رَدِّ قادیانیت
رسائل
- حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
- محترم صاحبزادہ طارق محمودؒ
- حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ
- حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم خانیؒ
- حضرت مولانا بشیر اللہ مظاہری رنگونیؒ
اِحتِسابِ قادیانیّت
جلد ٣٣
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
رَدِّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٣٣
- حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
- محترم صاحبزادہ طارق محمود
- حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ
- حضرت مولانا عبدالرزاق سکھرویؒ
- حضرت مولانا بشیر اللہ مظاہری رنگونیؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد تینتیس (٣٣)
مصنفین : حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
محترم صاحبزادہ جناب طارق محمودؒ
حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ
حضرت مولانا عبدالرزاق سلیمؒ خانی
حضرت مولانا بشیراللہ مظاہریؒ رنگونی
صفحات : ٤٦٤
قیمت : ٣٠٠ روپے
مطبع : ناصرین پریس لاہور
طبع اوّل : اکتوبر ٢٠١٠ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست رسائل مشمولہ .....
عرض مرتب
- ١...... مودودی صاحب کا ایک غلط فتویٰ
- ٢...... ضوء السراج فی تحقیق المعراج (چراغ کی روشنی میں)
- ٣...... توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام
- ٤...... ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں
- ٥...... خانہ ساز نبوت کے پجاریوں اور
مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا کھلا کھلا جواب
- ٦...... آنکھیں کھولیں
- ٧...... نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط
- ٨...... ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں
- ٩...... فیصلہ آپ کیجئے
- ١٠...... شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ (شرعی وقانونی حیثیت)
- ١١...... راہ حق متعلقہ رد قادیان
- ١٢...... تحفة الایمان لاہل القادیان
- ١٣...... دو نبی (نبی صادق اور نبی کاذب)
بسم الله الرحمن الرحيم!
احتساب قادیانیت جلد تینتیس (٣٣)
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ صاحبزادہ جناب طارق محمودؒ مولانا محمد عبدالحلیم کانپوریؒ مولانا عبدالرزاق سلیم خانی مولانا بشیر اللہ مظاہریؒ رنگونی
روپے پریس لاہور ٢٠١٠ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783454
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٣
عرض مرتب ٤
- ١...... مودودی صاحب کا ایک غلط فتویٰ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ٩
- ٢...... ضؤ السراج فی تحقیق المعراج (چراغ کی روشنی) // // ٣٥
- ٣...... توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام // // ٨٧
- ٤...... ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں // // ١٥٢
- ٥...... خانہ ساز نبوت کے پجاریوں اور
مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا کھلا کھلا جواب صاحبزادہ طارق محمودؒ ١٩٥
- ٦...... آنکھیں کھولیں // // ٢١٣
- ٧...... نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط // // ٢٢٧
- ٨...... ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں // // ٢٣١
- ٩...... فیصلہ آپ کیجئے // // ٢٤٣
- ١٠...... شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ (شرعی و قانونی حیثیت) // // ٢٥٣
- ١١...... راہ حق متعلقہ رد قادیان حضرت مولانا محمد عبدالحلیم کانپوریؒ ٢٩٣
- ١٢...... تحفۃ الایمان لاہل القادیان حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم خانی ٣٢٥
- ١٣...... دو نبی (نبی صادق اور نبی کاذب) حضرت مولانا محمد بشیر اللہ مظاہریؒ رنگونی ٤٦١
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
الحمد لله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء. اما بعد! قارئین کرام ! لیجئے! اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق واحسان سے احتساب قادیانیت کی تینتیسویں (٣٣) جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں:
....... ❁
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مرحوم (مئی ٢٠٠٩ء) کے چار رسالہ جات شامل ہیں۔
....... ١
مودودی صاحب کا ایک غلط فتویٰ: جماعت اسلامی کے بانی رہنماء جناب مودودی صاحب سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ لاہوری مرزائی مسلمان ہیں یا کافر، تو مودودی صاحب نے جواب میں فرمایا کہ لاہوری مرزائی اسلام اور کفر کے درمیان معلق ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ جھوٹے مدعی نبوت کو کافر نہ کہنے والا بھی کفر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لاہوری مرزائیوں کی طرح جھوٹے مدعی نبوت کو مجدد، مسیح و مہدی ماننے والوں کو کیونکر مسلمان قرار دیا جاسکتا ہے؟ مودودی صاحب کے اس فتویٰ کی تغلیط خود جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اس وقت کر دی۔ جب قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا۔ اس میں لاہوری وقادیانی دونوں گروپوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ جماعت اسلامی کے ممبران قومی اسمبلی نے اس دوسری ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر مودودی صاحب کی انفرادیت پسند طبیعت کے خلاف مہر لگا دی۔
جن دنوں مودودی صاحب نے لاہوری مرزائیوں کو کافر قرار نہ دینے کا فتویٰ دیا۔ انہی دنوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے مودودی صاحب کے اس فتویٰ کے خلاف یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ فقیر کی ناقص معلومات کے مطابق پاکستان میں حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اس عنوان پر مستقل رسالہ لکھ کر پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔
- ٢...... ضوء السراج فی تحقیق المعراج (چراغ کی روشنی):
مرزا قادیانی ملعون اور دیگر بددین طبقات جیسے منکرین حدیث وغیرہ، رحمت عالم ﷺ کے معراج جسمانی کے منکر ہیں۔ حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ نے مرزا قادیانی سمیت ان تمام ملحدین کا اس رسالہ میں تعاقب کیا ہے۔
- ٣...... توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام: سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام
کی دوبارہ دنیا میں تشریف آوری اور نزول من السماء پر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا یہ رسالہ دریا کو کوزہ میں بند کرنے کی عمدہ مثال ہے۔ آپ کے تبحر علمی کے شایان شان اس رسالہ میں اس مسئلہ سے متعلق تمام معلومات کو جس حسن اور سلیقہ کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ اس عنوان پر کام کرنے والوں کے لئے گرانقدر علمی تحفہ ہے۔ ١٩٩٦ء میں سب سے پہلے یہ شائع ہوا۔ غالباً حضرتؒ کی یہ آخری قلمی خدمت ہے جو آپ نے امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے فرمائی۔ حق تعالیٰ حضرت مرحوم کی تربت کو بقعۂ انوار فرمائیں۔ ان رسائل کو احتساب کی اس جلد میں شائع کرنے پر کتنی خوشی ہے۔ الفاظ کی دنیا میں اسے بیان کرنا ممکن نہیں۔
- ٤...... ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں: دارالعلوم دیوبند کے تحت
٢٩ تا ٣١؍اکتوبر ١٩٨٦ء میں عالمی سطح کا ختم نبوت کے عنوان پر اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں دنیا بھر سے جید اسکالرز حضرات کو مقالات پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ نے یہ مقالہ تحریر فرمایا۔ ویزا کی دقت کے باعث دیوبند کے اس اجتماع پر تو تشریف نہ لے جاسکے۔ لیکن اس مقالہ کو شائع کردیا گیا۔ بہت ہی علمی مواد سے بھرپور یہ مقالہ ہے۔
- ٭...... حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمود مرحوم (ستمبر ٢٠٠٦ء) کے اس
جلد میں چھ رسائل کو شامل کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ محترم صاحبزادہ صاحب کی مستقل عظیم و ضخیم کتاب ’’قادیانیت کا سیاسی تجزیہ‘‘ ماضی قریب میں اسے مجلس نے شائع کیا۔ اسے اس جلد میں شائع کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ باقی چھ رسائل کو شامل اشاعت کیا گیا ہے۔
- ١/٥...... خانہ ساز نبوت کے پجاریوں اور مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا کھلا کھلا
جواب: قادیانی جماعت کے چوتھے لاٹ پادری مرزا طاہر نے تمام علماء کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ محترم صاحبزادہ صاحب نے اس کا یہ جواب تحریر فرمایا۔ جس کا ایک ایک حرف جان قادیانیت کے لئے نشتر کا درجہ رکھتا ہے۔
- ٢/٦...... آنکھیں کھولیں: قادیانیوں کو تبلیغ کے نقطہ نظر سے محترم صاحبزادہ
طارق محمود صاحبؒ نے یہ رسالہ ترتیب دیا۔ اے کاش! قادیانی اس سے فائدہ حاصل کرتے۔
- ٣/٧...... نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط: فیصل آباد میں نوجوانوں کو فتنہ
قادیانیت کی سنگینی سے باخبر کرنے کے لئے آپ نے یہ رسالہ تحریر کیا۔
- ٤/٨...... ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں: ژوب میں عالمی مجلس تحفظ
ختم نبوت کے بانی بزرگ رہنما حضرت حاجی محمد علی صاحبؒ، الحاج محمد عمرؒ کے حکم پر آپ نے یہ رسالہ تالیف کیا۔
- ٥/٩...... فیصلہ آپ کیجئے: سادہ الفاظ میں عوام و خواص کو قادیانیت سمجھانے
کے لئے محترم صاحبزادہ طارق محمود صاحبؒ نے یہ رسالہ تالیف فرمایا۔
- ٦/١٠...... شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ (شرعی و قانونی حیثیت): ١٩٩٢ء میں
جناب نواز شریف وزیر اعظم، مولانا عبدالستار خان نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور، جناب چوہدری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ تھے۔ شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا مرحلہ آیا تو مطالبہ کیا کہ اس میں مذہب کا خانہ شامل کیا جائے۔ نواز حکومت یہ مطالبہ مان کر مکر گئی۔ نواز شریف کو آج تک جو جو ابتلاء پیش آئے وہ سب اس کہہ مکرنی اور رحمت عالمﷺ کی ذات اقدس سے بے وفائی کا نتیجہ تو نہیں؟ اے کاش! کوئی سمجھے! اس زمانہ میں محترم صاحبزادہ صاحبؒ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا تھا۔
- ٭...... حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوری
میں شامل ہے۔
- ١١...... راہ حق متعلقہ رد قادیان:
سکندر آباد ہے۔ وہاں قادیانیوں کی شورہ شوریٰ تھی وہاں تشریف لے گئے تو قادیانی مکائد کو طشت از بام فرمایا۔ جو ٥؍ اکتوبر ١٩٢٦ء میں (گویا تالیف کے برس کو یہ شرف حاصل ہے کہ اشاعت سے قبل حکیم الامت ملاحظہ فرمایا اور بعض مقامات پر اس کی اصلاح بھی (اکتوبر ١٩٢٦ء) کے بعد (اکتوبر ٢٠١٠ء) میں گو شائع کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر بجالاتے ہیں
- ٭...... حضرت مولانا عبدالرزاق
جلد میں شامل ہے۔
- ١٢...... تحفۃ الایمان لاھل
بانی دارالمبلغین لکھنؤ کے مناظر تھے۔ حضرت شاگرد تھے۔ آپ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا تو حضرت اس پر تقریظ تحریر فرمائی۔ جو ٢٧؍ رجب المرجب فرمودہ ہے۔
قارئین! یہ عجیب اتفاق ہے۔ اس نمبر ١٢ پر درج رسالہ بھی اکتوبر ١٩٢٥ء کا ہے اور اب ٢٠١٠ء ہے۔ یہ رسالہ اکتوبر ١٩٢٥ء میں (پچاسی سال) بعد اس رسالہ کو شائع کرنے کی
- ❁....... حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ (.........) کا ایک رسالہ اس جلد
میں شامل ہے۔
- ١١....... راہِ حق متعلقہ رد قادیان: ریاست حیدرآباد دکن میں ایک مقام
سکندر آباد ہے۔ وہاں قادیانیوں کی شورہ شوری تھی۔ ١٩١٦ء میں مولانا عبدالحلیم کانپوریؒ وہاں تشریف لے گئے تو قادیانی مکائد کو طشت از بام کرنے کے لئے آپ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ جو ٥؍اکتوبر ١٩٢٦ء میں (گویا تالیف کے دس سال بعد) اسے شائع کیا۔ اس رسالہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اشاعت سے قبل حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ نے اسے ملاحظہ فرمایا اور بعض مقامات پر اس کی اصلاح بھی فرمائی۔ اب یہ رسالہ اپنی اشاعت اوّل (اکتوبر ١٩٢٦ء) کے بعد (اکتوبر ٢٠١٠ء) میں گویا چوراسی (٨٤) سال بعد دوبارہ اسے شائع کرنے پر اللہ رب العزت کا شکر بجالاتے ہیں۔
- ❁....... حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم خاکیؒ (.........) کا ایک رسالہ اس
جلد میں شامل ہے۔
- ١٢....... تحفۃ الایمان لاھل القادیان: حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم
خاکیؒ دارالمبلغین لکھنؤ کے مناظر تھے۔ حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ امام اہل سنّت کے شاگرد تھے۔ آپ نے یہ رسالہ تحریر فرمایا تو حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ نے اس پر تقریظ تحریر فرمائی۔ جو ٢٧؍رجب المرجب ١٣٥٤ھ مطابق ٢٦؍اکتوبر ١٩٣٥ء کی تحریر فرمودہ ہے۔
قارئین! یہ عجیب اتفاق ہے۔ اس جلد میں نمبر ١١ پر درج رسالہ بھی اکتوبر ١٩٢٦ء کا نمبر ١٢ پر درج رسالہ بھی اکتوبر ١٩٣٥ء کا ہے اور فقیر جس وقت یہ سطور تحریر کر رہا ہے۔ ماہ اکتوبر ٢٠١٠ء ہے۔ یہ رسالہ اکتوبر ١٩٣٥ء میں شائع ہوا، اب ٢٠١٠ء ہے۔ تو گویا پون صدی (پچہتر سال) بعد اس رسالہ کو شائع کرنے کی سعادت پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بے پایاں ہیں۔
بیحد شکریہ۔ فالحمد للہ!
٭ ....... حضرت مولانا محمد بشیر اللہ مظاہریؒ رنگونی (..........) کا ایک رسالہ اس جلد میں شامل ہے۔
- ١٣....... دو نبی (نبی صادق اور نبی کاذب): مولانا محمد بشیر اللہ صاحب اصلاً
برما رنگون کے تھے۔ جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے فضلاء میں سے تھے۔ آپ جمعیت علماء برما کے نائب صدر بھی رہے۔ دارالعلوم تانبوے رنگون کے شیخ الجامعہ تھے۔ آپ نے اگست ١٩٥٧ء میں یہ رسالہ تحریر فرمایا۔ ترپن (٥٣) سال گویا نصف صدی بعد اس رسالہ کی اشاعت اللہ رب العزت کے انعامات بے پایاں میں سے ہے۔ فالحمد للہ اولاً و آخراً!
خلاصہ: یہ کہ اس جلد میں:
- ١....... شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ٤ رسائل
- ٢....... محترم صاحبزادہ طارق محمود کے ٦ رسائل
- ٣....... حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ کا ١ رسالہ
- ٤....... حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم خاکیؒ کا ١ رسالہ
- ٥....... حضرت مولانا بشیر اللہ مظاہریؒ رنگونی کا ١ رسالہ
ٹوٹل ١٣ رسائل
اس جلد میں شامل ہیں۔
پانچ حضرات کے تیرہ رسائل و کتب اس جلد میں ملاحظہ فرمائیے۔
محتاجِ دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٩/ ذیقعدہ ١٤٣١ھ بمطابق ٢٨/ اکتوبر ٢٠١٠ء
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مودودی صاحب
کا ایک غلط فتویٰ
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، اما بعد!
اس پر فتن دور میں بے شمار فتنے کھڑے ہو گئے ہیں اور جوں جوں قیامت قریب آئے گی ۔ مزید فتنے برپا ہوتے رہیں گے۔ ان میں ایک عظیم قلمی فتنہ جناب مودودی صاحب کا ہے ۔ کیونکہ جناب مودودی صاحب نے اسلام کی بزرگ ترین ہستیوں مثلاً حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ، حضرات صحابہ کرامؓ اور ائمہ دینؒ کو (معاذ اللہ) اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حضرت آدم ، حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد ، حضرت یونس اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کے بارے میں انہوں نے جو نازیبا کلمات اور نظریات پیش کئے ہیں وہ ان کی مایہ ناز تفسیر تفہیم القرآن میں موجود ہیں اور حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں اپنے دیگر مضامین کے علاوہ خلافت وملوکیت میں جو کچھ کہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات سلجھے ہوئے انداز میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے اور نہ کہہ سکتے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ شیعہ کی پوری جماعت پاکستان بھر میں سوسال تک حضرات صحابہ کرامؓ پر سے وہ اعتماد نہ اٹھا سکتی جو تنہا مودودی صاحب نے خلافت اور ملوکیت میں اٹھا کر اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ہے تو بے جا نہ ہوگا اور آنحضرت ﷺ کے بزرگ حضرات صحابہ کرامؓ کے علاوہ جلیل القدر صحابی کاتب وحی اور آپ کے سالے حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں ایک غیر صحیح اور تاریخی مفروضہ کی بناء پر یہاں تک لکھ ڈالا کہ : ”مالِ غنیمت کی تقسیم کے معاملہ میں بھی حضرت معاویہؓ نے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی ۔“
(خلافت وملوکیت ص ١٧٤)
نیز لکھا ہے کہ : ”حضرت معاویہؓ نے اپنے گورنروں کو قانون سے بالاتر قرار دیا اور ان کی زیادتیوں پر شرعی احکام کے مطابق کارروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔“
(خلافت وملوکیت ص ١٧٥)
اور یہ بھی لکھا ہے کہ : ”حضرت معاویہؓ کے عہد میں سیاست کو دین پر بالا رکھنے اور سیاسی اغراض کے لئے شریعت کی حدیں توڑ ڈالنے کی جو ابتداء ہوئی تھی ان کے اپنے نامزد کردہ جانشین یزید کے عہد میں وہ بدترین نتائج تک پہنچ گئی۔“
(خلافت وملوکیت ص ١٧٩)
کون غیور مسلمان ہے جو ایک جلیل القدر صحابی کے بارے میں یہ باطل نظریات سننے پر آمادہ ہو سکتا ہے اور قرآن وحدیث کے قطعی دلائل کے مقابلہ میں تاریخ کے ظنیات پر
٢
مطمئن ہو سکتا ہے؟ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے اور انہوں نے پیش کیا ہے وہ بھی ان کی کتاب تفہیم مودودی صاحب سے براہ راست گفتگو کے لئے وقت نہیں ۔ ان کی جماعت کے بعض افراد کے ذ خاموش ہو گئے کہ : ”دست گدا بدامن سلطان نمی کے چند باطل نظریات اختصار سے پیش کئے جا کو ہدایت نصیب فرمادے۔ ورنہ عوام تو ان اللہ تعالیٰ سب کو حق پر قائم ودائم رکھے۔ آمین !
غلط فتویٰ
سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی خود کو اہل لیکن ان کے بے باک قلم سے بعض ایسی چیزیں حق اور منصور مسلک کے سراسر خلاف اور بالکل بر صاحب سے سوال کیا کہ لاہوری مرزائی آپ میں مودودی صاحب نے یہ کہا کہ نہ تو وہ مسلمان
بسم الله الرحمن الرحيم
فون نمبر : ٢٥٠٧ ٥، اے ۔ ذیلدا
محترمی ومکرمی
آپ کا خط ملا ۔ مرزائیوں کی لاہوری ایک مدعی نبوت سے بالکل برأت ہی ظاہر کرتی اس کی نبوت کا صاف اقرار کرتی ہے کہ اس کی تکفی
خاکسار : ف
یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ب لیکن مودودی صاحب کا یہ جواب اور اولاً ....... اس لئے کہ خود مودودی
مطمئن ہوسکتا ہے؟ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے اور حضرات مجددین کے بارے میں جو غلط نظریہ انہوں نے پیش کیا ہے وہ بھی ان کی کتاب تجدید احیاء دین سے بالکل ہویدا ہے۔ جب مودودی صاحب سے براہ راست گفتگو کے لئے خط و کتابت کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ وقت نہیں۔ ان کی جماعت کے بعض افراد کے ذریعہ یہ مطالبہ کیا گیا تو وہ بزبان حال یہ کہہ کر خاموش ہوگئے کہ: ”دست گدا بدامن سلطان نمی رسد“ اس لئے محسوس ہوا کہ مودودی صاحب کے چند باطل نظریات اختصار سے پیش کئے جائیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کی جماعت کو ہدایت نصیب فرمادے۔ ورنہ عوام تو ان کے بعض غلط نظریات سے آگاہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو حق پر قائم و دائم رکھے۔ آمین!
غلط فتویٰ
سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی خود کو اہل السنت والجماعت کا ایک فرد تصور کرتے ہیں۔ لیکن ان کے بے باک قلم سے بعض ایسی چیزیں بھی سرزد ہوگئی ہیں جو اہل السنت والجماعت کے حق اور منصور مسلک کے سراسر خلاف اور بالکل برعکس ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ ایک سائل نے مودودی صاحب سے سوال کیا کہ لاہوری مرزائی آپ کے نزدیک مسلمان ہیں یا کافر؟ تو اس کے جواب میں مودودی صاحب نے یہ کہا کہ نہ تو وہ مسلمان ہیں اور نہ کافر؟ ان کا اصل جواب یوں ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! جماعت اسلامی پاکستان فون نمبر : ٢٥٠٧ ....... ٥ اے ۔ ذیلدار پارک اچھرہ لاہور حوالہ نمبر : ٢٢٧ تاریخ : ٢٩؍جنوری ١٩٦٨ء محترمی ومکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط ملا۔ مرزائیوں کی لاہوری جماعت کفر و اسلام کے درمیان معلق ہے۔ یہ نہ ایک مدعی نبوت سے بالکل برأت ہی ظاہر کرتی ہے کہ اس کے افراد کو مسلمان قرار دیا جاسکے۔ نہ اس کی نبوت کا صاف اقرار کرتی ہے کہ اس کی تکفیر کی جاسکے۔ خاکسار: غلام علی معاون خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی یہ جواب میری ہدایات کے مطابق ہے۔ ابوالاعلیٰ!
لیکن مودودی صاحب کا یہ جواب اور فتویٰ چند وجوہ سے باطل اور مردود ہے۔ اوّلاً....... اس لئے کہ خود مودودی صاحب ایک مقام میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ ظاہر
٣
بات ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک مدعی نبوت کے معاملے میں آدمی کے لئے دو ہی رویے ممکن ہیں یا اس کے دعویٰ کو مان لے یا اس کا انکار کردے۔ اقرار و انکار کے درمیان کوئی مقام نہیں ہے۔"
(قادیانی مسئلہ از ابوالاعلیٰ مودودی ص ٨٣ طبع ششم، ستمبر ١٩٦٨ء)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اقرار و انکار کے درمیان کوئی مقام نہیں ہے۔ لیکن سخت حیرت اور بے حد تعجب ہے کہ لاہوری مرزائیوں کے بارے میں مودودی صاحب درمیانی راہ تجویز کرتے ہیں۔ نہ معلوم ان کو اس کی کیا مجبوری درپیش ہے؟ اصحاب علم اور ارباب فہم وبصیرت اس سے بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی جماعت کے کوئی مفتی صاحب اس عبارت کی یہ تاویل کردیں کہ اس عبارت میں لفظ آدمی ہے۔ (آدمی کے لئے دو ہی رویے ممکن ہیں) اور مودودی صاحب آدمی نہیں بلکہ نوری ہیں۔ آخر پاکستان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آنحضرت ﷺ اور آپ کی نسل اور اولاد کو نوری مخلوق مانتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ بعض اوقات یہ شعر بھی پڑھا کرتے ہیں۔
تو سراسر نور تیرا سب گھرانہ نور کا
اور مودودی صاحب آخر سید بادشاہ ہیں تو پھر وہ کیوں نہ نوری ہوں گے؟ (معاذ اللہ)
ثانیاً...... اس لئے کہ جواب کا یہ طریق اہل السنت والجماعت کا نہیں بلکہ فرقۂ معتزلہ کا ہے۔ جس کا بانی واصل بن عطاء (المتوفی ١٣١ھ) تھا۔ جس نے یہ باطل نظریہ قائم کیا کہ ایمان وکفر کے درمیان واسطہ ہے۔ جس کو متکلمین اور علماء عقائد المنزلۃ بین المنزلتین سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو شرح عقائد علامہ تفتازانی ص ٦) اور اہل السنت والجماعت میں اس بیچ کی راہ کا کوئی بھی قائل نہیں رہا۔ امام حسن بصریؒ سے یہ منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ مؤمن ہے اور نہ کافر اور علامہ شمس الدین خیالیؒ نے اس کی ایک علمی توجیہ بیان کرکے ان کے قول کو معتزلہ کے قول سے الگ کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو الخیالی ص ١٨) لیکن صحیح بات یہ ہے کہ امام حسن بصریؒ نے اس نظریہ سے آخر میں رجوع کرلیا تھا۔ (نبراس ص ٢٨، عبدالحکیم علی الخیالی ص ١٨، شرح مقاصد بحوالہ ہامش شرح عقائد ص ٨٤) اور اہل حق کی یہی شان ہوتی ہے کہ اگر ان سے کوئی غلط بات سرزد ہوجاتی ہے تو تنبیہ کے بعد اس پر اصرار نہیں کرتے اور بلا تامل اس سے رجوع کرلیتے ہیں۔ مودودی صاحب وغیرہ گمراہ سربراہوں کی طرح غلطی واضح ہوچکنے کے بعد نہ تو وہ غلط نظریے پر اصرار کرتے ہیں اور نہ بے جا تاویلات کرتے ہیں۔ جس طرح دجال کے بارے میں مودودی صاحب نے
٤
ایسی ہی ایک بے بنیاد، دور از کار اور بے جوڑ تاویل کی وغیرہ تو افسانے ہیں۔ جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔"
جب اہل حق نے ان کے اس غیر اسلامی ن کے لئے نہ اس کے اقرار کی گنجائش رہی اور نہ انکار کی تو چیز کو افسانہ قرار دیا ہے وہ یہ خیال ہے کہ دجال کہیں مقید سبحان اللہ اس کو کہتے ہیں "سوال از آسما قدرت خدا کی "درد کہیں اور دوا کہیں" ہر صاحب ذوق ہنسی آئے گی۔ الغرض ایمان اور کفر کے درمیان بیچ کی نہیں رہا۔ مگر مودودی صاحب اہل سنت کے مسلم اع ہوئے معتزلہ کے گمراہ فرقہ کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ کیون
وثالثاً...... اس لئے کہ لاہوری مرزائیوں جھوٹے مدعی نبوت کی نبوت کا صاف اقرار کرتے ہو بھی متعدد وجوہ موجود ہیں۔ جن میں ایک ایک اپنے والجماعت اسی پر متفق ہیں۔ زیادہ مناسب معلوم ہوتا اور سربراہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری کی تفسیر بیان کردیں۔ تاکہ مودودی صاحب کے علاوہ عوام بھی لا اور اچھی طرح یہ معلوم کرلیں کہ لاہوری مرزائیوں کی مسئلہ نہیں جیسا کہ مودودی صاحب کے فتویٰ سے ظ موجود ہیں جو موجب تکفیر ہیں اور لاہوری مرزائیوں
- ا....... نصوص قرآنیہ، احادیث صح
ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعا کیا ہے اور حضرت مریم علیہا السلام کو بدوں خاوند مولوی محمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الس مریم علیہا السلام کا شوہر بھی تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
٥
ایسی ہی ایک بے بنیاد، دور از کار اور بے جوڑ تاویل کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: یہ کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں۔ جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔"
(رسائل و مسائل ج ١ ص ٤٨ طبع سوئم)
جب اہل حق نے ان کے اس غیر اسلامی نظریہ پر کڑی تنقید کی اور مودودی صاحب کے لئے نہ اس کے اقرار کی گنجائش رہی اور نہ انکار کی تو اس کی یہ نکمی تاویل کی کہ: ”میں نے جس چیز کو افسانہ قرار دیا ہے وہ یہ خیال ہے کہ دجال کہیں مقید ہے۔“
(رسائل و مسائل ج ١ ص ٤٨ طبع سوئم)
سبحان اللہ اس کو کہتے ہیں ”سوال از آسمان اور جواب از ریسمان“ اور بالفاظ دیگر قدرت خدا کی ”درد کہیں اور دوا کہیں“ ہر صاحب ذوق اور اہل علم کو اس لایعنی تاویل پر بے ساختہ ہنسی آئے گی۔ الغرض ایمان اور کفر کے درمیان بیچ کی راہ کا اہل السنت میں کوئی امام اور عالم قائل نہیں رہا۔ مگر مودودی صاحب اہل سنت کے مسلم اصول اور طے شدہ قواعد کے خلاف کرتے ہوئے معتزلہ کے گمراہ فرقہ کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ کیونکہ مشہور ہے کہ ؎
وثالثاً ..... اس لئے کہ لاہوری مرزائیوں کی تکفیر کا مدار صرف اس پر نہیں کہ وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت کی نبوت کا صاف اقرار کرتے ہوں۔ تب کافر ہوں، بلکہ ان کے تکفیر کے اور بھی متعدد وجوہ موجود ہیں۔ جن میں ایک ایک اپنے مقام پر موجب تکفیر ہے اور جملہ اہل السنت والجماعت اسی پر متفق ہیں۔ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم لاہوری مرزائیوں کے روح رواں اور سربراہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری کی تفسیر بیان القرآن سے باحوالہ چند صریح کفریات نقل کردیں۔ تا کہ مودودی صاحب کے علاوہ عوام بھی ان کے کفر کے وجوہ اور اسباب کو بخوبی سمجھ لیں اور اچھی طرح یہ معلوم کر لیں کہ لاہوری مرزائیوں کی تکفیر یا عدم تکفیر کا دارومدار محض ختم نبوت ہی کا مسئلہ نہیں جیسا کہ مودودی صاحب کے فتویٰ سے ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ اور بھی متعدد مسائل ایسے موجود ہیں جو موجب تکفیر ہیں اور لاہوری مرزائیوں میں وہ واضح طور پر موجود ہیں۔
- ١...... نصوص قرآنیہ، احادیث صحیحہ اور امت مسلمہ کے اجماع و اتفاق سے یہ
ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے بلا باپ کے پیدا کیا ہے اور حضرت مریم علیہا السلام کو بدوں خاوند کے اللہ تعالیٰ نے بیٹا مرحمت فرمایا ہے۔ لیکن مولوی محمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے اور حضرت مریم علیہا السلام کا شوہر بھی تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
٥
- الف...... ”حضرت مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش اسلامی عقائد میں داخل
نہیں ۔ یہ عیسائیت کا اصول ہے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢١٣)
- ب...... ”توریت وانجیل کی تاریخی شہادت ، توریت وانجیل میں بے شک تحریف
ہوئی ۔ لیکن آخر ان کی پیش گوئیوں میں بہت کچھ صداقت موجود رہی ہے۔ اسی طرح تاریخی واقعات میں جس بات کو قرآن کریم نہ جھٹلائے اس کے رد کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ۔ اب اناجیل سے ثابت ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ یوسف کا تعلق زوجیت کا تھا اور اسی تعلق سے آپ کے ہاں بہت سی اولاد بھی ہوئی۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢١٣، ٢١٤)
- ج...... (اس کے بعد چند انجیلی حوالے نقل کر کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ) ”پس یہ
انجیلی شہادت صاف بتاتی ہے کہ حضرت مریم کا تعلق زوجیت تو یوسف کے ساتھ ضرور ہوا اور اس تعلق سے اولاد بھی پیدا ہوئی ۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢١٤)
ہمارا مقصد اس مقام پر مولوی محمد علی صاحب لاہوری، مرزا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز وغیرہ کے شبہات کو نقل کر کے ان کے مفصل باحوالہ جوابات دینا نہیں ، صرف یہ بتانا ہے کہ کیا یہ باطل نظریہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری اور ان کی جماعت کی تکفیر کے لئے ناکافی ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم کرنے والا بھی مسلمان ہے؟
- ٢...... قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے یہ مسئلہ ثابت ہے کہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا اور وہ ابھی تک بقید حیات دوسرے آسمان پر تشریف فرما ہیں اور قرب قیامت نازل ہو کر دجال لعین کو قتل کریں گے اور پھر چالیس سال زندہ رہ کر آخر وفات پائیں گے اور مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے روضۂ اقدس میں دفن کئے جائیں گے۔ لیکن مولوی محمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور ان کی وفات کا انکار کرنا خلاف نصوص ہے۔“
چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
- الف...... ”حالانکہ نہ صرف قرآن شریف وحدیث میں حیات مسیح کا مطلق کوئی ذکر
نہیں ۔ بلکہ دونوں جگہ آپ کی وفات کا ذکر ہے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢٢٥)
- ب...... بخاری شریف کے حوالہ سے ”فأقول كما قال العبد الصالح كنت
عليهم شهيداً مادمت فيهم ، فلما توفيتني ، كنت انت الرقيب عليهم“ میں لفظ ”توفيتنى“ کا حقیقی معنی چھوڑ کر جو پورا پورا لینے کے ہوتے ہیں اور جس کا مجرد مادہ وفٰی ہے
٦
وفات نہیں ۔ ”وفیت کل نفس ماکسبت“ اور ”ا صراحت سے دال ہے اور مجازی معنی وفات کے لے کر اس قطعیۃ الدلالت آیت اور اس حدیث صریح کے ہوتے ہو انکار کرنا نصوص صریح کو رد کرنا ہے اور ”توفيتني“ ک کے خلاف ہے۔“
ہمیں اس مقام میں اس سے بحث نہیں کہ ل توفی کے معنی ”الاخذ بالوفی“ یعنی پورا پورا لینا اور ا ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلاف نصوص سمجھتے ہیں۔ مودودی صاحب ہی صاف ب علیہ السلام کا منکر مسلمان ہے یا کافر؟ اگر مسلمان ہے ت ہے تو مرزائیوں کی لاہوری جماعت کفر وایمان کے درمی چیز مانع ہے؟ لگی لپٹی کہنے کے بجائے صاف اور دوٹو مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالیں اور نہ لاہوری مرزائیوں ک کوشش کریں اور واشگاف الفاظ میں واضح کریں کیا م مسلک میں ہم خیال لوگوں کے کفر کے لئے یہ بات حیات اور ان کے نزول کے قائل نہیں ۔ بلکہ الٹا ان لگارہے ہیں کہ وہ نصوص صریح کا رد کرتے ہیں۔
- ٣...... قرآن کریم، احادیث صحیحہ ا
جنت دائمی اور ابدی ہے۔ اسی طرح دوزخ بھی ابد کافروں کو ابدالآباد تک دوزخ میں رہنا ہوگا۔ لیکن مول پر (جن میں کوئی بھی سند کے لحاظ سے ثابت نہیں ی سے بحث نہیں ہے) بنیاد رکھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جائے گی اور اس سے سب کافر نکال لئے جائیں گے فنا آنے کی شہادت“
اور اس کے بعد چند اقوال جہنم کے فنا ہو ”اور یہی حق بھی ہے۔ اس لئے کہ ان صریح اقوال
٧
وفات نہیں۔ ”وفیت کل نفس ماکسبت“ اور ”الکریم اذا وعد وفی“ وغیرہ اس پر صراحت سے دال ہے اور مجازی معنی وفات کے لے کر استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ”اس قطعیۃ الدلالت آیت اور اس حدیث صریح کے ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا انکار کرنا نصوص صریح کو رد کرنا ہے اور ”توفیتنی“ کے معنی سوائے وفات کے کچھ اور کرنا لغت کے خلاف ہے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢٥٤)
ہمیں اس مقام میں اس سے بحث نہیں کہ ان کی دلیل صحیح ہے یا نرا مغالطہ اور لغت میں توفی کے معنی ”الاخذ بالوفی“ یعنی پورا پورا لینا اور وصول کرنا آتے ہیں یا نہیں؟ بتانا صرف یہ ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور ان کی حیات کو خلاف نصوص سمجھتے ہیں۔ مودودی صاحب ہی صاف کہہ دیں کہ کیا حیات اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منکر مسلمان ہے یا کافر؟ اگر مسلمان ہے تو کس دلیل سے؟ اور کافر ہے اور یقیناً کافر ہے تو مرزائیوں کی لاہوری جماعت کفر و ایمان کے درمیان کیوں معلق ہے؟ اور ان کی تکفیر سے کیا چیز مانع ہے؟ لگی لپٹی کہنے کے بجائے صاف اور دوٹوک بات کریں۔ نہ خود گو مگو میں رہیں اور نہ مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالیں اور نہ لاہوری مرزائیوں کو نامعلوم مصالح کی وجہ سے خوش کرنے کی کوشش کریں اور واشگاف الفاظ میں واضح کریں کیا مولوی محمد علی صاحب لاہوری اور ان کے اس مسلک میں ہم خیال لوگوں کے کفر کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے نزول کے قائل نہیں۔ بلکہ الٹا ان کی حیات کے قائلین پر بلا دلیل یہ الزام لگارہے ہیں کہ وہ نصوص صریح کا رد کرتے ہیں۔
- ......٣ قرآن کریم، احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ جس طرح
جنت دائمی اور ابدی ہے۔ اسی طرح دوزخ بھی ابدی ہے اور دوزخ کبھی بھی فناء نہیں ہوگی اور کافروں کو ابدالآباد تک دوزخ میں رہنا ہوگا۔ لیکن مولوی محمد علی لاہوری کچھ بے سروپا آثار و اقوال پر ( جن میں کوئی بھی سند کے لحاظ سے ثابت نہیں ہے اور اس مقام میں ہمیں ان کے غلط ہونے سے بحث نہیں ہے ) بنیاد رکھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جس میں دوزخ فنا ہو جائے گی اور اس سے سب کافر نکال لئے جائیں گے۔ چنانچہ وہ یہ سرخی قائم کرتے ہیں۔ ”جہنم پر فنا آنے کی شہادت“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢٦٧)
اور اس کے بعد چند اقوال جہنم کے فنا ہونے پر نقل کر کے آخر میں فیصلہ یہ دیتے ہیں۔ ”اور یہی حق بھی ہے۔ اس لئے کہ ان صریح اقوال کی یہ تاویل کہ عصاۃ مؤمن نکلیں گے اور کفار
٧
دوزخ میں ہی بھرے رہیں گے۔ کسی طرح بھی درست نہیں۔ جہنم کے دروازے بند ہو جانا۔ اس میں کسی کا نہ رہنا سب کا ایک دن نکل آنا یہ صاف بتاتا ہے کہ جہنم سے آخر کار سب نکال دیئے جائیں گے۔
(بیان القرآن ج ١ ص ٦٦٨)
علاوہ ازیں مولوی محمد علی لاہوری کا یہ غلط نظریہ بھی ہے کہ دوزخ میں جو عذاب ہوتا ہے وہ اصلاح اور علاج کے لئے ہے۔ صرف سزا نہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ : ”اس لئے دوزخ کا عذاب بھی انسان کی اصلاح کے لئے اور بطور علاج ہی ہو سکتا ہے۔ نہ صرف بطور سزا۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٢٥)
اس کو کہتے ہیں ۔ ”یک نہ شد دو شد“ گویا کافروں اور مشرکوں کو دوزخ میں جو عذاب ہوگا وہ محض سزا اور عذاب کے طور پر نہیں بلکہ علاج و اصلاح کے طور پر ہوگا اور وہ بھی ابدی اور دائمی طور پر نہیں بلکہ کچھ عرصہ تک ہوگا اور آخر میں اس سے وہ بھی نکال دیئے جائیں گے۔ گویا ”خالدین فیہا ابداً “ اور ”ذوقوا فلن نزید کم الا عذاباً (نبا: ٣٠)“ (بیان القرآن ص١٤٣) کا ان کے نزدیک کوئی معنی ہی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری کے بارے میں مسلمان کیا سمجھیں؟ اور جناب مودودی صاحب ان کے بارے میں کیوں تامل کر رہے ہیں؟ کیا اس کا یہ نتیجہ نہ ہوگا کہ عام مسلمان یہ سمجھنے لگیں گے کہ جو نظریات لاہوری جماعت کا سر براہ پیش کر رہا ہے وہ سب صحیح ہیں یا کم از کم ایسے ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کو کافر نہیں کہا جاسکتا؟ معلوم نہیں کہ جب نصوص قطعیہ کا انکار اور ان کی تاویل بھی کفر نہیں تو آخر کفر کس بلا کا نام ہے؟ کیا کافر کے سر پر مینڈھے اور بھینس کی طرح لمبے لمبے سینگ ہوتے ہیں۔ جس سے اس کی شناخت کی جاسکے؟
- ٤...... قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نو معجزات کا ذکر ہے۔ جن
میں ایک عصا اور دوسرا ید بیضاء ہے اور قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اژدھا بن جاتی اور پھر اس کو پکڑتے تو وہ بدستور لاٹھی ہو جاتی اور جب وہ اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالتے تو باذن اللہ تعالیٰ وہ سفید اور چمکدار ہو جاتا اور یہی معنی آج تک مسلمان سمجھتے آئے ہیں۔ لیکن مولوی محمد علی لاہوری ید کے معنی اس مقام پر ہاتھ کے نہیں بلکہ دلیل اور حجت کے کرتے ہیں اور عصاء کے معنی لاٹھی کے نہیں بلکہ جماعت کے کرتے ہیں اور مطلب یہ لیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو واضح دلیل دی گئی تھی اور ان کی جماعت دشمن پر غالب آگئی تھی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
٨
- الف....... ”اور بیضاء کے معنی سفید یا روشن اور
المبرهنة“ یعنی روشن یا واضح دلیل۔“
- ب...... ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے
جب زمین پر ڈالیں تو اژدھا بن جائے نہ ہی سوائے ان چ بالمقابل بھی اس کے اژدھا بننے کا ذکر ہے۔ وہ ایک معمولی س السلام کے الفاظ ہیں کہ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور بکریاں اور کام بھی لے لیتا ہوں۔“
- ج....... ”ہاں عصاء کے اژدھا بننے اور ید بی
یہ اشارہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیرووں کی جماع بولا گیا ہے) اپنے فریق مخالف پر غالب آئے گی اور ید بیضا کی دلائل نیرہ کی طرف تھا جو دلوں کو کھا جائے گی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ان دونوں معجزوں کی اص
اگر عصاء اور ید بیضاء کی یہی مراد ہے کہ حضرت ہوئے تھے اور بالآخر ان کی جماعت فریق مخالف پر غالب آ غلبہ تو دوسرے حضرات انبیاء کو علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی عطا ہ علیہ السلام کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ یہ دونوں معجزے حضر اب جناب مودودی صاحب سے سوال ہے کہ قرآن کریم کی حکم ہے؟ اور مسلمان اسے کیا سمجھیں؟
- ٥...... قرآن کریم میں تصریح موجود ہے ا
مفسرین بیان کرتے چلے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضر کرنے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینے اور پھلبہری والوں کر ان میں پھونکنے سے سچ مچ چڑیاں بن کر اڑ جانے کے جملہ کے ساتھ باذن اللہ کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ یعنی ان نہ تھا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ مگر ہوا ضرور۔
٩
- الف ....... ”اور بیضاء کے معنی سفید یا روشن اور الید البیضاء کے معنی ہیں ۔ ”الحجة
المبرهنة“ یعنی روشن یا واضح دلیل ۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٢٧)
- ب ........ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے (لاٹھی) میں یہ خاصیت نہ تھی کہ
جب زمین پر ڈالیں تو اژدھا بن جائے نہ ہی سوائے ان دونوں موقعوں کے اور کبھی دشمن کے بالمقابل بھی اس کے اژدھا بننے کا ذکر ہے۔ وہ ایک معمولی سوٹا تھا۔ جیسا کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ ہیں کہ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور بکریوں کے لئے اس سے پتے جھاڑتا ہوں اور کام بھی لے لیتا ہوں ۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٢٧)
- ج ........ ”ہاں عصاء کے اژدھا بننے اور ید بیضاء کے ایک معنی بھی تھے۔ یعنی اوّل
یہ اشارہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیرووں کی جماعت ( کیونکہ عصا کا لفظ جماعت پر بھی بولا گیا ہے ) اپنے فریق مخالف پر غالب آئے گی اور ید بیضاء میں اشارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دلائل نیرہ کی طرف تھا جو دلوں کو کھا جائے گی ۔ چنانچہ فرعونیوں کا غرق ہونا اور ساحروں کا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ان دونوں معجزوں کی اصل حقیقت پر شاہد ہے ۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٥٢٨)
اگر عصاء اور ید بیضاء کی یہی مراد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو روشن دلائل مرحمت ہوئے تھے اور بالآخر ان کی جماعت فریق مخالف پر غالب آ گئی تو اس طرح کے روشن دلائل اور غلبہ تو دوسرے حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی عطاء ہوئے تھے تو پھر اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ یہ دونوں معجزے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مرحمت ہوئے ؟ اب جناب مودودی صاحب سے سوال ہے کہ قرآن کریم کی ایسی صریح تحریف کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ اور مسلمان اسے کیا سمجھیں؟
- ٥ ........ قرآن کریم میں تصریح موجود ہے اور یہ معنی اور مراد آج تک تمام مسلمان
مفسرین بیان کرتے چلے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردوں کے زندہ کرنے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینے اور پھلبہری والوں کو تندرست کرنے اور مٹی کی چڑیاں بنا کر ان میں پھونکنے سے سچ مچ چڑیاں بن کر اڑ جانے کے معجزات عطاء فرمائے تھے اور ایک ایک جملہ کے ساتھ باذن اللہ کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ یعنی ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی دخل نہ تھا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ مگر ہوا ضرور ہے۔ لیکن مولوی محمد علی لاہوری کہتے ہیں
٩
کہ ان مذکورہ بیماریوں سے جسمانی بیماریاں مراد نہیں بلکہ روحانی بیماریاں مراد ہیں اور پرندوں سے انسان مراد ہیں۔ جو عالم روحانیت میں پرواز کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
- الف........ ”حضرت مسیح علیہ السلام کے کلام میں بیماریوں سے مراد روحانی بیماریاں
ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا معمولی بیماریوں کا علاج کرنا ان کی نبوت کے متعلق کوئی خاص امر نہیں۔ حالانکہ یہاں نشان کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔“
(بیان القرآن ج١ ص٢١٩)
- ب........ ”مردوں کا اس دنیا میں واپس آنا بروئے تصریح قرآنی ممنوع ہے۔“
(بیان القرآن ج١ ص٢١٩)
اور پھر اس پر ”فیمسک التی قضىٰ علیہا الموت (الزمر:٤٢)“ سے استدلال کیا ہے۔ ان کا اس آیت کریمہ سے بطور معجزہ اور خرق عادت کے طور پر بعض مردوں کا زندہ ہونے پر استدلال صحیح ہے یا غلط؟ بحث اس سے نہیں، بتانا صرف یہ ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے احیاء موتیٰ کے قرآنی معجزہ کے منکر ہیں۔
- ج........ ”جن لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سچ مچ قبروں سے
مردے نکال کر زندہ کر دیا کرتے تھے اور مٹی کی شکلیں بنا کر ان کو سچ مچ کے پرندے بنا دیتے تھے۔ ان کے لئے بھی یہاں سبق ہے کہ اگر ایسے کھلے معجزات ہوئے ہوتے تو حواری حضرت مسیح علیہ السلام کو سچا جاننے کے لئے ایک مائدہ کے اترنے کے کیوں محتاج ہوتے۔ قبروں سے مردوں کا نکل آنا اور مٹی کی شکلوں کا پرندہ بن جانا تو مائدہ کے اترنے سے بہت کھلے معجزے ہیں۔ جو لوگ یہ دیکھ چکے ہوں وہ مائدہ کے محتاج نہیں ہو سکتے۔ پس کم از کم قرآن کے نزدیک مردوں کے نکالنے وغیرہ معجزات سے ظاہری معنی ہرگز مراد نہیں۔“
(بیان القرآن ج١ ص٢٥١)
- د........ ”پس برنگ استعارہ یہاں طیر سے مراد ایسے لوگ ہیں جو زمین اور زمینی
چیزوں سے اوپر اٹھ کر خدا کی طرف پرواز کر سکیں اور یہ بات آسانی سے سمجھ میں بھی آ سکتی ہے کہ جس طرح نبی کے نفخ (یعنی وعظ و پند، صفدر) سے انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زمینی خیالات کو ترک کر کے عالم روحانیت میں پرواز کرے۔“
(بیان القرآن ج١ ص٢١٨)
یہ ہے خیر سے مولوی محمد علی لاہوری کے نزدیک ”فیکون طیراً باذن اللہ“ کا معنی کہ معاذ اللہ انسان نبی کی تعلیم سے متأثر ہو کر ٹکّھڑ اور پرندہ بن جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ (معاذ اللہ) کس طرح قرآن کریم میں بیان کردہ معجزات کا حلیہ بگاڑ کر کچھ کا کچھ کر دیا گیا ہے۔ مودودی
١٠
صاحب سے سوال ہے کہ کیا ایسی کھلی تحریف کرنے والا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان واضح معجزات کا منکر مسلمان ہے؟ یا کفر و ایمان کے درمیان معلق ہے؟
کافر کو کافر نہ کہنا بھی کفر ہے
جس شخص کا کفر روشن دلائل اور واضح براہین سے ثابت ہو چکا ہو اس کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔
(اکفار الملحدین ص ٨٠)
اور مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر ایک خالص حقیقت ہے اور اس میں رتی بھر شک نہیں ہے۔ لاہوری مرزائی، مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ صرف یہ کہ مسلمان کہتے ہیں بلکہ اس کو مجدد بھی تسلیم کرتے ہیں اور ظاہر امر ہے کہ لاہوری مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر نہ ماننے کی وجہ سے بھی پکے کافر ہیں۔ لیکن حیرت ہے کہ مودودی صاحب لاہوری مرزائیوں کی تکفیر کے اس روشن پہلو سے بالکل پہلو تہی کر رہے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے کافر ہونے کے کئی اسباب اور وجوہ ہیں۔ ہم نہایت اختصار سے یہاں بعض کا تذکرہ کرتے ہیں۔
- ١....... آنحضرت ﷺ کے بعد اجراء نبوت کا دعویٰ اور اپنے نبی ہونے کا ادعاء
اس وجہ کو خود مودودی صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے اس کی مزید تشریح اور اس پر دلائل اور حوالے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
- ٢....... مرزا قادیانی پہلے جس دور میں مسلمان تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
حیات اور نزول کے قائل تھے۔ بعد کو جب اسلام کے دائرہ سے خارج ہو گئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بھی منکر ہو گئے اور خود مثیل مسیح بن بیٹھے اور نزول مسیح کی حدیثوں کو اپنے اوپر چسپاں کر لیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار اور اس کی تاویل کفر ہے۔ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں کہ: ”انه قد تواتر وانعقد الاجماع علیٰ نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام فتاویل هذا وتحریفه، کفر
(اکفار الملحدین
”بلاشبہ تواتر سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور اس پر اجماع بھی منعقد ہو چکا ہے کہ حضرت
ص ٨)
عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے۔ سو اس کی تاویل اور تحریف بھی کفر ہے۔
- ٣....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور ظاہر بات
ہے کہ کسی نبی پر غیر نبی کو فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی مسلمان اور ولی بھی ہو تب بھی اس کا رتبہ نبی سے بہرحال کم ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ: ”فالنبی افضل من الولی
١١
وهو مقطوع به عقلاً ونقلاً والصائر الى خلافه كافر لانه امر معلوم من الشرع بالضرورة (فتح البارى ج ١ ص ٢٢١، باب مايستحب للعالم اذا سئل) ”پس نبی ولی سے افضل ہوتا ہے۔ عقلی اور نقلی دلیل سے اس کا قطعی ہونا ثابت ہے اور جو شخص اس کے خلاف ہے وہ کافر ہے۔ اس لئے کہ نبی کا ولی سے افضل ہونا بداہتہً شریعت سے ثابت ہے۔ (سو اس کا منکر کافر ہے)
اور مرزا غلام احمد قادیانی باوجود کافر اور مرتد ہونے کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر (بلکہ دیگر حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر بھی جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) اپنی افضلیت ثابت کرتے ہیں۔ سو ان کے کافر ہونے میں کیا شک ہے؟ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اور مرزا قادیانی ہی کا یہ شعر بھی ہے کہ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اور نیز کہا ہے کہ؎
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جھوٹا ، شریر اور بدزبان ہونے کا الزام بھی لگایا ہے۔ (معاذ اللہ) چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت بھی تھی۔ آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات نصوص قطعیہ اور تواتر سے ثابت ہیں۔
لیکن مرزا قادیانی ان کا انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
١٢
- ٥...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب پا
پاکدامن تھیں۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ ع نہیں کرتے بلکہ دادیوں اور نانیوں پر زنا کار ہونے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ ک
قارئین کرام! کہاں تک ہم مرزا قادیا کافرانہ باتیں نقل کریں۔ جن کے نقل کرتے وقت د ہوتا ہے اور اس قسم کی بیشمار کفریہ باتیں اور بھی مرزا ایسے کھلے کفریات کا مرتکب شخص بھی کافر نہیں؟ اور ا بلکہ مجدد مانتے ہیں اور مودودی صاحب لاہوری مرز کے درمیان ان کو معلق مانتے ہیں۔ بلکہ اپنے منشور م مسلمان قرار پاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے جماعت اس میں لکھتے ہیں:۔
- ١١...... ”جو لوگ محمد رسول اللہ
نبوت پر ایمان نہ لانے والوں کو کافر قرار دیتے ہو ان کو مسلمان تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ پاکستا
جماعت اسلامی کے منشور کی اس عبار دونوں کفر سے بچ جاتی ہیں اور غیر مسلم اقلیت نہیں طرح واضح حقیقت ہے اور ہر مسلک اور ہر مکتب میں ذرہ بھر شک نہیں ہے اور جو ان کے عقائد پر
قادیانی جماعت
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور ان اس پر موجود ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعو ان کا مکفر مکذب بلکہ متردد ہے۔ ان کے نزدیک
- ٥...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ باپ تھا نہ دادے اور نہ دادیاں اور نانیاں سبھی
پاکدامن تھیں۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صرف باپ اور دادی ہی ثابت نہیں کرتے بلکہ دادیوں اور نانیوں پر زنا کار ہونے کا سنگین الزام لگاتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
قارئین کرام! کہاں تک ہم مرزا قادیانی کی ایسی حیاء سوز ایمان سوخت اور نری کافرانہ باتیں نقل کریں۔ جن کے نقل کرتے وقت دل لرزتا، ہاتھ کانپتے ، آنکھیں پرنم اور جگر شق ہوتا ہے اور اس قسم کی بیشمار کفریہ باتیں اور بھی مرزا قادیانی کے ظالم قلم سے سرزد ہوئی ہیں۔ کیا ایسے کھلے کفریات کا مرتکب شخص بھی کافر نہیں؟ اور لاہوری مرزائی تو اس کو کافر نہیں بلکہ پکا مؤمن بلکہ مجدد مانتے ہیں اور مودودی صاحب لاہوری مرزائیوں کے کفر میں متامل ہیں۔ بلکہ کفر و ایمان کے درمیان ان کو معلق مانتے ہیں۔ بلکہ اپنے منشور میں ایسی دفعہ رکھی ہے جس سے لاہوری مرزائی مسلمان قرار پاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے جماعت اسلامی کے منشور کی آئینی اصلاحات کی دفعہ نمبر ١١ میں لکھتے ہیں۔
- ١١...... ”جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانتے ہوں اور اس کی
نبوت پر ایمان نہ لانے والوں کو کافر قرار دیتے ہوں۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کیونکہ ان کو مسلمان تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ پاکستان کے مسلمان غیر مسلم اکثریت ہیں۔“
(منشور جماعت اسلامی پاکستان ص ١١)
جماعت اسلامی کے منشور کی اس عبارت سے مرزائیوں کی قادیانی اور لاہوری پارٹی دونوں کفر سے بچ جاتی ہیں اور غیر مسلم اقلیت نہیں قرار دی جاسکتیں۔ حالانکہ ان کا کفر روز روشن کی طرح واضح حقیقت ہے اور ہر مسلک اور ہر مکتب فکر کے علماء ان کی تکفیر پر متفق ہیں اور ان کے کفر میں ذرہ بھر شک نہیں ہے اور جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر ان کی تکفیر نہیں کرتا وہ خود کافر ہے۔
قادیانی جماعت
مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور ان کی جماعت کے ذمہ دار حضرات کی واضح تحریرات اس پر موجود ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور جو شخص ان کی نبوت تسلیم نہیں کرتا اور ان کا منکر مکذب بلکہ متردد ہے۔ ان کے نزدیک وہ کافر ہے اور ان کی متعدد صریح عبارتیں اس پر
١٣
موجود ہیں اور ان تمام صریح عبارات کی تاویل آفتاب نیمروز کے انکار کے مترادف ہے۔ لیکن تحریک ختم نبوت کے دور میں جب مسلمانوں اور مرزائیوں کے اختلاف کی ہائیکورٹ میں چھان بین شروع ہوئی تو مرزائیوں کے وکیل نے اپنے اکابر کی تمام واضح عبارات سے چشم پوشی کرتے ہوئے پینترا بدل کر عدالت میں جو بیان دیا وہ یہ ہے۔
- الف....... عدالت نے سوال کیا تھا کہ جو مسلمان مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے کیا وہ
مومن اور مسلم ہیں؟ جواب میں وہ کہتے ہیں: ”کسی شخص کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہ ماننے کی وجہ سے غیر مسلم نہیں کہا جاسکتا۔“ (قادیانی مسئلہ از ابوالاعلیٰ مودودی ص ٧٥)
صدر انجمن احمدیہ ربوہ کے وکیل کے ہائیکورٹ کے اس بیان کے پیش نظر مرزا قادیانی کو نبی نہ تسلیم کرنے والے بھی مسلمان ہیں اور جماعت اسلامی کے منشور کی عبارت یہ بتاتی ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لانے والوں کو کافر قرار دیتے ہوں وہ غیر مسلم اقلیت ہے اور عدالت میں احمدیوں کے وکیل کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ وہ غیر احمدیوں کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا قادیانی مرزائی مسلمان قرار پائے۔ ”معاذ اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ اور نیز اس سے معلوم ہوا کہ وہ عقیدہ کے رو سے کافر نہیں۔
لاہوری مرزائی
قادیانیوں کے وکیل کے عدالت میں اس بیان سے جماعت اسلامی کے منشور کی روشنی میں ان کا مسلمان ہونا تو واضح بات ہے۔ لیکن اس سے واضح تر بات لاہوری مرزائیوں کے مسلمان ہونے کی ہے۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں تسلیم کرتے بلکہ مجدد مانتے ہیں اور جماعت اسلامی کے منشور کی یہ عبارت ان کو مسلمان قرار دیتی ہے۔ معمولی اردو دان بھی اس سے یہی سمجھتا ہے اور یہی سمجھے گا اور خود لاہوری مرزائیوں نے اس سے یہی سمجھا ہے اور مودودی صاحب کا ایک گونہ شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی اس سلجھے ہوئے فتویٰ پر تعریف کی ہے۔ چنانچہ لاہوری مرزائیوں کے ہفت روزہ اخبار (پیغام صلح مورخہ ٢٥ مارچ ١٩٧٠ء بمطابق ١٦ محرم الحرام ١٣٩٠ھ ص ٢ کالم ٢) میں اکثریت واقلیت کا سوال کا عنوان قائم کر کے اس میں یہ بھی لکھا ہے: ”مودودی صاحب نے جن لوگوں کو اپنے منشور میں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا ذکر کیا ہے وہ اپنے عقائد کی وجہ سے (کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں) اس کے مستحق قرار دیئے گئے اور یہ امر موجب خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ لاہور اس شق میں شامل نہیں ہو سکتی۔ اس بارہ میں مودودی صاحب کا رویہ قابل تعریف ہے۔“ (انتہیٰ بلفظہ)
یعنی چونکہ مرزائیوں کی لاہوری جماعت نہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے۔ اس لئے جماعت اسلامی کے نزدیک لاہوری مرزائی مسلمان ہیں۔
نیا اور بالکل نرالا انکشاف
مودودی صاحب نے ٢٤؍ اگست ١٩٦٩ء کو لاہور میں کارکنان جماعت کے ایک اجتماع کے موقع پر ایک تقریر کی جو ایک پمفلٹ کی صورت میں طبع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ اس میں مودودی صاحب نے فرمایا ہے کہ ہماری چودہ سو سالہ تاریخ میں یہ پہلا منحوس لمحہ ہماری زندگی میں پیش آیا۔ ستر پچھتر کروڑ مسلمانوں کی یہ ہمت ہوئی کہ ہماری تین مقدس ترین مسجدوں میں سے پھونک ڈالیں جسے اسلام میں قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل رسول اللہ ﷺ نے ساڑھے ١٤ برس تک نماز پڑھی۔
(سانحہ مسجد اقصیٰ بار دوم اکتوبر ١٩٦٩ء)
یقیناً مسجد اقصیٰ کا سانحہ عالم اسلام کے لئے ایک المناک واقعہ ہے۔ جس پر ہر صائب دل مسلمان تاہنوز خوں بہا اور رہ رہ کر یہ سوچ رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اہل اسلام پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہر مسلمان زبان حال سے یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ؎
اور حقیقت بھی یہ ہے کہ تاریخ کے اس تاریک دور میں مودودی صاحب نے بھی اس کا رونا رویا ہے۔ لیکن یہ کہ (مسجد اقصیٰ) کی طرف آنحضرت ﷺ نے ساڑھے ١٤ برس تک نماز پڑھی۔ یہ علمی اعتبار سے بالکل نیا انکشاف ہے اور مخاطب جن کارکنوں سے یہ خطاب کیا ہے اور کسی نے بھی مڑ کر مودودی صاحب کی اس تحقیق پر تنقید نہیں کی۔ اس سے بڑھ کر شخصیت پرستی کیا ہو گی کہ جماعت کے قلم اور زبان سے حضرات انبیاء کو تو معاف نہیں کیا گیا اور سلف صالحینؒ میں سے کوئی بھی جرح و تنقید سے بچ نہیں سکا مگر مودودی صاحب کی اس صریح غلطی پر کسی کو
١٤
یعنی چونکہ مرزائیوں کی لاہوری جماعت نہ تو مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرتی ہے اور نہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے۔ اس لئے جماعت اسلامی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے منشور کی رو سے لاہوری مرزائی مسلمان ہیں۔
نیا اور بالکل نرالا انکشاف
مودودی صاحب نے ٢٤؍ اگست ١٩٦٩ء کو مسجد اقصیٰ کے سانحہ کے متعلق مرکزِ جماعت اسلامی میں کارکنان جماعت کے ایک اجتماع کے موقع پر ایک تقریر کی جو زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہے۔ اس میں مودودی صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ منحوس لمحہ ہماری زندگی میں پیش آیا۔ ستر پچھتر کروڑ مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور پھر بھی یہودیوں کی یہ ہمت ہوئی کہ ہماری تین مقدس ترین مسجدوں میں سے ایک کو آگ لگا دیں۔ اس مسجد کو پھونک ڈالیں جسے اسلام میں قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جس کی طرف رخ کر کے رسول اللہ ﷺ نے ساڑھے ١٤ برس تک نماز پڑھی ہے۔“
(سانحہ مسجد اقصیٰ بار دوم اکتوبر ١٩٦٩ء ص٢، شائع کردہ دفتر ترجمان القرآن اچھرہ لاہور)
مسجد اقصیٰ کا سانحہ عالم اسلام کے لئے ایک اندوہناک اور انتہائی طور پر پریشان کن واقعہ ہے۔ جس پر ہر صاحب دل مسلمان تاہنوز خون کے آنسو بہا رہا ہے اور گریبان میں منہ ڈال کر یہ سوچ رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اہل اسلام پر کیا گزری؟ اور غالباً ہر مسلمان بے بسی کی حالت میں زبان حال سے یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ؎
اور حقیقت بھی یہ ہے کہ تاریخ کے اس عظیم حادثہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے اور مودودی صاحب نے بھی اس کا رونا رویا ہے۔ لیکن مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ قبلہ اول (یعنی مسجد اقصیٰ) کی طرف آنحضرت ﷺ نے ساڑھے ١٤ برس رخ کر کے نماز پڑھی۔ حدیث و تاریخ اور علمی اعتبار سے بالکل نیا انکشاف ہے اور سخت حیرت ہے کہ انہوں نے جماعت کے مرکزی کارکنوں سے یہ خطاب کیا ہے اور کسی نے بھی مودودی صاحب کی اس علمی غلطی اور سراسر بے بنیاد تحقیق پر تنقید نہیں کی۔ اس سے بڑھ کر شخصیت پرستی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور مقام حیرت ہے کہ اس جماعت کے قلم اور زبان سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، حضرات صحابہ کرامؓ، ائمہ دینؒ اور سلف صالحینؒ میں سے کوئی بھی جرح و تنقید سے محفوظ نہیں رہا اور ان کے بے باک قلم اور بے لگام
١٥
زبانیں ساون کی بارش کی طرح ان پر برستی رہتی ہیں۔ لیکن جب مودودی صاحب کی غلط تحقیق سامنے آتی ہے تو ان کے مرکزی کارکنوں تک کی زبانوں پر تالے لگ جاتے ہیں اور ان کو لب کشائی کی جرأت ہی نہیں ہوتی۔ حیرانگی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دوسرے لوگوں کے عیب اور ان کی قابل گرفت کی باتیں تو ان کے دور سے محسوس ہو جاتی ہیں۔ مگر اپنے عیوب نظر نہیں آتے۔ چنانچہ اسی رسالہ میں آگے چل کر مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ: ”جانسن نے روس سے رجوع کر کے یہ اطمینان حاصل کیا کہ وہ عربوں کی مدد کے لئے عملاً کوئی مداخلت نہ کرے گا۔ اس کے بعد کہیں جا کر اسرائیل پر وحی نازل ہوئی کہ اب عرب ملکوں پر حملہ کر دینے کا مناسب موقع آگیا ہے۔“ (ص١٦)
یہ ٹھیک ہے کہ: ”ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم (الانعام:١٢١)“ میں وحی کی اسناد شیاطین کی طرف بھی کی گئی ہے۔ لیکن وحی کے نازل ہونے کا لفظ عموماً حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مختص ہے۔ غیر کے لئے کسی صورت میں یہ مستحسن نہیں ہے اور وحی نازل ہوئی کے جملہ پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ اس لفظ پر چونکتے نہیں شیاطین بھی اپنے اولیاء پر وحی کیا کرتے ہیں۔ مودودی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ وحی کیا کرتے ہیں کا اور مفہوم ہے اور وحی نازل ہوئی کا اور مفہوم ہے۔ دوسرے لوگوں کو تو صحیح اعتراض پر بھی چونکنے سے منع کرتے ہیں۔ لیکن خود صریح غلطی پر بھی چونکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں ؎
دیکھ اپنی آنکھ کا غافل ذرا شہتیر بھی
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ”کان رسول الله ﷺ صلّی نحو بیت المقدس ستة عشر شهراً او سبعة عشر شهراً (بخاری ج ١ ص ٥٧، باب التوجه نحو القبلة حيث كان)“ اور ان کی ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ: ”صلينا مع رسول الله نحو بیت المقدس ستة عشر شهراً او سبعة عشر شهراً ثم صرفنا نحو الكعبة (مسلم ج ١ ص ٢٠٠، باب تحويل القبلة من القدس الى الكعبة) “ ہم نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ رخ کر کے نماز پڑھی ہے پھر ہم کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے۔
ان صحیح روایتوں سے معلوم ہوا کہ قبلہ اول کی طرف آنحضرت ﷺ نے صرف سولہ یا
١٦
سترہ ماہ رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ لیکن مودودی صاحب برس قبلہ اول کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ اس سن میں ہوا؟ امام ابن عبدالبرؒ وغیرہ کی تحقیق یہ ہے کہ ہجرت
اور اس پر صحیح اور صریح روایات کی روشنی میں کی رات فرض ہوئی ہیں۔ گویا آنحضرت ﷺ نے تق پڑھیں اور مودودی صاحب کی اس انوکھی تحقیق سے یہ کے قبلہ اول اور مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے ہی ہوتی نہیں پڑھی گئی۔ فوا اسفا!
بخاری اور مسلم کی ان صحیح حدیثوں کے خ تجدیدی کارروائی اور نیا مجددانہ انکشاف ہے اور بخار نہیں کیا کہ وہ حدیث کے پرانے ذخیرہ میں شامل علوم اسلامیہ کو بھی قدیم کتابوں سے جوں کا توں نہ ل الگ کر کے اسلام کے دائمی اصول اور حقیقی اعتقادا اسپرٹ دلوں میں اتاریں اور ان کا صحیح تدبر دماغوں بنایا نصاب کہیں نہ ملے گا۔ ہر چیز ازسرنو بنانی ہوگی مقدم ہے۔ مگر تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیروں چاہئیں جو قرآن اور سنت کے مغز کو پاچکے ہوں۔
(تنقیحات ص ١٧٥ طبع ہشتم اسلامک
ملاحظہ کیجئے کہ مودودی صاحب نے ک بے اعتمادی کا اظہار کیا ہے اور ظاہر بات ہے کہ میں شامل ہیں۔ اس لئے ان کی صحیح روایتیں اگر م تو ان کے نزدیک تو یہ بات قابل تعجب نہیں ہے پرانے ذخیروں سے کس طرح بے اعتنائی نہیں ان دینی کوششوں کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے اور
سترہ ماہ رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ لیکن مودودی صاحب یہ کہتے ہیں کہ آپ نے ساڑھے چودہ برس قبلۂ اول کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ اس میں کچھ اختلاف ہے کہ واقعہ معراج کس سن میں ہوا؟ امام ابن عبدالبر وغیرہ کی تحقیق یہ ہے کہ ہجرت سے ایک سال اور دو ماہ پہلے ہوا۔
(زاد المعاد ج ٢ ص ٤٩)
اور اس پر صحیح اور صریح روایات کی روشنی میں سب کا اتفاق ہے کہ پانچ نمازیں معراج کی رات فرض ہوئی ہیں۔ گویا آنحضرتﷺ نے تقریباً گیارہ سال اور کچھ ماہ فرض نمازیں پڑھیں اور مودودی صاحب کی اس انوکھی تحقیق سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ سب نمازیں بجائے کعبہ کے قبلۂ اول اور مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے ہی ہوتی رہیں اور کوئی نماز کعبہ کی طرف رخ کر کے نہیں پڑھی گئی۔ فوا اسفا!
بخاری اور مسلم کی ان صحیح حدیثوں کے خلاف مودودی صاحب کی یہ تحقیق ان کی نئی تجدیدی کارروائی اور نیا مجددانہ انکشاف ہے اور بخاری اور مسلم پر غالباً اس لئے انہوں نے اعتماد نہیں کیا کہ وہ حدیث کے پرانے ذخیرہ میں شامل ہیں اور ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ اس کے ساتھ علوم اسلامیہ کو بھی قدیم کتابوں سے جوں کا توں نہ لیجئے۔ بلکہ ان میں سے متأخرین کی آمیزشوں کو الگ کر کے اسلام کے دائمی اصول اور حقیقی اعتقادات اور غیر متبدل قوانین کو لیجئے۔ ان کی اصلی اسپرٹ دلوں میں اتاریں اور ان کا صحیح تدبر دماغوں میں پیدا کیجئے۔ اس غرض کے لئے آپ کو نیا بنایا نصاب کہیں نہ ملے گا۔ ہر چیز از سر نو بنانی ہوگی۔ قرآن اور سنت رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سب پر مقدم ہے۔ مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں۔ ان کے پڑھانے والے ایسے ہونے چاہئیں جو قرآن اور سنت کے مغز کو پاچکے ہوں۔
(تنقیحات ص ١٧٥، طبع ہشتم اسلامک پبلیکیشنز لاہور، عنوان ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی نقص)
ملاحظہ کیجئے کہ مودودی صاحب نے کس طرح تفسیر اور حدیث کے پرانے ذخیروں پر بے اعتمادی کا اظہار کیا ہے اور ظاہر بات ہے کہ بخاری اور مسلم تو حدیث کے پرانے ذخیروں میں شامل ہیں۔ اس لئے ان کی صحیح روایتیں اگر مودودی صاحب کے نزدیک قابل اعتماد نہ ہوں تو ان کے نزدیک تو یہ بات قابل تعجب نہیں ہے۔ لیکن بحمد اللہ تعالیٰ مسلمان حدیث و تفسیر کے پرانے ذخیروں سے کس طرح بے اعتنائی نہیں کر سکتے اور حضرات محدثین و فقہاء اور مفسرین کی ان دینی کوششوں کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے اور ان کو اپنے دین کی تشریح و تفسیر کا بہترین سرمایہ
١٧
قرار دیتے ہیں۔ مگر صد افسوس تو اس پر ہے کہ نئے ٹائپ کے متجددان اکابر کی مساعی کو جن کی تمام زندگی ہی رضائے الہی اور دین حق کی خدمت میں گزر چکی ہے خاک میں ملانے کے درپے ہیں۔ ”فالی اللہ المشتکی“
پیدا کئے فلک نے تھے جو خاک چھان کے
اور بحمد اللہ تعالیٰ اس پرفتن دور میں بھی جس میں سامراجیت نیشنلزم، کمیونزم اور سوشلزم وغیرہ کے کافرانہ اور باطل نظام سمندر کی تلاطم خیز موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ہر طرف سے ملک خداداد پاکستان پر یلغار بول رہے ہیں۔ بلکہ بعض ہم پر ہماری بدقسمتی سے مسلط بھی ہیں۔ ہم قرآن وسنت کے بعد حضرات صحابہ کرامؓ کو معیار حق تسلیم کر کے تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیرہ پر اعتماد کرتے ہیں اور سلف صالحینؒ کے دامن سے وابستہ ہیں۔ تمہیں اس جہاں میں حق ہے جو چاہو کرو۔
یہ میری جبین نیاز ہے کہ جہاں دھری تھی دھری رہی
مودودی صاحب کے قائم کردہ اصول کے تحت ان سے چند سوالات
جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی نے برائے نام ایک اصلاحی جماعت کے چند ارکان کو گناہ کبیرہ پر تکفیر کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب سے پہلے نصیحت کرتے ہوئے ایک ضابطہ بیان کیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس کو بلفظہ نقل کردیں۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”تحقیق کرنے سے مجھ کو معلوم ہوا ہے کہ آپ کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو دین کا صحیح علم اور تفقہ رکھتا ہو اور اس کا ثبوت خود ان مسائل کی نوعیت سے بھی ملا جن کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے۔ یہ مسائل خود بھی یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کو پیدا کرنے والا ذہن کتاب وسنت رسول اللہ میں نظر نہیں رکھتا۔ اب اگر میں یہ کہوں تو اس پر برا نہ مانا جائے بلکہ اسے اس حق نصیحت کی ادائیگی سمجھا جائے جو ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان پر واجب ہے کہ علم کے بغیر دین کے مسائل میں رائیں قائم کرنا اور ان کو دین قرار دے کر انفرادی یا اجتماعی زندگی کے لئے اصول بنالینا خود سب سے بڑا فسق اور تمام کبائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔ اس لئے کہ ہم اگر مسلمان ہو سکتے ہیں تو اس دین پر ایمان لا کر اور اس کی پیروی کر کے ہی ہو سکتے ہیں۔
١٨
جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں پیش کیا گیا ہے اور جو کچھ بھی اصول اخذ کریں اور اپنے عقائد واعمال کے کتاب اللہ اور سنت رسول سے ماخوذ ہوں۔ لیکن جو شخص تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بناء پر کچھ رائیں حقیقت میں دین کا پیرو تو نہیں ہے اپنی آراء اور رجحان دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟ اس سلسلہ میں یہ با ایمان لانے کے لئے جو مجمل علم کافی ہے اور دین قرآن کی عام فہم تعلیمات اور حدیث پر جو سرسری نظر کرنے اور دینی طریقوں پر لوگوں کی رہنمائی کرنے نتیجہ وہ بڑی خطرناک غلطی ہے۔ جس کی طرف میں نے
اس عبارت میں جناب مودودی صاحب کو ان سے اختلاف ہو تو ہو لیکن مودودی صاحب کو ہو سکتا۔ اس لئے کہ یہ اصول اور قواعد خود ان کے ا محققانہ رائے اور خیر خواہانہ قائم کردہ ضابطہ سے ان کو جو باتیں جناب مودودی صاحب نے بیان کی ہیں ضرورت طوالت کا خوف ہے۔ اس لئے ہم تمام ب اکتفاء کرتے ہیں۔
- ......١ ایک مسلمان اگر کسی غلطی
واجب ہے کہ وہ اسے غلطی پر آگاہ کرے اور حق برا نہیں منانا چاہئے۔
- ......٢ علم کے بغیر دین کے مسائ
انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اصول بنالینا خود سب نفس، زنا، شراب نوشی، قذف، اکل مال یتیم، جادو سرفہرست ہیں) بڑھ کر کبیرہ ہے۔
جو خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں پیش کیا گیا ہے اور اس ایمان اور اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی اصول اخذ کریں اور اپنے عقائد و اعمال کے لئے جن چیزوں کو بنیاد قرار دیں وہ سب کتاب اللہ اور سنت رسول سے ماخوذ ہوں۔ لیکن جو شخص یا گروہ قرآن اور سنت میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے رجحانات کی بناء پر کچھ رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے بیٹھے وہ حقیقت میں دین کا پیرو تو نہیں ہے اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے۔ اس گناہ کے مقابلے میں دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟ اس سلسلہ میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دین پر ایمان لانے کے لئے جو مجمل علم کافی ہے اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے کے لئے قرآن کی عام فہم تعلیمات اور حدیث پر جو سرسری نظر کافی ہے اسے مسائل دینی میں رائے قائم کرنے اور دینی طریقوں پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لئے کافی سمجھ لینا غلطی ہے اور اس غلطی کا نتیجہ وہ بڑی خطرناک غلطی ہے۔ جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے۔“
(تفہیمات حصہ دوم ص ١٩١،١٩٢، طبع چہارم)
اس عبارت میں جناب مودودی صاحب نے بہت سی کام کی باتیں کر ڈالی ہیں اور کسی کو ان سے اختلاف ہو تو ہو لیکن مودودی صاحب کو یقیناً زرین اصول اور قواعد سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ یہ اصول اور قواعد خود ان کے اپنے متعین کردہ اور تحریر کردہ ہیں اور خود اپنی ہی محققانہ رائے اور خیر خواہانہ قائم کردہ ضابطہ سے ان کو کیونکر اختلاف ہو سکتا ہے۔ اس عبارت میں جو جو باتیں جناب مودودی صاحب نے بیان کی ہیں ان کا اگر پورے طور پر تجزیہ کیا جائے تو بے ضرورت طوالت کا خوف ہے۔ اس لئے ہم تمام باتوں کا تجزیہ نہیں کرتے بلکہ صرف بعض پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔
- ......١ ایک مسلمان اگر کسی غلطی کا ارتکاب کر رہا ہو تو دوسرے مسلمان پر
واجب ہے کہ وہ اسے غلطی پر آگاہ کرے اور حق نصیحت ادا کرے اور غلطی کرنے والے کو بھی یہ برا نہیں منانا چاہئے۔
- ......٢ علم کے بغیر دین کے مسائل میں رائیں قائم کرنا اور ان کو دین قرار دے کر
انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اصول بنا لینا خود سب سے بڑا فسق اور تمام کبائر سے (جن میں قتل نفس، زنا، شراب نوشی، قذف، اکل مال یتیم، جادو اور جہاد میں میدان جنگ سے بھاگ جانا وغیرہ سرفہرست ہیں) بڑھ کر کبیرہ ہے۔
١٩
- ٣...... جو اصول اخذ ہوں اور جن چیزوں کو اپنے عقائد و اعمال کے لئے بنیاد قرار
دیا جائے وہ سب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ماخوذ ہوں بالفاظ دیگر نہ تو کشید ہو اور نہ قرآن وسنت سے بے پرواہی ہو۔
- ٤...... جو شخص یا گروہ قرآن وسنت میں بصیرت و تفقہ نہ رکھتا ہو اور اپنے
رجحانات کی بناء پر رائیں قائم کر کے ان کو دین قرار دے وہ دین کا پیرو نہیں بلکہ اپنی آراء اور رجحانات کا پیرو ہے اور یہ گناہ ہے اور اس گناہ کے مقابلہ میں زنا، قتل نفس اور شراب نوشی وغیرہ دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟
- ٥...... ایمان لانے کے لئے تو مجمل علم اور دین کے موٹے موٹے اصول جاننے
کے لئے قرآن کریم کی عام فہم تعلیم اور حدیث پر سرسری نگاہ کافی ہے۔
- ٦...... لیکن ایسی عام فہم تعلیم اور سرسری نگاہ رکھنے والے کو دینی مسائل میں رائے
قائم کرنے اور دینی طریق پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لئے کافی سمجھنا غلطی ہے۔
- ٧...... اور یہ غلطی بھی معمولی غلطی نہیں بلکہ بڑی خطرناک غلطی ہے جس کی طرف
اوپر اشارہ کیا ہے کہ یہ سب سے بڑا فسق اور تمام کبائر سے بڑھ کر کبیرہ ہے۔
ہم نے جناب مودودی صاحب کی عبارت میں جن امور کا تجزیہ کیا ہے ان میں کوئی ایسا امر نہیں جو ان کی اپنی عبارت میں صاف طور پر موجود و مذکور نہ ہو اور ہم نے اس سے بزور کشید کیا ہو۔ اب جناب مودودی صاحب سے ان کی اس عبارت میں پیش کردہ ان امور کو مد نظر رکھ کر علمی اور تحقیقی طور پر ان سے ہمارے چند سوالات اور مطالبات ہیں جن کا جواب خود مودودی صاحب سے مطلوب ہے۔
- اول ...... جناب مودودی صاحب نسخ فی القرآن کا عنوان قائم کر کے چند سوالات کا
جواب دیتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
- ١...... قرآن میں نسخ دراصل تدریج فی الاحکام کی بنیاد پر ہے۔ یہ نسخ ابدی نہیں
ہے، متعدد احکام منسوخہ ایسے ہیں کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آ جائے جن میں وہ احکام دیئے گئے تھے تو انہی احکام پر عمل ہوگا۔ وہ منسوخ صرف اس صورت میں ہوتے ہیں جبکہ معاشرہ ان حالات سے گزر جائے اور بعد والے احکام کو نافذ کرنے کے حالات پیدا ہو جائیں۔
(رسائل و مسائل حصہ دوم ص ١٠٧، بار چہارم)
٢٠
اب سوال یہ ہے کہ جو احکام قرآن کریم میں ثابت ہے جناب مودودی صاحب اپنے قائم کردہ اصول اللہ کی کس آیت سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم کے احکام کریم کی کسی آیت سے اس کا ثبوت نہیں تو پھر یہ بتا متصل السند مرفوع اور صریح حدیث ہے جس سے یہ ثاب نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر ان دونوں سے بھی ثابت نہیں وہ کون سے اصول ہیں جن اصول سے یہ ثابت ہے کہ قرآ اور یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ قرآن وحدیث سے جو آئمہ دین اور سلف صالحین کو معلوم ہوں گے اور اگر س ہو سکتا ہے کہ آئمہ دین کی اکثریت اور معتد بہ طبقہ تو ضرور یہ یہ اصول ہیں۔ کیونکہ بات اصول کی ہو رہی ہے۔ فرو ناممکن ہے کہ تیرہ سو سال سے ان اصول کو تو کوئی نہ جان بزرگ پر منکشف ہو گئے ہوں کہ یہ یہ اصول ہیں جو قرآ مودودی صاحب یہ بتا بھی دیں کہ فلاں اور فلاں نے ب نسخ ابدی نہیں تو ان کی یہ بات قطعاً مردود ہوگی۔ اس لی ہے اور نہ سنت رسول ہے (ﷺ) اور نہ کتاب وسنت شاذ و متروک اور مردود قول کسی کا نقل بھی کر دیا جائے حیثیت ہے؟ مودودی صاحب کو اپنے قائم کردہ اصول اللہ ﷺ سے اور ان سے ماخوذ اصول سے ہی یہ ثابت ہوئے ہیں ان کی نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر قرآن وحدی نہ کر سکیں تو لامحالہ اس باطل اور غیر اسلامی نظریہ میں ( کی نسخ ابدی نہیں ہے ) مودودی صاحب کی اپنی رائے صاحب کے خود قائم کردہ قاعدہ کے رو سے وہ اس مج رجحان کے پیرو ہیں اور ان کے اپنے بیان کے مطاب
٢١
اب سوال یہ ہے کہ جو احکام قرآن کریم میں منسوخ ہیں اور جن کی نسخ قرآن کریم سے ثابت ہے جناب مودودی صاحب اپنے قائم کردہ اصول اور ضابطہ کے ماتحت یہ بتائیں کہ کتاب اللہ کی کس آیت سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم کے احکام منسوخہ کی نسخ ابدی نہیں ہے۔ اگر قرآن کریم کی کسی آیت سے اس کا ثبوت نہیں تو پھر یہ بتائیں کہ سنت رسول اللہ ﷺ میں وہ کون سی متصل السند مرفوع اور صریح حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم میں منسوخ احکام کی نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر ان دونوں سے بھی ثابت نہیں تو پھر یہ بتائیں کہ قرآن وسنت سے ماخوذ وہ کون سے اصول ہیں جن اصول سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم کے احکام کی نسخ ابدی نہیں ہے؟ اور یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ قرآن وحدیث سے جو اصول ماخوذ ہوں گے وہ بلا اختلاف سب آئمہ دین اور سلف صالحین کو معلوم ہوں گے اور اگر سب کو معلوم نہ ہوں تو بھی اس سے اقل کیا ہوسکتا ہے کہ آئمہ دین کی اکثریت اور معتد بہ طبقہ تو ضرور ان سے شناسا ہوگا کہ قرآن وحدیث کے یہ یہ اصول ہیں۔ کیونکہ بات اصول کی ہو رہی ہے۔ فروع اور جزئیات کی نہیں ہو رہی اور یہ تو بالکل ناممکن ہے کہ تیرہ سو سال سے ان اصول کو تو کوئی نہ جانتا ہو اور چودھویں صدی میں وہ اصول کسی بزرگ پر منکشف ہوگئے ہوں کہ یہ یہ اصول ہیں جو قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں۔ اگر بالفرض مودودی صاحب یہ بتا بھی دیں کہ فلاں اور فلاں نے یہ کہا ہے کہ قرآن کریم کے منسوخ احکام کی نسخ ابدی نہیں تو ان کی یہ بات قطعاً مردود ہوگی۔ اس لئے کہ فلاں اور فلاں نہ تو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور نہ سنت رسول ہے۔ (ﷺ) اور نہ کتاب وسنت سے ماخوذ اصول۔ اس لئے اگر کہیں کوئی شاذ ومتروک اور مردود قول کسی کا نقل بھی کر دیا جائے تو بھی اتنے بڑے وزنی دعویٰ پر اس کی کیا حیثیت ہے؟ مودودی صاحب کو اپنے قائم کردہ اصول کے تحت خدا تعالیٰ کی کتاب اور سنت رسول اللہ ﷺ سے اور ان سے ماخوذ اصول سے ہی یہ ثابت کرنا ہے کہ قرآن کریم میں جو احکام منسوخ ہوئے ہیں ان کی نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ اصول سے وہ یہ ثابت نہ کرسکیں تو لامحالہ اس باطل اور غیر اسلامی نظریہ میں (کہ قرآن کریم میں جو احکام منسوخ ہیں ان کی نسخ ابدی نہیں ہے) مودودی صاحب کی اپنی رائے اور رجحان طبع کارفرما ہوگا اور مودودی صاحب کے خود قائم کردہ قاعدہ کے رو سے وہ اس میں دین کے پیرو نہیں۔ بلکہ اپنی رائے اور رجحان کے پیرو ہیں اور ان کے اپنے بیان کے مطابق یہ سنگین گناہ تمام کبائر (زنا، قتل ناحق اور ٢١
شراب نوشی وغیرہ) سے بھی بڑھ کر برا ہے اور سب سے بڑا فسق ہے۔ اب یا تو جناب مودودی صاحب قرآن وحدیث اور اس سے ماخوذ اصول سے یہ ثابت کریں کہ قرآن کریم میں منسوخ احکام کی تنسیخ ابدی نہیں ہے اور یا اپنے ہی قائم کردہ قاعدہ کے مطابق دیانت اور انصاف کے ساتھ کھلے لفظوں میں اقرار کرلیں کہ وہ اپنی رائے اور رجحان کے پیرو ہیں اور جو ان کے ذہن میں آتا ہے کہہ گذرتے ہیں اور دین کے پیرو نہیں (اور ظاہر امر ہے کہ دین واسلام ایک ہی چیز ہے ”ان الدین عند الله الاسلام“ تو جب وہ دین کے پیرو نہ ہوئے تو اپنی جماعت کا نام جماعت اسلامی کیوں تجویز کیا ہے؟) اور وہ سب سے بڑے فسق اور سب سے بڑے گناہ کے مرتکب ہیں۔
مصلحت بیں وکار آساں کن
دوم ...... قرآن کریم میں ان بیبیوں کا ذکر تفصیل سے مذکور ہے جن سے کسی مسلمان کو نکاح کی اجازت نہیں جن میں ایک یہ بھی ہے۔ ”وان تجمعوا بین الاختین (النساء: ٢٣) “ اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔
یہ حکم اپنے اطلاق اور عموم کی وجہ سے ان دو بہنوں کو بھی شامل ہے جن کا وجود الگ الگ اور مستقل ہو۔ جیسے عموماً ہوتا ہے اور ان کو بھی شامل ہے جو توام جڑواں اور متحد الجسم ہوں۔ جیسا کہ بہاولپور میں کوئی ایسا نادر واقع پیش آیا تھا اور علماء اسلام نے اس قرآنی حکم کو ایسی جڑواں بہنوں کے لئے بھی عام سمجھا ہے۔ لیکن مودودی صاحب اس نادر صورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”بظاہر علماء کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ دونوں لڑکیاں توام بہنیں ہیں اور قرآن کا یہ حکم صاف اور صریح ہے کہ دونوں بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ لیکن اس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان دولڑکیوں کو دائمی طور پر تجرد پر مجبور کیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لئے نکاح سے محروم رہیں؟ اور کیا قرآن کا یہ حکم واقعی اس مخصوص اور نادر صورتحال کے لئے ہے۔ جس میں یہ دونوں لڑکیاں پیدائشی طور پر مبتلا ہیں؟ میرا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس مخصوص حالت کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ اس عام حالت کے لئے جس میں دو بہنوں کے الگ الگ وجود ہوتے ہیں اور وہ ایک شخص کے جمع کرنے سے ہی بیک وقت ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہیں۔ یہ نہیں۔“
(ترجمان القرآن ص ١٢٦ نومبر ١٩٥٣ء)
٢٢
سوال یہ ہے کہ کیا مودودی صاحب کا ہے۔ قرآن وسنت ہے؟ یا ان سے ماخوذ اصول نہیں تو وہ اپنے قائم کردہ اصول وضوابط کے تحت مرتکب ہوئے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں دوسرے بلکہ اپنی آراء اور رجحانات کے پیرو ہیں۔ اللہ تعالیٰ
سوم ...... قرآن وحدیث میں صرا مرحمت ہوں گی۔ جن کے بارے میں حضرت ابو اما کرتے ہیں کہ حوروں کا مادہ زعفران ہے اور حضر حوروں کو مٹی سے نہیں بلکہ کستوری کافور اور زعفران ہیں کہ حوریں دنیا کی عورتیں نہیں ہیں۔
اور اگر بالفرض حوریں دنیا کی عورتیں کافروں کی۔ لیکن مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ : ” رشد کو پہنچنے سے پہلے مرگئی ہوں اور جن کے والدین بات اس قیاس کی بناء پر کہی جاسکتی ہے کہ جس طرح کر دیئے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں لئے حوریں بنادی جائیں گی اور وہ ہمیشہ نو خیز لڑکیاں
سوال یہ ہے کہ قرآن وسنت اور ان سے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حوریں کافروں کی نا سے ماخوذ اصول کا اس پر کون سا حوالہ موجود ہے کہ بنا کر جنتیوں کے لئے حوریں بنایا جائے گا؟ اور اگر ثبوت نہیں اور یقیناً نہیں تو مودودی صاحب اپنے نہیں ہیں اور یہ خود ان کے اقرار سے بڑا گناہ ہے رکھتے ہیں؟ مودودی صاحب سے جب حوروں کے
٢٣
سوال یہ ہے کہ کیا مودودی صاحب کا یہ ذاتی خیال جو غیر معصوم اور غیر مجتہد کا خیال ہے، قرآن وسنت ہے؟ یا ان سے ماخوذ اصول ہے؟ اگر ان کا یہ خیال قرآن وسنت نہیں اور یقیناً نہیں تو وہ اپنے قائم کردہ اصول وضوابط کے تحت یہ رائے قائم کر کے بڑے سے بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں دوسرے کبائر کی کیا حقیقت ہے؟ اور وہ دین کے پیرو نہیں بلکہ اپنی آراء اور رجحانات کے پیرو ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔
سوم...... قرآن وحدیث میں صراحت سے یہ مذکور ہے کہ اہل جنت کو حوریں مرحمت ہوں گی۔ جن کے بارے میں حضرت ابو امامہؓ اور حضرت انسؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حوروں کا مادہ زعفران ہے اور حضرت زید بن اسلمؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حوروں کو مٹی سے نہیں بلکہ کستوری کافور اور زعفران سے پیدا کیا ہے اور حضرت کعب احبارؓ فرماتے ہیں کہ حوریں دنیا کی عورتیں نہیں ہیں۔
(ملخصاً روح المعانی ج ٢٥ ص ١٢٢)
اور اگر بالفرض حوریں دنیا کی عورتیں ہوں تب بھی مؤمنوں کی عورتیں ہوں گی نہ کہ کافروں کی۔ لیکن مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ: ”بعید نہیں ہے کہ یہ وہ لڑکیاں ہوں جو دنیا میں سنِ رشد کو پہنچنے سے پہلے مرگئی ہوں اور جن کے والدین جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات اس قیاس کی بناء پر کہی جا سکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لئے مقرر کر دیئے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لئے حوریں بنادی جائیں گی اور وہ ہمیشہ نوخیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم بالصواب!“
(تفسیر تفہیم القرآن ج ٤ ص ٢٧٨ حاشیہ نمبر ٢٩)
سوال یہ ہے کہ قرآن وسنت اور ان سے ماخوذ اصول کی وہ کون سی واضح دلیل ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حوریں کافروں کی نابالغ لڑکیاں ہوں گی؟ اور قرآن وسنت اور ان سے ماخوذ اصول کا اس پر کون سا حوالہ موجود ہے کہ ان نابالغ لڑکیوں کو بالغ کر کے اور قابل انتفاع بنا کر جنتیوں کے لئے حوریں بنایا جائے گا؟ اور اگر اس پر قرآن وسنت اور ان سے ماخوذ اصول کا ثبوت نہیں اور یقیناً نہیں تو مودودی صاحب اپنے رجحانات اور آراء کے پیرو ہیں۔ دین کے پیرو نہیں ہیں اور یہ خود ان کے اقرار سے بڑا گناہ ہے۔ دوسرے کبائر اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں؟ مودودی صاحب سے جب حوروں کے بارے میں سوال ہوا تو اس کے جواب میں وہ
٢٣
فرماتے ہیں۔ ”جواب میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ البتہ میرا قیاس ہے کہ جنت میں جو حوریں ہوں گی وہ یہی کفار کی لڑکیاں ہوں گی۔“ جب مودودی صاحب سے سوال ہوا کہ آپ کے اس خیال کی تائید میں کوئی منقول روایت نہیں ہے۔ اس کے مقابل ایک دوسری رائے یہ ہے کہ حور وغلمان ایک جنتی مخلوق ہو گی۔ تو اس کے جواب میں مودودی صاحب فرماتے ہیں۔
جواب ........ میری رائے بھی ایک قیاس پر مبنی ہے اور یہ دوسری رائے بھی ایک قیاس ہی ہے۔ میرے قیاس کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے اور وہ غیر انسان میں فطری کشش محسوس نہیں کرتا۔
(ایشیاء لاہور مورخہ ١٤؍ جون ١٩٦٩ء)
اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مودودی صاحب کے پاس قرآن و سنت اور ان سے ماخوذ اصول سے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ہاں البتہ ان کی اپنی ذاتی رائے اور قیاس ہے تو ان کے بیان کردہ ضابطہ کے تحت اس کے گناہ ہونے میں کیا شک ہے؟ مودودی صاحب کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ دوسری رائے بھی ایک قیاس ہی ہے۔ کیونکہ دوسری طرف جملہ اہل اسلام کی رائے ہے۔ جس کو اجماع کی حیثیت حاصل ہے اور اجماع امت شرعی دلائل میں سے ایک مستقل دلیل ہے۔ علاوہ ازیں اس رائے کی بنیاد صرف قیاس پر نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی حدیثوں پر ہے۔ جو روح المعانی کے حوالہ سے حضرت ابو امامہؓ اور حضرت انسؓ سے اوپر بیان ہو چکی ہیں۔ مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ : ”اور یہ دوسری رائے بھی ایک قیاس ہی ہے۔“ بالکل غلط ہے جس چیز کی بنیاد حدیث پر ہو وہ ایک قیاس ہی ہے۔ کیونکر ہو سکتی ہے؟ فرض کر لیجئے کہ یہ روایتیں ضعیف اور کمزور بھی ہوں تب بھی جلیل القدر آئمہ کرام کی تصریح موجود ہے کہ ضعیف حدیث بھی رائے پر مقدم ہے۔ جب مجتہد کی رائے پر مقدم ہے تو غیر مجتہد کی رائے پر بطریق اولیٰ مقدم ہوگی اور پھر ان روایات کی بناء پر اس رائے پر امت کا اجماع ہے تو پوری امت کے اجماع کے مقابلہ میں تنہا مودودی صاحب کی ذاتی رائے اور قیاس کی کیا وقعت ہے؟ ایسی بے بنیاد رائے کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
٢٦
ہر معاملہ میں اپنی ہی رائے پر ناز کرنا شرعاً مذموم ہے
بلاشبہ ہر صاحب الرائے اور صائب الرائے کو غیر منصوص اور غیر اجماعی مسائل میں اپنی رائے پر عمل کرنے کا حق ہے۔ لیکن سلف صالحین کا دامن چھوڑ کر اور خود رائے بن کر پانچواں سوار بننا بھی کسی طرح مستحسن نہیں ہے۔
حضرت ابو ثعلبہ الخشنیؓ جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: ”بل ائتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنکر حتی اذا رأیت شحا مطاعا وهوی متبعا ودنیا مؤثرۃ واعجاب کل ذی رأی برأیہ فعلیک نفسک ودع امر العوام الحدیث (موارد الظمآن ص٤٠٨)“ بلکہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔ یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے اور خواہش کی پیروی کی جاتی ہے اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہر رائے والا اپنی رائے پر گھمنڈ کرتا ہے تو ایسے موقع پر اپنی جان کی فکر کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو۔
عام علماء کرام تو ”فعلیک نفسک“ کا معنی یہی کرتے ہیں کہ اس موقع پر جب کہ حالات ایسے نازک مرحلہ پر پہنچ جائیں۔ تم اپنی جان کی فکر کرو اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ لیکن سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب دہلویؒ جن کی ساری زندگی ظالم برطانیہ کے خلاف جہاد میں گذری ہے۔ وہ اس کا معنی یہ کرتے تھے۔ ”فعلیک نفسک“ ایسے موقع پر تم اپنی جان پر کھیل جاؤ اور لوگوں کا خیال نہ کرو کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ بہر حال اس حدیث میں ”وهوی متبعا“ اور ”اعجاب کل ذی رأی برأیہ“ کی دو خصلتوں کا مذموم ہونا بھی واضح ہے۔ جس کا مفہوم ہے کہ ہر معاملہ میں آدمی اپنی خواہش اور اپنی پسند اور رائے پر ہی اصرار نہ کرے بلکہ دوسرے لوگوں کی معقول اور صحیح رائے کو اور علی الخصوص صالحینؒ کی درست اور صائب رائے کو نظر انداز نہ کرے اور بحمد اللہ تعالیٰ ہم خود بھی اور ہمارے اکابر بھی اسی پر کار بند ہیں۔ اللہ تعالیٰ سلف صالحینؒ کا دامن تھامنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔ برخلاف ان دیگر باطل فرقوں اور ان کے سربراہوں کی طرح مودودی صاحب کو نارسا اور غیر صائب رائے پر ناز ہے اور اس کو کسی قیمت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پرانے رفقاء میں حضرت مولانا امین احسن صاحب اصلاحی اور حضرت مولانا ٢٥
عبد الغفار حسن صاحب وغیرہ حضرات سالہا سال تک جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے کے باوجود اس سے الگ ہوگئے اور حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تھوڑا عرصہ ساتھ رہ کر الگ ہو گئے ۔ کیونکہ مودودی صاحب اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے تھے اور اب بھی سمجھ رہے ہیں ۔
چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشخاص سے سمجھنے کی بجائے ہمیشہ قرآن اور سنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور جبھی تو خیر سے قدم قدم پر ٹھوکر کھائی ہے۔ (صفدر) اس لئے میں کبھی یہ معلوم کرنے کے لئے کہ خدا کا دین مجھ سے اور ہر مؤمن سے کیا چاہتا ہے۔ یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ فلاں اور فلاں بزرگ کیا کہتے ہیں ۔ بلکہ صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کیا کہتا ہے اور رسول (ﷺ) نے کیا کہا۔
(روئیداد جماعت اسلامی حصہ سوم ص ٣٧)
پس اسی اعجاب کل ذی رأی برأیہ کے غلط نظریہ نے مودودی صاحب کا بیڑہ غرق کیا ہے اور مولانا امین احسن صاحب اصلاحی نے جماعت سے الگ ہونے کے بعد جو طویل بیان اخبارات میں دیا۔ اس میں یہ جملے بھی نہایت ہی معنی خیز ہیں ۔ اگر امیر جماعت مولانا مودودی اپنے غیر جمہوری اور حق وانصاف کے منافی رویہ پر مصر رہے اور ان کی زیر قیادت جماعت کا طریق کار یہی رہا تو اقامت دین کے سلسلہ میں ان اعلیٰ مقاصد کی تکمیل نہیں ہو سکے گی ۔ جن کے لئے یہ جماعت سولہ سال قبل معرض وجود میں آئی تھی ۔ آپ نے کہا کہ ایسی صورت میں اسے جماعت اسلامی کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے کچھ اور ہی کہنا پڑے گا۔ نیز فرمایا کہ میں نے سولہ سال کے بعد ایک گم کردہ راہ قافلہ کا ساتھ چھوڑا ہے۔
(اخبار نوائے وقت مورخہ ٢١ جنوری ١٩٥٨ء)
اس لئے ہم بھی اپنے اکابر کی پیروی میں مودودی صاحب کو گمراہ سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تمام گمراہیوں سے بچائے اور محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین ۔ وصلی الله تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وعلیٰ آله واصحابہ وازواجہ وجمیع متبعیہ الیٰ یوم الدین!
احقر ابوالزاہد! محمد سرفراز ...... خطیب جامع گکھڑ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ ١١ ربیع الثانی ١٣٩٠ھ
٢٦
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
ضوء السراج
فی تحقیق المعراج
(چراغ کی روشنی)
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
مقدمہ!
بسم اللہ الرحمن الرحیم . نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، اما بعد!
اس پرفتن اور پر آشوب دور میں خدا تعالیٰ اور برگزیدہ رسول، مذہب اسلام اور دین قویم عقائد حقہ اور اعمال صالحہ سے جو استہزاء اور تمسخر کیا جاتا ہے اس کی نظیر سابق زمانہ میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی ہرگز دستیاب نہیں ہوسکتی۔ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول برحق، شریعت اور روحانیت کے خلاف ایسا منظم اور مکروہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ جس کی مثال قرون سابقہ میں ناپید ہے اور پروپیگنڈا ہی اس دور میں ایک ایسی خطرناک اور خاموش آگ ہے جو اندر ہی اندر سلگ کر تمام متاع دین و دانش اور اثاثہ مذہب و روحانیت کو آن کی آن میں راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے اور سطح سے اوپر اس کے مسموم دھوئیں کا مدہم سا نشان بھی بسا اوقات محسوس نہیں کیا جاسکتا۔
یہ وہ دھیمی پرسکون منظم مگر مکروہ اور قبیح سازش ہے جس کی بدولت آہستہ آہستہ تدریجاً تدریجاً بلا روک ٹوک اور غیر محسوس طریقہ پر اشیاء کے حسن و قبح اور ان کی خوبی اور خرابی کی حقیقت اور نوعیت اور دیکھنے والوں کے نگاہوں کے زاویئے یک لخت اور یکسر بدل جاتے ہیں اور اس کے بعد ایک ملحد اور زندیق ایک منافق اور دھریہ جس قدر چاہتا ہے، جس طرح چاہتا ہے، جب چاہتا ہے اور جس سے چاہتا ہے تسلیم کرالیتا ہے اور برائے نام عقلی اور نقلی دلائل کی آڑ لے کر عقائد واعمال، مذاہب ومسالک کو بزعم خود خس و خاشاک کی طرح بہا کر ان کو بالکل ناپید یا اپنی نارسا عقل کے تابع کرنے کی بے جا اور ناکام کوشش اور کاوش کرتا ہے۔ مگر رضائے الہٰی اور قدرت خداوندی کے سامنے اس کی ناپاک سعی خود ملیا میٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ:
”واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون“ غور اور فکر کرنے والی قومیں بلکہ اشخاص و افراد بھی جب کسی غلطی میں مبتلا ہو کر غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی غلطی کے اصولاً صرف دو ہی سبب قرار دیئے جاسکتے ہیں اور عقلاً ہیں بھی صرف یہی دو سبب۔
- اول ...... یہ کہ کسی عقیدہ اور عمل کے سمجھنے میں غلطی اور خطا واقعی ہوتی ہے اور اس غلط
٢
اور باطل نظریہ کو صحیح اور حق سمجھ کر دیانۃً ثلج صدر کے ساتھ اس کو اپنا لیا جاتا ہے اور اس کو صحیح اور درست ثابت کرنے کے لئے عقلی اور نقلی دلائل اور براہین کی تلاش و جستجو کی جاتی ہے اور تسکین خاطر یا مغالطہ آفرینی کے لئے برائے نام کچھ دلائل پیش کئے جاتے اور کچھ کشید کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ عادۃً عقل انسانی کسی دعویٰ پر بدوں دلیل و برہان مطمئن نہیں ہوتی۔
دوم ....... سبب یہ ہے کہ کسی خاص غرض اور مصلحت کے پیش نظر کسی صحیح چیز کو غلط رنگ میں ڈھالنے کی بیحد جدوجہد کی جاتی ہے اور اس کو رائج کرنے کے لئے خوب زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔
نظربظاہر اس دوسری شق کے پیش نظر مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور امت مسلمہ کے اس اتفاقی اور اجماعی عقیدہ کا انکار کیا ہے کہ امام الانبیاء و سید الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کو اپنے جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہو۔ (اور یہی عقیدہ زمانہ حال کے منکرین حدیث کے پیشرو جناب چوہدری غلام احمد پرویز کا ہے جیسا کہ بیان ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز! )
اور معراج جسمانی کا انکار مرزا قادیانی نے صرف اس لئے کیا ہے کہ اس نظریہ کو صحیح قرار دینے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء اور پھر آسمان سے نزول خود بخود ثابت ہو جاتا ہے اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء اور پھر نزول ثابت ہو جائے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے مسیح موعود ہونے کا باطل دعویٰ ہی اس امر پر مبنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور وہ احادیث جو ان کی آمد اور نزول کا ثبوت مہیا کرتی ہیں۔ ان سے ان کے زعم فاسد کے رو سے مثیل مسیح مراد ہے جو بقول مرزا قادیانی وہ خود مرزا قادیانی ہی ہیں۔ (العیاذ باللہ )
یہی وجہ ہے کہ جب تک مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو وہ حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع الی السماء اور پھر نزول کے قائل تھے اور اسی طرح وہ صریح الفاظ میں معراج جسمانی کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ اگر وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرتے تو ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر تشریف لے جانے کے انکار کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی اور پھر وہ آنحضرت ﷺ کی معراج کا انکار اور تاویل بھی نہ کرتے۔ ورنہ ان کو اس کی ضرورت ہی پیش آتی۔
٣
لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے جانا اور قرب قیامت نازل ہونا (جیسا کہ ظاہر قرآن اور متواتر درجہ کی حدیثوں سے ثابت ہے) مرزا قادیانی کے دعویٰ کے ابطال پر کافی اثر انداز ثابت ہوتا تھا۔ اس لئے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ہی سے صاف انکار کر دیا اور پھر جب کہ آنحضرت ﷺ کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے جانے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع پر قوی استدلال اور امکان ثابت ہوتا ہے۔ تو اس لئے مرزا قادیانی نے راستہ کے اس روڑے کو بھی ہٹا دیا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ العیاذ باللہ!
مرزا قادیانی وغیرہ نے آنحضرت ﷺ کی معراج جسمانی کے انکار پر کبھی تو نقلی دلائل کی آڑ لی ہے کہ لفظ رؤیا سے خواب مراد ہے اور حضرت عائشہؓ، حضرت امیر معاویہؓ، امام حسن بصریؒ، شیخ ابن عربیؒ اور شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ وغیرہ کے نزدیک بھی معراج جسمانی نہ تھی۔ بلکہ ایک روحانی اور کشفی امر تھا اور کبھی نئے اور پرانے فلسفہ کی آڑ لے کر عقلی دلائل پیش کرنے کی ناکام سعی کی ہے اور کبھی روایات کے جزوی اختلافات سے اپنی گاڑی چلانے کی بے جا
١؎ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء اور نزول پر ہم ایک مستقل رسالہ ترتیب دے رہے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز پوری تشریح تو وہاں ہی ہوگی۔ مگر تین حوالے یہاں عرض کئے دیتے ہیں۔ تا کہ مسئلہ قدرے مبرہن ہو جائے۔ علامہ ابو حیان الاندلسی المتوفی امام ابن عطیہؒ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ”واجمعت الامة علیٰ ما تضمنه الحدیث المتواتر من ان عیسیٰ علیه السلام فی السماء حی وانه ینزل فی آخر الزمان (تفسیر بحر محیط ج٢ ص٢٧٣)“ امت کا متواتر احادیث کے پیش نظر اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔
اور علامہ محمد طاہر پٹنی لکھتے ہیں کہ: ”ویجیٔ فی آخر الزمان لتواتر خبر النزول (مجمع البحار ج١ ص٢٨٦)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی حدیث متواتر ہے۔
اور امام سیوطیؒ المتوفی ٩١١ھ لکھتے ہیں کہ: ”اما نفی نزول عیسیٰ علیه السلام او نفی النبوة عنه کلاهما کفر (الحاوی للفتاویٰ ج١ ص١٦٦)“ بہر حال ان کے نزول اور نبوت کی نفی دونوں کفر ہیں۔
٤
کوشش کی ہے اور کبھی طشت طلائی وغیرہ کی تلاش میں سرگرداں رہے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی ان کج بحثیوں اور موشگافیوں کو دیکھ کر تعجب سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ؎
انشاء اللہ العزیز! ہم اس کتابچہ میں ان تمام پیش کردہ اصولی نقلی اور عقلی دلائل کو بے نقاب کر کے عامۃ المسلمین کو آگاہ کریں گے کہ مرزا قادیانی اور ان کے امتیوں کے دوسرے مسائل کی طرح مسئلہ معراج جسمانی کے انکار پر جو دلائل پیش ہوتے ہیں وہ پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔ ان کو بجائے دلائل کے تحریف سے یاد کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہے۔ بعض پڑھے لکھے حضرات کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اگر مرزا قادیانی اپنے جملہ دعاوی میں سچے نہیں تھے تو عقلاء کا ایک کافی طبقہ ان کا ساتھ کیوں دیتا ہے؟ لیکن یہ ایک ایسا کھلا ہوا مغالطہ ہے کہ اس کے رد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کا ذکر فرما کر قوم عاد اور قوم ثمود کا خاص طور پر نام لے کر ارشاد فرمایا ہے کہ: ”وکانوا مستبصرین (عنکبوت:٣٨)“
﴿وہ ہوشیار اور سمجھ دار تھے۔﴾
تو کیا کسی عقلمند کو یہ کہنا جائز ہے کہ اگر وہ قومیں حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام کے مقابلہ میں سچی نہ ہوتیں تو لوگ ان کا ساتھ کیوں دیتے؟ مگر حاشا وکلا کہ کسی مسلمان کے دل میں ان کی سچائی کا وہم بھی گذرا ہو۔ وعلیٰ ہٰذا القیاس! فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ جیسے بیشمار سمجھدار اور حکمران پہلے بھی گذر چکے ہیں اور آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ جو سرے سے اسلام ہی کو سچا نہیں سمجھتے۔ تو کیا ان کا مذہب اسلام کے مقابلہ میں سچا ثابت ہوسکتا ہے؟ ان کا ساتھ دینا تو الگ بات ہے ہمارے پاس قرآن کریم موجود ہے۔ اس سے ہمیں تو یہ بھی معلوم ہے کہ حضرت ہارون اور موسیٰ علیہم السلام کی موجودگی اور ان کی زندگی میں ان کے ظاہری عقیدت مندوں نے گوسالہ کی ایک ہی آواز پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔ بقول شخصے ؎
آں ہمہ شد کاہ خورد از بانگ یک گوسالہ
لہٰذا مرزا قادیانی کی جماعت میں چند وکلاء کے داخل ہو جانے سے ان کے مذہب کی سچائی لازم نہیں آتی۔ سچائی تو دلائل اور براہین کے رو سے پیش کی جاسکتی ہے اور مرزا قادیانی اور ان کی امت سے تاقیامت کسی ایک مسئلہ پر بھی کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔ ”وانی لهم التناوش من مکان بعید“ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ وہ فوراً یہ پڑھ سنائیں گے ؎
٥
نئی بات کیا آپ فرما رہے ہیں
ہم اس مختصر سی کتاب میں حقیقت معجزہ، خارق عادت کا وقوع، معراج جسمانی کے دلائل اور مرزا قادیانی کی تحریرات پیش کر کے یہ ثابت کریں گے کہ جمہور اہل اسلام کا اتفاقی عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جسم عنصری کے ساتھ معراج کرائی گئی اور مرزا قادیانی نے غلطی سے جن کو اپنا ہمنوا سمجھ رکھا ہے ان کے اقوال پیش کر کے اس مسئلہ کی حقیقت واضح کر دی جائے گی اور انہوں نے نئے اور پرانے فلسفہ کی جو آڑ لی ہے ہم عرض کریں گے کہ وہ فلسفہ حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور مسئلہ معراج جسمانی تک ہی کیوں محدود ہے اور دیگر خوارق عادات اس کی زد سے کیوں مستثنیٰ ہیں؟ انشاء اللہ ہم مرزا قادیانی کے معراج جسمانی پر نقلی اعتراضات کے جوابات تو اس کتابچہ کے آخر میں عرض کریں گے۔ صرف عقلی سوال کا جواب یہاں عرض کیا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”کہ نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس جسم خاکی کے ساتھ کرۂ زہریر تک بھی پہنچ سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
سائنس کی موجودہ ترقی اور عروج کے زمانہ میں جب کہ منوں کے حساب سے وزنی سیارے اور راکٹ فضاء میں گھومتے اور چاند تک پہنچ سکتے ہیں اور اب انسانوں کے جانے کے منصوبے تیار ہو رہے ہیں تو مرزا قادیانی کی اس فرسودہ دلیل کو کون سنتا ہے؟ مگر اس کا جواب مرزا قادیانی خود دیتے ہیں کہ: ”اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہاں عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ ص ٤٥)
اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں کچے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٦٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢٨١)
نہ معلوم مرزا قادیانی کو معراج جسمانی کے انکار پر قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں کفر (یعنی نیا اور پرانا فلسفہ) پیش کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی؟ اور نہ معلوم انہوں نے خدا کی قدرت کی حد و بست کیوں کی اور خدا کی قدرتوں کو عقل کے پیمانے سے کیوں ناپنے کی کوشش کی؟ مرزا قادیانی کی تحریرات آگے آئیں گی۔ نیز اس نئے اور پرانے فلسفہ نے بکرے اور مرد کا دودھ کیوں نہیں روکا؟ اور عورت کی کمر تک لمبی داڑھی وغیرہ (جن کا اقرار مرزا قادیانی کو ہے) کو کیوں نہیں روکا اور کیوں منع نہیں کیا؟ ابوالزاہد محمد سرفراز خان صفدر خطیب جامع گکھڑ
٦
پہلا باب
اس باب میں آپ کے سامنے یہ بات بیان کی جائے گی کہ جناب سید الرسل امام الانبیاء اور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جسم اطہر کے ساتھ معراج کرائی گئی۔ کیا اس میں آپ کا از خود کچھ دخل تھا؟ یا اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آپ کو سیر کرائی تھی؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آسمان پر آپ کا تشریف لے جانا از خود تھا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت خاص کا کچھ دخل نہ تھا تو اس شق پر نئے اور پرانے فلسفہ کا اعتراض ہوسکتا ہے کہ خود بخود انسان اور بشر بلا کسی ظاہری سبب کے جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیسے پہنچ گیا؟ حالانکہ راستہ میں کرۂ زمہریر اور کرۂ نار وغیرہ واقع ہیں۔ پھر اس سرعت رفتاری سے کہ ایک ہی رات میں تمام آسمانوں اور جنت وغیرہ کی اور جہاں تک خدا تعالیٰ کو منظور تھا۔ سیر کر کے واپس تشریف لے آئے اور اگر دلائل کی روشنی میں یہ ثابت ہو جائے کہ معراج جسمانی وغیرہ دیگر معجزات جو پیغمبروں کے ہاتھ پر صادر ہوئے ہیں۔ ان میں ان کا کچھ بھی دخل نہیں تھا۔ بلکہ معجزہ اور کرامت، اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو اپنے مخصوص اور بزرگ بندوں کے ہاتھ پر وہ ظاہر کر دیتا ہے تو قدرت خداوندی کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ اس میں کسی مسلمان کو تأمل ہوسکتا ہے اور نہ ہونا چاہئے۔ اب ملاحظہ فرمائیے کہ معجزہ میں نبی کا دخل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں تاثیر پیدا کرنے والا صرف خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر جب نبوت اور رسالت عطاء ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تصدیق رسالت کے لئے چند معجزات بھی ساتھ دیئے۔ ایک معجزہ ان کا عصا بھی تھا۔ چنانچہ اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: ”وان الق عصاك فلما رأها تهتز كانها جان ولّی مدبراً ولم يعقب (قصص)“ ﴿اور یہ کہ ڈال دے اپنی لاٹھی پھر جب دیکھا اس کو پھن ہلاتے جیسا پتلا سانپ الٹا پھرا منہ موڑ کر اور نہ دیکھا پیچھے پھر کر ۔﴾
پہلے لاٹھی پتلا سانپ بن جاتی اور بڑھتے بڑھتے اژدھا کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ”ثعبان مبین“ (بڑا اژدھا) آیا ہے۔ یا کوہ طور پر پتلا سانپ بنی تھی اور فرعون کے دربار میں اژدھا بنی تھی۔ کچھ بھی ہو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر معجزہ نبی کا اپنا فعل ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کبھی خوف کے مارے نہ بھاگتے۔ کیونکہ اگر خود انہوں نے لاٹھی کا سانپ بنایا ہوتا تو اپنے فعل کی تاثیر اور اس کے نتیجہ سے خوب واقف ہوتے۔ لیکن وہ تو اس کو سانپ سمجھ کر بھاگ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے
٧
فرمایا کہ: ”قال خذها ولا تخف سنعيدها سيرتها الاولى (طه)“ ﴿پکڑ لے اس کو اور مت ڈر۔ ہم ابھی پھیر دیں گے اس کو پہلی حالت پر۔﴾ اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کام صرف یہی تھا کہ اس اژدھا کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ اس کو پہلی حالت پر لاٹھی بنا دینا۔ صرف خدا تعالیٰ کا کام تھا اور اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کچھ بھی دخل نہ تھا۔
ایک مرتبہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کسی مخصوص معجزہ کا مطالبہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ سے ان کو جواب ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو یہ کہہ دیں ۔ ”انما الآيات عند الله (انعام)“ ﴿کہ نشانیاں (اور معجزات) تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔﴾ اس سے بھی معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے بس میں نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ جب اور جس وقت اور جس طرح وہ چاہے نبی کے ہاتھ پر صادر فرما دے اور اسی طرح کرامت ولی کا فعل نہیں ہوتا۔ بلکہ جب اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو ولی کے ہاتھ پر صادر کر دیتا ہے۔
راقم الحروف کی اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب بنام ”راہ ہدایت“ طبع ہو چکی ہے۔ جس میں قرآن کریم، صحیح احادیث، کتب عقائد اور معتبر علماء کرام کے حوالہ جات سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ کا خاص فعل ہوتا ہے۔ جو نبی اور ولی کے ہاتھ پر صادر کیا جاتا ہے۔ ان کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم صرف چند عبارتیں اپنے دعویٰ کو مبرہن کرنے کے لئے یہاں لکھتے ہیں۔
- .......١ حضرت ملا علیؒ قاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ھ ارقام فرماتے ہیں کہ:
”المعجزة من العجز الذی هو ضد القدرة وفی التحقیق المعجز فاعل العجز في غيره وهو الله سبحانه (مرقات هامش مشکوة ج٢ ص ٥٢٠) “ ﴿معجزہ عجز سے (مشتق) ہے۔ جو قدرت کی ضد ہے اور تحقیقی بات صرف یہ ہے کہ معجزہ وہ ہے جو غیر کے اندر عجز کا فعل پیدا کرے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ مقدس ہے۔﴾
اس عبارت سے بھی بصراحت یہ بات ثابت ہوگئی کہ درحقیقت معجز (یعنی عجز کا فعل پیدا کرنے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور معجزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے۔
- .......٢ اور علامہ قاضی عیاض بن موسیٰ بن عیاض المالکیؒ المتوفی ٥٤٤ھ لکھتے ہیں
کہ: ”اعلم ان معنی تسمية ما جاءت به الانبياء معجزة هو ان الخلق عجزوا عنه فبعجزهم عنه هو فعل الله تعالى دل على صدق نبيه“ ﴿جاننا چاہئے کہ جو
٨
(خارق عادت) چیز انبیاء کرام کے ہاتھ پر صادر ہوتی ہے اس کو اس لئے معجزہ کہتے ہیں کہ مخلوق اس کے ظاہر کرنے سے عاجز ہوتی ہے اور جب مخلوق اس سے عاجز ہوئی تو معلوم ہوا کہ معجزہ خالص خدا تعالیٰ کا فعل ہی ہوگا۔ جو نبی کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔﴾ یہ عبارت بھی اپنے مدلول پر بالکل واضح ہے۔
- ٣....... امام الفلاسفہ والمناطقہ محمد بن محمد الغزالیؒ المتوفی ٥٠٥ھ لکھتے ہیں کہ:
”ووجه دلالة المعجزة على صدق الرسل ان كل ما عجز عنه البشر لم يكن الا فعلا لله تعالى فمهما كان مقرونا بتحدى النبىﷺ ينزل منزله قوله صدقت (احیاء العلوم ج ١ ص٩٧) “﴾ معجزہ انبیاء کرام کی صداقت پر بایں طور پر دلالت کرتا ہے کہ جب اس کے ظاہر کرنے سے تمام انسان عاجز ہیں تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کا فعل ہوگا اور بس اور جب یہ نبی کی تحدی سے مقرون ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوگا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے تصدیق کردی کہ تو دعوائے رسالت میں سچا ہے۔﴾
- ٤....... امام عبدالوہاب شعرانیؒ المتوفی ٩٧٣ھ والشیخ ابوطاہر القزوینیؒ المتوفی.......
کی کتاب سراج العقول کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ: ”اعلم ان البرهان القاطع على ثبوت نبوة الانبياء هو المعجزات وهى فعل يخلقه الله خارقا للعادة على يد مدعى النبوة معترفا بدعواه وذلك الفعل يقوم مقام قول الله عز وجل له انت رسولى تصديقا لما ادعاه (اليواقيت والجواهر ج ١ ص١٥٨) “﴾ جاننا چاہئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کے ثبوت پر واضح ترین دلیل صرف معجزات ہیں اور معجزہ وہ فعل ہے جس کو خرق عادت کے طور پر اللہ تعالیٰ مدعی نبوت کے ہاتھ پر اس کے دعوائے نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے صادر فرمائے اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کے اس قول کے قائم مقام ہے کہ تو اپنے دعوائے رسالت میں بالکل صادق ہے۔﴾
- ٥....... مشہور مؤرخ اسلام علامہ عبدالرحمٰن بن خلدون المغربيؒ المتوفی ٨٠٨ھ
لکھتے ہیں کہ: ”ومن علاماتهم ايضاً وقوع الخوارق لهم شاهدة بصدقهم وهى افعال يعجز البشر عن مثلها فسميت بذلك معجزة وليست من جنس مقدور العباد وانما تقع فى غير محل قدرتهم وللناس فى كيفية وقوعها ودلالتها على تصديق الانبياء خلاف فالمتكلمون بناء على القول بالفاعل المختار قائلون بانها واقعة بقدرة الله لا بفعل النبى وان كانت افعال العباد عند
المعتزلة صادرة عنهم الا ان المعجزة لا تكون من جنس افعالهم وليس النبي فيها عند سائر المتكلمين الا التحدی بها باذن الله وهو ان يستدل بها النبی ﷺ قبل وقوعها على صدقه في مدعاه فاذا وقعت تنزلت منزلة القول الصريح من الله بانه صادق (مقدمه ص٩٣) ﴿ انبیاء کرام علیہم السلام کی علامات میں سے خوارق عادت وقوع بھی ہے جو ان کی صداقت پر شہادت دیتے ہیں اور وہ ایسے افعال ہوتے ہیں جن سے انسان عاجز ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو معجزہ کہا جاتا ہے اور یہ افعال ان افعال کی جنس نہیں ہیں۔ جن پر بندوں کو قدرت ہوتی ہے۔ بلکہ یہ افعال بندوں کے محل قدرت سے باہر ہوتے ہیں اور لوگوں کا معجزات کے وقوع اور ان کی تصدیق انبیاء پر دلالت کرنے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ متکلمین کہتے ہیں کہ چونکہ فاعل مختار ایک ہی ہے۔ اس لئے یہ معجزات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ نبی کے فعل سے نہیں واقع ہوتے۔ معتزلہ اگرچہ بندوں کے افعال کو خود ان سے صادر مانتے ہیں۔ مگر معجزات کے بارے میں معتزلہ بھی یہی کہتے ہیں کہ معجزات میں بندوں کے فعل کا کوئی دخل نہیں ہوتا اور تمام متکلمین کے نزدیک نبی کا کام معجزہ میں صرف باذن اللہ تحدی کرنا ہے کہ وہ ان کے وقوع سے پہلے اپنے مدعا کے صدق پر اس سے استدلال کرتے ہیں اور جب معجزہ واقع ہو جاتا ہے تو گویا خدا کی طرف سے صریح قول صادر ہو جاتا ہے کہ نبی صادق ہے اور معجزہ گویا بمنزلہ قول صریح کے ہوتا ہے۔﴾
علامہ کی اس عبارت سے صاف طور پر یہ معاملہ حل ہو گیا ہے کہ معجزات ان افعال سے ہرگز نہیں ہیں۔ جن پر انسانوں کو قدرت حاصل ہوتی ہے۔ بلکہ معجزات محل قدرت سے بالکل خارج ہوتے ہیں۔ نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ متکلمین کے نزدیک معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ نبی کا فعل نہیں ہوتا۔ نبی کا کام اس میں صرف باذن اللہ تحدی ہوتی ہے اور بس اور یہ معجزہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت ورسالت کی عملی تصدیق ہوتی ہے۔ جو گویا اس قول خداوندی کے قائم مقام ہوتی ہے کہ واقعی یہ میرا رسول اور نبی ہے اور میں اس معجزہ کے فعل سے اس کی تصدیق کرتا ہوں۔
- ٦...... حافظ کمال الدین ابن ہمام الحنفی المتوفی ٨٦١ھ لکھتے ہیں کہ: ”انها لما
كانت مما يعجز عنه الخلق لم تكن الا فعل الله سبحانه (المسامره ج٢ ص٨٩، مع المسامره) ﴿ معجزہ جب ایسی چیز ہے کہ اس کے صادر کرنے سے مخلوق عاجز ہے تو معجزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہوگا۔﴾
- ٧...... حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی الحنفی المتوفی ١٠٥٢ھ تحریر فرماتے ہیں کہ:
١٠
”معجزہ فعل نبی نیست بلکہ فعل خدائے تعالیٰ است کہ بر دست وے اظہار نمودہ بخلاف افعال دیگر کہ کسب ایں از بندہ است و خلق از خدا تعالیٰ و در معجزہ کسب نیز از بندہ نیست (مدارج النبوۃ ج٢ ص١١٦) “ ﴿معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ جس کو نبی کے ہاتھ پر وہ ظاہر کرتا ہے۔ بخلاف دیگر افعال کے کہ ان میں کسب بندہ کی طرف سے اور خلق خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مگر معجزہ میں کسب بھی بندہ کی طرف سے نہیں ہوتا۔﴾
نیز حضرت شیخ صاحب ارقام فرماتے ہیں کہ: ”چہ معجزہ وکرامت فعل خدا است کہ ظاہر مے گردد بر دست بندہ بجهت تصدیق وتکریم وے نہ فعل بندہ است کہ صادر مے گردد بقصد واختیار او مثل سائر افعال (فتوح الغیب ص٢٧) “ ﴿کیونکہ معجزہ اور کرامت خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو بندہ کے ہاتھ پر اس کی تصدیق وتکریم کی غرض سے صادر ہوتا ہے۔ معجزہ اور کرامت بندہ کا فعل نہیں ہے جو اس کے قصد واختیار سے صادر ہو جیسے کہ اس کے دوسرے افعال اختیاریہ ہیں جو اس کے قصد واختیار سے صادر ہوتے ہیں۔﴾
ایک چیز اور بھی قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ خلاف عادت چیز کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا باطل ہے کہ جس کے ہاتھ پر یہ واقعہ صادر ہوا ہے۔ وہ ولی ہے۔ ورنہ (معاذ اللہ) دجال رئیس الاولیاء ہو جائے گا۔ بلکہ اگر کسی کا عقیدہ صحیح ہو اور وہ متقی اور نیک ہو تو جو چیز اس کے ہاتھ پر صادر ہوگی۔ اس کو کرامت اور جس کے ہاتھ پر صادر ہوئی ہے۔ اس کو ولی کہیں گے۔ ورنہ استدراج ہوگا۔ جو کافروں اور بدکاروں کے ہاتھ پر بھی صادر ہو جاتا ہے۔ یعنی خارق عادت چیز سے کسی کی ولایت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس کی نیکی اور تقویٰ سے اس کے ہاتھ پر صادر ہونے والے فعل کو کرامت سے تعبیر کیا جائے گا اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ معجزہ نبی کا اپنا فعل نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے تو اس قاعدہ کو ذہن نشین کر لینے کے بعد نہ آنحضرت ﷺ کے معراج جسمانی پر انکار ہو سکتا ہے اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے پر۔ کیونکہ یہ فعل خود جناب باری تعالیٰ کا تھا اور اس کے لئے کوئی چیز انہونی نہیں۔ ”ان اللّٰہ علیٰ کل شئ قدیر“ اگر چہ وہ خارق عادت چیز پر از تعجب تو ہو سکتی ہے۔ لیکن قابل انکار ہرگز نہیں ہو سکتی اور حقیقت یہ ہے کہ اگر اس چیز میں حیرت انگیز خوبی موجود نہ ہو تو معجزہ (اور انگریزی میں مریکل)
١١
کہلانے کے مستحق ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اعجاز کا معنی ہی یہی ہے۔ اعجاز ناتواں گردانیدن و عاجز یافتن کسے را۔ (صراح ص ٢٢٥) یعنی لفظ اعجاز میں عاجز کر دینے اور عاجز پا لینے کا مفہوم داخل ہے۔
اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں۔ ورنہ وہ معجزے ہی کیوں کہلائیں۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٤٤، خزائن ج ٢٣ ص ٤١٢)
اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس چیز میں اعلیٰ درجہ کی حیرت موجود ہو کہ ہر دیکھنے والا دنگ رہ جائے اور خود اس کو صادر کرنے سے عاجز اور قاصر رہے اور ایسی خارق عادات چیزوں کے وقوع کا اقرار دنیا کے ہر مذہب اور ہر قوم نے کیا ہے۔ بلکہ دنیا کا ہر عقلمند انسان اس کو تسلیم کرتا آیا ہے۔ ہیوم اور ہیگل جرمنی نے اگرچہ معجزات کا انکار کیا ہے۔ لیکن انہیں کے ابنائے مذہب و قوم نے ان کے خیالات کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس قوم کے بعض مذہبی اور تاریخی اقوال پیش کر دیں کہ جن کے سایہ عاطفت میں مرزا قادیانی کو وہ آرام نصیب ہوا۔ جو ان کو مکہ مکرمہ میں بھی نصیب نہ ہو سکتا تھا اور جس قوم کی تعریف میں انہوں نے بزعم خود پچاس الماریاں لکھ کر چار چاند لگائے ہیں اور جس قوم کے وہ بقول خود کشتہ بودا ہیں۔ کیونکہ اگر مکی اور مدنی سرمہ ان کی آنکھوں کو منور نہیں کر سکتا تو کیا بعید ہے کہ حق نمک ادا کرتے ہوئے لندن اور یورپ کا بنا ہوا سرمہ ہی اکسیر ثابت ہو جائے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا اناجیل میں ذکر ہے۔ ایک معجزہ یہ تھا:
- ١....... ”پھر اس (یعنی مسیح علیہ السلام) نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور
آسمان کی طرف دیکھ کر برکت دی اور روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگردوں نے لوگوں کو اور سب کھا کر سیر ہو گئے اور انہوں نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے بھری ہوئی بارہ ٹوکریاں اٹھائیں اور کھانے والے عورتوں اور بچوں کے سوا پانچ ہزار مرد کے قریب تھے۔“
(انجیل متی باب ١٤، آیت ١٩ تا ٢١ اور انجیل یوحنا باب ٦ آیت ٥ تا ١٣)
- ٢....... پروفیسر ہکسلے اسی انجیلی روایت پر بحث کرنے کے بعد لکھتا ہے: ”تشفی
بخش شہادت کے بعد مجھ کو یہ ماننا پڑے گا کہ پچھلے خیالات غلط تھے اور اس معجزہ کو ممکنات فطرت کی ایک نئی اور خلاف توقع مثال سمجھوں گا۔“
(مقالات ج ٥ ص ٢٠٣)
- ٣....... مشہور حکیم ڈاکٹر کارپینٹر لکھتا ہے: ”قائل مذہب سائنس دان کو یہ ماننے
میں کوئی عقلی دشواری نہیں پیش آ سکتی ہے کہ خالق فطرت اگر چاہے تو کبھی کبھی قانون فطرت کے خلاف کر سکتا ہے۔ مجھ کو معجزات کے خلاف سائنس کے کسی فتویٰ کا علم نہیں ہے جو معتبر شہادت کی
١٢
موجودگی میں ان کے قبول سے مانع ہو۔ لہٰذا میرے نزدیک اصل سوال صرف یہ ہے کہ آیا اس قسم کی تاریخی معتبر شہادت موجود ہے یا نہیں۔ جس سے معلوم ہو کہ خالق فطرت کبھی کبھی خلاف فطرت بھی کر دیا کرتا ہے۔‘‘
(ماخوذ از سیرت النبی ج ٣ ص ١٢٨)
- ٤...... پروفیسر ڈابسر اپنی کتاب مادہ، ایتھر، حرکت میں لکھتا ہے کہ: ”اس امر کی
ہمارے پاس خاصی شہادت موجود ہے۔ جس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ طبعی حوادث اس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ ان کے تمام معمولی علل و اسباب غائب ہوتے ہیں۔ مگر اجسام حرکت کرتے ہیں۔ درآنحالیکہ نہ تو کوئی شخص ان کو چھو رہا ہے اور نہ برقی و مقناطیسی عوامل کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی بھی شہادت موجود ہے کہ ایک نفس کا خیال دوسرے نفس میں بلا کسی وساطت کے پہنچ سکتا ہے اور جس قسم کے واقعات کو معجزہ سمجھا جاتا ہے ان کا وقوع اب غیر اغلب نہیں رہا ہے۔“
- ٥...... ہکسلے لکھتا ہے: ”رہا مریم کے کنوار پن میں مسیح کا پیدا ہونا تو یہ نہ صرف
ممکن التصور شئی ہے بلکہ علم الحیات کی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ بعض اصناف حیوانات میں یہ روزانہ کا واقعہ ہے۔ یہی حال احیاء موتیٰ کا ہے۔ بعض جانور مر کر مومیات کی طرح بالکل خشک ہو جاتے ہیں اور عرصہ تک اسی حالت میں رہتے ہیں۔ لیکن جب ان کو مناسب حالات میں رکھ دیا جاتا ہے تو پھر جان آ جاتی ہے۔“
(مقالات ج ٥ ص ١٩٩)
- ٦...... انیسویں صدی کے مشہور فلسفی ڈاکٹر وارڈ نے ایک مفروض مثال سے
سمجھایا ہے کہ فرض کرو کہ: ”افریقہ کے کسی صحرا میں ایک نہایت عظیم الشان سلسلہ عمارت ہے جو چاروں طرف ایک چار دیواری سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے اندر ایک خاص ذی عقل مخلوق آباد ہے جو احاطہ سے باہر نہیں جا سکتی۔ یہ عمارت ایک ہزار سے زائد کمروں پر مشتمل ہے جو سب مقفل ہیں اور کنجیوں کا پتہ نہیں کہ کہاں ہیں۔ بڑی محنت و جستجو کے بعد کل پچیس کنجیاں ملی ہیں۔ جن سے ادھر ادھر کے پچیس کمرے کھل جاتے ہیں۔ جو سب ہم شکل ہیں۔ لہٰذا کیا اس بناء پر اس احاطہ کے رہنے والوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قطعیت کے ساتھ یہ دعویٰ کریں کہ بقیہ ٩٧٥ کمرے بھی اسی شکل کے ہیں۔“
(سسٹم آف لاجک نظام منطق از جان اسٹورٹ مل کتاب سوم باب ٢١ فصل ٤ حاشیہ)
- ٧...... پروفیسر ہکسلے لکھتا ہے: ”لیکن پانی پر چلنا یا پانی کو شراب بنا دینا یا بچہ کا بے
باپ پیدا ہونا یا مردہ کو زندہ کر دینا یہ چیزیں مفہوم بالا (کہ منطقی ناممکنات کا وجود تو ہے۔ لیکن طبعی ناممکنات کا قطعاً وجود نہیں) کے رو سے ناممکن نہیں ہیں۔ ہاں اگر ہم یہ دعویٰ کر سکتے کہ فطرت اشیاء کے متعلق ہمارے علم نے تمام ممکنات کا کامل احاطہ کر لیا ہے تو شاید یہ کہنا بجا ہوتا کہ آدمی کے
١٣
صفات پانی پر چلنے یا ہوا میں اڑنے کے متناقض ہیں۔ لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ علم فطرت کی انتہاء تک پہنچنا کیسا؟ ابھی تک ہم اس کی ابتداء اور ابجد سے آگے نہیں بڑھے ہیں۔ بلکہ ہماری قوتیں اس قدر محدود ہیں کہ کبھی بھی ہم ممکنات فطرت کی حد بندی نہیں کر سکتے۔‘‘
(ممکنات و ناممکنات از پروفیسر بکسلے ص ١٩٧)
- ٨...... انگلستان کا مشہور منطقی ولیم اسٹانلی جیونس لکھتا ہے کہ : ” اوپر علم سائنس کی
حقیقت ونوعیت کے متعلق جو بحثیں گزری ہیں ان سے ایک نتیجہ جو نہایت صاف طور پر نکلتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم کارخانہ فطرت میں مداخلت خداوندی کے امکان کو کسی طرح باطل نہیں ٹھہرا سکتے۔ جس قوت نے کائنات مادی کو خلق کیا ہے وہ میرے نزدیک اس میں حذف واضافہ بھی کر سکتی ہے۔ اس قسم کے واقعات ایک معنی کر کے ہمارے لئے ناقابل تصور نہیں ہیں۔ جیسا کہ خود عالم کا وجود ہے۔‘‘
(اصول سائنس کا حاشیہ ص ٢٦٦)
ناظرین کرام! ان مختصر اقتباسات سے حقیقت معجزات پر اور ان کے وقوع پر کافی روشنی پڑتی ہے۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی تحریرات امکان معجزات پر ملاحظہ فرمائیے۔ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ١...... ”مگر آج تک اس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے؟ اور کون کہہ
سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہاء تک پہنچ سکتا ہے۔ بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں۔ وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون ہی میں داخل ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
- ٢...... ”خدا کے قانون کی وہ شخص حد بست کر سکتا ہے جو خدا سے بھی بڑھ کر ہو۔
ورنہ یہ خیال بے ادبی اور بے ایمانی ہے کہ وہ خدا جس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور جس کی قدرتیں اس کی ذات کی طرح ناپیدا کنار ہیں۔ اس کے عجائبات قدرت کو کس حد تک محدود کر دیا جائے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٢١٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٠)
- ٣...... ”اور جو اس کے کام عوام کے لئے محال ہیں اور ظاہر نہیں ہوتے وہ خواص
کے لئے بباعث ان کے تعلق کے ظاہر کئے جاتے ہیں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص ٢١٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٠)
- ٤...... ”انبیاء علیہم السلام کے لئے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے تو یہ
کوتاہ اندیش لوگوں کو ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات احمدیہ ص ٤٢)
١٤
- ٥...... ”کیونکہ اس کی غیر متناہی
نہیں۔‘‘
- ٦...... ”اس وقت امام رازی
”من اراد ان يكتال مملكة البارى بمك جو شخص خدا تعالیٰ کے ملک کو اپنی عقل کے پیمانہ روی سے دور جا پڑا ۔‘‘
- ٧...... ”حضرت مسیح علیہ السلام
ہے۔ خلاف قانون قدرت نہیں ہے۔ کیونکہ نظیریں لکھی ہیں کہ بغیر باپ کے بھی بچہ پیدا ہو
- ٨...... ”خدا جو آج بھی ایسا
قادر تھا۔‘‘
- ٩...... ”پھر مضمون پڑھنے
لکھا ہے کہ عیسیٰ معہ گوشت پوست آسمان پر تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ ان
١؎ لیکن آگے لکھتے ہیں کہ قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ معنی یہ ہے کہ انسان زمین ہی پر زندہ رہنے کس طرح مستثنیٰ ہو سکتے ہیں؟ ہم اس پر استدلال صحیح نہیں ۔ اوّلاً ...... ہزاروں لوگ سے دور ہو کر زندہ رہتے ہیں۔ تو کیا یہ فطرت وغیرہ پر سفر کرنے کے امکانات موجود ہ فضائے آسمانی میں کئی دن زندہ رہ سکتی ہے۔ کرنے والوں کے لئے سیٹیں ریزرو ہو سکتیں کا راکٹ وہاں تک پہنچ سکتا ہے تو معراج طویل اور غیر طویل زندگی کے فرق امتیاز
- ٥...... ”کیونکہ اس کی غیر متناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات انہونی
نہیں ۔“
(براہین احمدیہ حصہ دوم حاشیہ ص ٤٠٧، خزائن ج ١ ص ٤٨٦)
- ٦...... ”اس وقت امام رازی علیہ الرحمۃ کا یہ قول نہایت پیارا معلوم ہوتا ہے کہ:
”من اراد ان يكتال مملكة الباري بمكيال العقل فقد ضل ضلالاً بعيداً“ یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے ملک کو اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا چاہے تو وہ راستی اور صداقت اور سلامت روی سے دور جا پڑا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ١١٩ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٧...... ”حضرت مسیح علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی امور نادرہ میں سے
ہے۔ خلاف قانون قدرت نہیں ہے۔ کیونکہ یونانی، مصری، ہندی طبیبوں نے اس امر کی بہت سی نظیریں لکھی ہیں کہ بغیر باپ کے بھی بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٢)
- ٨...... ”خدا جو آج بھی ایسا ہی قادر ہے۔ جیسا کہ آج سے دس ہزار برس پہلے
قادر تھا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٦، خزائن ج ٢١ ص ٨)
- ٩...... ”پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں
لکھا ہے کہ عیسیٰ معہ گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا۔ ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٨)
١ ؎ لیکن آگے لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں ”فيها تحيون“ اس کی نفی کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے ہوں ۔ کیونکہ آیت مذکورہ کا معنی یہ ہے کہ انسان زمین ہی پر زندہ رہتے ہیں اور رہیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام اس عام قانون سے کس طرح مستثنیٰ ہو سکتے ہیں؟ ہم اس کے اختصاراً جوابات عرض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا استدلال صحیح نہیں ۔ اوّلاً...... ہزاروں لوگ ہوائی جہازوں پر سیر کرتے وقت فضائے آسمانی میں زمین سے دور ہو کر زندہ رہتے ہیں۔ تو کیا یہ ”فيها تحيون“ کے مطابق ہے؟ اور اب تو چاند اور مشتری وغیرہ پر سفر کرنے کے امکانات موجودہ سائنس نے اور مہیا کر دیئے ہیں۔ اگر روسی کتیا ”لائیکا“ فضائے آسمانی میں کئی دن زندہ رہ سکتی ہے اور اگر معلق اڈہ بنانا ممکن ہو سکتا ہے اور اگر چاند تک سفر کرنے والوں کے لئے سیٹیں ریزرو ہو سکتی ہیں اور اگر روسی جھنڈا چاند میں مرتکز ہو سکتا ہے اور اگر ان کا راکٹ وہاں تک پہنچ سکتا ہے تو معراج جسمانی اور رفع مسیح علیہ السلام پر کیا اشکال ہو سکتا ہے؟ باقی طویل اور غیر طویل زندگی کے فرق امتیازی پر نہ عقلی دلیل قائم ہے اور نہ نقلی۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر
١٥
مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات سے بخوبی معجزات کا ممکن الوقوع ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ لیکن یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیا کسی چیز کے ممکن ہونے سے اس کا خارج میں متحقق ہونا بھی لازمی ہے؟ اور مرزا قادیانی معجزات کے خارج میں موجود ہونے پر کیا نظریہ رکھتے ہیں؟ تو اس کا جواب بھی مرزا قادیانی کی تحریرات ہی سے سن لیجئے کہ خارج میں معجزات کا وقوع ہوتا رہا ہے۔
- ١...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے
گئے ۔مگر خدا نے ان کو صحیح وسالم بچالیا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٨ ،حقیقت الوحی ص ٥٠ ،خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)
- ٢...... ”خدا تعالیٰ کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس علیہ السلام خدا کے
فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے۔“
(مسیح ہندوستان ص ١٦، خزائن ج ١٥ ص ١٦)
- ٣...... ”خدا تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیز علیہ السلام کو زندہ
کر کے دکھلا دیا۔ تا کہ اپنی قدرت پر اس کو یقین دلائے ۔مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٦٥، خزائن ج ٣ ص ٢٨٧)
- ٤...... ”قرآن کریم میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے
چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔“
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٤١، خزائن ج ٢٣ ص ٤١١)
- ٥...... ”عصا سانپ کی شکل بن گیا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٣٣، خزائن ج ١ ص ٥١٨)
- ٦...... ”کمر تک لمبی ڈاڑھی والی ایک عورت تھی۔“
(صداقت مہدی ص ٩٨)
بقیہ حاشیہ: ثانیاً...... حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام نے زمین کے بغیر بھی جنت میں زندگی کا کچھ عرصہ گزارا ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کیوں نہیں گزار سکتے؟ ”فما هو جوابكم فهو جوابنا “ ثالثاً...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے۔ ”ولم یمت وليس من المیتین “ (نورالحق حصہ اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٩) یہاں تو اشارہ قرآن کہا ہے۔ لیکن (حمامة البشریٰ ص ٣٥، خزائن ج ٧ ص ٢٢١) میں لکھتے ہیں کہ: ”موسیٰ کلیم اللہ کی زندگی نص قرآنی سے ثابت ہے۔“ تو جس طرح مرزا قادیانی ”فیہا تحیون “ کے خلاف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی نص قرآنی سے تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات بھی مان لیں کہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی۔
١٦
- ٧...... ’’مظفرگڑھ میں ایک بکرا نے قریب ڈیڑھ سیر دودھ دیا۔ مسٹر میکالیف
صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ نے وہ بکرا لاہور چڑیا گھر میں بھیج دیا۔‘‘
(سرمہ چشمہ آریہ ص٥١، خزائن ج٢ ص٩٩)
- ٨...... ’’امیر علی ایک سید لڑکا اپنے باپ ہی کے دودھ سے پرورش پایا تھا۔ کیونکہ
اس کی ماں مرگئی تھی۔‘‘
(سرمہ چشمہ آریہ ص٥١، خزائن ج٢ ص٩٩)
- ٩...... ’’بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا خشک مٹی سے پیدا ہوا۔ جس کا آدھا دھڑ تو
مٹی تھا اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی نے لکھا ہے کہ ایک بیمار کا کان بہرہ ہو گیا۔ کان کے نیچے ایک ناسور پیدا ہو گیا۔ آخر سوراخ ہو گئے۔ اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سن لیتا تھا۔ طبیبوں نے ناف سوراخ ہو کر مدت تک پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔‘‘
(سرمہ چشمہ آریہ ص٥١، خزائن ج٢ ص٩٩)
- ١٠...... ’’بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے
پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک آک کا درخت ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص٢٦٩، خزائن ج٢٣ ص٢٨٢)
- ١١...... ’’اور بعض درختوں کے پھل پختہ ہونے اور کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں
تو وہ سب کے سب پرندے بن جاتے ہیں اور دوسرے پرندوں کی طرح پرواز کرتے ہیں۔ جیسا کہ گولر کا پھل بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص٣٢٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٣)
- ١٢...... ’’جیسے پانی میں مری ہوئی مکھیاں ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر نمک
باریک پیس کر اس مکھی وغیرہ کو اس کے نیچے دبا دیا جائے اور پھر اس قدر خاکستر بھی اس پر ڈالی جائے۔ تو مکھی زندہ ہو کر اڑ جاتی ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص٤٦٤، خزائن ج١ ص٥٥٤)
- ١٣...... ’’اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کیڑے مکوڑے مٹی سے پیدا ہو رہے
ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص١٣٧، خزائن ج١٥ ص٣٦٢)
- ١٤...... ’’حوا پسلی ہی سے بنائی گئی ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لاتے
ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج٢ ص١٩٣)
- ١٥...... ’’کہ (چوتھے لڑکے مبارک احمد نے) یکم جنوری ١٨٩٧ء میں بطور الہام
یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے
١٧
بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے۔ (پھر آگے لکھتے ہیں) مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“
(تریاق القلوب ص ٤١، خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)
حضرات! آپ مرزا قادیانی کی تحریرات پڑھ چکے کہ خارق عادت امور کا دنیا میں وقوع ہوتا رہا ہے اور مرزا قادیانی کو بھی اس کا واضح تر الفاظ میں اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں اور وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔
لطیفہ ....... مرزا قادیانی کی ہر ادا نئی اور نرالی تھی۔ نبوت نئی تھی ، خدا نیا تھا ، الہام نیا اور حساب بھی نیا تھا۔ نبوت اس لئے کہ ان کو ظلی، بروزی اور غیر تشریعی نبی ہونے کے باوجود تمام نبیوں سے اونچا تخت ملا۔ ” آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اور نیز لکھا: ”اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر ہیں۔“ (ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ٣٤٦) اور خدا اس لئے نیا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”نئی زندگی ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور کبھی نیا یقین پیدا نہیں ہو سکتا۔ جب تک موسیٰ اور مسیح اور ابراہیم اور یعقوب اور محمد ﷺ کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں۔ نئی زندگی انہی کو ملتی ہے۔ جن کا خدا نیا ہو۔ یقین نیا ہو، نشان نئے ہوں۔“
(تریاق القلوب کا ضمیمہ نمبر ٣ ص س، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٧)
اور الہام اس لئے نیا کہ الہام تو مرزا قادیانی کو ہو رہا تھا۔ لیکن مخاطب اس (یعنی جنین) کے بھائی تھے۔ مرزا قادیانی پر اگر یہ الہام ٹچی ٹچی (جو مرزا قادیانی پر وحی لایا کرتا تھا۔ حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦) لایا تھا تو یہ نام ہی بڑا عجیب ہے اور اگر خیراتی (مرزا قادیانی کے ایک فرشتے کا نام تھا۔ تریاق القلوب ص ٩٤، خزائن ج ١٥ ص ٣٥١) لایا تھا تب بھی وہ سمجھا ہوگا کہ خیراتی اور بناسپتی نبی کی طرف چنداں التفات کی ضرورت نہیں۔ چلو الہام مرزا قادیانی کو ہوتا رہے اور دیدار اور تخاطب ان کے صاحبزادوں سے ہوتا رہے۔
اور حساب اس طرح نیا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے۔“ واہ سبحان اللہ! کیا ہی حساب ہے کہ ایک دن سے دو برس مراد ہیں۔ مرزا قادیانی نے
١٨
صداقت اسلام پر تین سو دلائل پیش کرنے کا کر خاموش ہو گئے۔ براہین کی پچاس جلدیں لکھنے کا او لوگوں نے تقاضا کیا تو جواب میں لکھتے ہیں: اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عد پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“ اربعین کے چالیس نمبر لکھنے کا اع ہیں کہ: ”چار کو بجائے چالیس کے خیال کر لی یہ ہے مرزا قادیانی کا حساب؟ خوب؟
کشتی کسی کی
ہم بطور تمہید حقیقت معجزہ اس امور کے پائے جانے پر قرآن کریم کے کر چکے ہیں۔ اس باب میں ہم معراج کرتے ہیں۔ معراج کا معنی زینہ اور سیڑ اور عروج سنا ہی ہو گا۔ چونکہ آسمان زینہ حالت بیداری میں ایک رات کے اندر م سورہ بنی اسرائیل میں اور احادیث متواتر اور سدرۃ المنتہیٰ وغیرہ کی سیر کرائی۔ ( متواترہ میں مفصلاً مذکور ہے ) معراج با اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: الحرام الى المسجد الاقص
صداقت اسلام پر تین سو دلائل پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔ جب چندہ خوب فراہم ہو گیا تو دو دلیلیں لکھ کر خاموش ہو گئے۔
(براہین حصہ پنجم ص ٤، خزائن ج ٢١ ص ٦)
براہین کی پچاس جلدیں لکھنے کا اعلان کیا۔ جب پانچ جلدیں لکھیں تو سکوت فرما گئے۔ لوگوں نے تقاضا کیا تو جواب میں لکھتے ہیں۔ ”پہلے پچاس لکھنے کا ارادہ تھا، مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ (صفر) کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“
(بلفظہ براہین حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)
اربعین کے چالیس نمبر لکھنے کا اعلان کیا۔ جب چار لکھ کر ترکی ختم ہو گئی تو ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”چار کو بجائے چالیس کے خیال کرو۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)
یہ ہے مرزا قادیانی کا حساب؟ دنیا خواہ کچھ ہی کہے مگر ان کی ادائیں باقی رہیں۔ کیا خوب؟
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
دوسرا باب
ہم بطور تمہید حقیقت معجزہ اس کے امکان وقوع اور خارج میں معجزات اور خارق عادت امور کے پائے جانے پر قرآن کریم کے علاوہ یورپین کے اقوال اور مرزا قادیانی کی تحریرات پیش کر چکے ہیں۔ اس باب میں ہم معراج کے بارے میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث نقل کرتے ہیں۔ معراج کا معنی زینہ اور سیڑھی کے آتے ہیں اور یہ لفظ عروج سے مشتق ہے۔ زوال اور عروج سنا ہی ہوگا۔ چونکہ آسمان زینوں کی طرح تہ بہ تہ ہیں اور آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حالت بیداری میں ایک رات کے اندر مسجد حرام سے بیت المقدس تک (جس کا ثبوت قرآن کریم سورہ بنی اسرائیل میں اور احادیث متواترہ میں مفصل مذکور ہے) اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ وغیرہ کی سیر کرائی۔ (جس کا بیان قرآن کریم سورہ النجم میں مجملاً اور احادیث متواترہ میں مفصلاً مذکور ہے) معراج بالکسر نردبان ومنہ لیلۃ المعراج۔
(صراح ص ٨٩)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”سبحن الذی اسرٰی بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من ایاتنا، انہ ھو
١٩
السمیع البصیر (بنی اسرائیل) ”پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کو گھیر رکھا ہے۔ ہماری برکت نے تاکہ دکھائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے۔ وہی ہے سننے والا دیکھنے والا۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں ارشاد فرمائی ہیں:
- ١...... لفظ سبحان! یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کہ عجیب وغریب اور خارق
عادت نشانیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ یہ لفظ اس چیز کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری میں معراج کرائی گئی۔ ورنہ خواب کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی۔ جس پر اللہ تعالیٰ سبحان کا اطلاق کرتا۔
(ہدایہ ونہایہ از حافظ ابن کثیر ج ٣ ص ١١٤)
- ٢...... یہاں لفظ عبد کا اطلاق کیا گیا ہے اور زندہ انسان پر عبد کا اطلاق جسم اور
روح دونوں کے مجموعہ پر ہی آتا ہے اور اگر آنحضرت ﷺ کو جسم مبارک کے ساتھ سیر نہ کرائی گئی ہوتی تو ”اسرى بعبده “ نہ بولا جاتا۔ بلکہ ”اسرى بروح عبده “ ہوتا۔ حالانکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔
(شفا قاضی عیاض ص ٨٦)
- ٣...... مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو اللہ تعالیٰ نے لفظ اسرٰی سے تعبیر
فرمایا ہے اور اسرٰی کا اطلاق حقیقتاً رات کی ایک سیر پر ہوتا ہے۔ جو جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”فاسر باھلك بقطع من اللیل (هود: ٨١) “ ﴿(اے لوط علیہ السلام) رات کے کسی حصہ میں اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر نکل جا۔﴾
اس سے یہ تو قطعاً مراد نہیں کہ لوگوں کی ارواح کو لے کر چلے جائیں اور جسم یہاں ہی دھرے رہیں۔ بلکہ جسم اور روح دونوں کو ساتھ لے کر جانا مراد ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”واوحينا الى موسى ان اسر بعبادی انکم متبعون (شعراء: ٥٢) “ ﴿اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو کہ رات کو لے کر نکل۔ میرے بندوں کو البتہ (فرعونی) تمہارا پیچھا کریں گے۔﴾
اس آیت میں بھی اسر بعبادی سے زندہ انسانوں کو حالت بیداری میں ساتھ لے جانا مراد ہے نہ کہ روحانی اسراء ۔ اور نہ خواب اور کشف۔ ”وما جعلنا الرؤیا التی ارینک
٢٠
الا فتنة للناس (بنی اسرائیل: ٦٠) دکھایا۔ مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔﴾
یہ آیت بھی آنحضرت ﷺ کی معراج روح دونوں کے ساتھ معراج نہ کرائی گئی ہوتی تھی؟ خواب کا معاملہ نہ فتنہ ہوتا اور نہ آزمائش کہ جو چیز سب لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش
حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو عربی مہارت حاصل تھی وہ فرماتے ہیں کہ: ”ھی رؤیا به
(بخاری ج ٢ ص ٦٨٦ ، باب وجعلنا الـ
﴿رؤیا سے آنکھوں کا دکھاوا مراد ہے۔ جو کہ آپ بلکہ ساتھ ہی وہ خواب کی نفی کرتے ج ٢ ص ١١٣) اس دکھاوا سے خواب کا دکھاوا مراد
الغرض قرآن کریم کا اسلوب بیـ کرتی ہے کہ رؤیا سے آنکھوں کے ساتھ دکھانـ
سوال: ...... لفظ رؤیا عربی زبان مـ معراج خواب کا ایک قصہ تھا یا ایک کشفی امر تـ
جواب: ...... لغت عربی میں رؤیـ میں ہو۔ پھر جہاں کہیں یہ لفظ خواب پر بولا جگہ دکھاوا سے خواب کا دکھاوا مراد ہے اور ساتھ دیکھنے کے قرائن موجود ہوں تو اس بـ سبحان، عبد، اسراء اور فتنة للناس اور حضرت آنکھوں کے ساتھ دکھاوا کو متعین کرتی ہیں اور کشف مراد نہ ہوگی۔
البتہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کـ بھی لسان عربی میں وارد ہوا ہے یا نہیں؟
الا فتنۃ للناس (بنی اسرائیل: ٦٠) ﴿اور نہیں بنایا ہم نے وہ دکھلایا جو ہم نے تجھ کو دکھلایا۔ مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔﴾
یہ آیت بھی آنحضرت ﷺ کی معراج کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ اگر آپ کو جسم اور روح دونوں کے ساتھ معراج نہ کرائی گئی ہوتی تو اس میں لوگوں کے لئے کیا فتنہ اور کیا آزمائش تھی؟ خواب کا معاملہ نہ فتنہ ہوتا اور نہ آزمائش۔ بلکہ ایک تعبیر طلب امر ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز سب لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش تھی وہ آنحضرت ﷺ کی معراج جسمانی ہی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی قرآن کریم کی بڑی سمجھ اور مہارت حاصل تھی وہ فرماتے ہیں کہ: ”ھی رؤیا عین اریھا رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسریٰ به (بخاری ج ٢ ص ٦٨٦، باب وجعلنا الرؤیا، ترمذی ج ٢ ص ١٤١، ابواب التفسیر) “
﴿رؤیا سے آنکھوں کا دکھاوا مراد ہے۔ جو کہ آنحضرت ﷺ کو معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔﴾
بلکہ ساتھ ہی وہ خواب کی نفی کرتے ہیں کہ: ”لا رؤیا منام“ (شفا ص ٨٧، بدایہ و نہایہ ج ٣ ص ١١٤) اس دکھاوے سے خواب کا دکھاوا مراد نہیں۔
الغرض قرآن کریم کا اسلوب بیان اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت اس چیز کو متعین کرتی ہے کہ رؤیا سے آنکھوں کے ساتھ دکھاوا مراد ہے۔ خواب اور کشف ہرگز مراد نہیں۔
سوال ...... لفظ رؤیا عربی زبان میں خواب پر اطلاق ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معراج خواب کا ایک قصہ تھا یا ایک کشفی امر تھا۔ جو خواب سے قریب تر ہوتا ہے۔
جواب ...... لغت عربی میں رؤیا کا معنی دکھاوا ہوتا ہے۔ آنکھوں کے ساتھ ہو یا خواب میں ہو۔ پھر جہاں کہیں یہ لفظ خواب پر بولا گیا ہے۔ وہاں ایسے دلائل اور قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ دکھاوا سے خواب کا دکھاوا مراد ہے اور جہاں ایسے قرائن موجود نہ ہوں یا وہاں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کے قرائن موجود ہوں تو اس سے آنکھوں کا دکھاوا مراد ہوگی اور قصہ معراج میں لفظ سبحان، عبد، اسراء اور فتنۃ للناس اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور دیگر جمہور صحابہ کرام کی روایات آنکھوں کے ساتھ دکھاوا کو متعین کرتی ہیں۔ لہٰذا رؤیا سے آنکھوں کا دکھاوا ہی مراد ہوگی۔ خواب اور کشف مراد نہ ہوگی۔
البتہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا رؤیا کا اطلاق بیداری میں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر بھی لسان عربی میں وارد ہوا ہے یا نہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ زبان اہل عرب میں رؤیا کا
٤١
اطلاق بیداری میں آنکھوں سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک راعی کہتا ہے۔
وبشر قلبا كان جما بلاله
(روح المعانی ج ١٥ ص ٧)
شکاری نے شکار دیکھتے ہی خوشی کے مارے تکبیر کہی اور اس نے اپنے غمگین دل کو جس میں غم جمع ہو چکا تھا خوشخبری سنائی۔ اس شعر میں رؤیا کا اطلاق بیداری میں آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر ہوا ہے۔ متنبیٰ بدر بن عمار کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے۔
ورؤياك احلى في العيون من الغمض
(دیوان ص ١٥٧)
رات ختم ہو چکی اور تیری تعریف ابھی ختم نہ ہوئی اور آنکھوں کے ساتھ تجھے دیکھنا نیند سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے۔ اس شعر میں بھی لفظ رؤیا کا اطلاق آنکھوں کے ساتھ دیکھنے پر ہوا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”ثم دنى فتدلى . فكان قاب قوسين او ادنى . فاوحى الى عبده ما اوحى ما كذب الفؤاد ما رای . افتمرونه على ما يرى . ولقد رآه نزلة اخرى . عند سدرة المنتهى . عندها جنة الماوى . اذ يغشى السدرة ما يغشى . ما زاغ البصر وما طغى . لقد رای من آیات ربه الكبرى (نجم)“ ﴿پھر نزدیک ہوا پس اور نزدیک ہوا پھر رہ گیا بہ فرق دو کمان کی برابر یا اس سے بھی نزدیک۔ پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا غلطی نہیں کھائی۔ رسول کے دل نے جو دیکھا۔ اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو۔ اس پر جو اس نے دیکھا اور اس نے اس کو دیکھا ہے اترتے ہوئے۔ ایک بار اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی۔ جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ بھی چھا رہا تھا۔ بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی بیشک دیکھے اس نے اپنے رب کے بڑے نمونے اور نشانیاں۔﴾
ان آیات میں جناب رسول اللہ ﷺ کے اس سفر کا ذکر ہے جو بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک واقع ہوا ہے۔ جس میں آنکھ اور دل نے بیداری میں سب کچھ دیکھا ہے اور دل اور آنکھوں کو غلطی اور لغزش بھی نہیں ہوئی اور لوگ اس عجیب سفر پر آپ سے جھگڑا بھی کرتے تھے۔
٢٢
اس سفر میں آپ نے اللہ تعالیٰ کی عجیب اور غریب نشانیاں دیکھیں۔ آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”ثم ذهب بی الیٰ سدرة المنتهٰی فاذا ورقها کاذان الفیلة واذا ثمرها مثل قلال هجر قال هٰذه سدرة المنتهٰی (بخاری ج ١ ص ٥٤٩، باب المعراج، مسلم ج ١ ص ٩١، باب الاسراء، ابوعوانہ ج ١ ص ١٢١) ”پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ میں نے دیکھا کہ بیری کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح بڑے بڑے ہیں اور قبیلہ ہجر کے مٹکوں کی مانند اس کا پھل ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔“
اور پھر وہاں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی طرف جو کچھ کہ اس کو منظور تھا۔ اپنا حکم بھیجا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت میں آتا ہے کہ: ”کما اسریٰ برسول اللہ ﷺ انتهٰی به الیٰ سدرة المنتهٰی الیٰ ان قال فراش من ذهب (مسلم ج ١ ص ٦٧، باب معنیٰ قول الله عزوجل ولقد رآه نزلة اخرىٰ، نسائی ج ١ ص ٧٨، باب فرض الصلٰوة، ترمذی ج ٢ ص ١٦٠، ابواب التفسیر) ”جب آنحضرت ﷺ کو اسراء اور معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا۔ جہاں سونے کے پروانے اس کو گھیرے ہوئے تھے۔“
صحابہ کرامؓ کا ”ولقد رآه نزلة اخرىٰ“ کی ضمیر مفعول میں اختلاف ہے کہ اس کا مرجع کون ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں یا خدا تعالیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا تعالیٰ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عائشہؓ اور دیگر اکابر یہ فرماتے ہیں کہ مفعول کی ضمیر حضرت جبرائیل کی طرف راجع ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو اصلی شکل میں صرف دو مرتبہ دیکھا تھا۔ ان میں سے ایک مرتبہ جب کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ کے پاس نیچے اتر رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی یہ روایت (مسلم ج ١ ص ٩٨، باب معنیٰ قول الله عزوجل ولقد رآه نزلة اخریٰ) وغیرہ میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا اس میں تو اختلاف تھا کہ کیا آنحضرت ﷺ نے جسمانی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں؟ ایک گروہ قائل تھا اور دوسرا منکر۔ لیکن معراج جسمانی میں کسی صحابی کو اختلاف نہ تھا۔ حتیٰ کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بھی۔ کیونکہ وہ رؤیت خداوندی کا تو بڑی شدومد سے انکار فرماتی ہیں۔ لیکن معراج جسمانی کا انکار نہیں کرتیں۔ بلکہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس آسمان سے نیچے اترتے ہوئے اصلی شکل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے رؤیت پر زور الفاظ میں ثابت کرتی ہیں اور اپنے اس دعویٰ پر جناب رسول اللہ ﷺ کی حدیث پیش
٢٣
کرتی ہیں۔ (مسلم ج ١ ص ٩٨، باب معنی قول اللہ عزوجل ولقد رأہ نزلة اخریٰ) حضرت عائشہ صدیقہؓ کا یہ ارشاد یاد رکھنا آگے کام آئے گا۔ کیونکہ داشتہ بکار آید!
