ۸....... لَيُؤْمِنَنَّ میں لام قسم اور نون ثقیلہ موجود ہے جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر
دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہیے تھی۔ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے اپنی موت سے پہلے۔ انشاء اللہ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس طرح کے الفاظ نہ دکھا سکیں گے۔
- ۹....... آیت کا آخری حصہ ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا. ”اور قیامت کے دن
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔‘‘ قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود و نصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ”تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟ ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر باقی نہ رہے گا‘‘ تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَادُمْتُ فِيْهِمْ. جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔
- ۱۰....... قبل موتہ میں قبل کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی
موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض کا خیال ہے (اور انھیں میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے) کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ
(نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ اس لیے باطل ہے، اَگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنی فصیح و بلیغ کلام میں قَبْلَ کی بجائے عِندَ موتِہ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا لیکن جس ایمان کا اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
۱۱...... مرزا غلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیے ہیں ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انھوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔“ (ازالہ ص ۳۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۹۱)
مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزا قادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نہ سمجھ سکیں گے اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اللہ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے؟
چیلنج مرزا قادیانی اپنی کتاب شہادۃ القرآن ص ۵۵ خزائن ج ۶ ص ۳۵۱ پر صاف اقرار کرتے ہیں ”جس طرح روز اول سے اس (قرآن مجید) کا پودا دلوں میں جمایا گیا یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔“
نیز مرزا قادیانی ایام الصلح ص ۵۵ خزائن ج ۱۴ ص ۲۸۸ پر لکھتے ہیں۔ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون...... خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے ائمہ و اکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔“ ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر جو اس نے ازالہ حوالہ بالا میں کی ہے یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۴۰۰ سال کے مجددین امت و علماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ”من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔
(کنز العمال ج ۲ ص ۱۶ حدیث ۲۹۵۷۔ جامع المسانید ج ۳ ص ۲۹۴۔۲۹۵ حدیث ۵۸۷۔۵۹۰)
یعنی فرمایا رسول کریم ﷺ نے جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے
اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا۔“ پس یا تو مرزائی جماعت مرزا قادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزا قادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔
قادیانی اعتراض......۳
”بعض لوگ کچھ شرمندہ سے ہو کر دبی زبان یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔ اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے۔ اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اول تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۶۸ خزائن ج ۳ ص ۲۸۹)
جواب ”مرزا قادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل و فریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں۔ ”بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں ۔ کہ اہل کتاب سے وہ مراد ہیں ۔ جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہونگے۔“
اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی۔ حدیث رسول اللہ کی شہادت۔ صحابہؓ کی تائید اور مجددین امت کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا۔ یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون۔ کذابون۔ یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”کہ آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح کے وقت میں ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔“
کیوں مرزا قادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ”حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں“ کے ساتھ کیوں مقید و محدود کر دیا؟ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں۔ تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟
جس دلیل سے آپ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے پہلے کے یہودی و نصرانی کو الگ کر دیں گے۔
علاوہ ازیں بمطابق ”دروغ گو را حافظہ نباشد۔“ خود مرزا قادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں۔ ”آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں۔ جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو“۔ باوجود اس کے خود آیت کو ”حضرت مسیح علیہ السلام کو وقت اور ان کے بعد“ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شاید مرزا قادیانی کے نزدیک زمانے صرف دو ہی ہوتے ہوں۔ (حال و مستقبل) زمانہ ماضی۔ مضی ما مضی کا شکار ہو کر رہ گیا ہو؟ جب آیت کی زَد میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کیے جائیں؟ مرزا قادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کُلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور ان کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی ۔ تو واللہ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔
قادیانی اعتراض......۴
”لیومن بہ کی ضمیر میں بھی اختلاف ہے کوئی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتا ہے کوئی آنحضرت ﷺ اور قرآن کی طرف۔“ (۴۳۴ پاکٹ بک)
الجواب قرآن پاک میں تو مسیح کی طرف ہی ہے اس طرح ترجمہ شاہ ولی اللہؒ اور ترجمہ نور دین اور روایت ابن عباسؓ اور تحریر مرزا قادیانی مندرجہ الحق دہلی ص ۴۲ جو سب نقل کر آئے ہیں صاف شاہد ہیں کہ لیؤمنن عیسیٰ قبل موت عیسیٰ خود تم نے اسی صفحہ پاکٹ بک پر بہ کی ضمیر بطرف مسیح ؑ پھیری ہے ”یہود کا ہر فرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر ایمان لائے گا۔“ کہو کیا کہتے ہو؟
قادیانی اعتراض......۵
”مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ
الاسلام پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے ۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ۲۰۸ خزائن ج ۱۷ ص ۳۰۹)
الجواب عداوت یہود و نصاریٰ کے وجود تک ہے جب وہ سب اسلام لا کر مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت سب عداوتیں مٹ جائیں گی۔ جلدی میں یہ نہ کہہ دینا کہ عداوت إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ہے اور اِلٰی کا لفظ غایت کے معنی میں آتا ہے۔ اِلٰی کے معنی عربی میں یہ ہیں یعنی الی یوم القیامۃ سے مراد قرب لیوم القیامۃ ہے کیونکہ فنائے عالم کے بہت عرصہ کے بعد قیامت کا دن ہوگا جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے۔ جب کوئی آدمی ہی نہ زندہ ہوگا تو دشمنی کس میں ہوگی؟ پس لامحالہ الی کے معنی قرب کے کرنے ہوں گے۔
- ۲...... مرزا قادیانی کو نہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔
موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ سبحان اللہ ! مرزا قادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہیے باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں مذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھیے۔
- اوّل...... تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ
مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض و عناد کا رہنا کون سا محال ہے۔ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بغض و عناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری و قادیانی جماعتوں میں بغض و عناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے دوسرے! الی یوم القیامۃ سے مراد یقیناً طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی ہمارے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ ہمارے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگوں کے قیامت تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یا جب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کون بیوقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا۔ مطلب صاف ہے کہ جب
تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔ آیت اول یہ ہے۔ وَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود و نصاریٰ رہیں گے۔ ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔ آیت ثانی یہ ہے۔ وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ. اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔ اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔ اوّل...... یہود کا نصاریٰ و مسلمانوں کا غلام ہو کر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔ دوم...... یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول مسیح کے وقت ہوگا یہی مطلب ہے تمام آیات کلام اللہ کا، جس کو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزا قادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔
حدیث نبوی يهلك الله فی زمانه (عيسى) الملل كلها الا الاسلام.
(رواہ ابوداؤد باب خروج الدجال ج ۲ ص ۱۳۵۔ مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۶ ابن جریر جزو ۶ ص ۲۲۔ درمنثور ج ۲ ص ۲۴۲)
”ہلاک کر دے گا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔“ علامہ جلال الدین سیوطی کو قادیانی مجدد مانتے ہیں درمنثور ان کی تفسیر ہے انھوں نے اس روایت کو نقل کیا۔ مجدد کا قول جن کا منکر مرزا قادیانی کے نزدیک کافر و فاسق ہو جاتا ہے۔
(شہادت القرآن ص ۴۸ خزائن ج ۶ ص ۳۴۲)
اقوال مرزا......۱ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راستبازی ترقی کرے گی۔“
(ایام الصلح ص ۱۴۶ خزائن ج ۱۴ ص ۳۸۱)
۲...... ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت قائم ہو اور عیسائیوں کے لیے کسر صلیب اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔“
(الحکم ۱۷ جولائی ۱۹۰۵ء ج ۹ ش ۲۵ ص ۱۰ کالم ۴)
- ۳...... ”اور پھر اسی ضمن میں (رسول اللہ ﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا
کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔“ (شہادت القرآن ص۱۲ خزائن ج ۶ ص ۳۰۷)
- ۴...... ”وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔
کے تحت مرزا نے لکھا ہے ”تب ہم تمام مذاہب کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔“
(شہادت القرآن ص ۱۵ خزائن ج ۶ ص ۳۱۱)
- ۵...... ”’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا‘ یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ
اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خدا تعالیٰ اس پھوٹ کے دور کرنے کے لیے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پر ہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خدا تعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ۸۰ خزائن ج ۲۳ ص ۸۸)
- ۶...... ”خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی
مذہب پر ہو جائیں زمانہ محمدی ﷺ کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قریب قیامت کا زمانہ ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ۸۲ وص ۸۳ خزائن ج ۲۳ ص ۹۰ ۔ ۹۱)
- ۷...... ”خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تا بذریعہ
اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لیے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کر لے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانہ میں ڈالی گئی...... یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہٗ لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ۸۲ خزائن ج ۲۳ ص ۹۰)
- ۸...... ”وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی
ہے۔ اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ”هُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهٖ“. یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“ (چشمہ معرفت ص ۸۳ خزائن ج ۲۳ ص ۹۱) ناظرین ہم نے احادیث نبوی
علیٰ صاحبہما الصلوٰۃ والسلام اور اقوالِ مرزا سے ثابت کر دیا ہے۔ کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوالِ مرزا کو تو کم از کم فضول اور لا یعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتے کیونکہ مرزا قادیانی ان کے نزدیک حکم ہے۔ اور جری اللہ فی حُلَلِ الانبیاء ہے۔ پس ثابت ہوا۔ کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔
قادیانی اعتراض......۶
جب سب مومن ہو جائیں گے تو پھر غلبہ کن کافروں پر ہوگا؟
- جواب......۱ کافروں پر غلبہ اسی وقت تک ہے جب تک کافر موجود ہوں جب کافر
ہی نہ رہیں گے سب مومن ہو جائیں گے۔ اس وقت سوال اٹھانا ہی دلیل جہالت ہے۔ قرآن میں بھی اور حدیث میں بھی سب کا مومن ہونا مرقوم ہے پھر ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اس زمانے میں لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ۔
(مشکوٰۃ ص ۴۸۱ باب لا تقوم الساعۃ)
پھر اس کے بعد جب کافر رہ جائیں گے اس وقت مومن ہی کوئی نہ ہوگا۔ لہذا وہاں بھی یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ غلبہ مومنوں کا تبھی تک موجود ہے جب تک مومن رہیں غرض الی یوم القیامۃ سے مراد قرب قیامت ہے۔
- ۲...... ایمان اور عداوت میں باہمی منافات نہیں ہے۔ دونوں باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ سمجھ
میں نہ آئے تو قادیانیوں اور لاہوریوں کو دیکھ لیجئے کہ دونوں احمدی کہلاتے ہیں اور ایمان کا بھی دعویٰ ہے لیکن آپس میں کتنی منافرت اور عداوت ہے؟
اس حدیث نے صاف فیصلہ کر دیا کہ یہود و نصاریٰ کی عداوت، مومنوں کا کافروں پر غلبہ، جس کے لیے قرآن میں الی یوم القیامۃ وارد ہے اس کا مطلب قرب قیامت ہی ہے۔
حیات مسیح ؑ کی تیسری دلیل
وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ
(آل عمران آیت نمبر ۵۴)
”اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔“
- تفسیری شواہد......۱ علامہ عثمانیؒ لکھتے ہیں۔
مکر کہتے ہیں لطیف و خفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لیے ہو، اچھا ہے اور
برائی کے لیے ہو تو برا ہے اس لیے وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ میں مکر کے ساتھ ”سیئ“ کی قید لگائی اور یہاں خدا کو ”خیر الماکرین“ کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کر دیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ اُدھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی بیشک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے جسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔ (تفسیر عثمانی)
- ۲....... علامہ کاندھلویؒ فرماتے ہیں۔
وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی سے پورا پورا لینا اور آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہو کیونکہ باجماع مفسرین، وَمَكَرُوْا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلب کی تدبیریں مراد ہیں اور مَكَرَ اللّٰهُ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی تدبیر مراد ہے اور مَكَرَ اللّٰهُ کو مَكَرُوْا کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہود کا مکر اور ان کی تدبیر تو نیست اور ناکام ہوئی اور اللہ سبحانہ کا مکر اور اس کی تدبیر غالب آئی۔ والله غالب علیٰ امره (یوسف ۲۱) جیسے۔ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا وَّ اَكِيْدُ كَيْدًا (الطارق ۱۵- ۱۶) ”وہ بھی تدبیر کر رہے ہیں اور میں بھی تدبیر کر رہا ہوں اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَاَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهِ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ (النمل ۴۹ تا ۵۱) ”قوم ثمود نے آپس میں کہا کہ قسمیں اٹھاؤ کہ ہم شب کے وقت صالح علیہ السلام اور ان کے متعلقین کو قتل کر ڈالیں اور بعد میں ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس موقعہ پر حاضر نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس طرح انھوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کے مشورے اور تدبیریں کیں اور اس نے بھی ان کے بچانے کی خفیہ تدبیر کی کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی وہ یہ کہ پہاڑ سے ایک بھاری پتھر لڑھک کر ان پر آ گرا جس سے دب کر سب مر گئے (کما فی الدرالمنثور) دیکھ لیا کہ ان کے مکر کا کیا انجام ہوا؟ ہم نے اپنے مکر ان تدبیر سے سب کو غارت کر ڈالا۔ اسی طرح اس آیت میں مکروا کے بعد و مکر الله مذکور ہے۔ جس سے حق جل شانہ کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہود نے جو قتل کی تدبیر کی وہ تو کارگر نہ ہوئی مگر ہم نے جو ان کی حفاظت کی نرالی اور انوکھی تدبیر کی وہی غالب ہو کر
رہی۔ پس اگر روح اور جسم کا پورا پورا لینا مراد نہ لیا جائے بلکہ توفی سے موت مراد لی جائے تو یہ کوئی ایسی تدبیر نہیں جو یہود کی مغلوبی اور ناکامی کا سبب بن سکے بلکہ موت کی تدبیر تو یہود کی عین تمنا اور آرزو کے مطابق ہے۔ کفار مکہ نے نبی اکرم ﷺ کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت کی تدبیر کی کما قال تعالیٰ وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ O (الانفال ۳۰) کفار مکہ آپ ﷺ کے قتل کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی حفاظت کی تدبیر کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ کے منصوبوں سے آگاہ کیا اور صحیح سالم آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرا دی۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا تھا وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ O یعنی یہود نے آپ کے قتل کی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی تدبیر کی کہ دشمنوں کے ہاتھ سے صحیح و سالم نکال کر آسمان کی طرف ہجرت کرا دی۔ اب اس ہجرت کے بعد نزول اور تشریف آوری زمین کے فتح کرنے کے لیے ہو گی۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد مکہ فتح کرنے کے لیے تشریف لائے اور تمام اہل مکہ مشرف باسلام ہوئے۔ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام زمین کو فتح کرنے کے لیے نازل ہوں گے تو تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے ہو رفع الی السماء۔“
(تفسیر معارف القرآن کاندھلویؒ)
- ۳۔ امام فخرالدین رازی قادیانیوں کے مجدد صدی ششم، اپنی تفسیر کبیر ج ۷ ص
۶۹۔۷۰ میں فرماتے ہیں وَاَمَّا مَكْرُهُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهُوَ اَنَّهُمْ هَمُّوْا بِقَتْلِهِ وَاَمَّا مَكْرُ اللهِ بِهِمْ وَفِيْهِ وُجُوْهٌ...... مَكْرُ اللهِ تَعَالىٰ بِهِمْ أَنَّهُ رَفَعَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى السَّمَاءِ وَذٰلِكَ أَنَّ يَهُوْذَا مَلِكَ الْيَهُوْدِ أَرَادَ قَتْلَ عِيسَى وَكَانَ جِبْرَائِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يُفَارِقُهُ سَاعَةً وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ فَلَمَّا أَرَادُوْا ذَالِكَ. أَمَرَهُ جِبْرَائِيْلُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا فِيْهِ رَوْزَنَةٌ فَلَمَّا دَخَلُوْا الْبَيْتَ أَخْرَجَهُ جِبْرَائِيْلُ مِنْ تِلْكَ الرَّوْزَنَةِ وَكَانَ قَدْ أَلْقَى شِبْهَهُ عَلَى غَيْرِهِ فَأُخِذَ وَصُلِبَ....... وَفِي الْجُمْلَةِ فَالْمَرَادُ مِنْ مَّكْرِ اللهِ تَعَالَى بِهِمْ أَنَّ رَفْعَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا مَكَّنَهُمْ مِنْ اِيْصَالِ الشَّرِّ إِلَيْهِ. ”اور یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ تھا کہ انھوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا مکر یہود سے۔ سو اسکی کئی صورتیں ہوئیں...... ایک صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہ اس طرح ہوا
کہ یہود کے ایک بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور جبرائیل علیہ السلام ایک گھڑی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جدا نہ ہوتا تھا اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا وَ أَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ ؑ کو جبرائیل سے مدد دی۔ پس جب یہود نے قتل کا ارادہ کیا تو جبرائیل ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ایک مکان میں داخل ہو جانے کے لیے فرمایا۔ اس مکان میں کھڑکی تھی۔ پس جب یہود اس مکان میں داخل ہوئے تو جبرائیل ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس کھڑکی سے نکال لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ایک اور آدمی کے اوپر ڈال دی۔ پس وہی پکڑا گیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا...... غرضیکہ یہود کے ساتھ اللہ کے مکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ شرارت کرنے سے روک لیا۔‘‘
- ۴...... اب ہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی تفسیر نقل کرتے ہیں۔ امام موصوف قادیانی عقیدہ
کے مطابق نویں صدی ہجری میں مجدد مبعوث ہو کر آئے تھے اور ان کا مرتبہ ایسا بلند تھا کہ جب انھیں ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت رسول کریم ﷺ کی بالمشافہ زیارت کر کے حدیث دریافت کر لیا کرتے تھے۔
(ازالہ اوہام ص ۱۵۲۔ ۱۵۱ خزائن ج ۳ ص ۱۷۷)
فَلَمَّا اَحَسَّ (عَلِمَ) عِيْسٰی مِنْهُمُ الْكُفْرَ وَاَرَادُوْا قَتْلَهُ وَمَكَرُوْا (اَیْ كُفَّارُ بَنِیْ اِسْرَائِيْلَ بِعِيْسٰی اِذَا وَكَّلُوْا بِهِ مَنْ يَقْتُلُهُ غِيْلَةً) وَمَكَرَ اللّٰهُ (بِهِمْ بِاَنْ اَلْقٰی شِبْهَ عِيْسٰی عَلٰی مَنْ قَصَدَ قَتْلَهُ فَقَتَلُوْهُ وَرُفِعَ عِيْسٰی) وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ O (اَعْلَمُهُمْ بِهِ)
(جلالین ص ۵۲)
’’پس جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کا کفر معلوم کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کر لیا...... اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مکر کیا۔ جب انھوں نے مقرر کیا ایک آدمی کو کہ وہ قتل کرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دھوکا سے اور اللہ تعالیٰ نے یہود کے ساتھ مکر کیا اس طرح کہ ڈال دی شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس شخص پر جس نے ارادہ کیا تھا ان کے قتل کا۔ پس یہود نے قتل کیا اس شبیہ کو اور اٹھا لیے گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘
- ۵...... اب ہم اس بزرگ کی تفسیر بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی و لاہوری مجدد صدی دو
ازدہم مانتے ہیں اور مرزا قادیانی اپنی کتاب کتاب البریہ ص ۱۲۷ خزائن ج ۱۳ ص ۹۲ میں
لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب کامل ولی اور صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب تاویل الاحادیث میں فرماتے ہیں۔
كَانَ عِيْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَاَنَّهُ مَلَكٌ يَّمْشِيْ عَلٰى وَجْهِ الْاَرْضِ فَاتَّهَمَهُ الْيَهُوْدُ بِالزَّنْدَقَةِ وَاَجْمَعُوْا عَلٰى قَتْلِهِ فَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ. فَجَعَلَ لَهُ هَيْئَةً مِثَالِيَّةً وَرَفَعَهُ اِلَى السَّمَاءِ وَاَلْقٰى شِبْهَهُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْ شِيْعَتِهِ اَوْ عَدُوِّهِ فَقُتِلَ عَلٰى اَنَّهُ عِيْسٰى ثُمَّ نَصَرَ اللّٰهُ شِيْعَتَهُ عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاهِرِيْنَ.
”اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو گویا ایک فرشتہ تھے کہ زمین پر چلتے تھے پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہو گئے۔ پس انھوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اللہ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنا دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے گروہ میں سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی کو ان کی صورت کا بنا دیا پس وہ قتل کیا گیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھتے تھے۔“
(تاویل الاحادیث ص ۶۰)
- ۶...... امام وقت شیخ الاسلام حافظ ابن کثیرؒ کی تفسیر۔
قادیانی اور لاہوری بیک زبان چھٹی صدی کے سر پر تجدید دین کے لیے ان کا مبعوث ہونا مانتے ہیں۔“
(دیکھو عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ۱۶۵۔۱۶۳)
فَلَمَّا اَحَاطُوْا بِمَنْزِلِهِ وَظَنُّوْا اَنَّهُمْ ظَفَرُوْا بِهِ نَجَّاهُ اللّٰهُ تَعَالٰى مِنْ بَيْنِهِمْ وَرَفَعَهُ مِنْ رَوْزَنَةِ ذَالِكَ الْبَيْتِ اِلَى السَّمَاءِ وَاَلْقَى اللّٰهُ شِبْهَهُ عَلٰى رَجُلٍ مِّمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ فِى الْمَنْزِلِ فَلَمَّا دَخَلُوْا اُوْلٰئِكَ اِعْتَقَلُوْهُ فِى ظُلْمَةِ اللَّيْلِ عِيْسٰى فَاَخَذُوْهُ وَ اَهَانُوْهُ صَلَبُوْهُ وَوَضَعُوْا عَلٰى رَأْسِهِ الشَّوْكَ وَكَانَ هٰذَا اَمْرَ اللّٰهِ بِهِمْ فَاِنَّهُ نَجّٰی نَبِيَّهُ وَرَفَعَهُ مِنْ بَيْنِ اَظْهُرِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ضَلَالِهِمْ يَعْمَهُوْنَ.
(ابن کثیر جلد ۱ ص ۳۶۴)
”جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہو گئے ہیں تو خدا تعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو اس کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچا لیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھا لیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔“
- ۷...... تفسیر مظہری ج ۲ ص ۲۴۷ پر ہے۔
”کلبی بواسطہ ابو صالح حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے آئی آپ کو دیکھ کر کہنے لگے جادوگر، جادوگرنی کا بیٹا آ گیا۔ آپ پر بھی تہمت لگائی اور آپکی والدہ پر بھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کو بددعا دی فوراً اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلیں مسخ کر دیں۔ یہودیوں کا سردار یہودا تھا۔ اس نے جو یہ بات دیکھی تو گھبرا گیا اور آپ کی بددعا سے ڈر گیا آخر تمام یہودی حضرت عیسیٰ ؑ کو مار ڈالنے پر متفق الرائے ہو گئے اور قتل کرنے کے ارادے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف بڑھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج دیا جبرائیل ؑ نے آپ کو چھت کے روشندان سے نکالا پھر وہاں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا یہودا اندر گیا اس کی شکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنا دی۔ لوگوں نے (یہودا) کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا۔“
- ۸....... معالم التنزیل ج ۱ ص ۱۶۲ پر تفسیر مظہری کی محولہ بالا روایت کو نقل کیا گیا ہے۔
- ۹....... تفسیر مواہب الرحمٰن ج ۳ ص ۱۹۹ پر ہے۔ ”مکروا، بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے قتل کے واسطے ایسے شخص کو مقرر کیا جو ان کو فریب میں دھوکے سے قتل کر ڈالے۔ ومکر اللہ، اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی جس نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا قصد کیا تھا۔ پس کافروں نے اسی کو قتل کر ڈالا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔“
- ۱۰....... تفسیر ابی السعود جز ۲ ص ۴۲ پر ہے۔ ”یہودیوں نے آپ کو دھوکہ سے قتل کرنے
کے لیے آدمی مقرر کیا اور اللہ تعالیٰ نے تجویز فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا۔ آگے حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر مظہری و معالم التنزیل والی روایت نقل کی ہے۔“
- ۱۱....... زمخشری نے کشاف ج ۱ ص ۴۶۶ پر لکھا ہے کہ مکر اللّٰہ ان رفع عیسیٰ الی
السماء والقٰی شبهه علی من اراد اغتیاله حتّٰی قتل ”اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شباہت اس آدمی پر ڈال کر قتل کرا دیا جو آپ کو دھوکہ سے قتل کرنا چاہتا تھا۔“
- ۱۲....... تفسیر بغوی میں بھی یہی منقول ہے۔
- ۱۳....... تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳۶ پر ہے ”وصعد بعیسیٰ الی السماء“ عیسیٰ علیہ السلام
کو آسمانوں پر اٹھا لیا۔
- ۱۴....... تفسیر روح المعانی ج ۳ ص ۲۵۷ پر ہے قال ابن عباس لما اراد ملک بنی
اسرائیل قتل عیسیٰ علیہ السلام دخل خوخة وفيها سكوة فرفعه جبرائيل عليه السلام من السكوة الى السماء. ”ابن عباسؓ فرماتے ہیں جب یہودیوں کے بادشاہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو عیسیٰ علیہ السلام ایک کمرہ میں داخل ہوئے جس میں روشندان تھا۔ اس سے جبرائیل علیہ السلام آپ کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔“
١٥...... تفسیر ابن جریر طبری ج ٣ ص ٢٨٩ پر ہے۔ ”وصعد بعیسیٰ الی السماء“ ”عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔“ ہم نے اختصار کے ساتھ ان قدیم تفاسیر کے حوالہ جات آپ کے سامنے رکھے۔
چیلنج ہمارا دعویٰ ہے کہ پوری امت کے تمام قدیم مفسرین نے اس آیت کے تحت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کو ثابت کیا ہے۔ ایک مفسر کا بھی اس میں اختلاف نہیں۔ قادیانی کرم فرما، کیا اس کے خلاف ثابت کر کے ہمارے چیلنج و دعویٰ کو غلط ثابت کر سکتے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔
قادیانی اعتراض......١
مفسرین نے مختلف اقوال پیش کیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت جس پر ڈالی گئی وہ عیسیٰ علیہ السلام کا مخلص مرید تھا یا دشمن کافر؟ تو اختلاف ثابت ہو گیا۔
جواب عیسیٰ علیہ السلام کی جس پر شبیہ ڈالی گئی۔ اس کا نام قرآن مجید نے ذکر نہیں کیا۔ نہ ہی قرآن مجید کا یہ موضوع ہے۔ وہ کون تھا؟ یہ تاریخ کا موضوع ہے۔ اس کے نام کا تعین کے لیے لامحالہ مسیحی قدیم روایات کو دیکھنا ہوگا چونکہ ان کی کتب میں اختلاف ہے۔ اس لیے مفسرین نے کمال دیانت کے ساتھ اس اختلاف کو بیان کر دیا۔ جہاں تک نفس واقعہ کا تعلق ہے وہ اتنا ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کے درپے قتل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے قریب بھی یہود کو نہ پھٹکنے دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا لیا۔ پوری امت کے خیر القرون کے زمانہ سے اس وقت تک تمام مستند و قابل ذکر و قابل فخر مفسرین نے یہی اس آیت سے سمجھا ہے۔ ہم نے ان مفسرین کے بھی حوالے نقل کر دیے جنھیں قادیانی اپنے اپنے دور کا مجدد مانتے ہیں۔ ان سب کا اتفاق ہے۔ وہ سب اس آیت کے نفس واقعہ پر متفق ہیں۔ کسی ایک کو اختلاف نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔ یہی مکر اللہ کی تفسیر ہے۔ ہم پھر اپنے چیلنج کو دھراتے ہیں کہ اس سے رفع روحانی، عیسیٰ علیہ السلام کو تازیانے مارنے، صلیب پر چڑھانے، کشمیر جانے کی قادیانی خود تراشیدہ تحریف کو کسی ایک مفسر نے ذکر نہیں کیا۔ یہ خالصۃً تحریف اور قادیانی
دجل کا شاہکار ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں تمام قدیم مفسرین کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا۔ کوئی قادیانی ماں کا لال ہمارے چیلنج کو قیامت کی صبح تک نہیں توڑ سکتا۔ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار.
قادیانی اعتراض ......۲
یہود نے یہ مکر اور تدبیر قتل آپ کے حق میں کیوں کی؟
جواب یہود نے آپ کے معجزات کو جادو قرار دے کر آپ کو جادوگر ٹھہرایا اور پھر قتل کا حکم لگایا۔ اور اس کی صورت صلیب پر کھینچنا تجویز کی۔ چنانچہ اوپر کی آیت میں معجزات کو جادو قرار دینا صاف مذکور ہے اور آیت مندرجہ عنوان کے قبل بھی ذکر معجزات اس امر پر دلالت کر رہا ہے اور فلما احس عيسےٰ منھم الکفر کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسےٰ علیہ السلام نے کفار یہود سے مکر، قتل کا احساس کیا۔ اس جگہ کفر بمعنی قتل من باب تسمیہ الشئی باسم سببہ ہے یعنی کسی شے کے وہ نام بولنا جو اس کے سبب کا نام ہے“۔ چنانچہ مطول میں لکھا ہے:۔ رعينا الغيث اى النبات الذی سببہ الغيث (مطول) چرائی ہم نے بارش یعنی نباتات جس کے اُگنے کا سبب بارش ہے ۔“
اسی طرح آیت وما انزل الله من السماء من رزق (جاثیہ ۵) میں رزق بمعنی مطر ”یعنی بارش سبب ہے رزق کے پیدا ہونے کا“ اس طرح اس کے نظائر قرآن شریف میں بکثرت ہیں اور کتب بلاغت میں اس قاعدے کی تصریح موجود ہے۔ دیگر یہ کہ کفر کا احساس کے ساتھ ذکر کرنا بھی اس امر کا مؤیّد ہے کہ اس جگہ کفر سے مراد قتل ہے۔ کیونکہ احساس ایسے مواقع میں اس جگہ مستعمل ہوتا ہے۔ جہاں کوئی خوفناک امر ہو جیسے آیت فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَاْسَنَا (انبیاء ۱۲) اور نیز آیت اِذْ تُحُسُّوْنَهُمْ (آل عمران ۱۵۲) ای تقتلونهم.
اس بیان سے واضح ہو گیا کہ فَلَمَّا اَحَسَّ عِيْسٰی مِنْهُمُ الْكُفْرَ میں کفر بمعنی قتل ہے۔ پس مکر یہود کی صورت ارادہ قتل وصلب عیسیٰ علیہ السلام متعین ہو گئی۔
قادیانی اعتراض سوال ......۳
کیا مفسرین کے اس قول کی تائید قرآن سے ہو سکتی ہے کہ مکر سے مراد قتل ہے؟
جواب ۱...... کیوں نہیں؟ بے شک مفسرین کے بیان کی تائید میں کئی آیات ہیں۔
منہا قولہ تعالیٰ حاکیا عن اخوۃ یوسف اُقْتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا (یوسف ۹) ”یوسف کو قتل کر ڈالو یا اسے کسی زمین میں پھینک دو۔“
اور اس تدبیر قتل کا نام مکر رکھا چنانچہ اسی سورۃ یوسف ۱۰۲ ہی میں وَهُمْ
يَمْكُرُوْنَ فرمایا اور نیز سورہ نمل میں صالح علیہ السلام کے بیان میں فرمایا: وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُونَ فِى الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ. (نمل ۴۹) اور اس شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے انھوں نے آپس میں کہا کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ اس (صالح) کو اور اس کے اہل کو راتوں رات قتل کر ڈالیں گے پھر اس کے ولی کو کہیں گے کہ ہم تو اس کے قتل کے موقع و وقت پر حاضر نہ تھے اور ہم ضرور سچے ہیں۔“
یعنی نو مفسدوں نے آپس میں یہ منصوبہ باندھا اور اس پر قسمیں کھانے کو کہا کہ صالح علیہ السلام کو اور آپ کے اہل کو راتوں رات قتل کر ڈالیں۔ ان کی اس تدبیر شر کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اس سے آگے فرمایا وَمَكَرُوْا مَكْرًا (نمل ۵۰) یعنی انھوں نے بڑا بھاری مکر کیا یعنی پوشیدہ طور پر نبی اللہ صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر کی اسی طرح حضرت سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کی نسبت کفار نے جو مشورہ کیا اس کی نسبت فرمایا۔
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (الانفال ۳۰) اور جب کفار تدبیر کرتے تھے کہ تجھے قید کر لیں یا قتل کر ڈالیں یا جلاوطن کر دیں وہ بھی تدبیر کرتے تھے اور خدا بھی تدبیر کرتا تھا اور خدا بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔“
اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت کفار نے جو مشورہ کیا اس کی نسبت فرمایا۔ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ (عنکبوت ۲۴) اور اس کی قوم سے کوئی جواب بن نہ آیا سوائے اس کے کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر ڈالو یا آگ میں جلا دو۔“
اور ان کے منصوبہ کا نام کید رکھا۔ چنانچہ سورہ انبیاء میں فرمایا وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْأَخْسَرِينَ (انبیاء ۷۰) انھوں نے اس کی نسبت خفیہ تدبیر کی بس ہم نے انہی کو نہایت زیاں کار کر دیا۔“
اور مکر اور کید مترادف ہیں۔ چنانچہ مصباح میں ہے كَادَهُ، مَكَرَ بِهِ.
- ۲...... ان تمام آیات میں کفار کے مکر و کید کی کئی شکلیں بیان ہوئیں۔ جن میں مکر کی ایک
شکل قتل کا بھی بیان ہے۔ جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہود کے مکر کا تعلق ہے۔ تو وہ صرف قتل ہے۔ جیسا کہ انا قتلنا المسیح سے واضح ہے۔
قادیانی اعتراض سوال.....۴
کفار ماکرین کے ساتھ سنت الٰہی کیا ہے اور ان کے مکر کا انجام کیا ہوا کرتا ہے؟
جواب ماکرین کو ہلاک کرنا اور ان کے مکر کا وبال انہی پر نازل کرنا اور اپنے عباد مرسلین کو ان کے مکر سے بچا لینا۔
دلیل اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر وغیرہ میں فرمایا۔
والذین یمکرون السیئات لہم عذاب شدید و مکر اولئک ہو یبور (فاطر ۱۰) ۲...... ولا یحیق المکر السیئ الا باہلہ (فاطر ۴۳) ۳...... وہمت کل امۃ برسولہم لیاخذوہ...... فاخذتہم فکیف کان عقاب (المومن ۵) ۴...... و ارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین (انبیاء ۷۰) ۵...... فارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاسفلین (صافات ۹۸) ۶...... قد مکر الذین من قبلہم فاتی اللہ بنیانہم من القواعد فخر علیہم السقف من فوقہم واتاہم العذاب من حیث لا یشعرون (النحل ۲۶) ۷......وقد مکروا مکرہم و عند اللہ مکرہم وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ان اللہ عزیز ذو انتقام (ابراہیم ۴۷) ۸...... ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انہم لہم المنصورون (صافات ۱۷۱) ۹...... وکتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز (مجادلہ ۲۱) ۱۰...... کان فی المدینۃ تسعۃ رہط یفسدون فی الارض ولایصلحون قالوا تقاسموا باللہ لنبیتنہ واہلہ ثم لنقولن لولیہ ما شہدنا مہلک اہلہ وانا لصادقون ومکروا مکرا ومکرنا مکرا وہم لا یشعرون فانظر کیف کان عاقبۃ مکرہم انا دمرناہم وقومہم اجمعین فتلک بیوتہم خاویۃ بما ظلموا ان فی ذالک لایۃ لقوم یعلمون و انجینا الذین امنوا و کانوا یتقون.
(النمل ۴۸ تا ۵۳)
یعنی جو لوگ بری تدبیریں اور منصوبے باندھتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہوگا اور ان کا مکر وہی ہلاک ہوگا اور۔ ۲...... اسی صورت میں کہ بری تدبیر کا وبال اس کے اہل ہی پر پڑا کرتا ہے اور ۳...... نیز سورہ مومن میں فرمایا کہ ہر امت نے اپنے رسول کو ماخوذ کرنے پر کمر باندھی۔ پس میں نے انہی کو عذاب میں گرفتار کیا۔ پس میرا عذاب ان پر کیسا سخت ہوا۔ ۴...... حضرت ابراہیم ؑ کے حق میں جو کہ مکر اور کید ان کی قوم نے کیا تھا اس کی بابت فرمایا کہ انھوں نے اس کے ساتھ ایک بھاری مکر کرنا چاہا: پس ہم نے انھیں کو سخت زیاں کار اور سخت پست اور ذلیل کر دیا ۵...... فرمایا کہ کفار مکہ کے پیشتر
بہت لوگوں نے مکر اور تدابیر کیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی عمارات کو بنیادوں سے گرا دیا اور ان پر چھت ان کے اوپر سے گر پڑے اور ان کو ایسی جگہ سے عذاب آیا۔ جہاں سے ان کو شعور بھی نہ تھا۔ ۶....... سورہ ابراہیم میں بڑے زور اور تاکید سے فرمایا کہ کفار مکہ نے جہاں تک ان سے ہو سکا بہت سی تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کی سب تدبیریں معلوم ہیں۔ اگرچہ ان کی تدابیر اور مکر ایسے زبردست اور محکم ہوں کہ ان سے زوال جبال یعنی پہاڑوں کا گر جانا ممکن ہو سکے تو بھی ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے اس وعدے کا خلاف کرے گا۔ ۷....... جو اس نے اپنے رسولوں سے کیا ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا غالب ہے اور اعداء سے بدلہ لینے والا ہے۔ ۸....... اور اس وعدے کی نسبت سورہ صافات میں فرمایا کہ بیشک ہمارا اپنے عباد مرسلین سے پہلے ہی سے وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ ضرور ضرور منصور ہوں گے۔ ۹....... سورہ مجادلہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ امر مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور ضرور غالب رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور بڑا غالب ہے۔ ۱۰....... اور سورہ نمل میں حضرت صالح علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا کہ اس شہر میں نو شخص مفسد اور غیر مصلح تھے انھوں نے آپس میں کہا کہ صالح علیہ السلام اور آپ کے ولی یعنی حامی و وارث کو کہیں گے کہ ہم تو اس کے اہل بیت کے مرنے کے موقع اور وقت پر حاضر ہی نہ تھے اور ہم ضرور سچے ہیں“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ انھوں نے بڑا بھاری مکر کیا تھا اور ہم نے بھی مکر (تدبیر محکم) کیا اور وہ ہماری تدبیر کا شعور نہ رکھتے تھے پس دیکھ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا کہ ہم نے ان نو مفسدوں اور ان کے باقی حامی کاروں سب کو بالکل ہلاک کر دیا۔ پس یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب اجڑے پڑے ہیں۔ بیشک اس معاملہ میں علم والے یعنی سمجھ والے لوگوں کے لیے (رسولوں کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی ذلت کا) بڑا بھاری نشان ہے اور ہم نے مومنین اور متقین یعنی اتباع صالح علیہ السلام کو بچا لیا۔ انتہیٰ۔
خلاصہ یہ کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں رسل اللہ کے برخلاف کفار کے مکر کا ذکر ہے۔ اس جگہ یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو ان کے مکر اور شر سے محفوظ رکھتا ہے اور الٹا ماکرین ہی پر وبال و عذاب نازل کیا کرتا ہے سو اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بھی اسی طرح کی آیت آئی ہے جیسے حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت سید المرسلین ﷺ کے حق میں وارد ہے۔ یہ کس قدر غلط اور لغو بات ہے کہ جو الفاظ دیگر رسولوں کے محفوظ رہنے پر دلالت کریں انہی الفاظ کے ہوتے حضرت کلمۃ اللہ و روح اللہ علیہ السلام اس قدر ذلت اور خواری سے صلیب پر کھینچے جائیں کہ آپ کی
مبارک رانوں پر میخیں لگائی جائیں اور آپ کے پاک ہاتھوں میں کیلیں ٹھونکی جائیں اور آپ کے مقدس سر پر کانٹوں کی ٹوپی پہنائی جائے اور آپ کے خزانہ حکمت کی پسلی میں تیر مارا جائے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ۔ کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ جس امر کی تاکید کے لیے اللہ تعالیٰ اس قدر تاکید فرما دے اور باالالتزام بیان کرے۔ اسی امر کو برخلاف مراد الٰہی اپنا عقیدہ بنایا جائے؟
قادیانی اعتراض......۵
یہود نے قتل کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا۔ تدبیر یہود کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے قدرت نمائی کی۔ یہ تدبیر نہ ہوئی۔
جواب یہود نے اپنی طاقت کے مطابق تدبیر کی۔ اللہ تعالیٰ رب العزت نے اپنی قدرت و طاقت کے مطابق تدبیر کی۔ مخلوق اور خالق کی طاقت کا قدرت حق سے تقابل توہین باری تعالیٰ ہے۔
قادیانی اعتراض......۶
سیدنا مسیح ؑ کی شکل دوسرے شخص پر ڈال دی۔ دوسرے شخص کی شکل ہو بہو مسیح کی شکل ہو گئی یہ کیسے ممکن ہے؟
جواب قرآن مجید میں صراحت سے مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عصاء (لکڑی) کو سانپ بنا دیا۔ جس نے حرکت کی اور تمام جادوگروں کی اشیاء کو ہڑپ کر گیا۔ جو خداوند کریم بے جان لکڑی کی شکل بدل کر جاندار جانور بنانے پر قادر ہیں۔ اس ذات نے ایک انسان کی شکل دوسرے پر ڈال دی تو اس میں اشکال کیا ہے؟
قادیانی اعتراض......۷
اللہ تعالیٰ باقی انبیاء علیہم السلام حتیٰ کہ خود آنحضرت ﷺ کی زمین پر حفاظت کی وہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر کیوں لے گئے؟
جواب......۱ ہر نبی کی اپنی خصوصیت تھی۔ حق تعالیٰ شانہ نے تمام انبیاء کو مختلف خصوصیات سے سرفراز فرمایا کسی کو کوئی خصوصیت دی۔ کسی کو کوئی۔ خصوصیت کی تعریف ہی یہ ہے۔ خاصۃ الشئ یوجد فیہ ولا یوجد فی غیرہ۔ تمام انبیاء کو زمین سے زمین پر ہجرت کرائی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے کہ ان کو آسمانوں پر ہجرت کرائی۔ باقی رہا کیوں؟ تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔ لیکن جہاں تک نصوص کا تعلق
ہے۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو پانی سے پار کیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی کر دی۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو آسمانوں سے زمین پر اتارا۔ ۱...... بہتے دریا سے راستہ کا بن جانا۔ ۲...... جلتی آگ کا نہ جلانا۔ خود جل رہی ہے مگر ابراہیم علیہ السلام اس میں محفوظ ہیں۔ ۳...... آدم علیہ السلام کا آسمانوں سے زمین پر آنا۔ اگر صحیح اور ممکن ہے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا کیوں غلط اور نہ ممکن ہے؟
- ۲...... وانه لعلم للساعة سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں۔ ان کو قیامت تک
ایسے ماحول میں رکھا جا سکتا ہے جو مرور زمانہ کے اثرات سے محفوظ ہو اور وہ آسمان ہی ہیں کہ مرور زمانہ کا اس ماحول کے باشندگان (ملئکہ) پر کوئی اثر نہیں۔
- ۳...... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے تو ان کی ملکوتی صفات کے ظہور
کے لیے آسمانوں پر جانا عین تقاضہ تھا جسے حق تعالیٰ نے پورا فرمایا۔ اس لیے جائے اعتراض نہیں جائے تسلیم ہے۔ (خذ و کن من الشاکرین)
سوال از روح مرزا
- ۱...... مرزا قادیانی! آپ کی ساری تحریر کا مطلب تو یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کو پھانسی دے کر لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے اور یہی ان کا مکر تھا۔ اس کے مقابلہ پر خدا نے پھانسی پر جان نہ نکلنے دی اور کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بچ جانے کا سوائے آپ کے پتہ بھی نہ لگ سکا اس بناء پر تو یہودی اپنی تدبیر میں خوب کامیاب ہو گئے یعنی نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملعون ہی ثابت کر دیا بلکہ کروڑہا نصاریٰ سے عیسیٰ علیہ السلام کے ملعون ہونے کے عقیدہ کا اقرار بھی لے لیا۔ پس بتلائیے! کون اپنی تدبیر میں غالب رہا۔ یہود یا خدا احکم الحاکمین؟ آپ کے بیان کے مطابق تو یہود کا مکر ہی غالب رہا۔
- ۲...... سبحان اللہ! یہ بھی کوئی کمال ہے کہ یہودیوں نے جو کچھ چاہا حضرت مسیح علیہ السلام سے
کر لیا خدا منع نہ کر سکا۔ اگر کیا تو یہ کہ عزرائیل کو حکم دے دیا کہ دیکھنا اس کی روح مت نکالنا پھر ساتھ ہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمام تدبیریں کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہوں۔ کیا اس قادیانی تحریف کا قرآنی اسلوب متحمل ہے۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام کی چوتھی دلیل
قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ
الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ O
(آل عمران آیت ۵۴۔۵۵)
”جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں۔ غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک پھر میری طرف ہے تم سب کو پھر آنا پھر فیصلہ کر دوں گا تم میں جس بات میں تم جھگڑتے ہو۔“
ترجمہ وتفسیر یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے اور قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں کیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت اور عصمت کی ایسی تدبیر فرمائی جو ان کے وہم و گمان سے بھی بالا اور برتر تھی۔ وہ یہ کہ ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہودی جب گھر میں داخل ہوئے تو اس ہم شکل کو پکڑ کر لے گئے اور عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اس کو قتل کیا اور سولی پر چڑھایا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے ہیں۔ کوئی تدبیر اللہ کی تدبیر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی پریشانی دور کرنے کے لیے یہ فرمایا کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ نہیں، تحقیق میں تم کو تمہارے ان دشمنوں سے بلکہ اس جہاں ہی سے پورا پورا لے لوں گا۔ اور بجائے اس کے کہ یہ ناہنجار تجھ کو پکڑ کر لے جائیں اور صلیب پر چڑھائیں میں تجھ کو اپنی پناہ میں لے لوں گا اور آسمان پر اٹھاؤں گا کہ جہاں کوئی پکڑنے والا پہنچ ہی نہ سکے اور تجھ کو ان ناپاک اور گندوں سے نکال کر پاک اور صاف مطہر اور معطر جگہ میں پہنچا دوں گا کہ تجھ کو کفر اور عداوت کا رائحہ بھی محسوس نہ ہو اور یہ ناہنجار تجھ کو بے عزت کر کے تیرے اور تیرے دین کے اتباع سے لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ اور میں اس کے بالمقابل تیرے پیروؤں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب اور فائق رکھوں گا۔ تیرے خدام اور غلام ان پر حکمران ہوں گے اور یہ ان کے محکوم اور باج گزار ہوں گے۔ قیامت کے قریب تک یوں ہی سلسلہ رہے گا کہ نصاریٰ ہر جگہ یہود پر غالب اور حکمران رہیں گے اور اپنی ذلت و مسکنت کا اور حضرت مسیح بن مریم کے نام لیواؤں کی عزت و رفعت کا مشاہدہ کرتے رہیں گے اور اندر سے تلملاتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب قیامت قریب آجائے گی اور دجال کو جیل خانہ سے چھوڑ دیا جائے گا تاکہ یہود بے بہود اپنی عزت اور حکومت قائم کرنے کے لیے اس کے ارد گرد جمع ہو جائیں تو یکا یک عیسیٰ ؑ بصد جاہ و جلال آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو جو یہود کا بادشاہ بنا ہوا
ہوگا اس کو تو خود اپنے دست مبارک سے قتل فرمائیں گے اور باقی یہود کا قتل و قتال اور اس جماعت کا بالکلیۃ استیصال امام مہدی اور مسلمانوں کے سپرد ہو گا۔ دجال کے متبعین کو چن چن کر قتل کیا جائے گا۔ نزول سے پہلے یہود اگرچہ حضرت مسیح ؑ کے غلام اور محکوم تھے مگر زندہ رہنے کی تو اجازت تھی مگر حضرت مسیح ؑ کے نزول کے بعد زندہ رہنے کی بھی اجازت نہ رہے گی ایمان لے آؤ یا اپنے وجود سے بھی دستبردار ہو جاؤ اور نصاریٰ کو حکم ہو گا کہ میری الوہیت اور ابنیت کے عقیدہ سے تائب ہو جاؤ اور مسلمانوں کی طرح مجھ کو اللہ کا بندہ اور رسول سمجھو اور صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے اور سوائے دین اسلام کے کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔ الغرض نزول کے بعد اس طرح تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائیں گے جیسا کہ آئندہ آیت میں اس طرف اشارہ فرماتے ہیں پھر تم سب کا میری طرف لوٹنا ہے پس اس وقت میں تمہارے اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔ وہ فیصلہ یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے یہود کا یہ زعم باطل ہو جائے گا کہ ہم نے حضرت مسیح ؑ کو قتل کر دیا۔ کما قال اللہ تعالیٰ وَ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ۔ اور نصاریٰ کا یہ زعم باطل ہو گا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں اور حیات مسیح ؑ کے مسئلہ کا فیصلہ ہو جائے گا اور روز روشن کی طرح تمام عالم پر یہ واضح ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ اور اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے ہیں۔
لفظ توفی کی تحقیق قبل اس کے کہ ہم ان آیات کی مفصل تفسیر کریں لفظ توفی کی تحقیق ضروری سمجھتے ہیں۔
توفی وفا سے مشتق ہے جس کے معنی پورا کرنے کے ہیں یہ مادہ خواہ کسی شکل اور کسی ہیئت میں ظاہر ہو مگر کمال اور تمام کے معنی کو ضرور لیے ہوئے ہوگا۔ کما قال تعالیٰ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ (بقرہ ۴۰) تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔ وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ (اسراء ۳۵) ماپ کو پورا کرو جب تم تولا کرو يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (دھر ۷) اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (آل عمران ۱۸۵) جز ایں نیست کہ تم پورا پورا اجر قیامت کے دن دیے جاؤ گے۔ یعنی کچھ تھوڑا بہت اجر تو دنیا میں بھی مل جائے گا مگر پورا پورا اجر قیامت کے دن ہی ملے گا۔
اور لفظ توفی جو اسی مادہ یعنی وفا سے مشتق ہے اس کے اصلی اور حقیقی معنی اخذ الشئی وافیا کے ہیں یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا کہ باقی کچھ نہ رہے، قرآن اور
حدیث اور کلام عرب میں جس جگہ بھی یہ لفظ مستعمل ہوا ہے سب جگہ توفی سے استیفاء اور اکمال اور اتمام ہی کے معنی مراد لیے گئے ہیں۔ توفی سے اگر کسی جگہ موت کے معنی مراد لیے گئے ہیں تو وہ کنایۃً اور لزوماً مراد لیے گئے ہیں۔ اس لیے کہ استیفا عمر اور اتمام عمر کے لیے موت لازم ہے۔ توفی عین موت نہیں بلکہ موت تو توفی بمعنی اکمال عمر اور اتمام زندگی کا ایک ثمرہ اور نتیجہ ہے۔
توفی کا لغوی معنی لسان العرب ص ۳۵۹ ج ۱۵ میں ہے:۔ توفی المیت استیفاء مدة التی وفیت لہ و عدد ایامہ و شہورہ و اعوامہ فی الدنیا۔
یعنی میت کے توفی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی مدت حیات کو پورا کرنا اور اس کی دنیاوی زندگی کے دنوں اور مہینوں اور سالوں کو پورا کر دینا۔ مثلاً کہا جاتا ہے، فلاں بزرگ کا وصال یا انتقال ہو گیا۔ وصال کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور انتقال کے اصل معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے کے ہیں۔ بزرگوں کی موت کو موت کے لفظ سے تعبیر کرنا عرف میں خلاف ادب سمجھا جاتا ہے اس لیے بجائے موت کے لفظ وصال اور انتقال مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی اپنے رب سے جاملے اور دار فانی سے دار جاودانی کی طرف انتقال فرمایا اور کبھی اس طرح کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ رحلت فرمائے عالم آخرت ہوئے۔ یا یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس عالم سے رخصت ہوا یا فلاں شخص گزر گیا۔ تو کیا اس استعمال سے کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وصال اور انتقال اور رحلت اور رخصت وغیرہ ان الفاظ کے حقیقی اور اصلی معنی موت کے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو اور ہیں۔ تشریف اور تکریم کی غرض کہ بزرگوں کی موت کو وصال اور انتقال کے لفظ سے تعبیر کر دیا گیا۔ اسی طرح توفی کے لفظ کو سمجھئے کہ اصلی اور حقیقی معنی تو استیفاء اور اکمال کے ہیں۔ مگر بعض مرتبہ بغرض تشریف و تکریم کسی کی موت کو توفی کے لفظ سے کنایۃً تعبیر کر دیا جاتا ہے جس سے قادیان اور چناب نگر کے احمق اور نادان یہ سمجھ گئے کہ توفی کے حقیقی معنی ہی موت کے ہیں۔
- ۲....... علامہ زمخشری اساس البلاغۃ ص ۳۰۴ ج ۲ میں تصریح فرماتے ہیں کہ توفی کے حقیقی
اور اصلی معنی استیفاء اور استکمال کے ہیں اور موت کے معنی مجازی ہیں:۔ وفی بالعہد واوفی بہ وہو وفی من قوم وہم اوفیاء و اوفاہ واستوفاہ توفاہ استکملہ ومن المجاز توفی و توفاہ اللہ ادرکہ الوفاۃ۔ اہ
- ۳....... علامہ زبیدی تاج العروس شرح قاموس ج ۲۰ ص ۳۰۱ مادہ وفی پر فرماتے ہیں:۔
وفی الشئ وفیاً ای تم و کثر فهو وفی وواف بمعنى واحد وكل شئ بلغ تمام الکمال فقد وفیٰ و تم و منه اوفی فلانا حقه اذا اعطاه وافیا واو فاه فاستوفیٰ وتوفاه ای لم یدع منه شئا فهما معا نوعان لاوفاه و وافاه و من المجاز ادرکته الوفاة ای الموت والمنیة و توفی فلان اذا مات وتو فاه الله عزو جل اذا قبض نفسه آہ۔
توفی کا حقیقی معنی موت نہیں
اب ہم چند آیتیں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جس سے صاف طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شے ہے:۔
آیت اوّل اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰى اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى (الزمر ۴۲) ”یعنی اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے روحوں کو جب وقت ہو ان کے مرنے کا اور جو نہیں مرے ان کو قبض کرتا ہے وقت نیند کے پس روک لیتا ہے ان کو جن پر موت مقدر کی ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسروں کو وقت مقرر تک۔“
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی بمعنی موت کا نام نہیں بلکہ توفی موت کے علاوہ کوئی اور شے ہے کہ جو کبھی موت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور کبھی نیند کے ساتھ۔ یعنی تمہاری جانیں خدا کے قبضہ اور تصرف میں ہیں۔ ہر روز سوتے وقت تمہاری جانیں کھینچتا ہے اور پھر واپس کر دیتا ہے۔ مرنے تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور جب موت کا وقت ہوتا ہے تو پھر جان کھینچنے کے بعد واپس نہیں کی جاتی۔ خلاصہ یہ کہ آیت ہذا میں توفی کی موت اور نیند کی طرف تقسیم اس امر کی صریح دلیل ہے کہ توفی اور موت الگ الگ چیزیں ہیں اور حِيْنَ مَوْتِهَا کی قید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ توفی موت کے وقت ہوتی ہے عین موت نہیں ورنہ خود شے کا اپنے لیے ظرف ہونا لازم آتا ہے۔ لسان العرب سے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں کہ توفی کے معنی استیفاء اور اکتمال یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں۔
- ۴....... صاحب لسان ج ۱۵ ص ۳۵۹ ۔ ۳۶۰ طبع بیروت توفی کی حقیقت بیان کر دینے کے
بعد آیت موصوفہ کی تفسیر فرماتے ہیں:۔
و من ذلک قولہ عزوجل اللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا ای ستوفی مدد آجالہم فی الدنیا و اما توفی النائم فهو استیفاء وقت عقلہ و تمیزه الی ان نام یعنی مرنے کے وقت جان اور روح پوری پوری لے لی جاتی ہے اور نیند کے وقت عقل اور ادراک اور ہوش اور تمیز کو پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔“
حاصل یہ کہ توفی کے معنی تو وہی استیفاء اور اخذ الشیئ وافیا یعنی شے کو پورا پورا لینے ہی کے رہے۔ توفی میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں صرف توفی کے متعلق میں تبدیلی ہوئی۔ ایک جگہ توفی کا متعلق موت ہے اور دوسری جگہ نوم (نیند)
آیت دوم وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ (انعام ۶۰) وہی ہے کہ جو تم کو رات میں پورا پورا کھینچ لیتا ہے۔
اس مقام پر بھی توفی موت کے معنی میں مستعمل نہیں ہوا بلکہ نیند کے موقع پر توفی کا استعمال کیا گیا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح پورا نہیں ہوتا۔
آیت سوم حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ (النساء ۱۵) حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ تا آں کہ عمر ایشان را تمام کند مرگ ”یعنی یہاں تک کہ موت ان کی عمر تمام کردے۔“
اس آیت میں توفی کے معنی اتمام عمر اور اکمال عمر کے لیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں جا بجا موت کے مقابلہ میں حیات کو ذکر فرمایا ہے۔ توفی کو حیات کے مقابل ذکر نہیں فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کی حقیقت موت نہیں۔
موت و حیات کا تقابل
ورنہ اگر توفی کی حقیقت موت ہوتی تو جس طرح جا بجا موت کے مقابل حیات کا ذکر کیا جاتا ہے اسی طرح توفی کے مقابل بھی حیات کا ذکر کیا جاتا۔ چند آیات ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جن میں حق تعالیٰ نے حیات کو موت کے مقابل ذکر فرمایا ہے توفی کے مقابل ذکر نہیں فرمایا۔ قال تعالیٰ ۱...... يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا. (الروم ۱۹) ۲...... كِفَاتًا اَحْيَاءً وَّ اَمْوَاتًا. (مرسلات ۲۶) ۳...... يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ (بقرہ ۲۸) ۴...... هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْيٰى (النجم ۴۳) ۵...... يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ (یونس ۳۱) ۶...... اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ (النحل ۲۱) ۷...... وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَايَمُوْتُ (فرقان ۵۸) ۸...... لَايَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰى (طہ ۷۴) ۹...... كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى (البقرہ ۷۳) ۱۰...... يُحْيٖ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (التوبہ ۱۱۶)
ان آیات اور آئمہ لغت کی تصریحات سے یہ بات بخوبی منکشف ہو گئی کہ توفی کی حقیقت موت نہیں بلکہ توفی ایک جنس کا درجہ ہے جس کے تحت میں کئی فرد مندرج ہیں۔ جیسے حیوان ایک جنس ہے اور انسان اور فرس اور بقر وغیرہ اس کے افراد ہیں۔ حیوانیت کبھی انسانیت میں ہو کر پائی جاتی ہے اور کبھی فرس کے ساتھ وغیر ذلک۔
- ۵.... چنانچہ حافظ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔
لفظ التوفى فى لغة العرب معناه الاستيفاء والقبض وذلك ثلاثة انواع احدها توفى النوم، والثانى توفى الموت والثالث توفى الروح والبدن جميعاً اه . الجواب الصحيح . ج ۲ ص ۲۸۳ .
”لغت عرب میں توفی کے معنی استیفاء پورا پورا لینے کے ہیں اور توفی کی تین قسمیں ہیں ایک توفی نوم یعنی نیند اور خواب کی توفی اور دوسری توفی موت کے وقت روح کو پورا پورا قبض کر لینا۔ تیسری توفی الروح والجسد۔ یعنی روح اور جسم کو پورا پورا لینا۔ آہ“
توفی بمعنی موت کہاں؟
جن ائمہ لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں انہوں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ فقط قبض روح کو توفی کہتے ہیں اور اگر قبض روح مع البدن ہو تو اس کو توفی نہیں کہتے۔ بلکہ اگر قبض روح کے ساتھ قبض بدن بھی ہو تو بدرجہ اولیٰ توفی ہو گی۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ توفی ایک جنس ہے اور نوم (نیند) اور موت اور رفع جسمانی یہ اس کے انواع اور اقسام ہیں اور یہ مسلم ہے کہ نوع اور قسم متعین کرنے کے لیے قرینہ کا ہونا ضروری اور لازمی ہے اس لیے جہاں لفظ توفی کے ساتھ موت اور اس کے لوازم کا ذکر ہو گا اس جگہ توفی سے موت مراد لی جائے گی جیسے۔
قُلۡ يَتَوَفّٰكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِىۡ وُكِّلَ بِكُمۡ۔
(سجدہ ۱۱)
”اے ہمارے نبی! آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ پورا پورا پکڑے گا تم کو وہ موت کا فرشتہ جو تم پر مسلط کیا گیا ہے۔“
اس مقام پر ملک الموت کے قرینہ سے توفی سے موت مراد لی جائے گی۔
توفی بمعنی نیند جس جگہ توفی کے ساتھ نوم یعنی خواب اور اس کے متعلقات کا ذکر ہو گا اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد لیے جائیں گے جیسے:۔ وَهُوَ الَّذِىۡ يَتَوَفّٰكُمۡ بِالَّيۡلِ.
”وہی خدا تم کو رات میں پورا پورا لیتا ہے“ لیل کے قرینہ سے معلوم ہوا کہ اس جگہ توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ ابو نواس کہتا ہے ؎
فلما توفاہ رسول الکرٰی . ”یعنی نیند کے قاصد نے اس کو پورا پورا لے لیا یعنی سلا دیا ۔“ اس شعر میں بھی توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں اور جس جگہ توفی کے ساتھ رفع کا ذکر ہو یا اور کوئی قرینہ ہو تو وہاں توفی سے رفع جسمانی مراد ہو گا۔ اور مرزا قادیانی بھی، دعویٰ مسیحیت سے پہلے توفی کے معنی موت کے نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ براہین احمدیہ
ص ۵۴۰ خزائن ج ۱ ص ۶۲۰ پر لکھتے ہیں۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ یعنی میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔ اور اس کتاب کے ص ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳ اور ص ۵۰۵ خزائن ج ۱ ص ۶۰۱ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا اور نہایت عظمت اور جلال کے ساتھ دوبارہ دنیا میں آنا تسلیم کیا ہے غرض یہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور اخذ الشئ وافیا یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں اور یہ کسی کتاب میں نہیں کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ اگر کسی مرزائی سے ممکن ہے تو لغت کی کوئی کتاب لا دکھاوے جس میں یہ تصریح ہو کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے ہیں۔ بلکہ ہم دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں، جہاں کہیں بھی لفظ توفی آیا ہے سب جگہ توفی کے اصلی اور حقیقی ہی معنی مراد ہیں یعنی استیفاء اور اکمال۔ مگر چونکہ عمر کے پورا ہو جانے کے بعد موت کا تحقق لازمی ہے اس لیے مجازاً یہ کہہ دیا گیا کہ یہاں موت کے معنی مراد ہیں۔
قادیانیوں سے سوال......۴
ہم نے کتب متعددہ سے توفی کے مجازی معنی موت کی تصریح دکھائی دنیا بھر کے قادیانی کسی کتاب لغت سے توفی کے حقیقی معنی موت دکھا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ توفی کے اصلی معنی پورا وصول کرنے اور ٹھیک لینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے لفظ توفی کو نوم اور موت کے معنی میں اس لیے استعمال کیا کہ اہل عرب پر موت اور نوم کی حقیقت واضح ہو جائے۔ جاہلیت والے اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ موت اور نوم میں حق تعالیٰ کوئی چیز بندہ سے لیتے ہیں۔ عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ انسان مر کر نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ موت کو فنا اور عدم کے مترادف سمجھتے تھے اس لیے وہ بعث اور نشاۃ ثانیہ کے منکر تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے رد کے لیے ارشاد فرمایا قُلْ يَتَوَفّٰكُمُ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ (سجدہ ۱۱) آپ ﷺ منکرین بعث سے کہہ دیجیے کہ مر کر تم فنا نہیں ہوتے بلکہ موت کا فرشتہ تم سے اللہ کا پورا پورا حق وصول کر لیتا ہے یعنی وہ ارواح کہ جو اللہ کی امانت ہیں وہ تم سے لے لی جاتی ہیں اور اللہ کے یہاں محفوظ رہتی ہیں۔ قیامت کے دن پھر یہی ارواح تمہارے اجسام کے ساتھ متعلق کر کے حساب کے لیے پیشی ہوگی۔
حضرت شاہ عبدالقادر صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں ”تم اپنے آپ کو دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل گئے تم جان لو وہ فرشتہ لے جاتا ہے فنا نہیں ہوتے۔“
شاہ صاحبؒ نے اپنے ان مختصر الفاظ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا
جس کی ہم نے وضاحت کی۔ اس آیت میں بھی توفی کے معنی موت کے نہیں بلکہ حق وصول کرنے کے ہیں۔ موت دینے والا تو صرف وہی محیی اور ممیت ہے۔ ملک الموت تو اللہ کا حق وصول کرنے والا ہے۔
آیت توفی کی تفسیر جب توفی کے معنی معلوم ہو گئے تو اب آیت توفی کی تفسیر سنیے۔ یہود بے بہود نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تدبیریں شروع کیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اس کو محسوس فرما لیا ’’کما قال تعالیٰ فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْهُمُ الْکُفْرَ‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی فرمائی کہ اے عیسیٰ تم گھبراؤ مت۔ یہ تو تدبیریں کر ہی رہے ہیں ہم بھی تدبیریں کر رہے ہیں۔ عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔
اس آیت شریفہ میں حق تعالیٰ نے ان پانچ وعدوں کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے ایک! توفی، دوم! رفع اور سوم! تطہیر من الکفار یعنی کافروں سے پاک کرنا۔ اور چہارم! متبعین کا منکرین پر قیامت تک غالب اور فائق رہنا۔ اور پنجم! فیصلہ اختلافات۔ اول کے تین وعدے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات بابرکات کے متعلق ہیں اور چوتھا خدام کے متعلق ہے اور پانچواں فیصلہ کے متعلق ہے جس کا تعلق سب سے ہے۔
چار وعدے
۱....... وعدہ توفی جمہور صحابہؓ اور تابعینؒ اور عامہ سلف و خلف اس طرف گئے ہیں کہ آیت میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں یعنی پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک لے لینا۔ کیونکہ مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین ہے کہ اے عیسیٰ تم ان دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبراؤ نہیں میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت ان نابکاروں سے چھین لوں گا۔ یہ نابکار اور ناہنجار اس لائق نہیں کہ تیرے وجود باجود کو ان میں رہنے دیا جائے۔ ان کی نہ قدردانی اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ ان سے اپنی نعمت واپس لے لی جائے۔ حضرت مولانا شاہ سید محمد انور نور اللہ وجہہ یوم القیامۃ و حشر (آمین) فرماتے ہیں۔
فیاخذ منہم عیسیٰ الله
’’یہ چہرے خیر کے قابل نہ تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان
سے لے کر اپنی طرف کھینچ لیا۔“
كاخذ الشئ لم يُشْكَر عليه
”اور اپنی طرف اٹھا لیا اور نہ چھوڑا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے ایسا لے لیا جیسا کہ اس شے کو لے لیا جاتا ہے کہ جس کی ناقدری کی جائے۔“
واواه الى ماوى لديه
”اور ان سے چھین کر اپنے پاس محفوظ رکھا اور اپنے یہاں ان کو ٹھکانا دیا۔“
اس مقام پر موت کے معنی مناسب نہیں اس لیے کہ جب ہر طرف سے خون کے پیاسے اور جان کے لیوا کھڑے ہوئے ہوں تو اس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لیے موت کی خبر دینا یا موت کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو مقصود ہی جان لینا ہے اس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں ہم تم کو تمہارے دشمنوں کے نرغہ سے صحیح سالم نکال لے جائیں گے۔ تمہارا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ ہم تم کو دشمنوں کے درمیان سے اس طرح اٹھا لیں گے کہ تمہارے دشمنوں کو تمہارا سایہ بھی نہ ملے گا آیت میں اگر توفی سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تو تسلی نہ ہوگی۔ البتہ یہود کی تسلی ہو گی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ اے یہود! تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو۔ میں خود ہی ان کو موت دوں گا اور تمہاری تمنا اور آرزو پوری کروں گا۔ خود بخود تمہاری تمنا پوری ہو جائے گی۔ تمہیں کوئی مشقت بھی نہ ہوگی۔
- ۲....... نیز یہ کہ توفی بمعنی الموت تو ایک عام شے ہے جس میں تمام مومن اور کافر، انسان
اور حیوان سب ہی شریک ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے جو خاص طور پر ان سے توفی کا وعدہ فرمایا گیا؟ قرآن کریم کے تتبع اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی کا وعدہ حق تعالیٰ نے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور کسی سے نہیں فرمایا۔
رفع کا معنی جب رَفَعَ يَرْفَعُ رَفْعًا فَهُوَ رَافِعٌ میں سے کوئی بولا جائے جہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہو، اور مفعول ”جوہر“ ہو (”عرض“ نہ ہو) اور صلہ الیٰ مذکور ہو۔ اور مجرور اس کا ضمیر ہو اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو۔ وہاں سوائے آسمان پر اٹھانے کے دوسرے معنی ہی نہیں۔
وعدہ دوم كَمَا قَالَ تَعَالٰى وَرَافِعُكَ اِلَیَّ "یعنی اے عیسیٰ میں تم کو اپنی جانب اٹھاؤں گا" جہاں کسی انسان کی رسائی بھی نہیں ہو سکتی جہاں میرے فرشتے رہتے ہیں وہاں تم کو رکھوں گا۔ اس آیت میں رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ اس لیے کہ :۔
- ۱...... رَافِعُكَ میں خطاب جسم مع الروح کو ہے۔
- ۲...... رفع درجات تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور رفع روحانی
بصورت موت، یہ مرزا قادیانی کے زعم کے مطابق خود مُتَوَفِّیْكَ سے معلوم ہوچکا ہے۔ لہٰذا دوبارہ ذکر کرنا موجب تکرار ہے۔
- ۳...... نیز رفع روحانی ہر مرد صالح اور نیک بخت کی موت کے لیے لازم ہے اس کو خاص
طور پر بصورت وعدہ بیان کرنا بے معنی ہے۔
- ۴...... نیز باتفاق محدثین و مفسرین مورخین یہ آیتیں نصاریٰ نجران کے مناظرہ اور ان کے
عقائد کی اصلاح کے بارے میں اتری ہیں اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے گئے۔ لہٰذا اگر رفع الی السماء کا عقیدہ غلط اور باطل تھا تو قرآن نے جس طرح عقیدہ الوہیت اور عقیدہ تثلیث اور عقیدہ قتل اور صلیب کی صاف صاف لفظوں میں تردید کی تو اسی طرح رفع الی السماء کے عقیدہ کی بھی صاف صاف لفظوں میں تردید ضروری تھی اور جس طرح وما قتلوہ اور ماصلبوہ کہہ کر عقیدہ قتل وصلب کی تردید فرمائی اسی طرح بجائے بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ کے مَا رَفَعَهُ اللّٰهُ فرما کر عقیدہ رفع الی السماء کی تردید ضروری تھی۔ سکوت اور مبہم الفاظ سے نصاریٰ کی تو کیا اصلاح ہوتی مسلمان بھی اشتباہ اور گمراہی میں پڑ گئے؟ (معاذ اللہ)
نیز اگر توفی اور رفع سے موت اور رفع روحانی مراد ہو تو وعدہ تطہیر من الکفار اور وعدہ کف عن بنی اسرائیل کی کوئی حقیقت اور اصلیت باقی نہیں رہتی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ اس آیت میں حق جل شانہ کے ان انعامات اور احسانات کا ذکر ہے کہ جو قیامت کے دن حق جل شانہ بطور احسان عیسیٰ علیہ السلام کو یاد دلائیں گے ان میں سے ایک احسان یہ ہے کہ تجھ کو بنی اسرائیل کی دست درازی سے محفوظ رکھا۔
وعدہ سوم وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تیسرا وعدہ یہ فرمایا کہ تجھ کو اپنے اور تیرے دشمنوں
یعنی کافروں سے پاک کروں گا۔ اور ان کے ناپاک اور نجس پڑوس میں تجھ کو نہیں رہنے دوں گا بلکہ نہایت مطہر اور معطر جگہ میں تجھ کو بلا لوں گا۔ لفظ مطہرک، کفر اور کافروں کی نجاست کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔ کما قال تعالٰی إِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ یعنی یہ نجس اور گندے آپ کے جسم مطہر کے قریب بھی نہ آنے پائیں گے۔
وعدہ چہارم: غلبہ متبعین بر منکرین
وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
”اور اے عیسیٰ ؑ! میں تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے کفر کرنے والوں پر قیامت تک غالب رکھوں گا“
چنانچہ جس جگہ یہود اور نصارٰی ہیں، وہاں نصارٰی یہود پر غالب اور حکمران ہیں آج تک یہود کو نصارٰی کے مقابلہ میں کبھی حکمرانی نصیب نہیں ہوئی۔
وعدہ پنجم: فیصلہ اختلاف
ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ط
یہ پانچواں وعدہ ہے جو اختلافات کے فیصلہ کے متعلق ہے۔
توفی کی دوسری نوع
اور اگر اس آیت میں توفی کی دوسری نوع یعنی نوم (نیند) مراد لی جائے تب بھی مرزا قادیانی کے لیے مفید نہیں کیونکہ اس صورت میں مُتَوَفِّيْكَ معنی میں منیمک کے ہو گا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھ کو سلاؤں گا اور سونے کی حالت میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور معالم التنزیل میں ربیع بن انس سے منقول ہے:۔
- ١ ...... قال الربيع بن انس المراد بالتوفی النوم و کان عيسٰی عليه السلام قد نام
فرفعه الله نائما الى السماء معناه انى منيمك ورافعك الى كما قال تعالىٰ وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ اى ينيمكم والله اعلم.
”ربیع بن انس کہتے ہیں کہ آیت میں توفی سے نوم یعنی نیند مراد ہے حضرت عیسیٰ ؑ سو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی حالت میں آسمان پر اٹھایا اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھ کو سلاؤں گا اور اسی حالت میں تجھ کو اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ (وہی ہے کہ جو تم کو
رات میں سلاتا ہے) میں توفی سے نوم مراد ہے۔" لیکن توفی بمعنی نوم سے بھی مرزا قادیانی کی تمنا اور آرزو پوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ رہتا ہے مرتا نہیں۔
توفی کی تیسری نوع
یعنی موت اور اگر اس آیت میں توفی سے اس کی تیسری نوع مراد لی جائے جیسا کہ علی بن طلحہ حضرت ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کیساتھ روایت کرتے ہیں تب بھی مرزا قادیانی کا مدعا وفات قبل النزول حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ امام بغویؒ فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ کے اس قول کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ کہ جو وہب بن منبہ اور محمد بن اسحٰق سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دی اور پھر کچھ دیر کے بعد ان کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا۔ وہب یہ کہتے ہیں کہ دن کی تین ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا اور محمد بن اسحٰق یہ کہتے ہیں کہ دن کی سات ساعت مردہ رکھا اور پھر زندہ کر کے اٹھایا۔ غرض یہ کہ اگر توفی بمعنی موت تین ساعت یا سات ساعت کے لیے پیش بھی آئی تو اس کے بعد دوبارہ زندگی اور رفع الیٰ السماء بھی واقع ہوا ہے اور مرزا قادیانی اس کے قائل نہیں۔
دوسرا مطلب ابن عباسؓ کے اس قول کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود ابن عباسؓ کے شاگرد خاص یعنی ضحاکؒ سے منقول ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے جیسا کہ شیخ جلال الدین سیوطیؒ تفسیر درمنثور میں فرماتے ہیں:۔
- ۲....... اخرج اسحٰق بن بشر وابن عساکر من طریق جوهر عن الضحاک عن
ابن عباسؓ فی قولہ تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الی یعنی رافعک لم متوفیک فی آخر الزمان.
(درمنثور ص ۳۶ ج ۲)
"ضحاک کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ کی تفسیر میں یہ فرماتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع مقدم ہے اور ان کی وفات اخیر زمانہ میں ہو گی۔"
پس اگر ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک سے مروی ہے تو ان سے تقدیم و تاخیر بھی مروی ہے۔ لہٰذا ابن عباسؓ کے نصف قول کو جو اپنی ہوائے نفسانی اور غرض کے موافق ہو اسے لینا اور حجت قرار دینا اور دوسرے نصف کو جو ان کی غرض کے مخالف ہو اس سے گریز کرنا یہ ایسا ہی ہے جیسے تارک نماز کا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ سے حجت پکڑنا اور اَنْتُمْ سُکَارٰی سے آنکھیں بند کر لینا، نصف قول ماننا اور نصف قول سے قطع نظر کر لینا یہ نصف الاعمی اور نصف البصیر ہی کا کام ہے۔
علاوہ ازیں ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر جو ممیتک مروی ہے اس کا راوی علی بن طلحہ ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔ علی بن طلحہ نے ابن عباسؓ سے نہ کچھ سنا ہے اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ لہذا علی بن طلحہ کی روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی ہے جو حجت نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے برعکس ابن عباسؓ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح و سالم زندہ آسمان پر اٹھایا جانا باسانید صحیحہ اور جیدہ منقول ہے۔ تعجب اور سخت تعجب ہے کہ ابن عباسؓ کی وہ تفسیر جس کی سند ضعیف اور منکر اور غیر معتبر ہو وہ تو مرزائیوں کے نزدیک معتبر ہو جائے اور ابن عباسؓ کی وہ تفسیر جو اسانید صحیحہ اور جیدہ اور روایات معتبرہ سے منقول ہے وہ مرزا قادیانی کے نزدیک قابل قبول نہ ہو۔
جواب دیگر اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ صحیح ہے تو یہ کہیں گے کہ مرزا قادیانی ازالۃ الاوہام ص ۹۴۲ خزائن ج ۳ ص ۶۲۰ پر لکھتے ہیں کہ ”اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے“۔
مرزا قادیانی اس عبارت میں فقط اس امر کے مدعی نہیں کہ اماتت کے معنی کبھی سلانے کے بھی آ جاتے ہیں بلکہ اس کے مدعی ہیں کہ جس طرح مارنا، موت دینا، اماتت کے حقیقی معنی ہیں اسی طرح سلانا اور بے ہوش کرنا بھی اماتت کے حقیقی معنی ہیں۔ لہذا جب مرزا قادیانی کے نزدیک اماتت کے حقیقی معنی سلانے کے بھی ہیں تو ابن عباسؓ کی تفسیر ممیتک میں اگر اماتت سے سلانے کے معنی مراد لیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لیے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ معنی بھی حقیقی ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ نیند کی حالت میں آسمان پر اٹھائے گئے۔ جیسا کہ ربیع سے منقول ہے اور حدیث میں بھی اماتت بمعنی انامت یعنی سلانے کے معنی میں آیا ہے الحمدللہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور.
(مسلم ج ۲ ص ۳۴۸ باب الدعا عندالنوم)
اقول مفسرین گزشتہ تفصیل کے بعد اب کسی مزید توضیح کی ضرورت نہیں۔ مگر چونکہ توفی کے استعمالات مختلف ہیں اس لیے حضرات مفسرین سے اس آیت کی جو توجیہات منقول ہیں ہم ان توجیہات کو نقل کر کے یہ بتلانا اور دکھانا چاہتے ہیں کہ تمام مفسرین سلف اور خلف اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ آیت شریفہ کی توجیہات اور تفسیری تعبیرات میں اگرچہ بظاہر اختلاف ہے لیکن رفع الی السماء پر سب متفق ہیں اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
وکل الی ذاک الجمال یشیر
”ہماری تعبیرات مختلف ہیں اور تیرا حسن ایک ہے، سب کا اشارہ اسی ایک حسن کی طرف ہے۔“
قول اوّل توفی سے استیفاء اور اکمال کے معنی مراد ہیں اور استیفاء اور اکمال سے عمر کا اتمام مراد ہے۔ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ ؑ تم دشمنوں سے گھبراؤ نہیں یہ قتل اور صلب سے تمہاری عمر ختم کرنا چاہتے ہیں یہ سب ناکام رہیں گے۔ میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور اس وقت میں تم کو آسمان پر اٹھاؤں گا چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں:۔
- ۳...... الاول بمعنی قولہ انی متوفیک ای انی متم عمرک فحینئذ اتوفاک فلا
اترکھم حتی یقتلوک بل انی رافعک الی السماء و مقربک بملائکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک وھذا تاویل حسن۔
(تفسیر کبیر ص ۴۸۱ ج ۲)
”انی متوفیک کے معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ ؑ میں تیری عمر پوری کروں گا کوئی شخص تجھ کو قتل کر کے تیری عمر قطع نہیں کر سکتا۔ میں تجھ کو تیرے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑوں گا کہ وہ تجھ کو قتل کر سکیں بلکہ میں تجھ کو آسمان پر اٹھاؤں گا اور اپنے فرشتوں میں رکھوں گا۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ یہ معنی نہایت عمدہ ہیں۔“
اور اسی معنی کو علامہ زمخشری نے تفسیر کشاف میں ذکر کیا ہے اور اس معنی کرنے سے کلام اپنے حال پر ہے۔ کلام میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ توفی کے معنی اتمام عمر کے ہیں جو ابتدائے عمر سے لے کر اخیر عمر تک صادق ہیں اسی درمیان میں رفع الی السماء ہوا اور اسی درمیان میں نزول ہوگا اور وقت پر وفات ہوگی۔ اس طرح عمر شریف پوری ہوگی۔
- ۴...... قال الزمخشری انی متوفیک ای مستوفی اجلک ومعناہ انی اعصمک
من ان یقتلک الکفار و موخرک الی اجل کتبہ لک و ممیتک حتف انفک لا قتلاً بایدیھم......
(مشکلات القرآن ص ۱۳۲)
قول دوم توفی سے قبض من الارض کے معنی مراد ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ ؑ میں تم کو ان کافروں سے چھین کر پورا پورا اپنے قبضہ میں لے لوں گا۔ جیسا کہ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں:۔
- ۵...... ان التوفی ھو القبض یقال وفانی فلان دراہمی واوفیتہا کما یقال سلم
فلان الی دراہمی وتسلمتھا۔ یعنی توفی کے معنی کسی شے پر پوری طرح قبضہ کر لینے
کے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے پورے روپے دے دیئے۔ اور میں نے اپنے پورے روپے اس سے وصول کر لیے۔
(تفسیر کبیر ص ۴۸۱ ج ۲)
آیت کے یہ معنی حسن بصری اور مطر وراق اور ابن جریج اور محمد جعفر بن زبیر سے منقول ہیں۔ اور امام ابن جریر طبری نے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ اس معنی کے کرنے سے بھی آیت میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ قول اول اور قول ثانی دونوں قولوں میں توفی کے معنی استیفاء اور اکمال ہی کے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے قول میں استیفاء سے اجل اور عمر کا اتمام اور اکمال مراد لیا گیا۔ اور دوسرے قول میں ایک شخص اور ایک ذات کا پورا پورا قبضہ میں لینا مراد لیا گیا ہے۔ ایک جگہ استیفاء اجل ہے اور ایک جگہ استیفاء شخص اور استیفاء قبضہ ہے۔
قول سوم توفی کے معنی اخذ الشیء وافیا کے معنی کسی سے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ اور اس جگہ عیسیٰ علیہ السلام کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ لینا مراد ہے۔ جیسا کہ امام رازیؒ فرماتے ہیں:۔
- ۶...... ان التوفی اخذ الشیء وافیا ولما علم الله تعالیٰ ان من الناس من يخطر
بباله ان الذی رفعه الله هو روحه لاجسده ذکر ھذا الکلام لیدل علی انه علیه الصلوۃ والسلام رفع بتمامه الی السماء بروحه وبجسده ویدل علیه صحة ھذا التاویل قوله تعالیٰ وما یضرونک من شیء. ”توفی کے معنی کسی شے کو پورا پورا اور جمیع اجزا لے لینے کے ہیں۔ چونکہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ گزرے گا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی صرف روح کو اٹھایا اس لیے متوفیک کا لفظ فرمایا تا کہ معلوم ہو جائے کہ عیسیٰ ؑ روح اور جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ تم کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچا سکیں گے نہ روح کو نہ جسم کو۔“
(تفسیر کبیر ص ۴۸۱ ج ۲)
قول چہارم توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں۔ یعنی سلا کر تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا کہ تم کو خبر بھی نہ ہو کہ کیا ہوا اور آسمان اور فرشتوں ہی میں جا کر آنکھ کھلے گی۔ یہ قول ربیع بن انس سے مروی ہے:۔
- ۷...... قال الربیع بن انس المراد بالتوفی النوم وکان عیسیٰ علیه السلام قد نام
فرفعه الله نائما الی السماء معناه منیمک ورافعک الی کما قال تعالیٰ وھو الذی یتوفکم باللیل.
ربیع بن انس کہتے ہیں کہ توفی سے نوم یعنی نیند کے معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سونے کی حالت میں آسمان پر اٹھایا جیسا کہ وَ هُوَ الَّذِیْ يَتَوَفّٰكُمْ بِالَّیْلِ اس آیت میں توفی سے نوم کے معنی مراد ہیں تفسیر درمنثور ص ۳۶ ج ۲ و معالم التنزیل تفسیر کبیر وغیرہ وغیرہ۔
فائدہ: متعلقہ بآیت مائدہ
جب یہ ثابت ہو گیا کہ توفی کے حقیقی معنی استیفاء اور اکمال اور اخذ الشئ وافیا (یعنی کسی شے کو پورا پورا لینے کے ہیں) اور اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ میں توفی سے موت کے معنی مراد نہیں بلکہ توفی سے رفع آسمانی مراد ہے۔ تو اسی طرح سورہ مائدہ کی آیت توفی کو سمجھے کہ وہاں بھی توفی سے رفع الی السماء ہی مراد ہے اور فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کے معنی فَلَمَّا رَفَعْتَنِيْ اِلَی السَّمَاءِ کے ہیں۔ چنانچہ تمام معتبر تفاسیر میں تَوَفَّیْتَنِی کی تفسیر رَفَعْتَنِی کے ساتھ مذکور ہے۔ چند تفاسیر کے حوالہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
۸....... جیسا کہ تفسیر ابن جریر اور ۹....... ابن کثیر اور ۱۰....... درمنثور میں ہے۔ ۱۱....... امام رازیؒ تفسیر کبیر ص ۷۰۰ ج ۳ میں لکھتے ہیں فلما توفیتنى المراد به وفاة الرفع الى السماء۔ ۱۲....... تفسیر ابی السعود ص ۷۰۱ ج ۳ ورافعک الى فان التوفی اخذ الشئ وافیاً ۱۳....... تفسیر بیضاوی۔
حضرت ابن عباسؓ جن کے متعلق مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے وہ بہ برکت دعائے نبوی ﷺ قرآن سمجھنے میں اول نمبر پر تھے کی روایت سے تفسیر معالم میں مرقوم ہے۔
۱۴....... فَبَعَثَ اللّٰهُ جِبْرَائِیْلَ فَاَدْخَلَهُ فِیْ خَوْخَةٍ فِیْ سَقْفِهَا رَوْزَنَةٌ فَرَفَعَهُ اِلَى السَّمَاءِ مِنْ تِلْكَ الرَّوْزَنَةِ فَاَلْقَى اللّٰهُ شِبْهَ عِیْسَىٰ عَلَیْهِ السَّلَام فَقَتَلُوْهُ وَصَلَبُوْهُ.
(معالم التنزیل ج ۱ ص ۳۰۸)
”وہ شخص جو مسیح ؑ کو پکڑنے کے لیے گیا تھا مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل کو بھیج کر مسیح ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا اور اسی بدبخت یہودی کو مسیح ؑ کی شکل پر بنا دیا پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔“
۱۵....... تفسیر روح المعانی۔ ۱۶....... تفسیر خازن ص ۶۰۸ ج ۱ میں بھی ہیں۔
”الغرض ان تمام تفاسیر میں صراحۃً اس کی تصریح ہے کہ توفی سے رفع الی السماء مراد ہے۔ اور بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آیت مائدہ میں توفی سے کنایۃً موت مراد لی گئی ہے تب بھی مرزا قادیانی کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ اس
آیت میں اس وفات کا ذکر ہے جو بعد از نزول قیامت سے پہلے ہوگی۔ کیونکہ آیت کا تمام سیاق و سباق اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تمام واقعہ کوئی گذشتہ واقعہ نہیں بلکہ مستقبل یعنی قیامت کا واقعہ ہے اور قیامت سے پہلے ہم بھی وفات مسیح کے قائل ہیں جیسا کہ يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ الخ اور هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ اور وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا سے صاف ظاہر ہے۔
- ۱۷...... اخرج عبدالرزاق وابن ابی حاتم عن قتادة فی قوله انت قلت للناس
اتخذونی وامی الهین من دون الله متى يكون ذلك قال يوم القيامة الا ترى انه يقول يوم ينفع الصدقين. ”عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ سے نقل کیا کہ قتادہ سے اَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ الخ کے متعلق دریافت کیا گیا کہ یہ واقعہ کب ہوگا؟ تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہوگا جیسا کہ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ بلکہ بعض مرفوع احادیث میں بھی اس کی تصریح موجود ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا ہے:۔
- ۱۸...... روی ابن عساکر عن ابی موسیٰ الاشعریؓ قال قال رسول اللہ ﷺ اذا
كان يوم القيمة يدعى بالانبياء واممهم ثم يدعىٰ بعيسىٰ فيذكره نعمته عليه فيقر بها فيقول بعيسىٰ اذكر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک الآیۃ ثم يقول اَ انت قلت للناس اتخذونی وامی الهین من دون الله۔ فینکر ان يكون قال ذلك، حديث.
(تفسیر ابن کثیر ۲۸۱ ج ۳)
”ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انبیاء اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کو بلایا جائے گا۔ حق تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو اپنے قریب بلا کر یہ فرمائیں گے کہ تم ہی نے کہا تھا مجھ کو اور میری ماں کو خدا بناؤ۔ عیسیٰ ؑ انکار فرمائیں گے کہ معاذ اللہ میں نے ہرگز نہیں کہا۔“
- ۱۹...... واخرج ابن مردوية عن جابر بن عبدالله انه سمع النبي ﷺ يقول اذا كان
يوم القيامة جمعت الامم ودعا كل ناس بامامهم قال و يدعىٰ عيسىٰ فيقول يعيسى بعيسىٰ ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الهین من دون الله. فيقول سبحنك ما يكون لی ان اقول ما ليس لی بحق الىٰ قوله يوم ينفع الصدقين.
(درمنثور ص ۳۳۹ ج ۲)
اس حدیث شریف کا ترجمہ تقریباً وہی ہے جو کہ پہلی حدیث کا ہے۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کی حدیث کی طرح جابر بن عبداللہؓ کی اس روایت میں بھی اس امر کی تصریح موجود
ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے یہ دریافت کیا جائے گا۔ مرزا قادیانی جس موت کے مدعی ہیں وہ کسی لفظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی مرزا قادیانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ واقعہ صلیب کے بعد کشمیر تشریف لے گئے اور ستاسی سال زندہ رہ کر شہر سری نگر کے محلہ خان یار میں مدفون ہوئے یہ نہ کسی آیت سے ثابت ہے نہ کسی حدیث سے اور نہ کسی صحابیؓ اور تابعیؒ بلکہ کسی معتبر عالم کے قول سے بھی ثابت نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ بھی اسی کنہیا لال اور مراری لال و روشن لال سے منقول ہو جنہوں نے کریم بخش کے صادق ہونے کی گواہی دی ہے۔
مرزا قادیانی ازالہ الاوہام ص ۷۰۸ خزائن ج ۳ ص ۴۸۲ میں لکھتے ہیں کہ ”کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے تیس برس پہلے مجھ کو کہا کہ اب عیسیٰ جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آ کر قادیانی غلطیاں نکالے گا۔ پھر کریم بخش کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی جن میں خیراتی، بوٹا۔ کنہیا لال، مراری لال، روشن لال، گنیشامل وغیرہ ہیں۔ اور گواہی یہ ہے کہ کریم بخش کا جھوٹ کبھی ثابت نہیں ہوا۔
ائمہ حدیث جب کسی راوی کی توثیق اور تعدیل نقل کرتے ہیں تو احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معینؒ کا نام مبارک پیش کر دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو جب کریم بخش کی روایت کی تعدیل کی ضرورت پیش آئی تو کنہیا لال اور مراری لال کی تعدیل پیش کی۔ ناظرین کرام تعجب نہ فرمائیں۔ نبی کاذب کے سلسلہ روایت کے لیے کنہیا لال اور مراری لال جیسے راوی مناسب اور ضروری ہیں۔ مرزا قادیانی بھی معذور ہیں اپنی مسیحیت کی گواہی میں آخر کس کو پیش کریں؟ حضرات محدثین کے نزدیک مالک عن نافع عن ابن عمرؓ بسند سلسلۃ الذہب کے نام سے موسوم ہے۔ یہ سلسلۃ الذہب تو حضرات محدثین کا ہے۔ اور مرزا قادیانی کا سلسلۃ الذہب یہ ہے کہ جو حضرات ناظرین نے پڑھا۔ یعنی کنہیا لال اور مراری لال اور روشن لال۔
اے مرزائیو! تمہیں کیا ہوا؟ مالکؒ اور نافعؒ اور ابن عمرؓ کی روایت تو تمہاری نظر میں غیر معتبر ہو گئی اور مرزا اور مراری لال اور کنہیا لال اور روشن لال کی اور اس قسم کے پاگل داس لوگوں کی بکواس معتبر ہو گئی۔ ع
- ۲۰...... فَاجْتَمَعَتِ الْيَهُودُ عَلى قَتْلِهِ فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ بِأَنَّهُ يَرْفَعُهُ إِلَى السَّمَاءِ وَيُطَهِّرُهُ مِنْ
صُحْبَةِ الْيَهُوْدِ (نسائی و ابن مردویہ ذکرہ فی السراج المنیر) ”جب یہود مسیح کو قتل
کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی کہ میں تجھے آسمان پر اٹھاؤں گا اور کفار یہود کی صحبت سے پاک رکھوں گا۔“ میں تفسیری احادیثیں شواہدات کُلہم اس آیت کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔
حیات عیسیٰ علیہ السلام کی پانچویں دلیل
قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلاً لِّبَنِیْ إِسْرَآئِيلَ O وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُوْنَ O وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ O وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ O (زخرف ۵۹ تا ۶۱) ”وہ کیا ہے ایک بندہ ہے کہ ہم نے اس پر فضل کیا اور کھڑا کر دیا اس کو بنی اسرائیل کے واسطے اور اگر ہم چاہیں نکالیں تم میں سے فرشتے رہیں زمین میں تمہاری جگہ اور وہ نشان ہے قیامت کا سو اس میں شک مت کرو اور میرا کہا مانو یہ ایک سیدھی راہ ہے اور نہ روک دے تم کو شیطان وہ تو تمہارا دشمن ہے صریح“
تفسیری شواہد.....۱ علامہ عثمانیؒ فرماتے ہیں۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام میں آثار فرشتوں کے سے تھے (جیسا کہ سورۂ مائدہ، آل عمران اور کہف کے فوائد میں اشارہ کیا جا چکا ہے) اتنی بات سے کوئی شخص معبود نہیں بن جاتا۔ اگر ہم چاہیں تو تمہاری نسل سے ایسے لوگ پیدا کریں یا تمہاری جگہ آسمان سے فرشتوں ہی کو لا کر زمین پر آباد کر دیں۔ ہم کو سب قدرت حاصل ہے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا اوّل مرتبہ آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا کہ بدوں باپ کے پیدا ہوئے اور عجیب و غریب معجزات دکھلائے اور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کر لیں گے کہ قیامت بالکل نزدیک آگئی ہے۔ یعنی قیامت کے آنے میں شک نہ کرو اور جو سیدھی راہ ایمان و توحید کی بتلا رہا ہوں اس پر چلے آؤ۔ مبادا تمہارا ازلی دشمن شیطان تم کو اس راستے سے روک دے۔“
.....۲ حضرت امام فخر الدین الرازیؒ (محمد بن عمر المتوفی ۶۰۶ھ) اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ وانه ای عيسى لعلم للساعة شرط من اشراطها تعلم به فسمى الشئى الدال على الشئى علما لحصول العلم به الخ.
(تفسیر کبیر ج ۲۷ ص ۲۲۲)
”اور بے شک وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہے قیامت کی یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (اس لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے قیامت کا علم ہوگا) اس لحاظ سے علامت کو جو کسی شے کے وجود پر دلالت کرتی ہے علم کہا گیا کیونکہ اس علامت کے ساتھ اس شے کا علم حاصل ہوتا ہے۔“
یعنی علامت کا اطلاق علم پر ہوا یہی وجہ ہے کہ اکثر مترجمین حضرات لعلم کا معنی بھی نشانی کے کرتے ہیں اور یہ ترجمہ دوسری قرات کے عین موافق ہے اور دوسری قرات لَعَلَمٌ ہے اس میں ابتداء میں لام اور اس کے بعد عین اور دوسری لام پر بھی فتحہ ہے جس کا معنی نشانی اور علامت ہے اور یہ قرات حضرت عبداللہ بن عباسؓ حضرت ابوہریرہؓ حضرت ابو مالک غفاریؓ حضرت زید بن علیؓ حضرت قتادہؒ حضرت مجاہدؒ حضرت ضحاکؒ حضرت مالک بن دینارؒ حضرت الاعمش کلبیؒ اور بقول علامہ ابن عطیہؒ حضرت ابو نضرۃؓ کی ہے۔ (تفسیر البحر المحیط ج ۸ ص ۲۶ و روح المعانی ج ۲۵ ص ۹۵) اور دونوں قرأتوں کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول اور آمد سے قرب قیامت کا علم ہوگا اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔
- ۳...... علامہ سید محمود آلوسیؒ (المتوفی ۱۲۷۰ھ) لعلم اور لعلم دونوں قراتوں کا تذکرہ کر
کے آخر میں فرماتے ہیں کہ والمشهور نزوله عليه السلام بدمشق وان الناس في صلوة الصبح فيتاخر الامام وهو المهدى فيقدمه عيسىٰ عليه السلام و يصلى خلفه و يقول انما اقيمت لک اه.
(روح المعانی ج ۲۵ ص ۹۶)
”اور مشہور یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام دمشق میں نازل ہوں گے جبکہ لوگ صبح کی نماز میں مصروف ہوں گے اور امام مہدی امام ہوں گے وہ پیچھے ہٹ جائیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام امامت کرائیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت امام مہدی کو آگے کر کے ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور فرمائیں گے کہ نماز آپ کے لیے قائم کی گئی تھی۔“
اور نیز علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ:
وفي بعض الروايات انه عليه السلام ينزل على ثنية يقال لها افيق بفاء وقاف بوزن امير وهى هنا مكان بالقدس الشريف.
(روح المعانی ج ۲۵ ص ۹۶)
”اور بعض روایات (مثلاً مسند احمد ج ۴ ص ۲۱۶، ومستدرک ج ۴ ص ۴۷۸، و مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۴۲ وغیرہ) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام افیق فاء اور قاف کے ساتھ بروزن امیر کے ٹیلہ پر نازل ہوں گے اور یہ قدس شریف میں ایک جگہ ہے“ (جو سوق حمیدیہ میں جامع اموی کے مشرقی کنارہ پر ہے جس پر سفید مینار بنا ہوا ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقت صبح نازل ہوں گے)
- ۴...... مشہور مفسر الحافظ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر القرشی الدمشقی (المتوفی ۷۷۴ھ)
فرماتے ہیں۔ وانه لعلم للساعة ای امارة و دليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة و ابن عباس وابى العالية وابي مالک و عكرمة والحسن و قتادة والضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلا و حکما مقسطا اه.
(تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۳۲ و ۱۳۳)
”اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی علامت ہیں یعنی قیامت کی آمد اور اس کے وقوع کی نشانی اور دلیل ہیں۔ حضرت مجاہدؒ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کا دن برپا ہونے سے پہلے آنا قیامت (کے قرب) کی علامت اور نشانی ہے اور اسی طرح اس کی یہ تفسیر حضرت ابوہریرہؓ حضرت ابن عباسؓ حضرت ابوالعالیہؒ، حضرت ابو مالکؒ، حضرت عکرمہؒ، حضرت حسنؒ (بصری)، حضرت قتادہؒ اور حضرت ضحاکؒ (بن مزاحم) وغیرہم سے بھی مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل اور منصف حاکم بن کر نازل ہونے کی خبر دی ہے۔“
قرآن کریم کی ان آیات مبارکہ کے ہر ہر جملہ میں تاکیدی الفاظ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول اور آمد کا بالکل واضح ثبوت ہے اور پھر حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے ترجمان قرآن اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ اور معتبر و مستند تابعینؒ کی تفسیر اس پر مستزاد ہے اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور نزول اپنی جگہ حق ہے۔
- ۵...... امام ابن جریر الطبریؒ (محمد بن جریر بن یزیدؒ المتوفی ۳۱۰ھ) لعلم اور لعلم دونوں
قراتوں کا حوالہ دے کر بعض حضرات صحابہ کرامؓ بعض تابعینؒ اور تبع تابعینؒ وغیرہم کی تفسیریں نقل کرتے ہیں اور بحوالہ حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ
قال نزول عيسى بن مريم عليهما السلام.
(تفسیر ابن جریر ج ۲۵ ص ۹۰)
”انھوں نے فرمایا کہ اس سے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کا نزول مراد ہے“ (کیونکہ وہ قیامت کی نشانی ہیں)
- ۶...... لسان العرب جس کی تعریف میں مرزا بھی رطب اللسان ہے۔ اس کی ج ۹ ص
۳۷۲ پر ہے۔ وفي التنزيل في صفة عيسى عليه السلام وانه لعلم للساعة وهى
قرأة اكثر القراء و قرء بعضهم انه لعلم للساعة. المعنى ان ظهور عيسى و نزوله الى الارض علامة تدل على اقتراب الساعة. (قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں وانه لعلم للساعة ہے یہ اکثر قاریوں کی قرات اور ان میں سے بعض نے لَعَلَمٌ بھی پڑھا جس کے معنی ہیں عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے قرب پر دلالت کرے گا“ لسان العرب کی مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ ص ۱۱۵ پر توثیق و تعریف کی ہے۔
۷...... حضرت شاہ ولی اللہ نے اس کا ترجمہ فرمایا ہے ”عیسیٰ نشان است قیامت را پس شبہ مکنید در قیامت۔“
تفسیر نبویﷺ.......۱ احادیث کی تمام اہم کتب (مثلاً مسند احمد ج ۶ ص ۲۴ کے حاشیہ پر منتخب کنز العمال، سنن ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۲) میں آنحضرت ﷺ نے قیامت کی دس بڑی علامات میں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو شمار فرمایا۔ اسی طرح واقعہ معراج کے ضمن میں ایک روایت ہے۔
عن ابن مسعودؓ عن النبی ﷺ قال لقیت لیلۃ اسریٰ بی ابراھیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام قال فتذاکرو امر الساعة فردوا امرھم الیٰ ابراھیم علیہ السلام فقال لاعلم لی بھا فردوا الامر الی موسیٰ علیہ السلام فقال لاعلم لی بھا فردوا الامر الی عیسیٰ فقال اما وجبتھا فلا یعلمھا احد الا اللّٰہ ذالک و فیما عھد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج قال و معی قضیبان فاذا رانی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیھلکہ اللّٰہ.
(مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵)
”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے میری ملاقات ہوئی۔ فرمایا کہ قیامت کا تذکرہ ہوا تو سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا انھوں نے بھی فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ قیامت کا صحیح علم تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں البتہ میرے ساتھ اللہ رب العزت نے وعدہ فرمایا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میرے پاس دو ہتھیار ہوں گے۔ جب دجال مجھے دیکھے گا تو وہ دھات کی طرح پگھلے گا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ (میرے ہاتھ سے) اسے ہلاک
کریں گے۔"
(نوٹ) یہ حدیث الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ ابن ماجہ ص ۳۰۹ باب فتنہ الدجال خروج عیسی ابن مریم میں عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے۔ ابن ماجہ طبع بیروت ج ۲ ص ۴۵۱ حدیث نمبر ۴۰۸۱ پر اس کے حاشیہ میں ہے اسنادہ صحیح و رجالہ ثقات۔ یہ روایت بیہقی میں بھی ہے۔
اسی طرح بہت سی احادیث میں قیامت کے قریب مسیح کا نزول لکھا ہے جو آئندہ باب ثبوت حیات مسیح از احادیث میں نقل ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
- ۲....... آیت اِنَّہٗ لَعِلْمُ للسَّاعَةِ کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے جن کو بدعا نبوی ﷺ
علم قرآن حاصل تھا (جو مرزا کو بھی مسلم ہے) مسند احمد جلد اوّل ص ۳۱۷، ۳۱۸ پر ان سے منقول ہے کہ انه لعلم للساعة قال هو خروج عیسی بن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامة اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی اس روایت کو مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۴۱ حدیث نمبر ۳۷۲۷ پر نقل کر کے لکھا ہے۔ ھذا حدیث صحیح الاسناد روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ عن عکرمة عن ابن عباسؓ فی قوله عزوجل وانه لعلم للساعة قال خروج عیسی بن مریم.
- ۳....... اسی طرح محدث عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہؓ سے یہی روایت کی ہے۔
- ۴....... نیز در منثور ج ۶ ص ۲۰ پر عبداللہ بن عباسؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے
ہیں۔ جس کے آخر میں ہے۔ وانه لعلم للساعة قال هو خروج عیسی بن مریم قبل یوم القیامة.
