فتاویٰ ختم نبوت
جلد سوم
مرتب
مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری
رئیس دارالافتاء ختم نبوت کراچی
تحقیق و تخریج
مولانا قاضی احسان احمد ● مولانا محمد ذوالفقار طارق ● قاری حفیظ اللہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ • ملتان • فون: 514122
فتاویٰ ختم نبوّت
جلد سوم
مُرَتِّب
مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری
رَئِیس دارالافتاء ختم نبوّت کراچی
تَحقیق وتَخرِیج
مولانا قاضی احسان احمد مولانا محمد ذوالفقار طارق قاری حفیظُ اللہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت
حضوری باغ روڈ • ملتان • فون:514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
انتساب !
- ...... یہ کتاب فروری ۲۰۰۶ء میں مکمل ہورہی ہے۔ ۶ فروری ۲۰۰۶ء
بروز پیر شام کو دہلی میں امیر الہند حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی امیر جمعیت علمائے ہند وصال فرما گئے۔
- ...... حضرت مرحوم نے انڈیا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند کی داغ
بیل ڈالی۔ دارالعلوم دیوبند میں اس کا مرکزی دفتر قائم کیا۔
- ...... پورے ہندوستان کی دینی قیادت کو قادیانی فتنہ کے خلاف
میدانِ عمل میں صف آراء کیا۔
- ...... یورپ‘ امریکا‘ عرب و ایشیاء میں قادیانی فتنہ کے خلاف آپ
نے دن رات ایک کر دئیے۔
- ...... عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی گرانقدر خدمات کے
اعتراف میں اس کتاب کو آپ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حق تعالیٰ ان کی قبر پر اپنی رحمت کی موسلادھار بارش نازل فرمائیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین!
مرتب!
حرفے چند!
بسم الله الرحمن الرحيم . الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . اما بعد!
”فتاویٰ ختم نبوت“ کی تیسری (آخری) جلد پیش خدمت ہے۔ جلد اول میں ۲۹ کتب فتاویٰ جات سے رِدّ قادیانیت کے فتویٰ جات کو یکجا تبویب کر کے شائع کیا تھا۔ دوسری جلد میں ان ۲۱ رسائل و کتب فتاویٰ جات کو یکجا کیا گیا جو فتوے علیحدہ علیحدہ کتابی شکل میں شائع ہوئے تھے۔ پہلی جلد جون ۲۰۰۵ء، دوسری جلد ستمبر ۲۰۰۵ء میں شائع ہوئی اور تیسری جلد فروری ۲۰۰۶ء میں شائع ہو رہی ہے۔
......فتویٰ ختم نبوت جلد اول کے صفحات ۵۴۴ ......فتویٰ ختم نبوت جلد دوم کے صفحات ۵۱۲ ......فتویٰ ختم نبوت جلد سوم کے صفحات ۲۷۲ ......میزان ۱۳۲۷
رب کریم کے کرم کو دیکھیں کہ قادیانی فتنہ کے خلاف پہلا فتویٰ سن ۱۳۰۱ھ میں شائع ہوا۔ سوا سو سال بعد ان تمام فتوٰی جات کو جمع کیا گیا تو اس کے صفحات کی تعداد بھی حذف کسر کے بعد ۱۳۰۰ قرار پائی۔ اس تیسری جلد میں ۱۴ رسائل شامل ہیں۔ ان رسائل میں ”قادیانی ارتداد“ کی شرعی و قانونی حیثیت پر بحث کی گئی ہے۔ ان رسائل کے نام یہ ہیں:
- ۱...... مرتد کے احکام اسلامی قانون میں جسٹس تنزیل الرحمٰن
- ۲...... قادیانیوں کی شرعی و قانونی حیثیت مولانا علامہ خالد محمود
- ۳...... گستاخ رسول کی سزا قتل مولانا سید احمد سعید کاظمی
- ۴...... سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت مولانا مفتی محمد امین
- ۵...... اہل قبلہ کی تحقیق مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی
- ۶...... التحفة القادريه عن اسئلة المرزائيه صاحبزادہ مفتی عبدالقادر
- ۷...... اسلام میں شاتم رسول کی سزا مولانا مفتی انعام الحق
- ۸...... حرمت تدفین المرتدین فی مقابر المسلمین مولانا سیف اللہ حقانی
- ۹...... مرتد کی سزا اسلامی قانون میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
- ۱۰...... اظہار حقانیت و ابطال قادیانیت ابوالسعود محمد سعد اللہ المکی
- ۱۱...... السوء العقاب علی المسیح الکذاب مولانا احمد رضا خان
- ۱۲...... دفع الالحاد عن حکم الارتداد مولانا نور محمد خان
- ۱۳...... لاہوری اور قادیانی ’مرزائی‘ دونوں کافر ہیں مفتی ولی حسن ٹونکی
۱۴...... حافظ ایمان از فتنہ قادیان بابو پیر بخش خان لاہوری
- ☆...... فقیر نے تحریک ہائے ختم نبوت پر کام شروع کیا تو تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء پر ضخیم کتاب شائع ہو گئی۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی روئیداد تین ضخیم جلدوں میں مکمل ہو گئی۔ البتہ تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء پر لکھنا شروع کیا تو وہ کام نہ صرف ادھورا رہ گیا بلکہ اب تو اس کا مسودہ بھی نہیں مل رہا۔
- ☆...... ”قادیانی شبہات کے جوابات“ پر دو کتابیں مرتب ہو کر چھپ گئیں۔ لیکن ابھی تیسری کتاب جو کذب
قادیانی پر مشتمل ہو گی لکھ نہیں سکا۔
- ☆...... ”احتساب قادیانیت“ کی چودہ جلدوں پر کام ہوا۔ لیکن ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
- ☆...... البتہ فتاویٰ ختم نبوت پر اس تیسری جلد کے بعد کام مکمل ہو گیا۔ یہ جلد اس سلسلہ کی آخری جلد ہے۔ اس
کام کی تکمیل پر جتنی خوشی ہونی چاہئے اس کا جو قارئین اندازہ فرمائیں ان سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ بقیہ متذکرہ بالا کام بھی مکمل کرا دیں۔ وما ذالك على الله بعزيز! حق تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت نصیب فرمائیں۔ جو کچھ ہوا کریم کے کرم سے ہوا جو ہو گا کریم کے کرم سے ہو گا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پلیٹ فارم قادیانی فتنہ کے خلاف پوری امت کو جمع کرنے کا داعی ہے۔ گویا آگ اور پانی کو ایک ساتھ لے کر چلنا۔ فتاویٰ جات کی تمام جلدوں میں بالعموم اس جلد میں بالخصوص متضاد سمتوں میں پھیلنے والے آگ و پانی کے سیلابوں کے بہاؤ کو ایک پل کے نیچے سے گزارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے یہ قارئین کے فیصلہ پر منحصر ہے۔ ہماری مجبوری کو معاف کر دیں تو بھی جان بچی لاکھوں پائے۔ اللہ رب العزت جو دل کے بھیدوں کو جاننے والی ذات ہے کو گواہ بنا کر عرض کرتے ہیں کہ قادیانی فتنہ کی چیرہ دستیوں اور سفاکانہ وارداتوں نے امت مسلمہ کو ارتداد کے وہ چرکے لگائے ہیں کہ جس سے امت محمدیہ مضمحل ہو گئی ہے۔ جس طرح بکریوں کے ریوڑ سے ایک ایک کر کے ارتدادی بھیڑیے ہر روز اپنے لئے نیا تر نوالہ تلاش کرتے چلے جا رہے ہیں ہمیں ارتدادی بھیڑیے سے ریوڑ کے بچاؤ کا اہتمام کرنا ہے اور بس۔ اللہ تعالیٰ پوری امت کو قادیانی فتنہ کی سنگینی کا احساس عنایت فرمائے۔ محراب و منبر، مسجد و مدرسہ، مسند ارشاد و مسند افتاء سب اپنی ذمہ داری کا خیال فرمائیں تو امت کے درد کا کچھ درماں ہو جائے۔
اے امت محمدیہ! اس یقین کو اپنے دل میں مستحکم کر، کہ قادیانی فتنہ دراصل آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس سے بغاوت کی تحریک ہے۔ اس سے بچنا اور پوری امت کو بچانا اپنے اپنے دائرہ میں ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ اے مولائے پاک تو سب کو اس کا ادراک نصیب فرما دے تیرے لئے کیا مشکل ہے۔ آمین بحرمة النبی الکریم!
اللہ رب العزت حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب جلال پوری دامت برکاتہم کو جزائے خیر نصیب فرمائیں کہ ان کی توجہ و محنت سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ فالحمد لله علیٰ ذالك!
فقیر...... اللہ وسایا ۱۲محرم الحرام ۱۴۲۶ھ ۱۱ فروری ۲۰۰۶ء
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل!
حرفے چند ۴ فہرست ۶
- ۱....... مرتد کے احکام اسلامی قانون میں جسٹس تنزیل الرحمٰن ۷
- ۲....... قادیانیوں کی شرعی و قانونی حیثیت مولانا علامہ خالد محمود ۵۱
- ۳....... گستاخ رسول کی سزا قتل مولانا سید احمد سعید کاظمی ۱۰۳
- ۴....... سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت مولانا مفتی محمد امین ۱۱۱
- ۵....... اہل قبلہ کی تحقیق مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی ۱۲۵
- ۶....... التحفة القادريه عن اسئلة المرزائيه صاحبزادہ مفتی عبدالقادر ۱۴۳
- ۷....... اسلام میں شاتم رسول کی سزا مولانا مفتی انعام الحق ۱۵۳
- ۸....... حرمت تدفین المرتدین فی مقابر المسلمین مولانا سیف اللہ حقانی ۱۵۹
- ۹....... مرتد کی سزا اسلامی قانون میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ۱۶۳
- ۱۰...... اظہار حقانیت و ابطال قادیانیت ابوالسعود محمد سعد اللہ المکی ۱۹۷
- ۱۱...... السيف العقاب علی المسیح الکذاب مولانا احمد رضا خان ۲۰۳
- ۱۲...... دفع الالحاد عن حکم الارتداد مولانا نور محمد خان ۲۱۵
- ۱۳...... لاہوری اور قادیانی، مرزائی دونوں کافر ہیں مفتی ولی حسن ٹونکی ۲۳۵
- ۱۴...... حافظ ایمان از فتنہ قادیان بابو پیر بخش خان لاہوری ۲۴۵
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ھوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرتد کے احکام اسلامی قانون میں
جسٹس تنزیل الرحمٰن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف
ہمارے محترم جناب جسٹس تنزیل الرحمن نے ”مرتد کے احکام اسلامی قانون میں“ کے نام سے عظیم مقالہ سپرد قلم کیا۔ جو پاکستان کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم کراچی کے ترجمان ماہنامہ البلاغ میں صفر ۱۳۹۳ھ مطابق اپریل ۱۹۷۳ء سے محرم ۱۳۹۴ھ مطابق مارچ ۱۹۷۴ء کی اشاعتوں میں (دس اقساط) شائع ہوا۔ اللہ رب العزت کے فضل و احسان، توفیق و عنایت سے پہلی بار کتابی شکل میں یکجا اس جلد میں شائع کرنے کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت نصیب ہورہی ہے۔ فالحمد لله اولاً و آخراً۔
ارتداد کے معنی و مفہوم اور اس کے شرعی اثرات و نتائج پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں؟
مسلمان کسے کہتے ہیں:
ابوعبید ثانی امیر کاتب بن امیر عمر العمید الفارابی الاتقانی نے شرح البزدوی (مخطوطہ) کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمان کی تین انواع ہیں۔ (۱)...... ظاہری مسلمان (۲)...... حکمی مسلمان (۳)...... حقیقی مسلمان...... انھوں نے لکھا ہے کہ:
- ۱....... وہ شخص ”ظاہری مسلمان“ ہے جس کی زبان پر کلمہ اسلام (اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدً
رَّسُوْلُ اللّٰه) جاری ہے اور جو مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مل کر نماز پڑھتا ہے اس امر سے قطع نظر کہ اس کے اعتقاد کی حقیقت سے واقفیت ہو۔
- ۲....... وہ شخص ”حکمی مسلمان“ ہے جو اپنے مسلمان والدین کی تبعیت میں ہونے کے سبب مسلمان قرار پائے، بلالحاظ
اس امر کے اس شخص کی زبان پر کلمہ اسلام (لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه) کا اقرار پایا جائے یا نہ
- ۳....... وہ شخص ”حقیقی مسلمان“ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی تمام تر صفات کے ساتھ جیسی ان کی
حقیقت ہے، جان لیا ہو، اور رسل و انبیاء کو جیسی کہ ان کی حقیقت ہے، جان لیا ہو، اور ارکان اسلام کو جیسی ان کی حقیقت ہے جان لیا ہو، جن میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی جانب سے خیر و شر کا ہونا اور تمام ارکانِ اسلام کا اعتقاد و اقرار شامل ہے۔
مندرجہ بالا تعریفات سے بآسانی یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ...... ہر مسلمان، خواہ وہ ظاہری ہو یا حکمی اس
وقت تک مسلمان قرار پائے گا جب تک اس کا حقیقی مسلمان نہ ہونا ثابت نہ ہو جائے۔
حضور ﷺ کی حدیث مبارک سے ایمان و اسلام سے متعلق جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایمان نام ہے پانچ عقائد کا...... ۱...... ایمان باللہ تعالیٰ ۲...... ایمان بالرسل ۳...... ایمان بالملائکہ ۴...... ایمان بالکتب اور ۵...... ایمان بالآخرت ۔ اور اسلام نام ہے پانچ ارکان کا۔ ۱...... شہادتین ۲...... نماز ۳...... زکوٰۃ ۴...... روزہ رمضان اور ۵...... حج۔ چنانچہ ہر وہ شخص جو ان عقائد و ارکان کا معتقد اور اقراری ہو، وہ مسلمان کہلائے گا لیکن ضروری ہے کہ وہ اعتقاد اور اقرار اس حقیقت کے مطابق ہو جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ظاہر ہے۔
جسٹس سر امیر علی کی کتاب ”جامع الاحکام فی فقہ الاسلام“ میں مسلمان کی تعریف بہ ایں الفاظ کی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتا ہو مسلمان ہے۔ یہ تعریف پاک و ہند کی اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلوں میں پسند کی گئی ہے۔ چنانچہ عدالت عالیہ سندھ و بلوچستان کے جج مسٹر جسٹس امداد علی آغا نے ایک حالیہ مقدمہ مسز عائشہ قریشی بنام حشمت اللہ (مندرجہ پی ایل ڈی کراچی، شمارہ دسمبر ۱۹۷۲ء ص ۶۵۷) میں لکھا ہے کہ:
”مسلمان ہو جانے کے لیے اسلام کی تمام مستند کتابیں اس پر متفق ہیں کہ اگر ایک شخص اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے ......اور محمد ﷺ کو اس کا نبی ہوتا مانتا ہے اور خود کو مسلمان کہتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔“
مسلمان کی یہی تعریف ۱۹۵۹ء میں جج عدالت عالیہ مغربی پاکستان جناب جسٹس محمود نے بمقدمہ عطیہ وارث بنام سلطان احمد (مندرجہ پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۵۹ء لاہور ص ۲۰۵ برص ۲۰۹) کی تھی۔ اگرچہ یہ تعریف اصولی طور پر صحیح ہے۔ لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت کے اقرار کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی ان تمام مسلمہ اور بدیہی صداقتوں کا اعتراف و اقرار کیا جائے جو قرآن پاک اور سنت متواترہ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں اور جن پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
ہمارے فقہائے دین نے ان مسلمہ بدیہی صداقتوں کے لیے ”ضروریاتِ دین“ (Essentials of Islam) کی اصطلاح استعمال کی ہے جن کا مصداق اسلام کے وہ تمام یقینی اور بدیہی عقائد، عبادات اور احکام ہیں جن سے اسلام عبارت ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”اکفار الملحدین“ حضرت العلامہ السید انور شاہ الکشمیریؒ)
تقریباً آٹھ سال قبل احقر نے اپنی کتاب ”مجموعہٴ قوانین اسلام“ جلد اوّل مطبوعہ ۱۹۶۵ء میں مسلمان کی حسب ذیل تعریف کی تھی:
”دفعہ ۳۔ جو شخص خدا کو ایک اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس کا آخری نبی مانتا ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو، مسلمان ہے۔“
آنحضرت ﷺ کی رسالت کو ماننے کا حکم ہے ”فما جاء به فهو حق“ (کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ لے کر آئے وہ سب حق ہے) فی زمانہ ہر مسلمان کے ذہن میں یہ امر محفوظ ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے میں آپ ﷺ کے لائے ہوئے تمام دین مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ و حج کی فرضیت، خمر، قمار، زنا اور ربا کی حرمت، قیامت کا ظہور، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا، جزا و سزا، ملائکہ، انبیاء سابقین اور کتب سابقہ وغیرہ پر ایمان شامل ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت پر میرے محترم دوست ماہر القادری صاحب نے مشورہ دیا کہ مسلمان کی تعریف میں ”آخری نبی“ کے بعد یہ بھی اضافہ کیا جائے کہ ”حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا بھی قائل نہ
ہو۔‘‘ یہ اضافہ جس پس منظر کو لیے ہوئے ہے ہم سب اس سے واقف ہیں۔ تعریف کے ضمن میں اس امر کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے کہ تعریف طرداً وعکساً درست اور جامع و مانع ہو۔ جس شے کی تعریف کی جارہی ہے اس شے کا کوئی جز اصلی تعریف سے باہر نہ رہ جائے اور کوئی غیر ضروری جز تعریف میں داخل نہ ہو جائے۔ مزید غور و فکر کے بعد میرے نزدیک مسلمان کی حسب ذیل تعریف کافی ہوگی: ’’ہر وہ شخص مسلمان ہے جو خدا کو ایک اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتا ہو اور ضروریاتِ دین کو جو اجماع امت سے ثابت ہیں، تسلیم کرتا ہو۔ اور ان کی پابندی کا زبان سے اقرار کرتا ہو۔‘‘
باب ۱....... ارتداد کے معنی ومفہوم
ارتداد کے لغوی معنی ارتداد یا ردّت کے لغوی معنی کسی شے سے پلٹ جانا یا لوٹ جانا ہیں۔
(جمہرۃ اللغۃ الازدی ج ۱ ص ۷۲)
صاحب لسان العرب نے اس کے معنی تحول کے لکھے ہیں جس کے معنی تغیر وتبدل اور رجوع کے آتے ہیں۔ (لسان العرب ج ۵ ص ۱۸۳ ردد) اسی قسم کے معنی تاج العروس میں بھی بیان کیے گئے ہیں۔
(تاج العروس ج ۴ ص ۳۵۰ ردّد)
اصطلاحاً اس کے معنی ’’مسلمان کا اسلام سے پھر جانا‘‘ ہیں۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
ارتداد قرآن پاک میں (الف)...... قرآن پاک میں ارتداد کا ذکر لفظاً دو آیتوں میں آیا ہے۔ جو حسب ذیل ہیں:
- ۱...... وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ
وَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ. (البقرہ ۲۱۷) ’’اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پلٹ گیا اور وہ اسی کفر کی حالت میں مر گیا، تو ایسے لوگوں کے اعمال (خیر) دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ یہی لوگ ہمیشگی کے ساتھ دوزخی ہوں گے۔‘‘
- ۲...... يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ اَذِلَّةٍ عَلَى
الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo (المائدہ ۵۴) ’’اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دین (اسلام) سے پلٹ جائے گا تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایک (دوسری) قوم کو لے آئے گا جو اللہ کو محبوب رکھتے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو پسند فرماتا ہوگا۔ مومنوں کے حق میں خاکسار اور کافروں کے حق میں غالب رہنے والے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہیں گے، کسی ملامت کنندہ کی ملامت کی پروا نہ کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا۔ جسے چاہے عطا فرمائے، اللہ وسعت اور علم والا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا ہر دو آیات مرتد کے بارے میں صریح ہیں۔ پہلی بات جو آیتوں سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مرتد کا ارتداد سے قبل مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اور پھر اس کا اسلام سے کفر کی طرف رجوع کرنا یا پلٹ جانا، ارتداد ہے۔ چنانچہ جو مسلمان ہو کر مرتد ہو گیا اور توبہ نہ کی حتیٰ کہ حالت ارتداد (کفر) ہی میں مر گیا اس کے وہ تمام دنیاوی اعمال (فوائد) جو اسلام کی بدولت اس کو دنیا میں حاصل ہوئے تھے، وہ ضائع اور رائیگاں بلکہ کالعدم ہو گئے اور آخرت میں اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جس کی آگ میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ نیشاپوری نے اپنی تفسیر غرائب
القرآن میں لکھا ہے کہ مرتد ہو جانے کے نتیجہ میں دنیا میں وہ مسلمانوں سے موالات کا مستحق نہ رہے گا۔ نہ اس کی مدد کی جائے گی اور نہ کسی قسم کی تعظیم، اس کی زوجہ اس سے بائنہ ہو جائے گی اور وہ میراث سے محروم ہو جائے گا اور آخر میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ہی کافی ہے کہ یہ لوگ اصحاب نار ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
(غرائب القرآن نیشاپوری ج ۲ ص ۳۱۸)
دنیاوی ثمرات و فوائد سے محروم ہو جانے کے بارے میں مزید ملاحظہ ہوں ”الکشاف“ زمخشری (ج ۱، ص ۱۷۱) ”مجمع البیان“ طبرسی (ج ۱، ص ۳۱۳)، ”محاسن التاویل۔“ قاسمی (ج ۳، ص ۵۴۹)، ”روح المعانی۔“ آلوسی (ج ۲، ص ۱۵۷)، ”الجامع الاحکام القرآن۔“ قرطبی (ج ۳، ص ۱۴۶)
یہاں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے، وہ یہ کہ ارتداد سے عام طور پر یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ وہ شخص دین سابق پر لوٹ جائے، حالانکہ مذکورہ بالا آیات میں ارتداد ”اسلام سے کفر کی طرف انتقال ہے۔“ يرتد عن الاسلام الى الكفر میں جو عمومیت (تعمیم) پائی جاتی ہے اس کے پیش نظر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مرتد دین معین کی طرف پلٹے یا کوئی دین ہی اختیار نہ کرے یا اسلام سے قبل جس دین پر تھا اس کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کر لے۔ ان تمام صورتوں میں وہ مرتد کہلائے گا اور اس پر ارتداد کے احکام مرتب ہوں گے۔
- (ب)....... قرآن پاک میں یہ معنیٰ بھی کئی آیتوں میں رِدَّت (ارتداد) مراد ہے۔ مثلاً:
- ١....... اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَo (ال عمران ٩٠)
”بلاشبہ جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا، پھر وہ کفر میں بڑھ گئے، ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہوگی۔ یہ لوگ وہ ہیں جو (حقیقی معنی میں) گمراہ ہیں۔“
- ٢....... يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ج فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ قف اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ
فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَo (ال عمران ١٠٦) ”یعنی جس دن بعض چہرے سفید (روشن) اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے۔ جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے سوال ہوگا) کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا، تو اب اپنے کفر کرنے کے عوض عذاب (کا ذائقہ) چکھو۔“
- ٣....... اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا
لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيْلًاo (النساء ١٣٧) ”یعنی بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے، یہ نہیں ہو سکے گا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور نہ یہ کہ ان کو (اپنے) راستہ کی ہدایت کرے۔“
- ٤....... مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا
فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ج وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌo (النحل ١٠٦) ”یعنی جس شخص نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا الاّ یہ کہ اس پر جبر کیا گیا اور اس کا قلب ایمان پر مطمئن (قائم) رہا لیکن جس شخص کا کفر کے لیے سینہ کشادہ ہو گیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے غضب ہوگا اور عذابِ عظیم۔“
- ٥....... وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ ج فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرٌ نِ اطْمَاَنَّ بِهٖ ج وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ نِ انْقَلَبَ
عَلٰى وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ط ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُo (الحج ١١) ”یعنی اور لوگوں میں سے ایک فریق وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک پہلو سے کرتا ہے۔ اگر اس کو بھلائی پہنچتی ہے تو وہ مطمئن رہتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے چہرے کے ساتھ پلٹ جاتا ہے (افسوس) کہ دنیا اور آخرت دونوں میں خاسر ہو گیا، یہی
تو کھلا نقصان (خسارہ) ہے۔“
- ۶....... كَيْفَ يَهْدِى اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَ هُمُ الْبَيِّنٰتُ ط وَاللّٰهُ
لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ٥ (ال عمران ٨٦) ”یعنی اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے ہدایت کرے گا جس نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہو اور یہ گواہی دی ہو کہ رسول حق پر ہے اور اس کے پاس واضح دلائل (ثبوتِ حق کے) آچکے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرمایا کرتا۔“
- ۷....... اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَا تُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِافْتَدٰى بِهٖ ط
اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ٥ (ال عمران ٩١) ”یعنی بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور (پھر اسی حالت میں) مرگئے پس ان میں سے کسی سے ہرگز زمین کو بھر دینے والا سونا بھی فدیہ میں قبول نہ کیا جائے گا، اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔“
- ٨....... اِنَّ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ لَنْ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيْئًا ج وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ٥ (ال عمران ١٧٧) ”بلاشبہ
جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر خرید لیا، وہ اللہ تعالیٰ کو ہرگز نقصان نہ دے سکیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔“
- ٩....... اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى لَنْ يَّضُرُّوا
اللّٰهَ شَيْئًا ط وَسَيُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ ٥ (محمد ٣٢) ”یعنی بلاشبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ کے راستہ سے (لوگوں کو) روکا، اور ان کے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد انھوں نے رسول کی مخالفت کی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور عنقریب ان کے اعمال مٹا دیے جائیں گے۔“
مندرجہ بالا آیات یہود و نصاریٰ کے علاوہ ان مسلمانوں پر بھی دلالت کرتی ہیں جو مرتد ہوگئے۔ چنانچہ پہلی آیت میں ”كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ“ کے الفاظ اپنے عموم پر ان لوگوں پر دلالت کر رہے ہیں جنھوں نے اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کیا گویا مرتد ہوگئے۔
دوسری آیت بھی قتادہ کے نزدیک مرتدین کے بارے میں ہے۔ باقی آیات میں مرتدین بھی شامل ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الجامع للقرطبی (ج ۲، ص ۱۲۰، ۱۶۶، ج ۵، ص ۴۱۵۔ ج ۱ ص ۱۸۰۔ ج ۱۲ ص ۱۷۔ ج ۴ ص ۱۲۹، ۱۳۱۔ ج ۱ ص ۲۱۰) البتہ آخری آیت اپنے اندر کفار اور منافقین دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ (فی ظلال القرآن، سید قطب شہید، ج ۱۶، ص ۷۵)
ارتداد سنت نبوی میں ارتداد (رِدَّت) کا لفظ سنت نبوی ﷺ میں بکثرت آیا ہے۔ کہیں اصطلاحی معنی میں اور کہیں لغوی معنی میں۔ کہیں کفر کا لفظ آیا ہے جس سے ارتداد بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور کہیں تبدیلی کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کہیں تارک الدین یا مفارق الجماعت کہہ کر مرتد کی صفت کے ذریعہ ارتداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً:
- ١....... عن ابن عباسؓ قال: اسری بالنبی ﷺ الی بیت المقدس ثم جاء من لیلۃ فحدثھم بمسیرہ و
بعلامۃ بیت المقدس و بعیرھم فقال ناس قال حسن۔ (اسم احد الراویین) نحن نصدق محمدا بما يقول. فارتدوا كفاراً فضرب اللّٰه اعناقهم مع ابی جهل (مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۴ جدید ج ۵ ص ۷۷۷ حدیث ۳۵۴۶) ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا کہ نبی ﷺ کو شب میں سیر کرائی گئی بیت المقدس کی جانب۔ پھر آپ ﷺ اسی شب میں واپس آگئے اور آپ ﷺ نے اپنی سیر کی کیفیت کفار سے بیان فرمائی اور
بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلہ کی کیفیت، تو کچھ لوگوں نے ....... راوئ حدیث حضرت حسن کہتے ہیں کہ....... کہا ہم محمد ﷺ کو سچا کہتے ہیں ان باتوں میں جو انھوں نے کہیں ہیں (لیکن) پلٹ پڑے کفر ہی کی طرف۔ پس اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کی ہمراہی میں ان کی گردنیں ماردیں۔‘‘
اس حدیث میں ”فارتد واکفاراً“ کہہ کر ارتداد کے اصطلاحی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ پس وہ ”لوٹ گئے کافر ہوکر“ یعنی ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا۔
۲....... من حديث فاطمة بنت قيس (....... قال ﷺ ”ليس لك عليه نفقة ولا سكنى وليست له فيک ردة و عليك العدة فانتقلي الى ام شريک.......) (مسند احمد ج ۶ ص ۴۱۴، ج ۵ ص ۳۱۸ حدیث ۲۷۳۳۴) ”پس حضور ﷺ نے فرمایا، نہ تو اس شوہر پر تیرا نفقہ واجب ہے اور نہ حق سکونت اور نہ تو اس کی جانب لوٹ سکتی ہے اور تیرے ذمہ پر اس کی عدت لازم ہے، لہٰذا ام شریک کے یہاں منتقل ہوجا۔‘‘
اس حدیث میں ارتداد کے لغوی معنی رجوع بیان کیے گئے ہیں۔
۳....... عن ابن عمر قال رسول الله ﷺ الرجل لاخيه يا كافر فقد باء به احدهما.
(مشکوۃ ص ۴۱۱ باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)
”حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے (مسلم) بھائی کو کہتا ہے، او کافر، تو یقیناً یہ کفر ان دونوں میں کسی ایک کی جانب رجوع کرجاتا ہے۔“
۴....... عن ايوب عن عكرمه قال قال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ من بدل دينه فاقتلوه.
(بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حکم المرتد والمرتدہ)
”حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا دین تبدیل کردے اس کو قتل کردو۔“ (نسائی ج ۲ ص ۱۴۹، ۱۵۰ باب الحکم فی المرتد) میں اس حدیث کو سات سندوں سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں تبدیلیِ دین سے تبدیلیِ دین اسلام مراد ہے جس پر قائم رہنا لازمی ہے۔ اس کی دو دلیلیں ہیں۔ ایک تو اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی شرعاً معتبر ہے اور دوسرے یہ کہ اگر اس سے مراد غیر اسلام ہو تو بالفرض کوئی اپنا دین (غیر اسلام) تبدیل کر کے اسلام میں داخل ہو تو کیونکر قتل کا سزاوار ہے؟ اس لیے ثابت ہوا کہ اس حدیث میں لفظ ”دین“ سے دین اسلام ہی مقصود ہے۔
۵....... حدثنا ابو داؤد قال: حدثنا شعبة عن الاعمش قال: سمعت عبدالله بن مرة يحدث عن مسروق عن عبدالله قال، قال رسول الله ﷺ ”لا يحل دم امرىءٍ مسلم...... الا باحدى ثلاث الثيب الزانى والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة.
(ابو داؤد ج ۲ ص ۱۳۸ باب الحکم فیمن ارتد واللفظ لہ، بخاری ج ۲ ص ۱۰۱۶ باب قول اللہ ان النفس بالنفس)
”یعنی حضرت مسروق عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کا خون سوائے تین معاملات میں سے کسی ایک معاملے کے حلال نہیں ہے۔ ایک شادی شدہ زانی، ایک (قتل) نفس کے عوض قتلِ نفس، ایک جو اپنے دین کو چھوڑ کر (مسلمانوں کی) جماعت کو ترک کردے۔“
اس حدیث میں ترکِ دین اور مفارقتِ جماعت سے مراد مفارقتِ جماعتِ اسلام ہے۔ یہ امر کفر کے سبب ہوتا ہے نہ کہ بغاوت یا بدعت کے سبب۔ کفر ہی کے ذریعہ ترکِ کلی ہوسکتا ہے نہ کہ بغاوت یا بدعت کے ذریعہ کیونکہ ان ہر دو صورتوں میں دین کے بہت سے خصائل میں سے صرف ایک خصلت کا ترک لازم آتا ہے،
اسی لیے باغی کا قتل دفع بغاوت کے لیے ہوتا ہے جبکہ کفر کے سبب اسلام کو کلی طور پر چھوڑ دینے کے سبب ارتداد لازم آتا ہے اور ارتداد مرتد کے قتل کا موجب ہے۔ خواہ کفر کسی نوعیت کا ہو۔ چنانچہ اس کے قتل کی غرض وغایت بھی قتل باغی سے مختلف ہے۔ (اس موضوع پر تفصیلی بحث آگے آئے گی۔)
ارتداد فقہ میں مشہور حنفی امام سمرقندی نے تحفة الفقہاء میں ارتداد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ارتداد ایمان سے رجوع کا نام ہے۔ الردة هی الرجوع عن الايمان۔
(تحفة الفقهاء، ج ۷ ص ۱۳۷)
امام کاسانی نے لکھا ہے کہ لغوی اعتبار سے ردّت کے معنی ہیں لوٹ جانا، پلٹ جانا، پھر جانا اور شرع کی اصطلاح میں ایمان سے پلٹ جانے کو ردّت (ارتداد) کہتے ہیں۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴ فصل بیان احکام المرتدین)
مالکی فقہاء کے نزدیک ردّت کے شرعی معنی ہیں کسی مسلم ثابت الاسلام کا صریح قول کفر یا ایسے لفظ سے جو کفر کا مقتضی ہو یا ایسے فعل سے جو کفر کا مستلزم ہو کفر اختیار کر لینا۔
(جواہر الاکلیل ج ۲ ص ۲۷۷)
مالکی فقیہہ خرشی نے ردّۃ کو مسلمان کے کفر سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے "حقيقة الردّة عبارة عن قطع الاسلام من تكلف" یعنی ردّۃ کے حقیقی معنی اسلام کو بتکلف قطع کر دینا ہے۔ (شرح الخرشی ج ۸ ص ۶۲)
قلیوبی الشافعی نے لکھا ہے کہ ارتداد اسلام کا قطع کرنا ہے ساتھ نیت کفر کے یا قول کفر کے یا فعل کفر کے۔ (الردة هى قطع الاسلام بنية كفر او قول كفر او فعل كفر) (قلیوبی ج ۴ ص ۱۷۴)
مغنی المحتاج (فقہ شافعی) میں ردّت کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لغت میں ردّت کے معنی ایک شے کا کسی دوسری شے کی جانب رجوع کر جانا ہے اور اس کے شرعی معنی اسلام کو قطع کر دینا ہیں خواہ نیت کے ذریعہ ہو یا کلام کفر یا فعل کفر کے ذریعہ ہو، خواہ استہزاء کے طور پر ہو، یا عناد کے سبب ہو یا عقیدہ کے لحاظ سے ہو۔ (الردة هي لغة الرجوع عن الشئ الى غيره" ...... "وشرعاً قطع الاسلام بنية او قول كفر او فعل سواء قاله استهزاءً او عناداً او اعتقاداً."
(المغنی، ج ۴ ص ۱۳۳-۱۳۴)
ابن قدامہ حنبلی نے مرتد کو دین اسلام سے کفر کی طرف رجوع کرنے والا کہا ہے۔ "المرتد هو الراجع عن دین الاسلام الى الكفر"
(المغنی، ابن قدامہ ج ۸، ص ۵۴۰)
الاقناع (فقہ حنبلی) میں لکھا ہے کہ مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے بعد کفر اختیار کرے، اگر صاحب تمیز ہو اور بخوشی ایسا کیا ہو، خواہ مزاحاً ہی یہ عمل صادر ہوا ہو۔
(الاقناع ج ۴ ص ۲۹۷)
امام ابو محمد ابن حزم ظاہری نے مرتد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جس کا مسلمان ہونا صحیح طور پر بایں صورت ہو چکا ہو کہ اس نے سوائے دین اسلام کے دیگر تمام ادیان سے بیزاری کا ثبوت دیا ہو، پھر وہ اسلام سے پھر جائے تو ایسا شخص مرتد کہلائے گا۔ (المحلی ج ۱۳ ص ۵۸ مسئلہ: المرتدین ص ۲۱۹۹ طبع احیاء التراث بیروت)
مشہور شیعہ فقیہہ علامہ المحقق الحلی نے اپنی مشہور کتاب شرائع الاسلام میں لکھا ہے کہ مرتد وہ فرد ہے جو اسلام کے بعد کفر اختیار کرے۔ "المرتد هو الذي يكفر بعد الاسلام"
(شرائع الاسلام مطبوعہ بیروت، ج ۲ القسم الرابع ص ۲۵۹)
طوسی امامی نے امام ابی جعفر صادق ؑ سے مرتد کی تعریف نقل کی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ محمد بن مسلم سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے ابی جعفر سے مرتد کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ وہ شخص مرتد ہے جو اسلام سے پھر گیا۔ اور جو کچھ محمد ﷺ پر نازل ہوا اپنے اسلام کے بعد اس کا انکار کیا۔ ("من رغب عن الاسلام و کفر بما انزل علی محمد ﷺ بعد اسلامه"
(تہذیب الاحکام طوسی، ج ۱۰، ص ۱۳۶)
ابن تیمیہ نے مرتد کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ مرتد اپنے اسلام کے بعد کافر ہے۔ پس جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا اس کی ربوبیت یا اس کی صفات میں سے کسی صفت یا اس کی بعض کتب یا اس کے بعض رسولوں کا انکار کیا ۔ "وهو الكافر بعد اسلامه فمن يشرك بالله اوجحد ربوبيته، اوصفاته. او بعض كتبه او رسله او سب الله فقد کفر“ (الاختیارات العلمیہ ابن تیمیہ ص۴۰۴) یا اس نے اللہ کو سب وشتم کیا، تحقیق وہ کافر ہوگیا۔
ایک جدید مصنف عبداللہ مراغی نے لکھا ہے کہ ردّت اسلام سے رجوع کا نام ہے۔ اس کا رکن ایمان کے بعد زبان پر کلمۂ کفر جاری کرنا ہے۔ ”الردة الرجوع عن دين الاسلام وركنها اجراء كلمة الكفر والعياذ بالله على اللسان بعد الايمان.“
(التشريع الاسلامی، عبداللہ المراغی، ص ۳۸)
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے ارتداد کے موضوع پر ایک مختصر رسالہ ”الشھاب لرجم الخاطف المرتاب“ کے نام سے لکھا تھا۔ (جسے عالمی مجلس نے احتساب قادیانیت جلد چہارم ص ۱۹۱ تا ۲۴۲ پر شائع کیا ہے) اس میں ارتداد یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کی دو صورتیں لکھی ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی مسلمان صریحاً اسلام سے انکار کر بیٹھے اور دوسرے یہ کہ ایسا نہ ہو مگر بعض ضروریاتِ دینیہ اور قطعیاتِ شرعیہ سے انکار کرے۔ بہ الفاظِ دیگر کسی ایسے صاف قطعی اور بدیہی امر دین کا انکار کرے جو انکار رسالت کو مستلزم ہو۔ دونوں صورتوں میں ایسا شخص مرتد یعنی اسلام سے نکل کر کفر میں جانے والا کہلائے گا۔
مندرجہ بالا اقوال پر غور و فکر کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ایک عاقل و بالغ و مختار مسلمان کا اعتقاداً قولاً یا فعلاً اسلام سے روگردانی اختیار کرنا، ارتداد کہلائے گا۔
باب ۲...... شرائط ارتداد
ارتداد کے لیے بلوغ، عقل اور اختیار تینوں شرائط کا پایا جانا لازمی ہے۔ بخلاف اسلام کے۔ اسلام لانے کے لیے عقل اور اختیار لازم ہیں۔ بلوغ شرط نہیں۔ نابالغ کے اسلام کے بارے میں حضرت علیؓ اور ابن الزبیرؓ کا اسلام لانا نصاً ثابت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اور صاحبین نیز اسحاق، ابن ابی شیبہ اور ابو ایوب بچہ کے اسلام کی صحت کے قائل ہیں۔ (ھدایہ ج ۲ ص ۵۷۲ باب احکام المرتدین بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴ فصل احکام المرتدین) اس کے برخلاف امام شافعی اور امام زفر بچہ کے اسلام کی صحت کے قائل نہیں ہیں، جب تک کہ وہ بچہ بالغ نہ ہو جائے۔
(رحمۃ الامۃ ص ۲۶۹)
امام کاسانی نے لکھا ہے کہ مرتد ہونے کی صورت کے لیے چند شرطیں ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ عاقل ہو۔ چنانچہ دیوانے، ناسمجھ اور نابالغ کی ردت قابلِ لحاظ نہ ہوگی۔ جو شخص بعض حالتوں میں دیوانہ ہو جاتا ہو اور بعض حالات میں افاقہ پا جاتا ہو، اگر وہ افاقہ کی حالت میں ردّت کا ارتکاب کرے تو قابلِ اعتبار ہوگا، ورنہ نہیں۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
امام سرخسی نے اس مسئلہ پر اپنی شہرۂ آفاق کتاب المبسوط میں بڑی مدلل اور شان دار بحث کی ہے اور تمام آراء اور اقوال کا مناقشہ کیا ہے۔ امام سرخسی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متعدد احادیث سے استناد کرنے کے بعد آیت قرآنی ”و آتینا الحکم صبیاً“ (مریم ۱۲) پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب بچہ رسالت کا اہل ہے تو اسلام کا بھی ہوگا۔ (مبسوط ج ۸ ص ۱۲۹ باب المرتدین) سورۂ مریم میں ارشاد ہوتا ہے۔ قال انی عبداللہ آتانی الکتب وجعلنی نبیا.“ (مریم ۳۰) تحقیق میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے بخشی گئی تھی کتاب اور بنایا گیا نبی۔ یہ حضرت
عیسیٰ ؑ سے کہلوایا گیا جبکہ وہ ابھی بچہ تھے۔
راجح یہ ہے کہ بچہ کا اسلام معتبر ہوگا۔ خود حضور علیہ السلام نے کسی کا اسلام خواہ وہ چھوٹا یا بڑا۔ رد نہیں فرمایا۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچہ کا اسلام معتبر ہونے کے ساتھ اس کی ردّت کا کیا حکم ہوگا؟ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ و امام محمد اور امام ابو یوسف کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد نے فرمایا ہے کہ ردّت کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ہے بلکہ اگر نابالغ عاقل و سمجھ دار ہو تو اس کا ارتداد قابل لحاظ ہوگا اور امام ابو یوسف کے نزدیک بالغ ہونا شرط ہے لہٰذا نابالغ کا ارتداد خواہ وہ عاقل و سمجھ دار ہو، قابل لحاظ نہ ہوگا۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴) شافعیہ چونکہ بچہ کے اسلام ہی کے قائل نہیں ہیں لہٰذا ان کے نزدیک بچہ کا مرتد ہونا بھی قابل اعتبار نہ ہوگا۔ لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اور امام مالک کے ظاہر مذہب اور امام احمد بن حنبل کے مشہور مذہب کے بموجب ایک ایسے بچہ کا ارتداد جو سن تمیز کو پہنچ چکا ہو قابل اعتبار ہوگا۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۰، المبسوط ج ۱۰ ص ۱۴۵) امام احمد بن حنبل سے ایک روایت بچہ کے ارتداد کی عدم صحت کی بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس پر حکم شرعی کا مرتب ہونا اس کے بالغ ہونے تک موقوف رہے گا۔ بالغ ہونے پر اس کو تین روز کی مہلت دی جائے گی اگر وہ کفر پر اصرار کرے گا تو اس پر ارتداد کا حکم (یعنی قتل) جاری کر دیا جائے گا۔ ”ولا یقتل حتی یبلغ و یستتاب بعد بلوغہ ثلاثہ ایام فان ثبت علی کفرہ قتل“
(المغنی، ابن قدامہ ج ۸، ص ۵۵۱)
شافعیہ کے نزدیک ارتداد اس شخص کا معتبر ہوگا جو عاقل، بالغ اور صاحب اختیار ہو لہٰذا بچے، دیوانے، مجبور کا ارتداد قابل اعتبار نہ ہوگا۔ یعنی ان پر ارتداد کا حکم مرتب نہ ہوگا۔ (المغنی ج ۴ ص ۱۴۴، ۱۴۳، المہذب ج ۲ ص ۲۲۳، ۲۲۴)
علماء حنبلیہ کے نزدیک نادان بچے، دیوانے، پاگل یا جس کی عقل کسی دورے یا نبیذ (شراب) میں زائل ہو گئی ہو، اس کا ارتداد قابل اعتبار نہ ہوگا یعنی ان کی ردّت صحیح نہ ہوگی اور نہ ان کا اسلام قابل اعتبار ہوگا لیکن جو بچہ صاحب تمیز ہو اسلام کے معنی (توحید و رسالت) سمجھتا ہو، اس کا اسلام لانا اور مرتد ہو جانا دونوں قابل اعتبار ہوں گے۔
(الاقناع، ج ۴ ص ۲۰۹۔۲۱۰، المقنع، ج ۳ ص ۵۱۳۔۵۱۴)
شیعہ جعفریہ مذہب کی رو سے ارتداد کے معتبر ہونے میں عاقل بالغ اور صاحب اختیار ہونا شرط ہوگا۔
(شرائع الاسلام ج ۲ ص ۶۰، القسم الرابع ص ۲۵۹)
اکثر علماء زیدیہ بھی بچہ کے ارتداد کی عدم صحت کے قائل ہیں۔
(البحر الزخار ۶)
سطور ماقبل میں ہم نے صبی ممیز (ایسا بچہ جو سن تمیز کو پہنچ چکا ہو) کے اسلام کو صحیح قرار دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی تھی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی کا اسلام ردّ نہیں فرمایا، کا سبب یہ ہے کہ اسلام انسان کے لیے ایک خیر و برکت اور سعادت ہے۔ اس لیے اس کو اس سعادت سے محروم نہیں کیا جائے گا، اس کے برخلاف اس کا ارتداد اختیار کرنا اس کے حق میں ایک ”ضرر“ ہے اس لیے اس سے اس ضرر کو اس وقت تک دور رکھا جائے گا، جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔ بعدہ ارتداد پر قائم رہنے کی صورت میں اس ضرر کو اس کے ذمہ لازم کر دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ بچہ پر حد جاری نہیں ہوتی، وہ اکثر احکام شرع کا مکلّف نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اس پر حکم کا موقوف رکھنا ہی انسب ہے۔
- ۲....... بلوغ کے بعد ارتداد کی دوسری شرط عقل ہے۔ اصول فقہ کا یہ عام قاعدہ ہے کہ غیر عاقل احکام شرع کا مکلّف
نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک پاگل شخص کا نہ اسلام معتبر ہوگا اور نہ ارتداد۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴، الام، امام شافعی ج ۶ ص ۲۲۲ باب تفریع المرتد)
یہاں یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہے کہ اگر کوئی شخص نشہ آور (حرام) شے استعمال کر کے نشہ کی حالت میں مرتد ہو جائے تو کیا اس کا ارتداد شرعاً معتبر ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ نشہ کے سبب عقل کے معطل ہو جانے کی بنا پر اس کے قول کا اس وقت تک اعتبار نہ کیا جائے گا جب تک کہ اس کا نشہ زائل نہ ہو جائے، اس کے بعد یا تو وہ اسلام کی طرف لوٹے گا یا ردّت اختیار کرے گا اور اسی کے مطابق حکم مرتب ہوگا۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک بحالت نشہ ارتداد معتبر نہیں۔ چنانچہ امام سرخسی نے (المبسوط ج ۱۰ ص ۱۳۱ باب المرتدین) میں لکھا ہے کہ ”جب کوئی شخص مخمور (بحالت نشہ) مرتد ہو جائے تو قیاساً اس کی بیوی اس سے بائن (جدا) ہو جائے گی کیونکہ شخص مخمور اپنے اقوال و افعال کے معتبر ہونے میں ایک صحیح (غیر مخمور) شخص کی مانند ہے، یہاں تک اگر وہ شخص مخمور اپنی بیوی کو (بحالت نشہ) طلاق دے تو وہ اس سے جدا ہو جائے گی اور اگر خرید و فروخت کی یا کسی شے کا اقرار کیا تو وہ اس کی طرف سے صحیح قرار دیا جائے گا لیکن استحسان کا مقتضیٰ یہ ہے کہ عورت اس سے (بر بناء ردّت) جدا نہ ہو کیونکہ ارتداد کی بنیاد اعتقاد پر ہے۔ اور ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ شخص مخمور جو کہتا ہے اس پر اعتقاد نہیں رکھتا۔ اسی سبب سے اگر وہ حالت نشہ میں کلمۂ کفر بک جائے تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔“
امام کاسانی نے بھی لکھا ہے کہ جو شخص نشہ میں مدہوش ہو چکا ہو، اس کی ردّت قابل اعتبار نہ ہوگی۔ یہ حکم استحسان پر مبنی ہے۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
امام شافعی کا اگرچہ خود اپنا قول حالت نشہ میں ارتداد کے بارے میں عدم صحت کا ہے لیکن شافعی مذہب اس کی صحت کا قائل ہے۔
(المہذب ج ۲ ص ۱۴۲، ۱۴۸)
امام احمد بن حنبل کے اس سلسلے میں دو قول بیان کیے جاتے ہیں، اظہر قول صحت کے بارے میں ہے۔ (الانصاف، مرداوی، ج ۱۰ ص ۳۳۱) چنانچہ ابن قدامہ حنبلی نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو گیا درآں حالے کہ وہ نشہ میں تھا اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ افاقہ پا جائے اور ارتداد کے وقت سے تین یوم گزر جائیں پس اگر وہ حالت نشہ میں مر گیا تو وہ کافر مرا۔
(المغنی، ج ۸ ص ۵۶۳)
بالفاظ دیگر شخص مخمور کا ارتداد (اصلاً) صحیح ہوگا لیکن نشہ کی حالت میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ہوش میں آنے کے بعد تین یوم تک توبہ کا مطالبہ جاری رہے گا، اس کے ارتداد پر مصر اور قائم رہنے کی صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔
(الاقناع ج ۴ ص ۳۰۱،۹)
نتیجہ فکر عربی زبان میں نشہ کے لیے ”سکر“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ فقہی اصطلاح میں ”سکر“ سے نشہ کی وہ کیفیت مراد ہے جس میں نفع و نقصان کی تمیز نہ کی جاسکے۔ فقہاء حنفیہ نے سکران (مخمور) کی دو تعریفیں بیان کی ہیں، ایک یہ کہ سکران وہ شخص ہے جو زمین و آسمان اور مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کرسکتا۔ لا یعرف الرجل من المراء ۃ والسماء من الارض۔
(البحر الرائق ج ۳ ص ۲۴۷ کتاب الطلاق)
دوسری تعریف یہ ہے کہ ”نشہ ایک سرور کا نام ہے جو عقل پر غالب آ جائے اور وہ (شخص مخمور) اپنے کلام میں (مغلوب العقل ہونے کی بنا پر) ہذیان بکنے لگے۔
(رد المحتار ج ۲ ص ۴۵۹ کتاب الطلاق)
پہلی تعریف امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے اور دوسری تعریف صاحبین (امام ابو یوسف و محمد) کی طرف منسوب ہے۔ ائمہ ثلاثہ کے اقوال بھی صاحبین کی طرف منسوب تعریف کے مطابق ہیں۔ اور یہی تعریف متاخرین علماء نے بھی پسند کی ہے۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۳)
میری ناچیز رائے میں شخص مخمور کے ارتداد کے بارے میں احناف کی رائے استحساناً درست معلوم ہوتی
ہے کیونکہ ارتداد کا تعلق اعتقاد سے ہے۔ اور حالت نشہ میں اس شخص سے اعتقادی قصد ارادہ کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ارتداد کی تیسری شرط ”اختیار“ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شخص غیر مختار (مکرہ) کا ارتداد شرعاً صحیح سمجھا جائے گا یا نہیں؟ ائمہ اربعہ کا نقطہ نظر یہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص کفر پر مجبور کیا گیا اور اس سے کلمہ کفر سرزد ہو گیا تو وہ کافر نہ ہوگا۔ (مبسوط ج ۱۰ ص ۱۳۱ باب المرتدین، کتاب الام للشافعی ج ۶ ص ۲۲۶ المکرہ علی الردۃ) چنانچہ بدائع الصنائع میں اختیار و رضا مندی کو ارتداد کی شرط کے طور پر حالت اکراہ میں ارتداد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس شخص پر کلمہ کفر کے اجراء کے لیے جبر کیا گیا ہو وہ مرتد متصور نہ ہوگا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
زیدیہ بھی حالت اکراہ میں ارتداد کی عدم صحت کے قائل ہیں۔
(البحر الزخار ج ۵ ص ۴۴۴)
شیعہ جعفریہ کے نزدیک اگر کفر پر مجبور کیا گیا ہو تو یہ ارتداد قابل لحاظ نہ ہوگا۔ چنانچہ اگر مرتد نے کفر اختیار کرنے کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ اس کو مجبور کیا گیا تھا اور جبر کا قرینہ موجود ہوا تو اس کا یہ عذر قابل اعتبار ہوگا۔ (شرائع الاسلام ج ۲ ص ۲۶۰ و ۲۵۹) حالت اکراہ میں ارتداد کے صحیح ہونے کی بنیاد حسب ذیل آیت قرآنی پر قائم ہے۔ ”من کفر بالله من بعد ایمانه الا من اکرہ و قلبه مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالکفر صدراً فعلیهم غضب من الله ولهم عذاب عظیم.“ (النحل ۱۰۶) ”یعنی جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔“
اس آیت میں ان مسلمانوں کو جن پر کفار کے ہاتھوں ہر قسم کے ظلم توڑے جا رہے تھے اور ان مسلمانوں کو ناقابل برداشت اذیتیں دے دے کر کفر پر مجبور کیا جا رہا تھا بتایا گیا تھا کہ اگر تم کسی وقت ظلم سے مجبور ہو کر جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کر دو اور تمہارا دل ایمان پر مطمئن اور عقیدہ کفر سے محفوظ ہو تو قابل معافی ہے۔ اللہ تعالیٰ (آخرت میں) کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔
مندرجہ بالا آیت قرآنی کے علاوہ حسب ذیل حدیث اس مسئلہ میں نص ہے: ”صحابی رسول عمار بن یاسرؓ کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو سخت عذاب دے کر شہید کیا گیا اور پھر عمار بن یاسر کو نا قابل برداشت اذیت دی گئی، آخر کار انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے وہ کہہ دیا جو کفار ان سے کہلوانا چاہتے تھے۔ عمار بن یاسرؓ روتے ہوئے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”یارسول الله ما ترکت حتی سببت النبی ﷺ و ذکرت الهتهم بخیر“ یارسول اللہ! مجھے نہ چھوڑا گیا جب تک میں نے آپ ﷺ کو برا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ حضور نے پوچھا۔ ”کیف تجد قلبک“ یعنی تم اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو؟ عمار بن یاسر نے عرض کیا۔ ”مطمئن بالایمان“ ایمان پر پوری طرح مطمئن۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ ”ان عادوا فعد“ اگر وہ پھر اس طرح کا ظلم کریں تو تم پھر یہی باتیں کہہ دینا۔“
(المستدرک حاکم ج ۳ ص ۱۰۲ باب حکایۃ عمار بن یاسر بید الکفار۔ کتاب التفسیر حدیث ۳۳۱۳)
دوسری حدیث، جو حکم میں عام ہے، یہ ہے ”عن ابن عباس قال قال رسول الله ان الله جاوز عن امتی الخطاء و النسیان و ما استکرہوا علیہ“ یعنی حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”میری امت کو خطا، بھول اور جس فعل کے کرنے پر مجبور کیا گیا اس سے بری الذمہ کر دیا گیا۔
(کنزالعمال ج ۱۲ ص ۱۵۵ حدیث ۳۴۴۵۸)
از روئے قیاس بھی ارتداد اختیار کو چاہتا ہے اس لیے شخص غیر مختار کا ارتداد شرعاً قابل اعتبار نہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر قسم کے جبر یا اکراہ پر یہ استثنائی حکم صادق نہ آئے بلکہ اکراہ کی ان شرائط کا لحاظ ضروری ہوگا جو شرعاً معتبر ہیں، جن کا مختصراً ذکر سطور ذیل میں کیا گیا ہے۔
اکراہ کی تعریف اکراہ یا جبر کسی شخص کا وہ قول یا فعل ہے جو دوسرے شخص کو اس کی خواہش کے خلاف اس فعل کے کرنے (یا قول کے کہنے پر) مجبور کرے۔ (جس کا جبر کرنے والا خواہشمند ہو) (ہدایہ ج ۳ ص ۳۴۶ کتاب الاکراہ)
اکراہ کی قسمیں امام کاسانی نے اپنی مشہور کتاب بدائع الصنائع میں اکراہ اور اس کی اقسام اور شرائط پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ اکراہ کی دو قسمیں ہیں۔ ۱....... اکراہ تام ۲....... اکراہ ناقص
اکراہ تام اکراہ تام وہ ہے کہ جس میں انسان مضطر اور مجبور ہو جاتا ہے اور نتیجتاً اس کی رضا معدوم اور اختیار سلب ہو جاتا ہے۔ مثلاً قتل یا جسم کے کسی عضو کے قطع کرنے کی دھمکی یا ایسی مار کی دھمکی جس سے جان جانے کا خطرہ ہو۔ اکراہ تام کو اکراہ ملجی بھی کہا گیا ہے جس کے معنی ہیں ایسا اکراہ جو اس فعل کے کرنے پر مجبور کر دے۔
اکراہ ناقص اکراہ ناقص وہ ہے جس میں صرف رضا معدوم ہو جاتی ہے اور اختیار فاسد ہو جاتا ہے نہ کہ معدوم مثلاً ایسی دھمکی دی گئی ہو جس سے جان جانے یا جسم کے کسی عضو کے ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو مثلاً قید وغیرہ اس اکراہ کو فقہاء نے ’’اکراہ غیر ملجی‘‘ (کما فی البحر) بھی کہا ہے جس کے معنی ہیں ایسا جبر و اکراہ جو اس فعل کے کرنے پر مضطر و مجبور نہ کرے۔
شرائط اکراہ امام کاسانی نے اکراہ کی دو شرطیں بیان کی ہیں۔
- ۱....... پہلی شرط کا تعلق مکرہ یعنی جبر کرنے والے شخص سے ہے۔ اور
- ۲....... دوسری شرط کا تعلق مکرہ یعنی اس شخص سے ہے جس کو مجبور کیا گیا ہو۔
چنانچہ مجبور کرنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فعل کے کرنے پر قادر ہو جس کی دھمکی دی گئی ہے، اور جس شخص کو مجبور کیا جا رہا ہو اس کو اس امر کا یقین (ظن غالب) ہو کہ دھمکی دینے والا وہ فعل جس کی دھمکی دی گئی ہے کر گزرے گا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۷۵ کتاب الاکراہ)
نتیجہ فکر چنانچہ اگر کوئی شخص اکراہ تام کی صورت میں کلمۂ کفر زبان سے نکالے مگر دل ایمان پر قائم اور مطمئن ہو تو ایسی صورت میں وہ شخص شرعاً مواخذہ دار نہ ہوگا۔ لیکن اکراہ ناقص یا غیر ملجی کی صورت میں یہ حکم نہ ہوگا۔
باب ۳...... موجبات ارتداد
سابقہ ابواب میں ارتداد کے معنی و مفہوم اور اس کی شرائط سے بحث کی گئی ہے۔ اس باب میں ان امور سے بحث کی جائے گی جو ارتداد کا موجب ہیں۔ یہ امور چار ہیں:
- ۱....... ارتداد اعتقادی (اعتقاد میں ارتداد)
- ۲....... ارتداد قولی (قول میں ارتداد)
- ۳....... ارتداد فعلی (فعل میں ارتداد)
- ۴....... ارتداد ترک فعل (ترک فعل میں ارتداد)
ارتداد اعتقادی (اعتقاد میں ارتداد) ایسے امور جن کا اعتقاد رکھنے سے ارتداد لازم آتا ہے، متعدد ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اعتقاد سے متعلق ہے۔ فقہاء اسلام کا اس امر میں بالکلیہ اتفاق ہے کہ جس شخص نے کسی کو اللہ کا شریک کیا، یا اللہ کے وجود کا انکار کیا یا اس کی کسی صفت ثابتہ (ثابت شدہ) کی نفی کی یا اللہ کے واسطے کسی ایسی شے کو ثابت کیا۔ جس کا خدا نے انکار کیا ہے مثلاً اللہ کا بیٹا ہونا یا اس کے برعکس یا مثلاً مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار، جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا انکار، رسولوں اور ملائکہ کا انکار، تو ایسا شخص کافر ہے۔ یا جس کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کی تنقیص و تذلیل کی، خواہ انکاراً یا مذاقاً، وہ شخص بھی کافر ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اعتقاد کے مسئلہ کے ضمن میں حنابلہ نے ”وساطت“ کے مسئلہ کو بھی لے لیا ہے چنانچہ ان کے نزدیک کسی کا بندے اور خدا کے درمیان ایسے واسطہ کا عقیدہ رکھنا کہ اسی واسطہ پر توکل کیا جائے اسی سے دعا کی جائے اور اسی سے مانگا جائے۔ اجماعاً کفر ہوگا۔ ”او جعل بینہ و بین اللہ وسائط یتوکل علیہم یدعوہم و یسالہم اجماعاً“
(الانصاف مرداوی ج ۱۰ ص ۳۲۷، اختیارات العلمیہ، ابن تیمیہ ص ۴۰۴، الاقناع، مقدسی ج ۴ ص ۲۹۷)
اعتقاد کے سلسلہ کا دوسرا اہم امر قرآن پاک کے بارے میں عقیدہ سے متعلق ہے۔ چنانچہ یہ بات عام ہے کہ جو شخص قرآن پاک (کل یا اس کے کسی جزو) کا انکار کرے، کافر ہے۔ بعض کے نزدیک مجرد ایک کلمہ کا انکار کفر ہے اور بعض ایک حرف کے انکار پر کفر کے قائل ہیں۔ (المحلی ج ۱ ص ۹۶ مسئلہ نمبر ۴۱) جس طرح کہ قرآن کے بارے میں تناقض و اختلاف، اس کے اعجاز میں شک اور اس کے مثل یا اس کے احترام کے ساقط ہونے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ (الاقناع مقدسی ج ۴ ص ۲۹۷) تحریف قرآن کا قائل ہونا بھی کفر و ارتداد ہے۔ البتہ قرآن کی کسی تفسیر و تاویل کا انکار کرنا یا اس تفسیر و تاویل کا رد کرنا کفر نہ ہوگا۔ بشرطیکہ وہ تفسیر و تاویل ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ کیونکہ تفسیر و تاویل ایک امر اجتہادی اور فعل بشری ہے جس میں غلطی کا امکان ہے۔ البتہ قرآن مجید کی نص صریح سے جس شے کی حلت یا حرمت ثابت ہو رہی ہو۔ اس کے متعلق خلاف مدلول نص کا قائل ہونا بھی کفر و ارتداد ہے مثلاً نماز کی فرضیت کا انکار کفر ہے۔
امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ جو شخص اسلام میں باطن و ظاہر کا قائل ہو اور اس نے یہ عقیدہ رکھا ہو کہ اس باطن کو ہر کس و ناکس نہیں پا سکتا۔ ایسا شخص کافر اور قابل قتل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”انما علی رسولنا البلاغ المبین“ (مائدہ ۹۲) اور ”لتبین للناس ما نزل الیہم“ (النحل ۴۴) ”یعنی ہمارے رسولوں کا ذمہ ہے، واضح طور پر پہنچا دینا“ اور ”تاکہ واضح کر دیں آپ لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے، ان کی طرف“ پس جو شخص اس کا مخالف ہے اس نے قرآن کی تکذیب کی۔
(المحلی ج ۷ ص ۲۳۲ مسئلہ نمبر ۹۳۴ کتاب الجہاد)
قرآن کے ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی مربوط ہے کہ جو شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے دین کے بعض احکام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جھوٹ بولا، ایسا شخص کافر و مرتد ہے ایسا شخص بھی کافر ہوگا جو ایک ایسی شے کو حلال سمجھتا ہو جس کو حدیث متواتر کے ذریعہ اجماعاً حرام قرار دیا جا چکا ہو۔
(المغنی لابن قدامہ ج ۸ ص ۵۳۸)
یہاں ایک نکتہ کی وضاحت از بس ضروری ہے وہ یہ کہ بعض احکام ایسے ہیں جو شارع علیہ السلام کی
جانب سے بذریعہ حدیث متواتر منقول ہیں اور ان پر اجماع ہے۔ یہ احکام ضروریات (بدیہیات) دین کی تعریف میں آتے ہیں، مثلاً نماز اور زکوٰۃ کا وجوب، زنا اور شراب (خمر) اور خنزیر کا حرام ہونا، ان کا حرام ماننا اسلام ہے اور ان احکام یا ان میں سے کسی حکم کا جو حدیث متواتر سے اجماعاً ثابت ہیں انکار کرنا کفر ہوگا لیکن اگر کوئی حکم یا اس کی فرع حدیث متواتر سے اجماعاً ثابت نہ ہو بلکہ اس پر صرف اجماع ہو تو اس کا انکار کرنے والا کافر نہ ہوگا کیونکہ اس کا انکار حدیث متواتر کا انکار نہ ہوگا بلکہ ایک جزوی مجمع علیہ مسئلہ کا انکار ہوگا اور محض ایک مجمع علیہ مسئلہ کا انکار کفر نہیں ہے۔
قول میں ارتداد امام کاسانی نے لکھا ہے کہ کلمہ کفر کا زبان پر جاری کرنا ارتداد کا رکن ہوگا۔
(بدائع الصنائع ج۷ ص ۱۳۴)
چنانچہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں سے کسی کو برا بھلا کہے، اس کے بارے میں فقہاء کبار کا اتفاق ہے کہ وہ کفر کا مرتکب ہوا۔ خواہ اس نے مزاح یا استہزا کے طور پر ایسا کیا ہو۔ (المحلی ج ۱۳ ص ۲۳۶ مسائل التعزیر ۲۳۱۱) اس کی دلیل قرآن پاک میں سورۃ التوبہ کی یہ آیات ہے:
”ولئن سألتهم ليقولن انما كنا نخوض و نلعب قل ابالله و آياته ورسوله كنتم تستهزون لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم.“ (توبہ ۶۵، ۶۶) ”اور اگر ان سے پوچھئے تو کہہ دیں گے ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ٹھٹھا کرتے تھے تم اب یہ (بیہودہ) عذر مت کرو تم اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے۔“
بعض فقہاء نے کہا ہے کہ اللہ کو برا بھلا کہنے والا قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ نیز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو برا کہنے والے کے بارے میں فقہاء کا اتفاق ہے کہ ایسا شخص واجب القتل ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول“ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ اس پر بحث کی ہے واقعہ منقول ہے کہ ایک نصرانی نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ ابن تیمیہ اپنی تلوار لے کر اس کے پیچھے دوڑے تا آں کہ اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس موضوع پر مشہور شافعی فقیہ تقی الدین السبکی نے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور اس کا نام ”السیف المسلول علی من سب الرسول“ ہے اور رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے والے کے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ امام ابن حزم بھی ایسے شخص کو مرتد قرار دیتے ہیں اور اس پر مرتد کا حکم مرتب کرتے ہیں۔
(الصارم المسلول ص ۵۴۶ فصل فیمن سب اللہ تعالیٰ ص ۷)
البتہ علماء نے اس مسئلہ میں یہ بیان کیا ہے کہ حاکم کو چاہیے کہ وہ سب وشتم کے کلمات کہنے والے کے حالات پر غائر نظر سے غور کرے اور صورت حال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔ ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کلمات کس درجہ کے ہیں۔ نیز یہ کہ کہنے والا دینی حالت میں کس درجہ متہم ہے نیز یہ کہ وہ سنت کا کس درجہ میں تارک ہے یا الحاد کی دعوت دینے میں اس کا کیا رویہ ہے نیز یہ کہ کیا اس سے بھول یا زبان کی لغزش سرزد ہوئی ہے؟
واضح ہے کہ رسول اکرم کو سب وشتم کرنے والے کا قتل کفراً نہیں ہے بلکہ حداً و تعزیراً ہے۔ (رد المحتار)
انبیاء علیہم السلام کو برا بھلا کہنا علماء اسلام کے درمیان اس مسئلہ میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جن انبیاء کرام کی نبوت قطعی اور یقینی ہے ان کو برا بھلا کہنے والا کافر ہے۔ گویا کہ اس نے ہمارے نبی ﷺ کو برا بھلا کہا البتہ جن انبیاء کی نبوت کا ثبوت ہم پر قطعی دلائل سے نہیں ہوا ان کے حق میں برا بھلا کہنے والے کو زجر وتوبیخ کی جائے گی اور سزا
دی جائے گی۔
(الصارم ص ۶۹ الحکم من سب نبیا)
امہات المومنین، خلفاء اربعہ اور صحابہ کو برا کہنا
کبار فقہاء کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جس نے برا بھلا کہا یا آپ کی ذات پر طعن کیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ اس کی دلیل خود قرآن پاک کی وہ آیتیں ہیں جو آپ کی برأت کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں۔ پس جس کسی نے حادثہ افک کے بارے میں اس کے بعد طعن کیا، اس نے قرآن کو جھٹلایا۔ اور قرآن کو جھٹلانے والا کافر ہے۔ امام ابن تیمیہ نے ان تمام حوادث کو اپنی کتاب الصارم المسلول میں بیان کیا ہے۔ جن کے بارے میں طعن کرنے والا سزاوار قتل ہوتا ہے۔
(الصارم ص ۲۰۴ فصل فیمن سب ازواج النبی ﷺ المحلی ج ۱۳ ص ۲۳۸ مسائل التعزیر)
البتہ جہاں تک دوسری زوجات نبی ﷺ کا تعلق ہے اس کے بارے میں دو رائے ہیں ایک رائے یہ ہے کہ دوسری زوجات کے خلاف طعن کرنے والے کو حضرت عائشہ صدیقہؓ پر طعن کرنے والے کی مثل کافر قرار دیا جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ دیگر زوجات کو صحابہ کرام کی مثل قرار دے کر ان پر طعن کرے۔ تو کوڑوں کی سزا دی جائے گی اکثریت اسی رائے کے ساتھ معلوم ہوتی ہے۔ (المحلی ج ۱۳ ص ۲۳۸ مسائل التعزیر) علامہ سبکی نے اپنے فتاویٰ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کی زبان کاٹ دی تھی کیونکہ اس نے ایک صحابی کو برا بھلا کہا تھا۔ وعن عمر بن الخطاب انہ قطع لسان عبید اللہ بن عمر اذ شتم المقداد ابن الاسود فکلم فی ذلک فقال: دعونی اقطع لسانہ حتی لا یشتم بعد اصحاب محمد ﷺ.
(فتاویٰ السبکی الشافعی، ج ۲ ص ۵۸۱)
راقم الحروف کے نزدیک حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حادثہ افک کے بارے میں طعن کرنے والا قتل کا مستحق ہے اس لیے کہ وہ طعن کر کے اس "حق" کا انکار کرتا ہے جو خدائے تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کی برأت میں ظاہر کیا ہے لیکن علاوہ اس کے کسی دوسرے امر میں طعن کرنا "انکار قرآن" یا "کفر" کے مترادف نہ ہوگا۔ اسی طرح دوسری زوجات مطہراتؓ کا معاملہ ہے۔
کفر اور قتل علامہ شیخ شلتوت نے لکھا ہے کہ حدود روایات آحاد سے ثابت نہیں ہوتیں اور کفر بنفسہ کسی کے خون کو حلال کرنے والا نہیں ہوتا۔ جو چیز خون کو حلال کرنے والی ہے وہ مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہونا اور ان کے دین (اسلام) میں فتنہ انگیزی کرنا ہے۔ (الاسلام عقیدۃ و شریعۃ، محمود شلتوت، ص ۲۵۱) ابن دقیق العید نے تارک الصلوٰۃ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اس وقت تک قتل نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ (اپنے ترک پر) مسلمانوں سے مقاتلہ و مجادلہ نہ کرے۔ (احکام الاحکام، شرح عمدۃ الاحکام، ج ۴ ص ۳۰۴) بالفاظ دیگر محض ترک صلوٰۃ موجب قتل نہیں ہے بلکہ اس ترک پر اصرار کے ساتھ مسلمانوں سے مبارزت طلبی اور ان کے ساتھ مقاتلہ موجب قتل ہوگا۔
اعتقادی اور قولی ارتداد کا فرق
اعتقاد کا ارتداد جب اس شخص کی زبان کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ ارتداد قولی ہو جاتا ہے۔ اگر وہ شخص اس کو چھپائے تو وہ منافق ہوگا۔ لیکن اس سے دنیا میں مواخذہ نہ کیا جائے گا حتی کہ اس کا ارتداد ظاہر اور ثابت و قائم نہ ہو جائے۔
ارتداد فعلی بعض افعال ایسے ہیں جن کے کرنے سے بعض فقہاء کے نزدیک کفر لازم آتا ہے مثلاً قرآن پاک یا
اس کے کسی جز کو نجس جگہ میں رکھنا یا اس پر نجاست لگانا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جس کی توقیر ہر مسلمان کے ذمے واجب ہے، کسی ایسے شخص سے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور مسلمان ہو، قرآن پاک کی اہانت وتذلیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو درحقیقت وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
فقہاء کی ایک غالب اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ جس شخص نے کسی بت سورج یا چاند کو سجدہ کیا وہ کافر ہو گیا کیونکہ سجدہ کرنا اللہ کے واسطے خاص ہے پس جس شخص نے غیر اللہ کو سجدہ کیا۔ گویا اس نے اس غیر اللہ کی تعظیم کی جو اس کے اسلام سے خارج ہونے کی دلیل ہے۔ گویا وہ عملاً توحید کا منکر اور مشرک ہو گیا۔
ارتداد ترک فعل سے بعض افعال ایسے ہیں جن کے ترک سے ارتداد لازم آتا ہے۔ اس ضمن میں ایسے فرائض و واجبات آتے ہیں جس کا عمداً تارک، مرتد کے درجہ میں شمار ہوتا ہے البتہ اس میں بنیادی اور فیصلہ کن بات یہ ہوگی کہ اس کا ترک کسی سستی و کاہلی یا غفلت کے سبب ہے یا فرضیت و وجوب سے انکار کے طور پر۔ چنانچہ جو مسلمان نماز و زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر ہو وہ کافر ہے۔ لیکن اگر کوئی محض سستی، کاہلی، غفلت یا حرص کے سبب زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو یا نماز نہ پڑھتا ہو، گو اس کے وجوب کا قائل ہو، وہ شخص کافر نہ ہوگا۔ یہ خلاصہ ہے ان تمام مباحث کا جو مختلف کتب فقہ میں مذکور ہیں۔
(عمدۃ القاری ج ۲۳ ص ۸۱ نیل الاوطار ج ۱ ص ۱۸، ۳۱۵)
خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات، اشرف المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اور ضروریات دین میں سے کسی امر دین کا انکار، جو انکار رسالت کو مستلزم ہو، ارتداد کا موجب اور سبب ہے۔ چنانچہ جو شخص رسول ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو کسی طرح کا بھی نبی مانتا ہو، وہ بھی رسالت محمدی کے انکار ہی کو مستلزم ہوتا ہے اور ایسا شخص کافر و مرتد قرار پائے گا کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین میں داخل ہے۔ (اس موضوع پر امام العصر مولانا السید انور شاہ کشمیریؒ کی تالیف ”اکفار الملحدین“ شائع کردہ مکتبہ لدھیانوی کراچی، ایک بے نظیر کتاب ہے۔ تفصیلی مطالعہ کے لیے اس کتاب کی طرف رجوع کیا جائے)
ارتداد کا ثبوت حنفیہ کے نزدیک ارتداد کے لیے دو عادل مرد شاہدوں کی گواہی ضروری ہے چنانچہ اگر کسی کے کفر پر دو عادل شاہد گواہی دیں تو امام (حاکم وقت) پر لازم ہوگا کہ ان سے وجہ کفر کی مکمل وضاحت طلب کرے۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۵)
شافعیہ کے نزدیک رِدّت کا ثبوت ایک روایت کے بموجب مطلق شہادت سے ہو جائے گا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ شاہدوں پر وضاحت کرنا لازم ہے۔ امام (حاکم وقت) ان سے وضاحت کا مطالبہ کرے گا۔ پہلے قول کے مطابق اگر شاہدوں نے صرف اتنا کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا یا اس نے کفر اختیار کر لیا اور مدعا علیہ نے اس کا انکار کیا تو شہادت کی بنیاد پر ارتداد کا حکم دیا جائے گا۔ انکار قابل لحاظ نہ ہوگا۔ الا یہ کہ اگر اس کے انکار کے حق میں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو اس کے انکار کی صداقت پر دلیل ہو سکے تو حلف کے بعد اس کا انکاری قول معتبر ہوگا۔ (المغنی المحتاج، ج ۴ ص ۱۳۴-۱۳۳۔ المہذب ج ۲ ص ۲۲۳-۲۲۲) راقم الحروف کے نزدیک شافعیہ مذہب میں دوسری روایت پر عمل کرنا مناسب ہوگا۔ جیسا کہ حنفیہ مذہب میں بھی ہے۔
باب ۴....... ارتداد کے اثرات و نتائج
(الف) مرتد کی ذات سے متعلق احکام
مرتد کی سزا مرتد کی ذات سے متعلق احکام میں سب سے پہلا مسئلہ اس کی سزا کا ہے۔ ارتداد اور اس کی سزا کے بارے میں قاضی عبدالقادر عودہ نے اپنی کتاب ”التشریع الجنائی“ ج ۱ ص ۶۱۔۶۲ میں لکھا ہے کہ:
”ردّت کی دو سزائیں ہیں: (۱)........ سزائے اصلی جو قتل ہے، (۲)........ سزائے تبعی جو جرمانہ یا تاوان ہے۔“
قتل شریعت اسلام میں ارتداد کے جرم میں جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ قتل ہے جس کی اصل یہ آیت ہے ”وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ، هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ.“ (بقرہ ۲۱۷) ”یعنی جو شخص تم (مسلمانوں) میں سے اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ اور یہی لوگ دوزخی ہوں گے جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔“
مرتد کے قتل کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ”من بدل دینه فاقتلوه“
(بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حکم المرتد والمرتدہ)
یعنی جس نے اپنا دین تبدیل کیا، پس تم اس کو قتل کر دو۔ مرتد کے قتل کر دینے پر صریح نص ہے۔
شریعت اسلام کا ردّت کے جرم کے بعد اس کی سزا قتل مقرر کرنا اس بنا پر ہے کہ یہ جرم دین اسلامی کی ضد ہے اور اسی دین اسلام پر جماعت کا اجتماعی نظام قائم رہ سکتا ہے۔ لہٰذا اس جرم کی سزا میں تساہل اختیار کرنا اس نظام اجتماعی کے درہم برہم کرنے کا سبب ہوگا۔ اسی وجہ سے اس جرم پر سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے تا کہ معاشرہ سے مجرم کا استیصال ہو جائے اور نظام اجتماعی کی نگہداشت ایک طرح سے قائم رہے اور دوسری طرح اس جرم کے لیے مانع موجود ہو۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ قتل کی سزا سے زیادہ مہتم بالشان لوگوں کو ان کے جرم سے روکنے کے لیے کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔ اور جب کبھی ایسے عوامل پیدا ہوں گے جو جرم کے دفعیہ کا باعث بنیں تو قتل کی سزا نفس انسانی میں غالباً ایسے عوامل کو پیدا کرنے والی ہوگی جو جرم کے ارتکاب سے روکنے والے ہوں اور اکثر حکومتیں، عصر حاضر میں، ایسے اجتماعی نظام کو سخت ترین سزاؤں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
جرمانہ یا تاوان جرمانہ یا تاوان کی سزا تبعی ہے جو قتل کے ذیل میں ہے جس کا تعلق مرتد کے مال سے ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام مالکؒ اور شافعیؒ نیز امام احمد بن حنبلؒ کے مذہب کے مطابق یہ تاوان اس کے تمام مال پر عائد ہوگا اور امام ابوحنیفہؒ کا مذہب جس کو بعض حنبلیؒ فقہاء نے بھی اختیار کیا ہے، یہ ہے کہ مرتد کا وہ مال جو اس نے ارتداد کے بعد کمایا اس پر یہ تاوان عائد کیا جائے گا، لیکن اس کا وہ مال جو اس نے ردّت سے پہلے حاصل کیا وہ اس کے مسلمان ورثا کا حق ہوگا، امام احمد ابن حنبلؒ کا ایک قول یہ بھی ملتا ہے کہ اگر وہ مال ردّت کے بعد کا حاصل کردہ ہو اور مرتد کا کوئی وارث موجود ہو تو وہ مال مرتد کے وارث کا ہوگا لیکن یہ روایت غیر مشہور ہے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز عامر نے اپنی مشہور کتاب ”التعزیر فی الشریعۃ الاسلامیۃ“ ص ۱۶۔۱۹ طبع مصر ۱۹۵۸ء میں
لکھا ہے کہ مرتد کے لیے قتل کی سزا بہت سے صحابہ سے مروی ہے جن میں حضرات ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاذ بن جبل اور ابن عباس (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) شامل ہیں۔ اور ان میں سے کسی نے بھی مرتد کی اس سزا کا انکار نہیں کیا، اس لیے اس پر اجماع ہو گیا۔
چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ارتداد کا جرم ہونا قرآن پاک اور سنت سے نصاً ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے اور مرتد کی سزا (قتل) سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
مرتد کی سزا اور قرآن کریم ادارہ طلوع اسلام لاہور سے بھی ایک کتاب ”قتل مرتد“ کے بارے میں شائع ہوئی ہے جس میں اس نقطہ نظر کی تبلیغ کی گئی ہے کہ اسلام میں ارتداد سرے سے کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ لہٰذا سزا کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟ (ص ۴۷) کتاب کے مصنف کے نزدیک ”لا اکراہ فی الدین“ (بقرہ ۲۵۶) اور ”فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر“ (الکہف ۲۹) کا مفہوم یہ ہے کہ یہ انسان کے ارادہ و اختیار کا مسئلہ ہے، دین کے معاملہ میں جو راہ چاہے اختیار کرے بلکہ ان کے نزدیک ”ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا، ثم ازدادوا کفراً“ (النساء ۱۳۷) کی رو سے تو اسلام اور کفر کے دروازے آمد و رفت کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ (ص ۳۳) جس کا جی چاہے اور جتنی بار چاہے آئے جائے، کوئی روک ٹوک نہیں۔ صبح کافر شام مسلمان، صبح کو پھر کافر شام کو پھر مسلمان اور پھر صبح کو کافر ہو جائے تو انھیں اس میں بھی کوئی قباحت نظر نہیں آتی، گویا دین نہ ہوا، بازیچۂ اطفال ہو گیا۔ چنانچہ کتاب کے مصنف لکھتے ہیں:
”مرتد کے معاملے میں قرآن نے واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ اسلام کے بعد کفر اختیار کر لینا کوئی جرم نہیں، ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ مسلمان رہے یا اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرلے۔ اس لیے جب یہ چیز جرم ہی نہیں تو اس کی سزا کیسی؟ بناء بریں بات یوں ٹھہری کہ قرآن نہ تو ارتداد کو جرم قرار دیتا ہے اور (اس لیے) نہ اس کی سزا تجویز کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ کہتا ہے کہ: جس کا جی چاہے اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرلے۔“ (ص ۳۷۔۳۸)
مصنف کتاب کے مندرجہ بالا مزعومات کے خلاف صرف یہی قرآنی واقعہ نقل کرنے کے لیے کافی ہے کہ ”حضرت موسیٰ ؑ کی برکت سے بنی اسرائیل کو جب خدا نے فرعون کی غلامی سے نجات دی اور فرعونیوں کی دولت کا مالک بنا دیا تو حضرت موسیٰ ؑ ایک ٹھہرے ہوئے وعدہ کے موافق حضرت ہارون ؑ کو اپنا خلیفہ بنا کر کوہِ طور تشریف لے گئے جہاں آپ نے چالیس راتیں خدا کی عبادت اور لذتِ مناجات میں گزاریں اور توراۃ شریف آپ کو عطا کی گئی۔
ادھر تو یہ ہو رہا تھا اور ادھر سامری کی فتنہ پردازی نے بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت کو آپ کے پیچھے راہِ حق سے ہٹا دیا۔ ”واضلہم السامری“ (طٰہٰ ۸۵) یعنی سونے چاندی کا ایک بچھڑا بنا کر کھڑا کر دیا جس میں سے کچھ بے معنی آواز بھی آتی تھی۔ بنی اسرائیل جو کئی صدی تک مصری بت پرستوں کی صحبت بلکہ غلامی میں رہے تھے اور جنھوں نے عبورِ بحر کے بعد بھی ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ بیہودہ درخواست کی تھی کہ:
”اجعل لنا الہا کما لہم اٰلہۃ.“ (الاعراف ۱۳۸) ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود بنا دیجئے جیسے ان کے معبود ہیں۔ وہ سامری کے اس بچھڑے پر مفتون ہو گئے اور یہاں تک کہہ گزرے کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے جس کی تلاش میں موسیٰ بھول کر ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔
حضرت ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کی جانشینی کا حق ادا کیا اور اس کفر و ارتداد سے باز آجانے کی ہدایت کی: ”یاقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمٰن فاتبعونی واطیعوا امری۔“ (طٰہ ۹۰) اے لوگو! تم اس بچھڑے کے سبب فتنہ میں ڈال دیے گئے ہو حالانکہ تمہارا پروردگار (تنہا) رحمٰن ہے، تو تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔“
لیکن وہ اپنی اسی سخت مرتدانہ حرکت پر جمے رہے۔ بجائے توبہ کے یہ کہا کہ: ”لن نبرح علیہ عاکفین حتی یرجع الینا موسیٰ۔“ (طٰہ ۹۱) ”ہم برابر اپنے اس فعل پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ خود موسیٰ علیہ السلام ہماری طرف واپس آئیں۔“
ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پروردگار نے اطلاع دی کہ تیری قوم تیرے پیچھے فتنہ (ارتداد) میں پڑ گئی۔ وہ غصہ اور غم میں بھرے ہوئے آئے اپنی قوم کو سخت سست کہا۔ حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی باز پرس کی سامری کو بڑے زور سے ڈانٹا اور ان کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر راکھ کر دیا اور دریا میں پھینک دیا۔
یہ سب ہوا لیکن ان مرتدین کی نسبت خدا کا کیا فیصلہ رہا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے گوسالہ پرستی اختیار کر لی تھی تو دنیا میں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ یہ تھا: ”ان الذین اتخذوا العجل سینالہم غضب من ربہم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا و کذلک نجزی المفترین۔“ (الاعراف ۱۵۲) ”جنھوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ضرور ان کو دنیا میں ذلت اور خدا کا غضب پہنچ کر رہے گا اور مفتریین کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔“
اور اس غضب و ذلت کے اظہار کی صورت عباد عجل کے حق میں یہ تجویز ہوئی ”انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم۔“ (البقرہ ۵۴) ”اے قوم بنی اسرائیل تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اب خدا کی طرف رجوع کرو۔ پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو“ اور ”فاقتلوا انفسکم“ میں ”انفسکم“ کے معنی وہ ہی ہیں جو ”ثم انتم ہولاء تقتلون انفسکم“ (البقرہ ۸۵) میں ہیں اور قتل کو اپنے حقیقی اور اصلی معنی سے (جو ہر طرح کے قتل کو خواہ لوہے سے ہو یا پتھر سے شامل ہے) پھیرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں بلکہ غضب اور ذلت فی الحیوۃ الدنیا کا لفظ اس کے لیے نہایت ہی مناسب ہے اور یہی غضب کا لفظ دوسری جگہ عام مرتدین کے حق میں بھی آیا ہے، جیسا کہ فرماتے ہیں ”من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالکفر صدراً فعلیہم غضب من اللہ ولہم عذاب عظیم۔“ (سورۃ نحل ۱۰۶) اس حکم کا نتیجہ جیسا کہ روایات میں ہے یہ ہوا کہ کئی ہزار آدمی جرم ارتداد میں خدا کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قتل کیے گئے اور صورت یہ ہوئی کہ قوم میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کو نہیں پوجا تھا ان میں سے ہر ایک نے اپنے اس عزیز و قریب کو جس نے گوسالہ پرستی کی تھی اپنے ہاتھ سے قتل کیا، اور جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے قاتلین کا اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا یہ اس کی سزا تھی کہ انھوں نے اپنے آدمیوں کو ارتداد سے روکنے میں کیوں تساہل کیا۔
الحاصل واقعہ عجل سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ مرتدین کی ایک جماعت کو جس کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں تھی حق تعالیٰ نے محض ارتداد کے جرم میں نہایت اہانت اور ذلت کے ساتھ قتل کرایا اور ارتداد بھی اس درجہ کا قرار دیا گیا کہ توبہ بھی ان کو خدائی سزا سے محفوظ نہ رکھ سکی۔ بلکہ توبہ کی مقبولیت بھی اسی صابرانہ مقتولیت پر مرتب ہوئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ موسوی شریعت کا ہے۔ امت محمدیہ کے حق میں اس سے تمسک نہیں کیا جا
سکتا۔ لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ پہلی امتوں کو جن شرائع اور احکام کی ہدایت کی گئی ہے اور قرآن نے ان کو نقل کیا ہے وہ ہمارے حق میں بھی معتبر ہیں اور ان کی اقتدا کرنے کا امر ہم کو بھی ہے جب تک کہ خاص طور پر ہمارے پیغمبر یا ہماری کتاب اس حکم سے ہم کو علیحدہ نہ کردیں۔
چند انبیاء مرسلین کے تذکرہ کے بعد جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہوا ہے کہ: ”اولئک الذین هدی الله فبهداهم اقتده.“ (الانعام ۹۰) یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت کی تو آپ بھی ان کی ہدایت پر چلیے ۔
(الشہاب الرجم الخاطف المرتاب ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، دیو بند ص ۱۹-۱۶)
ایک اور دلیل سورۃ بقرہ ۳۹ میں فرمایا گیا ہے: ”والذین کفروا و کذبوا بآیتنا اولئک اصحاب النارهم فیها خالدین.“ ”اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ اصحاب نار ہیں اور وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔“
سورۃ آل عمران ۸۵ میں ارشاد ہوا ہے: ”ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وهو فی الآخرة من الخاسرین.“ یعنی اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین، سو اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں خراب ہے۔
آگے ارشاد ہوتا ہے: ”کیف یهدی الله قوما کفروا بعد ایمانهم وشهدوا ان الرسول حق وجاء هم البینت. والله لايهدى القوم الظالمین. أولئك جزاء هم ان عليهم لعنة الله والملئكة والناس اجمعین. خالدین فیها لا یخفف عنهم العذاب ولاهم ينظرون الا الذين تابوا من بعد ذالک واصلحوا فان الله غفور رحیم.“ (آل عمران ۸۹۔۸۶) یعنی ”کیونکر راہ دے گا اللہ ایسے لوگوں کو کہ کافر ہوگئے ایمان لاکر اور گواہی دے کر کہ بے شک رسول سچا ہے اور آئیں ان کے پاس نشانیاں روشن اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی، ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ہلکا ہوگا عذاب ان سے اور نہ ان کو فرصت ملے گی مگر جنھوں نے توبہ کی اس کے بعد اور نیک کام کیے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔“
آگے ارشاد ہوتا ہے: ”ان الذین کفروا بعد ايمانهم ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم واولئک هم الضالون. ان الذین کفروا وماتوا وهم كفار فلن يقبل من احدهم ملء الارض ذهباً ولوافتدی به اولئک لهم عذاب الیم وما لهم من ناصرین.“ (آل عمران ۹۱۔۹۰) ”یعنی جولوگ منکر ہوئے مان کر پھر بڑھتے رہے انکار میں ہرگز قبول نہ ہوگی ان کی توبہ اور وہی ہیں گمراہ جو لوگ کافر ہوئے اور مر گئے کافر ہی، تو ہرگز قبول نہ ہوگا کسی ایسے سے زمین بھر کر سونا اور اگرچہ بدلا دیوے اس قدر سونا ان کے لیے عذاب درد ناک ہے اور کوئی نہیں ان کا مددگار۔“
سورۂ نساء ۱۳۷ میں ارشاد ہے: ”ان الذین امنوا ثم کفروا. ثم آمنوا ثم كفروا. ثم ازدادوا كفرا لم یکن الله ليغفر لهم ولا لیهدیهم سبیلاً.“ ”یعنی جولوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہوئے پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر بڑھتے رہے کفر میں تو اللہ ان کو ہرگز بخشے والا نہیں اور نہ دکھائے ان کو راہ۔“
سورۂ نحل میں ارشاد ہوتا ہے: ”من کفر بالله من بعد ایمانه الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالكفر صدراً فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظیم.“ (النحل ۱۰۶) ”یعنی جو کوئی منکر
جو اللہ سے پھرے یقین لانے کے پیچھے مگر وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل برقرار رہے ایمان پر لیکن جو کوئی دل کھول کر منکر ہوا۔ سو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کو بڑا عذاب ہے۔“
ان آیات کے مجموعی مطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مرتد کے خلاف اللہ کی سخت وعید ہے اس کے لیے سخت عذاب ہے اس کے لیے اللہ کی سخت ناراضگی ہے۔
اب یہ بات کوئی آوارہ عقل ہی کہہ سکتا ہے کہ ”قرآن ارتداد کو جرم ہی قرار نہیں دیتا، جس کا جی چاہے اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرلے۔“ (ص ۳۸) اگر یہ کوئی جرم (گناہ) نہیں ہے تو آخرت میں مسئولیت کیسی؟ اور خدا کا غضب کیوں؟ شاید کوئی کج فہم یہ اعتراض کرے کہ ان آیات میں مرتد کے اعمال ضائع ہونے، ان پر خدا کی لعنت برسنے، آخرت میں غضب الٰہی کا شکار ہونے اور عذاب دیے جانے کا ذکر ہے، ان آیات میں مرتد کے قتل کیے جانے کا حکم مذکور نہیں۔ اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو سطور ماقبل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام والے واقعہ کے ذکر میں دیا جا چکا ہے جو مرتد کی سزائے قتل کا بدیہی ثبوت ہے اور دوسرے جواب کے لیے قتل عمد کے سلسلے میں حسب ذیل آیت قرآنی پر نگاہ ڈالیے۔
”ومن يقتل مؤمناً متعمداً فجزاءہ جهنم خالداً فيها و غضب الله عليه ولعنه واعدله عذاباً عظيماً۔“ (النساء ۹۳) ”یعنی اور جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو (آخرت میں) اس کی سزا جہنم ہوگی جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا اور اس پر اللہ غضب اور لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے خدا نے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔“
اس آیت کو پڑھ کر ایک نافہم شخص، یہ کہہ سکتا ہے کہ قرآن نے اس آیت میں قتل عمد کا بدلہ صرف یہ قرار دیا ہے کہ اس کو دوزخ میں خلود ہوگا اور اللہ کا غصہ اور اس کی لعنت اس پر ہے اور خدا نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یعنی قاتل کے لیے اُخروی عذاب تو ہے مگر اس آیت میں دنیا میں اس کے لیے سزائے موت نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن نے قتل اولاد، دروغ حلفی، ناپ تول میں کمی، وغیرہ میں کوئی سزا مقرر نہیں کی بلکہ عذاب آخرت کی تنبیہ کی ہے گویا ان کے لیے بھی کوئی سزا نہ ہونا چاہیے؟ لیکن ایک صحیح الفہم اور صحیح الفکر شخص قرآن کے مجموعی مطالعہ اور متعلقہ احکام و اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھے گا، جو کہ رسول اکرم ﷺ کے ذریعہ اس تک پہنچی ہیں جن کو نہ ماننے والوں کے لیے قرآن کا فیصلہ ہے:
”ومن يشاقق الرسول من بعد ماتبين له الهدى و يتبع غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى و نصله جهنم و ساءت مصيراً۔“ (النساء ۱۱۵) ”یعنی اور جس کسی نے رسول کی مخالفت کی، ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنین کے راستہ کے سوا کسی اور راستہ پر چلا تو ہم اس کو حوالے کریں گے اس چیز کے جس کو وہ اختیار کرتا ہے۔ اور داخل کریں گے دوزخ میں اور وہ برا ٹھکانا ہے۔“
دنیا کی بیشتر سیاسی جماعتوں کا بھی یہ قانون ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں بھی پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ ۱۹۶۲ء سے بھی ثابت ہے کہ اگر کوئی اسمبلی کا ممبر اپنی پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں شامل ہوگا تو وہ اپنی سیٹ اور تمام ثمرات و فوائد سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن مصنف کتاب ”دین حق“ پارٹی میں شامل افراد کو کھلی چھٹی دینا چاہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں اس سے باغی ہو جائیں، ان پر کوئی حد یا تعزیر نہیں۔
باب ۵......حدیث میں مرتد کی سزا
ارتداد سے مرتد (مرد) کا خون حلال ہو جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ (بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حکم المرتد والمرتدہ) سے ثابت ہے کہ جس نے اپنے دین (اسلام) کو بدلا، اس کو قتل کر دو۔ یہ حدیث حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور متعدد دیگر صحابہ سے مروی ہے اور تمام کتب حدیث میں موجود ہے۔ مزید احادیث ذیل میں ملاحظہ ہوں:
- (۱)......حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس زندیق لائے گئے، آپ نے ان کو جلا کر مار ڈالا۔
جب اس کی خبر حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی تو آپ نے کہا۔ ”اگر میں ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کی ممانعت کے سبب ان کو جلا کر نہ مارتا کہ ان کو اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو۔ البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے بموجب کہ جس نے اپنا دین بدلا، پس تم اس کو قتل کر دو۔“
- (۲)......ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو (ابو موسیٰ اشعری کو) یمن کا حاکم مقرر کر کے بھیجا۔
پھر اس کے بعد معاذ بن جبلؓ کو ان کے معاون کی حیثیت سے روانہ کیا۔ جب معاذ وہاں پہنچے تو انھوں نے اعلان کیا کہ لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا فرستادہ ہوں۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے ان کے لیے تکیہ رکھا تاکہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھیں اتنے میں ایک شخص پیش ہوا جو پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا پھر یہودی ہو گیا۔ معاذ ؓ نے کہا، میں ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک کہ یہ شخص قتل نہ کر دیا جائے اللہ اور رسول کا یہی فیصلہ ہے۔ معاذ ؓ نے یہی بات تین دفعہ کہی۔ آخر کار جب وہ قتل کر دیا گیا تو معاذ بیٹھ گئے۔
واضح رہے کہ معاذ بن جبلؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ کی تقرری آنحضرت ﷺ کے حکم سے عمل میں آئی تھی اور یہ واقعہ آپ ﷺ کے زمانہ مبارک میں پیش آیا۔ مرتد کی سزائے قتل کا اس سے زیادہ مصدقہ ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟
یہ واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد مبارک کا ہے یہ دونوں اصحاب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یمن کی گورنری و نائب گورنری کے عہدوں پر مقرر تھے۔ اگر موسیٰ ؓ و معاذ ؓ کا یہ فیصلہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم و منشا کے خلاف ہوتا تو یقیناً ان سے باز پرس ہوتی اور تنبیہ کی جاتی۔
- (۳)......حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان مرد کا خون حلال نہیں جو
اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور کسی مسلم مرد کا خون حلال نہیں مگر تین افراد کا...... ایک وہ جس نے اسلام کو ترک کر دیا ہو، دوسرے شادی شدہ زانی اور تیسرے قتل کے بدلے قتل۔ (قصاص)
- (۴)......حضرت عثمانؓ بن عفان سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا کہ کسی مسلمان مرد کا خون حلال نہیں مگر یہ کہ وہ تین افراد میں سے ایک ہو:
- (الف)......وہ جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کا ارتکاب کیا ہو۔
- (ب)......وہ مرد جس نے کسی دوسرے کا ناحق خون کیا ہو۔
- (ج)......وہ مرد کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔
- (۵)......حضرت عثمان ہی سے ایک دوسری روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے
تھے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین جرموں کی پاداش میں ایک یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کے جرم کا ارتکاب کیا ہو، جس کی سزا سنگ ساری کے ذریعہ مار ڈالنا ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی نے عمداً قتل کا ارتکاب کیا ہو اس پر قصاص ہے، تیسرے یہ کہ کوئی اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو، اس کی سزا قتل ہے۔
تاریخ کی مستند کتابوں میں یہ واقعہ صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ جب لوگ حضرت عثمانؓ کے قتل ناحق پر آمادہ ہوئے اور آپ کے مکان کا محاصرہ کیا، تو حضرت عثمانؓ نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر بآواز بلند یہ حدیث پڑھی اور باغیوں کو قتل سے باز رکھنا چاہا۔
- (۶)...... حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن کی ایک آیت کا بھی
انکار کیا تو اس کی گردن مارنا جائز ہو گیا یعنی اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا۔
- (۷)...... حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ عبداللہ بن سعد بن ابی السرح کاتب وحی تھا۔
شیطان نے اسے گمراہ کر دیا پس وہ کافروں سے جا ملا لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ وہ (جہاں کہیں ملے) قتل کر دیا جائے۔
- (۸)...... حضرت سعدؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن عبداللہ بن سعد بن السرح حضرت عثمان بن عفان کے
پاس جا کر چھپ رہا تھا۔ حضرت عثمانؓ اس کو لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کو حضور ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ سے بیعت لے لیجئے۔ حضور ﷺ نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور عبداللہ کی طرف دیکھا تین مرتبہ، اور ہر مرتبہ آپ ﷺ عبداللہ سے بیعت لینے میں رکے اور توقف فرمایا پھر تیسری مرتبہ کے بعد آپ ﷺ نے اس سے بیعت لے لی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی دانشمند آدمی نہ تھا کہ جب وہ میری طرف دیکھ رہا تھا اور میں نے اس کی بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک رکھا تھا تو وہ اس عبداللہ کو قتل کر دیتا۔
- (۹)...... حضرت جریرؓ سے مروی ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا کہ جب کوئی غلام شرک کی
طرف راہ فرار اختیار کرے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے۔ (یہی حکم آزاد مسلمان مرد کا بھی ہوگا)
- (۱۰)...... حضرت زید اسلمؒ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا دین (اسلام) بدلا اس کی
گردن مار دو۔
- (۱۱)... حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان مرد کا خون حلال نہیں مگر اس مرد کا
جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو، اسلام لانے کے بعد کفر (انکار) اختیار کیا ہو، یا جان کے بدلے جان یعنی کسی کی جان لی ہو۔
مرتد کی سزا از روئے حدیث کے تحت (۱) لغایت (۱۱) احادیث کی عربی عبارتیں حسب ذیل ہیں:
- (۱)...... حدثنا محمد بن الفضل قال حدثنا حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمه، قال: اتى علىؓ
بزنادقة فاحرقهم فبلغ ذلك ابن عباسؓ فقال: لو كنت انا، لم احرقهم، لنهى رسول الله ﷺ، لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم لقول رسول الله ﷺ، من بدل دينه فاقتلوه. (بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حكم المرتد والمرتده. ترمذی ج ۱ ص ۲۷۰ باب ماجاء فی المرتد حدود) مع تقديم و تاخير و تغیر و (ابن ماجه ص ۱۸۲ باب المرتد عن دينه) و (ابوداؤد، جلد ۲ ص ۲۴۲ کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد)
- (۲)...... قال حدثنا ابو بردة عن ابي موسىٰ قال: اقبلت الى النبى ومعى رجلان من الا شعريين
احدهما عن يميني والآخر عن يسارى و رسول الله يستاك فكلاهما سال، فقال: يا ابا موسى اوقال يا عبدالله بن قيس، قال قلت والذی بعثک بالحق ما اطلعانی علی ما فی انفسهما وما شعرت انهما يطلبان العمل، فكاني انظر الى سواكه تحت شفته قلصت، فقال، انا لا نستعمل على عملنا من اراده ولكن اذهب انت يا ابا موسى ويا عبدالله بن قيس الى اليمن، ثم اتبعه معاذ بن جبل فلما قدم عليه القى له وسادة، قال، انزل و اذا رجل عنده موثق، قال ما هذا، قال كان يهود يا فاسلم ثم تهود قال: اجلس قال لا اجلس حتى يقتل قضاء الله ورسوله، ثلث مرات فامر به فقتل.
(بخارى كتاب الديات ج ۲ ص ۱۰۲۳ باب حكم المرتد والمرتده) و مسلم ج ۲ ص ۱۲۰ باب الامارة ص
۱۲۰ و ابوداؤد ج ۲ ص ۴۳۲ باب الحكم فيمن ارتد، و نسائی ج ۲ ص ۱۶۹، باب حكم المرتد)
(۳)....... حدثنا احمد بن حنبل و محمد بن المثنى، واللفظ لاحمد، قالا حدثنا عبدالرحمن بن مهدی، عن سفيان عن الاعمش عن عبدالله بن مرة عن مسروق عن عبدالله، قال، قام فينا رسول الله ﷺ فقال: والذی لا اله غيره، لا يحل دم رجل مسلم يشهد ان لا اله الا الله وانى رسول الله الا ثلاثة نفر، التارك الاسلام، المفارق للجماعة او الجماعة "شک فيه احمد" والثيب الزاني، والنفس بالنفس.
(صحيح المسلم ج ۲ ص ۵۹ باب مايباح به دم المسلم و ترمذی ج ۱ ص ۲۵۹ باب ماجاء
لايحل دم امرىء مسلم و ابن ماجه، ص ۱۸۲ ابواب الحدود و بخاری ج ۲ ص ۱۰۱۶ باب قول الله ان النفس
بالنفس و ابوداؤد ج ۲ ص ۴۳۲ کتاب الحدود باب الحكم في من ارتد)
(۴_۵)....... ان عثمان بن عفان اشرف عليهم فسمعهم وهم يذكرون القتل فقال انهم ليتواعدونى بالقتل فلم يقتلونى وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول لا يحل دم امرىء مسلم الا فى احدى الثلاث رجل زنى وهو محصن فرجم او رجل قتل نفساً بغير نفس او رجل ارتد بعد اسلامه.
(ابن ماجه ص ۱۸۲ باب لا يحل دم امرىء مسلم الا فى ثلاث)
(۶)....... عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ من جحد آية من القرآن فقد حل ضرب عنقه: (ابن ماجه ص ۱۸۲ ابواب الحدود باب اقامة الحدود)
(۷)....... عن عكرمة عن ابن عباس قال كان عبدالله بن سعد بن ابى السرح يكتب لرسول الله ﷺ فازله الشيطان فلحق بالكفار فامر به رسول الله ﷺ ان يقتل يوم الفتح.
(ابوداؤد ج ۲ ص ۴۳۳ کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد)
(۸)....... عن مصعب بن سعد عن سعد، قال لما كان يوم فتح مكة اختبأ عبدالله بن سعد بن ابی السرح عند عثمان بن عفان، فجاء به حتى اوقفه على النبى ﷺ فقال يا رسول الله بايع عبدالله، فرفع راسه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يابى فبايعه بعد ثلاث، ثم اقبل على اصحابه فقال اما كان فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حين رانی كففت يدى عن بيعته فيقتله.
(ابوداؤد، ج ۲ ص ۴۳۳ کتاب الحدود باب الحكم في من ارتد)
(۹)....... عن الشعبي عن جرير قال سمعت النبى ﷺ يقول اذا ابق العبد الى الشرك فقد حل دمه.
(ابوداؤد، ج ۲ ص ۴۳۳ باب ايضاً)
(۱۰)....... حدثنا يحيى، عن مالک عن زيد بن اسلم، ان رسول الله ﷺ قال من غير دينه فاضربوا عنقه
(مؤطا امام مالک ص ۲۵۰ باب فيمن ارتد عن الاسلام)
(۱۱)...... عن عائشة اما علمت ان رسول اللہ ﷺ قال لا يحل دم امر مسلم الا رجل زنى بعد احصانه اوکفر بعد اسلامه اوالنفس بالنفس.
(نسائی ج ۲ ص ۱۴۵ باب ذکر مايحل به دم المسلم)
باب ۶ ...... عورت کا ارتداد اور اس کی سزا (حدیث کی روشنی میں)
(۱)...... حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ اگر عورت مرتد ہو جائے تو اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور قتل نہ کیا جائے گا۔
(۲)...... حضرت ابن عباسؓ نے اپنے ایک اور قول میں فرمایا کہ جو عورت اسلام سے پلٹ جائے وہ قید کی جائے گی اور قتل نہ کی جائے گی۔
(۳)...... حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت احد کے دن مرتد ہو گئی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے توبہ طلب کی جائے اگر توبہ کر لے، فبہا ورنہ قتل کر دی جائے۔ اخبرنا محمد بن مخلدنا ابويوسف محمد بن ابى بكر العطار الفقيه، ناعبدالرزاق، عن سفيان، عن ابى حنيفة، عن عاصم بن ابى النجود عن ابى زرين عن ابن عباس فى المراة ترتد، قال لا يقتلن النساء اذاهن ارتددن عن الاسلام. اخبرنا حمد بن اسحاق بن مهلول، ناابى، نا طلق بن غنام، عن ابى مالک النخعى عن عاصم بن ابی النجود عن ابى زرين عن ابن عباس قال: المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل. اخبرنا محمد بن الحسين بن حاتم الطويل، نامحمد بن عبدالرحمن بن يونس السراج، نامحمد بن اسمعيل بن عياش، ناابى، نامحمد بن عبدالملک الانصارى، عن الزهرى، عن عروة، عن عائشه قالت: ارتدت امراة يوم احد، فامر النبى ﷺ ان تستتاب، فان تابت والاقتلت. (بیهقی ج ۸ ص ۳۵۳، ۳۵۴. حدیث ۱۲۸۶۹، ۱۲۸۷۱. ۱۲۸۶۸ باب قتل من ارتد عن الاسلام اذا ثبت عليه رجلا كان او امراءة)
(۴)...... حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کو ام مروان کہا جاتا تھا، مرتد ہو گئی۔ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اگر وہ اسلام کی طرف رجوع کر لے فبہا ورنہ قتل کر دی جائے۔ ناابراهيم بن محمد بن على بن بطحاء نا يحيى بن ابراهيم الزهرى، نا معمر بن بكار السعدى، نا ابراهيم بن سعد، عن الزهرى عن محمد بن المنكدر عن جابر ان امراة يقال لها ام مروان ارتدت عن الاسلام، فامر النبى ﷺ ان يعرض عليها الاسلام فان رجعت والاقتلت. (بیہقی ج ۸ ص ۳۵۳ حدیث ۱۲۸۶۶)
(۵)...... حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت اسلام سے پھر گئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے اگر وہ اسلام لے آئے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے چنانچہ اس عورت کو اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی گئی، اس عورت نے اسلام لانے سے انکار کر دیا پس وہ عورت قتل کر دی گی۔ حدثنى محمد بن عبدالله بن موسى البزار من كتابه، نااحمد بن يحيى بن زكير، ناجعفر بن احمد بن مسلم العبدى نا الخليل بن الميمون الكندى بعبادان، ناعبدالله بن ازينة عن هشام بن العاص عن محمد بن المكندر عن جابر بن عبدالله قال ارتدت امراة عن الاسلام، فامر رسول الله ﷺ ان يعرضوا عليها السلام فان اسلمت والاقتلت فعرض عليها الاسلام فابت الا ان تقتل فقتلت.