الحاصل سورۃ النجم کی مذکورہ آیات اور ان کی تفسیر میں پیش کردہ احادیث اور عقائد صحابہ کرامؓ سے یہ بات پوری طرح واضح اور ثابت ہو چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا سفر جسمانی اور بیداری میں تھا اور اسی واسطے مخالف آپ سے اس پر جھگڑا بھی کرتے تھے۔ اب آپ واقعہ معراج کا خلاصہ سن لیجئے جو متعدد احادیث کو سامنے رکھ کر انتخاب کیا گیا ہے۔
آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا کہ تین فرشتے آئے اور مجھے بیدار کر کے میرا پیٹ چاک کیا گیا اور میرا دل سونے کے تھال میں رکھ کر زمزم کے پانی سے خوب دھو کر ایمان اور حکمت سے پر کر کے سی دیا گیا۔ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور جس کو براق کہتے ہیں۔ میری سواری کے لئے پیش کیا گیا۔ جہاں تک انسان کی نگاہ پہنچتی ہے۔ وہاں تک اس کا ایک ہی قدم ہوتا ہے۔ پھر مجھے بیت المقدس لے جایا گیا۔ براق اس حلقہ کے ساتھ باندھا گیا۔ جہاں دوسرے انبیاء عظام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور تمام پیغمبروں کو خدا تعالیٰ نے وہاں میرے لئے جمع کر دیا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق میں نے ان تمام کو امامت کرائی اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہاں سے پہلے آسمان تک گئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کو کہا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ کہا جبرائیل ہے۔ دربان نے کہا ساتھ کون ہے؟ فرمایا حضرت محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا کیا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ان کو بلایا گیا ہے؟۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں، پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے علیک سلیک اور ملاقات ہوئی۔ انہوں نے صالح نبی اور نیک بیٹے کے ساتھ تعبیر کرتے ہوئے آپ کی آؤ بھگت کی۔ وہاں سے دوسرے آسمان کے دروازہ سے سابق طریق سے اجازت طلب کرنے کے بعد پہنچے۔ وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہما السلام سے سلام کیا۔ انہوں نے نبی صالح اور الاخ الصالح سے خطاب کرتے ہوئے مرحبا کہی۔ پھر تیسرے آسمان کے دروازہ سے طریق مذکور کے ساتھ استیذان کیا گیا۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو بطریق مذکور سلام کیا اور ان کی حسین ترین صورت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے بھی بھائی صالح اور نبی صالح سے خوش آمدید کہی۔ پھر چوتھے آسمان پر اسی طرح اجازت کے بعد گئے۔ وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ان کو سلام کریں۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے بھی دوسرے بزرگوں کی طرح مجھے مبارک باد دی۔ پھر وہاں سے پہلے کی
٢٤
طرح پانچویں آسمان پر اذن طلب کرنے کے بعد پہنچے۔ وہاں حضرت ہارون علیہ السلام کو سلام کیا گیا۔ انہوں نے بھی مرحبا سے یاد کیا۔ پھر چھٹے آسمان پر گئے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور آؤ بھگت ہوئی۔ جب ہم ان سے رخصت ہی ہوئے تو ان کے رونے کی آواز آئی۔ پوچھا گیا اے موسیٰ علیہ السلام کیوں روتے ہو؟ فرمایا کہ یہ نوجوان نبی میرے بعد دنیا میں آیا اور اس کی امت میری امت سے کہیں زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی۔ پھر ہم ساتویں آسمان پر گئے۔ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے سلام عرض کیا۔ انہوں نے ابن صالح کے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے خوش آمدید کہی۔ پھر ان سے رخصت ہو کر سدرۃ المنتہیٰ مجھے لے جایا گیا۔ وہاں بیری کے پتے جو دیکھے تو ہاتھی کے کان کی مانند تھے اور اس کا پھل قبیلہ ہجر کے مٹکوں کی طرح تھا۔ وہ مقام احکام خداوندی کے لئے ہیڈ کوارٹر کی مانند ہے۔ وہاں سے احکام اترتے اور چڑھتے ہیں۔ وہاں سونے کے پروانوں نے اس کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ وہاں سے چار نہریں پھوٹتی ہیں۔ دو باطنی جو جنت میں جاتی ہیں اور دو ظاہری نیل اور فرات۔ وہاں سے مجھے بیت المعمور کے پاس لے جایا گیا۔ جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں۔ پھر ان کو مدت العمر دوبارہ وہاں آنے کا موقع نہیں ملتا۔ مجھے وہاں تین پیالے پیش کئے گئے۔ ایک دودھ کا، دوسرا شراب کا، اور تیسرا شہد کا۔ میں نے دودھ کے پیالے کو قبول کر لیا۔ مجھے ارشاد ہوا کہ آپ نے حسن انتخاب میں کمال کر دیا۔ دودھ سے دین فطرت مراد ہے۔ اگر آپ خمر وغیرہ لے لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں امنا وصدقنا کہتے ہوئے خوشی خوشی واپس آیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ تو انہوں نے سوال کیا۔ کیا کچھ انعام لائے میں نے کہا پچاس نمازیں، انہوں نے فرمایا میں بنی اسرائیل پر پانچ سے کم نمازوں میں تجربہ کر چکا ہوں۔ آپ کی امت ان سے بھی خلقت میں ضعیف اور کمزور ہے۔ آپ اپنے رب سے تخفیف کا مطالبہ کریں۔ آپ فرماتے ہیں میں پھر واپس گیا۔ اللہ تعالیٰ پانچ پانچ نمازیں۔ میرے بار بار آنے جانے سے معاف کرتا رہا۔ حتیٰ کہ صرف پانچ رہ گئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی تخفیف کا مطالبہ پیش کرنے کو کہا۔ لیکن میں نے کہا۔ مجھے اب شرم آتی ہے۔ اس لئے میں ان کو بطیب خاطر قبول کرتا ہوں۔ اتنے میں آواز آئی کہ ہمارے ہاں پہلے سے ہی یہی پانچ نمازیں طے ہوچکی تھیں۔ باقی پچاس باعتبار اجر اور ثواب کے تھیں۔ کیونکہ ہر نیکی کا ادنیٰ بدلہ دس گنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے، اور مجھے وہاں ایک تو پانچ نمازیں ملیں۔ دوسرے سورہ بقرہ کی آخری آیات اور تیسرے یہ کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی
٢٥
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے گا اس کی بخشش ہو گی۔ میں یہ نعمتیں اور خوشخبریاں لے کر صبح سے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ جب یہ واقعہ مشرکین نے سنا تو اودھم مچا دیا۔
ہم نے متعدد روایات کو سامنے رکھ کر معراج کے اہم واقعات اور جزئیات کا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔ بعض ضروری اور قابل ذکر جزئیات کا ذکر عنقریب کر دیا جائے گا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان صحابہ کرامؓ کے اسماء جن سے واقعہ معراج منقول ہے بحوالہ پیش کردیں۔ اگر چہ ان کی روایات میں اجمال، تفصیل، تقدیم، تاخیر اور بعض اجزاء کے حذف و اضافہ کا ضرور فرق ہے۔ لیکن ایسی لمبی روایت میں ایسا ہو جانا ناگزیر امر ہے اور اس سے اصل واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اب آپ صحابہ کرامؓ کے اسماء بمعہ حوالہ جات سن لیجئے۔
(١) حضرت مالک بن صعصعہؓ۔ بخاری ج١ ص٥٤٨، مسلم ج١ ص٩٣، ابوعوانہ ج١ ص١١، نسائی ج١ ص٥٠۔ (٢) حضرت انس بن مالکؓ، بخاری ج٢ ص١١٢٠، مسلم ج١ ص٩١، ابوعوانہ ج١ ص١٢٦، نسائی ج١ ص٥٢، ترمذی ج٣ ص١٤١، ابوداؤد ج٢ ص٣١٣، مسند طیالسی ص٢٧٤۔ (٣) حضرت ابوذرؓ، بخاری ج١ ص٥٠، مسلم ج١ ص٩٢، ابوعوانہ ج١ ص١٣٣۔ (٤) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، مسلم ج١ ص٩٧، ابوعوانہ ج١ ص١٢٨، نسائی ج١ ص٥٢، ابن ماجہ ص٣٠٩، مستدرک ج٤ ص٢٨٨۔ (٥) حضرت ابوہریرہؓ، بخاری ج٢ ص٦٨٢، مسلم ج١ ص٩٦، ابوعوانہ ج١ ص١٤١، ترمذی ج٢ ص١٤١، ابن ماجہ ص١٦٥، مشکوۃ ص٥٢٩۔ (٦) حضرت جابرؓ، بخاری ج١ ص٥٤٨، مسلم ج١ ص٩٦، ترمذی ج٢ ص١٤١، ابوعوانہ ج١ ص١٢٥۔ (٧) حضرت حذیفہ بن الیمانؓ، مسند طیالسی ص٥٥، مستدرک ج٢ ص٣٥٩۔ (٨) حضرت بریدہؓ، ترمذی ج٢ ص١٤١، مستدرک ج٢ ص٣٦٠۔ (٩) حضرت عبداللہ بن عباسؓ، بخاری ج١ ص٥٥٠، مسلم ج١ ص٩٤، ترمذی ج٢ ص١٤١، مستدرک ج٢ ص٣٦٢۔ (١٠) حضرت ابوسعید الخدریؓ تعلیقاً، ترمذی ج٢ ص١٤١، البدایہ والنہایہ ج٣ ص١٠٩، ومسنداً خصائص الکبریٰ ج١ ص١٦٧۔ (١١) حضرت عائشہؓ، مستدرک ج٣ ص٢٣، خصائص الکبریٰ ج١ ص١٧٦۔
فائدہ...... حضرت عائشہؓ کی ایک حدیث بحوالہ مسلم پہلے بھی عرض ہو چکی ہے۔
(١٢) حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزمؓ، نسائی ج١ ص٥٢، خصائص الکبریٰ ج١ ص١٦٧۔ (١٣) حضرت شداد بن اوسؓ، تفسیر ابن کثیر ج٥ ص١٢٦، بحوالہ شفاء قاضی عیاض ص٨٧، خصائص الکبریٰ ج١ ص١٥٨ (قال البیہقی اسنادہ صحیح) (١٤) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ،
٢٦
مستدرک ج ٣ ص ١٥٦۔ (١٥) حضرت ابی بن کعبؓ۔ (١٦) حضرت سمرۃ بن جندبؓ۔ (١٧) حضرت صہیب بن سنانؓ۔ (١٨) حضرت عبداللہ بن عمرؓ۔ (١٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ۔ (٢٠) حضرت عبداللہ بن اسعد بن زرارہؓ۔ (٢١) حضرت عبدالرحمن بن قرط الثمالیؓ۔ (٢٢) حضرت عمر بن الخطابؓ۔ (٢٣) حضرت ابوایوب انصاریؓ۔ (٢٤) حضرت ابوالحمراءؓ۔ (٢٥) حضرت ابوحبہ انصاریؓ۔ (٢٦) حضرت ابوایوب انصاریؓ۔ (٢٧) حضرت ابولیلیٰ انصاریؓ۔ (٢٨) حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ۔ (٢٩) حضرت ام ہانیؓ۔ (٣٠) حضرت علیؓ۔ (٣١) حضرت ابوامامہؓ۔ (٣٢) حضرت سہل بن سعدؓ۔ (٣٣) حضرت ام سلمہؓ۔ ان تمام اکابر کی روایات خصائص الکبریٰ ج ١ ص ١٦٥ تا ١٧٩ وغیرہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ زرقانی لکھتے ہیں ۔ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی معراج کی حدیثیں پینتالیس صحابہ کرامؓ سے مروی ہیں۔
(زرقانی شرح مواہب ج ١ ص ٣٥٥)
آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر صدی پر مجدد آنے کی حدیث صرف حضرت ابوہریرہؓ سے اور پھر فقط ابوداؤد میں آئی ہے۔ صحاح ستہ کی اور کسی کتاب میں نہیں ہے۔ جس پر مرزا قادیانی نے اپنی مجددیت کی تعمیر کی ہے اور معراج کی حدیث مختلف طریق سے کم از کم ٤٥ صحابہ کرامؓ سے مروی ہے اور پھر خاص کر حدیث کے طبقہ اولیٰ بخاری و مسلم وغیرہ میں جن کے متعلق مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ: ”اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں اپنی تائید دعویٰ میں کیوں بار بار ان کو پیش کرتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨٨٢، خزائن ج ٣ ص ٥٨٢)
آپ نے ہمارے استدلال کا معیار تو دیکھ لیا۔ اب ذرا مرزا قادیانی کا معیار بھی ملاحظہ فرمائیے۔ مرزا قادیانی اپنے مسیح موعود ہونے پر یوں استدلال کرتے ہیں کہ: ”کریم بخش روایت کرتے ہیں کہ گلاب شاہ مجذوب نے بیس برس پہلے مجھ کو یہ کہا تھا کہ عیسیٰ اب جوان ہو گیا ہے اور لدھیانہ میں آ کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)
گویا کریم بخش اور مجذوب گلاب شاہ کی بات تو مرزا قادیانی کے لئے قابل حجت ہے۔ مگر صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد کی روایات قابل قبول نہیں۔ پھر مزید لطف یہ ہے کہ کریم بخش کی تعدیل بہت سے گواہوں سے کی گئی ہے۔ جن میں خیراتی ، بوٹا ، کنہیا لال، مراری لال، روشن لال اور کنھیا مل وغیرہ ہیں اور ان کی گواہی یہ کہ کریم بخش کا کوئی جھوٹ کبھی ثابت نہ ہوا۔
آپ پڑھ چکے کہ حدیث معراج بہت سے صحابہ کرامؓ سے مروی ہے۔ اس کے تواتر
٢٧
معنوی کا انکار تو شاید کوئی مسلوب العقل اور اندھا ہی کرے گا۔ علاوہ بریں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”النصوص يحمل على ظواهر“ (ازالہ اوہام ص ٥٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠) کہ نصوص کو ظاہر معنی پر ہی حمل کیا جائے گا۔ یعنی بلاوجہ تاویل وغیرہ سے کام نہ لیا جائے گا اور حدیث معراج کا ایک ایک لفظ معراج جسمانی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧ ، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)
اور یہ مضمون مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں: ” میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٧٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩١)
تو لابدی ہے کہ یہ بھی الہام خداوندی ہوگا۔ اب دیکھئے مرزا قادیانی کے امتی قرآن کریم، حدیث شریف پر اگر یقین نہیں رکھتے تو کیا مرزا قادیانی کی بات مانتے ہیں یا نہیں۔
ہم تو قرآن کریم کی نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ اور امت کے اجماع و اتفاق کے پیش نظر اس امر پر یقین کامل رکھتے ہیں کہ مالک الملک نے جناب امام الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بیداری کی حالت میں صرف ایک ہی رات میں جسم عنصری مبارک کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے آسمان اوّل پھر دوم حتیٰ کہ آسمانِ ہفتم تک اور جنت وغیرہ تک۔ غرضیکہ جہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، سیر کرائی۔ اگر مرزا قادیانی اور ان کے اتباع کو اس کا یقین ہو تو فبہا، ورنہ وہ جانیں اور ان کا عقیدہ اور نظریہ۔ ہم تو پروردگار عالم اور آقائے نامدار ﷺ کے حکم صریح پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں اور کسی مومن کو بھلا یہ زیبا بھی کب ہے کہ کلمہ پڑھنے کے بعد اپنی مرضی سے زندگی بسر کرے۔ یا من مانے عقیدوں پر یقین رکھ کر فلاح اخروی کا مستحق ہو اور سب سے اہم بات ہی فلاح اخروی ہے۔ مگر افسوس کہ وہ اب ہے کہاں؟ ” الا ماشاء الله “
جو چیز کہ اب تیری نگاہوں میں نہیں ہے
تیسرا باب
قرآن کریم اور صحیح احادیث سے معراج جسمانی کا ثبوت پہلے گذر چکا ہے۔ اب
٢٨
معراج جسمانی کے متعلق جمہور اہل اسلام کا عقیدہ کرام اور جمہور سلف وخلف کا اس بات پر اتفاق عنصری کے ساتھ معراج کرائی گئی۔“
علامہ بغویؒ لکھتے ہیں کہ: ”اکثر کا فہم بیداری میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ معراج کرائی گئی
علامہ عینیؒ اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ کی حالت میں جسم اطہر کے ساتھ واقع ہوئی۔ جبکہ چکی تھی۔ یہی جمہور محدثین ، فقہاء اور متکلمین کا مذ ظاہر المعنی حدیثیں موجود ہیں۔“
علامہ سید محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں کہ: ” دونوں جناب رسول اللہ ﷺ کو حالت بیداری میں
امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ: ”حق بات تو محدثین اور متکلمین متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو کرائی گئی اور یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے۔ کیونکہ کی گئیں ہیں اور نماز کی فرضیت نبوت کے بعد ہو
علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں کہ: ”یہی جم عقیدہ ہے۔“
قاضی عیاضؒ جمہور کا مذہب بتلا حضرت ابن عباسؓ، حضرت جابرؓ، حضرت انسؓ حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابو حبة بدریؓ ہے اور یہی ضحاکؒ، سعید بن جبیرؒ، قتادہؒ، سعید ب ابراہیم نخعیؒ، مسروقؒ، مجاہدؒ، عکرمہؒ، ابن جریجؒ، امام اور مفسرین کا عقیدہ اور مذہب ہے۔
معراج جسمانی کے متعلق جمہور اہل اسلام کا عقیدہ سن لیجئے۔ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ: ”اکثر علماء کرام اور جمہور سلف وخلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ معراج کرائی گئی۔“
(تفسیر ج ٥ ص ١٤١، بدایہ ونہایہ ج ٣ ص ١١٣)
علامہ بغویؒ لکھتے ہیں کہ: ”اکثر کا مذہب یہی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو حالت بیداری میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ معراج کرائی گئی۔ اس پر بیشمار صحیح حدیثیں موجود ہیں۔“
(معالم ج ٥ ص ١٠٧)
علامہ عینیؒ اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ: ”اسراء اور معراج ایک ہی رات میں بیداری کی حالت میں جسم اطہر کے ساتھ واقع ہوئی۔ جبکہ جناب رسول اللہ ﷺ کو نبوت اور رسالت مل چکی تھی۔ یہی جمہور محدثین، فقہاء اور متکلمین کا مذہب ہے اور اس عقیدہ کی دلیل میں متعدد صحیح اور ظاہر المعنی حدیثیں موجود ہیں۔“
(عمدۃ القاری ج ٨ ص ٦٩، فتح الباری ج ٧ ص ١٧٠)
علامہ سید محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں کہ: ”اکثر علماء اس کے قائل ہیں کہ اسراء اور معراج دونوں جناب رسول اللہ ﷺ کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ کرائی گئی تھیں۔“
(روح المعانی ج ١٥ ص ٨)
امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ: ”حق بات تو یہ ہے کہ جس پر جمہور سلف اور متاخرین، فقہاء، محدثین اور متکلمین متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حالت بیداری میں جسم مبارک کے ساتھ معراج کرائی گئی اور یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے۔ کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ نمازیں معراج کی رات فرض کی گئیں ہیں اور نماز کی فرضیت نبوت کے بعد ہوئی ہے۔“
(نووی شرح مسلم ج ١ ص ٩١)
علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں کہ: ”یہی جمہور محدثین، متکلمین اور فقہاء کرام کا مذہب اور عقیدہ ہے۔“
(زرقانی شرح مواہب ج ٨ ص ٣٥٥)
قاضی عیاضؒ جمہور کا مذہب بتلاتے ہوئے بعض کا نام بھی لکھتے ہیں کہ یہی عقیدہ حضرت ابن عباسؓ، حضرت جابرؓ، حضرت انسؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوحبہ بدریؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت عائشہؓ کا مختار مذہب ہے اور یہی ضحاکؒ، سعید بن جبیرؒ، قتادہؒ، سعید بن المسیبؒ اور ابن شہابؒ، ابن زیدؒ، حسن بصریؒ، ابراہیم نخعیؒ، مسروقؒ، مجاہدؒ، عکرمہؒ، ابن جریجؒ، امام طبریؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور جمہور محدثین، متکلمین اور مفسرین کا عقیدہ اور مذہب ہے۔
(شفاء قاضی عیاض ص ٨٦)
٢٩
راقم کہتا ہے کہ کسی صحابی اور تابعی بلکہ کسی معتبر امام اور محدث سے صحیح سند اور صریح الفاظ کے ساتھ معراج جسمانی کا انکار ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایڑی چوٹی کا بھی زور لگا کر اگر ثابت کیا جائے تو محال ہے۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو آئے میدان میں ۔ ”فهل من مبارز“ جن اکابر سے اس کے خلاف منقول ہے۔ اس کا جواب عنقریب آتا ہے۔
جب یہ ثابت ہو گیا کہ جمہور سلف وخلف کا یہی مذہب ہے تو مرزا قادیانی کی بھی سنئے کہ: ”سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہیں اور ان کی شہادت آنے والی ذریت کو ماننا پڑتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٧٤، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣)
اب ہم مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات پیش کرتے ہیں۔ شاید کہ ان کے ماننے والوں کے لئے یہ عبارات سوہان روح ثابت ہو سکیں۔ ملاحظہ کریں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
- ١...... ”کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت کہ ”سبحان الذی
اسریٰ بعبده! معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے۔ جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا۔ ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے ۔“
(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ے، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)
- ٢...... نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ”ان معراج نبينا كما كان مكانيا
كذالك كان زمانيا ولا ينكره الا الذى فقد بصره وصار من العمين“ ہمارے نبی کریمﷺ کی معراج جس طرح مکانی تھی اسی طرح زمانی بھی تھی اور اس کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو دیدہ بصیرت سے محروم ہو۔
(خطبة الہامیہ ص ١٩٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٩٦)
- ٣...... ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ : ”فقد عرج رسول اللهﷺ
بجسمه الى السماء وهو يقظان لا شك فيه ولا ريب“ جناب نبی کریمﷺ کے لئے حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ معراج واقع ہوئی۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔
(حمامة البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢١٩)
اس عبارت کے آگے حضرت عائشہؓ وغیرھا کا حوالہ اس کے خلاف بھی دیتے ہیں۔ ہم اس کی بحث آئندہ عرض کریں گے ۔
٣٠
- ٤...... نیز مرزا قادیانی لکھے
کے بارے میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم ب تھے۔ تقریباً صحابہ کرامؓ کا یہی اعتقاد تھا۔ جیس اعتقاد رکھتے ہیں۔ یعنی جسم کے ساتھ اٹھائے عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہ صدیقہؓ کا نام نعوذ باللہ ملحدہ یا ضالہ نہیں رکھا ا کر پڑگئے ۔ اب اے منصفو ! اے حق کے ط میں ذرا ٹھہر جاؤ اور آہستگی اور تدبر سے غو ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا ای
ان تحریرات سے معلوم ہوا کہ م حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ م عقیدہ پر تقریباً تمام صحابہ کرامؓ اور صدر اوّل
اب یہاں ایک سوال پیدا ہو سو اس کا جواب خود مرزا قادیانی ہی سے سن
- ١...... ”اور صحابہ کرامؓ کا
- ٢...... ”فان المراد م
کرامؓ کا اجماع ہی مراد ہے۔“
- ٣...... ”یہ مسلم امر ہے ک
صرف اجماع صحابہؓ ہے۔“
مرزا قادیانی کی ان تحریرات کیونکہ ان کا اجماع کبھی بھی گمراہی پر ن صاحب کہہ دے کہ اگر چہ صحابہ کرامؓ کا
٤...... نیز مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مگر باوجودیکہ آنحضرت ﷺ کی رفع جسمی کے بارے میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے ساتھ شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً صحابہ کرامؓ کا یہی اعتقاد تھا۔ جیسا کہ مسیح کے اٹھائے جانے کی نسبت اس زمانہ کے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں۔ یعنی جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا۔ لیکن پھر بھی حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رؤیا صالحہ تھی اور کسی نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام نعوذ باللہ ملحدہ یا ضالہ نہیں رکھا اور نہ اجماع کے برخلاف بات کرنے سے ان میں ٹوٹ کر پڑ گئے۔ اب اے منصفو! اے حق کے طالبو! اے خدا تعالیٰ سے ڈرنے والے بندو! اس مقام میں ذرا ٹھہر جاؤ اور آہستگی اور تدبر سے خوب غور کرو کہ کیا ہمارے نبی ﷺ کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا ایسا عقیدہ نہیں جس پر صدر اول کا اجماع تھا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٤٧)
ان تحریرات سے معلوم ہوا کہ فی نفسہ مرزا قادیانی کو بھی یقین تھا کہ آنحضرت ﷺ کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ مکانی و زمانی دونوں طرح کی معراج کرائی گئی اور اسی عقیدہ پر تقریباً تمام صحابہ کرامؓ اور صدر اول کا اجماع تھا۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جماعت صحابہؓ کا اجماع کس پوزیشن کا ہوتا ہے؟ سو اس کا جواب خود مرزا قادیانی ہی سے سن لیجئے۔
١...... ”اور صحابہ کرامؓ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧١)
٢...... ”فان المراد من الاجماع اجماع الصحابۃ ! اجماع سے تو صحابہ کرامؓ کا اجماع ہی مراد ہے۔“
(اتمام الحجۃ ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٢٧٨)
٣...... ”یہ مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہو سکتی۔ شرعی حجت صرف اجماع صحابہؓ ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٢، خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)
مرزا قادیانی کی ان تحریرات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا اجماع حجت شرعی ہے۔ کیونکہ ان کا اجماع کبھی بھی گمراہی پر نہیں ہو سکتا۔ البتہ رائے صحابی حجت نہیں۔ ممکن ہے کوئی صاحب کہہ دے کہ اگرچہ صحابہ کرامؓ کا اپنی تحقیقات اور معلومات کی بناء پر آنحضرت ﷺ کے
٣١
معراج جسمانی پر اجماع ہو چکا تھا۔ لیکن اگر کسی وقت سائنس کی جدید تحقیقات اور نئے فلسفہ کے زور میں آ کر اس کے خلاف اجماع ہو جائے تو کیا خرابی ہے؟ اور ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ لیکن کیا کیا جائے کہ خود مرزا قادیانی ہی اس کی بھی ناکہ بندی کر چکے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص بعد صحابہ کرام کسی مسئلہ میں اجماع کا دعویٰ کرے وہ کذاب ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤)
اب کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ قرآن کریم، حدیث شریف اور اجماع صحابہ کرام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کذاب بنے؟ اور سلف سے روگردانی کرے۔ جو خلف کے لئے بطور وکیل کے تھے۔
”قد یصدق الکذوب“ کے قاعدہ کے پیش نظر مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بالکل بجا اور صحیح ہے کہ صحابہ کرام کے بعد اجماع کا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔ اس کا مطلب اس کے بغیر اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس مسئلہ پر قرآن کریم کی نصوص قطعیہ موجود ہوں اور متواتر حدیثیں بھی موجود ہوں اور لطف یہ ہے کہ اس پر صحابہ کرام کا اتفاق و اجماع بھی قائم ہو چکا ہو۔ اب اس کے خلاف کوئی اور متوازی اور متصادم عقیدہ اور نظریہ قائم کرنا کون سا ایمان ہے؟ اور اس میں فوز وفلاح کی کون سی صورت مضمر ہو سکتی ہے؟ ممکن ہے اس نظریہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ؎
چوتھا باب
ہم نے معراج جسمانی کے اثبات پر جو دلائل ہدیہ ناظرین کئے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کسی اور دلیل کی ضرورت تو محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کا ہر پہلو واضح سے واضح تر ہو جائے۔ اس لئے چند احادیث پیش کرنا قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
- ١...... آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حطیم میں تھا کہ معراج جسمانی کا
واقعہ سن کر مشرکین ہر طرف سے امڈ آئے اور انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ نشانیاں اور علامتیں پوچھیں ۔ مجھے وہ نشانیاں معلوم نہ تھیں۔ مجھے اس وقت اتنی پریشانی لاحق ہوئی کہ زندگی بھر کبھی ایسی پریشانی لاحق نہ ہوئی تھی۔ اتنے میں حق تعالیٰ نے اپنے خاص فضل وکرم سے بیت
٣٢
المقدس کا نقشہ میرے سامنے پیش کر دیا بتلاتا جاتا ۔ (بخاری ج ١ ص ٥٤٨، باب حد عوانہ ج ١ ص ١٣١)
اس روایت سے معلوم ہوا حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ب پوچھنا شروع کر دی۔ اگر یہ معاملہ خواب محسوس نہ ہوتی ۔ بلکہ جو کچھ سنا تھا اس پر
- ٢...... حضرت عائشہ
واپس تشریف لائے۔ اسی کی صبح کو آپ لوگ جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر کے پاس گئے اور کہنے لگے۔ کیا اب بھی گے۔ لیجئے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج ابوبکرؓ نے کہا کیا واقعی حضرت نے ایسا اس کو مانتا ہوں۔ لوگوں نے کہا اے اب بیت المقدس وغیرہ تک گئے اور صبح سے بیت المقدس سے دور کی باتوں کی تص فرماتے ہیں۔ ان کو میں صحیح اور حق جا ابوبکرؓ کا نام صدیق رکھا گیا۔
اس روایت سے ایک تو یہ کہ حضرت حالت بیداری میں بیت ال ایمان نہ تھا وہ کلمہ پڑھنے کے بعد بھی م صدیق کا لقب عطاء ہوا۔ اگر یہ معاملہ خواب کا معاملہ کون سا بڑا کارنامہ تھا ہوئی کہ حضرت عائشہؓ بھی معراج جسمان
المقدس کا نقشہ میرے سامنے پیش کر دیا۔ مخالف مجھ سے جو علامت پوچھتے جاتے ہیں۔ دیکھ کر بتلاتا جاتا۔ (بخاری ج ١ ص ٥٤٨، باب حدیث الاسراء، مسلم ج ١ ص ٩٦، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ، صحیح ابو
عوانہ ج ١ ص ١٣١)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ مشرکین کو یہی بات ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ آپ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے اور اس پر تعجب کرتے ہوئے مشرکین نے سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ اگر یہ معاملہ خواب یا کشف کا ہوتا تو مشرکین کو امتحان لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ بلکہ جو کچھ سنا تھا اس پر صاد کرتے اور اسی کو غنیمت سمجھ لیتے۔
- ٢...... حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جس رات آنحضرت ﷺ بیت المقدس جا کر
واپس تشریف لائے۔ اسی کی صبح کو آپ نے وہ واقعہ لوگوں سے بیان فرمایا۔ جس سے بہت سے لوگ جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر ہر طرح کی تصدیق کر چکے تھے مرتد ہو گئے۔ پھر کفار ابوبکرؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے۔ کیا اب بھی آپ اپنے رفیق یعنی جناب نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرو گے۔ لیجئے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج رات وہ بیت المقدس جا کر واپس بھی آ گئے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کیا واقعی حضرت نے ایسا فرمایا ہے؟ وہ کہنے لگے ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا تو میں اس کو مانتا ہوں۔ لوگوں نے کہا اے ابوبکرؓ کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس وغیرہ تک گئے اور صبح سے پہلے پھر واپس بھی آ گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا ہاں! میں تو بیت المقدس سے دور کی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی جو صبح و شام آسمان کی خبریں بیان فرماتے ہیں۔ ان کو میں صحیح اور حق جانتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اسی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کا نام صدیق رکھا گیا۔
(مستدرک ج ٣ ص ٦٣، قال الحاکم والذہبی صحیح)
اس روایت سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مشرکین کے ذہن نشین یہی کرایا گیا تھا کہ حضرت حالت بیداری میں بیت المقدس جا کر واپس تشریف لائے ہیں۔ جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا وہ کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شکوک اور شبہات میں مبتلا ہو کر مرتد ہو گئے اور حضرت ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب عطاء ہوا۔ اگر یہ معاملہ خواب کا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی؟ اور خواب کا معاملہ کون سا بڑا کارنامہ تھا کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق کہلائے؟ اور دوسری یہ بات ثابت ہوئی کہ حضرت عائشہؓ بھی معراج جسمانی کی قائل تھیں۔ ورنہ اس کی تصریح فرما دیتیں کہ یہ کفار نے
٣٤٣
بہتان باندھا ہے۔ وہ تو ایک خواب تھا۔ حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہم پہلے عرض کر چکے ہیں اور دوسری روایت یہ ہے اور یہ دونوں اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں۔
- ......٣ حضرت ام ہانیؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے واقعہ معراج
جب اہل مکہ کو سنایا تو مطعم نے کہا کہ اب تک آپ کا معاملہ ٹھیک تھا۔ سوائے اس بات کے جو اب کہہ رہے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹے ہو۔ (العیاذ باللہ ) ہم تو اگر بڑی تیزی سے بھی اونٹوں کو چلائیں تو کہیں دو مہینوں کے بعد بیت المقدس سے واپس آسکتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ میں ایک ہی رات میں جا کر واپس آ گیا۔ لات اور عزیٰ کی قسم ہے کہ میں تو ہرگز نہ مانوں گا۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٥ ص ١٤٩، فتح الباری ج ٧ ص ١٥١، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ١١١، خصائص الکبریٰ ج ١ ص ١٧٨)
اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ مطعم وغیرہ کو یہی سمجھایا گیا تھا کہ آپ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے اور یہ چیز اس کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی۔ اس لئے انہوں نے آپ کو معاذ اللہ جھوٹا بھی کہا اور قسم کھا کر پر زور الفاظ میں مخالفت بھی کی۔
- ......٤ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ بیت
المقدس وغیرہ سے واپس تشریف لائے تو ام ہانیؓ کو فرمانے لگے۔ مجھے یقین ہوا کہ اس واقعہ میں لوگ میری ضرور تکذیب کریں گے۔ اسی خیال سے غمگین ہو کر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے جب یہ واقعہ سنا تو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ کیا آپ رات بیت المقدس جا کر صبح پھر ہم لوگوں میں واپس آ گئے؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ ابو جہل نے لوگوں کو بلایا اور آنحضرت ﷺ سے کہنے لگا۔ ذرا ان کو بھی وہ واقعہ سنا دیں جو مجھ کو سنا رہے تھے۔ آپ نے وہ واقعہ سنایا۔ لوگوں نے کہا۔ کیا بیت المقدس سے آپ کی مراد ایلیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ یہ سنتے ہی لوگوں کی یہ کیفیت ہوئی کہ کوئی تالیاں بجانے لگا اور کسی نے تعجب سے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٥ ص ١٢٨، مسند احمد ج ١ ص ٣٠٩ ، خصائص الکبریٰ ج ١ ص ١٦٠ بسند صحیح )
اس روایت کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ واقعہ جسم عنصری اور بیداری کا تھا۔ اگر آنحضرت ﷺ اس واقعہ کے بیان کرنے پر مامور نہ ہوتے تو شاید آپ کفار کی تکذیب کے ڈر سے (العیاذ باللہ) اس کو بیان بھی نہ فرماتے اور اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ابو جہل وغیرہ کو مجمع اکٹھا کرنے اور واقعہ سن کر تعجب کرنے اور تالیاں بجانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کیونکہ
٣٤
خواب کے بارے میں اتنا ہنگامہ برپا کرنے کی
- ......٥ حضرت شداد بن اوس
تجارت شام کو گیا تھا اور وہ واپس آ رہا تھا کہ کو سلام کیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی آم بات کی گواہی بھی دی۔ نیز آنحضرت ﷺ بھی لوگوں کو بتائی تھی اور جب قافلہ آیا تو اہ نا قابل فراموش مضمون بھی ہے۔
”فاتانی ابوبکر فقال مکانک (شفا ص ٨٧، تفسیر ابن کثی کہ صبح کے وقت حضرت ابوبکرؓ میرے پا میں نے آپ کو آپ کے مکان پر تلاش بھی اس کے بعد آپ نے معراج
اسناد صحیح“ کہ اس کی سند صحیح ہے آپ کا سلام کہنا اور ان کا آپ کی آواز کو ان کا اہل مکہ سے اس کی شہادت دینا۔ نیز تلاش کرنا اور آپ کا وہاں موجود نہ رہنا اور واقعہ خواب اور کشف کا ہرگز نہ تھا۔ بلکہ جسما
خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم کی اور اجماع صحابہ کرامؓ اور سلف وخلف کا اجما ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی معراج کا واقعہ مبارک کا ایک بین اور روشن واقعہ تھا بص بعد کا ہر تمام مسلمان متفق رہے ہیں اور ب نکال سکا۔
ایک طرف یہ دلائل ملاحظہ دلائل ملاحظہ ہو
خواب کے بارے میں اتنا ہنگامہ برپا کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوسکتا۔
- .....٥..... حضرت شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ سے ایک قافلہ بغرض
تجارت شام کو گیا تھا اور وہ واپس آرہا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے براق پر سوار ہو کر جاتے وقت ان کو سلام کیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی آواز پہچان لی اور سن لی اور جب واپس مکہ آئے تو اس بات کی گواہی بھی دی۔ نیز آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ واپس ہو کر اس قافلہ کی ایک ایک علامت بھی لوگوں کو بتائی تھی اور جب قافلہ آیا تو انہوں نے اس کی تائید بھی کی تھی۔ اسی حدیث میں یہ ناقابل فراموش مضمون بھی ہے۔
”فاتانى ابوبكر فقال يا رسول الله اين كنت الليلة قد التمستك فى مكانك
(شفا ص ٨٧، تفسیر ابن کثیر ج ٥ ص ١٢٦، خصائص الكبرى ج ١ ص ١٥) “
﴿کہ صبح کے وقت حضرت ابوبکرؓ میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ حضرت آپ رات کہاں تھے؟ میں نے آپ کو آپ کے مکان پر تلاش بھی کیا۔﴾
اس کے بعد آپ نے معراج کا مفصل واقعہ بیان فرمایا۔ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں: ”ھذا اسناد صحیح “ کہ اس کی سند صحیح ہے۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قافلہ والوں کو پہچان کر آپ کا سلام کہنا اور ان کا آپ کی آواز کو پہچاننا اور پھر مکہ مکرمہ واپس ہو کر قافلہ کی علامتیں بتلانا اور ان کا اہل مکہ سے اس کی شہادت دینا۔ نیز حضرت ابوبکر صدیقؓ کا رات کے وقت آپ کو مکان پر تلاش کرنا اور آپ کا وہاں موجود نہ رہنا ان میں سے ایک ایک بات اس کو متعین کر رہی ہے کہ یہ واقعہ خواب اور کشف کا ہرگز نہ تھا۔ بلکہ جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری کا تھا۔
خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم کی پیش کردہ آیات اور مذکورۃ الصدر صحیح اور متواتر احادیث اور اجماع صحابہ کرامؓ اور سلف وخلف کا اتفاق اور خود مرزا قادیانی کی تحریرات اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی معراج کا واقعہ کوئی روحانی اور کشفی امر نہ تھا۔ بلکہ حالت بیداری میں جسم مبارک کا ایک بین اور روشن واقعہ تھا اور یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جس پر نسلاً بعد نسلٍ اور کابراً بعد کابر تمام مسلمان متفق رہے ہیں اور کوئی فرسودہ نیا اور پرانا فلسفہ ان کے ذہن سے اس کو نہیں نکال سکا۔
ایک طرف یہ دلائل ملاحظہ کریں اور دوسری طرف زمانہ حال کے منکر حدیث چوہدری
٣٥
غلام احمد صاحب پرویز کا عقیدہ اور نظریہ بھی ملاحظہ کریں۔ وہ لکھتے ہیں کہ: ”اگر آج سائنس کی کوئی ایجاد اس کا امکان بھی پیدا کردے کہ کوئی شخص روشنی کی رفتار سے مریخ یا چاند کے کروں تک پہنچ جائے اور پھر چند ثانیوں میں واپس بھی لوٹ آئے تو میں پھر بھی حضور ﷺ کے معراج جسمانی کو نہیں تسلیم کروں گا۔ اس لئے کہ میرے دعویٰ کی بنیاد ہی دوسری ہے اور وہ یہ ہے کہ جسمانی معراج سے یہ تصور کرنا لازم آتا ہے کہ خدا کسی خاص مقام پر موجود ہے اور میرے نزدیک خدا کے متعلق یہ تصور قرآن کی بنیادی تعلیم کے خلاف ہے۔“
(معارف القرآن ج ٣ ص ٤٤)
دیکھا آپ نے کہ آنحضرت ﷺ کے اسراء اور معراج جسمانی کا عقیدہ جو قرآن کریم، متواتر درجہ کی حدیثوں اور امت کے اجماع واتفاق سے ثابت ہے۔ پرویز صاحب اس کو تسلیم کرنے کے لئے سرے سے آمادہ ہی نہیں ہیں۔ پرویز صاحب ہی بتائیں کہ کیا قرآن کریم میں ”الرحمن علی العرش استویٰ“ (یہ الگ امر ہے کہ جیسا اس کی شان کے مناسب اور لائق استوار ہے وہی ہوگا) ”والیه یصعد الکلم الطیب“ اور ”ورافعك الیّ“ اور ”بل رفعه الله الیه“ وغیرہ وغیرہ آیات موجود ہیں؟ اور کیا ان سے یہ تصور لازم نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ کسی مخصوص مقام میں ہے؟ یا آپ ان کے بھی منکر ہیں؟ اور اگر ان کی کوئی صحیح تاویل آپ کے ذہن نارسا میں موجود ہے تو معراج کے واقعہ میں آپ کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟ چلئے اگر آپ کو معراج کا واقعہ سمجھ نہیں آتا اور آپ کا مغربیت زدہ اور ماؤف ذہن اس کو قبول نہیں کرتا تو واقعہ اسراء جو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ایک ہی رات میں پیش آیا تھا اس کو تو تسلیم کر لیتے۔ یا آپ کے نزدیک اس سے بھی مسجد اقصیٰ اللہ تعالیٰ کا رہائشی مکان ثابت ہوتا ہے؟ العیاذ باللہ!
سچ کہا گیا ہے کہ خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار! اصل بات تو صرف اتنی ہے کہ جملہ منکرین حدیث معراج وغیرہ معجزات کے قائل نہیں ہیں۔ مگر پہلے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا خلاف عقل سمجھا جاتا تھا۔ اس پر ایک عرصہ تک ان کی طرف سے یہ دلیل پیش ہوتی رہی۔ مگر آج جبکہ سائنس کی نئی نئی ایجادات نے اس کا امکان ثابت کر دیا کہ مریخ اور چاند تک کا سفر ممکن ہے اور اب تو صرف ممکن ہی نہیں۔ بلکہ روسی راکٹ نے چاند میں پہنچ کر اس میں جھنڈا نصب کر کے اس کا بالفعل وقوع بھی ثابت کر دیا ہے اور اب مشتری اور چاند تک کے سفر کی تیاریوں کے لئے سیٹیں ریزرو کرائی جارہی ہیں۔ تو پرویز صاحب کو معراج جسمانی کے رد کرنے کی اور دلیل سوجھی،
٣٦
مقصد صرف ایک ہے کہ معراج جسمانی ثابت ن دل فریبوں نے کہ ایک سے دس کہا اور مگر یہ بات تاہنوز پردہ راز میں ہ اتنا اور ایسا زور کیوں دیا ہے۔ وہ تو خیر سے مط کہ: ”نبی اکرم ﷺ کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گی
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قرآ زندہ معجزہ ہے۔ مگر پرویز صاحب کا یہ کہنا ک اور باطل ہے اور کس قدر خدا تعالیٰ اور اس ک اس سے بڑھ کر انکار وجحود کا اور کی کے ساتھ بیشمار معجزات صادر ہوئے ہیں۔ شق بقیہ معجزات کا ذکر کتب احادیث وسیر میں ب ہیں۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله“ اور اح کرنے والے اور داعی قرآن بھی ہیں۔ فوالل مذہب معلوم ن
ہم نے یہاں تک معراج جسمان معراج پر مرزا قادیانی کی کج بحثیوں اور م ہیں۔ بغور ملاحظہ فرمائیے۔
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی کا پہلا ب
”معراج کی حدیثوں میں شق جبرائیل آئے اور میرے سینے کو کھولا۔ پھر بھرا ہوا تھا۔ سو وہ میرے سینے میں ڈالا گی میں یہ نہیں لکھا کہ وہ طشت طلائی جو عین و
مقصد صرف ایک ہے کہ معراج جسمانی ثابت نہیں ہے۔ البتہ تعبیریں الگ الگ ہیں۔
ایک سے دن کہا اور دوسرے سے رات کہی
مگر یہ بات تاہنوز پردۂ راز میں ہے کہ پرویز صاحب نے معراج جسمانی کے انکار پر اتنا اور ایسا زور کیوں دیا ہے۔ وہ تو خیر سے مطلقاً معجزات ہی کے منکر ہیں۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں کہ: ”نبی اکرم ﷺ کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا اور حضور ﷺ کا معجزہ صرف قرآن ہی ہے۔“
(معارف القرآن ج ٣ ص ٢٤٥)
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قرآن کریم جناب امام الانبیاء خاتم النبیین ﷺ کا ایک زندہ معجزہ ہے۔ مگر پرویز صاحب کا یہ کہنا کہ آپ سے کوئی حسی معجزہ ہی صادر نہیں ہوا۔ کس قدر غلط اور باطل ہے اور کس قدر خدا تعالیٰ اور اس کے رسول برحق ﷺ کی کھلی تکذیب ہے۔ (العیاذ باللہ) اس سے بڑھ کر انکار وجحود کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے تواتر کے ساتھ بیشمار معجزات صادر ہوئے ہیں۔ شق القمر اور اسراء وغیرہ کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے اور بقیہ معجزات کا ذکر کتب احادیث وسیر میں مذکور ہے۔ مگر پرویز صاحب ان سب کا انکار کرتے ہیں۔ ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ اور لطف یہ ہے کہ وہ بزعم خود اسلام کے صحیح خدوخال کو واضح کرنے والے اور داعی قرآن بھی ہیں۔ فوا اسفا!
پانچواں باب
ہم نے یہاں تک معراج جسمانی پر مسلمانوں کے دلائل نقل کئے ہیں۔ اب ہم واقعہ معراج پر مرزا قادیانی کی کج بحثیوں اور موشگافیوں کو پیش کرکے ان کے جوابات عرض کرتے ہیں۔ بغور ملاحظہ فرمائیے۔
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی کا پہلا اعتراض
”معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض ہے۔ کسی حدیث میں ہے کہ چھت کو کھول کر جبرائیل آئے اور میرے سینے کو کھولا۔ پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا۔ جس میں حکمت اور ایمان بھرا ہوا تھا۔ سو وہ میرے سینے میں ڈالا گیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ مگر اس میں یہ نہیں لکھا کہ وہ طشت طلائی جو عین بیداری میں ملا تھا کیا ہوا اور کس کے حوالہ کیا گیا اور کسی
٣٧
حدیث میں آیا ہے کہ میں بیت اللہ کے پاس خواب اور بیداری کے درمیان میں تھا اور تین فرشتے آئے اور ایک جانور بھی لایا گیا اور کسی میں براق کا کوئی ذکر نہیں اور کسی میں ہے کہ میں حطیم میں تھا۔ یا حجر میں لیٹا ہوا تھا اور کسی میں ہے کہ بعثت کے پہلے یہ واقعہ ہوا اور بغیر براق کے آسمان پر گئے اور آخر میں آنکھ کھل گئی اور ان پانچ واقعات میں لکھا ہے کہ معراج کے وقت پہلے پچاس نمازیں مقرر ہوئیں اور بعد تخفیف پانچ منظور کرائیں اور ترتیب رؤیت انبیاء میں بڑا اختلاف ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٩٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦١٣)
جواب....... مرزا قادیانی نے نہایت لطیف پیرایہ میں حدیث سے ٹھٹھا کیا ہے کہ طشت طلائی کیا ہوا؟ خدا جانے یہ کس خیال پر مبنی ہے۔ وہ طشت تو جناب رسول اللہﷺ کو پہنچا ہی دیا گیا تھا۔ جس کی تلاش مرزا قادیانی کو ہے۔ وہ طشت جہاں سے لایا گیا تھا وہاں پہنچا دیا گیا ہوگا۔
١؎ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور ایک ایسا فرقہ بھی نکلا ہے جو آنحضرتﷺ کی سنن ماثورہ پر ٹھٹھا مارتا ہے اور ہنسی کرتا ہے اور تمام احادیث کو ردیات کا ذخیرہ سمجھتا ہے اور آنحضرتﷺ کو اتنی بھی عزت نہیں دیتا کہ وہ فہم قرآن میں دوسروں سے بڑھ کر ہوں۔“ (چشمہ معرفت ص ٣١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٥) راقم الحروف کہتا ہے کہ اوّلاً اس کا مصداق خود مرزا قادیانی اور ان کے امتی ہیں اور اس کے بعد دیگر منکرین حدیث۔ مرزا قادیانی کا حال تو آپ نے دیکھ ہی لیا۔ اب امتیوں کا حال بھی ذرا سن لیجئے۔ جب مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کو پیش کرتے ہیں تو مرزائی دوست کہا کرتے ہیں کہ وہ وہاں کیا کھاتے اور کیا پیتے ہوں گے؟ وہاں پیشاب اور پاخانہ کہاں پھرتے ہوں گے؟ استنجا کہاں کرتے ہوں گے؟ کون سی نماز پڑھتے ہوں گے؟ اسرائیلی یا محمدی؟ اگر اسرائیلی نماز پڑھتے ہیں تو منسوخ شریعت پر کیسے عمل کرتے ہیں؟ اور اگر محمدی نماز پڑھتے ہیں تو وہ ان کو کس نے بتلائی؟ آنحضرتﷺ نے بتلائی تو وہ کب؟ اور اگر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتلائی۔ تو معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر بھی جدید وحی نازل ہوتی ہے۔ نیز وہ زکوٰۃ کس چیز کی اور کس کو دیتے ہوں گے؟ کس قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بڑھ کر احادیث صحیحہ اور متواترہ سے اور کیا ٹھٹھا اور ہنسی ہو سکتی ہے؟ مرزا قادیانی کا اپنا قول ان کے لئے حجت ہے۔
٣٨
مرزا قادیانی کا مرکزی اعتراض یہ ہے کہ چونکہ روایات میں اختلاف ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اصل واقعہ ہی پیش نہیں آیا۔ لیکن راقم الحروف کہتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کے اس قاعدہ کو سامنے رکھا جائے تو اسلام کے اصول اور بنیادی مسائل کا ثابت ہونا بھی محال ہے۔ مثال کے طور پر آنحضرت ﷺ کی بعثت لیجئے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ کی عمر مبارک چالیس سال کی تھی کہ آپ کو نبوت ملی۔
(بخاری ج ١ ص ٥٠٢، باب صفۃ النبی ﷺ)
اور ایک روایت میں ہے کہ چالیس سال چھ مہینے اور آٹھ دن کے بعد ملی۔
(تاریخ الامم الاسلامی محمد خضری ج ١ ص ١٠٤)
اور بعض روایات میں ایک دن کی زیادتی اور بعض میں دس دن کی اور بعض میں دو مہینے کی اور بعض میں تین سال کی اور کسی میں پانچ سال کی زیادتی مذکور ہے۔
(افادۃ الافہام ج ٢ ص ٢٢٣)
یا مثال کے طور پر آپ کی ہجرت کو لے لیجئے۔ ایک روایت آتی ہے کہ نبوت کے بعد تیرھویں سال ہجرت واقع ہوئی۔
(بخاری ج ١ ص ٥٥٢، باب ہجرۃ النبی ﷺ، مسلم ج ٢ ص ٢٦٠، باب قدر عمرہ ﷺ واقامتہ بمکۃ والمدینۃ)
اور دوسری جگہ روایت میں آتا ہے کہ بعثت کے بعد دس سال گزرے تھے کہ ہجرت ہوئی۔
(بخاری ج ١ ص ٥٠٢، باب صفۃ النبی ﷺ، مسلم ج ٢ ص ٢٦٠، باب قدر عمرہ ﷺ واقامتہ بمکۃ والمدینۃ)
یا مثال کے طور پر آپ کی وفات کو لیجئے۔ ایک روایت آتی ہے کہ پینسٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔
(مسلم ج ٢ ص ٢٦١، باب قدر عمرہ ﷺ واقامتہ بمکۃ والمدینۃ، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٦،
باب ما جاء فی سن النبی ﷺ وابن کم کان حین مات)
اور ایک روایت میں تریسٹھ کا ذکر ہے۔
(مسلم ج ٢ ص ٢٦٠، باب قدر عمرہ ﷺ واقامتہ بمکۃ
والمدینۃ، ترمذی ج ٢ ص ٢٠٣، باب ما جاء فی مبعث النبی ﷺ وابن کم کان حین بعث)
اور ایک روایت آتی ہے کہ آپ کی ساٹھ سال عمر تھی کہ آپ کی وفات ہوئی۔
(موطا امام مالک ص ٣٦٨)
تو کیا ان اختلافات کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ العیاذ باللہ! نہ تو آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور نہ ہجرت اور نہ ہی آپ کی وفات ہوئی۔ وعلیٰ ہذا القیاس!
مرزا قادیانی کے اس قاعدہ اور ان جزئی سوالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نماز، روزہ،
٣٩
حج، زکوٰۃ وغیرہ اہم مسائل کا اثبات تقریباً محال ہے۔ کیونکہ نماز جیسی اہم عبادت میں بھی بیسیوں اختلاف ہیں۔ تو مرزا قادیانی کے اصول سے ثابت ہوا کہ نماز کا حکم بھی اسلام نے کبھی نہیں دیا۔ اگر دیا ہوتا تو اس میں اختلاف نہ ہوتا۔ (عیاذ باللہ) مرزا قادیانی نے ایک ایسا قاعدہ اور ایٹم بم ایجاد کیا کہ اسلام کا ایک ایک حکم ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیا خوب؟
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں وہ آری بھی دیکھ
خیر یہ تو احادیث کا اختلاف تھا۔ اگر مرزا قادیانی قرآن کریم کی طرف توجہ کرتے تو ایسے اختلاف کی وجہ سے خدا جانے کیا وہ فتویٰ صادر فرماتے۔ صرف ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ہی دیکھ لیجئے۔ کہیں ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا گیا۔ ”ثم بعثنا من بعدهم موسى بآياتنا الى فرعون وملائه (اعراف: ١٠٣)“ اور کہیں ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صرف قوم فرعون کی طرف بھیجا۔ ”واذ نادى ربك موسى ان ائت القوم الظلمين قوم فرعون (الشعراء: ١٠، ١١)“ اور کہیں ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو انہی کی قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا۔ ”ولقد ارسلنا موسى بآياتنا ان اخرج قومك من الظلمت الى النور (ابراهيم: ٥)“ اور کہیں ارشاد ہوتا ہے۔ موسیٰ اور ہارون دونوں کو بھیجا۔ ”فأتياه فقولا انا رسولا ربك (طہ: ٤٧)“ اور کہیں آتا ہے کہ صرف موسیٰ کو بھیجا۔ ”واذ نادى ربك موسى ان ائت القوم الظلمين (الشعراء: ١٠)“ اور کہیں ارشاد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے جادوگروں کو کہا۔ ڈالو جو ڈالنا ہے۔ ”قال لهم موسى القوا ما انتم ملقون (یونس: ٨٠)“ اور کہیں آتا ہے کہ جادوگروں نے پہلے یہ تحریک پیش کی تھی۔ ”قالوا يموسى اما ان تلقى واما ان نكون نحن الملقين (اعراف: ١١٥)“ اور کہیں آتا ہے کہ پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔ ”ثم اغرقنا الاخرین (الشعراء: ٦٦)“ اور کہیں آتا ہے کہ ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ ”فاخذناه وجنوده فنبذناهم فى اليم (القصص: ٤٠)“ اور اس کی نظیریں اور بھی قرآن کریم میں بکثرت ہیں تو کیا کسی مسلمان کو اس کی گنجائش ہے کہ وہ قوم فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ اور قصہ کا ہی انکار کر دے اور
٤٠
دلیل مرزا قادیانی کی پیش کرے کہ چونکہ واقعہ میں اختلاف ہے۔ کہیں کوئی چیز بیان سے چھوٹ گئی ہے اور کہیں دوسری جگہ کوئی اور چیز رہ گئی ہے۔ مگر حاشا و کلا کہ کسی مسلمان کے دل پر اس اختلاف کا کچھ بھی اثر ہو۔ ادنیٰ تامل سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ شارع کو واقعات نگاری اور کہانی بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا کہ جب بیان کی جائے پوری بیان کی جائے۔ بلکہ وہاں ہر بیان میں ایک مقصود خاص پیش نظر ہوتا ہے۔ پھر متعدد بیانوں سے پورا قصہ بھی معلوم ہو جایا کرتا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں متعدد اور متفرق امور مربوط اور مرتب کئے جا سکتے ہیں۔ معراج میں بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت سے چھت کھول کر حضرت کے مکان میں فرشتوں کو اتارا ہو اور پھر چھت کو ملا دیا ہو۔ جس سے ظاہر ایک مصلحت یہ بھی ہو کہ اجسام کے خرق والتیام کا پہلے ہی سے حضرت کو مشاہدہ ہو جائے اور شق صدر کے وقت کسی قسم کا تردد نہ ہو۔ ہر آسمانوں کے خرق والتیام کا استبعاد بھی جاتا رہے۔ کیا یہ محال ہے کہ فرشتوں نے حضرت کو گھر سے اٹھا کر مسجد میں اس غرض سے لایا ہو کہ معراج کی ابتداء اس متبرک مقام سے ہو اور رات کا وقت ہونے کی وجہ سے حضرت پر غنودگی طاری ہو گئی ہو اور پھر وقت مقرر پر آپؐ کو بیدار کر کے جہاں تک منظور تھا لے جایا گیا ہو اور قبل بعثت کے الفاظ شریک راوی کے علاوہ اور کسی نے پیش نہیں کئے اور جمہور نے ان کی تغلیط بیان کر دی ہے اور اس کے قرائن بھی موجود ہیں کہ قبل ہجرت کے جملہ کو راوی نے غلطی سے قبل بعثت سے تعبیر کر دیا ہے۔ باقی خواب اور بیداری کا واقعہ بھی بڑی آسانی سے طے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسمانی معراج سے قبل آپ کو بذریعہ خواب سارا واقعہ بتلا دیا ہو۔ جیسے ہجرت سے پہلے خواب میں مقام ہجرت بتلایا گیا کہ وہاں کثرت سے درخت ہوں گے۔ (بخاری ج ١ ص ٥٥١، باب ہجرت النبی ﷺ ) یا جیسے حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح سے پہلے ہی ان کے ساتھ نکاح کا تعلق بذریعہ خواب بتلایا گیا۔
(مشکوۃ ص ٥٧٤، باب مناقب ازواج النبی ﷺ )
اسی طرح یہاں بھی ممکن ہے اور شیخ ابن عربی کی عبارت سے یہ مسئلہ اور بھی واضح ہو جائے گا جو عنقریب بیان ہو گی۔ الغرض مرزا قادیانی کا یہ اعتراض بالکل قابل التفات نہیں اور علمی میدان میں اس کی حیثیت پرکاہ کی بھی نہیں ہے۔
خود اپنا ضعف نظر پردۂ بہار ہوا
٤١
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی کا دوسرا اعتراض
کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ”ما فقدت جسد رسول اللہﷺ“ کہ میں نے معراج کی رات آنحضرتﷺ کے جسم کو مفقود نہیں پایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معراج جسمانی نہ تھی بلکہ روحانی تھی۔
جواب ...... یہ روایت چند وجوہ سے مردود ہے۔
اول ...... اس کی سند کا مرکزی راوی محمد بن اسحاق ہے۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیر ج ٥ ص ١٤٢، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ١١٤) امام دارقطنیؒ کہتے ہیں۔ اس سے احتجاج صحیح نہیں۔ سلیمان تیمیؒ کہتے تھے کہ وہ کذاب تھا۔ ہشام بن عروہ بھی اس کو کذاب کہتے تھے۔ یحییٰ بن سعید فرماتے تھے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ کذاب تھا۔ (میزان الاعتدال ج ٣ ص ٢١) امام مالکؒ فرماتے تھے کہ وہ دجالوں میں کا ایک دجال تھا۔ (تہذیب التہذیب ج ١ ص ٤١) علامہ ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ جب وہ حلال اور حرام میں تنہا روایت پیش کرے تو حجت نہیں۔ (تذکرہ ج ١ ص ١٦٣، درایہ ص ١٩٣) علامہ خطیبؒ لکھتے ہیں کہ وہ مجہول روات سے باطل روایات نقل کیا کرتا تھا۔
(تاریخ بغدادی ج ١ ص ٢٢٧)
دوم ...... اس روایت میں محمد بن اسحاق یوں روایت کرتا ہے۔ ”حدثنی بعض آل ابی بکر“ کہ خاندان ابوبکر سے مجھ سے کسی نے روایت بیان کی۔ معلوم نہیں کہ وہ بعض کون اور کیسے تھے؟ ثقہ، ثقہ یا ضعیف؟ متقی تھے یا فاسق۔ تو اس روایت میں مجہول راوی بھی محمد بن اسحاق کے ساتھ مل گئے اور علامہ خطیبؒ کا ارشاد صحیح ہوا کہ وہ مجہول روات سے مجہول روایات نقل کرتا تھا۔
سوم ...... حضرت عائشہؓ کی طرف جو ”ما فقدت“ وغیرہ کے الفاظ منسوب کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں۔ کیونکہ معراج کے وقت حضرت عائشہؓ کا آنحضرتﷺ سے عقد نہیں ہوا تھا۔ بلکہ کیا بعید ہے کہ ان کی ولادت بھی نہ ہوئی ہو۔
(شفا قاضی عیاض ص ٨٩)
چہارم ...... اس مذکورہ حدیث کی محدثین تضعیف کرتے ہیں۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ (شفا ص ٨٩) اسی طرح علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں۔ (روح المعانی ج ١٥ ص ٧) علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں۔ اس حدیث کی سند میں انقطاع ہے اور راوی مجہول ہے اور ابن دحیہؒ نے تنویر میں لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے۔ کسی نے صحیح حدیث رد کرنے کی غرض سے اسے بنایا ہے۔
(بحوالہ شرح مواہب ج ٦ ص ٤)
٤٢
پنجم ...... پہلے بحوالہ مسند وغیرہ بھی گزر چکی ہے کہ ان کا اکثر دنگا جھگڑا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں ک النبیؐ کے پاس آپ نے حضرت جبرا جسمانی اور باطنی کا جھگڑا اسی صورت م
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی و غی
کہ حضرت امیر معاویہؓ سے
جواب ...... حضرت امیر ہے۔
اول ...... اس روایت ک چکے ہیں۔
دوم ...... محمد بن اسحا کے طریق سے بیان کرتا ہے اور وہ صحابہ کرامؓ میں سے صرف حضرت س
(تقریب ص ١٣٨، تہذیب ج ١١ ص ٣٩٢)
سوم ...... حضرت امیر رؤيا من الله صادقة (ابن کثی اللہ کی طرف سے سچا دکھاوا تھا۔ لفظ رو نہیں۔ بلکہ اگر غور اور انصاف سے کام
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی و غ
کہ امام حسن بصریؒ معراج
جواب ...... ہم بحوالہ شفا نقل کر چکے ہیں کہ وہ بھی معراج جسما
پنجم...... پہلے بحوالہ مستدرک حضرت عائشہؓ کی حدیث گذر چکی ہے اور بحوالہ مسلم وغیرہ بھی گذر چکی ہے کہ ان کا اکثر دیگر صحابہ کرامؓ کے ساتھ معراج کی رات رؤیتِ خداوندی میں جھگڑا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ آپ نے خدا تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ بلکہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس آپ نے حضرت جبرائیل کو اصل شکل میں دیکھا تھا۔ تو ان صحابہ کرامؓ سے رویتِ جسمانی اور باطنی کا جھگڑا اسی صورت میں صحیح ہوسکتا ہے جب کہ معراج جسمانی ثابت ہو۔
(شفا قاضی عیاض ص ٨٩)
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی وغیرہ کا تیسرا اعتراض
کہ حضرت امیر معاویہؓ سے بھی معراج جسمانی کا انکار منقول ہے۔
جواب...... حضرت امیر معاویہؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت چند وجوہ سے باطل ہے۔
اوّل...... اس روایت کی سند میں وہی محمد بن اسحاق ہے۔ جس پر جرح ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔
دوم...... محمد بن اسحاق اس روایت کو یعقوب بن عتبہ بن المغیرہ (المتوفی ٩١ھ) کے طریق سے بیان کرتا ہے اور وہ حضرت معاویہؓ (المتوفی ٦٠ھ) سے، حالانکہ یعقوب مذکور کو صحابہ کرامؓ میں سے صرف حضرت سائب بن یزید (المتوفی ٩١ھ) کی رویت نصیب ہوئی ہے۔ (تقریب ص ١٢٨، تہذیب ج ١١ ص ٣٩٢) تو یہ حدیث محدثین کی اصطلاح میں منقطع ہے۔
سوم...... حضرت امیر معاویہؓ سے جو الفاظ منقول ہیں۔ وہ یہ ہیں: ”قال كانت رؤيا من الله صادقة (ابن کثیر ج ٥ ص ١٤٢، البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ١١٤)“ معراج اللہ کی طرف سے سچا دکھاوا تھا۔ لفظ رؤیا سے یہ کیونکر سمجھ لیا گیا کہ یہ رویت کے انکار پر نص قطعی بھی نہیں۔ بلکہ اگر غور اور انصاف سے کام لیا جائے تو معراج جسمانی کے مؤید ہیں۔
واقعہ معراج پر مرزا قادیانی وغیرہ کا چوتھا اعتراض
کہ امام حسن بصریؒ معراج جسمانی کے منکر تھے۔
جواب...... ہم بحوالہ شفا قاضی عیاضؒ جمہور کے مذہب میں حسن بصریؒ کا مذہب بھی نقل کر چکے ہیں کہ وہ بھی معراج جسمانی کے قائل تھے۔
٤٣
واقعہ معراج پر پانچواں اعتراض
کہ شیخ محی الدین ابن عربی معراج جسمانی کے منکر تھے۔
جواب...... شیخ صاحب معراج جسمانی کے قائل تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”ان الاسراء كان بجسده ﷺ (فتوحات مکیہ باب ٣١٤) ”کہ معراج جسم عنصری کے ساتھ ہوئی۔ بلکہ وہ تو لکھتے ہیں کہ معراج چونتیس بار واقع ہوئی۔ ”واحدة بجسده والباقی بروحه (افاضۃ الافہام بحوالہ روح البیان ج ٢ ص ٢٢٤) ”ایک دفعہ جسم سے اور باقی روح کے ساتھ۔
واقعہ معراج پر چھٹا اعتراض
کہ ”بعض ازواج مطہرات وکثیر من الصحابہ کہتے تھے کہ آپ کا جسم بستر سے غائب نہیں ہوا تھا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، خزائن ج ٧ ص ٢١٩)
جواب...... ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہؓ کے قول کی حقیقت پڑھ چکے ہیں۔ باقی کسی ایک صحابی سے بھی بسند صحیح معراج جسمانی کے انکار پر ایک بھی روایت پیش نہیں کی جاسکتی۔ تمام مرزائی طبع آزمائی کر دیکھیں۔ یہ میدان بڑا وسیع ہے۔ ”فهل من مبارز“
اور حضرت عائشہؓ کے علاوہ باقرار مرزا قادیانی تقریباً تمام صحابہؓ کا مذہب اور عقیدہ اور صدر اوّل کا اجماع پہلے گزر چکا ہے اور حضرت عائشہؓ کی روایت کا بھی حال آپ کو معلوم ہو چکا ہے۔ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی کثیر من الصحابہؓ بول کر ستم ظریفی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ تو سب ان کے خلاف ہیں۔
واقعہ معراج پر ساتواں اعتراض
کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی معراج جسمانی کے منکر تھے۔
جواب...... حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ”واسرى به الى المسجد الاقصى ثم الى سدرة المنتهى والى ماشاء الله وكل ذالك بجسده ﷺ فى اليقظة لكن ذالك فى موطن هو برزخ بين المثال والشهادة جامع لاحكامهما فظهر على
٤٤
الجسد أحكام الروح وتمثل الروح والمعاني الروحية أجساداً ولذالك بان لكل واقعة من تلك الوقائع تعبيراً (حجة الله البالغه ج ٢ ص ٦٠، باب نبی ﷺ کی عادات وخصلتیں) ”جناب نبی کریم ﷺ کو مسجد اقصیٰ تک پھر سدرۃ المنتہیٰ تک اور جہاں تک خدا نے چاہا سیر کرائی۔ یہ سب کچھ جسم کے ساتھ بیداری میں تھا۔ لیکن یہ ایک ایسے مقام میں تھا جو مثال اور شہادت کے درمیان برزخ ہے اور ہر دو عالم مذکورہ کے احکام کا جامع ہوتا ہے۔ پس جسم پر روح کے آثار ظاہر ہوئے اور روح اور معانی نے جسمیت قبول کر کے تمثل اختیار کیا۔ اسی لئے ان واقعات میں سے ہر واقعہ کی ایک حقیقت ہے۔“
حضرت شاہ صاحب نے آنحضرت ﷺ کی حالت بیداری میں معراج جسمانی کا صاف طور پر اقرار واثبات کر کے آگے اپنے رنگ میں تین اور چیزیں حل فرمائی ہیں۔
- ١...... کہ بھلائی اور برائی کا منبع روح ہے۔ جسم خاکی اس کے تابع ہے۔ جس کی روحانیت اعلیٰ درجہ کی ہو۔ اس کے جسم پر روح کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور ملا اعلیٰ کے ساتھ اس کو خاص نسبت ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کسی کی روحانیت اعلیٰ نہیں ہو سکتی اور ارواح کا عالم بالا کی طرف جانا عقل اور نقل سے ثابت ہے۔ گویا آپ کا خاکی بدن مبارک روح کے مقابلہ میں مغلوب تھا اور اس جسم پر بھی روح کے آثار طاری تھے۔ لہٰذا سراپا روحانیت کے مجسمہ کا جسم مبارک کے ساتھ آسمانوں پر جانا کیوں صحیح نہیں ہے؟ حضرت شاہ صاحب کی عبارت میں ”فظهر علی الجسد احكام الروح “ کا یہی مطلب ہے۔ چنانچہ علامہ الطیبی الحنفی المتوفی ٧٤٣ھ بھی ارواح کے کمال پر بحث کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں کہ : ”والرابع التی حصل لها کمال القوتین وهذه غایة الارواح البشریة وهی الانبیاء والصدیقین فلما ازداد قوة ارواحهم ازداد ارتفاع ابدانهم عن الارض ولهذا کان الانبیاء صلوات الله علیهم قویت لهم هذه الارواح عرج بهم الی السماء واکملهم قوة نبینا صلوات الله وسلامه علیه فعرج به الی قاب قوسین وادنیٰ (طیبی شرح مشکوۃ ج ٤ ص ٣٨٦ قلمی) ”چوتھی قسم ان ارواح کی ہے۔ جن کو قوت علمی اور عملی دونوں میں کمال حاصل ہو اور یہ بشری ارواح کا انتہائی کمال ہے اور یہ انبیاء کرام اور صدیقین کی ارواح ہیں۔ کیونکہ جب ان کی قوت روحانی غالب آگئی تو ان کے ابدان واجسام میں زمین سے مرتفع
٤٥
ہونے کی طاقت بھی بڑھ گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب انبیاء کرام کی روحانیت غالب آگئی تو ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور آنحضرت ﷺ کی قوت روحانی، جب ان سب سے زیادہ تھی تو آپ کو قاب قوسین یا اس سے بھی قریب تر مقام تک اٹھایا گیا۔ ﴿
علامہ طیبیؒ اور حضرت شاہ صاحبؒ کے علاوہ بھی متعدد علماء کرام نے اس مسئلہ پر مبسوط بحث کی ہے۔ مگر ہمارا مقصد اپنے دعویٰ کو مبرہن کرنا ہے۔ تمام دلائل کا استیعاب ہمارا مقصود نہیں ہے۔
- .......٢ اس مسئلہ میں سلف کا اختلاف ہے۔ بعض یہ لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ
کی جو ملاقات دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ہوئی اور نیز آپ نے ان کو جو نماز پڑھائی تو یہ ملاقات وغیرہ ان کے ابدان اور اجسام مبارکہ کے ساتھ ہوئی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ان کی ارواح طیبہ نے ان کی صورتیں اور شکلیں اختیار کر لی تھیں اور ارواح پر اجسام کی جملہ کیفیات اور حالات طاری ہو گئے تھے۔
چنانچہ علامہ آلوسیؒ (المتوفی ١٢٧٠ھ) لکھتے ہیں کہ: ”وهل صلى بارواحهم او بها الاجساد فيه خلاف (روح المعانى ج ١٥ ص ١٢) ”کیا آپ نے انبیاء کی ارواح کو نماز پڑھائی تھی یا ان کے اجساد کو؟ اس میں اختلاف ہے۔﴿
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی ٨٥٢ھ)، علامہ بدرالدین عینیؒ (المتوفی ٨٥٥ھ) اور خطیب قسطلانیؒ (المتوفی ٩٢٣ھ) اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔” واللفظ للاول بان ارواحهم تشكلت بصور اجسادهم او حضرت اجسادهم ملاقاة النبى ﷺ تلك الليلة تشريفاً وتكريماً ويؤيده حديث عبدالرحمن بن هاشم عن انس ففيه وابعث له آدم فمن دونه من الانبياء فامهم (فتح البارى ج ٧ ص ١٦٢، عمدة القاری ج ٨ ص ٨٦، ارشاد الساری ج ٦ ص ١٦٧) ”ان کی ارواح ان کے جسموں کی صورت میں متشکل ہوگئی تھیں۔ یا ان کے اجساد کو اس رات آنحضرت ﷺ کے شرف ملاقات اور تکریم کے لئے کھڑا کر دیا گیا تھا اور اس قول کی تائید حضرت عبدالرحمن بن ہاشم کی روایت سے ہوتی ہے جو حضرت انسؓ سے (مرفوعاً) مروی ہے۔ جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لئے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو (اجساد کے ساتھ) کھڑا کیا گیا تھا۔ جن کو آپ نے امامت کروائی۔ ﴿
٤٦
اکابرین علماء دیوبند میں سے ١٣٦٩ھ) نے حافظ صاحبؒ کی مذکورہ عبارت
اور علامہ محمد طاہر الپٹنیؒ (المتوفی ٩ تشریف لے گئے تو ”فاذا بآدم عليه الـ عيسىٰ عليه السلام او لقاء الاجساد علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انبیاء کرام علیہم الـ ہوئی۔ بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ کیونکہ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ﴿
اور حضرت شیخ عبدالحقؒ محدث دہـ ”فاممتهم“ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ در بیت المقدس بود۔ بعد ازاں ایشاں را بر آسماں ساختند مگر عیسیٰ و ادریس علیہما السلام کہ بر آسمان انـ
اور مولانا نواب قطب الدین خانؒ کہ ان کی ارواحوں نے پڑھی۔ کیونکہ اوپر گذر پاس اور اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ زمین پر یہ کـ اور ارواحیں کہ لطیف ہیں نہ کثیف۔ پس نہیں ہیں بوجہ کمال قدرت ذوالجلال کے۔
اور یہ نماز حسب تصریح علامہ سراج تھی۔ (فتاویٰ سراجیہ ص ٤٢) اور اس میں تمام انبیاء
کہ حافظ ابن کثیرؒ (المتوفی ٧٧٤ھ) رقمطراز ہیں (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢) ”سب کے ہوئے تھے اور آپ نے ان کو امامت کرائی تھی۔ بـ
اور نظر بظاہر حضرت شاہ صاحبؒ بھی ا کی معراج کی رات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام
اکابرین علماء دیوبند میں سے حضرت مولانا شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی (المتوفی ١٣٦٩ھ) نے حافظ صاحب کی مذکورہ عبارت نقل کر کے اس سے استدلال واحتجاج کیا ہے۔
(فتح الملہم ج ١ ص ٤٢٥)
اور علامہ محمد طاہر پٹنی (المتوفی ٩٨٦ھ) لکھتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو "فاذا بآدم عليه السلام لقاء الانبياء اما للارواح في غير عيسى عليه السلام او لقاء الاجساد (مجمع البحار ج ١ ص ٢١) " حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انبیاء کرام علیہم السلام سے آپ کی یہ ملاقات یا تو ان کی ارواح سے ہوئی۔ بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ کیونکہ وہ تو بنفس نفیس زندہ ہیں اور یا ان کے اجسام واجساد کے ساتھ ملاقات ہوئی۔
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (المتوفی ١٠٥٢ھ) حدیث معراج میں لفظ "فاممتہم" کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: "پس امامت کردم من انبیاء را و ایں امامت بہ انبیاء در بیت المقدس بود۔ بعد ازاں ایشاں را بر آسمان بردند یا ارواح ایشاں را در آسماں ممثل و متشکل ساختند مگر عیسیٰ و ادریس علیہما السلام کہ بر آسمان اند۔ واللہ تعالیٰ اعلم!"
(اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٢٩٥)
اور مولانا نواب قطب الدین خاں (المتوفی ١٢٨٩ھ) لکھتے ہیں کہ پس احتمال رکھتا ہے کہ ان کی ارواحوں نے پڑھی۔ کیونکہ اوپر گزر ہی چکا ہے کہ انبیاء زندہ ہیں۔ اپنے پروردگار کے پاس اور اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ زمین پر یہ کہ کھائے ان کے گوشتوں کو پھر بدن ان کے مانند اور ارواحوں کے لطیف ہیں نہ کثیف۔ پس نہیں ہے مانع ان کے ظہور کے لئے عالم ملک وملکوت میں بوجہ کمال قدرت ذوالجلال سے۔
(مظاہر حق ج ٣ ص ٤٩٣)
اور یہ نماز حسب تصریح علامہ سراج الدین نجفی (المتوفی فی حدود ٧٠٠ھ) نفلی نماز تھی۔ (فتاویٰ سراجیہ ص ٤٢) اور اس میں تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام حاضر ہوئے تھے۔ جیسا کہ حافظ ابن کثیر (المتوفی ٧٧٤ھ) رقمطراز ہیں کہ: "ولهذا جمعوا له هناك كلهم فامهم (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢)" سب کے سب انبیاء کرام علیہم السلام وہاں آپ کے لئے جمع ہوئے تھے اور آپ نے ان کو امامت کرائی تھی۔
اور نظر بظاہر حضرت شاہ صاحب بھی اسی کے قائل معلوم ہوتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی معراج کی رات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ارواح سے ملاقات ہوئی تھی جو ان کے اجساد
٤٧
اور ابدان طیبہ کی صورت میں متمثل اور متشکل ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور ان کے اس ارشاد ”وتمثل الروح ...... اجساداً“ کا یہی مطلب ہے۔ مگر جمہور علماء کا مختار قول یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ملاقات اور تکلم و گفتگو وغیرہ ان کے ابدان اور اجساد طیبہ سے ہوئی تھی۔ چنانچہ تیسیر القاری شرح البخاری میں ہے کہ: ”پوشیده نماند که دیدن آنحضرت ﷺ انبیاء صلوات اللہ وسلامه عليهم وتکلم آنها چنانچه در حدیث مذکور بوضوح پیوسته ناظر دراں هست که باشخاص واجساد دیده وقول مختار وجمهور ہمیں است که انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بعد از موت زنده اند بحيات دنيوي“ (یعنی ادراک و شعور اور سماع صلوٰۃ و سلام وغیرہ میں نہ کہ کل احکام دنیویہ میں کما فی الروح المعانی ج ٢٢ ص ٣٦، شفاء السقام ص ١٥٤، تیسیر القاری شرح صحیح بخاری ج٣ ص٢٦٢، باب ذکر ادریس وقوله تعالیٰ ورفعناہ مكاناً علياً)
- ٣....... آنحضرت ﷺ کے سامنے بیت المعمور کے پاس جو دودھ شراب اور شہد
وغیرہ پیش کیا گیا تھا تو کیا ان سے بھی یہی ظاہری اور حسی چیزیں مراد تھیں؟ یا ان کی کوئی تعبیر تھی؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آپ نے دودھ لیا تو ارشاد ہوا کہ آپ نے فطرت کو قبول کر لیا ہے۔ آپ بھی فطرت پر ہیں اور آپ کی امت بھی فطرت پر ہے۔
(متفق علیہ مشکوٰۃ شریف ج ٢ ص ٥٢٧)
اگر بالفرض آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت خواہشات نفسانی میں گرفتار ہو کر گمراہ ہو جاتی ”كما اخرجه ابن کثیر فی تفسیره ج ٣ ص ١٠“ گویا دودھ اور شہد وغیرہ سے فطرت اور شراب سے خواہشات مراد تھی۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے اس قول کا کہ ” وتمثل المعانی الروحية اجساداً“ یہی مطلب ہے۔ واللہ اعلم بالصواب وہو اعلم بمراده۔
بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہے کہ حافظ ابن القیمؒ بھی معراج جسمانی کے منکر تھے۔ مگر یہ ان لوگوں کا صریح بہتان اور خالص افتراء ہے۔ کیونکہ حافظ ابن القیمؒ (المتوفی ٧٥١ھ) لکھتے ہیں کہ: ”ثم اسرٰی برسول الله ﷺ بجسده على الصحيح من المسجد الحرام الى بيت المقدس راكباً على البراق صحبة جبرائيل عليهما الصلوة والسلام
٤٨
فنزل هناك فصلى بالانبياء اماماً الى ان قال ثم عرج به تلك الليلة من بيت المقدس الى السماء الدنيا (زاد المعاد ج٢ ص٤٧) ﴿پھر صحیح قول کے مطابق جسم مبارک کے ساتھ جناب رسول اللہﷺ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک براق پر سوار کر کے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں لے جایا گیا۔ آپ وہاں اترے اور امام بن کر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو نماز پڑھائی۔ (پھر فرمایا کہ) پھر آپ کو اسی ہی رات بیت المقدس سے آسمان دنیا تک (اور پھر وہاں سے ساتویں آسمان تک اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا) لے جایا گیا۔﴾
حافظ قیمؒ کی اتنی واضح اور صریح عبارت کے ہوتے ہوئے بھی اگر کوئی مغالطہ میں مبتلا ہو تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟۔
الغرض نہ تو حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ معراج جسمانی کے منکر ہیں اور نہ حافظ ابن القیمؒ اور نہ کوئی اور عالم ۔ بلکہ معراج جسمانی کے انکار پر کسی متدین اور خدا ترس عالم کا کوئی معتبر اور صحیح قول پیش ہی نہیں کیا جا سکتا اور معراج جسمانی کے خلاف کوئی قوی شبہ بھی موجود نہیں ہے۔ چہ جائیکہ اس پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہو۔
رہے وہ حضرات جن کے نزدیک معجزات و کرامات ہی محض داستانیں ہیں یا وہ مذہبی وہم پرستی ہے یا وہ ترقی سے مانع ہیں یا مذہب ہی سے ان کا انکار ہے یا تمام عقائد حقہ سے وہ انکار کرتے ہیں تو ان لوگوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ دوسرے جہان ہی میں ہو سکتا ہے اور ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں اور صرف موجود ہی نہیں بلکہ ان کو لوگ ادیب، مفکر اور خادم اسلام بھی تصور کرتے ہیں۔
چنانچہ نیاز صاحب فتح پوری لکھتے ہیں کہ: ”سب سے بڑی واہمہ پرستی جو سرچشمہ ہے اور بہت سے اوہام کا معجزہ کا اعتقاد ہے۔“
(من و یزداں حصہ اوّل ص٤٩١)
نیز لکھتے ہیں کہ : ”بعض لوگ کہتے ہیں کہ معتقدات مذہبی سے ہم کو کیا نقصان پہنچتا ہے۔ اگر ہم دوزخ و جنت، حور و قصور، جن و ملک، معجزہ و خرق عادات وغیرہ پر عقیدہ رکھتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ جب کہ ان عقائد کا مقصود بھی اصلاح اعمال ہے۔ بظاہر یہ بات قرین عقل معلوم ہوتی ہے۔ لیکن فی الحقیقت ان عقائد کے نقصانات حد درجہ مہلک ہیں۔ یہ معتقدات
٤٩٠
چونکہ یکسر روایات پر مبنی ہیں اور عقل و درایت کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے ان کو صحیح سمجھ لینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا ذہن حقائق کی جستجو سے منحرف ہو جاتا ہے۔“
(من و یزداں حصہ اوّل ص٤٩٣،٤٩٤)
نیز تحریر کرتے ہیں کہ: ”خدا کا وجود فی نفسہ نہ خلاف عقل ہے نہ مضرت رساں۔ لیکن ہمارا نفع و ضرر اس کے تصور کی نوعیت سے ضرور متعلق ہو جاتا ہے۔ اگر ہم خدا کو ایک ایسی قوت مان لیں جو کائنات کے نظام تخلیق وارتقاء میں کارفرما ہے تو اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر ہم اس کا تصور ایک دنیاوی بادشاہ کی طرح کریں کہ وہ کسی سے خوش ہو کر نہال کر دیتا ہے اور کسی پر غضبناک ہو کر تباہ۔ تو بیشک یہ تصور غلط مضرت رساں اور مانع ترقی ہوگا۔ ہر چند خدا کے اس جدید تصور سے انبیاء ورسل، صحفِ مقدسہ حیات بعد الموت، دوزخ و جنت، ملائکہ وشیاطین، حشر ونشر، عذاب وثواب، ختم ہو جائیں گے یا ان کی کوئی عقلی توجیہہ وتاویل کرنا ہوگی۔ لیکن اس کا کوئی علاج نہیں۔ ہم ان مروجہ عقائد اور خدا دونوں میں سے ایک کو لینا ہے اور غالباً یہ زیادہ آسان ہوگا کہ خدا کے مقابلہ میں ان معتقدات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور بقائے مذہب کی ہلکی سی ہلکی جو صورت ہو سکتی ہے اس پر قناعت کی جائے۔ میں اس سے قبل بھی بار ہا لکھ چکا ہوں اور اب پھر اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ جب تک مذہب کا وجود باقی ہے دنیا کا امن وسکون خطرہ میں ہے۔“
(من و یزداں حصہ اوّل ص٤٩٤،٤٩٥)
اور معجزات حضرت مسیح علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ: ”معجزے کبھی ظاہر ہی نہیں ہوئے۔ بلکہ یہ سب داستانیں ہیں جو صدیوں بعد گھڑی گئیں۔“
(من و یزداں حصہ اوّل ص٤٠)
اور ان معجزات کو تسلیم کرنے والوں پر یوں برستے ہیں کہ: ”اس جماعت (علماء اسلام) نے ہمیشہ عقل و علم سے دشمنی کی، ذہن انسانی کو اس نے ہمیشہ کند رکھنا چاہا اور اس نے علم ویقین کا ماخذ ہمیشہ غیر فطری کرامات اور معجزات کو قرار دیا۔“
(من و یزداں حصہ اوّل ص٤٦٤)
جن لوگوں کے افکار اور نظریات یہ ہوں۔ یہ لوگ اگر معراج جسمانی، شق القمر، حیاتِ حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے نزول وغیرہ کے منکر ہوں تو یہ بات ان لوگوں سے کوئی انوکھی اور نرالی نہیں ہے۔ ان کو تو خیر سے ایسے اسلام کی ضرورت ہے۔ جس کی صورت ہلکی سی ہلکی ہو۔ جس پر
٥٠
اس لئے ان کو صحیح سمجھ لینے کا
(دیکھو دیوان حصہ اوّل ص ٣٩٤، ٣٩٣)
ملی ہے نہ مضرت رساں۔ لیکن اگر ہم خدا کو ایک ایسی قوت مان کیسا ناگزیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر ہم کو کر نہال کر دیتا ہے اور کسی پر ۔ ہر چند خدا کے اس جدید جنات، ملائکہ و شیاطین، حشر ونشر، نہیں ہوگی۔ لیکن اس کا کوئی علاج ان کا یہ زیادہ آسان ہو گا کہ خدا مذہب کی ہلکی سی ہلکی جو صورت بھولوں اور اب پھر اس کا اعادہ ناممکن ہے۔
(دیوان حصہ اوّل ص ٤٩٤، ٤٩٥)
پھر آگے لکھتے ہیں کہ: ”معجزے بھی ممکن نہیں۔“
(دیکھو دیوان حصہ اوّل ص ٤٠)
اسی طرح جماعت (علماء اسلام) ہو اور اس نے علم ویقین کا
(دیوان حصہ اوّل ص ٤٦٤)
معراج، شق القمر، حیات اس نے کوئی انوکھی اور بنائی ہی ہلکی ہو۔ جس پر
وہ قناعت کر سکیں اور ان کے باطل نظریہ کے پیش نظر اس مہذب و متمدن دنیا کو کبھی چین، سکھ اور آرام نصیب نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ مذہب کا وجود باقی ہے۔ کیونکہ مذہب ہر باہوش اور عقلمند انسان کو اس امر کی دعوت دیتا ہے کہ اس کا کوئی خالق و مالک اور کوئی رب و آقا ہے۔ جس نے اس پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں۔ تاکہ ان کی وساطت سے وہ اپنے پروردگار سے تعلق استوار رکھ سکے اور حیوانوں کی طرح غیر مقید اور من مانی زندگی نہ گزار دے۔ بلکہ اپنے شرف انسانی کو ملحوظ رکھ کر وہ اپنے پروردگار حقیقی کے سامنے قولی اور فعلی، بدنی اور مالی ہر قسم کی عبادت سے حق عبدیت ادا کرے اور یہ پابندی کی زندگی یا پابندی کی عبادات اور عقائد ملحدین کو گوارا نہیں ہیں۔ اس لئے وہ اس کا ربقہ کبھی اپنی گردن میں پھنسانا پسند نہیں کرتے۔ مگر چونکہ وہ رسمی طور پر مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے اسلام سے بالکل خارج ہو جانا بھی وہ مصلحتاً پسند نہیں کرتے۔ ان کو تو صرف نام کا اسلام درکار ہے نہ کہ کام کا۔ کیا خوب؟
رکھ لیا اچھا سا اک نام اور مسلمان ہو گئے
یہ لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں کہ ہر بات کو اپنی نارسا عقل کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتے ہیں اور معجزات و کرامات کے تصور سے کچھ ایسے خائف اور ہراساں ہیں اور وہ ان سے کچھ ایسے بدکتے ہیں۔ جس طرح شیر کی چنگھاڑ اور آواز سے گدھے بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ باری تعالیٰ کا ارشاد حق ہے۔ ”کانہم حمر مستنفرة فرت من قسورة“ ان دانشوروں سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا تمہاری عقل وخرد جناب نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ اور ائمہ دینؒ سے بڑھ کر ہے۔ جن میں حضرت امام غزالیؒ، امام رازیؒ اور ابن رشدؒ جیسے فلسفی اور منطقی بھی گزرے ہیں۔ ان پر ان امور کا استحالہ ثابت نہ ہو سکا اور انہوں نے بایں ہمہ وسعت معلومات اور اعلیٰ درجہ کے فلسفی ہونے کے باوجود تمام معجزات و کرامات کا وجود ثابت کیا اور عقلی اور نقلی دلائل سے ان کو مبرہن اور مدلل کیا اور آج ان لوگوں پر ان کا محال ہونا بین اور واضح ہو گیا؟ کیسے تسلیم اور باور کر لیا جائے کہ وہ بلا قیل وقال ان کو تسلیم کر لیں اور آج اس دور الحاد و زندقہ میں ان کا انکار ہو؟ حالانکہ موجودہ سائنس کی ترقی نے پہلے سے کہیں بڑھ کر شہرت حاصل کی ہے اور جو امور پہلے سمجھ سے بالاتر تھے وہ اب مزید روشن ہوتے چلے جا رہے ہیں اور لوگوں کے شکوک وشبہات مبدل بہ یقین ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ باقی نہ ماننے والے پرویز صاحب ہوں یا نیاز صاحب، محمد علی لاہوری ہوں یا غلام احمد قادیانی۔ سرسید صاحب علی گڑھی ہوں یا عبداللہ صاحب چکڑالوی۔ کوئی بھی ہو۔ ان
٥١
کی بات کی خدا تعالیٰ اور اس کے رسول برحق کی قطعی اقوال اور صریح نصوص کے مقابلہ میں کیا وقعت اور حیثیت ہے؟ نعوذ بالله منہ!
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ محل ایمان عقل نہیں دل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”وقلبہ مطمئن بالایمان“ اور یقین کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ : ”لا یزول بزوال المشکک “ کہ شک میں مبتلا کرنا چاہیں۔ مگر مؤمن کے دل میں ادنیٰ برابر شک اور شبہ بھی پیدا نہ ہو وہ اس کا متلاشی اور متمنی نہ ہو کہ دنیائے یورپ اس بارے میں کیا کہتی اور کیا بتلاتی ہے؟ اور کیا سائنس اس کی تائید کرتی ہے یا تردید؟ مؤمن کو ان تمام امور سے بے خطر اور بے نیاز ہو کر اپنے رب ذو المنن کے بتلائے ہوئے عقائد پر قائم اور دائم رہنا چاہئے اور ہر وقت اسی کی فکر میں ہو کہ کہیں کوئی ڈاکو میرے متاع ایمانی پر ڈاکہ نہ ڈال لے اور اس راستہ میں ہر قدم پر اور ہر منزل میں چوکنا ہو کر رہے کہ اور اس سلسلہ میں پیش ہونے والی تمام مصیبتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرے اور وہی سبق دہرائے جو اسلاف کی پاک زبانوں سے اس موقع پر جاری رہا ہے کہ ؎
علی ای شق کان فی الله مصرعی
پھر کیا ہی مبارک اور سعادت مند ہیں وہ حضرات جو اس دنیائے دنی کی مکاریوں اور چالبازیوں سے الگ رہ کر اپنی آخرت کی ابدی اور پائیدار زندگی بنانے اور اپنے آقائے حقیقی کو راضی کرنے کی تڑپ اور جذبہ اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں اور در حقیقت زندگی ہی وہی زندگی ہے۔ یہ ناپائیدار اور فانی زندگی نرا دھوکہ ہے۔ ”ان الدار الآخرة لهی الحیوان“ باقی رہی یہ زندگی تو اس کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ؎
دعاء کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی حق اور صحیح عقیدہ پر قائم اور دائم رکھے۔ آمین ثم آمین!
”وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد خاتم الانبیاء وعلی الہ واصحابہ وازواجہ وجمیع امتہ الی یوم الدین“
احقر: ابو الزاہد محمد سرفراز خان صفدر خطیب جامع گکھڑ وصدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ مورخہ ٢١؍ جمادی الاخریٰ ١٣٧٩ھ ، ٢٢؍ دسمبر ١٩٥٩ء
٥٢
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
توضیح المرام
فی
نزول المسیح علیہ السلام
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
پیش لفظ
مبسملا و محامدا و مصلیا و مسلما، اما بعد!
توحید ورسالت اور قیامت کے عقیدہ کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انبیاء بنی اسرائیل کے علیٰ جمیعہم وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والتسلیمات آخری پیغمبر تھے۔ ولادت سے لے کر رفع الی السماء تک ان کی زندگی بڑے عجیب رنگ میں گزری اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر عجیب و غریب معجزات صادر فرمائے۔ جن کا واضح ذکر قرآن کریم اور احادیث متواترہ اور کتب تاریخ میں موجود ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو زندہ جسم اور روح کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور وہ زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہو کر دجال لعین کو قتل کریں گے اور یہود ونصاریٰ وغیرہم کفار کا صفایا کریں گے اور مذہب اسلام کو خوب خوب چمکائیں گے اور شادی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی اور چالیس سال تک منصفانہ اور عادلانہ حکومت کریں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے اور مدینہ طیبہ میں روضہ اقدس کے اندر ان کو دفن کیا جائے گا۔ ان کے رفع الی السماء، حیات اور نزول الی الارض کے بارے میں تمام اہل اسلام متفق ہیں۔ کسی کا ان امور میں کوئی اختلاف نہیں۔ ہاں بعض فلاسفہ، ملاحدہ اور قادیانی اور لاہوری مرزائی وغیرہم باطل اور مردود فرقے ان کی حیات اور نزول کے منکر ہیں۔ اہل اسلام کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا رفع الی السماء، حیات اور نزول ان کے عقائد میں شامل ہے۔ جیسا کہ پیش نظر کتاب میں قارئین کرام کو مستحکم اور مضبوط حوالوں سے یہ بات معلوم ہوگی۔ قدیماً وحدیثاً علماء اسلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء، حیات اور نزول پر اپنے اپنے انداز میں بے شمار اور بہترین کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
- ١...... ”عقیدہ اہل الاسلام فی نزول عیسیٰ علیہ السلام“ شیخ
العلامہ المحدث عبداللہ بن الصدیق الغماریؒ ۔
- ٢...... ”ازالة الشبهات العظم فی الرد علی منکر نزول عیسیٰ
علیہ السلام“ الشیخ محمد علی اعظمؒ ۔
- ٣...... ”اعتقاد اہل الایمان بالقرآن بنزول المسیح علیہ
السلام فی آخر الزمان“ للشیخ العلامہ محمد العربی التبانی المغربیؒ ۔
٢
- ٤...... ”التوضیح ف
للقاضی الشوکانیؒ ۔
- ٥...... ”الجواب الص
بدعویٰ انہ عیسیٰ اوالمہدی المنتظ
- ٦...... ”نظرة عابرة
السلام قبل الاخرة“ للعلامہ محمد زاہد ا
- ٧...... ”الخطاب الم
مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ۔
- ٨...... ”عقیدہ الاس
المحدث السید محمد انور شاہ کشمیریؒ ۔
- ٩...... ”تحية الاس
المحدث السید محمد انور شاہ کشمیریؒ ۔
یہ دونوں کتابیں خاص علمی او لگا دیا گیا ہے اور دونوں عربی میں ہیں۔ الب کر سکتے ہیں۔ دوسرے حضرات کے بس ک کریں کہ انہوں نے بہت بڑا علمی خزانہ چھ سے اردو ترجمہ ہو گیا ۔مرتب )
- ١٠...... ”التصریح بما
یہ کتاب بھی حضرت مولانا مف مقدمہ بھی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولا لکھا ہے اور احادیث اور تفاسیر کی کتب م کے شاگرد رشید الشیخ عبدالفتاح ابو غدۃ بے دین حکمرانوں نے انہیں ملک سے ن کرنے پر مجبور ہو کر حکومت سعودیہ کی طر راقم اثیم کی رمضان ١٤١٣ھ میں مکہ مکر حضرت کے شدید اصرار سے عصر کی نما
- ٤...... "التوضيح في ما تواتر في المنتظر والدجال والمسيح"
للقاضی الشوکانی۔
- ٥...... "الجواب المقنع المحرر في الرد على من طغى وتجبر
بدعوى انه عيسى او المہدی المنتظر" للعلامہ الشیخ حبیب اللہ الشنقیطیؒ۔
- ٦...... "نظرة عابرة في مزاعم من ينكر نزول عيسى عليه
السلام قبل الاخرة" للعلامہ محمد زاہد الکوثریؒ۔
- ٧...... "الخطاب المليح في تحقيق المہدی والمسيح" لحکیم الامت
مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ۔
- ٨...... "عقيدة الاسلام في حياة عيسى عليه السلام" للعلامہ
المحدث السید محمد انور شاہ کشمیریؒ۔
- ٩...... "تحية الاسلام في حيات عيسى عليه السلام" للعلامہ
المحدث السید محمد انور شاہ کشمیریؒ۔
یہ دونوں کتابیں خاص علمی اور دقیق کتابیں ہیں۔ جن میں کتابوں کے حوالوں کا انبار لگا دیا گیا ہے اور دونوں عربی میں ہیں۔ ان سے استفادہ صرف جید اور کہنہ مشق مدرس قسم کے علماء ہی کر سکتے ہیں۔ دوسرے حضرات کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ حضرت کے رفع درجات کی دعا ہی کریں کہ انہوں نے بہت بڑا علمی خزانہ جمع کر دیا ہے۔ (عقیدۃ الاسلام کا حیات ابن مریم کے نام سے اردو ترجمہ ہو گیا۔ مرتب)
- ١٠...... "التصريح بما تواتر في نزول المسيح (عليه السلام)"
یہ کتاب بھی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی ہے۔ جس کی ترتیب بھی کی اور مقدمہ بھی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ (المتوفی ٩ شوال ١٣٩٦ھ) نے لکھا ہے اور احادیث اور تفاسیر کی کتب سے نشاندہی اور تحقیق بصورت حاشیہ علامہ محمد زاہد الکوثریؒ کے شاگرد رشید الشیخ عبدالفتاح ابو غدۃ الحلبی الشامی نے کی ہے۔ حق گوئی کی پاداش میں شام کے بے دین حکمرانوں نے انہیں ملک سے جلاوطن کر دیا تھا اور سالہا سال تک مہاجرانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو کر حکومت سعودیہ کی فراخ دلی سے الریاض میں علمی خدمت انجام دیتے رہے۔ راقم اثیم کی رمضان ١٤١٣ھ میں مکہ مکرمہ میں ان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات ہوئی تھی اور حضرت کے شدید اصرار سے عصر کی نماز راقم اثیم ہی نے پڑھائی تھی۔ راقم اثیم کے ساتھ حضرت
مولانا محمد سیف الرحمن صاحب دام مجدہم استاذ حدیث و مدرس مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ جو حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ کے داماد بھی تھے اور حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب دام مجدہم یکے از ارکان روضۃ الاطفال کراچی بھی تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ شام کی حکومت نے پابندی اٹھالی ہے اور الشیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ اب حلب ملک شام میں رہائش پذیر ہیں۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح علیہ السلام میں چالیس مرفوع حدیثیں حضرات ائمہ حدیث کی تصریح کے ساتھ صحیح اور حسن قسم کی جمع کی ہیں اور پینتیس حدیثیں ایسی جمع کی ہیں جن کو حضرات محدثین کرامؒ نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان پر سکوت اختیار کیا ہے جو اصول حدیث کے لحاظ سے قابل برداشت ہیں۔ ان کے علاوہ الشیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ نے مزید دس احادیث کی بصورت تتمہ و استدراک نشاندہی کی ہے جو صاحب التصریح سے چھوٹ گئی تھیں۔ مزید برآں التصریح میں حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے آثار اور موقوفات بھی ذکر کئے ہیں۔ جن کی تعداد چھبیس ہے۔ التصریح میں کل مرفوع اور موقوف روایات ایک سو ایک ہیں اور الشیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ نے مزید دس آثار کی نشاندہی کی ہے۔ جو حضرت شاہ صاحبؒ سے باوجود وسعت نظری اور قوت حافظہ کے چھوٹ گئے تھے اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ کے دور میں کتابیں بہت نایاب ہوتی تھیں۔ بعد میں کتابوں کی طباعت واشاعت میں فراوانی ہوگئی۔ التصریح سے متوسط قسم کے عربی دان بھی بخوبی استفادہ کر سکتے ہیں اور اس مسئلہ پر کسی اور کتاب کی احادیث کی تلاش میں ضرورت نہیں پڑتی۔ بہت عمدہ اور جامع کتاب ہے۔ علماء اور طلباء ضرور اس کی طرف رجوع کریں۔
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
التحديث بالنعمة
اللہ تعالیٰ نے راقم اثیم پر جو احسانات اور انعامات کئے ہیں۔ راقم اثیم قطعاً و یقیناً اپنے آپ کو ان کا اہل نہیں سمجھتا۔ یہ صرف اور صرف منعم حقیقی کا فضل و کرم ہے کہ حضرات علماء اور طلباء اور خواص و عوام اس ناچیز سے محبت بھی کرتے اور قدر دانی بھی کرتے ہیں۔ ڈھول اندر سے تو خالی ہوتا ہے۔ مگر اس کی آواز دور دور تک جاتی ہے۔ یہی حال میرا ہے کہ علم وعمل ، تقویٰ اور ورع سے اندر خالی ہے اور حقیقت اس کے سوا نہیں کہ مَن آنم کہ من دانم! راقم اثیم تحریک ختم نبوت کے دور میں پہلے گوجرانوالہ جیل میں پھر نیوسنٹرل جیل ملتان میں کمرہ نمبر ٢ میں مقید رہا۔ ہماری بارک نمبر ٦
٤
دو منزلہ تھی اور اس میں چار اضلاع کے قیدی تھے اور تھے۔ جو دیندار تھے۔ اضلاع یہ ہیں: ضلع گوجرانوالہ پور۔ (فی الحال ضلع اٹک) بحمد اللہ تعالی جیل میں بھی یہ قرآن کریم کا ترجمہ، موطا امام مالکؒ، شرح نخبۃ الفکر دیگر حضرات علماء کرام بھی اپنے اپنے ذوق کے اسباق کمرہ میں اکیلا رہتا تھا۔ کیونکہ باقی ساتھی رہا ہو چکے تھے جیل میں رہا اور ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کی تردی وہاں ملتان جیل ہی میں راقم اثیم نے لکھی تھی۔
خواب نمبر ١
١٣٧٣ھ ، ١٩٥٣ء میں تقریباً سحری کا وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا تمہارے پاس تشریف لائیں گے۔ میں خوش بھی ہوا کہ کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں۔ حضرت کو پھر خواب ہی میں یہ خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو در بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں ح ایک خادم تشریف لائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سر مبارک سیاہ تھی۔ لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا نیچے حضرت نے جانگیہ اور نیکر پہنی ہوئی ہے اور اُپ قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر کو ابھری ہوئی ٹو اپنے بستر جو زمین پر بچھا ہوا تھا دونوں بزرگوں کو بٹھا علیک سلیک کے بعد راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ الس قیدی ہوں اور کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ صرف قہوہ پلا س ہی میں فوراً تنور پر پہنچا۔ جہاں روٹیاں پکتی تھیں۔ مے چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی اور تنور خوب گرم تھا۔ جلدی لے کر کمرہ میں پہنچا اور قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں بڑی خوشی ہوئی اور دونوں بزرگوں نے چائے پی، پھر چ
٥
٭ دومنزلہ تھی اور اس میں چار اضلاع کے قیدی تھے اور سبھی ہی علماء طلباء تاجر اور پڑھے لکھے لوگ تھے۔ جو دیندار تھے۔ اضلاع یہ ہیں: ضلع گوجرانوالہ، ضلع سیالکوٹ، ضلع سرگودھا اور ضلع کیمبل پور۔ (فی الحال ضلع اٹک ) بحمد اللہ تعالیٰ جیل میں بھی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ راقم اثیم قرآن کریم کا ترجمہ، موطا امام مالکؒ، شرح نخبۃ الفکر اور حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ کتابیں پڑھاتا رہا۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی اپنے اپنے ذوق کے اسباق پڑھتے پڑھاتے رہے۔ آخر میں راقم اثیم کمرہ میں اکیلا رہتا تھا۔ کیونکہ باقی ساتھی رہا ہو چکے تھے اور میں قدرے بڑا مجرم تھا۔ تقریباً دس ماہ جیل میں رہا اور ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کی تردید میں ”جواب دو اسلام؟ صرف ایک اسلام“ وہاں ملتان جیل ہی میں راقم اثیم نے لکھی تھی۔
خواب نمبر ١
١٣٧٣ھ ١٩٥٣ء میں تقریباً سحری کا وقت تھا کہ خواب میں مجھ سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہاں آ رہے ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہاں تمہارے پاس تشریف لائیں گے۔ میں خوش بھی ہوا کہ حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہوگا اور کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں۔ حضرت کو بٹھاؤں گا کہاں اور کھلاؤں پلاؤں گا کیا؟ پھر خواب ہی میں یہ خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو دری، نمدہ اور چادر ہے یہ پاک ہیں۔ ان پر بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ ان کا ایک خادم تشریف لائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سر مبارک ننگا تھا۔ چہرہ اقدس سرخ اور داڑھی مبارک سیاہ تھی۔ لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا اور اندر نظر نہیں آتا تھا۔ مگر محسوس یہ ہوتا تھا کہ نیچے حضرت نے جانگیہ نما نیکر پہنی ہوئی ہے اور آپ کے خادم کا لباس سفید تھا۔ فٹ کرتا اور قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر کو ابھری ہوئی نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ راقم اثیم نے اپنے بستر جو زمین پر بچھا ہوا تھا دونوں بزرگوں کو بٹھلایا۔ نہایت ہی عقیدت مندانہ طریقہ سے علیک سلیک کے بعد راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مؤدبانہ طور پر کہا کہ حضرت ! میں قیدی ہوں اور کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ صرف قہوہ پلا سکتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا لاؤ۔ میں خواب ہی میں فوراً تنور پر پہنچا۔ جہاں روٹیاں پکتی تھیں۔ میں نے اس تنور پر گھڑا رکھا اور اس میں پانی چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی اور تنور خوب گرم تھا۔ جلدی ہی میں قہوہ تیار ہو گیا۔ راقم اثیم خوشی خوشی لے کر کمرہ میں پہنچا اور قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں محسوس ہوا کہ اس میں دودھ بھی پڑا ہوا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی اور دونوں بزرگوں نے چائے پی، پھر جلدی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھ کھڑے
٥
ہوئے اور خادم بھی ساتھ اٹھ گیا۔ میں نے التجاء کی کہ حضرت ذرا اور آرام کریں اور ٹھہریں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں جلدی جانا ہے۔ پھر انشاء اللہ العزیز جلدی آجائیں گے۔ یہ فرما کر رخصت ہو گئے۔ راقم اثیم اس خواب سے بہت ہی خوش ہوا۔ فجر ہوئی اور ہمارے کمرے کھلے تو راقم اثیم استاد محترم حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت بھی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ہمارے ساتھ جیل میں مقید تھے اور ان کے سامنے خواب بیان کیا۔ حضرت نے فرمایا میاں تمہیں معلوم ہے کہ حضرات انبیاء کرام اور فرشتوں کی (جو تمام معصوم ہیں) شکل وصورت میں شیطان نہیں آسکتا۔ واقعی تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو دیکھا ہے اور میاں ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی ہی میں تشریف لے آئیں۔ استاد محترم کا راقم اثیم سے بہت گہرا تعلق تھا اور ان کے حکم سے ان کی علمی کتاب تدقیق الکلام کی ترتیب میں راقم اثیم نے خاصا کام کیا ہے۔ حضرت کی قبل از وفات اپنی خواہش اور ان کے جملہ لواحقین اور متعلقین کی قلبی آرزو کے مطابق ١٦ / جمادی الاول ١٤١١ھ / ٤ / دسمبر ١٩٩٠ء کو مؤمن پور علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں راقم اثیم نے ان کا جنازہ پڑھایا اور دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر سنت کے موافق دعاء مانگی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین!
خواب نمبر ٢
راقم اثیم نے دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ حضرت شلوار پہنے ہوئے تھے اور گھٹنوں سے ذرا نیچے تک قمیص زیب تن تھی اور سر مبارک پر سادہ سا کلہ اوپر پگڑی باندھے ہوئے تھے اور کوٹ میں جو گھٹنوں سے نیچے تھا ملبوس تھے اور بڑی تیزی سے چل رہے تھے۔ راقم اثیم کو پتہ چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جا رہے ہیں تو راقم بھی پیچھے پیچھے چل پڑا اور سلام عرض کیا۔ یوں محسوس ہوا کہ بہت آہستہ سے جواب دیا اور رفتار برقرار رکھی۔ راقم بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ کافی دور جانے کے بعد زور زور کی بارش شروع ہوگئی۔ حضرت اس بارش میں بیٹھ گئے اور اوپر ایک سفید رنگ کی چادر تان لی۔ کافی دیر تک مغموم اور پریشان حالت میں بیٹھے رہے۔ پھر بارش میں ہی اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے اور پھر نظر نہ آئے۔ اس خواب کے چند دنوں بعد مہاجرین فلسطین کے دو کیمپوں صابرہ اور شتیلہ کا واقعہ پیش آیا کہ یہودیوں نے تقریباً بتیس ہزار مظلوم مسلمان مردوں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور مریضوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد راقم اثیم خواب کی تعبیر سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شدید بارش میں چادر اوڑھ کر بیٹھنا اور پریشان ہونا اس کی طرف اشارہ تھا کہ تقریباً ستر لاکھ ظالم یہودیوں کے ہاتھوں
٦
تقریباً تیرہ کروڑ کی آس پاس کی مسلمان حکومتوں کی بـ کیا اور مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور مظلوم مسـ ہو رہی ہے۔
ان دو خوابوں میں راقم اثیم نے حضرت عیـ خاصا عرصہ ہوا کہ راقم اثیم نے حیات حضرت مسیح علـ تھی۔ گو وہ مسودہ مکمل تو نہ تھا۔ مگر خاصا علمی مواد اس مـ کے جنگلات میں بسیار تلاش کے بعد بھی ناکامی ہو طے اور کچھ مزید حوالے جمع کر کے اب اس صورت مـ المرام“ پیش کی جارہی ہے۔ علمی، استدلالی اور حوالوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جائے گا اور اصلاح میں کوئی کـ اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعاء ہے کہ وہ اپنے توفیق بخشے اور شرک وبدعت اور بری رسموں سے بچـ بالا یمان کرے۔ آمین ثم آمین! وصلی الله تعـ محمد وعلى آله وازواجه واصحابه وذريـ العبد العاجز ابو الزاہد محمد سرفـ
بسم الله الرحمن نحمده ونصلى ونسلم على ر واتباعه الى يوم الدين، اما بعد!
مذہب اسلام کی بنیاد محکم اور مضبوط عقائـ اخلاق و کردار اور صاف اور ستھرے معاملات پر قائم ہـ ہے۔ جب تک عقیدہ درست نہ ہو کوئی بھی زبانی، بدنـ مقبول نہیں ہوتا اور تصدیق وایمان کے بغیر ہر قسم کی محنـ جاتی ہے۔ عقائد میں توحید ورسالت اور قیامت کے عقائد کو تسلیم کئے بغیر بھی کوئی چارہ اور چھٹکارا نہیں۔ الـ احکام و فروع کو درجہ بدرجہ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جن کو کا ثبوت ادلہ قطعیہ سے ہے اور قطعی ادلہ تین ہیں۔ نصـ
٧
تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی کی مسلمان حکومتوں کی موجودگی میں جنہوں نے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا اور مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور مظلوم مسلمانوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔
ان دو خوابوں میں راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ خاصا عرصہ ہوا کہ راقم اثیم نے حیات حضرت مسیح علیہ السلام پر ایک مسودہ کی کچھ ترتیب بھی دی تھی۔ گو وہ مسودہ مکمل تو نہ تھا، مگر خاصا علمی مواد اس میں جمع تھا۔ اس کی خاصی تلاش کی مگر مسودات کے جنگلات میں بسیار تلاش کے بعد بھی ناکامی ہوئی۔ اس مد کے کچھ حوالے مختلف شذرات پر ملے اور کچھ مزید حوالے جمع کر کے اب اس صورت میں حضرات قارئین کی خدمت میں یہ ”توضیح المرام“ پیش کی جا رہی ہے۔ علمی، استدلالی اور حوالوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے حضرات کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا جائے گا اور اصلاح میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے گی۔ انشاء اللہ العزیز! اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعاء ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے توحید و سنت پر قائم رہنے کی توفیق بخشے اور شرک و بدعت اور بری رسموں سے بچائے اور راقم اثیم کا اور ہر مسلمان کا خاتمہ بالایمان کرے۔ آمین ثم آمین ! وصلی الله تعالى وسلم على رسوله خير خلقه محمد وعلى آله وازواجه واصحابه وذرياته واتباعه الى يوم الدين“
العبد العاجز ابوالزاہد محمد سرفراز، یکم محرم الحرام ١٤١٧ھ، ١٩ مئی ١٩٩٦ء
بسم الله الرحمن الرحیم!
نحمده ونصلى ونسلم على رسوله الكريم وعلى أصحابه وآله واتباعه الى يوم الدين ، اما بعد!