- ۵....... نیز در منثور ج ۶ ص ۲۰ پر حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت مجاہدؒ، حضرت
حسنؒ سے یہی تفسیر منقول ہے۔
- ۶....... ابن جریر نے تفسیر طبری ج ۲۵ ص ۹۰، ۹۱ پر حضرت ابن عباسؓ سے چار سندوں کے
ساتھ اس کو نقل کیا ہے۔
- ۷....... نیز خود مرزا قادیانی نے اس آیت میں اِنَّہٗ لَعِلْمٌ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف
پھیری ہے۔
”قرآن شریف میں ہے انه لعلم للساعة یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمھیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔“ (اعجاز احمدی ص ۲۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
صاف ظاہر ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر بطرف مسیح تسلیم کی گئی ہے۔ نیز مرزا نے لکھا:
۸....... ان فرقة من اليهود لكانوا كافرين بوجود القيامة فاخبرهم الله على لسان بعض انبيائه ان ابنا من قومهم يولد من غير اب و هذا يكون اية لهم على وجود القيامة.
(حمامة البشریٰ ص ۹۰ خزائن ج ۷ ص ۳۱۶)
”یعنی ایک فرقہ یہود کا قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی زبانی ان کو خبر دی کہ تمہاری قوم میں ایک لڑکا بلا باپ پیدا ہوگا۔ یہ قیامت کے وجود پر ایک نشانی ہے۔“
اس میں ہمارا استدلال صرف اتنا ہے کہ وانہ لعلم للساعة میں انہ کی ضمیر کا مرجع مرزا قادیانی نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے۔ لھو المقصود باقی مرزا کا یہ کہنا کہ قیامت کی نشانی میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش مراد ہے۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں حضرت ابن عباسؓ اور دوسرے صحابہؓ و تابعینؒ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔ اب مرزائی فیصلہ کریں کہ مرزا کی تفسیر مانی جائے یا صحابہؓ و تابعینؒ کی؟ ان واضح شہادتوں کے بعد بھی کوئی نہ مانے تو اسے اللہ تعالیٰ ہی سمجھ نصیب فرمائیں۔
اعتراض....... ۱: از مرزا غلام احمد قادیانی
”حق بات یہ ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لیے نشان ہے کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۲۴ خزائن ج ۳ ص ۳۲۲)
مرزا قادیانی نے کوئی دلیل انہ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لیے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ماننے سے مرزا قادیانی کی مسیحیت معرض ہلاکت میں آ جاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزا قادیانی کی یہ ”حق بات ہے“ کی حقیقت الم نشرح ہو کر رہ جائے گی۔ سنیے۔
جواب.......۱ سیاق و سباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی کی ہے نہ قرآن کریم کی۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔
۲....... ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ انہ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر و فاسق ہو جائیں گے۔
۳...... حضرت ابن عباسؓ انہ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں جن کے متعلق مرزا قادیانی کا ارشاد (ازالہ اوہام ص ۴۲۷ خزائن ج ۳ ص ۲۲۵ پر ہے) ”ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔“ اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباسؓ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے؟
۴...... مرزا قادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ۸۶ گذشتہ مجددین، مسلمہ قادیانی، میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کر سکتے۔
۵...... خود مرزا قادیانی کے مرید انہ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھرنے سے منکر ہیں۔ چنانچہ سید سرور شاہ قادیانی ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶ اپریل ۱۹۱۱ء میں لکھتے ہیں۔ ”ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔“
نوٹ:۔ قادیانی سرور شاہ کا علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے مثلاً جہاں رسول کریم کا اسم مبارک ہے وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد ﷺ مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی ہیں۔
۶...... مرزا قادیانی کے بڑے فرشتہ سید محمد احسن امروہی مرزا قادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں۔
الف۔ ”دوستو! یہ آیت وانہ لعلم للساعة سورۃ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔“
(اخبار الحکم ۲۸ فروری ۱۹۰۹ء)
ب۔ ”آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر انہ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرت ﷺ کے راجع نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔“ (اعلام الناس حصہ دوم ص ۵۶)
قادیانی اعتراض...... ۲
از مرزا قادیانی ”ظاہر کہ خدا تعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو...... اگر خدا تعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے
کے لیے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدا تعالیٰ لوگوں کو ملزم کیوں کر سکتا ہے کیا اس طرح اتمام حجت ہو سکتا ہے دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام و نشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے ہی سے منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم یقین نہیں کرتے کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہو سکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا جس کی وجہ سے فلاتمترن بھا کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘
(ازالہ ص ۴۲۲ خزائن ج ۳ ص ۳۲۱)
جواب مرزا قادیانی کا یہ اعتراض ناشئ از جہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے وانہ لعلم للساعة کو فلا تمترن بھا کے لیے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔ اس آیت کا شانِ نزول جو مرزا قادیانی نے ظاہر کیا ہے وہ محض ایجادِ مرزا ہے۔ ورنہ اصلی شانِ نزول ملاحظہ ہو اور کلام اللہ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
لما ضرب ابن مريم مثلاً اذا قومک منه يصدون وقالوا ءالهتنا خير ام هو ما ضربوه لک الا جدلا ط بل هم قوم خصمون ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلاً لبنى اسرائيل و لونشاء لجعلنا منکم ملئکة فی الارض يخلفون وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا و اتبعون ط ھذا صراط مستقيم ”اور جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیا گیا۔ تو یکا یک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں یا عیسیٰ علیہ السلام۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو۔ عیسیٰ علیہ السلام تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لیے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘
معزز ناظرین! مرزا قادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ”چہ دلاور است دز دے کہ بکف چراغ دارد“ خود شان نزول اس آیت کی کلام اللہ کی انھیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت
کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تکمیل کلام ومآل دنیا پر مذکور ہے چنانچہ ہم مرزا قادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی روایت سے مرزا قادیانی کے تسلیم کردہ حبر الامت امام المفسرین ابن عباسؓ سے بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔
”آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورۂ انبیاء کی آیت انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں۔ وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبداللہ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لیے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبداللہ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ (درمنثور ج ۶ ص ۲۰ زیر آیت انہ لعلم للساعۃ) باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں۔ تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔
- ۲...... مرزا قادیانی اپنی کتاب اعجاز احمدی ص ۲۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۳۰ پر لکھتے ہیں۔
”قرآن شریف میں ہے۔ انہ لعلم للساعۃ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمھیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔“
- ۳...... ”سورۂ طٰہٰ ۱۵ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے رسول کو بھی بطور ہدایت
فرماتا ہے۔ ان الساعۃ آتیۃ فلا یصدنک عنھا من لا یؤمن بھا ”اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک وشبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔“ یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لیے دلیل کیسے ہوسکتا ہے؟ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔“
- ۴...... مرزا قادیانی نے ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیار پوری
ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کیے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ ”انا زوجنا کھا“ (انجام آتھم خزائن ج ۱۱ ص ۶۰) یعنی اے مرزا
ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔‘‘ انتظار کرتے کرتے مرزا قادیانی تھک گئے۔ آخر ۱۸۹۱ء میں مرزا قادیانی سخت بیمار ہوئے موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیشگوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔ ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ۳۹۸ خزائن ج ۳ ص ۳۰۶)
دیکھئے! یہاں مرزا قادیانی کے خدا نے مرزا قادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ”الحق من ربک“ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جس دلیل سے مرزا قادیانی کے لیے ایک پیشگوئی کا اعلان دلیل ہوگیا۔ آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی انہ لعلم للساعة دلیل سمجھ لیں فلا تمترن بھا کی (ذرا غور سے سمجھئے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔
مضحکہ خیز قادیانی تفسیر
- ۱...... ”یہ کیسی بدبو دار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ساعۃ سے مراد قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ
سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔“
(اعجاز احمدی ص ۲۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۹)
- ۲...... ”حق بات یہ ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتی ہے اور آیت کے معنی
یہ ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لیے نشان ہے کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔“
(ازالہ ص ۳۲۴ خزائن ج ۳ ص ۳۲۲)
- ۳...... ان فرقة من اليهود اعنى الصدوقين كانوا كافرين بوجود القيامة فاخبرهم
الله على لسان بعض انبياء ہ ان ابناً من قومهم يولد من غير اب وهذا يكون آية لهم على وجود القيامة فالى هذا اشار فى آية وانه لعلم للساعة. ”یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انھیں خبر دی کہ ان کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہوگا پس اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت وانه لعلم للساعة میں۔“
(حمامة البشریٰ ص ۹۰ خزائن ج ۷ ص ۳۱۶)
- ۴...... ”ان المراد من العلم تولده من غير اب على طريق المعجزة كما تقدم
ذکرہ في الصحف السابقة“ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ۴۹ خزائن ج ۲۲ ص ۶۷۲) ”العلم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔“ (نوٹ) مرزا قادیانی معلوم ہوتا ہے فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے جو مخالف کے ہاں قابل قبول ہو بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزا قادیانی جیسے پنجابی نبی کی شان ہی ہو سکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہو سکے جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول حق کی اپیل کر رہے ہیں۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزا قادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے صحیح اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے جو دلیل خود محتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی؟ پس مرزا قادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ تلعب ثابت ہوئی۔
۵....... تفسیر سید سرور شاہ صحابی مرزا۔
مرزا قادیانی کا ایک بہت بڑا صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزا قادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے۔
”مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔“
(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶ اپریل ۱۹۱۱)
۶....... تفسیر از مولوی سید محمد احسن امروہی جو مرزا قادیانی کے اکابر صحابہ میں سے تھا اور مرزا قادیانی کا فرشتہ کہلاتا تھا۔ اعلام الناس حصہ دوم ص ۵۶ پر انہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔
محترم ناظرین! ہم نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزا قادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اظہر من الشمس
ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام اللہ سے دو آیتیں اور مرزا قادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔
۱...... پہلی آیت سورہ حجر ۷۲ کی ہے۔
”انهم لفی سکرتهم یعمهون.“ وہ اپنی بیہوشی میں گمراہ پھر رہے ہیں۔
۲...... دوسری آیت سورہ نساء ۸۲ میں ہے۔
”ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا.“ ”اگر یہ کلام اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے۔“
مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لیے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
۱...... ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا تو انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ۳۱ خزائن ج ۱۰ ص ۱۴۳)
۲...... ”جھوٹے پر خدا کی لعنت....... جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۱ خزائن ج ۲۱ ص ۲۷۵)
۳...... ”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۸۴ خزائن ج ۲۲ ص ۱۹۱)
(نوٹ) مرزا قادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں۔ ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ ۱...... ساعۃ سے مراد وہ عذاب جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ذریعہ یہود پر نازل ہوا۔ ۲...... اس سے مراد قرآن مجید۔ ۳...... اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا ہونا۔ ۴...... اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ بطور معجزہ پیدا ہونا۔ ۵...... اس سے مراد مثیل مسیح۔ ۶...... اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام۔ ان سب کی سب کا آپس میں تضاد و تناقض ظاہر ہے۔ پس مرزا قادیانی معہ اپنے صحابہ اپنے ہی فتویٰ کی رو سے۔ پاگل، منافق، جھوٹے پر خدا کی لعنت اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی کے حواری مرزا خدا بخش مصنف ”عسل مصفیٰ“ جلد اوّل کے ص ۴۱۹ پر علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف مزعومہ کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
”یہ چھ قسم کے معانی علماء متقدمین و متاخرین نے کیے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء و مفسرین کو یقینی معنی معلوم
ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس رائے ظاہر کرتے۔ جب ہم ان معانی پر غور سے نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام....... کے خلاف پاتے ہیں۔“ ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں صرف ”علماء متقدمین و متاخرین کی بجائے ”مرزا اور ان کے حواری“ سمجھ لیں۔
تصدیق از انجیل حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام اللہ، انجیل یا تورایت کی نقل نہیں ہے بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلۂ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی عرصہ ظہور میں آ جائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزا قادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں۔ ”فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ یعنی اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۷ خزائن ج ۳ ص ۴۳۴)
سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت نظر پڑی۔ انجیل متی باب ۲۴ آیت ۳ تا ۳۱ ”جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آ کر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔ (اللہ یعلم الساعۃ قرآن کریم) یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمھیں گمراہ نہ کر دے کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے...... اس وقت اگر تم میں سے کہے کہ ۵ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے....... میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے....... پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا....... ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔“ یہی مضمون انجیل مرقس باب ۱۳ اور انجیل لوقا باب ۲۱ میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
- ۱....... حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ خود دوبارہ نازل ہوں گے کیونکہ اپنے تمام نام نہاد
مثیلوں سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
- ۲...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔
- ۳...... جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
- ۴....... حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔
- ۵...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ
تشریف لائیں گے یہی مضمون کلام اللہ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔
پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزا قادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔
نتیجہ مرزا قادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام ص ۲۶۹ خزائن ج ۳ ص ۲۳۶ میں لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا جو دنیا میں اسے حاصل تھا۔ اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔“
ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزا قادیانی ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جا سکتا ہے جبکہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے۔
فالحمد للّٰہ علٰی ذالک
حیات مسیح علیہ السلام کی چھٹی دلیل
وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ o
(سورة مائدہ۔ آیت نمبر ۱۱۰)
”اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہنے لگے کافر تھے جو ان میں‘ اور کچھ نہیں یہ تو جادو ہے صریح۔“
ف ۔ معجزات اور فوق العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے حق تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو ان کے ناپاک مقاصد میں کامیاب ہونے
سے روک دیا گیا۔ (تفسیر عثمانی) استدلال من جملہ ان نعمتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کو دی گئیں ایک یہ ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَنْكَ اور اس وقت کو یاد کر کہ جب بنی اسرائیل کو تیرے پاس آنے سے بھی روک دیا۔ پس اگر خدانخواستہ قتل اور صلب میں کامیاب ہو گئے تو پھر اس تطہیر اور کف کے وعدہ اور انعام کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔
وَاِذْ كَفَفْت میں کف کا مفعول بنی اسرائیل کو بنایا ہے نہ کہ کاف ضمیر مخاطب کو۔ یعنی میں نے دور ہٹائے رکھا بنی اسرائیل (یہود) کو تجھ سے۔ یہ نہیں فرمایا كَفَفْتُكَ عَن بنی اسرائیل (ہٹا دیا تجھ کو بنی اسرائیل سے) کیونکہ ضرر پہنچانے کا ارادہ یہودیوں کا تھا پس انہی کو ہٹائے رکھنے کا ذکر مناسب ہے (دوم) یہ کہ کف کا صلہ عَن ذکر کیا ہے جو بعد کے لیے آتا ہے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْءَ وَالْفَحْشَاءَ (سورہ یوسف ۲۴) ہم نے یوسف علیہ السلام سے برائی اور بے حیائی کو دور ہٹا دیا، یہ نہیں فرمایا نصرفک عن السوء والفحشاء۔ (یوسف علیہ السلام کو برائی سے ہٹا دیں) یہ اگر ہوتا تو شبہ ہوتا، کہ یوسف علیہ السلام کے دل میں برائی (قصد زنا) آ گئی تھی بلکہ اللہ نے برائی اور بدی کے ارادہ کو ہی دور دور رکھا اور یوسف علیہ السلام تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ اسی طرح اللہ نے یہود کو حضرت مسیح علیہ السلام سے دور دور رکھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ۔ (بقرہ ۴۹) ”اے بنی اسرائیل اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے عذاب سے بچایا اور نجات دی“ اس لیے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عنوان اختیار فرماتے تو یہ شبہ ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی دشمنوں سے ایذائیں اور تکلیفیں اٹھائیں مگر اخیر میں اللہ نے ان مصائب اور تکالیف سے نجات دی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی ایذا تو کیا پہنچاتا وہ خود بھی ان تک نہ پہنچ سکا۔ اللہ نے دشمنوں کو دور ہی رکھا اور کسی بدذات کو پاس بھی نہ پھٹکنے دیا اور جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر آسمان پر اٹھا لیا۔ تمام تفاسیر معتبرہ میں یہی تفسیر مذکور ہے۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے رہا ہو کر کشمیر پہنچے اور ستاسی سال کے بعد کشمیر میں وفات پائی۔ حالانکہ کشمیر اس وقت کفر اور شرک اور بت پرستی کا گھر تھا جو ملک شام سے کسی طرح بہتر نہ تھا۔ شام حضرات انبیاء کا مسکن اور وطن تھا اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا کہ میں تجھ کو کافروں سے
پاک کرنے والا ہوں۔ نیز عیسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے کما قال تعالیٰ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ان کی نبوت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو چھوڑ کر کشمیر جانے کے کیا معنی؟
استدلال......۲ کف کے لفظی معنی ہیں۔ باز گردانیدن یعنی روکے رکھنا۔
قرآن مجید میں یہ لفظ کئی مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
ا....... وَيَكُفُّوْا اَيْدِيَهُمْ (نساء ۹۱) ۲....... فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ (مائدہ ۱۱) ۳....... كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ. (نساء ۷۷) ۴....... وَكَفَّ اَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ. (الفتح ۲۰) ۵....... هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ. (الفتح ۲۴)
آخری آیت میں خصوصاً کف کے مفعول کو عن کے مجرور سے بالکل روکا گیا ہے۔ ”اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر“ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے۔ قادیانی فریق کو بھی تسلیم ہے کہ حدیبیہ میں مطلقاً کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ جیسا کہ تمام مفسرین و مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے۔ دوسری آیت فکف ایدیھم عنکم (مائدہ ۱۱) پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے۔ ”اے مسلمانو تم اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔“
ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل کرنے کی کوشش کی اور قتل کا مکمل انتظام کر لیا۔ بعینہ اسی طرح بنو نضیر کے یہود نے آنحضرت ﷺ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بال بال محفوظ رکھا۔ جیسا کہ تمام مفسرین نے سورۃ مائدہ آیت ۱۱ کے تحت لکھا ہے۔ قادیانی اپنے مسلمہ مجدد ابن کثیرؒ کی تفسیر کو اس آیت کے تحت میں ملاحظہ کریں۔ جس طرح کف کا لفظ آنحضرت ﷺ کے لیے استعمال ہوا۔ بعینہ وہی لفظ واذ کففت بنی اسرائیل عنک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے استعمال ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو یہود کے شر سے محفوظ رکھنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا حکم ہوا۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے محفوظ رکھنے پر اللہ تعالیٰ شکریہ کا حکم فرمائیں گے اور اپنا انعام یاد کرائیں گے۔
عجیب نکتہ حدیبیہ میں دونوں گروہ مسلمان اور کفار آمنے سامنے ہوئے لیکن ایک دوسرے سے لڑائی کا مرحلہ نہیں آیا۔ یعنی ایک دوسرے تک ہاتھ نہیں پہنچے فکف ایدیھم
عنکم‘ كف کا مفعول ایدی اور عن کا مجرور ضمیریں ہیں۔ یعنی دونوں فریقوں کا اجتماع تو ہوا لیکن لڑائی نہیں ہوئی مگر آیت و اذ كففت بنی اسرائیل عنک میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اذ كففت ایدی بنی اسرائیل عنک کہ میں نے ان کے ہاتھ آپ سے روکے رکھے بلکہ فرمایا کہ یہود کو عیسیٰ علیہ السلام سے روکے رکھا کہ وہ آپ کے قریب تک نہیں پھٹکے یعنی جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ وہ آپ کے قریب تک نہیں آسکے۔ تمام تدبیروں کے باوجود عیسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچنے سے روک لیا وہ ان کی پہنچ سے باہر (آسمان پر) تھے۔
تفسیری شواہد......۱ تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۱۱۵ زیر آیت مذکور ہے۔ ”اذکر نعمتی علیک فی کفی ایاهم عنک اذ جئتهم با البراهین والحجة القاطعة علی نبوتک و رسالتک من الله الیهم فکذبوک واتهموک بانک ساحر و سعوا فی قتلک و صلبک فنجیتک منهم و رفعتک الی وطهرتک من دنسهم و کفیتک شرهم وهذا یدل علی الامتنان کان من الله الیه بعد رفعه الی السماء الدنیا او یکون هذا الامتنان واقعاً یوم القیامة و عبر عنه بصیغة الماضی دلالة علی وقوعه لا محالة و هذا من اسرار الغیوب التی اطلع الله علیها نبیه محمد ﷺ۔“ (عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) کہ میری نعمتوں کو یاد کریں کہ جب یہودیوں کو آپ سے میں نے روکے رکھا جب آپ ان کے پاس فیصلہ کن دلائل و براہین اور رسالت، اللہ تعالیٰ سے لے کر آئے تو انھوں نے آپ کی تکذیب کی۔ جادوگری کا اتہام لگایا۔ آپ کے قتل و پھانسی کے درپے ہوئے۔ میں (اللہ تعالیٰ) نے ان سے آپ کو بچایا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور ان کی بدی سے آپ کو پاک کیا اور ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا تذکرہ آپ کے آسمان دنیا پر اٹھائے جانے کے بعد کیا یا قیامت کے دن ان انعامات کا تذکرہ فرمائیں گے۔ (اگر قیامت کے دن فرمائیں گے تو پھر اذ قال اللہ بصیغہ ماضی کیوں فرمایا؟) اس کی تعبیر ماضی سے اس لیے فرمائی کہ یہ یقینی امر ہے جو ہر حال میں ہوگا (گویا ہو چکا قیامت کے دن یہ کلام الٰہی عیسیٰ علیہ السلام سے ہوگا) یہ وہ غیب کے اسرار ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو مطلع فرما دیا۔“
۲...... تفسیر خازن ج ۲ ص ۵۳۹ پر ہے۔ فقصد الیهود قتله فخلصه الله منهم ورفعه الی السماء. ”جب یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کو بچایا اور آسمان پر اٹھا لیا۔“
- ۳...... معارف القرآن ج ۴ ص ۱۵۳ حضرت کاندھلویؒ فرماتے ہیں۔ ”جبکہ میں (اللہ
تعالیٰ) نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو تیرے پاس آنے سے روک دیا اور انھوں نے جو تیرے قتل کا ارادہ اور صلیب کا منصوبہ بنایا تھا اس کو میں نے یک لخت ملیا میٹ کر دیا اور تجھ کو صحیح و سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ تجھے کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔“
- ۴...... تفسیر کبیر ج ۱۲ ص ۱۲۷ زیر آیت بالا حضرت علامہ رازیؒ فرماتے ہیں۔ ”انه عليه
الصلوۃ والسلام لما اظهر هذه المعجزات العجيبه قصد اليهود قتله فخلصه الله تعالیٰ منهم حيث رفعه الى السماء“ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے جب ان معجزات کا ظہور ہوا تو یہود نے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہود سے عیسیٰ علیہ السلام کو بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔“
- ۵...... معالم العرفان ج ۵ ص ۴۸۰ پر ہے۔ ”عیسیٰ علیہ السلام گھبراؤ نہیں میں ان کے ناپاک
ہاتھ تم تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا۔“
قارئین محترم! اللہ رب العزت نے یہود کی دست و برد سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے طور پر محفوظ رکھا کہ وہ ان کی پہنچ سے باہر ہو گئے۔ یہود ان کے قریب نہ بھٹک سکے۔ ان تفسیری تصریحات کے باوجود مرزا قادیانی کا کیا موقف ہے؟ وہ ملاحظہ کریں۔
مرزا قادیانی کا موقف
- ۱...... ”اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ اذ کففت بنی
اسرائیل عنک یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی اذ کففت کے ہیں۔“
(ضمیمہ نزول المسیح ص ۱۵۱ خزائن ج ۱۸ ص ۵۲۸)
- ۲...... اسی مضمون کو مرزا قادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں۔
”پھر بعد اس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لیے تیار ہوئے...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آ گئی...... انھوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا...... سو پہلے انھوں
نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں۔۔۔۔۔۔ جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا۔۔۔۔۔۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۸۲ تا ۳۸۰ خزائن ج ۳ ص ۲۹۶۔۲۹۷)
- ۳۔۔۔۔۔۔ مرزا نے مزید تشریح یوں کی ہے۔
”مسیح علیہ السلام پر جو مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۹۲ خزائن ج ۳ ص ۳۰۲)
- ۴۔۔۔۔۔۔ مرزا لکھتے ہیں ”اب بھی خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا جبکہ اس
”وجیہہ“ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لیے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۷ خزائن ج ۱۷ ص ۲۰۰)
مرزا قادیانی ملعون کے ان چار حوالہ جات سے ذیل کے نتیجے اخذ ہوتے ہیں۔
- ۱۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کیا گیا۔
- ۲۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر کھینچا گیا۔
- ۳۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام یہود کے حوالہ ہوئے۔
- ۴۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کو تازیانے (کوڑے) لگائے گئے۔
- ۵۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام نے گالیاں سنیں۔
- ۶۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کو طمانچے مارے گئے۔
- ۷۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام سے ٹھٹھا و ہنسی ہوئی۔
- ۸۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام چوروں کے ساتھ صلیب دیے گئے۔
- ۹۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام پر مصیبت آئی۔
- ۱۰۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کے اعضاء میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔
- ۱۱۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو گئے۔
- ۱۲۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی یہ مصیبت موت سے کم نہ تھی۔
- ۱۳۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام وجیہہ نبی کو گرفتار کیا گیا۔
- ۱۴۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ہر قسم کی ذلت پہنچائی گئی۔
چودھویں صدی کے کذاب و دجال اعظم مرزا قادیانی کی عبارتوں سے یہ
چودہ نتائج برآمد ہوئے۔ اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم بقول مرزا قادیانی کہ جب ہر ممکن ذلت و خواری میں مسیح علیہ السلام کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہو گئے کہ دیکھنے والے انھیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے بالفاظ مرزا ”یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک لیا۔“
(نزول المسیح ص ۱۵۱ خزائن ج ۱۸ ص ۵۲۸)
اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں۔ اذکر نعمتی یعنی یاد کر میری نعمتیں۔ انھیں نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانا بھی ہے۔ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال بھی بچ گئے ہوتے جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور پر بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزا قادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے؟ یا اللہ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ کی صدائیں دیں۔ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یو، پی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروں میں سے گرتا پڑتا سری نگر پہنچا۔ وہاں ۸۷ برس گمنامی کی زندگی بسر کر کے مر گیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں؟ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اس حالت کا شکریہ مطلوب ہے؟ سبحان اللہ واہ رے آپ کی خدائی۔ ہاں ایسی ذلت سے پہلے اگر میری
جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کون سا احسان ہے؟ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔
- ۱....... کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہو جاتا
ہے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی؟
- ۲....... باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہودی
اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں؟
- ۳....... اگر آپ کے ہاں نعوذ باللہ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر
چڑھائے جانے اور پھر مر جانے پر ملعون ہو جاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر ۲ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم از کم یوں کرتے کہ میری گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف یقیناً یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہو سکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں؟
معاذ اللہ یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آنا چاہیے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوال واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کر لیں تو وہ حالت یقیناً قابل ہزار شکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لیے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکر و فریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح علیہ السلام کو سامنے نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ انی متوفیک و رافعک الیٰ۔ یعنی ”(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں ۔“ پھر اس وعدہ کو اللہ تعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں۔ وایدناہ بروح القدس یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی (جو انھیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفا یوں مذکور ہے: وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں اس آیت میں واذ کففت بنی اسرائیل عنک یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر ہماری
نعمۃ، کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی یا اللہ مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔
قادیانی اعتراض....... ۱: از مرزا قادیانی
”دیکھو آنحضرت ﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا واذ کففت بنی اسرائیل عنک یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچا دی۔ پس یہی معنی اذکففت کے ہیں۔ جیسا کہ واللہ یعصمک من الناس کے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ۱۵۱ خزائن ج ۱۸ ص ۵۲۹ حاشیہ)
جواب...... ۱ عصم کے معنی ہیں ’بچا لینا‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن کف کے معنی ہیں۔ روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ پس دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ کف کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کر چکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ لیجئے! ہم خود مرزا قادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔
”اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے تو محلِ مبحوث میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی...... سارے قرآن شریف میں لیے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ۳۳۰ خزائن ج ۳ ص ۲۶۷)
ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انھیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف
معنی کرنا حسب قول مرزا الحاد اور فسق ہوگا۔
- ۲....... ایک لمحہ کے لیے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح
کرنے کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ عصم اور کف ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے کیونکہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ وعدہ ”عصمت“ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقیناً قادیانی دجل و فریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیا گیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ واللہ یعصمک من الناس کی بشارت کے بعد رسول کریم ﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔
قادیانی کا یہ کہنا کہ جنگ احد میں رسول کریم ﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ”دو دُونے چار روٹیاں“ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔
جنگ احد شوال ۳ ھ میں ہوئی تھی اور رسول کریم ﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت واللہ یعصمک من الناس سورۃ مائدہ کی ہے۔ جو نازل ہوئی تھی ۵ ھ اور ۷ ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مرزا کا مرید محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر بیان القرآن میں یوں رقمطراز ہے۔ ”ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۃ (مائدہ) میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہی رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔ (بیان القرآن ص ۵۸۸) اب رہا سوال خاص اس آیت وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کے نزول کا سو اس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلّمہ مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطیؒ کا قول پیش کرتے ہیں۔ ”وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ فی صحیح ابن حبان عن ابی ھریرۃ انھا نزلت فی السفر و اخرج ابن ابی حاتم وابن مَرْدَوَيْهَ عن جابر انھا نزلت فی ذات الرقاع باعلیٰ نخل فی غزوۃ بنی انمار“ (تفسیر اتقان جزو اوّل ص ۱۹) مطلب جس کا یہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہو گیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہو گیا کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہو سکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ۵ ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔
لیجئے ہم اپنی تصدیق میں مرزا قادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں تاکہ
مخالفین کے لیے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خدا ﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لیے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔“ (الحکم ۲۴ اگست ۱۸۹۹ء بحوالہ خزینۃ العرفان ص ۴۹۲) اس حوالہ میں مرزا نے تسلیم کر لیا کہ اس آیت کے بعد آپ ﷺ کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔
مرزا قادیانی کا سیاہ جھوٹ
پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا ”کہ جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔“ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں۔ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ اور خود مرزا قادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔ ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ۲۰۶ خزائن ج ۲۲ ص ۲۱۵)
قادیانی اعتراض......۲
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کفار نے آگ میں ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آگ سے بچا لیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہود نے حضرت روح اللہ کو صلیب پر چڑھا دیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ رکھا اور ان کے ہاتھ سے مرنے نہ دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ جواب...... ۱ جناب! وقائع اور امورِ تاریخیہ میں قیاس کو بالکل دخل نہیں ہوتا بلکہ ان کا مدار صرف روایت و شہادت ہی پر ہوتا ہے۔ وقائع میں قیاسات کے مفید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وقوع حوادث کی صورت واحد دون آخر نہیں ہوتی۔ پس حضرت روح اللہ کے واقعہ کو قیاس محض سے واقعہ حضرت خلیل اللہ کا ہمرنگ بنانا جہالت و سفاہت ہے کیونکہ صورت نجات اسی ایک طریق میں منحصر نہیں ہے۔ كَمَا لَا يَخْفٰی عَلٰی مَنْ لَّهُ اَدْنٰی تَأمُّلٍ دِیْگر یہ۔ ۲...... کہ ہمارا دین سماعی ہے قیاسی نہیں یعنی جو امر جس طرح قرآن و حدیث میں وارد ہے۔ اسے اسی طرح تسلیم کرتے ہیں اور اپنے قیاسات سخیفہ اور خیالات ضعیفہ پر مدار نہیں رکھتے چونکہ قرآن مجید میں حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کا آگ میں پڑنا اور پھر سلامت رہنا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس واقع کو اسی طرح مانتے ہیں اور چونکہ حضرت روح اللہ علیہ السلام کا صلیب پر نہ چڑھایا جانا اور یہود کا آپ کو مس تک بھی نہ کر سکنا مذکور ہے
اس لیے اسی طرح یقین رکھتے ہیں۔ اپنے خیال و قیاس سے کچھ نہیں کہتے۔ حضرت خلیل اللہ کے واقعہ نار کی بابت سورۃ انبیاء میں فرمایا۔ قُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَاَرَادُوْ بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ (انبیاء ۶۹) ”ہم نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا اور انھوں نے ابراہیم سے داؤ کرنا چاہا تھا۔ پس ہم نے انہی کو نہایت زیاں کار کر دیا۔“
اور سورت صافات میں الْاَسْفَلِيْنَ (نہایت پست) فرمایا سو ان آیات میں امر يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ میں اشارہ اس امر کا ہے کہ آپ آگ میں ڈالے گئے تھے کیونکہ امر يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا نہیں ہو سکتا جب تک آگ موجود نہ ہو (وجود خارجی بھی ہوتا ہے اور ذہنی بھی) خدا کے امر میں دونوں برابر ہیں۔ صورت اس کی یہ ہے کہ اگر خدا کے امر کے وقت مامور خارج میں موجود نہ ہو بلکہ خدا کے علم میں ہو تو خدا تعالیٰ اس صورت علمیہ کو امر کرتا ہے تو لزوماً خارج میں اس کا وجود ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا اِنَّمَا اَمْرُهٗ اِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یٰسین ۸۲) اور عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ صادق نہیں ہو سکتا۔ جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں واقع نہ ہوں۔ علاوہ اس کے یہ حدیث میں رفعاً وارد ہوا عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لما القی ابراھیم علیہ السلام فی النار قال اللھم انک واحد فی السماء وانا فی الارض واحد اعبدک (ابن کثیر ج ۲ ص ۲۸۵) یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے تو آپ نے کہا اے خدا تو آسمان میں واحد (لاشریک) ہے اور (اس وقت) زمین میں صرف میں اکیلا تیری (خالص) عبادت کرتا ہوں الخ نیز (صحیح بخاری ج ۲ ص ۶۵۵ کتاب التفسیر سورۂ آل عمران) میں حضرت ابن عباسؓ سے موقوفاً وارد ہے۔ عن ابن عباسؓ قال کان اخر قول ابراھیم حین القی فی النار حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں ڈالے گئے تو آخری بات جو آپ نے کی وہ یہ تھی حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ یعنی ”ہمیں صرف اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے۔“ پس اس سے واقعہ آگ صاف ثابت ہو گیا۔
- ۳...... نیز یہ کہ کفار کو اَخْسَرِيْنَ اور اَسْفَلِيْنَ کر دینا فرمایا اور خَاسِرِيْنَ وَسَافِلِيْنَ نہ فرمایا
کیونکہ اسم تفضیل میں اسم فاعل پر از روئے معنی زیادتی ہوتی ہے جیسا کہ اس کے نام ہی سے ظاہر ہے۔ پس کفار اَلْاَخْسَرِيْنَ یعنی سخت زیاں کار اور اَلْاَسْفَلِيْنَ یعنی نہایت پست اور
ذلیل تب ہی ہو سکتے ہیں۔ جب اپنا سارا زور بل لگا چکیں اور اپنے اسباب کو استعمال میں لا چکیں اور پھر اپنے ارادے میں ناکام رہیں جیسا کہ سورۂ کہف ۱۰۳‘ ۱۰۴ میں فرمایا۔ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِيْنَ أَعْمَالاً الَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ”(اے پیغمبر ان سے) کہو کیا ہم تم کو بتائیں کہ اپنے اعمال میں کون نہایت زیاں کار رہتے ہیں۔ ایسے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی سعی اسی زندگی میں اکارت جائے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نیک کام کرتے ہیں ۔“
اس سے ظاہر ہے کہ اَخْسَرُاس کو کہتے ہیں جس کی سعی اکارت جائے اور نیز یہی وجوہات مذکورہ اس امر کی مؤید ہیں کہ کفار کا کید حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے خلاف صرف تدبیر تک ہی نہ رہا تھا بلکہ صورتِ فعلیہ میں سرزد ہوا تھا اور پھر وہ اس میں ناکام رہے۔ بخلاف حضرت مسیح علیہ السلام کے کہ کفار یہود کا مکر صورتِ فعلیہ میں صادر نہیں ہوا جیسا کہ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اور وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ اور وَإِذْ كَفَفْتُ سے ظاہر ہے۔
حیات مسیح ؑ کی ساتویں دلیل
إِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ إِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (ال عمران ۴۵) ”جب کہا فرشتوں نے اے مریم اللہ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنے ایک حکم کی جس کا نام مسیح ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا۔ مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں اور اللہ کے مقربوں میں ۔“
حضرت مسیح ؑ کو قرآن و حدیث میں کئی جگہ ”کلمۃ اللہ“ فرمایا ہے اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهُ أَلْقٰهَا إِلٰى مَرْيَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ (نساء ۱۷۱) یوں تو اللہ کے کلمات بیشمار ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (کہف ۱۰۹) لیکن بالخصیص حضرت مسیح کو ”کلمۃ اللہ“ (اللہ کا حکم) کہنا اس حیثیت سے ہے کہ ان کی پیدائش باپ کے توسط کے بدون عام سلسلہ اسباب کے خلاف محض خدا کے حکم سے ہوئی اور جو فعل عام اسباب عادیہ کے سلسلہ سے خارج ہو۔ عموماً اس کی نسبت براہ راست حق تعالیٰ کی طرف کر دی جاتی ہے جیسے فرمایا مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (انفال ۱۷) ”مسیح“ اصل عبرانی میں ”ماشیح“ یا ”مشیا“ تھا۔ جس کے معنی مبارک کے
ہیں۔ معرب ہو کر ”مسیح“ بن گیا۔ باقی دجال کو جو ”مسیح“ کہا جاتا ہے وہ بالاجماع عربی لفظ ہے جس کی وجہ تسمیہ اپنے موقع پر کئی طرح بیان کی گئی ہے۔ ”مسیح“ کا دوسرا نام یا لقب ”عیسیٰ“ ہے۔ یہ اصل عبرانی میں ”ایشوع“ تھا۔ معرب ہو کر ”عیسیٰ“ بنا۔ جس کے معنی سید کے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے یہاں ”ابن مریم“ کو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے بطور جزو علم کے استعمال کیا ہے کیونکہ خود مریم علیہا السلام کو بشارت سناتے وقت یہ کہنا کہ تجھے ”کلمۃ اللہ“ کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کا نام ”مسیح عیسیٰ ابن مریم“ ہوگا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ بتلانے کے لیے نہ تھا بلکہ اس پر متنبہ کرنا تھا کہ باپ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت صرف ماں ہی کی طرف ہوا کرے گی حتیٰ کہ لوگوں کو خدا کی یہ آیت عجیبہ ہمیشہ یاد دلانے اور مریم کی بزرگی ظاہر کرنے کے لیے گویا نام کا جز بنا دی گئی۔ ممکن تھا کہ حضرت مریم کو بمقتضائے بشریت یہ بشارت سن کر تشویش ہو کہ دنیا کس طرح باور کرے گی کہ تنہا عورت سے لڑکا پیدا ہو جائے۔ ناچار مجھ پر تہمت رکھیں گے اور بچہ کو ہمیشہ برے لقب سے مشہور کر کے ایذا پہنچائیں گے۔ میں کس طرح برأت کروں گی؟ اس لیے آگے وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ کہہ کر اطمینان دلا دیا کہ خدا اس کو نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی بڑی عزت و وجاہت عطا کرے گا اور دشمنوں کے سارے الزام جھوٹے ثابت کر دے گا۔ ”وجیہ“ کا لفظ یہاں ایسا سمجھو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّأَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا (احزاب ٦٩) گویا جو لوگ ”وجیہ“ کہلاتے ہیں ان کو حق تعالیٰ خصوصی طور پر جھوٹے طعن و تشنیع یا الزامات سے بری کرتا ہے حضرت مسیح علیہ السلام کے نسب پر جو خبیث باطن طعن کریں گے یا خدا کو یا کسی انسان کو جھوٹ موٹ ان کا باپ بتلائیں گے یا خلاف واقعہ ان کو مصلوب و مقتول یا بحالت زندگی مردہ کہیں گے یا الوہیت و ابنیت وغیرہ کے باطل عقائد کی مشرکانہ تعلیم ان کی طرف منسوب کریں گے۔ اس طرح کے تمام الزامات سے حق تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اعلانیہ بری ظاہر کر کے ان کی وجاہت و نزاہت کا علیٰ رؤس الاشہاد اظہار فرمائے گا جو وجاہت ان کو ولادت و بعثت کے بعد دنیا میں حاصل ہوئی اس کی پوری پوری تکمیل نزول کے بعد ہوگی جیسا کہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔ پھر آخرت میں خصوصیت کے ساتھ ان سے اَ اَنْتَ قلت للناس اتخذونی الخ کا سوال کر کے اور انعامات خصوصی یاد دلا کر تمام اولین و آخرین کے رو برو وجاہت و کرامت کا اظہار ہوگا جیسا کہ سورہ ”مائدہ“ میں مذکور ہے اور نہ صرف
یہ کہ دنیا و آخرت میں باوجاہت ہوں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے اخص خواص مقربین میں ان کا شمار ہوگا۔ (تفسیر عثمانی)
تفسیر القرآن بالقرآن
اللہ رب العزت نے جہاں کہیں کسی کو مقرب کے لفظ سے خطاب فرمایا ہے اس سے مراد یا اہل جنت ہیں یا فرشتے ہیں۔ ذیل میں قرآنی آیات ملاحظہ ہوں۔
- ١....... لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ.
وَلَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ............ النساء ١٧٢ .
- ٢...... وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ. اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ...... الواقعة ١١ .
- ٣...... كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ. يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ...... المطففین ٢١ .
- ٤...... وَمِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ. عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ...... المطففین ٢٨ .
- ٥...... وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ...... آل عمران ٤٥ .
- ٦....... قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ...... الاعراف ١١٤ .
- ٧...... قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ...... الشعراء ٤٢ .
- ٨...... فَاَمَّا اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ. فَرَوْحٌ وَّ رَيْحَانٌ وَّجَنَّةُ نَعِيْمٍ...... الواقعة ٨٨ .
قرآن مجید میں انہی مقامات پر مقرب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سات نمبر میں فرعون نے اپنے ساحرین کو اپنا مقرب قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقرب کا لفظ فرعون کا قول ہے۔ اللہ رب العزت نے جن کو مقرب کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ وہ یا اہل جنت ہیں۔ یا فرشتے۔ جنت آسمانوں میں ہے۔ فرشتوں کا مستقر بھی آسمان ہے۔ اب عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا گیا۔ جس سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں بھی عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آسمانوں پر جانے کا حق تعالیٰ نے وعدہ کا ذکر (بوقت بشارت ولادت مسیح) حضرت مریم سے فرمایا۔ جس کا تحقق وقوع بل رفعہ اللہ میں ہوا۔ اب یہ ہماری رائے نہیں بلکہ مفسرین بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔ اسی طرح اسی آیت میں دوسرا لفظ وجیها فی الدنیا ہے۔ وجاہت دنیوی کے لیے یاد رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پیدائش سے یہود کے معتوب ہوئے۔ یہود آپ کے درپے آزار رہے۔ ساری زندگی فقر و زہد میں گزار دی وجاہت دنیوی رفع تک آپ کو حاصل نہ ہوئی۔ وہ نزول کے بعد ہو گی۔ جس کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا۔ یکون حکماً ، عدلاً حکماً مقسطاً کہ نزول کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل ہوں گے۔ گویا وجاہت دنیوی کا مظہر اتم ہوں گے۔
نکتہ نیز آپ کی وجاہت دنیوی کے وعدہ قرآنی کا تقاضہ تھا کہ آپ مصلوب نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ مصلوبیت اس عالم دنیوی میں ذلت کا سبب ہے جو وجاہت کے منافی ہے۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں صلیب دیے جانے کے ذکر کے بعد فرمایا ذالک لہم خزی فی الدنیا (مائدہ ۳۳) یہ ان کے اس زندگی دنیوی میں خواری ہے۔ معاذ اللہ اگر حضرت روح اللہ علیہ السلام صلیب پر لٹکائے جاتے جیسا کہ مرزا قادیانی کا خیال فاسد و عقیدہ باطل ہے۔ خواہ صلیب سے زندہ بھی اتارے جاتے تو بھی آپ کی وجاہت کے منافی ہوتا۔ پس عقیدہ ملعونیہ صلیبیہ قادیانیہ بالکل قادیانیت کی طرح مردود ہے۔
- تفسیری شواہد...... ۱ اب حضرت امام رازیؒ جن کی تفسیر مرزا قادیانی کے نزدیک بھی
معتبر ہے۔ جن کو قادیانی مجدد بھی تسلیم کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔
معنی الوجیہ ذوالجاہ والشرف والقدر...... اذا صارت لہ منزلۃ رفیعۃ عند الناس والسلطان. (تفسیر کبیر جزء ۸ ص ۵۳) ”صاحب وجاہت و بزرگی، صاحب قدر و منزلت کو وجیہ کہتے ہیں...... جبکہ اسے عوام و خواص (بادشاہ) میں خاص قدر و منزلت حاصل ہو“ اب ظاہر ہے کہ اگر بادشاہ وقت نے یہودیوں کے کہنے پر ان کو مصلوب کیا تو پھر منزلت و وجاہت حاصل نہ ہوئی۔ اس لیے وجیھاً کا تقاضہ ہے کہ وہ مصلوب نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح حضرت علامہ رازیؒ ومن المقربین کے تحت فرماتے ہیں۔
ان ھذا الوصف کالتنبیہ علی انہ علیہ السلام سیرفع الی السماء و تصاحبہ الملائکۃ (تفسیر کبیر جزء ۸ ص ۵۴) ”تحقیق (ومن المقربین) کا یہ وصف تنبیہ ہے اس پر کہ عیسیٰ علیہ السلام عنقریب آسمانوں پر اٹھائے جائیں گے اور ملائکہ کی صحبت میں جلوہ گر ہوں گے۔“ دیکھئے کس صراحت سے حضرت امام رازی نے وجیھاً فی الدنیا ومن المقربین میں امت کے موقف کی تصریح فرمائی۔ من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر.
- ۲...... علامہ زمخشری جن کی تفسیر مرزا قادیانی کے ہاں معتبر ہے اور قادیانی ان کو مجدد تسلیم
کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ ومن المقربین رفعہ الی السماء و صحبتہ للملائکۃ.
(کشاف ج ۱ ص ۳۶۴)
- ۳...... تفسیر جلالین میں ہے۔ ومن المقربین عند اللہ اس کے بین السطور میں مرقوم ہے۔
یرفعہ السماء.
(جلالین ص ۵۱ مطبع اصح المطابع کراچی)
- ۴...... تفسیر خازن میں ہے۔ وجیھاً ای شریفاً رفیعاً ذا جاہ وقدر ومن المقربین......
انہ رفع علی السماء.
(خازن ج ۱ ص ۲۵۰)
- ۵...... تفسیر روح المعانی میں ہے۔ رفعہ السماء و صحبتہ الملائکۃ.
(روح المعانی جز ۳ ص ۱۴۴)
- ۶...... تفسیر ابی السعود میں بھی رفعہ الی السماء صحبتہ الملائکۃ مذکور ہے۔
(ابی السعود ج ۲ ص ۳۷)
قارئین آپ نے امت کا موقف اور اس کی صداقت کا آئمہ مفسرین کی کتب تفسیر سے بخوبی اندازہ فرما لیا۔ اب چلیں قادیانی موقف اور اس کا بطلان اور اہل اسلام کے موقف کی صداقت ملاحظہ کریں۔
قادیانی موقف ان کی مسلمات کی رو سے
- ۱...... مرزا قادیانی نے وجیھاً فی الدنیا کے معنی لکھے ہیں۔ ”دنیا میں راستبازوں کے
نزدیک باوجاہت یا باعزت ہونا۔“
(ایام الصلح ص ۱۶۴ خزائن ج ۱۴ ص ۴۱۴)
- ۲...... مرزا قادیانی کے نزدیک ”تمام نبی دنیا میں وجیہہ ہی تھے۔“
(ایام الصلح ص ۱۶۶ ملخص خزائن ج ۱۴ ص ۴۱۴)
- ۳...... الف۔ مرزا قادیانی کے لاہوری خلیفہ اپنی تفسیر بیان القرآن جلد اوّل مطبوعہ ۱۳۴۰ھ
ص ۳۱۱ پر لکھتے ہیں۔ ”وجیہہ کے معنی ہیں ذوجاہ یا ذو وجاہت یعنی مرتبہ والا یا وجاہت والا۔
- ب...... ”اللہ تعالیٰ کے انبیاء سب ہی وجاہت والے ہوتے ہیں۔“
ناظرین با تمکین! اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کو بطور بشارت کہا گیا ہے کہ وہ لڑکا (عیسیٰ علیہ السلام) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت، با آبرو اور باوجاہت ہوگا۔ قابل توجہ الفاظ یہاں وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا کے ہیں۔ ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ اس سے مراد صرف دنیوی وجاہت ہی ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں۔ پھر دنیوی وجاہت سے بھی وہ معمولی وجاہت مراد نہیں ہو سکتی جو دنیا میں کروڑہا انسانوں کو حاصل ہے۔ اس سے کوئی خاص وجاہت (عزت مراد ہے) ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت سے خاص کرنا اور اس کی بشارت کو خصوصیت کے ساتھ بطور پیشگوئی بیان کرنا شان باری تعالیٰ کے لائق نہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کو معمولی دنیوی وجاہت سے قبل از وقت اطلاع دینا قرین قیاس نہیں۔ روحانی وجاہت کا یقین تو حضرت مریم علیہ السلام کو کلمۃ منہ اور وَجِيْهًا فِى الْآخِرَةِ اور غلاماً زکیا وغیرہ خطابات ہی سے حاصل ہو گیا تھا۔ ہاں وجیہاً فی الدنیا کے الفاظ کے اضافہ سے یقیناً باری تعالیٰ کا یہ مقصود تھا کہ اے مریم اس دنیا میں اپنی قوم سے چند روز
بدسلوکی کے بعد ہم انھیں تمام جہاں کی نظروں میں باعزت بھی کر کے چھوڑیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب تک دنیوی وجاہت حاصل تھی۔ یا نہ؟ اس کا جواب قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
”وجیھاً فی الدنیا والآخرہ دنیا میں بھی مسیح علیہ السلام کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت، مرتبہ، عظمت، بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ہیرودیس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔“ (مسیح ہندوستان میں ص ۵۳ خزائن ج ۱۵ ص ۵۳) واقعی مرزا قادیانی سچ کہہ رہے ہیں۔
محمد علی لاہوری کی شہادت
”یہاں اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ شخص ذلیل ہو گیا مگر ایسا نہ ہوگا بلکہ اسے دنیا میں بھی ضرور وجاہت حاصل ہو گی اور آخرت میں بھی۔ جس قدر تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بظاہر انھیں ایک ذلت کی حالت میں چھوڑتی ہے کیونکہ ان کا خاتمہ چوروں کے ساتھ صلیب پر ہوتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انبیاء کو کچھ نہ کچھ کامیابی دے کر اٹھاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وجیھاً فی الدنیا فرمانا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ لوگ انھیں ناکام سمجھیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ کامیابی کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ یہ کامیابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں حاصل نہیں ہوئی۔“
(تفسیر بیان القرآن ج اول ص ۳۱۱)
معزز حضرات! جب یہ طے ہو گیا کہ واقعہ صلیب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت و عزت حاصل نہ تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب اور اس کے بعد کے زمانہ میں کیا انھیں یہ وجاہت اس وقت تک نصیب ہوئی ہے۔ یا نہ؟ اس کا جواب بھی قادیانی کے اپنے اقوال اور مسلمات سے پیش کرتا ہوں۔ یعنی ابھی تک دنیوی وجاہت اور عزت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔
- ۱...... واقعہ صلیبی کو آیت واذ کففت بنی اسرائیل عنک کے ذیل میں مرزا کے الفاظ
میں پڑھ لیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑھ کر دنیوی بے وجاہتی اور بے عزتی کا تصور انسانی دماغ کے تخیل سے محال ہے۔ یہی حال انجیل کے بیانات کو صحیح ماننے کا ہے۔ ہاں اسلامی حقائق کو قبول کر لینے سے واقعہ صلیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کی ابتدا معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہود کے مکر و
فریب کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ میں آسمان پر اٹھایا جانا اور یہود نامسعود کا اپنی تمام فریب کاریوں میں بدرجہ اتم فیل ہو جانا گویا وجاہت کی ابتداء ہے۔
- ۲...... اب ہم واقعہ صلیب کے زمانہ مابعد کو لیتے ہیں۔ اس زمانہ میں یہود اور عیسائی
بالعموم یہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بالآخر قتل کیے گئے اور اس وجہ سے دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) لعنتی قرار دیتے ہیں۔ (اگر قادیانی تصدیقات کی ضرورت ہو تو دیکھو و مکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین کے ذیل میں)
پس کیا کروڑہا انسانوں کا آپ کو لعنتی قرار دینا موجب وجاہت ہے یا بے عزتی؟ پہلے تو صرف مخالف یہودیوں کی نظر ہی میں بے عزت تھے مگر واقعہ صلیب سے لے کر اس وقت تک عیسائی بھی لعنت میں یہود کے ہمنوا ہو گئے۔
قادیانی نظریہ وجاہت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی حقیقت
”سچی بات یہ ہے جب مسیح نے ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشا تو اس ملک میں خدا نے ان کو بہت عزت دی...... حال ہی میں ایک سکہ ملا ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام درج ہے۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آ کر شاہانہ عزت پائی۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ۵۳ خزائن ج ۱۵ ص ۵۳)
ناظرین! مرزا قادیانی کے اس بیان کو ایجاد مرزا کہنا ہی زیادہ زیبا ہے کیونکہ یہ سب کچھ مرزا قادیانی کا اپنا تخیل اور اپنے عجیب و غریب دماغ کی پیداوار ہے۔ قرآن حدیث، تفاسیر، مجددین، انجیل اور کتب تواریخ یکسر اس بیان کی تصدیق اور تائید سے خالی ہیں۔ تینوں آسمانی مذاہب اسلام، یہودیت، مسیحیت کوئی اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بھی وجیہاً فی الدنیا کی تفسیر دنیوی جاہ و جلال اور بادشاہت سے کرتے ہیں۔ کوئی قادیانی حضرات سے دریافت کرے کہ علاقہ ہیرودیس میں مسیح علیہ السلام ساڑھے تینتیس برس تک رہے اور بغیر وجاہت دنیوی عزت کے رہے۔ دنیوی جاہ و جلال سے بھی عاری رہے۔ باوجود اس کے اس زمانہ میں جو انجیل نازل ہوئی۔ اس کے نام پر انجیل موجود ہے اور ساڑھے تینتیس سال کے حالات سے ساری انجیلیں بھری پڑی ہیں۔ اگر آپ کے بیان میں ذرہ بھر بھی صداقت کا نام ہو تو پنجاب میں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے شاہانہ عزت پائی۔ اس زمانہ کے حالات کہاں درج ہیں؟ آپ کے خیال میں واقعہ صلیبی کے ۸۷ برس بعد تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام
زندہ رہے۔ اس علاقہ میں آپ نے جس انجیل کی تعلیم دی۔ وہ کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ بلکہ آپ کا بیان اگر صحیح مان لیا جائے۔ یعنی صلیب کے واقعہ کے ۸۷ برس بعد تک حضرت مسیح گمنامی کی زندگی بسر کر کے کشمیر میں فوت ہو گئے تو کیا یہ بھی کوئی دنیوی وجاہت اور عزت ہے کہ جلاوطنی اور مسافری کے مصائب و آلام برداشت کر کے آخر ۸۷ برس کے بعد بے نام ونشان فوت ہو گئے؟ سبحان اللہ کہ اتنی بڑی وجاہت کے باوجود اوراق تاریخ ان کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ طرفہ تر یہ کہ تواریخ کشمیر پر یہ الہامی ضمیمہ کسی طرح چسپاں نہیں ہو سکتا۔ بینوا توجروا۔
لیجئے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وجیہاً فی الدنیا کا مطلب کیا ہے۔ لیجئے وجیہاً فی الدنیا کی بشارت و وعدہ کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔“ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ (مفصل دیکھو اسی آیت کی ذیل میں)
رسول کریم ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا حال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔ ”عن ابی ہریرة قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب و یفیض المال حتّی لا یقبلہ احد و تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرةؓ فاقروا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔ (بخاری و مسلم) ”ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم عنقریب ابن مریم علیہ السلام تم میں اتریں گے حاکم عادل ہو کر۔ پھر وہ صلیب (عیسائیوں کے نشان مذہب) کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرا دیں گے اور بوجہ غلبہ اسلام جہاد کو موقوف کر دیں گے (یعنی جب کفار ہی نہ رہیں گے تو جہاد کس سے کریں گے لہذا شروع میں جہاد ضرور کریں گے) اور مال اتنا فراوان ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ ساری دنیا کی نعمتوں سے اچھا ہو گا۔ پھر ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم (اس کی تصدیق کلام اللہ سے) چاہو۔ تو پڑھو آیت وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِه قَبْلَ مَوْتِه.“
دیکھئے ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی بشارت حضرت مریم علیہا السلام کو دی جا رہی ہے اور جو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ بہر حال قادیانی مسلمات کی رو سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیوی وجاہت سے بالکل محروم رہے۔ حالانکہ قادر مطلق خدا کا سچا وعدہ ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔
تصدیق از مرزا قادیانی
حضرات! مرزا قادیانی کو جس زمانہ میں ابھی مسیح ، عیسیٰ علیہ السلام، ابن مریم، بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ تو اس زمانہ میں ان کا بھی وہی عقیدہ تھا۔ جو ایک ارب چالیس کروڑ مسلمانانِ عالم کا چودہ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔ براہین احمدیہ اپنی الہامی کتاب میں مجدد و محدث کا دعویٰ کرنے کے بعد یوں لکھتے ہیں ۔
” هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ “ ” یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ “ (براہین احمدیہ ص ۴۹۹، ۴۹۸ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)
” عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَّرْحَمَكُمْ عَلَيْكُمْ إِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا...... یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے....... تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لیے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج و ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلّی قہری سے نیست و نابود کر دے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ۵۰۵ خزائن ج ۱ ص ۶۰۱ ، ۶۰۲)
ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت مریم علیہا السلام کو توجہ دلا رہے ہیں چونکہ ابھی تک یہ وجاہت حضرت مسیح علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک دنیا میں نازل بھی نہیں ہوئے اور بقول مرزا ” نزول جسمانی رفع جسمانی کی فرع ہے۔ “ (ازالہ ص ۲۶۹ خزائن ج ۳ ص ۲۳۶) اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (فداہ ابی و امی روحی و جسدی و اولادی) کا رفع بھی ثابت ہو گیا۔
(فلحمد للہ علی ذالک)
حیات مسیح علیہ السلام کی آٹھویں دلیل
وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيْلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ. (سورۃ مائدہ ۱۱۰) ”اور جب سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت
باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی صورت۔“
وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ.
(سوره آل عمران ۴۸)
قرآن مجید میں جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کے لیے یعلمہم الکتاب والحکمة کا لفظ آیا ہے۔ امت کے اجماعی فہم قرآن کے مطابق الکتاب والحکمة سے مراد قرآن و سنت ہے۔ اب سورہ مائدہ آیت ۱۱۰ اور ال عمران کی آیت ۴۸ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی جہاں تورات و انجیل کے علم دیے جانے کا ذکر ہے وہاں الکتاب والحکمة سے مراد بھی قرآن و سنت کا علم دیا جانا مذکور ہو تو یہ نہ صرف قرین قیاس بلکہ قرآن کی قرآنی تفسیر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ الکتاب والحکمة معرفہ ہے۔ بدیں وجہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر یحکم بشرعنا لا بشرعہ (الیواقیت) یہلک الملل کلها الا ملة الاسلام (حدیث) کے مطابق قرآن و سنت کا ان کو علم دیا جائے گا۔ وہ کسی سے قرآن و سنت کا علم حاصل نہیں کریں گے بلکہ قرآن و سنت کا علم بذریعہ الہام و القاء منجانب اللہ ان کو عطا کیا جائے گا۔ اس لحاظ سے مذکورہ بالا آیات سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول کی دلیلیں قرار پائیں گی۔ یہ صرف ہماری رائے نہیں بلکہ قدیم مفسرین نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ۔
- تفسيری شواہد..... ۱ علامہ خازن نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر خازن میں الحکمة يعنى
العلم والسنة و احکام الشرائع لکھا ہے۔
(خازن ج ۱ ص ۲۵۱)
- ۲...... علامہ زمحشری نے کشاف ج ۱ ص ۲۹۱ پر الکتاب والحکمة کے تحت لان المراد
بھما جنس الكتاب والحکمة لکھا ہے۔
- ۳..... تفسیر ابی السعود اور روح المعانی میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔
- ۴..... علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنی تفسیر عثمانی میں لکھا ہے۔ ”یعنی لکھنا سکھائے گا۔ یا عام
کتب ہدایت کا عموماً اور تورات و انجیل کا خصوصاً علم عطا فرمائے گا اور بڑی گہری حکمت کی باتیں تلقین کرے گا اور بندہ کے خیال میں ممکن ہے کتاب وحکمت سے مراد قرآن و سنت ہو کیونکہ حضرت مسیح ؑ نزول کے بعد قرآن و سنت رسول اللہ کے موافق حکم کریں گے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم دیا جائے۔ واللہ اعلم۔“
- ۵..... معالم العرفان ج ۳ ص ۱۶۶ پر ہے ”ويعلمه الكتاب والحکمة اور اللہ تعالٰی
اسے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حکمت سکھائے گا۔ عام مفسرین کرام کتاب سے مراد لکھنا لیتے ہیں اور حکمت سے دانائی۔ مگر بہت سے دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ کتاب
سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔ مسلم شریف میں امام ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ جب مسیح علیہ السلام دنیا میں دوبارہ نازل ہوں گے تو وہ کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن و سنت کا علم بھی بلاواسطہ دیں گے آپ کسی استاد سے نہ تفسیر پڑھیں گے اور نہ سنت سیکھیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چیزیں خود بخود سکھائے گا۔‘‘
٦...... مسلم شریف ج ۱ ص ۸۷ پر مستقل باب ہے جس کا عنوان ہے۔ ”باب نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام حاكماً بشريعة نبيناﷺ۔“ باب نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے بارہ میں (جب وہ نازل ہوں گے) تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت (کتاب وسنت) کے مطابق فیصلہ کرنے والے ہوں گے۔‘‘
۷...... مسلم شریف ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام میں حضرت ابو ہریرہؓ سے دو روایتیں ہیں۔ ۱...... کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم. ’’عیسٰی علیہ السلام امت محمدیہ میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام (حضرت مہدی) تم میں سے ہوگا۔ اس میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مہدیؓ کی دو علیحدہ علیحدہ شخصیات کا تذکرہ ہے۔‘‘ ۲...... دوسری روایت میں ہے کہ کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم فامکم. ’’عیسٰی علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے اور وہ تمھارے امام ہوں گے۔‘‘
اس روایت کی شرح میں حضرت امام مسلمؒ ایک روایت لائے ہیں۔ ”قال ابن ابی ذئب تدری ما امکم منکم قلت تخبرنی قال فامکم بکتاب ربکم عزوجل و سنة نبیكم ﷺ۔“ (مسلم ج ۱ ص ۸۷) ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ وہ کس چیز پر تمہاری رہنمائی کریں گے۔ میں (راوی) نے کہا کہ آپ فرمائیں۔ فرمایا کہ وہ اللہ رب العزت کی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق رہنمائی فرمائیں گے۔
حیات مسیح علیہ السلام کی نویں دلیل
یکلم الناس فی المہد و کہلا ومن الصالحین. (آل عمران ۴۶) ’’اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب کہ ماں کی گود میں ہوگا اور جب ادھیڑ عمر کا ہوگا اور نیک بختوں میں سے۔‘‘
سیدہ مریم علیہا السلام کو جب بشارت دی گئی تو مسیح علیہ السلام کی دیگر خصوصیات کے ساتھ اس خصوصیت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔ اسی طرح جب قیامت
کے دن مسیح علیہ السلام سے حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے آپ پر یہ احسان کیے تو دیگر انعامات کے علاوہ تكلم الناس في المهد وكهلا (مائدہ آیت ۱۱۰) تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں‘‘ اس کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرمائیں گے۔
تفسیری شواہد.....۱ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ”معارف القرآن ج ۲ ص ۴۳۴ پر لکھتے ہیں۔
”اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک صفت یہ بھی بتلائی ہے کہ وہ بچپن کے گہوارے میں جب کوئی بچہ کلام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس حالت میں بھی کلام کریں گے، جیسا کہ دوسری آیت میں مذکور ہے کہ جب لوگوں نے ابتداء ولادت کے بعد حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت کی بناء پر طعن کیا، تو یہ نومولود بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے، اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ الخ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جب وہ ”کہل“ یعنی ادھیڑ عمر کے ہوں گے، اس وقت بھی لوگوں سے کلام کریں گے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بچپن کی حالت میں کلام کرنا تو ایک معجزہ اور نشانی تھی اس کا ذکر تو اس جگہ کرنا مناسب ہے مگر ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرنا تو ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان مومن کافر، عالم، جاہل کیا ہی کرتا ہے، یہاں اس کو بطور وصف خاص ذکر کرنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر سے سمجھ میں آیا، کہ مقصد اصل میں حالت بچپن ہی کے کلام کا بیان کرنا ہے، اس کے ساتھ بڑی عمر کے کلام کا ذکر اس غرض سے کیا گیا کہ ان کا بچپن کا کلام بھی ایسا نہیں ہوگا جیسے بچے ابتداء میں بولا کرتے ہیں بلکہ عاقلانہ، عالمانہ، فصیح و بلیغ کلام ہوگا، جیسے ادھیڑ عمر کے آدمی کیا کرتے ہیں، اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ اور اس کی پوری تاریخ پر غور کیا جائے تو اس جگہ ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا تذکرہ ایک مستقل عظیم فائدہ کے لیے ہو جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی اور قرآنی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ روایات سے یہ ثابت ہے کہ ان کو اٹھانے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر تقریباً تینتیس سال کے درمیان تھی جو عین عنفوان شباب کا زمانہ تھا، ادھیڑ عمر جس کو عربی میں کہل کہتے ہیں، وہ اس دنیا میں ان کی ہوئی ہی نہ تھی، اس لیے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام جبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں، اس لیے جس طرح ان کا بچپن کا کلام معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر کا کلام بھی معجزہ ہی ہے۔“
۲...... علامہ ابن جریر طبری فرماتے ہیں۔ معنی قولہ و کهلا انه سيكلمهم اذا ظهر. عیسیٰ علیہ السلام کا جب نزول ہوگا اس وقت بھی کلام فرمائیں گے۔ اسی کے آگے ابن
زیدؓ کا اثر لائے ہیں۔ قد كلمهم عيسى فى المهد و سيكلم اذا قتل الدجال وهو يومئذ كهل (ابن جرير جز ۳ ص ۲۷۲ ۔ ۲۷۳) ”عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں سے پنگھوڑے میں باتیں کیں۔ اسی طرح جب قتل دجال (نزول کے بعد) کریں گے اس وقت بھی باتیں کریں گے۔ اس وقت وہ ادھیڑ عمر کے ہوں گے۔“ یعنی اتنا لمبا عرصہ مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔
- ۳...... علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے بھی حضرت زیدؓ کے اسی اثر کو نقل فرمایا ہے۔ قد
كلمهم عيسى عليه السلام فى المهد و سيكلم اذا اقبل الدجال وهو يومئذ كهل. (درمنثور ج ۲ ص ۲۵) ”عیسیٰ علیہ السلام نے پنگھوڑے میں جس طرح باتیں کیں۔ اسی طرح دجال کے مقابل (نزول کے بعد) جب آئیں گے ادھیڑ عمر کے ہوں گے اور باتیں کریں گے۔“
- ۴...... علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں۔ وعلى ماذكر فى سن الكهولة يراد بتكليمه عليه
السلام كهلا تكليمه لهم كذالك بعد نزوله من السماء. ”ادھیڑ عمر سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا ادھیڑ عمر میں اس وقت باتیں کرنا ہے جب وہ آسمانوں سے نازل ہوں گے۔“ پھر وہی مذکورہ ابن جریر کے مذکورہ اثر کو اس کی تائید میں ذکر کیا ہے۔
(روح المعانی جز ۳ ص ۱۴۵)
- ۵...... حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ فرماتے ہیں۔ وفيه اشارة الى رفعه يعمر ولا
يموت حتى يكهل والى ان سنه لا يتجاوز الكهولة قال الحسن بن فضل و كهلا يعنى بعد نزوله من السماء فانه رفع الى السماء قبل سن الكهولة (مظہری ج ۳ ص ۵۰) ”اس (وکھلا) میں اشارہ ہے کہ وہ طویل عمر پائیں گے۔ حتی کہ ادھیڑ عمر اور (مرور زمانہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا) ان کی عمر (یعنی جیسے قبل از رفع تھے ویسے بعد النزول) کہولت سے تجاوز نہ کرے گی۔ حسن بن فضل فرماتے ہیں کہ کہولت (کی باتوں سے مراد) ان کا آسمانوں سے نازل ہونے کے بعد باتیں کرنا ہے۔ اس لیے کہ وہ کہولت سے قبل آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں۔“
- ۶...... علامہ علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی المعروف بالخازن فرماتے ہیں۔ عن الحسن بن
الفضل و كهلا يعنى ويكلم الناس كهلا بعد نزوله من السماء. ”حسن بن فضل سے روایت ہے کہ کہولت یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا یہ آسمانوں سے نزول کے بعد ہوگا۔“ وفى هذه نص على انه سينزل من السماء الى الارض و يقتل
الدجال (تفسیر خازن ج ۲ ص ۴۵۰) ”اور یہ نص (صریح قطعی) ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے زمین پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔“
- ۷....... حضرت فراء بغویؒ نے مذکورہ تفسیر نقل فرمائی ہے۔ (معالم التنزیل ج ۱ ص ۱۵۹)
- ۸....... علامہ رازیؒ فرماتے ہیں۔ کھلا ان یکون کھلا بعد ان ینزل من السماء فی
آخر الزمان و یکلم الناس و یقتل الدجال قال الحسن بن الفضل و فی ھذہ الآیۃ نص فی انہ علیہ الصلوۃ والسلام سینزل الی الارض ”کھلاً سے مراد وہ ادھیڑ عمر ہے جو ان کے آسمانوں سے زمانہ نزول میں (قربِ قیامت) میں ہوگی کہ وہ لوگوں سے باتیں کریں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ حسن بن فضل اس آیت کو عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر نازل ہونے کے لیے نص (قطعی) قرار دیتے ہیں۔“ (تفسیر کبیر ج ۸ ص ۵۵)
- ۹....... ابو السعود العمادیؒ فرماتے ہیں۔ انہ رفع شابا والمراد کھلاً بعد نزولہ.
(تفسیر ابو السعود ج ۲ ص ۲۷۳)
- ۱۰....... تفسیر جلالین میں ہے۔ فی المھد ای طفلا وکھلا یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ
رفع قبل الکھولۃ.
(جلالین المائدہ ص ۱۱۰)
- ۱۱....... تفسیر جامع البیان پ ۷ ص ۴۸ پر اس آیت کے تحت میں مذکور ہے ”کیونکہ وہ سن
کہولت سے پہلے آسمان کو اٹھائے گئے اور قیامت سے کچھ پہلے اتارے جائیں گے تو اس قدر زمانہ دراز کے باوجود اس عالم میں ان کو کچھ تغیر نہ ہوگا بلکہ وہی سن کہولت کے ہوگا ..... یہاں (اس آیت) سے نکلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اقتضاء النص سے ثابت ہے۔“
- ۱۲....... محمد ادریس کاندھلویؒ اپنی تفسیر معارف القرآن ج ۲ ص ۱۵۲ پر فرماتے ہیں ”لفظ
کھلاً میں آپ کے نزول من السماء کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل احادیث میں آئی ہے۔ اس لیے کہ آپ زمانہ کہولت سے پہلے آسمان کو اٹھائے گئے، نزول کے بعد آپ کہولت کو پہنچیں گے اور حکمت وموعظت کی باتیں لوگوں کو بتلائیں گے۔“
حیات مسیح علیہ السلام کی دسویں دلیل
هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ولو کرہ المشرکون. (توبہ ۳۳) ”اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا مانیں مشرک“ بعینہٖ اسی طرح یہی آیت
سورۃ صف آیت ۸ میں ہے اس میں بجائے مشرکوں کے کافرون ہے۔ تفسیر انوار البیان ج ۴ ص ۲۶۶۔ ۲۶۷ پر غالب ہونے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ۱...... دلیل و حجت کے ساتھ غلبہ یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ۲...... اسلام کے غالب ہونے کی یہ صورت کہ مسلمان اقتدار کے اعتبار سے غالب ہوں...... جب صرف تین براعظم دنیا میں معروف تھے تو قیصر و کسریٰ۔ ایشیا و افریقہ یورپ پر مسلمان غالب رہے۔ اس وقت بھی دنیا کے بڑے حصہ پر مسلمان برسراقتدار ہیں ، ۳...... تیسری صورت کہ تمام اقوام جو مختلف ادیان کے ماننے والے ہیں۔ مسلمان ہو جائیں اور دنیا میں اسلام ہی اسلام ہو ایسا قیامت سے پہلے ضرور ہوگا۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی علیہما السلام کے زمانہ میں اسلام خوب پھیل جائے گا۔" (ملخص) دونوں مقامات پر ان آیات سے قبل کی آیات میں سیدنا مسیح علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات کو سیدنا مسیح علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری سے متعلق قرار دیا ہے۔
تفسیر نبوی ﷺ اس آیت سراپا انعام و ہدایت میں دین اسلام کو جملہ دینوں پر ایک نمایاں غلبہ دینے کا وعدہ دیا ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ یہ غلبہ کاملہ حضرت مسیح ابن مریم کے نزول کے زمانہ میں ہوگا وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ يَقُوْلُ لَا يَذْهَبُ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتّٰى يُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰى فَقُلْتُ يَارَسُوْلَ اللّٰهِ اِنِّی كُنْتُ لَاَ ظُنُّ حِيْنَ اَنْزَلَ اللّٰهُ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى الْآيَةِ اَنَّ ذٰالِكَ تَامًّا فَقَالَ اِنَّهٗ سَيَكُوْنُ مِنْ ذٰالِكَ مَاشَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللّٰهُ رِيْحًا طَيِّبَةً فَتُوَفّٰى كُلُّ مَنْ كَانَ فِیْ قَلْبِهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ اِيْمَانٍ۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے قیامت قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ بت پرستی کا دوبارہ زور شور نہ ہو۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں تو جب آیت هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ نازل ہوئی اس وقت سمجھ چکی تھی کہ دین کا غلبہ پورا ہو چکا۔ فرمایا تحقیق بات یہ ہے کہ اس کا غلبہ عنقریب پھر ہوگا جتنا عرصہ اللہ چاہے گا (مسیح ابن مریم کے زمانہ میں نزول کے بعد) پھر خدا ایک پاک ہوا بھیجے گا جس سے ہر وہ مومن جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر ایمان ہوگا مر جائے گا۔ فَيَبْقٰى مَنْ لَّا خَيْرَ فِيْهِ فَيَرْجِعُوْنَ اِلٰى دِيْنِ اَبَائِهِمْ پس باقی رہ جائیں گے ایسے شخص جن میں ذرہ بھر بھی بھلائی نہ ہوگی پس وہ جھک جائیں گے اپنے آبائی دین بت پرستی کی طرف۔ (مسلم ج ۲ ص ۳۹۴ کتاب الفتن و اشراط الساعۃ مشکوۃ ص ۴۸۱ باب لا تقوم الساعۃ الا علیٰ شرار الناس فصل اول، درمنثور ج ۳ ص ۲۳۰)
اسی باب کی دوسری حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ خدا عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا پھر سات سال مسلمانوں پر ایسے آئیں گے کہ کسی دل میں رنج و بغض ، حسد و عداوت نہ ہوگا پھر خدا ایک پاک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کو قبض کر لے گی اور باقی رہ جائیں گے شریر تب ان پر قیامت قائم ہوگی۔
(عن عبداللہ بن عمرؓ مشکوۃ ص ۴۸۱ مسلم ج ۱ ص ۴۰۳)
الغرض اس آیت کی تفسیر حدیث سے عیاں ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ ہیں جو آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ سے دین اسلام جملہ مذاہب پر پھر غلبہ حاصل کرے گا۔
- تفسیری شواہد......۱ علامہ عثمانی سورۃ صف آیت ۸ کے فائدہ میں فرماتے ہیں۔
”اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے۔ یہ تو ہر زمانہ میں بحمداللہ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا جبکہ مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان وتقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کر کے بالکل صفحہ ہستی سے محو کر دے، یہ نزول مسیح علیہ السلام کے بعد قریب قیامت کے ہونے والا ہے۔“
- ۲...... علامہ رازیؒ تفسیر کبیر جزء ۱۶ ص ۴۰ پر غلبہ دین اسلام کا جمیع ادیان پر کیسے؟ کے کئی
جواب دیے۔ دوسرے جواب میں فرماتے ہیں۔ ”الوجہ الثانی فی الجواب ان نقول روی عن ابی ھریرۃ بانہ تعالیٰ یجعل الاسلام عالیا علی جمیع الادیان و تمام ھذا انما یحصل عند خروج عیسیٰ“ دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو تمام دینوں پر بلندی نصیب کریں گے۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر ہوگا۔“
- ۳...... تفسیر ابن عباسؓ ص ۱۲۱ پر ہے۔ یظھر دین الاسلام علی الادیان کلھا من قبل ان
تقوم الساعۃ۔ (تمام ادیان پر غلبہ قیامت سے قبل نزول مسیح علیہ السلام کے وقت)
- ۴...... درمنثور ج ۳ ص ۲۳۱ پر ایک تو وہ روایت عائشہؓ نقل کی گئی ہے جو اس آیت کی
تشریح میں ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔ ۲...... دوسرے حضرت جابرؓ کی روایت نقل کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہ غلبہ ہوگا۔ ۳...... اسی طرح تیسری روایت عبد بن حمیدؒ سے حضرت ابو ہریرہؓ کی نقل ہے۔ ”عن ابی ھریرۃ فی قولہ لیظھرہ علی الدین کلہ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام“ تمام ادیان پر دین اسلام کا غلبہ عیسیٰ علیہ السلام کی
تشریف آوری پر ہوگا۔
- ۵...... علامہ آلوسی روح المعانی پارہ ۲۸ ص ۸۸ پر لکھتے ہیں۔ ”عن مجاہد اذا نزل
عیسیٰ علیہ السلام لم یکن فی الارض الا دین الاسلام“ حضرت مجاہدؒ سے منقول ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو روئے زمین پر دین اسلام کے سوا کوئی (دین) نہ ہوگا۔“
- ۶...... روح المعانی پارہ ۱۰ ص ۷۷ پر ایک قول نقل کر کے فیصلہ فرماتے ہیں ”واکثر
المفسرون علی احتمال الثانی قالوا و ذالک عند نزول عیسیٰ علیہ السلام فانہ حینئذ لا یبقی دین سوی دین الاسلام“ اکثر مفسرین دوسرے قول کے مطابق فرماتے ہیں کہ (غلبہ اسلام) نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوگا پس اس وقت سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا۔“
- ۷...... تفسیر مظہری پارہ ۱۰ ص ۲۶۰ پر حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ضحاکؒ، حضرت عائشہؓ سے
دین اسلام کا غلبہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں لکھا ہے۔
- ۸...... تفسیر کشاف سورۃ صف کی آیت بالا میں مذکور ہے ”عن مجاہد اذا نزل عیسیٰ علیہ
السلام لم یکن فی الارض الا دین الاسلام“ حضرت مجاہدؒ سے منقول ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو روئے زمین پر صرف اور صرف اسلام ہی ہوگا۔“
- ۹...... تفسیر طبری جز ۲۸ ص ۸۸ پر ہے۔ ”لیظہر الدین دینہ الحق الذی ارسل بہ
رسولہ علی کل دین سواہ۔ و ذالک عند نزول عیسیٰ بن مریم حین تصیر الملۃ واحدۃ فلا یکون دین غیر الاسلام“ ”تاکہ غالب کریں دین حق کو جو آنحضرت رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ تمام دوسرے مذاہب پر اور یہ عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت ہوگا جبکہ ایک ملت (اسلام) ہو جائے گی۔ دین اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہ رہے گا۔“
- ۱۰...... طبری جز ۱۰ ص ۱۱۶ پر بھی عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت غلبہ دین اسلام ہوگا۔
منقول ہے۔
- ۱۱...... تفسیر ابن کثیر مع البغوی ص ۱۵۲ سورۃ توبہ کی مذکورہ آیت کے تحت تمام احادیث
متعلقہ نقل کر کے سب کے آخر میں قول فیصل کے طور پر سیدہ عائشہؓ کی مذکورہ بالا روایت نقل کی گئی ہے۔ فالحمدللہ۔
- ۱۲...... تفسیر معالم التنزیل سورۃ توبہ کی آیت مذکورہ کے تحت ص ۷۴ پر حضرت ضحاک
حضرت ابوہریرہ حضرت عائشہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم سے آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا تفسیر نقل کی گئی ہے۔
- ۱۳....... تفسیر خازن ج ۳ ص ۶۹ پر بھی اس طرح منقول ہے۔
- ۱۴....... تفسیر مواہب الرحمٰن پ ۲۸ ص ۳۱۷ پر اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن
سلام صحابیؓ رسول ﷺ کی تورات کے حوالہ سے یہ روایت نقل فرمائی کہ ”تورات میں آنحضرت ﷺ کی تعریف مذکور ہے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس دفن ہوں گے“
- ۱۵....... بیان القرآن پ ۲۸ ص ۳ پر بھی حضرت عبداللہ بن سلام کی یہی روایت منقول
ہے اور سورۃ توبہ کی آیت کی تفسیر میں ص ۱۰۸ پر منقول ہے۔ ”اتمام بمعنی اثبات وتقویت دلائل تو اسلام کے لیے ہر زمانہ میں عام ہے ... اور (اتمام) مع اعتبار انضمام سلطنت مشروط ہے۔ اصلاح اہل دین کے ساتھ اور مع محو کل بقیہ ادیان واقع ہوگا زمانہ عیسیٰ علیہ السلام میں۔ (باقی تفسیری شواہد طوالت کے خوف سے نقل نہیں کیے)
قادیانی شہادت اس کی مزید تائید مرزا قادیانی کی تحریر سے کی جاتی ہے۔
(براہین احمدیہ ۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) پر مرزا لکھتا ہے۔
”هو الذی ارسل رسوله بالھدی و دین الحق یظهره علی الدین کله یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح ؑ کے حق میں یہ پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔“
سوال مرزا قادیانی کے مرید کہتے ہیں کہ یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔
جواب مرزا نے براہین کو ملہم و مامور ہو کر لکھا۔ قرآنی آیت سے استدلال کیا اور بقول اس کے یہ کتاب براہین احمدیہ، حضور علیہ السلام کو دکھا کر منظوری حاصل کی اور یہ کہ یہ کتاب قطبی یعنی قطب ستارہ کی مانند ہے۔ مرزا نے تتمہ حقیقت الوحی ص ۵۱ خزائن ج ۲۲ ص ۴۸۵ پر لکھا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے ”گویا براہین احمدیہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کا یہ عذر، عذر لنگ ہے
جواب .....۲ عبارت مذکورہ میں ہے ”لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے.....“
والا کون تھا؟ رحمٰن یا شیطان۔ اگر رحمٰن تھا تو پھر قرآنی تفسیر سے رحمانی فہم کے ساتھ مرزا ممات مسیح علیہ السلام تسلیم کر رہا ہے فھوالمقصود اور اگر یہ ظاہر کرنے والا شیطان تھا تو قادیانیوں کو مبارک ہو۔ قصہ ہی تمام ھوا فما ذا بعد الحق الا الضلال.
حیات مسیح علیہ السلام کی گیارھویں دلیل
اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ. (سورۃ بقرہ آیت نمبر ۲۵۳) ”ہم نے مسیح کو جبرائیل کے ساتھ تائید دی۔“
جو مدعا بالا کی مؤید ہے یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بوقت محصوری آسمان پر لے جانے کو حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے جیسا کہ سابقاً بروایت ابن عباسؓ جن کو ”علم قرآن بدعا نبوی ﷺ حاصل تھا“ مذکور ہو چکا ہے۔ اسی کی طرف قرآن مجید میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے کہ اگرچہ تمام انبیاء کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آتے رہے۔ مگر اس طرح کا واقعہ کسی نبی کے ساتھ پیش نہیں آیا جیسا مسیح علیہ السلام کے ساتھ، یعنی یہ کہ جبرائیل علیہ السلام انھیں دشمنوں کے نرغے سے نکال کر آسمان پر لے گئے ہوں یہی وجہ ہے کہ خاص مسیح علیہ السلام کے متعلق آیات میں بار بار آیا ہے۔ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ. ”ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ تائید دی۔“
اسی طرح خدا تعالیٰ قیامت کے دن مسیح علیہ السلام کو یہ انعام یاد دلائے گا۔ اِذْ اَیَّدْتُكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (مائدہ ۱۱۰) ”اے عیسیٰ علیہ السلام وہ وقت یاد کر جب میں نے تجھے روح القدس سے تائید بخشی یعنی آسمان پر زندہ اٹھا.............“ تفسیر ہٰذا۔
(تفسیر کبیر ج ۱ ص ۴۲۶)
آیات بالا کی موجودگی میں یہ اعتقاد رکھنا کہ معاذ اللہ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیا اور آپ کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونکیں۔ ایک صریح گندہ اور کفریہ عقیدہ ہے۔ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام باعانت جبرائیل علیہ السلام بحکم و بموجب وعدہ الٰہی جو جلد اور بلا توقف پورا ہونے والا تھا۔ یہود کے ہاتھوں میں مبتلائے آلام ہونے سے پیشتر زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اب چند آیات قرآنی ملاحظہ ہوں۔
وَ آتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرہ ۸۷) روح القدس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
وَ آتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقره ۲۵۳) روح القدس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
وَ كَلِمَةُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ (النساء ۱۷۱) اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح (مراد روح اللہ)
اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (المائدہ ۱۱۰) یاد کر میرا احسان جو ہوا ہے تجھ پر اور تیری ماں پر جب مدد کی میں نے تیری روح پاک سے۔ (مراد روح اللہ)
يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (النحل ۲) یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔
قُلْ نَزَّلَهُ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا. (النحل ۱۰۲) مراد جبرائیل علیہ السلام۔
وَيَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ (الاسراء ۸۵) اس سے مراد روح ہے۔
قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّيْ وَمَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلاً. (الاسراء ۸۵) اس سے مراد روح ہے۔
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ. (الشعراء ۱۹۳) مراد جبرائیل علیہ السلام۔
يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ الطَّلَاقِ. (غافر ۱۵) اس سے مراد وحی ہے۔
اُولٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ (المجادلہ ۲۲) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
وَالرُّوْحُ إِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (المعارج ۴) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰئِكَةُ صَفًّا. (النباء ۳۸) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
تَنَزَّلُ الْمَلٰئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ. (القدر ۴) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَا اِلَى رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا (الشوریٰ ۵۲) اس سے مراد فرشتے۔
فَاَرْسَلْنَا اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا. (مریم ۱۷) اس سے مراد
جبرائیل علیہ السلام) اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا . (الانبیاء، ۹۱) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔ وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا . (التحریم ۱۲) اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام۔
استدلال.......۱ قرآن مجید میں ۱۸ آیات سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں اللہ رب العزت نے روح کا لفظ ارشاد فرمایا ہے وہاں روح سے مراد جبرائیل امین علیہ السلام، فرشتے، وحی یا روح ہے ..... اور ظاہر ہے کہ ان تمام چیزوں کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ اللہ رب العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح منہ فرمایا یعنی روح اللہ فرمایا جس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام میں عالم بالا کی طرف آنے جانے کی صلاحیت و خاصیت موجود ہے۔
استدلال......۲ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ نفخہ جبرائیل علیہ السلام سے اس لحاظ سے ان میں ملکوتی صفات ہیں۔ ملائکہ کا مستقر آسمان ہیں۔ ان کا زمین پر آنا جانا عارضی ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چونکہ سیدہ مریم علیہا السلام کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے۔ بشر ہیں۔ تو ان کا ملکوتی صفات کے لحاظ سے آسمانوں پر جانا عارضی ہے۔ غرض جب آسمان پر ہیں ملکوتی صفات کا ظہور ہے۔ رفع سے پہلے اور نزول کے بعد جب زمین پر تھے یا ہوں گے تو بشری صفات کا ظہور ہے۔
استدلال......۳ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ فرمایا گیا۔ تمام ارواح کا مستقر عالم سماوی ہے۔ اس لیے کہ روح لطیف چیز ہے اور ہر لطیف کا مرکز عالم سماوی ہے، جیسا کہ ہر کثیف چیز کا مرکز عالم دنیا ہے۔ روح اللہ کا تقاضہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام عالم سماوی پر بھی تشریف لے جاتے تا کہ روح اللہ کا منشاء پورا ہوتا۔ اس لیے اگر وہ آسمانوں پر نہ جاتے تو جائے تعجب ہوتا ان کا جانا تو عین تقاضہ و منشاء کی تکمیل ہے۔
استدلال.......۴ کلمۃ اللہ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہا گیا۔ دوسری آیت کریمہ ہے۔ الیہ یصعد الکلم الطیب . (فاطر ۱۰) اللہ تعالیٰ کی طرف نیک کلمات اٹھائے جاتے ہیں۔ مسلمان مؤمن کے نیک کلمات اٹھائے جاتے ہیں، ان کا رفع ہوتا ہے، تو کلمۃ اللہ (عیسیٰ علیہ السلام) کے رفع میں کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع نہ ہوتا تو جائے اشکال تھا۔ رفع تو عین تقاضہ و منشاء کی تکمیل ہے۔
تفسیری شواہد ١.... درمنثور ج ۲ ص ۳۴۵ پر اذ ايدنک بروح القدس کے تحت علامہ سیوطیؒ وہب کی روایت لاتے ہیں جس میں ہے۔ فقال لما رفع الله عيسى عليه السلام اقامه بين يدی جبرائیل و میکائیل
٢.... علامہ رازی اپنی تفسیر کبیر جزء ۱۲ ص ۱۳۵ زیر آیت اذ ايدنک بروح القدس فرماتے ہیں ”فالله تعالى خص عيسى بالروح الطاهره النورانيه المشرقة العلويه الخيرة“ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو خاص طور پر پاک نورانی درخشندہ علویہ اور پسندیدہ روح سے مختص فرمایا۔“ یہاں روح علویہ خصوصیت سے قابل توجہ ہے۔
٣...... علامہ رازی اپنی تفسیر کبیر جزء ۶ ص ۲۱۷ ایدناہ بروح القدس کے تحت فرماتے ہیں ۔”والمعنی اعانه جبرائیل علیه السلام في اول امره وفى وسطه و في آخره اما في اوّل الامر فلقوله فنفخنا فيه من روحنا اما في وسطه فلأن جبرائیل عليه السلام علمه العلوم وحفظه من الاعداء. واما في آخر الامر فحين ارادت اليهود قتله اعانه جبرائیل علیه السلام و رفعه الى السماء.“ ”تائید جبرائیل علیہ السلام کا معنی یہ ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اوّل ، درمیان اور آخر، ہر دور میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تائید میں رہے۔ اوّل اس طرح کہ نفخہ جبرائیل سے پیدائش ہوئی۔ درمیان اس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کو علوم سکھلائے اور دشمنوں سے حفاظت کی۔ آخر اس طرح کہ جب یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کی تائید کی کہ ان کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔“
۴...... علامہ زمحشری اپنی تفسیر کشاف ج ۱ ص ۲۹۹ پر ان آیات کے تحت میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ ہم (صحابہؓ) مسجد میں انبیاء کے فضائل پر بات کر رہے تھے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی فضیلت طول عبادت (بوجہ طوالت عمر) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ وہ خلیل اللہ تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ وہ کلیم اللہ تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت یہ کہ ان کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔“ الخ۔ اس روایت کو اس آیت کے تحت میں لا کر علامہ زمحشریؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہؓ یہ سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔
۵...... تفسیر خازن ج ۱ ص ۱۹۴ زیر آیت ایدناہ بروح القدس لکھتے ہیں ”وقويناه بجبرائیل عليه السلام فكان معه الى ان رفعه الى عنان السماء“ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کو تائید بخشی کہ جبرائیل علیہ السلام ان کو آسمانوں پر اٹھا کر
لے گئے ۔“
- ۶۔ تفسیر انوار البیان ج ۶ ص ۱۸۶ زیر آیت ”فنفخنا فیھا من روحنا“ لکھتے ہیں۔
”اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بھیجا جس نے ان (مریم علیھا السلام) کے کرتہ کے دامن میں پھونک مار دی۔ اس سے حمل قرار ہو گیا اور اس کے بعد لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تھے جو بنی اسرائیل کے سب سے آخری نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی اور انھوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی اور شریعت کے احکام بتائے۔ بنی اسرائیل ان کے سخت مخالف ہو گئے اور ان کے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمان پر اٹھا لیا۔ قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے جیسا کہ احادیث شریفہ میں وارد ہے۔“
حیات عیسیٰ علیہ السلام کی بارھویں دلیل
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّيَّةً (الرعد ۳۸)
”اور بھیج چکے ہیں ہم کتنے رسول تجھ سے پہلے اور ہم نے دی تھی ان کو بیویاں اور اولاد۔“
حضور نبی کریم ﷺ پر کفار مکہ جیسے ابن امیہ و ابی جہل (معالم) کی طرف سے اعتراض ہوا کہ یہ کھاتے پیتے بازاروں میں چلتے اور نکاح کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی بھی تو تمام معاشرت انسانوں جیسی تھی۔ جب ان کی نبوت مسلم ہے اور ان انسانی افعال سے ان کی نبوت پر تم معترض نہیں تو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراض کیوں؟
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ پہلے انبیاء علیہم السلام نے شادیاں کیں یہ توجہ کے قابل ہے۔ اس کے لیے ہمیں آنحضرت ﷺ کی احادیث کی طرف مراجعت کرنی چاہیے۔
تفسیر نبوی چنانچہ تفسیر در منثور ج ۴ ص ۶۵ پر مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد اور ترمذی کے حوالہ سے حضرت ابی ایوبؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں انبیاء علیہم السلام کی سنت ہیں۔ خوشبو، نکاح، مسواک، ختنہ، اس روایت کو تفسیر ابن کثیر نے اور دیگر مفسرین نے نقل کیا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۹۷ باب ۲۰۲ ماذکر فی السواک حدیث نمبر ۲۱)
مسند احمد ج ۵ ص ۴۲۱ (لیکن اس میں چوتھی چیز بجائے ختنہ کے حیاء ہے)
ترمذی ج ۱ ص ۲۰۶ ابواب النکاح پر یہ روایت موجود ہے۔ غرض اس روایت سے ثابت ہوا کہ نکاح کرنا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور آیت مبارکہ یہ بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے قبل بھی انبیاء علیہم السلام نے بتوفیق و بحکم الٰہی نکاح کیے اور ان کی اولاد ہوئی۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور نکاح
نصاریٰ، یہود اور خود قادیانیوں کو اعتراف ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے نکاح نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کی بد باطنی ملاحظہ ہو۔ شرافت سر پیٹ کر رہ جاتی ہے جب مرزا قادیانی سیدنا مسیح علیہ السلام کے نکاح نہ ہونے کے واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
”مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہجڑا ہونا کوئی اچھا صفت نہیں جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے تمتع اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“
(نور القرآن نمبر ۲ ص ۱۷ خزائن ج ۹ ص ۳۹۲)
سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق بڑے سے بڑے یہودی نے بھی یہ بکواس نہیں کی اور ان کے نکاح نہ کرنے کی یہ وجہ نہیں بتائی جو مرزا قادیانی ملعون نے بیان کی۔ لیکن بہرحال اس حوالہ سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے نکاح نہیں کیا۔ جب نکاح نہیں ہوا تو اولاد کا سوال ہی نہیں؟ لیکن اس کے باوجود اولاد نہ ہونے کا قادیانی حوالہ بھی ملاحظہ ہو۔
”ظاہر ہے کہ دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی آل نہ تھی۔“
(تریاق القلوب ص ۲۳۵ خزائن ج ۱۵ ص ۳۶۳)
استدلال قارئین! مرزا قادیانی کے دجل و بد زبانی پر لعنت بھیجیں۔ آیت قرآنی اور حدیث نبوی ﷺ کے بموجب توجہ فرمائیں کہ نکاح رب کریم کا حکم اور انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی پہلی زندگی (قبل از رفع) میں نکاح نہیں کیا تو اس حکم باری تعالیٰ اور سنت انبیاء علیہم السلام پر عمل ان کے نزول من السماء کے بعد ہوگا۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا عن ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہٗ (مشکوۃ ص ۳۸۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم۔ التصریح ص ۲۴۰۔ مرقات ج ۵ ص ۲۲۳۔ وفاء الوفاء للسمہودی ج ۱ ص ۵۵۸۔ شرح مواہب للزرقانی ج
۸ ص ۲۹۶۔ مواہب الدنیہ ج ۲ ص ۴۸۲) ”حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر تشریف لائیں گے تو شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔“ لیجئے اس حدیث شریف نے مذکورہ بالا آیت مبارکہ (شادی و اولاد) کے بموجب کہ حکم الٰہی اور سنت انبیاء علیہم السلام پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا عمل مبارک نزول من السماء کے بعد ہوگا۔ اس بحث کو ختم کرنے سے قبل ایک اور حوالہ پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا۔
”چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی کہ یتزوج ویولد لہٗ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷)
مرزا قادیانی نے اپنے دجل سے اس حدیث کو محمدی بیگم پر فٹ کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل کیا کہ وہ پوری نہ ہوئی۔ تاہم اس حدیث شریف (کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شادی کریں گے اولاد ہوگی) کی صحت مرزا قادیانی کے حوالہ بالا سے بھی ثابت ہوگئی۔ فھو المقصود (فلحمد للہ اوّلاً و آخرا)
(نوٹ) انبیاء علیہم السلام میں سے صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور سیدنا مسیح علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔ سیدنا یحییٰ ؑ کے متعلق نص قرآنی ہے (حصوراً) اس اعزاز کے باعث ان کا استثناء ہے۔ رہے سیدنا مسیح ؑ تو وہ نزول کے بعد شادی کریں گے۔
باب سوم
حیات عیسیٰ علیہ السلام احادیث کی روشنی میں
حیات عیسیٰ علیہ السلام پر عربی میں دس کتابوں کی جناب محدث کبیر ابو غدہ نے فہرست دی ہے جو درج ذیل ہیں۔
- ۱...... نظرة عابرة فی مزاعم من ینکر نزول عیسیٰ علیہ السلام قبل الآخرة.
الامام محمد زاہد الکوثریؒ۔ ۱۳۶۲ھ۔
- ۲...... عقیدة اہل الاسلام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام. الشیخ عبداللہ ابن الصدیق
الغماری۔م ۱۳۶۹ھ۔
- ۳...... اقامة البرهان علی نزول عیسیٰ علیہ السلام فی آخر الزمان. (لہ ایضاً)
- ۴...... عقیدة الاسلام فی حیاة عیسیٰ علیہ السلام. الشیخ محمد انور شاہ کشمیریؒ۔
- ۵...... تحیة الاسلام فی حیاة عیسیٰ علیہ السلام. الشیخ محمد انور شاہ کشمیریؒ۔
- ۶...... الجواب المقنع المحرر فی الرد من طغی و تحیر بدعوی أنہ عیسیٰ او
المہدی المنتظر. محمد حبیب اللہ الشنقیطیؒ۔م ۱۳۳۵ھ۔
- ۷...... ازالة الشبہات العظام فی الرد علی منکر نزول عیسیٰ علیہ السلام. الشیخ
محمد علی اعظمؒ۔م ۱۳۷۸ھ۔
- ۸...... اعتقاد اہل الایمان بالقرآن بنزول المسیح ابن مریم علیہ السلام. محمد
العربی التبانی الجزائری۔م ۱۳۷۹ھ۔
- ۹...... التوضیح فیما تواتر فی المنتظر والدجال والمسیح. للقاضی الشوکانی۔
- ۱۰...... فتوی العلامة الشیخ محمد بخیت مفتی الدیار المصریہ فی نزول
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام.
