گفتگو ہو یا مباحثہ، تقریر ہو یا مناظرہ
قادیانیوں کو
لاجواب کیجئے!
ایک شاہکار کتاب جس کے مطالعے سے آپ قادیانیوں کو ہر موضوع پر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قادیانیوں کو لاجواب کیجئے!
اس طرح بکھرے پڑے ہیں جیسے تاروں کی رات
گفتگو ہو یا مباحثہ، تقریر ہو یا مناظرہ
قادیانیوں کو
لاجواب کیجئے!
ایک شاہکار کتاب جس کے مطالعے سے آپ قادیانیوں کو ہر موضوع پر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔
محمد متین خالد
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ 37223584'37232336'37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers
جملہ حقوق محفوظ
نام کتاب قادیانیوں کو لاجواب کیجئے! مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز مطبع تایا پرنٹرز، لاہور قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سرورق حافظ طاہر سعید کمپوزنگ طاہر علی، ظفر اقبال سن اشاعت 2018ء قیمت -/800 روپے
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور۔ 37223584 ' 37232336 ' 37352332 www.ilmoirfanpublishers.com ilmoirfanpublishers@hotmail.com www.facebook.com/Ilmoirfanpublishers
انتساب
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے محاذ پر منفرد، گرانقدر، ناقابل فراموش اور ایمان آفریں خدمات انجام دینے والے مجاہدین ختم نبوت
جناب چودھری محمد بشیر زرگر، جناب میاں محمد ظفر عباس، جناب محمد شاہین پرواز، جناب چودھری منظور احمد، جناب حبیب احمد عابد، جناب چودھری محمد افتخار (کنعان ٹریڈرز)، جناب ملک محمد انور شاکر، جناب محمد نصر اللہ زرگر، جناب محمد افتخار احمد ملک، جناب مہر اللہ دتہ، جناب محمد عباس بٹ، جناب محمد بلال خادم اور جناب ملک محمد سرور
کے نام
ترتیب عنوانات
- انتساب! 5
- دل کی بات محمد متین خالد 29
- چند ضروری گذارشات 31
- قادیانی حضرات کی توجہ کے لیے! 33
- مرزا قادیانی کون تھا؟ 39
- ایک فکر انگیز سوال 40
- مرزا قادیانی کے بارے میں ایک جامع تبصرہ 41
- ایک چیلنج 41
- جو زمین پر نہیں ہوتا، کیا وہ فوت ہو چکا ہوتا ہے؟ 42
- توفی 42
- لفظ توفی اور قرآن مجید 43
- بلاعنوان 49
- تصویر کے دو رخ 49
- جھوٹ ہو تو ایسا! 51
- وفات مرزائیت 51
- قادیانیوں سے سوال ہے 52
- کیا بچے مرزا مسرور کی اجازت سے پیدا ہوں گے؟ 52
- نصرت جہاں چوک 52
- متعصب کون؟ 53
- جنگ آزادی یا غدر؟ 53
- پاکستان میں قادیانیوں کو آزادی 54
- ایک توجہ طلب نکتہ 55
- مرزا قادیانی، منکر حدیث! 56
- یوں بھی ہے اور یوں بھی! 57
- کدعہ یا کرعہ 57
- قادیان......کدعہ؟ 61
- کادیاں یا قادیاں 62
- مذہب کی یا مذاہب سے آزادی!! 63
- امامت مسیح موعود......حدیث کے نام پر جھوٹ 67
- مرزا قادیانی نے مسلم مساجد کے برباد ہونے کی دعائیں مانگیں 68
- مرزا قادیانی اپنے خسر میر ناصر نواب دہلوی کی نظر میں 68
- یہودی ذلت اور قادیانی ذلت 71
- مہندی اور الہام 71
- مرزا قادیانی اور محمدی بیگم 72
- جب اختلاف ہوتا ہے تو صداقت کے حصہ میں تھوڑے لوگ آتے ہیں؟ 72
- سؤر کو الہام؟ 73
- ظفر اللہ خان قادیانی کی حضور اکرم ﷺ سے دشمنی 73
- ہے کوئی قادیانی جواب دینے والا؟ 73
- لطیفہ 74
- Real Vs Fake 74
- تمام مرزائی متوجہ ہوں! 75
- مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی ’’شیطان کا قتل‘‘ 75
- قادیانی حضرات سے دو سوال 76
- مرزا قادیانی کی تضاد بیانی 77
- آسمان کا خدا 77
- قد خلت کا ترجمہ 78
- آم، مرزا قادیانی کی نظر میں 79
- قادیانیوں کو مخلصانہ مشورہ 79
- ایسے کو تیسا 80
- قادیانیوں کے اماموں کا قرآن میں ذکر 80
- قادیانی عبادت گاہیں اور مسجد ضرار 80
- مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کی ایک اور دھوکے بازی 82
- قادیانی یاجوج و ماجوج ہیں؟ 84
- قادیانی مذہب کے چند عجیب و غریب اصول حدیث 86
- قادیانی مربیوں کو انعامی چیلنج 86
- امام مہدی کی بیعت ضروری ہے! 87
- تمام قادیانی متوجہ ہوں! 87
- مرزا قادیانی قطعاً مہدی نہیں ہو سکتا 87
- قادیانیوں سے ایک فکر انگیز سوال 88
- مرزا مسرور کے گھوڑے 88
- مرزا قادیانی ........... ٹٹیورا چاچا 89
- کوئی پاگل بھی مثل قادیانی ہو، نہیں ممکن 89
- مرزا قادیانی کا اقرار ............. میں مسیح ابن مریم نہیں 90
- مولوی سے قادیانیوں کی نفرت 90
- مولوی عزت کا لفظ 91
- قادیانی اور کتا 91
- فیس بک قادیانیوں کے لیے ممنوع ہے۔ قادیانی خلیفہ کا اعلان 92
- قادیانی کٹ پن 93
- اے ناداں قادیانی 95
- مرزا قادیانی کا شیطانی خواب 96
- انبیا کا قتل 97
- قادیانی فقہ 98
- قادیانی مسیح بننے کا آسان نسخہ 99
- دلچسپ لطیفہ 100
- ایک اور اہم سوال 100
- مرزا قادیانی کی تصویر کے بارے ایک سوال کا جواب 100
- سوال ہے! 100
- دعا 101
- دھوکے والے الفاظ 101
- قادیانی کلمہ 102
- کیا رسول ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لیے کسی نبی کی توہین کی جاسکتی ہے 102
- قادیانیوں سے بچیں 103
- مرزا قادیانی نے قرآن اور بائبل پر کیا جھوٹ بولا؟ 103
- قادیانیوں سے ایک دلچسپ سوال 104
- مرزا قادیانی کو قرآن حفظ نہ تھا 104
- تحریف قرآن کی قادیانی سازش 104
- قادیانیوں کے لیے عینک 106
- اسلام مردہ دین؟ 106
- کیا اب بھی ہم غیر مسلم ہیں؟ 107
- مرزا قادیانی کے باپ کی تاریخ پیدائش 109
- مرزا قادیانی کے والد کی تاریخ وفات 109
- ایک نہایت دلچسپ سوال 110
- نزول عیسیٰ علیہ السلام 110
- مرزا مسرور اپنے دادا کی نظر میں 114
- قادیانی چیلنج کا منہ توڑ جواب 114
- مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی 117
- گھر کا بھیدی 118
- لطیفہ 119
- مسلمان کی قادیانی تعریف 119
- تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا 119
- امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی نشانی 120
- قادیانیوں کے نزدیک مقدم و مقدس شخصیت کون؟ 121
- عشق رسول ﷺ 122
- کیا چودھویں صدی کے بعد بھی نبوت جاری ہے؟؟ 123
- مناظرہ سے فرار 124
- موٹا آدمی 124
- مرزا قادیانی کی دھوکہ دہی 125
- مرزا قادیانی کی پریشانی 125
- نصرت جہاں بیگم کا خط مرزا قادیانی کے نام 126
- قادیانی مردود 126
- خدا کی سنت 127
- مرزا قادیانی کی پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی! 127
- علما ستاروں کی مانند 128
- قادیانی دہشت گردی 130
- اور نام بدل گیا 130
- ادریس علیہ السلام یا الیاس علیہ السلام؟ 131
- سر ظفر اللہ قادیانی کی پاکستان دشمنی 132
- قرارداد پاکستان کی تیاری اور سر ظفر اللہ خان؟ 133
- نبی بڑا کہ امتی؟ 136
- باپ بیٹے کا تضاد، مکہ امن کی جگہ نہیں، مکہ امن جگہ ہے 137
- قادیانی شرمناک تحریریں 138
- دوسروں کو نصیحت اور خود مرزا فضیحت 138
- خاندان مسیح موعودیت یا خاندان جنسیات 140
- پاخانے والے کمرے میں وقت گزاری 141
- مرزا قادیانی کے نزدیک ربانی فیصلے کا طریقہ 142
- قادیانی جماعت سب سے بڑی ٹیکس نادہندہ نکلی 142
- 100 سال اور ماں مر گئی! 143
- قادیانی مربی 143
- مرزائیت، یہودیت، عیسائیت اور اسلام ایک تقابل، ایک جائزہ 144
- قادیانیوں کا متوقع نبی............ زاہد خاں 146
- مرزا قادیانی کی مباہلہ سے توبہ 147
- شیخ راحیل بنام مرزا مسرور 148
- تمام قادیانی متوجہ ہوں 149
- ہندی مسیح، پنجابی عیسیٰ اور انگریزی خدا کا بیٹا! 151
- مونچھیں 151
- احمدیہ کلب کی اصلیت 151
- قادیانی شعائر 153
- رفع سے مراد عزت کی موت؟ 153
- روز محشر، مرزا قادیانی کا اپنے چیلوں سے خطاب 154
- مرزا قادیانی کی عمر 155
- قادیانی عقیدہ، مرزا قادیانی کے بعد نبوت بند! 156
- خوارزم بادشاہ، بوعلی سینا اور مرزا قادیانی 157
- مرزا قادیانی کی ایک فحش اور شرمناک تحریر 158
- دلچسپ خواب 162
- فتنہ قادیانیت سے چوکنا رہیں 163
- مرزا قادیانی کی تعلیمات کے اثرات 164
- مگس مسیح! 165
- کھانا کتا کھا گیا! 166
- سولہویں صدی کو چودھویں صدی بنانے کا قادیانی طریقہ 166
- خاتم الخلفا ........... بقلم مرزا قادیانی 167
- خاتم الخلفاء کا ترجمہ 168
- جرمنی سے ایک قادیانی کا کھلا خط 168
- موجودہ قادیانی خلیفہ اور عیسائیت 171
- بیت الفتوح لندن میں چوری 172
- قادیانی، نفسیاتی امراض کا شکار قابل رحم لوگ 173
- آواہن 174
- قادیانیوں سے ایک اہم سوال 174
- مکہ مکرمہ فتنہ کی جگہ ہے (نعوذ باللہ)...... مرزا قادیانی کی بکواس 175
- اسلام اور قادیانیت 176
- کیا صاحبزادہ رضوان احمد مسلمان ہے؟ 176
- محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں 179
- جوئے اور حرام کی کمائی، قادیانی خلیفہ تک رسائی! 180
- قادیانی اخبار 'الفضل' سے قادیانیوں کی بیزاری 180
- دو باتیں 181
- باریک ایمان 181
- فراڈ، دھوکہ اور فریب کسے کہتے ہیں؟ 181
- ایک سال میں پانچ کروڑ قادیانی اپنا مذہب چھوڑ گئے! 182
- خدا کا چراہ گاہ 183
- مرزا قادیانی کی کتاب ”اعجاز المسیح کا پس منظر“ اور اس کا پوسٹ مارٹم 183
- کھانسی، پان، زردہ اور قصیدہ اعجازیہ 186
- مرزا قادیانی کی گستاخی 187
- جھوٹ پر جھوٹ 188
- مرزا قادیانی کا حضور نبی کریم ﷺ پر جھوٹ 189
- قادیانی تحقیق 189
- حدیث کے نام پر جھوٹ 190
- مرغ سے مراد لڑکا 190
- کوئی میرے دلدار کی خبر لا دے 190
- کھوچل مسیح 191
- بیوقوفی کی تاویل 192
- قادیانی ترجمہ 193
- حدیث کے نام پر! 193
- مرزا مسرور اپنی بیگم کے برقعہ پر شرمندہ؟ 194
- سلطان القلم کی سرقہ بازی 194
- مرزا غلام قادیانی...... ابوالقاسم حریری، بدیع الزماں ہمدانی 196
- مرزا قادیانی کا دوسروں کی کتابوں سے استفادہ 203
- جرمن سیاستدان ثمینہ خان کا انکشاف آمیز انٹرویو 203
- قادیانیوں سے تین سوال 207
- مردم شماری پر ریمارک 207
- قرآن کے مطابق مرزا نبی نہیں تھا 207
- حدیث کے نام پر جھوٹ 209
- مرزا قادیانی کا ایک اور شاہکار جھوٹ 210
- قادیانی شینڈی شاہ کا معافی راگ 211
- ذہانت 212
- ترجمہ حدیث میں تحریف 213
- مرزا قادیانی کی موت اور ہیضہ 214
- اخراج، مبارک ہو 214
- ایک انوکھا مدعی نبوت 215
- خبیث اور جھوٹا کون؟ 215
- قادیانیوں کی اقسام 215
- قادیانی حضرات سے ایک معلوماتی سوال 216
- جدید عیسائیت 216
- مرزائی مذہب میں ”ہندو لڑکی“ کے ساتھ نکاح جائز ہے 217
- قادیانی گروہ اور دجال 218
- مولانا رومؒ کی ایک پرانی پیش گوئی 218
- قادیانیوں کو نیا مسیح موعود مبارک ہو 219
- مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں 220
- کیا مرزا قادیانی دہریہ تھا؟ 220
- مرزا قادیانی کی طرف سے وفات مسیح کے باطل عقیدے پر پیش کردہ
تیس آیات کا مکمل و مدلل جواب 221
- حلف نامہ برائے قبولیت اسلام، قادیانیت سے برأت کا اعلان 288
- مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے اور ان کا انجام 290
- بارہ لاکھ ...... مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم نور الدین 291
- محکمہ انکم ٹیکس کا نوٹس اور مرزا قادیانی کا جھوٹا بیان حلفی 295
- ٹیکس چور 299
- سلطان القلم کی عربی دانی 300
- مراقِ مرزا 302
- اور میں مسلمان ہو گیا 306
- پاکستان کے ”داخلی صہیونی“ 308
- سجاح بنت حارث 313
- قادیانی ، اسرائیلی گٹھ جوڑ 319
- اپنی بیٹیوں کو قتل کر دو!! 323
- قادیانی جماعت کو قانونی نوٹس 326
- پیشین گوئیاں اور ان کی حقیقت 327
- حرام گوشت کھلانے کی قادیانی سازش 329
- مرزا قادیانی اور ہتھیار بندی 329
- خطرہ ایمان ...... دودھ ...... قادیان 331
- مرزا قادیانی کے ایام بعثت 333
- مرزا قادیانی کے ایام بعثت کے تضادات ...... ایک نظر میں 339
- علامہ اقبال اور مسئلہ ختم نبوت 340
- قادیانی کرتوت 345
- یہ ہیں قادیانی مربی ! 350
- بڑے میاں سو بڑے میاں ، چھوٹے میاں سبحان اللہ 353
- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو 353
- کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ 356
- لا حول ولا ...... ! 357
- مرزا محمود پر لگنے والے زنا کے الزامات کی تاریخ کا خلاصہ 359
- تعارفی خاکہ 361
- اسلام کے متوازی مذہب قادیانیت 363
- ایک آسان سوال 368
- مرزا قادیانی کی تلاش محبت اور ویلنٹائن ڈے 369
- مسلمانوں کے قرآن اور قادیانی قرآن میں کیا فرق ہے؟ 370
- ذرا سوچئے 371
- تضاد 372
- بلا تبصرہ 372
- شیزان کا استعمال مسلمانوں کے لیے حرام ہے 373
- کیا شیزان مسلمانوں نے خرید لی؟ 375
- شیزان کا بائیکاٹ، چند شبہات کا ازالہ 375
- ابی لہب سے مراد 379
- نبی کی تین تعریفات 380
- ایک دلچسپ اشتہار 380
- ساری جماعت کا جنازہ 381
- مرزا قادیانی کا شوشہ 381
- سوچ قادیانی سوچ 382
- مرزا قادیانی، علم الاعداد کی روشنی میں 382
- مرزا قادیانی، مزید علم الاعداد کی روشنی میں 383
- میں قادیانیت چھوڑتا ہوں! 384
- قادیانیوں کے نبی 384
- قادیانیوں کی ایک علامت 385
- حیات مسیح کی دلیل 385
- ”صرف قرآن“ کا شور مچانے والوں سے سوال 386
- قادیانی بتائیں......؟؟؟ 386
- دوغلا مذہب 387
- رجولیت 387
- نبوت ساز فیکٹری۔ مرزائیت کا ایک اور نیا ماڈل 2014 388
- دجال قادیان کی کذب بیانی 388
- چوہی سے زندگی، قادیانی عجوبہ 389
- مرزا قادیانی کی موت...... قرآن مجید کی روشنی میں 389
- اے ”غلمدی“ اے دشمنِ اسلام! 390
- مرزا قادیانی قتل کے منصوبوں سے کیسے بچا؟ 390
- رتھ والی نماز 391
- مرزا قادیانی کی موت پر کیسے پردہ ڈالا گیا؟ 391