مذہب اسلام کی بنیاد محکم اور مضبوط عقائد، عمدہ اور فطری اعمال و عبادات، بہترین اخلاق و کردار اور صاف اور ستھرے معاملات پر قائم ہے اور ان سب میں اولیت عقائد کو حاصل ہے۔ جب تک عقیدہ درست نہ ہو کوئی بھی زبانی، بدنی اور مالی عبادت اور عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا اور تصدیق و ایمان کے بغیر ہر قسم کی محنت اور مشقت بالکل رائیگاں ہوتی اور بے کار جاتی ہے۔ عقائد میں توحید و رسالت اور قیامت کے عقیدہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور دیگر عقائد کو تسلیم کئے بغیر بھی کوئی چارہ اور چھٹکارا نہیں۔ الغرض ان تمام عقائد اور اصول کو اور ان سب احکام و فروع کو درجہ بدرجہ تسلیم کرنا ضروری ہے۔ جن کو ضروریات دین سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جن کا ثبوت ادلہ قطعیہ سے ہے اور قطعی الدلالۃ ہیں۔ نص قرآنی، حدیث متواتر اور اجماع امت۔
٧
جس طرح نفس قیامت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح اشراط الساعۃ اور قیامت کی ان علامات اور نشانیوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جن کا ثبوت ان ادلہ مذکورہ سے ہو۔ قیامت کے آنے کی بے شمار نشانیاں ہیں۔ جن میں سے بعض یہ ہیں۔
حضرت حذیفہ بن اسید الغفاریؓ (المتوفی ٤٢ھ) فرماتے ہیں کہ: ”اطلع النبی ﷺ علینا ونحن نتذاکر فقال ما تذکرون؟ قالوا نذکر الساعة قال انھا لن تقوم حتی ترون قبلھا عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسیٰ بن مریم ویاجوج وماجوج وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرة العرب وآخر ذلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الی محشر (مسلم ج٢ ص٣٩٣، کتاب الفتن واشراط الساعة، ابوداؤد ج٢ ص٢٣٦، ترمذی ج٢ ص٤١، ابن ماجہ ص٣٠٢) واللفظ لہ “
آنحضرت ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپس میں مذاکرہ اور گفتگو کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا گفتگو کر رہے ہو؟ اہل مجلس نے کہا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں۔ آپ نے دھوئیں، دجال، دابۃ الارض، سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے نزول، اور یاجوج و ماجوج کے خروج کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تین مقامات زمین میں دھنس جائیں گے۔ ایک خسف مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (غالباً اسی جگہ جس مقام پر اب امریکہ کی فوج ہے) اور آخر میں یمن سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف دھکیلتی جائے گی۔
اسی مضمون کی مرفوع حدیث حضرت واثلہ بن الاسقع المتوفی ٨٣ھ سے بھی مروی ہے۔ جس میں نزولِ عیسیٰ کی تصریح موجود ہے۔
(مستدرک ج٤ ص٤٢٨، قال الحاکم والذہبی صحیح)
ہمارا مقصد اس وقت قیامت کی بقیہ نشانیوں کا بیان کرنا نہیں ان میں سے ہر ایک نشانی حق ہے۔ جس کا وقوع ضروری ہے۔ اس وقت ہمارا مدعا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ جسم کے ساتھ رفع الی السماء ان کی آسمان پر حیات اور قیامت سے قبل ان کا نزول من السماء ہے اور اس کا ثبوت قرآن کریم، احادیث متواترہ اور امت مسلمہ کے اتفاق واجماع سے ہے۔ جن میں ہر ایک دلیل اصول کے لحاظ سے اپنی جگہ قطعی اور یقینی ہے۔ جس کا انکار یا تاویل، کفر، زندقہ اور
٨
الحاد ہے اور اصول دین کے خلاف کوئی شخص بھی جو ضروریات دین کا منکر یا مؤول ہو، مسلمان نہیں ہوسکتا اور نہ وہ اس میں معذور متصور ہوسکتا ہے اور ہر شخص اس کا پابند ہے کہ
مقدمہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کا عقیدہ ضروریات دین میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرات ائمہ مجتہدینؒ، حضرات فقہاء اسلامؒ، حضرات محدثینؒ، حضرات مفسرین کرامؒ اور حضرات صوفیاء عظامؒ وغیرہم سبھی بزرگان دین اس عقیدہ کو عقائد اور ایمانیات میں شامل کرتے ہیں اور صریح اور واضح الفاظ میں اس کو حق اور ایمان کہتے ہیں۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
- .......١ حضرت امام ابو حنیفہؒ (الامام الاعظم نعمانؒ بن ثابتؒ المتوفی ١٥٠ھ)
فرماتے ہیں: ”ونزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء حق کائن (الفقه الاکبر مع شرحه لعلی القاریؒ ص ١٣٠ طبع کانپور)“ ﴿کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا حق اور یقیناً ہونے والی چیز ہے۔﴾
حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اپنی مختصر کتاب الفقہ الاکبر میں جس میں انہوں نے مختصر طور پر اصولی اور بنیادی عقائد اور فقہی اصول کا ذکر کیا ہے۔ یہ بھی واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا حق اور ضروری ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ الفقہ الاکبر حضرت امام ابو حنیفہؒ ہی کی تالیف و تصنیف ہے۔ (الفہرست لابن ندیم ص ٢٩٨، مفتاح السعادۃ ومصباح السیادۃ لطاش کبری زادہؒ ج ٢ ص ٢٩) معتزلہ وغیرہم نے الفقہ الاکبر کے امام ابو حنیفہؒ کی تالیف ہونے کا انکار کیا ہے۔ مگر ان کا قول تاریخی طور پر مردود ہے۔
(مفتاح السعادۃ ج٢ ص٢٩)
- .......٢ امام ابو جعفر الطحاویؒ (احمد بن محمدؒ بن سلامہ الازدیؒ المتوفی ٣٢١ھ) تحریر
فرماتے ہیں کہ: ”ونؤمن بخروج الدجال ونزول عیسیٰ بن مریم علیھما السلام من السماء (عقیدہ الطحاویہ ص ٨ ومع الشرح ص ٤٢٦)“ ﴿ہم دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔﴾
چونکہ قرآن کریم کے قطعی ادلہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے دجال کا خروج اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نزول ثابت ہے۔ اس لئے امام اہل السنت والجماعت اور فقہ میں وکیل احناف امام طحاویؒ نؤمن کے الفاظ سے اس کا ذکر کرتے ہیں
٩
اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کا تسلیم کرنا عقیدہ اور ایمان میں داخل ہے۔
- ......٣ مشہور اور نامور محدث قاضی عیاضؒ (ابوالفضل عیاضؒ بن موسیٰ التوفی
٥٤٤ھ) فرماتے ہیں کہ: ”نزول عيسى عليه السلام وقتله الدجال حق وصحيح عند اهل السنة للاحاديث الصحيحة فى ذلك وليس فى العقل والشرع ما يبطله. فوجب اثباته (نووی شرح مسلم ج٦ ص١٩٩)“ ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا دجال کو قتل کرنا اہل السنت والجماعت کے نزدیک اس سلسلہ میں وارد احادیث صحیحہ کی بناء پر حق اور صحیح ہے اور عقل و شرع میں اس کے باطل کر دینے کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا اثبات واجب اور ضروری ہے۔﴾
علامہ موصوفؒ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو اہل السنت والجماعت کا عقیدہ بتاتے اور حق کہتے ہیں۔
- ......٤ امام اہل السنت والجماعت الشیخ ابوالحسن الاشعریؒ (علیؒ بن اسماعیلؒ بن
اسحاقؒ بن سلام الاشعریؒ المتوفی ٣٣٠ھ) ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”واجمعت الامة على ان الله عزوجل رفع عيسى عليه الصلوة والسلام الى السماء (كتاب الابانه عن اصول الديانه ص٤٦)“ ﴿امت مسلمہ کا اجماع و اتفاق کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ الخ (اور پھر وہ آسمان سے نازل ہوں گے)﴾
امام موصوفؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے بارے امت کے اجماع کا حوالہ دیا ہے۔
- ......٥ مشہور مفسر علامہ اندلسیؒ (ابوحیان محمدؒ بن یوسف الاندلسیؒ المتوفی ٧٥٤ھ)
لکھتے ہیں کہ: ”واجمعت الامة على ماتضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى عليه السلام فى السماء حى وانه ينزل فى آخر الزمان (تفسير البحر المحيط ج٢ ص٤٧٣)“ ﴿حدیث متواتر کے پیش نظر امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں وہ نازل ہوں گے۔﴾
البحر المحیط اپنے نام کی طرح بحر بے کراں اور طویل تفسیر ہے۔ علامہ موصوفؒ نے خود اس کا اختصار بھی کیا ہے۔ جس کا نام النہر الماد ہے۔ جو البحر المحیط کے حاشیہ پر ہے اور یہ عبارت النہر الماد بر حاشیہ البحر المحیط ج٢ ص٤٧٣ پر بھی موجود ہے۔
- ......٦ علامہ تفتازانیؒ (سعد الدین مسعودؒ بن عمر تفتازانیؒ المتوفی ٧٩٢ھ) نے علم
١٠
کلام میں ایک مختصر اور دقیق کتاب لکھی ہے الدین‘ ہے۔ (اور پھر خود انہوں نے اس کی ش ہے) اس میں وہ آخر میں لکھتے ہیں: ”وقد و من ولد فاطمة الزهراء الى قول الاشراط كدابة الارض وياجوج (مقاصد مع الشرح ج٢ ص٣٠٨،٣٠٧، امام کے ظاہر ہونے ...... اور حضرت عیسیٰ علیہ کے خروج اور سورج کے مغرب سے طلوع ہو احادیث وارد ہیں۔﴾
- ......٧ علم عقائد کی مستند او
بن ہمام الدین عبدالواحد الشہیر بابن الہمامؒ الدین محمد بن محمد المعروف بابن ابی شریف الم الساعة من خروج الدجال ونزول السماء وخروج ياجوج وماجو جامع الترمذى عن ابى هريرة ا خاتم سليمان وعصا موسى فتجل الحديث وطلوع الشمس من الصريحة الصحيحة (المسامرة م نشانیاں دجال کا خروج اور عیسیٰ بن مریم علیہ کا خروج اور دابہ کا خروج (جیسا کہ پ٢٠ سو الارض اور جامع ترمذی ج٢ ص١٥٠) میں نے فرمایا کہ دابہ نکلے گا۔ اس کے پاس حض السلام کا عصا ہوگا۔ وہ دابہ مومن کے چہرے صیقل ڈالے گا۔ الحدیث (وقال حدیث حس چیز حق ہے۔ کیونکہ نصوص صریحہ اور صحیحہ ان ث
کلام میں ایک مختصر اور دقیق کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ”مقاصد الطالبین فی علم اصول عقائد الدین“ ہے۔ (اور پھر خود انہوں نے اس کی مفصل شرح بھی لکھی ہے جو شرح المقاصد سے معروف ہے) اس میں وہ آخر میں لکھتے ہیں: ”وقد وردت الاحادیث الصحیحة فی ظهور امام من ولد فاطمة الزهراء الى قوله وفى نزول عيسى وخروج الدجال من الاشراط كدابة الارض وياجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها الخ (مقاصد مع الشرح ج ٢ ص ٣٠٧، ٣٠٨ طبع ترکی) ”کہ حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں ایک امام کے ظاہر ہونے ...... اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دابۃ الارض اور یاجوج و ماجوج کے خروج اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بارے میں جو قیامت کی نشانیاں ہیں۔ صحیح احادیث وارد ہیں۔﴾
- ٧....... علم عقائد کی مستند اور معروف کتاب المسايرة (للشيخ الامام کمال الدین محمد
بن ہمام الدین عبدالواحد الشہیر بابن الہمام المتوفی ٨٦١ھ) اور اس کی شرح المسامرة (للشيخ کمال الدین محمد بن محمد المعروف بابن ابی شریف المقدسی المتوفی ٩٠٥ھ) میں ہے۔ ”واشـــــــراط الساعة من خروج الدجال ونزول عيسى بن مريم عليه الصلوة والسلام من السماء وخروج ياجوج وماجوج وخروج الدابة كما في سورة النمل وفى جامع الترمذي عن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ تخرج الدابة ومعها خاتم سليمان وعصا موسى فتجلو وجه المؤمن وتخطم انف الكافر بالخاتم الحديث وطلوع الشمس من مغربها كل منها حق وردت به النصوص الصريحة الصحيحة (المسامرة مع المسايرة ج ٢ ص ٢٤٢، ٢٤٣) ”اور قیامت کی نشانیاں دجال کا خروج اور عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کا آسمان سے نزول اور یاجوج ماجوج کا خروج اور دابہ کا خروج (جیسا کہ پ ٢٠ سورۃ النمل رکوع ٦ میں ہے۔ اخرجنا لهم دابة من الارض اور جامع ترمذی ج ٢ ص ١٥٠) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دابہ نکلے گا۔ اس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا۔ وہ دابہ مؤمن کے چہرے کو اس انگوٹھی سے روشن کرے گا اور کافر کی ناک میں نکیل ڈالے گا۔ الحدیث (وقال حديث حسن) اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ان میں ہر ہر چیز حق ہے۔ کیونکہ نصوص صریحہ اور صحیحہ ان میں وارد ہوئی ہیں۔﴾
١١
- ......٩ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی (المتوفی ١٠٦٧ھ) تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ونزولہ
الى الارض واستقراره عليها قد ثبت باحاديث صحيحة بحيث لم يبق فيه شبهة لم يختلف فيه احد (عبدالحكيم على الخيالي ص ١٤٢) ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر نازل ہونا اور ان کا زمین پر متمکن ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ باقی نہیں ہے اور کسی (مسلمان) نے اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔﴾ یعنی اتنی اور اس قدر صحیح متواتر اور واضح احادیث سے اس کا ثبوت ہے کہ نہ تو اس میں کوئی شبہ رہا ہے اور نہ کسی مسلمان نے جو قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع امت پر یقین رکھتا ہے اس میں اختلاف کیا ہے۔
- ......١٠ مشہور معتمد متکلم امام السفارینی (محمد بن احمد بن سلیمان السفارینی المتوفی
١١٨٨ھ) نے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء، حیات اور نزول پر کتاب وسنت کے واضح دلائل پیش کئے ہیں اور اس کے بعد اس پر اجماع امت کا حوالہ پیش کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں: ”واما الاجماع فقد اجتمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة وانما انكر ذلك الفلاسفة والملاحدة ممن لايعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الامة على انه ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية وليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء وان كانت النبوة قائمة به وهو متصف بها (شرح عقيدة السفارينى ج ٢ ص ٩٠) “﴿اور بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر امت کا اجماع و اتفاق ہے اور اس میں اہل اسلام میں سے کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہاں فلاسفہ اور ملحدوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ جن کی بات کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ لیکن آسمان سے نزول کے وقت وہ مستقل شریعت لے کر نہیں آئیں گے۔ گو وصف نبوت کے ساتھ وہ متصف ہی ہوں گے۔ مگر فیصلے وہ شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) کے مطابق ہی کریں گے۔﴾
اس کو قارئین کرام ایسا سمجھیں جیسا کہ ایک ملک کا صدر اور سربراہ جب کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے یا ملک کے کسی ایک صوبے کا گورنر جب ملک کے دوسرے صوبے میں جاتا ہے تو وہ صدر اور گورنر ہی ہوتا ہے۔ مگر دوسرے ملک اور دوسرے صوبہ میں وہ اس ملک اور اس صوبہ کا صدر اور گورنر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کو وہاں کے باشندوں کی طرح وہاں کے آئین اور قانون کی پابندی کرنا پڑتی ہے اور جب تک وہ اپنے اپنے عہدہ پر فائز ہیں معزول نہیں ہوتے تو ان سے ١٢
وصف صدر اور وصف گورنر سلب نہیں ہوتا۔ ت صرف بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور وہ جب آسما سے متصف ہونے کے باوجود شریعت محمدیہ (ع اور قرآن کریم اور حدیث شریف کے مطابق ضرورت پیش آئے گی اجتہاد کریں گے۔
- ......١١ حافظ ابن حجر فرماتے ہ
مستقل ينزل عيسى بن مريم (عليہ الله تعالى عليه وسلم على ملته (فت السلام) “ ﴿طبرانی کی حدیث میں حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام حضرت محمد ﷺ کی مل
- ......١٢ رئيس الصوفیاء ش
(المتوفی ٦٣٨ھ) فرماتے ہیں کہ: ”فان ورسول وانه لا خلاف انه ينزل بشرع آخر ولا بشرعه الذى تعبد الثانى الباب الثالث والسبعون ٧٣، ص نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ ہماری شر نہ یہ کہ کسی اور شریعت کے موافق اور نہ اس ش عبادت کرنے کا پابند بنایا تھا۔﴾
ان صریح حوالوں سے یہ بات ب نزول میں حضرت شیخ اکبر کے زمانہ تک ا آنحضرت ﷺ کی ملت کے مصدق ہوں گ اسلام پر اسی کو نافذ کریں گے۔
- ......١٣ علامہ ابن حزم (ا
کرتے ہیں کہ: ”واما من قال ان الله ت تعالى يحل فى جسم من اجسام ا
وصف صدر اور وصف گورنر سلب نہیں ہوتا۔ اسی طرح آپ سمجھیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو صرف بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے اور وہ جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وصف نبوت اور رسالت سے متصف ہونے کے باوجود شریعت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام) کے پابند ہوں گے اور قرآن کریم اور حدیث شریف کے مطابق فیصلے صادر فرمائیں گے اور جہاں اجتہاد کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اجتہاد کریں گے۔
١١...... حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: ”وللطبرانى من حديث عبدالله بن مغفل ينزل عيسى بن مريم (عليهما الصلوة والسلام) مصدقا بمحمد صلى الله تعالى عليه وسلم على ملته (فتح الباری ج٦ ص٤٩١، باب نزول عيسى عليه السلام) “طبرانی کی حدیث میں حضرت عبداللہؓ بن مغفل سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام حضرت محمد ﷺ کی ملت کے مصدق ہو کر نازل ہوں گے۔
١٢...... رئیس الصوفیاء الشیخ الاکبر محی الدین محمد بن علی الحاتمی الطائی (المتوفی ٦٣٨ھ) فرماتے ہیں کہ: ”فانه لا خلاف ان عيسى عليه السلام نبى ورسول وانه لا خلاف انه ينزل فى آخر الزمان حكما عدلا بشرعنا لا بشرع آخر ولا بشرعه الذى تعبد الله به بنى اسرائيل (فتوحات مكيه الجزء الثانى الباب الثالث والسبعون ٧٣، ص٣، طبع مصر) “ بلاشک اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول ہیں اور بے شک اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ ہماری شریعت کے مطابق حاکمانہ اور عادلانہ فیصلہ کریں گے۔ نہ یہ کہ کسی اور شریعت کے موافق اور نہ اس شریعت کے مطابق جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو عبادت کرنے کا پابند بنایا تھا۔
ان صریح حوالوں سے یہ بات بالکل بے غبار ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول میں حضرت شیخ اکبرؒ کے زمانہ تک کوئی اختلاف نہ تھا اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی ملت کے مصدق ہوں گے اور آپ ہی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اہل اسلام پر اسی کو نافذ کریں گے۔
١٣...... علامہ ابن حزمؒ (ابو محمد علی بن حزم الظاہری الاندلسیؒ المتوفی ٤٥٦ھ) تحریر کرتے ہیں کہ: ”واما من قال ان الله عزوجل هو فلان الانسان بعينه او ان الله تعالى يحل فى جسم من اجسام الخلق او ان بعد محمد ﷺ نبيا غير عيسى
١٣
بن مريم عليه السلام فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل احد (الملل والنحل ج ٣ ص ١٣٩، طبع مصر) ”بہر حال جس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بعینہ فلاں آدمی ہے یا جس نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے یا جس نے یہ کہا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کے بغیر کوئی نبی آئے گا تو ایسے قائل کی تکفیر میں دو (مسلمان ) آدمیوں کا اختلاف بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ہر بات کے حق اور سچ ہونے اور ہر ایک پر حجت قائم ہوچکی ہے۔
اس سے عیاں ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اتنی قطعی اور یقینی ہے کہ ٤٥٦ھ تک دو مسلمان بھی ایسے پیدا نہیں ہوئے جو دیگر مذکورہ امور کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا انکار کرنے والے کی تکفیر میں اختلاف اور شک بھی کرتے ہوں ۔
اور خود علامہ ابن حزمؒ اپنے انداز میں براہین کے ساتھ یہ بات ثابت کرنے کے بعد کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں۔ یہ رقمطراز ہیں۔
”الا ان عيسى بن مريم عليه السلام سينزل (محلی ج ١ ص ٩، طبع مصر) ”ہاں مگر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ضرور نازل ہوں گے ۔“
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے سے ختم نبوت پر قطعاً کوئی زد نہیں پڑتی ۔ ایک تو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت اور رسالت آنحضرت ﷺ سے پہلے ملی ہے ۔ آپ ﷺ کے بعد نہیں ملی اور دوسرے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد اور گنتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی تعداد اور گنتی وہی رہتی ہے جو پہلے تھی۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اگر بالفرض حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام پیغمبر آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لے آئیں تو پھر بھی ختم نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ بخلاف کسی اور کے آنے سے کہ وہ نبی تشریعی ہو یا غیر تشریعی ۔ عدد اور گنتی میں اضافہ ہوگا اور ختم نبوت پر یقیناً زد پڑے گی ۔
- ١٤....... امام شعرانیؒ (الشیخ عبد الوہاب بن احمد بن علی الشعرانی المتوفی ٩٧٣ھ)
تحریر فرماتے ہیں کہ :”فقد ثبت نزوله عليه السلام بالكتاب والسنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولا هوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذالك واجب قال الله تعالى بل رفعه الله اليه (اليواقيت والجواهر ج ٢
١٤
ص ١٤٦، طبع مصر) ”حضرت عیسیٰ ثابت ہے۔ نصاریٰ کا یہ (باطل) خیال ہے اور ان کی روح کو اٹھا لیا گیا ۔ مگر اہل اسلام جسم (اور روح) کے ساتھ آسمان پر اٹھایا کا ارشاد ہے کہ (نہ تو یہود ان کو قتل کر سکے اٹھا لیا ہے ۔“
امام شعرانیؒ نے بھی یہ واضح نزول کتاب وسنت سے ثابت ہے۔
- ١٥....... امام سیوطیؒ (الجلال
کہ :”اما نفى نزول عيسى (الحاوى للفتاوى ج ٢ ص ١٦٦) نازل ہونے کی نفی یا ان کی نبوت کی نفی اور
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ومرجوح، اعلیٰ و ادنیٰ اور افضل وغیر افضل عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ہے۔ جس وسنت و اجماع امت سے ہے ۔
- ١٦....... امام الکرخیؒ (
٩٠٥ھ) اپنی تفسیر ”الواضح الوجیز “ میں وينزل ويقتل الدجال ويؤيد الشيخ نور الدين السيد معين بن کا اجماع اور اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ کریں گے اور دین اسلام کی تائید کریں گے
اس عبارت میں بھی اجماع تک بھی موجود نہیں ۔
- ١٧....... علامہ سید محمود
بحث کرتے ہوئے آخر میں تحریر فرماتے
ص١٤٦، طبع مصر) ” ﴿ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بے شک قرآن کریم اور سنت سے ثابت ہے۔ نصاریٰ کا یہ (باطل) خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدن کو سولی پر لٹکایا گیا اور ان کی روح کو اٹھا لیا گیا۔ مگر اہل اسلام کے ہاں حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم (اور روح) کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ (نہ تو یہود ان کو قتل کر سکے اور نہ سولی پر لٹکا سکے) بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ ﴾
امام شعرانیؒ نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء اور نزول کتاب وسنت سے ثابت ہے۔
- ١٥...... امام سیوطیؒ (ابوالفضل جلال الدین ابوبکر السیوطیؒ المتوفی ٩١١ھ) لکھتے ہیں
کہ: ”اما نفی نزول عیسیٰ علیہ السلام او نفی النبوۃ عنہ وکلاہما کفر (الحاوی للفتاوی ج٢ ص١٦٦) ” ﴿ بہرکیف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (آسمان سے) نازل ہونے کی نفی یا ان کی نبوت کی نفی دونوں باتیں کفر ہیں۔ ﴾
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ کوئی فروعی مسئلہ نہیں ہے۔ جس میں راجح ومرجوح، اعلیٰ وادنیٰ اور افضل وغیر افضل کا خیال رکھا جائے۔ بلکہ یہ ایمان واسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ہے۔ جس کا انکار خالص کفر ہے۔ اس لئے کہ اس کا ثبوت کتاب وسنت واجماع امت سے ہے۔
- ١٦...... امام البکریؒ (ابوالحسن محمدؒ بن عبدالرحمٰن البکری الصدیقی الشافعیؒ المتوفی
٩٠٥ھ) اپنی تفسیر ”الواضح الوجیز“ میں فرماتے ہیں: ”والاجماع علی انہ حی فی السماء وینزل ویقتل الدجال ویؤید الدین (بحوالہ تفسیر جامع البیان ج٢ ص٥٢، الشیخ نور الدین السید معین بن السید صفی الدین المتوفی ٨٨٩ھ) “ ﴿ کہ اس پر امت کا اجماع اور اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور دین اسلام کی تائید کریں گے۔ ﴾
اس عبارت میں بھی اجماع کا صریح الفاظ میں تذکرہ ہے اور کسی کے اختلاف کا اشارہ تک بھی موجود نہیں۔
- ١٧...... علامہ سید محمود آلوسیؒ (المتوفی ١٢٧٠ھ) ختم نبوت کے مسئلہ پر علمی اور تحقیقی
بحث کرتے ہوئے آخر میں تحریر فرماتے ہیں: ”ولا یقدح فی ذلک ما اجمعت الامۃ علیہ
١٥
واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكره كالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام فى آخر الزمان، لانه كان نبيا قبل تحلى نبينا صلى الله تعالى عليه وسلم بالنبوة فى هذه النشأة (روح المعانى ج٢٢ ص ٣٢) ”اور اس بات سے ختم نبوت کے عقیدہ پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ جس پر امت کا اجماع ہے اور اس پر مشہور روایات موجود ہیں اور شاید کہ یہ تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہوں اور ایک تفسیر کے رو سے یہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر جیسے فلاسفہ وغیرہ ہم کافر ہیں اور وہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخر زمانہ میں نازل ہونا ہے۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس جہان میں وصف نبوت سے آراستہ ہونے سے پہلے نبی تھے۔“
علامہ آلوسیؒ نے ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ میں اس تفسیر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس میں ”قبل موته“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی گئی ہے اور یہی جمہور کی رائے ہے۔ جیسا کہ اسی پیش نظر کتاب میں اس کی باحوالہ بحث موجود ہے۔ علامہ آلوسیؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث کو احادیث مشہورہ سے تعبیر کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ شاید یہ تواتر معنوی کو پہنچی ہوں۔ علامہ موصوفؒ تو لعل فرما رہے ہیں۔ جبکہ جمہور محدثینؒ، مفسرینؒ، متکلمینؒ، فقہاءؒ اور صوفیاءؒ ان احادیث کو حقیقتاً متواتر کہتے ہیں۔ وہو الحق اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے منکر کی جیسے فلاسفہ وغیرہ ہم، بلا تردد تکفیر کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور آمد سے ختم نبوت پر قطعاً کوئی زد نہیں پڑتی اور اس کی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت اور رسالت آنحضرت ﷺ سے پہلے ملی تھی اور وہ صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے۔ جب کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت تمام انسانوں، جنوں اور سب جہان والوں کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف:١٥٨) “ اور نیز ارشاد ہے: ”تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذيراً (الفرقان:١) “
ان نصوص قطعیہ سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت تمام انسانوں اور سب عالمین کے لئے ہے۔ چونکہ جنات بھی قرآن کریم (ملاحظہ ہو سورۃ الجن) احادیث متواترہ اور اجماع امت کے رو سے مکلّف اور پابند شریعت ہیں۔ اس لئے عالمین کے حکم میں وہ بھی داخل اور شامل ہیں۔
١٦
١٠٣ حضرت ابوذر الغفاری (جندب بن جنادہ میں ہے: ”قال طلبت رسول اللہ ﷺ ليلة ثم قال اوتيت الليلة خمسا لم يؤتهن قال مجاهد الانس والجن الحديث ( صحيح على شرطهما) ”فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو تلاش کیا تو میں نے دیکھا کہ لمبی نماز پڑھی۔ پھر (بعد از فراغت) فرمایا مجھے آ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی۔ ایک یہ کہ میں سر حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں یعنی انسانوں اور جنوں کی غرضیکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت لئے ہے۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت لئے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ” ورسولا الى بنى اسرائيل کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف بنی اسرا درس اور سبق ہے۔ چنانچہ (انجیل متی باب ١٥ آی ہے۔ ”میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی اور یہی تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حو (انجیل متی باب ١٠ آیت ٥، ٦) میں ہے۔ ”ان قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی ش کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔“ ان صری کے نزول اور آمد سے مسئلہ ختم نبوت پر کوئی رسالت تو صرف بنی اسرائیل کے لئے ہی تھی ل بعد اور آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت کے نبی رسول اور سردار ہیں۔ (انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠) میں ہے گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس
حضرت ابوذر الغفاریؓ (جندب بن جنادة وقيل بن السكن المتوفی ٣٢ھ) کی حدیث میں ہے: ”قال طلبت رسول الله ﷺ ليلة فوجدته قائما يصلى فاطال الصلوة ثم قال اوتيت الليلة خمسا لم يؤتها نبى قبلى ارسلت الى الاحمر والاسود قال مجاهد الانس والجن الحديث (مستدرك ج ٢ ص ٤٢٤، قال الحاكم والذهبي صحيح على شرطهما) “ ﴿فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات (کسی ضرورت کی وجہ سے) آنحضرت ﷺ کو تلاش کیا تو میں نے دیکھا کہ آپ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے بہت لمبی نماز پڑھی۔ پھر (بعد از فراغت) فرمایا مجھے آج کی رات ایسی پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی۔ ایک یہ کہ میں سرخ اور سیاہ مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں یعنی انسانوں اور جنوں کی طرف۔﴾
غرضیکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت انسانوں اور جنوں اور جملہ مکلف مخلوق کے لئے ہے۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور نبوت صرف اور صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔
”ورسولا الى بنى اسرائيل (آل عمران:٤٩)“
کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف بنی اسرائیل کا رسول بنا کر بھیجا ہے اور انجیل کا بھی یہی درس اور سبق ہے۔ چنانچہ (انجیل متی باب ١٥ آیت ٢٤) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خود اپنا بیان ہے۔ ”میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا۔“ اور یہی تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے صحابیوں، شاگردوں اور حواریوں کو دی تھی۔ چنانچہ (انجیل متی باب ١٠ آیت ٥، ٦) میں ہے۔ ”ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور ان کو حکم دے کر کہا غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔ بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔“ ان صریح حوالوں سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور آمد سے مسئلہ ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت تو صرف بنی اسرائیل کے لئے ہی تھی اور آپ سے پہلے ان کو نبوت و رسالت ملی تھی نہ کہ بعد اور آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت تمام مکلف مخلوق کے لئے ہے اور آپ ساری دنیا کے نبی رسول اور سردار ہیں۔
(انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠) میں ہے۔ ”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“ یعنی جتنی خوبیاں اوصاف اور کمالات
١٧
ان کو حاصل ہیں وہ مجھے حاصل نہیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے وفادار خلیفہ اور پیروکار اور نائب کی حیثیت سے نازل ہو کر شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف تحیه وسلام) کا نفاذ کریں گے۔ امام محقق محمد بن اسعد الصدیقی الدوانیؒ (المتوفی ٩٠٨ھ) فرماتے ہیں کہ : ”واما نزول عیسی علیہ السلام ومتابعته لشریعة فهو مما یؤکد کونه خاتم النبیین (الدوانیّ علی العقائد العضدیه ص ٩٧)“ ”بہر حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہو کر آنحضرت ﷺ کی شریعت کی پیروی کرنا آپ کے خاتم النبیین ہونے کی تاکید کرتا ہے۔
اور غیر منصوص احکام میں اجتہاد کریں گے۔ جیسا کہ مثلاً حضرت امام ابو حنیفہؒ وغیرہ ائمہ مجتہدین نے اجتہاد کیا ہے۔ گو ان کے اجتہاد کا تطابق، توافق اور توارد بقول حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ (المتوفی ١٠٣٤ھ) حضرت امام ابو حنیفہؒ کے اجتہاد سے ہوگا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”خواجه محمد پارسا در رساله فصول سته نوشته است که حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیه الصلوة والسلام بعد از نزول بمذهب امام ابی حنیفة عمل خواهد کرد یعنی اجتهاد حضرت روح الله موافق اجتهاد امام اعظم بود، نه آنکه تقلید این خواهد کرد علی نبینا وعلیه الصلوة والسلام که شان او علی نبینا وعلیه الصلوة والسلام ازان بلند تر است که تقلید علماء امت فرماید (مکتوبات امام ربانی دفتر دوم حصه هفتم مکتوب نمبر ٥٥ ص ١٤، طبع امرتسر وطبع مطبع نامی نول کشور ج ٢ ص ١٠٧)“ ”حضرت خواجہ محمد پارساؒ نے رسالہ فصول ستہ میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام علیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام نازل ہونے کے بعد حضرت امام ابو حنیفہؒ کے فقہی مذہب کے موافق عمل کریں گے۔ یعنی حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اجتہاد امام اعظم ابو حنیفہؒ کے اجتہاد کے مطابق ہوگا۔ نہ یہ کہ وہ امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کریں گے۔ (معاذ اللہ تعالیٰ) کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام کی شان اس سے بہت ہی بلند ہے کہ وہ امت کے علماء میں سے کسی امام کی تقلید کریں۔
١٨
اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت اور احسان ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کا اجتہاد نقل و عقل کے مسلمہ اصول و قواعد کے مطابق عین فطرت سلیمہ کے موافق ہے جو ”فطرة الله التي فطر الناس عليها“ کا مصداق ہے۔ اس لئے جو احکام قرآن و حدیث میں نہ ہوں گے اور ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اجتہاد کرنے کی ضرورت پیش آئے گی تو وہ ان میں اجتہاد کریں گے اور ان کا اجتہاد اس اجتہاد کے مطابق ہوگا جو حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اپنے دور میں کیا تھا۔ جس کو علمی طور پر توارد سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام و احسان ہے کہ غیر معصوم (امام ابوحنیفہؒ) کا اجتہاد معصوم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اجتہاد کے موافق نکلے گا اور ہم جیسے تہی دست علم و عمل اور تقویٰ کو اسی لئے فقہ حنفی سے تعلق و محبت ہے کہ اس میں پوشیدہ خوبیاں بے شمار ہیں۔
ارے او چھپنے والے حسن یوں پنہاں نہیں ہوتا
- ١٨....... نواب صدیق بن حسن بن علی قنوجیؒ (المتوفی ١٣٠٧ھ) لکھتے ہیں کہ:
”والاحاديث الواردة فى نزول عيسىٰ عليه السلام متواترة (حجج الكرامه ص ٢٣٤)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے احادیث متواترہ وارد ہیں۔
غیر مقلدین حضرات کے بزرگ کو بھی کھلے لفظوں میں اقرار ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام کی احادیث متواترہ ہیں۔ اگر بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان سے نزول کے متعلق نصوص قطعیہ اور اجماع امت نہ بھی ہوتا تب بھی ان کے نزول کا انکار احادیث متواترہ کے انکار کی وجہ سے کفر ہے۔
علامہ طاہر بن الصلاح الجزائریؒ فرماتے ہیں کہ: ”والمتواتر يكفر جاحده (توجيه النظر ص ٣٦، طبع مصر) ”متواتر حدیث کا منکر کافر ہوتا ہے۔
اور حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ (المتوفی ١٣٥٣ھ) نے مرزائیوں کے خلاف مشہور مقدمہ، فیصلہ مقدمہ بہاولپور ص ٢٤ میں اس کی تفصیل اور تصریح کی ہے کہ حدیث متواتر کا انکار کفر ہے۔
- ١٩....... علامہ ابو عبداللہ الابیؒ (محمد بن خلیفہ الابی المالکیؒ المتوفی ٨٢٧ھ)
الفقیہ ابوالولید ابن رشد المالکی (محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی المالکی المتوفی کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ: ’’ولا بد من نزول عيسىٰ عليه السلا ۔
١٩
الاحاديث بذلك (شرح الابى على مسلم ج ١ ص ٤٤٥ ، باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا) ﴿ لا محالہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ کیونکہ متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔﴾
علامہ ابن رشد بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے احادیث کو متواتر کہتے اور بتاتے ہیں۔
- ......٢٠ علامہ المحدث محمد بن جعفر الکتانی (المتوفی ١٣٤٥ھ) تحریر فرماتے ہیں کہ:
”وقد ذكروا ان نزول سيدنا عيسىٰ عليه السلام ثابت بالكتاب والسنة والاجماع الى قوله والحاصل ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة وكذا الواردة فى الدجال وفى نزول سيدنا عيسىٰ بن مريم عليه السلام (نظم المتناثر من الحديث المتواتر ص ١٤٧) ﴿ علماء اہل اسلام نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ پھر فرمایا خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام مہدی منتظر اور خروج دجال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث متواترہ ہیں۔﴾
- ......٢١ غیر مقلدین کے پیشوا قاضی شوکانی (محمد بن علی الشوکانی المتوفی ١٢٥٠ھ)
نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے۔ جس کا نام ”التوضيح في تواتر ماجاء فى المنتظر والمسیح“ ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ: ”فتقرر ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة والاحاديث فى الدجال متواترة والاحاديث الواردة فى نزول عيسىٰ بن مريم متواترة (عقيدة اهل الاسلام فى نزول عيسى عليه السلام ص ١١، شيخ عبداللہ بن الصديق الغمارى) ﴿ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ امام مہدی منتظر کے بارے میں دجال لعین کے خروج کے متعلق اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام کے نزول اور آمد کے بارے احادیث متواترہ وارد ہیں۔﴾
- ......٢٢ محقق الاحناف علامہ زاہد الکوثریؒ (المتوفی ١٣٧٢ھ) قرآن کریم کی چند
آیات کی مفصل تفسیر کے بعد رقمطراز ہیں: ”فظہر مما سبق ان نصوص القرآن الكريم وحدها تحتم القول برفع عيسىٰ عليه السلام حيا وبنزوله فى آخر الزمان
٢٠
حيث لا اعتداد باحتمالات خيالية لم تنشا من دليل كيف والاحاديث قد تواترت فى ذالك واستمرت الامة خلفا عن سلف على الاخذ بها وتدوين موجبها فى كتب الاعتقاد من قديم العصور الى اليوم فماذا بعد الحق الا الضلال (نظرة عابرة فى مزاعم من ينكر نزول عيسى عليه السلام قبل الاخرة ص ٣٦) ”گزشتہ بحث سے یہ امر واضح ہوگیا ہے کہ تنہا نصوص قرآنیہ ہی حتمی طور پر یہ بتاتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھایا گیا ہے اور یہ کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔ ان نصوص کی موجودگی میں خیالی احتمالات کا قطعاً کوئی اعتبار نہیں جو کسی بھی دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور بھلا ان کا کیونکر اعتبار ہوسکتا ہے۔ جب کہ متواتر احادیث سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء اور نزول ثابت ہے اور اسی عقیدہ کو امت خلفاً بعد سلف قدیم زمانوں سے آج تک اپنانے اور اخذ کرنے اور کتب عقائد میں اس کے حکم کو درج کرنے پر قائم اور مستمر ہے سو حق کے بعد بغیر گمراہی کے اور کیا ہے؟“
علامہ محقق کوثریؒ نے اہل اسلام اور اہل حق کے حتمی عقیدہ کا اثبات قرآن کریم کی نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ اور امت کے اجماع کے حوالے سے کیا ہے اور باطل پرستوں کی واہی موشگافیوں کا واضح الفاظ میں رد کیا ہے۔ جس کے بعد گمراہی اور ضلالت کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ نیز دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ: ”واما تواتر احاديث المهدى والدجال والمسيح فليس بموضع ريبة عند اهل العلم بالحديث وتشكك بعض المتكلمين فى تواتر بعضها مع اعترافهم بوجوب اعتقاد ان اشراط الساعة كلها حق فمن قلة خبرتهم بالحديث (ايضاً ص ٤٩) ”اور بہرحال امام مہدی کی آمد دجال کے خروج اور حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی احادیث کا تواتر حضرات محدثین کرام کے نزدیک شک وشبہ کے مقام سے بالکل بالاتر ہے۔ باقی بعض متکلمین کا ان میں سے بعض روایات کے تواتر میں شک کرنا باوجود ان کے اس اعتراف کے کہ قیامت کی سب کی سب نشانیاں حق ہیں اور ان کا اعتقاد کرنا واجب ہے۔ (جن میں امام مہدی کی آمد، دجال کا خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول وغیرہ بھی ہے) علم حدیث سے بے خبری پر مبنی ہے۔“
یہ ایک خالص علمی اور فنی بحث ہے کہ بعض اشراط الساعہ کی حدیثیں متواتر ہیں یا مشہور۔ مگر غیر متواتر ہیں۔ لیکن تلقی امت بالقبول کی وجہ سے ان پر عقیدہ رکھنا واجب ہے۔ ان
٢١
بعض متکلمین کے بعض احادیث کے تواتر میں شک سے مسئلہ پر قطعاً کوئی زد نہیں پڑتی۔ وہ بہر حال مسلم ہے۔
باب الاول
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ان کی حیات اور پھر نزول من السماء قرآن کریم سے ثابت ہے۔ ہم بنظر اختصار قرآن کریم سے صرف دو ہی دلیلیں عرض کرتے ہیں اور پھر ان کی معتبر اور مستند حضرات مفسرین کرامؒ سے باحوالہ تفسیریں نقل کرتے ہیں۔ غور وفکر کرنا قارئین کا کام ہے۔
پہلی دلیل
اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ”ولما ضرب ابن مريم مثلا اذا قومك منه يصدون (الزخرف: ٥٧)“ ﴿اور جب عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کی مثال بیان کی جاتی ہے تو تیری قوم اس سے چلانے لگتی ہے۔﴾
یعنی جب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آتا ہے تو عرب کے مشرکین خوب شور مچاتے اور قسم قسم کی آوازیں نکالتے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ پھر تین آیتوں کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقيم، ولا يصدنكم الشيطان انه لكم عدو مبين (الزخرف: ٦١)“ ﴿اور بے شک وہ نشان ہے قیامت کا سو اس میں شک مت کرو اور میرا کہنا مانو، یہی سیدھی راہ ہے اور ہرگز نہ روکے تم کو شیطان (مثلاً منکر نزول مسیح علیہ السلام) وہ تمہارا دشمن ہے صریح۔﴾
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لفظ ان کے ساتھ جو تاکید کے لئے آتا ہے اور پھر لام مفتوحہ تاکید سے یہ بیان فرمایا ہے کہ بے شک البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی علامت اور نشانی ہے اور اس کے بارے ہرگز کوئی شک نہ کرنا اور میرے کہنے کو ماننا اور یہی نظریہ صراطِ مستقیم ہے۔ ہر ادنیٰ عربی دان بھی بخوبی اس آیت کریمہ میں ہر ہر جملہ کی تاکید کو سمجھ سکتا ہے کہ کتنی تاکیدات سے اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون اور حکم بیان فرمایا ہے اور پھر فرمایا کہ شیطان کے پھندے میں ہرگز نہ آنا اور حق ماننے سے نہ رکنا۔ شیطان تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا یہی پختہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے اور ضرور وہ قیامت سے پہلے آئیں گے اور یہی صراطِ مستقیم ہے۔ جس پر چلنا ہر مسلمان کا اسلامی فریضہ ہے اور مخالفت
٢٢
شیطانی کارروائی اور گمراہی ہے۔ یہ یاد رہے کہ لعلم میں دو قرأتیں ہیں۔ ایک بفتح لام اور بکسر عین اور یہی اکثر اور جمہور قراء کرام کی قرأت ہے اور علم کا معنی دانستن جاننا پہچاننا اور شناخت کرنا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور آمد سے قیامت کے قرب کا علم شناخت اور پہچان ہوگی کہ اب قیامت بالکل قریب ہے اور جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول اور آمد نہ ہوگی اس وقت تک قیامت ہرگز نہیں آئے گی۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرات مفسرین کرام کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں ۔
- ا...... حضرت امام فخر الدین الرازی (محمد بن عمر المتوفی ٦٠٦ھ ) اس کی تفسیر
میں لکھتے ہیں کہ: ”وانه ای عیسى لعلم للساعة شرط من اشراطها تعلم به فسمى
الشئ الدال على الشئ علما لحصول العلم به (تفسیر کبیر ج ٢٧ ص ٢٢٢)“
﴿ اور بے شک وہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہے قیامت کی ۔ یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے قیامت کا علم ہوگا۔ اس لحاظ سے علامت کو جو کسی شے کے وجود پر دلالت کرتی ہے علم کہا گیا۔ کیونکہ اس علامت کے ساتھ اس شئے کا علم حاصل ہوتا ہے۔ ﴾
یعنی علامت کا اطلاق علم پر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مترجمین حضرات لعلم کا معنی بھی نشانی کے کرتے ہیں اور یہ ترجمہ دوسری قرأت کے عین موافق ہے اور دوسری قرأت لعلم ہے۔ اس میں ابتداء میں لام اور اس کے بعد عین اور دوسری لام پر بھی فتح ہے۔ جس کا معنی نشانی اور علامت ہے اور یہ قرأت حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت ابو مالک غفاریؓ، حضرت زید بن علیؓ، حضرت قتادہؒ، حضرت مجاہدؒ، حضرت ضحاکؒ، حضرت مالک بن دینارؒ، حضرت الاعمش کلبیؒ اور
بقول علامہ ابن عطیہؒ، حضرت ابونضرہؒ کی ہے۔ (تفسیر البحر المحیط ج٨ ص ٢٦، روح المعانی ج ٢٥ ص ٩٥)
اور دونوں قرأتوں کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور آمد سے قرب قیامت کا علم ہوگا اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔
- ٢...... علامہ سید محمود آلوسیؒ (المتوفی ١٢٧٠ھ ) لَعَلَمٌ اور لِعِلْمٍ دونوں قرأتوں کا تذکرہ
کر کے آخر میں فرماتے ہیں کہ : ”والمشهور نزوله عليه السلام بدمشق وان الناس في صلوة الصبح فیتاخر الامام وهو المهدى فيقدمه عيسى عليه السلام ویصلی خلفه ويقول انما اقيمت لك (روح المعانی ج ٢٥ ص ٩٦)“ اور مشہور یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں نازل ہوں گے ۔ جب کہ لوگ صبح کی نماز میں مصروف
٢٣
ہوں گے اور امام مہدی امام ہوں گے۔ وہ پیچھے ہٹ جائیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی کو آگے کر کے ان کے اقتداء میں نماز پڑھیں گے اور فرمائیں گے کہ نماز آپ کے لئے قائم کی گئی تھی۔﴾
اور نیز علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ: ”وفى بعض الروايات انه عليه السلام ينزل على ثنية يقال لها افيق بفاء وقاف بوزن امير وهى هنا مكان بالقدس الشريف (روح المعانى ج٢٠ ص٩٦)“ ﴿اور بعض روایات (مثلاً مسند احمد ج٤ص٢١٦، مستدرک ج٤ ص٤٧٨، مجمع الزوائد ج٧ ص٣٤٢ وغیرہ) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام افیق فاء اور قاف کے ساتھ بروزن امیر کے ٹیلہ پر نازل ہوں گے اور یہ قدس شریف میں ایک جگہ ہے (جو سوق حمیدی میں جامع اموی کے مشرقی منارہ پر ہے۔ جس پر سفید مینار بنا ہوا ہے جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقت صبح نازل ہوں گے)﴾
- .......٣ مشہور مفسر الحافظ ابوالفداء اسماعیل بن کثیر القرشی الدمشقی (المتوفی
٧٧٤ھ) فرماتے ہیں: ”وانه لعلم للساعة اى امارة ودليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلا وحكما مقسطا (تفسیر ابن کثیر ج٤ ص١٣٣،١٣٢)“ ﴿اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے۔ یعنی قیامت کی آمد اور اس کے وقوع کی نشانی اور دلیل ہے۔ حضرت مجاہدؒ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کا دن برپا ہونے سے پہلے آنا قیامت (کے قرب) کی علامت اور نشانی ہے اور اسی طرح اس کی یہ تفسیر حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابوالعالیہؒ، حضرت ابو مالکؒ، حضرت عکرمہؒ، حضرت حسنؒ، (بصری) حضرت قتادہؒ اور حضرت ضحاکؒ (بن مزاحم) وغیرہم سے بھی مروی ہے اور آنحضرت ﷺ سے متواتر احادیث کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل اور منصف حاکم بن کر نازل ہونے کی خبر دی ہے۔﴾
قرآن کریم کی ان آیات کریمات کے ہر ہر جملہ میں تاکیدی الفاظ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور آمد کا بالکل واضح ثبوت ہے اور پھر حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت
٢٤
عبداللہ بن عباسؓ جیسے ترجمان قرآن اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ اور معتبر و مستند تابعینؒ کی تفسیر اس پر مستزاد ہے اور احادیث متواترہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور نزول اپنی جگہ حق ہے۔
- ٤....... امام ابن جریر الطبریؒ (محمد بن جریر بن یزید المتوفی ٣١٠ھ) لعلم اور یعلم
دونوں قرأتوں کا حوالہ دے کر بعض حضرات صحابہ کرامؓ بعض تابعینؒ اور تبع تابعینؒ وغیرہم کی تفسیریں نقل کرتے ہیں اور بحوالہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نقل کرتے ہیں کہ: ”قال نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام (تفسیر ابن جریر ج ٢٥ ص ٩٠) ”﴿انہوں نے فرمایا کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مراد ہے۔ (کیونکہ وہ قیامت کی نشانی ہیں)﴾
الحاصل قرآن کریم کے اس قطعی بیان اور مضمون سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول من السماء اور آمد بالکل واضح ہے۔ جیسا کہ حضرات صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور مفسرین عظام کی روشن تفاسیر سے یہ بات بیان ہوئی ہے۔ فلاسفہ ملاحدہ اور قادیانی وغیرہ باطل فرقے اہل اسلام کے ایمان کو متزلزل کرنے کے لئے جیسے اور جتنے بھی حربے اختیار کریں، اہل حق پر کچھ اثر نہیں۔
مگر مردان حق آگاہ تھرایا نہیں کرتے
دوسری دلیل یہود کا یہ باطل دعویٰ تھا اور ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے اور سولی پر لٹکا دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا یوں رد فرمایا: ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم (النساء: ١٥٧) ”﴿اور انہوں نے نہ تو اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا اور لیکن وہ شبہ میں ڈالے گئے۔﴾
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (المتوفی ١٣٦٩ھ) اس مضمون کی خاصی تشریح اور تفسیر کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں۔ ”حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مقتول نہیں ہوئے۔ بلکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔“
(فوائد عثمانیہ ص ١٣٢)
اور اس اشتباہ کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک شخص شمعون کرینی کو جس کی شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل سے ملتی جلتی تھی۔ (جیسا کہ حدیث میں حضرت عروہ بن مسعودؓ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل کہا گیا ہے) علاقہ شام صوبہ یہودیہ کے نیم خود مختار جابر اور ظالم حاکم ہیروڈ کے ایام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا گیا اور مصلوب ہو گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
٢٥
اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ چنانچہ انگریز مورخین کی بین الاقوامی مرتب کردہ کتابوں میں شمعون کرینی کا مصلوب ہونا ہی واضح طور پر مذکور ہے۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ج ٣ ص ١٧٦ اور انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس ج ٣ ص ٨٣٣) مزید تشریح مولانا عبدالماجد دریا بادی کی کتاب قصص مسائل میں دیکھیں۔
علامہ ابو حیان اندلسیؒ "بل رفعه الله اليه" کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: "هذا ابطال لما ادعوه من قتله وصلبه وهو حى فى السماء الثانية على ماصح عن الرسول ﷺ فى حديث المعراج (البحر المحيط ج ٣ ص ٣٩١) "یہ اس ارشاد میں یہود کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے اور ان کو سولی پر لٹکانے کے دعویٰ کا ابطال ہے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر زندہ ہیں۔ جیسا کہ معراج کی صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے۔"
آگے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وما قتلوه يقينا ، بل رفعه الله اليه ، وكان الله عزيزا حكيما ، وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٨، ١٥٩) "اور اس کو انہوں نے یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے اور اہل کتاب سے کوئی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔"
اس کی تفسیر میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں کہ: "حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں۔ آسمان پر جب دجال پیدا (اور خارج ہوگا) تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود و نصاریٰ (وغیر ہم کفار) ان پر ایمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے۔ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا۔"
(فوائد عثمانیہ ص ١٣٣)
- ١....... حافظ ابن کثیرؒ بطریق ابی رجاء یہ تفسیر نقل کرتے ہیں کہ: "عن الحسن
وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسىٰ عليه السلام والله انه لحيى الان عندالله تعالى ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٦) "حضرت حسن (بصری) نے "وان من اهل الكتاب"
٢٦
کی تفسیر یہ کی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لائے۔ بخدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہیں اور جب نازل ہوں گے تو سبھی لوگ ان پر ایمان لائیں گے۔﴿
اور دوسرے طریق سے تفسیر یوں نقل کرتے ہیں کہ: ”ان رجلا قال للحسن يا ابا سعيد قول الله عزوجل وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسىٰ عليه السلام ان الله تعالىٰ رفع اليه عيسىٰ عليه السلام وهو باعثه قبل يوم القيامة مقاما يؤمن به البر والفاجر وكذا قال قتادة وعبدالرحمٰن بن زيد بن اسلم وغير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع ان شاء الله تعالىٰ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٦)“
﴿ایک شخص نے حضرت حسن (بصری) سے دریافت کیا کہ اے ابو سعید (یہ ان کی کنیت تھی) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ رہے گا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا۔ کیا معنی ہیں؟ حسن بصریؒ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسی جگہ بھیجے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے تمام نیک و بد ان پر ایمان لائیں گے اور یہی تفسیر حضرت قتادہؒ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلمؒ اور بے شمار مفسرین نے کی ہے اور یہی تفسیر حق ہے۔ ہم آگے دلیل قاطع سے اسے بیان کریں گے۔ انشاء اللہ العزیز!﴾
اس کے بعد حافظ ابن کثیرؒ نے نصوص قرآنیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کے حوالہ سے اسے مبرہن کیا ہے۔ قرآن کریم کے اس روشن بیان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی وفات سے قبل یہود و نصاریٰ وغیرہم کفار کا ان پر ایمان لانا ثابت ہے۔ ”لاریب فیہ“ اور ان کی آمد و نزول سے پہلے ساری دنیا کفر ظلم و جور اور قتل و غارت اور بے حیائی سے بھری ہوئی ہوگی۔
وہی پیدا کرے گا دن بھی کی ہے جس نے شب پیدا
کتب تفاسیر میں ”الا ليؤمنن به قبل موته“ کی دو تفسیریں نقل کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ بہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور قبل موتہ میں ضمیر کتابی یعنی یہود و نصاریٰ کے ہر ہر فرد کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر یہودی اور نصرانی اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے گا۔ وہ یوں کہ نزع اور جان کنی کے وقت انہیں اپنے باطل
٢٧
عقیدہ پر بخوبی اطلاع ہو جائے گی اور وہ مجبور ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ اگرچہ کتب تفسیر میں یہ تفسیر بھی موجود و مذکور ہے۔ مگر دلائل اور سیاق و سباق سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اوّل اس لئے کہ نزع کی حالت کا ایمان، ایمان نہیں اور نہ عنداللہ تعالیٰ اس کی قبولیت ہے۔ حالانکہ آیت کریمہ میں لام تاکید اوّل میں اور نون تاکید ثقیلہ آخر میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضرور بہ ضرور ایمان لائیں گے اور اس ایمان سے ایسا ایمان مراد ہے جو عنداللہ ایمان ہو اور مقبول بھی ہو اور مرتے وقت یہودی اور نصرانی کا ایمان ایمان ہی نہیں تو وہ اس لیؤمنن کا مصداق کیسے ہو سکتا ہے؟ وثانیاً اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فمن شاء فلیؤمن یعنی ہر مکلف سے وہ ایمان مطلوب ہے جو اس کی مرضی اور مشیت سے ہو اور نزع کے وقت جب فرشتے سامنے ہوں تو اس وقت کا ایمان مجبوری کا ایمان ہوگا۔ جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وثالثاً اس لئے کہ قرآن کریم سے زیادہ فصاحت اور بلاغت والی کتاب دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اگر موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہو تو آگے ”ویوم القيمة يكون عليهم شهيداً“ میں یکون میں ہو ضمیر یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا انتشار ضمائر لازم آئے گا کہ ایک ضمیر تو کتابی کی طرف راجع ہو اور دوسری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف جو فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے۔ اس لئے یہی بات راجح اور متعین ہے کہ قبل موتہ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود و نصاریٰ کو جب اپنی غلطی کا اقرار و احساس ہوگا تو اپنے نزع سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور وہ ایمان، ایمان ہوگا اور مقبول ہوگا۔
- .......٢ علامہ اندلسیؒ فرماتے ہیں: ”والظاهر ان الضميرين في به وموته
عائدان على عيسىٰ عليه السلام وهو سياق الكلام المعنى ان من اهل الكتاب الذين يكونون فى زمان نزوله روى انه ينزل من السماء فى آخر الزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتىٰ تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام قاله ابن عباسؓ والحسنؓ وابومالك (البحر المحيط ج ٣ ص ٢٩٢)“ اور ظاہر یہی ہے کہ بہ اور موتہ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور سیاق کلام بھی اسی کو چاہتا ہے اور معنی یہ ہے کہ جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی ان پر ایمان لائے بغیر نہیں
٢٨
رہے گا۔ حتی کہ اس وقت ایک ہی ملت باقی رہے گی اور وہ صرف ملت اسلام ہی ہوگی۔ یہی بات حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت حسنؒ (بصری) اور ابو مالکؒ نے بیان کی ہے۔ ﴿
علامہ موصوف کی تفسیر سے واضح ہو گیا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور سیاق و سباق اسی کو چاہتا ہے کہ بہ کی طرح قبل موتہ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور قاضی بیضاویؒ (عبداللہ بن عمر بیضاویؒ المتوفی ٦٨٥ھ) نے بھی یہ تفسیر نقل کی ہے۔
- ٣...... ”وقيل الضميران لعيسى عليه افضل الصلوة والسلام
والمعنى انه اذا نزل من السماء آمن به اهل الملل لما روى انه عليه الصلوة والسلام ينزل من السماء (تفسير بيضاوی ج ١ ص ٢٥٥)“ ﴿ اور یہ کہا گیا ہے (اور یہی صحیح اور راجح ہے) کہ دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر افضل صلوٰۃ و سلام ہوں کی طرف راجع ہیں اور معنی یہ ہے کہ جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے تو تمام ملتوں والے ان پر ایمان لائیں گے اور احادیث میں مروی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ ﴿
قاضی بیضاویؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس تفسیر کی جس میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ وہ احادیث بھی تائید کرتی ہیں۔ (جو متواتر ہیں) جن میں ان کے آسمان سے نازل ہونے اور تمام اہل ملل کے ان پر ایمان لانے کا واضح ذکر ہے۔
- ٤...... اور حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ: ”والقول الصحيح الذى عليه
الجمهور قبل موت المسيح (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣٤١ ، ج ٢ ص ١١٣) “ ﴿ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صحیح قول (اور تفسیر) وہی ہے جس پر جمہور اہل اسلام ہیں کہ موتہ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ ﴿
پہلی آیت کریمہ اور اس میں نقل کردہ تفاسیر کی طرح اس دوسری آیت کریمہ اور اس کی تفسیر میں نقل کردہ ٹھوس اور مضبوط حوالوں سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا رفع الی السماء، ان کی حیات اور قیامت سے پہلے ان کا زمین پر نازل ہونا نصوص قطعیہ قرآنی آیات سے ثابت ہے۔ جس کا انکار کافر ملحد اور زندیق کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ مگر باطل پرستوں پر براہین قاطعہ اور ادلہ ساطعہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنی انا اور ضد پر قائم رہتے ہیں۔ بھلا شیطان کی ہدایت کس کے بس میں ہے۔
وگرنہ ساغر و مینا بدل جانے سے کیا ہوگا
٢٩
الباب الثانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء ان کی حیات اور نزول الی الارض کے سلسلہ میں اس کتاب کے مقدمہ میں کتب عقائد، کتب تفسیر اور کتب فقہ وغیرہ سے مضبوط اور صریح حوالے قارئین کرام پڑھ چکے ہیں اور الباب الاول میں قرآن کریم کی دو آیات کریمات اور ان کی تفسیر بھی ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اب اس باب میں چند احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے اور آپ حضرات زیر نظر کتاب میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء حیات اور نزول الی الارض کی احادیث متواتر ہیں۔ سب کا استیعاب واحصاء مطلوب نہیں۔ صرف بعض احادیث کا باحوالہ ذکر کرنا مقصود ہے۔
پہلی حدیث
حضرت ابوہریرہؓ (عبدالرحمٰن بن صخر ؒ المتوفی ٥٨ھ) روایت کرتے ہیں کہ: ”قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوہریرة واقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمة یکون علیھم شھیدا (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ ابن مریم، واللفظ لہ وابن ماجہ ص ٣٠٨، ومسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ ابن مریم) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ البتہ ضرور بضرور تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہم السلام نازل ہوں گے۔ حاکم اور عادل ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی کو موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت تقسیم کریں گے۔ یہاں تک کہ مال قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور اس وقت ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو اس کی تائید قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔ یہ پڑھو اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا۔ مگر ضرور بضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لائے گا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر گواہ ہوں گے۔﴾
٣٠
آنحضرت ﷺ اگر بغیر قسم اٹھائے بھی فرما دیتے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوتا۔ مگر اس حدیث میں آپؐ نے قادر مطلق ذات کی قسم اٹھا کر اور پھر لیوشکن کے جملہ میں لام تاکید اور نون تاکید ثقیلہ سے اس کو نہایت ہی مؤکد کر کے فرمایا ہے کہ لامحالہ اور ضرور تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ اتنی اور ایسی تاکیدات کے حلفی بیان میں کون عقلمند نبی معصوم ﷺ کے ارشاد میں شک کر سکتا ہے؟ صرف وہی کرے گا جو ایمان اور عقل و بصیرت سے کلیۃً محروم ہوگا۔
کوئی پوچھے کہ ان کے ہاتھ کیا نعم البدل آیا
حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (فتح الباری ج ٦ ص ٤٩١، ٤٩٢) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر حقیقتاً صلیب کو توڑیں گے اور نصاریٰ پر یہ واضح کریں گے کہ تم صلیب کی تعظیم کرتے رہے اور میں اس کو توڑ کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تعظیم کے قابل نہیں بلکہ نیست و نابود کرنے کے لائق ہے اور اسی طرح نازل ہونے کے بعد خنزیر کو قتل کر کے عیسائیوں پر یہ ظاہر کریں گے کہ تم اس کو حلال سمجھتے رہے اور اس سے محبت کرتے رہے اور میں اس کے وجود کو ہی ختم کر رہا ہوں اور جب کافر ہی نہ رہے تو قتال اور جہاد کس سے کیا جائے گا؟ اور جب اہل کتاب اور دیگر ذمی کفار ہی نہ رہے تو جزیہ کس سے وصول کیا جائے گا؟ اس لئے ان کی آمد کے بعد لڑائی اور جزیہ موقوف ہو جائے گا اور ظلم و جور مٹ جائے گا اور عدل و انصاف کے نفاذ اور زمین کی برکات کی وجہ سے کوئی غریب اور محتاج نظر ہی نہیں آئے گا۔ تا کہ اس کا مال دیا جائے اور وہ مال قبول کرے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نری برکت ہوگی۔ گویا وہ یوں گویا ہوں گے۔
ہماری نیکی اور ان کو برکت عمل ہمارا نجات ان کی
دوسری حدیث
حضرت جابرؓ بن عبداللہ (المتوفی ٧٤ھ) سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا۔ ”یقول لا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاہرین الی یوم القیمۃ قال فینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فیقول امیرہم تعال صل فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ ہذہ الامۃ
٣١
(مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسی بن مریم، مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٥) ”آپ نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہ کر مخالفوں سے قیامت تک لڑتا رہے گا اور فرمایا کہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے اور اس طائفہ کا امیر (جو حضرت امام مہدی ہوں گے) حضرت عیسی علیہ السلام سے فرمائے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے تو وہ فرمائیں گے کہ نہیں اس امت کی فضیلت کی وجہ سے تم ہی میں سے بعض بعض پر امیر ہوں گے۔“ اس صحیح حدیث سے بھی قرب قیامت حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول بالکل واضح ہے۔
تیسری حدیث
حضرت نواس بن سمعان الکلابی (المتوفی ...... ھ) کی طویل حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ”فبينما هو كذالك اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهر وذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين الحديث (مسلم ج ٢ ص ٤٠١ ، باب ذكر الدجال، ترمذی ج ٢ ص ٤٧، وفيه اذ هبط بدل از بعث وابن ماجه ص ٣٠١ ، مستدرك ج ٥ ص ٦٩٢ ، قال الحاكم والذهبي على شرطهما ) “اسی حالت میں (کہ ایک نوجوان دجال سے برسر پیکار ہوگا ) یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کو ( آسمان سے ) بھیجے گا اور وہ دو زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق میں سفید مشرقی مینار پر نازل ہوں گے۔“
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ یہ سفید مینار آج بھی دمشق میں مشرقی سمت میں موجود ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٤٠١) اور اس راقم السطور نے اپنی گنہگار آنکھوں سے وہ مینار دیکھا ہے۔
چوتھی حدیث
حضرت عبداللہ بن عمروؓ (المتوفی ٦٣ ھ ) روایت کرتے ہیں کہ : ”قال رسول الله ﷺ يخرج الدجال فى امتى فيمكث اربعين لا ادرى يوما او اربعين شهرا او اربعين عاما فيبعث الله تعالى عيسى بن مريم عليه السلام كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه (مسلم ج ٢ ص ٤٠٣ ، باب ذكر الدجال، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٦، مستدرك ج ٤ ص ٥٤٣ ، كنز العمال ج ٧ ص ٢٥٨) “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں دجال نکلے گا اور چالیس تک رہے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ ٣٦
چالیس دن ہوں گے یا مہینے یا سال، اس گا۔ ان کا حلیہ جیسا کہ حضرت عروہ بن م ہلاک کر دیں گے۔
دوسری روایت میں ہے کہ میں رہے گا۔ پہلا دن سال جتنا لمبا ہو و کرام نے پوچھا کہ مثلاً سال اور مہینہ پڑھنا ہوں گی؟ آپ نے فرمایا بلکہ ان د کر پڑھنا ہوں گی۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١) کہ اس وقت شریعت کا یہی حکم ہوگا اور ب ج ٢ ص ٤٠١) اوقات صلوٰت اگر چہ نما سبب اللہ تعالیٰ حکم اور امر ہے۔
پانچویں حدیث
حضرت مجمع بن جاریہ الانص کہ: ”سمعت رسول الله ﷺ ج ٢ ص ٤٨، مسند احمد ج ٣ ص کہ عیسیٰ بن مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام د بیت المقدس کے قریب ہونے کے بعد اس بستی کے دروازہ پر لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے مصنوعی نبی قتل ہوگا۔
چھٹی حدیث
حضرت ابوامامہ الباہلیؓ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کے فرمایا کہ : ”فبينما امامهم قد مريم اصبح فرجع ذالك ال السلام يصلى فيضع عيس
چالیس دن ہوں گے یا مہینے یا سال، اسی دور میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ جیسا کہ حضرت عروہ بن مسعود کا ہوگا اور وہ دجال لعین کو طلب کریں گے اور اس کو ہلاک کر دیں گے۔ ﴾
دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دجال چالیس دن تک زمین میں رہے گا۔ پہلا دن سال جتنا لمبا، دوسرا مہینے جتنا اور تیسرا ایک ہفتے جتنا لمبا ہوگا۔ حضرات صحابہؓ کرام نے پوچھا کہ مثلاً سال اور مہینہ اور ہفتہ جیسے لمبے دن میں صرف ایک ہی دن کی نمازیں پڑھنا ہوں گی؟ آپؐ نے فرمایا بلکہ ان دنوں میں سال اور ماہ اور ہفتہ کی نمازیں اوقات کا اندازہ لگا کر پڑھنا ہوں گی۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١) امام نوویؒ بعض محدثین کرام کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ اس وقت شریعت کا یہی حکم ہوگا اور قیاس واجتہاد کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ (محصلہ نووی شرح مسلم ج ٢ ص ٤٠١) اوقات صلوات اگر چہ نمازوں کے لئے اسباب ہیں۔ مگر ظاہری اسباب ہیں، حقیقی سبب اللہ تعالیٰ حکم اور امر ہے۔
پانچویں حدیث
حضرت مجمع بن جاریہ الانصاری (المتوفی فی خلافت معاویہؓ تقریباً ٦٠ ھ ) فرماتے ہیں کہ: ”سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد (ترمذی ج ٢ ص ٤٨، مسند احمد ج ٣ ص ٤٢٠) “ ﴿میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام دجال کو لد کے دروازہ پر قتل کریں گے۔ ﴾
بیت المقدس کے قریب ایک بستی ہے جس کا نام لد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد اس بستی کے دروازہ پر دجال لعین کو قتل کریں گے۔ جس کا منظر اس وقت کے موجودہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ مسیح ہدایت کے ہاتھوں مسیح ضلالت کانا دجال جعلی خدا اور مصنوعی نبی قتل ہوگا۔
چھٹی حدیث
حضرت ابو امامہ الباہلیؒ (صدی بن عجلان المتوفی ٨٦ ھ ) کی طویل حدیث میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کے خروج اور قرب قیامت کی علامات بیان فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ: ”فبینما امامهم قد تقدم يصلی بھم الصبح اذ نزل عليهم عيسى بن مريم اصبح فرجع ذالك الامام ينكص يمشى القهقرى ليقدم عيسى عليه السلام يصلى فيضع عيسى عليه السلام يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم
٣٣
فصل فانها لك اقيمت فیصلى معهم امامهم (ابن ماجه ص ٣٠٨ ، اسناد قوی التصريح بما تواتر فى نزول المسيح عليه السلام ص ١٥٦ ، حافظ ابن حجرؒ نے اس روایت کو استدلال کے طور پر پیش کیا ہے۔ فتح البارى ج ٦ ص ٤٩٣) ﴿لوگ اس حالت میں ہوں گے کہ ان کا امام صبح کی نماز کے لئے آگے کھڑا ہوگا اور صبح کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ وہ امام الٹے پاؤں پیچھے کو ہٹنا شروع کرے گا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نماز پڑھانے کے لئے آگے کرے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس امام کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھیں گے اور پھر فرمائیں گے تو ہی آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھا۔ کیونکہ یہ نماز تیرے لئے قائم کی گئی ہے تو وہ امام ان کو نماز پڑھائیں گے۔﴾
حافظ ابن حجرؒ نقل کرتے ہیں کہ: ”تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عيسىٰ عليه السلام يصلى خلفه (فتح البارى ج ٦ ص ٤٩٤، باب نزول عيسىٰ بن مريم) “ ﴿متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اسی امت میں سے ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔﴾
ساتویں حدیث
حضرت عثمانؓ بن ابی العاص (المتوفی ٥١ھ) سے مرفوع روایت ہے۔ جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”وينزل عيسىٰ بن مريم عليه السلام عند صلوٰة الفجر فيقول اميرهم يا روح الله تقدم صل فيقول هذه الامة امراء بعضهم على بعض فيقدم اميرهم فيصلى (مسند احمد ج ٤ ص ٢١٦، مستدرك ج ٤ ص ٤٧٨، مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٤٢) “ ﴿اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام فجر کی نماز کے وقت نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کے امیر (جو حضرت امام مہدی ہوں گے) ان سے فرمائیں گے اے روح اللہ آگے بڑھئے اور نماز پڑھائیے۔ وہ ارشاد فرمائیں گے کہ اس امت (محمدیہ علی صاحبہا الف الف تحیہ وسلام) کے لوگ بعض بعض پر امراء ہیں تو ان کے امیر آگے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔﴾
یہ حدیث بھی امام حاکم اور علامہ ہیثمیؒ وغیرہ محدثین کی تصریح کے مطابق صحیح ہے اور اس سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واضح الفاظ میں نزول اور وقت نزول مذکور ہے کہ فجر کا وقت ہوگا۔
آٹھویں حدیث
حضرت سمرہؓ بن جندب (المتوفی ٥٩ھ) کی طویل اور مرفوع حدیث میں ہے کہ
٣٤
آنحضرت ﷺ نے دجال لعین کے خروج کے وقت خراب حالات اور مسلمانوں کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ: ”فيتزلزلون زلزالا شديدا فيصبح فيهم عيسى بن مريم عليه السلام فيهزمه الله تعالى وجنوده (مستدرك ج ص ٦٤٦، قال الحاكم والذهبى على شرطهما، مسند احمد ج ٥ ص ١٣) ” اس وقت لوگوں کے اندر شدید قسم کے زلزلہ کی سی کیفیت ہوگی اور صبح کے وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہا السلام نازل ہوں گے۔ سو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دجال اور اس کے لشکر کو شکست دے گا۔ ﴾
حضرت عائشہؓ کی مرفوع روایت میں ہے کہ دجال کے خروج کے وقت بہترین مال اور ذخیرہ وہ قوی جوان ہوگا جو اہل خانہ کو پانی مہیا کر کے پلائے۔
”واما الطعام فليس قالوا فما طعام المؤمنين يومئذ قال التسبيح والتكبير والتهليل رواه احمد وابو يعلى ورجاله رجال الصحيح (مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣٥) “خوراک تو بہر حال نہیں ہوگی۔ صحابہؓ نے کہا کہ اس وقت مومنوں کی خوراک کیا ہوگی؟ فرمایا سبحان اللہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ ۔﴾
نویں حدیث
آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبانؓ (المتوفی ٥٤ھ) فرماتے ہیں: ”عن النبى ﷺ عصابتان من امتى حرزهما (وفى نسخه احرزهما) الله تعالى من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم عليهما السلام (نسائی ج ٢ ص ٥٢، مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨، مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٨٢، رواه الطبرانى فى الاوسط وسقط تابعيه والظاهر انه راشد بن سعد وبقية رجاله ثقات قلت (صفدر) راشد بن سعد قال ابن معين وابو حاتم والعجلى ويعقوب بن شيبة ونسائى وابن سعد ثقه وقال احمد لا باس به وذكره ابن حبان فى الثقات، تهذيب التهذيب ج ٣ ص ٢٢٦ ملخصا) “ ﴿کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخ کی آگ سے آزاد رکھ کر محفوظ کر دیا ہے۔ ایک وہ گروہ جو انڈیا کے مقابلہ میں جہاد کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جہاد میں شرکت کرے گا۔﴾
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ انڈیا کے مظالم سے تنگ آکر
٣٥
اہل اسلام انڈیا سے جہاد کریں گے اور بظاہر اس کا آغاز ہو چکا ہے کہ ہندوستان کے وسیع رقبہ میں پاکستان بننے کے وقت اور اس کے بعد سے اب تک بے پناہ مصائب مسلمانوں پر ہندو ظالموں نے ڈھائے ہیں اور بے شمار کو شہید کیا ہے اور ان کی املاک ضائع کی ہیں اور اس وقت جو ظلم اہل کشمیر پر ہو رہا ہے وہ کس باشعور سے مخفی ہے؟ اگر چہ رضا کارانہ طور پر بعض تنظیمیں جہاد کشمیر میں مصروف ہیں۔ مگر مسلمانوں کی تریپن (٥٣) بے غیرت حکومتیں خاموشی میں ہی مصلحت سمجھتی ہیں تاکہ ان کا آقا (امریکہ اور اس کے پٹھو) ان سے ناراض نہ ہو جائیں۔ مگر ایک وقت ضرور آئے گا کہ غیرت مند مسلمان انڈیا سے ٹکرا کر فاتح ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ: ”قال رسول اللہ ﷺ وذكر الهند يغزو الهند بكم جيش يفتح الله عليهم حتى ياتوا بملوكهم مغللين بالسلاسل يغفر الله ذنوبهم فينصرفون حين ينصرفون فيجدون ابن مريم بالشام اخرجه نعيم بن حماد في كتاب الفتن (كنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧) “ آنحضرت ﷺ نے ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا لشکر انڈیا کے خلاف جہاد کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس لشکر کو انڈیا پر فتح دے گا اور وہ انڈیا کے حکمرانوں کو ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں طوق ڈال کر اور جکڑ کر لائے گا اور اللہ تعالیٰ اس لشکر کے گناہ معاف کر دے گا۔ جس وقت وہ لشکر کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے گا تو اس وقت وہ لشکر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو ملک شام میں دیکھے گا۔
اور حضرت ابو ہریرہؓ ہی کی ایک حدیث یوں ہے کہ : ”قال رسول اللہ ﷺ لا تزال عصابة من امتى على الحق ظاهرين على الناس لا يبالون من خالفهم حتى ينزل عيسى بن مريم (تاريخ ابن عساکر ج ١ ص ٢٤٠ ، كنز العمال ج ٧ ص ٢٦٨) “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور لوگوں پر غالب رہے گا اور مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں۔
یہ وہی گروہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد اور نزول تک علم وعمل اور جہاد کے ذریعہ حق پر ڈٹا رہے گا اور یہی گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دے گا اور اسی گروہ کے افراد بفضلہ تعالیٰ ہر ہر مقام پر کفار سے جہاد کریں گے اور اسی گروہ کے افراد بھی انڈیا سے ٹکر لیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ: ”قال وعدنا رسول اللہ ﷺ غزوة الهند فان
٣٤
ادرکتها انفق فيها نفسي ومالي فانا ابو هريره المحرر (نسائی ج خلاف جہاد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر میں کروں گا۔ اگر میں شہید ہو گیا تو میں (اس فاتح ہو کر لوٹا تو میں دوزخ کے عذاب سے بفضلہ تعالیٰ اس جہاد کا آغاز ہو جب انڈیا کی فوجیں مسلمانوں کے حملوں اور تاکہ کراچی سے لاہور اور پشاور کا رابطہ کٹ ایجنٹ بھی وافر موجود ہیں۔
امام قرطبیؒ (الشیخ الامام ابو عبد تذکرة میں حضرت حذیفہ بن الیمانؓ (ا کی ہے۔ جو یہاں سے شروع ہوتی ہے: اطراف الارض الى قوله وخراب القرطبیؒ ص ٧٩٧ ، مختصر التذكرة لـ نے فرمایا کہ زمین کے اطراف میں خراب ہندوستان کے ہاتھ سے برباد ہوگا اور ہوگی۔
اور اسی جہاد ہند کے سلسلہ کمانڈر شکست فاش کھا کر مسلمانوں کے ادھر شام کے علاقہ میں حضرت عیسیٰ علیہا دیگر کفار سے جہاد میں مصروف ہوں گے کفار اور بے دینوں کی تمام شرارتیں ان جائیں گے۔
ظلمت شب زندگی خواب
ادركتها انفق فيها نفسي ومالي وان قتلت كنت افضل الشهداء وان رجعت فانا ابو هريره المحرر (نسائی ج ٢ ص ٥٢) ” آنحضرت ﷺ نے ہم سے انڈیا کے خلاف جہاد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر میں نے وہ موقع پایا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کروں گا۔ اگر میں شہید ہو گیا تو میں (اس وقت کے ) افضل شہداء میں سے ہوں گا اور اگر میں فاتح ہو کر لوٹا تو میں دوزخ کے عذاب سے رہا کیا ہوا ابو ہریرہ ہوں گا۔
بفضلہ تعالیٰ اس جہاد کا آغاز ہو چکا ہے اور بظاہر اس میں شدت اس وقت آئے گی جب انڈیا کی فوجیں مسلمانوں کے حملوں اور جھڑپوں سے تنگ آکر سندھ ۔ بہاولپور پر حملہ کریں گی تاکہ کراچی سے لاہور اور پشاور کا رابطہ کٹ جائے اور سندھ کے علاقہ میں انڈیا کی ایجنسیاں اور ایجنٹ بھی وافر موجود ہیں۔
امام قرطبیؒ (الشیخ الامام ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبیؒ المتوفی ٦٧١ھ) نے تذکرۃ میں حضرت حذیفہ بن الیمانؓ (المتوفی ٣٥ھ) صاحب سر النبی ﷺ سے طویل حدیث نقل کی ہے۔ جو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ”عن النبی ﷺ انه قال يبدأ الخراب فی اطراف الارض الى قوله وخراب السند بالهند وخراب الهند بالصين (تذكرة القرطبی ص ٧٩٧، مختصر التذكرة لعبد الوهاب الشعرانی ص ١٥٨) “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ زمین کے اطراف میں خرابی اور بربادی نمودار ہوگی۔ پھر آگے فرمایا کہ سندھ ہندوستان کے ہاتھ سے برباد ہوگا اور ہندوستان کی خرابی اور بربادی چین کے ہاتھوں سے ہوگی۔
اور اسی جہاد ہند کے سلسلہ میں انشاء اللہ العزیز بالآخر انڈیا کے حکمران، جرنیل اور کمانڈر شکست فاش کھا کر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوں گے۔ ادھر یہ کارروائی ہو رہی ہوگی اور ادھر شام کے علاقہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر دجال لعین یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جہاد میں مصروف ہوں گے اور وہاں بغیر اسلام کے اور کوئی مذہب باقی نہ رہے گا اور کفار اور بے دینوں کی تمام شرارتیں اور تخریب کاریاں کافور ہو جائیں گی اور تمام مظالم ختم ہو جائیں گے۔
زندگی خواب بھی ہے خواب کی تعبیر بھی ہے
٣٧
انڈیا کے سندھ پر حملہ کرنے کی ظاہری وجوہ
اگر چہ انڈیا کشمیر سرحد اور پنجاب وغیرہ علاقوں پر بھی بھر پور حملہ کرے گا۔ مگر اس کا اصل زور سندھ پر صرف ہوگا۔
- ......١ اس لئے کہ اس کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بحری راستہ سے بیرونی امداد نہ مل سکے اور
کراچی کا راستہ بند ہو جائے۔
- ......٢ اس لئے کہ سندھ میں ہندو اور انڈیا کے ہمنوا مسلمان کہلانے والے ایجنٹ بھی وافر
مقدار میں موجود ہیں اور انکا تعاون مفت میں انڈیا کو حاصل ہے اور ہوگا۔
- ......٣ اس لئے کہ سندھ کے علاقہ میں بلند پہاڑ موجود نہیں ہیں۔ بخلاف کشمیر اور سرحد وغیرہ
کے، کہ بڑے بڑے پہاڑ موجود ہیں اور قدرتی طور پر دفاع کا کام دیتے ہیں۔
- ......٤ اس لئے کہ سندھ میں برف نہیں پڑتی اور سردیوں کے موسم میں سردی بھی زیادہ نہیں
ہوتی۔ بخلاف سرحد وغیرہ کے پہاڑی علاقوں کے وہاں برف بھی پڑتی ہے اور سردیوں میں سردی بھی زیادہ ہوتی ہے اور ایسے موسم میں لڑائی خاصی دشوار ہوتی ہے۔
- ......٥ اس لئے کہ دینی غیرت اور حمیت جتنی سرحد وغیرہ کے علاقہ میں ہے وہ نسبتاً سندھ میں
اتنی نہیں۔ وہاں آزاد خیالی اور دینی جہالت زیادہ ہے۔
- ......٦ اس لئے کہ کراچی اور سندھ کا علاقہ مالی لحاظ سے بہت مالدار ہے اور امیر آدمی جتنا
موت سے ڈرتا ہے غریب آدمی اتنا نہیں ڈرتا اور جس طرح غریب جم کر لڑتا ہے امیر میں وہ جرأت و اخلاص نہیں ہوتا۔
- ......٧ اس لئے کہ سرحد کے علاقہ کو تاریخی طور پر شجاعت اور بہادری کا تمغہ حاصل ہے۔ اس
لئے ان لوگوں سے ٹکر لگانا قدرے مشکل کام ہے۔
- ......٨ افغانستان بھی سرحد کے قریب ہے۔ جس کے لوگ جنگ و قتال و جہاد میں مصروف
ہیں ۔ انڈیا ان کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ اس طرف وہ ڈٹ کر لڑے گا اور نہ لڑ سکتا ہے۔ مشہور مؤرخ امیر شکیب ارسلان (المتوفی ١٣٦٦ھ) لکھتے ہیں کہ:
"ولكن المراد هو ذكر العلاقة الشديدة التي بين اسلام الهند وبلاد الافغان التي منها انحدر الفاتحون المسلمون سواء كانوا من العرب او من العجم او من الترك او من الافغان واثبات ان تلك الجبال كانت لم تزل على مايعلوها من الثلج مستوقد حماسة ومثار حمية ومؤطن فتوة ومعدن
٣٨
فروسة (حاضر العالم الاسلامی ج ٢ ص تعلق سے ہے جو مسلمانان ہند اور بلاد افغانستان کر آئے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ عربی ہوں یا یہ پہاڑ پہلے بھی اور اب بھی برف سے ڈھانپے غیرت کے میدان اور جوان مردی کے مقامات کام نہیں ہے ) ﴾
ان تمام دشواریوں اور مجبوریوں کو تو گا۔ گو دوسرے علاقے بھی اس کی زد میں ہوں
دسویں حدیث
حضرت عبداللہ بن مسعود (المتوفی ٣٢ برسول الله ﷺ لقى ابراهيم ومو بابراهيم فسالوه عنها فلم يكن عنده منها علم فرد الحديث الى عي وقتها فاما وقتها فلا يعلمها الا الله (ابن ماجه ص ٣٠٩، واللفظ له ومستدر ومسند احمد ج ١ ص ٣٧٥) ﴿ ”جب آنحض کی ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور ح میں گفتگو (قیام قیامت کے بارے شروع ہوئی کے پاس وقت قیامت کا علم نہ تھا۔ حضرت مو بھی علم نہ تھا۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیام کی گھڑی بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جا دجال کو قتل کروں گا۔ ﴾
اس صحیح اور صریح روایت سے بھی کرنا ثابت ہے۔
حافظ ابن کثیرؒ یہ حدیث نقل کر کے
فروسة (الحاضر العالم الاسلامی ج ٢ ص١٩٨) ﴿اور لیکن مقصد اس شدید اور گہرے تعلق سے ہے جو مسلمانان ہند اور بلاد افغانستان میں ہے اور انہیں علاقوں سے مسلمان فاتح اتر کر آئے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ عربی ہوں یا عجمی یا ترکی یا افغانی اور باوجود اس ثبوت کے کہ یہ پہاڑ پہلے بھی اور اب بھی برف سے ڈھانپے رہتے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ بہادری کے مینار اور غیرت کے میدان اور جوان مردی کے مقامات اور شہسواری کے معدن ہیں (ان کو سر کرنا آسان کام نہیں ہے)﴾
ان تمام دشواریوں اور مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر انڈیا سارا زور سندھ پر صرف کرے گا۔ گو دوسرے علاقے بھی اس کی زد میں ہوں گے۔
دسویں حدیث
حضرت عبداللہ بن مسعود (المتوفی ٣٢ھ) سے روایت ہے کہ: ”لما كان اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم وموسى وعيسى فتذاكروا الساعة فيبدؤا بابراهيم فسالوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سالوا موسى فلم يكن عنده منها علم فرد الحديث الى عيسى بن مريم فقال قد عهد الى فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله (ابن ماجه ص ٣٠٩، واللفظ له ومستدرك ج ٤ ص ٤٨٨، قال الحاكم والذهبي، صحيح ومسند احمد ج ١ ص ٣٧٥) ﴿جب آنحضرت ﷺ کو اسراء اور معراج پر لے جایا گیا تو آپ کی ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی اور ان کی آپس میں گفتگو ( قیام قیامت کے بارے شروع ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا تو ان کے پاس وقت قیامت کا علم نہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا تو ان کے پاس بھی علم نہ تھا۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے قیام کی گھڑی بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نازل ہو کر دجال کو قتل کروں گا۔﴾
اس صحیح اور صریح روایت سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنا ثابت ہے۔
حافظ ابن کثیر یہ حدیث نقل کر کے آخر میں فرماتے ہیں کہ: ”فهولاء اكابر اولی
٣٩
العزم من المرسلين ليس عندهم علم بوقت الساعة علی التعيين وانما ردوا الی عيسی عليه السلام فتكلم علی اشراطها لانه ينزل فی آخر هذه الامة منفذا لاحكام رسول الله ﷺ ويقتل الدجال ويجعل الله هلاك ياجوج وماجوج ببركة دعائه فاخبر بما اعلمه الله تعالی به (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٢٧٣) ”یہ اکابر اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ مگر ان کو بھی علی التعیین قیامت کے وقت کا علم نہیں۔ انہوں نے یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اس لئے لوٹائی کہ وہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ کیونکہ وہ اس امت کے آخر میں نازل ہو کر آنحضرت ﷺ کی شریعت کے احکام نافذ کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور ان کی دعاء کی برکت سے یاجوج اور ماجوج ہلاک ہوں گے۔ سو جتنا علم اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے اس کی انہوں نے خبر دے دی۔﴿
یہ دس حدیثیں بطور نمونہ اور مثال کے باحوالہ عرض کر دی گئی ہیں۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی بے شمار متواتر اور مرفوع احادیث موجود ہیں اور آثار حضرات صحابہ کرامؓ اور موقوف تابعینؒ اور تبع تابعینؒ اور اقوال حضرات سلف وخلف اور اجماع امت اس پر مستزاد ہے۔ مگر جن لوگوں کے دلوں پر کفر والحاد کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ ان پر حق کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنے الحاد پر نازاں ہیں۔
فروغ خس ہوا عقل کے زوال کے بعد
حضرت امام ترمذیؒ (ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذیؒ المتوفی ٢٧٩ھ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال لعین کے قتل ہونے کی مرفوع حدیث اپنی سند کے ساتھ حضرت مجمع بن جاریہ انصاری سے ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں کہ: ”عن رسول الله ﷺ قال يقتل ابن مريم الدجال بباب لد (ترمذی ج٢ ص٤٨) ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام لد (فلسطین میں ایک گاؤں کا نام ہے) کے دروازہ پر دجال لعین کو قتل کریں گے۔﴿
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: ”هذا حديث صحيح وفی الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عيينة وابی برزة وحذيفة بن اسيد وابی هريرة وكيسان وعثمان بن ابی العاص وجابر وابی امامة وابن مسعود وعبدالله بن عمرو
٤٠
وسمرة بن جندب والنواس بن السمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان“، یعنی اس باب اور اس موضوع میں ان حضرات صحابہ کرامؓ کی احادیث بھی موجود ہیں۔
حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ: ”ومراده بروايته هولاء مافيه ذكر الدجال وقتل عيسى بن مريم عليه السلام له فاما احاديث الدجال فقط فكثيرة جدا (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٥٨٢) ”امام ترمذیؒ کی مراد یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرامؓ کی روایات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دجال لعین کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔ باقی وہ احادیث جن میں فقط دجال لعین کا ذکر ہے تو وہ بہت ہی زیادہ ہیں۔“
حافظ ابن کثیرؒ پہلے باحوالہ چند احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پھر آگے فرماتے ہیں کہ: ”فهذه احاديث متواترة عن رسول الله ﷺ من رواية ابى هريرة وابن مسعود وعثمان بن ابي العاص وابي امامة والنواس بن السمعان وعبدالله بن عمرو بن العاص ومجمع بن جارية وابى شريحة وحذيفة بن اسيد وفيها دلالة واضحة على صفة نزوله ومكانه من انه بالشام بل بدمشق عن المنارة الشرقية وان ذلك يكون عند اقامة صلوة الصبح وقد بنيت في هذه الاعصار في سنة احدى واربعين وسبعمائة للجامع الاموى بيضاء من حجارة منحوتة عوضا عن المنارة التي هدمت بسبب الحريق المنسوب الى صنيع النصارى عليهم لعائن الله تعالى الى يوم القيمة (تفسير ابن كثير ج ١ ص ٥٨٢،٥٨٣) “ حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت عثمان بن ابی العاصؓ، حضرت ابوامامہؓ، حضرت نواس بن سمعانؓ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت مجمع بن جاریہؓ، حضرت ابوشریحہؓ (یہ کتابت کی غلطی ہے۔ یہ لفظ ابوسریحہ ہے جو حضرت حذیفہ بن اسید کی کنیت ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم ج ٢ ص ٣٩٣، عن ابی سریحہ حذیفہ بن اسید۔منہ) اور حضرت حذیفہ بن اسیدؓ کی آنحضرت ﷺ سے یہ احادیث متواترہ ہیں اور ان میں واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور مکان نزول کی واضح دلالت ہے کہ شام بلکہ دمشق میں مشرقی مینار پر صبح کی نماز کے وقت ہوگی اور یہ سفید مینار تراشے ہوئے پتھروں سے اس دور میں ٧٤١ھ میں جامع اموی میں بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ مینار تھا جو آگ لگنے کی وجہ سے مسمار کر دیا گیا تھا اور یہ آگ نصاریٰ جن
٤١
پر تا قیامت اللہ تعالیٰ کی لگاتار لعنتیں برستی رہیں گی بدکرداری اور خبث باطن کی طرف منسوب ہے (کہ انہوں نے اسلام کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے آگ لگائی )﴿ بحمد اللہ تعالیٰ راقم الحروف نے ٥ محرم ١٣٩٣ھ میں حج سے واپسی کے سفر میں دمشق کے سوق حمیدیہ میں جامع اموی کے مشرقی طرف اپنی آنکھوں سے یہ مینار دیکھا ہے۔
اور حافظ ابن کثیرؒ ہی دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ: ”وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلا وحكما مقسطا (تفسير ابن كثير ج٤ ص ١٣٢، ١٣٣) ”﴿ بلاشبہ آنحضرتﷺ سے متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے امام عادل اور منصف حاکم ہوکر نازل ہونے کی خبر دی ہے۔﴿
ان حوالوں سے بھی صاف طور پر واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور اسی کے پیش نظر رسالہ میں باحوالہ یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ متواتر حدیث کا انکار کفر ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے چالیس سال بعد وفات پائیں گے
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد چالیس سال تک عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کریں گے اور حج وعمرہ بھی کریں گے۔ اس کے بعد پھر ان کی وفات ہوگی اور اہل اسلام ان کا جنازہ پڑھیں گے اور پھر مدینہ طیبہ روضہ اقدس میں دفن ہوں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”وانه يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويفيض المال حتى يهلك الله فى زمانه الملل كلها غير الاسلام وحتى يهلك الله فى زمانه المسيح الدجال الاعور الكذاب وتقع الامنة فى الارض حتى يرتعى الاسد مع الابل والنمر مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات ولا يضر بعضهم بعضا ثم يبقى فى الارض اربعين سنة ثم يموت ويصلى عليه المسلمون ويدفنونه (ابوداؤد الطيالسى ص ٣٣٥، واللفظ له والمستدرك ج ٢ ص ٥٩٥، قال الحاكم والذهبى صحيح
٤٢
وقال الحافظ فى الفتح ج 7 ص 304 ، اسناد صحيح وابوداؤد ج 2 ص 238 وفى مجمع الزوائد ج 8 ص 205 ، ينزل ابن مريم فيمكث فى الناس اربعين سنة رواه الطبراني في الاوسط ورجاله ثقات) ”﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام (آسمان سے نازل ہونے کے بعد) صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور مال وافر طور پر تقسیم کریں گے۔ یہاں تک کہ اسلام کے بغیر ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا اور انہیں کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ مسیح ضلالت کانے کذاب (دجال) کو ہلاک کرے گا اور زمین میں امن وامان واقع ہوگا۔ یہاں تک کہ شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بھیڑ بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ان میں سے کوئی کسی کو ضرر نہیں دے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور اہل اسلام ان کا جنازہ پڑھیں گے اور پھر ان کو دفن کریں گے۔﴾
اس صحیح حدیث سے بھی یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی تک وفات نہیں ہوئی اور نہ مسلمانوں نے انکا جنازہ پڑھا ہے اور نہ وہ دفن کئے گئے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج اور عمرہ کرنا
احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد حج وعمرہ کریں گے۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ:”ان رسول الله ﷺ قال والذي نفسى بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا اومعتمرا او ليثنيهما (مسلم ج 1 ص 408، باب جواز المتمتع فى الحج والقرآن) ”﴿بے شک آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور فج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت کر کے احرام باندھیں گے۔﴾
فج روحاء مدینہ طیبہ سے تقریباً چھ میل دور ایک مقام ہے۔ جیسے ذوالحلیفہ اور آج کل بئر علیٰ چھ میل دور ہے اور حضرت ابوہریرہؓ سے ہی روایت ہے۔ ”يقول قال رسول الله ﷺ ليهبطن عيسى بن مريم حكماً عدلاً واماما مقسطا ويسلكن فجا حاجا او معتمرا او يثنيهما ولياتين قبرى حتىٰ يسلم على ولاردن عليه يقول
٤٣
ابو ہریرہ ای بنی اخی ان رایتموہ فقولوا ابو ہریرہ یقرئک السلام (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠، مستدرک ج ٢ ص ٥٩٥، قال الحاکم والذہبی صحیح) ”وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ البتہ ضرور بضرور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام حاکم عادل اور منصف امام ہو کر نازل ہوں گے اور البتہ ضرور فج کے راستہ سے حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت سے روانہ ہوں گے اور البتہ ضرور میری قبر پہ آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے اور میں ضرور ان کے سلام کا جواب لوٹاؤں گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے (شاگردوں سے) فرمایا اے میرے بھتیجو اگر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھو تو کہنا کہ ابو ہریرہؓ آپ سے سلام عرض کرتے ہیں۔“
ان روایات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج اور عمرہ کرنا اور جس میقات (فج) سے احرام باندھیں گے۔ اس کا پھر آنحضرت ﷺ کی قبر اطہر پر سلام کہنے اور پھر آپ کے جواب دینے کا نہایت ہی تاکیدی الفاظ سے بیان ہوا۔ مزید برآں حضرت ابو ہریرہؓ کا اپنے شاگردوں اور سامعین کو یہ پیغام دینا کہ اگر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھو اور ان سے شرف ملاقات حاصل ہو تو میری طرف سے میرا نام لے کر عرض کرنا کہ حضرت! ابو ہریرہؓ نے ہماری وساطت سے آپ سے سلام عرض کیا ہے۔ یہ تمام امور واضح ہیں۔
نزول من السماء
بعض سطحی ذہن کے منہ پھٹ قادیانی یوں کج بحثی کیا کرتے ہیں کہ اوّل تو ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع، حیات اور نزول کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اگر نزول کو تسلیم بھی کر لیں تو آسمان سے ان کا نزول کہاں سے ثابت ہے؟ اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی بھی صحیح حدیث میں من السماء کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
الجواب
یہ ایک نہایت ہی کمزور اور ضعیف سوال ہے اور یقیناً مردود ہے۔ اوّلاً تو اس لئے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کسی پہاڑ یا ٹیلے یا درخت یا کسی بلند مکان کی چھت وغیرہ پر چڑھایا اور اٹھایا گیا ہو تو ان کا نزول بھی وہاں سے ہوگا۔ مگر بالکل واضح ،محکم اور روشن حوالوں سے پہلے بیان ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ جسم مبارک کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ الی السماء کے الفاظ صراحت سے مذکور ہیں تو وہ نازل بھی وہیں سے ہوں گے۔ جہاں ان کو اٹھایا گیا تھا۔ اس پر
٤٤
نقلی اور عقلی طور پر کیا اشکال ہوسکتا ہے؟ وثانیاً اس لئے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی صحیح ، صریح اور مرفوع حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم الحدیث (کتاب الاسماء والصفات، للبیہقی ص٤٢٤) ﴿تمہارا کیسا (مبارک) حال ہوگا۔ جبکہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے۔﴾
اور علامہ نور الدین ہیثمیؒ (استاد حافظ ابن حجرؒ المتوفی ٨٠٧ھ) حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت یوں نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”ثم ینزل عیسی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم من السماء فیؤم الناس (قال الهيثمى رواه البزار ورجاله، رجال الصحيح غير على بن المنذر وهو ثقة، مجمع الزوائد ج٧ ص ٣٥٢) ﴿پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور لوگوں کو امامت کرائیں گے۔﴾ اس حدیث کو امام بزارؒ نے (مسند میں) روایت کیا ہے۔ اس کے تمام راوی بخاری شریف کے راوی ہیں۔ بغیر علیؒ بن المنذر کے مگر وہ بھی ثقہ ہے۔
علیؒ بن المنذر کو امام ابو حاتمؒ صدوق اور ثقہ، امام نسائیؒ ثقہ، امام بن نمیرؒ ثقہ اور صدوق اور امام دار قطنیؒ اور محدث مسلمہؒ بن القاسم لا بأس بہ کہتے ہیں اور امام ابن حبانؒ ان کو ثقات میں بیان کرتے ہیں۔
(تہذیب التہذیب ج٧ ص ٣٨٦)
اور حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ کی حدیث میں ہے کہ: ”قال رسول اللہ ﷺ عند ذالك ینزل اخی عیسی بن مریم علیه السلام من السماء (کنز العمال ج١٤ ص٦١٩ حدیث نمبر٣٩٧٢٥، منتخب کنز بر حاشیه مسند احمد ج٦ ص٥٦)“ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت (جبکہ دجال کے خروج کی وجہ سے افراتفری ہوگی) میرے (دینی اور نبی ہونے میں) بھائی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔﴾
ان صحیح روایات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ثابت ہے اور نازل ہوکر دجال لعین کو قتل کریں گے اور یہود ونصاریٰ کا صفایا کریں گے اور چالیس سال تک حکمرانی کریں گے اور قرآن وحدیث کے مطابق عدل وانصاف سے حکومت کریں گے۔ جن کے مبارک دور میں شیر اور چیتے ، ریچھ اور بھیڑیئے وغیرہ موذی اور وحشی درندے بھیڑوں اور بکریوں
٤٥
کے ساتھ چریں گے مگر کوئی کسی کو ضرر نہیں دے گا اور نہ ڈرے گا۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔ وثالثاً
اس لئے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے جبکہ متوفی حکیم نورالدین بھیروی خلیفہ کی گرفت میں پوری طرح نہیں آیا تھا۔ اپنی کتابوں میں واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
- .......١ "الا يعلمون ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومه
ولا ياخذ شيئا من الارض مالهم لا يشعرون" کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ بے شک مسیح علیہ السلام اپنے تمام علوم کے ساتھ آسمان سے نازل ہوں گے اور زمین میں (کسی شخص سے) کوئی شے (علم) حاصل نہیں کریں گے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص٤٠٩، خزائن ج٥ ص٤٠٩)
اس عبارت میں صریح الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ذکر ہے۔
- .......٢ "مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح (علیہ
السلام) جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔"
(ازالہ اوہام ص٨١، خزائن ج٣ ص١٤٢)
ہمارے پیش نظر مسلم شریف کا جو نسخہ ہے اس میں من السماء کا لفظ مذکور نہیں، باقی طویل روایت مسلم ج٢ ص٤٠١ میں مذکور ہے اور مرزا قادیانی چونکہ (جعلی) نبی ہیں۔ اس لئے ان کے پاس ضرور مسلم شریف کا کوئی ایسا نسخہ ہوگا جس میں من السماء کے الفاظ بھی ہوں گے۔
- .......٣ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: "(حج الکرامۃ ص ٤٢٨) میں ابن واطیلؒ وغیرہ
سے روایت لکھی ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہوگا۔"
(تحفہ گولڑویہ ص١١٢، ١١٣، خزائن ج١٧ ص٢٨١، ٢٨٢)
یہ تین حوالے ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی کے نقل کئے ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی تصریح ہے اور اپنے اقرار اور بیان سے بڑھ کر آدمی کے لئے اور کیا حجت ملزمہ ہو سکتی ہے۔ صحیح احادیث کے پیش نظر جن کا ذکر اسی پیش نظر کتاب میں با حوالہ ہو چکا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بوقت عصر نہیں بلکہ بوقت صلوٰۃ صبح ہوگا۔ کما مرّ اور حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ: "وان ذالك يكون عند اقامة صلوة الصبح" یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول صبح کی نماز کی اقامت کے وقت ہوگا۔
(تفسیر ابن کثیر ج١ ص٥٨٣)
٤٦
بعض عیسائی بھی حضرت
اور نزول من السماء پـ
قارئین کرام! نے خاصی اور باحوالہ ملاحظہ کر لیا ہے کہ وہ قرآن کریم، احادیث متوا دلائل اور براہین کی بناء پر حضرت عیسیٰ علیہ السلا اور وہاں ان کی حیات اور پھر قیامت سے قبل آ اور باقی کفار کا صفایا کرنے، صرف اور صرف اس حکمرانی کرنے اور شادی کرنے اور حج اور عمرہ کر کا جنازہ پڑھانے اور روضہ اقدس میں ان کو د طبقہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مگر عیسائیوں کے کریں۔ کیونکہ جس کتاب کا حوالہ ابھی انشائـ کتاب ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آ
چنانچہ فلپیوں کے نام پولس رسول باب ٣ آیت ٢٠ میں ہے۔ "مگر ہمارا وطن آ وہاں سے آنے کے انتظار میں ہیں۔ ان الـ السلام آسمان پر ہیں اور عیسائی بھی ان کے آ اس سے بڑھ کر ان کے لئے اور کیا ثبوت درکـ
بفضلہ تعالیٰ ہم نے ان پر اتمام حـ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلیم کرنے کی توفیق بخـ
کہ جتنا کھینچتا ہوں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شادی بـ
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مـ ایک سو بیس سال تھی۔ (فتح الباری ج٦ صـ
بعض عیسائی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد
اور نزول من السماء کے قائل اور منتظر ہیں
قارئین کرام! آپ نے خاصی اور باحوالہ تفصیل کے ساتھ اہل اسلام کا پختہ عقیدہ اور نظریہ ملاحظہ کر لیا ہے کہ وہ قرآن کریم، احادیث متواترہ اور امت مسلمہ کے اجماع واتفاق کے روشن دلائل اور براہین کی بناء پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جانے اور وہاں ان کی حیات اور پھر قیامت سے قبل آسمان سے زمین پر نازل ہو کر دجال، یہود و نصاریٰ اور باقی کفار کا صفایا کرنے، صرف اور صرف اسلام کا نفاذ کرنے اور چالیس سال تک زندہ رہ کر حکمرانی کرنے اور شادی کرنے اور حج اور عمرہ کرنے پھر ان کی وفات ہونے اور اہل اسلام کے ان کا جنازہ پڑھانے اور روضہ اقدس میں ان کو دفن کرنے پر متفق ہیں۔ اس میں مسلمانوں کے کسی طبقہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مگر عیسائیوں کے بعض طبقے بھی (مناسب تو یہ ہے کہ سبھی اس کو تسلیم کریں ۔ کیونکہ جس کتاب کا حوالہ ابھی انشاء اللہ العزیز آ رہا ہے وہ تمام عیسائیوں کی مشترک کتاب ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول اور ان کی آمد کے قائل اور منتظر ہیں۔
چنانچہ فلپیوں کے نام پولس رسول کا خط (جو اناجیل میں شامل اور ان کا ایک حصہ ہے) باب ٣ آیت ٢٠ میں ہے۔ ”مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے اور ہم ایک منجی یعنی خداوند یسوع مسیح کے وہاں سے آنے کے انتظار میں ہیں۔ ان الفاظ سے بالکل واضح اور عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور عیسائی بھی ان کے آسمان سے آنے اور نازل ہونے کی انتظار میں ہیں۔ اس سے بڑھ کر ان کے لئے اور کیا ثبوت درکار ہے۔
بفضلہ تعالیٰ ہم نے ان پر اتمام حجت کے لئے انہی کی کتاب کا واضح حوالہ پیش کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلیم کرنے کی توفیق بخشے۔
کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شادی خانہ آبادی
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو ان کی عمر تینتیس (٣٣) سال یا ایک سو تیس سال تھی۔ (فتح الباری ج٦ ص ٤٩٣) اور ان کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ جب زمین پر نازل
٤٧
ہوں گے تو ان کی شادی اور نکاح بھی ہوگا اور اولاد بھی ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ: ”قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم علیہ السلام الیٰ الارض فیتزوج ویولد له ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم علیہ السلام فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر رواه ابن الجوزی فی کتاب الوفاء (مشکوٰۃ ج٢ ص٤٨٠، ووفاء الوفاء للسمہودی ج١ ص٣٠٧، مواهب اللدنیه للقسطلانی ج٢ ص٣٨٢، الزرقانی المواهب اللدنیه ج٨ ص٢٩٦)“ ﴿﴾ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام زمین پر نازل ہوں گے۔ پھر شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی پیدا ہوگی اور پینتالیس سال (صحیح چالیس سال ہے جیسا کہ دوسری صریح وصحیح احادیث سے ثابت ہے) رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے۔ پھر قیامت کے دن میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مقبرے سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان کھڑے ہوں گے۔﴿﴾
(مرقات ج١٠ ص٢٣٣) میں ہے: ”فی قبر واحد ای من قبر واحد“ قاموس اور مغنی اللبیب میں ہے کہ فی من کے معنی میں آتا ہے۔ قبری سے آنحضرت ﷺ کا مقبرہ اور روضہ مبارکہ مراد ہے۔ (مرقات ص٢٣٣) ای فی مقبرتی علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں کہ: ”ویدفن عیسیٰ علیہ السلام مع النبی ﷺ فی روضته“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ کے روضہ میں دفن کیا جائے گا۔
(مختصر تذکرۃ القرطبی ص١٥٧ طبع مصر)
علامہ مقریزیؒ (المتوفی) نے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وفد جذام کو خطاب فرمایا: ”ولا تقوم الساعة حتیٰ یتزوج فیکم المسیح ویولد له“ اور قیامت قائم نہیں ہوگی۔ جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل نہ ہوں۔ وہ نازل ہو کر شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد عرب کے مشہور قبیلہ ازد (اور حرف یا کے ساتھ بھی یہ آ جاتا ہے۔ یزد) کی ایک خاتون سے نکاح کریں گے اور شادی کے بعد انیس سال زندہ رہیں گے۔ (التصریح ص٢٤٥، فتح الباری ج٦ ص٤٩٣) علامہ السفارینیؒ ”لوامع
٤٨
الانوار البهية وسواطع الاسرار الاثرية لشرح الدرة المضية فى عقد الفرقة المرضية ج ٢ ص ٩٨‘‘ طبع جدۃ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد یزد قبیلہ کی ایک خاتون سے نکاح کریں گے اور ان کے دو لڑکے پیدا ہوں گے۔ ایک کا نام موسیٰ اور دوسرے کا نام محمد رکھیں گے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ تورات کے مصدق تھے۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ اس نسبت سے ایک بیٹے کا نام موسیٰ رکھیں گے اور آسمان سے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ کی شریعت اسلام کو نافذ کریں گے۔ اس لحاظ سے دوسرے لڑکے کا نام محمد رکھیں گے۔ کیا ہی خوش بخت ہوں گے۔ وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مبارک دور اور ان کی اصلاحی کارروائیوں کو دیکھیں گے اور خوش ہوں گے۔
اسی خوش نصیب کی عید ہے جسے تیری دید نصیب ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کی حکمتیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور پھر زمین پر نازل ہونے کی علت تو اللہ تعالیٰ کا حکم اور امر ہے۔ وہ جو چاہے کرتا ہے۔ کیونکہ: ”فعال لما یرید“ ہے اور ان کے نزول الی الارض کی حکمتیں حضرات محدثین کرام اور علماء نے کئی بیان کی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: ”قال العلماء الحكمة فى نزول عيسى دون غيره من الانبياء الرد على اليهود فى زعمهم انهم قتلوه فبين الله تعالى كذبهم وانه الذى يقتلهم او نزوله لدنو اجله ليدفن فى الارض اذ ليس مخلوق من التراب ان يموت فى غيرها وقيل انه دعا الله تعالى لما راى صفة محمد ﷺ وامته ان يجعله منهم فاستجاب الله تعالى دعاءه وابقاه حتى ينزل فى آخر الزمان مجددا لامر الاسلام فيوافق خروج الدجال فيقتله والاول اوجه (فتح البارى ج ٦ ص ٤٩٣، باب نزول عيسى بن مريم)“ علماء فرماتے ہیں کہ دیگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے سوا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی کئی حکمتیں ہیں۔ (١) یہود کے اس گمان کا رد کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کا جھوٹ واضح کر دیا کہ وہ قاتل نہیں۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے قاتل ہوں گے۔ یا (٢) اس لئے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آئے گا تو نازل ہوں گے۔ کیونکہ ترابی مخلوق زمین ہی میں دفن ہوتی ہے اور وہ زمین ہی
٤٩
میں فوت ہوتی ہے اور (٣) یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کے حالات دیکھے تو اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ اے اللہ مجھے اسی امت میں کر دیجئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو زندہ رکھا۔ آخر زمانہ جب دجال خارج ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور مذہب اسلام کی تجدید (واحیاء) کریں گے۔ پہلی توجیہ زیادہ بہتر ہے۔ ﴾
یہ تین حکمتیں تو آپ دیکھ چکے۔ اس کے علاوہ اور حکمتیں بھی علماء اسلام نے بیان کی ہیں۔ مثلاً:
- ٤....... اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں یا اس جہان میں تمام حضرات انبیاء کرام
علیہم السلام سے عہد و میثاق لیا تھا کہ تمہارے بعد ایک پیغمبر آئے گا۔ (حرف ثم کے ساتھ ذکر فرمایا ثم جاءکم رسول) تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا تمام پیغمبروں نے اس کا عہد واقرار کیا اور وہ رسول جو سب سے بعد آئے۔ حضرت محمد ﷺ ہیں اور عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ: "مـــــــا لا یدرک کلہ لا یترک کلہ " اور تمام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا دنیوی زندگی کے لحاظ سے زندہ رکھنا اور پھر سب کا دنیا میں آنا حکمت خداوندی کے مطابق نہ تھا۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس نے زندہ رکھا اور وہ نازل ہو کر آنحضرت ﷺ کے دین اور شریعت کی نصرت کریں گے اور حکم ہو کر نازل ہوں گے: " والحکم یکون من الطرفین ولوکان من ھذہ الامة لا شتبہ الامر " (عقیدۃ الاسلام ص٢٠) اور ثالث طرفین سے ہوتا ہے۔ اگر اس امت سے ہوتا تو معاملہ مشتبہ ہو جاتا اور کفر کو مٹا کر اسلام کو خوب خوب پھیلائیں گے۔ اس لئے ان کا نزول و آمد ضروری ہے۔
(عقیدۃ الاسلام ص١٩)
- ٥....... اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم
خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (آل عمران:٥٩) " ﴿ بیشک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک جیسے مثال ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدا کیا۔ اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو ہو جا ، سو وہ ہو گیا۔ ﴾
اس میں ایک تشبیہ تو عبارۃ النص کے طور پر ہے وہ یہ کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے مٹی سے پیدا کیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرت بتائی۔ اس میں غریب کی اغرب (غریب تر) سے تشبیہ ہے اور دوسری
٥٠
تشبیہ 'دلالۃ النص' کے طور پر ہے وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء علیہا السلام کو پیدا اللہ تعالیٰ نے مرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا اور تیسری تشبیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر پیدا کر کے آسمانوں کے اوپر جنت میں اٹھا لی وفات ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت لیا۔ پھر ان کو زمین پر نازل کر کے نظام د آغاز اور ابتداء ہوئی۔ وہ بھی صعود اور ہبوط سے دنیا کا اختتام ہوگا اور وہ بھی صفت صعود اللہ کمثل آدم " مشہور ہے کہ اوّل با آخر
(ملاحظہ ہو عقیدۃ الاسل
- ٦....... حضرت عیسیٰ علیہ الس
حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادر زاد اندھوں کو پھیرتے اور مسح کرتے تو باذن اللہ تعالیٰ ان ک ایمان شفاء حاصل ہوئی۔ (جلالین ص ٥١) او لقب بھی مسیح ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس م ہے۔ یعنی بصیغہ اسم مفعول ای ممسوح عیدا اعور اور کانا ہے اور یا یہ کہ اس کا مجرد مادہ مساح گھومنے والا۔ بغیر چار مقامات کے دجال ک مقامات یہ ہیں۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بی چونکہ دجال لعین مسیح ضلالت ہے اور گمراہی ا مرمت ٹھکائی اور قتل کرنے کے لئے مسیح ہدا
(تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام ص٢٢٢، مؤلفہ مح
- ٧....... آنحضرت ﷺ خا
مخلوق کے کسی اعلیٰ فرد کے لئے جتنی خوبیاں ہ
تشبیہ ”دلالۃ النص“ کے طور پر ہے۔ وہ یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام مرد تھے۔ ان کی پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء علیہا السلام کو پیدا کیا اور حضرت مریم علیہا السلام عورت تھی اور ان سے اللہ تعالیٰ نے مرد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا۔ ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم“ اور تیسری تشبیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے دنیا کا آغاز کیا۔ ان کو زمین پر پیدا کر کے آسمانوں کے اوپر جنت میں اٹھایا۔ پھر زمین پر نازل کیا۔ عرصہ تک وہ رہے۔ پھر ان کی وفات ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زمین پر پیدا کیا اور پھر آسمان پر اٹھا لیا۔ پھر ان کو زمین پر نازل کر کے نظام دنیا کو ختم کر دے گا تو ایک غریب شخصیت سے دنیا کا آغاز اور ابتداء ہوئی۔ وہ بھی صعود اور ہبوط کی صفت سے متصف ہوئی اور دوسری غریب شخصیت سے دنیا کا اختتام ہوگا اور وہ بھی صفت صعود و ہبوط سے متصف ہوگی۔ ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم“ مشہور ہے کہ اول با آخر نسبتے دارد۔
(ملاحظہ ہو عقیدۃ الاسلام ص ٣٠، فی حیات عیسیٰ علیہ السلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ)
- ٦...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب بھی مسیح ہے۔ (اس کا مجرد مادہ مسح ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادر زاد اندھوں کی آنکھوں اور برص والے بیماروں کے بدنوں پر ہاتھ پھیرتے اور مسح کرتے تو باذن اللہ تعالیٰ ان کو شفاء حاصل ہو جاتی اور ایسے پچاس ہزار افراد کو بشرط ایمان شفاء حاصل ہوئی۔ (جلالین ص ٥١) اور یا مسیح اسم فاعل کے معنی میں ہے ماسح) اور دجال کا لقب بھی مسیح ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس کا مجرد بھی مسح ہے لیکن یہاں مسیح ممسوح کے معنی میں ہے۔ یعنی بصیغہ اسم مفعول ای ممسوح عینہ الیمنیٰ یعنی اس کی دائیں آنکھ کا نور مسخ کیا ہوا ہے اور وہ اعور اور کانا ہے اور یا یہ کہ اس کا مجرد مادہ ساح یسیح ہے اور مسیح کا معنی سیاحت کرنے والا اور زمین پر گھومنے والا۔ بغیر چار مقامات کے دجال لعین کے ناپاک قدم ساری زمین پر پڑیں گے۔ وہ چار مقامات یہ ہیں۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بیت المقدس اور جبل طور (مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٤٣) اور چونکہ دجال لعین منبع ضلالت ہے اور گمراہی پھیلانے کے لئے زمین میں خروج کرے گا اور اس کی سرکوبی اور قتل کرنے کے لئے مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ضروری ہے۔ کیونکہ ”وبضدھا تتبین الاشیاء“
(تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام ص ٢٢٢، مؤلفہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند)
- ٧...... آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہونے کے ساتھ خاتم الکمالات بھی ہیں۔
مخلوق کے کسی اعلیٰ فرد کے لئے جتنی خوبیاں اور اوصاف حسنہ ہو سکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے آپ میں
٥١
جمع کر دیئے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاتم الفسادات ہیں۔ ان کے نزول کے بعد دجال کا فتنہ ختم ہوگا۔ یہود و نصاریٰ وغیرہم کفار کی شرارتیں ملیا میٹ ہو جائیں گی۔ یاجوج و ماجوج نیست و نابود ہو جائیں گے۔ الغرض ہر قسم کے فتنے اور فسادات مٹ جائیں گے۔ اس لئے خاتم الکمالات کے بعد خاتم الفسادات کا آنا ایک فطری امر ہے۔
(محصلہ تعلیمات اسلام ص ٢٢٣)
- ٨...... آخری دور میں نصرانیت اور عیسائیت سائنسی ترقی کے زور پر اپنے عروج
پر ہوگی۔ جن کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے قطعاً غلط اور باطل نظریات ہیں کہ مثلاً وہ ابن اللہ ہیں یا ثالث ثلاثہ ہیں یا اللہ تعالیٰ کی ذات ان میں حلول کئے ہوئے ہے اور اس قسم کی دیگر خرافات میں مبتلا ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر نہ صرف یہ کہ ان کے باطل نظریات کا ازالہ فرمائیں گے۔ بلکہ ان کو قتل کر کے ان کے ناپاک وجود سے اللہ تعالیٰ کی زمین کو پاک کریں گے۔ اس لئے ان کا آنا ضروری ہے۔
(محصلہ تعلیمات اسلام ص ٢٢٣)
- ٩...... بعض محققین یہ فرماتے ہیں یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ”اربع من
سنن المرسلين الحياء والتعطر والنكاح والسواك (حم ت هب) عن ابی ایوبؓ ح (الجامع الصغير فى احاديث البشير النذير ج ١ ص ٣٧، للسيوطی طبع مصر) ”چار چیزیں تمام پیغمبروں کی مشترک سنتیں ہیں۔ حیاء، خوشبو لگانا، نکاح کرنا اور مسواک کرنا۔ یہ روایت حضرت ابوایوب انصاریؓ سے مسند احمد ترمذی اور شعب الایمان بیہقیؒ (وغیرہ) میں ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
اصول کا قاعدہ ہے کہ جب صیغہ جمع پر الف ولام داخل ہو تو جمعیت کا معنی باطل ہو جاتا ہے اور استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ (ملاحظہ ہو نبراس ص ١٥) المرسلین جمع کا صیغہ ہے اور اس پر الف ولام داخل ہے۔ لہٰذا قاعدہ کے مطابق اس کا معنی تمام پیغمبر ہوں گے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام چونکہ سید وحصوراً کی نص قطعی کی وجہ سے مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا باقی تمام پیغمبر نکاح کی سنت میں مشترک ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ اس لئے ان کا نازل ہو کر شادی کرنا اس حدیث کی رو سے ثابت ہے۔
- ١٠...... حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”قال
رسول اللہ ﷺ انا اولى الناس بعيسى بن مريم فى الدنيا والآخرة (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب قول الله واذكر فى الكتاب مريم) ”کہ میں تمام لوگوں سے دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کے قریب ہوں۔
٥٢
اور ایک روایت میں ہے: ”الا ان عيسى بن مريم عليهما السلام ليس بيني وبينه نبي ولا رسول الا انه خليفتي في امتي من بعدي (مجمع الزوائد ج٨ ص٢٠٥) ”خبردار بے شک میرے اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے درمیان اور کوئی نبی اور رسول نہیں آیا۔ واضح ہو کہ بے شک وہ میرے بعد میری امت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔﴾ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی آمد کی ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کے مبارک الفاظ سے بشارت دی تھی اور مخلوق کو آپ کی تصدیق اور اتباع کی دعوت بھی دی تھی۔ اس لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کا گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا ان کا آنا اور آسمان سے نازل ہونا ضروری ہے۔ (محصلہ مع تتمہ ہامش التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص٩٤) تلك عشرة كاملة!
الباب الثالث
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر غلط استدلال اور اس کا رد
قارئین کرام! پوری تفصیل کے ساتھ پڑھ چکے ہیں کہ قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت کے قطعی اور یقینی دلائل اور براہین سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الی السماء ان کی حیات اور نزول الی الارض ثابت ہے۔ اب اس باب میں آپ بعض کم فہم کج بحث ضدی اور نہایت ہی سطحی ذہن رکھنے والے ملاحدہ اور زنادقہ کا استدلال اور اس کا رد بھی ملاحظہ کرلیں۔ کیونکہ تقابل سے ہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”واذ قال الله یعیسی انی متوفیک ورافعك الی (آل عمران:٥٥) ”اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں۔﴾
ملحد یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی اس نص قطعی میں متوفیک کا جملہ ہے اور اس کا معنی وفات ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے وفات دیتا ہوں اور تجھے (یعنی تیری روح کو) اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یہ ملحد یہ کہتے ہیں کہ اس کا یہی معنی ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کیا ہے۔ چنانچہ (بخاری ج٢ ص٦٦٥) میں ہے کہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ”متوفیک ای ممیتک“ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قطعی طور پر ثابت ہے۔
٥٣
الجواب
ان ملحدین کا یہ استدلال قطعا باطل اور یقینا مردود ہے۔ اولاً اس لئے کہ متوفیک کا مجرد مادہ وفات نہیں بلکہ وفی ہے۔ اس کے معنی عربی لغت میں پورا پورا دینے اور لینے کے ہیں۔ وفاء، ایفاء اور استیفاء اسی معنی کے لئے بولے جاتے ہیں اور الکریم اذا وعد وفی مشہور محاورہ ہے۔ تمام کتب لغت عربی زبان کی اس پر شاہد ہیں اور چونکہ موت کے وقت بھی انسان اپنی اجل اور مقدر عمر پوری کر لیتا ہے اور اسی کی روح واپس لے لی جاتی ہے۔ اس مناسبت سے یہ لفظ بطور مجاز کے موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے نیند کے لئے یہ لفظ مجازاً استعمال ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” هو الذی یتوفاکم باللیل ويعلم ما جرحتم بالنھار (الانعام: ٦٠)“ ﴿اور وہ وہی ہے کہ (سلا کر ) قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو دن میں ۔﴾
اس آیت کریمہ میں توفی کا لفظ مجازاً نیند پر اطلاق ہوا ہے اور مشہور ہے۔ ”المجاز قنطرة الحقيقة“ کہ مجاز حقیقت کا پل ہے۔ جب راستہ بالکل ہموار اور سڑک بالکل سیدھی ہو تو اس پر پل بنانا اور پھر اس کو عبور کرنا صرف احمقوں اور دیوانوں کا کام ہے۔ عقلمندوں کا نہیں اور جب یہ مزید کے ابواب میں استعمال ہوتا ہے تو مجرد کے معنی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ مثلاً جب یہ باب افعال میں آتا ہے: ”اوفانى فلان دراھمی“ تو معنی یہ ہوتا ہے کہ فلاں نے میرے دراہم مجھے پورے پورے دے دیئے اور جب باب تفعیل میں آتا ہے۔ وفی یوفی توفیۃ تو اس کا معنی پورا پورا دینے کا ہوتا ہے اور قرآن کریم میں متعدد مقامات میں اس باب (تفعیل) میں یہ استعمال ہوا ہے۔
- ١....... جس رکوع میں متوفیک کا جملہ موجود ہے۔ اسی رکوع میں یہ الفاظ بھی
موجود ہیں ۔ ”فیوفیهم اجورهم (آل عمران: ٥٧)“ ﴿یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پورا پورا بدلہ اور حق دے گا اور دوسرے مقامات میں ہے۔﴾
- ٢....... ”ووفیت کل نفس ما عملت (الزمر : ٧٠)“ ﴿اور ہر نفس کو اس کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔﴾
- ٣....... ”فوفاه حسابه (النور: ٣٩)“ ﴿پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا پورا
حساب پہنچا دیا۔﴾
- ٤....... ”وليو فيهم اعمالهم (الاحقاف: ١٩)“ ﴿اور تا کہ ان کے اعمال کا
٥٤
ان کو پورا پورا بدلہ دے۔﴾
- ٥....... ”وانما توفو
﴿اور پختہ بات ہے کہ تم کو تمہارے اعمال کا پو
- ٦....... ”فيوفيهم اجو
بدلہ اور ثواب دے گا۔﴾
ان تمام مقامات پر لفظ باب تفعیل مفہوم اور معنی شامل ہے اور یہ لفظ جب باب تفع معنی پورا پورا قبض کرنا اور پورا پورا وصول کرنا مفسرین کرامؒ یہ معنی کرتے ہیں۔
- ١....... امام فخر الدین محمد بن ع
التوفى هو القبض يقال وفاني فلا كبير ج ٨ ص ٧٢)“ ﴿توفی کا معنی وصول پورے پورے دیئے اور میں نے اس سے اپنے اور اس لغوی معنی کو جو توفی کا حقیقی او یہ تفسیر کرتے ہیں کہ: ”ان التوفى اخذ ا الناس من يخطر بباله ان الذي رفعہ الكلام ليدل على انه عليه الصلوة وجسده (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)“﴿ ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ وغیرہ ) خیال میں یہ بات آئے گی کہ اللہ تعالیٰ ن کہ ان کے جسم کو تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرما ہوں تا کہ واضح ہو کہ ان کی روح کو ہی نہیں۔ بلکہ گیا ہے۔﴾
ملاحظہ کیجئے کہ امام رازیؒ نے کس طر ین کا واضح طور پر رد کیا ہے اور نیز فرماتے ہیں: ” يتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الی
٥
ان کو پورا پورا بدلہ دے۔﴾
- ٥...... ”وانما توفون اجوركم يوم القيمة (آل عمران:١٨٥) “
﴿اور پختہ بات ہے کہ تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔﴾
- ٦...... ”فيوفيهم اجورهم (النساء:١٧٣) “﴿پس ان کو ان کا پورا پورا
بدلہ اور ثواب دے گا۔﴾
ان تمام مقامات پر لفظ باب تفعیل میں استعمال ہوا ہے اور اس میں پورا پورا دینے کا مفہوم اور معنی شامل ہے اور یہ لفظ جب باب تفعل میں آئے تو اس کا مصدر توفی آتا ہے اور اس کا معنی پورا پورا قبض کرنا اور پورا پورا وصول کرنا اور پورا پورا لینا ہوتا ہے۔ اسی حقیقی معنی کو ملحوظ رکھ کر مفسرین کرامؒ یہ معنی کرتے ہیں۔
- ١...... امام فخر الدین محمد بن عمر الرازی (المتوفی ٦٠٦ ھ) فرماتے ہیں کہ: ”ان
التوفى هو القبض يقال وفانى فلان دراهمى واوفانى وتوفيتها منه (تفسیر کبیر ج٨ ص ٧٢)“﴿توفی کا معنی وصول کرنا ہے۔ محاورہ ہے کہ فلاں نے مجھے میرے دراہم پورے پورے دیئے اور میں نے اس سے اپنے دراہم پورے پورے وصول کئے۔﴾
اور اس لغوی معنی کو جو توفی کا حقیقی اور اصلی معنی ہے پیش نظر رکھ کر متوفیک کی امام رازیؒ یہ تفسیر کرتے ہیں کہ: ”ان التوفی اخذ الشئ وافيا ولما علم الله تعالى ان من الناس من يخطر بباله ان الذی رفعه الله تعالى هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده (تفسیر کبیر ج٨ ص ٧٢)“﴿بلاشبہ توفی کا معنی شے کو پورا پورا وصول کرنا اور لینا ہے اور یہ بات جب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ بعض لوگوں کے (جیسے فلاسفہ، ملاحدہ اور قادیانی وغیرہ) خیال میں یہ بات آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو اٹھایا ہے نہ کہ ان کے جسم کو تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ میں تجھے پورا پورا لے کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں تاکہ واضح ہو کہ ان کی روح کو ہی نہیں۔ بلکہ بتمامہ جسم اور روح دونوں کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہے۔﴾
ملاحظہ کیجئے کہ امام رازیؒ نے کس طرح ملحدوں کے باطل شبہ اور وہم کو پیش نظر رکھ کر ان کا واضح طور پر رد کیا ہے اور نیز فرماتے ہیں: ”ای متم عمرك فحينئذ اتوفاك فلا اتركهم حتى يقتلوك بل انا رافعك الى سمائى ومقربك بملائكتي واصونك
٥٥
عن ان يتمكنوا من قتلك (تفسير كبير ج ٨ ص ٧٢) ”یعنی میں تیری عمر پوری کروں گا تو اس وقت میں تجھے وفات دوں گا اور میں یہود کے ہاتھوں تجھے قتل نہیں ہونے دوں گا۔ بلکہ تجھے اپنے آسمان کی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے اس سے محفوظ رکھوں گا کہ یہود تجھے قتل کرنے پر قدرت پائیں ۔﴾
اس تفسیر میں توفی کا لغوی اور حقیقی معنی پورا کرنا ملحوظ رکھا گیا ہے۔
- ......٢ مشہور مفسر علامہ جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری (المتوفی ٥٣٨ھ ) متوفیک کا
حقیقی معنی ملحوظ رکھ کر لکھتے ہیں: ”ای متوفی اجلك (تفسیر کشاف ج ١ ص ٣٦٦) ”یعنی میں تیری عمر پوری کروں گا ۔﴾
- ......٣ قاضی عبداللہ بن عمر البیضاویؒ (المتوفی ٦٨٤ھ ) تحریر فرماتے ہیں:
” متوفيك اى مستوفى اجلك ومؤخرك الى اجلك المسمى عاصماً اياك من قتلهم او قابضك من الارض من توفيت مالى او متوفيك نائما اذ روى انه رفع نائما (تفسیر بیضاوی ج ١ ص ١٦٣) ” متوفیک کا معنی یہ ہے کہ میں تیری میعاد پوری کروں گا اور تیری مقرر میعاد تک تجھے مہلت دوں گا اور یہود کے قتل کرنے سے تجھے بچاؤں گا اور یا یہ معنی ہے کہ میں تجھے زمین سے پورا پورا لینے والا ہوں۔ جیسے محاورہ ہے کہ میں نے اپنا پورا مال وصول کر لیا اور یا یہ کہ میں تجھے نیند کی حالت میں پورا پورا لینے والا ہوں۔ کیونکہ مروی ہے کہ بحالت نیند آپ کو آسمان پر اٹھایا گیا۔﴾
ان تمام تفسیروں میں توفی کے حقیقی ، اصلی اور لغوی معنی کو باقاعدہ ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اصلی معنی سے اغماض نہیں کیا گیا۔
- ......٤ علامہ آلوسیؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ” ان المراد انى مستوفى
اجلك ومميتك حتف انفك لا اسلط عليك من يقتلك (تفسير روح المعانى ج ٣ ص ١٧٩) ” کہ بے شک مراد یہ ہے کہ میں تیری عمر اور مدت پوری کروں گا اور تجھے طبعی طور پر موت دوں گا اور تیرے قتل کرنے پر کسی کو مسلط نہیں ہونے دوں گا ۔﴾
ان مفسرین کرام کی نقل اور بیان کردہ سب تفسیروں میں توفی کے حقیقی اور لغوی معنی کو باقاعدہ ملحوظ رکھا گیا ہے اور کسی نے بھی حقیقی اور لغوی معنی کو نظر انداز نہیں کیا تو اب ان تفاسیر کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی۔ اللہ نے ان کو جسم وروح دونوں کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا ہے اور ان کی مقرر میعاد پوری ہوگی اور کوئی بدباطن ان کو قتل
٥٦
کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ ان الله علیٰ کل وثانیا، اس لئے کہ اگر توفی کا مجاز باطل پرستوں کا مدعا پورا نہیں ہوگا۔ اہل لغت نیند ) کے ہیں۔
” ومن المجاز توفى فـ (اساس البلاغه ج ٢ ص ٣٤١ ، تاج العروس کہ فلاں کو وفات دی گئی اور ” توفاه الله آ پہنچی ۔﴾
اگر اس آیت کریمہ میں توفی کے مفسرین کرامؒ یہ ہے۔
- ......١ علامہ ابو حیان اندلسیؒ
المعنى متوفيك فى آخر عمرك عنـ وتاخير (البحر المحيط ج ٢ ص ٤٨٣) فرماتے ہیں کہ یہاں توفی کا معنی مجازی وفات ہے کہ میں تجھے تیری آخری عمر میں جب تو نا تو کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔﴾
مطلب یہ ہے کہ اگر لفظ ”متوفـ مراد یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل کرے گا اور وہ دجال لعین ہوگی ۔ نہ یہ کہ اب وفات ہو چکی ہے۔
- ......٢ امام قرطبیؒ (ابو عبدالله
” وقال جماعة من اهل المعانى متوفيك ورافعك الى على التقـ والمعنى انى رافعك الى ومطهرك من السماء (تفسير الجامع لاحكام القرآن جماعت جن میں امام ضحاک (بن مزاحمؒ و
کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ ان الله على كل شئ قدیر! وثانیا، اس لئے کہ اگر توفی کا مجازی معنی بھی اس آیت کریمہ میں مراد لیا جائے تب بھی باطل پرستوں کا مدعا پورا نہیں ہوگا۔ اہل لغت نے تصریح کی ہے کہ توفی کے مجازی معنی وفات (اور نیند) کے ہیں۔
”ومن المجاز توفى فلان وتوفاه الله تعالى اى ادركه الوفاة (اساس البلاغہ ج٢ ص ٣٤١، تاج العروس ج١٠ ص ٣٤٤) ”اور توفی کا یہ مجازی معنی ہے کہ فلاں کو وفات دی گئی اور ”توفاہ اللہ“ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو وفات دی اور اس کو موت آپہنچی۔﴾
اگر اس آیت کریمہ میں توفی کے مجازی معنی بھی ہوں تو اس کا مطلب حسب تصریح مفسرین کرام یہ ہے۔
- ١...... علامہ ابوحیان اندلسی لکھتے ہیں کہ: ”وقال الفراء هى وفات ولكن
المعنى متوفيك فى آخر عمرك عند نزولك وقتلك الدجال وفى الكلام تقديم وتاخير (البحر المحیط ج٢ ص ٤٨٣) ”امام فراء (ابوزکریا یحییٰ بن زیاد المتوفی ٢٠٧ھ) فرماتے ہیں کہ یہاں توفی کا معنی مجازی وفات ہی مراد ہے۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تجھے تیری آخری عمر میں جب تو نازل ہو کر دجال کو قتل کرے گا تب تجھے وفات دوں گا۔ تو کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔﴾
مطلب یہ ہے کہ اگر لفظ ”متوفيك“ پہلے اور ”رافعك“ لفظوں میں بعد ہے۔ مگر مراد یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا پھر قیامت کے قریب آسمان سے نازل کرے گا اور وہ دجال لعین (وغیرہ) کو قتل کریں گے تو اس وقت ان کی وفات ہوگی۔ نہ یہ کہ اب وفات ہو چکی ہے۔
- ٢...... امام قرطبی (ابوعبداللہ محمد بن احمد الانصاری المتوفی ٦٧١ھ) لکھتے ہیں کہ:
”وقال جماعة من اهل المعانى منهم الضحاك والفراء فى قوله تعالى انى متوفيك ورافعك الى على التقديم والتاخير لان الواو لا توجب الرتبة والمعنى انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد ان تنزل من السماء (تفسير الجامع لاحكام القرآن للقرطبی ج٤ ص ٩٩) ”علم معنی والوں کی ایک جماعت جن میں امام ضحاک (بن مزاحم ١٠٦ھ) اور امام الفراء بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس
٥٧
ارشاد کے ”انی متوفیک ورافعك الی“ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ کیونکہ حرف واو ترتیب کو نہیں چاہتا اور معنی یہ ہے کہ اب میں تجھے اپنی طرف اٹھاتا ہوں اور کافروں سے تجھے پاک کرتا ہوں اور پھر آسمان سے نازل ہونے کے بعد میں تجھے وفات دوں گا۔
- ٣....... علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ: ”عن قتادة قال هـذا من المقدم
والمؤخر ای رافعك الی ومتوفيك (روح المعانی ج ٣ ص ١٧٩) “ ﴿حضرت قتادہؒ (المتوفی ١١٨ھ) فرماتے ہیں کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ یعنی (پہلے) میں تجھے اپنی طرف اٹھاتا ہوں اور (پھر بعد کو) وفات دوں گا۔﴾
- ٤....... امام ابن جریر الطبریؒ آیت کریمہ ”انی متوفیک ورافعك الی“ کی
تفسیر میں متعدد اقوال نقل کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”وقال آخرون معنى ذلك اذ قال الله يٰعيسى انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالى اياك الى الدنيا وقال وهذا من المقدم الذى معناه التاخير والمؤخر الذى معناه التقديم قال ابوجعفر و اولى هذه الاقوال بالصحة عندنا قول من قال معنى ذالك انی قابضك من الارض ورافعك الى لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ انه قال ينزل عيسى بن مريم فيقتل الدجال (تفسیر ابن جرير ج ٣ ص ٢٩١) “ ﴿اور دوسرے حضرات ”واذ قال الله“ کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک میں اب تجھے اپنی طرف اٹھاتا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرتا ہوں اور میں تجھے زمین پر نازل کرنے کے بعد وفات دوں گا اور متوفیک کا جملہ گو لفظاً مقدم ہے۔ مگر اس کا معنی مؤخر ہے اور ”ورافعك الیٰ“ اگرچہ لفظاً مؤخر ہے۔ لیکن معنی میں مقدم ہے (کہ پہلے رفع الی السماء ہوگا۔ پھر وفات ہوگی) امام ابو جعفر طبریؒ فرماتے ہیں کہ ان تمام مذکورہ اقوال میں سے ہمارے نزدیک صحیح تر قول ان کا ہے جو اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ! میں تجھے زمین سے قبض کر کے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے دجال کو قتل کرنے کی متواتر احادیث موجود ہیں۔﴾
امام ابن جریرؒ کے بیان سے واضح ہوا کہ اس آیت کریمہ کے حق اور صحیح تفسیر یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ زمین سے آسمان پر اٹھایا گیا۔ پھر وہ نازل ہو کر دجال کو
٥٨
قتل کریں گے اور پھر ان کی وفات ہوگی۔
تنبیہ
امام ابن جریر الطبریؒ کے ”واولی سے یہ مغالطہ نہ ہو کہ باقی تمام نقل کردہ اقوال محقق العصر علامہ زاہد الکوثریؒ (الم الامام ابن جرير الطبری واولی هـ تلك الاقوال مشتركة فی اصل الـ النصاری ولا یتصور ان یصح ذالك عمن اذكى من حمار وافقه من تفسيره عند نقله لروايات مختلفـ منها ما هو باطل حتما (نظرة عابرة فـ الاخرة ص ٣١) ”امام جریر الطبریؒ کے استدلال ہرگز صحیح نہیں کہ باقی اقوال بھی صحـ نصاریٰ (اور ملاحدہ) کی طرف بعض منسوب ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کا قـ زیادہ ذکی اور دیوار سے زیادہ فقیہ ہے۔ جیسـ مختلف روایات جیسی بھی ہوں نقل کر دیتے ہیـ اقوال بھی نقل کر دیتے ہیں جو قطعی طور پر باطـ پر استدلال غلط ہے)۔ ﴿ ثابت ہوا کہ جن مفسرین کرام ان کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السـ وفات کے کرتے ہیں ان کے نزدیک بـ ہوئی۔ بلکہ جب وہ آسمان سے نازل ہو ونابود کریں گے تو پھر ان کی وفات ہوگی کے لفظ سے یہ مراد نہیں لی کہ حضرت عیسیٰ نہیں اور یہ کہ وہ قبل از قیامت آسمان سـ
قتل کریں گے اور پھر ان کی وفات ہو گی۔ نہ یہ کہ ان کی وفات ہو چکی ہے۔
تنبیہ
امام ابن جریر الطبریؒ کے ”واولى هذه الاقوال بالصحة عندنا“ کے جملہ سے یہ مغالطہ نہ ہو کہ باقی تمام نقل کردہ اقوال بھی صحیح ہیں۔ گمراہی یہ ہے۔
محقق العصر علامہ زاہد الکوثری (المتوفی ١٣٧٢ھ) لکھتے ہیں کہ: ”وليس في قول الامام ابن جرير الطبرى واولى هذه الاقوال بالصحة ما يحتج به على ان تلك الاقوال مشتركة فى اصل الصحة كيف وقد ذكرها ما هو معزو الى النصارى ولا يتصور ان يصح ذالك فى نظره بل كلامه هذا من قبيل ما يقال فلان اذكى من حمار وافقه من جدار كما يظهر من عادة ابن جرير فى تفسيره عند نقله لروايات مختلفة كائنة ما كانت قيمتها العلمية وقد يكون منها ما هو باطل حتما (نظرة عابرة فى مزاعم من ينكر نزول عيسى عليه السلام قبل الاخرة ص ٣١) ”امام جریر الطبریؒ کے اس قول ’واولى هذه الاقوال بالصحة‘ سے استدلال ہرگز صحیح نہیں کہ باقی اقوال بھی صحت میں مشترک ہیں۔ مگر یہ صحیح تر ہے۔ کیونکہ انہوں نے نصاریٰ (اور ملاحدہ) کی طرف بعض منسوب اقوال بھی نقل کئے ہیں اور ان کے نزدیک ان کے صحیح ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا کلام یوں ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں گدھے سے زیادہ ذکی اور دیوار سے زیادہ فقیہ ہے۔ جیسا کہ امام ابن جریرؒ کی تفسیر میں یہ عادت ظاہر ہے کہ وہ مختلف روایات جیسی بھی ہوں نقل کر دیتے ہیں۔ گو ان کی علمی طور پر کوئی بھی قدر نہ ہو اور بعض ایسے اقوال بھی نقل کر دیتے ہیں جو قطعی طور پر باطل ہوتے ہیں (تو اس سے باقی تمام اقوال کی نفس صحت پر استدلال غلط ہے)۔ ﴿
ثابت ہوا کہ جن مفسرین کرامؒ نے توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے کئے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی اور جو توفی کے مجازی معنی وفات کے کرتے ہیں ان کے نزدیک بھی ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی۔ بلکہ جب وہ آسمان سے نازل ہو کر دجال لعین اور یہود و نصاریٰ وغیرہم کفار کو نیست و نابود کریں گے تو پھر ان کی وفات ہو گی۔ الحاصل اہل حق میں سے کسی نے بھی ”متوفيك“ کے لفظ سے یہ مراد نہیں لی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے اور وہ آسمان پر زندہ نہیں اور یہ کہ وہ قبل از قیامت آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ یہ باطل نظریہ صرف ملحدوں
٥٩
اور زندیقوں کا خانہ ساز اور اپنا گھڑا ہوا ہے۔ لاشک فیہ !
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر
بے شک حضرت ابن عباسؓ نے متوفیک کا مطلب ممیتک کیا ہے۔ لیکن باطل پرستوں کا اس سے یہ استدلال کہ حضرت ابن عباسؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء، آسمان پر ان کی حیات اور زمین پر ان کے نزول کے منکر ہیں۔ قطعاً مردود ہے۔
- اولاً...... تو اس لئے کہ ممیت اسم فاعل کا صیغہ ہے اور فعل مضارع کی طرح اسم
فاعل میں بھی زمانہ حال یا استقبال دونوں کا معنی ہوتا ہے اور یہاں زمانہ استقبال مراد ہے۔ یعنی میں تجھے وفات دوں گا اور قرآن کریم کے علاوہ متواتر احادیث، اجماع امت سے یہ بات باحوالہ بیان ہوچکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور چالیس سال حکمرانی کریں گے۔ ”ثم یموت ویصلیٰ علیہ المسلمون ویدفن“ تو اس کا کون منکر ہے۔
- ثانیاً...... اس لئے کہ حافظ ابن کثیرؒ محدث ابن ابی حاتم کی سند کے حوالہ سے یہ
روایت نقل کرتے ہیں کہ: ”عن ابن عباسؓ قال لما اراد اللہ تعالیٰ ان یرفع عیسیٰ علیہ السلام الیٰ السماء خرج علیٰ اصحابہ الیٰ قولہ ورفع عیسیٰ علیہ السلام من روزنۃ فی البیت الیٰ السماء الخ وقال ھذا اسناد صحیح الیٰ ابن عباسؓ (تفسیر ابن کثیر ج١ ص٥٧٤،٥٧٥)“ ﴿حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف نکلے (پھر آگے فرمایا) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گھر کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ﴾
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے اس ارشاد سے جس کی سند بالکل صحیح ہے یہ واضح ہوا کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی بلکہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔
علامہ محمد بن سعدؒ (المتوفیٰ ٢٣٠ھ) اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ ”ان اللہ تعالیٰ رفعہ بجسدہ وانہ حی وسیرجع الیٰ الدنیا فیکون ملکاً ثم یموت کما یموت الناس (طبقات ابن سعد ج١ ص٢٦، طبع لیدن جرمنی) ”﴿انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم کے ساتھ اٹھا لیا ہے اور وہ یقیناً زمین کی طرف لوٹیں گے اور بادشاہ ہوں گے۔ پھر جیسے لوگ وفات پاتے ہیں وہ بھی وفات پائیں گے۔ ﴾
٦٠
وثالثاً ...... اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے کہ اس مقام میں لفظ توفی قطعی اور یقینی طور پر وفات ہی کے معنی میں مستعمل نہیں بلکہ یہاں اس کا معنی بچانا اور پورا پورا لینا ہے۔ مرزا قادیانی کے اپنے حوالے ملاحظہ کریں۔
- ١...... ”یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب کا سوچا تھا ...... مگر
خدا تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو وعدہ دیا کہ تجھے بچاؤں گا اور تیرا اپنی طرف رفع کروں گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے بھی ”متوفیک“ کا معنی میں تجھے بچاؤں گا کیا ہے۔ جیسے اہل اسلام کرتے ہیں۔
- ٢...... ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔“
(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ حاشیہ در حاشیہ )
اور یہ نعمت اس طرح پوری ہوئی کہ یہود مردود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور سولی پر لٹکانے کا عزم کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے بد ارادہ سے بچایا اور یہ نعمت کی کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور اپنی پوری نعمت سے ان کو نوازا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود بے بہود کو تو اس کی ہمت ہی نہیں دی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر سکیں یا سولی پر لٹکا سکیں اور یہود کے ظالمانہ پنجہ سے ان کو محفوظ رکھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی طبعی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دے کر ان کی روح کو آسمان پر اٹھا لیا تو یہ ایک نہایت ہی ضعیف نکمی اور لایعنی بات ہوگی۔ اس لئے کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے خود یہود کی آرزو اور مراد پوری کر دی۔ کیونکہ آخر یہود بھی یہی چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر کے یا سولی پر لٹکا ان کی زندگی ختم کر دی جائے ۔ تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے اختراعی عقائد اور بدعات پر سخت تنقید سے وہ بچ جائیں اور ان کے حلوے مانڈے پر اور مذہبی رنگ میں عوام کے اموال کو باطل طریقہ سے ہڑپ کرنے کی رسموں پر زد نہ پڑے تو اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی طور پر وفات تسلیم کر لی جائے تو صرف اتنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے ہاتھوں انہیں قتل ہونے اور سولی پر لٹکانے سے محفوظ رکھا۔ مگر از خود ہی ان کو وفات دے کر یہود کا مطلب پورا کر دیا۔ اس میں ان پر اللہ تعالیٰ کی کون سی تدبیر اور کون سے پوری نعمت ہوئی ؟ اور واللہ خیر الماکرین کا کیا مفہوم رہا ؟ غرضیکہ وفات دے کر رفع کرنے میں کوئی نعمت نہیں۔ چہ جائیکہ پوری نعمت ہو ۔
٦١
قارئین نے ملاحظہ کر لیا کہ قرآن کریم ، حدیث شریف ، لغت عربی ، اجماع امت اور امت مسلمہ کا ہر علمی طبقہ عام اس سے وہ حضرات محدثینؒ ہوں یا فقہاء ، حضرات متکلمین ہوں یا صوفیاءؒ و غیر ہم ۔ سب کے سب اس پر متفق ہیں ۔ بلکہ خود مرزا قادیانی بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس مقام میں متوفیک سے یہ مراد نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے ۔ جیسا کہ باطل پرست مدعی ہیں ۔ خود مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ : ”ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے ۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٥ ، خزائن ج ٣ ص ٥٠١)
ہماری بھی یہی دعاء ہے اور اس پر صاد ہے ۔ آمین !
قادیانی ، لاہوری مرزائیوں کو مسکت جواب اور ان پر اتمام حجت
مرزائیوں کو ممات مسیح علیہ السلام کی تردید میں اہل اسلام اپنے اپنے انداز میں جوابات دیتے رہتے ہیں ۔ وہ بھی بجا ہیں ۔ لیکن راقم اثیم بجائے لمبا راستہ اختیار کرنے کے ممات مسیح علیہ السلام پر پیش کردہ جملہ نقلی و عقلی استدلال کا قطع مسافت کے لئے یہ حل آسان سمجھتا ہے اور مختصر سی تمہید کے بعد خود مرزا قادیانی کے قلم سے نکلے ہوئے یہ حوالے بہتر حل قرار دیتا ہے ۔
انہیں کی محفل سنوارتا ہوں چراغ میرا ہے رات ان کی
تمہید
مرزا غلام احمد قادیانی جب تک دائرہ اسلام میں داخل اور مسلمان تھے اور جب تک وہ حکیم نور الدین بھیروی کے کافرانہ چنگل میں پوری طرح نہیں پھنسے تھے اور جب تک حکیم نور الدین کے غلط نسخوں سے مرزا قادیانی کا مراق اور مالیخولیا عروج تک نہیں پہنچا تھا اور جب تک محمدی بیگم کے عشق کا مکمل بھوت ان پر سوار نہیں ہوا تھا اور جب تک ان عوارضات کی وجہ سے ان کا دماغ ماؤف نہیں ہوا تھا تو وہ قرآن و حدیث اور اجماع کی قدر کے گیت گاتے تھے ۔ مگر جب کروٹ بدلی تو ان میں سے کوئی چیز بھی نعوذ باللہ منہ قابل قدر نہ رہی ۔ بلکہ الٹا ان کا مذاق اڑانے لگے اور بھانڈوں کی طرح تمسخر پر اتر آئے ۔
جنون عشق کے مارے بھی کیا دیوانہ وار آئے
٦٢
اب خود مرزا قادیانی کے اپنے چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
١...... "یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کا حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالا تر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔"
(ازالۃ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
قارئین کرام ! بار بار اور غور سے اس حوالہ کو پڑھیں۔
٢...... "اگر یہ کہو کہ کیوں جائز نہیں کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہوں اور آنے والا کوئی بھی نہ ہو تو میں کہتا ہوں کہ ایسا خیال ہی سراسر ظلم ہے۔ کیونکہ یہ حدیثیں ایسے تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں کہ عند العقل ان کا کذب محال ہے اور ایسے متواتر بدیہات کے رنگ میں ہو جاتے ہیں۔"
(ایام الصلح ص ٤٨، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩)
قارئین کرام! اس حوالے کو بھی بنظر غائر دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کیا کہا؟ بدیہات کا انکار تو صرف پاگل ہی کر سکتے۔ کوئی عقل والا کسی بدیہی کا کبھی بھی انکار نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔
٣...... "اور جب حضرت مسیح (علیہ السلام) دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق اطراف میں پھیل جائے گا۔"
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
اور یہی کچھ احادیث متواترہ اور امت مسلمہ کے اتفاق واجماع سے ثابت ہے۔ جیسا کہ قارئین کرام پوری تفصیل سے یہ پڑھ چکے ہیں۔
نوٹ: یہ حوالہ براہین احمدیہ کا ہے اور مرزا قادیانی خود براہین احمدیہ کے بارے لکھتا ہے۔ مؤلف نے ملہم ہو کر بغرض اصلاح تالیف کی اور یہ کتاب آنحضرتﷺ کے دربار میں رجسٹری ہو چکی ہے۔ آپ نے اس کا نام قطبی رکھا ہے۔ قطب ستارہ کی طرح مستحکم اور غیر متزلزل
٦٣
اور یہ کتاب خدا تعالیٰ کے الہام اور امر سے لکھی گئی ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٢٤٨، خزائن ج ١ ص ٢٧٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣)
اب کون مسلمان ہے جو اللہ تعالیٰ کے امر اور الہام کو ٹھکرائے اور آنحضرت ﷺ کے دربار سے رجسٹری شدہ کتاب کے حکم کو مسترد کرے۔ ”نعوذ باللہ من ذالك“ یہ سب عبارتیں اور حوالے مرزا قادیانی کے اپنے ہیں اور بالکل واضح ہیں۔ بعد کے جنونی دور میں مرزا قادیانی اور ان کی جسمانی اور روحانی اولاد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء حیات اور نزول الی الارض اور آمد کے بارے جن جن شبہات کی بناء پر انکار کیا ہے۔ اہل اسلام کی طرف سے ان کے یہی مذکورہ جوابات کافی اور وافی ہیں جو خود مرزا قادیانی کے قلم سے صادر ہوئے ہیں۔ ”کفی بنفسك اليوم عليك حسيبا“ ممکن ہے مرزا قادیانی یہ کہہ دیں ؎
پھر اس کے بعد یاد نہیں ہم کہاں گئے
جملہ اہل اسلام اس کو بخوبی جانتے ہیں کہ ختم نبوت کے عقیدہ کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الیٰ السماء ان کی حیات اور پھر نزول الی الارض بھی قطعی اور محکم دلائل سے ثابت ہے۔ جو کسی تاویل کا محتاج نہیں۔ لہٰذا جو طبقہ اور گروہ ایسے بنیادی عقیدہ کا انکار یا تاویل کر کے کافروں میں شامل ہونا چاہتا ہے تو بڑے شوق سے ایسا کرے۔ اسے کون روک سکتا ہے؟
جو کچھ کیا وہ تم نے کیا بے خطا ہوں میں
اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو توحید وسنت اور جملہ عقائد اسلامیہ کو قبول کرنے اور ان پر قائم رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین!
”وصلی الله تعالى وسلم على جميع الانبياء والمرسلين وخصوصاً على خاتم النبيين محمد وعلى آله واصحابه وازواجه واتباعه الى يوم الدين“
العبد تحریر : ابو الزاہد محمد سرفراز خطیب جامع مسجد گکھڑ ومدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ٨ محرم الحرام ١٤١٦ھ ، ٢٦ مئی ١٩٩٦ء
٦٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختم نبوت
قرآن وسنت کی روشنی میں
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
عرض حال
بسم الله الرحمن الرحيم ، مبسملا ومحمدلا ومصليا ومسلماً ، اما بعد ! عالم اسلام کی دنیا میں سب سے بڑی خالص اسلامی یونیورسٹی اور مرکز علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند (بھارت) کے حضرت مہتمم صاحب دام مجدھم کے یکے بعد دیگرے تین عدد دعوت نامے راقم اثیم کے نام بذریعہ ڈاک آئے کہ دارالعلوم دیوبند کے معزز ارکان شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق ٢٩، ٣٠، ٣١/اکتوبر ١٩٨٦ء کو دارالعلوم کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر ایک عالمی اجلاس طے ہوا ہے جس میں تمہاری شمولیت بھی ضروری ہے اور ذیل کے عنوانات میں سے کسی ایک پر ایک مقالہ تحریر کر کے ٢٠/اکتوبر تک دارالعلوم دیوبند بھیج دیں اور مقالہ فل اسکیپ سائز کے سات صفحات پر مشتمل ہونا چاہئے۔ یا اگر مقالہ مفصل ہو تو چار پانچ صفحات میں اس کی تلخیص فرما دی جائے ۔ تا کہ اس کو ١٢ منٹ میں پیش کیا جاسکے۔
چونکہ راقم اثیم ٣/ ستمبر ١٩٨٦ء سے ٢٥/ستمبر تک برطانیہ کے دورے پر تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کے خلاف معمول کافی ناغے ہوچکے تھے۔ اس لئے خود دارالعلوم دیوبند جانے کے سلسلہ میں خاصا متردد تھا۔ مگر بفضل اللہ تعالیٰ مقالہ ان کے انتخاب کردہ عنوانات کے تحت نمبر ١٠ ( ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں ) پر لکھنا شروع کردیا اور معلوم ہوا کہ عزیزم زاہد الراشدی اور عزیزم محمد عبدالقدوس خان قارن سلمہما اللہ تعالیٰ اپنے چند دیگر رفقاء کے ساتھ اس اجتماع پر دارالعلوم جانے کا عزم بالجزم کرچکے ہیں اور ویزے حاصل کرنے کے لئے درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔ بے حد مصروفیت کی وجہ سے مقالہ ٢٠/اکتوبر تک تیار نہ ہوسکا۔ تاکہ بذریعہ ڈاک دارالعلوم دیوبند ارسال کردیا جاتا۔ دل مطمئن تھا کہ انشاء اللہ العزیز تکمیل کے بعد یہ مقالہ دارالعلوم دیوبند بھیج دیا جائے گا۔ جو وہاں اجلاس میں پڑھ کر سنایا جائے گا۔ مگر عزیزوں کے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق روانگی سے ایک دن پہلے معلوم ہوا کہ انڈیا نے سرحدوں کی کشیدگی کا بہانہ بنا کر ان کے ویزوں کی درخواستیں مسترد کردی ہیں اور مرکزی جمعیّت سے جن دو چار خوش نصیبوں کو جانے کی اجازت ملی تو وہ چلے گئے اور ہمیں ان کے جانے کا علم نہ ہوسکا۔ پھر اتنا وقت نہ تھا کہ بذریعہ ڈاک وغیرہ کے یہ مقالہ وہاں اجلاس میں پہنچایا جاسکتا۔ اب مناسب معلوم ہوا کہ طلبہ علم کے افادہ کے لئے اسے شائع کردیا جائے۔ سوبحمدہ اللہ تعالیٰ یہ شائع کیا جارہا ہے۔ متّعنا الله تعالىٰ بھا !
٢
دارالعلوم دیوبند سے آئے ہوئے دعوت ناموں میں سے مفصل دعوت نامہ درج ذیل ہے:
دارالعلوم دیوبند
محترم المقام دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، خدا کرے کہ مزاج سامی بعافیت ہوں۔ فتنہ قادیانیت آزادی کے بعد ہمارے ملک میں سرد پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے علماء امت ومحافظین شریعت اس کی جانب سے بے فکر ہوئے تھے۔ اب میدان خالی پا کر اس فتنہ نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس فتنہ کا پھر سے قوت کے ساتھ تعاقب کیا جائے۔ اسی غرض سے دارالعلوم دیوبند کے معزز ارکان شوریٰ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں دارالعلوم کے زیر اہتمام ”تحفظ ختم نبوت“ کے موضوع پر ایک عالمی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز منظور فرمائی تھی۔ چنانچہ اسی فیصلہ کے مطابق ٢٩، ٣٠، ٣١؍ اکتوبر ١٩٨٦ء کو دارالعلوم میں عالمی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔
جناب والا! کی وقیع علمی خدمات کے پیش نظر عرض ہے کہ اس موقعہ پر ابطال قادیانیت کے عنوان سے ایک مقالہ سپرد قلم فرما کر مورخہ ٢٠؍ اکتوبر ١٩٨٦ء تک دارالعلوم دیوبند کے پتہ پر ارسال فرمائیں۔ امید ہے کہ اس موقعہ کی اہمیت کے پیش نظر اس گزارش پر خاص توجہ فرمائیں گے۔
نمونہ کے لئے چند عنوانات ہمراہ عریضہ ہیں۔ والسلام! مولانا مرغوب الرحمن مہتمم دارالعلوم دیوبند
نوٹ: مقالہ فل اسکیپ سائز کے ٢٠ صفحات پر مشتمل ہونا چاہئے۔ یا اگر مقالہ مفصل ہو تو چار پانچ صفحات میں اس کی تلخیص فرما دی جائے۔ تاکہ اس کو ١٢ منٹ میں پیش کیا جاسکے۔
عنوانات
- ١....... قادیانیت اور اسلام (ایک تقابلی مطالعہ)
- ٢....... عقیدہ ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی
- ٣....... مرزا قادیانی اور دعویٰ مسیحیت (ایک تحقیقی جائزہ)
- ٤....... غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت
- ٥....... غلام احمد قادیانی علماء اسلام کی نظر میں
٢
- ٦...... حیات مسیح اور قادیانیت
- ٧...... انبیاء علیہم السلام کی سیرت اور مرزا قادیانی کا کردار
- ٨...... مرزا غلام احمد قادیانی کی تضاد بیانی
- ٩...... قادیانیت دین محمدی کے خلاف کھلی بغاوت
- ١٠...... ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں
- ١١...... حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں
- ١٢...... مسئلہ ختم نبوت علم و عقل کی روشنی میں ۔
- ١٣...... تاریخ اسلام میں جھوٹے مدعیان نبوت کا عبرت ناک انجام
- ١٤...... قادیانی اپنی تحریر کے آئینہ میں
- ١٥...... قادیانی کی پیش گوئیاں واقعات کے آئینہ میں ۔
- ١٦...... رد قادیانیت کے سلسلہ میں دارالعلوم کی مساعی
- ١٧...... رد قادیانیت پر فضلاء دارالعلوم کی تصنیفی خدمات
- ١٨...... رد قادیانیت پر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی جلیل القدر خدمات
- ١٩...... مرزا غلام احمد قادیانی اور قرآن کریم کی تحریفات
- ٢٠...... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے کفریہ عقائد ۔
مولانا مرغوب الرحمٰن مہتمم دارالعلوم، مولانا معراج الحق صدر المدرسین دارالعلوم وجملہ اراکین شوریٰ دارالعلوم دیوبند۔ ان اکابر علماء کرام کثر اللہ تعالیٰ امثالہم کی دعوت اور حکم کی تعمیل میں یہ مقالہ بڑی عجلت سے تحریر کیا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جو کام جلدی میں کیا جائے اس میں غلطی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے اہل علم سے گزارش ہے کہ بجائے شور و غوغا برپا کرنے اور طعن و تشنیع کرنے کے اگر اس میں غلطیاں ہوں تو معقول طریقہ سے اغلاط کی نشاندہی کرنے والے حضرات کا شکریہ ادا کیا جائے گا اور اصلاح کی جائے گی۔ انشاء اللہ العزیز!
وصلى الله تعالى وسلم على رسوله خاتم الانبياء والمرسلين وعلى آله واصحابه وازواجه وذرياته وجميع اتباعه الى يوم الدين ۔ آمين یارب العالمين ! ٢٢ / صفر ١٤٠٧ھ ٢٧ / اکتوبر ١٩٨٦ء ابو الزاہد محمد سرفراز خطیب جامع مسجد گکھڑ وصدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
م
ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں
بسم الله الرحمن الرحيم، الحمدلله وكفى والسلام على من لا نبي بعده ، اما بعد!
جس طرح برحق اور آخری مذہب اسلام میں توحید ورسالت اور قیامت وغیرہ کے اصولی ، بنیادی اور قطعی عقائد پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح اس امر پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد تا صورِ اسرافیل علیہ السلام کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ کسی کو آپ ﷺ کے بعد نبوت مل سکتی ہے۔ جو شخص ختم نبوت کا انکار یا تاویل کرے۔ تو وہ یقیناً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ جس طرح ضروریاتِ دین میں سے کسی امر کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اس کی تاویل بھی کفر ہے اور خوبصورت سے خوبصورت تاویل بھی کفر سے نہیں بچا سکتی۔ جیسا کہ عنقریب اس کے حوالے آ رہے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز!