(بیہقی ج ۸ ص ۳۵۳ ص ۱۲۸۶۵)
(۶)...... حضرت زہری اور ابراہیم نخعی کا یہ اثر (قول) منقول ہے کہ جو عورت مرتد ہو جائے اس سے توبہ طلب کی
جائے گی۔ اگر توبہ کر لی فبہا ورنہ قتل کر دی جائے گی۔ حدثنا محمد بن اسمعيل انصارى نا اسحق بن ابراهیم، نا عبدالرزاق، عن معمر، عن الزهرى فى المراة تكفر بعد اسلامها، قال تستتاب فان تابت، والا قتلت وعن معمر عن سعيد عن ابى عن ابى معشر عن ابراهيم فى المراة ترتد، قال تستتاب فان تابت والا قتلت.
(بیہقی ج ۸ ص ۳۵۳ حدیث ۱۶۸۶۸)
(۷)...... حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ جو کوئی شخص اسلام سے پھر جائے، پھر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ لیکن اگر توبہ نہ کرے تو اس کی گردن ماری جائے یعنی اس کو قتل کر دیا جائے گا اور جو کوئی عورت اسلام سے پھر جائے تو اسے اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی جائے گی اگر وہ عورت توبہ کر کے اسلام کی طرف لوٹ آئی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اگر اس نے انکار کیا تب بھی توبہ طلب کی جائے گی۔ ایما رجل ارتد عن الاسلام فادعه فان تاب فاقبل منه وان لم يتب اضرب عنقه وايما امراة ارتدت عن الاسلام فادعها فان تابت فاقبل منها وان ابت فاستتبها.
(کنزالعمال، ج ۱ ص ۹۱ حدیث ۳۹۰ باب الارتداد)
خلافت راشدہ کے نظائر
(۱)...... حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں ایک عورت جس کا نام ام قرفہ تھا اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس عورت سے توبہ کا مطالبہ کیا مگر اس نے توبہ نہ کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اسے قتل کرا دیا۔
(بیہقی ج ۸ ص ۳۵۴ حدیث ۱۶۸۷۲)
یہ واقعہ اگرچہ مرتد عورت کے بارے میں ہے لیکن اصولی طور پر ارتداد کی سزائے قتل پر صریح نص ہے۔
(۲)...... حضرت عمرو بن عاصؓ نے جب وہ مصر کے حاکم تھے، حضرت عمرؓ کو لکھ کر دریافت کیا کہ ایک شخص اسلام لایا تھا۔ پھر کافر ہو گیا، پھر اسلام لایا پھر کافر ہو گیا۔ وہ کئی مرتبہ ایسا کر چکا ہے۔ اب اس کا اسلام لانا قبول کیا جائے یا نہیں؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جب تک اللہ اس سے اسلام قبول کراتا ہے تم بھی کیے جاؤ۔ اس کے سامنے اسلام پیش کرو مان لے تو چھوڑ دیا جائے۔ ورنہ گردن مار دی جائے۔
(کنزالعمال ج ۱ ص ۳۱۲ حدیث نمبر ۱۴۶۶ باب ارتداد و احکامه)
حضرت عمرؓ کا یہ اثر اگرچہ، بار بار اسلام لانے اور بار بار مرتد ہو جانے کے متعلق ہے لیکن آخری الفاظ کہ ”اسلام قبول کر لے تو چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے ۔“ مرتد کی سزائے قتل پر صریح نص ہیں۔
(۳)...... حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ نے تستر کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ قاصد نے حضرت عمرؓ کے سامنے حالات کی رپورٹ پیش کی۔ آخر میں حضرت عمرؓ نے پوچھا اور کوئی خاص بات؟ اس نے عرض کیا۔ یا امیر المؤمنین ہم نے ایک عرب کو پکڑا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا۔ پھر تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ قاصد نے کہا، ہم نے اسے قتل کر دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اسے ایک کمرہ میں بند کر کے دروازہ کی کنڈی لگا دیتے۔ پھر تین دن تک روزانہ ایک روٹی اس کو دیتے رہتے، شاید کہ وہ اس دوران میں توبہ کر لیتا۔
(کنزالعمال ج ۱ ص ۳۱۲ حدیث ۱۴۶۶ باب ایضاً، طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر)
اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو اصولی طور پر مرتد کی سزائے قتل سے اختلاف نہیں تھا بلکہ ان کے نزدیک اس سے توبہ کا مطالبہ کرنا اور تین دن کی مہلت دینا بہتر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قاضی ابو موسیٰ اشعری سے اس سلسلہ میں کوئی باز پرس نہیں کی گئی۔
طحاوی میں حسب ذیل چند واقعات اور بھی مذکور ہیں۔
- (۴)....... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو خبر پہنچی کہ بنی حنیفہ کی مسجد میں کچھ لوگ جمع ہیں اور شہادت دے رہے ہیں کہ
مسیلمہ (کذاب) اللہ کا رسول ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے پولیس بھیج کر سب کو پکڑوا لیا۔ لوگوں نے توبہ کی اور اقرار کیا کہ ہم آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے سب کو رہا کر دیا۔ مگر ایک شخص عبداللہ بن النواحہ کو قتل کرا دیا۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا کہ یہ شخص عبداللہ ابن النواحہ وہ شخص ہے جو مسیلمہ کذاب کی طرف سے رسول اللہ کی خدمت میں سفیر بن کر آیا تھا۔ اس کے ساتھ سفارت میں ایک اور شخص حجر بن اثال بھی شریک تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سے دریافت فرمایا کہ تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے جواب دیا، کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر سفارتی وفد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ یہ واقعہ بیان کر کے حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے کہا کہ اس وجہ سے میں نے ابن النواحہ کو سزائے موت دی۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر)
ابن النواحہ کے قتل کا واقعہ اس وقت کا ہے جب حضرت عمرؓ خلیفہ تھے اور حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ آپ کی جانب سے کوفہ کے قاضی تھے۔ عبداللہ بن النواحہ اور حجر بن اثال دونوں مسلمان تھے پھر مسیلمہ کذاب کی نبوت کے قائل ہو گئے۔ حضور ﷺ کے سامنے ارتداد کی وجہ سے واجب القتل تھے مگر سفیر ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ نے اس وقت چھوڑ دیا تھا۔
- (۵)....... حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں کوفہ میں چند آدمی پکڑے گئے جو مسیلمہ کی دعوت پھیلا رہے تھے
حضرت عثمانؓ کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ نے جواب میں لکھا کہ ان کے سامنے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو پیش کیا جائے۔ جو اسے قبول کرے اور مسیلمہ سے برأت کا اظہار کرے اسے چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر)
- (۶)....... حضرت علیؓ کے سامنے ایک شخص پیش کیا گیا جو پہلے عیسائی تھا پھر مسلمان ہوا پھر عیسائی ہو گیا۔ آپ نے
اس سے پوچھا تیری اس روش کا کیا سبب ہے؟ اس نے جواب دیا۔ میں نے عیسائیوں کے دین کو تمھارے دین سے بہتر پایا۔ حضرت علیؓ نے پوچھا عیسیٰؑ کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے؟ اس نے کہا کہ وہ میرے رب ہیں یا یہ کہا کہ وہ علیؓ کے رب ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۶ کتاب السیر)
- (۷)....... حضرت علیؓ کو اطلاع دی گئی کہ ایک گروہ عیسائی سے مسلمان ہوا پھر عیسائی ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے ان
لوگوں کو گرفتار کرا کے اپنے سامنے بلوایا اور حقیقت حال دریافت کی۔ انھوں نے کہا ہم عیسائی تھے پھر ہمیں اختیار دیا گیا کہ ہم عیسائی رہیں یا مسلمان ہو جائیں۔ ہم نے اسلام کو اختیار کر لیا مگر اب ہماری رائے ہے کہ ہمارے سابق دین سے افضل کوئی دین نہیں۔ لہٰذا اب ہم عیسائی ہو گئے اس پر حضرت علیؓ کے حکم سے یہ لوگ قتل کر دیے گئے اور ان کے بال بچے غلام بنا لیے گئے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۶ کتاب السیر)
- (۸)....... حضرت علیؓ کے زمانہ میں ایک شخص پکڑا ہوا آیا جو مسلمان تھا پھر کافر ہو گیا۔ آپ نے اسے ایک مہینہ تک
توبہ کی مہلت دی پھر اس سے پوچھا، مگر اس نے توبہ سے انکار کر دیا۔ آپ نے اسے قتل کرا دیا۔
(کنز العمال ج ۵ ص ۳۱۳ حدیث ۱۳۸۲)
مندرجہ بالا احادیث و آثار و نظائر آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد کے ہیں جن سے یہ امر پوری طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ بعض حضرات کا یہ دعویٰ کہ نفس ارتداد موجب قتل نہیں، جب
تک کہ اس میں بغاوت شامل نہ ہو، مندرجہ بالا حقائق و شواہد کی روشنی میں بے وزن اور بے وقعت ہو جاتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں پیش آمدہ واقعات کے بارے میں ان کا یہ ادّعا ہے کہ فتنہ ارتداد کے ساتھ بغاوت بھی شامل تھی جس کے سبب عام قتل کا حکم ہوا لیکن ان کا یہ دعویٰ مختلف وجوہ کے سبب بے بنیاد ہے۔ اوّل تو اس لیے کہ تاریخ میں اس سارے واقعہ کو فتنہ ارتداد کا نام دیا گیا ہے دوسرے یہ کہ ان میں بنیادی طور پر مانعینِ زکوٰۃ کا گروہ شامل تھا۔ جو زکوٰۃ کا منکر تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ گروہ دین کے ایک اہم رکن سے انکار کر کے دین کے دائرہ سے نکل گیا اور مرتد ہو کر واجب القتل قرار پایا۔ حضرت ابوبکر الصدیقؓ کا یہ قول ”واللہ لاقاتلن من فرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ“ کہ خدا کی قسم جو کوئی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا، میں اس سے جنگ کروں گا، اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل مسئلہ ضروریاتِ دین کے اقرار کا تھا۔ ان کے نزدیک زکوٰۃ کا منکر بھی ایسا ہی نکلا جیسا کہ صلوٰۃ کا کیا اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ محض فتنہ بغاوت تھا؟
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جزیرہ عرب کے مختلف گوشوں سے ارتداد کے فتنے نمودار ہوئے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں وہ فرمان جو حضرت ابوبکرؓ نے جاری کیا، خاص اہمیت رکھتا ہے اس فرمان میں کہا گیا کہ ”تم میں سے جن لوگوں نے شیطان کی پیروی قبول کی ہے اور جو اللہ سے بے خوف ہو کر اسلام سے پھر گئے ہیں، ان کی اس حرکت کا حال مجھے معلوم ہوا۔ اب میں نے فلاں شخص کو مہاجرین و انصار اور نیک نہاد تابعین کی ایک فوج کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا ہے اور اسے ہدایت کر دی ہے کہ ایمان کے سوا کسی سے کچھ قبول نہ کرے اور اللہ عزوجل کی طرف دعوت دیے بغیر کسی کو قتل نہ کرے۔ پس جو کوئی دعوت الی اللہ قبول کرے گا اور اقرار کرنے کے بعد اپنا عمل درست رکھے گا اس کے اقرار کو وہ قبول کرے گا اور اسے راہِ راست پر چلنے میں مدد دے گا اور جو انکار کرے گا اس سے لڑے گا یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔
اجماعِ امت مندرجہ بالا احادیث و نظائر پیش کرنے کے بعد یہ صراحت ضروری ہے کہ تمام ائمہ کرام اور فقہاء عظام اس امر میں بالکلیہ متفق الرائے ہیں کہ مرتد (مرد) کی سزا قتل ہے۔ اس بارے میں فقہاء متقدمین یا متاخرین میں سے کسی فقیہ کا اختلافی قول نظر سے نہیں گزرا۔ بناء بریں یہ کہنا قطعاً درست ہوگا کہ اس مسئلہ میں امت کا اجماع ہے۔ علامہ عبدالوہاب شعرانی نے میزان الکبریٰ میں لکھا ہے کہ تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے اس کا قتل واجب ہے۔ (”وقد اتفق الائمۃ علی ان من ارتد عن الاسلام وجب قتلہ“
(میزان الکبریٰ ج ۲ ص ۱۶۵)
عورت کی سزا کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر
حنیفہ کے نزدیک عورت کے ارتداد کی صورت میں اس کے لیے قتل کا حکم نہ دیا جائے گا بلکہ اس کو قید کر دیا جائے گا۔ اور پھر ہر دن قید خانہ سے باہر نکال کر اس کو اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی جائے گی۔ اسی طرح مسلسل عمل کیا جاتا رہے تا آنکہ وہ اسلام لے آئے ورنہ مرتدہ کے لیے حبسِ دوام کی سزا ہے۔ امام کرخی کے نزدیک مرتد عورت کو ہر دن قید خانہ سے نکال کر چند کوڑے بطور تعزیر لگانا منقول ہے۔ عورت کو قتل نہ کرنے کے سلسلہ میں احناف آنحضرت کے اس فرمان پر عمل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ”لا تقتلوا امراۃ ولا ولیداً“ یعنی عورت اور بچے کو قتل نہ کرو۔
حنیفہ کے برخلاف امام شافعی کے نزدیک ارتداد کے جرم میں عورت کے لیے بھی وہی سزا ہے جو مرد کے
لیے مقرر ہے۔ امام شافعی اپنے اس نظریہ کے لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حدیث ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ سے استدلال کرتے ہیں۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے حکم میں عام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل کا حکم ارتداد کی بناء پر ہے گویا ارتداد قتل کی علت ہے اور چونکہ یہ علت مرد اور عورت دونوں میں پائی جاتی ہے اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس علت کے یکساں طور پر مرد و عورت میں پائے جانے کے باوجود مرد کے لیے قتل اور عورت کے لیے قید کی سزا دی جائے اور دونوں کی سزاؤں میں فرق کر دیا جائے۔
احناف کی دلیل یہ ہے کہ ان کی پیش کردہ حدیث ”لا تقتلوا امراة ولا ولیداً“ عورت کے سلسلہ میں خاص ہے اس لیے ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ والی حدیث سے مخصوص طور پر مردوں کی ذات مراد ہے اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے اور آپس میں کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ حنفیہ کا مسلک قرین صواب ہے۔
مالکیہ کے نزدیک خواہ مرد ہو یا عورت دونوں بسبب ارتداد سزا وار قتل ہیں۔ یہی صورت حنابلہ کے نزدیک ہے۔ البتہ اگر مرتدہ عورت حاملہ ہو تو وضع حمل سے قبل قتل نہ کی جائے گی، عورت کے وضع حمل کے بعد تین یوم تک توبہ کا مطالبہ کیا جاتا رہے گا، اگر توبہ کر لی، فبہا ورنہ قتل کر دی جائے گی۔
(الاقناع ج ۲ ص ۳۰۹-۳۰۲، المقنع ج ۳ ص ۲۳-۵۱۴)
شیعی فقہ میں عورت کو کسی صورت میں قتل نہ کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان پیدا ہوئی ہو یا بعد میں اسلام قبول کیا ہو بلکہ اس کو قید کی سزا دی جائے گی اور نماز کے اوقات میں پیٹا جاتا رہے گا۔
(شرائع الاسلام، ج ۲، القسم الرابع، ص ۶۰-۲۵۹)
بچہ کا ارتداد اور سزا اسی طرح ایک عاقل بچہ اگر ارتداد اختیار کر لے تو اس کا یہ عمل قتل کا موجب نہ ہوگا، اگرچہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اس کا ارتداد قابل اعتبار ہوگا۔ اس کی بنیاد استحسان کے قاعدہ پر ہے۔ اس کو قید میں رکھا جائے گا اور سمجھایا جائے گا تا آنکہ وہ بالغ ہو جائے۔ بعد بلوغ بھی اگر اس نے توبہ نہ کی اور اسلام کی طرف لوٹ آنے سے انکار کیا تو پھر اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
طلب توبہ اور حنفی مذہب حنفیہ کے نزدیک یہ امر مستحب ہوگا کہ ارتداد کا ثبوت فراہم ہو جانے کے بعد مرتد سے توبہ کی خواہش کی جائے اور اس کو غور کرنے کی مہلت دی جائے۔ حنفیہ کے نزدیک یہ مہلت تین یوم ہوگی۔ اس کی دلیل حضرت عمرؓ کی یہ روایت ہے کہ ”مسلمانوں کے لشکر کا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس سے اہل لشکر کے حالات دریافت کرتے ہوئے فرمایا ”کوئی نئی خبر ہے؟ اس نے عرض کیا، جی ہاں! ایک شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر کفر اختیار کر لیا، سیدنا حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا، تم نے اس کے ساتھ کیا عمل کیا؟ اس شخص نے عرض کیا۔ ہم نے پکڑ کر اس کی گردن مار دی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، تم نے اس کو تین یوم کی مہلت دے کر اطمینان کیوں نہ کر لیا، تین یوم اس کو محبوس (قید میں) رکھتے اور حسب معمول کھانا دے کر اس سے توبہ کی خواہش کرتے ممکن تھا کہ وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتا۔“
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
حنفی مذہب کی مستند ترین کتاب الہدایہ میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص اسلام سے پھر جائے تو اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اگر (اسلام کی حقانیت کے بارے میں) اسے کوئی شبہ ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ کسی شبہ میں مبتلا ہو اور ہم اس کا شبہ دور کر دیں تو اس کا شر (ارتداد) ایک بدتر
صورت (قتل) کے بجائے ایک بہتر صورت (دوبارہ قبول اسلام) سے رفع ہو جائے گا۔ مگر مشائخ فقہاء کے قول کے بموجب اس کے سامنے اسلام کو پیش کرنا واجب نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت تو اس کو پہنچ چکی۔
(ہدایہ ج ۲ ص ۵۶۵ باب احکام المرتدین)
حضرت علیؓ سے بھی ایسا ہی مروی ہے چنانچہ آپ کا قول ہے۔ ”یستتاب المرتد ثلاثاً“ مرتد سے تین یوم تک توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ تاہم حنفیہ توبہ طلب کرنے کو واجب قرار نہیں دیتے۔
راقم الحروف کی رائے میں توبہ طلب کرنا اور شبہ کے ازالہ کے لیے مہلت دینا از بس ضروری ہے، ہو سکتا ہے کہ شبہ کے ازالہ کے بعد وہ شخص اسلام کی طرف لوٹ آئے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا، ثم ازدادوا کفراً“ یعنی یقیناً جو لوگ ایمان لائے پھر کفر اختیار کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر اختیار کیا، اور کفر میں حد سے بڑھ گئے۔ یہ آیت بار بار کفر اختیار کرنے پر نص ہے۔ اس آیت سے ایک مسئلہ یہ بھی نکلتا ہے کہ بار بار ارتداد کا بھی وہی حکم ہوگا جو پہلی بار کا ہوگا کیونکہ ہر بار اسلام کی طرف رجوع کر لینا محتمل ہے۔
مالکی مذہب مالکیہ کے نزدیک بھی مرتد مرد یا عورت ہر ایک سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور اس کو تین یوم کی مہلت دی جائے گی، کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھی حضرت صالح ؑ کو شبہ کے لیے تین یوم کی مہلت دی تھی۔ اس مطالبہ میں ہر قسم کی سزا سے اجتناب کیا جائے گا۔ کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے گی اور نہ بھوکا پیاسا رکھا جائے گا۔ اگر اس نے اس مہلت کے دوران توبہ کر لی اور اسلام کی طرف لوٹ آیا تو قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔ البتہ اگر عورت منکوحہ ہے تو اس کے ایک حیض آنے کا انتظار کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ حاملہ تو نہیں ہے اگر حمل پایا گیا تو پھر وضع حمل تک انتظار کیا جائے گا اور بچہ کی پرورش اور رضاعت کا مناسب انتظام ہو جانے پر قتل کیا جائے گا۔
(جواہر الاکلیل ج ۲ ص ۲۷۷۔۲۷۹)
امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنا دین بدلے اس کی گردن مار دو۔ اس حدیث پر تقریر کرتے ہوئے امام مالک نے فرمایا کہ جہاں تک ہم سمجھ سکتے ہیں نبی ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے دائرے سے نکل کر کسی دوسرے طریقہ کا پیرو ہو جائے گا اپنے کفر کو چھپا کر اسلام کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ زندیقوں اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں کا وطیرہ ہے تو اس کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد اسے قتل کر دیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے، کیونکہ ایسے لوگوں کی توبہ کا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور جو شخص اسلام سے نکل کر علانیہ کسی دوسرے طریقے کی پیروی اختیار کرے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے توبہ کر لے تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے۔
(مؤطا امام مالک باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام ص ۶۳۹)
شافعی مذہب شافعیہ کے نزدیک توبہ طلب کرنا واجب ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک مرتد مرد و عورت سے (ارتداد ثابت ہو جانے پر) توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان کے نزدیک حضرت عمرؓ سے توبہ کے مطالبہ کا واجب ہونا ثابت ہے۔ وہ دارقطنی کی اس روایت سے بھی استناد کرتے ہیں جو حضرت جابر سے مروی ہے کہ ام مروان نامی عورت مرتد ہوگئی تو نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ اس پر اسلام کو پیش کیا جائے اگر توبہ کر لے فبہا، ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔
مطالبہ توبہ کے واجب ہونے کے قول پر یہ اعتراض کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے عرنیین والی حدیث میں اہل مدینہ سے بغیر طلب توبہ ان کو سخت ترین سزا دی تھی اس سے معلوم ہوا کہ توبہ کا مطالبہ واجب نہیں۔
شافعیہ کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا گیا کہ قبیلہ عرنیہ کے لوگوں کے ارتداد کے ساتھ بغاوت بھی شامل تھی اور جب ارتداد کے ساتھ بغاوت بھی شامل ہو تو اس وقت توبہ کا مطالبہ کسی درجہ میں نہیں کیا جائے گا۔
(المغنی المحتاج، ج ۴ ص ۱۳۳۔۱۳۴)
یعنی نہ وہ مستحب ہے نہ واجب سرے سے مطالبہ کرنا ہی نہیں چاہیے۔
حنبلی مذہب حنابلہ کے نزدیک جو کوئی (مرد و عورت) بالغ عاقل اور مختار ہو، اور مرتد ہو جائے اس کو تین یوم تک اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی جائے گی، اس پر سختی کی جائے گی اور قید میں رکھا جائے گا، اگر اس نے توبہ کر لی فبہا ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی۔
(الاقناع ج ۴ ص ۳۰۹، ۳۰۱ والمقنع ج ۳ ص ۵۱۲۔۵۱۳)
طلب توبہ کے مسئلہ پر امام ابو محمد ابن حزم ظاہری نے اپنا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مرتد سے محض ایک مرتبہ توبہ استحباب کے طور پر طلب کی جائے گی اگر توبہ کر لی تو وہ قبول کی جائے گی بصورت انکار قتل کی سزا دی جائے گی۔
(المحلی ج ۱۳ ص ۵۸ مسئلہ المرتدین ۲۱۹۹)
شیعی مذہب طلب و قبول توبہ کے بارے میں شیعہ فقیہہ علامہ المحقق الحلی نے لکھا ہے کہ مرتد کی دو قسمیں ہیں اوّل یہ کہ وہ مسلمان پیدا ہو۔ ایسا مرتد واجب القتل ہوگا اور رجوع الی الاسلام مقبول نہ ہوگا۔ دوسرا وہ شخص جو کافر سے مسلمان ہوا ہو اور اس کے بعد پھر کفر اختیار کر لیا تو ایسے شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ بصورت انکار قتل کر دیا جائے گا۔ قوی قول کے مطابق توبہ کا مطالبہ تین یوم تک کیا جائے گا۔
(شرائع الاسلام ج ۲، القسم الرابع ص ۲۶۰۔۲۵۹)
مرتد کی سزائے قتل کے بارے میں جدید نقطۂ نظر
۱۹۶۹ء میں مولانا محمد تقی امینی ناظم دینیات، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی ایک کتاب ”احکام شرعیہ میں حالات و زمانہ کی رعایت“ لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۵۱ پر مولانا نے لکھا ہے کہ مرتد کی سزاء بغاوت کی بناء پر ہے اور اس کے ثبوت میں فقہ کے حسب ذیل فقرے درج کیے ہیں۔
- ۱...... ”فيقتل لدفع المحاربة“ قتل کیا جائے جنگ کے دفعیہ کی غرض سے۔
- ۲...... ”ان القتل باعتبار المحاربة“ قتل جنگ جوئی کے اعتبار سے ہے۔
- ۳...... ”لان القتل ليس بجزاء على الردة“ قتل مرتد ہونے کی سزا نہیں ہے۔
یہ تینوں فقرے، امام سرخسی کی مشہور کتاب ”المبسوط“ کی جلد ۱۰، صفحہ ۱۱۰ سے لیے گئے ہیں۔ میرا گمان ہے (اور خدا کرے یہ گمان صحیح ہو) کہ مولانا نے براہ راست اصل مبسوط سے بذات خود یہ فقرے نقل نہیں کیے ۔ ممکن ہے کسی ثانوی ماخذ سے لے کر نقل کر دیے ہوں، کیونکہ یہ فقرے سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے جس انداز سے فٹ کیے گئے ہیں وہ مستشرقین کا انداز تو ہو سکتا ہے مولانا محمد تقی امینی ناظم دینیات، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا نہیں ہو سکتا یا یوں کہہ لیجئے کہ نہیں ہونا چاہیے المبسوط کی مکمل عبارتیں یوں ہیں۔
پہلی عبارت ”وبالاصرار على الكفر يكون محارباً للمسلمين، فيقتل لدفع المحاربة“ اور مرتد (باوجود مطالبہ توبہ کے) کفر پر اصرار کے سبب مسلمانوں کے خلاف محارب (جنگ کرنے والا) ہو جاتا ہے۔ پس اس محاربہ (مبارزت) کو دور کرنے کی غرض سے اسے قتل کیا جائے گا۔
امام سرخسی کا مطلب یہ ہے کہ مرتد کا ارتداد پر جمے رہنا اور توبہ کر کے اسلام کی طرف نہ لوٹنا مسلمانوں
کی جماعت کے خلاف ایک قسم کی مبارزت طلبی ہے چونکہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اس لیے اس مبارزت طلبی کو ختم کرنے کے لیے مرتد کو قتل کیا جاتا ہے۔ یہاں محاربت (مبارزت) کا لفظ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ نہ کہ حقیقی محاربت یا بغاوت کے طور پر یہ مفہوم کہ جب مرتد حقیقتاً آمادہ جنگ ہو یا مسلمانوں کی جماعت کے خلاف صف آرا ہو تب ہی سزاوار قتل ہوتا ہے جیسا کہ مولانا امینی صاحب کے نقل کردہ ٹکڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ سرخسی کی عبارت ومنشاء کے خلاف ہے۔
دوسری عبارت (۲)...... ”ان القتل باعتبار المحاربة“ قتل محاربہ کے اعتبار کے سبب ہے۔ اس فقرہ کا مدلول بھی وہی ہے جو سطور بالا میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے تحدید مقصود نہیں ہے جیسا کہ مولانا امینی صاحب ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔
تیسری عبارت ”القتل ليس بجزاء على الردة بل هو مستحق باعتبار الإصرار على الكفر الاترى انه لو اسلم يسقط لانعدام الاصرار“ قتل ارتداد کی سزا نہیں بلکہ مرتد (باوجود مطالبہ کے) کفر پر اصرار کرنے کے اعتبار سے قتل کا سزاوار ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر وہ پھر اسلام لے آئے تو کفر پر عدم اصرار یعنی کفر پر قائم نہ رہنے کے سبب اس کے ذمہ سے سزا ساقط ہو جاتی ہے۔
مولانا امینی صاحب نے عبارت کا صرف اوّل ٹکڑا لے کر باقی کو چھوڑ دیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ قتل کی سزا ارتداد کی بناء پر نہیں ہے حالانکہ امام سرخسی کی عبارت میں بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، اس فقرہ کے ساتھ ہی لفظ ”بل“ آیا ہے جو بطور ”استدراک“ استعمال کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ مولانا امینی صاحب نے اسے کیوں کر نظر انداز کر دیا۔ امام سرخسی یہاں ایک گہری بات کہہ رہے ہیں وہ یہ کہ عام قاعدہ کے بموجب جرم کے ارتکاب کے ساتھ ہی سزا مرتب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ مرتد کا جرم ارتداد (بلا مطالبہ توبہ و رجوع) جرم قرار دیا جا کر وقوع تعزیر کا موجب ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں ارتداد کی صورت میں عام قاعدہ کے خلاف اگر وہ اپنے اس جرم سے توبہ کر لے اور اسلام کی طرف لوٹ آئے تو سزا ساقط ہو جاتی ہے اس لیے امام سرخسی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرتد کا ارتداد (اوّل) نہیں بلکہ باوجود مطالبہ توبہ کے اس کا کفر پر قائم رہنا موجب قتل ہے اس عبارت میں ”لیس“ سے مطلق نفی مراد نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کفر پر وہ مصر رہا وہ وہی ارتداد (اوّل) ہے جس سے توبہ و رجوع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کوئی نیا جرم پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا جرم ارتداد اس کے اصرار کے سبب سنگین اور قطعیت کے ساتھ موجب قتل ہو گیا۔
مولانا امینی صاحب المبسوط، جلد ۱۰، صفحہ ۱۱۰ کے حوالہ سے اپنی کتاب کے صفحہ ۵۲ پر لکھتے ہیں۔ ”بلاشبہ شریعت میں تبدیلی مذہب اور کفر بڑا گناہ ہے لیکن یہ معاملہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہے۔“
اس عبارت میں بھی وہی نقص موجود ہے جس کی طرف پچھلی تین عبارتوں میں اشارہ کیا جا چکا ہے یعنی یہ کہ مفید مطلب حصہ لے کر باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ المبسوط کی پوری عبارت یوں ہے۔
تبدل الدين واصل الكفر من اعظم الجنايات ولكنها بين العبد وبين ربه فالجزاء عليها مؤخر الى دار الجزاء وما عجل فى الدنيا سياسات مشروعة لمصالح تعود الى العباد.
(المبسوط ج ۵ ص ۱۱۸ باب المرتدین)
تبدیلی دین اور اصل کفر بہت بڑے جرائم میں سے ہیں لیکن یہ مذہب کا تبدیل کرنا یا اصل کفر بندہ اور
اس کے رب کے درمیان کا معاملہ ہے اس لیے اس جرم یا فعل کی (حقیقی) سزا دار الجزاء کی طرف موخر کر دی گئی ہے لیکن جو سزا فوری طور پر اس دنیا میں دی گئی وہ ایسے مصالح کی خاطر جن کا تعلق بندوں سے ہے سیاست شرعی کے طور پر دی جاتی ہے۔
مولانا نے عبارت کا دوسرا حصہ چھوڑ کر مرتد کو دنیاوی سزا ہی سے بری الذمہ کر دیا، حالانکہ اس عبارت میں دو سزاؤں کا ذکر ہے ایک آخرت کی سزا کا اور دوسری دنیاوی سزا کا، اور دنیاوی سزا وہی ہے جس کا ذکر امام سرخسی نے اپنے مقالہ کے ابتدائی حصہ میں کیا ہے یعنی قتل مرتد بعد طلب توبہ، جس کا کوئی ذکر مولانا امینی صاحب نے نہیں کیا۔
مولانا امینی صاحب اس کے آگے اپنی طرف سے بطور استخراج ارشاد فرماتے ہیں۔
”حکومت سے اس (ارتداد) کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت صرف بغاوت کی بناء پر سزا دے سکتی ہے جس میں مسلم و غیر مسلم کی کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ جس کی طرف سے بھی بغاوت پائی جائے۔“
بلاشبہ جہاں تک بغاوت کا تعلق ہے مسلم و غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں لیکن امام سرخسی کی مذکورہ بالا عبارت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ تبدیلی مذہب اسلام (ارتداد) کے جرم سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں صریحاً زیادتی ہے اگر حکومت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو پھر امام سرخسی کی عبارت ”ما تعجل فی الدنیا سیاسیات شروعۃ المصالح تعود الی العباد“ (ایضاً) کا کیا مفہوم ہوگا؟ دنیا میں یہ سزا کون نافذ کرے گا سیاست شرعی کا التزام کس کے ذمہ ہے، بندوں کی مصلحتوں کا لحاظ کس کے سر ہے؟
دراصل یہ ساری الجھن اس لیے پیدا ہوئی کہ مولانا نے پہلے ایک خیال اپنے دل میں قائم کر لیا پھر ادھر اُدھر سے اپنے مفید مطلب فقرے چسپاں کر کے ایک نتیجہ نکالا، جو ظاہر ہے کہ غلط ہے، جب بنیاد ہی غلط ہو تو عمارت کیونکر ٹھہر سکتی ہے۔
مولانا امینی صاحب نے کتاب کے (صفحات ۱۶۸ و ۱۷۸ تا ۱۸۷) پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ میں مانعین زکوٰۃ کے واقعہ سے بھی اپنے قائم کردہ نظریے کے حق میں تاویل کرنے کی کوشش کی ہے ان کے نظریے کے مطابق چونکہ مرتدین نے بغاوت پر کمر باندھ لی تھی اس لیے حضرت ابوبکر الصدیقؓ کو ان سے جدال و قتال کرنا پڑا در حقیقت مانعین زکوٰۃ کا فتنہ پہلو دار نوعیت کا حامل تھا اس میں ارتداد بھی تھا، بغاوت بھی تھی، آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار بھی تھا۔ نئے مدعیان نبوت کا اقرار بھی تھا۔ غرض یہ واقعہ بیک وقت مختلف حیثیتوں کا حامل تھا اس لیے اس واقعہ کے ایک جزو کو لے کر باقی اجزاء کو نظر انداز کر دینا اور اس طرح مرتد کی سزا میں بغاوت کے عنصر کو بطور شرط لازم قرار دینا قرین انصاف نہ ہوگا۔ حیرت ہے کہ مولانا امینی صاحب نے ارتداد کے ان واقعات کا جو آنحضرت اور خلفائے راشدین کے عہد میں پیش آئے قطعاً کوئی ذکر نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ ان واقعات کی زد اس نظریہ پر پڑتی تھی جو مولانا امینی صاحب پہلے ہی سے قائم کر چکے تھے کاش مولانا امینی تکلیف کر کے بخاری کے باب قتل من ابی قبول الفرائض مع فتح الباری ج ۱۵ ص ۳۰۲ ہی کو ایک نظر دیکھ لیتے تو ان پر مرتدین کے واقعہ کی حقیقی صورت حال واضح ہو جاتی۔
توبہ کا اظہار اور اس کا اثر
اگر مرتد توبہ کرے تو اس کو کچھ نہ کہا جائے گا۔ اگر دوسری بار پھر کفر اختیار کرے تو پھر وہی توبہ کا عمل کیا
جائے گا۔ تیسری چوتھی بار بھی یہی عمل اختیار کیا جائے گا البتہ چوتھی توبہ کرنے کے بعد حاکم وقت کو ہلکی سی تعزیر (سزا) دینے کا اختیار ہوگا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
مرتد کی توبہ اور ہر قسم کے کافر کے اسلام لانے کی صورت یہ ہے کہ وہ دونوں شہادت کے کلمے پڑھے اور یہ گواہی دے کہ محمد ﷺ خدا کے سچے رسول ہیں اور تمام عالم کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں نیز دیگر تمام مذاہب و ادیان سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرے۔
(الاقناع، ج ۴ ص ۳۰۱۔ المقنع ج ۳ ص ۵۱۴)
شیعی فقہ کی کتاب شرائع الاسلام میں لکھا ہے کہ اگر کسی سے ارتداد کا فعل مکرر ہوا ہو تو شیخ کا قول ہے کہ چوتھی مرتبہ ارتداد اختیار کرنے پر قتل کر دیا جائے گا۔ شیخ نے لکھا ہے کہ ہمارے (شیعہ) اصحاب نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ تیسری مرتبہ میں واجب القتل ہوگا (یعنی پھر توبہ قبول نہ ہوگی) اسلام کی طرف لوٹ آنے کے لیے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کافی ہوگا اسلام کے ماسوا دیگر ادیان سے برأت کا اظہار سے کلمہ توحید و رسالت کی تاکید متصور ہوگی (ایک افضل عمل شمار ہوگا ۔)
(شرائع الاسلام ج ۲ ص ۲۵۹)
مرتد اور جزیہ یہاں مرتد کی ذات (Personal status) سے متعلق اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مرتد کو غلام بنا لینا کسی صورت میں جائز نہیں خواہ وہ فرار ہو کر دارالکفر ہی کیوں نہ چلا گیا ہو یا وہ دارالکفر میں جا کر مرتد ہوا ہو۔ فقہاء نے اس مسئلہ میں کافر اصلی اور مرتد کے احکام میں فرق کیا ہے۔ اسی طرح مرتد کو ذمی کی حیثیت دے کر جزیہ قبول نہ کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴) حنبلی فقہ میں مرتد کی وہ اولاد جو حالت ردّت میں پیدا ہوئی ہو اس سے جزیہ لینا درست ہوگا۔
(الاقناع ج ۴ ص ۳۰۱۔ المقنع ج ۳ ص ۵۱۴)
ارتداد اور فسخ نکاح زوجین میں سے کسی ایک کے ارتداد پر زوجین میں تفریق واقع ہو جائے گی۔ اگر زوجہ مرتد ہو گئی تو یہ تفریق طلاق کے نام سے موسوم نہ ہوگی اس میں تمام ائمہ احناف کا اتفاق ہے لیکن اگر ارتداد شوہر کی جانب سے ہو تو اس صورت میں ائمہ احناف کے درمیان اختلاف ہے کہ یہ تفریق طلاق کے حکم میں ہوگی یا نہیں؟ فرقت البتہ دونوں صورتوں میں واقع ہو جائے گی خواہ ارتداد شوہر کی جانب سے ہو یا زوجہ کی جانب سے۔
ارتداد کے سبب فسخ نکاح میں ایک خاص نکتہ یہ قابل لحاظ ہے کہ فرقت بسبب ارتداد اسلام کی طرف لوٹ آنے سے زائل نہ ہوگی بلکہ دونوں ایک دوسرے سے اجنبی رہیں گے۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۴)
شیعی فقہ میں بھی مرتد کی زوجہ اس سے بائن ہو جائے گی اور وہ عدت پوری کرے گی جو متوفی شوہر کی زوجہ پر واجب ہوتی ہے۔ یعنی ۴ ماہ دس دن۔ یہ صورت اس وقت ہوگی جبکہ مرتد پیدائشی مسلمان ہو۔ اگر مرتد پیدائشی مسلمان نہ ہو بلکہ بعد میں مسلمان ہوا ہو تو ارتداد کے سبب اس کی زوجہ اور اس کے درمیان عقد نکاح فسخ ہو جائے گا۔ زوجہ کا دوسرا نکاح طلاق کی عدت کی مدت پوری ہونے تک موقوف رہے گا۔
(شرائع الاسلام ج ۲، القسم الرابع ص ۶۰ ۔ ۲۵۹)
ارتداد کا اثر نکاح پر جمہور فقہاء اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ اگر کسی عورت کا شوہر اسلام سے پھر جائے اور مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا اور فسخ کے لیے قضائے قاضی یا حکم حاکم کی ضرورت نہیں۔ اس پر علماء امت کا اجماع ہے۔
(ردالمحتار ج ۲ ص ۴۲۵ باب نکاح الکافر)
درالمختار میں لکھا ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک کے مرتد ہو جانے سے فی الفور عقد نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ قضائے قاضی (حکم عدالت) کی حاجت نہیں۔
اگر ارتداد شوہر کی جانب سے ہو اور صحبت ہو چکی ہو تو عورت پورے مہر کی مستحق ہو گی اور اگر صحبت نہ ہوئی ہو تو عورت نصف مہر پانے کی مستحق ہوگی۔ لیکن اگر عورت مرتد ہو جائے اور صحبت نہ ہوئی ہو تو ایسی صورت میں وہ مہر پانے کی مستحق نہ ہوگی۔ البتہ صحبت ہو جانے کی صورت میں وہ پورا مہر پانے کی مستحق ہوگی۔ اگر زوجین ایک ساتھ مرتد ہوں اور بعد از ان اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو نکاح قائم رہے گا لیکن اگر زوجہ اسلام کی طرف لوٹے اور شوہر مرتد رہے تو ایسی صورت میں نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اگر شوہر کی بیوی کتابیہ ہو جو مسلمان ہو جائے لیکن بعد ازاں مرتد ہو جائے تو وہ عورت اس مرد سے جدا ہو جائے گی۔ اگر ایک مسلمان نے عیسائی عورت سے نکاح کیا اور بعد ازاں وہ دونوں ایک ساتھ مجوسی ہو گئے تو امام ابو یوسف کے نزدیک ان کے درمیان فرقت ہو جائے گی۔ امام محمد شیبانی کا نظریہ اس سے مختلف ہے۔
(ڈائجسٹ آف محمڈن لاء، بیلی، جلد اوّل، ص ۸۵۔۱۸۳)
قدیم نقطہ نظر ارتداد کے سبب تنسیخ نکاح کے سلسلے میں قدیم فقہاء کا نقطہ نظر، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری اور ہدایہ میں بیان کیا گیا ہے، یہ ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک کے ارتداد کے سبب نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا چنانچہ ہندوستان کی عدالتوں نے قانون انفساخ ازدواج مسلمانان، ۱۹۳۹ء کے نفاذ تک اسی نقطہ نگاہ کی متابعت میں اپنے فیصلے دیے ہیں چنانچہ (مقدمہ امین بیگ بنام سمین الہ آباد ہائی کورٹ ۱۹۱۰ء آئی۔ ایل۔ آر۔ ۳۳ الہ آباد ص ۹۰) نے یہ قرار دیا کہ شرع اسلام کے تحت ایک شادی شدہ مسلمان عورت اگر عیسائی ہو جائے تو اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ لہٰذا زوجہ کا دوسرے مذہب کو قبول کر لینا شوہر کے اعادۂ حقوق زوجیت (Reslitution of conyngal right) کے مقدمہ کے خلاف ایک امر عارض (Bar) قرار دیا گیا ہے۔
شوہر کا ترک اسلام لیکن گزشتہ تین صدیوں میں اس سلسلے میں یہ نقطہ نظر سامنے آیا ہے کہ جب شوہر اسلام کو ترک کر دے مگر زوجہ اپنے مذہب پر قائم رہے تو ان کے درمیان مباشرت ناجائز ہو جائے گی۔ اور اگر زوجہ کی عدت کے دوران شوہر مذہب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو دونوں حسب سابق تعلقات زوجیت قائم کر سکتے ہیں اور کسی عقد جدید کی ضرورت نہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح ترک اسلام سے فوراً ختم نہیں ہوتا بلکہ معلق رہتا ہے۔
زوجہ کا ترک اسلام البتہ جہاں تک زوجہ کے ترک اسلام کا تعلق ہے اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے فقہاء بخارا کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ عورت اسلام چھوڑ کر کوئی بھی مذہب اختیار کرے اس کو قید میں رکھا جائے تا آنکہ وہ مذہب اسلام کی طرف لوٹ آئے جس کے بعد اس کو سابق شوہر سے نکاح کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ البتہ بلخ و سمرقند کے فقہاء کا یہ نقطہ نظر ہے کہ اگر وہ عورت اسلام چھوڑ کر کوئی کتابی مذہب اختیار کر لے مثلاً عیسائی یا یہودی ہو جائے تو اس کا نکاح ساقط نہ ہوگا چونکہ کتابیہ عورت سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے۔ لہٰذا مسلمان زوجہ کے کتابی مذہب اختیار کر لینے سے نکاح پر کوئی اثر مرتب نہ ہونا چاہیے۔
ارتداد کا اثر مہر و نفقے پر اگر شوہر خلوت صحیحہ سے پہلے مرتد ہوا ہے تو اس کو عورت کا نصف مہر دینا ہوگا اور اگر خلوت صحیحہ کے بعد مرتد ہوا ہے تو اس کے ذمہ پورا مہر ادا کرنا واجب ہوگا۔ خلوت صحیحہ سے قبل عورت پر عدت واجب نہ ہوگی۔ البتہ خلوت صحیحہ کے بعد عدت واجب ہوگی۔ نیز مرتد پر اپنی زوجہ کا نفقہ بھی (دوران عدت) واجب ہوگا۔
(فتاویٰ عالمگیری ج ۱ ص ۳۳۹ کتاب نکاح الکفار باب العاشر)
تفریق کی نوعیت جب انکار اسلام شوہر کی طرف سے ہو تو اس کا حکم طلاق کا ہوگا یا فسخ نکاح کا، اس میں
اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام ابو یوسف کے نزدیک وہ فرقت، ”فسخ“ تصور کی جائے گی کیونکہ ایک سبب کا نتیجہ اس کے قائم مقام کے بدل جانے سے نہیں بدلتا، لیکن امام محمد کے نزدیک وہ فرقت ”طلاق“ کے حکم میں ہوگی کیونکہ فرقت شوہر کے اسلام سے منکر ہو جانے کی وجہ سے ہوئی اور اس فرقت کی بنیاد یہ ہے کہ وہ شوہر کی طرف سے پیدا ہوئی کیونکہ ملک نکاح اسی کو حاصل ہے۔ چنانچہ اگر شوہر فرقت سے انکار کرے تو عدالت اس میں دخل دے گی تاکہ اس کا ظلم اور سختی دور ہو جائے۔ ایسی صورت میں قاضی تفریق کرانے میں شوہر کا نائب متصور ہوگا جیسا کہ وہ شوہر کی نامردی کے سبب تفریق کرانے میں شوہر کا قائم مقام ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر یہ فرقت شوہر کے ارتداد کی وجہ سے ہو تو اس صورت میں چونکہ شوہر نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے جس کی وجہ سے فرقت لازمی ہے لہٰذا فرقت ”طلاق“ کے حکم میں ہوگی۔ کیونکہ ایسی فرقت جسے شوہر نے ارتداد کے سبب کی بناء پر مکمل کر دیا ہے، اس کے طلاق دینے کے مترادف ہے لیکن امام ابو حنیفہ نے ان دونوں صورتوں (شوہر کے اسلام سے انکار کرنے اور اس کے مرتد ہونے) میں فرق کیا ہے۔ ان کی رائے میں اگر فرقت شوہر کے انکار اسلام کی بناء پر ہو تو طلاق شمار ہوگی اور اگر فرقت شوہر کے ارتداد کی بناء پر ہو تو فسخ شمار ہوگی، خواہ وہ فرقت ایسے سبب کی بناء پر ہو جس کو شوہر نے مکمل کیا ہو چونکہ کسی شخص کا مرتد ہو جانا ملک نکاح کے منافی ہے اس لیے اس تناقض کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہے کہ شوہر کا ارتداد ایسا فعل شمار کیا جائے جو زوجین کے احکام نکاح کے مطابق ہو چونکہ ارتداد کی بناء پر ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے جس کے سبب نکاح قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ لہٰذا ارتداد کو فسخ شمار کیا جائے گا اور نکاح ختم ہو جائے گا برخلاف اس صورت کے جب شوہر اسلام سے انکار کرے کیونکہ اس وقت فرقت نکاح کے اغراض و مقاصد کے فوت ہو جانے کے سبب بن جائے گی اور وہ ایسا فعل شمار کیا جائے گا جو ”مستفاداً من العقد“ ہوگا اور اسی سبب سے انکار اسلام کے سبب فرقت طلاق شمار ہوگی۔
(ماخوذ از فرق الزواج علی التحقیق، عابدین، ۱۹۵۸ء، ص ۲)
تجزیہ اگر شوہر مرتد ہو جائے تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک زوجین کے درمیان نکاح فی الفور فسخ ہو جائے گا۔ انفساخ نکاح کے لیے عدالت کے حکم کی ضرورت نہیں۔ خواہ عورت مسلمان ہو یا کتابیہ لیکن امام محمد کے نزدیک اگر شوہر مرتد ہو جائے تو وہ ردّت طلاق بائن شمار ہوگی کیونکہ وہ شوہر کا اختیاری فعل ہوگا اور اگر شوہر تائب ہو کر دینِ اسلام کی طرف لوٹ آئے تو عورت کی عدت میں یا اس کے بعد بھی ازسر نو نکاح کرنا ہوگا لیکن زوجہ کو اس سے نکاح کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن متاخرین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ صرف مباشرت ناجائز ہوگی۔ البتہ عدت کے دوران اسلام کی طرف لوٹ آنے کی صورت میں نکاح جدید کی ضرورت نہیں ہے۔
ارتداد زوجہ کے بارے میں احناف کے اقوال زوجہ کے ارتداد میں حناف کے تین قول پائے جاتے ہیں۔
- (۱)...... یہ کہ جس طرح مرد کے مرتد ہونے سے نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے اسی طرح عورت کے مرتد ہونے سے
نکاح فسخ ہو جائے گا اور ہر ممکن صورت سے یہ کوشش کی جائے گی کہ عورت اسلام کی طرف واپس آ جائے اور اسلام کی طرف لوٹ آنے پر اس کا دوبارہ نکاح جبراً اس کے سابق شوہر سے کرا دیا جائے گا۔
- (۲)...... یہ کہ زوجہ کے ارتداد کے بعد وہ مسلمانوں کے حق میں لونڈی کا درجہ حاصل کر لے گی اور اس صورت میں
شوہر کو چاہیے کہ وہ حاکم وقت سے اس کو قیمتاً خرید لے اور لونڈی ہونے کی حیثیت سے فائدہ اٹھاتا رہے۔
(البحر الرائق ج ۳ ص ۳۳۰ مصری)
- (۳)...... یہ کہ عورت کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا متاخرین علماء بلخ و سمرقند کا یہی فتویٰ ہے۔
نتیجہ فکر
اس زمانے میں دوسرے قول پر عمل ناممکن ہے اوّل قول اگرچہ احناف کی ظاہری روایت پر مبنی ہے لیکن موجودہ دور میں تیسرا قول اختیار کیا جانا متعین ہے اور جن حالات کے پیش نظر علماء بلخ اور سمرقند نے یہ قول اختیار کیا ہے وہ حالات آج بھی موجود ہیں یہی رائے علامہ عبدالرحمن الجزیری نے اپنی کتاب الفقہ علیٰ مذاہب الاربعہ میں بھی پیش کی ہے۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعہ، عبدالرحمن الجزیری، مطبوعہ مصر، ۱۳۵۵ھ، جلد ۴، ص ۲۲۴)
مالکی مسلک
اگر شوہر مرتد ہو تو اس سلسلے میں تین قول بیان کیے جاتے ہیں۔
- (۱)...... یہ کہ ارتداد سے طلاق بائنہ واقع ہوگی۔
- (۲)...... یہ کہ طلاق رجعی واقع ہوگی۔ اور
- (۳)...... یہ کہ نکاح فسخ ہو جائے گا۔
اوّل قول مشہور ہے چنانچہ شوہر کے ارتداد کی صورت میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے اور عورت کے مرتد ہونے کی صورت میں اگر یہ تحقیق ہو جائے کہ اس نے شوہر سے اپنی جان چھڑانے کے لیے ایسا کیا ہے تو عورت بائنہ نہ ہوگی بلکہ اس کے قصد کے خلاف عمل کیا جائے گا۔
شافعیہ کا مسلک
زوجین یا ان میں سے کسی ایک کا مرتد ہو جانا دخول کے بعد عمل میں آیا ہوگا یا دخول سے قبل۔ اگر دخول کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے تو فوراً نکاح منقطع نہ ہوگا بلکہ ان کے دوبارہ اسلام لانے کی امید تک حکم موقوف رہے گا۔ پس اگر مرتد شوہر عورت کی عدت پوری ہونے سے قبل اسلام لے آئے تو ان کے درمیان نکاح باقی رہے گا۔ بصورت دیگر ردّت کے وقت سے نکاح منقطع سمجھا جائے گا اور اگر یہ ارتداد دخول سے پہلے واقع ہوا ہے تو اس صورت میں فوراً نکاح ختم ہو جائے گا۔ ان حضرات کے نزدیک مرد یا عورت دونوں کے ارتداد میں حكماً کوئی فرق نہیں یہ کہ زوجین کے درمیان تفریق فسخ ہوگی نہ کہ طلاق۔
حنبلیہ کا مسلک
حنبلیہ مسلک بھی اس مسئلہ میں امام شافعی کے مسلک کے مطابق ہے ان کے نزدیک بھی ایسی تفریق فسخ کے درجے میں ہے۔
(الفقہ علی المذاہب الاربعہ، محولہ بالا، جلد ۴، ص ۲۲۴-۲۵)
استثناء
استثناء کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت نکاح سے قبل عیسائی یا یہودی تھی بعد کو مسلمان ہو گئی اور بعد ازاں اپنے سابقہ مذہب کی طرف لوٹ گئی یعنی پھر عیسائی یا یہودی مذہب اختیار کر لیا تو ایسی صورت میں نکاح قائم رہے گا۔ اسی طرح اگر عیسائی تھی اور اسلام اختیار کرنے کے بعد یہودی ہو گئی تب بھی نکاح فسخ نہ ہوگا کیونکہ کتابیہ سے مسلمان مرد کا نکاح فی الاصل جائز ہے لہٰذا جو شے اپنی ابتداء میں جائز ہے وہ بعد میں بھی اسی صورت میں جائز ہوگی۔
لیکن اگر عورت ہندو یا کسی غیر اہل کتاب مذہب کی پیرو تھی اور نکاح سے قبل مسلمان ہو گئی مگر بعد ازاں پھر ہندو مذہب اختیار کر لیا تو ایسی صورت میں نکاح فسخ ہو جائے گا کیونکہ جو شے اپنی اصل اور ابتداء میں ناجائز ہے وہ بعد میں بھی ناجائز ہوگی۔ بالفاظ دیگر جس شے کی ابتدا ناجائز ہے اس کا باقی رہنا بھی ناجائز ہوگا۔
پاکستان کا رائج الوقت قانون
قانون انفساخ ازدواج مسلمانان، ۱۹۳۹ء سے پہلے زوجین میں سے کسی ایک کے مرتد ہو جانے کے سبب نکاح فسخ ہو جاتا تھا لیکن اس قانون کے نفاذ کے بعد سے زوجہ کے ارتداد سے نکاح فسخ
نہیں ہوتا چنانچہ قانون مذکورہ کی دفعہ ۴ کے تحت کسی کتابیہ شادی شدہ عورت کے محض ترک اسلام یا اپنے سابق مذہب کو اختیار کر لینے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا البتہ دفعہ ۲ قانون مذکور کے تحت ارتداد یا تبدیلی مذہب کی بناء پر وہ عورت تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے لیکن جہاں تک مرد کے مرتد ہو جانے سے نکاح کے فسخ ہو جانے کا تعلق ہے وہ بالاتفاق فسخ ہو جائے گا۔ دفعہ ۴ قانون مرد کے ارتداد اور فسخ نکاح پر اثر انداز نہیں ہوگی چنانچہ اگر کوئی مسلمان شوہر عیسائی ہو جائے تو نکاح فی الفور ختم ہو جائے گا اور عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ دفعہ مذکور کے احکام ایسے شادی شدہ عورتوں سے بھی متعلق نہیں ہیں جو کسی غیر کتابی مذہب کی پیرو تھیں اور بعدازاں مسلمان ہو گئیں اور بعد میں اسی سابقہ مذہب کی طرف لوٹ گئیں۔
مرتد کے مال سے متعلق احکام وہ احکام جو مرتد کے مال سے متعلق ہیں۔ ان کی تین نوعیتیں ہیں۔
- (۱)...... مرتد کی ملکیت کا حکم۔
- (۲)...... مرتد کی میراث کا حکم اور۔
- (۳)...... مرتد کے دین (قرض) کا حکم۔
جہاں تک مرتد کی ملکیت کا تعلق ہے تمام احناف اس حکم پر متفق ہیں کہ اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کے اموال پر اس کی ملکیت قائم رہے گی۔ اس امر میں بھی اتفاق ہے کہ اگر فوت ہو گیا یا دارالکفر میں چلا گیا یا قتل کر دیا گیا تو اس کے اموال سے اس کی ملکیت زائل ہو جائے گی۔
البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ ملکیت کے زائل ہونے کا حکم کب متصور ہوگا یعنی ملکیت کے زائل ہونے کے احکام مرتد کی ذات پر کس وقت مرتب ہوں گے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی ملکیت کے احکام مرتد کی حالت ظاہر ہونے پر موقوف رہیں گے۔ صاحبین کے نزدیک مرتد کے مال سے اس کی ملکیت محض فعل ارتداد کے ساتھ زائل نہیں ہوتی بلکہ اس کی ملکیت موت، قتل یا دارالکفر میں چلے جانے کے بعد زائل ہوگی۔
(بدائع الصنائع، ج ۷، ص ۱۳۶)
راقم الحروف کی رائے میں صاحبین کا نقطہ نظر زوال ملکیت کے اعتبار سے ہے جبکہ امام ابو حنیفہ کے قول سے جو حکم مستنبط ہوتا ہے وہ ملکیت موقوف کے بارے میں ہے یعنی ارتداد کے ظاہر ہونے پر اس کی ملکیت موقوف ہو جاتی ہے اور اس کو کچھ بھی اختیار اس میں تصرف کا نہیں رہتا۔ یہ نقطہ نظر بنیادی طور پر صحیح اور انسب ہے چنانچہ اگر وہ اسلام لے آیا تو اس کی ملکیت حالت اصلی کی طرف لوٹ سکتی ہے کیونکہ وہ رکاوٹ جو ارتداد کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی دور ہو گئی۔ اور اگر وہ ارتداد پر قائم رہا تو صاحبین کے قول کے بموجب اس کی موت، قتل یا دارالاسلام سے دارالکفر میں چلے جانے پر اموال پر اس کی ملکیت منقطع ہو جائے گی۔
مالکیہ کے نزدیک امام (حاکم وقت) پر لازم ہوگا کہ ارتداد اختیار کرتے ہی مرتد کو مال میں تصرفات سے روک دے البتہ توبہ کی مہلت کے دوران اس کو بقدر ضرورت خورد و نوش کے لیے دیا جاتا رہے گا۔ اگر اس نے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا تو اس کا مال اس کی ملکیت ہوگا اور وہ اس میں ہر وہ تصرف کر سکے گا جو وہ ارتداد سے قبل کر سکتا تھا۔
(جواہر الاکلیل، ج ۲، ص ۲۷۹۔۲۷۷)
شافعیہ مسلک میں مرتد کی ملکیت کے زائل ہونے کے بارے میں چند اقوال ہیں۔ قوی قول یہ ہے کہ اس کی ملکیت موقوف ہوگی۔ اگر ارتداد کی حالت میں ہلاک ہو گیا تو ملکیت زائل ہو جائے گی اور اگر اسلام کی
طرف لوٹ آیا تو اس کی ملکیت برقرار رہے گی۔
((المغنی المحتاج، ج ۴، ص ۱۳۳_۱۳۴)
حنبلیہ کے نزدیک مرتد کے اموال سے اس کی ملکیت اس وقت تک زائل نہ ہوگی جب تک اس کی حالت (ارتداد) واضح نہ ہوجائے۔ اسے تصرفات سے روک دیا جائے گا۔ اگر اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اس کی ملکیت قائم شدہ متصور ہوگی اور اس کے تصرفات بھی نافذ ہوں گے۔
(الاقناع، ج ۴ ص ۹_۳۰۱۔ المقنع، ج ۴، ص ۲۳_۵۱۴)
مرتدہ کے اموال کی ملکیت کا مسئلہ مرتد (مرد) کے احکام ملکیت کے برخلاف مرتدہ کی ملکیت کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ اور صاحبین میں اس امر پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ارتداد عورت کی ملکیت کو زائل نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ اموال سے مراد وہ اموال ہیں جو دارالاسلام میں موجود ہوں۔ دارالکفر کے اموال مرتد یا مرتدہ اس کی ملکیت رہیں گے ان سے شرعی احکام کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۶)
مرتد کی میراث
ائمہ اربعہ کا نقطۂ نظر مرتد اگر مارا جائے یا مرجائے یا دارالحرب میں رہ پڑے تو جو کچھ اس نے حالتِ اسلام میں کمایا ہے وہ اس کے مسلمان ورثہ کی میراث قرار پائے گا اور جو کچھ حالتِ ارتداد میں کمایا ہے وہ بیت المال کی ملکیت ہوگا۔ یہ قول امام ابوحنیفہؒ کا ہے۔ صاحبین کے نزدیک اسلام اور ردّت دونوں حالتوں یا زمانوں کی کمائی میں مرتد کے مسلمان ورثہ وارث ہوں گے۔ امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک دونوں زمانوں کی کمائی بیت المال کی ملکیت ہوگی ان کے ایک قول کے مطابق یہ ملکیت بطور مالِ غنیمت کے اور دوسرے قول کے مطابق بطور مالِ ضائع کے ہوگی۔
(مبسوط ج ۱۰ ص ۱۰۹ باب المرتدین)
البتہ احناف کے نزدیک مرتدہ (عورت) مرجائے تو اس کا کل مال اس کے مسلمان ورثاء میں تقسیم ہوگا خواہ وہ اس عورت نے مرتد ہونے سے پہلے کمایا ہو یا بعد میں۔ مسلمان جو مرتد کی میراث لیتا ہے وہ دراصل سدِّ ذرائع اور منعِ احتیال (حیلہ سازی) قانون کے خلاف کے طور پر ہے۔
(محلیٰ خصمانی، المیراث، مطبوعہ مصر، ص ۱۹۰)
مرتد کی زوجہ بشرطیکہ مسلمان ہو اس کی وارث ہوگی۔ اگر اس کا مرتد شوہر مرجائے درآں حالانکہ وہ عدت میں ہو اگر عدت ختم ہونے کے بعد انتقال کرے یا مرتد نے اس سے صحبت ہی نہ کی ہو تو وہ میراث کی مستحق نہ ہوگی اس کی حیثیت ”زوجہ فار“ میراث سے بھاگنے والے شوہر کی زوجہ کی مثل ہے جو بصورتِ وفات شوہر (دوران عدت) وارث ہوتی ہے۔ اگر وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ مرتد ہوگئی ہو تو اس کو کچھ میراث نہ ملے گی جس طرح کہ وہ اقارب جو مرتد ہوں اس کے وارث نہیں ہوتے۔
مرتد ولایت کا اہل نہیں ہوتا اس لیے وہ کسی سے میراث نہیں پاتا کیونکہ اس نے مرتد ہوکر گناہ (جرم و جنایت) کا ارتکاب کیا ہے اور میراث سے بطور سزا محروم ہوجانا، ارتداد کا شرعی صلہ ہے جیسے کہ قاتل قتل کے سبب مقتول کی میراث سے محروم ہوجاتا ہے امام مالکؒ اور شافعیؒ کے نزدیک مرتد نہ خود کسی کا وارث ہوتا ہے اور نہ کوئی دوسرا اس کی میراث لیتا ہے جو کچھ چھوڑتا ہے، خواہ حالتِ اسلام میں کمایا ہو یا حالتِ ارتداد میں بیت المال کی ملک ہوتا ہے۔ جب زوجین ایک ساتھ مرتد ہوجائیں اور پھر ان سے اولاد ہو پھر مرتد مرجائے تو عورت کو اس مرتد کی میراث نہ ملے گی۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان نکاح باقی رہا ہو۔ جہاں تک بچے کی میراث کا تعلق ہے اگر مرتد ہونے کے دن سے چھ ماہ کے اندر پیدا ہوا تو اس کو میراث ملے گی کیونکہ یہ امر اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ وہ اپنی ماں کے بطن میں اس وقت موجود تھا جبکہ اس کے والدین مسلمان تھے اس لیے وہ اسلام کا تابع قرار دیا جائے گا
اور ماں باپ کے مرتد ہو جانے سے مرتد قرار نہیں دیا جائے گا جبکہ وہ دارالاسلام میں رہے چونکہ اسلام کا حکم بطریق تبعیت دار کے ابتداءً ثابت ہوتا ہے اس لیے اس کا باقی رہنا اولیٰ ہوگا لہٰذا جب بچہ مسلمان رہا تو وہ مرتد کے ورثاء میں شمار ہوگا۔ لیکن اگر وہ بچہ یوم ارتداد سے چند ماہ کے بعد پیدا ہوا تو وہ اپنے مرتد والدین سے میراث پانے کا مستحق نہ ہوگا اگرچہ ان دونوں کے درمیان نکاح قائم ہو کیونکہ ایسی صورت میں نطفہ کا قائم ہونا قریب ترین وقت سے لیا جائے گا اور قریب ترین وقت (باعتبار کم از کم مدت حمل) چھ ماہ ہے چنانچہ جب بچہ کا نطفہ مرتد کے قطرۂ منی سے قائم ہوا تو وہ بچہ بھی اپنے والدین کے ساتھ مرتد کے حکم میں ہوگا۔
(مبسوط ایضاً)
امام احمد بن حنبل کے نزدیک جبکہ مرتد ردّت پر قائم رہتے ہوئے مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو اس کا مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا حکم کے اس جزو میں وہ امام مالک و شافعی سے متفق ہیں اور یہ قول حنبلی قانون وراثت میں صحیح ترین قول تسلیم کیا گیا ہے۔
اگر زوجین یا ان میں سے کوئی ایک مرتد ہو جائے تو ان کے درمیان باہم وراثت جاری نہ ہوگی خواہ وہ دارالحرب میں چلے جائیں یا دارالاسلام میں مقیم ہوں۔ امام مالک و شافعی بھی اسی کے قائل ہیں۔
جو بچہ مرتد ہونے کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہو امام احمد کے نزدیک اس کا غلام بنا لینا جائز ہوگا۔ (جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے نزدیک بچہ مرتد کا تابع ہوگا اور وارث نہ ہوگا) یہی قول امام شافعی کا ہے۔
جب مرتد دارالکفر میں چلا جائے تو ایسی صورت میں اس کا مال موقوف رکھا جائے گا اگر اسلام لے آیا تو مال اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر مر گیا تو وہ غنیمت تصور کیا جائے گا۔ یہی قول امام مالک اور شافعی کا ہے۔ اہل عراق اس کے خلاف ہیں ان کے نزدیک دارالکفر میں چلا جانا زوال ملک کا سبب ہوتا ہے اس لیے مرتد کی واپسی کے بعد مال واپس نہ ہوگا بلکہ جس طرح اس کی موت کی صورت میں اس کے اقرباء پر صرف کیا جاتا ہے اسی طرح صرف کیا جائے گا۔ اگر اسلام کی طرف واپس آ جائے تو جو مال باقی ہوگا وہ لے لے گا اور ورثاء نے جو صرف کر دیا ہوگا وہ واپس نہ ہوگا۔
(ابن قدامہ المقدسی م ۶۲۰ھ المغنی فقہ حنبلی مطبوعہ مصر، ۱۳۴۸ھ ج ۷، ص ۷۸۔۷۷)
شیعہ امامیہ شیعہ امامیہ کے نزدیک مرتد کسی مسلم کا وارث نہ ہوگا لیکن مسلم مرتد کا وارث ہوگا، لیکن ترکہ کس وقت تقسیم کیا جائے گا اس کے متعلق امامیہ کے یہاں دیگر مذاہب کے مقابلہ میں ایک جدید تفصیل پائی جاتی ہے ان کے نزدیک اگر ایک پیدائشی کافر مسلمان ہو کر پھر اسی دین کی طرف لوٹ جائے تو اس کا ترکہ فوری قابل تقسیم قرار دیا جائے گا خواہ قتل کر دیا گیا ہو یا زندہ ہو بشرطیکہ مرد ہو، لیکن اگر عورت ہے تو تاوقتیکہ فوت نہ ہو جائے، اس کا ترکہ تقسیم نہ ہوگا۔
اور اگر پیدائشی مسلمان مرتد ہو جائے تو اس کا ترکہ قتل یا موت سے قبل تقسیم نہ کیا جائے گا۔ البتہ اس کی زوجہ عدت کا زمانہ پورا ہونے کے بعد بائنہ ہو جائے گی۔
(نجم الدین، جعفر الحلی (م ۶۷۶ھ) شرائع الاسلام (فقہ شیعی)
مطبوعہ بیروت، مبنی بر نسخہ مطبوعہ عبدالرحیم التبریزی، ۱۳۵۹ھ، ج ۲، القسم الرابع ص ۸۲۔۱۸۱)
ظاہریہ ظاہریہ کے نزدیک مرتد کا نہ کوئی وارث ہو سکتا ہے نہ مرتد کسی کا وارث ہو سکتا ہے جو مال چھوڑے گا۔ وہ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہوگا۔ خواہ اسلام کی طرف رجوع کرے یا نہ کرے یا ارتداد کی حالت میں مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا دارالحرب میں منتقل ہو جائے۔ لیکن وہ مال جو اس کے قتل یا موت کے بعد حاصل ہوا ہو وہ اس کے کافر ورثاء کا حق ہوگا۔
(ابن حزم (م ۴۵۶ھ) المحلی مطبوعہ مصر، ۱۳۵۲ھ، ج ۶، جز ۹، ص ۳۷۱)
مختصر یہ کہ احناف کے تمام ائمہ اس امر پر متفق ہیں کہ مرتد نے جو مال بحالت اسلام حاصل کیا وہ اس کے مسلمان ورثاء کی ملکیت ہوگا۔
امام شافعی کے نزدیک وہ مال فئی متصور ہوگا اور بیت المال کی ملکیت قرار پائے گا۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۶)
مالکیہ کے نزدیک بھی آزاد مرتد (مرد) کا مال فئے (مالِ غنیمت) شمار ہو کر بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا۔ ورثاء میں تقسیم نہ ہوگا۔ (جواہر الاکلیل، ج ۲، ص ۷۹۔۷۷)
حنبلیہ کے نزدیک بھی ارتداد کے جرم میں قتل کیے جانے یا دارالکفر میں چلے جانے یا دارالاسلام ہی میں ارتداد کی حالت میں فوت ہو جانے پر مرتد کا مال مالِ غنیمت میں شمار ہوگا۔
(الاقناع، ج ۴، ص ۳۰۱۔۹، المقنع، ج ۳، ص ۵۱۴۔۲۳)
مرتد کی میراث کے مسئلہ میں ظاہریہ کا قول یہ ہے کہ اگر وہ اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اس کا مال اس کی ملکیت رہے گا اور اگر قتل کر دیا گیا تو اس کے کافر ورثاء کا حق ہوگا۔
(المحلی، ج ۸، ص ۲۳۸)
شیعہ فقہ کی رو سے مرتد کے مرنے یا قتل ہونے کے بعد یا دارالکفر میں منتقل ہونے کے بعد اس کا ترکہ مسلمان ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی مسلمان وارث موجود نہ ہو تو اب یہ ترکہ امام کا حق ہوگا۔
(شرائع الاسلام، ج ۲ القسم الرابع ص ۲۵۹۔۶۰)
پاکستانی قانون اگرچہ پاکستان میں اسلامی قانون وراثت کا مسلمانوں کے مجملہ دیگر شخصی قوانین کے مختلف اطلاقی ایکٹوں کے ذریعہ نافذ و رائج ہونا قرار دیا جا چکا ہے لیکن مرتد کی میراث کے مسئلہ میں شریعت کے خلاف عمل درآمد ہو رہا ہے شرع اسلام کا یہ ایک واضح حکم ہے کہ جو مسلمان مرتد ہو جائے وہ میراث سے محروم ہو جاتا ہے مگر یہ حکم مذہبی آزادی کے ایکٹ نمبر ۲۱ بابت ۱۸۵۰ء کے سبب نافذ نہیں ہو سکتا جس کے تحت کسی شخص کا اپنے دین سے منحرف ہو کر دوسرا دین اختیار کر لینا اس کے حقوق کو متاثر نہیں کرتا اس لیے وراثت کے احکام میں شرعی قانون کا اطلاق ہونے کے باوجود مرتد کے اسلامی احکام میراث آج بھی عدالتوں کے ذریعہ نافذ نہیں کرائے جا سکتے ضرورت ہے کہ ۱۸۵۰ء کا مذکورہ ایکٹ منسوخ کیا جائے۔
تجزیہ "مرتد کی میراث" کے مسئلہ کے دو جزو ہیں۔
- ۱....... مرتد کا خود میراث سے محروم ہو جانا۔
- ۲....... اس کے مسلمان یا مرتد ورثاء کا وارث ہونا۔
جہاں تک مسئلہ کے پہلے جزو کا تعلق ہے اس میں ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ مرتد خود میراث سے محروم ہوگا۔ البتہ دوسرے جزو میں یہ اختلاف ہے کہ احناف حالت اسلام اور حالت ارتداد میں کمائی ہوئی دولت میں فرق کرتے ہیں جبکہ دیگر ائمہ ایسے فرق کے قائل نہیں۔ احناف کے نزدیک حالت اسلام میں کمایا ہوا مال اس کے مسلمان ورثاء میں تقسیم ہوگا اور حالت ارتداد میں کمایا ہوا مال بیت المال کی ملکیت ہوگا۔ بشرطیکہ مرتد مرد ہو البتہ عورت کی صورت میں دونوں حالتوں میں کمایا ہوا مال اس کے مسلمان ورثاء کا حق ہوگا اس کے برخلاف ائمہ ثلاثہ کل مال بیت المال کی ملکیت قرار دیتے ہیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت شیعہ امامیہ بھی اس بارے میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ البتہ وہ میراث ایک مقررہ وقت تک روکنے کے قائل ہیں جس سے (غالباً) یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ
وہ بلا امتیاز حالت مسلمان ورثاء کے استحقاق کے قائل ہیں۔ ظاہریہ جس طرح مرتد کسی مسلمان کا وارث نہ ہونا جملہ مذاہب کے مطابق تسلیم کرتے ہیں وہاں اس نقطہ نظر کے قائل نظر آتے ہیں کہ مسلمان بھی مرتد کا وارث نہ ہوگا جیسا کہ وہ کافر کی میراث میں قائل ہیں چنانچہ ان کے نزدیک کافر و مرتد کی میراث کے مسئلہ میں کوئی فرق نہیں۔
مرتد کا حق ولایت قرآن کریم مسلمان پر کافر کی ولایت کو منع کرتا ہے۔ کافر کو مسلمان پر کسی قسم کی ولایت حاصل نہیں خواہ وہ ولایت نکاح ہو یا حق حضانت۔
(النساء ۱۴۱، النحل ۱۰۶، توبہ ۲۳، ال عمران ۹۰۔۲۸، مائدہ ۵۱)
یہی حکم مرتد کے لیے ہے چنانچہ شرعاً ایک مرتد کا نابالغ کے نکاح کر دینے کا حق و اختیار بوجہ ارتداد معطل ہو جاتا ہے تا آنکہ وہ توبہ نہ کر لے اور اسلام کی طرف نہ لوٹ آئے۔
(ہدایہ ج ۳ باب عزل الوصی )
لیکن ایکٹ نمبر ۲۱، بابت ۱۸۵۰ء میں یہ حکم مذکور ہے کہ کوئی قانون یا رواج کسی ایسے شخص کو جو اپنا مذہب ترک کر دے اس کے حق یا جائیداد سے محروم نہ کر سکے گا۔ اور چونکہ ولایت بھی ایک حق ہے اس لیے یہ بھی ترک مذہب کی بناء پر متاثر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ پنجاب چیف کورٹ نے ایک مسلمان باپ کے سلسلہ میں جو عیسائی ہو گیا تھا یہ فیصلہ دیا کہ بوجہ ارتداد باپ کو اپنی نابالغ اولاد کی ذات اور جائیداد کی ولایت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ (گل محمد بنام مسماۃ وزیرا ۱۹۰۱ء، ۳۶ پنجاب ریکارڈ، ص ۱۹۱) شرع اسلام کی روشنی میں یہ اور اس قسم کے دوسرے فیصلے قطعاً غلط ہیں۔
مرتد کی ذات سے متعلق چند دیگر احکام ارتداد کے بعد مرتد حق ولایت سے محروم ہو جاتا ہے اس کا ذبیحہ بھی حلال نہ ہوگا، کوئی اسلامی عبادت اس پر فرض نہ رہے گی۔ وراثت و ولایت کی اہلیت ساقط ہو جائے گی، اس کا خاندان اس کے دیت کے جرم پر دیت (تاوان) ادا کرنے کا پابند نہ ہوگا۔ (بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۶) مرتد سے فدیہ لینا جائز نہ ہوگا یعنی فدیہ لے کر اس کو چھوڑ دینا جائز نہیں۔
(المغنی ج ۴ ص ۱۳۳)
مرتد کے قرض کا مسئلہ مرتد کے دین (قرض جس میں کفالتی قرضہ بھی شامل ہوتا ہے) کے متعلق صاحبین کا یہ قول کہ مرتد کے دین کا بار اس مال پر ڈالا جائے گا جو اس نے اسلام اور ارتداد کی حالت میں کمایا ہو۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بروایت ابو یوسف ارتداد کی حالت میں کمائے ہوئے مال پر ڈالا جائے گا۔ بشرطیکہ اس مال کی مقدار دین کو پوری طرح ادا کر دے، اگر ارتداد کی حالت میں کمایا ہوا مال دین کی کل مقدار کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو تو جو باقی رہے حالت اسلام میں کمائے ہوئے مال سے ادا کیا جائے گا۔ اس کے برخلاف حسن بن زیاد نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ سے روایت بیان کی ہے کہ اسلام کی حالت میں دین کا بار اسلام کی حالت میں کمائے ہوئے مال پر ڈالا جائے گا اور ارتداد کی حالت میں دین ارتداد کے مکسوبہ مال سے ادا کیا جائے گا۔ حسن بن زیاد کی روایت صحیح ہے۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۹)
شافعیہ کے نزدیک مرتد کا قرض قبل از ارتداد اس کے مال سے ادا کیا جائے گا اور بقیہ بیت المال کی ملکیت ہوگا۔
(الاقناع ج ۴ ص ۹۔۳۰۱، المقنع ج ۳ ص ۲۳۔۵۱۳)
یہی صورت حنابلہ کے نزدیک ہے۔
(الاقناع ج ۴ ص ۹۔۳۰۱، المقنع ج ۳ ص ۲۳۔۵۱۳)
شیعی فقہ میں مرتد کے اموال سے اس کے ذمہ قرضے ادا کیے جائیں گے نیز دیگر وہ حقوق جو اس پر واجب ہوں پورے کیے جائیں گے۔
(شرائع الاسلام، ج ۲ القسم الرابع ص ۶۰۔۲۵۹)
مرتد کا ارتکاب جنایت (جرم) اگر مرتد نے ارتداد سے قبل یا بعد کسی غیر مسلم شہری پر کسی قسم کی دست اندازی
کے جرم کا ارتکاب کیا ہو تو اس کے مال سے اس جرم کی دیت یا تاوان لیا جائے گا لیکن اگر اس سے کسی مسلم کے ساتھ ایسا جرم سرزد ہوا تو اس پر قصاص واجب ہوگا۔ مال میں سے کچھ نہ لیا جائے گا اگر ارتداد سے رجوع کر کے پھر اسلام لے آیا تو ارتداد کے سبب قتل ساقط ہو جائے گا لیکن قصاص بدستور قائم رہے گا۔
(جواہر الاکلیل ج ۳ ص ۷۹۔۲۷۷)
مرتد سے حالت ارتداد میں کسی کو قتل کرنے کے جرم میں قصاص لیا جائے گا اور یہ قصاص ارتداد کے قتل پر مقدم ہوگا البتہ اگر مقتول کے ورثاء خون بہا لینے پر راضی ہوئے تو اس کی ادائیگی مرتد کے مال سے کی جائے گی۔
(الاقناع ج ۴ ص ۹۔ ۱۳۰۱ المقنع ج ۳ ص ۲۳۔۵۱۴)
مرتد کی اولاد کے متعلق احکام
مرتد کی اولاد کی دو صورتیں ہوں گی۔ یا تو زوجین کے اسلام پر قائم رہنے کی حالت میں پیدا ہوئی ہو گی یا مرتد ہونے کے بعد اگر اولاد اس زمانے میں پیدا ہوئی جبکہ زوجین اسلام پر قائم تھے اور یہ اولاد بالغ ہے تو مسلمان رہے گی اگر نابالغ ہے تو اس وقت تک مسلمان متصور ہوگی جب تک دارالاسلام میں ہے اگر مرتد فرار ہو کر دارالکفر چلا گیا اور ساتھ ہی اپنے نابالغ بچوں کو بھی دارالکفر لے گیا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج متصور ہوں گے۔
اگر یہ اولاد ارتداد کی حالت میں پیدا ہوئی ہو تو اولاد بھی اپنے مرتد والدین کے اتباع میں بمنزلہ مرتد شمار ہوگی۔
(بدائع الصنائع ج ۷ ص ۱۳۹)
مالکیہ کے نزدیک مرتد کے قتل کے بعد اگر اس کی خورد سال اولاد موجود ہو تو وہ مسلمان متصور ہوگی۔ اپنے باپ یا والدین کے ارتداد میں ان کی تابع نہ ہوگی چنانچہ اگر مرتد نے اپنے بعد نابالغ اولاد چھوڑی اور نابالغ حالات سے ناواقف رہ کر جوان ہوا اور اس سے کفر کی کوئی بات صادر نہ ہو تو وہ مسلم ہی متصور ہوگا لیکن اگر جوان ہونے کے بعد کفر کا اظہار کیا تو اس پر ارتداد کا حکم مرتب ہوگا۔
شافعیہ کے نزدیک مرتد کی اولاد خواہ قبل ردّت کی ہو یا دوران ردت کی اگر اس اولاد کے والدین میں کوئی ایک مسلم ہے تو یہ اولاد بھی مسلم تصور ہوگی بلکہ دونوں ماں باپ، کے مرتد ہو جانے کی صورت میں بھی اولاد مسلم متصور ہوگی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ماں باپ دونوں کے مرتد ہو جانے کی صورت میں اولاد بھی مرتد متصور ہوگی۔ مغنی المحتاج کے مصنف نے مرتد ہونے کے قول کو پسند کیا ہے۔
(المغنی المحتاج ج ۴ ص ۱۳۳)
حنبلی فقہ میں جو اولاد بحالت اسلام پیدا ہوگی اس کا غلام بنانا جائز نہ ہوگا۔ البتہ بحالت ردّت پیدا ہونے والی اولاد کو غلام بنانا جائز ہوگا۔
(الاقناع، ج ۴ ص ۳۰۱۔ المقنع ج ۳ ص ۲۳)
شیعی فقہاء کے نزدیک مرتد کی اولاد مسلم کے حکم میں ہوگی۔ اگر اسلام کی حالت میں بالغ ہوئی تو پھر سرے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، لیکن اگر بالغ ہونے کے بعد اس نے ارتداد اختیار کیا تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر توبہ کر لی تو فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے گا۔
جس کی اولاد اس کے مرتد ہو جانے کے بعد پیدا ہو اور اس اولاد کی ماں مسلمان ہو تو وہ اولاد مسلمان شمار ہوگی لیکن اگر ماں بھی مرتدہ ہے اور حمل ارتداد کے بعد قائم ہوا تھا تو اب اولاد والدین کے حکم میں ہوگی یعنی مرتد متصور ہوگی۔
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیوں کی شرعی وقانونی حیثیت
مولانا علامہ خالد محمود
بسم الله الرحمن الرحيم
تعارف
۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ قادیانی و لاہوری گروپ نے وفاقی شرعی عدالت میں اس کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ وفاقی شرعی عدالت کی رہنمائی کے لیے مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب نے ذیل کا اپنا بیان تحریری طور پر عدالت میں جمع کرایا۔ جس میں قادیانیوں کی شرعی و قانونی حیثیت پر اچھوتے انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ فقیر ...... اللہ وسایا
الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفےٰ
- o ایک اسلامی سلطنت میں قادیانی غیر مسلم اقلیت کو کیا کیا مذہبی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں؟ اور انھیں کس
حد تک مذہبی آزادی دی جاسکتی ہے؟
جواب : ...... اسلامی مملکت میں غیر مسلم اقلیتوں کو اس حد تک مذہبی آزادی دی جاسکتی ہے کہ اس سے مسلمانوں کے اپنے دینی اور مذہبی حقوق میں کسی طرح سے مداخلت نہ ہوتی ہو اور ان کی داخلی خود مختاری کسی طرح مجروح نہ ہو لیکن اگر کسی اقلیت کی مذہبی آزادی سے خود مسلمانوں کے مذہبی حقوق تلف ہوتے ہوں تو مسلمان سربراہ کا فرض ہے کہ مسلمانوں کے دینی حقوق کی پوری حفاظت کرے۔ اسلامی مملکت میں غیر مسلم اقلیتوں کے رسوم و اعمال اسی حد تک چلنے دیے جاسکتے ہیں کہ اسلام کی اپنی عظمت و شوکت کسی طرح پامال ہونے نہ پائے۔ سربراہ مملکت ان پر کچھ اس طرح کی پابندیاں لگائے کہ وہاں کی مسلم آبادی اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے ان اقلیتوں کی مداخلت سے پوری طرح محفوظ رہ سکے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کے جائز مذہبی حقوق کا تعین کرنے سے پہلے خود مسلمانوں کے دینی حقوق کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی پہلو سے کوئی غیر مسلم اقلیت ان کے حقوق میں مداخلت کرنے لگے تو ان امور میں کسی غیر مسلم اقلیت کو مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں دخل انداز نہ ہونے دیا جائے گا اور انھیں ان باتوں سے قانوناً منع کیا جائے گا۔
مذہبی آزادی کی حقیقت: اسلام کی رو سے دنیا میں ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے آخرت کی جزا و سزا صرف حق پر مبنی ہوگی۔ قرآن کریم کی رو سے کسی کو جبراً مسلمان بنانے کی اجازت نہیں۔ صداقت اسلام کے دروازے کھلے ہیں اور حق باطل سے ممتاز ہو چکا ہے۔ مذہبی آزادی کی حقیقت یہی ہے کہ ..
اسلام زبردستی دوسروں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا لیکن مسلمانوں کو کوئی اور مذہب اختیار کرنے کا قطعاً کوئی حق حاصل نہیں۔ اسلام دین حق سے پھرنے کی کسی مسلمان کو اجازت نہیں دیتا اسے ہر کوشش کے ساتھ دائرۂ اسلام میں پابند کرتا ہے۔ یہ اکراہ کسی کو دین میں لانے کے لیے نہیں، اسے دین میں رکھنے کے لیے ہے جو اسلام کا ایک اندرونی معاملہ ہے۔ مذہبی آزادی کا یہ مفہوم مرزا غلام احمد قادیانی نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے: ”ہمارے نبی ﷺ نے مسلمان بنانے کے لیے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ تلوار کھینچی اور نہ دین میں داخل کرنے کے لیے کسی کے ایک بال کو بھی نقصان پہنچایا بلکہ وہ تمام نبوی لڑائیاں اور آنجناب ﷺ کے صحابہ کرام کے جنگ جو اس وقت کیے گئے یا تو اس واسطے ان کی ضرورت پڑی کہ...... ملک میں امن قائم کیا جائے اور جو لوگ اسلام کو اس کے پھیلنے سے روکتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جو مسلمان ہوں ان کو کمزور کر دیا جائے۔“
(تریاق القلوب ص ۵۳ خزائن ج ۱۵ ص ۲۷۶)
اسلام میں آئے ہوئے لوگوں کو ضابطۂ اسلام کا پابند کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ میں یہ دھمکی بھی دی۔ ظاہر ہے کہ یہ اکراہ نہیں دین اسلام کا ایک اپنا ضابطۂ کار ہے:
- ۱...... لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ اَمُرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ اُحَرِقَ عَلى رِجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم.
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۲۳۲ باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ وبیان التشدید)
”میں نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو امام مقرر کروں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر ان لوگوں کے گھروں کو جو جماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں آگ لگا دوں۔“
بے شک یہ ایک بڑی دھمکی ہے اور مسلمانوں کو دین پر رکھنے کے لیے ہے یہ اکراہ ممنوع نہیں اور اس کے جواب میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ”لا اکراہ فی الدین“ دین میں اکراہ نہیں، یہ سختی کہاں سے آگئی!
آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
- ۲...... مروا اولادكم بالصلوٰة وهم ابناء سبع سنين واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين.
(مشکوٰۃ عن ابی داؤد ص ۵۸ کتاب الصلوٰۃ)
”اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پر لگاؤ اور جب وہ دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں مار کر بھی نماز پڑھاؤ۔“
نماز کے لیے یہ مارنا اکراہ ممنوع نہیں۔ دین اسلام کا اپنا ضابطہ کار اور اس کا ایک اپنا دائرہ تربیت ہے۔
- ۳...... جس طرح نماز عبادت ہے زکوٰۃ بھی ایک عبادت ہے۔ تارک نماز کو دھمکی دے کر نماز پر لانا یا قوم کو دھمکی
دے کر ان سے جبراً زکوٰۃ وصول کرنا ہرگز اکراہ ممنوع نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے منکرین زکوٰۃ اور مانعین زکوٰۃ دونوں کے خلاف یہ عمل فرمایا۔
صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا:
والله لا قاتلن من فرّق بين الصلوٰة والزكوٰة فان الزكوٰة حق المال والله لومنعونى عناقا كانوا يؤدونها الى رسول الله ﷺ لقاتلتهم على منعها. (مشکوٰۃ ص ۱۵۷ کتاب الزکوٰۃ) ”خدا کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق ڈالتے ہیں۔ بیشک زکوٰۃ حق مال ہے (جس طرح نماز حق بدن ہے) بخدا اگر یہ لوگ ایک بھیڑ بھی وہ حضور ﷺ کو دیا کرتے تھے نہ دیں گے تو میں اسے روکنے پر ان سے جہاد کروں گا۔“
یہ اکراہ ممنوع نہیں دین اسلام کا داخلی دائرہ کار ہے لوگوں کو اسلام پر رکھنے کا ایک قدم ہے اور بیشک سلطنت اسلامی کو اس کا پورا حق حاصل ہے۔
- ۴...... نماز کے لیے مسجد میں اذان دینا فرض نہیں لیکن شعائر اسلام میں سے ضرور ہے۔ اگر کسی علاقے میں پوری کی
پوری قوم اذان نہ دینے پر اتفاق کر لے تو اسلامی سربراہ کو ان سے جہاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام محمدؒ کہتے ہیں کہ اگر کسی علاقے کے لوگ اذان کہنا چھوڑ دیں تو ہم اس پر ان سے جہاد کریں گے۔
"ولهذا قال محمد لو اجتمع اهل بلد على تركه قاتلناهم عليه."
(البحر الرائق ص ۲۵۵ ج ۱ باب الاذان)
یہ اکراہ ممنوع نہیں، جو شخص اسلام کے اپنے دائرہ کار اور سلطنت اسلام کی داخلی خود مختاری پر کچھ غور کرے تو سینکڑوں مثالیں سامنے آئیں گی جن میں مسلمانوں کو اسلام کے ضابطے پر پوری سختی سے پابند کیا گیا ہے۔ ان میں دھمکیاں بھی ہیں اور سزائیں بھی اور معاشرے پر اخلاقی دباؤ بھی۔ ایک زندہ دین کی زندگی کے یہ نشان ہیں۔ انھیں اکراہ للدین تو کہا جا سکتا ہے اکراہ فی الدین ہرگز نہیں۔ ثانی الذکر کا حاصل صرف یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو جبراً اسلام میں نہیں لایا جا سکتا یہ منع ہے، اسلام میں آئے ہوئے لوگوں کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ جو چاہیں کہتے اور کرتے رہیں۔ انھیں ضابطۂ اسلام کا پابند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر اکراہ کیا جا رہا ہے۔
علامہ شعرانیؒ لکھتے ہیں: اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔
وَأجمعوا على انه اذا اتفق اهل بلد على ترك الاذان والاقامة قوتلوا لانه من شعائر الاسلام.
(رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ص ۳۳)
اسے ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے:
اگر کوئی شخص اپنا یہ عقیدہ بنا لے کہ وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے تو کیا اسے مذہبی آزادی کا لیبل لگا کر آزاد چھوڑ دیا جائے گا؟ یہ اسلام اور اسلامی معاشرہ اسے پکڑے گا؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس موقع پر مذہبی آزادی کا سہارا نہیں لیا۔ مرزا قادیانی نے انگریزی سلطنت میں اس کا منصفانہ فیصلہ یہ پیش کیا تھا:
"اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا ہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی ہے تاکہ اس کے دماغ کی اصلاح ہو اور اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی ہے جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت سے لوگ جمع ہیں۔"
(مکتوبات احمدیہ ج ۳ نمبر ۴ ص ۲۱ مطبوعہ قادیان)
مرزا قادیانی نے ایسے شخص کو پاگل خانے بھجوانے کی جو رائے بتائی ہے یہ ہرگز اکراہ ممنوع نہیں۔ اسلامی سلطنت تو درکنار اسے انگریزی سلطنت بھی مذہبی آزادی کا نام نہ دے گی۔ کوئی مسلمان اگر اس قسم کی باتوں پر آ جائے تو سلطنت اسلام کا اس پر کوئی سختی کرنا ہرگز اکراہ ممنوع نہیں نہ یہ اقدام لااکراہ فی الدین کے خلاف سمجھا جائے گا۔
قادیانی مبلغین نے اپنی اپیل میں اس آیت کو بالکل بے محل پیش کیا ہے کسی معتبر تفسیر میں اس کے یہ معنی نہیں لیے گئے کہ مسلمان کہلانے کے بعد مسلمان جو عقیدہ چاہے رکھے اور اس پر اسلامی سربراہ یا اسلامی معاشرہ کوئی پابندی نہیں لگا سکتا اور یہ پابندی مذہبی آزادی کے خلاف ہوگی، ایسا کہیں نہیں۔
غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی اسلام اپنی سلطنت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کو پوری مذہبی آزادی دیتا ہے لیکن اس میں یہ بات اصولی ہے کہ ان کی یہ آزادی سلطنت اسلامی کا مروت و احسان ہے جو اسلام کا انسانی حقوق کا ایک چارٹر ہے۔ ان انسانی حقوق پر ان کی مذہبی آزادی مرتب کی گئی ہے سو اگر کوئی غیر مسلم قوم مذہبی آزادی میں اپنی انسانی قدروں کو کھودے تو پھر ان کی مذہبی آزادی پابندیوں کی جکڑ میں آ جاتی ہے اور یہ کوئی اکراہ نہیں ہے۔
مسلمان دارالحرب میں ہوں تو انھیں جو مذہبی مراعات حاصل ہوں گی وہ اس غیر اسلامی حکومت کا احسان اور ان کا ایک اخلاقی ضابطہ کار ہوگا۔ اسی طرح جو غیر مسلم اقوام اسلامی سلطنت میں رہتی ہیں انھیں جو رعایتیں دی جائیں اور ان سے جو عہد و پیمان باندھے جائیں وہ دارالاسلام کے مسلمانوں کا مروت و احسان ہوگا۔ اسے ان کا کوئی آئینی حق نہ کہیں گے اسی طرح انھیں کسی ایسے کلیدی عہدے پر لے آنا کہ خود مسلمان ان کے دست نگر ہو جائیں درست نہیں ہوگا۔ اس لیے قرآن کریم کی اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے:
ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا (النساء ۱۴۱) ”اور اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں پر ہرگز کوئی غلبے کی راہ نہ دے گا۔“
اسلامی سلطنت میں مسلمانوں کے دینی حقوق اسلامی سلطنت میں مسلمانوں کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہے اور ان پر اپنی پوری اجتماعی قوت سے اپنے دینی حقوق کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اگر کسی دائرہ عمل میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مذہبی حقوق میں کوئی ٹکراؤ محسوس ہو تو یہ پابندی غیر مسلموں کی بے جا آزادی میں لگے گی۔ سلطنت اسلامی میں مسلمانوں کی دینی شوکت کو کسی پہلو سے مجروح نہ ہونے دیا جائے گا۔ اس کے لیے قرآن و حدیث کی مندرجہ ذیل نصوص سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
- ١....... لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا. (النساء ۱۴۱) ”اور ہرگز نہ دے گا اللہ کافروں کو مسلمانوں پر
غلبہ کی راہ۔“
- ٢....... ولله العزت ولرسول وللمؤمنين. (المنفقون ۸) ”اور غلبہ تو اللہ اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔“
کافروں میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب اہل کتاب ہیں۔ ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سے رہیں تو ماتحت ہو کر رہیں برابر کی حیثیت سے نہیں۔
قاتلو الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر ولا يحرمون ما حرم الله ورسوله ولا يدينون دين الحق من الذين اوتوالكتاب حتى يعطوا الجزية عن يدوهم صغرون. (توبہ ۲۹) ”لڑو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کے ماتحت نہیں چلتے ان لوگوں سے جو دیئے گئے کتاب یہاں تک کہ وہ ماتحت بن کر ہاتھ سے جزیہ دیں۔“
حدیث الاسلام يعلو ولا يعلى عليه (نووی شرح مسلم ج ۲ ص ۳۳ کتاب الفرائض) ”اسلام اوپر رہتا ہے اسے نیچے نہیں رکھا جاسکتا۔“
امام نووی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:
المراد به فضل الاسلام على غيره. ”اس سے مراد اسلام کا دوسرے مذاہب سے بڑھ کر رہنا ہے۔“
اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ از بس ضروری ہے انھیں ان چار عنوانوں سے
بیان کیا جاسکتا ہے۔
- ۱۔ وحدت امت کا تحفظ امت کی سالمیت اور اس کا استقلال ہر صورت میں قائم رکھنا ضروری ہے۔
- ۲۔ شعائر امت کا تحفظ امت کی عملی زندگی اور اس زندگی کے محرکات ہر صورت میں قائم رہنے چاہئیں۔
- ۳۔ افراد امت کا تحفظ امت کے ایک ایک فرد کی ہر دینی اور دنیوی فتنے سے حفاظت کی جانی چاہیے۔
- ۴۔ حوزہ امت کا تحفظ امت کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پوری حفاظت کی جائے۔
ان عنوانات پر ترتیب وار بحث حسب ذیل ہے:
۱۔ وحدت امت کا تحفظ امت کی وحدت پیغمبر کے گرد قائم ہوتی ہے۔ وحدت امت کا سنگ بنیاد اور مرکز و محور پیغمبر کی شخصیت ہوتی ہے اور امت کے افراد جب تک پیغمبر کی شخصیت اور پیغمبر کے لائے ہوئے دین کے بنیادی عقائد میں جنھیں ضروریات دین کہا جاتا ہے متحد رہیں تو وحدت امت قائم رہتی ہے۔ پیغمبر جس طرح لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اسی طرح اپنے ماننے والوں کی ایک امت بھی قائم کرتے ہیں۔ جب تک اس امت کی وحدت قائم رہے اس پیغمبر کی رسالت کا اثر باقی رہتا ہے اور جب وحدت امت قائم نہ رہے تو رسالت کا اثر جاتا رہتا ہے۔
حضور خاتم النبیین ﷺ نے بھی ایک امت بنائی اور ان کے دل اپنے فیض محبت سے پاک کیے اور یہ سلسلہ امت اب تک قائم اور باقی ہے اور اسی کو امت مسلمہ کہا جاتا ہے۔ ضروریات دین میں سب مسلمان متحد اور امت واحدہ ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں اور اس امت کے بعد کوئی امت نہیں۔
اب اگر اس امت میں حضور ﷺ کو آخری نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں برابر کے شریک ہوں وہ ایک دوسرے کو علی الاعلان اسلام کے بنیادی عقائد سے منحرف بھی قرار دیں اور پھر ایک امت کہلائیں تو ظاہر ہے کہ اس التباس سے امت کا تشخص ختم ہو جائے گا۔ امت اپنے مخصوص معتقدات سے ہی پہچانی جاتی ہے جب انھیں میں التباس ہو گیا تو امت کہاں رہی؟ سو افراد امت کو حق پہنچتا ہے کہ جو لوگ ان سے بنیادی حقائق میں منحرف ہو جائیں انھیں اس امت میں شامل نہ رہنے دیں نکال باہر کریں ورنہ وحدت امت کا تحفظ نہ ہو سکے گا۔ اب ان باہر نکلنے والوں کا ہنوز اس امت میں رہنے کا دعویٰ مسلمانوں کے حق وحدت میں مداخلت ہوگی۔ وہ اگر مسلمان کہلانے پر اصرار کریں تو یقیناً مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مخل اور دخل انداز ہوں گے۔
اسلام جب تمام اقلیتوں کو ان کی حدود میں مذہبی آزادی دیتا ہے تو یہ کیسے جائز کر سکتا ہے کہ خود اپنی آزادی میں دوسروں کی مداخلت برداشت کر لے سو قادیانیوں کا اسلام کا نام استعمال کرنے پر اصرار مسلمانوں کی وحدت امت کے حق میں ایک مداخلت بے جا ہے۔ مسلمانوں کا ان سے یہ مطالبہ کہ وہ مسلمان نہ کہلائیں ان کے اوپر بوجھ ڈالنا نہیں خود اپنی ذات کی حفاظت کرنا ہے۔ کوئی امت دوسروں کی خاطر اپنی سالمیت کو مجروح نہیں کرتی۔ قوموں کی سالمیت جن چیزوں سے باقی رہتی ہے انھیں ہی ان کے شعائر کہتے ہیں:
شعائر امت کا تحفظ مسلم سوسائٹی جن جگہوں، کاموں اور ناموں سے پہچانی جاتی ہے انھیں شعائر اسلام کہا جاتا ہے یہ اسلام کے وہ نشان ہیں جن سے مسلم آبادیاں اور مسلمان لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ جب تک کسی امت کے شعائر محفوظ رہیں اور لوگ اپنے شعائر کا پوری غیرت سے پہرہ دیتے رہیں تو امت کا تشخص باقی رہ سکتا ہے ورنہ
نہیں ۔ پس ان شعائر میں کسی ایسے طبقے کی مداخلت جو کچھ بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے منحرف ہو چکے ہوں اور مسلم معاشرہ سے وہ باہر بھی کیے گئے ہوں مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہوگی کہ جو لوگ ان میں سے نہیں ہیں خواہ مخواہ ان کے ہاں گھس رہے ہیں ۔ یہ شعائر مکانی بھی ہیں اور عملی بھی ۔ پھر کچھ شعائر مرتبی بھی ہیں اور امت کی پہچان اور تشخص میں ان سب کا دخل ہے ۔ انہی سے امت کا تشخص قائم رہتا ہے اور مسلمان دوسری قوموں میں انہی نشانات سے پہچانے جاتے ہیں ۔
مکانی شعائر میں سب سے بڑی چیز کعبہ ہے جو مرکز اسلام ہے ۔ پھر کعبہ کی جہت میں بنی ہوئی مسجدیں ہیں جو اللہ کے لیے بنی ہیں ۔ عملی شعائر میں اذان اور مرتبی شعائر میں اسلامی القاب کی مثال دی جاسکتی ہے پس اگر کوئی غیر مسلم اقلیت اپنی عبادت کے بلاوے کو اذان کہنے لگے اور اس کے الفاظ بھی وہی مسلمانوں جیسے ہوں اور وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے اور اپنے بانی مذہب کے ساتھیوں کو صحابی اور انھیں بطور طبقہ رضی اللہ عنہ کہے تو اسے اس غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی نہ کہا جائے گا بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی بربادی سمجھا جائے گا کہ جن شعائر سے اس امت کا تشخص قائم تھا اب اس میں التباس ڈال دیا گیا ہے اور امت مسلمہ کے اس تشخص کو ضائع کر دیا گیا ہے ۔ اب ان امتیازات میں وہ لوگ بھی شریک ہونے لگے ہیں جو یقیناً ان میں سے نہیں ہیں ۔
شعائر امت اسلامیہ شعائر امت میں ہم کعبہ، اذان، مسجد، قرآن، کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں ۔ پیشتر اس کے کہ ان کی تفصیل کی جائے یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ان تمام شعائر میں مسلمانوں سے خود علیحدہ ہیں ۔ اسلام کے بعض بنیادی عقائد میں ان کا مسلمانوں سے منحرف ہونا یہ گو ایک مستقل وجہ کفر تھی ۔ لیکن ان کا ان شعائر میں مسلمانوں سے علیحدہ ہونا یہ ان کے اسی کفر کی ایک اور تصدیق ہے ۔ آپ شعائر اسلام کے ایک ایک فرد پر ان کے نقطہ نظر کو پڑھتے جائیں اور پھر ان شعائر میں مسلمانوں کے عقیدے کو بھی دیکھیں تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ لوگ شعائر اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ کسی طرح شریک نہیں ۔ اب تعبدی امور میں ان کا اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھ شریک کرنا محض التباس کے لیے ہے اور اس لیے کہ یہ مسلمانوں کے شعائر نہ رہیں اور یہ کہ امت کی سالمیت باقی نہ رہے ۔ ان میں غیر مسلم بھی آ شریک ہوں ۔
کعبہ مسلمان کعبہ شریف کو تمام روحانی برکتوں کا مرکز سمجھتے ہیں مگر مرزا بشیر الدین محمود قادیانی لکھتا ہے:
”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ..... کیا مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟“
(حقیقۃ الرؤیا ص ۴۶ تقریر مرزا محمود ۲۷ دسمبر ۱۹۱۷ قادیان)
اس کا مطلب اس کے سوا کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ اب ان کے عقیدے میں مکہ معظمہ مرکز برکات نہیں رہا۔ کیا یہ شعائر اسلام کی صریح حرمت ریزی نہیں اور کیا یہ عقیدہ لا تحلوا شعائر اللہ کے خلاف صریح کفر کا ارتکاب نہیں؟ شعائر اللہ کا پہلا نشان تو کعبہ ہے ۔
یہ سارا زور مکہ و مدینہ کی بجائے قادیان کی مرکزیت قائم کرنے پر لگ رہا ہے ۔ قادیانی اپنی الحادی تدبیروں سے ایک ایسا دین قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس کی رو سے مسلمانوں کا اسلام محض ایک مردہ دین ٹھہرے ۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ کوشش شعائر اسلام کی کھلی بیخ کنی ہے اور اپنے شعائر کی ایک جارحانہ تحریک ہے ۔
مکانی شعائر میں سب سے بڑی چیز کعبہ ہے جو مرکز اسلام ہے ۔ پھر کعبہ کی جہت میں بنی ہوئی مسجدیں ہیں جو اللہ کے لیے بنی ہیں ۔ جب کعبہ کے بارے میں ان کا نظریہ یہ ہے تو اور مسجدوں میں وہ مسلمانوں کے ساتھ
کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟
مرزا غلام احمد قادیانی اسی لیے اپنی جماعت کے اس کلی علیحدگی کا قائل تھا اس کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ مرزا غلام احمد سے نقل کرتا ہے:
”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان ج ۱۹ نمبر ۱۳۔ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
پھر ایک مقام پر مرزا محمود قادیانی لکھتا ہے:
”تم اپنے امتیازی نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی (مرزا) کو مانتے ہو اور تمھارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب (مرزا) کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی، غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کونسا اسلام پیش کرو گے۔ کیا خدا نے جو تمھیں نشان دیے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے۔ ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا۔ اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے جو صحابہ کرامؓ کے لیے مقرر ہو چکے ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۵۳)
اس میں صریح اقرار ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ کسی بات میں شریک نہیں ہو سکتے ان کا مسلمانوں کے شعائر میں خواہ مخواہ دخل دینا مسلمانوں کے دائرہ کار میں مداخلت بے جا ہے۔ قادیانیوں کا اسلام کا تصور اس اسلام سے بالکل جدا ہے جو مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔
روزنامہ الفضل کی اشاعت میں چوہدری ظفر اللہ خاں کی ایک تقریر ان الفاظ میں شائع ہوئی ہے جو قادیانی مذہب کو دین اسلام سے کلیتہً الگ کرتی ہے:
”اگر نعوذ باللہ آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کے وجود کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی کوئی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی۔“ (الصلح کراچی ۲۳ مئی ۵۲ء، الفضل لاہور ج ۶۔ ۴۰ شمارہ نمبر ۱۳۰ ص ۵۔ ۲۱ مئی ۱۹۵۲ء)
اس بیان کی روشنی میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں کسی بات میں دینی اشتراک نہیں رہتا۔ ان کے ہاں مسلمان اس دین کے قائل ٹھہرتے ہیں جس میں مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے اب ان کا فیض جاری نہیں اور خود شجر اسلام ان کے ہاں ایک خشک درخت شمار ہوتا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ اور بانی مذہب مرزا غلام احمد سے نقل کرتا ہے:
”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان ج ۱۹ نمبر ۱۳۔ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
جو لوگ اللہ کی ذات میں مسلمانوں سے اختلاف کریں وہ دہریہ ہو سکتے ہیں یا مشرک۔ مرزا قادیانی ان دو میں سے کدھر تھے؟ اسے ان کے الہامات میں دیکھا جا سکتا ہے۔
قادیانیوں نے مرزا قادیانی کے الہامات تذکرہ کے نام سے شائع کیے ہیں اس میں ہے:
”آہن! خدا تیرے اندر اتر آیا۔“
(تذکرہ ص ۳۱۱ طبع سوم)
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے کہا: انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون. ”تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ فی الفور ہو جاتی ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۵ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۸)
مرزا قادیانی یہ بھی لکھتے ہیں: ”دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۱ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۷۱) دیکھئے عقیدۂ توحید کہاں باقی رہا؟ پھر یہ بھی کہا:
”واعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعال“
(خطبہ الہامیہ خزائن ج ۱۶ ص ۵۵)
پھر یہ الہام بھی لکھا: ”انا نبشرک بغلام مظھر الحق والعلی کان اللہ نزل من السماء.“
(حقیقۃ الوحی ص ۹۵ خزائن ج ۲۲ ص ۹۸)
بیٹے کے بارے میں یہ تصور کہ گویا خدا آسمان سے اترا ہے۔ یہ عقیدہ کہاں تک توحید کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے۔
رسول کریم ﷺ حضور رسول کریم ﷺ کے بارے میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں کیا اختلاف ہے؟
مسلمان آنحضرت ﷺ کو بہترین خلائق اور اولادِ آدم میں کامل ترین شخصیت مانتے ہیں ان کے ہاں ان سے زیادہ کامل شخصیت کا تصور تک نہیں۔
قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود کو آنحضرت ﷺ کے عربی وجود سے زیادہ کامل مانتے ہیں۔ ان کے ہاں حضور ﷺ کے دو ظہور تھے۔ ظہور عربی، ظہور ہندی۔ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود آنحضرت ﷺ کا ہی ایک دوسرا ظہور تھا اور آپ ﷺ کا یہ ظہور آپ ﷺ کے پہلے ظہور سے زیادہ کامل تھا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی بعثتِ عربی کو کامل اور مکمل نہیں مانتے جبکہ مسلمان آپ ﷺ کی اسی شخصیت کریمہ کو اسوۂ حسنہ اور انسانیت کا کامل ترین ظہور مانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے سامنے ان کے ایک پیرو نے حسب ذیل اشعار پڑھے اور مرزا قادیانی کی زندگی میں ان کے (اخبار بدر قادیان نمبر ۴۳ ج ۲ ص ۴۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء) کی اشاعت میں شائع ہوئے:
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
مرزا غلام احمد نے خود بھی لکھا ہے: ”یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔“
(کرامات الصادقین ص ۱۹ خزائن ج ۷ ص ۶۱)
پھر مرزا غلام احمد نے ان قرآنی حقائق و معارف کا اپنے اوپر کھلنا ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”اگر یہ کہا جائے کہ ایسے حقائق و دقائق قرآنی کا نمونہ کہاں ہے جو پہلے دریافت نہیں کیے گئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس رسالہ کے آخر میں جو سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی ہے اس کے پڑھنے سے تمھیں معلوم ہوگا۔“
(کرامات الصادقین ص ۲۰ خزائن ج ۷ ص ۶۲)
مرزا غلام احمد قادیانی کے ان الفاظ کو بھی پیش نظر رکھیے:
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۳ خزائن ج ۲۱ ص ۱۴۴)
قادیانیوں نے اس تصور کو پھر اور نکھارا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے یہ مانتے ہوئے بھی کہ کوئی شخص حضور سے آگے نہیں بڑھ سکتا برملا کہا:
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
(الفضل قادیان ج ۱۰ نمبر ۵ ص ۵ ، ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)
مسلمان حضور ﷺ سے زیادہ کمالات کا تصور نہیں کر سکتا۔ سو مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ ان کی جماعت دوسرے مسلمانوں سے رسول کریم ﷺ کے بارے میں بھی مختلف ہے بالکل درست ہے۔ سو جب قادیانیوں کو مسلمانوں سے اللہ کی ذات اور رسول کریم ﷺ کی شان میں بھی بنیادی اختلاف ٹھہرا تو کلمہ کی وحدت کہاں رہی؟ کلمہ شریف اسی اقرار توحید و رسالت پر ہی تو مشتمل ہے۔
کلمہ شریف میں اللہ کی ذات اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ہی تو ذکر ہے۔ جب ان دونوں کے بارے میں مسلمانوں اور قادیانیوں میں اختلاف ہو گیا تو ان میں کوئی نقطۂ اشتراک نہ رہا۔ توحید و رسالت کے اقرار میں بھی دونوں مختلف ہو گئے۔ اور کلمہ بھی دونوں کا مختلف ہو گیا۔ اس لیے کہ اس کے مصداق بدل گئے۔
قرآن مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کی آخری کتاب قرآن کریم قیامت تک کے لیے محفوظ ہے اور اس کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم ۱۸۵۷ء میں اٹھا لیا گیا تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو مرزا قادیانی کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے پر ان کے عقیدہ میں قرآن گویا دوبارہ اترا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں بعض آیاتِ قرآنی مختلف بھی نقل کیں۔ ان کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم۔ اے لکھتا ہے:
”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن اتارا جائے ۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۷۳ ریویو آف ریلیجنز)
قرآن کریم کی تفسیروں میں اختلاف بے شک انسانی اور علمی اختلاف ہے لیکن اسے قرآن کا اختلاف نہیں کہہ سکتے یہ مفسرین کا اختلاف ہے جو آخر انسان ہی تھے تاہم یہ صحیح ہے کہ قرآن کی غلط تفسیریں کبھی چل نہیں سکیں۔ صحیح تفسیر بہرحال موجود رہی اور اہل حق اس کے ساتھ غلط تفسیروں کی تردید کرتے رہے لیکن قرآن کی اصلاح کا نام اسے اب تک کسی نے نہیں دیا۔ اب مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت ذیل دیکھئے اور ان کی وہ تحریرات بھی سامنے رکھیے جن میں اس نے قرآنی آیات کو کچھ بدل کر لکھا ہے۔
”عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں اتر کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا ۔“
(ازالہ اوہام ص ۷۰۸ خزائن ج ۳ ص ۴۸۴)
کیا یہ الفاظ ایسے شخص کے قلم سے نکل سکتے ہیں جو قرآن کریم پر مسلمانوں کا سارا ایمان رکھتا ہو۔ جس طرح
قرآن پر مسلمان اور قادیانی اپنے بنیادی عقیدہ میں مختلف ہیں نماز میں بھی ہر دو مذاہب کا بنیادی اختلاف ہے۔
نماز مسلمانوں کو ایک صف میں جمع کرتی ہے۔ اکٹھے نماز پڑھنا یا پڑھ سکنا مسلمانوں کو ایک امت بناتا ہے اور یہی ایک دوسرے کے لیے ایک دوسرے کے اسلام کا نشان ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: من صلّی صلوتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم. (مشکوۃ ص ۱۲ کتاب الایمان عن البخاری) ”جو ہمارے جیسی نماز پڑھے ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ حلال سمجھے وہ مسلمان ہے۔“
ہمارے جیسی نماز میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کی نماز الگ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص مسلمانوں کی جماعت سے کلیۃً کٹا رہے تو وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہ سمجھا جائے گا۔ ابن نجیم لکھتے ہیں:
فان صلّی بالجماعة صار مسلماً بخلاف ما اذا صلّی وحده الا اذا قال الشهود صلّی صلوتنا واستقبل قبلتنا...... وعن محمد انه اذا حج على وجه الذى يفعله المسلمون يحكم باسلامه.