- قادیانیوں سے ایک اہم سوال 392
- سوال نبی سے، جواب مولوی سے پوچھو! 392
- عجیب الہام 393
- آسمان سے کون اترے گا؟ 393
- المسیح الدجال کی حقیقت 394
- مرزائیوں کی احمقانہ باتیں 395
- آج کا سوال 395
- تلاش ہے ایک حدیث کی 395
- اور مرزا قادیانی ناکام ہو گیا! 395
- مرزائیوں کی اقسام 395
- جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں علامہ ابن کثیرؒ کا فرمان 396
- Is Mirza Qadiani Lezbian? 396
- بلا تبصرہ 396
- لاہور 397
- آج کے سوالات 397
- مرزا غلام قادیانی کے پاکیزہ خواب والہام کی ایک جھلک 398
- قادیانی مربی توجہ فرمائیں! 398
- انعامی سوال 399
- قادیانی کرپشن 399
- ”دجال“ اگر تمثیلی ہے تو ”عیسیٰ ابن مریم“ کیوں نہیں؟ 400
- پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا 401
- مربی صاحبان بتا دیں، وہ قبر کہاں ہے؟ 401
- دجال قادیان کی CV 402
- کیا اللہ کا سچا نبی کافروں کی اطاعت کر سکتا ہے؟ 403
- سیل ...... سیل ...... سیل 404
- ایک ذاتی سوال اور اس کا جواب 404
- دس ہزار مسیح 405
- فارسی النسل بارے مرزائی فراڈ 406
- جواب دو مسرور 406
- مرزا محمود کا جھوٹا رویا 407
- احتیاط کیجیے! 407
- بوجھو تو جانیں .....؟ 407
- دنیائے مرزائیت کو چیلنج 408
- یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں والی جماعت 408
- مرزا قادیانی دو ٹوک الفاظ میں اپنی عمر بتاتا ہے 409
- قرآن کریم کا ایک فیصلہ 410
- وینود کھنہ، قادیانی جلسہ میں 411
- مرزا قادیانی کا پہلا تصنیفی کارنامہ 411
- کیا مرزا قادیانی مہدی ہے؟ 414
- قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کے بارے میں! 415
- چودھویں صدی کے مجدد کا کام 418
- حضرت امام حسینؓ کی توہین 419
- عیسائیوں سے کھانا اور معانقہ 419
- عیسائیت، مرزا قادیانی کی نظر میں 419
- مرزا قادیانی...... کرشن؟ 420
- خود کاشتہ پودا...... مرزا قادیانی کا اہم اعتراف 424
- پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات 425
- اسلام کی ترقی کا راز، انگریزوں کی آمد 426
- سلطنت انگریزی، تمام عیوب سے پاک 426
- مرزا قادیانی نے انگریز کی خاطر تھپڑ بھی کھائے 426
- 60 ہزار اشتہارات 427
- خدا تعالیٰ سے عہد 428
- انگریز دوستی 428
- قوم انگلش نے دیا آ کے سہارا ہم کو 429
- ملکہ کا کتا اور قادیانی تعزیت! 430
- فرقہ ورانہ فسادات 431
- غدار پاکستان 433
- بیوی کے ایام نے عزت رکھ لی 438
- صدی کا سب سے بڑا جھوٹ 441
- ایک عیسائی کے لیے دعائے مغفرت 443
- انکشافات 444
- جیسا گرو ویسے چیلے 445
- تفسیر کبیر کس نے لکھی؟ 446
- قادیانی جماعت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی 446
- خلیفہ اور جھوٹ! 447
- شکل مومناں کرتوت کافراں! 450
- قادیانی جماعت میں نئی بیعتوں کی حقیقت 451
- قادیانی جماعت جرمنی کا نیا امیر 453
- خیانت 453
- ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ 454
- جماعت کی اخلاقی حالت کا ایک نمونہ 455
- مال مفت دل بے رحم! 456
- بیگم صاحبہ لکھتی ہیں! 456
- میں نے ربوہ دیکھا 458
- یاسر مرزا ابن مرزا افضل مشنری کینیڈا کی سرگرمیاں 459
- قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا ایک قابل تقلید عمل 460
- محرم اور غیر محرم میں فاصلہ 461
- سکھوں سے شادیاں اور ناجائز مراسم 461
- چوہدری ظفر اللہ خان کی بھاگ جانے والی بیویاں 462
- جماعت کے مشنری کا ”پیپر میرج“ کرانے کا فراڈ 462
- جنسی بدکاریوں کا ڈنکا 463
- تحریک جدید 464
- ”ڈی این اے ٹیسٹ“ 465
- اعتراف 465
- فرار 466
- مرزا محمود بمقابلہ کلنٹن 466
- ایم ٹی اے کی خدمت 467
- رہائی یا ظلم؟ 468
- راسپوٹین 470
- مرزا محمود کی ہوس کاریاں 470
- اطالوی حسینہ 471
- ہوٹل سسل کی رونق عریاں 472
- اطالوی حسینہ مس روفو 472
- فتنہ آخر زماں 473
- غلط فہمی 473
- ملک مشتاق احمد آف ٹیکساس پر حملہ 474
- بشیر رفیق کو صدمہ؟ 475
- ڈھگے 476
- نئے قادیانی؟ 477
- قادیانی جماعت کا ”اسلامی نمونہ“ 477
- مرزا مسرور سے چند گزارشات 479
- مبارک مشن 480
- قادیانی عبادت گاہ میں مجامعت 481
- قادیانیت، ایک ہندو کی نظر میں 482
- مرزا قادیانی کے مجرے 484
- افغان پٹھان، مرزا قادیانی کی نظر میں 487
- قادیانی جماعت کا چندہ سسٹم 489
- پاکستان میں قادیانیوں کی اصل تعداد 493
- محمد علی باب 494
- حسن یوسف علیہ السلام اور مرزا قادیانی 495
- اور مرزائیت کا جنازہ نکل گیا! 495
- نقلی مسیح 496
- قادیانی بتائیں! 497
- مرزا قادیانی ذہنی مریض تھا 497
- مرزا قادیانی، ایک خط اور ایک رویا...... 497
- قادیانی مسیحا! 503
- سازش کے پسِ پردہ سازش 504
- ڈاکٹر مہدی علی قمر لاوارث، یا مرزا مسرور احمد لاشوں کا سوداگر؟ 510
- خاتم کا ترجمہ، مرزا قادیانی کی نظر میں 511
- ایک علمی نکتہ 513
- کیا مرزائی 1974ء سے پہلے مسلمان سمجھے جاتے تھے؟ 514
- مرزا قادیانی کا جھوٹا حلف 515
- مرزا قادیانی اور ختم نبوت کا مفہوم 516
- اصحاب صفّہ 517
- محبّت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں 517
- مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی 520
- مرزا قادیانی کی بات کا عملی تجربہ 520
- اگر مرزا قادیانی، مریم تھا تو اس کا شوہر کون؟ 520
- قادیانیوں کی مقدس کتاب ”تذکرہ“ میں ایک دلچسپ تحریف 521
- قادیانیوں سے چند اہم سوالات 522
- مرزا قادیانی، جھوٹوں کا سردار 523
- عورتوں کو ”وہاں“ جانے کی اجازت نہیں!! 523
- کیا مرزا قادیانی ضعیف حدیثیں بیان کرتا تھا؟ 524
- کتھے مہر علیؒ...... 524
- لو مردہ زندہ ہوگیا! 525
- متضاد اعتقاد اور تناقض 526
- تصویر بولتی ہے! 526
- ناواقف 527
- سفید جھوٹ 527
- اعجاز نمائی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے مرزا کا اشتہار 528
- ایک کامیاب مباہلہ 529
- ایک دلچسپ سوال 541
- ترکی بہ ترکی 541
- قادیانی پاکٹ بک کے مصنف کی حدیث میں تحریف 542
- صدیقہ کون؟ 543
- حکومت بتائے! 544
- مرزا قادیانی کی پہلی کتاب، دجالوں کے پریس میں 547
- قادیانی اشتہار 547
- قادیانی خواتین و حضرات ذرا سوچیے! 547
- قادیانیوں سے ایک سچا مگر کڑوا سوال 548
- 95 سال عمر کی دعا 548
- امریکہ میں بااثر قادیانی کریم احمد پر قتل کا مقدمہ 549
- مرزائیوں کی چالاکیاں 551
- تنظیمی چندے پر قادیانی خلیفہ کی عیاشی کے ریکارڈ 552
- قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کا عقیدہ 556
- حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مرتدوں کا قتل 565
- قادیانیت میں وحی و الہام کا دعویٰ کرنے والے، مرزا قادیانی کی نظر میں 565
- قادیانیوں کو مبارک ہو 566
- لیلۃ القدر کی قادیانی تفسیر 566
- لیلۃ القدر کی معنوی توہین 567
- قادیانی عقیدہ ...... مرزا قادیانی محمد رسول اللہ 567
- قادیانیوں کی ایک علامت 568
- لونڈی 569
- سچا کون ....... باپ یا بیٹا ؟ 569
- جماعت انبیاء اور مرزا قادیانی 570
- ذرا سوچیے! 570
- ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے 570
- مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک اور جھوٹ 572
- یلاش؟ 573
- مرزائی ہونا کافی نہیں! 573
- ایک چیلنج 574
- ایک اہم سوال 574
- مرزا قادیانی سائنس دان 574
- قادیانیوں سے ایک آسان سوال 575
- عبدالحکیم اور ”عبدالحکیم“ 575
- بدعتی مسیح 577
- قادیانیت میں آخری نبی؟ 578
- قادیانی چور 579
- مرزا قادیانی کی تضاد بیانی 579
- طاعون اور مرزا قادیانی کی دعا 580
- طاعونی مرزائی 583
- تکرار 583
- آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد 583
- مرزا قادیانی بمقابلہ ”جان سمتھ پکٹ“ 584
- مرزا غلام قادیانی کی پرورش، حرام لقمہ سے 587
- قادیانی جواب دیں! 588
- دوسری دفعہ کا ذکر ہے! 590
- پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ اور مرزا قادیانی 591
- ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر؟ 593
- سوچنے کی بات 594
- آخری مجدد اور آخری خلیفہ، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا ایک اور ثبوت 594
- چھ کروڑ کتابیں 596
- فرعون اور مرزا قادیانی 597
- مرزائیوں کی مقدس کتاب تذکرہ میں تحریف 597
- مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت! 598
- مسیح موعود بننے کا نسخہ! 598
- قادیانی خلیفہ سے دو سوال 599
- سب کا جنازہ پڑھ دیا 600
- سنگترہ اور ہیضہ 600
- مرزا قادیانی کا ایک اور شاہکار جھوٹ 601
- ٹچی ٹچی 601
- صرف قلم کا جہاد 601
- ابو جہل اور تیس سیپارے؟ 602
- ایک سوال مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے 602
- تصویر مرزا 603
- جھوٹا کہیں کا......! 604
- قادیانی سانپ 604
- مرزا قادیانی اور کلرک 604
- السلام علیکم! 607
- اشتہار 608
- ناجی فرقہ 612
- دلیل 613
- ایک دو سطری سوال 613
- جاہل مطلق 613
- مرزا قادیانی کا ایک اور جھوٹ 614
- قادیانی گروہ......قرآنی آیات کی روشنی میں 614
- قادیانی کتب کے اہم حوالہ جات 615
۞......۞......۞
دل کی بات
فیس بک (Face Book) انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جہاں بلا مبالغہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اس سے وابستہ ہیں جو روزانہ ایک دوسرے سے مختلف موضوعات کی معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس سائٹ پر ہر قوم اور مذہب کے لوگ موجود ہیں جو سیاسی، معاشی، معاشرتی اور حالات حاضرہ پر مبنی معلومات کے تبادلہ کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کا دفاع اور دوسروں کو اپنے مذہب کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ یہاں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے پیروکار بھی ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کے نام پر اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں جس سے بسا اوقات کئی مسلمان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے سدباب کے لیے مسلمان نوجوانوں کی متعدد مستعد ٹیمیں ہمہ وقت فیس بک پر موجود رہتی ہیں جو قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے زہریلے پروپیگنڈے، شکوک و شبہات اور تاویلات کا نہایت علمی اور مسکت جواب دیتی ہے جس سے قادیانی بہت زیادہ زچ اور لاجواب ہوجاتے ہیں۔ ان میں جناب سمیر ملک صاحب، جناب جاء الحق صاحب، مفتی سید مبشر رضا قادری، جناب احمد کریم شیخ، جناب خالد محمود (کراچی) اور ساحل کاہلوں سرفہرست ہیں۔ دیگر احباب میں جناب سمیر خاں، جناب روکڑا روکڑا، جناب نوید مغل، جناب ڈاکٹر عمر فاروق، جناب خاور حسنین، جناب ممتاز خان، جناب محمد اسلم علی پوری، جناب اسد اللہ ساقی، جناب ڈاکٹر عمر فاروق، جناب محمد شہزاد اسلم ایڈووکیٹ، جناب محمد شریف اختر، جناب گوہر الطاف، جناب عبدالحمید صدیقی، جناب حکیم سید حامد رسول، جناب محمد راشد مدنی، جناب عابد علی، جناب شیراز قریشی، جناب ہاشم علی، جناب سجاد حسین شیخ ایڈووکیٹ، جناب عبید اللہ لطیف، جناب سلمان عثمانی، جناب سید منیر احمد شاہ بخاری، جناب محمد عمران نیاز، جناب لطیف الحق، جناب عرفان شاہ، جناب Kyokosangi، جناب فاروق درویش، جناب مٹھن لال، جناب Ilyas Dakire، جناب مریم علی، جناب عباس بھٹی، جناب خاور
شہزاد، جناب محمد اسد قاضی، جناب شہزاد انجم، جناب سلمان فارسی، جناب ضیا رسول، جناب یاسر چودھری، جناب دین حق، جناب سید ثمر عباس جعفری، جناب طیب عبداللہ اور جناب سیمی عظیم شامل ہیں۔ یہ سب احباب پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے مبارکباد کے مستحق ہیں جو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کے جواب میں ان مجاہدین ختم نبوت کی لگائی گئی پوسٹیں بے حد علمی، معلوماتی، جامع اور دلچسپ ہوتی ہیں۔ میں نے کئی سالوں کی جانگسل محنت اور کوشش سے بے شمار تحریروں میں سے (جن میں احقر کی پوسٹیں بھی شامل ہیں) چند سو کا انتخاب کیا ہے تا کہ جولوگ فیس بک استعمال نہیں کرتے ، وہ بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ قادیانی بھی ان اہم تحریروں سے استفادہ کر سکتے ہیں، امام ابن تیمیہؒ کی اس قول کی روشنی میں کہ: ”جسے علم اور ایمان دونوں ملے ہوں وہ کبھی ارتداد کی طرف نہیں جاتا۔ ارتداد کے جتنے کیس ہیں، وہ علم بغیر ایمان کے ہوں گے یا ایمان بغیر علم کے“۔
مجھے امید ہے کہ قارئین کرام اس کاوش کو پسند کریں گے۔
محمد متین خالد mateenkh@gmail.com
چند ضروری گذارشات
- اس کتاب کو تیار کرتے وقت بھر پور کوشش کی گئی ہے کہ کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔
اس لیے اس کی پروف ریڈنگ کو بہتر بنایا گیا ہے پھر بھی غلطی کا امکان ہے۔ اگر کسی جگہ کسی قاری کو غلطی نظر آئے تو براہ کرم مصنف کو ضرور مطلع کرے۔ ان شاء اللہ آئندہ کے ایڈیشن میں اس کا ازالہ کیا جائے گا۔
- اس کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں کئی احباب نے اپنی بے پناہ محبتوں کا اظہار کیا،
کتاب کی اشاعت کے بارے بار بار استفسار کرتے رہے۔ میں ان سب دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
- قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں موجود قابل اعتراض، دل آزار
اور توہین آمیز قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!