اس کے علاوہ بعض اور بزرگوں کی بھی حیات مسیح، علامات قیامت وغیرہ پر قدیم و جدید کتب اس وقت سعودی عرب میں کثرت سے چھپ رہی ہیں ان میں سے ۵/۷ تو ہمارے اپنے کتب خانے میں موجود ہیں نیز حیات عیسیٰ علیہ السلام پر پاک و ہند میں ۱۰۰ سے زیادہ کتب و رسائل لکھی گئیں جن میں سے ۷۹ کتابوں کا تو ”قادیانیت کے
خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت" میں تعارف آ چکا ہے۔ التصریح بما تواتر بنزول المسیح حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے حکم پر مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے مرتب کی تھی جس کی حلب شام کے شیخ ابو غدہ نے تخریج فرمائی۔ دوران تخریج شیخ ابو غدہ کو مزید احادیث و آثار ملیں جو انھوں نے تتمہ و استدراک کے نام سے شامل کر دیں۔
صحاح ستہ پر سرسری نظر ڈالنے سے ذیل کی روایات آسانی سے سامنے آتی ہیں جو پیش خدمت ہیں۔ دقت النظر سے دیکھا جائے تو اس سے کہیں زیادہ روایات صرف صحاح ستہ میں مل سکتی ہیں۔
- ۱...... امام بخاریؒ نے اپنی کتاب بخاری شریف ج ۱ ص ۴۹۰ پر باب نزول عیسیٰ بن مریم
قائم کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ سے دو روایات اس باب کے تحت درج فرمائیں۔ ویسے اس باب کی روایت اول کو حضرت امام بخاریؒ کئی جگہ اپنی کتاب میں لائے ہیں۔ مثلاً کتاب البیوع، باب قتل الخنزیر۔ کتاب المظالم، باب کسر الصلیب و قتل الخنزیر وغیرہ۔
- ۲...... حضرت امام مسلمؒ کی کتاب مسلم شریف ج ۱ ص ۸۷ پر باب نزول عیسیٰ بن مریم
موجود ہے۔ اس باب میں سات احادیث ہیں ان میں سے چھ حضرت ابو ہریرہؓ سے اور ایک حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہیں۔ اسی طرح مسلم ج ۱ ص ۴۰۸ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن میں دو روایتیں حضرت ابو ہریرہؓ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد فج روحاء سے احرام باندھنے کی لائے ہیں۔ اس طرح کتاب الفتن و اشراط الساعۃ ج ۲ ص ۳۹۲ پر حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک، ص ۳۹۳ پر حضرت حذیفہ بن اسید الغفاریؓ سے ایک، اور باب ذکر الدجال ج ۲ ص ۴۰۰ پر حضرت نواس بن سمعانؓ سے ایک روایت، ص ۴۰۳ پر حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ایک روایت، کتاب الفتن باب خروج الدجال ومکثہ فی الارض و نزول عیسیٰ بن مریم کے تحت عروۃ بن مسعود ثقفیؓ سے ایک۔ کل تیرہ روایات مسلم شریف میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان حوالوں کو آپ نے ملاحظہ کیا۔ علاوہ ازیں "الخبر الصحیح فیما ورد عن سید المسیح علیہ السلام" مستقل تصنیف ہے عرب عالم دین عبداللہ الحسینی کی جو ۱۹۸۵ء میں بیروت سے شائع ہوئی اس میں انھوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام سے متعلق بخاری و مسلم سے پچاس احادیث کو جمع کیا ہے۔
- ۳...... ترمذی شریف جلد دوم ص ۴۷ پر باب ماجاء فی نزول عیسیٰ بن مریم قائم فرمایا ہے
اور اس میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت لائے ہیں۔ ج ۲ ص ۴۸ باب ماجاء فی فتنہ الدجال میں حضرت نواس بن سمعانؓ کی روایت۔ باب ماجاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدجال
میں حضرت مجمع بن جاریۃ الانصاری کی روایت لائے ہیں اور اس باب میں وفی الباب کے تحت ۱.... عمران بن حصین۔ ۲.... نافع بن عتبۃ۔ ۳.... ابی برزۃ۔ ۴.... حذیفہ بن اسید۔ ۵.... ابی ھریرۃ۔ ۶.... کیسان۔ ۷.... عثمان بن ابی العاص۔ ۸.... جابر۔ ۹.... ابی امامہ۔ ۱۰.... ابن مسعود۔ ۱۱.... عبداللہ بن عمر۔ ۱۲.... سمرۃ بن جندب۔ ۱۳.... نواس بن سمعان۔ ۱۴.... عمرو بن عوف۔ ۱۵.... حذیفۃ بن الیمان رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی روایات کا حوالہ دیا ہے۔ گویا تین روایات نقل کر کے باقی پندرہ کا حسب معمول حوالہ دے کر نزول مسیح کی صریح و صحیح اشارہ روایات کو نقل فرمایا ہے۔
۴....... ابو داؤد شریف کتاب الفتن۔ باب ذکر الفتن ودلائلھا ج ۲ ص ۱۲۷ پر حضرت ثوبان سے ایک حدیث، کتاب الملاحم باب امارات الساعۃ ج ۲ ص ۱۳۲ پر حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری سے ایک حدیث۔ باب خروج الدجال ج ۲ ص ۱۳۲ پر حضرت نواس بن سمعان سے ایک حدیث۔ اسی باب میں ص ۱۳۴ پر حضرت ابی امامہ سے ایک حدیث، ص ۱۳۵ پر حضرت ابوہریرہ سے ایک حدیث۔ گویا حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول پر صحیح اور صریح پانچ احادیث نقل فرمائی ہیں۔
۵....... ابن ماجہ نے فتنہ الدجال اور خروج عیسیٰ بن مریم کا باب ص ۲۹۵ پر قائم فرمایا ہے۔ ص ۲۹۶ پر حضرت نواس بن سمعان کی حدیث ص ۲۹۷ پر حضرت ابو امامہ باہلی ص ۲۹۹ پر حضرت ابوہریرہ ص ۲۹۹ پر حضرت عبداللہ بن مسعود سے نزول مسیح بن مریم پر صحیح اور صریح روایات نقل فرمائی ہیں۔
۶....... سنن نسائی ج ۲ ص ۵۲ میں باب غزوۃ الہند کے تحت میں حضرت ثوبان کی روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے ساتھ میری امت کا جو طبقہ دجال سے لڑے گا ان پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ ان کے علاوہ مزید
- ۷....... اتحاف فضلاء البشر لدمیاطی۔
- ۸....... الاجوبۃ الفاضلۃ للکنوی۔
- ۹....... احیاء علوم الدین۔ للغزالی۔
- ۱۰....... الاذاعۃ لما کان و یکون بین یدی الساعۃ للصدیق حسن خان۔
- ۱۱....... ارشاد الساری للعسقلانی۔
- ۱۲....... اسباب النزول للواحدی۔
- ۱۳....... الاشاعۃ لاشراط الساعۃ برزنجی۔
- ۱۴....... الاصابہ۔ للعسقلانی۔
- ۱۵....... الاعلام بحکم عیسیٰ۔ للسیوطی۔
- ۱۶....... اقامۃ البرہان۔ لغماری۔
- ۱۷....... البدایہ والنھایہ۔ لابن کثیر۔
- ۱۸....... البحر المحیط لابی حیان اندلسی۔
- ۱۹...... بحرالعلوم ۔ لابی جمرہ۔ ۲۰...... تاج العروس ۔ للمرتضیٰ زبیدی۔
- ۲۱...... تاریخ الامم والملوک ۔ للطبری۔ ۲۲...... تاریخ بغداد ۔ للخطیب البغدادی۔
- ۲۳...... تاریخ الخلفاء ۔ للسیوطی۔ ۲۴...... تاریخ دمشق ۔ لابن عساکر ۔
- ۲۵...... التاریخ الکبیر ۔ للبخاری۔ ۲۶...... تاریخ الصغیر ۔ للبخاری۔
- ۲۷...... تاریخ الاوسط ۔ للبخاری۔ ۲۸...... تذکرۃ الحفاظ ۔ للذہبی۔
- ۲۹...... التذکرہ باحوال الموتی ۔ للقرطبی۔ ۳۰...... تفسیر ابن جریر ۔ طبری۔
- ۳۱...... تفسیر ابن کثیر۔
- ۳۲...... تحقیق النصرۃ بتلخیص معالم دار الھجرۃ ۔ للرافعی۔
- ۳۳...... تقریب التہذیب ۔ لابن حجر۔ ۳۴...... تلخیص الحبیر ۔ لابن حجر۔
- ۳۵...... تلخیص المدرک للذہبی۔ ۳۶...... تنزیہ الشریعہ ۔ لابن عراق۔
- ۳۷...... تہذیب تاریخ ابن عساکر ۔ لبدران۔
- ۳۸...... تہذیب التہذیب ۔ لابن حجر۔
- ۳۹...... التیسیر بشرح الجامع الصغیر للمناوی۔ ۴۰...... الجامع الصغیر ۔ للسیوطی۔
- ۴۱...... الجامع الاحکام القرآن ۔ قرطبی۔ ۴۲...... الجرح والتعدیل ۔ لابن ابی حاتم
- ۴۳...... حاشیہ السندی علیٰ مسلم ۔ ۴۴...... الحاوی ۔ للسیوطی۔
- ۴۵...... الحلیۃ ۔ لابی نعیم ۔ ۴۶...... الخطط ۔ للمقریزی۔
- ۴۷...... درمنثور ۔ للسیوطی۔
- ۴۸...... الدرۃ الثمینہ فی اخبار المدینہ ۔ لابن النجار۔
- ۴۹...... دفع شبہۃ التشبیہ ۔ لابن جوزی۔ ۵۰...... ذخائر المواریث ۔ للنابلسی۔
- ۵۱...... رسالۃ المستر شدین ۔ للمحاسبی۔ ۵۲...... الرفع والتکمیل ۔ للکنوی۔
- ۵۳...... الروض الانف ۔ للسہیلی ۔ ۵۴...... روح المعانی ۔ لالوسی۔
- ۵۵...... الزہد ۔ لامام احمد ۔ ۵۶...... السراج المنیر ۔ للعزیزی۔
- ۵۷...... السیرۃ النبویۃ ۔ لابن ہشام۔ ۵۸...... السعایۃ ۔ للکنوی۔
- ۵۹...... السنن الکبریٰ ۔ للبیہقی۔ ۶۰...... شذرات الذہب ۔ لابن عمامہ ۔
- ۶۱...... شرح مسلم ۔ للنووی۔ ۶۲...... شرح المسلم ۔ لابی ۔
- ۶۳...... شرح المواہب ۔ للزرقانی۔ ۶۴...... طبقات الشافعیہ ۔ لابن سبکی۔
- ۶۵...... الطبقات الکبریٰ ۔ ابن سعد ۔ ۶۶...... ظفر الامانی ۔ للکنوی۔
- ۶۷..... العرف الوردی۔ للسیوطی۔ ۶۸..... عقیدۃ الاسلام۔ للکشمیری۔
- ۶۹..... عقیدۃ اہل الاسلام۔ للغماری۔ ۷۰..... عمدۃ القاری۔ للعینی۔
- ۷۱..... فتح الباری۔ لابن حجر۔ ۷۲..... فضائل الشام۔ للربعی۔
- ۷۳..... فیض الباری۔ للکشمیری۔ ۷۴..... فیض القدیر۔ للمناوی۔
- ۷۵..... کشف الکربۃ۔ لابن رجب۔ ۷۶..... کشف الظنون۔ حاجی خلیفہ۔
- ۷۷..... الکشف۔ للسیوطی۔ ۷۸..... کنز العمال۔ متقی الہندی۔
- ۷۹..... الکوکب الدری۔ الکاندھلوی۔ ۸۰..... لآلی المصنوعہ۔ للسیوطی۔
- ۸۱..... لسان المیزان۔ للسیوطی۔ ۸۲..... سوامع الانوار البہیہ۔ سفارینی۔
- ۸۳..... مجمع الزوائد۔ ہیثمی۔ ۸۴..... محاسن التاویل۔ قاسمی۔
- ۸۵..... مختصر تذکرہ۔ قرطبی۔ ۸۶..... مختصر سنن ابی داؤد۔ للمنذری۔
- ۸۷..... مرقات۔ ملا علی قاری۔ ۸۸..... مرقاۃ الصعود۔
- ۸۹..... المستدرک۔ للحاکم۔ ۹۰..... مسند احمد۔ الامام احمد بن حنبل۔
- ۹۱..... مسند ابوداؤد۔ للطیالسی۔ ۹۲..... مشکوۃ شریف۔ للتبریزی۔
- ۹۳..... معالم السنن۔ للخطابی۔ ۹۴..... معانی الاثار۔ طحاوی۔
- ۹۵..... معجم البلدان۔ یاقوت الحموی۔ ۹۶..... معجم۔ ابی عبید البکری۔
- ۹۷..... المقالات۔ لکوثری۔ ۹۸..... المقاصد۔ سخاوی۔
- ۹۹..... وفاء الوفاء۔ للسمہودی۔ ۱۰۰..... النہایۃ۔ لابن اثیر۔
ہم نے صرف ایک سو کتاب کا نام لکھا ہے جن میں حیات مسیح علیہ السلام یا اس کے متعلقات پر حوالہ جات موجود ہیں۔ ان کتب سے براہ راست حضرت علامہ ابو غدہؒ محدث الشام نے مراجعت کر کے التصریح کی تخریج کی ہے۔
ان کے علاوہ ہمارے ممدوح جناب بابو پیر بخش نے اپنی کتاب ”الاستدلال الصحیح فی حیات المسیح“ (مشمولہ احتساب قادیانیت ج ۱۲) میں ۱۸۷ حضرات کی روایات و کتب سے اور ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ”عقیدہ حیات و نزول چودہ صدیوں کے اکابر کی نظر میں“ (مشمولہ تحفہ قادیانیت ج ۳) دو صد پچیس حضرات کی شہادتوں کو شامل کیا ہے تو گویا امت کے گذشتہ صد ہا سے زائد اکابر نے اپنی کتب میں حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کو بیان کیا ہے۔
ان محولہ بالا کتابوں کے علاوہ اور بھی سینکڑوں اسماء الرجال، لغت، تفسیر،
شروحات حدیث کی کتابوں سے حوالہ جات دیے ہیں علیٰ وجہ البصیرت کہا جا سکتا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں سے کوئی ایسی ”جامع“ نہیں جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع اور نزول کا ذکر نہ ہو۔ جن کتابوں کے ہم نے حوالہ جات نقل کیے ہیں۔ یہ عرب ممالک کی چھپی ہوئی ہیں آج کل زیادہ تر نئی چھپنے والی کتب احادیث میں حدیثوں کے نمبر دیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں اس لیے حوالہ تلاش کرنے کے لیے کتب حدیث میں آیات رفع و نزول کے تحت کتاب التفسیر دیکھ لی جائے بعض آئمہ حدیث نے کتاب الانبیاء، یا کتاب الفتن، باب اشراط الساعۃ یا باب نزول ابن مریم کے ضمن میں ان احادیث کا ذکر کیا ہے۔
ذیل میں ۳۲ حضرات صحابہ کرامؓ، ۲۲ تابعینؒ سے ان کے اسمائے گرامی کے ساتھ ان سے رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں روایات کی تعداد کا ذکر تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں۔
- ۱..... حضرت ابوہریرہؓ (۴۱) ۲..... حضرت جابر بن عبداللہ (۷)
- ۳..... حضرت نواس بن سمعانؓ (۱) ۴..... حضرت عبداللہ بن عمرؓ (۳)
- ۵..... حضرت ابو حذیفہ بن اسید غفاریؓ (۲)
- ۶..... حضرت ثوبانؓ (۱) ۷..... حضرت مجمع بن جاریہؓ (۱)
- ۸..... حضرت ابو امامہ باہلیؓ (۱) ۹..... حضرت عثمان بن ابی العاصؓ (۱)
- ۱۰..... حضرت سمرہ بن جندبؓ (۱) ۱۱..... حضرت انس بن مالکؓ (۳)
- ۱۲..... حضرت واثلہؓ بن الاسقع (۱) ۱۳..... حضرت عبداللہ بن سلامؓ (۲)
- ۱۴..... حضرت ابن عباسؓ (۱۲) ۱۵..... حضرت اوس بن اوس الثقفیؓ (۱)
- ۱۶..... حضرت عمران بن حصینؓ (۱) ۱۷..... حضرت عائشہ صدیقہؓ (۲)
- ۱۸..... حضرت سفینہؓ (۱) ۱۹..... حضرت حذیفہؓ (۱)
- ۲۰..... حضرت حذیفہ بن الیمانؓ (۶) ۲۱..... حضرت عبداللہ بن مغفلؓ (۱)
- ۲۲..... حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ (۱) ۲۳..... حضرت ابو سعید خدریؓ (۱)
- ۲۴..... حضرت عمار بن یاسرؓ (۱) ۲۵..... حضرت کیسان بن عبداللہ (۱)
- ۲۶..... حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ (۳) ۲۷..... حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ (۷)
- ۲۸..... حضرت سلمہ بن نفیل السکونیؓ (۱) ۲۹..... حضرت صفیہؓ (۱)
- ۳۰..... حضرت ابو درداءؓ (۱) ۳۱..... حضرت عمرو بن عوف المزنیؓ (۱)
- ۳۲.... حضرت جبیر بن نفیرؓ (۱) ۳۳ .... حضرت سلمہ بن سعدؓ (۱)
- ۳۴...... ابوالطفیل اللیثیؓ (۱)
تابعین
- ۱....... ربیع بن انسؒ (۱) ۲.... نافع بن کیسانؒ (۱)
- ۳...... حضرت حسن بصریؒ (۵) ۴...... حضرت عمرو بن سفیانؒ (۱)
- ۵...... حضرت محمد بن علی ابن الحنفیہؒ (۲) ۶...... حضرت شہر بن حوشبؒ (۱)
- ۷...... حضرت قتادہؒ (۴) ۸...... حضرت محمد ابن زیدؒ (۲)
- ۹...... حضرت ابو مالک الغفاریؒ (۱) ۱۰...... حضرت مجاہدؒ (۱)
- ۱۱...... حضرت ابو رافعؒ (۱) ۱۲...... حضرت ابو العالیہؒ (۱)
- ۱۳...... حضرت عبدالجبار بن عبید اللہؒ (۱) ۱۴.... حضرت وہب ابن منبہؒ (۱)
- ۱۵...... حضرت ابن سیرینؒ (۱) ۱۶...... حضرت ارطاۃؒ (۱)
- ۱۷...... حضرت کعب احبارؒ (۴) ۱۸...... حضرت زین العابدینؒ (۱)
- ۱۹...... حضرت عروہ بن رویمؒ (۱) ۲۰...... حضرت ولید ابن مسلمؒ (۱)
- ۲۱...... ابو اشعث صنعانیؒ (۱) ۲۲...... عبدالرحمن بن جبیرؒ (۱)
سے روایات منقول ہیں۔ ان سب سے صرف دس احادیث پیش خدمت ہیں۔
حدیث......۱ قال الامام احمد حدثنا عفان قال ثنا همام قال اخبرنا قتادة عن عبدالرحمن بن آدم عن ابی ھریرة ان النبی ﷺ قال الأنبیاء اخوة لعلات أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ وانا اَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب و يقتل الخنزير و يضع الجزية و يدعوا الناس الى الاسلام و يهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم و يلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى و يصلى عليه المسلمون.
ترجمہ: امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب
سے زیادہ قریب ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد ہوں گے، رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا۔ ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے سر کی یہ شان ہو گی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی، صلیب کو توڑیں گے جزیہ کو اٹھائیں گے۔ سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا۔ پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہو جائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں گے۔ سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔
(نوٹ) اس حدیث شریف کا متن ۱...... مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۶ سے ہم نے نقل کیا ہے۔ یہ حدیث شریف مسند احمد کے علاوہ الفاظ کے معمولی تفاوت سے ذیل کی کتب میں بھی موجود ہے۔ ۲...... بخاری ج ۱ ص ۴۸۹، ۴۹۰۔ ۳...... مسلم ج ۱ ص ۸۷۔ ۴...... ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵۔ ۵...... ابن ماجہ ص ۳۰۸۔ ۶...... مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۱ ص ۴۹۴۔ ۷...... در منثور ج ۲ ص ۲۴۲، پر ابن ابی شیبہ۔ احمد۔ ابوداؤد۔ ابن جریر ابن حبان کے حوالہ سے اس کو نقل کیا ہے۔ ۸...... ابن کثیر ج ۳ ص ۱۶۔ ۹...... فتح الباری ج ۶ ص ۳۵۷ پر حافظ ابن حجر اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ ۱۰...... التصریح ص ۱۶۰۔ ۱۱...... مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۶۵۴ حدیث نمبر ۴۱۔ باب ذکر فی فتنہ الدجال۔ ۱۲...... صحیح ابن حبان ج ۹ ص ۲۸۹۔ ۲۹۰ پر متن مذکورہ مکمل سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ۱۳...... مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ ص ۱۹۲ پر مکمل اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ۱۴...... خود مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام ص ۵۹۴ خزائن ج ۳ ص ۴۲۰ پر اس حدیث کے بعض حصے نقل کر کے اس کی تصحیح و تصدیق کی بلکہ اس سے استدلال بھی کیا ہے۔
ضروری گذارش مرزا قادیانی کے مرید خدا بخش مرزائی نے اپنی کتاب عسل مصفی لکھی اس کی جلد اوّل میں ص ۱۶۲ سے ۱۶۵ تک تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست نقل کی ہے۔ اس فہرست میں اس حدیث منقولہ بالا کو نقل کرنے والے مرزائیوں کے تسلیم شدہ
مجددین سے امام احمد بن حنبل، ابن کثیر۔ ابن حجر عسقلانی۔ جلال الدین سیوطی۔ چار مجدد اس روایت کو نقل کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی اور اس کا بیٹا اس روایت کو تسلیم کرتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس صحیح روایت کے نتائج پر غور فرمائیں۔
اس حدیث مبارک کے نتائج
اس حدیث مبارک سے جو نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔
حدیث اوّل
- ۱...... آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم ؑ دوبارہ تم میں نازل ہوں گے۔
- ۲...... وہی عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جن کے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان کوئی
نبی نہیں جو آنحضرت ﷺ کا علاتی بھائی تھا۔
- ۳...... عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔
- ۴...... عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوگا۔
- ۵...... عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مسیح دجال ہلاک ہوگا۔
- ۶...... عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں امن و امان قائم ہو جائے گا۔
- ۷...... حتیٰ کہ ان کے زمانہ میں شیر اونٹ کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے
بکریوں کے ساتھ چرنے لگیں گے۔
- ۸...... اس کے بعد پھر عیسیٰ علیہ السلام وفات پائیں گے (ابھی ان کی وفات نہیں ہوئی)
اب مرزائیوں سے ہمارا سوال ہے
- ۱...... کیا مرزا قادیانی ابن مریم تھا؟ یا ابن چراغ بی بی؟
- ۲...... کیا مرزا قادیانی وہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے تشریف لائے
تھے؟ جن کے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہ تھا؟
- ۳...... کیا مرزا قادیانی کے زمانہ میں تمام ادیان باطلہ یہودیت، نصرانیت مٹ گئی یا خود مرزا
قادیانی کے جنم بھومی ہندوستان میں بھی مرزا کے زمانہ میں نصرانیوں کی حکومت تھی؟
- ۴...... کیا مرزا قادیانی کے زمانہ میں دین اسلام کا غلبہ ہوا؟ یا خود مرزا قادیانی نے دین
اسلام کے ماننے والے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر دین اسلام کی بیخ کنی کی؟
- ۵...... مرزا قادیانی کے زمانہ میں دجال معہود کا قتل ہوا؟
- ۶...... مرزا قادیانی کے زمانہ میں امن و امان ہوا؟ یا خود مرزا قادیانی زندگی بھر مقدمات
کے لیے در بدر ٹھوکریں کھاتا پھرا؟ اس کے گھر پر چھاپے مارے گئے؟ اور خود غیر مامون ہوا؟
- ۷...... مرزا قادیانی کے زمانہ میں شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے
بکریوں کے ساتھ چرے؟
- ۸...... ان امور کے بعد مرزا کی وفات ہوئی؟ خدا لگتی مرزائی صحیح جواب قیامت کے دن
کے لیے تیار رکھیں۔
- ۹...... اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے لیے انہ نازل کا صراحتاً لفظ ہے۔ کیا پورے
ذخیرۂ احادیث میں قادیانی ان مثیلہ مولود کا لفظ دکھا سکتے ہیں؟
- ۱۰...... اس صحیح حدیث میں ثم یتوفی (ان امور کے بعد) عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے۔
کیا قادیانی کسی صحیح حدیث میں قد توفی کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے دکھا سکتے ہیں؟
- ۱۱...... ويصلی علیہ المسلمون اور عیسیٰ علیہ السلام کی نماز جنازہ مسلمان پڑھیں گے۔
کیا قادیانی کسی صحیح حدیث قد صلی علیہ المسلمون کہ مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھ چکے دکھا سکتے ہیں؟
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آ جائیں گی تب وفات ہو گی۔
حدیث......۲ عن الحسن مرسلا قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة.
امام حسن بصریؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔
ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶ (زیر آیت انی متوفیک)
(ابن جریر ج ۳ ص ۲۸۹۔ درمنثور ج ۲ ص ۳۶)
(نوٹ) یہ روایت ابن کثیر اور علامہ جلال الدین سیوطی نے نقل فرمائی دونوں قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں اور ابن جریر کو مرزا نے آئینہ کمالات اسلام ص ۱۶۸ خزائن ج ۵ ص ۱۶۸ پر رئیس المفسرین تسلیم کیا ہے۔ تینوں اکابرؒ قادیانیوں کے نزدیک مسلمہ ہیں۔
نتائج حدیث دوم
- ۱...... یہود (جو انا قتلنا المسیح سے) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے
ان کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان عیسی لم یمت تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔
- ١٠ اس روایت میں ان عیسی لم یمت کی صراحت ہے۔
- ١١۔ اس روایت میں انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل
تم میں واپس لوٹیں گے کی صراحت ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- ١٢ کیا کسی روایت میں قادیانی دکھا سکتے ہیں کہ اس روایت کے برعکس کسی نے
آنحضرت ﷺ کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر کیا اور آپ ﷺ نے اس کی تصدیق کی ہو؟
- ١٣ ... اس روایت میں لم یمت صراحت سے مذکور ہے کیا قادیانی کسی صحیح روایت میں
قد مات عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے منقول دکھا سکتے ہیں؟
- ١٤ ۔ اس روایت میں انہ راجع الیکم کی صراحت مذکور ہے کیا قادیانی کسی صحیح روایت
میں انہ لا یرجع الیکم دکھا سکتے ہیں؟
- ١٥ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۴۱ خزائن ج ۲۱ ص ۵۲ پر لکھا ہے۔
”نازل ہوگا اگر دوبارہ آنا مقصود ہوتا تو اس جگہ ”رجوع“ کا لفظ چاہیے تھا نہ کہ نزول کا“ یہی مطالبہ مرزا نے اپنی کتاب۔ کتاب البریہ ص ۲۰۸ حاشیہ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۶ پر بھی کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے لفظ رجوع کے مطالبہ کو مذکورہ روایت میں انہ راجع الیکم کے الفاظ سے ہم نے پورا کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو اس روایت کا علم تھا۔ یا نہیں؟ اگر علم تھا۔ پھر مطالبہ کیا تو یہ دجل ہے۔ اگر علم نہیں تھا تو یہ کم علمی ہے۔ اب مرزائی بتائیں کہ وہ کم علم تھا یا دجال تھا؟
قادیانی اعتراض یہ حدیث مرسل ہے اس لیے قابل قبول نہیں۔
جواب حضرت حسن بصریؒ کی مرسل حدیث میں تو وہی شخص کلام کرے گا جس کو ان کے اقوال کا پورا علم نہیں وہ خود فرماتے ہیں کل شی سمعتنی اقول فیہ قال رسول اللہ ﷺ فھو عن علی ابن ابی طالبؓ غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیاً۔ آہ (تہذیب الکمال للمزی) میں جتنی احادیث میں قال رسول اللہ ﷺ کہوں اور صحابی کا نام نہ لوں سمجھ لو کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی روایت ہے۔ میں ایسے (سفاک دشمن آل رسول حجاج کے) زمانہ میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا نام نہیں لے سکتا۔ قادیانیوں نے حدیث پر اعتراض کرنے سے پیشتر علم حدیث کسی استاد سے پڑھ لیا ہوتا۔
قادیانی اعتراض مرزائی بعض وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ حدیث بلاسند ہے۔
الجواب آنحضرت ﷺ کے ارشاد ان عیسیٰ لَمْ یَمُتْ الخ کو باب مدینۃ العلم مولیٰ علی مرتضیٰ نے سنا۔ ان سے حسن بصریؒ (سیدالتابعین و شیخ الصوفیہ) نے اخذ کیا، ان سے ربیع نے ان سے ابو جعفرؒ نے ان سے ان کے بیٹے عبداللہ نے ان سے اسحق نے ان سے مُثنّٰی نے ان سے ابن جریر طبریؒ نے (ابن جریر ج ۳ ص ۲۸۹ ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶) تفسیر ابن جریر کتب متداولہ میں سے ہے اور اس میں حدیث کی سند بھی موجود ہے۔
- ۲...... محمد بن جریر بڑے پایہ کا محدث ہے کہ ابن خلکان وغیرہ نے ان کو آئمہ مجتہدین
میں سے لکھا ہے۔ بغیر سند کے بھی وہ لکھتے تب بھی ان کا لکھنا معتبر ہے۔ اس لیے کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔“
(چشمہ معرفت حاشیہ ص ۲۵۰ خزائن ج ۲۳ ص ۲۶۱)
قادیانی اعتراض اگر یہ معتبر حدیث ہے تو اس کو صحاح ستہ میں ہونا چاہیے تھا۔
- الجواب......۱ مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵۳ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷
میں جو حدیث یتزوج ویولد لہ لکھی ہے وہ صحاح ستہ میں کہاں ہے؟
- ۲...... حقیقۃ الوحی ص ۱۹۴ خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۲، حاشیہ چشمہ معرفت ص ۳۶۴ خزائن ج ۲۳
ص ۳۲۹ میں جو روایت کسوف خسوف در رمضان تحریر کی ہے وہ صحاح ستہ میں کس جگہ ہے؟
- ۳...... ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۱ خزائن ج ۱۱ ص ۳۲۵ میں جو اثر خروج مہدی از کعبہ درج
کیا ہے وہ صحاح ستہ کی کس کتاب میں ہے؟
- ۴...... کتاب مسیح ہندوستان میں ص ۵۲، ۵۳ خزائن ج ۱۵ ص ۵۴، ۵۵ میں جو تین روایات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیاحت سے متعلق تحریر ہیں ان کا پتہ صحاح ستہ سے بتاؤ؟
- حدیث......۳ عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن
مریم فیکم و امامکم منکم (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم۔ مسند احمد ج ۲ ص ۳۳۶ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یہی روایت حضرت امام بیہقی نے اپنی الاسماء والصفات ص ۴۲۴ پر نقل فرمائی جس کی سند اور الفاظ یہ ہیں۔
اخبرنا ابو عبداللہ الحافظ انا ابو بکر بن اسحاق انا احمد بن ابراھیم ثنا ابن بکیر ثنی اللیث عن یونس عن ابن شھاب عن نافع مولیٰ ابی قتادۃ الانصاری قال ان ابا ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم۔ انتھیٰ۔
”اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا (خوشی کے باعث) جب عیسیٰ بن مریم آسمان
سے تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔"
(نوٹ) امام بیہقی قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں آپ سے بخاری ومسلم ومسند احمد کی روایت میں "من السماء" کے الفاظ کی زیادتی مذکور ہے۔
نتائج حدیث سوم
- ۱۲..... بیہقی کی اس حدیث شریف میں لفظ آسمان کی صراحت مذکور ہے۔
- ۱۳..... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ینزل فیکم اور سیدنا مہدی کے لیے و امامکم
منکم کے الفاظ مذکور ہیں۔ فیکم اور منکم کی صراحت سے ثابت ہوا کہ مہدی اور مسیح علیہ السلام علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔
قادیانیوں سے سوال
- ۱۶...... امام بیہقی کی روایت میں من السماء کی صراحت سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام
آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ نہ کہ ماں کے پیٹ سے۔ پس مرزا کا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوکر مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا غلط ثابت ہوا یا نہ؟
- ۱۷...... فیکم۔ اور منکم کی صراحت سے ثابت ہوا کہ سیدنا مسیح و مہدی دو علیحدہ علیحدہ
شخصیات ہیں۔ ان دو کو ایک ماننا۔ بخاری و مسلم اور بیہقی ایسے محدثین کی روایات کے خلاف ہے یا نہیں؟
یاد رہے کہ امام بیہقیؒ نے جہاں "من السماء" کی صراحت کی ہے۔ وہاں وہ اسے بخاری و مسلم کی روایات کی اسناد ذکر کر کے فرماتے ہیں ”وانما اراد نزولہ من السماء بعد الرفع الیہ“ کہ ان روایات میں آسمان پر رفع کے بعد آسمان سے نزول مراد ہے اور آنحضرت ﷺ ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابوہریرہؓ سے امام بخاریؒ تک۔ حضرت ابوہریرہؓ سے امام مسلمؒ تک۔ حضرت ابوہریرہؓ سے امام بیہقیؒ تک تمام رواۃ کی رفع الی السماء اور نزول من السماء ہی مراد تھی۔
قادیانی اعتراض امام بیہقی نے اس حدیث کو روایت کر کے بخاری شریف کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ بخاری میں مِنَ السَّمَاءِ کا لفظ نہیں۔
الجواب حدیث کی کتاب بیہقی مخرج نہیں ہے بلکہ مسند ہے یعنی ایسی کتاب نہیں ہے کہ دوسروں سے نقل کر کے ذخیرہ اکٹھا کرے جیسا کہ کنز العمال وغیرہ ہے، بلکہ امام بیہقی اپنی سند سے راویوں کے ذریعہ روایت کرتے ہیں اور بخاری کا حوالہ صرف اس لحاظ سے دیا گیا ہے کہ بخاری میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ لفظ مِنَ السَّمَاءِ نہیں۔ مگر مراد
نزول سے مِنَ السَّمَاءِ ہی ہے۔ چنانچہ امام بیہقیؒ خود لکھتے ہیں۔ اِنَّمَا اَرَادَ نُزُوْلَهُ مِنَ السَّمَاءِ بَعْدَ الرَّفْعِ۔
(کتاب الاسماء ص۴۲۴)
”یعنی سوائے اس کے نہیں کہ اس کو روایت کرنے والے کا ارادہ نزول من السماء ہی ہے کیونکہ وہ آسمانوں پر اٹھائے گئے ہیں۔“
پس معاملہ صاف ہے کہ بخاری میں من السماء نہ ہونا اس حدیث کے صحیح ہونے کے خلاف نہیں۔ امام بیہقیؒ نے جو روایت کی ہے صحیح ہے۔ دیکھو مرزا قادیانی نے بھی تو ”ازالہ اوہام ص ۸۱ خزائن ج ۳ ص ۱۴۶“ کی عبارت مسلم شریف کی طرف من السماء کا لفظ منسوب کیا ہے۔ حالانکہ مسلم میں نہیں ہے تو سوائے اس کے کیا کہا جائے گا کہ امام مسلمؒ کا ارادہ آسمان سے نزول کا ہی ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیات متعددہ اور احادیث نبویہ سے ان کا رفع آسمانی عیاں ہے۔ فافہم۔
قادیانی اعتراض امام جلال الدین سیوطیؒ نے اس حدیث کو امام بیہقیؒ کی کتاب سے نقل کیا ہے مگر اس میں لفظ من السماء نہیں لکھا۔ پس معلوم ہوا کہ بیہقی میں موجود ہی نہیں یا امام بیہقی کی ذاتی تشریح ہے۔
الجواب یہ اعتراض احمقانہ ہے بھلے مانسو! جب حدیث کی کتاب میں جو اصل ہے یہ لفظ موجود ہے اور تم اسے آنکھوں سے دیکھ رہے ہو تو اگر کسی ناقل نے غلطی سے اسے نقل نہ کیا ہو تو اس سے اصل کتاب کیسے مشکوک ہو جائے گی؟
دیکھئے تمھارے ”حضرت نبی اللہ“ مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی سو کے قریب آیات غلط الفاظ میں نقل کی ہیں۔ کہیں لفظ کم کر دیا۔ کہیں زیادہ کیا۔ اس سے کوئی تمھارے جیسا احمق یہ نتیجہ نکال لے کہ قرآن مشکوک ہے۔ صحیح آیات وہی ہیں جو مرزا قادیانی نے لکھی ہے تو وہ صحیح الدماغ انسان کہلانے کا حق دار ہے؟
مرزائیو! اب خواہ تم اس منہ کالک کو کاتب کے سر ہی تھوپو۔ مگر مرزا کی نقل کردہ آیت تو ہر حال غلط ہے۔ حالانکہ قرآن میں اس طرح نہیں، نتیجہ ظاہر ہے کہ کسی ناقل کی غلطی اصل کتاب پر کوئی اثر نہیں کر سکتی۔
ایک نکتہ ماضی میں ایک بڑا فتنہ ”فرقہ جہمیہ“ کے نام سے اسی طرح سے پیدا ہوا جس طرح آج کل فتنہ مرزائیہ ہے۔ ”فرقہ جہمیہ“ اسماء و صفات باری تعالیٰ میں طرح طرح کی تاویلیں بلکہ تحریفیں کرتا تھا۔ اس لیے علمائے اسلام نے عموماً اور محدثین کرام نے خصوصاً اس فرقہ کی تردید میں بڑی بڑی کتابیں تصنیف کیں۔ کتاب الاسماء والصفات
للبیہقی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جہمیہ کے عقائد باطلہ میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ان اللہ لیس فی السماء (کتاب العلو مطبوعہ مصر ص ۴۳۷) امام بیہقی نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تردید میں کئی باب منعقد کیے ہیں اور ”اللہ فی السماء“ کو بہت سی حدیثوں سے ثابت کیا ہے ص ۴۲۰ میں باب ءَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَاءِ کا منعقد فرماتے ہیں اور مختلف احادیث نبویہ سے مسئلہ مذکورہ ثابت کرتے ہیں اس کے ص ۴۲۴ پر باب رَافِعُكَ اِلَیَّ رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ تَعْرُجُ الْمَلئِكَةُ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ کا لائے ہیں اور مختلف حدیثوں سے فرشتوں، کلموں اور عملوں کا آسمان پر خدا کی طرف جانا ثابت کرتے ہیں مثلاً عروج الملئکة الی السماء (ص۴۲۴) اسی باب میں پہلی حدیث حضرت عیسیٰ ؑ کی بابت بھی لائے ہیں کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم پس انصاف کرنا چاہیے کہ جب مصنف کا مقصود ہی یہی ہے کہ اس باب میں خصوصیت سے الی السماء، فی السماء، من السماء، ثابت کیا جائے تو یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اصل بیہقی میں من السماء کا لفظ نہیں ہے؟ حالانکہ امام موصوف اسی چیز کے ثابت کرنے کے درپے ہیں۔
قادیانی اعتراض اس حدیث میں امامکم منکم سے مراد وہ عیسیٰ ؑ ہے جو مسلمانوں میں سے ایک ہوگا۔
الجواب قرآن وحدیث بلکہ کل دنیا بھر کے اہل اسلام کی کتابوں میں حضرت عیسیٰ ابن مریم جس کا نزول مذکور ہے سوائے مسیح رسول اللہ کے اور کوئی شخص نہیں یہ افتراء ہے اور ازسرتاپا یہودیانہ تحریف ہے جو بیسیوں آیات وصدہا احادیث کے خلاف ہے۔ حدیث میں مسیح کے نزول کے وقت ایک دوسرے امام کا ذکر ہے جو باتفاق جملہ مفسرین ومحدثین ومجددین غیر از مسیح ہے جو یقیناً امام مہدی ہیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ ”رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ بَیْتِیْ یُوَاطِی اِسْمُهُ اِسْمِیْ وَاسْمُ اَبِیْهِ اِسْمَ اَبِیْ“ (ابوداؤد ج ۳ ص ۱۳۱ وترمذی ج ۲ ص ۴۷ ومشکوۃ باب اشراط الساعۃ ص ۴۷۰) مرزا قادیانی نے لکھا ہے ”آنحضرت ﷺ پیشگوئی فرماتے ہیں۔ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا، میرے باپ کے نام کی طرح اس کے باپ کا نام۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۴۸ خزائن ج ۳ ص ۱۷۵)
اس کے علاوہ خود مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں کہ امامکم منکم میں مسلمانوں کے امام الصلوٰۃ غیر از مسیح کا ذکر ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے مرزا قادیانی سے سوال کیا کہ آپ خود امام بن کر نماز کیوں نہیں پڑھایا کرتے۔ کہا۔
”حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ص ۸۲ ج ۱)
حدیث......۴ وعن ابن عباس فی حدیث طویل قال قال رسول اللہ ﷺ فعند ذلک ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء۔
(کنز العمال ج ۱۴ ص ۶۱۹ نمبر ۳۹۷۲۶)
”ابن عباسؓ ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پس اس وقت میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔“
(نوٹ) اس روایت کو کنز العمال کے مصنف علی بن حسام المتقی ہندی نے نقل کیا ہے قادیانیوں کے نزدیک یہ دسویں صدی کے مجدد ہیں۔ مرزا نے حمامۃ البشریٰ ص ۱۴۸ خزائن ج ۷ ص ۳۱۴ پر اس کو حدیث رسول اللہ تسلیم کیا ہے اور عن ابن عباس قال قال رسول اللہ الخ لکھا ہے۔
نتائج حدیث چہارم
- ۱۴...... اس روایت میں نزول من السماء کی صراحت ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۱۸...... اس روایت کو نقل کرنے والے قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں۔ وہ حضرت ابن
عباسؓ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں سے نزول کا ذکر کرتے ہیں۔ اب اس قول کے بعد قادیانی فرمائیں گے کہ حضرت ابن عباسؓ کا حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ تھا یا نہ؟
- ۱۹...... مرزا قادیانی جگہ جگہ اپنی کتب میں حضرت ابن عباسؓ کو وفات مسیح کا قائل ظاہر
کرتے ہیں کیا یہ مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے یا نہ؟
- ۲۰...... مرزا قادیانی نے اس روایت ابن عباسؓ کو حمامۃ البشریٰ ص ۱۴۸ خزائن ج ۷ ص
۳۱۴ پر نقل کیا ہے۔ مگر ”من السماء“ کا لفظ حذف کر کے خیانت کا ارتکاب کیا۔ کیا خائن نبی ہو سکتا ہے؟
حدیث......۵ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَنْزِلُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْاَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَّأَرْبَعِيْنَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوْتُ فَيُدْفَنُ مَعِیْ فِیْ قَبْرِیْ فَاَقُوْم اَنَا و عیسی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر .
”عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور
میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں، مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔‘‘ اس حدیث کو ابن جوزی نے کتاب الوفا میں روایت کیا۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ص ۴۸۰ وفاء الوفاء للسمہودی ج ۱ ص ۵۵۸ شرح مواہب للزرقانی ج ۸ ص ۲۹۶ مواہب لدنیہ القسطلانی ج ۲ ص ۳۸۲ مرقات ج ۱۰ ص ۲۳۳)
(نوٹ) مرقات کے مصنف حضرت ملا علی قاریؒ قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں۔ ان کی بیان کردہ یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی قبریں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہیں۔ ان کے متعلق مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
"ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق ہو کر دفن کیے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔"
(نزول المسیح ص ۴۷ خزائن ج ۱۸ ص ۴۱۵)
جو مطلب و مراد اس تحریر کی ہے وہی مراد آنحضرت ﷺ کی متذکرہ حدیث کی ہے یدفن معی فی قبری کے اصلی معنی یہ ہیں کہ وہ میرے ساتھ ایک ہی روضہ میں دفن ہوں گے جو حضرات عربی ادب سے ذوق رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ ”فی“ سے مراد کبھی قرب بھی ہوتا ہے جیسے بورک من فی النار (سورہ نمل) یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھے نہ کہ اندر۔
مرزا قادیانی بھی اس معنی کی تائید کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ”اس حدیث کے معنی ظاہر پر ہی عمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آ جائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔
(ازالہ اوہام ص ۴۷۰ خزائن ج ۳ ص ۳۵۲)
مرزا نے اس حوالہ میں قبر بمعنی مقبرہ بھی مانا ہے اور آنحضرت ﷺ کے پاس سیدنا مسیح کا مدفون ہونا بھی مانا ہے۔
نتائج حدیث پنجم
- ۱۵....... اس حدیث شریف میں ینزل عیسی بن مریم الی الارض کی صراحت ہے۔
- ۱۶....... اس حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ روضہ طیبہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ
السلام کی تدفین کی صراحت ہے۔
- ۱۷....... قیامت کے دن آنحضرت ﷺ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا
فاروق اعظمؓ کے ایک ساتھ اٹھنے کی صراحت ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۲۱....... قادیانی کسی حدیث میں لا ینزل الی الارض دکھا سکتے ہیں؟
۲۲...... حدیث شریف میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین کے لیے آنحضرت ﷺ روضہ طیبہ میں آج بھی جگہ باقی ہے۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں صراحۃً مذکور ہے۔ (حوالہ آگے آ رہا ہے) مرزا قادیانی سیدنا مسیح علیہ السلام کی قبر مبارک سری نگر میں بتاتا ہے۔ کیا آنحضرت ﷺ کا روضہ طیبہ سری نگر میں ہے؟
۲۳...... سری نگر کشمیر میں مسیح علیہ السلام کی قبر ہے اس پر کسی آسمانی کتاب یا قرآن و سنت یا کسی ایک مجدد کا قول قادیانی قیامت تک پیش کر سکتے ہیں؟
۲۴...... کیا مرزا قادیانی نے حدیث مبارک کے مقابلہ میں سری نگر کا ڈھکوسلہ تیار کر کے آنحضرت ﷺ کے صریح فرمان کی تکذیب کا کفر اختیار نہیں کیا؟
۲۵...... کیا آنحضرت ﷺ عیسیٰ علیہ السلام صدیق و فاروق سری نگر سے قیامت کے دن اٹھیں گے؟
۲۶...... مرزا قادیانی مسیح تھا تو آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوا؟
۲۷...... قیامت کے دن مرزا، آنحضرت ﷺ اور سیدنا صدیق اکبرؓ اور سیدنا فاروق اعظمؓ کے ساتھ ایک قبر سے اٹھے گا؟ (اس لیے کہ حدیث میں فاقوم انا و عیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر کی صراحت ہے)
قادیانی اعتراض: قادیانی رذالت کی انتہاء
ایک قادیانی نے کہا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن کی قبر حد نگاہ تک فراخ ہو جاتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک فراخ ہوتے ہوئے قادیان تک آ گئی۔ مرزا قادیانی قادیان میں دفن ہوا تو آنحضرت ﷺ کے روضہ میں دفن ہو گیا۔
جواب مرزا کو اقرار ہے کہ ممکن ہے ایسا مسیح آ جائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں مدفون ہو۔" (حوالہ گزر چکا) مرزا کی یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی کہ روحانی قبر مراد نہیں۔
۲...... اگر روحانی قبر مراد ہے تو پھر سیدنا صدیقؓ و فاروقؓ بھی روحانی طور پر آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں مدفون ہیں؟ اس حدیث میں تین اشخاص سیدنا مسیح علیہ السلام۔ سیدنا فاروق اعظمؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کے متعلق آپ ﷺ کے ساتھ تدفین کا ذکر ہے۔ دو حضرات کی تدفین کو جسمانی تدفین اور تیسرے کی تدفین کو روحانی تدفین ماننا۔ کیا یہ یہودیانہ خصلت نہیں؟
۳...... اگر روحانی تدفین مراد لی جائے تو سیدنا صدیقؓ و فاروقؓ و مسیح علیہ السلام کی تخصیص ختم ہو جاتی ہے۔
۴...... آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک مدینہ طیبہ سے فراخ ہوتے ہوئے قادیان پہنچ گئی۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ نقل کفر کفر نباشد۔ تو مدینہ طیبہ سے قادیان تک جاتے ہوئے راستہ میں جدہ، کراچی، حیدر آباد، سکھر، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، اوکاڑہ، خانیوال، ساہی وال، لاہور، بٹالہ، آتے ہیں۔ اس کے بعد قادیان، تو کیا حجاز سے قادیان تک جتنے غیر مسلم دفن ہیں وہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہیں؟ فبہت الذی کفر۔ قارئین! اندازہ کریں قادیانی خبث و بد باطنی کفر و دجل کا کہ کس طرح بکواس کرتے ہیں؟ نتائج سے قطعاً نہیں شرماتے چاہے آنحضرت ﷺ کی توہین کیوں نہ ہو؟ سچ ہے کہ قادیانیت گندگی ہے ہر قادیانی کا دماغ گندگی کا ڈپو ہے اور گندگی کبھی پاک نہیں ہوتی۔ گندگی کا ایک ذرہ بھی ہو تو وہ ناپاک ہے۔ جتنا پانی ڈالتے جائیں گندگی زائل ہو جائے گی اس کا وجود مٹ جائے گا مگر کبھی گندگی پاک نہ ہوگی۔ اس لیے قادیانیت کا علاج ہی اس کا مٹ جانا ہے۔ آج نہیں تو کل۔ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کی طرح۔
قادیانی اعتراض مرزا نے اپنی کتاب حقیقت الوحی ص ۳۱۳ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۳۲۶ پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لیے کہ حضور ﷺ کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ ﷺ کی توہین لازم آئے گی۔
جواب ......۱ روضہ طیبہ کی دیواروں کو توڑا نہیں جائے گا ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھا جاتا ہے اس میں تو دروازہ موجود ہے مسلم سربراہان اور مسجد نبوی ﷺ کے خدام کے لیے کھولا جاتا ہے۔ آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں بعد میں ان کو چن دیا گیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اس سے آپ ﷺ کی توہین نہ ہوگی۔
۲...... نیز یہ کہ آپ ﷺ کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لیے تمام رکاوٹوں کو دور کرنا آپ ﷺ کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں تو آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ دفن کی جاؤں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ وہاں چار قبروں میری ﷺ ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عیسیٰ علیہ السلام کی قبور کے سوا اور جگہ ہی نہیں۔
(کنز العمال برحاشیہ مسند احمد ص ۵۷ ج ۶)
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہؓ کا مرض الوفات تھا تو آپ نے فرمایا کہ میری تدفین جنت البقیع میں ہو۔ آپ کے عزیزوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ کے پہلو میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی ریزرویشن نبی علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کے لیے فرما دی ہے۔ وہی یہاں پر دفن ہوں گے چنانچہ آج تک روضہ شریف میں وہ جگہ، پکار پکار کر مرزائیت کے غلط عقائد کا اعلان کر رہی ہے تو یہ حدیث شریف ظاہر کر رہی ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے۔
- ۳...... مصنف ابن ابی شیبہ ج ۳ ص ۲۲۹ مطبوعہ ملتان کی کتاب الجنائز ۱۵۱ باب فی
الرجل یوصی ان یدفن فی موضع پر ایک ساتھ دو حدیثیں ہیں ایک ہی امر سے متعلق ایک حدیث شریف میں قبر کا لفظ ہے۔ دوسری حدیث شریف میں مقبرہ کا لفظ ہے۔ ایک ہی امر کے لیے ایک ہی حدیث میں قبر اور دوسری میں اسی امر سے متعلق مقبرہ کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ بھی مستعمل ہے۔
- ۴...... قادیانیوں کے مسلمہ مجدد حضرت ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں۔ (ثم یموت فیدفن
معی) ای مصاحبتی (فی قبری) ای مقبرتی و عبر عنھا بالقبر لقرب قبرہ بقبرہ فکانھما فی قبر واحد۔ (فاقوم انا و عیسیٰ فی قبر واحد) ای من مقبرۃ واحدۃ ففی القاموس ان فی تاتی بمعنی من کذافی المغنی۔ (مرقاۃ ج ۱۰ ص ۲۳۳ مطبوعہ امدادیہ ملتان)
’’پھر فوت ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام اور میرے ساتھ دفن ہوں گے۔ میری مصاحبت میں دفن ہوں گے۔ فی قبری میری قبر میں قبر سے مراد مقبرہ ہے۔ میری قبر اس لیے آپ ﷺ نے تعبیر کی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کے نہایت قریب ہوگی۔ گویا دونوں ایک ہی قبر ہے آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر سے قیامت کو اٹھیں گے۔ یعنی ایک مقبرہ سے اٹھیں گے۔ قاموس میں ہے کہ ’’فی‘‘ من کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ مغنی میں ہے‘‘ اس حدیث شریف کی شرح میں ملا علی قاریؒ نے دو جگہ قبر کا معنی مقبرہ کیا ہے۔
- ۵...... خود قرآن مجید میں بھی بعض جگہ فی بمعنی مع کا مستعمل ہے۔ جیسے فرمایا ’’بورک
من فی النار‘‘ (نمل) یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھا، نہ کہ اندر، چنانچہ تفسیر کبیر جز ۲۴ ص ۱۸۳ پر اسی آیت کے تحت علامہ رازیؒ فرماتے ہیں۔ ’’وھذا اقرب لان القریب من الشی قد یقال انہ فیہ‘‘ کبھی کبھار قریب ترین کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی اس میں ہے۔‘‘ یاد رہے کہ امام رازی کو بھی قادیانی مجدد مانتے ہیں۔
اب دو مجددین کے معنوں سے قادیانیوں کا انحراف زیغ نہیں تو اور کیا ہے؟
- ٦ ...... خود مرزا قادیانی کا حوالہ گزر چکا ہے کہ ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آ جائے
جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ اس حوالہ میں بھی مرزا نے قبر بمعنی مقبرہ یعنی روضہ کے تسلیم کیا ہے تو حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ فیدفن عیسیٰ فی قبری کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے اس کا یہی معنی ہے کہ میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔
قادیانی اعتراض اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہونا صحیح ہے تو حضرت عائشہؓ کو تین چاند کیوں دکھائے گئے؟ پھر تو چار چاند دکھائے جانے چاہیے تھے۔
الجواب حضرت عائشہؓ کو خواب میں تین چاند اس لیے دکھائے گئے کہ ان کی زندگی میں صرف تین چاند ہی ان کے حجرے میں دفن ہونے والے تھے اور وہ صرف تینوں ہی کو دیکھنے والی تھیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کو اور اپنے والد ماجد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو۔ باقی رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ سو وہ حضرت عائشہؓ کی زندگی میں دفن ہونے والے نہ تھے اس لیے وہ حضرت عائشہؓ کو نہ دکھائے گئے۔ مزید برآں حدیث نبوی اگر کسی امتی کے خواب کے خلاف یا قول کے خلاف ہونے سے غلط ہو جائے تو آج حدیث کا سارا دفتر مردود ہو جائے گا اور اسلام دنیا سے رخصت۔
اس حدیث شریف کی بحث کو ختم کرنے سے قبل قادیانیوں سے ایک سوال ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- الف ...... ”مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر میں ہے۔“
(راز حقیقت ص ۲۰ خزائن ج ۱۴ ص ۱۷۲)
- ب ...... ”مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا۔“
(ازالہ ص ۴۷۳ خزائن ج ۳ ص ۳۵۲)
- ج ...... ”عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے۔“
(اتمام الحجۃ ص ۲۱۔۲۲۔ خزائن ج ۸ ص ۳۰۰۔۲۹۹)
ایک شخص کی قبر تین جگہ نہیں ہو سکتی۔ ایک جگہ ہوگی تو دو قبروں کے متعلق مرزا نے جھوٹ بولا۔ اس طرح ستاٹھ فیصد جھوٹا ہوا۔ قادیانی بتائیں کہ ایک شخص تین جگہ کیسے دفن ہوا؟
حدیث ۶ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہو گی؟
نزول من السماء کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پینتالیس سال دنیا میں قیام فرمائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ حج و عمرہ کریں گے۔ شادی ہوگی۔ اولاد ہوگی۔ پینتالیس سال نزول کے بعد دنیا میں رہ کر مدینہ طیبہ میں انتقال فرمائیں گے۔ حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ نمبر ۱ ..... آنحضرت ﷺ نمبر ۲ ..... سیدنا صدیق اکبرؓ نمبر ۳ ..... سیدنا فاروق اعظمؓ۔ تین قبور مبارکہ موجود ہیں۔ چوتھی قبر مبارک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مدینہ طیبہ مسجد نبوی میں آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں ہوگی۔
حوالہ نمبر ۱ ..... ”عن عبداللہ بن سلام قال یدفن عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مع رسول اللہ ﷺ وصاحبیہ رضی اللہ عنھما فیکون قبرہ رابعًا“
(مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۰۹، در منثور ج ۲ ص ۲۴۷)
”حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ اور سیدنا صدیق اکبرؓ اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی چوتھی قبر ہوگی۔“
حوالہ نمبر ۲ ..... ”عن عائشہؓ قالت قلت یارسول اللہ انی ارى انی اعیش بعدك فتاذن لى ان ادفن الى جنبك فقال وانىٰ لك بذالك الموضع مافیه الا موضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسیٰ بن مریم، کنز العمال ج ۱۴ ص ۶۲۰، حدیث نمبر ۳۹۷۲۸ ابن عساکر جلد ۲۰ ص ۱۵۲“
”حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ بظاہر یہ ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں گی۔ اپنے پہلو میں مجھے دفن ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ آپ کے لیے جگہ کہاں۔ وہاں تو صرف میری (آنحضرت ﷺ) ابوبکرؓ، عمرؓ اور عیسیٰ علیہ السلام کی قبور کی جگہ ہے۔“
حوالہ نمبر ۳ ..... ”عن عبداللہ بن سلام قال وجدت فی الکتب ان عیسیٰ بن مریم یدفن مع النبی ﷺ فی القبر وقد بقی فی البیت موضع قبر“
(ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۵۳)
”حضرت عبداللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کتب سماویہ میں پایا کہ بے شک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دفن ہوں گے نبی کریم ﷺ کے ساتھ قبر میں اور تحقیق باقی ہے روضہ طیبہ میں ایک قبر کی جگہ۔“
حوالہ نمبر ۴ ....... ”عن عبداللہ بن سلام بطرت فى التورة صفة محمد و عیسیٰ بن مریم یدفن معه“
(ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۵۲)
”حضرت عبداللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں کہ تورات میں، میں نے آنحضرت ﷺ کی تعریف میں لکھا دیکھا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم آپ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔“
حوالہ نمبر ۵ ....... ”عن عبدالله بن سلام ليدفن عيسى بن مريم مع النبى فى بيته.
(تاریخ الکبیر للبخاری ج ۱ ص ۲۶۳، ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۵۲)
حوالہ نمبر ۶ ....... ”قال ابو مودود وقد بقی موضع قبر“
(ابن عساکر جلد ۲۰ ص ۱۵۲ ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۲ باب فضل النبی ﷺ)
”حضرت ابو مودودؒ فرماتے ہیں کہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارکہ میں صرف ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ (عیسیٰ علیہ السلام کے لیے)“
حوالہ نمبر ۷ ....... ”عن عبدالله بن سلام قال مكتوب فى التوراة صفة محمد و عیسیٰ بن مریم یدفن معه“
(ترمذی جلد ۲ ص ۲۰۲ باب فضل النبی ﷺ)
”حضرت عبداللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں کہ تورات میں آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی شان میں لکھا ہے کہ وہ ایک ساتھ دفن ہوں گے۔“
درمنثور، ترمذی، کنزالعمال، مجمع الزوائد، ابن عساکر، التاریخ الکبیر للبخاری، ایسی وقیع اور امہات الکتب کے حوالہ جات کے بعد بھی کوئی بدنصیب قادیانی اس بات کو نہیں مانتا تو پھر ان کا علاج خود عیسیٰ علیہ السلام ہی تشریف لا کر کریں گے۔ جیسا کہ صحیح بخاری جلد ۱ ص ۴۹۰ پر ہے: ”يقتل الخنزير“ فکن من الشاکرین!
نتائج حدیث ششم
- ۱۸....... اس حدیث شریف میں عیسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک روضہ طیبہ میں چوتھی قبر ہونے
کی صراحت ہے۔
- ۱۹....... اس میں آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں ابھی ایک قبر مبارک کی جگہ کے باقی
ہونے کی صراحت ہے۔
- ۲۰....... عبداللہ بن سلامؒ فرماتے ہیں کہ تورات میں عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا کہ وہ
آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۲۹....... کیا روضہ طیبہ مدینہ منورہ میں چوتھی قبر مرزا کی بنی؟
- ۳۰...... کیا روضہ طیبہ کی چوتھی قبر مبارک کی باقی جگہ (ترمذی کی صراحت کے مطابق) پُر
ہو گئی ہے؟
- ۳۱...... کیا مرزا کے متعلق تورات میں تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے؟
حدیث......۷ عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لن تھلک امۃ انا فی اولھا و عیسیٰ بن مریم فی آخرھا والمھدی فی وسطھا.
”وہ امت کبھی ہلاک نہیں ہوگی جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان۔“
(جامع الاحادیث للسیوطی ج ۵ ص ۱۱۰ حدیث ۱۵۰۷۱، کنز العمال ج ۱۴ ص ۲۶۶ حدیث
۳۸۶۷۱ و ص ۲۶۹ حدیث نمبر ۳۸۶۸۲ و ص ۲۷۷ حدیث ۳۸۸۵۸، سراج منیر ج ۴ ص ۱۳۹ (مطبوعہ
مکتبہ الایمان مدینہ) فیض القدیر ج ۵ ص ۳۰۱ حدیث ۷۳۸۲ ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۵۴)
(نوٹ) اس حدیث میں علامہ سیوطیؒ ۔ علاء الدین بن حسام الدین صاحب الکنز یہ دونوں قادیانیوں کے نزدیک مجدد ہیں ان کی بیان کردہ روایت ہے۔
نتائج حدیث ہفتم
- ۲۱...... اس حدیث شریف میں صراحت ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام امت محمدیہ میں
آئیں گے۔
- ۲۲...... اس حدیث شریف میں سیدنا مسیح و مہدی کی علیحدہ علیحدہ شخصیات کی تصریح ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۳۲...... کیا مرزا قادیانی مریم کا بیٹا تھا؟
- ۳۳...... اس کا ذاتی نام غلام احمد تھا یا عیسیٰ؟
- ۳۴...... مہدی و مسیح دو ہیں یا ایک؟
حدیث......۸ مشکوٰۃ باب قصۃ ابن صیاد میں مذکور ہے حضور علیہ السلام بمعہ صحابہؓ ابن صیاد کو دیکھنے گئے۔ ابن صیاد کے بارے میں صحابہؓ کو شبہ تھا کہ یہ ہی دجال نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی ائذن لی یا رسول اللہ فاقتلہ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنْ یَّکُنْ ہُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَہٗ اِنَّمَا صَاحِبُہُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ. ”اجازت دو مجھ کو یا رسول اللہ ﷺ کہ میں ابھی اسے قتل کر دوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ ابن صیاد دجال ہے تو تم اسے قتل نہ کر سکو گے کیونکہ اس کا قتل عیسیٰ بن مریم کے ہاتھوں ہوگا۔“
(مشکوٰۃ ص ۴۷۹ باب قصۃ ابن صیاد شرح السنۃ بغوی ج ۷ ص ۴۵۳ و ۴۵۴ حدیث ۳۶۱۹ کتاب الفتن باب ذکر ابن صیاد مسند احمد ج ۳ ص ۳۶۸ مجمع الزوائد ج ۸ ص ۶ باب ماجاء فی ابن صیاد وقال رجالہ صحیح۔ کنزالعمال ج ۱۴ ص ۳۳۱ باب ابن صیاد حدیث ۳۸۸۳۸۔ فتح الباری ج ۶ ص ۱۲۱ بخاری ج ۱ ص ۴۲۹ کتاب الجہاد باب یعرض الاسلام علی الصبی)
بخاری کے الفاظ یہ ہیں قال عمرؓ یارسول اللہ اذن لی فیہ اضرب عنقہ قال النبی ﷺ ان یکن ھو فلن تُسَلَّط علیہ وان لم یکن ھو فلا خیر لک فی قتلہ الخ. ”حضرت عمرؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اتار دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔ (اس لیے کہ اس کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے) اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں تو اس کے قتل میں تمہاری بھلائی نہیں۔“
(نوٹ) امام احمد، صاحب کنز العمال۔ علامہ عسقلانی۔ یہ سب قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔ یہ روایت ان کی بیان کردہ ہے۔
مرزا قادیانی بھی یہی لکھتے ہیں۔
”آنحضرت نے عمر کو قتل کرنے سے منع (کیا اور فرمایا) اگر یہی دجال ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اسے قتل نہیں کر سکتے۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۲۵ خزائن ج ۳ ص ۲۱۳)
ثابت ہوا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں جو زمین پر اتر کر دجال کو قتل کریں گے جیسا کہ حدیث معراج میں اس کی مزید تائید ہے۔
نتائج حدیث ہشتم
- ۲۳...... اس حدیث میں صراحت ہے کہ دجال کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔
- ۲۴...... یہ کہ دجال ایک شخص معین ہے نہ کہ اقوام۔
- ۲۵...... یہ کہ دجال تلوار سے قتل ہوگا۔
قادیانیوں سے سوال
- ۳۵...... کسی حدیث شریف میں قادیانی دکھا سکتے ہیں کہ دجال کا قاتل عیسیٰ علیہ السلام کے
سوا کسی اور کو قرار دیا گیا ہو؟
- ۳۶...... کیا قادیانی حدیث میں دکھا سکتے ہیں کہ دجال کوئی قوم ہے نہ کہ شخص معین؟
- ۳۷...... قادیانی کسی حدیث میں دکھا سکتے ہیں کہ دجال کا قتل دلائل سے ہوگا؟
حدیث ۹۰....... عن عبداللہ بن مسعودؓ، عن النبی ﷺ قال لقیت لیلۃ اسری بی ابراہیم و موسی و عیسی، قال فتذاکروا امر الساعۃ فردوا امرہم الی ابراہیم، فقال لا علم لی بہا فردوا الامر الی موسیٰ، فقال لا علم لی بہا، فردوا الامر الی عیسی، فقال: اما وجبتہا فلا یعلمہا احد الا اللہ تعالیٰ ذلک و فیما عہد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج قال و معی قضیبان فاذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیہلکہ اللہ، حتی ان الحجر والشجر لیقول: یا مسلم ان تحتی کافراً فتعال فاقتلہ قال: فیہلکہم اللہ تعالیٰ.
”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے شب معراج میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی تو وہ قیامت کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ پس انھوں نے اس معاملہ میں ابراہیم ؑ سے رجوع کیا (کہ وہ وقتِ قیامت کے بارے میں کچھ بتائیں) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں پھر حضرت موسیٰ ؑ کی طرف رجوع کیا تو انھوں نے بھی فرمایا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف رجوع کیا تو انھوں نے فرمایا جہاں تک وقتِ قیامت کا معاملہ ہے تو اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں یہ بات تو اتنی ہی ہے البتہ جو عہد پروردگار نے مجھ سے کیا ہے اس میں یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس دو باریک سی نرم تلواریں ہوں گی پس وہ مجھے دیکھتے ہی رانگ (یا سیسہ) کی طرح پگھلنے لگے گا پس اللہ اس کو ہلاک کرے گا۔ یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی کہیں گے کہ اے مرد مسلم میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے آ کر اسے قتل کر دے چنانچہ اللہ ان سب (کافروں) کو ہلاک کر دے گا۔“
(مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵ واللفظ لہ۔ ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب خروج الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم علیہما السلام و خروج یاجوج و ماجوج (اس میں ہے کہ میں دجال کو قتل کروں گا) ابن جریر جزء ۱۷ ص ۹۱ زیر آیت حَتّٰی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوْجُ وَمَأْجُوْجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ. مستدرک حاکم ج ۵ ص ۲۸۷ باب مذاکرۃ الانبیاء فی امر الساعۃ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیحین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے) فتح الباری ج ۱۳ ص ۷۹۔ درمنثور ج ۴ ص ۳۴۶۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۶۶۱ حدیث نمبر ۷۱ کتاب الفتن باب ماذکر فی فتنۃ الدجال)
(نوٹ) امام احمد۔ حاکم۔ جلال الدین سیوطیؒ، قادیانیوں کے مسلم مجدد اور ابن جریر رئیس المفسرین ہیں ان سے یہ روایت منقول ہے۔
نتائج حدیث نہم
- ۲۶...... تمام انبیاء علیہم السلام کی موجودگی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قتل دجال کے لیے
دوبارہ دنیا میں آنے کا تذکرہ فرماتے ہیں۔ کسی نبی نے اس پر نکیر نہ کی گویا انبیاء علیہم السلام کا قرب قیامت نزول مسیح پر اجماع ثابت ہوا۔
- ۲۷...... اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ بیان فرماتے ہیں۔
- ۲۸...... عیسیٰ علیہ السلام نزول کو وعدہ خداوندی فرماتے ہیں۔
- ۲۹...... عیسیٰ علیہ السلام کی دجال سے لڑائی کے وقت میں پتھر و درخت کلام کریں گے۔
- ۳۰...... دجال کے ساتھی جو جنگ میں شامل ہوں گے۔ ہلاک ہو جائیں گے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۳۸...... انبیاء علیہم السلام کے اجماع کا مرزا قادیانی اور قادیانیت منکر ہیں یا نہ؟
- ۳۹...... جو شخص آنحضرت ﷺ کے بیان کردہ واقعہ کو تسلیم نہ کرے وہ کون ہے؟
- ۴۰...... جو شخص اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا منکر ہو وہ کون ہے؟
- ۴۱...... مرزا کے زمانہ میں لڑائی ہوئی؟
- ۴۲...... پتھر اور درختوں نے کلام کیا؟
- ۴۳...... دجال کے ساتھی ہلاک ہوئے؟
حدیث.......۱۰ حدثنى المثنى ثنا اسحاق ثنا ابن ابى جعفر عن ابيه عن الربيع فى قوله تعالى الم الله لا اله الا هو الحى القيوم قال ان النصارى اتو رسول الله ﷺ فخاصموه فى عيسى بن مريم وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان لا اله الا هو لم يتخذ صاحبة ولا ولدا فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لايكون ولدا الا هو يشبه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت وان عيسى ياتى عليه الفناء قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا قيم على كل شئ يكلوه و يحفظه و يرزقه قالوا بلى قال فهل يملك عيسى من ذلك شيئا قالوا لا قال افلستم تعلمون ان الله عزوجل لا يخفى عليه شئ فى الارض ولا فى السماء قالوا بلى قال فهل يعلم عيسى من ذلك شيئا الا ما اعلم قالوا لا قال فان ربنا صور عيسى فى الرحم كيف شاء فهل تعلمون ذلك قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا لا ياكل الطعام ولا يشرب الشراب ولا يحدث الحدث قالوا بلى قال الستم تعلمون ان عيسى حملته امرأة كما تحمل المرأة
ثم وضعته كما تضع المرأة ولدها ثم غذى كما يغذى الصبى ثم كان يطعم الطعام و يشرب الشراب و يحدث الحدث قالوا بلى قال فكيف يكون هذا كما زعمتم قال فبہتوا فوالله ابوا الا جحودا فانزل الله عزوجل الم الله لا اله الا هو الحى القيوم.
(تفسیر ابن جریر جز ۳ ص ۱۶۳۔ تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳)
(نوٹ) ابن جریر قادیانیوں کے نزدیک رئیس المفسرین اور علامہ سیوطی مجدد ہیں۔ ان دونوں کی یہ بیان کردہ روایت ہے۔
”ربیع سے الم اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصاریٰ نجران نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپ ﷺ سے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اللہ نہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے حالانکہ وہ خدا لاشریک بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے (یعنی جب یہ تسلیم ہو گیا کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح ؑ بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگوں ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَد)
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ हमारा پروردگار حی لایموت ہے یعنی زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے (اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم رکھنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں۔ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ ؑ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا۔ نصاریٰ نے کہا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اللہ نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح
ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا۔ جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے اور بول و براز بھی کرتے تھے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟ نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں ”الٓمّٓ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ“
نتائج حدیث دہم
- ۳۱...... اس روایت میں صراحت ہے کہ نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ کی گفتگو ہوئی۔
نصاریٰ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے اور ہیں۔ یہ موقع تھا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ تھے تو آنحضرت ﷺ ان کے سامنے وفات مسیح علیہ السلام کو الم نشرح کرتے کیا آپ ﷺ نے ایسے کیا؟
- ۳۲...... آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ کے سامنے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ ہمیشہ حیی و قیوم کا ذکر
کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کے لیے کہ ان پر فنا آئے گی فرمایا اگر عیسیٰ علیہ السلام فنا شدہ (یعنی وفات شدہ تھے) تو آنحضرت ﷺ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ حیی و قیوم ہے عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو گئے۔ تو آپ ﷺ کی دلیل اور پختہ ہو جاتی مگر آپ ﷺ کا فرمانا کہ ان پر فنا آئے گی یہ صریح دلیل ہے حیات عیسیٰ علیہ السلام کی۔
- ۳۳...... اس حدیث میں ان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء کی تصریح ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- ۳۴...... نصاریٰ حیات مسیح کے قائل تھے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے حیات مسیح کا
کیس آیا آپ ﷺ نے کیا فیصلہ دیا۔ قادیانی فرمائیں کہ جو آپ ﷺ کے فیصلہ کو نہ مانے وہ کون؟
- ۳۵...... اگر عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ تھے تو نصاریٰ کے سامنے آنحضرت ﷺ نے اسلام
کا کیا عقیدہ پیش کیا؟
- ۳۶...... قادیانی فرمائیں کہ نصاریٰ حیات مسیح کے قائل آنحضرت ﷺ نے بھی حیات مسیح
کا اثبات فرمایا۔ اگر وہ فوت شدہ تھے تو آپ ﷺ نے نصاریٰ کی تائید کر کے اسلام کا کیس غلط پیش کیا؟ معاذ اللہ۔
- ۳۷...... مرزا قادیانی کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ شرک ہے
(الاستفتاء)
کیا آنحضرت ﷺ نے معاذ اللہ شرک کی تائید کی؟
- ۴۸...... کیا آنحضرت ﷺ سے ابن جریر اور جلال الدین سیوطیؒ تک سب راویوں نے
شرک کو پھیلایا؟
- ۴۹...... اس حدیث میں ان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء ہے کیا قادیانی ان عیسیٰ علیہ
السلام اتی علیہ الفناء کا لفظ کسی روایت میں پورے ذخیرہ احادیث سے دکھا سکتے ہیں؟
- ۵۰...... ہم نے ان روایات میں مرزائیوں کے مسلمہ مجددین کے اسماء پیش کر کے ان کی
بیان کردہ روایات کو نقل کیا۔ کیا یہ مجددین صحیح تھے یا مرزا قادیانی؟
- ۵۱...... تیرہ صدیوں کے مجددین حیات مسیحؑ کے قائل چودھویں صدی کا (بزعم خود) مرزا
مجدد ان کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے۔ کیا وہ تیرہ صدیوں کے مجددین صحیح تھے یا صرف مرزا؟
- ۵۲...... وہ عقیدہ جو تیرہ صدیوں کے مجددین کا ہے ان کا انکار کرنے والا خود مجدد ہو
سکتا ہے؟
ان روایات سے ہم نے ۳۳ نتائج نکالے چونکہ ہر قادیانی باون گزا ہے ان سے باون سوال کیے۔
قادیانیوں کو چیلنج
- ۱...... ان روایات میں ہم نے نزول عیسیٰ بن مریم کے ابواب کے حوالے دیے۔
- ۲...... ینزل من السماء، ۳.... ان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء، ۴.... انه نازل، ۵...... ان
عیسیٰ لم یمت، ۶...... انه راجع الیکم، ۷...... یهبط عیسیٰ
(کنز ج ۱۴۔ حدیث ۳۹۷۲۰)
- ۸...... ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض، ۹...... فیکون قبرہ رابعا ۱۰، ... فیدفن
معی کے صریح الفاظ دکھائے اس کے مقابلہ میں کوئی قادیانی ماں کا لعل صراحتہ ۔
سوال
- ۱...... ذخیرہ احادیث میں وفات مسیح کا باب دکھا سکتا ہے؟
- ۲...... ذخیرہ احادیث میں لا ینزل من السماء کا لفظ دکھا سکتا ہے؟
- ۳...... ذخیرہ احادیث میں ان عیسیٰ اتی علیہ الفناء کا لفظ دکھا سکتا ہے؟
- ۴...... ذخیرہ احادیث میں انه لا ینزل دکھا سکتا ہے؟
- ۵...... ذخیرہ احادیث میں ان عیسیٰ قد مات دکھا سکتا ہے؟
- ۶...... ذخیرہ احادیث میں انه (عیسیٰ) لا یرجع الیکم دکھا سکتا ہے؟
- ۷...... ذخیرہ احادیث میں لا یهبط عیسیٰ دکھا سکتا ہے؟
- ٨....... ذخیرہ احادیث میں لاینزل عیسیٰ الی الارض دکھا سکتا ہے؟
- ٩....... ذخیرہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کی قبر در روضہ طیبہ کی نفی دکھا سکتا ہے؟
- ١٠....... ذخیرہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تدفین کی نفی کا
صراحۃً ذکر دکھا سکتا ہے؟ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار۔
ایک ضروری تنبیہ
ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یعنی وہی مسیح مراد ہیں کہ جو حضرت مریم کے بطن سے بلا باپ کے نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے اور جن پر اللہ نے انجیل اتاری۔ معاذ اللہ نزول سے امت محمدیہ میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو۔ ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتا تو بیان نزول کے وقت آنحضرت ﷺ اور ابوہریرہؓ کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذ اللہ اگر احادیث نزول میں مثیل مسیح اور مرزا جی کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے تو لازم آئے گا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے سب جگہ مثیل مسیح اور مرزا قادیانی ہی مراد ہوں۔ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کا نزول مسیح کو ذکر فرما کر بطور استشہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضور ﷺ کا مقصود انھیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے جن کے بارے میں یہ آیت اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں اور علیٰ ہذا امام بخاریؒ اور دیگر آئمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورہ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفی (اٹھائے جانے) اور رفع الی السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا وکلا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں، دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔
اس حقیقت کے واضح اور آشکارا ہونے کے بعد بھی اگر کوئی بدعقل اور بدنصیب ایسے مکار پر اپنے ایمان کی دولت کو قربان اور نثار کرنا چاہتا ہے تو اس کو اختیار ہے ہمارا کام تو حق اور باطل کے فرق کو واضح کر دینا ہے۔ سو الحمدللہ وہ کر چکے دوا کر چکے اور دعا بھی کرتے ہیں اور آپ سے یہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس سے رشد و ہدایت کی دعا کریں۔
باب چہارم
حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع امت
- ۱.... حافظ عسقلانی ”تلخیص الحبیر ج ۳ ص ۲۶۴ مطبوعہ مکہ تحت روایت نمبر ۱۶۰۷ میں
فرماتے ہیں۔ اما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفعہ ببدنہ حیا و انما اختلفوا ھل مات قبل ان یرفع او نام ۔ فرفع انتھی ۔ ”یعنی تمام محدثین اور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ رفع الی السماء سے پہلے کچھ دیر کے لیے موت طاری ہوئی۔ یا حالت نوم میں اٹھائے گئے۔“
- ۲...... تفسیر بحرالمحیط کے ص ۴۷۳ ج ۲ پر ہے۔
قال ابن عطیۃ و اجمعت الامۃ علی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسٰی فی السماء حی وانہ ینزل فی اخر الزمان آہ ۔ ”یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور اخیر زمانہ میں نازل ہوں گے جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔“
- ۳...... تفسیر النہر الماد کے ص ۴۷۳ ج ۲ پر ہے۔
واجمعت الامۃ علی ان عیسٰی حی فی السماء و ینزل الی الارض اھ ۔ ”امت کا اجماع ہے اس پر کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے۔“
- ۴...... تفسیر وجیز بحاشیہ جامع البیان ص ۵۲ میں ہے۔
والاجماع علی انہ حی فی السماء و ینزل و یقتل الدجال و یؤید الدین اھ اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں نازل ہو کر دجال کو قتل کریں اور اسلام کی تائید کریں گے۔“
- ۵.... امام ابوالحسن اشعری قدس اللہ سرہ کتاب الابانتہ عن اصول الدیانۃ کے ص ۴۶
پر فرماتے ہیں۔
قال اللہ عزوجل یعیسٰی انی متوفیک و رافعک الی وقال اللہ تعالیٰ وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ۔ واجمعت الامۃ علی ان اللہ عزوجل رفع عیسٰی الی السماء اھ ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے عیسٰی علیہ السلام میں آپ کو پورا پورا لوں گا اور آپ کو اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسٰی علیہ السلام کو یہود نے یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔“
- ۶...... شیخ اکبر قدس اللہ سرہٗ فتوحات مکیہ کے باب ۳۶۷ ج ۲ ص ۳ میں فرماتے ہیں۔
لا خلاف فی انہ ینزل فی اخر الزمان۔ ”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عیسٰی علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔“
- ۷...... علامہ سفارینی شرح عقیدہ سفارینیہ ص ۹۰ ج ۲ پر فرماتے ہیں کہ عیسٰی علیہ السلام کا
نزول من السماء کتاب اور سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اوّل آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ الآیۃ نقل کی اور ابو ہریرہؓ کی حدیث نقل کی اب اس کے بعد فرماتے ہیں۔ واما الاجتماع فقد اجتمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل و یحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السماء و ان کانت النبوۃ قائمۃ بہ وہو متصف بہا۔“ ”یعنی رہا اجماع سو تمام امت محمدیہ ﷺ کا اجماع ہو گیا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے اور اہل اسلام میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں۔ صرف فلاسفہ اور ملحد اور بے دین لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے جن کا اختلاف قابل اعتبار نہیں اور نیز تمام امت کا اجماع اس پر ہوا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے موافق حکم کریں گے مستقل شریعت لے کر آسمان سے نازل نہ ہوں گے۔ اگرچہ وصفِ نبوت ان کے ساتھ قائم ہوگا۔“
(شرح عقیدہ سفارینیہ ص ۹۰ ج ۲)
- ۸...... علامہ طبری تفسیر جامع البیان جز ۳ ص ۲۹۱ پر ہے۔
لتواتر الاخبار عن رسول اللہ ﷺ انہ قال ینزل عیسٰی بن مریم لیقتل الدجال الخ۔ ”آنحضرت ﷺ کی تواتر کے ساتھ احادیث ہیں کہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔“
- ۹...... علامہ محمود آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی پارہ ۲۲ زیر آیت خاتم النبیین ص ۳۲ پر
فرماتے ہیں۔ ” واجمعت الامة عليه و اشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب فهو قول وجب الايمان به و اكفر منكره كا الفلاسفة من نزول عیسیٰ علیہ السلام“ ”نزول عیسیٰ علیہ السلام پر امت کا اجماع ہے۔ اس کی احادیث حد شہرت کو پہنچ گئی ہیں شاید تواتر معنوی کا بھی درجہ ان کو حاصل ہے۔ اس قول پر کتاب اللہ گواہ ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اس کا منکر کافر ہے جیسے فلاسفیہ (یا آج کل کے قادیانی)
- ۱۰....... علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ابن کثیر زیر آیت و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن
به فرماتے ہیں ”وانه باق حیی وانه سينزل كی قبل يوم القيامة كما دلت عليه الاحاديث المتواترة“ ”عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ موجود ہیں۔ وہ قیامت سے قبل نازل ہوں گے۔ اس پر احادیث متواترہ دلالت کرتی ہیں۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر سورۃ زخرف وانہ لعلم الساعة کے تحت لکھتے ہیں کہ وَقَدْ تَوَاتَرَتْ الْاَحَادِيْثُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ انه اخبر بنزول عيسىٰ عليه السلام قبل يوم القيامة اماما عادل و حكم مقسطاً۔ ”آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث مذکور ہیں۔ آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل نزول کی خبر دی کہ وہ امام عادل اور منصف حکمران بن کر تشریف لائیں گے۔“
- ۱۱....... وقد تواترت الاحاديث بنزول عيسى جسما اوضح ذلك الشوكاني في
مؤلف مستقل يتضمن ذكر ما ورد فى المهدى المنتظر والدجال والمسيح و عزاه فى غيره و صححه الطبرى هذا القول واراد بذلك الاحاديث المتواترة (فتح البیان ص ۳۴۲ ج ۲) ”عیسیٰ علیہ السلام کے جسماً نازل ہونے میں احادیث متواترہ وارد ہیں علامہ شوکانیؒ نے ایک مستقل رسالہ میں جو مہدی موعود اور دجال و مسیح کے بارے میں ہے واضح کیا ہے اور اس کے غیر میں بھی اس کو بیان کیا ہے اور اس قول کو طبری نے تصحیح کی اور اس کے بارے میں احادیث متواترہ وارد ہیں۔“
- ۱۲....... فتقرر ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة والاحاديث
الواردة فى نزول عيسىٰ عليه السلام بن مريم متواترة انتهى كلام الشوكاني واما الاجماع فقال السفارينى فى اللوامع قد اجتمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة وانما انكر ذلك الفلاسفة والملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الامة على انه ينزل و يحكم بهذه الشريعة المحمدية وليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السمآء وان كانت النبوة
قائمة به وهو متصف بها (کتاب الاذاعہ ص ۷۷) ”پس ثابت ہو چکا کہ وہ احادیث جو مہدی موعود کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں اور وہ احادیث جو نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں وارد ہیں۔ انتہیٰ کلام الشوکانی لیکن اجماع پس سفارینی نے لوامع میں فرمایا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر امت کا اجماع ہے کسی نے اہل شریعت میں سے اس میں خلاف نہیں کیا بس صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے انکار کیا ہے جن کے خلاف کا کچھ اعتبار نہیں اور تحقیق امت کا اجماع منعقد ہوا کہ وہ نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ ﷺ پر حکم کریں گے اور آسمان سے نزول کے زمانہ میں شریعت مستقل لے کر نازل نہ ہوں گے اگرچہ نبوۃ ان کے ساتھ قائم ہے اور وہ نبوۃ کے ساتھ متصف ہوں گے۔
۱۳....... علامہ زمخشری امام المعتزلین تفسیر کشاف ص ۵۴۴ ۔ ۵۴۵ ج ۳ میں لکھتے ہیں۔ فان قلت کیف کان اخر الانبیاء و عیسٰی علیہ السلام ینزل فی اخر الزمان قلت معنٰی کونہ اخر الانبیاء انہ لاینبأ احد بعدہ و عیسٰی ممن نبئ قبلہ. ”اگر تو کہے کہ حضور علیہ السلام آخر الانبیاء کیسے ہوئے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے میں کہوں گا کہ آخر الانبیاء ﷺ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو نبوۃ پہلے مل چکی ہے۔ معلوم ہوا کہ معتزلہ بھی اس عقیدہ میں خلاف نہیں ہیں جیسا کہ عقیدہ سفارینی میں مذکور ہے صرف ملاحدہ اور متفلسفہ خلاف ہیں اور بعض علماء نے جو لکھا ہے کہ معتزلہ اس کے خلاف ہیں وہ وہی معتزلہ ہیں جو فلسفی العقیدہ ہو کر ملاحدہ میں جا ملے یہ بالکل لایعبا بہ ہیں۔ اجماع میں ان کے خلاف سے کچھ خلل لازم نہیں آتا۔“
باب پنجم
مرزا قادیانی اور عقیدہ حیات عیسیٰ ؑ (تین ادوار)
تیس قادیانی تحریفات کے جوابات
مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں تیس آیات قرآنی میں تحریف معنوی کر کے سیدنا عیسیٰ ؑ کی وفات ثابت کرنے کی سعی نامراد کی ہے۔ ذیل میں ان کے ترتیب وار جوابات عرض کیے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ، حضرت مولانا عبداللطیف مسعودؒ، مولانا انوار اللہ خان حیدر آبادیؒ اور دیگر حضرات کے رشحات قلم سے اس باب میں استفادہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس باب میں سب سے پہلے مرزا قادیانی کا موقف معلوم ہونا چاہیے کہ وہ حیات مسیح ؑ پر کیا موقف رکھتے تھے؟ مرزا قادیانی کی کتب گواہ ہیں کہ مرزا قادیانی ۱...... حیات مسیح ؑ کا قائل رہا۔ (یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہ خود مدعی مسیحیت نہ تھا) ۲...... پھر جب مدعی مسیحیت ہوا تو حیات مسیح ؑ کو اپنے راستہ میں رکاوٹ خیال کر کے دلائل تراشنے لگا۔ اپنی کتاب توضیح مرام میں لکھا کہ عیسیٰ ؑ کی وفات تین آیات سے ثابت ہے۔ جب ازالہ اوہام لکھی تو کہا کہ عیسیٰ ؑ کی وفات تیس آیات سے ثابت ہے۔ ۳...... پھر حیات مسیح کو شرکیہ عقیدہ قرار دے کر پوری امت مسلمہ کو مشرک بنا دیا۔ ذیل میں اس کے تینوں ادوار کے حوالہ جات اور ان کے نتائج پیش خدمت ہیں۔
مرزا قادیانی اور حیات عیسیٰ ؑ (تین ادوار)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی پہلی الہامی کتاب ”براہین احمدیہ“ میں لکھتا ہے:
حوالہ......۱ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ.“
”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح ؑ کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح ؑ کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح ؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا...... حضرت مسیح
علیہ السلام پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ۴۹۸، ۴۹۹ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳)
نتائج اس بیان میں صاف اقرار کرتا ہے کہ:
- ۱...... حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔
- ۲...... ان کی آمد سے دین اسلام تمام عالم میں پھیل جائے گا اور ان کے ذریعہ دین
اسلام کو غلبہ کاملہ نصیب ہوگا۔
- ۳...... یہ بھی صاف صاف اقرار کرتا ہے کہ قرآن کی مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ
تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی فرمائی ہے اور وہی اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنی آخری تصنیف چشمہ معرفت میں ، جو اس کی وفات سے دس دن پہلے شائع ہوئی، لکھتا ہے:
حوالہ ......۲ "ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ ”یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لیے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ۸۳ خزائن ص ۹۱ ج ۲۳)
مرزا نے اپنی آخری کتاب میں بھی وہی بات لکھی ہے جو سب سے پہلی کتاب میں لکھی تھی کہ اس آیت شریفہ میں جس عالمگیر غلبہ اسلام کی پیش گوئی کی گئی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔ مگر یہاں مرزا قادیانی کی اس تحریر میں دو فرق نظر آتے ہیں۔
- اول ...... یہ کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام لکھنے سے شرماتا ہے، اور اس کی
جگہ ”مسیح موعود“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے حالانکہ مرزا سے پہلے ”مسیح موعود“ کی اصطلاح کسی نے استعمال نہیں کی۔
- دوم ..... یہ کہ وہ ۱۳ صدیوں کے تمام بزرگان دین اور اکابر امت کا اجماع
نقل کرتا ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں پوری ہوگی۔ اس عبارت سے دو باتیں صاف طور پر ثابت ہو جاتی ہیں۔
- ۴...... تیرہ صدیوں کے سب اکابر اس پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں حضرت مسیح علیہ
السلام تشریف لائیں گے جن کے ہاتھ سے اسلام تمام آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا، اور اسلام کے سوا تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے اور یہ کہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
- ۵...... مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ سے اسلام کا یہ عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، اس کو مرے
ہوئے بھی ایک صدی گزر رہی ہے لیکن غلبہ اسلام کے دور و نزدیک کوئی آثار نہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ جب سے مرزا نے ”مسیح“ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اسلام کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے، اور کفر ترقی پذیر ہے۔ لہٰذا مرزا کا ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ غلط اور جھوٹ ہے اور واقعات کا مشاہدہ گواہی دیتا ہے کہ مرزا ”مسیح موعود“ نہیں، بلکہ ”مسیح کذاب“ ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آثار مرویہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ثابت ہے، اس لیے اپنے نبی کے آثار مرویہ کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی ایک زمانے میں یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ مرزا کا مندرجہ ذیل بیان بغور ملاحظہ فرمائیے:
- حوالہ...... ۳ ”میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا
ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے، لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہوگی یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے، جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۱۹۷ خزائن ص ۱۹۶ ج ۳)
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
- ۶...... مسلمانوں کا مشہور عقیدہ یہی چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ
بنفس نفیس تشریف لائیں گے۔
- ۷...... مرزا قادیانی اقرار کرتا ہے کہ میں نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
تشریف لانے اور ظاہری و جسمانی خلافت پر فائز ہونے کا عقیدہ درج کیا ہے۔
۸ .... جب تک مرزا قادیانی پر بذریعہ الہام براہ راست الہامی انکشاف نہیں ہوا تھا تب تک اس کا عقیدہ بھی اپنے نبی کے آثار مرویہ کی ”سرسری پیروی“ میں یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی بنفس نفیس تشریف لا کر خلافت پر فائز ہوں گے۔
اس عبارت سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی جس شخصیت کو اس وقت اپنا نبی سمجھتا تھا، یعنی آنحضرت ﷺ ، ان کے آثار مرویہ اور احادیث طیبہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کا مسئلہ ذکر فرمایا گیا ہے، جس کی پیروی ہر اس شخص پر لازم ہے جو اپنے کو نبی کا امتی مانتا ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی جب تک آنحضرت ﷺ کو واجب الاتباع سمجھتا رہا، آپ ﷺ کے ارشادات کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کا معتقد رہا۔
مرزا یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیرہ صدیوں سے نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنٍ مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور کسی زمانہ میں وہ خود دوبارہ تشریف لائیں گے۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو اقرار ہے کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا اجماعی اور متواتر عقیدہ یہی رہا ہے جو عقیدہ کہ آج امت اسلامیہ کا ہے۔ حسب ذیل تصریحات بغور ملاحظہ فرمائیے۔
حوالہ ...... ۴ ”ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔ مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ...... وفات شدہ مان لو۔“
(ملفوظات جلد دہم ص ۳۰۰ مطبوعہ ربوہ)
حوالہ ...... ۵ ”مسیح ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح ستہ میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)
حوالہ ...... ۶ ”مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری) کے بارے میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی
بنا پر لکھا ہو بس۔ بلکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آتی ہے، گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔“ (شہادت القرآن ص ۸ خزائن ص ۳۰۴ ج ۶)
حوالہ...... ۷ ”اس امر سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود (عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے) کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔“
(شہادت القرآن ص ۲ خزائن ص ۲۹۸ ج ۶)
حوالہ...... ۸ ”یہ خبر مسیح موعود (عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی۔“ (شہادت القرآن ص ۲ خزائن ص ۲۹۸ ج ۶)
مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تصریحات سے واضح ہوا کہ:
- ۹...... تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
آسمان پر زندہ ہیں۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے مرزا غلام احمد کے دعوٰی مسیحیت تک تیرہ صدیاں ہی گزری تھیں۔
- ۱۰...... مسلمان اباً عن جد یہی عقیدہ سکھاتے چلے آئے ہیں اور یہ عقیدہ ہمیشہ سے ان کے
رگ و ریشہ میں داخل رہا ہے۔
- ۱۱...... مسلمانوں کا یہ عقیدہ ان ارشادات نبویہ پر مبنی ہے جن کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔
- ۱۲...... تیرہ صدیوں کے کل مسلمان اور ان کا ہر ہر فرد اس عقیدے کی صحت کا گواہ رہا ہے۔
- ۱۳...... یہ عقیدہ علم عقائد وغیرہ کی ہزار ہا اسلامی کتابوں میں صدی وار اشاعت پذیر ہوتا
رہا ہے۔
- ۱۴...... ایسے متواتر عقیدہ سے انکار کر دینا یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرنا سب سے
بڑھ کر جہالت اور بصیرت دینی اور حق شناسی سے یکسر محرومی کی علامت ہے۔
حوالہ...... ۹ یہاں مرزا کے الہامی فرزند اور اس کے خلیفہ دوم مرزا محمود کی شہادت بھی پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ لکھتے ہیں:
”پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدہ پر فوت ہوئے۔...... حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) سے پہلے جس قدر اولیاء صلحاء گزرے ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ خیال کرتا تھا۔“
(صرف بڑا گروہ نہیں بلکہ بلا استثناء امت اسلامیہ کے ہر ایک فرد کا یہی عقیدہ رہا ہے۔ ناقل)
(حقیقۃ النبوت مصنفہ مرزا محمود ص ۱۴۲)
حوالہ......۱۰ نیز اس ضمن میں لاہوری گروپ کے امیر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پُر جوش مرید مسٹر محمد علی ایم اے کی شہادت بھی ملاحظہ فرمائی جائے:
”بانی فرقہ احمدیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے پچاس یا اس سے بھی زیادہ کتابیں پبلک میں شائع کی ہیں، جن تمام میں یا ان میں سے بہت سی کتابوں میں اس نے جہاد کے قطعاً حرام ہونے اور خونی مہدی کے عقائد کے جھوٹے ہونے پر زور دیا ہے۔ اگر کوئی خاص اصول احمدیہ فرقہ کا سب سے بڑا قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ دو متذکرہ بالا خطرناک اصولوں کی، جو تیرہ صدیوں سے مسلمانوں میں چلے آتے تھے بیخ کنی کرنا ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ شمارہ ۳ ص ۹۰ بابت ماہ مارچ ۱۹۰۴ء)
مندرجہ بالا حوالوں میں مرزا اور اس کے حواریوں کے اعتراف سے ثابت ہو چکا ہے کہ تیرہ سو سال سے اباً عن جد مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہی دوبارہ تشریف لائیں گے، لیکن مرزا تیرہ سو سال بعد امت اسلامیہ کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک متواتر اسلامی عقیدے کو خیر باد کہہ کر ایک نیا نسخہ آزمائے، جو خود مرزا نے تجویز کیا ہے، یا بقول اس کے اس پر منکشف ہوا ہے۔
یہاں ہم مسلمانوں کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہیں گے کہ کیا کسی مسلمان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ کوئی نیا عقیدہ اختیار کر لے؟ مسلمانوں کو سیدنا صدیق اکبرؓ کی پہلی تقریر کا یہ فقرہ یاد ہوگا:
”لوگو! میں تو صرف پیروی کرنے والا ہوں نئی بات ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔“
اس اصول کی روشنی میں ایک مسلمان کو سو بار یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عقیدے کے بارے میں پوری طرح یہ اطمینان کر لے کہ آیا یہ عقیدہ آنحضرت ﷺ اور حضرت صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آتا ہے؟ یا خیر القرون کے بعد کی پیداوار ہے؟ لیکن
جب یہ اطمینان ہو جائے کہ فلاں عقیدہ خیر القرون سے متواتر چلا آتا ہے تو اس کے بعد کسی مسلمان کو اس پر اعتراض کرنے یا اس سے انحراف کرنے کا حق حاصل نہیں، جس شخص کو اسلام کے کسی متواتر عقیدے پر نکتہ چینی کا شوق ہو اس کا فرض ہے کہ مسلمانوں کی صف سے نکل کر غیر مسلموں کی صف میں کھڑا ہو جائے، اس کے بعد بصد شوق اسلام کے متواترات و مسلمات کو ہدف اعتراض بنائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ منطق ناقابل فہم ہے کہ وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو تیرہ صدیوں سے متواتر بھی تسلیم کرتا ہے اور پھر اسے تبدیل کر کے ایک نیا نسخہ استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے، حالانکہ وہ یہ اصول تسلیم کرتا ہے کہ:
حوالہ.....۱۱ ”حدیثوں کا وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آ گیا اور کروڑہا مخلوقات ابتداء سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیوں کر کہا جائے؟ ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک، اور باپوں سے دادوں تک، اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا، اور اپنے اصل مبدأ تک اس کے آثار اور انوار نظر آ گئے اس میں تو ایک ذرہ گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اس کے انسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عملدرآمد کو اوّل درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جب کہ آئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا، اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“
(شہادت القرآن ص ۸ روحانی خزائن ج ۶ ص ۳۰۴)
آپ مرزا کی زبان سے سن چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں تشریف لانا امت اسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متواتر ارشادات میں، جن کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے، یہی عقیدہ بیان ہوا ہے، اور خیر القرون میں یہ عقیدہ وہاں وہاں تک پہنچا ہوا تھا جہاں کہیں ایک مسلمان بھی آباد تھا۔ انصاف فرمائیے کہ اس سے بڑھ کر اس عقیدہ کی حقانیت کا اور کیا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟
اس کے بعد بھی جو شخص اس عقیدے پر زبان طعن دراز کرتا ہے، اسلام کی مسلسل اور متواتر تاریخ کی تکذیب کرتا ہے، اسلام کے متواترات و قطعیات کو، جن کی پشت پر تیرہ سو سالہ امت کا تعامل موجود ہے، جھٹلانے کی جرأت کرتا ہے۔ انصاف کیجئے
کہ کیا ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق ہے؟ بہر حال مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ مشورہ کہ: ”تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر بٹھایا مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ مان لو۔“
(ملفوظات ص ۳۰۰ ج ۱۰)
کسی مسلمان کے لیے لائق التفات نہیں ہو سکتا، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلام کے متواتر و مسلسل عقیدہ کو بدل ڈالنے کی جرأت کرے اور جو شخص ایسی جرأت کرے وہ مسلمان نہیں، بلکہ اسلام کا دشمن ہے۔
اس باب میں ہم نے مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کے گیارہ حوالے پیش کر کے چودہ نتائج اخذ کیے۔ مرزا قادیانی نے حوالہ نمبر ۱ اور نمبر ۲ میں قرآنی آیات سے استدلال کیا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے غلبہ اسلام ہوگا۔ مرزا اقراری ہے کہ قرآن کی رو سے سیدنا مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ اب یہاں ایک اہم حوالہ پیش خدمت ہے۔ مرزا قادیانی کا بڑا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود لکھتا ہے۔
حوالہ.....۱۲ ”لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا یعنی حضرت مرزا قادیانی کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری (عیسیٰ علیہ السلام) جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں، فوت ہو چکے ہیں اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آ سکیں گے اور یہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو ان کی خو بو پر آوے اور وہ آپ (مرزا قادیانی) ہی ہیں۔ جب اس بات پر آپ کو شرح صدر ہو گیا اور بار بار الہام سے آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ اس بات کا اعلان کریں تو آپ کو مجبوراً اس کام کے لیے اٹھنا پڑا قادیان میں ہی آپ کو یہ الہام ہوا تھا۔ آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اس سے سخت مخالفت ہوگی۔ اس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان ۱۸۹۱ء میں بذریعہ ایک اشتہار کے شائع کیا گیا۔ اس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان بھر میں ایک شور پڑ گیا۔“
(سیرت مسیح موعود ص ۳۰ بار سوم مطبوعہ قادیان دسمبر ۱۹۳۶ء)
اس حوالہ نمبر ۱۲ سے جو نتائج نکلتے ہیں اس کو ہم علیحدہ نمبر دے کر لکھتے ہیں۔
- نمبر۱......۱۸۹۱ء تک مرزا قادیانی حیات مسیح علیہ السلام کا قائل تھا۔
- نمبر۲......الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ مسیح فوت ہو گئے (اب یہاں سوال یہ ہے کہ حوالہ
نمبر ۱ میں قرآن کی رو سے مرزا اقراری ہے کہ مسیح زندہ ہے حوالہ نمبر ۱۲ سے الہام کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مسیح فوت ہو گئے کیا مرزا کا الہام قرآن کے لیے ناسخ تھا؟ اس شخص سے بڑھ کر کون کافر ہو سکتا ہے جو اپنے الہام سے قرآن کو منسوخ قرار دے)
- نمبر۳....... تمام مسلمان و مسیحی سیدنا مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے قائل تھے۔
- نمبر۴....... مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ سے مراد مرزا قادیانی کی آمد ہے۔
- نمبر۵....... بار بار الہام سے آپ کو مجبور کیا گیا تب مرزا نے اعلان کیا۔
اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کو مسیح بننے کا شوق الہام سے ہوا؟ سوال یہ ہے کہ یہ الہام شیطانی تھا یا رحمانی۔ اگر رحمانی ہوتا تو قرآن کے خلاف کیوں کر ہو سکتا تھا؟ پس ثابت ہوا کہ الہام شیطانی تھا۔ اس لیے تو بار بار شیطان نے مرزا کو مجبور کیا، کہ تم یہ اعلان کرو۔ شیطان کا الہام اور حکیم نور الدین کی انگیخت سے مرزا نے مسیح ہونے کا اعلان کیا۔ شیطان، نور الدین اور مرزا کی تثلیث نے مل کر امت مسلمہ میں فتنہ کا بیج بویا۔ قارئین حیران ہوں گے کہ ہم نورالدین کو کہاں سے گھسیٹ لائے حوالہ ملاحظہ ہو۔
حوالہ......۱۳ مرزا قادیانی حکیم نورالدین کے ایک خط کے جواب میں تحریر کرتا ہے۔
”جو کچھ آنمخدوم (نورالدین) نے تحریر کیا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ مکتوب نمبر ۶ بنام حکیم نور الدین، ج ۵ نمبر ۲ ص ۸۵)
قارئین اس خط پر ۲۴ جنوری ۱۸۹۱ء کی تاریخ درج ہے۔ مرزا محمود کا حوالہ نمبر ۱۲ آپ نے پڑھا کہ ۱۸۹۱ء میں مرزا نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اب یہ تثلیث مل کر ابلیس کا ناٹک رچانے کے درپے ہے کہ کسی طرح مرزا کو مسیح بنایا جائے۔ فرمائیے الہام سے ہو رہا ہے یا مشاورت سے؟ اس پر بس نہیں بلکہ نور الدین قادیان آیا اور مرزا کو سبق پڑھایا چنانچہ مرزا لکھتا ہے۔
حوالہ......۱۴ ”محبّ واثق مولوی حکیم نور الدین اس جگہ قادیان میں تشریف لائے انھوں نے اس بات کے لیے درخواست کی کہ جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق ہے...... اس کے انکشاف کے لیے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے...... پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا کہ اس جگہ ایسے قصبہ (قادیان) کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع ہیں اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں...... خدا تعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا ہے
تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں (بلکہ نقلی مسیح مرزا) ہے۔ جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے ..... دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ۶۵ ، ۶۷ خزائن ج ۳ ص ۱۳۵۔ ۱۳۶ حاشیہ)
لیجئے صاحب! دمشق کی حدیث کا مسئلہ حل ہو گیا۔ دمشق سے مراد قادیان اور مسیح سے مراد مرزا قادیان، فرمائیے کہ یہ الہام ربانی ہے یا کھیل شیطانی ہے؟
لیکن بایں ہمہ جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے۔ ”مرزا محمود ۱۹۲۴ء میں دمشق گیا ایک ہوٹل میں نماز پڑھی سامنے سفید مینار تھا۔ کہنے لگا کہ لو حدیث دمشق پوری ہوگئی ۔“
(سوانح فضل عمر ج ۳ ص ۷۱۔ تاریخ احمدیت ج ۵ ص ۴۱۴)
گویا مرزا قادیانی کا جھوٹ کہ قادیان دمشق ہے۔ مرزا محمود کو ہضم نہ ہوا۔ لیکن کیا کیا جائے اس حماقت کا کہ مرزا نے صرف قادیان کو دمشق نہیں بنایا بلکہ مینارہ بھی بنوانا شروع کیا۔ لیکن اس دجل کا قدرت نے پردہ یوں چاک کیا کہ مرزا (فرضی مسیح) مر گیا مینارہ بعد میں بنا۔ سچے مسیح کے لیے مینارہ پہلے مسیح پھر لیکن یہاں قادیان میں الٹی گنگا کہ مسیح پہلے مینارہ بعد میں۔ بہرحال مرزا قادیانی نے جب مسیح بننے کا تانا بانا تیار کیا تو ابتداء میں کہا کہ
حوالہ......۱۵ ”کہ قرآن میں تین آیات سے وفات مسیح ثابت ہے۔“
(توضیح مرام ص ۸ خزائن ج ۳ ص ۵۲)
حوالہ......۱۶ جب یہ جھوٹ اپنے احمق مریدوں کو منوا چکے تو اگلی کتاب میں کچھ دنوں بعد کہا کہ ”قرآن مجید کی تیس آیتوں سے وفات مسیح ثابت ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۹۸ خزائن ج ۳ ص ۴۲۳)
آخر میں تو عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا جو قائل نہ ہو ان کو مشرک تک قرار دے دیا۔
حوالہ.....۱۷ ”فمن سوء الادب ان یقال ان عیسٰی ما مات ان ھو الا شرک عظیم“
(الاستفتاء ص ۳۹ خزائن ج ۲۲ ص ۶۲۰)
علاوہ ازیں اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھا کہ مسئلہ حیات اور نزول مسیح مرزا قادیانی سے پہلے کسی کو معلوم نہ تھا۔ اس کی حقیقت صرف اور صرف مرزا قادیانی پر ہی منکشف ہوئی۔ بلکہ خود خدا تعالیٰ نے بھی اس کو لوگوں سے پوشیدہ اور مخفی رکھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
حوالہ......۱۸ ”ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجوہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں“
(ازالہ اوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
حوالہ......۱۹ مرزا قادیانی کے نزدیک خود سیدنا مسیح علیہ السلام کو بھی اپنے نزول کا مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ چنانچہ لکھا: ”یہ امر بھی ناممکن نہیں کہ مسیح کو اپنی آمد ثانی کے معنی سمجھنے میں غلطی لگی ہو اور بجائے روحانی آمد سمجھنے کے اس نے جسمانی آمد اس سے سمجھ لی ہو“
(ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۳ نمبر ۸ بابت اگست ۱۹۰۴ء ص ۲۸۱)
حوالہ......۲۰ یہ بھی لکھا کہ صحابہ کرام کو بھی اس مسئلہ کی حقیقت معلوم نہ ہوئی: ”یا اخوان! ھذا ھو الامر الذی اخفاہ اللہ عن اعین القرون الاولٰی. اے بھائیو! یہ وہ بات ہے جس کو اللہ تعالٰی نے پہلی صدی کے مسلمانوں (یعنی صحابہ کرامؓ) سے چھپا رکھا تھا“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۴۲۶ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
حوالہ......۲۱ اسی طرح اپنی کتاب تحفہ بغداد میں لکھا: وما کان ایمان الاخیار من الصحابۃ والتابعین بنزول المسیح علیہ السلام الا اجمالیاً وکانوا یؤمنون بالنزول مجملاً ”مسیح علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں اخیار صحابہ اور تابعین کا ایمان اجمالی تھا اور وہ اس عقیدہ نزول مسیح پر مجمل ایمان رکھتے تھے“ (یعنی تفصیل کا انھیں علم نہیں تھا)
(تحفہ بغداد ص ۷ خزائن ج ۷ ص ۸)
حوالہ......۲۲ مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان سے پہلے کسی شخص کو اس مسئلہ کی حقیقت معلوم نہیں ہوئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: علم من لدنه ان النزول فی اصل مفھومہ حق ولکن ما فھم المسلمون حقیقۃ. لان اللہ تعالٰی ارادہ اخفاءہ فغلب قضاءہ ومکرہ وابتلاءہ علی الافھام، فصرف وجوھھم عن الحقیقۃ الروحانیۃ الی الخیالات الجسمانیۃ، فکانوا بھا من القانعین. و بقی ھذا الخبر مکتوماً مستوراً کالحب فی السنبلۃ قرناً بعد قرن حتی زماننا...... فکشف اللہ الحقیقۃ علینا. الخ.