(البحر الرائق ج ۵ ص ۷۵ کتاب السیر)
اب مرزا غلام احمد قادیانی کی نماز بھی دیکھئے کہ کس قدر وہ ہماری نماز جیسی ہے: مرزا غلام احمد لکھتا ہے:
”پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۸ خزائن ج ۱۷ ص ۶۴)
قادیانی اس باب میں بھی مسلمانوں سے جدا ہو گئے کہ قادیانیوں کے ہاں نماز مغرب میں تیسری رکعت میں رکوع کے بعد فارسی نظم پڑھنے کی سنت ہے۔ یہ بات آپ مسلمانوں کی مساجد میں کبھی نہیں دیکھیں گے۔
(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۳۸)
جب قادیانیوں کی نمازیں مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئیں تو وہ کس پہلو سے بھی حوزہ اسلام میں نہ رہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے ایک ایک بات میں اختلاف ہے بالکل درست ہے:
”اللہ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
قوموں کے شعائر ان کے اندرونی معتقدات کا ہی عملی پھیلاؤ ہوتے ہیں۔ بنی آدم میں خوف خداوندی اور تقویٰ ہی کا بیج پھوٹتا ہے تو اس سے اسلام کے شعائر اُبھرتے ہیں اور مسلمان ان کی تعظیم کر کے وحدتِ امت میں نکھرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے:
ومن يعظم شعائر الله فانها من تقوی القلوب. (سورۃ الحج ۳۲) ”اور جو تعظیم کرتا ہے نشانہائے الٰہی کی تو بلاشبہ یہ پرہیزگاری دلوں کی ہے۔“
جب قادیانی مسلمانوں سے اپنے معتقدات اور اعمال بلکہ ہر چیز میں جدا ہو گئے تو اب مشترکہ شعائر کا دعویٰ کسی طرح قرین انصاف نہیں رہتا۔ شعائر میں اشتراک اب التباس و اشتباہ کے لیے تو باقی رکھا جا سکتا ہے معتقدات کے تعارف اور عقیدت کے استشہاد کے لیے نہیں۔ کسی قوم کے ساتھ اس کے امتیازی نشانوں میں وہی لوگ جمع ہو سکتے ہیں جو ان کے معتقدات میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔ ایک ایک چیز میں اختلاف کرنے والے محض التباس و تشکیک کے لیے ایک سے شعائر کے مدعی ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی اچھی نسبت نہیں۔ اختلاف بڑھنے کی صورت میں تاریخ فیصلہ کرے گی کہ پہلے یہ نشان کس قوم کے تھے اور بعد میں انھیں کن لوگوں نے اختیار کیا اور کیا اس اختیار کا منشا پہلی قوم کے دینی شعائر میں التباس و اشتباہ کے سوا اور کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ کسی
قوم سے ان کے شعائر چھیننا اس سے بڑھ کر جارحیت اور کیا ہو سکتی ہے؟ صدر پاکستان کا زیر بحث آرڈیننس اسی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے ہے یہ قادیانیوں پر کوئی زیادتی نہیں۔
قادیانی جب کلمہ اور نماز تک میں مسلمانوں سے کلیتہً جدا ٹھہرے تو اب ان میں مسجدوں اور اذانوں کا اشتراک محض التباس کی تخم کاری کے لیے ہے حق یہ ہے کہ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور اذان انہی کی عبادت کا ایک بلاوا ہے جس پر مسلمان اکٹھے نماز پڑھنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتے وہ ان کی سی اذان بھی نہیں دے سکتے نہ ان جیسی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔
مسجد اور اذان مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ دین ہمیشہ سے اسلام ہی رہا ہے اور سب انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں مسلم ہی تھے۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام سب کا دین ایک رہا اور سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے۔ پیغمبروں میں شریعتیں تو بدلتی رہتی ہیں لیکن دین سب کا ہمیشہ سے ایک رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
الانبياء اخوة لعلات امهاتهم شتى و دينهم واحد.
(صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠ کتاب الانبیاء)
”سب انبیاء آپس میں ان بھائیوں کی طرح ہیں جو مختلف ماؤں سے ہوں اور باپ ایک ہو۔ دین سب انبیاء کا ایک رہا ہے۔“ اس دین کا نام اسلام ہے اور ہر پیغمبر نے اسی کی طرف دعوت دی۔ حضرت ابراہیم و حضرت یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو اسلام پر رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔
یابنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون. (البقرہ ۱۳۲) ”اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے سو تم ہرگز نہ مرنا مگر یہ کہ تم مسلمان ہو ۔“
اس پر ان کے بیٹوں نے کہا: ونحن لہ مسلمون ہم اللہ کے حضور میں مسلمان ہیں۔
قرآن پاک میں ارشاد ہوا:
ما کان ابراھیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفاً مسلما.
(آل عمران ۶۷)
”ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی لیکن تھے وہ یک رخ مسلمان تھے۔“
قرآن کریم میں پہلے صحیح العقیدہ انسانوں کے لیے لفظ مسلم عام ملتا ہے۔
(دیکھئے البقرہ: ۱۳۶، ۱۲۸، ۱۳۱، یوسف ۱۰۱، اعراف ۱۲۶، یونس ۷۲، ۸۴، ۹۰، نمل ۳۱، ۳۸، ۴۲، قصص ۵۳)
حضرت ابراہیم، حضرت داؤد، حضرت سلیمان علیہم السلام اور ان کے پیرو سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد، المسجد الحرام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد، المسجد الاقصیٰ کہلائی۔ معلوم ہوا کہ مسجد ابتداء ہی سے مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام رہا ہے۔ مشرکین نے اپنے دورِ اقتدار میں خانہ کعبہ میں بت رکھ دیے مگر یہ مسجد چونکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی تھی اس لیے ان بتوں کے باوجود اس سے مسجد کا نام جدا نہ ہو سکا۔ ایسا کرنا حدیث الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ کے خلاف تھا سو نام مسجد کا ہی غالب رہا۔ اسے مشرکین کی عبادت گاہ کا نام نہ دیا جا سکا۔ سکھوں نے اپنے دورِ حکومت میں شاہی مسجد لاہور میں گھوڑوں کے اصطبل بنا لیے تھے مگر مسلمانوں نے اس کا نام مسجد ہی رکھا۔ مسجد ابتدائی طور پر مسجد ہو تو مسجدیت کا حکم اس سے قیامت تک نہیں چھن سکتا۔ اسلام کی نسبت اور کفر کی نسبت کا آپس میں ٹکراؤ ہو تو اسلام کی نسبت ہی غالب رہے گی۔
قادیانیوں کا یہ کہنا کہ مشرکین کی عبادت گاہوں کا نام بھی مسجد رہا ہے اور اپنی تائید میں المسجد الحرام، المسجد الاقصیٰ کو پیش کرنا بالکل بے محل ہے۔ غیر مسلم کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام کبھی مسجد نہیں ہوا۔ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہی ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصحابِ کہف کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ کچھ نوجوان تھے جنھوں نے مشرک حکومت سے بچ کر ایک غار میں پناہ لی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک طویل نیند وارد کر دی۔ جب یہ اٹھے تو نظامِ حکومت بدل چکا تھا اب حکومت عیسائیوں کی آ چکی تھی۔ یہ اس وقت کے مسلمان تھے مشرکین ماتحت تھے اور ان کا زور ٹوٹا ہوا تھا۔ اصحابِ کہف کی خبر پھیلی تو لوگوں نے چاہا کہ اس جگہ ان کی کوئی یادگار قائم کریں۔ قرآن کریم میں ہے:
اذ يتنازعون بينهم امرهم فقالوا ابنوا عليهم بنيانا ربهم اعلم بهم قال الذين غلبوا على امرهم لنتخذن عليهم مسجدا۔ (الکہف ۲۱) ”جب وہ ان کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے وہ کہنے لگے بناؤ ان پر ایک عمارت۔ ان کا رب ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ وہ لوگ جو غالب آ چکے تھے ان کو کہنے لگے ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔“
مشرکین کا یہ کہنا کہ چونکہ وہ ہماری قوم میں سے تھے اس لیے ہم ان پر اپنے طریقے سے کوئی عمارت بنائیں گے اصولاً درست نہ تھا کیونکہ یہ موحد تھے اور عیسائیوں کا (جو اس وقت کے مسلمان تھے) کہنا کہ ہم ان پر مسجد بنائیں گے کیونکہ وہ اعتقاداً توحید پرست تھے بیشک درست تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسجد ہمیشہ سے مسلمانوں کی ہی عبادت گاہ کا نام رہا ہے اور اس وقت کے مسلمان جو حضرت عیسیٰ ؑ کی امت تھے وہاں مسجد ہی بنانا چاہتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ اس آیت کے تحت بیان فرماتے ہیں:
فقال المسلمون نبنى عليهم مسجداً يصلى فيه الناس لا نهم على ديننا وقال المشركون نبنى بنياناً لانهم على ملتنا۔ (تفسیر خازن ج ۴ ص ۱۶۷، ۱۶۸) ”مسلمانوں نے کہا ہم ان پر مسجد بنائیں گے جہاں لوگ نماز پڑھیں گے کیونکہ یہ لوگ ہمارے دین پر تھے (موحد تھے) اور مشرکین نے کہا ہم ان پر یادگار بنائیں گے یہ ہماری قوم سے تھے۔“
علامہ نسفیؒ مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں:
لنتخذن عليهم على باب الكهف مسجداً يصلى فيه المسلمون۔
(مدارک التنزیل ج ۳ ص ۶)
اسی طرح تفسیر فتح البیان میں ہے:
(لنتخذن عليهم مسجداً) يصلى فيه المسلمون و يعتبرون بحالهم و ذكر اتخاذ المسجد يشعر بان هؤلاء الذين غلبوا على امرهم هم المسلمون۔
(ج ۵ ص ۳۸۸ مطبع بولاق مصر)
”ہم ان پر مسجدیں بنائیں گے جن میں مسلمان نماز پڑھیں گے اور ان کے حالات سے سبق لیں اور مسجد بنانے کا ذکر پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ جو اب ان پر غالب آ چکے تھے وہ مسلمان تھے۔“
اسلام اپنی کامل ترین شکل میں حضور اکرم ﷺ کے عہد میں جلوہ گر ہوا۔ اب مسجد انہی کی عبادت گاہ کا نام ٹھہرا۔ پچھلی امتیں جو گو اپنے اپنے وقت میں اہل مساجد میں سے تھیں۔ اس آخری رسالت پر اگر ایمان نہ لائیں تو اب اہل صومعہ یا اہل بیعہ بن گئیں۔ اب ان کی عبادت گاہوں کا نام مساجد نہ ہوگا۔ مساجد صرف مسلمانوں کی
عبادت گاہوں کو ہی کہا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرق قائم فرما دیا۔ اب جائز نہ رہا کہ اس کے بعد کسی اور قوم کی عبادت گاہ کو مسجد کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بيع وصلوات و مساجد يذكر فيها اسم الله كثيرا . (الحج : ۴۰) ”اور اگر نہ روکتا اللہ بعض لوگوں کو بعض سے تو ڈھا دیے جاتے تکئے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں ۔“
اب مسجدیں مسلمانوں کا شعار بن گئیں، جہاں مسجد نظر آئے یا اذان ہو مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہاں کسی کو قتل نہیں کرنا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسجدیں ہیں ہی مسلمانوں کی ، کسی اور قوم کی عبادت گاہ نہیں بن سکتیں اگر ایسا ہوسکتا تو حضور اکرم ﷺ مسجد دیکھنے سے ہی چڑھائی کو روک دینے کا حکم نہ فرماتے۔
اذا رأيتم مسجدا او سمعتم اذانا فلا تقتلوا احداً .
(سنن ابی داؤد ج ۱ ص ۳۵۵ باب فی دعاء المشرکین کتاب الخراج امام یوسف ص ۲۰۸ بولاق مصر فصل فی قتال اهل الشرک مشکوۃ ص ۳۴۲ باب الکتاب الی الکفار و دعائهم الی الاسلام)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اور اذان مسلمانوں کے شعائر ہیں۔ کوئی غیر مسلم قوم ان کو اپنا نہیں کہہ سکتی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ بھی اس حدیث پر لکھتے ہیں:
”مسجد شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم کسی مسجد کو دیکھو یا کسی مؤذن کو اذان کہتے سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔“
(حجة الله البالغہ مترجم ص ۴۷۸ عربی ۱۹۲ بحث المساجد )
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی شخص کو مسجد میں عام آتے جاتے دیکھو تو اس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اذا رأيتم الرجل يتعاهد المسجد فاشهدوا له بالايمان فان الله يقول انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الآخر .
(رواہ ترمذی وابن ماجہ مشکوٰۃ ص ۶۹ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)
”جب تم کسی شخص کو مسجد میں عام آتا جاتا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔“
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مساجد اسلام کے امتیازی نشان اور مسلمانوں کے شعائر ہیں۔ کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کہلائے تو مسلمان کس طرح وہاں آنے جانے والوں کو مسلمان کہہ سکے گا۔ قادیانیوں کو بھی اگر مسجد بنانے کی اجازت ہو تو اس صورت میں اس طرح کی احادیث کیا معطل ہو کر نہ رہ جائیں گی؟
یہ بات صحیح ہے کہ مسجدیں ملت اسلامیہ کا امتیازی نشان ہیں۔ جب تک کسی کا مسلمان ہونا ثابت نہ ہو اس کا مسجد میں کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔ قادیانی جماعت کے چوہدری ظفر اللہ خان اپنی ایک تحریر میں اقرار کرتے ہیں: ”اگر احمدی مسلمان نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ۔“
(تحدیث نعمت ص ۱۶۲ طبع اوّل)
معلوم ہوا کہ چوہدری صاحب کے نزدیک بھی مسجدیں مسلمانوں کی ہیں اور مسلمانوں کی ہی عبادت گاہیں ہیں۔ غیر مسلموں کو ان سے کوئی واسطہ نہیں۔
مسجد بنانا امام کے ذمہ ہے اسلام میں مسجد بنانا شہر میں مسلمانوں کو یہ سہولت بہم پہنچانا اسلامی سربراہ کے ذمہ ہے۔ امام یہ ذمہ داری ادا نہ کرے یا بیت المال میں اس قدر رقم نہ ہو تو یہ ذمہ داری مسلمانوں پر آئے گی۔ وہ امام
کی طرف سے نیابۃً مسجد بنائیں گے۔
پس جب مسجد بنانا اصولاً امام کے ذمہ ٹھہرا اور وہ غیر مسلموں کو آرڈینینس کے ذریعے اس سے روکے تو غیر مسلم مسجد بنانے کا کسی طرح سے اہل نہ رہا، نہ اس کی بنائی ہوئی مسجد امام کی نیابت میں ہوگی نہ مسجد کہلائے گی فقہ حنفی کی کتاب (درمختار ج ۳ ص ۴۹۳ کتاب الوقف) میں ہے:
"ووقف مسجد للمسلمين فانه يجب ان يتخذ الامام للمسلمين مسجداً من بيت المال."
علامہ شامیؒ اس پر لکھتے ہیں:
او من مالهم وان لم يكن لهم بيت المال. (ردالمختار شامی ص ۴۹۳ ج ۳)
اس اصول کی روشنی میں امام کسی جگہ مسلمانوں کو مسجد بنانے سے روکے اور یہ روکنا کسی ملکی یا دینی مصلحت کے لیے ہو تو انھیں بھی وہاں مسجد بنانے کا حق نہیں رہتا تو غیر مسلم اقوام، صدر کے اس آرڈینینس کے بعد کس طرح حق رکھتی ہیں کہ مسلمانوں کے شعائر کا اس طرح بے جا اور بلا اجازت استعمال کریں۔ کافر تو عبادت کے اہل ہی نہیں۔
علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
ان الکافر لیس باہل للنیة فما یفتقر الیھا لا یصح منه وهذا لان النیة تصیر الفعل منتھضا سبباً للثواب و لا فعل یقع من الکافر. (فتح القدیر) "کافر نیت کا اہل نہیں سو جن امور میں اسے نیت کی ضرورت ہو اس کا اس میں اعتبار نہیں ، یہ نیت ہی ہے جو کسی کام کو ثواب کا موجب بناتی ہے اور ایسا کوئی فعل (جو ثواب کا موجب ہو سکے) کافر سے صادر ہی نہیں ہوتا۔"
اس اصول کی تائید میں مندرجہ ذیل آیات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے:
- ۱...... فمن يعمل من الصالحات وهو مؤمن فلا كفران لسعيه وانا له لكاتبون (الانبياء ۹۴) "پس جو نیک
عمل کرے گا اور وہ ہو مومن، سو اس کی کوشش رد نہ کی جائے گی اور بیشک ہم (اس کے اعمال) لکھتے ہیں:"
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب تک ایمان نہ ہو اچھے سے اچھے اعمال بھی قبولیت نہیں پاتے اور نہ وہ لکھے جاتے ہیں جو عمل ایمان کے بغیر ہوں گے ان کا ہمارے ہاں کھلا انکار ہے گویا وہ وجود ہی میں نہ آئے یہ صرف ایمان ہے جو اعمال صالحہ کو لائق قبولیت بناتا ہے۔
قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ہے:
- ۲...... من عمل صالحاً من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حيوة طيبة ولنجزينهم اجرهم باحسن
ماكانوا يعملون. (النحل ۹۷) "کوئی شخص مرد ہو یا عورت نیک عمل کرے اور وہ ہو مومن پس ہم اسے پاکیزہ زندگی بخشیں گے اور ہم انھیں ان کے اعمال کی بہترین جزا بخشیں گے۔"
اس سے بھی معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل لائق قبول نہیں رہتا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جہاں تک جزا کا تعلق ہے کافر کا کوئی عمل وجود ہی نہیں پاتا۔ یہی حبط اعمال کی حقیقت ہے کہ ان کا قیامت کے دن کوئی وزن نہ ہوگا۔ لانقیم لھم یوم القیمة وزنا (کہف ۱۰۵) معلوم ہوا کافر کی ہر عبادت بے وجود اور اس کی ہر پکار ضائع ہے۔
قرآن کریم میں یہ بھی ہے:
وما دعاء الكافرين الا في ضلال (الرعد ۱۴) ”اور نہیں ہے کافروں کی پکار مگر ضائع ۔“ کافر تو عبادت بلکہ نیت تک کا اہل نہیں ہے۔ جب اس کا کوئی عمل عمل ہی نہیں تو اس کی بنی عبادت گاہ مسجد کیسے بن سکتی ہے؟ مسجد ایمان کے بغیر بنے یہ ناممکن ہے۔ مسجد بنانے کے لیے نیت ضروری ہے اور کافر نیت کا اہل نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الآخر. (التوبہ ۱۸) ”بیشک وہی آباد رکھتے ہیں مسجدیں اللہ کی جو ایمان لائے ہوں اللہ پر اور یوم آخرت پر۔“
یہاں تک یہ معلوم ہوا کہ کافر کو مسجد بنانے کا کوئی حق نہیں اور مسجدیں صرف مسلمانوں کے لیے ہیں۔ اب رہا ان کا مسلمانوں کی مسجد میں آنا جانا تو یہ اس کے بھی مجاز نہیں۔ ان کا یہ تعاہد ان کے مسلمان ہونے کا گمان پیدا کرتا ہے۔ مسلمان مامور ہیں کہ مسجد میں عام آنے والے کو مسلمان سمجھیں جس طرح یہ مسجد بنانے کے لیے اہل نہیں ۔ انھیں مسجدوں میں عام داخلے کی بھی اجازت نہیں۔ حافظ ابوبکر جصاص الرازی لکھتے ہیں:
عمارة المسجد تكون بمعنيين احدهما زيارته والكون فيه والآخر ببنائه و تجديد ما استرم منه فاقتضت الآية منع الكفار من دخول المسجد ومن بناءها وتولى مصالحها والقيام بها لا نتظام اللفظ لامرین. (احکام القرآن ج ۳ ص ۱۰۸) ”مسجد کو آباد کرنا دو طرح سے ہے اس میں آنا جانا اور اس میں رہنا اور دوسرے اسے بنانا اور اس کی مرمت وغیرہ یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ کافروں کو مسجدوں میں داخل ہونے، بنانے ان کے امور کا متولی ہونے اور وہاں ٹھہرنے سے روکا جائے۔ کیونکہ آباد کرنے (عمارت) کا لفظ دونوں باتوں کو شامل ہے۔“
تمام مساجد کا قبلہ مسجد حرام ہے وہاں مشرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ یہ حکم گو خاص ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ فروع اپنی اصل سے کلیتہ خالی بھی نہیں ہوتیں۔
خاص خانہ کعبہ کے متعلق تو لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی بھی تسلیم کرتے ہیں:
”خانہ کعبہ کی تولیت کسی مشرک قوم کے سپرد نہیں ہو سکتی ۔“ (بیان القرآن ص ۵۸۱)
پس اگر اس اصول کو جملہ مساجد عالم میں کارفرما مانا جائے تو اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے اورنگزیب عالمگیر کے استاد شیخ ملا جیون جونپوریؒ نقل کرتے ہیں:
ان المسجد الحرام قبلة جميع المساجد فعامره كعامرها وهذا على القرأة المعروفة. وحينئذ عدينا الحكم الى سائر المساجد لان النص لا يختص بمورده. (تفسیرات احمدیہ ص ۲۹۸ مطبع علیمی دہلی) ”بیشک مسجد حرام دنیا کی تمام مساجد کا قبلہ ہے سو اس کا آباد کرنے والا اسی طرح ہے جس طرح ان دیگر مساجد کو آباد کرنے والا ۔ یہ معنی معروف قرأت پر ہے اور اسی لیے ہم نے مسجد حرام کے اس حکم کو تمام مساجد تک متعدی کیا ہے کیونکہ نص اپنے مورد تک محدود نہیں ہوتی ۔“
علامہ ابو بکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی بھی لکھتے ہیں:
فمنع الله المشركين من دخول المسجد الحرام نصاً و منع من دخوله سائر المساجد تعليلاً بالنجاسة ولوجوب صيانة المسجد عن كل نجس وهذا كله ظاهر لاخفاء فيه. (احکام القرآن ص ۹۰۲ ج ۲) ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے نصاً روکا ہے اور دوسری تمام مساجد میں داخل
ہونے سے اس طرح روکا ہے کہ روکنے کی علت بیان کر دی اور وہ انھیں نجاست سے بچانا ہے کہ مسجد کو ہر ناپاکی سے بچانا واجب ہے اور یہ سب بات ظاہر ہے اس میں کوئی خفا نہیں۔“
اسلامی ملک میں آباد اہل ذمہ مسجد میں داخل ہونا چاہیں تو امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک انھیں مسلمانوں کی اجازت کے بغیر اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم مسلمانوں سے پوچھے بغیر مسجد میں داخل ہو جائے تو حاکم شرع اسے تعزیر (سزا) دے سکتا ہے۔ علامہ محمد بن عبداللہ الزرکشی ۷۹۴ھ لکھتے ہیں:
فلو دخل بغير اذن عزر الا ان يكون جاهلاً بتوقفه على الاذن فيعذر. (اعلام الساجد باحکام المساجدص ۳۴۰، قاہرہ) ”اگر کوئی غیر مسلم بغیر اجازت کے مسجد میں داخل ہو جائے تو اسے تعزیر دی جا سکتی ہے۔ مگر یہ کہ وہ اس سے بے خبر ہو کہ مسجد میں داخل ہونا مسلمانوں کے اذن پر موقوف تھا اس صورت میں اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے۔“
کافر اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دیں اس سے مسلمانوں کا تشخص مجروح ہوتا ہے۔ یمن میں مشرکین کا ایک عبادت خانہ تھا۔ جسے وہ کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔ کعبہ مسلمانوں کی عبادت گاہ تھی اور مشرکین اسی نام سے اپنی عبادت گاہ چلانا چاہتے تھے۔ حضرت جریر حضور ﷺ کے حکم سے ڈیڑھ سو آدمی ساتھ لے کر اس پر حملہ آور ہوئے اور اس کعبہ سے موسوم ہونے والی نئی عبادت گاہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح کر دیا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس ہوئے اور صورتحال کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ اس پر بہت خوش ہوئے اور انھیں دعا دی۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ (۱۸۲ھ) لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی اس کارکردگی کی اطلاع حضور ﷺ کو ان الفاظ میں دی۔
والذي بعثك بالحق ما اتيتك حتى تركنا هامثل الجمل الاجرب قال فبرك النبى ﷺ۔
(كتاب الخراج ص ۲۱۰ فصل في قتال اهل الشرك واهل البغی)
منافقوں کی بنائی ہوئی مسجد ضرار پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو عمل کیا اس کی تشریح اگر حدیث کی روشنی میں کی جائے تو بات نکھر کر سامنے آئے گی کہ کافر گو وہ منافق کے درجے میں ہوں اپنی عبادت گاہ مسجد کے نام سے نہیں بنا سکتے اگر بنائیں تو وہ ان کے ایک محاذ جنگ کے طور پر استعمال ہو گی جس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
اذان کے بارے میں چند گزارشات یہ ہیں
قرآن کریم کی تین آیات میں نماز کے لیے بلاوے کا ذکر ہے:
- ۱...... یاایها الذین امنوا لا تتخذوا الذين اتخذوا دينكم هزواً و لعباً من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم
والكفار اولياء واتقوا الله ان كنتم مؤمنين. واذا ناديتم الى الصلوة اتخذوها هزواً و لعبا. (المائدہ ۵۸)
- ۲...... ومن احسن قولا ممن دعا الى الله وعمل صالحاً وقال اننى من المسلمين. (حم سجدہ ۳۳)
- ۳...... یاایها الذين آمنوا اذا نودي للصلوة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله. (الجمعہ ۵۸)
ان تینوں آیات میں اذان کے بارے میں ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے پہلی اور تیسری آیات میں ابتداء میں یاایها الذین آمنوا کا ذکر ہے دوسری آیت کے آخر میں اذان دینے والے کے مسلمان ہونے کا ذکر
التی من المسلمین کے الفاظ میں مذکور ہے۔
قرآن کریم کی ان آیات سے معلوم ہوا کہ نماز کے لیے اذان دینا مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے۔ قرآن کریم اور حدیث میں کہیں ایک ایسا واقعہ نہیں ملتا جس میں نماز کے لیے اذان کسی غیر مسلم نے دی ہو، پس اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔
نوٹ روایات میں ایک غیر مسلم بچے ابو محذورہؓ کا اذان دینا مروی ہے یہ اذان نماز کے لیے نہ تھی۔ بچے ہنسی مذاق میں کلماتِ اذان نقل کر رہے تھے۔ پھر حضور ﷺ نے جب اس سے اذان کہلوائی تو یہ بھی نماز کے لیے نہ تھی محض تعلیماً تھی اور حضور ﷺ کی توجہ سے ایمان ابو محذورہؓ کے دل میں اتر رہا تھا چنانچہ وہ مسلمان بھی ہو گئے تھے۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو رات کے پچھلے حصے میں اذان کی طرف توجہ رکھتے اگر اذان سن لیتے تو ان پر حملہ نہ کرتے ورنہ غزوہ جاری رکھتے۔ صحیح بخاری میں ہے:
فان سمع اذاناً کف عنہم وان لم یسمع اذاناً غار علیہم.
(صحیح بخاری ج ١ ص ٨٦ باب ما یحقن بالاذان من الدماء)
اس سے پتہ چلا کہ اذان وہاں کے لوگوں کا امتیازی نشان ہے جہاں اذان سنی جائے گی وہیں کے لوگوں کو مسلم سمجھا جائے گا۔ اب اگر غیر مسلم کو بھی اذان دینے کی اجازت ہو تو اذان سنتے ہی جنگ سے رک جانا اور ہتھیار پیچھے کر لینا اس پر عمل کیسے ہو سکے گا۔ قادیانیوں کو اذان کی اجازت دینے سے اس قسم کی احادیث عملاً معطل ہو کر رہ جائیں گی۔
اذان علاماتِ اسلام میں سے ہے۔ علامہ ابن ہمام الحنفی رحمہ اللہ (۸۶۱ھ) لکھتے ہیں:
الآذان من اعلام الدين. (فتح القدیر ص ۲۰۹ ج ١ باب الاذان) ”اذان دین اسلام کی علامات میں سے ہے۔“
علامہ ابن نجیمؒ بھی لکھتے ہیں ”الآذان من اعلام الدین.“ (البحر الرائق ج ١ ص ۲۵۵ باب الاذان)
علامہ شامیؒ بھی اذان کو شعائر اسلام میں سے کہتے ہیں ”الاذان من اعلام الدين“
(رد المحتار ص ٢٨٣ ج ١ باب الاذان)
فقہ حنبلی کی معتبر کتاب المغنی لابن قدامہ (۶۲۰ھ) الحنبلی میں ہے:
ولا یصح الآذان الا من مسلم عاقل ذکر فاما الکافر والمجنون فلا یصح منہما لا نہما لیسا من اہل العبادات. (المغنی مع شرح الکبیر ص ۴۲۹)
فقہ حنفی کی تعلیم بھی یہی ہے کہ کافر اذان نہ دے۔ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
انہ یصح اذان الفاسق وان لم یصل بہ الاعلام ای الاعتماد علی قبول قولہ فی دخول الوقت بخلاف الکافر وغیر العاقل فلا یصح اصلاً.
(رد المحتار ج ١ ص ٢٨٩ باب الاذان)
فاسق کی اذان معتبر ہے اگرچہ اس سے صحیح اطلاع نہ ہو پائے یعنی نماز کا وقت ہو جانے میں اس کے قول پر اعتماد نہ ٹھہرے لیکن کافر کی اذان اور غیر عاقل کی اذان بالکل ہو نہیں پاتی۔“ (یعنی وہ اذان نہیں ہے)
فقہ شافعی میں بھی مسئلہ اسی طرح ہے:
ولا یصح الآذان الا من مسلم عاقل فاما الکافر والمجنون فلا یصح اذانہما لانہما لیسا من اہل العبادات. (المجموع شرح المہذب ج ٣ ص ٩٨) ”مسلم عاقل کے سوا کسی کی اذان معتبر نہیں کافر اور پاگل کی
اذان معتبر نہیں کیونکہ یہ دونوں عبادت کے اہل ہی نہیں۔“
سورۃ الجمعہ کی آیت ٩ یایہا الذین امنوا اذا نودی للصلوٰۃ میں لفظ نودی مجہول کا صیغہ ہے جس کا فاعل مذکور نہیں۔ آیت کا حاصل یہ ہے۔ اے ایمان والو جمعہ کے دن جب بھی نماز کے لیے تمھیں آواز دی جائے تم نماز کے لیے دوڑ کر آؤ۔ پس اگر غیر مسلموں کی بھی اذانیں ہوں اور ان کی بھی مسجدیں ہوں اور مسلمانوں پر اذان سنتے ہی ادھر آنا ضروری ٹھہرے کیونکہ یہاں نودی کا فاعل مذکور نہیں اور اس طرح مسلمانوں کی نمازیں ضائع ہونے کے مواقع عام ہوں تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ غیر مسلموں کو اذان دینے کا اصولاً حق نہ تھا اور اگر مسلمان ان نداؤں پر حاضر نہ ہوں تو اس طرح کیا یہ آیت اپنے عموم میں عملاً معطل ہو کر نہ رہ جائے گی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اذان مسلمانوں کا شعائر ہے اور کسی مذہب کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ورنہ یہ شعائر اسلام نہ رہے گا۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے:
الاذان سنۃ لاداء المکتوبۃ بالجماعۃ عرف ذلک بالسنۃ واجماع الامۃ وانہ من شعائر الاسلام حتیٰ لو امتنع اهل مصر او قریۃ او محلۃ اجبرهم الامام فان لم یفعلوا قاتلهم.
(فتاویٰ قاضی خان بحاشیہ فتاویٰ عالمگیر ج ۱ ص ۶۹)
”اذان فرض نماز باجماعت پڑھنے کے لیے سنت ہے۔ یہ سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے اور یہ بیشک شعائر اسلام میں سے ہے۔ اگر کسی شہر یا قصبے یا محلے کے لوگ اذان کہنا چھوڑ دیں تو امام انھیں مجبور کر کے اذان جاری کرائے گا پھر بھی نہ کریں تو ان سے جہاد کرے گا۔“
فقہاء نے تو اس بات کی بھی اجازت نہیں دی کہ جہاں اذان ہوتی ہو وہاں ذمی لوگ برسرعام ناقوس بجائیں اور مسلمانوں سے ایک طرح کا ٹکراؤ ہو۔ بلکہ انھیں ان کی عبادت گاہوں کے اندر محدود کیا گیا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی اذانوں کے مقابلہ میں غیر مسلم اپنی اذانیں دیں اور مسلمانوں کے لیے التباس پیدا کریں۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمدؒ لکھتے ہیں:
وکذالک ضرب الناقوس لم یمنعوا منہ اذا کانوا یضربونہ فی جوف کنائسهم القدیمۃ فان ارادوا الضرب بها خارجاً فلیس ینبغی ان یترکوا لیفعلوا ذلک لما فیہ من معارضۃ اذان لمسلمین فی الصورۃ.
(سیر کبیر ج ۴ ص ۲۶۲ باب مالا یکون لاہل الذمۃ الخ)
”اور اہل ذمہ کو اگر وہ ناقوس اپنے پرانے عبادت خانوں کے اندر ہی بجائیں اس سے روکا نہ جائے گا اگر وہ باہر ناقوس بجانا چاہیں تو انھیں ایسا کرنے نہ دیا جائیگا کیونکہ اس میں ظاہراً ان کا اذان سے معارضہ ہوگا۔“
اسلام کی امتیازی علامات ایک دو نہیں متعدد ہیں انھیں زمانی، مکانی، علامتی اور مرتبی کئی جہات سے دیکھا جا سکتا ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ محدث دہلوی نے ایک بحث میں انھیں ذکر کیا ہے۔ اذان اور مسجد اس فہرست میں مذکور ہیں تاہم احاطہ ان میں بھی نہیں ہے۔
”شعائر اللہ در عرف دین مکانات وازمنہ و علامات و اوقات عبادت را گویند اما مکانات عبادت پس مثل کعبہ و عرفہ و مزدلفہ و جمار ثلاثہ و صفا و مروہ و منیٰ و جمیع مساجد اند و اما ازمنہ پس مثل رمضان و اشہر حرم و عید الفطر و عید النحر و جمعہ و ایام تشریق اند و اما علامات پس مثل اذان و اقامت و ختنہ و نماز بجماعت و نماز جمعہ و نماز عیدین اند و در ہمہ ایں چیز ہا معنی علامت بودن متحقق است۔
(تفسیر فتح العزیز ص ۵۶۹ مطبوعہ دہلی)
مسجد اور اذان شعائر اسلام میں سے ہیں۔ اس کا مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اقرار کیا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سکھوں کی مختلف حکومتوں کے وقت میں ہم پر اور ہمارے دین پر وہ مصیبتیں آئیں کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اور بلند آواز سے اذان دینا بھی مشکل ہو گیا اور پنجاب میں دین اسلام مر چکا تھا۔ پھر انگریز آئے اور انگریز کیا ہمارے نیک طالع پھر ہماری طرف واپس آئے اور انھوں نے دین اسلام کی حمایت کی...... اور پھر مدت دراز کے بعد پنجاب میں شعائر اسلام دکھائی دیے۔“
(ضرورت الامام ص ۲۳ خزائن ج ۱۳ ص ۴۹۴)
اب اس سے زیادہ مسلمانوں کی مظلومی کیا ہوگی کہ خود دارالاسلام (پاکستان) میں شعائر اسلام خالصاً مسلمانوں کا نشان نہ رہیں اور غیر مسلم گروہ مسلمانوں کے ان شعائر میں شریک رہے۔ غیر مسلم قادیانی مسلمانوں کو کافر بھی کہیں اور ان کے شعائر میں التباس پیدا کریں اور خود انہی شعائر کو اپنائیں اس سے بڑھ کر ان شعائر اسلام کی اور کیا بے حرمتی ہوگی؟ اب جبکہ صدر مملکت نے اس آرڈیننس کے ذریعے مسلمانوں کے ان شعائر کو تحفظ دیا ہے تو ان کا بے جا استعمال کرنے والی غیر مسلم قوم محض اس لیے نالاں ہے کہ مسلمان انھیں اپنے ہاں گھسنے کا موقع کیوں نہیں دیتے۔ مرزا محمود ایک اور بحث میں لکھتے ہیں: ”شعائر اسلام کی ہتک کرنے والا شخص قابل رحم نہیں ہو سکتا۔“
(ملائکۃ القدس ۸۰ تقریر مرزا محمود قادیانی ۲۷ دسمبر ۱۹۲۰ء قادیان)
لازم ہے کہ اسلامی سلطنت میں مسلمان سربراہ شعائر اللہ کی پوری حفاظت کرے۔ شعائر اسلام کی حفاظت امام کے ذمہ ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلم سربراہ کے ذمہ لگایا ہے کہ وہ منکرات کے خلاف آرڈیننس نافذ کرے۔ ایسے ہی یہاں نہی عن المنکر سے ذکر کیا گیا ہے:
الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور.
(الحج ۴۱)
انہی ذمہ داریوں کو شرح مواقف المرصد الرابع المقصد الاول کے تحت ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
ھی خلافۃ الرسول فی اقامۃ الدین و حفظ حوزۃ الملۃ بحیث یجب اتباعہ علی کافۃ الامۃ وبھذا القید الاخیر یخرج من ینصبہ الامام فی ناحیۃ کالقاضی۔ (ص ۷۲۹) ”یہ رسول کریم ﷺ کی نیابت ہے اقامت دین میں حوزہ ملت کی حفاظت میں بایں طور کہ اس کی اتباع ساری امت پر لازم آئے۔ اس قید اخیر سے وہ شخص نکل جاتا ہے جسے امام کسی علاقہ میں قاضی بنا کر بھیجے۔“
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بھی نیابت رسول کی یہی تعریف کی ہے:
ھی الریاسۃ العامۃ فی التصدی لاقامۃ الدین باحیاء العلوم الدینیۃ واقامۃ ارکان الاسلام...... ورفع المظالم والامر بالمعروف والنھی عن المنکر نیابۃ عن النبی ﷺ۔
(ازالۃ الخفاء مقصد الاوّل ص ۲)
”یہ تمام سربراہی ہے اقامت دین کے لیے جو دینی علوم کے احیاء اور ارکان اسلام کے قائم کرنے کے لیے ہو اور رفع مظالم کے لیے اور امر بالمعروف کے لیے اور نہی عن المنکر کے لیے بایں طور کہ اس سے حضور ﷺ کی نیابت کرنا ہو۔“
امام جس طرح ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرے گا دین کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی
اس کے ذمہ ہوگی۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسلام کی ان نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مسیلمہ کذاب پر چڑھائی کی تھی۔ حالانکہ وہ رسول کریم ﷺ کی رسالت کا قائل تھا اور اس کی اذانوں میں حضور ﷺ کی رسالت کا اقرار پایا جاتا تھا۔
امام کے ذمہ حوزہ اسلام کی حفاظت اس طرح ہے کہ شعائر اسلام کے ساتھ تمام افراد اسلام کے دینی تحفظ کی بھی اس میں پوری ذمہ داری ہو۔ ان کے دینی تقاضوں اور دیگر اہل ذمہ کے مذہبی امور میں اگر کہیں تصادم ہو تو اہل ذمہ پر پابندی لازم آئے گی کہ وہ کھلے بندوں اپنے شعائر کا اظہار نہ کریں۔
اہل ذمہ کے مذہبی شعائر پر پابندی اسلامی سلطنت میں ذمی لوگوں کو اپنے مذہبی شعائر اپنی عبادت گاہوں تک محدود رکھنے کا حکم ہے۔ کھلے بندوں وہ ان کا اظہار نہیں کر سکتے۔ یہ وہ امور ہیں جن میں مسلمانوں کے لیے کوئی وجہ التباس نہیں لیکن جو غیر مسلم مسلمانوں کی سی اذانیں دیں اور اس میں ہر لمحہ مسلمانوں کے لیے اشتباہ کا سامان ہو انھیں اس درجہ میں بھی اذان دینے کی اجازت دینا مسلمانوں کی عبادت اور ان کے شعائر کو خطرہ میں ڈالنا ہوگا۔ بغداد یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر عبدالکریم زیدان لکھتے ہیں:
للذميين الحق في اقامة شعائرهم الدينية داخل معابدهم و يمنعون من اظهارها في خارجها في امصار المسلمين لان امصار المسلمين مواضع اعلام الدين واظهار شعائر الاسلام من اقامة الجمع والاعياد واقامة الحدود ونحو ذلك فلا يصح اظهار شعائر تخالفها لما في هذا الاظهار من معنى الاستخفاف بالمسلمين والمعارضة لهم. (احکام الذمیین والمستأمنین فی دارالاسلام ص ۱۹) ”ذمیوں کو اپنی عبادت گاہوں کے اندر اندر اپنے مذہبی شعائر قائم کرنے کا حق ہے۔ باہر مسلمانوں کے علاقوں میں انھیں ان کے اظہار کی اجازت نہیں۔ مسلمانوں کے علاقے دین اسلام کے نشانوں کی جگہیں ہیں اور جمعہ وعیدین اور اقامت حدود وغیرہ شعائر اسلام کے اظہار کے مواضع ہیں۔ سو (اسلامی سلطنت میں) ایسے شعائر کا کھلا اظہار درست نہیں جو اسلامی شعائر کے خلاف ہو کیونکہ مسلمانوں کا استخفاف اور ان سے (ان کے شعائر میں) ٹکراؤ ہوگا۔“
مصالح عامہ کے لیے تعزیر کا اجراء شریعت کا عام ضابطہ تو یہی ہے کہ اسلامی سربراہ انہی کاموں پر تعزیر جاری کر سکتا ہے جو حرام لذاتہ ہوں اور ان کی حرمت منصوص ہو لیکن امام مصالح عامہ کے لیے اگر کسی ایسی چیز پر تعزیر کا حکم دے جس کی حرمت منصوص نہیں تو شریعت میں اس کی بھی اجازت ہے اس سے زیادہ مصلحت عام کیا ہوگی کہ دارالاسلام میں عامتہ المسلمین کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اور انھیں الحاد و ارتداد کے ہر مظنہ التباس سے بچانے کے لیے اسلامی سربراہ آرڈیننس نافذ کرے۔
جناب عبدالقادر عودہ لکھتے ہیں:
الشريعة تجيز استثناء من هذه القاعدة العامة ان يكون التعزير في غير معصية اى فيما لم ينص على تحريمه لذاته اذا اقتضت المصلحة العامة التعزير والافعال والحالات التى تدخل تحت هذا الاستثناء ولا يمكن تعيينها ولا حصرها مقدما لانها ليست محرمة لذاتها وانما تحرم لوصفها فان توفر فيها الوصف فهى محرمة وان تخلف عنها الوصف فهى مباحة والوصف الذى جعل علة للعقاب هو الاضرار بالمصلحة العامة او النظام العام فاذا توفر هذا الوصف في فعل او حالت استحق الجاني العقاب. (التشريع الجنائي الاسلامی ص ۱۴۹۔۱۵۰ مطبوعہ ۱۹۵۹ء) ”شریعت اس عام قاعدے استثناء کی اجازت دیتی
ہے کہ جب مصلحت عامہ کا تقاضا ہو تعزیر ان کاموں پر بھی لگ سکے گی جو معصیت نہیں یعنی ان کے حرام لذاتہ ہونے پر نص وارد نہیں اور وہ افعال اور حالات جو استثناء کے ذیل میں آسکتے ہیں ان کی گنتی اور احاطہ پہلے سے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ حرام بالذات نہیں اپنے وصف سے وہ حرام ہو رہے ہیں۔ ان میں جتنا یہ وصف زیادہ ہوگا اتنی ہی ان کی حرمت ہوگی۔ یہ وصف نہ پایا جائے تو وہ کام مباح ہوں گے جو وصف سزا دینے کی علت ٹھہرایا گیا ہے وہ مصلحت عامہ یا ملک کے نظام عام کو نقصان پہنچانا ہے کسی کام یا حالات میں یہ صورت ہو تو قصور وار سزا کا مستحق ہے۔“
مولانا عبدالحئی لکھنویؒ بھی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:
در رسالہ جامع تعزیرات از بحر الرائق منقول است السياسة فعل ينشا من الحاكم لمصلحة يراها وان لم يرد بذلك دليل جزئی. جامع تعزیرات میں البحرالرائق سے منقول ہے کہ سیاست (سزا دینا) ایک فعل ہے جو حاکم سے صادر ہو ایسی مصلحت کے لیے جس کو وہی جانتا ہو۔ گو اس کے لیے کوئی جزئی وارد نہ ہوئی ہو۔“
(مجموعہ فتاویٰ عبدالحئی جلد ۲ ص ۲۲۷ علی حاشیہ خلاصۃ الفتاویٰ کتاب الحدود)
اور اسی میں یہ ہے:
”سیاست نوع از تعزیر است کہ در عقوبات شدیدہ مثل قتل و حبس ممتد واخراج بلد مستعمل مے شود۔“
(مجموعہ فتاویٰ عبدالحئی علی حاشیہ خلاصۃ الفتاویٰ ج ۲ ص ۲۲۸)
”سیاست ایک طرح کی تعزیر ہے یہ لفظ سخت سزاؤں جیسے قتل لمبی قیدیں اور جلاوطن وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔“
سربراہ سلطنت اسلامی جو ایسا کرنے کا مجاز ہو اس کے لیے ضروری نہیں کہ بطور خلیفہ منتخب ہوا ہو۔ ہر وہ سربراہ جس کو تسلط اور غلبہ حاصل ہو وہ ایسے احکامات جاری کرنے کا مجاز ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں:
”معتبرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کو تسلط حاصل ہو خواہ بادشاہ اسلامی ہو یا صوبیدار وغیرہ۔“
(حاشیۃ غایۃ الاوطار ج ۳ ص ۸۳)
جب یہ معلوم ہو گیا کہ مسلم سربراہ سلطنت بعض ان کاموں سے بھی روک سکتا ہے جو اپنی ذات میں تو ناجائز نہ ہوں لیکن اپنے کسی خاص وصف یا حالت میں مصالح عامہ کے خلاف ہوں اور ان پر تعزیر بھی لگا سکتا ہے تو اب ان چند کاموں کا بھی جائزہ لیں جو اپنی ذات میں نیکی ہیں مگر اپنے وصف میں مقارن بالمعصیت ہو جاتے ہیں کیا ان سے روکا جا سکتا ہے؟
جو نیکی مقارن بالمعصیت ہو اس سے روکنا اس کے لیے مندرجہ ذیل آیات قرآنی اور احادیث مقدسہ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے:
- ۱...... نماز پڑھنا اپنی ذات میں اطاعت ہے لیکن یہ مقارن بالمعصیت ہو (کہ نشے کی حالت میں پڑھی جائے) تو
اس سے روکا جا سکتا ہے۔ لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ماتقولون. (النساء ۴۳) ”اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے اس حالت میں کہ تم نشہ میں ہو تاوقتیکہ تم جان لو کہ تم کیا کر رہے ہو۔“
- ۲...... قرآن پاک کو چھونا نیکی ہے لیکن ناپاکی کی حالت میں اسے چھونے سے روکا جا سکتا ہے۔ لا یمسہ الا
المطھرون (الواقعہ ۷۹) ”نہیں چھوتے اسے مگر پاک۔“
- ۳...... آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کے نام جو تحریر بھیجی اس میں مرقوم تھا:
لا يمس القران الا طاھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بغیر وضو سجدہ کرنے سے منع فرمایا حالانکہ خدا کو
سجدہ کرنا اپنی ذات میں ایک بڑی نیکی تھی۔ عن ابن عمر انہ کان یقول لا یسجد الرجل ولا یقرأ القران الا وھو طاهر قال محمد ولھذا کلہ ناخذ وھو قول أبی حنیفة۔ (مؤطا امام محمد ص ۱۶۳ باب مس القرآن بغیر طھارة) ”حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے کہ آدمی نہ وضو کے بغیر سجدہ کرے نہ بغیر طہارت قرآن پڑھے امام محمدؒ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ہی فتویٰ دیتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہؒ کا فیصلہ ہے۔“
۴......حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: لا صلوٰة بعد صلوٰة العصر حتی تغرب الشمس ولا صلوٰة بعد صلوٰة الفجر حتی تطلع الشمس۔
(صحیح مسلم ص ۲۷۵ ج ۱ باب الاوقات التی نھی عن الصلواة)
۵......مرزا غلام احمد قادیانی سے پوچھا گیا کہ کیا ہم غیر احمدیوں کے ساتھ مل کر تبلیغ اسلام کر سکتے ہیں؟ تبلیغ اسلام بلاشبہ ایک نیکی اور اطاعت ہے مگر اس اشتراک میں چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت نہ آتی تھی مرزا قادیانی نے اس کی اجازت نہ دی۔
(دیکھئے ذکر حبیب ص ۱۴۷ مؤلفہ مفتی محمد صادق قادیانی)
اس میں شبہ نہیں کہ نفل نماز اپنی جگہ ایک بڑی نیکی ہے لیکن بعض دوسری مصالح کے پیش نظر اس سے ان خاص حالات میں روکا گیا۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا فی نفسہ کوئی عیب بھی نہ تھا لیکن کسی درجہ میں سورج پرست قوموں کے قرب کا سبب ہو سکتا تھا اس لیے یہ حالت جو کسی معصیت کا سبب ہو سکتی تھی۔ اس میں نماز سے بھی روک دیا گیا جو اپنی ذات میں بڑی نیکی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو نیکی مقارن بالمعصیت ہو وہ اس حالت کی وجہ سے برائی قرار دی جا سکتی ہے اور مصالح عامہ کا تقاضا ہو تو اس پر تعزیر بھی جاری کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح غیر مسلموں کا اشھد ان لا الہ الا اللہ کہنا یا اشھد ان محمداً رسول اللہ کہنا یا اذان دینا اگر مسلمانوں میں التباس پیدا کرنے کا موجب ہو تو قران بالمعصیت کے باعث یہ کلمات کہنا بھی نیکی نہ رہا۔ اس صورت میں اسلامی مملکت کے سربراہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے جرم قرار دے اور مصالح عامہ کے لیے اس پر تعزیر بھی جاری کرے۔
۵......قرآن پھیلانا اور اس کی دعوت کافروں تک پہنچانا اپنی ذات میں ایک بڑی نیکی ہے: واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ۔ (الانعام ۱۹) لیکن ایسے حالات ہوں کہ غیر مسلم اقوام کی طرف سے مصحف پاک کی توہین کا مظنہ ہو تو قرآن ان کے ہاں لے کر جانا ممنوع ٹھہرا۔ حالانکہ ایسے حالات میں بھی صحابہ تعلیم قرآن جاری رکھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں:۔ ان رسول اللہ ﷺ نھی ان یسافر بالقرآن الی ارض العدو۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۲۰ باب کراھة السفر بالمصاحف الی الارض العدو)
۶......کعبہ شریف میں حطیم پر چھت نہیں حالانکہ وہ کعبہ کا جزو ہے بناء ابراھیم میں یہ جگہ بھی چھت میں تھی حضورﷺ کی پسند تھی کہ حطیم بھی کسی طرح چھت کے نیچے آ جائے۔ تعمیر کعبہ سے زیادہ اور نیکی کیا ہو سکتی تھی۔ لیکن محض اس لیے کہ اسلام میں نئے نئے آئے ہوئے لوگ اسے توہین کعبہ نہ سمجھ لیں اور اسلام سے برگشتہ نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے کعبہ کی تعمیر جدید کا اقدام نہ فرمایا۔ کیونکہ یہ نیکی اس صورت میں مقارن بالمعصیت ہو سکتی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنی خواہش کا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اظہار فرمایا اور تعمیر کعبہ کو بناء ابراہیمی پر نہ لوٹانے کی یہی وجہ بیان فرمائی۔
لولا حداثة عهد قومک بالكفر لنقضت الكعبة ولجعلتها على اساس ابراهیم.
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۴۲۹ باب نقض الكعبة وبنائها)
”اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت گرا کر اسے اساس ابراہیمی پر لوٹا دیتا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کے مقارن بالمعصیت ہونے کا اندیشہ بھی ہو تو اسے عمل میں لانے کا جواز نہیں رہتا۔ اس سے لوگوں کو منع کرنا ہے۔
- ۷.......حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کے دین اور اسلامی تہذیب کو غیر اسلامی اثرات سے بچانے کے لیے اہل ذمہ پر
جو شرطیں عائد کیں ان میں یہ شرط بھی تھی:
ولا يعلم اولادنا القرآن. (احکام اہل ذمہ لابن القیم ج ۲ ص ۶۶۱، کنز العمال ج ۴ ص ۵۰۳ نمبر ۱۱۴۹۳ شروط النصاریٰ)
تعلیم قرآن نیکی ہے اس کے نیکی ہونے میں شبہ نہیں مگر اس پہلو سے کہ ذمی بچے اسے سیکھ کر مسلمان بچوں سے بحث ومباحثہ کرتے پھریں گے یا ذمیوں کے بچے کہیں اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ انھیں قرآن سیکھنے سے منع کر دیا گیا۔
علامہ ابن حزم اس شرط کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں: ولا يعلم اولادهم القرآن. (المحلى ج ۷ ص ۲۵۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نیکی مقارن بالمعصیت ہونے کا احتمال بھی رکھتی ہو اس سے منع کرنے میں کوئی حرج نہیں اور امام اگر اس روکنے میں مصلحت عامہ سمجھے تو اس کے مرتکب پر تعزیر بھی جاری کر سکتا ہے۔
شعائر مرتبی کا تحفظ جس طرح شعائر مکانی (جیسے کعبہ اور مسجدیں) شعائر زمانی (جیسے رمضان اور جمعہ) شعائر عملی (جیسے نماز کے لیے اذان دینا) کی تعظیم و توقیر مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں کے شعائر مرتبی کا تحفظ و اکرام بھی مسلمانوں پر واجب ہے۔ مسلمانوں کے نام جو ان کے دین کا پتہ دیں اور ان کے اعتقادی اور انتظامی مدارج و مراتب (جیسے صحابہ اور ام المؤمنین اور اہل بیت جیسے القاب اور امیر المؤمنین جیسے مراتب) جو ان کی تاریخ اور اقتدار کے امتیازی نشان ہوں ان سب کا اکرام و احترام مسلمانوں کے ذمہ ہے اور مسلم سربراہ کے ذمہ ہے کہ وہ ان شعائر مرتبی کو غیر مسلم اقوام میں بے آبرو نہ ہونے دے۔ حضرت عمرؓ نے ماتحت غیر مسلم لوگوں سے جو عہد لیا اس میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔
ولا يتكنوا بكناهم (المحلى ج ۷ ص ۲۵۷) مسلمانوں کی کنیتیں اختیار نہ کریں گے۔
کنیت کا لفظ کنایہ سے ہے اور اس سے نسبتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس اصولی شرط کو اگر کچھ وسعت نظری سے دیکھیں تو اس سے مسلمانوں کے تمام شعائر مرتبی کا تحفظ لازم آتا ہے اور اسلامی سربراہ کے ذمہ ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے آرڈی نینس جاری کرے۔ اسی طرح جو نام مختص بالمسلمین ہیں غیر مسلموں کو وہ نام رکھنے کی اجازت نہیں ۔ فھذا لا يمكنون من التسمی به. (الطحطاوی ج ۲ ص ۳۷۳ فصل فی الجزیة)
قرآن کریم میں ام المؤمنین کا اعزاز صرف حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو دیا گیا ہے۔ دنیا کی کسی اور عورت کو نہیں۔ حقیقت میں حضور ﷺ کا اعزاز ہے کہ ان کی ازواج امہات المؤمنین سمجھی جائیں۔ یہ اعزاز دنیا میں کسی اور شخص کا نہیں اور اس کی نسبت سے اس کی بیوی کو ام المؤمنین کہا جاسکے۔ مسلم عوام کسی دوسری محترمہ کو مادر ملت کہہ دیں تو ان کا یہ احترام کسی کی بیوی ہونے کے پہلو سے نہیں۔ بیوی ہونے کے پہلو سے یہ اعزاز صرف حضور نبی اکرم ﷺ کا ہے کہ ان کی ازواج کو امہات المؤمنین کہا جائے۔
قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو مرزا کی نبوت کی نسبت سے ام المومنین کہتے ہیں اور یہ اسلام کے شعائر مرتبی کی ایسی بے حرمتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اس کی نظیر نہ ملے گی۔ نبوت کی نسبت سے حضورﷺ کی ازواج کے سوا آج تک کسی کو ام المؤمنین نہیں کہا گیا اور نہ اسے کبھی کسی نے گوارا کیا ہے۔ قادیانیوں نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو نبوت کی نسبت سے ہی ام المومنین کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروؤں میں مرزا قادیانی کی نبوت کے بارے میں ۱۹۳۷ء میں راولپنڈی میں ایک مباحثہ ہوا تھا جسے قادیان سے مباحثہ راولپنڈی کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں قادیانی گروہ نے مرزا قادیانی کے لاہوری پیروؤں کو کہا تھا۔
”فرمائیے آپ لوگ اب بھی حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو ام المؤمنین کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو آپ نے عقیدہ میں تبدیلی کر لی اگر کہتے ہیں تو حضرت اقدس کے اس ارشاد کے ماتحت کہ قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دیا گیا ہے آپ کے لیے ضروری ہوگا کہ اب حضرت اقدس کو نبی تسلیم کر لیں۔“
(مباحثہ راولپنڈی ص ۱۶۳)
اسی طرح صحابہ کا لفظ بھی جب مطلقاً بولا جائے تو یہ اپنے اندر نبوت کی نسبت رکھتا ہے۔ اور اس اعتبار سے یہ لفظ صرف حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کا اعزاز ہے۔ نسبت نبوت سے کسی شخص کو صحابی کہنا حضور ﷺ کے صحابہؓ کے سوا کسی اور کے لیے ثابت نہیں۔ قادیانی بھی اسی نسبت سے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کے لیے صحابی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ حکیم نور دین یا مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھیوں کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے یہ تابعی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ حضور ﷺ کے صحابہؓ اور تابعینؒ سے صریح معارضہ نہیں؟
اسی طرح رضی اللہ عنہ کا اعزاز بطور طبقہ صرف صحابہ کرامؓ کی ہی شان ہے امت کے کسی بڑے سے بزرگ کے بطور طبقہ کہیں رضی اللہ عنہ نہیں کہا گیا۔ بعض بزرگوں کے لیے جو کہیں کہیں رضی اللہ عنہ کے الفاظ ملتے ہیں وہ ان پر بطور طبقہ نہیں بولے گئے ان کے شخصی مقام و احترام کے باعث ایک کلمہ دعا ہے لیکن مرزا قادیانی کے پیرو مرزا قادیانی کے ساتھیوں کے لیے مرزا قادیانی کی نبوت کی نسبت سے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں مسلمانوں کے ہاں رضی اللہ عنہ کا یہ اعزاز حضور ﷺ کی نسبت سے بطور طبقہ آپ ﷺ کے صحابہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی درحقیقت حضور ﷺ کا اعزاز ہے کہ آپ ﷺ کی صحبت پانے والا ہر مومن (گو اس نے ایک لمحہ ایمان کے ساتھ آپ ﷺ کا دیدار کیا ہو) رضی اللہ عنہ کی شان پاسکے۔
اسی طرح امیر المؤمنین یا امام المسلمین ایسے انتظامی مراتب ہیں کہ سوائے مسلمان کے انھیں کوئی نہیں پا سکتا۔ کسی غیر مسلم سربراہ پر ان مراتب کا اطلاق قرآنی آیت لن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا (النساء ۱۴۱) کے خلاف ہے۔
فقہاء کرام نے ان ناموں کی بھی نشاندہی کر دی ہے جو مسلمانوں کے شعائر ہیں علامہ طحطاویؒ درمختار کی شرح میں لکھتے ہیں:
فی جواز تسمیتھم باسماء المسلمین تفصیل ذکرہ ابن القیم فقسم یختص بالمسلمین...... فالاول کمحمد واحمد وابی بکر وعمر و عثمان وعلی و طلحۃ والزبیر فھذا لا یمکنون من التسمی بہ (طحطاوی ج ۲ ص ۳۷۳ فصل فی الجزیہ) ”اہل ذمہ مسلمانوں کے سے نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں اس کی تفصیل
ہے جو ابن قیم نے ذکر کی ہے۔ کچھ وہ نام ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہیں جیسے محمد، احمد، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر یہ نام رکھنے کی انھیں (غیر مسلموں کو ) اجازت نہ دی جاسکے گی۔“
اسلام ایک بسیط حقیقت ہے کسی چیز کے بسیط ہونے سے مراد اس کا ناقابل تقسیم ہونا ہے۔ لفظ بساطت ترکیب کے مقابلہ میں ہے۔ اسلام ایک بسیط حقیقت ہے یہ ہوگا تو پورا ہوگا، نہ ہوگا تو کچھ بھی نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص پورا اور کوئی آدھا مسلمان ہو۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام ناقابل تقسیم ہے۔ اسلام کے مقابلے میں کفر ہے۔ یہ درست نہیں کہ کوئی شخص آدھا مسلمان ہو اور آدھا کافر۔ اسلام کسی پہلو سے قابل تقسیم نہیں۔ ایک شخص پورا مسلمان ہونے کے باوجود نیک یا گنہگار ہوسکتا ہے لیکن اس کے پورا مسلمان ہونے میں کوئی شک نہ کیا جاسکے گا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
- ۱....... هوالذى خلقكم فمنكم کافر و منكم مؤمن۔ (التغابن ۲) ”وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا سو تم میں
کافر ہیں تم میں سے مؤمن ہیں۔“
اس آیت کی رو سے انسان یا مؤمن ہوں گے یا کافر۔ دونوں کے بین بین کوئی تیسری قسم نہیں۔ منافق کافروں کے ہی ایک طبقے کا نام ہے اہل کتاب بھی کافروں کی ہی ایک قسم ہیں۔ مرتد اور زندیق بھی کفار ہی ہیں۔ کفر کسی رنگ اور پیرایہ میں ہو کفر ہی ہے اور تمام اہل کفر درحقیقت ایک ہی ملت ہیں۔ الکفر ملة واحدة مشہور مثل ہے۔
- ۲....... يايها الذين امنوا ادخلوا فى السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطن انه لكم عدو مبین0 (البقرہ ۲۰۸)
”اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔“
- ۳....... اگر کوئی شخص بعض ایمانیات کا اقرار کرے اور بعض کا انکار تو سوال یہ ہے کہ کیا اس کے اس کچھ ایمان کا
اعتبار ہوگا؟ کیا یہ نہیں کہ اس کے اس کچھ کفر کی وجہ سے اس کے کچھ ایمان کا کچھ لحاظ کیا جائے یا اسے پورا کافر ہی سمجھا جائے گا۔ اور اس کے بعض ایمانیات کا ہرگز کوئی اعتبار نہ ہوگا؟
اس سلسلہ میں اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ويقولون نؤمن ببعض و نكفر ببعض ويريدون ان يتخذوا بين ذلك سبيلا اولئك هم الكافرون حقا و اعتدنا للكافرين عذابا مهينا0 (النساء ۱۵۰) ”اور کہتے ہیں ہم بعض چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایک بیچ کی راہ نکالیں۔ ایسے لوگ یقیناً ”کافر ہیں ۔“
معلوم ہوا کہ اسلام میں کچھ مؤمن ہونا اور کچھ کافر ہونا اس کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام میں اس بیچ کی راہ کی کوئی قیمت نہیں ایسے لوگ پورے کے پورے کافر ہوں گے۔ یہ نہیں کہ آدھے مسلمان ہوں اور آدھے کافر، اسلام واقعی ایک بسیط حقیقت ہے جو قابل تقسیم نہیں۔
- ۴...... مشرکین مکہ اللہ رب العزت کو مان کر اس کے ماتحت دیگر معبودوں پر ایمان رکھتے تھے۔ مسلمان صرف اللہ
رب العزت کو مانتے تھے اور دیگر معبودوں کی خدائی کے منکر تھے۔ دونوں قوموں میں اللہ رب العزت نقطہ اشتراک تھا۔ مگر ان مشرکانہ اسلام میں کچھ اعتبار نہ کیا گیا اور حضور اکرم ﷺ نے بامر الٰہی انھیں صاف کہہ دیا۔
لا اعبد ماتعبدون (الکافرون ۔) ”میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔“ کیا
حضور اکرم ﷺ اس معبود حقیقی کی عبادت نہیں کرتے تھے جسے وہ مشرکین بھی بڑا خدا مانتے تھے؟ حضور ﷺ کا معبود تو بیشک وہ ہی تھا لیکن ان کافروں کا معبود وہ نہ رہا۔ جب انھوں نے اس کے ساتھ اور کو بھی خدائی میں شریک کر لیا۔ اب ان کفریات کے ہوتے ہوئے ان کے اقرار سے خداوند اکبر کا بھی اعتبار نہ رہا۔ اور وہ لوگ پورے کے پورے کافر قرار پائے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ایک بسیط حقیقت ہے اور دین میں مسلمانوں اور کافروں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک نہیں۔ اس اساسی اشتراک کے باوجود انھیں اپنے سے کلی علیحدہ کر دیا گیا اور لکم دینکم ولی دین (تمھارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین) کہہ کر تعبدی امور میں سے ہر قسم کی علیحدگی اختیار کر لی گئی۔
قرآن کریم کی یہ آیات تعبدی امور میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہر نقطہ اشتراک کا انکار کرتی ہیں مگر قادیانی لوگ اپنے لیے ایک نیا دائرہ کھینچنا چاہتے ہیں کہ وہ بعض ضروریات دین کے انکار کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ ایک دائرہ اسلام میں شریک رہیں۔ اپنے سوا باقی کل مسلمانوں کو کافر سمجھنے اور کہنے کے باوجود مسلمان انھیں کسی نہ کسی پہلو سے دائرہ اسلام میں اپنے ساتھ شریک رکھیں۔
قادیانی اپنے اس مفروضہ کے لیے درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں۔
- ۱...... قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم. (الحجرات
۱۴) ”اعراب کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے آپ ان سے کہیں تم ایمان نہیں لائے البتہ تم یہ کہو ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی اور ایمان ابھی تک تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“
- ۲...... قل یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ان لانعبد الا الله. (ال عمران ۶۴) ”آپ
کہیں اے اہل کتاب آؤ ایک ایسے کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔“
یہ آیات ان آیات کے خلاف ہیں جو اسلام کو ایک بسیط حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
پہلی آیت میں اعراب سے مراد جنگلوں میں رہنے والے وہ بدو ہیں جو تہذیب و تمدن سے دور اور ظاہری علم سے بے بہرہ تھے۔ یہ قحط زدہ ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں امداد کے لیے حاضر ہوئے اور اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا۔ اور اپنے دعویٰ ایمان کو سچا ثابت کرنے کے لیے کچھ اعمال بھی مسلمانوں جیسے کرنے لگے تھے۔
یہ اس درجے کے نو مسلم تھے کہ ظاہری طور پر انقیاد کر کے ایمان کی سرحد پر آ چکے تھے لیکن ایمان کامل ابھی ان کے دل میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس لیے اعمال میں وہ لوگ صادق العمل تھے۔
قرآن کریم نے شہادت دی ہے کہ وہ ایمان کی سرحد پر آ چکے تھے۔ حضور ﷺ کی مخالفت کے ارادے ان کے دلوں میں نہ تھے اور امید کی جاسکتی تھی کہ آئندہ ایمان کامل ان کے دلوں میں آ جگہ لے گا۔ صرف اتنا کہا گیا کہ ابھی تک ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ ان کے ایمان کی سرحد پر آنے کی شہادت اسی سورت کی آیت میں ہے:
یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنوا علی اسلامکم بل الله یمن علیکم ان هداکم للایمان. (الحجرات ۱۷) ان هداکم للایمان کی روشنی میں لما یدخل الایمان کا مطلب ان سے ایمان کامل کی نفی ہوگی۔ ایمان مطلق کی نہیں۔ اس تفسیر کی روشنی میں ان لوگوں کو کافر نہ کہا جائے گا۔ نفاق کا لفظ کہیں ملے تو اس سے مراد نفاق عملی ہوگا جو ابتدائی درجے کے مسلمان میں بھی ہو سکتا ہے۔ پس اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ کافر
اور بے ایمان مسلمانوں کے ساتھ دائرہ اسلام میں جمع ہو سکتے ہیں۔ صحیح نہیں۔ آیت کی ایک تفسیر موجود ہے جو اسلام کے ایک بسیط ہونے سے معارض نہیں اس کے لیے درج ذیل تفاسیر سے مزید راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے:
جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے کلیۃ الشریعہ کے استاذ محمد علی الصابونی ولما يدخل الايمان (ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا) کے لفظ لمّا (ابھی تک) کے بارے میں لکھتے ہیں:
ولفظة لما تفيد التوقع كانه يقول يحصل لكم الايمان عند اطلاعكم على محاسن الاسلام ونذو قكم حلاوة الايمان قال ابن كثير هؤلاء الاعراب المذكورون فى هذه الآية ليسوا منافقين وانما هم مسلمون لم يستحكم الايمان فى قلوبهم فادعو الانفسهم مقاماً على مما وصلوا اليه فاء بوافى ذلك.
(صفوۃ التفاسیر حصہ ۱۶ ج ۳ ص ۲۳۷ طبع پشاور)
”اور لفظ لمّا امید کا پتہ دیتا ہے۔ گویا کہا گیا ہے کہ جب تم محاسن اسلام پر اطلاع پاؤ گے اور ہم تمھیں ایمان کی حلاوت چکھائیں گے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ اعراب جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ منافقین نہ تھے۔ یہ وہ مسلمان تھے کہ اسلام نے ابھی ان کے دلوں میں جڑ نہ پکڑی تھی سو انھوں نے اپنے لیے اس سے اونچے درجے کا دعویٰ کیا جس مقام پر کہ وہ تھے سو ان کی تادیب کی گئی۔“
جامعہ ازہر مصر کے کلیہ اصول الدین استاذ شیخ محمد محمود الحجازی لکھتے ہیں:
قالت الاعراب امنا بالله ورسوله وهم فى الواقع لم يومنوا ايماناً كاملاً خالصاً لوجه الله...... ثم عاد القرآن فجبر خاطر هم فى نفى عنهم الايمان مع ترتب حصوله لهم وقال لم يدخل الايمان قلوبكم اى الآن لم يدخل ولكنه سيد خل فيها وهذا تشجيع لهم على العمل والدخول حقاً فى صفوف المؤمنين.
(التفسیر الواضح ج ۲۶ ص ۶۷)
”یہ جنگلی عرب کہتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور واقع میں وہ پورا ایمان جو خالصاً اللہ کے لیے ہو وہ نہیں لائے..... قرآن پھر اس مضمون کی طرف لوٹا اور ان کے دلوں پر ضرب لگائی اور ان سے ایمان کی نفی اس طرح کی کہ اس کے حاصل ہونے کی امید ساتھ ساتھ بندھی رہے۔ اور کہا کہ ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں نہیں اترا یعنی اب تک لیکن عنقریب یہ (تمھارے دلوں میں) اتر جائے گا۔“
یہ پیرایہ بیان انھیں عمل پر ابھارنے کے لیے ہے اور مومنین کی صفوں میں حقیقی طور پر داخل ہونے کے لیے ہے۔ شیخ الاسلام پاکستان علامہ شبیر احمد عثمانی اس آیت پر لکھتے ہیں:
ایمان و یقین جب پوری طرح دل میں راسخ ہو جائے اور جڑ پکڑ لے اس وقت غیبت اور عیب جوئی وغیرہ کی خصلتیں آدمی سے دور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور آزار پہنچانے میں مبتلا ہو سمجھ لو کہ ابھی تک ایمان اس کے دل میں پوری طرح پیوست نہیں ہوا۔
اور آگے ھداکم للایمان پر لکھتے ہیں:
اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ایمان کی طرف آنے کا رستہ دیا اور دولت اسلام سے سرفراز کیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروؤں میں محمد علی لاہوری بھی لکھتے ہیں:
”مسلم تو ہر وہ شخص ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا خواہ ابھی اسلام کے احکام پر پورے طور پر عامل ہے یا نہیں اور خواہ دل میں وساوس بھی پیدا ہوتے ہیں...... یہاں ایمان کامل یعنی اس کے تینوں پہلوؤں کا ذکر ہے۔“
(بیان القرآن محمد علی لاہوری ص ۱۲۹۰)
محمد علی لاہوری نے یہاں ان نومسلموں میں اسلام کے ساتھ کمی عمل یا وساوس کو تو جمع کیا ہے لیکن یہ انھوں نے بھی نہیں کہا کہ اسلام کے ساتھ صریح کفر جمع ہو سکتے ہیں۔
پھر یہ بات ایک وقتی بات تھی اور محض اتّی تھی۔ اس لیے ان کا انقیاد ظاہری میں آنا لفظ اسلمنا سے بیان ہوا جو جملہ فعلیہ ہے جملہ اسمیہ نہیں جملہ اسمیہ دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں بتلایا گیا کہ پوری طرح مسلمان ہونے سے پہلے وہ اسلمنا تو کہہ سکتے ہیں کہ وقتی طور پر انھوں نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ جملہ اسمیہ میں نحن مسلمون نہیں کہہ سکتے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایک جزئیہ ایسا نہیں ملے گا جس میں کسی فرد یا طبقے کو اس کے کھلے کفری اعتقادات کے باوجود ظاہری اقرار شہادتین (اظہار کلمہ توحید و رسالت) پر مسلم کہا گیا ہو۔ سو قادیانی حضرات کو اس آیت کی راہ سے داخل دائرہ اسلام ہونا قطعاً درست نہیں۔
اس دوسری آیت کو لیجئے جسے قادیانی مسلمانوں کے ساتھ تعبدی امور میں شامل ہونے کے لیے دلیل اشتراک بتاتے ہیں۔ تعالو الی کلمة سواء بیننا و بینکم ، آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں برابر ہے کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔
- ١...... وہ کلمہ سواء کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے کیا اس وقت کے عیسائی اسے مانتے تھے یا وہ حضرت
مسیح کو ابن اللہ کہہ کر تین خداؤں کی خداوندی کے قائل تھے؟
- ٢...... اگر وہ اس وقت توحید خالص کے مدعی نہ تھے تو قرآن نے اسے کلمہ سواء (مشترکہ بات) کیسے کہہ دیا۔
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے قرآن پاک کی آیاتِ صریحہ (المائدہ ۱۸) (آیت: ۷۳۔ ۱۱۶، التوبہ ۳۰۔ ۳۱) اس کی تردید کر رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کی خدائی میں شریک کرتے تھے۔
جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے۔ ایک خدا کی عبادت کو ان قوموں کے انبیاء کی اصل دعوت کے لحاظ سے کلمہ سواء (مشترکہ بات) کہا گیا ہے اور دعوت دی گئی ہے کہ اے اہل کتاب اس بات کی طرف آؤ جو تمام انبیاء علیہم السلام کی مشترک دعوت رہی ہے کہ ہم ایک خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں۔ سو یہ دعوت اپنی اصل کے لحاظ سے اور اہل کتاب کے اس وقت کے حالات کے پیش نظر دعوت اسلام ہے۔ مشرک عیسائیوں سے دعوتِ اشتراک نہیں۔
آنحضرت ﷺ نے روم کے عیسائی بادشاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دے کے جو والا نامہ ارسال فرمایا اس میں آپ نے اَسْلِمْ تَسْلَمْ یؤتک اللہ اجرک مرتین کے ساتھ یہ آیت بھی لکھوائی۔
تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم ۔ (صحیح البخاری ج ۱ ص ۵ باب کیف کان بدء الوحی)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس آیت کو دعوت اسلام کے طور پر پیش کیا ہے دعوتِ اشتراک کے طور پر نہیں۔
تفسیر سراج منیر میں ہے۔
بان دعاهم الى ماوافق عليه عيسى علیہ السلام والانجيل وسائر الانبياء والکتب. (ج ۱ ص ۲۱۹)
شرک اور کفر اہل کتاب کے اصل دین میں نہ تھا سو اس آیت میں انھیں اپنے اصل دین کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور یہ حقیقت میں دعوتِ اسلام ہے ان کے اختراعی دین میں اشتراک نہیں۔
تفسیر المراغی میں ہے:
اما اهل الکتاب فالشرک والکفر قد عرض للكثير منهم عروضاً وليس من اصل دينهم.
(ج ۶ ص ۱۴۶) اسلام خود ایک کامل دین ہے۔ اس میں تعبدی امور میں کمی اور دین سے سمجھوتہ کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔ دوسرے ادیان کو دعوت اشتراک دینے کی ابتداء مسیلمہ کذاب سے ہوئی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے نہیں۔ مسیلمہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں دعوت اشتراک ان لفظوں میں بھیجی تھی۔
"من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله امابعد فان الارض نصفها لى ونصفهالك۔"
(صفوۃ التفاسیر ج ۱ ص ۳۵۰ حاشیہ)
"یہ خط مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام ہے۔ زمین آدھی میرے نام رہے اور آدھی آپ کے نام۔"
آنحضرت ﷺ نے اس دعوت اشتراک کو اور اس کے دعوے رسالت کو دونوں کو رد فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی نئے مدعی نبوت کے پیروؤں کے ساتھ کسی بات میں اشتراک نہیں کر سکتے۔
- ۳۔ افراد امت کا تحفظ شعائر اسلام کی حفاظت اور ان کا ہر آمیزش سے تحفظ یہ عظمت شعائر کے پیش نظر تھا
لیکن اسلام میں جملہ افراد امت کی ہر دنیوی اور دینی فتنے سے حفاظت یہ بھی حکومت اسلامی کے ذمہ ہے کسی غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی اگر افراد امت محمدیہ ﷺ کے لیے کسی فتنے کا دروازہ کھولتی ہو تو مسلم سربراہ پر فرض عائد ہو جاتا ہے کہ وہ ایسا آرڈی نینس نافذ کرے جس سے اسباب کی حد تک جملہ افراد امت کا پورا تحفظ ہو جائے۔
- ۴۔ حوزہ امت کا تحفظ امت محمدیہ کی سالمیت کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے جس طرح مملکت اسلامی کی
جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ اس امت کی نظریاتی سرحدوں پر بھی پوری فکری کاوش سے پہرہ دیا جائے۔ قادیانی لٹریچر کی اشاعت اگر عام رہے اور ان کے مبلغین کھلے بندوں مسلمانوں میں اپنے نظریات کی تبلیغ کرتے رہیں تو اس حوزہ امت کا کسی طرح تحفظ نہ رہ سکے گا۔ اور حکومت کے لیے نت نئے مسائل اٹھتے رہیں گے۔ سو ضروری ہے کہ قادیانیوں کی تبلیغ ان کے اپنے محدود حلقوں میں محدود کی جائے۔ اور انھیں کھلے طور پر اپنے خیالات پھیلانے کی اجازت نہ ہو۔ ان کے لٹریچر کی کھلی اشاعت خلاف قانون قرار دیجائے تاکہ امت کی نظریاتی سرحدیں پوری طرح محفوظ رہ سکیں۔
قادیانی لٹریچر کس طرح کی الحادی اور غیر اخلاقی فضا پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے ان کے لٹریچر کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ان آیات اور احادیث کی ایک تلخیص بطور مقدمہ پیش کی جاتی ہے۔ جس میں اسلامی حکومت کی اس ذمہ داری کا بیان ہے کہ جہاں تک ہو سکے وہ منکرات کو روکنے میں زیادہ سے زیادہ کوشاں رہے منکرات کو روکنے اور ختم کرنے کے بغیر اسلامی مملکت میں معروفات کا قیام بہت مشکل ہے۔
اسلامی سلطنت میں قادیانی تبلیغ پر پابندی
قادیانی تبلیغ کے نام پر کس طرح کا لٹریچر پیش کرتے ہیں اور عامۃ المسلمین کے ذہنوں پر اس کا کس قدر مہلک اور مخرب اخلاق اثر پڑ سکتا ہے۔ اسے پیش کرنے سے پہلے ایک اصولی بات گزارش ہے۔
اسلامی سلطنت کے سربراہ کا فرض ہے کہ ان تمام منکرات کا سدباب کرے جس سے مسلمانوں کے عقائد اور اخلاق پر برا اثر پڑے۔ اس باب میں درج ذیل آیات و احادیث سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
- ۱...... اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ۔
(الحج ۴۱)
- ۲...... يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ.
(تحریم ۶)
- ۳...... عن ابن عمر عن النبی ﷺ انه قال الا کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیته فالامیر الذی علی
النَّاسِ رَاعٍ وَّهُوَ مَسئولٌ عَنْ رَعِيَّتِهٖ.
(صحیح مسلم ج۲ ص ۱۲۲ باب فضیلۃ الامیر عادل)
- ۴...... عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ قَالَ مَنْ رَّاٰى مِنْكُمْ مُنْكَراً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ
يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ الْاِيْمَانِ.
(مشکوٰۃ ص ۴۳۶ باب الامر بالمعروف بحوالہ مسلم)
ان آیات اور احادیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان اقتدار پر آنے کے بعد منکرات کو روکتے ہیں اور ہر سربراہ کا فرض ہے کہ اپنے عیال کو کفر اور بدی کی آگ سے بچانے کی پوری کوشش کرے۔ عامتہ المسلمین اسلامی سربراہ کے عیال اور رعایا ہیں۔
پاکستان ایک اسلامی سلطنت ہے۔ اس میں عامتہ المسلمین کی دینی اور اخلاقی قدروں کی صیانت اور حفاظت کرنا اور اس کے لیے فرامین جاری کرنا اور آرڈی نینس بنانا سربراہ اسلامی سلطنت پر ایک بڑا فرض ہے۔ ایک اسلامی سلطنت میں الحاد و زندقہ پھیلانے والا خلاف اسلام لٹریچر اور بے حیائی پھیلانے والا مخرب اخلاق لٹریچر پھیلے۔ قادیانیوں کی کھلی تبلیغ پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس غلط لٹریچر سے مسلمانوں میں اس قسم کے عقائد و نظریات بیشک پھیلتے رہیں اور مسلمانوں کو اس سے عام اور کھلے بندوں الحاد و ارتداد کی دعوت ملتی رہے۔ اس باب میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کی مندرجہ ذیل تحریرات لائق توجہ ہیں۔ کیا یہ منکرات نہیں؟ کیا انھیں پھیلنے دینا چاہیے۔ اور کیا مسلمانوں میں ان کی اشاعت عام کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ آئیے پہلے یہ دیکھئے کہ قادیانیوں میں نبوت کا تصور کیا ہے اور ان کے ہاں کس قسم کا آدمی نبی ہوسکتا ہے۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں ”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آئے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا۔ خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔“
(تریاق القلوب ص ۶۷ خزائن ج ۱۵ ص ۲۷۹-۲۸۰)
ایک اور گستاخی ملاحظہ کیجئے حضور ﷺ پر اپنی فضیلت جتلانا ان کے لٹریچر میں عام ملتا ہے اس قسم کا لٹریچر پھیلنے سے عام لوگوں کا ایمان کیسے بچ سکتا ہے۔ یہ المیہ از خود واضح ہے۔
- ۱...... ”پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں
بدیہی البطلان ہے۔“
(کرامات الصادقین ص ۱۹ خزائن ج ۷ ص ۶۱)
اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ بہت سے معارف قرآن سے محروم رکھے گئے
اور وہ حقیقتیں مرزا قادیانی پر کھلیں مرزا قادیانی کہتے ہیں۔
- ۲......”ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ
کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماھی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور مشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
- ۳...... له خسف القمر المنير وان لى خسفا القمران المشرقان اتنکر. اس کے (حضور ﷺ) لیے چاند
کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)
اب ان کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود سے بھی سن لیجئے۔
- ۴...... ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی
بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری مرزا محمود احمد، مطبوعہ روزنامہ الفضل ج ۱۰ نمبر ۱۰۵ ص ۵، ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)
مرزا قادیانی نے پھر یہ بھی لکھا ہے۔
- ۵...... واعطانی مالم يعط احد من العالمين.
(آئینہ کمالات اسلام ص ۴۷۳ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ کچھ دیا جو تمام جہانوں میں کسی کو نہ دیا گیا تھا، کیا یہ کل انبیاء و مرسلین اور اولادِ آدم پر فضیلت کا دعویٰ نہیں اور کیا اس قسم کا لٹریچر پھیلنے سے عامتہ المسلمین کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے؟
- ۶...... آسمان سے کئی تخت اترے۔ پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔
(تذکرہ ص ۶۴۳ حقیقۃ الوحی ص ۸۹ خزائن ج ۲۲ ص ۹۲)
- ۷...... فضلناک علی ماسواک: یعنی تیرے سوا جتنے ہیں ان سب پر ہم نے تجھے بزرگی دی۔
(تذکرہ ص ۷۱۳ طبع سوم)
- ۸...... روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۱۳، خزائن ج ۲۱ ص ۱۴۴)
- ۹......
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد ﷺ دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(”بدر“ قادیان ج ۲ شمارہ نمبر ۴۳، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء ص ۱۴)
اس لٹریچر کے عام پھیلنے سے مسلمانوں پر کیا اثر پڑے گا اور ان کی اعتقادی سطح کس طرح متزلزل ہوگی یہ بات از خود واضح ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین، کس خلاف تہذیب انداز میں کی ہے اسے دیکھئے۔
حضرت عیسیٰ ؑ پر اپنی فضیلت
”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی اور امر میری نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا
تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۴۹ تا ص ۱۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳)
- ۲...... ”اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے
اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا تاکہ یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔“
(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰)
- ۳...... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
شراب پینا ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“
(حاشیہ کشتی نوح ص ۶۵ خزائن ج ۱۹ ص ۷۱)
گالیاں دینا ”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
جھوٹ اور چوری کی عادت ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی جن جن پیشگوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا میری تعلیم ہے۔ لیکن جیسے یہ چوری پکڑی گئی۔ عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہ دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت تھی کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵-۶ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹-۲۹۰)
آپ کا کوئی معجزہ نہ تھا ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے کچھ نہ تھا ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو، یا کسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ
سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں ایسی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے ہاتھ پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر طعن کرنے میں قرآن سے استدلال ”ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(حاشیہ دافع البلاء ص ۴، ۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۹۔۲۲۰)
صحابہ کرامؓ کی توہین ”من دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ سیدی خیر المرسلین۔“ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ۲۵۸ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً)
- ۲...... ”بعض نادان صحابہ جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔۔۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۲۰ خزائن ج ۲۱ ص ۲۱۵)
- ۳...... ”حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ایک معمولی آدمی تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۹۶ خزائن ج ۳ ص ۴۲۲)
- ۴...... ”ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۳۵ خزائن ج ۲۱ ص ۴۱۰)
- ۵...... ”بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی۔ جیسے ابو ہریرہ۔“
(حقیقت الوحی ص ۳۴ خزائن ج ۲۲ ص ۳۶)
- ۶...... ”معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو جن کی درایت عمدہ نہیں تھی عیسائیوں کے اقوال سن کر جو اردگرد
رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابو ہریرہ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“ نعوذ باللہ من ھذا الکفریات۔ (اعجاز احمدی ص ۱۸ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۷)
اہل بیت نبویؐ کی توہین ”ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حس سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسے بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور
مقبول اور خوبصورت سامنے آ گئے۔ یعنی پیغمبر ﷺ اور حضرت علی و حسین و فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔“
(تذکرہ ص ۲۰ طبع سوم)
- ۲...... ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ
اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
- ۳...... وشتان مابینی وبین حسینکم۔ فانی اؤید کل ان و انصر۔ ”اور مجھ میں اور تمھارے حسین میں بہت فرق
ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“
واما حسین فاذکروا دشت کربلا۔ الی هذه الايام تبکون فانظرو۔ ”مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔“
اوانی ورثت المال مال محمد۔ فما انا الا اله المتخیر۔ ترجمہ: اور میں محمد ﷺ کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں جس کو ورثہ پہنچ گئی۔
طلبتم فلاحا من قتیل نجیبة۔ فخیبکم رب غیور متبر، ترجمہ: تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مر گیا پس تم کو خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے۔
ووالله لیست فیه منی زیادة و عندی شهادات من الله فانظرو۔ اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں تم دیکھ لو۔ وانی قتیل الحب لکن حسینکم۔ قتیل العدو والفرق اجلی واظہر: ترجمہ: اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔“
نسیتم جلال الله والمجد والعلى وما وردکم الا حسین اتنکر، تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔
فهذا على الاسلام احدى المصائب لدى نفحات المسک قذر مقنطر۔ ترجمہ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ۶۹ تا ۸۲ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۱ تا ۱۹۴)
مسلمانوں کے اسلام پر لعن ۱...... فالقى الله فی قلبی ان المیت ھو الاسلام. ،
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۹ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
- ۲...... حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش
کرو گے۔
(ذکر حبیب ص ۱۴۷ مطبوعہ قادیان)
- ۳...... چوہدری ظفر اللہ خاں کی تقریر اگر نعوذ باللہ آپ (مرزا غلام) کے وجود کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام
کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا۔
(الفضل لاہور ج ۶ - ۴۵ شماره نمبر ۱۴۰ ص ۵، ۳۱ مئی ۱۹۵۲ء)
مرزا قادیانی کی زبان، اخلاقی طور پر کن قدروں کا مظاہرہ کرتی ہے اس کے لیے ان کی ان تحریروں کا جائزہ لیجئے۔
اخلاقی بے حیائی کا فروغ ۱...... ”میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا
پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا انھوں نے ہمارے رو برو خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی
عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا۔ ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انھوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔
(حقیقت الوحی ص ۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵)
۲...... ”اگر نطفہ اندام نہانی کے اندر داخل ہو جائے اور لذت بھی محسوس ہو تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لیے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔ پس یاد الٰہی میں ذرہ شوق جس کو دوسرے لفظوں میں حالت خشوع کہتے ہیں۔ نطفہ کی اس حالت سے مشابہ ہے جب وہ ایک صورت انزال پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گر جاتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ جسمانی عالم میں ایک کمال لذت کا وقت ہوتا ہے لیکن تاہم فقط اس قطرہ منی کا اندر گرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحم سے اس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اور وہ رحم کی طرف کھینچا جائے۔ پس ایسا ہی روحانی شوق ذوق اور حالت خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحیم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اور اس کی طرف کھینچا جائے۔ بلکہ جیسا کہ نطفہ کبھی حرام کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو اس میں وہی لذت ڈالنے والے کو ہوتی ہے۔ جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ پس ایسے ہی بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع اور خضوع اور حالت ذوق اور شوق رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور ان لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرام کار عورتوں کی اندام نہانی میں جا کر باعث لذت ہوتا ہے بہرحال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہی حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے۔ مگر صرف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے۔ جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو اس فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۳۷ خزائن ج ۲۱ ص ۱۹۲۔۱۹۳)
نوٹ...... قادیانی لٹریچر میں اس قسم کی فحش باتیں بھی نقل کی گئی ہیں۔ جن کے نقل کرتے ہوئے بھی شرافت لرزتی ہے۔ ملاحظہ فرماویں ایک مخالف کی بات کو کن گندے الفاظ میں نقل کیا ہے۔
۳...... دیکھو جی مرزا رات کو لگائی سے بدکاری کرتا ہے اور صبح کو بے غسل لوڑا بھرا ہوا ہوتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے اور وہ الہام ہوا۔ میں مہدی ہوں میں مسیح ہوں۔
(تذکرۃ المہدی ص ۱۵۷ مولفہ پیر سراج الحق قادیانی مطبوعہ جون ۱۹۱۵ء)
نوٹ...... پیر سراج الحق کون ہیں؟ یہ مرزا غلام احمد کے امام نماز ہیں۔ مرزا قادیانی ان کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔
۴...... مرزا غلام احمد وید پر تنقید کرتے ہوئے آریوں کے خدا کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ”پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے سمجھنے والے سمجھ لیں۔“
(چشمہ معرفت ص ۱۰۶ خزائن ج ۲۳ ص ۱۱۴)
اس زبان کے لٹریچر کو کھلے بندوں شائع ہونے دیا جائے تو یہ عامتہ الناس کے لیے نہایت مخرب اخلاق اور حیاء سوز ہوگا۔ اس لٹریچر پر پابندی لگنی چاہیے۔
بدزبانی کا فروغ ۱...... ”اے بدذات فرقہ مولویان! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہ ہی عوام کا لا انعام کو بھی پلایا۔“
(انجام آتھم ص ۲۱ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
- ۲...... ”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو
اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی چھپاتے ہیں۔“ ”اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو تم پر افسوس۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۲۱ خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۵ حاشیہ)
- ۳...... ”یہ سب کچھ ہوا مگر اب تک بعض بے ایمان اور اندھے مولوی اور خبیث طبع عیسائی اس آفتاب ظہور حق سے
منکر ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۲۲ خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۶ حاشیہ)
عام مسلمانوں کے متعلق
- ۱...... ”ہمارے دشمن جنگلوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ۵۳ خزائن ج ۱۴ ص ایضاً)
- ۲...... ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبة والمودة و ینتفع من معارفھا و یقبلنی ویصدق
دعوتی الا ذریة البغایا الذین ختم اللہ علٰی قلوبھم فھم لا یقبلون. ترجمہ: میری مذکورہ بالا کتابوں کو ہر مسلمان محبت اور پیار کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے کنجریوں کی اولاد کے جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہریں لگا دی ہیں وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷۔۵۴۸ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
ذریة البغایا کا معنی مرزا قادیانی نے خود یہ کیا ہے۔ من ھو من ولد الحلال ولیس من ذریة البغایا۔ اور اس کا اردو ترجمہ یہ کیا ہے ”ہر ایک شخص جو ولد حلال ہے اور خراب عورتوں کی نسل سے نہیں۔
(نور الحق ص ۱۲۳ خزائن ج ۸ ص ۱۶۳)
- ۳...... ”اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے
باز نہ آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوار اسلام ص ۳۰ خزائن ج ۹ ص ۳۱)
اس قسم کی تحریرات اور بدزبانی انسانی شرافت پر بہت گراں ہے۔ ایک اسلامی ملک میں اس قسم کا لٹریچر عام ملے اور اس پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو بلکہ کچھ لوگ اس کی تبلیغ و اشاعت میں زندگیاں وقف کیے ہوئے ہوں تو اس سے نہ صرف اسلامی عقائد کو سخت دھچکا لگے گا بلکہ ان مخرب اخلاق تحریروں سے انسانی شرافت بھی بری طرح پامال ہوگی۔ ان حالات میں سربراہ مملکت اسلامی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی اس قسم کی تبلیغ کو خلاف قانون قرار دیں اور اس مخرب اخلاق لٹریچر کی طباعت اور اشاعت اس ملک میں خلاف قانون قرار پائے۔ صدر پاکستان نے اس آرڈی نینس کے ذریعہ اپنا ایک بڑا فرض سرانجام دیا ہے۔
قادیانی لٹریچر ہی اسلام کے جذبہ جہاد کی روک تھام
یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام سے ہی اس کی بقاء وابستہ ہے اس کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت بھی دراصل اسلام ہی کے گرد ایک حفاظتی پہرہ ہے سو اس ملک میں عامتہ المسلمین ہی عموماً اور نوجوانوں میں خصوصاً جذبہ جہاد اور احساس قربانی کی آبیاری بہت ضروری ہے اور قادیانیوں کے خلاف جہاد لٹریچر کا پوری طرح سدباب ہونا چاہیے۔ قادیانیوں کے خلاف جہاد لٹریچر کا ایک نمونہ عرض خدمت ہے۔
”آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ضمیمہ خطبہ الہامیہ خزائن ج ۱۶ ص ۱۷)
مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف ہندوستان میں ہی انگریزوں کو اپنا اولی الامر نہیں بنایا بلکہ اس کی تحریک پورے عالم اسلام میں انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر ان کی سیاسی خدمات بجالانے کے لیے تھی۔ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریر اس پر گواہ ہے۔
”میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد ششم ص ۶۵ مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۳۶۶۔۳۶۷)
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت اور سلطنت برطانیہ کی خیر خواہی کو کس انداز میں جوڑا ہے اس کے لیے ان کی درج ذیل تحریر بڑی واضح ہے۔
”آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے۔ اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیرخواہ اس کو بننا پڑتا ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ ص ۱ خزائن ج ۱۷ ص ۲۸)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں۔
”دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔ اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ۷ ص ۱۰ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۱۱)
مرزا غلام احمد کی یہ تحریک صرف مقامی نہ تھی عالمی تھی اس باب میں ان کی مندرجہ ذیل تحریر ان کے سیاسی مقاصد کو پوری طرح اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔
”اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں ان سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لیے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں۔ جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔“
(کتاب البریہ ص ۶، ۷ اشتہار واجب الاظہار خزائن ج ۱۳ ص ۶ تا ۷)
مرزا قادیانی نے جہاد کو مسلمانوں کے عام حالات کے پیش نظر یا اپنی ایک وقتی فکر سے بند نہ کیا۔ انگریزوں کی اس خدمت کو خدا کا نام لے کر آسمانی دعوؤں کے سہارے سرانجام دیا۔
”آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد
تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ۲۸، ۲۹ خزائن ج ۱۶ ص ایضاً۔ تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۴۷ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۹۵)
سلطنت برطانیہ کی ان خدمات پر اب کچھ مراعات کی طلب ہے۔ اس کا ایک نمونہ درج ذیل تحریر میں لائق توجہ ہے:
گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ وہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت تدبیر سے زمین کے اندرونی حالات دریافت کرے...... ہمارے امام (مرزا قادیانی) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو بائیس برس ہیں، اس تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلاد اسلام عرب، شام، کابل وغیرہ میں تقسیم کیا۔
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز، مولوی محمد علی قادیانی بابت فروری ۱۹۰۲ء ج ۱ نمبر ۲ ص ۴۰)
مرزا قادیانی کے دل و دماغ میں جہاد سے کس قدر نفرت سما چکی تھی۔ اس کے لیے ان کی مندرجہ ذیل تحریرات دیکھئے۔ ان تحریرات کی کھلی اشاعت سے کیا اس ملک کے نوجوانوں کے لیے فکری اور عملی زندگی کا کوئی پہلو زخمی ہوئے بغیر رہ سکتا ہے؟
”یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے...... یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو اٹھا دے۔“
(فرمان مرزا مندرجہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ دسمبر ۱۹۰۲ء ج ۱ نمبر ۱۲ ص ۴۹۵)
”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔ اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔“
(اشتہار واجب الاظہار تریاق القلوب ص ۳۸۹ خزائن ج ۱۵ ص ۵۱۷، ۵۱۸)
”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا...... اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ۴ ص ۱۴ حاشیہ خزائن ج ۱۷ ص ۴۴۳)
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶ خزائن ج ۱۷ ص ۷۷، ۷۸)
”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں
گے چونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج۷ ص ۱۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص ۱۹)
”اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کو دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ۱۵ خزائن ج۱۵ ص ۱۵۶)
اس قسم کے خیالات اور ایمان سوز محرکات جس ملک میں کھلے بندوں پھیلتے رہیں وہ ملک اسلامی بنیادوں پر کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اور مسلمانوں کو ایک زندہ قوم کے طور پر اٹھانے کے لیے قادیانیوں کا اس قسم کا لٹریچر کلی طور پر خلاف قانون ہونا چاہیے۔ صدر پاکستان نے اس زیر بحث آرڈی نینس میں قادیانیوں کی کھلی تبلیغ پر پابندی عائد کر کے تحفظ پاکستان کی طرف ہی قدم بڑھایا ہے اور یہ اقدام کسی پہلو سے بھی قرآن وحدیث کے خلاف نہیں ہے۔
قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين. (النمل ۶۴) اسلامی مملکت میں مسلمانوں میں خلاف اسلام تعلیم وتبلیغ کی کیا کھلی اجازت ہے؟
سوال....... اگر سربراہ مملکت اسلامی اس پر پابندی لگائے اور اسے بذریعہ آرڈینینس خلاف قانون قرار دے تو کیا یہ پابندی قرآنی ارشاد قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين (اگر تم سچے ہو تو اپنے جواب پر دلیل لاؤ) کے خلاف نہیں؟ کیا اس سے ایک گروہ کی شخصی آزادی تو سلب نہیں ہوتی؟ قرآن کریم تو اپنے نہ ماننے والوں کو یہاں تک اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے سب حمایتیوں کو بے شک بلا لیں۔ وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقین اگر وہ اپنے حمایتیوں کو گواہ بنا کر ساتھ لائیں تو ان کی یہ گواہی کیا خلاف اسلام ایک شہادت نہ ہوگی؟
جواب....... یہ آیت وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين. (البقره ۲۳) کس سیاق میں آ رہی ہے؟ قرآن پاک کے معجزہ ہونے کے بارے میں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر تم قرآن پاک کو الٰہی کلام نہیں سمجھتے، اسے انسانی کلام کہتے ہو تو تم بھی تو انسان ہو ایسا ایک قطعہ کلام تم بھی بنا لاؤ اور بے شک اس پر تم اپنے سب مددگاروں کو بھی بلا لو....... یہ انھیں اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقع نہیں دیا جا رہا انھیں قرآن کریم کی مثل لانے سے عاجز ثابت کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کے معجزہ ہونے کا بیان ہی اسی لیے ہے کہ اس کی مثل لانے سے ہر ایک عاجز ٹھہرے اور کوئی انسانی کلام ایسی کلام کا مقابلہ نہ کر سکے۔ آگے ولن تفعلوا کہہ کر بتلایا گیا کہ تم ایسا کبھی نہ کر سکو گے۔
اسی طرح آیت قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقین بھی یہود و نصاریٰ سے صحیح نقل کا مطالبہ کر رہی ہے انھیں اپنے نظریات کی تبلیغ کا موقع نہیں دے رہی یہود و نصاریٰ نے کہا تھا جنت میں ہم ہی داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کہا کہ ان سے کہیں کہ اس پر حوالہ پیش کریں صحیح نقل کا مطالبہ اور بات ہے اور انھیں آزادی دینا کہ خلاف اسلام جو چاہیں کہتے رہیں یہ امر دیگر ہے۔
اسی طرح آیت (۱)....... قل ارايتم ماتدعون من دون الله ارونى ماذا خلقوا من الارض. (الاحقاف ۴) اور (۲)....... قل ارايتم شركائكم الذين تدعون من دون الله ارونى ماذا خلقوا من الارض. (الفاطر ۴۰) میں مشرکین سے ان کی حقانیت کی دلیل نہیں پوچھی جا رہی ان سے ان کے غلط معبودوں کی تخلیق کا کام مانگا جا رہا ہے ان سے طلب کیا جا رہا ہے کہ ان معبودوں کی کوئی تخلیق بتائیں کسی چیز کی سند اور حوالہ مانگنا اور بات ہے اور انھیں اس میں بحث کا حق دینا یہ امر دیگر ہے اور پھر یہ سب باتیں وہاں ہو رہی ہیں۔ جہاں اقتدار مشرکین کا تھا۔...... اس سے یہ بات نہیں نکلتی کہ کسی کو مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کرنے کا حق دیا جا رہا ہے یہ اسلامی
سلطنت کی بات نہیں ہے مشرکین سے برابر کی سطح کی ایک بات ہے۔
قرآن پاک میں ایسے مضامین ان مشرکین کی تعجیز وتبکیت کے لیے آئے ہیں انھیں مسلمانوں میں اپنے عقائد کفریہ کی تبلیغ کا حق دینے کے لیے نہیں...... (قادیانی مبلغین نے اپنی اپیل میں ان آیات کو بالکل بے محل نقل کیا ہے۔ سورہ نمل کی آیت قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین کے سلسلہ آیات میں فضیلۃ الاستاذ احمد مصطفےٰ المراغی لکھتے ہیں: ”ثم انتقل من التوبيخ تعريضاً الى التبكيت تصريحًا.“
(تفسیر المراغی ج ۲۰ ص ۷)
مشرکین کے پاس اس پر کیا دلیل ہو سکتی تھی جو ان سے طلب کی گئی؟ کچھ نہیں۔ تفسیر جلالین میں ہے قل ھاتوا برھانکم علیٰ ذلک ولا سبیل الیہ.