- یہ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔ ہر مضمون اپنی جگہ پر خاص اور انفرادی
حیثیت رکھتا ہے۔ ممکن ہے کتاب کے بعض مقامات پر حوالہ جات اور تشریحات کی تکرار پڑھنے کو ملے۔ قارئین کرام اسے متعلقہ مضمون کا ضروری حصہ سمجھ کر مطالعہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر خدشہ تھا کہ مضمون ادھورا رہ جاتا۔
محمد متین خالد
قادیانی حضرات کی توجہ کے لیے!
قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر
مخاطب گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دے“۔
(ازالہ اوہام صفحہ نمبر 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 112 از مرزا قادیانی)
- ”یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہو گئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض
تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج اوّل ص 397 از مرزا غلام احمد)
- ”ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمیشہ خیال رکھے کہ بعض امور تو سمجھ میں آسکتے ہیں اور
بعض نہیں آسکتے، تو جو سمجھ میں نہ آیا کریں، ان کو پس پشت نہ کیا جاوے اور دریافت کر لینے چاہئیں۔ نیکی اسی کا نام ہے ورنہ حبط اعمال ہو جاتا ہے“۔
(ملفوظات جلد دوم، صفحہ 611 طبع جدید از مرزا قادیانی)
واپس آ جاؤ ہمارے گھر کی آب و ہوا مختلف ہے
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِينَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِىْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ وَاَتُوبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّى اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ.
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہے جو کسی مسلمان کے عیوب کو تلاش کرے اور اس کی نیکیوں کو فراموش کردے“۔
پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ صاحبانِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ اگر آپ راستے میں بھونکنے والے ہر کتے کو پتھر مارنا شروع کردیں گے تو آپ اپنی منزل پر کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ جاہل کے سامنے عقل کی بات نہ کرو کیونکہ پہلے وہ بحث کرے گا پھر اپنی ہار دیکھ کر دشمن بن جائے گا۔ ناکامی کے اسباب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں دوسروں میں تلاش کرتا ہے۔ شخصیت میں عاجزی نہ ہو تو معلومات میں اضافہ علم کو نہیں بلکہ تکبر کو جنم دیتا ہے۔ رشتوں کی رسی تب کمزور ہوتی ہے جب انسان غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات بھی خود ہی بنا
لیتا ہے۔ درخت جتنا اونچا ہوگا، اُس کا سایہ اُتنا ہی چھوٹا ہوگا، اس لیے ”اونچا“ بننے کے بجائے ”بڑا“ بننے کی کوشش کرو۔ حضرت شیخ سعدیؒ کا کہنا ہے: ”جاہلوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب ان کی دلیل مقابل کے آگے نہیں چلتی تو وہ لڑنا شروع کر دیتے ہیں“۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ نے کیا خوب فرمایا تھا: ”اپنی آواز کے بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، برسنے سے اگتے ہیں“۔ مزید فرمایا: ”میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا اور میں نے بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتا“۔ آنکھ دنیا کی ہر ایک چیز دیکھتی ہے مگر جب آنکھ کے اندر کچھ چلا جائے تو اُسے نہیں دیکھ پاتی، بالکل اسی طرح انسان دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے لیکن اپنے عیب اُسے نظر نہیں آتے۔ پہلے اپنے عیب دور کرو پھر دوسروں کے عیبوں پر نکتہ چینی کرو۔ نکتہ چینی بغیر ٹانگوں کا ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں کو دوڑ لگانے کے طریقے بتاتا ہے۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے: ”بارش کا قطرہ سیپ اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپ اس قطرے کو موتی بنا دیتا ہے جبکہ سانپ اسے زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کسی کا ظرف، ویسی اس کی تخلیق“۔ مزید ارشاد فرمایا: ”حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے“۔
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
قادیانیوں کو
لاجواب کیجئے!
مرزا قادیانی کون تھا؟
- ’’میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد صاحب کا نام
غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے۔‘‘
(کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 144 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 162 از مرزا قادیانی)
- ’’ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 145 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273 از مرزا قادیانی)
- ’’ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے، اس پیشگوئی کا
مصداق ہے کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے مگر یہ تو یقینی اور مشہود و محسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں اور وہ چینی الاصل ہیں یعنی چین کے رہنے والی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 209 از مرزا قادیانی)
- ’’میں باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں مگر بعض دادیاں میری سادات میں سے تھیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 363 از مرزا قادیانی)
- ’’اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ۔ نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ
خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
- ’’میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان ہے
اور بنی فارس اور بنی فاطمہؓ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286، 287 از مرزا قادیانی)
- ’’ہمارے خاندان کی قومیت ظاہر ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ قوم کے برلاس مغل ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273 از مرزا قادیانی)
- ’’بعض دادیاں ہماری شریف اور مشہور خاندان سادات سے ہیں۔ لیکن مغل قوم
کے ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ کے الہام نے مخالفت کی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273 از مرزا قادیانی)
- ’’میرے پاس فارسی ہونے کے لیے بجز الہام الہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 17 صفحہ 116 از مرزا قادیانی)
- ’’عتل بعد ذلک زنیم‘‘ (القلم: 13)
قرآن مجید میں زنیم کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے۔‘‘
(تفسیر صغیر صفحہ 763 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
- مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں عتل بعد ذلک زنیم، (القلم: 13)
کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زنیم کے معنی ہیں ولد الزنا (یعنی زنا کی پیداوار، ولد الحرام)
(ازالہ اوہام صفحہ 29، 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116، 117 از مرزا قادیانی)
ایک فکر انگیز سوال
1978ء میں امریکہ کے مشہور مصنف مائیکل ایچ ہارٹ (Michael H. Hart) کی شہرہ آفاق کتاب دی ہنڈرڈ (The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History) شائع ہوئی جس نے دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ مصنف نے 100 ایسی شخصیات کا انتخاب کیا جنہوں نے اپنے کردار کی وجہ سے تاریخ انسانی پر گہرے اثرات مرتب کر کے دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا۔ بلاشبہ یہ کتاب کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوئی جس نے فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس کتاب کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب میں پہلے نمبر پر آقا و مولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جگہ دی اور لکھا کہ آپ ﷺ ایک کامیاب ترین شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی خوبصورت تعلیمات کے ذریعے انسانی معاشرے پر ایسے انمٹ اثرات چھوڑے جس سے پوری انسانیت قیامت تک مستفید ہوتی رہے گی۔ مصنف نے دوسرے نمبر پر مشہور سائنسدان نیوٹن اور تیسرے نمبر پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اس کتاب میں بدھ مت کے بانی بدھا (Buddha) کا ذکر چوتھے نمبر پر اور
کنفیوشس مذہب کے بانی کنفیوشس (Confucius) کا تذکرہ پانچویں نمبر پر کیا ہے۔ قادیانی مذہب کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی اور رسول ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس مسیح کے آنے کا وعدہ کیا تھا، وہ اس کی شکل میں آ گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ دنیا میں آ کر جو کام کرنے تھے، مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ اس نے وہ تمام کام انجام دے دیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب میں آنجہانی مرزا قادیانی کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ آج تک کسی قادیانی خلیفہ یا ان کے کسی پیروکار نے ہارٹ پبلشنگ کمپنی کو خط لکھ کر اس پر احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا۔ ہے کوئی قادیانی جو اس سوال کا جواب دے سکے؟
مرزا قادیانی کے بارے میں ایک جامع تبصرہ
میں نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا تھا؟ انہوں نے عربی کے اس شعر میں جواب دیا، میں نے مرزا قادیانی کا ایسا مکمل اور جامع تعارف آج تک نہیں پڑھا، آپ کے لیے پیش ہے: سوال: مرزا غلام احمد قادیانی کون تھا؟ جواب: وكان امرا من جند ابليس فارتقى
ترجمہ: ”وہ ابلیس کے لشکر کا ایک آدمی تھا پھر اس کی ترقی ہو گئی یہاں تک کہ ابلیس بھی اس کا ایک لشکری بن گیا۔“
ایک چیلنج
ایک قادیانی نے فیس بک پر پوسٹ لگائی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر تمام صحابہ کرامؓ کا اجماع تھا۔ اس پوسٹ کو دیگر کئی قادیانیوں نے فیس بک پر دوسرے لوگوں سے بہت شیئر کیا۔ ہم نے اس پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ آنجہانی مرزا قادیانی کو صحابہ کرامؓ کے اس اجماع کا کب اور کیسے علم ہوا؟ اس سوال پر قادیانیوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ہم قادیانی خلیفہ مرزا مسرور سمیت تمام قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر وہ اس سوال کا جواب دے دیں تو انہیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ ہے کسی قادیانی میں جرأت تو سامنے آئے!
جو زمین پر نہیں ہوتا، کیا وہ فوت ہو چکا ہوتا ہے؟
قادیانی، قرآن مجید کی آیت: کل من علیہا فان ۔ (الرحمٰن:26) ہر چیز جو اس (زمین) پر ہے، فانی ہے، کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ وہ زمین پر نہیں ہیں، اس لیے وہ فوت ہو چکے ہیں۔ قادیانیوں کی یہ منطق بڑی عجیب و غریب ہے۔ چونکہ قادیانیوں کا دماغ شیطان کی ورکشاپ ہوتا ہے، اس لیے انہیں ایسی بے تکی اور مضحکہ خیز تاویلات سوجھتی ہیں۔ اگر قادیانیوں کی مذکورہ بالا بات مان لی جائے تو ان سے سوال ہے کہ کیا پرندے جب ہوا میں اڑتے ہیں تو فوت ہو چکے ہوتے ہیں؟ کیا ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے وفات پا چکے ہوتے ہیں؟ فرشتے بھی زمین پر نہیں ہوتے، کیا وہ بھی فوت ہو چکے ہیں؟
توفی
آنجہانی مرزا قادیانی نے لفظ ”توفی“ کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا:
- ”جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہوا ہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے، کسی
قول قدیم یا جدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ ”توفی“ کا لفظ کسی قبض جسم کی نسبت استعمال کیا ہو۔ بلکہ جہاں کہیں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کا فعل ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے، وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنے پر آیا ہے نہ قبض جسم کے معنوں میں۔ کوئی کتاب لغت کی اس کے مخالف نہیں۔ کوئی مثال اور قول اہل زبان کا اس کے مغائر نہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 503 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 603 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے مزید لکھا:
- ”توفی کا معنی روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا“۔
(ازالہ اوہام صفحہ 290 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 390 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے لفظ توفی کے اس ترجمہ پر حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ نے اپنی کتاب ”غایت المرام“ میں مرزا قادیانی کو چیلنج دیا: ”ہم حیران ہیں کہ توفی کے معنی صرف ”قبض روح“ کس لغت میں ہیں۔ اگر براہ عنایت مرزا قادیانی کسی مستند کتاب لغت میں یہ الفاظ لکھے دکھا دیں کہ توفی کے معنی ”صرف قبض روح اور جسم کو بے کار چھوڑ دینے“ کے ہیں تو وہ ایک ہزار روپیہ کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس رقم میں ”سراج
منیر“ بخوبی چھپ سکتا ہے۔“ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مرزا قادیانی زندہ تھا اور اپنی کتاب ”سراج منیر“ شائع کرنے کے لیے چندہ کی اپیلیں کر رہا تھا۔ مرزا قادیانی اس چیلنج کو قبول کرنے سے عاجز رہا۔ اب ہم مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ کے ادنیٰ خادم ہونے کے ناتے پوری قادیانیت کو چیلنج کرتے ہیں کہ اس چیلنج کو قبول کرو اور ہم سے انعام پاؤ، نکلو میدان میں مرد میدان بن کر سامنے آؤ اور مرزا کی پیشانی سے ذلت و ندامت کے داغ دھونے کے لیے کوشش کرو مگر واللہ! تم قیامت تک ایسا نہ کر سکو گے۔ ھاتوا برهانکم ان کنتم صادقین۔ اور ہاں یہ وہی قاضی محمد سلیمان پوریؒ ہیں جنہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی کو ساری زندگی حج نصیب نہیں ہوگا۔ یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور مرزا قادیانی کو حج و عمرہ تو کیا خواب میں بھی مکہ مدینہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔
لفظ توفی اور قرآن مجید
- وَاَوْفُوْا بِعَهْدِيْ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ. (البقرہ: 40)
”اور پورا کرو تم میرے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو میں پورا کروں گا تمہارے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو۔“
- وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا. (البقرہ: 177)
”اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے وعدوں کو جب کسی سے وعدہ کرتے ہیں۔“
- وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ. (البقرہ: 272)
”اور جتنا کچھ تم خرچ کرو گے (اپنے) مال سے پورا ادا کر دیا جائے گا تمہیں اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
- وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ. (البقرہ: 281) ”اور ڈرتے رہو اس دن سے لوٹائے جاؤ گے جس میں اللہ کی طرف پھر پورا پورا دے دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا ہے اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی۔“
- وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ.