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۲ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”یعنی مجھے اللہ تعالٰی کی طرف سے بتایا گیا کہ نزول اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے حق ہے لیکن مسلمان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارادہ اس کو پردہ اخفا میں رکھنے کا تھا۔ پس اللہ کا فیصلہ غالب آیا اور لوگوں کے ذہنوں کو اس مسئلہ کی
حقیقت روحانیہ سے خیالات جسمانیہ کی طرف پھیر دیا گیا اور وہ اسی پر قانع ہو گئے اور یہ مسئلہ پردہ اخفا ہی میں رہا جیسے کہ دانہ خوشے میں چھپا ہوتا ہے کئی صدیوں تک حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آ گیا...... پس اللہ تعالیٰ نے اس بات کی حقیقت کو ہم پر منکشف کیا۔‘‘
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے دعویٰ مسیحیت تک نزول مسیح کا مسئلہ کلی طور پر پردہ اخفا میں رہا اور سوائے مرزا غلام احمد قادیانی کے اس کی حقیقت کا کسی اور پر انکشاف نہ ہوا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
حوالہ.....۲۳ ’’مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لیے اس کو مخفی رکھا۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ص ۶ ج نمبر ۱۰ کالم نمبر ۳ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۶ء)
یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے عقیدہ حیات مسیح میں ۵۲ سال کے بعد جو تبدیلی کی وہ قرآن و حدیث کے دلائل کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اپنی وحی کی وجہ سے کی جو موسلا دھار بارش کی طرح ان پر ہوئی اور بقول ان کے اس نے ان کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے باون سالہ عقیدہ میں تبدیلی کریں۔ چنانچہ اس عقیدہ میں تبدیلی انھوں نے اپنی وحی کی وجہ سے کی جس نے اس عقیدہ کے اخفاء کو ان پر منکشف کیا۔ اقبالؔ نے سچ کہا ؎
خدا و جبرئیل و مصطفےٰ را
اعتراض مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرکیہ عقیدہ ہے اور مرزا قادیانی کا عقیدہ حیات مسیح قبل از الہام تھا۔ الہام کے بعد وہ عقیدہ منسوخ ہوگیا۔ جس طرح آنحضرت ﷺ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن جب وحی آئی بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ نیز آنحضرت ﷺ نے پہلے فرمایا کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو بعد میں فرمایا کہ میں تمام نبیوں سے افضل ہوں پس جب آپ کو وحی ہوئی تو آپ نے فضیلت کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح جب مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ (مسیح فوت ہو گئے ہیں اور میں مسیح موعود ہوں) تو انھوں نے بھی دعویٰ کر دیا۔ نیز مرزا قادیانی کا عقیدہ حیات مسیح ایک رسمی عقیدہ تھا۔
الجواب.....۱ مرزا قادیانی کو بارہ برس تک خدائے تعالیٰ سے الہام ہوتے رہے مگر وہ برابر شرک میں مبتلا رہے۔ ہمیں اس کی نظیر انبیاء میں نہیں ملتی، اور بیت المقدس کی مثال بالکل مہمل ہے اوّل تو اس لیے کہ بیت المقدس کو قبلہ بنانا حسب ہدایت آیت فبہدہم
اقتدہ (انعام ۹۰) انبیائے سابقین کی سنت پر عمل ہے اور شرک نہیں۔ تو وہ اس کی مثال کیسے بن سکتا ہے۔ بلکہ ”انبیاء جو شرک کو مٹانے آئے ہیں خود شرک میں مبتلا ہیں؟“ دیگر اس وجہ سے بے محل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ عقائد میں سے ہے اور عقائد میں تنسیخ و تبدیلی نہیں ہو سکتی اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا عملیات میں سے جن میں تبدیلی و تنسیخ ہو سکتی ہے پس یہ اس کی نظیر نہیں۔
- ۲....... مرزائیوں کا یہ کہنا کہ محض رسمی عقیدہ کی بنا پر مرزا قادیانی حیات مسیح کے قائل تھے
بالکل لغو ہے کیونکہ براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا قادیانی دربار رسالت مآب میں رجسٹرڈ ہو چکی اور آنحضرت ﷺ سے قبولیت حاصل کر رہی تھی کیا اس وقت یہ تمام بیانات جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور رفع آسمانی اور نزول ثانی مرقوم تھے براہین سے نکال کر پیش ہوئے تھے یا آنحضرت ﷺ کی نظر میں نہ چڑھے تھے اور آپ نے یونہی بلا تحقیق مطالعہ اس کو سہو کی صورت میں ٹپکا دیا۔
- ۳....... اور حضرت یونس بن متی والی مثال بھی بے محل ہے کیونکہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں
کہ ”یا تو یہ حدیث ضعیف ہے یا بطور تواضع و انکساری کے ایسا کہا گیا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۱۶۳ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
عذر مرزائیہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں محض رسمی طور پر عقیدہ حیات مسیح لکھا تھا۔ الجواب اول تو ہمیں یہ مضر نہیں کیونکہ ہم نے بآیات قرآن و حدیث رسول ﷺ ثابت کر دیا ہے کہ یہاں حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔ دوم مرزائیوں کا عذر یوں بھی غلط و مردود ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود ”براہین احمدیہ کے وقت رسول اللہ تھے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۲ خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۶ و ایام الصلح اردو ص ۷۵ خزائن ج ۱۴ ص ۳۰۹)
پھر اور سنو! براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزا قادیانی:۔ ”مؤلف نے ملہم ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی“ (اشتہار براہین احمدیہ ملحقہ کتاب آئینہ کمالات و سرمہ چشم آریہ) اور خود آنحضرت ﷺ کے دربار میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے آپ نے اس کا نام قطبی رکھا یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل و مستحکم اور یہ کتاب خدا کے الہام اور امر سے لکھی گئی ہے۔“
(براہین ص ۲۴۸۔۲۴۹ خزائن ج ۱ ص ۲۷۵)
تین آیات کے جوابات
پہلی آیت يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۔ (آل عمران آیت ۵۵)
”اے عیسیٰ علیہ السلام میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کر دوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں۔ غالب ان لوگوں سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک۔
قادیانی استدلال ”یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں کی تہمتوں سے (تجھے) پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۹۸ خزائن ج ۳ ص ۴۲۴)
جواب......۱ اس آیت میں مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کی نسبت مرزا قادیانی نے ازالہ ص ۳۹۲ خزائن ج ۳ ص ۳۰۳ پر یہ اقرار کر لیا ہے کہ یہ آیت وعدہ وفات ہے (یعنی دلیل و خبر وفات نہیں) حیرانگی ہے کہ وعدۂ وفات دینے میں کیا مصلحت الٰہی ہو سکتی ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ ان پر موت وارد نہ ہوگی؟ حالانکہ ہر شخص خواہ مومن ہو خواہ کافر كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کو مانتا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے حضرت مسیح کو پکڑ کر صلیب پر کھینچنا چاہا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ رب کریم نے یہود کے اس ارادۂ فاسد کے مقابلہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اطمینان فرمایا کہ تم صلیب پر نہیں مرو گے بلکہ اپنی موت سے، مرزا قادیانی کی اس وجہ اور سبب وعدۂ وفات کے غلط ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ تو اپنی پیدائش کے دن ہی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ نہ قتل کیے جائیں گے اور نہ صلیب پر لٹکائے جائیں گے بلکہ سلامتی کی موت کے ساتھ اپنی انفاس حیات پوری کریں گے پڑھو یہ آیت وَسَلَامٌ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم ۳۳) پس یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی موت دوں گا ہرگز صحیح نہیں۔ مرو گے۔ عزت پاؤ گے ان کافروں کے ارادۂ فاسد سے پاک صاف رہو گے۔ مرزا قادیانی کی یہ خود تراشیدہ وجہ بھی وعدۂ وفات کی مصلحت کو ظاہر کرنے میں بودی اور کمزور ہے۔ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے۔ صلیب کی سختیوں سے ایسے قریب بہ مرگ ہو گئے کہ یہود نے مرجانے کا خیال کر لیا۔ سبت بھی قریب تھا۔ جلدی سے اُتار کر دفن کر گئے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے یار و احباب نے آ کر ان کو نکال لیا۔ پھر وہ خفیہ زندہ رہے اور اپنی موت سے مر گئے۔“
اہم استنباط یہ وجہ اس لیے کمزور اور بودی ہے کہ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد پھر زندہ رہے اور مدتوں جیئے۔ تو اندریں صورت اقتضائے مقام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو وعدۂ نجات دیتا کہ یہود تو تجھے صلیب پر لٹکانا چاہتے اور بے عزتی کے ساتھ ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں تجھے ان کے ہاتھوں سے نجات دوں گا اور تو اپنی زندگی اور عمر کا بقیہ حصہ خاموشی اور امن کے ساتھ پورا کرے گا نہ کہ برخلاف اس کے کہ ایک شخص جو موت کے سامان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہے اور اپنے مرنے کا یقین کر رہا ہے اس کی تسلی اور تشفی ان الفاظ میں کی جائے کہ میں تجھے ماروں گا اور وفات دوں گا۔ درآنحالیکہ مارنے اور وفات دینے میں ہنوز عرصۂ دراز باقی ہے۔ ایسے موقعہ دل دہی اور اطمینان پر ایسے الفاظ کا استعمال دنیا کی کسی زبان میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ چہ جائیکہ رب کریم کے کلام میں ہو۔ جس کی بلاغت بدرجہ غایت پہنچی ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کا جو ترجمہ کیا ہے۔ وہی اپنی غلطی پر اندرونی شہادت رکھتا ہے اور بآواز بلند پکار رہا ہے کہ الفاظ ربانی کے ایسے معانی کرنا جس کے ایک پہلو سے اللہ تعالیٰ پر فعل عبث اور کلام بے محل کا الزام آتا ہو اور دوسرے پہلو سے حضرت عیسیٰ ؑ پر غلط فہمی کا اعتراض قائم ہوتا ہو بالکل بے بصیرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کو اس کے درجہ اعلیٰ سے متنزل کر دینا ہے اور مُتَوَفِّیْکَ کا ترجمہ تجھے ماروں گا کرنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ترجمہ ”وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ پہلے الفاظ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔ یعنی عدم مطابقت کلام الٰہی ہے اور وہ محال ہے کیونکہ جس عزت کی موت کا وعدہ تھا یا تو وہ عزت جسمانی ہو سکتی ہے۔ جو بقول آپ کے حضرت مسیح علیہ السلام کو نصیب نہیں ہوئی کیونکہ وہ تادم زیست یہودیوں کے خوف سے چھپے ہی رہے۔ گمنامی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور معمولی طور پر مر جانا جسمانی لحاظ سے باعزت موت نہیں ہو سکتی۔ جبکہ اس کا وعدہ بھی منجانب اللہ دیا گیا ہو اور یا وہ عزت روحانی ہو سکتی ہے یعنی اعلیٰ علیین میں روح کا جاگزین ہونا وغیرہ وغیرہ تو یہ سب امور تو انبیاء علیہم السلام کو یقیناً حاصل ہوتے ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا۔ جس کو سوء خاتمہ کا خوف ہو۔ یا سلب ایمان کا ڈر۔ پس اس اعتبار سے بھی یہ وعدہ ایک فعل لایعنی ہوا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود کی مخالفت دیکھ کر خود حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی اپنی صداقت اور نبوت میں شک ہو گیا تھا۔ (معاذ اللہ) جس کا دفعیہ خدا تعالیٰ کو کرنا پڑا کہ نہیں تو شک نہ کر۔ تو سچا ہے اور اس لیے تو عزت کے ساتھ ہمارے پاس
آئے گا مُتَوَفِّیْکَ کے ترجمہ ماروں گا کی غلطی تو لفظ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یہود کے ہاتھوں صلیب پر لٹکائے گئے (گو ان کو صلیب پر وفات پانے کا انکار ہے) اور توریت کے خاص الفاظ یہی ہیں کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا (دیکھو صلیب پر لٹک کر مر گیا توریت بھی نہیں کہتی) وہ لعنتی ہے، تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود کی آنکھوں میں تطہیر حاصل نہیں ہوئی۔ حالانکہ وعدہ تطہیر کا تھا۔
اب ناظرین یہ بھی خیال فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے ان ہر چہار فعلوں میں ترتیب طبعی کو تسلیم کر لیا ہے حالانکہ ان کی بتلائی ہوئی وجہ سے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کو مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ پر تقدم زمانی حاصل ہے کیونکہ تطہیر کے معنی ان کے نزدیک صلیب پر لٹکے ہوئے وفات نہ پانا ہے۔ جو واقعہ تصلیب سے اگلے روز ہی ان کو حاصل ہو گئے تھے اور جب یہ تقدم زمانی ثابت ہوئی تو پھر ان کا یہ مذہب کہ تقدیم و تاخیر الفاظ قرآنی صریح الحاد ہے۔ انہی پر لوٹ پڑے گا۔ غرض یہ ترجمہ ہی اپنی بطلان پر خود شاہد ہے۔
اس جگہ تقدیم و تاخیر الفاظ کی نسبت بھی کچھ گذارش کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کا مذہب یہ ہے کہ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی مُمِیْتُکَ ہیں۔ اس پر وہی اعتراضات وارد ہوتے۔ جو مرزا قادیانی کے ترجمہ پر ہوئے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کا یہ مذہب بھی ہے کہ الفاظ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مرزا قادیانی اس مقام پر آ کر ایسے غضب میں بھر جاتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر الفاظ کا نام الحاد قرار دیتے ہیں اور ان کے خوش فہم مرید بھی بحق صحابی رسول۔ مفسر قرآن فقیہ فی الدین۔ برادر عمو زاد نبی ابن عباسؓ اس فتوے الحاد پر بڑے نازاں ہو رہے ہیں۔ اگر ان کو نظم قرآنی پر ذرا غور کا موقع بھی ملا ہوتا تو یہ حرف کبھی زبان پر نہ لاتے۔
(نوٹ) آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ اِلَیَّ کے جو معنی مرزا قادیانی نے کیے ہیں اور اس معنی پر جو اعتراض ہم نے کیا ہے کہ آپ اس آیت کو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے اطمینان دہ اور تسلی بخش مانتے ہیں۔ مگر آپ کا ترجمہ اس آیت کو ان کے حق میں ایک پر وحشت خبر اور پیام مرگ بتا رہا ہے اور ایک مقید و اسیر کو جو اپنی آنکھوں سے صلیب کو اپنے لیے تیار اور قوم کو اپنے قتل پر آمادہ دیکھے۔ موت فوری اور قتل ذلت کا یقین دلا رہا ہے۔ ہمارے اس اعتراض کا صحیح ہونا مرزا قادیانی نے خود تسلیم کر لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
"واضح ہو کہ مسیح کو بہشت میں داخل ہونے اور خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو مسیح پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وارد ہے۔ سو اس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں۔ لہٰذا اس لیے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مر جاؤں گا۔"
(ازالہ ص ۳۹۴ خزائن ج ۳ ص ۳۰۳)
مرزا قادیانی "مسیح ایک انسان تھا" کہہ کر اپنے معنی کا نقص چھپانا چاہتے ہیں۔ مگر مسیح علیہ السلام ایک رسول تھا جس کے پاس یہود کے ہاتھوں سے نجات پا جانے کا وعدہ حتمی اللہ تعالیٰ کے پاس سے آ چکا تھا۔ اس لیے لازمہ نبوت تھا کہ وہ ان کمزور ہیچ کار بندوں کے اسباب کو بیت العنکبوت سے زیادہ کمزور خیال کرتا اور ذرا گھبراہٹ اس کے لاحق حال نہ ہوتی۔ بیشک ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے استقلال و استقامت و صبر میں کبھی لغزش ظاہر نہیں ہوئی۔ یہود اور سلطنت کے مخالفوں کے سامنے ان کا بھروسہ خدائے کریم پر تھا اور اس نے اس کو بچا بھی لیا حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے استقامت احوال پر یہ جو اعتراض ہوتا ہے۔ وہ بھی مرزا قادیانی کے ترجمہ کی خرابی کا موجب ہے ورنہ نبی کی شان اس سے اعلیٰ و برتر ہے۔
جواب......۲ ناظرین مرزا قادیانی کے الفاظ ترجمہ پر مکرر غور فرمائیں کہ اگر ان کے ترجمہ کے موافق مُتَوَفِّیْکَ سے وفات جسمی اور رفع سے عروج روحی مراد لی جائے تو لامحالہ عبارت میں یہ تقدیر ماننی پڑے گی۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْ جَسَدَکَ و رافع روحک۔ حالانکہ معنی بنانے کے لیے قرآن شریف کی عبارت میں الفاظ کی تقدیر مرزا قادیانی کے مذہب میں الحاد اور کفر ہے۔
خیال کرنا چاہیے کہ اس جگہ چار فعل ہیں اور ان چاروں فعلوں کا فاعل باری تعالیٰ ہے اور ان چاروں فعلوں میں مخاطب یا عیسیٰ ہیں۔ جن پر ان افعال کا اثر مترتب ہوتا ہے۔ اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ لفظ عیسیٰ جو اسم ہے۔ یہ مسمیٰ کے صرف جسم یا صرف روح پر دلالت کرتا ہے۔ یا جسم و روح دونوں پر۔ مرزا قادیانی کا مذہب بہت ہی عجیب ہے۔ وہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں ک کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف جسم مراد لیتے ہیں کیونکہ توفی کے معنی وہ روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتلاتے ہیں اور رَافِعُکَ اِلَیَّ میں ک کا مرجع یا عیسیٰ سے صرف روح عیسیٰ لیتے ہیں۔ اور مُطَہِّرُکَ اور اتَّبَعُوْکَ میں
یا عیسیٰ کا مرجع جسم و روح دونوں کو اور اس طرح پر وہ آیت کا ترجمہ کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں جو سراسر نظم قرآنی کے خلاف اور شانِ کلام ربانی سے بعید ہے۔
جواب......۳ ناظرین یہ بھی یاد رکھیں کہ براہین احمدیہ میں جس کو خدا کے حکم و الہام سے مرزا قادیانی نے لکھا اور جس کو کشف میں حضرت سیدہ فاطمہ زہرا نے مرزا قادیانی کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ تفسیر علی مرتضیٰ ہے۔ مرزا قادیانی نے آیت یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کا اپنے اوپر الہام ہونا لکھا ہے اور پھر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ ”اے عیسیٰ میں تجھے پوری نعمت دوں گا“ حوالہ ظاہر ہے کہ اگر متوفیک کے معنی حقیقی تجھے ماروں گا ہوتے تو الہامی کتاب اور کشفی تفسیر میں یہ ترجمہ اس کا نہ کیا جاتا۔ مرزا قادیانی اس وقت بھی کچھ جاہل نہ تھے۔ جو توفی کے معنی نہ جانتے ہوں۔ پس اگر یہ ترجمہ ان کے لیے جائز اور صحیح ترجمہ تھا تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے کیوں یہ ترجمہ صحیح نہیں؟ اگر مرزا قادیانی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے الہام میں تو اس وقت بھی متوفیک کے معنی ماروں گا۔ مراد تھی۔ مگر ترجمہ کرنے میں غلطی ہوئی تو خیر یہ بھی سہی مگر ظاہر ہے کہ براہین میں اس الہام کو چھپے ہوئے یعنی مرزا قادیانی کو خبر وفات منجانب باری تعالیٰ ملتے ہی مرزا کو پندرہ سال کا عرصہ ہو چکا اور مرزا قادیانی کو فوری موت نہیں آئی تو اس سے واضح ہوا کہ جس طرح مرزا قادیانی کے لیے بعد از خبر وفات پندرہ سال کا عرصہ اوپر گزر جانا جائز ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے صدیوں کا عرصہ گزر جانا بھی جائز ہے اور اس صورت میں حضرت ابن عباسؓ کا مذہب ماننا پڑے گا۔
جواب......۴ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ پر تدبر فرمائیے۔ تَوَفّٰی کے معنی قبض تام ہیں اور چونکہ یہ قبض تام عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ہے۔ جس کے مفہوم میں روح اور جسم دونوں شامل تھے۔ لہٰذا توفی بجسدہ العنصری ثابت ہوا۔ رَافِعُکَ اِلَیَّ پر تفکر کیجئے۔ رفع کے معنی بلند کرنا ہیں جس کی ضد وضع ہے جو نیچے رکھ دینے کے معنی میں آتا ہے۔ پس قبض تام کے بعد رفع۔ رفع جسمی ہی ہے۔
چیلنج لفظ عیسیٰ کے مفہوم اور توفی کے معنی نے حضرت مسیح علیہ السلام کا بجسدہ العنصری قبض کیا جانا اور لفظ رَافِعَ کے معنی نے اسی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت کر دیا۔ وللہ الحمد۔ یہ وہ معنی ہیں۔ جن میں نہ لغت سے عدول ہوا۔ نہ عرف سے، نہ کہیں مرادی معنی لیے گئے۔ نہ مجازی ڈھکوسلا لگایا گیا۔ مرزا قادیانی جو اس آیت کے معنی کرتے ہیں۔ وہ یٰعِیْسٰی کے لفظ پر تو کچھ غور کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں توفی کے
معنی صرف قبض روح کرتے ہیں۔ مگر ہم حیران ہیں کہ توفی کے معنی صرف قبض روح کس لغت میں ہیں؟ اگر براہ عنایت مرزا قادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھائیں ”کہ توفی کے معنی صرف قبض روح اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں“ (ازالۃ الاوہام ص ۶۰۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۴) تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ کے معنی وہ لغوی نہیں لیتے بلکہ مرادی معنی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رَافِعُكَ اِلَیَّ سے قرب الٰہی مراد ہے۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے اور لغت ان کا شاہد ہے کہ رفع کسی جسم کے بلند کرنے، نیچے سے اٹھا کر اوپر لے جانے کو کہتے ہیں۔ وہ جسم خواہ محسوس ہو یا غیر محسوس۔ واضح ہو کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے محسوس جسم کے اٹھا لینے پر رب کریم نے اس لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔ اسی طرح رسول خدا نے بھی ایک محسوس جسم کے زمین سے اوپر اٹھائے جانے پر اسی لفظ کا استعمال فرمایا ہے۔
وقریش تسألنی عن مسرای فسألتنی عن اشیاء من بیت المقدس لم اثبتھا فَكُرِبْتُ كربًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَه. فَرَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیَّ انظر الیہ مَا يَسْأَلُوْنِي عن اشیاء الا انبأتھم۔
(مسلم ج ۱ ص ۹۴ باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات عن ابو ہریرۃ)
”آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں شب معراج کے بعد (جب آپ ﷺ نے لوگوں سے اپنا بیت المقدس تشریف لے جانا اور وہاں سے افلاک پر جانا بیان فرمایا) قریش میرے اس سفر کے متعلق سوال کرنے لگے۔ انھوں نے بیت المقدس کے متعلق چند ایسی چیزیں دریافت کیں۔ جن کا میں نے دھیان نہ رکھا تھا مجھے اس وقت نہایت ہی شاق گزرا (کیونکہ جواب نہ دینے سے کفار کو احتمال کذب کا یارا تھا) رب کریم نے میرے لیے بیت المقدس کو اٹھا کر بلند کر دیا کہ میں اسے بخوبی دیکھتا تھا۔ پھر قریش نے جو کچھ مجھ سے پوچھا۔ میں نے جواب دے دیا۔“
آنحضرت ﷺ کا معراج جسمی
مسریٰ کا لفظ غور طلب ہے کہ اس سے معراج جسمانی ثابت ہوتا ہے (جو جمہور اہل السنّت والجماعت کا مذہب ہے) یا کشفی و منامی ہے؟ جو مرزا قادیانی کا مذہب ہے۔ پھر دیکھنا چاہیے کہ اگر آنحضرت ﷺ نے اپنا خواب یا کشف بیان کیا ہوتا تو کفار کو اس سے سخت انکار کرنے اور امتحان کی غرض سے مختلف سوالات پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ خواب میں کسی دور دراز مکان کا دیکھ لینا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ علیٰ ہٰذا خواب میں مرئیات کو واقع کے مطابق دیکھنا بھی ضروری نہیں۔
کفار کے سوال اور ان کے اعتراض سے رسول کریم ﷺ کی گھبراہٹ اور اللہ تعالیٰ کا اس گھبراہٹ کو دور فرمانا تو تب ہی ٹھیک ہوتا ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے معراج کو جسمانی بتلایا تھا اور آپ ﷺ کے الفاظ سے صحابہ اور مشرکین نے یہی سمجھا تھا۔
جناب مرزا قادیانی رَفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ پر کم سے کم تین بار غور فرمائیں۔
رَفَعَ کے جو معنی وَرَافِعُکَ اِلَیَّ میں ہم نے کیے ہیں۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ کا منطوق ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے جب مُتَوَفِّیْکَ میں صرف قبض روح کے معنی لیے تو رَافِعُکَ میں معزز موت مراد لی۔ ان دونوں فعلوں کا مرجع بہر حال عیسیٰ ؑ ہیں۔ مگر جب وہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ کے معنی کرتے ہیں تو ان کے بیان میں لغزش آ جاتی ہے کیونکہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ کی ضمیر کا مرجع جسم اور روح دونوں ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں لیکن بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیْهِ میں آ کر وہ ضمیر کا مرجع صرف روح کو قرار دے بیٹھے ہیں۔ جس کے واسطے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ تو کلام میں نہایت بھونڈی اور بدنما تعقید ہے۔ جس کا وجود کسی فصیح انسان کے کلام میں بھی نہیں ملتا۔ چہ جائیکہ ایسے معجز کلام الٰہی میں ہو۔ اس وقت مرزا قادیانی کو اپنے وہ الفاظ جو توضیح میں لکھے ہیں۔ یاد کرنے چاہئیں۔ ”خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں۔ جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی ارادوں کا خیال بھی رہے۔ نہ یہ کہ غایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنی جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں۔ اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے۔ صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کیا جائے۔“ (توضیح مرام ص ۱۴۔۱۵ خزائن ج ۳ ص ۵۸)
اب مرزا قادیانی کو دیکھنا چاہیے کہ متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت کا خیال نہ کر کے غایت درجہ کے سفلی بدنما اور بے طرح موٹے معنی آپ کرتے ہیں۔ یا ہم؟ ایسے معنی کہ اس میں ضمائر بھی ٹھیک نہیں بیٹھتی ہیں۔
مرزا قادیانی نے ازالہ کے خاتمہ پر پھر آیت يَا عِيْسَى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ کو لکھا ہے (ازالہ ص ۹۲۲ خزائن ج ۳ ص ۶۰۶) اور بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ترتیب وار چار فعل بیان کر کے اپنے تئیں ان کا فاعل بیان کیا ہے میں کہتا ہوں کہ ہمارا مذہب بھی یہی ہے اور آیت کے جو معنی ہم نے لکھے ہیں۔ اس میں بھی
ترتیب ان فعلوں کی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ البتہ ترتیب توڑنے کا جو الزام بڑے زور و شور سے مرزا نے قائم کیا ہے اور ترتیب توڑنے والوں کو پیٹ بھر گالیاں دی ہیں۔ وہ حضرت ابن عباسؓ کا مذہب ہے۔ وہی ابن عباسؓ جن کا مذہب امام بخاری نے مُتَوَفِّیْکَ بمعنی مُمِیْتُکَ بیان کیا ہے اور وہی ابن عباسؓ جن کا مذہب ازالہ اوہام ص ۸۹۲ خزائن ج ۳ ص ۵۸۶ پر آپ نے اپنے لیے سند سمجھا ہے۔
بڑی حیف کی بات ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے مقولہ کا آدھا حصہ تو آپ قبول کرتے ہیں اور آدھا قبول نہیں کرتے۔ ایمان بعض اور کفر بعض کی۔ اگر کوئی اور مثال ہے تو فرمائیں؟
دوسری آیت وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْط وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُط مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِط وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖج وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا
(سورۃ النساء آیت ۱۵۸،۱۵۹) ’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انھوں نے نہ اس کو مارا نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ ؑ پر یقین لائیں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔
قادیانی استدلال ’’دوسری آیت جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے یعنی مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت نہیں مرا، جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا‘‘
(ازالہ اوہام ص ۵۹۹ خزائن ج ۳ ص ۴۲۳)
جواب......! اس دوسری آیت کو مرزا قادیانی نے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ پیش کی ہے۔ انھوں نے اس کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’بلکہ خدا تعالیٰ نے
عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“ ترجمہ کے بعد پھر لکھا ہے۔ ”اس جگہ رفع سے مراد موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا. مرزا قادیانی نے مراد کا لفظ لکھ کر ثابت کر دیا کہ وہ اس جگہ مرادی ترجمہ کرتے ہیں اور ترجمہ آیت میں حسب مراد خود جو چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں۔ نیز ثابت کر دیا کہ اس جگہ رفع کے لغوی معنی مرزا قادیانی کے مذہب کو دفع کر رہے ہیں۔ آیت وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ط جو حضرت ادریس علیہ السلام کی شان میں ہے۔ وہ نہ ان مرادی معنی پر دلالت کرتی ہے اور نہ مرزا قادیانی کے کچھ مفید ہی ہے کیونکہ یہاں رفع کا لفظ مَكَانًا عَلِيًّا سے مضاف ہے اور جس کے یہ معنی ہیں کہ رب کریم نے حضرت ادریس علیہ السلام کو رتبہ عَلِيًّا پر فائز کیا اور منصب برتر پر ممتاز فرمایا۔ ایسا ہی دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ (البقرۃ ۲۵۳) یہ رسول ہیں۔ جن میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے اور بعض کے درجے ہم نے بلند کیے ہیں۔ اس میں رفع کو درجات کی طرف مضاف کیا ہے۔ پس واضح ہوا کہ مرزا قادیانی نے یہ مرادی معنی تو اللہ تعالیٰ کے مقصود و مطلوب کلام کے خلاف کیے ہیں۔ لہٰذا روشن ہوا کہ رفع کے معنی یہاں بھی وہی ہیں۔ جو لغت میں ہیں اور جو ہر جگہ لیے اور سمجھے سمجھائے بولے جاتے ہیں یعنی بلند کرنا اب چونکہ یہاں رفع کا لفظ ہے اور وہ اِلَیَّ کی طرف مضاف ہے تو صاف اور سیدھے معنی جن کو لغت کی امان حاصل ہے یہ ہیں کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اوپر اٹھا لیا۔“ اِلَیَّ کے معنی میں فوق، جہت، عُلو کی بحث (جو مسئلہ صفات کا حصہ ہے) شامل کی جاسکتی ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ آپ ان صفاتِ الٰہی سے منکر نہ ہوں گے اور مسئلہ صفات میں اہل السنّت والجماعت کا مذہب چھوڑ نہ بیٹھے ہوں گے۔ ناظرین بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر سکتے۔ ان کو شروع تقریر میں ہی اپنے ضعف استدلال کا خود اقرار کرنا پڑا اور یہ ماننا لازمی ہوا کہ جو معنی ہم نے کیے ہیں وہ مرادی معنی ہیں۔ مجھے نہایت تعجب آتا ہے کہ توفی کے لفظ پر تو مرزا قادیانی نے اتنا زور دیا ہے کہ گویا تمام بحث کا لب لباب اور کل دلائل کا عطر مجموعہ یہی لفظ ہے اور وہ سارا زور صرف اس بات پر ہے کہ توفی کے لغوی اور اصلی معنی وفات کے ہیں مگر رفع میں آ کر اس تمام جوش و خروش کو سینہ میں دبا کر چاہتے ہیں کہ اس کے لغوی اور اصلی معنی کو چھوڑ کر مرادی معنی لے لیے۔“
جواب......۲ مرزا قادیانی کے نزدیک رفع کا اٹھانا اور الیہ کا معنی آسمان کی طرف مسلم ہیں کیونکہ جب وہ ارواح کے اٹھائے جانے کے قائل ہیں تو اس صورت میں رفع کے حقیقی معنی اٹھانا ثابت ہیں اور چونکہ ارواح کا اٹھایا جانا آسمان کی طرف ہوتا ہے جو قرآنی آیت فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر سے ثابت ہے۔ اس لیے آیت بل رفعہ الله میں آسمان کی طرف حقیقی طور پر اٹھایا جانا مرزا قادیانی کے نزدیک مسلم ٹھہرا اب سوال یہ ہے کہ کیا شے اٹھائی گئی؟ اس کا جواب خود قرآن مجید میں مذکور ہے کہ جس کو قتل نہیں کر سکے وہی اٹھایا گیا۔ ظاہر ہے کہ وہ جسم ہی تھا۔
تیسری آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ. (مائدہ ۱۱۷) ’’پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی۔‘‘
قادیانی استدلال ’’یعنی جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا...... تمام قرآن شریف میں تَوَفَّیٰ کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ۶۰۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۳)
تیسری آیت وفات عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا قادیانی نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ پیش کی۔ اس آیت کے ضمن میں لفظ توفی پر نہایت پرجوش اور زور دار لفظوں میں بحث کی ہے۔ لکھا ہے۔ ’’توفی کے معنی اماتت اور قبض روح ہیں۔ بعض علماء نے الحاد اور تحریف سے اس جگہ تَوَفَّيْتَنِيْ سے رَفَعْتَنِيْ مراد لیا ہے اور اس طرف ذرا خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں پس یہی تو الحاد ہے۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک بلکہ صحاح ستہ میں بھی انہی معنی کا التزام کیا گیا ہے۔‘‘
(ازالہ ص ۶۰۱ خزائن ج ۳ ص ۴۲۴)
مرزا قادیانی دیکھیں کہ جب آپ نے محض ایک لفظ توفیتنی کے رفعتنی لینے سے سینکڑوں سال کے مرے ہوئے ہزاروں علماء پر فتویٰ الحاد جاری کر دیا اور ملحد کہنے میں ان کے ایمان و اسلام، اقرار شہادتیں وغیرہ کا کچھ خیال نہ کیا۔ کیا آپ کو حال کے علماء سے اپنے فتویٰ تکفیر کے بارہ میں کیا شکایت ہو سکتی ہے۔
الجواب اب مجھے لازم ہے کہ توفی کے لفظ پر بحث کروں اور لغت نیز قرآن مجید سے اس کے معنی اماتت اور قبض روح کے سوا اور بھی ثابت کر دوں۔
پہلے لغت کی کتابوں کو لیجئے۔
- ۱...... صحاح میں ہے اوفاہ حقہ (باب افعال سے) اور وفاہ حقہ (باب تفعیل سے) اور
استوفاء حقه (باب استفعال سے) اور توفاہ (باب تفعل سے جو زیر بحث ہے) سب ایک ہی معنی رکھتے ہیں کہ اس کا حق پورا دے دیا۔ توفاہ الله کے معنی قبض روح ہیں اور توفی کے معنی نیند بھی ہیں۔
- ۲....... ایفاء گزاردن حق کسے بہ تمام۔ ویقال منه و اوفاہ حقه۔ ووفاہ واستيفاه توفی
تمام گرفتن حق توفاہ الله اى قبض روحہ وفاۃ مردن۔ موافاۃ رسیدن و آمدن۔ و توفی القوم ای تناموا۔
- ۳....... قاموس میں ہے اوفی فلانا حقه کے یہ معنی ہیں۔ کہ اس کو پورا حق دے دیا۔ جیسے
وفاہ اور اوفاہ، استوفاہ اور توفاہ کے یہی معنی ہیں۔ وفات بمعنی موت بھی ہے۔ توفاہ الله کے معنی قبض روح ہیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ کتب مذکورہ بالا سے ان کو کوئی ایسی مثال یا محاورہ دکھلا دیا جائے۔ جس میں لفظ توفی بمعنی قبض جسم بولا گیا ہو۔ اب وہ توفاہ حقه کے محاورہ پر غور کریں۔ جس سے درہم و دینار وغیرہ اجسام کا قبض کرنا ثابت ہے۔
اب تفاسیر کی طرف آئیے۔ تفسیر بیضاوی میں ہے۔ توفی کسی چیز کے پورا لینے کو کہتے ہیں بیضاوی جیسے متبحر و ماہر نے لکھا ہے التوفی اخذاً وافیاً مارنا اس کی ایک قسم ہے (اور نیند کی دوسری قسم) ان دونوں قسموں کا اس قول ربانی میں ذکر ہے۔ خدائے تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت پورا لیتا ہے۔ (یعنی مارتا ہے) اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں پورا لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے)
تفسیر کبیر میں ہے توفی کے معنی قبض کرنا ہے۔ اس لفظ سے عرب کے محاورات یہ ہیں وفانی فلان دراهمی۔ و اوفانی و توفیتها منه یعنی فلاں شخص نے میرے درہم میرے قبضہ میں دے دیے۔ اور میں نے اس سے پورے کر لیے۔ خیال فرمائیے۔ یہ محاورہ قبض جسم کی مثال ہے۔ (جس کے مرزا قادیانی منکر ہیں) جیسے یہ محاورات ہیں سلم فلان درهمی الی و تسلمتها منه یعنی فلاں شخص نے میرے درہم مجھے سپرد کر دیے اور میں نے اس سے لے لیے اور کبھی توفی بمعنی استوفی آتا ہے جس کے معنی پورا لینے کے ہیں۔ ان دونوں معنی کے اعتبار سے (کہ خود توفی کے معنی بھی قبض کرنا ہے اور توفی کے معنی استوفی بھی ہیں) حضرت مسیح علیہ السلام کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر چڑھا لے جانا ان کی توفی ہے۔ اس پر اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب توفی بعینہ رفع جسم ہوا۔ تو مُتَوَفِّيْكَ کے بعد رَافِعُكَ اِلَىَّ کہنا تکرار بلا فائدہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مُتَوَفِّيْكَ فرمانے سے صرف قبض کرنا معلوم ہوا جو ایک جنس اور عام مفہوم ہے اور اس
کے تحت میں کئی انواع و اقسام پائے جاتے ہیں ا...... موت (جس میں صرف روح کو قبض کرنا ہوتا ہے) ۲...... جسم کو آسمان پر لے جانا (جس میں روح کی شمولیت بھی پائی جاتی ہے) ۳...... نوم جس میں ایک قسم کا قبض روح ہوتا ہے۔ پس جب متوفیک فرمانے کے بعد وَرَافِعُكَ إِلَیَّ بھی فرما دیا تو اس سے اس جنس کی ایک نوع کا تقرر ہوگیا اور تکرار لازم نہ آیا۔“
اسی تفسیر میں آیات زیر بحث کی تفسیر میں ہے۔ يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ کے معنی ہیں۔ خدا تعالٰی تم کو رات کو سلا دیتا ہے اور تمہاری ان ارواح کو قبض کر لیتا ہے۔ جن سے تم ادراک اور تمیز کر سکتے ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ ارواح کو نیند کے ساتھ قبض کرتا ہے جیسا کہ موت کے ساتھ قبض کرتا ہے۔
لغات اور تفاسیر کے بعد آپ قرآن مجید کی آیات ذیل پر غور فرمائیے وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى (الانعام ٦٠) ”خدا وہ ہے جو تم کو رات کے وقت پورا قبض کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کیا کرتے ہو۔ اس کو جانتا ہے پھر تم کو دن میں اٹھاتا ہے تا کہ تمہاری میعاد حیات پوری کرے۔“
مرزا قادیانی جو ازالہ کے ص ۶۰۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۲ پر توفی کے معنی صرف اماتت یعنی مار دینا اور روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا بتاتے تھے۔ اپنے ان معنی کو ملحوظ رکھ کر ذرا اس آیت کا ترجمہ تو کر دیں مگر یاد رکھیں کہ اگر اس شبانہ روزی موت کا آپ نے اقرار کر لیا تو آپ کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے گا۔ اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (الزمر ۴۲) ”خدا تعالیٰ موت کے وقت جانوں کو پورا قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرتے۔ ان کی توفی نیند میں ہوتی ہے یعنی نیند میں ان کو پورا قبض کر لیا جاتا ہے۔ پھر ان میں جس پر موت کا حکم لگا چکتا ہے۔ اس کو روک لیتا ہے اور دوسری کو (جس کی موت کا حکم نہیں دیا) (نیند میں توفی کے بعد) ایک وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔“
مرزا قادیانی کو لازم بلکہ واجب ہے کہ اس آیت میں توفی کے معنی ضرور ہی اماتت کے لیں۔ کیونکہ یہاں نفس انسانی مفعول اور خدا فاعل بھی ہے لیکن اگر ان کو اس جگہ توفی کے معنی اماتت لینے میں کچھ پس و پیش ہو (جیسا کہ ازالہ ص ۳۳۲ خزائن ج ۳ ص ۲۶۹ پر اس تذبذب اور اندرونی بے چینی کو ان الفاظ میں ظاہر کیا ہے کہ ”یہ دو موخرالذکر آیتیں اگرچہ بظاہر نیند سے متعلق ہیں۔ مگر درحقیقت ان دونوں آیتوں میں نیند
نہیں مراد لی گئی) تو ان کو ازالہ ص ۶۰۱ خزائن ج ۳ ص ۴۲۴ پر لکھے ہوئے الفاظ سے ذرا شرم فرمانی چاہیے کہ ”قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفی کے معنی اماتت کا ہی التزام کیا گیا ہے۔“ حوالہ کتب لغت اور نقل محاورات اور ثبوت آیات قرآنیہ کے بعد میں بہتر سمجھتا ہوں کہ ازالہ ص ۶۰۱ کے جواب میں اسی کا صفحہ ۳۳۲ خزائن ج ۳ ص ۲۶۹ پیش کر دوں۔ جس میں آپ نے توفی کے معنی اس جگہ بظاہر نیند ہونا قبول کر لیے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ اس جگہ توفی سے حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت مراد ہے۔ جو نیند ہے ہم کو آپ کا اس قدر اقرار بس ہے کیونکہ خواہ آپ نے لفظ بظاہر کی قید لگائی یا مجاز کی۔ بہر حال آپ کا وہ دعویٰ (ازالہ ص ۹۱۸ خزائن ج ۳ ص ۶۰۳) قرآن مجید میں لفظ توفی بجز معنی اماتت کے دوسرے معنی میں مستعمل ہی نہیں ہوا غلط ثابت ہو گیا۔
لفظ توفی پر اس قدر بحث وتحقیق کے بعد اب میں مرزا قادیانی کی وجہ استدلال کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ جس سے آپ نے اس آیت کو تیسری دلیل وفات مسیح علیہ السلام پر قرار دیا ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ سے پہلے یہ آیت ہے إِذْ قَالَ اللّٰهُ يَاعِيْسَی الخ قَالَ ماضی کا صیغہ ہے۔ اور اِذْ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے اس سے پہلے موجود ثابت ہوا یہ قصہ نزول آیت کے وقت ایک ماضی قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔ پھر جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔ غرض اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے اور اس مرنے کا اقرار خود ان کی زبان کا موجود ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۶۰۲ خزائن ج ۳ ص ۴۲۵) ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رب العالمین کے اس سوال و جواب کو زمانہ مستقبل کا سوال وجواب ثابت کر دیں اور پھر توفیتنی کے جو معنی رَفَعْتَنِيْ إِلَى السَّمَاءِ عَامّ مفسرین نے لیے ہیں۔ اس کا قرینہ اسی آیت میں سے نکال دیں تو کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ دلیل بھی ان کے حق میں بالکل بودی اور ضعیف ثابت ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ قَالَ کے ماضی ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ مگر یہ غلط ہے کہ اِذْ صرف ماضی کے واسطے آتا ہے۔ یا جب ماضی پر آتا ہے تو اس جگہ زمان مستقبل مراد ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ دیکھو وَلَوْ تَرٰى إِذْ فُزِعُوْا اور إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا میں ماضی پر إِذْ آیا ہے مگر وہی حال قیامت کے لیے۔ علیٰ ہٰذا مضارع پر بھی إِذْ آیا ہے۔ پڑھو یہ آیت وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ اور وَإِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ مگر ہاں سنّت اللہ یہ ہے کہ زمان مستقبل کے
جن امور کا ہونا یقینی اور ضروری ہے۔ ان کو بصیغہ ماضی بیان کیا جایا کرتا ہے۔ جس شخص کو نظم قرآنی کے سمجھنے میں ذرا بھی مناسبت ہوگی۔ جس نے معمولی توجہ سے بھی قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کی ہوگی۔ وہ ہمارے بیان کی صداقت سے بخوبی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قیامت کا ذکر خصوصیت سے ایسا ذکر ہے۔ جس کو جا بجا صیغہ ماضی سے بیان کیا گیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح واقعات گزشتہ کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اسی طرح احوال قیامت میں کسی کو مجال انکار و مقام شبہ باقی نہ رہ جائے۔ مثلاً حدیث صحیح میں آیا ہے جَاءَتُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ پہلا نفخ صور آ گیا۔ اس کے ساتھ دوسرا بھی ہے۔ قرآن میں ہے اَتٰی اَمْرُ اللّٰهِ قیامت آ گئی۔ گو جَاءَتُ اور اَتٰی صیغہ ماضی ہیں۔ مگر زبان مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ اس طرز کلام میں یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ ان امور کا واقع ہونا ذرا بھی غیر یقینی نہیں۔
اب یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پرسش و گزارش یہ سوال اور جواب زمانہ ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ یَوْمَ الدِّیْنِ کے وقوعی امر کا اخبار ہے۔ آپ قرآن مجید کی طرف توجہ فرمائیے کہ شروع قصہ مسیح ابن مریم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَاعِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ (المائدہ ۱۰۹) ”جس دن خدا تعالیٰ رسولوں کو اکٹھا کر کے فرمائے گا تم کو تمہاری امتوں نے کیا جواب دیا۔ عرض کریں گے ہم کو اس کی خبر نہیں۔ تو علام الغیوب ہے“۔ الرسل لانے کے بعد ایک اولوالعزم رسول کے ساتھ جو سوال و جواب ہوں گے۔ ان کی خصوصیت سے تصریح بھی فرما دی اور اس سوال و جواب کے لکھنے سے پہلے مسئول عنہ کی قدر و منزلت دکھلانے کے واسطے ان نعمتوں عزتوں کا شمار بھی فرمایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا کی گئی تھیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس ہولناک دن میں کیسے کیسے ممتاز رسولوں کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور مشرکین کو ان کے معبود ذرا بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے۔
پھر دیکھو کہ اس جواب و سوال کے ختم ہونے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے گناہی کو تسلیم کر لینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (مائدہ ۱۱۸) کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے قَالَ اللّٰهُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ (مائدہ ۱۱۹) ”آج تو وہ دن ہے کہ صادقین کو ان کا صدق نفع پہنچائے“۔ اب اس میں تو شک نہیں کہ ھٰذَا یَوْمُ اس سوال و جواب کے دن ہی کو کہا گیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ کا ظہور قیامت کے روز ہی
ہونا ہے لہٰذا مرزا قادیانی کو چاہیے کہ اب اِذْ قَالَ کی کوئی اور توجیہ پیش کریں۔
اب ناظرین آیت و معنی آیت ملاحظہ فرمائیں وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّادُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (مائدہ ۱۱۷) میں ان کی نگہبانی کرتا رہا۔ جب تک ان کے درمیان موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان کا نگہبان اور رکھوالا تھا۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دینے کے وقت اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ فرمایا تھا۔ توفی کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یہ ایک جنس ہے۔ جس کے تحت میں بہت انواع ہیں۔ رفع بھی اسی کی ایک نوع ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ کے لفظ سے خبر دی ہے تاکہ تعین ہو جائے اور اس لیے جب مفسرین نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ خود اس جنس سے تعین ایک نوع کی فرما چکا ہے تو انھوں نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے معنی بھی مراد سبحانی و تعین ربانی کے موافق کیے۔ جس کو مرزا قادیانی نے خود نہیں سمجھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے سب مفسرین پر الحاد اور تحریف کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ حضرت اس میں مفسرین کا کچھ قصور نہیں۔ اگر تحریف اسی کا نام ہے تو وہ خود اس کلام پاک اور قدیم کے متکلم کی طرف سے وقوع میں آئی ہے۔ جو فتوے لگانا ہو اس پر لگائیے۔
جواب......۲ خارجی دلائل کو تائید میں لانے سے پہلے خود اس آیت کے اندر دلائل کے تلاش کرنے سے بہت کچھ ملتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یوں عرض کیا ہے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۔ ”یعنی جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کا نگہبان تھا۔ یہ الفاظ بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رہنے یعنی زندگی بسر کرنے کا کوئی ایسا زمانہ بھی ہے جبکہ وہ اپنی امت میں موجود نہیں رہے اور ان کو منصب رسالت و تبلیغ و وعظ و انذار سے کوئی علاقہ بھی نہیں رہا اور کچھ شک نہیں کہ وہی زمانہ صعود بر سماء کا ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول مَادُمْتُ فِيْهِمْ کے معنی سمجھنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے قول مَا دُمْتُ حَيًّا پر بھی نظر ڈالنی چاہیے کہ پہلے قول میں آپ نے فرمایا ہے۔ ”جب تک میں ان کے درمیان رہا“ اور دوسرے قول میں ہے۔ ”جب تک میں زندہ رہوں۔“ پہلے میں ان کے درمیان رہنے کی قید اور دوسرے قول میں ”نماز و زکوٰۃ کے لیے حیات کی قید“ کیا معنی رکھتی ہے۔ اگر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی موت کا بیان کرنا تھا تو اس کے لیے نہایت واضح لفظ یہ تھے کہ یوں فرماتے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ حَيًّا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ أَنْتَ
الرَّقِیْب جبکہ ایسا نہیں فرمایا تو ثابت ہوا کہ آپ کی یہ تیسری مستدلہ آیت بھی آپ کے دعویٰ کا کچھ ثبوت نہیں بلکہ روشن ہو گیا کہ حیاتِ مسیح علیہ السلام کے لیے ہماری دلیل ہے۔ ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ مرزا قادیانی نے اپنی دیگر مستدلہ آیات کی نسبت تو دلالت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ آیت دلالت کرتی ہے اور وہ آیت دلالت کرتی مگر اس تیسرے نمبر کی آیت کی نسبت یہ الفاظ لکھے تھے کہ یہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے اور جو آیت ان کے زعم میں کھلی کھلی گواہی دیتی تھی اسی میں ان کا ضعف استدلال اس قدر ہے۔
اعتراض امت کے بگڑنے کا علم مسیح ؑ کو قیامت کے دن دیا جائے گا۔
جواب یہ کسی آیت سے بھی ثابت نہیں۔ قطعاً بے بنیاد ہے خود مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو قیامت سے پیشتر امت بگڑنے کی اطلاع ہے۔
”میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیا گیا کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس کی خبر دی گئی ۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ۲۵۴ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح ؑ کو دکھایا گیا یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دی گئی ۔“ (آئینہ کمالات ص ۲۸۸ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
حضرات! ہمارے پاس قرآن پاک کی نص صریحہ اور احادیث نبویہ صحیحہ ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح دنیا میں آئیں گے اور آ کر اپنی امت کا حال زبون ملاحظہ کر کے قیامت کو ان پر گواہ ہوں گے۔ بخلاف اس کے مرزا قادیانی اپنا کشف بتاتے ہیں۔ اول تو خلاف قرآن و حدیث کسی کا کشف خود عندالمرزا قابل حجت نہیں۔
(ازالہ اوہام ص ۵۶۷ خزائن ج ۳ ص ۴۰۵)
دوم یہ کشف ہمارے مخالف نہیں بلکہ ہمارے بیان کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے یعنی مسیح ؑ کو قبل از نزول آسمان پر اس کی خبر دی گئی اور بعداز نزول بموجب آیت قرآن و احادیث نبی علیہ السلام بچشم خود ملاحظہ فرما لیں گے بہر حال یہ متعین ہو گیا کہ مسیح کو قیامت سے پیشتر امت بگڑنے کا پتہ ہے فہوالمطلوب۔
ہماری اس تقریر سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مرزائی جو کہا کرتے ہیں کہ مسیح ؑ قیامت کے دن اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ یہ از سرتاپا جھوٹ فریب بہتان افترا ہے۔
ایک اور طرز سے
مرزائیوں کو مسلم ہے کہ عیسائی بعد توفی مسیح کے بگڑے ہیں اور یہ بھی ان کا
مذہب ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد آپ کشمیر چلے آئے، ایک سو بیس برس زندہ رہے۔
(تذکرۃ الشہادتین ص ۲۷ خزائن ج ۲۰ ص ۲۹)
”حالانکہ انجیل پر ابھی پورے تیس برس نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔“ (چشمہ معرفت ص ۲۵۴ خزائن ج ۲۳ ص ۲۶۶)
مذکورہ بالا بیان سے بلا تاویل ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ہجرت کشمیر کے بعد فوراً تثلیث پھیل گئی تھی۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ توفی کے معنی موت نہیں ہیں۔
اعتراض بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ قیامت کے دن کہیں گے کہ میری توفی کے بعد میری امت بگڑی ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی مثال دیں گے پس ثابت ہوا کہ توفی کے معنی موت ہیں۔
الجواب ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و شخصیت اس کے جدا جدا معنی ہو سکتے ہیں۔ دیکھئے حضرت مسیح علیہ السلام اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدائے پاک کے لیے بھی ”تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک“ (مائدہ ۱۱۶) اب کیا خدا کا نفس اور مسیح ؑ کا نفس ایک جیسا ہے؟ ہرگز نہیں! ٹھیک اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی توفی بمعنی اخذ الشیئ وافیا پورا لینے کے ہے کیونکہ اگر موت لی جائے تو علاوہ نصوص صریحہ جن میں حیات مسیح ؑ کا ذکر ہے کہ خلاف ہونے کے یہود پلید کی تائید و تصدیق ہوتی ہے کیونکہ وعدہ توفی و رفع کا۔ بلا توقف و بجلد ”پورا ہوا ہے جو سوائے رفع جسمانی کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔“
چوتھی آیت جس کا موت مسیح علیہ السلام پر دلالت کرنا مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے۔ وہ یہ ہے اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ اس کی وجہ استدلال مرزا قادیانی نے اس جگہ کچھ نہیں لکھی۔ صرف یہ تحریر کیا ہے کہ اس کی تفسیر اسی رسالہ میں ہم بیان کر چکے ہیں۔
ناظرین واضح ہو کہ اس آیت میں غور طلب تین الفاظ ہیں۔ اوّل ”لَیُؤْمِنَنَّ“ دوم بِہٖ سوم۔ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔ مرزا قادیانی نے لَیُؤْمِنَنَّ کو صیغہ ماضی بنا کر ترجمہ کیا ہے اور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ ”کوئی اہل کتاب نہیں جو اس بیان پر ایمان نہ رکھتا ہو۔“
(ازالہ ص ۳۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۹۱)
حالانکہ تمام روئے زمین کے علماء علم نحو کا اس قاعدے پر اتفاق ہے کہ جب مضارع پر لام تاکید اور نون ثقیلہ واقع ہوتے ہیں تو فعل مضارع اس جگہ خالص مستقبل کے لیے ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا قاعدہ ہے۔ جس کو مرزا قادیانی آج تک غلط ثابت نہیں کر
سکے اور نہ کر سکیں گے بلکہ جب یہاں آ کر نہایت بے دست و پا ہو گئے تو یہ جواب بنایا ”ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف ونحو کو اپنے لیے ایسا رہبر قرار دے دیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کئی معنی آیت کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے۔ تو پھر بھی ہم اسی قاعدہ یا نحو کو ترک نہ کریں۔ اس بدعت کے التزام کی ہمیں حاجت ہی کیا ہے۔“
(مباحثہ دہلی ص ۵۳ خزائن ج ۲ ص ۱۸۳)
(صرف نحو کو بدعت کہنا یہی مرزا قادیانی کی بدعت ہے۔ شاہ اسماعیل صاحب شہیدؒ اپنے رسالہ ”ایضاح الحق الصریح“ میں فرماتے ہیں۔ جمع قرآن و ترتیب سور و نماز تراویح و اذان اول برائے نماز جمعہ و اعراب قرآن مجید، و مناظرہ اہل بدعت بدلائل نقلیہ، وتصنیف کتب حدیث۔
تبیین قواعد نحو، و تنقید رواۃ حدیث، و اشتغال باستنباط احکام فقہ بقدر حاجت، ہمہ از قبیل ملحق بالسّنۃ ست کہ در قرون مشہود لہا بالخیر مروج گردیدہ، و بآں تعامل بلانکیر در آں قرون جاری شدہ، چنانچہ بر ماہر فن مخفی نیست“ مرزا قادیانی دیکھیں کہ قواعد نحو کو کن علوم ہمایوں کے پہلو میں جگہ دی گئی ہے پھر اس کا ملحق بالسنۃ ہونا، قرون مشہود لہا بالخیر میں بلا انکار احد سے مروج ہونا اور تعامل کے زبردست سلسلہ میں (جس کی اوٹ آپ اکثر لیا کرتے ہیں) آ جانا یہ سب امور کس وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں اور آخر فقرہ میں یہ بھی ظاہر فرما دیا ہے کہ ان سے انکار کرنے والا تاریخ اسلامی سے ناواقف محض ہے۔)
اس جواب سے جو علمیت و قابلیت اور پھر اس پر زبان دانی اور الہام یابی کا افتخار ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری آیت کی وجہ استدلال میں جب مرزا قادیانی نے حرف اِذْ اور قَالَ پر نحوی بحث کی تھی۔ اس وقت تو اس بدعت کے التزام کی ان کو حاجت تھی۔ اب کہ اس التزام سے دعویٰ ٹوٹتا ہے اور بے شمار وساوس و دور از کار خیالات (جن کو بڑی آب و تاب کے ساتھ مجموعہ اوہام میں جلوہ دیا گیا ہے) ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا کی طرح اڑے جاتے ہیں تو اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ کو اس التزام بدعت کی کچھ حاجت نہیں رہی۔ مگر اس لیے کہ آپ کو اس کی حاجت نہیں رہی۔ لازم نہیں آتا کہ قاعدہ نحوی کی صحت بھی باقی نہیں رہی۔ ناظرین یاد رکھیں کہ لِيُؤْمِنُنَّ خالص مستقبل کے لیے ہے۔
(ایک دوسری آیت میں ہے لَمَا جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ
بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ (آل عمران ۸۱) صرف حاضر و غائب کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی اس کو بھی ماضی بنا کر ترجمہ کر دکھلائیں۔)
دوسری بحث ”بہ“ کی ضمیر پر ہے کہ اس کا مرجع کون ہے۔ مرزا قادیانی ”بہ“ کا مرجع بیان مذکورہ بالا کو بتاتے ہیں۔ دیکھو ازالہ ص ۳۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۹۱ اور ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو۔ لیکن بیان مذکورہ کو مرجع قرار دینے سے ہمارا کچھ حرج نہیں۔ یعنی محض بہ کا مرجع بیان مذکورہ قرار دینے سے مرزا قادیانی کا مذہب ثابت ہونا ممکن نہیں۔ تیسری بحث قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر پر ہے اور یہ بھی لَيُؤْمِنَنَّ کی طرح ضروری بحث ہے کیونکہ جو کوئی قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع قرار دیا جائے گا۔ اسی کی حیات بالفعل ثابت ہو جائے گی۔ بعض مفسرین نے قَبْلَ مَوْتِہٖ کے مرجع قرار دینے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ مگر اہل سنت والجماعت کے جمہور کا مختار مذہب یہ ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی مسلمانوں کے حال پر رحم فرما کر (ازالہ ص ۳۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۹۱) پر قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیا ہے اور گو آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے بڑے بڑے لمبے لمبے جملہائے معترضہ بیچ میں ڈال کر معنی کچھ کے کچھ کر گئے ہیں مگر ہم اس کو لاکھ غنیمت سمجھتے ہیں کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کے مرجع میں وہ ہم سے خلاف نہیں۔
(ازالہ ص ۳۸۵ خزائن ج ۳ ص ۲۹۸)
(مرزا قادیانی نے بہ کی ضمیر کا مرجع بیان مذکورہ اور قَبْلَ مَوْتِہٖ کا مرجع کتابی ہی بتایا ہے مگر معلوم نہیں کہ یوم القیامۃ یکون علیھم شھیدا۔ میں ”یکون“ کا فاعل کس کو قرار دیں گے۔ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کو ہی قرار دیں گے تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ضمائر میں اس قدر بعد و انفصال تعقید کلام میں داخل ہے جو فصاحت و بلاغت سے سخت مخالف ہے۔ پھر قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کا مرجع کتابی کو کہنا اس لیے غلط ہے کہ اس صورت میں ”قبل موتہ“ کا جملہ کلام میں ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ لَيُؤْمِنَنَّ میں جو ایمان لانے کی خبر ہے۔ وہ خود حیات کتابی کی مقتضی ہے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ بعد از موت یقین کرنے کا نام بھی شرع میں ایمان رکھا گیا ہے اور یہ ببداہت باطل ہے۔ واضح رہے کہ شرع میں حالت نزع بھی بعد از موت میں داخل اور زمانہ حیات سے خارج ہے۔ دیکھو جب فرعون نے اپنے غرق ہونے کو یقینی معلوم کر کے امَنْتُ بِرَبِّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کہا تو اس کے جواب میں اس کو یہی کہا گیا۔ والان وقد حصحص الحق غرض مرزا قادیانی کے معنی ہر طرح سے نظم قرآنی کے خلاف ہیں۔ اگرچہ ان کے وہ معنی
بھی کسی طرح سے مفید مطلب نہیں ہو سکتے کیونکہ لَيُؤْمِنَنَّ صیغہ ماضی نہیں بن سکتا۔)
پھر قند مکرر کے طور پر اس شہادت کو ادا کیا ہے اور تسلیم کر لیا کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”کہ قَبْلَ مَوْتِہٖ کی تفسیر یہ ہے کہ قبل ایمانہ بموتہ“ ہم کو ان معنی سے کچھ سروکار نہیں۔ ضمیر کا مرجع جس کو ہم نے قرار دیا تھا۔ اسی کو مرزا قادیانی نے تسلیم بھی کر لیا وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ اب اس تسلیم کے بعد مرزا قادیانی اور ان کے تمام اعوان و انصار کے لیے محال کلی ہے کہ اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام کی (صراحت تو کیا) دلالت بھی ثابت کر سکیں۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
- ۱...... اور نہیں کوئی اہل کتاب سے۔ مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس
کی کے۔
(شاہ رفیع الدینؒ)
- ۲...... اور جو فرقہ کتاب والوں میں سے ہے۔ سو اس پر یقین لائیں گے اس کی موت
سے پہلے۔
(شاہ عبدالقادرؒ)
- ۳...... ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب الایمان آورد بہ عیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ۔
(شاہ ولی اللہؒ)
ان ہر سہ تراجم میں ”بہ“ اور قَبْلَ ”موتہ“ دونوں کی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یہی مذہب جمہور ہے۔
- ۴...... اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا وہ قرآن کے بیان مذکورہ بالا پر
پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے
(مرزا غلام احمد قادیانی)
یہ معنی مرزا قادیانی کے مذہب پر ہیں جو ”بہ“ کا مرجع بیان کو اور ”موتہ“ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں۔
اور ان سب صورتوں میں حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔ وفات کا کیا ذکر ہے اور اس آیت سے مرزا قادیانی کو استدلال کرنے کی کیا وجہ ہے؟
یاد رکھو کہ جب تک مرزا قادیانی لَيُؤْمِنَنَّ کو مفید معنی ماضی ثابت نہ کر سکیں۔ تب تک وہ اس آیت سے استدلال کا نام بھی نہیں لے سکتے اور وہ ثابت کرنا اس وقت تک ان پر محال ہے جبکہ موجودہ علم نحو کی تمام کتابوں کو ڈبو کر اور تمام عرب اہل زبان کو دریا برد کر کے ازسرنو ملک عرب آباد نہ کریں اور اس میں اپنا نو ایجاد کردہ صرف و نحو جاری نہ فرمائیں۔
پانچویں آیت مرزا قادیانی نے وفات مسیح کے ثبوت میں تحریر کی ہے۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌؕ كَانَا يَاْكُلَانِ الطَّعَامَ
آیت مذکورہ کو مرزا قادیانی نے موت مسیح ؑ پر نص صریح لکھ کر بتایا ہے کہ وجہ استدلال یہ ہے کہ ”كَانَا“ حال کو چھوڑ کر گزشتہ کی خبر دیا کرتا ہے ...... اس جگہ ”كَانَا تثنیہ“ ہے ...... دونوں اس ایک ہی حکم میں شامل ہیں۔ یہ نہیں بیان کیا گیا، کہ حضرت مریم علیہا السلام تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکی گئیں لیکن حضرت ابن مریم کسی اور وجہ سے۔“ اس کے بعد مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”اگر اس آیت کو مَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَداً لَّا يَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو یقینی و قطعی نتیجہ یہ ہے کہ فی الواقع حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔“
(ازالہ ص ۶۰۳ خزائن ج ۳ ص ۴۲۶)
ناظرین! یہ غلط ہے کہ كَانَ ہمیشہ حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیا کرتا ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو كَانَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ (فتح ۲۱) کا ترجمہ مرزا قادیانی کر کے دکھلائیں۔ کیا خدا پہلے قادر تھا اب نہیں؟ معاذ اللہ۔ یا ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین (توبہ ۱۱۳) کیا مشرکین کے گذشتہ زمانہ میں استغفار ناجائز تھا۔ اب جائز ہے؟ نہیں ہرگز نہیں تو ثابت ہوا کہ کان صرف ماضی کے لیے نہیں بلکہ حال و مستقبل کو بھی شامل ہوتا ہے؟
اب حقیقت حال سنئے۔ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے دو فرقوں کی تردید وتکذیب دلائل عقلی سے فرمائی ہے اور ان کے کفر کا ثبوت دیا ہے۔
- ۱...... لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ . وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِىْ
اِسْرَائِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ. (مائدہ ۱۷) ”البتہ وہ کافر ہوئے۔ جن کا یہ قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے کیونکہ مسیح نے تو خود کہا ہے۔ لوگو میرے اور اپنے خدا کی عبادت کرو۔“
- ۲...... لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ (مائدہ ۷۳) ”البتہ وہ بھی کافر ہوئے جو
خدا کو تثلیث کا ایک اقنوم کہتے ہیں۔“
- ۳...... مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاُمُّهُ صِدِّيْقَةٌ . كَانَا
يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ . (مائدہ ۷۵) ”اور مسیح بن مریم تثلیث کے دوسرے دو اقنوم جیسا کہ رومن کیتھلک کا اعتقاد ہے بھی خدا نہیں کیونکہ مسیح بن مریم تو رسول ہے اس سے پہلے بھی رسول ہو چکے ہیں اور اس کی ماں صحابیہ وصدیقہ ہے۔ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔
صاف ظاہر ہے کہ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کو عیسائیوں کی غلطی ثابت کرنا اور ان کے کفر پر دلیل قائم کرنا منظور تھا جو مسیح ؑ ہی کو خدا قرار دیتے تھے۔ ان پر یوں
دلیل قائم کی کہ مسیح ؑ خود لوگوں کو یوں کہا کرتا تھا کہ میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو اگر وہ خود خدا ہوتا تو وہ یوں کہا کرتا۔ "لوگو میں جو تمہارا رب ہوں۔ میری عبادت کرو۔" لیکن جب مسیح ؑ نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ہے تو اس تربیت یافتہ کو رب کہنا کفر ہے۔
جو لوگ ایک خدا کو تین خدا اور تین خدا کو ایک خدا کہتے اور خدا، مسیح۔ مریم کو اقانیم ثلثہ قرار دیتے تھے۔ خداوند کریم نے ان پر دلیل قائم کی کہ جب ہزاروں، لاکھوں شخصوں نے ان دونوں ماں بیٹا کو لوازم بشری کے محتاج اپنی طرح پایا اور دیکھا ہے اور باایں ہمہ پھر ان کو خدا کہنے کی جرأت کی ہے۔ یہ بھی ان کا کفر ہے۔ اب ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ اس میں موت و حیات کی کیا بحث ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ سے وہ مراد ہی نہیں لی تو مرزا قادیانی متکلم کے خلاف ان الفاظ سے معانی نکالنے کے کیا مجاز ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تفسیر بالرائے کا کیا حکم ہے؟
علاوہ اس کے مرزا قادیانی کو خود اقرار ہے کہ "حضرت مریم علیہا السلام کے طعام نہ کھانے کی وجہ موت اور ابن مریم کے طعام نہ کھانے کی کوئی دوسری وجہ بیان نہیں کی گئی۔ صرف کَانَا کہا گیا ہے" تو اس صورت میں مرزا قادیانی کا کیا حق ہے کہ جس امر کی وجہ اس آیت میں بیان نہیں ہوئی اس کو آپ خود بیان کریں بلکہ اس پر جزم بھی کر دیں۔ کیا ممکن نہیں کہ دو شخصوں کا ایک مشترکہ فعل سے جدا ہونا مختلف اسباب سے ہو۔ مثلاً زید اور عمرو پارسال دونوں لاہور رہتے تھے۔ زید نے تعلیم چھوڑ دی اور عمر ولایت چلا گیا۔ اس مثال میں دیکھو۔ لاہور میں رہائش دونوں کا مشترکہ فعل ہے مگر اس سے جدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں۔
مرزا قادیانی! اگر ایسے دلائل ہی آپ کے مذہب کے مؤید ہیں تو اس کے مقابلہ میں کوئی شخص یہ آیت پیش کر سکتا ہے قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰهِ شَيْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهُ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ جَمِیْعًا (مائدہ ۱۷) "یہ کہہ دے کونسی چیز خدا کی روک بن سکتی ہے۔ اگر وہ یہ چاہے کہ مسیح ؑ اور اس کی ماں کو نیز تمام مخلوق کو جو کل صفحہ زمین پر ہے۔ ہلاک کر دے، یہ ہلاک کر دے بتا رہا ہے کہ اب تک اللہ تعالیٰ نے ہلاک نہیں کیا۔" اور کہہ سکتا ہے کہ نہ کبھی جَمِیْعَ مَّنْ فِى الْاَرْضِ ہلاک ہوئے اور نہ مسیح ؑ اور نہ ان کی مادر صدیقہ ہی کو ہلاکت نے اپنا اثر پہنچایا۔ جس طرح آج جَمِیْعَ مَّنْ فِى الْاَرْضِ زندہ ہیں مسیح اور اس کی ماں بھی زندہ ہے۔ اگر آپ اس کو مسیح
نہیں مان سکتے تو وہ آپ کا استدلال بالاولیٰ غیر صحیح اور سراپا غلط ہے۔ اس آیت کو آپ نے نص صریح کہہ کر پھر استدلال کے وقت اس کے ساتھ دوسری آیت کو ملانے اور پھر یقینی نتیجہ پر پہنچنے کی نسبت جو لکھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک بھی یہ آیت نص صریح ”لذاتہا“ نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔ دوسری آیت جس کو ملا کر آپ نے اس دلیل کو کامل بنایا ہے۔ اس کی بحث ذیل میں آتی ہے۔
چھٹی آیت وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ (الانبیاء ۸) ”اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں۔“
قادیانی استدلال ”در حقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح علیہ السلام کی موت پر دلالت کر رہی ہے، کیونکہ جبکہ کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا، یہی سنت اللہ ہے، تو پھر حضرت مسیح ؑ کیوں اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے ولن تجد لِسُنَّةِ اللہ تبدیلا اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں، مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو بھی مار چکی ہے بے شک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں، ان کی بھی کامل زندگی ہے، مگر وہ دنیا کی ایک ناقصہ کثیفہ زندگی سے نجات پا گئے ہیں، دنیا کی زندگی کیا چیز ہے، اور کیا حقیقت؟ ایک جاہل اس کو بڑی چیز سمجھتا ہے، اور ہر ایک قسم کی زندگی جو قرآن شریف میں مذکور و مندرج ہے اسی کی طرف گھسیٹتا چلا جاتا ہے، وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ دنیوی زندگی تو ایک ادنیٰ درجہ کی زندگی ہے جس کے ارذل حصہ سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے اور جس کے ساتھ نہایت غلیظ اور مکروہ لوازم لگے ہوئے ہیں، اگر انسان کو اس سفلی زندگی سے ایک بہتر زندگی حاصل ہو جائے اور سنت اللہ میں فرق نہ آئے تو اس سے زیادہ کونسی خوبی ہے؟“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۵ خزائن ج ۳ ص ۴۲۶۔۴۲۷)
جواب یہ آیت مشرکین مکہ کا جواب ہے جو کہا کرتے تھے۔ مالھذا الرسول یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق یہ کیا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا ہے قرآن مجید نے جواب میں فرمایا وما جعلنہم جسدا لا یاکلون الطعام۔ کوئی ایسا انسان نہیں جو کھانا نہ کھاتا ہو۔ پہلے انبیاء بھی کھانا کھاتے تھے۔ آپ ﷺ بھی کھانا کھاتے ہیں۔ اجسام کے لیے طعام ضروری، لیکن آسمان والوں کے لیے آسمانی کھانا۔ زمین والوں کے لیے زمینی کھانا، لیکن اللہ تعالیٰ کبھی ایسا بھی فرماتے کہ زمین والوں کے
لیے آسمانی کھانا زمینی کھانے جیسا بھیج دیا۔ جیسے نزول مائدہ۔ یا آنحضرت ﷺ کے لیے اس سے بھی اعلیٰ کھانا یطعمنی ربی و یسقینی صوم وصال میں دیکھئے آپ ﷺ ہیں زمین پر مگر کھانا آسمان والوں کا کھا رہے ہیں۔ عیسیٰ ؑ آسمان پر آسمانی کھانا کھاتے ہیں تو اس میں کیا اشکال۔ (تفصیل آگے آئے گی)
جواب وفات مسیح پر یہ چھٹی آیت مرزا قادیانی نے لکھی ہے وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ اور تحریر کیا ہے کہ درحقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح ؑ کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ (ازالہ ص ۶۰۵ خزائن ج ۳ ص ۴۳) اس فقرہ کے الفاظ درحقیقت یہی اکیلے، کافی طور پر ناظرین کی توجہ کے لائق ہیں۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس اکیلی کے سوا مرزا قادیانی کی دیگر مستدلہ آیات درحقیقت مسیح ؑ کی موت پر دلالت نہیں کرتیں اور اگر ان کو حقیقت کے خلاف اس مسئلہ کی دلیل بنایا بھی جائے تو وہ کافی طور پر دلیل نہیں کہلا سکتیں۔ ناظرین یہ کیسا صاف اقرار ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں بھی باقی ۲۹ آیتیں ان کے مذہب کی تائید پر نہیں قضی الرجل علی نفسہ یاد رکھو کہ یہی حصر کے لیے آتا ہے۔ ”اکیلی“ نے اس کو اور بھی پر زور کر دیا۔ مرزا قادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ جب کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام کیونکر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں؟ ناظرین اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جسے طعام (غذا) کی حاجت نہ ہو۔ مگر آیت میں یہ کہاں ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جو فلاں مدت تک بغیر طعام کے زندہ نہ رہ سکے اور جب یہ نہیں تو مرزا قادیانی کے لیے یہ دلیل بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ جو شخص ان کی طرح ہر روز دو وقت کھانا نہ کھاتا ہو۔ وہ مردہ ہے۔ اگر یہی صحیح ہے تو فرینچ قوم کے نزدیک جو دن میں آٹھ دفعہ کھاتے ہیں۔ کل ہندوستان مردہ ہے اور جو جینی۔ بودھ پچاس پچاس روز کا برت رکھتے ہیں وہ مردہ در گور ہیں۔ ناظرین آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کسی جسم کا ایک خاص مدت معین تک اکل و شرب سے جدا رہنا نہ تو اس جسم کے مردہ ہونے کی دلیل ہو سکتا ہے اور نہ اس جسم کے لوازم جسمانی سے بے نیاز ہونے کی حجت بن سکتا ہے۔
قرآن مجید اس امر کا گواہ ہے کہ وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا (کہف ۲۵) اصحاب کہف ۳۰۹ برس تک اسی معمورہ دنیا کے ایک پہاڑ میں اکل و شرب کے بغیر زندہ رہے اور ۳۰۹ برس بعد ان کو طعام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ان میں سے ایک اس وقت طعام لینے کو پہاڑ سے نکلا۔ مرزا قادیانی غور
کریں کہ جس طرح پر تحقیقات حکماء کو جن کا یہ قول ہے کہ زیادہ سے زیادہ ابن آدم ۷۰ دن تک بلا طعام کے زندہ رہ سکتا ہے۔ ۳۰۹ برس نے غلط ثابت کر دیا۔ جواب ۲....... دوسری دلیل کو سماعت فرمائیے۔ شاید آپ یہ جانتے ہیں کہ طعام کا لفظ زبان شرع میں صرف نباتات اور زمین کی روئیدگی یا حیوانی غذا کے لیے آتا ہے اور یہی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آپ یاد رکھیں کہ زبان شرع میں ان انوار و برکات کو بھی طعام کہا گیا ہے۔ جو خواص بشر کی جسمانی اور روحانی تربیت ایسی ہی کرتے ہیں جیسے دیگر ماکولات اور روئیدگی زمینی عوام کی تربیت جسمانی کا کام آتی ہیں۔ ذیل میں مثالیں ملاحظہ ہوں۔
بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا
- ۱....... اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پیئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔
اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہنا قرآن کریم میں مذکور ہے۔ وَلَبِثُوْا فِىْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا (کہف ۲۵) اس سے مرزا قادیانی کا یہ وسوسہ بھی زائل ہو گیا کہ جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے وہ محض نادان ہو جاتا ہے کما قال تعالیٰ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا (النحل ۷۰) اس لیے کہ ارذل العمر کی تفسیر میں اسی یا نوے سال کی قید مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے لگائی ہے قرآن و حدیث میں کہیں قید نہیں۔ اصحاب کہف تین سو سال تک کہیں نادان نہیں ہو گئے اور علیٰ ہٰذا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام صدہا سال زندہ رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔
- ۲....... حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو شدید
قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا۔ اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یجزئهم ما یجزئ اهل السماء من التسبیح و التقدیس (مشکوٰۃ ص ۴۷۷ باب علامات بین یدی الساعۃ) یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح و تقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔
- ۳....... اور حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کئی کئی دن کا صوم وصال رکھتے اور یہ فرماتے
(ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی و یسقینی) (بخاری ج ۲ ص ۱۰۱۲ باب کم التعزیہ والادب) ”تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو صوم وصال میں میری برابری کرے۔ میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔“ یہ غیبی طعام میری غذا ہے معلوم ہوا کہ طعام و شراب عام ہے خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُوْنَ
الطَّعَامَ (الانبیاء ۸) سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لیے کہ طعام و شراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔ حضرت آدم علیہ السلام اکل شجرہ سے پہلے جنت میں ملائکہ کی طرح زندگی بسر فرماتے تھے۔ تسبیح و تہلیل ہی ان کی غذا تھی۔ پس کیا حضرت مسیح ؑ جو کہ نفخہ جبرائیل سے پیدا ہونے کی وجہ سے جبرئیل امین کی طرح تسبیح و تہلیل سے زندگی بسر نہیں فرما سکتے۔
۴...... اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ آدَمَ (آل عمران ۵۹) جو آسمانوں پر سیدنا آدم علیہ السلام کی غذا تھی وہی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی۔ حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پئے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے اور حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد فَلَوْلَا اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ (الصافات ۱۴۳۔۱۴۴) اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبحین میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے اور پئے زندہ رہتے۔
۵...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً مذکور ہے کما قال تعالیٰ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ (المائدہ ۱۱۱) الی قوله تعالیٰ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِيْنَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ (المائدہ ۱۱۴۔۱۱۵) جو خدا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر ان کی قوم کو آسمانوں کا کھانا زمین پر بھیج سکتا ہے کیا وہ مسیح علیہ السلام کو آسمانوں پر رکھ کر آسمانی کھانا نہیں دے سکتا؟
ساتویں آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهٖ الرُّسُلُ ط اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ ط (آل عمران ۱۴۴) ’’اور محمد تو ایک رسول ہے ہو چکے اس سے پہلے بہت رسول۔ پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تو تم پھر جاؤ گے الٹے پاؤں۔‘‘
قادیانی استدلال یعنی محمد ﷺ صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں، اب کیا اگر یہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ؟ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا ہی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدا
تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔
(ازالہ اوہام ص ۶۰۶ خزائن ج ۳ ص ۴۲۷)
ناظرین قابل غور یہ ہے کہ ترجمہ میں یہ الفاظ ”ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں“۔ قرآن مجید کے کن الفاظ کا ترجمہ ہیں۔ ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی براہ نوازش کسی لغت کی کتاب میں یہ تو دکھلائیں کہ خَلَتْ یا خَلَا بمعنی موت زبان عرب میں آیا بھی ہے؟ آپ اس جگہ صرف اپنے دعویٰ کی تائید میں ایسے مصروف ہوئے ہیں کہ خواہ لغت اور محاورہ آپ کے ترجمہ کی غلطی کو صاف ظاہر کر رہا ہو۔ مگر آپ کو اس کی ذرہ پرواہ نہیں اچھا صاحب اگر خَلَتْ کے معنی فوت ہو جانا ہی ہیں تو آپ اس آیت سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (الفتح ۲۳) کا کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ کیا یہی کہ وہ سنت الٰہی ہے جو تم سے پہلے فوت ہو چکی ہے؟ اگر آپ ایسا ترجمہ کریں گے تو آیت ہٰذا کے ساتھ ملے ہوئے الفاظ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلاً آپ کے اس ترجمہ کی سخت تکذیب کریں گے۔
پس جب آیت مستدلہ میں مرزا قادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے تو استدلال کی صحت کہاں رہی؟ مرزا قادیانی کے ترجمہ میں اتنے الفاظ پیوند ہیں تو ”ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا“ حالانکہ نہ ان الفاظ کی کچھ ضرورت نہ تھی اور نہ کسی الفاظ قرآنی کا ترجمہ ہیں۔
ناظرین کو یہ بھی واضح ہو کہ آیت کا نزول جنگ احد میں ہوا تھا۔ رسول کریم ﷺ اس جنگ میں زخمی ہو کر خندق کے اندر ایک غار میں گر گئے تھے۔ شیطان نے پکار دیا کہ محمد ﷺ مارے گئے۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر (بجز خواص اصحاب کے) بھاگ نکلا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم کیا سمجھتے ہو۔ کہ احکام شریعت کی تعمیل صرف اس وقت تک کی جانی ہے جب تک نبی اپنی امت میں بنفس نفیس موجود رہے؟ یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ ذرا خیال کرو کہ کس قدر نبی اور رسول ہو چکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امت میں موجود ہیں ان کے متبعین نے اپنا دین محض اسی وجہ سے ترک کر دیا ہے؟ اور جب کسی نے بھی ایسا نہیں کیا تو کیا تم ایسا کرو گے؟ پہلے حکمت سے سمجھایا پھر تنبیہ کے لیے زجر آمیز کلمات فرمائے۔ خیال کرو اس میں وفات مسیح کی کونسی دلیل ہے؟
واضح ہو کہ خَلَتْ کا مصدر ”خَلْوًا“ ہے اور چند معنی میں مستعمل ہے۔ جدا ہونا یا تنہا ہونا چنانچہ اس آیت میں ہے۔ ۱...... وَاِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ (البقرہ ۷۶) جب ایک دوسرے کے پاس تنہا ہوتے ہیں، یا فوت ہونا چنانچہ اس آیت میں
ہے ۔۲...... وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِير (فاطر۲۴) کوئی امت نہیں مگر اس میں ڈرانے والا ہوا ہے۔ ۳...... وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ (آل عمران ۱۳۷) تم سے پہلے کئی دستور ہوتے رہے ہیں۔ چلے آنا۔ چنانچہ اس آیت میں ہے۔ ۴...... سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ (الفتح ۲۳) یہ سنت الٰہی ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے۔ ۵...... اذا خلوا الی شیاطینہم (البقرہ ۱۴) ۶...... واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ (آل عمران ۱۱۹) ۷...... قد خلت القرون من قبل (الاحقاف ۱۷) ۸...... تلک امۃ قد خلت (البقرہ ۱۴۱) ۹...... فی امم قد خلت (الاعراف ۳۸) ۱۰...... قد خلت من قبلہا امم (الرعد ۳۰) پس قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا صحیح ترجمہ یہ ہے۔ ”ہوتے رہے ہیں ان سے پہلے رسول۔“
یہ یاد رکھو کہ خَلَا اور خَلَتْ لغت میں زمانہ کی صفت کے لیے آتا ہے دیکھو قرونِ خالیہ مثلاً عرب بولتے ہیں۔ خَلَتْ یا خَلُوْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَان (رمضان کی فلاں تاریخ گزر گئی) اور اہل زمانہ کے لیے مجازاً اور اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ خَلَتْ کا سیدھا اثر رسالت پر ہے نہ رسولوں کے وجود پر لہٰذا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بھی بہت رسول رسالت کر چکے ہیں۔ تبلیغ احکام رسالت کر چکنا متضمن اس امر کا نہیں کہ سب کے سب مر بھی چکے ہیں۔ گو ان میں سے اکثر مر بھی چکے ہوں۔ مثلاً (بلاشبیہ) کوئی پرویز مشرف کو مخاطب کر کے کہے کہ آپ سے پہلے بھی جسٹس رفیق تارڑ حکومت کر چکے ہیں تو کیا اس سے لازم آتا ہے کہ جسٹس رفیق تارڑ جو اب تک زندہ صحیح سالم حالت میں موجود ہیں۔ یہ سب مر بھی گئے۔
ناظرین بلاغت قرآنی سمجھنے کے لیے یہ غور کرنا چاہیے کہ خَلَتْ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے مقتضائے مقام اور بظاہر تناسب کلام تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا قَدْ مَاتُوْا اَوْ قُتِلُوْا مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِيْنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ (محمد ﷺ) سے پہلے جتنے رسول تھے یا وہ مر گئے یا قتل ہو گئے۔ پھر اگر آپ ﷺ بھی قتل ہو جائیں یا مر جائیں) مگر ایسا نہیں فرمایا وَلِلّٰهِ الحجۃ البالغۃ وجہ یہ ہے کہ مغرورین پر حجت بھی قائم ہو جائے اور آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں اور نبیوں کے زمانِ رسالت کے منقضے ہونے کی خبر بھی دی جائے اور حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی حیات پر دلیل بھی قائم رہی۔ اَيُّهَا النَّاس تَفَكَّرُوْا.
اس تمام بیان سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے لشکر مسلمین پر جو دلیل قائم کی ہے۔ وہ صحیح و درست ہے مگر جو مطلب مرزا قادیانی ان الفاظ میں
ڈھونڈھتے ہیں۔ اسے پاش پاش کرنے کے لیے عرب کا لغت اور قرآن کریم کا اسلوب شمشیر بکف کھڑے ہیں۔ تعالیٰ اللہ عن ذلک۔ جواب......۲ پوری دنیا کے قادیانی مل کر اپنے مسلمہ تیرہ صدیوں کے مجددین کا ایک حوالہ دکھا سکتے ہیں کہ انھوں نے اس آیت سے یہی استدلال کیا ہو جو مرزا کا ہے قیامت کی صبح تک نہیں؟
کیا خلت کے معنی موت ہیں؟ اور سنو! اسی سورت میں ایک مقام پر ارشاد ہے کذالک ارسلنک فی امۃ قد خلت من قبلھا امم. (الرعد ۳۰) اے ”رسول ﷺ اسی طرح بھیجا ہم نے تم کو ایک امت میں۔ ہو چکی ہیں اس سے پیشتر امتیں“ کیا اس جگہ خلت کے معنی یہ ہیں کہ پہلی امتیں سب کی سب صفحہ زمین سے مٹ چکی تھیں؟ ہرگز نہیں۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ موجود تھے۔ خود قرآن میں یا اہل الکتاب اہل انجیل اہل تورات کہہ کر ان کو یاد کیا گیا ہے الغرض خلت کے معنی موت لے کر وفات مسیح کو ثابت کرنا مقصود خداوندی و منشا محمدی ﷺ کے خلاف ہے ایسا ہی الرسول سے تمام رسول مراد لینا بھی تحکم ہے۔
ہاں۔ ہاں۔ اگر آنحضرت ﷺ سے پہلے سب کے سب فوت ہو چکے تھے تو مرزا قادیانی نے نورالحق حصہ اوّل ص ۵۰ خزائن ج ۳ ص ۶۹ پر جناب موسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا ضروری و لازمی کیسے لکھا۔
”عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے ولم یمت ولیس من المیتین وہ مردوں میں سے نہیں۔ مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا ثابت کر دیا ہم قرآن میں بغیر وفات عیسیٰ ؑ کے کچھ ذکر نہیں پاتے ۔“
قادیانیو! جہاں آنحضرت ﷺ کے پہلے انبیاء سے موسیٰ علیہ السلام کو علیحدہ کر دیا گیا ہے وہاں مہربانی کر کے مسیح کی سند بھی بچی ہوئی سمجھ لیجئے۔
اعتراض اس جگہ موسیٰ علیہ السلام کی روحانی زندگی مراد ہے۔
الجواب یہ کہنا کہ یہ روحانی زندگی ہے بالکل غلط ہے اور مرزا قادیانی کی تقریر کے بالکل خلاف ہے روحانی زندگی تو بعد وفات سب انبیاء کو حاصل ہے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کیا خصوصیت حاصل ہے۔ نیز اس کے بعد مرزا قادیانی نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ کہا تو یہ تفریق بتلا رہی ہے کہ مرزا قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جسمانی زندگی سے زندہ سمجھتے تھے۔
آٹھویں دلیل وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ (الانبیاء ۳۴) ”اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا، پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے نہیں بچا نہ آئندہ بچے گا اور لغت کی رو سے خلود مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے کیونکہ تغیر موت اور زوال کی تمہید ہے۔ پس نفی خلود سے ثابت ہوا کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر ایک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے باعث فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۷ خزائن ج ۳ ص ۴۲۷۔ ۴۲۸)
جواب مرزا قادیانی نے آٹھویں آیت یہ پیش کی ہے وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ اور بہت صحیح لکھا ہے کہ آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں۔ نہ کوئی موت سے بچا ہے اور نہ آئندہ بچے گا۔ مگر ناظرین غور کریں کہ اس کو وفات مسیح سے کیا علاقہ ہے؟ اب رہی اس آیت سے مرزا قادیانی کی یہ وجہ استدلال کہ خلود کے مفہوم میں داخل ہے۔ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنا اور نفی خلود سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی حرکت موت کی طرف ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے فوت ہو گیا۔“ یہ بالکل مرزا قادیانی کے مذہب کے خلاف ہے۔ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کا نام وہ شخص لے سکتا ہے۔ جس کا یہ مذہب ہو کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر تو گئے تھے۔ مگر شیخ فانی ہو کر اور امتداد زمانہ سے ضعف ہرم وغیرہ میں آ کر پھر فوت ہو گئے۔ جب آپ کا مذہب ہی یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے تو یہ آپ کے سینہ زور شاعرانہ الفاظ بھی آپ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ بسم اللہ آپ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر جانا تسلیم فرمائیے اور پھر
یہ وجہ استدلال پیش کیجئے۔ وَاِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ اب میں مرزا قادیانی سے یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی حد بطور کلیہ قاعدہ کے آپ کو معلوم ہے؟ کہ جب کوئی بنی آدم اس حد کو پہنچ جائے تو وہ شیخ فانی بھی ضرور ہی ہو جائے۔ شیخ فانی کے لیے حد اگر معلوم ہو تو براہ مہربانی بیان فرمائیں تاکہ درایۃً و روایۃً اس کی جانچ پڑتال کر لی جائے۔ ناظرین خوب یاد رکھیں کہ اس کا جواب مرزا قادیانی کچھ نہیں دے سکتے اور اسی لیے نہ وہ اس آیت سے استدلال ہی کر سکتے ہیں اور نہ ان کی وجہ استدلال درست ہی ہو سکتی ہے۔
جواب......۲ قارئین زمین و آسمان کے رہنے والوں پر اثرات جدا جدا مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ دونوں کے ماحول کے اثرات جدا جدا ہیں۔ زمین پر رہنے والوں کی نسبت آسمانوں پر رہنے والوں (ملائکہ) کی زندگی لمبی ہے۔ پس آسمان پر ہونے کے باعث مسیح علیہ السلام زمینی اثرات سے محفوظ ہونے کے باعث لمبی زندگی پائیں تو اس میں کوئی امر مانع نہیں۔
جواب......۳ مسیح کے خلود کے تو مسلمان بھی قائل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرح مسیح علیہ السلام کے خلود کے مسلمان قائل ہوتے تب تو یہ آیت مانع ہوتی۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ سے پہلے یا بعد کے کسی بھی مخلوق کے خلود کے مسلمان قائل نہیں۔ اس آیت میں خلود کی نفی ہے وجود کی نفی نہیں۔
نویں آیت تِلْکَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o (البقرۃ ۱۴۱) ”وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے واسطے ہے جو انھوں نے کہا اور تمھارے واسطے ہے جو تم نے کہا اور تم سے کچھ پوچھ نہیں ان کے کاموں کی۔“
قادیانی استدلال ”یعنی اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا، ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے اور ان کے کاموں میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۷۰ خزائن ج ۳ ص ۲۴۸)
جواب نویں آیت وفات مسیح پر مرزا قادیانی نے یہ پیش کی ہے تِلْکَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ اس آیت کا صرف ترجمہ ہی کر گئے ہیں اور وجہ استدلال وغیرہ کچھ تحریر نہیں کی۔ ہاں ترجمہ میں یہ الفاظ ضرور لکھ دیے ہیں۔ ”یعنی اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں۔ یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا۔“
ناظرین! آپ بخوبی اور بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے یہ الفاظ
"اس وقت سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے ہیں۔" کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ غالباً تِلْکَ کا ترجمہ ہے۔ یہ جو اسم اشارہ ہے۔ اب اگر تم اس کا مشارٌ الیہ معلوم کرنا چاہتے ہو تو قرآن شریف کھول کر دیکھ لیجئے کہ کونسے کونسے نام اس سے پہلے آیت میں آ چکے ہیں (اس سے پہلی آیت کی تخصیص ہم نے اس لیے کر دی ہے کہ تِلْکَ اشارہ قریب کے لیے ہے) ناظرین دیکھیں کہ اس سے پہلی آیت یہ ہے اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ۔ (البقرہ ۱۴۰-۱۴۱) تم کیا کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصاریٰ تھے کہہ دیجئے تم زیادہ جانتے ہو یا خدا۔ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو شہادت کو چھپاتا ہے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں۔ یہ ایک امت تھی جو گزر چکی۔" خَلَتْ کے لفظ پر بحث ساتویں آیت میں ہو چکی ہے۔ اعجازِ قرآن ہے کہ آیت میں عیسیٰ کا نام نہیں۔
جواب......۲ سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کے لیے چونکہ تخصیص منقولی ثابت ہو چکی ہے اس لیے اب عموم کی آیت سے استدلال قادیانی دجل کا شاہکار ہے، وہ مسیح علیہ السلام کے نام کے ساتھ واضح صریح موت کا لفظ وہ بھی بصیغہ ماضی جب تک نہ دکھائیں ان کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
دسویں آیت وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا ہ وَّ بَرًّا بِوَالِدَتِیْ۔ (مریم ۳۱-۳۲) ”اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے۔“
قادیانی استدلال ”اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفاتِ شرعیہ کا آسمان پر بجا لانا محال ہے، اور جو شخص مسیح علیہ السلام کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدِہِ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا، اس کو اسی آیت موصوفہ بالا کے منشاء کے مطابق یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جو انجیل اور توریت کی رو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح علیہ السلام پر اب بھی واجب ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۴۳۶ خزائن ج ۳ ص ۳۳۱)
الجواب کسی نے سچ کہا ہے کہ خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار۔ کسی بھوکے سے پوچھا گیا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ وہ جھٹ بولا چار روٹیاں۔ ٹھیک یہی مثال مرزائیوں کی ہے۔ کہاں صاف و صریح آیاتِ قرآنیہ جن میں بالفاظِ صریح حیات مسیح کا مذکور ہے اور
کہاں مرزائیوں کی یہ یہودیانہ کھینچ تان۔
اے جناب! اگر یہ ضروری ہے کہ اس آیت کی رو سے مسیح تمام زندگی بھر زکوٰۃ وغیرہ دیتے رہیں اور ضرور ہی اس کام کے لیے ان کی جیب روپوں سے بھری رہے تو جب یہ الفاظ مسیح نے کہے تھے یعنی پیدائش کے پہلے دن (ص ۲۸ پاکٹ بک مرزائی) اس وقت بھی تو وہ زندہ تھے۔ فرمائیے ان کی جیب میں کتنے سو پونڈ موجود تھے اور کون کون شخص زکوٰۃ ان سے وصول کیا کرتے تھے نیز یہ بھی فرمائیے کہ وہ ان دنوں کتنی نمازیں روزانہ ادا کیا کرتے تھے اور گواہ کون ہے فما جوابکم فہو جوابنا۔
ناظرین شروع میں کسی کام کا حکم ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر وقت، دن رات سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اس پر عمل کرتے رہیں بلکہ ہر نکتہ مکانے دارد کے تحت ہر کام کا وقت اور اس کی حدود قائم ہیں۔ نماز بعد بلوغت فرض ہوتی ہے اور زکوٰۃ بعد مال۔ جب تک مسیح بچے تھے، نماز فرض نہ تھی۔ بالغ ہوئے حکم بجا لائے جب مال ہوتا زکوٰۃ دیتے۔ اب آسمان پر مال دنیاوی ہے ہی نہیں۔ زکوٰۃ کیونکر دیں۔ پھر اور سنو! حدیث میں آیا ہے کہ نبیوں کا دین واحد ہے۔ بدیں لحاظ موسیٰ علیہ السلام پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ بتلائیے آسمانوں پر جب وہ زندہ ہیں تو زکوٰۃ کسے دیتے ہیں اور روپیہ ان کے پاس کس قدر ہے؟
جواب ...... ۲ مرزا قادیانی کا یہ بیان سقم اور غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس آیت سے وفات مسیح پر مرزا قادیانی کی وجہ استدلال ازالہ میں یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تاحیات خود صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا ادا کرنا فرائض میں شمار کیا ہے۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ان کا زکوٰۃ دینا ثابت کرو۔ ورنہ وہ مردہ ہیں۔ اس تقریر میں متانت مسیحیت اور وقار مہدویت کو بالائے طاق رکھ کر مرزا قادیانی نے شوخانہ استہزاء بھی کیا ہے اور دریافت کیا ہے کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زکوٰۃ کہاں سے دیتے ہوں گے اور کون لیتا ہوگا؟
واضح ہو کہ کل نبیوں پر جیسا کہ زکوٰۃ کا لینا حرام ہے۔ ویسا ہی دینا بھی حرام ہے۔ فقال لهم عمرُ انشدكم بالله الم تعلموا ان رسول الله قال ان کل مال النبی صدقة الا ما اطعمه اهله او کساهم (کنزالعمال ج ۱۲ ص ۴۵۱ حدیث نمبر ۳۵۵۴۲) ’’یعنی عمرؓ نے کہا تمھیں اللہ کی قسم کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبی کا مال سب صدقہ ہوتا ہے مگر جس قدر اپنے اہل کو کھلائے پہنائے۔‘‘ کیونکہ ان کا کل مال خدا کی راہ میں وقف ہوتا ہے۔ اب رہا یہ امر کہ اَوْصٰنِیْ کیوں کہا یہ بطور تعلیم ارکان شریعت کے ہے کیونکہ جب فرمایا اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا خدا نے مجھے کتاب دی اور
نبی بنایا تو ساتھ ہی اپنی شریعت کے ارکان بھی ظاہر کر دیے۔ ۲....... زکوۃ سے مراد اس جگہ زکوۃ مال نہ ہو بلکہ زکوۃ نفس ہو۔ قرینہ اس پر روح القدس کا حضرت مریم کو کہنا ہے لِاَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ظاہر ہے کہ اس جگہ زَكِيًّا کے معنی زکوۃ مال نکالنے والا نہیں بلکہ صاف زکوۃ و طہارت ہیں۔ بیضاوی میں ہے وَأَوْصَانِي وَامَرَنِى بِالصَّلٰوةِ وَالزَّکٰوةِ زَکٰوةِ الْمَالِ اِنْ مَلَكْتُهُ اَوْ تَطْهِيرُ النَّفْسِ عَنِ الرَّذَائِلِ. زکوۃ سے زکوۃ مال مراد ہے کہ جب صاحب نصاب ہوں ورنہ نفس کو رذائل سے پاک صاف رکھنا بھی زکوۃ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ ؑ کے حق میں فرمایا ہے ”وَاتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا وَحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوةً.“ (مریم ۱۲-۱۳) ”ہم نے اس کو لڑکپن ہی میں حکم، نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی۔“ یہاں لفظ زکوۃ خصوصیت سے بمعنی پاکیزگی ہے۔
جواب....... ۳ زکوۃ تو اہل نصاب پر فرض ہے۔ اگر مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کا اس دنیا پر زکوۃ دینا ثابت کر دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زکوۃ دینا بھی ثابت کر دوں گا۔
جواب....... ۴ مرزا قادیانی کی اس بیان میں دوسری غلطی یہ ہے کہ ان کو انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کی وصیت کی گئی تھی۔ ”وہ عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں۔“ اس غلطی کا منشاء یہ ہے کہ ان کو معنی نبوت معلوم نہیں۔ امام اعظمؒ جن کی قرآن دانی اور اسرار فہمی کی توصیف مرزا قادیانی نے ازالہ میں کی ہے کا مذہب یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہر اور باطن پر یکساں ہوتا ہے مگر آپ تو نبوت کو بھی ظاہر اور باطن کے لیے نہیں سمجھتے۔ ہمارے سید و مولیٰ محمد رسول اللہ ﷺ جس طرح پر تمام کافہ ناس کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ اسی طرح جن و ملک کی طرف بھی۔ کوئی ذوی العقول متنفّس ایسا نہیں۔ خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی۔ جس پر آپ ﷺ کے احکام اور شرائع و مناہج کی پیروی و اطاعت فرض نہ ہو اور آپ ﷺ کی رسالت کے بعد سابقہ شرائع و احکام پر چلنا حرام نہ ہو گیا ہو۔ پس جب حالت یہ ہے تو آپ کا یہ خیال کرنا کہ اب وہ انجیلی طریق پر نماز پڑھتے ہیں اور نزول کے بعد برخلاف وصیت مسلمانوں کی طرح پڑھیں گے۔ معنی رسالت کے نہ سمجھنے ہی پر محمول ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی....... دیکھے اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّنَ لَمَا اتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (الِ عمران ۸۰) ”جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جو کچھ میں
نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔ پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔“
اب سمجھ لو کہ مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نماز پڑھنا برخلاف وصیت نہیں بلکہ موافق میثاق ازلی ہے۔ اس معنی کی طرف صحیح مسلم کی حدیث عن ابو ہریرہ میں اشارہ و دلالت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے موسیٰ، عیسیٰ، ابراہیم علیہ السلام کا امام بن کر نماز پڑھائی۔
جواب.....۵ تیسری غلطی اس بیان میں مرزا قادیانی کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے ہوں گے اور حضرت یحییٰ ؑ پاس پڑے رہتے ہوں گے۔ مردہ جو ہوئے۔“ یہ غلطی بھی درجہ انبیاء سے عدم معرفت کی وجہ سے ناشئ ہوئی ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ گو مر جانے کے بعد تکلیف احکام سے انسان سبکدوش ہو جاتا ہے۔ مگر انبیاء اللہ جن کے جسم میں عبادت الٰہی بمنزلہ روح کے ہے۔ جن کے دل میں محبت ربانی بجائے حرارت غریزی کے ہے۔ وہ مر جانے کے بعد بھی طاعات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۵ باب الاسراء کی حدیث عن ابن عباسؓ میں ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی ارزق میں پہنچے۔ تو فرمایا میں نے اس وادی میں موسیٰ علیہ السلام کو کانوں میں انگلیاں دیے۔ لبیک لبیک پکارتے۔ گزرتے دیکھا ہے جب ہرشہ میں پہنچے تو فرمایا میں نے یونس ؑ کو جبہ صوف (لباس احرام) پہنے۔ اونٹنی پر سوار اس وادی سے گزرتے دیکھا ہے۔ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۶ باب الاسراء حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث میں حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام پڑے ہی نہیں رہتے بلکہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح نماز پڑھا کرتے ہیں۔ مگر سیدنا یحییٰ علیہ السلام پر موت کا عمل واقع ہو چکا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت کا عمل نزول کے بعد ہوگا۔
ناظرین بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ آیت بھی مرزا قادیانی کے دعوٰی کے لیے کچھ مفید نہیں اور آیت کو وفات مسیح سے ذرا تعلق نہیں۔ نیز دعوے اثبات وفات مسیح کے علاوہ دیگر زوائد جو مرزا قادیانی نے لکھے تھے ان کا ایک حرف بھی صحیح نہیں۔
گیارھویں آیت وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا ہ (مریم ۳۳) ”اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود سے متعلق تھے صرف تین بیان کیے گئے ہیں حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ہونا چاہیے تھا، کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہیے تھا؟ سو اس جگہ پر خدا تعالیٰ کا اس رفع اور نزول کو ترک کرنا جو مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اور خلاف واقعہ ہے بلکہ وہ رفع یوم اموت میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۸ خزائن ج ۳ ص ۴۲۸)
تنقیح اشکال مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کیے گئے ہیں حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی کا نہیں ہونا چاہیے تھا۔“
الجواب مرزا قادیانی کے ان فقرات کو بار بار حیرت اور تعجب سے دیکھئے کہ وہ اسرار دانی اور قرآن فہمی کہاں ہے؟ کیا کسی شے کا کسی جگہ مذکور نہ ہونا اس کے عدم وجود کی بھی دلیل ہو سکتی ہے؟ صحیحین بلکہ صحاح ستہ میں بیسیوں ایسی احادیث ملیں گی کہ سائل نے آ کر رسول کریم ﷺ سے اسلام کا سوال کیا اور آنحضرت ﷺ نے بیان ارکان میں کبھی کلمہ شہادت، کبھی زکوٰۃ، کبھی حج کو بیان نہیں فرمایا تو کیا مرزا قادیانی مجرد ان احادیث پر اکتفا کر کے ان ارکان اسلام کے رکن ہونے سے انکار کر جائیں گے؟ اگر نہیں تو یہاں بھی وہی عمل کریں۔
جواب ...... ۲ مرزا قادیانی کو یاد کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ کلام اس وقت کا تھا جب مریم صدیقہ ان کو جن کر گود میں لے کر قوم میں آئی تو کیا ضرور ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی وقت اپنی زندگی کے مفصلانہ کل واقعات عظیمہ سے واقف بھی کیے گئے ہوں، بلکہ قرآن کریم اس امر کا شاہد صادق ہے کہ رَفع کی خبر حضرت کو حالت نبوت میں دی گئی تھی۔ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ ”مرزا قادیانی کو بھی تسلیم ہے کہ مسیح علیہ السلام کو جب یہود نے گھیرا تو اس وقت یہ رافعک اتری۔
(سراج منیر ص ۴۱ خزائن ج ۱۲ ص ۴۳)
والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت. عیسیٰ علیہ السلام والدہ مریم کی گود میں تھے اس وقت کی کلام ہے۔ پس رفع کا وعدہ بعد میں ہوا۔ اس لیے اس وقت اس کا
ذکر کیسے فرماتے؟
جواب......٣ حقیقت یہ ہے کہ سَلَامٌ عَلَیَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ اَمُوْتُ اسی قبیل کا جملہ ہے۔ جیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اوله و اخره یا بِسْمِ اللهِ اوله و اخره جو ابتداء سے لے کر آخر تک کی تمام حالتوں پر شامل ہے اب اگر ان فقرات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تو سَلَامٌ عَلَیَّ پر کیوں ہے؟ ہمارے نزدیک رفع اور نزول حضرت مسیح علیہ السلام دونوں مورد اور محل سلام الہی کے ہیں اور اسی لیے دو سلامتیوں کے اندر اور وسط میں واقع ہوئے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی جو ان الفاظ کا درمیانی واقعات پر اثر انداز نہ ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کو اس امر کا ضرور جواب دینا چاہیے کہ جب بقول ان کے مسیح علیہ السلام پر سولی لٹکائے گئے۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں اور ان اذیتوں اور تکلیفوں کے بعد دروازہ مرگ پر پہنچ کر پھر وہ بچ رہے تو کیا ان کی یہ جان بری مورد اور محل سلام الہی کا نہ تھی؟ کیا مسیح علیہ السلام کا صحیح و سلامت رہنا ربانی سلامتی کے بغیر تھا؟ اگر ایسے دشمنوں کے نرغہ میں سے ایسے برصلیب کشیدہ کے سلامت رہنے کو تم سلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو اور کسے کرو گے؟ لیکن اگر تسلیم کرتے ہو تو بتاؤ کہ آیت میں ایسی نہایت ہی حیرت بخش جان بری اور ایسی آفت کے بعد سلامتی کا ذکر کیوں نہیں؟
جواب......۴ واقعہ اگر تمام اہم واقعات کا تذکرہ اسی آیت میں منحصر قرار دے کر قادیانی استدلال (بر وفاتِ مسیح) ہو رہا ہے تو پھر ان واقعات بے مثل کا ذکر ہونا یعنی واقعہ رفع و نزول سے بھی اہم تھا کیونکہ رفع الی السماء کی مثال تو بعض سید الانبیاء ﷺ کے معراج جسمانی اور نیز آمد و رفت ملائکہ معہود تھی مگر تمہاری مزعومہ صلیب و ہجرت الی دیار الغریبہ بلا اظہار عظمت و شان نبی کی مثال تاریخ رسالت میں موجود نہیں لہٰذا ان واقعات کا ذکر ہونا لازم تھا تو جب تمہارے واقعات غیر معہودہ کا تذکرہ تمہارے ہاں باعث اشکال نہیں تو ہمارے مسلمہ اور معہودہ واقعات (رفع و نزول) کا عدم ذکر کیسے محل استعجاب ہے؟ حالانکہ ہمارے اعتقاد کی جملہ تفصیلات بے شمار نصوص و حدیث اور اجماع امت کے تحت مذکور بھی ہیں بلکہ خود نص میں اس آیت سے ذرا قبل بھی معہود ہے کما قال حاکیا عن المسیح. وجعلنی مبارکاً اینما کنت. گویا جس امر کو تم طلب کر رہے ہو کہ یہ بھی ہونا چاہیے تھا وہ تو ان امور ثلاثہ سے پہلے بیان کر دیا گیا ہے۔ فللّٰہ الحمد.