(تفسیر جلالین ص ۲۷۱)
سو جب اس پر کوئی استدلال ممکن نہیں تو یہ محض تبکیت اور تعجیز ہے ان سے مناظرہ میں طلب دلیل نہیں۔ اپیل کنندگان نے اپنے اس استدلال میں قل ھاتوا برھانکم (الانبیاء ۲۴، النمل ۶۴) ام لکم سلطان مبین. (الصافات ۱۵۶) قل ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا (الانعام ۱۴۸) ان الذین یجادلون فی آیات اللہ (المومن ۵۶) اور دیگر چند آیات بھی پیش کی ہیں اور یہ بات انھوں نے بالکل غلط نظر انداز کر دی ہے کہ یہ بات کہاں کی جا رہی ہے؟ اسلامی مملکت میں یا اقتدار مشرکین میں؟ سورۃ انبیاء، سورۃ نمل، سورۃ الصافات، سورۃ الانعام، سورۃ المومن سب مکی سورتیں ہیں جن سے یہ آیات لی گئی ہیں ان سے یہ استدلال کرنا کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ کا حق دیا جا رہا ہے کسی طرح لائق تسلیم نہیں ہے۔ مسلمانوں میں خلاف اسلام تبلیغ کی راہ کھولنے کے لیے ان حضرات نے یہ آیات بالکل بے محل نقل کی ہیں۔
ایک ضروری بات پھر یہ بھی دیکھئے کہ کافروں کو اپنے نظریات پر دلیل پیش کرنے کی دعوت کون دے رہا ہے؟ وہ جو ان کے مغالطے کو پوری طرح سمجھ سکے اور عملی پہلو سے اسے توڑ سکے کوئی عام آدمی ان غیر مسلموں کو دلیل پیش کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ اس کے لیے غیر مسلموں کی یہ تبلیغ اچھا خاصا فتنہ بن سکتی ہے۔
کسی کافر یا بد مذہب کو کسی عالم کے سامنے اظہار خیال کا موقع دینا اور اس سے اس کے معتقدات پر دلیل طلب کرنا یہ اور بات ہے، اور اسے عامتہ المسلمین میں اپنے خیالات پھیلانے کی صورتیں مہیا کرنا یہ امر دیگر ہے، ان آیات کی پیشکش کا تعلق پہلی صورت سے ہے دوسری صورت سے نہیں۔ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین میں خطاب خود حضور ﷺ سے ہے جن کے سامنے ان میں سے کسی کی کوئی بات نہ چل سکتی تھی سو ان آیات میں عامتہ المسلمین میں خلاف اسلام نظریات کی تبلیغ واشاعت کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔
پھر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی رو سے کافروں کے پاس جا کر کہیں ان سے ان کی حقانیت کی دلیل نہیں مانگی قرآن کریم کا یہ جملہ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین ان غیر مسلموں کو تبلیغ کا موقعہ دینے کے لیے نہیں تھا ان کی تبکیت اور تعجیز کے لیے تھا اسلوب عرب میں اس قسم کے الفاظ دوسروں کے عجز کو نمایاں کرنے اور ان کے بے دلیل چلنے کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے۔ من رأى منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ. (مشکوٰۃ ص ۴۳۶ باب الامر بالمعروف) جہاں تک تم بدی کو ہاتھ سے روک سکو روکو زبان سے روکنے کا درجہ دوسرا ہے اب اگر کوئی
غیر مسلم گروہ مسلمانوں میں خلافِ اسلام تبلیغ کر رہا ہے حکومت مسلمانوں کی ہے اور وہ ایسا کرنے سے بذریعہ آرڈی نینس بھی روک سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے ان کی اس خلاف اسلام تبلیغ کو صرف تقریروں اور مناظروں سے بے اثر کرتے ہیں تو یہ صورتِ عمل کیا اس حدیث کے صریح خلاف نہیں؟ یہ صورتِ عمل یقیناً قرآن و حدیث کے خلاف ہوگی۔
مسیلمہ کذاب نے جب حضور ﷺ کو اپنی نبوت کا خط لکھا تو حضور ﷺ نے اس سے دلائل طلب نہ فرمائے اسے استدلال اور مناظرے کا موقع نہ دیا اسی طرح حضرت صدیق اکبرؓ نے اس سے غیر تشریعی نبوت جاری رہنے کے دلائل نہیں پوچھے نہ اسے تقریر و تحریر کی آزادی دی بلکہ من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ کے تحت ان منکرات کا بزورِ سلطنت ازالہ کیا۔ بعض ائمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے اور کوئی شخص اس سے معجزہ طلب کرے (بشرطیکہ یہ طلب تعجیز و تبکیت کے لیے نہ ہو) تحقیق کے لیے ہو تو وہ شخص خود کافر ہو جائے گا یہ طلب دلیل بتلاتی ہے کہ ابھی تک اسے حضور ﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہ تھا۔
(تلخیص از اکفار الملحدین عربی ص ۷۵)
علامہ ابوالشکور السالمی نے کتاب التمہید میں اس کی تصریح کی ہے۔
اسلامی سلطنت میں اگر اس قسم کے لوگ پائے جائیں تو حکمِ شریعت یہ نہیں کہ انھیں اس قسم کے خلافِ اسلام نظریات پھیلانے کی آزادی دی جائے بلکہ اس صورتِ حال میں سربراہِ مملکتِ اسلامی کے ذمہ ہوگا کہ وہ ایسا آرڈی نینس نافذ کرے جس کی رو سے ان منکرات پر پوری پابندی لگ جائے۔ یہ آرڈی نینس غیر مسلم اقلیتوں کی اپنے حلقوں میں تبلیغ و تعلیم کی آزادی سے متصادم نہ ہوگا۔ یہ آرڈی نینس اسلامی مملکت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کی اپنے حلقوں میں تقریر و تحریر کی آزادی کے خلاف نہیں مسلمانوں کو غیر مسلم ہونے سے بچانے کے لیے افرادِ امت اور حوزہِ امت کی حفاظت کے لیے ہے۔
قادیانی حضرات نے اپنی اس اپیل میں پچھلی سات آیات کے ساتھ ان آیات کو بھی پیش کیا ہے جن میں مسلمانوں کو غیر مسلموں میں تبلیغ کے آداب کی تعلیم دی گئی ہے۔ مسلمان اپنا حق تبلیغ کس طرح استعمال کریں یہ اس کا بیان ہے غیر مسلموں کو اسلامی سلطنت میں مسلمانوں میں خلافِ اسلام باتوں کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
- ۱...... ادفع بالتی ھی احسن السیئة نحن اعلم بما یصفون.
(المؤمنون ۹۶)
- ۲...... ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتی ھی احسن.
(العنکبوت ۴۶)
- ۳...... ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة.
(النحل ۱۲۶)
سورۃ النحل، سورۃ المؤمنون اور العنکبوت بھی مکی سورتیں ہیں ان میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ سلطنت اسلامی میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلافِ اسلام تبلیغ کی آزادی ہونی چاہیے۔ پس یہ آیات کسی صورت بھی صدرِ پاکستان کے جاری کردہ آرڈی نینس کے خلاف نہیں ہیں۔
آیت اولو جئتک بشیء مبین.
(الشعراء ۳۱)
یہ فرعون کے دربار میں موسیٰؑ کا سوال تھا دارالکفر میں یہ ایمان کی ایک صدا تھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلافِ اسلام تبلیغ کا پورا حق ہے یہ بات اس آیت سے نہیں نکلتی
قادیانیوں نے اسے بھی بے محل پیش کیا ہے۔
قادیانی مبلغ بے موقعہ آیات لانے اور ان سے غلط استدلال کرنے میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ مشرکین سے جو سوال آخرت میں پوچھے جائیں گے اور انھیں جواب دینے کا موقع دیا جائے گا کہ وہ جان سکیں کہ ہمیں کن اعمال کی سزا دی جانے والی ہے اس سے بھی انھوں نے استدلال کیا ہے وہاں مشرکین کو جواب دینے کا موقع ملنے سے یہ استدلال کرنا کہ اسلامی مملکت میں مسلمانوں میں خلافِ اسلام تبلیغ کو روکنا قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے نہایت ہی بے محل بات ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں میں تبلیغ کا حق مانگنے کے لیے یہ آیت پیش کی ہے۔
ونزعنا من كل امة شهيدا فقلنا هاتوا برهانكم فعلموا ان الحق لله وضل عنهم ما كانوا يفترون. (القصص ۷۶) ”اور نکالیں گے ہم ہر ایک امت سے ایک احوال بتلانے والا پھر کہیں گے ہم، لاؤ اپنی سند۔ تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھو جائیں گے ان سے وہ باتیں جو وہ اپنی طرف سے گھڑتے تھے۔“
یہ آیت سرے سے اس دنیا کے بارے میں ہی نہیں آخرت کے بارے میں ہے ان لوگوں کو جنھوں نے اللہ پر افتراء باندھا مثلاً کہا کہ ان پر وحی اترتی ہے حالانکہ ان پر کوئی وحی نہ آئی تھی محض افتراء تھا انھیں جواب دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اس موقع کے فراہم ہونے سے یہ استدلال کرنا کہ دنیا میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلافِ اسلام تبلیغ کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیے۔ نہایت ہی بے جوڑ بات ہے اس آیت سے پہلی آیت صاف بتا رہی ہے کہ ھاتوا برھانکم کی یہ بات قیامت کے دن ہوگی فرمایا۔
ويوم يناديهم فيقول این شركائى الذين كنتم تزعمون.
(القصص ۷۵)
قادیانیوں کی پیش کردہ تیرہ آیات کی یہ تفصیل کر دی گئی ہے کہ ان میں سے ایک آیت بھی موضوع سے تعلق نہیں رکھتی اور کسی ایک آیت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو مسلمانوں میں خلافِ اسلام نظریات کی تبلیغ کا حق دیا گیا ہے یہ لوگ اپنے غلط موقف پر آیات پیش کرتے یوں معلوم ہوتے ہیں گویا آیات قرآنی سے کھیل رہے ہوں۔ صدر پاکستان نے اپنے آرڈی نینس میں ان پر جو پابندیاں لگائیں ان آیات میں سے کوئی آیت اس آرڈی نینس کے خلاف نہیں ہے تحفظ افراد امت کا تقاضا ہے کہ اسلامی سربراہ مملکت اپنے ملک میں مسلمانوں میں کسی قسم کے خلافِ اسلام نظریات پھیلانے کی کسی طبقے یا فرد کو اجازت نہ دے اور تحفظ حوزۂ امت کے لیے مسلمانوں کی اعتقادی سرحدوں کی حفاظت کرے۔
ارشادِ قرآنی قوا انفسكم و اهليكم ناراً (التحریم ۶) کا یہ صریح تقاضا ہے۔
مسلمانوں کے ان دینی حقوق کے اس مختصر جائزہ (وحدت امت کا تحفظ، افراد امت کا تحفظ، شعائرِ امت کا تحفظ اور حوزۂ امت کا تحفظ) کے بعد اب اصل سوال کی طرف رخ کیا جاتا ہے کہ مملکت اسلامی میں قادیانی غیر مسلم اقلیت کو کیا کیا مذہبی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں؟
اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے پہلے ایک اور مرحلہ محتاج عبور ہے اس سے گزرے بغیر آگے بڑھنا مفید نہ ہوگا۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں لیکن یہ غیر مسلموں کی کون سی قسم ہیں یہ بات پہلے طے ہونی چاہیے۔ غیر مسلم لوگ گو اپنی تمام اقسام کے ساتھ امت واحدہ ہیں تاہم اسلام میں ان اقسام کے دنیوی احکام کچھ مختلف بھی ہیں گو آخرت میں سب کا انجام ایک سا ہوگا حشر کے دن مومنوں اور مسلمانوں کے سوا کوئی فلاح نہ پا سکے گا جو اپنے پروردگار کے بتلائے ہوئے صحیح راستے پر ہیں وہی اس دن فلاح پائیں گے۔
اولئک علی هدى من ربهم و اولئک هم المفلحون (البقرہ ۵) میں فلاح پانے کا بیان ہے۔
کافر سب ایک ملت ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ساتھ ایک مقام پر (یہود و صابئین، نصاریٰ و مجوس اور مشرکین) مختلف قسم کے کفار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان تمام کو (مومنین اور جمیع کفار کو) دو فریق قرار دیا ہے۔ ۱......مومن ۲......کافر۔ پہلے یوں ذکر فرمایا۔
ان الذين امنوا والذين هادوا والصائبين والنصارى والمجوس والذين اشركوا. (الحج ۱۷) اور کافروں کو ایک ملت قرار دیتے ہوئے مومنوں کے مقابلہ میں یوں ذکر فرمایا۔ ھذان خصمان اختصموا فی ربهم یہ دو مدعی ہیں جو اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔ (الحج ۱۹)
معلوم ہوا کہ کافر سب ایک ملت ہیں الکفر ملۃ واحدۃ مگر قرآن و حدیث کی رو سے دنیا میں ان کے احکام مختلف ہیں۔ ۱......دھریہ منکرین خدا۔ ۲......مشرک ہندو۔ ۳......منکرین نبوت فلاسفہ۔ ۴......اہل کتاب، یہود و نصاریٰ۔ ۵......مجوس آتش پرست۔ ۶......منافق اعتقادی۔ ۷......ملحد۔ ۸......مرتد اقراری۔ ۹......مرتد تاویل۔ ۱۰......زندیق باطنیہ وغیرہ پھر ان میں جو مطلق کافر ہیں ان میں کچھ حربی کافر بھی ہوتے ہیں۔
مومنوں کے مقابلہ میں یہ سب ایک ہیں هو الذى خلقكم فمنكم كافر و منكم مومن. (التغابن ۲)
قرآن کریم میں ملحدین کا ذکر آرڈیننس زیر بحث کے موضوع میں کافروں کی دیگر اقسام سے بحث نہیں البتہ ملحدین کا ذکر کیا جاتا ہے قادیانی افکار و نظریات اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان الذين يلحدون فى اياتنا لايخفون علينا افمن يلقى فى النار خيرا من ياتى امنا يوم القيامة اعملوا ماشئتم انه بما تعملون بصير ہ ان الذين كفروا بالذكر لما جاء هم وانه لكتب عزيز ہ لايأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد ہ (حم السجدہ ۴۰، ۴۱، ۴۲) ”جو لوگ ہماری آیات میں الحاد (ٹیڑھا پن) سے چلتے ہیں وہ ہم سے چھپے نہیں رہتے بھلا وہ جو پڑتا ہے آگ میں بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن میں ہوگا کیے جاؤ جو چاہو بیشک وہ تمھارے کیے کو دیکھتا ہے۔ جو لوگ کافر ہوگئے قرآن سے جب وہ آچکا ان کے پاس اور وہ کتاب عزیز ہے۔ اس میں جھوٹ چل نہیں سکتا نہ سیاق میں نہ سباق میں۔ اتارا ہوا ہے سب حکمتوں والے کا سب تعریفوں والے کا۔“
ان آیات نے ایک ایسے گروہ کا پتہ دیا۔ ۱......جو آیات قرآنی میں الحاد کی راہ اختیار کریں گے۔ ۲......وہ چھپے چھپے یہ کام کریں گے لیکن ہم پر مخفی نہ رہیں گے۔ ۳......قیامت کے دن انھیں امن حاصل نہ ہوگا وہ آگ والے ہوں گے۔ ۴......الحاد کے ساتھ وہ قرآن سے کافر ہو جائیں گے (کھلے طور پر نہ کہیں گے کہ وہ قرآن کو نہیں مانتے) ۵......ان کا کفر الحاد قرآن کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ قرآن میں باطل کو کوئی راہ نہ ملے گی (یعنی اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت کے ایسے اسباب کھڑے کردیں گے جو ان ملحدین کی تاویلات باطلہ کو بالکل کھول کر رکھ دیں گے)
قرآن و حدیث کا ظاہری انکار کیے بغیر ایسے معنی اختیار کرنا کہ اصل معنی کا انکار ہو جائے زندقہ اور باطنیت کہلاتا ہے پہلے دور میں بھی ایک فرقہ باطنیہ ہو گزرا ہے جو ظواہر نصوص سے کھیلتے تھے اور انھیں کچھ باطنی تاویل مہیا کرتے تھے۔
قادیانیوں کے عقائد و نظریات پر تفصیلی اور تحقیقی نظر کرنے سے قادیانی کافروں کی یہی وہ قسم ٹھہرتے ہیں جنھیں ملحدین، زنادقہ یا جدید باطنیہ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔
ملحد سے مراد وہ شخص ہے جو حق سے روگردانی کر کے الفاظ شریعت کو ایسے معنی پہنائے جو ان کی حقیقی مراد نہ ہوں زندیق بھی وہی ہے جو الفاظ شریعت پر ایمان ظاہر کرے اور ان میں ایسے معانی داخل کرے جس سے اصل
کا انکار ہو جائے اور تاویل کا یہ کھیل ضروریات دین سے بھی کھیلا جائے۔
الملحد العادل عن الحق المدخل فيه ما لیس منه يقال الحد فى الدين والحد اى حاد عنه.
(لسان العرب ص ۲۴۶ ج ۱۴ لفظ لحد)
المراد من الالحاد تغييرها عن وضعها وتبديل احكامها.
(مجمع البحار ج ۲ ص ۴۶۱ لفظ لحد)
الزنديق فى عرف الفقها من يبطن الكفر مصراً عليه و يظهر الايمان تقية و نقل عن شرح المقاصد ان الكافر ان كان مع اعترافه بنبوة النبىﷺ و اظهاره شرائع الاسلام يبطن عقائد هى الكفر بالاتفاق خص باسم الزنديق.
(شیخ زادہ بحاشیہ تفسیر بیضاوی ج ۲ ص ۱۴۲)
فما المراد بابطان الكفر ليس هو الكتمان من الناس بل المراد ان يعتقد بعض ما يخالف عقائد الاسلام مع ادعائه اياه.
(اکفار الملحدین عربی ص ۱۳)
ان تصریحات کی روشنی میں فرقہ باطنیہ زنادقہ اور ملحدین کی حقیقت ایک سی ہے عنوان اور پیرائے ان کے مختلف ہیں لیکن حکم ان سب کا ایک ہے اور وہ یہ کہ یہ سب کافر ہیں۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب لکھتے ہیں۔
تفسير الزندقة والالحاد والباطنية و حكمها واحد و هو الكفار.
(اکفار الملحدین عربی ص ۱۲)
یہ کتاب اکفار الملحدین شیخ الاسلام پاکستان مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی مصدقہ ہے اور مولانا عثمانیؒ کے اس پر دستخط موجود ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ظل اور بروز کے پردے میں فرقہ باطنیہ کی تشکیل جدید کی ہے کسی عبارت میں دوسرے معنی داخل کرنے تو درکنار اس نے ایک شخصیت میں دوسری شخصیت اترنے کا جو فلسفہ پیش کیا ہے اس میں کوئی بات بھی اپنی جگہ نہیں رہ جاتی جملہ شرائع اسلام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ مثلاً مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ ؑ کی شخصیت کے تین ظہور بتلائے ہیں۔
- ۱...... حضرت عیسیٰ ؑ کا پہلا ظہور جو مسیح ناصری کی شکل میں ہوا۔
- ۲...... حضرت عیسیٰ ؑ کا دوسرا ظہور جو حضورﷺ کی شکل میں عرب میں ہوا۔
- ۳...... حضرت عیسیٰ ؑ کا تیسرا ظہور جو غلام احمد کی شکل میں ہوا۔
- ۴...... حضرت عیسیٰ ؑ کا آخری ظہور جو قہری صورت میں ہوگا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اس بار بار ظہور کے لیے بروز اور حلول وغیرہ کے سب الفاظ استعمال کیے ہیں جو باطنیہ کی ایجاد تھے قرآن وحدیث میں یہ الفاظ کہیں نہیں ملتے۔ یہ خالصتاً غیر اسلامی اور الحادی اصطلاحات ہیں جنھیں کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں اور قرآن وحدیث اور فقہ میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے۔
پھر مرزا غلام احمد نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے حضورﷺ کی صورت میں دوسرا ظہور چاہا اور پھر اپنے بارے میں دعویٰ کیا کہ میں حضورﷺ کا بروز ہوں۔
قرآن و حدیث میں بروز و کمون کے ان باطنی سلسلوں کا کہیں ذکر نہیں یہ بیرونی فکر اسلام میں داخل کی گئی ہے اس بیان کی تائید میں مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ تحریرات گزارش کی جاتی ہیں۔
- ۱...... ”حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی خو طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے
بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمدﷺ کے نام سے پکارا گیا ﷺ۔“
(حاشیہ تریاق القلوب ص ۱۵۶ خزائن ج ۱۵ ص ۴۷۷)
- ۲....... حضرت مسیح ﷺ کو دو مرتبہ یہ موقع پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا اول جب ان کے
فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا....... تب باعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی برائت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی ﷺ مبعوث ہوئے....... مسیح ناصری کی روحانیت کا یہ پہلا جوش تھا جو ہمارے سید ہمارے مسیح خاتم الانبیاء ﷺ کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا فالحمد للہ پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی اور انھوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا....... وہ نمونہ مسیح ﷺ کا روپ بن کر مسیح موعود (مرزا) کہلایا کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول تھا....... یہ وہ دقیق معرفت ہے جو کشف کے ذریعہ اس عاجز پر کھلی ہے....... تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آ کر جلدی طور پر اپنا نزول چاہے گی تب ایک قہری صیغہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تب آخر ہوگا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی امت کی نالائق کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لیے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۲ تا ۳۴۶ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے میں صرف حضرت عیسیٰ کے نزول کا دعویٰ ہی نہیں کیا اپنے آپ کو حضور ﷺ کا بھی دوسرا بروز بتلایا مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا:
’’وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں اس لیے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔‘‘
’’اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد پڑا پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۱۔۱۲ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۵۔۲۱۶)
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو قادیانی گروپ ہو یا لاہوری مرزا غلام احمد کو حضور ﷺ کا ہی بروز سمجھتے ہیں اور آپ نے جو عرب میں ظہور کیا وہ اس سے اس قادیانی ظہور کو کامل جانتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی زندگی میں (البدر قادیان ج ۲ شمارہ نمبر ۴۳، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۲ء) میں ان کے حق میں یہ اشعار شائع ہوئے۔
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لیے اوتار ہونے کا بھی دعویٰ کیا یہ خالصتاً ہندوؤں کی ایک اصطلاح تھی
مرزا غلام احمد لکھتے ہیں:
’’اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لیے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد ﷺ کا اوتار بنا دیا سو میں ان معنوں میں عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی....... یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ۶ خزائن ج ۱۷ ص ۲۸)
بروز ہرگز ہرگز کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے نہ احادیث نبویہ اور آثار صحابہ میں کہیں اس کا ذکر ملتا ہے مگر مرزا غلام احمد اس بروز میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ وہ اس کے بغیر اسلام کو ہی مکمل نہیں جانتے۔
مرزا قادیانی ایک بحث میں لکھتے ہیں:
”اس خیال سے مسئلہ بروز کا انکار لازم آتا ہے اور وہ انکار ایسا خطرناک ہے کہ اس سے اسلام ہی ہاتھ سے جاتا ہے تمام ربانی کتابیں اس مسئلہ بروز کی قائل ہیں (کیا یہ قرآن پر افتراء نہیں) خود حضرت مسیح نے بھی یہی تعلیم سکھائی اور احادیث نبویہ میں بھی اس کا بہت ذکر ہے اس لیے اس کا انکار سخت جہالت ہے اور اس طرح سے خطرہ سلب ایمان ہے۔“
(تریاق القلوب ص ۱۵۸ خزائن ج ۱۵ ص ۴۸۱)
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قادیانی تحریک باطنیہ کے خلاف اسلام حلول و بروز کے تصورات پر مبنی ہے اگر اسے قانونی شکل نہ دی جاتی تو اس کی بعض صوفیوں کی واردات کے انداز میں تاویل کر لی جاتی لیکن مرزا قادیانی نے اپنے تصورات پر نہ صرف ایک نئی امت کی تشکیل کی بلکہ خدا تک کو اپنے اندر اترا بتایا اپنے زمین و آسمان نئے بتائے اور اس الحادی راہ سے ایک پورے کا پورا نیا مذہب بنا ڈالا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:
”وجدت قدرته و قوته تفور فى نفسى والوهية تتموج فى روحى وضربت حول قلبى سرادقات الحضرة....... دخل ربى على وجودى وكان كل غضبى وحلمى و حلوى و مرى و حركتى و سكونى منه و بينما انا فى هذه الحالة كنت اقول انا نريد نظاماً جديداً سماءً جديدةً وارضاً جديدةً فخلقت السموت والارض۔ “
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، ۵۶۵ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”اور میں نے دیکھا اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے....... خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی شیرینی اور حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔“
(کتاب البریہ ص ۸۶ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۴)
مرزا غلام احمد قادیانی نے ظل و بروز اور تجلی و حلول کے انہی سایوں میں اپنے مذہب کا ایک پورا نظام جدید ترتیب دیا پرانے باطنیہ کی طرح نئے ملاحدہ میدان میں آئے اور انھوں نے ضروریات دین میں وہ تاویلیں کیں جن سے ان کے اصل اسلامی معنی کا انکار ہو گیا۔ یہ لوگ بایں طور کہ عنوان اسلام کا کھلا انکار نہیں کرتے لیکن بعض ضروریات دین کو جدید معنی پہناتے ہیں اور ان کے اصل معنی کا انکار کرتے ہیں مسلمانوں سے نکل گئے قادیانیوں کے مسلمانوں سے جملہ اختلافات سب اسی الحاد کے سایہ میں مرتب ہوئے ہیں اور اسی لیے جمیع اہل اسلام انھیں اپنے سے جدا ایک علیحدہ امت سمجھتے ہیں اور یہ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے ہر بات میں علیحدہ جانتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر محمود لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا:
”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان ج ۱۹ نمبر ۱۳، ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
ملحد و زنادقہ کا وجود کھلے کافروں اور دیگر اہل ذمہ سے زیادہ خطرناک ہے ان کے الحاد کا تختہ مشق قرآن و حدیث ہوتے ہیں انھیں احسان ومروّت کے طور پر اگر کچھ حقوق دیے جائیں تو ان کی تعیین میں یہ باتیں الاہم فالاہم کے طور پر رکھنی ہوں گی۔
- ۱...... قرآن وحدیث کو ان کا تختہ مشق بننے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔
- ۲...... مسلمانوں کو ان کے عقائد ونظریات کے زیر اثر آنے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔
- ۳...... بیرون ملک دشمن اسلام طاقتوں سے ان کی دوستی کو کیسے روکا جاسکتا ہے اور اس کے خطرناک نتائج سے ملک
کو کیسے بچایا جاسکتا ہے۔
ان تین مشکلات پر قابو پانے کے بعد ان کے دنیوی اور مذہبی حقوق طے کیے جاسکتے ہیں اور اگر یہ مسلمانوں کی عائد کردہ شرطوں کو تسلیم کرلیں تو مسلمان انھیں ان کے جان و مال کی حفاظت کا ذمہ دے سکتے ہیں اس صورت میں ان کے جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی۔ بایں ہمہ یہ اہل ذمہ کے سے پورے حقوق نہ پاسکیں گے دوسرے اہل ذمہ اپنے مذہبی معاملات میں مسلمانوں کے ساتھ کسی مقام اشتباہ میں نہیں نہ وہ اپنی تبلیغ و اشاعت میں قرآن وحدیث پر کوئی ملحدانہ مشق کرتے ہیں لیکن قادیانی الحاد کی ضرب براہ راست مسلم معتقدات پر آتی ہے اس لیے ان میں اور عام اہل ذمہ میں فرق کرنا ضروری ہے۔
اسلام میں ملحد کی سزا اسلامی سوسائٹی میں زندیق اور ملحد کا وجود ناقابل برداشت ہے مسلمانوں کے لیے زنادقہ کا وجود ایک مستقل خطرہ اور مسلمانوں کے دین و ایمان پر ایک ہمیشہ کے لیے لٹکنے والی تلوار ہے۔
ظاہر ہے کہ مسلمان ایسے مشتبہ ماحول میں ہمیشہ کی زندگی بسر نہیں کر سکتا حضرت علیؓ کی خدمت میں کچھ زندیق لائے گئے تو آپؓ نے ان پر سزائے موت کا حکم دیا اور انھیں آگ میں ڈلوایا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کے اس طریق سزا سے اختلاف فرمایا۔
(مشکوٰۃ ص ۳۰۷ باب قتل اہل الردۃ عن البخاری)
قادیانیوں کو اگر اہل ذمہ کے سے حقوق دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سلطنت اسلامی عقیدہ ختم نبوت کی بھی حفاظت کرے اور یہ اس پر فرض ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عقیدہ انکار ختم نبوت کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لے اور یہ کھلا تعارض ہے ہاں اگر انکار ختم نبوت کا عقیدہ ان کے اپنے دائرہ کار تک محدود رہے اور اس کے عام ہونے کے جملہ احتمالات ومواقع سب بند کر دیے جائیں تو پھر اس میں تعارض نہیں رہتا۔ سربراہ مملکت اسلامی کے اس آرڈیننس کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی الحادی تبلیغ مسلمانوں میں جاری رکھیں اور قرآن وحدیث ان کے فاسد نظریات کا برابر تختہ مشق بنے رہیں تو پھر یہ حربی کافر قرار پائیں گے اور انھیں ان کے غلط نظریات کی حفاظت کا ذمہ نہ دیا جائے گا قرآن کریم میں حربی کافروں کی سزا یہ بیان کی گئی ہے۔
انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ و یسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیہم و ارجلہم من خلاف او ینفوا من الارض. (المائدہ ۳۳) ”بے شک ان لوگوں کی سزا جو لڑائی کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور دین میں فساد پھیلانے کی سعی کرتے ہیں یہ ہے کہ انھیں قتل کیا جائے یا سولی چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دیے جائیں یا انھیں اس (اسلامی) زمین سے جلاوطن کردیا جائے گا۔“
امام بخاری کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت کفار ومرتدین کے بارے میں ہے مگر حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ذہب جمہور الفقہاء الی انھا نزلت فیمن خرج من المسلمین یسعی فی الارض فسادا و یقطع الطریق وھو قول مالک والشافعی والکوفیین...... عن اسمعیل القاضی ان ظاہر القران وما مضی علیہ عمل المسلمین یدل علی ان الحدود المذکورہ فی ھذہ الآیۃ نزلت فی المسلمین.
(فتح الباری ج ۱۲ ص ۹۸ کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ)
"جمہور فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مسلمانوں میں سے نکلے اور مسلمانوں میں فساد پھیلانے اور راہ کاٹنے کے لیے خروج کیا۔ امام مالک، امام شافعیؒ اور اہل کوفہ کی بھی یہی رائے ہے۔..... اسماعیل قاضی کہتے ہیں کہ ظاہر قرآن اور جس پر مسلمانوں کا تعامل رہا۔ یہی ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں ہی اتری ہے۔"
خدائی احکام سے براہ راست ٹکر لینے کو قرآن کریم نے البقرہ ۲۷۹ میں فاذنوا بحرب من اللّٰه ورسولہ کے الفاظ میں ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہاں صرف میدانی بغاوت مراد نہیں عقائد کی میلانی بغاوت بھی اس میں شامل ہے۔ مبانی میں فساد پھیلانے والوں اور معانی میں فساد پھیلانے والوں ہر دو طبقوں کو یہ آیت شامل ہوگی۔
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں۔ "الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہو جاتا ہے آیت کی جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی ہے وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو عام رکھا جائے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے و ارتداد کا فتنہ، رہزنی اور ڈکیتی ناحق قتل، نہب، مجرمانہ سازشیں مخفیانہ پراپیگنڈہ سب داخل ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ہوتا ہے۔
(حاشیہ ترجمہ شیخ الہند ص ۱۴۶ سورۃ المائدہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
صدر پاکستان کے جاری کردہ اس آرڈیننس کے باوجود جو قادیانی اپنے خلاف اسلام نظریات وعقائد کی کھلی تبلیغ سے نہ رکیں اور مسلمانوں میں ان خلاف اسلام نظریات کا برابر پرچار کرتے رہیں وہ حربی کافر ہیں اور جو ایسا نہ کریں اپنے نظریات و عقائد کو اپنے تک محدود رکھیں وہ ملحدین اور زنادقہ ہیں اور حکم دونوں کا ایک نہیں جو ملحدین اپنے نظریات اپنے تک محدود رکھیں انھیں احسان اور مروت کے طور پر کچھ حقوق دیے جاسکتے ہیں۔
زندیق اور مرتد میں فرق جس زندیق اور ملحد پر پہلے ایسا وقت گزرا ہو جب وہ مسلمان تھا اور اس کے بعد وہ اسلام کے ان عقائد سے پھرا اور زندقہ و الحاد کا مرتکب ہوا تاہم اس نے اسلام کا کھلا انکار نہیں کیا کفر تاویل کی راہ سے وہ حدود اسلام سے نکلا ایسا شخص زندیق ہی ہے اور مرتد بھی اور اگر اس پر دور اسلام کچھ بھی نہیں گزرا وہ زندیق ہوگا مرتد نہیں۔ اور اگر نابالغ ہو تو والدین کے مذہب پر ان کے حکم میں آئے گا۔
زندیق اور ملحد کا حکم امام ابو حنیفہؒ کے ہاں تو ملحد و زندیق اس درجہ مجرم ہے کہ اگر وہ پکڑا گیا اور پھر وہ توبہ کرنے لگا تو اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی حضرت امام فرماتے ہیں:
اقتلوا الزندیق سراً فان توبۃ لا تعرف۔
(احکام القرآن لابی الجصاص ج ۱ ص ۵۱)
زندیق اور مرتد کا حکم شرعاً ایک ہے جو لوگ پہلے مسلمان تھے اور پھر قادیانی ہوئے تو وہ مرتد بھی ہیں اور زندیق بھی اور جو لوگ ان زنادقہ و ملحدین کے ہاں پیدا ہوئے یا وہ پہلے ہندو یا عیسائی تھے اور پھر قادیانی ہوئے تو وہ زندیق و ملحد تو ہیں لیکن مرتد نہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو کلمہ گو کہیں تو اس کا اعتبار نہ کیا جائے۔ وہ قطعا اہل قبلہ میں نہیں رہتے۔ امام محمدؒ فرماتے ہیں:
من انکر شیئا من شرائع الاسلام فقد بطل قول لا اله الا اللّٰه.
(شرح سیر کبیر ج ۵ ص ۴۶۸)
"جس نے شرائع اسلام میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کیا اس نے اپنے کلمہ گو ہونے کو باطل کر لیا۔"
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا قادیانی جب شرعاً زندیق اور مرتد ہیں اور اسلام مرتد اور زندیق کے وجود کو برداشت نہیں کرتا تو سوال یہ ہے کہ انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انھیں جان و مال کی حفاظت کا ذمہ دینا شرعاً کیسے جائز اور درست ہو سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اصلاً تو یہ لوگ واقعی مرتد اور زندیق ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو محض انگریزی مروت کے زیر سایہ ان میں ملے اور وہ اسلام کے متواتر تقاضوں سے ناواقف یا غافل تھے۔ پھر انگریزی اقتدار کے زیر سایہ ان کی مقدار اور بڑھتی گئی اب انھیں اسلامی مروت و احسان کے تحت ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر اگر برداشت کر لیا جائے تو ہو سکتا ہے انھیں پھر سے اسلام اور قادیانیت کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے اور کچھ لوگ ان میں سے پھر صف اسلام میں لوٹ آئیں۔ مسلم سربراہ یا مسلمانوں کی قومی اسمبلی اس تالیف قلب پر اگر انھیں سزائے موت نہ دے اور کچھ وقت کے لیے ان کو موقع دے کہ وہ پھر سے اسلام یا قادیانیت میں سے کسی ایک کا اپنے لیے انتخاب کر لیں تو اس عبوری دور میں ان پر حکم زندیق جاری نہ کرنے کی بھی اسلام میں گنجائش ہے۔
حضرت امام بخاریؒ نے خوارج کو اس بات کا ملزم ٹھہراتے ہوئے کہ وہ متواترات اسلام سے نکل گئے ہیں۔ صحیح بخاری میں اس پر یہ باب باندھا ہے۔ قتل من ابی قبول الفرائض وما نسبوا الی الردۃ اس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص فرائض اسلام میں سے کسی کا انکار کر دے اس پر حکم قتل دیا جائے۔ اس کے ایک باب کے بعد پھر یہ باب باندھا ہے۔ باب قتل الخوارج والملحدین بعد اقامۃ الحجۃ علیہم۔ اور پھر اس کے ایک باب بعد یہ باب باندھا ہے۔ باب من ترک قتال الخوارج للتألف وان لاینفر الناس منہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اس کے تحت لکھتے ہیں۔
قال المہلب التآلف انما کان فی اول الاسلام اذا کانت الحاجۃ ماسۃ الیہ لدفع مضرتہم فاما الیوم فقد اعلی اللہ الاسلام فلا یجب التآلف الا ان ینزل بالناس جمیعہم حاجۃ لذلک فلامام الوقت ذلک۔
(فتح الباری ج ۱۲ ص ۲۵۸)
”مہلب کہتے ہیں کہ یہ تالیف قلب ابتدائے اسلام میں تھا جب مسلمانوں کو دفع مضرت کے لیے اس کی ضرورت تھی لیکن اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بلندی بخشی ہے۔ یہ تآلف واجب نہ رہا (جواز میں بحث نہیں ہے) مگر جبکہ تمام لوگ اس کی ضرورت محسوس کریں پھر امام وقت ایسا کر سکتا ہے۔“ بعض علماء نے اس ترک قتال کو منفرد سے خاص کیا ہے اور لکھا ہے۔
والجمیع اذا اظہروا رایہم ونصبوا للناس القتال وجب قتالہم وانما ترک النبی ﷺ قتل المذکور لانہ لم یکن ظہر مایستدل بہ علی ماوراءہ فلو قتل من ظاہرہ الصلاح عندالناس قبل استحکام امر الاسلام ورسوخہ فی القلوب لنفرہم عن الدخول فی الاسلام وامابعدہ فلا یجوز ترک قتالہم۔
(فتح الباری ج ۱۲ ص ۲۵۸)
”اور وہ جب گروہ کی صورت میں ایک رائے دیں اور لوگوں کے خلاف برسر پیکار ہوں تو ان سے قتال واجب ہے اور آنحضرت ﷺ نے جب اسے قتل نہ کیا تو یہ اس لیے تھا کہ جو لوگ اس کے پیچھے تھے ان کے سامنے بات ظاہر نہ ہو سکتی تھی کہ وہ کس لیے مارا گیا۔ اگر کوئی ایسا شخص استحکام اسلام اور اسلام کے دلوں میں راسخ ہونے سے پہلے مارا جائے کہ اس کا ظاہر لوگوں کے ہاں اچھا ہو تو یہ بات ان دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے
سے روک بنے گی لیکن ان حالات کے بدلنے کے بعد ان کا ترک قتال بشرطیکہ اس کی طاقت ہو جائز نہیں۔ اگر وہ اپنے عقائد کا کھلا اقرار کرتے ہوں جماعت مسلمین کو چھوڑ چکے ہوں اور آئمہ کرام کی کھلی مخالفت کر رہے ہوں۔ اس کے بعد علامہ عینی لکھتے ہیں۔
قلت وليس فى الترجمة مايخالف ذلك الا انه اشار الى انه لواتفقت حالة مثل حالة المذكورة فاعتقدت فرقة مذهب الخوارج مثلاً ولم ينصبوا حرباً انه يجوز الامام الاعراض عنهم اذا راى المصلحة فى ذلك.
(عمدة القاری بشرح صحیح البخاری ج ۱۵ ص ۲۴۵)
”میں کہتا ہوں امام بخاری کے ترجمۃ الباب میں کوئی ایسی بات نہیں جو اس کے خلاف ہو۔ ہاں ایک اشارہ یہ ہے کہ اگر کبھی ایسی حالت اتفاقاً پیش آ جائے جو ان حالات سے ملتی جلتی ہو اور ایک طبقہ خوارج جیسے عقائد اختیار کر لے اور مسلمانوں سے نہ لڑے تو ان سے امام وقت کو اگر اس میں وہ مصلحت دیکھے نرمی کرنا اور درگزر کرنا جائز ہوگا۔ ان مصالح کے پیش نظر پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلے سے سربراہ مملکت اسلامی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ تالیف قلب کے طور پر ترک قتال کی پالیسی کو اپنائیں اور انھیں زندگی کا حق دیں اور انھیں اقلیت تسلیم کر لیں۔ لیکن یہ رعایت ان کے ساتھ اسی حد تک برتی جاسکتی ہے کہ وہ جارحیت نہ کریں۔ مسلمانوں میں اپنے عقائد و نظریات کی تبلیغ نہ کریں۔ مسلمانوں کے شعائر اسلام میں دخل نہ دیں اور اپنی مذہبی آزادی کو اپنے گھروں اور اپنے حلقوں تک محدود رکھیں جب تک وہ ان باتوں کی پابندی نہ کریں۔ مسلمانوں پر ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری نہ ہوگی۔“
زنادقہ وملحدین کو موقع دینا کہ وہ پھر اسلام کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ اسی صورت میں ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کی کچھ امید بندھی ہو اس کے سوا مرتدین سے مصالحت کی کوئی صورت نہیں۔ علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:
اى نصالح المرتدين حتى ننظر فى امورهم لان الاسلام مرجو منهم فجاز تاخير قتالهم طمعا فى اسلامهم ولا ناخذ عليه مالاً لانه لايجوز اخذ الجزية منهم و ان اخذه لم يرده لانه مال غير معصوم.
(البحر الرائق ج ۵ ص ۸۰ کتاب السیر)
”مرتدین سے مصالحت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ہم ان کے معاملات کا جائزہ لیں ان سے اسلام لانے کی امید ہو تو اس صورت میں ان کے قتال میں تاخیر روا ہوگی کہ ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو ہم ان سے کوئی رقم بھی نہ لیں گے کیونکہ مرتدین سے جزیہ لینا جائز نہیں۔ اور اگر لے لیا ہو تو اسے واپس نہ کیا جائے گا کیونکہ مرتد کا مال غیر معصوم ہے (اس کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں)“
مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں کی تحریروں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانی (لاہوری گروہ ہو یا قادیانی) زنادقہ وملحدین ہیں اور کچھ مرتدین بھی ہیں۔ مگر مسلمانوں کو پھر بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ احسان ومروت برتتے ہوئے ان پر ان کی اصل سزا نافذ نہ کریں اور دیگر دینی اور ملکی مصالح کے پیش نظر انھیں عبوری طور پر غیر مسلم اقلیت کے حقوق دیں اور امید رکھیں کہ شاید وہ آہستہ آہستہ اسلام کی طرف جھکنے لگیں۔ ہاں یہ شرط ہے کہ اس اجازت سے نہ کتاب وسنت کی عظمت پامال ہو اور نہ مسلمانوں کے شعائر و افراد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہو یا نقصان پہنچے۔ اگر یہ مسلمانوں کو اپنے عقائد پر لانے میں برابر کوشاں رہیں اور ان کا کھلا اظہار کریں۔ کفر کی کھلی تبلیغ کریں تو پھر یہ کافر حربی کے حکم میں ہوں گے اور اس صورت میں یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
ڈاکٹر خالد محمود عفاء اللہ عنہ
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
گستاخ رسول کی سزا قتل
مولانا سید احمد سعید کاظمی
بسم الله الرحمن الرحيم
بسلسلہ شریعت پٹیشن در توہین رسالت بعدالت جناب چیف جسٹس ، وفاقی شرعی عدالت پاکستان بیان من جانب : سید احمد سعید کاظمی صدر مرکزی جماعت اہلسنت ، پاکستان و شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ انوار العلوم ملتان
محترم محمد اسمعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان لاہور ، نے بنام اسلامی جمہوریہ پاکستان ، تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر ۲۹۵ الف اور دفعہ ۲۹۸ الف کے خلاف شرعی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ جہاں تک اہانت رسالت اور توہین و تنقیص نبوت سے اس درخواست کا تعلق ہے، میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اور دلائل شرعیہ (کتاب و سنت ، اجماع امت اور تصریحات علماء دین ) کے مطابق میں اس کی مکمل تائید اور حمایت کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں میرا تفصیلی بیان درج ذیل ہے:
کتاب و سنت ، اجماع امت اور تصریحات ائمہ دین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔ رسول کی صریح مخالفت توہین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے۔ اسی بنا پر کافروں سے قتال کا حکم دیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللهَ وَرَسُولَهُ (انفال ۱۳) یہ (یعنی کافروں کو قتل کرنے کا حکم ) (مدارک التنزیل ج ۲ ص ۷۴ خازن ج ۲ ص ۱۸۴) اس لیے ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی صریح مخالفت کر کے ان کی توہین کا ارتکاب کیا۔ توہین رسول کے کفر ہونے پر بکثرت آیات قرآنیہ ۔ شاہد ہیں مثلاً وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَايٰتِهِ وَرَسُوْلِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ (توبہ ۶۵ - ۶۶) ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرور کہیں گے ہم تو صرف ہنسی مذاق کرتے تھے۔ آپ (ان سے ) کہیں ، کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو۔ کوئی عذر نہ کرو۔ بے شک ایمان کے بعد تم نے کفر کیا ۔“
مسلمان کہلانے کے بعد کفر کرنے والا مرتد ہوتا ہے اور از روئے قرآن مرتد کی سزا صرف قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قُلْ لِلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ أَوْ يُسْلِمُوْنَ (الفتح ۱۶) ”اے رسول ﷺ پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجئے ، عنقریب تم سخت جنگ کرنے والوں کی طرف بلائے جاؤ گے۔ تم ان سے قتال کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔“ یہ آیت مرتدین اہل یمامہ کے حق میں بطور اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگر چہ بعض علما نے اس مقام پر فارس و روم وغیرہ کا ذکر بھی کیا ہے، لیکن حضرت رافع بن خدیجؓ کی حسب ذیل روایت نے اس آیت کو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ ) کے حق میں متعین کر دیا۔
عن رافع بن خدیج انا کنا نقرأ ھذہ الایۃ فیما مضی ولا نعلم من ھم حتی دعا ابوبکرؓ الی قتال بنی حنیفۃ فعلمنا انھم اریدوا بھا۔ (روح المعانی جز ۲۶ ص ۹۳، البحر المحیط ج ۸ ص ۱۳۳) ”حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے (مرتدین) بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کو بلایا۔ اس وقت ہم سمجھے کہ اس آیت کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں۔“
ثابت ہوا کہ اگر مرتد اسلام نہ لائے تو از روئے قرآن اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں۔ قتل مرتد کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اختصار کے پیش نظر صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے:
اتی علیؓ بزنادقۃ فاحرقھم (وفی روایۃ ابی داؤد) ان علیا احرق ناسا ارتدوا عن الاسلام فبلغ ذلک ابن عباس فقال لوکنت انا لم احرقھم لنھی رسول اللہ ﷺ لاتعذبوا بعذاب اللہ ولقتلتھم لقول رسول اللہ ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۰۲۳ ابی داؤد ج ۲ ص ۱۳۸) ”حضرت علیؓ کے پاس (مرتد ہو جانے والے) زندیق لوگ لائے گئے تو آپ نے انھیں جلا دیا۔ اس کی خبر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو پہنچی ، تو انھوں نے فرمایا، اگر (آپ کی جگہ) میں ہوتا، تو انھیں نہ جلاتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو، اور میں انھیں قتل کرا دیتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو (مسلمان) اپنے دین سے پھر جائے، اسے قتل کر دو۔“
قتل مرتد کے بارے میں صحابہ کا طرز عمل
صدیق اکبرؓ نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی جس شدت کے ساتھ مرتدین کو قتل کیا، محتاج بیان نہیں۔ صحابہ کرامؓ کے لیے مرتد کو زندہ دیکھنا ناقابل برداشت تھا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنھما دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یمن کے دو مختلف حصوں پر حاکم تھے۔ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبلؓ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے ملاقات کے لیے آئے۔ ایک بندھے ہوئے شخص کو دیکھ کر انھوں نے پوچھا، یہ کون ہے؟ ابو موسیٰ اشعریؓ نے فرمایا:
کان یھودیا فاسلم ثم تھود قال اجلس قال لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل۔
(بخاری باب حکم المرتد ج ۲ ص ۱۰۲۳ ابی داؤد کتاب الحدود ج ۲ ص ۱۳۸)
”یہ یہودی تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد پھر یہودی (ہو کر مرتد) ہو گیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ انھوں نے تین بار فرمایا: جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، میں نہیں بیٹھوں گا۔ (قتل مرتد) اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے حکم سے اسے اسی وقت قتل کر دیا گیا۔“
گستاخ رسول کا قتل غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسول کے مرتکب مرتد کو مسجد حرام میں قتل کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ کسی نے حضور ﷺ سے عرض کی، حضور ﷺ! (آپ کی شان میں توہین کرنے والا) ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اقتلوہ“ اسے قتل کر دو۔“
(بخاری باب دخول الحرم ج ۱ ص ۲۳۹ بخاری باب این رکز النبی ﷺ ج ۲ ص ۶۱۴ )
یہ عبداللہ بن خطل مرتد تھا۔ ارتداد کے بعد اس نے کچھ ناحق قتل کیے، رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہہ کر حضور ﷺ کی شان میں توہین و تنقیص کیا کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والی لونڈیاں اس لیے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کی گردن ماری گئی۔
(فتح الباری ج ۸ ص ۱۳ باب این ركز النبي الراية يوم الفتح)
یہ صحیح ہے کہ اس دن ایک ساعت کے لیے حرم مکہ کو حضور ﷺ کے لیے حلال قرار دے دیا گیا تھا، لیکن بالخصوص مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کا قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخ رسول باقی مرتدین سے بدرجہا بدتر و بدحال ہے۔
- اجماع امت ۱...... قال محمد بن سحنون اجمع العلماء ان شاتم النبي ﷺ المتنقص له كافر
والوعيد جار عليه بعذاب الله له و حكمه عند الامة القتل ومن شك في كفره وعذابه كفر. (الشفاء باب ماهو في حقه ﷺ ج ۲ ص ۱۹۰) ”محمد بن سحنون نے فرمایا، علماء امت کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا حضور ﷺ کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے، کافر ہے۔“
- ۲...... وقال ابو سليمان الخطابى لاعلم احدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله اذا كان
مسلماً. (الصارم المسلول باب قتل ساب النبی ﷺ ص ۷ الشفا ج ۲ ص ۱۹۰) ”امام ابوسلیمان الخطابیؒ نے فرمایا، جب مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سب کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔“
- ۳...... واجمعت الامة على قتل منتقصه من المسلمين وسابه.
(الشفا باب فيمن تنقصه او سبه عليه السلام ج ۲ ص ۱۸۶)
”اور امت کا اجماع ہے کہ مسلمان کہلا کر حضور ﷺ کی شان میں سب اور تنقیص کرنے والا قتل کیا جائے گا۔“
- ۴...... قال ابوبكر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبي ﷺ يقتل قال ذلك
مالك بن انس والليث واحمد واسحاق وهو مذهب الشافعى قال القاضى ابوالفضل وهو مقتضى قول ابى بكر الصديقؓ ولا تقبل توبته عند هؤلاء وبمثله قال ابو حنيفة واصحابه والثورى واهل الكوفة والاوزاعى فى المسلمين لكنهم قالوا هى ردة. (الشفاء باب ماهو فى حقه ﷺ ج ۲ ص ۱۸۹) ”امام ابوبکر بن منذر نے فرمایا، عامہ علماء اسلام کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو سب کرے، قتل کیا جائے گا۔ ان ہی میں سے مالک بن انس، لیث، احمد، اسحاق (رحمہم اللہ) ہیں اور یہی شافعی کا مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول کا یہی مقتضی ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) اور ان ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔ امام ابوحنیفہؒ، ان کے شاگردوں، امام ثوری، کوفہ کے دوسرے علماء اور امام اوزاعی کا قول بھی اسی طرح ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردّت ہے۔“
- ۵...... ان جميع من سب النبي ﷺ او عابه او الحق به نقصاً في نفسه او نسبه او دينه او خصلة من
خصاله او عرض به او شبهه بشئ على طريق السب له او الازراء عليه او التصغير بشانه او الغض منه
والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل كما نبينه ولا نستثنى فصلاً من فصول هذا الباب على هذا المقصد ولا نمترى فيه تصريحاً كان او تلويحاً...... وهذا كله اجماع من العلماء وائمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم الى هلم جرا.
(الشفاء باب ماهو فى حقه ﷺ ج ۲ ص ۱۸۸)
”بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا حضور ﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ، آپ ﷺ کے نسب، دین یا آپ ﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ ﷺ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریق سب اہانت یا تحقیر شان مبارک یا ذاتِ مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لیے حضور ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دی، وہ حضور ﷺ کو صراحۃ گالی دینے والا ہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثنا نہیں کرتے۔ نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحۃ توہین ہو یا اشارۃ کنایۃ اور یہ سب علماء امت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔“
- ٦...... والحاصل انه لاشك ولا شبهة فى كفر شاتم النبى ﷺ وفى استباحة قتله وهو المنقول عن
الائمة الاربعة. (فتاوى شامى باب فى حكم سب الشيخين ج ۳ ص ۳۲۱) ”خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والے کے كفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل) سے یہی منقول ہے۔“
- ٧...... كل من ابغض رسول الله ﷺ بقلبه كان مرتداً فالساب بطريق اولى ثم يقتل حداً عندنا.
(فتح القدير باب احكام المرتدين ج ۵ ص ۳۳۲) ”جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا تو بطریق اولیٰ مستحق گردن زدنی ہے۔ پھر (مخفی نہ رہے کہ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطور حد ہوگا۔“
- ٨...... ايما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر بالله و بانت منه
زوجته. (كتاب الخراج ص ۱۹۷ فصل فى حكم المرتد فتاوى شامى ج ۳ ص ۳۱۹) ”جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کو سب کرے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا آپ کی تنقیص شان کا (کسی اور طرح سے) مرتکب ہو، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی۔“
- ٩...... اذا عاب الرجل النبى ﷺ فى شىء كان كافرا وكذا قال بعض العلماء لو قال لشعر النبى ﷺ
شعير فقد كفر و عن ابى حفص الكبير من عاب النبى ﷺ بشعرة من شعراته الكريمة فقد كفر و ذكر فى الاصل ان شتم النبى كفر. (فتاوى قاضى خان باب ما يكون كفرا من المسلم ج ۴ ص ۴۶۸) ”کسی شے میں حضور پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اسی طرح بعض علماء نے فرمایا، اگر کوئی حضور ﷺ کے بال مبارک کو ”شعر“ کے بجائے (بصیغہ تصغیر ”شعیر“ کہہ دے) تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور امام ابوحفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمد نے ”مبسوط“ میں فرمایا کہ نبی ﷺ کو گالی دینا کفر ہے۔“
- ١٠...... ولا خلاف بين المسلمين ان من قصد النبى ﷺ بذلك فهو ممن ينتحل الاسلام انه مرتد
يستحق القتل. (احكام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۶) ”کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی
کریم ﷺ کی اہانت و ایذا رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہے، وہ مرتد مستحق قتل ہے۔“ یہاں تک ہمارے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب وسنت اجماع امت اور اقوال علمائے دین کے مطابق گستاخ رسول کی سزا یہی ہے کہ وہ حداً قتل کیا جائے۔ اس کے بعد حسب ذیل امور کی وضاحت بھی ضروری ہے:
- ۱....... بارگاہ نبوت کی توہین و تنقیص کو موجب حد جرم قرار دینے کے لیے یہ شرط صحیح نہیں کہ گستاخی کرنے والے نے
مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی غرض سے گستاخی کی ہو۔ یہ شرط ہر گستاخ نبوت کے تحفظ کے مترادف ہوگی اور توہین رسالت کا دروازہ کھل جائے گا۔ ہر گستاخ نبوت اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے یہ کہہ کر چھوٹ جائے گا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا میری غرض نہ تھی۔ علاوہ ازیں یہ شرط کتاب اللہ کے بھی منافی ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ہم لکھ چکے ہیں کہ توہین کرنے والے منافقوں کا یہ عذر کہ ”ہم تو آپس میں صرف دل لگی کرتے تھے۔ ہماری غرض توہین نہ تھی۔“ نہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل کرنا ہمارا مقصد تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مسترد کر دیا اور واضح طور پر فرمایا۔ لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم. (توبہ ۶۶) ”بہانے نہ بناؤ، ایمان کے بعد تم نے کفر کیا ۔“
- ۲....... صریح توہین میں نیت کا اعتبار نہیں۔ ”راعنا“ کہنے کی ممانعت کے بعد اگر کوئی صحابی نیت توہین کے بغیر
حضور ﷺ کو ”راعنا“ کہتا تو وہ وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ کی قرآنی وعید کا مستحق قرار پاتا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نیت توہین کے بغیر بھی حضور ﷺ کی شان میں توہین کا کلمہ کہنا کفر ہے۔
امام شہاب الدین خفاجی حنفی ارقام فرماتے ہیں:
المدار فی الحکم بالکفر علی الظواهر ولا نظر للمقصود والنیات ولا نظر لقرائن حاله.
(نسیم الریاض ج۴ ص۳۸۹ طبع دار الفکر بیروت) ”توہین رسالت پر حکم کفر کا مدار ظاہر الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے قصد و نیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائے گا۔“ ورنہ توہین رسالت کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا کیونکہ ہر گستاخ یہ کہہ کر بری ہو جائے گا کہ میری نیت اور ارادہ توہین کا نہ تھا۔...... لہٰذا ضروری ہے کہ توہین صریح میں کسی گستاخ نبوت کی نیت اور قصد کا اعتبار نہ کیا جائے۔
- ۳....... یہاں اس شبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور اسلام کی
صرف ایک وجہ کا احتمال ہو تو فقہاء کا قول ہے کہ کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔ اس کا ازالہ یہ ہے کہ فقہاء کا یہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کا صرف احتمال ہو، کفر صریح نہ ہو۔ لیکن جو کلام مفہوم توہین میں صریح ہو اس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ لفظ صریح میں تاویل نہیں ہو سکتی۔
قاضی عیاضؒ نے لکھا:
قال حبیب ابن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل.
(الشفاء باب فی بیان ماھو فی حقہ ﷺ ج۲ ص۱۹۱)
”حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔“
کسی کلام کا توہین صریح ہونا عرف اور محاورے پر مبنی ہے۔ معذرت کے ساتھ بطور مثال عرض کرتا ہوں کہ اگر کسی کو ولد الحرام کہا جائے اور کہنے والا لفظ ”حرام“ کی تاویل کرے اور کہے کہ میں نے ”المسجد الحرام“ اور
”بیت اللہ الحرام“ کی طرح معظم و محترم کے معنی میں یہ لفظ بولا ہے، تو اس کی یہ تاویل کسی ذی فہم کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ عرف اور محاورے میں ”ولد الحرام“ کا لفظ گالی اور توہین ہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ کلام جس سے عرف و محاورے میں توہین کے معانی مفہوم ہوتے ہوں، توہین ہی قرار پائے گا، خواہ اس میں ہزار تاویلیں ہی کیوں نہ کی جائیں۔ عرف اور محاورے کے خلاف تاویل معتبر نہ ہوگی۔
- ۴...... یہاں اس شبہ کو دور کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر توہین رسول کی سزا حداً قتل کرنا ہے تو کئی منافقین نے
حضورﷺ کی صریح توہین کی۔ بعض اوقات صحابہ کرام نے عرض کی کہ حضورﷺ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس گستاخ منافق کو قتل کر دیں، لیکن حضورﷺ نے اجازت نہیں دی۔
ابن تیمیہ نے اس کے متعدد جوابات لکھے ہیں، جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
- (الف)...... اس وقت ان لوگوں پر حد قائم کرنا فساد عظیم کا موجب تھا۔ ان کے کلمات توہین پر صبر کر لینا اس فساد
کی نسبت آسان تھا۔
- (ب)...... منافقین اعلانیہ توہین رسالت نہ کرتے تھے، بلکہ آپس میں چھپ کر حضورﷺ کے حق میں توہین آمیز
باتیں کیا کرتے تھے۔
- (ج)...... منافقین کے ارتکاب توہین کے موقع پر صحابہ کرامؓ کا حضورﷺ سے ان کے قتل کی اجازت طلب کرنا اس
بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرامؓ جانتے تھے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔
گستاخان شان رسالت ابو رافع یہودی اور کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم رسول اللہﷺ نے صحابہؓ کو دیا تھا۔ اس حکم کی بناء پر صحابہ کرامؓ کو علم تھا کہ حضورﷺ کی شان میں توہین کرنے والا قتل کا مستحق ہے۔
- (د)...... رسول اللہﷺ کے لیے جائز تھا کہ وہ اپنے گستاخ اور موذی کو اپنی حیات میں معاف فرما دیں، لیکن
امت کے لیے جائز نہیں کہ وہ حضورﷺ کے گستاخ کو معاف کر دے۔
(الصارم المسلول ص ۲۲۲ تا ۲۳۳ فی بحث من شتم الرسول الکریم فصل حکم شاتم النبی فی آثار الصحابۃ)
نبی اکرمﷺ اور دیگر انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بجا لائے کہ ”آپ معافی کو اختیار فرمائیں اور جاہلوں سے منہ پھیر لیں اور نیکی کا حکم دیں۔“
(اعراف ۱۹۹)
میں عرض کروں گا کہ گستاخ رسول پر قتل کی حد جاری کرنا ایسی حد ہے جو رسول اللہﷺ کا اپنا حق ہے۔ اگرچہ رسول اللہﷺ کی توہین حضورﷺ کی امت کے لیے بھی سخت ترین اذیت کا موجب ہے اور اس طرح اس حد کو پوری امت کا حق بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن بلاواسطہ نہیں بلکہ بواسطہ ذات اقدس کے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اپنا یہ حق کسی کو خود معاف فرما دیں۔ جیسا کہ بعض دیگر احکام شرع کے متعلق دلیل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان احکام میں حضورﷺ کو اختیار عطا فرمایا۔ مثلاً حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابو بردہؓ کو بکری کے ایک بچے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:
ولن تجزی عن احد بعدک. (بخاری کتاب الاضحیٰ ج ۲ ص ۸۳۲) ”کہ (یہ قربانی) تمھارے علاوہ کسی دوسرے پر ہرگز جائز نہیں۔“
اسی طرح حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب حضورﷺ نے حرم مکہ کی گھاس کاٹنے کو حرام قرار دیا تو حضرت عباسؓ نے عرض کی ”الا الاذخر“ یعنی ”اذخر“ گھاس کو حرمت کے اس حکم
سے مستثنیٰ فرما دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”إِلَّا الْإِذْخِرَ“ یعنی اذخر کو حرمت کے حکم سے ہم نے مستثنیٰ فرما دیا۔
(بخاری ج ۱ ص ۲۱۶ باب فضل الحرم بالفاظ مسلم باب تحریم مکہ ج ۱ ص ۴۳۸)
اس حدیث کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی تحریر فرماتے ہیں: ”در مذہب بعضے آن است کہ احکام مفوض بود بویے ﷺ ہر چہ خواہد و بر ہر کہ خواہد حلال و حرام گرداند و بعضے گویند با اجتہاد گفت۔ واول اصح اظہر است۔“
(اشعۃ اللمعات ج ۲ ص ۴۰۸، مسک الختام ج ۲ ص ۵۱۲)
”یعنی بعض کا مذہب یہ ہے کہ احکام شرعیہ حضور ﷺ کے سپرد کر دیے گئے تھے۔ جس کے لیے جو کچھ چاہیں حلال اور حرام فرما دیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ اجتہاد کے طور پر فرمایا تھا اور پہلا مذہب اصح اور اظہر ہے۔“
ان احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے کہ کسی حکمت و مصلحت کے لیے حضور ﷺ ان منافقین پر قتل کی حد جاری نہ فرمائیں، لیکن حضور ﷺ کے بعد کسی کو یہ اختیار نہیں۔
آخر میں عرض کروں گا کہ توہین رسالت کی حد اسی پر جاری ہو سکے گی، جس کا یہ جرم قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو جائے۔ اس کے بغیر کسی کو اس جرم کا مرتکب قرار دے کر قتل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ تواتر بھی دلیل قطعی ہے۔ اگر کوئی شخص توہین کے کلمات صریحہ بول کر یا لکھ کر اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ کلمات میں نے بولے یا میں نے لکھے ہیں تو یقیناً وہ واجب القتل ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے اور کہتا پھرے کہ میری نیت توہین کی نہ تھی۔ یا ان کلمات سے میری غرض یہ نہ تھی کہ میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاؤں۔ بہر حال وہ مستحق قتل ہے۔
علیٰ ھذا وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی توہین صریح کی تاویل کر کے اس کے مرتکب کو کفر سے بچانا چاہیں بالکل اسی طرح قتل کے مستحق ہیں جیسا کہ خود توہین کرنیوالا مستوجب حد ہے۔ شاتم رسول کے حق میں محمد بن سحنون کا قول ہم شفاء، قاضی عیاض اور الصارم المسلول سے نقل کر چکے ہیں کہ:
وَمَنْ شَكَّ فِيْ كُفْرِهِ وَعَذَابِهِ كَفَرَ.
(الشفاء باب ما هو فی حقہ ﷺ ج ۲ ص ۱۹۰۔ الصارم المسلول باب وجوب قتل ساب النبی ﷺ ص ۷)
سید احمد سعید کاظمی ۲۵ نومبر ۱۹۸۵ء
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی محمد امین
بسم الله الرحمن الرحیم
تعارف
الحمد للہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔ اما بعد ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے قادیانیوں سے سوشل بائیکاٹ کی اپیل کی۔ پورے ملک کے اسلامیان وطن نے قادیانیوں سے تاریخ ساز سوشل بائیکاٹ کیا چند ”روشن خیال“ اس پر چیں بجبیں ہوئے۔ تمام مسالک کے علماء کرام نے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت واضح کرنے کے لیے فتویٰ جات تحریر کیے۔ مثلاً پاکستان کے مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی ولی حسن تونکیؒ نے فتویٰ مرتب کیا۔ اس زمانہ میں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوا۔ اسی طرح جامعہ امینیہ رضویہ فیصل آباد کے حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب نے یہ فتاویٰ مرتب کیا جو پیش خدمت ہے۔ تحریک کے دوران میں غالباً سنسر کی پابندی کے باعث اس فتویٰ میں الکنایۃ ابلغ من الصریح کو مدنظر رکھا گیا۔ مگر اس اشاعت میں اسے واضح سے واضح کر دیا گیا ہے۔ فقیر ...... اللہ وسایا
الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لّانبی بعدہ. امابعد حدود و قصاص کا قائم کرنا حکومت کا کام ہے رعایا کا کام نہیں لیکن اگر معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے کچھ افراد جرائم و معاصی کا ارتکاب کرنے لگ جائیں تو ان کو درست اور سیدھا کرنے کے لیے معاشرہ کو برائیوں سے پاک وصاف رکھنے کے لیے جرائم پیشہ افراد سے قطع تعلقی (بائیکاٹ) کرنا ان کے ساتھ میل جول لین دین ترک کر دینا ان سے رشتہ ناطہ نہ کرنا ان کی تقریبات شادی غمی میں شریک نہ ہونا ان کو اپنی تقریبات میں شامل نہ کرنا نہایت ہی پُر امن بے ضرر اور موثر ذریعہ ہے۔ آج سے تقریباً نصف صدی پہلے تک ہر زمانہ کے مسلمان اسی بائیکاٹ کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کرتے چلے آئے ہیں چنانچہ شرح مشکوٰۃ میں ہے۔ وھکذا کان داب الصحابۃ ومن بعد ھم من المومنین فی جمیع الازمان فانھم کانو یقاطعون من حاد الله ورسولہ مع حاجتھم الیہ و البر و ارضاء الله تعالیٰ علی ذالک. (مرقات شرح مشکوٰۃ ج نمبر ۱۰ ص ۲۹۰) ”یعنی صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد والے ہر زمانہ کے ایمان والوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالفوں دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ کرتے رہے۔ حالانکہ ان ایمانداروں کو دنیوی طور پر ان مخالفوں کی احتیاج بھی
ہوتی تھی لیکن وہ مسلمان خدا تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتے ہوئے بائیکاٹ کرتے تھے خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی رضا جوئی کی اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ (آمین)
یہ بائیکاٹ قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے بلکہ سید عالم ﷺ نے عملی طور پر بھی اس کو نافذ فرمایا۔ جب غزوۂ خیبر میں یہودیوں کا محاصرہ کیا اور یہودی قلعہ میں محصور ہو گئے اور کئی دن گزر گئے تو ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے ابوالقاسم ﷺ اگر آپ مہینہ بھر ان کا محاصرہ رکھیں تو ان کو پروا نہیں کیونکہ ان کے قلعہ کے نیچے پانی ہے وہ رات کے وقت قلعہ سے اترتے ہیں اور پانی پی کر واپس چلے جاتے ہیں تو اگر آپ ان کا پانی بند کر دیں تو جلدی کامیابی ہو گی۔ اس پر سیّد دو عالم ﷺ نے ان کا پانی بند کر دیا تو وہ مجبور ہو کر قلعہ سے اتر آئے۔ فسار رسول الله ﷺ الى مائهم فقطعه عليهم فلما قطع عليهم خرجوا.
(زاد المعاد ابن قیم ج ۳ ص ۲۳۲ علی ہامش مواہب للزرقانی ج ۲ ص ۲۰۵)
اور ایک مرتبہ جبکہ حضرت سیدنا کعب بن مالک صحابی اور ان کے ساتھی دو اور صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے۔ واپسی پر سید دو عالم ﷺ نے جواب طلبی فرمائی اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان تینوں کے ساتھ بات چیت ترک کر دی جائے۔ حضرت کعب فرماتے ہیں ونھى النبى ﷺ عن كلامى و كلام صاحبی (صحیح بخاری ص ۶۷۵ ج ۲ باب وعلى الثلاثۃ الذین خلفوا حتی اذا الخ) ”یعنی رسول اکرم ﷺ نے میرے ساتھ اور میرے دو ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے منع فرما دیا۔“
فاجتنب الناس كلامنا (صحیح بخاری ص ۶۷۵ ج ۲ باب و علی لاثلاثۃ الذین خلفوا حتی اذا الخ) ہمارے ساتھ کوئی بھی بات نہ کرتا تھا۔ انتہی۔ اور اس بائیکاٹ کا اثر یہ ہوا کہ زمین باوجود وسیع ہونے کے ان پر تنگ ہو گئی بلکہ وہ اپنی جانوں سے بھی تنگ آ گئے۔ وضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا الا ملجأ من الله الا اليه. (توبہ ۱۱۸) یہ بائیکاٹ جب چالیس دن تک پہنچا تو رسول اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اب ان کی بیویاں بھی ان سے الگ ہو جائیں۔ پھر جب پورے پچاس دن ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور اس کا حکم بذریعہ وحی نازل فرمایا۔ (روح البیان)
تنبیہ یہ صحابہ کرام حضرات تھے ان سے لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک ﷺ کی برکت سے ان کی لغزش کو معاف فرمایا ان کی معافی کی سند قرآن مجید میں نازل فرمائی ان کے درجات بلند کیے، لہٰذا اب کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان حضرات کے متعلق کوئی ادب سے گری ہوئی بات کہے یا دل میں بدگمانی رکھے، کیونکہ صحابہ کرام کے ساتھ ایسا کرنا سراسر ہلاکت ہے اور دین کی بربادی ہے خدا تعالیٰ ادب کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
قطع تعلقی (بائیکاٹ) کے متعلق قرآن پاک میں ہے۔ ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار (ھود ۱۱۳) یعنی ظالموں کی طرف میلان نہ کرو ورنہ تمھیں نار جہنم پہنچے گی۔
نیز قرآن پاک میں ہے فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمين (انعام ۶۸) یعنی یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
اور حدیث پاک میں ہے عن عبدالله بن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ لما وقعت بنوا اسرائيل فى المعاصى فنهتهم علمائهم فلم ينتهوا فجالسوهم فى مجالسهم واكلوهم وشاربوهم
فضـرب الله قلوب بعضهم على بعض ولعنهم على لسان داؤد و عيسى بن مريم ذالك بما عصو و كانوا يعتدون قال فجلس رسول الله ﷺ وكان متكئًا فقال لا والذى نفسى بيده حتى تاطروهم اطرا۔
(ترمذی شریف ج ۲ ص ۱۴۵ باب تفسیر من سورۃ المائدہ)
”یعنی رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کو ان کے علماء نے منع کیا مگر وہ باز نہ آئے پھر ان علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کر دیا اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے، (بائیکاٹ نہ کیا) تو خدا تعالیٰ نے ان کے ایک دوسرے کے دلوں پر مار دیا اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر لعنت بھیجی کیونکہ وہ نافرمانی کرتے حد سے بڑھ گئے تھے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ تکیہ لگائے تشریف فرما تھے حضور اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں کو روک لو۔“
مذکورہ بالا بائیکاٹ کا حکم ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو عملی طور پر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن جو لوگ دین کے ساتھ دشمنی کریں اور خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی شان و عظمت پر حملے کریں ایسے بدمذہبوں کے لیے سخت حکم ہے ان کے ساتھ بائیکاٹ کرنا، میل میلاپ، محبت دوستی کرنا سخت حرام ہے۔ اگرچہ وہ ماں باپ ہوں یا بیٹے بیٹیاں ہوں بہن بھائی کنبہ برادری ہو۔ قرآن پاک میں ہے۔
ياايها الذين امنوا لا تتخذوا اباء كم و اخوانكم اولياء ان استحبوا الكفر على الايمان ومن يتولهم منكم فاولئك هم الظلمون (التوبۃ ٢٣) ”یعنی اے ایمان والو! اگر تمھارے باپ دادا اور تمھارے بہن بھائی ایمان پر کفر کو پسند کریں تو ان سے محبت و دوستی نہ کرو اور جو تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا، وہ ظالموں میں سے ہوگا۔“ نیز قرآن پاک میں ہے۔
لاتجد قوما يومنون بالله واليوم الأخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا اباء هم او ابنائهم او اخوانهم او عشيرتهم اولئك كتب فى قلوبهم الايمان وأيدهم بروح منه و يدخلهم جنت تجرى من تحتها الانهر خلدين فيها رضى الله عنهم ورضوا عنه اولئك حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحونہ (سورۃ المجادلہ ٢٢) ”یعنی تم نہ پاؤ گے کسی ایسی قوم کو جو خدا تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوں وہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو دشمنی اور مخالفت کریں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ سے اگرچہ وہ دشمنی کرنے والے ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں بھائی ہوں یا کنبہ برادری ہو۔ ایسے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرما دیا ہے اور ان کی روح سے مدد فرماتا ہے اور انھیں بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ان بہشتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے خدا تعالیٰ ان سے راضی وہ خدا سے راضی یہ لوگ خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعت ہی دونوں جہاں میں کامیاب ہے۔“
آیت مذکورہ کا مفہوم یہ کہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں چنانچہ تفسیر روح المعانی میں ہے۔
والكلام على ما فى الكشاف من باب التخييل خيل ان من الممتنع المحال ان تجد قومًا مومنين يوادون المشركين. (روح المعانی ج ۲۸ ص ۳۵) ”یعنی آیت مبارکہ میں تصور دلایا گیا ہے کہ کوئی قوم مومن بھی ہو اور کفار و مشرکین کے ساتھ اس کی دوستی ومحبت بھی ہو یہ محال وممتنع ہے۔“ نیز اس میں ہے۔
مبالغة فى النهى عنه والزجر عن ملابسته والتصلب فى مجانبة اعداء الله تعالى.
(روح المعانی ج ۲۸ ص ۳۵)
یعنی آیت مذکورہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے سے مبالغہ کے ساتھ منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں کے لیے زجر وتوبیخ ہے اور خدا تعالیٰ کے دشمنوں سے الگ رہنے کی پختگی بیان کی گئی ہے۔ خدا تعالیٰ جل مجدہ نے اپنے حبیب پاک کے صحابہ کرام کے دلوں میں ایسا ایمان نقش کر دیا تھا کہ ان کی نظروں میں حبیب خدا ﷺ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی وقعت ہی نہ تھی خواہ وہ باپ ہو کہ بیٹا بھائی ہو کہ بہن چنانچہ سیدنا امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ نے اپنے باپ ابو قحافہ کی زبان سے سید دو عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی سنی تو اس کو ایسا مکا رسید کیا کہ وہ گر گیا جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا اور حضور ﷺ نے پوچھا افعلت یا ابابکر اے ابوبکر آپ نے ایسا کیا ہے؟ عرض کی کہ ہاں یا رسول اللہ قال لا تعد قال والله لوكان السيف قريباً منى لضربته (روح المعانی نمبر ۲۸ ص ۳۷) ”یا رسول اللہ خدا تعالیٰ کی قسم اگر میرے قریب تلوار ہوتی تو میں اس کو مار دیتا، اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی (روح المعانی) اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ نے اپنے باپ کے منہ سے اپنے محبوب آقا کی شان میں کوئی ناپسندیدہ بات سنی تو اسے منع کیا وہ باز نہ آیا تو اس نے باپ کو قتل کر دیا جیسے روح المعانی میں ہے۔
عن انس قال كان اى ابوعبيده قتل اباه وهو من جملة اسارى بدر بيده لما سمع منه فى رسول الله ﷺ ما يكره و نهاه فلم ينته.
(روح المعانی ج ۲۸ ص ۳۷)
یوں ہی حضرت فاروق اعظمؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو بدر کے دن اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا اور حضرت مولیٰ علی شیر خداؓ اور حضرت حمزہؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ نے عتبہ شیبہ کو قتل کر دیا اور حضرت مصعب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا۔
خدا تعالیٰ ان پاک روحوں پر لاکھوں، کروڑوں، اربوں، کھربوں رحمتیں نازل فرمائے، جنھوں نے امت کو عشق مصطفیٰ کا درس دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ ناموس مصطفےٰ کے سامنے سب ہیچ ہیں۔ حضور رحمت دو عالم ﷺ کی عزت وعظمت کے سامنے نہ کسی استاد کی عزت ہے نہ کسی پیر کا تقدس رہ جاتا ہے نہ ماں باپ کا وقار نہ بیوی بچوں کی محبت آڑے آتی ہے نہ مال و دولت ہی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ سبحان من كتب الايمان فى قلوب المومنين و ايدهم بروح منه.
صحابہ کرامؓ کے عشق و محبت ہی کی بنا پر خدا تعالیٰ نے ان کے جذبات کی تعریف فرمائی ہے اشداء على الكفار رحماء بينهم (الفتح ۲۹) یعنی وہ کافروں دشمنوں پر بڑے ہی سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا و رسول جل جلالہ و ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی اور شدت کی مقدار پر ہی عشق و محبت کا انحصار ہوتا ہے جو شخص محبت کا دعویٰ تو کرے لیکن محبوب کے دشمنوں کے ساتھ بغض و عداوت نہ رکھے وہ محبت میں سچا نہیں ہے وہ محبت محبت ہی نہیں ہے بلکہ وہ بربریت ہے دھوکہ ہے فریب ہے الحاصل خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دوستوں کے ساتھ دوستی اور اور ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی افضل الاعمال ہیں۔ حدیث پاک میں ہے۔ افضل الاعمال الحب فى الله والبغض فى الله (ابوداؤد شریف ج ۲ ص ۱۶۴ باب مجانبۃ اھل الاھواء) یعنی عملوں میں سے افضل ترین عمل خدا تعالیٰ کے دوستوں سے محبت کرنا اور خدا تعالیٰ کے دشمنوں سے
دشمنی کرتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ دربار الہی میں یوں دعا کرتے ہیں۔
اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لاوليائک وعدوا لاعدائک نحب بحبک من احبک و نعادى بعداوتک من خالفک اللهم هذا الدعا و عليک الاجابة.
(ترمذی شریف ج ۲ ص ۱۷۹ باب مايقول اذا قام من الليل)
”یا اللہ! ہم کو ہدایت دہندہ ہدایت یافتہ کر یا اللہ ہم کو گمراہ اور گمراہ کرنے والا نہ کر یا اللہ ہم کو اپنے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کرنے والا اور اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنے والا بنا۔ یا اللہ ہم تیری محبت کی وجہ سے تیرے دوستوں سے محبت کرتے ہیں اور تیرے دشمنوں کے ساتھ ان کی عداوت کی وجہ سے ہم ان سے عداوت رکھتے ہیں۔ یا اللہ یہ ہماری دعا ہے اسے قبول فرما۔“
ان ارشادات عالیہ کو وہ مصلح کلی حضرات آنکھیں کھول کر دیکھیں جو لوگ بے سوچے سمجھے جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ حضور تو کافروں کو بھی گلے لگاتے تھے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ رسول اکرم ﷺ خدا تعالیٰ کے ارشاد مبارک يا ايها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم (التوبۃ ۷۳) کے مطابق حکم الہی کی تعمیل کرتے تھے یا نہیں۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ احکام خداوندی کی تکمیل سید دو عالم ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا اور نہ کسی نے کی ہے۔ بنا بریں رسول اکرم ﷺ نے مسجد نبوی شریف سے منافقوں کا نام لے کر مسجد سے نکال دیا۔
سیدنا ابن عباسؓ نے فرمایا۔
”قام رسول اللہ ﷺ يوم الجمعة خطيبا فقال قم يا فلان فاخرج فانک منافق اخرج يا فلان فانک منافق فاخرجهم باسمائهم ففضحهم ولم يک عمر بن الخطاب شهد تلک الجمعة لحاجه کانت له فلقيهم وهم يخرجون من المسجد فاختبا منهم استحيا انه لم يشهد الجمعة وظن ان الناس قد انصرفو او اختباؤا منه وظنوا انه قد علم بامرهم فدخل المسجد فاذا الناس لم ينصرفوا فقال له رجل ابشر يا عمر فقد فضح اللہ تعالیٰ المنافقين اليوم. (تفسیر روح المعانی ج ۱۱ ص ۱۰، تفسیر مظہری ج ۴
ص ۲۸۹، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۸۴، تفسیر خازن ج ۳ ص ۱۱۵، تفسیر بغوی علی الخازن ج ۳ ص ۱۱۵، تفسیر روح البیان ج ۳ ص ۴۹۳)
”یعنی رسول اکرم ﷺ جمعہ کے دن جب خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا اے فلاں تو منافق ہے لہٰذا مسجد سے نکل جا۔ اے فلاں تو بھی منافق ہے مسجد سے نکل جا۔ حضور ﷺ نے کئی منافقوں کے نام لے کر نکالا اور ان کو سب کے سامنے رسوا کیا۔ اس جمعہ کو حضرت فاروق اعظمؓ ابھی مسجد شریف میں حاضر نہیں ہوئے تھے کسی کام کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی جب وہ منافق مسجد سے نکل کر رسوا ہو کر جا رہے تھے تو فاروق اعظمؓ شرم سے چھپ رہے تھے کہ مجھے تو دیر ہو گئی ہے، شاید جمعہ ہو گیا لیکن منافق، فاروق اعظمؓ سے اپنی رسوائی کی وجہ سے چھپ رہے تھے پھر جب فاروق اعظمؓ مسجد میں داخل ہوئے تو ابھی جمعہ نہیں ہوا تھا۔ بعد میں ایک صحابیؓ نے کہا اے عمرؓ تجھے خوشخبری ہو کہ آج خدا تعالیٰ نے منافقوں کو رسوا کر دیا ہے“ اور سیرت ابن ہشام میں عنوان قائم کیا ہے۔ طرد المنافقين من مسجد رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۲۸) اور اس کے تحت فرمایا کہ منافق لوگ مسجد میں آتے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر ٹھٹھے کرتے دین کا مذاق اڑاتے تھے ایک دن کچھ منافق مسجد نبوی شریف میں اکٹھے بیٹھے تھے اور آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کر رہے تھے ایک دوسرے کے ساتھ قریب قریب بیٹھے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے دیکھ کر کہا فامر بهم رسول اللہﷺ فاخرجوا من المسجد اخراجا
عنیفا (سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۲۸) رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ان منافقوں کو سختی سے نکال دیا جائے اس ارشاد پر حضرت ابوایوبؓ، خالد بن زیدؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور عمر بن قیس کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر پھینک دیا پھر حضرت ابوایوبؓ نے رافع بن ودیعہ کو پکڑا اس کے گلے میں چادر ڈال کر خوب بھینچا اور اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور اس کو مسجد سے نکال دیا اور ساتھ ساتھ حضرت ابوایوبؓ فرماتے جاتے اف لک منافقا خبیثا (سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۲۸) ارے خبیث منافق تجھ پر افسوس ہے۔ اے منافق، رسول اکرم ﷺ کی مسجد سے نکل جا اور ادھر حضرت عمارہ بن حزمؓ نے زید بن عمرو کو داڑھی سے پکڑا زور سے کھینچا اور کھینچتے کھینچتے مسجد سے نکال دیا اور پھر اس کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مارا کہ وہ گر گیا اس منافق نے کہا اے عمارہؓ تو نے مجھے بہت عذاب دیا ہے تو صحابی حضرت عمارہؓ نے فرمایا، خدا تجھے دفع کرے جو خدا تعالیٰ نے تیرے لیے عذاب تیار کیا ہے وہ اس سے بھی سخت تر ہے۔ فلا تقربن مسجد رسول اللہ ﷺ (سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۲۹) آئندہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے قریب نہ آنا۔
اور بنو نجار قبیلہ کے دو صحابی ابو محمدؓ جو کہ بدری صحابی تھے اور ابو محمد مسعودؓ نے قیس بن عمرو کو جو کہ منافقین میں سے نوجوان تھے گدی پر مارنا شروع کیا حتیٰ کہ مسجد سے باہر نکال دیا اور حضرت عبداللہ بن حارثؓ نے جب سنا کہ حضور نے منافقوں کے نکال دینے کا حکم دیا ہے حارث بن عمرو کو سر کے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد سے باہر نکال دیا وہ منافق کہتا تھا اے ابن حارثؓ تو نے مجھ پر بہت سختی کی ہے تو انھوں نے جواب میں فرمایا اے خدا کے دشمن تو اسی لائق ہے تو نجس ہے پلید ہے۔ آئندہ مسجد کے قریب نہ آنا۔ ادھر ایک صحابی نے اپنے بھائی زری بن حارث کو سختی سے نکال کر فرمایا افسوس کہ تجھ پر شیطان کا تسلط ہے۔
(سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۵۲۹)
نیز خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ تم ابراہیم ؑ کی پیروی میں خدا تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے دشمنوں سے ہمیشہ نفرت اور بیزاری رکھو، ارشاد ہے۔
قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذ قالوا لقومھم انا برآؤ منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم و بدا بیننا و بینکم العداوۃ والبغضآ ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ (سورۃ ممتحنہ ۴) یعنی اے ایمان والو تمھارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ماننے والوں میں اچھی پیروی ہے۔ جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ہم تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزار ہیں ہم انکاری ہیں اور ہمارے تمھارے درمیان جب تک تم خدا وحدہ پر ایمان نہ لاؤ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دشمنی ٹھن گئی ہے۔
اور تفسیر روح المعانی میں حدیث قدسی منقول ہے۔ یقول اللہ تبارک و تعالیٰ وعزتی لا ینال رحمتی من لم یوال اولیائی ویعاد اعدائی (ص ۳۵ جز ۲۸) ”یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم جو شخص میرے دوستوں کے ساتھ دوستی نہیں کرتا اور میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرتا وہ میری رحمت حاصل نہیں کر سکتا۔“
اور درۃ الناصحین میں علامہ خوبوی نے ایک حدیث پاک ذکر کی ہے روی عن رسول اللہ ﷺ انہ قال اوحی اللہ تعالیٰ الیٰ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام قال یا موسیٰ ھل عملت لی عملاً قط قال الٰھی صلیت لک وصمت لک و تصدقت لک و ذکرت لک قال اللہ یا موسیٰ ان الصلوۃ لک برھان والصوم لک جنۃ والصدقۃ لک ظل و الذکر لک نور فای عمل عملت لی فقال دلنی علی
عمل ھو لک قال یا موسی ھل والیت لی ولیا قط وهل عادیت لی عدوا. (درۃ الناصحین ص ۲۶۰) ”یعنی رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف وحی بھیجی اے موسیٰ تو نے میرے لیے بھی کوئی عمل کیا ہے۔ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کی یا اللہ میں نے تیرے لیے نماز پڑھی خدا تعالیٰ نے فرمایا نماز تو تیرے لیے ہی برھان بنے گی۔ عرض کی یا اللہ میں نے تیرے لیے روزے رکھے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ روزہ تو تیرے ہی لیے ڈھال بنے گا۔ پھر عرض کی میں نے تیرے لیے صدقہ دیا خدا تعالیٰ نے فرمایا صدقہ تو تیرے ہی لیے سایہ بنے گا۔ عرض کی میں نے تیرے لیے تیرا ذکر کیا۔ فرمایا اے موسیٰ ذکر تو تیرے ہی لیے نور ہوگا۔ بتا تو نے میرے لیے کون سا عمل کیا ہے موسیٰ ؑ نے عرض کی میرے پروردگار تو ہی بتا دے کہ وہ کون سا عمل ہے جو تیرے لیے ہو۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے پیارے موسیٰ کیا تو نے میرے دوستوں کے ساتھ محبت و دوستی کی ہے اور کیا تو نے میرے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کی ہے۔“ اسی طرح کا ایک واقعہ ایک ولی اللہ کے ساتھ پیش آیا۔ جیسا کہ تفسیر روح البیان ج ۴ ص ۲۷۸ پر ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں خدا تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت کرنا جتنا مقبول و محبوب عمل ہے اتنا ہی خدا تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی و عداوت رکھنا مقبول و محبوب عمل ہے نیز خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت اور ان کے دشمنوں گستاخوں کی محبت آپس میں ضدیں ہیں یہ دونوں بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔
مخدوم الاولیاء سیدنا امام ربانی خواجہ مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہ نے فرمایا۔ دو محبت متباینہ جمع نشوند جمع ضدین را محال گفتہ اند محبت یکے مستلزم عداوت دیگر ست۔
(مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ۱۶۵ جلد اوّل)
یعنی دو محبتیں جو ایک دوسرے سے ضد ہوں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں کیونکہ اجتماع ضدین محال ہے اگر خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی دل میں محبت ہوگی تو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں کی محبت دل میں نہیں آسکتی خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے دشمنوں کی جتنی محبت و دوستی دل میں آئے گی تو خدا اور رسول (جل جلالہ و ﷺ) کی محبت اتنی ہی کم ہو جائے گی۔ نیز فرمایا و علامت کمال محبت کمال بغض است با اعداء او ﷺ۔
(مکتوب ج ۱ ص ۱۶۵)
یعنی تاجدار مدینہ ﷺ کے ساتھ کمال محبت کی یہ علامت ہے کہ سید دوعالم ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ کمال بغض و عداوت ہو۔ نیز فرمایا۔ و باکفار کہ دشمنان خدائے عزوجل اند و دشمنان رسول وے علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات دشمن باید بو د و در ذل و خواری ایشاں سعی باید نمود و ہیچ وجہ عزت نباید داد و ایں بیدولتاں را در مجلس خود راہ نباید داد۔
(مکتوب ج ۱ ص ۱۶۵)
یعنی کافروں کے ساتھ جو کہ خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب کے دشمن ہیں دشمنی رکھنی چاہیے اور ان کو ذلیل و خوار کرنے میں کوشش کرنی چاہیے اور کسی طرح ان کی عزت نہیں کرنی چاہیے اور ان بدبختوں کو اپنی مجلس میں نہیں آنے دینا چاہیے۔
نیز فرمایا، در رنگ سگاں ایشاں را دور باید داشت (مکتوب ج ۱ ص ۱۶۳)
یعنی خدا و رسول کے دشمنوں کو کتوں کی طرح دور رکھنا چاہیے۔ نیز فرمایا، پس عزت اسلام در خواری کفر و اہل کفر است کسیکہ اہل کفر را عزیز داشت اہل اسلام را خوار ساخت۔
(مکتوب ج ۱ ص ۱۶۳)
”یعنی اسلام کی عزت اسی میں ہے کہ کفر و کفار کو خوار و ذلیل کیا جائے جو شخص کفر والوں کی عزت کرتا ہے وہ حقیقت میں مسلمانوں کو ذلیل کرتا ہے۔“
نیز سیدنا امام ربانیؒ نے فرمایا: ”راہیکہ بجناب قدس جد بزرگوار شما علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰت والتسلیمات مے رسانند ایں است اگر بایں راہ رفتہ نشود وصول با بجناب قدس دشوار است۔“
(مکتوب ج ۱ ص ۱۶۵)
”یعنی رسول اکرم شفیع معظم ﷺ کی بارگاہ تک لے جانے والا یہی ایک راستہ ہے (کہ ان کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی رکھی جائے) اگر اس راستہ کو چھوڑ دیا جائے تو اس دربار تک رسائی مشکل ہے۔“ انتہیٰ۔
اور یہ بھی مسلم کہ سید اکرم نور مجسم فخر آدم ﷺ تک رسائی ہی دین ہے۔ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے۔
اگر باو نرسیدی تمام بو لہبی ست
یعنی تو اپنے آپ کو مصطفیٰ ﷺ کے مبارک قدموں تک پہنچا دے اور اگر تو ان تک نہ پہنچ سکا تو تیرا سب کچھ ہی ابولہب ہے۔
بد مذہبوں (قادیانیوں) کے ساتھ بائیکاٹ کے متعلق چند احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر ۱...... عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ یکون فی آخرالزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فایاکم و ایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔
(مسلم شریف ج ۱ ص ۱۰ باب النھی عن الروایۃ الخ)
”حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں کچھ لوگ کذاب دجال بہت جھوٹے دھوکہ باز آئیں گے۔ وہ تم سے ایسی باتیں کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمھارے باپ دادا نے سنی ہوں گی۔ لہٰذا اے میری امت تم ان کو اپنے سے بچاؤ اور اپنے آپ کو ان سے بچاؤ کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔“
سبحان اللہ! کیا شان ہے تاجدار مدینہ ﷺ کی۔ آپ نے نور نبوت سے پہلے ہی دیکھ لیا کہ دین کے ڈاکو آئیں گے۔ بھولے بھالے مسلمانوں کو ان سنی اور بناوٹی باتیں سنا کر اپنے دجل و فریب سے ان کا ایمان لوٹیں گے۔ لہٰذا اس شفیق امت ﷺ نے پہلے سے ہی امت کو بچنے کی تدبیر بتائی کہ اے میری امت بے دینوں کے قریب مت بھٹکنا اور نہ ان کو اپنے قریب آنے دینا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ لیکن امت کے کچھ بے لگام افراد ہیں جو کہتے پھرتے ہیں جی صاحب ہر کسی کی بات سننی چاہیے دیکھیں بھلا کہتے کیا ہیں۔ اسی بنا پر بد مذہبوں (قادیانیوں) کے جلسوں پر جانے والے ان کا لٹریچر پڑھنے والے ان کی تقریریں سننے والے ہزاروں لوگ گمراہ بددین ہو گئے۔ جہنم کا ایندھن بن گئے۔ حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل و لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔
اے میرے مسلمان بھائیو ہوشیار، خبردار، ہوشیار، خبردار غیروں کے جلسوں میں مت جاؤ۔ ان کی تقریریں مت سنو! ان کے رسائل و اخبارات مت پڑھو ورنہ پچھتاؤ گے۔ اگر تقریریں سنو تو اس کی جس کا دل عشق مصطفیٰ ﷺ سے لبریز ہے۔ کتابیں اور رسالے پڑھو تو ان کے جن کے سینے عشق مصطفیٰ ﷺ سے معمور ہیں۔ سیدنا محمد بن سیرینؒ کے متعلق منقول ہے۔ عن اسماء بن عبید قال دخل رجلان من اصحاب الا ھواء علی ابن
سیرین فقالا یا ابابکر نحدثک بحدیث فقال لا فقالا فنقرء علیک آیۃ من کتاب اللہ فقال لا لتقومان عنی اولا قومن قال فخرجا فقال بعض القوم یا ابابکر وما کان علیک ان یقرا علیک آیۃ من کتاب اللہ قال انی خشیت ان یقرا علی آیۃ فیقر ذلک فی قلبی یعنی حضرت ابن سیرینؒ بیٹھے تھے کہ دو بد مذہب (اہل بدعت) آئے اور انھوں نے عرض کیا حضرت اجازت ہو تو ہم آپ کو ایک حدیث پاک سنائیں آپ نے فرمایا نہیں، پھر انھوں نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو ہم قرآن پاک کی ایک آیت پڑھ کر سنائیں آپ نے فرمایا ہرگز نہیں یا تو تم یہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ یا میں اٹھ کر چلا جاتا ہوں اس پر وہ دونوں خائب و خاسر ہوکر چلے گئے تو کسی نے عرض کیا حضور اس میں کیا حرج تھا کہ وہ دو آدمی قرآن پاک کی کوئی آیت پاک سناتے اس پر حضرت سیدنا محمد بن سیرین قدس سرہٗ نے فرمایا کہ یہ دونوں بد مذہب تھے اگر یہ آیت پاک بیان کرتے وقت اپنی طرف سے اس میں پچر لگا دیتے تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ تحریف میرے دل میں بیٹھ جاتی (اور میں بھی بد مذہب ہو جاتا)
سبحان اللہ! وہ امام ابن سیرین جلیل القدر محدث قوم کے پیشوا۔ وقت کے علامہ، علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، وہ تو بد مذہبوں سے اتنا پرہیز کریں کہ قرآن پاک کی آیت ان سے سننے کے روادار نہیں اور آج کے ان پڑھ دین سے بے خبر اتنی بے باکی اور جرأت سے کہہ دیتے ہیں کہ جی صاحب ہر کسی کی بات سننی چاہیے۔ ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم.
یونہی حضرت سعید بن جبیرؒ سے کسی نے کوئی بات پوچھی تو آپ نے اس کو جواب نہ دیا۔ فقیل لہ فقال انہیں کسی نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے اس کو جواب کیوں نہیں دیا۔ تو آپ نے فرمایا یہ بد مذہبوں میں سے تھا۔
حدیث پاک نمبر ۲....... قال رسول اللہﷺ ان مجوس ھذہ الامۃ المکذبون باقدار اللہ ان مرضوا فلا تعودوھم و ان ماتوا فلا تشھدوھم وان لقیتمو ھم فلا تسلموا علیھم. (ابن ماجہ شریف ص ۱۰ باب فی القدر) یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قضا و قدر کو جھٹلانے والے اس امت کے مجوسی ہیں (حالانکہ وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں) (قادیانیوں کی طرح) فرمایا کہ اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کو پوچھنے مت جاؤ اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے مرنے پر ان کے جنازہ وغیرہ میں مت شریک ہو اگر تم سے ملیں تو ان کو سلام مت کرو۔
بزرگانِ دین کے ارشادات
حضرت سیدنا سہیل تستریؒ نے فرمایا من صحح ایمانہ واخلص توحیدہ فانہ لا یانس الی مبتدع ولا یجالسہ ولا یواکلہ ولا یشاربہ ولا یصاحبہ ویظھر لہ من نفسہ العداوۃ والبغضاء (روح المعانی ج ۲۸ ص ۳۵) یعنی جس شخص نے اپنا ایمان درست کیا اور اپنی توحید کو خالص کیا وہ کسی بد مذہب (بدعتی) سے انس و محبت نہ کرے گا۔ نہ اس کے پاس بیٹھے گا نہ اس کے ساتھ کھائے پیے گا نہ اس کے ساتھ جائے گا بلکہ اپنی طرف سے اس کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر کرے گا۔
نیز فرمایا من ضحک الی مبتدع نزع اللہ تعالیٰ نورالایمان من قلبہ ومن لم یصدق فلیجرب (روح المعانی ج ۲۸ ص ۳۵) ’’یعنی جو شخص کسی بد مذہب (بدعتی) کے ساتھ خوش طبعی کرے، خدا تعالیٰ اس کے دل سے نور ایمان نکال لے گا۔ جس بندے کو اس بات کا اعتبار نہ آئے وہ تجربہ کرکے دیکھ لے۔‘‘
تفسیر روح البیان میں ہے۔ روی عن ابن المبارک روی فی المنام فقیل لہ ما فعل اللہ بک
فقال عاتبنی وواقفنی ثلاثین سنة بسبب انی نظرت باللطف یوما الی مبتدع فقال انک لم تعاد عدوی فی الدین.
(روح البیان ص ۴۱۹ ج ۲)
”وفات کے بعد کوئی شخص خواب میں سیدنا ابن مبارکؒ کی زیارت سے مشرف ہوا اور عرض کیا حضرت خدا تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا کیا تو فرمایا مجھے عتاب فرمایا اور مجھے تیس سال ایک روایت میں ہے تین سال کھڑے کیا اور اس عتاب کا سبب یہ کہ میں نے ایک دن ایک بدمذہب (بدعتی) کی طرف شفقت سے دیکھا تھا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے ابن مبارک تو نے میرے ایک دین کے دشمن کے ساتھ دشمنی کیوں نہیں کی۔“ یہ واقعہ لکھنے کے بعد صاحب تفسیر روح البیان فرماتے ہیں۔ فکیف حال القاعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین (روح البیان ج ۴ ص ۴۲۰) پس کیا حال ہوگا اس شخص کا جو دیدہ دانستہ دین کے ظالموں کے پاس بیٹھتا ہے۔
عارف باللہ حضرت علامہ حقیؒ کا ارشاد مبارک ان القرین السوء یجر المرء الی النار و یحلہ دارالبوار فینبغی للمؤمن المخلص السنی ان یجتنب عن صحبۃ اهل الکفر والنفاق والبدعة حتی لا یسرق طبعه من اعتقادهم السوء و عملهم السی (روح البیان ج ۲ ص ۴۱۹) یعنی برا ہمنشین انسان کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے لہٰذا مخلص اور سنی مومن کو چاہیے کہ وہ کافروں منافقوں اور بدمذہبوں (بدعتیوں) کی صحبت سے بچے تاکہ اس کی طبیعت میں ان کا بدعقیدہ اور برا عمل سرایت نہ کر جائے۔
نیز عارف باللہ علامہ حقیؒ نے فرمایا وفی الحدیث من احب قومًا علی عملهم حشر فی زمرتھم و حوسب بحسابھم و ان لم یعمل بعملھم (روح البیان ج ۹ ص ۴۹۴) ”یعنی حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص کسی قوم سے محبت کرے گا ان کے کسی عمل کو پسند کرے گا وہ اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اس قوم کے ساتھ حساب میں شریک ہوگا۔ اگرچہ اس کے ساتھ اعمال میں شریک نہیں تھا۔“
نیز تفسیر روح البیان میں ہے۔ ان الغلظة علی اعداء اللّٰه تعالیٰ من حسن الخلق فان ارحم الرحماء اذ کان مامورا بالغلظة علیھم فما ظنک بغیره فھی لا تنافی الرحمة علی الاحباب کما قال تعالی اشداء علی الکفار.
(روح البیان ج ۱۰ ص ۶۷)
”یعنی خدا تعالیٰ کے دشمنوں پر سختی کرنا یہ بھی حسن خلق میں داخل ہے اس لیے کہ جب سب مہربانوں سے مہربان آقا کو اعدائے دین پر سختی کرنے کا حکم ہے تو دوسرے کا کیا شمار۔ لہٰذا دشمنان دین پر سختی کرنا یہ دوستوں پر مہربانی کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ صحابہ کرام کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے وہ دشمنوں پر بڑے سخت ہیں اور اپنوں پر بڑے مہربان۔“
حضرت سیدنا فضیل بن عیاضؒ کا ارشاد گرامی من احب صاحب بدعة احبط اللّٰه عمله و اخرج نور الایمان من قلبه (غنیۃ الطالبین ج ۱ ص ۸۰) یعنی جس کسی نے بدمذہب (بدعتی) سے محبت کی، خدا تعالیٰ اس کا عمل برباد کر دے گا اور اس کے دل سے نور ایمان نکال دے گا۔
نیز فرمایا و اذا علم اللّٰه عزوجل من رجل انه مبغض لصاحب بدعة رجوت اللّٰه تعالیٰ ان یغفر ذنوبه وان قل عمله.