ختم نبوت کا عقیدہ قرآن کریم ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
قرآن کریم
قرآن کریم کی متعدد آیات کریمات سے مسئلہ ختم نبوت ثابت ہے۔ مگر ہم اختصار کے پیش نظر صرف ایک ہی آیت کریمہ عرض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد (ﷺ) باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے۔ لیکن رسول ہے اللہ (تعالیٰ) کا اور مہر سب نبیوں پر ہے اور ہے اللہ (تعالیٰ) سب چیزوں کو جاننے والا۔﴾
اس آیت کریمہ کے شان نزول میں متعدد اور معتبر تفاسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے محبت و شفقت اور پیار کی وجہ سے حضرت زید بن حارثہؓ (المتوفی ٨ ہجری) کو اپنا متبنیٰ لے پالک اور منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور ان کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ بنت جحش (المتوفاۃ ٢٠ ہجری) سے کر دیا تھا۔ مگر اختلاف طبائع کی وجہ سے نباہ نہ ہو سکا اور حضرت زیدؓ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی۔ عدت گزرنے کے بعد آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرنے کا ارادہ فرمایا۔ تا کہ حضرت زینبؓ کی بھی دلجوئی ہو جائے مگر دور جاہلیت کے نظریہ کے تحت (کہ وہ لوگ متبنیٰ کی بیوی سے وفات یا طلاق کے بعد عدت گزر چکنے کے بعد بھی نکاح حرام سمجھتے تھے۔ جیسا کہ اسلام میں صلبی اور رضاعی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے) لوگوں کے
٥
اس اعتراض اور پروپیگنڈے کا خدشہ پیش نظر تھا۔ اس لئے آپ اس نکاح سے گھبراتے تھے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے (جسمانی) باپ نہیں۔ نہ حضرت زیدؓ کے اور نہ کسی اور کے۔ ہاں روحانی ابوت وازواجہ امھاتھم کی نص سے۔ کیونکہ جب حضرات ازواج مطہراتؓ مومنوں کی روحانی مائیں ہیں تو لازماً آپ ﷺ ان کے باپ ہیں۔ اور حدیث ’انما انالکم مثل الوالد (نسائی ج ١ ص ٧)‘ سے ثابت ہے تو جب آپ حضرت زیدؓ وغیرہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ تو بعد از عدت ان کی بیوی سے نکاح کیوں ناجائز ٹھہرا؟۔ یہ یاد رہے کہ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادیاں چار تھیں۔ جن کا وجود صحیح احادیث اور کتب تاریخ سے ثابت ہے۔ تاریخی طور پر اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ جن کے نام حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ تھے اور دو فرزند بھی قطعاً اور یقیناً تھے۔ حضرت قاسمؓ اور حضرت ابراہیمؓ۔ کتب احادیث اور تاریخ سے اس کا واضح ثبوت ہے۔ مگر یہ دونوں بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی رجل اور مرد نہیں ہوا۔ ان کے علاوہ آپ کے ایک اور فرزند بھی تھے۔ جن کا نام عبداللہ تھا۔ ان کو طیب اور طاہر بھی کہا جاتا تھا۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢١٧ وقال رواہ الطبرانی ورواتہ ثقات) مگر وہ بھی بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے۔ لہٰذا آپ کی نرینہ بالغ اولاد کوئی نہ تھی۔ صاحبزادیاں ہی تھیں۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کسی مرد کے جسمانی باپ نہیں تو پھر حضرت زیدؓ کی مطلقہ بی بی بہو ہونے کے لحاظ سے آپ پر کیسے اور کیونکر حرام ہوگی۔ باقی رہے دور جاہلیت کے غلط نظریات تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے مٹانے اور بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہی مبعوث کیا ہے۔ جن کا مٹانا آپؐ کے فرض منصبی میں شامل ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی آشکارا کر دیا ہے کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسولوں یعنی امت کے روحانی باپ ہیں اور خاتم النبیین ہیں کہ آپؐ کی آمد پر انبیائے کرام علیہم السلام کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اکثر علماء عربیت کی اصطلاح کے مطابق لفظ رسول اور نبی کا مصداق اور مآل ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام مخلوق خدا کو پہنچانے والا اور ان کو خدائی خبریں سنانے والا۔ رسول کا مادہ رسالت ہے۔ یعنی پیغام رسانی اور نبی کا مجرد مادہ نباء ہے۔ جس کے معنی خبر دینا اور ظہور کے ہیں۔ کیونکہ نبی اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر مخلوق کو بھی خبر دیتا ہے اور دلائل و معجزات کے اعتبار سے ان کی نبوت ظاہر بھی ہوتی ہے اور اس کا مجرد مادہ نبأۃ بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کے معنی الصوت الخفی کے ہیں۔ چونکہ وحی لانے والا فرشتہ ان سے آہستہ گفتگو کرتا ہے اور وہ بھی اس سے مخفی
٦
طریقہ پر محو گفتگو ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو نبی کہا جاتا ہے اور نبی کے معنی راستہ کے بھی ہیں۔ نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ اس لئے وہ وصول الی اللہ تعالیٰ کا راستہ بھی ہوا۔
(ملاحظہ ہو نبراس ص ١٥)
اور بعض علماء عربیت کی اصطلاح میں رسول اس کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مستقل کتاب و شریعت عطا ہوئی ہو۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ صاحب تورات اور صاحب شریعت تھے اور نبی وہ ہوتا ہے جس کو نبوت تو ملی ہو مگر وہ صاحب کتاب وصاحب شریعت نہ ہو۔ بلکہ وہ صاحب کتاب و صاحب شریعت رسول کا معاون و وزیر ہو۔ جیسا کہ حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جب آنحضرت ﷺ کا منصب بیان فرمایا تو لفظ رسول سے ولکن رسول الله یعنی اس دوسری اصطلاح کے مطابق آپ صاحب کتاب وصاحب شریعت ہیں اور جب لفظ خاتم کا مضاف الیہ بیان کیا تو لفظ النبیین ذکر فرمایا۔ یعنی اس دوسری اصطلاح کے مطابق آپ غیر تشریعی نبوت کے بھی خاتم ہیں۔ اگر اس مقام پر خاتم الرسل کا جملہ ہوتا تو اس اصطلاح کے موافق شبہ کرنے والے یہ کہہ سکتے تھے کہ آپ تو رسل کے خاتم ہیں اور رسول وہ ہوتا ہے جو صاحب کتاب وصاحب شریعت ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتا ہے اور آپ غیر تشریعی نبوت کے خاتم نہیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم اور معجز کتاب میں اس باطل شبہ کی گنجائش ختم کردی اور واضح کر دیا کہ آپ تشریعی نبوت تو کیا غیر تشریعی نبوت کے بھی خاتم ہیں۔ وخاتم النبیین آپ کے آنے سے وہ وعدہ پورا ہو گیا جس کی انتظار تھی:
سنبھل اے دل ذرا تو بھی سنبھل کامل بہار آئی
خاتم کا معنی
لفظ خاتم اسم آلہ کا صیغہ ہے جس کے معنی مہر کے ہیں۔ جس طرح لفافہ اور بنڈل وغیرہ میں کوئی چیز رکھ کر اسے بند کر کے اس پر مہر لگا دی جاتی ہے تو کوئی چیز مہر توڑے بغیر نہ تو اس میں رکھی جاسکتی ہے اور نہ نکالی جاسکتی ہے۔ بعینہ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی آمد سے قصر نبوت مکمل ہو گیا اور نبوت کا دروازہ بند اور سیل ہو گیا اور اس پر مہر لگ گئی۔ اب بغیر مہر توڑے نہ اسے کوئی کھول سکتا ہے اور نہ اندر داخل ہو سکتا ہے۔ یہی ختم کا معنی ہے اور یہی اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ ہمیں قائم رکھے:
٧
جہانِ عشق میں سکے وفا کے چلے
لفظ خاتم اور قادیانی
قادیانی بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں اور وہ خاتم کا معنی مہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر ہمارا پورا یقین ہے۔ مگر بقول شاعر:
مگر جو دل میں ہے وہ وسوسہ کچھ اور کہتا ہے
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مہر ہی سے آگے نبوت چلتی رہے گی۔ وہ یوں کہ آپ کا کلمہ پڑھ کر اور آپ کی پیروی اور اتباع کر کے ہی کسی کو نبوت ملتی اور مل سکتی ہے۔ ویسے نہیں۔ مگر قادیانیوں کی یہ تاویل بلکہ تحریف قطعا باطل ہے اولاً: اس لئے کہ یہ معنی قرآن کریم، احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ لہٰذا مردود ہے۔ وثانیاً: آپ کی پیروی اور اتباع کا جذبہ جس طرح خیرالقرون اور ان کے قریب کے زمانوں میں تھا۔ وہ بعد کو نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان مبارک زمانوں میں کسی کو نبوت نہ مل سکی اور اب اس کا دروازہ وا ہو گیا۔ جھوٹے نبیوں کی بات نہیں ہو رہی ہے۔ ان کا حشر تاریخی طور پر سب کو معلوم ہے۔ تفصیلی طور پر کتابیں دیکھنے کی فرصت نہ ہو تو کتاب ”آئمہ تلبیس“ مؤلفہ حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ فاضل دیوبند ہی کافی ہو گی۔ وثالثاً: خاتم کا معنی خود مرزا غلام احمد قادیانی کے مسلمات کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٩ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
اس حوالہ کے پیش نظر اور مرزا قادیانی خود اور ان کی روحانی ذریت خاتم النبیین کا یہ معنی کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مہر سے آگے نبوت چلتی اور جاری و ساری ہے تو خاتم الاولاد کا بھی یہ معنی کریں کہ مرزا قادیانی کی والدہ کے ہاں مرزا قادیانی کی مہر سے لگنے سے تاقیامت ان کے پیٹ سے اولاد نکلتی رہے گی اور یہ مہر خاص مفید و کارآمد رہے گی۔ یا کم از کم ان کی والدہ کی زندگی میں ہی ایسا ہوتا رہا کہ مرزا قادیانی کی مہر لگتی رہی اور اولاد نکلتی رہی تو پھر وہ خاتم النبیین کا معنی
٨
بھی بزعم خویش یہ کر سکتے ہیں۔ گو دوسروں پر وہ حجت نہیں اور اگر وہ خاتم الاولاد کا یہ معنی کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے بعد ان کی والدہ کے ہاں اور کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئی تو اسی طرح یہاں بھی خاتم النبیین کا یہی معنی متعین ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد تا قیامت کوئی تشریعی یا غیر تشریعی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
محمد علی لاہوری کا بیان
مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کا سربراہ محمد علی لاہوری جو گو مرزا قادیانی کو نبی تو نہیں مانتا۔ مگر مجدد و مصلح کا نام تجویز کرتا ہے اور یہ بھی نرا زندقہ اور الحاد ہے اور وفات عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قائل ہونے کی وجہ سے وہ قطعاً کافر ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں وہ لکھتا ہے کہ: ”ختم اور طبع کے لغت میں ایک معنی ہیں۔ یعنی ایک چیز کو ڈھانک دینا اور ایسا مضبوط باندھ دینا کہ دوسری چیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔“
(بیان القرآن ج ١ ص ٢٢)
الحاصل خاتم کے معنی مہر کے لے کر بھی ختم نبوت کا مفہوم واضح ہے اور قادیانی اور لاہوری دونوں کے مسلمات اس پر شاہد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی کا ثبوت دیں:
خدا نہ واسطہ ڈالے کسی کمینے سے
خاتم ماضی کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے
پہلے یہ عرض کیا گیا ہے کہ لفظ خاتم اسم آلہ کا صیغہ ہے۔ جو مہر کے معنی میں ہے اور خود فریق مخالف کے قائم کردہ اصول کے مطابق یہ لفظ ختم نبوت پر دال ہے نہ کہ اجرائے نبوت پر، اب یہ گزارش ہے کہ لفظ خاتم باب مفاعلہ کی ماضی بھی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ علامہ سید محمود آلوسی (المتوفی ١٢٧٠ھ) نے صرف و نحو اور لغت کے مشہور امام ابو العباس محمد بن یزید بن عبد الاکبر المعروف بالمبرّد (المتوفی ٢٨٥ھ) کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢) اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور انہوں نے نبیوں کو ختم کر دیا۔ یعنی ان کی آمد سے نبیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی دنیا میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ اور نہ آپ کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے۔ غرضیکہ قرآن کریم کی یہ نص قطعی ختم نبوت کی واضح اور روشن دلیل ہے جس کا انکار بغیر کسی مسلوب الایمان والعقل کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ قادیانیوں کی بالکل بے جا تاویل اور تحریف سے نہ تو نص پر کوئی زد پڑتی اور نہ پڑ سکتی ہے۔ اور نہ قادیانیوں کی ایسی تاویلوں سے ان کا ایمان ثابت ہو سکتا ہے۔
٩
قادیانیت بھی خالص کفر کا ایک شعبہ ہے۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ بقول حضرت مولانا ظفر علی خان صاحبؒ (المتوفی ١٩٥٦ء):
ہنس کے بولی آپ ہی کی دلربا سالی ہوں میں
اقوال مرزا قادیانی
کسی لفظ کے معنی کی تعین کے لئے اصول مسلمہ کے علاوہ فریق مخالف کے اپنے قول اور اقرار سے بہتر ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا اقرار ہے کہ خاتم بمعنی ختم، قطع اور خاتمہ کے ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ١....... ”قدانقطع الوحی بعد وفاته وختم الله به النبيين“ بے
شک آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
(حمامة البشریٰ ص٣٤، خزائن ج٧ ص٢٠٠)
- ٢....... ”وان رسولنا خاتم النبيين وعليه انقطع سلسلة
المرسلين“ تحقیق ہمارے رسول ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ قطع ہو گیا ہے۔
(حقیقت الوحی ضمیمہ عربی ص٦٤، خزائن ج٢٢ ص٦٨٩)
- ٣....... ”ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص٦١٤، خزائن ج٣ ص٤٣٢)
ان واضح اور روشن حوالوں سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ خود مرزا قادیانی بھی ختم کے معنی خاتمہ، بند اور انقطاع کے کرتے ہیں اور صاف لفظوں میں لکھتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم کر دی ہے اور اب وحی ورسالت قیامت تک بند ختم اور منقطع ہے اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی:
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
احادیث
ختم نبوت کا مسئلہ جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جن میں سے ایک آیت کریمہ اور اس کی مختصر ضروری تفسیر وتشریح پہلے عرض کر دی گئی ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ احادیث صحیحہ اور متواترہ سے بھی ثابت ہے۔ بطور اختصار کے چند احادیث درج ذیل ہیں۔ جن
١٠
سے بڑی صراحت و وضاحت سے اس مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے۔
- ١....... حضرت ابو ہریرہؓ جن کا مشہور قول کے مطابق نام عبدالرحمن بن صخر تھا۔
المتوفی ٥٧ ہجری فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مثال ایک محل کی سی ہے۔ جو بہت ہی عمدہ طریقہ سے بنایا گیا ہو۔ لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو۔ گھومنے والے اس کے اردگرد گھومتے ہیں اور اس کی بہترین بناوٹ پر تعجب اور حیرت کرتے ہیں۔ مگر اس میں ایک کی جگہ خالی دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”فانا تلک اللبنۃ وانا خاتم النبیین (بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین، مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ باب ذکر کونہ خاتم النبیین، مشکوٰۃ ج ٢ ص ٥١١)“ ﴿میں وہ (آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔﴾
اور حضرت جابرؓ (المتوفی ٧٤ ہجری) کی ایک حدیث میں یوں آیا ہے کہ: ”قال رسول اللّٰہ ﷺ فانا موضع اللبنۃ جئت فختمت الانبیاء (مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ باب ذکر کونہ خاتم النبیین)“ ﴿آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (قصر نبوت کی) وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں نے (یعنی میری آمد نے) نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔﴾
اور ان کی ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ: ”فانا موضع اللبنۃ ختم بی الانبیاء (ابوداؤد الطیالسی ص ٢٤٧)“ ﴿اس اینٹ کی جگہ میں فٹ ہوگیا ہوں اور انبیاء کی آمد مجھ پر ختم اور منقطع ہوگئی ہے۔﴾
ان صحیح اور صریح احادیث سے صراحتاً معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی آمد سے قصر نبوت مکمل ہو گیا ہے۔ خالی اینٹ کی جگہ پر ہوگئی ہے اور سلسلہ نبوت و رسالت ہر طرح سے بالکل بند، منقطع اور ختم ہو چکا ہے۔ خود مرزا قادیانی کو جب مسلمان تھے۔ اقرار تھا:
ہر نبوت را بر وشد اختتام
(سراج منیر ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
- ٢....... حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام
حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر چھ چیزوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھے جوامع الکلم عطا کئے گئے ہیں۔ (٢) اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ (٣) اور میرے لئے غنیمتوں کا مال حلال کیا گیا ہے۔ (٤) میرے لئے زمین کو مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنایا گیا ہے
١١
(کہ اس پر بجز مستثنیٰ مواضع کے نماز پڑھوں اور تیمم کروں ) ۔ (٥) اور مجھے تمام (مکلف) مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ”وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩ ومسند ابوعوانہ ج ١ ص ٣٩٥ ومشکوۃ ج ٢ ص ٥١٢) “ ۔ (٦) اور مجھ پر نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ ان کی ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی دنیا سے رخصت ہو جاتا تو اس کے بعد اور آ جاتا۔ ”وانه لا نبى بعدى وستكون خلفاء فتكثر (مسلم ج ٢ ص ١٢٦) “ ﴿ اور میرے بعد نبی نہیں اور خلفاء بکثرت ہوں گے۔ ﴾ اس صحیح اور صریح حدیث سے بھی بالکل عیاں ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کی آمد سے نبوت ورسالت کا خاتمہ ہو گیا۔
- ٣...... حضرت ثوبانؓ (المتوفی ٥٤ ہجری) سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لانبى بعدى (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٢٨ وترمذى ج ٢ ص ٤٥ ومشكوة ج ٢ ص ٤٦٥) “ ﴿ اور بے شک میری امت میں تیس (کے قریب) بڑے بڑے جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ﴾
اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله ﷺ (مسلم ج ٢ ص ٢٩٧، کتاب الفتن واشراط الساعة وابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٠) “ ﴿ اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تیس دجال خارج نہ ہوں جو سب کے سب یہ دعویٰ کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ ﴾
- ٤...... حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
”انا قائد المرسلين ولا فخر وانا خاتم النبيين ولا فخر وانا اول شافع ومشفع ولا فخر (مسند دارمی ج ١ ص ٣١ طبع المدينة المنوره ومشكوة ج ٢ ص ٥١٤) “ ﴿ میں رسولوں کا قائد ہوں اور اس پر کوئی فخر نہیں اور میں خاتم النبیین ہوں اور اس پر کوئی فخر نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں جو شفاعت کرے گا اور اس کی شفاعت قبول ہوگی اور اس پر کوئی فخر نہیں۔ ﴾
١٢
یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اب اور قیامت کو یہ اعزازات و انعامات مرحمت فرمائے اور وعدہ فرمایا۔ مگر مجھے ان میں سے کسی پر کوئی تکبر اور فخر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خالص عطیات ہیں۔
- ٥...... حضرت عرباض بن ساریہ (المتوفی ٧٥ ہجری) فرماتے ہیں کہ
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ: ”انی عند الله مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ“
(مسند احمد ج٤ ص١٢٧ ومشکوة ج٢ ص٥١٣ ومجمع الزوائد ج٨ ص٢٢٣)
”﴿بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (تقدیر میں) خاتم النبیین لکھا گیا۔ جبکہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام گوندھی ہوئی مٹی کی صورت میں تھے۔﴾“
اور یہ حدیث مستدرک میں بھی دو جگہ مذکور ہے۔ ایک جگہ الفاظ یہ ہیں: ”یقول انی عبدالله فی اول الکتاب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ“
(مستدرک ج٢ ص٦٠٠ قال الحاکم والذہبی صحیح)
”﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں پہلی نوشت (یعنی تقدیر) میں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین ہوں اور بے شک حضرت آدم علیہ السلام اپنے گوندھے ہوئے گارے میں تھے۔﴾“ اور دوسرے مقام پر لفظ یہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”اني عبدالله وخاتم النبیین وابى منجدل فی طینتہ“
(مستدرک ج٢ ص٤١٨ قال الحاکم والذہبی صحیح)
”﴿بے شک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں (اسی وقت سے) جبکہ میرے باپ حضرت آدم علیہ السلام اپنے گوندھے ہوئے گارے میں تھے۔﴾“
ان صحیح احادیث میں بھی آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا صراحتاً مذکور ہے۔
- ٦...... حضرت انسؓ (المتوفی ٩٣ ہجری) سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:
”قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالۃ والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی“ (ترمذی ج٢ ص٥١ وقال حدیث صحیح غریب ومستدرک ج٤ ص٣٩١ قال الحاکم والذہبی علی شرط مسلم والجامع الصغیر ج١ ص٨٠ وقال صحیح والسراج المنیر ج١ ص٤٤٣ وقال صحیح) ”﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بے شک رسالت اور نبوت ختم اور منقطع ہو چکی۔ سو میرے بعد نہ تو کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی (کہ ان کو میرے بعد رسالت و نبوت ملے۔)﴾“
یہ صحیح حدیث بھی تشریعی اور غیر تشریعی ہر قسم کی نبوت کے ختم ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
- ٧...... آنحضرت ﷺ جب رجب ٩ھ میں تقریباً تیس یا چالیس یا ستر ہزار
١٣
مجاہدین اسلام کو (جن کے پاس دس یا بارہ ہزار گھوڑے تھے، اونٹ وغیرہ اس کے علاوہ تھے) لے کر غزوہ تبوک کے سفر پر روانہ ہونے لگے تو حضرت علیؓ کو اہل خانہ کی حفاظت و نگرانی کے لئے (مدینہ منورہ میں آپ نے اپنا نائب اس موقع پر حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ المتوفی ٤٣ھ کو مقرر کیا تھا) خلیفہ بنایا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر جاتے ہوئے اپنی اس مختصر سی غیر حاضری میں حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنا نائب بنایا تھا۔ حضرت علیؓ رومیوں کے خلاف لڑنے کے بڑے مشتاق تھے۔ دل میں کچھ غمگین ہوئے اور فرمایا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑتے ہیں؟ اس موقعہ پر آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ جیسا کہ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص (المتوفی ٥٥ھ) فاتح ایران کی روایت میں ہے: ”قال الا ترضى ان تكون منى بمنزلۃ هارون من موسى الا انه ليس بعدى نبى (وفى رواية لا نبى بعدى) (بخاری ج٢ ص٦٣٣، باب غزوہ تبوک وھی غزوۃ العسرۃ، مسلم ج٢ ص٢٧٨، باب فضائل علی بن ابی طالب) ”کیا تو اس پر راضی نہیں کہ (اس نیابت میں) تیری اور میری وہ نسبت ہو جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام کی تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾
اس روایت میں بھی اس کی تصریح ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی اور نہ کوئی نبی آسکتا ہے۔
- ٨...... حضرت ابوامامۃ الباہلیؓ (صدی بن عجلان المتوفی ٨٦ھ) فرماتے ہیں کہ
میں نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں آنحضرتﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا: ”یا ایھا الناس انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم (رواہ الطبرانی ورجال احد الطريقين ثقات وفى بعضھم ضعف، مجمع الزوائد ج٨ ص٢٦٣) ”اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ ﴾
ان تمام صحیح وصریح احادیث سے ختم نبوت کا مسئلہ واضح سے واضح تر ہو گیا ہے۔ جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ البتہ ”میں نہ مانوں“ کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ منکر تو یہی کہے گا۔
ناصح سے گریباں کو سلانے کے نہیں ہم
اجماع امت
جس طرح ختم نبوت کا قطعی عقیدہ قرآن کریم، احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔
١٤
طائف وغیرہ اس کے علاوہ تھے) لے اہل خانہ کی حفاظت و نگرانی کے لئے بن مسلمہ انصاریؓ المتوفی ٤٣ھ کو مقرر پر جاتے ہوئے اپنی اس مختصر سی غیر لیا تھا۔ حضرت علیؓ رومیوں کے خلاف فرمایا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں اور حضرت سعدؓ بن ابی وقاص (المتوفی ان تكون منى بمنزلة هارون انه لا نبي بعدي) (بخاری ج٢ ص ٢٧٨، باب فضائل على بن ش) تیری اور میری وہ نسبت ہو جو میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ﴾ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل
المتوفی ٨٦ھ) فرماتے ہیں کہ فرمایا: "يا أيها الناس انه فى أحد الطريقين ثقات وفى ہو گویا میرے بعد کوئی نبی نہیں اور
اسے واضح تر ہو گیا ہے۔ جس پیش نہ مانوں“ کا دنیا میں کوئی
ہے ہم
متواترہ سے ثابت ہے۔
اس سلسلہ میں کافی حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں۔ مگر مقالہ کے اختصار کے پیش نظر ہم صرف ایک ہی حوالہ عرض کرتے ہیں۔ حضرت ملا علی القاریؒ (المتوفی ١٠١٤ھ جو گیارہویں صدی کے مجدد بھی بیان کئے جاتے ہیں) فرماتے ہیں کہ: ”ودعوى النبوة بعد نبيناﷺ کفر بالاجماع (شرح فقه اکبر ص ٢٠١، طبع کانپور) ”ہمارے نبیﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالا جماع کفر ہے۔﴾
الحاصل مسئلہ ختم نبوت قرآن وسنت کے قطعی اور واضح دلائل وبراہین سے ثابت ہے اور اجماع امت اس پر مستزاد ہے تو اس کے حق و سچ ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ بہت ممکن بلکہ اغلب ہے کہ مرزائی یہ کہہ دیں گے۔
ہے نام مسلماں کا مسلماں کہاں ہیں
فائدہ
جن صحیح اور صریح احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو رسالت ونبوت نہیں مل سکتی۔ کیونکہ نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ آپ خاتم النبیین اور آخری نبی ہیں۔ اگر بالفرض کسی اور کو رسالت ونبوت مل جائے تو اس سے ختم نبوت پر زد پڑتی ہے۔ کیونکہ اس سے پیغمبروں کی تعداد اور گنتی میں اضافہ ہو جائے گا اور نمبر شماری بڑھ جائے گی۔ اس کے برعکس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے بلکہ تمام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تشریف آوری سے بھی گنتی اور عدد جوں کا توں رہتا ہے اور اس سے ختم نبوت پر قطعا کوئی زد نہیں پڑتی۔ کیونکہ عدد اور گنتی کے لحاظ سے آنحضرتﷺ ہی قصر نبوت کی آخری اینٹ، آخری نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اس صفت میں کوئی بھی آپ کا مثیل، نظیر اور ثانی نہیں ہے۔
مگر آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے
نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات آسمان دوم پر ان کا وجود اور قیامت سے قبل ان کا نزول اور چالیس سال تک حکمرانی کرنا طے شدہ بات ہے۔ امام ابو حیان الاندلسی (المتوفی ٧٤٥ھ ) حضرت امام ابن عطیہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ: ”امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے۔
١٥
جس کی بنیاد متواتر احادیث پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔‘‘
(تفسیر البحر المحیط ج٢ ص٤٧٣)
امام جلال الدین سیوطیؒ (المتوفی ٩١١ھ) فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کی نبوت کی نفی کفر ہے۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج٢ ص١٦٦)
حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن کثیر (المتوفی ٧٧٤ھ) فرماتے ہیں کہ:
”آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ثابت اور یہ بھی ثابت ہے کہ وہ ملک شام کے شہر دمشق میں (جامع اموی) کے سفید مشرقی مینار پر (جس کو دمشقی لوگ مینارۃ المسیح کہتے ہیں) صبح کی نماز کے وقت نازل ہوں گے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج١ ص٥١٢)
علامہ طاہر پٹنیؒ (المتوفی ٩٨٦ھ) فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی حدیث متواتر ہے۔‘‘
(مجمع البحار ج١ ص٤٧٦)
علامہ ابومحمد بن حزم الظاہریؒ (المتوفی ٤٥٦ھ) فرماتے ہیں: ”جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر کسی اور نبی کے آنے کا قائل ہو تو اس کے کفر میں دو مسلمانوں نے بھی شک نہیں کیا۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک امر پر اتمام حجت قائم ہوچکی ہے۔‘‘
(الملل والنحل ج٣ ص١٣٩)
نواب صدیق حسن خاں صاحبؒ (المتوفی ١٣٠٧ھ) لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے۔‘‘
(فتح البیان ج٢ ص٢٤٤)
غرضیکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول پر متواتر احادیث موجود ہیں اور امت مسلمہ کا اجماع و اتفاق اس پر مستزاد ہے۔ جس کا انکار بغیر کسی ملحد کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔
یہ یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ نزول آسمان سے ہوگا۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی مرفوع حدیث میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ”ينزل من السماء“ آسمان سے نازل ہوں گے۔
(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص٤٢٤، مجمع الزوائد ج٧
ص٣٤٩، کنز العمال ج١٤ ص٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٥، منتخب کنز بر حاشیہ مسند احمد ج٦ ص٥٦)
اور نزول کے بعد وہ چالیس سال تک زندہ رہیں گے اور حکومت کریں گے۔
(ابوداؤد ج٢ ص٢٣٨، الطیالسی ص٣٣١، مستدرک ج٢ ص٢٣٥، مجمع الزوائد ج٨ ص٢٠٥)
یہ حکومت قرآن و حدیث اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپؐ کے وفادار خلیفہ کے حکم میں ہوں گے۔
١٦
آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت اور اس کو نبی ماننے والا واجب القتل ہے
نصوص قطعیہ، احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع امت سے مسئلہ ختم نبوت کا اتنا اور ایسا قطعی ثبوت ہے کہ اس میں تامل کرنے والا بھی کافر ہے۔ بلکہ صحیح اور صریح احادیث کی رو سے مدعی نبوت اور اس کو نبی ماننے والا واجب القتل ہے۔ مگر یہ قتل صرف اسلامی حکومت کا کام ہے نہ رعایا اور افراد کا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ (المتوفیٰ ٣٢ھ) سے روایت ہے: ”قال قد جـاء ابن النـواحة وابن اثـال رسولین لمسیلمة الی رسول اللہ ﷺ فقال لہما رسول اللہ ﷺ تشہد ان انی رسول اللہ؟ فقالا نشہد ان مسیلمة رسول اللہ فقال رسول اللہ ﷺ آمنت باللہ ورسلہ لو کنت قاتلاً رسولاً لقتلتکم قال عبداللہ فمضت السنة بان الرسل لا تقتل فاما ابن اثال فکفانا اللہ واما ابن النواحہ فـلـم یـزل فـی نـفسـی حتی امکننی اللہ تعالی منہ (ابوداؤد والطیالسی ص٣٤ واللفظ لہ ومستدرک ج٣ ص٥٣، قال الحاکم والذہبی صحیح ومشکوة ج٢ ص٣٤٧، مسند احمد ج١ ص٣٩٠، ونحوہ فی الدارمی ص٣٣٢ طبع ہند)“ وہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے دو سفیر عبداللہ بن نواحہ اور اسامہ بن اثال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ (معاذ اللہ) آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ اگر میں کسی قاصد کو قتل کرتا تو تمہیں قتل کر دیتا۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ (بین الاقوامی دستور اور) سنت یوں جاری ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا رہا۔ ابن اثال کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کی کفایت کردی۔ (اسامہ بن اثال بعد کو مسلمان ہوگئے تھے۔ البدایہ والنہایہ ج٦ ص٥٦) اور ابن نواحہ کا معاملہ میرے دل میں کھٹکتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی قدرت دی اور میں نے اسے قتل کردیا۔﴾
(ابوداؤد ج٢ ص١٤٤ اور مستدرک ج٣ ص٥٢) میں ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے جو اس حدیث کی صرف متابع اور شاہد ہے۔
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرنے والا واجب القتل ہے۔ رکاوٹ صرف یہ پیش آئی کہ اس وقت اسامہ بن اثال اور عبداللہ بن نواحہ سفیر تھے اور سنت اور اس وقت کے بین الاقوامی دستور کے مطابق سفراء کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ تا کہ پیغام
١٧
رسانی میں کسی قسم کی کوئی کمی اور کوتاہی باقی نہ رہ جائے۔ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کوفہ کے گورنر تھے تو عبداللہ بن نواحہ ان کے قابو آگیا اور وہ اپنے اس باطل عقیدہ سے باز نہ آیا اور توبہ کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ حضرت ابن مسعودؓ نے حضرت قرظہؓ بن کعب کو حکم دیا کہ وہ ابن نواحہ کی گردن اڑا دے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(مستدرک ج ٣ ص ٥٣ ، قال الحاکم والذہبی صحیح)
اور حضرت ابن مسعودؓ نے اس موقعہ پر ابن نواحہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: "فانت اليوم لست برسول فامر قرظة بن كعب فضرب عنقه فى السوق ثم قال من اراد ان ينظر الى ابن النواحة قتيلاً بالسوق (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤) " ﴿ آج کے دن تو تو قاصد نہیں ہے۔ پھر انہوں نے حضرت قرظہؓ بن کعب کو حکم دیا اور انہوں نے کوفہ کے بازار میں ابن نواحہ کی گردن اڑا دی۔ پھر فرمایا کہ جو شخص ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھنا چاہتا ہے تو دیکھ لے۔ ﴾
اور (سنن الکبریٰ ج ٨ ص ٢٠٦ ، طحاوی ج ٢ ص ١٠٢) میں روایت ہے کہ عبداللہ بن نواحہ کوفہ کی مسجد بنو حنیفہ میں نماز پڑھتا تھا اور اس کے مؤذن نے اذان میں "اشهد ان لا اله الا الله کے بعد وان مسيلمة (الكذاب) رسول الله" کہا۔ (معاذ اللہ تعالیٰ)
زندیق کی تعریف
زندیق شرعاً ہر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتا ہو اور شعائر اسلام کا اظہار بھی کرتا ہو۔ مگر کسی کفریہ عقیدہ پر ڈٹا ہوا ہو۔ چنانچہ علامہ سعد الدین تفتازانیؒ (المتوفی ٧٩٢ھ) لکھتے ہیں کہ: "وان كان مع اعترافه بنبوة النبىﷺ واظهار شعائر الإسلام يبطن عقائد هى كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق (شرح مقاصد ج ٢ ص ٢٦٨ ومثله فى كليات ابى البقاء ص ٥٥٣)" ﴿ اگر وہ شخص آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اقرار کرتا ہے اور شعائر اسلام کا اظہار بھی کرتا ہے۔ لیکن دل میں ایسے عقیدے رکھتا ہے جو بالاتفاق کفر ہیں تو وہ زندیق ہے۔ ﴾
اور حضرت ملا علی القاریؒ زندیق کا یہ معنی بیان کرتے ہیں: "او من يبطن الكفر ويظهر الايمان (مرقات ج ٧ ص ١٠٤) " ﴿ یا وہ کفر کو چھپاتا اور ایمان کو ظاہر کرتا ہو۔ ﴾
علامہ ابن عابدین ...... الشامیؒ (المتوفی ١٢٥٢ھ) فرماتے ہیں کہ: "فان الزنديق يموه بكفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها فى الصورة الصحيحة وهذا
١٨
معنی ابطان الکفر (شامی ج ٣ ص ٣٢٤) ” زندیق ملمع سازی کر کے اپنے کفر کو پیش کرتا ہے ۔ فاسد عقیدہ کی ترویج کرتا ہے اور اس کو صحیح صورت میں ظاہر کرتا ہے اور کفر کے چھپانے کا یہی مطلب ہے ۔ ﴾
حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ احمد بن عبدالرحیمؒ محدث دہلوی (المتوفی ١١٧٦ھ) فرماتے ہیں: ” وان اعترف بہ ظاہراً لکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدین بخلاف مافسره الصحابة والتابعون واجمعت علیہ الامة فہو الزندیق (مسوی ج ٢ ص ١٠٩) ” اور اگر وہ کلمہ ظاہری طور پر تو دین کو مانتا ہے۔ مگر ضروریات دین میں سے کسی چیز کی ایسی تفسیر کرتا ہے جو حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ اور امت کے اجماع کے خلاف ہو۔ جیسے قادیانی خاتم النبیین کا معنیٰ کرتے ہیں تو وہ زندیق ہے۔ (صفدر ) ﴾
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ (المتوفی ١٣٩٦ھ) مفتی اعظم پاکستان فرماتے ہیں کہ: ”زندیق کی تعریف میں جو عقائد کفریہ کا دل میں رکھنا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مثل منافق کے اپنا عقیدہ ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے عقائد کفریہ کو ملمع کر کے اسلامی صورت میں ظاہر کرتا ہے ۔“
(کذا فی الشامی ، جواہر الفقہ ج ١ ص ٢٩)
زاوئہ وہم
خود قادیانیوں کو اور ان کے کفر میں تردد کرنے والے بعض نوخیز انگریزی خوانوں کو یہ وہم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے پاک و ہند اور بعض دیگر ممالک میں اسلام پھیلایا اور دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ لہذا ان کی تکفیر مناسب نہیں ۔ لیکن یہ ان کا نرا دجل اور مکر ہے۔ اولاً اس لئے کہ ختم نبوت جیسے قطعی عقیدہ کا انکار کرنا اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا انکار کرنا اور ظالم انگریز کی تائید میں تحریف کے پل باندھ دینا اور پچاس الماریاں اس کی تائید میں لکھ مارنا دین اسلام کی کون سی خدمت ہے؟ اور یہ خرافات دین اسلام کے کن عقائد کا نام ہے؟ اگر معاذ اللہ تعالیٰ ، دین اسلام کو مٹانا اور اس کے بنیادی عقائد کو بدل ڈالنا اور پیغمبروں کی قابل احترام ہستیوں کی کھلے طور پر توہین کرنا اسلام کی خدمت ہے؟ تو یہ قادیانیوں کی اپنی خانہ ساز اصطلاح اور اختراع ہے۔ وثانیاً اگر بالفرض کسی کافر وفاجر سے دین کی کوئی تائید ہو بھی جائے تو اس سے اس کا مسلمان اور متقی ہونا کیونکر اور کیسے ثابت ہو جائے گا؟ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غزوہ خیبر میں قزمان نامی منافق نے میدان جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وہ زخمی ہوا اور خود کشی کر لی ۔
١٩
حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ: ”ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر (بخاری ج ١ ص ٤٣٠، باب ان اللہ لیؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر، و ج ٢ ص ٦٠٤، باب غزوہ خیبر، سنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٧) ”بے شک اللہ تعالیٰ فاجر کے ذریعہ بھی اس دین کو تقویت پہنچا دیتا ہے۔“
اور ایک دوسری حدیث میں جو حضرت انسؓ سے مرفوعاً مروی ہے یوں آتا ہے۔ ”سیشدد ھذا الدین برجال لیس لھم عند اللہ خلاق (الجامع الصغیر ج ٢ ص ٣٦، وقال صحیح والسراج المنیر ج ٢ ص ٣٥٣، وقال حدیث صحیح) ”عنقریب اس دین کو ایسے مردوں کے ساتھ مضبوط کیا جائے گا جن کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک (ایمان و خیر کا) کوئی حصہ نہ ہوگا۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ باطل فرقوں میں سے کسی شخص کے قول وفعل سے دین اسلام کی تقویت تو ہوسکتی ہے۔ مگر اسلام کے کسی مسئلہ اور پہلو کی تائید وتقویت سے فاجر وملحد وزندیق کا ایمان واسلام اور تقویٰ ثابت نہیں ہوسکتا اور اس کے مؤمن ومسلم کہلانے سے وہ مؤمن ومسلم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اسلام کے قطعی عقائد سے اس کا انکار ہوتا ہے اور دل ایمان وایقان سے خالی ہوتا ہے۔
غبار کارواں کچھ، راستہ کچھ اور کہتا ہے
محض نبوت کے زبانی اقرار سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا
حضرات فقہاء کرام، محدثین عظامؒ اور متکلمین ذوی الاحترام کے نزدیک ایمان کی شرعی تعریف یہ ہے: ”واما فی الشرع فھو التصدیق بما علم مجیئ النبی ﷺ بہ ضرورۃ تفصیلاً فیما علم تفصیلاً واجمالاً فیما علم اجمالاً وھذا مذھب جمہور المحققین (فتح الملھم ج ١ ص ١٥٢، کتاب الایمان المبحث الاول) ”شریعت میں ایمان کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس ضروری چیز کی تصدیق کی جائے۔ جس کو آنحضرتﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ جو چیزیں تفصیلاً معلوم ہوں۔ ان کی تفصیلاً تصدیق ہو اور جو چیزیں اجمالاً معلوم ہوں۔ ان کی اجمالاً تصدیق ہو۔ یہی جمہور محققین کا مذہب ہے۔“
اس سے ایمان کا شرعی معنی واضح ہوگیا۔ نہ یہ کہ محض آنحضرتﷺ کی رسالت کے اقرار سے کوئی مسلمان ہوسکتا ہے۔ امام ابو محمد عبدالملک بن ہشامؒ (المتوفی ٢١٣ھ یا ٢١٨ھ)
٢٠
مسیلمہ (بن حبیب وقیل ابن ثمامہ ابو ثمامہ الکذاب) کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ”واحل لهم الخمر والزنا ووضع عنهم الصلوة وهو مع ذلك يشهد لرسول الله ﷺ بانه نبی (سیرت ابن هشام ج ٢ ص ٥٧٧) “ مسیلمہ نے ان کے لئے شراب وزنا کو حلال کیا اور نمازوں کی چھٹی دے دی۔ مگر بایں ہمہ وہ آنحضرت ﷺ کے بارے یہ شہادت دیتا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ ﴾
آنحضرت ﷺ کی شریعت میں شراب وزنا کی حرمت قطعی ہے۔ ان کو حلال کرنا اور نمازوں کو معاف کرنا جن کا پڑھنا اور ادا کرنا آپ کی شریعت میں دین کی بنیاد ہے، قطعاً کفر ہے پھر محض زبانی طور پر آپ کی نبوت کے اقرار کرنے سے مسیلمہ کذاب کو کیا فائدہ ہوا؟ اور وہ کفر سے کیونکر بچ سکا اور پھر خود نبوت کا دعویٰ کرنے سے وہ غضب علی غضب اور کفر فوق کفر کا مرتکب ہوا۔ (عیاذا باللہ تعالیٰ)
شیخ الاسلام حافظ احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہؒ (المتوفی ٧٢٨ھ) لکھتے ہیں کہ: ”قـــــــد اجمع المسلمون ان من سب الله تعالىٰ او سب رسوله ﷺ او رفع شيئاً مما انزل الله او قتل نبياً من انبياء الله انه كافر وان كان مقراً بما انزل الله تعالىٰ (الصارم المسلول ص ٥١٤) “ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ یا جناب رسول اللہ ﷺ کو برا کہا یا اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام میں سے کسی کو رد کر دیا یا اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی نبی کو شہید کر دیا۔ تو وہ شخص کافر ہے۔ اگرچہ زبانی طور پر وہ ”مـــــــا انزل الله تعالىٰ“ کا مقر ہو۔ ﴾
یہ تمام صریح حوالے اس پر دال ہیں کہ صرف زبانی طور پر اسلام کا دعویٰ کرنا یا آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت کا اقرار کر لینا ہی مسلمان کہلانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ بلکہ تمام ضروریات دین کا یقین واذعان کرنا ضروری ہے۔ لاریب فیہ!
مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی حقیقت اور ضرورت
آج سے تقریباً دو سو سال پہلے انگریز قوم نے کئی سمندر پار سے تاجرانہ صورت میں آکر سونے کی چڑیا (ہندوستان) پر مکارانہ اور غاصبانہ قبضہ کر لیا اور مجاہدین اسلام اور حریت پسندوں سے متعدد معرکوں میں مقابلہ بھی کیا۔ جن میں معرکہ شاملی وغیرہ بھی شامل ہے۔ مگر اپنے تدبر اور عیاری سے اپنا اقتدار اور تسلط پورے ہندوستان پر جما لیا اور اس کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوگئی۔ اس دور میں ہندوستان میں علمی عملی اور سیاسی طور پر مسلم شخصیت حضرت مولانا شاہ
٢١
عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ (المتوفی ١٢٣٩ھ) کا فتویٰ پورے ہندوستان میں گونج رہا تھا کہ انگریز کے تسلط جما لینے کے بعد ہندوستان دارالحرب ہے۔
(ملاحظہ ہو فتاویٰ عزیزی ج ١ ص ١٧، ج ١ ص ١١٠)
علماء کرام اور عامۃ المسلمین اس فتویٰ سے بڑے متاثر اور مطمئن تھے۔ برعکس اس کے انگریز اس سے بہت ہی خائف اور پریشان تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کا اثر بالکل زائل یا کم ہو۔ اس وقت ایک طرف تو بریلوی حضرات کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب نے رسالہ ”اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام“ لکھ کر انگریز کا کچھ غم ہلکا کیا اور پھر ان کے فرزند فاضل ابن الفاضل ابوالبرکات آل الرحمٰن محمد مصطفےٰ رضا خاں صاحب اور ان کے تقریباً تیرہ ہمنوا جید علماء اور مصدقین نے اختراعی مقدمات جوڑ جوڑ کر انگریز کے خلاف جہاد کو حرام حرام حرام قرار دیا۔
(دیکھئے طرق الہدیٰ والارشاد ص ٣١ طبع بریلی)
اور دوسری طرف بعض غیر مقلدین حضرات نے اپنے جاہ وجلال اور ریاستوں کی حفاظت اور انگریز کی کاسہ لیسی کی خاطر انگریز قوم کے خلاف جہاد حرام قرار دیا۔ چنانچہ نواب صدیق حسن خاں صاحب لکھتے ہیں کہ: ”کسی نے نہ سنا ہوگا کہ آج تک کوئی موحد متبع سنت حدیث وقرآن پر چلنے والا بے وفائی اور اقرار توڑنے کا مرتکب ہوا ہو۔ یا فتنہ انگیزی اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہو۔ جتنے لوگوں نے غدر میں شور و فساد کیا اور حکام انگلشیہ سے برسر عناد ہوئے۔ سب کے سب مقلدان مذہب حنفی تھے۔“ (الحمد للہ تعالیٰ! صفدر) نہ متبعان حدیث نبوی بلفظہ (ترجمان وہابیہ ص ٢٥) اسی اثناء میں انگریزی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے انگریز کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی کو جعلی نبوت عطاء ہوئی۔ تاکہ وہ جہاد کو منسوخ کر کے انگریز کے قدم مضبوط کرے اور دینی طور پر لوگوں کی ذہن سازی کرے اور یہ خالص حقیقت ہے کہ انگریز کے اس خود کاشتہ پودا نے انگریز کے لئے بہت کچھ کیا اور اس کے حق میں بہت کچھ کہا ہے اور اس خانہ ساز طریقہ سے اس نے اسلام کی مضبوط اور سیسہ پلائی ہوئی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے کی بے حد کاوش اور سعی کی اور انگریز نے اس سے کرائی ہے۔ حضرت مولانا ظفر علی خان نے بر محل یہ ارشاد فرمایا ہے کہ۔
قادیاں کے لندنی ہاتھوں میں وہ آری بھی دیکھ
مولانا موصوف نے جو فرمایا ہے۔ وہ سراسر حقیقت ہے۔ مرزا قادیانی نے براہین (نامی کتاب) کی پچاس جلدیں لکھنے کا اعلان کیا اور اس کے لئے خوب چندہ فراہم کیا۔ جب پانچ
٢٢
جلدیں لکھ چکے تو چپ سادھ گئے ”پہلے پچاس لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر بہ میں صرف ایک نقطے اور (صفر) کا فر
سبحان اللہ تعالیٰ اربعین ہ لکھ کر تر کی ختم ہو گئی اور چندہ ہضم ہو گی
یعنی ایک صفر اور زیرو اپنی خوب؟ مرزا قادیانی نے صداقت ا چندہ اکٹھا اور عیش کوشی کا سامان مہیا ہو
اب یہ بات تو مرزا قادیا جا سکتا ہے؟ اور اس صریح مکر و فریب ک جو ہوئے؟
ایک سے و
مرزا قادیانی کا اپنا اقرار
بجائے اس کے کہ ہم دیگ قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دیا اور انگر و تائید کی۔ خود ان کے اپنے حوالے ہی ک
- ١....... ”میری عمر کا اک
میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطا شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابی
جس شخص کی زندگی کا بیشتر ح مخالفت میں گذرا، اور اس قدر اس نے
جلدیں لکھ چکے تو چپ سادھ گئے۔ لوگوں نے وعدہ پورا کرنے کا تقاضا کیا تو یوں گویا ہوئے۔ ’’پہلے پچاس لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے اور (صفر) کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وعدہ پورا ہو گیا۔‘‘
(بلفظہ براہین حصہ پنجم ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)
سبحان اللہ تعالی! براہین (نامی کتاب) کے چالیس نمبر لکھنے کا اعلان کیا۔ جب چار حصے لکھ کر ترکی ختم ہو گئی اور چندہ ہضم ہو گیا تو یہ کہا کہ: ’’چار کو بجائے چالیس کے خیال کرو۔‘‘
(اربعین ج ٣ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
یعنی ایک صفر اور زیرو اپنی طرف سے ڈال کر پانچ کو پچاس اور چار کو چالیس بنا ڈالو۔ کیا خوب؟ مرزا قادیانی نے صداقت اسلام پر تین سو دلائل پیش کرنے کا دعویٰ اور اعلان کیا۔ جب چندہ اکٹھا اور عیش کوشی کا سامان مہیا ہو گیا تو صرف دو دلیلیں لکھ کر خاموش ہو گئے۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥، خزائن ج ٢١ ص ٦)
اب یہ بات تو مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت ہی جانے کہ دو کو تین سو پر کیسے فٹ کیا جاسکتا ہے؟ اور اس صریح مکر و فریب کا ان کے پاس کیا جواز ہے؟ مگر یہ نہ پوچھئے آخر انگریزی نبی جو ہوئے؟
ایک سے دن کہا دوسرے سے رات کہی
مرزا قادیانی کا اپنا اقرار
بجائے اس کے کہ ہم دیگر مؤرخین کے حوالوں سے یہ ثابت کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دیا اور انگریز کی بڑھ چڑھ کر اور ایڑی چوٹی کا زور صرف کر کے حمایت وتائید کی۔ خود ان کے اپنے حوالے ہی کفایت کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
- ١...... ’’میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور
میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
جس شخص کی زندگی کا بیشتر حصہ انگریزی حکومت کی تائید واطاعت اور جہاد کی ممانعت و مخالفت میں گزرا، اور اس قدر اس نے کتابیں اور رسالے لکھے ہوں کہ ان سے پچاس الماریاں
٢٣
بھر جاتی ہو تو ایسے شخص کے انگریزی سلطنت کے وفادار اور خودکاشتہ پودا ہونے کے بارے میں کیا شک وتردد ہوسکتا ہے؟
- ٢...... "ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے۔ اسی
روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔"
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
- ٣...... "میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے
مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔"
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
- ٤...... "میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلادِ عرب یعنی حرمین اور شام اور
مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص ١٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔"
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٤)
- ٥...... مرزا قادیانی نے جہاد کی مخالفت اور ممانعت پر جہاں نثر کے ذریعہ زور لگایا
ہے۔ وہاں نظم وشعر میں بھی جہاد کی حرمت کو خوب خوب اجاگر کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں ؎
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ وقتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ٦...... "جہاد اب قطعاً حرام ہے۔"
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨، حجج المصطفیٰ ص ١٨٠)
- ٧...... "سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔"
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٣٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٤)
ان تمام صریح اور روشن حوالوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت از طرف برطانیہ محض اپنی تائید واطاعت کو نمایاں کرنے اور جہاد کو حرام قرار دینے
٢٤
کے لئے ہوئی تھی اور مرزا قادیانی کے چیلوں خوب مضبوط کئے اور آج بھی انہی ممالک تہذیب وتمدن موجود ہے۔ کیونکہ فطری امر و ثمر لاتا ہے۔ تو قادیانیت کا خودکاشتہ پودا ہو
صریح دھوکہ
قادیانی عوام الناس کو دھوکہ دیتے کتاب اور صاحب شریعت نبی ہیں۔ آپ آپ کے امتی اور غیر تشریعی نبی ہیں۔ لہٰذا م نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی اور لفظ خاتم النبیین
- اولاً ...... اس لئے کہ ہم نے ق
بات عرض کی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کوئی شریعت والا نبی پیدا ہو سکتا ہے اور نہ غیر
- ثانیاً ...... اس لئے کہ مرزا قاد
ہیں کہ: "اگر کہو کہ صاحب الشریعہ افترا کر بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریع کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں
اس حوالہ سے بالکل واضح ہو گیا ک ہے اور ان کی وحی میں بقول ان کے اوامر رہے۔ اب جو شخص دین کے لئے جہاد کرتا ہے اور یہ حرمت جہاد بھی قطعی ہے۔ بھلا میں ضرو پاس آنے والے فرشتے کا نام ٹیچی تھا۔ حقیق کوئی سفید فام آقا کیوں خوش نہ ہوتا۔
کے لئے ہوئی تھی اور مرزا قادیانی کے چیلوں نے دین کے لئے لڑنے کو حرام سمجھ کر انگریز کے ہاتھ خوب مضبوط کئے اور آج بھی انہی ممالک میں ان کے اڈے ہیں۔ جہاں انگریز کا ذہن اور تہذیب و تمدن موجود ہے۔ کیونکہ فطری امر ہے کہ ہر درخت اپنے مناسب ماحول ہی میں برگ و ثمر لاتا ہے۔ تو قادیانیت کا خودکاشتہ پودا بھلا اس فطری معاملہ سے کیسے الگ رہ سکتا ہے۔
صریح دھوکہ
قادیانی عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لئے یہ کہا کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی ہیں۔ آپ پر جو نبوت ختم ہوئی ہے وہ تشریعی ہے اور مرزا قادیانی تو آپ کے امتی اور غیر تشریعی نبی ہیں۔ لہذا مرزا قادیانی کو امتی اور غیر تشریعی نبی تسلیم کرنے سے ختم نبوت پر کوئی زد نہیں پڑتی اور لفظ خاتم النبیین اپنے مقام پر فٹ رہتا ہے۔ مگر یہ سراسر دھوکہ ہے۔
اولاً ...... اس لئے کہ ہم نے قرآن کریم اور صریح و صحیح احادیث کے حوالے سے یہ بات عرض کی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت و رسالت ختم ہو چکی ہے۔ نہ تو آپ کے بعد کوئی شریعت والا نبی پیدا ہو سکتا ہے اور نہ غیر شریعت والا۔
ثانیاً ...... اس لئے کہ مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے، نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(رسالہ اربعین نمبر ٤ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
اس حوالہ سے بالکل واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا صاحب الشریعۃ نبی ہونے کا دعویٰ ہے اور ان کی وحی میں بقول ان کے اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی۔ ایک امر تو یہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ اب جو شخص دین کے لئے جہاد کرتا ہے تو بقول مرزا قادیانی وہ خدا کا دشمن اور نبی کا منکر ہے اور یہ حرمت جہاد بھی قطعی ہے۔ بھلا عین ضرورت کے وقت اس وحی سے جو ٹیچی (مرزا قادیانی کے پاس آنے والے فرشتے کا نام ٹیچی تھا۔ حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦) کی طرف سے آئی سفید فام آقا کیوں خوش نہ ہوتا۔
٢٥
متبع ہونے کا دعویٰ باطل ہے
خود مرزا قادیانی اور ان کی روحانی ذریت مسلمانوں کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ مرزا قادیانی آپ ﷺ کے تابع مطیع اور فرمانبردار ہیں اور ان کی (جعلی اور اختراعی) نبوت آپؐ کی نبوت کا ظل، سایہ اور بروز ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے اپنے بیانات اس کے خلاف ہیں۔ وہ معاذ اللہ تعالیٰ اپنے کو آنحضرت ﷺ کا عین بلکہ آپؐ سے بڑھا ہوا تصور کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
- ١.......
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
در برم جامهٔ ہمہ ابرار
آنچہ دادہ است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٢....... ”جو شخص مجھ میں اور نبی مصطفیٰ ﷺ میں فرق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں
جانا اور نہیں پہچانا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
(معاذ اللہ تعالیٰ) ان عبارات میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو معاذ اللہ تعالیٰ عین محمد ﷺ ثابت کیا ہے۔
- ٣....... ”ہم آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح
تھی۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت چودھویں رات کے چاند اور بدر جیسی ہے۔“
(محصلہ خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧١)
نیز لکھا ہے: ”پہلے اسلام ہلال تھا اب بدر ہو گیا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٤، ١٩٨، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٥، ٢٩٢)
- ٤....... ”غلبہ کاملہ (دین اسلام) کا آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں
آیا۔ یہ غلبہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
٢٦
- ٥....... ”ہم آنحضرت ﷺ
”مگر مرزا قادیانی کے دس لاکھ ”معجزہ اور نشان ایک ہوتا ہے۔
- ٦....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں
اور پرچھایا گیا۔“
مرزا قادیانی عجیب ظلی، بروزی سے اوپر اور اونچا بٹھایا گیا۔ مگر ذلیل نیچے
- ٧....... نیز لکھا ہے کہ: ”اس
ہیں۔“
ان عبارات میں مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ)
قارئین کرام! کہاں تک مرزا قادیانی ایسی خرافات سے پر ہیں۔ ان حوالوں میں مرزا میں مدغم ہونے اور آپ میں حلول ہونے اور سے معاذ اللہ تعالیٰ فوقیت اور برتری کا جھوٹا آپ کو آنحضرت ﷺ کا امتی تابع اور مطیع ک الجھا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ یہ عجیب ظل اور ہے۔ (کہ آپؐ سے تین ہزار معجزے صادر اور توڑتا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ وہ پھر بھی ام ہے۔
- ٨....... ”خدا نے اس امت میں
شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
- ٩....... نیز لکھا ہے کہ: ”ابن مر
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٤٩، خزا
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس ب
- ٥....... ”ہم آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٤٣، خزائن ج١٧ص١٥٣)
”مگر مرزا قادیانی کے دس لاکھ نشان ہیں۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص٤١، خزائن ج٢٠ص٤٣)
”معجزہ اور نشان ایک ہوتا ہے۔“
(نصرۃ الحق ص٤٧، خزائن ج٢١ص٦٠)
- ٦....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے
اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص٨٩، خزائن ج٢٢ص٩٢)
مرزا قادیانی عجیب ظلی، بروزی، مطیع اور غیر تشریعی نبی ہیں کہ ان کا تخت تو سب نبیوں سے اوپر اور اونچا بچھایا گیا۔ مگر ذو ظل نیچے ہے۔
- ٧....... نیز لکھا ہے کہ: ”اس وقت ہمارے قلم رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے برابر
ہیں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج١ص٣٢٦)
ان عبارات میں مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ پر بھی فوقیت اور برتری کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ (العیاذ باللہ تعالیٰ)
قارئین کرام! کہاں تک مرزا قادیانی کی خرافات نقل کی جائیں۔ ان کی جملہ کتابیں ایسی خرافات سے پر ہیں۔ ان حوالوں میں مرزا قادیانی نے پہلے تو معاذ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ میں مدغم ہونے اور آپ میں حلول ہونے اور اتحاد کا باطل دعویٰ کیا ہے۔ پھر اگلی عبارات میں آپ سے معاذ اللہ تعالیٰ فوقیت اور برتری کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد بھی اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا امتی تابع اور مطیع کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور ظلی بروزی کے چکر میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ یہ عجیب ظل اور سایہ ہے کہ اصل اور ذی ظل تو تین ہزار بار حرکت کرتا ہے۔ (کہ آپ سے تین ہزار معجزے صادر ہوئے ہیں) مگر سایہ دس لاکھ مرتبہ اٹھتا، اچھلتا، ناچتا اور کودتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ہے وہ پھر بھی اصل کا سایہ اور ظل ہے۔ مرزا قادیانی کی یہ نرالی منطق ہے۔
- ٨....... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام
شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢ص١٥٢)
- ٩....... نیز لکھا ہے کہ: ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٤٩، خزائن ج٢٢ص٤٨٣، دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ص٢٤٠)
بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس سے بڑھ کر توہین کی ہے۔
٢٧
- ١٠....... اور یہ لکھا ہے کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔
مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١١....... ”آپ کا خاندان بھی نہایت ہی پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار، کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ١٢....... ”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع
کی روح تھی آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ١٣....... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی
اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف (نجار) اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
- ١٤....... ”چونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی
مدت تک نجاری (بڑھیوں اور ترکھانوں) کا کام بھی کرتے تھے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ١٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ١٥....... ”ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
- ١٦....... ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے
روکا۔ پھر بزرگان قوم کی ہدایت واصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کرلیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توراۃ عین حمل میں نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ سب مجبوریاں تھیں۔ جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“ معاذ اللہ!
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٦)
ضروریات دین میں تاویل بھی کفر ہے
جس طرح ضروریات دین میں سے کسی عقیدہ کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اس کی تاویل
٢٨
بھی کفر ہے اور ایسے مقام پر عمدہ سے عمدہ اور خوبصورت سے خوبصورت تاویل بھی کفر سے نہیں بچا سکتی۔ حقیقت کو واضح کرنے کے لئے چند حوالے عرض کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
- ١...... علامہ محقق الحافظ محمد بن ابراہیم الوزیر الیمانی (المتوفی ٨٤٠ھ ) لکھتے ہیں:
”لان الكفر هو جحد الضروريات من الدين اوتأويلها (ايثار الحق على الخلق ص ٢٤١) ”ضروریات دین کا انکار اور ان کی تاویل کفر ہے۔﴿
اور نیز تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مذهب الاكثرين من الائمة وجماهير علماء الامة وهو التفصيل والقول بان التاويل في القطعيات لا يمنع الكفر (اتحاف ج٢ ص١٣) ”اکثر ائمہ اور جمہور علماء امت کے مذہب میں قولِ مفصل یہ ہے کہ قطعیات (اور ضروریات دین) میں تاویل کفر سے نہیں بچاتی۔﴿
- ٢...... مشہور متکلم علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ الخیالی (المتوفی ٨٧٠ھ ) اور
علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی (المتوفی ١٠٧٠ھ ) لکھتے ہیں۔ واللفظ لہ : ”التأويل في ضروريات الدين لا يدفع الكفر (الخيالي ص ١٤٦ مع حاشيه فاضل سيالكوتي ) ”ضروریات دین میں تاویل کفر سے نہیں بچاتی۔﴿
- ٣...... حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ”ثم التأويل تأويلان
تأويل لا يخالف قاطعاً من الكتاب والسنة واتفاق الامة وتأويل يصادم ماثبت بالقاطع فذالك الزندقه (مسوى ج ١ ص ١٠٩) ”تاویل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تاویل وہ ہے جو کتاب وسنت اور اتفاق امت کے قطعی دلائل کے مخالف نہ ہو اور دوسری تاویل وہ ہے جو اس چیز سے متصادم ہو جو قطعی طور پر ثابت ہے۔ ایسی تاویل زندقہ ہے۔﴿
حافظ ابن الہمام محمد بن عبدالواحد (المتوفی ٨٦١ھ ) لکھتے ہیں کہ: ”الاتفاق على ان ماكان من اصول الدين وضرورياته يكفر المخالف فيه (مسائره ج ٢ ص ٢١٢، طبع مصر ) ” اس پر اتفاق ہے کہ اصول دین اور ضروریات دین کی جو شخص مخالفت کرتا ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔﴿
اور علامہ ابن عابدین الشامیؒ (المتوفی ١٢٥٢ھ ) فرماتے ہیں کہ: ”لا خلاف فی كفر المخالف في ضروريات الاسلام وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير (رد المحتار ج ١ ص ٣٧٧) ” حضرات فقہاء کرام کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص ضروریات اسلام کا منکر ہو وہ کافر ہے۔
٢٩
اگر چہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو اور اپنی ساری زندگی اس نے طاعات و عبادات میں گزار دی ہو۔
علامہ ابوالبقاء (المتوفی.......ھ) فرماتے ہیں کہ : ” و لا نزاع فی اکفار منکر شئی من ضروریات الدین (کلیات ابی البقاء ص ٥٥٤) “ جس شخص نے ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا انکار کیا تو اس کی تکفیر میں کوئی نزاع نہیں ہے۔
اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی (المتوفی ١٠٣٤ھ): ” در تکفیر آنها جرأت نباید نمود نہ تا زمانیکہ انکار ضروریات دینیہ ننمایند و رد متواترت احکام شرعیہ نکنند (مکتوبات امام ربانی ج٣ ص٣٨، ح٨ ص ٩٠) “
اہل قبلہ کی تکفیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ان کی تکفیر میں جرأت نہیں کرنی چاہئے۔ تا وقتیکہ وہ ضروریات دینیہ اور احکام شرعیہ کے متواترات کا انکار نہ کریں۔
اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں: ” اگر مخالف ادلہ قطعیہ است یعنی نصوص متواتره و اجماع قطعی است او را کافر باید شمرد (فتاوی عزیزی ج١ ص١٥٦) “ اگر ادلہ قطعیہ یعنی نصوص متواترہ اور اجماع قطعی کا مخالف ہو تو اسے کافر ہی سمجھنا چاہئے۔
ان تمام صاف اور صریح حوالوں سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ جس طرح ضروریات دین میں سے کسی قطعی اور ثابت شدہ امر کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اس کی تاویل بھی کفر ہے اور تاویل ایسے مؤول کو کفر سے نہیں بچاتی اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ وغیرہ بزرگوں کے حوالوں سے یہ بات بھی بالکل عیاں ہو گئی کہ کتاب وسنت متواترہ اور اجماع امت سے جو چیز ثابت ہو وہ قطعی اور ضروریات دین میں سے ہوتی ہے۔
اور بحمد اللہ تعالیٰ مسئلہ ختم نبوت کتاب وسنت کے روشن دلائل اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ بقدر ضرورت اسی پیش نظر مقالہ میں حوالے مذکور ہیں۔
نعمت اللہ قادیانی کی افغانستان میں سنگساری
مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک چیلہ نعمت اللہ قادیانی، غازی امان اللہ خاں مرحوم شاہ افغانستان کے دور میں افغانستان میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے گیا۔ وہاں کے جید علماء کرام اور غیور مسلمانوں نے اسے گرفتار کروایا اور اسلامی عدالت کی طرف سے اس کے سنگسار کرنے کا فیصلہ صادر ہوا۔ چنانچہ اس کو برسر عام سنگسار کیا گیا اور قادیانیت کے فتنہ بازوں کو پھر وہاں جانے کی جرأت ہی نہ ہوئی اور وہ علاقہ اس طرح قادیانیت کی نحوست سے محفوظ رہا۔ اس نعمت اللہ کے
٣٠
سنگسار کئے جانے پر مرزا غلام احمد قادیانی او کے چیلوں نے ہندوستان میں خوب واویلا م کی۔ اس دور میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ علماء افغانستان کے فتویٰ کے درست ہونے قرآن کریم صحیح احادیث اور فقہاء ملت کے م علمی رسالہ تصنیف فرمایا۔ جس کا نام ”الشہاب یہ رسالہ ١٨ ربیع الاول ١٣٤٣ ھ کوشش سے جو بد قسمتی سے اس وقت پاکستان کے تعلقات حکومت افغانستان سے خاصے ک قانون قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ حضرت مو جاسکا اور یہ رسالہ ضبط کر لیا گیا۔ اس رسالہ م صریح حوالوں سے اس کے ادعائے نبوت کا مرزا قادیانی کی طرف سے بے جا اور باطل ہ ہونا اور قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی سے مر
چنانچہ مولانا عثمانیؒ فرماتے ہیں: ” جس کی ختم نبوت کو رد کرنے والی تصریحات کرنے کی وجہ سے مرتد اور زندیق ہے اور جو رہے اور ان کی حمایت میں لڑتی رہے وہ بھی رکھتی ہو یا لاہور میں۔ جب تک وہ ان تصریحات کے عذاب سے خلاص پانے کی اس کے لئے اس سے صاف طور پر واضح ہو گ
دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری مرتد اور زن ہیں کہ: ” وقد اتفق الائمة علی ان قتل الزندیق واجب وهو الذی یس ج ٢ ص ١٦٥، لعبدالوہاب شعرانی) “ شخص اسلام سے پھر جائے اس کا قتل کرنا واج
سنگسار کئے جانے پر مرزا غلام احمد قادیانی اور لاہوری پارٹی کے سربراہ مسٹر محمد علی لاہوری اور ان کے چیلوں نے ہندوستان میں خوب واویلا مچایا اور اخبارات ورسائل میں اس پر بڑی لے دے کی۔ اس دور میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (المتوفی ١٣٦٩ھ بعمر ٧٤ سال ایک ماہ بارہ دن) نے علماء افغانستان کے فتویٰ کے درست ہونے اور نعمت اللہ کے ارتداد کی وجہ سے قتل کئے جانے کو قرآن کریم صحیح احادیث اور فقہاء ملت کے صریح فتوؤں سے جائز ثابت کیا اور اس پر انہوں نے علمی رسالہ تصنیف فرمایا۔ جس کا نام ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب“ تجویز فرمایا۔
یہ رسالہ ١٨ ربیع الاول ١٣٤٣ھ میں تحریر کیا گیا۔ اس رسالہ کو سر ظفر اللہ خاں مرتد کی کوشش سے جو بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کا وزیر خارجہ تھا اور اسی کی وجہ سے ابتداء میں پاکستان کے تعلقات حکومت افغانستان سے خاصے کشیدہ رہے۔ بلکہ خراب کئے گئے۔ پاکستان میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ حضرت مولانا عثمانی پاکستان کے شیخ الاسلام تھے۔ مگر کچھ نہ کیا جاسکا اور یہ رسالہ ضبط کرلیا گیا۔ اس رسالہ میں حضرت مولانا عثمانی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے صریح حوالوں سے اس کے ادعائے نبوت کا اور تمام اہل اسلام کے ہاں ختم نبوت کے قطعی عقیدہ کی مرزا قادیانی کی طرف سے بے جا اور باطل تاویلات اور تحریفات کا ذکر کر کے اس کا ملحد وزندیق ہونا اور قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی سے مرتد کا واجب القتل ہونا ثابت کیا ہے۔
چنانچہ مولانا عثمانی فرماتے ہیں: ”اس تمام تقریر سے یہ نتیجہ نکلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کی ختم نبوت کو رد کرنے والی تصریحات ہم نقل کر چکے ہیں۔ اسلام کے قطعی عقیدہ کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مرتد اور زندیق ہے اور جو جماعت ان تصریحات پر مطلع ہو کر ان کو صادق سمجھتی رہے اور ان کی حمایت میں لڑتی رہے وہ بھی یقیناً مرتد اور زندیق ہے۔ خواہ وہ قادیان میں سکونت رکھتی ہو یا لاہور میں۔ جب تک وہ ان تصریحات کے غلط اور باطل ہونے کا اعلان نہ کرے گی خدا کے عذاب سے خلاص پانے کی اس کے لئے کوئی سبیل نہیں۔“
(الشہاب ص١٠، طبع دیوبند)
اس سے صاف طور پر واضح ہو گیا کہ پاکستان کے شیخ الاسلام کے نزدیک مرزائیوں کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری مرتد اور زندیق ہیں اور قتل کے بارے میں وہ یہ حوالہ نقل کرتے ہیں کہ: ”وقد اتفق الائمة على ان من ارتد عن الاسلام وجب قتله وعلى ان قتل الزنديق واجب وهو الذى يسر الكفر ويتظاهر بالاسلام (الميزان الكبرى ج٢ ص١٦٥، لعبد الوهاب شعرانی) ”بلاشبہ تمام حضرات ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے اس کا قتل کرنا واجب ہے اور اس پر بھی ان کا اجماع ہے کہ زندیق کا قتل
٣١
کرنا بھی واجب ہے اور وہ ایسا شخص ہے جو کفر کو چھپاتا اور اسلام کا اظہار کرتا ہے۔﴾
مرتد کی سزا
اسلام میں غیر مسلموں کے لئے تبلیغ و ترغیب تو ہے۔ لیکن ”لا اکراہ فی الدین“ کے قاعدہ کے مطابق جبراً کسی کو مسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ لیکن اگر کوئی مسلمان ہے اور وہ بدبخت اسلام سے پھر کر مرتد ہو جائے (العیاذ باللہ تعالیٰ) تو وہ خدا تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ کا باغی ہے۔ جب دنیا کی کسی حکومت میں باغی کسی رعایت کا مستحق نہیں بلکہ تختۂ دار پر لٹکائے جانے کے قابل ہے تو اللہ تعالیٰ کے باغی کے لئے رعایت کی گنجائش کیسے؟ بلکہ اگر قتل سے کوئی زیادہ سزا ہوتی تو وہ اس کا بھی مستحق ہے۔ مرتد کا قتل کرنا، قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
قرآن کریم
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کر کے ارتداد اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ”فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم (البقرہ: ٥٤)“ ﴿سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان۔﴾
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اکثر تفاسیر میں لکھا ہے کہ جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی تھی اور جو مرتد ہو گئے تھے ان کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قتل کرایا گیا۔ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی اور ان لوگوں کے واقعہ کو بیان فرما کر اللہ تعالیٰ دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ”وکذالک نجزی المفترین (الاعراف: ١٥٢)“ ﴿اور یہی سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو۔﴾
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا دنیا میں قتل ہے۔“ اور الشہاب میں اس پر انہوں نے مفصل بحث کی ہے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
ممکن ہے کسی کو یہ شبہ ہو کہ قتل مرتدین کا یہ فیصلہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا حکم تھا اور ہماری شریعت اس کے علاوہ ہے، تو جواب یہ ہے کہ:
- اولاً...... تو ہمارا استدلال صرف ”فاقتلوا انفسکم“ کے جملہ سے ہی نہیں
٣٢
ہے۔ تاکہ یہ سمجھا جائے کہ یہ حکم ”وکذالک نجزی المفترین بارے اپنی عادت جاری بیان فرمائی نجزی مضارع کا صیغہ ہے۔ جس میں مرتدوں کی سزا کے بارے اپنی عادت
- ثانیاً...... اصول فقہ کی
تلزمنا اذا قص الله ورسوله کی شریعتوں کے احکام جب اللہ تعالیٰ وہ ہم پر بھی لازم ہیں۔﴾ اور قتل مرتد کی اللہ تعالیٰ تردید اور اسی طرح آنحضرتﷺ قرآن کریم کی نص قطعی سے مرتد کی البتہ اس سم کا دنیا میں کوئی علاج نہیں مسلمانوں کو منکروں کے چلنا چاہئے۔
تو شیر
احادیث
- ١...... حضرت عکرمہ
قوماً فبلغ ابن عباس ف تعذبوا بعذاب الله ولقتلتھ ج١ ص٤٢٣، باب لا یعذب ب ص١٥١، فيه فبلغ ذالك عليا وداؤد ج٢ ص٢٧٦، نسائی ج٢ حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو میں ان کو آ
ہے ۔ تاکہ یہ سمجھا جائے کہ یہ حکم بنی اسرائیل کے ساتھ مختص تھا جو اس کے مخاطب تھے۔ بلکہ ”وكذالك نجزى المفترين“ کے جملہ سے بھی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدین کے بارے اپنی عادت جاری بیان فرمائی ہے کہ مرتدوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں یا دیں گے۔ کیونکہ نجزی مضارع کا صیغہ ہے۔ جس میں حال اور استقبال کا معنی پایا جاتا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدوں کی سزا کے بارے اپنی عادت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے جو واضح ہے۔
ثانیاً ....... اصول فقہ کی کتابوں میں تصریح موجود ہے کہ: ”وشرائع من قبلنا تلزمنا اذا قص الله ورسوله من غير نكير (نور الانوار ص٢١٦)“ ﴿ ہم سے پہلے کی شریعتوں کے احکام جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان کئے ہوں اور ان پر نکیر نہ کی ہو تو وہ ہم پر بھی لازم ہیں۔﴾
اور قتل مرتد کی اللہ تعالیٰ نے ”وكذلك نجزى المفترين“ میں تائید کی ہے، نہ کہ تردید اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کی صحیح احادیث قتل مرتد کی تائید کرتی ہیں۔ نہ کہ نکیر و تردید، تو قرآن کریم کی نص قطعی سے مرتد کی سزا قتل ثابت ہوئی۔ جس میں کسی کا کوئی شبہ تردد نہیں ہے۔ البتہ لاعلم کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
مسلمانوں کو منکروں کے انکار کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے اور حق کے میدان میں بلا خطر چلنا چاہئے۔
تو شیر ہے دشمن کے کلیجے کو ہلا دے
احادیث
- ١....... حضرت عکرمہؓ (المتوفی ١٠٧ھ) سے روایت ہے کہ: ”ان علياً حرق
قوماً فبلغ ابن عباس فقال لوكنت انا،لم احرقهم لان النبىﷺ قال لا تعذبوا بعذاب الله ولقتلتهم كَما قال النبىﷺ من بدل دينه فاقتلوه (بخاری ج ١ ص ٤٢٣، باب لا يعذب بعذاب الله، ج ٢ ص ١٠٢٣، باب حكم المرتد، ترمذی ج ٢ ص ١٥١، فيه فبلغ ذالك علياً فقال صدق ابن عباس وقال هذا حديث حسن صحيح وداؤد ج ٢ ص ٣٧٦، نسائی ج ٢ ص ١٧١، مشکوۃ ص ٣٠٧، سنن الكبرى ج ٨ ص ١٩٥)‘ ﴿حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا۔ یہ خبر جب حضرت ابن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو میں ان کو آگ میں نہ جلاتا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ
٣٣
کے عذاب (آگ) سے کسی کو سزا نہ دو بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا۔ جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے اپنا دین (اسلام) بدل دیا تو اس کو قتل کر دو۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ جب حضرت ابن عباسؓ کی یہ بات حضرت علیؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے سچ کہا ہے۔﴾
اور حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت یوں ہے: ”عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ من بدل دينه فاقتلوه (ابن ماجہ ص ١٨٢، واللفظ له ومسند احمد ج ١ ص ٢١٧، مسند حمیدی ج ١ ص ٢٤٤، سنن الکبری ج ٨ ص ١٩٥، مشکوٰۃ ص ٣٠٧، الجامع الصغیر ج ٢ ص ١٦٨، وقال صحيح والسراج المنير ج ٤ ص ٢٧٩) “ ﴿حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنا دین (اسلام) بدل دیا تو اسے قتل کر دو۔﴾
اس صحیح حدیث سے مرتد کا قتل بالکل آشکارا ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنجہانی مسٹر غلام احمد پرویز کی طرح کسی کج فہم کو یہ شبہ ہو کہ اس حدیث میں من بدل دینه فاقتلوه کے عمومی الفاظ سے اسلام سے پھر جانے والے مرتد کا قتل ثابت اور متعین نہیں ہوتا۔ کیونکہ من بدل دینه ، میں الفاظ عام ہیں۔ مثلاً یہودی کا عیسائی ہو جانا یا عیسائی کا ہندو یا سکھ ہو جانا یا ہندو کا عیسائی اور یہودی وغیرہ ہو جانا۔ وغیر ذالک! تو اس سے اسلام سے پھر کر مرتد ہونے والے کا قتل کیسے متعین ہوا؟
الجواب
یہ شبہ نہایت ہی سطحی ذہن کی پیداوار ہے جس کی کوئی قدر و منزلت ہی نہیں ہے۔
- اولاً...... تو اس لئے کہ اسی حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ: ”ان عليا احرق
ناساً ارتد واعن الاسلام (ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٢، ترمذی ج ١ ص ١٧٦، نسائی ج ٢ ص ١٥١) “ ﴿حضرت علیؓ نے ان لوگوں کو آگ میں جلایا تھا۔ جو اسلام سے پھر گئے تھے۔﴾
اس سے بالکل واضح ہو گیا کہ یہ کارروائی ان لوگوں کے بارے میں ہوئی جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے۔ وہ لوگ اسلام سے باایں طور پھرے کہ پہلے مسلمان تھے پھر مرتد ہوگئے۔ یا پہلے منافقانہ طور پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا۔ پھر کھلے طور پر کفر کی طرف پھر گئے۔ کوئی بھی معنی لیا جائے ۔ یہ صحیح روایت اسلام سے پھر کر مرتد ہونے والوں کو قتل کئے جانے پر نص ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباسؓ آنحضرت ﷺ کے ارشاد من بدل دينه، فاقتلوه
٣٤
سے یہی سمجھتے ہیں کہ دین اسلام سے پھر جانے حدیث مرتد عن الاسلام کے قتل کے متعلق ہے ۔ ہو جانے کے بارے میں۔
- ثانیاً...... اس لئے کہ حضرت ابن
اللہ ﷺ من جحد آية من القرآن فا ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قر صفدر ) انکار کیا تو بلاشک اس کی گردن اڑا دو
- ١...... اس حدیث سے بھی مر
ہے۔ مگر اس کی کسی ایک آیت (یا اس کے مقصود اس سے واضح ہوا کہ حدیث میں بدل دین بارے میں ہے نہ کہ کسی کافر کے اپنا دین چھو بارے میں۔
- ٢...... حضرت ابوموسیٰ الا
آنحضرت ﷺ نے یمن کے ایک صوبے کا گو کے بعد دوسرے صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا۔ گئے۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے اکرام ضیف کی مد ابھی تک سوار تھے ۔ ” واذا رجل عنده مو تهود قال اجلس قال لا اجلس حتٰی ی به فقتل (بخاری ج ٢ ص ١٠٢٣، کتاب ا المرتد و المرتده، مختصراً ج ٢ ص الامارة والحرص، سنن الکبریٰ ج ایک شخص باندھا ہوا دیکھا۔ پوچھا کہ یہ کون تھا۔ پھر مسلمان ہوا۔ اس کے بعد پھر یہودی نے فرمایا کہ جب تک اس کو قتل نہیں کیا جای رسول کا یہی فیصلہ ہے۔ تین دفعہ انہوں نے گیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔﴾
سے یہی سمجھتے ہیں کہ دین اسلام سے پھر جانے والے کا یہ حکم ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث مرتد عن الاسلام کے قتل کے متعلق ہے۔ نہ کہ ہندو سے عیسائی اور عیسائی سے یہودی وغیرہ ہو جانے کے بارے میں۔
ثانیاً ..... اس لئے کہ حضرت ابن عباسؓ ہی سے روایت ہے: ”قال قال رسول اللہ ﷺ من جحد آیة من القرآن فقد حل ضرب عنقه (ابن ماجہ ص١٨٠) “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن کریم کی کسی آیت (یا اس سے مطلوب معنی کا۔ مقدر) انکار کیا تو بلاشک اس کی گردن اڑادینا حلال اور جائز ہے۔﴾
- ١...... اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص پورے قرآن کریم کو مانتا
ہے ۔ مگر اس کی کسی ایک آیت (یا اس کے مقصود معنی) کا انکار کرتا ہے تو وہ مرتد اور قابلِ قتل ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حدیث میں بدل دینہ، فاقتلوہ ۔ اسلام سے پھر جانے والے کے بارے میں ہے نہ کہ کسی کافر کے اپنا دین چھوڑ کر کفر کے کسی اور دین کو اختیار کر لینے والے کے بارے میں۔
- ٢...... حضرت ابوموسٰی الاشعریؓ (عبداللہ بن قیس المتوفی ٤٤ھ) کو
آنحضرت ﷺ نے یمن کے ایک صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا۔ جب کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو ان کے بعد دوسرے صوبے کا گورنر بنا کر بھیجا۔ حضرت معاذؓ، حضرت ابوموسٰیؓ کی ملاقات کے لئے گئے ۔ حضرت ابوموسٰیؓ نے اکرام ضیف کی مد میں حضرت معاذؓ کے لئے تکیہ ڈالا اور حضرت معاذؓ ابھی تک سوار تھے۔ ”واذا رجل عندہ موثق قال ما ھذا قال كان یھودیا فاسلم ثم تھود قال اجلس قال لا اجلس حتٰی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرأت فامر بہ فقتل (بخاری ج٢ ص١٠٢٣، کتاب استتابة المعاندين والمرتدین وقتالهم باب حكم المرتدو المرتده، مختصراً ج٢ ص١٠٥٩، مسلم ج٢ ص١٢١، باب النھی عن طلب الامارة والحرص، سنن الکبریٰ ج٨ ص٢٠٥) “﴿تو انہوں نے حضرت ابوموسٰیؓ کے پاس ایک شخص بندھا ہوا دیکھا۔ پوچھا کہ یہ کون ہے؟ حضرت ابوموسٰیؓ نے فرمایا کہ یہ پہلے یہودی تھا۔ پھر مسلمان ہوا۔ اس کے بعد پھر یہودی ہو گیا۔ فرمایا اے معاذؓ بیٹھ جاؤ۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا کہ جب تک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ میں نہیں بیٹھوں گا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے۔ تین دفعہ انہوں نے یہ فرمایا۔ پھر اس مرتد کے بارے میں قتل کا حکم دیا گیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔﴾
٣٥
اور بخاری شریف میں دوسرے مقام پر روایت یوں ہے کہ: ”فسار معاذ فی ارضه قریبا من صاحبه ابی موسیٰ فجاء یسیر علی بغلته حتى انتهى الیه واذ هو جالس وقد اجتمع الیه الناس واذا رجل عنده قد جمعت يداه الی عنقه فقال له معاذ يا عبدالله بن قيس ايم هذا قال هذا رجل كفر بعد اسلامه قال لا انزل حتى يقتل قال انما جئ به لذالك فانزل قال ما انزل حتى يقتل فامر به فقتل ثم نزل (بخاری ج ٢ ص ٦٢٢، باب بعث ابی موسیٰ ومعاذ الی الیمن)“
٭ حضرت معاذؓ اپنے علاقہ کی زمین میں اپنے ساتھی حضرت ابوموسیٰؓ کے قریب پہنچے تو وہ خچر پر سوار تھے اور حضرت ابوموسیٰؓ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے پاس لوگ جمع تھے اور ان کے پاس ایک شخص کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس یہ کون ہے؟ فرمایا کہ یہ شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا ہے۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک نہیں اتروں گا۔ جب تک کہ اس کو قتل نہ کیا جائے۔ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا اس کو اسی لئے تو لایا گیا ہے۔ آپ اتریں فرمایا جب تک اس کو قتل نہ کیا جائے گا میں نہیں اتروں گا۔ اس کو قتل کیا گیا تو وہ اترے۔ ٭
- ٣...... حضرت عثمانؓ بن عفان (المتوفی ٣٥ھ) سے روایت ہے: ”قال
سمعت رسول الله ﷺ یقول لا یحل دم امراً مسلم الا بثلاث ان یزنی بعد ما احصن او یقتل انساناً او يكفر بعد اسلامه فیقتل (نسائی ج ٢ ص ١٥١، ابوداؤد الطيالسي ص ١٣، مسند احمد ج ١ ص ٧٠، سنن الكبرى ج ٨ ص ١٩٤)“ ٭ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہے۔ مگر تین چیزوں سے یہ کہ شادی کے بعد کوئی زنا کرے یا کسی انسان کو قتل کر دے یا اسلام کے بعد کفر اختیار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ ٭ اور یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے اور اس میں الفاظ ہیں: ”اور رجل ارتد بعد اسلامه (ابن ماجه ص ١٨٥)“ ٭ یا وہ شخص جو اسلام کے بعد مرتد ہو جائے۔ ٭
- ٤...... حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ”قال قال
رسول الله ﷺ لا یحل دم رجل مسلم یشهد ان لا اله الا الله وانی رسول الله الا باحدى ثلاث الثیب الزانی والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة (بخاری ج ٢ ص ١٠١٦، باب قول الله ان النفس بالنفس، مسلم ج ٢ ص ٥٩، باب ما یباح به دم المسلم، ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٢، ابن ماجه ص ١٨٥، مسند احمد ج ١
٣٦
ص ٣٨٢، سنن الکبریٰ ج ٨ ص ١٩٤، ج ٨ ص ٢٠٢) ” جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی معبود نہیں اور اس کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ خون بہانا جائز نہیں۔ مگر تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ارتکاب سے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے۔ یا کسی کو قتل کر دے تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ یا اپنے دین (اسلام) کو چھوڑ کر ملت سے جدا ہو جائے تو قتل کیا جائے گا۔﴾
اس صحیح اور صریح حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ دین سے دین اسلام مراد ہے کہ جو مسلمان اپنے دین اسلام سے پھر کر مرتد ہو جائے تو وہ قابل گردن زدنی ہے۔ اور اس جرم کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا۔
- ٥....... حضرت عائشہؓ (المتوفیٰ ٥٨ھ) سے روایت ہے: ”ان النبی ﷺ قال
من ارتد عن دینه فاقتلوه (مصنف عبدالرزاق ج ١٠ ص ١١٤) ” آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے دین (اسلام) سے پھر گیا تو اسے قتل کر دو۔﴾
- ٦....... مشہور تابعی حضرت ابو قلابہؒ (عبداللہ بن زید الجرمی المتوفیٰ ١٠٤ھ) نے
خلیفہ راشد حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز (المتوفیٰ ١٠١ھ) کی بھری ہوئی عدالتی اور علمی مجلس میں یہ حدیث بیان فرمائی۔ ”فو الله ما قتل رسول الله ﷺ احد اقط الا فی ثلاث رجل قتل بجريرة نفسه فقتل اور جل زنی بعد احصان اور جل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام (بخاری ج ٢ ص ١٠١٩، باب القسامة) ”بخدا آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی کسی کو قتل نہیں کیا۔ مگر تین جرائم میں وہ شخص جو ناحق کسی کو قتل کرتا تو اسے قصاص میں قتل کرتے یا شادی کے بعد زنا کرتا تو اسے قتل کرتے یا اسلام سے پھر کر مرتد ہو جاتا تو اسے قتل کرتے۔﴾
ایسی صحیح اور صریح احادیث کی موجودگی میں یہ موشگافیاں کہ یہ احادیث اسلام سے پھر کر مرتد ہو جانے والے کے بارے میں نہیں یا یہ احادیث ضعیف ہیں یا یہ احادیث کلمہ گو کے قتل سے خاموش ہیں۔ یا یہ صرف ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو اسلام سے خارج ہو کر کھلے طور پر علانیہ کافر ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔ کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہ کارروائی صرف وہی کر سکتا ہے جو ملحد و زندیق ہو۔
حضرات ائمہ دین
جس طرح قرآن وحدیث اور دین اسلام کی باریکیوں کو حضرات ائمہ دین سمجھتے ہیں۔
٣٧
ایسا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا اور ان میں سے بھی علی الخصوص حضرات ائمہ اربعہ جن کے مذاہب مشہور اور متداول اور امت مسلمہ میں قابل اعتماد ہیں اور آج کل کے مادر پدر آزاد دور میں ملاحدہ اور زنادقہ کو جو اسلام کے مدعی تو ہیں۔ مگر اسلام کی سمجھ ہی ان کو نہیں اور نہ وہ اس کی روح سے واقف ہیں۔ وہ صرف اپنی نارسا عقل و خرد پر نازاں و فرحاں ہیں اور اسی کو وہ حرف آخر سمجھتے ہیں اور حضرات سلفؒ پر طعن کرتے ہیں۔ حضرت امام مالکؒ (المتوفی ١٧٩ھ) اس حدیث پر یہ باب قائم کرتے ہیں۔
”القضاء فيمن ارتد عن الاسلام، مالك عن زيد بن اسلم ان رسول الله ﷺ قال من غير دينه فاضربوا عنقه قال مالك ومعنى قول النبي ﷺ فيما نرى والله تعالى اعلم من غير دينه، فاضربوا عنقه، انه من خرج من الاسلام الى غيره مثل الزنادقة واشباههم فان اولئك اذا ظهر عليهم قتلوا ولم يستتابوا لانه لا يعرف توبتهم وانهم يسرون الكفر ويعلنون الاسلام فلا ارى ان يستتاب هؤلاء ولا يقبل منهم قولهم واما من خرج من الاسلام الى غيره واظهر ذالك فانه يستتاب فان تاب والا قتل ذلك لو ان قوماً كانوا على ذالك رايت ان يدعوا الى الاسلام ويستتابو فان تابوا قبل ذلك منهم وان لم يتوبوا قتلوا ولم يعن بذلك فيما نرى والله اعلم من خرج من اليهودية الى النصرانية ولا من النصرانيه الى اليهودية ولا من يغير دينه من اهل الاديان كلها الا الاسلام، فمن خرج من الاسلام الى غيره واظهر ذالك فذالك الذى عنى به والله اعلم (مؤطا امام مالك ص ٣٠٨، طبع مجتبائی دھلی) ”اس شخص کے بارے فیصلہ جو اسلام سے پھر جائے۔ امام مالکؒ حضرت زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے اپنا دین بدل دیا تو تم اس کی گردن اڑا دو۔ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا ہماری دانست میں معنی یہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جو شخص اسلام سے نکل کر زنادقہ وغیرہم میں جا ملا۔ ایسے زنادقہ پر جب مسلمانوں کا غلبہ ہو جائے تو ان سے توبہ طلب کئے بغیر ان کو قتل کیا جائے۔ کیونکہ زنادقہ کی توبہ معلوم نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ کفر کو چھپاتے اور اسلام کو ظاہر کرتے ہیں اور ہماری دانست کے مطابق نہ تو ان سے توبہ طلب کی جائے اور نہ توبہ قبول کی جائے۔ باقی رہے وہ لوگ جو اسلام سے کفر کی طرف نکلے اور کفر کو ظاہر کیا تو ان پر توبہ پیش کی جائے گی اور اگر وہ توبہ کر لیں تو فبہا ورنہ ان کو قتل کیا
٣٨
جائے گا۔ یعنی اگر کوئی قوم اسلام سے پھر جائے گا۔ اگر توبہ کی تو قبول کر لی جائے ہماری دانست میں یہ نہیں اور اللہ تعالیٰ نصرانیت سے یہودیت یا اسلام کے بغیر ہے۔ بلکہ یہ حدیث صرف اس کے بارے اسے ظاہر کرے۔ ﴾
حضرت امام مالکؒ من بدل اسلام سے پھر کر کفر کی طرف چلا جائے مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کی توبہ کا کو
حضرت امام ابو حنیفہؒ نعمان بـ الطحاوی الحنفیؒ (المتوفی ٣٢١ھ) فرماتے الاسلام ايستتاب ام لا فقال تاب والا قتل ومن قال ذلك ايـ وقال آخرون لا يستتاب وجـ بلوغ الدعوة اياهم ومن تقـ خرج الاسلام لا عن بصيرة مـ فانه يقتل ولا يستتاب وهذا اقتله ولا استتيبه الا انه ان يـ الله تعالى (طحاوی ج ٢ ص ١٠٠ ہو جانے والے کے بارے میں بحث کی کی ایک قوم کہتی ہے کہ اگر حاکم مرتد کر دیا جائے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ امام دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ مرتد جب دعوت اسلام پہنچ جائے تو پھر ان کو دی جائے اور فرماتے ہیں کہ توبہ کا مطالبہ سمجھی کی وجہ سے کفر کی طرف چلا جائے
جائے گا۔ یعنی اگر کوئی قوم اسلام سے برگشتہ ہو کر کفر کا اظہار کرتی ہے تو اس سے توبہ کرنے کا کہا جائے گا۔ اگر توبہ کی تو قبول کر لی جائے گی۔ ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس حدیث کا مطلب ہماری دانست میں یہ نہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کوئی شخص یہودیت سے نصرانیت کی طرف یا نصرانیت سے یہودیت یا اسلام کے بغیر کسی اور دین کی طرف پھر جائے تو اس کے متعلق یہ حدیث ہے۔ بلکہ یہ حدیث صرف اس کے بارے میں ہے۔ جو اسلام کو ترک کر کے کفر کو اختیار کرے اور اسے ظاہر کرے۔ ﴿
حضرت امام مالکؒ من بدل دینہ اور من غیر دینہ کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ جو شخص دین اسلام سے پھر کر کفر کی طرف چلا جائے ، اور زندیق تو ایسا واجب القتل ہے کہ نہ تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار ہے۔ وہ بہر حال اور بہر کیف واجب القتل ہے۔
حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ (المتوفی ١٥٠ھ ) امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی الحنفیؒ (المتوفی ٣٢١ھ ) فرماتے ہیں کہ: ”وقد تكلم الناس في المرتد عن الاسلام ايستتاب ام لا فقال قوم ان استتاب الامام المرتد فهو حسن فان تاب والا قتل ومن قال ذلك ابو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم وقال آخرون لا يستتاب وجعلوا حكمه كحكم الحربيين على ماذكرنا من بلوغ الدعوة اياهم ومن تقصيرها عنهم وقالوا انما يجب الاستتابة لمن خرج الاسلام لا عن بصيرة منه به فاما من خرج منه الى غيره على بصيرة فانه يقتل ولايستتاب وهذا قول قال به ابو يوسف فى كتاب الاملاء قال اقتله ولا استيتبه الا انه ان يبدئى بالتوبة خليت سبيله ووكلت امره الى الله تعالى (طحاوی ج٢ ص ١٠١، کتاب السیر) “ لوگوں نے اسلام سے نکل کر مرتد ہو جانے والے کے بارے میں بحث کی ہے کہ کیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا؟ یا نہیں؟ علماء کی ایک قوم کہتی ہے کہ اگر حاکم مرتد سے توبہ کرنے کا مطالبہ کرے تو اچھا ہے۔ توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہی قول ہے اور دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ جیسا کہ دارالحرب کے کفار کو جب دعوت اسلام پہنچ جائے تو پھر ان کو اسلام کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں۔ نہ پہنچی ہو تو دعوت دی جائے اور فرماتے ہیں کہ توبہ کا مطالبہ اس وقت واجب ہے۔ جب کہ کوئی شخص اسلام سے بے سمجھی کی وجہ سے کفر کی طرف چلا جائے۔ رہا وہ شخص جو سوچے سمجھے طریقہ پر اسلام سے کفر کی طرف
٣٩
چلا جائے تو اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ امام ابو یوسفؒ نے کتاب الاملا میں ایسا ہی فرمایا ہے کہ میں اسے قتل کردوں گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ ہاں اگر وہ میرے اقدام سے پہلے ہی توبہ کرلے تو میں اسے چھوڑ دوں گا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردوں گا۔﴾
حضرت امام شافعیؒ (محمد بن ادریس المتوفی ٢٠٤ھ) تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ولم يختلف المسلمون انه لا يحل ان يفادى بمرتد ولا يمن عليه ولا تؤخذ منه فدية ولا يترك بحال حتى يسلم او يقتل والله اعلم (كتاب الام ج ٦ ص ٢٥٢)“ ﴿مسلمانوں میں کسی کا اس بارے کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ بلکہ سب کا اتفاق ہے کہ مرتد کا فدیہ میں دینا جائز نہیں اور نہ اس پر احسان کیا جائے اور نہ اس سے فدیہ لیا جائے اور اس کو ارتداد پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائے یا قتل کیا جائے۔﴾
حضرت امام شافعیؒ کا یہ حوالہ قتل مرتد کے بارے بالکل واضح ہے۔
حضرت امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی الشافعیؒ (المتوفی ٦٧٦ھ) لکھتے ہیں کہ: ”وقد اجمعوا على قتله لكن اختلفوا فى استتابته هل هى واجبة ام مستحبة (نووى شرح مسلم ج ٦ ص ٤٥٤)“ ﴿تمام اہل اسلام کا قتل مرتد پر اجماع ہے۔ ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مرتد پر توبہ پیش کرنا واجب ہے یا مستحب؟﴾
بعض آئمہ کرامؒ مرتد پر توبہ پیش کرنا واجب کہتے ہیں اور بعض مستحب کہتے ہیں۔
چنانچہ علامہ علاء الدین بن علی بن عثمان الماردینی (المتوفی ٧٤٥ھ) فرماتے ہیں کہ: ”وقال صاحب الاستذكار لا اعلم بين الصحابة خلافاً فى استتابة المرتد فكانهم فهموا من قوله عليه السلام من بدل دينه فاقتلوه اى بعد ان يستتاب (الجواهر النقى ج ٨ ص ٢٠٠)“ ﴿مصنف استذکار (شرح مؤطا امام مالک امام ابو عمر بن عبدالبرؒ المتوفی ٤٦٣ھ) فرماتے ہیں کہ مرتد پر توبہ پیش کرنے کے بارے میں مجھے حضرات صحابہ کرامؓ میں کوئی اختلاف معلوم نہیں ہے۔ پس گویا کہ حضرات صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے ارشاد من بدل دینہ فاقتلوہ سے یہی سمجھے ہیں کہ توبہ پیش کرنے کے بعد مرتد کو قتل کرنا چاہئے۔﴾
علامہ عزیزیؒ فرماتے ہیں: ”فاقتلوه بعد استتابة وجوباً قال المناوى وعمومه يشمل الرجل وهو اجماع والمرأة وعليه الائمة الثلاثة خلافا للحنفية (السراج المنير ج ٣ ص ٢٤٤)“ ﴿فاقتلوہ کا مطلب یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔
٤٠
اس کے بعد اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ امام عبدالرؤف مناویؒ فرماتے ہیں کہ الفاظ کا عموم مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔ مرتد مرد کے قتل کرنے پر تو اجماع ہے اور مرتد عورت کے قتل کرنے پر تین اماموں کا اتفاق ہے۔ احناف اختلاف کرتے ہیں۔ ﴿
اس سے بھی واضح ہو گیا کہ توبہ پیش کرنے کے بعد مرتد کے اسلام سے انکار کرنے پر اس کا قتل واجب ہے۔ مرد مرتد کے قتل پر تو تمام حضرات ائمہ کرامؒ کا اجماع ہے۔ عورت مرتدہ کے بارے حضرات ائمہ ثلاثہؒ کا یہی مسلک ہے۔ البتہ احناف یہ کہتے ہیں کہ اس کو قتل نہ کیا جائے۔ کیونکہ صنف نازک ہونے کی وجہ سے عموماً وہ لڑائی اور جھگڑا نہیں کرتی۔
قاضی محمد بن علی الشوکانیؒ (المتوفی ١٢٥٠ھ) فرماتے ہیں کہ: ”وخصه الحنيفة بالذكر وتمسكوا بحديث النهى عن قتل النساء (نيل الاوطار ج٧ ص٢٠٣)“ ﴿احناف نے اس حدیث کو (ضمیر مذکر کے پیش نظر) مرد کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ جس میں عورتوں کے قتل کرنے کی نہی وارد ہوئی ہے۔ ﴾
ہاں اگر کوئی عورت لڑائی پر اتر آئے اور ارتداد کو پھیلانے کی سعی کرے تو اس کا معاملہ الگ اور جدا ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ (المتوفی ٢٤١ھ) کا مسلک امام موفق الدین ابن قدامہ المقدسیؒ (المتوفی ٦٢٠ھ) یہ نقل کرتے ہیں: ”الفصل الثالث انه لا يقتل حتى يستتاب عند اكثر اهل العلم منهم عمر وعلى وعطاء ونخعى ومالك والثورى والا وزاعى واسحاق واصحاب الرائى وهو احد قولى الشافعى وروى عن احمد رواية اخرى انه لا تجب استتابته لكن تستحب وهذا القول الثانى للشافعى وهو قول عبيد بن عمير وطاؤس ويروى ذالك عن الحسن لقول النبيﷺ من بدل دينه فاقتلوه ولم يذكر استتابة (مغنی ج٨ ص١٢٤)“ ﴿تیسری فصل اکثر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ مرتد کو اس پر توبہ پیش کئے بغیر نہ قتل کیا جائے۔ جن میں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عطاءؒ، امام نخعیؒ، امام مالکؒ، امام ثوریؒ، امام اوزاعیؒ، امام اسحاقؒ اور فقہاء احناف شامل ہیں اور حضرت امام شافعیؒ کا بھی ایک قول یہی ہے اور حضرت امام احمدؒ سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ واجب نہیں ہے۔ لیکن مستحب ہے اور یہ امام شافعیؒ کا بھی ایک دوسرا قول ہے اور امام عبید بن عمیرؒ اور امام طاؤسؒ کا بھی یہی قول ہے اور حضرت حسن بصریؒ سے بھی یہ مروی ہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل دے تو اسے قتل کر دو اور
٤١
توبہ کا مطالبہ اس میں مذکور نہیں ہے۔ ٭
ان تمام صریح حوالوں سے مرتد کا قتل کرنا آفتاب نصف النہار کی طرح ثابت ہے۔ علامہ ابو محمد بن حزمؒ لکھتے ہیں کہ قتل مرتد کا معاملہ امت میں ایسا معروف و مشہور ہے کہ کوئی مسلمان شخص اس کے انکار پر قادر نہیں۔ (المحلی ج ١١ ص ٢٢٢) ان کے علاوہ بھی کتب فقہ و فتاویٰ میں قتل مرتد کی تصریح موجود ہے۔ مثلاً (ہدایہ ج ٢ ص ٦٠٠، فتح القدیر ج ٤ ص ٣٨٦، شامی ج ٣ ص ٣٩٤، بحرالرائق ج ٥ ص ١٢٥) وغیرہ۔
علامہ علاؤ الدین ابوبکر مسعود کاسانی (المتوفی ٥٨٧ھ) فرماتے ہیں کہ مرتد کے قتل کرنے پر حضرات صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔ البتہ مستحب یہ ہے کہ مرتد کو تین دن تک بند رکھا جائے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اچھا ہے۔ ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔
(بدائع الصنائع ج ٧ ص ١٣٤)
امام موفق الدین ابن قدامہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”واجمع اهل العلم على وجوب قتل المرتد روى ذالك عن ابى بكر وعمر وعثمان وعلى ومعاذ وابى موسى وابن عباس وخالد وغيرهم ولم ينكر ذلك فكان اجماعاً (مغنی ابن قدامه ج ٨ ص ١٢٣)“ اہل علم کا قتل مرتد پر اجماع ہے۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاذؓ، حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ، حضرت ابن عباسؓ اور حضرت خالد بن الولید وغیرہ ہم سے یہی مروی ہے اور حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں اس کا کوئی انکار نہیں کیا گیا تو یہ اجماعی مسئلہ ہے۔ ٭
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ جس مسئلہ پر قرآن کریم اور صحیح احادیث سے واضح دلائل موجود ہوں اور جس مسئلہ پر حضرات خلفاء راشدین متفق ہوں اور جس مسئلہ پر حضرت معاذؓ اور حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ جیسی شخصیتیں متفق ہوں جو اپنے دور میں گورنری کے عہدہ پر فائز تھیں اور جس مسئلہ پر حضرت ابن عباسؓ جیسے ترجمان القرآن اور حبر الامت متفق ہوں اور جس مسئلہ پر حضرت خالد بن ولیدؓ جیسے مجاہد اور فوج کے سپہ سالار متفق ہوں اور جس مسئلہ پر بقیہ حضرات صحابہ کرامؓ میں کوئی ایک فرد بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا ہو اور جس مسئلہ پر حضرات ائمہ اربعہ اور جمہور ائمہ کرام متفق ہوں اور جس مسئلہ کے خلاف کوئی مسلمان انکار کرنے پر قادر نہ ہوا ہو تو اس مسئلہ کے حق اور ثابت ہونے میں کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے۔
حضرت امام ابو عمرو عامر بن شراحیل شعبیؒ (المتوفی ١٠٩ھ) فرماتے ہیں کہ: ”کان
٤٢
العلم يؤخذ عن ستة عمر وعلى و ايضاً قضاة الامة اربعة عمر وعل (تذكرة الحفاظ ج ١ ص ٢٣) ” علم کا م ابیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت قاضی چار ہیں۔ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت یعنی یہ وہ حضرات ہیں جن سے علم ومرجع تھے اور حضرت صفوان بن سلیم الامام المدنی يكن يفتى فى زمن النبى ﷺ غي (تذكرة الحفاظ ج ١ ص ٢٣) ” آنحضرت ﷺ نہیں دیتا تھا۔ وہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت آپ حضرات بخوبی اس مقالہ میں چکے ہیں۔
اس مقالہ میں پیش کئے گئے واضح مرزائیوں کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری کوئی اسلام سے پھر کر مرزائی ہوا ہو تو مرتد ہو نسل مرزائی چلا آتا ہے تو زندیق ہونے کی وجہ پارٹی یا فرد کا جو ضروریات دین میں سے کسی چیز مگر یہ یاد رہے کہ کسی کو حداً یا تعزیراً قتل کرنا۔ ق عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں جس کا انہیں اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ق
میں خود مختار
پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد
قادیانی فرقہ جس طرح آنحضرت کی وفات اور مرزا قادیانی کو نبی یا مصلح اور مسیح م اسی طرح عوام الناس کو بہکانے کی خاطر اپنی ا
العلم يؤخذ عن ستة عمر وعليّ وابيّ وابن مسعود زيد وابي موسى وقال ايضاً قضاة الامة اربعة عمر وعليّ زيد وابوموسى رضي الله تعالى عنهم (تذكرة الحفاظ ج ١ ص ٢٤) ”علم کا مرکز چھ حضرات تھے۔ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابیؓ، حضرت بن مسعودؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت ابوموسیٰؓ اور نیز انہوں نے فرمایا کہ امت کے جج اور قاضی چار ہیں۔ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ بن ثابت اور حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ۔“ یعنی یہ وہ حضرات ہیں جن سے علم دین اخذ کیا جاتا تھا اور امت مسلمہ کے وہ مسلم قضاة وجج تھے اور حضرت صفوان بن سلیم الامام المدنی الفقیہ (المتوفی ١٣٢ھ) فرماتے ہیں کہ: ”لــــــم یکن یفتی فی زمن النبیﷺ غیر عمرؓ وعلیؓ ومعاذؓ وابي موسىٰ (تذكرة الحفاظ ج ١ ص ٢٤) ”آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ان چار حضرات کے بغیر اور کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا۔ وہ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاذؓ اور حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ ہیں۔“ آپ حضرات بخوبی اس مقالہ میں مرتد کے بارے ان حضرات کے فتویٰ اور فیصلے پڑھ چکے ہیں۔
اس مقالہ میں پیش کئے گئے واضح اور صریح حوالوں سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مرزائیوں کی دونوں پارٹیاں قادیانی اور لاہوری اسلامی حکومت میں شرعاً واجب القتل ہیں۔ اگر کوئی اسلام سے پھر کر مرزائی ہوا ہو تو مرتد ہونے کی وجہ سے واجب القتل ہے اور اگر کوئی نسلاً بعد نسل مرزائی چلا آتا ہے تو زندیق ہونے کی وجہ سے واجب القتل ہے اور یہی حکم ہے۔ ہر اس گمراہ پارٹی یا فرد کا جو ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر یا مؤول ہو۔ ملاحظہ ہو (شامی ج ٣ ص ٣٢٥) مگر یہ یاد رہے کہ کسی کو حد یا تعزیراً قتل کرنا۔ صرف اسلامی حکومت اور عدالت شرعیہ کا کام ہے۔ عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ صرف وہی کام کرتے اور کر سکتے ہیں۔ جس کا انہیں اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مجبور ہیں۔
میں خود مختار ٹھہرایا گیا ہوں
پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد
قادیانی فرقہ جس طرح آنحضرتﷺ کے بعد اجراء نبوت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور مرزا قادیانی کو نبی یا مصلح اور مسیح موعود ماننے وغیرہ کے دعوؤں میں سراسر جھوٹا ہے۔ اسی طرح عوام الناس کو بہکانے کی خاطر اپنی تعداد بھی بڑھا چڑھا کر بتلانے اور اس کا پروپیگنڈا
٤٣
کرنے میں بھی جھوٹا ہے۔ حقیقت اور نفس الامر اس کے بالکل خلاف ہے۔ ملک کے اندرونی حالات اور مردم شماری وغیرہ داخلی امور کی حقیقت کو جس طرح ملک کا وزیر اطلاعات ونشریات جانتا ہے۔ وہ کوئی اور نہیں جان سکتا۔ کیونکہ یہ باتیں اور اندرون ملک کے امور اس کے فرض منصبی میں شامل ہوتے ہیں اور ان امور کے بارے اس کی رپورٹ حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات ونشریات کا بیان
”اسلام آباد (ا پ پ ١٩٨١ء) کی مردم شماری کے مطابق ملک میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ چار ہزار دوسو چوالیس ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات راجہ محمد ظفر الحق صاحب نے آج مجلس شوریٰ میں ایک سوال کے جواب میں بتائی۔“
(بلفظہ اخبار جنگ لاہور ص ١ کالم ٥، بدھ ١٩/ شوال ١٤٠٣ھ، ١٨/ جولائی ١٩٨٣ء)
یہ تعداد پاکستان میں بسنے والے جملہ مرزائیوں کی ہے۔ جو ربوہ وغیرہ ملک کے دیگر اطراف اور علاقوں میں رہتے ہیں۔ بعض دیگر ممالک میں بھی کچھ مرزائی ہیں۔ مگر ان کی تعداد سینکڑوں تک بھی نہیں پہنچتی۔ چہ جائیکہ وہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہوں۔ لیکن ان کے غلط بیانات اور ان کے ایجنٹوں اور حواریوں کے ہوادینے سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ شاید وہ لاکھوں سے بھی متجاوز ہیں۔ مگر یہ پروپیگنڈا مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کی طرح صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دیگر باطل فرقوں اور بے دین سیاسی لیڈروں کی ملی بھگت سے وہ پھولے نہیں سماتے اور ان کی ملی اور مالی تنظیم کی جڑیں بھی خوب مضبوط ہیں اور مختلف عنوانات سے وہ لوگوں کی جیبیں صاف کرنے میں بڑے مشاق ہیں۔ بقول مولانا ظفر علی خان صاحب مرحوم ؎
کفن کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو توحید وسنت اور ختم نبوت کے بنیادی عقائد پر قائم رکھے اور فتنوں سے بچائے۔ (آمین)
”وصلی اللہ تعالیٰ وسلم علیٰ خاتم الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ وازواجہ وذریاتہ واتباعہ الیٰ یوم الدین“
احقر الناس، ابوالزاہد محمد سرفراز، خطیب جامع مسجد گکھڑ صدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
٤٤
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین
خانہ ساز نبوت
اور مرزا طاہر کی
کھلا خط
حضرت مخدوم زادہ ص
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
خانہ ساز نبوت کے پجاریوں
اور مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا
کھلا کھلا جواب
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمودؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر قادیانی نے لندن سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو معاندین، مکفرین اور مکذبین قرار دے کر انہیں مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ مرزا طاہر قادیانی کا ”مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج“ نامی پمفلٹ لندن سے ملک کے بیشمار سیاسی، دینی، علمی اور سماجی شخصیات کو ارسال کیا گیا ہے۔ بعد ازاں قاضی منیر نے ضیاء الاسلام پریس ربوہ (جناب نگر) سے اس پمفلٹ کو چھپوایا اور ملک کے مختلف شہروں میں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کی معرفت مسلمانوں کے گھروں، مکانوں اور دوکانوں پر رات کی تاریکی میں وسیع پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ اس پمفلٹ میں مرزا طاہر نے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ نے جھوٹ اور کذب بیانی کے میدان میں بانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی سمیت اپنے پیش رو رہنماؤں کو بھی مات کر دیا ہے۔ موصوف نے روایتی عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہوئے اپنے ان اساسی، الہامی اور مخصوص سیاسی عزائم سے انحراف کیا ہے جو بانی جماعت اور قادیانی جماعت کی کتابوں اور تحریروں میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جو جھوٹ، کذب وافتراء میں یدطولیٰ رکھنے والوں کو انعام دیتا ہو تو بلاشبہ جھوٹ کے چیمپئن مرزا طاہر قادیانی کو اس کا گولڈ میڈل دیا جانا چاہئے۔ مرزا طاہر احمد قادیانی نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کہا ہے۔
- ١...... احمدیت کو قادیانیت اور مرزائیت کے فرضی ناموں سے پکارا جا رہا ہے۔ اس طرح
ایک فرضی مذہب بنا کر جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔ جو ہرگز جماعت احمدیہ کا مذہب نہیں۔
- ٢...... مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاوی اور عقائد جو ان سے منسوب کئے جاتے ہیں۔ وہ
فرضی ہیں اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
- ٣...... مرزا قادیانی کی قائم کردہ جماعت کے خلاف بیان کئے جانے والے ”سیاسی عزائم“
محض اسے بدنام کرنے کے لئے شرانگیز پراپیگنڈہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تمام الزامات کا بھی حقیقت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔
٢
قادیانی جماعت کے سربراہ نے چونکہ اپنے مخصوص عقائد و عزائم سے انکار کر کے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ اس لئے ان کے اس زہریلے پراپیگنڈہ کا جواب ضروری ہے۔ ہم مختصراً مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی اور ان کی جماعت کے سیاسی عزائم کے حوالے اور ثبوت قارئین کی نظر کرتے ہیں۔ تاکہ انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھنے والی جماعت کے لوگ:
- ١...... تاجدار ختم الرسل ﷺ کے باغی ہیں۔
- ٢...... اسلام کے غدار ہیں۔
- ٣...... پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن نمبر ایک ہیں۔
ہمیں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی کے مباہلہ کا چیلنج قبول ہے۔ ملک کے گوشے گوشے سے مسلمانوں نے اس موقع پر دینی بیداری اور عقیدہ ختم نبوت سے قلبی وابستگی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کا مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں ان سے مباہلہ ہوا تھا۔ جس کے انمٹ نقوش رہتی دنیا تک باقی رہیں گے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا تاریخی مباہلہ یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں یہ دعا مانگی گئی تھی کہ جو جھوٹا ہو گا۔ وہ پہلے کسی وبائی مرض کا شکار ہو کر مرے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے پہلے مرا اور ہیضہ کی موت مرا۔ اس سے پہلے کہ قادیانی جماعت کا سربراہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور قادیانیوں کے لئے درس عبرت بن جائے۔ اگر ان میں ہمت ہے تو میدان میں آئیں۔ مسلمانوں کے راہنما اور زعماء ان کے جواب کے منتظر ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں بالخصوص مولانا اللہ وسایا حال ہی میں لندن میں مرزا طاہر کا چیلنج قبول کر چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
والسلام! (صاحبزادہ) طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد
٣
چیلنج نمبر: ١
بانی سلسلہ قادیانیت مرزا غلام احمد قادیانی بلاشبہ جھوٹا، مکار، فریبی، بے ایمان اور دھوکے باز انسان تھا۔ اس نے نہ صرف مامور من اللہ، مہدی، مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ بلکہ نبوت ورسالت کا داعی بھی بن بیٹھا۔ سب سے پہلے مرزا قادیانی کے دعاوی اور اسے نہ ماننے والوں کے بارے میں اس کی زبان درازی ملاحظہ فرمائیں۔
نبوت کا دعویٰ
"میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی پاک وحی ہے۔ جیسے دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور وحی قرآن مجید کی طرح خدا کا کلام اور خطاؤں سے پاک اور منزہ ہے اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید پر یقین تھا۔ اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور جو شخص اس وحی کو جھٹلاتا ہے وہ یقینی لعنتی ہے۔"
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
کفر کا فتویٰ
"ایسا شخص جو موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتا یا عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا یا محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔"
(کلمۃ الفصل ص ١٢٨)
تصدیق نہ کرنے والوں کے لئے فتویٰ
"میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں)، اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔" (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
مخالفین کے لئے بدزبانی
- الف....... "میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
گئیں۔"
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
- ب....... "جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو، وہ صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام
بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔"
مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے وا صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عالم اسلام کا مت ماننے والے بھی لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہی اور دھوکے باز انسان تھا۔ ہم قادیانی جماعت ک کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ان کی جماع کہ پشاور تک جس جگہ چاہیں مسلمان راہنمائ مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ ١٤ اگ بڑے شہروں کراچی مزار قائد اعظم، کوئٹہ میزا اس کے علاوہ ہر ڈویژنل مقام پر مسلمان رہنمائ آپ کا چیلنج منظور ہے۔
میں نطفہ خدا ہوں
مرزا قادیانی کہتے ہیں مجھے الہام ہو
نوٹ: عربی لغت میں ماء سے مر من الماء بشرا (القرآن) ’’ اللہ تعال پیدا کیا۔ ﴿
دوسری جگہ ’’ فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَا بَيْنَ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ (القرآن) ‘‘ پس انسان کو چاہئے کہ دیکھے کہ وہ پیدا کیا گیا۔ جو کہ باپ کی پیٹھ اور ماں کی چھا سے مراد نطفہ لیا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی ک
بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ۔‘‘
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے ان کے نزدیک جھوٹے اور کافر ہیں۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عالم اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی جماعت کے بانی اور اسے ماننے والے سبھی لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا قادیانی لعنتی، کذاب، دجال، جھوٹا، مکار اور دھوکے باز انسان تھا۔ ہم قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر قادیانی کا مباہلے کا چیلنج قبول کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کے سرکردہ راہنما، نمائندگان کراچی سے لے کر پشاور تک جس جگہ چاہیں مسلمان راہنماؤں سے مباہلہ کے لئے میدان میں آجائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ ١٤ اگست ١٩٨٨ء یوم پاکستان کے موقع پر ملک کے بڑے شہروں کراچی مزار قائد اعظم ، کوئٹہ میزان چوک، پشاور چوک یادگار ، لاہور بادشاہی مسجد اور اس کے علاوہ ہر ڈویژنل مقام پر مسلمان رہنما موجود ہوں گے۔ ہمت اور جرأت ہے تو آیئے ہمیں آپ کا چیلنج منظور ہے۔
چیلنج نمبر : ٢
میں نطفہ خدا ہوں مرزا قادیانی کہتے ہیں مجھے الہام ہوا ۔ ”انت من ماء ناوہم من فشل“
(تذکرہ ص ٣٧٧)
نوٹ: عربی لغت میں ماء سے مراد اکثر جگہ نطفہ ہے۔ مثلاً: ”هو الذی خلق من الماء بشرا (القرآن)“ ﴿اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پانی (نطفہ) سے پیدا کیا۔﴾
دوسری جگہ ”فلينظر الانسان مما خلق ، خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب (القرآن)“
پس انسان کو چاہئے کہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ پانی اچھلنے والے سے پیدا کیا گیا۔ جو کہ باپ کی پیٹھ اور ماں کی چھاتیوں سے نکلتا ہے اور بھی کئی آیات ہیں۔ جن میں ماء سے مراد نطفہ لیا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا الہام ”انت من ماء نا“ اس کا معنی ہوگا ۔ ”انت
٥
من نطفتنا“ تو ہمارے نطفہ سے ہے اور لوگ بزدلی کے کیچڑ سے۔
میں خدا کا بیٹا ہوں
”انت منی بمنزلۃ ولدی“ تو میرے ہاں بیٹوں جیسا ہے۔
(تذکرہ ص ٥٢٦)
میں خدا کا باپ ہوں
”انا نبشرك بغلام مظھر الحق والعلا كأن الله نزل من السماء“
(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
میں خدا کی بیوی ہوں
مرزا قادیانی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٣ ، خزائن ج ٢١ ص ٨١) پر تحریر کرتے ہیں کہ: ”میرا خدا سے تعلق نا قابل بیان ہے۔“ اس نا قابل بیان حالت کو قاضی یار محمد صاحب بی او ایل پلیڈر صحابی مرزا قادیانی نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسومہ اسلامی قربانی ص ١٢ پر بالفاظ مرزا اس طرح تحریر کیا۔ ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“
میں خود خدا ہوں
”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“
(تذکرہ ص ١٩٢)
میں خاتم الانبیاء ہوں
”بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠، ١٤ ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، ٢١٦)
میں محمد ہوں
”خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
میں رحمۃ اللعالمین ہوں
الہام ہوا ۔ ”وما ارسلناك الا رحمۃ اللعالمین“
(تذکرہ ص ٨١)
٦
میں حضورﷺ سے بھی افضل ہوں
الف ...... ”حضور علیہ السلام کے معجزات تین ہزار تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
ب ...... ”اور میرے دس لاکھ ہیں۔“
(براہین حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
میں بیت اللہ ہوں
”خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“ (تذکرہ ص ٣٦)
قرآن میں قادیان
اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے۔ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“
(ازالہ اوہام ص ٤٠، ٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٠، ١٣٨)
مکہ مدینہ کی توہین
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ گیا کہ نہیں۔“
(مرزا محمود مندرجہ حقیقت الرؤیا ص ٤٦)
ظلی حج
الف ...... ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ جیسا کہ حج میں رفث فسوق اور جدال منع ہے۔“
(خطبہ محمود مندرجہ برکات خلافت ص ٥، مجموعہ تقاریر بشیر جلسہ سالانہ ١٩١٤ء)
٧
- ب...... ”جیسے احمدیت کے بغیر یعنی مرزا قادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا
ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح ظلی حج (جلسہ قادیان) کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔“
(پیغام صلح مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٣٣ء)
- ج...... ”میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی
زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“
(مرزا محمود الفضل مورخہ ١١؍دسمبر ١٩٣٢ء)
لعنة الله على الكاذبين
جہاد کی منسوخی
- الف......
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ وقتال
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤١، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
- ب...... ”میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر
کتابیں لکھی ہیں۔ بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)
- ج...... ”مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا
اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٥٧)
لعنة الله على الكاذبين
٨
حضرت حسینؓ کی توہین
- الف......
صد حسین
- ب...... ”اے قوم شیعہ اس پر
سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین
- ج...... ”تم نے خدا کے جلال
انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے
انگریز کا خودکاشتہ پودا
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے ب پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں
خاندانی کاسہ لیس
”اور میرے والد صاحب مرزا بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی جیسا پانی کا خطرہ ہوتا ہے اور پھر جب گور یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیرخواہ، جاں نثار
حضرت حسینؓ کی توہین
- الف ......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ب ...... ”اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں
سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلا ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- ج ...... ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو
انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر۔“
(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)
انگریز کا خود کاشتہ پودا
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
خاندانی کاسہ لیس
”اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا ہو اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ، جاں نثار تھے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)
٩
١٩٦٥ء کی پاک ہند جنگ اور بلیک آؤٹ کی خلاف ورزیاں
١٩٦٥ء کی پاک بھارت جنگ میں سارے ملک میں بلیک آؤٹ ہوتا تھا۔ لیکن پاکستان میں ربوہ ایک ایسا شہر تھا جہاں بلیک آؤٹ کی صریحاً خلاف ورزیاں کی جاتی تھیں۔ بالآخر ائیر فورس کی شکایت پر محکمہ واپڈا نے ١٤؍ستمبر ١٩٦٥ء کو ربوہ کا کنکشن کاٹ دیا تھا۔
بھارت کی یاد میں
”میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور الگ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں۔ بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“
(بیان مرزا محمود خلیفہ ربوہ الفضل ٧؍مئی ١٩٤٧ء)
قادیانی مردے
یہ امر قارئین کے لئے باعث تعجب ہوگا کہ قادیانی اپنے مردے پاکستان (ربوہ) میں امانتاً دفن کرتے ہیں۔ ان کا الہامی عقیدہ ہے کہ جلد یا بدیر اکھنڈ بھارت بنے گا۔ وہ اپنے مردے ہندوستان میں اپنے مرکز قادیان میں منتقل کریں گے۔ قادیانی جماعت کے سابق سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی مڑھی پر اب تک یہ کتبہ لگا رہا ہے۔
ارشاد حضرت محمود خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
١٠
٠٥ ....................... ”عام مؤمنین اور اہل بیت کریں۔ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے القاء حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیش گوئی ہے اس کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہئے ۔“
یہ تصویر پاکستان کے قومی اخبارات قادیانی، اسرائیل میں قادیانی مرکز کے ۔۔۔۔۔ تعارف کروا رہے ہیں۔
ٹ کی خلاف ورزیاں ہمارے ملک میں بلیک آؤٹ ہوتا تھا۔ لیکن کی صریحاً خلاف ورزیاں کی جاتی تھیں۔ بالآخر کو ربوہ کا کنکشن کاٹ دیا تھا۔
کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان دی سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی
(بیان مرزا محمود خلیفہ ربوہ الفضل ١٧؍مئی ١٩٤٧ء)
کہ قادیانی اپنے مردے پاکستان (ربوہ) میں یا پھر اکھنڈ بھارت بنے گا۔ وہ اپنے مردے ے۔ قادیانی جماعت کے سابق سربراہ مرزا بشیر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
........................’’عام مؤمنین اور اہل بیت کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے کر دفن کریں۔ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے۔ حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیش گوئی ہے۔ اس لئے یہ بات فرض کے طور پر ہے۔ جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہئے ۔‘‘
یہ تصویر پاکستان کے قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ اس تصویر میں شیخ محمد شریف قادیانی ، اسرائیل میں قادیانی مرکز کے نئے سربراہ شیخ حمید قادیانی کا اسرائیلی صدر کے ساتھ تعارف کروا رہے ہیں۔
(بشکریہ نوائے وقت مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٨٦ء)
١١
اسرائیلی فوج میں قادیانی
١٩٧٢ء تک اسرائیل میں چھ سو کی تعداد میں قادیانی موجود تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ تعداد اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہوگی۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی۔ ٹی نعمان کی کتاب (Israel A Pro file ص ٥) پر موجود ہے۔ یہ کتاب پال مال لندن سے ١٩٧٢ء میں شائع ہوئی تھی۔
(Our Foreign Missions) قادیانی کتاب کے ص ٩٧ پر قادیانی جماعت نے اسرائیل (حیفا) میں اپنے مشن کی موجودگی کی تفصیلات لکھی ہیں۔
قادیانی روس تعلقات
روس ایسا لادین ملک ہے جس نے کسی مذہبی جماعت یا اس سے منسلک کسی شخصیت کو کبھی کوئی ایوارڈ نہیں دیا۔ قادیانی اپنے آپ کو دینی جماعت قرار دیتے ہیں۔ قومی اخبارات شاہد ہیں کہ معروف قادیانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کو گولڈ الموزوف ایوارڈ برائے ١٩٨٣ء دیا گیا۔ یہ ایوارڈ قادیانی اور روسی تعلقات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر موصوف کو اس سے قبل یہودی ایوارڈ نوبل پرائز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ مایہ ناز پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ڈاکٹر عبدالسلام کے حاصل کردہ نوبل انعام کی ساری قلعی کھول دی ہے۔ ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ١٩٥٧ء سے اس کے حصول کے لئے کوشاں تھے۔ بالآخر وہ یہودیوں کی نظر انتخاب میں آگئے۔
قادیانی جماعت اور اسلم قریشی
محمد اسلم قریشی نے ٣٠ / جولائی ١٩٨٨ء سیالکوٹ کی ایک عدالت میں مجسٹریٹ کے روبرو اور اخباری نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ انہیں مرزا طاہر قادیانی اور ان کے ساتھیوں نے اغواء کیا تھا۔ میں مسلسل قادیانیوں کی حراست میں رہا ہوں۔ مجھ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ قادیانی عورتیں بھی مجھ پر تشدد کرتی تھیں۔ مجھے جن تہہ خانوں میں رکھا گیا ان میں اسلحہ کے ذخیرے موجود ہیں۔ مجھ سے آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس میں جو بیان دلوایا گیا۔ وہ میرا نہیں بلکہ پولیس کا بیان ہے۔ میں اس وقت تک ضمانت پر رہا نہیں ہونا چاہتا۔
١٢
جب تک مرزا طاہر قادیانی کو گرفتار کر کے پاکستان نہیں لایا جاتا اور ربوہ سے اسلحہ کے ذخائر برآمد نہیں کئے جاتے۔ میں اپنی رہائی کے بعد سارے حقائق سے پردہ ہٹاؤں گا۔
(جنگ لاہور ٣١ جولائی ١٩٨٨ء)
اسلام اور قادیانیت الگ دین
”حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز پر ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ محمود احمد الفضل ج ١٩ نمبر ١١٣ مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
الگ قوم
مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے۔ تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)
قادیانی امت کا درود
”اللهم صل على محمد واحمد وعلى آل محمد وأحمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد . اللهم بارك على محمد واحمد وعلى آل محمد واحمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم انك حميد مجيد“
(مطبوعہ ضمیمہ رسالہ درود شریف ص ٤٤، ضیاء الاسلام پریس قادیان)
میرا نام محمد
”محمد رسول اللہ والذین معه اشدآء على الکفار رحماء بینھم اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
١٣
قادیانی امت کا کلمہ
"لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ کے رسول ہیں۔
نوٹ: محمد حذف کر کے احمد لگا دیا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے دورہ افریقہ پر تصویری کتاب (Afrika Speaks) پر احمدیہ سنٹرل ماسک نائیجیریا کا فوٹو موجود ہے۔ وہاں پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے۔
AHMADIYYA CENTRAL MOSQUE
١٤
تحریف قرآن حکیم لفظی
- ١....... اصل آیت قرآن :
الا اذا تمنى القى الشيطن فى امنيته
مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کیونکہ اگر من قبلک یہاں رہتا تو مرزا قادیان جن میں اس آیت مقدسہ کی تحریف کی گئی ہے۔
(ازالہ اوہام قدیم نسخہ مصنفہ
نکالا جاتا ہے اسی کی طرف ا ہے۔ وما ارسلنا من رسو في امنيته الا ایسا ہی انبی نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر مخدوم قادیانیات باریث آیت
معنوی تحریف
مرزائیوں نے قرآن مجید میں معن الدین محمود نے قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر کیا ہ
صحیح ترجمہ
"غیر المغضوب عليهم ولا الضالين ہمیں (دکھا) رستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب ہوا۔ اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہوگئے
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ احمد
مرزا ناصر احمد کے دورہ افریقہ پر تصویری کتاب کا فوٹو موجود ہے۔ وہاں پر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے۔
تحریف قرآن حکیم لفظی
- .......١ اصل آیت قرآن: ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی
الا اذا تمنى القى الشيطن فی امنیته (الحج:٥٢)“ مرزاغلام احمد قادیانی نے قرآن شریف کی آیت سے من قبلك خارج کر دیا ہے۔ کیونکہ اگر من قبلك یہاں رہتا تو مرزا قادیانی کی نبوت کا ٹھکانا نہ بنتا۔ اب کتابوں کے صفحات جن میں اس آیت مقدسہ کی تحریف کی گئی ہے ان کے فوٹو ملاحظہ فرمائیں۔
ازالہ اوھام قدیم نسخہ مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب
٦٢٩
نکالا جاتا ہے اسی کی طرف اللہ جل شانہٗ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے۔ وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القى الشيطن فی امنيته الخ ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے دیکھو خط دوم قرنتیان باب١١ آیت ١٤ ۔ اور مجموعہ تورات میں سے سلاطین
معنوی تحریف
مرزائیوں نے قرآن مجید میں معنوی تحریف کی مذموم جسارت بھی کی ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر کیا ہے۔ جس میں ارادۃً معنوی تحریف کی ہے۔
صحیح ترجمہ مرزائی غلط ترجمہ ”غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین“ مرزائی ترجمہ کے مطابق سورہ فاتحہ کی آخری یہی (دکھا) رستہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب آیت کے نصف ”غیر المغضوب علیھم ہوا۔ اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہوگئے ولا الضآلین“ کا ترجمہ یوں کیا گیا تھا۔ جن پر نہ تو بعد میں تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ وہ بعد میں گمراہ ہوگئے ہیں۔
١٥
سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٥ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٥ ” والذين يؤمنون بما انزل اليك وما ” والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون “ انزل من قبلك بالاخرة هم يوقنون “ کا ترجمہ یہ تھا اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے یا جو اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں آپ پر جو نازل ہوا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا اس پر ایمان لاتے اور جو کچھ آپ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ یقین رکھتے ہیں۔ (اسی طرح تمام قرآن معنوی تحریف سے بھرا پڑا ہے)
مرزا بعینہ رسول اللہ
”اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا۔ درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنیٰ ’آخرین منهم‘ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨، ٢٥٩)
غیر احمدی سے نکاح
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت مجموعہ تقاریر ص ٧٥)
غیر احمدی کے پیچھے نماز
”یہ ہمارا فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
غیر احمدی کی نماز جنازہ
”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
١٦
قائد اعظم کی نماز جنازہ
قادیانی غیر احمدیوں حتی کہ معص رسوائے زمانہ قادیانی آنجہانی چوہدری ظف نے بانی پاکستان قائد اعظم کا نماز جنازہ ن کھڑے رہے۔ ایک سوال کے جواب م ایک کافر ملازم یا ایک کافر حکومت کا مسلمان لاہور کے ایک جریدہ آتش فش ان سے یہی سوال کیا گیا کہ آپ نے قا پڑھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے جواب سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے
دعائے مغفرت کی ممانعت
”غیر احمدیوں کا کفر بینات س نہیں۔“ جو شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوا۔ بعد از م پوزیشن یہ کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسا ہی محمد ﷺ نبی تھے۔ اس لئے جو شخص حضرت مرز ہے۔ اس لئے دعائے استغفار جائز نہیں۔ لعنۃ اللہ
آخری بات
یہ ہیں قادیانی مذہب کے عقائد ان کا اصلی وحقیقی رنگ و روپ...... جھوٹ اور سے مصلحتاً فرار اور صریحاً انکار کیا ہے۔ اگر مر ہوتے تو وہ پاکستان سے کبھی فرار نہ ہوتے سرمو انحراف کرتے۔ انہوں نے کمال عیار
قائد اعظم کی نماز جنازہ
قادیانی غیر احمدیوں حتیٰ کہ معصوم بچے کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھتے۔ یہی وجہ ہے کہ رسوائے زمانہ قادیانی آنجہانی چوہدری ظفر اللہ نے جب وہ پاکستان کے وزیر خارجہ تھے۔ انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم کا نماز جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ حالانکہ وہ اس وقت موجود تھے اور الگ کھڑے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں ظفر اللہ خان نے کہا: ”آپ مجھے مسلمان حکومت کا ایک کافر ملازم یا ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم خیال کر لیں۔“
لاہور کے ایک جریدہ آتش فشاں مئی ١٩٨١ء میں ظفر اللہ خان کا انٹرویو شائع ہوا تھا۔ ان سے یہی سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ موجود رہتے ہوئے نہیں پڑھا۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے جواب میں کہا کہ ہاں ٹھیک بات ہے۔ میں نے نہیں پڑھا۔ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ ہم نہیں پڑھتے ۔ غیر احمدی کا جنازہ ۔ (آتش فشاں ص ٣٤ مئی ١٩٨١ء)
دعائے مغفرت کی ممانعت
”غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٨ ش ٥٩ مورخہ ٧ فروری ١٩٢١ء)
جو شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوا۔ بعد از موت اس کے لئے دعا استغفار جائز نہیں۔ احمدیوں کی پوزیشن یہ کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ایسا ہی نبی (بہ لحاظ حقیقت نبوت) مانتے ہیں۔ جیسے حضرت محمد ﷺ نبی تھے۔ اس لئے جو شخص حضرت مرزا قادیانی کا انکار کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لئے دعائے استغفار جائز نہیں۔ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ١١ اکتوبر ١٩٢١ء ج ٩ ش ٣٠)
لعنة الله على الكاذبين!
آخری بات
یہ ہیں قادیانی مذہب کے عقائد باطلہ اور قادیانی جماعت کے مخصوص سیاسی عزائم اور ان کا اصلی وحقیقی رنگ وروپ ....... جھوٹ اور کذب کے بے تاج بادشاہ مرزا طاہر قادیانی نے جن سے مصلحتاً فرار اور صریحاً انکار کیا ہے۔ اگر مرزا طاہر قادیانی جماعت کے مخلص اور مضبوط سربراہ ہوتے تو وہ پاکستان سے کبھی فرار نہ ہوتے اور نہ ہی اپنے مذہبی وسیاسی عقائد وعزائم سے سرمو انحراف کرتے۔ انہوں نے کمال عیاری اور مکاری سے اپنی جماعت کے افراد کو بے
١٧
یار و مددگار چھوڑنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ ان کے بیرون ملک بھاگ جانے کے بعد قادیانی جماعت بلاشبہ بیوہ کا آنسو اور یتیم کی آہ بن کر رہ گئی ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ نے یہ سارا ڈھونگ بزدل قادیانیوں میں اپنی ساکھ بحال کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے رچایا ہے۔ اب جبکہ ساری حقیقت کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ عالم اسلام کے مسلمانوں کو رتی بھر شبہ نہیں کہ قادیانی مذہب کی طرح اس کا پرچار کرنے والے جھوٹے، بے ایمان اور غدار ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ قادیانی خانہ ساز نبوت رحمٰن کے مقابلے پر شیطان کا ٹولہ ہے۔ وہ مسیلمہ کذاب کی معنوی اولاد حسن بن صباح کے نقال اور راسپوٹین کے صحیح جانشین ہیں۔
اے قادر مطلق! اے مالک ارض وسماء۔ اے دلوں کے بھید جاننے والے۔ تیرے محبوب دو عالم ﷺ کی نبوت و رسالت برحق اور دائمی ہے۔ ان کے مقابلے پر ہر مدعی نبوت کاذب، دجال، قابل گردن زدنی اور نفرت و حقارت کے لائق ہے۔ اے مولائے کائنات جس طرح تیری خدائی و بادشاہی، کبریائی و فرمانروائی، عظمت و رفعت میں کوئی شریک نہیں۔ اس طرح انبیاء کے سردار، آقائے نامدار، امت کے دلدار اور ختم نبوت کے تاجدار کی نبوت میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی ثانی ہے۔
اے مولائے کل دانائے سبل، تیرے ختم الرسل ﷺ کی صداقت وامانت کی قسم، جن کی مسکراہٹ کے صدقے کائنات رنگ و بو کا وجود ہے۔ اے اللہ! تیرا نبی سچا، ان کا دین سچا، ان کی کتاب قرآن مجید سچی، ان کی امت سچی، ہماری ہر سانس کی یہی پکار ہے اور یہی آواز ہے۔
اے مختار کل، نبوت کے منصب پر ڈاکہ ڈالنے والوں، سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں، اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے گروہ پر اپنی لعنت کا سیلاب بھیج۔ مولا انہیں خائب و خاسر کر۔ ان پر وبائیں نازل فرما۔ انہیں ذلیل ورسوا کر کے مولا انہیں ان کے خود ساختہ نبی کی طرح ان کے انجام بد تک پہنچا۔ جس کے وہ مستحق ہیں۔
اے اللہ! ہم سچے ہیں۔ کیونکہ ہم صاحب لولاک، صاحب معراج ﷺ کی امت سے ہیں۔ بارالہا! مرزائی جھوٹے ہیں۔ کیونکہ وہ ناپاک و نامراد انسان کی امت سے ہیں۔
اے ستار العیوب! شافع محشر، سرکار مکی مدنی ﷺ کی عظمت کو اجاگر فرما۔ ان کے ماننے والوں اور ان کی غلامی کا دم بھرنے والوں کو سربلند فرما۔ مولا انہیں توفیق دے کہ وہ تیرے محبوب ﷺ کے دشمنوں کے محاسبہ کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگا دیں۔ آمین!
١٨
آہنگِ بصیر
حضرت مخدوم زادہ
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
آنکھیں کھولیں
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمود
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
قادیانیوں، مرزائیوں کو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔ انہیں ١٩٧٤ء میں قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ ایک سو قرآنی آیات اور دوسو دس احادیث کے علاوہ پوری امت کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ جناب رسالت مآب حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔ جو شخص بھی دعویٰ نبوت کرے وہ اور اسے ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے مامور من اللہ، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، مسیح موعود، عیسیٰ ابن مریم، ظلی نبی، بروزی نبی، تشریعی نبی، غیر تشریعی نبی، امتی، نبی، لغوی و شرعی نبی کے علاوہ وحی الہی، الہامات، معجزات اور خدا تعالیٰ سے ہم کلامی کے دعویٰ کئے۔ اللہ تعالیٰ، جناب رسالت مآب ﷺ، اہل بیتؓ، صحابہ کرامؓ، ازواج مطہراتؓ، اولیاءؓ، بزرگان دین کی اہانت کا ارتکاب کیا۔ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا۔ مخالفین کو جنگل کے سؤر اور ان کی عورتوں کو کتیا جیسے نازیبا کلمات سے مخاطب کیا۔
حاجی فضل اللہ تورپشتی نے رسالہ ”معتمد فی المعتقد“ میں عقیدہ ختم نبوت اور اس کے انکار کے حوالہ سے چند جملوں میں پورے مسئلہ کا نچوڑ بیان کیا ہے۔
”عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہوسکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ اگر یہ شخص آنحضرت ﷺ کی رسالت کا معترف ہوتا تو جن چیزوں کی آپ ﷺ نے خبر دی ان میں آپ ﷺ کو سچا سمجھتا۔“
سرکار دو عالم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا اقرار کرنا درحقیقت آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر عدم اعتماد ہے۔ گویا ختم نبوت سے روگردانی کا مطلب جناب رسالت مآب ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ ﷺ کی تعلیمات و ارشادات کا صریحاً انکار ہے۔ ایسا شخص مسلمان کہلانے کا حقدار نہیں ہے اور نہ ہی امت محمدیہ ﷺ سے اس کا کوئی تعلق باقی رہ جاتا ہے۔
قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ کی اصل بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو ان کے دعاوی سمیت درمیان سے نکال دیا جائے تو قادیانیوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے سرور کائنات ﷺ کے بعد نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا۔ بلکہ اپنے آپ کو سچا نبی منوانے کے لئے نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے کے بعد اصل صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ حکم
٢ قرآن
قرآن اور ضابطہ ایمان کے مطابق سچے نبی کا ماننا ایمان، اور اس کا انکار کفر ہے۔ قادیانی گروہ کے لوگ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور انہیں نہ ماننے والے یعنی غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو بے ایمان اور کافر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد کا تحریر کردہ حوالہ اس حقیقت حال کی وضاحت کے لئے کافی ہے۔
”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٠، صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی ریویو آف ریلیجنز نمبر ٣ ص ١٤ اپریل ١٩١٥ء)
یہ حوالہ بول رہا ہے کہ قادیانی مرزا قادیانی کو موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور جناب رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کی طرح نبی مانتے ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کو ان انبیاء کی صف میں شامل کر کے انہیں نہ ماننے والوں کے لئے کفر کا فتویٰ جاری نہ کیا جاتا۔ قادیانی کتب میں کہیں وضاحت نہیں کہ امتی نبی، ظلی و بروزی نبی کا انکار کفر ہے۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی کو نہ ماننا کفر ہے۔ اس لئے کہ وہ مرزا قادیانی کو سچا نبی مانتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔ ایک اور حوالہ پیش خدمت ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کا بحیثیت نبی ہونے کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ موجود ہے۔
”آپ پہلے اپنے آپ کو اس بناء پر کہ مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نبی ہے اور آپ (مرزاغلام احمد قادیانی) غیر نبی ...... مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے افضل نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی وحی میں بار بار آپ کا نام نبی رکھا گیا تو آپ نے اس عقیدہ میں تبدیلی کر لی اور اپنے آپ کو مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے افضل قرار دیا یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنی نبوت کا اقرار کیا۔ کیونکہ غیر نبی ...... نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔“
(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ١٢١، ١٩٣٥ء)
مرزاغلام احمد قادیانی کو امتی نبی یا ظلی بروزی نبی ماننے والوں کی غلط فہمی اس حوالے کے بعد دور ہو جانی چاہئے۔ اس حوالہ سے امتی نبی اور حقیقی نبی کا فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ غیر نبی، حقیقی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ ایک حقیقی نبی دوسرے حقیقی نبی سے افضل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض“ ہم نے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت (برتری) عطاء فرمادی۔ ﴿
٣
مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام سے افضل ہونے کا جو دعویٰ کر رہے ہیں تو اس سے ثابت کرنا مقصود ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہیں۔ اس بات کی تائید مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے اس اعلان سے ہوتی ہے۔ ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)
”پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) قرآن کریم کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں اور لغت کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١١٦)
مذکورہ بالا کتاب کا ایک اور حوالہ بھی قابل ذکر ہے۔ ”بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا قادیانی کو پہلے نبیوں کے مطابق مانتے ہیں۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٩٢)
حق کے متلاشی قادیانی بھائیو! ذرا غور کرو قرآن مجید میں کہیں بھی امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی کا ذکر نہیں ملتا۔ لغت ظل و بروز کے معانی تو کرتی ہے۔ لیکن ظلی و بروزی نبی کی اصطلاح بتانے سے قاصر ہے۔ کیا پہلے ہو گزرنے والے نبیوں میں امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی کی کوئی ایک مثال پیش کی جاسکتی ہے؟۔ علامہ اقبال کا قول سند کی حیثیت رکھتا ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ظلی بروزی نبی کی اصطلاح کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ حقیقۃ النبوۃ (تصنیف کردہ مرزا بشیر الدین محمود) کے تینوں پیش کردہ حوالے مرزا غلام احمد قادیانی کے حقیقی ہونے کا بین ثبوت ہیں۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے لاہوری گروپ کے بانی محمد علی کے جواب میں لکھی تھی۔ لاہوری قادیانی مرزا قادیانی کو نبی نہیں مجدد مانتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا کتاب لکھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ صرف ”حقیقی نبی“ ثابت کیا۔ بلکہ لاہوری گروپ کو مرتد قرار دیا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کے حوالے سے یہ وہ مقام ہے جہاں حقیقی صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ ”لاہوری گروپ“ قادیانیوں کا ہی ایک فرقہ ہے اور وہ قادیانی مذہب سے جدا نہیں۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد ماننے کے جرم میں انہیں مرتد قرار دیا جاسکتا ہے تو مرزا قادیانی کو کچھ بھی نہ ماننے والوں کے بارے میں قادیانی جماعت کا عقیدہ کیا ہوگا؟ اس کا جواب بھی قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ بشیر الدین محمود قادیانی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں
٤
ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
نبوت دو چیزوں سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچے نبیوں کو وحی اور معجزات عطاء فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ”قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی“ ”محبوبﷺ کہہ دیجئے میں تم جیسا انسان ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔“
نبوت کی صداقت کے لئے پیغمبروں کو معجزات عطاء کئے جاتے تھے۔ باقی انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے معجزات عطاء فرمائے تھے۔ اپنے محبوب کو مجسم معجزہ بنایا تھا: ”قد جاء کم برہان من ربکم“ ﴿میرا محبوبﷺ میری ربوبیت والوہیت کی دلیل بن کر آیا۔﴾
مرزاغلام احمد قادیانی بالفرض امتی نبی ہوتے...... تو وحی ومعجزات کی ضرورت نہ تھی۔ اب جو حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو وحی اور معجزات بھی ضروری تھے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) پر مرزا غلام احمد قادیانی نے جبرائیل علیہ السلام کی آمد کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے بتایا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کا نام آئیل رکھا۔ اس لئے کہ وہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی وحی کا مشاہدہ اور مطالعہ کیجئے۔
”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)
ان دونوں حوالوں کے بعد وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ مرزا قادیانی کی وحی کس قسم کی تھی۔ اب قادیانی حضرات خود فیصلہ کریں کہ اگر مرزا قادیانی امتی یا ظلی بروزی نبی تھے تو ان کی وحی حقیقی نبیوں والی کیوں تھی؟ جیسا کہ پیش کردہ حوالوں میں ان کا دعویٰ ہے۔ سابقہ انبیاء پر وحی لانے کا فریضہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سرانجام دیتے تھے۔ کوئی اور فرشتہ ثابت نہیں۔ مرزا قادیانی کیسے لاڈلے نبی تھے کہ ان کی کتابوں میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے علاوہ پانچ فرشتوں کا ذکر ملتا ہے۔
٥
- ١...... خیراتی۔
(تذکرہ طبع سوئم ص ٢٩)
- ٢...... شیر علی۔
(تذکرہ طبع سوئم ص ٣١)
- ٣...... حفیظ۔
(تذکرہ طبع سوئم ص ٥٧)
- ٤...... مکھن لال۔
(تذکرہ طبع سوئم ص ٥٦١)
- ٥...... ٹپچی ٹپچی۔
(تذکرہ طبع سوئم ص ٥٢٩)
وحی کے بارے میں مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ بارش کی طرح میرے پر نازل ہوتی تھی۔ کاروبار وحی کی تیزی کا یہ عالم کہ کئی فرشتے اس مقدس فریضہ کی انجام دہی میں مصروف رہتے تھے۔ نتیجتاً کاتب وحی کی ضرورت کے پیش نظر مسلمان کی بجائے ایک بارہ سالہ ہندو لڑکے کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”ان دنوں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا۔ بطور روز نامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔“
(البشریٰ ج ١ حصہ دوم ص ١٠)
مرزا غلام احمد قادیانی کے الہام نویس کے حالات ملاحظہ ہوں ۔ ”مسمی شام لال کو جو مرزا غلام احمد قادیانی نے روز نامچہ نویس الہامات کا رکھا۔ اس کی عمر بوقت ملازمت مرزا قادیانی کے تقریباً بارہ سال کی تھی۔ مگر وہ پرلے درجے کا بے تمیز اور بے سمجھ اور سادہ لوح تھا۔ بلکہ اس وقت سو تک مشکل سے شمار کر سکتا تھا۔“
(تکذیب براہین احمدیہ مندرجہ کلیات آریہ مسافر ص ٤١٤)
عقلی اور منطقی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے۔
- ٭...... اگر قادیانی حضرات مرزا قادیانی کے دعویٰ (امور غیبیہ) کو سچ مانتے ہیں تو
پھر ”خدا کے سوا غیب کا علم کسی کو نہیں“ جیسے یونیورسل عقیدے پر ضرب لگتی ہے اور اگر قادیانی اس عقیدے پر قائم ہیں تو پھر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے نہیں۔
- ٭...... مرزا قادیانی کو وحی کچھ اور زبانوں میں آتی تھی۔ لیکن ان کی وحی ناگری
اور فارسی میں لکھی جاتی تھی۔ کیا یہ ضابطہ وحی کے خلاف نہیں؟
- ٭...... مرزا قادیانی کے چچازاد بھائی کی رائے میں بارہ سالہ شام لال بے سمجھ
تھا۔ تو پھر وہ ناگری اور فارسی زبان میں وحی کیسے لکھتا رہا؟
٦
عقائد سے ہٹ کر مرزا قادیانی کی نبوت، وحی، الہامات، معجزات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کے دعوؤں کو عقلی اور منطقی معیار پر پرکھ کر بھی قادیانی مذہب سے متعلق صحیح رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اس طرح سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ (انشاء اللہ)
مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کا دورانیہ کل ٤٢ برس بنتا ہے۔ پہلی وحی انہیں ١٨٦٥ء میں آئی۔ ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی نے باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کیا اور ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی فوت ہو گئے۔ گویا مرزا قادیانی کی وحی کے دو ادوار ہوئے۔
- دعویٰ نبوت سے پہلے وحی : ٣٥ برس
- دعویٰ نبوت کے بعد وحی : ٧ برس
- دعویٰ نبوت سے پہلے تصنیف شدہ کتب : ٦٥
- دعویٰ نبوت کے بعد تصنیف شدہ کتب : ٢٤
- مرزا قادیانی کے کل دعاوی کی تعداد : ٢١٠
یہ امر غور طلب ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے وہی عقائد تھے جو ایک عام مسلمان کے ہوتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس سے انکار نہ کرسکیں گے۔
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی عقیدہ ختم نبوت کے قائل تھے کہ حضور اکرم ﷺ کے
بعد کوئی پرانا یا نیا نبی نہیں آسکتا۔
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
”آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)
- ٢...... ”وحی کا نزول ختم ہوگیا۔ آپ ﷺ کے بعد نزول وحی کا دعویٰ کرنے والا
کافر اور کاذب ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)
- ٣...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور قیامت کے نزدیک
آسمانوں سے اتریں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
١ ؎ ”مہدی موعود کے علمی خزانے“ جلد دوم کے عنوان سے قیوم شاہد کی مرتب کردہ کتاب میں ص ٦ پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف کی فہرست میں نواسی (٨٩) کتابوں کے نام درج کئے گئے ہیں۔ جبکہ ص ٤ پر پہلی جلد میں ٤٦ کتب اور دوسری جلد میں ٤٥ کتب بتائی گئی ہیں۔ اس طرح مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد ٩١ بنتی ہے۔
٧
١٩٠١ء کے بعد مرزا قادیانی کے عقائد بدل گئے۔ بلکہ یکسر متضاد عقائد ہوگئے۔ یہ وہ دوسرا مقام ہے جہاں غیر جانب دارانہ طور پر مرزا قادیانی کے بارے میں با آسانی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ نظریات بدل سکتے ہیں۔ جغرافیہ بدل سکتا ہے۔ لیکن عقائد نہیں بدلا کرتے۔ کیونکہ وہ منجانب اللہ ہوتے ہیں اور حتمی ہوتے ہیں۔ کسی شخص کا ایمان یہ ہو کہ اللہ ہے...... کل کہے کہ اللہ نہیں، یا فرض محال پہلے عقیدہ ہو کہ اللہ ایک ہے...... اور پھر کچھ مدت کے بعد کہے کہ نہیں اللہ دو ہیں۔
عقائد اس وقت تبدیل کئے جاتے ہیں جب پہلے عقائد سے انحراف کیا جائے۔ عقائد کی تبدیلی یا عقائد سے انحراف کفر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مرزا قادیانی کا کفر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔ آنکھیں بند کرلینے سے رات نہیں آیا کرتی۔ مرزا قادیانی نے اپنے کفر پر خود مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
- ٭...... پہلے نبوت ختم ...... بعد میں نبوت جاری
- ٭...... پہلے وحی کا نزول ختم ...... بعد میں وحی جاری
- ٭...... پہلے حضرت عیسیٰ کی حیات ...... بعد میں عیسیٰ کی وفات
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ مرزا قادیانی کی وحی کا پہلا دور ٣٥ برس، دوسرا دور ٧ برس کا ہے۔ مجموعی طور پر ٤٢ برس وحی نازل ہوتی رہی۔ نبوت سے پہلے بھی ٣٥ برس وحی مسلسل آتی رہی۔ جبرائیل سمیت پانچ فرشتے وحی مرزا قادیانی تک پہنچاتے رہے۔ مرزا قادیانی نے کسی فرشتہ کو خائن یا بددیانت نہیں کہا۔ وحی راستہ میں کہیں گم بھی نہیں ہوئی۔ نہ تبدیل ہوئی۔ لیکن مرزا قادیانی کے عقائد تبدیل ہوگئے۔ اس طرح کیوں ہوا۔ اس کا جواب مرزا قادیانی کی زبان سے ہی بہتر ہوگا۔
”خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)
قادیانی جماعت کے لئے چیلنج ہے کہ کیا وہ مرزا قادیانی کی کوئی وحی پیش کرسکتے ہیں۔ جس میں پہلے عقائد سے انحراف کر کے دوسرے متضاد عقائد اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہو؟ یا کوئی ایک وحی پیش کرسکتے ہیں۔ جس میں فقط پہلے عقائد کو منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہو؟ عقائد کی تبدیلی کے لئے آخر کسی الہامی سند کی ضرورت تھی یا نہیں؟ محض کثرتِ وحی کی بنیاد پر عقائد کی
٨
تبدیلی عقلی اور منطقی طور پر نا قابل فہم ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر وحی سابقہ معمول سے آتی رہتی تو عقائد تبدیل نہ ہوتے۔
وہ قادیانی بھائی ...... جو واقعتاً ہدایت کے متلاشی ہیں اور وہ جنہیں اپنی آخرت کی فکر ہے ۔ انہیں فیصلہ کن مرحلہ تک پہنچنے میں تھوڑا سا غور و فکر کرنا پڑے گا۔ اب جو حقیقت حال کا آئینہ میں دکھانا چاہتا ہوں ۔ قادیانی حضرات غور فرمائیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ پہلے لکھی۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ آسمانوں پر زندہ ہیں اور قیامت کے قریب آسمانوں سے اتریں گے۔ پھر مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام لکھی۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے ٣٠ دلائل اور ١٩١ صفحات لکھ ڈالے۔ اس تضاد کا جواب مرزا قادیانی نے ”اعجاز احمدی“ میں دیا ۔ اگر قادیانی بھائی اس جواب پر غور کر لیں تو صرف یہی حوالہ ان کی ہدایت کی راہیں کھول سکتا ہے۔
”خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے یہ میری سادگی تھی۔ جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی۔ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔“
(اعجاز احمدی ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ١١٣)
اے حق کے متلاشی قادیانی بھائیو! ہم آخرت، قبر و حشر کے نام پر آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ (اعجاز احمدی ص ٧، ٨) مطالعہ کریں۔ دونوں صفحات پر ایک ہی مفہوم کی بات کہی گئی ہے۔
- مرزا قادیانی ١٢ برس اللہ کی نازل کردہ وحی کے خلاف لکھتے رہے۔
- مرزا قادیانی مسیح موعود بنائے گئے۔ لیکن ١٢ برس انہوں نے حقیقت حال کو چھپائے
رکھا اور مسیح موعود ہونے کا اعلان نہیں کیا۔
- اگر مرزا غلام احمد قادیانی پر آنے والی وحی سچی تھی اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ تھی۔
قادیانی حضرات کا یقیناً یہی عقیدہ ہے تو کیا مرزا قادیانی نے تین جرم نہیں کئے؟
- اللہ کی نازل کردہ وحی کے مخالف لکھ کر بد دیانتی کا ارتکاب کیا۔
٩
- ٭...... وحی الہی کے خلاف لکھ کر سچی وحی کی تکذیب کی۔
- ٭...... وحی کے خلاف لکھ کر اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے۔
قادیانی بھائیو ! حیرت کی بات ہے۔ بارہ برس کی وحی نے ایک دفعہ بھی مرزا قادیانی کو نہ ٹوکا۔ نہ سرزنش آئی۔ پانچ فرشتے مسلسل الہامات اور وحی لانے میں مشغول رہے۔ جبرائیل بھی بار بار آتے رہے۔ مرزا قادیانی کو ایک دفعہ بھی نہ سمجھایا۔ اللہ نے بارہ برس میں ایک بار بھی کوئی جھڑکی نہ دی۔ نہ مرزا قادیانی کے خدا کو غیرت آئی نہ انہیں ہی شرم آئی۔ ١٢ برس مرزا قادیانی نے منصب مسیحیت کو کس وجہ سے چھپائے رکھا؟ عذر یہ کہ آپ وحی سمجھ نہ سکے۔ جو نبی اپنی وحی ہی نہ سمجھ سکے۔ وہ دوسروں کو کیا سمجھا سکے گا اور کیا راہ دکھائے گا؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے سابقہ عقائد سے انحراف کیا۔ عقائد تبدیل کر لئے۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی نے اپنے والد کے سابقہ عقائد، سابقہ وحی والہامات، ان کی سابقہ تعلیمات و ارشادات کو مرزا قادیانی کے فرمان کی روشنی میں منسوخ قرار دینے کی سند اس طرح جاری فرمائی۔
”١٩٠١ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے اور دوسری طرف حقیقت الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢١، اکتوبر ١٩٢٥ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کے قول اور ان کے بیٹے کے فرمان کے مطابق سارے قادیانیوں کا یہ عقیدہ اور ایمان ٹھہرا کہ ان کا اصل دین ١٩٠١ء کے بعد کا ہے اور ١٩٠١ء سے پہلے کی مرزا قادیانی کی وحی، الہامات اور تعلیمات کو منسوخ سمجھا جائے گا۔ مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت یہ ہوا:
- ٭...... مرزا قادیانی کی ٣٥ سالہ وحی۔
- ٭...... مرزا قادیانی کی تصنیف کردہ ٢٥ کتب۔
- ٭...... مرزا قادیانی کی ٣٥ سالہ تعلیمات۔
اس لئے منسوخ کہ اس دور میں مرزا قادیانی نبی ہونے سے انکاری تھے اور کسی مدعی نبوت کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے۔
١٠
- مرزا قادیانی کی ٧ سالہ وحی ۔
- مرزا قادیانی کی تصنیف کردہ ٤٤ کتب
- مرزا قادیانی کی ٧ سالہ تعلیمات ۔
اس لئے قابل تسلیم ہیں کہ اس دور میں مرزا قادیانی خود نبی ہونے کے دعویدار تھے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی خود ہیں اور ان کے ٣٥ سالہ دو تہائی سے زائد دین کو وہ شخص منسوخ کر رہا ہے جو حامل نبوت ہی نہیں ...... ظاہر ہے کہ الہامات و وحی کے ذریعہ آنے والے احکامات و پیغامات کو الہام و وحی کے ذریعہ ہی منسوخ کہا جا سکتا ہے۔ گو یہ بھی ضابطہ کے خلاف ہے۔
مرزا قادیانی کی ٣٥ برس پر محیط اہم ٦٥ کتب میں پھیلی ہوئی تعلیمات اس بنا پر منسوخ قرار دی گئیں کہ مرزا قادیانی اس وقت غیر نبی تھے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اگر اس وقت نبی نہ تھے تو وحی کیسے آتی رہی ؟ ان کی وحی ظلی بروزی بھی نہ تھی۔ بلکہ بقول مرزا قادیانی تورات، انجیل اور قرآن ایسی وحی تھی۔ اب یہ بھی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کی ٣٥ سالہ وحی سچی تھی یا جھوٹی ...... اگر بالفرض مرزا قادیانی کی وحی سچی تھی تو اسے منسوخ کرنے کا حق مرزا قادیانی یا ان کے بیٹے کو کس نے دیا؟ اللہ کی بھیجی وحی کو نبی یا کوئی برگزیدہ شخص تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔ اللہ کی سچی وحی تو ویسے بھی غیر متبدل ہوتی ہے۔ قادیانی اپنے مرزا قادیانی کی ٧ سالہ دور نبوت کی وحی کو برحق سمجھتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ٣٥ برس کی وحی خود بخود جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی وحی جھوٹی ہے ...... تو پھر مرزا قادیانی مسیح موعود ثابت نہیں ہوتے ۔ مرزا قادیانی ”براہین احمدیہ“ میں مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہیں ۔ جب مرزا قادیانی کی ٣٥ سالہ وحی اور تعلیم منسوخ قرار پائے گی تو ان کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی واجب المنسوخ سمجھا جائے گا۔ قادیانی بھائی سوچیں اور فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کیونکر مسیح موعود ہو سکتے ہیں؟
مرزا غلام احمد قادیانی نے بذات خود اور ان کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے ٣٥ سال پر مشتمل مرزا قادیانی کی تعلیمات، ارشادات، الہامات، پیغامات کو یک جنبش منسوخ قرار دینے سے قبل یہ بھی نہ سوچا کہ مرزا قادیانی کا منسوخ شدہ دین کس قدر مقدس، واجب التعظیم اور لائق اطاعت تھا۔ جس کے بارہ میں سرکار دوعالم ﷺ نے خواب میں مرزا قادیانی کی تحسین فرمائی۔ خود مرزا قادیانی نے عقیدت و افتخار سے اس کا ذکر کیا ہے۔
١١
”جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٤٩، خزائن ج ١ ص ٢٧٥)
”وہ تمام لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانے میں براہین احمدیہ کی تالیف کا ابھی نام و نشان نہ تھا۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٥٠، خزائن ج ١ ص ٢٧٦)
قادیانی بھائی غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی ”کیسے امتی نبی“ تھے جو سرکار دو عالم ﷺ کی اتباع کی بجائے بقول مرزا قادیانی آپ ﷺ کی تحسین شدہ تعلیم اور ہدایت کو ٹھکرا کر منسوخ قرار دے رہے ہیں۔ کیا قادیانی مذہب میں حضور اکرم ﷺ کی کامل اتباع سے ”امتی نبی“ بننے کا یہی عقیدہ پایا جاتا ہے؟ ایک طرف اتباع کا دعویٰ...... دوسری طرف سرکشی کا عملی مظاہرہ...... قادیانی بھائیو! کیا مرزا قادیانی کی اس دو عملی پر بھی آپ کا ضمیر نہیں جاگتا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی اور الہامات کا غیر جانب دارانہ طور پر جائزہ لیا جائے تو ایک عام شخص بھی ان کے بارے میں واضح رائے قائم کر سکتا ہے۔ وحی ہمیشہ نبی کی زبان میں آتی ہے۔ جناب رسالت مآب ﷺ عربی تھے تو قرآن مجید زبان عربی میں آیا۔ گویا آپ ﷺ کی وحی عربی زبان میں آئی۔ مرزا قادیانی کی وحی اور ان کے الہامات غیر زبان میں بھی آتے رہے۔ مرزا قادیانی پنجابی تھے ان کی مادری، پدری زبان پنجابی تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کو کئی الہام انگریزی زبان میں بھی آئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقمطراز ہیں: ”میں انگریزی سے بالکل بے بہرہ ہوں۔ تاہم خدا تعالیٰ نے بعض پیش گوئیوں کو بطور موہبت انگریزی میں میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔ جیسا کہ (براہین احمدیہ ص ٤٨٠، ٤٨١، ٤٨٢، ٤٨٣، ٥٢٢) میں پیش گوئی ہے۔ جس پر ٢٥ برس گزر گئے اور وہ یہ ہے۔“
I love you. I am with you. Yes, I am happy. Life of pain. I shall help you. I can what i will do ----- God is coming by his army. He is with you to kill enemy.
(حقیقت الوحی ص ٣٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٦)
١٢
اس دو عملی کا جواب بھی خود مرزا قادیانی ہی دیتے ہیں۔ ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
مرزا غلام احمد قادیانی کی کثرت وحی کا دور ١٩٠١ء کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ ان کا اپنا فرمان ہے کہ وحی بارش کی طرح نازل ہوتی تھی۔ اتفاق کہ مرزا قادیانی اس دور میں مختلف بیماریوں کا مجموعہ بھی تھے۔ بلکہ اس زمانہ (دور نبوت) میں مختلف عوارض نے مرزا قادیانی کو عاجز کر کے رکھ دیا تھا۔ مرزا قادیانی ١٩٠٣ء میں تصنیف کردہ کتابوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں دو بیماریاں تقریباً ٢٠ برس سے تھیں۔
”مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا۔ دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص ٧٠، مورخہ ٢٨ فروری ١٩٠٣ء، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٥)
مرزا غلام احمد قادیانی دائم المرض آدمی تھے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کرتے ہوئے لکھا ہے: ”افسوس یہ لوگ فراست سے کام نہیں لیتے۔ میں ایک دائم المرض آدمی ہوں ..... اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، مورخہ ١٥ نومبر ١٩٠٠ء، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١،٤٧٠)
یہ حوالے پیش کرنے کا مقصد تمسخر یا تضحیک کرنا نہیں۔ بلکہ عقلی و منطقی طور پر مرزا قادیانی کے دونوں دعوؤں کا تجزیہ کرنا مقصود ہے۔ ایک طرف تو مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ وحی بارش کی طرح نازل ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ اقرار کہ پیشاب سو سو دفعہ آتا تھا۔ مرزا قادیانی کو اس بات کا بھی اعتراف کہ کثرت پیشاب ان کی دیرینہ بیماری تھی۔ بعض باتیں معمولی ہوتی ہیں اور انسان انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن انہی باتوں سے حقیقت کی گرہیں کھلتی ہیں۔ دیکھئے دن یا رات میں بارہ گھنٹے ہوتے ہیں۔ ایک گھنٹہ میں آٹھ دفعہ پیشاب ہوا۔ آدھے گھنٹے میں چار دفعہ، پندرہ منٹ میں دو دفعہ ..... گویا ہر ساڑھے سات منٹ کے بعد مرزا قادیانی پیشاب کرتے تھے۔ پیشاب میں طہارت، صفائی اور کپڑے سنبھالنے پر بھی کچھ وقت صرف ہوتا ہے۔ یقیناً پانچ چھ منٹ تو معمولی بات ہے محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ہر دو منٹ کے بعد مرزا قادیانی کا پیشاب (چھوٹا) کرنا
١٣
ثابت ہوتا ہے۔ معمولی عقل کا انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ مرزا قادیانی پر بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی کس وقت آتی ہوگی؟ بلا تخصیص مسلمان و قادیانی سب کا ایمان ہے کہ وحی بذات خود پاک، بھیجنے والا پاک، جس پر آئے پاک، لانے والا پاک، جس جگہ آئے پاک ...... یہ بات بظاہر معمولی ہے۔ لیکن غور طلب!
مرزا غلام احمد قادیانی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) کے مطابق دس لاکھ معجزات (نشان) کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا قادیانی کے معجزات کی تعداد حیرت انگیز طور پر گھٹتی بڑھتی رہی۔ کبھی معجزات دو لاکھ کو پہنچ جاتے اور کبھی پچاس ہزار پر آجاتے ...... مرزا قادیانی کے دس لاکھ معجزات کا زمانہ نبوت سات سال ہے ...... قادیانی حضرات یقیناً اس سے اتفاق کریں گے۔ اب ذرا حساب لگائیں۔ سات سال میں دس لاکھ معجزات کی اوسط ایک لاکھ بیالیس ہزار آٹھ سو ستاون معجزات فی سال بنتی ہے۔ ایک ماہ میں گیارہ ہزار نو سو چار اور یومیہ تین سو چھیانوے (٣٩٦) معجزات بنتے ہیں۔ ایک گھنٹہ میں سولہ معجزات کے حساب سے ہر ساڑھے سات منٹ میں دو معجزات کی اوسط نکلتی ہے۔ چوبیس گھنٹے میں سات گھنٹے نیند اور پانچ گھنٹے ضروریات زندگی (حاجات ضروریہ، میل ملاقات، کھانا پینا) شامل کریں تو باقی بارہ گھنٹے بچتے ہیں۔ (اس میں دفتر یا کاروبار سے متعلق سات گھنٹے شامل نہیں) اس محتاط اور کم از کم وقت بارہ گھنٹے میں تین سو چھیانوے معجزات کے حساب سے ایک گھنٹہ میں ٣٣ معجزات بنتے ہیں۔ گویا ہر دو منٹ کے بعد مرزا قادیانی کا ایک معجزہ رونما ہونا ثابت ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ نکلا:
- ....... ہر دو منٹ کے بعد مرزا قادیانی پیشاب کرتے ہیں۔
- ....... ہر دو منٹ کے بعد مرزا قادیانی کا معجزہ رونما ہوتا ہے۔
یہ مذاق نہیں۔ عقل رکھنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ایک محتاط سے بھی کم اندازہ کے مطابق مرزا قادیانی کے معجزات اور پیشاب کا تسلسل ساتھ ساتھ چلتا ہے۔
قادیانی بھائی ...... اگر اس تجزیہ کو معمولی سمجھ کر جھٹک دیں ...... تو ان کی مرضی ...... اور اگر وہ صرف اسی تجزیہ کو عقل کی کسوٹی پر اور انصاف کے ترازو میں تول لیں ...... تو انہیں یقیناً ہدایت کا راستہ صاف نظر آسکتا ہے۔
ہم اپنے بچھڑے قادیانی بھائیوں سے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام پر ...... ہدایت کے نام پر ...... صراط مستقیم کے نام پر ...... آخرت کے نام پر ...... درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی بند آنکھیں کھولیں۔
١٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
نوجوانان فیصل آباد
کے نام کھلا خط
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمود
بسم الله الرحمن الرحيم!
نوجوانان فیصل آباد کے نام کھلا خط
اے فدایان ختم الرسل! کہاں گئی آپ کی غیرت ایمانی، کہاں گیا ذوق جہاد و شوق شہادت، کہاں گیا وہ جذبہ ابوبکرؓ، عثمان غنیؓ کا ایثار کیا ہوا۔
کہاں گئی وہ جرأت علیؓ، خالدؓ و طارقؓ و قاسمؓ کی وراثت کیا ہوئی۔ خاتم النبیین ﷺ کی حرمت و ناموس پر مر مٹنے کا دعویٰ کیا ہوا۔
جب مرزائیوں نے پورے پاکستان میں ”مباہلہ“ نامی پمفلٹ تقسیم کر کے مسلمانوں کو للکارا۔ مرزائیوں نے ختم نبوت کا مذاق اڑایا اور ہمارے اسلاف کی عظمت کو پامال کیا اور مسلمان اپنے گھروں میں خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے تھے۔
تیرے نفس میں نہیں گرمئ یوم النشور
دیکھو! کہ مسیلمہ کذاب کا پیروکار، مرزا قادیانی کذاب کا دعویٰ ہے کہ:
”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔“
(بحوالہ تذکرہ ص ١٩٢)
”یہ بالکل صحیح ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ نعوذ باللہ!
(الفضل ج ١٠ نمبر ١٠٥ مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
اس شہر کے چند نوجوانوں نے اپنے اسلاف کی عظمت کو پامال ہوتے ہوئے دیکھا تو تڑپ اٹھے اور اپنے دست و بازو سے مرتدین کو روکا اور ان مجرموں کو قانون کے حوالے کیا۔ لیکن وہی مرزائی مرتد چند ہی روز بعد انہی سڑکوں پر دندناتے لگے اور ان جوان ہمت نوجوانوں کو دھمکیاں دینے لگے۔
٢
یہ لوگ سزا سے اس لئے بچ گئے۔ کیونکہ:
- ١...... ان کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہے۔
- ٢...... ان کے سازشی ذہن پولیس، فوج اور سول اداروں میں کلیدی عہدوں پر
قابض ہیں۔
- ٣...... ان کو غیر مسلم اور مسلمان دشمن قوموں کی سرپرستی حاصل ہے۔
دوسری طرف ہم اپنے آپ کو رسول عربیؐ کے جاں نثار کہنے والے مذہبی فرقوں، صوبائی اور لسانی گروہوں، سیاسی داؤ پیچوں، ذات اور نسل کے تعصبات میں گرفتار اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا گلا کاٹنے کی فکر میں مصروف ہیں۔
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمدؐ
آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے
محترم! جب مٹھی بھر نوجوانوں نے کفر والحاد کے مقابلے میں خود کو ناکافی محسوس کیا تو عقیدہ ختم نبوت اور اسلام کے اہم اور بنیادی رکن جہاد کی فرضیت کے تحفظ کے لئے جدوجہد شروع کی اور صدیق اکبرؓ کی روایت کو زندہ کرنے کی ٹھانی اور اس مقصد کے حصول کے لئے تحفظِ ختم نبوت نوجوانوں کی تنظیم قائم کی۔
ہمارے سامنے چند باتیں اہمیت کی حامل ہیں کہ:
- ١...... مسلمانوں میں حمیتِ اسلامی کو اجاگر کرنا۔
- ٢...... مسلمان نوجوانوں کو اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے روشناس کرانا اور
انہیں تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے تیار کرنا۔
- ٣...... سیاسی سرگرمیوں اور مذہبی فرقہ بندیوں سے دامن بچا کر قادیانیت کے
٣
استیصال کے لئے جدوجہد کرنا اور ایک ایسی فضا قائم کرنا جہاں نوجوان خالص جذبہ تحفظ ختم نبوت سے سرشار ہو کر اسلام کی خدمت و حفاظت کریں۔
اے حب رسول اور اطاعت اللہ کے پرستارو.........!
اے شمع رسالت کے پروانو..........................!