بارھویں آیت وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ط (الحج ۵) ”اور کوئی تم میں سے قبضہ کر لیا جاتا ہے اور کوئی تم میں سے پھر
چلایا جاتا ہے نکمی عمر تک۔ تاکہ سمجھنے کے پیچھے کچھ نہ سمجھنے لگے۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کیے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو جاتے ہیں۔ یہ آیت بھی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی موت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پائے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۸، ۶۰۹ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹)
الجواب ناظرین کو واضح ہو کہ یہ آیت مرزا قادیانی کی تب دلیل ہے۔ جب وہ مسیح علیہ السلام کا زیادہ عمر پانا تسلیم کر لیں۔ مگر اس کے ساتھ رُفِعَ اِلَی السَّمَاء بھی ملا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ بھی مرزا قادیانی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ مرزا قادیانی کو لازم ہے کہ وہ ایک حد قرار دیں کہ جب عمر کے فلانی سال تک کوئی انسان پہنچے گا تو وہ ضرور ہی ارذل عمر میں داخل ہو جائے گا۔ قرآن کریم تو اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ:
- الف....... حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک دعوت کی۔ نبوت حاصل
ہونے سے پہلے کی عمر اور دعوت کے بعد طوفان آنے اور بعد از طوفان آپ کے زندہ رہنے کی عمر ان ساڑھے نو صدیوں کے علاوہ ہے۔ پھر رب کریم کا یہ کلام پاک ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ سینکڑوں سالوں کے وہ تغیرات و انقلابات (جن سے قومیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ خرابہ آباد اور آباد خرابہ بن جاتے ہیں۔ سلطنتیں بدل جاتی ہیں۔ بولیاں تبدیل ہو جاتی ہیں) بعض جسموں پر اسی طبقہ ارض کی موجودگی کی حالت میں اتنا اثر بھی نہیں ڈال سکتے کہ وہ اتنا بھی معلوم کر لیں کہ اس طبقہ ارض پر اور اس حصہ ملک میں کبھی کوئی تغیر آیا بھی تھا؟ اور کسی قسم کا انقلاب ہوا بھی تھا یا نہیں؟ وہ سینکڑوں برسوں کا ممتد زمانہ اور دراز عرصہ ان کی نگاہ میں ایسا قلیل نظر آیا کرتا ہے کہ یہ خاصان خدا اسے يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک یہ بیانات ہدایت اور نور نہیں ہیں؟ کیا انسان ضعیف البنیان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تحکم کی راہ سے یہ قرار دے کہ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے۔ رب کریم نے نہ کبھی اس سے تجاوز فرمایا ہے اور نہ فرمائے گا۔ کیا:
- ب....... ان کو لقمان ذوالنسور کا حال معلوم نہیں۔ جس کی عمر دو ہزار سال کی تھی۔ کیا:
- ج....... ان کو عمرو معدیکرب کی تاریخ پر نظر ہے۔ جو دو سو پچاس سال کی عمر میں ایرانیوں
کے بیسیوں جنگ آزما۔ عبیدہ جو فیلوں کو تلوار سے کاٹ کاٹ کر پھر شہید ہوا تھا؟ کیا مرزا قادیانی کا حق ہے کہ وہ ارذل عمر کی بھی حد سنین کا تعین کر کے اپنی طرف سے خود ہی مقرر کر دیں۔ اِتَّقُوا اللّٰهَ اَیُّھَا النَّاس.
۲...... زمین پر مرور زمانہ کے اثرات جدا ہوتے۔ آسمانوں پر ان کو قیاس کرنا حماقت ہے۔ انسانوں سے ملائکہ اور ابلیس کی زندگی کا موازنہ کرنا حماقت ہے تو زمین والوں اور آسمان والوں کی زندگی کا موازنہ کرنا بھی درست نہیں۔ اس لیے بھی استدلال باطل ہے۔
۳...... دوسرے نطفہ انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ عمر کی درازی سے ضعیف ہو جاتا ہے یعنی مادی ہونے کے باعث زمین کی تاثیرات سے متاثر ہو کر ضعیف ہو جاتا ہے مگر آسمان کی تاثیرات ایسی ہیں کہ اجرام فلکی کا بدل ما یتحلل ساتھ ہی ساتھ ہوتا جاتا ہے اور وہ ضعیف نہیں ہوتے پس مسیح علیہ السلام بھی تاثیرات فلکی سے ارذل عمر کے ضعف سے بچے ہوئے ہیں جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ فرشتے، ستارے، آفتاب، مہتاب وغیرہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان پر درازی عمر سے نکمے نہیں ہو سکتے اور نہ زمین کی آب و ہوا کی طرح آسمان کی آب و ہوا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو ارذل عمر ملے اور چونکہ مسیح علیہ السلام کی پیدائش نفخ روح سے تھی اور روح درازی عمر سے ضعیف اور ارذل نہیں ہوتی اس لیے مسیح علیہ السلام کے واسطے ارذل عمر کا ضعف لازم بھی نہیں کیونکہ وہ روح مجسم تھے۔ صرف وہ جسم ضعیف و ارذل ہوتا ہے جو نطفہ امشاج وغیرہ کی ترکیب سے بنایا جاتا ہے۔
۴...... حدیث شریف میں ہے کہ رَأیْت عیسیٰ علیه السلام بن مریم علیه السلام شابًّا الخ
(مسند احمد ج ۱ ص ۲۷۴ کنز العمال ج ۵ ص ۳۲۲ و ج ۶ ص ۳۰۷ والخصائص ج ۲ ص ۸)
یعنی حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن مریم ؑ کو جوان دیکھا۔ حضور ﷺ فرمائیں کہ مسیح ؑ جوان ہیں مگر مرزا کہتا ہے کہ بوڑھے ہو گئے۔ قادیانی بتائیں۔ ان دو اقوال سے کن کا قول سچا؟
۵...... جب خدا تعالیٰ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ نہ صلیب دیے گئے اور نہ قتل کیے گئے بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا تو کیا وہ قادر مطلق ان کو انسانی ارذل عمر اور ضعف پیری سے ایسا ہی مستغنی نہیں کر سکتا جیسا کہ ان کو ان کی ولادت میں قانون فطرت عامہ سے مستثنیٰ کر دیا تھا کہ بغیر نطفہ مرد کے پیدا کیا۔ دیکھو اصحاب کہف کا قصہ کہ ۳۰۹ برس سوتے رہے نہ بھوک لگی نہ پیاس جب خود بیدار
ہوئے تب بھوک محسوس ہوئی اور ان کے جسم میں کسی طرح کا تغیر بھی پیدا نہ ہوا تھا اور حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ پڑھو کہ سو برس کے بعد زندہ کیے گئے بیضاوی شریف میں لکھا ہے کہ جب اپنے گھر لوٹ کر آئے تو آپ جوان تھے اور ان کی اولاد بوڑھے تھے۔ ارجع الی منزلہ کان شابا واولادہ شیوخا (بیضاوی ج ۱ طبع مجتبائی ص ۱۶۸) اور مستدرک ج ۲ ص ۲۸۲ میں حدیث علیؓ میں ہے کہ سب سے پہلے ان کی آنکھیں پیدا کی گئیں وہ اپنی ہڈیوں کو گوشت پہناتے اور پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے تھے اور اسی قصہ میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّه (البقرة ۲۵۹) ”یعنی دیکھ اپنے کھانے اور پانی کو کہ وہ سو برس کی مدت تک سڑے نہیں۔ افسوس جب اسی جگہ یہ قدرت کے کرشمے دکھلائے گئے اور ہم کو قرآن میں سنائے گئے تو مومن قرآن کے دل میں تو یہ شبہ ہی نہیں آ سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتنی عمر پا کر بالکل نکمے ہو جائیں گے وہ آ کر کیا خدمت کریں گے الٹا ہم سے خدمت لیں گے۔ معاذ اللہ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی درازی عمر سے کیوں گھبراتے ہو عوج بن عنق کی عمر ۳ ہزار کے قریب تھی۔
(مطلع العلوم ص ۳۰۸)
- ۶....... ایک مناظرہ میں قادیانی کو ایک مسلمان مناظر نے جواب دیا کہ مسیح کے بوڑھے
ہونے کی بات وہ کرے جس نے مسیح علیہ السلام کو رشتہ دینا ہو۔ اس پر مرزائی بہت سٹ پٹائے تو مولوی صاحب نے فوراً کہا کہ رشتہ کے چکر میں نہ پڑنا۔ ورنہ یتزوج ویولد شادی کریں گے۔ اولاد ہوگی۔ اس میں بھی پھنس جاؤ گے۔ اس پر قادیانیوں کے اوسان خطاء ہو گئے!
تیرھویں آیت وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ إِلَى حِيْنٍ قال فیہا تحیون وفیہا تموتون. (البقرة ۳۶) ”اور تمھارے واسطے زمین میں ٹھکانہ ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک۔“
قادیانی استدلال ”یعنی تم اپنے خاکی جسم کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ لَکُمْ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جا سکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۰۹ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹)
الجواب خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو چکی ہے اور علم
اصول میں مقرر و مسلم ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں مثلاً عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ۔ (الدھر۲) ”یعنی انسانوں کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا“ اور اس کے برخلاف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہے کہ ان کی پیدائش بایں طور نہیں ہوئی پس ان کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیا گیا ہے اور دلیل عام کو ان کی نسبت چھوڑ دیا گیا ہے۔
جواب ۲...... فرشتوں کی جائے قرار اصلی اور طبعی طور سے آسمان ہیں مگر وہ عارضی طور پر کچھ مدت کے لیے زمین پر بھی رہتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام عارضی طور پر اب آسمانوں پر ہیں۔
جواب ناظرین دیکھیں۔ ترجمہ میں جسم خاکی اور ”مرجاؤ گے“ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ مرزا قادیانی لَکُمْ کو مفید تخصیص جانتے ہیں اور قرآن مجید کا سیاق کلام شاہد ہے کہ آیت کے مخاطب ابلیس و آدم و حوا ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَّلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ (البقرہ ۳۶) ”پس شیطان نے آدم و حوا دونوں کو پھسلا دیا اور بہشت سے جہاں وہ رہتے تھے۔ ان دونوں کو نکال دیا اور ہم نے کہا تم اترو۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں اور تمھارے لیے زمین میں ٹھکانا اور فائدہ ہے ایک وقت تک۔“ اَزَلَّهُمَا میں تثنیہ ہے اور ذکر شیطان کے بعد ضمائر جمع لَکُمْ کو جو ضمیر خطاب ہے۔ جب مفید تخصیص مرزا قادیانی تسلیم کر چکے تو پھر ان کا مخاطبین کے سوا اوروں سے مراد لینا ان کی تسلیم کے خلاف ہے۔
جواب...... ۳ بالفرض اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ مخاطبین زمین سے اٹھ کر آسمان پر نہ جاسکیں تو یہ کہاں سے مرزا قادیانی نے نکال لیا کہ جو لوگ خطاب کے وقت ہنوز کتم عدم میں مستور تھے۔ وہ بھی اسی حکم میں شامل و داخل ہیں۔ اس کی دلیل انھوں نے کچھ نہیں دی بلکہ لَکُمْ مفید تخصیص مان کر اپنے دعویٰ کو ضعف پہنچایا۔
جواب...... ۴ اگر بلا کسی دلیل کے مان لیا جائے کہ لَکُمْ میں ابلیس اور آدم کے سوا ان کے ذریات بھی شامل ہیں۔ تب بھی آیت بالا مفید معنی و مقصود مرزا قادیانی نہیں ہو سکتی کیونکہ جب ثابت ہو چکا کہ لَکُمْ میں ابلیس و آدم و حوا کی طرف خطاب ہے تو قرآن مجید کے بیسیوں مقامات سے یہ ثابت اور واضح ہے کہ شیاطین آسمان کی طرف
چڑھ جاتے ہیں اور ملائکہ سے قریب ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ شہاب ثاقب ان کے پیچھے لگ کر ان کو خاک کر دیتا ہے۔ بقول مرزا قادیانی آیت کا اثر مخاطبین پر یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ سب زمین سے اونچے اُٹھ نہ سکیں۔ فضا میں جا نہ سکیں۔ مگر شیاطین کا چڑھ جانا دیگر آیات سے معلوم ہو گیا اور آیت مستدلہ ان کے لیے مانع نہ ہوئی۔ اب مرزا قادیانی فرمائیں کہ یہ آیت انبیاء خدا کے لیے آسمان پر جانے سے کیوں مانع ہے؟
جواب...... ۵ مستقر کا ترجمہ ٹھیک ٹھیک ہیڈ کوارٹر ہے۔ جس کو صدر مقام بھی بولتے ہیں۔ عربی زبان کی تاریخوں میں اسی لیے تخت گاہ کو مستقر الخلافہ لکھا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کا اپنے ہیڈ کوارٹر میں موجود ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ دوسری جگہ جا نہیں سکتا۔ علیٰ ہذا اس کا ہیڈ کوارٹر سے علیحدہ ہونا بھی اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کو اپنے صدر مقام سے اب کوئی مناسبت نہیں رہی۔ سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ بھی بشر تھے۔ جو شبِ معراج کو بالائے سدرۃ المنتہیٰ تشریف لے گئے تھے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے لیے یہ آیت مانع نہ ہوئی تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے بھی نہیں ہو سکتی۔ معراج جسمانی کا ثبوت اس مضمون میں آگے آئے گا۔
جواب....... ٦ مرزا قادیانی نے اِلٰی حِیْنٍ کا ترجمہ یہاں تک کہ مر جاؤ گے۔‘‘ کیا ہے مگر وہ کسی لغت کی کتاب سے حِیْنٍ کے معنی موت ثابت نہ کر سکیں گے۔ حِیْنٍ کے معنی وقت کے ہیں اور اسی لیے اِلٰی حِیْنٍ کا ترجمہ ایک وقت تک ہے۔ ہر شخص کے لیے استقرار فِی الْاَرْضِ کا ایک معین عرصہ رب کریم نے مقرر کر رکھا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک وقت تک زمین پر رہے اور جب مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ کا وعدہ پورا ہونے کو آیا۔ تو وہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ ظاہر ہے کہ اِلٰی حِیْنٍ کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایک وقت زمین پر ہے تو دوسرے وقت زمین پر سے اٹھ کر چلا بھی جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی جسم کا بھی بوجہ جسم ہونے کے آسمان پر جانا محال نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ رب کریم اس جسم کو آسمان پر لے جانا چاہے یا نہ چاہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آسمان پر لے جانے کا اظہار اس نے خود فرمایا اور خود ہی اپنے منشا کو پورا فرمایا۔
بالفرض مرزا قادیانی نے زور لگا کر حِیْنٍ بمعنی موت ثابت بھی کر دیا تب اور بھی زیادہ ان کے معنی قابل اعتراض ہو جائیں گے۔ یعنی اس وقت ترجمہ آیت یہ ہوگا اور تمھارے لیے زمین میں استقرار اور فائدہ (اگر یہ جواب ہو کہ موت کے بعد جسم تو زمین میں ہی رہتے ہیں۔ مگر ان کو زمین سے کچھ فائدہ نہیں ملتا تو اس کے رد میں آیت ثم اقبرہ اور آیت أَلَمْ
یجعل الارض کفاتاً احیاء و امواتاً پر نظر کرو) موت تک ہے۔ جس سے یہ نکلا کہ موت کے بعد اموات کی لاشیں زمین سے اٹھائی جاتی ہیں۔ قبروں میں نہیں دبائی جاتیں بلکہ وہ فضا میں چلی جاتی ہیں۔ اس معنی کا غلط ہونا ظاہر ہے۔ اس وقت آپ کو حین کا ترجمہ مجبوراً وقت کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ شاہ رفیع الدینؒ و شاہ عبدالقادرؒ نے کیا ہے۔ غرض بہر صورت آپ کے استدلال کا بودا اور کمزور اور غلط ہونا ظاہر ہو گیا اور کھل گیا کہ گو آپ نے آیت کا ترجمہ بھی غلط کیا اور اپنی طرف سے الفاظ بھی زیادہ کیے مگر بایں ہمہ مساعی پھر بھی مرزا قادیانی حصول مرام میں ناکامیاب ہی رہے۔
جواب......۷ ہم اس پاگل مخبوط الحواس جس سے مخاطب ہیں اس سے پوچھئے کیا ایک مستقر میں رہتے ہوئے عارضی طور پر کوئی دوسری جگہ نہیں جا سکتا کیا ملائکہ کا مستقر آسمانی ہونا ان کے نزول الی الارض سے مانع ہے۔ کیا آج تمام انسانوں مع مرزائی ٹولے کا مستقر زمین ہونا ان کے خلائی پرواز کر کے اپنے جنم بھومی (انگلینڈ جرمنی) پہنچنا غیر معقول اور محال ہے۔ کیا امریکی اور روس چاند گاڑیوں کا زمینی مخلوق کو لے کر کرۂ ارض سے نکلنا محال تھا؟ کیا یہ واقع نہیں ہو چکا؟ اب تو مخلوق خدا مریخ، زحل اور اس سے بھی اوپر پرواز کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں بلکہ ارض قمر میں خلائی اسٹیشن اور بستیاں تیار کر کے مستقر انسانی ارض کو ترک کرنے کا اعلان کر کے مادیات کی قبر پر تعزیت کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان دو جزو سے مرکب ہے بدن اور دونوں کا مزاج اور تقاضے اور تاثیرات الگ الگ ہیں۔ بدن تو ثقل ارض میں جکڑا ہوا ہے۔ مگر روح ثقل جسمانی کی گرفت میں ہے تو ظاہر ہے کہ مزاحمت و تقابل میں ہر دو فریقین کا غلبہ ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا جیسے عموماً ثقل ارضی غالب رہتا ہے تو کبھی کشش سمائی کا غلبہ بھی ممکن و محتمل تسلیم کرنا پڑے گا یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں لہٰذا جب رحمت کائنات ﷺ کی کامل ترین روحانیت کے تحت اسراء کا واقعہ عین ممکن اور واقع ہو چکا ہے تو بسلسلہ مسیح علیہ السلام بضمن روحانیت وہ کشش سمائی کے دائرہ میں کیوں نہیں جا سکتے؟ بالخصوص جبکہ ان کی روحانیت ابتدا سے ہی غالب رکھی گئی ہے۔
جواب......۸ کلمہ طیبہ ”محمد رسول اللہ“ اس کا ترجمہ ہے۔ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو کیا حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں؟ پس جس طرح محمد رسول اللہ کہنے سے دیگر انبیاء کی رسالت کی نفی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ولکم فی الارض مستقر کہنے سے فی السماء مستقر کی نفی نہیں ہوتی۔
جواب ۹....... ولكم فی الارض کے مخاطب تمام بنی آدم ہیں۔ تب بھی مسیح علیہ السلام کا مستقر آسمان نہیں بلکہ عارضی قیام ہے۔
جواب ۱۰....... ما من عام الا وقد خص عنه البعض کے تحت مستقر فی الارض کی بجائے مستقر فی السماء للمسیح ہو گیا تو بھی سو فیصد صحیح ہوا۔
چودھویں آیت وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ (یٰس: ۶۸) "اور جس کو ہم بوڑھا کریں، اوندھا کریں اس کی پیدائش میں۔"
قادیانی استدلال تشریح۔ "یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں، حواس میں اس کے فرق آ جاتا ہے، عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔"
(ازالہ اوہام ص ۶۱۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹)
(اور یہ وہ کیفیت ہے جو دنیا میں بڑھاپے کی حالت میں عام مشاہدہ میں آتی ہے)
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ "اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قویٰ میں بکلی فرق آ گیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کو چاہتی ہے۔"
(ازالہ ص ۶۱۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹)
الجواب مرزا قادیانی کے اس وجہ استدلال کا جواب آٹھویں اور بارھویں آیت کے تحت ہو گیا ہے۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں بار بار یہی عرض ہے کہ مرزا قادیانی بطور کلیہ قاعدہ کے عمر کے وہ مقدار قرار دیں۔ جس کو ارذل عمر کہہ سکیں اور جس پر تنکیس فی الخلق صحیح ثابت ہو سکے۔ ہم توریت وغیرہ کتابوں میں لکھا دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام ۹۳۰ برس، حضرت شیث علیہ السلام کی ۹۱۲، حضرت نوح علیہ السلام ۱۰۰۰، حضرت ادریس علیہ السلام ۳۶۵، حضرت موسیٰ علیہ السلام ۱۲۰، حضرت ابراہیم علیہ السلام ۱۷۵ سال کی عمریں تھیں اور با ایں ہمہ ان کے انسانیت کے قویٰ میں کچھ فرق نہ آیا تھا۔ اصحاب کہف کا قصہ پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض انسانی جسموں کو صدیوں کے زمانہ کا اثر محض اتنا ہوتا ہے۔ جتنا ہم لوگوں پر ۶ گھنٹے یا ۱۲ گھنٹے یا ۲۴ گھنٹے یا ۴۸ گھنٹے گزر جانے سے، اگر ناظرین اور مرزا قادیانی کے نزدیک ایک ۳۳ سال کا جوان شخص ایسا پیر ہرم اور شیخ فانی ہو سکتا ہے کہ اس کی قوت جسمانی اور قویٰ بشریٰ بالکل ہی اسے جواب دے جائیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت بھی مرزا قادیانی کو ایسا خیال باندھ لینے کا حق ہے لیکن اگر یہ ایک قابل تمسخر بات سمجھی جائے کہ کوئی نوجوان شخص معمولی قاعدہ
انحطاط بدنی کے لحاظ سے ۴۸ گھنٹہ میں شیخ فانی ہو سکے تو یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیر ضعیف ہو جانا بھی غلط ہے۔
حوالہ حکیم نور الدین جو فصل الخطاب میں مان چکے ہیں کہ الہامی زبان میں ایک یوم ایک سال کو کہتے ہیں۔ وہ اس بیان سے زیادہ تر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں کہ وحی ربانی میں ۳۰۹ برس کو ایک یوم یا ایک یوم کا حصہ کہا گیا ہے۔ ان کو اوسط لگا لینا چاہیے کہ جب الہامی زبان میں ۳۰۹ برس برابر ہیں ایک دن کے۔ تو دو ہزار برس کتنے دن کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ سوال حل کرنے سے پہلے یہ بھی غور فرما لینا چاہیے کہ (اصحاب کہف) ۳۰۹ برس کا بعض یوم کے برابر ہونا تو اسی طبقہ ارض پر ثابت ہے۔ مملکت آسمانی کا حساب اس سے نرالا ہے۔ رب کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج ۴۷) جس کو تم ہزار سال شمار کرتے ہو۔ وہ پروردگار کے ہاں ایک یوم ہے۔ اس اعتبار سے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر گئے ہوئے چند دن ہوتے ہیں۔
واضح ہو اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ کو مرزا قادیانی نے ازالہ ص ۶۹۶ خزائن ج ۳ ص ۴۷۵ پر درج کیا ہے اور اس حساب سے روز ششم کو الف ششم کا قائم مقام بتا کر اپنی پیدائش اس میں ثابت کی ہے اس لیے اب مرزا قادیانی اس حساب سے انکار نہیں کر سکتے۔
جواب مندرجہ بالا امور کے علاوہ ایک ضابطہ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ ہر جہاں کی آب و ہوا اور تغیر وتبدل کے ضوابط الگ الگ ہیں تو اس ضابطہ کے تحت یہ سطح ارض ہے جہاں ہر چیز بزود یا بدیر (کلی مہلک کے طور پر) تغیر پذیر ہو رہی ہے مگر عالم بالا (آسمان) ایک غیر متغیر ماحول ہے وہاں کوئی چیز بھی تغیر پذیر نہیں ہوتی دیکھئے وہ ارواح وملائکہ کا جہاں اور ماحول ہے وہاں یہ نوع مخلوق لاکھوں سال سے غیر متغیر حالت میں موجود ہیں۔ آج تک کبھی نہیں سنا گیا کہ کوئی ایک فرشتہ عمر رسیدہ ہو کر فوت ہو گیا۔ یا وہ نہایت بوڑھا ہو گیا۔ یا کم از کم اس کی سروس پوری ہو کر وہ اپنی ڈیوٹی سے پنشن یافتہ ہو گیا ہو۔
جواب عالم بالا خدا تعالیٰ کی تجلی گاہ ہے تو جیسے اس کی ذات عالیہ ازل ابدی ہے وہ تغیر وتبدل سے بالکل منزہ ہے۔ ایسے ہی اس کا ماحول، آسمان بھی غیر متغیر ہے اگر چہ اس کے سوا سب مخلوق ہے اور ایک دن وہ لقمہ فنا بنیں گے مگر وہاں عالم دنیا اور ناسوت کی طرح، تدریج و تسلسل نہیں ہے تغیر و تنزل کا کوئی وجود نہیں لہٰذا جب حضرت مسیح علیہ السلام بقدرت الٰہی وہاں پہنچ گئے تو وہاں کا ٹائم ٹیبل ہے۔ وہاں کی آب و ہوا ہے جس کے تحت وہ لاکھ سال بھی بلا تغیر و تبدل رہ سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی چونکہ سفل الطبع تھے ان کی ذہنی
اور روحانی پرواز نکتہ انجماد سے بھی ڈاؤن تھی اس لیے یہ عام اور موٹی بات بھی ذہن میں نہ آسکی جس کی بنا پر وہ معراج جسمانی کے انکار پر اترے ہوئے ہیں اور رفع و نزول مسیح علیہ السلام بھی ان کے اس سفل ادراک سے ماورا ہے۔ وہ اس میدان کے فرد ہی نہیں یہ مسئلہ بمع دیگر ایسے مسائل کے تو عقول صافیہ کا مسئلہ ہے۔ مرزا کے سامنے ایسے حقائق تو ایسے ہیں جیسے کوئی بھینس کے سامنے بین بجا کر اس سے اپنی بہترین موسیقی پر داد تحسین وصول کرنا چاہے۔ یہ صاحب تو احمق علی الارض کا نمونہ ہے۔ لہٰذا وضع العلم عند غیر اهله كمقلد الخنازير اللؤلؤ والا مسئلہ ہے۔
پندرھویں آیت اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَّ شَيْبَةً (الروم ۵۴) ”اللہ ہے جس نے بنایا تم کو کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال (بڑھاپا)۔“
قادیانی استدلال تشریح۔ ”یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانونِ قدرت سے باہر نہیں اور ہر ایک مخلوق اس محیط قانون میں داخل ہے کہ زمانہ اس کی عمر پر اثر کر رہا ہے یہاں تک کہ تاثیر زمانہ سے وہ پیر فرتوت ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۰ خزائن ج ۳ ص ۴۲۹)
الجواب یہ سچ ہے۔ مگر آیت میں مسیح ؑ کے مر چکنے کی دلیل اور مرزا قادیانی کے بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات کر جانے کی وجہ استدلال ذرا بھی موجود نہیں۔ اچھا اگر کوئی شخص مشہور کر دے کہ مرزا مسرور قادیانی کا انتقال ہو گیا اور جب کوئی اس سے پوچھے کہ تم کو کیونکر معلوم ہوا تو وہ یہی آیت پڑھ دے تو آپ اس کی وجہ استدلال کو کیا کہیں گے۔ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ اس وقت مسیح علیہ السلام ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ کے مصداق حال ہیں۔ نزول برزمین کے بعد ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَّ شَيْبَة کی حالت ان پر طاری ہوگی۔
جواب پہلے کمزور پھر طاقت ور پھر کمزور سفید بال! اگر قادیانیوں کے نزدیک قاعدہ کلیہ ہے تو پھر جو بچہ نوعمری میں مر گیا وہ کلیہ میں شامل ہے؟ سیدنا نوح علیہ السلام ہزار برس کے ہو کر بھی پیر فرتوت نہ ہوئے۔ حالانکہ مرزا قادیانی ۶۰ سال کے ہو کر پیر فرتوت ہو گئے تھے کہ دائیں بائیں جوتے کی تمیز نہ تھی تو ایک بچہ کے لیے چند دن کی زندگی، نوح علیہ السلام کے لیے ہزار برس کی زندگی، اس آیت کے منافی نہیں بلکہ مستثنیات ہیں تو مسیح علیہ السلام کے لیے کیوں نہیں؟ جبکہ وہ اس عالم میں ہی نہیں ہیں بلکہ عالم بالا میں ہیں۔
سولہویں آیت إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْتُهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ (یونس ۲۴) ”دنیا کی وہی مثل ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر ملا جلا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور۔“
قادیانی استدلال ”یعنی اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے، آخر کاٹی جاتی ہے یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے اوّل کمال کی طرف رُخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہوتا جاتا ہے۔ کیا اس قانون قدرت سے مسیح علیہ السلام باہر رکھا گیا ہے؟“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۱ خزائن ج ۳ ص ۴۳۰)
جواب کاش مرزا قادیانی اس مثال سے ہی فائدہ اٹھاتے اور سمجھتے کہ سب روئیدگی کی قسمیں زمین سے اُگنے، کمال تک پہنچنے اور بڑھنے اور پھر زوال کی جانب مائل ہو کر خشک ہونے میں درجہ مساوی نہیں رکھتیں۔ چنا ان ہر سہ مراتب کو دو ماہ میں طے کر لیتا ہے اور نیشکر (کماد) کو کمال تک پہنچنے کے لیے دس ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ سن اور ہالوں کا بیج چند پہر میں زمین سے اُگ آتا ہے اور گنوارے اور کھنڈی کا بیج سال بھر تک زمین میں جوں کا توں پڑا رہتا ہے۔ افسوس کہ آپ حارث و حراث ہونے کے دعویدار ہو کر بھی ان مثالوں سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ مسیح ؑ اس قانون قدرت سے باہر نہیں۔ مگر اس قانون میں مساواتِ شخصی نکال کر آپ دکھا دیجئے۔
جواب مرزا قادیانی کے لیے یہ نمونہ ہی کافی ہے کہ اگر یہ ضابطہ عام مانا جائے تو پھر تمام اشیاء حیوان، جماد ایک ہی رفتار سے سفر کریں۔ ہر انسان ایک ہی طرح کے حالات و تغیرات سے دوچار ہو۔ طیور اور پودے ایک ہی رفتار سے پیدا ہوں۔ بڑھیں اور قابل استفادہ ہوں حالانکہ ان امور میں ناقابل فہم تفاوت سامنے ہے ایک پودہ چند دن میں اپنا سفر طے کر رہا ہے اور ایک پودہ صدیوں تک اپنا سفر حیات طے کرتا ہے۔ ایک جانور چند لمحات کا مسافر ہوتا ہے (جیسے کئی قسم کے جراثیم) اور کئی حیوان انسان سے بھی بڑھ کر عمر پاتے ہیں اور دیکھئے یہ قانون خود مرزا قادیانی کے گھر میں بھی نافذ رہا ہے کہ اس کا کوئی بچہ پیٹ ہی سے چل بسا۔ کوئی چند دن زندہ رہ کر کوئی چند سال کے بعد اور کوئی لمبی عمر پا کر فوت ہوئے تو جب رفتار حیات کسی کی بھی مساوی نہیں تو مرزا قادیانی صرف مسیح علیہ السلام کو قانون مساوی کے کیوں پابند کرنے کے درپے ہیں؟ جب اس حقیر سطح ارضی پر کئی صدیاں انسان زندہ رہ چکے ہیں۔ (اصحاب کہف سیدنا نوح ؑ) تو اس غیر متغیر
جہاں میں جہاں کا ٹائم ٹیبل بھی اس جہاں سے کہیں متفرق ہے۔ وہاں اذنِ الٰہی مسیح ؑ چند صدیاں زندگی نہیں گزار سکتے۔ آخر سارے جہاں سے صرف مرزا قادیانی کو ہی کیوں اتنا فکر ہو رہا ہے حالانکہ مرزا قادیانی خود بھی جسمانی حیات مسیح ؑ کا مشاہدہ کر چکے ہیں چنانچہ کئی جگہ لکھ چکے ہیں کہ میں نے مسیح ؑ کے ہمراہ کئی دفعہ ایک دسترخوان پر کھانا بھی کھایا اور ایک جگہ لکھا کہ میں نے مسیح ؑ کے ساتھ ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت بھی کھایا۔ (تذکرہ ص ۴۴۷) معلوم ہوا کہ وہ جوان ہیں زندہ ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں۔
سترھویں آیت ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُونَ (المؤمنون ۱۵) ”پھر تم اس کے بعد مرو گے۔“
قادیانی استدلال ”یعنی اوّل رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مر جاتے ہو، یعنی تمہارے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی قانونِ قدرت ہے کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔ اے خداوند قدیر! اپنے اس قانون قدرت کو سمجھنے کے لیے ان لوگوں کو بھی آنکھ بخش جو مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اس سے باہر سمجھتے ہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ۶۱۱ خزائن ج ۳ ص ۴۳۰)
جواب ناظرین زبان عرب میں حرف ثُمَّ تراخی اور ترتیب کے لیے آتا ہے اور اسی لیے ہم نہایت صدق دل سے گواہی دیتے ہیں۔ وَالَّذِیْ نَفْسِيْ بِيَدِہٖ لَيُوْشِكَنَّ أَنْ يَّنْزِلَ فِيْنَا ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً ثُمَّ إِنَّهُ بَعْدَ ذٰلِكَ لَيَمُوتَ۔ مرزا قادیانی قانونِ قدرت کے موٹے موٹے حروف تو پڑھ لیتے ہیں۔ مگر کیا اچھا ہو کہ اس کی تشریحات بھی ملاحظہ کر لیا کریں۔
جواب رفتہ رفتہ کمال سیدنا مسیح علیہ السلام کا دور چل رہا ہے۔ اس کے بعد۔ بعد ذالک لمیتون میں داخل ہوں گے کیا یہی آیت پڑھ کر اس وقت تمام زندہ لوگوں کی وفات پر استدلال کیا جاسکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر مسیح علیہ السلام کی وفات پر استدلال کیسے صحیح ہوگا!
اٹھارویں آیت اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِى الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِى الْاَلْبَابِ (الزمر: ۲۱) ”تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلایا وہ پانی چشموں میں زمین کے پھر نکالتا ہے اس سے کھیتی کئی کئی رنگ
نکلے اس پر پھر آئے تیاری پر تو تو دیکھے اس کا رنگ زرد پھر کر ڈالتا ہے اس کو چورا چور بے شک اس میں نصیحت ہے عقل مندوں کے واسطے۔‘‘
قادیانی استدلال ”ان آیات میں بھی مثال کے طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پورا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے“ (اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی بحیثیت انسان اس قاعدہ کلیہ اور قانون قدرت سے باہر نہیں رہ سکتے۔ مرتب)
(ازالہ اوہام ص ۶۱۲ خزائن ج ۳ ص ۴۳۰)
جواب مرزا قادیانی وفات مسیح ؑ پر اس آیت سے استدلال کی وجہ کچھ نہیں لکھ سکے۔ کھیتی کی مثال سچ ہے۔ مگر اس مثال میں مرزا قادیانی کی غلط فہمی کا اظہار سولویں آیت کے تحت میں ہم کر چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ عمر پوری کرتا ہے لیکن عمریں مختلف ہیں۔ بچہ کی اور بوڑھے کی اور نوح علیہ السلام کی اور اصحاب کہف کی اور مسیح علیہ السلام کی اور اس تدرج طبعی کو سو فیصد تسلیم کرتے ہیں کہ ہر انسان ہی نہیں بلکہ ہر فرد مخلوق آہستہ آہستہ موت تک ہی سفر طے کر رہا ہے ہر فرد مخلوق، کل من علیھا فان سے مستثنیٰ نہیں مگر یہ بات کہ مسیح علیہ السلام پر موت آ گئی کہاں ثابت ہوا۔ کیا امکان اور وقوع میں فرق نہیں؟
انیسویں آیت وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْأَسْوَاقِ ط (الفرقان ۲۰) ”اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں۔‘‘
قادیانی استدلال ”یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تمام نبی نہ کھانا کھاتے ہیں نہ بازاروں میں پھرتے ہیں اور ہم پہلے بنص قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے، لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ۶۱۲، ۶۱۳ خزائن ج ۳ ص ۴۳۱)
الجواب ناظرین اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان منکرین نبوت کے جواب میں نازل فرمائی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور رسالت کو بنظر حقارت دیکھتے اور یوں کہا کرتے تھے۔ مَا لِهٰذَا الرَّسُوْلِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْأَسْوَاقِ (الفرقان ۷) یہ رسول کیسا ہے، جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان کی اس بیہودہ گفتگو کے جواب میں بطور تشفی وتسکین قلب فرمایا ہے
کہ بازاروں میں پھرنا اور طعام کھانا اگر رسالت کے منافی ہے تو سارے کے سارے پیغمبر ایسے ہی گزرے ہیں۔ جن میں یہ صفات لوگوں نے دیکھے اور معلوم کیے اور باہمہ یہ معترض ان میں سے بعض کی نبوت کا یقین بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً نصاریٰ اور یہود اور عرب کے اکثر قبیلے اب آپ خیال فرمائیں کہ اس میں کونسی دلیل وفات مسیح کی ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے طعام کھانے یا نہ کھانے کی بحث ساتویں آیت کے تحت میں ہوچکی۔ مرزا قادیانی آپ نے ان تین آیتوں کو دلیل وفات مسیح بنانے میں حصر اور تعمیم سے بہت ہی کام لیا ہے اور یہ دل میں ٹھان لی ہے کہ اگر ایک تعمیم کی دوسری نص تخصیص کر دیتی ہو تو اس تخصیص کا ہرگز اعتبار نہیں کریں گے۔ مگر یہ کاغذ کی ناؤ چلتی نظر نہیں آتی اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (یٰسٓ ۷۷) ”کیا انسان نے نہیں دیکھا اور غور کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا اور وہ جھٹ کھلم کھلا خصومت رکھنے والا بن گیا۔“ آیت میں اَلْاِنْسَانُ کل انسانوں پر شامل ہے۔ جس سے کوئی باہر نہیں حالانکہ اسی آیت میں دو جگہ آپ کو تخصیص ماننی پڑے گی اوّل مِنْ نُّطْفَةٍ میں کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام انسان تھے مگر نطفہ سے پیدا نہ ہوئے تھے۔ دوم خَصِیْمٌ مُّبِیْنٍ میں کیونکہ ہم یقیناً اور ایماناً جانتے ہیں کہ انبیاء اور صدیقین نہایت فرمانبردار بندے ہوتے ہیں اور کبھی اپنے پروردگار سے خصومت نہیں کرتے۔
۲...... مرزا قادیانی یہ فرمائیں کہ طعام کھانا اور بازاروں میں پھرنا یہ مرسلین کا لازم حال تھا یا منجملہ صفات بشری کے ایک صفت، اگر لازمۂ حال تھا تو لازم آتا ہے کہ ہر ایک نبی اور مرسل نے وقت پیدائش سے لے کر زندگی کی آخرین ساعت تک۔ غرض اپنی تمام تر عمر کا کوئی لمحہ کوئی لحظہ کوئی منٹ کوئی سکنڈ ایسا گزرنے نہ دیا ہو کہ وہ بازار میں نہ پھرتے ہوئے اور کچھ نہ کچھ کھاتے ہوئے نظر نہ آئے ہوں۔ غرض کہ ان کا منہ اور ان کے پاؤں ہر وقت چلتے ہی رہتے تھے۔ کیوں مرزا قادیانی آپ کے مذہب میں یہی معنی اس آیت کے ہیں؟ اگر یہی معنی ہیں تو اس کا بطلان نہایت صریح ہے لیکن اگر باوجود آیت کے الفاظ بالا کے یہ معنی آپ نہیں کرتے۔ بلکہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے کھانے اور بازاروں میں پھرنے کے خاص اوقات ہوں اور دیگر اوقات میں اکل طعام اور مَشْیٌ فِی السُّوقِ ان میں پایا بھی نہ جاتا ہو تب آیت بالا آپ کے کیا مفید ہے؟ اگر کسی معتکف و صائم کو دیکھ کر کوئی شخص یہ حکم لگا سکتا ہے کہ طعام کھانے اور بازاروں میں پھرنے کی صفت اس سے جاتی رہی تو اس کے دانشمند ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟ مرزا سکتا ہے؟ مرزا؟ سکتا؟ مرزا صفت ہو سکتا ہے؟ مرزا صفت اس سے جاتی رہی تو اس کے دانشمند ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟زا مرزا ؟ Wait, the last line let me re-write it correctly in the final output block.
Ah, my thinking block let me write it properly. The last line is: صفت اس سے جاتی رہی تو اس کے دانشمند ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟ مرزا
قادیانی ان نمونوں سے بھی مستفید نہیں ہوتے۔
جواب ممکن ہے کہ مرزا قادیانی یا کوئی ان کا مرید کبھی یہ استدلال بھی کرنے لگے کہ روزہ رکھنا اس آیت کے خلاف ہے ماجعلنا هم جسدا لاياكلون اور آیت ھذا انھم لیاکلون الطعام و یمشون فی الارض۔ اگر اس کو لوازم نبوت قرار دے لیا جائے تو پھر آپ ﷺ کے مراقبات حرا اور وصال کا انکار لازم آتا ہے۔
بیسویں آیت وَالَّذِينَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُوْنَ أَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ (النحل ۲۰-۲۱) ”اور جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں۔ مردے ہیں جن میں جان نہیں اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔“
قادیانی استدلال ”دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح علیہ السلام اور ان سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنے معبود ٹھہراتے تھے اور ان سے دعائیں مانگتے تھے، اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سن کر پھر وہیں نہ ٹھہر جانا کیا یہ ایمان داروں کا کام ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۳، ۶۱۴ خزائن ج ۳ ص ۴۳۱)
الجواب......۱ الذین کا ترجمہ ”جن لوگوں کو“ صحیح نہیں کیونکہ الذین سے مراد اصنام (بت) بھی ہیں لہٰذا صحیح ترجمہ یوں ہے ”اور جن کو پکارتے ہیں“ اور چونکہ کفار میں زیادہ تر بت پرستی ہی پائی جاتی تھی (چنانچہ کعبہ کے ۳۶۰ بت جو فتح مکہ کے دن توڑے گئے اس پر شاہد ہیں) اس لیے۔
۲...... اموات کے بعد غیر احیاء کا ذکر کیا گیا تاکہ اصنام کی حقیقت اصلیہ ظاہر ہو جائے کہ وہ علی الاطلاق مردہ ہیں۔ ان کو حیات کی ہوا بھی نہیں لگی نہ پہلے کبھی نہ اب۔
۳...... وما یشعرون ایان یبعثون (النحل ۲۱) کا مطلب تو یہ ہے کہ ان معبودوں کو اس کا بھی شعور (علم) نہیں کہ ان کے پوجنے والے کب اٹھائے جائیں گے۔ (جلالین و فتح البیان) بلکہ ان سے بہتر تو ان کے عابد ہیں کہ ان کو علم و شعور اور حیات تو حاصل ہے۔
(دوسری طرز سے)
الجواب.......۲ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ معبودان مصنوعی مر چکے ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان سب کو موت آنے والی ہے صرف لفظ اموات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ
سب کے سب مر چکے ہیں غلط ہے انک میت و انهم میتون (الزمر ۳۰) اے رسول ﷺ تو بھی میت ہے اور وہ بھی، مطلب یہ ہوا کہ بالآخر موت آنے والی ہے لہٰذا آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہوا کہ تمام وہ لوگ جو اللہ کے سوا پوجے جاتے ہیں آخر کار مرنے والے ہیں گو ان میں کئی مر چکے ہوں اور ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہو جائیں گے۔ ۵..... نیز مشرکین جنوں اور فرشتوں کو بھی پوجتے تھے کیا وہ سب مر چکے ہیں؟ کیونکہ وہ بھی من دون اللہ میں شامل ہیں۔ نیز آج بھی کئی ایسے ملنگ پیر معبود ہیں جن کو جاہل لوگ سجدے کرتے ہیں ان کی عبادت کرتے ہیں تو کیا وہ اب مرے ہوئے ہیں؟ اصل مفہوم یہی ہے کہ جن کی لوگ پوجا کرتے ہیں وہ معرض فنا میں ہیں۔ بقا صرف ذات واحد کو ہے الحی القیوم صرف ایک ہی ہے لہٰذا عبادت کا مستحق بھی یہی ہے بلکہ تمام کل شیء ہالک اور کل من علیہا فان کے زیر تصرف ہیں۔ کیونکہ ماسوا اللہ ہر چیز پردہ فنا میں تھی پھر عالم وجود میں آئی اس کے بعد پھر پردہ فنا سے دوچار ہونے والی ہے۔
ناظرین! مرزا قادیانی نے اپنی عبارت میں انسانوں کی قید اپنی طرف سے لگا دی ہے۔ آیت عام ہے اور اس لیے ایسے تین صفات بیان ہوئے ہیں جن سے کوئی مخلوق جن و ملک انسان ان وغیرہ اس تعمیم سے باہر نہیں رہ سکتے۔ ۱..... مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اس میں کل مخلوق شامل ہے ۲..... کسی کا خالق نہ ہونا۔ یہ بھی سب پر محیط ہے۔ ۳..... مخلوق ہونا۔ یہ بھی بجز خدا کے سب کو گھیرے ہوئے ہیں پس ان صفتوں والا اگر کسی قوم اور قبیلہ کا معبود سمجھا یا مانا گیا ہے تو وہ مردہ ہے۔"
جب ہم نصاریٰ کے مذہب پر نظر ڈالتے ہیں جو خدا کو ثالث ثلثہ جانتے ہیں اور اس کے علاوہ اقنوم قائم کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خدا کے سوا ایک تو مسیح کو معبود جانتے ہیں دوسرے روح القدس کو۔ ان دونوں کی پرستش بھی کرتے ہیں اور ان دونوں کو پکارتے بھی۔
مرزا قادیانی اس آیت پر تمسک کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرتے ہیں۔ میں ان سے دریافت کر لینا چاہتا ہوں کہ وہ روح القدس کو بھی مردہ جانتے ہیں۔ یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا وہ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ نہیں۔ یا وہ کسی شے کا خالق بھی ہے۔ یا وہ خود مخلوق نہیں یا نصاریٰ اس کو اسی طرح نہیں پکارتے۔ جس طرح مسیح کو پکارتے ہیں؟ اگر یہ سب صفات اس میں موجود ہیں تو پھر ..... روح القدس کو آیت کی
تعمیم سے جدا رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر مرزا قادیانی کے پاس روح القدس کو اس عمومیت سے جدا رکھنے اور جدا باور کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ تو یقین رکھیے کہ ہمارے پاس بھی ہے اور اگر وہ روح القدس کو بھی مردہ سمجھتے ہیں تو بسم اللہ اس کا اقرار فرمائیں تاکہ ان کے بیسیوں دلائل پر پانی پھر جائے اور میں پھر معنیٰ آیت گزارش کروں۔
ناظرین! ایک لطیف قصہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ جب قرآن مجید میں انکم وَمَا تَعْبُدُونَ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانبیاء ۹۸) نازل ہوا۔ تو مشرکین نے اس تعمیم کو دیکھ کر خوب تالیاں لگائیں اور خوش ہو کر کہا کہ اگر ہم اور ہمارے بت جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ہم کو کچھ غم نہیں کیونکہ اسی قاعدہ وَمَا تَعْبُدُونَ کے بموجب نصاریٰ کے ساتھ مسیح کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا اور ہم اس پر خوش ہیں کہ جب مسیح جہنم میں جائے تو ہم اور ہمارے بت بھی وہیں ڈالے جائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ (الزخرف ۵۸) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نظیر جو ان کفار نے پیش کی ہے۔ یہ ان کا مجادلہ ہے یہ لوگ محض خصومت سے ایسی باتیں کرتے ہیں اِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ (الزخرف ۵۹) حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو خدا کے ایسے بندہ ہیں۔ جن پر خدا نے نعمت کی ہے۔ پس آیت کریمہ کی اس تعمیم میں وہ منعم علیہ جس کی تخصیص و استثناء دیگر آیات سے ہو چکی ہے کیونکر شامل ہو سکتا ہے۔ فرمایا ان الذین سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ. گویا مرزا قادیانی نے فطرت کے لوگوں کو واضح کیا کہ عدم سے استدلال صحیح نہیں ہوتا۔
مرزا قادیانی ملاحظہ فرمائیں کہ ایسی تعمیمات سے تمسک و استدلال کرنا اور دیگر آیات پر نظر نہ ڈالنا وہ شیوہ اور وہ مسلک ہے جس پر مشرکین مکہ گامزن ہو چکے ہیں اور جن کی تکذیب قرآن مجید فرما چکا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا استدلال نہ شرعی ہے نہ عالمانہ بلکہ آیت مذکورہ ایسے استدلال کا نام مجادلہ رکھتی اور مستدل کو قَوْمٌ خَصِمُوْنَ میں شامل کرتی ہے فَاعْتَبِرُوْا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ.
- ۲...... اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ پر بھی غور فرمائیے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ یہ مِنْ دُونِ اللّٰہِ جن
کو پکارا جاتا ہے۔ یہ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ حالاً ہیں یا مآلاً ہیں۔ یعنی کیا آیت کے یہ معنی مرزا قادیانی کرتے ہیں کہ جب چند شخصوں نے کسی مِنْ دُونِ اللّٰہِ کو پکارنا شروع کیا تو وہ فوراً مر بھی جاتا ہے اور اس کی حیات بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ یہی معنی کرتے ہیں۔ تب کچھ شک نہیں کہ یہ معنی خلاف واقع ہیں اور کلام ربانی کی شان عظیم اس سے برتر و
اعلیٰ ہے۔ ہم نے خود سینکڑوں ایسے شخص دیکھے ہیں اور مرزا قادیانی نے نیز ناظرین نے بھی دیکھے ہوں گے کہ ان کے بیوقوف معتقد اور مرید ان کو خدائے حاضر و ناظر کی طرح ہر وقت ہر جگہ موجود جانتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے، جاگتے سوتے، یا پیر یا پیر ہی پکارا کرتے ہیں۔ ان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خدا روٹھ جائے تو پیر ملا دیتا ہے اور پیر روٹھ جائے تو خدا نہیں ملا سکتا۔ اس لیے وہ ہمیشہ پیر کا درجہ رسول اور خدا سے برتر و افضل جانا کرتے ہیں اور بایں ہمہ طغیانی کفر و شرک یہ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ معبود اپنی تمتع اور کامرانی کے دن بڑی عیش و شادمانی سے پورے کیا کرتے ہیں۔ یہ واقعات جن کا ظہور ہر شخص ہر روز دیکھ سکتا ہے۔ بتلا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کے معنی غلط اور خلافِ واقع ہیں۔
اب رہا ان کا مآلاً اموات اور غیر احیاء ہونا یعنی بالآخر ان مشرکین کے معبودوں نے ایک روز مرنا ہے۔ یہ بیشک صحیح ہے مگر اب آیت میں مسیح علیہ السلام کی وفات بالفعل پر ذرا بھی اشکال باقی نہ رہے گا اور مرزا قادیانی کا ہم پر کچھ اعتراض نہ رہ گیا کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات بزمانہ آئندہ کو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں اور كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کا اثر و نفاذ مسیح پر بھی تسلیم کرتے ہیں۔
(جوابات بالا مرزا قادیانی کی تفہیم کے لیے عرض کیے گئے ہیں۔ ورنہ مفسرین نے آیت کو بحق اصنام یعنی بتوں کے لیے لکھا ہے اور اموات غیر احیاء کے یہ معنی کیے ہیں کہ ان بنائے ہوئے معبودوں کو تو کبھی بھی حیات حاصل نہیں ہوئی۔ ان میں کبھی بھی لوازم زندگی پائی نہیں گئی اور اس لیے عدم محض ہیں اس معنی پر کوئی اعتراض مرزا قادیانی کا وارد نہیں ہوتا اور وفات مسیح کی دلیل کا تو اس میں ہونا ذرا بھی تعلق نہیں رکھتا)
اکیسویں آیت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب ۴۰) ”محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔“
قادیانی استدلال ”یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں نہیں آ سکتا، کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے۔۔۔۔۔ اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مر گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۴ خزائن ج ۳ ص ۴۳۱)
الجواب ناظرین یہاں مرزا قادیانی سے سخت غلط فہمی ہوئی ہے اور منشاء غلطی یہ ہے کہ سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ رفیعہ کے سمجھنے میں قصور ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ
آیت صریح اور نص قطعی موجود ہے۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتَابٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ (آل عمران ۸۱) ”جب خدا نے نبیوں سے اقرار لیا جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے پھر جب تمہاری طرف رسول موعود آئے جو تمہاری سچائی ظاہر کرے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔“
اس کا مفہوم و منطوق یہ ہے کہ جس قدر انبیاء و رسل حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک گزرے ہیں۔ یہ سب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کے شمار میں اپنے آپ کو داخل و شامل سمجھیں گے اور امتیوں کی طرح آپ کا کلمہ پڑھیں گے۔ اسی آیت کی عملی تفسیر اس حدیث معراج میں ہے۔ جو صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے امام بن کر نماز پڑھائی اور موسیٰ و عیسیٰ و ابراہیم علیہم السلام وغیرہ نے آپ ﷺ کے پیچھے مقتدی بن کر پڑھی۔ پس جب انبیاء گذشتہ کا شمار پہلے ہی سے حضور ﷺ کی امت میں حضور ﷺ کی رسالت کے بعد ہوتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس میثاق ازلی کے ایفاء کے طور پر دنیا میں آنا اور خلیفہ مسلمین بننا رسول کریم ﷺ کے اعلیٰ درجہ رسالت کا مظہر ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کے درجہ خاتمیت کے منافی۔ یہ امر کہ مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے انیسویں آیت کے تحت میں ازالہ کے ص ۶۲۳ خزائن ج ۳ ص ۴۳۶ پر ان الفاظ میں مان لیا ہے ۔ ”یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔“ یہ اقرار کرنے کے بعد مرزا قادیانی سے نہایت مستبعد معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بن مریم کے آنے کا انکار اس آیت کے تمسک سے کریں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ انبیاء گذشتہ میں سے اگر کوئی نبی اس میثاق ازلی کے موافق جس کی خبر قرآن مجید میں دی گئی۔ ہمارے سید محمد مصطفیٰ ﷺ کی نصرت و خدمت کے لیے دنیا میں تشریف لائے تو مرزا قادیانی اس آیت کو اس کے لیے مانع خیال کرتے ہیں مگر خود اپنے لیے ایک پہلو نکال کر یوں تحریر کرتے ہیں ”خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ ﷺ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا۔ جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں۔ وہ اس تحریر سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے کل میں جزو داخل ہوتی ہے۔“ (ازالہ ص ۵۷۵ خزائن ج ۳ ص ۴۱۱)
دیکھو کیسے صاف لفظوں میں لکھ گئے کہ میں نبی ہوں اور یہ آیت میرے لیے مانع نہیں کیونکہ فنا فی الرسول ہو کر میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا جزو بن گیا ہوں۔
اچھا مرزا قادیانی اگر بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے کوئی نبی ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہو جاتا ہے اور اس کی نبوت جداگانہ شمار نہیں ہوتی۔ تب بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا آنا اور نزول فرمانا ثابت ہو گیا کیونکہ صحیح مسلم کی حدیث معراج عن ابو ہریرہؓ سے ثابت ہو چکا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا اتباع کیا ہے اور فنا فی الرسول ہونے کی شہادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس وعظ سے ملتی ہے۔ جس میں انھوں نے اپنی امت کو وجود باجود محمدی ﷺ کی بشارت سنا سنا کر فرمایا تھا۔ ”آگے کو تم سے بہت باتیں نہ کروں گا کیونکہ اس دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔“ یوحنا ۱۴ باب ۳۰ دنیا کا سردار اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔
خیال کرو کیسے الفاظ ہیں اور کس سچے دل اور صادق زبان سے نکلے ہیں۔ اگر فنا فی الرسول کا درجہ اس قول کے قائل کو بھی حاصل نہیں (جس کا اپنے قول میں صادق ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے) تو اور کس شخص کو ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد مرزا قادیانی اس حدیث پر نظر فرمائیں۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے انبیاء کو علاتی بھائی فرما کر آخر میں فرمایا ہے وَاَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْيَمَ یہاں آپ ذرا غور سے دیکھیں کہ آپ کی اصطلاح کے موافق عیسیٰ بن مریم تو محمد رسول اللہ ﷺ میں اور محمد رسول اللہ ﷺ حضرت مسیح علیہ السلام میں کس طرح داخل ہیں۔ غرض ثابت ہوا کہ آپ کی مستدلہ آیت آپ کے مفید نہیں ہو سکتی۔ بچند وجوہ
- ۱...... قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ سابقہ جملہ انبیاء آنحضرت ﷺ کی امت میں ہیں۔
لہٰذا اس میں سے کسی ایک کا آنا اور خلیفہ بننا بعینہ صدیقؓ اور فاروقؓ جیسا خلیفہ بننا ہے۔
- ۲...... مرزا قادیانی نے مان لیا کہ مسیح ؑ بھی اسی امت محمدیہ ﷺ کے شمار میں آ چکا ہے۔
- ۳...... مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ میں نبی ہوں اور میرے لیے آیت خاتم النبیین مانع نہیں
کیونکہ مجھے درجہ فنا فی الرسول حاصل ہے اور میں رسول خدا سے کچھ جدا نہیں ہوں۔
- ۴...... فنا فی الرسول کا قاعدہ کلیہ حضرت مسیح پر زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ انجیل اور صحیح مسلم
اس کے گواہ ہیں۔
پس ثابت ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اس آیت سے استدلال میں بڑی غلطی کھائی ہے یا صریح مغالطہ دیا ہے۔
ناظرین یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو خدا کے نبی ہیں۔ وہ ہمارے سید و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابی بھی ہیں۔ صحابی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے ایمان کے ساتھ اس زندگی میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو۔ آنحضرت ﷺ کا حضرت مسیح ؑ سے شب معراج کو ملاقات کرنا ثابت ہے۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ اگر صدیقؓ و فاروقؓ کی خلافت کے لیے آیت خاتم النبیین مانع ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ کی خلافت کے لیے بھی ہے اور اگر ان کے لیے مانع نہیں تو حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے بھی مانع نہیں۔ ایک نبی کا نبی ہو کر پھر صحابی ہونا بھی بعید نہیں۔ حضرت ہارون ؑ اور یحییٰ ؑ کی مثالیں موجود ہیں۔ ہارون علیہ السلام تو موسیٰ ؑ کے صحابی تھے۔ یحییٰ زکریا ؑ کے۔
الغرض مرزا قادیانی کا یہ استدلال اور مفہوم اجماع امت کے بھی خلاف اور خود مرزا قادیانی کے مسلمہ اقرار و اعتراف کے خلاف ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ اس آیت کریمہ کے متعلق سابقہ تمام صحابہؓ اور بعد کے ائمہ ہدیٰ، مجددین، ملہمین، مفسرین و محدثین تمام متکلمین اور متصوفین نے اس آیت کا مفہوم خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت پر نص صریح تسلیم کیا ہے اور اس کو آمد مسیح ؑ کے رتی بھر منافی نہیں رکھا۔ یہ صحیح مفہوم تھا جو ہر زمانہ اور ہر دور میں مسلم تھا۔ اب مرزا قادیانی نے لکھا اجماعی مسئلہ کے منکر پر خدا، رسول اور تمام کائنات کی لعنت ہے۔ (ازالہ) پھر لکھا کہ سلف، خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں ان کی شہادات ماننا ہی پڑتی ہیں۔
(ازالہ ص ۲۷۴، ۲۷۵)
جواب سیدنا مسیح علیہ السلام کا آنا آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ مرزا قادیانی سے صدیوں پہلے علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ ای لا ینباء احد بعدہ اما عیسیٰ ممن نبی قبلہ ”خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ باقی رہے عیسیٰ علیہ السلام تو وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنے ہیں۔ اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔
جواب معراج کی رات تمام انبیاء علیہم السلام موجود تھے تو بھی آپ ﷺ خاتم النبیین تھے۔ قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام موجود ہوں گے تب بھی آپ ﷺ خاتم النبیین ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بنے تو آپ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی ہے۔
جواب سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنا
رہی۔ نہ شمار انبیاء میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بن رہا بلکہ نبی ماقبل آپ ﷺ کی امت میں شامل ہو رہا ہے۔ وہ ایک نہیں بلکہ سب (شب معراج، یوم قیامت) شامل ہوں تب بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہ ہوگا۔ بخلاف اس کے کہ کوئی آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے جیسے مسیلمہ کذاب یا کذاب قادیان وہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کے باغی ومنحرف کہلائیں۔ اور کافر، کذاب و دجال۔ بائیسویں آیت فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ O (النحل ۴۳) ”سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں۔“
قادیانی استدلال ”یعنی اگر تمھیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔ سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گذشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آ جاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام آپ ہی فیصل کر چکے ہیں اور ان کے فیصلہ کا ہمارے فیصلہ کے ساتھ اتفاق ہے، دیکھو کتاب سلاطین و ملاکی نبی اور انجیل جو ایلیاہ علیہ السلام نبی کا دوبارہ آسمان سے اترنا کس طور سے حضرت مسیح علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۶، ۶۱۵ خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)
آئے مرزا قادیانی اگر آپ فَاسْئَلُوا اَهْلَ الذِّكْرِ پر ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو یوں ہی فیصلہ کر لیں آپ نے الفاظ ”ایلیاہ کا دوبارہ آسمان سے اترنا“ لکھ کر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایلیاہ آسمان پر چڑھایا گیا۔ آپ یہ دریافت کرتے ہیں کہ اس کا اترنا کس طور کا بیان کیا گیا ہے تو پہلے یہ دریافت کر لیجئے کہ ”ایلیاہ کا آسمان پر چڑھ جانا کس طرح بیان کیا گیا ہے“ اور یوں ہوا کہ جب خداوند نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لیجائے۔ تب ایلیاہ الیسع کے ساتھ جلجال سے چلا اور ایلیاہ نے الیسع کو کہا تو یہاں ٹھہر یو اس لیے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ سو الیسع بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔ سو وہ بیت ایل کو اتر گئے اور انبیاء زادے جو بیت ایل میں تھے نکل کے الیسع پاس آئے اور اس کو کہا تجھے آگاہی ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا ہاں میں جانتا ہوں تم چپ رہو۔ تب ایلیاہ نے اس کو کہا۔ اے الیسع تو یہاں ٹھہر یو کہ خداوند نے مجھے یریحو
کو بھیجا ہے۔ اس نے کہا خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا۔ چنانچہ وہ یریحو میں آئے اور انبیا زادے جو یریحو میں تھے۔ الیشع پاس آئے اور اس سے کہا تو اس سے آگاہ ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اٹھا لے جائے گا۔ وہ بولا۔ میں تو جانتا ہوں۔ تم چپ رہو اور پھر ایلیاہ نے اس کو کہا تو یہاں درنگ کیجیو کہ خداوند نے مجھ کو یردن بھیجا ہے۔ وہ بولا۔ خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم میں تجھ کو نہ چھوڑوں گا۔ چنانچہ وہ دونوں آگے چلے اور ان کے پیچھے پیچھے پچاس آدمی انبیا زادوں میں سے روانہ ہوئے اور سامنے کی طرف دور کھڑے ہو رہے اور وہ دونوں لب یردن (نام دریا) کھڑے ہوئے اور ایلیاہ نے اپنی چادر کو لیا اور لپیٹ کر پانی پر مارا کہ پانی دو حصے ہو کے ادھر اُدھر ہو گیا اور وہ دونوں خشک زمین پر ہو کے پار گئے اور ایسا ہوا کہ جب پار ہوئے تب ایلیاہ نے الیشع کو کہا کہ اس سے پہلے کہ میں تجھ سے جدا کیا جاؤں۔ مانگ کہ میں تجھے کیا دوں۔ تب الیشع بولا مہربانی کر کے ایسا کیجئے کہ اس روح کا جو تجھ پر ہے مجھ پر دوہرا حصہ ہو۔ تب وہ بولا تو نے بھاری سوال کیا۔ سو اگر مجھے آپ سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو تیرے لیے ایسا ہوگا اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہوگا اور ایسا ہوا کہ جوں ہی وہ دونوں بڑھتے اور باتیں کرتے چلے جاتے تھے تو دیکھ کہ ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے آ کے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا اور الیشع نے یہ دیکھا اور چلایا۔ اے میرے باپ میرے باپ اسرائیل کی رتھ اور اس کے سوار۔ سو اس نے اسے پھر نہ دیکھا اور اس نے اپنے کپڑوں پر ہاتھ مارا اور انہیں دو حصے کیا۔ اور اس نے ایلیاہ کی چادر کو بھی جو اوپر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا اور الٹا پھرا اور یردن کے کنارے پر کھڑا ہوا اور وہاں اس نے ایلیاہ کی چادر کو جو اس پر سے گر پڑی تھی لے کر پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیاہ کا خدا کہاں ہے اور اس نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا تو پانی ادھر ادھر ہو گیا اور الیشع پار ہو گیا۔‘‘ مرزا قادیانی ایلیاہ کے آسمان پر چڑھ جانے کی یہ کیفیت مفصل پڑھ کر اب اپنے اس فقرہ کو یاد کریں کہ ”جب جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہو جائے تو پھر اسی جسم کے ساتھ اترنا کچھ مشکل نہیں“ نیز یہ فقرہ (کتاب مقدس سلاطین ۲ باب ۲ آیت ۱ تا ۱۴، ص ۳۵۰ مطبوعہ ۱۹۲۷ء) ”مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے“ (ازالہ ص ۲۷۰ خزائن ج ۳ ص ۲۳۶) اور ملاحظہ کیجئے کہ ایلیاہ کا جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھنا کس وضاحت سے اہل کتاب کے صحف سماوی میں مندرج ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ ایلیاہ کی
جس چادر کے گرنے کا ذکر ہے۔ وہ اس کا جسم ہی تو تھا بالکل غلط ہے کیونکہ اوّل تو شروع باب میں یہ فقرہ ہے یہ خدا نے چاہا کہ ایلیاہ کو ایک بگولے میں اڑا کے آسمان پر لے جائے۔ بگولے میں اڑا کر لے جانا روح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ دوم یہ فقرہ ایلیاہ نے اپنی چادر کو لپیٹ کر دریا پر پھینک کر مارا۔ پانی اِدھر اُدھر ہو گیا۔ اگر چادر سے مراد جسم ہے تو ایلیاہ نے خود اپنے جسم کو کس طرح لپیٹ کر دریا پر مارا تھا۔ سوم یہ فقرہ الیسع نے بھی اس چادر کو جب پانی پر مارا۔ کیا الیسع نے اپنے پیر و مرشد کی لاش کو پھینک کر مارا تھا غرض یہ تاویل فضول ہے اور سلاطین باب ۲ سے ایک جسم کا آسمان پر جانا ثابت ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو فَاسْئَلُوا اَهْلَ الذِّکْرِ پر ایمان ہے تو پہلے اس صعودِ جسمی کو تو مان لیں۔
ناظرین اس بیان میں مرزا قادیانی نے چند غلطیاں کی ہیں۔ اوّل معنی آیت کے سمجھنے میں۔ آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر تم کو معلوم نہ ہو تب اہل کتاب سے پوچھو۔ خدا کے فضل سے نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایسا نہیں جو ہم کو معلوم نہ ہو۔ قرآن مجید سے لے کر صحاح ستہ اور دیگر تمام دواوین حدیث میں نزول مسیح علیہ السلام کی مفصل خبریں درج ہیں بلکہ میں دعوٰی کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ احادیث نزول مسیح میں اس قدر تفصیل اور تصریح ہے کہ آج تک کسی پیشگوئی کو تو کیا گزشتہ واقعہ کو بھی کسی مورخ نے ایسی خوبی اور صفائی سے شاید ہی بیان کیا ہو۔ میرا یہ کہنا تو مرزا قادیانی کو ناگوار خاطر ہوگا کہ انھوں نے ان احادیث پر نظر نہیں ڈالی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان کی تحریر میں ان احادیث کا علم ہونے کی ذرا بھی دلالت نہیں۔
الف...... مرزا قادیانی!!! جغرافیائی طور پر اس پیشگوئی کے متعلقہ احادیث اس طرح پر ہیں۔ ١...... مدینہ کی آبادی اہاب تک پہنچ جائے گی۔ (صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۹۳ کتاب الفتن) ناظرین آج ہمارے زمانہ تک اس حد تک آبادی نہیں پہنچی۔ ٢...... اسلامی شہروں میں سے سب سے آخر میں مدینہ ویران ہوگا۔
(ترمذی ج ۲ ص ۲۲۹ باب فضل المدینہ)
خدا کے فضل سے آج مدینہ آباد و بارونق ہے۔ ٣...... بیت المقدس کی کامل آبادی سبب ہے مدینہ کی خرابی کا۔ مدینہ کا خراب ہونا سبب ہے جنگ عظیم کا۔ جنگ عظیم کا واقع ہونا سبب ہے قسطنطنیہ کی فتح کا۔ قسطنطنیہ کا فتح ہو جانا وقت ہے خروج دجال کا (ابو داؤد ج ۲ ص ۱۴۲ باب امارت الملاحم) یہ فقرہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ خروج الدجال سبب ہے نزول مسیح کا۔
- ۴...... حضرت مسیح شہر بیت المقدس میں اور مسلم کے لشکر میں نازل ہوں گے۔
(ابو داؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب خروج الدجال و ابن ماجہ ص ۲۹۷ باب فتنۃ الدجال)
- ب...... اس کے بعد ملکی انقلابات سے متعلقہ احادیث پر نظر ڈالیے۔
- ۱...... مسلمانوں کا لشکر جو نصاریٰ کی طلب میں نکلا ہوگا۔ اس فوج کے مقابل ہوں گے
جس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا ہوگا۔ تین روز تک مسلمانوں کو شکست ہوتی رہے گی۔ چوتھے روز مسلمانوں کو فتح کامل حاصل ہوگی۔ اس جنگ سہ روزہ میں ۹۹ فیصدی مقتول ہوں گے۔ اس فتح کے بعد مسلمان قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے۔ فتح کے بعد جب ملک شام میں پہنچیں گے۔ تب الدجال خروج کرے گا اور پھر نماز صبح کے وقت حضرت عیسیٰ نزول فرمائیں گے۔
(مسلم ج ۲ ص ۳۹۱۔۳۹۲ کتاب الفتن عن ابو ہریرۃ و ابن مسعودؓ)
- ۲...... الدجال زمین مشرق، خراسان سے نکلے گا۔
(ترمذی ج ۲ ص ۴۷ باب ما جاء فی الدجال عن ابو بکر صدیق ؓ)
وہ بجز مکہ و مدینہ سب جگہ پھر جائے گا۔
(مسلم ج ۲ ص ۴۰۵ باب فی بقیۃ احادیث الدجال)
- ۳...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام باب لد پر الدجال کو قتل کریں گے۔
(مسلم ج ۲ ص ۴۰۱ باب ذکر الدجال)
- ج...... تعین زمانہ اور سنین کے اعتبار سے ملاحظہ فرمائیے۔
- ۱...... جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ میں ۶ سال کا فاصلہ ہے اور الدجال کا خروج ساتویں
سال میں ہے۔
(ابو داؤد ج ۲ ص ۴۲ باب فی تواتر الملاحم)
گو میں نے ان احادیث کی طرف نہایت مختصر لفظوں میں اشارہ کیا ہے۔ مگر حق کے طالب اور صداقت کے جویا ان بیانات سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ میری غرض ان احادیث کو دکھانے سے یہ ہے کہ جب اسلام نے اپنی تعلیم کو خود مکمل کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ناچیز بندوں پر اپنی نعمت کو تمام فرما دیا ہے اور مبحث فیہ مسئلہ میں بھی ایسی صراحت سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا ہے تو ان نعمتوں کی قدر نہ کرنا اس پاک اور آخری تعلیم پر اعتبار نہ کرنا اور پھر اہل کتاب سے پرسش کا اپنے آپ کو محتاج جاننا کیا ہی لغو فعل ہے؟ جس طرح بہت سے شوم طبع بھکاری (جن کے اندوختہ سے ان کے نفس کو بھی منفعت حاصل نہیں ہوتی) سینکڑوں اشرفیاں اپنی سڑی بسی گدڑی میں چھپا رکھتے ہیں اور پیسہ پیسہ کے لیے در بدر بھٹکتے پھرا کرتے ہیں۔ بس اس جگہ بھی ٹھیک وہی مثال
ہے ۔ دوسری غلطی مرزا قادیانی کی یہ رائے ہے کہ نصاریٰ کی کتابوں سے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب کسی نبی کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کیوں یہ دیکھنا نہیں چاہتے کہ ان کتابوں میں خاص حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کے بارہ میں کیا لکھا ہے کیونکہ اس جگہ عمومیت کا سوال نہیں بلکہ خصوصیت کا ہے۔
میں معزز ناظرین کی نزہت طبع کے لیے مسیح کے آنے کے بارہ میں جو کچھ انجیل میں لکھا ہے پیش کرتا ہوں۔ متی ۲۴ باب میں یہی بیان ہے۔
۱...... یسوع ہیکل سے نکل کر چلا گیا اور اس کے شاگرد اس کے پاس آئے کہ اسے ہیکل کی عمارتیں دکھلائیں ۔ ۲...... پر یسوع نے کہا کیا تم یہ سب چیزیں دیکھتے ہو۔ میں تمھیں سچ کہتا ہوں کہ یہاں پتھر پر پتھر نہ چھوٹے گا جو گرایا نہ جائے گا۔ ۳...... جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ ۴...... اور یسوع نے جواب دے کر انھیں کہا خبردار ہو کہ کوئی تمھیں گمراہ نہ کرے۔ ۵...... کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ ۶...... اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار مت گھبراؤ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے۔ پر اب تک اخیر نہیں ہے (یعنی قیامت نہیں ۔) ۷...... کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے۔ ۸...... پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ تب وہ تمھیں دکھ میں حوالے کریں گے اور میرے نام کے سبب سب قومیں تم سے کینہ رکھیں گی ۔ ۹...... اور اس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے سے کینہ رکھے گا ۔ ۱۰...... اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے ۔ ۱۱...... اور بیدینی پھیل جانے سے بہتوں کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی ۔ ۱۲...... پر جو آخر تک سہے گا وہی نجات پائے گا ۔ ۱۳...... اور بادشاہت کی یہ خوشخبری ساری دنیا میں سنائی جائے گی تا کہ سب قوموں پر گواہی ہو اور اس وقت آخر آئے گا۔ ۱۴...... پس جب ویرانی کی مکروہ چیز کو جس کا دانیال نبی کی معرفت ذکر ہوا ہے۔ مقدس مکان میں کھڑے دیکھو گے۔ (یعنی جب الدجال بیت المقدس پہنچے۔) ۱۵...... تب جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں ۔ ۱۶...... جو کوٹھے کے اوپر ہو اپنے گھر سے کچھ نکالنے کو نہ اترے۔ ۱۷...... اور جو کھیت میں ہو اپنا کپڑا اٹھا لینے کو پیچھے نہ پھرے۔ ۱۸...... پر ان پر افسوس جو ان دنوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والیاں ہوں (کیونکہ جب
بچہ پیٹ یا گود میں ہوتا ہے بھاگا نہیں جاتا) ۱۹...... سو دعا مانگو کہ تمہارا بھاگنا جاڑے میں یا سبت کے دن نہ ہو (اس سے ظاہر ہے کہ الدجال بیت المقدس میں موسم سرما اور یوم شنبہ کو پہنچے گا۔ بھاگنا نہ ہو سے مطلب یہ ہے کہ خدا تم کو وہ دن نہ دکھلائے) ۲۰...... کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی۔ جیسی دنیا کے شروع سے اب تک نہ ہوئی ہو اور نہ کبھی ہوگی۔ ۲۱...... اور اگر وے (دن) گھٹائے نہ جاتے تو ایک تن بھی نجات نہ پاتا۔ پر برگزیدوں کی خاطر وے دن گھٹائے جائیں گے۔ ۲۲...... تب اگر کوئی کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔ ۲۳...... کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔ ۲۴...... دیکھو میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں۔ ۲۵...... پس اگر وہ (لوگ) تمہیں کہیں دیکھو وہ (مسیح) جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے (جس کا نام مرزا قادیانی نے بیت الذکر رکھا ہے) تو باور مت کرو۔ ۲۶...... کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے۔ ویسا ہی انسان کے بیٹے کا آنا بھی ہوگا۔ ۲۷...... اور فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔“
(ناظرین تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔ یہ الفاظ اِنَّهُ لَعِلْمٌ للساعۃ کا ترجمہ ہیں۔ مرزا قادیانی نے انہ کی ضمیر میں جو مختلف وجوہ پیش کیے ہیں۔ احادیث نبوی کے الفاظ اور انجیل کے الفاظ اس کا تصفیہ کرتے ہیں۔ حواریوں کے الفاظ سوال سے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سوال سے پہلے بھی ان کو حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے اور پھر قرب قیامت میں بار دوم آنے کا حال معلوم ہو چکا تھا۔ یعنی وہ یہ وقت تھا۔ جب اللہ تعالیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کا وعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دے چکا تھا اور ان الفاظ کے معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نیز ان کے حواری وہی سمجھے تھے، جو آج جمہور مسلمانوں نے سمجھے ہیں۔ ورنہ تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا کیا نشان ہے۔“ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح تو خود ان میں موجود تھے اور آنے میں کیا کسر رہ گئی تھی۔)
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پیشگوئی کیسے صاف اور واضح الفاظ میں حتمی طور پر فرمائی ہے اور اطلاع دی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو مسیح کا نام اور درجہ اپنے لیے ثابت کریں گے۔ پھر علامت اور نشان کے طور پر فرما دیا کہ جھوٹے مسیح
اس زمانہ میں پیدا ہوں گے جب لڑائیاں شروع ہوں گی۔ یا لڑائیوں کی افواہ، قوم قوم پر بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی۔ کال، وبائیں، زلزلے آئیں گے اب ان علامات پر نظر غور سے دیکھو۔ پہلے مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ یاد کرو جَعَلْنٰکَ مَسِيْحَ ابْنِ مَرْيَمَ یعنی میں مسیح ہوں پھر فرانس کا جنگ۔ سیام سے سوڈانیوں کا، مصر سے انگریزوں کا۔ افریقہ میں وحشی لوگوں سے۔ ہندوستان میں برہما اور شمالی پہاڑی والوں سے وغیرہ وغیرہ پر نگاہ ڈالو۔ پھر روس اور انگلستان کی اور جرمن و فرانس کی اور یونان و روم کی جنگ کی افواہیں یاد رکھو۔ اور پھر اس نتیجہ کو جو مسیح علیہ السلام نے نکالا ہے انصاف سے دیکھو کہ وہ جھوٹے مسیح بہتیروں کو گمراہ کرنے والے ہوں گے۔)
یوحنا کی انجیل میں دیکھئے۔ (۲۸) تم سن چکے ہو کہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمھارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھے پیار کرتے تو میرے اس کہنے سے کہ میں باپ پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے۔ (۲۹) اور اب میں نے تمھیں اس کے واقع ہونے سے پیشتر کہا ہے تاکہ جب ہو جائے تم ایمان لاؤ (متی کے ۲۴ باب مرقس کے ۱۳ باب اور لوقا کے ۲۱ باب) میں بھی اسی طرح ہے۔
اب مرزا قادیانی انصاف اور حق پسندی کی راہ سے فرمائیں کہ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کا بیان ان کے نزول کے بارہ میں جو اس قدر مفصل ہے اور اناجیل اربعہ میں منقول ہے کیوں منظور نہیں فرماتے۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ میں نے تم کو کہا کہ جاتا ہوں اور تمھارے پاس پھر آتا ہوں۔ زیادہ تر تدبر اور غور کے قابل ہے۔ ظاہر ہے۔ ”پھر آتا ہوں۔“ وہی شخص کہا کرتا ہے جو پہلے جایا کرتا ہے۔ پہلے جانا حضرت مسیح علیہ السلام کا ہمارے اور مرزا قادیانی کے نزدیک مسلم ہے (گو اس کی کیفیت میں اختلاف ہو) مگر پھر آتا ہوں۔“ کی مرزا قادیانی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا پھر آنا محال اور قدرت کے خلاف ہے۔ اندریں حالت کہ مرزا قادیانی ”فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّکْرِ“ پکار رہے ہیں اور انجیل حضرت مسیح علیہ السلام کا بذاتِ خود دنیا پر مکرر آنا بآواز بلند پکار رہی ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے کیوں اور کیونکر اس آیت کو وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل بنایا ہے اور نہ صرف خوش اعتقاد مریدوں کو بلکہ کل مسلمانوں کو کیسی صریح غلطی میں ڈالنا چاہا ہے۔
یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اہل کتاب کی آسمانی کتاب میں نزولِ مسیح علیہ السلام کی کیفیت کیا لکھی ہے؟ اب میں ایلیاہ کے اس قصہ پر توجہ کرتا ہوں۔ جس کا حوالہ
اس آیت مستدلہ کے تحت میں مرزا قادیانی نے دیا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ یہود حضرت ایلیاہ کی آمد کے منتظر تھے۔ جب حضرت مسیح علیہ السلام نے نبوت کا اظہار کیا تو یہود نے یہ اعتراض کیا کہ پہلے ایلیاہ آنا چاہیے تھا اگر تو مسیح ہے۔ بتا ایلیاہ کہاں ہے؟ حضرت مسیح علیہ السلام کا جواب اس بارہ میں انجیل میں یوں تحریر ہے کہ حضرت یوحنا کی طرف اشارہ کر کے آپ نے فرمایا۔ آنے والا ایلیاہ یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو اس جواب کا وہی مطلب ہے جو مرزا قادیانی نے سمجھا ہے۔ مگر ناظرین انجیل کو ذرا تامل سے ملاحظہ فرمائے۔ اسی انجیل میں یہ بھی ہے کہ جب علماء یہود کے فرستادوں نے خود حضرت یوحنا سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں۔ آیا مسیح ہیں کہا میں نہیں ہوں۔ پوچھا۔ کیا آپ ایلیا ہیں۔ فرمایا۔ میں نہیں ہوں۔ آیا وہ نبی ہیں (وہ نبی ترجمہ ہے آنحضرت کا) کہا میں نہیں ہوں۔ انھوں نے پھر دریافت کیا کہ اگر آپ نہ مسیح ہیں نہ ایلیا ہیں نہ وہ نبی ہیں تو پھر کون ہیں۔ حضرت یوحنا یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا میں وہ ہوں۔ جس کی یسعیاہ نبی نے خبر دی تھی۔
اب دیکھو کہ اگر انجیل کا یہ بیان ہے کہ مسیح نے یوحنا کو ایلیا بتایا تو انجیل ہی کا یہ بیان ہے کہ یوحنا نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔
فرمایئے۔ مسیح جو دوسرے کے بارہ میں کہہ رہا ہے وہ سچا ہے یا یوحنا جو خود اپنے حال کی خبر دیتا ہے۔ وہ صادق ہے۔ نبی دونوں ہیں۔ نتیجہ کیا نکالو گے؟ یہی کہ نبی تو دونوں سچے ہیں۔ ہاں۔ مسیح کے قول میں تحریف ہو گئی ہے۔ اس قدر لکھنے کے بعد جس سے ایلیا کا یوحنا ہونا غلط محض ثابت ہو چکا۔ یہ بھی درج کر دینا چاہتا ہوں کہ یہودی اگر حضرت ایلیا کے آنے کے قائل بھی تھے تو ان کے اعتقاد میں یہ ہرگز نہ تھا کہ وہ خود آسمان پر سے اترے گا دیکھو علماء یہود نے حضرت یوحنا سے آ کر یہ پوچھا ہے کہ تو مسیح ہے یا ایلیا یا وہ نبی، اگر ایلیا کے آسمان سے نزول فرمانے کے وہ قائل ہوتے تو حضرت یوحنا پر مسیح اور وہ نبی ہونے کا شبہ نہ کرتے اور جب انھوں نے شبہ کیا تو اس کے صرف دو معنی ہیں یا تو یہود مسیح اور وہ نبی اور ایلیا تینوں کے نزول من السماء کے قائل تھے اور یہ بداہت باطل ہے کیونکہ مسیح اور وہ نبی تو ہنوز بار اوّل بھی دنیا میں پیدا نہ ہوئے تھے یا یہ کہ وہ ایلیاہ کے بجسدہ آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہ تھے اور یہی فقرہ کا مطلب ہے۔ بدیں صورت مرزا قادیانی کی وجہ استدلال کچھ بھی نہ رہی اور ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے اس آیت سے استدلال کرنے میں چند در چند غلطیاں کیں اور مغالطے دیے ہیں۔
تیسویں آیت يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًه فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر ۲۷-۳۰) ”اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو میری بہشت میں۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گذشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاریؒ نے بھی مبسوط طور پر اپنے صحیح میں لکھا ہے ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے (کیونکہ اس حدیث کی رُو سے آنحضرت ﷺ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام شب معراج دوسرے آسمان پر ملے جبکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام جو بالاتفاق فوت ہو چکے ہیں وہیں موجود تھے، چونکہ مسیح علیہ السلام بھی فوت شدہ لوگوں کے ساتھ پائے گئے لہٰذا انھیں بھی فوت شدہ ہی تسلیم کرنا پڑے گا۔ مرتب) لہٰذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم علیہ السلام کا فوت ہو جانا ماننا پڑے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۷، ۶۱۸ خزائن ج ۳ ص ۴۳۳)
مرزا قادیانی کی وجہ استدلال یہ ہے کہ گذشتہ جماعت میں داخلہ جب مل سکتا ہے جب انسان مر جائے اور صحیح بخاری کی حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت شدہ نبیوں کے گروہ میں شامل تھے لہٰذا یہ نص وفات مسیح پر دلالت صریح رکھتی ہے۔
جواب.......! ناظرین مرزا قادیانی کا صغریٰ و کبریٰ دونوں غلط ہیں۔ صحیح بخاری کی اسی حدیث پر جس کا مرزا قادیانی نے حوالہ دیا ہے اگر تدبر کرتے تو اس غلطی پر وہ جلد مطلع ہو جاتے۔ مرزا قادیانی فرمائیے نبیوں کی فوت شدہ جماعت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے والا کون تھا۔ ظاہر ہے۔ ہمارے سید و مولیٰ محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت آپ ﷺ اسی دنیوی حیات میں تھے۔ پس جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کا گذشتہ انبیاء کے گروہ میں دخل ہونا۔ داخلہ مل جانے کے بعد کچھ تفاوت نہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے ہو یا زیادہ دیر کے لیے اسی طرح مسیح ؑ بھی اس وقت اس گروہ میں موجود تھے۔ اس غلطی کے بعد دوسری غلطی مرزا قادیانی کی یہ ہے کہ انھوں نے اس آیت سے استدلال کیا۔ اگر وہ يَاعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ اور يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِيْ دونوں پر چشم بصیرت سے نظر فرماتے تو ان کو صداقت کا نور درخشاں
نظر آتا۔ پہلی آیت میں عیسیٰ ؑ مخاطب ہیں، عیسیٰ ؑ میں جسم اور روح دونوں شامل ہیں اور دوسری میں صرف نفس یعنی روح مخاطب ہے۔ پہلی آیت میں رَافِعُكَ اِلَیَّ ہے اور دوسری میں ارجعی دنیا بھر کے لغات میں تلاش کر لو نہ رجوع بمعنی رفع ملے گا اور نہ رفع بمعنی رجوع پھر ایک کو دوسری سے کیا مناسبت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ رفع کے معنی کلام الٰہی میں وہی ہیں جو اس کے لغوی اور حقیقی معنی ہیں اور مرزا قادیانی نے اپنی تقویت کے لیے لفظ کو اس کے اصلی معنی سے پھیر کر کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔
مرزا قادیانی آپ نے رَافِعُكَ اِلَیَّ کو اِرْجِعِی اِلٰی رَبِّکِ کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ اور اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ بھی ہم معنی ہیں تو آپ کیا جواب دیں گے؟
جواب.....۲ نیز مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ایک ہی پیالہ میں مسیح کے ساتھ گوشت کھایا ہے دیکھئے۔ (تذکرہ ص ۴۲۷) نیز یہ بھی لکھا کہ میں نے کئی مرتبہ مسیح کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا کھایا۔ نعوذباللہ۔ یہ بات انھوں نے اور کسی بھی نبی کے متعلق نہیں لکھی تو معلوم ہوا کہ مسیح بحالت حیات ہیں کیونکہ اکل و شرب زندوں کے ساتھ ہی متعلق ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ زندہ متوفی کے ساتھ ملاقات کر سکتا ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو بھی مردار تسلیم کریں۔
چوبیسویں آیت اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط (الروم ۴۰) ”اللہ وہی ہے جس نے تم کو بنایا، پھر تم کو روزی دی، پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا قانونِ قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے، پھر تکمیل اور تربیت کے لیے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقدم اسے ملتا ہے پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کی رو سے مسیح علیہ السلام کے واقعاتِ خاصہ باہر رکھے گئے ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۳)
الجواب ناظرین یہ سچ ہے کہ ان واقعات چارگانہ میں کل مخلوق داخل ہے۔ مگر حرف ثُمَّ جو ہر حالت کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات آنِ واحد ہی میں شخصِ واحد پر گزر نہیں لیتے۔ بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستمعین کے لیے آیت خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ کے الفاظ صیغہ ماضی
کے ساتھ ہیں اور ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کے الفاظ صیغہ مضارع سے ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ گو مستمع پر دو واقع گزر گئے ہوں اور گزر رہے ہوں۔ مگر دو امور آئندہ پیش آئیں گے۔ پس جب آیت کا مفہوم زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضیٰ نہیں بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مر جانا ہے اور سب پر ان واقعات چارگانہ نے گزر لینا ہے تو وفات مسیح پر استدلال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہے کہ ہر ایک کی عمر و موت مختلف رزق مقسوم کے مناسب حال ہوتا ہے۔ اس لیے آج کل حضرت مسیح ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ کے مصداق حال ہیں؟
اس کے بعد ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ کے مرحلہ میں داخل ہوں گے اور پھر سب کے ساتھ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ کے مرحلہ میں فلا اشکال ولا استدلال۔
پچیسویں آیت كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ (الرحمٰن ۲۶،۲۷) ”جو کوئی اس پر ہے فنا ہونے والا ہے اور باقی رہے گا منہ تیرے رب کا بزرگی اور عظمت والا۔“
قادیانی استدلال ”مطلب یہ کہ ہر ایک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں، وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جوان کو بڈھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں، خدا تعالیٰ نے فَان کا لفظ اختیار کیا یَفْنِیْ نہیں کہا تا معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ آئندہ کسی زمانہ میں یک دفعہ واقع ہوگی بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح علیہ السلام کو کائنات الارض سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۱۹، ۶۲۰ خزائن ج ۳ ص ۴۳۳)
الجواب ناظرین ہمارا ایمان ہے کہ ہر شے کے ساتھ فنا لگی ہوئی ہے۔ ہم مرزا قادیانی کے بیان کو سچ جانتے ہیں کہ یَفْنِیْ کی جگہ فَان کا لفظ اختیار کرنے میں یہی بلاغت اور حکمت تھی۔ مگر مرزا قادیانی یہ فرمائیں کہ اس میں وفات بالفعل کی دلیل کہاں ہے۔ یہ بھی جناب ممدوح کا مولوی صاحبان پر افترا محض ہے کہ مسیح بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے۔ ہاں ہم یہ ضرور اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ کے تغیر و تبدل کا اثر بعض جسموں پر (غیر معمولی کہو، خرق عادات کے طور پر سمجھو) ایسا خفیف ہوتا ہے کہ وہ اثر نہ خود اس جسم کو
محسوس ہوتا ہے اور نہ اس کے دیکھنے والے کو۔ اصحاب کہف جب ۳۰۹ برس کے بعد اٹھے تو انھوں نے اپنے خواب کی درازی مدت کو صرف يَوْماً اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ خیال کیا تھا علی ہٰذا۔ جب ان میں سے ایک بازار میں گیا۔ تو بازار والے بھی جسمی ساخت وغیرہ سے اس کو اپنے ہی زمانہ کا ایک شخص سمجھ کر ( کیونکہ ان کو بھی کوئی ایسا تغیر نہ معلوم ہوا۔ جس سے وہ ان کو گذشتہ چار صدیوں کا آدمی خیال کر لیتے) اور ان کے ہاتھ میں نہایت پرانے عہد کا سکہ دیکھ کر دور و دراز کے خیالات میں پھنس گئے تھے۔ تغیر و تبدل کے اثر کا تفاوت طبقات ارض پر بھی ہے۔ گرم ولایت میں مرد و زن جلد جوان ہو جاتے ہیں اور سرد میں ان سے کئی سال بعد گرم ولایت کے رہنے والے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ سرد ولایت کے بہ دیر، آسمانی زمین پر رہنے والوں میں تغیر و تبدل ایسا کم اور غیر محسوس ہے جس کے لیے کسر اعشاریہ کے صفر بھی مشکل سے کفایت کر سکتے ہیں۔
جواب کون نہیں جانتا کہ كُلُّ مَنْ کی تحت میں آسمان کے فرشتے بھی شامل ہیں اور مرزا قادیانی بھی جانتے ہیں کہ فَانٍ کا اثر ان پر بھی ہے۔ یعنی سلسلہ فنا ان کے ساتھ ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ مگر یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ہزاروں برس سے عبادت کرنے والے ہنوز ایسے زمانہ تک جس کی حد انسانی وہم و گمان سے برتر ہے زندہ رہیں گے اب مرزا قادیانی کے نزدیک اگر مولوی صاحبان نے مسیح علیہ السلام کے جسم پر جو زمین آسمانی پر ہے۔ نامعلوم تغیر و تبدل کا تا نزول ہونا مان لیا ہے اور اس ماننے سے ان کی توحید اور ان کی اطاعت قرآن کریم کے دعویٰ باطل ہو گئے ہیں تو کیا خود مرزا قادیانی پر وہی اعتقاد دربارۂ فرشتگان رکھنے میں وہی اعتراض عاید نہ ہوں گے سُبْحَانَ اللَّهِ قَضَى الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ اسی کو کہتے ہیں۔
جواب آفتاب و مہتاب زمین و آسمان سیدنا مسیح علیہ السلام سے قبل کے ہیں کیا ان پر فناء آ گئی یا آئے گی؟ اگر آئے گی تو مسیح علیہ السلام پر بھی آئے گی۔ بحث تو امکان میں نہیں بلکہ وقوع میں ہے۔
جواب ویسے بھی ہر کلیہ مخصوص البعض ہوتا ہے۔ دیکھئے اس چہار گونہ کلیہ کو کہ اس میں تو تمام مخلوقات داخل بھی نہیں ہوتے کیونکہ کوئی وجود حیات سے قبل ہی ختم ہو جاتا ہے اور کوئی بعد حیاۃ و قبل الرزق۔ اور کوئی مرحلہ رزق کے کسی حصہ میں۔ یعنی ابتدا میں۔ وسط میں یا انتہاء میں پھر ہر مرحلہ یکساں نہیں تو معلوم ہوا کہ ہر ضابطہ اور کلیہ استغراقی نہیں ہوتا بلکہ بطور جنس کے ہوتا ہے۔ استثنائی صورتیں متعدد ہوتی ہیں۔
نیز کل من علیہا فان کا دائرہ تاثیر ابتداء سے چلا آ رہا ہے جو کہ آخر کار صورِ اوّل تک منتہی ہو جائے گا تو اس وقت کل من علیہا فان اور لمن الملک الیوم کا اعلان ہوگا۔ اس وقت واقعہ کوئی بھی زندہ نہ ہوگا نہ مسیح نہ کوئی اور فرد مخلوق۔ فلا نزاع ولا جدال.