(غنیۃ الطالبین ج ۱ ص ۸۰)
”یعنی خدا تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ فلاں بندہ بدمذہبوں (بدعتیوں جیسے قادیانیوں) سے بغض رکھتا ہے
مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ اس کی نیکیاں تھوڑی ہوں۔“
حضرت سفیان بن عینیہؓ کا ارشاد گرامی من تبع جنازة مبتدع لم يزل فی سخط الله تعالى حتى يرجع (غنیۃ الطالبین ج ۱ ص ۸۰) ”یعنی جو شخص کسی بدمذہب (بدعتی) کے جنازہ میں گیا وہ لوٹنے تک خدا تعالیٰ کی ناراضی میں رہے گا۔“
سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی ؒ کا ارشاد مبارک وان لا يكاثر اهل البدع ولا يدانيهم ولا يسلم عليهم (غنیۃ الطالبین ج ۱ ص ۸۰) ”یعنی بدمذہبوں (بدعتی (جیسے قادیانی) کے (جلسوں وغیرہ میں شرکت کر کے) ان کی رونق نہ بڑھائے اور ان کے قریب نہ آئے اور ان پر سلام نہ کرے۔“
نیز فرمایا ولا يجالسهم ولا يقرب منهم ولا يهنيهم فى الاعياد واوقات السرور ولا يصلى اذا ماتوا ولا يترحم عليهم اذا ذكروا بل يناويهم و يعاديهم فى الله عزوجل معتقدا بطلان مذهب اهل بدعة محتسبا بذالك الثواب الجزيل والاجر الكثير . (غنیۃ الطالبین ج ۱ ص ۸۰) ”یعنی بدمذہبوں (جیسے قادیانی) کے ساتھ نہ بیٹھے اور ان کے قریب نہ جائے اور نہ ہی انھیں عید وغیرہ شادی کے موقع پر مبارک دے اور جب وہ مر جائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھے اور جب ان (جیسے قادیانیوں) کا ذکر ہو تو رحمتہ اللہ علیہ نہ کہے بلکہ ان سے الگ رہے اور ان سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے عداوت رکھے یہ اعتقاد کرتے ہوئے کہ ان کا مذہب باطل ہے اور ایسا کرنے میں ثواب کثیر اور اجر عظیم کی امید رکھے۔“
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ نماز مغرب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آواز دی کون ہے جو مسافر کو کھانا کھلائے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے خادم سے فرمایا اس کو ساتھ لے آؤ وہ لے آیا۔ فاروق اعظمؓ نے اسے کھانا منگا کر دیا اس نے کھانا شروع کیا اس کی زبان سے ایک بات نکلی جس سے بد مذہبی کی بو آتی تھی آپ نے فوراً اس کے سامنے سے کھانا اٹھوا لیا اور اس کو نکال دیا۔
(ملفوظات مولانا احمد رضا خان حصہ اول ص ۱۰۷)
پھر یہ کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور مخالفوں (قادیانیوں) کے ساتھ بائیکاٹ کرنا یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ بائیکاٹ پہلی امتوں سے چلا آتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ وسئلهم عن القرية التي كانت حاضرة البحر اذ يعدون فی السبت اذ تاتيهم حيتانهم يوم سبتهم شرعا و يوم لا يسبتون لا تاتيهم (الاعراف ۱۶۳) یعنی اصحاب سبت جن کی بستی دریا کے کنارے واقع تھی انھوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ کر خدا اور اس کے نبی کی نافرمانی کی تو اس قوم کے تین گروہ ہو گئے ایک گروہ نافرمانی کرنے والا دوسرا برائی سے روکنے والا تیسرا خاموش آخر فرمانبردار گروہ نے نافرمانوں سے ایسا بائیکاٹ کیا کہ درمیان دیوار کھڑی کر دی نہ یہ اُدھر جاتے نہ وہ اِدھر آتے۔ جب نافرمانوں کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو وہ بندر بنا کر ہلاک کر دیے گئے۔
(تفسیر مظہری جلد سوم سورہ اعراف ص ۴۷۶ تفسیر روح المعانی سورہ اعراف جلد نمبر ۹ ص ۸۲)
پھر طرفہ یہ کہ ہر نمازی نماز وتر کی دعائیں پڑھتا ہے۔ ونخلع و نترك من يفجرك یا اللہ ہم ہر اس شخص سے قطع تعلقی کریں گے اور علیحدہ ہو جائیں گے جو تیرا نافرمان ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ مسلمان مسجد میں دربارِ الٰہی میں کھڑا ہو کر مودبانہ ہاتھ باندھ کر عہد کرتا ہے کہ یا اللہ ہم تیرے نافرمانوں مخالفوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں گے لیکن مسجد سے باہر آ کر ساری باتیں بھول جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
مسلمان بھائیوں سے اپیل میرے مسلمان بھائیو تاجدار مدینہ ﷺ کے بھولے بھالے امتیو ہوشیار، خبردار، ہوشیار، خبردار اپنے ایمان کو بچاؤ۔ اپنے بیگانے کو پہچانو اور اگر شیطان دھوکہ دینے کی کوشش کرے تو مندرجہ بالا ارشادات کو بار بار پڑھو خدا تعالیٰ دوست و دشمن کی پہچان نصیب کرے۔ ان اريد الا الاصلاح مااستطعت وما توفيقي الا بالله تعالیٰ۔
طالب دعا: سگ دربار سلطانی فقیر ابوسعید محمد امین غفرلہ ۳ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۴ھ
تتمہ نمبر ۱ ...... یہ تھا دنیا میں مسلمانوں کا خدا تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ بائیکاٹ لیکن قیامت کے دن خدا تعالیٰ کی طرف سے بائیکاٹ ہوگا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے یوم یقول المنافقون والمنافقات للذين امنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا ورائكم فالتمسوا نورا فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة وظاهره من قبله العذاب (حدید ۱۳) یعنی قیامت کے دن (جب پل صراط سے گزر ہوگا اور خدا تعالیٰ ایمان والوں کو نور عطا فرمائے گا) اس نور کو دیکھ کر منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہمیں ایک نگاہ دیکھو کہ ہم تمھارے نور سے کچھ حصہ لیں اس پر فرمایا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو وہاں نور ڈھونڈو پھر جب لوٹیں گے تو ان کے درمیان دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہوگا اس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہوگا یعنی دیوار کے ذریعہ ایسا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے گا کہ منافق لوگ ایمان والوں کے نور کی روشنی بھی نہ لے سکیں گے۔
نمبر ۲ ...... جب قیامت کا دن ہوگا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوگا وامتازوا اليوم ايها المجرمون (یسٰین ۵۹) یعنی اے نافرمانو، کافرو آج میرے بندوں سے الگ ہو جاؤ۔ خدا تعالیٰ سب کو دین اسلام کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
مسلمان بھائیوں کی دعاؤں کا محتاج فقیر ابوسعید غفرلہ ولوالدیہ
۞........۞........۞
اَنَاخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اہل قبلہ کی تحقیق
مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده و نصلی علی رسوله الكريم
اس زمانہ میں مسلمانوں کی بدقسمتی یا مذہبی ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کے دماغوں میں یہ خیال کسی قدر راسخ ہو چلا ہے کہ جو شخص زبان سے ایک دفعہ کلمہ شہادت جاری کر دے یا قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے۔ وہ ایسا پختہ اور راسخ العقیدہ مسلمان بن جاتا ہے کہ اسلامی تعلیم اور مذہبی عقائد کی کھلم کھلا مخالفت اور انکار کرنے کے باوجود بھی اس کے ایمان میں کسی قسم کا خلل یا فتور واقع نہیں ہوتا۔ اس خیال کی تائید میں بعض غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اہل قبلہ کی عدم تکفیر والی حدیث پیش کر دی جاتی ہے اور کبھی اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے۔ ”وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا“ (النساء ۹۴) یعنی جو شخص تم سے السلام علیکم کہتا ہے۔ اس کو شبہ کی وجہ سے کافر نہ کہو۔
اس خیال کی وجہ سے بعض ناواقف لوگوں کی ذہنیت اس درجہ بگڑ گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اس موقعہ پر مذہبی تعلیم اور اسلامی روایات سے متاثر ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو وہ ان کی نظر میں تنگ دل، مذہبی دیوانہ، ناعاقبت اندیش، اسلامی اخوت کا دشمن نظام ملی کا مخالف سمجھا جاتا ہے اور بعض تو اس کی بات سننا اور اس کی کسی تحریر کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ایسے دوستوں کی خدمت میں باادب التماس ہے کہ وہ حق اور انصاف کو دل میں رکھتے ہوئے ہماری معروضات پر بغور توجہ فرمائیں اور جو بات سچی ہو اس کو اختیار کریں۔
اس بات سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ اسلام دنیا میں ایک اصولی مذہب ہے۔ دیگر مذاہب کی طرح انسانی خیالات اور قومی یا ملکی رسومات کے ساتھ ساتھ نہیں چلتا۔ اس کے فیصلے اٹل اور اس کے ضابطے ہر قسم کے تغیرات سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔ اس کے ہر حکم کو تسلیم کرنا اور اس کو سچے دل سے ماننا ہی ایمان ہے۔ ان میں سے کسی فیصلے کو بدل دینے اور بعض کو ماننے یا بعض سے انکار کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ (احزاب ۳۶) کسی مرد مسلمان یا عورت مسلمہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ جس حکم کے متعلق خدا تعالیٰ یا اس کا رسول کوئی فیصلہ سنائے۔ وہ اس میں کسی قسم کا تغیر یا تبدیلی پیدا کرے۔ یا اس کے بعض حصہ کو مانے اور بعض سے صاف انکار کر دے۔ دوسری جگہ اس طرح فرمایا گیا ہے۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُوْلٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (البقرة ۲۲۹) یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے اور اصول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں سے تجاوز یا انکار کرنے والا ظالم اور بے دین ہے۔ ایک اور آیت میں ہے۔ مَآ اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰكُمُ عَنْهُ فَانْتَهُوْا (الحشر ۷) اور خدا کا رسول جس کام کے کرنے کا حکم فرمائے۔ اس کو بجا لاؤ۔ اور جس چیز سے روکے۔ اس سے رک جاؤ۔ یعنی شریعت کے دونوں حصوں امورات اور منہیات۔ حلال و حرام یا جائز و ناجائز کا ماننا ہر مسلمان کے لیے ضروری
ہے۔ اس کے علاوہ جب دنیا کے کسی قانون کو تسلیم کرنے کے لیے اس کی تمام دفعات کا ماننا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم دورِ حاضرہ میں دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص تعزیرات کی سینکڑوں دفعات میں سے صرف قانونِ نمک کی خلاف ورزی کرنے سے حکومت کا باغی کہلایا جاتا ہے۔ اور اس کی طرف سے قانون کا احترام باقی رکھنے کے لیے اس کو قید و بند کی سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ اسلام جو اصولی مذہب ہے۔ قوانین اور ضابطوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس کے ہر دفعہ اور قاعدے پر ایمان لانا اور اس کو صدق دل سے تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے اور کس لیے اسلام کے مجموعۂ قوانین میں سے کسی ایک ضابطے اور قاعدے کا انکار کرنے والا خدا اور اس کے رسول کا باغی اور نافرمان نہیں سمجھا جاتا اور کیوں اسلام کی عزت اور اس کا احترام باقی رکھنے کے لیے ایسے شخص کو سزا نہیں دی جاتی۔ غرض جس طرح توحید اور نبوت کے اقرار کرنے سے ضمنی طور پر تمام شریعت کا اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح شریعتِ محمدی کے کسی قطعی اور یقینی فیصلہ سے جس کو ہر آدمی مذہبی مسئلہ اور اسلام کا ایک حکم سمجھتا ہے۔ انکار کرنا خدا اور رسول سے انکار کرنے کا مترادف ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے یہی معنی ہیں کہ ان کی تعظیم اور فیصلوں کو صحیح اور درست تسلیم کرتے ہوئے بصورت انکار کبھی ان کی مخالفت نہ کرے۔
اور جس شخص نے کسی ایسے فیصلے کے متعلق جس کا خدا اور رسول کی طرف سے ہونا یقینی امر ہے۔ انکار کیا یا اس کو بدل کر دوسرے رنگ میں پیش کرنا چاہا۔ ایسا آدمی یقیناً خدا اور اس کے رسول کا کھلا ہوا دشمن اور ان کی تعلیم کا صریح مخالف سمجھا جائے گا۔
اس لیے یہ خیال کرنا کہ توحید اور نبوت کے اقرار کرنے یا قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے بعد کسی شے کے انکار کرنے سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ قرآن کی صدہا آیتوں اور احادیث نبویہ ﷺ کے سراسر خلاف ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ (المائدہ ۴۴) ”جو لوگ خدا کے اس حکم کے موافق فیصلہ نہیں کرتے جس کو اس نے نازل فرمایا ہے۔ وہ کافر ہیں۔“ لفظ ما عربی زبان میں عمیم کو چاہتا ہے۔ جس کے یہ معنی ہوئے کہ جو شخص قرآنِ عزیز کے ہر فیصلہ کے آگے گردن نہیں جھکاتا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام نہیں سمجھتا یا کسی فرض کی فرضیت سے انکار کرتا ہے۔ وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں جس میں صاف طور پر یہ فرمایا گیا ہے۔ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ (التوبۃ ۲۹) ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ ان کو حرام نہیں جانتے۔“ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِھَا اِلَّا الْفَاسِقُوْنَ (البقرۃ ۹۹) ”ہم نے آپ پر ظاہر اور کھلی کھلی باتیں اتاری ہیں۔ جن کا انکار کر کے کافر نہیں بنتے۔ مگر فاسق اور نافرمان لوگ۔“ اسی سورۃ میں دوسری جگہ ارشاد ہے وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیَاتِنَا اُولٰئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ (البقرۃ ۳۹) ”جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔“ ایک جگہ یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے وَاٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِهٖ (البقرۃ ۴۱) قرآن پر ایمان لاؤ جو تمہاری آسمانی کتاب توریت کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس کا انکار کر کے کافر نہ بنو۔ ان تینوں آیتوں سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہو رہی ہے کہ قرآنِ عزیز کی کسی ایک آیت کے انکار کرنے سے آدمی کافر ہو جایا کرتا ہے۔ وَمَا مَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقَاتُھُمْ اِلَّا اَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَھُمْ
كَارِهُوْنَ (التوبۃ ۵۴) ”ان کے صدقات اور خیرات خدا کے نزدیک اس لیے قبول نہیں کیے جاتے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور نماز بے ادبی سے پڑھتے اور دباؤ کی وجہ سے صدقہ اور خیرات کرتے ہیں۔“ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ نماز پڑھنے یا زکوٰۃ دینے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا۔ جب تک ایمانیات کے متعلق اپنے عقیدے کی اصلاح نہ کرے۔ منافقین، مخلص مسلمانوں کی طرح توحید اور نبوت کا اقرار کرتے اور نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ لیکن عقیدہ صحیح نہ رکھنے کی وجہ سے کافر ہی قرار دیے گئے اور کسی دن بھی ان کو مسلمان نہیں سمجھا گیا۔
۴...... يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ (التوبۃ ۷۴) ”وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انھوں نے ایسا ہرگز نہیں کہا۔ باوجودیکہ انھوں نے یقیناً کفریہ کلمہ زبان پر جاری کیا اور وہ ایسا کرنے سے مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو گئے ہیں۔“ عام مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جنھوں نے اپنی مجلس میں نبی عربی ﷺ کی شانِ مبارک میں بے ادبی اور گستاخی کے الفاظ نکالے تھے۔ جب حضور ﷺ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو منافقین نے اس کو چھپانے کی غرض سے جھوٹی قسمیں کھائیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اصل واقع کی اطلاع دیتے ہوئے ان کو حلف اٹھانے میں جھوٹا قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ وہ ایسا کہنے کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ مسلمان نہیں رہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی توہین کرنے سے آدمی مسلمان نہیں رہتا بلکہ فوراً کافر ہو جاتا ہے۔
۵...... وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّٰهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُوْلِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ (توبۃ ۶۵-۶۶) جب قیصر روم سے لڑنے کے لیے ۹ ہجری میں رسولِ خدا ﷺ مسلمانوں کی جمعیت لے کر مدینہ سے باہر نکلے اور تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو بعض منافقین نے جو اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ تھے۔ یہ کہا کہ اب اس شخص یعنی رسول اللہ ﷺ کے حوصلے بہت بڑھ گئے جو ایسی زبردست سلطنت سے لڑنے کے لیے چلا ہے۔ جب آپ ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہو گئی تو منافقین نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ بات دل سے نہیں کہی تھی بلکہ راستہ طے کرنے کے لیے دل لگی اور مذاق کے طور پر کہی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ بالا نازل فرمائی جس کے یہ معنی ہیں۔ اے محمد ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو۔ تم اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کی آیتوں کے ساتھ مذاق کرتے ہو۔ اب تمہاری جھوٹی عذر خواہی فضول ہے۔ ایسا کرنے کی وجہ سے تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے۔ اس آیت میں قرآن شریف، اللہ یا اس کے رسول کا استہزا کرنے اور ان کا مذاق اڑانے کی وجہ سے کافر ہو جانے کا حکم سنایا گیا ہے۔
۶...... فَإِنْ تَابُوْا وَأَقَامُوْا الصَّلٰوةَ وَآتَوُا الزَّكٰوةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ (توبۃ ۱۱، ۱۲) ”اگر وہ کفر سے توبہ کر کے نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔ ہم اپنی آیتیں سمجھداروں کے لیے تفصیل کے ساتھ کھول کر بیان کرتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہیں اور تمھارے دین و مذہب کے کسی حکم پر طعنہ کریں اور اس میں عیب نکالیں تو ایسے لوگ کفر کے امام اور پیشوا ہیں۔ ان سے لڑو اور جہاد کرو۔ ان کے عہدوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ شاید کہ وہ اس سے ڈر کر اسلام کے متعلق بدزبانی کرنا چھوڑ دیں۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسائل دینیہ اور اسلامی اصول اور ضابطوں کے بارے میں نکتہ چینی کرنی اور
گستاخی سے پیش آنا انتہائی درجہ کی بے ایمانی ہے۔
۷....... إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيْدُوْنَ أَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَّيُرِيْدُوْنَ أَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا أُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفِرُوْنَ حَقًّا (النساء ۱۵۱،۱۵۰) ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں یا اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے رسول کو نہیں مانتے یا رسولوں میں سے بعض کو سچا اور بعض کو جھوٹا کہتے ہیں اور ان کو نہیں مانتے۔ یا مذہب میں ایک درمیانی راستہ نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں۔“ اس آیت میں چار قسم کے لوگ بتائے گئے ہیں۔ چوتھا گروہ کافروں کا وہ ہے جو اسلام کے اصولوں میں سے بعض کو مانے اور بعض سے انکار کرے اور مذہب میں ایک ایسا درمیانی راستہ عمل کا تجویز کرے۔ جس میں نہ کلیۃً اسلام سے انکار ہو اور نہ کامل طور پر اس کا اقرار۔ ایسا آدمی قرآن عزیز کی تصریح کے موافق اسی طرح کافر ہے۔ جیسے خدا اور اس کے رسول سے انکار کرنے والا کافر اور بددین ہے۔
۸....... اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللَّهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ (البقرۃ ۲۸۵) رسول اللہ ﷺ اور مومنین ان تمام باتوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان پر خدا کی طرف سے نازل کی گئیں اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور کسی کا انکار نہیں کرتے۔ اس آیت میں اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام آسمانی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھنا اور ان کو اور ان کی کتابوں کے غیر محرف حصہ کو منزل من اللہ اور سچا جاننا ضروری بتایا ہے۔ جس کے صاف اور ظاہری معنی یہ ہوئے کہ ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار کرنے پر ایمان نہ لانے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جس طرح یہودی توریت کے بعض حصہ کو مانتے اور بعض کا انکار کرنے کی وجہ سے اس آیت میں کافر قرار دیے گئے۔
اسی طرح وہ مسلمان جو قرآن عزیز کے صریح احکام میں سے بعض کا انکار کرے۔ وہ قطعاً کافر اور بددین ہے۔ قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمٰعِيْلَ وَإِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَا أُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ فَإِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ (البقرۃ ۱۳۶۔۱۳۷) اس آیت میں امر کے صیغہ کے ساتھ جو وجوب اور فرضیت کے لیے آتا ہے۔ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ ”زبان سے اس بات کا اقرار کرو کہ ہم اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر نازل کی گئی تھیں۔ ایمان لائے اور جو کچھ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو دیا گیا اور جو دوسرے انبیاء علیہم السلام خدا کی طرف سے لائے ہم ان سب کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور ان میں سے کسی کا انکار نہیں کرتے۔ اور ہم اس اقرار میں سچے اور مخلص مسلمان ہیں۔ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ ہدایت پر ہیں۔ اور اگر وہ اس سے اعراض کریں تو وہ اختلافات میں پڑے ہوئے اور گمراہ ہیں۔“ علامہ ابوسعود نے اپنی تفسیر میں آیت مَا اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِيْسٰی کی تشریح کرتے ہوئے۔ اس سے توریۃ اور انجیل اور وہ معجزات مراد لیے ہیں جو ان کے مبارک ہاتھوں سے ظاہر ہوئے۔ اور ان کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جس طرح تمام نبیوں اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنی ضروری ہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا قرآن کی تصریحات کے موافق تسلیم کرنا بھی ایمان کا ایک جزو ہے۔ معجزات کو قرآنی فیصلے
کے مطابق نہ ماننے والا ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ کسی نبی کے انکار کرنے والا مردود اور کافر ہے۔
۹...... وَقَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا (النساء ۱۵۶) یہودی حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی وجہ سے کافر قرار دیے گئے۔ اس آیت میں حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی وجہ سے یہودیوں کو کافر بتایا گیا ہے۔ اگر آج بھی کوئی بدبخت حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ محترمہ کے ساتھ اس قسم کی بدزبانی سے پیش آئے تو وہ قرآنی فیصلہ کے مطابق یقیناً کافر اور بددین سمجھا جائے گا۔
۱۰...... قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ مَنْ قَالَ فِى الْقُرْاٰنِ بِرَاْيِه فَلْيَتَبَوَّءُ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
(ترمذی شریف باب ماجا فی الذی یفسر القرآن برائیہ ج۲ ص ۱۲۳)
”رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن شریف کی تفسیر اپنی رائے سے کرے وہ جہنمی ہے ۔“
یعنی قرآن مجید کے اس حصہ کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا جس کا تعلق نقل سے ہے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے معنی اور مطلب کو ظاہر فرمایا ہے۔ رسول خدا ﷺ کی مخالفت کرنے کے مترادف ہے کیونکہ رسول خدا ﷺ کے بتائے ہوئے معنوں کو چھوڑ کر اپنی طرف سے معنی گھڑ کر پیش کرنے والا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو مٹانا چاہتا ہے جو یقیناً کفر ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ارشاد ہے۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء ۶۵) ”یعنی وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ جب تک وہ ہر شئی کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کو حاکم تجویز نہ کریں ۔“ اور اس فیصلہ کے آگے گردن نہ جھکائیں۔
اس کے علاوہ رسول خدا ﷺ امت کے لیے معلم بنا کر کتاب اللہ سکھانے کے واسطے بھیجے گئے۔ جیسا کہ آیت يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (البقرۃ ۱۲۹) سے ظاہر ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کی تعلیم اور ہدایت کو بعینہٖ تسلیم کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے اور جو شخص اس کے خلاف اپنی رائے کو شریعت کے فیصلوں میں دخل دیتا ہے۔ وہ زندیق اور بے ایمان ہے۔ اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ البتہ تفسیر کا وہ حصہ جو عربیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں اپنی رائے سے عجیب نکتے پیش کرنے اور آیت کے متعلق فوائد اور حکمتیں بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مذکورہ بالا آیات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ان میں سے کسی ایک شئی کے انکار کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ محض کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنا یا نماز پڑھنا کافی نہیں ہے بلکہ اجمالی یا تفصیلی طور پر شریعت کے تمام قطعی اور یقینی فیصلوں کو ماننا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنے سے آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ مگر انکار دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔ (۱)...... صاف اور صریح طور پر کسی چیز کو ماننے سے انکار کرنا اسلام سے ایسا انکار یہود و نصاریٰ اور مشرکین کیا کرتے ہیں۔
دوسری قسم کا انکار یہ ہے کہ آیت قرآنی اور شریعت کے قطعی فیصلوں کے جو معنی اور مطلب رسول خدا ﷺ سے ثابت ہیں۔ یا آپ ﷺ کے بعد صحابہ اور ائمہ مجتہدین نے وہ معنی لیے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی اور ہی مطلب اس شرعی فیصلے کے متعلق بیان کرے تو ایسا انکار بھی قرآنی فیصلے کے مطابق پہلے انکار کی طرح کفر ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء ۶۵) ”تیرے پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک وہ آپ کو ہر بات میں اپنا حاکم تجویز نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کو بخوشی تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنی گردن نہ
جھکائیں۔ وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے ۔“
(۲) ...... لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (آل عمران ۱۶۴) اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا۔ جو ان میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو اس کی آیتیں پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور نفوس کو شبہات اور گناہوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے۔ قرآن عزیز کے معانی اور مطالب بیان کرتا اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔ اس آیت میں نبی عربی ﷺ کو قرآن شریف کے سکھانے والا فرمایا گیا ہے۔ یہ بات اسی صورت میں ہو سکتی ہے جبکہ آپ کے بیان کردہ معانی اور مطالب کو بعینہ قائم رکھا جائے۔ ورنہ آپ کا معلم قرآن ہونا باقی نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ کسی مسلمان مرد یا عورت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے صریح فیصلوں کو چھوڑ کر اسلام میں کوئی نیا رستہ تجویز کرے۔ لہٰذا اگر کوئی بد باطن اسلام میں درمیانی رستہ نکال کر اس کا نام اسلام رکھے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے تو ایسا خود ساختہ اسلام بعینہ نبی کریم ﷺ کا پیش کردہ اسلام ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول خدا ﷺ ہی کے بتائے ہوئے اصول اور ضابطوں میں نجات ہے۔ باقی راستے تمام ضلالت اور گمراہی کے ہیں بلکہ قرآن مجید میں ایسے شخص کو جو اسلامی تعلیم کو نئے رنگ میں پیش کر کے مذہب میں ایک درمیانی راستہ نکالنا چاہتا ہے۔ کافر اور بیدین فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت يُرِيدُونَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا أُولٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا (النساء ۱۵۰۔۱۵۱) سے ظاہر ہے۔ یعنی جو لوگ اسلام کی بعض باتوں کا انکار اور بعض کا اقرار کرتے ہوئے دین میں ایک درمیانی راستہ تجویز کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قطعاً کافر اور بیدین ہیں۔
اس قسم کی آیتوں سے اب تک یہ بات معلوم ہوئی (۱)...... کہ اللہ یا اس کے رسول کا انکار کرنے (۲)...... قرآن کی کسی آیت کو جھٹلانے (۳)...... یا ان میں سے کسی ایک کا استہزا اور مذاق اڑانے (۴)...... اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک رسول کی شان میں گستاخی کرنے (۵)...... قطعی حکم کو نہ ماننے (۶)...... حلال کو حرام یا حرام کو حلال جاننے (۷) اسلام کے کسی حکم یا فیصلے کے متعلق نکتہ چینی یا عیب جوئی کرنے (۸)...... فرشتوں کے وجود یا انبیاء علیہم السلام کے پاس ان کی آمد و رفت کا انکار کرنے (۹)...... کسی نبی کے ان معجزات کو جن کا ذکر قرآن مجید میں صاف اور صریح طور پر آیا ہے نہ ماننے (۱۰)...... قرآن شریف کے صریح احکام کے خلاف اپنی طرف سے ایسی تاویلات گھڑنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کی تصریحات کے مخالف ہیں۔ پھر اسلام سے خارج ہونے کے لیے ان تمام وجہوں کا جمع ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ان میں سے ایک وجہ بھی کسی شخص میں یقیناً موجود ہو گی۔ وہ اسلام سے خارج اور قطعی طور پر کافر سمجھا جائے گا۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی قرآن اور حدیث کے خلاف ایسے خیالات اور عقیدے ظاہر کر رہے ہیں جن سے ان پر ایک وجہ سے نہیں بلکہ متعدد وجوہات سے کفر عائد ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق قرآن میں فرماتا ہے وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيْهًا (احزاب ۶۹) عیسیٰ بن مریم ﷺ اللہ کی نظر میں بزرگ اور محترم تھے مگر مرزا کہتا ہے۔
(۱)...... ”بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا
کوئی جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس واسطے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“ (دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰) ”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹ نکلیں۔ آج کون زمین پر ہے جو اس عقدے کو حل کرے۔“
(اعجاز احمدی ص ۱۴ خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۱)
(۲)...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں ان کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
(۳)...... ”ان کا کنجریوں سے میلان بھی شاید اسی وجہ سے ہو کیونکہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
اس قسم کی لغویات سے اس کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ہم نے طوالت کے خوف سے چند بیان کی ہیں۔ مرزا نے ان عبارتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس اور بزرگ ہستی کے متعلق تین قسم کی گستاخیاں بیان کی گئی ہیں۔ (۱)...... العیاذ باللہ آپ کی دادیوں و نانیوں کو کسبی کہا۔ اور آپ کو کسبیوں کے خاندان سے بتایا۔ باوجودیکہ قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کے والدین کو صالح اور نیک بخت کہا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت يَا اُخْتَ هَارُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا (مریم ۲۸) سے ظاہر ہے۔ یعنی اے مریم تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا۔ اور تیری ماں بھی زنا کار نہ تھی۔ مگر مرزا قرآن کریم کی مخالفت کرتے ہوئے خدا کے غصہ اور غضب سے نہیں ڈرتا۔
دوسری اور تیسری گستاخی یہ کی کہ آپ کو فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھنے والا۔ ان کی کمائی کھانے والا شرابی اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ مرزا نے اس بدزبانی سے ایک برگزیدہ رسول کی توہین کے علاوہ آیت وَكَانَ عِنْدَاللّٰهِ وَجِيْهَا (احزاب ۶۹) (عیسیٰ بن مریم اللہ کی نظر میں بزرگ اور محترم تھے) کی تکذیب کی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ فاسق اور گنہگار کو رسول بنا کر بھیجتا رہا ہے۔ ایسا ملحد اور بددین آدمی قرآنی فیصلے کے ...... مطابق یقینی طور پر مردود اور کافر ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپ کو ولدالزنا اور آپ کی والدہ محترمہ کو زنا کار کہا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (۱)...... ”اور مریم کی وہ شان ہے۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کی ہدایت اور اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا تو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں نکاح کیا گیا۔ اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا۔ اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ہے۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے ساتھ نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ۱۶ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸)
(۲)...... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہن تھے۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“ (حاشیہ کشتی نوح ص ۱۷ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸) ان دونوں عبارتوں سے صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو یوسف نجار کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے زنا کا حمل رہ گیا تھا۔ (لعنت بر پسر فرنگ) مرزا نے اس بیہودہ گوئی میں خدا کے ایک بزرگ اور اولوالعزم رسول کی توہین کرنے کے علاوہ قرآن
شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلایا ہے۔ وَالَّتِيْ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا اٰيَةً لِّلْعَالَمِيْنَ (الانبیاء ۹۱) ”وہ عورت جس نے اپنی شرمگاہ کو مرد سے بچا کر رکھا۔ ہم نے اس کے رحم میں ایک پاک روح پھونکی۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو عالم کے واسطے نشانی بنایا۔“ اس آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی نیک چلنی اور پاکدامنی کی تعریف کی ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے متعلق سورۃ آل عمران میں اس طرح ارشاد ہوا ہے۔ اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ (آل عمران ۵۹) عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ جس طرح آدم ؑ کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے بنایا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے لفظ کن یعنی محض ارادہ کے ساتھ پیدا کیا۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش آدم کی طرح بغیر باپ کے بتلائی ہے بلکہ حضرت مریم علیہا السلام پر زنا کا بہتان باندھنے والوں یہودی صفتوں کو قرآن مجید میں کافر کہا ہے۔ ایک نبی کی توہین اور قرآن کریم کی تکذیب کرنا کافر ہونے اور جہنم میں جھونکنے کے لیے کافی ہے۔ مگر مرزا لعنت اللہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سید الانبیاء شفیع روزِ جزا کی ہمسری کا بھی دعویٰ کیا ہے بلکہ بعض جگہ افضلیت کا دعویٰ دار بن گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
(۱)...... ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز نبی مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔“
(براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۹۰ خزائن ج ۲۱ ص ۱۱۷)
گویا عیاذاً باللہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی بزرگیاں جن میں رسول خدا ﷺ بھی ہیں۔ مرزا لعنت اللہ میں جمع ہوگئیں اور اس طرح مرزا تمام نبیوں سے خاکم بدہن بڑھ گیا۔
(۲)...... ”اور مجھے بتلایا گیا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ (اعجاز احمدی ص ۷ خزائن ج ۱۹ ص ۱۱۳) تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ آیت رسالت پناہ کی شان عالی میں نازل ہوئی ہے اور رسول سے آپ ﷺ کی ہی ذات گرامی مراد ہے اور آپ ﷺ سے اسلام کے غلبہ کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن مرزا کہتا ہے کہ تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ یعنی رسول اکرم ﷺ مراد نہیں ہیں۔ (معاذ اللہ)
اگرچہ اس میں بھی گستاخی کا پہلو نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ لیکن دوسری جگہ کھلم کھلا بے ادبی اور گستاخی پر اتر آیا ہے۔ ملاحظہ ہو (۱)...... حضرت محمد ﷺ کا اجتہاد غلط نکلا۔ (ازالہ ص ۶۹۰ خزائن ج ۳ ص ۴۷۲) (۲)...... ”علماء نے (حالانکہ وہ تفسیر نبوی ہے) زلزال کے معنی غلط سمجھے۔“ (ازالہ ص ۱۲۸ خزائن ج ۳ ص ۱۶۶) (۳)...... آنحضرت کو ابن مریم اور دجال اور خر دجال اور یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی وحی نے خبر نہیں دی۔
(ازالہ اوہام ص ۶۹۱ خزائن ج ۳ ص ۴۷۳)
یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ دجال، خر دجال، دابۃ الارض وغیرہ علامات قیامت کا بیان صحیح اور مشہور حدیثوں میں موجود ہے۔ مرزا کی اس دریدہ دہنی کا یہ مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال اور خر دجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج سے جو مراد ظاہر فرمائی ہے۔ وہ نعوذ باللہ صحیح اور درست نہیں۔ اور مرزا نے جو خر دجال سے ریل، یاجوج ماجوج سے قوم نصاریٰ، دجال سے پادری مراد لیے ہیں۔ وہ صحیح ہیں یا وہ بے ادب اور گستاخ اپنی تحقیق کو درست اور رسول خدا ﷺ کے ارشاد کو غلط بتائے۔ وہ یقیناً کافر اور جہنمی ہے۔
پھر اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ اسلام اور قرآن کریم کی توہین کرتا ہوا کہتا ہے۔ (۱)...... قرآن مجید میں گالیاں بھری ہوئی ہیں۔ (ازالہ ص ۲۵۔ ۲۶ خزائن ج ۳ ص ۱۱۵) (۲)...... قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ (تذکرہ ص ۴۳۱ طبع سوم) مرزا کا قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں کہنے کا یہ مطلب ہے کہ ایسا کلام میں بھی بنا سکتا ہوں۔ مرزا نے اس یاوہ گوئی سے قرآن شریف کی اس آیت کو جھٹلانا چاہا ہے۔ قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا. (الاسراء ۸۸) اگر جن و انسان متفقہ طور پر قرآن مجید کی مانند کلام بنانا چاہیں تو نہیں بنا سکتے۔
(۳)......
اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار ہے
خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں
محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفان سے پار
(براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۱ ص ۱۴۷)
(۴)......
کر دیا قصوں پہ سارا ختم دین کا کاروبار
مغز فرقان مطہر کیا یہی ہے رہا خشک
کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار
گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی امت ہلاک
کس طرح راہ مل سکے جب دین ہو تاریک و تار
(براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۱۱۲ خزائن ج ۲۱ ص ۱۴۴)
مرزا کی اس نظم کا یہ مطلب ہے کہ اگر آج بھی وہی اسلام ہے جو تیرہ سو برس پہلے تھا تو اس میں روحانیت کا ملنا بہت دشوار ہے کیونکہ قرآن عزیز اور دیگر اسلامی روایات میں انبیاء سابقین کے حالات ہیں یا نبی عربی ﷺ پر نازل شدہ وحی کا بیان۔ اور مسلمانوں کو مسائل کی تلقین ہے۔ یہ سب باتیں تیرہ سو برس گزر جانے کی وجہ سے قصص اور کہانیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ قصوں اور کہانیوں میں روحانیت تلاش کرنی بے فائدہ اور فضول کام ہے۔ اس لیے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے نبوت اور وحی کا دروازہ ہمیشہ کے واسطے مفتوح اور کھلا ہوا رہنا چاہیے تا کہ اسلام میں تازہ بتازہ روحانیت کا ثبوت ملتا رہے ورنہ اسلام میں روحانیت باقی نہیں رہ سکتی۔ (نعوذ باللہ من ہذا الخرافات) اور لیجئے مرزا اور اس کے متبعین فرشتوں کی حقیقت اور دنیا میں ان کے آنے کے بھی منکر ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
(۱)...... ”فرشتے نفوس فلکیہ اور کواکب کا نام ہے جو کچھ ہوتا ہے وہ سیارات کی تاثیرات سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔“
(توضیح المرام ملخص ص ۳۷، ۳۸ خزائن ج ۳ ص ۷۰)
(۲)...... جبرائیل کبھی زمین پر نہیں آئے۔ اور نہ آتے ہیں۔
(توضیح المرام ملخص ص ۶۸ خزائن ج ۳ ص ۸۶ و آئینہ کمالات اسلام ص ۱۱۹ تا ۱۲۳ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
نفوس فلکیہ اور کواکب کو فرشتے کہنا اور سیارات کو موثر حقیقی جاننا قرآن اور حدیث کی صدہا تصریحات کے خلاف ہونے کی وجہ سے قطعی طور پر کفر ہے۔ صحیح مسلم میں ہے جو لوگ بارش کو سیاروں کی تاثیرات کی وجہ سے
مانتے ہیں۔ وہ اللہ کے منکر اور کفر کرنے والے ہیں۔ (کتاب الایمان صحیح مسلم، باب کفر من قال مطرنا ج ۱ ص ۵۹) دوسرے جبرائیل علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے انکار کرنے کے یہ معنی ہیں کہ آج تک دنیا میں نہ کوئی رسول ہوا اور نہ کسی پر وحی الٰہی نازل ہوئی کیونکہ جبرائیل ہی وحی پہنچانے پر مامور ہیں۔ اور وہ دنیا میں تشریف نہیں لاتے۔ اس کے علاوہ قرآن کی آیت فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا (مریم ۱۷) کا بھی انکار ہوا۔ جس میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس جبرائیل امین کا انسانی شکل میں آنا مذکور ہے۔ نیز اس آیت سے بھی انکار ہوا۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس خدا کے چند فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو انسان سمجھنے کی وجہ سے بھنا ہوا گوشت ان کے کھانے کے واسطے پیش کیا تھا اور حضرت لوط ان کو نو عمر لڑکے سمجھ کر دیر تک اپنی قوم سے لڑتے اور جھگڑتے رہے تھے۔ مرزائی جماعت اس قسم کی تمام آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے یقیناً اسلام سے خارج اور جہنمی ہے۔
اس کے علاوہ مرزا اور اس کے متبعین نے قرآن کریم کی ان تمام آیتوں کا انکار کیا ہے۔ جن میں انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا ذکر ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے:
- (۱)...... قرآن شریف میں جو معجزے ہیں وہ مسمریزم ہیں۔ (ازالہ ص ۳۰۴ خزائن ج ۳ ص ۲۵۵)
- (۲)...... حضرت مسیح علیہ السلام مسمریزم میں مشق کرتے اور کمال رکھتے تھے۔ (ازالہ ص ۳۰۹ و ۳۱۲ خزائن ج ۳ ص ۲۵۷، ۲۵۹)
- (۳)...... ”اور لوگ ان کو شناخت کرلیں کہ درحقیقت یہ لوگ مرچکے تھے اور اب زندہ ہوگئے ہیں۔ وعظوں اور
لیکچروں سے شور مچا دیں کہ درحقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ سچا ہے۔ سو یاد رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے اور جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہوچکے ہیں۔ وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۳۳ خزائن ج ۲۱ ص ۴۳)
- (۴)...... بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔ اور وہ مٹی درحقیقت مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا
گوسالہ (ازالہ اوہام ص ۳۲۲ خزائن ج ۳ ص ۲۶۳ حاشیہ) نیز مرزا نے معجزہ شق القمر کو چاند گرہن بتایا ہے۔
(حاشیہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۶۴ خزائن ج ۲۱ ص ۸۲ واعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)
نیز قرآن مجید کی اس آیت سے بھی انکار ہے جس میں ایک رات کے اندر رسول خدا ﷺ کا مکہ معظمہ سے بیت المقدس تک جانا مذکور ہے۔ بلکہ قادیان میں ایک مسجد اقصیٰ تیار کرکے یہ ظاہر کیا کہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی پہلے محمد ﷺ بن کر مکہ میں پیدا ہوا اور اب قادیان کی مسجد اقصیٰ میں آگیا۔ اسی کا نام حلول ہے۔ چنانچہ نبوت کا دعویٰ عقیدہ حلول ہی پر مبنی ہے۔ اور ایسا عقیدہ رکھنا باتفاق علماء اسلام کفر ہے۔ اس موقعہ کی مناسب چند عبارتیں ملاحظہ ہوں۔
- (۱)...... وہ محمد ﷺ ہی ہے۔ گو ظلی طور پر۔ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳ ایک غلطی کا ازالہ ص ۵ خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۹)
- (۲)...... یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول
بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۷ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۱، حقیقۃ الوحی ص ۲۶۵)
ظاہر ہے کہ جو شخص قرآنی معجزات کو نہ مانے وہ قرآن مجید کی آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے یقیناً کافر اور بیدین ہے۔
نیز مرزائی جماعت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی اپنے مرشد مرزا کی طرح قرآن عزیز کی تفسیر کرنے میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق اور صحابہ کی تشریحات کی پابند نہیں ہے۔ جو دل میں آتا ہے۔ اس کے موافق قرآن کی تاویل اور توضیح بیان کرتا ہے۔ پہلے اچھی طرح ثابت ہو چکا ہے کہ نقلیات میں قرآن شریف کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنی موجب کفر ہے۔ چنانچہ مرزا براہین احمدیہ حصہ ۵ ص ۹۱ خزائن ج ۲۱ ص ۱۹ پر اس آیت کی تفسیر کرتا ہوا لکھتا ہے۔ ”اِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْاَرْضِ وَاٰتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (الکہف ۸۴) یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی کہلائے گا۔ روئے زمین پر ایسا مستحکم کر دیں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“ یعنی تمام سورت کو مسخ کر کے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ نیز شہادۃ القرآن مصنفہ مرزا اس قسم کی لغویات سے بھری پڑی ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام اور معجزات انبیاء کرام کے متعلق جملہ آیات کی غلط تاویلیں کی ہیں اور ان میں نبی کریم ﷺ کی تحقیقات کی مطلقاً پرواہ نہیں کی۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ حضور ﷺ کو ان کی صحیح اطلاع ہی نہیں دی گئی اور حدیثیں نا قابل اعتبار ہیں کیونکہ وہ مرزا کے بتائے ہوئے معنوں کے موافق نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ آج کل مرزائی جماعت کا طرزِ عمل اور ان کی مطبوعہ تراجم اور تفسیریں ہمارے اس دعویٰ پر کھلی ہوئی شہادت ہیں۔ جس کا جی چاہے ان کی معنوی تحریفات کو اٹھا کر دیکھ لے۔ نیز جنگ جارحانہ جو اسلام کی عزت اور وقار کو قائم رکھنے اور کفر کا غلبہ مٹانے حق و انصاف کو پھیلانے تبلیغی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جس کے ثبوت میں احادیث نبویہ قرآن کی صدہا آیتیں موجود ہیں اور صحابہ کا قیصر وکسری سے ان کے ملکوں میں جا کر جنگ کرنا اس پر شاہد عادل ہے۔ مرزا اور اس کے متبعین کو اس سے صاف انکار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے متعلق قرآن عزیز کی آیتوں اور صحیح حدیثوں کے غلط معنی بیان کرنا ختم نبوت اور معراج جسمانی سے انکار کرنا اس کے علاوہ ہیں۔
مرزا قادیانی جس عقیدے پر مرے ہیں اور جو اسلام آج بھی مرزائی جماعت لوگوں کے سامنے پیش کر رہی ہے وہ یہ ہے۔
- (۱)...... فرشتے کواکب اور نفوس فلکیہ کا نام ہے۔
- (۲)...... ملائکہ کسی نبی کے پاس وحی لے کر زمین پر نہیں آئے اور نہ وہ کسی انسان کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
- (۳)...... اسلام میں جنگ جارحانہ یا جہاد فی سبیل اللہ کوئی چیز نہیں بلکہ گناہ ہے۔
- (۴)...... قرآن عزیز کی تفسیر اور کسی آیت کے معنی اور مطلب بیان کرنے میں رسول اللہ ﷺ کی تفسیر پر چلنا
ضروری نہیں ہے اور نہ صحابہ کا اتباع لازمی ہے۔
- (۵)...... کبھی کسی نبی سے خارق عادت معجزہ ظاہر نہیں ہوا اور جن معجزات کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔ اس
سے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں۔ جیسا کہ آج تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں بلکہ ان سے مرزا کے بیان کردہ تاویلی معنی مراد ہیں۔
- (۶)...... عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے اور نہ مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں
گے۔ جن آیات یا حدیثوں سے حیات مسیح اور ظہور مہدی کا پتہ چلتا ہے۔ وہ قابل اعتبار نہیں کیونکہ مرزا کے بیان کردہ معنی کے خلاف ہیں۔
- (۷)...... عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ حضرت مریم کا نکاح سے پہلے ناجائز تعلق یوسف نجار کے
ساتھ ہو گیا تھا۔ جس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ (لعنت اللہ علیہم)
- (۸)...... یاجوج ماجوج، دجال، دابۃ الارض وغیرہ کا مطلب جو رسول خدا ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ صحیح نہیں۔
کیونکہ حضور کو ان چیزوں کی صحیح اطلاع نہیں دی گئی اس کے حقیقی معنی مرزا کو بتائے گئے ہیں۔ یہ تمام عقیدے لاہوری اور قادیانی جماعت میں مشترک ہیں۔ یہی وہ اسلام ہے جس کو ان کی تبلیغی مشنریاں یورپ و امریکہ میں پیش کرتے ہیں جن پر ان کو بڑا ناز ہے۔ اور ہمارے فریب خوردہ ناواقف مسلمان بھائی ان کی کوششوں کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ ان عقائد باطلہ کے علاوہ قادیانی جماعت کو ختم نبوت سے بھی انکار ہے اور آج بھی نبوت غیر تشریعی کا دروازہ مفتوح سمجھتے ہیں۔ یعنی موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے نبیوں کی طرح اس امت میں بھی نبیوں کا آتے رہنا مانتے ہیں۔
تمام دنیا کے مسلمانوں کا عقیدہ بروے قرآن وحدیث ہر زمانہ میں ان چیزوں کے متعلق یہ رہا ہے۔
- (۱)...... فرشتے خدا کی ایک مخلوق ہے جو نور سے پیدا کی گئی۔ نہ ان میں کوئی مذکر ہے اور نہ مونث اور نہ انسانوں کی
طرح کھاتے پیتے ہیں۔ زمین پر آتے جاتے ہیں کبھی انسانی شکل میں انبیاء علیہم السلام کے پاس آتے رہے اور کبھی اپنی اصلی شکل میں ظاہر ہوئے۔ خدا کی نافرمانی اور ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں۔
- (۲)...... جہاد کرنا اسلام کی عزت اور وقار کے لیے ضروری ہے۔ دین اسلام کی حمایت میں کٹ مرنا قرب الٰہی کا
بڑا درجہ ہے۔
- (۳)...... قرآن مجید کی تفسیر میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق اور صحابہ کرام کی اتباع کو چھوڑ کر اپنی رائے کو دخل دینا کفر
ہے اور اسی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
- (۴)...... انبیاء علیہم السلام سے بہت سی خارق عادت باتیں ظاہر ہوئیں اور ان میں سے جن کا ذکر قرآن مجید میں
آیا ہے۔ ان سے وہی معنی مراد ہیں جو قرآن کے ظاہری الفاظ سے سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر دوسرے معنی اپنی طرف سے گھڑنے کفر ہیں۔
- (۵)...... عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخری زمانہ میں زمین پر اتریں گے قرآن شریف اور صدہا
حدیثوں سے ایسا ہی ثابت ہے اور اسی پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
(نقلہ صاحب الیواقیت والجواہر ج ۲ ص ۳۴)
- (۶)...... عیسیٰ ؑ قدرت الٰہی سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ان کی والدہ ماجدہ عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ ان پر
زنا کی تہمت لگانے والا بروئے قرآن شریف کافر ہے۔
- (۷)...... یاجوج ماجوج، دجال، خر دجال، دابۃ الارض اور اسی طرح کی دوسری قیامت کی نشانیاں اپنی حقیقت پر
محمول ہیں اور ان سے وہی مراد ہے جو رسالت پناہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ اس کے خلاف کہنے والا یقینی اور قطعی طور پر جہنمی ہے۔
- (۸)...... آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے اور ایسا ہی قرآن اور حدیث سے ظاہر ہے۔ آپ ﷺ کے بعد
کوئی شخص تشریعی یا غیر تشریعی نبی بن کر نہیں آئے گا اور جو ایسا عقیدہ رکھے گا۔ وہ یقیناً ملحد اور بد دین ہے لیکن پہلے نبیوں میں سے کسی نبی کی موجودگی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس سے عطاء نبوت کے سلسلہ کو بند کرنا مراد ہے۔ نبوت سابقہ کا چھین لینا مراد نہیں۔ ورنہ اس کا نام سلب نبوت ہوگا۔ ختم نبوت نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہی معنی ختم نبوت نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے روز تمام انبیاء نبوت کے ساتھ متصف ہوں
گے۔ مگر اس سے حضور کی ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ مرزائی صاحبان خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی جن عقائد دینیہ میں وہ مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اگر آج وہ ایسے عقیدوں کی اصلاح نبی کریم ﷺ کی اتباع اور صحابہ کے طریق عمل میں تلاش کریں اور رسول خدا ﷺ کی غلامی اور ان کی تعلیم و تربیت ہی میں نجات کو منحصر جانیں تو دنیا کا ہر سچا مسلمان ان کو اپنے گلے سے لگانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اگر وہ رسالت پناہ ﷺ کی ہدایات اور آپ ﷺ کے بیان کردہ معانی اور تشریحات کے خلاف اپنی طرف سے کوئی معنی اور مطلب گھڑ کر اس کا نام اسلام رکھ لیں تو مسلمان ایسے ملحد اور بددین جماعت کو قرآنی فیصلے کی وجہ سے مردود اور کافر کہنے پر مجبور ہیں۔
کیونکہ اگر نفوس فلکیہ اور کواکب کا نام فرشتہ رکھ لیا گیا تو اس سے فرشتوں کے وجود کا اقرار نہیں سمجھا جا سکتا اور اگر سیاروں کی تاثیرات کو نزول ملائک سے تعبیر کیا گیا تو اس سے فرشتوں کی زمین پر آمد و رفت کا اقرار نہیں کہہ سکتے۔ ملائکہ کے وجود اور ان کے نزول و صعود کا اقرار اسی وقت صحیح ہو گا جبکہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے موافق اس کو تسلیم کر لیا گیا۔ ورنہ ان کا یہ فعل شریعت محمدی کی مخالفت اور دین الہی کے مسخ و تبدیل کرنے پر محمول ہوگا۔ یہی طرح معجزہ کا اقرار اسی صورت میں مانا جائے گا جبکہ خارق عادت امور کا ظہور تسلیم کر لیا گیا اور عصاء موسیٰ کا اژدہا بن جانا احیاء موتی اور شق القمر وغیرہ معجزات کو ایسے معنی پر اتارا گیا جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہیں۔ ورنہ اگر قحط سالی اور زلزلہ وغیرہ حوادثات دنیوی میں معجزہ کو منحصر سمجھا گیا اور خارق عادت امور کے وقوع سے انکار کر کے قرآن کریم کی تکذیب کی گئی تو اس حالت میں کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔
اسی طرح آیات قرآنیہ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کی تحقیق پر نہ چلنا جہنم میں داخل کیے بغیر نہیں چھوڑتا، کیونکہ اسلام اور ایمان وہی ہے جو رسول خدا ﷺ نے بیان فرمایا اور صحابہؓ نے اس کو اختیار کیا۔ لہٰذا اگر آج کوئی شخص عقائد دینیہ اور آیات قرآنیہ کے معانی اور مطالب صحابہؓ کی تحقیقات کے موافق تسلیم کرتا ہے تو ایسا ایمان اور اسلام بالکل صحیح اور درست ہے۔ اور اگر کوئی ان کی تشریح اور تحقیق کے خلاف دوسرے معنی بیان کرے تو ایسا آدمی یقیناً جہنمی اور کافر ہے۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت سے ظاہر ہے فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ (البقرۃ ۱۳۷) اس آیت میں صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لوگ تمہاری طرح ایمان لائیں۔ یعنی جن چیزوں کو جس طرح تم مانتے ہو۔ اسی طرح وہ بھی مانیں تو وہ ہدایت پر ہیں اور اگر وہ تمہاری طرح ایمان نہ لائیں اور اس سے اعراض کریں تو پھر وہ اختلاف اور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک اور جگہ یہ ارشاد ہوا ہے۔ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا (النساء ۱۱۵) ”جو شخص حق ظاہر ہونے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ عمل کا تجویز کرے۔ ہم اس کو حق سے ہٹا کر جہنم میں جھونک دیں گے۔“ ظاہر ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد صحابہ کی جماعت ہے۔ انہی کا راستہ ہدایت کا راستہ ہے۔ باقی سب گمراہی ہے۔
سورۃ توبہ میں ہے۔ وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ
رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ (توبہ ۱۰۰) نیکی کی طرف دوڑنے والے مہاجرین اور انصار اور ان کی سچی اتباع کرنے والوں سے اللہ راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں۔
ایک آیت میں یوں آیا ہے۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اَوَوْا وَّنَصَرُوْا اُوْلٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا (انفال ۷۴) یعنی مہاجرین اور انصار ہی سچے مومن ہیں جنھوں نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور خدا کے رسول کو جگہ دی اور ان کی ہر طرح مدد فرمائی معلوم ہوا کہ سچائی اور حقانیت اسی راستہ میں منحصر ہے۔ جس کو صحابہ اور ان کے متبعین نے اختیار کیا۔ اس لیے اس کو چھوڑنے والا قطعی طور پر جہنمی اور کافر ہے۔ مرزائی جماعت نے فرشتوں، دجال، خر دجال، یاجوج ماجوج وغیرہ عقائد کے جو معنی بیان کیے ہیں۔ اگر اس کا ثبوت صحابہ کی تحقیقات سے پیش کر دیں اور نقلیات میں تفسیر بالرائے کا جواز قرآن اور حدیث سے ثابت کر دیں تو ہم بھی یہی کیش وملت اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں اور ایک صد روپیہ انعام اس کے علاوہ ہے۔ اور اگر وہ اس کا ثبوت پیش نہ کر سکیں اور یقیناً نہ کر سکیں گے تو پھر مخلص مسلمان بنیں اور عقائد باطلہ سے توبہ کریں یا مسلمانی کا دعویٰ کرنا چھوڑ دیں اور اپنا پنتھ الگ قائم کریں اور اپنی منافقانہ چالوں سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ دیں۔ ورنہ منتقم حقیقی کے غصہ اور غضب سے ڈرتے رہیں۔ جس کے یہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔
رہا یہ شبہ کہ اہل قبلہ کی تکفیر شرعاً ممنوع اور ناجائز فعل ہے اور ہر کلمہ گو کو مسلمان جاننا ضروری ہے۔ اس کے متعلق اس قدر عرض کر دینا کافی ہے کہ جس حدیث کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہوا ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنّیْ دِمَاءَ هُمْ وَاَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ.
(باب فان تابوا واقام الصلوۃ الخ بخاری ج ۱ ص ۸)
جو شخص کلمہ شہادت زبان پر جاری کرے نمازیں پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ اس کا جان و مال محفوظ ہو جائے گا اور وہ مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر اسلام اس کے قتل کا فیصلہ کرے تو وہ اس سزا کا مستحق ہوگا اس حدیث میں الا بحق الاسلام کی تصریح بتا رہی ہے کہ اہل قبلہ ہونا مسلمان ہونے کے لیے قطعی اور یقینی فیصلہ نہیں ہے۔ اس سے اس کی مسلمانی پر اسی وقت استدلال کیا جائے گا۔ جبکہ دوسرے حالات اس کے کفر پر صراحتاً دلالت نہ کریں اور اگر اس کا کافر ہونا قطعی طور پر معلوم ہو جائے تو پھر اس پر کافر ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں سے پہلے ثابت ہو چکا ہے اور اس حدیث میں الا بحق الاسلام کے ساتھ استثناء کرنے کا بھی یہی منشا ہے۔ اگر مسلمانی ایک مرتبہ ظاہر ہونے کے بعد کسی عقیدے کی انکار یا مخالفت سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے تو استثناء کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت نے زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کیا اور ابو بکر صدیقؓ نے ان کو مرتد قرار دیتے ہوئے ان سے جہاد کی تیاری فرمائی تو حضرت عمرؓ نے روکا اور ان کو کلمہ گو اور اہل قبلہ سمجھتے ہوئے۔ اس امر سے مانع ہوئے لیکن جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اس حدیث کے آخری الفاظوں کی طرف توجہ دلائی تو فوراً انھوں نے تسلیم کر لیا اور صحابہ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے پر متفق ہو گئے اور اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ کسی فرض کی فرضیت سے انکار
کرنے پر ایک مسلمان باجماع صحابہ کافر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اہل قبلہ ہونا کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنا، مسلمان ہونا، یہ سب شریعت اسلامیہ کے تسلیم کر لینے کے عنوانات ہیں۔ اس قسم کی حدیثوں کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ ایک آدمی مسلمانوں کا ذبیحہ کھا لینے یا کلمہ شہادت زبان پر جاری کرنے سے مسلمان ہو جاتا ہے اور آئندہ اسے جنت، دوزخ، قیامت یا شریعت کی دوسری تصریحات پر اجمالی یا تفصیلی ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جو منافقین زبان سے کلمہ جاری کرتے اور نمازیں پڑھتے تھے۔ کبھی دائرۂ اسلام سے خارج نہ سمجھے جاتے اور نہ صحابہؓ محض زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والوں سے جہاد کرتے اور کبھی مرزائی جماعت عدم تکفیر کے ثبوت میں یہ آیت پیش کیا کرتی ہے۔ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء ۹۴) جو شخص تم سے سلام علیکم کہہ کر اپنی مسلمانی ظاہر کرتا ہے۔ تم اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ اگر مرزائی صاحبان دیانت سے کام لے کر اس آیت کے پہلے الفاظ کو دیکھ لیتے تو ان کو اس سے استدلال کرنے کی کبھی جرأت نہ ہوتی کیونکہ اس تمام آیت کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ جس کا کفر مشتبہ ہو اور ظاہری علامات سے اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوتا ہو تو اس کو کافر کہنا ہرگز جائز نہیں۔ اس سے یہ کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ جو شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا صاف طور پر انکار کرے۔ وہ بھی کافر نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس آیت کے پورے الفاظ یہ ہیں۔ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء ۹۴) ”یعنی اے مسلمانو! جب تم جہاد کرنے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلو اور کوئی آدمی تمھیں ملے تو پہلے اس کے مسلمان یا کافر ہونے کی پوری تحقیق کر لو اگر وہ اپنا اسلام ظاہر کرتا ہو تو محض ناواقفیت یا شبہے کی وجہ سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔“
مرزائی صاحبان لاتقولوا لمن القی کو تو دیکھتے ہیں لیکن اس سے پہلے اذا فتبینوا پر نظر نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ مذکورہ بالا آیات کو سامنے رکھنے والا انسان اسی نتیجہ پر پہنچے گا جو ہم نے بیان کیا ہے اور علماء کے اس قول کا بھی یہی مطلب ہے۔ جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ کسی شخص کے کلام میں ننانوے احتمالات کفر کے اور اسی کلام سے ایک وجہ اس کے ایمان کی ظاہر ہوتی ہو تو اس کو کافر نہ کہو یعنی کسی کو محض شبہ کی وجہ سے کافر نہ کہو جب تک اس کی طرف سے کفر کا صاف طور پر اقرار نہ پایا جائے۔ مرزائی عام طور پر یہ شبہ بھی ظاہر کیا کرتے ہیں۔
کہ اس زمانہ میں ہر فریق اپنے مخالف کو کافر کہتا ہے تو اس صورت میں سب کافر ہوئے۔ مسلمان کوئی بھی نہ رہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جن الزامات کے ماتحت ایک فریق دوسرے فریق پر کفر کے فتوے لگاتا ہے فریق مخالف اس سے قطعاً اپنی بے زاری کا اعلان کرتا ہوا صاف طور پر کہہ دیتا ہے کہ اگر میری کسی عبارت سے ایسا مطلب سمجھا گیا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو میری اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔ میں ان باتوں کو ضرور کفر تسلیم کرتا ہوں جو تم نے الزامات میں بیان کی ہیں۔ لیکن میں ان کفریہ باتوں سے بیزار ہوں اور میری اس عبارت سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے بلکہ اس کا فلاں فلاں مطلب ہے جس سے کفر ثابت نہیں ہوتا لیکن مرزا اور اس کے متبعین ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہم معجزات کو اس رنگ میں ہرگز نہیں مانتے جس طرح دوسرے مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ احیاء موتی اور شق القمر وغیرہ خارق العادات معجزوں سے وہ مراد نہیں ہے جو نصوص کے ظاہر سے سمجھ میں آ رہی ہے اور جس پر صحابہ اور ان کے بعد کے آنے والے علماء آج تک ایمان رکھتے ہیں بلکہ ان
معجزوں سے فلاں فلاں روحانی باتیں مراد ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر یوں نہیں ہے جیسا کہ عام مفسرین لکھ رہے ہیں باوجودیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ معنی جو مرزائی بیان کر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی تحقیقات کے بالکل خلاف ہیں مگر وہ ان باتوں کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے۔ اسی طرح فرشتوں سے نفوس فلکیہ اور کواکب مراد لیتے ہیں اور اس طرح نہیں مانتے۔ جس طرح آج تک مسلمان مانتے چلے آئے ہیں۔ ایسا ہی جن آیتوں سے صحابہ کرامؓ نے حیات مسیح کو ثابت کیا ہے۔ مرزائی انہی سے توڑ مروڑ کر حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات نکالتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کفریہ عقائد سے انکار نہ ہوا بلکہ ان کو تسلیم کر لیا گیا اور التزام کفر کفر ہے۔ لزوم کفر کفر نہیں ہے۔ یعنی کفر کے الزامات سے اپنی بیزاری ظاہر کرنے والا کافر نہیں سمجھا جاتا اور ان الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے تاویلات رکیکہ کی آڑ لے کر اپنے کفر کو چھپانے والا قطعا کافر ہے۔ جب تک اس کے تمام عقیدے صحابہؓ کے عقیدوں کے موافق نہیں ہوں گے اور وہ ان کو اسی رنگ میں تسلیم نہیں کرے گا۔ جس رنگ میں سلف صالحین بیان کرتے چلے آئے ہیں تو وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ اس موقعہ پر مسئلے کی تحقیقات کرنے کی وجہ سے کلام میں طوالت پیدا ہو گئی ہے۔ مگر اس طوالت کے بغیر اصل حقیقت ظاہر ہونی بہت مشکل تھی۔ اس لیے ہمیں امید ہے کہ قارئین کرام خاکسار کو اس سمع خراشی میں معذور سمجھتے ہوئے دعاء خیر سے نہ بھولیں گے۔ آخر میں ہماری اسلامی جرائد اور مذہبی درد رکھنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کی اشاعت میں پورا حصہ لیں۔ اور مرزائی جماعت کے زہریلے اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کو چھپوا کر ہر طبقہ کے مسلمانوں میں مفت تقسیم کریں۔ والسلام واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
محمد مسلم عثمانی دیوبندی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
التحفہ القادریہ عن اسئلہ المرزائیہ
صاحبزادہ مفتی عبدالقادر
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد للہ کما ھو اھلہ والصلوۃ والسلام علی من قال اللہ تعالٰی فی شانہ خاتم النبیین و علیٰ آلہ و اصحابہ الطاھرین وعلیٰ ابی حنیفۃ واحبابہ من الصلحین الی یوم الدین وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا اما بعد پس فرقہ مرزائیہ نے اٹھارہ سوالات یکم جنوری ۱۹۱۸ء کو بعنوان (مسلمانان لاہور کی خدمت میں ضروری التماس) بذریعہ اشتہار کے شائع کیے۔ سوالات میں اگر چہ بظاہر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی وغیرہ کو مخاطب ٹھہرایا ہوا ہے لیکن اصلی مدعا ناواقفوں کو ایسے رکیک سوالات سنا کر تہہ ضلالت میں ڈالنا ہے۔ چنانچہ اسی غرض پر عنوان اشتہار واضح دلالت کرتا ہے۔ سوالات کی تغلیط بغرض اصلاح تحریر کی جاتی ہے۔ اگرچہ ایسے سوالات کے جواب کئی دفعہ تحریر ہو چکے ہیں لیکن اب پھر اس ضرورت کی وجہ سے دوبارہ تحریر کیا جاتا ہے اہل حق کو خداوند کریم توفیق عمل عطا فرمائے۔ سوال کا عنوان لفظ مرزائی سے ہوگا اور جواب کی ابتدا لفظ حنفی سے ہوگا۔
مرزائی نمبر ۱.......۲....... محمد حسین بٹالوی کا وعظ مہدی ؑ پر ہے۔ اس لیے مولوی صاحب جواب دیں کہ آیا اپنی کسی تحریر میں مہدی کے متعلق کل احادیث کو مجروح قرار دے چکے ہیں یا نہیں الخ۔
حنفی نمبر ۱.......۲....... امام مہدی کے بارہ میں جو (معروف) احادیث وارد ہیں وہ سب صحیح ہیں سلف صالحین کا اتفاق ان کی صحت کے لیے دلیل واضح و برہان قاطع کافی ہے۔ کیونکہ امورات استقبالیہ نبی کریم ﷺ نے بذریعہ وحی الٰہی کے فرمائے ہیں اور وحی مجروح نہیں ہو سکتی۔ مولوی محمد حسین صاحب نقاد حدیث شریف کے نہیں ہیں۔ نقاد کے لیے اسماء رجال کا علم مکمل طور پر ہونا چاہیے۔ اگر مولوی محمد حسین ایسے احادیث صحیح کو مجروح کہہ دیں تو ان کے کہنے کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ جرح و تعدیل میں معدل و جارح راوی کا ہمعصر ہونا ضروری ہے۔ ایسے موقع میں علمائے سلف کا متفق علیہ قول ہونا چاہیے۔ اب تک کسی عالم راسخ سے ان احادیث کی جرح منقول نہیں ہوئی، شاید مولوی محمد حسین صاحب نے بغیر تحقیق کے کہہ دیا ہوگا یا ان کو روایت وغیرہ میں شک پیدا ہوا ہوگا۔ علمائے دین کے اتفاق ونقل مشہور ومتواتر کو ملحوظ نہ رکھا ہوگا ورنہ ہرگز ضعیف نہ کہتے بلکہ اصح و احسن پر قول کرتے دیکھو حدیث شریف میں بنقل معروف وارد ہے کیف تھلک امۃ انا اولھا والمھدی وسطھا والمسیح اخرھا ولکن بین ذلک فیج اعوج لیسوا منی ولا انا منھم (مشکوٰۃ شریف ص ۵۸۳ باب ثواب ہذہ الامۃ) اس حدیث سے مہدی ؑ کا ثبوت اظہر وابین ہے۔ اس حدیث شریف میں لفظ مسیح کو مہدی پر عطف کیا ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ آپس میں مغائر ہوتے ہیں۔ ایک حکم میں جمع ہونے کی وجہ سے عطف کیا جاتا ہے جیسے ذہب زید وعمر اس مثال میں زید وعمر بالذات مغائر ہیں۔ ذہاب میں جمع ہونے کی وجہ سے عطف کیا
گیا ہے عطف میں تغائر ضروری ہے۔ جب تغائر ثابت ہوا تو اتحاد کہاں رہا۔ اس سے سوال ثانی کا جواب بھی ظاہر ہوا۔ اس صورت میں مطابق نص کے وقوع ہوگا پہلے نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہوئے وسط میں مہدی ؑ اخیر میں عیسیٰ ؑ ہوں گے۔ چنانچہ بعض کے نزدیک معطوف علیہ و معطوف بالواو میں ترتیب ہونی چاہیے۔
مرزائی نمبر ۳..... حضرت عیسیٰ پر بعد از نزول وحی آئے گی یا نہ، اگر وحی آئے تو ختم نبوت باطل ہے ورنہ عیسیٰ نبوت سے معزول ثابت ہوں گے۔
حنفی نمبر ۳..... سائل کی مراد اگر نبوت سے تبلیغ احکام الٰہی و اجرائے شریعت منزلہ ہو تو اس صورت میں قابل عزل ہونا ظاہر ہے کیونکہ جمیع انبیاء علیہم السلام کے شرائع فروعی یکے بعد دیگرے منسوخ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ زمانہ عمل بالقرآن کا ہے اگر جمیع انبیاء علیہم السلام آدم ؑ سے عیسیٰ ؑ تک سب زندہ بحیات ظاہری جسمانی کے ہوتے سب نبی کریم ﷺ کی شریعت پر عمل کرتے۔ اپنے شرائع پر بعد از نزول قرآن عمل ہرگز نہ کرتے۔ اس پر بہت سے احادیث دال ہیں عن جابرؓ عن النبی ﷺ حین اتاہ عمرؓ فقال انا نسمع احادیث من یهود يعجبنا افترى ان نكتب بعضها فقال امتهوكون انتم كما تهوكت اليهود و النصارى لقد جئتكم بها بيضاء نقية ولو كان موسى حيا ما وسعه الا اتباعی (البیہقی فی شعب الایمان ج ۱ ص ۲۰۰ حدیث نمبر ۱۷۶ باب فی الایمان بالقرآن وسائر الکتب) ”یعنی حضرت جابرؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں جبکہ نبی ﷺ کے پاس عمرؓ آئے اور عرض کی کہ ہم یہود سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہم کو اچھی اور عجیب معلوم ہوتی ہیں۔ کیا آپ ﷺ کی رائے ہے کہ ان کو لکھ لیا کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اپنے دین میں حیرانی و تردد ہے۔ اللہ کی قسم تحقیق تمھارے واسطے شریعت روشن سفید و صاف لایا ہوا ہوں اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو وہ بھی میری شریعت کی تابعداری کرتے۔“ اسی مضمون کی دوسری حدیث مشکوٰۃ شریف ص ۳۰ باب الاعتصام بالكتاب والسنة میں دارمی سے نقل شدہ صفحہ ۳۲ مطبوعہ مجتبائی میں مذکور ہے ثبوت عزل باعتبار تبلیغ احکام کا حال ظاہر ہے۔ اگر نبوت سے مراد قرب و قبولیت کا درجہ ہو جس کی وجہ سے تبلیغ احکام ظاہری پر مامور کر دیا گیا تھا وہ قرب ازلی ابدی ہے وہ قائل نسخ کے ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ اس وجہ سے تبلیغ سے پہلے انبیاء علیہم السلام معصوم اور قرب الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں۔ یہ قرب جسم عنصری سے پہلے تھا اس کے ثبوت کے لیے کئی ہزار احادیث موجود ہیں۔ اس سوال کا جواب اظہر من الشمس ہے۔ دراصل سوال وارد ہی نہیں ہوتا۔ محض لاعلمی کی وجہ سے غیر وارد کو وارد قرار دیا گیا ہے۔ نعوذ بالله من ذلك۔ شاید سائل نے عوام الناس کے عزل پر انبیاء علیہم السلام کو قیاس کیا ہے۔ یہ قیاس مع الفارق قابل توجہ ہرگز نہیں ہے۔ مولانا رومؒ نے فرمایا ہے۔ کار پاکاں را قیاس از خود مگیر ۔ گرچہ ماند در نوشتن شیر و شیر۔ عوام الناس کے لیے کفر و اسلام دونوں عارض ہوا کرتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام عصیان سے پاک ہیں۔ اس کی تفصیل کتب عقائد میں بالتفصیل مذکور ہے۔ من شاء فلیرجع الیها۔
مرزائی نمبر ۴..... نبی ﷺ نے اگر شریعت کی تکمیل کر دی ہے۔ پھر عیسیٰ ؑ کے نزول کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تکمیل نہیں کی تو نبی ﷺ مکمل نہ ہوئے۔
حنفی نمبر ۴..... نزول عیسیٰ اس وجہ سے ہوگا کہ نبی ﷺ جمیع انبیاء کے سردار و سرتاج ہیں۔ زمانہ عیسیٰ کا نبی ﷺ کے قریب تھا ایسے معظم کا ساتھ ایسے سردار کے لائق تھا اس غرض سے آپ کو اٹھا لیا گیا پھر اخیر زمانہ میں نزول ہو کر علی الدوام مرافقت، مصاحبت حاصل ہوگی۔ عیسیٰ اتر کر شادی کریں گے اولاد پیدا ہوگی پھر فوت ہوں
گے روضہ مطہرہ میں قرب علی الدوام حاصل ہوگا۔ حدیث شریف میں ہے ینزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا و اربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا و عيسى ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر (مشکوٰۃ المصابيح ص ۴۸۰ باب نزول عيسى علیہ السلام) یعنی عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے زمین کی طرف پھر نکاح کریں گے ان کی اولاد پیدا ہوگی پینتالیس برس ٹھہر کر پھر فوت ہوں گے۔ میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔ ہم اور وہ ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ایک طرف حضرت ابی بکر صدیقؓ اور دوسری طرف حضرت عمرؓ ہوں گے۔ اس جگہ ایسی یکجائی ہے اس کو محبت قربت کہتے ہیں۔ دین اسلام کامل ہو چکا ہے اوامر ونواہی ہرگز نہیں بدلیں گے۔ احکام کی تبدیلی کمی وبیشی باعتبار تکمیل وتنقیص کے ہوا کرتی ہے یہ بات ہرگز نہ ہوگی۔ اس رفع ونزول کا بعض بیان ضروری آئندہ جوابات میں آجائے گا۔
مرزائی نمبر ۵...... جب عیسیٰ دین عیسوی کا کوئی کام نہ کریں گے بلکہ مجدد دین محمدی ہوں گے۔ پس دیگر اشخاص کو کیوں مجدد نہ کہا جائے الخ۔
حنفی نمبر ۵...... ہر صدی میں ضرور مجدد ہوا کرتا ہے لیکن وہ دین اسلام کا مخالف نہیں ہوا کرتا بلکہ اس کا کام تجدید سنت ہوتا ہے۔ احکام متروکہ کو قرون سالفہ کے مطابق کر دیا کرتا ہے اس کا کام نئی نماز، نئے احکام، نیا کلمہ پڑھنا نہیں ہوتا۔ ابوداؤد میں ہے۔ عنه فيما اعلم عن رسول اللهﷺ قال ان الله عزوجل يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (رواه ابو داؤد ج ۲ ص ۱۳۲ کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قدر المائۃ) ای یبین السنة عن البدعة و يكثر العلم ويعز اهله و يقمع البدعة و يكسر اهلها هكذا فى المرقات۔ مجدد کا کام علم دین کو زیادہ کر دینا اور اہل علم کی عزت کرنا بدعت کو مٹا دینا ہوتا ہے اس کا کام دین اسلام کے مخالف دین قائم کرنا نہیں ہوتا۔ یہ مرزا قادیانی جس کو کنایۃً ضمن سوال میں مجدد مانا گیا ہے وہ شریعت اسلام سے بالکل مخالف ومنحرف تھا۔ نبوت کا مدعی، نئے احکام دین، اسلام کے مخالف قائم کرتا رہا۔ وہ مجدد ہرگز نہیں ہو سکتا بلکہ مفسد دین تھا اس کا لقب مفسد المائۃ الحاضرہ ہونا مناسب ہے۔
مرزائی نمبر ۶...... نبی ﷺ کی قوت قدسی نے بڑے بڑے اشخاص پیدا کیے ہیں جن کی وجہ سے اسلام کا اتنا عروج ہوا ہے کیا ایسے شخص نہیں پیدا کر سکتے جو عیسیٰ کی طرح کام کریں۔
حنفی نمبر ۶...... اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو خالق کہنا کفر اور شرک ہے۔ اس سوال میں نبی ﷺ کی قوت قدسیہ کو خالق مان لیا گیا ہے۔ یہ سارا ثمرہ لاعلمی اور جہالت کا ہے ایسے عقائد سے توبہ کر کے طریقہ اہل سنت و جماعت پکڑنا چاہیے ورنہ ایسے صریح کفر کا ارتکاب ہوتا رہا کرے گا۔ جمیع اعیان واعراض کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اس پر قرآن شریف وحدیث دال ہے زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔
مرزائی نمبر ۷...... خیر الامۃ کی یہ ہتک صریحاً نہیں کہ وہ ایک کام نہ کر سکے اس کام کے واسطے دوسرا نبی بلایا جائے۔
حنفی نمبر ۷...... امر بالعکس ہے یہ محض موجب اعزاز امت ہے کہ ایک بڑا ذوالفضل رسول اکرم سرور عالم کی شریعت کی پیروی کرے اور بڑی محبت سے ان کے اطہر گنبد مبارک میں مقبرہ مطہرہ میں دفن ہو جائیں۔ یہ سبب فرحت وسرور کا ہے۔ ہتک کا اس میں کچھ شائبہ ورائحہ نہیں ہے موجب عزت وفخر کو سبب ذلت سمجھنا کم فہمی و کج عقلی ہے۔ اللهم سلمنا من موجبات التلهف والتأسف.
مرزائی نمبر ۸...... کیا عقیدہ ختم نبوت کے بالمقابل جو محکمات قرآنی و حدیثی پر مبنی ہے ضروری نہیں کہ ایک پیش گوئی کی جو مشابہات سے تاویل کی جائے۔
حنفی نمبر ۸....... متشابہ نہایت مخفی کو کہتے ہیں۔ مخفی کے چار اقسام میں سے زیادہ مخفی یہی ہوتا ہے کیونکہ باقی مخفیات کی توضیح تامل سے یا جانب متکلم سے ہو جایا کرتی ہے اور متشابہ میں توضیح کی کسی قسم کی امید نہیں ہوتی اور محکم ظواہر میں اجلی ہے اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہوتا وہ قابل نسخ کے ہرگز نہیں ہوتا۔ تاویل مشترک میں جاری ہوتی ہے۔ مشترک سے ایک معنی باعتبار غالب الرائی کے لینے کو مؤول و تاویل کہتے ہیں نہ متشابہ میں تاویل ہو سکتی ہے اور نہ محکم کو مؤول کر سکتے ہیں ہر ایک اپنے محل میں ثابت رہے گا۔ سائل کو سوال کا طریقہ نہیں آتا ورنہ یہ خبط عشواء کیوں کرتا۔
مرزائی نمبر ۹...... عیسیٰ کو قبل از بعثت رسول اللہ ﷺ کتاب و حکمت سکھائی پس نبی ﷺ ان کے معلم و مزکی نہ ہوئے۔
حنفی نمبر ۹....... بظاہر جمیع انبیاء کی رسالت و بعثت باعتبار اجسام عنصری کے نبی ﷺ سے مقدم واقع ہے اس مسئلہ کو عیسیٰ کے ساتھ خاص کرنا لغو ہے۔ آپ ﷺ کو جو معلم و مزکی جمیع انبیاء و مرسلین تسلیم کیا گیا ہے وہ باعتبار عالم ارواح کے ہے۔ بجسم عنصری آپ ﷺ سب سے موخر ہیں تبلیغ آپ ﷺ کی جو جمیع انبیاء سے مقدم ثابت ہے وہ باعتبار ارواح کے ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ہے انی عند اللہ فی ام الکتاب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ (کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۴۹ حدیث ۳۲۱۱۴) و فی روایۃ بین الروح والجسد (کنز العمال ج ۱۱ ص ۴۰۹ حدیث ۳۱۹۱۷) لانہ خلق روحہ المطھر ﷺ قبل الموجودات ثم بعث الی ارواح المکلفین بعد خلقھا فبلغ الیھم الحقیقۃ الاحدیۃ فامن بہ من ھو اھلہ ثم ظھر لھم الایمان بعد خلق ابدالھم وفیہ اشارۃ الی ان سائر الانبیاء علیھم السلام لم یکونوا انبیاء قبل ابدانھم العنصریۃ ”نبی ﷺ نے فرمایا ہے اس سے پہلے میں نبی تھا اور آدم پانی کیچڑ میں تھا یا روح اور جسد میں تھا یہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ کا روح پاک جمیع کائنات سے پہلے پیدا کیا گیا پھر مکلفین کے ارواح کی طرف مبعوث ہوئے جس وقت کہ کل ارواح پیدا کیے گئے۔ جمیع ارواح کو توحید اور ایمان کی تبلیغ کی پھر جو لائق ایمان تھا وہ ایمان لایا پھر خلق ابدان کے بعد وہ عالم ارواح والا ایمان ظاہر ہوا جو اس وقت ایمان لایا تھا وہ یہاں بھی مشرف بالایمان ہوا جو وہاں محروم رہا یہاں بھی محروم رہے گا۔ اس روایت سے ثابت ہوا کہ نبی ﷺ جمیع ارواح کے معلم و مزکی ہیں یہ تزکیہ وغیرہ عالم ارواح میں تھا۔ بجسم عنصری اگرچہ سب سے موخر ہیں لیکن فیض و تبلیغ آپ ﷺ کی قبل از جسم عنصری و بعدہ یکساں ہے جمیع انبیاء علیھم السلام آپ ﷺ کی امت ہیں کیونکہ مبلغ من جانب اللہ کو نبی کہتے ہیں اور مبلغ الیہ کو امت کہتے ہیں۔ قصیدہ بردہ شعر نمبر ۵۱ تا ۵۳ میں ہے۔ و کل ای اتی الرسل الکرام بھا، فانما اتصلت من نورہ بھم، فانہ شمس فضل ھم کواکبھا، یظھرن انوارھا للناس فی الظلم، فمبلغ العلم فیہ انہ بشر، وانہ خیر خلق اللہ کلھم ”جو آیات انبیاء علیہم السلام لائے ہیں وہ سب نبی ﷺ کے نور سے ان کو ملا ہے۔ نبی کریم ﷺ آفتاب فضیلت ہیں دیگر انبیاء فضل کے ستارے ہیں اپنا نور لوگوں کو تاریکی میں ظاہر کرتے ہیں۔ دسترس علم نبی ﷺ کی شان میں اتنا ہو سکتا ہے کہ آپ بشر ہیں اور جمیع کائنات سے بہتر ہیں۔“ اس عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ جو کچھ انبیاء علیہم السلام کو پہنچا ہے وہ نبی ﷺ کے نور سے پہنچا ہے۔
مرزائی نمبر ۱۰...... مولوی ظفر علی خاں نے مجدد والی حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب و حضرت مجدد الف ثانی نے بذریعہ الہام مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا اب اس وقت مجدد کون ہے۔
حنفی نمبر ۱۰...... اس زمانہ میں مجدد وہ شخص ہے جو شریعت محمدی کا نہایت متبع ہو احکام شریعت غرا کو کماحقہ جاری کرتا ہو۔ شریعت سے پوری طرح واقف ہو، مجدد ہونے کا دعویٰ کرنا مجدد کے ذمہ ضروری نہیں ہے اور نہ یہ شرط کہیں لکھی ہے البتہ جو سراسر اسلام کا مخالف ہو اس کو مفسد دین ضرور کہا جائے گا۔ یہ لقب مذمومہ اس کا بداہۃً اس کے ذمہ لازم ہے۔ اس فساد کی وجہ سے مستوجب لعن فی الدنیا ہوگا اور آخرت میں عذاب سرمدی اس کے لیے ثابت ہوگا۔ نعوذ باللہ من ذلک۔
مرزائی نمبر ۱۱...... کیا مولوی ثناء اللہ صاحب اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے یا مولوی چکڑالوی کی طرح انھیں زمین پر متوفی مانتے ہیں اور رفع کے معنی مع الجسم آسمان پر جانا غلط مانتے ہیں۔
حنفی نمبر ۱۱...... رفع سے مراد رفع بالجسد ہے اللہ تعالیٰ نے مع الجسم العنصری آسمان پر مسیح علیہ السلام کو اٹھا لیا ہے فقط رفع بالروح یا متوفی ہونا مخالف کتاب اللہ و سنت و اجماع امت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا خطاب عیسیٰ مجسم کو تھا ان کو فرمایا (و رافعک الی) بیضاوی نے لکھا ہے الی محل کرامتی و مقر ملائکتی اس عبارت میں لفظ محل و مقر کا مذکور ہے جو غالباً اجسام کے لیے ہوتا ہے ورنہ یہ حکم جمیع انبیاء علیہم السلام پر بلا ریب ثابت ہے پس تخصیص و ذکر مذکور کا کیا فائدہ ہوا؟ اصل خبر میں افادہ ہے مخاطب کو وہ خبر سنائی جائے جس سے اس کو نیا علم حاصل ہو جائے اس موقع میں وہ رفع بالجسد العنصری تھا ورنہ مطلق رفع بالروح جمیع صالحین کو حاصل ہے اس کی تخصیص بلا فائدہ ہو جائے گی۔ علت اس رفع بالجسد کی یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش آدم علیہ السلام کی طرح بلا واسطہ اب کے تھی قدرت رب اور محض حکم ایزدی سے مخلوق ہوئے دونوں اس خلقت میں مشترک تھے پس قدرت کاملہ نے رفع میں بھی آدم علیہ السلام کے ساتھ شریک کر دیے جیسے کہ آدم علیہ السلام مدت دراز تک عالم علوی میں رہے اسی طرح رب العباد نے عیسیٰ علیہ السلام کو ملا الاعلیٰ میں جگہ دے کر آدم علیہ السلام کے ساتھ شراکت کاملہ ثابت کر دی علاوہ بریں بعد از نزول فخر عالم ﷺ کے قرب کا فخر حاصل کریں گے اس رفع عنصری سے متقدمین نے انکار ہرگز نہیں کیا۔ یہ مسئلہ قرون ماضیہ سے مسلمہ ہے۔ احادیث شریف اس پر دال ہیں اتفاق اہل اسلام کا خیرالقرون سے اس وقت تک اس کے لیے کافی دلیل ہے۔ اہل قرون ماضیہ آثار و احوال سے بخوبی واقف تھے انھوں نے جب انکار نہیں کیا دیگر اہل اسلام اگر مدعی اسلام ہیں ان کو بخوبی اسلاف کی تقلید کر کے رفع بالجسد پر ایمان لانا چاہیے۔ اس مسئلہ میں باقی گنجائش نہیں ہے۔
مرزائی نمبر ۱۲...... مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے صلب کے معنی صرف لکڑی پر چڑھا دینا اور لٹکا دینا کیا ہے اور یہ لغت کے برخلاف ہے۔
حنفی نمبر ۱۲...... کنز الدقائق عینی وغیرہ میں قطاع طریق کے باب میں صلب کی تفصیل موجود ہے۔ کلام میں معنی اصطلاحی و عرفی کا اعتبار ہوا کرتا ہے۔ خواہ لغت کے مخالف ہو یا موافق۔ لغت کا اعتبار نہیں ہوا کرتا۔ دیکھو صلوٰۃ کا معنی لغوی دعا ہے۔ شرعی و عرفی ارکان مخصوصہ ہے۔ اب اگر کوئی شخص للہ علی ان اصلی کہہ کر نذر مانے اس پر صلوٰۃ بارکان مخصوصہ لازم آئے گی دعا کرنے سے اس کی نذر پوری نہ ہوگی کیونکہ معنی لغوی متروک ہے۔
متروک عرفا متروک راساً ہوتا ہے۔ عرف میں صلب پھانسی کی شکل مارنا ہے یا مار کر پھانسی کی طرح مردہ کو لٹکانا ہے چنانچہ فقہا کثرہم اللہ لکھتے ہیں کہ قطاع طریق نے اگر راہزنی میں کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو پھانسی کیا جائے گا یا پہلے قتل کر کے پھر سولی چڑھایا جائے گا۔ ایسے مسائل میں عرف و اصطلاح معتبر ہے خواہ لغت کے سراسر مخالف ہو۔
مرزائی نمبر ۱۳...... اگر رفع کے معنی رفع بالجسم ہے تو اللہ تعالیٰ کا نام جو الرافع ہے اس کا معنی یہ ہے کہ مومنوں کو مع الاجسام اٹھانے والا ہے یا روحانی قرب عطا کرتا ہے اللھم ارفعنی کے معنی کیا ہوں گے۔
حنفی نمبر ۱۳...... لفظ رفع اجسام میں بھی مستعمل ہوتا ہے۔ اعراض میں بھی مستعمل ہے۔ مجردات میں بھی بولا جاتا ہے۔ مادیات میں بھی بولا جاتا ہے۔ یہ اطلاق بطور اشتراک کے ہے یا حقیقت اور مجاز کے ہے۔ عرب محاورات میں بوقت استماء کے کہا کرتے ہیں ھذا علی راسی ارفعہ علی راسی خواہ کلام و حکم ہو یا کوئی چیز ہو رفعت راسی رفعت عینی رفعت رجلی رفعت یدی یہ سب صورتیں رفع اعیان و جواہر کی ہیں رفع عنی الحمی رفع عنی الوجع ان صورتوں میں لفظ رفع کا اعراض میں مستعمل ہے۔ محل و موقع کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر موقع رفع اعیان و جواہر ہو وہاں رفع جوہر لیا جائے گا اگر محل رفع عرض کا ہو وہاں رفع عرض ثابت ہوگا لفظ ضرب و لفظ عین کے باعتبار استعمال کے بہت سے معانی ہیں جس معنی کا محل و موقع ہوتا ہے وہی معتبر ہوا کرتا ہے اس میں لغت کا کوئی اعتبار نہیں ہے دعا میں لفظ رفع سے رتبی و عرضی مراد ہے۔ آیت قرآنی میں رفع جسمی مراد ہے۔ اس کو نبی ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا (مشکوٰۃ ص ۳۸۸ باب نزول عیسیٰ ؑ) نزول بدون رفع کے نہیں ہوتا رفع بجسدہ المطہر ہو چکا ہے نزول موعود کا انتظار ہے وہ ضرور ہوگا۔ اس کا جمیع اہلسنت و جماعت کو اعتقاد ہے کیونکہ خبر آحاد پر عمل واجب ہوتا ہے۔ خصوصاً ایسی خبر پر کہ جس سے اہل خیر القرون نے انکار نہ کیا ہو، ایسی خبر واجب العمل ہوتی ہے اس سے اہل اسلام ہرگز انکار نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک جو الرافع ہے اس کے معنی مناسب شان ایزد تعالیٰ کے لیے جائیں گے رفع اجسام کی تعیین بیکار ہے رافع اہل حق کا ہے اہل حق کی دلیل اہل باطل پر بالا کرتا ہے سچ کا بول بالا ہوتا ہے اسی طرح جو معنی مطابق عرف و مناسب محل کے ہو اس کا لینا درست ہے۔
مرزائی نمبر ۱۴ تا ۱۸...... توفاہ کے معنی تاج العروس ولسان العرب میں قبض نفسہ لکھا ہے۔ کبھی زبان عرب میں توفی یا وفات جسم کو لے جانے میں مستعمل ہوا ہے حضرت ابن عباسؓ نے متوفیک کا معنی ممیتک فرمایا ہے امام مالک عیسیٰ کو میت اس آیت سے لیتا ہے یا نہیں۔ کیا لما توفیتنی سے یہ ثابت ہے یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے بعد عیسائیوں کا عقیدہ بگڑ گیا تھا۔ الخ
حنفی نمبر ۱۴ تا ۱۸...... توفی اور وفات کے عرفا دو معنی مستعمل ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کسی چیز کو کامل لینا۔ دوسرا معنی مارنا ہے حسب مناسب محل معنی مناسب لیا جاتا ہے۔ قاضی بیضاوی نے یاعیسی انی متوفیک کی تفسیر میں لکھا ہے ای مستوفی اجلک و موخرک الی اجلک المسمی عاصما ایاک عن قتلھم الخ ”یعنی تیری اجل مقررہ کو پورا کرنے والا ہوں تیری مقررہ عمر تک تجھ کو موخر کرنے والا ہوں تجھ کو یہود کے قتل کرنے سے بچانے والا ہوں ۔“ پھر اسی آیت شریف کے ذیل بیضاوی میں تحریر فرماتے ہیں (اوقابضک من الارض من توفیت مالی او متوفیک نائما اذ روی انہ رفع نائما) ”یا مراد آیت شریف کی یہ ہے تم کو زمین پر سے اٹھانے والا ہوں۔ عرب کہتے ہیں توفیت مالی میں نے اپنا مال پورا وصول کر لیا ہے۔ یا مراد یہ ہے کہ تم کو
در حالت نوم اٹھانے والا ہوں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام سوتے ہوئے اٹھائے گئے (او ممیتک عن الشہوات العائقة عن العروج الی عالم الملکوت) بیضاوی میں ہے۔ ”خواہشات جو کہ عروج سے مانع ہیں ان خواہشات سے تم میں متوفیک کو مارنے والا ہوں یعنی تیری شہوات مٹانے والا ہوں تاکہ عالم ملکوت کو عروج کرنے میں مانع نہ ہوں۔“ اب محل عقیدہ جمہو کے مناسب معنی ارادہ کیا جائے گا ایسے الفاظ کا یہی حکم ہے علمیت و قابلیت مفسر بیضاوی کی مخفی نہیں ہے۔ ہر علم میں حظ عظیم کے مالک ہیں۔ ایسے بزرگ علماء رفع کے قائل ہیں اور جن کو عربی کے ساتھ مس ہی نہیں وہ ان کی کیونکر مخالفت کر کے نیا دین نیا مذہب مرتب کرتے ہیں اگر سائل کو کچھ ربط کتب عربی سے ہوتا تو ہرگز لغات پر مذہب کی بنا نہ رکھتا بلکہ علماء کے اقوال کو مدنظر رکھتا۔ کلام میں کبھی معنی حقیقی مراد ہوتی ہے اور کبھی معنی مجازی ملحوظ ہوتا ہے اب لغت میں معنی مجازی کہاں مذکور ہے۔ دلالت حال، دلالت محل وغیرہ سے معنی حقیقی چھوڑ کر معنی مجازی لی جاتی ہے۔ دین و مذہب کو لغت پر بنا کرنا فضول و بیکار ہے۔ قرآن شریف میں نازل ہے (ثم توفی کل نفس ما کسبت و علی ال وهم لا یظلمون) مدارک نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے (تعطی اجرها وافیا) ”ہر نفس کو اس کے عمل کی جزاء پوری المدرس ا دی جائے گی۔“ یہاں وفات کے معنی بغیر محض جاہل کے کون کر سکتا ہے۔ اگر بناء عرف پر نہ ہو تو یہاں کیا کیا جائے گا۔ خطائے بزرگان گرفتن خطاست۔ جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو وفات مانتے ہیں وہ مصلوب بھی مانتے ہیں۔ ان کی تردید میں خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے (وقولهم انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولکن شبه لهم) یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا ہے اور نہ پھانسی چڑھایا ہے۔ بلکہ غیر آدمی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ کر دیا تو یہود اشتباہ میں پڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته) سب اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے مدارک شریف میں ہے (انه ینزل من السماء فی اخر الزمان فلا یبقی احد من اهل الکتب الا لیؤمنن به حتی تکون الملة واحدة وهی ملة الاسلام) ”عیسیٰ اخیر زمان میں نازل ہوں گے جمیع اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے تاکہ ایک ہی دین اسلام ہو جائے۔“ اس رفع الی السماء اور نزول پر بڑے بڑے علماء فحول کا عقیدہ ہے۔ ان کو محمدی ﷺ لغات بہت اچھی معلوم تھی انھوں نے دین لغت پر مبنی نہیں کیا (وما قتلوه یقینا بل رفعه الله الیه) یہود کو عیسیٰ کے لینزلن ابن قتل ہو جانے کا یقین نہ ہوا، کہا کرتے تھے (ان کان هذا عیسی فاین صاحبنا وان کان هذا صاحبنا فاین عیسیٰ) اگر یہ عیسیٰ ہے تو ہمارا آدمی کہاں ہے اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو عیسیٰ کہاں ہے۔ اسی اشتباہ میں قرآن آخر حدیث شریف کے نزول تک پڑے رہے اس کی تفصیل تفسیر خازن و تفسیر مدارک میں مذکور ہے بوجہ خوف طوالت کے ترک اور آیات کر دی ہے اور یہ قصہ عام مشہور ہے مدارک شریف میں (یا عیسی انی متوفیک) کی تفسیر میں لکھا ہے (ای مستوفی اجلک و معناه انی عاصمک من ان تقتلک الکفار و ممیتک حتف انفک لا قتلا حق سے خ بایدیهم) اس سے بھی ثابت ہوا کہ آپ کو کفار نے ہرگز قتل نہیں کیا بلکہ خداوند تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا ہے۔ عیسیٰ ؑ اخیر زمان میں نزول فرمائیں گے۔ اللہ کی طرف سے حاکم مقرر ہوں گے اسلامی احکام جمیع الناس میں جاری کریں گے کسی کو طاقت انکار و انحراف کی نہ ہوگی۔ لفظ توفی کو جمیع صحابہ و تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دیکھا تھا وہ اہل لسان تھے وہ غرض اور سوق کلام کو اچھی طرح جاننے والے تھے۔ ان کا عقیدہ تو یہی تھا جو تحریر کر دیا گیا ہے۔ جس کو ظاہر نص مفسر محکم وغیرہ کی تمیز نہ ہو اس کو ایسے سوالات کرنا شرمندگی حاصل کرنا ہے علم نحو میں لکھتے ہیں کہ اسم فاعل بمعنی حال استقبال کے آیا کرتا ہے چنانچہ عمل اسم فاعل کو معنی حال و استقبال پر موقوف لکھتے ہیں۔ اس صورت
میں متوفیک زمان استقبال میں ثابت ہے زمان ماضی میں توفی نہیں ہوئی استقبال میں بلاریب ثابت ہے۔ یہی عقیدہ جمہور اہلسنت جماعت کا ہے جمہور کے مقابل قول شاذ کا اعتبار نہیں اور متروک سمجھا جاتا ہے تأمل و تدبر۔ واخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین و خاتم النبیین و علی الہ واصحابہ اجمعین. حررہ خادم الشرع المتین المفتی صاحبزادہ عبدالقادر عفی عنہ المدرس الاعلیٰ فی المدرسۃ الغوثیۃ العالیۃ فی مسجد سادھوان یکم الجمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ.
عقیدہ حق
ہے قیامت حق نہ کر اس میں کلام اور علامات قیامت بھی تمام
حق امام پاک مہدی کا ظہور حق ہے پھر دجال کا آنا ضرور
پھر نزول حضرت عیسیٰ ہے حق مارنا دجال کو ان کا ہے حق
ہے خروج دابہ حق بے خطا پھیلنا یاجوج اور ماجوج کا
حق ہے مغرب سے طلوع آفتاب حشر کرنا آگ کا حق ہے جناب
کانپنا پھٹنا زمین کا جان حق گرنا تاروں کا فلک کا ہونا شق
سب کا مرنا اور پھر اٹھنا قبر سے حق ہے نفخ صور دونوں بار اسے
حق ہے جنت حق ہے دوزخ حق حساب حق ہے جنت کا ثواب اس کا عذاب
حق ہے جوئے شہد و جوئے سلسبیل حق ہے جوئے شیر و عین زنجبیل
یعنی منجملہ علامات قیامت کے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آسمان سے زمین دنیا پر نزول کرنا اور دین محمدی ﷺ کے تابع ہونا حق ہے اور احادیث صحیحہ اس باب میں وارد ہیں جیسے کہ فرمایا حضرت ﷺ نے واللہ لینزلن ابن مریم حکما عدلا الخ یعنی قسم ہے اللہ برتر کی کہ البتہ اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے حاکم عادل ہو کر آخر حدیث تک پس جو شخص کہ دنیا میں اب پیدا ہو کر آپ عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے یا اپنے کو مثل مسیح قرار دے اور آیات و حدیث کی تحریف کرے کہ اترنے سے مراد پیدا ہونا ہے وکذا و کذا پس وہ شخص کاذب ہے اور دائرہ اہل حق سے خارج ہے اور اسی طرح پر دجال کذاب یک چشم جو خروج کرے گا اور دعویٰ خدائی کرے گا اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مارنا اور اس کے فتنہ و فساد و شر و شور سے زمین کو پاک کرنا حق ہے۔
انا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اسلام میں شاتم رسول کی سزا
مولانا مفتی انعام الحق
بسم الله الرحمن الرحيم
بعد تمام تعریفوں کے جو خدا جل شانہ کے لیے ہیں ائمہ کرام سے اس مسئلہ کے بارے میں فتویٰ حاصل کرنا ہے کہ جو شخص بلحاظ اسم مسلمان ہو اور خدا تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ پیغمبروں اور نبی آخرالزمان فخر موجودات اور محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی ہنسی اڑاتا ہو، ان کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہو جو ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا ہو اور کہتا ہو کہ یہ کوئی تاریخ نہیں فقط ناول ہے اور ایک دیوانے شخص کا خواب ہے جسے کہانی کا رنگ دیا گیا ہے تو ایسے شخص یعنی سلمان رشدی ملعون کے لیے علماء کرام کا کیا فتویٰ ہے؟
عام مسلمانوں کے لیے، علماء کرام کے لیے، حکام وقت اور حکومت وقت کے لیے از راہ کرم بتائیے ایسے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہے جو ایسے گستاخ کو قتل کرنا چاہتے ہوں جبکہ وہ ایک غیر اسلامی ملک (برطانیہ یا امریکہ) میں موجود ہو۔ کیا اس کے ملک کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم رکھے جا سکتے ہیں جبکہ وہ ملک اس ملعون کتاب کی اشاعت کی پشت پناہی بھی کر رہا ہو اور ایسے ملعون شخص کو اپنے ہاں پناہ بھی دے رکھی ہو۔
سائل۔ سعید احمد کراچی
الجواب ومنه الصدق والصواب
صورت مسئولہ میں جو آدمی (کافر ہو یا مسلم) سید الاولین والآخرین، شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین حضرت محمد ﷺ پر ہنسی اڑاتا ہے یا ان کی سیرت و زندگی کے کسی گوشے کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہے، یا ان کی توہین و تنقیص کرتا ہے یا ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے، یا ان کو گالی دیتا ہے، یا ان کی طرف بری باتوں کو منسوب کرتا ہے۔ یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اور امہات المومنین کو بازاری عورت اور طوائفوں کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور قرآن مجید کو ایک دیوانہ اور مجنون آدمی کا خواب بتاتا ہے یا ایک ناول اور کہانی سے تعبیر کرتا ہے تو وہ آدمی سراسر کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے۔ اگر ایسا آدمی کسی مسلمان ملک میں یہ حرکت کرتا ہے تو اس کو قتل کرنا مسلمانوں کی حکومت پر واجب ہے اور مشہور قول یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جو اس کے کفر میں شک کرتا ہے وہ بھی کافر ہے اور یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔
جیسا کہ شیخ الاسلام امام تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام الحرانی، الدمشقی المعروف بابن تیمیہ نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں نقل فرمایا کہ:
ان من سب النبی ﷺ من مسلم او کافر فانه یجب قتله ھذا مذھب علیه عامة اھل العلم
قال ابن المنذر: اجمع عوام اهل العلم على ان حد من سب النبى ﷺ القتل، وممن قاله مالک واللیث و احمد و اسحق و من مذهب الشافعی ...... عام اہل علم کا مذہب ہے کہ جو آدمی چاہے مسلمان ہو یا کافر نبی کریم ﷺ کو گالی دیتا ہے، اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ ابن منذر نے فرمایا کہ عام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی کریم ﷺ کو گالی دیتا ہے، اس کی حد قتل کرنا ہے اور اسی بات کو امام مالکؒ، امام لیثؒ، امام احمدؒ، امام اسحقؒ نے بھی اختیار فرمایا ہے اور امام شافعیؒ کا بھی یہی مذہب ہے......
وقد حکی ابوبکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی ﷺ القتل ...... اور ابوبکر فارسی نے اصحاب امام شافعیؒ سے مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی حد قتل ہے۔
وقال محمد بن سحنون، اجمع العلماء علی ان شاتم النبی ﷺ والمنتقص له کافر، والوعید جاء علیه بعذاب الله له وحکمه عندالامة القتل، ومن شک فی کفره وعذابه کفر. (الصارم المسلول المسئلة الاولیٰ ص۲/۳) محمد بن سحنون نے فرمایا کہ علماء کا اجماع ہے کہ شاتم رسول اور اس کی توہین و تنقیص شان کرنے والا کافر ہے اور حدیث میں اس کے لیے سخت سزا کی وعید آئی ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک اس کا شرعی حکم قتل ہے اور جو آدمی اس شخص کے کفر اور عذاب کے بارے میں شک و شبہ کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔
مندرجہ بالا عبارات سے یہ بات آفتاب نیم روز کی مانند واضح ہوگئی کہ باجماع امت نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا یا ان کی توہین وتنقیص کرنے والا کھلا کافر ہے اور اس کو قتل کرنا واجب ہے اور آخرت میں اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اور جو آدمی اس کے کافر ہونے اور عذاب دینے پر شک کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا کیونکہ اس نے ایک کافر کے کفر میں شبہ کیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ نے ابن سحنون سے مزید نقل کیا ہے کہ: ان الساب ان کان مسلماً فانه یکفر و یقتل بغیر خلاف وهو مذهب الائمة الاربعة و غیرهم. (الصارم المسلول ص ۴ المسئلة الاعلیٰ) اگر گالی دینے والا مسلمان ہے تو وہ کافر ہو جائے گا اور بلا اختلاف اس کو قتل کر دیا جائے گا اور یہ ائمہ اربعہ وغیرہ کا مذہب ہے۔
اور امام احمد حنبلؒ نے تصریح کی ہے کہ: قال حنبل: سمعت ابا عبدالله یقول کل من شتم النبی ﷺ اوتنقصه مسلماً کان او کافراً فعلیه القتل، وارى أن یقتل ولا یستتاب (الصارم المسلول ص ۴ ایضاً) ...... جو آدمی بھی خواہ مسلمان ہو یا کافر اگر رسول کریم ﷺ کو گالی دیتا ہے یا ان کی توہین وتنقیص کرتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو توبہ کرنے کے لیے مہلت نہیں دی جائے گی بلکہ فوراً ہی قتل کر دیا جائے گا۔
درمختار میں ہے: وفی الاشباه لا تصح ردة السکران الا الردة بسب النبی ﷺ فانه یقتل ولا یعفى عنه (حاشیه فتاویٰ شامی ص ۳۱۲ ج ۳ باب المرتد طبع رشیدیہ کوئٹہ) اشباہ میں ہے کہ مست آدمی کی ردّت کا اعتبار نہیں ہے البتہ اگر کوئی آدمی نبی کریم ﷺ کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہو جاتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس گناہ کو معاف نہیں کیا
جائے گا۔
امام احمدؒ اور اشباہ کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شاتم رسول کے جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
پھر یہ شخص جب مسلسل اس جرم کے ارتکاب میں قائم ہے اور اس پر مصر ہے تو اس کے واجب القتل ہونے اور اس کی توبہ قبول نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں۔
چنانچہ کتاب فقہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی ارتداد کی حالت پر بدستور برقرار رہتا ہے یا بار بار مرتد ہوتا رہتا ہے اس کو فوراً قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:
وعن ابن عمر و علی: لا تقبل توبة من تكررت ردته كالزنديق وهو قول مالک واحمد والليث وعن ابى يوسف لو فعل ذلك مراراً يقتل غيلة (فتاویٰ شامی ص ۳۱۳ ج ۳ باب المرتد) حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جو آدمی زندیق کی مانند بار بار مرتد ہوتا ہے اس کی توبہ مقبول نہیں ہے اور یہ امام مالکؒ، احمد اور لیث کا مذہب ہے امام ابو یوسفؒ سے مروی ہے کہ اگر کوئی آدمی مرتد ہونے کا جرم بار بار کرتا ہے اس کو حیلہ سے اس کی بے خبری میں قتل کر دیا جائے۔
اسی طرح درمختار میں ہے:
وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا جماعة من تكررت ردته على مامر والكافر بسب نبى من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا.
(حاشیہ فتاویٰ شامی ص ۳۱۷ ج ۳ باب المرتد)
ہر وہ مسلم جو (نعوذ باللہ) مرتد ہو جاتا ہے اس کی توبہ قبول ہوتی ہے، مگر وہ جماعت جن کا ارتداد مکرر (بار بار) ہوتا ہے۔ ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور جو آدمی انبیاء میں سے کسی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہو جائے اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
ان عبارات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سب رسول اور اس کی توہین اتنا بڑا جرم ہے کہ بالفرض اگر کوئی مست آدمی بھی نبی کریم ﷺ کو گالی دے گا یا آپ ﷺ کی توہین وتحقیر کرے گا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
اسی طرح امہات المومنینؓ کی شان میں گستاخی کرنے سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے اور گستاخی کرنے والے پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ امہات المومنینؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور وہ مباح الدم ہے۔
چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر گناہ کی تہمت لگانے والوں کے جرم کا ثبوت اور حضرت عائشہؓ کی پاکدامنی کا ثبوت تو قرآن میں مذکور ہے، فقہاء کرام نے بھی اس کی رو سے ایسے شخص کو مباح الدم کہا ہے جو حضرت عائشہؓ پر تہمت گناہ لگاتا ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:
نعم لا شک فى تكفير من قذف السيدة عائشة رضى الله عنها.
(فتاویٰ شامی ص ۳۲۱ ج ۳ باب المرتد)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والا شخص بلاشبہ کافر ہے۔ اور ملعون سلمان رشدی اپنی کتاب میں امہات المومنینؓ کی شان میں بھی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے
بالخصوص حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں، جیسا کہ (ہفت روزہ حریت جلد ۷۔ ۱۱ تا ۱۷ نومبر ۱۹۸۸ء شمارہ ۴۵) میں تفصیلی طور پر نقل کیا گیا ہے۔
اور یہ بات اہل دنیا کے سامنے ظاہر ہے کہ ملعون سلمان رشدی نے حالیہ ناول ”شیطانی آیات“ (Satanicverses) کے علاوہ ”مڈ نائٹ چلڈرن“ اور ”شیم“ میں بھی شان رسالت میں دریدہ دہنی اور ذہنی خباثت کی بدترین مثال پیش کی ہے، تفصیل کے لیے (انڈیا ٹوڈے، ستمبر ۱۹۸۸ء) کی اشاعت ملاحظہ کیا جائے۔
اور مزید اس کتاب کو متعدد ممالک سے شائع کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ تاکہ دنیا میں فساد پھیلایا جائے اور دین اسلام کو بدنام کیا جائے، تاریخ کو مسخ کیا جائے، ناپختہ اذہان کو اسلام سے برگشتہ کیا جائے اور مسلمانوں کے دل و جگر پر تیشے چلائے جائیں اور تلاش حق میں دامن اسلام کی طرف بڑھنے والے سادہ دل انسانوں کو اسلام اور مسلمانوں سے بدظن کیا جائے۔ لہٰذا یہ شخص اگر پہلے سے مسلمان تھا تو اب مرتد ہو گیا ہے اور اس ارتداد پر اصرار کرنے کی وجہ سے ملحد اور زندیق ہے جس کی توبہ کا کچھ اعتبار نہیں اور اس کی سزا قتل ہی ہے۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، تبلیغ دین اور اشاعت حق میں بالکل امین اور حق گو ہیں اور اس منصب کو بالکل صحیح صحیح طریقہ سے انجام دینے والے ہیں اور دین اسلام کی تکمیل فرمادی گئی ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی اور خامی نہیں ہوئی ہے اسی طرح قرآن مجید کو اللہ پاک کا کلام سمجھتے ہیں۔
قرآن کو غیر اللہ کا کلام کہنا سراسر کفر ہے اسی لیے جب کفار مکہ نے قرآن کے کلام انسانی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں یہ چیلنج دیا کہ اگر قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے اور غیر اللہ کا کلام ہے تو تم اور تمھارے سارے دوست احباب اکٹھے ہو کر قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ اگر تم سچے ہو۔ لیکن اب تک کوئی نہ بنا سکا نہ تا قیامت بنا سکے گا۔
لیکن شاتم رسول سلمان رشدی نے لفظ (Mahound) کی آڑ لے کر یہ تاثر دیا ہے کہ ”جناب سرور کائنات ﷺ میں فرشتے اور شیطان کی آواز میں تمیز کرنے کی اہلیت نہ تھی“ اور یوں کلام الٰہی کو جو حضرت جبرائیل کی وساطت سے نازل ہوا ہے، نعوذ باللہ شیطانی کلام ظاہر کرنے کی گستاخانہ مکروہ اور شیطانی جسارت کی ہے۔ ان عبارات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سلمان رشدی قرآن شریف کو اللہ کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور جو قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتا وہ بدترین کافر ہے اس قسم کے کافروں کو قتل کرنا واجب ہے جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔
اسی لیے تمام اسلامی حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ اگر کافر مرتد زندیق سلمان رشدی ان کی حکومت کے ماتحت ہے تو فوری طور پر قتل کر کے اسے جہنم رسید کریں۔ اگر ان کی حکومت میں نہیں لیکن سفارتی تعلقات کے ذریعہ اس پر دباؤ ڈالنا کسی بھی طریقہ سے ممکن ہے تو اس پر دباؤ ڈال کر اس کو قتل کر دینا ضروری ہے ورنہ ایک بدبخت شقی ازلی اور شاتم رسول کو پناہ دینے والے یا اس کی پشت پناہی کرنے والے ملک سے تعلق اور دوستی رکھنا جائز نہیں ہوگا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔
۱....... لا تجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کانوا آباء ہم او اخوانہم او عشیرتہم۔ (المجادلہ ۲۲) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا
اپنے گھرانے کے ہوں۔
- ۲...... ياايها الذين امنوا لا تتخذوا عدوى و عدوكم اولياء تلقون اليهم بالمودة. (ممتحنہ ۱) اے ایمان
والو تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو۔
اور اگر حکومت اس امر عظیم کو انجام دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ طاقت بشری کے مطابق کوشش کر کے اللہ کی زمین کو شاتم رسول سے پاک اور صاف کر دے کیونکہ یہ اظہار دین خداوندی کی تکمیل اور اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے، جب تک زمین سے شاتم رسول کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مکمل دین اللہ کے لیے نہیں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (انفال ۳۹) اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے اور دین اللہ تعالیٰ ہی کا ہونا چاہیے۔
اسی لیے صفحہ گیتی میں تاریخ کے اوراق شاہد ہیں جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کو گالی دیتا تھا اس کو قتل کر دیا جاتا تھا جیسا کہ کعب بن اشرف، یہودیہ عورت اور قبیلہ خطمہ کی عورت کو حضرت محمد ﷺ کو گالی دینے کی وجہ سے اور اسلام کی مخالفت میں سرگرم عمل رہنے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح کعب بن زہیر عہد نبوی کے ایک نامور شاعر تھے، ابتداء میں وہ اسلام کی مخالفت میں سرگرم رہے حتیٰ کہ ہادی اسلام ﷺ کی ہجو میں کچھ شعر تک کہہ دیے، معاندانہ کارروائیوں اور ہجو گوئی کی پاداش میں بارگاہ رسالت سے ان کے واجب القتل ہونے کا اعلان کر دیا گیا تھا جبکہ سلمان رشدی نے صرف سب وشتم پر بس نہیں کیا بلکہ اس نے اسلام اور نبی ﷺ امہات المومنین اور قرآن مجید کے بارے میں بھی ہر قسم کی گستاخی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
لہٰذا جو آدمی اس کو قتل کر سکے گا اس کو بہت زیادہ ثواب ملے گا تاکہ زمین اس کے فتنے سے محفوظ ہو جائے، اور پھر کسی کو اس جیسی دریدہ دہنی کی جسارت نہ ہو۔ جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:
وجميع الكبائر ...... يباح قتل الكل ويثاب قاتلهم.