(آل عمران:25)
”اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
- إِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى إِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَیَّ وَمُطَهِّرُكَ
مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ
(آل عمران:55)
”یاد کرو جب فرمایا اللہ نے اے عیسیٰ! یقیناً میں پوری عمر تک پہنچاؤں گا تمہیں اور اُٹھانے والا ہوں تمہیں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تمہیں ان لوگوں (کی تہمتوں سے) جنہوں نے (تیرا) انکار کیا اور بنانے والا ہوں ان کو جنہوں نے تیری پیروی کی غالب کفر کرنے والوں پر قیامت تک پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم نے پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان (ان امور کا) جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔“
- وَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ؕ وَاللّٰهُ
لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ
(آل عمران:57)
”اور وہ جو ایمان لائے اور کیے نیک کام تو اللہ پورے پورے دے گا انہیں ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ نہیں محبت کرتا ظلم کرنے والوں سے۔“
- بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ.
(آل عمران:76)
”ہاں کیوں نہیں جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اور پرہیز گار بنا تو بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیز گاروں سے۔“
- ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ.
(آل عمران:161)
”پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔“
- كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط
(آل عمران:185)
”ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور پوری مل کر رہے گی تمہیں تمہاری مزدوری قیامت کے دن۔“
- فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِى الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ
يَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلاً
(النساء:15)
”پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو بند کر دو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ پورا کر دے ان (کی زندگی) کو موت یا بنا دے اللہ تعالیٰ ان (کی رہائی) کے لیے کوئی رستہ۔“
- فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ
وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ج
(النساء:173)
”پھر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انہیں ان کے اجر اور زیادہ بھی دے گا انہیں اپنے فضل (وکرم) سے۔“
- يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ط
(المائدہ:1)
”اے ایمان والو! پورا کرو (اپنے) عہدوں کو۔“
- وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِالَّيْلِ
(الانعام:60)
”اور وہ وہی ہے جو قبضہ میں لے لیتا ہے تمہیں رات کو۔“
- وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج
(الانعام:152)
”اور پورا کرو ناپ اور تول انصاف کے ساتھ۔
- وَبِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا
(الانعام:152)
اور اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرو۔“
- فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاءَهُمْ
(الاعراف:85)
”تو پورا کرو ناپ اور تول کو اور نہ گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں ۔“
- وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا
تُظْلَمُوْنَ. (الانفال:60) ”اور جو چیز خرچ کرو گے راہِ خدا میں اس کا اجر پورا پورا دیا جائے گا تمہیں اور (کسی طرح) تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
- وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ . (التوبۃ:111)
”اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے۔
- نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ (ھود:15)
”ہم پورا بدلہ دیں گے انہیں ان کے اعمال کا اس زندگی میں اور انہیں اس میں نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔“
- وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ (ھود:85)
”اور اے میری قوم ! پورا کیا کرو ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ ۔“
- وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ (ھود:109)
”اور ہم یقیناً پورا پورا دینے والے ہیں انہیں ان کا حصہ جس میں ذرا کمی نہیں ہوگی ۔“
- وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ط (ھود:111)
”اور یقیناً ان سب (اختلاف کرنے والوں) کو پورا پورا بدلہ دے گا انہیں آپ کا رب ان کے کرتوتوں کا“۔
- اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِى الْكَيْلَ. (یوسف:59)
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں ۔“
- ”فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ط (یوسف:88)
”پورا ناپ کر دیں ہمیں پیمانہ اور (اس کے علاوہ) ہم پر خیرات بھی کریں ۔“
- الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ (الرعد:20)
”وہ جو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو اور نہیں توڑتے پختہ وعدہ کو ۔“
- وَأَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ إِذَا عَاهَدْتُّمْ . (النحل:91)
”اور پورا کرو اللہ تعالیٰ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کرلیا ہے“۔
- وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ. (النحل:111)
”اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کیا ہوگا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔“
- وَأَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا. (بنی اسرائیل:34)
”اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بے شک ان وعدوں کے بارے میں (تم سے) پوچھا جائے گا۔“
- وَاَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ.
(بنی اسرائیل:35)
”اور پورا پورا ماپو جب تم کسی چیز کو ماپنے لگو اور تولو تو اسے ترازو سے تو لو جو بالکل درست ہو۔“
- ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ .
(الحج:29)
”پھر چاہیے کہ دور کریں اپنی میل کچیل اور پوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں ایسے گھر کا جو بہت قدیم ہے۔“
- يَوْمَئِذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ (النور:25)
”اس روز پورا پورا دے گا انہیں اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ جس کے وہ حقدار ہیں۔“
- وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْأٰنُ مَاءً ؕ
حَتّٰى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهُ فَوَفّٰهُ حِسَابَهُ ؕ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (النور:39) ”اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چمکتی ہوئی ریت ہو کسی چٹیل میدان میں خیال کرتا ہے اسے پیاسا کہ وہ پانی ہے۔ حتیٰ کہ جب (پینے کے لیے) اس کے قریب آتا ہے تو اسے کچھ
نہیں پاتا اور پاتا ہے اللہ کو اپنے قریب تو پورا چکا دیا اس نے اس کا حساب، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
- اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ (الشعراء:181)
’’پورا کیا کرو ناپ اور نہ ہو جاؤ کم ناپنے والوں سے۔‘‘
- لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدَهُم مِّنْ فَضْلِهٖ ط اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
(فاطر:30)
’’تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا اجر عطا فرمائے اور مزید اضافہ کرے، ان کے اجر میں اپنے فضل سے۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا بڑا قدر دان ہے۔‘‘
- وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ
(الزمر:70)
’’اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کام لوگ کرتے ہیں۔‘‘
- وَلِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (احقاف:19)
’’اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
- وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا (الفتح:10)
’’اور جس نے ایفاء کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا تو وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔‘‘
- وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِىْ وَفّٰى (النجم:37)
’’اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں جو پوری طرح احکام بجالائے۔‘‘
- يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (الدھر:7)
’’جو پوری کرتے ہیں اپنی منتیں۔‘‘
- الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ (المطففين:2)
’’جب وہ لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔‘‘
بلا عنوان
قارئین کرام : ذیل میں مرزا قادیانی کی چند متضاد تحریریں ملاحظہ کیجیے اور اس کا عنوان خود تجویز کریں۔ شکریہ! مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے متعلق لکھا:
- ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جس سختی سے مسلمانوں نے میرے ساتھ برتاؤ کیا، عیسائی
نہیں کریں گے، کیونکہ ان میں وہ تہذیب ہے جو عدل گستر گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے قوانین کے ذریعہ سے مہذب لوگوں کو سکھلائی ہے اور ان میں وہ ادب ہے، جو ایک باوقار سوسائٹی نے نمایاں آثار کے ساتھ دلوں میں قائم کیا ہے۔.......... پادری صاحبان خلق اور بردباری اور رفق اور نرمی میں ہمارے ان مولوی صاحبوں سے ایسی سبقت لے گئے ہیں کہ ہمیں موازنہ کرتے وقت شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔........... میں اس شہر میں قریباً ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب کوئی مسلمان مخالف ملنے کے لیے آتا ہے، تو اس کے چہرہ پر ایک درندگی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ گویا خون ٹپکتا ہے، ہر دم غصہ سے نیلا پیلا ہوتا جاتا ہے،سخت اشتعال کی وجہ سے زبان میں لکنت بھی ہوتی ہے، لیکن جب کوئی عیسائی ملتا ہے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غضبی قوت بالکل اس سے مسلوب ہے۔ نرمی سے کلام کرتا ہے اور بردباری سے بولتا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات، طبع جدید جلد اول، صفحہ 189)
پھر مرزا قادیانی نے پینترا بدلتے ہوئے عیسائیوں کے متعلق لکھا:
- ’’ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں
اور بھیڑوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیئے ہوتے ہیں۔‘‘
(انجام آتھم صفحہ 9، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
- ’’خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مرگیا ہے اور انجیل ایک مردہ
اور ناتمام کلام ہے۔ پھر زندہ کو مردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں۔ وہ سب کا سب ردی اور باطل ہے۔‘‘
(دافع البلاء صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی)
تصویر کے دو رخ
مرزا قادیانی کی کتاب "آسمانی فیصلہ" 1891 میں پہلی بار شائع ہوئی، اس کے
صفحہ 3 پر مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ’’خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو
اہلسنّت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں۔ اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘ (آسمانی فیصلہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے اپنے ایک اشتہار میں لکھا:
- ’’میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر،
بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنّت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی ...... اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 214، 215 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ’’ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے قائل ہیں اور حضور نبی رحمت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 2 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
تحریر صاف اردو میں ہے نہ تو اس میں کوئی ’’تاویل‘‘ ہوسکتی ہے اور نہ کوئی استعارہ۔
قادیانیوں سے سوال ہے کہ 1891ء میں جب یہ مذکورہ کتاب لکھی گئی، اس وقت تک مرزا قادیانی، نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی ’’مدعی نبوت‘‘ کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دیتا تھا (اس میں صرف مدعی نبوت کا لفظ ہے، حقیقی، ظلی بروزی، تشریعی یا غیر تشریعی کا کہیں بھی ذکر نہیں)۔ کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ مرزا غلام قادیانی نے مدعی نبوت پر اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ قرآن کی کس آیت یا کس حدیث کی رو سے لگایا؟ کیا مرزا غلام قادیانی خود اپنی طرف سے لوگوں کو کافر کہہ دیا کرتا تھا؟ کیا مرزا قادیانی خود اپنے فتویٰ کی رو سے کافر ہے؟
جھوٹ ہو تو ایسا!
عورتیں اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی اپنی منی سے حاملہ کرسکتی ہیں۔ مرزائیوں کے جھوٹے نبی مرزا قادیانی کا نیا شوشہ ملاحظہ کیجیے:
- ’’تحقیق کی رُو سے بعض اس قسم کی بھی عورتیں ہوتی ہیں کہ قوت رجولیت اور انثیت
دونوں ان میں جمع ہوتی ہیں اور کسی تحریک سے جب اُن کی منی جوش مارے تو حمل ہوسکتا ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت صفحہ 218 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 226 از مرزا قادیانی)
اگر کوئی قادیانی ڈاکٹر یہ تحریر پڑھ رہا ہے تو خدا کے لیے مرزا قادیانی کے اس جھوٹ پر ہی اس پر لعنت بھیج کر اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ کر سید المرسلین، خاتم النبین، شفیع المذنبین، رحمت اللعالمین ﷺ کی بے پایاں رحمت کے سایہ تلے آجائے!