اسلام کے نام پر مر مٹنے کی تڑپ دل میں رکھنے والو..........!
اگر آپ میں کام کا جذبہ موجود ہے تو آئیے ہمت کریں...........!
اپنی زبان کے ساتھ، اپنے مال کے ساتھ اور اپنی جان کے ساتھ اس تنظیم میں شامل ہو کر اللہ کے دین کے مددگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر رہے گا۔ انشاء اللہ!
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(علامہ اقبال)
اہل بصیرت اور دانشور حضرات سے اپیل ہے کہ مفید مشوروں سے نوازیں تاکہ نوجوان صحیح معنوں میں اسلام کی خاطر کام کرسکیں۔
٭٭٭
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ژوب میں
تحریک ختم نبوت
ایک نظر میں
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمودؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
فورٹ سنڈیمن میں کام کی ابتداء
مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے فعال اور مجاہد رہنما جناب فیاض حسن سجاد سٹاف رپورٹر روزنامہ جنگ کوئٹہ کے والد گرامی ملک محمد حسن سجاد فورٹ سنڈیمن میں کاروبار کیا کرتے تھے۔ اوائل ١٩٦٨ء میں فیاض حسن سجاد اپنے والد گرامی سے ملنے کے لئے فورٹ سنڈیمن گئے تو انہوں نے صوفی محمد علی صاحب کلاتھ مرچنٹ سے مجلس کی ژوب میں شاخ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوفی صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو ژوب میں آنے کی دعوت دی جائے۔ وہ تقریر فرمائیں، ذہن سازی ہو پھر مجلس کی شاخ یہاں پر قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔
مولانا محمد علی جالندھریؒ کی فراست ایمانی
فیاض حسن سجاد کا کہنا ہے کہ مولانا محمد علی جالندھریؒ جب کوئٹہ تشریف لائے تو میں نے ژوب کے لئے درخواست کی۔ میں درخواست کر کے ابھی فارغ نہ ہوا تھا کہ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فوراً آمادگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میری عرصہ سے دلی خواہش تھی کہ ژوب میں مجلس کی شاخ قائم ہو۔ آپ ان کو اطلاع کریں۔ فلاں دن ژوب چلیں گے۔ فیاض صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس وقت نہ سمجھ سکا کہ مولانا اتنی جلدی ژوب کے دورہ کے لئے کیوں آمادہ ہو گئے۔ بعد میں آنے والے حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ مولانا کی یہ فراست ایمانی، وجدان ومؤمنانہ کشف تھا کہ ژوب نے ہی آگے چل کر تحریک ختم نبوت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
١٠؍ اگست ١٩٦٩ء
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ژوب کے لئے کوئٹہ سے سفر کیا۔ فیاض صاحب آپ کے ساتھ تھے۔ ژوب سے ١٤؍ میل باہر ژوب کے عوام نے مولانا کا والہانہ استقبال کیا۔ استقبال کنندگان نے پٹھان روایات کے مطابق فضا میں فائر کر کے ارتعاش کی کیفیت پیدا کر دی۔ نعرہ تکبیر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد، مولانا محمد علی جالندھریؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گردونواح کا ماحول جھوم اٹھا۔ موٹر گاڑیوں، سکوٹروں، جیپوں، بسوں، ٹرکوں کے جلوس میں آپ ژوب تشریف لائے۔ مرکزی جامع مسجد میں آپ نے خطاب فرمایا۔ ١١؍ اگست ١٩٦٩ء بروز پیر بعد از عشاء صوفی محمد علی کی صدارت میں ختم نبوت ژوب کے زیر اہتمام پہلے تبلیغی جلسہ ختم نبوت سے مولانا محمد علی جالندھریؒ نے خطاب فرمایا۔ فیاض حسن سجاد نے اپنی
٢
نومعری کے باوجود قراردادیں اور ان پر مختصر تقریر کی۔ جناب الحاج شیخ محمد عمر صاحب کو مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کا امیر اور الحاج صوفی محمد علی صاحب کو ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد ہر سال یہاں پر کانفرنس منعقد ہوتی رہی۔ مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد شریف بہاولپوری، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور دوسرے بزرگ تشریف لا کر اہالیان ژوب کے قلب و جگر کو منور کرتے رہے۔ یہاں پر مجلس کا دفتر بھی قائم ہو گیا۔ سالانہ کانفرنس کے علاوہ گاہے بگاہے مبلغین حضرات دورہ کے لئے تشریف لاتے رہے۔ ١٩٧١ء میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات کے بعد مولانا لال حسین اختر کو مجلس کا مرکزی امیر منتخب کیا گیا تو آپ ١٩٧٢ء میں ژوب تشریف لائے۔ آپ کے خطاب نے کفر و اسلام، مرزائیت و مسلمانوں میں حد تمیز قائم کر دی۔ آپ کا یہ خطاب بہت ہی زیادہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔
حق و باطل کا پہلا معرکہ
١٩٧٣ء میں مرزائیوں نے ربوہ (چناب نگر) کے چھپے ہوئے قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخے ژوب میں تقسیم کئے۔ ان کی اس سازش کی اطلاع ملتے ہی صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے نوروز ہزاروی نامی ایک شخص سے یہ تحریف شدہ نسخہ قیمتاً حاصل کیا۔ دوسرا نسخہ سکندر شاہ پی۔این۔ڈی۔آر ٹریکٹر ڈرائیور سے حاصل کیا۔ اس وقت ژوب میں قادیانیوں کے تقریباً ساٹھ گھرانے آباد تھے۔ مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے باعث ان کی فرعونیت اپنے عروج پر تھی۔ وہ خاطر میں کسی کو نہ لاتے ہوئے دن رات مرزائیت کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ ان قرآن مجید کے محرف و مبدل نسخوں پر علماء کرام کی میٹنگ میں غور و فکر کیا گیا۔ اس میٹنگ میں مولانا محمد شاہ، مولانا میرک شاہ، مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد زاہد، مولانا عبدالرحمٰن، مجاہد ختم نبوت مولانا شمس الدین شہید اور حافظ عبدالغفور نے شرکت کی۔ علماء کرام نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں تحریف و تبدیلی کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی سازش کی گئی ہے۔ ان کی اس جارحانہ سازش و شرارت کے خلاف احتجاجی جلسہ کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے جیپ پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے شہر میں احتجاجی جلسہ عام کا اعلان کیا۔ ١٣ جولائی ١٩٧٣ء ظریف شہید پارک میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ کی صدارت شیخ محمد عمر صاحب نے کی۔ حاضرین کی تعداد تیس چالیس ہزار سے متجاوز تھی۔ علماء کرام کی ایمان پرور تقریروں نے عوام میں جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ مقررین نے غازی علم الدین اور دوسرے عاشقان رسالت مآب ﷺ کے مجاہدانہ کارنامے سنائے تو عوام پھڑک اٹھے۔ جلسہ کے بعد جلوس
٣
نکالا گیا۔ شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ رزاق نامی بھائی کی دکان کھلی دیکھ کر مظاہرین نے اس پر پتھراؤ کیا۔ رزاق زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔
جلوس شہر کے مختلف راستوں سے گزر کر ڈی۔سی آفس گیا اور بالاتفاق ایک ہی مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو ہمیشہ کے لئے فورٹ سنڈیمن (ژوب) سے نکال دیا جائے۔ اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ احتجاجی جلوس ، ہڑتال اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرزائیوں کو فورٹ سنڈیمن ضلع سے ہمیشہ کے لئے نکالنے کا وعدہ کر لیا۔ مگر عوام کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بالاتفاق کہہ دیا کہ جب تک اس وعدہ پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہمیشہ کے لئے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا
بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا مرزا محمود نے ١٩٤٨ء میں اپنی جماعت کو مژدہ سنایا۔ مگر آج ١٦؍ جولائی ١٩٧٤ء کو چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ وہی صوبہ جس کی طرف مرزائی للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ آج اس کے ایک اہم ضلع ژوب سے ہمیشہ کے لئے مرزائیوں کو وفاقی فورس نے نکال دیا۔ چنانچہ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد ضلع ہے جہاں حکماً مرزائیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا اور یوں مرزائی نحوست کو اس ضلع سے دیس نکالا دے دیا گیا۔ ژوب کے عوام، مجلس کے کارکن، تمام علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا شمس الدین شہیدؒ جو ان دنوں بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ اس عظیم معرکہ کو سر کرنے کا سہرا ان کے سر ہے۔ ان دنوں ژوب کے ڈپٹی کمشنر فقیر محمد صاحب بلوچ تھے۔ جو آج کل صوبائی حکومت کے چیف سیکرٹری ہیں۔
تحریک ختم نبوت کے کارکنوں و رہنماؤں کی گرفتاری
بھائی رزاق کے مرنے کی وجہ سے تحریک ختم نبوت کے ٣٤ کارکنوں و رہنماؤں کو تھانہ میں بند کر دیا گیا۔ شیخ محمد خان انسپکٹر پولیس نے گفتگو کے لئے بلایا اور دھوکہ سے بند کر دیا۔ ان دنوں بلوچستان کے گورنر اکبر بگٹی تھے اور چیف سیکرٹری ایس بی اعوان مرزائی تھے۔ وہ فورٹ سنڈیمن سے مرزائیوں کے اخراج پر سیخ پا تھے۔ مگر عوام کے جوش و خروش کے سامنے دم مارنے کی ان کو ہمت نہ تھی۔
چنانچہ بھائی رزاق کے قتل کے جرم میں ٣٤ آدمی تھانہ میں بند کر دیئے گئے۔ صبح سویرے مولانا شمس الدین ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی اور حافظ نور الحق صاحب بھی تھانہ میں قیدیوں کے ہمراہ شامل ہوگئے۔
٤
ادھر شہر میں جس وقت مرزائیوں کی پستول سے فائر کر کے ایک قادیانی اللہ یار کو زخمی حوالات میں قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ وفاقی فـ گئی ۔ وہ ان قیدیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنا چاہتے دیا۔ وفاقی فورس پر گورنر بگٹی بڑے برہم ہوئے ا چاہتے تھے۔
حکم ماننے سے انکار کر دیا
مگر وفاقی فورس جس میں سرحد کے پـ کارکنوں پر تشدد کرنے اور گولیاں چلانے سے انکار کر
ژوب کی سرزمین سراپا احتجاج بن گئی
قیدیوں کے چلے جانے کے بعد جب حکومت نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے شہر میں مکمل ہڑتا دن تک جاری رہی۔ مغرب کے قریب دکا دن بھر مکمل بازار سنسان ، ہو کا عالم چار سو ویرانہ ، حکومـ جناب عبدالرحیم ایڈووکیٹ اور جناب صالح محمد خان کا بلاک کر دیا گیا ۔ شیرین روڈ ، وزیرستان روڈ ، دانا سر روڈ وغیرہ یا حکومت کی کوئی گاڑی اگر ایمرجنسی جانا ہوتا تو پـ تھے۔ ورنہ نہیں ۔ گویا حکومت و انتظامیہ عملاً معطل اور مجلـ قیدیوں کو کوئٹہ لے جایا گیا۔ اسی رات مجلس عمل کے زیـ منعقد ہوا۔ سخت احتجاج کیا گیا اور قیدیوں کی بلا مشروط ر اعلان کیا گیا ۔ جلسہ کے نتیجہ میں رات مولانا شمس الدین شـ
مولانا شمس الدینؒ کی گرفتاری
اسی رات کو چار بجے کے وقت وفاقی پولیس ۔ دیا۔ مولانا شمس الدینؒ کو گھر سے نکل آنے کا حکم دیا۔ مو پگڑی اور چپل کو چھپا دیا کہ ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے۔ کے لئے شرم کی بات ہے۔ ہماری پگڑی اور چپل دے دو۔ ا
٥
ادھر شہر میں جس وقت مرزائیوں کو نکالا جا رہا تھا تو غازی عبدالرحمن بنگش زرگر نے پستول سے فائر کر کے ایک قادیانی اللہ یار کو زخمی کر دیا۔ چنانچہ غازی عبدالرحمن کو بھی گرفتار کر کے حوالات میں قیدیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ وفاقی فورس ان قیدیوں کی نگرانی کے لئے تعینات کر دی گئی۔ وہ ان قیدیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنا چاہتے تھے۔ مگر تمام قیدیوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ وفاقی فورس پر گورنر بگٹی بڑے برہم ہوئے اور تشدد کا حکم دے دیا۔ ایس بی اعوان بھی یہی چاہتے تھے۔
حکم ماننے سے انکار کر دیا
مگر وفاقی فورس جس میں سرحد کے پٹھان تھے۔ انہوں نے ختم نبوت تحریک کے کارکنوں پر تشدد کرنے اور گولیاں چلانے سے انکار کر دیا۔
ژوب کی سرزمین سراپا احتجاج بن گئی
قیدیوں کے چلے جانے کے بعد جب اہالیان ژوب کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ حکومت نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے شہر میں مکمل ہڑتال کر دی۔ پہیہ جام ہڑتال، یہ صورتحال اٹھ دن تک جاری رہی۔ مغرب کے قریب آدھ دکان کھلتی لوگ خوردونوش کا سامان لے لیتے۔ دن بھر مکمل بازار سنسان، ہو کا عالم، چار سو ویرانہ، حکومت اس صورتحال سے سخت پریشان ہوگئی۔ جناب عبدالرحیم ایڈووکیٹ اور جناب صالح محمد خان کو مجلس عمل کی سربراہی سونپی گئی۔ ژوب روڈ بلاک کر دیا گیا۔ شیرانی روڈ، وزیرستان روڈ، دانا سر روڈ، لورالائی روڈ سب بند کر دیئے گئے۔ ملٹری وغیرہ یا حکومت کی کوئی گاڑی اگر ایمرجنسی جانا ہوتا تو مجلس عمل سے اجازت نامہ لے کر چل سکتے تھے۔ ورنہ نہیں۔ گویا حکومت وانتظامیہ عملاً معطل اور مجلس عمل کا چار سو غلغلہ بلند ہورہا تھا۔ جس دن قیدیوں کو کوئٹہ لے جایا گیا۔ اسی رات مجلس عمل کے زیر اہتمام ژوب میں عدیم المثال جلسہ عام منعقد ہوا۔ سخت احتجاج کیا گیا اور قیدیوں کی بلا مشروط رہائی تک ہڑتال واحتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ جلسہ کے نتیجہ میں رات مولانا شمس الدین شہید کو گرفتار کر لیا گیا۔
مولانا شمس الدین کی گرفتاری
اسی رات کو چار بجے کے وقت وفاقی پولیس نے مولانا شمس الدین کے گھر پر گھیرا ڈال دیا۔ مولانا شمس الدین کو گھر سے نکل آنے کا حکم دیا۔ مولانا شمس الدین کی بہنوں نے آپ کی پگڑی اور چپل کو چھپا دیا کہ ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے۔ اس پر مولانا شمس الدین نے کہا کہ خدا کے لئے شرم کی بات ہے۔ ہماری پگڑی اور چپل دے دو۔ اسی وقت انہوں نے اپنی بہنوں اور اہلیہ
٥
سے کہا کہ یہ میرا سینہ گولی کے لئے بنا ہوا ہے۔ شہادت کا رتبہ مل کر مجھے بڑی خوشی ہوگی۔ گھر میں سب نے رونا دھونا شروع کیا۔ آپ نے سب کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ مرنا تو ایک دن ہے۔ روز روز کیا مرنا۔ اس سے قبل جب مولانا شمس الدین دفعہ ١٤٤ کو توڑ رہے تھے تو اس وقت بھی گھر میں والدہ نے ایک بیل کی منت مانی۔ والد مولوی زاہد صاحب نے دو دنبوں کی منت مانی۔ بہنوں نے نفلیں مانیں اور جب وہ سرخ لکیروں کو پار کر گئے تو سب نے چین کا سانس لیا۔ مولانا شمس الدین پہلے سے ہی اپنی بہنوں سے کہہ چکے تھے کہ اگر ختم نبوت کے لئے شہید ہو جاؤں تو مجھے مبارک باد دینا۔ جب پولیس مولانا کو گرفتار کر کے لے جارہی تھی تو ان سب لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں وغیرہ لیں اور انہیں کپڑوں سے چھپا لیا تا کہ پولیس والے سمجھیں کہ یہ رائفل ہیں۔ مورچے سنبھال لئے۔ ملیشیا والے سمجھ گئے کہ بندوق ہیں۔ چنانچہ قبیلہ والوں نے کہا کہ آپ مولانا شمس الدین کو ہماری عورتوں سے بھی نہیں لے جاسکتے ہیں۔ ہم تو مرد ہیں۔ ملیشیا والے رک گئے اور انہیں بتایا کہ مولوی صاحب کو واپس شغالہ پوسٹ لے جاؤ۔ چنانچہ اسے واپس شغالہ پوسٹ پہنچا دیا گیا اور حکومت کو اطلاع کر دی کہ ہم لوگ مولوی شمس الدین صاحب کو باہر نہیں لے جاسکتے ہیں۔ پھر حکومت نے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کیا۔ ہیلی کاپٹر میں شغالہ سے مولانا شمس الدین کو سوار کر کے سیدھا میوند پہنچایا گیا۔ میوند میں دس پندرہ پوسٹ میں انہیں پھرایا گیا۔ احتجاجی ہڑتال، چار سو عالم تحریک کے حالات میں گورنر بگٹی اور ایس۔ بی اعوان مجبور ہوگئے اور انہوں نے سبی میں موجود قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ سوائے غازی عبدالرحمن زرگر کے، چنانچہ تحصیلدار محمد جان مندوخیل، مولوی محمد خان شیرانی، حاجی شیخ عمر، صوفی محمد علی وغیرہ نے فیصلہ کر لیا کہ ہم لوگ عبدالرحمن کے بغیر نہیں جائیں گے۔ عبدالرحمن کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا جائے تب ہم جائیں گے۔
قیدیوں کا مطالبہ مان لیا گیا
٢٤ جولائی ١٩٧٤ء کو دن کے تقریباً ایک بجے پولیس کی بند گاڑی میں بٹھا کر سبی سے سب قیدیوں کو روانہ کیا گیا۔ عبدالرحمن زرگر کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا۔ عصر کے وقت کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ سے ١٥ میل کے فاصلے پر جمعیت علماء اسلام کے نمائندے عبدالمنان کاکڑ بازئی نے کچلاک میں ٣٢ آدمیوں کے کھانے کا بندوبست ہوٹل میں کیا۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔ رات بھر سفر کیا۔ قلعہ سیف اللہ جب پہنچے تو وہاں پر خوب بارش ہوئی۔ کچھ دیر کے لئے وہاں پر ٹھہرے۔ قلعہ سیف اللہ ہی میں کوئٹہ والے سات آدمی بھی پہنچ گئے۔ صبح تقریباً نو بجے ژوب پہنچ گئے۔
٦
رہائی
ژوب میں تمام قیدیوں کو ضمانت پر رہا ک نے ان قیدیوں اور ختم نبوت کے دیگر پروانوں کو ب کے بعد تمام قیدیوں نے مولانا شمس الدین کی رہائی ک کر شہریوں نے بھوک ہڑتال کی۔ یہ ہڑتال مولان ١٥، ١٦ دن کے بعد گئی ایس۔ بی اعوان نے ان کی ر گیا۔ کوئٹہ سے آنے پر ژوب سے ایک میل کے فاصل استقبال کیا۔ وہ منظر قابل دید تھا۔ پورا ماحول ختم نبوت ک
جلسہ عام
دوسرے دن جامع مسجد میں جلسہ عام ہو بیان کئے اور بھٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے م سے کہا تھا کہ ہم بینک کا چیک آپ کے ہاتھ میں دی لیں۔ مگر مولانا شمس الدین نے رقم لینے سے انکار کر دیا ا کے رسول پر فروخت ہو جائے پھر وہ کسی اور کے ہاتھو بھٹو صاحب نے اسی وقت آپ سے کہا تھا کہ ملا پھر مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مولانا شمس الدین حج پر گئ اور مولانا درخواستی صاحب سے ملاقات کی۔ درخواستی ص الدین کو دیکھ کر میں نے اسی وقت محسوس کر لیا کہ یہ آدم وہاں سے پھر مولانا شمس الدین کوئٹہ آئے۔
مولانا شمس الدین کی شہادت
کوئٹہ سے ژوب آتے ہوئے یگئی کے مقام پ ملک گل حسن کے پیٹرول کی گاڑی اس وقت وہاں سے گز کر دی کہ مولوی صاحب موٹر میں مردہ پڑے ہیں۔ کوئی م اور انہیں ژوب لے آئے۔ یوں بھٹو حکومت کی شرارت الدین نے جام شہادت نوش کر لیا۔ گھر لانے پر سب گھر
٧
رہائی
ژوب میں تمام قیدیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے ان قیدیوں اور ختم نبوت کے دیگر پروانوں کو بڑی پر تکلف دعوت دی۔ قیدیوں کو رہا کرنے کے بعد تمام قیدیوں نے مولانا شمس الدین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ظریف شہید پارک میں خیمہ گاڑ کر شہریوں نے بھوک ہڑتال کی۔ یہ ہڑتال مولانا شمس الدین کی رہائی کے واسطے کی گئی۔ ١٥، ١٦ دن کے بعد بگٹی ایس۔ بی اعوان نے ان کی رہائی کا مطالبہ منظور کر لیا اور انہیں کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ کوئٹہ سے آنے پر ژوب سے ایک میل کے فاصلے پر تمام شہر والوں نے مولانا شمس الدین کا استقبال کیا۔ وہ منظر قابل دید تھا۔ پورا ماحول ختم نبوت زندہ باد کی فضاؤں سے گونج رہا تھا۔
جلسہ عام
دوسرے دن جامع مسجد میں جلسہ عام ہوا۔ مولانا شمس الدین نے اپنے تاثرات بیان کئے اور بھٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا۔ بھٹو نے مولانا شمس الدین سے کہا تھا کہ ہم بینک کا چیک آپ کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ آپ جتنی رقم چاہیں لے لیں۔ مگر مولانا شمس الدین نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور صاف صاف بتا دیا کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر فروخت ہو جائے پھر وہ کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہیں ہو سکتا۔ یہ سننے کے بعد بھٹو صاحب نے اسی وقت آپ سے کہا تھا کہ ملا پھر گولی کے لئے تیار ہو جاؤ۔ آپ نے کہا مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مولانا شمس الدین حج پر گئے۔ حج سے واپسی پر سیدھے خانپور گئے اور مولانا درخواستی صاحب سے ملاقات کی۔ درخواستی صاحب نے بعد میں بتایا کہ مولوی شمس الدین کو دیکھ کر میں نے اسی وقت محسوس کر لیا کہ یہ آدمی بچنے والا نہیں ہے۔ ضرور شہید ہوگا۔ وہاں سے پھر مولانا شمس الدین کوئٹہ آئے۔
مولانا شمس الدین کی شہادت
کوئٹہ سے ژوب آتے ہوئے بکٹی کے مقام پر مولانا شمس الدین مردہ پائے گئے۔ ملک گل حسن کے پٹرول کی گاڑی اس وقت وہاں سے گذر رہی تھی۔ انہوں نے ژوب اطلاع کر دی کہ مولوی صاحب موٹر میں مردہ پڑے ہیں۔ کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔ لوگ وہاں گئے اور انہیں ژوب لے آئے۔ یوں بھٹو حکومت کی شرارت پر ١٣ مارچ ١٩٧٤ء کو مولانا شمس الدین نے جام شہادت نوش کر لیا۔ گھر لانے پر سب گھر والوں، عزیز و اقارب اور دوستوں
٧
نے انہیں شہید ہونے پر مبارک باد دی۔ ١٤؍ مارچ ١٩٧٤ء کو ہزاروں اشکبار آنکھوں نے انہیں رخصت کیا۔ انہیں دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پھولوں کی بارش ہوئی۔ ان کے خون سے عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔
صوبہ بلوچستان کے تمام قبائلی معتبرین نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
چالیس دن بعد ذیلی انتخابات ہوئے۔ جمعیت نے مولانا شمس الدینؒ کے والد مولوی زاہد کو انتخاب لڑنے کے لئے کھڑا کیا۔ ان کے مقابلے میں نواب تیمور شاہ حکومت کی جانب سے مقابلہ لڑ رہے تھے۔ اس انتخابات میں حکومت نے دھاندلی سے کام لیا۔ ژوب میں ایک پولنگ سٹیشن زنانہ ہسپتال میں علماء کو نتیجہ دینے سے انکار کر دیا۔ شیخ محمد عمر اور دیگر علماء نے ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی کو ١٤ نمبر فارم پر نتیجہ لانے کے لئے بھیجا۔ اس وقت الیکشن کمشنر محمد علی درانی تھے۔ وہ بھی اس وقت زنانہ ہسپتال میں موجود تھے۔ ڈی۔ ایس۔ پی چوہدری جو کہ بہت موٹا آدمی تھا۔ صوفی محمد علی نے ان سے کہا کہ موٹا تو اتنا ہو گیا ہے۔ مگر ایمان ذرہ بھر نہیں ہے۔ نتیجہ کیوں نہیں دے رہے ہو۔ اس کے بعد صوفی محمد علی الیکشن کمشنر محمد علی درانی سے ملا اور انہیں بھی فوراً نتیجہ دینے کو کہا۔ سختی سے وہ ڈر گیا۔ صوفی محمد علی کے ہاتھ میں چونکہ پستول تھا۔ اس لئے وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ جمعیت کے تمام کارکن ہزاروں کی تعداد میں اسٹیشن کے باہر کھڑے تھے۔ تب محمد علی درانی نے نتیجہ دینے کا حکم دیا۔ سلیمہ سیٹھی سے انہوں نے نتیجہ وصول کیا۔ (جو کہ پریذیڈنگ آفیسر تھیں) اس وقت بھی نتیجہ فارم پر نہیں تھا۔ بلکہ سفید کاغذ پر تھا۔ باہر جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ نتیجہ صحیح ١٤ نمبر فارم پر نہیں ہے تو انہوں نے واپس صوفی محمد علی کو بھیج دیا۔ صوفی محمد علی نے پھر الیکشن کمشنر سے صحیح نتیجہ دینے کے لئے کہا اور ساتھ ہی انہیں خوب لتاڑا۔ اس کے بعد ١٤ نمبر فارم پر صحیح نتیجہ دے دیا گیا۔ چونکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر کھڑے تھے۔ صوفی محمد علی نے ان سب سے مخاطب ہو کر کہا کہ صحیح نتیجہ دے دیا ہے۔ پھاٹک کھول دو اور چلے جاؤ۔ یہ سن کر سب لوگ خوش ہوئے اور چلے گئے۔ بھٹو حکومت نے دھاندلی سے کام لے کر نواب تیمور شاہ کو کامیاب کر لیا۔
ژوب میں دوسرا معرکہ
٢٩؍ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ (چناب نگر) اسٹیشن پر مرزائیوں نے مسلمان طلبہ کو مارا۔ جس کے نتیجہ میں تحریک چل پڑی۔ ١٤؍ جولائی ١٩٧٤ء کو بھٹو ژوب تشریف لائے۔ چلڈرن پارک میں انہوں نے جلسہ عام کرنا تھا۔ ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے ختم نبوت کے مطالبات پر مبنی پوسٹر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے اور کوئٹہ سے منگوائے اور تمام پارٹیوں کے ان مطالبات پر
٨
بالاتفاق دستخط کرائے اور ان پوسٹرز کو نائب امیر محمد عمر عبداللہ زئی کے حوالہ کر دیا۔ بھٹو کے ژوب میں آنے پر سب لوگوں میں یہ بینرز بانٹ دیئے گئے۔ جلسہ کے وقت بطور حفاظت ملیشیا کے ٦٠ گھوڑے تعینات کئے گئے۔ ملٹری بھی تھی۔ بھٹو صاحب جب سٹیج پر تشریف لائے تو ختم نبوت کے اراکین نے ان سے صاف صاف کہہ دیا کہ بھٹو صاحب آپ مرزائیوں کے ایجنٹ ہیں۔ آپ ہی مولوی شمس الدین کے قاتل ہیں۔ اب آپ پھر ژوب آئے ہیں اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں۔ بھٹو صاحب چلا چلا کر کہنے لگے۔ بیٹھو بھائی، سنو بھائی۔
اس کے بعد بھٹو صاحب پر ٹماٹروں، پیازوں اور انڈوں کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں جلسہ منتشر ہوا۔ جام غلام قادر کٹورئی ایک طرف بھاگ رہے تھے۔ نواب تیمور شاہ اور پولیٹکل ایجنٹ نے بھٹو صاحب سے گولی چلانے کو کہا۔ مگر بھٹو صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سب نے بھاگنا شروع کر دیا۔ پولیٹکل ایجنٹ محبت خان ایک طرف کو بھاگ رہے تھے تو باقی لوگ دوسری جانب کو بھاگ رہے تھے۔ یوں بھٹو صاحب جلسہ نہ کر سکے۔ تمام وزراء کسی نہ کسی طرح جان چھڑا کر چلے گئے۔ جب جلسہ ختم ہوا تو نائب امیر ختم نبوت محمد عمر کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھٹو صاحب نے رات وہیں ژوب میں بسر کی۔ اس رات بھٹو صاحب نے غصہ میں تمام وزراء، پولیٹکل ایجنٹ، پیپلز پارٹی کے اہلکاروں سے کہا کہ تم لوگوں نے مجھے اس بے عزتی کے لئے بلایا تھا۔ جب صبح ہوئی تو بھٹو صاحب جہاز میں بیٹھ کر ژوب سے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے شغالہ گئے۔ اس کے بعد قمر الدین، وہاں پر سب ملکوں کو بلا کر ان میں خوب رقم بانٹ دی۔ وہاں ہی سے پھر بھٹو صاحب مسلم باغ گئے۔ مسلم باغ میں بھی خوب رقم تقسیم کی۔ مگر وہ حالات سے اس حد تک پریشان تھے کہ کوئٹہ کے جلسہ میں جا کر ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کی مرزائیوں کے فیصلہ کے لئے تاریخ مقرر کر دی۔ ورنہ پہلے وہ تاریخ مقرر نہ کر رہے تھے۔
یوں بحمدہ تعالیٰ اہالیان ژوب نے ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان حالات میں ٢٥ جولائی کو ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے کوئٹہ اور ملتان ختم نبوت کے تمام علماء کو تار دیا۔ (جو کانفرنس کرنے کے لئے ژوب آنے والے تھے) ان حالات میں کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔ کیونکہ منتظمین کا کوئی اعتبار نہیں تھا۔ کسی بھی وقت وہ گرفتار ہو سکتے تھے۔
حاجی محمد یسین مندوخیل کو بھی گرفتار کیا۔ وہ چونکہ بیمار تھا۔ اس لئے اٹھائیس دن تک ہسپتال میں رکھا۔ اسی دوران امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے صوفی محمد علی سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دے دوں گا۔ تا کہ پولیس آپ کو گرفتار نہ کر سکے۔ مگر صوفی محمد علی نے پناہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا
٩
کہ حاجی صاحب مجھے انہوں نے چھوڑنا نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے جلسہ خراب کیا ہے۔ اس لئے میں چھپنا نہیں چاہتا۔
گرفتاریاں
٢٥؍ جولائی ١٩٧٤ء ہی کو صوفی محمد علی حاجی احمد کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس شیخ عبدالمجید تھانیدار آیا۔ انہیں گرفتار کر کے تھانے میں الگ کمرے میں بند کر دیا۔ ان کے علاوہ جتنے بھی علماء کرام نظر آئے۔ ان سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ مسجد میں نماز پڑھانے والا، کوئی نہ رہا۔ ملا خاتول تین دن تک چھپا ہوا تھا۔ تیسرے دن جب مسجد آیا تو مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔
مولوی نور محمد کو مٹی بازار لیویز بھیج کر بلا لیا گیا۔ مولانا شمس الدین کے چچازاد بھائی مولوی احمد شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا میرک شاہ صاحب، حافظ علیم الدین موسیٰ خیل، ملا اسحق اور جمعیت علماء اسلام کے اراکین کی بڑی تعداد میں گرفتاری عمل میں آئی۔ صوفی محمد علی کو الگ کمرہ میں رکھا گیا۔ انہیں سونے کے لئے بسترہ تک نہیں دیا۔
طالب نامی پولیس مین (جو کہ لورالائی کا رہنے والا تھا) نے قیدیوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ تم سب لوگ بے ایمان ہو۔ قیدیوں نے گیارہ دن تھانے میں گزارے۔ اس کے بعد انہیں سب جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب یہ قیدی جیل چلے گئے تو طالب پولیس والا بیمار پڑ گیا۔ اس کی نکسیر پھوٹ گئی اور مرغا کبزئی ( ژوب سے ٥٥ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں) میں مر گیا۔ پھر انہیں گھر پہنچا دیا گیا۔
اسمبلی میں بحث
بھٹو صاحب نے یہاں سے واپس اسلام آباد اسمبلی میں مرزائیوں کا کیس پیش کر دیا۔
چنانچہ مرزا ناصر کو اسلام آباد میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے طلب کیا گیا۔ وہاں پر چودہ دن تک بحث و مباحثہ ہوا۔ جس میں کتابیں مولانا عبدالرحیم اشعرؔ صاحب پیش کرتے تھے اور پیرزادہ وزیر تعلیم کو یہ بتایا گیا کہ مرزائی غلام احمد نے لکھا ہے کہ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے وہ کنجری اور جنگلی سوروں کی اولاد ہیں۔ یہ سن کر پیرزادہ نے کہا کہ مرزائی تو پکے بے ایمان ہیں۔
مفتی محمود صاحب نے بھٹو صاحب کو صاف صاف بتلایا کہ یہ ١٩٥٣ء کی بات نہیں ہے۔ جس میں ختم نبوت والوں پر گولیاں چلائیں گئیں اور انہیں شہید کر دیا گیا۔ قوم میں اشتعال
١٠
ہے کہ یہاں پر نہ تم رہ سکتے ہو نہ یہ قوم۔ اگر آپ نے جائیں گے اور یہ قوم بھی۔ بھٹو صاحب نے انہیں بت ہے۔ بعد میں فوج کو تمام جگہوں پر تعینات کر دیا گیا ٣١ دن جیل میں رہنے کے بعد تمام قیدیوں کو رہا کر دیا
نائب امیر ماسٹر محمد عمر عبداللہ زئی ڈیڑھ سا اسی رات کو ٨ بجے مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار د تباہ ہو گیا۔ ملک بھر میں خوشی ہوئی۔ اسی خوشی میں ژوب خیرات ختم نبوت کے اراکین نے کی۔ جس کے انچارج نے کھانا کھلایا۔
١٤؍ جولائی ١٩٧٥ء کو ژوب میں ختم نبو خیرات کی گئی۔ اس کے دو دن بعد ١٦؍ جولائی ٧٥ میرک شاہ صاحب وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ
پھر ہر سال ژوب میں سالانہ تبلیغی جلسہ منع اور ہر سال جلسہ کے وقت شیخ محمد عمر عالیشان دعوت کر اور مقامی لوگوں کی ہر سال ذاتی طور پر عالیشان دعو بہت خدمت کی اور ان کے بیٹے بھی ختم نبوت کی بہت عمر اب بھی صحت مند ہے۔ مگر آنکھوں کی بینائی کمز کرنے کے لئے اب بھی خود جاتا ہے۔
اور ختم نبوت کے دفتر کے لئے زمین د قومی اتحاد کے حکم پر ختم نبوت کے کارکنوں نے پرامن نکالنے والوں پر لاٹھی چارج کیا۔ امیر جماعت مولوی بابر، شیخ غلام مرتضیٰ کو سخت زخمی کر دیا۔ امیر ختم نبوت شیخ گیا۔ انہوں نے خود لاٹھی پولیس پر اٹھائی۔ آنسو استعمال کیا۔ اے۔ سی نے لاٹھی چارج کا حکم دیا۔ پھر کا لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔ غرض بہت سے لوگ کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس گیس سے گھروں کو تکلیف
١١
ہے کہ یہاں پر نہ تم رہ سکتے ہو نہ یہ قوم۔ اگر آپ نے مرزائیوں کو کافر قرار دے دیا تو آپ بھی بچ جائیں گے اور یہ قوم بھی۔ بھٹو صاحب نے انہیں بتایا کہ میں کیا کروں۔ مجھے ڈر سا محسوس ہوتا ہے۔ بعد میں فوج کو تمام جگہوں پر تعینات کر دیا گیا۔ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو دن کے ساڑھے بارہ بجے ٣١ دن جیل میں رہنے کے بعد تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔
نائب امیر ماسٹر محمد عمر عبداللہ زئی ڈیڑھ سال جیل میں رہنے کے بعد رہا کر دیئے گئے۔ اسی رات کو ٨ بجے مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ یوں مرزائیوں کا بیڑہ تباہ ہو گیا۔ ملک بھر میں خوشی ہوئی۔ اسی خوشی میں ژوب میں مدرسہ شمس العلوم میں خیرات کی گئی۔ یہ خیرات ختم نبوت کے اراکین نے کی۔ جس کے انچارج حاجی شیخ محمد عمر تھے۔ صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے کھانا کھلایا۔
١٤ جولائی ١٩٧٥ء کو ژوب میں ختم نبوت کا سالانہ تبلیغی جلسہ ہوا۔ جلسہ کے بعد پھر خیرات کی گئی۔ اس کے دو دن بعد ١٦ جولائی ١٩٧٥ء کو رات کے نو بجے امام جامع مسجد مولوی میرک شاہ صاحب وفات پاگئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!
پھر ہر سال ژوب میں سالانہ تبلیغی جلسہ منعقد ہوتا رہا۔ سوائے ١٩٧٦ء اور ١٩٨٤ء کے اور ہر سال جلسہ کے وقت شیخ محمد عمر عالیشان دعوت کرتے رہے۔ شیخ محمد عمر ختم نبوت کے علماء کرام اور مقامی لوگوں کی ہر سال ذاتی طور پر عالیشان دعوت کرتے رہے۔ شیخ محمد عمر نے ختم نبوت کی بہت خدمت کی اور ان کے بیٹے بھی ختم نبوت کی بہت خدمت کرتے ہیں۔ یہ نوے سالہ امیر شیخ محمد عمر اب بھی صحت مند ہے۔ مگر آنکھوں کی بینائی کمزور ہے۔ کوئٹہ ختم نبوت کے جلسہ میں شرکت کرنے کے لئے اب بھی خود جاتا ہے۔
اور ختم نبوت کے دفتر کے لئے زمین دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ١٤ مارچ ١٩٧٧ء کو قومی اتحاد کے حکم پر ختم نبوت کے کارکنوں نے پرامن جلوس نکالا۔ وفاقی فورس، اے سی نے جلوس نکالنے والوں پر لاٹھی چارج کیا۔ امیر جماعت مولوی اسحق خوشی، عبدالکلیم قریشی، شہزادہ احمد خان بابر، شیخ غلام مرتضیٰ کو سخت زخمی کر دیا۔ امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر کو پولیس نے لاٹھی ماری۔ وہ نالی میں گر گیا۔ انہوں نے خود لاٹھی پولیس پر اٹھائی۔ ١٥، ٢٠ آدمیوں کو سخت زخمی کر دیا۔ آنسو گیس بھی استعمال کیا۔ اے سی نے لاٹھی چارج کا حکم دیا۔ پھر بعد میں گولی چلائی گئی۔ موسیٰ خان الخانوزئی کا لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔ غرض بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ شہر بھر میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس گیس سے گھروں کو تکلیف پہنچی۔
١١
حرف آخر
بحمدہ تعالیٰ جس پودا کو ژوب میں ١٩٦٩ء میں مولانا محمد علی جالندھریؒ نے لگایا تھا۔ اب وہ نہ صرف تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بلکہ اس کے ثمرات سے پوری تحریک ختم نبوت نے نفع اٹھایا۔ ہر سال جولائی میں یہاں ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ یوں جولائی ١٩٧٣ء میں مرزائیوں کے فورٹ سنڈیمن سے نکالے جانے کی سال گرہ منائی جاتی ہے۔
مطالبات ...... مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ١...... مولانا اسلم قریشی کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ ان کی گمشدگی میں میجر مشتاق،
ڈی۔ آئی۔ جی فیصل آباد برابر کے ملوث ہیں۔ ان کو معطل کر کے شامل تفتیش کیا جائے۔
- ٢...... اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی منظور کردہ سفارش دربارہ ارتداد کی شرعی سزا کو نافذ
کیا جائے۔
- ٣...... قادیانی گروہ کو اسلام دشمن اور پاکستان دشمن جماعت قرار دے کر اس پر پابندی لگائی
جائے اور اس کی تمام املاک کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔
- ٤...... قادیانی امتناع آرڈیننس پر ملک بھر میں موثر عمل درآمد کرایا جائے۔ قادیانیوں کی
طرف سے ملک بھر میں کلمہ طیبہ اور دیگر اسلامی شعائر کے استعمال کی صورت میں آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا نوٹس لیا جائے تاکہ آرڈیننس کے نفاذ کے مطلوبہ فوائد حاصل ہو سکیں۔
- ٥...... انجمن احمدیہ کے نام ربوہ کی سکنی زمین کے فرضی اور جعلی انتقال کی انکوائری کرا کر اسے
کینسل کیا جائے اور رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- ٦...... فوج اور سول کے تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو علیحدہ کیا جائے۔
- ٧...... شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے اور تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں
میں بھی حلف نامہ کی بنیاد پر مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔
- ٨...... قادیانیوں کی عبادت گاہوں کا نقشہ و ہیئت مساجد سے مختلف کرائی جائے۔
منجانب: مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان ١٢
خاتم النبیین
فیصلہ
آپ کریں
حضرت مخدوم زادہ صاحب
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فیصلہ
آپ کیجئے
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمود
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
ہمارے ہاں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قادیانی گروہ کے لوگ ہماری طرح کلمہ پڑھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں۔ حج کے لئے جانا چاہتے ہیں لیکن غیر مسلم ہونے کے باعث سعودی حکومت نے حرمین شریفین میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ قادیانیوں کی عبادت گاہیں ہماری مساجد کی طرح ہیں۔ وہ قبلہ رخ کھڑے ہوتے ہیں۔ قادیانی قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ قربانی دیتے ہیں۔ ان کی شکل وصورت، وضع قطع اور رہن سہن میں بھی اسلامی شعائر کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود انہیں کافر کیوں کہا جاتا ہے؟۔
اسلام کی بنیاد کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج ۔ پانچ چیزوں پر ہے۔ کلمہ پڑھنے کے علاوہ دیگر عبادات اور شعائر اسلامی پر عمل کرنے والے صاحب ایمان ہیں۔ انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا۔ اس اصول وضابطہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے خود قادیانیوں سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر شعائر اسلامی پر عمل کرنے والے کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہا جاسکتا تو پھر قادیانی گروہ دنیا بھر کے ان تمام مسلمانوں کو کیوں کافر کہتے ہیں جو کلمہ پڑھتے ہیں، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی افضل عبادت کے علاوہ دیگر تمام شعائر اسلامی پر عمل کرتے ہیں۔
قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا محمود کی کتاب کا یہ حوالہ تمام قادیانیوں کے ایمان کا حصہ ہے: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
قادیانی جماعت کے پیشوا کے مطابق قادیانیوں اور مسلمانوں میں تفریق کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے۔ مذکورہ بالا حوالہ سے دو باتیں واضح ہورہی ہیں:
- ٭...... قادیانیوں کے عقیدہ میں وہ لوگ جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی
بیعت نہیں کی۔ یعنی اسے نہیں مانا۔ وہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
- ٭...... قادیانیوں کے عقیدہ میں وہ لوگ جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی
بیعت کی اور اسے مان لیا۔ وہ اہل ایمان ٹھہرے اور وہی مسلمان ہیں۔
مذکورہ حوالہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو تو حقیقی مسلم اور دنیا بھر کے تمام
٢
مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ذرا غور فرمائیں اس حوالہ کے مطابق جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تک نہیں سنا۔ انہیں بھی کافر گردانا گیا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ پہلی صدی ہجری سے لے کر ١٥ویں صدی ہجری تک کے تمام وہ مسلمان جن کے کان مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے نا آشنا رہے ۔ دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے؟۔ کیا وہ تمام مسلمان کلمہ پڑھنے کے علاوہ دیگر شعائر اسلامی پر پابندی سے عمل نہیں کرتے تھے؟۔ مرزا محمود کے اس قول کے مطابق تمام صحابہؓ، اہل بیتؓ، تابعینؒ، اولیاء، قطب، غوث، ابدال، صالحین، متقین، مشائخ اور تمام مشاہیر اسلام (نعوذ باللہ) دائرہ اسلام سے خارج ہوئے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام کیوں نہیں سنا۔ اس حوالہ کے مطابق ظلم کی حد یہ کہ بلا تخصیص تمام مسلمانوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ گویا مسلمانوں کے تمام مسالک، مکاتب، حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی کے علاوہ طریقت کے تمام سلسلے نقشبندی، چشتی، قادری، سہروردی بلا امتیاز قادیانیوں کے نزدیک کافر ہیں۔ حالانکہ یہ سب لوگ کلمہ پڑھتے ہیں اور دیگر تمام شعائر اسلامی پر عمل بھی کرتے ہیں۔
اسی پیش کردہ حوالہ کے مطابق جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام تو سنا لیکن انہوں نے بیعت نہیں کی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانا وہ بھی کافر قرار پائے۔ انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سن کر ایمان نہ لانے کے جرم میں کافر قرار دینے کا ایک مخصوص پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام انبیاء کرام کو ماننا ایمانیات کا حصہ ہے اور انہیں نہ ماننا کفر ہے۔ سچے نبیوں کی اطاعت ایمان ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
- ٭...... ”وماارسلنا من رسول الاليطاع باذن الله“
ترجمہ: ”اور ہم نے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔“ سچے نبیوں کی نبوت سے انحراف کفر ہے۔
- ٭...... ”فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون“
ترجمہ: ”پس اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے۔“
اسی ضابطہ قرآنی کو غلط استعمال کرتے ہوئے مرزا محمود نے مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ مرزا محمود نے قادیانی لاہوری گروپ کے جواب میں ”حقیقت النبوۃ“ کتاب لکھی ۔ جس میں اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات اور دعویٰ جات کے مطابق اس کو خدا کا برگزیدہ نبی ثابت کیا ہے: ”پس اس میں کیا
٣
شک ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) قرآن کریم کے معنوں کی رو سے بھی نبی ہیں اور لغت کے معنوں کی رو سے بھی نبی ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص ١١٦)
قادیانی حضرات سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی بروزی نبی قرار دیتے ہیں حالانکہ قادیانی، مرزا قادیانی کو حقیقی معنوں میں نبی مانتے ہیں۔
’’پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزاغلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں۔ پس حقیقی نبی ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)
قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بارے میں جو تاویلات کرتے ہیں حسب ذیل حوالہ کے بعد ان کا کیا خیال ہے؟۔
’’بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا صاحب کو پہلے نبیوں کے مطابق مانتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص ٢٩٢)
ان چند حوالوں کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کی اکثریت عقیدہ ختم نبوت کی رو سے اسے نبی نہیں مانتی اس لئے قادیانی کل مسلمانوں کو کافر گردانتے ہیں۔
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے قادیانی مذہب کے حوالہ سے کافر اور جہنمی ٹھہرے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے ہی صاحب ایمان اور مسلمان ہوئے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ قادیانی جماعت، لاہوری گروپ کو مرتد قرار دیتی ہے۔ حالانکہ اصطلاحی لحاظ سے مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو چھوڑ دے۔ قادیانی جماعت کے موقف کے مطابق لاہوری گروپ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے علماء مشائخ ہند کو خط لکھا تھا۔ اس میں سلام مسنون، بسم اللہ الرحمن الرحیم وغیرہ نہیں لکھی تھی۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی انہیں کافر سمجھتے تھے۔
(حوالہ الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍ جولائی ١٩٢٠ء)
مسلمان قادیانیوں کو کافر کہتے ہیں۔ قادیانی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ کلمہ ہم پڑھتے
٤
ہیں کلمہ قادیانی بھی پڑھتے ہیں۔ دیگر شعائر اسلامی پر ہم عمل کرتے ہیں جبکہ دیگر شعائر اسلامی پر بظاہر قادیانی بھی عمل کرتے ہیں۔ دونوں میں سے یقیناً ایک حقیقی مسلم ہے دوسرا یقینی کافر ہے۔ کیونکہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ یہ مقدمہ ہم آپ کی عدالت میں پیش کرتے ہیں اور فیصلہ بھی آپ پر چھوڑتے ہیں۔
کلمہ
سب سے پہلی اور اہم چیز کلمہ ہے اور کلمہ ہی ایمان میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ چوبیس حروف کے کلمہ کے دو جزو ہیں: ٭........ توحید۔ ٭........ رسالت۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خدا کا بیٹا (اربعین نمبر ٤ ص ٣٤ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) خدا کا باپ (حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) خدا کی بیوی (اسلامی قربانی ص ٣٤) اور خود خدا (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) ہونے کے مضحکہ خیز دعوے کر کے عقیدۂ توحید کا خاصا مذاق اڑایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات دونوں میں: ”وحدہ لاشریک“ ہے۔ شرک بہت بڑا بہت برا اور ناقابل معافی گناہ ہے۔ اللہ کی ذات کے ساتھ مذاق اور شرک کے ارتکاب کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نہ مسلمان رہا اور نہ صاحب ایمان ...... توحید کی تضحیک اور نبوت ورسالت کے دعویٰ جات کے بعد کلمہ: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ سے یقیناً اس کا تعلق ختم ہو گیا۔ اس کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی انتہائی ڈھٹائی سے دعویدار ہے:
” محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم “ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
اس الہامی دعویٰ کی تائید میں قادیانی شاعر کے ان اشعار کو قادیانی باعث فخر سمجھتے ہیں:
آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان ج ٢ ش ٤٣، مورخہ ٢٥ / اکتوبر ١٩٠٦ء)
مرزا غلام احمد قادیانی نے جناب رسالت مآب ﷺ کی جگہ پانے اور مقام حاصل کرنے کی ناپاک جسارت میں عام مسلمانوں والا کلمہ استعمال کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنا الگ
٥
کلمہ اختیار کرتا تو سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے میں کبھی کامیاب نہ ہوتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کے پس منظر میں ان مخصوص (تنسیخ جہاد واطاعت برطانیہ) میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ جب تک وہ مسلمانوں والا کلمہ اور ان کے دیگر شعائر اسلامی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ کو اختیار نہ کرتا۔
”پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔“
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا انداز یہی تھا۔ اس نے بھی اپنا نیا کلمہ ایجاد نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہی محمد مصطفیٰ ﷺ کا کلمہ اور دیگر شعائر اسلامی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کا ہی قائل تھا۔ وہ جناب رسالت مآب ﷺ کی نبوت اور حکومت میں شراکت کا دعویدار تھا۔ جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی چار قدم آگے بڑھ کر خود محمد رسول اللہ ہونے کا دعویدار ہے۔
نماز
مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسالک کے درمیان اگرچہ اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ ذرا بیت اللہ میں ہونے والی نمازوں کا منظر چشم تصور میں لائیں کسی نے ہاتھ سینے پر رکھے ہیں تو کسی نے ناف پر اور کسی نے ہاتھ چھوڑ کر بھی امام کعبہ کی اطاعت کو نہیں چھوڑا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو سختی سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
نماز جنازہ
قادیانیوں کو مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ انہیں مسلمان معصوم بچے کا نماز جنازہ پڑھنے سے بھی روکا گیا ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مسلمان کی دعائے مغفرت جائز نہیں۔ قادیانی پیشواؤں کے تعصب کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو قادیانی قبرستان میں دفن کرنے سے منع کیا ہے: ”کیونکہ غیر احمدی جب بلا استثناء کافر
٦
ہیں تو ان کے چھ ماہ کے بچے بھی کافر ہوئے اور جب وہ کافر ہوئے تو احمدی قبرستان میں ان کو کیسے دفن کیا جا سکتا ہے۔
(اخبار پیغام صلح مورخہ ١٣ اگست ١٩٣٦ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا بیٹا فضل احمد اپنے باپ کو دعویٰ نبوت میں جھوٹا سمجھتا تھا۔ حقیقی بیٹا ہونے کے باوجود جب وہ فوت ہوا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ ظفر اللہ خان قادیانی وزیر خارجہ نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے جنازہ میں ہوتے ہوئے بھی اپنے محسن کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔
”جناب چوہدری ظفر اللہ صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے۔ لہذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“
(ٹریکٹ نمبر ٢٢ بعنوان احراری علماء کی راست گوئی، نظارت دعوت تبلیغ صدر انجمن احمدیہ ربوہ)
حج
کل روئے زمین کے مسلمانوں کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ حرمین شریفین، مکہ و مدینہ کائنات ارضی میں سب سے افضل، اعلیٰ، معظم اور محترم ہیں۔ قادیانی گروہ کے لوگ قادیان کو اپنا روحانی مرکز اور مقام حج سمجھتے ہیں۔ قادیانی جماعت کے پیشوا مرزا محمود کا دعویٰ ہے کہ: ”قادیان میں مکہ و مدینہ والی برکات ہوتی ہیں ۔“
(خطبہ مرزا محمود مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء ص ١)
یہ دعویٰ کس قدر مضحکہ خیز ہے کیونکہ برکات و تجلیات کا اعزاز صرف انہی دو جگہوں کو حاصل ہے۔ یہ شرف یہ سعادت کسی اور زمین کو حاصل ہے نہ ہوگی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان کو سرزمین حرم قرار دیا ہے۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(دُرّثمین اردو کلام مرزا غلام احمد قادیانی ص ٥٢)
قادیانی اپنے آبائی مرکز قادیان کو کسی طرح سے بھی مکہ مکرمہ سے کم نہیں سمجھتے۔ اُس کا اندازہ اس حوالہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے: ”مقام قادیان وہ مقام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے ناف کے طور پر فرمایا اور اس کو تمام جہانوں کے لئے امّ قرار دیا ہے۔“
(خطبہ مرزا محمود الفضل مورخہ ٣ جنوری ١٩٢٥ء)
٧
"انا انزلناہ قریباً من القادیان" قرآن قادیان کے قریب نازل ہوا۔ "تین شہروں کا قرآن میں ذکر ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔"
(ازالہ اوہام ص ١٤٤ خزائن ج ٣ ص ١٤٠ حاشیہ)
قرآن
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ جو رشد و ہدایت کا خزانہ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن مجید کے مقابل وحی والہام کا ڈھونگ رچایا اور قرآن کو اپنے منہ کی باتیں قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا ایک الہام لکھا: "ما انا الا کالقرآن" (قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے (مرزا غلام احمد قادیانی) منہ کی باتیں ہیں)
(تذکرہ ص ٧٤، حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
بخدا پاک دانمش ز خطاء
ہمچوں قرآن منزلش دانم
از خطاہا منزہ میدانم
بخدا ہست این کلام مجید
از دہان خدائے پاک وحید
"جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطاء سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے۔ خدائے پاک وحدہ کے منہ سے۔"
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
دیگر عبادات
جہاں تک دیگر عبادات اور شعائر اسلامی کا تعلق ہے قادیانی جماعت کا اصولی عقیدہ ملاحظہ فرمائیں: "حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، زکوۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔"
(خطبہ جمعہ مرزا محمود قادیانی الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
٨
رشتہ ناطہ و تعلقات
اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے جاسکتا ہے کہ انہوں نے صرف دینی معاملات م کو مسلمانوں سے الگ کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں ہو جائے گی: "غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ح قرار دیئے گئے ہیں۔"
قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلم اور قادیانیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رشتہ ناطہ کے مع کو لڑکی کا رشتہ مت دیں: "غیر احمدی کی لڑکی سے سے بھی نکاح جائز ہے۔ بلکہ اس میں فائدہ ہے احمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو لے لے۔ ب ہے۔"
چونکہ اسلامی شریعت میں مؤمنہ عور اہل کتاب عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ اس لئے لے سکتے ہیں لیکن اپنی بیٹی انہیں نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کا کلمہ مسلمانوں والا ہے اور وہ ہیں تو پھر رشتہ ناطہ کے بارے میں انہیں ایسا طرز عمل
اسلامی اصطلاحات
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ذات کے کے لئے صحابی، اپنی بیوی کے لئے ام المومنین، اپنی خلیفۃ المسلمین، اپنی بیٹی کے لئے سیدۃ النساء جیسے خ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
٩
رشتہ ناتہ و تعلقات
اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والے قادیانیوں کے تشخص کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے صرف دینی معاملات میں ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات میں بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں ایک حوالہ ملاحظہ فرمائیں تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ ملکر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ہیں۔“
(کلمۃ الفضل ص ١٦٩)
قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلم اور ہمیں کافر سمجھنے کا ایک اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ قادیانیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رشتہ ناطہ کے معاملہ میں احتیاط برتیں۔ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو لڑکی کا رشتہ مت دیں: ”غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے۔ بلکہ اس میں فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی غیر احمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر لے تو لے لے۔ بیشک لے لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٦ دسمبر ١٩٢٠ء)
چونکہ اسلامی شریعت میں مؤمنہ عورت کا اہل کتاب سے نکاح جائز نہیں۔ البتہ مؤمن اہل کتاب عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ اس لئے قادیانیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمان کی بیٹی لے سکتے ہیں لیکن اپنی بیٹی انہیں نہیں دے سکتے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو مؤمن اور ہمیں کافر سمجھتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کا کلمہ مسلمانوں والا ہے اور وہ اسلامی شعائر پر مسلمانوں کی طرح عمل کرتے ہیں تو پھر رشتہ ناطہ کے بارے میں انہیں ایسا طرز عمل اختیار کرنے کا کیوں حکم دیا گیا ہے؟۔
اسلامی اصطلاحات
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ذات کے لئے ”نبی“ بلکہ خاتم النبیین۔ اپنے ساتھیوں کے لئے صحابی، اپنی بیوی کے لئے ام المومنین، اپنی اولاد کے لئے شعائر اللہ، اپنے نائبین کے لئے خلیفۃ المسلمین، اپنی بیٹی کے لئے سید النساء جیسے مخصوص القاب استعمال کئے۔ اس ضمن میں چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
- ....... ”میری (مرزا غلام احمد قادیانی کی) اولاد شعائر اللہ میں داخل ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٨/ جنوری ١٩٢٦ء)
- ....... اپنی اولاد کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی منظوم کلام میں اس بات کا
دعویدار ہے:
ہر ایک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں
یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے
(در ثمین اردو ص ٤٥، مجموعہ کلام مرزا غلام احمد قادیانی)
- ....... ”عزیز امۃ الحفیظ (مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی) سارے انبیاء کی بیٹی
ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٧/جون ١٩١٥ء)
- ....... ”مرزا غلام احمد قادیانی کی گھر والی ام المومنین ہے۔“
(سیرۃ سیدۃ النساء ام المومنین نصرت جہاں بیگم ٹائٹل)
ان تمام حوالہ جات کے بعد قارئین فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہماری طرح کلمہ پڑھنے والوں اور دیگر شعائر اسلامی پر عمل کرنے والوں میں کتنا فرق ہے؟۔ اگر قادیانیوں اور مسلمانوں کا کلمہ ایک ہے، تمام شعائر اسلامی ایک ہیں تو انہیں مسلمانوں کی تمام عبادات میں اپنے آپ کو الگ رکھنے کا کیوں حکم دیا گیا ہے؟۔
- ....... کلمہ۔ ....... نماز۔ ....... نماز جنازہ۔
- ....... دعائے مغفرت۔ ....... تدفین۔ ....... رشتہ و ناتہ۔
گویا دینی و دنیوی معاملات میں قادیانی مسلمانوں کے تقابل میں ہیں۔ باقی رہا قادیانیوں کے ہاں ہمارے مخصوص شعائر اسلامی کا استعمال ...... تو وہ محض دھوکہ دہی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ یہ لیبل استعمال نہ کریں تو ان کی مذہبی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ اس صورتحال میں قادیانی کافر ہیں یا مسلمان؟۔
فیصلہ آپ کیجئے!!!
١٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
شناختی کارڈ
میں مذہب کا خانہ
(شرعی و قانونی حیثیت)
حضرت مخدوم زادہ صاحبزادہ طارق محمود
بسم الله الرحمن الرحيم!
٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠،١٠٦ میں ترمیم ہوئی۔ چونکہ قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کرنے سے عملاً انکار کر دیا تھا۔ اس لئے بھٹو صاحب کے ہی دورِ حکومت میں رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے شناختی کارڈ کے فارموں میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا گیا۔ ہر وہ شخص جو اپنا مذہب اسلام لکھے، اس کے لئے شناختی کارڈ کے فارم میں ایک حلف نامہ شامل کیا گیا۔ یہ بھٹو صاحب کے دور حکومت میں ہوا۔ اس وقت کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذمہ دار رہنماؤں مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا مفتی محمودؒ، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا عبدالحقؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ وغیرہم نے بھٹو حکومت سے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ کے فارم تو رجسٹریشن دفاتر میں رہ جائیں گے۔ ضروری ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بھٹو صاحب نے فرمایا کہ پورے ملک کے شناختی کارڈ نئے سرے سے بنانے پر قومی خزانہ پر ناروا بوجھ ہوگا۔ تاہم آپ کا مطالبہ معقول ہے۔ مناسب وقت پر اس پر عمل درآمد کر لیا جائے۔ قادیانی سازش سے بھٹو صاحب اور مجلس عمل کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ اس کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ اس خلاء کو پر کیا اور پھر پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کر دیا گیا۔ پاسپورٹ چونکہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس لئے ایسے ممالک جہاں پر قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے یا حرمین شریفین، وہاں جانے کے لئے قادیانیوں نے خود کو مسلمان لکھوالیا، یا مغربی جرمنی سیاسی پناہ کے لئے لے جانے کا چکمہ دے کر مسلمانوں کو قادیانی لکھوایا جاتا رہا۔ اس قسم کے بیسیوں کیس ملک میں پکڑے گئے کہ قادیانی ایجنٹ مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے مغربی جرمنی اور کینیڈا وغیرہ لے جارہے تھے۔ اس سے ہزاروں مسلمانوں کو ارتداد کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ یہ وہ امور ہیں جن کے باعث جب پاکستان کی وزارت داخلہ نے نئے سرے سے شناختی کارڈ کمپیوٹر پر لانے کا فیصلہ کیا تو تمام مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بالخصوص حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ صاحب، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، جنرل محمد حسین انصاری، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا علی غضنفر کراروی اور دوسرے قومی رہنماؤں کی طرف سے شدت سے یہ مطالبہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں متعدد بار صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دوسرے ذمہ دار حضرات سے مختلف وفود نے ملاقاتیں کیں۔
٢
سیمینار منعقد کئے، اشتہارات شائع ہوئے، اخبارات میں مطالبہ کیا گیا۔ حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں سے رپورٹیں منگوائیں جو مطالبہ کے حق میں آئیں اور بالآخر ١٣؍اکتوبر ١٩٩٢ء کو وزارت مذہبی امور اور وزارت داخلہ نے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے رہنماؤں کا اجلاس بلا کر فیصلہ کا اعلان کر دیا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ ہوگا۔ فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی مختلف طبقات نے اس پر اعتراضات شروع کر دیئے۔
پی ڈی اے، جو دراصل پیپلز پارٹی کا دوسرا نام ہے۔ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے اور وہ اسے فرقہ واریت کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب کے دور میں ہی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور جب مرزائیوں نے اس ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو بھٹو صاحب نے ہی رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ شناختی کارڈ کے فارموں میں مذہب کے خانہ اور حلف نامہ کے اضافہ کا فیصلہ کیا۔ اگر یہ فرقہ واریت کا باعث ہے تو اس کی ذمہ داری ان کے بانی رہنما پر عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر قادیانی غیر مسلم اقلیت نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم کر لیا ہوتا تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے۔ قادیانیوں کی آئین سے بغاوت ہی ان مسائل کے جنم لینے کا باعث بن رہی ہے۔ شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کا فیصلہ ایک مثبت، اصولی اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔
بعض اقلیتوں کی انگیخت، اپنے تجدد ولادینیت کے اظہار اور ’’ملا‘‘ کی مخالفت کی آڑ میں اسلام سے دشمنی رکھنے والی آوارہ اور بازاری عورتوں کے مظاہرے قرآن وسنت اور اجماع امت کے یکسر خلاف اور کروڑ ہا مسلمانان پاکستان کے دینی عقائد اور مذہبی جذبات کے سراسر منافی ہیں۔
اسلام ایک دین فطرت اور آخری آسمانی ہدایت ہے۔ جس کی اپنی ایک مستقل شناخت اور ضروری تقاضے ہیں۔ اسلام حق و باطل، ہدایت وضلالت، خیر وشر، معروف ومنکر، حلال وحرام، ایمان وکفر، اطاعت ومعصیت، طیب وخبیث اور خدا سے محبت وعداوت کے التباس اور وصل وملاپ کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اس کے اپنے امتیازات ہیں۔ جن کے ختم ہونے یا مٹا دینے سے اسلامی حدود منہدم ہو جاتی ہیں۔ اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے درمیان کھینچے ہوئے خط فاصل کو مٹانا اسلام سے ناواقفیت، جہالت بلکہ بغاوت ہے۔ پوری دنیا کو دعوت اتحاد دینے کے باوجود قرآن کریم نے اپنا تعارف فرقان اور قول فصل کے الفاظ سے بھی کروایا ہے۔ جس کا
٣
مطلب یہ ہے کہ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والا اور کفر و اسلام کے لحاظ سے انسانوں کو الگ الگ دائروں میں رکھنے کا قائل ہے۔
اسی قرآن کریم نے ”افنجعل المسلمين كالمجرمين (القلم:٣٥)“ ﴿ کیا ہم ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کو یکساں کر دیں گے۔﴾ فرما کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مؤمن و کافر کی راہیں جدا کر دی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس فطری تقسیم وتفریق کے مٹانے والوں کو ”مالكم كيف تحكمون (القلم:٣٦)“ ﴿ تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا کہ ایمان و کفر کو ایک بنانے لگے ہو۔﴾ فرما کر اس حماقت و بے عقلی پر زور دار تنبیہہ فرمائی ہے۔
قرآن کریم نے یہ بھی بتایا ہے کہ نیک و بد کی یہ تفریق صرف آخرت میں ”فریق فی الجنة وفريق في السعير (الشورى:٧)“ ﴿ ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک انبوه دوزخ میں ہوگا۔﴾ ہی کی صورت میں نہ ہوگی بلکہ دنیا بھی ماننے والوں کی زندگی ، نہ ماننے والوں سے الگ ہی ہونی چاہئے۔
ارشاد ربانی ہے: ”ام حسب الذين اجترحوا السيات ان نجعلهم كالذين امنوا وعملوا الصلحت سواء محياهم ومماتهم ساء ما يحكمون (الجاثيه:٢١)“ ﴿ یہ لوگ جو برے برے کام کرتے ہیں۔ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے۔ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا۔ کیا ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہے؟ یہ برا حکم لگاتے ہیں۔﴾
قرآن کریم کی نظر میں نیک کردار و بد کردار میں ایسے ہی امتیاز وفرق ہے جیسے اندھے اور بینا میں۔
ارشاد باری ہے: ”وما يستوى الاعمى والبصير والذين امنوا وعملوا الصلحت ولا المسئ قليلا ما تتذكرون (المؤمن:٥٨)“ ﴿ اور بینا اور نابینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور بدکار ، باہم برابر نہیں ہو سکتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو۔﴾
قرآن کریم کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ قرآن کریم داعی اتحاد ہونے کے باوجود ادیان اور اہل ادیان میں تفریق وامتیاز ہی کا حامی ہے۔ واضح رہے کہ ہر صداقت کے مٹنے کا پہلا قدم یہی رفع امتیاز اور برائی کے ساتھ التباس واختلاط ہی ہوتا ہے۔
٤
جو حضرات (اور خواتین) صرف شناختی کارڈ پر مسلم وغیر مسلم کی تفریق وامتیاز پر چیں بجبین ہیں۔ انہیں قرآن کریم کے ان واضح ارشادات وہدایات پر غور کرنا چاہئے کہ مسلم وغیر مسلم میں یہ امتیاز احکم الحاکمین کا ہے۔ یا ملا کی خود ساختہ بات ہے؟...... اسلام جس طرح خدا کے ماننے والوں کو خدا کے دشمنوں کے ساتھ التباس واختلاط سے منع کرتا ہے۔ بعینہ اسی طرح وہ تحفظ حدود ومراتب کے لئے اسلامی سلطنت میں رہنے والے غیر مسلموں کو بھی اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ بحالت کفر مسلمانوں کی صورت وہیئت اختیار نہ کریں۔ تاکہ ہر قوم کی اپنی اپنی خصوصیات نمایاں رہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے لئے حضرت فاروقِ اعظمؓ کے اس حکم نامہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کافر اور مسلمان میں باعتبار مذہب ومعاشرت کھلا امتیاز ہونا چاہئے۔ عہدِ فاروقی میں ہر ذمی کافر سے جو عہد لیا جاتا تھا وہ درج ہے۔ (طوالت سے بچنے کے لئے اس فاروقی حکم نامہ کا ترجمہ پیش خدمت ہے)
”ہم مسلمانوں کی توقیر کریں گے، ہم اپنی مجلسوں سے کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر وہ بیٹھنے کا ارادہ کریں گے۔ ہم ان کے ساتھ لباس کی کسی چیز میں مشابہت نہیں کریں گے۔ ٹوپی یا عمامہ، جوتے ہوں یا سر کی مانگ، ہم ان کا سا کلام نہ کریں گے۔ ہم ان کی سی کنیتیں نہ رکھیں گے۔ ہم زین پر گھوڑے کی سواری نہ کریں گے۔ تلوار نہ لٹکائیں گے۔ کوئی ہتھیار نہ رکھیں گے۔ ہم اپنی مہروں کے نقش عربی میں کندہ نہ کرائیں گے۔ شراب کا بیوپار نہ کریں گے۔ ہم طرہ (سر کے اگلے حصہ کے وہ بال جو بطور فخر وتزئین کے رکھے جاتے ہیں) کٹوا دیں گے۔ (جیسا کہ آج بھی انگریزی بالوں کے نام سے یہ طرہ مشہور ہے) ہم جہاں رہیں گے اپنی ہی وضع پر رہیں گے۔ ہم اپنے گرجوں میں صلیب کو بلند نہ کریں گے۔ مسلمانوں کے راستوں اور بازاروں میں اپنی کتابوں اور صلیب کو بلند نہ کریں گے۔ ہم اپنے گرجوں میں ناقوس نہایت ہلکی آواز میں بجائیں گے۔ نہ ہم دعائے استسقاء کے لئے ہجوم لے جائیں گے۔ نہ ہم اتوار کی عید اور اس کا جشن منائیں گے۔ ہم اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن بھی نہ کریں گے۔“
”اقتضاء الصراط المستقيم لابن تيمية“
اس فاروقی حکم نامہ کے ایک ایک لفظ سے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ کفار سے ظاہراً وباطناً کوئی مشابہت اختیار نہ کریں۔ اسی طرح اسلامی حکومت کفار کو بھی مجبور کرے گی کہ وہ کفر پر رہتے ہوئے ایسی وضع اختیار نہ کریں۔ جس سے کافر ومسلم کا امتیاز مٹ جائے۔
٥
شناختی کارڈ تو مسلم و غیر مسلم کے امتیاز کو باقی رکھنے کا بالکل ابتدائی قدم ہے۔ اسلام تو زندگی کے تمام مراحل میں اس امتیاز کو پوری قوت کے ساتھ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جس شخص کو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اسلام کا یہ حکم ناپسند ہے۔ وہ اپنے لئے غیر مسلموں کے شناختی کارڈ کے اجراء کی درخواست دے سکتا ہے۔ ہم اس پر انا للہ پڑھنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں؟
یہاں ہم پاکستان کے غیر مسلم باشندوں کی خدمت میں یہ ضرور عرض کریں گے کہ اسلام میں اس فرق مراتب کا منشاء ان کے ساتھ ظلم و بے انصافی نہیں۔ آپ کے جائز حقوق جو بحیثیت رعایا آپ کو ملنے چاہئیں ان کی ادائیگی پر سب سے زیادہ زور اسلام ہی دیتا ہے۔ آپ کے جانی و مالی حقوق مسلمانوں کے برابر ہیں۔ کسی مسلمان کو آپ کے جان و مال پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں اور کسی مسلمان حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ آپ کے نزاعات میں صحیح و منصفانہ فیصلہ نہ کرے۔ عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی بلا استثناء سب کے لئے ہے اور عزت و عظمت صرف اللہ اور اہل اللہ کے لئے ہے۔ ”وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنفقین لا یعلمون (المنافقون: ٨)“
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ارکان، دانشوروں، علماء، مشائخ، سیاستدانوں، قانون دانوں اور خود حقیقت سنج حضرات کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
قائد اعظم بانی پاکستان
قائد اعظم محمد علی جناح جداگانہ طرز انتخاب کے داعی اور عمل کرانے والے تھے۔
علامہ اقبال
علامہ اقبالؒ دو قومی نظریہ کے خالق تھے۔
جناب غلام اسحاق خان صدر مملکت پاکستان
”صدر مملکت جناب غلام اسحق خان نے ایک وفد سے فرمایا کہ شناختی کارڈ میں قومی تشخص کے ساتھ اسلامی تشخص کا اپنانا بھی آئینی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ وفد کی قیادت جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر حافظ حسین احمد کر رہے تھے۔ جب کہ مولانا علی اکبر ایم این اے، سینیٹر راجہ ظفر الحق، مولانا محمد امین ایم این اے، مولانا حسن جان ایم این اے، میاں عطاء محمد قریشی ایم این اے اور مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مفتی
٦
احتشام الحق بلوچستانی، قاضی احسان الحق اور قاری منور حسین وفد میں شامل تھے۔‘‘
(قومی اخبارات ١٩؍فروری ١٩٩٢ء)
’’شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ معقول مطالبہ ہے۔ اس سے مجھے اتفاق ہے۔ اس کے ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی کسی کو اپنے مذہب کے اظہار پر شرمانا چاہئے۔‘‘ (قاضی حسین احمد سے ملاقات کے دوران صدر مملکت کا فرمان)
(نوائے وقت پنڈی ٢٢؍مئی ١٩٩٢ء)
’’پاکستان میں مسلمان ، عیسائی اور دیگر غیر مسلم رہتے ہیں۔ ان کی الگ شناخت ہونی چاہئے۔‘‘
(روزنامہ خبریں لاہور ٢٣؍اکتوبر ١٩٩٢ء)
سابق صدر مملکت و وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
بھٹو صاحب نے ١٩٧٤ء میں نہ صرف قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے شناختی کارڈ کے فارموں میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا۔
صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق
جنرل ضیاء الحق نے جداگانہ طرز انتخاب رائج کیا۔ مسلم و غیر مسلم ووٹر لسٹوں کی علیحدہ رنگت تجویز کی اور پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل
گورنمنٹ پاکستان کے ادارہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ نے اپنی ١٩٧٧ء، ٧٨ء کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس وقت کونسل کے چیئرمین جناب محمد افضل چیمہ ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ آف پاکستان تھے۔ ریٹائرڈ جسٹس صلاح الدین، جناب اے کے بروہی، جناب خالد اسحاق ایڈووکیٹ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ، حضرت مفتی سیاح الدینؒ، حضرت مفتی محمد حسین نعیمیؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا محمد تقی عثمانی (موجودہ جج شریعت سپریم کورٹ اپیل بنچ) حضرت مفتی جعفر حسین مجتہد، مولانا محمد حنیف ندوی، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، جناب تجمل حسین ہاشمی، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ، علامہ سید محمد رضی، جناب ایس ایم اے اشرف، محترمہ ڈاکٹر مسز خاور خان چشتی، ایسے نابغۂ روزگار، اس ادارہ کے اس زمانہ میں ارکان تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے جو سفارش کی وہ یہ ہے۔
٧
شناختی کارڈوں پر دین کا اندراج
”اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی کہ شناختی کارڈوں پر دین کا خانہ بڑھایا جائے۔ یہ اضافہ اس لئے تجویز ہوا کہ بعض موجودہ اور مجوزہ قوانین کے نفاذ کے لئے شہریوں کے دین کا جاننا بھی ضروری ہے۔ مثلاً زکوٰۃ اور عشر کی وصول یابی، حدود کا نفاذ وغیرہ۔“
(اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ ٧٨، ١٩٧٧ء ص ١٥٣)
قومی اسمبلی کے ٢٧ ممبران
مولانا محمد خان شیرانی پارلیمانی لیڈر جمعیت العلمائے اسلام، مولانا معین الدین لکھوی پارلیمانی لیڈر جمعیت اہل حدیث، جناب لیاقت بلوچ پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی، صاحبزادہ مولانا حامد سعید کاظمی پارلیمانی لیڈر جمعیت العلمائے پاکستان، جناب غلام مصطفیٰ جتوئی پارلیمانی لیڈر این پی پی، مولانا محمد صدیق شاہ ایم این اے، مولانا علی اکبر ایم این اے، مولانا محمد امین ایم این اے، جناب عالم زیب ایم این اے، مولانا حسن جان ایم این اے، جناب خالق داد ایم این اے، جناب انوار الحق رامے ایم این اے، جناب نذیر احمد ورک ایم این اے، راجہ محمد ظہیر ایم این اے، جناب میاں محمد عثمان ایم این اے، جناب عزیز احمد ایم این اے، جناب ظفر اللہ دھاندلہ ایم این اے، جناب گل حمید روکھڑی ایم این اے، جناب شاہد خاقان عباسی ایم این اے، جناب غلام ربانی کھر ایم این اے، جناب عطا محمد قریشی ایم این اے، جناب سردار عبدالقیوم خان ایم این اے، جناب محمد اکرم انصاری ایم این اے، مولانا محمد اعظم طارق ایم این اے، مولانا رحمت اللہ ایم این اے، سردار محمد یوسف ایم این اے، جناب چوہدری نذیر احمد ایم این اے نے وزیر اعظم پاکستان کے نام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک عرضداشت پر دستخط کر کے دیئے۔ وزیر اعظم سے عرضداشت میں کہا گیا کہ ”دوقومی نظریہ جداگانہ طرز انتخاب اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش چاروں صوبوں کی سفارشات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت مذہبی امور کی سفارشات کی روشنی میں یہ امر تقاضا کرتا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج کیا جائے۔ یہ ضروری امر ہے کہ عالمی مجلس نے صرف ٢٧ ممبران اسمبلی کے دستخطوں پر صرف اس لئے اکتفا کیا کہ ١٩٧٤ء کی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پر بھی اتنے ہی ممبروں کے ابتدائی دستخط تھے۔ بھٹو صاحب نے اسے تسلیم کر لیا۔ خدا کرے کہ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب بھی اس وعدے کو پورا کریں۔“ (عرضداشت پر دستخطوں کی کاپی مجلس کے مرکزی دفتر میں موجود ہے)
٨
حکومت پاکستان کا فیصلہ
مورخہ ١٣ اکتوبر ١٩٩٢ء وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار خان نیازی کی صدارت میں ساڑھے تین بجے پاکستان سیکرٹریٹ آر بلاک اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔
- ١...... مولانا محمد عبدالستار خان نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور۔
- ٢...... چوہدری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ۔
- ٣...... جناب مظہر رفیع صاحب وفاقی سیکرٹری مذہبی امور۔
- ٤...... مولانا عبداللہ خلجی مشیر مذہبی امور، حکومت بلوچستان۔
- ٥...... جناب پیر سید خورشید بخاری ایم این اے، لیہ۔
- ٦...... مفتی غلام سرور قادری جامعہ رضویہ، لاہور۔
- ٧...... مولانا اشرف علی قریشی ممبر اسلامی نظریاتی کونسل۔
- ٨...... جناب عبدالرؤف ملک متحدہ علماء کونسل۔
- ٩...... جناب حاجی محمد حنیف طیب، کراچی۔
- ١٠...... جناب پیر محمد فیض علی فیضی، راولپنڈی۔
- ١١...... جناب میجر ریٹائرڈ محمد امین منہاس، اسلام آباد۔
- ١٢...... جناب مولانا سید حسنین الدین شاہ جامعہ رضویہ، راولپنڈی۔
- ١٣...... قاضی محمد عبدالخیر عباس، راولپنڈی۔
- ١٤...... جناب سید افتخار حسین نقوی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ۔
- ١٥...... جناب سید ریاض حسین نقوی، شیعہ رہنماء، اسلام آباد۔
- ١٦...... پروفیسر محمد یحییٰ، لاہور۔
- ١٧...... وزارت مذہبی امور و وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران۔
بالاتفاق مندرجہ ذیل فیصلہ کا اعلان قومی نشریاتی اداروں اور قومی اخبارات کو جاری کیا گیا۔ ”آئینی تقاضے کے مطابق قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج کیا جائے گا اور اس خانے میں ہر شخص کا مذہب یعنی اسلام، عیسائیت، بدھ مت، ہندو مت، سکھ مت، پارسی، قادیانی (لاہوری)، بہائی کا اندراج ہوگا۔ جو شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں۔ ان میں بھی ترمیم کی جائے گی۔“
٩
پاکستان میں چونکہ جداگانہ طریق انتخاب جاری ہے اور اس سلسلے میں مذہب کا اندراج ان کی شناخت کو آسان بنا دے گا۔ مزید یہ کہ زکوٰۃ اور حدود جیسے شرعی قوانین میں غیر مسلم اقلیتوں کو جو استثنائیات حاصل ہیں۔ اس میں ان کی شناخت آسان ہوگی۔‘‘ (کارروائی اجلاس)
جناب میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان
’’شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کا فیصلہ حتمی ہے۔ اس بارے میں کسی کو ابہام نہیں رہنا چاہئے۔ اس پر عمل درآمد کے انتظامی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت پنڈی، مورخہ ٢٩؍اکتوبر ١٩٩٢ء)
چاروں صوبائی حکومتوں کی رپورٹ
’’وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ایک گشتی مراسلہ میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے وفاقی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا کالم کے اندراج پر کوئی اعتراض نہیں۔ وہ آج یہاں قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حاجی محمد جاوید چیمہ کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ٧؍اگست ١٩٩٢ء)
چوہدری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ
’’شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم نہیں ہوگا۔ حکومت فیصلہ واپس لینے پر غور نہیں کر رہی بلکہ خانہ کا اندراج آئین کے تحت مسلمان کی تعریف کے مطابق کیا جائے گا۔‘‘
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٢؍نومبر ١٩٩٢ء)
’’پورے ملک میں جعل سازی اور غلط کارڈوں کے استعمال کو روکنے کے لئے کمپیوٹر سسٹم پر شناختی کارڈ بنائے جارہے ہیں۔ تاکہ تخریب کاری کو روکا جاسکے۔ اس میں مذہب کے خانہ کا اضافہ اصولی اور آئینی فیصلہ ہے۔ فیصلہ واپس نہیں ہوگا۔ اب آئین کے مطابق اس کو نافذ کرنا ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٧؍نومبر ١٩٩٢ء)
چوہدری عبدالغفور وفاقی وزیر قانون
’’سندھ اسمبلی وفاقی حکومت پر اپنا فیصلہ لاگو نہیں کرسکتی۔ قرارداد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج سے کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی۔ بعض لوگ اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔‘‘
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٧؍نومبر ١٩٩٢ء)
١٠
’’شناختی کارڈ کے فارم میں تو مذہب کا خانہ موجود ہے۔ ہمارے ہاں اقلیتی نمائندوں کے انتخاب کا طریقہ بھی جداگانہ ہے۔ عیسائیوں، ہندوؤں اور بدھ مذہب وغیرہ کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔ اگر شناختی کارڈ میں ایسا خانہ ہو تو شناخت بہتر طور پر ہو جائے گی۔‘‘
(روزنامہ جنگ ٢٣؍اکتوبر ١٩٩٢ء)
مولانا شاہ احمد نورانی صدر جمعیت العلمائے پاکستان
’’یہود اور عیسائی ہمیشہ مسلمانوں کو ختم کرنے پر متفق ہیں۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب بے حد ضروری اور لازمی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ٢ میں واضح طور پر یہ موجود ہے کہ سٹیٹ کا مذہب اسلام ہوگا۔ پھر اس بات کا اظہار شناختی کارڈ میں نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ مخالفین کل کو یہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کا لفظ نہیں ہونا چاہئے۔ جداگانہ طرز انتخاب کی بنیاد پر ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ اس سے انحراف کیوں؟‘‘
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ٨؍نومبر ١٩٩٢ء)
’’پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود ہے تو شناختی کارڈ میں اندراج پر اعتراض کیوں؟‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٨؍نومبر ١٩٩٢ء)
’’جو لوگ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں وہ ایسا بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کر رہے ہیں۔ مذہبی خانہ کے اضافہ سے اقلیتوں کو دوسرے درجہ کے شہری بنانے کی باتیں بھی حقائق کے منافی ہیں۔‘‘
(روزنامہ جسارت مورخہ ٨؍نومبر ١٩٩٢ء)
شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا محمد اجمل خان،
مولانا فضل الرحمٰن، حافظ حسین احمد، مولانا محمد اجمل قادری
’’شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ پاکستان میں دینی قوتوں کی فتح ہے۔ حکومت نے اس سے پہلے بہت سے وعدے کئے ہیں۔ لیکن ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے تمام مذہبی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ اگر حکومت نے اب پھر ہیر پھیر کی کوشش کی تو تمام مذہبی قوتیں اپنے مطالبہ کو منظور کرانے کے لئے میدانِ عمل میں ہوں گی۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٩٢ء)
مولانا فضل الرحمٰن جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام
’’١٩٧٣ء کے آئین میں مسلم و غیر مسلم کی واضح تمیز موجود ہے جو ایک متفقہ آئین
١١
ہے ۔ خانہ مذہب کے اندراج سے قادیانیوں کی شناخت کا واضح کرنا ہے۔ اس لئے اس سے صرف قادیانیوں کو پریشان ہونا چاہئے۔ کسی دوسری غیر مسلم اقلیت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ بے دین شرارتی لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ ایک طے شدہ مسئلہ کو ابھار رہے ہیں ۔ ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو سڑکوں پر لایا جائے اور اگر ایسا ہوا تو اس فیصلہ کی مخالفت کرنے والے اپنے گھروں میں چھپ کر بھی پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے ۔“
(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ٧ نومبر ١٩٩٢ء)
”اگر حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کے فیصلے پر جلد از جلد عملدرآمد نہ کیا تو اس کو زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسا زبردست احتجاج کیا جائے گا کہ کسی رکن اسمبلی کو اسمبلی تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کو نہ شامل کرنے کے بارے میں جو قرارداد منظور کی ہے۔ ہم اس کو مسترد کرتے ہیں ۔ سندھ اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کر کے خود کو ایک بے دین ادارہ ثابت کیا ہے اور ہم سندھ اسمبلی کے قرارداد منظور کرنے کے اس اقدام پر لعنت بھیجتے ہیں ۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ٩ نومبر ١٩٩٢ء)
قاضی حسین احمد
امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے ٢١ مئی ١٩٩٢ء کے ختم نبوت کنونشن میں شرکت کی اور اسی روز صدر مملکت سے ملاقات کے دوران ان سے اس مسئلہ پر بات کی ۔ ١٤ اکتوبر ١٩٩٢ء کے جلسہ عام اسلام آباد میں شرکت کی اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کے اصولی مؤقف کے لئے اپنی جماعت، پارلیمانی گروپ کو وقف کر کے امت مسلمہ کی رہنمائی کی ۔
مولانا عبدالستار خان نیازیؒ وفاقی وزیر مذہبی امور
”شناختی کارڈ میں مذہب کا کالم ناگزیر ہے ۔ یہ مطالبہ تسلیم نہ کرنا ختم نبوت کے عملاً انکار کے مترادف ہے ۔“
(روزنامہ جنگ پنڈی مورخہ ١٢ مئی ١٩٩٢ء)
”سندھ اسمبلی بھان متی کا کنبہ ہے ۔ قرارداد فیصلے کو متاثر نہیں کر سکتی ۔ ان سیاسی نابالغوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے ۔ خانہ مذہب کے اضافہ سے نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا بلکہ ان کی اسمبلیوں میں نمائندگی بھی یقینی ہو جائے گی ۔ پاکستان مسلمانوں کی جدوجہد سے قائم ہوا۔ مسلمان غیر مسلموں کے کہنے پر اپنی شناخت تبدیل نہیں کر سکتے ۔ حکومت نے سوچ سمجھ کر اسلامی نقطۂ نظر اور آئین کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے تبدیل کرنے کا
١٢
امکان ہی نہیں ہے۔ جداگانہ طرز انتخاب کے باعث ملک بنا تھا۔ اس کی بنیادوں کی مخالفت کرنے والے اس کے دشمن ہیں۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٥ نومبر ١٩٩٢ء)
”ہمارا تشخص شریعت محمدیؐ ہے۔ مسلمان کو مسلمان اور عیسائی کو عیسائی لکھوانے پر شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محض پروپیگنڈہ ہے۔ یہ الزام سراسر غلط ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے بعد اقلیتیں خود کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھیں گی۔ اگر مخلوط طریقہ انتخاب اپنایا جائے تو اقلیتوں کو ایک سیٹ بھی نہیں ملے گی۔ اب انہیں مرکز میں دس اور صوبوں میں تیس نشستیں ملی ہیں۔ اس لئے وہ اول درجہ کے شہری ہیں۔ وہ قادیانیوں کے لادین عناصر کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔“
(روزنامہ جنگ مورخہ ٦ نومبر ١٩٩٢ء)
”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرنے کا فیصلہ برقرار رہے گا اور اس سلسلہ میں کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلہ پر عملدرآمد آئندہ ماہ سے شروع ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اس سلسلہ میں صوبائی اسمبلیوں کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ رجسٹریشن وفاقی حکومت کا محکمہ ہے اور اس حوالے سے سندھ اسمبلی نے جو بحث کی ہے وہ قطعی بلاجواز ہے۔ جب کوئی شخص مسلمان، عیسائی، ہندو، قادیانی یا کسی اور مذہب سے وابستہ ہے تو اسے یہ کہلانے یا شناختی کارڈ میں اس کا اندراج کرنے میں شرم کیسی۔ جب پاکستان میں جداگانہ انتخابات کا نظام رائج ہو چکا ہے اور ووٹ ڈالتے وقت شناختی کارڈ دکھانا ضروری قرار دیا جا چکا ہے تو اس سے واضح ہو جائے گا کہ ووٹر کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ مغربی ملکوں کو یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ان کے ہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ان کے حقوق کس طرح سلب کئے جا رہے ہیں۔ جب کہ پاکستان نے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستیں مخصوص کی ہوئی ہیں۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ١١ نومبر ١٩٩٢ء)
”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے فیصلہ پر اپوزیشن، اقلیتوں کو بھڑکا رہی ہے۔ کیونکہ بے نظیر خود بھی دین سے بے خبر اور لادین عناصر سے متاثر ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا فیصلہ واپس لینا خودکشی ہوگی۔ کیونکہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ آج عیسائی میرے پتلے جلا رہے ہیں۔ کتے کے گلے میں میری تصویر ڈال کر جلوس نکال رہے ہیں۔ یہ سب ان کی گندی ذہنیت ہے۔ مذہب کے خانہ کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ چاہے زمین و آسمان
١٣
بدل جائے۔ ہم اس فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی بھی مائی کا لال ہمیں اس فیصلہ سے دستبردار نہیں کر سکتا۔ ہم اسلام کے خلاف کسی کو بھونکنے نہیں دیں گے۔ عیسائیوں کو قادیانی بھڑکا رہے ہیں۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ١١ نومبر ١٩٩٢ء)
پروفیسر ساجد میر قائد جمعیت اہل حدیث
”مرزائی خود کو مسلمان ظاہر کر کے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کی سازشی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے آئین کے مطابق شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ ضروری آئینی تقاضا ہے۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ یکم مارچ ١٩٩٢ء)
سردار آصف احمد علی وفاقی وزیر مملکت اقتصادی امور
”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا فیصلہ انتظامی مسئلہ ہے۔ اگر کسی کو اختلاف ہے تو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر سکتا ہے۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٩٢ء)
چوہدری احسان منیر بانی و چیئرمین مسلم فرنٹ پاکستان
”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کا فیصلہ مستحسن اقدام ہے۔ جو لوگ مذہب کے اندراج کو بہانہ بنا کر اس کی مخالفت اور اپنے سیاسی قد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں وہ ناعاقبت اندیش ہیں۔ اس میں حقوق انسانی کی کسی خلاف ورزی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔“
(روزنامہ خبریں لاہور مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٩٢ء)
میجر ریٹائرڈ محمد امین منہاس اسلام آباد
”وزیر اعظم صاحب! آپ نے شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے ١٣ اکتوبر ١٩٩٢ء کے حکومت کے اعلانیہ، جو تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ سے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور کے مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا تھا کی دو ٹوک توثیق فرما کر ایک عظیم فریضہ ادا کیا ہے۔ ہر کلمہ گو اللہ کے حضور سربسجود ہے۔ دعا گو ہے اور آپ کی جرأتوں کو ایک بار پھر سلام کرتا ہے۔“
(اشتہار، اخبار جنگ، نوائے پنڈی مورخہ ٣٠ اکتوبر ١٩٩٢ء)
ڈاکٹر اسرار احمد امیر تنظیم اسلامی
”مذہب کے خانہ کے اضافہ پر احتجاج اسلامی نظام اور سیکولرازم کی کشمکش کا مظہر ہے۔ جو پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور سیکولرازم کے مابین جاری ہے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب سے اتنا تعلق تو ضرور ہونا چاہئے کہ اس کے اظہار میں اسے کوئی سبکی محسوس نہ ہو۔ مذہب ایک شہری کی
١٤
شناخت کا حصہ ہے۔ شناختی کارڈ میں اس کا ضرور ذکر ہونا چاہئے۔“
(روزنامہ نوائے وقت پنڈی مورخہ ١٣/اکتوبر ١٩٩٢ء)
سابق وفاقی وزیر سینیٹر راجہ ظفر الحق سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی
”اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں میں ایک طرف اپنے وجود کا احساس بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف ان کو کمزور کرنے والی لادین قوتیں سرگرم عمل ہیں اور اس خطے کو لادین بنانے کے لئے امریکہ سے ہر قسم کے تعاون کو تیار ہیں۔ اسلام میں سیاست کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ پڑھے لکھے لوگ خانہ مذہب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ بات اسلام اور علامہ اقبال کی فکر کے منافی ہے۔ مسلم وغیر مسلم کا تشخص ضروری ہے۔ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ١١/نومبر ١٩٩٢ء)
”شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ ضرور ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو تنقید کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ مذہب ایک ایسی شناخت ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ بے دین لوگ کل کو یہ بھی کہیں گے کہ اذان ہونے پر محفل سے اٹھ کر نماز پڑھنا آداب محفل کے خلاف ہے تو کیا ہم نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے؟ جو قوم ایسے مسائل پر سمجھوتے کرنے لگے اس کا وجود باقی نہیں رہتا۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ١١/نومبر ١٩٩٢ء)
مولانا ضیاء الرحمن فاروقی سرپرست سپاہ صحابہ پاکستان
”پاکستان ایسی اسلامی نظریاتی مملکت میں قادیانی فتنہ کی سازشی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ یہ دو قومی نظریہ کی تکمیل ہوگی۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٢٩/مارچ ١٩٩٢ء)
”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل نہ کیا گیا تو دو قومی نظریہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ اگر دو فیصد اقلیت اپنی بات احتجاج اور ہڑتالوں سے منوا سکتی ہے تو ٩٨ فیصد عوام بھی ایسا کر سکتے ہیں۔“
(روزنامہ خبریں مورخہ ١٢/نومبر ١٩٩٢ء)
مولانا ضیاء القاسمی چیئرمین سپریم کونسل سپاہ صحابہ
”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت قادیانیوں کے اشارے پر ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسیحیوں کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو کیوں خوش کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک میں کہیں اقلیتوں کو اتنے حقوق حاصل نہیں جتنے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل ہیں۔
١٥
اب وہ اس کی نظریاتی سرحدوں کو پاش پاش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہ ہوں۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٤ نومبر ١٩٩٢ء)
مطیع رسول سعیدی، انجمن سپاہ مصطفیٰ پاکستان
”حکومت اقلیتوں کے بلاجواز واویلا سے متاثر ہونے یا دباؤ میں آنے کی بجائے اس فیصلہ پر عملدرآمد میں تاخیر نہ کرے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ٤ نومبر ١٩٩٢ء)
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج پر قانون کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔ اس پر ہمیں اتفاق ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین اور مولانا سجاد حیدر بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔“
(روزنامہ نوائے وقت پنڈی مورخہ ٢٩ اکتوبر ١٩٩٢ء)
پیر مفتی عبدالرزاق قدوسی قائد عالمی تحریک دعوت اخلاق پاکستان
”مذہب کے خانہ کے اندراج سے اقلیتوں کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔ نظریہ پاکستان کی تکمیل ہوگی۔ اسلامی تشخص ہماری پہچان ہے۔ اسے کبھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ٣٠ اکتوبر ١٩٩٢ء)
”نفاذ شریعت کمیٹی کا اجلاس مولانا عبدالستار خان نیازی کی صدارت میں اسلام آباد منعقد ہوا۔ ریٹائرڈ جسٹس گل محمد خان سمیت تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس نے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کو ضروری قرار دیا۔“
(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ یکم نومبر ١٩٩٢ء)
”پروفیسر خورشید احمد سینیٹر، سینیٹر سعید قادر نے سینٹ آف پاکستان کے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اندراج کیا جائے۔ جب پاسپورٹ میں خانہ مذہب موجود ہے اور شناختی کارڈ کے فارموں میں بھی مذہب کا کالم موجود ہے تو کارڈ میں اندراج سے ہچکچاہٹ کیوں؟“
(روزنامہ نوائے وقت پنڈی مورخہ ٧ جولائی ١٩٩٢ء)
میاں احمد قادری، سماجی راہنما
”محترمہ بے نظیر کا اس معقول امر سے انحراف اسلام سے بے خبری کی علامت ہے۔
١٦
محترمہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ فیصلہ ان کے فیصلہ کی تکمیل اور ضرورت ہے۔ ان کی چند بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔“
تحریک تحفظ حرمین شریفین پاکستان
”تحریک تحفظ حرمین شریفین پاک تخریب کاری اور جاسوسی جیسے خطرناک جرا شخص میں اپنے مذہب کے اظہار کی جرات ہیں۔“
مولانا سید امیر حسین گیلانی امیر جمع
”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ تمام اقلیتیں دل آزاری نہ ہوگی۔ بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ
مولانا زاہد الراشدی
”قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم ق رکھا ہے اور ہر سطح پر اپنے آپ کو مسلمان ظا ناگزیر ہو گیا کہ ان کی جداگانہ حیثیت کا قانو میں عقیدہ ختم نبوت پر مشتمل حلف نامہ شامل کرا سکے۔ لیکن قادیانیوں کی طرف سے اپنے جداگانہ بنیادوں پر الیکشن کرانے اور مسلمانو فیصلہ ہوا تو قادیانیوں نے بطور غیر مسلم اپنے بھی وہ قائم ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قادیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اس رو قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا۔ ج مذہب کے خانہ کا اضافہ کر کے شناختی کارڈ
محترمہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ فیصلہ ان کے باپ کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلہ کی تکمیل اور ضرورت ہے۔ ان کی چند ماہ سے منفی سیاست کا مقصد آصف زرداری کے بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔“
(روزنامہ جرأت راولپنڈی مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٩٢ء)
تحریک تحفظ حرمین شریفین پاکستان
”تحریک تحفظ حرمین شریفین پاکستان کے امیر نے کہا کہ اس فیصلہ پر عمل درآمد سے تخریب کاری اور جاسوسی جیسے خطرناک جرائم کی زبردست حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص میں اپنے مذہب کے اظہار کی جرأت ہونی چاہئے۔ مذہب کو چھپانے والے منافق ہوتے ہیں۔“
(جنگ لاہور مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٩٢ء)
مولانا سید امیر حسین گیلانی امیر جمعیت علمائے اسلام پنجاب
”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ سے قادیانی لابی متاثر ہوگی۔ باقی اقلیتیں ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ تمام اقلیتیں اپنا تشخص اور شناخت رکھتی ہیں۔ اس سے ان کی دل آزاری نہ ہوگی۔ بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔ اس پر احتجاج قادیانی سازش ہے۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢؍ نومبر ١٩٩٢ء)
مولانا زاہد الراشدی
”قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور ہر سطح پر اپنے آپ کو مسلمان کے روپ میں پیش کرنے کی روش پر قائم ہیں۔ اس لئے یہ ناگزیر ہو گیا کہ ان کی جداگانہ حیثیت کا قانونی اظہار کیا جائے۔ اسی وجہ سے شناختی کارڈ کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت پر مشتمل حلف نامہ شامل کیا گیا۔ تا کہ کوئی قادیانی خود کو بطور مسلمان رجسٹرڈ نہ کرا سکے۔ لیکن قادیانیوں کی طرف سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی ضد قائم رہی۔ حتیٰ کہ جداگانہ بنیادوں پر الیکشن کرانے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ووٹ الگ الگ درج کرنے کا فیصلہ ہوا تو قادیانیوں نے بطور غیر مسلم اپنے ووٹ درج کرانے سے انکار کر دیا اور اس انکار پر آج بھی وہ قائم ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں اور ہر ممکن طریقہ سے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اس روش کے باعث بہت سے قانونی تقاضوں کے لئے قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا۔ جس کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کر کے شناختی کارڈ فارم میں موجود حلف نامہ کی بنیاد پر ہر شہری کی مذہبی
١٧
حیثیت کا اظہار کر دیا جائے تا کہ کوئی شخص اس بارہ میں اشتباہ و دھوکہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔“
(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ٢٨ جنوری ١٩٩٢ء)
مسٹر حمزہ ممبر قومی اسمبلی و چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ”شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ کے خلاف مسیحی اقلیت کا احتجاج بلا جواز ہے۔ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں کی بیرون ملک سازشوں کے پیش نظر رکھا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کس منہ سے قادیانیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ جبکہ اس کے باپ نے ١٩٧٤ء میں خود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٩٢ء)
شہباز شریف ممبر قومی اسمبلی ”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسے کسی صورت میں واپس نہیں لیا جائے گا۔“
(روزنامہ جنگ مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٩٢ء)
حافظ زبیر احمد ظہیر ، سیکرٹری جنرل مرکزی جماعت اہل حدیث ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ حرمین شریفین کا لازمی تقاضا اور دوقومی نظریہ کی تکمیل ہے۔ اگر شناختی کارڈ میں یہ خانہ موجود نہ ہو تو قادیانیوں کے حرمین شریف جانے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٩ نومبر ١٩٩٢ء)
ڈاکٹر افضل اعجاز ایم پی اے (پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی ، پنجاب اسمبلی ) ”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اس سے بیرون ملک یا حج پر جانے والے پاکستانیوں میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح ہو جائے گا۔ دوسرے چونکہ ہمارے ہاں زندگی کے سارے امور شناختی کارڈ سے ہی طے ہوتے ہیں۔ پاسپورٹ، ڈومیسائل سمیت تمام دستاویزات کی تیاری میں شناختی کارڈ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ پر جہاں نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور پتے کا اندراج ہوتا ہے۔ وہاں مذہب کے اندراج سے کیا قیامت آجائے گی؟ مذہب کو چھپانے کی کوئی وجہ تو ہے۔ آخر ......؟ مذہب کو تو اعتماد سے ڈیکلیئر کرنا چاہئے ۔ مذہب چھپانے والوں کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ انہیں اپنے مذہب پر کامل یقین اور اعتماد نہیں ہے۔“
(روزنامہ جسارت مورخہ ٢١ نومبر ١٩٩٢ء)
نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافے کا فیصلہ شرعی اور آئینی طور پر بالکل
١٨
درست ہے۔ یہ جمہوریت اور انسانی حقوق دانشوروں اور اقلیتی رہنماؤں کی طرف سے ہیں۔ انہیں قادیانیوں کے ہاتھوں میں کھلونا
غازی صاحب کے تاثرات )
احمد علی قصوری مرکزی راہنما پاکستان ”مذہب کو چھپانا منافقت ہے محسوس نہیں کرنی چاہئے ۔مسلمان جن ملکوں چھپاتے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں
حاجی عبدالمجید رحمانی جائنٹ سیکرٹری ”جن لوگوں کو اپنا مذہب بتاتے شناختی کارڈ میں خانہ مذہب مستحسن فیصلہ ہے
جاوید احمد غامدی ”مذہب انسان کی سب سے ب عقیدے کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمانا کا مذہب ،اگر وہ اس پر ایمان رکھتا ہے تو باعث لوگوں کے لئے باعث شرف ہے اور یہ بالکل اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ فساد پھیلانا چاہتے
سابق جسٹس گل محمد خان یہ ایک مستحسن قدم ہے کہ حکومت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف نہایت عاقلانہ ہے ب بھی ہے۔ کچھ آزاد خیال لوگوں نے اخبارات ناک بات ہے۔ کیا یہ فخر کی بات ہے یا شرمندگی اور وہ ان تمام حقوق کے لئے چارہ جوئی کر سکتے
درست ہے۔ یہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی راہ میں اچھی پیش رفت ہے۔ مختلف آزاد خیال دانشوروں اور اقلیتی رہنماؤں کی طرف سے کئے گئے اعتراضات بالکل بے بنیاد اور کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ انہیں قادیانیوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننا چاہئے ۔“ (راقم کے نام جناب نذیر احمد غازی صاحب کے تاثرات)
احمد علی قصوری مرکزی راہنما پاکستان عوامی تحریک
”مذہب کو چھپانا منافقت ہے اور ہمیں اپنا مذہب ظاہر کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ مسلمان جن ملکوں میں اقلیت میں ہیں۔ وہاں بھی اپنے مذہب کو نہیں چھپاتے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ہے۔“
(روزنامہ پاکستان مورخہ ١١/نومبر ١٩٩٢ء)
حاجی عبدالمجید رحمانی جائنٹ سیکرٹری تحریک تکمیل پاکستان
”جن لوگوں کو اپنا مذہب بتاتے ہوئے شرم آتی ہے وہ اپنا مذہب تبدیل کر لیں۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب مستحسن فیصلہ ہے۔“
جاوید احمد غامدی
”مذہب انسان کی سب سے بڑی شناخت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو اپنے عقیدے کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمانا نہیں چاہئے۔ ہر مسلمان اور غیر مسلمان کے لئے اس کا مذہب، اگر وہ اس پر ایمان رکھتا ہے تو باعث شرف ہے۔ یوں شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج لوگوں کے لئے باعث شرف ہے اور یہ بالکل صحیح اقدام ہے۔ لوگوں کو اس پر ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔“
(ہفت روزہ زندگی مورخہ ٧/نومبر ١٩٩٢ء)
سابق جسٹس گل محمد خان
یہ ایک مستحسن قدم ہے کہ حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف نہایت عاقلانہ ہے۔ بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے عین مطابق بھی ہے۔ کچھ آزاد خیال لوگوں نے اخبارات میں اس اقدام کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ جو افسوس ناک بات ہے۔ کیا یہ فخر کی بات ہے یا شرمندگی کی کہ آدمی کا مذہب اس کے شناختی کارڈ میں لکھا ہوا ہو اور وہ ان تمام حقوق کے لئے چارہ جوئی کر سکتا ہو۔ جو دستور میں اسے دیئے گئے ہیں۔ میں یہ بات
١٩
بالکل نہیں سمجھ سکا کہ شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کے اضافے سے کوئی آدمی دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری قرار پاسکتا ہے۔ کیا مذہب کسی آدمی کے لئے ندامت کی بات ہے۔ بہرحال اگر کوئی آدمی اپنے مذہب پر شرمندگی محسوس کرتا ہے تو دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ خدا اس پر رحم فرمائے۔
سب کو معلوم ہے کہ اب پاسپورٹ، صرف شناختی کارڈ کی بناء پر جاری کئے جاتے ہیں۔ یہی پاسپورٹ، مکہ مکرمہ حج پر جانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ سورہ التوبہ آیت نمبر ٢٨ میں کہا گیا ہے۔ ”اے ایمان والو! بت پرست ناپاک ہیں۔ اس سال کے ختم ہونے کے بعد، ان کو مسجد حرام کے پاس نہ جانے دینا، اگر تمہیں غربت کا خطرہ ہے تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنی کرم نوازی سے تمہیں مالا مال کردے گا۔“
اس حکم کی تعمیل میں مکہ کے قریب ایک چیک پوسٹ بنائی گئی ہے۔ جہاں سعودی حکومت خیال رکھتی ہے کہ کوئی غیر مسلم اس مقدس شہر میں داخل نہ ہونے پائے۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ ہوگا تو یہ عین ممکن ہے کہ غیر مسلمان مسلمانوں کے سے نام رکھ کر پاسپورٹ بنوالیں اور اس مقدس شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجائیں۔ اس لئے تمام مسلمان ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے شناختی کارڈ بنائیں جن میں مذہب کا اندراج ہو تاکہ اس خدائی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوسکے۔
(ہفت روزہ زندگی مورخہ ٧ نومبر ١٩٩٢ء)
انجمن طالبات اسلام
”اسلام مذہبی امتیاز کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت نے مذہبی خانہ کا اندراج کر کے پاکستان کو قادیانی سٹیٹ بننے سے بچالیا ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ کے اندراج کی مخالفت کرنے والے قادیانی ایجنٹ ہیں۔ جن سے پوری قوم کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ احتجاجی تحریکوں کی دھمکیاں دینے والے اسلام دشمن ہیں۔ ویمن ایکشن فورم نے کسی قسم کا احتجاج کیا تو انجمن طالبات اسلام قادیانی نواز خواتین کا مقابلہ کرے گی۔“
(روزنامہ جنگ مورخہ ٢٩ اکتوبر ١٩٩٢ء)
”جمعیت طلباء اسلام صوبہ سندھ کے صدر عبدالرزاق کھوکھر، نائب صدر گل انقلابی، ڈاکٹر سکندر سومرو، انیق احمد سومرو، یونس سولنگی نے مشترکہ بیان میں شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج کی حمایت کی۔“
(جنگ کراچی مورخہ یکم فروری ١٩٩٢ء)
”گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام حکیم عبدالرحمن، حافظ محمد یوسف، حافظ محمد ثاقب، علامہ محمد احمد، ڈاکٹر غلام محمد، علامہ خالد حسین مجددی، مولانا فقیر الاسلام، صاحبزادہ محمد اشفاق نے کہا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قانونی تقاضوں سمیت اقلیتوں کا تحفظ فراہم کرتا
٢٠
ہے۔ اس کے خلاف بیان بازی اسلام دشمنوں کا شاخسانہ ہے اور قادیانی سازش ہے۔ شناختی کارڈ فارموں، پاسپورٹ، ووٹرلسٹوں میں خانہ مذہب موجود ہے۔ اس سے اقلیتوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے تو شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج سے کیسے متاثر ہوں گے؟
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢١ اکتوبر ١٩٩٢ء)
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، سپاہ مصطفیٰ، ادارہ منہاج القرآن کے رہنماؤں نے مولانا نذیر احمد کی صدارت میں ربوہ میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کے فیصلہ پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کی مخالفت کو قادیانی اشارہ پر کام کرنے والوں کا شاخسانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی اور دیگر اقلیتوں کو خوش ہونا چاہئے کہ وہ آئندہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے اپنے عقیدہ کے نمائندہ ممبران کو اسمبلی میں بھجوا سکیں گے۔
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢٨ اکتوبر ١٩٩٢ء)
”علمائے ملتان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وفاق المدارس کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، قاری نور الحق ایڈووکیٹ، مفتی عبدالقوی، مولانا عبدالمجید ندیم، جمعیت علماء اسلام کے شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود خود کو غیر قانونی طور پر مسلمان ظاہر کر کے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس لئے شناختی کارڈ میں مسلم و غیر مسلم کی تمیز کی جائے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ١٤ فروری ١٩٩٢ء)
”مجلس احرار اسلام کے مولانا سید عطاء المہیمن شاہ نے کہا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب آئینی تقاضا ہے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ١٥ فروری ١٩٩٢ء)
مرکزی انجمن غلامان مصطفیٰ پاکستان
”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اندراج مستحسن فیصلہ ہے۔ اسے ابتداء سے نافذ ہونا چاہئے تھا۔ مگر دیر آید درست آید۔ اب اس پر تاخیر نہ کریں۔ اس کی مخالفت برائے مخالفت کرنے والے قادیانی ایجنٹ ہیں۔“
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ یکم نومبر ١٩٩٢ء)
جمعیت علماء اسلام پاکستان
”جمعیت علماء اسلام پاکستان نے اپنے پارلیمانی اور مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد منظور کی کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب درج کیا جائے۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ١٠ جنوری ١٩٩٢ء)
٢١
دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس
”اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا قاضی حسین احمد کی دعوت پر ان کی صدارت میں دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، مولانا گوہر الرحمن، اتحاد العلماء کے مولانا فتح محمد، مولانا عبدالمالک خان، جمعیت علماء پاکستان کے سینیٹر پیر برکات احمد، انجینئر سلیم اللہ خان، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا قاضی اسرار الحق، صاحبزادہ عبدالرحمن اشرفی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ شناختی کارڈ میں مسلم وغیر مسلم کے تشخص کے لئے ضروری ہے کہ مذہب کا خانہ درج کیا جائے۔“
(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ١٢/ جنوری ١٩٩٢ء)
عالمی متحدہ مجلس خلافت
”تیرہ مختلف دینی وسیاسی جماعتوں کے مشترکہ الائنس عالمی متحدہ خلافت کے راہنماؤں، سابق وفاقی وزیر مظہر ندوی، مفتی غلام سرور قادری، پیر سیف اللہ خالد، ڈاکٹر جہانگیر شجاع، میجر رشید، میاں عبدالرحمن، مولانا عبدالرحمن مدنی، علامہ ایاز ظہیر کاشمیری، رحمت علی چوہدری، خورشید احمد گنگوہی نے مشترکہ بیان میں نئے شناختی کارڈ پر مذہب کے خانہ کا اضافہ کرنے پر حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی درست اور مستحسن اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کے فارموں پر مذہب کا خانہ موجود ہے تو شناختی کارڈ میں بھی مذہب کے اندراج سے اقلیتوں کے حقوق متاثر ہونے کا پروپیگنڈہ، قادیانی لابی کی شرارت ہے۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٣٠/ اکتوبر ١٩٩٢ء)
١٣ دینی جماعتوں کا اجلاس
”شیرانوالہ لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں جمعیت علماء پاکستان، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، پاکستان عوامی تحریک، جمعیت اہل حدیث، خاکسار تحریک، جمعیت اشاعت التوحید، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندگان، جنرل ایم ایچ انصاری، چوہدری اسلام سلیمی، حافظ محمد ادریس، مولانا فتح محمد، سید امیر حسین گیلانی، صاحبزادہ امجد خان، حافظ زبیر احمد زبیر، پروفیسر ساجد میر، عبدالقدیر خاموش، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سمیت ایک سو نمائندگان نے شرکت کی۔ میاں محمد اجمل قادری نے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقلیتی نمائندوں کو ملیں گے۔ مگر وہ بھی حقائق کا سامنا کریں کہ آخر کسی کو اپنے مذہب کے اظہار
٢٢
پر تامل کیوں ہے؟ حکومت نے فیصلہ بدلا تو ہم سٹریٹ پاور استعمال کریں گے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٩٢ء)
آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
١٨ دینی و سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ جس نے ١٩٥٣ء، ١٩٧٤ء اور ١٩٨٤ء کی تحریک ہائے ختم نبوت کی قیادت کی۔ اس وقت اس کے سربراہ مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ہیں۔ یہ پلیٹ فارم شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کی ایزاداری کا داعی تھا۔ اس کی کاوشیں ملاحظہ ہوں۔
- ١...... ”٣ فروری کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں ١٨ دینی جماعتوں
کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا عبدالقادر روپڑی، ڈاکٹر اسرار احمد، میاں محمد احمد قادری، جنرل محمد حسین انصاری، زاہد الراشدی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، حاجی بلند اختر، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل، مولانا امجد خان، مولانا فتح محمد، مولانا عبدالمالک، ملک عبدالرؤف، علامہ علی غضنفر کراروی، ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مولانا عبدالرحمٰن اشرفی، صاحبزادہ فیض القادری نے شرکت کی اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کے لئے ١٤؍ فروری کو ملک بھر میں یومِ مطالبات منانے کا فیصلہ کیا ۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ١٥؍ فروری ١٩٩٢ء)
- ٢...... ”١٤؍ فروری کو ملک بھر میں یوم مطالبات منایا گیا۔“
- ٣...... ”٢١؍ مئی کو اسلام آباد کیپٹل ہوٹل میں ملک کی ١٨ دینی جماعتوں کا
مشترکہ کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کی۔ قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق، قومی اسمبلی کے ارکان نذیر احمد ورک، جناب گل حمید روکھڑی، سینیٹر جہانگیر شاہ، مولانا زاہد الراشدی، سابق ایم۔ این۔ اے مولانا عبدالحق، ملک محمد اسلم کچھویلا، مولانا محمد اجمل قادری، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اسحاق نظیری، قاضی اسرار الحق، مولانا عبدالعزیز حنیف، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا عبدالمالک خان، میجر محمد امین منہاس اور دیگر مقررین نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے مطالبہ کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ انگریزوں کے پیدا کردہ فتنہ
٢٣
قادیانیت کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں آئین کا پابند بنایا جائے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ٢٢ مئی ١٩٩٢ء)
- .......٤ ’’٢٩ مئی جمعہ کو پورے ملک میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پورے
ملک میں شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کے لئے یوم مطالبہ منایا گیا۔‘‘
- .......٥ ’’لاہور میں ٧ ستمبر کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم
کی زیر صدارت تمام جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ جس میں شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے خانہ کو دو قومی نظریہ کا ناگزیر تقاضا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی منطقی ضرورت قرار دیا گیا اور ١٤ اکتوبر کو اسلام آباد میں مظاہرہ کا اعلان کیا۔‘‘
(روزنامہ پاکستان مورخہ ٨ ستمبر ١٩٩٢ء)
- .......٦ ’’١٤ اکتوبر کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر
اہتمام ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ صدارت امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ جب کہ مقررین میں مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا اسحاق، مولانا سمیع الحق، مولانا اعظم طارق، مولانا چراغ الدین شاہ، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا عبدالمالک، مولانا منظور چنیوٹی، مولانا نذیر احمد فاروقی، قاری محمد اسد اللہ عباسی، مولانا عبدالرؤف الازہری، مقصود حسین شاہ گردیزی اور دیگر علماء کرام شامل تھے۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے میں کسی بھی قسم کا تساہل یا تاخیری حربہ استعمال کر کے اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کرے۔ یہ آئینی، قومی، متفقہ مسئلہ ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانا حکومت کا اولین فرض ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩٩٢ء)
جناب ارشاد احمد عارف معروف صحافی
’’ملک میں اس وقت بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ جو اپنے آپ کو لادین یا لامذہب کہلانا پسند کریں۔ جو معدودے چند سرپھرے ایسی جرات کر بھی لیتے ہیں وہ شادی بیاہ اور دیگر قانونی و سماجی تقاضوں کی تکمیل کے وقت اپنے اس شوق سے باز آجاتے ہیں اور کسی نہ کسی مذہب یا مسلک سے وابستہ ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی معقول شخص کو اگر وہ منافق یا مفاد پرست نہیں، اپنا مذہب بتاتے ہوئے اور اپنے قومی شناختی کارڈ
٢٣
میں اس کا اندراج کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں ملازمت کا حصول ہو یا تعلیمی اداروں میں داخلے کا مسئلہ، مذہب یا عقیدے کی بناء پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا۔ ملک کے وزیر اعظم اور صدر کے علاوہ ہر عہدے اور منصب پر ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی عقیدے اور مذہب سے ہو فائز ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اس عہدے کی شرائط از قسم تعلیم، تجربہ اور اہلیت پوری کرتا ہو۔ پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر جناب اے آر کارنیلس ایسے فاضل شخص فائز رہ چکے ہیں جو غیر مسلم تھے۔ ایک غیر مسلم فضائیہ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ وزارتوں، مشاورتوں اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کی تعداد تو اتنی زیادہ ہے کہ یہ مضمون اعداد شمار کے اندراج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
دنیا کے ہر مہذب، معقول اور قاعدے قانون کے پابند معاشرے میں اقلیتوں کو اکثریت کے عقائد و افکار، رسوم و رواج اور جذبات و احساسات کا احترام کرنا پڑتا ہے اور اکثریت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اقلیت کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی حفاظت کا ذمہ لے۔ ہٹ دھرمی اور غلط مبحث کی بات اور ہے۔ ورنہ کوئی بھی ملک، کسی بھی اقلیت کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ اکثریت کے جذبات و احساسات کو مجروح کرنے کی پالیسی پر مستقلاً اور اصرار کے ساتھ عمل پیرا رہے اور اس کا ہر قدم اکثریت کے عقائد و افکار کی تغلیط اور مذہبی شعائر کی توہین کا آئینہ دار ہو۔ ملک میں شناختی کارڈ کے اجراء کا فیصلہ سابق وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔ اس وقت کے اخبارات کا مطالعہ کیا جائے تو موجودہ دور میں جو لوگ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت سرے سے شناختی کارڈ کے اجراء کے خلاف تھے اور اسے بنیادی حقوق کی منافی قرار دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جناب ولی خان اور اس وقت حزب مخالف کے دیگر سیاستدانوں کے بیانات اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ ویسے بھی ملک میں ایسا قانون ابھی تک نہیں بنا۔ جس کی سیاستدانوں، وکلاء، دانشوروں اور دیگر طبقات کی طرف سے مخالفت نہ کی گئی ہو۔ جن لوگوں کے پاس دو قومی نظریہ، پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کا جواز موجود تھا۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کو خوش دلی سے برداشت کر لیں گے اور حکومت کے اقدام کی خواہ وہ کتنی بھی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو مخالفت نہیں کریں گے۔ محض خام خیالی ہے۔
عامۃ المسلمین کی طرف سے اس کا مطالبہ ایک خاص پس منظر میں کیا جا رہا تھا۔
٢٥
پاکستان میں قادیانی واحد اقلیت ہے جس نے آج تک اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کیا اور وہ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے صریح انحراف کے باوجود ان تمام حقوق و مراعات سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ جو ایک مسلمان کا حق ہیں۔ مسلمانوں کو قادیانیوں کے دوسری اقلیتوں کی طرح ملک میں رہنے، شہری حقوق سے مستفید ہونے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملک وقوم کی خدمت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں اپنے حلقے میں اپنی رسومات ادا کرنے اور اپنے عقائد کا پرچار کرنے کی بھی آزادی ہے۔ مگر کوئی بھی شخص یہ منطق تسلیم نہیں کرسکتا کہ وہ مسلم امہ کے اجتماعی اور قومی پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کو رد کر کے اپنے آپ کو اقلیت ماننے سے انکار کر دیں۔ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کریں اور اقلیت ہونے کے باوجود اکثریت کی دل آزاری کا سبب بنیں۔ کیونکہ اگر اس امر کی اجازت دے دی جائے تو مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر جو نقصانات برداشت کرنے ہوں گے اس سے بھی قطع نظر، اصل مسئلہ بقول حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ یہ ہے کہ جب اسلام اکناف واطراف میں پھیلے گا اور نئے غیر مسلم مسلمان ہوں گے تو یہ تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا کہ اصل اسلام کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی قادیانی کے ہاتھ پر ”اسلام“ قبول کرے گا وہ خود تو اپنے آپ کو ”مسلمان“ ہی کہے گا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی یا مصلح مانے گا۔ اس طرح عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے آہستہ آہستہ خارج ہو جائے گا اور اسلام کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس بناء پر حضرت علامہ نے جواہر لال نہرو کے ساتھ اپنی مشہور زمانہ خط و کتابت میں قادیانیوں کے ”گردن زدنی“ غیر مسلم ہونے پر اصرار کیا تھا۔ حالانکہ حضرت علامہ نہ تو کٹھ ملا تھے اور نہ تنگ نظر دقیانوسی مسلمان۔ بلکہ ایک روشن خیال فلاسفر اور مسلمان تھے۔ لیکن عشق رسول کی دولت اور خداداد بصیرت کی وجہ سے ان تمام فتنوں کا ادراک رکھتے تھے۔ جو عقیدہ ختم نبوت کمزور ہونے کی صورت میں مسلمانوں اور اسلام کا گھیرا تنگ کر سکتے تھے۔
عام انتخابات میں شناختی کارڈ دکھانے کی پابندی، شناختی کارڈ بنوانے کے لئے مطلوبہ فارموں میں حلفی بیان اور پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کی تیاری میں شناختی کارڈ کی ضرورت کے پیش نظر یہ ایک قانونی تقاضہ ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اندراج ہو، تا کہ بعد میں کسی مرحلے پر بھی گڑبڑ کا امکان نہ رہے۔ جب پاکستان بننے سے اب تک پاسپورٹ میں مذہب کا اندراج ہورہا ہے۔ حالانکہ وہ بھی کسی شہری کی شناختی دستاویز ہے اور اس پر اب تک کسی ٢٦
نے اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح آئین میں ١٩٧٤ء میں کی جانے والی ترمیم کے تحت شناختی کارڈ بنوانے کے لئے مطلوبہ فارموں میں یہ بیان حلفی موجود ہے اور ہر شہری کو یہ بیان حلفی داخل کرنا پڑتا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے تو ختم نبوت کے عقیدے کا اقرار کرے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور کاذب سمجھتے ہوئے مصلح یا نبی کے طور پر نہ ماننے کا اعلان کرے تو اس بیان حلفی کی بناء پر تیار ہونے والے کارڈ میں اپنے مذہب کا اعلان کرنے میں کیا قباحت ہے؟ کسی مسیحی، پارسی یا زرتشتی کو اپنے مذہب کا اعلان کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ جب کہ بنیادی شہری حقوق کے ضمن میں اس کا مذہب کہیں بھی آڑے نہیں آتا۔ سیاست، قانون اور صحافت کے شعبے میں موجود قادیانی حضرات کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ترقی پسند حضرات اور بعض اقلیتی رہنماؤں کو چکر دے کر شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو ایک مسئلہ بنادیا ہے۔ حالانکہ سرے سے یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اب تک کسی بھی حلقے کی طرف سے متعین انداز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج سے کسی شہری کے کون سے حقوق غصب ہوں گے یا کسی اقلیت کو کیا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے؟ ملک میں کوئی پارسی، ہندو، مسیحی یا زرتشتی اپنا مذہب چھپانا پسند نہیں کرتا۔“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ٢٨/اکتوبر ١٩٩٢ء)
سید ضمیر حسین جعفری کالم نگار روزنامہ خبریں
”شناختی کارڈ سے مذہب کا خانہ حذف کر دیا جائے تو اس سے دو قومی نظریہ پر زد پڑے گی۔ جو مطالبہ پاکستان کی بنیاد تھا اور بھارت کے سیکولر تصور کو تقویت ملے گی۔ جو مطالبہ پاکستان کی نفی کرتا ہے۔“
(روزنامہ خبریں اسلام آباد مورخہ ٣٠/اکتوبر ١٩٩٢ء)
ارشاد احمد حقانی معروف صحافی
”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے کی کوشش اصلاً اس لئے کی جارہی کہ قادیانیوں کے شناختی کارڈ میں انہیں غیر مسلم ظاہر کیا جاسکے، حرف تمنا۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٥ نومبر ١٩٩٢ء)
جناب مجیب الرحمن شامی
”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا جو مطالبہ مذہبی حلقوں کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ اس کا پس منظر یہی ہے کہ وہ قادیانی اقلیت کا نقاب اتارنے کے لئے درپے ہیں۔ اس پر عیسائی بھائیوں کی چیخ و پکار سمجھ سے بالاتر ہے۔“
(جلسہ عام روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٣٠/اکتوبر ١٩٩٢ء)
”پاکستان نیشنل کرسچن لیگ کے صدر جیمز صوبے خان، سینئر نائب صدر سیموئیل،
٢٧
نائب صدر چوہدری عمانوائیل گل اور لاہور کے صدر امین مسیح سونی نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مردم شماری میں بڑی مدد ملے گی۔ کیونکہ مسیحی عوام پاکستان میں سب سے بڑی اقلیت ہے۔ جس کی آج تک صحیح مردم شماری نہیں ہوسکی۔ ان رہنماؤں نے حلقہ لاہور کے بشپ الیگزینڈر ملک اور ریٹائرڈ کرنل کے ایم رائے سیموئیل گل کی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت میں کی گئی پریس کانفرنس کی مذمت کی ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٩٩٢ء)
بشپ انوینٹ اندھاوا
”قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ حکومت کی انصاف پسندی ہے اور اس ضمن میں بشپ الیگزینڈر جان کا بیان حقیقت پسندی سے انحراف ہے۔ پاکستان کے مسیحی اپنا مذہب بتانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔“
(روزنامہ وفاق راولپنڈی مورخہ ٢٢ اکتوبر ١٩٩٢ء)
جے سالک
”اقلیتی نمائندہ قومی اسمبلی جے سالک نے اخبارات میں اشتہار شائع کیا۔ اس کے مونوگرام میں مسلم و غیر مسلم کی تمیز تشخص موجود ہے۔ اشتہار کی سرخی ہے کہ علماء و مشائخ معاشرے میں روشنی کا مینار ہیں۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٧ نومبر ١٩٩٢ء)
دیگر مسیحی رہنما
”گرجاکھ گوجرانوالہ کے مسیحی مذہبی رہنماؤں اور سرگودھا کے دیگر مسیحی رہنماؤں نے شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کو اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت قرار دیا اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو قادیانیوں کا ایجنٹ ٹھہرایا۔“
(قومی و مقامی اخبارات)
مستان سنگھ، سکھ یاتری لیڈر
”پاکستان میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ نہایت مستحسن قدم ہے۔ اس سے صرف ملک دشمن عناصر کو خطرہ ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہے کہ سکھ مذہب سے تعلق اور یقین رکھتے ہوئے اپنے شناختی کارڈ میں بھی (پاکستانی) سکھ لکھیں۔ ہمیں پہلے ہی پاکستان میں بطور اقلیت برابر کے حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔ اس سے مزید تقویت ہوگی اور مذہبی شناخت میں آسانی ہوگی۔ کوئی پاکستانی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر وہ خلوص اور یقین سے مذہب پر قائم ہے تو اسے اپنے مذہب کے اظہار پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ خدشہ تو صرف ان ملک دشمن عناصر مثلاً
٢٨
جاسوس، تخریب کار یا روپ بہروپ کا لبادہ او مخلص نہیں ہیں اور اپنی شناخت آسانی سے ن
قومی اخبارات و جرائد کے اداریے ام
”صدر غلام اسحاق خان نے قیادت میں ملاقات کرنے والے عالمی مجلس کہ قومی تشخص کے ساتھ اسلامی تشخص کو اپن میں مذہب کا خانہ رکھنے کے لئے حکومت مملکت ہے اور کسی بھی نظریاتی ملک میں ا جغرافیائی سرحدوں کی مانند ہی اہم سمجھا جات وفد نے صدر مملکت کی خدمت میں عوام ک تشخص کی حفاظت و صیانت کے لئے شناخ پر ان میں مذہب کے ایک الگ خانے مسلموں کی علیحدہ نمائندگی کا حق تسلیم ک ایک لازمی تقاضا ہے۔ اس سے مختلف ( حیثیت کے بارے میں کوئی الجھن پیدا ن قباحتوں سے بچا جاسکے گا۔ توقع کی جانی چاہ
قومی شناختی کارڈ ...... مذہب کے
”مذہبی امور کے وفاقی وزیر مو ایک حالیہ اجلاس میں قومی شناختی کارڈ میں ہے۔ جس کے تحت ہر شناختی کارڈ میں دھ اس سے پیشتر جس قدر شناختی کارڈ جاری جائیں گے۔ یہ فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم ایک عرصہ سے کئے جانے والے مسلسل اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی رو
جاسوس، تخریب کار یا روپ بہروپ کا لبادہ اوڑھے ہوئے افراد کا ہے۔ جو اس ملک میں قوم سے مخلص نہیں ہیں اور اپنی شناخت آسانی سے نہیں چاہتے۔“
(روزنامہ جسارت مورخہ ٢١ نومبر ١٩٩٢ء)
قومی اخبارات و جرائد کے اداریے! شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ
”صدر غلام اسحاق خان نے جے یو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سینیٹر حافظ حسین احمد کی قیادت میں ملاقات کرنے والے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے، کہ قومی تشخص کے ساتھ اسلامی تشخص کو اپنانا آئین کی رو سے لازمی ہے اور جلد ہی وہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے کے لئے حکومت کو ہدایات جاری کریں گے۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور کسی بھی نظریاتی ملک میں اس کو وجود میں لانے والی آئیڈیالوجی کا تحفظ اس کی جغرافیائی سرحدوں کی مانند ہی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے صدر مملکت کے خدمت میں عوام کا یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ قومی تشخص کے ساتھ ساتھ مسلم تشخص کی حفاظت وصیانت کے لئے شناختی کارڈوں کے کمپیوٹر کے ذریعے اجراء کے چوتھے مرحلے پر ان میں مذہب کے ایک الگ خانے کا اضافہ کیا جائے۔ جداگانہ انتخابات کے ذریعے غیر مسلموں کی علیحدہ نمائندگی کا حق تسلیم کئے جانے کے بعد شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج اس کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ اس سے مختلف اسلامی ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کی مذہبی حیثیت کے بارے میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی اور اس سلسلہ میں پیدا ہونے والی بہت سی قباحتوں سے بچا جاسکے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صدر کی ہدایت کے بعد اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کا آغاز ہو جائے گا۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ٢٠ فروری ١٩٩٢ء)
قومی شناختی کارڈ ...... مذہب کے خانے کا اضافہ
”مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی کی صدارت میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس میں قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے ایک خانے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ہر شناختی کارڈ میں درخواست دہندہ کو اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑے گا اور اس سے پیشتر جس قدر شناختی کارڈ جاری ہوچکے ہیں۔ ان کی جگہ نئے شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ یہ فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر متعدد دینی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے عرصہ سے کئے جانے والے مسلسل مطالبے کے بعد صوبائی حکومتوں، وزارت مذہبی امور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ
٢٩
چونکہ مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کی فہرستیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اس لئے قومی شناختی کارڈ میں بھی اس کی وضاحت ناگزیر تھی۔ صدر مملکت غلام اسحاق خان نے کچھ عرصہ پیشتر علماء کے ایک وفد کو قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرنے کی یقین دہانی کروادی تھی۔ لیکن مغربی ذہن کی یوروکریسی اس معاملہ کو خواہ مخواہ طول دیتی گئی اور بعض غیر مسلم اقلیتوں نے بھی اس خدشہ کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ اس طرح قومی شناخت کا ذریعہ بننے والا یہ کارڈ ایک مذہبی کارڈ بن کر رہ جائے گا۔ ان حالات میں یہ معاملہ طویل تر ہوتا گیا۔ لیکن اب جب کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے تو حکومت کو اس کے نفاذ اور نئے شناختی کارڈوں کے اجراء کے طریق کار کو آسان تر بنانے کی جدوجہد کرنی چاہئے اور غیر مسلم اقلیتوں کو اس امر کی یقین دہانی کروانی چاہئے کہ اس سے ان کی بنیادی حقوق پر کوئی زد نہیں پڑے گی اور وہ بدستور ان تمام سہولتوں اور آزادیوں سے متمتع ہوتے رہیں گے جو ملک آئین نے ان کو دی ہیں۔ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ بعض مخصوص حلقے اس فیصلہ کے خلاف مغربی ممالک اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو اکسانے کی کوشش کریں۔ اس لئے حکومت کو ایسی کسی سعی کو ناکام بنانے کے لئے بھی ابھی سے تیاری کر لینی چاہئے۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ...... مذہب کے خانے کا مسئلہ
”جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر قومی شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ نہ بنا تو ایسی تحریک چلائینگے کہ کوئی رکن اسمبلی تک نہیں جاسکے گا۔ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ محض ایک شناخت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سے ملک میں موجود مختلف اقلیتوں اور مسلمانوں کی صحیح صحیح تعداد کے معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور یوں مردم شماری کے ایک نہایت اہم جزو کی تکمیل پوری صحت کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ لیکن بعض سیاسی جماعتوں اور اقلیتی حلقوں نے اس پر جو طوفان کھڑا کرنے کی نیو ڈالی ہے۔ اس کا سرے سے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اگر پاسپورٹ میں مذہب کے اندراج سے بنیادی انسانی حقوق پر کوئی زد نہیں پڑتی تو قومی شناختی کارڈ میں اس خانے کے اضافے سے کون سی آفت آجائے گی۔ مشرقی ممالک میں بالعموم آبادی کی اکثریت کسی نہ کسی مذہب سے وابستگی رکھتی ہے اور اپنے اس تعلق پر یہ لوگ فخر کرتے ہیں اور کبھی اسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر اس بات کا اظہار و اعلان انہیں شناختی کارڈ میں بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی چوں چرا نہیں کریں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ
٣٠
بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے التزا ہے اس کے پس پردہ ایک ایسی غیر مسل اس تنازعہ کو ہوا دے رہی ہے۔ بہرحال بنیادی انسانی حقوق کے اتلاف سے ت ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔“
شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ
”حکومت نے قومی شناختی کے تحت ہر شناختی کارڈ میں درخواست کی طرف سے شناختی کارڈ میں مذہب ضمن میں قادیانیوں کے بارے میں ق حوالہ دیا جاتا تھا۔ جس کے منطقی نتیجے ا اندراج ضروری ہو جاتا ہے۔ اس حوالے حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید ہ جانے کی آئینی ترمیم کے حق میں نہیں ب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بھارتی اور حصوں بالخصوص کراچی میں مقیم ہیں۔ آ انتخابات میں شناختی کارڈ دکھانے کی پابن منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضرور کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا جائے۔ دوسرے قابل غور ہے کہ اگر کوئی قادیانی مذہب لئے کیا سزا ہوگی؟“
پاسپورٹ میں بھی مذہب کا خانہ
- ٭...... کسی بھی شخص کو
- ٭...... ایک اقلیتی فرقہ ا
- ٭...... سندھ اسمبلی ب
بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ اس مسئلہ پر جو احتجاج و ہنگامہ خیزی کی جارہی ہے اس کے پس پردہ ایک ایسی غیر مسلم اقلیت کا ہاتھ کام کر رہا ہے جو اپنے مخصوص مقاصد کے لئے اس تنازعہ کو ہوا دے رہی ہے۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اسے بنیادی انسانی حقوق کے اتلاف سے تعبیر کیا جا سکے۔ اس لئے تمام مذہبی اقلیتوں کو اس پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے ۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ١١؍نومبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ
”حکومت نے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ہر شناختی کارڈ میں درخواست دہندہ کا اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑے گا۔ مذہبی حلقوں کی طرف سے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھانے کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس ضمن میں قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم اور ملک میں جدا گانہ انتخابات کے طریق کار کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ جس کے منطقی نتیجے اور تقاضے کے طور پر شناختی کارڈ کے خانے میں مذہب کا اندراج ضروری ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کا فیصلہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ البتہ ان حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید ہوگی جو جدا گانہ انتخاب اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی آئینی ترمیم کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم ملک میں شناختی کارڈ جس آسانی سے بن جاتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بھارتی اور بنگلہ دیشی باشندے یہ شناختی کارڈ بنوا کر ملک کے مختلف حصوں بالخصوص کراچی میں مقیم ہیں۔ اس کے پیش نظر اس فیصلے کی افادیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ انتخابات میں شناختی کارڈ دکھانے کی پابندی بھی اکثر اوقات اٹھالی جاتی ہے۔ اس لئے اس فیصلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک تو عام انتخابات میں ہر ووٹر کے لئے شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا جائے۔ دوسرے جعلی شناختی کارڈوں کا سدباب کیا جائے۔ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی قادیانی مذہب کے خانے میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے تو اس کے لئے کیا سزا ہوگی؟“
(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٩٢ء)
پاسپورٹ میں بھی مذہب کا خانہ موجود ہے۔ شناختی کارڈ پر اعتراض کیوں؟
- کسی بھی شخص کو اپنے مذہب کی شناخت پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
- ایک اقلیتی فرقہ اپنے بے نقاب ہونے کے خوف سے لوگوں کو ورغلا رہا ہے۔
- سندھ اسمبلی اور بے نظیر کی طرف سے مخالفت پر عوامی حلقوں کا اظہار تعجب۔
٣١
”ملک میں بعض عناصر قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ پر احتجاج و اعتراض کر رہے ہیں۔ جب کہ پاسپورٹ جو قومی کارڈ کی طرح بیرون ملک کسی پاکستانی کی قومی شناخت کی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں مذہب کا خانہ موجود ہے اور ہر شخص کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے ”مذہب“ کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ موجود ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ جب سے ملک بنا ہے اس وقت سے یہ خانہ موجود ہے اور ہر اس شخص کو جو ملک سے باہر جانا چاہتا ہے۔ اسے پاسپورٹ میں اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس پر کسی بھی جانب سے اعتراض نہیں کیا گیا۔ جب کہ پاسپورٹ بھی بیرون ملک قومی شناخت کا ذریعہ ہے۔ اس سے ہر شخص کی شہریت اور مذہب کی شناخت کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ اب جب قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا گیا تو اس اعتراض کا کوئی اخلاقی قانونی اور دینی جواز نہیں ہے۔ یہ صرف بعض عناصر کے مفادات کے لئے کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر اس مسئلہ کو سیاسی بنا کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی شخص کی جانب سے اپنے دین کے اعلان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ افراد کو تو یہ فخر ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ اس کا تعلق فلاں مذہب سے ہے اور وہ مذہب ہی اس کی شناخت ہے۔ اس کے اظہار سے انکار نا قابل فہم بھی ہے۔ عوامی حلقوں نے مسیحیوں کی بعض تنظیموں کی جانب سے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ پر اعتراض اور احتجاج کو بلا جواز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک اقلیتی فرقہ کے ایماء پر کیا جا رہا ہے۔ جو بر ملا اپنے مذہب کا اظہار اعلان کرنا نہیں چاہتے۔ یہ اس اقلیتی فرقے کے با اثر لوگوں کی سازش ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو ورغلا کر آگے کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد اور پیپلز پارٹی کی شریک چیئر پرسن بیگم بے نظیر بھٹو کی جانب سے اس بیان پر کہ قومی اسمبلی میں بھی قومی شناختی کارڈ میں اس اضافہ کی ترمیم کو مسترد کر دیا جائے گا، تعجب کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات انہیں زیب نہیں دیتی ہے۔ انہیں اصولوں کو پامال کر کے سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ فرد کی شناخت کی بات ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو اپنی شناخت کا برملا اظہار کرنے سے انکار کرے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ایسا اقلیتی فرقہ موجود ہے جو برملا اپنی شناخت کا اظہار نہیں کرتا اور اسے خوف ہے کہ شناختی کارڈ میں اس خانے کے اضافے کے بعد وہ معاشرہ میں اپنے مذہب کے بارے میں بے نقاب ہو
٣٦
جائیں گے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی اب بھی قوم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متحدہ میں مذہب کے خانے کے اضافے ۔ بنا دیں۔“
رامے صاحب اور مخلوط طرز انتخا
”سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز پا سالک کے منعقد کردہ سیمینار سے خطاب ضروری ہے کہ مخلوط طرز انتخاب اپنایا جا نہ دی جائے۔ رامے صاحب کی سیاس اے روشنی کا منظر پیش کرتا رہا ہے۔ کرتے ہیں۔ اب چونکہ پیپلز پارٹی میں مجبوری ہے۔ لیکن ایک دانشور کے طور پر جو غیر منطقی اور خلاف واقعہ ہو۔ موصوف بنیادوں پر منعقد ہوئے تھے اور مشرقی پا ترین کردار ادا کیا تھا۔ جس کے بعد ملک کا یہ کہنا کس قدر زیادتی ہے کہ مخلوط طرز ہے کہ جس مخلوط طرز انتخاب کا مزہ ہم اٹھا رہا مسئلہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اضا اقلیت کے حقوق سلب ہونے کا نہ تو اند بارے میں سوچا ہے۔ البتہ اقلیتوں کو یہ ح کا احترام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ غی مذہب کا اقرار کرتے ہوئے شرمندہ ہو اپنی جگہ کہ وہ اس طرح نواز شریف حکوم نہیں کر سکتی کہ کل تک یہ پارٹی قادیا
جائیں گے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قوم نے متحد ہو کر اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا تھا۔ اب بھی قوم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر ان کی اس سازش کا مقابلہ کریں اور قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کے خلاف احتجاجی جلسے، جلوس، بھوک ہڑتالوں کو ناکام بنا دیں۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ٩ نومبر ١٩٩٢ء)
رامے صاحب اور مخلوط طرز انتخاب
”سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز پارٹی کے رہنما حنیف رامے نے اقلیتی ممبر قومی اسمبلی جے سالک کے منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ مخلوط طرز انتخاب اپنایا جائے اور رنگ نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی کو دوسرے پر فوقیت نہ دی جائے۔ رامے صاحب کی سیاست کی طرح ان کا علم و دانش بھی ان کے لئے
کا منظر پیش کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ مختلف فلسفے اور افکار و نظریات کی مدافعت کرتے ہیں۔ اب چونکہ پیپلز پارٹی میں ہیں۔ اس لئے حکومت اور موجودہ نظام کی مخالفت ان کی مجبوری ہے۔ لیکن ایک دانشور کے طور پر انہیں بہر حال کوئی ایسی بات کہنے سے گریز ہی کرنا چاہئے جو غیر منطقی اور خلاف واقعہ ہو۔ موصوف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ١٩٧٠ء کے انتخابات مخلوط بنیادوں پر منعقد ہوئے تھے اور مشرقی پاکستان کی ایک اقلیت نے عوامی لیگ کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ جس کے بعد ملک ٹوٹ گیا۔ اس بدیہی حقیقت کی روشنی میں رامے صاحب کا یہ کہنا کس قدر زیادتی ہے کہ مخلوط طرز انتخاب اپنا کر ملک ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس مخلوط طرز انتخاب کا مزہ ہم ١٩٧١ء میں چکھ چکے ہیں۔ اسے دوبارہ اپنانا دانشمندی ہو گا؟ رہا مسئلہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کا تو رامے صاحب بھی جانتے ہیں کہ اس سے کسی اقلیت کے حقوق سلب ہونے کا نہ تو اندیشہ ہے اور نہ پاکستان کی کسی حکومت یا عوام نے اس کے بارے میں سوچا ہے۔ البتہ اقلیتوں کو یہ حقیقت ضرور پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اکثریت کے جذبات کا احترام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ مذہب ویسے بھی فخر کرنے والی چیز ہے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب کا اقرار کرتے ہوئے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ رامے صاحب کی پارٹی کی یہ مجبوری اپنی جگہ کہ وہ اس طرح نواز شریف حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مگر وہ اس سے انکار نہیں کر سکتی کہ کل تک یہ پارٹی قادیانیوں کو اقلیت قرار دلانے کا کریڈٹ لیتی رہی ہے۔ البتہ
٣٣
رائے صاحب بوجوہ ١٩٧٤ء میں بھی تحریک ختم نبوت کے خلاف تھے اور اب بھی شاید اس ترمیم کے حق میں نہ ہوں۔ جو بھٹو صاحب نے اس وقت کی قومی اسمبلی سے آئین میں متفقہ طور پر کرائی تھی اور ملک کے سواد اعظم کے جذبات کی ترجمانی کی تھی۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ١٢ نومبر ١٩٩٢ء)
”سراہے“ (روزنامہ نوائے وقت)
”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع کرنے کے خلاف سندھ اسمبلی نے جو قرارداد منظور کی ہے۔ اس پر بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید نے سندھ اسمبلی کو مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کی یہ قرارداد قائد اعظم کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ وہ تھیوکریسی کے سخت مخالف تھے اور ریاست کے معاملات میں مذہب کی مخالفت پسند نہیں کرتے تھے۔ ہمیں خوشی ہے کہ سوشلزم اگرچہ مر چکا ہے۔ لیکن لینن کے فضل سے بابائے سوشلزم ابھی زندہ ہیں۔ اس لئے گاہے بگاہے وہ سوشلسٹ نظریات کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔ بابائے سوشلزم شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کی بے شک مخالفت کرتے رہیں۔ لیکن وہ قائد اعظم پر یہ الزام تو نہ لگائیں کہ وہ سیاست میں مذہب کے عمل دخل کے خلاف تھے۔ کیونکہ قائد اعظم کا تو نعرہ ہی یہ تھا کہ مسلمان اپنے مذہب کی بنیاد پر غیر مسلموں سے علیحدہ ایک قوم ہیں۔ ہندو انہیں اس لئے فرقہ پرست قرار دیتے تھے کہ وہ سیاست میں مذہب کا نام لیتے تھے۔ ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ برصغیر میں رہنے والے تمام لوگ بلحاظ مذہب وملت ایک ہی قوم ہیں۔ جب کہ قائد اعظم مسلمانوں کے الگ تشخص کی بات کرتے تھے۔ ہندوؤں کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمان واقعی ایک الگ قوم ہیں۔ اب اگر کچھ لوگ مسلمانوں کو دوبارہ ”متحدہ قومیت“ بننے کا درس دے رہے ہیں تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں متحدہ قومیت کی تشکیل کے بعد یہ عناصر واہگہ بارڈر ختم کرنے کا علم بلند کردیں۔ تاکہ ١٩٤٧ء میں قائد اعظم نے جو ”غلطی“ کی تھی اس کا ازالہ ہو سکے۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ١١ نومبر ١٩٩٢ء)
- ٭...... ”شناختی کارڈ کسی فرد کی پہچان میں مدد دیتا ہے۔ لہٰذا اس میں وہ تمام
باتیں درج ہونی چاہئیں جن سے اس شخص کی شناخت ہوسکے۔ اگر کسی شخص کی جنم بھومی، اس کی تاریخ پیدائش اور اس کا شناختی نشان لکھنے سے اس کی توہین نہیں ہوتی تو صرف مذہب لکھ دینے سے اس کا استحقاق کیسے مجروح ہوتا ہے؟ ہم حیران ہیں کہ اس چھوٹی سی بات پر اتنا شور کیوں مچایا
٣٤
جا رہا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے لئے ہر راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے تو مذہب ہی کیا دیگر چیزوں کا اندراج بھی مشکلات کا باعث ہے۔ شاید اس لئے وہ ابتداء مذہب اندراج کی مخالفت سے کرنا چاہتے ہوں۔“
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ١٢ اکتوبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ
”وطن عزیز میں شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع کرنے پر بعض لوگوں کی طرف سے جو ایجی ٹیشن جاری ہے وہ اب تخریبی رخ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مذہبی خانہ کے اجراء سے مسیحیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ان کے نام پہلے ہی مسلمانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی طرف سے مذہبی خانے کے اجراء کی مخالفت قابل فہم بات نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس ایجی ٹیشن کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ ان کے نام مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں اور مذہبی خانے کے اجراء سے ان کا تشخص واضح ہو جائے گا۔ اس ایجی ٹیشن میں سراسر جذبات سے کام لیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مذہبی تشخص واضح ہونے پر اقلیتوں کے حقوق پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔ پاکستان میں پہلے ہی جداگانہ طرز انتخاب رائج ہے۔ لیکن شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ ہونے کے باعث ووٹر کی چیکنگ نہیں ہو سکتی۔ جس کے نتیجے میں بوگس ووٹ بھی پڑ جاتے ہیں۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع ہو گیا تو بوگس ووٹوں کا انسداد ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی چوتھی آئینی ترمیم جس کے تحت قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کا تشخص واضح کیا جائے۔ اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لئے شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کا اجراء ناگزیر ہے۔ خود محترمہ بے نظیر نے بھی اپنے زمانہ وزارت عظمیٰ میں ایسا شناختی کارڈ جاری کرنے کی حامی بھری تھی۔ اب بعض عاقبت نا اندیش لوگ حکومت کو جداگانہ انتخاب ختم کر کے مخلوط انتخاب شروع کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسی مخلوط انتخاب کے نتیجے میں ہم پہلے آدھا پاکستان گنوا چکے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ موجودہ ایجی ٹیشن کے جواب میں حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور مذہبی امور کے وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی کے سوا کوئی دوسرا وزیر حکومتی پالیسی کے دفاع میں سرگرم عمل نہیں ہے۔ ہم وزیر اعظم نواز شریف سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آئین، قانون اور عوامی خواہشات کے مطابق اس فیصلے پر ثابت قدم رہیں گے اور کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔“
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ١٤ نومبر ١٩٩٢ء)
٣٥
شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج
”وفاقی وزیر مذہبی امور عبدالستار خان نیازی نے سندھ اسمبلی کی اس قرارداد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جس میں قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس قرارداد کی منظوری کو آئین کے خلاف بغاوت اور غداری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کی منظوری وزیر اعظم نے دی ہے۔ لہذا سندھ یا کسی صوبائی حکومت کو اس پر اعتراض کا حق نہیں رہا۔
شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل موجود ہیں۔ لیکن ابھی تک اندراج کا مخالف فریق یہ ثابت نہیں کر سکا کہ یہ اندراج کر لینے سے شناختی کارڈ کے حامل کو کیا نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ کارڈ میں اگر کسی فرد کے بارے میں لکھ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہے یا مسیحی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے اور اس سے کیا خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے؟ اگر پاکستان سیکولر یا لادین ملک ہوتا تو شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج غیر ضروری ہوتا۔ لیکن جب ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا جاچکا ہے تو مذہب کے اندراج کو بھی قبول کر لینا چاہئے۔ مذہب کے اندراج کی نفی صرف ان لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو اجنبی حلقوں کو فریب دینا چاہتے ہوں۔ کیونکہ آج کل نام رکھنے کا جو رجحان چلا ہے۔ اس سے غلط فہمی پیدا ہو جانے کا احتمال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ رہا مسلک کا معاملہ تو اسے مذہب کے برابر اہمیت حاصل نہیں ہے اور اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس لئے کارڈ میں مسلک کے اندراج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ہمارے خیال میں شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے اور جب وزیر اعظم نے اس اندراج کی منظوری دے دی تو کسی وزیر اعلیٰ کو اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہئے۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے۔ آبادی کی اکثریت شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے حق میں ہے۔ اس لئے اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے ہی کے ذریعے ہوتے ہیں۔“
(روزنامہ خبریں مورخہ ٦ نومبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج
”مذہب....... نام، ولدیت اور جائے پیدائش وغیرہ کی طرح کسی بھی شخص کی شناخت کا
٣٦
رخان نیازی نے سندھ اسمبلی کی اس قرارداد پر شدید کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ کرنے کی سفارش کی گئی ان کے خلاف بغاوت اور غداری قرار دیا ہے اور کہا اضافے کی منظوری وزیر اعظم نے دی ہے۔ لہٰذا حق نہیں رہا۔
آج کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل موجود ہیں۔ نہیں کر سکا کہ یہ اندراج کر لینے سے شناختی کارڈ کے فرد کے بارے میں لکھ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہے کیا خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے؟ اگر پاکستان ہب کا اندراج غیر ضروری ہوتا۔ لیکن جب ملک کو راج کو بھی قبول کر لینا چاہئے۔ مذہب کے اندراج ہے جو اجنبی حلقوں کو فریب دینا چاہتے ہوں۔ سے غلط فہمی پیدا ہو جائے گا احتمال نظر انداز نہیں حد اہمیت حاصل نہیں ہے اور اس میں وقتاً فوقتاً ت کے اندراج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ کے اندراج کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے اور جب کسی وزیر اعلیٰ کو اس سے اختلاف نہیں کرنا ہی کی اکثریت شناختی کارڈ میں مذہب کے ترام کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ جمہوریت میں
(روزنامہ خبریں مورخہ ٦ نومبر ١٩٩٢ء)
وغیرہ کی طرح کسی بھی شخص کی شناخت کا
ایک ایسا اہم جزو ہے۔ جسے چھپانے کی بجائے بالعموم ہر شخص فخر اور اطمینان کے ساتھ اس کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اپنے مذہب کو برحق اور درست سمجھتا ہے۔ تب ہی تو اسے اختیار کرتا ہے۔ اس لئے وہ اسے پوشیدہ رکھنے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ آخر جس مذہب پر وہ ایمان رکھتا ہے۔ جس کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس کے اظہار میں اسے کوئی ندامت و شرمندگی کیوں محسوس ہو؟ پھر بجائے خود لوگوں کے نام، عبادت کے طریقے، رسوم و رواج، رہن سہن اور زندگی کے دوسرے بہت سے پہلو یہ واضح کر دیتے ہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے؟ اس لئے یہ خدشہ کہ شناختی کارڈ میں شہری کا مذہب درج کر دینے کا نتیجہ اقلیتوں کے امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے کی صورت میں نکلے گا۔ جو سراسر بے بنیاد ہے۔ اگر پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی روا رکھی جانی ہوتی تو اس کے لئے ان کی شناخت کوئی مسئلہ نہیں تھی۔ لیکن نہ صرف پاکستان کے ٤٥ سال بلکہ مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنی ریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ ہر طرح کے تعصب سے پاک، بہترین برتاؤ کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں۔ ان کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا ہے۔ انہیں اپنی اہلیت کے مطابق آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور بلند مناصب تک پہنچنے کے تمام مواقع فراہم کئے ہیں۔
اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ بات انتہائی قرین قیاس نظر آتی ہے کہ بظاہر جن اندیشوں کی بنیاد پر شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ حقیقتاً اس رویے کا یہ سبب اندیشے نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں اور یہ عوامل بھی کچھ ایسے ڈھکے چھپے نہیں۔ پی ڈی اے نے ٣٠ اکتوبر کو اپنے اعلان اسلام آباد میں ان پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ دوسری باتوں کے علاوہ اس اعلان میں جداگانہ طریق انتخاب کو ختم کر کے مخلوط طریق انتخاب رائج کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ کی مخالفت کا اصل سبب مخلوط طریق انتخاب کے لئے راہ ہموار کرنا نظر آتا ہے اور طریق انتخاب کی تبدیلی کی آڑ میں پاکستانی کی اسلامی نظریاتی ریاست کے کردار کو سیکولر اسٹیٹ سے بدل دینے کا جو ارادہ کارفرما ہے عام سیاسی شعور اور بصیرت رکھنے والا ہر شخص با آسانی اس تک پہنچ سکتا ہے۔
اپنے ان تمام اہل وطن سے جو اقلیتی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری گذارش ہے
٣٧
کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ جداگانہ انتخابات ان کے مفادات کے تحفظ کا یقینی ذریعہ ہیں اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج ان کے لئے کسی بھی نقصان دہ نہیں بلکہ اس طرح انتخابی عمل دھاندلی کے امکانات سے پاک ہو جانے کے سبب انہیں ان کے حقوق کی بہتر ضمانت فراہم ہو سکے گی۔‘‘
(ہفت روزہ تکبیر مورخہ ١٢/نومبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ اور مذہب
’’پاکستان کے بعض نام نہاد دانشوروں کو آج کل ایک اور شوشہ ہاتھ آگیا ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کے اضافے کے فیصلے پر لے دے کی جا رہی ہے اور وہ وہ نکتے پیدا کئے جارہے ہیں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ اسے اقلیتوں کے خلاف سازش قرار دے ڈالا گیا ہے۔ کئی حضرات دیکھا دیکھی اس بھنگڑے میں شریک ہوگئے ہیں۔
عیسائیوں کو عیسائی، پارسیوں کو پارسی اور ہندوؤں کو ہندو کہنا یا لکھنا اگر ظلم ہے تو پھر ڈکشنری میں ظلم کی تعریف اور ظلم کے معانی بدلنا پڑیں گے۔ غیر مسلموں کے مسلمان وکیلوں کو خدا معلوم فیس کس نے ادا کی ہے کہ بے چارے ان کو ان کے مذہب سے محروم کرنے کا نام روشن خیالی رکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ’’اہل فکر ونظر‘‘ کو فکر اور نظر کے صرف نقطے ہی عطا کردے تو انہیں اپنے خیالات پڑھ کر اور سن کر شرم آجائے گی۔‘‘
(ہفت روزہ زندگی مورخہ ٧/نومبر ١٩٩٢ء)
شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ......مزید تاخیر ناقابل برداشت ہوگی!