(شامی ج ۳ ص ۱۹۷ مطلب يكون التعزير بالقتل مطبوعہ کوئٹہ)
اور ایسے تمام مرتکبین کبیرہ جن کے گناہوں کا ضرر دوسروں کی طرف متعدی ہوتا ہے ان کو قتل کرنا جائز ہے اور قاتل ثواب کا مستحق ہے۔ الجواب صحیح : محمد عبدالسلام عفا اللہ عنہ فقط واللہ اعلم۔ کتبہ محمد انعام الحق دارالافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی الجواب صواب الجواب صحیح محمد شفیق عارف ابوبکر سعید الرحمن
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
حرمت تدفین المرتدین فی مقابر المسلمین
مولانا سیف اللہ حقانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
تنبیہ یہ رسالہ اصل میں ایک سوال کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی قادیانی میت کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ایک ایسی صورت میں، جس میں کسی قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا گیا ہو، کیا اس کو نکالا جائے گا، یا بحالہ چھوڑا جائے گا؟
مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی میت کے دفنانے کا حکم
قادیانی کافر اور مرتد ہیں، کیونکہ قادیانی دعویٰ اسلام کے باوجود ضروریات اسلام سے انکار کر رہے ہیں اور اسی کو ارتداد کہا جاتا ہے۔ شرح تنویر میں ہے: ورکنها اجراء كلمة الكفر على اللسان بعد الايمان (ص ۳۱۰، ج ۳) اور کسی کافر اور مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔ وان کانت الغلبة للمشركين فانه لا يصلى على الكل ولكن يغسلون ويكفنون ولكن لا على وجه غسل موتى المسلمين و تكفينهم ويدفنون فی مقابر المشرکین (ہندیہ ص ۱۵۹، ج ۱ الفصل الثانی فی الغسل) بلکہ کفار اور مشرکین کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، مگر کافر کی تدفین مسلمان کی تدفین سے متغائر ہے۔ کافر کو بغیر مراعات سنت لحد کی زمین میں دفنایا جائے گا، اور مرتد کا تو کفار کے قبرستان میں بھی کفار کو دفن کرنے کے لیے دینا ممنوع ہے، بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتے کی طرح کسی گڑھے میں گاڑا جائے گا۔ علامہ ابن نجیم تحریر فرماتے ہیں: انما یغسل (ای الکافر) غسل الثوب النجس من غیر وضوء ولا بداءة بالمیامن الیٰ قولہ و یلف فی خرقۃ بلا اعتبار عدد ولا حنوط ولا کافور و يحفر له حفرة من غير مراعاة سنة اللحد. الی قوله اما المرتد فلا یغسل ولا یکفن وانما یلقی فی حفرة کالکلب ولا يدفع الی من انتقل الی دینهم. (البحر الرائق ص ۱۹۱ ج ۲ مطبوعہ ایم سعید کراچی) اور تنویر و شرح التنویر میں ہے...... (ویغسل المسلم...... و يكفن و يدفن قریبه) کخالہ (الکافر الاصلی) اما المرتد فیلقی فی حفرة کالکلب (عند الاحتیاج) فلو له قریب فالاولی ترکه لهم (من غير مراعاة السنه) فیغسله غسل الثوب النجس و یلفہ فی خرقۃ و يلقيه في حفرة وليس للكافر غسل قريبه المسلم. وفي ردالمحتار (قوله و يغسل المسلم) ای جواز الان من شروط وجوب الغسل كون الميت مسلما قال في البدائع حتي لا يجب غسل الكافر لان الغسل وجب کرامة و تعظيما للميت والكافر ليس من اهل ذالك (قوله اما المرتد فيلقى في حفرة) ای ولا يغسل ولا يكفن ولا يدفع الى من انتقل الى دينهم عن الفتح (ص ۲۵۷ ج ۱) لہٰذا کسی قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا شرعاً جائز نہیں ہے، اور اگر کسی جگہ میں مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں نے قادیانی کو
دفن کر دیا، تو چونکہ مسلمانوں کا قبرستان صرف مسلمانوں کے لیے ہی وقف ہوتا ہے کسی غیر کے لیے نہیں، لہٰذا اس صورت میں قادیانی غاصب متصور ہوں گے، تو اس طریقہ سے کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے جرم کے ساتھ جرم غصب بھی لازم آگیا۔
اور اس کے ساتھ ذمی کے میت کو اگرچہ اسلام نے محترم ٹھہرایا ہے۔ مگر کافر اور مرتد کو نہیں۔ (البحر الرائق ص ۱۹۱ ج ۲، تنویر، شرح التنویر، اور ردالمحتار ص ۶۵۷، ج ۱) اور درمختار میں ہے۔ عظم الذمی محترم اور ردالمحتار میں ہے (قوله عظم الذمی محترم) فلا يكسر اذا وجد في قبره لأنه كما حرم ايذاءه في حياته الى قوله واما اهل الحرب فان احتيج الى نبشهم فلا بأس به الخ (ص ۶۶۸ ج ۱ طبع رشیدیہ کوئٹہ) اور مرتد کالحربی ہے۔
چنانچہ جس طرح کہ حربی کے قتل سے قصاص واجب نہیں، اسی طرح مرتد کے قتل سے بھی واجب نہیں۔ ہندیہ میں ہے: ولا يقتل المسلم والذمی بحربی دخل دارنا بامان کذا فی التبیین: مسلم قتل مرتدا او مرتدة لا قصاص عليه.
(فتاویٰ ہندیہ ص ۳ ج ۶ الباب الثانی فیہ: لا یقتل قصاصاً الخ)
اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمانوں کے کسی چیز بالخصوص کسی موقوف چیز پر کسی کافر کا غاصبانہ قبضہ بشرط قدرت توڑ نہ ڈالے۔ رجل وقف ارضاً او دارا و دفعها الى رجل وولاه القيام بذالك فجحد المدفوع اليه فهو غاصب يخرج الارض من يده الى قوله ولو غصبها من الواقف او من واليها غاصب فعليه ان يردها الى الواقف فان ابى وثبت غصبه عند القاضی حبسه حتی رد.
(ہندیہ ص ۴۴۷ ج ۲ الباب التاسع فی غصب الوقف)
وفى الحديث المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه.
(مشکوٰۃ ص ۴۲۲ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق فصل اوّل)
لہٰذا جہاں مسلمانوں کے قبرستان میں کوئی قادیانی دفنایا گیا ہو، تو وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس قادیانی کی میت کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر کسی گڑھے میں دفن کر دیں، تاکہ ان جرائم کا ازالہ ہو جائے اور یہ صورت نبش حرام کی صورت نہ ہوگی کیونکہ غصب کی صورت میں مسلمان میت کا نبش بھی جائز ہے تو کافر اور مرتد کا بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔ ہندیہ میں ہے۔ المیت بعد ما دفن بمدة طويلة او قليلة لا يسع اخراجه من غير عذر و يجوز اخراجه بالعذر و العذر ان يظهر ان الأرض مغصوبة.
(فتاویٰ ہندیہ ص ۴۷۰، ج ۲ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر الخ)
اور اگر بالفرض یہ تدفین وہاں کے کسی مسلمان کی اجازت سے ہوئی ہو تو اس کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ حق کسی کو حاصل نہیں کہ جہۃ موقوف علیہا میں تغیر اور تبدل کر لیں۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ ردالمحتار میں رقمطراز ہیں ’’فان شرائط الوقف معتبرة اذا لم تخالف الشرع وهو مالك فله ان يجعل ماله حيث شاء مالم يكن معصية الخ (ص ۳۹۵ ج ۳ کتاب الوقف وفيه ايضا ص ۴۱۲ ج ۳ کتاب الوقف) شرط الواقف كنص الشارع اى فى المفهوم والدلالة ووجوب ...... العمل الخ‘‘ اور اسی طرح یہ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان کسی کافر کو مسلمانوں کے حق کے دبانے کی اجازت دینے کا مجاز نہیں ہے۔
یہ بھی ملحوظ ہو کہ مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی کو دفنانے کی وجہ سے قادیانی لوگ مسلمانوں کے وقف کے غاصب ٹھہر جاتے ہیں اور اس میں تصرف کر کے اپنی میت اس میں دفن کر دیتے ہیں اور اسی طرح ایسی صورت
میں ایسے وقف مغصوبہ کا استرداد ضروری ہے۔ لہٰذا اسی طرح صورت میں مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو، اپنے مغصوب وقف کا استرداد کر لیں۔
ہندیہ میں ہے۔ ولو غصبها من الواقف او من واليها غاصب الى قوله فان كان الغاصب زاد في الارض من عنده ان لم تكن الزيادة الى قوله فان القيم يسترد الارض من الغاصب بغير شئ.
(ص ۴۴۷ ج ۲ الباب التاسع في غصب الوقف)
تنبیہ اور جس طرح کہ ابتداً کافر اور مرتد کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں ممنوع ہے، اسی طرح بقاءً بھی ممنوع ہے۔ يدل على ذالك ما فى الهنديه نصه هذا مقبرة كانت للمشركين ارادوا ان يجعلوها مقبرة للمسلمين فان كانت آثارهم قد اندرست فلا بأس بذالك وان بقيت آثارهم بان بقى من عظامهم شئ ينبش ويقبر ثم يجعل مقبرة للمسلمين (ص ۴۶۹ ج ۲ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر فليتامل) اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ من رأی منكم منكرا فليغيره بيده (مسلم ص ۵۱ ج ۱ باب بيان كون النهی عن المنكر عن الايمان) اس لیے عامۃ المسلمین پر ہر ایسے منکر کا ازالہ ضروری ہے۔
سیف اللہ حقانی عفا اللہ عنہ
تصدیق از مفتی اعظم حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد فرید صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث وصدر دارالافتاء دارالعلوم الحقانیہ اکوڑہ خٹک ضلع نوشہرہ
یہ تحقیق باصواب ہے (اور مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی کی تدفین کی صورت میں) حکومت اور لواحقین اور مقامی بااثر اشخاص پر ضروری ہے کہ اس میت کو نکلوائیں یا نکالیں۔ (انتہی قولہ المبارک)
۞.......۞.......۞
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مرتد کی سزا اسلامی قانون میں
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
بسم الله الرحمن الرحیم
یہ مختصر مضمون ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا اور رسالہ ترجمان القرآن کے اکتوبر ۱۹۴۲ء سے جون ۱۹۴۳ء تک کے پرچوں میں شائع ہوا تھا چونکہ اس میں اسلامی قانون کے ایک بڑے معرکۃ الآراء مسئلہ پر بحث کی گئی ہے جو اکثر لوگوں کے دلوں میں کھٹک پیدا کرتا رہتا ہے، اس لیے اب اسے الگ رسالے کی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے۔ سوال حسب ذیل تھا:
”کیا اسلام نے مرتد کی سزا قتل قرار دی ہے؟ قرآن میں اس کا کیا ثبوت ملتا ہے؟ اگر قرآن سے یہ ثابت نہیں ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے تو احادیث وسنت سے کہاں تک اس کا ثبوت فراہم کیا جا رہا ہے۔ نیز حضرت ابوبکرؓ کے قتال مرتدین کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے؟ عقلی حیثیت سے قتل مرتدین کا جواز کس طرح ثابت کیا جا سکتا ہے؟“
کیا ایک صحیح اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں کو اپنے مذاہب کی
مسئلہ رہا ہے اور ہمارا پورا دینی لٹریچر شاہد ہے کہ قتل مرتد کے معاملے میں مسلمانوں کے درمیان کبھی دو رائیں نہیں پائی گئیں۔ نبی ﷺ، خلفائے راشدین، صحابہ کبار، تابعین، ائمہ مجتہدین اور ان کے بعد ہر صدی کے علماء شریعت کی تصریحات کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سب کو جمع کر کے دیکھ لیجئے آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ دورِ نبوت سے لے کر آج تک اس مسئلے میں ایک ہی حکم مسلسل و متواتر چلا آ رہا ہے اور کہیں اس شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی کہ شاید مرتد کی سزا قتل نہ ہو۔
ایسے ثابت شدہ مسائل کے متعلق جن لوگوں نے موجودہ زمانے کی روشن خیالی سے متاثر ہو کر اختلافی بحث کا دروازہ کھولا ان کی جسارت فی الواقع سخت حیرت انگیز ہے۔ انھوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر ایسے امور بھی مشکوک ہو جائیں جن کے لیے اس قدر تسلسل اور تواتر کے ساتھ شہادتیں پائی جاتی ہیں تو معاملہ ایک دو مسائل تک محدود کہاں رہتا ہے۔ اس کے بعد تو زمانہ گزشتہ کی کوئی چیز بھی جو ہم تک روایۃً پہنچی ہے شک سے محفوظ نہیں رہتی، خواہ وہ قرآن ہو یا نماز یا روزہ۔ بلکہ سرے سے یہی بات مشکوک ہو جاتی ہے کہ آیا محمد ﷺ کبھی دنیا میں مبعوث ہوئے بھی تھے یا نہیں۔ اس قسم کے شکوک پیدا کرنے کے بجائے درحقیقت ان لوگوں کے لیے زیادہ معقول طریقہ یہ تھا کہ جو کچھ واقعہ ہے اور مستند شہادتوں سے ثابت ہے اسے واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کر لیتے اور پھر غور اس امر پر کرتے کہ آیا ہم اس دین کا اتباع کریں یا نہ کریں جو مرتد کو موت کی سزا دیتا ہے۔ اپنے مذہب کی کسی ثابت و مسلم چیز کو اپنے عقلی معیاروں کے خلاف پا کر جو شخص یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ چیز سرے سے مذہب میں ہے ہی نہیں وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ”کافر نتوان شد ناچار مسلماں شو“ کی حالت میں مبتلا ہے۔ یعنی اس کا طریق فکر و نظر جس مذہب کے حقیقی راستے سے منحرف ہو چکا ہے، اس میں رہنے پر وہ صرف اس لیے اصرار کر رہا ہے کہ وہ مذہب اس نے باپ دادا سے پایا ہے۔
حکم قتل مرتد کا ثبوت قرآن سے
ذرائع معلومات کی کمی کی وجہ سے جن لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ ہے کہ شاید اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہ ہو اور بعد کے ”مولویوں“ نے یہ چیز اپنی طرف سے اس دین میں بڑھا دی ہو۔ ان کو اطمینان دلانے کے لیے میں یہاں مختصراً اس کا ثبوت پیش کرتا ہوں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَإِنْ تَابُوْا وَأَقَامُوا الصَّلوٰةَ وَآتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ ط وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَ O وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ لا إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O (التوبہ ۱۱، ۱۲) ”پھر اگر وہ (کفر سے) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں۔ ہم اپنے احکام ان لوگوں کے لیے واضح طور پر بیان کر رہے ہیں جو جاننے والے ہیں۔ لیکن اگر وہ عہد (یعنی قبول اسلام کا عہد) کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمھارے دین پر زبان طعن دراز کریں تو پھر کفر کے لیڈروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ وہ اس طرح باز آ جائیں۔“
یہ آیت سورۂ توبہ میں جس سلسلے میں نازل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ۹ھ میں حج کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اعلانِ برأت کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس اعلان کا مفاد یہ تھا کہ جو لوگ اب تک خدا اور اس کے رسول سے لڑتے رہے ہیں اور ہر طرح کی زیادتیاں اور بدعہدیوں سے خدا کے دین کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ان کو
اب زیادہ سے زیادہ چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس مدت میں وہ اپنے معاملے پر غور کر لیں۔ اسلام قبول کرنا ہو تو قبول کر لیں، معاف کر دیے جائیں گے۔ ملک چھوڑ کر نکلنا چاہیں تو نکل جائیں، مدت مقررہ کے اندر ان سے تعرض نہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو لوگ ایسے رہ جائیں گے جنھوں نے نہ اسلام قبول کیا ہو اور نہ ملک چھوڑا ہو ان کی خبر تلوار سے لی جائے گی۔ اس سلسلے میں فرمایا گیا کہ ”اگر وہ توبہ کر کے ادائے نماز و زکوٰۃ کے پابند ہو جائیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں، لیکن اگر اس کے بعد وہ پھر اپنا عہد توڑ دیں تو کفر کے لیڈروں سے جنگ کی جائے۔“ یہاں عہد شکنی سے مراد کسی طرح بھی سیاسی معاہدات کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ سیاق عبارت صریح طور پر اس کے معنی ”اقرار اسلام سے پھر جانا“ متعین کر دیتا ہے اور اس کے بعد فَقَاتِلُوْا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ تحریک ارتداد کے لیڈروں سے جنگ کی جائے۔
حکم قتل مرتد کا ثبوت حدیث سے
یہ تو ہے قرآن کا حکم ۔ اب حدیث کی طرف آئیے ۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
- (۱)...... من بدل دینہ فاقتلوہ. (بخاری ج ۱ ص ۴۲۳ باب لا یعذب بعذاب اللہ) ”جو شخص (یعنی مسلمان) اپنا دین بدل
دے اسے قتل کر دو۔“
یہ حدیث حضرت ابوبکر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور متعدد دوسرے صحابہ سے مروی ہے اور تمام معتبر کتب حدیث میں موجود ہے۔
- (۲)...... حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں:
قال رسول اللّٰہ ﷺ لا یحل دم امرء مسلم یشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ الا باحدیٰ ثلث: النفس بالنفس والثیب الزانی، والمفارق لدینہ التارک للجماعۃ. (بخاری کتاب الدیات ج ۲ ص ۱۰۱۲ باب قول اللّٰہ ان النفس بالنفس ومسلم کتاب القسامہ والمحاربین والقصاص و الدیات ج ۲ ص ۵۹ باب مایباح بہ دم المسلم، وابوداؤد کتاب الحدود باب الحکم فی من ارتد ج ۲ ص ۱۳۸) ”رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان ہو اور شہادت دیتا ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون تین جرائم کے سوا کسی صورت میں حلال نہیں: ایک یہ کہ اس نے کسی کی جان لی ہو اور قصاص کا مستحق ہو گیا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کرے، تیسرے یہ کہ اپنے دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے۔“
- (۳)...... حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔
ان رسول اللّٰہ ﷺ قال لا یحل دم امرء مسلم الا رجل زنی بعد احصانہ او کفر بعد اسلامہ او النفس بالنفس (باب ذکر مایحل بہ دم المسلم نسائی ج ۲ ص ۱۶۵) ”رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد ہے کسی مسلمان کا • خون حلال نہیں الا یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کی ہو، یا مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کیا ہو، یا کسی کی جان لی ہو۔“
- (۴)...... حضرت عثمانؓ کی روایت ہے۔
سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول لا یحل دم امرء مسلم الا باحدیٰ ثلث، رجل کفر بعد
اسلامه او زنى بعد احصانه او قتل نفسا بغير نفس.
(نسائی ج۲ ص۱۶۵ باب ایضا)
”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے بجز تین صورتوں کے۔ ایک یہ کہ کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا ہو۔ دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہونے کے بعد اس نے زنا کی ہو، تیسرے یہ کہ وہ قتل کا مرتکب ہو بغیر اس کے کہ اسے جان کے بدلے جان لینے کا حق حاصل ہوا ہو۔“
حضرت عثمانؓ ہی سے دوسری روایت ہے:
سمعت رسول الله ﷺ يقول لا يحل دم امرء مسلم الا باحدى ثلث رجل زنى بعد احصانه فعليه الرجم او قتل عمداً فعليه القود و ارتد بعد اسلامه فعليه القتل.
(نسائی ج۲ ص۱۶۸ باب الحکم فی المرتد)
”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین جرائم کی پاداش میں، ایک یہ کہ کسی نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو، اس کی سزا سنگساری ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی نے عمداً قتل کا ارتکاب کیا ہو، اس پر قصاص ہے۔ تیسرے یہ کہ کوئی اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو، اس کی سزا قتل ہے۔“
تاریخ کی تمام معتبر کتابوں سے ثابت ہے
کے گورنر کی حیثیت میں اور حضرت معاذ وائس رائے کی حیثیت میں تھے۔ اگر ان کا یہ فعل واقعی اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر مبنی نہ ہوتا تو یقیناً نبی ﷺ اس پر باز پرس فرماتے۔
(۶)...... حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے:
كان عبدالله بن سعد بن ابى سرح يكتب لرسول الله ﷺ فازله الشيطان فلحق بالكفار فامر به رسول الله ﷺ ان يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان ابن عفان فاجاره رسول الله. (ابوداؤد ج ۲
ص ۱۳۹ کتاب الحدود، باب الحكم فى من ارتد سنن بیہقی ج ۸ ص ۳۳۱ حدیث ۱۶۸۲۹ باب ما یحرم به الدم من الاسلام زندیقا)
”عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کسی زمانے میں رسول اللہ ﷺ کا کاتب (سیکرٹری) تھا۔ پھر شیطان نے اس کو پھسلا دیا اور کفار سے جا ملا جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے مگر بعد میں حضرت عثمانؓ نے اس کے لیے پناہ مانگی اور رسول اللہ نے اس کو پناہ دے دی۔“
اس آخری واقعہ کی تشریح حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت میں ہم کو یہ ملتی ہے:
لما كان يوم فتح مكة اختبا عبدالله ابن سعد بن ابى سرح عند عثمان بن عفان فجاء به حتى اوقفه على النبى ﷺ فقال يا رسول الله بايع عبدالله فرفع راسه فنظر اليه ثلثاً كل ذالك يابى فبايعه بعد ثلث ثم اقبل على اصحابه فقال اما فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حين رانى كففت يدى عن بيعته فيقتله فقالوا ما ندري يا رسول الله ما فى نفسك الا اومات الينا بعينك قال انه لا ينبغى لنبى ان تكون له خائنة الاعين. (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۹ ایضاً، سنن بیہقی ج ۸ حدیث ۱۶۸۷۹ باب من قال فی المرتد یستتاب)
”جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے عثمان بن عفانؓ کے دامن میں پناہ لی۔ عثمانؓ اس کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ کی بیعت قبول فرما لیجئے۔ حضور ﷺ نے سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا اور چپ رہے۔ تین دفعہ یہی ہوا اور آپ ﷺ اس کی طرف بس دیکھ دیکھ کر رہ جاتے تھے۔ آخر تین دفعہ کے بعد آپ ﷺ نے اس کو بیعت میں لے لیا۔ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تمھارے اندر کوئی ایسا بھلا آدمی موجود نہ تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں نے بیعت سے ہاتھ روک رکھا ہے تو آگے بڑھتا اور اس شخص کو قتل کر دیتا؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ ﷺ کیا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے آنکھ سے اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ آنکھوں کی چوری کرے۔“
(۷)...... حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:
ان أمراة ارتدت يوم احد فامر النبى ﷺ ان تستتاب فان تابت والا قتلت.
(دارقطنی ج ۳ ص ۱۱۸ کتاب الحدود والدیات)
جنگ اُحد کے موقع پر (جبکہ مسلمانوں کو شکست ہوئی) ایک عورت مرتد ہو گئی۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے توبہ کرائی جائے۔ اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دی جائے۔
(۸)...... حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے:
ان امراة يقال لها ام مروان ارتدت فامر النبى ﷺ بان يعرض عليها الاسلام فان رجعت والا قتلت. (دارقطنی ج ۳ ص ۱۱۸ کتاب الحدود وسنن بیہقی ج ۸ ص ۳۵۳ حدیث ۱۶۸۶۶ باب قتل من ارتد من الاسلام) ایک عورت ام مروان نامی مرتد ہو گئی تو نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے سامنے پھر اسلام پیش کیا جائے، پھر وہ توبہ کر
لے تو بہتر ورنہ قتل کر دی جائے۔
دارقطنی کی دوسری روایت اس سلسلے میں یہ ہے کہ فابت ان تسلم فقتلت.....
(دارقطنی ج ۳ ص ۱۱۹ کتاب الحدود)
”اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس بنا پر قتل کر دی گئی۔“
خلافت راشدہ کے نظائر
اس کے بعد دور خلافت راشدہ کے نظائر ملاحظہ ہوں۔
- (۱)...... حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں ایک عورت جس کا نام ام قرفہ تھا اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئی۔ حضرت
ابوبکرؓ نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ مگر اس نے توبہ نہ کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے اسے قتل کرا دیا۔
(دارقطنی ج ۳ ص ۱۱۴ حدیث نمبر ۱۱۰ کتاب الحدود والدیات سنن بیہقی ج ۸ ص ۳۵۴ حدیث ۱۶۸۷۲ باب قتل من ارتد عن الاسلام)
- (۲)...... عمرو بن عاصؓ حاکم مصر نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ ایک شخص اسلام لایا تھا، پھر کافر ہو گیا۔ پھر اسلام لایا پھر
کافر ہو گیا۔ یہ فعل وہ کئی مرتبہ کر چکا ہے۔ اب اس کا اسلام قبول کیا جائے یا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جب تک اللہ اس سے اسلام قبول کرتا ہے تم بھی کیے جاؤ۔ اس کے سامنے اسلام پیش کرو، مان لے تو چھوڑ دو ورنہ گردن مار دو۔
(کنز العمال ج ۱ ص ۳۱۲ حدیث ۱۴۶۷ الارتداد و احکامہ)
- (۳)...... سعد بن ابی وقاصؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ نے تستر کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ قاصد
نے حضرت عمرؓ کے سامنے حالات کی رپورٹ پیش کی۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کوئی اور غیر معمولی بات؟ اس نے عرض کیا ہاں اے امیر المومنین ہم نے ایک عرب کو پکڑا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا پھر آپ نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا ہم نے اسے قتل کر دیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا ”تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اسے ایک کمرے میں بند کر کے دروازہ کا تالا لگاتے پھر تین دن تک روزانہ ایک روٹی اس کے پاس پھینکتے رہتے۔ شاید کہ وہ اس دوران میں توبہ کر لیتا۔ خدایا یہ کام میرے حکم سے نہیں ہوا، نہ میرے سامنے ہوا نہ میں اسے سن کر راضی ہوا ۔“ لیکن حضرت عمرؓ نے اس پر حضرت سعدؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ سے کوئی باز پرس نہیں کی اور نہ کوئی سزا تجویز کی۔ (طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر موطا ص ۲۴۰ باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام نیز بیہقی ج ۸ ص ۳۵۹ حدیث ۱۶۸۸۷ باب من قال بحبسہ ثلاثۃ ایام و کتاب الام للشافعی)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سعدؓ اور ابو موسیٰؓ کا فعل تھا تو قانون کی حدود کے اندر، لیکن حضرت عمرؓ کی رائے میں قتل سے پہلے اس شخص کو توبہ کا موقع دینا زیادہ بہتر تھا۔
- (۴)...... حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کو اطلاع ملی کہ بنی حنیفہ کی ایک مسجد میں کچھ لوگ شہادت دے رہے ہیں کہ
مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہؓ نے پولیس بھیجی اور ان کو گرفتار کر کے بلا لیا۔ جب وہ لوگ ان کے سامنے پیش ہوئے تو سب نے توبہ کر لی اور اقرار کیا کہ ہم آئندہ ایسا نہ کریں گے۔ حضرت عبداللہؓ نے اوروں کو تو چھوڑ دیا مگر ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو موت کی سزا دی۔ لوگوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ نے ایک ہی مقدمہ میں دو مختلف فیصلے کیے۔ حضرت عبداللہؓ نے جواب دیا کہ یہ ابن النواحہ وہ شخص ہے جو مسیلمہ کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس سفیر بن کر آیا تھا۔ میں اس وقت حاضر تھا۔ ایک دوسرا شخص حجر بن اثال بھی اس کے ساتھ سفارت میں شریک تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول
ہوں؟ ان دونوں نے جواب دیا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر سفارتی وفد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ یہ واقعہ بیان کر کے حضرت عبداللہؓ نے کہا میں نے اسی وجہ سے ابن النواحہ کو سزائے موت دی ہے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵، ۱۱۶ کتاب السیر )
(اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا ضروری ہے کہ بنی حنیفہ کا قبیلہ ابن النواحہ اور حجر بن وثال سمیت پہلے مسلمان ہو چکا تھا۔ پھر مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو یہ لوگ اس کی نبوت کے قائل ہو گئے۔ اس بنا پر جب نبیﷺ نے عبداللہ بن النواحہ اور حجر بن وثال سے فرمایا کہ ”اگر سفیروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تمھیں قتل کر دیتا۔“ تو اس کا صریح مطلب یہ تھا کہ اس ارتداد کی وجہ سے تو واجب القتل ہو چکا ہے، لیکن چونکہ اس وقت تو سفیر بن کر آیا ہے اس لیے تجھ پر شریعت کا یہ حکم نافذ نہیں کیا جا سکتا۔)
واضح رہے کہ یہ واقعہ حضرت عمرؓ کے زمانے کا ہے جبکہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ ان کے ماتحت کوفہ کے چیف جج تھے۔
- (۵)...... کوفہ میں چند آدمی پکڑے گئے جو مسیلمہ کی دعوت پھیلا رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کو اس باب میں لکھا گیا۔
آپ نے جواب میں لکھا ان کے سامنے دین حق اور شہادت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پیش کی جائے جو اسے قبول کرے اور مسیلمہ سے برأت کا اظہار کر دے اسے چھوڑ دیا جائے اور جو دین مسیلمہ پر قائم رہے اسے قتل کر دیا جائے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر )
- (۶)...... حضرت علیؓ کے سامنے ایک شخص پیش کیا گیا جو پہلے عیسائی تھا، پھر مسلمان ہوا پھر عیسائی ہو گیا۔ آپ نے
اس سے پوچھا تیری اس روش کا کیا سبب ہے؟ جواب دیا میں نے عیسائیوں کے دین کو تمھارے دین سے بہتر پایا۔ حضرت علیؓ نے پوچھا عیسیٰ ؑ کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے؟ اس نے کہا وہ میرے رب ہیں، یا یہ کہا کہ وہ علیؓ کے رب ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۶)
- (۷)...... حضرت علیؓ کو اطلاع دی گئی کہ ایک گروہ عیسائی سے مسلمان ہوا پھر عیسائی ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے ان
لوگوں کو گرفتار کرا کے اپنے سامنے بلوایا اور حقیقت دریافت کی۔ انھوں نے کہا ہم عیسائی تھے، پھر ہمیں اختیار دیا گیا کہ عیسائی رہیں یا مسلمان ہو جائیں، ہم نے اسلام کو اختیار کر لیا، مگر اب ہماری رائے یہ ہے کہ ہمارے مسیحی دین سے افضل کوئی دین نہیں ہے۔ لہٰذا اب ہم عیسائی ہو گئے۔ اس پر حضرت علیؓ کے حکم سے یہ لوگ قتل کر دیے گئے اور ان کے بال بچے غلام بنا لیے گئے۔
(طحاوی ج ۲ ص ۱۱۶)
- (۸)...... حضرت علیؓ کو اطلاع دی گئی کہ کچھ لوگ آپ کو اپنا رب قرار دیتے ہیں۔ آپ نے انھیں بلا کر پوچھا تم کیا
کہتے ہو؟ انھوں نے کہا آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے خالق و رازق ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا۔ تمہاری حالت پر افسوس ہے، میں تو تم جیسا ایک انسان ہوں، تمہاری طرح کھاتا اور پیتا ہوں، اگر اللہ کی اطاعت کروں گا تو وہ مجھے اجر دے گا اور اگر اس کی نافرمانی کروں تو مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے سزا دے گا۔ لہٰذا تم خدا سے ڈرو اور اپنے اس عقیدہ کو چھوڑ دو۔ مگر انھوں نے انکار کیا۔ دوسرے دن قنبر نے آ کر عرض کیا کہ وہ لوگ پھر وہی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے انھیں بلا کر دریافت کیا اور انھوں نے وہی سب باتیں دہرا دیں۔ تیسرے روز حضرت علیؓ نے انھیں بلا کر دھمکی دی کہ اگر اب تم نے وہ بات کہی تو میں تم کو بدترین طریقہ سے قتل کروں گا، مگر وہ اپنی بات پر اڑے رہے۔ آخر کار حضرت علیؓ نے ایک گڑھا کھدوایا، اس میں آگ جلوائی، پھر ان سے کہا، دیکھو اب بھی اپنے اس قول سے باز آ جاؤ ورنہ میں تمھیں اس گڑھے میں پھینک دوں گا، مگر وہ اپنے اسی عقیدے پر قائم رہے۔ تب حضرت علیؓ کے حکم سے وہ سب اس گڑھے میں پھینک دیے گئے۔
(فتح الباری ج ۱۲ ص ۲۳۸ باب استتابۃ المرتدین)
- (۹) ....... حضرت علیؓ رحبہ کے مقام پر تھے کہ آپ کو ایک شخص نے آ کر اطلاع دی کہ یہاں ایک گھر کے لوگوں نے
اپنے ہاں ایک بت رکھ چھوڑا ہے اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت علیؓ خود وہاں تشریف لے گئے۔ تلاشی لینے پر بت نکل آیا۔ حضرت علیؓ نے اس گھر میں آگ لگا دی اور وہ گھر والوں سمیت جل گیا۔
(فتح الباری ج ۱۲ ص ۲۳۸ باب ایضا)
- (۱۰)....... حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک شخص پکڑا ہوا آیا جو مسلمان تھا پھر کافر ہو گیا۔ آپ نے اسے ایک مہینہ
تک توبہ کی مہلت دی۔ پھر اس سے پوچھا، مگر اس نے توبہ سے انکار کر دیا۔ آخرکار آپ نے اسے قتل کرا دیا۔
(کنزالعمال ج ۱ ص ۳۱۳ حدیث ۱۲۷۴ الا رتداد واحکامہ)
یہ دس نظیریں پورے دورِ خلافت راشدہ کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ چاروں خلفاء کے زمانے میں جب بھی ارتداد کا واقعہ پیش آیا ہے اس کی سزا قتل ہی دی گئی ہے، اور ان میں سے کسی واقعہ میں بھی نفس ارتداد کے سوا کسی دوسرے جرم کی شمولیت ثابت نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ قتل کی سزا دراصل اس جرم پر دی گئی تھی نہ کہ ارتداد پر۔
مرتدوں کے خلاف خلیفۂ اول کا جہاد
مگر ان سب نظیروں سے بڑھ کر وزنی نظیر اہل رِدّہ کے خلاف حضرت ابوبکرؓ صدیق کا جہاد ہے۔ اس میں صحابہ کرام کی پوری جماعت شریک تھی۔ اس سے اگر ابتداء میں کسی نے اختلاف کیا بھی تھا تو بعد میں وہ اختلاف اتفاق سے بدل گیا تھا۔ لہٰذا یہ معاملہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ جن لوگوں نے براہ راست نبی ﷺ سے دین کی تعلیم و تربیت پائی تھی ان سب کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ جو گروہ اسلام سے پھر جائے اس کے خلاف اسلامی حکومت کو جنگ کرنی چاہیے۔
بعض لوگ اس جہاد کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ مرتدین کی حیثیت دراصل باغیوں کی تھی کیونکہ انھوں نے حکومت کا ٹیکس (یعنی زکوٰۃ) دینا بند کر دیا تھا اور وہ حکومت کے عاملوں کو الگ کر کے خود اپنی حکومتیں قائم کرنے لگے تھے۔ لیکن یہ توجیہ چار وجوہ سے قطعی غلط ہے۔
- (۱) ....... جہاد جن لوگوں کے خلاف کیا گیا تھا وہ سارے کے سارے مانعین زکوٰۃ ہی نہیں تھے بلکہ ان میں مختلف قسم
کے مرتدین شامل تھے۔ کچھ لوگ ان مدعیان نبوت پر ایمان لے آئے تھے جنھوں نے عرب کے مختلف گوشوں میں اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا کچھ کو محمد ﷺ کی نبوت کا یقین نہ رہا تھا اور وہ کہتے تھے کہ لو کان محمد نبیاً مامات.
(بدایہ والنہایہ ج ۶ ص ۳۲۷ ذکر ردۃ اھل البحرین)
(اگر محمد نبی ہوتے تو مرتے نہیں) کچھ لوگ تمام ضروریاتِ دین کے قائل تھے اور زکوٰۃ بھی ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔ مگر ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اپنی زکوٰۃ بطور خود جمع اور خرچ کریں گے، ابوبکر کے عاملوں کو نہیں دیں گے۔ کچھ اور لوگ کہتے تھے:
فواعجبا مابال ملک ابی بکر
’’ہم نے خدا کے رسول کی پیروی کر لی جبکہ وہ ہمارے درمیان تھا، مگر مقام حیرت ہے کہ یہ ابوبکر کی حکومت ہم پر کیوں مسلط ہوئی۔‘‘
(بدایہ والنہایہ ج ۶ ص ۳۱۱ فصل فی تصدی الصدیق لقتال اھل الردۃ)
گویا انھیں اعتراض اس بات پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کا نظام قائم ہو اور سب مسلمانوں کو اسی طرح اس مرکز سے وابستہ رہنے پر مجبور کیا جائے جس طرح وہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت سے وابستہ تھے۔
- (۲)...... ان سب مختلف قسم کے لوگوں کے لیے صحابہ نے باغی کے بجائے ”مرتد“ کا لفظ اور اس ہنگامے کے لیے
بغاوت کے بجائے ”ارتداد“ کا لفظ استعمال کیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی نگاہ میں وہ اصل جرم جس کے یہ لوگ مرتکب ہوئے تھے، ارتداد تھا، نہ کہ بغاوت، جنوب عرب میں جن لوگوں نے لقیط بن مالک الازدی کی نبوت تسلیم کر لی تھی ان کے خلاف حضرت ابوبکرؓ نے عکرمہ بن ابی جہل کو جہاد کے لیے روانہ کرتے وقت یہ ہدایت کی تھی کہ ومن لقيته من المرتدة بين عمان الى حضرموت و اليمن فنكل به (عمان سے حضر موت اور یمن تک جہاں مرتدوں کو پاؤ کچل ڈالو)۔
(بدایہ والنہایہ ج۶ ص ۳۳۰)
- (۳)...... جن لوگوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا ان کے معاملے میں جب یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ ایسے لوگوں
کے خلاف جنگ کرنا جائز بھی ہے یا نہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا تھا۔ واللہ لاقاتلن من فرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ (بدایہ والنہایہ ج۶ ص ۳۱۱ ذکر ردۃ اہل عمان ویمن) (خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا) اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ خلیفۂ اوّل کی نگاہ میں ان کا اصل جرم ٹیکس نہ دینا نہیں تھا بلکہ دین اسلام کے دو ارکان میں سے ایک کو ماننا اور دوسرے کو نہ ماننا تھا اور آخر کار جس بنا پر صحابہ کرام نے ان مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنے کے معاملے میں خلیفہ سے اتفاق کیا وہ یہی تھی کہ خلیفہ برحق کے دلائل سے انھیں اس امر کا پورا اطمینان ہو گیا کہ نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرنے کی وجہ سے یہ لوگ دائرۂ دین سے باہر نکل چکے ہیں۔
- (۴)...... ان سب سے بڑھ کر فیصلہ کن چیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا وہ فرمانِ عام ہے جو آپ نے عرب کے مختلف
گوشوں میں مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے ۱۱ فوجیں روانہ کرتے وقت ہر فوج کے کمانڈر کو لکھ کر دیا تھا۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی (کتاب البدایہ والنہایہ ج۶ ص ۳۱۵،۳۱۶) میں یہ پورا فرمان نقل کیا ہے۔ اس کے حسب ذیل فقرے خاص طور پر قابلِ غور ہیں:
”تم میں سے جن لوگوں نے شیطان کی پیروی قبول کی ہے اور جو اللہ سے بیخوف ہو کر اسلام سے کفر کی طرف پھر گئے ہیں ان کی اس حرکت کا حال مجھے معلوم ہوا، اب میں نے فلاں شخص کو مہاجرین و انصار اور نیک نہاد تابعین کی ایک فوج کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا ہے اور اسے ہدایت کر دی ہے کہ ایمان کے سوا کسی سے کچھ قبول نہ کرے، اور اللہ عزوجل کی طرف دعوت دیے بغیر کسی کو قتل نہ کرے۔ پس جو کوئی اس کی دعوت الی اللہ کو قبول کرے گا اور اقرار کرنے کے بعد اپنا عمل درست رکھے گا اس کے اقرار کو وہ قبول کرے گا اور اسے راہِ راست پر چلنے میں مدد دے گا اور جو انکار کرے گا اس سے وہ لڑے گا یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔ اس کو حکم دے دیا گیا ہے کہ انکار کرنے والوں میں سے جس پر وہ قابو پائے اسے جیتا نہ چھوڑے۔ ان کی بستیوں کو جلا دے، ان کو نیست و نابود کر دے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لے اور اسلام کے سوا کسی سے کچھ قبول نہ کرے۔ پس جو اس کی بات مان لے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو نہ مانے گا وہ اللہ کو عاجز نہ کر سکے گا۔ میں نے اپنے فرستادہ امیر کو یہ بھی ہدایت کر دی ہے کہ میری اس تجویز کو تمھارے ہر مجمع میں سنا دے اور یہ کہ اسلام قبول کرنے کی علامت اذان ہے۔ جہاں سے اذان کی آواز آئے اس بستی سے تعرض نہ کرو اور جہاں سے یہ آواز نہ آئے وہاں کے لوگوں سے پوچھو کہ وہ کیوں اذان نہیں دیتے۔ اگر وہ انکار کریں تو ان پر ٹوٹ پڑو اور اگر اقرار
کریں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جس کے وہ مستحق ہیں۔“
آئمہ مجتہدین کا اتفاق اب بحث طویل ہو جائے گی اگر ہم پہلی صدی ہجری سے لے کر اس چودھویں صدی تک کے فقہاء کی تحریریں مسلسل نقل کریں۔ لیکن ہم اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مسئلہ کے جزئیات میں مذاہب اربعہ کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف ہو، بہر حال بجائے خود یہ مسئلہ کہ ”مرتد کی سزا قتل ہے“ فقہ کے چاروں مذاہب میں متفق علیہ ہے۔
امام مالکؒ کا مذہب ان کی کتاب مؤطا میں یوں لکھا ہے:
”زید بن اسلم سے مالک نے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنا دین بدلے اس کی گردن مار دو۔ اس حدیث کے متعلق مالک نے کہا جہاں تک ہم سمجھ سکتے ہیں نبی ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام سے نکل کر کسی دوسرے طریقے کا پیرو ہو جائے مگر اپنے کفر کو چھپا کر اسلام کا اظہار کرتا رہے جیسا کہ زندیقوں اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں کا ڈھنگ ہے تو اس کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد اسے قتل کر دیا جائے اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے کیونکہ ایسے لوگوں کی توبہ کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور جو شخص اسلام سے نکل کر اعلانیہ کسی دوسرے طریقے کی پیروی اختیار کرے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، توبہ کر لے تو خیر ورنہ قتل کیا جائے۔“
(مؤطا مالک باب القضاء فی من ارتد عن الاسلام ص ۶۳۰)
حنابلہ کا مذہب ان کی مستند ترین کتاب ”المغنی“ میں اس طرح بیان ہوا ہے:
”امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ جو عاقل و بالغ مرد یا عورت اسلام کے بعد کفر اختیار کرے اسے تین دن تک توبہ کی مہلت دی جائے، اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔ یہی رائے حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی، مکحول، حماد، مالک، لیث، اوزاعی، شافعی اور اسحاق بن راہویہ کی ہے۔
(جلد ۱۰ ص ۷۴)
مذہب حنفی کی تصریح امام طحاوی نے اپنی کتاب شرح معانی الآثار میں اس طرح کی ہے:
”اسلام سے مرتد ہونے والے شخص کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف اس امر میں ہے کہ آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے یا نہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر امام اس سے توبہ کا مطالبہ کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ پھر اگر وہ شخص توبہ کر لے تو چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے۔ امام ابو حنیفہ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ علیہم ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے یہ رائے اختیار کی ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ توبہ کا مطالبہ کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ ان کے نزدیک مرتد کی حیثیت حربی کافر کی سی ہے۔ جن حربی کافروں تک ہماری دعوت پہنچ چکی ہے۔ ان کو جنگ شروع کرنے سے پیشتر اسلام کی طرف دعوت دینا غیر ضروری ہے، البتہ جنھیں دعوت نہ پہنچی ہو ان پر حملہ آور ہونے سے پہلے حجت تمام کرنی چاہیے۔ اسی طرح جو شخص اسلام سے ناواقفیت کی بنا پر مرتد ہوا ہو اس کو تو پہلے سمجھا کر اسلام کی طرف واپس لانے کی کوشش کر لینی چاہیے مگر جو شخص سوچ سمجھ کر اسلام سے نکلا ہو اسے توبہ کی دعوت دیے بغیر قتل کر دیا جائے۔ امام ابو یوسفؒ کا بھی ایک قول اسی رائے کی تائید میں ہے، چنانچہ وہ کتاب الاملاء میں فرماتے ہیں کہ میں مرتد کو قتل کروں گا اور توبہ کا مطالبہ نہ کروں گا، ہاں اگر وہ خود ہی جلدی کر کے توبہ کر لے تو میں اسے چھوڑ دوں گا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے کروں گا۔“
(طحاوی شرح معانی الآثار ج ۲ ص ۱۱۵ کتاب السیر بحث استتابۃ المرتد)
مذہب حنفی کی مزید تصریح ہدایہ میں اس طرح ہے:
”جب کوئی شخص اسلام سے پھر جائے (العیاذ باللہ) تو اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے۔ اگر اسے کوئی شبہ ہو تو اسے صاف کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بہت ممکن ہے وہ کسی شبہ میں مبتلا ہو اور ہم اس کا شبہ دور کر دیں تو اس کا شر ایک بدتر صورت (یعنی قتل) کے بجائے ایک بہتر صورت (یعنی دوبارہ قبول اسلام) سے رفع ہو جائے مگر مشائخ فقہاء کے قول کے مطابق اس کے سامنے اسلام پیش کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ اسلام کی دعوت تو اس کو پہنچ چکی۔“
(ہدایہ ج۲ ص ۵۶۵ باب احکام المرتدین)
افسوس ہے کہ فقہ شافعی کی کوئی معتبر کتاب اس وقت میرے پاس نہیں ہے مگر ہدایہ میں ان کا جو مذہب نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے:
”شافعی سے منقول ہے کہ امام کو لازم ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دے اور اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس سے پہلے اسے قتل کر دے۔ کیونکہ ایک مسلمان کا ارتداد بظاہر کسی شبہ ہی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ایک مدت ضرور ہونی چاہیے، جس میں اس کے لیے غور و تامل کا موقع ہو اور ہم اس غرض کے لیے تین دن کافی سمجھتے ہیں۔“
(ہدایہ ج۲ ص ۵۶۵ باب احکام المرتدین)
غالباً ان شہادتوں کے بعد کسی شخص کے لیے اس امر میں شبہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور یہ سزا نفس ارتداد کی ہے نہ کہ کسی اور جرم کی جو ارتداد کے ساتھ شامل ہو گیا ہو۔
بعض لوگ حدیث اور فقہ کی باتیں سن کر یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ سزا کہاں لکھی ہے؟ ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اگرچہ ہم نے اس بحث کی ابتداء میں قرآن کا حکم بھی بیان کر دیا ہے، لیکن اگر بالفرض یہ حکم قرآن میں نہ بھی ہوتا تو حدیث کی کثیر التعداد روایات، خلفائے راشدین کے فیصلوں کی نظیریں اور فقہاء کی متفقہ رائیں اس حکم کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی تھیں۔ ثبوت حکم کے لیے ان چیزوں کو ناکافی سمجھ کر جو لوگ اس کا حوالہ قرآن سے مانگتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ تمہاری رائے میں کیا اسلام کا پورا قانون تعزیرات وہی ہے جو قرآن میں بیان ہوا ہے؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو گویا تم کہتے ہو کہ قرآن میں جن افعال کو جرم قرار دے کر سزا تجویز کر دی گئی ہے ان کے ماسوا کوئی فعل اسلامی حکومت میں جرم مستلزم سزا نہ ہوگا۔ پھر ایک مرتبہ غور کر لو۔ کیا اس قاعدے پر تم دنیا میں کوئی حکومت ایک دن بھی کامیابی کے ساتھ چلا سکتے ہو؟ اور اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ قرآن کے بیان کردہ جرائم اور سزاؤں کے علاوہ اسلامی نظام حکومت میں دوسرے جرائم بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے لیے تفصیلی قانون تعزیرات کی ضرورت ہے، تو ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ جو قانون نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کی حکومت میں رائج تھا اور جس کو مسلسل تیرہ سو برس تک تمام امت کے جج، مجسٹریٹ اور علمائے قانون بالاتفاق تسلیم کرتے رہے ہیں، آیا وہ اسلامی قانون کہلانے کا زیادہ مستحق ہے یا وہ قانون جسے آج چند ایسے لوگ تجویز کریں جو غیر اسلامی علوم اور غیر اسلامی تہذیب و تمدن سے مغلوب و متاثر ہیں اور جن کو اسلامی علوم کی ادھوری تعلیم بھی میسر نہیں آئی ہے؟
دارالاسلام میں تبلیغ کفر کا مسئلہ
یہاں تک ہماری بحث پہلے سوال سے متعلق تھی، یعنی یہ کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں۔ اب ہم دوسرے سوال کو لیتے ہیں جسے سائل نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے:
”کیا ایک صحیح اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں کو اپنے مذاہب کی تبلیغ کا حق اسی طرح ہوگا جس
طرح مسلمانوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق حاصل ہونا چاہیے؟ کیا خلافت راشدہ اور بعد کی خلافتوں کے تحت کفار و اہل کتاب کو اپنے مذاہب کی تبلیغ کا حق حاصل تھا؟‘‘
اس مسئلہ کا فیصلہ بڑی حد تک تو قتل مرتد کے قانون نے خود ہی کر دیا ہے۔ کیونکہ جب ہم اپنے حدود اقتدار میں کسی ایسے شخص کو جو مسلمان ہو اسلام سے نکل کر کوئی دوسرا
داعیان باطل کو اس امر کا کھلا لائسنس نہیں دے سکتا کہ وہ جس آگ کے گڑھے کی طرف خود جا رہے ہیں اسی کی طرف دوسروں کو بھی کھینچیں۔ زیادہ سے زیادہ جس چیز کو وہ بادل ناخواستہ گوارا کرتا ہے وہ
دے جو خدا کی ہدایت اور اس کے دین کے مقابلے میں کسی دوسرے دین یا نظام زندگی کے غلبے کی کوشش کرنا چاہتی ہو۔
پیغمبر کے بعد جس طرح اس کے جانشین اس دین کے وارث ہوتے ہیں جو وہ خدا کی طرف سے لایا تھا، اسی طرح وہ اس مش
میں مسیلمہ، اسود عنسی، طلیحہ اسدی، سجاح، لقیط بن مالک ازدی اور ان کے سوا جو بھی اسلام کے مقابلے پر کوئی دعوت لے کر اٹھا، اسے فوراً دبا دیا گیا۔ جن غیر مسلم قوموں نے جزیہ پر معاہدہ کر کے اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہنا قبول کیا ان میں سے اکثر کے معاہدے لفظ بہ لفظ حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں تمام حقوق و مراعات کی تفصیل پائی جاتی ہے مگر اس ”حق“ کا کہیں ذکر
ثانیاً، جو رائے اس طرح جبراً بدلی جائے، یا جس رائے پر سزائے موت کے خوف سے لوگ قائم رہیں وہ بہرحال ایماندارانہ رائے تو نہیں ہو سکتی۔ اس کی حیثیت محض ایک ایسے منافقانہ اظہارِ رائے کی ہوگی جسے جان بچانے کے لیے مکر کے طور پر اختیار کیا گیا ہو۔ آخر اس مکاری و منافقت سے ایک مذہب کس طرح مطمئن ہو سکتا ہے؟ مذہب و مسلک خواہ کوئی سا بھی ہو، اس کی پیروی کوئی معنی نہیں رکھتی اگر آدمی سچے دل سے اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور ایمان ظاہر ہے کہ زبردستی کسی کے اندر پیدا نہیں کیا جا سکتا نہ زبردستی باقی رکھا جا سکتا ہے۔ زور زبردستی سے آدمی کی گردن ضرور جھکائی جا سکتی ہے لیکن دل و دماغ میں اعتقاد و یقین پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا جو شخص اندر سے کافر ہو چکا ہو وہ اگر سزائے موت سے بچنے کے لیے منافقانہ طریقہ سے بظاہر مسلمان بنا رہے تو اس کا فائدہ کیا ہے؟ نہ
محمد علی مرحوم جیسا سچا مسلمان بھی ان دلائل سے شکست کھائے بغیر نہ رہ سکا۔ علماء میں سے متعدد بزرگوں نے اس موقع پر اصل مسئلہ شرعی کو تو اسی طرح بیان کیا جیسا کہ اس کا حق تھا، مگر عقلی اعتراضات کے جواب میں ایسی بے جان دلیلیں پیش کیں جن سے شبہ ہوتا تھا کہ شاید وہ خود بھی اپنے دلوں میں اس مسئلے کو عق
کرتی ہے، رہگزر بنایا جا سکتا ہے کہ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھے تو اس میں داخل ہو جائیے اور جب دوسری لہر اٹھے تو اس سے نکل جائیے اور پھر جب جی چاہے اندر آئیے اور جب چاہے باہر چلے جائیے۔ یہ کوئی کھیل اور تفریح نہیں ہے جس سے بالکل ایک غیر ذمہ دارانہ طریقہ پر دل بہلایا جائے۔ یہ تو ایک نہایت سنجیدہ اور انتہائی نزاکت رکھنے والا کام ہے جس کے ذرا ذرا سے نشیب و فراز سوسائٹی اور سٹیٹ کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جس کے بننے اور بگڑنے کے ساتھ لاکھوں کروڑوں بندگان خدا کی زندگیوں کا بناؤ اور بگاڑ وابستہ ہوتا ہے، جس کی انجام دہی میں ایک بہت بڑی جماعت اپنی زندگی و موت کی بازی لگاتی ہے۔ ایسی رائے اور ایسی رائے رکھنے والی جماعت کی رکنیت کو انفرادی آزادیوں کا کھلونا دنیا میں کب بنایا گیا ہے اور کون بناتا ہے کہ اسلام سے اس کی توقع رکھی جائے۔
منظم سوسائٹی کا فطری اقتضاء ایک منظم سوسائٹی جو ریاست کی شکل اختیار کر چکی ہو ایسے لوگوں کے لیے اپنے حدود عمل میں بمشکل ہی گنجائش نکال سکتی ہے جو بنیادی امور میں اس سے اختلاف رکھتے ہوں۔ فروعی اختلافات تو کم و بیش برداشت کیے جا سکتے ہیں لیکن جو لوگ سرے سے ان بنیادوں ہی سے اختلاف رکھتے ہوں جن پر سوسائٹی اور ریاست کا نظام قائم ہوا ہو، ان کو سوسائٹی میں جگہ دینا اور اسٹیٹ کا جز بنانا سخت مشکل ہے۔ اس معاملے میں اسلام نے جتنی رواداری برتی ہے، دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی دوسرے نظام نے نہیں برتی۔ دوسرے جتنے نظام ہیں وہ اساسی اختلاف رکھنے والوں کو یا تو زبردستی اپنے اصولوں کا پاب
جائے۔ مگر جب وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے لیے دو ہی علاج ممکن ہیں یا تو اسے اسٹیٹ میں تمام حقوق شہریت سے محروم کر کے زندہ رہنے دیا جائے، یا پھر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ پہلی صورت فی الواقع دوسری صورت سے شدید تر سزا ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰى کی حالت میں مبتلا رہے اور اس صورت میں سوسائٹی کے لیے بھی وہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی ذات سے ایک مستقل فتنہ لوگوں کے درمیان پھیلتا رہے گا اور دوسرے صحیح و سالم اعضا میں بھی اس کے زہر کے سرایت کر جانے کا اندیشہ ہوگا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے موت کی سزا دے کر اس کی اور سوسائٹی کی مصیبت کا بیک وقت خاتمہ کر دیا جائے۔
قتل مرتد کو یہ معنی پہنانا بھی غلط ہے کہ ہم ایک شخص کو موت کا خوف دلا کر منافقانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔
ہم ایسے لوگوں کے لیے اپنی جماعت کے اندر آنے کا دروازہ بند کر دینا چاہتے ہیں جو تلون کے
اس میں تناقض کیا ہے؟ بلاشبہ ہم نفاق کی مذمت کرتے ہیں اور اپنی جماعت میں ہر شخص کو صادق الایمان دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر جس شخص نے اپنی حماقت سے خود اس دروازے میں قدم رکھا جس کے متعلق اسے معلوم تھا کہ وہ جانے کے لیے کھلا ہوا نہیں ہے، وہ اگر نفاق کی حالت میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ اس کو اس حالت سے نکالنے کے لیے ہم
باصطلاح شرع ”سلطان“) موجود نہ ہو۔ لہٰذا مسئلہ کے اس پہلو میں ہمارے اور معترضین کے درمیان بحث خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
اب قابل بحث صرف دوسرا پہلو رہ جاتا ہے یعنی یہ کہ جہاں مذہب خود
جو شاہ برطانیہ کی اطاعت و وفاداری کے ملتزم ہوں۔ یہ فطرۃً پیدائشی رعایائے برطانیہ (Natural Born British Subjects) کہلاتے ہیں اور ان کو آپ سے آپ اطاعت و وفاداری کا ملتزم قرار دیا جاتا ہے بغیر اس کے کہ انھوں نے بالارادہ شاہِ برطانیہ کی وفاداری کا حلف لیا ہو۔ ثانیاً یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پہلے اغیار میں سے تھے اور پھر چند قانونی شرائط کی تکمیل کے بعد انھوں نے شاہِ برطانیہ کی وفاداری کا حلف لے کر برطانوی رعایا ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہو۔ رہے اغیار تو اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو کسی دوسری قومیت سے تعلق رکھتے ہوں اور کسی دوسرے اسٹیٹ کی وفاداری کے ملتزم ہوں مگر برطانوی مملکت کی حدود میں مقیم ہوں۔ ان مختلف قسم کے اشخاص کے متعلق انگریزی قانون کے حسب ذیل اصول قابل ملاحظہ ہیں۔
- (۱)...... اغیار میں سے ہر شخص جو برطانوی رعایا ہونے کے لیے ضروری قانونی شرائط کی تکمیل کر چکا ہو، یہ اختیار
رکھتا ہے کہ اپنی سابق قومیت ترک کر کے برطانوی قومیت میں داخل ہونے کی درخواست کرے۔ اس صورت میں سیکرٹری آف اسٹیٹ اس کے حالات کی تحقیق کرنے کے بعد شاہِ برطانیہ کی اطاعت و وفاداری کا حلف لے کر اسے برطانوی قومیت کا سرٹیفکیٹ عطا کر دے گا۔
- (۲)...... کوئی شخص خواہ پیدائشی رعایائے برطانیہ ہو، یا بااختیار خود برطانوی رعایا میں داخل ہوا ہو، از روئے قانون یہ
حق نہیں رکھتا کہ مملکتِ برطانیہ کے حدود میں رہتے ہوئے کسی دوسری قومیت کو اختیار کر لے اور کسی دوسرے اسٹیٹ کی وفاداری کا حلف اٹھائے، یا جس قومیت سے وہ پہلے تعلق رکھتا تھا اس کی طرف پھر واپس چلا جائے۔ یہ حق اسے صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ وہ برطانوی حدود سے باہر مقیم ہو۔
- (۳)...... برطانوی حدود سے باہر مقیم ہونے کی صورت میں بھی رعایائے برطانیہ کا کوئی فرد (خواہ وہ پیدائشی رعیت
ہو یا رعیت بن گیا ہو) یہ حق نہیں رکھتا کہ حالتِ جنگ میں برطانوی قومیت ترک کر کے کسی ایسی قوم کی قومیت اور کسی ایسے اسٹیٹ کی وفاداری اختیار کرے جو شاہ برطانیہ سے برسرِ جنگ ہو۔ یہ فعل برطانوی قانون کی رو سے غدرِ کبیر (High Treason) ہے جس کی سزا موت ہے۔
- (۴)...... برطانوی رعایا میں سے جو شخص برطانوی حدود کے اندر یا باہر رہتے ہوئے بادشاہ کے دشمنوں سے تعلق
رکھے اور ان کو مدد اور آسائش بہم پہنچائے یا کوئی ایسا فعل کرے جو بادشاہ کے دشمنوں کو تقویت پہنچانے والا یا بادشاہ اور ملک کی قوتِ حملہ و مدافعت کو کمزور کرنے والا ہو وہ بھی غدرِ کبیر کا مرتکب ہے اور اس کی سزا بھی موت ہے۔
- (۵)...... بادشاہ، ملکہ یا ولی عہد کی موت کے درپے ہونا یا اس کا تصور کرنا، بادشاہ کی رفیقہ یا اس کی بڑی بیٹی یا ولی
عہد کی بیوی کو بے حرمت کرنا، بادشاہ کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا یا نشانہ تاک
انتشار سے بجبر روکنے اور اپنے نظام کو خرابی سے بچانے کے لیے طاقت کے استعمال کا حق رکھتی ہے۔
اب دیکھئے کہ برطانوی قانون جنھیں ”اغیار“ کہتا ہے۔ ان کی حیثیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ وہی ہے جو اسلامی قانون میں ان لوگوں کی حیثیت ہے جو ”ذمی“ کہلاتے ہیں۔ جس طرح ”برطانوی رعایا“ کا اطلاق پیدائشی اور اختیاری رعایا پر ہوتا ہے اسی طرح اسلام میں بھی ”مسلمان“ کا اطلاق دو قسم کے لوگوں پر ہوتا ہے، ایک وہ جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوں، دوسرے وہ جو غیر مسلموں میں سے باختیار خود اسلام قبول کریں۔ ”برطانوی قانون“ بادشاہ اور شاہی خاندان کو صاحب حاکمیت ہونے کی حیثیت سے جو مقام دیتا
اختیار کرے یا اس دین کی طرف پلٹ جائے جسے ترک کر کے وہ دین اسلام میں آیا تھا۔ جس طرح برطانوی قانون کی رو سے برطانوی رعایا کا وہ فرد سزائے موت کا مستحق ہے جو برطانوی حدود کے باہر رہتے ہوئے شاہ برطانیہ کے دشمنوں کی قومیت اختیار کر لے اور کسی دشمن سلطنت کی وفاداری کا حلف اٹھائے، اسی طرح اسلامی قانون کی رو سے وہ مسلمان بھی سزائے موت کا مستحق ہے جو دارالاسلام کے باہر رہتے ہوئے حربی کافروں کا دین اختیار کر لے اور جس طرح برطانوی قانون ان لوگوں کو ”اغیار“ کے سے حقوق دینے کے لیے تیار ہے جنھوں نے برطانوی قومیت چھوڑ کر کسی برسر صلح قوم کی قومیت اختیار کر لی ہو اسی طرح اسلامی قانون بھی ایسے مرتدین کے ساتھ معاہد قوم کے کافروں کا سا معاملہ کرتا ہے
لیے قوت استعمال کرے۔ اس کے برعکس ہمارے مخالفین الہی ریاست کو ناجائز اور صرف دنیوی ریاست ہی کو جائز سمجھتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک دنیوی ریاست کا اپنے وجود و نظام کی حفاظت میں جبر سے کام لینا عین حق اور الہی ریاست کا یہی فعل کرنا عین باطل ہے۔ لیکن اس بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ قاعدہ اپنی جگہ عالمگیر مقبولیت رکھتا ہے کہ ریاست اور حاکمیت کی عین فطرت اس امر کی مقتضی ہے کہ اسے اپنے وجود
حامل ہو اس کا رویہ اس معاملہ میں اتنا ہی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فوج کو لیجئے۔ قریب قریب تمام دنیا کے فوجی قوانین میں یہ بات مشترک ہے کہ فوجی ملازمت اختیار کرنے پر تو کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا مگر جو شخص باختیار خود فوجی ملازمت میں داخل ہو چکا ہو اسے ملازمت میں رہنے پر لازماً مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ استعفا دے تو نا قابل قبول ہے۔ خود چھوڑ جائے تو مجرم ہے۔ جنگ کی عملی خدمت (Active Service) سے فرار ہو تو سزائے
ہیں، لیکن کسی بڑے جماعتی مقصد کے لیے جان جوکھوں کا کھیل کھیلنے والے ادارے اس کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ریاست، اور فوج اور وہ پارٹیاں جو سنجیدگی کے ساتھ کسی اہم اجتماعی نصب العین کی خدمت کا پُرخطر کام کرنے کے لیے بنی ہوں اور اسی نوعیت کے دوسرے نظام اس امر پر قطعی مجبور ہیں کہ واپس جانے والوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیں اور اپنے اجزائے ترکیبی کو منتشر ہونے سے باز رکھیں۔ مستحکم اور قابل اعتماد اجزاء حاصل کرنے کا اس سے زیادہ کامیاب ذریعہ اور کوئی نہیں ہے کہ آنے والے کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جائے کہ یہاں سے جانے کا نتیجہ موت ہے کیونکہ اس طرح کمزور قوتِ فیصلہ رکھنے والے لوگ خود ہی اندر آنے سے باز رہیں گے۔ اسی طرح موجودہ اجزاء کو بکھرنے سے باز رکھنے کا بھی قوی ترین ذریعہ یہی ہے کہ جو اجزاء بکھرنے پر اصرار کریں انھیں کچل ڈالا جائے تاکہ جہاں جہاں علیحدگی کے میلانات پرورش پا رہے ہوں ۔ وہاں ان کا خود بخود قلع قمع ہو جائے۔
البتہ یہاں اس حقیقت کو پھر ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جماعتی نظم کے لیے اس تدبیر کو صحیح قرار دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر جماعتی نظم کے لیے اس تدبیر
عیسائیت نہیں بلکہ امریکی قومیت اور وفاقی دستور کا اقتدار ہے جس پر ان کی سوسائٹی ایک ریاست کی شکل میں منظم ہوئی ہے۔ اسی طرح دوسری عیسائی قوموں کے اجتماعی دین بھی عیسائیت کے بجائے ان کے اپنے قومی اسٹیٹ اور دستور ہیں۔ ان ادیان سے ان کا کوئی پیدائشی یا اختیاری پیرو ذرا مرتد ہو کر دیکھ لے، اسے خود معلوم ہو جائے گا کہ
کیا ہوگا، لیکن اس حالت کے قائم ہونے سے موجودہ زمانے کی مذہبی تبلیغ میں کوئی رکاوٹ اس لیے واقع نہیں ہوتی کہ آج کل دنیا میں جن مختلف مذاہب کی تبلیغ کی جا رہی ہے ان میں سے کسی مذہب کو چھوڑ کر کسی
اور تمام وفاداریوں سے انحراف کا دروازہ کھلا رکھنا، ایک ایسی تجویز ہے جو بجائے خود سخت نامعقول ہے، اور دنیا میں آج تک کسی دین، کسی اجتماعی نظام اور کسی ریاست نے اس کو اختیار نہیں کیا ہے۔
اس کا عملی
اجتماعی سے باہر نکل جائیں۔" اس مدت کے بعد ان سب لوگوں کو جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں مسلمان سمجھا جائے گا، تمام قوانین اسلامی ان پر نافذ کیے جائیں گے۔ فرائض و واجبات دینی کے التزام پر انھیں مجبور کیا جائے گا، اور پھر جو کوئی دائرۂ اسلام سے باہر قدم رکھے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد انتہائی کوشش کی جائے کہ جس قدر مسلمان زادوں اور مسلمان زادیوں کو کفر کی گود میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے بچا لیا جائے، پھر جو کسی طرح نہ بچائے جاسک
بندوں کی روحانی واخلاقی فلاح ہی سے ہے اور اسی کی خاطر وہ انتظام ملکی اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ اس لیے وہ سیاسی فساد یا انقلاب برپا کرنے والی تحریکوں کی طرح ان تحریکوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتا جو اخلاقی فساد یا
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
اظہار حقانیت و ابطال قادیانیت
ابو السعود محمد سعد اللہ المکی
بسم الله الرحمن الرحیم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید نے کئی مرتبہ قادیانی مذہب اختیار کیا اور کئی مرتبہ توبہ کر کے مسلمان ہوا اور اپنے اس فعل سے شہر کے مسلمانوں میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتا رہا۔ بالآخر جب مذکور نے اپنے ذاتی فوائد مسلمانوں میں ملنے کی وجہ سے حاصل کر لیے تو پھر علی الاعلان مسجد میں مسلمانوں کے رو برو قادیانیت و مرزائیت کا اعلان کر دیا کہ میں قادیانی ہوں۔ جب شہر کے مسلمان قادیانی مذکور کی شرارت اور مکر و فریب سے عاجز آ گئے تو انھوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ ہم کو زید کے فتنہ وفساد سے بچنے کے لیے کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے کہ آئندہ اس کے ناجائز تسلط سے محفوظ رہ سکیں۔ چنانچہ شہر کے مسلمان ایک دن جامع مسجد میں جمع ہوئے اور ایک عالم کے ہاتھ میں قرآن کریم دیا اور پھر تمام مسلمانوں نے باوضو قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کیا کہ میں اپنے خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتا ہوں کہ آئندہ زید قادیانی سے کسی طرح کا تعلق نہ رکھوں گا اور اس کے بائیکاٹ کی کوشش میں ہر ممکن امداد دوں گا اور یہ عہد مسلمانوں نے قادیانی کی شرارت اور مرزائیوں کی اسلامی دشمنی سے مجبور ہو کر کیا ہے۔ (تو کیا)
مسلمانوں کو ایسا عہد کرنا اور قادیانی مذکور کا بائیکاٹ کرنا از روئے شرع محمدی جائز ہے جبکہ اس کے ساتھ میل جول میں ہر وقت فتنہ فساد کا اندیشہ ہے۔ براہ کرم دلائل و براہین سے مفصل جواب دیجئے۔
بَيِّنُوا وَتُؤْجَرُوا مِنْ رَّبِّ الْعِبَادِ سائل محمد سعید غفرلہ
الجواب (۱)
اَلْحَمْدُ لِمُبْدِ الْكَوْنِ اَسْتَمِدُّ التَّوْفِیْقَ مِنْهُ وَالْعَوْنَ "سائل محترم کے سوال میں قابل غور دو باتیں ہیں۔"
- (۱)...... اول قادیانی مذکور کا مقاطعہ کرنا۔
- (۲)...... مسلمانوں کا ایسا عہد کرنا۔
تو واضح ہو کہ یہ دونوں امر مطابق شریعت اور جائز ہیں حتی کہ اگر کوئی قادیانی چپ چاپ بھی رہے اور کسی قسم کے فتنہ و فساد کی آگ نہ بھڑکائے تو بھی اس کا بائیکاٹ اور قطع تعلق کرنا بلا عہد و پیمان ہر ایک مسلمان کو اپنے اسلام پر برقرار رہنے کے لیے اور اپنے خدا اور رسول ﷺ کو ناراض نہ کرنے کے لیے اور جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے فرض ہے۔ چہ جائیکہ جب زید کئی مرتبہ قادیانی مذہب اختیار کر کے اور کئی مرتبہ توبہ کر کے اپنے اس فعل سے شہر کے تمام مسلمانوں میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا چکا ہو۔
فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَلَا تَرْكَنُوْا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (ھود:۱۱۳) ”یعنی اے مسلمانو مت جھکو طرف ان لوگوں کی کہ ظلم کرتے ہیں۔ پس لگے گی تم کو
آگ اور نہیں واسطے تمھارے سوائے اللہ کے کوئی دوست پھر نہیں مدد دیے جاؤ گے۔“ مفسرین علیہم الرحمۃ فرماتے ہیں۔
(وَلَا تَرْكَنُوا) الرُّكُونُ هُوَ الْمَيْلُ الْيَسِيْرُ وَالْخِطَابُ لِرَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَمَنْ مَّعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَيْ وَلَا تَمِيْلُوا أَدْنَى مَيْلٍ (إِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا) أَيْ إِلَى الَّذِيْنَ وُجِدَ مِنْهُمُ الظُّلْمُ فِي الْجُمْلَةِ (فَتَمَسَّكُمُ) أَيْ بِسَبَبِ ذٰلِكَ (النَّارُ) وَإِذَا كَانَ الرُّكُوْنُ إِلَى مَنْ صَدَرَ مِنْهُمْ ظُلْمٌ مَّرَّةً فِي الْإِفْضَاءِ إِلَى مَسَاسِ النَّارِ هٰكَذَا فَمَا ظَنُّكَ بِالرُّكُوْنِ إِلَى مَنْ صَدَرَ مِنْهُمُ الظُّلْمُ مِرَارًا وَرَسَخُوْا فِيْهِ ثُمَّ بِالْمَيْلِ إِلَيْهِمْ كُلَّ الْمَيْلِ وَدَخَلَ فِي الرُّكُوْنِ إِلَى الظّٰلِمِيْنَ الْمُدَاهَنَةُ وَالرِّضَى بِأَقْوَالِهِمْ وَأَعْمَالِهِمْ وَمَحَبَّةُ مُصَاحَبَتِهِمْ وَمُعَاشَرَتُهُمْ وَ مَدُّ الْعَيْنِ إِلَى زَهْرَتِهِمُ الْفَانِيَةِ وَغِبْطَتُهُمْ فِيمَا أُوْتُوا مِنَ الْقُطُوْفِ الدَّانِيَةِ وَالدُّعَاءُ لَهُمْ بِالْبَقَاءِ وَتَعْظِيْمُ ذِكْرِهِمْ وَإِصْلَاحُ دَوَاتِهِمْ وَقَلَمِهِمْ وَدَفْعُ الْقَلَمِ أَوِ الْكَاغَذِ إِلَى أَيْدِيْهِمْ وَالْمَشْيُ خَلْفَهُمْ وَالتَّزَيِّيْ بِزِيِّهِمْ وَالتَّشَبُّهُ بِهِمْ وَخِيَاطَةُ ثِيَابِهِمْ وَحَلْقُ رُؤُسِهِمْ۔“ حضرات مفسرین علیہم الرحمۃ آیت شریف ولا ترکنوا الی الذین ظلموا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ولا ترکنوا میں خطاب رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں سے کیا گیا ہے اور رکون کے معنی قدرے جھکنا ہے تو معنی ولا ترکنوا کے یہ ہوئے کہ اے رسول ﷺ اور تمام مسلمانو نہ جھکو ذرا سا بھی جھکنا (الی الذین ظلموا) ان لوگوں کی طرف جن سے ظلم فی الجملہ (کم سے کم) صادر ہو پس جب ظالم کے قدرے ظلم کی طرف میلان کی وجہ سے بھی آگ جہنم کی ان لوگوں کو لگے گی تو پھر اس شخص کے متعلق آگ میں جلنے کی سزا ظاہر ہے۔ جو سر تا سر ظالم کی طرف مشغول ہو اور جو ظالم کی طرف بالکل مائل ہو۔ اور ظالموں کی طرف میلان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو ظالموں کی خوشامد کریں اور ان کے اقوال و اعمال سے خوش ہوں اور ان کی دوستی میں محبت رکھیں اور ان کی تہذیب کو پسند کریں اور ان کی فانی آرائش و زیب و زینت کو چشم رغبت سے دیکھیں اور ان کی جھکی ہوئی میوہ کی ڈالیوں پر رشک کریں اور ان کی طول عمر کے لیے دعا کریں اور ان کا ذکر عزت کے ساتھ کریں اور جو ان کی دوات و قلم کی اصلاح کریں اور جو قلم یا کاغذ ان کے ہاتھوں میں دیں اور جو تعظیم کی غرض سے ان کے پیچھے چلیں اور جو ان کی شکل و شباہت اختیار کریں اور ان کے کپڑے سئیں اور ان کے سر کے بال مونڈیں۔“
اور عام کفار جن سے کوئی خطرہ فتنہ و فساد کا نہیں ان سے جو مودّت و محبت ممنوع ہے۔ وہ دینی امور اسلام کے مقابل دنیوی امور میں ہے۔ رہا حسن معاشرت و خوش اخلاقی اور نیکی اور احسان جس کے بنی آدم مستحق ہیں۔ یہ بغرض تالیف قلوب مشروع ہے ممنوع نہیں۔ مگر ایسے قادیانی مفسدوں سے تمام امور میں بائیکاٹ کرنا اشد ضروری ہے بلکہ اس کے باپ کو اور اس کی اولاد کو اور بھائی بہنوں کو اور تمام کنبے کے لوگوں کو بھی قادیانی مذکور سے سخت بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَوْ كَانُوْا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ (مجادلہ ۲۲) یعنی اے محمد ﷺ ایسی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔
ایضاً۔ اس قادیانی کی بیوی اس پر حرام ہے اور اگر اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ ولد الزنا ہوگی اور مرتد قادیانی جب بغیر توبہ کے مر جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل و کفن گڑھے میں ڈالا جائے۔
آئندہ اگر وہ قادیانی کبھی کسی ذاتی فائدہ کے لیے توبہ بھی کرے تو اس کی توبہ کا اعتبار مدت دراز تک جب تک کہ قرائن سے صادق نہ معلوم ہو جائے ہرگز نہ کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کی جھوٹی توبہ سے مسلمانوں کو مندرجہ ذیل قسم کے بہت سے دھوکوں میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ مثلاً جھوٹی توبہ کر کے مسلمان لڑکی سے شادی کر لینا کسی مدرسہ میں مقرر ہو جانا یا کسی ذات مفاد کے لیے ووٹ حاصل کر لینا اور اس طرح مسلمانوں کا اس کو ووٹ دے کر قائد المسلمین بنانا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ اس کے شر سے تمام مسلمانوں کو بچائے۔
خدائے برتر کا بڑا شکر و احسان ہے کہ شہر کے مسلمانوں کو جب اس قادیانی کے مکر و فریب بخوبی معلوم ہو گئے، تو اور دیگر مسلمانوں کو اس کے شر و فساد سے بچانے کے لیے اور اس کے ناجائز تسلط سے محفوظ رہنے کے لیے آپس میں یہ صحیح فیصلہ کیا اور ایسا راستہ اختیار کیا، تاکہ سخت سے سخت مفسد کے لیے، سخت سے سخت بائیکاٹ کیا جائے۔ لہٰذا شہر کے مسلمانوں نے ایک اللہ کے دین کے عالم کے رو برو اور اللہ کے کلام قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر اور اللہ کے گھر یعنی جامع مسجد میں جمع ہو کر باتفاق رائے خدا کو حاضر و ناظر جان کر اللہ عزوجل سے عہد و پیمان کیا کہ ہم سب اس مفسدہ پرداز سے آئندہ میل جول حرام کر لیں گے۔ اور اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھیں گے اور اس کے بائیکاٹ کی کوشش میں ہر ممکن امداد کریں گے۔
تو اس قسم کے معاہدے شرعاً جائز ہیں بلکہ اس میں جتنے فوائد ہیں سب کے سب قواعد مشروعہ اور فوائد مودوعہ فی الشرع ہیں اور جو لوگ ایسے معاہدے مشروعہ کر کے مضبوط بائیکاٹ کرتے ہیں ان کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے چند خوش خبریاں ہیں۔ جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰهِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.
(مجادلہ ۲۲) پہلی خوشخبری اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔ یعنی ان کے الواح قلوب پر ازلی قلم سے ایمان لکھا گیا ہے وہ صرف زبانی ایمان والوں میں ہیں۔
دوسری خوشخبری وَاَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ اور ان کی اپنی روح سے مدد کی ہے۔ روح مؤید کے علماء کرام نے کئی ایک معنی بیان فرمائے ہیں۔ نور قلب، قرآن مجید، دشمنوں پر فتحیابی، اور ان سے ایمان داروں کی تائید ہوئی۔
تیسری خوشخبری وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جہاں وہ سدا رہا کریں گے۔ یہ جسمانی بہشت کی طرف اشارہ ہے۔
چوتھی خوشخبری رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ یہ روحانی بہشت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ سب انعام حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو نصیب ہوئے۔ خصوصاً حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم نے جنگ بدر و احد وغیرہ کے مواقع پر اپنے اقارب سے دل کھول کر جنگ کی اور ہر موقع میں آنحضرت ﷺ کے رو برو اور بعد میں دین پر ثابت قدم رہے ہیں۔ اس لیے یہ خوبیاں ان کو نصیب ہوئیں اس لیے صحابہ کرام کے نام پر رضی اللہ عنہ کہنے کا اہلسنت میں قدیم دستور ہو گیا۔
پانچویں خوشخبری اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللّٰهِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یہی ہے اللہ کا گروہ دیکھو اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں اپنے فضل و کرم سے یہ بات عطا کر دی کہ اہل حق کبھی مغلوب نہ ہوں گے دیکھو صحابہ کرامؓ چند روز میں دنیا کی بڑی بڑی عالیشان سلطنتوں پر غالب آگئے اور قیامت تک اہل حق
غالب رہیں گے اب مثال اور معلومات کے طور پر کذاب قادیانیوں کے چند عقائد خبیثہ بیان کرنا ضروری ہیں۔
آئینہ کمالات میں اپنے آپ کو بعینہ خدا دیکھا اور زمین و آسمان بنانے کا دعویٰ اس کے ص ۵۶۴ و ۵۶۵ خزائن ج ۵ ص ایضاً پر یوں لکھا ہے۔ رَاَیْتُ فِی الْمَنَامِ عَیْنَ اللّٰہِ ..... وَتَیَقَّنْتُ اَنَّنِیْ ھُوَ فَخَلَقْتُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ ..... میں نے بعینہ اپنے آپ کو خدا دیکھا اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین و آسمان بنائے‘‘ اور البشری ص ۴۹ ج ۱ پر میں خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ لکھتا ہے (مجھے خدا نے کہا ہے) اِسْمَعْ وَلَدِیْ (اے میرے بیٹے سن) اور (حقیقت الوحی ص ۱۰۷ خزائن ج ۲۲ ص ۱۱۰) میں رسول اکرم سے افضلیت کا دعویٰ اس طرح لکھا ہے اَتَانِیْ مَالَمْ یُؤْتَ اَحَدٌ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ خدا نے مجھ کو وہ عزت دی جو کسی کو نہیں دی گئی اور ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱ میں حضرت عیسیٰ ؑ پر نہایت درجہ توہین اور اللہ عزوجل اور اس کے کلام کو جھٹلانا مقصود ہے اس پر لکھا ہے یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار تھیں۔ معاذ اللہ۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹) پر لکھتا ہے۔ یسوع مسیح کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی معاذ اللہ ایضاً اس کے (ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱) حاشیہ میں لکھتا ہے یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ اس کے پاس بجز دھوکے کے اور کچھ نہ تھا اور (دافع البلاء ص ۱۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰) میں مرتد مرزا نے لکھا ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
اور ازالہ میں چار سو انبیائے کرام معصومین کو مرزا کذاب نے جھوٹا بتلایا ہے۔ (ازالہ ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) پر ہے (ایک زمانہ میں چار سو نبیوں کی پیشین گوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے ہوئے) مرزا کذاب کے کفریات بدیہیات پر استدلال کی چنداں ضرورت نہیں۔ لہٰذا اس کے تمام متبعین کافر و مرتد ہیں۔ خواہ لاہوری جماعت ہو یا قادیانی جماعت، یا گوجرانوالی، اروپی ہو یا سجاپوری جماعت ہو یا سمبڑیالی جماعت ہو ان سب جماعتوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مسیح موعود مرزا قادیانی ہی تھے اور ان کا کلام وحی من اللہ ہے۔ لہٰذا ہم اہل اسلام میں اور مرزائیوں میں اصولی فرق ہے اور باوجود دعویٰ اسلام اور اسلام گری کے جو اکفر الکفریات بکیں وہ فرعون و نمرود جیسے کافر سے بدتر کافر اور شرعاً حکم میں مرتد کے ہیں اور جو ان کو کافر نہ جانے، وہ بھی کافر اور ایسے مرتد کی توبہ بھی قبول نہیں ہو سکتی۔ اس لیے نہ صرف مرتد و زندیق ہے بلکہ مرتد گر اور زندیق گر ہے۔
قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًاo وَاَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلٰی اَنَّ شَاتِمَ النَّبِیِّ ﷺ الْمُتَنَقِّصَ لَہٗ کَافِرٌ وَالْعَذَابُ جَارٍ عَلَیْہِ وَحُکْمُہٗ کَحُکْمِ الزِّنْدِیْقِ وَمَنْ شَکَّ فِیْ کُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ کَفَرَ اَقُوْلُ ھٰذَا اِذَا شَتَمَ النَّبِیَّ ﷺ فَکَیْفَ بِمَنْ شَتَمَ الْاَنْبِیَاءَ وَعَابَہُمْ وَنَقَّصَہُمْ وَکَذَّبَہُمْ وَقَذَفَاہُمْ بَلْ وَکَیْفَ مَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ بِاَنْوَاعِ الْاِفْتِرَاءَاتِ الْکَاذِبَةِ الْوَاہِیَةِ لَا شَکَّ اَنَّہٗ زِنْدِیْقٌ وَحُکْمُہٗ ظَاہِرٌ لَا یَخْفٰی عَلٰی مَنْ لَّہٗ اَدْنٰی مُمَارَسَةٍ فِی الْعِلْمِ وَفِی الْفَتَاوَی الْعَالَمْ گِیْرِیَّةِ فِی الْبَابِ التَّاسِعِ فِی اَحْکَامِ الْمُرْتَدِّیْنَ ص ۳۵۸ ج ۲ یَکْفُرُ اِذَا وَصَفَ اللّٰہَ تَعَالٰی بِمَا لَا یَلِیْقُ بِہٖ اَوْ سَخَرَ بِاسْمٍ مِّنْ اَسْمَائِہٖ اَوْ بِاَمْرٍ مِّنْ اَوَامِرِہٖ اَوْ اَنْکَرَ وَعْدَہٗ وَوَعِیْدَہٗ اَوْ جَعَلَ لَہٗ شَرِیْکًا اَوْ وَلَدًا اَوْ زَوْجَةً اَوْ نَسَبَہٗ اِلَی الْجَہْلِ اَوِ الْعَجْزِ اَوِ النَّقْصِ وَفِیْہِ (فتاویٰ عالمگیریہ ج ۲ ص ۳۶۳ باب التاسع احکام المرتدین) اِذَا لَمْ یَعْرِفِ الرَّجُلُ اَنَّ مُحَمَّدًا اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ وَفِیْہِ لَوْ قَالَ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ اَوْ قَالَ بِالْفَارِسِیَّةِ من پیغمبرم یرید بہ پیغام می برم یکفر وَکُتُبُ الْفِقْہِ کَالْخَانِیَّةِ وَالنَّہْرِ وَالْبَحْرِ وَمَجْمَعِ
الْاَنْهُرِ وَمُلْتَقَى الْاَبْحُرِ وَفَتْحِ الْقَدِيْرِ وَالْبَدَائِعِ وَالْمَبْسُوْطِ مَشْحُوْنَةٌ بِاَحْكَامِ الْمُرْتَدِّيْنَ اَعَاذَنَا اللّٰهُ وَالْمُسْلِمِيْنَ اَجْمَعِيْنَ بِجَاهِهِ وَكَرَمِهِ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ وَعِلْمُهُ اَتَمُّ وَاَحْكَمُ.
اب اگر کوئی مسلمان حکم خدا اور رسول کے خلاف اور مسلمانوں کی اکثریت کے شرعی فیصلے کے بعد بھی قادیانی مذکور کے بائیکاٹ میں حصہ نہ لے تو مسلمانوں پر اس مسلمان کا بائیکاٹ کرنا واجب ہے کیونکہ وہ چند بڑے بڑے جرموں کا مرتکب ہے۔ (۱)...... ایک حکم خدا اور رسول کو ٹھکرانے کا۔
- (۲)...... دوسرے اس عہد کو توڑنے کا۔ جو اس نے جامع مسجد میں ایک عالم کے رو برو قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر
اپنے اللہ سے کیا تھا۔
- (۳)...... تیسرے مسلمانوں کے متفقہ شرعی فیصلہ کے خلاف ورزی کرنے کا حق۔
- (۴)...... چوتھے اعانت کفر کا۔
حررہ ابوالسعود محمد سعد اللہ المکی خادم زکریا مسجد بمبئی۔ ۲۹ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۲ھ
لقد اصاب من اجاب والحق ماحرره، فی ھذا الکتاب كتبه العبد العاجز السيد محمود، خادم مسجد رنگاری محله بمبئی.
الجواب صحيح والمجيب نجيح احقر العباد محمد عثمان میر داد المکی، خطیب حمیدیه مسجد بمبئی.
الجواب صحيح والمجيب نجيح العبد الضعیف الفقیر محمد جسیم، الراجی الی اللّٰہ القدیر پیش امام مسجد مرغی محله بمبئی.
خلاصہ فیصلہ واضح ہو کہ خان بہادر ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب نے مسلمانان دارجلنگ پر جو مقدمہ دائر کیا تھا تخمیناً دو سال تک طول پکڑا لہذا عدالت کی جانب سے فقیر کمترین ابوالسعود محمد سعد اللہ المکی اور مفتی مسجد ناخدا کلکتہ صاحب کو تصدیق فتویٰ کے لیے طلب کیا گیا علمائے کرام کے پہنچنے کے بعد جناب الحاج مسٹر عبدالرحیم ایم ایل سی اور خان بہادر عبدالمومن صاحب اور مسٹر عزیز الحق وزیر تعلیم بنگال اور جناب یوسف اطہر وکیل صاحب کی مخلصانہ سعی سے صلح ہو گئی اور ڈاکٹر عبدالعزیز نے مسلمانوں کے عام مجمع میں حضرات مذکورین کے علاوہ جناب سر خواجہ ناظم الدین صاحب بھی موجود تھے۔ یہ اعلان کر دیا کہ میں اہلسنت والجماعت حنفی مسلمان ہوں اور علماء کرام کے فتوے کے مطابق مرزا اور اس کی دونوں جماعتوں کو کافر اور مرتد سمجھتا ہوں الحاصل مقدمہ اٹھا لیا گیا اور دونوں مولوی صاحبان جنھوں نے بعض شرعی غلط بیان دیے تھے تائب ہو گئے اور سب معاملے باحسن الوجوہ ختم ہو گئے۔ جیسا کہ اخبار ہند کلکتہ مورخہ ۱۴ نومبر ۱۹۲۵ء میں بعنوان (قضیۂ دارجلنگ کا بہترین فیصلہ) اور اخبار عصر جدید مورخہ ۵ نومبر بعنوان (خان بہادر ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب تائب ہو گئے) اور اخبار سیارہ مورخہ یکم نومبر بعنوان (مرزائیت سے توبہ) وغیرہ اخبارات میں مفصل درج ہے فقط۔
۱۵ ربیع الاول ۱۳۷۱ھ
فقیر ابوالسعود محمد سعد اللہ المکی خادم مسجد زکریا بمبئی سابقاً و خادم مسجد حمیدیہ بمبئی حالاً
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
اسوء العقاب علی المسیح الکذاب
مولانا احمد رضا خان
بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ از امرت سر کڑہ گربھا سنگھ کوچہ منڈا شاہ مرسلہ مولانا مولوی محمد عبدالغنی واقعہ ۲۱ ربیع الآخر سنہ ۱۳۲۰ھ
مستفتی نے ظاہر کیا کہ ایک شخص نے درآنحالیکہ مسلمان تھا ایک مسلمہ سے نکاح کیا زوجین عرصہ تک باہم معاشرت کرتے رہے اولاد بھی ہوئی اب کسی قدر عرصہ سے شخص مذکور مرزا قادیانی کے مریدوں میں منسلک ہو کر جمیع عقائد کفریہ مرزائیہ سے مصطبغ ہو کر علی روس الاشہاد ضروریات دین سے انکار کرتا رہتا ہے سو مطلوب عن الاظہار یہ ہے کہ شخص مذکور شرعاً مرتد ہو چکا اور اس کی منکوحہ اس کی زوجیت سے علیحدہ ہو چکی ہے اور منکوحہ مذکورہ کا کل مہر معجل ومؤجل مرتد مذکور کے ذمہ ہے اولاد صغار اپنے والد مرتد کی ولایت سے نکل چکی یا نہ۔ بینوا توجروا.
خلاصہ جوابات امرتسر
- (۱)...... شخص مذکور بباعث آنکہ ہم عقیدہ مرزا کا ہے جو باتفاق علمائے دین کافر ہے مرتد ہو چکا، منکوحہ زوجیت
سے علیحدہ ہو چکی، کل مہر بذمہ مرتد واجب الادا ہو چکا، مرتد کو اپنی اولاد صغار پر ولایت نہیں۔ ابو محمد زبیر غلام رسول المحلی القاسمی عفی عنہ
- (۲)...... شک نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول اللہ نبی اللہ کہتا ہے اور اس کے مرید اس کو نبی مرسل جانتے
ہیں اور دعویٰ نبوت کا بعد رسول اللہ ﷺ کے بالاجماع کفر ہے جب اس طائفے کا مرتد ہونا ثابت ہوا پس مسلمہ ایسے شخص کے نکاح سے خارج ہوتی ہے عورت کو مہر ملنا ضروری ہے اور اولاد کی ولایت بھی ماں کا حق ہے۔ عبدالجبار بن عبداللہ الغزنوی
- (۳)...... لا يشك في ارتداد من نسب المسمريزم الذي هو من اقسام السحر الی الانبياء عليهم
السلام واهان روح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام وادعی النبوة وغيرها من الكفريات كالمرزا فنكاح المسلمة لا شك في فسخه لكن لها المهر و الاولاد الصغار، ابوالحسن غلام مصطفیٰ عفی عنہ.
- (۴)...... شک نہیں کہ مرزا کے معتقدات کا معتقد مرتد ہے نکاح منفسخ ہوا اولاد عورت کو دی جائے گی عورت کامل مہر
لے سکتی ہے۔ ابو محمد یوسف غلام محی الدین عفی عنہ
- (۵)...... آنچه علمائے کرام از عرب و ہند و پنجاب در تکفیر مرزا قادیانی و معتقدان وے فتویٰ دادہ اند ثابت و صحیح
ست قادیانی خود را نبی و مرسل یزدانی قرار میدہد و توہین و تحقیر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام و انکار معجزات شیوۂ اوست کہ اب از تحریراتش پر ظاہر ست (نقل عبارات ازالہ کہ از رسائل مرزاست)۔ احقر عباد اللہ العلیٰ واثقہ محمد عبدالغنی۔
- (۶)...... احقر العباد خدا بخش امام مسجد شیخ خیر الدین۔
- (۷)...... شک نہیں کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت و رسالت ہے (نقل عبارات کثیرہ ازالہ وغیرہا تحریرات مرزا) پس
ایسا شخص کافر تو کیا میرا وجدان یہی کہتا ہے کہ اس کو خدا پر بھی ایمان نہیں۔ ابوالوفا ثناء اللہ
- (۸)....... قادیانی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو ضروریات دین سے انکار ہے نیز دعویٰ رسالت کا بھی،
چنانچہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ۲ خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۶) میں اس نے صراحۃً لکھا ہے کہ میں رسول ہوں لہٰذا غلام احمد اور اس کے معتقدین بھی کافر بلکہ اکفر ہوئے۔ مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ اولاد صغار والد کے حق سے نکل جاتی ہے۔ پس مرزائی مرتد سے اولاد لے لینی چاہیے اور مہر معجل اور مؤجل لے کر عورت کو اس سے علیحدہ کرنا چاہیے۔ ابوتراب محمد عبدالحق امرتسر بازار صابونیان
- (۹)....... مرزائی مرتد ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے منکر معجزات کو مسمریزم تحریر کیا ہے۔ مرزا کافر ہے مرزا
سے جو دوست ہو یا اس کے دوست سے دوست وہ بھی کافر مرتد ہے۔ صاحبزادہ سید ظہور الحسن قادری فاضلی سجادہ نشین حضرات سادات جیلانی بٹالہ شریف
- (۱۰)....... آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ اور ضروریات دین کا انکار بیشک موجب کفر و ارتداد ہے
ایسے شخص پر قادیانی ہو یا غیر، مرتدوں کے احکام جاری ہوں گے۔ نور احمد عفی عنہ
مراسلت حامی سنت مولانا مولوی محمد عبدالغنی امرت سری بنام سامی حضرت عالم اہلسنت دام ظلہم العالی بخدمت شریف جناب فیض مآب قامع فساد و بدعات دافع جہالت و ضلالات فخر العلماء الحنفیہ قاطع اصول الفرقۃ الضالۃ المہدیہ مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب متعنا اللہ بعلمہ تحفہ تحیات و تسلیمات مسنونہ رسانیدہ مکشوف ضمیر مہر انجلا آنکہ چوں درین بلاد از مدت مدیدہ بہ ظہور دجال کذاب قادیانی فتور و فساد برخاست است بموجب حکم آزادی بہ ہیچ صورتے در چنگ علماء آں دہری راہزن دین اسلام نمی آید اکنون ایں واقعہ در خانہ یک شخص حنفی شد کہ زنے مسلمہ در عقد شخصے بودہ آں مرد مرزائی گردید زن مذکورہ از وئے ایں کفریات شنیدہ گریز نمودہ بخانۂ پدر رسید لہٰذا برائے آں و برائے سد آئندہ و تنبیہ مرزائیاں فتوے ہذا طبع کردہ آئید امید کہ آنحضرت بہم بمہر و دستخط شریف خود مزین فرمانید کہ باعث افتخار باشد سفیر از ندوہ کدام مولوی غلام محمد ہوشیار پوری وارد امرت سر از مدت دو ماہ شدہ است فتوائے ہذا نزد وے فرستادم مشار الیہ دستخط نمود و گفت اگر دریں فتوے دستخط کنم ندوہ از من بیزار شود خاکش بدہن از شنیعت مردماں بندہ را بسیار بدظنی در حق ندوہ میشود زیادہ چہ نوشتہ آید جزاکم اللہ عن الاسلام والمسلمین۔ الملتمس بندہ کثیر المعاصی۔ داعی محمد عبدالغنی از امرتسر کٹڑہ گرباسنگھ کوچہ ٹنڈاں باشندہ
فتویٰ از حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی۔
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لانبی بعدہ و علی الہ و صحبہ المکرمین عندہ، رب انی اعوذبک من ھمزت الشیطین واعوذبک رب ان یحضرون۔ اللہ عزوجل دین حق پر استقامت عطا فرمائے اور ہر ضلال و وبال و نکال سے بچائے قادیانی مرزا کا اپنے آپ کو مسیح و مثل مسیح کہنا تو شہرۂ آفاق ہے اور بحکم آنکہ ع
فقیر کو بھی اس دعوے سے اتفاق ہے۔ مرزا کے مسیح و مثل مسیح ہونے میں اصلاً شک نہیں مگر لا واللہ نہ مسیح کلمۃ اللہ علیہ صلوٰۃ اللہ، بلکہ مسیح دجال علیہ اللعن والنکال پہلے اس ادعائے کاذب کی نسبت سہارنپور سے سوال آیا تھا
جس کا ایک مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خان محمد حفظہ اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنام تاریخی الصارم الربانی علی اسراف القادیانی مسمی کیا یہ رسالہ حامی سنن ماحی فتن مکرمنا قاضی عبدالوحید صاحب حنفی فردوسی صین عن الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفہ حنفیہ میں کہ عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے طبع فرما دیا بحمد اللہ تعالیٰ اس شہر میں مرزا کا فتنہ نہ آیا اور اللہ عزوجل قادر ہے کہ کبھی نہ لائے اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں مجیب ہشتم نے جو اقوال ملعونہ اس کی کتابوں سے بہ نشان صفحات نقل کیے مثیل مسیح ہونے کے ادعا کو شناعت و نجاست میں ان سے کچھ نسبت نہیں ان میں صاف صاف انکار ضروریات دین اور بوجوہ کثیرہ کفر و ارتداد مبین ہے فقیر ان میں سے بعض کی اجمالی تفصیل کرے۔
کفر اوّل ...... مرزا کا ایک رسالہ ہے جس کا نام (ازالہ اوہام ص ۶۷۳ خزائن ج ۳ ص ۴۶۳) پر لکھتا ہے میں احمد ہوں جو آیت مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے، آیۂ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربانی عیسیٰ بن مریم روح اللہ علیہما الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اللہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمد ہے۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحۃً ادعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے، معاذ اللہ مرزا قادیانی ہے۔
کفر دوم ...... (توضیح مرام ص ۱۸ خزائن ج ۳ ص ۶۰) پر لکھتا ہے کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔
کفر سوم ...... (دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) پر لکھتا ہے سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
کفر چہارم ...... مجیب پنجم نے نقل کیا و نیز میگوید کہ خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔ (ازالہ اوہام ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶) ان اقوال خبیثہ میں اوّلاً کلام الٰہی کے معنی میں صریح تحریف کی کہ معاذ اللہ آیۂ کریمہ میں یہ شخص مراد ہے نہ حضور سید عالم ﷺ ثانیاً نبی اللہ و رسول اللہ و کلمتہ عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افترا کیا کہ وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے ثالثاً اللہ عزوجل پر افترا کیا کہ اس نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس شخص کی بشارت دینے کے لیے بھیجا اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون (یونس ۶۹) بیشک جو لوگ اللہ عزوجل پر جھوٹ بہتان
١ لا الہ الا اللہ لقد کذب عدو اللہ ایھا المسلمون، سید المحدثین امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ انھیں کے واسطے حدیث محدثین آئی انھیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ الہام حق والے اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو وہ ضرور عمر ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رواہ احمد ج ۴ ص ۳۲۹ حدیث نمبر ۲۴۲۵۵ البخاری ج ۱ ص ۵۲۱ باب مناقب عمر بن خطاب عن ابی ھریرۃ و مسلم ج ۲ ص ۲۷۶ باب فضائل عمر والترمذی ج ۲ ص ۲۱۰ باب مناقب عمر بن خطاب عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد آیا لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب، اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو عمر ہوتا رواہ احمد ج ۴ ص ۶۲۳ حدیث نمبر ۱۷۴۰۵ والترمذی ج ۲ ص ۲۰۹ باب مناقب ابی حفص عمر بن خطاب والحاکم ج ۴ ص ۳۴ حدیث نمبر ۴۵۵۱ عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر ج ۱۷ ص ۲۹۸ حدیث نمبر ۸۲۲ عن عصمۃ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہا) مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃ نہ محدث ہے نہ محدث یہ ضرور ایک معنی پر نبی ہو گیا۔ الا لعنۃ اللہ علی الکذبین والعیاذ باللہ رب العالمین.
اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے اور فرماتا ہے انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون (النحل ۱۰۵) ایسے افترا وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں رابعاً اپنی گڑھی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اللہ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ۵۳۳ خزائن ج ۳ ص ۳۸۶)
اور اللہ عزوجل فرماتا ہے فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللّٰہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لھم مما کتبت ایدیھم وویل لھم مما یکسبون۔ (بقرہ ۷۹) خرابی ہے ان کے لیے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں۔ یہ اللہ کے پاس سے ہے تا کہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں سو خرابی ہے ان کے لیے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کے لیے اس کمائی سے ان سب سے قطع نظر، ان کلمات ملعونہ میں صراحۃً اپنے لیے نبوت ورسالت کا ادعائے قبیح ہے اور وہ باجماع قطعی کفر صریح ہے فقیر نے رسالہ جزاء اللہ عدوہ باباء ختم النبوۃ خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور ایک سو دس حدیثوں اور تیس نصوں کو جلوہ دیا اور ثابت کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً قطعاً محال و باطل جاننا فرض اجل و جزء ایقان ہے۔ ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شک کرنے والا نہ شک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدۂ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر ہیں اکفر جلی الکفران ہے۔ قول دوم و سوم میں شاید وہ یا اس کے اذناب، آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑ لیں کہ یہاں نبی ورسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبردار یا خبردہندہ اور فرستادہ مگر یہ محض ہوس ہے۔ اولاً صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی فتاویٰ خلاصہ وفصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاویٰ ہندیہ ج ۲ ص ۲۶۳ مطلب موجبات الکفر وغیرہا میں ہے واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اللّٰہ اوقال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے یا کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہو جائے گا امام قاضی عیاض کتاب (الشفاج ۲ ص ۱۹۱ باب الاول فی سبہ میں فرماتے ہیں قال احمد بن ابی سلیمن صاحب سحنون رحمھما اللّٰہ تعالیٰ فی رجل قیل لہ ماتقول یا عدو اللّٰہ فی حق رسول اللّٰہ قال فعل اللّٰہ برسول اللّٰہ کذا وکذا ذکر کلاما قبیحا فقیل لہ ماتقول یا عدو اللّٰہ فی حق رسول اللّٰہ فقال اشد من کلامہ الاول ثم قال انما اردت برسول اللّٰہ العقرب فقال ابن ابی سلیمن للذی سألہ اشھد علیہ وانا شریکک یرید فی قتلہ و ثواب ذلک قال حبیب بن الربیع لان ادعاء ہ التاویل فی لفظ صراح لا یقبل یعنی امام احمد بن ابی سلیمن تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اللہ تعالیٰ سے ایک مردک کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول اللہ ﷺ کے حق میں تو اس نے کہا اللہ رسول اللہ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایک بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا تو رسول اللہ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تو رسول اللہ سے بچھو مراد لیا تھا۔ امام ابن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریک ہوں یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثواب عظیم پائیں۔ امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لیے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعویٰ مسموع نہیں ہوتا) ملا علی
قاری (شرح شفا ج ۲ ص ۳۹۶ باب فی حقہ ﷺ سب او نقص) میں فرماتے ہیں لم قال انما اردت برسول الله العقرب فانه ارسل من عند الحق وسلط على الخلق تاويلا للرسالة العرفية بالارادة اللغوية وهو مردود عند القواعد الشرعية یعنی وہ جو اس مردک نے کہا کہ میں نے بچھو مراد لیا اس میں اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلط کیا ہے اور ایسی تاویل قواعد شرع کے نزدیک مردود ہے۔ علامہ شہاب خفاجی (نسیم الریاض ج ۴ ص ۳۴۳ باب ایضاً) میں فرماتے ہیں۔ هذا حقيقة معنى الارسال وهذا مما لا شك فى معناه وانكاره مكابرة لكنه لا يقبل من قائله ادعاؤه انه مراده....... لبعده غاية البعد وصرف اللفظ عن اظهره لا يقبل كما لو قال انت طالق وقال ارادت محلولة غير مربوطة لا يلتفت لمثله و يعد هذيانا اه ملتقطا. یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلاشک حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے باایں ہمہ قائل کا یہ ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لیے تھے اس لیے کہ یہ تاویل نہایت دور از کار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں (کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں) تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا) ثانیا وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لیے مدح و فضل جانتا ہے نہ ایک ایسی عام بات کہ ۔
چشماں تو زیر ابر وانند
کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان ہر جنگلی حمار بلکہ ہر جانور بلکہ ہر کافر مرتد میں موجود ہو محل مدح میں ذکر نہ کرے گا نہ اس میں اپنے لیے فضل و شرف جانے گا بھلا کہیں براہین احمدیہ میں یہ بھی لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے مرزا کی ناک میں دو نتھنے رکھے مرزا کے کان میں دو گھونگے بنائے یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ اس عاجز کی ناک ہونٹوں سے اوپر اور بھوؤں کے نیچے ہے کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکا پاگل نہ کہلایا جائے گا اور شک نہیں کہ وہ معنی لغوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجا ہوا ہونا ان مثالوں سے بھی زیادہ عام ہیں بہت جانوروں کے ناک کان بھویں اصلاً نہیں ہوتیں۔ مگر خدا کے بھیجے ہوئے وہ بھی ہیں اللہ نے انھیں عدم سے وجود نر کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا کے میدان میں بھیجا جس طرح اس مردک خبیث نے بچھو کو رسول بمعنی لغوی بنایا۔ مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں۔
کمترین کارش کہ آں رب احد روز سہ لشکر روانہ میکند
لشکرے ز اصلاب سوئے امہات تا بروید در رحمہا شان نبات
لشکرے زار حام سوئے خاکداں تا ز نر و مادہ پر گردد جہان
لشکرے از خاکداں سوئے اجل تابہ بیند ہر کسے حسن عمل
حق عزوجل فرماتا ہے فارسلنا عليهم الطوفان والجراد و القمل والضفادع والدم (الاعراف ۱۳۳) ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈکیں اور خون کیا، مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جسے ٹڈی اور مینڈک اور جون اور کتے اور سؤر سب کو شامل مانے گا۔ ہر جانور بلکہ ہر حجر وشجر بہت علوم سے
خبردار ہے اور ایک دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی ان کی طرف سے فرماتے ہیں ۔
با شما نامحرمان ما خامشیم
اللہ عزوجل فرماتا ہے وان من شئ الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (الاسراء ۴۴) کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ مامن شئ الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ الجن والانس کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اللہ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر جن اور آدمیوں کے (رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ۲۲ ص ۲۶۱ حدیث نمبر ۶۷۲) عن یعلی بن مرۃ و صححہ خاتم الحفاظ حق سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے فمکث غیر بعید فقال احطت بمالم تحط بہ وجئتک من سبأ بنبأ یقین (النمل ۲۲) کچھ دیر ٹھہر کر ہد ہد بارگاہ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایک بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضور کو اطلاع نہیں اور میں خدمت عالی میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ مامن صباح ولا رواح الا وبقاع الارض ینادی بعضھا بعضا یا جارۃ ھل مرّبک الیوم عبد صالح صلی علیک او ذکر اللہ فان قالت نعم رأت ان لھا بذلک فضلا کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے آج تیری طرف کوئی نیک بندہ ہو کر نکلا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکر الٰہی کیا اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط ج ۱ ص ۱۷۱ حدیث نمبر ۵۶۲ وابونعیم فی الحلیۃ ج ۶ ص ۱۸۷ حدیث نمبر ۸۲۳۳) عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو خبر رکھنا خبر دینا سب کچھ ثابت ہے کیا مرزا ہر اینٹ پتھر ہر بت پرست کافر ہر ریچھ بندر ہر کتے سؤر کو بھی اپنی طرح نبی و رسول کہے گا ہرگز نہیں تو صاف روشن ہوا کہ معنی لغوی ہرگز مراد نہیں بلکہ یقیناً وہی شرعی و عرفی رسالت و نبوت مقصود اور کفر و ارتداد یقینی قطعی موجود و عبارۃ اخر سے معنی چار ہی قسم ہیں لغوی شرعی عرفی عام یا خاص۔ یہاں عرف عام تو بعینہ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعاً حاصل اور ارادۂ لغوی کا ادعا یقیناً باطل اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوک سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وصف نبوت میں اشتراک بھی نہیں مگر حاش للہ ایسا باطل ادعا اصلاً شرعاً عقلاً عرفاً کسی طرح بادشتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ایسی جگہ لغت و شرع و عرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابل قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سخت سے سخت بات پر گرفت نہ ہو سکے کوئی مجرم کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہر سکے کہ ہر ایک کو اختیار ہے اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعویٰ کردے جس میں کفر و توہین کچھ نہ ہو کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح میں ایک کو دو کہتے ہیں کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے جب کوئی مرزائی گرفت چاہے، کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں اگر کہیے کوئی مناسبت بھی، تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں۔ لامناقشۃ فی الاصطلاح آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اول سے مناسبت اصلاً منظور نہیں معہٰذا قاری بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے
آنے والا (قاموس ج ۴ ص ۳۷۹ فصل القاف مع الواؤ والیاء) میں ہے قدت قادیة جاء قوم قد اقتحموا من البادیة والفرس قدیانا اسرع، قادیان اس کی جمع اور قادیانی اس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے حاشا وکلا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف یوں اصطلاح خاص کا ادعا مسموع ہو جائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم و برہم ہوں عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب وقبول نہ کیا تھا اجازت لیتے وقت ہاں کہا تھا ہماری اصطلاح (ہاں) بمعنی (ہوں) یعنی کلمہ زجر و انکار ہے۔ لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کرا کر جائیدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الی غیر ذلک من فسادات لا تحصے تو ایسی جھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اسے نہ مانے گا کیا مسلمانوں کو زن و مال اللہ و رسول سے زیادہ پیارے ہیں کہ جورو اور جائیداد کے باب میں تاویل نہ سنیں اور اللہ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاک بناوٹیں قبول کرلیں لا الہ الا اللہ مسلمان ہرگز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انھیں اللہ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں ولله الحمد جل جلاله و صلی الله تعالیٰ علیه وسلم خود ان کا رب جل وعلا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دربا جلا چکا ہے فرماتا ہے قل لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم ان سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بے شک تم کافر ہو چکے ایمان کے بعد، والعیاذ بالله رب العلمین.
ثالثا کفر چہارم میں امتی و نبی کا مقابلہ صاف اسی معنی شرعی و عرفی کی تعیین کررہا ہے۔ رابعا کفر اول میں تو کسی چھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں آیت میں قطعا معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ لغوی نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لیے مانا تو قطعا یقیناً بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اللہ و رسول اللہ ہونے کا مدعی اور ولکن رسول الله و خاتم النبیین کا منکر اور باجماع قطعی جمیع امت مرحومہ مرتد و کافر ہوا سچ فرمایا۔ سچے خدا کے سچے رسول سچے خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ نے کہ عنقریب میرے بعد آئیں گے ثلثون دجالون کذابون کلهم یزعم انہ نبی تیس دجال کذاب کہ ہر ایک اپنے کو نبی کہے گا و انا خاتم النبیین لانبی بعدی حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں امنت امنت صلی الله تعالیٰ علیک وسلم اسی لیے فقیر نے عرض کیا تھا کہ مرزا ضرور مثیل مسیح ہے بلکہ مسیح دجال کا کہ ایسے مدعیوں کو یہ لقب خود بارگاہ رسالت سے عطا ہوا ہے والعیاذ بالله رب العلمین.