چھبیسویں آیت إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَ نَهَرٍه فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرِه (القمر:۵۵،۵۴) ”جو لوگ ڈرنے والے ہیں باغوں میں ہیں اور نہروں میں۔ بیٹھے سچی بیٹھک میں نزدیک بادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ ہے۔“
قادیانی استدلال ”اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے، یعنی خدا تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے، سو اگر رَافِعُكَ اِلَیَّ کے یہی معنی ہیں جو مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا تو بلاشبہ جنت میں بھی داخل ہو گیا، جیسے کہ دوسری آیت ارجعی الی ربک جو رافعک الی کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گذشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم علیہ کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا، فالحمد لِلّٰہ الذی احق الحق وابطل الباطل و نصر عبدہٗ ایّد مامورہ“
(ازالہ اوہام ص ۶۲۱ خزائن ج ۳ ص ۴۳۵)
جواب اس آیت مستدلہ کا تعلق مرنے کے بعد سے نہیں بلکہ روز قیامت سے ہے۔ الفاظ قرآنی یہ ہیں بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّه إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلٰلٍ وَسُعُرٍ آگے چار آیتیں مجرمین ہی کے بیان میں ارشاد فرما کر فرمایا إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَنَهَرٍ معزز ناظرین نہ صرف مرزا قادیانی کا ترجمہ ہی غلط ہے بلکہ یہ بھی کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کی بنا پر جو یہ اصول قائم کیا تھا (حالانکہ الفاظ میں اس اصول کی طرف صراحت تو کیا دلالت بھی نہیں) کہ انسان مرنے کے ساتھ ہی بہشت میں چلا جاتا ہے۔ وہ سراپا غلط ہے۔ قرآن مجید میں ہے يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَئْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ وَاُزْ لِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيْدٍ. هٰذَا مَاتُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبٍ اُدْخُلُوْهَا بِسَلَامٍ ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِه (ق:۳۰۔۳۴) جس روز ہم جہنم کو پوچھیں گے تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کیا اور کچھ بھی ہے؟ اور
(جس روز) متقین کے واسطے جنت کو آراستہ کر کے قریب لائیں گے۔ یہ وہ بہشت ہے۔ جس کا وعدہ ہر رجوع کنندہ (احکام کے) محافظ کو دیا گیا تھا جو شخص بن دیکھے رحمٰن سے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔ اس کو اس بہشت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر دو۔ یہ دن یوم خلود ہے۔ یہ آیت کس قدر مرزا قادیانی کے تلازم اور ایک آن کے مسئلہ کو باطل کر رہی ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی بڑی تفصیل و تشریح ہے سب کی جامع ایک ہی حدیث ہے۔ "رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ میں سب سے پہلے دروازہ جنت جا کر کھٹکھٹاؤں گا۔ رضوان پوچھے گا آپ کون ہیں۔ میں کہوں گا "محمد ﷺ رضوان دروازہ کھول دے گا اور کہے گا۔ مجھے یہی حکم تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں"؟ اگر مرزا قادیانی کا یہ مذہب ٹھیک ہے تو ان کو اس حدیث کے بعد بتلانا پڑے گا کہ وفات محمد مصطفیٰ ﷺ سے پہلے تک جس قدر برگزیدگان خدا انتقال کرتے رہے وہ سب کہاں جنت کے باہر رہے۔ یہ تمام تقریر تو مرزا قادیانی کی اصولی غلطی ظاہر کرنے کے لیے لکھی گئی۔
جواب اب یہ عرض ہے کہ آیت مستدلہ مرزا قادیانی کے دعویٰ پر ذرا دلیل نہیں۔ بالفرض ان کا یہ بیان صحیح ہے کہ انسان مرتے ہی جنت میں داخل ہو جاتا ہے تو وفات مسیح پر یہ کیا دلیل ہے۔ برگزیدہ بندوں میں داخل ہونا اگر دلیل وفات ہوتی تو شب معراج میں ہی رسول کریم ﷺ کا وفات پانا ایک مسلم واقع ہوتا۔ جب ایسا نہیں ہوا تو آپ کا یہ استدلال ایسا بودا اور ضعیف ہے۔ جس کو دعویٰ سے ذرا مناسبت نہیں۔
جواب مرزا قادیانی اپنی کوتاہ عقلی سے سمجھے بیٹھے ہیں کہ آسمان پر صرف جنت ہے اور کوئی جگہ اور خطہ نہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ آسمان تو سات ہیں اب ہر آسمان تمام کا تمام جنت میں مانیں گے؟ مرزا قادیانی! آسمان ایک نہایت وسیع و عریض مقامات ہیں۔ اس میں خدا جانے کیا کیا ہے رفع سماء سے دخول جنت لازم نہیں آتا۔ دیکھئے سید دو عالم ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو بے شمار مقامات کی سیر کے بعد جنت کی سیر فرمائی وہاں منازل صحابہؓ ملاحظہ فرمائے۔ مسیح علیہ السلام کا رفع آسمانوں پر ہوا نہ کہ جنت موعودہ میں۔ (فافہم)
ستائیسویں آیت إِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنَى اُوْلٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ O لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا وَهُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ O (الانبیاء ۱۰۱-۱۰۲) "جن کے لیے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اس سے دور رہیں گے نہیں سنیں گے اس
کی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت سے مراد حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام ہیں ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے ان کی موت پایہ ثبوت پہنچتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۲۲ خزائن ج ۳ ص ۴۳۵)
جواب مضمون آیت یہ ہے کہ نیک بندے بہشت میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام مر گئے مرتے ہی بہشت میں داخل ہونے کا غلط ہونا ثابت ہو چکا۔ بالفرض یہ عقیدہ صحیح درست ہے تاہم اس اصول سے کہ مردے فوراً داخل بہشت ہوتے ہیں وفات مسیح بالفعل کہاں ثابت ہو گئی؟
جواب یہ سلسلہ کلام روز حشر کے بعد کے ساتھ متعلق ہے جو امر حشر کے بعد سے متعلق ہو اس کے فرضی نتائج سے دنیا میں عقیدہ کا اثبات احمقوں کی جنت کے باسی کی ہی چال ہو سکتی ہے۔
اٹھائیسویں آیت اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ۔ (۷۸) ”یعنی جس جگہ تم ہو اسی جگہ موت تمھیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بود و باش اختیار کرو۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض و آفات منجر الی الموت تک پہنچاتا ہے اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔“
(ازالہ ص ۶۲۲ خزائن ج ۳ ص ۴۳۶)
جواب......! یہاں بھی مرزا قادیانی نے تحریف قرآنی کا ارتکاب کر کے غلط نتیجہ کشید کرنے کی نامراد کوشش کی ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے آیت کے صحیح معنی و مفہوم پر نظر کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ جب صحابہ کرام کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے۔ کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ آپ ﷺ نے کفار کے مقابلہ کے لیے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات یا منافقین نے جنگ سے جی چرانا چاہا۔ ان کی تنبیہ کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں کئی رکوع اسی مضمون سے متعلق نازل ہوئے۔ ان میں یہ آیت کریمہ بھی ہے ”کہ جنگ میں جانے سے جی چرا کر تم
موت سے نہیں بچ سکتے۔ موت تو کہیں بھی آ سکتی ہے۔ اگر چہ بلند و بالا برجوں میں کیوں نہ رہو پھر بھی موت آئے گی۔“ اب اس آیت میں موت کا آنا یقینی ہے اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ کہاں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔
۲....... تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوق کی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ بحث اس میں ہے کہ اس وقت زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔ مرزا قادیانی کا موقف ہے کہ فوت ہو گئے اس آیت میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ثابت ہو کہ وہ فوت ہو گئے۔ پس مرزا کا یہ دجل اور تحریف ہے۔ مرزا کے دل کا چور بھی مرزا کو ملامت کرتا تھا کہ تم غلط استدلال کر رہے ہو۔ اس لیے مجبورا اسے کہنا پڑا ”یہ اشارۃ النص بھی مسیح بن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں“ مرزا نے غلط کہا اس میں اشارۃ النص نہیں بلکہ مرزا قادیانی کی ”شرارۃ النفس“ نے اسے اس تحریف پر مجبور کیا ہے۔
۳....... مرزا کا کہنا کہ ”موت اور لوازم موت ہر جگہ جسم خاکی پر وارد ہوتے ہیں۔“ یہاں بھی مرزا کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح مسلمان و کافر امتی اور نبی کی کیفیت موت میں فرق ہے اس طرح زمین پر رہنے والے اور آسمان پر رہنے والے اجسام کے لوازم موت یا اثرات میں بھی فرق ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نفخۂ جبرائیل علیہ السلام سے پیدا ہوئے۔ اس لیے آسمانوں پر قیام فرشتوں کی طرح ان کے جسم مبارک پر اثرات کے مرتب کا فرق ظاہر و باہر ہے۔ مرزا کا مرشد ابلیس بھی اگر اب تک زندہ ہے تو اس کے جسم پر اثرات موت و لوازم موت میں مرزا کی نسبت تفاوت ہے۔ تو زمین پر رہنے والوں اور ساکنان سماء کا اجسام پر لوازم موت کے تفاوت اثرات سے انکار نہیں کرنا چاہیے؟
۴....... ”اور زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں“ یہ صرف مرزا قادیانی کا عقیدہ نہیں بلکہ کفار مکہ، مادہ پرست، منکرین بعثت یہی کہتے تھے۔ وَقَالُوْا مَاهِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيىٰ وَمَا يُهْلِكُنَا اِلَّا الدَّهْرُ. (جاثیہ۲۴) وہ (کفار) کہتے تھے کہ ہمیں دنیوی زندگانی ہی کافی ہے۔ ہم مرتے اور پیدا ہوتے ہیں اور حوادث زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتے ہیں کفار مکہ و منکرین بعثت حوادث زمانہ کو موت اور لوازم موت سمجھتے تھے۔ یہی راگ آج مرزا قادیانی الاپ رہا ہے جبکہ مسلمانوں کے نزدیک موت صرف اور صرف مشیت الٰہی یفعل ما یشاء اور ”مشیت“ ذات باری کی مرضی و منشاء پر منحصر ہے۔ کوئی ماں کے پیٹ سے مردہ برآمد ہوا۔ کوئی چند ساعات، کوئی چند سال، کوئی چند صدیاں، جس کو جتنا چاہے زندہ رکھے۔ یہ خالق کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے جس کو چاہے موت
دے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ ان کی وفات کے وقوع کا اس آیت میں اشارہ یا شائبہ تک نہیں۔ پس جبکہ مرزا اخسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق ہے۔
- ۵...... مرزا نے اپنی مطلب برآری کے لیے آیت میں تحریف کر کے اشارۃ النص ثابت کرنا
چاہی۔ جبکہ صراحۃ النص بل رفعہ اللہ (قرآن) ان عیسی لم یمت (حدیث) ان ینزل فیکم (حدیث) کی موجودگی اس بات پر دلیل بین ہے کہ مرزا قادیانی نے یہاں بھی تحریف سے کام لیا ہے۔
- ۶...... یدرککم الموت۔ یہ مضارع ہے۔ موت تم کو پائے گی نہ کہ پا چکی۔ مضارع کو
ماضی میں لینا، عیسیٰ علیہ السلام جن کی تخصیص منقولاً ثابت ہو چکی ان کو عموم میں ثابت کرنا۔ قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔
انیسویں آیت وَمَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۔ (الحشر ۷) ”اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔“
قادیانی استدلال ”یعنی رسول جو کچھ تمھیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہٰذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۲۳ خزائن ج ۳ ص ۴۳۶)
الجواب آئیے مرزا قادیانی اسی آیت پر عمل کریں اور دیکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام کے بارہ میں کیا فرمایا ہے۔
- ۱...... امام حسن بصریؒ سے مروی ہے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لِلْيَهُوْدِ اِنَّ عِيْسٰى لَمْ يَمُتْ وَاِنَّهُ
رَاجِعٌ اِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶ و ۵۷۶ ابن جریر ج ۳ ص ۲۸۹) رسول خدا ﷺ نے یہود کو (جو وفات عیسیٰ کے قائل تھے) فرمایا۔ حضرت عیسیٰ ؑ ہرگز نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔“ حدیث میں لَمْ یَمُتْ کا لفظ غور طلب ہے کیونکہ لَمْ نفی تاکید کے لیے آتا ہے اور مضارع کو بمعنی ماضی کر دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰ ؑ نہیں مرے۔ اس حدیث پر شاید جرح ہو سکتی ہے کہ مرسل ہے۔ امام حسن بصریؒ نے صحابی کا نام نہیں لیا مگر یہ جرح مرزا قادیانی اور ان کے اخوان کی طرف سے تو ہو نہیں سکتی کیونکہ مرزا قادیانی نے مباحثہ لدھیانہ تسلیم کیا ہے۔ ”مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔“ مرسل حدیث بکلی پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض نہیں ہوتی، اب رہے اہل حدیث۔ وہ بھی اس حدیث پر کچھ جرح نہیں کر سکتے کیونکہ امام حسن بصریؒ سے بروایت صحیح ثابت ہو
چکا ہے کہ جب وہ روایت حدیث ارسال کرتے ہیں تو اس حدیث کے راوی حضرت علی مرتضیٰؓ ہوتے ہیں مگر بنی امیہ کے خلاف اور شورش کے خوف سے آپ نام نہیں لیا کرتے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث بالا مرفوع ہے اور اس کی سند بھی جید اور عالی ہے۔ ”مرزا قادیانی اگر اٰتٰکُمُ الرَّسُولُ پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو اس حدیث کے سامنے سر اطاعت خم کریں۔
۲...... ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب خروج الدجال کی حدیث میں ہے لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عِیْسٰی نَبِیٌّ وَّ اِنَّہٗ نَازِلٌ میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہی عیسیٰ تم میں نازل ہوں گے۔ ان الفاظ کو مرزا قادیانی ایمانی نظر سے دیکھیں کہ کس کا آنا ثابت ہوتا ہے اور کس کی زندگی واضح ہے؟
۳...... امام احمد کی مسند اور ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب خروج الدجال میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں شب معراج کو حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام سے ملا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیم ؑ کے سپرد کیا گیا۔ انھوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں پھر حضرت عیسیٰ ؑ کو فیصلہ دیا گیا۔ انھوں نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدا نے میرے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہوگی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو یوں پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔
مرزا قادیانی کیا یہ احادیث مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو آپ ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ اگر آپ کے نزدیک مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ میں جملہ احادیث نبوی میں سے صرف وہ دو حدیثیں داخل ہیں جو آپ نے اس آیت کے تحت میں لکھی ہیں تو واضح ہو کہ یہ دو حدیثیں بھی آپ کے مدعا کے لیے ذرا مثبت نہیں۔
۱...... ترمذی ج ۲ ص ۱۹۵ ابواب الدعوات کی یہ حدیث آپ نے پیش کی ہے کہ اَعْمَارِ امتی مابین الستین اِلى السَّبْعِیْنَ وَاَقَلُّہُمْ مَنْ یَّجُوْزُ ذٰلِکَ جس کا ترجمہ بھی آپ نے صحیح کیا ہے کہ ”میری امت کی اکثر عمریں ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ بھی اُمم میں داخل ہیں۔ نزول کے بعد جب امت میں عملاً شمار ہوں گے تب تو چالیس پنتالیس کے عرصہ میں ان کا وصال ہو جائے گا۔ پھر یہ حدیث کیا دلیل آپ کے لیے ہے؟
۲...... دوسری حدیث مسلم ج ۲ ص ۳۶۰ ابواب الفضائل کی یہ پیش کی ہے مَا عَلٰی
الْأَرْضِ مِنْ نَّفْسٍ مَّنْفُوْسَةٍ يَّأْتِيْ عَلَيْهَا مِائَة سنة وَهِيَ حَيَّةٌ جو زمین کے اوپر جاندار ہے۔ ایسی مخلوق نہیں کہ اس پر سو برس گزریں اور وہ زندہ ہو مَا عَلَی الْأَرْضِ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ حکم صرف ان نفوس منفوسہ کے لیے ہے جو اس وقت زمین پر موجود تھے۔ ورنہ مَا عَلَی الْأَرْضِ کی شرط لغو ٹھہرتی ہے بلکہ زیادہ تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم ﷺ کو یہ تخصیص کرنے کے وقت حضرت مسیح ؑ کا ضرور خیال گزرا ہے اور اس لیے ایسے الفاظ استعمال فرمائے جو روئے زمین کے کل انسانوں پر تو حاوی ہوسکیں۔ مگر حضرت مسیح ؑ اس سے مستثنیٰ بھی رہیں۔ لفظ الارض پر جن علماء نے علمی بحث کی ہے اور آیاتِ ربانی کے قرائن سے الارض کے الف لام کو یقین کے لیے قرار دیا ہے۔ اس بحث میں تو مرزا قادیانی الارض کو ربع مسکون پر بھی اطلاق نہ کرسکیں گے بلکہ جزیرہ عرب ہی مختص ہو جائے گا۔ الغرض یہ احادیث بھی آپ کے لیے کچھ ممد و معاون نہیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ کے امر واجب الاذعان کو جو نہایت وسیع اور عام ہے صرف دو حدیثوں کے اندر (جن کو آپ نے بہزار دقت اپنے مفید بنایا تھا۔ مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے) محدود جانتے ہیں بلکہ جہاں کہیں رسول معصوم کے ارشادات جن کی اطاعت ہم پر فرض کی گئی ہے۔ ان کے اوہام نفسانی کی مخالفت کرتے ہیں اس جگہ آپ نہایت دلیری اور جرأت سے احادیث رسول پر مخالفانہ حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نگاہ میں احادیث نبوی کی وقعت کو پرکاہ سے بھی کم ظاہر کر دیں۔ اس بیان کے ثبوت میں کہ انھوں نے کس طرح پر جا بجا احادیث نبوی پر حملہ کیے ہیں اور کیسے کیسے پیرایہ میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا زور و شور سے تحریر کیا ہے۔ مجھے زیادہ حوالے دینے کی ضرورت نہیں۔ میں اس جگہ صرف اس قدر دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ کا امر واجب الاذعان اس وقت فراموش ہو جایا کرتا ہے۔
جواب مرزا اور اس کے پیروکار یہ بھی خیال فرما لیں کہ آج تک بے شمار ائمہ دین، مجددین، ملہمین، مفسرین، متکلمین ہوئے ہیں انھوں نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔ سنا اور سمجھا، انھوں نے جو اس کا مفہوم لیا اور اپنایا اس کے حوالہ سے جو اس کا مصداق و مفہوم ہوگا وہ ہمیں سو فیصد تسلیم و منظور، اس کے سوا ہم کسی بھی وسوسے اور شبہے کو سننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ لایئے پوری امت سے ایک آدمی پیش کریں جس نے اس آیت سے وفات مسیح ؑ مراد لی ہو۔ ایک مفسر قیامت تک پوری قادیانی امت اس موقف پر یہاں پیش نہیں کرسکتی۔
تیسویں آیت اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا O (بنی اسرائیل ۹۳) ”یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔“
قادیانی استدلال ”اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انھیں صاف صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی خاکی جسم کو آسمان پر لے جائے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم علیہ السلام کا آسمان پر جانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الٰہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا، لہٰذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسدہ عنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۲۵، خزائن ج ۳ ص ۴۳۷)
جواب ”یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدا کا پیغمبر بن جائے اور ہر ایک پر وحی نازل ہو جایا کرے۔ اس کی طرف قرآن شریف نے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَاِذَا جَاءَ تْهُمُ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ ۘ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (یعنی جس وقت کوئی نشانی کفار کو دکھائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب نازل نہ ہو تب تک ایمان نہ لائیں گے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کس جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہیے۔ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ۶۹۱ خزائن ج ۱ ص ۱۸۱) الغرض مرزائی مصنف کی پیش کردہ آیت سے بشر رسول کا آسمان پر جانا ناممکن الحال ثابت نہیں ہوتا۔“
مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے صاحب اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آسمان پر لے جانا عادت اللہ نہیں بلکہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ آسمان پر چلا جانا انسانی قدرت سے تو بالاتر ہے لیکن خدا تعالیٰ قادر ہے اگر کسی نبی کو چاہے آسمان پر لے جا سکتا ہے۔ بھلا یہ مسلمان کب کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ آسمان پر جا بیٹھے مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے اٹھایا ہے۔ ہاں شاید یہ شبہ ہو کہ تو پھر کیوں کفار کے مطالبہ کے موافق یہ معجزہ حضور ﷺ سے ظاہر نہ کیا گیا تا کہ وہ ایمان لے آتے کفار کے مطالبہ کو کیوں روکا گیا کیا وہ یہ کہتے تھے کہ تم اپنی ہی قدرت سے یہ کرشمہ دکھلاؤ ان کا ہرگز یہ خیال نہ تھا تا کہ یہ جواب دے دیا جاتا کہ بذات خود مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اصل بات یہ
ہے کہ کفار مکہ کے یہ سوالات کسی غرض صحیح اور تحقیق حق پر مبنی نہ تھے بلکہ محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا چنانچہ سوال ہوتا ہے اوتاتی بالله والملئکہ قبیلا (بنی اسرائیل ۹۲) یعنی اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے گواہ لاؤ جو محال قطعی ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھیں لیکن کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزہ کی درخواست پر جمے نہیں رہے بلکہ اس کے ساتھ یہ چاہا کہ پھر ہمارے سامنے آسمان سے اترو اور ہر ایک کے نام خدا کی طرف سے نوشتہ اور کتاب لے کر آؤ کہ ہم اس کو پڑھیں یعنی ہم پر بھی خدا کی کتاب نازل کر کہ اے فلاں بن فلاں محمد ﷺ پر ایمان لاؤ یعنی گویا رسول بنا دے حالانکہ یہ خدا کا کام ہے کہہ دے کہ میں تو بشر اور خود اس کا رسول ہوں کسی کو نبی اور رسول بنانا اور خدا کی طرف سے اس کے نام کتاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے مگر میرا اللہ پاک ہے کہ ایسے گندے اور ناپاک روحوں کو اپنا نوشتہ اور اپنی کتاب بھیج کر رسول بنائے یا ان کے سامنے شہادت دینے آئے معاذ اللہ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه (الانعام ۱۲۴) یعنی کفار مکہ نے کہا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم کو بھی دیا جائے مثل اس کے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے یعنی رسالت و وحی و کتاب و معجزے وغیرہ فرما دیجئے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت کو رکھے یعنی تمھارے جیسے گندے اور ناپاک اور خبیث النفس رسالت کے کب قابل ہیں اور بعض سوال ممکن بھی تھے اور وہی معجزے طلب کیے تھے جو پہلے رسولوں سے ظاہر ہو چکے لیکن محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا جیسے شق القمر کا معجزہ ظاہر کیا گیا مگر انھوں نے پھر بھی جھٹلایا چنانچہ خود ارشاد خداوندی ہے۔ مَامَنَعْنَا أَنْ نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُوْنَ (بنی اسرائیل ۵۹) قوله تعالیٰ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَ تْ لَا يُؤْمِنُونَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ (الانعام ۱۰۹-۱۱۰) "نہیں روکا ہم کو کہ ہم معجزوں کو بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ جھٹلا چکے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکید سے کہ اگر ان کو ایک معجزہ پہنچے تو البتہ اس پر ایمان لائیں فرما دیجئے کہ معجزے تو اللہ کے پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے ہو کہ جب معجزے آئیں گے تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور ہم اُلٹ دیں گے ان کے دل اور آنکھیں جیسے ایمان نہیں لائے پہلی بار" غرض یہ سوال محض عناد پر مبنی تھے لیکن اگر ان فرمائشی معجزات کو
پورا بھی کر دیا جاتا تب بھی وہ ایمان نہ لاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پھر وہ بالکل تباہ اور برباد کر دیے جاتے کیونکہ اقتراحی معجزے کے بعد امہال اور استدراج نہیں ہوتا جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔
اگر کہا جائے کہ آسمان پر چڑھایا جانا ممکن تو ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے آسمان پر پہنچا سکتا ہے کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی چیز انہونی نہیں لیکن یہ عام سنت جاریہ اور عام عادت اللہ کے خلاف ہے۔ مگر یہ مرزا قادیانی ہرگز نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقۃ الوحی ص ۴۹ و ۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲ میں لکھتے ہیں۔ ”اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام۔“ پس جب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خدا کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے نہیں ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہوتی ہے تو پھر رفع عیسیٰ علیہ السلام و زیادتی عمر بلا ارذل عمر پر کیوں تعجب ہے۔ اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ۔ (آل عمران ۵۹) جب آدم علیہ السلام زمین سے جنت میں پھر جنت سے زمین پر آ چکے ہیں ایسے عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسمان پر پھر آسمان سے زمین پر آنا ہوگا۔
باب ششم
حیات مسیح علیہ السلام اور بزرگان امت
قرآن و سنت کی طرح پوری امت کے اکابر بھی حضرت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی حیات، رفع الی السماء، نزول من السماء عند قرب الساعۃ کے قائل ہیں۔ اس پر ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی مستقل تصنیف ہے۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجددین و اکابر امت کی نظر میں“ اس تصنیف میں ترتیب وار چودہ صدیوں کے سینکڑوں اکابر کی تحریرات و تصریحات کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ تصنیف تحفہ قادیانیت جلد سوم کے ص ۷۱ سے ص ۲۶۴ پر طبع شدہ ہے۔ قادیانی دجال جس طرح قرآن و حدیث میں تحریف کے تیر چلاتے ہیں۔ اسی طرح اکابرین امت کی عبارات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر یہودیوں کے کان کترتے ہیں۔ جن اکابر پر قادیانی وفات مسیح کا الزام دیتے ہیں۔ ذیل میں ہم فقط ان کی تحریفات کے جوابات عرض کرتے ہیں۔
حضرت امام حسنؓ
ایسا ہی حضرت امام حسنؓ پر قادیانیوں نے بہتان باندھا ہے کہ انھوں نے وفات حضرت علیؓ کے خطبہ میں کہا لقد قبض اللیلۃ عرج فیہا بروح عیسیٰ ابن مریم.
(طبقات کبریٰ جلد ۳ ص ۲۸، مرزائی پاکٹ بک ص ۲۰۵)
الجواب......۱ طبقات ابن سعد کا ایک قول نقل کرنا ہی دلیل صداقت سمجھا جائے؟ قرآنی و تفسیری، حدیثی ہزاروں اقوال کے مقابلہ میں ایک قول کو عقیدہ کے لیے بنیاد بنانا قادیانی الحاد کی دلیل ہے۔
جواب......۲ دوم۔ چونکہ خود اسی کتاب کا مصنف قائل حیات مسیح ہے جیسا کہ جلد ۱ ص ۲۵ پر حضرت ابن عباسؓ کا قول دربارہ ثبوت حیات مسیح نقل کر کے مصنف نے اس پر کوئی جرح نہیں کی وہو ہذا۔
”وان اللہ رفع بجسدہ وانہ حی الان وسیرجع الی الدنیا فیکون فیہا
ملكا ثم يموت كما يموت الناس ۔“ یعنی تحقیق مسیح بمع جسم کے اٹھایا گیا ہے ولاریب وہ اس وقت زندہ ہے، دنیا کی طرف آئے گا اور بحالت شاہانہ زندگی بسر کرے گا پھر دیگر انسانوں کی طرح فوت ہوگا۔
اس روایت نے فیصلہ کر دیا کہ رفع سے مراد رفع جسمی ہے اور اگر حضرت حسنؓ والی روایت درست ہے تو اس کا بھی یہی مطلب ہے۔ جس سے مراد یہ ہوگی کہ عرج فيها بروح الله عیسیٰ ابن مریم یعنی عیسیٰ بن مریم روح اللہ اٹھایا گیا۔
ایسا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ عموماً روایات میں الفاظ الٹ پلٹ ہو جایا کرتے ہیں اور تو اور خود صحیح بخاری کی احادیث میں بھی ایسا موجود ہے چنانچہ ہم حدیث لا تفضلونى على يونس کسی نے لا تفضلونی کہا کسی راوی نے لا تخیرونی کہا۔ کسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دیگر انبیاء کو بھی شامل کیا لا تخیروا بین انبیاء الله وغیرہ۔
خود یہی زیر تنقید روایت مختلف طریقوں سے کتابوں میں مرقوم ہے۔ درمنثور والے نے لیلۃ قبض موسیٰ درج کیا ہے۔ درمنثور ج ۲ ص ۳۶ اور یہ صاحب درمنثور قادیانیوں کے مسلمہ مجدد ہیں۔
الغرض ایسی غیر معتبر روایات میں فیصلہ کا صحیح طریق یہی ہے کہ جو بات احادیث صحیحہ و قرآن کے مطابق ہو وہی صحیح سمجھی جائے۔ باقی کو غلط و مردود قرار دیا جائے۔
جواب ......۳ اب اسی بارے میں ایک اور روایت مستدرک حاکم ج ۴ ص ۱۲۱ باب ۱۸۴۴ قتل علی لیلۃ انزل القرآن روایت نمبر ۴۷۴۲ پر روایت ہے۔ جسے درمنثور نے بھی نقل کیا ہے۔ عن الحریث سمعت الحسن بن على يقول قتل ليلة انزل القران وليلة اسری بعیسٰی و ليلة قبض موسیٰ (درمنثور جلد ۲ ص ۳۶) ”حریث کہتے ہیں میں نے حسنؓ سے سنا کہ حضرت علیؓ اس رات قتل کیے گئے جس رات قرآن اترا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سیر کرائے گئے اور موسیٰ علیہ السلام قبض کیے گئے ۔“
حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت علیؓ جو شہید ہو گئے تھے قتل کا لفظ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وفات پا گئے ہوئے تھے قبض کا استعمال ہوا مگر مسیح علیہ السلام چونکہ زندہ جسم اٹھائے گئے تھے اس لیے ان کے حق میں اسریٰ فرمایا گیا ہے۔ اسریٰ بہ اذا قطعہ بالسیر جب کوئی شخص چل کر مسافت طے کرے اس کو سرایت بولتے ہیں۔ خود قرآن پاک میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بمع مومنین کے راتوں رات مصر سے نکلے یہ خروج بحکم خدا تھا۔ فَأَسْرِ بِعِبَادِيْ لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُوْنَ . (دخان ۲۳) ”لے چل
میرے بندوں کو راتوں رات لے چل تحقیق تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔” اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق وارد ہے کہ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعِ مِّنَ الَّيْلِ. (سورہ الحجر ۶۵) ”لے نکل اپنے اہل کو ایک حصہ رات میں۔“ حاصل یہ کہ اگر حضرت حسنؓ کا خطبہ امرِ واقع ہے تو یقیناً اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمعہ جسم اٹھائے گئے اور یہی حق ہے جو قرآن و حدیث کے مطابق ہے۔
عجیب تائید الٰہی
مرزائیوں نے اس روایت کو وفاتِ مسیح کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ خدا کی قدرت یہی حیاتِ مسیح کی مثبت ہو گئی۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے۔ دلیل یہ کہ اس روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات صاف مذکور ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی انھیں زندہ مانتے ہیں۔
(نورالحق حصہ اوّل ص ۵۰ خزائن ج ۸ ص ۶۹)
حضرت امام بخاریؒ
ایسا ہی حضرت امام بخاریؒ پر قادیانیوں نے افترا کیا کہا جاتا ہے کہ وہ بھی وفاتِ مسیح ؑ کے قائل تھے۔ دلیل یہ کہ انھوں نے حضرت ابوبکرؓ کا خطبہ جس میں وفاتِ مسیح ؑ مذکور ہے اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت متوفیک، ممیتک کو بخاری میں نقل کیا ہے۔ الجواب ہم ثابت کر آئے ہیں کہ صحابہ کرامؓ خاص کر ابن عباسؓ کو قائلینِ وفاتِ مسیح قرار دینا قطعاً جھوٹ ہے۔ ان کی روایات سے وفات ثابت نہیں ہوتی بلکہ دیگر بیسیوں روایات سے حیات ثابت ہے۔ پس اس بودی دلیل پر بنیاد قائم کر کے امام بخاریؒ کو قائل وفات کہنا یقیناً پرلے سرے کی جہالت ہے۔ سنو! امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت جس میں نزولِ مسیح کا ذکر اور ان کے ابھی تک زندہ ہونے کا تذکرہ اور آخرِ زمانہ میں نازل ہونے کا اظہار موجود ہے یعنی وہ روایت جس میں آیت اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سے حضرت ابوہریرہؓ نے مسیح علیہ السلام کے حیات ہونے پر دلیل بنایا ہے (اور مرزا قادیانی نے غصہ میں حضرت ابوہریرہؓ کو غبی فہم قرآن میں ناقص درایت سے حصہ نہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔ اعجاز احمدی ص ۱۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۷) کو نقل کر کے اور اسی طرح دیگر صحابہ کی روایات جن میں نزولِ مسیح ؑ کا ذکر ہے۔ بخاری شریف میں نقل کر کے ان پر کوئی جرح یا انکار نہ کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ
وہ بھی حیات مسیح ؑ کے قائل تھے اور کیوں نہ ہوتے جب کہ آنحضرت ﷺ خدا کی قسم کھا کر نزول مسیح ؑ کا اظہار فرماتے ہیں اور حضرت ابوہریرہؓ آیت قرآن کے ساتھ اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں اور امام بخاریؒ خود اس روایت کو بخاری شریف میں درج فرماتے ہیں۔
- ۲....... امام بخاریؒ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر نزول تک کے واقعات
کو صحیح بخاری میں نقل کیا ہے اور مختلف باب باندھے ہیں۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔
- ۱....... باب قول الله تعالى وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ. الآية.
- ۲....... باب وَإِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِكَةُ. الآية.
- ۳....... باب وَإِذْ قَالَتِ الْمَلٰئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ
عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ. الآية.
- ۴....... باب قوله يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِي دِيْنِكُمْ. الآية.
- ۵....... باب وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ. الآية.
- ۶....... باب نزول عيسىٰ ابن مریم عليهما السلام.
پھر ہر ایک باب کے بعد آنحضرت ﷺ کی احادیث لائے ہیں۔ آخری باب کے شروع پر کوئی آیت قرآن نہیں لکھی کیونکہ اس باب میں جو حدیث لائے اس کے اندر خود آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سے تمسک کیا ہوا ہے۔
حضرات! غور فرمائیے کہ حضرت امام بخاریؒ اسی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں جس کا ذکر مختلف ابواب میں کیا ہے یا کسی اور شخص کے لیے؟
- ۳....... نیز بخاری شریف میں نزول عیسیٰ بن مریم کا باب تو ہم نے دیکھا ساری دنیا کے
مرزائی مل کر امام بخاریؒ کی کتاب میں وفات مسیح بن مریم کا باب دکھا سکتے ہیں؟ نہیں اور قیامت تک نہیں تو پھر قادیانی چیف گرو و لاٹ پادری مرزا اور قادیانیوں کو امام بخاریؒ پر کذب بیانی کرتے شرم آنا چاہیے۔ لیکن شرم اور قادیانیت آپس میں ضد ہیں۔ حضرت امام بخاریؒ تو کیا ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ ان احادیث نبویہ میں سوائے مسیح ابن مریم کے کسی آئندہ پیدا ہونے والے پنجابی شخص مریض مراق کی آمد کا تذکرہ ہے۔ حاصل یہ کہ حضرت امام بخاریؒ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
- ۴....... اس پر مزید تشفی کے لیے ہم ان کی تاریخ سے ان کا فرمان نقل کرتے ہیں۔ يُدْفَنُ
عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَصَاحِبَيْهِ فَيَكُوْنُ قَبْرُهُ رَابِعًا.
(درمنثور جلد۲ ص ۲۴۵)
۵....... ليدفن عيسى بن مريم مع النبى ﷺ فی بیتہ۔ عیسیٰ بن مریم آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے حجرہ شریف میں دفن ہوں گے۔
(تاریخ الکبیر للبخاری ج ۱ ص ۲۶۳ نمبر ۸۳۹)
امام مالکؒ
ایسا ہی امام مالکؒ پر قادیانیوں نے جھوٹ باندھا ہے کہ وہ بھی وفات کے قائل تھے اس پر مجمع البحار وشرح اکمال الاکمال سے نقل کیا ہے کہ قال مالک مات عیسٰی۔ الجواب اول تو یہ قول بے سند ہے کوئی سند اس کی بیان نہیں کی گئی۔ پس کیسے سمجھا جائے کہ اس جگہ مالک سے مراد امام مالکؒ ہیں اور یہ روایت صحیح ہے؟
۲....... بعض سلف کا یہ بھی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جانے سے قبل سلائے گئے تھے۔ چنانچہ لفظ توفی کے یہ بھی ایک معنی ہیں۔ وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ (انعام ۶۰) اللہ وہ ذات ہے جو رات کو تمہیں سلا دیتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن میں کماتے ہو۔ پس اگر یہ فی الواقع امام مالکؒ کا قول ہے تو اس سے مراد سلاتا ہے ”کیونکہ مات کے معنی لغت میں نام بھی ہیں۔ دیکھو قاموس۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۳۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۵)
۳....... وفى العتبية قال مالك بين الناس قيام يستمعون لاقامة الصلٰوة فغشاهم غمامة فاذا انزل عيسٰی (شرح اکمال الاکمال ج ۱ ص ۴۳۶) عتبیہ میں ہے کہ کہا مالک نے لوگ نماز کے لیے تکبیر کہہ رہے ہوں گے کہ ایک بدلی چھا جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ اس تصریح کے اسی کتاب میں ہوتے ہوئے بھی کوئی دجال حضرت امام مالکؒ کو وفات مسیح ؑ کا قائل قرار دے تو دلائل کی دنیا میں اسے کون قائل کر سکتا ہے؟ الغرض امام مالکؒ حیات مسیح و نزول فی آخر الزمان کے قائل تھے۔ چنانچہ آپ کے مقلدین معتقد ہیں۔ حیات مسیح علیہ السلام کے۔ علامہ زرقانی مالکی لکھتے ہیں: رفع عیسٰی وھو حی علی الصحیح۔ (شرح مواہب لدنیہ ج ۵ ص ۳۵۱ یہاں ص ۴۳۶ سے ۴۵۲ تک حیات مسیح کی تفصیل درج کی ہے)
نیز علامہ زرقانی نے شرح مواہب ج ۱ ص ۱۱۶ پر نزول مسیح ج ۶ ص ۱۶۳ پر حیات مسیح ج ۸ ص ۲۹۶ پر مسیح ؑ کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تدفین کا ذکر کیا ہے۔
نوٹ۔ اور واضح ہو کہ کتاب عتبیہ امام مالکؒ کی نہیں ہے بلکہ امام عبدالعزیز اندلسی قرطبی کی ہے۔ جس کی وفات ۲۵۴ میں ہوئی۔ (کشف الظنون ج ۱ ص ۱۰۶۔۱۰۷)
امام ابو حنیفہ و احمد بن حنبلؒ
مذکورہ بالا ائمہ کرام کے متعلق بھی قادیانیوں نے بلا ثبوت افترا کیا ہے کہ یہ سب اس مسئلہ میں خاموش تھے لہٰذا وفات مسیح کے قائل تھے۔
الجواب "نزول عيسى عليه السلام من السماء حق كائن"
(فقہ اکبر مؤلفہ امام اعظم ص ۵۴ مطبوعہ گوجرانوالہ)
- ۲...... امام احمد بن حنبل کی مسند میں تو بیسیوں احادیث حیات مسیح کی موجود ہیں۔ لہٰذا ان
کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی اس کے لیے مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵ ج ۲ ص ۲۲، ۳۹۔ ۶۸ ۔ ۸۳، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۴۴، ۱۵۴، ۱۶۶، ۲۳۵، ۲۷۲، ۲۹۰، ۲۹۸، ۲۹۹، ۳۳۶، ۳۹۲، ۴۰۶، ۴۱۱، ۴۳۷، ۴۸۲، ۴۹۴، ۵۱۳، ۵۳۸، ۵۴۰، ج ۳ ص ۳۳۵، ۳۶۸، ۳۸۴، ۴۲۰ ج ۴۔ ۱۸۱، ۱۸۲، ۲۱۶، ۲۱۷، ۳۹۰، ۴۲۹ ج ۵ ص ۱۳، ۱۶، ۲۷۴ ج ۶۔ ص ۷۵ پر نظر کی جائے تو چمکتی دمکتی ۳۹ روایات نظر آ جائیں گی۔ امام احمد کی مسند کی کوئی جلد حیات مسیح کی روایات سے خالی نہیں۔ لہٰذا ان کو قائل وفات گرداننا انتہائی ڈھٹائی ہے۔
علامہ ابن حزمؒ
امام ابن حزم کے خلاف بھی غیروں کی کتابوں کی بنا پر قادیانیوں نے اتہام باندھا ہے۔ حالانکہ وہ برابر حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔
- ۱...... ان عیسیٰ ابن مریم سینزل (المحلی ج ۱ ص ۹۴ اس مقام پر اس صراحت کے بعد وہ
نزول عیسیٰ بن مریم ؑ کی احادیث لائے ہیں)
- ۲...... فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبيا في الارض حاشا ما
استثناه رسول اللہ ﷺ في الاثار المسندة الثابتة عن نزول عيسى ابن مريم في اخر الزمان (کتاب الفصل جلد ۳ ص ۱۱۴) یعنی کسی مسلمان سے کس طرح جائز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کو ثابت کرے۔ الا اسے جسے رسول اللہ ﷺ نے احادیث صحیحہ ثابتہ میں مستثنیٰ کر دیا ہو۔ عیسیٰ بن مریم کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کے بارے میں۔"
- ۳...... واما من قال ان بعد محمد ﷺ نبيا غير عيسى ابن مريم فانه لا يختلف
اثنان في تكفيره. الفصل في الملل والاهواء والنحل ج ۲ ص ۲۶۹ باب فيمن يكفر. "جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ بعد آنحضرت ﷺ کے سوائے عیسیٰ ابن مریم
کے کوئی اور نبی ہے (مثلاً غلام احمد قادیانی) اس شخص کے کفر میں امت محمدیہ میں سے دو کس بھی مخالف نہیں۔“ الفصل ج ۱ ص ۱۰۱ پر امام حزم نے وفاۃ کی دو قسمیں بیان کیں۔ ایک نیند اور دوسری موت۔ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى میں موت کے معنی کو متعین کر کے ان کے رفع جسمی کے قائل ہیں کہ ان پر چند ساعتوں کے لیے موت واقع ہوئی۔ اس وقت وہ زندہ ہیں۔ آسمانوں پر موجود ہیں۔ نازل ہوں گے۔ پوری امت کی طرح وہ اس کے قائل ہیں۔
- ۴...... ان عيسى عليه السلام لم يقتل ولم يصلب ولكن توفاه الله عزوجل ثم
رفعه اليه...... ومن قال انه عليه السلام قتل او صلب فهو كافر مرتد حلال دمه وماله لتكذيبه القرآن و خلافه اجماع. (المحلی ج ۱ ص ۱۰۱) ”عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ صلیب پر چڑھائے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے کر پھر زندہ کیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور جو ان کے قتل یا صلیب پر چڑھائے جانے کا قائل ہو (جیسے مرزا) وہ کافر و مرتد ہے۔ واجب القتل ہے۔ اس لیے وہ قرآن کی تکذیب اور اجماع (امت) کے خلاف کرنے والا ہے۔“
- ۵...... احادیث صحیحہ سے نزول مسیح کے قائل ہیں۔
(الفصل ج ۱ ص ۹۵)
- ۶...... تورات و انجیل عیسیٰ ؑ کے رفع کے بعد باطل ہو گئیں۔
(الفصل ج ۱ ص ۲۳۶)
- ۷...... مسیح ؑ کے حواری ان کے رفع کے بعد تین سو سال بے خانماں رہے۔
(الفصل ج ۱ ص ۲۵۳)
- ۸...... الفصل ج ۱ ص ۲۳۹ پر ہے کہ قسطنطنیہ عیسیٰ ؑ کے رفع کے تین سو سال بعد فتح ہوا۔
- ۹...... الفصل ج ۳ ص ۱۹۱ پر ہے کہ جو لوگ (جیسے مرزائی) کہتے ہیں کہ اس امت میں
کوئی عیسیٰ ؑ سے افضل ہو سکتا ہے۔ وہ بے حیاء ہے۔ جو غیر نبی کو نبی پر فضیلت دے (جیسے مرزا قادیانی، ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے معاذ اللہ) ان تصریحات کے بعد ابن حزم کو وفات کا قائل قرار دینا صریحاً ڈھٹائی ہے۔
مولانا عبدالحق محدث دہلوی اور نواب صدیق حسن خان
ایسا ہی مولانا عبدالحق محدث دہلوی اور مولانا نواب صدیق حسن خاں قنوجیؒ پر قادیانیوں نے افترا کیا کہ انھوں نے عمر مسیح ۱۲۰ برس لکھی ہے۔ لہٰذا وہ وفات کے اقراری ہیں۔
الجواب یہ بزرگ حیات کے قائل ہیں۔ البتہ ان کا یہ خیال ہے کہ مسیح ؑ کا ۳۳ برس کی عمر میں رفع نہیں ہوا۔ ایک سو بیس کی عمر میں وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور
زندہ اٹھائے گئے ہیں۔
”ونزول عیسیٰ بن مریم و یاد کرد آنحضرت ﷺ فرود آمدن عیسیٰ را از آسمان برزمین“ (کتاب اشعۃ اللمعات جلد ۴ ص ۴۳۴ مصنفہ شیخ عبدالحق دہلوی)
ایسا ہی جلد ۴ ص ۴۲۷ پر مسیح کا آسمان سے نازل ہونا لکھا ہے۔ ایسا ہی تفسیر حقانی میں لکھا ہے ”اور یہ حق ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب قیامت کے قریب نازل ہوں گے سو اس وقت سوا دین حق کے اور کوئی دنیا پر غالب نہ ہوگا۔ اس وقت یہود بھی اس جلال و شوکت کو دیکھ کر ایمان لائیں گے اور یہ معنی اس حدیث سے ثابت ہیں کہ جس کو بخاری و مسلم نے ابوہریرہؓ سے نقل کیا کہ قیامت کے قریب عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کر دیں گے۔“
(تفسیر حقانی سورۃ نساء زیر آیت وان من اہل الکتاب)
اور نواب صدیق حسن خاں نے تو اپنی کتاب حجج الکرامۃ میں نزول و حیات مسیح علیہ السلام پر ایک مستقل باب باندھا۔ جس میں آیت وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ سے استدلال کیا۔ یہ باب حجج الکرامۃ کے ص ۴۲۲ سے ص ۴۳۴ پر محیط ہے۔ اس سے بیسیوں آیات و احادیث رسول ﷺ و اقوال صحابہؓ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور آسمانوں سے قرب قیامت نزول اور آنحضرت ﷺ کے روضہ طیبہ میں تدفین کی روز روشن کی طرح صراحتیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی کوئی بدنصیب قادیانی، مولانا نواب صدیق حسن خان کو وفات مسیح کا قائل قرار دیتا ہے تو اس کا علاج ویقتل الخنزیر ہی ہے۔ فافہم۔
امام ابن قیمؒ
اس بزرگ امام پر قادیانیوں نے بھی ہاتھ صاف کیا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کو وفات شدہ خیال کرتے تھے کیونکہ انھوں نے مدارج السالکین میں لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ اگر موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے، حدیث نقل کی ہے۔
الجواب امام ابن قیم نے ہرگز اس قول کو حدیث نہیں کہا بلکہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ مطلب ان کا اس قول سے نہ ثبوتِ حیات دینا مطلب ہے نہ وفات کا تذکرہ، بلکہ مقصود ان کا یہ ہے کہ اگر آج زمین پر موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے تو نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتے۔ یعنی زمین کی زندگی کو فرض کر کے آنحضرت ﷺ کی بزرگی ثابت کرنا چاہی ہے نہ کہ وفات کا اظہار۔ چنانچہ وہ اسی عبارت میں جسے مرزائی خیانت
سے نقل نہیں کرتے۔ آگے چل کر نزول مسیح علیہ السلام کا اقرار فرماتے ہیں۔ ومحمد ﷺ مبعوث الى جميع الثقلين فرسالته عامة لجميع الجن والانس فی كل زمان ولو كان موسى و عيسى حيين لكانا من اتباعه واذا نزل عيسى ابن مريم فانما يحكم بشريعة محمد ﷺ
(مدارج السالکین ج ۲ ص ۳۱۳ مطبوعہ مصر ج ۲ ص ۲۴۳)
”یعنی آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام کافہ جن و انس کے لیے اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام (آج زمین پر) زندہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کرتے اور جب عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا تو وہ شریعت محمدیہ ﷺ پر ہی عمل کرے گا۔“
مرزائیو! اپنی اغراض کو پورا کرنے کے لیے کسی کے اصل مفہوم کو بگاڑنا بعید از شرافت ہے۔ سنو! اگر اس قول سے ضرور وفات ہی ثابت کرنا چاہو گے تو ساتھ ہی مرزا قادیانی کی رسالت بھی چھوڑنی پڑے گی کیونکہ وہ حیات موسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ اس قول میں موسیٰ علیہ السلام کی وفات مذکور ہے۔ فما جوابكم فهو جوابنا.
بالآخر ہم امام ابن قیم کی کتب سے بعبارۃ النص حیات مسیح کا ثبوت پیش کرتے ہیں جس سے ہر ایک دانا جان لے گا کہ ابن قیم کا وہی مطلب ہے جو ہم نے اوپر لکھا ہے وفات مقصود نہیں۔
- ١...... وهذا المسيح ابن مريم حي لم يمت وغذاؤه من جنس غذاء الملئكة.
(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیم ص ۱۳۹)
مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا فرشتوں کی غذا جیسی ہے۔
- ٢...... وانه رفع المسيح اليه (ص ۲۲ کتاب مذکورہ) تحقیق اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو
اپنی طرف اٹھا لیا۔
- ٣...... وهو نازل من السماء فيحكم بكتاب الله ”اور وہ آسمان سے نازل ہو کر ۔
قرآن پر عمل کرے گا۔“
(ہدیۃ الحیاریٰ مع ذیل الفارق ص ۴۳ مطبوعہ مصر)
حافظ محمد لکھویؒ
اس بزرگ پر بھی قادیانیوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ وفات مسیح کا قائل تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ، اور افتراء بلکہ بے ایمانی ہے وہ اپنی تفسیر موسومہ ”محمدی“ جلد اوّل ص ۲۹۱ زیر آیت ومکروا ومکر الله الآیة لکھتے ہیں کہ جب یہود نے مسیح کو پکڑنا چاہا۔
اس چھت اندر ہک باری اوتھوں ول اسمان سدھارے
سردار تہاندے طیطیانوس نوں کیتا حکم زبانوں
جو چڑھے چوبارے قتل کریں عیسیٰ نوں ماریں جانوں
جاں چڑھ ڈٹھس وچہ چوبارے عیسیٰ نظر نہ آیا
شکل شباہت عیسیٰ دی رب طیطیانوس بنایا
انہاں ظن عیسیٰ نوں کیتا سولی فیر چڑھایا
ہک کہن جو مرد حواریاں تھیں ہک سولی مار دیوایا
یعنی خدا نے اس وقت جبرائیل بھیجا جو عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گیا۔ جب طیطیانوس انہیں قتل کرنے کے ارادہ سے اندر گیا تو خدا نے اسے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بنا دیا جسے سولی دیا گیا۔ اسی طرح اگلے صفحہ پر آیت انی متوفیک ورافعک کی تفسیر کرتے ہیں۔
تے اپنی طرف تینوں کنوں کفاراں پاک کریساں
توفی معنی قبض کرن شے صحیح سلامت پوری
تے عیسیٰ نوں رب صحیح سلامت لیگیا آپ حضوری
یعنی جب کہا اللہ تعالیٰ نے اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ توفی کے معنی کسی چیز کو صحیح و سلامت پورا لینے کے ہیں۔ سو ایسا ہی خدا نے مسیح کو اپنے حضور میں بلا لیا۔
ابن عربیؒ
اگرچہ مرزا قادیانی نے مسئلہ وحدۃ الوجود کے رد میں حضرت ابن العربی کو سب سے پہلا وجودی قرار دیا۔ (ملفوظات ج ۳ ص ۳۰۶) پھر ان وجودیوں کو دھریہ قابل نفرت اور قابل کراہت قرار دیا۔ (ملفوظات ج ۸ ص ۵۳) مگر جہاں ضرورت پڑی انھیں صاحب مکاشفات ولی اللہ ظاہر کر کے اپنی اغراض نفسانیہ کو پورا بھی کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ بزرگ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ اس پر تفسیر عرائس البیان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود یہی بات مشکوک ہے کہ یہ تفسیر ان کی ہے بھی یا نہیں پھر جو عبارت پیش کی جاتی ہے اس میں بھی وفات مسیح کا کوئی لفظ نہیں صرف
یہ ہے کہ مسیح دوسرے بدن کے ساتھ اترے گا۔ اب دوسرے بدن کا مطلب ظاہر ہے، جب تک حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر رہے بوجہ طعام ارضی ان میں کثافت ہی موجود تھی مگر اب صد ہا برس کے بعد جب نازل ہوں گے تو یقیناً روحانیت کا غلبہ تام ہوگا۔
حضرت ابن عربی تو حیات مسیح علیہ السلام کے اس قدر قائل ہیں کہ کوتاہ نظر انسان انھیں غلو تک پہنچا ہوا، اقرار دے گا۔ تفصیل کے لیے فتوحات مکیہ دیکھیں۔ اس جگہ صرف اختصار کے طور پر ایک دو عبارات پیش کرتا ہوں۔
”ان عیسٰی علیه السلام ینزل فی هذه الامة فی آخر الزمان و یحکم بشریعة محمد ﷺ۔
(فتوحات مکیہ ج ۲ ص ۱۲۵ سوال ۱۴۵)
انه لم یمت الی الان بل رفعه الله الی هذه السماء واسکنه فیها.
(ج ۳ ص ۳۴۱ باب ۳۶۷)
ایسا ہی جلد اوّل ص ۱۳۵۔۱۳۴ و ص ۱۸۵۔۲۲۴ و جلد ۲ ص ۳۔۴۹ و ص ۱۲۵ و جلد ۳ ص ۵۱۳ وغیرہ میں حیات مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔
ابن جریرؒ
امام ابن جریرؒ نے جا بجا اپنی تفسیر میں حیات مسیح کا ثبوت دیا ہے چونکہ تفاسیر میں مختلف لوگوں کے اقوال نقل ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے کسی کا قول نقل کر دیا ہے کہ قد مات عیسیٰ مرزائیوں نے جھٹ اسے ابن جریر کا قول قرار دے دیا۔ حالانکہ ہم اس کتاب میں کئی ایک عبارتیں امام ابن جریر کی لکھ آئے ہیں۔ اس جگہ ایک اور تحریر نقل کی جاتی ہے جس میں امام موصوف نے جمیع اقوال متعلقہ توفی مسیح لکھ کر بعد میں اپنا فیصلہ دیا ہے۔
واولى هذه الاقوال بالصحة عندنا قول من قال معنی انی قابضک من الارض و رافعک علی التواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ۔ توفی کے متعلق جو بحث ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی نیند ہے اور کوئی کہتا ہے کہ توفی بمعنی موت ہے جو آخری زمانہ میں ہوگی۔ ان سب اقوال میں ہمارے نزدیک صحیح وہ قول ہے جو کہا گیا ہے کہ ”میں زمین سے پورا پورا لینے والا ہوں۔“ یہ معنی اس لیے اقرب الی الصواب ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث میں آیا کہ انه ینزل عیسٰی ابن مریم فیقتل الدجال ثم یمکث فی الارض ثم یموت. (ج ۳ ص ۲۹۱ زیر آیت انی متوفیک) بیشک وہ عیسیٰ بن مریم نازل ہوگا۔ پھر قتل کرے گا دجال کو پھر رہے گا زمین پر پھر وفات پائے گا۔
اس تحریر میں امام موصوف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ جس مسیح ابن مریم کے بارے میں آیت انی متوفیک و رافعک وارد ہوئی۔ جس میں اختلاف کیا جاتا ہے۔ وہی زمین سے اٹھایا گیا ہے اور وہی نازل ہوگا۔
مرزائیو! تمھارے نبی نے اس امام ہمام کو ”رئیس المفسرین“ اور ”معتبر از ائمہ محدثین“ لکھا ہے۔ آؤ اسی کی تحریرات پر فیصلہ کر لو۔ تم تو صرف دھوکا دینا چاہتے ہو، تمھیں ایمان و انصاف سے کیا کام؟
مصنف الیواقیت والجواہر
قادیانیوں نے کہا ہے کہ یہ بھی وفات مسیح کے قائل ہیں کیونکہ انھوں نے حدیث موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام حیین نقل کی ہے۔
الجواب پھر تو مرزا قادیانی کاذب ہیں کیونکہ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو زندہ لکھا ہے۔ ادھر ادھر کے یہودیانہ تصرف کی بجائے اگر صداقت مطلوب ہے۔ تو آؤ ہم اس بارے میں اسی بزرگ کی کتابوں پر تمھارے ساتھ شرط باندھتے ہیں جو کچھ ان میں ہو، ہمیں منظور۔ مگر
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
یہ بزرگ اپنی کتاب میں خود ہی یہ سوال کر کے کہ مسیح کے نازل ہونے پر کیا دلیل ہے۔ جواب دیتے ہیں الدلیل علی نزولہ قولہ تعالیٰ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل و یجتمعون علیہ انکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیہود والنصاریٰ (والمیرزائیہ۔ ناقل) عروجہ بجسدہ الی السماء وقال تعالیٰ فی عیسیٰ علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ والضمیر فی انہ راجع الی عیسیٰ والحق انہ رفع بجسدہ الی السماء و الایمان بذالک واجب قال اللہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ
(الیواقیت والجواہر جلد ۲ ص ۱۴۶)
”دلیل نزول مسیح پر اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب مگر ایمان لائے گا ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے پیشتر اس کے مرنے کے یعنی وہ اہل کتاب جو نزول کے وقت جمع ہوں گے اور منکر ہیں معتزلی اور فلاسفہ و یہود و نصاریٰ (اور ہمارے زمانہ میں قادیانی متنبی و ذریتہ۔ ناقل) مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہ وہ نشانی ہے قیامت کی اور ضمیر انہ کی مسیح علیہ السلام کی
طرف پھرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور واجب ہے اس پر ایمان لانا کیونکہ خدا نے قرآن میں فرمایا کہ بلکہ اٹھا لیا اللہ نے اس کو۔‘‘
قادیانی دوستو! اس تحریر کو بغور پڑھو۔ دیکھو یہ تمہارا مسلمہ و مقبولہ امام اور ولی اللہ ہے۔ کیا اب بھی ان پر افتراء ہوگا کہ وہ حیات مسیح علیہ السلام اور رفع و نزول کے قائل نہیں؟ شرم باید کرو۔
حیات مسیح، قادیانی اور مولانا عبیداللہ سندھی
قادیانی الہام الرحمٰن میں حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے حوالہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار لکھا ہے۔
جواب...... ۱ حضرت مولانا عبیداللہ صاحبؒ مرد مجاہد تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے شاگرد اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ساتھی اور امام الہند حضرت شاہ ولی اللہؒ کے نظریات کے علمبردار تھے۔ ان کی طرف وفات مسیح کی نسبت کرنا زبردست زیادتی اور غلط بیانی ہے۔ بات کا تجزیہ کرنے سے قبل چند امور لائق توجہ ہیں۔
الف...... مولانا صوفی عبدالحمید سواتی مدظلہ نے ”مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم و افکار“ کے صفحہ ۷۸ پر تحریر کیا ہے کہ:
”مولانا عبیداللہ سندھی کی طرف منسوب تحریریں اکثر وہ ہیں جو املائی شکل میں ان کے تلامذہ نے جمع کی ہیں۔ مولانا کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریرات اور بعض کتب بہت دقیق، عمیق اور فکر انگیز ہیں اور مستند بھی ہیں لیکن املائی تحریروں پر پورا اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور بعض باتیں ان میں غلط بھی ہیں جن کو ہم املا کرنے والوں کی غلطی پر محمول کرتے ہیں۔ مولانا کی طرف ان کی نسبت درست نہ ہوگی۔“
ب...... مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کے علوم و افکار صفحہ ۸۴ پر ہے کہ:
”مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا شاہ ولی اللہؒ اور مولانا شیخ الہندؒ کے طریقہ سے باہر نہیں نکلے۔ یہ باتیں ایسی ہیں کہ املاء کرنے والوں نے مولانا سندھی کی تقریر کو یا تو سمجھا نہیں یا اپنے ذہن کے مطابق کشید کیا ہے۔ یہ قابل اعتبار نہیں اور نہ لائق اعتناء ہیں۔“
ج...... مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے الفرقان شاہ ولی اللہؒ نمبر کے اداریہ صفحہ ۴ پر نگاہِ اوّلین کے تحت حضرت سندھیؒ سے نقل فرماتے ہیں کہ:
”جو بات میں ایسی کہوں جس کو حضرت شاہ ولی اللہؒ شاہ عبدالعزیزؒ اور ان کے مستخلفین یا مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے یہاں نہ دکھا سکوں تو میں اس کو ہر وقت واپس لینے
کو تیار ہوں میں ان اکابر کے علوم سے باہر نہیں جاتا۔ اگر فرق ہوتا ہے تو صرف تعبیر کا۔"
ان وضاحتوں کے بعد اب الہام الرحمٰن کی ان عبارتوں کو دیکھا جائے جو وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق ہیں۔ تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ وفات مسیح کے عقیدہ کی مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی طرف نسبت سو فیصد نہیں ہزار فیصد غلط ہے۔ اس لیے کہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ حضرت شاہ ولی اللہ کے پیروکار اور حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد تھے۔ یہ تمام حضرات، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ مولانا احمد علی لاہوریؒ ایسے بیسوں علماء حضرت سندھیؒ کے شاگرد ہیں جو سب حیات مسیح کے قائل تھے۔ تو ثابت ہوا کہ مولانا کے اساتذہ و مشائخ و شاگرد جب سب حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں، اور خود مولانا سندھیؒ فرماتے ہیں کہ میں ان کی رائے کے خلاف نہیں جاتا تو وہ پھر کیسے وفات مسیح کے قائل تھے؟
جواب.......۲ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی طرف جن کتب میں وفات مسیح کی نسبت کی گئی ہے ان میں سے ایک کتاب بھی مولانا سندھیؒ کی اپنی تحریر کردہ نہیں۔ دوسرے لوگوں نے لکھ کر ان کی طرف نسبت کر دی ہے۔ دو کتابیں اس وقت میرے سامنے ہیں۔ ایک ان کے اپنے ہاتھ کی ہے۔ دوسری انھوں نے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی کو پڑھائی اور تحریر کرائی۔ ان میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔ جب ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ کتاب میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ موجود ہے تو پھر دوسروں کی کسی بات کا کیا اعتبار ہے؟
چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے افکار پر مشتمل رسالہ محمودیہ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے ترجمہ عبیدیہ کے نام سے تحریر کیا گیا ہے۔ جس کے ص ۲۶، ۲۷ پر مولانا سندھیؒ فرماتے ہیں:
"فعسى ان تكون ساراً لافق الكمال غاشيا لا قلیم القرب فلن يوجد بعدك الا ولک دخل فی تربیته ظاهراً و باطناً حتى ينزل عیسیٰ علیه السلام"
ترجمہ: تو عنقریب کمال کے افق کا سردار بن جائے گا اور قرب الٰہی کی اقلیم پر حاوی ہو جائے گا۔ تیرے بعد کوئی مقرب الٰہی ایسا نہیں ہو سکتا جس کی ظاہری و باطنی تربیت میں تیرا ہاتھ نہ ہو۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں۔
اسی طرح الخیر الکثیر جو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تصنیف ہے جس کا ترجمہ حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے املا کرایا ہے۔ تحقیق و ترجمہ لکھنے والے مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی ہیں۔ حیدر آباد سندھ کی شاہ ولی اللہ اکیڈمی سے شائع ہوا ہے۔ اس کے صفحہ ۱۰۶ پر ہے:
"اسی نوع کے امام عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ چیز ان کو جبرائیل علیہ السلام کی
پھونک سے حاصل ہوئی ہے، اور اس لیے معین ہوا ہے کہ نازل ہو کر دجال کو قتل کرے۔“ اس کے صفحہ ۱۱۷ پر ہے: ”عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر نازل ہوں گے۔“ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے کوئی حضرت سندھیؒ کی وفات مسیح کے عقیدہ کی طرف نسبت کرے اس سے بڑا اور کوئی ظلم نہیں ہو سکتا۔
جواب......۳ الہام الرحمٰن جو موسیٰ جار اللہ وغیرہ کی تحریر کردہ ہے غلط طور پر حضرت سندھیؒ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اس کی ثقاہت کا یہ عالم ہے کہ محمد نور مرشد نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ:
”مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے بعض تابعین کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پا گئے ہیں۔“
اب جس کتاب میں مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی طرف یہ روایت کی گئی ہو اس کتاب کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے۔ اس لیے کہ مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح کی حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مستند کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے ہوتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے شارح، قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کے علمبردار، حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے متعلق جس کتاب میں ایسی بے سروپا، غلط و من گھڑت روایت درج کی جا سکتی ہے تو ناممکن نہیں کہ اس میں مولانا سندھیؒ کی طرف غلط روایت منسوب کر دی گئی ہو۔
جواب......۴ مولانا عبدالحمید سواتی دامت برکاتہم پاکستان میں حضرت سندھیؒ کے نظریات کے شارح اور ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ”مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم و افکار“ کے صفحہ ۷۴، ۷۵ پر اس مسئلہ کے متعلق تحریر فرمایا ہے:
”مولوی محمد معاویہ مرحوم آف کبیر والا بھی مولانا سندھیؒ کے مشن اور کتب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے الہام الرحمٰن جلد اوّل و جلد ثانی کا اردو میں ترجمہ بھی شائع کرایا تھا۔ اس کی اشاعت کے وقت میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ مولانا سندھیؒ کی طرف مسئلہ وفات المسیح کی نسبت درست نہیں۔ اس کی کچھ وضاحت ہونی چاہیے۔ چنانچہ انھوں نے اس کی طبع دوم کے وقت ایک مختصر سا مضمون شائع کرایا تھا۔ اصل میں وفات مسیح کا مسئلہ مرزائیوں، قادیانیوں اور لاہوریوں نے زیادہ اٹھایا تھا تاکہ وفات مسیح کو ثابت کرنے کے بعد ان تمام احادیث کی تاویل اپنے زعم فاسد کے مطابق مرزا قادیانی پر چسپاں کر سکیں اور یہ لوگ اسی عقیدہ فاسدہ کی بنا پر اور اجرائے نبوت کے قائل ہونے
کی وجہ سے تمام طبقات امت کے نزدیک مرتد کافر زندیق اور خارج از اسلام ہیں....... آج تک اہل اسلام میں سے کسی نے اس (حیات عیسیٰ علیہ السلام) کا انکار نہیں کیا اور قرب قیامت میں مسیح علیہ السلام کا نزول اجماعی عقیدہ ہے اور پھر یہ کہہ کر مغالطہ دینا کہ علم کلام کی کتابوں شرح مواقف اور عضدیہ وغیرہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بہت غلط بات ہے جبکہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہ اکبر میں اور بیان السنۃ یا عقیدۃ الطحاوی میں اس کا ذکر موجود ہے جو علم کلام کا سب سے قدیم اور صحیح ماخذ ہے۔ پھر اس کا انکار کس طرح روا ہو سکتا ہے۔ اس کو بجز گمراہی اور کجروی کے اور کیا تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور اس طرح مولانا ابوالکلام آزادؒ اور بعض دیگر علماء کرام ایک اور بات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دین کو اللہ تعالیٰ نے مکمل کر دیا ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ پر دین کی تکمیل ہو چکی ہے اور تکمیل دین کی آیت قرآن کریم میں نازل ہو چکی ہے۔ اب دین کی تکمیل کسی نئے ظہور پر موقوف نہیں۔ مسیح علیہ السلام اگر دوبارہ زمین پر آئیں گے یا مہدیؑ کا ظہور ہوگا تو یہ تکمیل دین کے لیے نہیں ہوگا بلکہ یہ قیامت کی علامات کے طور پر ہوگا۔ مسیح علیہ السلام کوئی نیا حکم جاری نہیں کریں گے۔ قرآن و سنت کے مطابق ہی عمل کریں گے اور اسی پر لوگوں کو کاربند بنائیں گے۔ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد قرآن و سنت پر عمل کرنا اور عمل کرانا یہ امت کا فریضہ ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں اور انتظار کریں کہ مسیح علیہ السلام اور مہدیؑ کا ظہور ہوگا تو اس پر عمل مکمل ہوگا۔ یہ نظریہ باطل اور گمراہ کن ہے۔ یہ روافض اور اس قسم کے گمراہ لوگوں کا اعتقاد ہو سکتا ہے نہ کہ اہل ایمان کا۔"
(ص ۷۴، ۷۵)
امام جبائی معتزلی
مرزائی قائلین وفات میں امام جبائی کا نام بھی پیش کرتے ہیں مگر باوجود معتزلی ہونے کے حیات مسیح اور رفع الی السماء کے قائل ہیں سنو! قال الجبائی انه لما رفع عیسیٰ علیہ السلام الخ.
(کشف الاسرار مطبوعہ مصر وعقیدۃ الاسلام ص ۱۲۳)
صاحب کشف الاسرار علامہ جبائی سے ناقل ہیں کہ جبائی نے فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ہوا تو یہود نے ایک شخص کو عیسیٰ کے تابعداروں سے قتل کر دیا الخ لیجئے جبائی معتزلی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ صاف صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مانتے ہیں۔
قادیانیوں نے تاریخ طبری سے لکھا ہے کہ کسی پہاڑ پر ایک قبر دیکھی گئی جس پر
لکھا تھا کہ یہ مسیح رسول اللہ کی قبر ہے۔ الجواب کیا کہنے ہیں اس دلیل بازی کے۔ کہاں قرآن و حدیث کی تصریحات اور کہاں اس قسم کی تفریحات۔ ہاں جناب ایسی قبریں سینکڑوں بنی ہوئی ہیں۔ تمھارے نبی کے عقیدہ کی رو سے تو کشمیر میں بھی ہے اور وہی اصلی قبر ہے۔ پس اگر طبری والی روایت کو صحیح سمجھتے ہو تو پہلے کشمیر کے ڈھکوسلہ کا اعلان کر دو۔ پھر ہم اس پر غور کریں گے۔
جواب......۲ تفسیر ابن جریر کے متعدد حوالے گزر چکے ہیں کہ وہ حیات، رفع و نزول من السماء سیدنا مسیح ابن مریم کے قائل ہیں۔ ان حوالہ جات کے ہوتے ابن جریر کو تاریخی روایت کی بنا پر ملزم گرداننا قادیانی سرشت کا خاصہ ہے۔
جواب......۳ عسل مصفیٰ حصہ اوّل ۴۶۸ مرزائی خدابخش نے لکھا کہ ”گو یہ قبر فرضی ہے اور بلاشک فرضی ہے ۔“
جواب......۴ تاریخ طبری کی اس روایت میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے جو کذاب ہے۔ یہ موضوع ہے اور تاریخ میں موضوع روایات سے عقیدہ کا بت تراشنا قادیانی علم کلام کا شاہکار کارنامہ ہے۔
محمد بن اسحاق کے کذب کی بابت القول المصور فی شان الموعود ص ۱۲۲، ۱۲۳ ص ۱۷۳ ص ۱۷۴ پر قادیانی سرور شاہ کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔
حافظ ابن تیمیہ
ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب البریہ کے ص ۲۰۳ خزائن ج ۱۳ ص ۲۲۱ کے حاشیے پر لکھا ہے کہ ابن تیمیہؒ بھی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ حالانکہ یہ افتراء ہے۔ امام موصوف حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح اور زیارۃ القبور . “
۱...... فبعث المسیح علیہ السلام رسلہ یدعونہم الی دین اللہ تعالیٰ فلعب بعضہم فی حیاتہ فی الارض بعضہم بعد رفعہ الی السماء فیدعوہم الی دین اللہ . الخ .
(الجواب الصحیح جلد اول ص ۱۱۶ طبع المجد التجاریۃ)
”روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتانِ زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض مسیح علیہ السلام کی زندگی میں گئے اور بعض آپ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔“
- ٢...... ينزل عيسى بن مريم من السماء على المنارة البيضا شرقى دمشق. ايضاً ص
١٧٧، عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے سفید شرقی مینار پر دمشق میں نازل ہوں گے۔
- ٣...... ص ۴۳۹ ج ۱ پر ہے کہ وہ نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عمل پیرا ہوں گے۔
- ۴...... ج ۲ ص ۲۸۳ سے ۲۸۶ تک ان من اھل الکتاب سے سیدنا عیسیٰ بن مريم کے
نزول الی الارض پر استدلال کیا ہے۔
- ۵...... ص ۴۲۴ ج ۱ پر نزول الی الارض کا اثبات ہے۔
- ۶...... ج ۱ ص ۲۸۷ پر ان کے رفع الی السماء کی صراحت ہے۔
- ٧...... ج ۲ ص ۲۸۵ پر توفی کی تین اقسام بتا کر روح مع الجسد ان کے رفع اور نزول الی
الارض کا اثبات کیا ہے۔ ان تصریحات کے بعد کوئی بد نصیب ان کو وفات مسیح کا قائل قرار دے تو اس کی مرضی؟
مجدد الف ثانیؒ
حضرت شیخ احمد سرہندی مکتوبات میں فرماتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد فرمود۔
(مکتوبات ۶۷ دفتر سوم ص ۳۰۵ مطبوعہ سعید کمپنی کراچی)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرما کر خاتم النبیین کی شریعت کی پیروی کریں گے۔
پیران پیرؒ
سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی غنیۃ الطالبین میں تحریر فرماتے ہیں۔ رفع اللہ عزوجل عيسى عليه السلام الى السماء (مصری ص ۵۵ ج ۲) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔
خواجہ اجمیری
حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کا ارشاد سنو۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام از آسمان فرود آید (انیس الارواح ص ۹) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔
حضرت ابن عباسؓ اور عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام
ابن عباسؓ سے باسناد صحیح منقول ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ
السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ؑ کو مکان کے ایک دریچہ سے آسمان پر اٹھا لیا اور ان ہی میں سے ایک شخص کو عیسیٰ ؑ کے ہم شکل اور مشابہ بنا دیا۔ یہودیوں نے اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا اور مدعی ہوئے کہ ہم اپنے مدعا میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
۱...... قال ابن ابی حاتم حدثنا احمد بن سنان حدثنا ابو معویة عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال لما اراد الله ان یرفع عیسیٰ الی السماء خرج علی اصحابه و فی البیت اثنا عشر رجلا من الحواریین یعنی فخرج علیهم من عین فی البیت و راسه یقطر ماء فقال ان منکم من یکفر بی اثنی عشر مرة بعد ان امن بی قال ایکم یلقی علیه شبهی فیقتل مکانی و یکون معی فی درجتی فقام شاب من احدثهم سنا فقال له اجلس ثم اعاد علیهم فقال ذلک الشاب فقال انا فقال هو انت ذاک فالقی علیه شبه عیسیٰ و رفع عیسیٰ من روزنة فی البیت الی السماء قال وجاء الطلب من الیهود فاخذوا الشبه فقتل ثم صلبوه الی اخر القصة وهذا اسناد صحیح الی ابن عباس و رواه النسائی عن ابی کریب عن ابی معویة و کذا ذکر غیر واحد من السلف انه قال لهم ایکم یلقی شبهی فیقتل مکانی و هو رفیق فی الجنة.
(تفسیر ابن کثیر ص ۹ - ۱۰ ج ۳)
”ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب حق تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمہ سے کہ جو مکان میں تھا غسل فرما کر باہر تشریف لائے اور سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ (بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں) باہر مجلس میں بارہ حواریین موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ ارشاد فرمایا کہ بے شک تم میں سے ایک شخص مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ کفر کرے گا بعد ازاں فرمایا کہ کون شخص تم میں سے اس پر راضی ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے درجہ میں میرے ساتھ رہے یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو اس جاں نثاری کے لیے پیش کیا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اسی سابق کلام کا اعادہ فرمایا، پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا اور عرض کیا، میں حاضر ہوں ۔
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
عیسیٰ ؑ نے فرمایا اچھا تو ہی وہ شخص ہے اس کے فوراً ہی بعد اس نوجوان پر
عیسیٰ ؑ کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ ؑ مکان کے روشندان سے آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ بعد ازاں یہود کے پیادے عیسیٰ ؑ کی گرفتاری کے لیے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو عیسیٰ ؑ سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکایا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سند اس کی صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔“
اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ ؑ کو اپنے رفع الی السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہو چکا تھا اور یہ علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا تھوڑا ہی وقت باقی رہ گیا ہے اور بظاہر یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا جیسا کہ عید میں جانے کے لیے غسل ہوتا ہے۔ بلکہ گمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ذرہ برابر مضطرب اور پریشان نہ تھے بلکہ غایت درجہ سکون اور اطمینان میں تھے بلکہ نہایت درجہ شادان و فرحاں تھے۔
- ۲...... ومن اهل الکتب میں عبداللہ بن عباسؓ سے بھی باسناد صحیح یہی منقول ہے کہ بہ
اور موتہٖ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ حافظ عسقلانی ”فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں۔
وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح ومن طريق ابى رجاء عن الحسن قال قبل موت عيسى والله انه الان لحی و لکن اذا ینزل امنوا به اجمعون۔ ونقله عن اکثر اهل العلم و رجحہ ابن جریر وغیرہ۔
(فتح الباری ص ۳۵۷ ج۶)
”اسی کا ابن عباسؓ نے جزم اور یقین کیا، جیسا کہ ابن جریر نے بروایت سعید بن جبیر ابن عباسؓ سے باسناد صحیح روایت کیا ہے اور بطریق ابی رجاء حسن بصریؒ سے اس آیت کی تفسیر قبل موت عیسیٰ کے منقول ہے۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں واللہ حضرت عیسیٰ اس آن میں بھی زندہ ہیں۔ جب نازل ہوں گے اس وقت ان پر سب ایمان لے آئیں گے اور یہی اکثر اہل علم سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر وغیرہ نے راجح قرار دیا ہے۔
- ۳...... علامہ آلوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں۔
والصحیح کما قال القرطبی ان اللہ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم وھو الروایۃ الصحیحۃ عن ابن عباس۔ آہ۔
(روح المعانی ج ۳ ص ۱۵۸ زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک)
امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر موت اور بغیر نیند کے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ابن عباسؓ کا صحیح قول یہی ہے۔
- ۴...... امام قرطبیؒ کے کلام کا صاف مطلب یہی ہے کہ ابن عباسؓ سے صحیح روایت یہی ہے
کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور اس کے خلاف جو روایت ہے وہ ضعیف ہے قابل اعتبار نہیں۔
قال الحافظ عماد الدين بن كثير عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء الى ان قال و رفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء قال جاء الطلب من اليهود فاخذوا الشبه فقتلوه ثم صلبوه وهذا اسناد صحيح الى ابن عباس.
(تفسیر ابن کثیر ص ۹ ج ۳)
حافظ عماد الدین بن کثیرؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو ایک شخص پر ان کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل کر دیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام مکان کے روشن دان سے آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ ابن کثیرؒ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ کے اس اثر کی سند صحیح ہے۔
- ۵....... اور تفسیر فتح البیان، ص ۳۲۲ ج ۲ پر ہے کہ حافظ ابن کثیر نے سچ کہا کہ اس کی سند
صحیح ہے۔ بے شک اس کے راوی بخاری کے راوی ہیں۔
- ۶....... علامہ آلوسی نے وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰهُ کی تفسیر میں ابن عباسؓ کا قول نقل کیا کہ مکر
اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔
(روح المعانی ص ۱۵۷ ج ۳)
- ۷....... تفسیر ابن جریر اور ابن کثیر میں ابن عباس سے مروی ہے کہ وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ
سے نزول عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔
- ۸....... محمد بن سعد نے طبقات کبریٰ ص ۴۴، ۴۵ ج ۱ پر ابن عباسؓ کا ایک اثر نقل کیا ہے
جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کے بارے میں نص صریح ہے ہم اس کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں وہو ہذا۔
اخبرنا هشام بن محمد بن السائب عن ابيه عن ابي صالح عن ابن عباس قال كان بين موسى بن عمران و عيسى بن مريم الف سنة و تسع مائة الى ان قال وان عيسى عليه السلام حين رفع كان ابن اثنتين و ثلاثين سنة و ستة اشهر وكانت نبوته ثلاثين شهرا وان الله رفعه بجسده وانه حي الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس الخ.
”ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی زمانہ انیس سو سال ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جس وقت اٹھائے گئے تو ان
کی عمر شریف ۳۳ سال اور چھ ماہ کی تھی اور زمانہ نبوت تیس ماہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم سمیت اٹھایا دراں حالیکہ وہ زندہ تھے اور آئندہ زمانہ میں پھر وہ دنیا کی طرف واپس آئیں گے اور بادشاہ ہوں گے اور پھر چند روز بعد وفات پائیں گے۔ جیسے اور لوگ وفات پاتے ہیں۔"
حضرت ابن عباسؓ کے اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السما اور دوبارہ نزول صراحۃً معلوم ہو گیا۔ اس روایت میں ابن عباسؓ نے سیرجع الی الدنیا کا لفظ استعمال فرمایا جو رجوع سے مشتق ہے جس کے معنی واپسی کے ہیں یعنی جس طرح جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اسی جسم کے ساتھ اسی طرح دوبارہ واپسی اور تشریف آوری ہوگی۔ خود بنفس نفیس وہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے کوئی ان کا مثیل اور شبیہ نہیں آئے گا۔
خلاصہ کلام
یہ کہ اگر ابن عباسؓ سے متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ منقول ہے تو ان سے تقدیم و تاخیر بھی منقول ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نازل ہونا یہ بھی ابن عباسؓ سے مروی ہے۔
مرزا قادیانی کو چاہیے کہ ابن عباسؓ کے ان اقوال صریحہ کو بھی تسلیم کریں۔ حالانکہ ان اقوال کی اسانید نہایت صحیح اور قوی ہیں اور متوفیک کی تفسیر جو ممیتک سے مروی ہے اس کی سند ضعیف ہے۔
چنانچہ حضرت ابن عباسؓ بھی متوفیک کے معنی موت کرتے تھے۔ مذہب ان کا یہ تھا کہ:۔
- ۱۔۔۔۔۔۔ عن الضحاک عن ابن عباس فی قولہ انی متوفیک الآیہ رافعک ثم ممیتک
فی آخر الزمان۔ (الدر المنثور ص ۳۶ ج ۱) یعنی اے عیسیٰ میں تجھے آسمان پر زندہ اٹھانے والا ہوں۔ آخری زمانہ میں وفات دوں گا۔ درمنثور کا مصنف قادیانیوں کا مسلمہ مجدد ہے۔
- ۲۔۔۔۔۔۔ والصحیح ان اللہ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولانوم قال الحسن وابن زید و
ہو اختیار الطبری وہو الصحیح عن ابن عباس۔ (تفسیر ابی السعود) یعنی اصلیت یہ ہے کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا بغیر وفات کے اور بغیر نیند کے جیسا کہ حسن اور ابن زید نے کہا اور اسی کو اختیار کیا ہے، طبری ابن جریر نے، اور یہی صحیح ہے ابن
عباسؓ سے۔ حاصل یہ کہ ابن عباسؓ اس جگہ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں یعنی رفع آسمانی ہو چکا، آئندہ وفات ہوگی۔ ”چنانچہ حضرت ابن عباسؓ صحابی و عم زاد رسول ﷺ جن کے حق میں آنحضرت ﷺ نے زیادتی علم قرآن کی دعا بھی فرمائی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۲۴۷ خزائن ج ۳ ص ۲۲۵)
مرزا اور مرزائیوں کی گستاخانہ روش
اپنے مطلب کو تو مرزا قادیانی نے حضرت ابن عباسؓ کی خوب تعریف کی اور لکھا کہ وہ قرآن کو سب سے زیادہ اور اچھا سمجھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں ان کے حق میں دعا کی ہوئی تھی۔
(ازالہ اوہام ص ۲۴۷ خزائن ج ۳ ص ۲۲۵)
مگر جونہی اس آیت پر پہنچے اور انھیں معلوم ہوا کہ میری نفسانیت کو توڑنے والے سب سے پہلے انسان حضرت ابن عباسؓ ہیں تو انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ سے فتویٰ لگا دیا کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل متعصب، پلید، یہودی، لعنتی، محرف ہیں۔ (معاذ اللہ۔ ناقل)
(ضمیمہ نصرۃ الحق ص ۱۷۸ خزائن ج ۲۱ ص ۳۴۷)
معاذ اللہ، استغفر اللہ۔ کس قدر شوخی و گستاخی و بدتہذیبی ہے کہ ایک صحابی رسول ﷺ ابن عم محمد ﷺ اور کئی ایک بہترین امت، مفسرین ومحدثینؒ کو اختلاف آراء کی وجہ سے ہرممکن دشنام کا حقدار بنایا ہے۔ سچ ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وہ بدگوئی میں اوّل نمبر ہوتا ہے۔
دفعیہ علم نحو و ادب و بلاغت کی کتابوں میں بالاتفاق موجود ہے کہ حرف واؤ میں ترتیب ضروری و لازمی نہیں ہوتی۔ الواو للجمع المطلق کما فی کافیہ وغیرہ ان الواو فی قولہ تعالیٰ انی متوفیک و رافعک الی لا تفید الترتیب فالاية تدل على انہ تعالیٰ یفعل بہ ھذا الافعال فاما کیف یفعل و متیٰ یفعل فالامر فیہ موقوف علی الدلیل وقد ثبت باالدلیل انہ حی ورد الخبر عن النبی ﷺ انہ ینزل ویقتل الدجال ثم ان اللہ یتوفاہ بعد ذالک۔ (تفسیر کبیر) یعنی آیت انی متوفیک و رافعک میں واؤ ترتیب کے لیے نہیں ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام سے کئی وعدے کیے ہیں مگر یہ بات وہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا یہ محتاج دلیل ہے اور البتہ دلیل سے ثابت ہو چکا ہے کہ مسیح زندہ ہے اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی خبر موجود ہے کہ وہ نازل ہوگا اور دجال کو قتل کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ انھیں وفات دے گا۔
باب ہفتم
متفرق قادیانی شبہات کے جوابات
قادیانی سوال.......۱
عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی ہوں گے یا نہ؟ اگر ہوں گے تو پھر یہ ختم نبوت کے خلاف ہے اگر نبی نہ ہوں تو پھر کیا وہ نبوت سے معزول ہو جائیں گے؟
جواب : عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری بحیثیت حضور علیہ السلام کے امتی اور خلیفہ کے ہوگی۔ یعنی امت محمدیہ ﷺ کی طرف نبی بن کر تشریف نہ لائیں گے کیونکہ وہ صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے جس پر قرآن شریف کی آیت رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (البقرہ ۴۹) دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت کافہ و عامہ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی یہ ڈیوٹی ختم ہوگئی اس لیے وہ صرف امتی اور خلیفہ ہوں گے۔ بخاری شریف ج ۱ ص ۴۹۰ مسلم شریف ج ۱ ص ۸۸ پر ہے کہ :۔ ان ینزل فیکم عیسی ابن مریم حكماً مقسطاً. اور ابن عساکر میں ہے حضرت ابوہریرہؓ سے الا انہ خلیفتی فی امتی من بعدی (ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۴) کہ میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔ تشریف آوری کے وقت وہ امت محمدیہ ﷺ کی طرف نبی اور رسول کی حیثیت تشریف نہ لائیں گے بلکہ خلیفہ و امام ہوں گے۔ اس لیے ان کی تشریف آوری سے ختم نبوت کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی۔ باقی رہا یہ کہ وہ کیا نبوت سے معزول ہو جائیں گے؟ یہ بھی غلط ہے وہ نبوت سے معزول نہ ہوں گے بلکہ دوبارہ تشریف آوری کے بعد نبی اللہ ہونے کے باوجود ان کی ڈیوٹی بدل جائے گی جیسے پاکستان کے صدر مملکت، پاکستان کے سربراہ ہیں اگر وہ برطانیہ تشریف لے جائیں تو صدر مملکت پاکستان ہونے کے باوجود برطانیہ تشریف لے جانے پر ان کو برطانیہ کے قانون کی پابندی لازم ہے۔ حالانکہ وہ صدر مملکت ہیں مگر وہاں جا کر ان کی حیثیت صدر مملکت ہونے کے باوجود مہمان کی ہوگی۔ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ میں جو ان کی نبوت کا پیریڈ تھا اس میں وہ
نبی تھے کل جب وہ حضور ﷺ کی امت میں تشریف لائیں گے نبی ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے زمانہ نبوت میں ان کی حیثیت امتی و خلیفہ کی ہوگی اب وہ نہ نبوت سے معزول ہوئے نہ ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت پر حرف آیا۔
قادیانی سوال......۲
عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے کس شریعت پر عمل کریں گے۔ اپنی شریعت پر یا حضور ﷺ کی شریعت پر؟ جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد امتی ہونے کی حیثیت سے ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حضور ﷺ کی شریعت پر عمل کریں گے۔ اس لیے ہمارے عقائد کی کتابوں میں ہے یحکم بشرعنا لا بشرعہ کہ وہ ہماری یعنی امت محمدیہ ﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے اور خود بھی عمل پیرا ہوں گے نہ کہ اپنی شریعت پر۔ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ رب العزت قیامت کے روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا ذکر فرمائیں گے۔ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِیْلَ. (المائدہ ۱۱۰) کتاب وحکمت سے مراد قرآن وسنت ہے (جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی مثالیں موجود ہیں) اب ظاہر ہے کہ تورات اور انجیل یہ تو ضرورت تھی ان کو اس وقت کی جب آپ رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تھے۔ دوبارہ نزول من السماء پر منجانب اللہ کتاب وسنت سکھایا جائے گا۔ امت محمدیہ ﷺ کی قیادت و سیادت رہنمائی کے لیے۔ وہ کسی فرد بشر امتی سے قرآن وسنت نہیں پڑھیں گے۔ مگر چونکہ ضرورت ہوگی اس لیے منجانب اللہ اس کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس لیے وہ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو نبی ہونے کے باوجود ڈیوٹی بدل جائے گی۔ پہلے اپنی شریعت موسوی پر عمل پیرا تھے۔ اب شریعت محمدیہ ﷺ کے علمبردار ہوں گے۔
قادیانی سوال......۳
کیا وہ شریعت محمدیہ آ کر کسی سے پڑھیں گے یا ان کو وحی ہوگی اگر وحی ہوگی تو وحی کا دروازہ بند نہ ہوا؟ جواب نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا نبی کو تعلیم و تبلیغ خود اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ (مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک یہ بھی دلیل ہے کہ وہ ایک نہیں کئی استادوں کے شاگرد تھے۔ جن میں مولوی فضل الٰہی مولوی فضل احمد اور گل علی شیعہ بطور
خاص مشہور ہیں جیسا کہ سیرت المہدی ج ۱ ص ۲۵۱ میں مذکور ہے۔) نبی دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا اسلامی تعلیمات اور دیگر کتب کی رو سے تو یہ ممکن ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی سے بحکم و مصلحت خداوندی چند خاص امور کی تفسیر و وضاحت کے لیے جائے مگر ایک نبی دنیا میں کسی غیر نبی کے دروازہ پر علم کی تحصیل کے لیے جائے تو اس سے بڑھ کر نبی اور نبوت کی اور زیادہ توہین نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ نبی معلم للناس ہوتا نہ کہ متعلم من الناس۔ (مرزا قادیانی کا دوسروں کے دروازوں پر تحصیل علم کے لیے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اس کے جھوٹے ہونے کے لیے کافی ہے اور مختاری کے امتحان میں فیل ہونا اس کی عزت میں اضافہ نہیں کرتا۔) حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ اللہ کے نبی ہیں وہ دوبارہ نازل ہو کر کسی سے قرآن و حدیث یا شریعت محمدیہ کی تعلیم حاصل کریں یہ ناممکن اور ہمارے عقائد کے خلاف ہے۔ ان کے لیے قرآن وسنت کی تعلیم کا اللہ کی طرف سے ہونا خود قرآن میں مذکور ہے۔ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ. (المائدہ ۱۱۰)
باقی رہا یہ سوال کہ کیا ان پر وحی نازل ہوگی تو جناب ان پر وحی نبوت نہ ہوگی وحی نبوت کا دروازہ امت محمدیہ ﷺ پر بند ہے۔ تو پھر ان کو شریعت محمدیہ ﷺ کا علم کیسے ہوگا؟ اس کا اہتمام اللہ رب العزت کے ذمہ ہے۔ اس اہتمام اور ان کی تعلیم کے لیے وحی نبوت نہ ہوگی، بلکہ الہام، کشف، مبشرات، القاء، علم لدنی ہے بے شمار قدرت کے ذرائع ہیں جن کے ذریعہ اللہ رب العزت ان کو شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیم کا اہتمام فرما دیں گے۔ قادیانی بے فکر رہیں نہ وحی نبوت کی ضرورت ہے نہ کسی کے دروازے پر زانوئے تلمذ تہہ کر کے نبوت کو مذاق بنانے کی۔ قدرت کی طرف سے اس کا اہتمام ہوگا قرآن مجید میں صراحتاً ہے کہ وحی نبوت کے علاوہ اور بھی وحی کے اقسام ہیں مثلاً إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ (سورہ طہ ۳۸) وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (النحل ۶۸) ظاہر ہے کہ ام موسیٰ کی طرف یا نحل کی طرف وحی ہونے کے باوجود وہ وحی نبوت نہ تھی پس قرآن کی ان آیات سے ثابت ہوا کہ وحی نبوت کے علاوہ بھی وحی ہے۔
قادیانی سوال......۴
قادیانی کہتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ زمین پر فرشتوں کے ذریعہ آئیں گے اور پھر مینار سے آگے ان کے لیے سیڑھی لائی جائے گی کیا جو خدا ان کو مینار تک لایا ہے وہ صحن تک لانے پر قادر نہیں؟
جواب پہلے تو ہماری نظر سے کوئی ایسی روایت نہیں گزری کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے
سیڑھی لائی جائے گی بلکہ عند منارۃ البیضاء کے الفاظ ہیں۔ مینارہ کے قریب نہ کہ مینارہ پر بفرض محال یہ روایت ہو بھی تو قدرت و حکمت میں فرق سمجھیں۔ قدرت علیحدہ چیز ہے، حکمت علیحدہ چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحن پر لانے پر بھی قادر ہیں۔ یہ قدرت کے خلاف نہیں مگر حکمت اسی میں ہے کہ ان کو مینار تک تو فرشتوں کے ذریعہ لایا جائے، آگے مسلمان ان کو خود سیڑھی لے کر مینار سے اتاریں۔ اس میں دو حکمتیں نظر آتی ہیں۔ مشکوٰۃ شریف ص ۵۳۷ باب المعجزات کی متفق علیہ روایت کے مطابق نبی علیہ السلام سے جنگ حدیبیہ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں پانی ختم ہو گیا۔ صحابہ کرامؓ نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ برتنوں میں سے بچا کھچا پانی اکٹھا کر کے لائیں، ایک پیالے میں پانی لایا گیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ کے جمع شدہ پانی میں ہاتھ مبارک ڈال دیے۔ جس سے پانچوں انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے۔ آپ ﷺ پیالہ میں جمع شدہ پانی میں ہاتھ ڈال کر امت کو سبق دے رہے تھے کہ جو انسان کی ہمت میں ہے وہ خود کرے جہاں انسان کی ہمت جواب دے جائے، وہاں سے پھر انسان کو قدرت خداوندی پر نظر رکھنی چاہیے۔ بعینہ اسی طرح مینار سے اوپر آسمانوں تک انسان کی طاقت نہیں چلتی جہاں انسان کی طاقت کام نہیں کر سکتی وہاں خدا تعالیٰ کی قدرت کام کرے گی جہاں پر انسان کی طاقت چل سکتی ہے وہ مینار سے نیچے سیڑھی لگا کر اپنی طاقت کو استعمال کریں گے دوسری حکمت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم اپنے سامنے اترتا دیکھیں گے۔ تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ سچا مسیح وہ ہے جو سامنے آسمانوں سے اتریں گے جو قادیان میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں۔ جھوٹ بولتا ہے۔
جب مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو آسمان سے نازل ہوں گے جبکہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے نکلا۔ مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے وقت دو فرشتے ان کے ساتھ ہوں گے جبکہ مرزا قادیانی کی ماں کے پاس دائی تھی۔ مسیح علیہ السلام تشریف آوری پر ایسے محسوس ہوں گے جیسے غسل کر کے آئے ہوں جبکہ مرزا قادیانی نفاس کے خون میں لت پت تھا۔ مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت احرام کی دو چادریں پہن رکھی ہوں گی جبکہ مرزا قادیانی پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔ مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش و خرم ہوں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی پیدائش کے وقت چیں چیں کرتا ہوا نکلا۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کے آنے کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مشابہت و مماثلت نہیں تو پھر اسے کیسے سچا سمجھ لیا جائے؟
قادیانی سوال...... ۵
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شام دمشق میں نازل ہوں گے اسرائیل بیت المقدس جائیں گے وہ پھر وہاں سے قتل دجال کے بعد مکہ مکرمہ سعودی عرب تشریف لائیں گے تو ان کے پاس نیشنلٹی کس ملک کی ہوگی پاسپورٹ، این اوسی، زرمبادلہ کا کیا بنے گا؟
جواب اس اشکال کا حل بھی تعلیمات اسلامیہ میں موجود ہے مشکوٰۃ شریف باب نزول مسیح ص ۴۷۹ متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں۔
ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً وہ حاکم ہوں گے اور حاکم بھی مرزا قادیانی کی طرح انگریز کے مدح سرا اور انگریز کی خوشامد اور لجاجت کی خجالت میں غرق نہ ہوں گے نہ ہی ملکہ وکٹوریہ کو برطانیہ میں خط لکھیں گے کہ تو زمین کا نور ہے اور میں آسمان کا نور ہوں۔ تیرے وجود کی برکت و کشش نے مجھے اوپر سے نیچے کھینچ لیا ہے۔ (ستارہ قیصریہ، ص ۶ خزائن ج ۱۵ ص ۱۱۷) جس میں جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو فرض اور خود کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۱۔ اشتہار بحضور نواب لیفٹینٹ گورنر) عیسیٰ علیہ السلام ایسے نہیں ہوں گے وہ حاکم عادل ہوں گے ان کے نزول کے وقت۔ یھلک الملل کلھا الا ملۃ واحدۃ الا وھی الاسلام تمام ملتیں اور ادیان باطلہ مٹ جائیں گے دین اسلام کی برتری اور شاہی ہوگی۔ پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا ہوگا۔ پوری دنیا اسلام کی وحدت و اکائی اور ون یونٹ میں پروئی ہوگی اور اس کے حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت خلیفہ محمدی ﷺ ہوں گے تو جب قیامت سے قبل نزول مسیح کے وقت تمام دنیا اسلام کے زیر نگیں ہوگی اور اس کے حکمران عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے تو ان سے اس وقت پاسپورٹ اور ویزا کی بحث کرنی عقل اور نقل کے خلاف ہے۔
قادیانی سوال...... ۶
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خنزیروں کو قتل کریں گے کیا خنزیر کو قتل کرنا ان کی شان کے خلاف نہیں؟
جواب مسئلہ کو اس کی حقیقت کی روشنی میں صحیح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اس سے صورت حال واضح ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ خود خنزیروں کو قتل نہیں کریں گے بلکہ ان کی تشریف آوری کے بعد جب دنیا میں خنزیر کھانے والی اور اس کا ریوڑ پالنے والی قوم نہ رہے گی بلکہ وہ مسلمان ہو جائیں گے تو ان کے مسلمان ہو جانے پر جو
لوگ خنزیر پالنے والے تھے۔ وہی اس کو قتل کرنے والے ہوں گے کیونکہ قتل خنزیر کا سبب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ آپ کے حکم سے خنزیر قتل کیے جائیں گے اور آپ کے زمانہ بعد نزول میں یہ سب کچھ ہوگا۔ اس لیے قتل کی نسبت آپ کی طرف کر دی گئی۔ مثلاً جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی حالانکہ پھانسی کا فیصلہ کرنے والا مشتاق احمد چیف جسٹس لاہور تھا اور پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال کر بھٹو کو لٹکانے والا ”تارا مسیح“ مشہور جلاد تھا۔ مگر بایں ہمہ نسبت پھانسی کی جنرل ضیاء الحق کی طرف کی جاتی ہے اور کی جائے گی کہ یہ سب کچھ ان کے عہد اقتدار میں ہوا حالانکہ اس نے خود پھانسی نہیں دی، اسی طرح جنرل ایوب خان نے ۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کی حالانکہ لڑنے والے فوجی تھے ایوب کے حکم سے اس کے زمانہ میں فتح ہوئی اس لیے فتح کی نسبت ایوب خان کی طرف کی جائے گی۔ یا بھٹو نے مرزائیت کو اقلیت قرار دیا حالانکہ اقلیت کا ریزولیشن کرنے والی قومی اسمبلی تھی مگر بھٹو صاحب کے زمانہ میں ہوا اس لیے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے۔ اسی طرح خنزیر، عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قتل ہوں گے مگر یہ برائی آپ کے زمانہ بعد از نزول میں اختتام پذیر ہوگی اس لیے اس کا کریڈیٹ احادیث میں آپ کو دیا گیا تو ایک برائی کو ختم کرنا اچھا فعل ہے نہ کہ قابل ملامت و باعث اعتراض؟ پھر کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ قتل تو خنزیر ہوں گے مگر پریشان قادیانی جماعت ہے آخر کیوں؟ اور اگر قتل خنزیر سے بقول قادیانیوں کے عیسیٰ علیہ السلام کی توہین لازم آتی ہے تو پھر قادیانی جماعت کے مفتی صادق کی کتاب ذکر حبیب میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کے ایک مرید نے شکایت کی کہ لوگ مجھے کتا مار پیر کہتے ہیں اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے خدا نے مجھے سور مار کہا ہے۔
(ذکر حبیب ۱۶۲)
اس طرح تحفہ گولڑویہ ص ۲۱۴ خزائن ص ۳۱۶ ج ۱۷ پر اپنے آپ کو سور مارنے والا کہا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں مرزا قادیانی نے وہی بات کہی جو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے باعث ملامت بتاتے ہیں اگر عیسیٰ علیہ السلام کے لیے باعث ملامت ہے تو مرزا کے لیے کیوں نہیں۔
اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ ص ۴۵، ۴۶ ج ۵ خزائن ج ۲۱ ص ۵۸ پر لکھا ہے۔
”ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی تعلیم میں خنزیر خوروں اور تین خدا بنانے کا حکم
اب تک انجیلوں میں نہیں پایا جاتا اسی طرح تورات میں بھی ہے کہ سور مت کھانا‘‘ اور حجۃ الوحی کے ص ۲۹ خزائن ص ۳۱ ج ۲۲ پر لکھتا ہے کہ:
’’عیسیٰ علیہ السلام اگر آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے‘‘ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔
نیز کشتی نوح ص ۶۱ خزائن ج ۱۹ ص ۶۵ کے حاشیہ پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ’’(عیسیٰ علیہ السلام) صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے۔ ...... عیسائیوں پر سور کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا ہے۔‘‘
فرمائیے خود ہی مرزا نے لکھا کہ شریعت عیسوی میں خنزیر خوری منع اور ابدی حرام ہے اور پھر خود لکھا کہ وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو سور کا گوشت کھائیں گے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔
ایک چیز جو باقرار مرزا عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں جائز نہیں اس کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کرنا توہین نبوت ہے یا نہ؟ حجۃ الوحی ص ۲۹ خزائن ج ۲۲ ص ۳۱ کی عبارت یہ ہے۔
’’یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لیے جانے کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے لیے بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اور اسلام کے حلال اور حرام کی کچھ پروا نہیں رکھے گا کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ اسلام کے لیے یہ مصیبت کا دن پھر باقی رہے یہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ایسا بھی آئے گا۔‘‘
حوالہ نمبر ۲ ...... سیرت المہدی ج ۳ ص ۲۹۱۔۲۹۲ پر ہے کہ ’’مسیح موعود (مرزا) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر فرماتے (مرزا) تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے سانسیوں اور گنڈیلوں (حرام خور) کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ (مرزا) بہت ہنستے تھے یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ (مرزا) کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا۔‘‘
اندازہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی مارے خوشی کے جس مفروضہ پر لوٹ پوٹ ہو
رہے ہیں اس مضمون کا کہیں احادیث میں ذکر ہے؟ یا یہ کہ یہ صرف اور صرف مرزا قادیانی کی خود ساختہ مفروضہ و موضوعہ کہانی ہے جو اس کے خبث باطن کی مظہر ہے۔
قادیانی سوال......۷
مرزائی کہتے ہیں کہ جب مرزا نے صاف لکھ دیا ہے کہ یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ اب وہ جس بات کو خود غیر معقول کہہ رہے ہیں آپ اس کو کیوں ملزم ٹھہراتے ہیں یہ تو انصاف کا خون ہے۔
جواب مرزا قادیانی کی یہ عبارت اردو ہے اردو جاننے والے دنیا میں کروڑوں انسان رہتے ہیں کسی سے اس کا مفہوم پوچھ لیں۔ مرزا یہ لکھتا ہے کہ یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے یعنی یہ کہ وہ نہیں آئے گا اس کا آنا عقل کے خلاف اور غیر معقول بات ہے کیونکہ اگر وہ آئے تو ۱......مسجد کی بجائے کلیسا کو جائے گا، ۲......مسلمان قرآن پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول کر بیٹھے گا، ۳...... مسلمان بیت اللہ کی طرف اور وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا، ۴......شراب پیے گا، ۵......سور کا گوشت کھائے گا، ۶......اسلام کے حلال و حرام کی پابندی نہیں کرے گا۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا اس کا آنا غیر معقول ہے کیونکہ اگر وہ آئے گا تو اس کو یہ کام کرنے ہوں گے۔ ان کے باعث وہ کہتا ہے کہ ان کا آنا غیر معقول ہے اب فرمائیے کہ ایک ایسی چیز مثلاً خنزیر جو عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل میں بھی بقول مرزا منع ہے تو کیا عیسیٰ علیہ السلام آ کر ایک حرام چیز کو کھانا شروع کر دیں گے؟ یہ وہ قادیانی تعلیمات ہیں جس کی بنیاد پر ہم اس کے کفر کا فتویٰ دیتے ہیں باقی رہا مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ مسلمان جب بیت اللہ کی طرف رخ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرے گا۔ اس کا بھی احادیث میں جواب موجود ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دجل و فریب کذب و تلبیس کا آنحضرت ﷺ نے اپنی حدیث میں جواب عنایت فرمایا ہے۔ اب یہ کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا اس کا آنحضرت ﷺ کی احادیث میں یہ جواب موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدیؑ کی اقتداء میں ادا فرمائیں گے۔ جبکہ باقی نمازیں عیسیٰ علیہ السلام خود پڑھائیں گے حضرت مہدیؑ حضور ﷺ کے امتی ہیں۔ امتی ہونے کے ناطے سے ان کا رخ بیت اللہ کی طرف ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہیں تو کیا عقلاً و شرعاً یہ ممکن ہے کہ امام کا رخ بیت اللہ کی طرف اور مقتدی کا بیت المقدس کی طرف؟
قادیانی سوال......۸
مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ جب وہ نازل ہوں گے تو قرآنی آیات کا کیا بنے گا یہ آیات تو پھر بھی یہ کہہ رہی ہوں گی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے کیا یہ منسوخ ہو جائیں گی؟
جواب قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے حضور ﷺ سے بہت سے وعدے کیے جو حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی آپ ﷺ کی ذات سے وابستہ تھے، وہ وعدے پورے ہوئے مگر آیات آج بھی موجود ہیں۔
١...... الم غلبت الروم. ٢...... اذا جاء نصر اللہ. ٣...... تبت یدا ابی لھب. ۴...... لتدخلن المسجد الحرام. یہ تمام وعدے پورے ہوئے جب بات پوری ہو جائے تو آیت بدل نہیں جاتی بلکہ اور زیادہ شان سے چمکنے لگتی ہے کہ جن کا وعدہ تھا وہ پورا ہو گیا قرآن مجید میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ آپ ﷺ نے فرمایا ”انا بشارۃ عیسٰی“ اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے کہ میں ان آیات کا بذات خود مصداق بن کر آیا ہوں تو ان کے نزول سے ان آیات کی عملی تفسیر ہو جائے گی اور یہ آیات اور زیادہ شان سے چمکنے لگ جائیں گی نہ کہ منسوخ ہو جائیں گی۔
قادیانی سوال......۹
مرزا قادیانی نے کہا کہ میں مسیح موعود ہوں ہم نے کہا کہ اگر تو مسیح موعود ہے تو مسیح موعود تو دجال کو قتل کریں گے تو اس نے کہا کہ قتل دجال تلوار سے نہیں قلم سے ہوگا۔
جواب مشکوٰۃ شریف باب قصۃ ابن صیاد صفحہ ۴۷۹ میں بحوالہ شرح السنۃ ج ۷ ص ۴۵۴ باب ذکر ابن صیاد کے حوالے سے حدیث ہے کہ رحمت عالم ﷺ کے زمانہ میں ابن صیاد کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ دجال ہے، رحمت عالم ﷺ اس کی تحقیق حال کے لیے گئے حضرت عمرؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے، انھوں نے تلوار نکال کر آپ ﷺ سے اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کو قتل کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے ”لست صاحبہ“ اس کو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔ اگر یہ دجال نہیں تو تم اپنے ہاتھ قتل ناحق سے کیوں رنگین کرتے ہو“ اس حدیث شریف نے ثابت کر دیا کہ دجال سے لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی ورنہ جس وقت حضرت عمرؓ نے تلوار نکالی تھی حضور ﷺ فرما دیتے کہ اے عمرؓ یہ کیا کر رہے ہو اس سے تو جہاد قلم کے ساتھ
ہوگا، حضرت عمرؓ کا تلوار نکالنا اور حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ اگر یہ دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے اس کو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کرے گا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ دجال کے ساتھ لڑائی تلوار کے ساتھ ہوگی نہ کہ قلم کے ساتھ۔ جہاد بالسیف ہوگا ”نہ کے قلم قصے“
قادیانی سوال...... ۱۰
اگر دجال تلوار سے قتل ہوگا تو کہاں ہوگا؟
جواب حدیث شریف میں ہے کہ دجال مقام (لد) پر قتل ہوگا۔ ”لد“ اس وقت اسرائیل میں واقع ہے اسرائیلی ائیرفورس کا ائیربیس ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودیوں کی جماعت ہوگی۔ جو اس کے حامی اور مددگار ہوں گے۔ جس وقت سرکار دو عالم ﷺ نے یہ فرمایا اس وقت نہ اسرائیل کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی مقام ”لد“ کو کوئی اہمیت حاصل تھی۔ آپ ﷺ کی صداقت پر قربان جائیں کہ کس طرح آج اسرائیل میں ”لد“ کو اہمیت حاصل ہے وہاں اس کی فوج کی چھاؤنی ہے گویا دجال آخری وقت تک یہود کی فوج میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔ یہاں ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا اور پاکستان ۱۹۴۷ء میں بنا، پاکستان بننے کے دو سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی۔ جس وقت مرزا قادیانی زندہ تھا اس وقت اسرائیل کا وجود بھی نہ تھا۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے اکتالیس سال بعد اسرائیل کی حکومت وجود میں آئی، مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں اس بات کا مذاق اڑاتا ہے کہ ستر ہزار یہودی تو پوری دنیا میں نہیں ہیں وہ کس طرح دجال کے ساتھ ہوں گے لیکن اس بدبخت کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے اللہ کے نبی ﷺ کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی، آج مرزا قادیانی کی قبر سے کوئی سوال کرے کہ اے بدبخت جن ستر ہزار یہودیوں سے متعلق حدیث کا مذاق اڑاتا تھا آج وہ نصف النہار کی طرح پوری ہو چکی ہے اسرائیل میں ایک ستر ہزار نہیں بلکہ کئی ستر ہزار یہودی جمع ہیں۔
انزلنا الحدید کا جواب
قادیانی سوال...... ۱۱
نزول عیسیٰ علیہ السلام سے مراد آسمانوں سے نزول نہیں۔ اس لیے کہ انزلنا کا معنی قرآن میں پیدا کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے: ”انزلنا الحدید“ ہم نے لوہے کو پیدا کیا وغیرہ۔
جواب (الف) کسی بھی لفظ کا ایک حقیقی معنی ہوتا ہے۔ دوسرا مجازی۔ ہمیشہ ترجمہ کرتے وقت حقیقی معنی کو ترجیح ہوتی ہے۔ جہاں حقیقی معنی کرنا متعذر ہوں وہاں مجازی معنی لیا جاتا ہے۔
- ب...... اگر کہیں مجازی معنی مراد لیا جائے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہوگا کہ اب حقیقی معنی کہیں
بھی مراد نہیں لیا جائے گا جو شخص کسی مقام پر مجازی معنی کی وجہ سے حقیقی معنی کا انکار کرے وہ تحریف کا مرتکب ہوگا۔ جو باطل ہے۔
- ج...... اب دیکھیں کہ نزل، ینزل، نازل، نزول کا حقیقی معنی کیا ہے۔
علامہ راغب اصفہانی نے اپنی کتاب مفردات ص ۷۰۵ میں لکھا ہے: ”نزول النزول فی الاصل ھو الانحطاط من علو“ نزول کا حقیقی معنی دراصل بلندی سے نیچے کی طرف آنا ہے۔
مصباح اللغات ص ۸۶۸ پر لکھا ہے: ”نزل، نزولاً من علو الی اسفل“ اترنا، اتارنا۔
قاضی بیضاوی نے لکھا ہے: ”والانزال النقل الشئی من الاعلی الی الاسفل“ غرض یہ بات متعین ہے کہ نزل کا حقیقی معنی بلندی سے نیچے کی طرف اترنا ہے۔ قرآن مجید میں ثلاثی مجرد باب فعل یفعل کے وزن پر نزل ینزل ہمیشہ نزول کے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
ثلاثی مزید فیہ میں باب افعال: جیسے ”انزل، ینزل، انزالاً“ ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعیل: جیسے ”نزل ینزل تنزیلاً“ ثلاثی مزید فیہ میں باب تفعل: جیسے ”تنزل، یتنزل، تنزلاً“ ثلاثی مزید میں اتارنا، اسباب وعلل مہیا کرنا، گویا خلق کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
- ١...... عیسیٰ علیہ السلام کے لیے لفظ نزل، ینزل آیا ہے (ثلاثی مجرد) اس کا حقیقی معنی ہی
ہمیشہ مراد ہوتا ہے۔ ان کے لیے یہ لفظ دوسرے معنوں میں کبھی آیا نہیں۔
- ٢...... عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نزول کا حقیقی معنی لینے کے دلائل بھی موجود ہیں۔ مثلاً
”ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء۔“ (کنزالعمال ج ۱۴ ص ۶۱۹ حدیث نمبر ۳۹۷۲۶)
”لیھبطن“ مسلم فی کتاب الحج۔
(مسند احمد ج ۲ ص ۱۹۰، حاکم ج ۲ ص ۵۹۵، در منثور ج ۲ ص ۳۵۰)
”ان عیسٰی لم یمت وانه راجع الیکم“
(ابن کثیر ج ۱ ص ۵۷۶، ۴۶۶، ابن جریر ج ۳ ص ۲۰۲)
”یاتی علیہ الفناء“
(ابن جریر ج ۳ ص ۱۰۸، درمنثور ج ۲ ص ۳)
اسی ایک ذات سیدنا عیسیٰ ؑ جن کے متعلق نبی ﷺ نے نزول کا لفظ فرمایا انھیں کے لیے آسمان سے اترنے کی وضاحت بھی کر دی۔ لفظ آسمان بھی حدیث میں آیا ہے۔ ھبوط نیچے آنا، راجع واپس آنا، لم یمت جو نہیں مرے جو مریں گے، جن پر فنا آئے گی۔ ان الفاظ کے استعمال نے ثابت کر دیا، کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے نزول کا حقیقی معنی مراد ہے اور اوپر (آسمان) سے نیچے (زمین پر) آنا ہے۔
- و...... قرآن مجید میں جہاں ”اَنْزَلْنَا لَکُمُ الْاَنْعَامَ، اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ، اَنْزَلْنَا اِلَيْکُمْ لِبَاسًا“
ہے، اور ان کا معنی اسباب و علل مہیا کرنا، نازل کرنا، پیدا کرنا آیا ہے۔ وہاں ”اَنْزَلْنَاهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَنَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ، بِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ، تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَةُ وَالرُّوْحُ“ بھی آیا ہے جس کا حقیقی معنی سوائے ”نزول من السماء“ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اب جب شواہد موجود، قرائن موجود، امت نے چودہ سو سال سے جو عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول کے لفظ سے سمجھا وہ تعامل امت موجود ہے، تو یہاں حقیقی معنی نزول کا کرنے کے علاوہ چارہ ہی نہیں ہے۔
- ح...... لفظ زکوٰۃ قرآن مجید میں کثرت سے صدقہ فریضہ، کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
مگر بعض جگہ قرآن مجید میں طہارت، برکت، صلاحیت، کے معنی میں استعمال ہوا ہے: ”خَيْرًا مِّنْهُ زَکٰوةً وَّ رُحْمَةً، مَا زَکٰی مِنْکُمْ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ“ اب کوئی بدباطن یہ کہہ سکتا ہے کہ زکوٰۃ فرض نہیں ہے؟ فریضہ زکوٰۃ کا انکار کر دے اور کہے اس سے مراد طہارت ہے۔ دل کی طہارت، جسم کی طہارت وغیرہ اگر ایسے کوئی کہے تو وہ مردود ہوگا۔ جس طرح زکوٰۃ کو ہمیشہ طہارت کے معنی میں لینا مردود امر ہے اس طرح انزلنا کو خلقنا کے معنی میں ہمیشہ لینا بھی مردود امر ہے۔
- د...... قادیانیوں سے ہمارا سوال ہے کہ اگر نزول کا معنی پیدا ہونا ہے تو پھر دجال یا حضرت
مہدی کے لیے نزول کا لفظ کیوں نہیں آیا۔ ان کے لیے خروج یا ظہور کا لفظ کیوں آیا ہے؟
- ز...... مرزا نے لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح تو انجیل کی تعلیم کو ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں
پر جا بیٹھے۔“
(براہین احمدیہ ص ۳۶۱، خزائن ص ۳۴۱ ج ۱)
اسی طرح مرزا نے ازالہ اوہام ص ۴۱، خزائن ص ۱۳۲ ج ۳ پر لکھا ہے: ”مثلاً
صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہیں کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔"
اب جناب آپ کے مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں رفع ونزول کا خود معنی متعین کر دیا ہے کہ رفع کا معنی رفع الی السماء اور نزول کا معنی آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنا۔ اب بھی کوئی قادیانی نہ سمجھے تو جائے جہنم میں۔
اس طرح مجمع البحار ج ۴ ص ۷۰۶ میں بھی ہے: "النزول والصعود والحرکات من صفات الاجسام" نزول وصعود صفات اجسام سے ہے جس وقت اس کی نسبت اجسام خاکیّہ کی طرف کی جائے گی تو اس سے نزول وصعود بجسمه العنصری مراد لیا جائے گا۔ غرض نزول کے حقیقی معنی اعلیٰ سے اسفل کی طرف انتقال کے ہیں۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کا حقیقی معنی اس کے علاوہ نہیں دکھایا جاسکتا ہے۔
ح ....... ابن کثیر نے ابن جریر، ابن ابی حاتم کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک لوہے کا ہتھوڑا بھی تھا۔ اب تو نزول کا اس آیت: "انزلنا الحدید" میں حقیقی معنی ہوگا۔
جواب......۲ (الف) قادیانی دجل وتحریف کے مطابق تسلیم کر لیں کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول، پیدائش کے معنوں میں ہے۔ تو کیا قادیانی فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی پیدائش نہیں ہوئی۔ جن کی پیدائش کو صدیاں بیت چکی ہیں ان کے متعلق کہنا ینزل (بقول قادیانی) پیدا ہوں گے چہ معنی دارد؟ ہے کوئی قادیانی جو اس عقدہ کو حل کرے؟
ب...... مرزائیوں کے نزدیک اگر ینزل سے مراد مرزا قادیانی کی تشریف آوری ہے تو پھر ان کا نزول کب مانیں؟ آیا:
ماں کے پیٹ سے باہر نکلنے کو = ۱۸۴۰ء تاریخ دعویٰ مجددیت کو = ۱۸۸۰ء تاریخ دعویٰ مسیحیت کو = ۱۸۹۲ء تاریخ دعویٰ نبوت کو = ۱۹۰۱ء
پھر بھی آپ کا گزارہ نہیں ہوگا جان نہیں چھوٹے گی۔ اس لیے کہ حدیث شریف میں جہاں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خوش خبری دی گئی ہے۔ وہاں کیفیت بھی
یہ کیف بکم کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس وقت تمہاری (مسلمانوں کی) خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ تو ان کا نزول خوشی عالم اسلام کا باعث ہوگا۔ اب اگر ان کے نزول سے مرزا قادیانی کی تشریف آوری اور اس سے مرزا کی پیدائش ۱۸۴۰ء مراد ہے۔ اس وقت دنیا تو کیا خوش ہوگی۔ خود مرزا بھی چیختا چلاتا، روتا دھوتا ماں کے پیٹ کے بضعہ سے برآمد ہوا تھا۔ اگر ۱۸۸۰ء دعویٰ مجددیت یا دعویٰ مسیحیت ۱۸۹۲ء مراد ہے تو اس وقت علماء کرام اور امت مسلمہ کے ایک دشمن، انگریز کے ایجنٹ و خود کاشتہ پودا کے نزول پر امت (مسلمانوں) کو خاک خوشی ہوئی۔ ۱۹۰۱ء مراد لیا جائے تو وہ سال تو مرزا کے کفر اور اسلام دشمنی کے عین عروج کا سال ہے۔ اس پر مسلمانوں کو کیا خوشی ہوئی۔ حالانکہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم“ بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسی بن مریم الخ ”اے مسلمانو! اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا۔
غرض کسی اعتبار سے لیں، نزول کا حقیقی معنی لیے بغیر چارہ نہیں۔
جواب...... ۳
اگر نزول کا معنی پیدائش ہی ہے تو تمام انبیاء پیدا ہوئے کیا کسی نبی کے لیے قرآن و حدیث میں نزول کا لفظ آیا ہے۔ اگر نہیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی، کہ نزول کا حقیقی معنی بلندی سے اترنا ہے، پیدائش نہیں؟ جہاں کہیں پیدائش کے مضمون میں آیا ہے وہ مجازی ہے، اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مجازی معنی کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے کہ مسلم شریف ص ۳۰۱ ج ۲ پر ہے:
”اذ بعث اللہ فیکم ابن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء“ جب کہ بھیجیں گے تم میں اللہ تعالیٰ ابن مریم کو۔ پس وہ منارہ سفید کے نزدیک نازل ہوں گے۔ اگر نزول کا معنی پیدائش اور ابن مریم کا معنی مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو پھر مرزا کی ماں کو مرزا کی پیدائش کے وقت منارہ پر جانا چاہیے تھا۔ خوب! اس حالت میں تو مرزا قادیانی پیدا ہونے سے قبل ہی ماں کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہوگا؟ اس لیے تو پنجابی میں کہتے ہیں: ”تیرے جمن تے لعنت“ یعنی اگر ایسے ہی کرتوت کرنے تھے تو اچھا تھا کہ تو پیدا ہی نہ ہوتا۔ قرآن مجید میں ۱۸۹ مقامات پر نزل بلندی سے نیچے اترنا آسمان سے زمین پر اترنے کے معنی میں آیا ہے۔ وہ آیات یہ ہیں۔
نُزُولْ از قرآن شریف
- ۱ ...... وَبِالْحَقِّ نَزَلَ.