’’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بے شمار قادیانیوں کو نشاندہی ہونے پر وہاں سے نکالا گیا ہے۔ جو حکومت پاکستان کے لئے بدنامی کا باعث بنا۔ چنانچہ قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف بڑی مؤثر پلاننگ کی ہے اور خود کو سامنے کرنے کی بجائے نام نہاد غیر مسلم تنظیموں سے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرے کروا کر حکومت کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں ملک کی ان آوارہ اور بدمعاش بازاری عورتوں کا سہارا لیا ہے جو فی الواقع اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ لیکن حیرانگی اس بات پر ہے کہ حکومت ان بازاری عورتوں اور نام نہاد غیر مسلم خصوصاً عیسائی تنظیموں سے اس قدر مرعوب ہوتی نظر آرہی ہے کہ حکومت کے کئی ایک ذمہ دار وزراء کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا علیحدہ خانہ کا جو فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر نظرثانی کی
٣٨
جارہی ہے۔ حکومت کے اندر قادیانیوں کی ایک اہم لابی موجود ہے۔ جو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔ حالانکہ سرسری نظر سے بھی دیکھا جائے تو عیسائیوں یا دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو اس فیصلہ سے کیا خطرہ لاحق ہے؟ وہ تو پہلے ہی غیر مسلم اقلیت ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ کیا ایک عیسائی اور ہندو یا سکھ اور یہودی اپنے آپ کو عیسائی، ہندو یا سکھ اور یہودی کہلوانا پسند نہیں کرتا؟ بلکہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ سے اقلیتوں کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ تکلیف صرف قادیانیوں کو ہے۔ جنہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور وہ ابھی تک اس آئین اور قانون کا منہ چڑا رہے ہیں۔ جس کی نمائندگی ملک کی ٩٨ فیصد سے زائد آبادی کرتی ہے۔ (ہفت روزہ خدام الدین مورخہ ٦؍ نومبر ١٩٩٢ء)
-
شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج
”عوام کے مسلسل مطالبے پر حکومت پاکستان نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کر دیا ہے۔ جس پر لادین حلقوں نے ایک طوفان اٹھا رکھا ہے۔ لاہور کے بشپ صاحب نے تو یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ عیسائی، سکھوں کی طرح اپنا لائحہ عمل بنا سکتے ہیں۔ اس نوع کے شدید ردعمل کا محرک تو سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اس کے پیچھے کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ وہ جداگانہ طریق انتخاب کی بنیاد پر مسلمانوں کے ووٹوں سے وجود میں آیا۔ آئین میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دے رکھا ہے اور جداگانہ طریق انتخاب کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ان تاریخی حقائق اور آئینی مندرجات کا تقاضا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ہونا چاہئے تاکہ ریاست اقلیتوں کے حقوق اور مراعات کا بطور خاص اہتمام کر سکے اور انتخابات کے انعقاد اور ووٹروں کے اندراج میں آسانی ہو۔
ہندوؤں، عیسائیوں اور پارسیوں کے نام تو مسلمانوں سے اتنے مختلف ہوتے ہیں کہ انہیں پہچان لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ لیکن قادیانیوں اور لاہوریوں کے نام بالکل مسلمانوں جیسے ہیں اور انہیں پاکستان کے دستور نے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔ دراصل اس غیر مسلم اقلیت اور مسلمان اکثریت کے درمیان تمیز قائم کرنے کے لئے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب قادیانی حضرات عوام اور دستور کے فیصلے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ کبھی یورپ اور امریکہ میں زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان پر
٣٩
بے پناہ ظلم توڑے جارہے ہیں اور کبھی پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کو ورغلاتے ہیں اور کبھی لادین عناصر کو حکومت پر حملہ آور ہونے کے لئے شہ دیتے ہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے قادیانیوں کے حوالے سے پاکستان کے ارباب حکومت کے ساتھ جس لب و لہجے میں گفتگو کی وہ قادیانیوں کی شر انگیز مہم ہی کا رد عمل تھا۔ امریکہ بھی قادیانیوں کا مسئلہ بار بار اٹھا چکا ہے۔ اس پس منظر میں تمام محب وطن قوتوں کو یکجا ہو کر بڑی حکمت سے اس فتنے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے اور دوسری طرف اپنی اقلیتوں کے ساتھ نہایت عمدہ برتاؤ کی روایت کا تحفظ کرنا ہوگا۔
(اردو ڈائجسٹ ایڈیٹر الطاف حسین قریشی نومبر ١٩٩٢ء)
مسیحی بھائیوں کا احتجاج
”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافے کے خلاف مسیحی بھائی احتجاج میں مصروف ہیں۔ کئی پادری صاحبان بھی احتجاجی سیاست میں الجھ رہے ہیں۔ وہ دلیل کی زبان سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ عقل حیران ہے کہ کسی بھی مسیحی کو مسیحی کہلانے پر اعتراض کیوں ہے؟ مذہب ہر شخص کے لئے فخر کا باعث ہے۔ ہر شخص اپنے مذہب کے لئے جان تک قربان کر دینے کو عین سعادت سمجھتا ہے۔ مسیحی بھائیوں سے اگر یہ مطالبہ کیا جاتا کہ وہ ”مسلمانوں جیسے“ بن جائیں تو احتجاج درست ہوتا۔ دنیا کی تاریخ کا یہ انوکھا احتجاج ہے کہ ایک مذہب کے نام لیوا، اس مذہب کے حوالے سے اپنے تفاخر اور شناخت پر احتجاج کر رہے ہیں۔“
(ہفت روزہ زندگی مورخہ ١٥ نومبر ١٩٩٢ء)
سرسری جائزہ
”کل چار گھنٹوں کی محنت سے یہ سرسری جائزہ مرتب کر کے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ پورے ملک کے قومی اخبارات کا مزید مطالعہ کیا جاتا تو اس سے کئی گنا زیادہ رپورٹ تیار ہو جاتی۔ تاہم اتنی عرض ہے کہ یہ مطالبہ اسلامیان پاکستان کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والے محض سیکولر اور قادیانی لابی کی سازشوں کا شکار ہیں۔ امید ہے کہ حکومت دوست دشمن کی پہچان کرے گی۔“
طالب دعا: صاحبزادہ طارق محمود خادم ختم نبوت فیصل آباد
٤٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
راہ حق
متعلقہ رد قادیان
حضرت مولانا احمد عبدالحلیم کانپوریؒ
اعتذار تاخیر
عجالہ ہذا دس سال قبل میں نے ریاست حیدرآباد کے ایک مقام سکندرآباد دکن میں جس غرض سے لکھا تھا وہ اس وقت کی لکھی ہوئی تمہید میں ظاہر کر دی ہے۔ لیکن اس وقت شائع نہ کرنے کا باعث میری مالی بے بضاعتی تھی اور اہل خیر سے استمداد میں ایک تو طبعی تعفف مانع تھا۔
دوسرے مکائد قادیانی اس قدر دقیق ہیں کہ ہر شخص انہیں سمجھنے سے قاصر ہے اور جب قاصر ہے تو وہ ان مباحث کو دلچسپی سے بھی نہیں دیکھتا۔
تیسرے عام طور پر اہل بضاعت وہی ہیں جنہیں اس میں اس قدر انہماک ہے کہ وہ اس امانت حق کی حفاظت پر جو روز ازل سے ان کے قلب میں ہے متوجہ نہیں پائے جاتے۔ پھر مجھے اپنے علم پر اس قدر وثوق بھی نہیں تھا کہ میں زمرۂ علماء کے ہوتے ہوئے شائع کرنے کی جرأت کرتا۔
لیکن حق تعالیٰ نے ارتفاع موانع میں اپنی لطیف کارسازی سے میری مدد فرما کر اشاعت کی ہمت دے دی۔
انہیں افضال میں سے یہ ہے کہ حضرت اقدس مرشدی و مولائی حکیم الامۃ مولانا حافظ حاجی قاری شاہ محمد اشرف علی صاحب تھانوی دامت برکاتہم نے اپنے گرانبہا وقت اور نہایت توجہ سے اسے ملاحظہ فرما کر ضروری اصلاح فرما دی اور محض میری ہمت افزائی کے لئے یہ بھی تحریر فرمایا کہ میں نے حرفاً حرفاً دیکھا بہت نافع پایا۔
والسلام!
احمد عبد الحلیم کان اللہ لہ اشرف منزل، کرنیل گنج، کانپور ٢٧ ربیع الاول ١٣٤٥ھ، ٥ اکتوبر ١٩٢٦ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
علمے کہ راہ حق ننماید جہالت است
میں ایک روز اپنے ایک کرم فرما سے ملنے گیا۔ معمولی سلام ومزاج پرسی کے بعد انہوں نے مجھے ایک رسالہ دیا۔ جس کا عنوان یہ تھا: ”مسلمانوں کا اس زمانہ کا امام کون ہے؟“ اور یہ فرمائش کی کہ اس رسالہ کا جواب لکھو، تا کہ اگر یہ حق نہ ہو تو میں اپنے مذہب پر قائم رہوں ورنہ اس دعوت جدید کی اجابت کروں۔ یہ رسالہ گروہ قادیانی کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ جس میں مغالطہ آمیز باتوں سے سیدھے سادھے مسلمانوں کے اغوا کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے دیکھنے سے میرے دل میں تحریک ہوئی کہ اپنی قاصر اور ناچیز معلومات کی بناء پر مختصر اور دلچسپ جواب لکھوں۔ جو نہ صرف مذہبی اور قومی خدمت ہے بلکہ میرے لئے زاد آخرت بھی ہے۔ تمام رسالہ کا نقل کرنا خالی از اطناب نہ ہوگا۔ نیز اس میں ترویج باطل کا بھی اندیشہ ہے کہ مبادا کسی کی نظر صرف اس رسالہ کے مغویانہ مضامین پر پڑے اور میرا جواب دیکھنے کی نوبت نہ آئے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ پہلے اس کے ضروری مضامین کا نمبروار ملخص کر دوں۔ اس کے بعد ہر نمبر پر ترتیب وار تنقیدی نظر ڈال کر یہ اچھی طرح ثابت کر دوں کہ نہ صرف یہ فرقہ بلکہ اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی بھی راہ حق اور صراط مستقیم کے نزدیک بھی نہیں ہیں۔
رسالہ کا خلاصہ
- ١...... ہر مسلمان پر فرض ہے کہ امام زماں کو پہچانے۔ ورنہ اس کا خاتمہ کفار،
جاہلیت کا سا ہوگا۔ پھر قیامت میں اس کی بریت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
- ٢...... دین حق صرف اسلام ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ بہتر (٧٢) فرقوں میں سے
ہر فرقہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتا ہے۔ اس لئے حق کا امتیاز مشکل ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس دشواری کے رفع کرنے کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
- ٣...... جس نے اس مجدد کو جسے امیر یا امام زماں بھی کہتے ہیں نہ پہچانا یا اس کی
اطاعت نہ کی اس کی نجات نہیں ہو سکتی۔
- ٤...... مرزا غلام احمد قادیانی کوئی نئے مجدد نہیں ہیں۔ بلکہ ان سے پہلے برابر مجدد
ہوتے رہے۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی، شافعی، حضرت قطب
٢
الاقطاب غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حنبلی، حضرت قطب اعظم خواجہ معین الدین چشتیؒ حنفی، حضرت مخدوم الہند محمد شیخ احمد سرہندی حنفی مجدد الف ثانی، حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، (رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ) اور سید محمد جونپوری، بانی فرقہ مہدویہ حفظ اللہ المسلمین عن شرہ۔
- ٥...... مجدد کی علامت یہ ہے کہ وہ دعوائے مجددیت کے ساتھ دلائل کے طور پر
کچھ پیشین گوئیاں بھی کرے۔
- ٦...... چودھویں صدی کے مجدد اور مسیح موعود مہدی معہود مرزا قادیانی ہیں۔
- ٧...... ان کے ان دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ ان کے مقابلہ میں کوئی اور مجددیت،
مسیحیت اور مہدویت کا مدعی نہیں ہوا۔ ان کے دعویٰ کی تصدیق کے لئے آسمان پر سورج گرہن اور زمین پر طاعون والی پیشین گوئی کا صحیح ہونا کافی ہے۔
- ٨...... مسیح ابن مریم علیہما السلام کی حسب آیت ”فلما توفیتنی کنت انت
الرقیب علیہم“ وفات ہوچکی۔ الغرض یہ آٹھ نمبر اس کا ضروری اور مختصر خلاصہ ہیں۔ اگرچہ ابھی اور مضامین بھی مشخص ہو سکتے تھے۔ مگر چونکہ وہ ہمارے موضوع بحث سے زیادہ تعلق نہیں رکھتے۔ اس لئے ہم از راہ اختصار انہیں معرض بحث میں لانا نہیں چاہتے۔ خلاصہ سے فارغ ہوکر ہر نمبر پر تنقیدی نظر ڈال کر مختصر جواب پر اکتفاء کرتے ہیں۔
جواب: ١....... امر اوّل کے جواب سے پہلے چند اصول موضوعہ ذکر کئے جاتے ہیں۔ جن پر جواب مبنی ہے۔
- الف...... خبر واحد اہل اصول حدیث کے نزدیک وہ حدیث ہے جس کی روایت
کرنے والے صحابہؓ کے بعد دو سے زائد ہوں۔ اس سے جو حکم ثابت ہو وہ ظنی ہوتا ہے۔ اس پر عمل فرض نہیں ہوتا۔ ہاں واجب ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے منکر کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔
(شرح نخبۃ الفکر للحافظ ابن حجر عسقلانی ونور الانوار للملا جیونؒ)
- ب...... ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ یعنی جس امر میں جانب
مخالف کا احتمال پیدا ہوجائے تو وہ قابل استدلال نہیں رہتا۔ (نور الانوار وغیرہ من کتب الاصول والعقائد)
- ج...... ”اذا تعارضا تساقطا“ (نور الانوار والحسامی) یعنی جب دو باتوں میں
تعارض پیدا ہوجائے تو وہ بھی معرض استدلال میں نہیں آسکتیں۔ (اصول موضوعہ ختم ہوئے)
امر اوّل....... میں جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کے ثبوت میں روایات ذیل پیش کی گئی ہیں
٤
جو خبر واحد ہیں۔ (روایت اولیٰ) ”من مات ولم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة جاهلية“ (روایت ثانیہ) ”من مات بغير امام مات ميتة جاهلية“ (روایت ثالثہ) ”ومن نزع يده من طاعته جاء يوم القيامة لا حجة له“ چونکہ روایات مذکورہ اخبار آحاد ہیں۔ لہذا ہم اگر ان کے وہ معنی مان بھی لیں جو قادیانی صاحب کی سوجھی سے پیدا ہوئے ہیں۔ تب امام زماں کی شناخت کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی۔ ”كما ثبت من الاصل الاول“ لفظ امام منقول شرعی ہے۔ شریعت نے اس کے معنی ان احادیث کے موقع پر صاحب سلطنت کے لئے ہیں۔ لہذا ان احادیث کی بناء پر کم از کم احتمال ہی کے درجہ میں دارا حشم والا شیم ظل اللہ علی الامم اعلیٰ حضرت حضور پر نور نواب میر عثمان علی خاں بہادر دام افضالہم وازاد نوالہم مراد ہوں گے۔ جن کے وجود با جود کی شاہانہ شفقتوں نے تمام اہل دکن کے خلوص دل سے اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا اقرار لے لیا ہے اور اس کو واجب و فرض عین منوا دیا ہے۔
حدیث اوّل و دوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام زماں کی اطاعت کرنا چاہئے۔ تیسری حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اس سے بغاوت نہ کرنا چاہئے۔ جب کہ اس کا احتمال قوی اور اقرب ہے کہ امام سے مراد صاحب سلطنت ہے تو یہ کہنا کہ امام سے مراد مجدد ہے۔ اپنی حماقت اور جہالت کا کافی ثبوت پیش کرنا ہے۔ لہذا اس سے امام بمعنی مجدد کی شناخت کی فرضیت پر استدلال نہیں ہو سکتا۔ كما ثبت من الاصل الثانى!
نیز قیامت میں اس کی بریت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ اس جملہ کی تنقید سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بریت کی صورتیں بتا دی جائیں۔ بریت دو قسم کی ہے۔ اولیٰ اور ثانوی۔ یا بالفاظ دیگر ابتدائی اور انتہائی۔ بریت اولیٰ یا ابتدائی یہ ہے کہ قیامت کے روز کوئی شخص عذاب جہنم سے بالکل بری کر دیا جائے۔ جیسا کہ انبیاء و صلحاء و غیرہم کے لئے ہوگا۔ بریت ثانوی یا انتہائی یہ ہے کہ تھوڑے سے عذاب کے بعد رہا کر کے جنت دے دی جائے۔ جیسا کہ امت محمدیہ (ﷺ) کے فساق کے ساتھ ہوگا۔
اب اس جملہ کے معنی پر نظر ڈالئے بریت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ نہ ابتدائی نہ انتہائی، نہ اولیٰ نہ ثانوی، یعنی جو امام بمعنی مجدد کو نہ مانے گا وہ بالکل کافر ہے۔ اس کی دوسرے کفار کی طرح کبھی نجات نہ ہوگی۔ (عیاذا باللہ ) حضور سرور عالم ﷺ تو اتنی شفقت فرمائیں کہ ”من قال لا
٥
اله الا الله فقد دخل في الجنة (مشكوة ص ١٤، كتاب الايمان) ”اس قدر وسعت کر دی کہ جو ”لا الہ الا اللہ“ کہہ لے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اگرچہ اس کا دخول ثانوی یا انتہائی ہوگا اور قادیانی صاحب صرف مرزا قادیانی کے نہ ماننے کے الزام میں رسول اللہ ﷺ کی محبوب امت کو مرزا قادیانی پر قربان کر کے ہمیشہ کے لئے جہنم میں جھونک دیں۔ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا! کیا اس حالت میں بھی یہ حدیث یہی معنی لے کر قابل عمل ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
كما ثبت من الاصل الثالث!
میں کہتا ہوں مسلمان تو محض مرزا قادیانی کے نہ ماننے کی بناء پر ہرگز ہرگز جہنمی نہ ہوں گے۔ لیکن گروہ ضالہ قادیانی ضرور جہنمی ہوگا۔ نہ صرف اس وجہ سے کہ اس نے مرزا قادیانی کو مانا۔ بلکہ اس وجہ سے بھی کہ رسول مقبول ﷺ کی طرف سے افتراء جہنمی بنا کے ان کی محبوب امت کی دل آزاری کی۔ جس کی دلیل حدیث متواتر ہے۔ جس کا ماننا اور عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث یہ ہے۔ ”من كذب عليّ متعمداً فليتبوأ مقعده في النار (مسلم ج ١ ص ٧، باب تغليظ الكذب على رسول الله ﷺ) “ (یعنی حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے دیدہ و دانستہ مجھ پر افتراء کیا اسے چاہئے کہ دوزخ میں اپنے لئے کوئی ٹھکانا منتخب کر لے) کیا یہ رسول اللہ ﷺ پر افتراء نہیں ہے کہ آپ نے کبھی اور کہیں مجدد کی اطاعت کو فرض نہیں فرمایا اور نہ اس کے نہ ماننے والے کو جہنمی فرمایا۔ حدیث کے معنی کو جان بوجھ کر بگاڑنا اور اس خود تراشیدہ معنی کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا رسول اللہ ﷺ پر افتراء نہیں تو اور کیا ہے؟ بنابریں قادیانی صاحبان کو جہنم میں اپنے لئے کوئی ٹھکانا منتخب کر لینا چاہئے۔ کیا خوب ۔
قصور اپنا نکل آیا
یعنی ۔
یہ تو خود ہی جہنمی ٹھہرے
جواب : ٢..... جس حدیث سے مجدد کی بعثت اور اس کی بعثت کی غایت پر استدلال ہے ہم بعینہ نقل کئے دیتے ہیں۔ ”ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها“ حدیث صحیح ہے۔ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢، باب ما یذکر فی قدر المائة) نے سنن
٦
میں، حاکم نے (مستدرک ج ٥ ص ٧٣٠، باب ذکر بعض المجددین فی الامۃ ہذہ) میں، اور بیہقی نے کتاب (معرفۃ السنن والآثار ج ٢ ص ١٤٢، باب ما یذکر فی قدر المائۃ ) میں روایت کی ہے اور علامہ جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر میں اور ملا علی قاری نے (مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ١ ص ٣٠١، ٣٠٢، باب من یجدد لہا دینہا ) میں تصحیح بھی کی ہے۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔ خدا تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں اس امت کے لئے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو اس کے دین کو اس کے لئے تازہ کرے گا۔
اب غور طلب یہ امر ہے کہ آیا مجدد اس مشکل مسئلہ کو حل کر سکتا ہے کہ دنیا کے تمام فرقے اپنے اپنے مذہب کو سچا نہ سمجھیں۔ ہم یہ دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اس اشکال کو تو نبوت کی طاقت بھی رفع نہ کر سکی تو تجدید کی قوت اس کے لئے کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ یہ نہ سمجھے کہ نعوذ باللہ میں رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کر رہا ہوں۔ کیونکہ مجھے اپنا ایمان بہت پیارا ہے۔ میں جناب رسالت میں اتنی بڑی گستاخی کر کے اسے کھو بیٹھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ؎
میرا مقصود اس غلطی پر تنبیہ کرنا ہے جو چودھویں صدی کے جعلی مسیح اور ان کے کج فہم امتی سے حدیث کے معنی سمجھنے اور اس کا مصداق معین کرنے میں سرزد ہوئی ہے۔ کیونکہ جو عربی کے مبادی سے بھی واقف ہیں یا کم از کم کسی سے صحیح ترجمہ بھی سن لیا ہے وہ اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ حدیث صرف یہ بتاتی ہے کہ مجدد امت محمدیہ کے افادہ کے لئے ہوگا۔ اسے دوسرے مذاہب سے زیادہ تر یا بالذات سروکار نہ ہوگا۔ کیونکہ ”من يجدد لها دينها“ کے یہی معنی ہیں کہ وہ اسی امت محمدیہ کے دین کی تجدید و اصلاح کرے گا۔ وہ نہ تو کوئی نیا مذہب سکھائے گا نہ امت کے اختلاف اور تفرقہ کی بنیاد کو مستحکم کرے گا۔ نہ نجومیوں، رمالوں کی طرح جھوٹی پیشین گوئیاں کرے گا نہ دین کی آڑ میں بھولے مسلمانوں کے چندہ سے تمول حاصل کرے گا۔ بلکہ وہ صرف مسلمانوں کے اس تعلق کو اسلام سے وابستہ کر دے گا۔ جو انہوں نے قطع یا کمزور کر دیا ہے اور قرآن وحدیث کے ذریعہ سے امت میں مذہبی روح پھونک دے گا۔
اگر فی الحقیقت مجدد کی بعثت کی یہی غایت ہوتی کہ وہ دنیا سے اس جبلی و فطری خیال کو دور کرے کہ سوائے اسلام کے کوئی فرقہ اپنے مذہب کو سچا نہ سمجھے تو کم از کم اس کے لوازم میں سے یہ بھی تھا کہ آج دنیا کے ہر فرقہ کا مذہب اسلام ہو جاتا اور ہر فرقہ کی مابہ الامتیاز مذہبی فصیل نہ ہوتی۔ ساری دنیا کے مذاہب کے اتحاد کو جانے دیجئے۔ اتنا ہی ہوتا کہ اس امت کے افراد کے
٧
مذہبی خیالات تو ضرور متحد ہوتے۔ یہ بھی نہ سہی تو کم از کم اس کا پتہ چل جاتا کہ ساری دنیا کے مجددوں سے قطع نظر صرف انہیں مجددوں نے جن کا ذکر خلاصہ کے نمبر ٤ میں ہوا کبھی اس بات کی کوشش بھی کی تھی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ مجدد ہی کیا۔ جس نے اپنے منصب کے فرائض بھی ادا نہ کئے۔ خیر ان مجددوں کو بھی جانے دیجئے۔ کیونکہ یہ تو صرف مجدد ہی تھے۔ یہ نہ نبی اور نہ مسیح موعود نہ مہدی معہود نہ کرشن نہ ان کو یہ دعویٰ تھا کہ یہ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مرتبہ کے نبی سے اس کی کسی شان میں بھی افضل ہیں۔ خود مرزا قادیانی کی طرف تو توجہ کیجئے کہ انہوں نے کہاں تک اس مقصد کو پورا کیا۔ ہم جہاں تک غور کرتے ہیں اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بجز اس کے کہ اپنی طرح ایک فرقہ پیدا کر دیا اور کچھ بھی نہیں کیا۔ کیا ایسا شخص اسلام کا مجدد ہو سکتا ہے جو اسلام کے خلاف نیا مذہب ایجاد کرے۔ ہرگز نہیں۔ وہ مجدد نہیں بلکہ ایک نئے اور باطل مذہب کا موجد ہے۔
جواب: ٣....... اس نمبر میں اس بناء پر مجدد کی اطاعت اور اس کی شناخت کو مدار نجات یا بالفاظ دیگر فرض کہا گیا ہے کہ احادیث مذکورہ بالا میں امیر و امام زماں کی شناخت و اطاعت کی ضرورت مصرح ہے۔ (گو دنیا بھر کی کتب احادیث میں کوئی ضعیف سے ضعیف حدیث بھی خود بالذات مجدد کی اطاعت و شناخت کے بارہ میں نہیں وارد ہوئی) اور امیر و امام زماں اور مجدد ایک ہی شے ہے۔ لہٰذا جو احادیث امیر یا امام زماں کی اطاعت کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں۔ بعینہ وہی احادیث مجدد کی اطاعت کی فرضیت پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ مبلغ سلسلہ ضالہ احمدیہ کا یہ استدلال ہے۔
اوّلاً تو ہمیں یہ تسلیم ہی نہیں کہ امیر و امام اور مجدد ایک ہی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ دونوں متحد ہوتے تو امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت علی مرتضیٰؓ جو خلفاء و ائمہ و امراء اسلام تھے۔ بالضرور سب کے سب مجدد ہوتے۔ حالانکہ اتنا تو مبلغ فرقہ ضالہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مجدد ایک صدی کے لئے ہوتا ہے۔ اب چند شبہے وارد ہوتے ہیں۔ جن سے مبلغ کی جہالت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
- الف...... ان خلفائے اربعہ کی خلافت کا زمانہ تیس سال کے اندر ختم ہو گیا۔
- ب...... یہ زمانہ خلافت غروب آفتاب رسالت کے بعد ہی شروع ہوا۔
- ج...... یہ خلفائے اربعہ اصلاح و ہدایت کے لحاظ سے بھی امت کے افضل ترین
افراد میں سے ہیں۔ اب ایک شبہ تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مجدد کا اثر تجدید تو سو سال تک باقی رہتا
٨
ہے ۔ ورنہ صدی کے شروع میں مجدد کی بعثت کی کیا ضرورت ۔ برابر مجدد ہوتے رہتے یا جب ضرورت پڑتی تب مبعوث ہوتے تو کیا رسول اللہ ﷺ کی اصلاح و ہدایت کا اثر سو سال تک کے لئے بھی کافی نہ تھا کہ فوراً ہی مجددیت کا دور شروع ہوگیا؟
دوسرا شبہ یہ ہے کہ ایسے اکابر صحابہ جو مبلغ کی رائے کی بناء پر بھی ضرور مجدد تھے۔ کیونکہ یہ سب امیر و امام تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سے ادنیٰ مرتبہ کے مجدد تو سو سال کے لئے کافی ہوں اور یہ چاروں مل کر بھی سو سال کیا پچاس سال تک کے لئے بھی کافی نہ ہوں۔ پھر ان حضرات کا زمانہ وہ زمانہ ہے جو خود رسالت کی زبان مبارک میں خیر القرون کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں عموماً صحابہ یا تابعین تھے اور یہ اس درجہ کے لوگ تھے کہ مجددین مذکورہ نمبر ٤ بھی کے کسی طرح ہم پلہ نہ تھے۔ پھر ایسے بزرگوں کو مجدد کی کیا ضرورت؟ اگر یہ بھی اپنی اصلاح کے لئے کسی مجدد کے محتاج تھے تو بعد کے وہ مجدد جن کی مختصر فہرست مبلغ نے دی ہے اور جو ان حضرات کے مرتبہ کو کسی طرح نہیں پہنچ سکتے۔ بدرجہ اولیٰ اپنی اصلاح و ہدایت کے لئے کسی بڑے سے بڑے مجدد کے محتاج ہوں گے جو دنیا کے طبقہ میں تو مل نہیں سکتا ۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اصلاح و ہدایت کا سلسلہ بھی بند ہو جاوے اور کوئی مجدد بھی نہ ہو سکے ۔ کیونکہ وہ شخص کیسے مجدد ہو سکتا ہے۔ جس کے اصلاح کی خود ضرورت ہے۔ بقول سعدی علیہ الرحمۃ؎
ہمارے خیال میں ان خرابیوں اور ان اعتراضوں کی بناء جاہل اور کج فہم مبلغ نے نہیں ڈالی۔ بلکہ وہ بالکل بے قصور ہے۔ قصور سب چودھویں صدی کے جعلی مسیح کا ہے جس نے اس کو ایسی غلط اور دور از شعور باتیں سکھائیں اور امیر وامام کو مجدد بتا دیا۔ اس سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ احادیث میں جہاں کہیں امیر و امام آیا اس سے مجدد مراد نہیں اور نہ مجدد سے امیر و امام مراد ہے۔ بلکہ یہ دونوں بالکل جدا گانہ مرتبوں کے نام ہیں۔ پھر ان کو ایک سمجھنا اور احادیث کے معنی میں تحریف کرنا اپنی جہالت اور سرکشی میں اضافہ کرنا ہے۔ میں اس کا قائل ہوں کہ امیر و امام کی اطاعت واجب ہے۔ اگر ان سے کوئی منحرف ہوگا تو وہ دنیا میں مستوجب قتل ہوگا اور آخرت میں مستحق عذاب شدید۔ مگر میں یہ کسی طرح تسلیم نہیں کرتا کہ مجدد کی اطاعت بھی فرض یا کم از کم واجب ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مجدد ایک حق بات کہتا ہے تو حق ہونے کی حیثیت سے اسے ماننا فرض ہے۔ مگر اس میں مجدد کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ ہر حق بات کا ماننا فرض یا واجب ہے۔ خواہ وہ
٩
کسی ادنیٰ درجہ کے جاہل ہی کی زبان سے کیوں نہ نکلی ہو۔ بخلاف امیر یا امام کے کہ اس کی بات ماننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ عام اس سے کہ وہ کیسا ہی فاسق اور بدکار کیوں نہ ہو۔ کیونکہ حدیث میں ہے۔ ’اطیعوا کل بر و فاجر‘ کہ ہر (امام) نیک و بد کی اطاعت کرو۔ یہاں حیثیت امیری وامامت اطاعت کو ضروری ٹھہراتی ہے اور وہاں حیثیت مجددیت اطاعت کو ضرور نہیں ٹھہراتی۔ بلکہ حیثیت حقیقت جس میں مجدد اور ادنیٰ درجہ کے جہلاء سب برابر ہیں۔
پھر بڑی بات یہ ہے کہ مجددین مذکورہ میں سے سوائے ایک کے سب کے سب کسی نہ کسی مجتہد کے مقلد تھے۔ چنانچہ امام غزالی، امام شافعی، حضرت قطب الاقطاب غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، حضرت امام احمد بن حنبل، اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی اور حضرت احمد شاہ ولی اللہ دہلوی وغیرہم، امام اعظم ابوحنیفہ کے مقلد تھے۔
مگر ان ائمہ کی تقلید بھی واجب بالذات نہیں۔ جب ان ائمہ مجتہدین کی تقلید واجب بالذات نہیں تو جو مجددان کے مقلد ہیں ان کی اطاعت کب واجب ہو سکتی ہے۔ ورنہ وہی مثل صادق آئے گی کہ کڑو جی گڑ ہی رہے اور چیلے صاحب شکر ہو گئے۔
یہ اور بات ہے کہ انحصار حق اس زمانہ میں تقلید ہی میں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کوئی شخص بلا ان مجتہدین کے مانے ہوئے اگر اپنے اجتہاد سے یہی مسائل مستنبط کرے تو کیا حق پر نہ ہوگا؟ چونکہ اتنا تبحر، ایسی عقل اور اس درجہ کا تقویٰ اس زمانہ کے لئے ناممکن ہے۔ لہٰذا اجتہاد کر کے کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنا بھی ناممکن ہے۔ اس واسطے امت میں یہ مسئلہ مسلم ہے کہ ٤٠٠ھ کے بعد سے اجتہاد بالکل ناجائز ہے۔
اور اس زمانہ میں جو فرقہ براہ راست کتاب وسنت سے اعتصام کا دعویٰ کرتا ہے وہ گمراہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ یہ پانچوں مجدد ائمہ مجتہدین کے مقلد ہیں اور چودھویں صدی کے جعلی مسیح کسی مجتہد کے مقلد نہیں۔ چونکہ یہ پانچوں حضرات مجدد تھے اور انہوں نے تقلید اختیار کی تو ضرور ہے کہ تقلید امر حق ہے۔ پھر ان حضرات کے مقابلہ میں جو ہمارے اور فرقہ قادیانی کے مسلمہ مجدد ہیں ایک اکیلے فرضی اور جعلی مسیح یا مجدد مرزا غلام احمد قادیانی کا تقلید سے گریز کرنا جو صرف فرقہ قادیانی کے نزدیک بعد از خدا کا مرتبہ رکھتے ہیں اور ہمارے نزدیک ایک ادنیٰ مسلمان کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ ضرور باطل پرستی ہے۔ اے مسلمانو! ذرا تو غور کرو
١٠
کہ ایسا شخص کہ گمراہی جس کے رگ وپے میں سرایت اور کسی ممتاز درجہ کا مستحق ہو سکتا ہے؟
جواب ٤٠ ...... گذشتہ تین نمبروں سے مرزا قادیانی کا درجہ ضرور سمجھ لیا ہوگا۔ ابھی ابھی ہم نے نئے مذہب کی بنیاد ڈالے وہ نہایت مفسد ہے۔ مجدد نہیں کر مرزا قادیانی کی حالت کو اور بھی آئینہ کریں گے لیں گے کہ مرزا قادیانی مجدد تو مجدد ان کو مسلم ہونا بھی تمثیلاً پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں سید محمد جونپوری، زرد برادر شغال، کے مصداق ہیں۔ مرزا قادیانی میں ہے کہ مرزا قادیانی میں تعلی زیادہ تھی تو وہ نبوت تک پہنچ صرف مہدویت ہی پر قائم رہے۔ حیدرآباد اور سکندرآباد ذات شریف کی بھی یادگار ہے۔ البتہ امام غزالی، حضرت الدین چشتی، حضرت مخدوم شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی سے جن کو مبلغ قادیانی نے مجددین کی فہرست میں شامل عقیدت رکھتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔ اس بناء پر ہم سمجھتے ہیں۔ لیکن مبلغ نے ان بزرگوں کے نام حسن عقیدت کے لئے لئے ہیں۔ ورنہ وہ تو انہیں مجدد تو مجدد مسلمان کے نزدیک مرزا قادیانی مسلمان بھی نہ تھے۔ ان بزرگوں نہیں سکتا۔ مگر کلیہ کے طور پر ان کی کتابوں میں بھی مرزا خوب سمجھتا ہے۔ مگر ’ختم اللہ علی قلوبھم وعلی (دل حق پسند گوش حق نیوش اور چشم حق بین) پر مہریں اس کے علاوہ مبلغ نے مجددیت کے جواز میں ملا م کے سجادہ نشین یا شیطان کے جانشین میں مل سکتے ہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ ان حضرات نے کبھی اپنے کو ایک صاحب کیا کرتے۔ فی الحقیقت اگر یہ دعویٰ کرتے تو ان کو
کہ ایسا شخص کہ گمراہی جس کے رگ وپے میں سرایت کئے ہوئے ہو مجددیت یا امت محمدیہ کے اور کسی ممتاز درجہ کا مستحق ہوسکتا ہے؟
جواب : ٤ ...... گذشتہ تین نمبروں سے منصف مزاج اور حق پسند اہل اسلام نے مرزا قادیانی کا درجہ ضرور سمجھ لیا ہوگا۔ ابھی ابھی ہم کہہ چکے ہیں کہ جو شخص اسلام کے خلاف ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالے وہ نہایت مفسد ہے۔ مجدد کے لئے مصلح ہونا ضروری ہے۔ ہم آئندہ چل کر مرزا قادیانی کی حالت کو اور بھی آئینہ کریں گے۔ جس سے مخلص مسلمان صاف طور پر سمجھ لیں گے کہ مرزا قادیانی مجدد تو مجدد ان کو مسلم ہونا بھی دشوار ہے۔ مرزا قادیانی کے علاوہ چند نام تمثیلاً پیش کئے گئے ہیں۔ ان میں سید محمد جونپوری سے مسلمان نا آشنا نہیں ہیں۔ یہ بالکل ”سگ زرد برادر شغال“ کے مصداق ہیں۔ مرزا قادیانی میں اور ان میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ مرزا قادیانی میں تعلی زیادہ تھی تو وہ نبوت تک کے مدعی ہوئے۔ یہ ان سے کسی قدر کم تھے تو یہ صرف مہدویت ہی پر قائم رہے۔ حیدر آباد اور سکندر آباد دکن میں ایک فرقہ مہدوی پٹھانوں کا ان ذات شریف کی بھی یادگار ہے۔ البتہ امام غزالیؒ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت مخدوم شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ، حضرت مولانا شاہ احمد ولی اللہ دہلویؒ سے جن کو مبلغ قادیانی نے مجددین کی فہرست میں داخل کیا ہے۔ ان سے مسلمان جو کچھ حسن عقیدت رکھتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔ اس بناء پر مسلمان انہیں مجدد کیا اس سے بھی بڑے درجہ کا سمجھتے ہیں۔ لیکن مبلغ نے ان بزرگوں کے نام حسن عقیدت سے نہیں بلکہ مسلمانوں کی تالیف قلوب کے لئے لئے ہیں۔ ورنہ وہ تو انہیں مجدد تو مجدد مسلمان بھی مشکل سے سمجھتا ہے۔ کیونکہ اہل اسلام کے نزدیک مرزا قادیانی مسلمان بھی نہ تھے۔ ان بزرگوں سے اس مضمون کا اگرچہ کوئی جزئیہ تو مل نہیں سکتا۔ مگر کلیہ کے طور پر ان کی کتابوں میں بھی مرزا قادیانی کی تکفیر موجود ہے۔ جس کو مبلغ بھی خوب سمجھتا ہے۔ مگر ”ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ“ (دل حق پسند گوش حق نیوش اور چشم حق بین) پر تو شامت اعمال کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مبلغ نے مجددیت کے جو لوازم بتائے ہیں وہ ان بزرگوں میں تو نہیں۔ ہاں فرعون کے سجادہ نشین یا شیطان کے جانشین میں مل سکتے ہیں۔ مثلاً مجددیت کے لئے دعویٰ مجددیت شرط ٹھہرایا گیا ہے۔ ان حضرات نے کبھی اپنے کو ایک ادنیٰ مسلمان سے زیادہ نہ سمجھا۔ اتنا بڑا دعویٰ یہ کیا کرتے۔ فی الحقیقت اگر یہ دعویٰ کرتے تو انہیں زیبا بھی تھا۔ کیونکہ ان کے کارنامے اب تک
١١
بتا رہے ہیں کہ وہ امت کے لئے بہت کچھ اصلاح کر گئے۔ پھر ان کے پاس اپنی مجددیت کے دلائل بھی تھے۔ پھر ایسا دعوٰی جس پر دلیل نہ ہو۔ بلکہ اگر دلیل ہو تو وہ مدعا کے معارض ہو۔ بالکل فرعون کا سا دعوٰی ہے۔ کیونکہ اس کے دعوٰی ”انا ربکم الاعلیٰ“ کی بھی یہی نوعیت تھی جو اوپر بیان ہوئی۔
پیشین گوئیاں جو آج کل کے نجومی رمال کرتے ہیں۔ ان بزرگوں نے نہیں کیں۔ کیونکہ اس سے انہیں کیا واسطہ۔ احادیث میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ انذار اور تخویف کے لئے ہیں۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں انذار اور تخویف سے بالکل الگ، نجومیوں رمالوں کی طرح مضحکہ خیز ہوتی ہیں اور پھر لطف یہ کہ اٹکل پچو ہونے کی وجہ سے اکثر غلط۔ اگر مجدد کے لئے علامت کے طور پر دعوٰی بھی شرط ہوتا تو یہ بزرگ بھی دعوٰی کرتے۔
جواب: ٥....... اگر مجدد کی یہ علامت ہوتی کہ وہ دعوٰی مجددیت کرتا اور علامت کے طور پر کچھ پیشین گوئیاں کرتا تو ضرور تھا کہ تیرہ صدی کے سب مجددوں کے دعوے اور پیشین گوئیاں منقول ہوتیں۔ نیز یہ کوئی ایسی مہتم بالشان بات ہوتی تو جناب رسول مقبول ﷺ بھی جو اپنی امت کے ساتھ اس قدر شفیق اور سہولت پسند ہیں کہ ایک باپ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ اس شفقت و سہولت پسندی کا صحیح دعوٰی نہیں کر سکتا۔ ضرور ضرور مجدد کی یہ علامت بھی بتا دیتے۔ اگر فی الحقیقت یہ دونوں باتیں مجددیت کی علامت ہیں تو دو باتوں سے خالی نہیں۔ (١) یا تو یہ علامتیں جناب سرور کائنات ﷺ کو بھی معلوم نہ تھیں۔ صرف مرزا قادیانی کے فیض صحبت سے ان کے خرمن ضلالت کے خوشہ چینوں کو معلوم ہوئیں۔ (٢) یا معلوم تھیں مگر آپؐ نے انہیں چھپایا اور امت کی ایک بہت بڑی سہولت سے دریغ فرمایا۔ حاشا و کلا حضور سرور عالم ﷺ نے تو ادنیٰ سے ادنیٰ باتیں بھی نہیں چھوڑیں۔ پھر یہ اتنی بڑی بات جس کی آڑ میں بہت سے مفسد فتنہ پردازی کرتے ہیں۔ کیونکر چھوڑ دیتے۔ پھر خصوصاً جب کہ مجدد کا پہچاننا فرض تھا تو ضرور اس کی علامتیں بتا کے آپ اسے سہل فرما دیتے۔ نہ تو مجدد کی شناخت فرض، نہ اس کی یہ علامتیں۔ آپ بتاتے تو کیسے بتاتے۔ اگر شناخت فرض ہوتی تو تیرہ صدی کے تیرہ مجددوں کی فہرست بھی مسلمانوں کو اسی طرح ازبر ہوتی۔ جس طرح صلوٰۃ مفروضہ کی تعداد رکعات۔ حالانکہ سوائے حضرت شیخ احمد سرہندیؒ کے کہ ان کو تو مسلمان مجدد الف ثانی کے لقب سے یاد کرتے ہیں اور کسی بزرگ کی اس صفت سے آشنا نہیں۔ اگر یہ علامت مجدد کی ہوتی کہ وہ
١٢
پیشین گوئی کرے تو کم از کم اسلامی علمی کتابوں میں ان مجددوں کی پیشین گوئیاں منقول ہوتیں۔ جن کو مبلغ ضلالت نے بھی مجدد مانا ہے۔
جواب : ٦...... اس نمبر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد، مسیح موعود اور مہدی معہود مانا ہے۔ ان مراتب میں سب سے بڑا مرتبہ مسیحیت کا ہے۔ کیونکہ وہ نبوت ہے۔ اس کے بعد مہدویت کا درجہ ہے۔ کیونکہ وہ امامت ہے۔ پھر مجددیت ہے۔ لیکن ان تینوں مراتب کے لئے اسلام لازم ہے۔ گویا بلحاظ ان مراتب کے مسلمان ہونا ادنیٰ درجہ ہے۔ اس لئے میں درجہ بدرجہ مرزا قادیانی کی تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔
سب سے پہلے اس پر غور کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی مسلمان بھی تھے یا نہیں۔ پھر دوسرے بڑے مراتب پر نظر ڈالیں گے۔ میری رائے ناقص اس کا جواب نفی میں پیش کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ بعض ناظرین میری رائے سے ابھی متفق نہ ہوں۔ مگر جس وقت میں اپنے جواب کے وجوہ پیش کروں گا تو مجبوراً انہیں بھی میری رائے سے اتفاق کرنا پڑے گا۔
یہ سب جانتے ہیں کہ ایمان کا مدار قرآن کی تصدیق ہے۔ ایمان کے لوازم کی تفصیل اور ایمان کی حقیقت جیسا قرآن نے بیان کی ہے۔ اس طرح بیان کرنا بشر کی طاقت سے باہر ہے۔ مرزا قادیانی کے خیالات اور اس کے مقابلہ میں قرآن کا مضمون سنئے اور میری رائے کی تائید کیجئے۔
- ١....... مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ خدا جھوٹ بولتا ہے۔ (نعوذ باللہ) قرآن
نے جابجا تنزیہ و تقدیس باری تعالیٰ پر تصریح کی ہے۔ ”سبحن“ کا لفظ قرآن میں اس لئے مستعمل ہوا ہے کہ باری تعالیٰ کی تمام صفات کمالیہ کا اظہار اور تمام نقائص سے تنزیہ ظاہر ہوجائے۔
- ٢....... ان کا عقیدہ ہے کہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔
- ٣....... اپنے رسول سے نہایت پختہ وعدہ کر کے بعض وقت پورا نہیں کرتا۔ نعوذ باللہ!
نعوذ باللہ ! قرآن میں تصریح ہے کہ ”ان الله لا يخلف الميعاد“ خدا کبھی وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ اگر کسی مخالف اسلام کے سامنے یہ کہا جائے تو نہ وہ خدا کو مانے اور نہ رسول کو۔ اس کے علاوہ تمام اسلام مشکوک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جتنے وعدۂ وعید سزا وجزا جنت و دوزخ کے قرآن میں مذکور ہیں سب میں احتمال کذب پیدا ہو گیا۔ اب یہ بھی سن لیجئے کہ مرزا قادیانی کو اس کفر کے التزام کی نوبت کیونکر آئی۔ ایک مرتبہ مرزا قادیانی کی اپنے کسی عزیز کی لڑکی پر نظر پڑ گئی۔
١٣
اس کے حسن نے مرزا قادیانی کو اپنا شیفتہ بنالیا۔ اب مرزا قادیانی کو اس کے فراق میں نہایت بے چینی اور اضطراب رہنے لگا۔ آپ نے اس سے نجات کے لئے ایک وحی تصنیف فرمائی تاکہ مریدین کو حکم الٰہی کے بہانہ سے اپنے خیال کا مؤید بنائیں۔ وحی کا مضمون یہ تھا کہ: ”میرا اور اس لڑکی کا آسمان پر خدا نے عقد کر دیا ہے اور یہاں بھی اس کے اعادہ کا حکم دیا ہے۔“ مریدین کے دل تو پہلے ہی سے مسخ ہو چکے تھے۔ انہوں نے آمنا و صدقنا کہا۔ پھر یہ وحی اس لڑکی کے باپ تک پہنچائی گئی۔ وہ سن کر نہایت برہم ہوئے اور واقعی برہم ہونا بھی چاہئے تھا۔ کیونکہ اوّل تو مرزا قادیانی کے بیوی بچے موجود۔ دوسرے مرزا قادیانی کا بوڑھا پا اور اس لڑکی کا آغاز شباب۔ مرزا قادیانی کی بیٹی سے بھی چھوٹی پوتی یا نواسی کے برابر۔ بھلا دونوں کا کیا جوڑ۔ چنانچہ لڑکی کے باپ نے مرزا قادیانی کی مخالفت اور ضد سے اس لڑکی کا کہیں اور نکاح کر دیا۔ مرزا قادیانی نے نکاح سے پہلے یہ دھمکی بھی دی کہ کہیں اور شادی کی گئی تو لڑکی مر جائے گی۔ مگر الحمدللہ! کہ اس کی شادی بھی ہوئی۔ وہ بااولاد بھی ہوئی اور مرزا قادیانی کی وحی اور پیشین گوئی کے برخلاف زندہ بھی رہی۔ اب مرزا قادیانی کو یہ فکر ہوئی کہ اپنے جھوٹ کی کوئی تاویل کرنی چاہئے۔ ورنہ مریدین فرار ہو جائیں گے۔ تو پھر چندہ کون دے گا۔ ایسے سفید اور کھلے ہوئے جھوٹ کی تاویل کیا ہوتی۔ مرزا قادیانی کو یہی کہنا پڑا کہ: ”خدا نے جھوٹ بولا۔ اس نے مجھ سے وعدہ کر کے اس کے خلاف کیا۔“ (نقل کفر کفر نباشد) استغفراللہ العظیم! مسلمانو! ذرا آنکھیں کھولو اور غور کرو کہ جو شخص شہوت پرستی کے خدا پر بہتان باندھے، جھوٹی وحی بنائے اور پھر وہ پوری نہ ہو تو اپنے قصور کے اعتراف کے عوض خدا کو جھوٹا کہہ دے۔ وہ مجدد، مسیح اور مہدی تو درکنار مسلمان بھی ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ ایسے شخص کو مسلمان سمجھنا اپنے کفر کا اظہار کرنا ہے۔
قرآن نے تمام انبیاء اور صحائف آسمانی کی تصدیق اور تعظیم فرض قرار دی ہے۔ چنانچہ ”امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل آمن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر (البقرہ:٢٨٥)“ یہ آیت اس پر دال ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ﴿اعتقاد رکھتے ہیں رسول (ﷺ) اس چیز (کے حق ہونے) کا جو ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ یعنی قرآن پاک کے ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور (دوسرے) مؤمنین بھی (اس کا اعتقاد رکھتے ہیں) اس کے بعد قرآن پر اعتقاد رکھنے کی تفصیل ہے کہ کس کس چیز پر عقیدہ رکھنے کو قرآن
١٤
پر اعتقاد رکھنا کہا جائے گا۔ سب کے سب ( رسول اللہ بھی اور دوسرے مؤمنین بھی ) عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ (کہ وہ موجود اور واحد ہے۔ اپنی ذات وصفات میں کامل ہے ) اور اس کے فرشتوں کے ساتھ (کہ وہ موجود گناہوں سے پاک اور مختلف کاموں پر مقرر ہیں) اور اس کی کتابوں کے ساتھ ( کہ اصل میں سب سچی ہیں ) اور اس کے سب پیغمبروں کے ساتھ (کہ وہ پیغمبر ہیں اور سچے ہیں اور پیغمبروں پر ان کا عقیدہ رکھنا اس طور پر ہے کہ وہ کہتے ہیں ) کہ ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں ( عقیدہ رکھنے میں ) تفریق نہیں کرتے ۔ ( کہ کسی کو پیغمبر سمجھیں کسی کو نہ سمجھیں ) اور ان سب نے یہ کہا کہ ہم نے ( آپ کا ارشاد ) سنا اور (اس کو خوشی سے مانا) ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار اور آپ ہی کی طرف ( ہم سب کو ) لوٹنا ہے ۔
(تفسیر بیان القرآن آخر جلدا)
اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام کتب سابقہ آسمانی اور انبیائے سابقین پر ایمان لانا بھی فرض ہے اور یہ ایسا فرض ہے کہ اس سے جناب رسول مقبول ﷺ بھی مستثنیٰ نہ تھے۔
اب سنئے چونکہ مرزا قادیانی نے خود عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے کو ان سے تمام شانوں میں افضل بتایا۔ اس لئے خباثت نفس سے ان میں نہایت غلط عیب پیدا کئے ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں : ” آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا ۔“
(انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
اور کہتے ہیں کہ: ” آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے ۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔“ (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ )
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ایسی گندی باتوں کے لکھنے سے قلم کانپتا ہے ۔ اے آسمان تو ایسے بد باطن اور ذلیل النفس شخص پر اس وقت کیوں نہ ٹوٹ پڑا جب کہ اس نے اتنے بڑے نبی کو مکار و فریبی اور ان کی عصمت مآب امہات کو زنا کار اور کسبی اور خود ان کو ولد الحرام بنایا؟ کیا تیری غیرت اس وقت کہیں چلی گئی تھی ؟ اے مسلمانو! کیا مرزا قادیانی کے ایسے کلمات سننے کے بعد بھی آپ کو ان سے نفرت پیدا نہ ہوگی ؟ کیا آپ سچے دل سے اتنے بڑے نبی کی توہین گوارا کر لیں گے؟
سنئے مرزا قادیانی اور کیا فرماتے ہیں کہ: ” آپ کا کنجریوں ( کسبیوں) سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان
١٥
کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
دیکھئے مرزا قادیانی کس بیباکی سے اتنے بڑے نبی کی بے حرمتی کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ”مگر یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کی چال پر روئیں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز و نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے وہ ایسے نفسانی موقع پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔“
(نور القرآن ص ٧٣، خزائن ج ٩ ص ٤٤٨)
نعوذ باللہ ! مسلمان جانتے ہیں کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے گناہ یا مقدمات گناہ کا صدور نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی اصول اسلام کے خلاف ایک جلیل القدر نبی کی عصمت سے انکار کر کے انہیں بدخیالی اور خیال زنا کاری کا اتہام لگا رہے ہیں۔
اور سنئے پھر کہتے ہیں: ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع ہیں۔“
(دافع البلاء ص ٤ آخر، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
اسے خوب غور سے دیکھئے۔ اس میں وہ ایک نبی کے مقابلہ اور قرآن کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کر رہے ہیں اور کہتے ہیں: ”یسوع (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے دادا صاحب داؤد نے تو (١) سارے برے کام کئے۔ (٢) ایک بیگناہ کو اپنی شہوت رانی کے لئے فریب سے قتل کرایا۔ (٣) اور دلالہ عورت بھیج کر اس کی جورو کو منگوایا۔ (٤) اور اس کو شراب پلائی۔ (٥) اور اس سے زنا کیا۔ (٦) اور بہت سا مال زنا کاری میں ضائع کیا۔“
(معیار المذاہب ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٤٧٩)
١٦
یہ بھی واضح رہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مسیح بن مریم، عیسیٰ، یسوع، سب ایک ہی ذات کے وصف عنوانی ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ : ”مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
اب غور کیجئے کہ جس شخص کے انبیاء علیہم السلام کی نسبت ایسے فحش خیالات ہوں وہ ہمارے آپ کے خیال سے نہیں بلکہ خدا اور رسول کے حکم سے مسلمان بھی رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں !!
جب مرزا قادیانی مسلمان نہ ہوئے تو انہوں نے انسانیت کا ادنیٰ درجہ بھی نہ پایا اور ”اولئک کالانعام بل ہم اضل“ کے مصداق ٹھہرے۔ جب کوئی شخص مسلمان ہی نہیں تو مجدد، مسیح اور مہدی کہاں سے ہو سکتا ہے۔
یہ تو ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مجدد مصلح ہوتا ہے۔ مفسد نہیں ہوتا۔ چونکہ مرزا قادیانی مفسد تھے۔ اس لئے ان کا مجدد ہونا محال ہے۔ اب ہم ان کی مہدویت و مسیحیت پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ چونکہ مہدی و مسیح خاص شخصوں کے لئے بولے جاسکتے ہیں۔ جن کے لقب یہ ہیں اور وہ اشخاص وہ ہیں۔ جن کا احادیث میں تذکرہ ہے۔ ورنہ یوں تو بہت سے محمد مہدی اور بہت سے مہدی علی خاں ہیں اور اسی طرح بہت سے محمد عیسیٰ اور بہت سے محمد مسیح، یا مسیح الزمان و مسیح الدین ہیں۔ اگر مرزا قادیانی نے اپنے یہ عرف رکھ لئے ہیں تب تو ہمیں اس میں کلام نہیں اور گر مہدی موعود و مسیح معہود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہم اسے احادیث سے باطل کئے دیتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے عرف نہیں رکھے۔ بلکہ جن احادیث میں ان حضرات کا تذکرہ ہے ان کا مصداق اپنے کو بتایا۔ اس لئے ہمارے ذمہ ضروری ہے کہ ہم یہ بتادیں کہ مرزا قادیانی مہدی کاذب اور مسیح دجال تھے۔ میں ایک حدیث نقل کر کے علیحدہ علیحدہ اس پر اپنا مدعا متفرع کروں گا۔
ترجمہ (مشکوۃ شریف باب ملاحم ص ٤٦٦) میں ہے۔ (مسلمانوں کی وہ تہائی جماعت جو اس وقت تمام روئے زمین پر افضل ہوگی۔ جس وقت قسطنطنیہ فتح کرکے) ملک شام میں آئیں گے تو دجال نکلے گا۔ ابھی وہ لڑائی کے لئے تیار ہوں گے۔ صفیں درست کریں گے کہ نماز کی جماعت قائم ہو جائے گی۔ اس وقت (وہاں) عیسیٰ بن مریم اتر آئیں گے۔ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔ جس وقت انہیں اللہ کا دشمن (یعنی دجال) دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جس
١٧
طرح پانی میں نمک۔ اگر وہ اسے (قتل کئے بغیر) چھوڑ بھی دیں تو وہ ابھی پگھلنے نہیں پائے گا کہ ہلاک ہو جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے اسے قتل کرا دے گا۔ پھر وہ اس کے خون کو اپنے نیزہ میں بھر کر لوگوں کو دکھائیں گے۔ یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے۔ اس حدیث سے چند امور مستفاد ہوئے ۔
- ١...... مسلمانوں کی اس جماعت میں عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ جو قسطنطنیہ فتح کر کے
ملک شام میں مقیم ہوگی۔
- ٢...... اس وقت دجال کا خروج ہوگا۔
- ٣...... عیسیٰ علیہ السلام وہی ہوں گے جو قرآن مجید میں عیسیٰ بن مریم کے نام سے یاد کئے
گئے ہیں۔
- ٤...... وہ دجال کو قتل کر کے اپنے نیزہ پر اس کا خون لگا کر لوگوں کو دکھائیں گے۔ وغیرہ!
اب غور کیجئے کہ جس جماعت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی مسیحیت کا دعویٰ کیا وہ قادیان اور پنجاب کی ایک بیوقوف جماعت تھی نہ کہ ملک شام کا فاتح لشکر۔ پھر اس وقت سوائے مرزا قادیانی کے کسی دجال کا خروج بھی نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی عیسیٰ بن مریم بھی نہیں۔ نہ انہوں نے کسی دجال کو قتل کر کے خون نیزہ میں لگا کر کسی کو دکھایا۔ ہاں اتنا تو ہوا کہ مرزا قادیانی نے کاذب کی موت کی دعاء کی تھی۔ اس کے قبول ہونے سے مرزا قادیانی خود ہی رحلت کر گئے۔ اب اسی کو چاہے یوں سمجھ لیجئے کہ نیزہ سے مراد بدعائے موت اور خون لگا کر لوگوں کو دکھانے سے مراد شہرت ہو تو بیشک ایسا تو ہوا کہ مرزا نے دعائے موت کی تھی اور اس کی شہرت بھی خوب کی تھی۔ مگر اس سے مرزا کا دجال ہونا نکل آئے گا اور یہ سوال پھر باقی رہے گا کہ عیسیٰ کون ہیں۔ کیونکہ حدیث تو صاف طور پر بتا رہی ہے کہ عیسیٰ اور ہوں گے اور دجال اور ہوگا۔ (مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٠ باب اشراط الساعۃ)
حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں۔ میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ مہدی (علیہ السلام) میری نسل سے (یعنی) فاطمہ زہرہ کی اولاد سے ہوں گے۔ یہ حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں۔ رسول خدا ﷺ فرماتے تھے کہ مہدی میری اولاد سے ہوں گے۔ ان کی پیشانی کشادہ اور ناک اونچی ہوگی۔ وہ زمین کو عدل اور انصاف سے ایسا بھر دیں گے جیسا وہ پہلے ظلم اور زیادتی سے بھری ہوئی ہوگی۔ وہ سات برس بادشاہت کریں گے۔
(مشکوٰۃ ص ٤٧٠، باب اشراط الساعۃ)
یہ حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے۔
- ١...... مہدی علیہ السلام حضورﷺ کی نسل سے ہوں گے۔
- ٢...... ان کی پیشانی کشادہ، ناک اونچی ہوگی۔ یعنی خوبصورت ہوں گے۔
- ٣...... زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری
ہوگی۔
- ٤...... سات برس تک سلطنت کریں گے۔
مرزا قادیانی کا خاندان تو سب جانتے ہیں کہ یہ قوم کے مغل ہیں۔ یہ سید یعنی حضورﷺ کی نسل سے نہیں ہیں۔ البتہ حلیہ ان کے دیکھنے والے جانیں۔ میں نے تصویر دیکھی تھی۔ اس میں تو مجھے ان کی پیشانی کشادہ اور ناک اونچی نہیں معلوم ہوئی۔
یہ بھی سب جانتے ہیں کہ زمین پر روز بروز ظلم و ستم بڑھتا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے معلوم نہیں کہاں کہاں سے ظلم و ستم دور کر کے اس جگہ کو عدل و انصاف سے معمور کر دیا۔ مرزا قادیانی کو سلطنت سات گھنٹہ کی بھی نصیب نہیں ہوئی۔ اگر چہ انہوں نے یہ نیا مذہب اس آس پر پھیلایا تھا۔ مگر افسوس حسرت دل کی دل ہی میں رہی۔
(مشکوٰۃ ص٤٧٠) حضرت ابو سعید خدریؓ نے نبیﷺ سے حضرت مہدی علیہ السلام کے قصہ میں نقل کیا ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ ان کے (یعنی مہدی کے) پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا۔ ”اے مہدی مجھے کچھ دیجئے، مجھے کچھ دیجئے ۔“ آپ نے فرمایا کہ جس قدر وہ اٹھا سکے گا وہ لپ بھر کر اس کے کپڑے میں دے دیں گے۔ یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام لوگوں کو مال بافراط دیں گے۔ مرزا قادیانی کی طرح مکر و حیلہ سے چندہ نہیں جمع کریں گے۔
(مشکوٰۃ ج٢ ص٤٧١، باب اشراط الساعۃ) حضرت ام سلمہؓ نبیﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ فرماتے تھے کہ ایک خلیفہ کے مرنے کے وقت آپس میں اختلاف ہوگا۔ پھر ایک آدمی مدینہ والوں میں سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگے گا۔ پھر لوگ مکہ والوں میں سے ان کے پاس آئیں گے اور وہ انہیں (ان کے گھر سے) نکالیں گے اور وہ ان سب سے کراہیت کریں گے۔ پھر یہ سب لوگ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے بیچ میں ان سے بیعت کر لیں گے اور شام کی طرف سے ایک لشکر
١٩
ان سے لڑنے کے لئے بھیجا جائے گا۔ وہ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا۔ (یہی آدمی حضرت امام مہدی علیہ السلام ہوں گے) جس وقت لوگ یہ بات دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں امام مہدی کے پاس آ کر ان سے بیعت کرلیں گی۔ پھر ایک آدمی قریش میں سے ظاہر ہوگا۔ جس کی ننہال قبیلہ کلب ہوگی۔ وہ بھی ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا۔ ان پر امام مہدی اور ان کے لوگ غالب آجائیں گے اور قبیلہ کلب کا لشکر یہی ہے (یعنی جو مہدی کے خروج کی علامت ہے) اور امام مہدی لوگوں میں اپنے نبی کی سنت کے موافق عمل (درآمد) کریں گے اور اسلام (اس وقت) اپنی گردن کو زمین میں ڈال دے گا۔ (یعنی خوب اچھی طرح سے قرار پکڑ لے گا) پھر وہ سات برس تک رہیں گے۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔ یہ حدیث ابو داؤد نے نقل کی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام کو لوگ مکہ معظمہ میں پہچانیں گے اور وہیں ان سے بیعت کریں گے۔
یہ سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو سوائے خطہ پنجاب کے چند بیوقوفوں کے اور کسی نے امام نہ سمجھا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام اپنی مہدویت کے خود مدعی نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ تو لوگوں سے گریز کریں گے۔ لوگ زبردستی ان سے بیعت کریں گے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مہدویت کا دعویٰ کیا اور زبردستی لوگوں کو بیعت کیا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام مہدی سے لڑنے کے لئے جو لشکر آئے گا وہ مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا۔
ان احادیث سے ہر سچے مسلمان نے اتنا ضرور سمجھ لیا ہوگا کہ مرزا قادیانی کبھی مہدی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ نہ تو وہ سید ہیں نہ انہوں نے زمین کو عدل وانصاف سے بھرا۔ نہ انہیں سلطنت نصیب ہوئی۔ نہ انہیں کبھی سوائے چندہ جمع کرنے کے کسی کو لپ بھر کر مال دینا نصیب ہوا۔ نہ ان سے شام کے ابدالوں اور مکہ کے مسلمانوں نے خانہ کعبہ میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی۔ وغیرہ وغیرہ۔ حدیث کی مطولات میں اس سے زیادہ تصریحات موجود ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کی حقیقت اور بھی آئینہ ہوتی ہے۔
اب مرزا قادیانی کا تیسرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔ اس کے متعلق بھی احادیث بنظر غور
٢٠
لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں دھنسا دیا علیہ السلام ہوں گے ) جس وقت لوگ یہ بات دیکھیں یں امام مہدی کے پاس آ کر ان سے بیعت کر لیں جس کی ننھیال قبیلہ کلب ہوگی ۔ وہ بھی ان کی طرف ٹ غالب آ جائیں گے اور قبیلہ کلب کا لشکر یہی ہے مام مہدی لوگوں میں اپنے نبی کی سنت کے موافق اپنی گردن کو زمین میں ڈال دے گا ۔ (یعنی خوب ں تک رہیں گے ۔ پھر وہ وفات پا جائیں گے اور حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو لوگ مکہ معظمہ میں پہچانیں گے اور
وائے خطہ پنجاب کے چند بیوقوفوں کے اور کسی مہدی علیہ السلام اپنی مہدویت کے خود مدعی نہ گ زبردستی ان سے بیعت کریں گے ۔ یہ بھی کا دعویٰ کیا اور زبردستی لوگوں کو بیعت کیا ۔ مام مہدی سے لڑنے کے لئے جو لشکر آئے گا
ر تم نے سمجھ لیا ہوگا کہ مرزا قادیانی کبھی مہدی عدل وانصاف سے بھرا ۔ نہ انہیں سلطنت ہی کو لپ بھر کر مال دینا نصیب ہوا ۔ نہ ان و میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ں زیادہ تصریحات موجود ہیں ۔ جن سے
ہذا اس کے متعلق سبھی احادیث نظر غور
سے ملاحظہ فرما کر اپنا ایمان تازہ کیجئے اور یقین کر لیجئے کہ مرزا قادیانی مفتری اور کذاب ہے۔
(مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں۔ رسول خداﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل ہو کے اتریں گے اور صلیب توڑ دیں گے اور سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اس قدر زیادہ ہوگا کہ کوئی اسے نہ لے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ تمام دنیا اور دنیا کے تمام سامان سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ اگر تم چاہو تو (اس کی تصدیق کے لئے ) یہ آیت پڑھ لو۔ "وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته " (اہل کتاب میں سے ایسا کوئی آدمی نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان (کی باتوں) پر ایمان نہ لے آئے گا۔) یہ روایت متفق علیہ ہے۔ (یعنی بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کی ہے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود عیسیٰ بن مریم علیہا السلام ہیں۔ ان کے نزول کے بعد تمام دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔ جس کی وجہ سے جزیہ (یعنی وہ محصول جو کفار سے بطور حق حفاظت لیا جاتا ہے ) موقوف ہو جائے گا۔ کیونکہ کوئی کافر ہی نہ رہے گا۔ مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کے زمانہ کی طرح لوگ مفلس وقلاش نہ ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ دیں گے۔ کیونکہ تمام دنیا میں اسلام ہوگا تو پھر صلیب کہاں رہ سکتی ہے۔ مرزا قادیانی کے زمانہ کی طرح عیسائیت کا زور نہ ہوگا۔ اس حدیث اور آیت کے متعلق ہم اس نمبر میں تفصیلی بحث کریں گے۔ جس میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر گفتگو ہوگی۔
(مشکوٰۃ ص ٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ) حضرت ابو ہریرہؓ ہی کہتے ہیں کہ رسول خداﷺ نے فرمایا۔ خدا کی قسم مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) منصف، حاکم ہو کے اتریں گے اور صلیب توڑ دیں گے اور سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑ دیں گے کہ کوئی ان سے دوڑ دھوپ (کا کام) نہ لے گا اور البتہ لوگوں میں سے باہمی کینہ اور بغض حسد جاتا رہے گا اور عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو مال دینے کے واسطے بلائیں گے۔ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔ یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے۔
(اور (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) دونوں کی ایک روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب کہ
٢١
مریم کے بیٹے تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے ہوں گے اور اس سے پہلے کی حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مہدی علیہ السلام حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے۔ ان دونوں کے ملانے سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مہدی اور ہوں گے اور مسیح اور ہوں گے۔ مرزا قادیانی نہ مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں اور نہ حضرت فاطمہ زہرہؓ کی اولاد سے ہیں۔ پھر وہ ایک شخص ہیں غور تو کیجئے وہ کیسے مسیح و مہدی ہو سکتے ہیں۔ مسیح صلیب توڑ دیں گے۔ جزیہ موقوف کر دیں گے۔ سوروں کو مار ڈالیں گے۔ مرزا قادیانی نے یہ کچھ بھی نہ کیا۔ مسیح لوگوں کو مال دینے کے لئے بلائیں گے۔ کوئی نہ لے گا۔ مرزا قادیانی نے ہمیشہ لوگوں کو چندہ لینے کے لئے بلایا۔ اگر وہ دیتے تو انہیں نئے مذہب کے ایجاد سے فائدہ ہی کیا ہوتا۔ عاقبت تو ان کی نئی مذہب کی ایجاد سے برباد ہوئی تھی۔ مال دے دینے سے دنیا بھی تباہ ہو جاتی تو وہ خسر الدنیا والآخرۃ کے مصداق ہو جاتے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہر جگہ یہ آتا ہے کہ وہ اتریں گے۔ مرزا قادیانی کہیں سے بھی نہیں اترے۔
(مشکوٰۃ ص ٣٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) حضرت جابرؓ کہتے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ قیامت تک حق پر لڑتی رہے گی اور اپنے دلائل میں سب پر غالب رہے گی۔ آپ نے فرمایا پھر مریم کے بیٹے عیسیٰ اتریں گے تو مسلمانوں کا سردار (یعنی مہدی علیہ السلام) کہے گا۔ آؤ ہمیں نماز پڑھاؤ اور کہیں گے نہیں۔ اس امت کو خدا کی بزرگی دینے کی وجہ سے تم میں سے ایک دوسرے کا امیر و امام ہے۔ (یعنی خدا نے تمہارے رسول کی امت کو اتنی بزرگی دی ہے کہ تم سب سردار اور امام ہو۔ لہٰذا تم ہی امام بنو میں مقتدی بنتا ہوں ۔ وہ مسلمان سردار امام مہدی علیہ السلام ہوں گے) یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
(مشکوٰۃ ص ٣٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتر کے نکاح کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی اور پینتالیس برس تک (دنیا میں) رہیں گے۔ پھر مر جائیں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے اور میں اور عیسیٰ بن مریم ابو بکرؓ اور عمرؓ کے بیچ میں سے ایک مقبرہ میں سے اٹھیں گے۔ یہ حدیث ابن جوزی نے کتاب (الوفا ص ٨٣٢) میں نقل کی ہے۔
٢٢
اس حدیث سے امور ذیل مستفاد ہوئے۔
- ١...... عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کے نکاح کریں گے اور پینتالیس برس
کے بعد انتقال فرما جائیں گے۔ مرزا قادیانی کی طرح طویل العمر نہ ہوں گے۔
- ٢...... عیسیٰ علیہ السلام حضور سرور عالم ﷺ کے روضہ منورہ میں مدفون
ہوں گے۔ مرزا قادیانی کی طرح پنجاب میں مدفون نہ ہوں گے۔
کیا اس کے بعد کوئی شخص مرزا قادیانی کو مسلمان مجدد (مہدی) یا مسیح سمجھ سکتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کو مسلمان وغیرہ مان لے تو وہ نہ تو اسلام کو سچا سمجھتا ہے نہ رسول اللہ ﷺ کو۔
جواب: ٧...... اس نمبر میں مرزا قادیانی کے دعوے کی دلیل بیان کی ہے۔ دلیل کے دو جز ہیں۔ (الف) ان کے مقابلہ میں کوئی اور ان امور کا مدعی نہیں ہوا۔ (ب) ان کی پیشین گوئیاں صحیح ہوتی تھیں۔
جواب الف...... یہ بالکل غلط ہے کہ ان کے مقابلہ میں کوئی اور مدعی نہیں ہوا۔ احمد رضا خان صاحب بریلوی ابھی تک زندہ ہیں۔ جن کو مجدد زمانہ حاضرہ (یعنی اس موجودہ صدی کا مجدد) ہونے کا دعویٰ ہے۔ پھر وہ مرزا قادیانی کے اس قدر مخالف ہیں کہ کافر اکفر اور جہنمی بتاتے ہیں۔ اگر اور مدعی نہ ہوتے تو جناب رسول مقبول ﷺ کی ”ثلثون دجالون کذابون یزعم کل واحد منہم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی او کما قال“ والی پیشین گوئی کیسے صادق آتی۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ظہور امام مہدی علیہ السلام وخروج دجال اکبر سے پہلے تیس دجال گذریں گے۔ جو نہایت جھوٹے ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک اپنے کو خدا کا رسول سمجھتا ہوگا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ مجھ پر نبوت ختم ہے۔ میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہ ہوگا۔
اس حدیث کی بناء پر مرزا قادیانی کو بھی مجبوراً دجال ماننا پڑتا ہے۔ دجل کے معنی تاریکی کے ہیں۔ دجال تاریکی پھیلانے والا، نور ایمان کو مٹانے والا۔ مرزا قادیانی نے بہت سے قطعی عقائد کے خلاف عقائد تعلیم کئے۔ مثلاً خدا پر کذب کا افتراء یا انبیائے معصومین پر اتہام ان کی توہین وغیرہ جس سے ایمان کی روشنی مٹی اور کفر کی ظلمت بڑھی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے دجال ہونے میں اب کیا شبہ رہا۔
٢٣
مرزا قادیانی کا کذاب ہونا بھی ظاہر ہے۔ خدا کو جھوٹا کہہ دیا۔ (عیاذ باللہ) جھوٹی پیشین گوئیاں اسمہ احمد جو قرآن کی آیت کا جز ہے۔ جس میں یہ بشارت نقل کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے تھے کہ میرے بعد ایک نبی آئیں گے ان کا نام احمد ہوگا۔ اس آیت کا اپنے کو مصداق بنا کر نبوت کا دعویٰ کرنا وغیرہ محض کذب اور سراسر کذب اور غلط ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نرا کذاب اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ (ہر ایک ان میں سے اپنے کو خدا کا نبی سمجھتا ہوگا) صادق آگیا۔ واقعی اس حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا حضور سرور عالم ﷺ کے سامنے مرزا قادیانی کی صورت مثالی پیش کر دی گئی تھی اور آپ اسی کو دیکھ کر یہ الفاظ فرما رہے تھے۔ سبحان اللہ! کیسا عمدہ لباس بنایا ہے۔ جو بالکل ٹھیک ہے۔
واقعی اچھا ہوا جو مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کوئی اور مدعی نہ ہوا۔ ورنہ وہ بھی دجال وکذاب بنتا۔ خدا ہر آدمی کو ایسے جہل وجنون سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ مگر نوشتۂ تقدیر سے کون بچ سکتا ہے۔ تیس کی تعداد ضرور پوری ہو کر رہے گی۔
جواب ب...... بالفرض پیشین گوئیاں صحیح بھی ہوں تو کیا اس سے کوئی شخص مجدد مہدی یا مسیح بن سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کاہن جنہوں نے رسول مقبول ﷺ کی بعثت سے پہلے پیشین گوئیاں کی تھیں جو پوری ہوئیں۔ ضرور ان القاب میں سے کوئی لقب پاتے۔ یا آج کل رمال نجومی مارے مارے پھرتے ہیں۔ یہ بھی یہ مرتبہ حاصل کر لیتے۔ اکثر جنتریوں میں پیشین گوئیاں ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر صحیح بھی نکلتی ہیں۔ جن کی سچائی کی اوسط مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ اگر یہ لوگ بھی مجدد و مسیح ومہدی ہیں تو مرزا قادیانی بھی ہوں گے اور اگر یہ نہیں تو مرزا قادیانی بھی نہیں۔ بس جو یہ وہ، وہ۔ ان میں ان میں کوئی فرق نہیں۔ یہ تو جب ہے کہ جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں صحیح فرض کر لی جائیں۔ ہم بطور مشتے نمونہ از خروارے کچھ پیشین گوئیاں پیش کرتے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کے کہنے کے بالکل برخلاف ہوئیں۔
- ١...... منکوحہ آسمانی کا قصہ ناظرین اوپر معلوم کر چکے ہیں۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے ایک مرتبہ پادری آتھم سے مناظرہ کیا۔ اس میں آپ
نے یہ پیشین گوئی کردی کہ پادری آتھم پندرہ مہینہ کے اندر مر جائے گا۔ جب مدت مقررہ گزر گئی اور وہ نہ مرا تو آلہ آباد سے پنجاب تک تمام پادریوں نے جشن منایا اور مرزا قادیانی کی حماقت کا مضحکہ اڑایا۔
٢٤
مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ عظیم الشان پیشین گوئی
خود مرزا قادیانی کی عبارت میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
نحمده ونصلی علی رسوله الکریم ! بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب وتفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت یہ شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے...... میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔
- ١...... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے
یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ (چنانچہ ہلاک ہو گئے۔ الحمد للہ !)
- ٢...... اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے
فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔
- ٣...... پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے
ہے۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ (چنانچہ ان پر کوئی مہلک بیماری مرزا قادیانی کی زندگی میں نہیں آئی۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے نہیں ۔ بلکہ شیطان کی طرف سے ہیں)
- ٤...... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری
نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین ! (یہ دعاء قبول ہو گئی۔ مرزا قادیانی کا افتراء بھی ظاہر ہو گیا اور تمام مسلمانوں کو خدا نے ان کی موت سے خوش بھی کر دیا)
- ٥...... اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں
عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ان کو نابود کر۔ (چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب سچے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ دعاء قبول نہ ہوئی اور الحمد للہ وہ اب تک صحیح سلامت ہیں اور مرزا قادیانی کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہیں )
- ٦...... میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی بدزبانی حد سے گزر گئی ۔ وہ مجھے ان چوروں اور
٢٥
ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے۔ (واقعی ہر سچے مسلمان کو جاننا بھی یہی چاہئے) اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔ اے میرے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین!
(مرزا قادیانی کی یہ عاجزانہ دعا خدا نے اپنی رحمت سے قبول فرمائی اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں جو کہ صادق ہیں۔ مرزا قادیانی کو جو کہ کاذب ہیں۔ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک بڑے فتنہ سے محفوظ کر دیا)
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ (اہل حدیث) میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ (یعنی خواہ اس سے ڈر کر توبہ واستغفار لکھ دیں یا اپنا ایمان عزیز سمجھ کر مرزا قادیانی کو مفتری و کذاب لکھ دیں۔ غرض دونوں باتوں میں اختیار ہے اور چاہے کچھ بھی نہ لکھیں ہوگا تو وہی جو مرزا قادیانی کی دعا یا اپنے حق میں بددعا ہے) اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ (یعنی مولوی صاحب کے لکھنے سے کچھ نہ ہوگا۔ کیونکہ اب بات خدا تک پہنچ گئی)
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨،٥٧٩)
الراقم عبدالصمد مرزا غلام احمد
(”مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ میں مرزا قادیانی نے اپنے کو احمد کہہ کر اس آیت کا مصداق بتایا تھا۔ مگر سچ ہے۔ ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ بالکل بھول گئے۔ اپنے بجائے اختراعی نام احمد کے اصلی نام غلام احمد بھی لکھتے ہیں) مرقومہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، مطابق یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ (یہ فیصلہ مرزا قادیانی کے خاص اخبار الحکم کے جلد ١١ نمبر ١٣ میں مورخہ ١٧؍ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی کے مرنے سے تیرہ ماہ پہلے چھپا ہے۔ جن کو ذرا سا بھی شعور ہو وہ مرزا قادیانی کی حالت کا خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں)
- ٤...... چاند اور سورج گرہن والی پیشین گوئی ایسی ہی تھی جیسے کوئی یہ کہے کہ میں
مجدد ہوں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس سال میں ربیع الاول کا مہینا آئے گا۔ یا ہفتہ میں جمعہ کا دن بھی ہوگا۔ یا دن گذرنے کے بعد رات بھی آئے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔
اگر اس کی زیادہ تفصیل چاہتے ہیں تو شہادت آسمانی ملاحظہ فرمائیے۔ اس سے معلوم ہو
٢٦
جائے گا کہ یہ چاند اور سورج گرہن معمولی ہی تھے اور ازروئے علم ہیئت و نجوم ان کا ہونا ضروری تھا۔ جو مرزا قادیانی کی طرح اور نجومیوں کو بھی معلوم ہو گیا تھا۔
٥......... زمین پر طاعون کی پیشین گوئی کیسی کچھ صحیح ہوئی۔ پہلے پیشین گوئی سن لیجئے۔ اس کے بعد اس کی صحت کی داد دیجئے۔ ”قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
یعنی جس طرح جناب رسول مقبول ﷺ نے مدینہ منورہ کے طاعون سے محفوظ رہنے کی خبر دی تھی۔ مرزا قادیانی نے بھی جب کہ اپنے کو حضور ﷺ سے افضل ٹھہرایا۔ یہ پیشین گوئی کی۔ مگر مسیلمہ کی طرح کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرح ایک کنویں میں تھوکا تو قدرت الٰہی سے اس کا پانی تلخ اور وہ کنواں اندھا ہو گیا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی پیشین گوئی کی۔ مگر ان کا جھوٹ اس طور پر ظاہر ہو گیا کہ قادیان میں اس زور شور کا طاعون آیا کہ ایک ہی مہینہ میں اس نے بہتوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹ کی جو کچھ تاویلیں کی ہیں وہ مہمل اور ناقابل سماعت ہیں۔
٦......... میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کے لئے آیا ہوں۔ اگر میں نہ توڑ دوں تو گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں۔ (مکتوبات احمدیہ ج ٦ ص ١٦٢) (اوپر کی احادیث سے مسیح علیہ السلام کی یہ علامت بھی معلوم ہوئی ہوگی کہ وہ صلیب کو توڑ دیں گے۔ یعنی عیسائیت کو مٹا دیں گے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے جب مسیحیت کا دعویٰ کیا تو ساتھ ہی اس کے یہ بھی کہنا پڑا، مگر انہوں نے اپنی امت کو اپنے جھوٹا ہونے پر گواہ بھی کر دیا ہے۔ کیونکہ تثلیث پرستی کا ستون آج تک ان کے مرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹا۔ بلکہ عیسائی مذہب سلطنتوں کی امداد سے اور مضبوط ہو گیا۔ کیا اب بھی ان کی امت اپنے جھوٹے نبی کو سچا سمجھتی ہے۔ اگر سچا سمجھتی ہے تو اس کا مشرکین مکہ اور یہود کی طرح اصرار علی الباطل ہے۔ جس سے ہر مسلمان کو خدا محفوظ رکھے) یہ تھیں مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جن کی صحت پر مرزا قادیانی کی سچائی موقوف تھی۔ مگر افسوس وہ صحیح نہ ہوئیں۔ جن سے مرزا قادیانی کو کاذب ہونا پڑا۔
جواب: ٨......... اس نمبر میں قرآن میں تحریف کر کے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر استدلال ہے۔ بالفرض عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو بھی چکی تو اس سے مرزا قادیانی کا مسیح ہونا کیسے لازم آیا۔ ایک شے کی نفی سے دوسری شے کا ثبوت نہیں لازم آتا۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ
٢٧
السلام کی وفات سے مرزا قادیانی کا مسیح ہونا لازم نہیں آتا۔ اگر کوئی اس کا دعویٰ کرے تو وہ جاہل ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے ۔ حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ پھر اجماع امت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں تین مقام پر زیادہ تصریح ہے۔ چنانچہ وہ آیات بترتیب منقول ذیل ہیں۔ ”اذ قال اللہ یعیسٰی انی متوفیک ورافعک الیّ ومطهرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة ثم الیّ مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیه تختلفون (آل عمران:٥٥)“
ترجمہ معہ تفسیر
جب کہ اللہ تعالیٰ نے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جب کہ وہ گرفتاری کے وقت متردد اور پریشان ہوئے) فرمایا اے عیسیٰ (کچھ غم نہ کرو) بیشک میں تم کو (اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے) وفات دینے والا ہوں ۔ (پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدر ہے تو ظاہر ہے کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہوگے) اور (فی الحال) میں تم کو اپنے (عالم بالا کی) طرف اٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں (کی تہمت) سے پاک کرنے والا ہوں جو (تمہارے) منکر ہیں اور جولوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ۔ ان لوگوں پر جو کہ (تمہارے) منکر ہیں روز قیامت تک (گو اس وقت یہ منکرین غلبہ اور قدرت رکھتے ہیں) پھر (جب قیامت آجاوے گی اس وقت) میری طرف ہوگی۔ سب کی واپسی (دنیا و برزخ سے) سو میں (اس وقت) تمہارے (سب) کے درمیان (عملی) فیصلہ کردوں گا۔ ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے (کہ مجملہ ان امور کے مقدمہ ہے عیسیٰ علیہ السلام کا) اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چند وعدے کئے گئے ہیں۔
- .......١ یہ کہ موت وقت مقررہ پر آئے گی۔ چونکہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ لہٰذا
دشمنوں سے کچھ خوف نہیں کرنا چاہئے۔
- .......٢ یہ کہ دشمنوں کے نرغہ سے عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھالیں گے۔ چنانچہ
اٹھالیا۔ سورہ نساء میں ہے۔”بل رفعه اللہ الیہ“ بلکہ خدا نے انہیں اپنی طرف اٹھالیا۔ وہاں اس وقت وہ زندہ موجود ہیں۔ قریب قیامت کے نزول فرمائیں گے۔
- .......٣ یہ کہ تہمت سے پاک کردیں گے جو یہود نے آپ کے نسب پر لگائی تھی۔
٢٨
جیسا کہ مرزا قادیانی نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ یہ وعدہ اس طور پر پورا ہوا کہ جناب رسول مقبولؐ تشریف لائے اور آپ نے تمام الزامات کو رفع فرمایا۔ خود قرآن مجید میں بھی بہت کچھ آپ کی تطہیر و تنزیہ کی گئی۔
- ٤...... یہ کہ ہم آپ کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب
رکھیں گے۔ چنانچہ مسلمان اور نصاریٰ آپ کے ماننے والے ہیں۔ اس لئے ان کی سلطنتیں ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی اپنی جگہ غالب ہیں اور یہود اور قادیانی چونکہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اس لئے یہ ذلیل وخوار ہیں اور ان کی دنیا میں کوئی سلطنت بھی نہیں ہے۔
- ٥...... یہ کہ قیامت میں تمام اختلافات کا عملی فیصلہ فرمائیں گے۔ چنانچہ قیامت
آئے گی۔ اس وقت یقیناً عملی فیصلہ ہوگا۔ شرعی فیصلہ تو یہاں بھی فرما دیا۔ چنانچہ یہود کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ہو گئے۔ قادیانی بھی یہی کہتے ہیں اور نصاریٰ کہتے تھے کہ مصلوب ہو کر پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ ان دونوں کی نفی ماقتلوہ وما صلبوہ سے فرمادی۔ اس کی تفصیل ہم دوسری آیت کے ذیل میں کریں گے۔
مرزا قادیانی نے لفظ متوفیک سے آپ کی وفات پر استدلال کیا ہے۔ مگر تفسیر بالا سے یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ متوفیک کے معنی وفات کے بھی لے لئے جائیں۔ تب بھی وہ وفات مراد ہے جو بعد نزول عیسیٰ کے قریب قیامت کے ہوگی۔ کیونکہ اوّل تو رفعہ اللہ کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مع جسد کے اٹھا لیا۔ دوسرے احادیث صحیحہ میں تصریح ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے در منثور میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ: ”ان عيسٰی لم يمت وانه راجع اليکم قبل يوم القیٰمۃ“ یعنی بیشک عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے اور وہ ضرور قیامت سے پہلے تمہارے پاس واپس آئیں گے۔ اس کے علاوہ اجماع امت بھی ظاہر ہے کہ سلف وخلف میں کسی مستند عالم سے اس کا انکار منقول نہیں۔ اسی واسطے یہ مسئلہ قطعی ہے۔ جس کا منکر کافر ہے۔ یہ اس وقت ہے جب کہ توفی کے معنی وفات کے لئے جائیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ لغت میں توفی کے معنی پورا لے لینا ہے۔ اب اس آیت میں یہ معنی ہوئے کہ اے عیسیٰ میں تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ یعنی صرف روح کو نہیں لوں گا۔ بلکہ روح مع جسد کے لے لوں گا۔ یہ ظاہر ہے کہ موت میں صرف روح کا رفع ہوتا ہے۔ جسد کا رفع نہیں ہوتا۔ اگر جسد کے آسمان پر جانے سے فلسفی اشکالات مثل امتناع خرق والتیام فلک پیش کئے جائیں تو وہ اس آیت کے مقابلہ میں مردود ہیں۔ ”ان اللّٰه علٰی کل
٢٩
شیء قدیر“ ہرچند کہ عموم شے میں ممتنعات عقلیہ و شرعیہ داخل نہیں مگر چونکہ خرق والتیام عقلاً وشرعاً کسی طرح ممتنع نہیں۔ لہٰذا یہ داخل ہوسکتا ہے اور ان احادیث میں تاویل کرنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کی تصریح ہے۔ محض بلا دلیل اور خباثت نفس سے ہے۔ لہٰذا حقیقی اور صریح معنی کے مقابلہ میں بالکل مردود ہے۔
”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله، وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقيناً، بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما، وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (النساء: ١٥٧ تا ١٥٩)“ اور (ہم نے یہود کو سزائے لعنت وغیرہ میں) ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (بھی مبتلا کیا کہ) ہم نے عیسیٰ بن مریم کو جو کہ اللہ کے رسول ہیں قتل کردیا۔ حالانکہ (یہ کفر بھی ہے اور پھر بالکل غلط بھی ہے کیونکہ) انہوں نے نہ ان کو (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) نہ قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا۔ لیکن انہیں اشتباہ ہوگیا۔ (کیونکہ ایک اور شخص کو ان کا ہم شکل بنادیا گیا تھا۔ جس کے ساتھ انہوں نے یہ معاملہ کیا اور اپنے زعم باطل میں یہ سمجھے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا۔ کذا فی تفسیر بیان القرآن) اور جو لوگ ان کے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے) بارہ میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں (مبتلا) ہیں۔ ان کے پاس اس پر کوئی (صحیح) دلیل بجز تخمینی باتوں کے نہیں اور یقیناً انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے انہیں اپنے (آسمان کی) طرف اٹھالیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔ (لہٰذا یہ فعل بھی حکمت سے خالی نہیں)۔
اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کسی نے قتل کیا اور نہ سولی دی۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی حکمت سے زندہ آسمان پر اٹھالیا۔ اب اس آیت کے بعد بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام سے انکار کرنا قرآن کا انکار کرنا ہے۔ یہود کی طرح کافر ہونا ہے۔
ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے (مشکوٰۃ ص٤٧٩) کے ترجمہ میں ”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته“ کی تفصیلی بحث کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ اب اس کا ایفا کرتا ہوں۔ ترجمہ: اور اہل کتاب میں سے کوئی (شخص) نہ ہوگا مگر (جو) ضرور بالضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز عیسیٰ علیہ السلام ان کے
٣٠
(یعنی یہود کے) انکار پر گواہ ہوں گے۔ صلیب توڑنے اور جزیہ موقوف کر دینے استدلال فرماتے ہیں کہ چونکہ حسب مضمون اہل کتاب کا نزول قرآن کے بعد کم از ضروری ہے۔ لہٰذا حضرت ابو ہریرہؓ کے موقوف کرنا اس بناء پر ہوگا کہ ان کے نزول اس لئے صلیب بھی ٹوٹے گی اور جزیہ بھی صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کی پیشین جائیں۔ اب بھی اگر مرزائی عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے نہیں سمجھے جاسکتے۔
آیت سوم ....... ”ما قلت وربكم وكنت عليهم شهيدا عليهم وانت على كل شئ شهيد
ترجمہ مع تفسیر
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں فرمایا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرو (کی حالت) پر مطلع رہا۔ جب تک ان مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے متعلق بیان کرسکو میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری (کے احوال) پر مطلع رہے۔ (اس وقت ہوا) اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں
چونکہ توفی کے معنی لغت میں لئے یہاں پر وفات کے معنی نہیں ہوسکتے مخالف ہو جائے گی۔ چونکہ قرآن میں ان
(یعنی یہود کے) انکار پر گواہ ہوں گے۔ چونکہ حدیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول۔ ان کے صلیب توڑنے اور جزیہ موقوف کر دینے کا ذکر ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ اس آیت سے اس پر استدلال فرماتے ہیں کہ چونکہ حسب مضمون آیت، عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے پہلے تمام اہلِ کتاب کا نزولِ قرآن کے بعد کم از کم ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آنا ضروری ہے۔ لہٰذا حضرت ابو ہریرہؓ کے خیال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب توڑنا اور جزیہ موقوف کرنا اس بناء پر ہوگا کہ ان کے نزول کے بعد تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اس لئے صلیب بھی ٹوٹے گی اور جزیہ بھی موقوف ہوگا۔ کیونکہ مومنین پر جزیہ نہیں ہوتا۔ اس سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی تک وفات نہیں ہوئی۔ کیونکہ صدقِ قرآن کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کے بعد ایک مرتبہ تو سب اہلِ کتاب مؤمن ہو جائیں۔ اب بھی اگر مرزائی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہوں تو وہ یہودیوں کی طرح قرآن کے ماننے والے نہیں سمجھے جاسکتے۔
آیت سوم ..... ”ما قلت لهم الا ما امرتنی به ان اعبدوا الله ربی وربكم وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد (المائده:١١٧)“
ترجمہ مع تفسیر
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی (بات) جو آپ نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرو۔ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ میں ان (کی حالت) پر مطلع رہا۔ جب تک ان میں (موجود) رہا (سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے متعلق بیان کر سکتا ہوں) پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا۔ (یعنی اوّل بار میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری بار میں وفات کے طور پر) تو (اس وقت صرف) آپ ان (کے احوال) پر مطلع رہے۔ (اس وقت کی مجھ کو کچھ خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا اور کیونکر ہوا) اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔
(تفسیر بیان القرآن ج٣ ص٧١، ٧٢)
چونکہ توفّی کے معنی لغت میں پورا لے لینا ہیں۔ یعنی اٹھا لینا وصول کر لینا وغیرہ۔ اس لئے یہاں پر وفات کے معنی نہیں ہو سکتے۔ اگر وفات کے معنی ہوں گے تو پہلی آیت کے یہ آیت مخالف ہو جائے گی۔ چونکہ قرآن میں اختلاف ممنوع ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ وفات کے معنی نہیں۔
٣١
اسی معنی کے اظہار کے لئے توفیتنی کہا گیا۔ جس سے بطور عموم مجاز کے پہلی مرتبہ کا آسمان پر مع جسد اٹھ جانا اور قریب قیامت کے نزول کے بعد پھر موت طبعی سے مر جانا دونوں مراد ہیں۔ تفسیر بالا میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امتی (یعنی جب آپ نے مجھے موت دے دی) یا رفعتنی (یعنی جب آپ نے مجھے زندہ آسمان پر اٹھا لیا) ان دونوں میں سے کوئی ایک لفظ ہوتا اور اگر مرزا قادیانی اپنے اصرار علی الباطل کی وجہ سے اسے نہ مانیں تو ہمیں مضر نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو گئی اور اس دعویٰ کی دلیل میں یہ آیت پیش کی ہے۔ چونکہ ہم نے مرزا قادیانی کی دلیل میں ایسا احتمال پیدا کر دیا۔ جس سے مرزا قادیانی کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں اب کوئی اور دلیل پیش کرنا چاہئے۔ جس کے متعلق میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ وہ قیامت تک نہیں پیش کر سکتے ۔عوام الناس کے سمجھنے کے لئے میں ایک مثال بھی دیتا ہوں ۔ مثلاً عدالت میں کسی شخص کے گواہ پیش ہوں ۔ تو فریق ثانی کے وکیل کو ان پر جرح کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر وکیل نے جرح کر کے فریق اوّل کے گواہوں کو بیکار کر دیا یا ان سے وہ کہلوا لیا۔ جو فریق ثانی کے موافق یا فریق اوّل کے مخالف ہے تو اب وہ گواہ بیکار ہو گئے۔ اب فریق اوّل کو چاہئے کہ کوئی اور گواہ پیش کرے۔ ورنہ مقدمہ میں ناکام ہونا پڑے گا۔ ایسا ہی یہاں بھی ہے کہ مرزا قادیانی کو لے دے کے ایک آیت تحریف کے لئے ملی تھی۔ مگر وہ بھی منصفانہ نظر سے ان کا مدعا نہ ثابت کر سکی۔ فقط والسلام!
وصیت
اب آخر میں میں اہل اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ اسے غور سے ملاحظہ فرمائیں اور مرزا قادیانی کی حالت معلوم کر کے ہمیشہ کے لئے ان سے نفرت کریں اور فرقۂ قادیانیہ سے بھی اتنی عرض ہے کہ وہ بھی شروع سے آخر تک اسے غور سے پڑھ جائیں۔ مگر پڑھتے وقت یہ خیال دل میں نہ رکھیں کہ ہم اپنے مخالف کی تحریر دیکھ رہے ہیں۔ ورنہ ہدایت نہ ہو گی ۔ بلکہ منصفانہ نظر سے یہ سمجھ کر دیکھیں کہ ہم ایک خیر خواہ کی تحریر دیکھتے ہیں۔ انشاء اللہ اگر طبیعت میں انصاف اور حق پسندی ہے تو ضرور ہدایت ہو گی ۔ فقط !
”وما علینا الا البلاغ، وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین“ احمد عبدالحلیم!
٣٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
تحفة الایمان
لاہل القادیان
حضرت مولانا عبدالرزاق سلیم خانیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ۔ اما بعد!
مدت سے خیال تھا کہ قادیانی عقائد کا صحیح نقشہ مسلمانوں کی خدمت میں پیش کردوں۔ مگر بوجہ عوائق وموانع کے امروز وفردا پر ٹالتا رہا اور پھر یہ خیال رہا کہ میرے اساتذہ کرام مثلاً مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب ابن شیر خدا اور حضرت امام اہل سنت مولانا محمد عبد الشکور صاحب اور دیگر علماء نے اس موضوع پر نہایت جید اور عمدہ رسالے لکھے ہیں تو اب کسی چیز کی گنجائش اس میدان میں نہ رہی۔ لیکن خریداران یوسف کی طرح مجھے بھی حوصلہ ہوا اور اس میدان میں خامہ فرسائی کی ہمت ہوئی۔ کیونکہ؎
عجب کہ تشنہ بمانم سفال ریحانم
مشہور مقولہ ہے اور پھر
کے مطابق اس مبحث پر جتنا بھی تحریر کیا جائے قلیل اور کم ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور ان کی ذریت نے دین اسلام میں جو رخنہ پیدا کیا اور انہوں نے دین محمدی کے مٹانے میں جو ناکامیاب سعی اور کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں مسلمانوں سے مخفی نہیں ہے۔ آج قادیانی مبلغ اور مرزائی مشنری جس فریب اور حیلہ سازی سے ناواقف مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں وہ اہل اسلام پر ظاہر اور ہویدا ہے۔ ادھر اکثر مسلمان ابھی تک غفلت میں ہیں اور خواب خرگوش میں پڑے سوتے ہیں اور یہ خبر بھی نہیں کہ فتنہ کس قدر شدید ہے۔ دوسری جانب قادیانی پمفلٹ اشتہارات رسالے بہت بڑے پیمانے پر چھپوا چھپوا کر شائع کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی لاحاصل سعی میں مصروف ہیں اور طرح طرح کے تحریف آمیز کلمات مرزا قادیانی کی تحریروں سے جناب نبی کریم ﷺ کے بارے میں عوام کو سناتے ہیں اور ان کو اس طریقے سے مسخر کرنے میں کامیابی کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔ چند غلط تراجم آیتوں کو بیان کر کے غیر تشریعی نبوت مرزا قادیانی کے لئے ثابت کرتے ہیں اور چند دور از مدعا احادیث پیش کر کے ناواقفوں کو راہ راست سے گمراہ کرتے ہیں اور اس طریقے سے مرزا قادیانی کے معائب ومثالب پردۂ اخفاء میں محفوظ پڑے رہتے ہیں۔ اگر قادیانی انصاف سے کام لیتے تو انصاف تو یہ ہے کہ تصویر کے دونوں رخ پبلک کے سامنے پیش کرتے۔ تاکہ پبلک مکمل مرزائی تصویر کو دیکھ کر فیصلہ
٢
کرتی اور اگر ان میں صداقت کا مادہ ہوتا اور ان کے دلوں میں خدا کا ذرا بھی خوف ہوتا تو مرزائی لٹریچر سے پبلک کے سامنے مکمل معائب مثالب اور تحریف صریح کی تحریر پیش کرتے۔ لیکن قادیانی حضرات نے انصاف کا خون کیا اور حق کو چھپایا۔ اس واسطے آج میں نے یہ ضرورت اپنے قلب میں محسوس کی اور اس مختصر رسالے میں مرزائی لٹریچر سے مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و خیالات کا صحیح نقشہ اور مکمل دورخی تصویر مسلمانوں کی خدمت میں اختصاراً پیش کی اور نہایت وجیز طریقہ اور مختصر الفاظ میں قادیانیوں کے آقا کی اخلاقی اور تمدنی دینی و دنیوی حیثیت سے بحث کی ہے۔ امید ہے کہ مسلمان اس کو نہایت غور و خوض سے مطالعہ کر لیں گے اور اس نوزائیدہ فتنہ کے زہریلے اثرات کا اندازہ کر لیں گے۔ اس رسالے میں جس قدر حوالے ہیں۔ نہایت صحیح ہیں۔ کسی قسم کے دھوکے اور مغالطہ سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ غیر جانبدارانہ طور سے حق کا اثبات اور باطل کا ابطال کیا گیا ہے۔ صرف مرزا قادیانی ہی کے اقوال سے مرزا قادیانی کی نبوت کو باطل کر کے دکھایا گیا ہے۔ ہاں بعض جگہ ضمنی مباحث میدان بحث میں واقع ہوئے ہیں۔ نیز قادیانی انصاف پسند اور حق جو حضرات سے بھی التماس ہے کہ اس رسالے کو من و عن از راہ انصاف مطالعہ کریں اور غور فرمائیں کہ ایسا شخص جو محض ایک ہیولائی تخیلات کا منشاء ہو اور متضاد اور متناقض اقوال لکھنے والا ہو کبھی نبی ہو سکتا ہے اور طرہ یہ کہ مرزا قادیانی خود نصیحت فرماتے ہیں۔ لیکن خود بدولت پھر اس کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ قول و فعل میں ظاہر تباین موجود ہے اور ”کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون“ کا مصداق ہے۔ خدا ان کے شر سے تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔
”وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین“ ”وانا الاحقر عبدالرزاق سلیم خانی غفرلہ ولوالدیہ“ ٢٧؍ رجب ١٣٥٤ھ
مرزا قادیانی کے اخلاق حمیدہ
بدزبانی کے متعلق فتویٰ
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا...... پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی بدتر چھری نہیں۔“
(چشمہ معرفت ص ١٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦، ٣٨٧)
”یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں
گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہوسکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات سے منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام زماں نہیں ہوسکتا۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
اس سے معلوم ہوا کہ امام زماں کے لئے ضروری ہے کہ شدائد اور تکالیف کا متحمل ہو اور جس میں تحمل و برداشت کا مادہ نہ ہو وہ ہرگز امام زمان نہیں ہوسکتا۔ نیز مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”کسی کو گالیاں مت دو، گو وہ گالیاں دیتا ہو۔“
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)
اب ہمیں مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اقوال کا لحاظ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہے کہ جناب مرزا قادیانی اپنے فتوؤں کے اور انہیں اقوال کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا صرف مرزا قادیانی فرماتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔
مرزا قادیانی کی نظر عنایت مسلمانان عالم پر
”ان العدی صاروا خنازیر الفلاء ونسائھم من دونھن الاکلب“ ہمارے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذریۃ البغايا الذين ختم الله على قلوبهم“ یعنی جس نے میری دعوت قبول نہ کی وہ بازاری عورت اور زانیہ کا بیٹا ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
قادیانی اکثر جواب دیتے ہیں کہ ذریۃ البغایا کے یہ معنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے معنی ”ہدایت اور رشد سے دور“ ہیں۔ جیسا تاج العروس میں موجود ہے اور نیز یہ نیک علما اور شریف لوگوں کے حق میں نہیں ہے۔ بلکہ شریر لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے۔ لیکن یہ سب حیلہ بازیاں ہیں اور ایک صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے ان کے امتی زیادہ عاقل نہیں ہیں۔ پس جو معنی مرزا قادیانی نے اس لفظ کا کیا ہے۔ وہی معنی معتبر ہوگا۔ نہ کہ ان کی امت کے رکیک معانی۔ اب ملاحظہ ہو کہ مرزا قادیانی نے اس لفظ کے معنی اپنی متعدد کتابوں میں یہی لکھے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ چنانچہ (نور الحق حصہ اوّل ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣، خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ٣٩، انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨٢) میں مرزا قادیانی نے خود بدولت یہی ترجمہ کیا ہے۔ اب خواہ مخواہ لغت کی کتابوں کو پیش کرنا اور ان کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنا مرزا قادیانی کو رنجیدہ کرنا اور ان کی
٤
ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں وہ کسی طرح امام زماں نہیں
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
کے لئے ضروری ہے کہ شدائد اور تکالیف کا متحمل ہو اور م زماں نہیں ہو سکتا۔ نیز مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)
بالا اقوال کا لحاظ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہے کہ اقوال کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا صرف وز ہیں۔
عالم پر
نسائهم من دونهن الاكلب ”ہمارے مخالف سے بدتر ہیں۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من تى الا ذرية البغايا الذين ختم الله على بازاری عورت اور زانیہ کا بیٹا ہے۔
کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
ۃ البغایا کے یہ معنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے معنی ں میں موجود ہے اور نیز یہ نیک علما اور شریف ے میں یہ فرمایا ہے۔ لیکن یہ سب حیلہ بازیاں ے ان کے امتی زیادہ عاقل نہیں ہیں۔ پس جو ز ہوگا۔ نہ کہ ان کی امت کے رکیک معانی۔ متعدد کتابوں میں یہی لکھے ہیں جو ہم کرتے ، خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ٢١ ص ٤٩، انجام خود بدولت یہی ترجمہ کیا ہے۔ اب خواہ مخواہ ما کرنا مرزا قادیانی کو رنجیدہ کرنا اور ان کی
نافرمانی کرنا ہے۔ لہٰذا یہ توجیہ تو کسی طرح عاقل کے نزدیک قابل قبول نہیں اور فرض کیجئے کہ شریروں ہی کے بارے میں فرمایا ہے تو یہاں پر لازم آیا کہ مرزا قادیانی امام زمان نہ تھے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حوالے میں مرزا قادیانی نے خود تحریر کیا ہے کہ ایسا شخص امام زمان نہیں ہو سکتا۔ غرض یہ ہے کہ کسی طرف اب فرار کا راستہ نہیں مل سکتا؎
جو وہ ٹانکا تو یہ ادھڑا جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا
- ٣....... ”خدائے تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی
طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن....... پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
اب دیکھئے کہ اپنے نہ ماننے والوں کو بیک جنبش قلم شیطان قرار دیا۔ اب بطور نمونہ مرزا قادیانی کی شیریں زبانی کا مختصر سا نقشہ ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
- ١....... ”اے مردار خوار مولویو اور گندی روحو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ حاشیہ)
- ٢....... ”یہودی صفت مولوی۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)
- ٣....... ”بدذات مولوی۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١ حاشیہ)
- ٤....... ”شریر مولوی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
- ٥....... ”اے اسلام کے عار مولویو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
”مولویوں کا منہ کالا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
- ٦....... ”یہ شریر مولوی کب تک انکار کریں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)
- ٧....... ”خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہ نعال
لعن اللہ الف الف مرۃ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
- ٨....... ”وآخرهم الشيطان الاعمى، والغول الاغوى يقال له
٥
رشید الجنجوہی وہو شقی کالامروہی ومن الملعونین ”واز ہمہ آخر شیطان کو راست روی و گمراہ کہ اورا رشید احمد گنگوہی می گویند واو ہم چوں محمد احسن امروہی بد بخت است وزیر لعنت خدائے تعالیٰ است۔
(انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص٢٥٢)
- ٩...... ”نجاست کی طرح جھوٹ کی بدبو سے بھرا ہوا نکلا اور ہزار لعنت کا رسا اس
کے گلے میں پڑا۔“
(انوار اسلام ص١٠، خزائن ج٩ ص٨٣)
- ١٠...... ”یہ صرف گوہ کھانا ہے۔ اے بے حیا۔“
(نزول المسیح ص٦٤، خزائن ج١٨ ص٤٤١)
اس مختصر نقشے کے دیکھنے سے خود بخود یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی فحاشی اور لعنت بازی اور بدگوئی میں انتہائی ماہر تھے اور ہرگز امام زمان بننے کے قابل نہ تھے۔ بلکہ ایمان کا ذرہ بھی آپ کے دل میں نہیں تھا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں کہ: ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں۔ مومن لعان نہیں ہوتا۔“
(ازالۃ اوہام ص٦٦٠، خزائن ج٣ ص٤٥٦)
کیا اب مرزائی، مرزا قادیانی کا ایمان ثابت کریں گے۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی جو مومن ہوتا ہے لعان نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا قادیانی لعان ہیں۔ لہٰذا مومن نہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ شریروں کو فرمایا ہے تو کشتی نوح کا مذکورہ حوالہ خود جواب کے لئے کافی ہے۔ غریب مسلمانوں نے کیا قصور کیا تھا۔ جو ایسے لعنت اور عتاب کے مستحق ہوئے۔ سوائے اس کے کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت سے روکتے تھے اور آپ کے اس جھوٹے دعوے کا انکار کرتے تھے۔ صرف مرزا قادیانی کیا بلکہ آپ کے چیلے صاحب تو آپ کو بھی مات کر گئے اور مسلمانوں پر مرزا سے بھی بڑھ کر دل کا بخار نکال لیا۔ فرماتے ہیں کہ:
- ١...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص٣٥)
- ٢...... ”بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار
نہیں کرتا۔ لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے۔“
(آئینہ صداقت ص٨٦)
- ٣...... ”جو لوگ مرزا قادیانی کو رسول نہیں مانتے۔ خواہ آپ کو راست باز منہ
سے کہتے کیوں نہ ہوں وہ پکے کافر ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص٨٦)
- ٤...... سوال...... ”کیا غیر احمدی متوفیٰ والدین کے لئے نماز میں دعائے
مغفرت جائز ہے؟
جواب...... دعا تو جنازہ ہے اور جنازہ ناجائز۔ اس کو خدا کے حوالے کرو۔“
(الفضل مورخہ ٦؍اپریل ١٩١٥ء)
مختصر یہ کہ مرزا قادیانی اور ان کی ذریات وحشرات کا برتاؤ جو مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ ان قلیل محولہ عبارات سے اچھی طرح روشن ہو جاتا ہے۔ غریب مسلمانوں کو شیطان قرار دیا۔ بدذات کہہ دیا۔ ملعون فرمایا۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ لیجئے ان کا قصور کیا ہے۔ بس اتنا کہ قادیانی دعویٰ کو جھوٹ جانتے ہیں۔ لیکن اس علت میں تو انگریز بھی شریک تھے۔ کیا مسلمان اور ان کے علمائے کرام انگریزوں سے بھی بدتر اور اکفر ہیں کہ انگریزوں کو تو مرزا قادیانی اپنا آقا اور پیشوا سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے لئے رحمت بتاتے ہیں۔ ان کی چاپلوسی اور خوشامدیں ہو رہی ہیں۔ اپنے کو ان میں سے اور ان کو اپنے میں سے بتاتا ہے اور اسلام کے دو حصوں میں سے ایک حصہ ان کی اطاعت قرار دی۔ لیکن مسلمانوں پر یہ عتاب اور یہ قہر۔ سچ ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ان سے دل میں خوف ہے۔ رعب ہے۔ ان کی حکومت ہے اور یہاں غلامی ہے اور مجبوری ہے۔ محکومی اور ماتحتی ہے۔ ورنہ پھر یہ تفرقہ اور یہ ترجیح بلامرجح کہاں سے۔ اگر ان خدمات کو بیان کیا جائے جو مرزا قادیانی نے انگریزی حکومت اور برٹش امپائر کے ادا کئے ہیں تو ایک طویل دفتر کی ضرورت ہے۔ لیکن ناظرین کی واقفیت کے لئے یہاں قدرے بیان کرنا خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
اسلام کے دو حصے
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہے۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سائے میں ہمیں پناہ دی ہے تو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے...... سو اگر ہم حکومت برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ اس صورت میں ہم سے زیادہ بددیانت کون ہوگا۔ گورنمنٹ کی توجہ کے لائق۔“
١....... شہادۃ القرآن ص٨٤،٨٥، خزائن ج٦ ص٣٨٠،٣٨١
- ٢...... ”ہم پر اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ
کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)
- ٣...... پچاس الماری۔ ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید
و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
- ٤...... مرزا قادیانی انگریزوں میں سے ہیں۔ ”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ
میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں۔ (بے شک دلیل بھی موجود ہے۔ مؤلف) اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا...... تو ان میں سے ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی۔ اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔“
(نور الحق حصہ اوّل ص ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٣٥)
سی آئی ڈی کی خدمت
”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک خفیہ، خونی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر...... لہٰذا یہ نقشہ اس غرض کے لئے تجویز کیا گیا کہ تا اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔...... اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں باادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔“
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، اشتہار نمبر ١٤٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
اب مشکل یہ درپیش ہے کہ انگریز مرزا قادیانی کے انکار کی وجہ سے کافر ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اگر ہیں تو مرزا قادیانی چونکہ بموجب بشارت ان میں سے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی بھی کافر ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزائی کیا تاویل کریں گے؟ اور پھر باوجود اتنی خدمتوں کے مرزا قادیانی خوف زدہ ہو کر خدائی الہاموں کو بیان نہیں کرتے۔ اگر مرزا قادیانی کو
٨
واقعی خدا کی طرف سے وحی ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ اس کی تبلیغ نہ کرتے۔ لیکن یہاں تو صرف ایک ہی دھمکی میں سب کچھ چھوڑ دیا اور اقرار کر لیا کہ آئندہ میں ان الہاموں کو بیان کروں گا۔ جن میں کسی کی موت وغیرہ کی پیش گوئی نہ ہو۔ چنانچہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ: ”میں مرزا غلام احمد قادیانی ١؎ بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا۔ جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔ میں کسی چیز کو الہام بتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا ۔“
العبد گواہ شد مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی دستخط : جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٤)
٢؎....... ”اور عذاب پیش گوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی رضامندی لینے کے بعد پیش گوئی کرنا اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٠ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
اب ناظرین غور فرمائیں کہ گورنمنٹ کے خوف سے حالت یہ ہورہی ہے کہ دل لرزاں ہے۔ حلق خشک ہے۔ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں اور یہاں تک کہ پیش گوئیاں بھی ترک کر دیں۔ آخر یہ کیا راز ہے۔ عاقل را اشارہ کافی است۔ یہ تو انگریزی گورنمنٹ کے ساتھ معاملہ ہے۔ لیکن خدا پر افتراء کرنا۔ انبیاء کی توہین کرنا آپ کے داہنے ہاتھ کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ چنانچہ آپ کی پاکیزہ اور مہذب تحریریں جو انبیاء علیہم السلام کی شان میں وارد ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ (نصیحت) ”بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٣)
”اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت اور شان کا پاس رکھے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٧١)
١؎ یہاں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی برٹش امپائر کے فرستادہ تھے نہ کہ خدائے تعالیٰ کے۔
٩
مرزا قادیانی کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت
مندرجہ بالا دو حوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب مرزا قادیانی کی روش اور برتاؤ کو ناظرین ملاحظہ فرماویں۔ فرماتے ہیں کہ: ”آپ کا (عیسیٰ علیہ السلام) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنا ناپاک ہاتھ لگاوے...... سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
”ہاں آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا...... مگر میرے نزدیک آپ کے یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال دیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
یہ ہے آپ کی شستہ اور مہذب دشنام بازی۔ ایک برگزیدہ نبی اللہ کے حق میں، معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بھی ان بعض جاہلوں میں سے ہیں اور جاہل نبی نہیں ہو سکتا۔ افسوس تو یہ ہے کہ ایک برگزیدہ نبی پر ایسے شدید حملے محض اس وجہ سے کئے جاتے ہیں کہ آتھم پادری کے بارے میں جو پیش گوئی مرزا قادیانی نے فرمائی وہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ اب جو غصہ آیا کہ پادریوں نے میرا مذاق اڑایا تو بدلہ پیغمبر معصوم سے لیا۔ ان کو رنڈیوں کی جانب مائل قرار دیا۔ زنا کار اور کسبی عورتوں کی اولاد بتایا اور مرزا قادیانی باوجود دعویٰ نبوت کے اور عصمت مآبی کا دم بھرنے، ٹانک وائن کے لئے خطوط لکھنے، مشک و زعفران کا استعمال کرنے، افیون کا دل دادہ اور عاشق ہونے، سنکھیا تناول فرمانے کے معصوم کے معصوم اور نبی کے نبی رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی عصمت تو قرآن سے اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے کریکٹر سے تو صاف ہویدا ہو رہا ہے کہ آپ ایک ادنیٰ انسان بھی نہیں تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مُحبی اخویم حکیم محمد حسین سلمہ اللہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیائے خوردنی خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی
١٠
خیریت ہے۔ والسلام مرزا غلام احمد !“
(خطوط امام بنام غلام ص ٥، مجموعہ خطوط امام)
اور نیز مرزا محمود نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ مرزا قادیانی شراب منگایا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو فیصلہ مقدمہ عطاء اللہ شاہ بخاری از مسٹر جی ڈی کھوسلا۔
افیون اور مرزا قادیانی
”حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کو حضور چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران میں استعمال کرتے رہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٩ جولائی ١٩٢٩ء)
سنکھیا کی عادت
”جب مخالفت حد سے زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کئے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٥ فروری ١٩٣٥ء)
مشک اور مرزا قادیانی
”میں (حکیم محمد حسین ) اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لئے بے اندازہ فخر وبرکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔ حضور کو چونکہ دورہ مرض کے وقت اکثر مشک و دیگر مقوی دل ادویات کی ضرورت رہتی تھی۔ جو اکثر میری معرفت جایا کرتی تھیں۔“
(خطوط امام بنام غلام ص ٩،٨)
اب ناظرین غور فرمائیں کہ ایسے کریکٹر کا انسان کس درجہ کا ہوسکتا ہے۔ ٹانک وائن (شراب) کا بھی عادی ہو۔ افیون بھی نوش فرماتا ہو۔ سنکھیا کا بھی دل دادہ ہو اور پھر نبوت کا مدعی ہو اور امام زمان بننے کا دعوے دار ہو اور طرہ یہ کہ لیاقت اتنی ہو کہ مختاری کے امتحان میں فیل ہو۔ ابھی تک ہم نے آدم علیہ السلام سے لے کر نبی مدنی علیہم السلام تک کسی فیل شدہ نبی کو نہیں دیکھا۔ لیکن ممکن ہے کہ اب فیل شدہ نبی ہوا کریں۔ کیونکہ آخری زمانہ ہے۔ معاذ اللہ اگر فیل شدہ نبی آیا کریں تو نبوت ایک کھیل اور بدتر چیز ہو جائے گی اور مرزا قادیانی کا فیل ہونا تو اتنا بدیہی ہے کہ کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اطمینان کے لئے فیل ہونے کا حوالہ بھی درج کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ: ”چونکہ مرزا قادیانی ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ اس واسطے آپ نے مختاری کے
١١
امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٥٦، روایت نمبر ١٥٠)
صاحبزادہ نے جب دیکھا کہ فیل ہونا معیوب امر ہے۔ فوراً ایک دم پیچھے عبارت کے لگادی۔ لیکن کیا فیل ہونا پوشیدہ ہوسکا؟ حیرت پر حیرت ہے کہ فیل شدہ انسان نبی ہو۔ نبی تو صفات محمودہ میں اپنے معاصرین میں برتر ہوتا ہے۔ نہ کہ گھٹیا اور ناقص۔ یہاں تک تو مرزا قادیانی کے اقوال اور افعال کا اندازہ ناظرین کو ہو گیا۔ اب ذرا مرزا قادیانی کے آسمانی الہام اور آپ کی وحی ربانی کو کان لگا کے سن لینا چاہئے اور خود غور فرمائیں کہ آپ کے الہام کس درجے کے ہیں۔ امید ہے کہ مسلمان ان الہاموں کو دیکھ کر مرزائی فریب اور قادیانی مکائد سے آئندہ احتراز کریں گے اور اس فرقہ کے مغالطہ اور رکیک تاویلوں سے دور رہا کریں گے۔
الہام اور وحی ربانی کے متعلق مرزا قادیانی کا خیال
- ١...... ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو
اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
مرزا قادیانی نے یہ علت بالکل صحیح بتادی کہ نبی جس زبان کو سمجھ سکتا ہو اور جو اس کی مادری زبان ہو الہام بھی اسی زبان میں ہوگا۔ ورنہ وہ الہام بیہودہ ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی پنجابی تھے تو الہام بھی پنجابی میں ہونا چاہئے۔ کیونکہ دوسری زبانیں مرزا قادیانی کی سمجھ سے بالاتر تھیں۔ چنانچہ خود تحریر فرماتے ہیں کہ: ”علیٰ الصباح بہ نظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا جو ایک شخص نے ڈاک میں بھیجا ہے۔ اسی خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ آئی ایم یور کورلراور عربی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ ہٰذا شاہد زاع اور یہی الہام حکایتاً عن الکاتب القاء کیا گیا اور چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا۔ پھر اسی وقت ایک انگریزی داں سے اس انگریزی فقرہ کے معنی دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٧٢، خزائن ج ١ ص ٥٦٣)
١٢
معلوم ہوا کہ انگریزی اور عبرانی وغیرہ سب بیہودہ اور غیر معقول تھے اور اس سے لازم آ مرتکب ہو اور لازم آتا ہے کہ ایسا نبی بھی بیہودہ اور بیہودہ الہام ملاحظہ ہوں ۔
بیہودہ الہام
- ١...... ”پریشن، عمر براطوس یا پلا
ہے۔ باعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور پریشن کے معنی دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہیں اور کس
- ٢...... ”ھو شعنا نعسا“ (
میر عباس علی شاہ کے نام پر تحریر ہے۔ جس میں تحریر سلمہ ...... اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریاف ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ ”ھو شعنا نعسا“ م کیا نبی ایسا ہوتا ہے کہ اپنی وحی کے معن بقول مرزا قادیانی ایسے الہام اور ایسی وحی بیہودہ اور
- ٣...... ”میں کر سکتا ہوں جو چاہو
- ٤...... ”میں تمہاری مدد کروں گا۔
- ٥...... ”وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے
peshawar.
- ٦...... party of Islam. ١؎
(برا
١؎ اس کو لکھتے ہوئے مرزا قادیانی تحریر اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پور گیا ہے۔
١٣
معلوم ہوا کہ انگریزی اور عبرانی وغیرہ جتنے الہام مرزا قادیانی پر نازل ہوئے ہیں۔ سب بیہودہ اور غیر معقول تھے اور اس سے لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ خدا عبث اور بیہودہ افعال کا مرتکب ہو اور لازم آتا ہے کہ ایسا نبی بھی بیہودہ اور نامعقول ہوگا۔ اب بطور نمونہ مرزا قادیانی کے بیہودہ الہام ملاحظہ ہوں۔
بیہودہ الہام
- ......١ ”پریشن، عمر براطوس یا پلاطوس (نوٹ) آخری لفظ پڑتوس ہے یا پلاطوس
ہے ۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔“
(تذکرہ ص١١٥)
- ......٢ ”ھو شعنا نعسا“ (تذکرہ ص١١٦) پر مرزا قادیانی کا ایک طویل عریضہ
میر عباس علی شاہ کے نام پر تحریر ہے۔ جس میں تحریر فرماتے ہیں کہ اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ...... اس جگہ پراطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ ”ھو شعنا نعسا“ معلوم نہیں کس زبان کے ہیں۔ انتہیٰ بقدر الحاجۃ! کیا نبی ایسا ہوتا ہے کہ اپنی وحی کے معنی دوسرے سے دریافت کرتے پھریں۔ واقعی بقول مرزا قادیانی ایسے الہام اور ایسی وحی بیہودہ اور غیر معقول ہوتے ہیں۔
- ......٣ ”میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔“
I can waht I will do.
- ......٤ ”میں تمہاری مدد کروں گا۔“
I shall help you.
- ......٥ ”وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے۔“
He halts in the zila peshawar.
(حقیقت الوحی ص٣٠٣، خزائن ج٢٢ ص٣١٦)
- ......٦ I shall give you a large party of Islam. ١
(براہین احمدیہ ص٥٥٧ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج١ ص٦٦٤)
١ اس کو لکھتے ہوئے مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا ہے۔
(براہین، بحوالہ بالا)
١٣
اسی طرح اور بھی بکثرت انگریزی معمولی تین یا چار الفاظ کے مرکب جملے ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی الہام بتاتے ہیں۔ ناظرین پر قبل ازیں آشکارا ہوا کہ مرزا خود تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کو انگریزی سے کچھ واقفیت نہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے انگریزی الہام بھی بیہودہ ہیں اور بیہودہ گو شخص نبی نہیں ہوسکتا۔
اور تماشہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو مرتے دم تک بعض الہاموں کے معنی معلوم نہ ہوئے۔ ورنہ قادیانی مرزا قادیانی کی تصریح پیش کردیں کہ ہوشعنا وغیرہ اور پرطوس وغیرہ کے معنی مرزا قادیانی کو معلوم ہوئے۔ یونہی رکیک تاویلات پیش کرکے وقت ضائع کرنا عاقل کا کام نہیں۔ آخر انصاف بھی تو کوئی چیز ہے۔ اگر حق کی جستجو ہے اور رضائے رب کی آرزو ہے تو یہی مرزا قادیانی کے دعویٰ کے بطلان کے لئے کافی ہے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ مرزائی ایسے بیہودہ الہاموں پر ناز کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں۔ کیا یہی وہ الہام ہیں اور یہ وہ وحی بتائی جاتی ہے جو انسان کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی۔
اگر وحی اسی کا نام ہے تو یہ تو ایک جاہل کے کلام سے بھی بدتر ہے۔ جب مرزا قادیانی خود اس کو نہیں جانتا اور نہ یہ معلوم ہے کہ کس زبان کے الفاظ ہیں تو ان سے فائدہ کیا ہوا۔ بلکہ عبث اور ردی الہام ہوئے۔ اگر ان کو ربانی کلام کہا جاوے تو خدا پر بہت بڑا عیب اور الزام لازم آتا ہے۔ نعوذ باللہ! اور اگر ربانی کلام نہیں اور یقینی نہیں ہے تو مرزا کاذب ہے۔ کیا ایسا انسان نبی بن سکتا ہے۔ جس کے نہ اخلاق میں شائستگی ہو نہ گفتار میں پاکیزگی ہو۔ نہ اقوال میں اتحاد ہو نہ امر واحد پر استقرار ہو۔ انگریزی حکومت کا خدمت گار ہو۔ ان پر دل وجان سے نثار ہو۔ مسلمانوں کو گالیاں دیتا ہو۔ ان پر لعنت بھیجتا ہو۔ افیون کھاتا ہو۔ سنکھیا کا دلدادہ ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو زنا کار اور کسبی عورتوں کی اولاد بتاتا ہو۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ کہ ایسا شخص نبی ہو۔ اگر نبی ایسا ہو اور نبوت ایسے اخلاق کریمہ والے انسان کو مل سکے تو تمام افیونی اور فحاش اور لعان نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے اور طرہ یہ کہ اس پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:
”اگر یہ تمام مخالف مشرق ومغرب کے جمع ہوجائیں تو میرے پر کوئی اعتراض ایسا نہیں کرسکتے کہ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١٣٧، خزائن ج٢٢ ص٥٧٥)
تو اگر یہی حال انبیاء کا ہو تو لازم آتا ہے کہ نبوت سے بدتر کوئی چیز نہیں۔ پس
١٤
معلوم ہوا کہ درحقیقت مرزا قادیانی نبوت کا دشمن ہے۔ اگر چہ دل چاہتا ہے کہ مرزا قادیانی کے تمام جھوٹ ١؎ اور کذبات کو منصہ شہود پر لایا جاوے اور صفحات قرطاس کو ان سے ملوث کیا جائے۔ لیکن قلت فرصت اور عدم گنجائش کے باعث فی الحال بعض پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ناظرین ان کو دیکھ کر خود ہی نتیجہ قائم کرلیں۔ کیونکہ مشتے نمونہ از خروار ہے۔ والقطرة تحکی عن الغدير ، والقليل ينبئ عن الكثير ! اگر مرزا قادیانی کا ایک بھی الہام یا پیش گوئی جھوٹی ثابت ہو جائے تو وہ بھی کافی ہے اور مرزا قادیانی کے مفتری ہونے پر ایک ہی ثبوت کافی ہے۔ چہ جائیکہ ایک درجن اور وہ بھی مرزا قادیانی کے اقرار سے اب یہاں پر اوّل میں مرزا قادیانی کی وہ پیش گوئیاں تحریر کرتا ہوں۔ جن کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت وکذب کا معیار مقرر کیا ہے اور ساتھ کے ساتھ قادیانیوں کی تاویلوں کا جواب بھی اختصاراً لکھتا ہوں۔
مرزا قادیانی کا اقرار اپنے مفتری ہونے پر
١...... مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق پیش گوئی کی اور منجانب اللہ یہ الہام ہوا کہ مولوی ثناء اللہ اور مرزا قادیانی دونوں میں جو کاذب اور مفتری ہوگا وہ صادق کی زندگی میں فنا ہو جائے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود دار الجزاء کو چل بسے اور ثناء اللہ زندہ رہے اور ابھی تک زندہ موجود ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا ایک خط ملتقطاً ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ: ”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ مدت سے آپ کے پرچے اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچے میں مردود و کذاب دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ ..... اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں ..... اگر میں ایسا ہی کذاب ومفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے ہر پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت
١؎ میرے بعض اساتذہ نے تقریباً دو ہزار جھوٹ مرزا قادیانی کے جمع کئے ہیں۔ جس میں سے کچھ حصہ طبع بھی ہوا ہے۔ خدا کرے کہ وہ سب چھپ جائے۔
١٥
کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے..... اور اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا۔ اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ کو لگاتا ہے حق پر نہیں تو عاجزی سے تیرے جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ تو میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!
مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعے سے میری سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔ آمین ثم آمین!“
(مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
حضرات! یہ مرزا قادیانی کی دعاء ہے جو ثناء اللہ کے بارے میں کی گئی ہے۔ لیکن یہ دعاء پھر وحی کے لباس میں ملبوس ہوگئی اور قطعی ہوگئی۔ چنانچہ اس کے بعد ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری میں یہ عبارت شائع ہوگئی کہ: ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔“ مراد یہ ہے کہ پہلے دعاء کے رنگ میں تھا۔ لیکن اب وحی خداوندی کے رنگ میں ہو کر اٹل پیش گوئی ہوگئی۔ لیکن واہ رے اللہ تیری قدرت کہ مرزا قادیانی خود مر گئے اور ثناء اللہ ابھی تک زندہ موجود ہیں اور پھر موت بھی وہی جس کی تمنا تھی۔ یعنی ہیضہ وغیرہ۔ مہلک امراض اور اتنا قادیانیوں کو بھی مسلم ہے کہ مرزا قادیانی کو قے اور دست آئے اور اسی میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے۔ ہیضہ نہ سہی وغیرہ کے تحت میں تو داخل ہوگئے اور مرزا قادیانی اپنے ہی معیار مقررہ کے رو سے کذب ودجال ثابت ہوئے۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی دلیل اور ہوسکتی ہے۔ اسی واقعہ کو میرے محترم استاد صاحب
١٦
نے جو میرٹھ کے ایک زبردست علامہ، فا
پیش میر
پس رواں
بود کذاب
قادیانی حضرات اس کا جوا زبردست اور مضبوط جواب یہ دیتے ہیں ملتوی ہوگئی۔ لیکن یہ ایسا جواب ہے کہ مر ہوا کہ یہ وحی ہے اور خدائی کلام ہے۔ یہ ا نہ کرے۔ دوم یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ كل دعائك“ (حقیقت الوحی ص ٢٣٣، خز الہام کاذب ہوا جاتا ہے اور اس سے خدا تمنا ہی تمنا ہے تو پھر بھی چھٹکارا نہیں۔ کیو اردت شيئا ان تقول له كن فيكو خلاف لازم آتا ہے۔ غرض کلامی ہذا ک کذب کو مستلزم ہے اور جو کاذب ہے تو اور مفتری ہونا بین طور سے ثابت ہوا۔
مہر مرزا بر افتراء مرزا
- ٢…… ”اس امر سے
جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں م مخالف ہوگئے ہیں اور اپنے رسالہ الم حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن شکم پرست والا قرار دیا ہے…… میاں عبدالحکیم نے بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے عرصے میں فنا ہو جائے گا…… جب نو
نے جو میرٹھ کے ایک زبردست علامہ زمان ہیں۔ نظم کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
پیش میرد ہر کہ ملعون خداست
پس رواں شد خود بملک نیستی
بود کذابے ولیکن گفت راست
(الکذوب قد يصدق)
قادیانی حضرات اس کا جواب گونا گوں اور انواع واقسام طرق سے دیتے ہیں۔ زبردست اور مضبوط جواب یہ دیتے ہیں کہ چونکہ ثناء اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس واسطے سزا ملتوی ہوگئی۔ لیکن یہ ایسا جواب ہے کہ مرزا قادیانی خود اس سے ناراض ہیں۔ یہاں تو صریحاً معلوم ہوا کہ یہ وحی ہے اور خدائی کلام ہے۔ یہ اٹل ہے اور ضرور ہو کر رہے گا۔ ثناء اللہ اس کو قبول کرے یا نہ کرے۔ دوم یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ یہ دعاء ہے تو مرزا قادیانی کو یہ الہام ہے کہ: ”اجیب کل دعائك“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٤) کہ تیری ہر دعاء قبول کروں گا۔ تو پس یہ الہام کاذب ہوا جاتا ہے اور اس سے خدا پر دھبہ آتا ہے۔ تعالیٰ اللہ عن ذلك! اور اگر یہ صرف تمنا ہی تمنا ہے تو پھر بھی چھٹکارا نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو وحی ہوئی ہے کہ: ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون“ (حقیقۃ الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) تو اس کے خلاف لازم آتا ہے۔ غرض کلامی ہذا کاذب کی طرح اشکال جذر اصم ہے کہ اگر صادق ہے تو کذب کو مستلزم ہے اور جو کاذب ہے تو مستلزم صدق ہے۔ کسی طرف اس اشکال سے راہ فرار نہیں اور مفتری ہونا بین طور سے ثابت ہوا۔
مہر مرزا بر افترائے مرزا
- ٢...... ”اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب
جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے۔...... میاں عبدالحکیم نے اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص مرزا قادیانی تین سال کے عرصے میں فنا ہو جائے گا...... جب نوبت اس حد تک پہنچ گئی تو اب میں بھی اس امر میں مضائقہ
نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے۔ میں بھی شائع کر دوں۔ کیونکہ اگر درحقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک کذاب ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا تعالیٰ پر افتراء کر رہا ہوں....... تو اس صورت میں بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں۔ تا لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبدالحکیم خاں نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور میرے پیچھے بھی....... اس لئے میں اس وقت دونوں پیش گوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خاں کی میری نسبت پیش گوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں۔‘‘
- الف....... میاں عبدالحکیم خاں اسسٹنٹ سرجن کی پیش گوئی۔
مرزا قادیانی کے خلاف ١٢؍جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی مسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔
- ب....... اس کے مقابل وہ پیش گوئی جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم
خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔
’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا۔ ’’رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق‘‘ یعنی اے میرے خدا۔ صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔‘‘
(مرزا قادیانی کا اشتہار معنون بہ عنوان خدا سچے کا حامی، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٥٧ تا ٥٦٠)
’’اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن (ڈاکٹر صاحب) جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کر دوں گا۔ تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔‘‘
(اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ١٥؍نومبر ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩١)
’’آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے اور وہ ڈاکٹر ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا....... مگر خدا
نے اس کی پیش گوئی کے مقابلہ پر مجھے ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو کرے گا۔‘‘
خدا کی قدرت کہ باوجود ١٩٠٨ء کو قے اور دست کے عارضہ میں اور مفتری تھے۔
لطیفہ: حدیث شریف میں وا الذي يحب ان يدفن فيه‘‘ ( روح قبض ہوتی ہے وہاں دفن بھی ہوتا ہے ہوا۔ اگر نبی ہوتے تو پاخانے میں دفن ہو نبی نہیں تھے اور اگر یہ غلط ہے تو کم از کم لیکن وہاں بھی دفن نہ ہوئے۔ پس ثاب
پھر مرزا پر افترائے مرزا
- ٢....... ’’خدا تعالیٰ نے
ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دخت اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خداے ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہرا کرے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے
’’کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیر
(مرزا قاد
’’عذاب کی میعاد ایک تقدیر چاہتی ہے۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی
نے اس کی پیش گوئی کے مقابلہ پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)
خدا کی قدرت کہ باوجود ان الہاموں کے مرزا قادیانی شہر لاہور میں ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو قے اور دست کے عارضہ میں مبتلا ہو کر راہیٔ عدم ہوئے اور ثابت ہوا کہ آپ کاذب اور مفتری تھے۔
لطیفہ: حدیث شریف میں وارد ہے کہ: ”ما قبض اللہ نبیا الا فی الموضع الذي يحب ان يدفن فيه“ (مشکوٰۃ شریف ص ٥٤٧، باب وفات النبی ﷺ) یعنی نبی کی جہاں روح قبض ہوتی ہے وہاں دفن بھی ہوتا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ مرزا قادیانی کا انتقال پاخانے میں ہوا۔ اگر نبی ہوتے تو پاخانے میں دفن ہوتے۔ مگر پاخانے میں مدفون نہ ہوئے۔ پس ثابت ہوا کہ نبی نہیں تھے اور اگر یہ غلط ہے تو کم از کم لاہور میں تو فوت ہوئے تھے تو وہیں دفن ہونا چاہئے تھا۔ لیکن وہاں بھی دفن نہ ہوئے۔ پس ثابت ہوا کہ نبی نہیں تھے۔
مہر مرزا بر افترائے مرزا
- ٢...... ”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ
ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
”کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔‘‘
(مرزا قادیانی کا الہام مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٠١)
”عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ
١٩
فقرہ موجود ہے کہ : ” لا تبدیل لکلمات اللہ “ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی ۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(اشتہار مرزا ١٦ ستمبر ١٨٩٦ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
” اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے محمد رسول اللہ کو بھیجا اور خیر الرسل و خیر الوریٰ بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے تم جلد ہی دیکھ لو گے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
بے شک مرزا قادیانی اسی معیار پر پورا اترے اور روز روشن کی طرح ہویدا ہوا کہ آپ کاذب اور جھوٹے تھے۔ مرتے مر گئے لیکن محمدی بیگم کے نکاح سے محروم رہے۔ اگر اس الہام میں ذرا بھی صداقت کا شائبہ ہوتا تو مرزا قادیانی محروم از نکاح نہ ہوتے ۔ لیکن افسوس ہے کہ جناب مرزا قادیانی محمدی بیگم کے وصال سے محروم رہے۔ اگر خدا کا کلام ہوتا اور اس کی وحی ہوتی تو ہرگز کاذب نہ ہوتی ۔ کیا اب بھی قادیانی صاحبان تاویل کرتے رہیں گے۔ اگر چہ اس میں شبہ نہیں کہ قادیانی پھر وہی پرانی بوسیدہ تاویلیں پیش کریں گے ۔ لیکن ان کی تسلی اور خاموشی کے لئے محمد علی لاہوری ایم ۔ اے کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی کا دست راست اور بائیں جانب کا فرشتہ ہیں ۔ چنانچہ وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔“
(پیغام صلح مورخہ ١٦ جنوری ١٩٢١ء)
لیکن افسوس ہے کہ جناب محمد علی صاحب اس کے کذب کا اقرار کرتے ہوئے حق سے بھاگتے ہیں اور پھر طفل تسلی کے طور پر اپنی تسکین قلب کے لئے اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ: ” ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے ۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے ۔ صرف ایک پیش گوئی کو لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں یہ طریق انصاف اور راہِ صواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔“
(پیغام صلح مورخہ ١٦ جنوری ١٩٢١ء)
لیکن محمد علی صاحب شاید مرزا قادیانی کی تحریر سے غافل ہیں کہ وہ تو پکار پکار کر مرۃً بعد اُخریٰ نہایت شد ومد سے جھوٹے نبی پر گرتے ہیں کہ : ” میں اس کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں ۔“ اور حضرت نتیجہ دے بیٹھ گئے۔ جب آپ نے یہ تسلیم کیا کہ نکاح نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ
٢٠
مرزا قادیانی کذاب تھے۔ اب قادیانیوں کا یہ کہنا اور یہ جواب دینا کہ چونکہ انہوں نے خطوط لکھے اور مرزا قادیانی سے معافی مانگی۔ لہٰذا نکاح نہ ہوا۔ یہ ایسا بے سروپا جواب ہے کہ عاقل انسان اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ خدا نے مرزا قادیانی سے وعدہ کیا کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی اور پھر یہ بھی الہام کیا کہ میں نے اس کا نکاح اور عقد تیرے ساتھ باندھ دیا تو اب کیا خدا نے مذاقاً اور بطور استہزاء کے الہام کیا تھا کہ اوّل تو فرمایا کہ اس کا عقد تیرے ساتھ میں نے باندھ دیا اور پھر فسخ کر دیا۔ کیا اس کو معلوم نہ تھا کہ لوگ مانع ہوں گے اور پھر جب بار بار تکرار ہزار ہزار تاکیدوں کے ساتھ یہ الہام خدا نے مرزا قادیانی کو کیا کہ نفس عقد تقدیر مبرم ہے اور میں ہر ایک روک درمیان میں سے اٹھا دوں گا۔ تو پھر کیوں ہر ایک روک کو نہ اٹھایا اور تقدیر مبرم کے وقوع سے کون چیز مانع آئی اور پھر یہ تو نکاح کی پیش گوئی ہے جو محض رحمت اور انعام ہے۔ تو کیا وعدہ رحمت میں خدا نے جھوٹ بولا (معاذ اللہ) یہاں کوئی وعید کے متعلق تو پیش گوئی نہیں جو قادیانی حضرات کو حیلہ سازی کا موقع مل سکے۔ یہ تو رحمت کی پیش گوئی ہے۔ پھر کیوں نہ پوری ہوئی۔ غرض ہر ایک قادیانی حیلہ بیکار ہے اور مرزا قادیانی ضرور مفتری تھے۔ خیر ہر چہ باداباد۔ اب میں یہاں پر ناظرین کے مزید اطمینان کے لئے مرزا قادیانی کے چند ایسے الہام تحریر کرتا ہوں جو سفید جھوٹ ہیں اور ان پر ذریات مرزائیہ کے دستخط ثبت ہیں۔ افسوس ہے کہ باوجود اس قدر صریح کذبات و دروغ گوئی کے مرزا قادیانی کو اپنے الہاموں پر ناز و افتخار ہے اور جوش میں آ کر انبیاء علیہم السلام کی ہمسری کا دعویٰ کر کے ؎
ہم چو قرآں منزہ اش دانم از خطاہا ہمیں ست ایمانم
(درثمین ص ٧٧، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
کا نقارہ بجاتا ہے اور یہ جھوٹا منہ لے کر ؎
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
٢١
دادآں جام ہم مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ زروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں
(نزول المسیح ص ٩٩، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)
کی لافیں مارتا ہے اور اتنے کذب و دروغ کے باوجود حضرت امام حسین شہید کربلا رضی اللہ عنہ کی شان میں فرماتا ہے کہ:۔
اقول نعم والله ربى سيظهر
وشتان ما بينى وبين حسينكم
فانى اؤيد كل ان وانصر
(اعجاز احمدی ص ٥٣، ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤ تا ١٨١)
اور صحابہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات تحریر کر کے تفوق کا دعوے دار ہے۔ مثلاً ابو ہریرہؓ کو غبی تحریر کرتا ہے۔ (اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧) اور آپ کے الہام اور کشوف کی یہ حالت ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ: ”کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوگئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ص ١٢)
قادیانی اس کشف کو دیکھ کر بہت گھبراتے ہیں اور اپنے قادیانی فرشتہ قاضی یار محمد بی اے پلیڈر کو پاگل قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اب کہتے ہیں۔ جب اس نے رسالہ شائع کیا اس وقت کیوں نہ لکھا کہ یہ رسالہ نامقبول ہے۔ مرزا قادیانی کے الہام کہاں تک نقل کئے جاویں۔ رسالہ مختصر ہے۔ ورنہ معلوم ہو جاتا۔ مگر پھر بھی ناظرین کو یہاں اس موقع پر مرزا قادیانی کے متناقض اقوال سے آگاہ کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ دعویٰ تو نبوت کا کرتے ہیں اور اگر مرزا قادیانی کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو ایک مقام میں دوسرے کے خلاف لکھے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ مختصر نقشہ تناقض کلام کا ملاحظہ ہو۔
٢٢
- (١) ”وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں
ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- (٢) ”اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہاں محمد ﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا۔ میں نبوت کا مدعی بنتا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)
- (٣) ”تم پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی
پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
- (٤) ”وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٥٠)
- (٥) ”بعض الہامات مجھ کو ان زبانوں میں بھی
ہوتے ہیں جن سے مجھ کو کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
اب ان متناقض اقوال کو دیکھتے ہوئے مرزا قادیانی بھی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جھوٹے
اور فرماتے ہیں کہ: ”ایک دل م سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(١) ”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہی حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)
(١) ”وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)
(٢) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
(٢) ”اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہاں محمد ﷺ کو خاتم النبیین بنادیا۔ میں نبوت کا مدعی بنوں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢)
(٣) ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
(٣) ”تم پر واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
(٤) ”ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔“
(پیغام صلح ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)
(٤) ”وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٥٠)
(٥) ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)
(٥) ”بعض الہامات مجھ کو ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھ کو کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“
(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)
اب ان متناقض اقوال کو دیکھتے ہوئے عاقل خود سمجھ سکتا ہے کہ یہ نبی کا کام نہیں اور خود مرزا قادیانی بھی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
اور فرماتے ہیں کہ: ”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)
٢٣
اور مشہور مقولہ ہے کہ دروغگو را حافظہ نباشد! پس ان سے بداہتہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی جھوٹے تھے۔ قادیانی صاحبان اکثر عوام کو دھوکا دینے کے لئے تشریعی نبوت کا مبحث درمیان میں لاتے ہیں اور مرزا قادیانی کے لٹریچر سے مرزائی عقائد صحیح طور پر پیش نہیں کرتے۔ ورنہ دنیا اندھی نہیں ہے۔ ناواقفوں کو خبر نہیں ہوتی اور وہ دام میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کے بحث کو چھیڑنا اور محی الدین اور شیخ عبدالکریم جیلی کے مضامین کو پیش کرنا محض تضیع اوقات ہے۔ بحمداللہ! مرزا قادیانی نے تو کوئی مقام نہیں چھوڑا۔ جس کا فیصلہ آپ نے خود نہ کیا ہو۔ اس مقام کو بھی ہم مرزا قادیانی کے فیصلے پر چھوڑتے ہیں۔ جو کچھ وہ خود فیصلہ فرمائیں وہی صحیح ہے۔ لیکن ہاں قادیانی صاحبان سے یہ پوچھنا چاہئے کہ غیر تشریعی کے معنی کیا ہیں۔ اگر غیر تشریعی نبی کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نبوت دوسرے سے مستفاد ہو اور کوئی جدید حکم نہ لاوے۔ (مرزا قادیانی کی نبوت) تو اس معنی پر بھی مرزا قادیانی غیر تشریعی نبوت کے دعویدار نہ تھے۔ بلکہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو ایک مستقل نبی سمجھتے تھے اور اگر غیر تشریعی کے یہ معنی ہیں کہ اس کے وحی میں امر اور نہی نہ ہو تو یہ معنی بھی مرزا قادیانی پر صادق نہیں آتا۔ بلکہ مرزا قادیانی بانگ بلند پکارتے ہیں کہ ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“ غرض یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے۔ مرزا قادیانی کی تحریروں کے صریح منافی اور خلاف ہے اور اگر غیر تشریعی اور ظلی اور بروزی کے کچھ اور معنی ہیں تو قادیانی حضرات بیان کر دیں اور نیز یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی کی وحی میں کوئی جدید حکم نہ تھا۔ بالکل بلا دلیل ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں انگریزوں کی اطاعت کو اسلام اور خدا اور رسول کی اطاعت نہیں بتائی گئی ہے اور نہ اس گورنمنٹ کی اطاعت کو اسلام کا حصہ بتایا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں انگریزوں کی اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت اور اسلام کا دوسرا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے معلوم ہوا۔ مرزا قادیانی جہاد کو حرام بتلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ؎
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
لیکن شریعت مصطفویہ میں جہاد افضل الاعمال بتایا گیا ہے۔ غرض یہ دعویٰ کرنا کہ مرزا قادیانی کوئی نیا حکم لے کر نہیں آیا۔ بالکل بیکار ہے۔ اگر عدم گنجائش مانع نہ ہوتی تو بہت سے
٢٤
دروغگو را حافظہ نباشد! پس ان سے بداہتہ ثابت ہوا کہ جہاں اکثر عوام کو دھوکا دینے کے لئے تشریعی نبوت کا مبحث اپنے لٹریچر سے مرزائی عقائد صحیح طور پر پیش نہیں کرتے۔ خبر نہیں ہوتی اور وہ دام میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ چھوڑنا اور محی الدین اور شیخ عبدالکریم جیلی کے مضامین کو مرزا قادیانی نے تو کوئی مقام نہیں چھوڑا۔ جس کا فیصلہ ہم مرزا قادیانی کے فیصلے پر چھوڑتے ہیں۔ جو کچھ وہ خود مرزائی صاحبان سے یہ پوچھنا چاہئے کہ غیر تشریعی کے معنی کیا اس کی نبوت دوسرے سے مستفاد ہو اور کوئی جدید حکم نہ معنی پر بھی مرزا قادیانی غیر تشریعی نبوت کے دعویدار نہ مستقل نبی سمجھتے تھے اور اگر غیر تشریعی کے یہ معنی ہیں کہ اس مرزا قادیانی پر صادق نہیں آتا۔ بلکہ مرزا قادیانی ببانگ ہے اور نبی بھی۔‘‘ غرض یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ قادیانی کی تحریروں کے صریح منافی اور خلاف ہے اور اگر نہیں تو قادیانی حضرات بیان کر دیں اور نیز یہ دعویٰ کہ بالکل بلا دلیل ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی عقائد اور رسول کی اطاعت نہیں بتائی گئی ہے اور نہ اس ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں انگریزوں کی جزء حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے معلوم ہوا۔ بلکہ:
اب جنگ اور قتال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
اعمال بتایا گیا ہے۔ غرض یہ دعویٰ کرنا کہ ہے۔ اگر عدم گنجائش مانع نہ ہوتی تو بہت سے
نئے احکام قادیانی شریعت کے مسلمانوں کو بتلا دیتا اور اگر زندگی نے فرصت دی تو عنقریب انشاء اللہ اس مبحث پر ایک رسالہ لکھوں گا۔ باقی رہا مندرجہ بالا دو شبہے سو ان کا جواب اب مرزا قادیانی کی زبان سے سنئے ۔ فرماتے ہیں کہ: ”اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام کہ: ”قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازکى لهم “ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ان هذا لفى الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسى“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
نیز مرزا قادیانی نے تو قادیانیوں کو کچھ کہنے کی مہلت بھی نہ دی۔ ان کے تمام لا حاصل دعویٰ پر پانی پھیر دیا اور ان کی عمر بھر کی کمائی کو خاکستر کر دیا۔ کیونکہ وہ تو تمام گذشتہ انبیاء کو ظلی مانتے ہیں اور اس معنی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ متقدم انبیاء حقیقی نبی تھے نہ کہ مجازی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ: ”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے۔ اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ رسول کریم کے خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“
(تشحیذ الاذہان نمبر ١٠، ١١ ج ١٠ ص ١٣، وقول فیصل ص ٦)
ان عبارات سے صاف طور سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہونے کا ٢٥
دعویدار ہے۔ اب قادیانی صاحبان جو ختم نبوت کی آیت میں یہ تاویل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریعی انبیاء کے خاتم یعنی آخری نبی ہیں اور غیر تشریعی نبیوں کے آخری نبی نہیں ہیں۔ بالکل بے فائدہ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی تشریعی نبوت کے دعویدار ہیں۔ غیر تشریعی کے نہیں اور یہ فریقین کے نزدیک مسلم ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویدار کافر اور کذاب ہے۔ اگر قادیانی صاحبان کو اب بھی شبہ ہو تو یہ لیجئے مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی قادیان کا فیصلہ فرماتے ہیں کہ: ”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں ۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤، حصہ اول ص ١٧٤)
اور نیز فرماتے ہیں کہ: ”ہم بغیر کسی فرق کے بلحاظ نبوت انہیں ایسا ہی رسول مانتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے ۔“
- ب....... ”جس بات نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بنایا وہی
بات اس میں (مرزا میں ) ہمارے نزدیک موجود تھی ۔“
(الفضل قادیان ١٦ اکتوبر ١٩١٧ء)
کیا قادیانی حضرات کو اب بھی کچھ کہنے کی گنجائش رہ گئی۔ ان مذکورۃ بالا حوالوں کی روشنی میں صاف ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی تشریعی اور حقیقی نبوت کے دعویدار تھے اور آپ پر بہت سے نئے احکام نازل ہوئے ۔ اب قادیانیوں کا یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی اور ظلی اور بروزی اور مجازی نبی تھے۔ بالکل صریح مغالطہ اور ناواقفوں کو پھانسنے کی چالیں ہیں۔ اگر قادیانی صاحبان اب بھی نہ مانیں تو میرا بھی یہ مدعا نہیں کہ ان سے بزور منوایا جائے ۔ بلکہ غرض یہی ہے کہ ناواقفوں کو میں اس مغالطہ سے بچادوں۔ ان کو آگاہ کردوں اور جو حق کے متلاشی اور جویندہ ہیں ان کو صحیح راستہ بتا دیا جائے اور ہلاکت کے گرداب اور گمراہی کے عمیق ترین دریا سے ان کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچادوں اور جو خود ڈوبنا چاہے وہ ڈوب جائے ۔ جو آنکھوں پر کفر کی پٹی باندھ کر روشنی کا جویندہ اور خواہاں نہیں اور ضلالت اور شرک کی تیرہ و تار کوٹھری میں رہنے کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں کچھ غرض نہیں حیرت تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو عین اللہ اور عین محمد قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
٢٦
اور فرماتے ہیں کہ: ”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
اور یہ کہ: ”مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١١، اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
اور نیز فرماتے ہیں کہ: ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ (اے مرسل من اللہ) کہہ (اے مرزا) اے تمام تم سب کی طرف اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں۔
(تذکرہ ص ٣٥٣)
اور نیز تحریر فرماتے ہیں کہ: ”محمد رسول ..... والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔.......... اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) میں فرماتے ہیں کہ: ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحیٰ“ اور یہ (مرزا قادیانی) اپنی طرف سے نہیں بولتا۔ بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔ (اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥) تو اس صورت میں اگر مرزائی ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ پڑھتے ہیں تو مراد ان کی اس کلمہ سے غلام احمد ہے۔ نہ کہ محمد بن عبداللہ علیہ السلام اور یہ کلمہ پڑھنا محض پبلک کو دھوکہ دینے کے لئے اور ان کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے پڑھتے ہیں اور قرآن اگر پڑھتے ہیں تو مرزائی قرآن نہ کہ پیغمبر مدنی کا قرآن۔ یہی وجہ ہے کہ لاہوری مرزائیوں کا امیر محمد علی ایم اے جو مرزا قادیانی کے باصفا مرید ہیں اور ان کے مخلصین میں سے ہیں۔ قادیانی مذہب اور ان کے شریعت وعقائد پر تنقیدی نگاہ سے تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”فرمائیے نئے مذہب کے سر پیر اور کیا سینگ ہوا کرتے ہیں۔ ایمانیات میں نئے نبی اور نئی کتاب کا اضافہ۔ ارکان شریعت میں ایک حج کا اضافہ۔ ایک نئے قبلہ کا اضافہ۔ خلافت مطاع الکل کا اضافہ۔ پرانی رسالت محمدیہ اور پرانے اسلام یعنی کلمہ سابق کی منسوخی اور نئی رسالت احمدیہ اور نئے اسلام کا اضافہ۔ اور ابھی ”ظلی“ کا لفظ سلامت رہے۔ خدا جانے کس کس چیز کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ مجھے اندیشہ ہے جس طرح عیسویت کے غلو نے اپنے آپ کو یہودیت یعنی موسویت سے علیحدہ کر کے ایک نیا مذہب بنا لیا۔ اسی طرح یہ محمودیت جو
٢٧
در حقیقت عیسوی غلو کا ایک رنگ میں مظہر ہے اپنے آپ کو پرانے اسلام سے علیحدہ ایک نیا مذہب بنا کر ہمیشہ کے لئے الگ نہ ہو جائے۔“
(اخبار پیغام صلح ١٩ اپریل ١٩٣٣ء)
یہ ہے قادیانی صاحبان کا اصلی مذہب۔ بانی احمدیت کی عنایات ہیں کہ ان کی امت بھی ماشاء اللہ ان سے چار قدم آگے بڑھ گئی۔ چنانچہ اسی عقیدہ کے رنگ میں رنگین ہو کر قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی فرماتے ہیں:
اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٣٤ ص ١٤)
حاصل یہ کہ قادیانی عقائد کا مکمل تفصیلی نقشہ پیش کرنے کے لئے ایک طویل اور ضخیم دفتر کی ضرورت ہے۔ اس مختصر رسالے میں اس کی گنجائش نہیں۔ اب ناظرین نہایت اطمینان اور ٹھنڈے دل سے مرزا قادیانی کے صریح جھوٹے الہاموں کو مطالعہ فرمائیں جو بمطابق وعدہ کے یہاں درج کئے جاتے ہیں۔
سفید جھوٹ نمبر : ١
” بشیر الدولہ، عالم کباب، شادی خان ، کلمتہ اللہ ( نوٹ از حضرت مسیح موعود ) بذریعہ الہام الہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے۔“
(تذکره ص ٦٢٢)
اس الہام کو نقل کرتے ہوئے مولف البشریٰ اس کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ” اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی۔ گو حضرت اقدس نے (مرزا قادیانی نے ) اس کا وقوعہ محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا۔ مگر چونکہ وہ فوت ہو چکی ہے۔ اس لئے اب تخصیص نام نہ رہی۔ بہر صورت یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔“
دیکھئے کہ محمدی بیگم مر گئی اور لڑکا پیدا نہ ہوا۔ کیا الہام الہی اس کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا خدا بھی عجیب ہے کہ الہام تو کر دیتا ہے مگر پورا نہیں کرتا۔ مولف البشریٰ کے ایمان کی داد دینا چاہئے کہ جھوٹ کا لفظ نہ لکھا اور فوراً تشابہات میں سے قرار دیا۔ مگر افسوس ہے کہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی ناکام سعی کی۔ دنیا اندھی نہیں۔
٢٨
جھوٹا الہام نمبر : ٢
”واضح رہے کہ مرزا قادیانی کی ہوئے تھے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات پا گئے ہیں کہ : ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اب مرزا قادیانی کا الہام بھی سنے واشاعوافیه خبرا فبشر ناری وموت ماخواستند و دران پیش کہ وسال عمر داد بلکه شاید ازین زی دیکھئے کہ خدا نے اسی برس بلکہ زیا کہ مرزا قادیانی صرف اڑسٹھ برس کی عمر پا کر کچھ اور ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی عمر ک مگر پھر بھی کامیاب نہ ہوئے۔ چنانچہ مرزا قاد
ایک بزرگ سے کشتم کشتا
”ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے نے دعاء کی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ صاحب بزرگ سے بہت کشتم کشتا ہوا۔ حق اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور دعاء مانگی آمین کہی۔“
شاید بزرگ صاحب نے جان کی عمر اسی برس تک نہ پہنچی ہو۔ ممکن ہے مرزائی حضرات ای تعصب سے جو شخص دور رہ کر حق بین اور
جھوٹا الہام نمبر : ٢
” واضح رہے کہ مرزا قادیانی کی عمر ٦٨ برس کی تھی۔ کیونکہ آپ ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے تھے اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے ۔ چنانچہ آپ اپنی عمر کے بارہ میں خود تحریر فرماتے ہیں کہ: ” میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا ۔ “
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
اب مرزا قادیانی کا الہام بھی سنئے ۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں کہ : ”وارادوا موتنا واشاعوا فیہ خبرا فبشرنا ربنا بثمانین سنۃ من العمر او ہو اکثر عددا وموت ما خواستند ودران پیش گوئی کردند. پس خدا مارا بشارت ہشتاد و سال عمر داد بلکہ شاید ازیں زیادہ “
(مواہب الرحمن ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ٢٣٩)
دیکھئے کہ خدا نے اسی برس بلکہ زیادہ عمر کی مرزا قادیانی کو بشارت دی ۔ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی صرف اڑسٹھ برس کی عمر پا کر راہی عدم ہوئے ۔ کیا اس الہام سے بھی زیادہ جھوٹ کچھ اور ہوسکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی عمر کی زیادتی کے لئے ایک بزرگ سے بھی کشتم کشتا کی۔ مگر پھر بھی کامیاب نہ ہوئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ:
ایک بزرگ سے کشتم کشتا
”ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر دعائیں مانگ رہا تھا اور وہ بزرگ ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے۔ اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھالوں۔ تب میں نے دعاء کی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے ۔ اس پر اس بزرگ نے آمین نہ کہی۔ تب اس صاحب بزرگ سے بہت کشتم کشتا ہوا۔ تب اس مرد نے کہا مجھے چھوڑ دو۔ میں آمین کہتا ہوں۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور دعاء مانگی کہ میری عمر پندرہ اور بڑھ جائے تب اس بزرگ نے آمین کہی ۔“
(اخبار الحکم ١٧، ٢٤؍ دسمبر ١٩٠٣ء، مکاشفات ص ٣٤)
شاید بزرگ صاحب نے جان بچانے کے لئے آمین کہا ہو۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی کی عمر اسی برس تک نہ پہنچی ہو۔
ممکن ہے مرزائی حضرات اس کی بھی لنگڑی لولی تاویل کردیں ۔ لیکن ہٹ دھرمی اور تعصب سے جو شخص دور رہ کر حق بین اور انصاف بین آنکھوں سے ان الہاموں کو دیکھے گا یقیناً اس
٢٩
کو ان کے جھوٹا اور خلاف واقع ہونے میں کچھ شک نہیں رہے گا۔ دنیا کی آنکھوں نے آج تک جھوٹ بولنے والا پیغمبر نہیں دیکھا تھا۔ لیکن آج جھوٹا بھی دیکھنا نصیب ہوا۔ مرزا قادیانی کی عیاری اور تلون کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے کہ تمام لٹریچر میں ایک چیز پر استقرار نہیں۔ گاہے کچھ اور گاہے کچھ تحریر کرتا رہتا ہے اور یہی حالت ہر جگہ ہر ایک کتاب میں رہی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جناب مرزا قادیانی کے متعلق آج یہ بھی مضمر ہے کہ وہ انسان تھے یا کچھ اور۔ اگر ناظرین کو شک ہو تو لیجئے ثبوت خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے فرماتے ہیں کہ: ”میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحقٰ ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور ظلی طور پر محمد واحمد ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص٧٢، خزائن ج٢٢ ص٧٦)
نیز مرزا قادیانی سری کرشن مہاراج بھی ہیں۔
(حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
اور آپ رودھر گوپال بھی ہیں۔
(حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
انسان بھی ہیں اور حجر اسود بھی اور پھر بیت اللہ بھی ہیں۔
(اربعین نمبر٤ ص١٥، خزائن ج١٧ ص٤٤٥)
میکائیل بھی ہیں۔
(اربعین نمبر٤ ص٢٥، خزائن ج١٧ ص٤١٣)
اور مرزا قادیانی حاملہ بھی ہیں۔
(حقیقت الوحی ص٣٣٧، خزائن ج٢٢ ص٣٥٠ حاشیہ)
اور حائض بھی ہیں۔
(حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١)
خلیفۃ اللہ بھی ہیں۔
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص٦٩٥، خزائن ج٣ ص٤٧٥)
کبھی مہدی۔
(ازالہ اوہام ص١٤٧، خزائن ج٣ ص١٧٥)
کبھی مصلح، کبھی مجدد، کبھی محدث۔
(ازالہ اوہام ص١٥٥، خزائن ج٣ ص١٧٩، ٤١٦)
کبھی حارث مددگار مہدی۔
(ازالہ اوہام ص٦٥، خزائن ج٣ ص١٣٥ حاشیہ، ص١٧٥)
غرض عجیب وغریب شئے ہیں۔ جس کے متعلق یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ چیز کیا ہے۔ مرزائی ان حوالہ جات کا جواب دیتے ہیں کہ یہ سب استعارات ہیں۔ فلانے ولی صاحب نے بھی اس طرح استعارات استعمال کئے ہیں۔ لیکن ایک سمجھدار انسان کے لئے یہ جواب کافی نہیں۔ کیونکہ قادیانی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ ولی پر نبی کا قیاس صحیح نہیں۔ ولی کا قول وفعل حجت نہیں۔ برخلاف نبی کے کہ اس کا قول اور فعل حجت شرعی ہے۔ اگر نبی کوئی کام کرے تو وہی امت
٣٠
کچھ شک نہیں رہے گا۔ دنیا کی آنکھوں نے آج تک ایسا جھوٹا بھی دیکھنا نصیب ہوا۔ مرزا قادیانی کی عیاری ایک چیز پر استقرار نہیں۔ گاہے کچھ اور گاہے کچھ تحریر کتاب میں رہی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جناب وہ انسان تھے یا کچھ اور۔ اگر ناظرین کو شک ہو تو لیجئے ہیں کہ: ”میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح اسمعیل ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦) بھی ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) بیت اللہ بھی ہیں۔ (اربعین نمبر ٣ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥) (اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣) (حقیقت الوحی ص ٣٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠ حاشیہ) (حقیقت الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) (ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥) (ازالۃ اوہام ص ١٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٥) (ازالۃ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩، ٤١٦) الۃ اوہام ص ٦٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٥ حاشیہ، ص ١٧٥)
متعلق یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ چیز کیا ہے۔ مستعارات ہیں۔ فلانے ولی صاحب نے بھی سمجھدار انسان کے لئے یہ جواب کافی نہیں۔ نبی کا قیاس صحیح نہیں۔ ولی کا قول وفعل حجت سکتا ہے۔ اگر نبی کوئی کام کرے تو وہی امت
کے لئے حجت ہے۔ نبی پر جائز نہیں کہ سکر کی حالت طاری ہو جائے۔ برخلاف اولیاء کے کہ ان پر حالت سکر طاری ہو سکتی ہے۔ قادیانی حضرات ایک بھی ایسا نبی پیش کر دیں جس نے ایسے استعارات حاملہ اور حائضہ کے استعمال کئے ہوں۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ قادیانی ایک نبی بھی ایسا پیش نہیں کر سکتے۔ اگرچہ دفتروں کے دفتر چھانٹ لیں۔ یونہی بات بنانا اور خواہ مخواہ ادھر ادھر کی گپ لگانا اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرنا ہے۔ اگر حق اور دین حق کی جستجو ہے تو مذکورہ مزخرفات ایک جوئندہ حق کے لئے کافی ہیں اور جو حق ہی کو طلب نہ کرے۔ اس کا کیا علاج اور پھر طرہ یہ کہ مرزا قادیانی باوجود اس کے حافظہ کی قوت سے بھی محروم تھے تو پھر نبی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ”مکرمی اخویم سلمہ...... میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٣ ص ٢١)
اور نیز مرزا قادیانی کے اکثر قویٰ ضعیف تھے۔ اس صورت میں متیقن ہے کہ اکثر اوقات کچھ سے کچھ بیان کرتا رہے گا اور اس کے کسی قول پر اعتماد ہرگز نہیں ہو سکتا اور یہ نبوت کی شان کے منافی ہے۔ چنانچہ رقم طراز ہیں کہ:
سو سو مرتبہ پیشاب
”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں...... ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری...... بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)
مختصر یہ کہ مرزا قادیانی ہرگز نبوت کے شایان نہ تھے۔ نبی جھوٹے الہام بیان نہیں کیا کرتا اور نہ نبی جھوٹ بولتا ہے اور نہ وہ لعان ہوتا ہے۔ نبوت کے دلائل قرآن وحدیث سے پیش کر کے اس کو مرزا قادیانی پر منطبق کرنا محض بیکار ہے۔ نبوت کے لئے اصل کریکٹر ہے اور جب تک انسان کریکٹر اور اخلاق کی کسوٹی پر پورا نہ اترے نبی نہیں ہو سکتا۔ ورنہ آج سیکڑوں شرابی اور افیونی دعویٰ کریں گے کہ ہم بھی نبی ہیں۔ قادیانی صاحبان کو چاہئے کہ اوّل مرزا قادیانی کی اخلاقی
٣١
حیثیت اور پوزیشن صاف کرلیں۔ مرزا قادیانی کے اخلاق تو ناظرین رسالہ نے مطالعہ کئے۔ آپ کے اخلاق اور اقوال وافعال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی اگر نبی ہوسکیں تو کریکٹر انکار کرتا ہے۔ متضاد الخیال اور متناقض الاقوال اور متلون الافعال ہونے کے سوا مرزا قادیانی میں اور کچھ نہیں۔ چونکہ رسالہ میں زیادہ گنجائش نہیں۔ اس واسطے میں یہیں پر اس بحث کو ختم کرکے اللہ جل شانہ کے دربار میں دست بدعا ہوں کہ اے اللہ مسلمانوں کو اس فتنہ کے زہریلے جراثیم اور مہلک اثرات سے بچا اور ہمارے حال پر رحم فرما۔ اے اللہ مسلمانوں کو قادیانی دام تزویر سے محفوظ رکھ۔ اب میں ناظرین رسالہ سے اپیل کروں گا کہ رسالہ کو نہایت غور سے مطالعہ کریں اور پڑھنے کے بعد دوسروں کو بھی اس سے متمتع ہونے کا موقع دیں اور اس مختصر مگر مکمل نقشہ کو دوسروں کو بھی دکھا دیں۔ تاکہ مسلمان اصلی اور حقیقی حال سے مطلع ہو کر اس نوزائیدہ فتنہ سے محترز رہیں۔
”وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء خاتم المرسلين وصحبه الطاهرين“
مرزائیوں سے ایک ضروری سوال
اگرچہ کتاب ختم ہو چکی۔ لیکن ناظرین کے افادہ کے لئے مندرجہ بالا عنوان قائم کر کے مرزائیوں پر حجت قائم کرنا ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ خداوند کریم کسی منصف اور طالب حق کو اس کے ذریعہ اپنے مطلب پر فائز کر دے۔ مرزائی صاحبان سے سوال یہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ: ”من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعده من النار (مسلم ج ١ ص ٧)“ (کہ جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنائے ۔) اس کا گھر آگ ہے اور یہ حدیث باتفاق امت متواتر ہے اور حدیث متواتر مفید قطع ویقین ہوتی ہے اور مرزا قادیانی بھی اس کو تسلیم فرماتے ہیں کہ تواتر مفید علم ہے۔ اسلام تو اسلام غیر اقوام بھی تواتر کو مانتی ہیں۔ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٥٥٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٩) پر فرماتے ہیں کہ: ”بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کی رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔“ اور اس سے ایک سطر پہلے فرماتے ہیں کہ: ”لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔“ معلوم ہوا کہ حدیث متواتر کا انکار مرزا قادیانی کے
٣٢
نزدیک بھی ایمان کی تباہی اور بربادی ہونے میں یا حدیث متواتر کے مفہوم ہونے میں شک ہو تو اس کو اپنے ایمان کے مضامین جن کو مرزا قادیانی نے کتب معتبرہ سے بیان کرے۔ جس مضامین ہوں جن کو مرزا قادیانی نے معتبرہ سے مع سند نہ پیش کر سکے مطابق قطعی جہنمی ہے اور جو اس کو سچا بعد سمجھ لینا چاہئے کہ مرزائی ہو بیان کئے جاتے ہیں۔ جن کو مرزا
- ١....... ”افسوس
تھا کہ مسیح کے زمانے کے علماء ان
- ٢....... ”چونکہ
کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہو ”لعنة الله علی ورنہ مالک دوزخ کو ابھی اطلاع کرا دیں۔ واہ رے مرزائیت
- ٣ تا ٥....... ”مگر
صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا اس کو فخر کہیں گے اور ایسا جو
دیکھو احادیث
نزدیک بھی ایمان کی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔ اگر کسی مرزائی کو حدیث مذکورہ بالا کے متواتر ہونے میں یا حدیث متواتر کے مفید علم یقینی اور قطعی ہونے میں یا حدیث متواتر کے انکار کے کفر ہونے میں شک ہو تو اس کو اپنے امیر سے لکھوا کر شائع کرے۔ ورنہ ان امور کے تسلیم کے بعد ذیل کے مضامین جن کو مرزا قادیانی نے حدیث میں ہونا بیان کیا ہے۔ ان کو احادیث صحیحہ سے مع سند کتب معتبرہ سے بیان کرے۔ جس کی تصدیق ان کا امیر بھی کر دے۔ احادیث صحیحہ میں بعینہ وہی مضامین ہوں جن کو مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے۔ اگر مرزائی ان مضامین کی احادیث صحیحہ کتب معتبرہ سے مع سند نہ پیش کر سکے تو ہر مسلمان کو یقین کر لینا چاہئے کہ حدیث متواتر کے حکم کے مطابق قطعی جہنمی ہے اور جو اس کو سچا سمجھے وہ بھی اس حدیث متواتر کی رو سے دوزخی ہے۔ اس کے بعد سمجھ لینا چاہئے کہ مرزائی ہونے کا بجز جہنمی ہونے کے کوئی نتیجہ نہیں۔ اب وہ جھوٹے مضامین بیان کئے جاتے ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی نے سرور عالم ﷺ کی طرف نسبت کیا ہے۔
- ١...... ”افسوس ہے کہ وہ حدیث بھی اس زمانے میں پوری ہوئی۔ جس میں لکھا
تھا کہ مسیح کے زمانے کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے۔ جو زمین پر رہتے ہوں گے۔“
(اعجاز احمدی ص١٣، خزائن ج١٩ ص١٢٠)
- ٢...... ”چونکہ حدیث صحیح میں آ چکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی
کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہو گئی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٤٠، خزائن ج١١ ص٣٢٤)
”لعنة الله على الكاذبين“ کہہ کر وہ حدیث صحیح مرفوع مسلمانوں کو بھی بتا دو۔ ورنہ مالک دوزخ کو ابھی اطلاع دے دو کہ قادیان کی طرح بڑے بڑے مکان جہنم میں تیار کرا دیں۔ واہ رے مرزائیت ”خسر الدنيا والاخرہ“ اور جاؤ یورپ میں ادا کرو تبلیغ۔
- ٣ تا ٥...... ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔ کیونکہ احادیث
صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٣٨، خزائن ج١١ ص٣٢٢)
دیکھو احادیث جمع کا لفظ ہے۔ اس مضمون کی کم سے کم تین صحیح احادیث مرفوعہ مع سند
٣٣
کتب معتبرہ سے بیان فرماؤ اور حدیث کے ساتھ اس قید کو ملحوظ رکھو۔
- ٦...... ”ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال
کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدائے تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ: ”کان فی الھند نبیا اسود اللون اسمہ کاھناً “ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔
چشمہ معرفت کے آخر میں جو رسالہ لگا ہوا ہے۔ اس کے (ص١٠، خزائن ج٢٣ ص٣٨٢) پر یہ عبارت ہے۔
- ٧...... ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر
کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج٨ ص٣٦٥، ستمبر ١٩٠٧ء، اشتہار عام مریدوں کے لئے ہدایت)
- ٨...... ”اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی بھی اس
کے پورے ہونے سے پوری ہوگی۔ کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانے میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے آواز آوے گی کہ حق آل محمد کے ساتھ ہے۔ سو یاد رہے کہ یہ پیش گوئی آنحضرت ﷺ کی آتھم کے قصے سے متعلق ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٤٣، خزائن ج١١ ص٢٨٨،٣٢٧)
- ٩ تا ١٧...... ”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے
اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے۔ سو وہ یہی ہے جو پیدا ہوگیا۔“
(ازالہ ص٦٩٦، خزائن ج٣ ص٤٧٥)
واضح ہو کہ حدیثوں کا لفظ جمع ہے جس کا اطلاق کم سے کم تین پر ہوگا۔ اور بہت کا لفظ تو بہت ہی پر دال ہے۔ مگر ہم نے اس کو بھی ادنیٰ ہی درجہ لیا تو کم سے کم نو پر اطلاق ہوگا۔ کیونکہ یہی جمع الجمع کا ادنیٰ درجہ ہے۔ اس وجہ سے کم سے کم اس مضمون کی نو احادیث صحیحہ مرزائیوں کو کتب معتبرہ سے بیان کرنا ہوں گی۔
٣٤
- ١٨ تا ٢٠...... ”اور ممکن کہ شایـ
وسوسہ ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف اـ ہے۔“
جو حدیث مرزا قادیانی نے اـ نہیں۔ اگر کسی مرزائی نے اس حدیثـ مرزائیوں کا جہل بھی ثابت کردیں گے سے کم مضمون بالا کی تین صحیح حدیثیں کتبـ
- ٢١ تا ٢٣...... ”احادیث صحـ
خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب بـ
لاہوری امیر ذرا غور سے اسـ لازم آتا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانـ کے منکرین کو کافر نہیں بلکہ مسلمان ہی سـ جہنم میں جاتے ہیں یا صرف مرزا قادیـ
سنبھل کے کہ اس نوابـ ”اول تو جاننا چاہئے کہ کـ کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں مـ پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سـ ”کیونکہ اگر مسیح کے امتیـ
کہاں مسیح کے منکر کافر مرزا قادیانی کی مسیحیت کا ؟ کہ نہ مانـ
١٨ تا ٢٠...... ”اور ممکن کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح کے دل میں اس قسم کے خفیف وسوسہ ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو رفع کر دیا ہو اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں ہی میں نہیں ہے بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔“
(ضرورة الامام ص ١٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٥، ٤٨٦)
جو حدیث مرزا قادیانی نے اس کے بعد بیان کی ہے۔ اس کو اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی مرزائی نے اس حدیث کو بیان کیا تو پھر خدا چاہے ہم مرزا قادیانی کی طرح مرزائیوں کا جہل بھی ثابت کر دیں گے۔ یہاں بھی چونکہ احادیث کا لفظ جمع ہے۔ اس وجہ سے کم سے کم مضمون بالا کی تین صحیح حدیثیں کتب معتبرہ حدیث سے بیان کرنا چاہئیں۔
٢١ تا ٢٣...... ”احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب۔ کفر کی حالت میں مریں گے۔“
(ازالۃ ص ٣٦٩، خزائن ج ٣ ص ٢٨٩)
لاہوری امیر ذرا غور سے اس مقام کو ملاحظہ فرمائیں۔ مطالبہ یہ ہے کہ مضمون مذکور سے لازم آتا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ کفر کی موت مرے گا اور لاہوری مرزائی مرزا قادیانی کے منکرین کو کافر نہیں بلکہ مسلمان ہی کہتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ لاہوری مرزا قادیانی کے ساتھ جہنم میں جاتے ہیں یا صرف مرزا قادیانی کو دھکا دیتے ہیں۔ تو پھر مرزائیت ہاتھ سے جاتی ہے:
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
”اول تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“
(ازالۃ ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
”کیونکہ اگر مسیح کے اترنے سے انکار کیا جائے تو امر مستوجب کفر نہیں۔“
(ازالۃ ص ٤٢٩، خزائن ج ٣ ص ٢٣٩)
کہاں مسیح کے منکر کافر مریں گے اور کہاں سرے سے انکار مستوجب کفر ہی نہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی مسیحیت کا یہ پہلو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نفس مبارکہ سے کافروں کا مرنا اور
٣٥
کہاں مضمون مذکور۔ جس کو احادیث کی طرف نسبت کیا جاتا ہے۔ ایمان تو نصیب اعداء غریب مرزائیوں کو اس سے کیا تعلق۔ ہاں لیاقت کا تجربہ بھی ابھی ہو جائے گا۔
٢٤...... ”منجملہ ان کے وہ مہدی بھی ہے جس کا نام حدیث میں سلطان مشرق رکھا گیا ہے۔“
(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ص٣٧٠)
٢٥...... ”لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرتﷺ نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے۔“
(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ص٣٧٠)
٢٦ تا ٢٨....... ”اب واضح ہوا کہ احادیث نبویہ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرتﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہا جائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
٢٩...... ”جاننا چاہئے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہﷺ کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لئے اس بشارت کے بارہ میں جو ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر بشارات نبویہ پائی جاتی ہیں جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہو سکتا۔ ہاں اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے گا تو علماء اس کے کفر کے فتویٰ دیں گے اور نزدیک ہے کہ اس کو قتل کر دیں۔“
(نشان آسمانی ص ١٨، خزائن ج ٤ص٣٧٨)
٣٠...... ”یہ ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔ اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔ اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
چونکہ حدیث میں تیس جھوٹے مدعیان نبوت کو دجال کہہ کر ان کی خبر دی گئی تھی۔ اس وجہ سے ہم نے بھی اس وقت مرزائی تیس ہی دجل کو ظاہر کر کے جہنم کا فرسٹ کلاس ٹکٹ دلوایا ہے۔
٣٦
کی نسبت کیا جاتا ہے۔ ایمان تو نصیب اعداء غریب پر بھی ابھی ہو جائے گا۔ مہدی بھی ہے جس کا نام حدیث میں سلطان مشرق
(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)
نے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرتﷺ نے ایک ں ہم ہیں اور چودھویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا
(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)
ثہ احادیث نبویہ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہا جائے گا اور نبی کے
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
م طور پر رسول اللہﷺ کی طرف سے یہ حدیث صلاح کے لئے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث دھویں صدی کے لئے اس بشارت کے بارہ پر ظاہر ہوگا۔ اس قدر بشارات نبویہ پائی جاتی کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جب وہ ظہور کرے کہ اس کو قتل کردیں۔“
(نشان آسمانی ص ١٨، خزائن ج ٤ ص ٣٧٨)
ث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں س کی سخت توہین کی جائے گی۔ اور اس کو جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
دجال کہہ کر ان کی خبر دی گئی تھی۔ اس وجہ جہنم کا فرسٹ کلاس ٹکٹ دلوایا ہے۔
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
دو نبی
(نبی صادق اور نبی کاذب)
حضرت مولانا محمد بشیر اللہ مظاہری رنگونی
پیش لفظ
برما میں مدت ہائے دراز سے قادیانی تحریک موجود ہے اور وہ اپنے طور پر مسلمانوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب میں لانے کی کوشش کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔ مرزا محمود قادیانی کی مرزائی پارٹی اور محمد علی لاہوری کی لاہوری پارٹی یعنی دونوں قسم کے قادیانیوں کی سرگرمیاں اگرچہ مسلمانوں کو بڑی تعداد میں قادیانی بنانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ لیکن وہ چور دروازے سے اسلام پر ضرور حملہ کر رہی ہیں اور اکا دکا کوئی نہ کوئی ان کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے۔ یہ لوگ جب مسلمانوں کو وسیع پیمانے پر قادیانی بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو روپے کا لالچ، نوکری اور ملازمت کا فریب اور اقتصادی امداد کے بہانے کمزور ایمان والوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ اگرچہ اس تحریک کی نوعیت برما گیر نہیں۔ لیکن قادیانیت بجائے خود اسلام کے لئے اتنی مہلک بیماری ہے کہ اس سے معمولی غفلت برتنے کا نتیجہ بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد اتحادی فوج میں کچھ قادیانی برما آئے اور کچھ تاجروں کے بھیس میں قادیانی ہندوستان و پاکستان سے آئے۔ ان قادیانیوں نے برما میں مقیم قادیانیوں کی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ان کے مبلغ آئے۔ مبلغ اور لٹریچر سمندر پار سے آیا۔ اس کے علاوہ جنوری ١٩٤٨ء میں برما کی آزادی کی تقریب میں شرکت کے لئے حکومت پاکستان کے سابق قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان آئے۔ اس کی وجہ سے اس تحریک میں کچھ جان پیدا ہوئی۔ لیکن مسلمانوں کی بر وقت بیداری نے اس دشمن اسلام تحریک کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ برما کے علماء، تعلیم یافتہ طبقہ اور تاجروں میں بیداری آئی اور آخر کار قادیانیت کو کامیاب ہونے نہیں دیا گیا۔
اس بیداری میں سب سے اہم پارٹ اور سب سے بڑا حصہ ایک نو مسلم اور جدید الاسلام نوجوان محمد حسین نے لیا۔ جو اگرچہ دینی علم اور مذہبی معلومات کے اعتبار سے تو زیادہ آگے نہیں۔ لیکن اسلام کے قلعہ کو قادیانیت سے بچانے کا عظیم الشان جذبہ لے کر یہ نوجوان میدان میں آیا اور اس نے پوری طرح قادیانیت کا مقابلہ کیا اور آج بھی خدا کے فضل سے وہ مقابلہ کر رہا ہے۔ اس راہ میں اس نے جانی، مالی قربانی دی۔ جس کی بدولت قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کا محاذ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اسی نو مسلم اور جدید الاسلام نوجوان کی کوشش کا نتیجہ ہے۔
نو مسلم محمد حسین کے آبا واجداد میں قادیانیت بھی زیادہ تر ٹامل زبان بولنے خواہش ہے کہ ٹامل زبان میں قادیانیت کے لکھوانے کے بعد وہ اس کا ٹامل زبان میں تر قادیانیت کے فریب سے نجات پاسکیں قادیانیت کے خلاف مضمون شائع کر رہے اچھا اور مضبوط محاذ قائم کر رکھا ہے۔
کتاب کے مصنف مولانا محمد سامنے تصویر کے دونوں رخ آ جائیں۔ اسی میں انہوں نے نبی صادق و مصدوق محمد رسول کے براہین ودلائل جمع کئے ہیں اور دوسرے پیش کی ہے اور ان کی جھوٹی نبوت کے شواہد قرا سفیدی ممتاز ہوتی ہے اور رات کی تاریکی دن مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی قلعی اس وقت زندگی ہو۔ نور وظلمت کے اس تقابل کو دیکھ کر قدر فریب اور مغالطہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ مرز ایک عام انسان کی زندگی سے بھی فروتر زند رہی۔ معمولی آدمیوں کی صف میں بھی مرز شخص اخلاقی اور ظاہری اعتبار سے اس قدر کہیں کہیں جنون کی حد تک کی مضحکہ خیز حرک نہیں دے سکتے۔ اس چیز کو ثابت کرنے دیئے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد تص
اگر چہ کتاب زبان اور بیان بھی بہت جدید نہیں۔ لیکن برما کے اردو راقم الحروف بھی شامل ہے) یہ بات
نو مسلم محمد حسین کے آبا واجداد بھارت کے صوبہ مدراس کے رہنے والے ہیں۔ برما میں قادیانیت بھی زیادہ تر تامل زبان بولنے والے مدراسیوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی خواہش ہے کہ تامل زبان میں قادیانیت کے متعلق لٹریچر شائع کیا جائے۔ چنانچہ یہ کتاب اردو میں لکھوانے کے بعد وہ اس کا تامل زبان میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ تامل زبان جاننے والے قادیانیت کے فریب سے نجات پاسکیں۔ وہ مدت دراز سے تامل زبان کے اخبارات میں قادیانیت کے خلاف مضمون شائع کر رہے ہیں اور تامل زبان میں قادیانیت کے خلاف انہوں نے اچھا اور مضبوط محاذ قائم کر رکھا ہے۔
کتاب کے مصنف مولانا محمد بشیر اللہ مظاہری نے کوشش کی ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے تصویر کے دونوں رخ آجائیں۔ اسی لئے ان کی کتاب دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں انہوں نے نبی صادق ومصدوق محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی پیش کی ہے اور آپ کی نبوت کاملہ کے براہین ودلائل جمع کئے ہیں اور دوسرے حصے میں نبی کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی پیش کی ہے اور ان کی جھوٹی نبوت کے شواہد فراہم کئے گئے ہیں۔ جس طرح سیاہی کی موجودگی میں سفیدی ممتاز ہوتی ہے اور رات کی تاریکی دیکھنے کے بعد دن کی روشنی کی قدر ہوتی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی قلعی اس وقت کھلتی ہے جب کہ سامنے محمد رسول اللہ ﷺ کی پاک زندگی ہو۔ نور وظلمت کے اس تقابل کو دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کس قدر فریب اور مغالطہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی ایک نبی کی زندگی تو کجا؟ ایک عام انسان کی زندگی سے بھی فروتر زندگی ہے۔ نبی اور نبوت کے اوصاف تو بہت دور کی چیز رہی۔ معمولی آدمیوں کی صف میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی بیٹھنے کے قابل نہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اخلاقی اور ظاہری اعتبار سے اس قدر فروتر ہو۔ جس کی زندگی میں مسلسل فریب، مغالطہ اور کہیں کہیں جنون کی حد تک کی مضحکہ خیز حرکتیں پائی جاتی ہوں۔ اس کو تو ایک اچھا انسان بھی قرار نہیں دے سکتے۔ اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے مصنف نے نہایت ٹھوس اور مفید دلائل جمع کر دیئے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد تصویر کے دونوں رخ پوری طرح سامنے آجاتے ہیں ۔
اگرچہ کتاب زبان اور بیان کی خوبیوں سے پوری طرح آراستہ نہیں۔ لکھنے کا طریقہ بھی بہت جدید نہیں۔ لیکن برما کے اردو مصنفین اور اردو لکھنے والوں کے بارے میں (جس میں خود راقم الحروف بھی شامل ہے) یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ان کی مادری زبان اردو نہیں۔
٣
نہ ان کے گرد و پیش اور ماحول میں اچھی اردو بولی اور لکھی جاتی ہے۔ اردو میں جو کچھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خود اردو کا بھی معجزہ ہے اور اسلام کا بھی کہ لکھنے والے ایسی زبان میں لکھ رہے ہیں جو ان کی اپنی مادری زبان نہیں۔ نہ ان کے ماحول میں یہ زبان پوری صحت اور سلامت کے ساتھ نشو و نما پا رہی ہے۔ پھر بھی مصنف نے جس طرح اور جس انداز میں قادیانیت کو پیش کیا ہے۔ بہت ہی عمدہ ہے اور معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔ البتہ جہاں علمی اور مذہبی اصطلاحات آئے ہیں۔ وہاں تو الفاظ کو آسان بنانا اچھے اچھوں کے بس کی بات نہیں۔
برما سے قادیانیت اور قادیانی فریب کو ختم کرنے کے لئے یہ اچھی کوشش ہے اور ہر طرح کی ہمت افزائی کی مستحق۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلی کتاب ہے جو رد قادیانیت میں چھپ رہی ہے۔ اس طرح کی چیزیں مختلف انداز میں وقتاً فوقتاً پیش ہونی چاہئے۔ مصنف نے میرا یہ مشورہ بھی قبول کر لیا ہے کہ کتاب میں لاہوری قادیانیوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ ضرور لکھا جائے۔ کیونکہ انگریزی خواں طبقہ اس پارٹی سے متاثر ہے۔ لاہوری پارٹی کے انگریزی لٹریچر کی وجہ سے لوگوں کو یہ فریب دیا جاتا ہے کہ اسلام کی بڑی خدمت یہ جماعت کر رہی ہے۔ حالانکہ قادیانی جراثیم کے ساتھ اسلام کی خدمت اگرچہ نظر فریب تو ہے۔ لیکن مفید ہرگز نہیں۔ بلکہ بعض مرتبہ تو اس کا اثر بہت ہی برا ہوتا ہے۔
کتاب کے ناشر محمد حسین صاحب کو بھی میں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹائٹل کے ساتھ قادیانیت کے خلاف اس قسم کے لٹریچر کو انگریزی اور برمی میں بھی شائع کریں۔ تاکہ برمی اور انگریزی داں طبقے کو لاہوری قادیانی اور مرزائی قادیانی دونوں قسم کے قادیانیوں سے نجات مل سکے۔ غلام رحمن صاحب ہمدم بھی شکریے کے مستحق ہیں جو کتاب کی ترتیب میں شریک رہے۔
کتاب کے مصنف اور ناشر دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک اہم مذہبی ضرورت کی طرف توجہ کی اور اسلام کی فصیل پر یا اس کی دیواروں کے نیچے جڑ میں دزدانہ حملے قادیانیوں کی طرف سے ہو رہے ہیں۔ اس کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ وہ وقت کے اس فتنے سے نہ صرف ہوشیار رہیں۔ بلکہ ہمیشہ ان جراثیم کو ختم کرنے کے لئے پوری طرح تیار رہیں۔
مولانا ابراہیم احمد مظاہری ! صدر مرکزی جمعیت علماء برما رنگون ٢٩ محرم الحرام ١٣٧٠ھ ، مطابق ٢٦ اگست ١٩٥٠ء
٤
بسم الله الرحمن الرحيم!
تحریک قادیانیت کا پس منظر
از غلام حسن احمد مرنگونی
آج مسلمانوں کے سروں پر ادبار و نحوست کی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ ذلت ونکبت کے اندھیرے غار میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔ اکثریت کے خوف سے دل کانپتا رہتا ہے۔ غیروں کے آگے جھکے چلے جا رہے ہیں۔ پروردگار عالم کے دربار میں دستِ سوال بڑھانے کے بجائے اس کے کمزور اور ناتواں بندوں کے دسترخوان کے گرے ہوئے لقموں پر آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اس کے ہیبت وجلال سے ڈرنے، اس کی رضامندی تلاش کرنے کے بجائے اس کے پاک اور مقدس نام کی تسبیح کے عوض دن اور رات زمین کے چند ٹکڑوں کے مالکوں اور حاکموں کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں اور انہیں اپنا کارساز حقیقی سمجھ کر انہیں کا مالا جپتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہی ایک ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا چھوڑ دیا ہے اور دنیا کی مقہور و مغضوب قوموں کی تمام برائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لی ہیں۔ اپنوں سے متنفر سرکش اور باغی ہو کر غیروں کے آگے ذلت سے جھکنے کو ایک اہم اور بے مثال کارنامہ سمجھ کر اترا رہے ہیں۔ اگر مسلمان قرآن کریم کو سمجھنے لگیں اور احکام الٰہی کے سختی کے ساتھ پابند ہو جائیں اور سنتِ رسول اور آپ کی حدیث پر عمل پیرا ہوں تو خدائے قدوس کی عزت وجلال کی قسم دنیا کی کوئی قہرمانی طاقت مسلمانوں کو نیچا نہیں دکھا سکتی اور نہ ہی مسلمان احساسِ کمتری کے مرض میں مبتلا ہو کر ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والے جھوٹے اور خود ساختہ نبی کے پیرو کے دامِ تزویر میں گرفتار ہو سکیں گے۔
انگریزی سیاست کے کرشمے
ہندوستان میں انگریزوں کے جابرانہ ابلیسی دور میں قادیان کے خود ساختہ جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی پر ان کی نظرِ عنایت ہوئی۔ انگریزوں نے خیال کیا کہ مرزا قادیانی کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کے دل و دماغ سے اس جذبے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرا دے اور انہیں بزدل بنا دے اور مغضوب ومقہور قوم کی صف میں لاکھڑا کر دے۔ جس جذبہ کے تحت مسلمانوں نے قیصروکسریٰ کے ظالمانہ سطوت و ہیبت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ انگریزوں کی دور رس نگاہیں اور ان کی شیطانی سیاسی بصیرت یہ دیکھ رہی تھی کہ شیرانِ اسلام کی بیداری اور جہادِ حریت ان کی غاصبانہ اور جابرانہ حکومت کا تختہ الٹ کر رکھ دے گی۔ وہابی
٥
انقلاب آزادی سے ان کی آنکھیں کھول چکی تھیں۔ کیونکہ اس انقلاب نے حکومت برطانیہ کے قصر استبداد میں زلزلہ پیدا کر دیا تھا اور ہندوستان میں اس کی سلطنت کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔ اس لئے انگریز دن رات اس بات سے خوف کھاتے رہتے تھے کہ وہ جنوبی ہند میں ”ٹیپو سلطان“ اور بنگال میں ”سراج الدولہ“ کی طاقتوں کو جعفر وصادق جیسے غداران ملک کی اعانت سے پامال کرنے کے باوجود بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس لئے اپنی سالمیت اور اقتدار کے تحفظ کے لئے اپنی ابلیسی طاقتوں کے ساتھ دہلی پر دھاوا بول دیا اور شاہ عالم کی طاقت وقوت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا اور شاہ عالم کو گرفتار کر کے اس سے اس بات کی ضمانت طلب کی کہ اگر حکومت برطانیہ کے استحکام پر کوئی آنچ نہ آئی تو تمہیں پھر دہلی کے تخت پر بٹھا دیا جائے گا۔ شاہ عالم انگریزوں کے دھوکے میں آگئے اور انہیں برائے نام بادشاہ بنا کر ہندوستانی عوام اور شاہ عالم دونوں کو دھوکہ اور فریب دے کر پھانس لیا اور یہ اعلان کرا دیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا۔ اس طرح انگریز اپنی سیاسی چال میں کامیاب ہو گئے اور ہندوستانی رعایا جو انگریزوں کے فریب اور چالبازی سے ناواقف محض تھی اس اعلان سے مطمئن ہو کر بیٹھ گئی۔ مگر نبض شناس زمانہ اور اہل نظر انگریزوں کے سیاسی مکر وفریب کو سمجھ گئے کہ اس اعلان کے پردے میں ہندوستان کی تباہی پوشیدہ ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے اپنی جرات ایمانی سے کام لے کر عوام کو انگریزوں کے فریب ومکاری کا پردا چاک کر دکھایا کہ اس اعلان کے پیچھے تباہی اور بربادی کا ایک بے پناہ سمندر موجزن ہے اور یہ اعلان ایک ایسی غلامی کا پٹہ ہے جس سے نجات ممکن نہیں اور اب اس اعلان سے آزادی ملک ومذہب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم سمجھو۔ کیونکہ ہندوستان میں اب انگریزوں کا تسلط قائم ہو چکا ہے۔ اب ہم لوگوں کا فرض ہے کہ ہم لوگ اپنا خون بہا کر ہندوستان کو انگریزوں کے ناپاک وجود سے پاک کریں۔ کیونکہ ہندوستان دارالحرب بن چکا ہے۔
اس اعلان کو سن کر مسلمان بیتاب ہو گئے اور سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے میدان میں نکل پڑے اور اس مرد مومن نے اپنی انقلابی پارٹی کی جمعیت سے انگریزوں کے چھکے چھڑا دیئے اور پشاور اور صوبہ سرحد میں ایک آزاد حکومت کی بنیاد ڈال دی۔ مگر افسوس کہ غداران وطن کی غداری سے یہاں بھی انگریز کامیاب ہوئے اور مئی ١٨٣١ء میں بالاکوٹ کے مقام پر مجاہد اعظم حضرت سید احمد اور مولانا اسماعیل شہید کر دیئے گئے۔ مگر ان مجاہدوں کی شہادت کے باوجود جنگ آزادی ١٨٥٧ء تک برابر جاری رہی۔
٦
مرزا قادیانی کی شکل میں نئی جا ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی بلا تفریق مذہب وملت ہندو اور مسلما بنا کر انگریزوں کے ناپاک قدم سے طرح بہایا۔ مگر جنگ کا پانسہ پلٹ گیا او ہوئی اور کوہ نور ملکہ وکٹوریہ کی تاج کی پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ انہیں بے در احمد شہید اور مولانا اسماعیل شہید نے انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی ب بیدار اور کٹر مسلمانوں کو ایسی شراب پل دے کہ صدیوں انہیں کسی بات کا ہوش عمل میں لایا گیا اور مرزا قادیانی مبلغ اسلام بہت ہی ضروری اور اہم چیز تھی ساتھ ہو گئے اور مرزا قادیانی اپنی تحریر اور جب علماء دین نے مرزا قادیانی انگریزوں نے جس مقصد کے لئے اس ہوتے آخر میں مسلمان ہند کی طبیعت سلسلہ ان کے مرنے کے بعد آج بھی
قادیانی ہتھکنڈے
مرزائی قرآن پاک سے کی من مانی غلط تفسیر اور معنی بیان کر کے ہیں اور وہ لوگ جو عربی سے قطعی نابلد معنی کے آڑ میں دھوکہ اور فریب دے شامل کر کے ان کی عاقبت اور ایمان اقرار کروا کر حضور ﷺ کے خلاف کلم چاہتے ہیں۔ جس کی بنیاد انگریزوں
مرزا قادیانی کی شکل میں نئی چال
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی در حقیقت مذکورہ جہاد حریت کی ہی کڑی ہے۔ جس میں بلا تفریق مذہب و ملت ہندو اور مسلمانوں نے متفقہ طور پر بہادر شاہ ظفر کو اس جنگ آزادی کا قائد بنا کر انگریزوں کے ناپاک قدم سے ہندوستان کی زمین کو پاک کرنے کے لئے اپنا خون پانی کی طرح بہایا۔ مگر جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور بہادر شاہ کو تاج و تخت کے بدلے اسیری اور شکست نصیب ہوئی اور کوہ نور ملکہ وکٹوریہ کی تاج کی زینت بن کر افق عالم پر جگمگانے لگا اور ہندوستانیوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ انہیں بے دریغ قتل کرنا شروع کر دیا۔ مگر وہ جذبہ حریت جسے حضرت سید احمد شہید اور مولانا اسماعیل شہید نے ان کے دلوں میں پیدا کر دیا تھا۔ اسے ختم کرنے کے لئے انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی پر نظر عنایت ڈالنی شروع کر دی تاکہ ان کے ذریعہ سے وہ بیدار اور کٹر مسلمانوں کو ایسی شراب پلائے جو ان کے اعصاب اور دل و دماغ کو اس قدر ماؤف کر دے کہ صدیوں انہیں کسی بات کا ہوش نہ رہے۔ اسی سیاسی مقصد کے تحت مرزا قادیانی کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور مرزا قادیانی مبلغ اسلام کا چغہ پہن کر مسلمانوں میں نمودار ہوئے۔ کیونکہ تبلیغ اسلام بہت ہی ضروری اور اہم چیز تھی۔ اس لئے اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ مرزا قادیانی کے ساتھ ہو گئے اور مرزا قادیانی اپنی تحریر اور تقریر سے لوگوں پر اثر ڈالنے لگے اور مغالطہ دیتے رہے اور جب علماء دین نے مرزا قادیانی کی گوشمالی کی تو فوراً معذرت پیش کر دی۔ مرزا قادیانی کو انگریزوں نے جس مقصد کے لئے انتخاب کیا تھا۔ انہیں اس مشن کو پورا کرنا تھا۔ اس لئے ہوتے ہوتے آخر میں مسلمانان ہند کی طبیعت کے رجحان کو ختم نبوت کے مسئلے کی جانب پھیر دیا۔ جس کا سلسلہ ان کے مرنے کے بعد آج بھی جاری ہے۔
قادیانی ہتھکنڈے
مرزائی قرآن پاک سے اپنے مقصد اور مطلب کے مطابق آیتیں پیش کر کے اور اس کی من مانی غلط تفسیر اور معنی بیان کر کے مسلمانوں کے ایمان اور اعتقاد پر ڈاکہ ڈالتے چلے جا رہے ہیں اور وہ لوگ جو عربی سے قطعی نابلد ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو عربی دان ہیں ان کو بھی اسی تفسیر اور معنی کے آڑ میں چکمہ اور فریب دے کر اپنے دام میں پھانس لیتے ہیں اور انہیں اپنے حلقے میں شامل کر کے ان کی عاقبت اور ایمان خراب کر دیتے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی کی نبوت کا ان سے اقرار کروا کر حضورﷺ کے خلاف کھلی بغاوت کرتے ہیں اور اپنی اس قصر نبوت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ جس کی بنیاد انگریزوں کے ہاتھوں رکھی گئی تھی۔ اس فتنہ عظیم کا سد باب ہر مسلمان کا ٧
اولین فرض ہے اور وہ مسلمان جو قادیانی فریب میں مبتلا ہو کر عاقبت خراب کر بیٹھے ہیں۔ انہیں پھر راہ راست پر لانے کی سعی کی جائے اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پول کھول کر رکھ دینا چاہئے اور دکھانا چاہئے کہ وہ مرزا قادیانی جو انگریزوں کا پروردہ تھا اس کے حالات زندگی کیا تھے۔ جس نے تمام عمر انگریزوں کی مدح سرائی میں جہاد بالسیف کو حرام قرار دینے میں اور ان کی خوشامد میں گزار دی تھی۔
جھوٹے نبی
یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ حضور ﷺ نے اس بات کی پیشین گوئی کی تھی کہ میرے بعد (تیس جھوٹے دغا باز نبی ) ظاہر ہوں گے اور یہ سب کے سب نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیینؐ یعنی سب سے آخری اور پچھلا نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ (بخاری ج ١ ص ٥٠٩، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، مسلم ج ٢ ص ٣٩٧، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، باب ذکر الفتن ودلائلہا) وغیرہ چنانچہ اس پیشین گوئی کے مطابق مکار و دغا باز جعلی نبوت کے دعویدار پیدا ہوتے رہے۔ اپنی شیطانی حرکتوں سے سچے دین کو تباہ کرنے والوں میں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، مغیرہ بن سعید مقتول رافضہ، مختار بن ابی عبید ثقفی، قتیل مصعب بن زبیر وغیرہم کو باوجود طاقت وقوت کے اسلام جیسے مقدس اور آسمانی مذہب کو مٹانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بھلا عیسائیوں کے پروردہ غلام ابن غلام مرزا غلام احمد قادیانی جیسے خود ساختہ نبی کے ہاتھوں سے دین اسلام مٹ سکے گا؟ ہرگز نہیں۔
سلیمان بن حسن کی سفاکیاں
مرزا قادیانی کے پیشروؤں میں سلیمان بن حسن باطنی نامی ایک شخص تھا۔ یہ شخص تلوار اور اپنی طاقت کے زور سے اپنی نبوت قائم کرنا چاہتا تھا۔ مگر مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھا کر بحرین کی جانب فرار ہوا۔ اس نے مسلمان فاتحوں کے نام ایک قصیدہ لکھ کر روانہ کیا۔ جس کے دو شعر ذیل میں درج ہیں ؎
الست انا المنعوت في سورة الزمر
ساملك اهل الارض شرقاً وغرباً
الا قیروان الروم والترک والخزر
ترجمہ: کیا میں وہی نہیں ہوں جس کی پیشین گوئی تمام کتب مقدسہ میں موجود ہے؟ کیا
٨
میں وہ ہستی نہیں جس کی تعریف سے سورۃ ق قابض ہو جاؤں گا۔ قیروان ہو یا ترک و خزر
مذکورہ بالا شخص بحرین کا رہنے والا تھا۔ اس نے ٣١١ھ میں بصرہ کو لوٹا۔ ٣١٢ھ کے موقعہ پر خانہ کعبہ پر حملہ کر کے تمام طواف زمزم کو پاٹ دیا اور کم تعبد فی الارض ہمراہ بحرین لے گیا۔ یہی نہیں بلکہ مکہ سے گیا۔ پھر ٣١٨ھ میں بغداد پر حملہ کرنے کی عورت نے چھت پر سے ایک بڑا پتھر یوں قرامطہ کی طاقت کے پرخچے اڑ گئے پہنچا دیا گیا۔ اس کی عسکری طاقت کو دیکھ کر انسان لرز اٹھتا تھا۔ اگر حسن اپنی فرعونی چنداں تعجب نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی تعلیاں
ایک اور جھوٹا نبی مقنع
اب ایک اور راندہ درگاہ خدا ہوں کبھی آدم علیہ السلام کی صورت میں صورتوں میں جلوہ گر ہوا (جس طرح مرزا روپ بدلتا ہوا ابو مسلم خراسانی میں ظاہر ہو شخص کا نام ہشام بن حکیم ہے۔ اس کے میرے جمال جہانتاب کو دیکھنے سے جل سیاہ پر ایک زبردست قلعہ تھا۔ جس کی و تھا۔ خلیفہ مہدی نے معاذ بن مسلم کو ستر پیچھے سعید بن عمرو الجرشی کو بطور کمک روانہ لئے سعید بن عمرو الجرشی نے لوہے کی کھالیں منگوائیں جن کو ریت سے پر کر
میں وہ ہستی نہیں جس کی تعریف سے سورۂ زمر شاد کام ہے؟ عنقریب میں تمام یورپ اور ایشیاء پر قابض ہو جاؤں گا۔ قیروان ہو یا ترک و خزر ہو۔ مذکورہ بالا شخص بحرین کا رہنے والا تھا۔ یہ فرقہ باطنیہ کا نہایت ہی خونخوار اور جنگجو رہنما تھا۔ اس نے ٣١١ھ میں بصرہ کو لوٹا۔ ٣١٢ھ میں اس نے کوفہ کو تاراج کر ڈالا اور ٣١٧ھ میں عین حج کے موقعہ پر خانہ کعبہ پر حملہ کر کے تمام طواف کرنے والوں کو تہہ تیغ کر ڈالا اور ان کی لاشوں سے چاہ زمزم کو پاٹ دیا اور کم تعبد فی الارض من دون الله کہہ کر حجر اسود کو اکھاڑ لیا اور اسے اپنے ہمراہ بحرین لے گیا۔ یہی نہیں بلکہ مکہ سے سات سو کنواری لڑکیاں بھی گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لیتا گیا۔ پھر ٣١٨ھ میں بغداد پر حملہ کرنے کی غرض سے روانہ ہوا۔ مگر جب یہ مقام ہیت پر پہنچا تو کسی عورت نے چھت پر سے ایک بڑا پتھر لڑھکا دیا اور یہ شقی اس کی ضرب سے وہیں ڈھیر ہو گیا اور یوں قرامطہ کی طاقت کے پرخچے اڑ گئے اور ابراہیم بن محمد نیشاپوری کے ذریعے حجر اسود مکہ معظمہ پہنچا دیا گیا۔ اس کی عسکری طاقت کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا تھا اور اس کے مظالم کے تصور سے انسان لرز اٹھتا تھا۔ اگر حسن اپنی فرعونی طاقت وقوت کے زعم میں مذکورہ بالا کفریہ تعلی ہانکتے تو چنداں تعجب نہیں ۔ مگر مرزا قادیانی کی تعلیاں کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔
ایک اور جھوٹا نبی مقنع
اب ایک اور راندۂ درگاہ خداوندی کی داستان ملاحظہ کیجئے۔ نامراد کہتا تھا کہ میں خدا ہوں، کبھی آدم علیہ السلام کی صورت میں تھا۔ پھر نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام اور محمدﷺ کی صورتوں میں جلوہ گر ہوا (جس طرح مرزا قادیانی کہا کرتے تھے) پھر علی مرتضیٰؓ اور اولاد علیؓ کے روپ بدلتا ہوا ابو مسلم خراسانی میں ظاہر ہوا اور پھر اس کے بعد مقنع کی صورت میں نمودار ہوا۔ اس شخص کا نام ہشام بن حکیم ہے۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ برقعہ رہا کرتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ تم لوگ میرے جمال جہانتاب کو دیکھنے سے جل جاؤ گے۔ اس لئے اس کو مقنع کہتے تھے۔ اس شخص کا کوہ سیاہ پر ایک زبردست قلعہ تھا۔ جس کی دیوار سو فٹ چوڑی تھی۔ قلعہ کے گردا گرد ناقابل عبور خندق تھا۔ خلیفہ مہدی نے معاذ بن مسلم کو ستر ہزار فوج دے کر اس کی گوشمالی کے لئے بھیجا اور ان کے پیچھے سعید بن عمرو الجرشی کو بطور کمک روانہ کیا اور یہ جنگ کئی سال ہوتی رہی۔ خندق کو عبور کرنے کے لئے سعید بن عمرو الجرشی نے لوہے کی دو سیڑھیاں تیار کرائیں اور ملتان سے بھینس کی دس ہزار کھالیں منگوائیں جن کو ریت سے پر کر کے خندق کو پاٹا گیا۔ سخت خونریز جنگ کے بعد مقنع کی تیس
٩
ہزار فوج نے ہتھیار ڈال دیا اور باقی ماندہ تہ تیغ کر دیئے گئے۔ مقنع نے قلعہ کے اندر تانبا پگھلا رکھا تھا۔ جب اپنی شکست دیکھی تو تنور میں کود پڑا اور پگھل گیا۔ جب اس کا کچھ پتہ نہ چلا تو اس کے معتقدین نے کہنا شروع کیا کہ آخر خدا تو تھا ہی اپنے عرش پر چلا گیا۔ اتنی زبردست طاقت اور جمعیت کے ہوتے ہوئے مقنع نے مذکورہ بالا حرکتیں کیں۔ اسے تو طاقت واقتدار کا نشہ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے پاس بجز خشک مراق اور امراض کے رکھا ہی کیا تھا۔
احادیث سے انکار
یہ بات ہمیشہ یادرکھئے کہ مرزا قادیانی سے پہلے ہر دور میں مدعی نبوت، معتزلہ، خوارج، وغیرہ اہل اہوا نے احادیث صحیحہ کے انکار ہی میں اپنی سلامتی اور عافیت دیکھی۔ انہوں نے احادیث صحیحہ کے ان تمام ذخیروں کو جو (اسوہ ختم الرسلﷺ کی زندہ شرح ہے) خطرے میں ڈالنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا۔ کیونکہ ان کے اس طرح کرنے سے اجماع جس کی بنا حدیث نبویؐ پر ہے خود بخود بے حقیقت ہو کر رہ جائے گی۔ جس کی تفصیل یوں ہے کہ نظام معتزلی نے اجماع صحابہ کو غلط قرار دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ امت محمدیہ گمراہی پر مجتمع ہو سکتی ہے۔ (الفرق ص ٣١٥) حالانکہ حضور کا ارشاد ہے ”لا تجتمع امتی علی الضلالہ (مشکوۃ ص ٣٠، باب باب الاعتصام بالكتاب والسنة) “ ”میری امت ہرگز گمراہی پر اجماع نہیں کر سکتی تھی“ یعنی ساری امت گمراہ نہیں ہو سکتی۔ اب ہمیں اچھی طرح اس نکتہ کو سمجھنا چاہئے کہ احادیث صحیحہ کے انکار کے پردے میں وہ کون سا راز پوشیدہ ہے جس کی بنا پر اہل باطل کا حملہ سب سے پہلے حدیث ہی پر ہوتا ہے۔ مگر اہل حق کی نگاہوں سے کوئی راز چھپا نہیں رہتا۔ علماء حق نے اعلان کر دیا اور وضاحت کے ساتھ بتا دیا کہ انکار حدیث سے ابطال اجماع وقیاس لازم آئے گا۔ اس انکار کے بعد اب صرف ایک چیز کتاب الٰہی رہ جائے گی۔ جس کو ہر زندیق وملحد اپنی ہوائے نفس اور جاہ طلبی کی غرض سے توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہے گا۔ اس خطرہ عظیم کو محسوس کرتے ہوئے حافظ ابن القیم نے الجیوش المرسلہ جیسی معرکۃ الآراء تصنیف لکھی۔ تاکہ شرع محمدیؐ کے اصول اربعہ (کتاب سنت اجماع قیاس) کو اہلِ ہواء کے حملوں اور فریب سے بچایا جا سکے۔ علماء اسلام کے نزدیک نظام معتزلی کافر اور ملحد ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس رازِ دروں پردہ کو پا لیا۔ اسی لئے مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کہیں احادیث صحیحہ کا انکار کرتی ہے۔ کہیں فقہ اسلامی پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ فرقۂ باطنیہ کی طرح مرزائی دعوت کے بھی مدارج مقرر کئے ہوئے ہیں۔
(دیکھو کتاب الفرق بغدادی ص ٢٨٢)
١٠
قادیانیت کا پہلا زینہ
مرزائیوں کا سب سے پہلا المیہ گمراہ کن زینہ یہ ہے کہ درس قرآن اور تفسیر قرآن میں ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے مسلمان احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اپنے اسلاف اور ان کے علمی کارناموں سے قطعاً بدظن ہو جائیں اور ان سے منہ موڑ کر مرزائی لٹریچر کی طرف متوجہ ہوں۔ جس کی نشر و اشاعت میں مرزائی زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں اور تبلیغ اسلام کے آڑ میں مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ پر ڈاکہ ڈالتے رہتے ہیں۔
(دیکھو ترجمہ قرآن انگریزی و ترجمہ بخاری شریف مولفہ مرزا محمد علی قادیانی)
قادیانیت کا دوسرا زینہ
مرزائیوں کا دوسرا زینہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو راست باز، برگزیدہ، تمام صفات کاملہ کا مالک اور مکمل انسان تسلیم کیا جائے۔ (مقدمہ تفسیر القرآن مؤلفہ خواجہ کمال الدین لاہوری) ظاہر ہے کہ جب ایک شخص مرزا قادیانی کو صداقت کا پتلا تسلیم کر لے گا تو پھر اسے نبی اور رسول ماننے میں کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔ کیونکہ وہ شخص اس کے اعلیٰ کردار اور شخصیت پر ایمان لا چکا ہے۔ جسے وہ خطا اور قصور سے مبرا معصوم انسان مان لیا ہے۔ یہی وہ دھوکے کی ٹٹی اور باب مرزائیت ہے۔ جسے لاہوری مرزائی جماعت کے افراد کھلا رکھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اس کے بعد قادیانیت کا ایک اور زینہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ زینہ ہے جس پر قدم رکھتے ہی مسلمان ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
قادیانیوں کی ذہنیت
عجب حیرت اور استعجاب کا کام ہے کہ مرزائی اور قادیانی حضرات مرزا قادیانی کی ہذیانی جھوٹے دعوئے نبوت، دعوئے مسیح موعود وغیرہ کے باوجود بھی ان کو نبی مانتے چلے آ رہے ہیں اور مرزا قادیانی کی عبرتناک موت سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ بلکہ دن رات دوسرے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور انہیں تبلیغ کی آڑ میں پھانسنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حدیث صحیحہ کا انکار کرتے ہوئے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ قرآن کے بعد اب کسی حدیث کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ اس کے راوی مردے ہیں تو مرزائی اور قادیانی حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب مردوں کی روایت غلط اور ناقابل اعتبار ہے تو پھر مرزا قادیانی جو دعوئے نبوت کے بعد مولانا ثناء اللہ صاحب سے مباہلہ کرتے ہوئے مولانا موصوف کی زندگی ہی
١١
میں کذاب اور مفتری کی فہرست میں اپنا نام درج کرا کر ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے چل بسے اور ان کی نبوت کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ چکا تو پھر ایسے جھوٹے اور مفتری نبی کی نبوت پر قادیانی حضرات اب تک کیسے ایمان رکھے ہوئے ہیں جو ائمہ احادیث و صحابہ کرامؓ و محدثین عظامؒ کے غلاموں کے غلام کی بھی گرد پا تک پہنچنے کی قدرت نہیں رکھتے۔
صحابہؓ کی توہین
حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مرزا قادیانی کو خاص طور پر اس لئے بغض و عناد ہے کہ ان بزرگوں کی روایت سے مرزا قادیانی کے خود ساختہ نبوت کا آئینہ ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ غبی تھے اور درایت اچھا نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے متعلق بھی گندہ ذہنی اور ہرزہ سرائی مرزا قادیانی کی ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”حق بات تو یہ ہے کہ ابن مسعودؓ ایک معمولی انسان تھا۔“ (ازالہ اوہام ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢) یہ ہے مرزا قادیانی کا کہنا۔ اس شخصیت کے متعلق جسے حضرت فاروق اعظمؓ نے کوفہ یونیورسٹی کا افسر اعلیٰ بنا کر بھیجا تھا اور یہ لکھا تھا۔ ”ابعث الیکم بعبد اللہ بن مسعود معلماً (ازالۃ الخفا) ”عبداللہ ابن مسعودؓ ہی کی شخصیت تھی۔ جس نے علقمہ ابراہیم نخعی، حماد بن سلیمان، امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام سفیان جیسے اکابر عالم اور محدث پیدا کئے اور یہاں ایک مرزا قادیانی کی نکمی شخصیت کے جوہر دنیاوی و دینی امتحان میں ناکام اور نامراد نکلے۔ اگر مرزا قادیانی کامیاب ہوئے تو صرف اپنی خود ساختہ نبوت کے امتحان میں۔ کیونکہ یہاں تو ان کے لئے کوئی نصاب ہی مقرر نہیں تھا اور اگر نصاب ہوتا بھی تو کیونکر۔ جب کہ لا نبی بعدی ارشاد فرما کر حضور ﷺ نے کاذب اور مفتری مدعیان نبوت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
مرزا قادیانی کا استاد
یہ چیز اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مرزا قادیانی کے اندر دراصل نظام معتزلہ ملحد اکبر کی روح حلول کر گیا تھا۔ نظام معتزلی کافر، ملحد اور زندیق تھا۔ اس نے صحابہ کرامؓ کی شان میں زبردست گستاخیاں کی ہیں۔ علامہ بغدادیؒ لکھتے ہیں کہ نظام معتزلی کا شاگرد عمرو عثمان جاحظ نے اپنی کتاب المعارف و کتاب الدنیا میں لکھا ہے کہ نظام محدثین پر اس لئے طعن کیا کرتا تھا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کی احادیث کو کیوں روایت کیا ہے۔ کیونکہ نظام ابو ہریرہؓ کو دنیا بھر کا جھوٹا گردانتا تھا۔ یہی نظام فاروق اعظمؓ اور سیدنا علیؓ پر بھی ناپاک حملے کرتا تھا۔ ابن مسعودؓ کو ریت
١٢
درج کرا کر ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے چل پھٹ چکا تو پھر ایسے جھوٹے اور مفتری نبی کی نبوت پر گئے ہیں جو ائمہ احادیث و صحابہ کرام و محدثین عظامؒ قدرت نہیں رکھتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مرزا قادیانی کو خاص طور پر اس لئے مرزا قادیانی کے خود ساختہ نبوت کا آئینہ ٹکرا کر پاش حضرت ابو ہریرہؓ کو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ غبی تھے اور حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے متعلق بھی گندہ ذہنی اور قادیانی کہتے ہیں کہ: ”حق بات تو یہ ہے کہ ابن خزائن ج ٣ ص ٣٢٢) یہ ہے مرزا قادیانی کا کہنا۔ اس نے کوفہ یونیورسٹی کا افسر اعلیٰ بنا کر بھیجا تھا اور یہ لکھا عالماً (ازالۃ الخفاء) ”عبداللہ ابن مسعودؓ ہی کی نعمان، امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام تھا ایک مرزا قادیانی کی نکمی شخصیت کے جو ہر لا کر مرزا قادیانی کامیاب ہوئے تو صرف اپنی ان کے لئے کوئی نصاب ہی مقرر نہیں تھا اور اگر فرما کر حضور ﷺ نے کاذب اور مفتری مدعیان
کہ مرزا قادیانی کے اندر دراصل نظام معتزلہ اور زندیق تھا۔ اس نے صحابہ کرامؓ کی شان ہیں کہ نظام معتزلی کا شاگرد عمرو عثمان جاحظ تمام محدثین پر اس لئے طعن کیا کرتا تھا کہ کیا ہے۔ کیونکہ نظام ابو ہریرہؓ کو دنیا بھر کا ناپاک حملے کرتا تھا۔ ابن مسعودؓ کو رویت
مسئلہ تقدیر، معجزہ شق القمر اور جنات کے دیکھنے میں کاذب ٹھہراتا تھا۔ نظام اہل بیت رضوان اللہ علیہم پر بھی دشنام طرازی سے کام لیتا تھا اور ان کی توہین کرتا تھا۔ جن کی تعریف میں خداوند قدوس کا مقدس ارشاد رضی اللہ عنہ ورضوعنہ نازل ہوا۔
(الفرق ص ١٤٣)
نظام ابو ہریرہؓ کو کاذب اس لئے کہتا تھا کہ آپ کی روایت سے معتزلہ پر بھاری چوٹ پڑتی تھی۔ نظام اجماع صحابہؓ کے حجت ہونے کا بھی منکر تھا اور کہتا تھا کہ صحابہ کرام اور تمام امت گمراہی پر مجتمع ہو سکتی ہے۔
(الفرق ص ٣٠٥)
نظام ہر وقت شراب کے نشہ میں چور رہتا تھا اور اس کا بڑا دلدادہ تھا۔ نظام با وجود مذکورہ بالا گمراہیوں کے دنیا بھر کا فاسق و فاجر تھا۔ گناہ کبائر بڑی بے باکی سے کیا کرتا تھا۔ اسی نظام معتزلی کی تقلید کرتے ہوئے مرزا قادیانی بھی انکار حدیث کرتے تھے۔ صحابہؓ کو گالیاں دیتے تھے اور تمام اہل سنت والجماعت کے مسلمہ عقائد معراج، معجزہ شق القمر وغیرہ کا انکار کرتے تھے۔ قرآنی آیتوں کو اپنے مطلب کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کا متفقہ فتویٰ ہے کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت اور انکار حدیث نیز توہین انبیاء کرام علیہم السلام وغیرہ وغیرہ کے تحت کافر ہیں۔
مرزا قادیانی کا انجام
نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا کہ علماء دین، محدثین و اکابر ملت اپنی تحریر اور تقریر سے قادیانی مذہب اور اس کے لٹریچر ان کے مناظرے کا منہ توڑ جواب دیتے چلے آئے۔ الحمد للہ! ہر محاذ پر قادیانیوں کو زک اٹھانی پڑی اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ اہل علم اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا طبقہ قادیانی کذب و افتراء کا تار پود بکھیرتے رہیں گے۔ قادیانیوں کو انکار حدیث اور انکار ختم نبوت کی جو سزا قدرت کی جانب سے ملنی ہے وہ تو مل کر ہی رہے گی۔ جب کہ خداوند قدوس نے ان کے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کو خود ان کی منہ مانگی دعاء کی بناء پر اسہال اور قے کے عذاب میں مبتلا کر کے دنیا کو بتا دیا کہ کذاب کی یہ سزا ہے۔
(دیکھو تاریخ مرزا)
انکار حدیث کا واقعہ
اب مثال کے طور پر ایک واقعہ پیش کروں گا کہ انکار حدیث کی دنیاوی سزا کیا ہے۔ اس کے متعلق عالم اسلام کی عظیم ترین شخصیت خلیفہ ہارون الرشید عباسی اور ان کے دور سعادت اثر کا وہ واقعہ ہے جسے خطیب بغدادی متوفی ٤٦٣ھ کی تاریخ سے اخذ کیا گیا ہے۔ خطیب بغدادی نے قاضی القضاۃ عمر حبیب عدوی حنفی کبیر کے حالات میں خود قاضی موصوف کی زبانی واقعات
١٣
ذیل نقل کیا ہے۔ قاضی موصوف فرماتے ہیں کہ دربار ہارون الرشید میں میرے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک فریق نے ابو ہریرہؓ کی روایت بطور سند پیش کی۔ دوسرے فریق نے کہا ابو ہریرہؓ کی روایت پر اعتبار نہیں اور وہ جھوٹا ہے۔ خلیفہ نے بظاہر اس کی تائید کی۔ اس پر میں نے چمک کر کہا ابو ہریرہؓ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں راست باز ہیں اور نقل حدیث صحیح طور پر کرتے ہیں۔ میری اس حق گوئی سے خلیفہ ہارون الرشید بہت برہم ہوئے اور میں اسی وقت دربار سے اٹھ کر چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد خلیفہ کا قاصد پہنچا اور کہنے لگا کہ آپ کو امیر المومنین بلاتے ہیں۔ قتل ہونے کے لئے سر سے کفن باندھ کر نکلو یہ سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یا اللہ میں تیرے محبوب اور پیارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابی کے اجلال و تعظیم کی خاطر حق گوئی اور راست بازی سے کام لیا تھا۔ اب تو ہی حافظ اور نگہبان ہے۔ جب میں دربار میں پہنچا تو دیکھا کہ خلیفہ آستین چڑھائے خنجر ہاتھ میں لئے کرسی پر بیٹھا ہے اور سامنے ادھڑی بچھی ہے۔ (اس پر لٹا کر ذبح کرنے کا دستور تھا) خلیفہ مجھے دیکھ کر کہنے لگا تو نے میرے پرشکوہ شاہی دربار کی وہ ہتک کی جس کی نظیر میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ بتا کیا کہنا چاہتا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ کے اس نظریہ کو تسلیم کرنے سے خود سرکار دوعالم ﷺ کی تعلیم پاک کی تنقیص لازم آتی ہے۔ کیونکہ جب حضور ﷺ کے صحابہ کذاب ہوئے تو پھر تمام شریعت ہی باطل ہو گئی۔ مثلاً نماز، روزہ، طلاق و نکاح، حج، زکوٰۃ اور حدود شرعیہ سب باطل ہو جائیں گے۔ اس پر خلیفہ کچھ سوچنے لگے۔ پھر فرمایا عمر بن حبیب خدا تجھے سلامت رکھے تو نے مجھے بچا لیا اور مجھے دس ہزار دینار انعام دے کر باعزت واپس کیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ گمراہ اہل بدعت جیسے معتزلہ، خوارج، روافض اور ملاحدہ وغیرہ اہل ضلال ایک دوسرے کی ہمیشہ تکفیر کرتے رہے اور احادیث صحیحہ کا بھی انکار کرتے چلے آئے۔ یہ واضح رہے کہ اگر حدیث صحیحہ کا انکار کیا جائے (جس کو متبعین ملاحدہ) عقائد کے ہر ضروری حصے کو پہلے ہی رد کر چکے ہیں تو پھر ایسی حالت میں رہ ہی کیا جاتا ہے۔ اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ کوئی شارع یعنی شارح قرآن مجید مبعوث ہوا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ نبوت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔ فقط اتنا کافی ہے کہ کوئی دستاویز عرش معلی سے لٹکا دی جائے اور مکلفین خود بخود پڑھ کر حسب مرضی ومنشاء اس پر عمل کرتے جائیں۔
مسیح کی جھوٹی قبر
اب آگے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کا محیر العقول کارنامہ
١٤
ملاحدہ نے مذکورہ بالا عقیدہ فاسدہ کے علیہ السلام کی قبر بھی کہیں متعین کر دینی چاہ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے مر سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ معاملہ ذرا واقعات وحقائق و محسوسات و شواہد سے کے لئے بہت کچھ توڑ جوڑ کرنا پڑا۔ جس ک مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ” پنجاب کی طرف آئے۔ اس ارادے سے قدم اٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانس ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی را سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا کہ امر جائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت جاسکتے ہیں اور پنجاب میں داخل ہو کر ال آئیں ہندوستان کے مختلف مقامات کا یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمی تھے۔ اس لئے یقینی امر ہے کہ ان ملکو مارچ یا اپریل کی ابتداء میں کشمیر کی طر ہے۔ اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں ر
دیکھا آپ نے مرزا قاد مسیح کی قبر تیار کر رہے ہیں۔ مرزا قاد ہی شاندار تیار کر دی اور اپنی جغرافی
ملاحظہ ہو: مذکورہ بالا عقیدہ فاسدہ کے اختراع کے بعد مرزا قادیانی کو معاً خیال آیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی کہیں معین کر دینی چاہئے۔ تاکہ وفات مسیح یقینی ہو اور پھر ہو بھی اتنی قریب کہ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے مریدوں سے کہا جا سکے کہ یہ ہے اس مسیح کی قبر جس کا مدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ معاملہ ذرا پیچیدہ تھا اور تراشیدہ الہامات کے دائرے سے نکل کر واقعات وحقائق ومحسوسات وشواہد سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو اس کی سرانجام دہی کے لئے بہت کچھ توڑ جوڑ کرنا پڑا۔ جس کی دلچسپ داستان درج ذیل ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے ۔ اس ارادے سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے آویں تو قریباً اسی کوس یعنی ایک سو تیس میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سو کوس کا فاصلہ ہے۔ لیکن حضرت مسیح نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا کہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیض یاب ہو جائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے۔ اس لئے کشمیر آ کر یہ بآسانی تبت میں جاسکتے ہیں اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے کہ جو کشمیر اور تبت آئیں ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔ سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتاتی ہیں۔ یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سفر کیا ہوگا۔ پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔ چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے۔ اس لئے یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ٹھہرے ہوں گے۔ اخیر مارچ یا اپریل کی ابتداء میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلاد شام سے بالکل مشابہ ہے۔ اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت اختیار کر لی ہوگی اور ساتھ ہی یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو ۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٦٩ ،٧٠، خزائن ج ١٥ص٦٩، ٧٠)
دیکھا آپ نے مرزا قادیانی کی برہان قاطع اور حجت ساطع ۔ مرزا قادیانی کشمیر میں مسیح کی قبر تیار کر رہے ہیں ۔ مرزا قادیانی نے مسیح کی آمد کا تذکرہ تو کر دیا اور قبر بھی کشمیر میں نہایت ہی شاندار تیار کر دی اور اپنی جغرافیہ دانی کا بھی اعلیٰ ثبوت پیش کر دیا۔ مگر مرزا قادیانی اس تاریخ کا
١٥
حوالہ دینے سے قاصر رہے کہ آخر کس مؤرخ نے کس صدی میں کہاں اور کس جگہ اور کس تاریخ میں ایسی بے پرکی اڑائی ہے اور اس نایاب اور نادر روزگار تاریخ کے وہ کون سے زریں صفحات ہیں جن کا حوالہ پیش کرنے میں مرزا قادیانی اور ان کے مرید آج تک سر بگر یباں نظر آ رہے ہیں۔
جھوٹ کی انتہاء
اب ذرا مرزا قادیانی کے مذکورہ الفاظ کی حقانیت کی کشش ملاحظہ ہو۔ کہیں لکھتے ہیں: ”سفر کیا ہوگا، گئے ہوں گے۔“ پھر کہیں کہا جاتا ہے: ”یقینی امر ہے ٹھہرے ہوں گے۔“ کہیں کہہ رہے ہیں: ”کوچ کیا ہوگا۔“ کہیں بے پرکی اڑا رہے ہیں کہ: ”یقینی ہے سکونت اختیار کی ہوگی۔“ اور کہیں حافظہ پر زور ڈالتے ہوئے کہتے ہیں: ”رہے ہوں گے۔“ ذرا ان لفظوں پر غور فرمائیے کہ ایک مدعی نبوت جسے تمام باتیں وحی اور الہام کے ذریعہ معلوم ہوتی رہتی ہیں وہ واقعات اور حقائق کے میدان میں قدم قدم پر اپنی کذب و دجل اور عیاری و مکاری کے چٹان سے ٹکرا ٹکرا کر خود اپنا سر پھوڑ رہا ہے۔ مرزا قادیانی کو تو چاہئے تھا کہ اتنی زحمت اٹھانے کے بجائے اپنا وہی پرانا اور بوسیدہ حربہ استعمال کرتے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی قبر کشمیر میں فلاں محلے میں موجود ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی اپنی تراشیدہ و خراشیدہ وحی کے ذریعے اپنے مریدوں اور معتقدوں کو بڑی آسانی سے رام کر سکتے تھے اور پیشین گوئی کا وہ حربہ جسے مرزا قادیانی (انجام آتھم، منکوحہ آسمانی، مولانا ثناء اللہ صاحب کی موت کی پیشین گوئی) میں ہمیشہ استعمال کرتے چلے آئے اور ان حربوں کے استعمال سے مرزا قادیانی واقف بھی ہو گئے تھے اور ان کے لئے کارآمد بھی ثابت ہو چکا تھا۔ کاش مرزا قادیانی کو ان باتوں کا خیال آتا تو ایسی فاش غلطی کے ارتکاب سے توبہ کرتے۔
مزید برآں مرزا قادیانی کا یہ ارشاد بھی آنے والے نبیوں کے لئے سرمہ چشم بصیرت رہے گا ”اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔“ ”باور ہے کہ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اولاد ہو۔“ کیونکہ مرزا قادیانی نے ہی اس کذب وافتراء کا آغاز کر کے اپنی نبوت اور الہام کا پردہ چاک کر ڈالا۔ بقول مرزا قادیانی کے یہ بھی یقینی امر ہے کہ یوسف علیہ السلام بھی مصر سے افغانستان تشریف لائے ہوں۔ جو شاید اس وقت حکومت مصر کا باجگزار ہوگا اور کچھ بعید نہیں کہ آپ نے یہاں شادی کی ہو اور یہ یوسف زئی قبیلہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد ہو۔ اس کے علاوہ افغانستان میں اور بھی بہت سے قبیلے آباد ہیں۔ مثلاً سلیمان خیل، عمر زئی، عثمان خیل، علی خیل وغیرہ وغیرہ۔ ممکن ہے اس قبیلے کے لوگ بھی
١٦
سلیمان علیہ السلام، عمر، عثمان، علی کی سرائی میں تو مرزا قادیانی نے کمال موضوعات قرار دے کر اور خود سودا پیشرووں کی جانشینی کا خوب خوب حق
بسوخت
اصل واقعہ
مرزا قادیانی کی مذکورہ اصل واقعہ بیان کر دیا جائے۔ حضر وآوينا الى ربوة ذات قر ابوالفداء ص ٢٥، ابن خلدون ص ١٢٦، ١ سے تنگ آ کر حضرت مریم علیہا السلا ہمراہ ملک شام کو چھوڑ کر مصر آئیں۔ میں اقامت اختیار کی۔ یاقوت حموی نام ہارر دوس تھا یہ بادشاہ مذہباً مجو مریم علیہا السلام مع عیسیٰ علیہ السلام رہیں۔ پھر تیس سال کی عمر میں حضر کیا گیا۔ بعدہ تینتیس سال کی عمر ص ١٤٥، ج ٩ ص ٣٨٠) اسی لئے مسیح ع اتی سی
مرزا کی ناکامی
مصر کے سفر ہجرت کے سے ثابت نہیں ہوتا۔ مگر یہ واضح (اکمال الدین مصنفہ ابو جعفر محمد بن کے ہاتھ لگی ہوگی۔ بس کیا تھا مرزا کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا ہے ج ١٧ ص ١٠٠، ریویو ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٢٩
سلیمان علیہ السلام، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ کی اولادوں میں سے ہوں۔ ایسے بے سروپا لغویات اور ہرزہ سرائی میں تو مرزا قادیانی نے کمال کر دیا۔ افسوس کہ مرزا قادیانی احادیث صحیحہ کو ظنیات بلکہ موضوعات قرار دے کر اور خود سودائے نبوت میں اس قسم کی مضحکہ خیز اور بے سروپا باتیں کہہ کر اپنے پیشروؤں کی جانشینی کا خوب خوب حق ادا کیا۔
اصل واقعہ
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا فساد طرازی پر بحث کرنے کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اصل واقعہ بیان کر دیا جائے۔ حضرت ائمہ تفسیر نے آیت "وجعلنا ابن مريم وامة آية وآوينا الى ربوة ذات قرار ومعين" کی تفسیر میں (امام طبری ص ٢٠، ٢١، ابن اثیر ص ١٣٥، ابوالفداء ص ٣٥، ابن خلدون ص ١٢٦، ابن سعد ص ٢٦) نے تصریح کی ہے کہ شاہ ہیرودُس کے مظالم سے تنگ آکر حضرت مریم علیہا السلام صدیقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے ہمراہ ملک شام کو چھوڑ کر مصر آئیں۔ پھر بارہ سال کے بعد مصر سے واپس آکر شہر ناصرہ (شام) میں اقامت اختیار کی۔ یاقوت حموی نے (معجم البلدان ج ٨ ص ٣٢) پر لکھتا ہے کہ بادشاہ مذکورہ کا نام ہارودوس تھا یہ بادشاہ مذہبًا مجوس اور مجوسی حکومت کا تاجدار تھا۔ شاہ مذکور کے مرنے کے بعد مریم علیہا السلام مع عیسیٰ علیہ السلام شام واپس آکر ناصرہ میں مقیم ہوئیں اور وہاں اٹھارہ سال تک رہیں۔ پھر تیس سال کی عمر میں حضرت مسیح علیہ السلام کو ان اقوام کی ہدایت وارشاد کے لئے مامور کیا گیا۔ بعدہ تینتیس سال کی عمر میں واقعہ صلیب اور رفع پیش آیا۔ دیکھو (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ١٤٥، ج ٦ ص ٣٨٠) اسی لئے مسیح علیہ السلام کو ناصری بھی کہتے ہیں۔ یعنی مسیح ناصری۔ بس؎
مرزا کی ناکامی
مصر کے سفر ہجرت کے علاوہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کوئی سفر بلاد ہند کی طرف تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ مگر یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ اتفاقات روزگار سے کہیں کتاب (اکمال الدین مصنفہ ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی مطبوعہ ایران ١٣٠١ء) مرزا قادیانی کے ہاتھ لگی ہوگی۔ بس کیا تھا مرزا قادیانی نے وہ وہ کرشمے دکھائے کہ توبہ ہی بھلی۔ کتاب مذکور کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ہزار برس سے زیادہ کی تصنیف ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠، ریویو ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٩) مگر حکیم خدا بخش مرزائی (عسل مصفی ج ١ ص ٥٨٥) میں ایک
١٧
لمبی جست لگاتے ہوئے کہا کہ کتاب اکمال الدین گیارہ سو سال کی تصنیف ہے۔
اس مضمون کا مواد مولانا نور الحق صاحب (لاہور) کے مقالے سے لیا گیا ہے۔ (نوٹ: مولانا نور الحق صاحب کا رسالہ التعرف نیز مقالہ بھی احتساب کی جلد ٣١ میں چھپ چکا ہے۔ مرتب)
پیدائش
جزیرۃ العرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں مسیح علیہ السلام کی ولادت کے ٥٧٠ سال بعد حضرت آمنہ بنت وھب قرشیہ کے بطن سے سرکار دو عالم محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔
یتیم
آپ کی پیدائش سے چند ماہ پیشتر آپ کے والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب ملک شام سے واپسی میں مدینہ منورہ میں انتقال کرگئے اور آپ یتیم ہوگئے۔ آپ کے پیدا ہونے کے سات دن بعد آپ کے دادا عبدالمطلب نے نہایت دھوم دھام کے ساتھ آپ کا عقیقہ کرایا۔ لوگوں کے پوچھنے پر آپ کے دادا نے کہا۔ اپنے پوتے کا نام ”محمد“ رکھتا ہوں۔ تاکہ سارے جہاں کی تعریف کا وہ مستحق ہو جائے۔ چند روز تک آپ کی والدہ حضرت بی بی آمنہ اور ابولہب کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ کا دودھ پینے کے بعد عربی دستور کے مطابق آپ کو قبیلہ بنی سعد کی شریف عورت حلیمہ کے سپرد کر دیا۔ جو آپ کو دودھ پلانے کے علاوہ آپ کی جسمانی تربیت بھی کرتی تھی اور آپ کی برکتوں سے حضرت حلیمہ کا سارا گھر ظاہری و باطنی دولتوں سے مالا مال ہورہا تھا۔
دُرِّ یتیم
چار سال کی عمر میں شق صدر کے واقعہ کے بعد آپ اپنی والدہ کے پاس پہنچ گئے اور چھ سال کی عمر میں والد کے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کے لئے والدہ کے ہمراہ مدینہ پہنچے۔ ایک ماہ کے قریب رہ کر مکہ کی واپسی میں ”ابواء“ نامی جگہ پر والدہ محترمہ یعنی بی بی آمنہ کے فوت ہو جانے کی وجہ سے یتیم سے دُرِّ یتیم ہوگئے۔
ابتدائی حالات
آٹھ سال کی عمر تک آپ اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کی پرورش میں رہے۔ دادا کے انتقال کے بعد آپ اپنے چچا حضرت ابوطالب کے آغوشِ تربیت میں پرورش پانے لگے۔ اور
١٨
بارہ سال کی عمر میں چچا کے ہمراہ تجارتی قا راہب کے منع کرنے پر آپ اپنے چچا کے فیض رسانی میں مشغول ہوگئے۔ جب آ خونریز جنگ میں قریش کی طرف سے ب الفضول میں اپنے ماموں کے ساتھ شریک مشہور و معروف خاندانی تاجر چالیس سالہ غرض سے ملک شام گئے۔ واپسی پر آپ نکاح کی درخواست کی۔ حضور ﷺ کے اسد کے زیر اہتمام آپ کی شادی ہوئی لڑکیاں یعنی حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ کی عمر پینتیس سال ہوئی تو سیلاب کی وجہ پاک کمائی سے کعبۃ اللہ کی تعمیر میں حصہ ل کی تمنا یہ تھی کہ وہی اس مقدس پتھر کو اٹھا کر ٹھن گئی۔ آخر حضرت خالد بن ولید کے چچا۔ بوڑھے نے کہا کیا تم لوگ کل ک مانو گے؟۔ قوم نے جواب دیا۔ ہاں! ہ داخل ہوئے۔ آپ کو دیکھ کر ساری قوم اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کے فیصلے کو ماننے تشریف لائے۔ چادر بچھائی۔ دست م ایک ایک فرد چادر کا کونہ پکڑ کر اصلی مقام اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ جس کی وجہ
نبوت
جب آپ کی عمر چالیس سا سے آپ کو سرفراز فرمایا اور انسانیت ک کے ذریعہ سے آپ پر نازل فرمایا۔
بارہ سال کی عمر میں چچا کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ ملک شام کی سرحد ”بصرہ“ میں پہنچے۔ بحیرا راہب کے منع کرنے پر آپ اپنے چچا کے ہمراہ مکہ واپس آ گئے۔ اور تجارتی کاموں اور خلقِ اللہ کی فیض رسانی میں مشغول ہو گئے۔ جب آپ کی عمر ٢٠ سال کی ہوئی تو آپ حرب الفجار کی مشہور ومعروف جنگ میں قریش کی طرف سے نہایت بہادری سے شرکت کی۔ اس کے بعد آپ حلف الفضول میں اپنے ماموں کے ساتھ شریک ہوئے۔ جب آپ کی عمر ٢٥ سال کی ہوئی تو مکہ کے مشہور و معروف خاندانی تاجر چالیس سالہ بیوہ حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ کے ہمراہ تجارت کی غرض سے ملک شام گئے۔ واپسی پر آپ کی ایمانداری اور دیانتداری کو دیکھ کر حضرت خدیجہؓ نے نکاح کی درخواست کی۔ حضور ﷺ کے چچا حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہؓ کے چچا عمرو بن اسد کے زیر اہتمام آپ کی شادی ہوئی جن سے دو لڑکے یعنی حضرت قاسمؓ اور عبداللہؓ اور چار لڑکیاں یعنی حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ، حضرت فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔ جب آپؐ کی عمر پینتیس سال ہوئی تو سیلاب کی وجہ سے کعبۃ اللہ کی دیواریں گر پڑیں۔ ہر قبیلہ نے اپنی اپنی پاک کمائی سے کعبۃ اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا۔ جب حجر اسود کے رکھنے کی باری آئی تو ہر قبیلہ اور ہر شخص کی تمنا یہ تھی کہ وہی اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھے۔ اس پر جھگڑا بڑھا۔ جنگ و جدال کی ٹھن گئی۔ آخر حضرت خالد بن ولید کے چچا ابوامیہ مخزومی نامی بوڑھے قریشی کے مشورہ پر رک گے۔ بوڑھے نے کہا کیا تم لوگ کل کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص کا فیصلہ مانو گے؟۔ قوم نے جواب دیا۔ ہاں! ہمیں منظور ہے۔ حضور ﷺ سب سے پہلے کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ کو دیکھ کر ساری قوم چلا اٹھی ”محمد الصادق الامین“ اے سچے امانت دار (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کے فیصلے کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ آپؐ قوم کے ہمراہ حجر اسود کے پاس تشریف لائے۔ چادر بچھائی۔ دست مبارک سے حجر اسود اٹھا کر چادر میں رکھ کر فرمایا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک فرد چادر کا کونہ پکڑ کر اصلی مقام پر پہنچائے۔ اس کے بعد آپؐ نے دست مبارک سے حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے بڑا فتنہ دب گیا۔
نبوت
جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو خداوند قدوس نے خاتم النبیینؐ کے عہدے سے آپ کو سرفراز فرمایا اور انسانیت کے آخری دستور العمل قرآن کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے آپؐ پر نازل فرمایا۔
١٩
نبوت کے بعد
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی آخری تیس سالہ زندگی میں ایک ایسی پاک اور جامع کتاب نازل فرمائی جو تمام انسانی ضروریات کی حامل ہے۔ انسانی زندگی کے کسی شعبے کو نامکمل اور تشنہ تکمیل نہیں رکھا۔ اس میں توحید ورسالت کی مکمل تعلیم ہے۔ قرآن احکام وقوانین کی مکمل کتاب ہے۔ یہ شعائر اسلامی کی جامع تعلیم دینے والی کتاب ہے۔ تاریخ اقوام انسانی شعبہ زندگی کے ضروری اور اہم مسائل۔ عبادات ومعاملات کی اہم باتیں۔ اخلاقیات کی اعلیٰ تعلیم۔ دعاؤں اور مناجاتوں کے لئے حسین جملے۔ حشر ونشر جزا وسزا کے متعلق مدلل بیان ہے۔ غرض ہر وہ بات جو تعلیمات الہیہ کی تکمیل کے لئے ضروری تھے۔ وہ سب کے سب قرآن پاک میں موجود ہیں۔ چونکہ یہ قرآن مجید اپنی جامعیت کے اعتبار سے آخری شریعت کی کتاب تھی اور حضور ﷺ بھی رسالت کے اعتبار سے آخری رسول تھے اور حضور ﷺ ہی کے ذریعہ انسانیت کی تکمیل کرانی تھی۔ اس لئے آپ میں تمام اعلیٰ خوبیاں پیدا کر دی گئیں تھیں۔ جو ایک رسول ونبی کے لئے ضروری تھیں۔ مثلاً عمدہ اخلاقی خوبیاں، انصاف اور دیانت، نبوت انبیاء سابقین کی بشارت، معجزہ یعنی خرق عادات کا صدور، عمدہ تعلیمات مثلاً کتب سابقہ اور انبیائے کرام کا احترام، پیشگوئیوں کی صداقت، ختم نبوت، آپ کے بعد کسی جدید نبی کی عدم ضرورت، آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کا کذب، آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کا دنیا و آخرت کی نعمتوں سے سرفراز ہونا وغیرہ وغیرہ۔
سچے نبی کے اوصاف اور اخلاق حسنہ
قرآن پاک میں آپ کے متعلق ”انك لعلى خلق عظيم (القلم:٤)“ اور حدیث میں ”ان الله بعثنى لتمام مكارم الاخلاق (مشکوٰۃ ص ٥١٤، باب فضائل سيد المرسلين)“ فرمایا گیا ہے۔ یعنی ایک سچے پیغمبر میں جو جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب آپ کو دی گئی ہیں۔ تفصیل یہ ہے:
آپ خندہ جبیں، نرم خو، مہربان طبع تھے۔ سخت مزاج، تنگ دل نہ تھے۔ بات بات پر شور نہ کرتے تھے۔ کوئی برا کلمہ منہ سے کبھی نہیں نکالتے تھے۔ عیب جو اور تنگ گیر نہ تھے۔ آپ کے اخلاق نہایت ہی کریمانہ وشریفانہ تھے۔ معاشرت بھی اچھی تھی۔ گفتگو شیریں اور انتہائی نرم تھی۔ آپ صحیح الرائے اور بہت ہی سچے تھے۔ آپ میں محبت وعجز وانکساری بھی تھی۔ آپ اپنے متبعین کے ساتھ خواہ وہ معمولی درجہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو انتہائی محبت سے ملتے تھے۔
٢٠
تواضع خاکساری، انسانی راحت رسانی، سیر چشمی اور سخاوت آپ کا جزو بن چکی تھی۔ حیاء کا یہ عالم تھا کہ بقول حضرت عائشہ صدیقہؓ آپ کنواری لڑکیوں سے زیادہ حیادار تھے۔ کوئی ایسی بات جو ناپسند ہوتی تو اس سے آپؐ درگزر فرماتے۔ کوئی آپؐ سے امید رکھتے تو آپؐ اس کو مایوس نہ کرتے اور نہ منظوری ظاہر فرماتے تھے۔ بلکہ خاموش رہتے تھے۔ مزاج شناس آپ کا تیور دیکھ کر آپ کا مقصد سمجھ جاتے تھے۔ آپ تین باتوں سے خود بھی بچتے تھے اور دوسروں کو بھی بچنے کی تاکید فرماتے۔ (١) کج بحثی۔ (٢) ضرورت سے زیادہ گفتگو۔ (٣) جو بات مطلب کی نہ ہو اس سے احتراز۔ آپ کسی کی عیب گیری نہیں کرتے تھے۔ کسی کی اندرونی حالات کی ٹوہ نہیں لگاتے تھے۔ مفید باتیں کیا کرتے تھے۔ جب آپ کلام کرتے تو صحابہؓ اس طرح خاموش ہو کر سنتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب آپ چپ ہو جاتے تو صحابہؓ آپس میں بات چیت کرتے تھے۔ آپ نہایت فیاض، راست گو، نہایت نرم طبع تھے۔ اگر کوئی پہلی دفعہ دیکھتا مرعوب ہو جاتا۔ لیکن جیسے جیسے شناسائی ہو جاتی تو آپؐ سے محبت کرنے لگتا۔ آپؐ نے کبھی کسی کو ضرر نہیں پہنچایا۔ آپ لوگوں کو اپنے مقابلہ میں ترجیح دیتے تھے۔ آپ غریبوں کی دعوت قبول فرمالیا کرتے تھے۔ یتیموں اور مصیبت زدوں کو دیکھ کر ہمدردی فرماتے۔ اپنے کھانے میں کسی نہ کسی کو شریک کر لیا کرتے تھے۔ آپ عادل اور منصف تھے۔ دوست تو دوست دشمنوں کے ساتھ آپ کا لطف وکرم عام تھا۔ سخت سے سخت دشمنوں کے ساتھ آپؐ نے رحم وکرم کا معاملہ کیا۔
اسی طرح تمام اخلاق رذیلہ اور فحش باتوں سے خصوصاً جھوٹ، غیبت، زنا، حسد، کینہ، کبر، طمع ولالچ، چوری وسرقہ، طعنہ زنی، گالی گلوچ، جھگڑا فساد، چغل خوری، منہ دیکھ کر بات کرنا، بے جا مدح وتعریف، فاسقوں اور فاجروں کی تعریف جیسے اخلاق خبیثہ سے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھ کر ثابت کر دیا کہ نبی ہونے کے لئے ضروری ہے۔ اس میں اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے ساتھ ساتھ وہ اخلاق رذیلہ سے پاک بھی ہو۔ آپ کا سچا منصف دیانتدار ہونا کافروں اور فاسقوں کی خوشامد نہ کرنا۔
چونکہ ہر نبی کے لئے ضروری ہے کہ نبوت کے پہلے اور نبوت کے بعد بھی اعلیٰ درجہ کا سچا، راست گو ہو۔ اس کی باتیں سچی اور ان کے افعال وکردار ٹھیک ہوں اور ان کو جھوٹ سے نفرت، جھوٹی باتوں، ریا کاری اور دکھاوے کے افعال سے نفرت ہو۔ اسی قاعدہ کی بناء پر حضور ﷺ بھی اعلیٰ درجہ کے سچے اور سچی گفتار اور سچے کردار کے دھنی تھے۔ مسلمان تو مسلمان خود
٢١
کافروں نے آپ کی راست بازی کا بانگ دہل اعلان واقرار کیا۔
ابو جہل کی شہادت
مشرکین مکہ کے سردار ابوالحکم بن ہشام یعنی ابو جہل کہا کرتا تھا۔ اے محمد (ﷺ) میں تجھ کو جھوٹا نہیں کہتا۔ لیکن تمہاری لائی ہوئی اللہ کی آیتوں کا انکار کرتا ہوں۔ اس کے متعلق قرآنی آیت نازل ہوئی ۔” قد نعلم انہ یحزنك الذی یقولون فانہم لا یکذبونك ولکنہم بایات اللہ یجحدون (جامع ترمذی ج٢ ص١٣٢، تفسیر سورہ انعام)“
ابوسفیان کی شہادت
قیصر روم نے بھرے دربار میں ابوسفیان سے پوچھا کہ تمہارے ہاں جو مدعی نبوت پیدا ہوا ہے اس کے اس دعوے سے پہلے کبھی تم نے اس کو دروغ گو (جھوٹ بولنے والا) بھی پایا۔ ابوسفیان نے جواب دیا۔نہیں۔ اس کے بعد قیصر روم نے جو تقریر کی وہ یہ ہے:” میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس نے جھوٹ کہا تھا تو تم نے جواب دیا کہ نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ خدا پر افتراء باندھتا تو آدمیوں پر افتراء باندھنے سے کب باز آتا۔“
(صحیح بخاری ج١ ص٤، باب بدءالوحی، حوالہ جات ص٢١)
یعنی جو شخص مخلوق سے جھوٹ نہ کہے ہمیشہ راست بازی سے پیش آئے۔ وہ بھلا کب خدا پر بہتان باندھے گا۔
نضر بن حارث کی شہادت
اے قریش! تم پر جو مصیبت آئی ہے اب تک تم اس کی تدبیر نہ نکال سکے۔ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے بچہ سے جوان ہوا۔ وہ تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ، صادق القول اور امین تھا۔ اب جو اس کے بالوں میں سپیدی آچلی اور تمہارے سامنے یہ باتیں پیش کیں تو کہتے ہو کہ وہ ساحر ہے۔ کاہن ہے۔ شاعر ہے۔ مجنون ہے۔ خدا کی قسم میں نے ان کی باتیں سنی ہیں۔ محمد (ﷺ) میں یہ کوئی بات نہیں تم پر یہ کوئی مصیبت ہی نئی آئی ہے۔
(سیرت ابن ہشام نور الیقین فی سیرۃ سیدالمرسلین ص ١٧)
جھوٹ کے متعلق ارشادات
- ١...... ”لعنة الله علیٰ الکاذبین (آل عمران:٦١)“ ﴿جھوٹوں پر خدا کی
لعنت۔﴾
٢٢
- ......٢ ”الصدق ینجی.....
بولنا ہلاک کر دے گا۔﴾
- ......٣ آپ سے پوچھا گ.....
ص ٤١٤، باب حفظ اللسان) ” ﴿کیا م..... مومن نہیں ہو سکتا۔﴾
- ......٤ آپ نے فرمایا:”.....
الفاحش ولا البذی (مشکوٰۃ ص٤٠٣..... کرنے والا۔ فحش بکنے والا اور بے حیا نہیں۔.....
- ......٥ آپ نے فرمایا: جو.....
نحوست کی وجہ سے فرشتہ ان سے ایک میل.....
حق پر استقامت
- ......١ مشرکین مکہ کی طر.....
دعوت حق اسلام سے منع کیا تو آپ نے ف..... میں سورج دوسرے ہاتھ میں چاند دے کر ق.....
- ......٢ آپ کا ارشاد ہے.....
واهتزله العرش (رواه البيهقی، مش..... جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اللہ غصہ ہ.....
(مشکوٰۃ ص٤١٤)
مذکورہ بالا باتوں سے صاف ع..... کہ اس میں اخلاق حسنہ کے ساتھ ایسے اخ..... یعنی پیروی کرنے والے شرم وعار نہ محسو.....
عالمگیر نبوت
جب تمام خوبیوں کے حام..... حصہ یعنی چالیس سال ابنائے زمانہ ک..... ہو جانے کے بعد اکتالیسویں سال کی..... آپ ارشاد فرماتے ہیں:
- ٢...... "الصدق ينجی والكذب يهلك" ﴿سچ بولنا نجات دے گا۔ جھوٹ
بولنا ہلاک کر دے گا۔﴾
- ٣...... آپ سے پوچھا گیا ۔ " ايكون المؤمن كذابا قال لا (مشكوة
ص ٤١٤ ، باب حفظ اللسان) " ﴿کیا مؤمن جھوٹا ہو سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ نہیں جھوٹا شخص مؤمن نہیں ہو سکتا ۔ ﴾
- ٤...... آپؐ نے فرمایا: "ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا
الفاحش ولا البذی (مشكوة ص ٤١٣ ، باب حفظ اللسان) " ﴿یعنی مؤمن طعنہ باز لعنت کرنے والا ۔ فحش بکنے والا اور بے حیا نہیں ہوتا ۔ ﴾
- ٥...... آپؐ نے فرمایا: بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو اس کی جھوٹی بات کی بدبو اور
نحوست کی وجہ سے فرشتہ ان سے ایک میل دور رہتا ہے۔
(مشكوة ص ٤١٣، باب حفظ اللسان)
حق پر استقامت
- ١...... مشرکین مکہ کی درخواست پر آپؐ کے چچا ابوطالب نے آپ کو بلا کر
دعوت حق اسلام سے منع کیا تو آپؐ نے صاف جواب دیا کہ اے چچا اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج دوسرے ہاتھ میں چاند دے کر تبلیغ اسلام سے منع کریں۔ میں ہرگز نہیں رکوں گا۔
- ٢...... آپ کا ارشاد ہے: "اذا مدح الفاسق غضب الرب تعالىٰ
واهتزله العرش (رواه البيهقى، مشكوة ص ٤١٤ ، باب حفظ اللسان) "یعنی کافر تو کافر جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اللہ غصہ ہو جاتا ہے اور اس کا عرش ہل جاتا ہے۔
(مشكوة ص ٤١٤)
مذکورہ بالا باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی اور رسول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں اخلاق حسنہ کے ساتھ ایسے اخلاق رذیلہ سے بچنا ضروری ہے۔ جس کی وجہ سے متبعین یعنی پیروی کرنے والے شرم وعار نہ محسوس کریں۔
عالمگیر نبوت
جب تمام خوبیوں کے حامل اور تمام اخلاق رذیلہ سے پاک وصاف عمر کا دو تہائی حصہ یعنی چالیس سال ابنائے زمانہ کے ساتھ زندگی گزار چکے۔ عقل انسانی کے کامل ومکمل ہو جانے کے بعد اکتالیسویں سال کی ابتدائی عمر میں خلعت نبوت سے سرفراز ہوتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
٢٣
- ١...... ”انك لمن المرسلين (يسين:٢)“ ﴿یقیناً آپ رسولوں میں سے
ہیں ۔﴾
- ٢...... ”وما محمد الا رسول (آل عمران:١٤٤) “ ﴿محمدﷺ تو
رسول ہی ہیں۔﴾
- ٣...... ”انی لکم رسول امین (دخان:١٨)“ ﴿جس طرح بحکم خدا ہر نبی
اعلان کرتا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں۔﴾
- ٤...... ”قل انما انا بشر مثلکم یوحی الیٰ (الکہف:١١٠)“ ﴿آپ
کہہ دیجئے کہ تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں (فرق یہ ہے کہ) میری طرف وحی الٰہی بھیجی جاتی ہے۔﴾
- ٥...... ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهدا علیکم کما ارسلنا الیٰ
فرعون رسولا (المزمل:١٥)“ ﴿جس طرح فرعون کی طرف ایک عظیم الشان رسول کو بھیجا تھا۔ اسی طرح تمہاری طرف (بھی) شہادت دینے والا عظیم الشان رسول کو بھیجا ۔﴾
مذکورہ بالا آیتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ خلعت نبوت سے سرفراز ہوئے۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے سب سے زیادہ اولوالعزم پیغمبر آتشین شریعت رکھنے والے نبی کی طرح آپ بھی عظیم الشان اولوالعزم رسول اور نبی ہیں۔
”قل یا ایها الناس انی رسول الله الیکم جمیعا (اعراف:١٥٨)“ ﴿اے محمدﷺ اعلان کر دیجئے کہ میں تم سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔﴾
ختم نبوت
- ١...... خداوند قدوس کا ارشاد ہے: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم
ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ ﴿محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کا ختم کرنے والا سب سے پچھلا نبی ہے۔﴾ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد کسی نئے نبی کی آمد کی ضرورت نہیں۔
نوٹ: خاتم اگر ت کے زبر کے ساتھ ہو تو ختم کرنے والا اور اگر ت کے زیر کے ساتھ ہو تو بمعنی انگوٹھی یا مہر۔ پہلے معنی کے اعتبار سے آپ سب سے آخری نبی اور دوسرے معنی کے اعتبار سے ”مہر نبوت“ چونکہ مہر ہر چیز کے اخیر میں اس لئے لگائی جاتی ہے تا کہ بعد کی کوئی چیز اس میں شامل نہ ہوسکے۔ اس لئے معنی یہ ہوں گے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت کے سلسلہ پر مہر لگا دینے کی
٢٤
وجہ سے نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا۔ اس لئے آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو سکے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ کے مہر نبوت ہونے کی وجہ سے آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے پر نبی آسکے گا۔ اگر ایسا ہو تو لا نبی بعدی کے کیا معنی ہوں گے؟
- ......٢ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی: ”عن انس بن مالك قال قال
رسول اللہ ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٧) ” حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ ٹوٹ چکا (ختم ہوچکا) اس لئے میرے بعد کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔﴿
نوٹ: اہل علم جانتے ہیں کہ: ”لا رجل فی الدار“ کی طرح ”لا رسول ولا نبی بعدی“ میں ”لا نفی“ جنس کے لئے ہے۔ اب معنی یہ ہوں گے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا جدید نبی و جدید رسول نہیں آسکتا۔ خواہ وہ ظلی نبی ہو یا بروزی نبی ہو۔
- ......٣ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”قال رسول اللہ ﷺ انا خاتم
النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، کتاب الفتن) ” میں نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والا نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔﴿
- ......٤ حضور ﷺ نے خاتم النبوۃ کی مثال دیتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا: ”میری
مثال ایسی ہے کہ کسی نے ایک حویلی (عمارت) تعمیر کرائی۔ مگر اس میں ایک ”اینٹ“ کی جگہ خالی رہ گئی۔ جب وہ اینٹ لگے تو وہ حویلی (عمارت) پوری ہو جائے تو پیغمبروں میں میں اس آخری اینٹ کے مانند ہوں۔“
(بخاری شریف ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین)
یہاں عمارت سے مراد قصر نبوت ہے۔ ہر نبی و ہر رسول اس عمارت کی ایک ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آخری اینٹ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں اور نبیوں کے سردار ہیں۔ دیگر انبیاء کرام آپ کے ماتحت ہیں۔ آپ کی آمد کے قبل نبوت کے مخصوص فرائض کو انجام دینے کے لئے جو انبیاء علیہم السلام آئے تھے اور مخصوص قوم اور مخصوص مقامات پر بھیجے گئے تھے۔ وہ سب اپنے اپنے فرائض ادا کر گئے اور سید المرسلین ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ کو تمام انبیاء کے برخلاف سید المرسلین، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین جیسے تین عظیم الشان خلعتوں سے نوازا گیا۔ جو آج تک کسی نبی یا رسول کو نہیں دیا گیا۔ نہ کسی رسول کی رسائی ان تک ہوئی۔ تفصیل یہ ہے:
آپ کا سید المرسلین ہونا
خداوند قدوس کا فرمان: ”یٰسین“ ”اے رسولوں کے سردار۔﴿
٢٥
حضور ﷺ کا ارشاد: ”انا سيد ولد آدم“ ﴿میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں۔﴾
(چونکہ تمام انبیاء بنی آدم ہیں۔ اس لئے آپ رسولوں کے سردار ہوئے)
حدیث قدسی: ”لولاک لما خلقت الافلاک“ ﴿اگر آپ نہ ہوتے تو تمام آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔﴾
آپ کا رحمۃ اللعالمین
- ......١ ارشاد خداوندی: ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین
(انبیاء:١٠٧) “ ﴿اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو تمام جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔﴾
عالمین جمع ہے عالم کا۔ یعنی روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آج حضور ﷺ ہی کی تعلیم پاک کا اثر ہے کہ انسانی قدر ، انسانی آزادی اور انسانیت کی تکمیل کے لئے جس قدر قوانین و دستور العمل کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سب کا منبع اور اصل سرچشمہ اسی رحمت للعالمین کی تعلیمات ہوگی۔ جو آج پونے چودہ سو برس سے تمام عالم کو فیضیاب کر رہی ہے۔
- ......٢ ”وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً (سبا: ٢٨)“
﴿اے محمد ﷺ ہم نے آپ ہی کو تمام لوگوں کے لئے بشیر ، خوشخبری سنانے والا ، نذیر ، ڈرانے والا نبی بنا کر بھیجا۔﴾
کافۃ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ساری دنیا کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اس لئے تمام دنیا کے انسانوں پر فرض ہے کہ آپ کو نبی اور رسول تسلیم کریں اور اگر آپ کو نبی اور رسول تسلیم نہ کریں تو اس کی نجات نہیں ہوگی۔ مذکورہ بالا باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبی ہیں۔ قرآن نے آپ کی نبوت کے ثبوت کے لئے مذکورہ بالا باتوں کے علاوہ چند اور دلائل بیان کئے ہیں۔ (١) انبیائے سابقین کی بشارت۔ (٢) انبیائے سابقین کا احترام اور کتب سابقہ کی تصدیق۔ (٣) خوارق عادات یا معجزات۔ (٤) آپ کی پیشین گوئیوں کی سچائی۔ (٥) آپ کی عمدہ تعلیمات۔
پہلی دلیل ...... انبیاء سابقین کی بشارت
قرآن پاک میں آپ کے متعلق ارشاد ہے:
- ......١ ”انہ لفی زبر الاولین (شعراء: ١٩٦)“ ﴿وہ یعنی (نبی عربی)
پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔﴾
٢٦
- ......٢ ”یجدونہ
(اعراف:١٥٧) “ وہ اہل کتاب ہیں۔﴾
- ......٣ ”یعرفونہ
کتاب) اس (نبی عربی) کو ایسا پہچانتے سابقین کی بشارتیں توراۃ وانجیل میں موجو
بشارات توراۃ
- ......١ میں ان کے
اور اپنا کلام ڈالوں گا۔
نوٹ : ان کے بھائیوں سے موسیٰ علیہ السلام کے بعد ، موسیٰ علیہ السلام پیشین گوئی درحقیقت حضور ﷺ ہی کے
- ......٢ خداوند سینا سے
گر ہوا۔ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا ان کے لئے تھی۔
نوٹ : سینا سے آیا ، مراد عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ، فاران کے پہ ہے۔ کیونکہ فاران پہاڑ مکہ ہی میں ہ ہزار جانباز صحابہ کا موجود ہونا مراد ہے
- ......٣ (انجیل برنباس
نظير الذي تقولون عنه ا حذاء رسول الله الذي تسم وسياتي . بكلام الحق ولا يم
ترجمہ : میں اپنے نفس کی کہ میں اس کا بھی اہل نہیں کہ اس کی وہ مجھ سے پہلے پیدا کیا گیا اور میرے
- .......٢ ”يجدونه مكتوبا عندهم فى التوراة والانجيل
(اعراف:١٥٧) ”وہ اہل کتاب اپنے یہاں توراۃ وانجیل میں آپ کو (نبی) لکھا ہوا پاتے ہیں۔﴿
- .......٣ ”يعرفونه كما يعرفون ابناء هم (البقره:١٤٦) ”وہ (اہل
کتاب) اس (نبی عربی) کو ایسا پہچانتے ہیں۔ جیسے اپنی اولاد کو یعنی آپؐ کے متعلق انبیائے سابقین کی بشارتیں توراۃ وانجیل میں موجود ہیں۔﴿
بشارات توراۃ
- .......١ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ جیسا ایک نبی پیدا کروں گا
اور اپنا کلام ڈالوں گا۔
(توراۃ)
نوٹ: ان کے بھائیوں سے مراد بنو اسماعیل یعنی اہل عرب ہیں۔ تجھ جیسا ایک نبی، موسیٰ علیہ السلام کے بعد، موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر بنی اسرائیل میں نہیں گزرا اس لئے یہ پیشین گوئی درحقیقت حضورﷺ ہی کے متعلق ہے۔
- .......٢ خداوند سینا سے آیا اور سعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران کے پہاڑ سے جلوہ
گر ہوا۔ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت (قرآن) ان کے لئے تھی۔
(توراۃ سفر استثناء ٣٢)
نوٹ: سینا سے آیا، مراد موسیٰ علیہ السلام کی آمد، سعیر سے طلوع ہونے کے مصداق عیسیٰ علیہ السلام کی آمد، فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہونے کا مطلب حضورﷺ کی آمد کی بشارت ہے۔ کیونکہ فاران پہاڑ مکہ ہی میں موجود ہے۔ دس ہزار قدسیوں سے مراد فتح مکہ کے وقت دس ہزار جانباز صحابہؓ کا موجود ہونا مراد ہے۔
- .......٣ (انجیل برنباس ف٩٦ ص٤٢) ”اجاب يسوع ولست احسب نفسى
نظير الذى تقولون عنه لانى لست اهلا ان احل رباطات جرموق او سِيور حذاء رسول الله الذى تسمونة مسيا الذى خلق قبلى وسياتى بعدى وسياتى ٠ بكلام الحق ولا يكون لدينه نهايته“
ترجمہ: میں اپنے نفس کو اس کے مثل نہیں گمان کرتا۔ جس کا تم ذکر کرتے ہو۔ اس لئے کہ میں اس کا بھی اہل نہیں کہ اس کی جوتی کے تسمے کھولوں۔ یعنی وہ ذات جس کو تم ”مسیا“ کہتے ہو وہ مجھ سے پہلے پیدا کیا گیا اور میرے بعد آئے گا اور کلام حق یعنی اللہ کا کلام لے کر آئے گا اور اس
٢٧
کے دین کی کوئی اتباع نہ ہوگی۔ یہاں مسیا سے مراد سرکار دو عالم ﷺ ہیں۔
نبوت کی دوسری دلیل
انبیاء سابقین کا احترام اور کتب سابقہ کی تصدیق ہر سچے نبی پر ضروری ہے کہ انبیائے کرام کی تعظیم کریں۔ اگر انبیاء کی تعظیم نہ کرے تو سمجھا جائے گا کہ وہ جھوٹا ہے اور فریبی ہے رسول نہیں ہوگا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
- ١...... "قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم
واسماعيل واسحق يعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فان آمنوا بمثل ما آمنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانماهم فى شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم (البقره: ١٣٦، ١٣٧) ﴿ (مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے اور جو (کتابیں) موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوئیں ان پر جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی خدائے واحد کے فرمانبردار ہیں۔ تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں گے اور اگر منہ پھیر لیں (نہ مانیں) وہ (تمہارے) مخالف ہیں۔ ان کے مقابلہ میں تمہیں خدا کافی ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔﴾
مذکورہ بالا آیت میں تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ ان انبیاء علیہم السلام میں خصوصیت سے عیسیٰ علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ذکر کر کے اشارہ کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی موسیٰ علیہ السلام کی طرح برگزیدہ نبی ہیں۔
"لا نفرق بين احد منهم" سے اشارہ کر دیا کہ بعض پیغمبروں کو ماننا بعض کو نہ ماننا اور تفریق بین الانبیاء کرنا بے ایمانی اور کفر ہے۔
- ٢...... "مصدقا لما بين يديه من الكتاب ومهيمنا عليه
(المائده: ٤٨) ”قرآن پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور ان کے مضامین ضروریہ کا محافظ ہے۔ مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی کے لئے ضروری ہے کہ انبیائے سابقین کی کتابوں اور صحیفوں پر بلا امتیاز سب پر ایمان لائیں۔ سب کا احترام کریں۔
٢٨
نبوت کی تیسری دلیل......
چونکہ ہر نبی کے لئے خاص معجزہ (یعنی وہ باتیں جو عا آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے لئے سب کے سب صحیح ثابت ہوئے۔
- معجزہ: ١...... "اقتربت
آگئی اور چاند پھٹ گیا۔﴾
تشریح...... کفار مکہ چاند کو اس طرح دو ٹکڑے کر دیئے دیا گیا۔ لیکن حضور ﷺ کو جو آسمانی
- معجزہ: ٢...... "انا نح
ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی
تشریح...... آسمانی کتا تصرفات سے محفوظ رہا اور اب تک الفاظ کی ترتیب، آیتوں کے الفاظ ہے جو آج سے پونے چودہ سو سال اس میں آج تک کسی قسم کا تغیر و تبد کرشمہ دیکھنا چاہتے ہیں تو رمضان طرف دیکھئے۔ جو آج تک چودہ یہ معجزہ آج اسلام کے علاوہ اور کو
- معجزہ: ٣...... اعجاز ق
یاتوا بمثل هذا القرآن اسرائیل: ٨٨) "اے پیغمبر! آدمی اور جنات بھی اس بات پر نہیں لا سکتے۔ اگر چہ ایک دوسرے قرآن کا طرز بیان
نبوت کی تیسری دلیل ...... خوارق عادات یا معجزہ
چونکہ ہر نبی کے سچے اور خدا کی طرف سے بھیجے جانے کی تصدیق کے لئے ہر نبی کو خاص معجزہ (یعنی وہ باتیں جو عام انسانوں کے لئے ممکن نہیں) دیا جاتا تھا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے لئے جس قدر معجزات دیئے گئے وہ ایک سے ایک بڑھ کر معجزہ تھا۔ سب کے سب صحیح ثابت ہوئے۔
معجزہ:١...... ”اقتربت الساعة وانشق القمر (القمر:١)“ ﴿قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔﴾
تشریح ...... کفار مکہ کی درخواست پر آپؐ نے آسمان کے چاند کی طرف اشارہ کر کے چاند کو اس طرح دو ٹکڑے کر دیئے کہ کوہ حرا ان دو ٹکڑوں کے درمیان نظر آتا تھا۔ ہر نبی کو زمینی معجزہ دیا گیا۔ لیکن حضور ﷺ کو جو آسمانی معجزہ دیا گیا تھا۔ انبیاء سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
معجزہ:٢...... ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ ﴿ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔﴾
تشریح ...... آسمانی کتابوں میں قرآن پاک ہی ایسی کتاب ہے جو تمام انسانی تصرفات سے محفوظ رہا اور اب تک ہے۔ اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔ الفاظ کی ترتیب، آیتوں کے الفاظ ، سورتوں ، آیتوں، پاروں وغیرہ میں یہ کتاب اب تک بعینہ وہی ہے جو آج سے پونے چودہ سو سال قبل خدا کے آخری رسول ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔ اس میں آج تک کسی قسم کا تغیر و تبدل ترمیم و تنسیخ نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ ”انا لہ لحافظون“ کا کرشمہ دیکھنا چاہتے ہیں تو رمضان کے مبارک مہینے میں زبانی پڑھنے والے لاکھوں حافظوں کی طرف دیکھئے۔ جو آج تک چودہ سو سال کے نازل شدہ قرآن کے صدری محافظ ہیں۔ حضور ﷺ کا یہ معجزہ آج اسلام کے علاوہ اور کوئی قوم نہیں پیش کر سکتی۔
معجزہ:٣...... اعجاز قرآن: ”قل لئن اجتمعت الانس والجن علٰی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یأتون بمثلہ ولوکان بعضھم لبعض ظھیرا (بنی اسرائیل:٨٨)“ ﴿اے پیغمبر (ان فصاحت و بلاغت کے دعویداروں سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمام آدمی اور جنات بھی اس بات پر تل جائیں کہ اس قرآن کے مثل کوئی کلام بنا لائیں تب بھی اس جیسا نہیں لاسکتے۔ اگرچہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کریں۔﴾
قرآن کا طرز بیان خوبصورت مختصر الفاظ کے ساتھ ہمہ گیر معانی فصاحت و بلاغت
٢٩
سے بھرے ہوئے کلام کے مقابلے میں کسی عرب کی ہمت نہ ہوئی کہ اس جیسا فصیح وبلیغ کلام لاسکے۔ آخر عاجز آکر کہنے لگے۔ ”ان هذا الا سحر يؤثر (المدثر:٢٤)“
معجزہ:٣....... پانی کی سخت ضرورت کے موقع پر آپ کے انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے کو ایک جم غفیر نے دیکھا سب نے آسودہ ہو کر پانی پیا جن کی تعداد تین سو سے زائد تھی۔
غیر مسلم مستشرق مسٹر پامر کی شہادت
”چونکہ خدا کی جانب سے القاء ہوکر جذبہ پیغمبری سے قرآن لکھا گیا ہے۔ اس لئے نہایت عمدہ فصیح و بلیغ ہے۔ اگر خدا کی جانب سے القا نہ ہوتا تو صرف محمد (ﷺ) کی ایجاد کردہ گفتگو ہوتی۔ جس میں ان کے خیالات کا اظہار ہوتا تو اس کو یہ کامیابی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی کہ ہر ایک عربی بولنے والی قوم اس کو فصاحت و بلاغت کا معجزہ سمجھتی۔ بیشک قرآن کے خوبصورت الفاظ ہی ایسے ہیں کہ وہ پاک خدا کی طرف سے نازل معلوم ہوتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو فصاحت و بلاغت کا مسلمہ سند اور معیار کبھی نہ مانا جاتا ۔“
(الہامون ص ٢٤)
نبوت کی چوتھی دلیل ...... سچی پیشین گوئیاں
جس طرح انبیائے سابقین کی پیشین گوئیاں اور خبریں درست نکلیں۔ اسی طرح امی ہونے کے باوجود خرق عادت کے طور پر انبیائے سابقین کے حالات گذشتہ قوموں کے عروج وزوال کی داستانیں عبرت انگیز واقعات کی جو خبریں دی ہیں ان کی تصدیق گذشتہ تاریخی کتابوں اور آثار قدیمہ سے ہوتی جارہی ہے۔ آئندہ زمانے کے متعلق جو آپ نے پیشین گوئیاں کی تھیں جن کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ ان کو پورا ہوتے ہوئے ایک عالم نے دیکھا۔ آپ خود سچے تھے۔ آپ کی پیشین گوئیاں بھی سچی نکلیں۔ جن کا مختصر تذکرہ کرتا ہوں۔
- ١....... عمرۃ القضا کے متعلق پیشین گوئی کی تھی کہ مکہ پر کافروں کی حکومت کے
باوجود مسلمان پر امن طریقے سے بیت الحرام میں داخل ہونگے ۔ ”لتدخلن المسجد الحرام انشاء الله أمنين (الفتح:٢٧)“ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ آپ کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔
- ٢....... جنگ فارس وروم کے متعلق پیشین گوئی کی ۔ ”واخرى لم تقدروا
عليها (الفتح:٢١)“ اور بہت سی فتوحات ہیں جن پر (کبھی) دسترس نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ صحابہؓ کے مقدس ہاتھوں پر روم وفارس کی عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں۔
قوم اولی باس شدید (بنی اسرائیل:٥)“ ”عنقریب تم ایک وحشت ناک قوت ور قوم سے لڑنے کے لئے بلائے جاؤ گے۔ تم ان سے لڑو گے یہاں تک کہ وہ مطیع ہو
٣٠
کی عرب کی ہمت نہ ہوئی کہ اس جیسا فصیح و بلیغ کلام الا سحر یؤثر (المدثر: ٢٤)“ ارت کے موقع پر آپؐ کے انگلیوں کے درمیان سے مودہ ہوکر پانی پیا جن کی تعداد تین سو سے زائد تھی۔
ہوکر جذبہ پیغمبری سے قرآن لکھا گیا ہے۔ اس لئے سے القا نہ ہوتا تو صرف محمد (ﷺ) کی ایجاد کردہ ر ہوتا تو اس کو یہ کامیابی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی تھی کہ بلاغت کا معجزہ سمجھتی۔ بیشک قرآن کے خوبصورت سے نازل معلوم ہوتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو نا جاتا۔“
(الہارون ص ٢٣)
ئیاں
ین گوئیاں اور خبریں درست نکلیں۔ اسی طرح امی لئے سابقین کے حالات گذشتہ قوموں کے عروج ریں دی ہیں ان کی تصدیق گذشتہ تاریخی کتابوں فتنے کے متعلق جو آپؐ نے پیشین گوئیاں کی تھیں رنما ہوتے ہوئے ایک عالم نے دیکھا۔ آپؐ خود کا مختصر تذکرہ کرتا ہوں۔
ین گوئی کی تھی کہ مکہ پر کافروں کی حکومت کے اخل ہونگے۔ لتدخلن المسجد الحرام واہ ہے کہ آپ کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔
شین گوئی کی۔”واخری لم تقدروا ن پر (کبھی) دسترس نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ وحات حاصل ہوئیں۔
الفتح:١٦) “عنقریب تم ایک وحشت ناک ان سے لڑو گے یہاں تک کہ وہ مطیع ہو
جائیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ رومی و ایرانی جیسے شہ زور قوموں سے صحابہؓ کا مقابلہ ہوا۔ آخر دونوں قومیں مطیع ہوئیں اور دونوں سلطنتیں صحابہؓ کے پاؤں تلے پامال ہوئیں۔
- ٣...... ”وهم من بعد غلبهم سيغلبون (الروم:٣) “ جنگ فارس وروم
میں رومیوں کے مغلوب ہونے کے بعد غالب ہونے کی پیشین گوئی کی تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ چند سالوں کے بعد رومی غالب آگئے۔
- ٤...... مرتدین کے دفع شر کے لئے پیشین گوئی کی تھی۔ ”من يرتد منكم عن
دينه (البقره:٢١٧) “ جو شخص تم میں سے اپنے دین سے مرتد ہو جائے گا تو خدا ان پر اپنے محبوب لوگوں کو ان پر مسلط کر دے گا۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے ساتھ یمن اور یمامہ کے ہزاروں آدمی مرتد ہو گئے تھے۔ آخر آیت کے مصداق اللہ کے محبوب بندے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ میں یہ دونوں مدعی نبوت جہنم واصل ہوئے۔ مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں۔
- ٥...... ”وعد الله الذين أمنوا منكم وعملوا الصالحات
يستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم امنا (النور:٥٥) “ خلفائے راشدین کے متعلق پیشین گوئی تھی کہ وہ فتوحات حاصل کر کے خلیفۃ اللہ فی الارض کہلائیں گے۔ چنانچہ مسلمانوں کی حکومت مغرب میں اسپین (اندلس) تک اور مشرق میں ہندوستان تک جنوب میں سوڈان، مصر اور شمال میں اناطول کے شہر اسلامی مفتوحہ علاقوں میں شامل ہوئے۔
- ٦...... ”اذا جاء نصر الله والفتح ورأيت الناس يدخلون في
دين الله افواجا (النصر:١، ٢) “ چنانچہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ کافروں کا دارالحکومت مکہ فتح ہوا اور کفار جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔
- ٧...... ”سيهزم الجمع ويولون الدبر (القمر:٤٥) “ یہ جنگ بدر کے
موقع کی پیشین گوئی تھی۔ چنانچہ مکہ کے تمام جنگی سپوت اور سورماؤں کو شکست ہوئی۔ بڑے بڑے سورما مارے گئے۔ مسلمانوں کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی۔
- ٨...... ”قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم (توبه:١٤) “ خدا نے مسلمانوں
کے ہاتھوں ان کی سرکشی کی سزا ان کو چکھائی۔
- ٩...... ”ورفعنا لك ذكرك (الم نشرح:٤) “ ہم نے آپ کی خاطر آپ کا
٣١
آواز بلند کیا۔ یہ پیشین گوئی اس قدر سچی ہے کہ گذشتہ زمانے کو چھوڑیئے ہمارے زمانہ میں بھی یہ معجزہ ہر مسلمان دن کے پانچ حصے میں نماز کے اندر اور باہر دریا، سمندر، جنگل، شہر آبادی اور تمام براعظموں کے چپے چپے میں جہاں جہاں مسلمان ہیں۔ ہر پانچوں وقت میں آپ کا نام آپ کا ذکر بلند کرتے رہتے ہیں۔ خدا سعودی عرب کے موجودہ حکمران کے افعال واقوال ومساکن میں برکت عطا فرمائے۔ سعودی عرب کے قومی حکومت کے سبز جھنڈے پر ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ “ لکھوا کر ”ورفعنالک ذکرک“ کے معجزے کو اور اجاگر کر دیا۔ ان کے ہوائی جہازوں کے بیرونی سطح پر سفید سفید خطوں میں اسی کلمہ کو نقش کروا کر آج دنیا کے فضائی گوشے گوشے میں پہنچانے کے کام کو انجام دے رہے ہیں۔
حضور ﷺ کے معجزات سے کسی کور چشم نے انکار کیا ہو تو کیا ہو ۔ لیکن ”ورفعنا لك ذكرك “ کے زندہ معجزہ کو آج بھی ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ الغرض نبی کی نبوت کے لئے اخلاق حمیدہ کی سچائی ، جھوٹ سے نفرت، غیر اللہ سے بے خوفی کے علاوہ چار دلیلوں کی ضرورت تھی جو مختصراً ذکر کر دیا گیا۔
آپ ﷺ کی تعلیمات
حضرت سلمانؓ فارسی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ وہ چالیس باتیں جن کے بارے میں آپؐ نے فرمایا تھا کہ جو شخص ان کو میری امت میں سے یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
- ......١ ”ان تؤمن باللہ “ ﴿اللہ پر ایمان لائے۔﴾
- ......٢ ”وباليوم الاخر“ ﴿اور آخرت کے دن پر۔﴾
- ......٣ ”والملائکۃ“ ﴿اور فرشتوں پر۔﴾
- ......٤ ”والکتب“ ﴿اور کتابوں پر۔﴾
- ......٥ ”والنبیین“ ﴿تمام نبیوں پر۔﴾
- ......٦ ”بعد الموت“ ﴿مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر۔﴾
- ......٧ ”والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ “ ﴿اور تقدیر پر کہ بھلا یا برا جو ہوتا ہے
سب اللہ کی طرف سے ہے۔﴾
- ......٨ ”واشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ “ ﴿اور گواہی دے اس
بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں۔﴾
٣٢
- ......٩ ”تقیم الصلوٰۃ بوضو
نماز قائم کرے۔ ﴾
- ......١٠ ”ویؤتی الزکوٰۃ “ ﴿
- ......١١ ”وتصوم رمضان “
- ......١٢ ”وتحج البیت ان ا
- ......١٣ ”وتصلی اثنی عش
رکعتیں سنت مؤکدہ اور
- ......١٤ ”والوتر لا تتر
کرے۔﴾
- ......١٥ ”لا تشرک باللہ “
- ......١٦ ”ولا تعق والدیہ
- ......١٧ ”ولا تأکل مال الی
- ......١٨ ”ولا تشرب الخم
- ......١٩ ”ولا تزن “ ﴿اور ز
- ......٢٠ ”لا تحلف باللہ و
- ......٢١ ”ولا تشہد شہاد
- ......٢٢ ”ولا تعمل بالہوی
- ......٢٣ ”ولا تغتب اخاک
- ......٢٤ ”ولا تقذف المح
- ......٢٥ ”ولا تغل اخاک
- ......٢٦ ”ولا تلعب “ ﴿کھی
- ......٢٧ ”ولا تلہ مع الا م
- ......٢٨ ”ولا تقل للقصی
کہو۔﴾
- ......٢٩ ”ولا تسخر باح
ہے کہ گذشتہ زمانے کو چھوڑیئے ہمارے زمانہ میں بھی یہ کے اندر اور باہر دریا ، سمندر ، جنگل ، شہر آبادی اور تمام مسلمان ہیں۔ ہر پانچوں وقت میں آپ کا نام آپ کا ذکر ہے کہ موجودہ حکمران کے افعال واقوال ومساکن میں حکومت کے سبز جھنڈے پر ”لا اله الا الله محمد لکبرک “ کے معجزے کو اور اجاگر کر دیا ۔ ان کے ہوائی میں اسی کلمہ کو نقش کروا کر آج دنیا کے فضائی گوشے رہے ہیں۔
چشم نے انکار کیا ہو تو کیا ہو ۔ لیکن ”ورفعنالك سکتا ہے۔ الغرض نبی کی نبوت کے لئے اخلاق حمیدہ قانی کے علاوہ چار دلیلوں کی ضرورت تھی جو مختصر أذکر
میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ وہ چالیس جو شخص ان کو میری امت میں سے یاد کرے گا وہ
لائے ۔ ﴾ کے دن پر ۔ ﴾
بارہ زندہ ہونے پر ۔ ﴾ تعالیٰ “ اور تقدیر پر کہ بھلا یا برا جو ہوتا ہے
شھد رسول الله “ اور گواہی دے اس اور محمد (ﷺ ) اس کے رسول ہیں ۔ ﴾
- ٩...... ”تقيم الصلوة بوضوء سابغ کامل “ اور ہر نماز کے وقت کامل وضو کر کے
نماز قائم کرے۔ ﴾
- ١٠...... ” ويؤتى الزكوة “ اور زکوٰۃ ادا کرے۔ ﴾
- ١١...... ”وتصوم رمضان“ اور رمضان کے روزے رکھے۔ ﴾
- ١٢...... ”وتحج البيت ان كان لك مال“ اور اگر مال ہو تو حج ادا کرے۔ ﴾
- ١٣...... ”وتصلى اثنى عشره ركعة في كل يوم وليلة “ ہر دن ورات میں بارہ
رکعتیں سنت مؤکدہ ادا کرے۔ ﴾
- ١٤...... ”والوتر لا تتركه في كل ليلة“ اور وتر کو کسی رات میں بھی ترک نہ
کرے۔ ﴾
- ١٥...... ”لا تشرك بالله“ اور اللہ کے ساتھ شریک نہ کرے۔ ﴾
- ١٦...... ”ولا تعق والديه“ اور والدین کی نافرمانی نہ کرے۔ ﴾
- ١٧...... ”ولا تأكل مال اليتيم ظلما “ ظلم کے ساتھ یتیم کا مال نہ کھانا۔ ﴾
- ١٨...... ”ولا تشرب الخمر“ اور شراب نہ پیئے۔ ﴾
- ١٩...... ”ولا تزن “ اور زنا نہ کرے۔ ﴾
- ٢٠...... ”لا تحلف بالله كاذبا“ نہ خدا کی جھوٹی قسم کھائے۔ ﴾
- ٢١...... ”ولا تشهد شهادة زور“ اور نہ جھوٹی گواہی دے۔ ﴾
- ٢٢...... ”ولا تعمل بالهوى“ اور نہ خواہش نفسانی پر عمل کرے۔ ﴾
- ٢٣...... ”ولا تغتب اخاك المؤمن“ نہ مسلمان بھائی کی غیبت کرے۔ ﴾
- ٢٤...... ”ولا تقذف المحصنة“ اور پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگائے۔ ﴾
- ٢٥...... ”ولا تغل اخاك المسلم“ اور مسلمان بھائی سے کینہ نہ رکھے۔ ﴾
- ٢٦...... ”ولا تلعب“ لہو لعب میں مشغول نہ ہو۔ ﴾
- ٢٧...... ”ولا تله مع الاهين“ اور تماشائیوں میں شریک نہ ہو۔ ﴾
- ٢٨...... ”ولا تقل للقصير يا قصير “ اور کسی پستہ قد کو عیب جوئی کی نیت سے ٹھگنا نہ
کہو۔ ﴾
- ٢٩...... ”ولا تسخر باحد من الناس “ اور کسی کا مذاق مت اڑاؤ۔ ﴾
٣٣
- ٣٠...... ”لا تمش بالنميمة بين الاخوين“ ﴿دو مسلمان بھائیوں کے درمیان چغل خوری مت کرو۔﴾
- ٣١...... ”واشكر الله تعالى على نعمته“ ﴿ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرو۔﴾
- ٣٢...... ”واصبر على البلاء والمصيبة“ ﴿ہر بلا و مصیبت پر صبر کرو۔﴾
- ٣٣...... ”ولا تأمن من عذاب الله“ ﴿اللہ کے عذاب سے کبھی بے خوف نہ ہو۔﴾
- ٣٤...... ”ولا تقطع اقربائك“ ﴿اعزہ سے قطع تعلق مت کرو۔﴾
- ٣٥...... ”وصلهم“ ﴿اور ان سے صلہ رحمی کرو۔﴾
- ٣٦...... ”ولا تلعن احدا من خلق الله“ ﴿اور اللہ کی کسی مخلوق کو لعنت مت کرو۔﴾
- ٣٧...... ”واكثر من التسبيح والتهليل“ ﴿تسبیح و تکبیر و تہلیل کا کثرت سے ورد کرو۔﴾
- ٣٨...... ”ولا تدع حضور الجمعة والعيدين “ ﴿اور جمعہ اور عیدین کی حاضری کو مت چھوڑو۔﴾
- ٣٩...... ”واعلم ان ما اصابك لم يكن يخطئك وما اخطئك لم يكن “ ﴿اور اس
بات کا یقین رکھ کہ جو کچھ راحت اور تکلیف تجھے پہنچی وہ مقدر میں تھا اور جو نہ پہنچا وہ پہنچنے والا نہ تھا۔﴾
- ٤٠...... ”لا تدع قرأة القرآن على كل حال “ ﴿کلام اللہ کی تلاوت کسی حال میں
بھی مت چھوڑو۔﴾
آپ میں اور دیگر انبیاء سابقین میں فرق
خلیفہ وقت یا سلطان المعظم کے جلوس کے نکلنے سے پہلے راستوں اور ٹھہرنے کی جگہوں کی حفاظت، جلوس کا انتظام ، شاہی جلوس کی آمد کی خوشخبری، استقبال کے طریقے، شاہی اعلان کے سننے کے آداب عمل کرانے کے طرز و انداز کو بتلانے کے لئے پہلے مقدمۃ الجیش یا طلیعہ کو بھیجا جاتا ہے۔ ان کی آمد کے بعد انتظامات کو پوری طرح انجام دے کر اپنے اپنے فرائض سے سبکدوش ہو کر اپنے اپنے ہیڈ کوارٹر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب شاہی سواری نکلتی ہے اور مخصوص مقام پر پہنچ کر فرائض شاہی بجا لاتی ہے تو اس کے بعد مقدمۃ الجیش کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح حضور پرنور محمد رسول اللہ ﷺ خلیفۃ اللہ فی الارض تمام رسولوں میں افضل و برتر ہیں۔ آپ جب دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے بعد پھر کسی نبی کے ظاہر ہونے کی ضرورت نہیں۔ نیز حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں۔
٣٤
یعنی حضورﷺ کے بغیر قصر نبوت نامکمل تھا۔ حضورﷺ کی بعثت کے بعد قصر نبوت مکمل ہو گیا۔ اس لئے آپ کے بعد نہ کسی (جدید) نبی کے آنے کی گنجائش ہے نہ آسکے گا۔
- ٥...... حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”ان آخر الانبياء وانتم آخر الامم
(ابن ماجہ) ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔
نوٹ: خاتم میں بعض قادیانی تاویل کرتے ہیں۔ لیکن اس حدیث میں گنجائش ہی نہیں تو معلوم ہوا خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین سب سے پچھلا نبی کے ہیں۔ اسی طرح آخر الامم یعنی آخری امت سے اشارہ کر دیا کہ حضورﷺ آخری نبی ہونے کی وجہ سے آپ کی امت بھی آخر الامم یعنی آخری امت ہوگی۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی جدید آسکتا تو آخر الامم کہنا کس طرح درست ہو سکتا۔
- ٦...... حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”انت منى بمنزله هارون من
موسىٰ الا انه لا نبى بعدى (بخارى) ”اے علیؓ! تمہارا تعلق مجھ سے ویسا ہی جیسے ہارون (علیہ السلام) کا تعلق موسیٰ (علیہ السلام) سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی ہی نہیں ہوگا۔
یعنی جس طرح ”لا الہ الا الله“ کے سوائے ایک خدا کے ہر قسم کے معبود کی نفی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح لا نبی بعدی کے معنی حضورﷺ کی نبوت کے بعد ہر قسم کے نبی کی نبوت کا انکار ہے۔
- ٧...... حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم
الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى اخر وانه لا نبى بعدى وسيكون الخلفاء (بخاری شریف) ”کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرا نبی ان کا جانشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نہیں ہوگا۔ خلفاء ہوں گے۔
- ٨...... ”فانى اخر الانبياء (مسلم شريف) انا اخر الانبياء (ابن
ماجہ) انا خاتم النبيين (كنزالعمال)“ مسلم شریف، ابن ماجہ، کنزالعمال۔ حدیث کی ان تینوں کتابوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد نبی کے آنے کی ضرورت نہیں۔
- ٩...... حدیث کی مشہور کتاب ابن عساکر میں ہے: ”قال آدم من محمد
قال جبرئيل عليه السلام آخر ولدك من الانبياء“ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ محمد (ﷺ) کون ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب
٣٥
دیا نبیوں میں سے آخری نبی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔
- ١٠ ...... حضور ﷺ کا ارشاد گرامی: ”قال رسول الله ﷺ فانى اخر
الانبياء وان مسجدى آخر المسجد (مسلم شریف مطبوعہ انصاری ص ٤٤٦)“
﴿حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کیونکہ میں آخری نبی ہوں۔ اس لئے یہ میری مسجد بھی نبی کی بنائی ہوئی آخری مسجد ہے۔ یعنی بنانے کے اعتبار سے یہ نبی کی آخری مسجد ہے۔﴾
- ١١ ...... قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے تو اس مسجد میں نماز
پڑھیں گے۔ مگر مسجد نہیں بنائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں۔
- ١٢ ...... حضور ﷺ کا ارشاد ہے: ”انا خاتم الانبیاء ومسجدى خاتم
مسجد الانبياء (كنز العمال ج ٦ ص ٢٥٦) “ ﴿میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور میری مسجد (بھی) نبیوں کی آخری مسجد ہے۔﴾
الغرض مذکورہ بالا قرآنی آیت اور احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس لئے آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے خواہ وہ کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔
چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے وہ کافر ہے۔ جو کافر کو نبی مانے وہ بھی کافر ہوتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو اس جماعت سے بچنا چاہئے۔
عقلاً بھی آپ کے بعد نبی کی ضرورت نہیں
نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے سلسلے کو جاری رکھنے کے تین اسباب تھے۔
- اوّل ...... یہ کہ آپ سے پہلے کسی نبی کی نبوت عام نہ ہوتی تھی۔ ہر نبی ایک خاص قوم
اور خاص ملک کے لئے ہوتا تھا۔ لہٰذا دوسری قوم اور دوسرے ملک کے لئے دوسرا نبی مبعوث ہوتا تھا۔ ”لكل قوم ھاد“ ہر قوم کے لئے ایک نبی ہادی ہوتا ہے۔
- دوم ...... نبی کی وفات کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی۔ خدا نے
حضور ﷺ کے سوا کسی شریعت کو محفوظ رکھنے کا وعدہ نہ کیا تھا۔ اس لئے نبی کی وفات کے بعد ٣٩٦
ضرورت ہوتی تھی کہ ایسا نبی بھیجا جائے جس کو یا تو نئی شریعت دی جائے یا پہلی شریعت کی تحریفات کی اس کے ذریعہ اصلاح کی جائے۔ ”یحرفون الکلم عن مواضعه“
سوم ...... آپؐ سے پہلے کوئی نبی دین کامل لے کر نہیں آیا تھا۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ایک نبی کے بعد دوسرا نبی بھیجا جائے اور شریعت اترے۔ چونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ان تینوں باتوں سے قرآن کے ذریعہ مطمئن کر دیا گیا تھا۔ مثلاً:
- ١...... ”کافة للناس بشیرا ونذیرا (سبا:٢٨)“ آپؐ تمام مخلوق کے لئے نبی بنا کر
بھیجے گئے۔
- ٢...... آپؐ کی شریعت کو تحریف وغیرہ سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے فرمایا۔ ”انا
نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون (الحجر:٩)“
- ٣...... آپؐ کے دین کو کامل ومکمل کر دینے کے متعلق فرمایا۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم
(المائده:٣)“
آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا۔ اس لئے آپؐ کے بعد کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اسی لئے حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے سوا لاکھ صحابہؓ کے سامنے بانگ دہل اعلان کیا۔
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہوگی۔ اس لئے اللہ کی عبادت کرو۔ چونکہ قرآن بانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ حضور ﷺ کے سوا ہر نبی سے ”یوم الست“ میں وعدہ لیا گیا کہ جب ان کے زمانہ میں یا ان کی امت کے زمانہ میں ”نبی عربی“ آئے۔ جس کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ انبیائے سابقین کی تصدیق کریں گے تو ان کی مدد کرنی ہوگی۔ اس پر ان سے اقرار لیا گواہ بنایا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔ ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ء اقررتم واخذتم علی ذالکم اصری قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشاهدین (آل عمران:٨١)“ ﴿جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطاء کروں پھر تمہارے پاس (ایک رسول محمد رسول اللہ ﷺ ) جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس (محمد رسول اللہ ﷺ ) پر ایمان لانا ہوگا۔ ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی۔ عہد لینے کے بعد پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا۔ (یعنی مجھے ضامن
٣٧
ٹھہرایا) انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا خدا سے کہ تم (اس عہد و پیمان پر) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ ﴾
الغرض مذکورہ بالا قرآنی آیت وحدیثوں سے عقل ونقل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضور پرنور محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی نبی یا رسول جدید کے آنے یا ہونے کی نہ ضرورت ہے۔ نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آئے گا۔ اس لئے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا شخص قرآن اور حدیث اور مسلمانوں کے اجماع کے خلاف کرنے کی وجہ سے کافر وجہنمی ہوگا اور جو شخص ایسے شخص کو نبی مانے یا ولی مانے تو وہ قرآن وحدیث اور اجماع کے خلاف کرنے کی وجہ سے کافر ہوگا۔ خداوندی ارشاد ہے۔ ”ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الاخرة من الخاسرين“ جو شخص اسلام (یا ضروریات دین جس میں نبی عربی ﷺ کو خاتم النبیین ماننا ہے) کے علاوہ کسی اور چیز کو (مثلاً غلام احمد قادیانی) دین سمجھ کر قبول کرے۔ پس ہرگز وہ اس سے مقبول نہیں ہوگا۔ (ایسا) شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
بعض شبہات اور اس کے جوابات
ناظرین! اس سے قبل آپ ”خاتم النبیین لا نبی بعدی“ کی تحقیق کرچکے ہیں۔ اب یہاں بعض شبہات کا ذکر کرتے ہیں جو مرزائی فرقہ کے لوگ چرب زبانی اور مکر وفریب کی ملمع سازی سے اسے خوبصورت رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ جن سے بعض ناواقف حضرات دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔ تفصیل سے دیکھنا ہو تو رسالہ ختم النبوۃ مولفہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کو دیکھئے۔
پہلا شبہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام متفق علیہ نبی ہیں۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ اگر نبی عربی ﷺ کو خاتم النبیین (بمعنی آخری نبی آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا) کہو گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب قیامت میں آنے کا عقیدہ درست نہیں ہوگا۔ اس لئے یا ختم نبوت سے انکار کیجئے یا نزول مسیح علیہ السلام سے ہاتھ اٹھائیے۔
جواب ...... یہ اعتراض بالکل بودا ہے۔ اس لئے کہ عربی لغت اور عربی محاورہ کے اعتبار سے خاتم النبیین آخر النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے اس دنیا میں سب سے آخری نبی بنا کر بھیجا
٣٨
گیا۔ آپ کے بعد اور کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ نبوت نہیں دی جائے گی۔ نبی بنانے کے اعتبار سے آپ آخری نبی ہیں۔ نیز اس معنی کے اعتبار سے آپ سے پہلے کے تمام انبیاء علیہم السلام کا فوت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً ”آخر الاولاد، یا خاتم الاولاد“ کے معنی عرف لغت اور محاورہ میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ بچہ سب سے آخر میں پیدا ہوا۔ اس بچے کے بعد اور کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ اس سے پہلے کے تمام اولاد مر کھپ گئے۔ سب بچوں کا صفایا ہو گیا۔ اسی طرح آپ کے آخری نبی بنانے کا مطلب انبیائے سابقین کی موت مراد لینا ہرگز درست نہیں ہوگا۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی بنائے گئے تھے۔ اس لئے آپ خاتم النبیین بنائے جانے کے بعد قرب قیامت میں نازل ہونے سے آپ کی نبوت میں خلل اور نقصان نہیں پہنچتا۔
اسی طرح آخر الجالسین بمعنی آخر میں بیٹھنے والا۔ آخر الراحلین، آخری کوچ کرنے والا۔ آخر الراکبین آخر میں سوار ہونے والا۔ آخر الذاھبین آخری جانے والا۔ آخر القادمین آخری آنے والا۔ آخر المساجد نبی کی بنائی ہوئی آخری مسجد سے لازم نہیں آتا کہ پہلے بیٹھنے والے مر گئے۔ آخری کوچ کرنے والا کہنے سے اس سے پہلے کوچ کرنے والے مر گئے۔ اخیر میں سوار ہونے والا کہنے سے پہلے سوار ہونے والے مر گئے۔ آخری جانے والا کہنے سے پہلے جانے والے مر گئے۔ آخر المسجد کہنے سے پہلی مسجدیں برباد ہوگئیں۔
- ٢...... اسی طرح حضرت عباسؓ کی درخواست پر آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”یاعم!