تمام قادیانیوں سے ہماری درخواست ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے جھوٹوں کی خود تحقیق کریں اور اس کے بعد عقیدت کی اندھی پٹی آنکھوں سے اتار کر اپنی انا اور غرور بھول کر اپنے جذبات کے مقابل قادیانیت کے نام نہاد تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز کو اہمیت دے کر توبہ کرلیں اور مسلمانوں میں شامل ہوجائیں۔
وفات مرزائیت
قادیانی ہمیشہ دھوکہ اور فریب دیتے ہیں کہ جس بندے کا توفی ہوجائے، وہ مرجاتا ہے۔ حالانکہ آدمی توفی ہونے سے نہیں بلکہ موت آنے سے مرتا ہے۔
مرزائیت ہر وقت عیسیٰ ابن مریم کے توفی کا رونا روتی رہتی ہے کہ قرآن سے ان کا توفی ثابت ہے، وہ مرچکے ہیں۔ جبکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے باجود توفی ہوجانے کے بھی انسان زندہ رہتا ہے اور عیسیٰ ابن مریم پر موت ان کے زمین پر نزول کے بعد آئے گی۔
اگر توفی ہونے سے بندہ مرجاتا ہے تو نیچے والی آیت سے ثابت ہے کہ مرزائیت ساری کی ساری مرچکی ہے۔
- ’’الله یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھاج
فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی ط ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون‘‘۔ (الزمر: 42)
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جن کی موت ابھی نہیں آئی (ان کی روحیں) حالت نیند میں ۔ پھر وہ روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو مقررہ میعاد تک ۔ بے شک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں ۔“ اس آیت میں مرنے والے اور زندہ لوگوں کی توفی کا ذکر ہے لیکن باوجود توفی ہو جانے کے بھی آیت سے ثابت ہے کہ نفوس زندہ رہتے ہیں ۔
قادیانیوں سے سوال ہے
قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی رسول ہے۔ رسول اسے کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی شریعت اور نئی کتاب دی جاتی ہے۔ قادیانی بتائیں، کیا مرزا قادیانی کو کوئی نئی شریعت یا نئی کتاب ملی تھی کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ، صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210، 211) میں لکھا ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے۔
کیا بچے مرزا مسرور کی اجازت سے پیدا ہوں گے ؟
قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کے مطابق قادیانی لڑکے کو مسلمان لڑکی سے شادی کی اجازت اس شرط پر دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قادیانیت کی تعلیم دے گا اور بچے قادیانی مذہب پر ہونگے، اگر مسلمان بیوی اس پر راضی نہ ہو تو قادیانی لڑکا بچے ”پیدا نہ“ کرنے کی ضمانت دے ۔ مستقبل میں جب بھی ایسے شادی شدہ جوڑے بچے پیدا کرنا چاہیں تو مرزا مسرور کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔
نصرت جہاں چوک
ربوہ چناب نگر میں ایک یادگار چوک ہے۔ اس جگہ کا نام پہلے ”اماں جان“ چوک تھا۔ یہاں پر مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم المعروف اماں جان کا کمرہ /گھر تھا۔ نصرت اسی کمرے میں رہتی تھی۔ قادیانی / لاہوری حضرات اور مرزا قادیانی کے خاندان سے یہ سوال ہے کہ نصرت کا وہ یادگار کمرہ کیوں گرا دیا گیا اور اس کی جگہ یہ یادگار کیوں بنائی گئی؟ کیا نصرت کا وہ کمرہ بہت پلید تھا؟ وہاں نصرت نے ایسا کون سا کام کیا تھا کہ اس کمرے
کو مسمار کر دیا گیا ؟ کوئی قادیانی جرأت کر کے جواب دینا پسند کرے گا ؟
متعصب کون؟
سر ظفر اللہ خان، پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا۔ پاکستانی وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ نماز جنازہ پڑھ سکتا تھا، لیکن یہاں اس کے نزدیک اہمیت اپنے پاکستانی وزیر خارجہ ہونے کی نہیں بلکہ اپنے ”قادیانی“ ہونے کی تھی۔ اس لیے اس موقع پر اس نے سوال کرنے والوں کے جواب میں کہا تھا:
”تم مجھے کسی کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھو یا پھر کسی مسلم حکومت کا کافر وزیر سمجھو“۔
اسی طرح جب ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو نوبیل انعام دیا گیا تو اس شخص نے بحیثیت پاکستانی اس پر فخر کرنے کے بجائے احمقانہ اور جاہلانہ انداز میں اس کو اپنے جھوٹے اور باطل مذہب کی صداقت کا نشان قرار دیا، اس کو اپنے مذہبی گرو کی پیش گوئی بتایا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبیل پرائز حاصل کرنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا:
”میں سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں، پھر مسلمان ہوں پھر پاکستانی“۔
پاکستانی حکمرانوں نے اس کے ساتھ فراخ دلی، فراخ چشمی اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کو اپنے ہاں منعقدہ بڑی عالمی سائنسی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، لیکن اس متعصب قادیانی نے اس دعوت کو اس ریمارکس کے ساتھ ٹھکرا دیا:
”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک آئین میں کی گئی ترمیم (قادیانی غیر مسلم ہیں) واپس نہ لی جائے“
سوال یہ ہے کہ جب یہ سرکردہ قادیانی، باطل، گمراہ اور خود ساختہ مذہب سے وابستہ رہ کر اپنے مذہبی تعصب اور تشدد کا مظاہرہ کریں تو قادیانیوں کی نظر میں وطن کے خدمت گزار اور وفادار ہیں اور جو علمائے کرام اپنے دین کی پاسداری اور وطن سے وفاداری کے ”جرم“ میں قادیانی گروہ کے خلاف اپنے ”مذہبی حق“ کا اظہار کریں تو انہیں ”مُلائیت“، ”متعصب“ اور ”منفی سوچ“ کے طعنے ملتے ہیں۔ فیصلہ خود کریں کہ متعصب اور منفی سوچ کا حامل کون ہے؟
جنگ آزادی یا غدر؟
مرزا قادیانی سرکار برطانیہ کا سچا نمک حلال تھا۔ مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو
فساد قرار دیتے ہوئے وہ لکھتا ہے:
- ”1857ء میں جو کچھ فساد ہوا، اس میں بجز جہلا اور بدچلن لوگوں کے اور کوئی
شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو باعلم اور باتمیز تھا، ہرگز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا ۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول، صفحہ 66 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے، وہ بتائیں کہ 1857ء کی جدوجہد، جنگ آزادی تھی یا غدر؟
پاکستان میں قادیانیوں کو آزادی
نومبر 2012ء سے قادیانیوں کا ٹی وی چینل MTA INTERNATIONAL پاکستان کی اپنی سیٹلائٹ پاک سیٹ آر 38 ڈگری پر چل رہا ہے جس کی فریکوینسی 3845، پولیریٹی ہوریزینٹل سمبل ریٹ 13800 ہے، پر کام کر رہا ہے یہ چینل اسلام کے نام پر اسلام دشمنی پھیلا رہا ہے، قادیانی توہین اسلام کے مرتکب ہو رہے ہیں اور قانون پاکستان کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ سب حکومت کی مرضی یا لاعلمی میں ہو رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی اپنی سیٹلائٹ پر انہوں نے یہ چینل حاصل کیا ہے۔
اس چینل کی مزید تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
MTA INTERNATIONAL PAKSAT 1R38 FREEQUENCY:3845 S/R:13800 Polarity:Horizental F/C:3/4
MTAINTERNATIONAL CITY:LONDON 16Gressenhall Rd. London POSTAL CODE:SW185QL
TELNO:00442088700922 FAX:00442088700684 EMAIL:info@mta.tv Website:http://www.mta.tv/
اس بارے مزید تفصیل اس لنک پر پڑھیے: http://urdulook.info/forum/showthread.php?6592
ایک توجہ طلب نکتہ
سورہ الاحزاب کی آیت ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبین میں لفظ ”خاتم النبیین“ کے متعلق قادیانی جماعت کا موقف ہے کہ ”خاتم النبین“ کا معنی ”نبیوں کی مہر“ ہے۔ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر لگا دیں گے تو وہ نبی بن جائے گا“۔
(حقیقت الوحی صفحہ 28، 97 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30، 100 از مرزا قادیانی)
جبکہ قرآن وسنت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام اسلاف امت کی تفاسیر کے علاوہ لغت عرب کی تمام کتابوں کا خاتم النبین کا مطلب آخری نبی ہونے پر اجماع ہے۔ یہ ایک بہت پرانا چیلنج بھی ہے کہ قادیانی جماعت اپنی ایجاد کردہ اس تفسیر کا شاید اوپر ذکر کیے گئے ماخذین میں سے کہیں سے بھی ثبوت پیش نہیں کر سکی نہ کر سکتی ہے بلکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابیں اس من گھڑت تفسیر کو جھٹلاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب ”تریاق القلوب“ میں اپنے متعلق تحریر کرتا ہے۔
- ❑ ”میرے ساتھ (جڑواں) ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ
لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا ۔“
(تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
جب مرزا قادیانی اور خود اس کی جماعت بھی خاتم الاولاد کا ترجمہ آخری ولد کرتے ہیں اور مرزا کو اپنے والدین کا آخری بیٹا مانتے ہیں کہ اس بعد کسی قسم کا کوئی چھوٹا، بڑا، بچہ،
گونگا بیٹا پیدا نہیں ہوا تو پھر خاتم النبین کا بھی یہی ترجمہ انہیں ماننا پڑے گا کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی ، بروزی ،مستقل ، غیر مستقل نبی آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ورنہ ان کے بنائے گئے خاتم النبین کے معنی ”حضورﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے“، کے مطابق خاتم الاولاد کا ترجمہ بھی مرزائیوں کو یہی کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتا جائے گا اور مرزا قادیانی کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ!!!
دوسری اہم بات یہ ہے کہ قادیانیوں نے لکھا ہے کہ یہ مہر نبی کریم ﷺ کی اتباع کرنے کے بعد لگے گی جبکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو
میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔“ (حقیقت الوحی صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 70 از مرزا قادیانی)
لیجیے مرزا قادیانی نے خود کہہ دیا کہ میں حضورﷺ کی اتباع سے نبی نہیں بنا بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ جب خاتم النبین کی مہر سے کوئی بھی حتیٰ کہ خود مرزا بھی نبی نہیں بنا تو یہ ترجمہ کرنے کا فائدہ؟
قادیانیوں نے جہالت اور بے وقوفی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ والضحی چہرے کے مالک نبی کامل سردار الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ایک کانے دجال کو نبی ماننے کی سزا میں ان لوگوں کی عقلیں سلب اور ماؤف ہوچکی ہیں۔
مرزا قادیانی ،منکر حدیث!
مرزا قادیانی منکر حدیث تھا، ذیل میں درج اس کی تحریر اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ملاحظہ کیجیے:
- ”کیا آنحضرت ﷺ کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد "بخاری" کو ماننا؟
بلکہ آنحضرت ﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں ۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے ، پوچھا تو یہ جائے گا کہ قرآن پر ایمان
کیوں نہ لائے؟“ (ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 472 از مرزا قادیانی)
یوں بھی ہے اور یوں بھی!
مرزا قادیانی اور اس کے مذہب کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے آپ کو قرآن کریم یا احادیث رسول ﷺ سے کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس مکار اور فریبی شخص کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی اپنی تحریروں سے بندوبست کر دیا ہے۔
اگر آپ نے یہ ثابت کرنا ہو کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت بند ہے اور وحی نبوت بھی قیامت تک بند ہے تو یہ مرزا قادیانی کی کتب میں وافر ملے گا۔ اگر آپ نے یہ ثابت کرنا ہو کہ نبوت جاری ہے اور وحی نبوت بھی جاری ہے تو یہ بھی آپ کو ملے گا۔
اگر آپ نے قرآن سے یہ ثابت کرنا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور دوبارہ وہی تشریف لائیں گے تو یہ بھی مرزا کی کتب میں قرآنی آیات سے ثابت شدہ ملے گا اور اگر آپ نے وفات مسیح ثابت کرنا ہو تو یہ بھی مرزا قادیانی کی کتب سے مل جائے گا۔
کدعہ یا کرعہ
مرزا قادیانی نے ”جواہر الاسرار“ کے حوالہ سے اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کی ہے جس میں اس نے بزعم خود یہ ثابت کیا ہے یعنی:۔
- (الف) مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے۔
- (ب) خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا۔
- (ج) دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا، جن کا شمار اہل بدر میں سے ہوگا۔ یعنی تین
سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ یہ پیشگوئی بھی میرے حق میں پوری ہوئی۔
یہ حدیث شریف کسی حدیث کی کتاب سے نقل نہیں کی گئی، جس کی پڑتال ہو سکے۔ اربعین جس کا حوالہ ”جواہر الاسرار“ میں اور نیز اربعین فی احوال المہدین مطبوعہ 1268ھ کلکتہ مصری گنج جس میں یہ حدیث بالضرور ہونی چاہیے، دیکھی گئی مگر کوئی حدیث درج نہ پائی گئی۔
کتب معتبرات سے یہ بات ثابت ہے کہ کرعہ یا کراع ایک جگہ یا شہر یا گاؤں کا نام ہے جو درمیان مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے ہے اور وہ گاؤں یا بستی حضرت رسول خدا ﷺ
کے زمانہ میں موجود اور آباد تھی اور اب بھی موجود ہے۔
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ یمن کے ملک یعنی کعبۃ اللہ مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیان میں پیدا ہوں گے۔ اگرچہ کئی حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت مہدیؑ مدینہ شریف میں پیدا ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کرعہ یا کراع بستی میں جو مکہ اور مدینہ شریف کے درمیان میں ہے (جیسے کہ بیان ہو چکا ہے) پیدا ہوں اور پھر مدینہ شریف میں تشریف لے آئیں اور عین ظہور کے وقت کعبۃ اللہ شریف میں تشریف فرما ہوں۔
مرزا قادیانی کی بددیانتی ملاحظہ کیجیے کہ پہلے اس نے کرعہ کو کدعہ میں بدلا اور پھر نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ کدعہ قادیان سے نکلا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث اس پر منطبق ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ❑ ”اب دیکھو یہ تین سو تیرہ مخلص جو اس کتاب میں درج ہیں، یہ اسی پیشگوئی کا
مصداق ہے جو احادیث رسول اللہ ﷺ میں پائی جاتی ہے۔ پیشگوئی میں کدعہ کا لفظ بھی ہے جو صریح قادیان کے نام کو بتلا رہا ہے پس تمام مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ وہ مہدی موعود قادیان میں پیدا ہوگا اور اس کے پاس ایک کتاب چھپی ہوئی ہوگی جس میں تین سو تیرہ اس کے دوستوں کے نام درج ہوں گے ۔“
(انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)