(بنی اسرائیل ۱۰۵ )
- ۲....... نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ.
(الشعراء ۱۹۳)
- ۳....... ولئن سالتهم من نزل من السماء ماء.
(عنکبوت ۶۳)
- ۴....... وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ.
(حدید ۱۶)
(يَنْزِلُ)
- ۵....... وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ.
(سباء ۲)
- ۶....... وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ
(حدید ۴)
(نَزَّلَ)
- ۷....... ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ.
(بقره ۱۷۶)
- ۸....... نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ.
(آل عمران ۳)
- ۹....... وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهِ.
(نساء ۱۳۶)
- ۱۰....... مَا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ.
(اعراف ۷۱)
- ۱۱....... اِنَّ وَلِيِّيَ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ.
(اعراف ۱۹۶)
- ۱۲....... تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهِ.
(فرقان ۱)
- ۱۳....... لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً.
(عنکبوت ۶۳)
- ۱۴....... اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ.
(زمر ۲۳)
- ۱۵....... وَالَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ.
(زخرف ۱۱)
- ۱۶....... ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَ
اللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ.
(محمد ۲۶)
- ۱۷....... قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَاءَ نَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ.
(ملک ۹)
(نُزِّلَ)
- ۱۸....... وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ.
(انعام ۳۷)
- ۱۹....... وَقَالُوْا يٰاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ.
(حجر ۶)
- ۲۰....... وَنُزِّلَ الْمَلٰئِكَةُ تَنْزِيْلاً.
(فرقان ۲۵)
- ۲۱....... وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ.
(زخرف ۳۱)
- ۲۲....... وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ.
(محمد ۲)
(نُزِّلَتْ)
- ٢٣...... لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ.
(محمد ٢٠)
(نَزَّلَهُ)
- ٢٤...... فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ.
(بقره ٩٧)
- ٢٥...... قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ.
(النحل ١٠٢)
(يُنَزِّلُ)
- ٢٦...... بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَهُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ.
(بقره ٩٠)
- ٢٧...... اللّٰهُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ بِمَآ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ
يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا.
(ال عمران ١٥١)
- ٢٨...... هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ.
(مائده ١١٢)
- ٢٩...... قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَةً.
(انعام ٣٧)
- ٣٠...... اِنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا.
(انعام ٨١)
- ٣١...... وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا.
(اعراف ٣٣)
- ٣٢...... وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً.
(انفال ١١)
- ٣٣...... يُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ.
(نحل ٢)
- ٣٤...... وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ.
(نحل ١٠١)
- ٣٥...... وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا.
(حج ٧١)
- ٣٦...... وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ.
(نور ٤٣)
- ٣٧...... وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ.
(لقمٰن ٣٤)
- ٣٨...... وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا.
(مومن ١٣)
- ٣٩...... وَلٰكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ.
(شورىٰ ٢٧)
(يُنَزَّلُ)
- ٤٠...... مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ
مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ.
(بقره ١٠٥)
- ٤١...... وَاِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ.
(مائده ١٠١)
- ٤٢...... وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِيْنَ.
(روم ٤٩)
(نَزَّلْنَا)
- ۴۳....... وَاِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا.
(بقره ۲۳)
- ۴۴....... اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ.
(نساء ۴۷)
- ۴۵....... وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ.
(انعام ۷)
- ۴۶....... وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَا اِلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ.
(انعام ۱۱۱)
- ۴۷....... اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ.
(حجر ۹)
- ۴۸....... وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ.
(نحل ۸۹)
- ۴۹....... لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا.
(بنی اسرائیل ۹۵)
- ۵۰....... وَنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا.
(بنی اسرائیل ۱۰۶)
- ۵۱....... وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى.
(طٰهٰ ۸۰)
- ۵۲....... وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ.
(شعرا ۱۹۸)
- ۵۳....... وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا.
(ق ۹)
- ۵۴....... اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا.
(دھر ۲۳)
- ۵۵....... اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ.
(بقره ۹۰)
- ۵۶....... وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ.
(بقره ۱۶۴)
- ۵۷....... وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ.
(بقره ۱۷۰)
- ۵۸....... وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ.
(بقره ۲۱۳)
- ۵۹....... وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ.
(بقره ۲۳۱)
- ۶۰....... وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ.
(ال عمران ۳،۴)
- ۶۱....... هُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ.
(ال عمران ۷)
- ۶۲....... ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً.
(ال عمران ۱۵۴)
- ۶۳....... وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ.
(نساء ۶۱)
- ۶۴....... وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ.
(نساء ۱۱۳)
- ۶۵....... وَالْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنْ قَبْلُ.
(نساء ۱۳۶)
- ۶۶....... لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ.
(نساء ۱۶۶)
- ۶۷....... وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ.
(مائده ۴۴)
- ۶۸....... وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُوْلٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ. (مائده ۴۵)
- ۶۹....... وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأُوْلٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ. (مائده ۴۷)
- ۷۰....... فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰهُ. (مائده ۴۸)
- ۷۱....... وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ إِلَيْكَ. (مائده ۴۹)
- ۷۲....... وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلٰى مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ. (مائده ۱۰۴)
- ۷۳....... إِذْ قَالُوْا مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ. (انعام ۹۱)
- ۷۴....... وَهُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (انعام ۹۹)
- ۷۵....... وَهُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً. (انعام ۱۱۴)
- ۷۶....... ثُمَّ أَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَأَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ
تَرَوْهَا. (توبه ۲۶)
- ۷۷....... فَأَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ. (توبه ۴۰)
- ۷۸....... وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهِ. (توبه ۹۷)
- ۷۹....... قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّا أَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ. (یونس ۵۹)
- ۸۰....... مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ. (یوسف ۴۰)
- ۸۱....... أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (رعد ۱۷)
- ۸۲....... وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (ابراہیم ۳۲)
- ۸۳....... وَهُوَ الَّذِيْ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (نحل ۱۰)
- ۸۴....... وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا أَسَاطِيْرُ الْأَوَّلِيْنَ. (نحل ۲۴)
- ۸۵....... وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ. (نحل ۳۰)
- ۸۶....... وَاللّٰهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (نحل ۶۵)
- ۸۷....... قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ.
(بنی اسرائیل ۱۰۲)
- ۸۸....... اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا. (کہف ۱)
- ۸۹....... وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (طٰہٰ ۵۳)
- ۹۰....... أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (حج ۶۳)
- ۹۱....... وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَأَنْزَلَ مَلَآئِكَةً. (مومنون ۲۴)
- ۹۲....... وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. (نمل ۶۰)
- ۹۳ ...... وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ.
(لقمان ۲۱)
- ۹۴ ...... اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً.
(فاطر ۲۷)
- ۹۵ ...... اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً.
(زمر ۲۱)
- ۹۶ ...... قَالُوْا لَوْ شَاءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلَائِكَةً.
(حم سجده ۱۴)
- ۹۷ ...... وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتَابٍ.
(شوریٰ ۱۵)
- ۹۸ ...... اَللّٰهُ الَّذِيْ اَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ.
(شوریٰ ۱۷)
- ۹۹ ...... وَمَا اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِّزْقٍ.
(جاثيه ۵)
- ۱۰۰ ...... هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ.
(فتح ۴)
- ۱۰۱ ...... فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهُ عَلٰی رَسُوْلِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ.
(فتح ۱۸)
- ۱۰۲ ...... مَّا اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ.
(نجم ۲۳)
- ۱۰۳ ...... قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ.
(طلاق ۱۰، ۱۱)
اُنْزِلَتْ
- ۱۰۴ ...... وَمَا اُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيْلُ إِلَّا مِنْ بَعْدِهِ.
(اٰل عمران ۶۵)
- ۱۰۵ ...... وَإِذَا اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ.
(توبه ۸۶)
- ۱۰۶ ...... وَإِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهِ إِيْمَانًا.
(توبه ۱۲۴)
- ۱۰۷ ...... وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ إِذْ اُنْزِلَتْ إِلَيْكَ.
(قصص ۸۷)
اَنْزَلْتُمُوْهُ
- ۱۰۸ ...... ءَ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ.
(واقعه ۶۹)
اَنْزَلَهُ
- ۱۰۹ ...... اَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ.
(نساء ۱۶۶)
- ۱۱۰ ...... قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ.
(فرقان ۶)
- ۱۱۱ ...... ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهُ إِلَيْكُمْ.
(طلاق ۵)
اَنْزَلْنَا
- ۱۱۲ ...... فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ.
(بقره ۵۹)
- ۱۱۳ ...... وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ.
(بقره ۹۹)
- ۱۱۴.......اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ.
(بقره ۱۵۹)
- ۱۱۵.......اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ.
(نساء ۱۰۵)
- ۱۱۶.......وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا.
(نساء ۱۷۴)
- ۱۱۷.......اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرٰاةَ.
(مائده ۴۴)
- ۱۱۸.......وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ.
(مائده ۴۸)
- ۱۱۹.......وَاَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ.
(انعام ۸)
- ۱۲۰.......فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ.
(اعراف ۵۷)
- ۱۲۱.......وَاَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی.
(اعراف ۱۶۰)
- ۱۲۲.......وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ.
(انفال ۴۱)
- ۱۲۳.......فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ.
(یونس ۹۴)
- ۱۲۴.......اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا.
(یوسف ۲)
- ۱۲۵.......وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ حُکْمًا عَرَبِیًّا.
(رعد ۳۷)
- ۱۲۶.......کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ.
(ابراهیم ۱)
- ۱۲۷.......فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً.
(حجر ۲۲)
- ۱۲۸.......کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ.
(حجر ۹۰)
- ۱۲۹.......وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ.
(نحل ۴۴)
- ۱۳۰.......وَمَا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ.
(نحل ۶۴)
- ۱۳۱.......وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ.
(بنی اسرائیل ۱۰۵)
- ۱۳۲.......وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ.
(کهف ۴۵)
- ۱۳۳.......وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی.
(طٰهٰ ۲)
- ۱۳۴.......وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا.
(طٰهٰ ۱۱۳)
- ۱۳۵.......لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْهِ ذِکْرُکُمْ.
(انبیاء ۱۰)
- ۱۳۶.......وَهٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلْنٰهُ.
(انبیاء ۵۰)
- ۱۳۷.......فَاِذَا اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ.
(حج ۵)
- ۱۳۸.......وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ.
(حج ۱۶)
- ۱۳۹.......وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ.
(مومنون ۱۸)
- ۱۴۰.......سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَفَرَضْنٰهَا.
(نور ۱)
- ۱۴۱.......وَاَنْزَلْنَا فِیْهَا اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ.
(نور ۱)
- ۱۴۲ ....... وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ.
(نور ۳۴)
- ۱۴۳ ....... لَقَدْ اَنْزَلْنَا اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ.
(نور ۴۶)
- ۱۴۴ ....... وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ طَهُوْرًا.
(فرقان ۴۸)
- ۱۴۵ ....... وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتٰبَ.
(عنکبوت ۴۷)
- ۱۴۶ ....... اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ.
(روم ۳۵)
- ۱۴۷ ....... وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً.
(لقمان ۱۰)
- ۱۴۸ ....... وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ.
(یسٓ ۲۸)
- ۱۴۹ ....... كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ.
(ص ۲۹)
- ۱۵۰ ....... اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ.
(زمر ۲)
- ۱۵۱ ....... اِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ.
(زمر ۴۱)
- ۱۵۲ ....... اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِىْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ.
(دخان ۳)
- ۱۵۳ ....... وَ قَدْ اَنْزَلْنَا اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ.
(مجادله ۵)
- ۱۵۴ ....... لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ.
(حشر ۲۱)
- ۱۵۵ ....... فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِىْ اَنْزَلْنَا.
(تغابن ۸)
- ۱۵۶ ....... وَ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا.
(نباء ۱۴)
- ۱۵۷ ....... اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِىْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.
(قدر ۱)
اُنْزِلَ
- ۱۵۸ ....... وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ.
(بقره ۴)
- ۱۵۹ ....... وَ مَا اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ.
(بقره ۱۰۲)
- ۱۶۰ ....... قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَ مَا اُنْزِلَ اِلٰى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ.
(بقره ۱۳۶)
- ۱۶۱ ....... اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ.
(بقره ۲۸۵)
- ۱۶۲ ....... وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِىْ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ.
(اٰل عمران ۷۲)
- ۱۶۳ ....... اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ.
(اٰل عمران ۶۵)
- ۱۶۴ ....... قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَا اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ مَا اُنْزِلَ عَلٰى اِبْرٰهٖمَ.
(اٰل عمران ۸۴)
- ۱۶۵ ....... وَ مَا اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَ مَا اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ.
(اٰل عمران ۱۹۹)
- ۱۶۶ ....... اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ.
(نساء ۶۰)
- ۱۶۷....... لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَا اَنْزَلَ اِلَيْكَ .
(نساء ۱۶۶)
- ۱۶۸....... وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ.
(مائده ۵۹)
- ۱۶۹....... وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْراً مِّنْهُمْ مَّا اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ
رَّبِّكَ طُغْيَاناً وَّ كُفْراً.
(مائده ۶۸)
- ۱۷۰....... وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاءَ.
(مائده ۸۱)
- ۱۷۱....... وَاِذَا سَمِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ.
(مائده ۸۳)
- ۱۷۲....... وَقَالُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ.
(انعام ۸)
- ۱۷۳....... قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰى.
(انعام ۹۱)
- ۱۷۴....... اُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلٰى طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا.
(انعام ۱۵۶)
- ۱۷۵....... لَوْ اَنَّا اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا اَهْدٰى مِنْهُمْ.
(انعام ۱۵۷)
- ۱۷۶....... كِتَابٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ.
(اعراف ۲)
- ۱۷۷....... وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهٗ.
(اعراف ۱۵۷)
- ۱۷۸....... وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ.
(یونس ۲۰)
- ۱۷۹....... لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ.
(هود ۱۲)
- ۱۸۰....... فَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ.
(هود ۱۴)
- ۱۸۱....... وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ.
(رعد ۷)
- ۱۸۲....... اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى.
(رعد ۱۹)
- ۱۸۳....... وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ.
(رعد ۲۷)
- ۱۸۳....... وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ.
(رعد ۳۶)
- ۱۸۵....... وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ.
(فرقان ۲۱)
- ۱۸۶....... وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا بِالَّذِيْ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ.
(عنکبوت ۴۶)
- ۱۸۷....... وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ.
(سبا ۶)
- ۱۸۸....... ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا.
(ص ۸)
- ۱۸۹....... وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ.
(زمر ۵۵)
ان تمام ۱۸۹ آیات میں نزول کے معنی اترنے کے ہیں۔ اگر چند مقامات پر نزول مجازاً اسباب و علل مہیا کرنا یا پیدا ہونے کے معنی میں آیا ہے تو ان تمام آیات میں حقیقی معنی کو ترک کرنا دجل نہیں تو اور کیا ہے۔
علامات مسیح ؑ اور مرزا قادیانی
قادیانی سوال......۱۲
علامات مسیح و مرزا قادیانی سے متعلق بحث۔
جواب احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کے متعلق ۱۸۰ علامات ہیں جو موجودہ طبع التصریح بما تواتر فی نزول المسیح کے ساتھ بطور ضمیمہ کے شائع ہوئی ہیں۔ جس کا اردو ایڈیشن ”علامات قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے نام سے عام ملتا ہے یہ ترجمہ مولانا رفیع عثمانی نے کیا ہے، ان علامات میں چند ایک پیش خدمت ہیں۔
- ۱...... حضور ﷺ نے فرمایا آنے والے کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہوگا مرزا کا نام غلام احمد
قادیانی تھا، آنے والا بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ مرزا قادیانی کے چوکھٹ کا غلام مرتضیٰ نامی ایک شخص باپ بیان کیا جاتا ہے۔
- ۲...... آنے والے کا لقب مسیح روح اللہ، کلمۃ اللہ، ہے، مرزا کا لقب کوئی نہ تھا یا زیادہ
سے زیادہ وہی سور مار جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔
- ۳...... آنے والے کی والدہ کا نام مریم ہے مرزا کی والدہ کا نام چراغ بی بی تھا اس کا
لقب گھسیٹی مشہور عام بیان کیا جاتا ہے۔
- ۴...... آنے والے کی والدہ کی عصمت و عفت کی قرآن مجید نے گواہی دی مرزا قادیانی
کی ماں کی کہانی اس وقت کے لوگوں کو معلوم ہوگی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر جس کا بیٹا اتنا مقدر والا تھا کہ اس کے صاحبزادے مرزا محمود کو مرزا کے ایک مرید جو اس کو خط میں مسیح موعود لکھتے ہیں اور پھر وہ خط مرزا محمود نے اپنے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو سنایا اور پھر مرزائی اخبار الفضل قادیان مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء کو ص ۷ کالم نمبر ایک پر شائع ہوا جس میں ہے کہ ”حضرت مسیح موعود (مرزا) ولی اللہ ہے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کیا کرتے ہیں۔ اگر انھوں نے کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہے۔ یہ چراغ بی بی کے صاحبزادے کے کمالات ہیں تو غرض یہ کہ مرزا قادیانی میں ایک نشانی بھی عیسیٰ علیہ السلام والی نہ پائی جاتی تھی۔
- ۵...... اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ مرزا ماں کے پیٹ سے نکلا۔
- ۶...... وہ فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر آئیں گے مرزا کو دائی نے وصول کیا۔
- ٧......عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوگا گویا
غسل کر کے آئے ہیں جبکہ مرزا نفاس کے خون میں لت پت تھا۔
- ٨......مسیح علیہ السلام نے تشریف آوری کے وقت دو چادریں پہن رکھی ہوں گی جبکہ مرزا
پیدائش کے وقت الف ننگا تھا۔
- ٩......مسیح علیہ السلام تشریف آوری کے وقت خوش وخرم ہوں گے جبکہ مرزا قادیانی چیخیں
چیں کرتا ہوا نکلا۔
غرض یہ کہ ١٨٠ علامات میں سے کوئی ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نہ پائی جاتی تھی کہ مرزا حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں رکھتا تھا۔
قادیانیوں سے دس سوال
جواب مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقت الوحی ص ۳۰۷، خزائن ص ۳۲۰ جلد ۲۲ پر لکھا ہے۔
- ١......وہ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔
- ٢......نیز یہ کہ وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔
- ٣......نیز یہ کہ کافر اس کے دم سے مریں گے۔
- ٤......نیز یہ کہ وہ ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے ابھی حمام سے نکلا
ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر پر موتی کے دانے کی طرح ٹپکتے نظر آئیں گے، اور یہ کہ دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔
- ٥......نیز یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا۔
- ٦......نیز یہ کہ وہ خنزیر کو قتل کرے گا۔
- ٧......نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔
- ٨......نیز یہ کہ وہی ہے جو دجال کا قاتل ہوگا۔
- ٩......نیز یہ کہ مسیح موعود قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا۔
- ١٠......اور آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل ہوگا۔
یہ دس علامات خود مرزا قادیانی نے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تسلیم کی ہیں۔ مرزا کی تحریف سے ہٹ کر ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، لیکن، لہٰذا، استعارہ، کنایہ کی بھول بھلیوں سے نکل کر ساری دنیا کے قادیانی ان علامات مسیح علیہ السلام میں سے کوئی ایک علامت مرزا قادیانی میں دکھا سکتے ہیں؟
علامات مسیح ؑ پر قادیانی تحریفات کے جوابات
قادیانی سوال......۱۳
علامت نمبر ۱...... عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کیا حالت ہوگی؟
جواب جس وقت وہ نازل ہوں گے اس وقت انھوں نے دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی مرزا قادیانی نے کہا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد بیماری ہے۔ ”مجھے بھی دو مرض لاحق ہیں ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں دوران سر اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب۔“ (حقیقت الوحی ص ۳۰۷، خزائن ص ۳۲۰ ج ۲۲ کثرت پیشاب کی تشریح مرزا قادیانی کی دوسری کتاب نسیم دعوت ص ۷۰ خزائن ج ۱۹ ص ۴۳۴ پر ہے) ”بعض دفعہ سو سو مرتبہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے پیشاب میں شکر ہے اور کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔“
اب آپ انصاف فرمائیں کہ دنیا کی کسی لغت کی کتاب میں چادر کا معنی بیماری نہیں۔ فقیر نے سعودی عرب، انڈونیشیا، سنگاپور، ملیشیا، تھائی لینڈ، برطانیہ، سری لنکا، شام، مصر، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، کینیڈا کا سفر کیا ہے۔ آج تک مجھے کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جس میں چادر کا معنی بیماری لکھا ہو، اور وہ بھی پیشاب کی، وہ بھی ایسے جیسے ٹوٹا ہوا لوٹا، جو ہر وقت بہتا رہتا ہے۔ سوچئے کہ کس طرح مرزا قادیانی نے احادیث کا مذاق اڑایا ہے؟ دوران سر کو مرزا قادیانی نے ہسٹریا سے تعبیر کیا ہے جیسے اس کی بیوی کا بیان ہے جو سیرت المہدی جلد ۱ صفحہ ۱۶، ۱۷ پر درج ہے۔ ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اوّل (پسر مرزا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا...... اس کے بعد آپ (مرزا) کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“
قادیانی سوال......۱۴
علامت نمبر ۲...... مرزا قادیانی نے علامات مسیح بیان کرتے ہوئے علامت نمبر ۲ میں دو فرشتوں سے مراد دو غیبی طاقتیں لیا ہے۔
جواب یہ حدیث کے ساتھ مرزا قادیانی کا ناروا استھزا ہے دو فرشتوں سے مراد حقیقتاً دو فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ساتھ بھیجیں گے۔ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے ایک دفعہ مرزا نے کہا
کہ فرشتوں سے مراد میرے یہ دو آدمی ہیں جو مجھے ملے ہیں۔ جب قادیانی جماعت اختلاف کا شکار ہوئی اور قادیانی و لاہوری جماعت میں بٹ گئی تو مرزا بشیر الدین نے کہا کہ لاہوری منافق ہیں تو انھوں نے کہا کہ ان میں تو وہ بھی ہے جن کو حضرت نے فرشتہ قرار دیا تھا۔
قادیانی سوال......۱۵
علامت نمبر ۳ ..... عیسیٰ علیہ السلام کے دم سے کافر مریں گے مرزا قادیانی نے اس کی توجیہہ یہ کی کہ اس کی وجہ سے کافر ہلاک ہوں گے۔
جواب بالکل ٹھیک ہے اس میں کیا حرج ہے حدیث کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی دجال پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے نمک پانی میں، اور جہاں تک ان کی سانس پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے۔ یہ حدیث ظاہر پر محمول ہے بالکل اسی طرح وقوع ہوگا۔ آج انسان نے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جیسے اشک آور گیس جہاں تک اس کا اثر پہنچتا ہے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسا ”بم“ تیار ہو چکا ہے اگر وہ چلا دیا جائے تو تمام دنیا کے آکسیجن جلنے کے باعث دم گھٹنے سے مر جائے۔ یہ ساری انسان کی طاقت ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نصرت ہوگی ان سے کیا کچھ نہ ہوگا انسانی طاقت سے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ خدا کی قدرت سے کیوں نہ ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی ﷺ کی بات پوری ہوگی۔
قادیانی سوال......۱۶
علامت نمبر ۴ ..... حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسی حالت میں دکھائی دے گا کہ گویا وہ غسل کر کے آیا ہے کہ گویا موتی ٹپک رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی ص ۳۰۸ خزائن صفحہ ۳۲۱ جلد ۲۲ پر توضیح کی ہے کہ وہ تضرع زاری ایسی کرے گا کہ گویا اس سے بار بار غسل کرے گا، اور پاک غسل کے پاک قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔
جواب......۱ تمام انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع و زاری کرتے ہیں، تو ان کے متعلق کیوں نہیں کہا گیا کہ ان کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح پانی ٹپکتا تھا، اس سے ثابت ہوا کہ یہ تضرع کا عمل نہیں بلکہ حقیقی پانی کا ٹپکنا مراد ہے۔
جواب......۲ توبہ زاری سے پانی آنکھوں سے ٹپکتا ہے نہ کہ سر سے۔
جواب......۳ مرزا قادیانی کا یہ عذر سفید کذب افتراء اور تحریف فی الحدیث ہے، حدیث شریف میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات اس طرح گرتے ہوں گے کہ ابھی غسل کر کے تشریف لائے ہیں۔ اس کی محدثین نے دو توجیہات کی ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔
- ۱...... جس وقت تشریف لے گئے تھے اس وقت غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ آسمانوں
پر اٹھا لیے گئے تو جب آسمانوں پر گئے تو سر سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا، آج کل کی سائنس نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا کہ واٹر کولر میں چوبیس گھنٹہ پانی جوں کا توں رہتا ہے خراب نہیں ہوتا۔ فریج میں کسی چیز کو ہفتہ بھر جوں کا توں رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی چیز کو کولڈ اسٹور میں رکھ دیں تو جوں کی توں سال بھر رہے گی خراب نہیں ہوگی۔ اگر انسان اپنی عقل و ہمت سے کسی چیز کو سنبھالنا چاہے جوں کا توں ایک دن ایک ہفتہ ایک سال تک سنبھال سکتا ہے۔ مگر رب کریم کی قدرت کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام جس حالت میں گئے تھے جوں کے توں اسی حالت میں تشریف لائیں گے، انسان کی ہمت کی جہاں انتہا ہوتی ہے رب العزت کی قدرت کی وہاں سے ابتداء ہوتی ہے۔ جب تشریف لے گئے تھے تو بھی بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جب واپس تشریف لائیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔
- ۲...... توجیہ یہ لکھی ہے کہ عیسیٰ ؑ کے بال مبارک ایسے نرم و نازک گھنگریالے اور تاب
دار ہوں گے کہ ان پر نظر نہ ٹھہر سکے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہوگا کہ سر کے بالوں سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اگرچہ ان کو تری نہ پہنچی۔ یہ دونوں توضیحات صحیح ہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔
قادیانی سوال......۱۷
علامت نمبر ۵...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام، دجال کے مقابلہ میں خانہ کعبہ کا طواف کریں گے (استغفر اللہ) یعنی یہ کہ دجالی طاقتیں چور کی طرح بیت اللہ کا طواف کریں گی، ان کے مقابلہ میں عیسیٰ علیہ السلام طواف کریں گے۔ یعنی ان کو مٹا دیں گے۔
(حقیقت الوحی ص ۳۱۰، خزائن ص ۳۲۳ ج ۲۲)
جواب حدیث شریف پر افتراء ہے یہ مرزا قادیانی کے ذہن کی پیداوار ہے، آج تک کسی محدث نے یہ نہیں لکھا، مرزا قادیانی کی یہ تاویل باطل ہے احادیث اور خود رحمت عالم ﷺ کی منشاء کے خلاف ہے حدیث میں ہے کہ دجال ہر جگہ جائے گا، مگر مکہ اور مدینہ نہیں جائے گا، جبکہ مرزا کہتا ہے کہ چوروں کی طرح بیت اللہ کا طواف کرے گا،
آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتل دجال سے فراغت کے بعد عیسیٰ علیہ السلام مکہ مکرمہ آئیں گے حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے، بیت اللہ سے فارغ ہونے کے بعد روضہ طیبہ پر آئیں گے، وہ سلام کہیں گے میں سنوں گا میں جواب دوں گا وہ سنیں گے، تفصیل کے لیے دیکھئے۔
التصریح، بما تواتر فی نزول المسیح
اب ان الفاظ کو سامنے رکھیں تو مرزائیوں کی کوئی تاویل نہیں چل سکتی، ہاں البتہ مرزا قادیانی کی یہ تاویل خود قادیانیوں پر فٹ ہے کہ دعویٰ نبوت کرنے والا دجال اور وہ ہے مرزا قادیانی، اسے ماننے والی دجالی طاقت ان کے ہو گئے دو گروہ تو دجالی طاقت کی بجائے دو طاقتیں ہو گئے، ان کے حرم کعبہ پر جانے پر پابندی ہے تو یہ چوروں کی طرح چوری جا کر طواف کرتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقابل پر آ کر طواف کریں گے، یعنی ان کو مٹا دیں گے اس لیے جب حقیقی مسیح آ جائے گا تو جھوٹے مسیح کو ماننے والا کوئی نہیں رہے گا پس مرزا کی تاویل خود مرزائیوں پر فٹ آتی ہے۔
قادیانی سوال......۱۸
علامت نمبر ۶....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام، صلیب کو توڑیں گے، مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقت الوحی ص ۳۰۷ خزائن ص ۳۲۰ ج ۲۲، پر یہ کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا، مرزا قادیانی نے اپنی اس کتاب کے ص ۳۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۳۲۴ میں اس کی تاویل یہ کی ہے کہ صلیب سے مراد لکڑی سونا چاندی نہیں بلکہ صلیبی عقیدہ کو توڑیں گے۔
جواب یہودی عیسائی جو مقابلہ کریں گے مارے جائیں گے۔ باقی ماندہ مسلمان ہو جائیں گے، تو جب صلیب والے نہ رہے تو صلیب کب رہے گی؟ جو صلیب کے پرستار تھے وہ مسلمان ہو کر صلیب شکن بن جائیں گے اس لیے یہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوگا، آپ کے حکم سے ہوگا، اس لیے صلیب شکنی کی آپ کی طرف نسبت کر دی گئی باقی مرزا کا یہ تاویل کرنا کہ صلیبی عقیدہ کو توڑے گا، یہ باطل ہے اس لیے کہ بقول مرزا کے اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو وفات شدہ کہہ کر عیسائیوں کے عقیدہ کو توڑا اس سے عیسائیوں کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ دنیا میں ایک بھی مسیحی، عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا منکر نہیں ہے تو اس سے عیسائیوں کا عقیدہ کب ٹوٹا؟ پس ثابت ہوا کہ صلیب شکنی سے مراد حقیقی صلیب کو توڑنا ہے نہ کہ صلیبی عقیدہ کو۔
- ۲..... اگر کسر صلیب سے مراد صلیبی عقیدہ کو توڑنا ہے تو وما صلبوہ کہہ کر قرآن مجید اور
پیغمبر اسلام ﷺ نے کسر صلیب فرما دی پس ثابت ہوا کہ حدیث میں یکسر الصلیب کی نسبت سیدنا مسیح علیہ السلام کی طرف حقیقی صلیب کو توڑنا ہی مراد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام صلیب پرست مسلمان ہو جائیں گے۔ تو صلیب کو پوجنے والے اس کو توڑنے والے ہوں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے زمانہ میں ہوگا اس لیے وہ کاسر صلیب قرار پائیں گے۔
قادیانی سوال......۱۹
علامت نمبر ۷...... نیز یہ کہ وہ بیوی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔ اس کی مرزا قادیانی نے انجام آتھم ص ۳۳۷ خزائن ص ۳۳۷ ج ۱۱ حاشیہ، پر یہ تاویل لکھی ہے ”(اس پیشین گوئی کی محمدی بیگم والی) تصدیق کے لیے جناب حضرت محمد ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے۔ یتزوج ویولد یعنی مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا، اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خرابی نہیں بلکہ تزوج سے مراد ایک خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اس جگہ رسول ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔“
جواب مرزا قادیانی نے محمدی بیگم سے شادی کے شوق میں حدیث شریف میں تحریف کی ہے ورنہ حدیث شریف میں یتزوج ویولد محض اس لیے فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے قبل شادی نہیں کی تھی، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ نزول کے بعد شادی کی سنت پر عمل کریں گے اور یہ کہ ان کی اولاد ہوگی (ایک روایت کے مطابق دو صاحبزادے ہوں گے ایک کا نام محمد، دوسرے کا نام موسیٰ رکھیں گے) دوسرا یہ کہ مرزائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اتنا لمبا قیام کریں گے تو : مرور زمانہ کا ان کی صحت پر ایسا اثر ہوگا کہ وہ پیر فرتوت ہو گئے ہوں گے، حضور ﷺ نے اس حدیث شریف میں یہ جواب دیا کہ وہ اتنے طاقتور ہوں گے کہ وہ شادی کریں گے اور اتنے ہمت والے ہوں گے کہ ان کی اولاد بھی ہوگی مرور زمانہ کا واپسی پر ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، باقی رہی یہ بات کہ اس سے مراد محمدی بیگم تو اس کا جو حال ہوا وہ سب جانتے ہیں۔
قادیانی سوال......۲۰
علامت نمبر ۸....... عیسیٰ علیہ السلام، دجال کو قتل کریں گے، مرزا قادیانی نے اپنی
کتاب حقیقت الوحی ص ۳۱۳ خزائن ص ۳۲۶ ج ۲۲ پر اس کی تاویل یہ کی ہے کہ دجال کو قتل کریں گے اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ رو بزوال ہو جائے گا۔
- جواب.......۱ دجال سے مراد حقیقتاً قتل دجال ہے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف کے صفحہ ۴۷۹
کی حدیث سوال نمبر ۹ کے ذیل میں درج کی جا چکی ہے۔
- جواب.......۲ مرزا قادیانی کی یہ تاویل بھی غلط ہے اس لیے کہ یہ خود کو مسیح کہتا ہے اور
اپنے ظہور سے دجالی فتنہ کے روبزوال ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا کے زمانہ میں تو درکنار اس کے مرنے کے بعد بھی عیسائیت مزید ترقی کرتی گئی، حوالہ یہ ہے کہ
”کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے ۱۳۷ مشن کام کر رہے ہیں، یعنی ہیڈ مشن ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ہیڈ مشنوں میں ۱۸۰ سے زیادہ پادری کام کر رہے ہیں، چار سو تین ہسپتال ہیں جن میں ۵۰۰ ڈاکٹر کام کر رہے ہیں ۴۳ پریس ہیں اور تقریباً ۲۰ اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں، ۵۱ کالج، ۴۱۷ ہائی سکول اور ۴ ٹریننگ کالج ہیں ان میں ۲۰۰۰۰ طالب علم تعلیم پاتے ہیں مکتی فوج میں ۳۰۸ یورپین اور ۲۸۸ ہندوستانی مناد کام کر رہے ہیں اس کے ماتحت ۷۰۵ پرائمری اسکول ہیں جن میں ۱۸۶۷۵ طالب علم ہیں ۱۸ بستیاں اور ۱۱ اخبارات ان کے اپنے ہیں۔ اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں ۳۲۹۰، آدمیوں کی پرورش ہو رہی ہے اور ان سب کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ روزانہ دو سو چوبیس مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ اس کام کو شاید قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ احمدی جماعت کو سوچنا چاہیے کہ عیسائی مشنوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلہ میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن حالات میں کام کر رہے ہیں انھیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹ جون ۱۹۱۴ء ص ۵)
نوٹ: مرزا قادیانی ۱۹۰۸ء میں مرا تھا یہ مرزائیوں کے اخبار ۱۹۱۴ء کی رپورٹ ہے کہ عیسائیت ترقی کر رہی ہے اس کے مرنے کے ۶ سال کے بعد کی رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ دجالی فتنہ روبزوال ہونے والی اس کی تاویل بھی غلط ہے۔ ان سطور کی تحریر کے وقت امریکہ کا صدر بش صلیب پرست، عراق، افغانستان میں جو ادھم مچائے ہوئے ہے۔ وہ مرزا قادیانی ملعون کی تاویل بد کے ابطال کے لیے کافی ہے۔
قادیانی سوال......۲۱
علامت نمبر ۸ ..... کیا مرزا قادیانی کو یہ تسلیم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔
جواب ازالہ اوہام ص ۴۷۰، خزائن ص ۳۵۲ ج ۳ اس میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے، کہ ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو“ اب فرمائیں کہ مرزا قادیانی کو یہ نشانی تسلیم تھی یا نہ۔ اگر تھی تو اس میں پوری ہوئی یا نہ اگر نہیں تو تسلیم کریں کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، تذکرہ طبع دوم صفحہ ۵۸۴، طبع چہارم صفحہ ۵۹۱۔
پہلے اس مرزا کے الہام پر غور کریں کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، اگر یہ الہام رحمانی ہوتا تو الہام میں ”یا“ کا لفظ نہ ہوتا۔ یہاں پر لفظ ”یا“ شک کے لیے استعمال ہوا ہے حالانکہ خدائی کلام شک سے پاک ہوتا ہے۔ اس میں لفظ ”یا“ دلیل ہے اس بات کی کہ مرزا قادیانی کو الہام، رحمان سے نہیں بلکہ شیطان سے ہوا۔
- ۲...... اگر رحمانی الہام ہوتا تو مرزا قادیانی مکہ مکرمہ یا مدینہ طیبہ میں سے کسی شہر میں فوت
ہوا۔ کہاں فوت ہوا اور کس حالت میں، یہ سب کو معلوم ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کی تاویل یہ کی کہ مکی فتح ہوگی یا مدنی، ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں، مرنے کا معنی فتح کرنا دنیا کی کسی لغت میں دکھا دیں تو کرم ہوگا۔ اگر دکھا دو تو پھر میری درخواست ہوگی کہ اگر موت کا معنی فتح ہے تو تمام قادیانی زہر کا پیالہ پی کر اکٹھے مرجائیں تاکہ سب کی اکٹھی فتح ہو جائے یا یہ کہ دنیا آپ کے شر سے بچ جائے۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کو فوت ہونے سے پہلے اختیار دیا جاتا ہے۔ بخاری شریف میں موسیٰ علیہ السلام اور ملک الموت کا واقعہ ایک مشہور امر ہے، کہ بغیر اجازت کے فرشتہ نبی کے گھر قدم نہیں رکھتا اور جھوٹے کو لیٹرین سے نہیں اٹھنے دیتا۔ ایک یہ بھی درخواست ہے کہ نبی جہاں فوت ہو وہیں دفن ہوتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی نبی تھا تو جہاں قے اور دستوں کی نجاست سے مرزا قادیانی کی موت واقع ہوئی وہاں پر دفن ہوتا۔ پھر مرزائی اس پر سلام پڑھنے کے لیے وہاں تشریف لے جاتے تو دستوں اور اجابتوں کی جگہ کو بھی رنگ لگ جاتے۔
قادیانی سوال......۲۲
علامت نمبر ۹...... مسیح موعود کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ فوت ہوگا، اور
آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل کیا جائے گا، مرزا نے اپنی کتاب حقیقت الوحی ص ۳۱۳ اور خزائن ص ۳۲۶ ج ۲۲، پر اس کی تاویل یہ کی کہ اسے حضور ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔ ظاہری تدفین مراد نہیں اس لیے کہ حضور ﷺ کا روضہ طیبہ کھولا گیا تو اس سے آپ ﷺ کی توہین لازم آئے گی۔
جواب روضہ طیبہ کی دیواروں کو توڑا نہیں جائے گا ایک دیوار جالی مبارک والی ہے جہاں پر کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھا جاتا ہے اس میں تو دروازہ موجود ہے مسلم سربراہان مسجد نبوی ﷺ کے خدام کے لیے کھولا جاتا ہے آگے والی دیوار مبارک جس پر پردہ مبارک ہے قبور مقدسہ تک جتنی دیواریں یا پردے ہیں ان سب میں دروازے موجود ہیں بعد میں ان کو چن دیا گیا جب عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین ہوگی تو معمولی سی کوشش سے ان دروازوں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اس سے آپ ﷺ کی توہین نہ ہوگی نیز یہ کہ آپ ﷺ کے فرمان اقدس کو پورا کرنے کے لیے تمام رکاوٹوں کو دور کرنا آپ ﷺ کی عین اطاعت ہے نہ کہ توہین، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے بعد زندہ رہوں تو آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے ساتھ دفن کی جاؤں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ وہاں چار قبروں میری ﷺ، ابوبکرؓ، عمرؓ، عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور جگہ ہی نہیں ۔‘‘
(کنزالعمال بہ حاشیہ مسند احمد ص ۵۷ ج ۶، ابن عساکر ج ۲ ص ۱۵۴)
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عائشہؓ کا مرض الوفات تھا تو آپ نے فرمایا کہ میری تدفین جنت البقیع میں ہو۔ آپ کے عزیزوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ کے پہلو میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے تو آپؓ نے فرمایا کہ اس کی ریزرویشن نبیﷺ نے عیسیٰ ؑ کے لیے فرما دی ہے۔ وہی یہاں پر دفن ہوں گے چنانچہ آج تک روضہ شریف میں وہ جگہ، پکار پکار کر مرزائیت کے غلط عقائد کا اعلان کر رہی ہے تو یہ حدیث شریف ظاہر کر رہی ہے کہ قبر معنی مقبرہ ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجنائز صفحہ ۱۴۳ پر ایک ساتھ دو حدیثیں ہیں ایک ہی امر سے متعلق ایک حدیث شریف میں قبر کا لفظ ہے۔ دوسری حدیث میں مقبرہ کا لفظ ہے۔ ایک ہی امر کے لیے ایک حدیث میں قبر اور دوسری میں اسی امر سے متعلق مقبرہ کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ بھی مستعمل ہے۔
مرقات بر حاشیہ مشکوٰۃ کتاب الفتن صفحہ ۵۱۳ پر ہے کہ فیدفن فی الحجرۃ الشریفۃ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ قبر بمعنی مقبرہ ہے۔ قرآن مجید میں بھی بعض جگہ فی
بمعنی مع کا مستعمل ہے۔ جیسے فرمایا ”بورک من فی النار“ محل یعنی موسیٰ علیہ السلام پر برکت نازل کی گئی جو آگ کے قریب تھا، نہ کہ اندر، چنانچہ تفسیر کبیر جلد ۶ صفحہ ۴۳۶ پر اسی آیت کے تحت علامہ رازی فرماتے ہیں۔ ”وهذا اقرب لان القریب من الشی قدیقال انه فیه“ کبھی کبھار قریب ترین کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بھی اس میں ہے۔
خود ازالہ اوہام ص ۴۷۰ خزائن ج ۳ ص ۳۵۲ پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت ﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔“ اس حوالہ میں بھی مرزا نے قبر بمعنی مقبرہ یعنی روضہ کے تسلیم کیا ہے تو حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ فیدفن عیسی معی فی قبری کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوں گے اس کا یہی معنی ہے کہ میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔
۲۳۔ احادیث شریف سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی ۲۰ تصریحات
- ۱......سیدنا عیسیٰ علیہ السلام:۔ تفسیر فتح العزیز میں سورۃ التین کے ذیل میں ام المومنین
حضرت صفیہؓ کے متعلق ہے کہ جب وہ بیت المقدس کی زیارت اور مسجد اقصیٰ میں نماز سے فارغ ہوئیں تو جبل زیتا پر چڑھیں۔ وہاں نماز پڑھی اور فرمایا: ”ھذا الجبل ھوالذی رفع منہ عیسٰی علیہ السلام الی السماء.“ یہ وہ پہاڑ ہے جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ اس لیے مسیحی حضرات آج تک اس پہاڑ کی قدر ومنزلت کرتے ہیں۔
(التصریح طبع ملتان ص ۲۵۸)
- ۲......لم یمت: حضرت حسن بصریؒ آپ ﷺ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ: ”ان
عیسٰی لم یمت“ عیسیٰ علیہ السلام ابھی فوت نہیں ہوئے۔
(التصریح ص ۲۳۳، بحوالہ ابن کثیر ج ۱ ص ۳۶۶ و ۳۶۷ ابن جریر ج ۳ ص ۲۸۹)
- ۳......رجوع: اسی روایت میں ہے: ”انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ“ کہ وہ قیامت
سے قبل تم (امت محمدیہ) میں دوبارہ واپس لوٹیں گے۔ (حوالہ مذکور)
- ۴......یاتی علیہ الفنا: ربیع بن انس بکریؒ تابعی مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ
آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ سے گفتگو کے دوران فرمایا: ”ان عیسٰی یاتی علیہ الفناء“ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر فنا (موت) آئے گی۔ (التصریح ص ۲۳۷ الدر المنثور ج ۲ ص ۳)
- ۵......نزول: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے تو آنحضرت ﷺ نے نزول کی صراحت
فرمائی جیسے ”وکیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم“ (بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ بن مریم و مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم) (اے امت محمدیہ) اس وقت تمہاری
(خوشی کی) کیا حالت ہوگی جب تم میں ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) نازل ہوں گے۔
- ۶...... بعثت الی الارض: اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو بعثت سے
تعبیر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے خبر دی: ”اذ بعث اللہ عیسیٰ ابن مریم“ پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیں گے۔ (مسلم ج ۱ ص ۲۰۰ باب ذکر الدجال عن نواس بن سمعانؓ)
- ۷...... ہبوط: ”لیهبطن عیسیٰ ابن مریم حكماً عدلاً“
(کنز العمال ج ۱۴ ص ۳۳۵ حدیث نمبر ۳۸۸۵۱ ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۴)
اس میں ہبوط الی الارض کا ذکر ہے۔
- ۸...... آنحضرت ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام: ”لم یکن بینی و بینه نبی انه نازل“
(کنز العمال ص ۳۳۶ ج ۱۴ حدیث نمبر ۳۸۸۵۶ ابن عساکر ج ۲۰ ص ۹۱) وہ عیسیٰ علیہ السلام کہ میرے اور جن کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہی نازل ہوں گے۔
- ۹...... عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیحدہ علیحدہ شخصیات: ”كيف بكم اذ نزل ابن مریم
فیكم و امامكم منكم.“ (کنز ص ۳۳۳ ج ۱۴ حدیث نمبر ۳۸۸۴۵ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم) تمہاری کیا حالت ہوگی کہ جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا مہدی کو دو علیحدہ علیحدہ شخصیات بیان کیا گیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”فیكم“ اور مہدی کے متعلق ”منکم“ کے الفاظ ہیں۔
- ۱۰...... پہلی نماز امامت مہدی میں: عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو سیدنا
مہدی علیہ الرضوان ان سے عرض کریں گے: ”تعال صل لنا“ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے آپ پڑھائیں: ”تكرمة لهذه الامة“
(کنز العمال ج ۱۴ ص ۳۳۴ حدیث نمبر ۳۸۸۴۶ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم)
- ۱۱...... باقی نمازوں کی امامت: پہلی نماز کے علاوہ زندگی بھر بقیہ نمازوں کی امامت
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ”اذا نزل ابن مریم فیكم فامکم“ (کنز العمال ج ۱۴ ص ۳۳۶ حدیث نمبر ۳۸۸۴۰ مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ بن مریم) جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو امامت کرائیں گے۔
- ۱۲...... نزول من السماء: ”ینزل اخی عیسیٰ بن مريم من السماء“
(کنز العمال ج ۱۴ ص ۶۱۹ حدیث نمبر ۳۹۷۲۶ ابن عساکر ج ۲۰ ص ۱۴۹)
- ۱۳...... تین شخصیتیں علیحدہ علیحدہ: ”كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها
والمسیح آخرھا. مشکوۃ ص ۵۸۳ باب ثواب ھذہ الامۃ ”وہ امت کیونکر ہلاک ہوگی جس کے اول میں میں (آنحضرت ﷺ) اور درمیان میں مہدی (علیہ رضوان) اور آخر میں مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) ہوں۔
۱۴....... نزول کے بعد عرصہ قیام: عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد دنیا میں پینتالیس سال قیام فرمائیں گے۔ (التصریح ص ۲۴۰ مشکوۃ ص ۴۸۰ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) بعض روایات میں چالیس سال کا بھی ذکر ہے۔ ان میں اختلاف نہیں۔ جنھوں نے کسر شمار کی پینتالیس فرما دیا۔ جنھوں نے کسر شمار نہیں کی چالیس فرما دیا۔
۱۵....... پھر فوت ہوں گے: ”ثم یتوفی“ پھر فوت ہوں گے۔
(التصریح ص ۱۴۰ ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب ذکر الدجال)
۱۶....... نماز جنازہ و تدفین: ”فیصلی علیہ المسلمون وید فنونہ“
(التصریح ص ۱۴۰،۱۴۱ مسند احمد ج ۲ ص ۴۳۷)
پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
۱۷....... روضہ شریف میں تدفین: ”فیدفن معہ“ آپ ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔
(ترمذی ص ۲۰۲ ج ۲)
۱۸....... قبر مبارک کی جگہ باقی ہے: ”فقال ابو مودود قد بقی فی البیت موضع قبر“ آپ ﷺ کے روضہ طیبہ میں ایک قبر مبارک کی جگہ باقی ہے۔ (ترمذی ص ۲۰۲ ج ۲)
۱۹....... چوتھی قبر مبارک ہو گی: ”لیدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہ ﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً“
(درمنثور ج ۲ ص ۲۴۶، ۲۴۵)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے دو ساتھیوں (سیدنا صدیق اکبرؓ وسیدنا فاروق اعظمؓ) کے ساتھ دفن ہوں گے اور ان کی قبر مبارک چوتھی ہوگی۔
۲۰....... آپ ؐ، عیسیٰ ؑ : سیدہ عائشہؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے ساتھ دفن ہونے کی اجازت بخشیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہاں ۱....... میں (آپ ﷺ) ۲....... ابوبکرؓ ۳....... عمرؓ ۴....... عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔
(التصریح ص ۸۳، ۲۲۷ کنزالعمال ج ۱۴ ص ۶۲۰ حدیث نمبر ۳۹۷۲۸)
قارئین ان تصریحات کے بعد بھی کوئی قادیانی نہ مانے تو ہم اسے حوالہ بخدا کرتے ہیں۔
قادیانی سوال......۲۴
حدیث شریف میں ہے کہ مومن قبر میں رکھا جاتا ہے تو حد نگاہ تک اس کی قبر
فراخ ہو جاتی ہے اور گناہگار کی قبر یہاں تک تنگ ہو جاتی ہے کہ مردہ کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں تو رحمت عالم ﷺ کی قبر مبارک فراخ ہوتے ہوتے قادیان تک پہنچ گئی مرزا قادیانی قادیان میں دفن ہوئے تو حضور ﷺ کے روضہ طیبہ میں دفن ہوئے۔ (العیاذ باللہ)
- جواب...... ۱ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ مجھے جنت البقیع
میں دفن کیا جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ روضہ طیبہ میں جو چوتھی قبر مبارک کی جگہ خالی ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مخصوص ہے۔ اس حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ تدفین کی خصوصیت مراد ہے ورنہ تو جنت البقیع اور پورے مدینہ والے بھی حضور ﷺ کے ساتھ دفن ہوئے۔
- ۲...... پھر یہ بھی سوچا کہ مدینہ طیبہ سے قادیان جانا ہو تو راستہ میں جدہ، کراچی، حیدر آباد،
سکھر، صادق آباد، رحیم یار خان، بہاول پور، ملتان، خانیوال، ساہیوال، قصور، لاہور، بٹالہ آتے ہیں اس کے بعد پھر قادیان آتا ہے۔ تو جدہ سے لے کر قادیان تک جتنے غیر مسلم دفن ہیں کیا وہ روضہ طیبہ کی فراخی کے باعث اسی میں داخل ہیں؟
- ۳...... آنحضرت ﷺ کا ارشاد کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ساتھ دفن ہوں
گے۔ محدثین نے صراحت کی کہ چوتھی قبر عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ قبر مبارک کی معنوی وسعت مراد نہیں بلکہ روضہ طیبہ جہاں اور دو حضرات کی قبور مبارکہ ہیں۔ وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین مراد ہے۔
قادیانی سوال...... ۲۵
قادیانی جماعت یہ اعتراض کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کا انتخاب فرمایا اور حضور سرور کائنات ﷺ کو دشمنوں سے بچانے کے لیے غار ثور کا، چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ ص ۱۱۲، خزائن ص ۲۰۵ حاشیہ ج ۱۷ پر لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی (استغفر اللہ) مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا“ نیز یہ کہ مرزا محمود نے اپنی کتاب دعوت الامیر ص ۱۳۳ پر لکھا ہے کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اور حضور ﷺ زمین میں یہ حضور ﷺ کی توہین اور تنقیص ہے۔“
جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا اور حضور سرور کائنات ﷺ کا زمین میں
مدفون ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بلندی اور حضور علیہ السلام کے لیے زمین کا انتخاب کرنا پستی کی دلیل نہیں غرض یہ کہ کسی کا اوپر ہونا یا کسی کا نیچے ہونا اس سے عظمت یا تنقیص لازم نہیں آتی کوئی اوپر ہو یا نیچے جس کی جو شان ہے وہ برقرار رہے گی آسمان والوں کی زیادہ شان ہو اور زمین والوں کی کم، مرزائیوں کی یہ بات عقلاً و نقلاً غلط ہے۔
الف...... فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام زمین میں مدفون ہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فرشتے انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں۔ فرشتے آسمانوں پر ہیں اور رحمت عالم ﷺ روضہ طیبہ میں حالانکہ جبریل امین حضور علیہ السلام کے دربان تھے۔ حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر آباد کر کے عالم ملکوت کے سردار جبرائیل کو آپ ﷺ کا خادم بنا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا کر پھر مصطفیٰ ﷺ کی تابعداری میں زمین پر بھیج دے تو یہ سب اس کے اختیار میں ہے۔
ب...... ایک دفعہ حضور ﷺ کے کندھوں پر مدینہ طیبہ کے بازار میں حضرت حسنؓ سوار تھے آپ ﷺ نے ان کو کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا کہ حسنؓ تمھیں سواری اچھی ملی ہے اس کے جواب میں حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اے عمرؓ اگر سواری اچھی ہے تو سوار بھی اچھا ہے، تو کیا حضرت حسنؓ کا حضور ﷺ کے کندھوں پر سوار ہونا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت حسنؓ حضور علیہ السلام سے افضل تھے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس طرح فتح مکہ کے موقع پر کعبہ شریف سے بتوں کو ہٹانے کے لیے حضور علیہ السلام کے حکم پر حضرت علیؓ آپ ﷺ کے کندھے پر سوار ہوئے تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت علیؓ حضور ﷺ سے افضل تھے؟
ج...... صحابہ کرامؓ نے آنحضرت ﷺ کو روضہ طیبہ میں دفن کیا۔ اس وقت صحابہؓ زمین کے اوپر تھے اور آنحضرت ﷺ زیر زمین یا اس سے صحابہؓ کا آنحضرت ﷺ سے افضل ہونا لازم آتا ہے؟
د...... امتی حضور ﷺ کے روضہ پر کھڑے ہو کر سلام عرض کرتے ہیں اس وقت امتی زمین پر ہوتے ہیں اور حضور علیہ السلام زیر زمین تو کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ امتی حضور ﷺ سے افضل ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں غرض یہ کہ اللہ رب العزت نے حضور علیہ السلام کو جو شان بخشی ہے وہ آپ ﷺ کی ہر حال میں برقرار رہے گی۔ چاہے حضور ﷺ کے کندھوں پر کوئی سوار ہو یا حضور ﷺ کسی کے کندھے پر سوار ہوں جیسے حضور علیہ السلام نے ہجرت کی رات ابوبکر صدیقؓ کے کندھوں پر بیٹھ کر سواری کی۔
(بلاتشبیہ) موتی دریا کی تہہ میں ہوتے ہیں اور گھاس پھوس تنکے اور جھاگ سمندر کی سطح پر ہوتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تنکے یا جھاگ موتیوں سے افضل ہوں یا جیسے مرغی زمین پر ہوتی ہے لیکن کوا اور گدھ فضا میں اڑتے ہیں ان کے فضا میں اڑنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوا اور گدھ مرغی سے افضل ہوں یا جیسے رات کو آدمی سوتا ہے تو رضائی اس کے اوپر ہوتی ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رضائی انسان سے افضل ہو، بادام کا سخت چھلکا اوپر ہوتا ہے اور مغز اندر تو اس سے لازم نہیں آتا کہ مغز سے چھلکا افضل ہو۔
...... باقی رہا مرزائیوں کا یہ کہنا کہ حضور علیہ السلام کا زمین میں مدفون ہونا اس سے حضورؐ کی تنقیص لازم آتی ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اہل سنت کے نزدیک رحمت عالم ﷺ جس مبارک مٹی میں آرام فرما رہے ہیں۔ اس مٹی کی شان عرش سے بھی زیادہ ہے۔ آپ ﷺ کی رہائش گاہ کا نام قرآن میں حجرات آیا ہے آسمان پر تو شیطان بھی جانے کی راہیں بناتا ہے۔ مگر حضور علیہ السلام کے گھر میں تو بغیر اجازت کے فرشتے کو بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔
...... مرزائیوں کے منہ بند کرنے کے لیے یہ واقعہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ قادیان کے قادیانی مرگھٹ کی جب چار دیواری نہیں تھی تو لوگ چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے دیکھا کہ کتا مرزا قادیانی کی قبر پر پیشاب کر رہا ہے کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ مرزا سے افضل ہو گیا؟
جواب بعض کو بعض پر بعض کو کل پر فضیلت ہوتی ہے۔ بعض خصوصیات ہوتی ہیں۔
خصوصیت کی تعریف یہ ہے۔ یوجد فیہ ولا یوجد فی غیرہ.
تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے افضل و اعلیٰ آنحضرت ﷺ ہیں لیکن بعض انبیاء کو جزئی فضیلت حاصل تھی وہ آپ ﷺ کی کل فضیلت کے ہرگز مخالف نہیں۔ اس پر پوری امت کا ایمان وعقیدہ ہے۔
- الف...... آدم علیہ السلام کی عمر ۹۳۰ برس۔ سیدنا نوح علیہ السلام کی ہزار برس اور
آنحضرت ﷺ کی ۶۳ برس تو کیا اس میں آپ ﷺ کی ہتک ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔
- ب...... سیدنا مسیح بغیر باپ کے کنواری مائی مریم علیہا السلام سے پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ
کے والد گرامی تھے تو یہ عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت ہے آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں۔
- ج...... موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ فرمایا گیا۔ بغیر واسطہ جبرائیل علیہ السلام کے موسیٰ علیہ
السلام کو ذات باری سے ہمکلامی کا شرف نصیب ہوا۔ یہ ان کی خصوصیت تھی۔ دیگر انبیاء علیہم السلام بشمول آپ ﷺ کے کسی کی اس میں ہتک نہیں۔
- د...... حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ پر سب لوگ بیہوش ہو جائیں
گے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میں اٹھوں گا۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں ۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی فضیلت ہوئی ۔ اس میں کس دیگر کی ہتک نہیں۔
- و.... سیدنا یونس علیہ السلام تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے ۔ کوئی اور نہیں۔
یہ ان کی خصوصی فضیلت و شرف ہوا۔ دیگر کی ہتک نہیں۔
غور طلب یہ امر ہے کہ ان تمام خصوصی فضائل کے باوجود تمام انبیاء علیہم السلام شب معراج یا کل قیامت کے روز آپ ﷺ کی قیادت و سیادت کے زیر سایہ ہوں گے۔ وہ مسیح علیہ السلام جن کی رفعت جسمانی آسمانوں سے پار گئی ۔ وہ بھی آپ ﷺ کی امت میں شامل ہو کر آپ ﷺ کے کلمہ کا ورد کریں گے ۔ تو فرمائیے شان کن کی اعلیٰ و افضل؟
جواب قادیانو! تم مکان کی وجہ سے مکین عزت سمجھتے ہو۔ ہم مکین کی وجہ سے مکان کی عزت کے قائل ہیں ۔ لَا أُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ . ہمارے موقف پر نص صریح ہے۔
قادیانی سوال ......۲۶
جبکہ دیگر تمام انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں رکھ کر شرّ اعداء سے محفوظ رکھا تو حضرت مسیح علیہ السلام کی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں آسمان پر اٹھا لیا ۔ آنحضرت ﷺ کو کیوں نہ اٹھا لیا؟
الجواب چونکہ امر مقدر یونہی تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ صرف بلا باپ پیدا ہونے کے بلکہ ایک عرصہ دراز تک زندہ رہنے اور آسمان پر اٹھائے جانے کے نشانِ قدرت بنائے جائیں اور آخری زمانہ میں ان کے ہاتھ سے خدمتِ اسلام لے کر آنحضرت ﷺ کی شان کو دوبالا کیا جائے کہ آپ ﷺ کا وہ مرتبہ ہے کہ مستقل اور صاحب شریعت و کتاب رسول بھی آپ ﷺ کی اتباع کو اپنی سعادت سمجھیں ۔ حتیٰ کہ امت محمدیہ ﷺ کے آگے ہو کر امام الصلوٰۃ بھی بنیں اور گواہی دیں کہ تَكْرِمَةَ اللّٰهِ هٰذِهِ الْأُمَّةِ (مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا ۔
مرزائیوں سے ایک سوال
صاحبان! آپ مسیح کی ولادت بلا باپ کو مانتے ہیں جیسا کہ مرزا صاحب کی تصریحات موجود ہیں ۔ پس بتلائیے کہ کیا وجہ ہے، خدا نے دیگر انبیاء علیہم السلام کو تو ماں
باپ دونوں کے ذریعہ پیدا کیا مگر مسیح ؑ کو بلا باپ، جو جواب تم اس کا دو گے اسی کے اندر ہمارا جواب موجود ہے۔
- ٢....... حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ فرمایا گیا ہے اور روح کا تعلق آسمان سے
ہے۔ اس لیے ان کو آسمانوں پر اٹھانا ہی قرین انصاف تھا۔
قادیانی سوال......۲۷
یاجوج ماجوج سے مراد مرزا قادیانی نے روس اور امریکہ لیا ہے نیز کہ یاجوج ماجوج پر عذاب نازل ہوگا حالانکہ ان کو تبلیغ نہیں ہوئی۔
جواب یاجوج ماجوج ایک قوم ہے کہاں ہے اس کے ہم ذمہ دار نہیں۔ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جن کی ابھی تک دریافت نہیں ہوئی اس کا یہ معنی تو نہیں کہ کسی چیز کا ہمیں علم نہ ہو وہ چیز بھی نہ ہو۔ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے کہ ”عدم علم سے عدم شئی لازم نہیں آتا۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۱۷ خزائن ص ۱۲۰ ج ۲۲)
آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے امریکہ کا کسی کو علم نہ تھا آج اگر دجال کے گدھے کی کیفیت ایک عجوبہ معلوم ہوتی ہے تو یاد رکھیے کہ کل یہ عجوبہ نہ ہوگا۔ ایک سفر میں مجھے ایک ماہی پروری کے پروفیسر ناروے میں ملے انھوں نے بتایا کہ سائبیریا میں ایسی مچھلی پائی جاتی ہے جو بیک وقت اڑھائی ہزار انسان کا لقمہ بنا سکتی ہے۔ فرمائیے آج سے ایک صدی پہلے کوئی یہ بات کہتا تو دنیا کیا سے کیا طوفان قائم کر دیتی۔
آدم علیہ السلام کی اولین اولاد کو کوئی کہتا کہ لوہا فضا میں پرواز کرے گا کون مانتا۔ مگر آج ایک حقیقت ہے آپ کی سوچ اور اعتراض چیونٹی جیسے ہیں جس کے کان میں کہہ دیا جائے کہ ہاتھی سو من وزن اٹھا سکتا ہے تو وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔ مرزائی بھی ہزار تڑپیں یاجوج ماجوج ایک قوم ہیں گدھا اتنے فاصلے کے کانوں والا ہوگا۔ مجھے اپنی آنکھوں دیکھی چیز پر شبہ ہو سکتا ہے مگر نبی ﷺ کے فرمان پر شبہ نہیں ہو سکتا۔
آپ کا یہ کہنا کہ یاجوج ماجوج کو تبلیغ نہیں ہوئی تو پھر ان پر عذاب کیوں آئے گا۔ یہ بھی غلط ہے ان کو تبلیغ ہو چکی ہے اس کا ثبوت بھی حدیث شریف میں ہے کہ وہ ہر روز اس دیوار کو چاٹتے ہیں بالآ خر تھک کر چلے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ باقی کل، مگر انشاء اللہ نہیں کہتے، جس روز ان کا خروج اللہ رب العزت کو منظور ہوگا، تو وہ اس دن انشاء اللہ کہیں گے کہ باقی دیوار کل انشاء اللہ گرائیں گے۔ ان کا انشاء اللہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو تبلیغ ہو چکی ہے۔
قادیانی سوال......۲۸
مرزا نے کہا کہ وہ گدھا دجال کی ملکیت ہوگا نہ کہ اس کی سواری۔
جواب اگر دجال سے مراد انگریز ہیں اور ان کے گدھے سے مراد ریل ہے اور وہ ملکیت ہوگی نہ کہ سواری، اس کا معنی یہ ہے کہ ریل صرف انگریز کی ملکیت ہوتی اور وہ بھی اس پر سواری نہ کرتے۔ نمبر ۲ کسی اور کی ملکیت نہ ہوتی پھر حدیث شریف میں ملکیت کا لفظ نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔ (مسند احمد، حاکم) سواری کے الفاظ کو آپ جس طرف ہیر پھیر کریں یہ تحریف کے زمرہ میں آئے گا۔ گدھے کے ایک کان سے دوسرے کان تک چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ ریل اتنی لمبی ہوتی ہے۔ یہ دلیل ہے کہ مراد ریل گاڑی ہے۔ ایک کان سے دوسرے کان تک اتنا لمبا فاصلہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ مراد اس سے چوڑائی ہے، نہ کہ لمبائی، ریل گاڑی جتنی چاہے لمبی ہو چوڑائی تو کہیں بھی چالیس ہاتھ نہیں ہے۔ دجال کے گدھے کے پیٹ میں قمقمے جلتے ہوں گے۔ یہ مرزا طاہر کی کذب بیانی ہے۔ کہیں نہیں لکھا۔ ہمت ہے تو حوالہ لائیں۔ "فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار"
- ۲...... مرزا قادیانی نے ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہا۔ عمر بھر اس کی مرزا سواری کرتا
رہا۔ حتیٰ کہ مرنے کے بعد آخری سفر اس کی نعش کا اسی گدھے پر ہوا۔ مرزا عمر بھر جسے دجال کا گدھا کہتا رہا۔ اس پر آخری سواری کر کے خود دجال ثابت ہوا۔
قادیانی سوال......۲۹
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے یا پیتے ہوں گے۔ کہاں رفع حاجت کرتے ہوں گے؟
جواب جو میزبان ہو اس کو مہمان کی فکر ہوتی ہے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر مہمان ہیں اللہ رب العزت ان کے میزبان ہیں، جن کے میزبان اللہ تعالیٰ ہوں اس کے بارے میں قادیانیوں کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے مرزائی کرم فرما اس طرح سوال کرتے ہیں کہ کھاتے کیا ہوں گے جس طرح کہ مرزائیوں نے وہاں آسمانوں پر ہوٹل کھولنا ہو، کہ ان کی مرضی کی ڈش تیار کریں۔ کبھی کہتے ہیں کہ جی حجامت بڑھ گئی ہوگی جس طرح مرزائیوں نے وہاں پر حمام کھولنا ہو، کبھی کہتے ہیں کہ جی عیسیٰ علیہ السلام پیشاب کہاں
کرتے ہوں گے۔ ایسے بیہودہ اعتراض کا مولانا ثناء اللہ امرتسری نے یہ جواب دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فلش سسٹم کا انتظام کر کے آسمانوں سے گٹر کا پائپ لگا کر مرزا قادیانی کی قبر میں فٹ کر دیا ہے۔ خیر یہ تو ہوا لطیفہ اب جواب سنیے۔
حدیث شریف میں ہے رحمت عالم ﷺ نے فرمایا ایک وقت آئے گا کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء پر دجال کا قبضہ ہوگا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ آقا ﷺ پھر مسلمان کیا کھائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کو وہ غذا کفایت کرے گی جو آسمان والوں کی غذا ہے، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ آقا ﷺ آسمان والوں کی کیا غذا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس۔
(مشکوٰۃ ص ۴۷۷ باب العلامات بین یدی الساعۃ بحوالہ ابو دائود الطیالسی و احمد)
اس حدیث شریف نے عقدہ حل کر دیا کہ آسمان والوں کی غذا حمد و تقدیس باری تعالیٰ ہے۔ عیسیٰ ؑ آسمانوں پر ہیں تو ان پر آسمان والوں کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
جواب......۲ انسانی و ملکوتی دونوں صفات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام متصف ہیں کیونکہ والدہ مریم انسان تھیں اس لحاظ سے ان میں بشری صفات ہوئیں، بغیر باپ کے پیدا ہوئے روح القدس کی پھونک سے تو ملکوتی صفات بھی ہوئیں، جب تک زمین پر تھے انسان تقاضوں پر عمل کر کے کھاتے پیتے تھے اور آسمانوں پر ملکوتی صفات کا مظہر ہیں تو ان کی غذا حمد و تقدیس ہے جب واپس تشریف لائیں گے تو زمین پر پھر انسانی صفات کے مطابق کھانا شروع کر دیں گے۔
جواب......۳ نورالحق جلد ۱ ص ۵۱ خزائن ص ۶۹ ج ۸ پر ہے "هذا هو موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الى حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين“ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن مجید میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمانوں پر موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔ یہ عبارت اور ترجمہ مرزا قادیانی کا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور کہتا ہے کہ قرآن سے ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا مرزائیوں پر فرض ہے۔ تو جناب عالی، جو موسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کھاتے ہوں گے وہی عیسیٰ علیہ السلام، جو کچھ موسیٰ علیہ السلام پیتے ہوں گے وہی عیسیٰ علیہ السلام، جہاں وہ حجامت بنواتے ہوں گے وہاں سے عیسیٰ علیہ السلام، غرض یہ کہ تمام ضروریات ایک ساتھ پوری کرتے ہوں گے اس حوالہ کو ہم ”ایٹم بم“ سے تعبیر کرتے ہیں
کہ جس سے پوری مرزائیت کی عمارت دھڑام سے نیچے گر جاتی ہے۔ جو اشکال عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر کرتے ہیں ان تمام کا توڑ یہ حوالہ ہے جس کا کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکتے۔ اب رہا مرزا کا یہ کہنا کہ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو اس ضمن میں درخواست ہے کہ مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ وہ حضورﷺ کی ہر بات میں مخالفت کرتا تھا آپﷺ کا بدترین ازلی ابدی دشمن تھا۔ آپﷺ نے فرمایا نبوت بند ہے۔ مرزا نے کہا کہ نہیں جاری ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جہاد جاری ہے۔ مرزا نے کہا کہ نہیں بند ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے حق کی قسم عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا نے کہا کہ حق کی قسم مر گیا ابن مریم۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔ مرزا نے کہا کہ نہیں زندہ آسمانوں پر ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں محل نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔ مرزا نے کہا کہ نہیں میں آخری اینٹ ہوں۔
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(درثمین ۱۳۵)
مرزا نے خطبہ الہامیہ ملحقہ کلام ص ۱۱۲ خزائن ج ۱۶ ص ۱۷۸ پر کہا ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں۔
جواب.......۲ رئیس المکاشفین حضرت عبدالوہاب شعرانی ”الیواقیت والجواہر ص ۱۴۶ ج۲ میں اس کا جواب لکھتے ہیں۔ فان قیل فما الجواب عن استغنائہ عن الطعام والشراب مدۃ رفعہ فان اللہ تعالیٰ قال وَمَا جَعَلْنَا ہُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ والجواب ان الطعام انما جعل قوتاً لمن یعیش فی الارض لانہ مسلط علیہ الہواء الحار والبارد و فینحل بدنہ فاذا انحل عوضہ اللہ تعالیٰ بالغذاء اجراء لعادتہ فی ہذہ الحظۃ الغبراء واما من رفعہ اللہ الی السمآء فانہ یلطفہ بقدرتہ و یغنیہ عن الطعام والشراب کما اغنی الملئکۃ عنہما فیکون حینئذٍ طعامہ التسبیح و شرابہ التہلیل کما قال ﷺ انی ابیت عند ربی یطعمنی و یسقینی و فی الحدیث مرفوعًا ان بین یدی الدجال ثلاث سنین الخ. فکیف بالمومنین حینئذٍ فقال یجزئہم ما یجزی اھل السمآء من التسبیح والتقدیس “ اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ رفع میں کھانے پینے سے مستغنی ہونے کا کیا جواب ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا جَعَلْنَاہُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے طعام کو زمین پر معیشت پوری کرنے کے لیے قوت بنایا ہے کیونکہ یہاں اس پر ہوا گرم اور سرد مسلط ہے اس کے بدن کو تحلیل کرتی ہے جب تحلیل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ غذا سے اس کا عوض پیدا کرتا ہے اس زمین میں اس کی یہ عادت جاری ہے لیکن وہ شخص جس کو اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا اس کو اپنی قدرت سے نوازتا ہے اور کھانے پینے سے بے پرواہ کرتا ہے جیسے فرشتوں کو بے پرواہ کیا پس اس وقت اس کا طعام تسبیح اور پانی اس کا تہلیل ہوگا جیسے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کھلاتا پلاتا ہے اور حدیث میں مرفوعاً روایت ہے کہ دجال سے تین برس پہلے قحط پڑے گا۔ الخ اسی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اس وقت جب مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ ہوگا ان کا کیا حال ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کو کفایت کرے گا وہ کھانا جو آسمان والوں کو کفایت کرتا ہے یعنی تسبیح اور تقدیس۔“ حضرت شیخ نے پہلے فلسفی دلیل سے سمجھا دیا اور پھر حدیث مرفوع بھی بیان کر دی کہ دجال کے زمانہ میں مومنین کو اہل سماء کی طرح صرف تسبیح و تقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔ حضرت شیخ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک بزرگ خلیفہ الخراط نامی کا جو بلاد مشرق کے شہروں میں ایک شہر ابہر میں رہتے تھے ذکر فرمایا کہ اس نے ۲۳ سال سے برابر کچھ نہیں کھایا تھا اور دن اور رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور کسی طرح کا ضعف بھی لاحق نہیں ہوا تھا پھر عیسیٰ علیہ السلام کے لیے تسبیح و تہلیل کی غذا ہونے میں کیا تعجب ہے؟ ”قال الشيخ ابو الطاهر وقد شاهدنا رجلاً اسمه خليفة الخراط كان مقيما بابهر من بلاد المشرق مكث لا يطعم طعاما منذ ثلاث و عشرين سنة وكان يعبد الله ليلا ونهارا من غير ضعف فاذا علمت ذلك فلا يبعد ان يكون قوت عيسى عليه السلام التسبيح والتهليل والله اعلم بجميع ذلك (يواقيت ص ۱۴۶ ج ۲)“ مرزا قادیانی نے یہ کیونکر سمجھ لیا کہ ایک غذا کے بدلنے سے فوت ہونا لازم آتا ہے روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ تمام حیوان ماں کے پیٹ میں خون سے پرورش پاتے ہیں اور خون ہی طعام ان کا ہوتا ہے جب ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہیں تو صرف دودھ ان کی غذا و طعام اور وجہ پرورش ہوتی ہے اور جب اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو اناج و گھاس و میوہ جات ان کا طعام و غذا ہوتے ہیں۔ کیا کوئی باحواس آدمی کہہ سکتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے باہر آ کر انسان یا دیگر حیوانات فوت ہو جاتے ہیں کیونکہ کھانا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ نہیں رہتے اس لیے کہ خون کی غذا بند ہو جاتی ہے اور صرف دودھ ہی ملتا
ہے ۔ جب دودھ ملتا ہے تو کیا مر جاتے ہیں یا دودھ کا موقوف ہونا وفات کی دلیل ہے ہرگز نہیں کیونکہ مشاہدہ ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا ۔ جب یہ امر ثابت ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ موت لازم نہیں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذائے زمینی سے غذائے آسمانی کیونکر باعث موت ہو سکتی ہے؟ یا کیونکر مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طعام وغذا نہیں ملتی ؟
جواب ..... ۵ ..... جب قرآن سے ثابت ہے کہ لگا لگایا خوان آسمان سے بنی اسرائیل کی درخواست اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اترا ( دیکھو قرآن میں کس طرح مفصل ذکر ہے) تو پھر مومن قرآن تو انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آسمانوں پر کھانا ملنا محال ہو۔
قادیانی سوال ...... ۳۰
قادیانی حیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کے لیے کہہ دیتے ہیں ۔ آپ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ثابت کر دیں تو مسئلہ ختم ۔
جواب میرے بھائی ۔ دنیا میں کئی ایسے فرقے موجود ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ مانتے ہیں ۔ ۱...... یہودی ۔ ۲...... عیسائی ۔ ان میں سے بعض کا عقیدہ ہے کہ فوت ہوئے پھر زندہ ہو کر آسمانوں پر گئے تو موت کے وارد ہونے کے وہ بھی قائل ہیں۔ ۳...... پرویزی ۔ ۴...... سرسید اور ان کے خیالات کے نیچری ۔ ۵...... قادیانی ۔ تو پہلے آپ ارشاد فرمائیں کہ اگر وفات مسیح ہی آپ کی الجھن ہے تو ان پانچ میں سے آپ نے قادیانیت کیوں قبول کی اور باقی فرقوں کو نظر انداز کیوں کیا؟ کیونکہ اگر وفات مسیح ہی آپ کی الجھن ہے تو آپ یہودی ہو جاتے، عیسائی ہو جاتے جو پہلے سے وفات کے قائل ہیں آپ قادیانی کیوں ہوئے؟ آپ جب وجہ بیان کریں گے تو پھر بات آگے بڑھے گی کیونکہ آپ کے جواب سے میں ثابت کروں گا کہ اصل میں آپ کی الجھن وفات مسیح نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا روگ ہے جو آپ کو لگ گیا اس لیے پہلے مرزا قادیانی پر بحث ہوگی ۔
جواب ...... ۲ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام ص ۱۴۰ روحانی خزائن ص ۱۷۱ ج ۳ پر لکھا ہے کہ ”اول تو جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔“ تو دیکھئے مرزا قادیانی کے نزدیک جب یہ مسئلہ ایمانیات سے نہیں تو پھر اس پر زور کیوں؟
جواب ......۳ اگر حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کرنی ہے تو مرزا بھی مسیح ہونے کا مدعی ہے۔ مسیح علیہ السلام کی حیات پر خوب بحث ہو چکی۔ اب نئے مسیح (معاذ اللہ) مرزا کی حیات و ممات پر بحث ہونی چاہیے۔ ہمارے نزدیک اس کی حیات بھی لعنتی تھی اور ممات بھی لعنتی تھی۔
قادیانی سوال......۳۱
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور ﷺ کے امتی ہوں گے۔ جب پہلے تشریف لائے تھے تو نبی تھے۔ اب تشریف لائیں گے تو امتی ہوں گے۔ قیامت کے دن ان کی کیا پوزیشن ہو گی۔ نبی کی یا امتی کی؟ اس لیے کہ اگر قیامت کے روز نبی کی حیثیت سے حشر ہو، تو فوتگی بحیثیت امتی کے ہوئی تھی اور اگر حشر بحیثیت امتی کے ہوا تو وہ آپ کی امت جن کی طرف آپ پہلے نبی بن کر تشریف لائے تھے اور انھوں نے آپ کو نبی مانا تھا وہ کہاں جائیں گے۔ اس لیے کہ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن امتی اپنے نبی کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔
جواب اس کا بھی جواب ہماری کتابوں میں موجود ہے۔ الیواقیت والجواہر ج ۲ ص ۷۳ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دو دفعہ حشر ہوگا۔ ایک دفعہ بحیثیت نبی کے جھنڈا لے کر اپنی امت کا حساب کرائیں گے۔ دوسری بار رحمت عالم ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اپنا حساب کتاب پیش کریں گے۔
قادیانی سوال......۳۲
لو کان موسٰی و عیسٰی حیین لما وسعهما الا اتباعی۔ (الیواقیت ج ۲ ص ۲۲) ابن کثیر اور شرح فقہ اکبر مصری نسخہ میں یہ روایت موجود ہے اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔
جواب یہ غلط اور مردود قول ہے۔ کسی حدیث کی کتاب میں نہیں ہے۔ آج تک کوئی مرزائی اس کی سند پیش نہیں کر سکا۔ جن تینوں کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی حدیث کی کتاب نہیں۔ یہ حدیثیں دوسروں سے روایت کرتے ہیں اگر یہ حدیث ہوتی تو کسی حدیث کی کتاب میں موجود ہوتی۔
- ۱...... ابن کثیرؒ بلاسند روایت کرتے ہیں مگر انھوں نے بھی اس کو بے سند لکھا ہے۔
- ۲...... یہ کہ ابن کثیرؒ میں بااسناد صحیحہ متعدد مقامات پر احادیث صحیحہ و نصوص قطعیہ سے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس بے سند روایت کو نقل کرتے ہوئے ان سے سہو ہوا ہے۔ الیواقیت نے فتوحات مکیہ کا حوالہ دیا ہے اب اگر قادیانیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہے تو فیصلہ آسان ہے کہ الیواقیت نے جو ماخذ بیان کیا ہے اس کو دیکھ لینا چاہیے۔ سو فتوحات مکیہ میں لوکان موسیٰ حیاً ہے۔ یہ دلیل ہے اس امر کی کہ الیواقیت میں سہو کاتب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام آ گیا ہے۔
اسی طرح شرح فقہ اکبر کے صرف مصری نسخہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ ہندو پاک اور دیگر مطابع کے شرح فقہ اکبر کے نسخوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام نہیں۔ ۳...... اسی شرح فقہ اکبر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ہے جو دلیل ہے اس امر کی، کہ اس نسخہ میں غلطی اور سہو کاتب سے عیسیٰ علیہ السلام کا نام آ گیا ہے۔ ۴...... شرح فقہ اکبر کی اس روایت کا بھی قادیانیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہو تو آسانی سے فیصلہ ہو سکتا ہے اس لیے کہ شرح فقہ اکبر میں ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں۔ مصری نسخہ کے مطابق لوکان عیسیٰ حیاً لما وسعه الا اتباعی و بینت وجہ ذالک عند قولہ فاذا اخذ اللہ فی شرح شفاء. (فقہ اکبر ص ۹۹ مصری طبع) لوکان عیسیٰ حیاً لما وسعه الا اتباعی کی تشریح ہم نے فاذا اخذ اللہ کی بحث میں شرح شفاء کر دی ہے۔
اب شرح شفاء کو دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں کیا ہے تو شرح شفاء جلد اوّل فصل سات میں آیت اذ اخذ اللہ میثاق النبیین کے تحت لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو تورات پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ لوکان موسیٰ حیا ما وسعہ الا اتباعی شرح شفاء ج ۱ ص ۱۱۵ طبع بیروت تو مسئلہ واضح ہو گیا کہ مصری نسخہ فقہ اکبر میں لوکان موسیٰ کی جگہ غلطی اور سہو کاتب سے عیسیٰ لکھا گیا ہے اب ذیل میں حضرت ملا علی قاری کی تصریحات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر ملاحظہ ہوں۔
- ۱...... موضوعات کبیر میں جو ۱۲۸۹ھ میں طبع ہوئی تھی حدیث لو عاش ابراہیم لکان
صدیقاً نبیا. پر بحث کرتے ہوئے اس حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ لوکان موسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی.
(ص ۶۷)
- ۲...... مرقاۃ شرح مشکوٰۃ مطبوعہ مصر ج ۱ ص ۲۵۱ میں تحریر فرماتے ہیں۔ لوکان موسیٰ حیاً.
- ۳...... فینزل عیسیٰ ابن مریم من السماء.
(مرقاۃ ج ۵ ص ۱۶۰ مطبوعہ مصر)
- ۴...... نزول عیسیٰ من السماء.
(فقہ اکبر مطبوعہ مصر ص ۹۲ طبع ۱۳۳۳ھ مطبع مجیدی کانپور ۱۳۲۵ھ)
اسی طرح تفسیر ابن کثیر۔ الیواقیت، فتوحات مکیہ کے لکھنے والے تمام حضرات کا اسی متذکرہ کتب میں صراحت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا ذکر کرنا، اور مرزائیوں کا اسے تسلیم نہ کرنا اور بے سند مردود قول سے استدلال کرنا یہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ صرف اعتراض برائے اعتراض برائے مغالطہ و برائے شبہ ان کا مقصد ہے اگر دیانت نام کی کوئی چیز ان میں ہوتی تو وہ اس کو پیش نہ کرتے۔
جواب......۲ اب اصل واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں جس سے تمام استدلال کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ایک دن رحمت عالم ﷺ کی خدمت میں حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ آئے انھیں کہیں سے تورات کے چند اوراق ملے تھے۔ انھوں نے رحمت عالم ﷺ سے ان کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ کی منشاء معلوم ہونے سے قبل ان کی تلاوت شروع فرما دی۔ آپ ﷺ کی طبیعت مبارک پر یہ گراں گزرا۔ حضرت صدیق اکبرؓ جو رمز شناس نبوت تھے۔ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا تاثر معلوم کر کے فوراً حضرت عمرؓ کو ٹوکا۔ فرمایا کہ عمرؓ تجھے تیری ماں روئے کیا تو رحمت عالم ﷺ کے چہرہ مبارک سے ناراضگی کا اندازہ نہیں کررہا۔ حضرت عمرؓ نے تورات کے اوراق کی تلاوت بند کر دی اور فوراً کہا رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا و بمحمد نبیا. اس پر آپ ﷺ نے فرمایا عمرؓ۔ لو کان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی. تورات کی بات نہیں آج اگر صاحب تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا۔ صحیح روایت یہ ہے۔
(رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان مشکوٰۃ ص ۳۰ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)
جواب......۳ موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو حضور علیہ السلام کی اتباع کرتے جیسا کہ معراج کی رات اتباع کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں وہ تشریف لائیں گے تو اتباع کریں گے۔ یحکم بشرعنا لا بشرعہ.
جواب......۴ پھر دیکھیے قادیانیوں کی بدبختی کی انتہاء کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ بدبخت مرزا قادیانی کہتا ہے کہ وہ فوت ہو گئے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے مرزا کہتا ہے کہ زندہ ہیں۔ حوالہ گزر چکا ہے۔
مرزائی جس روایت کو بیان کرتے ہیں مرزا کے حوالہ نے اس کی تردید کر دی۔
پس یہ روایت مرزائیوں کے لیے بھی وجہ استدلال نہیں ہو سکتی۔ اس لیے وہ اس مردود قول سے موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالہ میں مرزا نے موسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کر دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات قرآن و
سنت نے بیان کر دی۔ پس مرزائیوں کے لیے یہ مردود قول بھی وجہ استدلال نہ رہا۔
جواب...... ۵ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو قرآن و سنت اور اجماع امت کے حوالہ جات کے بعد اس کی توجیہہ یہ کی جاتی۔ لو کان موسی و عیسی حیین (علی الارض) لما وسعہما الا اتباعی. غرض کہ کسی بھی طرح سے لیں۔ مرزائیوں میں یہ جس طرح ایمان نہیں ہے اس طرح اس قول میں جان نہیں ہے۔ (فافہم و کن من الشکرین)
جواب...... ۶ تمام طرق اور متابعات اور شواہد دلالت کرتے ہیں کہ اس حدیث میں ذکر عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ اصل نہیں ہے اور کتب حدیث میں جہاں مسند روایتیں روایت کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں تمھیں اس لفظ کا پتہ نہیں صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ فتح الباری ص ۲۸۱ ج ۱۳ باب قولہ ﷺ لا تسألوا أہل الکتب عَنْ شَيْءٍ . وہو فی المسند ص ۳۳۸ ج ۳ عن جابر . واخرجہ ابو نعیم عن عمرؓ ذکرہ فی الخصائص ص ۱۸۷ ج ۲ . (وکنز العمال ج ۱ ص ۲۰۱ حدیث نمبر ۱۰۱۰) و حاشیۃ ابی داؤد للمغربی من الملاحم. و شرح المواہب. و شرح الشفاء للقاری فی مواضع. و الدر المنثور تحت ایۃ المیثاق. مسند الدارمی. (مشکوٰۃ ص ۳۰ باب بالکتاب والسنۃ) پس یہ قطعاً سہو کاتب اور زلۃ قلم ہے۔
قادیانی سوال...... ۳۳
ہمیں قادیانیوں کا یک ورقی چھوٹا سا اشتہار ملا ہے۔ جس کا عنوان ہے ’’تلاش کریں‘‘ ان پیش گوئیوں کا مصداق کون اور کہاں ہے۔ اس میں قادیانیوں نے سب سے پہلے نمبر پر ابن ماجہ کی روایت نقل کی ہے۔ لا مہدی الا عیسٰی یعنی مہدی اور مسیح ایک ہے۔
جواب یہ روایت ابن ماجہ کے صفحہ ۲۹۲ (مطبع نور محمد آرام باغ کراچی) پر ہے۔ اس کے حاشیہ پر شاہ عبدالغنی مجددی فرماتے ہیں قال الذہبی فی المیزان ہذا خبر منکر تفرد بہ یونس بن عبد الاعلی عن الشافعی ...... قال حدثت عن الشافعی فہو علی ہذا منقطع الا ان جماعۃ ردوہ عن یونس قال حدثنا عن الشافعی والصحیح انہ لم یسمع منہ قال الازدی منکر الحدیث وقال الحاکم مجہول ...... قال الحافظ جمال الدین المزی فی التہذیب قال ابوبکر بن زیاد ہذا حدیث غریب ...... قد تواترت اخبار و استفاضت بکثرۃ رواتہا عن المصطفی ﷺ فی المہدی. وانہ
من اهل بيته وانه يملک، سبع سنين و يملاء الارض عدلا وانه يخرج مع عيسى ابن مريم فيساعده على قتل الدجال بباب لد بارض فلسطين وانه يؤم هذه الامة و عيسى عليه السلام يصلى خلفه...... فانه غير معروف عند اهل الصناعة من اهل العلم والنقل. وقال البيهقى تفردبه محمد بن خالد الجندى. قال ابو عبدالله الحافظ وهو رجل مجهول...... وهو مجهول...... عن ابان ان ابی عياش وهو متروک...... وروى الحافظ ابو القاسم بن عساكر فى تاريخ دمشق باسناده عن احمد بن محمد بن راشد قال حدثنى ابو الحسن على ابن محمد بن عبدالله الواسطى قال رايت محمد بن ادريس الشافعى فى المنام فسمعته يقول كذب على يونس. فى حديث الجندى حديث الحسن عن النبى ﷺ فى المهدى قال الشافعى ما هذا من حديثى ولا حدثت به كذب على يونس وقال البيهقى فى كتاب بيان خطاء. من اخطاء على الشافعى هذا الحديث بما انكر على الشافعى...... وهو يقول كذب على يونس ليس هذا من حديثى...... وهذا الحديث فيما يظهر ببادى الرائى مخالف لا حاديث الواردة فى ثبات مهدى غير عيسى بن مريم.