کفر پنجم ...... (دافع البلاء ص ۱۳ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳) پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے۔
کفر ششم ...... اسی (رسالہ دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰) پر لکھا ہے۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
کفر ہفتم ...... (مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۸ اشتہار معیار الاخیار) میں لکھا ہے میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں یہ ادعا بھی باجماع قطعی کفر و ارتداد یقینی ہیں فقیر نے اپنے فتوے مسمی بہ ردالرفعة میں شفا شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی و ارشاد الساری امام قسطلانی و شرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی و اعلام امام ابن حجر مکی و منح الروض علامہ قاری و طریقہ محمدیہ علامہ برکوی و حدیقہ ندیہ مولی نابلسی و غیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے
کہ باجماع مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد ہے از الجملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے النبی افضل من الولی وهو امر مقطوع به والقائل بخلافہ کافر کانہ معلوم من الشرع بالضرورة یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریات دین سے ہے کفر ہفتم میں اسے ایک لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ (نبیوں) بتقدیم نون نہیں بلکہ (بنیوں) بتقدیم با ہے۔ یعنی بھنگی درکنار کہ خود ان کے تو لال گرو کا بھائی ہوں ان سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں کہ انھوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی کہ بیسیوں کا دین ہی اُڑ گیا۔ مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
کفر ہشتم ...... (ازالہ ص ۳۰۶ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۵۶) پر حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خداوند تعالیٰ بطور احسان فرماتا ہے مسمریزم لکھ کر کہتا ہے اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایک کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اللہ ایک کسبی کرشمے ٹھہرے۔ اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا حق عزوجل فرماتا ہے اذ قال الله یعیسی بن مریم اذکر نعمتی علیک و علی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد و کھلا واذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتورۃ والانجیل و اذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی و تبرئے الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتی باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ھذا الا سحر مبین۔ (المائدہ ۱۱۰) جب فرمایا اللہ سبحانہ نے اے مریم کے بیٹے یاد کر میری نعمتیں اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاک روح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور حکمت اور توریت و انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہو جاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔“ مسمریزم بتایا یا جادو کہا بات ایک ہی ہوئی یعنی الٰہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں ایسے ہی منکروں کے خیال ضلال کو حضرت مسیح کلمۃ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علی نبینا وعلیہ وسلم نے بار بار بتاکید رد فرمایا تھا اپنے معجزات مذکورہ ارشاد کرنے سے پہلے فرمایا انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر (آل عمران ۴۹) میں تمھارے پاس رب کی طرف سے معجزہ لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اور پھونک مار کر اسے جلاتا اور اندھے اور بدن بگڑے کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مردے جلاتا اور جو کچھ گھر سے کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمھیں بتاتا ہوں۔“ اور اس کے بعد فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین (ایضاً) بے شک ان میں تمھارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ پھر مکرر فرمایا جئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا الله واطیعون (آل عمران ۵۰) ”میں تمھارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔“ مگر جو عیسیٰ کے رب کی نہ مانے وہ عیسیٰ کی کیوں ماننے لگا یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں۔
پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفر یہ کہ کراہت اگر اس بنا پر ہے کہ وہ فی نفسہ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہے قال الله تعالى تلک الرسل فضلنا بعضهم على بعض یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اسی فضیلت کے بیان میں ارشاد ہوا ”واتینا عیسی بن مریم البینت وايدنه بروح القدس“ (البقرہ ۲۵۳) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزے دیئے اور جبرئیل سے اس کی تائید فرمائی۔ اور اگر اس بنا پر ہے کہ وہ کام اگر چہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصب اعلیٰ کے لائق نہیں تو یہ وہی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر وارتداد قطعی سے مفر نہیں پھر ان کلماتِ شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علی سیدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا کفر ہے اور ایسی ہی تحقیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفر نہم میں ہے کہ (ازالہ ص ۳۱۰ خزائن ج ۳ ص ۲۵۸) حاشیہ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لکھا بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے۔ انا لله و انا اليه راجعون الا لعنة الله على اعداء انبياء الله و صلى الله تعالى على انبيائه و بارک وسلم ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفا شریف وشروح شفا وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی و روضتہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام ابن حجر مکی و غیرہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ مرسل بھی کیسا مرسل اولوالعزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نور باطن نہ نور باطن بلکہ دینی استقامت نہ دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں نہ کم درجہ بلکہ قریب ناکام رہے۔ اس ملعون قول لعن الله قائله و قابله نے اولوالعزمی و رسالت و نبوت در کنار اس عبداللہ وکلمتہ اللہ و روح اللہ علیہ صلوات اللہ وسلام و تحیات اللہ کے نفسِ ایمان میں کلام کر دیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں کیا ہے سوا اس کے کہ ان الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة واعدلهم عذابا مهينا (الاحزاب ۵۷) بیشک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ نے لعنت کی دنیا و آخرت میں اور ان کے لیے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب۔“
کفر دہم ...... (ازالہ ص ۶۲۹ خزائن ج ۳ ص ۴۳۹) پر لکھتا ہے ایک زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ( یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذاب اپنی بڑھیں ہمیشہ پیشین گوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور غیبات الٰہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشین گوئی غلط پڑنی کچھ شانِ نبوت کے خلاف نہیں۔ معاذ اللہ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ ایں ہم بزعم) ہوئی اور وہ جھوٹے، یہ صراحۃً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب ہے۔ عام اقوام کفار لعنہم اللہ کا کفر حضرت عزت عز جلالہ نے یوں ہی تو بیان فرمایا كذبت قوم نوح المرسلين (الشعراء ۱۰۵) کذبت عادن المرسلين (الشعراء ۱۲۳) كذبت ثمود ن المرسلين (الشعراء ۱۴۱) كذبت قوم لوط ن المرسلين (الشعراء ۱۶۰) كذب اصحب الايكة المرسلين (الشعراء ۱۷۶) ائمہ کرام فرماتے ہیں جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کافر ہے نہ کہ معاذ اللہ چار سو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ وہ ضرور اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے واقع میں جھوٹا ہو جانا (شفا شریف ج ۲ ص ۲۴۵ باب ماھو مقالات کفر) میں ہے من دان بالوحدانية و صحة النبوة و نبوة نبينا ﷺ ولكن جوز على الانبياء الكذب فيما اتوابه ادعى فى ذلك المصلحة بزعمه اولم يدعها فهو كافر باجماع یعنی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبوت کی حقانیت ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو با ایںہمہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر ان کی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔ ظالم نے چار سو کہہ کر گمان کیا کہ اس نے باقی انبیاء کو
تکذیب سے بچا لیا حالانکہ یہی آیتیں جو ابھی تلاوت کی گئی ہیں شہادت دے رہی ہیں کہ اس نے آدم نبی اللہ سے محمد رسول اللہ تک تمام انبیائے کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کو کاذب کہہ دیا کہ ایک رسول کی تکذیب تمام مرسلین کی تکذیب ہے۔ دیکھو قوم نوح و ہود و صالح و لوط وشعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک ہی ایک نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا یوں ہی واللہ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیا و مرسلین کو کذاب مانا فلعن اللہ من کذب احدا من انبیائه و صلی الله تعالى على انبیائه و رسوله والمومنين بهم اجمعين و جعلنا منهم و حشرنا فيهم و ادخلنا معهم دارالنعیم بجاههم عنده و برحمته بهم و رحمتهم بنا انه ارحم الراحمين و الحمد لله رب العلمين
(طبرانی معجم کبیر ج ۲۲ ص ۱۵۳ حدیث نمبر ۴۱۲) میں وجزہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں انی اشهد عدد تراب الدنيا ان مسيلمة کذاب بیشک میں ذرہ ہائے خاک تمام دنیا کی برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ (جس نے زمانہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا) کذاب ہے۔ وانا اشهد معك یارسول الله اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنیٰ کتا بصد دانہائے ریگ و ستار ہائے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سموات والارض وحاملان عرش گواہ ہیں اور خود عرش عظیم کا مالک ہے۔ وکفی بالله شهیدا کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباک کافر مرتد کذاب ناپاک ہے اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واللہ واللہ وہ یقیناً کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر ہے بلکہ اس کی تکفیر میں چون و چرا کریں تو وہ بھی کافر وہ اراکین بھی کفار مرزا کے پیرو اگرچہ خود ان اقوال انجس الابوال کے معتقد نہ بھی ہوں مگر جبکہ صریح کفر و کھلے ارتداد دیکھتے سنتے پھر مرزا کو امام و پیشوا و مقبول خدا کہتے ہیں قطعاً یقیناً سب مرتد ہیں سب مستحق نار (شفا شریف ج ۲ ص ۲۴۷ باب مقالات کفر) میں ہے نكفر من لم يكفر من دان بغير ملة المسلمين من الملل او وقف فيهم او شک یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کو کافر نہ کہے یا اس کی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے (شفا شریف نیز فتاوی بزازیہ و درر و غرر و فتاوی خیریہ و درمختار ج ۳ ص ۲۸۷ باب المرتد و مجمع الانہر و غیرہا) میں ہے من شک فی کفره و عذابه فقد کفر جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے یقیناً خود کافر ہے اور جو شخص باوصف کلمہ گوئی و ادعائے اسلام کفر کرے وہ کافروں کی سب سے بدتر قسم مرتد کے حکم میں ہے ہدایہ و درمختار و عالمگیری و غرر و ملتقی الابحر و مجمع الانہر و غیرہا میں ہے صاحب الهوى ان كان يكفر فهو بمنزلة المرتد فتاوی ظہیریہ و طریقہ محمدیہ و حدیقہ ندیہ و برجندی شرح نقایہ و فتاوی ہندیہ میں ہے هؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام و احکامهم احکام المرتدین یہ لوگ دین اسلام سے خارج ہیں اور ان کے احکام بعینہ مرتدین کے احکام ہیں اور شوہر کے کفر کرتے ہی عورت نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے۔ اب اگر بے اسلام لائے اپنے اس قول و مذہب سے بغیر توبہ کیے یا بعد اسلام و توبہ عورت سے بغیر نکاح جدید کیے اس سے قربت کرے زنائے محض ہو جو اولاد ہو یقیناً ولد الزنا ہو یہ احکام سب ظاہر اور تمام کتب میں دائر و سائر ہیں فی الدر المختار ج ۳ ص ۳۲۸ باب المرتد عن غنیه ذوى الاحکام مایکون کفرا اتفاقا يبطل العمل والنکاح و اولاده اولاد زنا اور عورت کا کل مہر اس کے ذمے عائد ہونے میں بھی شک نہیں جب کہ خلوت صحیحہ ہو چکی ہو کہ ارتداد کسی دین کو ساقط نہیں کرتا فی التنوير وارث كسب اسلامه وارثه المسلم بعد قضاء دين
اسلامه و كسب ردته فيما بعد قضاء دين ردته اور معجل تو فی الحال آپ ہی واجب الادا ہے رہا مؤجل وہ ہنوز اپنی اجل پر رہے گا۔ مگر یہ کہ مرتد بحال ارتداد ہی مرجائے یا دارالحرب کو چلا جائے اور حاکم شرع حکم فرما دے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہو گیا اس وقت موجل بھی فی الحال واجب الادا ہو جائے گا اگرچہ اجل موعود میں دس بیس برس باقی ہوں فی الدر ان حكم القاضى بلحاقه حل دينه في ردالمختار ج ۳ ص ۳۲۹ باب المرتد لانه باللحاق صار من اهل الحرب وهم اموات فى حق احكام الاسلام فصار كالموت الا انه لا يستقر لحاقه الا بالقضاء لاحتمال العود واذا تقرر موته تثبت الاحكام المتعلقة به كما ذكر نهر اولاد صغار ضرور اس کے قبضے سے نکال لی جائے گی حذرا على دينهم الا ترى انهم صرحوا بنزع الولد من الام الشفيقة المسلمة ان كانت فاسقة والولد يعقل يخشى عليه التخلق بسيرها الذميمه فما ظنک بالاب المرتد والعياذ بالله تعالى قال في ردالمختار الفاجرة بمنزلة الكتابية فان يبقى عندها الى ان يعقل الاديان كما سيأتى خوفا عليه من تعلمه منها ماتفعله فكذا الفاجرة الخ وانت تعلم ان الولد لا يحضنه الاب الابعد مابلغ سبعا او تسعا و ذلک عمر العقل قطعا فيحرم الدفع اليه و يجب النزع منه وانما اخرجنا الى هذا ان الملك ليس بيد الاسلام والسلطان ابن يبقے لمرتد حتى يبحث عن حضانته الا ترى الى قولهم لا حضانة لمرتد لانها تضرب و تحبس كل يوم فانى تتفرغ للحضانة فاذا كان هذا في المحبوس فما ظنک بالمقتول ولكن انا لله و انا اليه رجعون ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم مگر ان کے نفس یا مال میں بدعوے ولایت اس کے تصرفات موقوف رہیں گے اگر پھر اسلام لے آیا اور اس مذہب ملعون سے توبہ کی تو وہ تصرف سب صحیح ہو جائیں گے اور اگر مرتد ہی مر گیا یا دارالحرب کو چلا گیا اور حکم لحوق ہو گیا تو باطل ہو جائیں گے۔ فى الدرالمختار ج ۳ ص ۳۳۰ باب المرتد يبطل منه اتفاقا ما يعتمد الملة وهى خمس النكاح والذبيحة والصيد والشهادة والارث و يتوقف منه اتفاقا ما يعتمد المساواة وهو المفاوضة او ولاية متعدية وهو التصرف على ولده الصغير ان اسلم نفد وان هلک او لحق بدار الحرب و حكم بلحاقه بطل اه مختصر اسأل الله الثبات على الايمان و حسبنا الله ونعم الوكيل و عليه التكلان ولاحول ولا قوة الا بالله العلى العظيم و صلى الله تعالى على سيدنا و مولانا و اله و صحبه اجمعين. امين والله تعالى اعلم.
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
دفع الالحاد عن حکم الارتداد
مولانا نور محمد خان
بسم الله الرحمن الرحيم
تصدیق
امام المتقین، آیۃ السالفین، خاتم المحدثین، زبدۃ العارفین، سید المتکلمین حضرت استاذ العلام المولی الہمام الماحی لرسوم الضلال والغوایۃ المجدد لمرام الرشد والہدایۃ الحافظ الحاج مولانا المولوی خلیل احمد اطال الله بقائه و ادام الله ظلاله شارح ابی دائود. الحمد لله و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفےٰ . اما بعد ”دفع الالحاد عن حکم الارتداد“ جس کو عزیزی مولوی حافظ نور محمد خاں سلمہ متعلم مدرسہ مظاہرالعلوم نے لکھا ہے اول سے آخر تک سنا، الحمدللہ صحیح و مستند پایا قتل مرتد کو مضبوط و عمدہ پیرایہ میں بیان کیا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر جماعت مرزائیہ نے اس رسالہ کو انصاف سے دیکھا اور نیز حق تعالیٰ شانہ کی توفیق نے دستگیری فرمائی تو ان کے لیے یہ رسالہ انشاء اللہ تعالیٰ رہنما ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ عزیزم سلمہ کے علم و عمر میں ترقی و زیادتی عطا فرمائیں اور مخالفین کے لیے ذریعہ رہنمائی بنائیں فقط۔ خلیل احمد عفی عنہ
الحمدللہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد و آلہ و صحبه اجمعین.
برادرانِ اسلام! جبکہ دنیا میں شر و فساد کا دریا موجزن، و بغض و عناد کی آگ شعلہ زن اور افواجِ شیطانی کا ہر چہار طرف تسلط اور کھرے کھوٹے کی پہچان اور حق و باطل کا نشان روئے زمین سے مفقود اور اہلِ ہوا کے دخل و فساد کا سکہ تمام عالم میں رائج کہ کوئی مدعی نبوت کوئی الوہیت، کوئی مہدویت کوئی مسیحیت اور ہر ایک اپنے اثباتِ دعویٰ میں دلائل باطلہ و تاویلاتِ لا طائلہ کو بیان کرتا ہے اور اپنی لسانی و شیریں بیانی سے حق کو باطل و باطل کو حق کر دکھاتا ہے بقول شخصے ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اتباع نے اپنے مزعوماتِ باطلہ و خیالات واہیہ کا ہر چہار اطراف و اکناف عالم میں جال پھیلا رکھا ہے اور جو کوئی ان کے ہاں میں ہاں نہ ملائے اور اپنے کو ان کے جال و دام تزویر میں محبوس نہ قرار دیوے اس کو کافر گرداتا ہے سو ایسے پر آشوب زمانے میں کسی قسم کی تحریر و تقریر حقہ و صادقہ کا اظہار کرنا اپنے کو سب و شتم کا نشانہ بنانا ہے لیکن چونکہ بحکم قرآنی و امر آسمانی امر بالمعروف و دعوۃ الی الحق ضروری اور واجب ہے۔ اس لیے میں تمام الفاظ و کلمات غیر مہذبانہ و مودبانہ کے سننے کے لیے تیار ہوں۔
حضرات! اس وقت قابلِ تحریر و اظہار امر یہ ہے کہ حکومت افغانیہ نے جو نعمت اللہ قادیانی کو بجرم احمدیت
از روئے شرع شریف سنگسار کر دیا اور ہندوستان کے تقریباً تمام علماء عظام نے خصوصاً ہمارے اکابر علماء دیوبند یعنی حضرات مدرسہ عالیہ مظاہر علوم سہارنپور اور دارالعلوم دیوبند نے امیر صاحب ایدہ اللہ بنصرہ کے تحسین میں ایک نمایاں حصہ لیا اور حکومت کے اس فعل کو موافق کتاب اللہ وسنت رسول اللہ و مطابق آثار و افعال صحابہ کتب فقہ حنفیہ قرار دیا مگر مولانا ثناء اللہ صاحب جو واقعی اہل اسلام میں ایک امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ وقسام ازل نے آپ کو ان لوگوں کے قلع و قمع و استیصال کے لیے خاص حصہ عطا فرمایا ہے اور سینکڑوں مرتبہ میدان کارزار میں قادیانی امت سے زور آزمائی بھی ہوئی مگر الحمد للہ ہر جگہ شکست فاش دے کر فتحیابی کا سہرا پہنا اور شیر پنجاب کے لقب سے ملقب ہوئے۔ سو آپ کے بھی اس مسئلہ میں قدم پھسل گئے۔ محمد علی لاہوری اور مولانا ثناء اللہ امرتسری دونوں حضرات نے متفقہ طور پر رسالہ و اخبار کی صورت میں اپنے عندیہ کو اعلانیہ ظاہر کر کے اس بات کو بتلا دیا کہ واقعی حکومت کا یہ فعل قابل نفرت اور مخالف کتاب اللہ وسنت رسول اللہ و فقہ حنفیہ و شافعیہ ہے کہ کسی سے قتل مرتد کا ثبوت نہیں ہے۔ افسوس اور واہ رے انقلاب کیا خبر تھی انقلاب آسماں ہو جائے گا۔ مولانا سے ایسی بات کا صادر ہونا خلاف شان و خالی از تعجب نہیں ہے۔ ناظرین کرام ...... میں اس بات کو ظاہر کروں گا کہ حکومت کا یہ فعل بالکل مطابق قرآن و حدیث اور موافق کتب فقہ حنفیہ ہے مگر دو مقدمے قابل لحاظ وتوجہ ہیں۔ اولاً تعریف ارتداد ثانیاً قتل مرتد کہ جس سے یہ امر خود ہی روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا کہ واقعی سلطنت کا یہ فعل قابل تحسین مطابق قرآن، حدیث، فقہ حنفیہ وغیرہ ہے۔ نیز اہل انصاف سے التجا کروں گا کہ آیا مرزا و مرزائی اس کے مصداق ہیں یا نہیں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ مجھ کو مرزائی امت سے کسی قسم کا بغض و عناد دنیوی نہیں تا کہ انھیں کافر و مرتد ثابت کیا جائے بلکہ محض حکم اللہ و شریعت نبوی ببانگ دہل کہتی ہے کہ مرزا و مرزائی کافر و مرتد ہیں۔ (انشاء اللہ آئندہ معلوم ہو جائے گا) اس وجہ سے بامتثال امر شریعت ان کو کافر و مرتد کہا جاتا ہے۔
مقدمہ اولیٰ تعریف ارتداد از کتب فقہ حنفیہ
- (۱)...... درمختار بر حاشیہ شامی باب حکم المرتد ج ۳ ص ۳۰۹ میں لکھتے ہیں۔
وهى لغة الراجع مطلقا و شرعا (الراجع عن دين الاسلام وركنها اجراء كلمة الكفر على اللسان بعد الايمان. (لغت میں مطلق پھر جانے والے کو مرتد کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں جو دین اسلام سے پھر جائے اور ارتداد کا رکن بعد الایمان محض کلمات کفریہ کا زبان پر جاری کرنا ہے۔)
- (۲)...... بدائع الصنائع ص ۱۳۳ ج ۷ فصل بیان احکام المرتدین میں فرماتے ہیں۔
اما ركنها اجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الايمان اذ الردة عبارة عن الرجوع عن الايمان فالرجوع عن الايمان يسمى ردة فى عرف الشرع. بعد ایمان کے کلمات کفریہ کو زبان سے کہنا یہ رکن ارتداد ہے کیونکہ ارتداد کے معنی ایمان سے رجوع کرنا ہے۔ اس لیے اصطلاح شرع میں رجوع عن الایمان کا نام ارتداد ہے۔)
- (۳)...... علامہ ابن نجیمؒ بحرالرائق باب حکم المرتد ج ۵ ص ۱۱۹ میں فرماتے ہیں۔
المرتد فى اللغة الراجع مطلقا و فى الشريعة الراجع عن دين الاسلام. (لغت میں مطلق پھرنے والے کا نام مرتد ہے اور اصطلاح شرع میں جو شخص دین اسلام سے پھر جائے۔)
- (۴)...... فتاویٰ عالمگیریہ باب فی احکام المرتدین ج ۲ ص ۲۵۳ میں فرماتے ہیں۔
المرتد عرفا هو الراجع عن دين الاسلام كذافى النهر الفائق وركن الرده اجراء كلمة الكفر على اللسان بعد و جود الايمان. (جو شخص دین اسلام سے پھر جائے وہ عرف میں مرتد ہے ایسا ہی نہر الفائق میں ہے۔ اور رکن ارتداد ایمان کے بعد کلمات کفریہ کو زبان سے کہنا ہے۔)
- (۵)...... علامہ ابن الہمام فتح القدیر باب حکم المرتد ص ۲۷۰ ج ۵ میں تحریر کرتے ہیں۔
المرتد هو الراجع عن دين الاسلام. (جو شخص دین اسلام سے پھر جائے وہ مرتد ہے۔)
حضرات! ان تمام تعریفات فقہاء سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ ایمان لانے کے بعد محض کلمات کفریہ کا زبان سے کہنا یہ دلیل و رکن عظیم ارتداد ہے جیسا کہ صاحب بدائع وغیرہ نے فرمایا ہے اور دیگر حضرات بھی الراجع عن دین الاسلام سے تعریف باللازم فرما کر صاحب بدائع کی رائے سے متفق ہیں۔ اب جن حضرات نے تعریف ارتداد میں تکذیب اسلام یا تکذیب رسول ہی کو دخل دیا ہے وہ بتامل سرنگوں ہو کر توجہ فرمائیں کہ وہ کس قدر غلطی و کجروی پر ہیں ورنہ اثبات دعویٰ بذمہ مدعی اور بغیر اس کے غلطی و نا انصافی ہے۔
بعد ازاں میں اس امر کو روشن کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی بروئے تعریفات ارتداد فقہا وعلماء مرتد ہوا اور اس کے اتباع بدرجہ اولیٰ۔ ملاحظہ ہو۔
اولاً مرزا کا ادعائے نبوت و رسالت کرنا یہ خود ہی اثبات کفر و ردّۃ مرزا کے لیے دلیل بین واجلی بدیہیات سے ہے کہ جس پر تفصیلی روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص عوام و خواص کو یہ بات معلوم ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد سلسلہ انبیاء ختم ہو چکا۔ اب کسی قسم کے نبی کی ضرورت نہیں ہے اور نیز اس امر پر قرآن شریف و احادیث و اجماع و آثار صحابہ و قیاس صحیح صراحتاً دال ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ومتمم الانبیاء ہیں مگر قادیانی مرزا آیاتِ قرآنیہ و احادیث صریحہ و اجماع امت کے خلاف نبوت و رسالت کا آوازہ بلند کرتا ہے اور طرح طرح کے دلائل سخیفہ و تاویلات رکیکہ سے اپنے اثبات مدعا میں ایڑی و چوٹی کی قوت صرف کر دیتا ہے چنانچہ میں چند اقوال و ہفوات مرزا بابتہ دعویٰ نبوت و رسالت نقل کرتا ہوں۔
اقوال مرزا بابتہ دعویٰ نبوت ورسالت
- (۱)...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷)
- (۲)...... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۹۷)
- (۳)...... ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا
جائے اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی لغت کی کسی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ۵ خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۹)
صاحبو! لاہوری پارٹی جو مدعی محدثیت و مجددیت مرزا ہے اس کو چاہیے کہ وہ مرزا کی اس لغت دانی و حجتیاں پر غور کرے اور اپنے اعتقادات فاسدہ سے رجوع کے لیے تیار ہو جائے ورنہ مدعی سست گواہ چست کی مصداق ہے۔
بعض جگہ مرزا نہایت دبی زبان سے اقرار نبوت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ”خدا نے مجھے تمام انبیائے علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحق ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف
ہوں ۔ میں موسیٰ ہوں ۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں۔ اور آنحضرت ﷺ کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔"
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ۷۳ خزائن ج ۲۲ ص ۷۶)
دیکھئے ! مرزا قادیانی کیسا ظلی کے آڑ و پردہ میں شکار کھیلتا ہے کہ جمیع انبیائے علیہم السلام کا عین ہو گیا۔ چہ خوش ع من خوب مے شناسم پیران پارسا مزاج ے
من انداز قدت را می شناسم
مرزا دوسری جگہ لکھتا ہے کہ "سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔"
(دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
اور اسی رسالہ میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ "قادیان اس واسطے محفوظ رہے گا (یعنی طاعون سے) کہ یہ رسول کی تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔"
(دافع البلاء ص ۱۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰)
بعض جگہ مرزا نزول وحی کی آڑ میں نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اس وجہ سے کہ جیسا حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح سے خاتم الوحی بھی ہیں اب اگر کوئی نزول وحی کا دعویٰ کرے گا تو بعینہ دعویٰ نبوت ہوگا۔ چنانچہ قادیانی نبی نزول وحی کا دعویٰ بایں الفاظ کرتا ہے ؎
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہش دانم
از خطایا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
لہٰذا مدعی نبوت بھی ہوا اور اس کے جس قدر الہامات ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی رجماً بالغیب صحیح و درست ہوں گے۔ ورنہ سب کے سب کذب و غلط سے مختلط کہ جس کی مثال قرآن کریم سے دیتا ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔
دوسری تحریر مرزا "یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لیے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا وہ قطعی اور یقینی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ آفتاب اور اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں شک نہیں کر سکتا جو خدا کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ...... اور چونکہ میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لیے خدا نے میرے نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت۔
(تجلیات الہیہ ص ۲۰ خزائن ج ۲۰ ص ۴۱۲)
ناظرین! یہ بالکل سفید جھوٹ ہے کہ میں نبی غیر تشریعی ہوں کیونکہ بعض جگہ خود ہی اقرار کرتا ہے کہ میں صاحب شریعت ہوں۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ "اگر کہو کہ صاحب شریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل یہ دعویٰ بے دلیل ہے خدا نے اس افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں
امر بھی ہے اور نہی بھی مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و یحفظوا فروجهم ذلک ازکی لہم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں بالاستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں بالاستیفائے احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“
(اربعین ص ۶ نمبر ۴ خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵، ۴۳۶)
حضرات! کیا اس کے بعد اس کو اگر کذاب، دغاباز، مکار، جعلساز کہا جائے تو کوئی بیجا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یہاں تک مرزا قادیانی کے اقوال بابت دعویٰ نبوت و رسالت ونزول وحی آپ حضرات کے سامنے پیش کیے گئے کہ جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ واقعی مرزا مدعی نبوت تھا۔ بعدازاں یہ امر قابل دید ہے کہ شریعت نبوی اس کے متعلق کیا فیصلہ کرتی ہے اور ایسے شخص کے لیے کیا لقب تجویز فرماتی ہے؟ سو سنئے مختصراً عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم اس کے متعلق ناطق فیصلہ کر چکا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین و قصر نبوت کی آخری اینٹ تھے۔ آپ ﷺ کے بعد دروازہ نبوت بند ہو گیا اب کسی قسم کے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس امر کے متعلق اکابر علماء کے اقوال بطور شہادت نقل کرتا ہوں۔
- (۱)...... علامہ قاضی عیاض (الشفاء باب فی بیان ما ہی من المقالات کفر ج ۲ ص ۲۳۷) میں تحریر فرماتے ہیں۔
لانه اخبر ﷺ انه خاتم النبيين ولا نبى بعده و اخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين و اجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره و ان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعا سمعا. ”کیونکہ یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور اس بات پر اجماع امت ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہری معنے پر محمول ہے۔ اور اس کا ظاہری مفہوم بلا تاویل وتخصیص مراد ہے پس یقیناً یہ تمام جماعت اجماعاً وشرعاً کافر ہے۔“
- (۲)...... علامہ ابن نجیمؒ (بحرالرائق باب احکام المرتدین ج ۵ ص ۱۲۱) میں لکھتے ہیں۔
ويكفر بقوله ان كان ماقال الانبياء حقا او صدقا و بقوله انا رسول الله. ”انسان اپنے اس قول سے کہ جو کچھ انبیاء علیہم السلام نے فرمایا ہے حق وصادق نہیں اور میں رسول اللہ ہوں کافر ہو جاتا ہے۔“
- (۳)...... (الاشباه والنظائر باب کتاب السیر ص ۱۰۲) میں فرماتے ہیں۔
اذا لم يعرف ان محمدا ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من الضروريات. ”جبکہ کسی شخص نے اس بات کو نہیں جانا کہ محمد ﷺ آخر الانبياء ہیں تو وہ مسلمان نہیں اس وجہ سے کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔“
- (۴)...... فتاویٰ عالمگیریہ ص ۲۶۳ باب مطلب موجبات الکفر میں تحریر فرماتے ہیں۔
اذا لم يعرف الرجل ان محمدا ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم ولو قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پیغمبرم يريد به من پیغام می برم یکفر. ”جبکہ کسی شخص نے اس بات کو نہیں معلوم کیا
کہ حضور ﷺ آخر الانبیاء ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ہوں یا زبان فارسی میں یوں کہا کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد اس کی یہ تھی کہ میں پیغام لے جاتا ہوں تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔“
- (۵)...... علامہ ملا علی القاری (شرح فقہ اکبر باب المسئلة الحاصلة بالکفر ص ۲۰۲) میں تحریر کرتے ہیں۔
ودعوى النبوة بعد نبينا ﷺ كفر بالاجماع. ”نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر ہے۔“
- (۶)...... علامہ سید محمود آلوسی (تفسیر روح المعانی ج ۲۲ ص ۳۹) میں فرماتے ہیں۔
وكونه خاتم النبيين ﷺ مما نطقت به الكتب و صدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه و يقتل ان اصر ”نبی ﷺ کا خاتم النبیین ہونا کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور اس پر اجماع امت ہے لہٰذا اس کے خلاف کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اگر اس پر جما رہا تو قتل کیا جائے گا۔“
- (۷)...... کتاب ملل ونحل میں امام ابن حزم لکھتے ہیں۔
فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبيا في الارض (الملل والنحل باب ذكر شنع الشيعة ج ۳ ص ۱۱۴) ”کوئی مسلمان اس امر کو کیونکر جائز کہہ سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی نبی کو زمین پر ثابت کرے۔“
- (۸)...... علامہ ابن حجر المکی اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیں:
من اعتقد وحيًا بعد نبينا ﷺ كفر باجماع المسلمين. ”جو شخص نبی ﷺ کے بعد نزول وحی کا اعتقاد رکھتا ہے وہ اجماعاً کافر ہے۔“
- (۹)...... قال ابن عبدالحكم فى المبسوط من تنبأ قتل. ”مبسوط میں ابن الحکم نے فرمایا ہے کہ جو شخص دعویٰ
نبوت کرے وہ قتل کیا جائے۔“
- (۱۰)...... قال ابن القاسم فى كتاب ابن حبيب و محمد فى العتبية فيمن تنباء يستتاب اسر ذلک
او اعلنه وهو كالمرتد (الشفاء فصل هذا حكم من صرح بسبہ ج ۲ ص ۲۵۸) ”ابن قاسم کتاب ابن حبیب میں محمد عتبیہ میں فرماتے ہیں کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے خواہ ظاہر ہو یا باطناً اس سے توبہ طلب کی جائے اور اس کا حکم مرتد جیسا ہے۔“
تلک عشرة كاملة صاحبو! ان تمام حوالہ جات مذکورہ بالا سے یہ امر معلوم ہو گیا کہ جو شخص مدعی نبوت ونزول وحی کا ہوگا وہ کافر شمار کیا جائے گا اور بر تقدیر اصرار قابل قتل ہے۔ جیسا سید صاحب وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ بعدازاں کفر و ارتداد مرزا و مرزائی میں بنا بر تعریف فقہاء کیا کسی کو شک و شبہ باقی ہے؟ ہرگز نہیں! بیشک وہ کافر و مرتد ہے۔
اب اس جگہ سے چند تحریرات مزید اور پیش کرتا ہوں کہ جن میں مرزا قادیانی نے اعلاناً انبیائے علیہم السلام کی توہین و تذلیل کی ہے اور خود سب سے افضل بن بیٹھا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں ایسے دل آزار کلمات لکھتا ہے کہ اس کے اظہار سے بدن میں رعشہ پڑ جاتا ہے کہ جس پاک طینت نبی کے احوال قدسیہ سے قرآن واحادیث مملو ہیں ان کے متعلق ایسی بے باکانہ گستاخی کرنا مرزا ہی کی جرأت و جسارت اس کو مقتضی ہے۔ سچ ہے ۔
سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے
ہفوات مرزا بابتہ اہانت حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- (۱)...... آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں
جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
العیاذ باللہ ولعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
- (۲)...... ایسے ناپاک خیال متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ
اسے نبی کہا جائے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۹ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۳)
مریم کا بیٹا کھلم کھلا کسی سے زیادت نہیں رکھتا۔
(انجام آتھم ص ۴۱ خزائن ج ۱۱ ص ۴۱)
- (۳)...... اس کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔ جس کی وجہ سے خدا سے منکر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
- (۴)...... حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی
کرتے رہے۔
(ازالہ اوہام ص ۳۰۳ خزائن ج ۳ ص ۲۵۳)
- (۵)...... مسیح کے حالات پڑھو تو یہ شخص اس لائق نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔
(الحکم ۲۱ فروری ۱۹۰۲)
- (۶)...... یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ
مچ کا جانور بنا دیتا تھا بلکہ عمل تراب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایسی مٹی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔
(ازالہ اوہام ص ۳۲۳ حاشیہ خزائن ج ۳ ص ۲۶۳)
(اجی مرزا صاحب یہ لفظ حضرت کیسا بڑی توقیر و عزت افزائی آپ نے فرمائی۔ جفائیں ہم پہ کیں اتنی مہربانی کی حالت میں خدا جانے اگر تم خشمگین ہوتے تو کیا کرتے۔ کیوں مرزا جی چونکہ باری تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا ہے انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ الخ (آل عمران ۴۹) غالباً اسی وجہ سے تو یہ اعتقاد مشرکانہ ہے۔ ناظرین کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کا آیات قرآنیہ پر ایمان تھا اور احمدی دوستو تمہارا ایمان آیات مذکورہ پر تو بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا جی کے نزدیک آیات قرآنیہ پر ایمان لانا اعتقاد مشرکانہ ہے۔ ایسا نہیں بلکہ قادیانو تمہیں معلوم ہوگا حشر میں پینا شراب کا)
- (۷)...... مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ کے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک
فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے عطر اس کے سر پر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔
(دافع البلاء ص ۴ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)
بعض کتابوں و تحریرات میں پنجابی نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہایت غصہ سے بایں الفاظ دھمکایا ہے۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ۲۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
حضرات...... آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ ایک ایسے برگزیدہ سچے نبی اور ان کے معجزات کی کس قدر توہین وتذلیل کی ہے کہ ایک ادنیٰ مسلم اس بات پر تیار نہیں ہوسکتا اور کیونکر ہو جبکہ قرآن شریف صراحتاً آپ کے نبوت و معجزات مقدسہ کا شاہد ہے۔ اس سے کس کو انحراف ہوسکتا ہے۔ چنانچہ باری تعالیٰ فرماتے ہیں۔
- (۱)...... وآتینا عیسیٰ بن مریم البینات وایدناہ بروح القدس.
(البقرہ ۸۷)
- (۲)...... واذ قالت الملائکۃ یامریم ان اللّٰہ یبشرک.
(ال عمران ۴۵)
- (۳)...... انما المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللّٰہ.
(نساء)
- (۴)...... ما المسیح ابن مریم الا رسول.
(مائدہ ۷۵)
ناظرین! آیات مذکورہ کا بتمامہ قرآن شریف میں مطالعہ فرما کر مرزا کو کافر و مرتد سمجھئے کیونکہ مرزا کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے معجزات کی توہین و تنقیص کرنا بعینہ قرآن کریم کا انکار وصراحتاً تکذیب وکفر و ارتداد کی دلیل بین ہے بایں وجہ مرزا و مرزائی امت کافر و مرتد ہیں۔
برادران امت۔ اقوال علمائے کرام بطور نمونہ مندرج ذیل کیے جاتے ہیں کہ جس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ جس نے انبیاء علیہم السلام کی توہین و تذلیل کی وہ کافر و مرتد اور قابل قتل ہے علیٰ ہٰذا القیاس! مرزا و اصحاب مرزا بھی کافر اور مرتد ہیں۔
اقوال علماء کرام بابت اہانت انبیاء علیہم السلام
- (۱)...... قاضی عیاض شفاء فصل من سب سائر الانبیاء ج۲ ص ۲۲۱ میں فرماتے ہیں۔
قال مالک فی کتاب ابن حبیب و محمد وقالہ ابن القاسم و ابن عبدالحکیم و اصبغ و سحنون فیمن شتم الانبیاء او واحداً منھم او تنقصہ قتل ولم یستتب من سابھم من اھل الذمۃ قتل الا ان یسلم. ابن حبیب و محمد کی کتاب میں امام مالک نے فرمایا ہے اور یہی رائے ابن القاسم اور ابن عبدالحکیم اور اصبغ اور سحنون کی ہے اس شخص کے بارے میں کہ جس نے تمام انبیاء علیہم السلام یا ان میں سے کسی ایک کو گالیاں دی یا توہین کی تو وہ بلاطلب توبہ قتل کیا جائے اور اگر ذمیوں میں سے کسی نے انبیاء علیہم السلام کو گالی دی ہے تو وہ بھی قتل کیا جائے مگر جب اسلام قبول کر لے تو قتل نہ کیا جائے گا۔
- (۲)...... وقال ابوحنیفۃ و اصحابہ علی اصلھم من کذب باحد من الانبیاء او تنقص احداً منھم او
بری منہ او شک فی شی من ذلک فھو مرتد.
(الشفاء باب حکم من سب سائر الانبیاء ج۲ ص ۲۶۲)
امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے اپنے قاعدہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس شخص نے کسی نبی کی نبیوں سے تکذیب یا توہین کی یا ان سے بیزار ہوا یا ان چیزوں میں سے کسی میں شک کیا تو وہ مرتد ہے۔
- (۳)...... وقال بعض علمائنا اجمع العلماء علی ان من دعا علی نبی من الانبیاء بالویل او شی من
المکروہ فانہ یقتل بلا استتابۃ. (الشفاء باب فی بیان ماھوفی حقہ ﷺ ج۲ ص۱۹۱) ہمارے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص نبیوں میں سے کسی نبی پر ویل یا کسی کلمہ مکروہ سے بددعا کرے تو وہ بغیر طلب توبہ قتل کیا جائے۔
- (۴)...... قاضی صاحب کتاب مذکور (الشفاء باب فی بیان ماھوفی حقہ ﷺ ج۲ ص۱۹۲) میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ نقل
فرماتے ہیں جو قابل دید ہے۔
افتى فقهاء القيروان واصحاب سحنون بقتل ابراهيم الفزاري وكان شاعرا متفننا في كثير من العلوم وكان ممن يحضر مجلس القاضي ابى العباس بن طالب للمناظرة فرفعت عليه امور منكرة من هذا الباب فى الاستهزاء بالله وانبيائه ونبينا عليه الصلوة والسلام فاحضر له القاضى يحيى ابن عمر وغيره من الفقهاء و امر بقتله وصلبه فطعن بالسكين و صلب منكساً ثم انزل واحرق بالنار. فقہائے قیروان اور اصحاب سحنون نے ابراہیم فزاری کے قتل کا فتویٰ دیا اور یہ شخص ایک زبردست شاعر اور ماہر علوم تھا۔ عموماً قاضی ابوالعباس کی مجلس مناظرہ میں آتا تھا۔ اس سے چند ناجائز امور مثلاً ذات باری تعالیٰ اور انبیاء علیہم السلام اور جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمسخر کرنا ثابت ہوا۔ قاضی موصوف نے یحییٰ بن عمر و دیگر فقہائے کرام کو اس کے لیے مدعو فرما کر اس کے قتل اور سولی کا حکم نافذ کیا چنانچہ وہ چھریوں سے زخمی کیا گیا اور سولی پر اُلٹا لٹکایا گیا اور پھر اتار کر آگ میں جلا دیا گیا۔
- (۵)...... عقود الدریہ فی تنقیح فتاویٰ حامدیہ ص ۱۷۱ میں فتاویٰ بزازیہ سے نقل فرماتے ہیں۔
الا اذا سب الرسول ﷺ او واحد من الانبياء عليهم السلام فانه يقتل حداً بلا توبة له. مگر جبکہ رسول اللہ ﷺ یا نبیوں میں کسی نبی کو گالیاں دی تو وہ ازروئے حد بغیر توبہ قتل کر دیا جائے۔
اور اسی کتاب کے صفحہ مذکور میں ایک حدیث مندرج ہے جس کو قاضی صاحب نے بھی اپنی کتاب شفاء میں نقل فرمایا ہے۔
وروى عبدالله بن موسى بن جعفر عن ابيه عن جده عن محمد بن على بن الحسين و عن حسين بن على عن ابيه قال من سب نبياً فاقتلوه ومن سب اصحابى فاضربوه. (الشفاء باب فى الحد فى ایجاب قتل ج ۲ ص ۱۹۴) ”حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کسی نبی کو گالی دی تو اس کو قتل کر دو اور جس نے صحابہ کو برا بھلا کہا اس کو مارو۔“
- (۶)...... قاضی عیاض شفاء میں تحریر فرماتے ہیں۔
وفى كتاب محمد اخبرنا اصحاب مالک انه قال من سبّ رسول الله او غيره من النبيين من مسلم او كافر قتل ولم يستتب. (الشفاء فصل ھذا حکم المسلم ج ۲ ص ۲۳۱) کتاب امام محمد میں ہے کہ اصحاب مالک نے ہم کو خبر دی ہے کہ امام صاحب نے فرمایا کہ جس نے نبی ﷺ یا ماسوا آپ کے کسی اور نبی کو گالی دی چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر قتل کر دیا جائے اور توبہ نہ پیش کی جائے۔
- (۷)...... ملا علی القاری میں فرماتے ہیں۔
وايضا فلا خلاف بين المسلمين ان الرجل لو اظهر انكار الواجبات الظاهرة المتواترة المحرمات الظاهرة المتواترة فانه يستتاب فان تاب فبها والا قتل كافراً مرتداً. (شرح فقه اكبر باب المسئلة المتعلقة بالكفر ص ۲۰۰) اس میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص نے واجبات ظاہرہ متواترہ اور محرمات ظاہرہ متواترہ کا انکار کیا تو اس سے توبہ طلب کی جائے اگر تائب ہوا تو بہتر ورنہ مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے۔
- (۸)...... شفاء قاضی عیاض میں ہے۔
او قال انه لم يبلغ او استخف به او بواحد من الانبياء ازرى عليهم او اذاهم الى آخره فهو كافر باجماع. (الشفاء باب فى بيان ماھو من المقالات كفر ج ۲ ص ۲۳۶) یا کسی شخص نے یہ کہا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تبلیغ احکام
نہیں فرمائی یا آپ کو یا نبیوں میں سے کسی نبی کو خفیف و حقیر سمجھا یا عیب لگایا اور تکلیف دی تو وہ اجماعاً کافر ہے۔
- (۹)...... وكذلک من اعترف بالالهية والوحدانية ولكن جحد النبوة من اصلها عموماً او نبوة نبينا
خصوصاً او احدا من الانبياء الذين نص الله عزوجل عليهم بعينه كذالك فهو كافر (صفحہ مذکور الشفاء باب فی بیان ماھو من المقالات کفر ج ۲ ص ۲۴۵) ”اسی طرح جو شخص الوہیت اور وحدانیت کا معترف ہو مگر نبوت کا بالکل انکار کرتا ہو یا صرف جناب رسول اللہ ﷺ یا کسی ایسے نبی کی نبوت کو جانتے ہوئے جن کی نبوت کی خدا تعالیٰ نے تصریح فرما دی۔ انکار کرتا ہو تو وہ کافر ہے۔“
- (۱۰)...... وكذلک من دان بالوحدانية وصحة النبوة ونبوة نبينا ولكن جوز على الانبياء الكذب
فيما اتوا به فهو كافر بالاجماع.
(صفحہ مذکور الشفاء باب فی بیان ماھو من المقالات کفر ج ۲ ص ۲۴۵)
ایسے ہی وہ شخص جو وحدانیت اور نبوت اور جناب رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا مقر ہو مگر جو کچھ انبیاء علیہم السلام لائے ہیں اس میں ان کے کذب کو جائز رکھتا ہے تو وہ بالا جماع کافر ہے۔
تلک عشرة کامله (ملاحظہ ہو گزشتہ صفحہ ہفوات مرزا نمبر ۵۲ کہ منکر نبوت عیسیٰ ؑ ہے کسی شخص کو اس وقت بھی اس کے کفر و ارتداد میں شک ہو سکتا ہے۔ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں رسوا۔ اور یہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔ مرزا حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق کہتا ہے۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔
(نعوذ باللہ من ذلک.)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
حضرات ! کیا مرزا قادیانی نے عیسیٰ ؑ کو گالیاں نہیں دیں اور جھوٹا و فریب اور زنا کار و مکار نہیں بنایا اور کیا آپ کی عظمت و عصمت پر خاک نہیں ڈالی اور ظاہراً و اعلاناً آپ کی بے عزتی و بے وقعتی نہیں کی اور کیا آپ کی نبوت و معجزات سے انکار صریح کر کے مسمریزم و شعبدہ و کھلونا نہیں قرار دیا۔ بیشک، ضرور بالضرور اس نے ایسی گستاخی حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں کی ہے لہٰذا وہ مذکورہ بالا حوالجات کی رو سے کافر و مرتد قابل گردن زنی و لائق صلیب نہیں تھا؟ ضرور تھا۔ اسی وجہ سے مرزائی امت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی اس وعید و سزا کی بدرجہ اولیٰ مستحق ہے بایں وجہ حکومت افغانیہ کا یہ فعل قابل ملامت نہیں بلکہ عین حکم شرعی ہے۔
مقدمہ ثانیہ قرآن کریم سے قتل مرتد کا ثبوت
اب میں اس طرف آتا ہوں کہ آیا قرآن میں قتل مرتد کا ثبوت ہے یا نہیں۔ سو قرآن کریم اس کے متعلق ناطق فیصلہ کر چکا ہے کہ ان کو قتل کرنا چاہیے ملاحظہ ہو واقعہ گوسالہ سامری کہ جب بنی اسرائیلوں کو حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کے مظالم و مصائب سے رستگاری دی اور ایک مطمئن جگہ میں آ ٹھہرے۔ اس وقت بنی اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کی کہ اب اگر ہمارے لیے کوئی شریعت و قانون مقرر ہو جائے تو اس کو ہم اپنا مدار کار بناویں اس وجہ سے حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون کو ایک مدت معینہ کے لیے اپنا خلیفہ بنا کر کوہ طور پر تشریف لے گئے اور چالیس روز کی عبادت و مناجات کے بعد اسی جگہ آپ کو توریت عطا کی گئی اور اس طرف سامری نے سونے و چاندی کے ایک بچھڑے کا قالب بنا کر اس میں کچھ مٹی جو حضرت جبرئیل ؑ کے گھوڑے کے قدم کی اس کے پاس تھی ڈال دی جس کی وجہ سے اس میں جان آ گئی اور کچھ بولنے لگا اور جہلائے بنی اسرائیل نے اس کی پرستش شروع کر دی جب حضرت موسیٰ ؑ واپس آئے۔ تو قوم کو مرتد پا کر نہایت غصہ سے حضرت ہارون کو ڈانٹا اور قوم کو ملامت کی اور اس بچھڑے کو جلا کر نیست و نابود کر دیا۔
بعد ازاں ان مرتدین کے متعلق فیصلہ یزدانی نازل ہوا۔
انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم ذلکم خیر لکم
(البقرۃ ص ۵۴) ”اے بنی اسرائیل تم لوگوں نے گوسالہ کو اپنا معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اب باری تعالیٰ کی جانب رجوع کرو۔ پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو اور یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جو لوگ مرتد نہیں ہوئے تھے انھوں نے اپنے عزیز و اقارب کو جو مرتد تھے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔
حضرات! فیصلہ قرآنی سے یہ بات روشن ہو گئی کہ جو شخص مرتد ہو اور اسلام کو ترک کر دے اس کو محض بجرم ارتداد ترک اسلام قتل کرنا چاہیے جیسا کہ اصحاب عجل کو محض ارتداد ہی کی وجہ سے باری تعالیٰ نے قتل کا حکم فرمایا اور لفظ قتل عام سے جو ہر قسم کے قتل کو چاہے وہ لوہے سے ہو یا پتھر سے یا اور کسی چیز سے سب کو شامل ہے۔ (انشاء اللہ آئندہ اس کی دلیل تفصیلی آئے گی) لہٰذا جو لوگ اس امر کے قائل ہیں کہ شریعت میں محض ارتداد و ترک اسلام پر قتل یا مطلق سزا مرتب نہیں ہے وہ ذرا اس مسئلہ پر مرۃ بعد مرۃ غور فرمائیں اگر یوں کہا جائے کہ یہ واقعہ حکم شریعت موسوی ہے۔ لہٰذا امۃ محمدیہ کو اس سے استدلال کرنا ناجائز ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ حکم شریعت موسوی ہے مگر چونکہ ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی نفی نہیں فرمائی بلکہ تائید کی ہے اس وجہ سے یہ استدلال صحیح اور معتبر ہے۔
ثبوت قتل مرتد سنت رسول اللہ ﷺ سے
(۱)...... من بدل دينہ فاقتلوه (بخاری باب حکم المرتد ج ۲ ص ۱۰۳۳ ) جو اپنا دین بدل دے اس کو قتل کر دو۔
برادران اسلام! حدیث مذکور کس وضاحت سے قتل مرتد کو ثابت کر رہی ہے کہ جس میں بالکل تاویل و تخصیص کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ بدرالحد ثین عینی شرح بخاری ج ۷ ص ۵۵ و ۵۶ میں فرماتے ہیں۔
لهذا يدل على ان كل من بدل دينہ فاقتلوه ولا يحرق بالنار واحتج ابن الماجشون ان المرتد يقتل بلا استتابة. یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو اپنا دین بدل دے اس کو قتل کرو اور جلاؤ مت۔ اور ابن الماجشون اس سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مرتد بلا طلب توبہ قتل کیا جائے۔
امام ترمذی اپنی کتاب ترمذی باب حکم المرتد ج ۱ ص ۲۷۰ میں لکھتے ہیں۔
والعمل على هذا عند اهل العلم فی المرتد. اہل علم کا عملدرآمد قتل مرتد پر ہے۔
(۲)...... لايحل دم امرء مسلم يشهدان اله الا الله وانى رسول الله الا باحدى ثلاث. النفس بالنفس والثيب الزانى والتارك الدينہ المفاراق للجماعة. (لفظہ مسلم باب مایباح بہ دم المسلم ج ۲ ص ۵۹۔ بخاری باب قول اللہ تعالیٰ ان النفس بالنفس ج ۲ ص ۱۰۱۶) کسی مسلمان کا خون کرنا روا نہیں ہے مگر تین وجہوں میں سے ایک وجہ سے (۱)...... کسی بیگناہ کا قاتل (۲)...... شادی شدہ زانی کہ جسے پتھراؤ کیا جائے (۳)...... دین اسلام کا چھوڑنے والا اور جماعت مسلمین سے اعتقاداً علیحدہ رہنے والا۔
حضرات! قابل غور یہ تیسرا جز ہے کہ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اسلام کو بایں صورت چھوڑ دے کہ ایک جماعت مسلمین کے اعتقاد و اقوال و افعال سے جدا ہو کر کوئی دوسرا طریقہ اور رویہ اختیار کر لے خواہ وہ جماعت کفار کے ساتھ شرکت و حمایت کرے یا نہ کرے بہر صورت ایسے شخص کو قتل کرنا چاہیے کیونکہ محض
ارتداد و ترک اسلام موجب قتل و مبیح دم مسلم ہے اسی وجہ سے امام مالکؒ و دیگر ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ قدریہ و خوارج و تمام اہل بدعت وغیرہ جو ایک جماعت حقہ کے اعتقادات و خیالات کے مخالف ہیں ان تمام کو قتل کر دو کیونکہ یہ مفسد دین اسلام ہیں۔ مگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں کہ اس میں حضور ﷺ نے دو لفظ فرمائے ہیں دین اسلام چھوڑنے والا اور جماعت سے مراد اسلامی قوم سے یعنی مسلم قوم کو چھوڑ کر کفار کی حمایت کرنے والا جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ان دو جزوؤں کے مجموعہ پر سزا مرتب ہے نہ کہ صرف ایک پر اور ان دو کا مجموعہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے نکل کر کفار کی جماعت میں مل جائے۔‘ (ملاحظہ ہو شفا قاضی عیاض ص ۳۵۵، ۳۵۶ و ۳۵۷)
آگے لکھتے ہیں۔ اس لیے ایسے اشخاص جو اسلام چھوڑ کر کفار میں جائیں گے وہ ضرور حربی ہوں گے۔ لہٰذا ان کا حکم ان حربیوں کے برابر قرار دیا ورنہ محض ترک اسلام سے ان پر موت یا قتل کا حکم نہیں لگایا۔ انتہی
(اخبار اہلحدیث امرتسر مجریہ ۳ ربیع الاول ۱۳۴۳)
مولانا کی اس انوکھی رائے سے غالباً ماسوا قادیانی امت کے سلف و خلف میں کوئی متفق نہ ہوگا کیونکہ اکابر علما سلف و خلف کی رائے یہ ہے کہ جملہ ثانیہ المفارق للجماعة جملہ اولیٰ التارک لدینہ کی تاکید و بیان ہے نہ یہ کہ دونوں مستقل جزء ہیں بلکہ التارک لدینہ کی (المفارق للجماعت) سے بیان کیفیت بایں صورت مدنظر ہے کہ ایک جماعت حقہ و طائفہ صادقہ کے اعتقادات و خیالات و اقوال و افعال کے خلاف آوازہ بلند کرنا و پروپیگنڈا پھیلانا کہ جس سے عوام میں ہیجان و خلجان پڑ جائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اجماع امت و روشن سلف کے خلاف مدعی نبوت و منکر رسالت و نزول عیسیٰ ؑ پیدا ہوا بایں وجہ اصحاب مرزا و مرزا دونوں مستحق قتل و سزا ہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔
وتفترق أمتي على ثلث و سبعين (کنز العمال ج۱ حدیث نمبر ۱۰۵۷) میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے۔
ظاہر ہے کہ ان سے مراد افتراق اعتقادی و قولی وغیرہ ہے نہ شرکت و حمایت کفار چنانچہ صاحب لمعات بر حاشیہ مشکوٰۃ ص ۲۵۲ میں لکھتے ہیں۔
التارك للجماعة بيان له . التارک للجماعۃ جملہ اولیٰ کا بیان ہے۔
اور ملا علی قاریؒ صاحب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص ۳ ج ۴ میں تحریر فرماتے ہیں۔
التارك للجماعة صفة مؤكدة للمارق اى الذى ترك جماعة المسلمين و خرج من جملتهم وانفرد عن امرهم بالردة التى هى قطع الاسلام قولاً او فعلاً او اعتقاداً فيجب قتله ان لم يتب . التارک للجماعۃ مارق کی صفت مؤکدہ ہے۔ یعنی جو شخص بوجہ ارتداد کہ وہ اسلام کو ترک کرتا ہے خواہ وہ قول سے ہو یا فعل یا اعتقاد سے مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ دے اور ان کے گروہ سے نکل جائے اور ان لوگوں کے معاملات سے علیحدہ ہو جائے اگر وہ تائب نہ ہو تو اس کا قتل کرنا واجب ہے۔
اور امام نوویؒ شرح مسلم ج ۲ ص ۶۰ ما يباح دم المسلم حدیث مذکور کے ذیل میں فرماتے ہیں۔
فهو عام فى كل مرتد عن الاسلام باى ردة كانت فيجب قتله ان لم يرجع الى الاسلام قال العلماء يتناول ايضا كل خارج عن الجماعة ببدعة او بغى او غيرهما وكذا الخوارج . یہ حکم ہر مرتد عن الاسلام کے بارے میں ہے یہ اس کی ردّۃ خواہ کسی قبیل سے ہو۔ اگر وہ اسلام میں داخل نہ ہو تو اس کو قتل کرنا
چونکہ تفسیر .......... اس وجہ سے معتبر نہیں (من ادعیٰ علی ......) یہ بالکل غلط و آیت قرآنیہ و حدیث صریحہ و اجماع امت کے خلاف (ملاحظہ ہو واقعہ محل وغیرہ)
واجب ہے اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص جماعت حقہ سے بوجہ بدعت اور بغاوت وغیرہ کے خارج ہو جائے اس کو بھی یہ حکم شامل ہے اور اسی حکم میں خوارج بھی داخل ہیں۔
صاحب مظاہر حق لکھتے ہیں۔ یہ صفت مؤکدہ ہے مارق کی۔ یعنی جو کہ چھوڑ دے جماعت مسلمانوں کی اور الگ ہو جائے ان سے بسبب مرتد ہونے کے کہ وہ چھوڑ دینا اسلام کا ہے از روئے قول کے یا فعل کے یا اعتقاد کے تو واجب ہے، قتل کرنا اس کا اگر توبہ نہ کرے۔
برادران! مذکورہ بالا حوالہ جات سے دو امر بخوبی واضح ہو گئے۔ اولاً مفارقت جماعت سے مراد کسی جماعت حقہ کے اعتقادات و اقوال و افعال کی مخالفت ہے نہ حمایت قوم کفار ثانیاً المفارق للجماعت یعنی جملہ ثانیہ (التارک لدینہ) جملہ اولیٰ کے لیے تاکید و بیان ہے اور دونوں کے ایک معنی ہیں نہ یہ کہ دونوں مستقل جزء ہیں وہ ہر ایک کے معنی دوسرے کے مخالف ہیں جیسا کہ مولوی صاحب فرماتے ہیں۔ لہٰذا مولوی صاحب مرۃ بعد مرۃ غور فرما کر اپنی تاویلی و اجتہادی رائے کی رجعت کا اظہار کریں۔ ورنہ (من ادعیٰ فعلیہ البیان)
بعد ازاں مولوی صاحب اپنے اثبات دعویٰ میں آیۃ۔
ان الذین امنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم ازدادوا کفرا لم یکن الله لیغفرلھم. (النساء ۱۳۷) ”جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر وہ مرتے دم تک کفر ہی میں بڑھتے گئے خدا ان کو نہیں بخشے گا نہایت عجیب و غریب استدلال فرماتے ہیں جو قابل دید ہے۔“
”پس یہی عدم بخشش ان کی سزا اخروی ہے قتل یا سنگسار وغیرہ کا ذکر منتفی ہے لہٰذا سزا بھی منتفی (اخبار مذکور)“
ناظرین کرام! کیا آپ حضرات مولوی صاحب کی اس انوکھی رائے سے متفق ہیں۔ نہیں، نہیں، اس لیے کہ بیشک امت مرحومہ میں قتل و سزا کا ذکر منتفی ہے لیکن کیا اس سے مولوی صاحب کا مدعیٰ روشن و ثابت ہو گیا ورنہ میں تو یہی کہوں گا۔
کار طفلاں تمام خواہد شد
کیونکہ یہ مسئلہ اجلیٰ بدیہیات سے ہے کہ عدم ذکر شی عدم شی کو مستلزم نہیں ہے۔ سو اگرچہ آیت مرقومہ میں قتل و سزا کا ذکر منتفی ہے لیکن اس سے یہ نہیں لازم آتا کہ نفس سزا و قتل بھی منتفی ہو چونکہ عدم ذکر شی عدم شی میں لزوم نہیں (مگر ممکن ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک اس کا لزوم مسلم و مختار ہو) اور اس لیے کہ آیت مذکورہ میں باری تعالیٰ نے اس بات کو ظاہر فرما دیا ہے کہ جیسا مرتدین دنیا میں عقوباتِ شدیدہ و مختلف سزا میں مبتلا رہیں گے اسی طرح ان کو آخرت میں بھی عذاب الیم کا مزا چکھنا ہوگا اور مغفرت نہیں ہوگی۔
الحاصل آیت مسطورہ میں ذکر سزا اخروی ہے جو موجب نفی سزا دنیوی نہیں ہو سکتی کیونکہ دوسری جگہ فرماتے ہیں۔
ولقد قالوا کلمۃ الکفر و کفروا بعد اسلامھم (الیٰ آخر ما قال) فان یتوبوا یک خیرا لھم وان یتولوا یعذبھم الله عذابا الیما فی الدنیا والآخرۃ. (توبہ ۷۴) ”بیشک ان لوگوں نے کلمہ کفر کہا ہے اور مسلمان ہو کر کافر ہو گئے ہیں۔ سو اگر وہ تائب ہو جائیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ نہ مانیں گے تو اللہ تعالیٰ سزا دے گا ان لوگوں کو درد ناک عذاب کی دنیا و آخرت میں۔“
ناظرین کرام! ملاحظہ فرمائیے کہ اس آیت میں بھی اسی امر کا ذکر ہے کہ جو شخص مرتد ہو جائے گا اس کو دنیا و آخرت میں عذاب الیم و عقوبت عظیم کا مزا چکھنا ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا میں عذاب الیم و عقوبت شدید سے مراد قتل وغیرہ ہے نہ اور کوئی شے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جیسا اس شخص پر دنیا میں رحمت ومغفرت نہیں کی جائے گی بلکہ قتل و سنگسار کر دیا جائے گا اسی طرح سے آخرت میں بھی خائب و خاسر رہے گا کہ بخشش و مغفرت نہیں ہوگی۔ اور طرح طرح کے عذاب میں مبتلا رہے گا۔
قتل مرتد کے متعلق حضرت عثمانؓ خلیفہ ثالث کا مذہب
عن ابی امامة بن سهل بن حنیف ان عثمان اشرف علیهم فسمعهم وهم یذکرون القتل فقال انهم یتوا عدونی بالقتل فلم یقتلونی قدسمعت رسول الله ﷺ یقول لا یحل دم امرء مسلم الا فی احدی ثلث. رجل زنا وهو محصن فرجم او رجل قتل نفسا بغیر نفس او رجل ارتد بعد الاسلام فوالله مازنیت فی جاهلیة ولا فی الاسلام ولا قتلت نفسا مسلمة ولا ارتددت منذ اسلمت.
(ابن ماجہ باب لا یحل دم امراء مسلم ص ۱۸۲)
حضرت عثمانؓ ایک مرتبہ اپنے دشمنوں کی جانب متوجہ ہوئے آپ نے سنا کہ وہ لوگ قتل کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ مجھ کو قتل سے دھمکاتے اور ڈراتے ہیں تو کس وجہ سے وہ لوگ مجھ کو قتل کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں مگر ان تین وجہوں میں سے ایک وجہ سے۔ (۱)...... شادی شدہ زانی کہ جسے رجم کیا جائے (۲)...... قاتل بیگناہ (۳)...... جو اسلام سے پھر جائے۔ سو قسم ہے رب العزت کی کہ میں نے کبھی زنا نہیں کیا نہ جاہلیت میں نہ اسلام میں اور نہ کسی بیگناہ مسلمان کو قتل کیا اور نہ اسلام کے بعد مرتد ہوا۔
اس سے بھی یہ امر روشن ہو گیا کہ جو شخص مرتد عن الاسلام ہو جائے اس کو قتل کرنا ضروری اور واجب ہے اسی وجہ سے حضرت عثمانؓ جبکہ دشمنوں اور اعداء کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے اور مخالفین آپ کے قتل پر مستعد و تیار تھے اس وقت استدلالاً مخالفین کے سامنے اس امر کو پیش کیا کہ اے مخالفو تم لوگ میرے قتل کے کیوں کوشاں ہو۔ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور آپ کا یہ فرمان ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا روا نہیں ہے تا وقتیکہ اس میں ان تینوں میں سے کوئی موجود نہ ہو۔ سو باری تعالیٰ کی قسم ہے نہ میں زانی ہوں اور نہ قاتل بیگناہ اور نہ مرتد عن الاسلام تو کس وجہ سے اے مخالفو میرے قتل کے درپے ہو۔ دوستو! اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ حضرت عثمانؓ کا بھی یہی مذہب و مسلک ہے کہ نفس ارتداد مبیح دم و موجب قتل ہے۔ خواہ حامی کفار ہو یا نہ ہو۔ بہر صورت اصل اور علت اباحت دم کی ارتداد ہے نہ غیر۔ بایں وجہ سزا و قتل کا ترتب اس پر ہوگا۔
قتل مرتد کا ثبوت خلیفہ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے
عن عکرمة ان علیا حرق قوما ارتدوا عن الاسلام فبلغ ذلک ابن عباس فقال لو کنت انا لقتلتهم بقول رسول الله من بدل دینه فاقتلوه ولم اکن لاحرقهم لان رسول الله قال لا تعذبوا بعذاب الله فبلغ ذلک علیا فقال صدق ابن عباس. (ترمذی باب ماجاء فی المرتد ج ۱ ص ۲۷۰) ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک جماعت مرتدین عن الاسلام کو جلا دیا یہ خبر ابن عباس کو پہنچی انھوں نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو قتل کرتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کرو اور میں ان لوگوں کو جلاتا
نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب یعنی آگ سے کسی کو سزا مت دو تو یہ خبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پہنچی آپ نے فرمایا کہ ابن عباسؓ سچ کہتے ہیں۔"
حضرات! یہ روایت بھی روز روشن کے مانند اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام سے مرتد ہو یا روگردانی کرے اور اس کی فتنہ پردازیاں اس قدر مستحکم و مضبوط ہو جائیں کہ جس سے امن پسندی و اتفاق کی سنگین بنیادیں اُکھڑ جائیں اور صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔ سو ایسے شخص کے لیے امام و حاکم وقت کو اختیار و مجاز ہے کہ ہر ممکن طریقہ سے اس کی سرکوبی کرے۔ اسی وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس قوم مرتد کو کہ جس کا فتنہ شائع و ضرر رسان تھا بجائے قتل کے تغلیظاً و تشدیداً جلا دیا۔ بنابریں حضرت علی رضی اللہ عنہ مصیب تھے نہ مخطی۔ چنانچہ علامہ عینی شرح بخاری ص ۲۳۴ ج ۱۱ میں ایک قول نقل فرماتے ہیں۔
قالہ الدوادی احراق علیّ الزنادقۃ لیس بخطاء. علامہ دوادی فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ کا زنادقہ کو جلانا خطا نہیں ہے۔
قتل مرتد کا فیصلہ اجماع امت سے
ائمہ کرام و سلف صالحین اس پر متفق ہیں کہ مرتد کو قتل کرنا واجب و ضروری ہے۔ چنانچہ امام ترمذی نے لکھا ہے کہ تمام اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ مرتد قتل کیا جائے۔ ونیز علامہ عبد الوہاب شعرانیؒ ”میزان کبریٰ ص ۱۷۱ ج ۲ میں فرماتے ہیں۔
وقد اتفق الائمة على ان من ارتد عن الاسلام وجب قتله وعلى ان قتل الزنديق واجب وهو الذى يسر الكفر و يتظاهر بالاسلام. اور تمام ائمہ اس پر متفق ہیں کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے یا زندیق ہو اس کا قتل واجب و ضروری ہے اور زندیق وہی ہے جو کفر کو پوشیدہ رکھتے ہوئے اسلام سے مظاہرہ کرے۔
قتل مرتد کا ثبوت کتب فقہ حنفیہ سے
ناظرین! اگرچہ قرآن و حدیث وتعامل صحابہ و اجماع امت سے قتل مرتد پر اس قدر روشنی پڑ گئی کہ دیگر ادّلہ کی ضرورت باقی نہیں رہی مگر الزاماً للخصم و اظہاراً للحق چند اقوال فقہاء حنفیہ بطور شہادت نقل کیے جاتے ہیں۔
- (۱)...... امام ابوالحسین بن احمد قدوری ص ۲۷۳ باب احکام المرتدین میں فرماتے ہیں۔
واذا ارتد المسلم عن الاسلام والعياذ بالله عرض عليه الاسلام الى آخر ما قال فان اسلم والاقتل. اور جب کوئی مسلمان اسلام سے پھرے (اللہ پناہ میں رکھے) تو اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اگر مسلمان ہو گیا تو خیر ورنہ قتل کر دیا جائے۔
- (۲)...... ہدایہ باب احکام المرتدین ج ۲ ص ۵۶۵ کی عبارت نقل کرتے ہیں۔
المرتد يعرض عليه السلام حرا كان او عبدا فان ابى قتل. مرتد خواہ آزاد ہو یا غلام اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے اور اگر انکار کرتا ہے تو قتل کیا جائے۔
- (۳)...... ملا علی قاری شرح فقہ اکبر ص ۲۰۰ باب المسئلۃ المتعلقۃ بالکفر میں دربارۂ قتل مرتد تحریر فرماتے ہیں۔
فان تاب فبها والاقتل. اگر مرتد تائب ہو گیا تو بہتر ورنہ قتل کیا جائے گا۔
نیز امام شافعی صاحبؒ کا مذہب ص مذکورہ میں نقل فرماتے ہیں۔
وفی اصح قول الشافعیؒ ان تاب فی الحال والاقتل وهو اختیار ابن المنذر.
(شرح فقہ اکبر
باب المسئلۃ الملحقۃ ص ۲۰۴) امام شافعی صاحبؒ کا صحیح قول دربارۂ مرتد یہ ہے کہ وہ اگر اسی وقت تائب ہو گیا تو فبہا ورنہ قتل کیا جائے اور یہی مختار ابن المنذر ہے۔
(۴)........ صاحب بدائع لکھتے ہیں:
اما الذی یرجع الی نفسہ فانواع منہا اباحۃ دمہ اذا کان رجلاً حرا کان او عبدا لسقوط عصمتہ بالردۃ قال النبی اجمعت الصحابہ علی قتلہم. (بدائع الصنائع ص ۱۳۴ فصل بیان فی المرتدین) ”جن احکام کا تعلق ذات مرتد سے ہے ان کی چند قسمیں ہیں منجملہ ان کے اس کے خون کا مباح ہونا ہے۔ چاہے آزاد ہو یا غلام۔ کیونکہ ارتداد کی وجہ سے اس کی حفاظت ساقط ہو گئی۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص دین کو تبدیل کرے۔ اس کو قتل کر دو علیٰ ہذا القیاس! جبکہ عرب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے تو ان کے قتل پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا۔“
(۵)........ علامہ سرخسی رحمتہ اللہ علیہ صاحب السیر کا قول شرح سیر میں نقل فرماتے ہیں۔
المرتد یقتل ان لم یسلم حرا کان وعبدا لقولہ ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ. (شرح کتاب السیر باب المرتدین کیف یحکم ج ۵ ص ۱۶۶) ”مرتد خواہ آزاد ہو یا غلام اگر اسلام میں داخل نہیں ہوا تو قتل کیا جائے چونکہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کر دو۔“
(۶)........ صاحب کنز فرماتے ہیں۔
فان اسلم والاقتل (کنز الدقائق باب المرتدین ص ۳۱۳) ”اگر مرتد اسلام قبول کر لے تو بہتر ورنہ قتل کیا جائے گا۔“
(۷)........ درمختار بر حاشیہ شامی باب المرتد ج ۳ ص ۳۱۳ میں ہے۔
فان اسلم فبہا والاقتل لحدیث من بدل دینہ فاقتلوہ. ”اگر مرتد مسلمان ہو جائے تو بہت خوب، ورنہ قتل کیا جائے بوجہ فرمان رسول اللہ ﷺ کے کہ جو شخص اپنا دین بدل دے اس کو قتل کرو۔“
(۸)........ فتاویٰ عالمگیریہ باب فی احکام المرتدین ج ۲ ص ۲۵۳ میں لکھتے ہیں۔
فان اسلم والاقتل. ”اگر مرتد مسلمان ہو جائے تو خیر ورنہ قتل کر دیا جائے۔“
(۹)........ الاشباہ والنظائر کتاب السیر ص ۱۰۱ میں تحریر کرتے ہیں۔
کل مسلم ارتد فانہ یقتل ان لم یتب. ”جو مسلمان کہ اسلام سے مرتد ہو گیا اگر تائب نہیں ہوا تو قتل کیا جائے۔“
(۱۰)........ شرح وقایہ باب المرتد ج ۲ ص ۳۷۵ میں لکھتے ہیں۔
فان تاب فبہا والاقتل. اگر مرتد تائب ہو گیا تو خیر ورنہ قتل کیا جائے گا۔
تلک عشرۃ کاملہ ناظرین کرام! مندرجہ بالا دلائل و اقوال فقہاء و علماء کے پیش کرنے کے بعد بھی کیا کسی کو اس امر میں شک ہو سکتا ہے کہ قتل مرتد قرآن و حدیث و کتب فقہ حنفیہ وغیرہ سے ثابت نہیں ہے؟ اور مرزا قادیانی بوجہ ادعائے نبوت و اہانت انبیائے علیہم السلام از روئے تعریف ارتداد فقہاء کافر و مرتد ہو کر مستحق قتل نہیں تھا۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ یہی مقتضائے انصاف ہے فاعتبروا یا اولی الابصار.
اور چونکہ مرزائی امت مرزا جی کو نبی صادق و برحق تسلیم کرتی ہے اور ان کے اعتقادات باطلہ و خیالات فاسدہ سے متفق ہے اس وجہ سے یہ امت بھی اسی سزا و لقب کی مستحق ہے۔ اس لیے حکومت افغانیہ نے جو نعمت اللہ
قادیانی کو سنگسار کیا وہ ضرور قابل تحسین و مبارکباد و عین حکم شرعی ہوا۔ لہٰذا جو لوگ مخالف اور اس امر کے قائل ہیں کہ قتل مرتد و یا مطلق سزا قرآن و حدیث و کتب فقہ حنفیہ وغیرہ میں نہیں ہے اور نیز مرزا جی اور ان کی امت از روئے شرع کافر و مرتد نہیں ہے وہ حضرات ذرا اپنے گریبانوں میں سرنگوں ہو کر تامل و تدبر فرمائیں اور اپنی رائے فاسد سے رجوع فرما کر اس امر کا اظہار فرمائیں کہ واقعی مرزا اور اس کی امت کافر و مرتد و قابل قتل ہے ورنہ ناواقفی و تنگ نظری کی دلیل ہے۔
دوستو! مخالف کی جانب سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب تک نصوص قطعیہ و اقوال علماء سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اس کو قتل کرنا ضروری و واجب ہے نہ سنگسار و پتھراؤ کرنا اور چونکہ سلطنت افغانیہ نے نعمت اللہ قادیانی کو بجائے قتل کے سنگسار و پتھراؤ کیا ہے اس وجہ سے یہ فعل حکومت قابل ملامت و خلاف شرع ہے۔
لیکن دوستو! یہ امر واضح رہے کہ لفظ قتل ایک مفہوم کلی ہے جس میں معنی ہلاک ماخوذ ہے بایں وجہ اس کا انحصار تلوار سے قتل کرنے میں نہیں ہوگا بلکہ ہر طرح کے قتل کو خواہ پتھر سے ہو یا لوہے سے یا لکڑی سے یا اور کسی چیز سے سب اسی کلی کے افراد ہیں اور ہر ایک پر قتل کا اطلاق آئے گا چنانچہ آیات قرآنیہ واحادیث صریحہ میں متعدد جگہ لفظ قتل کا ماسوا قتل بالسیف کے دوسرے پر بھی مستعمل بولا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
نظیر اول
واذا المؤدة سئلت بای ذنب قتلت (سورة تکویر ۸) اور جب زندہ درگور کردہ سے سوال کیا جائے گا کہ تو کس گناہ میں قتل کی گئی۔
نظیر ثانی
قال یا موسیٰ اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس (قصص ۱۹) اس شخص نے کہا کہ اے موسیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ مجھ کو قتل کرے جیسا کہ ایک شخص کو کل قتل کر چکا ہے۔
نظیر ثالث
فانطلقا حتی اذا لقیا غلاما فقتله قال اقتلت نفسا زکیة (کہف ۷۴) پھر دونوں چلے یہاں تک جبکہ ایک لڑکے سے ملے تو اس کو حضرت خضر ؑ نے قتل کر دیا۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا آپ نے ایک بیگناہ و پاک جان کو قتل کیا۔
ناظرین! یہ حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کا قصہ ہے جس کو باری تعالیٰ نے نہایت تفصیل و عمدگی سے بیان فرمایا ہے کہ جب یہ دونوں حضرات چلے جا رہے تھے کہ ایک لڑکے کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت خضر ؑ نے اس لڑکے کی گردن توڑ کر قتل اور ہلاک کر دیا تو حضرت موسیٰ ؑ نے فوراً فرمایا کہ آپ نے کیوں ایک بیگناہ کو قتل کیا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے۔
فانطلقا فاذا غلام یلعب مع الغلمان فاخذ الخضر براسه من اعلاه فاقتلع راسه بیده فقال موسٰی اقتلت نفسا زکیة بغیر نفس (بخاری ج ۱ ص ۲۳ باب ما یستحب العالم اذا سئل ای الناس اعلم) یعنی یہ دونوں حضرات چلے جا رہے تھے کہ ایک لڑکا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا حضرت خضر ؑ نے اس
کی گردن کو پکڑ کر جدا کر دیا تو پھر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے ایک بیگناہ کو قتل کیا۔ دیکھئے حضرت خضر علیہ السلام نے اس لڑکے کی گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا اس پر باری تعالیٰ نے لفظ قتل کا فرمایا کہ جس سے معلوم ہو گیا کہ لفظ قتل عام ہے۔
نظیر رابع
عن انس بن مالک ان یهودیا قتل جارية علی اوصاح بھا فقتلها بالحجر قال فیجی النبی وبھا رمق فقال لھا اقتلک فلان. یعنی ایک یہودی نے کسی لونڈی کو اس کے زیورات کی وجہ سے پتھر سے قتل کر دیا تھا اس میں کچھ جان باقی تھی کہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر کی گئی تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تجھ کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے الخ۔
محترم ناظرین! نظائر مذکور سے یہ بات معلوم و روشن ہو گئی کہ مفہوم قتل میں معنی ہلاک پائے جاتے ہیں جو ماسوا قتل بالسیف کے ہر طرح کے قتل کو خواہ پتھر سے ہو یا لوہے سے یا لکڑی یا کسی دوسری چیز سے سب کو شامل ہے چنانچہ باری عزاسمہ نظیر اول میں زندہ درگور گروہ اور نظیر ثانی میں گھونسے سے مارے ہوئے پر لفظ قتل کا فرمایا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قبطی کو گھونسے ہی سے مارا تھا جیسا کہ ارشاد ہے۔
فو کزہ موسیٰ فقضے علیہ. (قصص ۱۵) پھر اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے گھونسہ مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔
وعلیٰ ہذا القیاس! نظیر ثالث میں حضرت خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کی گردن توڑ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس پر باری تعالیٰ نے قتل کا اطلاق کیا۔ نیز حضور ﷺ نے نظیر رابع میں مقتولہ بالحجر پر (یعنی پتھر سے قتل کی ہوئی پر) اقتلک فلان. یعنی کیا تجھ کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جس سے تمام شبہات و مراحل طے ہو گئے کہ قرآن وحدیث واقوال فقہاء وعلماء میں جس جگہ لفظ قتل استعمال کیا گیا ہے اس سے معنی عام مراد ہے کہ جو ہر طرح کے قتل کو خواہ پتھر سے ہو یا لوہے یا لکڑی یا کسی دوسری چیز سے سب کو شامل ہے اور اسی قتل کلی کے یہ تمام افراد ہیں کہ ہر ایک پر قتل کا صدق ضرور بالضرور ہوگا۔ سو اگر ان میں سے کسی کو امام یا حاکم وقت عندالحاجۃ استعمال و اختیار کرے گا تو مصیب اور رسول اللہ ﷺ کی مردہ سنت کو زندہ فرما کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روح پر فتوح کو فرحت ومسرت پہنچائے گا۔ لہٰذا ذات بابرکات حضرت امیر غازی والی افغانستان اید اللہ بنصرہ نے جو نعمت اللہ قادیانی کو بجرم احمدیت قتل بالحجر یعنی سنگسار و پتھراؤ کرایا تو واقعی اپنے فرض منصبی کو ادا فرما کر قرن صحابہ کی یاد تازہ کر دی اور اقامۃ حدود الٰہی میں مخالفین کی وحشیانہ حرکات وسکنات کی ذرہ برابر پرواہ نہ کی۔ اگرچہ مرزائی امت امیر صاحب کے مقابلے وضرر رسانی میں ہر ممکن طریقہ کو عمل میں لائی کہ کہیں امریکہ اور یورپ کو آپ کے خلاف آمادہ و تیار کیا اور کہیں دوسری سلطنتوں میں دست بستہ فریاد رس ہوئی اور مسٹر محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ نے بھی رائے عامہ سے اپیل کر کے سخت شور وغوغا برپا کیا۔
الحاصل تاجدار افغانستان کے اقامۃ حدود شرعیہ کی وجہ سے مرزائی امت نے ان کی گزند وضرر رسانی میں ایڑی و چوٹی کی قوت صرف کر دی اور آپکے برخلاف تمام سلاطین میں آوازہ بلند کیا۔ لیکن مرزائی امت کو یہ واضح رہے کہ چونکہ والی افغانستان نے قانون خداوندی کی تنفیذ فرمائی ۔ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی مردہ سنت کو زندہ کیا ہے۔ اس وجہ سے خدائے برتر آپ کا حافظ و ناصر ہے۔ لہٰذا کوئی طاقت وقوت آپ کے مقابلہ میں غالب نہیں ہو
سکتی۔ کیونکہ ساری خدائی ایک طرف و فضل الٰہی ایک طرف۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ ذات اقدس امیر غازی اس قانون الٰہی کو ہمیشہ جاری رکھیں گے اور مخالفین و مرتدین اسلام کی ہمیشہ اسی طرح سرکوبی فرماتے رہیں گے اور خدائے قدوس اس کے عوض میں امیر صاحب ایداللہ بنصرہ کے جان و مال میں ترقی عطا فرمائیں و چشم دشمنان ناہنجار سے محفوظ رکھیں۔ اور قوت الٰہیہ آپ کو اعداء اسلام کے مقابلہ میں ہمیشہ مظفر و منصور فرمائے اور دن دوگنی و رات چوگنی آپ کی عزت و سلطنت میں زیادتی بخشے آمین ثم آمین۔
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
اب میں آپ حضرات سے جدا ہوتا ہوں اور اس بات کو جانتا ہوں کہ قادیانی امت اس کے عوض میں مجھ کو گالیاں دے گی کیونکہ
ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے
تم جبر کیے جاؤ ہم صبر کیے جائیں۔ اللہ تو منصف ہے اللہ ہی جزا دے گا۔ لیکن جناب باری میں میری یہی التجا ہے کہ خداوندا تمام مسلمانوں کو فتنہائے قادیان سے محفوظ فرما اور قادیانی امت کو توفیق ہدایت بخش۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔ فقط۔ کتبہ العبد المفتقر الی رحمۃ ربہ المنان نور محمد خاں سلطانپوری غفرلہ والوالدیہ ولاستاذیہ اجمعین۔ خادم انجمن ہدایت الرشید مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ماہ جمادی الاولیٰ ۱۳۴۳ھ
تقریظ
مجمع الکمالات والبرکات حضرت الفقیہ الفہامہ الاستاذ العلام مولانا الحافظ الحاج المولوی عبداللطیف شیخ الحدیث و صدر المدرسین بمظاہر علوم سہارنپور ادام اللہ فیوضہ۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد میں نے اس رسالہ ”دفع الالحاد عن حکم الارتداد“ کو اول سے آخر تک بغور سنا عزیزم مولوی نور محمد خان سلمہ سلطانپوری نے نہایت خوبی کے ساتھ مسئلہ قتل مرتد کو نقول و نصوص سے ثابت کیا ہے اور نیز مسئلہ کفر مرزا قادیانی کو ان کی تحریرات سے بے نقاب کیا ہے۔ حق تعالیٰ اس رسالہ کو مخالفین کے لیے مشعل راہ ہدایت بنائیں اور عزیزم سلمہ کی عمر و علم میں ترقی عطا فرمائیں۔ فقط
عبداللطیف عفا اللہ عنہ صدر مدرس مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۳ جمادی الاول ۱۳۴۳ھ
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
لاہوری اور قادیانی مرزائی دونوں کافر ہیں
مفتی ولی حسن ٹونکی
بسم الله الرحمن الرحیم
(۱)...... مرزا کو مجدد ماننے والوں کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ: کل مورخہ ۸ ستمبر ۱۹۷۳ء بوقت ساڑھے چار بجے دن سابق امام ووکنگ مسجد محمد طفیل متعلقہ مرزائی فرقہ لاہوری کی ساس کا جنازہ مسجد ہذا میں لایا گیا اور یہاں کے سرکاری امام خواجہ قمر الدین جو کہ اپنے آپ کو اہلسنت والجماعت ظاہر کرتے ہیں۔ مرزائی محمد طفیل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی جبکہ چند معززین نے اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمر الدین سرکاری امام ووکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے نماز جنازہ میں اس لیے شرکت کی ہے کیونکہ مرزا محمد طفیل بسا اوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں اور دوسری دلیل یہ دی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدد تسلیم کرتے ہیں اور ہم کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا مہربانی فرما کر قرآن وسنت کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتوی سے آگاہ کیا جائے۔ یعنی شاہدوں کے دستخط مندرجہ ذیل ہیں۔
صابر حسین ...... محمد شریف ...... عبدالرحمن ...... ملک احمد خاں
المستفتی ایک از نمازی مسجد ووکنگ، لندن، انگلینڈ
۱۵ رمضان ۱۳۹۳ھ
الجواب مرزائیوں کے دونوں فرقے، لاہوری اور قادیانی باتفاق علمائے اسلام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری فرقہ نفاق اور تقیہ کی وجہ سے قادیانی فرقہ سے زیادہ خطرناک ہے۔ فرقہ لاہوریہ کے کفر کے لیے یہی کافی ہے کہ ایک مدعی نبوت کاذبہ کو مجدد، مصلح اور امام تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب قدس سرہ العزیز نے اپنی بے نظیر تالیف ”اکفار الملحدین“ ص ۱۰ میں موخر الذکر فرقہ کے کفر کو دلائل ظاہرہ باہرہ سے ثابت کیا ہے۔ من شاء فلیراجع الیہ.
اسی طرح کسی ایسے فرقہ یا اس کے بعض افراد کو مسلمان سمجھنا جسے علمائے امت نے بالاتفاق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ جبکہ علمائے امت کے فیصلہ کا علم بھی ہو۔ حد درجہ گمراہی اور اس پر خوفِ کفر ہے۔ مرزائی، لاہوری یا کوئی ایسا فرقہ جو بالاتفاق علمائے اسلام خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اس کے کسی فرد کی جنازہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں، نمازِ جنازہ درحقیقت دعا ہے اور کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرنا بنص قرآنی حرام ہے۔ حضرت شاہ صاحب ”عقیدۃ السفارینی“ سے اہل الاہواء کے سلسلہ میں سلف کا مذہب جس کو انھوں نے خلف تک پہنچایا یہ نقل کیا ہے۔ بان لا یسلموا علی القدریۃ ولا یصلوا علی جنائزھم ولا یعودوا مرضاھم.