اس ضمن میں مولانا محمد رفیق دلاوریؒ لکھتے ہیں:
”امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت مہدیؑ ، حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوں گے۔ ان کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بیت المقدس کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ اخرجہ نعیم بن حماد اور شیخ علی متقیؒ نے رسالہ ”البرہان فی احوال مہدی آخر الزمان“ میں لکھا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ میں متولد ہوں گے۔ مکہ مکرمہ میں ظہور فرمائیں گے۔ بیت المقدس کی طرف ہجرت کریں گے اور اسی جگہ انتقال فرمائیں گے۔ (حجج الکرامہ، صفحہ 358) لیکن اس کے برخلاف امام مستغفری نے ”دلائل النبوۃ“ میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کرعہ نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوں گے۔ (ایضاً) اسی طرح میزان الاعتدال میں کامل
ابن عدی سے نقل کیا ہے کہ مہدی ایک گاؤں سے ظاہر ہوں گے جس کا نام کرعہ ہوگا۔ (میزان الاعتدال، جلد 2، صفحہ 161) غرض مہدی علیہ السلام کی جائے ولادت میں روایات مختلف ہیں۔ میرے خیال میں اگر صحیح ہیں تو وہی روایات صحیح ہوسکتی ہیں جن میں صاحب الزمان مہدی علیہ السلام کا مدینہ منورہ میں متولد ہونا مذکور ہے۔ رہی کرعہ میں پیدا ہونے کی مؤخر الذکر روایتیں سو وہ پایہ اعتبار سے ساقط ہیں کیونکہ ان کا ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ضعیف ہے۔ نسائی نے اس کو متروک الحدیث اور دار قطنی نے منکر الحدیث لکھا ہے اور ابو حاتم نے اسے کاذب بتایا ہے۔ (میزان الاعتدال، جلد 2، صفحہ 160)
کرعہ والی روایت ایک جھوٹے راوی عبدالوہاب بن ضحاک کا من گھڑت افسانہ ہے۔ لیکن مسیح قادیاں کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ کوئی روایت صحیح ہے یا سقیم ۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ یہ دیکھا کرتے تھے کہ کس چیز سے ان کے آشیانہ مہدویت ومسیحیت کے لیے کوئی تنکا فراہم ہو سکتا ہے؟ جب کوئی روایت خلاف مدعا ہوتی تھی تو صحیحین کی متفق علیہ حدیث سے بھی، جس کی صحت ساری دنیا کے علماء اور ہر زمانہ کے مسلمانوں کے نزدیک مسلم رہی ہے، روگردان ہوجاتے اور اگر مفید مطلب ہوتی تو چاہے کیسی ہی مبتذل روایت کیوں نہ ہو اسے صحیح قرار دے کر اپنے پروپیگنڈا کا آلہ کار بنالیتے۔ کرعہ والی روایت کو بھی انھوں نے مفید مطلب سمجھ کر لے لیا اور بساط زندقہ پرستی پر قدم رکھ کر اس سے اپنی خانہ ساز مہدویت پر استدلال کرنے لگے۔ اگر محض کسی ضعیف روایت کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے تو کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ دنیا میں تقدس کے جتنے جھوٹے دکاندار گزرے ہیں انھوں نے موضوع اور مجروح روایات کی آڑ لے کر خلق خدا کو گمراہ کیا ہے لیکن قادیاں کے ”مسیح موعود“ میں تو یہ کمال تھا کہ لغو روایات سے مطلب براری تو ایک طرف رہی، موضوع یا ضعیف روایتوں میں بھی حسب دلخواہ تصرف کر کے ان کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتے تھے، چنانچہ مندرجہ ذیل تحریروں سے آپ کو معلوم ہوگا کہ انھوں نے کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے کس طرح مطلب براری کی نامراد کوشش کی۔ لکھتے ہیں:
- ”ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے
والا ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیاں کے لفظ کا مخفف ہے۔“
(کتاب البریہ، صفحہ 243 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 13 صفحہ 260، 261 از مرزا قادیانی)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
- ”میری نسبت قرآن کریم نے اس قدر پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ
ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے۔“
(تذکرۃ الشہادتین، صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
جبکہ ایک اور جگہ پر لکھتے ہیں:
- ”اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوتا
ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی اُن کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ پچاس کوس بگوشہ شمال مشرق واقع ہے، فروکش ہو گئے جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا۔ جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا۔ اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا اور پھر اس سے بگڑ کر قادیان بن گیا اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ تقریباً ساٹھ کوس ہے، اُن دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا۔ غالباً اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں۔“
(کتاب البریہ صفحہ 145، 146 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 163، 164 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
لوگ معترض ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے اپنے دامنِ تقدس پر بددیانتی کا داغ لگایا۔ لیکن میرے نزدیک بددیانتی کا الزام کسی حد تک بے محل ہے۔ ”بوقتِ ضرورت“ ایک آدھ حرف کو دوسرے حرف سے تبدیل کر لینے میں کوئی لمبی چوڑی بددیانتی لازم نہیں آتی۔ بلکہ سچ پوچھو تو یہ مرزا قادیانی کا بہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے کرعہ کی جگہ کدعہ اور کدیہ لکھ کر لغاتِ عرب میں دولفظوں کا اضافہ فرما دیا۔ ع: ایں چہ احسان است قربانت شوم۔ البتہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے آسان طریق چھوڑ کر سنگلاخ راستہ اختیار کیا۔ اگر کرعہ کی روایتوں کے بجائے ان روایات سے مطلب براری کی کوشش فرماتے جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کا
مدینہ طیبہ میں متولد ہونا مذکور ہے تو ان کے لیے مہدی بننے میں زیادہ سہولت رہتی۔ کیونکہ مدینہ اور قادیاں میں حرف دال مشترک ہے۔ کدعہ کو کدعہ بنا کر قادیاں قرار دینے میں جو تکلف کیا گیا، وہ مدینہ کو قادیاں بنا لینے کی صورت میں نہ کرنا پڑتا۔ موخر الذکر طریق استدلال میں صرف اتنا کہنے کی ضرورت تھی کہ ”مدینہ سے قادیاں مراد ہے کیونکہ دونوں میں حرف دال موجود ہے۔“ لیکن یہ پیرایہ کیوں نہ اختیار کیا؟ اس لیے کہ یہ بقعہ مطہرہ اسلامی عظمت کا اولین گہوارہ جناب حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دارالہجرت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شہر ہے۔ یہیں سے اسلامی علم وعمل کے سرچشمے پھوٹے اور دنیا حلاوت اندوز رشد و سعادت ہوئی۔ مرزا قادیانی سمجھتے تھے کہ مسلمان ان کی تمام تعلیوں اور لن ترانیوں کو برداشت کر لیں گے لیکن مدینتہ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین و تفضیح ہرگز گوارا نہ کریں گے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ قادیانی نے کدعہ کو تو اپنی توجہ کا مرکز بنایا لیکن مدینہ منورہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔“ (رئیس قادیان از مولانا محمد رفیق دلاوریؒ)
قادیان...... کدعہ؟
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کے حالات لکھتے ہوئے لکھا:
- ”1530ء میں یا اس کے قریب جبکہ شہنشاہ بابر کا زمانہ تھا، ایک شخص مرزا ہادی
بیگ نامی جو امیر تیمور کے چچا حاجی برلاس کی نسل میں سے تھا اور ایک بااثر اور علم دوست رئیس تھا۔ اپنے چند عزیزوں اور خدمت گاروں کے ساتھ اپنے وطن سے نکل کر ہندوستان کی طرف آیا۔ اور پنجاب میں لاہور سے قریباً ستر میل شمال مشرق کی طرف بڑھ کر دریائے بیاس کے قریب ایک جنگل میں اپنے کیمپ کی بنیاد رکھی۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مرزا ہادی بیگ کو دہلی کی شاہی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کا قاضی یعنی حاکم اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ چونکہ مرزا ہادی بیگ نے اپنے کیمپ کا نام اسلام پور رکھا تھا۔ اس لیے وہ آہستہ آہستہ ملک کے محاورہ کے مطابق اسلام پور قاضیاں کہلانے لگا۔ اور پھر مرور زمانہ اور کثرت استعمال سے اسلام پور کا لفظ گر گیا اور صرف قاضیاں رہ گیا جو بالآخر بگڑ کر قادیان بن گیا اور اب یہی اس قصبہ کا نام ہے جس میں مرزا غلام احمد صاحب پیدا ہوئے“۔ (سلسلہ احمدیہ صفحہ 4 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ مہدی ”کدعہ“ میں پیدا ہوگا۔ لیکن مرزا بشیر نے تو اس کا کوئی ذکر نہیں کیا؟ قادیانی بتائیں کہ کس نے ”ڈنڈی“ ماری ہے۔ بڑے یک نے یا چھوٹے یک نے؟
کادیاں یا قادیاں
”مرزا صاحب کادیانی ہمیشہ اپنے گاؤں ”کادیاں“ کو ”قاف“ سے لکھا کرتے تھے اور ان کے خدام کا بھی یہی دستور ہے ”کاف“ کے لکھنے میں خدا جانے انہوں نے کیا قباحت سمجھی کہ کوشش پر کوشش جاری ہے کہ کوئی ”کاف“ سے نہ لکھے ہر ایک شخص کسی املا میں مختار ہے جو چاہے لکھے مگر ایسا حق کسی کو حاصل نہیں کہ غلط لکھے مرزا صاحب اور اُن کے خدام کے پاس بظاہر کوئی دلیل اس پر موجود نہیں کہ ”قاف“ ہی سے صحیح ہے۔ تاوقت یہ کہ کوئی مدلل ثبوت اس کی صحت کا نہ ہو کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ ضرور قاف سے لکھے۔ اس سوال کا (کہ کادیاں صحیح ہے یا قادیاں) فیصلہ تشحیذ الاذہان کادیان بابت ماہ دسمبر 1911ء سے بآسانی ہوسکتا ہے اور ہمیں اُمید کہ جماعت مرزائیہ عموماً اور خلیفہ مرزا صاحب خصوصاً اس فیصلہ کو قبول کریں گے۔ کیوں کہ یہ فیصلہ خود اُن کے پیغمبر مرزا صاحب کی طرف منسوب ہے اور اُمید ہے کہ اب آئندہ تمام مرزائی ”قادیاں“ نہ لکھا کریں گے بلکہ ”کادیاں“ لکھنے کی عادت ٹھہرائیں گے۔
تشحیذ الاذہان ماہ دسمبر 1911ء کے ٹائٹل کے دوسرے صفحہ پر بعنوان ”جماعت البشریٰ“ ایک نظم اکمل نامی ایک مشہور مرزائی صاحب کی جودت طبع کا نتیجہ ہے یہ نظم طرابلس کے مسلمانوں کی طرف لکھی گئی ہے اور مضمون یہ ہے کہ مسلمان سلطنت پے بہ پے یوں گئی، ماخوذ اس لئے محروم ہوگئے کہ مسیح موعود (یعنی مرزا کادیانی) کا انکار کیا گویا اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر مسلمان مرزا کادیانی پر ایمان لائیں گے تو انہیں سلطنت مل جائے گی، اگرچہ دکھانے کے لئے جماعت مرزائیہ گورنمنٹ عالیہ کی وفاداری کا بہت کچھ راگ گاتی ہے لیکن دلی جذبات کا نقشہ اکمل کے اس مضمون سے عیاں ہے خیر اس سے ہمیں کیا۔ ہمارے نزدیک یہ بھی مثل ان عشقیہ نظموں کے ہے جن میں وہمی اور فرضی معشوق کے خد و خال اور ہجر و وصال پر قابلیت خرچ کی جاتی ہے اس نظم میں ایک شعر یہ ہے
اہل فارس سے بس آنا تھا غلام احمد
اس شعر میں ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مہدی موعود علیہ السلام مقام ”کدعہ“ یا ”کرعہ“ میں پیدا ہوگا اور دوسرے مصرعہ میں اس پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمائی ہے مہدی موعود کی پیش گوئی کو اس پیش گوئی سے ملانا جو رجل فارس کے متعلق ہے ایسی ہی بات ہے کہ
خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ خود مرزا صاحب کو اپنی قومیت کے متعلق کوئی وثوق نہیں اور دبی زبان سے سیادت میں قدم رکھنے کے متمنی معلوم ہوتے ہیں۔ لفظ ”کدعہ“ سے فائدہ اٹھا کر مرزا صاحب نے کادیان کو پیش کیا۔ بہت سا حصہ کدعہ اور ”کادیاں“ کا آپس میں ملتا جلتا ہے، اس لئے مرزا صاحب نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ میاں اکمل بھی مندرجہ بالا شعر میں اسی فائدہ کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس وقت یہ بحث نہیں چھیڑتے کہ یہ ادعا صحیح ہے یا غلط۔ بلکہ ہم مرزائیوں کو اس پر توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اگر ان کے نزدیک یہ صحیح ہے کہ ”کدعہ“ سے مراد ”کادیاں“ ہے تو لفظ ”کادیاں“ کو صحیح سمجھیں اور قادیاں کو غلط قرار دیں۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ ”کدعہ“ یا ”کرعہ“ دونوں میں ”کاف“ ہے نہ کہ ”قاف“ لیکن اگر ان کے نزدیک ”قادیاں“ صحیح ہے تو ”کدعہ“ سے فائدہ اٹھانا ایک بے سود امر ٹھہرا۔
اگر لفظ کدعہ ڈاک خانہ مہر میں ہوتا یا پوسٹل لسٹ میں ہوتا تو افسران ڈاک خانہ کی منت خوشامد کر کے ”قاف“ سے ”قدعہ“ لکھوانا آسان تھا کیونکہ ڈاک خانہ کی مہر میں کادیاں کا نام پہلے اس طرح درج تھا kadian۔ کچھ عرصہ ہوا مرزائیوں نے افسران سررشتہ ڈاک سے منت خوشامد کر کے اس طرح لکھوا دیا qadian۔ یہ تو آسان تھا لیکن کتابوں میں ”کدعہ“ کو ”قدعہ“ بنانا محال ہے اس لئے مرزائی جماعت دونوں شقوں میں سے کسی کو اختیار کرلے پیش گوئی سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دے یا اب ”کادیاں“ لکھا کرے۔
دیکھیں جماعت مرزائیہ اس کے متعلق کیا رائے قائم کرتی ہے!!!“
(رد قادیانیت اور سنی صحافت از محمد ثاقب رضا قادری)
مذہب کی یا مذاہب سے آزادی!!
”احمدیہ تنظیم اس قانونی بے راہ روی کی مرتکب ہوتی ہے کہ احمدی گھر میں پیدا ہونے
والے افراد کو پیدائشی احمدی کہہ کر اسے تنظیم کا حصہ سمجھ لیتی ہے اور اگر وہ ان کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قواعد پر نہ چلے اور باقاعدہ چندے نہ دے تو اس کے خلاف ایک مہم کھڑی کر کے اسے ہر طرح سے Harass کیا جاتا ہے۔ میں نے ان کے امریکہ میں ایک مبلغ کا جنازہ پڑھا جسے ”خلیفہ وقت“ کی اجازت کے بغیر امریکہ سے پاکستان سفر کرنے کی پاداش میں جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے شکاگو کے قریب جھیل میں کود کر خودکشی کر لی تھی۔ تو مجھے انہوں نے اس کا جنازہ پڑھنے پر خط لکھا کہ تمہیں جماعت سے خارج کیا جاتا ہے، ان سے کوئی پوچھے کہ میں نے کب احمدی ہونے کا کوئی فارم بھرا تھا۔ میں تو ہمیشہ سے اس مذہب سے باغی رہا۔ حقیقت میں میرا مذہب اللہ کی ذات اور اس کے سچے رسول ﷺ پر ایمان ہے۔
آج کل مجھے کئی احمدی کال کرتے اور عجیب باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ کیا آپ نے قرآن کا مطالعہ کیا؟ آپ کو پتہ ہے کہ قرآن نے بار بار ”مسیح موعود“ کے بارے میں پیشگوئی کی ہے وغیرہ۔ میں نے ان صاحب کو بتایا کہ انہیں اگر اپنے ”مسیح موعود“ پر یقین ہے تو انہیں پوری آزادی ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ودائم رہیں اور مجھے بھی پوری آزادی ہے کہ میں اس ضمن میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ بولے، آپ کے والد صاحب بہت نیک انسان تھے اور وہ انتہائی مخلص احمدی تھے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں بھی اپنے والد کا ان کی نیکی کی وجہ سے احترام کرتا ہوں۔ احمدیوں میں، میں نے اور بھی نیک اور اچھے افراد دیکھے، لیکن وہ بھٹکے ہوئے تھے۔ بھٹکا ہوا اسے کہتے ہیں جو راستہ بھول جائے اور ہمیشہ سے ایسا ہوتا ہے کہ اچھے اچھے نیک لوگ بھی بھٹک جاتے ہیں۔ پھر میں نے انہیں چیلنج کیا کہ قرآن سے مرزا قادیانی کے بارے میں پیشگوئیاں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی جیسے سینکڑوں مہدی، مسیح موعود اور مجدد وغیرہ ہونے کا دعویٰ کرتے چلے آئے۔ آپ اپنی جماعت کے چند معتبر بندوں کو لے کر میرے ہمراہ لندن انگلستان چلیں اور میں آپ کو برٹش میوزیم کے انڈیا آفس کے اس ریکارڈ میں سے جسے De-classify کیا جاچکا ہے، ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ مرزا قادیانی کو انگریزوں نے Divide and Rule کے تحت ماہوار وظیفہ پر پیغمبری کا دعویٰ کرنے کی شہہ دی تھی اور مزید یہ بھی ریکارڈ میں ہے جس کے لیے انگلستان جانے کی ضرورت نہیں اور میں انہی حوالوں کے ساتھ یہیں کینیڈا میں ہی دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی اپنے وظیفے کی رقم سے مطمئن نہیں تھا تو اس نے لاہور میں انگریزوں کے صوبائی لیفٹیننٹ گورنر