اس طویل اقتباس سے ذیل کی باتیں روایت متذکرہ بالا میں معلوم ہوئیں۔
- ۱...... ذہبی نے میزان میں فرمایا ہے کہ یہ خبر منکر ہے۔ حضرت امام شافعی سے یونس بن
عبدالاعلیٰ اکیلے روایت کرتے ہیں۔ (باقی کسی نے نقل نہیں کیا)
- ۲...... حضرت امام شافعی سے یہ روایت منقطع ہے علاوہ ازیں ایک جماعت اس کو رد کرتی ہے۔
- ۳...... حضرت امام شافعی سے یونس روایت کرتے ہیں جبکہ صحیح یہ ہے کہ حضرت امام شافعی
سے ان کا سماع (سرے سے) نہیں۔
- ۴...... رازی فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے۔
- ۵...... حاکم فرماتے ہیں کہ یہ مجہول ہے۔
- ۶...... حافظ جمال الدین نے تہذیب میں ابوبکر بن زیاد کے حوالے سے فرمایا ہے کہ یہ
حدیث غریب ہے۔
- ۷...... احادیث متواترہ جنہیں کثرت سے مختلف راوی حضرات آنحضرت ﷺ سے حضرت
مہدی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ (مہدی) آنحضرت ﷺ کے اہل بیت سے ہوں گے۔ سات سال تک حکمرانی کریں گے۔ عدل وانصاف سے زمین کو بھر دیں گے
اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (ایک زمانہ میں) ظہور فرمائیں گے اور دجال کو مقام لد ارض فلسطین میں قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائیں گے اور وہ (مہدی) اس امت کے امام ہوں گے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے مقتدی ہوں گے۔ (یہ تمام تفصیلات جو احادیث میں مذکور ہیں بتاتی ہیں کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو علیحدہ شخصیات ہیں)
- ۸...... فن حدیث کے ماہرین اور اہل علم وعقل کے نزدیک یہ روایت غیر معروف (غیر مقبول) ہے
- ۹...... امام بیہقی کے نزدیک محمد بن خالد جندی (دوسرا راوی) کا تفرد ہے۔
- ۱۰...... حافظ ابو عبداللہ فرماتے ہیں یہ مجہول شخص ہے۔
- ۱۱...... اور متروک ہے۔
- ۱۲...... تاریخ دمشق میں ابن عساکر (سند بیان کر کے) فرماتے ہیں کہ علی بن محمد بن
عبداللہ واسطی نے خواب میں حضرت امام شافعی کو دیکھا وہ فرماتے ہیں کہ یونس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے، مہدی کے بارہ میں یہ روایت نہ میری ہے نہ میں نے اسے بیان کیا ہے۔ یونس نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے۔
- ۱۳...... بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ امام شافعی پر افتراء ہے۔ امام صاحب اس سے بری ہیں
یونس نے ان پر کذب باندھا ہے یہ ان کی روایت نہیں۔
- ۱۴...... نیز یہ کہ نظر بہ ظاہر یہ روایت ان تمام روایات کے مخالف ہے جن سے یہ ثابت
ہے کہ حضرت مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ ہیں۔
اب قارئین غور فرمائیں کہ کس طرح قادیانی روایت مکذوبہ۔ متروکہ کی بنیاد پر تمام احادیث صحیح کو نظر انداز کر کے اپنے عقیدہ کی دیوار ریت کے گھروندہ پر قائم کرنے کے درپے ہیں۔
انصاف نام کی کوئی چیز، یا دیانت نام کی کوئی چیز قادیانیوں میں ہوتی تو وہ احادیث صحیح متواترہ جن میں حضرت مہدی کا نام، ولدیت، جائے پیدائش، جائے ظہور، مدت قیام، کارہائے مفوضہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام، والدہ کا نام، نزول من السماء، جگہ نزول اور بعد از نزول کارہائے کارکردگی کی تفصیل مذکور ہے ان کے ہوتے ہوئے اس مکذوبہ، متروکہ روایت کا نام بھی نہ لیتے لیکن مقدر کی مار اسی کو کہتے ہیں کہ اپنے مطلب کے خلاف روایات متواترہ ہوں تو ان کو رد کر دیتے ہیں۔ اپنے عقیدہ کے مطابق غیر صحیح جھوٹی روایت ہو تو اس کو قبول کر لیتے ہیں۔
جواب......۲ ابن ماجہ کے حاشیہ پر اس روایت کی بحث کا آخری حصہ یہ ہے کہ بل يكون المراد ان المهدى حق الهدى هو عيسى بن مريم ولا ينفى ذالك ان يكون غيره مهديا۔ (اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اس کا محمل یہ ہوتا) کہ یہاں مہدی سے مراد ہدایت یافتہ ہے (یعنی مہدی نام مراد نہیں صفت مراد ہے) سب سے زیادہ ہدایت یافتہ (اپنے زمانہ میں) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ (یہ ان کی صفت ہے اس کا یہ معنی نہیں) کہ ان کے علاوہ اور کوئی مہدی نہیں ہوگا۔
جواب......۳ مہدی نام کا ایک شخص معہود ہے جس کا احادیث میں تذکرہ ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ ہے۔ جہاں تک لغوی معنوں کے اعتبار سے (ہدایت یافتہ) لفظ مہدی کا تعلق ہے خود حضور ﷺ نے حضرت امیر معاویہؓ کے متعلق فرمایا کہ اللهم اجعله هاديا مهديا اے اللہ معاویہ کو ہادی مہدی بنا دے۔ یہاں لغوی معنی مراد ہے نہ کہ نام (علم) کا ذکر ہے اور خود مسند احمد کی روایت میں انہیں معنی میں عیسیٰ علیہ السلام کو اماماً مهديا فرمایا گیا اور دوسری روایات حكماً عدلاً وحكماً مقسطا۔
جواب......۴ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو پھر احادیث متواترہ جو حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علیحدہ علیحدہ شخصیات پر واضح دلیل ہیں ان کی روشنی میں اس کا معنی یہ کیا جاتا لا مهدی الا فی زمن عیسیٰ علیہ السلام یعنی مہدی نہیں ہوگا مگر عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں (یعنی مہدی کے ظہور اور مسیح کے نزول کا زمانہ ایک ہوگا) اور ظہور و نزول کے بعد دونوں مل کر کارہائے مشترکہ انجام دیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے روئے زمین پر عدل و انصاف سے حکمرانی کریں گے وغیرہ ذالک۔ غرض یہ کہ کسی بھی اعتبار سے دیکھا جائے قادیانیوں کا اعتراض برائے اعتراض ہے اس میں کوئی شمہ بھر بھی صداقت نہیں پائی جاتی۔
جواب......۵ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حمامة البشریٰ“ ص ۸۹ خزائن ص ۳۱۴/ ۳۱۵ ج ۷ پر لکھا ہے کہ واما احادیث مجی المهدى فانت تعلم انها كلها ضعيفة مجروحة و يخالف بعضها بعضا حتى جاء حديث في ابن ماجه وغيره من الكتب انه لا مهدى الا عيسى بن مريم فكيف يتكاء على مثل هذة الاحاديث مع شدة اختلافها و تناقضها وضعفها والكلام في رجالها كثيرا كما لا يخفى على المحدثين۔ مہدی کی آمد کے بارے میں تمام روایات ضعیف اور مجروح ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف ہیں حتیٰ کہ ابن ماجہ کی روایت لا مهدی الا عیسیٰ بھی ان جیسی روایت ہے۔ ان روایات پر کیسے اعتماد کر لیا جائے ان کے شدت اختلاف و تناقض
اور ضعف کے باعث ان روایات کے رجال میں سخت کلام ہے جیسا کہ محدثین پر مخفی نہیں۔ قادیانی صاحبان! غور فرمائیں آپ کا گرو مرزا قادیانی صرف اس روایت کو ہی نہیں بلکہ تمام روایات مہدی کو ضعیف و متناقض قرار دے رہا ہے۔ اب غیر معتبر روایات کو بنیاد بنا کر صفات مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شخصیت قرار دینا مرزائیوں کے لیے جائے عبرت و جائے تماشا ہے ۔
غرضیکہ یہ روایت غلط ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں جس طرح کہ مرزائیوں کے ایمان و عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔
قادیانی سوال...... ۳۴
اسی یک ورقی پر قادیانیوں نے ذیل کی علامات لکھ کر ذیل کا نتیجہ نکالا ہے۔
- ٭...... اسلام نام کا باقی رہ جائے گا۔ قرآن صرف رسماً ہوگا۔ مساجد بکثرت ہوں گی۔ مگر
ہدایت سے خالی، علماء روئے زمین پر بدترین مخلوق ہوں گے۔ (مشکوٰۃ) دین کا علم اٹھ جائے گا۔ شراب کا عام استعمال ہوگا۔ زنا کی کثرت، مردوں کی کمی عورتوں کی زیادتی ہوگی۔
(بخاری)
- ٭...... میری امت پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کے قدم بقدم چلے گی۔
(بخاری)
- ٭...... نیک عمل گھٹ جائیں گے۔ بخیلی دلوں میں سما جائے گی۔ فتنے فساد پھوٹیں گے۔
قتل اور خون ریزی بہت ہوگی۔
(بخاری)
- ٭...... امانتیں غنیمت سمجھی جائیں گی۔ زکوٰۃ چٹی ہوگی۔ مرد بیویوں کے ماتحت ہوں گے۔
ماں کے خلاف۔ دوست کے نزدیک اور باپ سے دور۔ قوم کے سردار فاسق ہوں گے اور رئیس کمینے ہوں گے۔ گانے بجانے زیادہ ہوں گے۔
(مشکوٰۃ)
- ٭...... پہاڑ اڑائے جائیں گے۔ دریاؤں سے نہریں نکالی جائیں گی۔ اونٹ اونٹنیاں
بیکار ہو جائیں گے۔ چڑیا گھر قائم ہوں گے۔ کتب و اخبارات بکثرت شائع ہوں گے۔ دور دور کے لوگ جمع ہوں گے۔
(القرآن)
- ٭...... دجال اور یاجوج ماجوج کا ظہور ہوگا۔ یعنی عیسائیت کا مذہبی اور سیاسی فتنہ غلبہ پائے گا۔
- ٭...... دجال کا گدھا نئی سواری ظاہر ہوگی۔ جس کا مدار آگ اور پانی پر ہوگا۔
(مجمع البحار۔ طبرانی)
- ٭...... بنی اسرائیل کے ۷۲ فرقے ہوئے۔ میری امت کے ۷۳ فرقے ہوں گے۔
(مشکوٰۃ)
- ٭...... صلیبی مذہب عیسائیت کا غلبہ ہوگا۔
(بخاری۔ ترمذی)
- ☆...... مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہوگا۔ جزیہ اٹھا لیا جائے گا۔
(بخاری)
- ☆...... طاعون کی مرض پھیلے گی۔ ظلم فخر سے کیا جائے گا۔ امیر فاجر ہوں گے۔ وزیر
خیانت کریں گے۔ اراکین ظالم ہوں گے۔
(کنزالعمال)
- ☆...... عورتیں باوجود لباس کے ننگی ہوں گی۔ عورتیں منبروں پر چڑھ کر لیکچر دیں گی۔
(کنزالعمال)
- ☆...... عورتیں مردوں کی اور مرد عورتوں کے ہم شکل ہوں گے۔
یہ چند اہم نشانات ہیں جو ظہور پذیر ہو چکے ہیں اور بنی نوع انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ مدعی مہدویت ظاہر ہو چکا ہے اور اس کی صداقت کے ثبوت کے لیے شواہد بھی ظاہر ہو چکے ہیں۔
جواب......۱ قادیانیت اور دیانت میں تضاد ہے۔ جس طرح رات دن جمع نہیں ہو سکتے اس طرح قادیانیت اور دیانت بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ قادیان کے قحبہ خانہ میں ہر شخص باون گز کا ہے۔ جتنا بڑا قادیانی ہوگا اتنا بڑا بددیانت ہوگا۔ بھلا ان شریفوں سے کوئی پوچھے کہ یہ حضرت مہدی کی علامات ہیں یا قیامت کی۔ اگر ان علامتوں سے ظاہر ہوا کہ مہدی آگئے تو کیا ان علامتوں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قیامت قائم ہوگئی۔ ماھو جوابکم فھو جوابنا۔
جواب......۲ قارئین محترم! رحمت عالم مخبر صادق ﷺ نے قیامت کی دو قسم کی علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جو قیامت سے بہت پہلے ظاہر ہوں گی۔ جنہیں علامات صغریٰ کہا جاتا ہے اور دوسری وہ جو قیامت کے بہت قریب ظاہر ہوں گی جنہیں علامات کبریٰ کہا جاتا ہے۔ جو علامتیں اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں بھی قادیانیوں نے دجل آمیزی کی ہے۔ دجل نہ بھی ہوتا تو بھی یہ تمام کی تمام علامات صغریٰ ہیں جو قیامت سے بہت پہلے ظاہر ہونا تھیں۔ اکثر ظاہر ہو چکی ہیں ابھی بہت کچھ باقی ہیں جو یقیناً ظاہر ہوں گی۔ ان کے بعد علامات کبریٰ ظہور میں آئیں گی۔ جیسے ظہور مہدی، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال، خروج دابتہ الارض، خسف، کسف اور آخری علامات طلوع الشمس من مغربھا (سورج کا بجائے مشرق کے مغرب سے نکلنا) اور باب توبہ کا بند ہونا اور پھر قیامت کا قیام۔ یہ علامات کبریٰ احادیث سے محدثین نے قریباً دس بیان کی ہیں۔ غرض ان علامات صغریٰ و کبریٰ کو خلط کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ علامات صغریٰ میں سے بعض کو لے کر دلیل قائم کرنا کہ علامات کبریٰ (ظہور مہدی) ظاہر ہو گئی ہیں، پس وہ مرزا ہے، اس کو کہتے ہیں۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا۔
پھر قادیانی اپنی عقل کو دہائی دیں کہ اگر ان علامات سے ثابت ہوا کہ مہدی آ گئے تو احادیث کے مطابق ان کے بعد مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع شمس ہوگا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔ تمہارے مزعومہ مہدی (مرزا) کو آنجہانی ہوئے ایک صدی بیت گئی پھر قیامت کیوں قائم نہ ہوئی؟ معلوم ہوا کہ ان علامات سے ظہور مہدی کی دلیل قائم کرنا دجل و کذب ہے۔ علامات صغریٰ علیحدہ امر ہے علامات کبریٰ علیحدہ امر ہے مہدی کا آنا اور قیامت کا نہ آنا یہ مرزائیوں کے کذب پر دلیل صریح ہے جو ان پہ استدلال کو جڑ سے اکھیڑ رہی ہے۔ البتہ اہل اسلام کے لیے وجہ اطمینان ہے کہ ہمارے نبی علیہ السلام کی احادیث و فرامین کے مطابق ان علامتوں اور ان جیسی دوسری سینکڑوں علامتوں کے ظہور کے بعد علامات کبریٰ کا ظہور ہوگا اور پھر قیامت قائم ہوگی ان علامات صغریٰ کے بعد جب حضرت مہدی و حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو تمام برائیاں دور ہو جائیں گی دنیا ایک دفعہ پھر منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ کا نظارہ کرے گی اگر قادیانیوں کے بقول مہدی آ گیا تو کیا دنیا نے منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ دیکھ لیا۔ منہاج نبوت پر مبنی معاشرہ تو درکنار، دنیا بھر کا معاشرہ تو بجائے خود، مرزائی مرزا کے گھر کی خبر لیں۔ مرزا نے اپنی جماعت کے مریدوں کے متعلق کیا خوب منظر کشی کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
مرزا قادیانی نے ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء کے جلسہ کے ملتوی ہونے کا اشتہار دیا جو ان کی کتاب شہادت القرآن کے آخر پر ملحق طبع ہوا۔ شہادت القرآن ص ۹۹۔۱۰۰ خزائن ص ۳۹۵۔۳۹۶ جلد ۶ پر مرزا نے اپنی جماعت کے متعلق (جو مرزا کے نام نہاد صحابی تھے) تحریر کیا۔
”اخی مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انھیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ
ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں...... خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرا دیتا ہے پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لیے اکٹھے کروں یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں بجز ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو سو سے کسی قدر زیادہ ہیں۔“
قادیانی صاحبان! لیجئے آپ کے مہدی نے اپنی جماعت کے دو سو افراد کے علاوہ باقی سب قادیانیوں کو جو آپ کے مہدی (مرزا) کے ہاتھ پر بیعت بھی کر چکے تھے ان کو درندوں سے بدتر قرار دے دیا۔ درندوں سے بدتر...... کی زد میں یہ قادیانی ہوئے۔ درندے، خنزیر، بھیڑیئے اور یہ ان سے بھی بدتر کمال ہو گئی۔ جناب! یہ مہدی ہے اور یہ اس کا عدل و انصاف سے زمین کو بھرنے کا کارنامہ ہے۔ سوچئے اور بار بار سوچئے اس کو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے مرزا قادیانی اپنی جماعت قادیانیوں کے متعلق اور خوب بولے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب! ممکن ہے کہ کوئی قادیانی کہہ دے کہ یہ تو مرزا کے زمانہ کی بات تھی۔ بعد میں قادیانی اچھے ہو گئے۔ تو لیجئے یہ حوالہ بھی پڑھ لیں۔ مرزا قادیانی نے ایک پیشگوئی کو اپنے پر منطبق کرتے ہوئے تحریر کیا۔ ”اس کے مرنے کے بعد نوع انسانی میں علت سقم سرایت کر جائے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائے گی اور وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔“
(تریاق القلوب مصنفہ مرزا ص ۳۵۵ خزائن ص ۴۸۳ ج ۱۵)
لیجئے صاحب! بقول مرزا کے اس زمانہ کے قادیانی درندوں سے بدتر اور اس
کے (مرزا کے) مرنے کے بعد پیدا ہونے والے قادیانی وحشیوں سے مشابہ ہیں۔ جن میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ ہے۔
جواب......۳ اس یک ورقی میں دیگر علامتوں کے علاوہ ایک یہ بھی لکھی ہے کہ عورتیں باوجود لباس کے ننگی ہوں گی۔ اس پر ذیل کا حوالہ ملاحظہ ہو۔
”وہ بھی کپڑے ہیں جو یورپ کی عورتیں پہنتی ہیں، جن کا نام اگرچہ کپڑا ہوتا ہے مگر جسم کا ہر حصہ اس میں سے ننگا نظر آتا ہے۔ جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال آیا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقعہ نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس آگئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لیے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں انھوں نے بتایا یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں تو یہ بھی ایک لباس ہے۔ اس طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے لباس گاؤن ہوتے ہیں۔ نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان ۲۸ جنوری ۱۹۳۳ء)
مہدی کے آنے سے قبل ایسے لباس ہوں گے یا مہدی کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کے خلیفہ ان عریاں لباسوں کو دیکھیں گے؟ اس کا جواب قادیانیوں کے ذمہ ہے۔
قادیانی سوال......۳۵
قادیانی رسالہ یک ورقی میں ہے کہ مہدی کے زمانہ میں ایک دم دار ستارہ نکلے گا اور یہ کہ وہ ۱۸۸۸ء میں نکلا۔
جواب اس دم دار ستارہ کا حضرت مہدیؑ سے کیا تعلق؟ اس کا حوالہ قادیانی پی گئے ورنہ اس کی حقیقت مرزا کی خود ساختہ مہدویت کے پرخچے اڑا دیتی۔ لیجئے اگر دم دار ستارے ہی مہدی کی علامت ہیں تو مرزا کو مر کر صدی ہوئی آنجہانی جہنم مکانی ہو گیا۔ مگر دم دار ستارے ابھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ابھی حال میں دو ماہ ہوئے ایک دم دار ستارہ
مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کر کے غروب آفتاب کے بعد ظاہر ہوتا رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے دیکھا خود فقیر (اللہ وسایا) نے بھی دیکھا ہے۔ اب فرمائیے کہ اس دم دار ستارے کا مہدی کون ہے؟ لاحول ولا قوة الا باللہ.
قادیانی سوال ......۳۶:
رفع کا معنی رفع کے حقیقی اور لغوی معنی جبکہ رفع کا مورد کوئی جسم ہوتا ہے تو رفع جسمانی ہی کے ہوتے ہیں۔ قال الراغب فی المفردات الرفع يقال تارة فی الاجسام الموضوعة اذا اعليتها من مقرها نحو رفعنا فوقكم الطور وقوله تعالى اللّٰه الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ. وتارة فى البناء اذا اطولتها نحو قوله تعالى و اذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت واسمعيل و تارة فى الذكر اذا نوهته نحو قوله تعالى و رفعنا لك ذكرك. و تارة فى المنزلة اذا شرفتها نحو قوله تعالى رفعنا بعضهم فوق بعض درجت. نرفع درجت من نشاء ہ. رفيع الدرجت انتهى كلامه.
(تاج العروس ج ۱۱ ص ۱۷۱ و مفردات ص ۱۹۹)
”امام راغب نے مفردات میں فرمایا ہے کہ رفع کا کبھی جسم میں استعمال ہوتا ہے جس کو تو اس کی جگہ سے اوپر اٹھائے جیسے رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ. (البقرہ ۶۳) یعنی ہم نے تمھارے اوپر طور کو اٹھا لیا اور قوله تعالى اَللّٰهُ الَّذِىْ رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ. (الرعد۲) یعنی وہ ذات جس نے بغیر ستون کے آسمانوں کو اٹھا لیا اور کبھی بنا میں استعمال ہوتا ہے جس کو تو طویل کرے جیسے اِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْل (البقرہ ۱۲۷) یعنی جب ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام بیت اللہ شریف کی بنیاد کو اٹھاتے تھے اور کبھی ذکر میں استعمال ہوتا ہے جب تو اس کی مدح کرے اور اس کو شہرت اور عزت دے جیسے رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (الم نشرح ۴) یعنی ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا اور کبھی مرتبہ میں استعمال ہوتا ہے جب تو کسی کو بلند درجہ عطا کرے یا بلند درجہ بیان کرنا چاہے جیسے رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجت (الزخرف ۳۲) یعنی ہم نے بعض کے مرتبہ کو بعض پر بلند کیا۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ (انعام ۸۳) یعنی ہم جس کو چاہتے ہیں درجہ بلند کرتے ہیں۔ رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ (غافر ۱۵) بلند مرتبہ والا۔ لہٰذا آیت رَفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ میں کہیں درجات کا لفظ تک نہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ ہے محض اپنی خود غرضی سے روح یا درجہ کا رفع مراد لینا نصوص قطعیہ سے اعراض ہے حدیث شریف میں ہے۔ ا...... لا يرفع ثوبه حتى يدنوا من الارض یعنی حضور ﷺ رفع حاجت کے لیے اپنا کپڑا نہیں اٹھاتے
تھے یہاں تک کہ زمین کے قریب ہوتے تھے (مجمع البحار ج ۲ ص ۳۵۷ رفع) ۲...... كان يكثر ان يرفع طرفه الى السماء یعنی حضور ﷺ انتظار وحی میں اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ (مجمع ج ۲ ص ۳۵۸) ۳...... فرفع الى رسول الله ﷺ الصبى و نفسه تقعقع (مشکوٰۃ ص ۱۵۰ باب البکاء علی المیت) یعنی لڑکے کو حضور ﷺ کی طرف اٹھا کر لایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا اور تیز حرکت کر رہا تھا۔ ۴...... فرفعه الى يده ليراه الناس یعنی حضور ﷺ نے پانی کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا تاکہ لوگ اس کو دیکھیں (مجمع ج ۲ ص ۳۵۶) ۵...... لَا تَرْفَعْنَ رُؤُسَكُنَّ حَتَّى يستوى الرجال جلوسًا (مجمع ج ۲ ص ۳۵۶) یعنی حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا تھا کہ اپنے سروں کو سجدے سے مت اٹھایا کرو۔ یہاں تک آدمی برابر سیدھے بیٹھ جائیں۔ ۶...... ارفع يدك فرفع يده فاذا اية الرجم (بخاری ج ۲ ص ۱۰۰۷) یعنی عبداللہ بن سلام نے یہودی سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ تو اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اس کے نیچے آیت رجم نکلی۔ ۷...... رفع يديه. رفع راسه. کثرت سے احادیث میں آیا ہے۔ ۸...... بخاری شریف ج ۲ ص ۵۸۷ باب غزوة الرجيع ورعل و ذکوان وبئر معونه میں عامر فہیرہ کا بئر معونہ کے دن شہید ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان کی طرف اٹھ جانا درج ہے۔ قال لقد رأيته بعد ماقتل رفع الى السماء حتى انى لا نظر الى السماء بينه وبين الارض ثم وضع. یعنی میں نے قتل ہو جانے کے بعد ان کو دیکھا کہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے یہاں تک کہ میں نے ان کو زمین و آسمان میں معلق دیکھا پھر رکھے گئے۔ ۹...... حضور ﷺ نے ایک دفعہ صاحبزادی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھا کر نماز پڑھی۔ فاذا ركع وضعھا واذا رفع رفعھا یعنی جب رکوع کو جاتے اتار دیتے تھے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر اٹھتے تھے تو امامہ کو کندھے پر اٹھا لیتے تھے۔ (بخاری ج ۲ ص ۸۸۶ باب رحمة الولد و تقبیلہ و معانقتہ) ۱۰...... قد رفع اكلته الى فيه فلا يطعمھا (بخاری ج ۲ ص ۱۰۵۵ باب خروج النار) یعنی اچانک قیامت قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص لقمہ منہ کی طرف اٹھائے گا وہ اس کو کھا نہیں سکے گا۔
قادیانی سوال......۳۷
اللہ فاعل، ذی روح مفعول، توفی کا معنی موت اس چیلنج کو کوئی نہیں توڑ سکا۔
جواب اگر کسی موقع پر دوسرے دلائل ایسے موجود ہوں جن کے پیش نظر توفی کے حقیقی معنی لیے جاسکتے ہوں یا حقیقی کے ماسوا دوسرے معنی بن ہی نہ سکتے ہوں تو اس مقام پر خواہ فاعل ”اللہ تعالیٰ“ اور مفعول ”ذی روح انسان“ ہی کیوں نہ ہو وہاں حقیقی معنی ”پورا
لے لینا“ ہی مراد ہوں گے۔ مثلاً
- ١...... آیت اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا (زمر۴۲)
اللہ پورا لے لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو جن کو ابھی موت نہیں آئی ہے پورا لے لیتا ہے نیند میں ”والتی لم تمت“ کے لیے بھی لفظ ”توفی“ بولا گیا یعنی ایک جانب یہ صراحت کی جا رہی ہے کہ یہ وہ جانیں (نفوس) ہیں جن کو موت نہیں آئی اور دوسری جانب یہ بھی بصراحت کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیند کی حالت میں ان کے ساتھ ”توفی“ کا معاملہ کرتا ہے تو یہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہے۔ ”متوفی“ اور نفس انسانی مفعول ہے ”متوفی“ مگر پھر بھی کسی صورت سے ”توفی بمعنی موت“ صحیح نہیں ہیں ورنہ تو قرآن کا جملہ ”والتی لم تمت“ العیاذ باللہ مہمل ہو کر رہ جائے گا۔ یا مثلاً
- ٢...... وهو الذی یتوفکم بالیل و یعلم ما جر حتم بالنهار (انعام٦٠) اور وہی (اللہ)
ہے جو پورا لے لیتا یا قبضہ میں کر لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو دن میں ۔ اس میں بھی کسی طرح توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے حالانکہ فاعل اللہ اور مفعول ذی روح انسانی نفوس ہیں۔ فعل توفی اور معنی نیند کے ہیں۔ یا مثلاً
- ٣...... آیت حتی اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا (انعام٦١) یہاں تک کہ جب
آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، قبض کر لیتے ہیں یا پورا لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)۔ میں ذکر موت ہی کا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی توفتہ میں توفی کے معنی موت کے نہیں بن سکتے۔ ورنہ بے فائدہ تکرار لازم آئے گا یعنی ”احدکم الموت“ میں جب لفظ ”موت“ کا ذکر آ چکا تو اب ”توفتہ“ میں بھی اگر توفی کے معنی موت ہی کے لیے جائیں تو ترجمہ یہ ہوگا۔ ”یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے ایک کسی کو موت، موت لے آتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں دو بار لفظ موت کا ذکر بے فائدہ ہے اور کلام فصیح و بلیغ اور معجز تو کیا روز مرہ کے محاورہ اور عام بول چال کے لحاظ سے بھی پست اور لا طائل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر ”توفی“ کے حقیقی معنی ”کسی شی پر قبضہ کرنا یا اس کو پورا لے لینا“ مراد لیے جائیں تو قرآن عزیز کا مقصد ٹھیک ٹھیک ادا ہوگا اور کلام بھی اپنے حد اعجاز پر قائم رہے گا۔
اب ہر ایک عاقل غور کر سکتا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ ”توفی“ کے حقیقی معنی موت کے ہیں خصوصاً جبکہ فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح کہاں تک صحیح اور درست ہے؟
- ۴...... ان تین مقامات کے علاوہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۱ ثم توفی کل نفس بما
کسبت پھر پورا دیا جائے گا ہر ایک نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔
اور سورہ نحل کی آیت نمبر ۱۱۱ وتوفی کل نفس ما عملت اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔ میں بھی توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول ”نفس انسانی“ ہے تاہم یہاں بھی توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے اور یہ بہت واضح اور صاف بات ہے۔ یا وفیت کل نفس ما کسبت وھم لا یظلمون یا فاما الذین آمنوا و عملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم (النساء ۱۷۳) غرض ان آیات میں باوجود اس امر کے کہ ”توفی“ کا فاعل اللہ تعالیٰ اور اس کا مفعول انسان یا نفس انسانی ہے پھر بھی باجماع اہل لغت و تفسیر ”موت کے معنی“ نہیں ہو سکتے خواہ اس لیے کہ دلیل اور قرینہ اس معنی کے خلاف ہے اور یا اس لیے کہ اس مقام پر توفی کے حقیقی معنی (پورا لے لینا) یا قبض کر لینا) کے ماسوا ”موت کے معنی“ کسی طرح بن ہی نہیں سکتے۔
تو مرزائے قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ”توفی“ اور ”موت“ مرادف الفاظ ہیں یا یہ کہ توفی کا فاعل اگر اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان یا نفس انسانی ہو تو اس جگہ صرف ”موت“ ہی کے معنی ہوں گے۔ دونوں دعوے باطل اور نصوصِ قرآن کے قطعاً مخالف ہیں۔
فھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین۔
- ۵...... قاعدہ۔ مرزا قادیانی نے یہ قاعدہ افتراء کیا ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں یہ قاعدہ
مذکور نہیں۔ زیادہ نہیں چودہ صدیوں کے مسلمہ مجددین میں سے کسی ایک مجدد کی کتاب سے ہی قادیانی یہ قاعدہ دکھا ورنہ اقرار کریں کہ یہ مرزا قادیانی کی دجالانہ اختراع تھی۔
- ۶...... مرزا قادیانی نے کہا کہ اللہ فاعل ذی روح مفعول تو توفی کا معنی سوائے موت کے
اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ گویا مرزا قادیانی نے اعتراف کر لیا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ ورنہ ان شرائط کی کیا ضرورت تھی؟
بالالفاظ دیگر مرزا نے تسلیم کر لیا کہ توفی میں جہاں اللہ فاعل نہ ہو۔ یا ذی روح مفعول نہ ہو وہاں اس کا معنی موت نہیں ہوگا۔ مرزا کا اتنی بات تسلیم کرنا دلیل ہے اس امر کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ ورنہ حقیقی معنی کبھی شرائط کا محتاج نہیں ہوتا۔
- ۷...... مرزا نے براہین احمدیہ ص ۵۱۹ خزائن ج ۱ ص ۶۲۰ پر لکھا ہے۔ یا عیسی انی
متوفیک ورافعک میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ لیجئے اللہ فاعل ذی روح مفعول لفظ توفی لیکن خود مرزا نے معنی موت نہیں کیا۔
مرزائیوں کو چیلنج اگر قاعدے ہی بنانے ہیں تو پھر ہمارا دعویٰ سنیں۔
- ١...... اگر فعل توفی رفع کے ساتھ مستعمل ہو اور فاعل دونوں کا اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول جسم
ذی روح ذات واحد تو وہاں صرف اخذ جسم مع رفع جسم ہی کے معنی ہوں گے۔ کوئی دنیا کا قادیانی اس قاعدہ کو توڑ کر دکھائے۔
- ٢...... اب ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر توفی باب تفعل ہو۔ اللہ اس میں فاعل ہو اور ذی روح
اس کا مفعول بہ ہو جو بن باپ پیدا ہوا ہے وہاں پر توفی کا معنی پورا پورا لینا اور اٹھانا ہوگا، وہاں موت کا معنی نہیں ہوگا کوئی قادیانی میدان میں آئے جو ہمارے اس قاعدے کو توڑ کر منہ مانگا انعام حاصل کرے۔ اگر قادیانی کہیں کہ یہ قاعدہ کہاں لکھا ہے تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ علم نحو کی جس کتاب میں مرزا قادیانی کا قاعدہ لکھا ہوا ہے اس کے اگلے صفحہ پر ہمارے یہ قاعدے بھی لکھے ہوئے ہیں۔
مرزا کا چیلنج قبول مرزا قادیانی نے لکھا ”اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا حدیث رسول سے یا اشعار قصائد نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو۔ وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپے نقد دوں گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٩١٩ خزائن ج ٣ ص ٦٠٣)
آنحضرت ﷺ سے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک انصاری کے جواب میں فرمایا وَاِذَا رَمَى الْجِمَارَ لَا يَدْرِیْ اَحَدٌ مَّالَهُ حَتّٰی يُتَوَفَّاهُ اللّٰہ عزوجل یَوْمَ الْقِیَامَةِ. جب کوئی رمی جمار (شیطانوں کو کنکریاں مارنا) کرتا ہے تو نہیں جانتا کہ اس کا کیا اجر ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے پورا پورا (اجر) دیں گے۔ (ترغیب والترہیب للمنذری ج ٢ ص ١٦٠ باب ترغیب وقوف بعرفہ والمزدلفہ وفضل یوم عرفہ موارد الظمآن ص ٢٤٠ حدیث نمبر ٩٦٣)
لیجئے اس روایت میں مرزا قادیانی کی مطلوبہ تمام شرائط موجود ہیں اور توفی کا معنی موت مرزا قادیانی تو درکنار اس کا باپ بھی اس روایت میں نہیں کر سکتا۔
قادیانیوں کو چیلنج مرزا غلام احمد قادیانی نے ازالہ اوہام ص ٥٣٠ خزائن ج ٣ ص ٣٩٠ پر لکھا ہے۔ ”توفی کا معنی روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا“ اس پر ہمارے مخدوم حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ نے اپنی کتاب غایت المرام ص ٧٩ پر
مرزا قادیانی کو چیلنج دیا کہ ”ہم حیران ہیں کہ توفی کے معنی صرف ”قبض روح“ کس لغت میں ہیں۔ اگر براہ عنایت مرزا قادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھا دیں کہ توفی کے معنی ”صرف قبض روح اور جسم کو بے کار چھوڑ دینے“ کے ہیں تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس رقم میں ”سراج منیر“ بخوبی چھپ سکتا ہے۔“
(احتساب قادیانیت ج ۶ ص ۲۳۵، ۲۳۶)
یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مرزا قادیانی زندہ تھا سراج منیر اپنی کتاب چھاپنے کے لیے چندہ کی اپیلیں کر رہا تھا۔ مرزا قادیانی اس چیلنج کو قبول کرنے سے عاجز رہا۔ اب ہم مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ کے ادنیٰ خادم ہونے کے ناطے پوری قادیانیت کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس چیلنج کو قبول کرو اور ہم سے انعام پاؤ۔ نکلو میدان میں۔ مرد میدان بن کر سامنے آؤ اور مرزا کی پیشانی سے ذلت و ندامت کے داغ کو دھونے کے لیے کوشش کرو مگر قیامت تک ایسا نہ کر سکو گے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔
قادیانی سوال...... ۳۸
رحمت عالم ﷺ کی وفات پر سیدنا عمرؓ نے کہا کہ آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپ کو اس طرح اٹھایا جائے گا، جیسا کہ مسیح علیہ السلام اٹھائے گئے۔ پس حضرت ابوبکرؓ نے قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ قرآنی آیت پڑھی تو صحابہ کرامؓ کو آنحضرت ﷺ کی وفات پر یقین ہو گیا۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر صحابہؓ کا اجماع ہو گیا۔
جواب سیدنا عمرؓ آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر سے ایسے وارفتہ ہوئے کہ اس پر یقین کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا۔ چونکہ تمام صحابہ کرامؓ میں حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ایسا متفق و مشہور عقیدہ تھا کہ اس پر قیاس کیا کہ آپ ﷺ کا ایسے رفع ہوگا۔ جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر استدلال کیا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا انکار نہیں کیا۔ ورنہ مقیس علیہ کا انکار کرنے سے مقیس کا خود انکار ہو جاتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا کہاں رفع ہوا؟ اس سے آنحضرت ﷺ کے رفع کی خود بخود تردید ہو جاتی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے رفع عیسیٰ کا انکار نہیں کیا۔ صرف آنحضرت ﷺ کے وصال کو ثابت کیا۔ اس پر تمام صحابہؓ خاموش رہے۔ گویا اجماع ہو گیا صحابہ کرامؓ کا اس امر پر کہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع برحق ہے۔
قادیانی سوال...... ۳۹
بخاری شریف کی روایت ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ فرمائیں گے۔
فاقول كما قال العبد الصالح كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ. پس عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی توفی ایک جیسی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی توفی سے مراد موت ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کی توفی موت کیوں نہیں؟
جواب: پہلے تو بخاری شریف کی روایت مکمل نقل کرتے ہیں جو یہ ہے۔ انه يجاء برجال من امتى فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول يارب اصحابي فيقال انك لا تدرى ما احدثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم الخ (بخاری ج ۲ ص ۶۶۵ باب قوله و كنت عليهم شهيدا) ”میری امت کے بعض لوگ پکڑے جائیں گے اور بائیں طرف یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں کہا جائے گا کہ آپ کو اس کا علم نہیں کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا پس میں ویسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بہ تمامہ بھر پور لے لیا تھا اس وقت آپ نگہبان تھے۔“
جواب یہ تو پہلے قرآن کے اسی رکوع سے اور حدیث رسول اللہ ﷺ سے حتی کہ مرزا قادیانی کے قول سے معلوم ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ قیامت کے دن ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن فرمائیں گے اور حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی حدیث میں ظاہر ہے کہ قیامت کے دن حوض پر فرمائیں گے۔ اب رہا کہ یہ صیغہ ماضی کا ہے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے لیے قال اور اپنے لیے أَقُولُ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قول قیامت میں پہلے ہو چکے گا اور حضور ﷺ کا یہ واقعہ بعد کو پیش آئے گا تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں ویسے ہی کہوں گا جیسا کہ اس سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا یعنی قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے قول کی ماضی حضور ﷺ کے قول کے اعتبار سے ہے۔
جواب.....۲ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے جب یہ حدیث بیان فرمائی تھی تو سورۂ مائدہ جس میں یہ حکایت مذکور ہے پہلے نازل ہو چکی تھی اور تمام صحابہؓ نے اس حکایت کو سن لیا تھا اب حضور ﷺ اس حکایت کو محکی عنہ بنا کر بیان فرماتے ہیں یعنی فاقول كما قال العبد الصالح في سورة المائدة.
جواب......۳ یہ غلط ہے کہ حضور ﷺ کی توفی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک
ہی صورت کی ہے اگر ایسا ہوتا تو حضورﷺ یہ فرماتے فاقول ما قال العبد الصالح حالانکہ فاقول کما قال صرف قول میں تشبیہ ہے مقولہ میں نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے یعنی اسی قسم کا قول میں بھی کہوں گا نہ یہ کہ وہی قول کہوں گا مشبہ اور مشبہ بہ میں تغائر ضروری ہے۔ ادنیٰ مشارکت سے تشبیہ متحقق ہو جاتی ہے۔ جیسے کالاسد بہادری میں تشبیہ ہے۔ نہ کہ من کل الوجوہ جیسے دم۔ ٹانگ۔ کھال۔ پس اس حدیث کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی غیر حاضری کا عذر کریں گے میں بھی اپنی غیر حاضری کا عذر کروں گا نہ کہ وہی الفاظ کہوں گا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہے ہوں گے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقول مرزا قادیانی جس سوال کا یہ جواب ہے یہ سوال ہوگا ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰهَيْنِ (مائدہ ۱۱۶) اور حضورﷺ سے ہرگز یہ سوال نہ ہوگا تو پھر یہ بعینہٖ جواب بھی نہیں ہو سکتا بلکہ حضورﷺ عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے مانند کہیں گے اور غیر حاضری کا عذر دونوں فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی یعنی غیر حاضری و عدم موجودگی بطور اصعاد الی السماء ہوئی اور حضورﷺ کی توفی یعنی غیر حاضری وعدم موجودگی بطور توفی بالموت کے، تشبیہ کے لیے اس قدر بھی تغائر کافی ہے۔ جواب......۴ اگر کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو کوڑے پٹوائے گئے اور طمانچے مارے گئے۔ صلیب پر چار میخ کر کے عذاب دیے گئے اور صلیب پر اس کی جان نکلی تھی جیسا کہ اناجیل میں ہے کہ یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دی اور اس کی توفی وقوع میں آئی اسی طرح نعوذ باللہ محمدﷺ کی توفی ہوئی ہوگی اور یہی آپ کی دلیل پیش کرے کہ جیسے کہ مسیح علیہ السلام کی توفی ہوئی اسی طرح محمدﷺ کی توفی وقوع میں آئی کیونکہ محمدﷺ کی توفی اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک ہی صورت کی تھی تو مرزا قادیانی اور مرزائی بتا دیں کہ اس عیسائی کو وہ کیا جواب دیں گے؟ آیا ایسی تذلیل اور عذاب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہوئے ویسے ہی حضرت خلاصہ موجودات افضل الرسلﷺ کے واسطے ہونے قبول کریں گے یا اپنی اس دلیل کی اصلاح کریں گے کہ دونوں کی توفی ایک ہی قسم کی نہ تھی؟ جواب......۵ کلمہ کما کے ماقبل وما بعد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر طرح اور ہر وصف اور ہر حکم میں ایک جیسے ہوں بلکہ بسا اوقات ان کی کیفیتوں میں بہت مغائرت ہوتی ہے۔ جیسے آیت کریمہ کما بدأنا اول خلق نعیده (الانبیاء) یعنی جس طرح ہم نے پہلی دفعہ پیدا کر لیا تھا۔ اسی طرح پھر دوسری دفعہ بھی پیدا کر لیں گے۔ جو اس حدیث کی
کتاب صحیح بخاری میں موجود ہے۔ پہلی دفعہ کی پیدائش اور قیامت کی پیدائش کو کلمہ کما سے ذکر کیا تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلے گا کہ پہلی دفعہ ماں کے پیٹ اور باپ کے نطفہ سے پیدا ہوئے تھے تو پھر قیامت کو بھی اسی طرح پیدا ہوں گے۔ معاذ اللہ۔ پہلی دنیوی پیدائش۔ دوسری اخروی پیدائش۔ دونوں کے لیے لفظ کما آیا۔ مگر ان میں مماثلت صرف اس امر میں ہے کہ یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں داخل ہیں۔ جس طرح پہلی پیدائش کو تم دیکھ چکے اس طرح دوسری دفعہ (موت کے بعد) زندہ کرنا بھی اس خالق عظیم کی قدرت سے باہر نہیں۔ دونوں تخلیقوں کے لیے لفظ کما آیا لیکن کیفیات میں فرق ہے۔ اس طرح اقول کما قال میں دونوں کے لیے کما ہے مگر قول دونوں حضرات کے مختلف ہوں گے۔
جواب.......۲ اسی آیت میں فلما توفیتنی سے قبل تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے ایک ہی لفظ نفس استعمال ہوا ہے تو معاذ اللہ اس سے کیا یہ لازم آیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نفس اور اللہ تعالیٰ کا نفس ایک جیسے ہیں۔ اسی طرح گو ایک ہی لفظ توفی دونوں کے لیے مستعمل ہوا ہے۔ مگر ہر دو کے حالات مخصوصہ جو دلائل خارجہ سے ثابت ہیں ان پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی توفی رفع الی السماء سے اور آنحضرت ﷺ کی توفی موت سے ہوئی۔ آپ ﷺ کی توفی بخاری باب وفات النبی ﷺ و موضعہ نے متعین کر دی اور عیسیٰ علیہ السلام کی متوفیک کے بعد رافعک نے متعین کر دی۔
قادیانی سوال......۴۰
کیا اس بات میں امت محمدیہ ﷺ کی جو خیر الامت ہے اور اس کی شان میں ہے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ہتک نہیں ہے کہ اصلاح امت محمدیہ ﷺ کے لیے ایک نبی کو محفوظ رکھا جائے اور امت میں کوئی لائق نہیں کہ اصلاح کرے اور خدا کو نبی بھیجنا پڑے کیا یہ کام امت محمدیہ ﷺ کا مجدد نہیں کر سکتا۔
جواب......۱ چونکہ حضرت عیسیٰ نبی امتی بن کر آئیں گے جیسا کہ حدیثوں میں مذکور ہے یہ امت محمدی کا فخر اور عزت ہے کہ اس میں ایک اولوالعزم پیغمبر علیہ السلام شامل ہوتا ہے اور اپنی دعا سے شامل ہوتا ہے دیکھو انجیل برنباس۔ ”اے رب بخشش کرنے والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ علیہ السلام) کو قیامت کے دن اپنے رسول ﷺ کی امت میں ہونا نصیب فرما۔ (فصل ۲۱۲ ص ۱۹۲) اب بتاؤ کہ یہ امت محمدیہ ﷺ کی ہتک ہے یا علو درجہ
کا ثبوت ہے کہ ایک نبی دعا کرتا ہے کہ اے خدا مجھ کو امت محمدی ﷺ میں ہونا نصیب فرما۔
جواب ۲...... کس قدر عالی مرتبہ اس امت کا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس امت کا ایک فرد ہو کر آتا ہے مگر تعصب بھری آنکھ کو یہ عزت ہتک نظر آتی ہے یہ نظر کا قصور ہے۔ آہ۔ کس قدر کج فہمی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے تو ہتک ہے اور مرزا قادیانی کو حضور ﷺ کے بعد نبی بنانے سے ہتک نہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علت غائی احکام دین اسلام کی تنسیخ یا شریعت محمدی ﷺ کی کمی پوری کرنا نہیں۔ حدیثوں میں بصراحت موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے واسطے اور صلیب کے توڑنے کے لیے آئیں گے جس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یہود اور نصاریٰ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے نہ کہ دین اسلام اور امت محمدی کی اصلاح کے واسطے۔ دیکھو قرآن مجید فرما رہا ہے وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ یعنی مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب اس پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ مجدد اسلامی امت کا وہ صرف ایک فرد ہوتا ہے اس لیے اس کا کہنا صرف مسلمانوں پر اثر کر سکتا ہے اور ارادۂ خداوندی میں کسر صلیب اور اصلاح یہود ہے اس لیے اسی پیغمبر علیہ السلام کو جسے ایک گروہ ان کو خدا بنا کر گمراہ ہوا اور دوسرے گروہ نے نبوت سے انکار کر کے ان کو جھوٹا نبی علیہ السلام کہا اور اپنی دانست میں ان کو طرح طرح کے عذاب دے کر صلیب پر قتل کر چکے خداوند تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے زعم توڑنے اور کذب ظاہر کرنے اور امت محمدی ﷺ کا رتبہ بڑھانے اور ان کی دعا قبول کرنے اور لتؤمنن بہ و لتنصرنہ کا مصداق بنانے کے لیے ان کو مقدر کیا کہ جب وہ خود ہی زندہ اتر کر ان کے سب زعم باطل کر دے گا تو وہ آسانی سے سمجھ جائیں گے اور ایسا کھلا معجزہ اور کرشمہ قدرت دیکھ کر اور دجال کو اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کرنے کے بعد آخرکار سب اہل کتاب یہود اور نصاریٰ ایمان لے آئیں گے۔
جواب ۳...... یہ کہاں لکھا ہے کہ امت محمدی ﷺ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے نبی تبلیغ دین کرتے تھے اسی طرح میرے علماء امت تبلیغ دین کیا کریں گے کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یہ نہیں کہ علماء امت بنی اسرائیل کے نبیوں کے ہم مرتبہ ہوں گے یا کسی قسم کی نبوت کے مدعی ہوں گے۔ نیز یہ کہ اس روایت کی صحت بھی مخدوش ہے۔
جواب......۴۰ پہلے نبیوں میں سے ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل ہو رہا ہے نہ کہ آپ ﷺ کی امت سے کسی شخص کو نبی بنایا جا رہا ہے۔
قادیانی سوال......۴۱
اسی طرح ایک اور روایت مسلم وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سو سال تک تمام جاندار مر جائیں گے۔
(کنز العمال راوی جابر و مسلم)
الجواب اگر یہی ترجمہ صحیح ہے جو کیا گیا ہے تو پھر ہر ”جاندار“ میں تو جناب موسیٰ، ملائکہ بھی شامل ہیں۔ کیا یہ سب کے سب سو سال کے اندر اندر فوت ہو گئے تھے؟ تو صاحب جس دلیل سے تم ملائکہ کو ”ہر جاندار“ کے لفظ سے باہر کرو گے۔ اسی سے ہم مسیح کو نکال لیں گے کیوں؟ کیسی کہی، ہاں جس دلیل سے تم موسیٰ علیہ السلام کو بچاؤ گے ہم اس سے مسیح کو۔
حضرات! اصل بات یہ ہے کہ مرزائی مذہب سراپا خیانت و فریب ہے۔ مرزا قادیانی کی بھی یہی عادت تھی کہ آنحضرت ﷺ کی حدیث اپنے مطلب کو نقل کرتے۔ مگر جو فقرہ اپنی نفسانیت کے خلاف ہوتا اس کو چھوڑ دیتے چنانچہ (حمامۃ البشریٰ ص ۸۸ خزائن ج ۷ ص ۳۱۲) پر کنز العمال کی حدیث لکھتے ہیں۔ جو ہم اسی مضمون میں بذیل ثبوت حیات مسیح لکھ آئے ہیں۔ یعنی حدیث نمبر ۸۔ مگر اس میں لفظ من السماء چھوڑ گئے۔ یہی چالاکی مرزائی مصنف نے کی ہے۔ مسلم کی حدیث جو جابر سے مروی ہے۔ اس میں مَاعَلیٰ الْاَرْضِ کا لفظ موجود ہے یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ آج جتنے لوگ زمین پر موجود ہیں۔ سو سال تک ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔
”ما علی الارض من نفس منفوسۃ یاتی علیھا مائۃ سنۃ وھی حیۃ یومئذ“ (مسلم) یعنی روایت ہے جابر سے پیغمبر خدا ﷺ فرماتے تھے۔ روئے زمین پر کوئی نفس نہیں جو پیدا کیا گیا ہو اور موجود ہو۔ پھر آج سے سو برس گزرے اور وہ زندہ ہو۔ دوسری حدیث صحیح مسلم کی یہ ہے کہ زمین پر کوئی شخص بھی آج کے لوگوں میں سے زندہ، موجود ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ۴۸۱ خزائن ج ۳ ص ۳۵۸)
مگر مرزائی مصنف پاکٹ بک کی خیانت ہے کہ ”زمین پر آج کے لوگوں“ کے الفاظ اُڑا کر ”ہر جاندار“ ترجمہ کر کے مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے۔
قادیانی سوال......۴۲
ان ینزل فیکم میں آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کیا ہے کہ ابن مریم تم
میں نازل ہوگا۔
الجواب خطاب صحابہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ عامہ امت محمدیہ تا قیامت مخاطب ہے۔ ابن خزیمہ و حاکم نے روایت نقل کی ہے عن انس قال النبی ﷺ سیدرک رجال من امتی ابن مریم (کنزالعمال ج ۱۴ ص ۳۳۵ حدیث نمبر ۳۸۸۵۴) یعنی میری امت کے لوگ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے نہ صحابہ لوگ۔ اور دیگر احادیث صحیحہ کثیرہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب قیامت تشریف لانا مصرح ہے۔ ملاحظہ ہوں۔ قال لا تقوم الساعة حتی ینزل عیسٰی بن مریم۔
(مسند احمد ص ۴۹۳ ج ۲ و ابن ماجہ ص ۲۹۹ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم)
لن تقوم الساعة حتیٰ ترون قبلھا عشر ایات و نزول عیسٰی ابن مریم (مسلم ص ۳۹۳ ج ۲ کتاب الفتن) ظاہرین الی یوم القیامہ فینزل عیسیٰ ابن مریم (مسلم ص ۸۷ ج ۱ باب نزول عیسٰی بن مریم) کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی و سطہا والمسیح اخرہا (مشکوٰۃ ص ۵۸۳ باب ثواب ہذہ الامۃ) ان تمام حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت میں مذکور ہے اور پچھلی روایت میں امت محمدیہ کے آخر زمانہ میں مسیح ؑ کا ہونا مصرح ہے نہ عہد صحابہؓ میں نہ چودہ سو سال کے بعد۔
قادیانی سوال...... ۴۳
مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَد۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میرے بعد احمد رسول ﷺ آئے گا۔ بعد سے مراد وفات ہے۔
الجواب ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۔ (بقرہ ۵۱) ”یعنی تم نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد بچھڑے کو پوجا اور تم ظالم ہو۔“ جو معنی اس جگہ لفظ ”بعد“ کے ہیں وہی معنی کلام مسیح میں بھی۔ کیا آیت ہذا میں ”بعد“ سے مراد موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہے؟ ہرگز نہیں۔
قادیانی سوال...... ۴۴
آنحضرت ﷺ نے شب معراج باقی انبیاء میں عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ جب وہ فوت شدہ ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات یافتہ ہیں نہیں تو انھیں بھی زندہ مانو۔
الجواب (الف) جناب اگر ایک زندہ انسان کا وفات یافتہ روحوں میں شامل ہونا ثبوت وفات ہے تو پھر مرزا قادیانی زندگی میں ہی مر چکے تھے جو کہتے تھے کہ:۔
- ۱...... ”اس (مسیح نے) کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی۔ ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم
کشف میں جو گویا بیداری کا عالم تھا ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا۔“
(ریویو جلد ۱ ص ۳۴۸)
- ۲...... ”ایک دفعہ میں نے بیداری کی حالت میں جناب رسول ﷺ کو مع حسین و علی و
فاطمہؓ کے دیکھا یہ خواب نہ تھی بلکہ بیداری کی ایک قسم تھی۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج اول ص ۱۷۸ و اخبار الحکم ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء)
کہ اس میں اک سودائی برہنہ پا بھی ہے
- ب...... یہ استدلال درست نہیں کیونکہ اس سے تو پھر یہ لازم آئے گا کہ اس وقت خود
آنحضرت ﷺ بھی فوت شدہ ہوں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کو اس دنیوی زندگی میں جسمانی معراج ہوئی۔ پس جس طرح دوسرے انبیاء کی ملاقات کے وقت آنحضرت ﷺ زندہ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ تھے اور آسمانوں پر تھے اور آنحضرت ﷺ کو اپنے نزول قرب قیامت کی خبر دی تھی جیسا کہ ابن ماجہ میں مصرح ہے۔
- ج...... یہ غلط ہے کہ معراج کی رات وفات شدگان کا اجتماع تھا بلکہ آنحضرت ﷺ اور
سیدنا جبرائیل جیسے اس اجتماع میں زندہ تھے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام بھی تھے۔ معراج کی رات تین قسم کے حضرات کی باہمی ملاقات تھی۔ ۱۔ فوت شدگان کی فوت شدگان سے جیسے آدم و ابراہیم علیہ السلام۔ ۲۔ فوت شدگان کی زندہ حضرات سے جیسے سیدنا آدم علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ سے۔ ۳۔ زندہ حضرات کی زندہ حضرات سے جیسے آنحضرت ﷺ کی سیدنا جبرائیل و مسیح علیہ السلام سے یا ان دونوں حضرات کی آنحضرت ﷺ سے۔ پس قادیانی استدلال باطل ہے۔
قادیانی سوال...... ۴۵
زمین سے آسمان تک کی طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ممکن؟
- جواب...... ۱ کہ حکمائے جدید لکھتے ہیں کہ نور ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ
میل کی مسافت طے کرتا ہے۔
- ۲...... بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے۔
- ۳...... اور بعض ستارے ایک ساعت میں، آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔
- ۴...... علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو حرکت شعاعی اس قدر سریع
ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتا تو اور دور تک وصول ممکن تھا۔
- ۵...... نیز جس وقت آفتاب طلوع کرتا ہے تو نور شمس ایک ہی آن میں تمام کرۂ ارضی پر
پھیل جاتا ہے۔ حالانکہ سطح ارضی ۲۰۳۶۳۶۳۶ فرسخ ہے جیسا کہ سبع شداد ص ۴۲ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ ۶۱۰۹۰۹۰۸ کروڑ میل ہوا۔ حکمائے قدیم کہتے ہیں کہ جتنی دیر میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ۵۱۹۶۰۰ لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ مسافت ۱۵۵۸۸۰۰ لاکھ میل ہوئی۔ نیز شیاطین اور جنات کا شرق سے لے کر غرب تک آن واحد میں اس قدر طویل مسافت کا طے کر لینا ممکن ہے تو کیا خداوند عالم اور قادرِ مطلق کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرا دے؟
- ۶...... آصف بن برخیا کا مہینوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت سلیمان علیہ السلام کی
خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کر دینا قرآن کریم میں مصرح ہے کما قال تعالیٰ وَقَالَ الَّذِیْ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِهِ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ (النمل ۴۰) اسی طرح سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کا مسخر ہونا بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی اور مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرتی کما قال تعالیٰ وَ سَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ.
- ۹...... آج کل کے ملحدین فی گھنٹہ تین سو میل کی مسافت طے کرنے والے ہوائی جہاز پر تو
ایمان لے آئے ہیں مگر نہ معلوم سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمان علیہ السلام کے تخت کو ہوا بحکم خداوندی اڑا کر لے جاتی تھی کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا اس لیے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔
- ۱۰۔ مرزا چشمہ معرفت کے حصہ دوم میں ص ۲۱۹ خزائن ج ۲۳ ص ۲۲۷ ۔ ۲۲۸ پر
لکھتے ہیں۔ ”پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مع گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے“ اور ازالہ اوہام ص ۲۷۲ خزائن ج ۳ ص ۲۳۸ میں اپنے ایک مطلب کے
ثبوت میں تورات کی عبارت استدلال پیش کرتے ہیں جس میں یہ بھی لکھا ہے ”ایلیا نبی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چادر اس کی زمین پر۔“
قادیانی سوال ......۴۶
حیات مسیح عقل میں نہیں آتا؟
جواب گو قرآن کی آیتوں، حدیثوں اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ اور اجماع امت یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور اصالتاً نزول فرمائیں گے لیکن عام عقلوں میں نہیں سماتا اس کے جواب میں ان کے مرشد کا یہ حکم سنا دینا چاہیے کہ ازالہ اوہام ص ۸۳۵ خزائن ج ۳ ص ۵۵۲ میں ہے ”اگر قرآن و حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔“ اور ازالہ ص ۳۷۴ خزائن ج ۳ ص ۲۹۳ میں ہے ”سلف خلف کے لیے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔“ اگر کہا جائے کہ خدا نے خود فرمایا ہے لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلاً (الاحزاب ۶۲) کہ ہم اپنی سنت جاریہ کے خلاف نہیں کرتے تو میں کہوں گا کہ اگر سنۃ اللہ کے یہ معنی ہیں تو بتائیے کہ پہلے سب مخلوق محض عدم میں تھے پھر پیدا کر کے کیوں سنت کو بدلا اور پھر پیدا کر کے مار ڈالنے سے سنت کو بدلا اور پھر قیامت کو زندہ کر کے اپنی سنت کو بدل ڈالے گا اور نیز آدم علیہ السلام و حوا علیہ السلام کو بے ماں و باپ کے پیدا کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو بے باپ کے جو یہ بھی سنت جاریہ کے خلاف ہے اور انبیاء علیہم السلام کے معجزات سب خارق عادت ہی ہوتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ مجموعہ حالت کا من حیث المجموع سنت اللہ ہے تو میں کہوں گا کہ کسی کو مار کر زندہ نہ کرنا اور بعض کو بطور خرق عادت زندہ کرنا اور کسی کو آسمان پر نہ اٹھانا اور بعض کسی کو اٹھا لینا یہ مجموعہ بھی سنت اللہ ہے چنانچہ بخاری شریف ص ۵۸۷ ج ۲ باب غزوۃ الرجیع و بئر معونۃ میں عامر بن فہیرہؓ کا بئر معونہ کے دن شہید ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان کی طرف اٹھ جانا پھر زمین پر آ جانا درج ہے۔ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ تو سنۃ اللہ کے بدل دینے کو نہیں پا سکتا یعنی ہماری سنت کو کوئی نہیں بدل سکتا لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ۔ (انعام ۳۴) ہاں وہ خود بدل سکتا ہے اور سنت سے مراد سنت قولی یعنی وعدۂ نصرت بھی ہو سکتا ہے یعنی ہم اپنے وعدۂ نصرت کو نہیں بدلتے ہمیشہ انبیاء علیہ السلام کو نصرت ہی دی ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ وَعْدَہٗ رُسُلَہٗ اور نیز آیات اللہ اور سنت اللہ میں فرق ہے۔ آیات اللہ جس جگہ قرآن مجید میں آیا ہے خارق عادت ہے اور سنت اللہ سے
عادت اکثریہ مراد ہے۔ فافہم۔
جواب ......۲ دین صرف عقل کی نہیں بلکہ نقل کی تابعداری کا نام ہے۔ صرف عقل کو شیطان نے استعمال کیا کہ میں آدم علیہ السلام کو کیسے سجدہ کروں انا خیر منہ وہ ابلیس ہوا۔
قادیانی سوال ...... ۴۷
جیسے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بعثت سے پوری ہوئی تھی اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی کسی دوسرے مدعی کی بعثت سے ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی ہی نازل ہوں بلکہ مثیل مراد ہے کیونکہ پیشین گوئی میں اکثر استعارہ ہوتا ہے۔
جواب ......۱ اوّل تو یہی غلط ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پیشین گوئی کی ہے کیونکہ پیشین گوئی اس کو کہتے ہیں جو کسی وجود کے ظہور سے پہلے خبر دی جائے چونکہ یہود اور نصاریٰ کا باہمی اختلاف تھا عیسائی کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام اب آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ دوبارہ اخیر زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ . بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ . اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ . اور ایسا ہی احادیث میں بکثرت موجود ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ پیشین گوئی ہے اور پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں بلکہ حضور ﷺ نے حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا فیصلہ فرمایا ہے نہ کہ پیشین گوئی کی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور سرور عالم ﷺ سے چھ سو برس پہلے دنیا میں آ کر آسمان پر جا چکے تھے اور یہود اس کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے یہود اور نصاریٰ میں یہی جھگڑا تھا اس لیے حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر یہ فیصلہ دیا کہ بیشک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ اخیر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے پس اس فیصلہ نبوی ﷺ کے سامنے تمام امت کا سر خم چلا آیا ہے اور تیرہ سو برس سے اس پر اجماع امت ہے۔ اگر نصاریٰ کا عقیدہ اصالتاً نزول عیسیٰ علیہ السلام کا شرک تھا یا کم از کم غیر صحیح تھا تو قرآن شریف دوسرے عقائد ابن اللہ وغیرہ کی طرح اس کو بھی خوب صراحتاً رد فرما دیتا اور حضور ﷺ کی حدیث میں اس کا رد بکثرت پایا جاتا نہ کہ برعکس قرآن شریف اور احادیث اس عقیدے کے ہم نوا ہوں اور یہ بھی خوب کہی کہ پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں تاکہ کوئی کاذب متنبی بھی جھوٹا نہ ہو سکے جب چاہے جس
پر چاہے گڑبڑ کر کے فریب دے سکے دمشق سے مراد قادیان لے سکے۔ حالانکہ خود حضور ﷺ نے بتاکید منع فرمایا ہے۔ النبی ﷺ نہی عن الاغلوطات رواہ ابو داؤد (مشکوۃ ص ۳۵ کتاب العلم) ہاں خوابوں کی تعبیر ہوا کرتی ہے نہ صریح وحی کی۔ جواب ......۲ تعجب یہ ہے کہ مرزا قادیانی شریعت محمدی ﷺ میں تو کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتے محرف کتابوں سے اپنی تائید کرنا چاہتے ہیں کہ شاید کوئی اسی سے دھوکہ میں آ جائے حالانکہ وہ خود اس کو رد بھی کر چکے ہیں۔ چنانچہ حصہ پنجم براہین احمدیہ ص ۳۲ خزائن ج ۲۱ ص ۴۲ میں لکھتے ہیں پہلے نبیوں نے مسیح کی نسبت یہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہ نہیں آئے گا جب تک کہ الیاس علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نہ آ جائے مگر الیاس نہ آیا اور یسوع بن مریم نے یونہی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا حالانکہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آیا اور جب پوچھا گیا تو الیاس علیہ السلام موعود کی جگہ یوحنا یعنی یحییٰ علیہ السلام نبی کو الیاس علیہ السلام ٹھہرا دیا تا کسی طرح مسیح موعود بن جائے ...... پہلے نبیوں اور تمام راستبازوں کے اجماع کے برخلاف الیاس علیہ السلام آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دے دیا اور عجیب یہ کہ یوحنا اپنے الیاس علیہ السلام ہونے سے خود منکر ہے مگر تاہم یسوع بن مریم علیہ السلام نے زبردستی اس کو الیاس علیہ السلام ٹھہرا ہی دیا ۔“ اب ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے نزدیک معاذ اللہ ان دو نبیوں میں کون جھوٹا ہے یوحنا خود منکر ہیں کہ میں ہرگز الیاس علیہ السلام نہیں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام زبردستی ان کو الیاس علیہ السلام ٹھہراتے ہیں کہ تو ہی وہ الیاس علیہ السلام ہے۔ یہاں پر مرزا قادیانی کا روئے سخن اور التفات جس طرف بھی ہو مگر اہل حق جانتے ہیں کہ دونوں سچے نبی علیہ السلام سے ہیں، قصہ جھوٹا ہے کتاب اللہ میں تحریف کر دی گئی ہے اسی وجہ سے حضور ﷺ نے فرمایا ہے لا تصدقوا اہل الکتب ولا تکذبوہم (بخاری ص ۱۰۹۳ ج ۲ باب لا تسئلوا اہل الکتاب) ان اہل الکتب بدلوا کتاب اللہ وغیروہ و کتبوا بایدیہم الکتب وقالوا ہو من عند اللہ.
اور حکیم نور الدین قادیانی جو مرزا قادیانی کے اوّل جانشین تھے فصل الخطاب ص ۳۶۵ میں لکھتے ہیں ”یوحنا اصطباغی کا ایلیا میں ہونا بالکل ہندوؤں کے مسئلہ آواگون کے ہم معنی یا اسی کا نتیجہ ہے ۔“ افسوس یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے دعوے کے اثبات میں اس قدر شوق ہے کہ جس بات کو ایک جگہ ثابت کرتے ہیں۔ دوسری جگہ خود ہی اس کو رد کر دیتے ہیں جیسا موقعہ مناسب سمجھتے ہیں اسی پر زور دیتے ہیں۔
جواب ...... ۳۰ نہیں سمجھا جا سکتا کہ کوئی مومن قرآن اس قصہ کی تصدیق کے لیے آمادہ بھی ہو کیونکہ قرآن نے خود اس قصہ کی تکذیب کر دی ہے قرآن شریف میں ہے يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نِ اسْمُهُ يَحْيٰى لَمْ نَجْعَلْ لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا. (ترجمہ از مرزا قادیانی) یعنی یحییٰ علیہ السلام سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل (یعنی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام پر بوجہ مماثلت اطلاق کر سکیں) دنیا میں نہیں بھیجا۔ (ازالہ ص ۵۳۹ خزائن ج ۳ ص ۳۹۰) تو پھر کیسے پہلے نبی کا نام یعنی ایلیا کا نام یحییٰ علیہ السلام پر اطلاق کیا جا سکتا ہے؟
قادیانی سوال ...... ۴۸
تاریخ طبری ص ۷۳۹ ج ۲ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبر کے کتبہ کی یہ عبارت نقل کی گئی ہے۔ ھذا قبر رسول اللہ عیسیٰ علیہ السلام الی ھذہ البلاد.
جواب ...... ۱ کتاب الوفاء باب ۳ میں قصہ حجر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے فاخرجت الیھما الحجر فقراہ فاذا فیہ انا عبداللہ الاسود رسول رسول اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام الی اھل قری عرینۃ الخ. اور باب ۷ فصل ۴ میں ہے وروی الزبیر عن موسیٰ بن محمد عن ابیہ قال وجد قبر ادمی علی راس جماء ام خالد مکتوب فیہ انا اسود بن سوادة رسول رسول اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام الی اھل ھذہ القریہ. وعن ابن شھاب قال وجد قبر علی جماء ام خالد اربعون ذراعا فی اربعین ذراعا مکتوب فی حجر فیہ انا عبداللہ من اھل نینوی رسول رسول اللہ عیسیٰ بن مریم علیہم السلام الی اھل ھذہ القرية فادرکنی الموت فاوصیت ان ادفن فی جماء ام خالد الخ. پس معلوم ہوا کہ یہ کسی حواری عیسیٰ علیہ السلام اسود بن سوادہ نامی کی قبر ہے اور اس پتھر پر رسول رسول اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام لکھا ہے لیکن تاریخ طبری میں قلم ناسخ سے لفظ رسول مضاف ساقط ہو گیا ہے اور مرزائیوں کا اس سے ایمان ساقط ہو گیا اور اس کو موت عیسیٰ علیہ السلام پر حجت بنا لیا العجب کل العجب۔
جواب ...... ۲ قارئین کرام! آپ کو خوشی ہوگی ہم مسکینوں کی اس محنت پر کہ جب قادیانیوں کا یہ اعتراض پڑھا تو اس کتاب کی تلاش شروع کی۔ ہمارے کتب خانہ میں اردو ترجمہ تھا۔ اصل تاریخ طبری عربی نہ تھی۔ چنانچہ ۱۱ مئی ۲۰۰۴ء کو کراچی سے کتاب عربی ایڈیشن خرید کیا۔ ملتان دفتر آ کر حوالہ تلاش کیا۔ جدید ایڈیشن دارالکتب العلمیۃ بیروت کی ج ۱ ص ۳۵۵ پر عبارت مل گئی۔ (الف)......ص ۳۳۵ سے مصنف نے سیدنا مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے حالات قلمبند کرنے شروع کیے۔ ص
۴۴۵ _ ۴۵۲ _ ۴۵۴ (اس صفحہ پر چار بار) سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کا حضرت ابن جریر طبری نے ذکر فرمایا ہے۔ جو دلیل ہے اس بات کی کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے رفع کے قائل ہیں۔ ھذا قبر رسول اللہ عیسیٰ بن مریم میں سہو ہے۔ اصل میں ھذا قبر رسول رسول اللہ عیسیٰ بن مریم تھا۔ یعنی یہ کتبہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواری کی قبر کا ہے۔ (ب)...... اس پر ایک مزید دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کئی صفحات تک سیدنا مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر ہے۔
جواب ......۳ ہم مسیح علیہ السلام کی حیات رفع الی السماء ونزول الی الارض پر قرآنی دلائل میں ابن جریر کی تفسیر کے بیسوں حوالے نقل کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود قادیانیوں سے کہتے ہیں کہ تمام بحث کو اسی کتاب تاریخ طبری پر منحصر کر لیتے ہیں جو تاریخ طبری کہہ دے وہ آپ بھی مان لیں ہم بھی بسر و چشم تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیجئے۔ تاریخ طبری کی اسی جلد نمبر ۱ ص ۴۹۵ پر حضرت ابن عباسؓ کی یہ روایت موجود ہے۔ ”إِنَّ اللَّهَ رَفَعَهُ بِجَسَدِهِ وَإِنَّهُ لَحَيٌّ الآن، تحقیق اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو جسم سمیت اٹھا لیا اور وہ اس وقت تک زندہ ہیں ۔“ غرض قادیانیوں میں انصاف نام کی کسی چیز کی کوئی رمق باقی ہے تو وہ اس صریح عبارت اور ابن عباسؓ و ابن جریرؒ کے فیصلہ کے مطابق اپنا عقیدہ بنا لیں۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں۔ هو الهادي وهو يهدی الی السبیل الحق امین بحرمة النبي الکریم ﷺ ۔
قادیانی سوال ......۴۹
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر از روئے احادیث؟
جواب حضرت عیسیٰ ؑ کی عمر کے چار حصے ہیں۔ بعثت نبوت سے پہلے، زمانہ بعثت نبوت، زمانہ رفع، زمانہ بعد نزول۔ قبل از بعثت کا زمانہ اور اس کی تعیین کا ذکر حدیثوں میں کہیں نہیں اور زمانہ رفع کا بھی بوجہ غیر متعلق ہونے کے احادیث میں مذکور نہیں اور زمانہ بعثت نبوت کا ذکر احادیث میں آیا ہے اخرج ابن سعد عن ابراهیم النخعی قال قال رسول اللہ ﷺ یعیش کل نبی نصف عمر الذی قبله وان عیسیٰ علیہ السلام مکث فی قومه اربعین عامًا (خصائص الکبریٰ و کنزالعمال ج ۱۱ ص ۴۷۸ حدیث ۳۲۲۶۰ الباب الثانی فی فضائل سائر الانبیاء ۔ فصل اوّل من الاکمال) یا فاطمة انه لم یبعث نبی علیہ السلام الا عمر الذی بعدہ نصف عمرہ وان عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بعث رسولاً لاربعین وانی بعثت لعشرین۔ (کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۷۸ حدیث ۳۲۲۵۹ باب ایضاً) ”یعنی ہر نبی کی عمر بعثت پہلے نبی کی عمر بعثت سے نصف ہوتی ہے۔ چنانچہ عیسیٰ
ابن مریم علیہ السلام مبعوث ہو کر چالیس برس اپنی قوم میں ٹھہرے اور میں بیس برس کے لیے مبعوث ہوا ہوں“ اور نزول کے بعد کا زمانہ بھی احادیث میں مذکور ہے۔ عن ابی ھریرة مرفوعاً ینزل عیسٰی علیہ السلام...... فیمکث فی الارض اربعین سنة ثم یتوفی (ابو داؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب ذکر الدجال) عن عبد اللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسٰی بن مریم علیہ السلام الی الارض....... و یمکث خمساً و اربعین سنة ثم یموت الخ رواه ابن الجوزی فی کتاب الوفاء (مشکوٰة ص ۴۸۰ باب نزول عیسٰی علیہ السلام) اور حضرت ابن عمرؓ سے ایک دوسری روایت بھی ہے عن ابن عمرؓ انه یمکث فی الارض (بعد نزوله) سبع سنین لیس بین اثنین عداوة (مشکوٰة ص ۴۸۱ باب لا تقوم الساعة الا علیٰ شرار الناس) یعنی عیسٰی علیہ السلام بعد نزول بحساب شمسی ۴۰ برس اور حساب قمری سے جبر کسر کے ساتھ ۴۵ برس زمین پر رہیں گے اور ان چالیس میں ۷ برس دجال کے قتل کرنے کے بعد اور ملة واحدہ ہونے کے بعد جیسا کہ صفت لیس بین اثنین عداوة دلالت کرتی ہے زمین پر رہیں گے جیسے کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عیسٰی علیہ السلام کا زمانہ بعثت ۴۰ برس تھا اور حضور ﷺ کا اس کے نصف ۲۰ کیونکہ بعد کے نبی کا زمانہ بعثت پہلے نبی کے زمانہ بعثت سے نصف ہوتا ہے۔ ایسے ہی کل عمر کے متعلق بھی جو زمین پر گزری اور گزرے گی۔ احادیث میں ہے جو یہی اختلاط بین الناس کا زمانہ ہے۔ انه لم یکن نبی کان بعدہ نبی الا عاش نصف عمر الذی قبله وان عیسٰی بن مریم علیه السلام عاش عشرین ومائة وانی لا ارانی الا ذاہباً علی رأس الستین.
(کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۷۸ حدیث ۳۲۲۶۲ باب ایضاً)
یعنی بعد کے نبی کا زمانہ معیشت پہلے نبی کے زمانہ معیشت سے نصف ہوتا ہے اور عیسٰی علیہ السلام کا زمانہ معیشت ۱۲۰ برس ہوا اور میرا خیال ہے کہ میں ۶۰ برس کے شروع پر انتقال کرنے والا ہوں“ (اور عمر عیسٰی علیہ السلام کے متعلق ۳۳ برس کی روایت تو مرفوعاً کہیں ثابت نہیں بلکہ اس کو قول نصارٰی بتلایا گیا ہے چنانچہ شرح مواہب و زادالمعاد و جمل میں مصرح لکھا ہے اور جلال الدین سیوطیؒ نے جلالین میں ۳۳ برس لکھا اور مرقاة الصعود میں اپنا رجوع نقل کرتے ہیں) اور لفظ عاش ماضی لانے کی یہ وجہ ہوئی کہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں تو ماضی ہی صادق تھا اور بحق عیسٰی علیہ السلام دو حصوں یعنی زمانہ قبل از بعثت اور زمانہ بعثت قبل از رفع کے اعتبار سے تو صادق ہے اس کے ساتھ ہی حضور ﷺ کو صرف تنصیف عمر بیان کرنی منظور تھی لہٰذا حصہ ثالثہ یعنی زمانہ بعد نزول کو
ماضی ہی میں لپیٹ دیا تا کہ بیان تنصیف عمر میں تطویل لاطائل نہ اختیار کرنی پڑے اور تنصیف کل عمر اور تنصیف عمر نبوت ہر دو اعتبار سے معہ رعایت اختصار مستقیم ہو جائے اور سلسلۂ نظم عبارت بھی بحال رہے۔ سبحان اللہ کس قدر بلاغت ہے۔ جبکہ یہ بات صاف ہو گئی کہ کل عمر جو زمین پر گزرے گی وہ ایک سو بیس برس ہے اور چالیس برس بحذف کسر بعد نزول زمین پر رہنے کی مدت ثابت ہے اور چالیس برس بعثت کے زمانہ کی بھی ثابت ہے یہ ۸۰ برس تو احادیث سے معلوم ہو گئے باقی رہے چالیس۔ معلوم ہوا کہ یہ زمانہ قبل بعثت کا ہے کیونکہ آپ کی چالیس برس کی عمر میں بعثت ہوئی ہے جو کہ یہی عمر انبیاء و رسل کے بعثت کی مقرر ہے جیسا کہ زاد المعاد پر حاشیہ شرح مواہب ص ۶۳ ج ۱ پر مذکور ہے اور جب یہ معلوم ہو گیا تو اب یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ کا رفع اسی برس کی عمر میں ہوا چنانچہ اصابہ میں سعید بن مسیب سے اسی طرح مذکور ہے اور چالیس برس بعد نزول رہ کر ۱۲۰ برس ہوئے یہ سب عمریں بحذف کسر ہیں اور بعض علماء نے ۱۲۰ برس میں رفع فرمایا ہے اور ۴۰ برس جو بعد نزول ہوگا اس کو نظر انداز کیا کیونکہ یہ حصہ عمر بحیثیت خلافت و امامت گزرے گا رسالت و نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے۔ افسوس مرزائی امت جس حدیث کو پیش کیا کرتے ہیں وہ تو انہی کی جڑ کاٹ رہی ہے کیونکہ جبکہ بعد کے نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر سے نصف ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کدھر سے نبی ہو گئے کیونکہ مرزا قادیانی کی عمر تو بجائے نصف کے حضور ﷺ کی عمر سے زیادہ ہے بلکہ ان حدیثوں سے ہی یہ معلوم ہو گیا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر کوئی نبی مبعوث ہوگا تو اس کی عمر حضور ﷺ کی عمر کے نصف یعنی ۳۰ برس کی ہوگی حالانکہ یہ عمر عمر بعثت ہی نہیں بلکہ ۱۰ برس زمانہ مدت بعثت نکال کر ۲۰ برس کی عمر میں بعثت ہوگی۔ وهو باطل۔
خلاصہ بحث
- ۱۔...... حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اختلاف ضرور ہے لیکن ٹھوس بات کسی
کی نہیں۔ جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ۳۳ اور ۱۲۰ کے دونوں قول ذکر کر کے بلا فیصلہ چھوڑ دیا ہے۔ (فتح الباری ص ۳۸۲ ج ۲) بعض ۳۳ سال کہتے ہیں جسکو حافظ ابن کثیر اور زرقانی شارح مواہب نے ترجیح دی ہے۔
(تفسیر ابن کثیر پارہ ۶ سورہ نساء و فتح البیان ص ۴۹۹ ج ۲)
مگر اس قول کو حافظ ابن القیمؒ بے اصل قرار دیتے ہیں۔ (زاد المعاد ص ۱۹ ج ۱) دوسرا قول ۱۲۰ سال کا ہے جس کو حافظ ابن کثیر شاذ ، غریب جداً (حوالہ مذکورہ) قرار
دیتے ہیں۔ اس کی تائید میں طبرانی اور حاکم کے حوالہ سے بروایت حضرت عائشہؓ جو روایت ذکر کی جاتی ہے وہ سخت ضعیف اور کمزور ہونے کے باعث دلیل بننے کے قابل نہیں۔ حافظ ابن کثیر نے بحوالہ مستدرک حاکم ذکر کر کے اس کو ”حدیث غریب“ (عجیب روایت) قرار دیا ہے۔ (البدایۃ میں ص ۹۵ ج ۲ اور مجمع الزوائد ص ۲۳ ج ۹) بحوالہ طبرانی لا کر ضعیف کہہ دیا ہے۔
- ۲...... البدایہ والی سند میں محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان نامی ایک راوی ہے جو مختلف فیہ سمجھا
گیا ہے۔ تاہم حضرت امام بخاریؒ فرماتے ہیں عندہ عجائب اس کے پاس عجیب عجیب روایتیں ہیں (میزان ص ۷۸ ج ۲ وتہذیب ص ۲۶۹ ج ۲) گویا ان کے نزدیک یہ راوی مشتبہ ٹھہرا۔
- ۳...... حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اختلاف کرنے والے دونوں فریق
اصل مسئلہ پر متفق ہیں۔ یعنی اختلاف اس میں نہیں کہ آسمان کی طرف رفع ہوا یا نہیں رفع آسمانی پر سب متفق ہیں۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے وقت عمر کیا تھی؟ اور یہی حاصل نواب صدیق حسن خاںؒ کی بحث کا ہے جس کو مرزائی پاکٹ بک کا مصنف (ص ۴۳۶) لیے بیٹھا ہے۔ چنانچہ حجج الکرامۃ ص ۴۲۸ میں بات رفع کی ہو رہی ہے۔ وفات کا تو یہاں کوئی قصہ ہی نہیں!
قادیانی دوستو! اسی مردود روایت کی بنا پر احادیث صحیحہ اور آیاتِ قرآنیہ کی تردید کرتے ہو۔
قادیانی سوال......۵۰
کرہ زمہریریہ سے گزر کیسے؟
مرزا قادیانی ازالۃ الاوہام ص ۴۷ خزائن ج ۳ ص ۱۲۶ پر لکھتے ہیں کہ ”کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے۔ اس لیے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرۂ زمہریریہ سے کس طرح صحیح و سالم گزر سکتا ہے۔“
جواب جس طرح نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لیلۃ المعراج میں اور ملائکۃ اللہ کا لیل و نہار طبقہ ناریہ اور کرۂ زمہریریہ سے مرور و عبور ممکن ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی عبور و مرور ممکن ہے اور
- ۲...... جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے اسی راہ سے حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط و نزول بھی ممکن ہے۔
- ۳...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آسمان سے مائدہ کا نازل ہونا قرآن کریم میں صراحۃً
مذکور ہے کما قال تعالیٰ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ یٰعِيْسَی ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ یَسْتَطِيْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ (الیٰ قوله تعالیٰ) قَالَ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَکُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَةً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَانْتَ خَیْرُ الرَّازِقِيْنَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْکُمْ (مائدہ ۱۱۲-۱۱۴-۱۱۵) پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ میں ہو کر ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بنا پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہو گیا ہوگا؟ نعوذ باللہ من ھٰذہ الخرافات۔ یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اور انبیاء و مرسلین کی آیاتِ نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔ کیا خداوند ذوالجلال عیسیٰ علیہ السلام کے لیے طبقہ ناریہ کو ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح برد اور سلام نہیں بنا سکتا؟ جب کہ اس کی شان یہ ہے:۔
(یٰسین ۸۲)
- ۴....... ان کروں سے روح القدس کا آسمان سے زمین اور زمین سے آسمانوں پر جانا تمام
نیک ارواح کا آسمانوں پر جانا تسلیم ہے۔ تو سیدنا روح اللہ کے لیے یہ کرے مانع آگئے؟
قادیانی سوال...... ۵۱
قادیانی بعض اکابر امت کی عبارات میں تحریف کر کے ثابت کرتے ہیں کہ معاذ اللہ وہ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
جواب مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات ص ۴۲۷ خزائن ج ۵ ص ایضاً پر لکھا ہے کہ ’’وفات مسیح کا عقیدہ مجھ سے پہلے پردہ اخفاء میں تھا۔‘‘ اگر یہ صحیح ہے تو پہلے کے بزرگ کیسے وفات مسیح کے قائل تھے؟ اس سے ثابت ہوا کہ وہ بزرگوں پر افتراء کرتا ہے۔
قادیانی سوال...... ۵۲
نبی کریم ﷺ نے پہلے مسیح اور آنے والے مسیح ؑ کا رنگ، حلیہ قد علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے۔
الجواب اس طرح سے اگر دو عیسیٰ ہو جاتے ہیں تو دو موسیٰ بھی ماننا ہوں گے کیونکہ ایسا ہی اختلاف سراپا موسیٰ میں بھی اسی حدیث میں مذکور ہے ملاحظہ ہو۔ مُوْسٰی رَجُلاً اٰدَمَ طِوَالاً جَعْدً كَاَنَّهٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَةَ وَرَاَیْتُ عِيْسٰی رَجُلاً مَّرْفُوْعًا مَّرْبُوْعَ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمْرَةِ وَالْبَیَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ (بخاری ج ۱ ص ۴۵۹) حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی
رنگ قد لمبا، گھونگرالے بال والے تھے جیسے یمن کے قبیلہ شنوءہ کے لوگ اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد سرخ و سفید رنگ، سیدھے بال والے اور کتاب الانبیاء میں ہے۔
لقیت موسٰی فاذا رجل حسبتہ قال مضطرب رجل الراس کانہ من رجال شنوءۃ ولقیت عیسیٰ قال ربعۃ احمر (وفی الحدیث الذی بعدہ) عیسیٰ جعد مربوع (بخاری ج ۱ ص ۴۸۹ باب واذکر فی الکتاب مریم) یعنی موسیٰ علیہ السلام دبلے سیدھے بال والے تھے جیسے شنوءہ کے لوگ اور عیسیٰ علیہ السلام میانہ قد سرخ رنگ کے گھونگرالے بال والے۔ پہلی حدیث میں موسیٰ علیہ السلام گھونگرالے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے۔ اس حدیث میں موسیٰ علیہ السلام سیدھے بال والے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام گھونگرالے بال والے۔ پس دو موسیٰ اور دو عیسیٰ ہوئے (اور سنیے)
وَ اَمَّا عِيْسٰى فَاَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيْضُ الصَّدْرِ وَ اَمَّا مُوْسٰى فَاٰدَمُ جَسِيْمٌ سَبْطٌ كَاَنَّهٗ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ (بخاری ایضاً) یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سرخ، بال گھونگرالے اور سینہ چوڑا ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام کا رنگ گندمی ہے۔ موٹے بدن کے سیدھے بال والے جیسے جاٹ لوگ ہوتے ہیں، پہلی حدیث کے موسیٰ دبلے پتلے شنوءہ والوں کی طرح تھے اور اس حدیث کے موسیٰ، موٹے بدن کے جاٹوں کی طرح ہیں۔ پہلی حدیث کے عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ سفید سرخی مائل ہے۔ دوسری اور تیسری حدیث کے عیسیٰ کا رنگ بالکل سرخ۔ اس بناء پر جب دو عیسیٰ ہو سکتے ہیں ایک پہلا اور ایک ہونے والا تو موسیٰ بھی دو ہو سکتے ہیں؟ معاذ اللہ۔
عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ و حلیہ کے اختلافات کی حدیثیں
ورنہ حقیقت میں نہ موسیٰ علیہ السلام کے حلیے میں اختلاف ہے۔ نہ عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ و حلیہ میں جس سے کہ دو ہستیاں سمجھی جاسکیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں لفظ جعد کے معنی گھونگرالے بال کے نہیں بلکہ گٹھیلے بدن کے ہیں۔ نہایہ ابن اثیر میں ہے مَعْنَاهُ شَدِيْدُ الْاَسْرِ وَالْخَلْقِ نَاقَةٌ جَعْدَةٌ اَىْ مُجْتَمِعَةُ الْخَلْقِ شَدِيْدَةٌ۔ یعنی جعد کے معنی جوڑ و بند کا سخت ہونا جعدہ اونٹنی مضبوط جوڑ بند والی۔ مجمع البحار میں ہے اَمَّا مُوْسٰی فَجَعْدٌ اَرَادَ جُعُوْدَةَ الْجِسْمِ وَ هُوَ اجْتِمَاعُهٗ وَ اكْتِنَازُهٗ لَا ضِدُّ سُبُوْطَةِ الشَّعْرِ لِاَنَّهٗ رُوِىَ اَنَّهٗ رَجُلُ الشَّعْرِ وَ كَذَا فِىْ وَصْفِ عِيْسٰی (ج ۱ ص ۱۹۶ کذا فی فتح الباری ص ۲۷۶ ج ۱۳ و نووی شرح مسلم ص ۹۴ ج ۱) یعنی حدیث میں موسیٰ و عیسیٰ کے لیے جو لفظ جعد آیا ہے اس کے معنی بدن کا گٹھیلا ہونا ہے۔ نہ بالوں کا گھونگر ہونا کیونکہ ان کے بالوں کا سیدھا ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح لفظ ضرب اور جسیم میں بھی
اختلاف نہیں ہے۔ ضرب بمعنی نحیف البدن اور جسیم بمعنی طویل البدن۔ قال القاضی عیاض المراد با الجسیم فی صفۃ موسیٰ الزیادہ فی الطول (فتح الباری انصاری ص ۲۷۶ پ ۳) یعنی صفت موسیٰؑ میں لفظ جسیم کے معنی لمبائی میں زیادتی ہے۔ اسی طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رنگ میں بھی اختلاف نہیں ہے۔ لفظ احمر کا صحابی راوی نے سخت انکار کیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَا وَاللّٰهِ مَا قَالَ النَّبِیُّ ﷺ لِعِیسٰی اَحْمَرُ (بخاری ج ۱ ص ۴۸۹) حضرت عبداللہ بن عمرؓ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ قسم ہے اللہ کی آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں احمر (یعنی سرخ رنگ) کبھی نہیں فرمایا۔ پس پہلا رنگ برقرار رہا یعنی سفید رنگ سرخی مائل لہٰذا رنگ و حلیہ کا اختلاف حضرت موسیٰ علیہ وعیسیٰ علیہ السلام سے مدفوع ہے اور حقیقت میں جیسے موسیٰ علیہ السلام ایک تھے عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک ہی ہیں۔
قادیانی سوال......۵۳
یہ ایک عام قانون الٰہی ہر فرد بشر پر حاوی ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس کے صریح خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر موجود ہوں۔
الجواب خاص دلائل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو چکی ہے اور علم اصول میں مقرر ومسلم ہے کہ خاص دلیل عام پر مقدم ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابلے میں دلیل خاص کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ اس کے نظائر قرآن مجید میں بکثرت موجود ہیں مثلاً عام انسانوں کی پیدائش کی نسبت فرمایا اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ. (دہر ۲) یعنی انسانوں کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا اور اس کے برخلاف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت خاص دلائل سے معلوم ہے کہ ان کی پیدائش بایں طور نہیں ہوئی پس ان کے متعلق دلیل خاص کا اعتبار کیا گیا ہے اور دلیل عام کو ان کی نسبت چھوڑ دیا گیا ہے۔
- ۲...... فرشتوں کی جائے قرار اصلی اور طبعی طور سے آسمان ہیں۔ مگر وہ عارضی طور پر کچھ
مدت کے لیے زمین پر بھی رہتے ہیں۔
قادیانی سوال......۵۴
آنحضرت ﷺ کی حدیث شریف ہے کہ عن عائشۃ قالت قال رسول اللّٰہ فی مرضہ الذی لم یقم منہ لعن اللّٰہ الیہود والنصاریٰ اتخذ و قبور انبیائھم
مساجد (مسلم ج ۱ ص ۲۰۱ باب النھی عن بناء المساجد علی القبور) اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی پر لعنت کریں کہ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا۔ پس یہود کی حد تک تو بات ٹھیک ہے۔ نصارٰی کے لعنتی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کو وہ سجدہ گاہ بنائیں۔ ورنہ لعنتی کیسے؟ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔
جواب......١ سیدنا آدم ؑ سے سیدنا موسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کو یہودی برحق مانتے ہیں۔ سیدنا آدم ؑ سے سیدنا عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کو نصارٰی برحق مانتے ہیں۔ یہود و نصارٰی کا صرف مسیح ؑ پر اختلاف ہے۔ مسیحی ان کو برحق اور یہودی ناحق مانتے ہیں۔ پس آدم ؑ سے موسیٰ ؑ تک یہود و نصارٰی جن انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بناتے ہیں وہ سب کے سب اس حدیث کے بموجب ملعون ہیں۔
جواب......٢ یہ حدیث شریف لعن اللہ الیہود و النصارٰی اتخذوا قبور انبیاء ھم مساجدا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی وفات کی دلیل نہیں بلکہ حیات کی دلیل ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث کی رو سے اگر مسیح علیہ السلام فوت شدہ ہوتے یا ان کی کہیں قبر ہوتی تو وہ مسجود نصارٰی ہونی چاہیے کسی قبر کا بطور قبر مسیح کے مسجود نصارٰی ہونا تو درکنار وہ مسیح علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں۔ کسی قبر کو مسیح علیہ السلام کی قبر ہی نہیں مانتے تو ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ اگر فوت شدہ ہوتے تو ان کی قبر مسجود نصارٰی ہوتی۔ پس یہ حدیث سیدنا مسیح علیہ السلام کی حیات کی دلیل ہے نہ کہ وفات کی۔
جواب......٣ مسلم شریف کی جس روایت سے قادیانیوں نے استدلال کیا اسی کتاب کے اس صفحہ پر اس حدیث سے آگے چوتھی روایت میں اس کی ایسی وضاحت وصراحت ہے جو قادیانی دجل کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے:۔ عن جندب قال سمعت النبی ﷺ قبل ان یموت بخمس...... وان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجدا انی انھاکم عن ذالک۔
(مسلم ج ۱ ص ۲۰۱ باب النھی عن بناء المسجد علی القبور)
حضرت جندبؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے میں نے سنا آپ ﷺ نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل فرمایا...... تم سے پہلے (امتوں کے لوگ) اپنے انبیاء وصلحاء کی قبور کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔ خبردار تم قبور کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔ لیجئے۔ جب یہود و نصارٰی کے ملعون ہونے کا ایک باعث یہ بھی ہے کہ وہ قبور انبیاء وصلحاء کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔ پس ملعون ہونے کے لیے صرف قبور انبیاء کو سجدہ گاہ
بنانا ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی صلحاء کی قبور کو بھی سجدہ گاہ بناتا ہے تو وہ اس وعید کا مستحق ہے ۔ نصاریٰ کے ملعون ہونے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا ہونا شرط نہیں بلکہ اگر وہ کسی صالح کی قبر کو سجدہ گاہ بنائیں گے۔ تو اس وعید کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس حدیث کی تعمیم نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو اس سے خارج کر دیا ۔ اس لیے کہ نہ ان کی قبر ہے نہ وہ معبود نصاریٰ ہے۔ پس وہ زندہ ثابت ہوئے مسیح کی حیات ثابت ہوئی نہ کہ وفات ، البتہ اس حدیث نے قادیانی اعتراض کو ابدی موت دے دی۔
- جواب ...... ۴ اتخذوا قبور انبیائھم مساجدا میں انبیائھم میں اضافت استغراق
کے لیے نہیں ہے کہ آدم علیہ السلام سے موسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کی قبر کو تمام یہود و نصاریٰ نے سجدہ گاہ بنایا ہو۔ یہ یقیناً اور واقعہ غلط ہے۔ اس لیے کہ ہزاروں انبیاء کی قبور کا تو پتہ تک نہیں۔ جب استغراق نہیں تو بعض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو داخل کر لینا باطل اور مردود ہے۔ یہود و نصاریٰ کا بعض انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لینا حدیث کی صداقت کے لیے کافی ہے۔
قادیانی سوال ...... ۵۵
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اگر زندہ ہیں تو تم ان کو آسمانوں سے اتار کیوں نہیں لاتے؟
جواب قادیانی جب جل بھن جاتے ہیں تو پھر یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو آسمانوں سے اتار لاؤ۔ عرصہ ہوا ایک بار قادیانیوں نے ”منہ مانگا انعام“ مقرر کر کے اشتہار شائع کیا۔ اس کا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب مدظلہ کی طرف سے جواب شائع ہوا۔ مولانا کا اشتہار سامنے نہیں تاہم مولانا نے جو شائع کیا اس کا مفہوم یہ تھا۔
- ۱...... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام قرآن وسنت و اجماع امت کی رو سے آسمانوں پر زندہ ہیں۔ ان کو
آسمانوں پر لے جانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ کسی انسان سے نازل کرنے کے مطالبہ کی بجائے یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ سے کریں۔ تاکہ قادیانیوں کا کفار مکہ کی سنت پر عمل ہو جائے جنھوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ ہمارے سامنے آپ ﷺ آسمانوں سے اتر کر کتاب ہمراہ لائیں جو ہمارے نام لکھی گئی ہو اسے پڑھ کر پھر ایمان لائیں گے۔
- ۲...... سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ جیسے
دابۃ الارض کا خروج، دجال کا خروج وغیرہ۔ یہ اعتراض تب قادیانی کر سکتے تھے۔ جب قیامت آ جاتی یہ علامات پوری ہو جاتیں اور عیسیٰ علیہ السلام تشریف نہ لاتے۔ تب قادیانی
واویلا سمجھ میں آ سکتا تھا۔ شریفو! جب قیامت کی دیگر علامات کبریٰ ظاہر نہیں ہوئیں تو اس ایک پر واویلا کرنا۔ قبل از مرگ واویلا والی بات ہے۔
- ۳...... انعام مقرر کرنے کرانے کا شوق ہے تو چشم ما روشن دل ما شاد۔ آئیے غور کیجئے کہ
کسی کو آسمانوں پر لے جانا واپس لانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کرم و قدرت کے فیصلے ہیں۔ اس میں انسان دخل نہیں دے سکتا۔ البتہ کسی انسان کی زندگی غلط یا صحیح۔ کردار درست یا غلط پر بحث کرنا انسان کے لیے آسان ہے۔ قادیانی آئیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تو درکنار شریف انسان ثابت کر دیں اور ہم مرزا کو بدکردار، شراب کا پاپی، غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں بھروانے والا، کبھی کبھی زنا کرنے والا، بددیانت، بداخلاق، بدزبان، جھوٹا، مکار، عیار، فریبی، دغا باز ثابت کرتے ہیں۔ تم اسے شریف انسان ثابت کر دو تو میں ایک کروڑ روپیہ تمھیں انعام دینے کے لیے تیار ہوں۔ آئیں۔ شرائط طے کریں۔ گفتگو ہو جائے جو انسانی بس میں ہے۔ اس پر عمل کر کے کروڑوں کا انعام حاصل کرو۔ چونکہ مولانا طوفانی صاحب کے اس اشتہار کو چناب نگر میں گلی گلی تقسیم کیا گیا تھا۔ قادیانی پریس نے الفضل لندن تک اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کی۔ مگر قادیانی مرد میدان نہ بنے۔ سمجھئے صاحب! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول من السماء الی الارض الدنیا قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت کے قریب سب کچھ ہوگا۔ قیامت کب آئے گی۔ اس کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں اس کے وقوع سے قبل اس قسم کے اعتراضات سنت کفار ہیں۔ نہ کہ طریقہ اخیار۔ فافہم۔
قادیانی سوال......۵۶
سیدنا مسیح علیہ السلام و مہدی کس فرقہ سے ہوں گے۔ اس وقت دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی مختلف مسالک ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کس مسلک کے ہوئے۔ نیز ان پر امت کا اتفاق کیسے ہوگا؟
- جواب......۱ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت کے جلیل القدر نبی ہیں۔ ان کی
تشریف آوری کے صرف اہل اسلام ہی نہیں بلکہ اہل کتاب بھی منتظر ہیں۔ اسی طرح سیدنا مہدی علیہ الرضوان آنحضرت ﷺ کی امت کے وہ جلیل القدر فرد ہیں۔ جن کی تشریف آوری کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی اس لیے پوری امت ان کی تشریف آوری پر آنحضرت ﷺ کے فرمان کے پورا ہونے کا منظر دیکھنے کی سعادت کے لیے چشم براہ ہے۔ اس لیے ان کی آمد پر پوری امت کا ایسا اتحاد و اتفاق کا قابل دید منظر ہوگا کہ اس
وقت تمام اختلاف و رنجشیں ختم ہو جائیں گی۔ ایسا اتحاد و اتفاق کا منظر کہ بچے سانپ سے کھیلیں گے۔ شیر بکریوں کے ساتھ چرے گا۔ پس ان کی آمد پر اتفاق ہوگا نہ کہ اختلاف۔
- ۲......سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وسیدنا مہدی ایسے مقام پر فائز ہوں گے کہ پوری دنیا ان کی
پیروی کرے گی۔ جیسا کہ یھلک الملل کلھا الا ملۃ واحدۃ کا تقاضہ ہے۔ پس ان کے آنے پر تفرقہ بازی ختم ہوگی نہ کہ وہ خود تفرقہ کا شکار ہوں گے۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی بیعت بیت اللہ شریف میں ہوگی۔ آج بھی بیت اللہ شریف میں حاضر ہونے والوں کا عموماً منظر یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے تمام فقہوں تمام مسالک و تمام ممالک والے صف آراء ہوتے ہیں۔ تو سیدنا مسیح ومہدی علیھما السلام کی آمد پر امت کی ایسی صف بندی ہوگی کہ اس میں کسی کو کوئی دراڑ تک نظر نہ آئے گی۔ کا الجسد الواحد کا منظر ہوگا۔
- ۳......دور کیوں جاتے ہیں۔ خود پاکستان اور برصغیر میں مشترکہ مقاصد کے لیے اتفاق کی
راہیں بنتی رہیں۔ تحریک ختم نبوت میں تمام مسالک اکٹھے ہوئے۔ جعلی مہدی و فرضی مسیح مرزا قادیانی کے نظریات کے جواب کے لیے امت اکٹھی ہوئی تاکہ سیدنا مسیح بن مریم علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کی مسند پر کوئی غلط آدمی براجمان نہ ہو۔ جب ان ہر دو حضرات کے مسند و مقام کے تحفظ کے لیے امت کے اکٹھا ہونے کی لازوال مثالیں موجود ہیں تو ان کی تشریف آوری پر اتحاد و یگانگت کے نہ ہونے کی بات کرنا آبلہ فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟
- ۴......غرض ان کی آمد پر اتفاق ہوگا۔ اس وقت اتحاد کا نہ ہونا غلام احمد قادیانی کے کذب
کی صریح دلیل ہے بلکہ اس کے ماننے والوں کا لاہوری و قادیانی گروپوں میں تقسیم ہونا ”ظلمات بعضها فوق بعض“ کا مصداق ہے۔
قادیانی اعتراض نمبر ۵... تقدیم و تاخیر الحاد ہے
جواب: واؤ جمع کیلئے ہوتی ہے۔ ترتیب کیلئے ذیل میں قرآن مجید سے مثالیں ہیں:
واسجدى واركعى مع الراكعين ! حالانکہ رکوع سجود پر بالاجماع مقدم ہے۔
ایک جگہ قرآن میں ہے: ادخلوا الباب سجدا و قولوا حطة (سورة بقره) دوسری جگہ ہے: قولوا حطة وادخلوا الباب سجداً (سورۃ اعراف) اگر واؤ میں ترتیب ہو تو ان دونوں میں تعارض لازم آتا۔ واوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحق ويعقوب
والاسباط وعيسى ايوب ويونس وهارون وسليمان ! حالانکہ ایوبؑ یونسؑ ہارونؑ سلیمانؑ حضرت عیسیٰ پر مقدم ہیں۔ قال تعالیٰ ماهى الا حياتنا الدنيا نموت ونحى ! حالانکہ حیاۃ موت پر مقدم ہے۔ قولہ تعالیٰ حتى تستانسوا وتسلموا ! حالانکہ شرعاً سلام مقدم ہوتا ہے۔ استیذان پر اور : ان الصفا والمروة من شعائر الله ! جب نازل ہوئی تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ پہلے صفا کا طواف کریں۔ یا مروہ کا تو حضورﷺ نے فرمایا صفا سے۔ اگر واؤ ترتیب کے لئے موضوع ہوتا تو اس سوال کی کوئی حاجت نہ تھی اور جمیع نحاۃ کا اتفاق ہے کہ واؤ ترتیب کے لئے نہیں مطلق جمع کے لئے ہے۔
قادیانیوں سے سوال
- (۱)...... مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی
ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ۶‘ خزائن ج ۱۷ ص ۹۵)
قادیانی فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے کہا کہ میں مسیح علیہ السلام کا بروز ہوں۔ کیا امت میں سے آج تک کسی نے بروز مسیح ہونے کا دعویٰ کیا؟ نہیں تو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا کلام رہ جاتا ہے؟۔
- (۲)...... مرزا قادیانی نے کہا کہ میں اس صدی کا مجدد ہوں اور اپنا عقیدہ بتایا کہ مسیح
فوت ہو گئے۔ ان کی جگہ میں مسیح ہوں۔ کیا تیرہ صدیوں کے کسی مجدد نے اپنا وفات مسیح کا عقیدہ بتایا؟۔ یا کسی مجدد نے اپنے آپ کو بروز مسیح کہا۔ کوئی اس کی نظیر لا سکتے ہو؟۔ نہیں تو اگر تیرہ صدیوں کے مجدد صحیح تھے تو مرزا قادیانی غلط اور اگر مرزا قادیانی صحیح تو تیرہ صدیوں کے مجدد غلط۔ مرزائی فیصلہ کریں۔
- (۳)...... مرزا قادیانی نے کہا کہ میں ظلی طور پر محمد رسول اللہ ہوں۔ اس دعویٰ کی
پوری امت میں کوئی نظیر قادیانی دکھا سکتے ہیں کہ آج تک کسی امت کے فرد نے خود کو محمد رسول اللہ قرار دیا ہو؟۔
- (۴)...... مرزا قادیانی نے کہا کہ پوری امت سے نبوت کا نام پانے کے لئے میں
ہی مخصوص کیا گیا۔ (حقیقت الوحی ص۳۹۱‘ خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)”میں ہی مخصوص کیا گیا“ یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کی امت میں نظیر نہیں۔ مرزا قادیانی کا اقرار ہے جس کی نظیر نہ ہو وہ جھوٹ ہے۔ تو مرزائی بتائیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کوئی کسر رہ گئی؟۔
- (۵)...... کیا تیرہ صدیوں کے کسی ایک مجدد نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر سری
نگر محلہ خانیار میں ہے۔ کسی ایک مجدد یا تیرہ صدیوں کے کسی ایک قابل مفسر یا قابل ذکر ایک مورخ کا قادیانی نام بتا سکتے ہیں۔ قیامت تک؟۔
- (۶)...... مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی ص۳۱‘ خزائن ج۲۲ ص۳۳ پر کہا کہ:
”اانت قلت للناس“ کا سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے روز ہوگا۔ ”اور ازالہ اوہام ص ۲۴۸‘ خزائن ج ۳ ص ۲۴۵ پر کہا کہ: ”یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا............“ کیا ایک ہی واقعہ میں زمانہ ماضی اور مستقبل دونوں پائے جاسکتے ہیں؟۔
- (۷)...... مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات ص ۵۲۶ خزائن ج ۵ ص ایضاً پر لکھا ہے کہ:
”وفات مسیح کا عقیدہ مجھ پر کھولا گیا۔ اس سے پہلے پردہ اخفاء میں رکھا گیا تھا۔“ اگر پردہ اخفاء میں تھا تو پہلے کے بزرگ کیسے قائل تھے۔ اگر وہ قائل تھے تو پھر پردہ اخفاء کیسا؟۔