(اکفار الملحدین ص ۳۸ باب النقل عن الائمۃ الاربعۃ الخ)
سلف کا مذکورہ بالا فیصلہ اہل اہواء کے بارے میں ہے۔ مرزائی اہواء سے گزر کر برسوں سے صریح کفر میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ بناءً علیہ خواجہ قمر الدین امام ووگنگ مسجد لندن گمراہ متبع ہوا ہے۔ قطعاً لائق امامت نہیں۔ اس کو علیحدہ کر کے کسی صحیح العقیدہ شخص کو امام مقرر کیا جائے۔ ہشام رازیؒ نے امام محمدؒ سے نقل کیا کہ اہل الاہواء کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز لائق اعادہ ہے۔
(الفرق بین الفرق بحوالہ اکفار الملحدین ص ۳۸)
کتبہ ولی حسن مفتی مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی نمبر ۵، ۱۹ رمضان ۱۳۹۳ھ
مسئلہ فوق الذکر کی جو تحقیق کی گئی ہے۔ یہی دور حاضر کے علمائے امت کا متفقہ فیصلہ ہے۔ اس لیے میں بھی فتویٰ مذکورہ کی تائید وتوثیق کرتا ہوں۔ (محمد یوسف بنوری)
- (۲)...... مرزا قادیانی اور استخارہ مکرمی جناب مدیر ماہ نامہ ”بینات“ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
- ۱....... ہمارے علاقہ میں کچھ مرزائی رہتے ہیں اور وہ مسلمانوں میں اس بات کا چرچا کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد
قادیانی کو ہم نبی تسلیم نہیں کرتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟
- ۲....... نیز وہ مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو مرزا قادیانی کی صداقت میں کسی قسم کا شک وشبہ ہے تو تم استخارہ
کر کے معلوم کرلو۔ کیا یہ شرعاً درست ہے؟ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
مولوی رشید احمد خطیب جامع مسجد سوئی گیس یونیورسٹی روڈ کراچی نمبر ۳۲
بینات آپ کے پہلے سوال کے جواب میں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔
- ۱....... ان مرزائی صاحبان کا یہ پروپیگنڈا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں بلکہ صرف مجدد مانتے ہیں محض دجل وتلبیس
پر مبنی ہے یا پھر وہ خود اپنے مذہب سے جاہل ہیں یا ان کے بڑوں نے انھیں قصداً جاہل رکھا ہے۔ ان مرزائی صاحبان سے کہیے کہ اگر ان کا واقعتاً یہی مسلک ہے تو اپنے خلیفہ ربوہ مرزا ناصر احمد قادیانی سے یہ لکھوا لائیں کہ جو شخص مرزا کو نبی مانے، خواہ کسی تاویل سے ہو، وہ انکار ختم نبوت کی بنا پر کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔
- ۲....... مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹا دعویٰ نبوت ایسا نہیں جسے مکر وفریب کے غلیظ پردوں میں لپیٹ کر گول کیا جا
سکے۔ مرزا قادیانی کی وہ کتابیں جن میں انھوں نے جھوٹی نبوت کا بارہا افتراء اپنے سر لیا ہے، ساری دنیا کے سامنے ہیں، اور آج بھی ربوہ سے ”روحانی خزائن“ کے نام سے چھپ رہی ہیں، اس لیے اگر مرزائی صاحبان کسی مصلحت کی بنا پر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا انکار کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کو ان کے دعویٰ نبوت میں جھوٹا سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص اتنا بڑا جھوٹا دعویٰ کرے اسے ”مسلمان“ کہنا تو کجا اسے مجدد اسلام تسلیم کرنا نہ عقل وفہم کی رو سے روا ہے، نہ دین ومذہب کے اعتبار سے جائز ہے۔ اس لیے مرزائی صاحبان سے کہیے کہ یا تو مرزا قادیانی کے دعوؤں کے مطابق انھیں نبی تسلیم کریں اور ان کے نقش قدم پر چل کر جہاں وہ خود پہنچے ہیں۔ وہاں پہنچیں یا پھر اسلام کی تعلیمات کے مطابق مدعی نبوت کاذبہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے بیزاری کا اعلان کریں۔
- ۳....... اگر کبھی آپ کو مرزا قادیانی کی کتابوں کے مطالعہ کا اتفاق ہوا ہے تو آپ ہماری اس رائے سے اتفاق کریں
گے کہ ادعائے نبوت، ادعائے معجزات، ادعائے وحی و الہام، مخالفین کی تکفیر و تذلیل، تمام انبیاء علیہم السلام سے برتری کا دعویٰ اور اول العزم انبیاء کرام کی توہین و تنقیص کے سوا مرزا قادیانی کی کتابوں کے انبار میں اور کوئی پیغام نہیں ملتا۔ وہ اپنی ہر چھوٹی بڑی کتاب میں انہی باتوں کے با اصرار و تکرار دہرانے کے ایسے خوگر ہیں کہ ان کا قاری اکتا کر رہ جاتا ہے۔ مثلاً
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷)
”خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود (مرزا صاحب) کا نام نبی و رسول رکھا۔“
(نزول المسیح ص ۴۸ خزائن ج ۱۸ ص ۴۲۶)
”صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیش گوئیاں سبقت لے گئی ہیں۔“
(ریویو جلد اول ص ۳۹۳، اکتوبر ۱۹۰۲ء)
”خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان (معجزات) دکھلائے ہیں کہ وہ ہزار نبی پر تقسیم کیے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ۳۱۷ خزائن ج ۲۳ ص ۳۳۲)
”جو کوئی میری جماعت میں داخل ہو گیا۔ وہ صحابہ میں داخل ہو گیا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ۲۵۸ خزائن ج ۱۶ ص ۲۵۸)
”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا نام نبی رکھا ہے...... اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشانات ظاہر کیے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸ خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳)
”اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدائے تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اس نے مجھ کو اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۴۹، ۱۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳۔۱۵۴)
”میں خدا تعالیٰ کی ۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ”ایمان“ لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰ خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۴)
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم“
(ازالہ اوہام ص ۱۵۸ خزائن ج ۳ ص ۱۸۰)
ترجمہ ...... ہاں! میں وہ ہوں جو بشارتوں کے موافق آیا ہوں، عیسیٰ کہاں ہے جو میرے منبر پر قدم رکھے۔
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد“
(تریاق القلوب ص ۳ خزائن ج ۱۵ ص ۱۳۲)
ترجمہ ...... ”میں ہی مسیح زماں ہوں اور میں ہی کلیم خدا ہوں میں ہی محمد اور احمد مجتبیٰ ہوں۔“ کل مسلم...... یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا.“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”کل مسلمانوں نے مجھے مان لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“
ونسائہم من دونھن الا کلب
(نجم الہدیٰ ص ۱۰ خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)
”میرے دشمن جنگلوں کے سؤر اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“ ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔“
(مکتوب مرزا صاحب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم مندرجہ الذکر الحکیم نمبر ۴ ص ۳۳ تذکرہ ص ۶۰۷ طبع ۳)
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انھوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔
(آئینہ صداقت ص ۳۵ مرزا محمود قادیانی)
یہ مرزا قادیانی کی سینکڑوں عبارات میں سے چند عبارتیں ہیں۔ جن سے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت، وحی اور معجزات کا دعویٰ کیا۔ اپنی نبوت کو تمام انبیاء کرام کے ہمرنگ بتایا، اپنی وحی کو قرآن جیسی قطعی وحی قرار دیا، اولعزم انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کا دعویٰ کیا، اپنے ماننے والوں کو صحابہ کرام کی صف میں شامل کیا، اور نہ ماننے والوں کے خلاف لعنت کے مکروہ ترین الفاظ استعمال کر کے انھیں غیر مسلم، کافر، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ان تمام کے باوجود اگر کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ صرف مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ حقائق کی دنیا میں نہیں بلکہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ آخر بتایا جائے کہ اسلامی تاریخ کی چودہ صدیوں میں کون ایسا مجدد ہوا۔ جس پر قرآن نازل ہوا کرتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے برابر کرسی تخت نشینی کا دعویٰ کرتا تھا جو اپنے کو نبی اور رسول کہلاتا تھا۔ جو اپنے ماننے والوں کو ”صحابی“ کے خطاب سے سرفراز کرتا تھا۔ جو ببانگ دہل اعلان کرتا تھا کہ نبی کون ہوتے ہیں جو میرے منبر پر قدم بھی رکھیں جو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیتا تھا اور جو ایمان نہ لانے والوں کو حرامزادے، جہنمی اور کافر ٹھہراتا تھا؟ اگر اسی کا نام ”مجدد“ ہے تو نہ جانے ملحد اور زندیق کا مفہوم کس پر صادق آئے گا؟
- ۴...... علاوہ ازیں مرزا قادیانی کا کفر و ضلال صرف دعویٰ نبوت میں منحصر نہیں بلکہ اس کے بہت سے اسباب میں
سے صرف ایک سبب ہے ورنہ مرزا قادیانی کے کفریات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ انھوں نے اسلام کے ایسے متعدد قطعی عقائد کا انکار کیا کہ ان میں سے ہر ایک کا انکار ایک مستقل کفر ہے۔ انھوں نے متعدد آیات کو جو آنحضرت ﷺ سے متعلق تھیں۔ اپنی ذات پر منطبق کیا، انھوں نے ظل و بروز کے پردے میں آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کو علیٰ وجہ الکمال اپنی جانب منسوب کیا، انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو برہنہ گالیاں دیں، انھیں ناجائز حمل کی پیداوار بتایا، ان کی والدہ حضرت مریم بتول پر تہمت دھری۔ ان کے سلسلۂ نسب پر فحش الفاظ میں طعن کیا، انھیں شرابی کا لقب دیا۔ ان کے قطعی معجزات کو پائے حقیر سے ٹھکرایا۔ الغرض اس قسم کے بیشمار ہذیانات ہیں جن کے
حوالے نقل کیے جائیں تو اس کے لیے ایک دفتر درکار ہے اور علمائے امت کی تصانیف میں ان امور کی پوری تفصیل موجود ہے۔ اس لیے بالفرض اگر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت نہ بھی کیا ہوتا اور مرزائی امت انھیں واقعۃً نبی کے بجائے ”مجدد“ ہی تسلیم کرتی تب بھی ان کفریات کے ہوتے ہوئے ان کو مجدد ماننا درحقیقت ان کفریات پر صاد کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں کی لاہوری شاخ جو مرزا قادیانی کو مجدد اور ”مسیح موعود“ کہتی ہے امت مسلمہ کے نزدیک وہ بھی دائرہ اسلام سے اسی طرح خارج ہے جس طرح کہ مرزا محمود کی قادیانی جماعت....... ہمیں معلوم ہے کہ لاہوری اور قادیانی پارٹیوں کا یہ باہمی اختلاف درحقیقت جنگ زرگری کی پیداوار ہے ورنہ ان کے خلیفہ اول حکیم نور دین کے زمانے تک مسٹر محمد علی ”امیر جماعت لاہور“ بھی مرزا قادیانی کو برملا نبی مانتے تھے اور اس کا تحریری ثبوت ہمارے پاس موجود ہے۔ آپس کے معاملات میں جھگڑا ہوا تو لاہوری جماعت نے اپنا الگ موقف پیش کرنا شروع کر دیا، اس کے باوجود وہ اب بھی مرزا قادیانی کو ”مسیح موعود“ کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ”مسیح موعود“ کی کوئی اصطلاح اگر اسلام میں ہے تو کیا وہ نبی کے سوا کسی دوسرے پر راست آتی ہے؟ اس کے صاف معنی ”مسیح موعود“ کے پردے میں مرزا قادیانی کی نبوت کا اعلان نہیں تو اور کیا ہے؟ الغرض مرزا قادیانی کے دعاوی کی تصدیق و تائید میں مرزائیوں کی دونوں شاخیں (قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت) ہمزبان ہیں، فرق ہے تو صرف عنوان اور تعبیر کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی جماعت کے خلیفہ دوم تمام مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں مگر لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں بلکہ ”غیر مبائع“ کہتے ہیں۔ ادھر لاہوری جماعت بھی قادیانی جماعت کو کافر نہیں کہتی۔ حالانکہ اگر ان کا یہی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں تو غیر نبی کو نبی ماننا کفر ہے، ان کا فرض تھا کہ وہ قادیانی جماعت کو کافر قرار دیتے اسی طرح مرزا محمود قادیانی کی قادیانی پارٹی کا فرض تھا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے کی بنا پر جس طرح تمام مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، مسٹر محمد علی اور ان کی پارٹی کی بھی تکفیر کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزائیوں کی دونوں پارٹیاں مرزا قادیانی کو ”مسیح موعود“ مانتی ہیں اور دونوں کا عقیدہ ہے کہ یہ منصب ایک نبی کا منصب ہے۔ دونوں مرزا قادیانی کی تصدیق ان کے تمام دعاوی میں کرتی ہیں۔ دونوں ایک دوسری کو ”مسلمان“ بھی کہتی ہیں، صرف اپنے ”برانڈ مارکہ“ کی شناخت کے لیے ایک نے ”مسیح موعود“ کو کھلے بندوں ”نبی“ کہا اور دوسری جماعت نے ”مسیح موعود“ بمعنی ”آخری مجدد“ کہا حالانکہ یہ دونوں لفظ نبوت ہی کی ایک تعبیر ہے۔ اس سے ان بعض پڑھے لکھے جاہلوں کی گمراہی واضح ہو گی جو لاہوری مرزائیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جو لعین، مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریات کی تصدیق کرتا ہے اور جو مرزا قادیانی ایسے دجال کو ”مسیح موعود“ اور آخری زمانہ کا مجدد کہتا ہے۔ اس کے کفر و ضلال میں کیا شک ہے، اس کے باوجود اگر کوئی انھیں مسلمان سمجھے تو ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر آج ایسی جماعت پیدا ہو جو مسیلمہ کذاب کو ”مسیح موعود“ اور ”مجدد اعظم“ مانے، اس کے بارے میں کیا ارشاد ہوگا؟ تاریخ اور سیرت کی کتابیں اٹھا کر دیکھئے، آپ کو معلوم ہوگا کہ مسیلمہ کذاب کا دعویٰ مرزا غلام احمد (مسیلمہ پنجاب) کے مقابلہ میں بالکل صفر نظر آتا ہے۔ اگر اس کے ماننے والے فی النار والسقر ہیں۔ تو مرزا قادیانی نے کونسا قصور کیا کہ ان کے ماننے والوں کو لہم خزی فی الحیوۃ الدنیا ولہم فی الاخرۃ عذاب النار کی دولت سے محروم رکھا جائے۔
حاصل یہ کہ کسی مدعی نبوت کو ”مجدد“ ماننے کا مطلب اس کے تمام دعاوی کی تصدیق کرنا ہے اور کفر خالص کی تصدیق بھی کفر ہے اور اس کو کفر نہ سمجھنا خود کفر آمیز جہالت ہے۔
۵...... آخری بات اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا کھوٹ ساری دنیا پر کھل چکا ہے، مرزا قادیانی اور ان کی ذریت کے کفر و نفاق کی دھجیاں میدان مناظرہ سے عدالت کے کٹہرے تک اور منبر و محراب سے لے کر اسمبلی ہال تک فضا میں تحلیل ہو چکی ہیں مسلمانوں کا بچہ بچہ مرزائیوں کے خداع و دجل اور مرزا قادیانی کے افسانہ نبوت سے واقف ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود مرزائیوں کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کے گھروں اور ان کی عبادت گاہوں میں گھس کر دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے دین باطل کے زہر کو دجل و فریب کی شیرینی میں لپیٹ کر مسلمانوں کے حلق سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں مال و دولت کا لالچ دیتے ہیں۔ سادہ لوح نوجوانوں کو نوکری اور ملازمت کا سبز باغ دکھاتے ہیں۔ پڑھے لکھے طبقے کو ”تبلیغ اسلام“ کے خوش کن پروپیگنڈے سے مسحور کرتے ہیں۔ قرآن کریم کے تحریف شدہ نسخے ہزاروں کی تعداد تقسیم کرتے ہیں اور اس مہم میں اسرائیلیوں کی طرح ان کی پوری کی پوری قوم لگی ہوئی ہے۔ اس سے مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور انھیں غفلت کی نیند سے بیدار ہونا چاہیے۔ مسلمانوں نے مرزائیوں کے مقابلہ میں دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے، جب مرزائی ان کے گرد و پیش حملہ آور ہوتے ہیں تو انھیں متنبہ ہوتا ہے۔ حالانکہ امت محمدیہ کے سبھی طبقات علماء خطباء وکلاء طلباء اور تجار وغیرہ کا فرض یہ ہے کہ ان کے جو بھائی محض جہالت و ناواقفی یا مال و دولت کے لالچ کی وجہ سے مرزائی کفر کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ انھیں ہر ممکن طریقے سے اسلام کے آب حیات کی طرف لایا جائے، جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے دامن رحمت کو چھوڑ کر مرزا غلام احمد کی جھوٹی مسیحیت کے دامن سے چپک گئے ہیں۔ انھیں اس وادی خار زار سے نکالنے کی کوشش کی جائے؟ آخر یہ کیا وجہ ہے مرزائی کفر گلی کوچوں میں ناچتا پھرے اور مسلمان مہر بلب ہوں اور ان کی زبانیں گنگ ہوں۔
۳...... جواب سوال دوم
مرزائیوں...... کا یہ مشورہ کہ مرزا قادیانی کی صداقت معلوم کرنے کے لیے استخارے کا نسخہ آزمایا جائے، یہ بھی دور از کار مغالطوں پر مبنی ہے اول یہ کہ انھوں نے اوّل ہی سے فرض کر لیا ہے کہ مرزا قادیانی کا صادق یا کاذب ہونا مسلمانوں کے نزدیک محل تردد ہے حالانکہ یہ بات مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت کی طرح سو فیصد غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ مسلمانوں کو جس طرح حضرت ختمی مآب محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت پر ایمان ہے۔ ٹھیک اسی طرح مرزا قادیانی کے کاذب و مفتری ہونے کا یقین ہے۔ جس میں شک و ارتیاب کا کوئی شائبہ نہیں، اس لیے کہ:
اوّلاً...... آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت ایسا عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا مدعی بغیر کسی شک و شبہ کے کذاب و دجال ہے اور جو شخص اس سے معجزہ طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس سے متعلق ”شرح فقہ“ سے چند جملے نقل کیے جاتے ہیں۔
وكذلک نكفر...... من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ اى ان فى زمنه كمسيلمة الكذاب والاسود العنسى او ادعى نبوة احد بعده فانه خاتم النبيين بنص القرآن والحديث فهذا تكذيب لله ورسوله كالعيسوية...... او من ادعى النبوة لنفسه بعد نبينا ﷺ كالمختار بن ابى عبيد الثقفى وغيره قال ابن حجر و يظهر كفر كل من طلب منه معجزة، لانه يطلبه منه مجوزاً صدقه مع استحالته المعلومة من الدين ضرورة نعم ان اراد بذالک تسفيهه وبيان كذبه فلا كفر به انتهی و کذالک من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهو لاء المذكورون كلهم كفار محكوم بكفرهم لانهم مكذبون النبى ﷺ۔
(شرح شفاء للخفاجی ج ۴ ص ۵۰۷، ۵۰۸ باب بیان ماهو من المقالات کفر و مايتوقف)
ترجمہ:...... اور اسی طرح جو شخص آپ کے زمانے میں کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے کیا تھا، یا آپ کے بعد کسی کی نبوت کا دعویٰ کرے اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا آخری ہونا قرآن وحدیث کے قطعی دلائل سے ثابت ہے۔ اس لیے ایسا مدعی اللہ و رسول کی تکذیب کرتا ہے...... اسی طرح جو شخص آپ ﷺ کے بعد اپنی ذات کے لیے نبوت کا دعویٰ کرے۔ وہ بھی کافر ہے جیسا کہ مختار بن ابی عبید وغیرہ نے کہا تھا۔ حافظ بن حجر کہتے ہیں کہ جو شخص اس مدعی نبوت سے بطور ثبوت کے معجزہ طلب کرے اس کا کفر بھی ظاہر ہو جائے گا۔ کیونکہ ثبوت طلب کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس مدعی نبوت کے سچا ہونے کا امکان ہے۔ حالانکہ دین کے قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کے سچا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ وہ قطعاً جھوٹا ہے ہاں اگر اس کی حماقت اور جھوٹ کا پول کھولنے کے لیے معجزہ کا مطالبہ کرے تو مطالبہ کنندہ کافر نہیں ہوگا...... اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔ اگرچہ صاف طور پر نبوت کا دعویٰ نہ کرے (وہ بھی کافر ہے) الغرض یہ مذکور الصدر سارے لوگ کافر ہیں ان پر کفر کے احکام جاری ہوں گے کیونکہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں...... الخ۔
الغرض مرزا قادیانی نے نبوت، وحی اور معجزات وغیرہ کے جو دعوے کیے (جو ان کی کتابوں میں آج بھی موجود ہیں) اور جن کے چند فقرے پہلے سوال کے ذیل میں نمبر ۳ پر ہم بھی نقل کر چکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کے دجال و کذاب ہونے میں کسی ادنیٰ شک و ارتیاب کی گنجائش نہیں رہ جاتی، اس لیے جو شخص ان کے جھوٹا ہونے میں معمولی شک کرے۔ وہ بھی مسلمان نہیں رہتا۔ چہ جائیکہ ان کو مجدد تسلیم کرے یا ان کے مجدد ہونے کے بارے میں استخارے کرتا پھرے بنا بریں مسلمانوں سے استخارہ کرنے کا مطالبہ کرنا در حقیقت انھیں غیر محسوس طریقے پر کافر بنانے کی ”سازش“ ہے۔
ثانیاً...... مرزا قادیانی ”مراق“ کے مریض تھے، جو اطباء کی تصریح کے مطابق ”مالیخولیا“ کا ایک شعبہ ہے مرزا قادیانی لکھتے ہیں...... مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی یعنی مراق اور ایک نیچے کی دھڑ کی، یعنی کثرت بول۔
(اخبار بدر جلد نمبر ۲ نمبر ۲۳ ص ۵ مورخہ ۷ جون ۱۹۰۶ء رسالہ تشحیذ الاذہان جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر ۶ بابت جون ۱۹۰۶ء)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”میرا تو یہ حال ہے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم مصروفیت کا یہ حال ہے کہ بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔
اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کیے جاتا ہوں۔“ (یہ بھی مراق ہی کا اثر ہے۔ ناقل)
(منظور الٰہی ص ۴۳۸)
اس لیے مرزا قادیانی کے نبوت، مسیحیت اور مجددیت کے دعوؤں کو جوشِ جنون کا کرشمہ تو کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کوئی عاقل ایک مراقی آدمی کی ”مجنونانہ بڑ“ کو لائق التفات بھی نہیں سمجھے گا۔ چہ جائیکہ اس کے لیے استخارے کیا کرے۔
ثالثاً...... مرزا قادیانی نفسیاتی مریض بھی تھے۔ ان پر مختلف نفسیاتی کیفیات طاری ہوا کرتی تھیں، وہ کبھی خوابوں کی دنیا میں، خدا اور کبھی ”خدا کی مانند“ بن جاتے تھے۔ (آئینہ کمالات ص ۵۶۴ خزائن ج ۵ ص ایضاً) اور کبھی کشفی حالت میں ان پر نسوانی کیفیت طاری ہوتی اور آلہ تناسل رجولیت کی طاقت کھو بیٹھتا۔ (قاضی یار محمد کا مرتبہ ”اسلامی قربانی“ ص ۱۲ اسی کشفی سلسلہ میں انھیں نسوانی وظائف، حیض، حمل اور وضع حمل کے تجربات سے بھی گزرنا پڑا۔
(ملاحظہ فرمائیے تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۴۳ خزائن ج ۲۲ ص ۵۸۱)
یاد رہے کہ انبیاء کا کشف وحی قطعی کے مترادف ہوتا ہے انھیں کبھی کبھی ہسٹریا کے دورے بھی پڑتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ دوم ص ۵۵) جو مرزائیوں کے اعتراف کے مطابق امراضِ مخصوصہ زنان میں شمار ہوتا ہے۔ الغرض ایسے نفسیاتی مریض کے نبی یا مجدد ہونے کا سوال ہی خارج از بحث ہے کہ اس کے لیے استخاروں کے مشورے دیے جائیں۔
رابعاً...... مزید برآں خود مرزا قادیانی کے اپنے چیلنج کے مطابق ان کا کذاب ہونا ساری دنیا پر روز روشن کی طرح کھل چکا ہے۔ مثلاً انھوں نے محمدی کے نکاحِ آسمانی کی پیش گوئی کی تھی اور پوری دنیا کو اس کا چیلنج دیا اور اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا، مگر یہ آسمانی منکوحہ جس کا نکاح بقول ان کے خدا نے آسمان پر پڑھا تھا، کبھی ان کے حبالہ عقد میں نہ آئی۔ بالآخر انھیں اقرار کرنا پڑا کہ خدا نے یہ نکاح فسخ کر دیا، اور خود ان کے مقرر کردہ معیار کے مطابق مفتری اور کذاب ہونا خدا تعالیٰ نے ساری دنیا کو دکھایا۔
نیز انھوں نے مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کے لیے ایک تاریخ مقرر فرمائی اور اسے عظیم الشان ”نشان“ اور ”ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لیے کافی“ دلیل قرار دیا، مگر دنیا جانتی ہے کہ وہ اس مقررہ تاریخ تک نہیں مرا، اس طرح خود مرزا قادیانی کے اقرار سے ان کے کاذب ہونے کی شناخت کے لیے یہ عظیم الشان نشان کافی ہو گیا۔ نیز انھوں نے مولانا ثناء اللہ مرحوم کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے حق تعالیٰ سے فیصلہ کن دعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کے سامنے مر جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا آخری فیصلہ فرمایا اور مرزا قادیانی، مولانا مرحوم کی حیات میں دارالجزاء پہنچ گئے۔ اس نوعیت کے متعدد واقعات ہیں۔ جن کی تفصیل کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ ہمیں ان واقعات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ مرزا قادیانی کی نجی روئیدادِ حیات ہیں۔ یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ جب حق تعالیٰ نے ایک دو بار نہیں بلکہ دسیوں بار مرزا قادیانی کے چیلنج کے مطابق انھیں جھوٹا ثابت کر دیا ہے اور بالآخر خود ان کی موت نے ان کے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے تو اس کے بعد ان کا صدق و کذب معلوم کرنے کے لیے استخارے کی یا کسی اور چیز کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی
ہے۔ مرزا قادیانی کے یہاں تو سرتاپا کذب ہی کذب ہے شر ہی شر ہے۔ وہاں استخارے کا کیا سوال؟
اور دوسرا مغالطہ اس مشورہ استخارہ میں یہ ہے کہ استخارہ ایسے امور کے لیے مشروع ہے جن کا کرنا نہ کرنا شرعاً دونوں جائز ہوں، مگر آدمی یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ میرے لیے اس کے کرنے میں خیر ہے یا نہ کرنے میں مثلاً فلاں جگہ رشتہ کروں یا نہ کروں اور فلاں ملازمت ٹھیک رہے گی یا نہیں وغیرہ، لیکن جن امور کا خیر محض ہونا دلائل شرعیہ سے ثابت ہو وہاں استخارہ کی ضرورت نہیں، اس لئے مشہور مقولہ ہے۔
اسی طرح جن امور کا شر محض ہونا دلائل شرعیہ سے ثابت ہو وہ بھی استخارہ کا محل نہیں۔ کوئی شخص شراب نوشی یا بدکاری کے لیے استخارے کرنے لگے تو اسے زندیق کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص استخاروں کے ذریعہ معلوم کرنا چاہے کہ فلاں شخص سچا ہے یا جھوٹا، نبی ہے یا نہیں، اسے بھی احمق اور زندیق کہا جائے گا۔ مرزا قادیانی کا شر محض، کذاب محض اور ضلال محض ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے، جو شخص اس خالص کفر کے لیے استخارہ تجویز کرے۔ اس کے زندیق اور بے ایمان ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ مرزائی امت آسمان کے تارے توڑ لائے۔ آسمان وزمین کے قلابے ملا دے اور مشرق ومغرب کے احمقوں کو جمع کرے مگر واللہ العظیم مرزا غلام احمد قادیانی کے کذاب ومفتری اور دجال ومضل ہونے میں ادنیٰ شبہہ نہیں ہو سکتا۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ سچے ہیں، قرآن سچا ہے اور اسلام سچا ہے تو مرزا قادیانی جھوٹے ہیں اور قطعاً جھوٹے ہیں۔
آپ کو معلوم ہے کہ بلعم باعورا کو اسی استخارے نے گمراہ کیا تھا اسے تین دن سخت تنبیہ ہوتی رہی، لیکن جب وہ اپنی حماقت سے باز نہ آیا اور چوتھے دن بھی استخارہ کیا تو کوئی تنبیہ نہ ہوئی۔ اس سے وہ احمق سمجھا کہ یہی حق ہے بالآخر ”واضله اللہ علی علم“ کا مصداق بنا اور مثلہ کمثل الکلب کا طوق اس کے گلے کا ہار بنا۔ الغرض یہ خالص زندیقانہ مشورہ ہے جو مرزائیوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو جہنم میں لے جانے کے لیے تجویز کیا ہے، علماء امت کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس فتنے سے متنبہ کریں۔
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حافظ ایمان از فتنہ قادیان
بابو پیر بخش خان لاہوری
بسم الله الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ ط اما بعد بر ناظرین کرام و برادران اسلام واضح باد کہ خدا تعالیٰ حسن و قبح و نیکی و بدی، راستی و کجی، اصل و نقل، صدق و کذب، عیار و قلب، روز و شب، روشنی و تاریکی، ہدایت و ضلالت، کفر و اسلام آفریدہ است و ہر یک را بمقابل دیگرے نہادہ، مولانا جامیؒ مے فرماید ؎
ضد مبین نشود جز بہ ضد
جائیکہ گل است خار ہم رونما گشتہ و جائیکہ صادقے تشریف فرما ہست کاذبے ہم جلوہ نمائی میکند، تاریخ عالم شاہد است کہ اگر انبیاء علیہم السلام دعاوی نبوت و رسالت صادقہ کردہ خلق را از چاہِ ضلالت بیرون کشیدہ بہ شاہراہِ ہدایت رسانیدند بمقابلہ ایشاں مدعیانِ نبوت و رسالت کاذبہ بسیارے از بندگانِ خدا را از صراطِ مستقیم گمراہ ساختہ بچاہِ ضلالت انداختند و خدا تعالیٰ نیز در قرآنِ مجید فرمودہ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا (انعام ۱۱۲) (وہمچنیں پیدا کردیم برائے ہر پیغامبرے دشمنان کہ شیاطین اند از آدمیان و از جن بطریق وسوسہ القا میکنند بعض ایشاں بسوئے بعض سخن بظاہر آراستہ تا فریب دہند) چوں معلوم شد کہ مدعی کاذب ہمرنگ صادقاں ظاہر شدہ خلق را گمراہ سازد، ازیں جہت بر ہر مومن لازم شدہ کہ اول امتحان کند و صدق را از کذب تمیز کردہ دعوٰی مدعی کاذب را قبول نکند مولانا روم فرمودہ ؎
پس بہر دستے نباید داد دست
پس بدست مومنان یک کتابِ معیارے ہست کہ برآں محک ہر صادق از اکاذیب شناختہ میشود و آن قرآنِ مجید و فرقانِ حمید است و بعدش احادیث حضرت خاتم النبیین ﷺ و تعامل صحابہ کرام۔ پس اگر شخصے مار را رسن گرداند یا بر ہوا پرواز کند و ہزار اعجاز نماید اگر قول و فعل او خلافِ قرآن و حدیث و تعامل صحابہ کرام باشد مومن کتاب اللہ را باید کہ از و پرہیزد و از چرب زبانی و لفاظی او فریب نباید خورد و ہیچ دعوٰی او را کہ خلافِ شریعت حقہ باشد قبول ننماید۔
خدا تعالیٰ در قرآن شریف خبر مے دہد کہ بعد محمد ﷺ ہیچکس مدعی نبوت و رسالت در دعوے خود صادق نباشد چنانچہ مے فرماید مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (احزاب ۴۰) یعنی (محمد نیست پدر کسے از مردمِ شما لیکن رسول اللہ است و ختم کنندہ پیغمبران است و خدا تعالیٰ ہمہ اشیا را دانندہ است) ایں نص قرآنی قطعی است کہ ہیچ پیغمبر بعد از حضرت خاتم النبیین نخواہد شد و ہر کہ مدعی گردد کاذب باشد ، رسول اللہ ﷺ در تفسیر ایں آیت در متعدد احادیث فرمودہ کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ یعنی بعد از من کسے
نبی تراشند از انجملہ چند احادیث نقل کردہ آیند۔
حدیث اوّل انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بَعْدِي (ترمذی باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون ج ۲ ص ۴۵، ابوداؤد کتاب الفتن ج ۲ ص ۱۲۷ لفظ لہ) (ترجمہ۔ در امت من سی کس مدعیان کاذب شوند و گمان برند کہ آناں نبی اللہ اند حالانکہ من خاتم النبیین ام کسے نبی بعد من نیست۔ ازین حدیث ثابت است کہ صحیح معنی خاتم النبیین لا نَبِيَّ بعدی است یعنی بند کردن پیدائش پیغمبران چہ از قسم صاحب کتاب و شریعت و چہ از قسم بغیر شریعت چنانچہ در دیگر حدیث تصریح کردہ اند۔
حدیث دوم كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَآءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ انه لانبى بعدى و سيكون خُلَفَاء (صحیح بخاری باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ج ۱ ص ۴۹۱) (ترجمہ۔ ادب اموختہ میشدند انبیاء بنی اسرائیل وقتیکہ یک نبی فوت شد بعدش نبی دیگر مے آمد تا کہ تادیب بنی اسرائیل مے کرد۔ اما منکہ خاتم النبیین ام و بعد من کسے دیگر نبی نخواہد شد لہذا بعد من خلفا باشند کہ کار ادب آموزی و تبلیغ دین چوں انبیاء بنی اسرائیل خواہند کرد ازین حدیث ثابت شد کہ غیر تشریعی نبی نیز بعد از حضرت محمد رسول اللہ ﷺ در امت محمد ﷺ نخواہد آمد بجز حضرت عیسیٰ ؑ کہ نبی سابق بود و ہر کہ دعوے کند دروغگو یقین کردہ شود۔
حدیث سوم عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِي وَقَاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى أَلَّا إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ (بخاری باب مناقب علی ج ۱ ص ۳۷۰ لفظ لہ مسلم باب فضائل علی ج ۲ ص ۲۷۸) (ترجمہ۔ ”رسول اللہ ﷺ حضرت علیؓ را فرمود کہ تو از من مانند ہارون ہستی از موسیٰ مگر تحقیق بعد من کسے نبی نیست“ یعنی تو نبی نیستی۔ ازیں معلوم شد کہ کاذب مدعیان کہ خود را امتی نبی و غیر تشریعی نبی نام کردہ اند دروغگو ہستند چرا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ از ہمہ افراد امت فاضل تر اند و بشرف صحبت رسول اللہ ﷺ مشرف بودند و متابعت تامہ داشتند چوں او را رسول اللہ ﷺ فرمود کہ مانند ہارون ہستی مگر او نبی بود و تو نبی نیستی چرا کہ من ختم کنندہ انبیا ہستم بعد از من کسے نبی نباشد و ایں ظاہر است کہ ہارون غیر تشریعی نبی بود۔ پس ثابت شد کہ غیر تشریعی نبی ہم بعد از حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پیدا نخواہد شد و ہر کہ دعویٰ کند کافر و کاذب باشد چنانچہ رسول اللہ ﷺ در حق مسیلمہ کذاب و اسود عنسی فیصلہ فرمود و ہر دو را کافر قرار داد و از امت خود خارج نمودہ حکم قتال صادر فرمود و صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم عمل بر آں حکم کردند و مسیلمہ و اسود عنسی را ہلاک کردند ازیں تعامل صحابہ و حکم رسول اللہ ﷺ چوں مہر نیمروز ثابت شدہ است کہ ہر کہ دعویٰ نبوت کند کافر و کاذب باشد و از امت محمدیہ خارج گردد اگرچہ اہل قبلہ باشد و ایمان بر رسالت محمد ﷺ داشتہ باشد و ارکان اسلام را بجا آورد چرا کہ ہر کہ دعویٰ نبوت کند منکر ختم نبوت شود و منکر ختم نبوت باجماع امت کافر است و ایں قول او مردود است کہ من از متابعت تامہ محمد رسول اللہ ﷺ بمقام نبوت رسیدہ ام و دعویٰ نبوت من خلاف شرع محمدی ﷺ نیست چرا کہ چوں شرط فوت شود مشروط ہم فوت گردد۔ چوں مرزا خود میگوید کہ از متابعت محمد رسول اللہ ﷺ مرتبہ نبوت یافتہ ام خودش بکفرش اقرار آوردہ چرا کہ دعویٰ نبوت منکر ختم نبوت سازد و منکر ختم نبوت کافر گردد۔ و ایں دعویٰ مرزا دلیلے ندارد کہ از متابعت تامہ مرتبہ نبوت یافتہ ام۔ اگر تابع محمد ﷺ مے بود خود دعویٰ نبوت و رسالت نمیکرد۔ دوم مدعی نبوت شدہ تنسیخ قرآن مے کرد چنانچہ او نوشتہ است کہ جہاد را حرام میکنم۔ سوم حج بیت اللہ را ترک نمیکرد و او چوں از جہاد و حج محروم ماند شرط متابعت تامہ فوت شد لہذا نبی بودنش بقول خودش باطل گردید۔ مسیلمہ کذاب را بر مرزا افضلیت در متابعت حاصل بود کہ حج کردہ بود۔ و اسود عنسی نیز
فریضہ حج ادا کردہ بود۔ پس ثابت شد کہ از متابعت نبی نبوت حاصل نگردد و ایں خطائے اصولی است چرا کہ نعمت نبوت کسبی نیست کہ ہر کہ متابعت نبی کند خود نبی گردد۔
حدیث چہارم : عَنْ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَوْ كَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ (مشکوٰۃ باب مناقب عمر ص ۵۵۸۔ ترمذی باب مناقب عمرؓ ج ۲ ص ۲۰۹) (ترجمہ۔ بفرض محال اگر کسے بعد من نبی مے بود عمر ابن الخطابؓ ہست۔ (مظاہر حق جلد ۴ ص ۶۷۳)
حضرت عمرؓ جلیل القدر صحابی بود و از فیض ہمنشینی رسول اللہ ﷺ فیض یافتہ بود صاحب الہام بود چوں او نبی نشد کسے دیگر چہ پایہ دارد کہ بر الہام خود دعوٰی نبوت کند۔ مرزائے قادیانی میگوید کہ من بخدا سوگند میخورم کہ من بر الہامات خود چناں ایمان دارم کہ بر قرآن شریف و دیگر کتب الہیہ۔ و چنانکہ قرآن شریف را قطعی و یقینی کلام خدا میدانم۔ ہمیں طور کلامیکہ بر من نازل میشود او را قطعی و یقینی کلام خدا یقین دارم۔
(حقیقۃ الوحی مصنفہ مرزا ص ۲۱۱ خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
برادران اسلام! آگاہ باشید و بہ بینید کہ حضرت عمرؓ کہ جلیل القدر صحابی بودند و در خیرالقرون بودند و خادم اسلام چناں کہ فتح بیت المقدس و دیگر ممالک از کارنامہ ہائے اوست و در زیر وحی رسالت او را الہام مے شد حضرت عمرؓ بر الہام خود عمل نمی فرمود تا وقتیکہ تصدیق وے از قرآن مے کرد۔ مگر ژاژ (خود بافیہاے) ایں کاذب را ملاحظہ فرمائید کہ میگوید۔ مرا بر الہام خود چناں ایمان است کہ بر تورات و انجیل و قرآن۔ و با ایں بے ادبی و گستاخی دروغ مے بافد کہ از متابعت محمد ﷺ مرتبہ نبوت یافتم و خدمات اسلام چناں کردم کہ خدا تعالٰی نبوت و رسالت را بر من کرامت فرمودہ و ایں دلیل وے باطل است چرا کہ حضرت عمرؓ کہ اکثر حصہ دنیا فتح کردہ اشاعت اسلام کرد اور انبوت ندادہ شد مگر کاذبے دجالے را کہ ہیچ خدمت اسلام نکرد و فرائض اسلام را ترک کرد بہ بہانہ اشاعت اسلام اشاعت نبوت و رسالت و مسیحیت و مہدویت کاذبہ خود کرد۔ و چناں تخم بغاوت رسول اللہ ﷺ کاشت کہ بعدش مریدان او ہم مدعیان نبوت کاذبہ میشوند مولوی عبداللطیف ساکن موضع گنا چور ضلع جالندھر مدعی نبوت و مہدویت است دیگر مدعی نبوت نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ است ہر دو مدعیان نبوت مریدان مرزا قادیانی ہستند و مسلماناں را گمراہ میکنند و جانشین مرزا قادیانی یعنی پسرش مینویسد کہ ما اعتقاد داریم کہ کلام خدا گاہے بند نمیشود مگر کلام خدا را کہ بر مولوی عبداللطیف و نبی بخش جدید مدعیان نبوت نازل شدہ ایمان نمی آرد و بہمہ مریدان خود از انکار دو نبی بقول خود کافر شدہ است چرا کہ خلیفہ قادیانی ہمہ مسلمانان عالم را کافر میگوید بدیں دلیل کہ منکر نبوت یک نبی کافر است و مرزا پدرش چونکہ نبی بود لہذا ہمہ مسلمانان عالم بہ سبب انکار نبوت مرزا کافر شدہ اند حالا ما میگوئیم کہ شما و جماعت شما از نبوت دو مدعیان کہ چوں شما مرید مرزا ہستند و خدا تعالٰی آنانرا نبوت دادہ چرا انکار میکنید و کافر میشوید۔ مگر افسوس جوابے نمی دہند و نہ ایں ہر دو مدعیان نبوت و مہدویت را قبول کنند۔ در حق اینچنیں مردمان خدا تعالٰی مے فرماید لِمَ تَقُولُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ یعنی ”چرا سخنے میگوئید کہ خود براں عمل نمیکنید“۔
حدیث پنجم قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ فَإِنِّيْ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ مَسْجِدِيْ آخِرُ الْمَسَاجِدِ (صحیح مسلم باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینہ ج۱ ص ۴۳۶) یعنی من تحقیق اخیر انبیاء ہستم و تحقیق مسجد من اخیر تمام مساجد انبیاء است۔
حدیث ششم أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَ مَسْجِدِيْ خَاتِمُ مَسَاجِدِ الْأَنْبِيَاءِ یعنی رسول اللہ ﷺ فرمودہ است کہ من ختم کنندہ ہمہ پیغمبرانم و مسجد من ختم کنندۂ مساجد انبیاء است۔ (کنز العمال ج ۱۲ باب فضل الحرمین حدیث ۳۴۹۹۹)
حدیث ہفتم اَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّةَ بَعْدَکُمْ یعنی فرمود رسول اللہ ﷺ کہ نیست کسے نبی بعد من ونیست ہیچ امت بعد شما۔ یعنی بعد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام والتحیۃ۔
(کنز العمال باب حجۃ الوداع ج ۵ ص ۲۹۵ حدیث نمبر ۱۲۹۳۲)۔
ازیں حدیث ثابت میشود کہ بعد از محمد رسول اللہ ﷺ کسے نبی صادق نباشد چرا کہ محمد ﷺ آخری نبی است و امت وے آخری امتہا۔ اگر کسے نبی باشد امت او ہم خواہد بود و دریں صورت نہ محمد ﷺ آخری نبی میماند و نہ امت وے ختم کنندۂ ہمہ امتہا خواہد ماند۔ پس از نصوص شرعیہ قطعیہ ثابت شد کہ صادق نبیے بعد خاتم النبیین نباشد الا کاذب مدعیان نبوت تا روز قیامت بیایند چنانچہ حضرت عیسیٰ ؑ ہم فرمودہ است۔ انجیل برنباس فصل ۹۷ آیت ۵ لغایت ۹۔ ”عیسیٰ ؑ گفت برایں خبر مرا تسکین است (کہ رسولیکہ بعد من بیاید یعنی محمد ﷺ) آں ہر یک دروغ خبر و الزام را کہ در حق من گمان کردہ اند دور کند و دین او در ہمہ عالم شہرت یابد و در تمام دنیا رائج و عام شود چرا کہ خدا تعالیٰ بہ ابراہیم ؑ چناں وعدہ دادہ است و چیز یکہ مرا تسلی دہد آنست کہ دین آں رسول ﷺ را حدے و غایتے نماند چرا کہ خدا تعالیٰ او را محفوظ دارد۔ کاہن در جواب گفت کہ بعد ازیں رسول (محمد ﷺ) دگر رسولاں ہم بیایند یسوع رسول جواب داد کہ بعد آں رسولے دیگر رسول از طرف خدا تعالیٰ فرستادہ نشود مگر جماعتے از کذابان مدعیان نبوت بیایند۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ برائے آگاہی امت خود بطور پیشین گوئی خبر دادہ است کہ در امت من بست و ہفت کذاب و دجال کہ درمیان آنہا چہار زنان باشند پیدا شوند کہ دعوٰی نبوت و رسالت کنند حالانکہ من خاتم النبیین ام بعد من ہیچ کس نبی نخواہد شد عبارت حدیث ایں است فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ عِشْرُوْنَ مِنْهُمْ اَرْبَعَةُ نِسْوَةٍ وَ اِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ (رَوَاهُ اَحْمَدُ ج ۳۸ ص ۳۸۰ حدیث ۲۳۳۵۸ وَالطَّبْرَانِیْ ج ۴ ص ۱۷۰ حدیث نمبر ۴۰۲۶ وَاَیْضًا عَنْ حُذَیْفَةَ کنزالعمال فصل فی کذابین والفتن حدیث نمبر ۳۸۳۶۴ ج ۱۴ ص ۱۹۷) سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اِنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ کَذَّابِیْنَ فَاحْذَرُوْهُمْ۔ یعنی از حضرت جابر بن سمرہؓ روایت است کہ از رسول اللہ ﷺ شنیدہ ام کہ فرمودہ بودند کہ در قرب قیامت مدعیان کاذب پیدا شوند در امت من پس پرہیز کنید۔
(صحیح مسلم)
حدیث ہشتم لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّهُمْ یَزْعُمُ اَنَّهُ رَسُوْلُ اللہِ۔ (رواہ احمد ج ۱۲ ص ۱۶۵ حدیث نمبر ۷۲۲۸ و مسلم ج ۲ ص ۳۹۷ کتاب الفتن والبخاری ج ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوۃ فی الاسلام والترمذی باب لاتقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون ج ۲ ص ۴۵ عن ابی ھریرۃ) یعنی احمد بن حنبل و مسلم و بخاری و ابو داؤد و ترمذی از ابو ہریرہؓ روایت کردہ کہ قیامت نخواہد آمد تا وقتیکہ سی دجال و کذاب در امت من پیدا نشوند کہ آں تمام گمان برند کہ آنہا رسول اللہ ہستند۔
(کنزالعمال ج ۱۴ ص ۲۰۴ حدیث نمبر ۳۸۴۰۲)
احادیث بسیار اند اما بغرض اختصار بریں ہشت اکتفا میکنیم۔ برائے مومن کتاب اللہ و رسول اللہ ﷺ یک آیت و یک حدیث کافی است و برائے منکر ہزار ہا ہم فائدہ ندارد۔
پس چوں حضرت عیسیٰ ؑ و حضرت محمد رسول اللہ ﷺ قبل از وقت برائے آگاہی امت ظہور شدن چنین دجالون کذابون مدعیان نبوت و رسالت و مسیحیت خبر دادہ تا کہ امت گمراہ نشود و بمشاہدہ ہم رفتہ کہ در مدتِ سیزدہ صد سال بسیارے کذابون مدعیان پیدا شدند و پیشین گوئی راست آمد بلکہ دو کس در عہد حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ پیدا شدند و دعویٰ وحی و رسالت کردند و بعد ازاں در ہر صدی بسیارِے مدعیانِ نبوت گذشتند ذکر آنہا را بطور اختصار در ذیل میکنیم تا کہ مسلمانان را واضح باد کہ قبل از مرزائے قادیانی حسب پیشین گوئی مذکورہ بالا کاذب نبی گذشتہ اند و تاقیامت خواہند آمد۔ مقام تعجب نیست کہ مرزا دعوے نبوت کردہ از امت خارج شد۔ قبل از ایں مفصلہ ذیل اشخاص دعاویٰ کردند و از حکم خلفائے اسلام نابود شدند۔
اول۔ مسیلمہ بود از قبیلہ حنیفہ و میگفت کہ من نبی و رسولم مگر تابع محمد و قران چنانچہ مرزا گوید و دعوے او ایں بود کہ چنانکہ ہارون نبی بود و تابع موسیٰ بود من ہم تابع محمد ام و نبوت من بغیر شریعت جدیدہ است و نامہ بخدمت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ فرستاد کہ من بہ نبوت و رسالت شریک جناب ہستم نصف ملک مارا است و نصف ملک برائے شما۔ حضور ﷺ بجواب نوشت کہ تو در دعویٰ نبوت و رسالت کاذب ہستی ملک دادن و نہ دادن در اختیار خدا است ہر کرا خواہد دہد و حکم صادر فرمودند کہ مسیلمہ کاذب مدعی نبوت است و کافر شدہ است اورا و جماعت او را کہ از یک لک بیش بود قتل باید کرد چنانچہ در عہد خلافت حضرت ابا بکر صدیق خلیفہ اوّل مسیلمہ بعد جنگ و جدال بسیار ہلاک شد و جماعت او نیز نابود کردہ شد۔ صداقت مرزا ہم ثابت میشدے اگر بوقت یکے خلیفہ اسلامی دعوے میکر دے۔ ایں ہمہ دعاویٰ مرزا نقل مسیلمہ کذاب است کہ گوید ”بغیر شریعت نبی ام و تابع محمد رسول اللہ ام دعویٰ من خلاف محمد ﷺ نیست“
(مفصل حالات مسیلمہ در تاریخ کامل ابن اثیر ج ۲ ص ۱۶۶، ۲۱۸)
دوم۔ اسود عنسی بود کہ بسیار شعبدہ باز بود و مردمانرا بہ شعبدہ بازی خود رام میکرد ایں کذاب نیز در زمان حضرت خاتم النبیین ﷺ بودہ است و بحکم حضور علیہ السلام نابود و معدوم کردہ شد۔
(تاریخ کامل ابن اثیر ج ۲ ص ۲۰۱)
سوم۔ مختار ثقفی۔ ایں ہم کاذب مدعی نبوت بود مگر خود را مستقل نبی نمی دانست خود را مختار محمد ﷺ مے نوشت چنانکہ مرزا گوید کہ نبوت و رسالت من تابع نبوت و رسالت محمد ﷺ است۔ خبر خروج ایں کذاب رسول اللہ ﷺ دادہ بود چنانچہ مسلم روایت میکند۔
(کنز العمال ج ۱۴ ص ۱۹۹ حدیث نمبر ۳۸۳۷۴)
چہارم۔ سلیمان قرمطی است کہ در خانہ کعبہ رفتہ سنگ اسود را برکند و دعویٰ میکرد کہ خلقت را پیدا کردہ ام و فنا ہم خواہم کرد۔ (تاریخ الخلفاء ص ۳۱۸ باب المقتدر باللہ) مرزا ہم میگوید کہ من رودر گوپال ہستم۔ یعنی فنا کنندہ و پرورش کنندہ منم۔
(حقیقۃ الوحی تتمہ ص ۸۵ خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۱)
پنجم۔ لا۔ ایں کاذب از ملک مغرب خروج کرد و میگفت کہ حدیث رسول اللہ ہست کہ بعد من لا نبی خواہد شد و حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ پیش میکرد۔
ششم۔ زنے دعویٰ نبوت کرد۔ خلیفہ وقت از و پرسید کہ بر پیغمبر آخر زمان ایمان داری۔ گفت بلے۔ خلیفہ گفت کہ رسول اللہ ﷺ فرمودہ است کہ ”لا نبی بعدی“ یعنی بعد از من کسے نبی نباشد۔ آنزن جواب داد کہ دریں حدیث برائے مرد ممانعت است نہ برائے زن۔
ہفتم۔ عطا۔ ایں کاذب بنام ابن مقنع معروف بود و قائل و معتقد مسئلہ حلول بود میگفت کہ خدا تعالیٰ در ہمہ پیغمبران حلول کردہ است و حالاً در من حلول کرد۔ مرزا ہم معتقد مسئلہ حلول است کہ خود را اوتار و بروز خدا میگوید۔ چونکہ مدعیان کاذب بسیار بودہ اند لہٰذا در ایں مختصر برایں قدر قلیل کفایت ورزیدہ ذکر کاذب موجودہ میکنم تا برادرانِ اسلام بر غلط بیانی و گندم نمائی و جو فروشی مریدان مرزا کہ خود را احمدی گویند راہِ ضلالت اختیار نمودہ گمراہ نشوند و بر صراطِ مستقیم قائم بمانند و بر چرب زبانی و خلاف بیانی کسے ”غلام احمدی“ مائل نشوند و دولتِ ایمان از دست ندہند۔
در ملک ہندوستان بصوبہ پنجاب علاقہ ضلع گورداسپور قصبہ ایست کہ اورا قادیان گویند در انجا شخصے حکیم حاذق بود مرزا غلام مرتضیٰ نام در خانہ دے در سال ۱۸۴۰ء یا ۱۸۳۹ء پسری پیدا شد کہ نامش بطور تفاول غلام احمد نہادند مرزا غلام احمد بعد از تحصیل علم فارسی و عربی بقدر ضرورت در ضلع سیالکوٹ محرر انکم ٹیکس (محاصل کہ حکومت از رعایا برآمدنی وصول میکند) بمشاہرہ پانزدہ روپیہ ملازم دولت انگلیس شد۔ در سیالکوٹ بحالت ملازمت تنگدست بود لہٰذا ارادہ کرد کہ در امتحان مختاری (قانون پیشہ کہ از وکالت قدرے کم است) کامیاب شدہ پیشہ وکالت اختیار کند مگر از شومی طالع در امتحان کامیاب نشد۔ کیمیا گری ہم مے آموخت مگر نسخہ کہ بذریعہ آں زرے سازند درست نیامد۔ یک عرب پیش مرزا آمد و چند عمل یاد آموخت و گفت کہ این وظیفہ بخواں خدا تعالیٰ سببی پیدا کند کہ توانگر و صاحب مال خواہی شد۔ مرزا ملازمت ترک نمود و بشہر لاہور آمد و در مسجد (معروف) چینیاں بہ پیش مولوی محمد حسین (غیر مقلد) صاحب بٹالوی ملاقات کرد و ہم در مسجد مذکورہ سکونت اختیار کرد۔ چونکہ عوام اہل اسلام از غیر مقلدان نفرت مے داشتند و وہابی گفتہ تنفر میکردند۔ مرزا مولوی محمد حسین صاحب را گفت چناں ارادہ دارم کہ کتابے تصنیف کنم کہ در او بر ہر مذہب اسلام را صداقت و غلبہ باشد۔ مولوی صاحب اتفاق کردند و معاون مرزا شدند چرا کہ دراں وقت عجب مصیبت بر اہل اسلام بود کہ سوامی دیانند بانی مبانی آریہ سماج پیدا شدہ بود و مردم آریہ از ہر طرف بر مذہب اسلام خوردہ میگرفتند۔ دران وقت وجود مرزا بغایت غنیمت شمردہ شد و ہمہ فرقہ ہائے اسلامیہ ہمدرد وے استادہ شدند و برائے تصنیف کتاب ”براہین احمدیہ“ چندہ دادند و برائے اعانتش اشتہار مشتہر کردند غرض ہمہ مددگار وے شدند۔ مگر افسوس کہ کتاب ”براہین احمدیہ“ کہ موعودہ سہ صد جزو بود شائع نشد و مرزا بجائے تردید مذہب نصارٰی و آریہ مذہب اسلام را خراب کردن گرفت و اعتراضات کہ آریہ و عیسائی و برہمو وغیرہ بر اسلام میکردند مرزا و مریدانش چناں اعتراضات بر اسلام کردن آغاز نمودند و دعاوی خود را بہ اشتہار ہا و کتابہا نوشتن آغاز کردند و مسلمانان را در بلائے عظیم گرفتار ساختند کہ علماء یکطرف آریہ و عیسایانرا جواب میدادند و طرف دیگر تحریرات خلاف شرع مرزا را جواب مینوشتند و از چندہ مسلمانان کہ برائے تردید آریہ و عیسایان وغیرہ جمع کردہ بودند از ہر دو طرف باخود افتادند۔ چوں دعوٰی مسیحیت و مہدویت و نبوت و رسالت مرزا مسلمانان شنیدند علمائے اسلام فتاویٰ کفر بر مرزا صادر کردند و علمائے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ و ہند و سندھ و افغانستان و بغداد وغیرہ وغیرہ اشتہار جاری کردند کہ مرزا چون مسیلمہ کذاب است و انکار ختم نبوت کردہ مدعی نبوت و رسالت کاذبہ خود شدہ است از و علیحدگی اختیار باید کرد۔ پس ہمہ مسلمانان صاحب علم و ہوش از مرزا جدا شدند و آن کسان کہ در خود مادہ مسیلمہ پرستی پنہاں ۔ ہمراہ مرزا ماندند۔ مرزا اگر مسلمان بودے فتاویٰ علمائے اسلام دیدہ توبہ کردے مگر بعد ازاں مرزا نہایت جسارت کردہ مریدان خود را حکم داد کہ از مسلمانان جدا شوید چرا کہ ہمہ مسلمانان عالم بہ سبب انکار نبوت و رسالت من کافر شدہ اند و من کہ مسیح موعود میباشم ہر کہ انکارِ مسیحیت من کند کافر است چرا کہ خبر آمدن من حضرت مخبر صادق محمد ﷺ دادہ است و من ہماں ابن مریم ہستم کہ در آخر زمان نازل شدنی بود و بر دعوے خود ایں دلیل پیش کرد کہ من چونکہ مریم ہستم ازین سبب بطور استعارہ من حاملہ شدم و بعد از نہ ماہ بچہ زادم کہ او عیسیٰ بود پس خدا تعالیٰ مرا از مریم عیسیٰ ساخت ترجمہ اصل عبارت او این است۔
”چوں مریم روح عیسیٰ ؑ در من نفخ کردند و مرا برنگ استعارہ حاملہ قرار دادند آخر بعد چند ماہ کہ مدتش زیادہ از دہ ماہ نبود مرا از مریم عیسیٰ ساختہ شد۔
(کشتی نوح ص ۴۷ خزائن ج ۱۹ ص ۵۰)
این دلیل چناں مضحکہ خیز را مریدان مرزا قبول کردند و او را مسیح موعود پنداشتند مگر چونکہ مسیح نبی و رسول بود
ازیں ممر مرزا خیال کرد کہ چونکہ من مسیح موعود ہستم رسول و نبی ہم منم و در سال ۱۹۰۸ء عیسوی دعوائے نبوت و رسالت در اخبار خود کہ نامش اخبار بدر قادیان بود بدیں الفاظ شائع نمود کہ نبی ورسول ہستم از فضل خدا۔
(اخبار بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)
چونکہ این دعوے خلاف اجماع امت محمدیہﷺ بود علمائے ہند و عرب و بغداد فتویٰ بکفر وے شائع کردند چرا کہ مدعی نبوت بعد از حضرت خاتم النبیین باجماع امت کافر است۔ باید کہ اہل اسلام تدبر و تفکر فرمایند۔
- ۱...... ابن حجر مکیؒ در فتاویٰ خود مینویسد مَنِ اعْتَقَدَ وَحْيًا مِّنْ بَعْدِ مُحَمَّدٍﷺ کَانَ کَافِرًا بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِیْنَ
یعنی کسیکہ بعد محمدﷺ دعوے کند کہ برمن وحی نازل میشود او نزد جمیع مسلمانان عالم کافر است۔
- ۲...... ملا علی قاری در شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲ باب المسئلة المعلقة بالكفر نوشته کہ دَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍﷺ
کُفْرٌ بِاِجْمَاعٍ یعنی دعوے نبوت بعد نبی ما محمدﷺ باجماع امت کفر است۔ مگر مرزا غلام احمد در کتب خود نوشتہ کہ من چونکہ مسلمان ہستم و تابع محمدﷺ مرا دعوے نبوت میسزد و سزا وار است چرا کہ این دعویٰ خلاف شرع محمدیﷺ نیست کہ من بروز محمد ام و فنا فی الرسول ہستم ازین سبب دعوے نبوت من خلاف نصوص شرعیہ نیست۔ اگرچہ ایں شاعرانہ لفاظی بہ جوے نمی ارزد و این لغو طریق استدلال بجوے برابر نیست لاکن انگلیسی دانان کہ از علم دین بے بہرہ بودند و نیز بیعت کردہ مرید شدہ بودند ایں چنیں دلائل را قبول کردند و اورا مسیح موعود تسلیم کردند۔ مرزا چوں جمعیت خود دید جماعت خود علیحدہ ساخت و مریدان خود را حکم داد کہ چونکہ علمائے اسلام مرا کافر میگویند و مرا نبی و رسول نمیدانند لہٰذا خود کافر شدہ اند چرا کہ انکار یک نبی کفر است اگرچہ آں نبی قبل از محمدﷺ باشد یا بعد از حضرت خاتم النبیین۔ پس مریدانش کہ خود را احمدی مینامند وجہ تسمیہ احمدی این است کہ ایشان مریدان مرزا غلام احمد قادیانی اند وایں جماعت از مسلمانان مقاطع کردہ در معاملات و عبادات وعروسی وغیرہ کنارہ کشیدند فریضہ باجماعت و نماز عیدین و جمعہ و جنازہ با مسلمانان ترک کردند و در امور سیاسی ہم از مسلمانان جدا شدہ اند۔
وقتیکہ مسئلہ خلافت در میان اوفتاد این جماعت بہ کفار پیوست و آشکارہ گفتند کہ ”خلیفتہ المسلمین ترکی خلیفہ ما احمدیان نیست خلیفہ ما در قادیان است“ غرض کہ این جماعت من کل الوجوہ خلاف اہل اسلام است و شب و روز سعی میکند کہ جمیع مسلمانان بویے پیوند شوند ہر ممکن حیلہ بکار برند و تبلیغ رسالت رسول قادیانی میکنند و بہ بہانہ تبلیغ اسلامیہ پول گرد آوردہ تبلیغ احمدیت (رسالت مرزا) کنند گانرا بہ ممالک دیگر مے فرستند تاکہ مسلمانان را مسیحیت و رسالت مرزا تلقین کنند۔ چونکہ دنیا عالم اسباب است و ہر کہ سعی کند و ہر کہ مدعی شود عوام کالانعام پیروی او میکنند ازین سبب اکثر مردم بدام وے افتند۔ درین ایام شورش عظیم رو نموده و مشہور عام شدہ است بلکہ روز نامہا این خطرہ ظاہر نمودہ کہ مبلغان این جماعت بہ بخارا رسیدہ آنجا تخم ریزی مذہب خود (رسالت و مسیحیت مرزا) خود کردہ اند و ہنوز ارادہ خاص کابل دارند۔ این خبر ہم بوضوح پیوست کہ چند کسان مذہب خود را پنہاں داشتہ بہ کابل رسیدہ اند و سعی میکنند کہ مذہب خود شانرا در ان مملکت اشاعت کنند۔ بطور اختصار عقائد این جماعت نوشتہ آیند تاکہ مسلمانان ازین گروہ گمراہان گول نخورند۔
دعویٰ نبوت و رسالت
بخدا پاک دانمش ز خطا
از خطاہا ہمین است ایمانم
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
- ۲....... چنانکہ من برآیات قرآن شریف ایمان دارم ہمچناں بغیر فرق یک ذرہ بروحی خود ایمان دارم۔
(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۴۳۵)
- ۳....... قُلْ یٰأَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۰ اشتہار معیار الاخیار)
”اے مرزا مردم را بگو کہ من رسول شدہ بطرف شما آمدہ ام۔“ این الہام مرزا است کہ بر رسالت مرزا دلیل آرند۔
- ۴....... آن خدا حقیقی خدا است کہ رسول خود را قادیان فرستادہ است۔
(دافع البلاء ص ۱۱ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
- ۵....... قادیان از طاعون محفوظ خواہد ماند چرا کہ تخت گاہ رسول است۔“
(دافع البلاء ص ۱۰ خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰)
- ۶....... حقیقی خدا آنست کہ رسول خود را بہدایت و دین خود فرستادہ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ یعنی آن رسول را
قریب قادیان نازل کردیم۔
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ۷۷ خزائن ج ۳ ص ۱۴۰)
- ۷....... مرا دعویٰ است کہ من نبی و رسول ہستم۔
(ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷ اخبار بدر ۵ مارچ ۱۹۰۱ء)
- ۸....... قسم بخدا ئیکہ جانم بہ قبضہ اوست کہ او مرا اسم نبی عطا فرمودہ است۔
(تتمہ حقیقتہ الوحی ص ۶۸ خزائن ج ۲۲ ص ۵۰۳)
- ۹....... چندیں اولیا و ابدال و اقطاب کہ قبل از من گذشتہ اند آنہا را ایں قدر حصہ کثیر ایں نعمت ہیچکس ندادہ اند پس
بایں سبب نام نبی یافتن را مرا مخصوص کردند۔
(حقیقتہ الوحی ص ۳۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶)
- ۱۰.......
داد آں جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
مرزاے قادیانی خود را از رسول اللہ ﷺ افضل میشمارد
- ۱....... لَہُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِیْرُ وَاِنَّ لِیْ خَسَفَا الْقَمَرَ اَنِ الْمُشْرِقَانِ اَتُنْکِرُ۔
(اعجاز احمدی ص ۷۱ خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۳)
یعنی برائے محمد ﷺ صرف ماہ را خسوف شد و برائے من مہتاب و آفتاب ہر دو را کسوف و خسوف شدا کنون چساں مرتبہ مرا انکار توانی کرد۔
- ۲....... در این ایام خدا تعالیٰ وحی مرا و تعلیم مرا و بیعت مرا مدار نجات قرار دادہ است۔
(اربعین نمبر ۴ ص ۶ خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵)
مطلب اینکہ خواہ کسے پیروی قرآن کند ارکان اسلام بجا آورد ہرگز نجات نیابد تا وقتیکہ مرید من نشود۔
- ۳....... برائے محمد ﷺ سہ ہزار معجزات و نشان ظاہر شدند۔ (تحفہ گولڑویہ ص ۴۰ خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳) و برائے من زیادہ از
سہ لک۔
(حقیقتہ الوحی ص ۱۶۴ خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۸)
مسلمان غور فرمایند کہ چساں مدعی کاذب فضیلت خود بر حضرت خاتم النبیین ظاہر میکند کہ برائے محمد ﷺ
صرف سہ ہزار نشان خدا تعالیٰ ظاہر نموده بود و براے من سہ لک۔ مگر او را عقل نیامد کہ اگر یک نشان روزانہ بظہور مے آمد زیادہ از ہشت ہزار مے بود۔ راست است کہ ’’دروغ گو را حافظہ نباشد‘‘۔
- ۴...... احادیث رسول اللہ ﷺ کہ مخالف الہام من باشد ما آنرا بطور کاغذ ردی میفگنیم۔
(اعجاز احمدی ص ۳۰ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
- ۵...... مرا اطلاع داده شد۔ ہمہ احادیث کہ علمائے اسلام پیش میکنند ہمہ بہ تحریف لفظی و معنوی آلودہ اند یا موضوع
اند ہر کہ حکم شدہ آمدہ است اختیار دارد کہ از ذخیرہ احادیث انبارے را کہ خواہد از خدا علم یافتہ ردی کند۔
(اربعین نمبر ۳ ص ۱۵ خزائن ج ۱۷ ص ۴۰۱)
افسوس۔ اصول صحابہ کرام و محدثین و مجتہدین و سلف صالحین این است کہ ہر الہامیکہ خلاف قرآن و حدیث و اجماع باشد مردود است۔ غلام احمد متنبی میگوید کہ بمقابلہ الہام من قرآن و حدیث ردی است (نعوذ باللہ) حالانکہ الہامات او ہمگی از کفر و شرک مرکب شده اند۔ نمونہ الہاماتش ملاحظہ فرمایند۔
الہامات
- ۱...... اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِیْ یعنی اے مرزا تو بجائے فرزند ما ہستی۔
(حقیقة الوحی ص ۸۶ خزائن ج ۲۲ ص ۸۹)
- ۲...... اَنْتَ مِنْ مَّاءِ نَا وَهُمْ مِنْ فَشَلٍ یعنی اے مرزا تو از آب ما ہستی و آنها از خشکی۔
(اربعین نمبر ۳ ص ۳۴ خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۳)
- ۳...... اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ بُرُوْزِیْ یعنی اے مرزا تو اوتار ما ہستی۔
(تجلیات الٰہیہ ص ۱۲ خزائن ج ۲۰ ص ۴۰۴)
- ۴...... اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِیْ یعنی اے مرزا تو بجائے اولاد ما ہستی۔
(دافع البلاء ص ۶ خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۷)
- ۵...... اَلْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِیْ۔ یعنی اے مرزا زمین و آسمان بشما چنان است کہ با من۔
(حقیقة الوحی ص ۷۵ خزائن ج ۲۲ ص ۷۸)
- ۶...... اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَيْكُمْ رَسُوْلاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا اِلى فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً یعنی فرستادیم بطرف شما رسولے
چنانکہ فرستادیم جانب فرعون رسول۔
(حقیقت الوحی ص ۱۰۱ خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۵)
بر بنائے این الہام مرزا جملہ مسلمانانِ عالم را فرعون تصور میکند و خود را رسول پندارد حالانکہ این آیت قرآن است کہ در حالت خواب چوں دیگر مسلمانان بر زبان دے جاری شده باشد مگر او گمان میکرد کہ آیات قرآن مجید دوباره بروے نازل شدند چنانکہ یحیی بن زکرویہ قرمطی کاذب مدعی نبوت میگفت کہ آیات قرآن شریف بر من دوباره نازل میشوند۔
- ۷...... اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْكَ یعنی اے مرزا تو از من ہستی و من از تو۔
(حقیقة الوحی ص ۷۴ خزائن ج ۲۲ ص ۷۷)
- ۸...... دَنى فَتَدَلّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنى یعنی مرزا نزدیک بخدا شد و چنان نزدیک شد کہ درمیان دو قوسین
خط میشود۔
(حقیقة الوحی ص ۷۶ خزائن ج ۲۲ ص ۷۹)
- ۹...... يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ یعنی اے مریم تو و دوست شما بہ بہشت داخل شوید۔
(حقیقة الوحی ص ۷۶ خزائن ج ۲۲ ص ۷۹)
این است الہام کہ مرزا را مریم ساختہ و حامله شده عیسیٰ زائید۔ لاحول ولا قوۃ۔ اے لعنت بکار شیطان۔
- ...... يَحْمِدُكَ اللّٰهُ وَ يَمْشِیْ اِلَيْكَ یعنی اے مرزا خدا تعالیٰ تعریف تو میکند و بجانب تو مے خرامد۔
(حقیقة الوحی ص ۷۸ خزائن ج ۲۲ ص ۸۱)
ہر مسلمان را قیاس باید کرد کہ اینچنین الہامات شرک و کفر خلاف قرآن و احادیث از طرف خدا منزل شدہ اند یا از طرف شیطان لعین۔ او کہ وعدہ کردہ است کہ مردم را گمراہ خواہد کرد۔ مگر افسوس کہ مرزا و مریدانش اینچنین الہامات را از خدا تعالیٰ تصور میکنند و از آتش دوزخ نمی ترسند۔ اگر اینچنین الہامات را رحمانی نام نہیم۔ پس مریدان مرزا بفرمایند کہ شیطانی الہامات کرا گویند علامتش چیست الہامیکہ خدا تعالیٰ را فرزند و اولاد تجویز کند و صریح خلاف قرآن شریف باشد چساں از جانب آنخدا باشد کہ او در قرآن شریف فرمودہ است۔ وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ (توبہ ۳۰) ترجمہ۔ یہود میگویند کہ عزیر پسر خدا است و نصاریٰ میگویند کہ مسیح پسر خدا است ایں ہمہ چناں گفتگوے ہست بلکہ گفتگوے آں کفار است کہ پیشتر گذشتہ اند۔
از قرآن ثابت میشود کہ ہر کہ خدا را نسبت پدری دہد کافر است مگر مرزا میگوید کہ خدا تعالیٰ مرا نسبت پسری کردہ بدیں وجہ کہ عیسٰی ابن اللہ بود (نعوذ باللہ) ومن ہم مسیح ہستم ازین سبب خدا تعالیٰ مرا نیز نسبت پسری بخود داد چنانچہ مسیح را داد۔ و درین حکمت این است کہ تردید نصاریٰ شود۔ مصرعہ۔
درین الہام تردید مسئلہ ابن اللہ نیست بلکہ تصدیق است چونکہ دعوے مرزا است کہ او مثیل عیسٰے ابن مریم است چوں مرزا بہ سبب بودن مثیل مسیح بمنزلہ فرزند خدا است بوجہ احسن ثابت شد کہ اصل مسیح اصل فرزند خدا بود۔ این مسئلہ ابن اللہ را تصدیق شد و این کفر است۔
پس این چنیں الہامات وسوسہ شیطان اند نہ الہامات رحمانی۔ ولایق رد کردن اند نہ لایق پیروی کردن۔ این چنیں کشوف مرزا غلام احمد قادیانی پر از شرک و کفر باشند مگر مرزا ہمہ رطب و یابس را ہر چہ در خواب بیند و شنود ہمہ را از خدا پندار و چند کشوف او نیز نوشتہ آید بطور نمونہ تا معلوم شود کہ از احلام شیطانی اند نہ رؤیا صادقہ۔
کشوف مرزا
- ۱...... حضرت مسیح موعود فرمود کہ در حالت کشف حالتے بر من طاری شد کہ گویا من عورت شدہ ام و اللہ تعالیٰ اظہار طاقت
رجولیت بمن فرمودہ بود۔
(اسلامی قربانی ص ۱۲ مؤلفہ قاضی یار محمد قادیانی)
این کشف از احلام شیطانی است کہ صد در صد و ہزار در ہزار مردم گمراہ میشوند و در حق اینچنین کشف فرمودہ شدہ است۔ مصرعہ۔
- ۲...... در خواب دیدم کہ خود خدا ام و یقین کردم کہ ہماں ہستم در انحالت میگفتم ...... کہ ما نظام جدید و آسمان نو و زمین
نوے خواہیم پس من اوّل آسمان و زمین را بصورت اجمالی پیدا کردم کہ دراں ترتیبی و تفریقے نبود بعد ازان من بہ منشاء حق ترتیب و تفریقش کردم و دیدم کہ بر خلق ایشاں قادر ہستم پس آسمان دنیا را پیدا کردم و گفتم إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ۔
(کتاب البریہ ص ۸۷ خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۵)
در تشریح این کشف مرزا غلام احمد خود را باین طور خدا ثابت میکند و میگوید ”وقتیکہ من خدا شدم در آن وقت ارادہ و خیال و عمل من ہیچ نماند ومن مانند ظرف سوراخ دار یعنی چکندہ ظرف شدم یا مانند چناں شے شدم کہ دیگر شے اورا در خود پنہان کردہ درین اثنا دیدم کہ روح اللہ تعالیٰ بر من محیط شد و بر جسم من غلبہ نمودہ در وجود خود مرا پنہاں کرد
حتی کہ ذرۂ من باقی نماند چون بر جسم خود دیدم دریافتم کہ اعضائے من اعضائے خدا شدہ اند چشم من چشم او و گوش من گوش او و زبان من زبان او شدند رب من مرا گرفت و چناں گرفت کہ بالکل محو گشتم۔ چوں نگریستم یافتم کہ قوت و قدرتِ خدا در من جوش میزند و الوہیت او در من موجزن است خیمہائے حضرت عزت بحوالی خاطرم نصب شدہ اند و سلطان جبروت نفس مرا کوبیدہ معدوم ساخت پس نہ من ماندم و نہ تمنائے من باقی ماند عمارت من بیفتاد و منہدم شد و عمارت رب العالمین استادہ شد و الوہیت بقوت تمام بر من مستولی گشت من از موئے سر تا ناخن پا بجانب او کشیدہ شدم باز ہمہ مغز گردیدم کہ دران پوست نبود و روغنے گشتم کہ درو کدورتے نبود در میان من و نفس من جدائی انداختہ شد پس من مانند آں شے گشتم کہ در نظر نیاید یا مانند قطرۂ شدم کہ در دریا افگندش و دریا اورا در پیراہن خود پنہاں کند درین حالت من ندانستم کہ اول من چہ بودم و وجود من چہ بود الوہیت در رگ و ریشہ من سرایت کرد و من از خودی خود گم شدم و خدا تعالیٰ ہمہ اعضائے مرا بکار خود مصروف کرد و بدین زور مرا در قبضہ خود گرفت کہ زیادہ ازین ممکن نبود چنانچہ من بالکل معدوم شدم و من یقین میکردم کہ این اعضائے من از من نیستند بلکہ اعضائے خدا تعالیٰ اند و خیال میکردم کہ معدوم شدہ ام و از ہستی خود بیرون شدہ ام تا ہنوز انبازے و شریکے و منازعے نیست۔ خدا تعالیٰ در وجود من داخل شد غضب و حلم و تلخی و شیرینی و حرکت و سکون من ہمہ از و شد الخ۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، ۵۶۵ خزائن ج ۵ ص ایضاً)
ماحصل این ہمہ طومار لغویات و تکرار عبارات این است کہ من کہ در خواب دیدم کہ خود خدا شدہ ام۔ مگر در حالت بیداری بجائے استغفار ازین خرافات خود را خدا ثابت میکند و میگوید کہ در حقیقت خدا شدہ بودم و خدا تعالیٰ درو جودِ من داخل شدہ بود و ہمہ لوازمات بشریہ از من جدا شدند و الوہیت در من موجزن شد۔
این است فرق در میان عباد الرحمن و عباد الشیطان کہ اولیاء اللہ چوں شنیدند کہ در حالت سکر کلمۂ کفر گفتہ شد توبہ کردند و مریدان را حکم دادند کہ باز اگر چنیں کلمات شنوید مرا قتل کنید۔ اتباع شریعت کردند و سزائے کہ علمائے اسلام تجویز کردند از راہ متابعت بسر و چشم نہادند۔ چنانچہ بعضے بردار کشیدہ شدند و بعضے را پوست بر کندیدند لاکن بزرگواران از حکم شریعت سر مو سر نتافتند۔
مگر افسوس کہ این مدعی کاذب نمیداند کہ انچنین کلمات کفریہ را اندر شریعت اسلام جائز ندارد۔ و مسئلہ حلول در اہل اسلام مردود است اگر این شخص بر شریعت اسلام عمل میکرد ہرگز گمراہ نہ شد۔ و چنین کثافتہا را از شیطان فہمیدہ رد میکردے۔
مسئلہ حلول و اوتار از اہل ہنود است چنانچہ در گیتا کہ مصنفہ راجہ کرشن بود این مسئلہ مذکور است ۔
نمائیم خود را بشکل کسے
بریزیم خون ستم پیشگان
جہان را نمائیم دارالامان
(گیتا فیضی)
افسوس عیب سخن را کہ طول بیانی و تکرار در تکرار است مرزا غلام احمد ہنر پنداشتہ اظہار لیاقت خود مینماید۔ حالانکہ این ہمہ مضمون را در دوسہ جملہ میتوانست اظہار داد۔ شیخ فیضی این تمام مضمون را بیک شعر ادا نمودہ ۔
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
(گیتا فیضی)
و این جاہل از اصول این مسئلہ وحدت الوجود خبرے ندارد کہ درین لازم است کہ صاحبِ حال از ہستی خود غائب شدہ ایں چنین الفاظ میگوید و عبارت منقولہ بالا ظاہر میکند کہ مرزا در ہر فقرہ میگوید کہ من چنان کردم و چنین شدم و تا وقتیکہ خیال منی دور نمی شود مقام سکر حاصل نشود۔
واضح باد کہ یہود و نصاریٰ واہل ہنود و بعض جہلا ملبس بلباس صوفیہ کرام بر چنیں مسائل باطلہ اعتقاد دارند و خلق را گمراہ میکنند ورنہ اہل اسلام ہرگز باور نمیکنند کہ گاہے عاجز انسان (نعوذ باللہ ) خدا میشود یا واجب الوجود ہستی مطلق باری تعالیٰ عزاسمہ در وجود انسانی کہ حادث و متغیر است حلول کند۔ در کفر و اسلام فرق نکردن و باطل مسائل کفار را داخل اسلام نمودن کفر است۔ خدا تعالیٰ در قرآن شریف میفرماید يُرِيْدُوْنَ أَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا أُولٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُوْنَ حَقًّا (النساء ۱۵۱) یعنی کسانیکہ ارادہ میکنند کہ در کفر و اسلام راہے بین بین اختیار کنند آنان کافر اند۔
- ۳...... وَاِنِّيْ رَاَيْتُ اَنَّ هٰذَا الرَّجُلَ يُؤْمِنُ بِاِيْمَانِيْ قَبْلَ مَوْتِہٖ یعنی در کشف دیدم کہ مولوی محمد حسین بٹالوی قبل از
مرگِ خود بر من ایمان خواہد آورد (حجۃ الاسلام ص ۱۹ خزائن ج ۶ ص ۵۹) مگر مولوی محمد حسین ہرگز بر مرزا ایمان نیاورد بلکہ تادم مرگ مخالفت مے کرد۔ ثابت شد کہ این کشوفہا از جانب خدا نبودند۔ اگر از خدا میبودے راست بیامدے۔
- ۴...... در رنگ کشفی بر من ظاہر نمودہ شد کہ ایں باد شاہاں کہ در تعداد شش ہفت بودند از جامہ تو برکت جویند۔
(اخبار الحکم ج ۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء ص ۱۰ تذکرہ ص ۱۰۔ ۱۱ طبع سوم)
ہیچکس از شاہان مرید مرزا نشد و نہ از جامۂ وے برکت جست۔ پس این کشف ہم حدیث النفس بود۔
- ۵...... دوبار مرا برویا نمودہ شد۔ جماعت کثیر اہل ہنود پیش من چوں سجدہ سرتسلیم خم کردند و گفتند کہ این اوتار اند۔ یعنی
مرزا اوتار است پیشکشہا گزرانند۔
(الحکم ج ۱ ص ۸ مطبوعہ ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۶ء)
برعکس او در نمود کہ ہندواں مسلمانان را ہند و آریہ وغیرہ میساختند۔ پس ثابت شد کہ این رؤیا صادقہ نبود۔
- ۶...... شخصے کہ سکونت در شہر لدھیانہ میداشت مرا بعالم کشف نمودہ شد و در تعریف وے این عبارت الہام شد ارادتمند
اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔
(مکتوب احمدیہ ج ۱ ص ۴ مطبوعہ ۱۹۰۸ء بنام میر عباس علی شاہ)
این کشف در حق میر عباس علی لدھیانوی بود کہ مرید خاص مرزا بود و مرزا غلام احمد او را نوشتہ بود کہ اگر پیشین گوئی نکاح آسمانی بظہور نیاید مرا مدعی کاذب یقین کنید چنانچہ او انتظار کرد۔ و چوں پیشین گوئی نکاح آسمانی غلط ثابت شد او حیران بماند و در مجمع مسلمانان کہ بمسجد جمع بودند اقرار کرد کہ اگر قرآن شریف مرا رہبری کند من توبہ خواہم کرد۔ چنانچہ مسلمانان ہمگی غسل کردند و بعد از نہایت عجز و نیاز و خشوع التجا کردند کہ خداوندا مایان را راہِ راست بنما و مارا اطلاع فرما تا در گمراہی نمیریم و قرآن شریف وا کردند۔ در اول سطر دیدند کہ خدا تعالیٰ میفرماید وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ یعنی از قول مکر و فریب پرہیز کنید ۔ الحمد للہ کہ میر صاحب را خدا تعالیٰ توفیق توبہ عنایت فرمود (راوی این حضرت خواجہ عبد الخالق صاحب ساکن کوٹ عبد الخالق متصل ہوشیار پور میباشند)
برادرانِ اسلام! ایں چنیں دروغ بافیہائے مرزا بسیار اند۔ اما بخوفِ طوالت برین اکتفا کنیم و برائے آگہی شمایان مینویسیم کہ مرزا غلام احمد مسلمانانرا خود ہدایت کردہ بود کہ برائے صدق و کذب خود معیارے مقرر کنم اگر برین معیار ہا صادق ثابت نشوم مرا کاذب یقین کنید و آن معیار ہا نوشتہ میشوند تا کہ میان صادق و کاذب فرق
میتواں کرد و مسلمانان را چرب زبانی و چیرہ دستی مریدانش نفریبد۔
معیار اوّل ...... مقرر کردہ خود مرزا غلام احمد قادیانی متنبی۔ اصل عبارت وے نقل کردہ شود۔ وہو ہٰذا۔ ”خدا تعالیٰ برین عاجز ظاہر نمودہ کہ دختر کلاں مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری انجام کار بہ نکاح شما بیاید و آناں بسیار عداوت خواہند کرد و مانع شوند و سعی کنند کہ چناں نشود۔ لیکن آخر کار چنیں خواہد شد۔ و خدا تعالیٰ بہر طریق آنرا بطرف شما خواہد آورد بحالت باکرہ یا بیوہ کردہ و ہر امر مانع را از میان بیرون خواہد کرد و این کار را ضرور خواہد کرد۔ و بعض منصف آریہ صاحبان (ہنود) گفتہ کہ اگر این پیشین گوئی صادق آید یقین کردہ شود کہ بلاشبہ این فعل خدا است الخ۔۔
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ۳۹۶ خزائن ج ۳ ص ۳۰۵)
مگر افسوس کہ نکاح دختر کہ منکوحہ آسمانی مرزا بود بدیگر کس کہ بموضع پٹی ضلع لاہور بود و باش میداشت بستہ شد و مرزا شکست فاش خورد۔ بر عالمیان دروغ بافی و افترا پردازی مرزا ثابت شد مگر مرزا دگر دروغ بے فروغ باین افسون تازہ کرد کہ منکوحہ آسمانی بیوہ شدہ بخانہ من خواہد آمد چرا کہ وعدۂ خدا تعالیٰ حق است منکوحہ آسمانی ضرور بمن خواہد داد و مخالفین را کہ سعی در ذلت من کردند و در تکذیب پیشین گوئی من کوشش نمودند یک دیگر نشان بنماید و شوہر منکوحہ را وفات خواہد داد و برائے اظہار صداقت من منکوحہ را بیوہ کردہ بخانہ من خواہد فرستاد و این تقدیر مبرم است ہرگز ہرگز خطا نتوان رفت اگر خطا باشد من بدترین از خلق خواہم شد۔ و دریں ضمن شش پیشگوئیہا دگر بر آن مزید کرد و گفت کہ اگر این پیشگوئیہا بظہور نیایند ومن بمیرم۔ من کاذب ثابت خواہم شد۔
(انجام آتھم ص ۳۱ حاشیہ خزائن ج ۱۱ ص ۳۱)
در کتاب خود کہ شہادات القرآن نامش نہاد این شش پیشگوئیہا بر آن مزید کرد۔
- ۱...... مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری پدر دختر منکوحہ بمیعاد سہ سال فوت شود و مرگ داماد خود خواہد دید۔ و نخواہد مرد تا وقتیکہ
نکاح من بہ دختر خود نہ بیند۔ واین بطور سزا است کہ چرا نکاح دختر با من نکرد۔
- ۲...... داماد احمد بیگ بمیعاد دو نیم سال بمیرد تا کہ احمد بیگ بیوہ شدن دختر خود بہ بیند۔
- ۳...... مرزا احمد بیگ تا روز شادی فوت نہ شود۔
- ۴...... دختر نیز تا روز نکاح ثانی فوت نہ شود۔
- ۵...... مرزا نیز تا نکاح ثانی فوت نشود۔
- ۶...... بہ عاجز یعنی مرزا نکاح اوشود۔
(شہادت القرآن ص ۸۰ خزائن ج ۶ ص ۳۷۶)
مگر ہزار ہزار شکر کہ این ہمہ پیش بینی ہا مرزا درست نشد و او خود فوت شد و دامادش تا این روز کہ ۱۷ ماہ مئی ۱۹۲۲ء است واین دختر بقید حیات زندہ موجود است و خداوند کریم از غایت کرم او را صاحب اولاد گردانید و بہ دوازدہ فرزندان بنواخت و مرزا را بمعیار مقرر کردہ خودش کاذب گردانید و بدترین مردمان ظاہر کرد و بسیاری از مریدان خاص مرزا تائب شدہ تجدید ایمان کردند اگر این پیش بینی راست آمدے بسیار مسلمانان گمراہ شدندے مگر خدا تعالیٰ مدعی کاذب را مفتری علی اللہ ثابت کرد۔
معیار دوم ...... مرزا خود می نویسد کہ ”ڈاکٹر عبدالحکیم بست سال در مریدی من بماند از چند روز از من نفور شد و مخالف من گروید و مرا دجال، کذاب، مکار، شیطان، شریر، حرامخور، خائن، شکم پرست، نفس پرست، مفسد و مفتری القاب دادہ پیشگوئی کردہ کہ در مدت سہ سال مرزا فوت خواہد شد۔ پس من ہم الہام خود را کہ بطور پیشینگوئی در حق ڈاکٹر بر من ظاہر شد شائع میکنم تا کہ در میان صادق و کاذب فرق شود۔
پیشنگوئی ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی
مرزا مسرف و کذاب وعیار است بمقابلہ صادق شریر فنا خواهد شد و میعاد سہ سال است از جولائی ۱۹۰۶ء۔
پیشنگوئی مرزا مقبولان نشانہائے قبولیت دارند آنان شاہزادگان سلامتی اند برایشان کسے غلبہ نتوان یافت الخ
بطور اختصار یعنی ”خدا حامی راستباز بادا۔“ (حقیقۃ الوحی اشتہار ’خدا سچے کا حامی ہو‘ ص ۱ تا ۳ خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۹ تا ۴۱۱)
ناظرین کرام ! این روحانی کشتی بود کہ درمیان مرزا متنبی و ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب قرار یافت و این معیار صداقت برائے ہر یک مقرر بود مگر بمیعاد سہ سال دست اجل مرزا را بتاریخ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء ہلاک کردہ بہ ثبوت رسانید کہ مرزا کاذب بود و ڈاکٹر عبدالحکیم برحق بود۔ مرزا شریر ثابت شد کہ در موجودگی ڈاکٹر عبدالحکیم فوت شد۔
معیار سوم...... مقرر کردہ مرزا۔ مرزا بدرگاہ خداوندی دعا کرد کہ خداوندا در میان من و مولوی ثناء اللہ امرتسری فیصلہ آخری بفرما کہ کدام کس از ہر دو مایان برحق است و ہر کہ بر راہ غلط بودہ باشد او را در زندگی صادق ہلاک گردان تا ہر کہ در دعویٰ اش دروغ باشد تمیز کردہ شود۔ (ملخص مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۸ ، ۵۷۹) خدا تعالیٰ مرزا را الہام کرد۔ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (تذکرہ ص ۸۱ طبع سوم) دعائے مرزا قبول کردہ شد۔ خدا تعالیٰ فیصلہ بحق مولوی ثناء اللہ صادر فرمود و مرزا بموجودگی مولوی ثناء اللہ ہلاک کردہ شد و مولوی ثناء اللہ صاحب تاحال بفضل خدا زندہ است مگر منشی قاسم علی حواری مرزا گفتہ کہ من سہ صد روپیہ بشرط میدہم اگر مولوی ثناء اللہ ثابت کند کہ فیصلہ خداوندی بحق او شد۔ مولوی ثناء اللہ این امر را قبول کرد و مبلغ سہ صد روپیہ امانت نہادند و منصف مقرر کردند باتفاق رائے فریقین سردار بچن سنگھ وکیل سرکاری (پبلک پراسیکیوٹر) منصف مقرر شد، سردار صاحب فیصلہ بحق مولوی ثناء اللہ صاحب داد و زرِ مشروط سہ صد روپیہ داخل کردہ منشی قاسم علی حواری مرزا بفاتح قادیان یعنی مولوی ثناء اللہ دادہ شد و منشی قاسم علی شکست خوردہ ثابت کرد کہ مرزا مفتری بود چرا کہ مرزا را الہام شدہ بود کہ وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ (ازالہ اوہام حصہ اول ص ۳۸ خزائن ج ۳ ص ۳۱۸) چوں مولوی ثناء اللہ غالب آمد و حواری مرزا مغلوب شد پس ثابت گردید کہ این الہام مرزا از طرف خدا نبود و مولوی ثناء اللہ فتح المضاعف یافت۔ یکے بر مرزا و دیگر بر حواری مرزا۔
معیار چہارم...... پیش بینی مرگ ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی بود و مرزا پیش بینی کردہ بود کہ اگر عبداللہ آتھم در میعاد پانزدہ ماہ فوت نشود من کاذب باشم و ہر چہ سزائے من تجویز کردہ شود برداشت خواہم کرد خواہ مرا بردار کشند یا رسن در گردن من اندازند عذرے نداشتہ باشم و یک شعر او این است ۔
(جنگ مقدس ص ۲۱۱ خزائن ج ۶ ص ۲۹۳)
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا
(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۸۱ خزائن ج ۵ ص ۲۸۱)
یعنی وقتیکہ این پیشگوئی من راست برآید یعنی در میعاد مقررہ عبداللہ بمیرد من عزت خواہم یافت و عیسائی قوم ذلیل خواہد شد۔
اما شان خدا کہ نتیجہ برعکس برآمد۔ عبداللہ عیسائی نمرد و سلامت ماند مرزا ذلیل گشت و عیسائیان عبداللہ را بر فیل نشاندند و در بازار ہائے امرت سر گردانیدند و گفتند کہ مرزا دروغگو و مفتری علی اللہ ثابت شدہ بیارید تا او را بر دار کشیم چرا کہ او شرط کردہ بود مریدان مرزا بعرق خجالت غرق شدند بخانہائے خود نہان شدند و از شرمساری رو نمی نمودند و
نواب محمد علی ساکن مالیر کوٹلہ کہ از خاصانِ مرزا بود مرزا را نوشت کہ بس مرزا صاحب از نتیجہ پیشگوئی کذب شما ثابت شده است و مرزا بقول ”عُذرِ گناہ بدتر از گناہ“ اشتہار داد و کتابے پر از کذب موسومہ بہ ”انجامِ آتھم“ بمعہ ضمیمہ مشتہر ساخت کہ چونکہ عبداللہ در دل ایمان باسلام آورده بود ازین سبب عذاب موعوده از و برداشتہ شد۔
(انوار الاسلام ص ۵ خزائن ج ۹ ص ۵)
این جواب از مرزا بسیار لغو و خلافِ قرآن بود چرا کہ حال دل مردم بجز خدا تعالیٰ کسے نمیداند و نہ خدا تعالیٰ کہ عالم ظاہر و باطن است بر انچنین ایمان منافقانہ عذاب را بر دارد۔ پس این پیش بینی مرزا ہم غلط شد و مرزا کاذب و مفتری ثابت شد۔
معیار پنجم ...... مرزا خود بذریعہ روز نامہ بدر کہ زیر اہتمام مریدانِ مرزا شائع میشد شہرت داد کہ من برائے طالب حق این امر پیش میکنم کہ کار من کہ برائے سرانجام دادن آن درین میدان استاده ام این است کہ من ستون عیسیٰ پرستی را بشکنم و بجائے تثلیث توحید را شہرت دہم و جلالت وعظمت محمد رسول اللہ ﷺ را ظاہر کنم اگر از من نشان صدقے ظاہر شود و این علت غائی بہ ظہور نیاید کاذب باشم پس دنیا چرا با من دشمنی میکند و انجام مرا چرا نمی بیند اگر من بحمایت اسلام آن کارہا بکردم کہ مسیح موعود و مہدی مسعود را بایست کرد راستگو باشم و اگر چیزے نکرده شود و مرگ من بیاید ہمہ گواہ باشند کہ من در ان وقت دروغگو باشم والسلام۔
(غلام احمد اخبار بدر مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۰۲ء)
متعلق کار مسیح مرزا خود در کتاب خود کہ ”ایام صلح“ موسوم کرده مینویسد کہ۔ برین اتفاق کرده اند کہ وقتیکہ مسیح بیاید مذہب اسلام در ہمہ دنیا جلوه نماید و دیگر ہمہ مذاہب کہ باطل اند ہلاک شوند و راستبازی ترقی خواہد کرد۔
(ایام صلح ص ۱۴۶ خزائن ج ۱۴ ص ۳۸۱)
باز بکتاب خود شہادت القرآن نوشت۔ ”ہاں بے مسیح بیامد یعنی من آمده ام و آن وقت آمدنی است بلکہ قریب است کہ بر زمین نہ رام چندر پرستش کرده شود نہ کرشن و نہ حضرت عیسیٰ ؑ “
(شہادت القرآن ص ۸۵ خزائن ج ۶ ص ۳۸۱ اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق)
افسوس کہ مرزا بتاریخ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بمرد و این دروغ بانی ثابت شد و ہمہ معاملات برعکس بظہور رسیدند و بجائے کسر صلیب کسر ستون اسلام گردید در مقامیکہ علم توحید نصب کرده میشد علم تثلیث استاده شد و بجائے غلبہ اسلام غلبہ تثلیث شد و مشرکان و کفار غالب آمدند و مقاماتِ مقدسہ ہم از قبضہ خلیفۂ اسلام بیرون رفتہ زیر اثر نصاریٰ افتادند۔ و بر سر مسلمان چناں ابر ادبار محیط شد کہ در تاریکی آن ہمہ کالائے دنیاوی باختہ و در قعر مذلت افتادند و خدا تعالیٰ از فعل خود بپایۂ ثبوت رسانید کہ مرزا ہرگز مسیح موعود نبود کہ خبر نزولش حضرت مخبر صادق ﷺ داده است۔ ببینید احادیث رسول اللہ ﷺ و از قلب سلیم خود فیصلہ طلبید۔
حدیث اوّل...... وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَيُوْشِكَنَّ اَنْ يَّنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدَلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيْرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيْضُ الْمَالُ حَتّٰى لَا يَقْبَلُهُ اَحَدٌ حَتّٰى تَكُوْنَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا ثُمَّ يَقُوْلُ اَبُوْ هُرَيْرَةَ فَاقْرَؤُا اِنْ شِئْتُمْ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ.
(مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام بخاری ج ۱ ص ۴۹۰ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
ترجمہ۔ ابوہریرہؓ روایت است کہ فرمود رسول خدا ﷺ مرا قسم است خدائیرا کہ بقائے جان من بقبضۂ قدرت اوست کہ فرود آید ابن مریم در شما در آن حالیکہ بادشاہ عدالت کنندہ باشد پس صلیب را بشکند و خنزیر را قتل کند و جزیہ را معاف کند و مال بمردم خواہد داد چنانکہ کسے قبول نخواہد کرد و یک سجدہ ترجیح داده شود بر دنیا و ہر چیزیکہ دروے
ہست باز ابو ہریرہ میگوید که بخوانید آیت قرآن کریم اگر میخواهید کہ: نباشد کسے از اہل کتاب که ایمان نیارد بر عیسیٰ قبل از مرگ او (عیسیٰ) و باشد عیسیٰ گواہ بر ایشاں روزِ قیامت۔
ازین حدیث امور مفصلہ ذیل چون روزِ روشن ثابت شده اند۔
۱....... مسیح موعود حضرت عیسیٰ ؑ است نہ کسے فرد از افرادِ امت محمدیہ ﷺ چرا کہ در صحیح البخاری کہ اصح الکتب است بعد کتاب اللہ و نیز مسلم شریف در آنہا فصل نزولِ عیسیٰ مندرج است اگر کسے دیگر غیر عیسیٰ ؑ مسیح موعود شدنی بود بطور نقل و بروز و ظل و مثیل درین حالات امام محمد بن اسمعیل بخاری محقق باب نزولِ عیسیٰ ؑ در کتاب خود درج نمیکرد چرا کہ در شریعت محمدیہ بر غیر نبی لفظ "علیہ السلام" استعمال نمیکند اگر گفته شود مرزا ہم نبی اللہ بود۔ و این باطل است چرا کہ بعد از حضرت محمد ﷺ کسے جدید نبی پیدا نخواهد شد۔
۲....... این امر ثابت شد که مسیح موعود بادشاہ بود و علامتش این است کہ کسر صلیب کند یعنی مذہب صلیبی را نابود کند۔ مگر بوقت مرزا مذہب صلیبی آنقدر ترقی یافت کہ گاہے نیافته بود۔ پرستاران صلیب چنان غالب آمدند کہ در صوبہ تھریس و مقدونیہ دو نیم لک مسلمانان را اہل بلغاریہ عذابِ جانفرسا دادہ ہلاک ساختند (اخبار زمیندار مطبوعہ ۸ ستمبر ۱۹۱۳ء) و بعلاقہ طرابلس ملوکِ متفقہ عرب مسلمانانرا بزور عیسائی کردند (رسالہ انجمن حمایت اسلام ماہ فروری ۱۹۱۳ء) چون بوقت مرزا بجائے کسر صلیب (خاکم بدہن) کسر اسلام شد ازین ثابت شد که مرزا مسیح کاذب بود۔
۳....... علامت مسیح موعود این بود که در وقت او جزیہ معاف شود اما مرزا چون رعیت اہل صلیب بود بجائے معاف کردن جزیہ (معاملہ زمین خود) ادا میکرد و بجائے حاکم شدن محکوم بود و برائے معافی انکم ٹیکس افلاس خود ظاہر نمودہ التجا معافی نمود۔
(ضرورت الامام ص ۴۵ خزائن ج ۱۳ ص ۵۱۶)
۴....... علامت مسیح موعود يَفِيْضُ الْمَالَ بود که مال غنیمت اینقدر بکثرت بود کہ مسیح مال خواهد داد و مردمان قبول نخواهند کرد۔ مگر مرزا بجائے مال دادن خود پول باعانہ میگرفت۔ گاہے اعانہ تالیف کتب گاہے اعانہ توسیع مکان گاہے اعانہ لنگر خانہ۔ گاہے اعانہ سکول (مدرسہ) گاہے اعانہ منارۃ المسیح گاہے اعانہ فیس بیعت۔ گاہے برائے اشاعت دعاوی خود۔ غرض بہر حیلہ بجائے مال دادن مال میگرفت۔
۵....... علامت مسیح موعود این است۔ مسیح موعود آنست کہ بحق وے یہود میگفتند کہ او را بر دار کشیدیم و خدا تعالیٰ در قرآن شریف تردید یہود کردہ میفرماید که مسیح نہ قتل شد و نہ بردار کشیدہ شد خدا تعالیٰ او را بسوئے خود برداشت و او نازل شود و کسے از اہل کتاب نباشد کہ بر او ایمان نیارد و عیسیٰ ؑ باشد گواہ بر ایشان روزِ قیامت۔
باوجود این نص قطعی قرآنی ہر کہ گوید که من ہمان مسیح ہستم که خبر او رسول اللہ ﷺ دادہ او کذاب اکبر است و تکذیب کنندۂ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ است و از دائرۂ اسلام خارج۔ چرا کہ او منکر صریح قرآن و حدیث و اجماع امت است۔
حدیثے دیگر نقل میکنم تا که ثابت شود که حضرت عیسیٰ ؑ زندہ بر آسمان موجود است و در آخر زمان نزول فرماید و بعد نزول فوت شود و در مدینہ منورہ بمقبرہ رسول اللہ ﷺ مدفون شود و لاف و گزاف مرزا باطل است۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَّ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوْتُ فَيُدْفَنُ مَعِيَ فِيْ قَبْرِيْ فَأَقُوْمُ اَنَا وَعِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِى قَبْرٍ وَّاحِدٍ بَيْنَ أَبِيْ بَكْرٍ وَّ عُمَرَ رَوَاهُ ابْنُ جَوْزِيْ فِيْ
(کتاب الوفاء ص ۸۳۲ حدیث نمبر ۱۵۷۵ باب فی حشر عیسیٰ ؑ)
ابن مریم مع نبینا ﷺ مشکوٰۃ ص ۴۸۰ باب نزول عیسیٰ ؑ ترجمہ ۔ روایت است از عبداللہ ابن عمرؓ کہ فرمود پیغمبر خدا ﷺ کہ فرود آید عیسیٰ بن مریم بطرف زمین پس نکاح کند و اولاد پیدا کردہ شود برائے او و بماند چہل و پنج سال در دنیا۔ بعد ازاں بمیرد و دفن کردہ شود نزد من در مقبرہ من پس استادہ شوم من و عیسیٰ ابن مریم از یک مقبرہ از میان ابوبکر و عمرؓ روایت کرد ایں حدیث را ابن جوزی در کتاب الوفاء۔ ازیں حدیث ہفت امور ثابت گردیدند۔
- اول...... اصالتاً نزول حضرت عیسیٰ بن مریم رسول اللہ نبی ناصری صاحب کتاب انجیل نہ کہ دیگرے از
امت محمدیہ ﷺ۔
- دوم...... شادی کند چرا کہ چوں مرفوع شد شادی شدہ نبود۔
- سوم...... بعد نزول صاحب اولاد شود۔ مرزا کہ صاحب اولاد بود ہرگز مسیح موعود تسلیم کردہ نشود۔
- چہارم...... مدت سکون وے بعد نزول چہل و پنج سال است۔ مرزا بعد دعوے چہل و پنج سال زندہ نماندہ۔
- پنجم...... جائے دفن شدن مسیح بمقتضائے حدیث شریف مدینہ منورہ است نہ قادیان۔
- ششم...... بروز قیامت برخاستن از میان ابوبکر و عمرؓ۔
- ہفتم...... نازل شود از آسمان نہ کہ زشکم مادر پیدا شود۔ چنانکہ مرزا پیدا شد۔
منجملہ ازیں ہفت پیشگوئیہا۔ دو پیشگوئیہا حسب فرمان رسول خدا ﷺ بظہور آمدند۔ چنانکہ حضرت مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ خبر دادہ بود یعنی اول حضرت ابوبکرؓ خلیفہ اول بمقبرہ رسول اللہ ﷺ دفن کردہ شد و دوم حضرت عمرؓ خلیفہ دوم حسب پیشگوئی رسول اللہ ﷺ مدفون بمقبرہ رسول اللہ ﷺ شد حالانکہ ایں پیشگوئی آنوقت کردہ بود کہ رسول اللہ ﷺ زندہ بودند و بعد آنحضرت ﷺ حضرت ابابکر صدیق خلیفہ اول مقرر شد دور جنگ و جدال شامل مسلمانان ماند و در ہیچ جنگ جام شہادت نہ نوشید و حسب فرمان رسول اللہ ﷺ در مدینہ منورہ فوت شد و دفن گردید۔ ہمیں طور خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ فاتح بیت المقدس وغیرہ ممالک در ہیچ جنگ شہید نشد در مدینہ منورہ حسب پیشگوئی مخبر صادق ﷺ مدفون گردید۔
چوں ایں دو واقعات من وعن بظہور آمدند دیگر اخبار ہم ضرور بمنصہء ظہور خواہند آمد چنانکہ اعتقاد ہر مومن است و تاویلات مرزا باطل گردید کہ میگوید من بطریق روحانی در وجود پاک رسول اللہ ﷺ دفن شدہ ام۔
مرزا غلام احمد متنبّی ایں حدیث را خود تصدیق نموده و در کتاب خود نوشتہ ترجمہ اردو عبارت او این است۔
”برائے تصدیق ایں پیشگوئی من یعنی منکوحہ آسمانی محمدی بیگم۔ جناب رسول اللہ ﷺ پیش از وقوع پیشگوئی فرمودہ است کہ يَتَزَوَّجُ وَ يُوْلَدُ لَہٗ یعنی آں مسیح زوجہ کند و نیز صاحب اولاد شود۔ و ظاہر است کہ ذکر ایں تزوج و اولاد عام نیست بلکہ خاص است چرا کہ ہر یک شادی میکند و اولاد پیدا میشود دریں ہیچ تعجب نیست بلکہ از تزوج خاص تزوج مراد است کہ برائے او پیشگوئی کردہ ام۔“ الخ۔
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷)
نیز مرزا متنبّی در کتاب خود کہ نامش میگزین ۱۴ جنوری ۱۹۰۶ء است نوشتہ کہ من بمکہ خواہم مرد یا در مدینہ (تذکرہ ص ۵۹۱ طبع سوم) الخ ازیں عبارت مرزا کہ الہامی است تصدیق ایں حدیث میشود۔
ازیں عبارت مرزا اظہر من الشمس است کہ ایں حدیث رسول اللہ است پس ہیچکس را از مریدانش حق نیست کہ از مضمون ایں حدیث انکار کند و اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ را مصداق گردد۔ چوں از
تمام حدیث بپایہ ثبوت رسید کہ حضرت عیسیٰ ؑ اصالتاً از آسمان پائین بطرف زمین آئندہ است و ازیں سبب تا حال زندہ است بعد نزول خواہد مرد۔ چنانچہ از حضرت ابن عباسؓ روایت است اَنَّ عِيْسٰی حِيْنَ رُفِعَ كَانَ ابْنَ اثْنَيْنِ وَثَلَاثِيْنَ سَنَةً وَسِتَّةَ اَشْهُرٍ وَكَانَتْ نُبُوَّةُ ثَلَاثُوْنَ شَهْراً وَاَنَّ اللّٰهَ رَفَعَهٗ بِجَسَدِہٖ وَاَنَّهٗ حَيٌّ الْاٰنَ وَسَيَرْجِعُ اِلَى الدُّنْيَا فَيَكُوْنُ فِيْهَا مَلِكاً ثُمَّ يَمُوْتُ كَمَا يَمُوْتُ النَّاسُ۔
(الطبقات الکبریٰ ج۱ ص ۴۵ باب ذکر القرون والسنین التی بین آدم ومحمد علیہم السلام)
یعنی حضرت ابن عباسؓ میفرمایند کہ وقتیکہ حضرت عیسیٰ ؑ برداشتہ شد عمر وے سی و دو سالہ و شش ماہہ بود و نبوت وے سی ماہہ بود بیشک اللہ تعالیٰ او را برداشت بجسم عنصری و او تا حال زندہ است و او نیز واپس آئندہ است دریں دنیا و بادشاہ شود و باز بمیرد چنانکہ دیگر مردمان مے میرند۔
ازیں روایت امور ذیل ثابت شدند۔
- اول....... رفع عیسیٰ ؑ بجسد عنصری ثابت شد و قیاس مرزا غلط شد کہ رفع روحانی مراد است چرا کہ رفع روحانی
برائے ہر مومن موجود است۔
- دوم....... رفع بعمر ۳۳ سالہ شدہ بود۔ و قیاس مرزا غلط شد کہ ”در کشمیر قبر عیسیٰ است و او عمر یکصد و بست سالہ یافت۔“
- سوم....... رفع بحالت زیست ثابت شد۔ و قیاس مرزا غلط شد کہ عیسیٰ بمرد۔
- چهارم....... نزول جسمانی ثابت شد چرا کہ لفظ رفع ظاہر میکند کہ حضرت عیسیٰ ؑ در آخر زمان واپس بیاید۔ و برائے
رجعت زندگانی لازمی است۔ اگر کسے گوید کہ بر آسمان رفتن محال عقلی است و باز آمدن ممکن نیست۔
جوابش اینکہ نازل شدن عیسیٰ ؑ علامتے و نشانے است از علامات قیامت بفحوائے وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ یعنی نزول عیسیٰ ؑ علامتے است از علامات قیامت۔ و قیامت ہم از محالات عقلی است کہ مردگان ہزار ہا سال و بوسیدہ شدہ استخوانہا زندہ شوند و خاک شدہ جسم خاکی باز زندہ گردد و حساب و کتاب آخرت گرفتہ شود۔ و دیگر علاماتِ قیامت ہم از محالات و غیر ممکنات است۔ مثلاً طلوع آفتاب از جانب مغرب و خروج دجال و خر او کہ صفاتش در احادیث نبوی مذکور شدہ ہمہ غیر ممکن و محال اند ہمچنیں خروج یاجوج و ماجوج و صفاتِ آںہا ہمہ محال و مافوق الفہم اند اگر شخصے بر بنائے محال عقلی انکار کند از روز جزا و سزا و یوم الحساب انکار لازم آید و اینچنیں انکار از ایمان و اسلام خارج کننده است و از اینچنیں انکار ہمہ کفار از نعمت ایمان محروم ماندند و ہمیں فرق است در اسلام و کفر۔ پس مومن را نشاید کہ برایں اعتراضات فاسدہ التفات کند و از دولت ایمان يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ بے بہرہ ماند چرا کہ برایں مسئلہ اتفاق امت است کہ حضرت عیسیٰ ؑ در قرب قیامت از آسمان نازل شود۔ و دجال را قتل کند چنانچه در احادیث ذیل آمدہ۔
- ۱.......عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لَقِيْتُ لَيْلَةَ اُسْرِيَ بِيْ إِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسٰی وَ عِيْسٰی
عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَتَذَاكَرُوْا اَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوْا اَمْرَهُمْ إِلٰی إِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِيْ بِهَا فَرَدُّوْا اَمْرَهُمْ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ لَا عِلْمَ لِيْ بِهَا فَرَدُّوْا اَمْرَهُمْ إِلٰی عِيْسٰی فَقَالَ اَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُ بِهَا اَحَدٌ اِلَّا اللّٰهُ وَفِيْمَا عَهِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ اَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ وَمَعِيْ قَضِيْبَانِ فَإِذَا رَاَنِيْ ذَابَ كَمَا يَذُوْبُ الرَّصَاصُ قَالَ فَيُهْلِكُهُ اللّٰهُ.
(مسند احمد ج ۱ ص ۳۷۵ باب فضائل السور والآیات)
- ۲....... سید بدر الدین علامہ عینی در عمدة القاری شرح صحیح بخاری ج ۱۱ ص ۴۷۱ نوشتہ أَنَّ عِيسَى يَقْتُلُ الدَّجَّالَ بَعْدَ
اَنْ يَّنْزِلَ مِنَ السَّمَاءِ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ دجال را قتل کند بعد از نازل شدن از آسمان۔
- ۳...... قاضی عیاض بر حواشی صحیح مسلم ج ۲ ص ۴۰۳ حاشیہ نووی باب ذکر دجال ۔ قَالَ الْقَاضِيُّ نُزُوْلُ عِيسَى وَقَتْلُ
الدَّجَّالِ حَقٌّ وَصَحِيْحٌ عِنْدَ اَهْلِ السُّنَّةِ بِالْاَحَادِيْثِ الصَّحِيْحَةِ.
- ۴...... قَالَ الْحَسَنُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ لِلْيَهُوْدِ اِنَّ عِيْسٰى لَمْ يَمُتْ وَاِنَّهُ رَاجِعٌ اِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
(تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۴۰ تفسیر آل عمران) یعنی رسول اللہ ﷺ یہود را فرمود کہ تحقیق حضرت عیسیٰ ؑ نمرده و تحقیق آں واپس آئندہ است درمیان شما پیش از آمدن روز قیامت۔
- ۵...... چوں رسول اللہ ﷺ بجماعتے صحابہ برائے دیدن ابن صیاد بخانہ وے تشریف فرما شدند و چند علاماتِ دجال در
ابن صیاد یافتہ ۔ حضرت عمرؓ از رسول اللہ ﷺ اجازت خواست کہ اگر حکم شود ابن صیاد را کہ دجال است قتل کنم ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمود کہ قاتل دجال حضرت عیسیٰ ؑ است کہ بعد نزول اورا قتل کند۔
(خلاصہ حدیث مشکوٰۃ ص ۴۷۸ باب قصہ ابن صیاد)
- ۶...... حضرت عائشہ صدیقہؓ بجناب رسالت مآب ﷺ عرض نمود کہ مرا معلوم میشود کہ من بعد از حضور زندہ خواہم
ماند ۔ پس اجازت فرمائید کہ من بعد از وفاتِ خود بہ مقبرہ حضور بہ پہلوئے جناب دفن کردہ شوم حضور ﷺ فرمود کہ نزد قبر من ہیچ جائے قبر نیست بجز قبر ابوبکر و عمر و عیسیٰ ؑ ۔
(خلاصہ حدیث مندرجہ حاشیہ مسند امام احمد ج ۶ ص ۵۷ باب نزول عیسیٰ ؑ )
- ۷...... اَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ فِىْ تَارِيْخِهِ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ سَلَامٍ قَالَ يُدْفَنُ عِيْسٰى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ صَاحِبَيْهِ
(وَاَبِيْ بَكْرٍ وَّ عُمَرَ) فَيَكُوْنُ قَبْرُهٗ رَابِعًا یعنی عبداللہ بن سلام گفتہ کہ دفن خواہد شد عیسیٰ ؑ مع رسول اللہ ﷺ و قبرش قبر چہارم شود ۔
(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۲۴۵)
- ۸...... اَخْرَجَ ابْنُ عَسَاكِرَ وَاِسْحَاقُ ابْنُ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِىْ قَوْلِه تَعَالىٰ عَزَّوَجَلَّ يَا عِيْسٰى اِنِّىْ
مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ اَىْ مُتَوَفِّيْكَ ثُمَّ مُتَوَفِّيْكَ فِىْ اٰخِرِ الزَّمَانِ یعنی مذہب حضرت ابن عباسؓ ایں بود کہ حضرت عیسیٰ ؑ نبی اللہ ﷺ بعد از نزول فوت شود در آخر زمان ۔
(تفسیر در منثور ج ۲ ص ۳۶)
- ۹...... وَفِى الْبُخَارِى قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ بَعْدَ اِنْزَالِكَ مِنَ السَّمَاءِ فِىْ اٰخِرِ الزَّمَانِ یعنی اے من
ترا وفات دہندہ ام در آخر زمان بعد از نازل شدن تو از آسمان ۔
(تفسیر جلالین ص ۵۰)
- ۱۰...... اَوْ مُمِيْتُكَ فِىْ وَقْتِكَ بَعْدَ النُّزُوْلِ مِنَ السَّمَاءِ یعنی وفات دہندہ تو ام بعد از نزول از آسمان
بوقت مقررہ ۔
(تفسیر مدارک جلد ۱ ص ۱۳۵)
- ۱۱...... اِنَّ فِى الْاٰيَةِ تَقْدِيْمًا وَّ تَاخِيْرًا. تَقْدِيْرُهٗ اِنِّىْ رَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمُتَوَفِّيْكَ
بَعْدَ اِنْزَالِكَ اِلَى الْاَرْضِ یعنی وفات دہندہ تو ام بعد نزول از آسمان بوقت آخرت بسوئے زمیں ۔
(تفسیر خازن جلد اول ص ۲۵۶)
ناظرین کرام ۔ از قرآن شریف و احادیث مندرجہ تفاسیر صحابہ کرام اظہر من الشمس است کہ حضرت عیسیٰ ؑ در آخر زمان از آسمان فرود آید و ہیچ کس را از اہلسنت والجماعت خلاف نیست بلکہ مرزا متنبّی خود در کتاب براہین احمدیہ کہ از تصانیف اوست نوشتہ کہ چوں حضرت مسیح ؑ دگر بار دریں دنیا تشریف آور شود دیں اسلام در جمیع آفاق و اقطار خواہد رسانید ۔ (براہین احمدیہ ص ۴۹۹ حاشیہ در حاشیہ خزائن ج ۱ ص ۵۹۳ مصنفہ مرزا قادیانی متنبّی)
مگر افسوس کہ مرزا ایں ہمہ اقوال بزرگان را و نصوص قرآنی و احادیث را بمقابلہ الہام خود رد میکند والہام خود را کہ ظنی است و ہم حجت شرعی نیست ترجیح دادہ دعوے مسیحیت و نبوت میکند ۔ نقل الہام او ایں است ۔
الہام مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر تو آیا ہے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۵۶۱ خزائن ج ۳ ص ۴۰۲) یعنی مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت شدہ است و تو در رنگ وے رنگیں شدہ آمدہ۔
ایں اصول مسلمہ جمیع فرقہائے اسلام است کہ الہام امتی حجت شرعی نیست چند اقوال بزرگان دین اینجا نقل کردہ شوند تا معلوم شود کہ الہام مرزا حجت شرعی نیست و مسلمانان مامور نیستند کہ پیروی الہام کسے امتی کنند چرا کہ الہام ظنی است و قرآن و احادیث مفید علم یقینی و کار مسلمان نیست کہ ظن را بر یقین ترجیح دہد و عمل کند خود گمراہ شود و دیگر مسلمانان را گمراہ کند و بنیاد دعاوی خود بر الہام کہ ظنی است می نہد۔
- ۱...... سیدنا حضرت عمرؓ بر الہام خود عمل نہ کردے تا وقتیکہ تصدیق از قرآن شریف، نہ دے۔
- ۲...... حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب در ارشاد الطالبین میفرمایند کہ الہام اولیاء موجب علم ظنی است۔ اگر کشف ولی
والہام او مخالف حدیثے بود، گرچہ از احاد باشد بلکہ قیاس کہ جامع شرائط قیاس باشد مخالف باشد در اینجا قیاس را ترجیح باید داد و میگویند کہ ایں مسئلہ در سلف و خلف متفق علیہ است۔
- ۳...... امام غزالیؒ در احیاء العلوم میفرمایند کہ ابو سلیمان دارانی رحمتہ اللہ علیہ میفرمودند کہ بر الہام عمل نباید کرد تا وقتیکہ
تصدیق وے از آثار کردہ نشود۔
- ۴...... حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ در فتوح الغیب میفرماید کہ بر کشف والہام عمل باید کرد
بشرطیکہ آں کشف والہام مطابق قرآن شریف و احادیث نبوی و اجماع امت و قیاس صحیح باشد۔
اما ایں کاذب مدعی نبوت و رسالت با وجود دعوے مسلمانی و امتی بودن حضرت خاتم النبیین، مے گوید کہ ؎
بخدا پاک دانمش ز خطا
همچو قراں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ۹۹ خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
و از روئے جسارت میگوید کہ حدیث رسول اللہ ﷺ اگر مطابق الہام من نباشد من آں حدیث را در سبد ردی می افگنم۔
(اعجاز احمدی ص ۳۰ خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
اجماع امت بر ایں است کہ ہر الہام کہ مخالف قران شریف و حدیث نبوی باشد ردی است و قابل عمل نیست اما ایں مدعی کاذب قرآن و حدیث و تعامل صحابہ رضی اللہ عنہم و اجماع امت را بمقابلہ الہام خود قابل عمل نمیداند الا دروغ باف چنین است کہ مسلمانانرا مے فریبد و میگوید ؎
مصطفٰے مارا امام و پیشوا
(سراج منیر ص ۹۳ خزائن ج ۱۲ ص ۹۵)
مسلم را حکم ایں بود کہ الہام را تابع قران و حدیث بکند لکن مرزا قرآن شریف و احادیث نبوی را تابع الہام و وساوس خود میکند ثبوتش اینکہ مرزا را وسوسہ در دل پیدا شد و شیطان او را بخلاف قرآن شریف و احادیث و اجماع امت و اولیاء اللہ الہام کرد کہ تو مسیح موعود ہستی و حضرت عیسیٰ ؑ وفات یافتہ است و ہر کہ وفات یابد دوبارہ دریں دنیا عود نمیکند ۔ چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ نبی اللہ بود و حضرت خاتم النبیین نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ
نبی
فرمودہ یہود مرزا را لازم افتاد کہ دعوے نبوت ہم کند و مہر ختم نبوت را بشکند پس او گفت کہ من مسیح موعود ہستم و خدا تعالیٰ ما را ابن مریم نام نہادہ لہٰذا من نبی اللہ نیز ہستم۔ و ندانست کہ کسے جدید نبی بعد از حضرت خاتم النبیین از شکم مادر پیدا نخواهد شد۔ در حدیث است فرمود ﷺ عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اِنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ الْاَنْبِيَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَّاتِ اُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ اَنَا اَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِاَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَینِی وَ بَینَہٗ نَبِي وَاِنَّهُ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَيْتُمُوْهُ فَاعْرِفُوْهُ رَجُلٌ مَّرْبُوْعٌ اِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ (رواہ مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۶ وابوداؤد ج ۲ ص ۱۳۵ باب خروج دجال بسند صحیح) ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت میکند کہ رسول اللہ ﷺ فرمود ہمہ پیغمبران ہمچو برادران علاتی ہستند کہ فروعی احکام ایشان مختلف اند مگر دین ایشاں یکی است یعنی توحید و دعوت الی الحق ومن نزدیکتر عیسیٰ ابن مریم ہستم چرا کہ درمیان من واو کسے پیغمبرے نیست و بیشک او نازل شونده است۔ شناخت او این است کہ میانہ قد و گندم گون است روایت کرد ایں حدیث را امام احمد و ابو داؤد بسند صحیح۔
پس چوں مہر نیمروز ثابت شد کہ مرزا در دعوٰی مسیحیت و رسالت و نبوت صادق نبود و مانند فارس بن یحییٰ کہ در مصر دعوٰی مسیح موعود نموده بود۔ و شیخ محمد خراسانی کہ در خراسان ادعائے مسیحیت نموده در دعوٰی خود کاذب بود۔ لہٰذا مسلماناں را باید کہ از مریدان او احتراز و اجتناب کنند۔ و علامت مریدان او این است کہ بوقت گفتگو ابتدا از وفات مسیح میکنند و از حیات مسیح کہ بالنصوص قرآنیہ و احادیث نبویہ ﷺ و اجماع امت ثابت است انکار میکنند۔
مقصود بالذات جماعت مفسد مرزائیہ این است کہ از راه کابل و بخارا سلطنت روس را حاصل نموده برہندوستان حملہ کنند و سلطنت ہند بگیرند تا پیشگوئی مرزا غلام احمد متنبّی صادق آید کہ او نوشتہ ”من ترا لدھیانہ برکت خواہم داد کہ بادشاہان از جامہ تو برکت خواہند جست“ (الوصیت ص ۴ خزائن ج ۲۰ ص ۳۰۳) و دیگر الہام او این است یوتی الملک العظیم (یعنی مرزا را وسیع ملک داده شود) (حقیقۃ الوحی ص ۹۱ خزائن ج ۲۲ ص ۹۴) بر بنائے ایں دو الہام میاں بشیر الدین محمود خلیفہ قادیانی خوابہائے سلطنت می بیند و مینویسد کہ حکومت ایں ملک آخر بدست احمدیان خواهد آمد و ہر حکومت کہ در ترقی ایں جماعت سد راه شود و مذہب احمدی را ملجائے و ماوائے پندارد و بدامن وے خود را منسوب کردن پسند نکند ہلاک کردہ شود و نام وے از صفحہ ہستی نابود کردہ شود (تحفہ شاہزادہ مصنفہ مرزا محمود خلیفہ ثانی ص ۱۱۲) پس ایں جماعت سیاسی پہلو دار و بغایت خطرناک است برائے عوام اہل اسلام علی الخصوص برائے رعایا و بادشاہ افغانستان و بخارا ازیں پرہیز باید کرد واز گندم نمائی و جو فروشی ایں دشمنان اسلام فریب نباید خورد۔ وما علینا الا البلاغ۔
فتوٰی علمائے ہندوستان در بارہ تکفیر مرزائیان و عدم جواز مناکحت مسلمانان با مرزائیان
سوال…… چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع مبین بحق مرزائیان (مریدان مرزا) کہ جملہ عقائد مرزا غلام احمد قادیانی (مدعی نبوت) را تسلیم میکنند۔ اورا مسیح موعود میدانند و رسالتش را قائل اند حالانکہ علمائے عرب و عجم در حق ایشان فتوٰی کفر داده اند۔ اگر بحالت بے علمی کسے مسلمان بایشان مناکحت بکند بعدش معلوم شود کہ شوہر مرزائی است۔ دریں صورت منکوحہ مسلمہ بغیر طلاق مرزائی (شوہر خود) با مسلمان نکاح کردن میتواند یا نہ۔ ونکاح با مرزائی جائز بود یا نا جائز۔ بَیِّنُوْا بِالتَّفْصِيْلِ جَزَاكُمُ اللّٰهُ رَبُّ الْجَلِيْلِ.
الجواب…… نکاح زن سنیہ با مرد مرزائی جائز نیست۔ والد زن سنیہ را اختیار است کہ بغیر طلاق از مرد مرزائی دختر خود به نکاح کسے سنی بدہد۔ و فرض است کہ بمجرد اطلاع اورا از مرزائی جدا بکند کہ صحبتش باو زنا است۔ و بعینہ ہماں حکم دارد کہ کسے دختر خود را بلا نکاح بخانہ ہندُوئے بفرستد بلکہ از اں ہم بدتر است کہ آنجا نکاح را عقیدۃً حرام میداند۔ و اینجا بنام نہادِ نکاح حرام را حلال یقین میکرد (معاذ اللہ) الحال اورا از مرزائی جدا کنانیدن فرض است باز با
کسے سنی کہ بخواہد نکاح جائز است۔ چنانچه در ردالمحتار ج ۳ ص ۴۱۳، ۴۱۴ است قوله حَرُمَ نِكَاحُ الْوَثَنِيَّةِ وَفِيْ شَرْحِ الْوَجِيْزِ وَكُلُّ مَذْهَبٍ تُكَفَّرُ بِهِ مُعْتَقِدُهُ و در در مختار است و يبطل منه اتفاقا ما يعتمد لملة وهى خمس النكاح والذبيحة الخ.
(حاشیه ردالمحتار ج ۳ ص ۴۳۰)
کتبہ عبدالنبی نواب مرزا عفی عنہ سنی حنفی بریلوی
صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر احمد رضا خان عفی عنہ بریلوی
بے شک بلا تردد نکاح بجائے دگر جائز است چرا کہ با مرزائی نکاح باطل محض است و زنائے خالص کہ او مرتد است و نکاح مرتد اصلاً با کسے عورت جائز نیست و ضرورت طلاق آنجا افتد کہ نکاح شدہ باشد نہ در زنا۔ در فتاویٰ عالمگیری نوشته ولا يجوز للمرتد ان يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية والله اعلم وعلمه اتم۔
حررہ الفقیر القادری وصی احمد حنفی الفقیر محمد ضیاء الدین فی مدرستہ الحدیث الدائرہ فی پیلی بھیت عبدالاحد مدرس مدرستہ الحدیث پیلی بھیت العبد الاثیم محمد ابراہیم اکٹھی القادری بدایون محمد عبدالمقتدر القادری البدایونی محمد عبد الماجد عفی عنہ مہتمم مدرسہ شمسیہ بدایون احقر العباد فدوی علی بخش گنہگار احقر العباد سید شہاب الدین نقشبندی جالندھری محمد شرافت اللہ رام پوری محمد علی رضا خان عفی عنہ رامپوری محمد معز اللہ خان مدرس مدرسہ عالیہ رامپور محمد گلاب خان رامپوری خواجہ امام الدین صدیقی مدرس پشاوری عفی عنہ محمد یونس پشاوری عفی عنہ نور الحق عفی عنہ پشاوری مانسہروی محمد عبدالحکیم صواتی پشاوری عفی عنہ نور الحسن مہتمم مدرسہ جامع العلوم کانپور محمد میر عالم پشاوری ہزاروی محمد عبدالوہاب عفی عنہ پشاوری مفتی عبدالرحیم ولد مفتی عبدالمجید مرحوم ۔ پشاور احمد علی مدرس مدرسہ عربیہ میرٹھ اندر کوٹ محمد قمر الدین عفی عنہ رامپوری سردار احمد مجددی رامپوری احمد علی عفی عنہ لاہوری خان زمان خان عفی عنہ مدرس جامع العلوم کانپور محمد یار خطیب مسجد طلائی لاہور ابوالحسن حقانی خلف الرشید مولوی عبدالحق حقانی دہلوی احقر دوست محمد جالندھری غلام محمد درح پوری نمبردار چک نمبر ۲۵۵ گ ب ضلع لائلپور فقیر محمد یونس عفی عنہ قادری حنفی کشمیری مولداً احمد علی مدرس جامع العلوم کانپور محمد عبدالعزیز عفی عنہ مدرس لاہور فیض الحسن مدرس نعمانیہ مدرسہ لاہور عزیز الرحمٰن عفی عنہ مدرسہ عربیہ دیوبند گل محمد خان مدرس مدرسہ عالیہ دیوبند بندہ اصغر حسین عفی عنہ دیوبند محمد سہول عفی عنہ مدرس دیوبند شبیر احمد عفی عنہ دیوبند نبی بخش حکیم رسول نگری محمد منور علی عفی عنہ رامپوری رشید الرحمٰن رامپوری حال وارد جالندھر محمد ریحان حسین عفی عنہ ہادی رضا خان رئیس لکھنؤ محمد عبدالسلام ٹوہانوی حصار فقیر سید عبدالرسول عفی عنہ جالندھری مولوی عبدالرزاق ۔ راہوں حبیب الرحمٰن مچھی آبادی
بسم الله الرحمن الرحيم!
نام کتاب : فتاوی ختم نبوت جلد سوم ترتیب : حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری مدظلہ صفحات : ۲۷۲ طبع اوّل : فروری ۲۰۰۶ء قیمت : ۲۰۰ روپے مطبع : اصغر پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون: 061-4514122-4583486