لارڈ لارنس کو کچھ اس طرح خط لکھا کہ یہ (قادیانیت) آپ کا ہی لگایا ہوا پودا ہے اور اس کی آبیاری بھی آپ نے ہی کرنی ہے....... وغیرہ وغیرہ....... اور اس خط کو انہوں نے یوں ختم کیا جیسے انگریزوں نے ہمیں ان کے نام درخواستوں کو ختم کرنا سکھایا تھا۔
Your Obedient Servant,
Mirza Ghulam Ahmad
انہوں نے پہلی بات مجھے یہ کہی کہ آپ کالم لکھتے ہیں اور ہمیشہ احمدیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ کیا آپ کو احمدیوں سے الرجی ہے؟ میں نے انہیں جواب دیا، مجھے کیوں الرجی ہونے لگی۔ الرجی تو آپ کو ہو جو مرزا خاندان کے ہر کس و ناکس جن کے اخلاق مشتبہ ہیں، کے ہاتھ پاؤں چومتے چاٹتے رہتے ہیں۔ میں تو ان سب پر لعنت بھیجتا ہوں۔
رہا سوال نفرت پھیلانے کا جیسا کہ کئی احمدی مجھے فون پر کہتے ہیں تو کیا جو کچھ میں نے ربوہ میں دیکھا اور جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا، اس کا تذکرہ کرنا نفرت پھیلانا ہے؟ ان صاحب نے خود مانا کہ احمدیوں کو اجازت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو احمدیوں سے باہر شادیاں کرنے دیں۔ یہاں کئی گھرانے موجود ہیں جن کے بیٹے بیٹیوں نے مسلمانوں یا غیر مسلموں سے شادیاں کیں تو ان کا باقاعدہ سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ خطبوں میں اور خطوط کے ذریعہ تنبیہہ کی گئی کہ احمدی ان سے قطع تعلق کریں۔ ان میں سے کئی مجھے فون کر کے اپنے دل کا غبار نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں، ٹھیک لکھتا ہوں تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان کو جماعت سے Excommunicate (خارج) نہ کیا گیا ہوتا تو کیا پھر بھی وہ میری تائید کرتے، نیز انہوں نے ایسی تنظیم کے ساتھ تعلق قائم ہی کیوں کیا؟ کہیں گے اپنے ماں باپ کی وجہ سے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا انہوں نے قرآن کی سورہ نساء میں نہیں پڑھا۔ ”وہ کہتے ہیں، ہم کیا کریں ہم اپنے بزرگوں کی ڈگر کو کیوں کر ترک کر سکتے ہیں؟“ میرے کئی جاننے والے ہیں جو جماعت سے الگ ہونے کی بارڈر پر کھڑے ہوتے ہیں، لیکن کہیں گے، نہ ہم ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ اگر ہم الگ ہو جائیں تو مسلمان ہمارے بچوں کے رشتے نہیں لیں گے تو اس کا پہلے سوچنا تھا۔ انہیں دنیاوی فوائد کے چنگلوں میں پھنسا کر جھوٹی تنظیمیں اپنا کاروبار چلائے رکھتی ہیں۔ راقم کو نہ جماعت کے اعتقادات سے سروکار ہے اور نہ دوسرے فرقوں کے تفرقات سے۔ مجھے جس بات سے دھچکا لگا وہ ربوہ کی اخلاقی گندگی تھی....... اور پھر
اس ”خاندان مقدسہ“ کے افراد کے اخلاق کا مشاہدہ کر کے جن کو احمدی، بتوں کی طرح پوجتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتایا کہ بہن کے رشتہ کے ذریعہ اس خاندان سے بھی تہرا جوڑا بن گیا تھا۔ بہن کی نند کا خاوند جماعت کے گزشتہ ”خلیفہ“ کا سگا خالہ زاد بھائی تھا۔ ان کے بچوں سے راقم کی دوستی تھی۔ وہ سب مجھے بھائی رفیق کو مروڑ کر ”برفی“ کہنے لگے تھے کیونکہ میں، ربوہ کے گول بازار سے خالص کھوے کی برفی لے جاتا اور ہم سب مل کر کھاتے۔ ان کے ایک بیٹے سے میری خاصی بے تکلفی تھی، (وہ آج کل یورپ میں Settle ہے)۔ ایک روز مجھے کہنے لگا، بھائی رفیق، چلیں آج آپ کو ایک تماشہ دکھاتا ہوں۔ مجھے تحریک جدید (ان کی ایک تنظیم) کے دفتر کے پیچھے لے گیا، جہاں شیشم اور یوکلپٹس کے بڑے بڑے پیڑ لگے تھے۔ مجھے ایک درخت کے تنے کے پیچھے چھپا کر کہنے لگا، یہاں سے ہلنا نہیں۔ بس دیکھتے رہیں کہ کیا ہوتا ہے؟ پانچ منٹ کے بعد ایک کار آ کر رکی جسے مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ وقت) کا بڑی بیوی سے ایک بیٹا چلا رہا تھا جس کی سیالکوٹ میں شادی ہوئی تھی۔ میری بہن کے سسرال کا یہ لڑکا تحریک کے کوارٹروں میں سے ایک دروازے پر گیا اور کنڈی کھڑکائی۔ اندر سے برقعے میں ایک لڑکی نکلی اور سیدھی جا کر کار میں بیٹھ گئی۔ اس گھر کی فیملی اتفاق سے فی الوقت کینیڈا میں مقیم ہے۔ جب دوست مسکراتا ہوا واپس میرے پاس آیا تو میں نے اس سے پوچھا، یہ کام تم نے کب سے شروع کیا اور سچ سچ بتاؤ کہ تمہیں کیا ملتا ہے؟ بولا، بھائی یہ راز کی باتیں ہیں۔ فی الحال نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔
بیسیوں واقعات ہیں۔ یہاں فقط دو کا ذکر کرتا ہوں۔ سوچ کر خون کھولنے لگتا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود کے بیٹوں میں سے ایک ٹھنگنا سا جو بیچ کی بیوی سے تھا، ربوہ کے نواح میں مظفر نگر گاؤں کے کھیت سے غیر اخلاقی حالت میں پکڑا گیا۔ اس کے باپ کے پاس اس کی شکایت کی گئی۔ باپ نے کہا کہ اس کا فیصلہ امور عامہ (جماعت کا ذاتی تھانہ) کرے۔ اس کا انچارج ایک ریٹائرڈ فوجی کپتان تھا۔ اس نے فیصلہ دیا کہ صاحبزادے کو جماعت کے ایک سکول کا پرنسپل بنا کر مغربی افریقہ بھیج دیا جائے۔ اس نے وہاں جا کر وہ گل کھلائے کہ جو چند افریقن جماعت کے چنگل میں پھنسے تھے، وہ بھی بھاگ گئے۔ اس امور عامہ کے افسر کا گھر ہمارے گھر کے مقابل ریلوے لائن کے دوسری طرف تھا۔ والد صاحب جو فالج سے صاحب فراش تھے، نے ایک رقعہ اس ریٹائرڈ کپتان کو پہنچانے کے لیے دیا۔ (اس وقت میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا)۔ اس کپتان کی تین بیویاں تھیں۔ اس کی اخلاقی حالت نہایت
پست تھی۔ اس کپتان کا اسسٹنٹ بھی بدنام اور اکثر کھیتوں میں پرندوں کا شکار کیا کرتا۔ ایک روز میں اور بہن کے سسرال کا متذکرہ بالا لڑکا گھومتے ہوئے کھیتوں میں نکل گئے۔ یہ شخص بھی بندوق لیے وہاں نظر آیا۔ دوست پوچھنے لگا، مولوی صاحب، اس عمر میں اللہ رسول دا ناں لیا کرو! پہلے بھی کالموں میں ذکر کر چکا ہوں کہ ربوہ مجھے ایک ”دینی مرکز“ کی بجائے بدنام قصبہ لگا۔ وہاں کی گھناؤنی یادیں پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ہمیشہ اللہ سے ملتجی رہتا ہوں، مولا تو کرم فرما! اور ان تلخ یادوں کے خوفناک بھنور سے نکال کر قوت کو مفید کاموں میں لگانے کی توفیق دے۔ پھر یہ صاحب بتانے لگے کہ میرے ایک رشتہ دار (بہن کے سسرال میں سے) نے جماعت کے رسالے میں میرے بارے میں لکھا کہ میری بیوی نے مجھے عدالتی چکروں میں ڈالا اور ان کے بیٹے نے میری ضمانت دی۔ ان کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہ سب رشتہ دار پاکستان سے کسمپرسی کی حالت میں یہاں آ کر آباد ہونے کے لیے راقم کے مرہون منت ہیں۔ میرا ہزاروں میں ایک بے لوث ہندو دوست بھی فالج میں مبتلا ہونے کے باوجود ضمانت دینے کے لیے پہنچ گیا تھا۔ تاہم جماعت کا کسی کی کردارکشی کی خاطر ایسا بے تکا مضمون لکھوانا ایک گھٹیا فعل ہے۔ اسی لیے روحانی لحاظ سے اس جماعت کا دنیاوی نظر میں زیرو نمبر ہے۔ لوگ مجھے اس حوالے سے لکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بے شک کینیڈا سب کو مذہبی آزادی دیتا ہے لیکن وہ مذہبی Exploitation کی اجازت نہیں دیتا، جس کے تحت بے شمار لوگوں کو خوار اور پریشان کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت کو کچھ تنظیموں کی اندرونی چالوں کا علم ہو جائے تو وہ ان کی طبیعت صاف کر دے۔ جو لوگ عدالتوں کو گیدڑ بھبکیاں دیتے ہیں، صرف چند منٹ کے ثبوت و دلائل کے بعد نظر نہیں آئیں گے اور پھر یہ دکانیں بند ہو جائیں گی۔ (مضمون نگار: رفیق احمد، ہفت روزہ اردو پوسٹ کینیڈا، 20 تا 28 مارچ، 2013ء)
امامت مسیح موعود......حدیث کے نام پر جھوٹ
- ”ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور (مرزا قادیانی) کس لیے نماز نہیں پڑھاتے؟
فرمایا: حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے، وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا“۔
(ملفوظات جلد سوم (طبع جدید) صفحہ 222 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی دکھا سکتا ہے کہ یہ حدیث (احادیث کی) کس کتاب میں ہے؟ اور یہ بھی بتائیں کہ اگر امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص ہے تو وہ اپنے ہی پیچھے کس طرح نماز پڑھے گا؟
مرزا قادیانی نے مسلم مساجد کے برباد ہونے کی دعائیں مانگیں
- ”ایک شخص نے بعد نماز مغرب (مرزا قادیانی کی) بیعت کی اور عرض کیا کہ ”الحکم“
میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ غیر از جماعت کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ فرمایا:
”ٹھیک ہے اگر مسجد غیروں کی ہے تو گھر میں اکیلے پڑھ لو۔ کوئی حرج نہیں اور تھوڑی سی صبر کی بات ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مسجدیں برباد کر کے ہمارے حوالہ کردے گا۔ حضور نبی رحمت ﷺ کے زمانہ میں بھی کچھ عرصہ صبر کرنا پڑا تھا“۔
(ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 548 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اپنے خسر میر ناصر نواب دہلوی کی نظر میں
میر ناصر نواب جس نے مرزا قادیانی کے مشاغل کو بہت قریب سے دیکھا تھا اور اسی سے مرزا نے اپنے آخری وقت میں کہا تھا: ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے“۔ میر ناصر نواب نے مرزا قادیانی کی شخصیت بارے ایک طویل نظم کہی تھی جس سے اس کی شخصیت کے کئی پوشیدہ پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
آؤ لوگو کہ ہم پہ ہے فضل خدا
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک
ہم تمہیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک
مال جو دے وہ مرید خاص ہے
اس کے دل میں بالخصوص اخلاص ہے
جو نہ دے مال وہ کیسا مرید
شمر اس کو جانو یا یزید
ہائے دنیا میں پڑا ہے یہ غضب
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش
تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
قرض سے ایک دفعہ ہو جائے نجات
گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ
ہو یتیموں ہی کا یا رانڈوں کا ہو
رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
آجکل مکار ایسے پیر ہیں
ان کے حال و قال بے تاثیر ہیں
بدگمانی کا اسے آزار ہے
سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار
یہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ
خلق کو اس طرح دجل دیتے ہیں وہ
کھا جاتے ہیں پھر قیمت سب کی سب
اس طرح کا پڑ گیا ہے یارو غضب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار
جیسے آنا تھا کہیں انکا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے
وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
یہ مسیلمہ آج احمد بن گئے
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے
ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے
ہو کیسا ہی گرچہ بدمعاش
میوہ زر کی وہ دے ان کو قاش
پھر تو وہ مقبول رحمٰن ہے ضرور
ان کے دل کو اس نے پہچانا سرور
متقی ان کو نہ دے تو ہے شقی
جو شقی دے ان کو تو ہے متقی
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول
کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول
جو کہیں ہاتھ کر دیں گے دراز
اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ
دین داری کی نہیں ہے کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لیے
دولت دنیا ہے بس کھانے کے لیے
دل میں اپنے نادم ہوتے نہیں
ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں
غبن میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ
اپنی چالاکی پہ اتراتے ہیں وہ
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب
در دولت پہ ہیں کئی دربان
رات دن ہیں عمارتیں بنتیں
مال کرتے ہیں مفت میں ویران
ناصر اب ختم کر اپنا کلام
حق تری مشکلیں کرے آسان
(منقول از اشاعۃ السنۃ شمارہ 12 جلد 14)
یہودی ذلت اور قادیانی ذلت
آنجہانی مرزا قادیانی نے یہودی ذلت کے بارے میں اپنی کتاب میں جو فلسفہ بیان کیا، وہ قادیانی جماعت پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”قرآن شریف کی ان آیات اور کئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی
مذہب قیامت تک رہے گا۔ ہاں ذلت اور مسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے“۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 409 از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی اس تحریر کی روشنی میں یہودی ذلت اور قادیانی ذلت میں کیا فرق ہے؟
مہندی اور الہام
- ”مکرمی ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب لکھتے ہیں کہ (مرزا قادیانی) مہندی عموماً نائی
سے لگواتے تھے۔ ایک حد تک یہ درست ہے، مگر آپ حافظ حامد علی صاحب سے بھی لگوایا کرتے تھے، بلکہ ابتدا میں حامد علی ہی کثرت سے لگایا کرتے تھے اور کچھ ایسا اتفاق بھی ہو جاتا تھا کہ جب حامد علی صاحب نے مہندی لگائی تو کوئی نہ کوئی الہام ہوا ہے۔ حافظ حامد علی صاحب کو میں نے خود بھی مہندی لگاتے دیکھا ہے۔ 1905ء میں دہلی کے سفر سے جب واپس تشریف لائے تو بمقام امرتسر خان محمد شاہ مرحوم کے مکان کی بالائی منزل پر حافظ حامد علی
صاحب نے یہ مہندی لگائی۔ یہ واقعہ تو میرے دیکھنے کا ہے مگر اکثر حافظ صاحب سے لگوا لیتے تھے اور اس کو بعض اوقات فرمایا بھی کہ جب تو مہندی لگاتا ہے تو الہام بھی ہوتا ہے۔ اس سے یہ مطلب نہیں تھا کہ الہام اس کے مہندی لگانے سے ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات ایسا اتفاق ہوا کہ اس نے جس دن مہندی لگائی تو کوئی نہ کوئی الہام بھی ہوا۔“
(سیرت مسیح موعود صفحہ 11، از یعقوب علی عرفانی قادیانی)
مرزا قادیانی اور محمدی بیگم