أقم مكانك الذی انت فيه فان الله يختم بك الهجرة كما ختم بي النبيون (رواہ الطبرانی ج٦ ص١٥٤، وابونعيم وابويعلى وابن عساكر وابن النجار) ”اے میرے چچا اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ہجرت ختم کر دی ہے۔ جیسا کہ مجھ پر انبیاء کو ختم کر دیا ۔“
حضرت عباسؓ کے خاتم المہاجرین ہونے سے لازم نہیں آتا کہ آپ کی ہجرت سے آپ کے پہلے کے مہاجرین مر جائیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کے خاتم النبیین بنائے جانے سے حضور ﷺ کے پہلے کے انبیاء کا مر جانا لازم نہیں آتا۔
- ٣...... ”واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح“ کی تفسیر
میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا۔ ”كنت اول النبيين فی الخلق وأخرهم فی البعث (تفسير ابن كثير ج٨ ص٨٩) ”اس
٣٩
وقت کو یاد کرو جب کہ (یوم الست) میں ہم نے نبیوں سے یوم میثاق یعنی احکام کے پورے پورے طور پر پہنچانے کے بارے میں عہد لیا تھا۔ آخر آیت تک میں خلقت میں سب نبیوں سے پہلے اور بعثت میں سب سے آخری ہوں۔ ﴾ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے آخر میں آپؐ نبی بنا کر بھیجے گئے۔ نہ یہ کہ آپؐ سے پہلے کے نبی وفات پا چکے۔ الغرض حضورﷺ کے آخری نبی بننے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پانے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسرا شبہ
قادیانی صاحبان کہتے ہیں خاتم النبیین میں خاتم سے مراد مہر ہے۔ آیت سے مراد یہ ہے کہ آپؐ انبیاء کی مہر ہیں۔ یعنی آپؐ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں اور آپؐ کی تصدیق کر کے ہر شخص نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج٢٢ ص١٠٠)
جواب یہ ہے خاتم النبیین کا مذکورہ بالا معنی نہ قرآن میں موجود ہے نہ حدیث اور اقوال صحابہ میں موجود ہے۔ بلکہ لغت اور محاورۂ عرب کے بھی خلاف ہے۔
اگر خاتم النبیین کا یہی مطلب اور معنی ہو تو پھر خاتم الاولاد کے معنی یہ اولاد کی مہر ہے۔ اس کی مہر سے اولاد بنتی ہے۔ خاتم المہاجرین کے معنی یہ کہ مہاجرین کی مہر ہے۔ اسی سے مہاجرین بنتے ہیں۔ ہونا چاہئے حالانکہ ادنیٰ عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ مذکورہ بالا معنی غلط ہے۔ اسی طرح خاتم النبیین کا مذکورہ بالا معنی بالکل غلط ہے۔ بلکہ صحیح معنی وہی ہیں جو گذر چکا ہے کہ آپؐ سب نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد نہ کسی کو نبی بنایا جائے گا نہ کوئی نیا نبی آسکے گا۔
تیسرا شبہ
خاتم النبیین میں خاتم کے معنی نبیوں کی انگوٹھی کا نگینہ لے کر زینت مراد لیا جائے۔ اب آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ آپؐ نبیوں کی زینت ہیں۔ ختم نبوت سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں۔
جواب یہ ہے۔ یہ معنی لینا خود قرآنی آیات واحادیث کے خلاف ہے۔ نیز اصول ولغت کے بھی خلاف ہے۔ قرآنی آیات اور احادیث و تفسیر کی تحقیق گذر چکی ہے۔ اصول میں ہے کہ جب تک کسی لفظ کے حقیقی اور اصلی معنی لینا ممکن ہوں مجازی معنی لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً احمد آیا۔ میں احمد کسی خاص ایک شخص کا نام ہے۔ احمد کے حقیقی معنی یہی ہیں۔ احمد بول کر اس کی صورت
٤٠
لئے نبیوں سے یوم میثاق یعنی احکام کے پورے پورے آخر آیت تک میں خلقت میں سب نبیوں سے پہلے اور
سب سے آخر میں آپ نبی بنا کر بھیجے گئے۔ نہ یہ کہ حضور ﷺ کے آخری نبی بننے سے حضرت عیسیٰ علیہ
مبین میں خاتم سے مراد مہر ہے۔ آیت سے مراد یہ کے انبیاء بنتے ہیں اور آپ کی تصدیق کر کے ہر شخص
(حقیقت الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
ایسا معنی نہ قرآن میں موجود ہے نہ حدیث اور اقوال کے بھی خلاف ہے۔ ہو تو پھر خاتم الاولاد کے معنی یہ اولاد کی مہر ہے۔ مثلاً یہ کہ مہاجرین کی مہر ہے۔ اسی سے مہاجرین ہو سکتا ہے کہ مذکورہ بالا معنی غلط ہے۔ اسی طرح معنی وہی ہیں جو گذر چکا ہے کہ آپ سب نبیوں نہ کسی کو نبی بنایا جائے گا نہ کوئی نیا نبی آسکے گا۔
انگوٹھی کا نگینہ لے کر زینت مراد لیا جائے۔ مبعوث ہیں۔ ختم نبوت سے اس آیت کا کوئی
لغت واحادیث کے خلاف ہے۔ نیز اصول تفسیر کی تحقیق گذر چکی ہے۔ اصول میں ہے جہاں مجازی معنی لینا جائز نہیں ہے۔ مثلاً احمد اصلی معنی یہی ہیں۔ احمد بول کر اس کی صورت
مراد لینا مجازی ہے تو جب تک حقیقی معنی مراد لیا جاسکتا ہے۔ اس وقت تک مجازی معنی مراد لینا ناجائز ہوگا۔
اسی طرح خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی زینت مراد لینا مجازی معنی ہے۔ اصلی معنی کے ہوتے ہوئے مجازی معنی مراد لینا درست نہیں۔
اگر اس تاویل کو درست مانا جائے تو پھر ”اقیمو الصلوٰۃ“ سے نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ وہ بیکار ہو جائے گی۔ صرف درود پڑھ لینا کافی ہو جائے گا۔ کیونکہ صلوٰۃ کے حقیقی معنی نماز پڑھنے کے ہیں۔ مجازی معنی درود پڑھنا ہے۔ اسی طرح نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ سب کی فرضیت ساقط ہو جائے گی۔ سب تاکیدیں باطل ہو جائیں گی۔ الغرض مندرجہ بالا تاویل قرآن وحدیث ولغت ومحاورہ عرب کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔ بیہودہ ہے۔
چوتھا شبہ
قرآن کریم میں ”يقتلون النبيين“ سے مراد بعض انبیاء مراد ہیں۔ جن کو بنی اسرائیل نے قتل کر دیا تھا۔ سب انبیاء مراد نہیں۔ اسی طرح خاتم النبیین سے مراد صرف تشریعی نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والا مراد ہے۔ عام نبوت مراد نہیں ہے۔ یعنی لام استغراق عرفی مراد ہے۔ جواب ..... مذکورہ بالا معنی لینا غلط اور نادرست ہے۔ اس لئے کہ اس طرح معنی لیا جائے تو قرآن کی ہزاروں آیتوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مثلاً اسی صورت میں:
- ١...... رب العالمین کے معنی بعض عالم اور جہاں کا رب ہوگا۔ ساری دنیا کا رب نہیں ہوگا۔
- ٢...... اعدت للكافرين : بعض کافروں کے لئے جہنم تیار کیا گیا ہے۔ سب کافروں کے
لئے نہیں۔
- ٣...... والله عليم بالظالمين : اللہ بعض ظالموں کو جاننے والے ہیں۔ سب ظالموں کو
جاننے والے نہیں۔
- ٤...... وموعظة للمتقين : قرآن بعض متقی پرہیز گار کے لئے نصیحت ہے۔ سب پرہیز
گاروں کے لئے نہیں۔
- ٥...... هو الرحمن الرحیم : اللہ بعض رحم کرنے والوں کے اعتبار سے زیادہ رحم کرنے والا
ہے۔ سب رحم کرنے والوں کے اعتبار سے نہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
اس صورت میں نہ اللہ اللہ رہ سکتا ہے نہ قرآن قرآن رہ سکتا ہے۔ دوسری خرابی یہ کہ خاتم النبیین کے معنی یعنی نبیوں کے اعتبار سے خاتم ہو تو پھر حضور ﷺ کی کیا خصوصیت رہی۔ ہر نبی
٤١
اپنے پہلے نبی کے اعتبار سے خاتم ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے کے نبیوں کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے نبیوں کے لئے وغیرہ۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کو بھی بعض نبیوں کے اعتبار سے خاتم مانیں تو پھر حضور ﷺ کا کوئی کمال نہیں رہا۔ حالانکہ آیت کا سباق یعنی مضمون بتلا رہا ہے کہ خاتم النبیین ہونا آپ کی خاص فضیلت ہے۔ چنانچہ مسلم شریف میں بروایت ابو ہریرہؓ منقول ہے کہ حضور ﷺ اپنی مخصوص فضیلت کو شمار کرتے ہوئے فرمایا: ”وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون (مسلم ج ٢ ص ١٩٩) ”میں تمام مخلوقات کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور مجھ پر انبیاء ختم کر دیئے گئے۔“
نوٹ: اللہ تعالیٰ چونکہ عالم الغیب ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ بعض بیوقوف چودھویں صدی میں حضور ﷺ کو خاتم الرسالۃ تو مانیں گے۔ لیکن خاتم النبیین نہیں مانیں گے۔ آپؐ کے بعد غیر تشریعی نبوت یعنی نبیوں کے سلسلہ کو مانتے ہوئے جھوٹے نبیوں کو مانیں گے۔ اس جھوٹے دعوے کو رد کرنے کے لئے فرمایا: ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“
نبی عربی (محمد رسول اللہ ﷺ) تو اللہ کے رسول ہیں اور نبوت کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔ یعنی جب نبوت عام ہوئی رسالت سے تو نبیوں کے خاتم ہونے سے آپؐ رسولوں کے خاتم ہوئے۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٨٩، روح المعانی ج ٧ ص ٦٠، کلیات ابو البقاء ص ٣١٠)
پانچواں شبہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھی خواب کا نبوت کے جز ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت باقی ہے۔ اب بھی نبی ہو سکتا ہے۔
جواب ..... بالکل غلط ہے۔ خواب تو جز ہے۔ جز کے موجود ہونے سے کل کا موجود ہونا لازم نہیں آتا۔ جیسے نمک پلاؤ کا جز ہے۔ نمک کے موجود ہونے پر پلاؤ موجود ہے۔ کہنا بے عقلی ہے۔ اسی طرح ناخن انسان کا جز ہے۔ صرف ناخن کے موجود ہونے کو دیکھ کر انسان کے موجود ہونے کا حکم لگانا بیوقوفی ہے۔ اسی طرح نبوت کے صرف ایک جز کے باقی رہنے کو دیکھ کر نبوت کا دعویٰ کرنا ہمالیہ کے برابر غلطی کرنا ہے۔
چھٹا شبہ
مسلمان پنجگانہ نماز کے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے کہتا ہے۔ ”اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم“ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ! ہم کو صراطِ مستقیم یعنی سیدھے راستہ پر چلا۔ جو ان لوگوں کا راستہ ہے۔ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے اور
٤٢
جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے وہ ہے ہمیں نبیین، صدیقین اور شہدا خدا تعالیٰ مسلمانوں کے حسب منشا سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نبیین و ہر مسلمان نبی ہو سکتا ہے۔
خلاصہ اس استدلال کا ی پر نبیین کے راستے پر چلنے والا نبی چلنے والا شہید بن جاتا ہے۔
جواب ..... یہ دلیل ا راستے پر چلنے والا کلکٹر، وائسرا بادشاہ ہو جایا کرے تو پھر قرآن م کردہ قانون کے مطابق جو شخص
ساتواں شبہ
سیوطیؒ نے درمنثور می ہے ۔ ”قولوا خاتم النبی آپؐ کو خاتم النبیین کہو۔ لیکن
مغیرہ بن شعبہؓ سے م لا نبی بعدہ “ کہا تو مغیرہؓ نحدث ان عیسیٰ علیہ
(درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤)
ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم س والے ہیں تو وہ آپؐ سے پہ
مندرجہ بالا دونو سلسلہ قیامت تک جاری رہ بعدی“ کہہ کر منع فرما رہی
ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے کے نبیوں کے پہلے نبیوں کے لئے وغیرہ ۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ کو بھی پھر حضور ﷺ کا کوئی کمال نہیں رہا ۔ حالانکہ آیت کا سیاق ہونا آپ کی خاص فضیلت ہے ۔ چنانچہ مسلم شریف میں لئے اپنی مخصوص فضیلت کو شمار کرتے ہوئے فرمایا : م بى النبيون (مسلم ج ٢ ص ١٩٩) ” میں تمام مجھ پر انبیاء ختم کر دیئے گئے ۔ ﴾ چاہیں ۔ انہیں معلوم تھا کہ بعض بیوقوف چودھویں صدی گے ۔ لیکن خاتم النبیین نہیں مانیں گے ۔ آپ کے بعد ہوتے ہوئے جھوٹے نبیوں کو مانیں گے ۔ اس جھوٹے رسول الله وخاتم النبيين “ تو اللہ کے رسول ہیں اور نبوت کے سلسلے کو ختم کرنے فضیلت سے تو نبیوں کے خاتم ہونے سے آپ رسولوں ص ٨٩، روح المعانی ج ٧ ص ٦٠ ، کلیات ابو البقاء ص ٣١٠)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچھی خواب کا نبوت خواب بھی نبی ہو سکتا ہے ۔ کے جز ہے ۔ جز کے موجود ہونے سے کل کا موجود کے موجود ہونے پر پلاؤ موجود ہے ۔ کہنا بے ناخن کے موجود ہونے کو دیکھ کر انسان کے کے صرف ایک جز کے باقی رہنے کو دیکھ کر
اور فاتحہ پڑھتے ہوئے کہتا ہے ۔ ” اهدنا “ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ ! ہم کو راستہ ہے ۔ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے اور
جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے وہ نبیین شہداء اور صدیقین ہیں ۔ دونوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے ہمیں نبیین ، صدیقین اور شہداء کے راستہ پر چلائے ۔ مقبولیت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کے حسب منشاء انہیں انبیاء، شہداء اور صدیقین کے راستے پر چلاتا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نبیین ، شہداء اور صدیقین میں سے ہیں ۔ لہٰذا حضور ﷺ کے بعد بھی ہر مسلمان نبی ہو سکتا ہے ۔
خلاصہ اس استدلال کا یہ ہے کہ جو جس راستے پر چلتا ہے وہ وہی بن جاتا ہے ۔ اس بناء پر نبیین کے راستے پر چلنے والا نبی ، صدیقین کے راستے پر چلنے والا صدیق اور شہداء کے راستے پر چلنے والا شہید بن جاتا ہے ۔
جواب ...... یہ دلیل تو حد سے زیادہ لچر ہے ۔ اس لئے کہ اس دلیل کی بناء پر کلکٹر کے راستے پر چلنے والا کلکٹر، وائسرائے کے راستے پر چلنے والا وائسرائے ، بادشاہ کے راستے پر چلنے والا بادشاہ ہو جایا کرے تو پھر قرآن میں ”صراط الله العزیز “ کی وجہ سے مرزا قادیانی کی تجویز کردہ قانون کے مطابق جو شخص اللہ کے راستے پر چلے گا وہ معاذ اللہ خدا بن جائے گا ۔
ساتواں شبہ
سیوطیؒ نے درمنثور میں مصنف ابن ابی شیبہ سے حضرت صدیقہ عائشہؓ کا قول نقل کیا ہے ۔ ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبی بعده (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤) “ ﴿ آپ کو خاتم النبیین کہو۔ لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ۔ ﴾ مغیرہ بن شعبہ کے سامنے ایک شخص نے ”صل الله علی محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعده “ کہا تو مغیرہ بن شعبہؓ نے فرمایا: ”حسبک اذا قلت خاتم الانبیاء فانا کنا نحدث ان عیسٰی علیه السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤) ” خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے ۔ لا نبی بعده “ کہنے کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ ہم سے حدیث بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے والے ہیں تو وہ آپ سے پہلے بھی ہوئے اور بعد میں بھی ہوں گے ۔ ﴾ مندرجہ بالا دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے ۔ نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ تبھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ ” لا تقولوا لا نبی بعدی “ کہہ کر منع فرما رہی ہیں ۔ اسی کی تائید مغیرہ بن شعبہؓ جیسے جلیل القدر صحابی کر رہے ہیں ۔
٤٣
جواب ...... نبی عربی ﷺ کا آخری نبی ہونا اور آپؐ کے بعد نبی نہ بن سکنے کی حدیثیں متواتر طور پر ثابت ہیں۔ چونسٹھ صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جن میں سے بعض یہ ہیں۔ (١) حضرت قتادہؓ۔ (٢) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ۔ (٣) حضرت حسنؓ۔ (٤) حضرت جابرؓ۔ (٥) حضرت ابو سعید خدریؓ۔ (٦) حضرت ابوالطفیلؓ۔ (٧) حضرت ابو ہریرہؓ۔ (٨) حضرت انسؓ۔ (٩) حضرت عفان بن مسلمؓ۔ (١٠) حضرت ابو معاویہؓ۔ (١١) حضرت جبیر بن مطعمؓ۔ (١٢) حضرت عبداللہ بن عمرؓ۔ (١٣) حضرت ابی بن کعبؓ۔ (١٤) حضرت حذیفہؓ۔ (١٥) حضرت ثوبانؓ۔ (١٦) حضرت عبادہ بن صامتؓ۔ (١٧) حضرت عبداللہ بن عباسؓ۔ (١٨) حضرت عطاء بن یسار۔ (١٩) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ۔ (٢٠) حضرت عرباض بن ساریہؓ۔ (٢١) حضرت عقبہؓ۔ وغیرہ وغیرہ سب کے سب سند متصل سے حضور ﷺ کے قول کو نقل کر رہے ہیں۔ جن کی بناء پر کوئی مسلمان بلکہ کوئی منصف مزاج کافر بھی ان چونسٹھ حضرات صحابہؓ کی شہادتوں کے بعد حضور ﷺ کو آخری نبی بنائے جانے میں کسی قسم کا شک نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ سے لے کر اب تک سوائے چند سرپھروں کے ساری امت نے آپؐ کو خاتم النبیین مانا ہے۔ اس متفقہ اجماعی عقیدہ کے خلاف کرنے والے کو کافر، ملحد و بے دین شمار کیا ہے۔ باقی رہی حضرت عائشہ صدیقہؓ اور مغیرہ بن شعبہؓ کی روایت۔
اوّل ...... تو یہ دونوں روایتیں غیر معتبر اور بے سند ہیں۔ ان کے راویوں کا کوئی پتہ نہیں۔ علامہ سیوطیؒ نے بلا سند ان کو درمنثور میں نقل کر دیا ہے۔ (درمنثور ج٥ ص٢٠٤) بھلا یہ دو روایتیں بلا سند کے چونسٹھ صحابہؓ کے روایت کردہ حدیث متواترہ سے ٹکرا سکتی ہیں۔
دوم ...... چونسٹھ صحابہؓ کی روایت کردہ حضور ﷺ کی قولی حدیث کے مقابلے میں دو صحابہ کی رائے کو کوئی اہمیت دی جاسکتی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ لہٰذا مذکورہ بالا دونوں روایتیں بے سند غیر مقبول مرجوح روایتیں ہیں۔
سوم ...... اگر بالفرض ان دونوں روایتوں کو درست مان لیں تو صحابی کے قول کو اچھے محمل پر محمول کرتے ہوئے یوں تاویل کی جاسکتی ہے کہ قرب قیامت میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول کا مسئلہ مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے۔ غالباً ان دونوں صحابہؓ کو ’’لا نبی بعدی‘‘ سے اس اجماعی مسئلہ کے انکار یا نسخ کا شبہ تھا۔ اس لئے احتیاطاً منع کیا ہو۔ چنانچہ مغیرہ بن شعبہ کی روایت میں اسی طرف اشارہ موجود ہے۔
٤٤
مقدمہ
چونکہ دین اسلام اللہ کا آخری وپسندیدہ مذہب ہے اور قرآن بھی اللہ کا آخری دستور العمل ہے اور نبی عربی سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی آخری اور سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں۔ عقلاً ونقلاً آپ کے بعد (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے سوا کسی نبی یا رسول کے آنے کا امکان نہ تھا۔ اس لئے آپ نے ببانگ دہل اعلان (پیشین گوئی) کیا کہ آپ کے بعد جو نبوت ورسالت کا دعویٰ کرے وہ کذاب پرلے سرے کا جھوٹا، دجال، حد سے زیادہ دغا باز وفریبی ہوگا۔ چنانچہ حدیث کی مشہور کتاب مسلم شریف، ترمذی شریف، ابوداؤد شریف میں ہے۔
”قال رسول اللہ ﷺ سیکون فی امتی کذابون دجالون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ترمذی ج٢ ص٤٥، باب ماجاء لا تقوم الساعۃ)“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بہت بڑے جھوٹ بولنے والے تیس ہوں گے۔ سب کے سب دعویٰ کریں گے کہ وہ نبی اللہ ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
حدیث کی مشہور کتاب بخاری شریف میں ہے۔ ”قال یبعث دجالون، کذابون قریباً من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ (بخاری ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوۃ فی الاسلام)“ ﴿حضورﷺ فرماتے ہیں۔ تیس کے قریب کذاب حد سے زائد جھوٹے دجال حد سے زائد مکار ودغاباز بھیجے جائیں گے۔ ہر شخص خیال کرے گا وہ اللہ کا رسول ہے۔﴾
حدیث کی مشہور کتاب (ترمذی شریف ج٢ ص٤٥) میں ہے۔ ”قال لا تقوم الساعۃ حتیٰ یبعث کذابون دجالون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ“ ﴿حضورﷺ نے فرمایا۔ جب تک کہ تیس کے قریب کذاب دجال نہیں بھیجے جائیں گے قیامت نہیں آئے گی۔ ہر شخص خیال کرے گا اور دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہیں۔﴾
حدیث کی مشہور کتاب (مسلم شریف ج٢ ص١٢٠) میں ہے۔ ”عن جابر سمعت النبی ﷺ ان بین یدی الساعۃ کذابین فاحذرھم“ ﴿حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورﷺ سے فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے پہلے جھوٹے ہوں گے ان سے بچتے رہو۔﴾
مذکورہ بالا حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے جن تیس جعلی اور نقلی نبیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں دو باتیں پائی جائیں گی۔ ایک امتی یعنی حضورﷺ کی امت میں
٤٥
ہوں گے۔ دوسرا نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ ان کے متعلق دو حکم عطاء فرماتے ہیں۔ ایک کذاب دوسرا دجال۔ وہ محض جھوٹے اور فریبی نہیں ہوں گے۔ بلکہ جھوٹوں کے سردار حد سے زیادہ جھوٹ بولنے والے اور انتہاء درجہ کے دغاباز اور فریبی ہوں گے۔ اس لئے کہ عربی گرامر میں فعال کا وزن مبالغہ کے لئے آتا ہے۔
واحد جمع واحد جمع فاعل، کرنے والا فاعلون، کرنے والے فعال، حد سے زیادہ فعالون، حد سے زیادہ فاعلین کرنے والے کرنے والا کرنے والا فعالین کاذب، جھوٹا کاذبون، جھوٹے، کذاب، حد سے کذابون، حد سے زیادہ کاذبین، جھوٹے زیادہ جھوٹا جھوٹے، کذابین، حد سے زیادہ جھوٹے داجل، فریبی، دغاباز داجلون، دغاباز لوگ دجال، حد سے زیادہ دجالین، حد سے زیادہ داجلین، دغاباز لوگ فریبی، حد سے زیادہ دغاباز لوگ دغاباز دجالون، حد سے زیادہ دغاباز لوگ
الغرض حضور ﷺ کا نبوت کے دعویٰ کرنے والوں کو کذاب اور دجال کا فرمانا بے وجہ نہیں۔ جن جن لوگوں نے آپؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ حد سے زیادہ دغاباز اور فریبی واقع ہوئے ہیں۔
سلف میں حضور ﷺ کے مقابلے میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔
- ١....... بعض نے تو کھلم کھلا نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو مستقل نبی کہا۔ جن
میں سے بہت سے صاحب حکومت بھی ہوئے۔ مثلاً مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، صالح بن طریف ١٢٧ھ، ٤٧ برس مدعی نبوت رہا۔ الیاس ٣٤٤ھ، ٥٠٠ھ، ٥٠ برس تک مدعی نبوت رہا۔ یونس ٤٢٢ھ، ٤٢٨ھ، چوالیس برس مدعی نبوت رہا۔ ابوغفیر ٢٦٨ھ۔ انتیس برس تک مدعی نبوت رہا۔ ابوالانصار ٢٩٧ھ ٣٤١ھ۔ چوالیس برس مدعی نبوت رہا۔ اصبغ بن الفرج اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ کہتے ہیں کہ میں مستقل نبی ہوں۔ مجھ پر وحی آتی ہے ان کو وحی کے متعلق ایسا یقین ہے جیسے قرآن و شریعت کے قطعی و یقینی ہونے پر۔
٤٦
مرزا محمود (ابن مرزا غلام احمد قادیانی) کافر ہے۔
- ٢....... بعض مسلمانوں
اپنے آپ کو حضور ﷺ کا متبع کہہ کر خلقت کرتے ہیں اور در پردہ اپنے گمراہ دین الدین وغیرہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی احمد ظلی نبی ہیں۔ مجدد ہیں، اور مثیل نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت قرآن کی آیات اور کثرت سے حدیثیں انقطعت فلا رسول ولا نبی سلسلہ منقطع و بند ہو چکا ہے۔ خواہ مستق ور رسالت ہو۔
کذاب و دجال بصیغہ مب مرزا غلام احمد قادیانی نے دونوں طرح کی کتابوں میں حضور ﷺ کی نبوت اسلام بنے رہے اور مسلمانوں کی بھی کے دو مشہور شاگرد محمد علی لاہوری اور دونوں کے پیرو مرزا کے ١٩٠١ء کے
١٩٠١ء کے بعد جب مرزا آدمی جب بوڑھا ہوتا ہے دو چیزیں نبوت کا دعویٰ کیا۔ مثیل مسیح بنے پھر بنا۔ پھر حضور ﷺ نبی عربی سے افضل جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ مرزا حصہ میں سب سے پہلے مرزا قادی نبوت کے پرکھنے کے میعار پر مرزا
مرزا محمود (ابن مرزا غلام احمد قادیانی) کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد مستقل نبی تھے جو اس کو نہ مانے وہ کافر ہے۔
- ٢....... بعض مسلمانوں سے ڈرتے ہیں اور کھلم کھلا نبوت کا اظہار نہیں کرتے۔
اپنے آپ کو حضور ﷺ کا متبع کہہ کر ظلی نبی، بروزی نبی، مجازی نبی کہہ کر حضور ﷺ سے بغاوت کرتے ہیں اور درپردہ اپنے گمراہ دین کی اشاعت کرتے ہیں۔ جیسے مرزا محمد علی لاہوری، خواجہ کمال الدین وغیرہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص شاگردوں میں ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ظلی نبی ہیں۔ مجدد ہیں، اور مثیل مسیح ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے مار آستین ہیں اور یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی غلط تاویل کرتے ہیں۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں قرآن کی آیات اور کثرت سے حدیثیں گزر چکی ہیں کہ: ”اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ “ کہ حضور ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت اور رسالت کا سلسلہ منقطع و بند ہو چکا ہے۔ خواہ مستقل نبوت ورسالت کا سلسلہ ہو یا مجازی و بروزی نبوت و رسالت ہو۔
کذاب و دجال بصیغہ مبالغہ حضور ﷺ کا استعمال کرنا بیجا نہیں ہے۔ اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دونوں طرح سے قصر نبوت کو ڈھانے کی کوشش کی۔ چنانچہ ١٩٠١ء سے قبل کی کتابوں میں حضور ﷺ کی نبوت کا برملا اقرار کرتے ہوئے اپنی نبوت کو چھپاتے ہوئے مبلغ اسلام بنے رہے اور مسلمانوں کی جیبوں اور ایمانوں پر ڈاکہ ڈالتے رہے۔ اس وقت مرزا قادیانی کے دو مشہور شاگرد محمد علی لاہوری اور خواجہ کمال الدین مرزا کے گن گاتے رہے اور اب بھی ان دونوں کے پیرو مرزا کے ١٩٠١ء کے قبل کی کتابوں سے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٢٠، ١٢١)
١٩٠١ء کے بعد جب مرزا قادیانی کے پاس دولت کی ریل پیل تھی۔ بقول حضور ﷺ ، آدمی جب بوڑھا ہوتا ہے دو چیزیں جوان ہوتی ہیں۔ مال کا حرص اور خواہشات نفسانی۔ مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مثیل مسیح بنے پھر دو سال تک مریم بنے رہے۔ پھر دس ماہ حاملہ بھی رہے۔ پھر مسیح بنا۔ پھر حضور ﷺ نبی عربی سے افضل بنا۔ پھر خدا کے بیٹے کا مثیل بنا۔ اس کے بعد اخیر میں خدا بنا۔ جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ مرزا محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب یہی ہے۔ اس لئے اس حصہ میں سب سے پہلے مرزا قادیانی کی صحیح مختصر اور مکمل سوانح حیات پیش کر کے پہلے حصہ میں نبوت کے پرکھنے کے معیار پر مرزا قادیانی کی زندگی کو پرکھ کر دیکھئے کہ کیا ایسا شخص نبی بن سکتا
٤٧
ہے۔ حضور پر نور ﷺ نے انہیں دجال اور کذاب فرمایا ہے۔ اس میں وہ کس حد تک صحیح اترتا ہے۔ ایسے شخص کا نبی ہونا تو درکنار ایک شریف انسان بھی ہو سکتا ہے؟ اپنی اپنی ضمیر کی آواز پر عمل کیجئے۔ واضح ہو کہ اس میں جتنے حوالہ جات ہوں گے۔ اکثر مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب یا اشتہار یا ان کے پیروؤں کی لکھی ہوئی کتاب سے دیئے جائیں گے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی مختصر سوانح عمری
پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک چھوٹے سے قصبے ”قادیان“ کے رہنے والے حکیم مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں مرزا قادیانی پیدا ہوا۔ پنجابی زبان میں ”کادیان“ کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس قصبے کے اکثر لوگ کیوڑہ فروخت کرتے تھے۔ اس لئے قصبہ کا نام ”کادیان“ پڑ گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت کثیر رقم خرچ کر کے ”کادیان“ کا نام ”قادیان“ مخفف ”قاضیان“ بنوایا۔ تاکہ لوگ ان کو قاضی خاندان کے سمجھیں۔
(دیکھو انجم)
مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش ١٢٦٠ھ ، ١٨٤٠ء (تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج١٥ ص ٢٨٣) تاریخ ممات ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ ، ٢٦ مئی ١٩٠٨ء (اخبار قادیان) ہیضہ کے مرض میں ہلاک ہوا۔ مرزا قادیانی نے ابتدائی عمر میں فارسی اور کچھ عربی کی درسی کتابیں پڑھیں۔ کتب درسیہ پوری نہیں ہوئی تھی کہ فکر معاش کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کہہ دینا پڑا۔ نہایت ہی تنگدستی میں زندگی گزارتا تھا۔ مرزا قادیانی نے نہایت تفصیل سے اپنی تنگدستی کے واقعات اور اس تنگدستی میں باپ دادوں کے مرنے کے واقعات کتاب البریہ میں لکھے ہیں۔
تلاش معاش میں در بدر ٹھوکریں کھانے کے بعد آخر سیالکوٹ کے نصاریٰ کی عدالت میں پندرہ روپے ماہانہ کی نوکری ملی۔ اتنی رقم میں اطمینان کی زندگی بسر نہیں ہوتی تھی۔ اس وجہ سے مختاری کا امتحان دے کر مختاری کا پیشہ شروع کرنا چاہا۔ بڑی مشکل سے قانون انگریزی یاد کر کے امتحان میں شامل ہوا تھا۔ یہاں بھی بد نصیبی آڑے آئی۔ امتحان میں فیل ہو گئے۔ سچ ہے۔
کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را
مرزا غلام احمد قادیانی فطرۃً چالاک آدمی تھا۔ امتحان میں فیل ہونے کے بعد مبلغ اسلام بن کر اشتہار بازی تصنیف و تالیف سے شہرت حاصل کرنی چاہی۔ ابتداءً آریوں کے مقابلے میں اشتہار بازی شروع کی اور براہین احمدیہ نامی کتاب کے چھپوانے کے بہانے سے پروپیگنڈا شروع کیا۔ مسلمانوں سے چندہ لیا ہزاروں روپے وصول کئے۔ اب رات دن آرام سے زندگی گزر بسر
٤٨
ب فرمایا ہے۔ اس میں وہ کس حد تک صحیح اترتا ہے۔ بھی ہو سکتا ہے؟ اپنی اپنی ضمیر کی آواز پر عمل کیجئے۔ ت ہوں گے۔ اکثر مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب یا ے دیئے جائیں گے۔
ری
چھوٹے سے قصبے ”قادیان“ کے رہنے والے حکیم کہ پنجابی زبان میں ”کادیان“ کیوڑہ کو کہتے ہیں۔ لتے تھے۔ اس لئے قصبہ کا نام ”کادیان“ پڑ گیا۔ گئے ”قادیان“ کا نام ”قادیان“ مخفف ”قاضیان“
(دیکھو انجم)
١٨٣٩ء (تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء (اخبار قادیان) ہیضہ کے مرض میں اور کچھ عربی کی درسی کتابیں پڑھیں۔ کتب درسیہ مرید آباد کہہ دینا پڑا۔ نہایت ہی تنگدستی میں زندگی ہی تنگدستی کے واقعات اور اس تنگدستی میں باپ تے ہیں۔ نے کے بعد آخر سیالکوٹ کے نصاریٰ کی عدالت ان کی زندگی بسر نہیں ہوتی تھی۔ اس وجہ سے یہ بڑی مشکل سے قانون انگریزی یاد کر کے لہ امتحان میں فیل ہو گئے۔ سچ ہے ؎
شمی آرد سکندر را
لہ امتحان میں فیل ہونے کے بعد مبلغ اسلام پنی چاہی۔ ابتداءً آریوں کے مقابلے میں ہوانے کے بہانے سے پروپیگنڈا شروع مطلب رات دن آرام سے زندگی گذر بسر
رہی تھی۔ اسی اثناء میں مرزا قادیانی کی ملاقات سرسید احمد خان صاحب بانی علی گڑھ اور شیعوں کے ایک مجتہد سے ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ جب دولت کی ریل پیل ہونے لگتی ہے تو انسان نفس امارہ کے ہاتھوں کھیلنے لگتا ہے۔ اسی قاعدہ کے مطابق مرزا قادیانی نے جو پہلے ایک مبلغ اسلام تھا اب مجدد ہونے کا پھر مثیل مسیح پھر مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ انگریزی دانوں کی ایک بہت بڑی جماعت (جس میں محمد علی لاہوری مترجم قرآن اور خواجہ کمال الدین ڈاکٹر عبدالحکیم وغیرہ) مرزا قادیانی کو مبلغ اسلام سمجھ کر مرزا قادیانی کی ہر طرح دامے، درمے، قدمے خدمت کرنے لگی۔
١٨٨٨ء میں مرزا قادیانی کی عمر تخمیناً اڑتالیس سال کی ہوئی تو مرزا قادیانی کی حالت بدلنے لگی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ (کتاب البریہ ص ١٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٢٠٢) اس کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩) اس کے بعد مرزا قادیانی دو برس تک صفت مریمیت کے ساتھ مریم بنے رہے۔ (کشتی نوح ص ٤٦، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) اس کے بعد مریم کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح مرزا قادیانی میں پھونکی گئی۔ مرزا قادیانی دس ماہ تک حاملہ رہے۔ (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠) اس کے بعد مریم سے عیسیٰ بنے۔
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
محمدی بیگم سے عشق
١٨٨٨ء میں جب مرزا قادیانی کی عمر اڑتالیس سال کی ہوئی تو مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم پر مرزا غلام احمد قادیانی کی نظر پڑی۔ مرزا قادیانی اس پر فریفتہ ہو گئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے پاس ایک پیغام بھیجا جو ١٠ مئی ١٨٨٨ء کے اخبار نور افشاں میں چھپا اور مرزا قادیانی نے اس کو (کمالات اسلام ص ٢٨١ تا ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) نامی رسالے میں نقل کیا۔ ساتھ ہی ساتھ مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ چونکہ محمدی بیگم کے ساتھ مرزا قادیانی کا نکاح آسمان پر ہو چکا ہے۔ اس لئے احمد بیگ کو چاہئے کہ برضا و رغبت اپنی لڑکی کے ساتھ میرا نکاح کرا دے۔ مرزا احمد بیگ نے کچھ تو لڑکی کی کمسنی کی وجہ سے کچھ تو مرزا قادیانی کی بد دینی مخبوط الحواسی اور عیال دار ہونے کی وجہ سے پیغام کو ٹھکرا دیا اور سلطان محمد نامی شخص کے ساتھ منگنی کرا دی۔ مرزا غلام احمد قادیانی بگڑ گئے۔ رقیب کی موت کی پیشین گوئی کرتے ہوئے ١٠ جولائی ١٨٨٨ء میں پیشین گوئی شائع کی۔
”اگر مرزا احمد بیگ اس (سلطان محمد) سے نکاح کر دے گا تو اس کا شوہر روز نکاح سے اڑھائی برس کے اندر مر جائے گا۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت
٤٩
آجائے گی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١ حاشیہ، نکاح مرزا ص٤) بہت کچھ مرزا قادیانی نے منگنی توڑانے کی کوشش کی۔ کامیاب نہ ہوا۔ آخر مرزا احمد بیگ نے اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ١٨٩٢ء میں دھوم دھام سے کیا تو مرزا قادیانی کے ہوش اڑ گئے تو مرزا قادیانی نے اپنے رقیب سلطان محمد کی موت کی دوسری پیشین گوئی کی کہ: ”اس (محمدی بیگم) کا شوہر میری زندگی میں ضرور مرے گا اور اس کی بیوی (یعنی محمدی بیگم) میرے نکاح میں بالیقین آئے گی۔ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی یعنی منکوحہ آسمانی کا شوہر میرے سامنے نہ مرا تو میں بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں ٹلتی نہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
غلط پیشین گوئی
مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی غلط ٹھہری۔ سلطان محمد نہیں مرا۔ مرزا قادیانی کی بقیہ سولہ سالہ زندگی تک مرزا قادیانی کی موجودگی میں محمدی بیگم کے ساتھ داد عیش دیتا رہا اور جنگ عظیم میں شریک رہا۔ بمقام فرانس گولی لگی۔ تندرست ہو گئے اور جولائی ١٩٢١ء تک زندہ رہا اور مرزا غلام احمد قادیانی ١٩٠٨ء میں بحسرت و یاس ہیضہ کے مرض میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
محمدی بیگم کے نکاح کرنے میں ناکامی کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی ہر شخص سے بھڑنے لگا۔ مباہلہ کے چیلنج کے ساتھ جھوٹی پیشین گوئی کی بھر مار شروع کر دی۔
مولوی عبدالحق سے مباہلہ
جون ١٨٩١ء مطابق ٨ ذیقعدہ ١٣١٠ھ جب کہ مرزا قادیانی کی عمر تخمیناً ٥١ سال کی ہوئی تو حسب قرار داد مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مقیم امرتسر سے مباہلہ کرنے کی غرض سے امرتسر کے عید گاہ میں اپنے حامیوں کے ساتھ دن کے دو بجے حاضر ہوئے۔ حاضرین کے سامنے مولوی عبدالحق غزنوی نے رو بقبلہ ہو کر تین بار یہ آواز بلند کہا۔
یا اللہ میں مرزا کو ضال (گمراہ) مضل (گمراہ کرنے والا) ملحد (بیدین) دجال (حد سے زیادہ دغاباز) کذاب (حد سے زیادہ جھوٹا) مفتری (بہتان لگانے والا) محرف (ردوبدل
٥٠
کرنے والا) کلام اللہ تعالیٰ واحاديث رسول ﷺ سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔ مرزا قادیانی نے بھی تین بار بآواز بلند کہا: ”یا اللہ! اگر میں ضال ومضل وملحد ودجال وکذاب ومفتری ومحرف کتاب اللہ واحاديث رسول ﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔“
پھر دونوں فریق اپنے اپنے گھر واپس گئے۔ اس مباہلہ کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد عبداللہ آتھم عیسائی کا وہ انتہائی رسوا کن واقعہ پیش آیا۔ جس سے مرزا قادیانی کی رہی سہی عزت بھی ختم ہوگئی۔ مرزا قادیانی کو حد سے زیادہ ذلت ہوئی۔ مولوی عبدالحق غزنوی کے حین حیات میں ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہوگیا اور مباہلہ کا مولوی عبدالحق غزنوی پر یہ ہوا کہ مباہلہ سے پہلے مولوی صاحب کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ مباہلہ کے بعد شادی ہوئی۔ نیک بیوی ملی۔ بیوی حاملہ ہوگئی۔ اولاد ہوئی یا نہیں ہمیں معلوم نہیں۔ مباہلہ سے پہلے مولوی صاحب بیمار رہتے تھے۔ مباہلہ کے بعد صحت ہوئی۔ باطنی نعمتیں اور فتوحات حاصل ہوئیں۔ جن کا وہ اجمالی طور پر ذکر کرتے تھے۔ مولوی عبدالحق غزنوی کی عمر میں اللہ نے برکت دی۔ مرزا قادیانی کے بعد کامل نو سال تک زندہ رہے۔ ١٦؍مئی ١٩١٧ء مطابق ٢٣؍رجب ١٣٣٦ھ میں فوت ہوئے۔
عبداللہ آتھم سے مناظرہ
٥؍جون ١٨٩٣ء جب مرزا قادیانی کی عمر تخمیناً ٥٣ برس کی ہوئی تو مشہور عیسائی مناظر عبداللہ آتھم کے متعلق پیشین گوئی کی کہ: ”وہ (یعنی عبداللہ آتھم) پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں وہ ضرور ایسا کرے گا ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج٦ ص ٢٩٣)
٥؍ستمبر ١٨٩٤ء تک پندرہ ماہ گزر گئے۔ مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی نہیں مرا۔ مرزا قادیانی بقول خود جھوٹے ٹھہرے۔ روسیاہ ہوئے۔
عیسائیوں کے ہاتھوں مرزا قادیانی کی رسوائی
مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں کے ہاتھوں سے جس قدر مرزا قادیانی کی بے عزتی
٥١
ہوئی ہے وہ عبرت کے لئے نقل کرتے ہیں۔ عیسائیوں کا ایک اشتہار ملاحظہ کیجئے:
خاتمہ ہو گا اب نبوت کا پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
رسول قادیانی کو پھر الہام ہوا
نہ باز آیا تو کچھ بکنے سے اب بھی بڑھاپے میں یہ ہے جوش جوانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر یہ کہہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
نچادیں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی توڑی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
آتھم اب زندہ ہے آ کر دیکھ لو آنکھوں سے تم بات یہ کب چھپ سکی ہے اب چھپائی جائے گی
کچھ کرو شرم وحیا تاویل کا اب کام کیا بات اب بنتی نہیں کوئی بنائے آپ کی
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعویٰ قادیانی کے سبھی بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
ہو گیا ثابت ہے اب اقوالِ بد سے آپ کے کر رہا بیشک ہے شیطان رہنمائی آپ کی
اپنے پنجے سے نہیں شیطان تمہیں دیتا نجات اس کو کب منظور ہے اک دم جدائی آپ کی
تم ہو اس کے اور اب وہ ہے تمہارا یار غار رات دن کرتا وہی ہے پیشوائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار اور دھتکار ہے دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
خوب ہے جبرئیل اور الہام والا وہ خدا آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
اب بتاؤ ہیں کہاں اب آپ کے پیر و مرید جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا ڈوم کنجر دھرئے کنجڑے قصائی آپ کی
آپ نے خلقت کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
کچھ کرو خوف خدا کیا حشر میں دو گے جواب کام کس آئے گی یہ دولت کمائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں عالم میں مگر سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہ
آپ کے دعووں کو باطل کر دیا حق نے تما
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہ
سخت گمراہ ہو نہیں سمجھے مسیح کی شان ک
خاتمہ بالخیر ہو گا اور ہو گے سرخ ر
الـ
اعتراف رسوائی
مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا ہے ک و توہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ چنانچہ مرزا ا ہیں : ”انہوں نے پشاور سے لے کر الہٰ آباد اور ناپنا شروع کیا اور دین اسلام پر طعنے کئے اور ر ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے
نبوت کا دعویٰ ١٩٠١ء
١٩٠١ء میں جب کہ مرزا قادیانی ہونے کا دعویٰ کیا۔ (حقیقت النبوۃ ص ١٢٠، ١٢١) م
- ١....... ”سچا خدا وہی ہے جس
- ٢....... ”خاکسار محدث ہے۔
- ٣....... ”قادیان طاعون سے
ہے۔“
اس کے بعد مرزا قادیانی نے تصریح
انیوں کا ایک اشتہار ملاحظہ کیجئے:
پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
بڑھاپے میں یہ ہے جوش جوانی
یہ کہہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
بات یہ کب چھپ سکی ہے اب چھپائی جائے گی
بات اب بنتی نہیں کوئی بنائے آپ کی
کون مانے ہے بھلا یہ کج ادائی آپ کی
بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
کر رہا بیشک ہے شیطان رہنمائی آپ کی
جس کو کب منظور ہے اک دم جدائی آپ کی
رات دن کرتا وہی ہے پیشوائی آپ کی
اس میں بلاشبہ اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
لو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
کوئی آکے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
آگے دھرے چھرے قصائی آپ کی
کہتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
نہیں آئے گی یہ دولت کمائی آپ کی
کب سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
آپ کے دعووں کو باطل کر دیا حق نے تمام اب بھی تائب ہو اسی میں ہے بھلائی آپ کی
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
سخت گمراہ ہو نہیں سمجھے مسیح کی شان کو راہ حق اور زندگی سے ہے لڑائی آپ کی
خاتمہ بالخیر ہو گا اور ہو گے سرخ رو ہوگئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپ کی
المشتہر
اعتراف رسوائی
مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا ہے کہ مخالفین نے بہت خوشی کی۔ مرزا قادیانی کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی (سراج منیر ص ٥٢، خزائن ج ١٢ ص ٥٤) میں لکھتے ہیں: ”انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخبار والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“ بہت ہی سخت رسوائیوں اور ذلتوں کے بعد:
نبوت کا دعویٰ ١٩٠١ء
١٩٠١ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی عمر تخمیناً ٦١ برس کی ہوئی تو مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ (حقیقت النبوۃ ص ١٢٠، ١٢١) مثلاً:
- ١...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٢...... ”خاکسار محدث ہے۔ المحدث نبی یعنی نبی محدث ہوتا ہے۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٣...... ”قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ
ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
اس کے بعد مرزا قادیانی نے تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
٥٣
انبیاء اور خود حضور رسالت مآب ﷺ کی توہین
پھر دعویٰ نبوت کے ساتھ اولیاء ابدال واقطاب سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) ساتھ ہی ساتھ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”مجھے اپنے الہام کے قطعی ویقینی ہونے پر ایسا یقیں ہے جیسے قرآن اور خدا کی دیگر کتابوں پر۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کو جتلاتے ہوئے کہتے ہیں:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
یعنی حضور نبی عربی کے لئے چاند کو گرہن لگا۔ میرے لئے چاند وسورج دونوں میں گرہن لگا۔ اے مخاطب کیا تم انکار کر سکتے ہو۔
(اعجاز احمدی)
خدا اور خدا کا بیٹا بننے کا دعویٰ
اس کے بعد مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کے بیٹے کا مثیل ہے۔ ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ اے مرزا قادیانی تو میرے بیٹے کے برابر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
اس کے بعد مرزا قادیانی نے خدا کی شان کن فیکون کا اپنے اندر پائے جانے کا دعویٰ کیا۔ ”انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له كن فيكون (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)“ اے مرزا تیری یہ شان ہے تو جس چیز کو کہے کہ وہ ہو جائے تو وہ ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد مرزا قادیانی نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”رائیتنی فی المنام عين الله وتيقنت اننی هو فخلقت السموات والارض وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ بعینہ اللہ ہوں۔ پھر میں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
خلاصہ یہ کہ ٤٨ سال کی عمر میں محمدی بیگم کی فرقت اور رقیب کی خوش عیشی کی وجہ سے ہوش وحواس کھو کر کبھی عیسائیوں سے مرزا بھڑتے تھے۔ کبھی مسلمانوں سے لڑتے تھے۔ اسی بدحواسی میں کبھی مریم بنے ، حاملہ ہوئے ۔ عیسیٰ بنے ، خدا کا بیٹا بنے، خدا خود بن بیٹھے۔ بھلا ایسا مخبوط الحواس
٥٤
شخص پیغمبر بن سکتا ہے؟ کیا جو شخص جھوٹی پیشین گوئی کر کے سر بازار ذلیل و رسوا ہو بقول خود پشاور سے کلکتہ تک جھوٹی پیشین گوئی کی وجہ سے روسیاہ بنا۔ کیا ایسا شخص نبی یا رسول بن سکتا ہے۔ کیا جو شخص بقول خود مرد ہونے کے بعد دو سال تک مریم کی صفت میں رہ کر دس ماہ تک حاملہ رہے ایسے شخص کا نبی ہونا تو درکنار صاحب ہوش و خرد ہونا بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ ہرگز ہرگز نہیں۔
مرزا قادیانی کی موت کی پیشین گوئی
مرزا قادیانی کے بیس سالہ مخلص مرید ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئی دجل و فریب سے بھر پور اشتہاروں کو دیکھ کر باغی ہو گئے۔ مرزا قادیانی کی موت کے متعلق الہامی طور پر خبر دی کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ ماہ کے اندر ڈاکٹر کی حیات میں مرزا غلام احمد قادیانی مرجائے گا۔ پیشین گوئی خود ان کی بزبان مرزا سنئے۔
”ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی ہی میں ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے۔ مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ کی تھی مرتد ہو گیا...... آخر میں نے اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیشین گوئی کے مقابل مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)
اس مقابلہ کا نتیجہ یہ نکلا۔ چونکہ مرزا قادیانی دجال کافر اور کذاب تھا۔ اس کی پیشین گوئی غلط نکلی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کا قول صحیح نکلا۔ مرزا قادیانی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء سے پہلے یعنی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہو گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان ٢١؍ جون ١٩١٩ء تک زندہ رہے۔
مرزا قادیانی کی منہ مانگی موت
١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء مرزا غلام احمد قادیانی مولوی ثناء اللہ امرتسری کو خطاب کر کے لکھتے ہیں:۔ ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد
٥٥
کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کاذب کی عمر نہیں ہوتی۔ آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘
مرزا قادیانی نہایت لجاجت سے دعاء مانگتے ہوئے کہتے ہیں ۔ ’’اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين . آمین‘‘ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ الراقم! خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود، مرقومہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء!‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨، ٥٧٩)
مرزا چونکہ مفسد و جھوٹا تھا اور مولوی ثناء اللہ صادق اور سچے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنی دعاء کے مطابق مولوی ثناء اللہ کی زندگی ہی میں مرزا قادیانی کے پسندیدہ مرض ہیضہ میں مرزا ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں انتقال کر گئے اور مولوی ثناء اللہ مرحوم دوسری جنگ عظیم کے بعد تک زندہ رہے۔ مرزا قادیانی کی پرحسرت موت کی خبر مرزا کے خاص اخبارات کے ذریعے:
وفات مسیح
’’برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے کہ حضرت امامنا ومولانا حضرت مسیح موعود مہدی موعود مرزا قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے ہو جایا کرتی
٥٦
تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٥؍ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اسی بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا کہ تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ قریباً گیارہ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی۔ مجھے اور خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا ...... مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ مگر تقریباً ٢ اور تین بجے کے درمیان ایک بڑا دست آ گیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین اور خواجہ کمال الدین کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ : ” مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ “ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ جاری رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے صبح ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!
(ضمیمہ الحکم غیر معمولی پرچہ الحکم مورخہ ٢٨؍ مئی ١٩٠٨ء ، تاریخ مرزا ص ٢٤ ، مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ٥٤١)
سچے اور جھوٹے نبی کا فرق
پہلے حصے میں نبی صادق محمد عربی ﷺ کی سچی زندگی ، سچے اعمال و کردار پیش کر کے آپؐ کے جانی دشمن ابو جہل، نضر بن حارث اور ابو سفیان کے اقوال پیش کر چکے ہیں کہ وہ آپ کو سچا سمجھتے تھے۔ آپ کی زندگی کے تینوں دور یعنی بچپن، جوانی اور بڑھاپے میں کوئی ایسا واقعہ نہیں پاتے جس سے آپ کی زندگی میں کوئی حرف آ سکے۔ آپ کی بہترین تعلیمات آپ کی سچی پیشین گوئیوں کو بھی پیش کر چکے ہیں۔ جو ایک سچے نبی کی نبوت پر دلیل بن سکے۔
اس کے برخلاف ”نبی کاذب“ مرزا غلام احمد قادیانی کی صحیح و مختصر و مکمل زندگی کی تصویر آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ تمام حوالہ جات بھی مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی کتابوں یا مرزائی فرقہ کے اکابر کی کتابوں سے لئے گئے ہیں۔ آپ انہیں بغور پڑھ کر اپنے ضمیر ، دل کی آواز کو بغور سنئے کہ جو شخص ایک کمسن لڑکی کے عشق میں ہوش و حواس کو کھو کر آخری عمر تک شادی ، شادی کی رٹ
٥٧
لگائے اور اسی مخبوط الحواسی میں جھوٹی پیشین گوئی کر کے بقول خود رسوا و ذلیل ہوئے۔ بچوں کے سامنے جھوٹے ہیضہ وغیرہ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرنے کی دعاء کر کے مر گیا ہو۔ ایسے شخص کا نبی بننا تو درکنار کیا وہ ایک شریف انسان کہلا سکتا ہے۔ کیا کوئی صحیح الدماغ شخص ایسے شخص کے حالات پڑھ کر اس کو نبی مان سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا کذاب اور دجال ہونا
نبوت کی دوسری شرط صادق (سچا)، منصف (انصاف والا)، دیانتدار اور اخلاق رذیلہ سے مبرا ہونا ہے۔ اس کسوٹی پر دیکھیں تو صاف معلوم ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نبی ہونا تو درکنار حضورﷺ کے قول کے مطابق کذاب و دجال ہیں۔
نبی عربیﷺ فرماتے ہیں: ”سيكون فى امتى كذابون دجالون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (رواه مسلم ج٢ ص٣٩٧، كتاب الفتن واشراط الساعة، ابوداؤد ج٢ ص١٢٧، باب ذكر الفتن ودلائلها، بخارى ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام) “ میری امت میں بہت بڑے جھوٹ بولنے والے حد سے زیادہ مکار تیس ہوں گے۔ سب کے سب دعویٰ کریں گے۔ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
حدیث کو بغور دیکھنے سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ”فی امتی“ سے معلوم ہوتا ہے کہ: ”نبوت“ کا دعویٰ کرنے والا کذاب اور دجال شخص اپنے آپ کو نبی عربیﷺ کا امتی کہلائے گا۔ یا حضورﷺ کی امت میں سے مستقل نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ ”انا خاتم النبيين لا نبى بعدی“ جس طرح ”لا اله الا الله“ سے خدا کے سوا ہر قسم کے معبود کے ہونے کی نفی اور انکار مقصود ہے۔ اسی طرح نبی عربیﷺ کو ”خاتم النبیین“ مان کر آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کی نفی اور انکار کرنا مقصود ہے۔ خواہ وہ ظلی نبی ہو یا بروزی نبی ہو یا تشریعی نبی ہو یا غیر تشریعی نبی ہو۔ جس کی تائید ”انا آخر النبيين انتم آخر الامم“ سے ہوتی ہے۔ جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس لئے اس بحث میں دو باتیں ثابت کرنی ہیں۔
- اول ...... یہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو حضورﷺ کا امتی کہلاتا تھا یا نہیں۔
- دوم ...... یہ کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا نہیں۔
اگر یہ دونوں باتیں پائی جائیں تو نبی عربیﷺ کے قول کے مطابق یقیناً کذاب و دجال ہوا۔
٥٨
مرزا غلام احمد قادیانی ساتھ مرزا قادیانی (حقیقت الو یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں ا وجہ سے نبی ہوں۔“ مرزا غلام احمد قادیانی ہوئے (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ خزا بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ ا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول ع حالات میں مخالفین کے کسی اعتر ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہو کہ ایک صاحب پر ایک مخالف ک ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا د دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح ن نازل ہوتی ہے اس میں ایسے ا صد ہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب ص زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور ت ہوئے بائیس برس ہوئے۔ ع احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں الب بالھدی ودین الحق لیظہر پر اس عاجز کو رسول کرکے بھ ”جری الله فی حلل الانبیاء پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ ک اشداء علی الکفار رحماء وحی اللہ ہے جو (براہین احمدیہ ص دوسری قرآت یہ ہے کہ دنیا م
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو حضور ﷺ کا امتی مانتا تھا
ساتھ ہی ساتھ نبوت کا دعویٰ کرتا تھا
مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتا ہے: ”(میرا) صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں ۔“
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بعض مریدوں کو نبوت کے انکار کرنے پر سرزنش کرتے ہوئے (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) نامی اشتہار میں لکھتا ہے۔ ”ہماری جماعت میں بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ جن کو نہ بغور کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنی معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ : ”ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں“ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ”هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ “ (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی ہے۔ ”جَرِیَّ اللّٰهُ فِى حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ “ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں۔ (براہین احمدیہ ص ٥٠٤) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب یہ وحی اللہ ہے۔ ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗ اَشِدَّاءُ عَلَی الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ “ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو (براہین احمدیہ ص ٥١٦ حاشیہ در حاشیہ) میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ
٥٩
سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧)
مذکورہ بالا عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ”نبی عربی ﷺ“ کا امتی بن کر حضور ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈال کر اپنے کو نبی کہہ رہا ہے۔ نبی عربی ﷺ کے متعلق قرآنی آیات کا سرقہ اور غصب کر کے اس پر نازل ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہاں تک حضور ﷺ کا قرآنی نام ”محمد“ کے متعلق کہہ رہا ہے کہ خدا نے میرا (غلام احمد قادیانی) کا نام ”محمد“ رکھا۔ چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد!
دنیا میں مضمون کا سرقہ تو دیکھا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی طرح پورے کے پورے کتابی الفاظ کا چور تو بہت کم دیکھا گیا ہے۔ الغرض نبی عربی ﷺ کی پیشین گوئی کی بناء پر مرزا قادیانی کذاب اور دجال ٹھہرے۔ اس لئے جو مرزا قادیانی جیسے دجال اور کذاب پر ایمان لائے گا وہ حضور پر نور ﷺ کے طریقہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے کافر ہوگا اور جو کافر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی مستقل صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ
کرنے کی وجہ سے بقول حضور ﷺ کذاب اور دجال ہیں
- .......١ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- .......٢ ”قادیان اس لئے محفوظ رہے گا۔ (طاعون سے) کہ یہ رسول کا تخت گاہ
ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
- .......٣ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار البدر مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- .......٤
داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی جو تمام کمالات سارے انبیاء علیہم السلام میں تقسیم ہوئے تھے۔ وہ سب تنہا مرزا غلام احمد کو دیئے گئے۔ اس شعر میں تمام صاحب کتاب وصاحب شریعت نبی سے مرزا کے افضل ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے۔
٦٠
٥......
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہش دانم
از خطاہا ہمین است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
جو کچھ خدا کی وحی سے سنتا ہوں...... خدا کی قسم اس کا دامن خطا سے پاک ہے...... قرآن کی طرح اس وحی کو مبرا اور پاک جانتا ہوں...... خطاؤں سے یہی میرا ایمان ہے اس میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے۔ مرزا پر نازل شدہ وحی غلطیوں سے ایسی پاک ہے۔ جیسا قرآن پاک ہے۔ (آگے آپ کو مرزا قادیانی کی وحی کی حقیقت معلوم ہوگی)
٦......
من بعرفان نہ کمترم زکسے
کم نیم زاں بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص ٩٩،١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)
انبیاء اگرچہ بہت ہوئے ہیں...... میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں...... یقین کے اعتبار سے میں ان سے کم نہیں ہوں...... جو شخص جھوٹ کہے وہ لعین ہے۔
مرزا قادیانی نے اس شعر میں دعویٰ کیا۔ خدا کی معرفت میں میں نبیوں سے کم نہیں ہوں۔ صاحب شریعت نبی ہو یا غیر صاحب شریعت نبی۔ سب سے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
٧...... ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
٨...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن
٦١
جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ ص٦٢)
- ٩...... ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین
حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ١٠...... ”ہم تمام احمدی (مرزائی) جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح
سے تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر علیٰ الاعلان کہتے ہیں کہ ہم کو حضرت مسیح (مرزا قادیانی) نے جو بیان فرمایا۔ اس سے کم و بیش کرنا سلب ایمان سمجھتے ہیں۔“
(اخبار پیغام صلح ج ١ ص ٢٢، مورخہ ١٦؍ اکتوبر ١٩١٣ء)
- ١١...... ”پس شریعت اسلامیہ نبی کے جو معنی کرتی ہے اس معنی کے اعتبار سے
حضرت (مرزا قادیانی) صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
- ١٢...... ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھ سے کہا
جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپؐ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
- ١٣...... ”ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔ (یعنی
آنحضرت ﷺ کے بعد)“
(انوار خلافت ص ٦٢)
- ١٤...... ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ
ہے۔.... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
الغرض مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی عربی ﷺ کے امتی ہونے کے باوجود نبوت کا دعویٰ کر کے حضور پرنور ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق کذاب و دجال ٹھہرے جو مرزا قادیانی جیسے کذاب و دجال کو نبی مانے گا وہ نبی عربی ﷺ کے باغی ہونے کی وجہ سے کافر ہوگا جو کافر ہوگا وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی ہوگا۔ اس کی نجات نہیں ہوگی۔
مرزا قادیانی کا جھوٹ
ناظرین! مرزا قادیانی کے مختصر حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو محمدی بیگم کے نکاح میں ناکامی ہوئی تو ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء میں پیشین گوئی کی تھی۔ ”اگر مرزا احمد بیگ اس (سلطان محمد) سے نکاح کر دے گا تو اس کا شوہر روز نکاح سے اڑھائی برس کے اندر مر
٦٢
جائے گا۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)
چنانچہ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ سلطان محمد نے ١٨٩٢ء میں محمدی بیگم سے نکاح کیا اور مرزا قادیانی کے بقیہ سولہ سالہ زندگی تک مرزا قادیانی کے محبوبہ کے ساتھ داد عیش دیتا رہا اور ١٩٢١ء تک زندہ رہا اور مرزا قادیانی بقول خود جھوٹا ٹھہرا اور ٢٦؍ جولائی ١٩٠٨ء کو نہایت حسرت سے دنیا سے کوچ کر گئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ٥؍ جون ١٨٩٣ء میں مشہور عیسائی مناظر عبداللہ آتھم کے متعلق پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھا تھا۔ ’’وہ (عبداللہ آتھم) پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر اک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣، مورخہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء)
ناظرین ! آپ پڑھ چکے ہیں کہ ٥؍ ستمبر ١٨٩٣ء تک پندرہ ماہ گزر گئے۔ مسٹر آتھم نہ مرا۔ مرزا قادیانی بقول خود جھوٹے ٹھہرے۔ روسیاہ ہوئے۔ بقول مرزا پشاور سے کلکتہ تک مرزا قادیانی کی جس قدر رسوائی ہوئی وہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی بیس سالہ مرید ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی پیشین گوئی کے متعلق لکھتے ہیں۔
’’اس (ڈاکٹر عبدالحکیم خان) نے پیشین گوئی کی میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیشین گوئی کے مقابلہ پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جاوے گا۔ خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)
مقابلہ کا نتیجہ یہ نکلا۔ مرزا قادیانی چونکہ خدا کی نظر میں کاذب (جھوٹا) تھا۔ اس لئے اس کی پیشین گوئی غلط نکلی اور ٤؍ اگست ١٩٠٨ء کے اندر یعنی ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان صادق (سچا) تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے برخلاف ٢١؍ جون ١٩١٩ء تک زندہ رہا۔
٦٣
مرزا غلام احمد قادیانی کے پرانے حریف مولانا ثناء اللہ امرتسری کو خطاب کرتے ہوئے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اگر میں ایسا ہی کذاب (حد سے زیادہ جھوٹا) اور مفتری (بہتان باندھنے والا) جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں مفسد کی عمر دراز نہیں ہوتی۔ آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہو جانا ہی بہتر ہے۔ تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔“
(مرزا قادیانی نہایت گڑگڑا کر دعاء کرتے ہوئے لکھتے ہیں) ”اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
مرزا غلام احمد قادیانی (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) پر لکھتے ہیں: ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت ”طاعون“ پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح نے بھی انجیل میں خبر دی ہے۔ ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“
نوٹ: ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی کا سفید جھوٹ ملاحظہ فرمائیے کہ مسیح کے وقت میں طاعون پڑنے کا ذکر قرآن میں کہیں موجود نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) میں لکھتے ہیں۔ ”خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے قادیان کا نام لے دیا ہے کہ قادیان کو اس (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
مرزا قادیانی (مواہب الرحمٰن ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٤٢) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”لنا من الطاعون امان ولا تخوفونی من هذه نیران فان النار غلامنا بل غلام الغلمان یعنی ہمارے لئے طاعون سے امان ہے۔ مجھ کو طاعون سے مت ڈراؤ۔ طاعون ہمارے غلام اور تابعدار ہے۔ بلکہ غلاموں کا غلام ہے۔“
”خدا مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چہار دیواری کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے
٦٤
جائیں گے۔“
مرزا قادیانی چ نکلی۔ قادیان میں یہ مرض جس میں (٣١٣) اس مع محمد افضل اسی زمانہ میں مرض سے کسی نے بھی اس مرنے تھی۔ بحکم مرزا قادیانی اس کنوئیں کے پانی کو کوئی اب طرح قاضی امیر حسین بھی سلوک کیا۔ جو افضل مذکور شور و غل کیا کہ آپ کے مر
جب مرزا قاد مرزا قادیانی نے جھٹ تاو
مرزا غلام احمد انتقال ہو جاتا ہے۔ یعنی ا میری طرف سے خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ادیان باطلہ میں نہ آوے۔ یعنی اسلام دنیا اور رنگ نہ پکڑ پائے تو
ناظرین! مرز برس کے اندر ظاہر ہوں مرزا قادیانی کے قول سے نتیجہ: مرزا قاد
جائیں گے۔“
(کشتی نوح ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٢)
مرزا قادیانی چونکہ بقول نبی عربی ﷺ کذاب و دجال تھے۔ ان کی پیشین گوئی غلط نکلی۔ قادیان میں یہ مرض پھیلا اور خوب پھیلا۔ چنانچہ قادیان کی کل مردم شماری (٢٨٠٠) تھی۔ جس میں (٣١٣) اس موذی مرض سے ہلاک ہوئے۔ مرزا قادیانی کا مقرب اخبار البدر کا ایڈیٹر محمد افضل اسی زمانہ میں مرض طاعون میں قادیان ہی میں ہلاک ہوا۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں میں سے کسی نے بھی اس مرنے والے کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ جس مسجد میں اس کی چارپائی رکھی گئی تھی۔ بحکم مرزا قادیانی اس مسجد کے کنوئیں سے رسی اور ڈول کئی دنوں تک اترا رہا۔ اس لئے کہ اس کنوئیں کے پانی کو کوئی اپنے گھروں میں نہ لے آئیں۔ نہ ہی اس کی جنازہ کی نماز پر کوئی گیا۔ اسی طرح قاضی امیر حسین بھیروی کا جب لڑکا طاعون کا شکار ہوا تو بھی مرزائیوں نے اس سے بھی وہی سلوک کیا۔ جو افضل مذکور سے کیا تھا۔ قاضی موصوف نے مرزا قادیانی کی خدمت میں بہت شور و غل کیا کہ آپ کے مرید کافروں سے بھی بدتر ہیں۔ وغیرہ!
(اخبار بدر مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء، ٢٤؍ اپریل ١٩٠٢ء، ١٦؍ اپریل ١٩٠٢ء)
جب مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ٹھہرے اور مخالفین نے شور مچایا تو مرزا قادیانی نے جھٹ تاویل کی کہ: ”پیشین گوئی میں قادیان کا لفظ نہ تھا۔ بلکہ قریہ کا لفظ تھا۔“
(اخبار البدر مورخہ ٣١؍ اکتوبر ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ٧٩)
مرزا غلام احمد قادیانی ٢٢؍ جون ١٨٩٢ء میں فرماتے ہیں اور ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء میں ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ یعنی اپنی موت کے بارہ برس پہلے لکھتے ہیں کہ: ”پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوا اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعے سے ظہور میں نہ آوے۔ یعنی اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ پائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣١٨، ٣١٩)
ناظرین! مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے پانچ باتیں پیش کیں کہ یہ سات برس کے اندر ظاہر ہوں گے۔ آپ انصاف سے بولئے کہ کیا یہ باتیں پائی گئیں۔ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی کے قول سے مرزا قادیانی خود کاذب ہوئے۔
نتیجہ: مرزا قادیانی چونکہ بقول خود مفسد (فسادی) کاذب (جھوٹا تھا) اس لئے صادق
٦٥
یعنی مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی ہی میں بمرض ہیضہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دنیا سے کوچ کر گیا اور ثناء اللہ امرتسری دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت دنوں تک زندہ رہے۔ الغرض مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کی بے شمار دلیلیں ہیں۔ جو کذبات مرزا میں آپ پڑھ سکتے ہیں۔
ناظرین! آپ ہی انصاف سے کہئے کہ جو شخص اس درجہ کا کذاب و دجال ہو وہ نبی ہو سکتا ہے۔ نبی بننا تو درکنار ایک شریف آدمی بھی بن سکتا ہے؟
نبی عربی ﷺ کا ارشاد گرامی ملاحظہ کیجئے۔ منافق کی نشانی یہ ہے کہ: ”اذا حدث کذب واذا خاصم فجر (مشکوۃ ص ١٧، باب الکبائر وعلامات النفاق)“ یعنی جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب جھگڑے تو گالی دے۔
حدیث کے پہلے ٹکڑے کی تحقیق ہوچکی۔ اب دوسرے حصے کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے مرزا قادیانی کی تصنیفات سے مرزا قادیانی کی ایجاد کردہ ہزاروں گالیوں میں ان گالیوں کو پیش کرتے ہیں جو مرزا قادیانی نے علماء کرام خصوصاً مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کو دیتے ہوئے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ تا ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ تا ٣٣٧) تک دی ہے۔
- ١....... رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ۔
- ٢....... ”علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ“ خدا کے لعنت کی دس لاکھ جوتیاں ان
پر پڑیں۔
- ٣....... ناپاک اشتہار۔
- ٤....... اے پلید دجال۔
- ٥....... تعصب کے غبار سے اندھا کر دیا۔
- ٦....... احمقانہ عذر۔
- ٧....... ان احمقوں نے۔
- ٨....... اے نادان۔
- ٩....... آنکھوں کے اندھے۔
- ١٠....... مولویت کو بدنام کرنے والا۔
- ١١....... مگر یہ خالی گدھے ہیں۔
- ١٢....... جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے۔
- ١٣....... ظالم مولوی۔
٦٦
- ١٤....... اے اسلام کے عار مولوی
- ١٥....... جہالت کی زندگی سے مر
- ١٦....... چو کافر شناسا تر از مولوی
- ١٧....... اس احمق۔
- ١٨....... کیا تمہارا جنازہ پڑھاو
- ١٩....... حماقت ظاہر ہوئی۔
- ٢٠....... تمہارا گندہ جھوٹ۔
- ٢١....... مگر تم نے حق کو چھپا
- ٢٢....... پس اے بدذات۔
- ٢٣....... خبیث۔
- ٢٤....... دشمن، اللہ و رسول۔
- ٢٥....... یہودیانہ تحریف۔
- ٢٦....... مگر تیرا جھوٹ اے
- ٢٧....... وہ بدذات خود پکڑا گیا
- ٢٨....... اور بے ایمان ہے۔
- ٢٩....... اس نا بکار کی تزویر اور
- ٣٠....... ان کی عقلوں پر غلاف
- ٣١....... تمام دنیا سے بدتر
- ٣٢....... ایمانی روشنی مسلوب
- ٣٣....... ان کے دلوں پر اقف
- ٣٤....... سب مخالفوں سے
- ٣٥....... ”(یعنی احمد بیگ
نکاح میں آجائے اور ذلت کے سا دیں گے۔“
ناظرین! آپ ہ
- ١٤ ...... اے اسلام کے عار مولویو۔
- ١٥ ...... جہالت کی زندگی سے موت بہتر۔
- ١٦ ...... چو کافر شناسا تر از مولوی است ...... بریں مولویت بباید گریست
- ١٧ ...... اس احمق۔
- ١٨ ...... کیا تمہارا جنازہ پڑھوا دیا جائے۔
- ١٩ ...... حماقت ظاہر ہوئی۔
- ٢٠ ...... تمہارا گندہ جھوٹ۔
- ٢١ ...... مگر تم نے حق کو چھپانے کے لئے جھوٹ کا گوہ کھایا۔
- ٢٢ ...... پس اے بدذات۔
- ٢٣ ...... خبیث۔
- ٢٤ ...... دشمن، اللہ ورسول۔
- ٢٥ ...... یہودیانہ تحریف۔
- ٢٦ ...... مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔
- ٢٧ ...... وہ بدذات خود پکڑا گیا۔
- ٢٨ ...... اور بے ایمان ہے۔
- ٢٩ ...... اس نابکار کی تزویر اور تلبیس ہے۔
- ٣٠ ...... ان کی عقلوں پر ضلالت کا گرہن لگ گیا۔
- ٣١ ...... تمام دنیا سے بدتر۔
- ٣٢ ...... ایمانی روشنی مسلوب۔
- ٣٣ ...... ان کے دلوں پر افکار کی ظلمت کا خسوف وکسوف لگ گیا۔
- ٣٤ ...... سب مخالفوں سے کہتے ہیں کہ جس وقت یہ باتیں پوری ہو جائیں گی۔
- ٣٥ ...... ” (یعنی احمد بیگ کا داماد سلطان محمد) میرے روبرو مر جائے گا اور اس کی بیوی میرے
نکاح میں آ جائے گی تو اس دن نہایت صفائی سے (مخالفوں کی) ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
ناظرین! آپ مرزا قادیانی کی گالیوں بدزبانیوں کی طرف دیکھئے۔ خصوصاً گالی
٦٧
نمبر ٣٥ کی طرف دیکھئے کہ مرزا قادیانی کی محبوبہ کے چھن جانے پر مرزا قادیانی اپنے مخالفین کو جو گالیاں دے رہے ہیں یہ ایک نبی تو درکنار ایک شریف انسان کے منہ سے نکل سکتی ہیں۔ ایسے گندہ دہن شخص کو نبی ماننے والے کا کیا حکم ہوسکتا ہے۔ آپ اپنی ضمیر سے فیصلہ کیجئے۔
نبوت کی چوتھی شرط
انبیائے سابقین یعنی گذشتہ نبیوں، رسولوں کا احترام، کتابوں کی تصدیق
چونکہ ہر سچا نبی اللہ کا نائب ہے۔ اللہ ہی کے حکم کی بناء پر نبوت ورسالت کے فرائض ادا کرتا ہے۔ اس لئے ہر سچے نبی کی تعظیم کرنا گویا خداوند تعالیٰ کی تعظیم واحترام کرنا ہے۔ ان کی توہین وہتک انہیں جھٹلانا گویا خداوند تعالیٰ کی توہین وہتک کرنا اور جھٹلانا ہے اور خداوند عالم کی توہین وتکذیب کرنے والا۔ جھٹلانے والا کافر وجنمی ہوتا ہے۔ نبوت ورسالت سے سرفراز نہیں ہوسکتا۔ اسی قاعدہ کی بناء پر ہر نبی اپنے سے پہلے کے نبیوں کا احترام کرتے تھے اور اپنے پیروؤں کو بھی ادب واحترام کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ ”تفریق بین الانبیاء“ بعض نبیوں کو ماننے بعضوں کو نہ ماننے سے روکتے تھے۔ ”لا نفرق بين احد منهم“ مثلاً یہود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کی بے عزتی کرتے تھے۔ ناجائز اولاد کہہ کر رسول ہونے سے انکار کرتے تھے۔ ان کے برخلاف نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ نے خود بھی تعظیم کی۔ مسلمانوں کو تعظیم کرنے کے لئے خدائی حکم سنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن نے کہا۔ ”وجيهاً في الدنيا والآخرة ومن المقربين“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دین ودنیا دونوں جگہ عزت والے ہیں اور مقرب بارگاہ خدا ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق ارشاد ہے۔ ”التي احصنت فرجها“ مریم علیہا السلام وہ ہے جس نے ہمیشہ اپنے کو باعصمت رکھا۔ ”ان الله اصطفاك وطهرك واصطفاك على نساء العالمين“ اے مریم علیہا السلام تجھ کو اللہ نے پسند کیا اور پاک بنایا اور سارے جہان کی عورتوں سے برگزیدہ بنایا۔ چنانچہ آج دنیا میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کی عزت واحترام آپؐ ہی کی تعلیم کی بناء پر ہو رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔
الغرض اوپر کی تقریر سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ نبیوں میں سے کسی نبی کی توہین کرنے والے شخص کا نبی ہونا تو درکنار قرآنی تعلیم کے خلاف کرنے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہوگا۔ ”ومن يرتدد منكم عن دينه فيمت وهو كافر“ ابدی عذاب کا مستحق ہوگا۔
٦٨
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں بدزبانی
نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک مسیح ابن مریم علیہ السلام عیسیٰ اور یسوع تینوں سے ایک ہی شخص مراد ہے۔ ”مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
”یسوع کی تمام پیشین گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے۔ اگر ایک پیشین گوئی بھی اس پیشین گوئی کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔ اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ پس ان دنوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی پیشین گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھلایا نہیں جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی۔ اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے ..... یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں۔ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا ..... متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرف مرگی کو بیماری نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ آسیب خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں اکثر غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“
(بقول مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے آپ کی مرمت کرتے تھے۔ عیسیٰ موٹی عقل والا (بیوقوف) ہے)
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤، ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٩)
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت مریم علیہا السلام کی نسبت یوں بدزبانی کرتے ہیں: ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گیا۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توراۃ عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد
٦٩
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد یہودی تھا؟
”آپ کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ نے تورات سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو کچھ زیرکی سے کچھ حصہ نہیں دیا تھا۔ یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہرحال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اس وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٦، خزائن ج١١ ص٢٩٠)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے انکار
”حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔ ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اس تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٦، ٧، خزائن ج١١ ص٢٩٠، ٢٩١)
”قرآنی تعلیم کے برخلاف حضرت مسیح بن مریم کا باپ یوسف نجار تھا۔ مسیح ان کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے تھے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
بقول مرزا قادیانی ”مسیح ابن مریم مکار و فریبی تھے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب اور کچھ نہ تھا۔ پھر افسوس نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کی توہین
”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ابھی تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر واپس
٧١
ڈالی گئی۔ یعنی باجود یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
ناظرین! حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کو جس کی پاکدامنی کی تصدیق قرآن ”التی احصنت فرجہا“ (یعنی مریم وہ ہے جس نے ہمیشہ اپنے کو با عصمت رکھا ہے ) کر رہا ہے۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کس قدر تہمتیں لگا رہے ہیں۔
پہلی تہمت : حضرت مریم علیہا السلام کو نکاح کے قبل حمل ہو گیا تھا۔
دوسری تہمت : حمل کی حالت میں نکاح کر دینا توریت کی بناء پر ناجائز تھا۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ نکاح کے بعد جو اولاد ہوگی ناجائز نکاح سے پیدا ہوئی۔
تیسری تہمت : مریم علیہا السلام نے خدا سے کنواری رہنے کا عہد کر کے اپنے عہد کو توڑ ڈالا۔
چوتھی تہمت : یہ کہ قرآن تو عیسیٰ کے بن باپ کے پیدا ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے ماں کی طرف نسبت کر کے ابن مریم کہے اور مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یوسف نجار کو باپ ٹھہرائیں اور مریم بتول کے لئے قرآنی حکم کے خلاف یوسف نجار سے نکاح کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جھوٹ بولنے کا اتہام
”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں۔ جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ پھر ایسا ظاہر کیا ہے گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی ۔ عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی۔ (بقول مرزا قادیانی عیسیٰ چور تھے اور عیسیٰ کی تعلیم کچھ عمدہ نہیں تھی ) پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں۔ عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، ٦ حاشیہ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩،٢٩٠)
٧٠
آجاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں اس کے بعد بھی انیس صدیوں میں مر چکیں۔ مگر آپ اب تک نہ تشریف لاتے ہوئے خود وفات پاچکے۔ مگر اس جھوٹی پیشین گوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر باقی ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩١، ٢٩٢)
نوٹ: بعض قادیانی ان عبارتوں کے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ سب عیسائی پادریوں کے مقابلے میں الزامی طور پر لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ محض دھوکا اور بناوٹ ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ہی ایسا ہے۔ اس لئے کہ مذکورہ بالا باتیں دافع البلاء میں بھی موجود ہیں دافع البلاء کے مخاطب زیادہ تر علماء اسلام ہیں۔ جس کا جی چاہے (دافع البلاء مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) پوری کتاب پڑھ کر دیکھ لے۔ اس ظالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جس قدر گندی اور فحش باتیں منسوب کی ہیں وہ ایک شریف انسان کے منہ سے ہرگز نہیں نکل سکتی۔ دافع البلاء مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت ملاحظہ فرمائیے ۔ ”مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے جسم کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
مذکورہ بالا عبارت کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تین تہمتیں رکھی ہیں۔ (العیاذ باللہ)
- اوّل ...... یہ کہ وہ شراب پیتے تھے۔
- دوم ...... فاحشہ اور بدکار عورتوں سے ان کی ناپاک کمائی سے حاصل کیا ہوا عطر اپنے
سر پر ملواتے تھے اور ان کے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اپنے بدن کو چھواتے تھے۔
- سوئم ...... بے تعلق اور جوان عورتیں ان کی خدمت کرتی تھیں۔ مذکورہ بالا تہمتوں کو
درست ثابت کرنے کے لئے کہتا ہے۔ خدا نے انہی قصوروں کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو حصور (اپنی خواہش نفس کو روکنے والا) نہیں فرمایا۔
حالانکہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن پاک میں حصور نہ کہنے کا یہ نتیجہ نکالا جائے تو پھر تمام جلیل القدر پیغمبروں، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ علیہم السلام خود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ ظالم کہے گا کہ چونکہ ان حضرات کے متعلق بھی قرآن میں حصور کا لفظ کہیں
٧٢
استعمال نہ کیا گیا۔ اس لئے ان کی عصمت محفوظ نہیں رہے گی۔ (خدا کی پناہ) خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جلالت شان کو ثابت کرنے کے لئے ”وجیها فی الدنیا والاخرہ“ فرمایا اور مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی خاندان پر تہمتیں رکھ کر خوب گندی گالیاں دیتے۔ کیا ایسا شخص رسول یا شریف انسان ہو سکتا ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی نسبت مرزا قادیانی کی بدزبانی
- .......١
اتنکر“ اس کے (محمد) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔ اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)
- .......٢ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں : ”اور تمام دنیا پر مجھے بزرگی ہے۔“
(کتاب البریہ ص٨٥، خزائن ج١٣ ص١٠٣)
ظاہر ہے کہ تمام دنیا میں حضور نبی عربی ﷺ بھی داخل ہیں۔ تو گویا حضور ﷺ پر مرزا قادیانی کو بزرگی و شرف حاصل ہے۔
- .......٣ (حقیقت الوحی ص٢٧، خزائن ج٢٢ ص١٠) میں مرزا قادیانی اپنی نسبت لکھتے
ہیں : ”واتانی مالم یؤت احدا من العالمین“ یعنی مجھے وہ ملا جو تمام دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔
حضرت امام حسین کی توہین
بخدا اسے (حسین کو) مجھ سے کچھ زیادہ نہیں۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو۔
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣) اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
دونوں شعروں میں مرزا قادیانی اپنے آپ کو سیدنا حسین سے افضل ہونے کو ثابت کیا ہے۔ جگر گوشہ رسول اکرم ﷺ کی توہین کرنے والے کے متعلق فیصلہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔
کافروں، فاسقوں کی خوشامد اور چاپلوسی نہ کرنا
چونکہ نبی اور رسول اللہ کا نائب اور نمائندہ ہوتا ہے۔ وہ ”الدنيا جيفة وطالبها كلاب“ کے بمصداق چند روزہ دنیاوی مفاد کے لئے ذلیل قسم کے سرکار پرستوں، کاسہ لیسوں دنیا
٧٣
کے کتوں کی طرح کسی عورت کے خاندان یا گورنمنٹ برطانیہ جیسی کافر حکومت کی ایسی ذلیل خوشامد ہرگز نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کے خاندان یا انگریزی حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری، وابستگی، خیر خواہی اور دعاء گوئی کا ایسا گھناؤنا مظاہرہ کیا ہے جو کسی ذلیل سے ذلیل حکومت پرست یا بے حیا عاشق خوددار کی بھی کوئی ایسی تحریر نہیں دیکھی گئی۔ ذیل میں مرزا قادیانی کے دو مضمون درج کرتے ہیں اور فیصلہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ ایسی گندی اور پست فطرت کا مظاہرہ کرنے والا شخص نبی تو درکنار کیا ایک خوددار آدمی بن سکتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں۔
محمدی بیگم اور مرزا قادیانی
مشفقی مرزا علی بیگ صاحب سلمہ تعالٰی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب الطبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ آپ کو اس سے بہت رنج گذرے گا۔ مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا، دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالٰی کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہوگئے۔ یوں تو مجھے کسی لڑکی سے کیا غرض، کہیں جائے۔ مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو وہی خون کے پیاسے۔ وہی میری عزت کے پیاسے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ خوار ہو رو سیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ
٧٢
مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہیں دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بیشک وہ طلاق دے دے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے یہ کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا رشتہ رہ گیا ہے۔ جو چاہے سو کرے۔ ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں۔ بیشک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں، خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے کو تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا آپ کی خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی (منکوحہ آسمانی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضے میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو، ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب رشتے ناطے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج بمورخہ ٢٨ مئی ١٨٩١ء (منقول از کلمۂ فضل رحمانی)
مرزا احمد بیگ (آسمانی خسر کے نام) مرزا کا خط
مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تو
٧٥
بہت درد اور رنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا۔ اور یہ خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے اعزہ پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل نیک صالح عطاء فرمائے اور عزیزی مرزا بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے۔ آپ کے لئے دعائے خیر و برکت چاہتا ہوں۔
میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو ہمیں خدائے قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدائے تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلادیا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں کوئی غم اور فکر کی بات نہ ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشین گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں۔ بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشین گوئی کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ پر ایمان لایا ہے۔ ایسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز
٧٦
یہ عاجز بیمار تھا۔ اور یہ خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے کئی ماؤں کے لئے سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند نگاہ فرمائے اور عزیزی مرزا بیگ کو عمر دراز بخشے کہ ما بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل علیم جانتا ہے۔ آپ کے لئے دعائے خیر و برکت ان لفظوں میں بیان کروں۔ تا میرے دل کی محبت آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک مان خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو دوسرا مسلمان پس خدائے قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات مام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز میں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ پنے میں خیر خواہی سے آپ کو جتلا دیا کہ دوسری م طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی ا کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے ہنہ ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے افرانی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہو گا یا نہیں کہ لتا ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے اور ایک جہاں کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ پنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں بعد اس پیشین گوئی کے لئے بصدق دل دعا عطائے اور یہ عاجز جیسے ”لا الہ الا الله تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز
٧٣٧
پر ہوئے۔ ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے بندہ کوئی لڑائی نہیں کر سکتا۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا زمین پر ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطاء فرماوے۔ اگر میرے اس خط میں ناملا ئم لفظ ہو تو معاف فرماویں۔ والسلام !
(خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ۔ مورخہ ١٧ جولائی ١٨٩٢ء بروز جمعہ منقول از کلمتہ فضل رحمانی)
ناظرین ! نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ خط کلمہ فضل رحمانی میں چھپ چکا ہے۔ مرزا قادیانی کے چچا زاد بھائیوں سے ایک دیوار کے مقدمہ کے سلسلے میں مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا۔ ”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیشین گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور ...... وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ ” کلمہ فضل رحمانی“ میں ہے وہ میرا ہے۔“
(الحکم مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء ص١٤)
انگریزی حکومت کے ساتھ مرزا قادیانی کی وفاداری
مرزا قادیانی نے (شہادۃ القرآن ص٨٤، خزائن ج٦ ص ٣٨٠) میں گورنمنٹ کی توجہ کے لائق کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ اس میں مرزا قادیانی نے اپنے والد غلام مرتضیٰ اور بڑے بھائی غلام قادر کی انگریز پرستی اور ١٨٥٧ء کے غدر میں جانی اور مالی امداد کے سلسلہ کو فخراً بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انگریزی گورنمنٹ کی شکر گذاری میرے رگ وریشہ میں سمائی ہوئی ہے۔
حکومت برطانیہ کے احسانات اصلہ اور عطیہ جات کو تفصیل سے لکھ کر آخر میں لکھتے ہیں کہ: ”ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں۔ جس طرح ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعاء کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعاء کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے۔ جیسا کہ اس کا شکر کرنا ، سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہ کیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کا خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطاء کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسرے کا چھوڑنالازم آجاتا ہے۔ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس
٧٧
گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں پناہ دی ہو، سو وہ حکومت برطانیہ ہے۔“
مذکورہ بالا عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب نصاریٰ پرستی، نصرانی حکومت کا وظیفہ پڑھنا اور نصرانی حکومت کے لئے شکر اور دعاء کرنا ہے۔ نصاریٰ یعنی حکومت برطانیہ سے جہاد کرنا بقول مرزا قادیانی ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ اس بناء پر انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جتنے وطن پرستوں نے انگریزوں سے جہاد لسانی، قلمی یا سیفی یا ہتھیار کے بل پر کیا وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے نزدیک حرامی اور بدکار لوگ ہیں۔ ”تف بر تو اے چرخ گردان تفو“
ناظرین! آپ مرزا قادیانی کی سوانح عمری (لائف) پڑھ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بلند بانگ دعوؤں، جھوٹی باتوں، غلط پیشین گوئیوں، انبیاء اور صلحاء پر بہتان وافتراء پردازیوں، کم سن لڑکی کے عشق میں مرزا قادیانی کی مخبوط الحواسیوں کے ساتھ انگریز پرستی کے گھناؤنے مظاہروں، خانہ ساز وحیوں کے متعلق نبی عربی محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی قرآن کی آیت پیش کرتا ہوں۔ آپ اس کے معنی کو بغور پڑھ کر نوعیّت مرزا کو تطبیق دیجئے۔ اگر آیت کے مطابق ہو تو اس پر اور اس کی نبوت پر لعنت بھیجئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی بن کر لازوال نعمتوں سے مالا مال ہوجئے۔ ورنہ اپنی عقل کے ناخن لیجئے۔
حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ”ھل انبئکم علٰی من تنزل الشیاطین تنزل علٰی کل افاك اثیم (شعراء:٢٢١،٢٢٢) ﴿ہم تم کو بتلاتے ہیں کہ شیطان کن لوگوں پر اترتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والوں، افتراء پردازوں اور پاپیوں پر اترتے ہیں۔﴾
چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی، افاک، حد سے زائد جھوٹ بولنے والا، بہتان تراشنے میں ماہر اثیم پاپی انسان تھا۔ اس لئے اس پر شیطان کی طرف سے وحی آتی تھی۔ ادھیڑ عمر میں محمدی بیگم کے عشق کی وجہ سے دماغی سکون و توازن کھو چکے تھے۔ اس لئے ایسا شخص نہ نبی بن سکتا ہے نہ پیروی کے قابل انسان تھے۔
٧٨
مرزائے قادیانی اور اس کے امراض
بیماری، ضعف، نامردی اور امراض خبیثہ کا شکار۔ ناظرین! مرزا قادیانی کی سوانح عمری کے ساتھ مرزا قادیانی کے امراض بھی پروفیسر الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب سے نقل کرتا ہوں۔ تاکہ ناظرین کو بھی اندازہ ہو سکے۔ جس کی جسمانی حالات ایسی ہو۔ ایسے شخص کا مسیح موعود، مجدد، مثیل عیسیٰ، عیسیٰ اور نبوت کا دعویٰ کرنا دماغی فتور اور جسمانی خرابیوں کی وجہ سے نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
مرزا غلام احمد قادیانی کی تیس سالہ بیماری خود ان کی زبانی
”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصے میں کہ پیشاب کی کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماری قریب تیس برس سے ہیں۔“
(نسیم دعوت ص٧٠، خزائن ج١٩ ص٣٦٥)
”میں ایک دائم المریض آدمی ہوں۔ ہمیشہ درد سر اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ آتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر٤ ص٤، خزائن ج١٧ ص٤٧٠، ٤٧١)
ضعف دماغ اور نامردی کا یقین
”دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب، دق کی بیماری کا اثر بکلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا۔ کیونکہ میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔“
(نزول المسیح ص٢٠٩، خزائن ج١٨ ص٥٨٧)
”جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک یقین رہا کہ نامرد ہوں۔ آخر میں نے صبر کیا۔“ خاکسار: غلام احمد قادیانی مورخہ ٢٢ فروری ١٨٨٧ء
(مکتوب احمدیہ ج٥ ص٢١، خط نمبر١٤ بنام حکیم نور الدین)
٧٩
نوٹ: شادی سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی کی دوسری شادی ہے جو مسماۃ نصرت جہاں بیگم بنت نواب ناصر سے ہوئی تھی۔ اس وقت مرزا قادیانی دائم المریض تھے۔ عمر پچاس سال سے متجاوز تھی۔ شادی کے وقت نامردی کا یقین تھا۔ پھر بھی اس دوسری بیوی کے بطن سے دس اولاد ہوئی اور جوانی میں پہلی بیوی سے صرف دولڑکے، تفصیل سنئے:
’’خاکسار (مرزا بشیر احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے دولڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد۔ حضرت صاحب ابھی گویا بچے ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے تھے اور ہماری والدہ صاحبہ (دوسری بیوی) سے حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل اولاد پیدا ہوئی۔
نمبر شمار نام ولادت وفات ١ عصمت ١٨٨٦ء ١٨٩١ء ٢ بشیر احمد ١٨٨٧ء ١٨٨٨ء ٣ مرزا بشیر الدین محمود احمد ١٨٨٩ء × ٤ شوکت ١٨٩١ء ١٨٩٢ء ٥ خاکسار مرزا بشیر احمد ١٨٩٣ء × ٦ مرزا شریف احمد ١٨٩٥ء × ٧ مبارکہ بیگم ١٨٩٧ء × ٨ مبارک احمد ١٨٩٩ء ١٩٠٧ء ٩ امۃ النصیر ١٩٠٣ء ١٩٠٣ء ١٠ امۃ الحفیظ ١٩٠٤ء ×
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٣، روایت نمبر ٥٩)
خطرناک دورۂ مرض
’’قریباً نصف گھنٹہ تک (مرزا غلام احمد قادیانی) جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ پھر ایک لختہ، بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی۔ ساتھ ہی قے ہوئی جو خالص خون کی تھی۔ جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ص ٩٧ حصہ اوّل)
٨٠
مانخولیا یا مراق کا مریض
’’سوال:...... مانخولیا کیا جواب....... مانخولیا ایک پیدا ہوتا ہے۔ جس عضو میں یہ مادہ چڑھتے ہیں۔ (شرح الاسباب ح اور جیسا کہ عورتوں میں رحم کی خر طرح اندرونی اعضاء کے فتور سے
علامات مرض
’’کھٹی ڈکاریں آنا، ما گاہے جسم کے اوپر حصہ میں تپکی اور ب کی بیشی کے مطابق کمزوری لاحق ہو
مانخولیا یا مراق کے کرشمے
’’بعض مریضوں میں ی غیب داں سمجھتا ہے۔ اکثر ہونے وا تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے
’’مریض کے اکثر او میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً....... مر ہے۔ خدا کی باتیں کرتا ہے اور لوگو
مراق کا سلسلہ
’’مراق کا مرض حضر کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا ب ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق
مالیخولیا یا مراق کا مریض
"سوال ...... مالیخولیا یا مراق کس بیماری کو کہتے ہیں؟ اس کی نشانی کیا ہے؟ جواب ...... مالیخولیا کی ایک قسم مراق ہے یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا پیدا ہوتا ہے۔ جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔ (شرح الاسباب والعلامات) تحقیقات جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرض عصبی ہے اور جیسا کہ عورتوں میں رحم کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اندرونی اعضاء کے فتور سے ضعف دماغ ہو کر مردوں میں مراق ہو جاتا ہے۔"
(مخزن حکمت مصنفہ حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی طبع دوم)
علامات مرض
"کھٹی ڈکاریں آنا، ہاضمہ خراب ہو جانا، پاخانہ پتلا ہونا، ہر بات میں مبالغہ کرنا۔ گاہے جسم کے اوپر حصہ میں کپکپی اور لرزہ ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیوں یا تمام بدن کا ٹھنڈا ہو جانا۔ مرض کی کمی بیشی کے مطابق کمزوری لاحق ہونا۔ یہاں تک کہ کبھی غشی تک نوبت پہنچ جائے۔"
مالیخولیا یا مراق کے کرشمے
"بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے۔ اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔"
(شرح الاسباب والعلامات طبی کتاب)
"مریض کے اکثر اوہام اس کام کے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً ...... مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدا کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔"
(اکسیر اعظم جلد اول ص ١٨٨)
مراق کا سلسلہ
"مراق کا مرض حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) کو موروثی نہ تھا۔ بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا۔ جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔"
(رسالہ ریویو قادیان ص١٠، بابت اگست ١٩٢٦ء)
٨١
مرزا قادیانی کی بیوی بھی مراقی تھی
”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔“
(مرزا قادیانی کا عدالتی بیان منقول از منظور الٰہی ص ٢٤٤)
گھریلو شہادت
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ (مرزا قادیانی کی دوسری بیوی) نے کہ حضرت (مرزا) صاحب کے ایک حقیقی ماموں تھے۔ جن کا نام مرزا جمعیت بیگ تھا۔ ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئی اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا۔ لڑکے کا نام مرزا علی شیر تھا اور لڑکی کا حرمت بی بی۔ لڑکی حضرت صاحب کے نکاح میں آئی اور اسی کے بطن سے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد پیدا ہوئے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٢٥ روایت نمبر ٢١٢)
مراق کا اثر اور پہلا دورہ
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے اٹھوایا پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے۔ جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر گر گیا۔ اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔۔۔۔ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے۔ اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١٧ روایت نمبر ١٩)
خلیفہ ثانی میاں محمود کو بھی مراق کا دورہ
”جس خاندان سے اس کی ابتدا ہو چکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خان مندرجہ رسالہ ریویو قادیان ص ١١، اگست ١٩٢٦ء)
ناظرین! مرزا قادیانی اور ان کے بیٹے مرزا محمود کے اقرار سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو مالیخولیا کا مرض تھا اور مالیخولیا کے اثر سے مریض اپنے آپ کو غیب دان، فرشتہ سمجھنے،
٨٢
پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دینے کو طبی اور ڈاکٹری کتابوں کے حوالہ سے ہم ثابت کر چکے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا دعویٰ کرنا اسی بیماری کی وجہ سے تھا۔
ہسٹریا کی بیماری تھی
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٥ روایت نمبر ٣٦٩)
مالیخولیا یا ہسٹریا کا مریض اور فوت
”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خان مندرجہ رسالہ ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء)
افیون کا استعمال
”افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دواء نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہ تھا۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا علم کے بغیر ضرور کسی نہ کسی وقت افیون استعمال کیا ہوگا۔
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ”تریاق الٰہی“ (دوا) خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جزو ’افیون‘ تھا۔ یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے تھے۔“
(مضمون میاں محمود احمد خلیفہ قادیان الفضل قادیان ١٩ جولائی ١٩٢٩)
چشم نیم باز ...... مرزا قادیانی پر افیون کا اثر
”مولوی شیر علی نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت (مرزا) صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں ....... ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول رکھیں۔
ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی۔ اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی۔ مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٧٧، روایت نمبر ٤٠٤/٤٠٦)
موجودہ خلیفہ قادیان بھی افیون استعمال کرتے رہے
”مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے رہے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے۔ ایک دن نہ دینے پر اثر نہ ہونے کی وجہ سے حضرت (مرزا) صاحب نے فرمایا کہ خدا نے چھڑا دی ہے۔ اب نہ دو۔“
(منہاج الطالبین ص ٧٤)
خواجہ کمال الدین کی افیون خوری
”موجودہ خلیفہ قادیان جب خواجہ کمال الدین کی عیادت کے لئے گئے تو خواجہ صاحب نے اپنا قصہ سنانا شروع کیا۔ علاج معالجے کا ذکر ہوتا رہا۔ خواجہ صاحب افیون بھی آج کل کھاتے تھے۔ ایک رتی سے شروع کی تھی۔ ابھی یہ خیال ہے کہ چھ ماہ اور کھائیں۔ تا کہ اعصاب مضبوط ہوجائیں۔ ڈائری میاں محمود خلیفہ قادیان نوشتہ عبدالرحیم درد قادیانی۔“
(اخبار الفضل قادیان ٥/ جولائی ١٩٢٩ء نمبر ٢ ج ١٧)
افیون استعمال کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کے کشف:
کشف نمبر ١...... مرزا قادیانی کا عورت ہونا
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اسی طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
(ٹریکٹ ٣٤، اسلامی قربانی مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض الہند پریس امرتسر)
کشف نمبر ٢...... مرزا قادیانی کا دس ماہ تک حاملہ رہنا، الہامی عمل
”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرا دیا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
”بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے۔ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
٨٤
کشف نمبر ١٣......
"انت من ماءنا وهم من فشل" ”تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ (بزدلی) سے۔“
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
کشف نمبر ١٤...... مرزا خدا کا بیٹا
"اسمع ولدی" ”اے میرے بیٹے سن۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٣٩)
"انت منی وانا منك" ”تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں۔“
(تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم)
ناظرین! جس شخص کی کشفی حالت ایسی گندی ہو وہ نبی بن سکتا ہے؟۔ ایسے شخص کو پیغمبر، مجدد اور ملہم ماننے والے لوگ مسلمان ہو سکتے ہیں؟۔ آپ ہی فیصلہ کیجئے!
چند اصولی مباحث
اقتباس از رسالہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان
کفر و اسلام کی حقیقت ....... مسلمان کون ہے اور کافر کون؟
آج کل مذہب و ملت سے بیگانگی اور ناواقفیت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اسلام اور کفر کی حقیقت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کبھی مسلمان کو کافر اور کافر کو مسلمان کہنے کی شدید غلطی کر رہے ہیں۔
خصوصاً کفر کے بعض اقسام ایسے بھی ہیں جو صورت میں اسلام سے ملتے جلتے ہیں۔ عوام تو عوام اکثر تعلیم یافتہ مسلمان بھی انہیں اسلامی عقیدہ، اسلامی احکام سمجھ کر بے دھڑک قبول کر کے اپنے دین مذہب کو برباد کرتے رہتے ہیں۔ اس بناء پر آج وقت کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلام اور کفر کی حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے۔ تاکہ دورِ حاضر کے قادیانی چکڑالوی اہل قرآن اور نیچریوں کے ملحدانہ فتنوں سے بچیں۔
اسلام کیا چیز ہے؟ اور مسلمان کون ہے؟
اس لئے سب سے پہلے اصولی طور پر یہ معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن اور شریعت اسلام میں اسلام و ایمان کس چیز کا نام ہے؟ کفر کس کا؟ مسلمان کس کو کہتے ہیں اور کافر کس کو؟
اسلام
اسلام کے سب سے بڑے ارکان یہ ہیں کہ اللہ کو ایک مانے اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے۔
٨٥
رسول پر ایمان لانے کا معنی اور مطلب؟
ایمان لانے کا مطلب یہ کہ رسول کے فرمائے ہر حکم کو ٹھنڈے دل سے بلا چون و چرا تسلیم کرے اور اس سے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں۔ اس مضمون کو قرآن نے مندرجہ ذیل آیت میں اس طرح وضاحت کی ہے۔ ”فلا وربّك لا يؤمنون حتّى يحكّموك فيما شجر بينهم ثمّ لا يجدوا في انفسهم حرجاً ممّا قضيت ويسلّموا تسليماً (النساء: ٦٥)“ قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ آپ کو اپنے تمام نزاعات واختلافات میں حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنادیں۔ پھر آپ جو فیصلہ فرمادیں اس سے اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح نہ تسلیم کریں۔
نوٹ: احکام رسول دو قسم پر ہیں۔ (١) ضروریات دین۔ (٢) غیر ضروریات دین۔
١...... ضروریات دین
ان سے مراد وہ عقائد یا اعمال ہیں:
- ١...... جن کا ثبوت آنحضرت ﷺ سے قطعی اور یقینی طور پر ہو چکا ہو۔
- ٢...... وہ اسلام میں اس قدر مشہور ہوں کہ علماء اور عوام، خواندہ (پڑھا لکھا) ناخواندہ (ان
پڑھ ) سب ان سے واقف ہوں۔
- ٣...... وہ احکام عمل کے اعتبار سے خواہ فرض و واجب ہوں۔ جیسے نماز کا فرض ہونا، تعداد
رکعات، قربانی کا واجب ہونا وغیرہ یا سنت و مستحب ہوں۔ جیسے مسواک کرنا، ختنہ کا شعار اسلام ہونا، اذان وغیرہ۔
ضروریات دین کا حکم
ایسے ضروریات کا جو تواتر سے ثابت ہوں ان سب کا ماننا فرض ہے۔ اگر کسی ایک کا انکار کر دے تو کافر ہو جائے گا۔
٢...... غیر ضروریات دین اور اس کا حکم
ضروریات دین کے علاوہ احکام کو غیر ضروریات دین کہتے ہیں۔ انکار کرنے والا فاسق ہوگا۔
مذکورہ بالا آیت کی بناء پر اسلام اور مسلمان کی تعریف یوں ہوگی۔
٨٦
اسلام: اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو بلا چون و چرا دل سے تصدیق کرنے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرنے کو ”اسلام“ کہتے ہیں۔
مسلمان: اللہ اور اس کے ہر حکم کو بلا چون و چرا دل سے تصدیق کرے اور ماننے والے کو مسلمان کہتے ہیں۔
کفر کیا چیز ہے؟ اور کافر کون ہے؟
ضروریات دین یعنی خدا اور رسول کے حکم پر اعتراض یا انکار کرنے کو ”کفر“ اعتراض یا انکار کرنے والے کو کافر کہتے ہیں۔
کفر یعنی انکار خدا یا انکار رسول کی تین صورتیں
چونکہ خدا اور رسول سے قطعی اور یقینی طور سے ثابت شدہ حکم پر اعتراض یا انکار کرنا اور خدا کی خدائی اور رسول کے رسول ہونے کا انکار کرنا ہے۔ اس لئے خدا اور رسول کے نہ ماننے کی تین صورتیں ہوں گی وہ تینوں کفر ہیں۔
١...... کفر کی پہلی صورت
کھلے طور پر خدا کو خدا نہ مانے یا رسول کو رسول نہ مانے۔
کفر کی وجہ: اس صورت میں انکار کی مثال ”بغاوت“ ہے۔ جیسے کوئی شخص صاف طور پر اعلان کر دے کہ بادشاہ وقت یا حکومت وقت کو بادشاہ یا حاکم تسلیم نہیں کرتا۔ ایسے شخص کے باغی مجرم ہونے میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح خدا اور رسول کے انکار کو کفر اور انکار کرنے والے کو کافر اور اس کے جہنمی ہونے میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید کی بے شمار آیتوں سے ایسوں کے کافر جہنمی ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ اس لئے مدلل ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
٢...... کفر کی دوسری صورت
خدا کی خدائی اور رسول کی رسالت کا اقرار کرے۔ لیکن ان کے فرمائے ہوئے احکام میں سے کسی حکم کو صحیح نہ مانے یا اس پر اعتراض کرے۔
کفر کی وجہ: دوسری صورت کی انکار کی مثال ”بغاوت“ ہے۔ جس طرح بادشاہ وقت کو تسلیم نہ کرنا بغاوت اور جرم ہے۔ اسی طرح بادشاہ کو بادشاہ مان کر اس کے کسی حکم پر اعتراض یا انکار کر دینا بھی بغاوت اور جرم ہوگا۔ شیطان ابلیس جو سب سے پہلا اور سب سے بڑا کافر ہے۔ اس کا کفر بھی اسی دوسری قسم کے انکار کی بناء پر ہے۔ ورنہ وہ خدا کے قادر مطلق اور معبود ہونے کا منکر نہ
٨٧
تھا۔ خدا کی ساری خدائی کو تسلیم کرتا تھا۔ صرف خدا کے ایک حکم یعنی سجدہ کے انکار کرنے کی وجہ سے کافر اور مردود قرار دیا گیا۔
اس بناء پر اگر کوئی کلمہ شہادت پڑھتا ہو نماز، روزہ، حج سبھی ارکان اسلام کو ادا کرتا ہو۔
لیکن ضروریات دین کے خلاف آنحضرت ﷺ کے بعد نبی کے ہونے کا قائل ہو یا جہاد کے منسوخ ہونے کا قائل ہو یا نبیوں میں سے کسی نبی کی توہین کرتا ہو یا قرآنی تعلیم کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی پاک دامن ماں حضرت مریم علیہا السلام کو گالیاں دیتا ہو۔ بہرحال کسی ایک حکم کا انکار کر دے یا اعتراض کرے تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اسی قاعدہ کی بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بیس سالہ مرید ڈاکٹر عبدالحکیم کو صرف انہیں نبی نہ ماننے کی وجہ سے مرتد و کافر قرار دیتے تھے۔ ورنہ ڈاکٹر صاحب ان کے تمام دعاوی کو تسلیم کرتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور لاہوری پارٹی کا کفر اسی دوسری قسم کے انکار کی بناء پر ہے۔ الغرض دوسری قسم کے کفر کے لئے ضروریات دین میں سے کسی ایک حکم پر اعتراض یا انکار کرتے ہی کافر ہو جائے گا۔ خواہ وہ دیگر تمام ضروریات دین کو ادا کرتے رہے۔
کفر کی تیسری صورت
یہ بھی نہ ماننے ہی کی ایک صورت ہے کہ خدا کی خدائی اور رسول کی رسالت کا بھی اقرار کرے اور زبان سے یہ بھی اقرار کرے کہ میں اللہ اور رسول کے تمام احکام کو مانتا ہوں۔ لیکن احکام کے معنی اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے اور آپ کے بلاواسطہ شاگردوں (صحابہ کرام) کے سمجھے ہوئے معنی کے خلاف کوئی نیا معنی گھڑ کر آپ کے احکام کو ٹال دے۔ مثلاً کوئی کہے میں صلوٰۃ کو فرض مانتا ہوں مگر صلوٰۃ کے معنی لغت میں دعاء کرنے کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ بمعنی دعاء کے فرض ہیں۔ یہ رکوع اور سجدہ والی نماز فرض نہیں ہے۔ یا یوں کہے کہ اذان کو شعار اسلام سمجھتا ہوں۔ اذان کے معنی چونکہ اعلان کرنے کے ہیں اور اعلان گھنٹہ کے ذریعہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اذان سے گھنٹہ بجانا مراد ہے۔ مخصوص الفاظ کے ساتھ اعلان کرنا مراد نہیں ہے۔ قرآن مجید ایسے شخص کو ملحد اور حدیث ایسے شخص کو زندیق قرار دیتی ہے۔
وجہ کفر: تیسری صورت کا انکار بھی بغاوت ہی کی ایک قسم ہے کہ بظاہر قانون کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن قانون ساز جماعت کی تصریحات اور ہائی کورٹ کے تسلیم کئے ہوئے معانی کے خلاف کوئی نئے معانی تراش کر قانون کو رد کر دے۔ مثلاً ریلوے قانون کی رو سے ہر مسافر ١٥سیر مال اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے۔ اگر کوئی قد آور پہلوان کہے کہ یہ قانون پستہ قد کمزور لوگوں کے لئے
٨٨
ہے جو صرف ١٥سیر مال اٹھا سکتے ہیں لئے مجھے اجازت ہونی چاہئے۔ ظا کوئی وقعت نہیں ہوگی۔ اس تاویل ی لاہوری یعنی مرزا محمد علی کی مرزا قادیانی کی تمام کفریات کی حرف و صحابہ کے بیان کئے ہوئے معنی کے خ یہ جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ مرزا غلام دیئے۔ جن کو نہ نبی نے سمجھا نہ صحابہ حکومت کے پٹھو مرزا غلام احمد قادیا و رسول کو مانتے ہوئے ان کے الفاظ کو اللہ و رسول و صحابہ کے بتلائے ہوئے
کافر کو کافر نہ کہنے والا
جس شخص کے متعلق قطعی سے کسی ایک چیز کا انکار کر دیا ہے۔ و شک کی بناء پر کافر نہ کہنے والا خود ب قادیانی نے تعظیم انبیاء کے خلاف حضر فحش بازاری گالیاں دیں۔ جیسا کہ آس اور شک کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادی تعظیم انبیاء ضروریات دین میں سے نادانستہ ضروریات دین کا انکار کر اسی طرح اگر کوئی شخص دے تو یہ شخص ضروریات دین کے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے نز ضروریات دین سے ہے۔ یہا
(دیکھو اکفار الملحدین مصنفہ مو
خالص ہے۔ مصنفہ ابن شیر خد
ہے جو صرف ١٥ سیر مال اٹھا سکتے ہیں۔ میرے لئے نہیں۔ میں تیس سیر مال اٹھا سکتا ہوں۔ اس لئے مجھے اجازت ہونی چاہئے۔ ظاہر بات ہے کہ ریلوے حکام کے نزدیک اس خود ساختہ رول کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔ اس تاویل باطل کی وجہ سے جرمانہ کے ساتھ گستاخی کی سزا ملے گی۔
لاہوری یعنی مرزا محمد علی کی پارٹی مرزا قادیانی کی صرف نبوت کا انکار کرتی ہے۔ باقی مرزا قادیانی کی تمام کفریات کی حرف بحرف تائید کرتی ہوئی قرآن وحدیث کے معنی کو اللہ ورسول وصحابہ کے بیان کئے ہوئے معنی کے خلاف کرنے کی وجہ سے لاہوری پارٹی بھی کافر و مرتد ہے۔ گویا یہ جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر محمد علی کو قرآنی الفاظ کے وہ معانی سمجھائے دیئے۔ جن کو نہ نبی نے سمجھا نہ صحابہ نے سمجھا نہ آج تک امت نے سمجھا۔ جو کچھ سمجھا تو انگریزی حکومت کے پٹھو مرزا غلام احمد قادیانی نے سمجھا۔ نعوذ باللہ! الغرض تیسری قسم کے کفر میں اللہ ورسول کو مانتے ہوئے ان کے الفاظ کو بر قرار رکھ کر ان کے معنی میں اس طرح تاویل باطل کرے جو اللہ و رسول و صحابہ کے بتلائے ہوئے معنی کے خلاف ہوں۔
کافر کو کافر نہ کہنے والا
جس شخص کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نے ضروریات دین میں سے کسی ایک چیز کا انکار کر دیا ہے۔ (جیسے لاہوری اور قادیانی جماعتیں ) ایسے شخص کو احتیاط اور شک کی بناء پر کافر نہ کہنے والا خود بے احتیاطی سے کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔ مثلاً مرزا غلام احمد قادیانی نے تعظیم انبیاء کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو فحش بازاری گالیاں دیں۔ جیسا کہ آپ گذشتہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں۔ ایسی صورت میں احتیاط اور شک کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور مرتد نہ کہنے کے معنی یہ ہوئے کہ ان کے نزدیک تعظیم انبیاء ضروریات دین میں سے نہیں۔ حالانکہ تعظیم انبیاء ضروریات دین سے ہے تو وہ شخص نادانستہ ضروریات دین کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہو گیا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص پنجگانہ نماز پڑھتا ہے اور تاویل کر کے روزہ کی فرضیت کا انکار کر دے تو یہ شخص ضروریات دین کے انکار کی وجہ سے کافر ہو جائے گا۔ ایسے شخص کو احتیاطاً کافر نہ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے نزدیک روزہ ضروریات دین میں سے نہیں ہے۔ حالانکہ روزہ ضروریات دین سے ہے۔ یہ احتیاط پر عمل کر کے نادانستہ روزہ کی فرضیت کا انکار کر کے کافر ہو گیا۔ (دیکھو اکفار الملحدین مصنفہ مولانا انور شاہ ، صدر مدرس دارالعلوم دیوبند، رسالہ دین مرزا کفر خالص ہے۔ مصنفہ ابن شیر خدا مولانا مرتضیٰ حسن، ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند )
٨٩
ضروری تنبیہہ
ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو پیدائشی کافر نہیں سمجھتے۔ بلکہ مرزا قادیانی مسلمان کے گھر پیدا ہوئے۔ مسلمان ہی تھے۔ ایک طویل مدت تک مبلغ اسلام بن کر اسلامی عقائد کی پرچار کرتے رہے۔ لاہوری مرزائی اسی زمانہ کی کتابوں کو مناظرہ کے وقت پیش کر کے دھوکا دیتے رہتے ہیں۔ اس سے ہوشیار رہیں۔ اس کے بعد محمدی بیگم کے معاملہ کے بعد سے نبوت رسالت خاتم الانبیاء کے دعویٰ کے بعد خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے۔ آخر ہیضہ کے مرض میں انتقال کر گئے۔ قادیانیوں سے بحث کرتے وقت وفات مسیح ، ظلی و بروزی نبوت وغیرہ مسائل سے ہرگز بحث مت کیجئے۔ ان سے بحث کرنا ہو تو صدق و کذب مرزا پر بحث کیجئے۔ آپ ہمیشہ غالب رہیں گے۔
مرزا قادیانی کے جانشین یا خلفاء
خلیفہ اوّل حکیم مولوی نور الدین قادیانی
”مرزاغلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد حکیم مولوی نور الدین خلیفہ اوّل مقرر ہوئے۔ جو ابتداء میں سرسید کے خیالات اور طریقہ سے بہت متاثر تھے۔ پھر مرزا قادیانی کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ دھلتا گیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص١٥٩)
حکیم صاحب کا عقیدہ
”حکیم صاحب مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی اللہ اور رسول اللہ اور اسمہ احمد کا مصداق یقین کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر اور غیر ناجی خیال کرتے تھے۔“
(تشحیذ الاذہان قادیان ج٩ نمبر١١)
مرزا قادیانی کو حکیم صاحب افیم کھلاتے تھے
”حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے تریاق الٰہی (دوا) خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے ساتھ حضرت خلیفہ ؓ (حکیم نور الدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوران استعمال کرتے رہے۔“
(خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان ١٩٢٩ء)
عبرت انگیز موت
”حکیم صاحب اخیر عمر میں گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہوگئے تھے مرنے سے
٩٠
پہلے کئی دنوں تک بولنے سے مولوی عبدالحی عین جوانی میں نکاح کر لیا وغیرہ۔ یہ باتیں
حکیم صاحب کے مختلف جماعتیں بن گئیں۔ ...... ١ قاد یہ دونوں دراصل مسلمان کے دشمن ہیں۔ لیکن
قادیانی جماعت
اس جماعت ہیں۔ جن کا ہیڈ کوارٹر قادیان
خلیفہ ثانی کی مختصر سیرت
خلیفہ ثانی میاں جہاں بیگم کے بطن سے ١٨٨٩ء
خلیفہ صاحب کا بچپن
”مجھے بچپن ایک دن نہ دی تو والدہ
(مرزاغلام احمد قادیانی
تعلیمی خوبی
”میاں قادیانی تھے۔ میاں صا میں بٹھا دیتے تھے مفتی صاحب سا
پہلے کئی دنوں تک بولنے سے لاچار تھے۔ نہایت مفلسی میں مرے۔ اس کے بعد اس کا جواں فرزند مولوی عبدالحئی عین جوانی میں مر گیا۔ حکیم نورالدین کی بیوی نے نہایت تباہ کن طریق پر کسی اور جگہ نکاح کر لیا وغیرہ۔ یہ باتیں کچھ کم عبرت انگیز نہیں تھیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍فروری ١٩٢٢ء)
حکیم صاحب کے مرنے کے بعد مارچ ١٩١٤ء میں جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑ گئی۔ مختلف جماعتیں بن گئیں۔ جس میں دو جماعت مشہور ہیں۔
- ١...... قادیانی محمودی جماعت۔ ٢...... لاہوری جماعت۔
یہ دونوں دراصل ایک ہی ہیں۔ دونوں مرزا قادیانی کی نبوت کو ماننے والے مرتد اور مسلمان کے دشمن ہیں۔ لیکن لاہوری جماعت سب سے زیادہ خطرناک جماعت ہے۔
قادیانی جماعت
اس جماعت کے قائد مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود احمد قادیانی ہیں۔ جن کا ہیڈ کوارٹر قادیان تھا اور اب ربوہ میں ہے۔ جن کی مختصر سیرت اور عقائد یہ ہیں۔
خلیفہ ثانی کی مختصر سیرت
خلیفہ ثانی میاں مرزا محمود قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کی دوسری بیوی مسماۃ نصرت جہاں بیگم کے بطن سے ١٨٨٩ء میں پیدا ہوا۔
خلیفہ صاحب کا بچپن اور افیم
”مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے۔ مگر ایک دن نہ دی تو والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ مجھ پر نہ دینے کا کوئی اثر نہ ہوا تو اس پر حضرت مرزا (مرزا غلام احمد قادیانی) فرمایا خدا نے چھڑا دی ہے۔ اب نہ دو“
(ارشاد میاں محمود خلیفہ قادیان ص ٧٤، منہاج الطالبین مصنفہ خلیفہ قادیانی)
تعلیمی خوبی
”میاں صاحب اسکول میں پڑھتے تھے۔ اس کے ہیڈ ماسٹر مفتی صادق صاحب قادیانی تھے۔ میاں صاحب ہر جماعت میں فیل ہوتے تھے۔ لیکن مفتی صاحب ان کو اگلی جماعت میں بٹھا دیتے تھے۔ اس لئے کہ آپ مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ پھر مڈل کا امتحان دیا اور مفتی صاحب ساتھ تھے۔ اس میں فیل ہو گئے۔ پھر انٹرنس کا امتحان دیا اس میں بھی فیل ہو گئے۔
٩١
(مفتی محمد صادق کا وہ خطبہ جو خلیفہ ثانی تازہ ترین نکاح کی تقریب میں بمقام قادیان پڑھا گیا)
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢؍اکتوبر ١٩٣٥ء)
بچپن کے دو استاد
”ہائی اسکول میں میاں صاحب کے ایسے دو استاد تھے۔ جب بھی ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہیں پاخانے کا مذاق شروع ہو جاتا۔ کہیں ہوا خارج ہونے کے متعلق ہنسی کرنے لگ جاتے جن کی باتوں کو سن سن کر میاں صاحب کو گھن اور نفرت آتی ہے۔“
(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا خطبہ اخبار الفضل مورخہ ٣١؍جنوری ١٩٤٦ء)
تعلیمی حالات
”میری تعلیمی حالت نہایت معمولی تھی۔ سستی کہو یا صحت کی کمزوری کا خیال کرلو۔ میں اسکول میں کبھی اچھے نمبروں پر کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دینی تعلیم ایسی تھی کہ میرے گلے اور آنکھوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح اوّل (حکیم نورالدین) کتاب خود پڑھا کرتے تھے۔ آپ خود کمزور اور بوڑھے تھے۔ مگر میری صحت کو کمزور خیال فرما کر بخاری شریف اور مثنوی رومی خود پڑھتے اور میں سنتا جاتا۔ عربی ادب کی کتابیں بھی خود ہی پڑھتے اور جب میں پڑھنا چاہتا تو فرمایا کرتے میاں تمہارے گلے کو تکلیف ہوگی۔ مجھے یاد ہے کہ بخاری کے ابتدائی چار پانچ پارہ تو ترجمہ سے پڑھائے مگر بعد میں آدھ آدھ پارہ روزانہ بغیر ترجمہ کئے پڑھ جاتے۔ صرف کہیں کہیں ترجمہ کر دیتے اور اگر میں پوچھتا تو فرماتے۔ جانے دو خدا خود ہی سمجھا دے گا۔“
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان مورخہ ٩؍مئی ١٩٣٣ء)
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی حقیقی نبی تھے
”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
جواب...... مرزا قادیانی ہرگز رسول یا نبی نہیں ہو سکتا۔ ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ کے خلاف ہے۔ یہ عقیدہ ضروریات دین کے خلاف ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔
- ٢...... مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننا کفر ہے
”اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے تو ایک خطرناک نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ جو انسان کو کافر بنا دینے کے لئے کافی ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٤)
٩٢
جواب........ مرزا کافر مرتد ہو جائے گا۔ جس
- ٣...... مرزا قادیانی کا
”قرآن شریف کو نبی مانتے ہیں۔ اس لئے
جواب........ بقول مومن کی نشانی ہے۔
- ٤...... مرزا غلام احمد
قادیانی
”ہر ایک شخص
جواب........
- ٥....... جو مرزا قادیانی
”جو حضرت
جواب........ دجال و کذاب کہتے ہوں۔ حالانکہ میرے بعد
- ٦...... مرزا غلام
توقف کرے وہ بھی
”آپ لئے اس بیعت میں توقف ہے اور زبانی بھی آپ
جواب...... مرزا قادیانی کو کافر اور دجال ماننا ضروری ہے۔ جو اس کو مسلمان مانے گا وہ کافر مرتد ہو جائے گا۔ جس کی تفصیل گذر چکی ہے۔
٣...... مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے
”قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے۔ ہم لوگ حضرت مسیح موعود کو نبی مانتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کے منکرین کو کافر کہتے ہیں۔“
(تشحیذ الاذہان ج٦ ص١٣٠)
جواب...... بقول نبی عربی ، جب مرزا دجال اور کذاب ٹھہرا تو ان کا انکار خالص مومن کی نشانی ہے۔
٤...... مرزا غلام احمد قادیانی کے بیعت سے باہر رہنے والا کافر یعنی سوائے
قادیانی جماعت کے ساری دنیا کے مسلمان کافر
”ہر ایک شخص جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا وہ کافر ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج٦ ص١٣٠، موجودہ مذہب ص٣ قادیان)
جواب...... دجالوں کی بیعت مذہب اسلام کی رو سے کفر ہے۔
٥...... جو مرزا قادیانی کو نہ نبی مانتا ہے نہ کافر کہتا ہے وہ بھی کافر ہے
”جو حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج٦ ص١٣٠، موجودہ مذہب ص٣ قادیان)
جواب...... نبی عربی ﷺ کی پیشین گوئی درست ہوئی کہ میرے بعد بڑے بڑے دجال و کذاب نکلیں گے۔ ”کلہم یزعم انہ نبی اللہ“ ہر دجال خیال کرے گا کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔ حالانکہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ ہی بند ہو چکا۔
٦...... مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا سمجھ کر مزید اطمینان کے لئے بیعت میں
توقف کرے وہ بھی کافر، مرزا کو دل سے سچا سمجھے، زبان سے انکار نہ کرے،
لیکن بیعت میں توقف کرے تب بھی کافر ہے
”آپ (مسیح موعود) نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔ مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے۔ کافر ٹھہرایا ہے۔“
(تشحیذ الاذہان ج٦ ص١٣٠، ١٣١)
٩٣
- ٧...... آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند خیال کرنے والا
لعنتی اور مردود ہے تفصیل حوالہ...... دیکھو (حقیقت النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)
جواب...... ”انا اخر الانبیاء لا نبی بعدی“ کے خلاف ہونے کی وجہ سے ایسا عقیدہ رکھنا کفر اور ضروریات دین کا انکار کرنا ہے۔
- ٨...... آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی کیا ہزاروں نبی ہوں گے
تفصیل حوالہ...... دیکھو (انوار خلافت ص ٦٢)
- ٩...... مرزا غلام احمد قادیانی کو عین محمد ہونے کی وجہ سے خاتم النبیین کہنا بجا ہے
”حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات حاصل کرنے کی وجہ سے عین محمد کہہ سکیں گے۔“
(ذکر الٰہی ص ٢٠)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
(اخبار بدر مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء، ص ١٤)
”پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔ مگر بغیر کسی نئی شریعت، نئے دعویٰ اور نئے نام کے بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کر اور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٢، ٣، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠، ٣٨١)
جواب...... مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کا بیٹا مرزا بشیر الدین کے کہنے کے مطابق آنحضرت ﷺ اور مرزا غلام احمد دونوں ایک ہوں تو پھر لازم آئے گا۔ مرزا نے پندرہ روپیہ ماہوار پر نصاریٰ کی ملازمت کی تو آنحضرت ﷺ نے بھی نصاریٰ کی ملازمت کی۔ مرزا مختاری کے امتحان میں فیل ہوئے۔ نعوذ باللہ! آنحضرت ﷺ بھی فیل ہوئے۔ مرزا قادیانی کو عیسائیوں کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی تو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو بھی شکست ہوئی۔ مرزا کو محمدی بیگم کے نکاح میں ناکامی ہوئی تو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو بھی ناکامی ہوئی؟ محمدی بیگم کے وصال کی حسرت لے کر مرزا قبر میں گئے۔ اسی طرح نعوذ باللہ! آنحضرت ﷺ بھی گئے ۔ توبہ، توبہ!
٩٤
- ١٠......سارے جہاں کے مسلمان کافر ہیں، ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں
تفصیل حوالہ...... دیکھو (انوارِ خلافت ص ٩٠، مصنفہ میاں محمود صاحب خلیفہ قادیان)
جواب...... نبیِ عربیؐ تو سارے جہاں کو مسلمان بنانے کے لئے مبعوث ہوئے اور قادیانی صرف مرزا قادیانی کے ماننے والے کو مسلمان قرار دیتے ہیں۔ یاللعجب!
- ١١......سارے جہاں کے مسلمان یعنی غیر احمدی کافر ہیں، ان کے پیچھے نماز
پڑھنا قطعی حرام ہے، نماز پڑھنے سے اعمال حبط ہو جائیں گے
تفصیل حوالہ...... دیکھو (اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٥/ اکتوبر ١٩٢٠ء)
جواب...... قرآن میں تو ”وارکعوا مع الراکعین“ کی وجہ سے ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے۔ لیکن قادیانی مذہب میں مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے سوا کسی کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔
- ١٢......غیر قادیانی کا جنازہ نہ پڑھیں خواہ معصوم بچہ ہی کیوں نہ ہو
”غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں ۔“ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ٧/فروری ١٩٢١ء) ”غیر احمدی بچے کا جنازہ پڑھنا درست نہیں ۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤/مئی ١٩٢٢ء، اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥/دسمبر ١٩٣١ء)
- ١٣......محض احمدی یعنی قادیانی نہ ہونے کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی نے
اپنے بیٹے فضل احمد پر جنازہ نہیں پڑھا
تفصیل حوالہ...... دیکھو (اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥/دسمبر ١٩٣١ء)
جواب...... مرزا جیسے مرتد نے جنازہ نہ پڑھا تو کیا نقصان ہوا، نہ پڑھنا ہی مرزا فضل احمد کی کرامت سمجھو۔
- ١٤......احمدی لڑکیوں کا نکاح، غیر احمدیوں سے کرنا ناجائز ہے،
لڑکیوں کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو (انوارِ خلافت ص ٩٣)
”ارشاد مرزا! اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو بے شک لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔“
(الحکم مورخہ ١٤/ اپریل ١٩٠٨ء)
جواب...... قرآن کی رو سے قادیانی لڑکیاں مرتدات سے ہیں۔ اسلام میں غیر مسلم
٩٥
عورتوں سے نکاح کی ممانعت آئی ہے۔ اس سلسلہ میں خلیفہ ثانی کی خدمت میں ممانعت کی وجہ سے شکریہ ادا کرنی چاہئے۔
١٥......ہندو اور سکھ اہل کتاب ہیں، ان سے نکاح جائز ہے
(اخبار الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
”ہندو اہل کتاب ہے اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمان ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہے۔“
(ڈائری خلیفہ قادیان)
جواب...... بقول شخصے ماں کی گود بچہ کی درسگاہ ہے۔ اس لئے ہندو اور سکھ لڑکی دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے پہلی سیڑھی بنے گی۔
لاہوری مرزائی یا غیر مبائعین کی جماعت اور ان کے کفریہ عقائد
اس جماعت کے سرگروہ مسٹر محمد علی لاہوری ایم اے اور ان کے پیشرو خواجہ کمال الدین ایم اے ہیں۔
مسٹر محمد علی کے حالات
”مسٹر محمد علی مرزا قادیانی کے مخلص پرانے مریدوں میں سے تھے۔ مرزا قادیانی کی زندگی ہی (رسالہ ریویو آف ریلیجنز) کے ایڈیٹر تھے۔ جن کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کے ملحدانہ کے خیالات اور مشرکانہ تعلیمات کو پھیلاتے تھے۔ مرزا قادیانی کے بعد خلیفہ اول مولوی حکیم نور الدین کے مشورہ سے قرآن مجید کی قادیانی تفسیر لکھا کرتے تھے۔ اس کے عوض خزانہ انجمن سے ماہانہ دو سو روپے بطور تنخواہ وصول کر کے ان کا انگریزی ترجمہ کرتے تھے۔ مولوی حکیم نور الدین کے انتقال کے بعد مسٹر محمد علی نے ترجمہ کی تکمیل کا بہانہ کر کے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے خزانہ سے ایک ہزار روپیہ پیشگی وصول کر کے قومی لائبریری سے ہزاروں روپے کی قیمتی کتابیں اور صدر انجمن کا ٹائپ رائٹر لے کر لاہور پہنچے۔ اعلان کر دیا کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢؍جون ١٩٣١ء)
لاہوری مرزائیوں نے ١٩١٣ء کو پیغام صلح سوسائٹی کی طرف سے اخبار پیغام صلح جاری کیا۔ اس کی ادارت اور نگرانی کے فرائض محمد علی لاہوری ادا کرتے تھے۔ ان کے ممبروں پر اعتراض ہوا کہ وہ منافق ہیں۔ اس کے جواب میں محمد علی لاہوری اور ان کی جماعت نے اعلان کر دیا۔
٩٦
اس سلسلہ میں خلیفہ ثانی کی خدمت میں ممانعت کی وجہ
کتاب ہیں، ان سے نکاح جائز ہے
(فضل مورخہ ١٧/ جولائی ١٩٢٢ء)
بھی۔ کیونکہ وہ مسلمان ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہے۔“
(ڈائری خلیفہ قادیان)
کی گود بچہ کی درسگاہ ہے۔ اس لئے ہندو اور سکھ لڑکی دوزخ بنے گی۔
جماعت اور ان کے کفریہ عقائد
علی لاہوری ایم اے اور ان کے پیشرو خواجہ کمال الدین شخص پرانے مریدوں میں سے تھے۔ مرزا قادیانی کی ایڈیٹر تھے۔ جن کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کے ملحدانہ ہوتے تھے۔ مرزا قادیانی کے بعد خلیفہ اوّل مولوی حکیم بانی تفسیر لکھا کرتے تھے۔ اس کے عوض خزانہ انجمن سے ان کا انگریزی ترجمہ کرتے تھے۔ مولوی حکیم نور الدین بیل کا بہانہ کر کے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے خزانہ لاہوری سے ہزاروں روپے کی قیمتی کتابیں اور صدر کر دیا کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢/ جون ١٩٣١ء)
پیغام صلح سوسائٹی کی طرف سے اخبار پیغام صلح جاری لاہوری ادا کرتے تھے۔ ان کے ممبروں پر اعتراض لاہوری اور ان کی جماعت نے اعلان کر دیا۔
٩٦
”ہم مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کے خادمین اوّلین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام، اللہ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ ہی کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“ (پیغام صلح ج ١ نمبر ٢٠، ستمبر ١٩١٣ء)
مارچ ١٩١٤ء میں جب حکیم نور الدین خلیفہ اوّل کا انتقال ہوا اور خلافت کا جھگڑا ہوا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے تمام اندوختہ خزانوں پر مرزا محمود خلیفہ ثانی کے قبضہ کر لینے کے بعد غیر قادیانیوں کو پھانسنے کے لئے مسٹر محمد علی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی ہونے کا انکار کر کے مجدد، محدث، مہدی معہود، مسیح موعود وغیرہ ہونے کا اعلان کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ناقابلِ تردید صاحبِ نبوت صاحبِ شریعت دعویٰ ختم رسالت دعوؤں کے متعلق بروزی و ظلی نبی جیسے تاویل باطل کر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے اپنی معرکۃ الاراء کتاب ”اکفار الملحدین فی ضروریات الدین“ میں اور مولانا سید مرتضیٰ حسن ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند نے ”دین مرزا کفر خالص“ ہے۔ ”فتح قادیان کا مکمل نقشہ جنگ“ میں اور مولانا محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان نے ”ہدیۃ المہدین فی آیت خاتم النبیین“ میں اور مولانا شبیر احمد صاحب شیخ الاسلام پاکستان نے ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب“ (اردو) میں قادیانیوں خصوصاً لاہوریوں کی خوب قلعی کھولی ہے۔ مندرجہ بالا کتابوں سے اخذ کر کے مذکورہ مضامین لکھے گئے ہیں۔ تفصیل کے لئے مندرجہ بالا کتابوں کو دیکھئے۔ (یہ تمام احتساب قادیانیت میں چھپ گئی ہیں۔ مرتب)
خواجہ کمال الدین، بی۔اے، ایل۔ایل۔بی کے عبرت انگیز حالات
یہ بھی مسٹر محمد علی کی طرح مرزاغلام احمد قادیانی کے ملحدانہ خیالات کے پھیلانے میں نہایت سرگرمی دکھاتے تھے۔ مسٹر محمد علی کی طرح یہ بھی مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی اللہ اور رسول مانتے تھے۔ خواجہ صاحب کے قدیم عقائد، ملاحظہ فرمائیے ۔ ”(مسیح موعود) ایک نبی اللہ ہے اور مخبر صادق احمد مرسل صلوٰۃ اللہ علیہ کا خاتم النبیین ہونا چاہتا ہے کہ اس خلیل خدا احمد کے غلام انبیاء اور نبی اللہ ہوں۔“
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٣٠/ ستمبر ١٩٠٥ء)
٩٧
”ہمیں اس کے غلام نبی ہند (مرزا قادیانی) کو بھی نبی الہی کمالات کے باعث ماننا پڑے گا۔ اگر غلام کو نبی اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ اس میں بعض باتیں پائی جاتی ہیں۔ جنہیں ہمارا محاکمہ نقص ٹھہراتا ہے تو وہی باتیں احمد مختار میں بھی موجود ہیں۔ تو ہم غلام احمد قادیانی کو چھوڑ دینے کے ساتھ ہی اس کے سردار کو بھی جواب دیں گے۔“
(اخبار الحکم قادیان)
خواجہ صاحب ١٩٢٠ء کے ستمبر کے مہینے میں قادیانیت کی اشاعت اور محمد علی لاہوری کی قادیانی تفسیر کی طباعت کے اخراجات کے لئے چندہ کی غرض سے برما کے دارالخلافہ رنگون آئے۔ مشہور رئیس اعظم سر جمال مرحوم کے گھر میں ٹھہرے۔ ابتداء میں منافقانہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کا سنی حنفی ہونا اور دعویٰ نبوت نہ کرنے کے متعلق تقریریں کیں۔ اس کے مقابلہ کے لئے مولانا عبدالشکور صاحب لکھنوی ”مدیر النجم“ بھی تشریف لائے۔ مولانا کے سوال کرنے پر مرزا غلام احمد قادیانی ابتدائی تحریرات یعنی (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩) کی ختم نبوت کو ماننے کی عبارتیں دکھا کر دھوکہ دے رہے تھے کہ یکا یک مولانا نے خواجہ کمال الدین کی لکھی ہوئی کتاب کا حوالہ دیا۔ جس میں خواجہ صاحب نے مرزا قادیانی کو خدا کا نبی، رسول، خدا کا برگزیدہ مرسل، نذیر و بشیر و پیغمبر لکھا تھا۔ اس کے بعد مولانا عبدالشکور کی موجودگی تک مقابلہ میں نہیں آئے۔ نہایت رسوا ہو کر برما سے واپس گئے۔ ان تمام واقعات کو دیکھنا ہو تو ”صحیفہ رنگون“ نامی کتاب دیکھئے۔ (یہ بھی احتساب قادیانیت میں چھپ چکی ہیں۔ مرتب) اس کے بعد خواجہ صاحب لندن گئے۔ ”ریسرچ آف اسلام“ نامی رسالہ میں اپنی تبلیغی سرگرمی دکھاتے رہے۔ یکا یک خواجہ صاحب کے جھوٹ کا پول پیسہ اخبار میں چھپا جس کو قادیانی اخبار الفضل کے الفاظ میں سنئے۔
”خواجہ کمال الدین صاحب کے منجملہ اور کارناموں کے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں کوئی پرانا نو مسلم انگریز جو سالہا سال سے مسلمان چلا آتا ہے۔ اتفاقاً کہیں ووکنگ مسجد چلا گیا تو خواجہ صاحب نے جھٹ اس ماہ کی رپورٹ میں اپنے نو مسلموں کے درمیان لکھ کر فروغ دے دیا۔ شکر ہے کہ اخبار پیغام صلح صرف اردو میں ہے۔ اس ملک (انگلستان) کے لوگوں کے پاس نہ وہ آتا ہے نہ وہ پڑھ سکتے ہیں۔ ورنہ اسلامی مشنریوں کی بدنامی اس ملک میں ہوتی۔ وہ ظاہر ہے لیکن جب سے یہ راز پیسہ اخبار میں شائع ہوا ہے۔ خواجہ صاحب نے کمال ہوشیاری سے ایک نیا طرز اختیار کیا کہ عموماً اپنی رپورٹ میں نو مسلم کا نام نہیں لکھتے۔ انگریزی رسالہ میں تو بالکل ہی نہیں
٩٨
لکھتے۔ کیونکہ وہ اس ملک انگلستان میں شائع ہوتا ہے۔ نام لکھنے سے رپورٹ کا غلط ہونا جلد ثابت ہوسکتا ہے، مگر اخبار پیغام میں بھی عموماً نام نہیں دیئے جاتے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٣٨، مورخہ ١٩؍نومبر ١٩١٨ء)
لاکھوں روپے کا غبن
خواجہ کمال الدین صاحب یورپ میں اشاعت اسلام کے نام سے جو لاکھوں روپے لے چکے تھے۔ ایک عرصہ سے اس کے حساب کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ بار بار کے اصرار سے خواجہ صاحب بولے کہ انہوں نے بعض رقوم کو ذاتی بتا کر حساب بتانے سے قطعاً انکار کر دیا۔ بعض کے متعلق کہا ان کا حساب کتاب انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سپرد کیا گیا ہے۔ انجمن اس کی ذمہ دار ہے۔ بعد میں جو اعلان ہوا تو معاملہ اور الجھن میں پڑ گیا۔
وفات کا تار
جب خواجہ کمال الدین کی وفات کا تار قادیان پہنچا تو انہوں (خلیفہ قادیان نے) ہاتھ اٹھا کر دعاء تک نہ کی۔ چلئے نماز جنازہ نہ سہی دعائے مغفرت ہی کر لیتے۔ بلکہ اس کی بجائے بہت ہی تکلیف دہ کلمات مرحوم کے متعلق کہے۔ عبرت، عبرت!
(خطبہ مولوی محمد علی جماعت لاہور مندرجہ اخبار پیغام ص ١٢؍مئی ١٩٣٩ء)
لاہوری مرزائیوں کے کافر ہونے کی وجوہات
- عقیدہ نمبر:١...... غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔
کافر ہونے کی وجوہات
نبی کاذب کی تکذیب نہ کرنے کی وجہ سے لاہوری کافر ہیں۔
تشریح: مرزا غلام احمد قادیانی نے قطعاً یقیناً نبوت کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی کی زبانی سنئے:
- ١...... ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے۔ اسی نے میرا نام ”نبی“ رکھا ہے۔ اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔ اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥٣)
٩٩
- ......٢ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ......٣ ”میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں انکار کر سکتا ہوں۔ جبکہ خود
خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں۔ میں کیونکر رد کر دوں یا کیونکر اس کے سوا ڈروں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
آنحضرتﷺ کے فرمان (میرے بعد میری امت میں سے تیس دجال کذاب نکلیں گے ہر شخص خیال کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ آگاہ رہو میں خاتم النبیین ہوں۔ لا نبی بعدی۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکے گا۔) کے مطابق جو آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب اور جھوٹا ہوگا۔ اب صورت یہ ہوگی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے قطعاً و یقیناً نبوت کا دعویٰ کیا۔ جو آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہوگا۔ لہٰذا نتیجہ نکلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب دجال اور کافر ہے۔
نبی عربی محمد رسول اللہﷺ کو سچا نبی ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے قول کی تصدیق کرتے ہوئے نبی کاذب یعنی غلام احمد قادیانی کی تکذیب کریں۔ اس بنا پر لاہوری مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی جیسے نبی کاذب کی تکذیب نہ کرنے کی وجہ سے کافر ٹھہرے۔
- • نیز متفقہ عقائد کا مسئلہ ہے جو شخص یقینی طور پر ثابت شدہ کافر، نبی کاذب کے کفر میں
تردد کرے یا تکفیر نہ کرے۔ تو وہ ضروریات دین یعنی حضور علیہ السلام کے احکام میں شک کرنے کی وجہ سے کافر ہو جائے گا۔ چونکہ لاہوری مرزائی مرزا قادیانی کو نہ کافر کہتے ہیں نہ اس کے کفر میں شک کرتے ہیں۔ اس لئے لاہوری مرزائی کافر ہوئے۔
عقیدہ نمبر:٢...... نبوت حقیقیہ نبوت شرعیہ بلکہ نبوت تشریعیہ دونوں کو سرور عالم پر ختم مانتے ہیں۔ یہ دونوں ضروریات دین میں سے ہیں۔
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی تیسری وجہ قرآنی آیت ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر“ کے ماتحت بیان کر چکے ہیں کہ ضروریات دین سے کسی ایک حکم کے انکار کر دینے پر جس طرح کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ضروریات دین کو ضروریات نہ جاننا یا ان کے انکار کو کفر نہ سمجھنا یا انکار کرنے والے کو کافر نہ جاننا یا نہ کہنا بھی بالاتفاق کفر ہے۔ مثلاً ابولہب یا ابو جہل کو کافر نہ سمجھے یا
١٠٠
کافر نہ کہے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح لاہوری مرزائی مذکورہ عقیدہ رکھتے ہوئے بھی مرزا غلام احمد اور مرزا محمود کی قادیانی پارٹی ، ظہیر الدین اروپی کی پارٹی کو مذکورہ عقیدہ کے خلاف عقیدہ رکھنے کی وجہ سے کافر نہ کہنے ، نہ ماننے کی وجہ سے لاہوری مرزائی مرتد اور کافر ہوں گے۔
عقیدہ نمبر : ٣ ..... قرب قیامت میں نزول عیسیٰ نہیں ہوگا۔
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی چوتھی وجہ : بقول مرزا غلام احمد قادیانی نزول عیسیٰ کا مسئلہ متواترات میں سے اعلیٰ درجہ کا ہونے کی وجہ سے ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین کا انکار کرنا خواہ تاویل سے ہو یا بغیر تاویل کے کفر ہے۔ چونکہ لاہوری مرزائی اس کا انکار کرتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ کافر ہیں۔
(دیکھو اکفار الملحدین مصنفہ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ)
عقیدہ نمبر : ٤ ...... نزول عیسیٰ کا عقیدہ مشرکانہ بیہودہ اور لغو عقیدہ ہے۔
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی پانچویں وجہ : لاہوری قادیانی سوائے ختم نبوت کے ظاہری اقرار کے اس مسئلہ میں مرزا غلام احمد کے ہمنوا ہیں۔ چونکہ نزول عیسیٰ کا مسئلہ متواترات اور ضروریات دین میں سے ہے، ضروریات دین کو مشرکانہ عقیدہ لغو عقیدہ کہنا کفر ہے ۔ لہٰذا لاہوری مرزائی کافر ہوئے ۔
کفر کی چھٹی وجہ : لاہوریوں کے نزدیک نزول عیسیٰ کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے۔ نیز یہ بھی مسلم ہے کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ سو برس تک صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین اور تمام امت محمدیہ یہی عقیدہ رکھتی تھی ۔ لاہوریوں کے عقیدہ کی بناء پر صحابہ وغیرہم کا مشرکانہ عقیدہ رکھنا لازم آئے گا اور یہ قاعدہ مسلم ہے۔ جس کسی کی بات سے صحابہ یا ساری امت کی گمراہی پر قائم رہنا لازم آئے تو وہ شخص بلا تردد کافر ہوگا۔ لہٰذا لاہوری مرزائی کافر ہوں گے ۔
عقیدہ نمبر : ٥ ...... حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں نہیں ڈالنے اور نہ جلنے کا عقیدہ غلط ہے ۔ ”قلنا يا نار کونی بردا وسلاما (الانبياء: ٦٩)“ نار سے مراد حسد اور عداوت ہے۔ حقیقی آگ نہیں۔
(ترجمہ قرآن ص ٦٥٢، نوٹ نمبر ١٦٤١)
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی ساتویں وجہ : یہ کفر یعنی انکار کی تیسری قسم میں داخل ہے اور قرآنی الفاظ کو مان کر تواتر سے ثابت شدہ بیان کردہ معنی کو نہ ماننا اس کی مثال بغاوت کی تیسری قسم ہے۔ یعنی حکومت وقت اور
١٠١
قانون کے الفاظ کو تسلیم کر کے مجلس قانون ساز اور ہائی کورٹ کے تسلیم شدہ معنی کو رد کر کے اپنی طرف سے گھڑ کر معانی بیان کرنے والا جس طرح باغی اور مجرم ہوتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اور اجماع امت کے بیان کردہ معنی کے خلاف ضروریات دین کے انکار کی وجہ سے کافر اور مجرم ہوگا۔
عقیدہ نمبر ٦:...... ”ويكلم الناس فى المهد وكهلا (آل عمران: ٤٦)“ معجزہ کوئی چیز نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارہ میں بات چیت کرنا معجزہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر ایک تندرست بچہ اگر وہ گونگا نہ ہو تو مہد (گہوارہ) میں بولنے لگتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ کہ لڑکا تندرست اور زندہ رہے گا۔
(ترجمہ قرآن ص ١٥٥، نوٹ نمبر ٤٢٦، کشف الاسراء حصہ اول ص ١١، ١٢)
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی آٹھویں وجہ: یہ بھی کفر یعنی انکار کی تیسری قسم میں داخل ہونے کی وجہ سے لاہوری مرزائی کافر ہوئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارہ میں بات چیت کرنا تواتر اور نص قرآنی سے ثابت ہے۔ اس کو نہ ماننے کا مطلب ہوا کہ ساڑھے تیرہ سو برس تک اس آیت کا معنی نہ آنحضرت ﷺ نے سمجھا نہ صحابہؓ و ائمہ مجتہدین سمجھے۔ اگر سمجھا تو صرف لاہوری جماعت کے محمد علی سمجھے۔
عقیدہ نمبر ٧:...... ”وما قتلوه وما صلبوه (البقره: ١٥٧)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً سولی پر چڑھائے گئے۔ لیکن سولی پر موت نہیں آئی۔ بلکہ قدرتی موت سے مر چکے ہیں۔
(ترجمہ قرآن ص ٢٤١، کشف الاسرار ص ٣٥)
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی نویں وجہ: قرآن بانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سولی پر چڑھایا نہ انہوں نے ان کو قتل کیا۔ بلکہ اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ قرآنی نص، متواتر حدیثوں، اجماع امت کے خلاف عقیدہ رکھنے کی وجہ سے کفر یعنی انکار کی تیسری قسم میں داخل ہو کر کافر ہوئے۔
عقیدہ نمبر ٨:...... یونس علیہ السلام کو مچھلی کے نگلنے کا واقعہ قرآن میں کہیں بھی نہیں ہے۔ ”التقمه الحوت“ کے معنی مچھلی نے حضرت یونس کی ایڑی کو منہ میں لیا۔ ثبوت کے لئے کالمبن صاحب کی لغات دیکھو۔
(کشف الاسرار ص ١٢، نوٹ نمبر ٣١٢٣)
١٠٢
میں قانون ساز اور ہائی کورٹ کے تسلیم شدہ معنی کو رد کر کے اپنی والا جس طرح باغی اور مجرم ہوتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہﷺ بیان کردہ معنی کے خلاف ضروریات دین کے انکار کی وجہ سے
”يكلم الناس في المهد وكهلا (آل عمران: ٤٦) “ معجزہ لام کا گہوارہ میں بات چیت کرنا معجزہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر ایک چہ (گہوارہ) میں بولنے لگتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ کہ لڑکا
(ترجمہ قرآن ص ١٥٥، نوٹ نمبر ٣٢٦ ، کشف الاسرار حصہ اوّل ص ١١، ١٢)
یہ بھی کفر یعنی انکار کی تیسری قسم میں داخل ہونے کی وجہ سے رت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارہ میں بات چیت کرنا تواتر اور نص ماننے کا مطلب ہوا کہ ساڑھے تیرہ سو برس تک اس آیت کا صحابہؓ و ائمہ مجتہدین سمجھے ۔ اگر سمجھا تو صرف لاہوری جماعت
”وماقتلوه وما صلبوه (النساء: ١٥٧) “ حضرت عیسیٰ گئے ۔ لیکن سولی پر موت نہیں آئی۔ بلکہ قدرتی موت سے مر چکے
(ترجمہ قرآن ص ٢٤١، کشف الاسرار ص ٣٥)
یہ بانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ سولی گیا۔ بلکہ اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ قرآنی نص، متواتر عقیدہ رکھنے کی وجہ سے کفر یعنی انکار کی تیسری قسم میں داخل ہو کر
س علیہ السلام کو مچھلی کے نگلنے کا واقعہ قرآن میں کہیں بھی نہیں کہ مچھلی نے حضرت یونس کی ایڑی کو منہ میں لیا۔ ثبوت کے لئے
(کشف الاسرار ص ١٢، نوٹ نمبر ٣١٢٣)
١٠٢
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی دسویں وجہ : یہ عقیدہ بھی کفر کی تیسری قسم میں داخل ہونے کی وجہ سے لاہوری مرزائی کافر ہیں۔ تفصیل : حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے نگلنے کا واقعہ قرآن کی متعدد آیتوں میں نہایت تفصیل سے اللہ نے ذکر کیا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ نے اس واقعہ کو نہایت تفصیل سے حدیثوں میں ذکر کیا ہے۔ ایسے متواتر واقعہ کو صرف ایک عیسائی مسٹر کالمین صاحب کی لغات پر بھروسہ کر کے رد کر دینا نصرانیت پرستی نہیں تو اور کیا ہے۔ جیسے گرو جی مرزا غلام احمد قادیانی نے نصرانی حکومت کے قائم رکھنے کے لئے ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا ہے اسی طرح ہونہار چیلے نے حق شاگردی ادا کرتے ہوئے صرف ایک نصرانی کے قول پر تمام قرآنی آیات واحادیث کو رد کر دیا۔
عقیدہ نمبر : ٩...... قرآن میں ”او كالذي مرّ على قرية (البقره: ٢٥٩)“ میں مردہ کو زندہ کرنے میں خدا کی قدرت کا جو مظاہرہ کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔ یہ صرف خواب کا واقعہ
ہے ۔ (کشف الاسرار ص ٢١ ، ٢٢ ، ٤٠ ، ترجمہ قرآن ص ١٢٣)
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی گیارہویں وجہ : یہ عقیدہ بھی کفر نمبر ٣ میں داخل ہونے کی وجہ سے لاہوری جماعت کافر ہوگئی۔ جو خدا زمین و آسمان و سارے مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اس طرح مردے کو زندہ کرنا کون سے تعجب کی بات ہے۔
عقیدہ نمبر : ١٠...... ”اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب“ (تفسیر ایم اے ص ٨٨٦، ٨٨٧) حضرت ایوب کی ایڑی مارنے کی جگہ سے پانی کا نکلنا غلط ہے۔ بلکہ اس سے
مراد مشکلات میں ناامید نہ ہونا چاہئے۔ (کشف الاسرار ص ٤٨)
کافر ہونے کی وجوہات
کفر کی بارہویں وجہ : ان مرزائیوں کے نزدیک معجزہ کوئی چیز نہیں ہے۔ کیوں نہ ہو جب مرزا قادیانی کے مقلد ٹھہرے۔ مرزا قادیانی نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو
١٠٣
قرآن میں ہونے کے باوجود بھان متی کا پٹارہ کہا تھا۔ چونکہ یہ معجزہ نص قرآنی اور تواتر واجماع سے ثابت ہے۔ اس لئے اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ ایسے عقیدہ رکھنے والے کافر ہیں۔
عقیدہ نمبر: ١١..... ”اقتربت الساعة وانشق القمر“ حضور علیہ السلام کا معجزہ تو ہے۔ مگر ایسا شق قمر جو خسف گرہن کی صورت کے مشابہ ہے۔ (تفسیر انگریزی ص ١٠٢٢، مترجمہ ایم اے صاحب، اس میں تفسیر کشاف اور تفسیر رازی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ص ١١٦، ١١٧)
کافر ہونے کی وجوہات
شق قمر کا واقعہ تواتر سے ثابت ہے۔ حضورﷺ کے زمانہ سے ساڑھے تیرہ سو برس تک کے مسلمانوں کا عقیدہ اسی پر ہے۔ اس کے خلاف کرنے کی وجہ سے کافر ہو گئے۔
عقیدہ نمبر : ١٢ ..... اہل شقاوت (کافر) ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے۔ ”فاما الذین شقوا ففی النار لہم فیہا زفیر وشہیق (هود: ١٠٦)“
کافر ہونے کی وجوہات
یہ عقیدہ بھی کفریہ ہے۔ قرآن کے رو سے کافر بدبخت ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ ”خالدین فیہا مادامت السماء والارض“ وغیرہ سے صاف معلوم ہوتا ہے۔
مسٹر محمد علی لاہوری امیر جماعت احمدیہ لاہور کے عقائد مندرجہ ہینڈ بل نمبر ٢ ص ١ ”ہم حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں کہ آپ امام الزمان مجدد، ملہم من اللہ جزوی، ظلی ، بروزی، مجازی، امتی نبی بمعنی محدث نہ بمعنی نبی مہدی معہود ومسیح موعود ہیں ۔“
لاہوری جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کے علاوہ بقیہ تمام باتوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ہم خیال وہم عقیدہ ہم مشرب ہیں۔ اس لئے جن جن وجوہات سے مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانی پارٹی کافر ہیں۔ انہی وجوہات (مثلاً توہین انبیاء وغیرہ) کی وجہ سے یہ بھی کافر ہیں۔
نوٹ: یہ جماعت مسلمانوں کے لئے مار آستین نہایت خطرناک جماعت ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں سے مل کر دین و ایمان و مال ومتاع کو لوٹتے ہیں اور دھوکا دینے کے لئے بحث کے وقت ختم نبوت وفات مسیح جیسے بحثوں میں الجھا دیتے ہیں۔ ان سے ہمیشہ صداقت مرزا پر بحث کیجئے۔ آپ کامیاب رہیں گے۔
”وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین“
١٠٢