مرزائی مربی کہتے ہیں کہ چونکہ محمدی بیگم کے خاوند نے توبہ کر لی تھی۔ اس لیے اس کی موت ٹل گئی اور پھر اس وجہ سے مرزا قادیانی کی محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیشگوئی بھی ٹل گئی۔ تو پیش خدمت ہے مرزا قادیانی کی جون 1905ء میں لکھی یہ تحریر۔ غور سے پڑھیں! ایک سوال کے جواب میں وہ کیا لکھتا ہے، اگر اس کے پیروکاروں میں تھوڑی سی بھی غیرت ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”پیشگوئی یہی تھی کہ پہلے وہ دوسری جگہ بیاہی جائے گی اور خدا پھر اس کو تیری
طرف لائے گا“۔ آگے لکھا ہے: ”وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی، سو ایسا ہی ہوگا۔“ (روزنامہ الحکم قادیان 3 جون 1905ء) غور کرو! محمدی بیگم کے خاوند کی توبہ کے بعد بھی مرزا قادیانی یہ لکھ رہا ہے کہ اسے میرے نکاح میں تو آنا ہی ہے۔
جب اختلاف ہوتا ہے تو صداقت کے حصہ میں تھوڑے لوگ آتے ہیں؟
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی ایسے مجمع میں جہاں سو پچاس آدمی جمع ہوں، تو
ان میں اختلاف ضرور ہو جاتا ہے۔ اگر بعض ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں تو بعض کو اس صداقت کی سمجھ بھی آ ہی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ صداقت کے حصہ میں تھوڑے ہی آتے ہیں مگر وہ تھوڑے ہی جوانمرد ہوتے ہیں کیونکہ صداقت کا قبول کرنا بھی ایک جوانمردی ہے۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 616 طبع جدید از مرزا قادیانی)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانی اور لاہوری گروپ میں سے کون صداقت پر ہے؟
سُؤر کو الہام؟
میر اسماعیل قادیانی لکھتا ہے:
- ’’ایک جاہل شخص مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کا نوکر تھا۔ اس پر ایک دن الہام کا
چھینٹا بہ برکت حضرت مسیح موعود پڑ گیا ، وہ سورہا تھا اسے الہام ہوا کہ ’’اٹھ او سور نماز پڑھ‘‘۔
(روزنامہ الفضل قادیان، 23 اکتوبر 1926ء صفحہ 7)
سچ ہے جیسی روح ویسے فرشتے، جیسے قادیانیوں کے مسیح، ویسے نوکر ، جیسی برکت ویسا فرشتہ اور جیسی خصلت ، ویسا الہام۔
ظفر اللہ خان قادیانی کی حضور اکرم ﷺ سے دشمنی
- ’’امریکہ کے کثیرالاشاعت ہفت روزہ میگزین ’’ٹائم‘‘ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت
میں رسول کریم ﷺ کی تصویر چھاپی تھی اور پاکستان کے گوشہ گوشہ سے اس کی سخت مذمت کی گئی چونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں اور پاکستان ان پر سفارتی احتجاج کررہا ہے۔ اس لیے اس مرتبہ بھی واشنگٹن کے (پاکستانی) سفارت خانے نے فوراً ہی امریکی حکام سے احتجاج کیا لیکن ہماری وزارت خارجہ (سر ظفر اللہ خان وغیرہ) کا رویہ چونکہ اب بدل چکا ہے اس لیے اسے جیسے ہی پتہ چلا تو پاکستانی سفارت خانے کو فوراً ہی ایک سخت ہدایت نامہ بھیجا گیا کہ پاکستان اسلام کے وقار کا تنہا محافظ نہیں ہے۔ آئندہ اس قسم کے احتجاج نہ کیے جائیں۔‘‘
(روزنامہ امروز لاہور، 19 جون 1952ء)
ہے کوئی قادیانی جواب دینے والا؟
مرزا قادیانی کے نام نہاد صحابی اور قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کے کرتوت:
- ’’اس زمانہ میں، میں ہیڈ ماسٹر تھا۔ یہ مولوی شیر علی صاحب تھے۔ آپ (مرزا محمود
خلیفہ دوم قادیانی) سکول پڑھتے تھے مگر ہر جماعت میں فیل ہوتے تھے لیکن ہم پھر بھی اگلی جماعت میں چڑھا دیتے تھے، اس لیے کہ آپ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے فرزند ہیں۔ آپ نے مڈل کا امتحان دیا، میں ساتھ گیا، اس میں بھی آپ فیل ہوئے پھر انٹرنس کا دیا، اس میں
بھی آپ فیل ہو گئے ۔‘‘
(روزنامہ الفضل قادیان جلد 23 نمبر 79 مورخہ 12 اکتوبر 1935ء صفحہ 2 مفتی محمد صادق قادیانی نے مرزا محمود کے تازہ نکاح کے تقریب میں خطبہ بمقام قادیان پڑھا)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا آپ کے نزدیک مولوی شیر علی اور مولوی صادق نے ایمانداری سے ڈیوٹی کی یا بے ایمانی سے؟ آپ کے نزدیک یہ دونوں کس سزا کے مستحق ہیں؟ آپ کے نزدیک مرزا محمود قادیانی کیسا بچہ تھا؟؟
لطیفہ
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود اپنے لڑکپن کے زمانے میں پلاسٹک کے پستول سے کھیل رہا تھا۔ اچانک اس نے مرزا قادیانی کا نشانہ بنالیا اور منہ سے ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں نکالنے لگا۔ مرزا قادیانی ہنسنے لگا اور کہنے لگا بیٹا! یہ تو نقلی پستول ہے، اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ مرزا بشیر الدین نے برجستہ جواب دیا: آپ بھی تو نقلی نبی ہیں، آپ سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔
Real Vs Fake
قادیانیوں کے نزدیک ”مسیح موعود“ کا مطلب ہے وہ مسیح جن کی آمد کا انتظار ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی ہی مسیح موعود ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا نام لے کر فرمایا ہے کہ وہ قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واضح نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک پر بھی مرزا قادیانی پورا نہیں اترتا۔
آئیے ان چند نشانیوں سے مرزا قادیانی کا موازنہ کرتے ہیں۔
مسیح موعود کی نشانیاں مرزا قادیانی کی حقیقت نام: عیسیٰ علیہ السلام نام: مرزا غلام احمد قادیانی والدہ کا نام: مریم علیہا السلام ماں کا نام: چراغ بی بی والد کے بغیر پیدا ہوئے والد کا نام غلام مرتضیٰ
پیدائش پر والدہ کو انبیا نے مبارکباد دی چراغ بی بی نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا پیدائش کے فوری بعد بات کرنے لگے مرزا قادیانی عام بچوں کی طرح رونے لگا زندہ اٹھائے گئے عبرتناک حالت میں موت واقع ہوئی دوبارہ ظہور دمشق میں ہوگا کبھی دمشق نہیں گیا امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے اس کے پیرو اسے امام مہدی بھی قرار دیتے ہیں یہودیوں سے جہاد کریں گے کبھی جہاد نہیں کیا اسرائیل میں باب لد پر دجال کو ماریں گے کبھی اسرائیل گیا ہی نہیں حج و عمرہ ادا کریں گے مرزا قادیانی کو کبھی خواب میں بھی زیارت نہیں ہوئی دنیا کو مسلمانوں سے بھر دیں گے اس نے الٹا مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا نبی کریم ﷺ کے پہلو میں دفن ہونگے مرزا لعنتی کی ایسی قسمت کہاں؟
تمام مرزائی متوجہ ہوں!
مرزا قادیانی کی کتابوں، قادیانی تحریروں اور کمنٹس میں ایک لفظ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، وہ ہے ”مسیح موعود“۔ کبھی لکھا ہوتا ہے کہ احادیث میں مسیح موعود کے بارے میں یہ آیا ہے، فلاں جگہ وہ آیا ہے وغیرہ، میں نے بہت تلاش کیا قرآن میں بھی اور احادیث میں بھی، لیکن مجھے لفظ ”مسیح موعود“ کہیں نہیں ملا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ لفظ ”مسیح موعود“ قادیانیوں نے کہاں سے لیا ہے؟ اگر کسی آیت میں آیا ہے تو لکھ دیں، اگر کسی حدیث میں ہے تو وہ حدیث لکھ دیں تاکہ میرے علم میں بھی اضافہ ہو...... مجھے لفظ ”عیسیٰ ابن مریم“، ”مسیح ابن مریم“ اور ”ابن مریم“ تو نظر آیا ہے لیکن یہ ”مسیح موعود“ کہیں نہیں ملا۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی ”شیطان کا قتل“
بقول مرزا قادیانی شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں وہ ناکام رہا اور شیطان کو قیامت تک کی مہلت مل گئی۔ لیکن یہاں بھی مرزا قادیانی نے قیامت سے مراد زمانہ امام مہدی لیا اور کہا کہ وہ شیطان کو قتل کرے گا۔ مرزا قادیانی نے کہا:
- ❑ ”شیطان نے آدم کو مارنے کا منصوبہ کیا تھا اور اس کا استیصال چاہا تھا۔ پھر شیطان
نے خدا سے مہلت چاہی اور اس کو مہلت دی گئی۔ الی یوم الوقت المعلوم (الحجر: 38) بسبب اس مہلت کے کسی نبی نے اس کو قتل نہ کیا۔ اس کے قتل کا وقت ایک ہی مقرر تھا کہ وہ مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہو۔ اب تک وہ ڈاکوؤں کی طرح پھرتا رہا ہے، لیکن اب اس کی ہلاکت کا وقت آ گیا ہے۔ اب تک اخیار کی قلت اور اشرار کی کثرت تھی۔ لیکن شیطان ہلاک ہوگا اور اخیار کی کثرت ہوگی اور اشرار چوڑے چماروں کی طرح ذلیل بطور نمونہ کے رہ جائیں گے“۔ (ملفوظات جلد اوّل طبع جدید صفحہ 540 از مرزا قادیانی)
افسوس مرزا قادیانی خود تو جہنم واصل ہوگیا لیکن اپنے برادر محترم کو قتل نہ کرسکا۔ یہ پیشگوئی بالکل ظاہری ہے اور اگر اس سے مراد برائی میں کمی بھی مان لی جائے تب بھی یہ ایک جھوٹی پیشگوئی ہی ہے کیونکہ مرزا قادیانی کو مرے سو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن برائیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
قادیانی حضرات سے دو سوال
- (1) مرزا قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کی ایک پیش گوئی بیان کی:
- ❑ ”اس کے (یعنی مسیح موعود کے) بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی، یعنی
پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائے گی، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے، نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت ہوگی“۔
(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر 2 صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 483 از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں: کیا مرزا قادیانی کے وجود میں ”مسیح موعود“ کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا اس کے مرنے کے بعد جتنے بھی انسان پیدا ہوئے، وہ سب وحشی ہیں؟ اور انسانیت صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھنے والا دنیا میں موجود نہیں؟
اگر مرزا قادیانی میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیح موعود کیسے ہوا؟ اگر پائی گئی ہے تو دور کے لوگوں کا قصہ جانے دیجیے، خود قادیانی جماعت کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا ان میں حقیقی انسانیت بالکل نہیں پائی جاتی؟ اور کیا ان کو حلال و حرام کی کچھ تمیز نہیں؟
(2) قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی وہی حیثیت ہے جو مسلمانوں کے نزدیک حقیقی مسیح ابن مریم علیہ السلام کی ہے۔ گویا کہ مسلمانوں کے نزدیک جس مسیح ابن مریم علیہ السلام نے تشریف لانا ہے، وہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی شکل میں آ گیا۔ بقول قادیانی جماعت کے مرزا غلام احمد قادیانی حقیقی مسیح کی جگہ پر آیا تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے حقیقی مسیح کے متعلق ارشاد فرمایا ”وہ بعد نزول کے 45 سال دنیا میں گزاریں گے“۔ جبکہ مرزا قادیانی نے 1889ء میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور 26 مئی 1908ء کو جہنم واصل ہو گیا۔ تو یوں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی مدت تقریباً 19 سال بنتی ہے تو پھر مرزا قادیانی مسیح کیسے ہوا؟؟
مرزا قادیانی کی تضاد بیانی
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ کے بعد پیشگوئیوں کے
دروازے قیامت تک بند کر دیے گئے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206 از مرزا قادیانی)
اس کے بعد ایک اور کتاب میں لکھا:
- ”اور ایک نشان خدا کے نشانوں میں سے یہ ہے کہ میرے دعویٰ سے تیس برس پہلے
ایک بندہ صالح نے میری نسبت پیشگوئی کی اور اس پیشگوئی میں میرا نام اور میرے گاؤں کا نام لے کر کہا کہ وہ شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا“۔
(انجام آتھم ضمیمہ رسالہ صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 293 از مرزا قادیانی)
آسمان کا خدا
یہود جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینے کی کوشش میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت خاص سے فرشتوں کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا۔ اب وہ قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ قادیانی اس بات کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر کیوں اٹھا لیا؟ کیا خدا تعالیٰ صرف آسمان پر ہی ہے؟ اس کا جواب ہم مرزا قادیانی کی ایک تحریر سے دیتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے:
- ”زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دنیا میں
پھیل جائے یا بدھ مذہب تمام دنیا پر حاوی ہو جائے مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے کہ آخر کار اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کرے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 427 از مرزا قادیانی)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے خدا کو آسمان کا خدا کیوں کہا؟
قد خلت کا ترجمہ
قادیانی مندرجہ ذیل آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:
- وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل. (آل عمران:144)
ترجمہ: ”محمد (ﷺ) ایک رسول ہیں اور آپﷺ سے قبل تمام انبیا وفات پا چکے ہیں“۔
جبکہ آنجہانی مرزا قادیانی نے اس سے ملتی جلتی آیت کا ترجمہ اس طرح کیا:
- ما المسيح ابن مريم الا رسول ج قد خلت من قبله الرسل ط
(المائدہ:75)
ترجمہ: مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے۔ اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں“۔ (جنگ مقدس، اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 89 از مرزا قادیانی)
پہلی آیت کا ترجمہ آنجہانی مرزا قادیانی کے پہلے خلیفہ آنجہانی حکیم نور الدین نے اس طرح کیا:
- ”اور محمد تو ایک رسول ہے۔ پہلے اس سے بہت رسول ہو چکے۔“
(فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب از مولوی حکیم نور الدین صفحہ 28)
قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر نے مذکورہ آیت کا ترجمہ یوں کیا:
- ”اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقیناً اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔“
(قرآن مجید کا اردو ترجمہ، سورتوں کے تعارف اور مختصر تشریحی نوٹس کے ساتھ صفحہ 108 از مرزا طاہر قادیانی خلیفہ)
قادیانی بتائیں کس کا ترجمہ درست ہے؟
آم، مرزا قادیانی کی نظر میں
آنجہانی مرزا قادیانی کا ایک خاص مرید مفتی صادق اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کا آم کی وجہ تسمیہ کے متعلق عجیب فلسفہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- "آم کے لفظ کے متعلق گاہے فرمایا کرتے تھے کہ لفظ آم لفظ ام سے نکلا ہے۔
عربی زبان میں ام ماں کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ بچہ ماں کے پستان چوستا ہے، ایسا ہی آم کو بھی منہ میں ڈال کر چوستا ہے۔ اس مشابہت کی وجہ سے اس کا نام آم ہوا"۔
(ذکر حبیب از مفتی صادق قادیانی صفحہ 163، طبع جدید)
قادیانیوں سے پوچھا جائے کہ کیلے کے متعلق مرزا قادیانی کا کیا خیال ہے؟ ایک خوبصورت اور لذیذ پھل "آم" کی مرزا قادیانی نے جس انداز میں بیہودہ اور جھوٹی تشریح کی، وہ نہایت شرمناک ہے۔ آم کو عربی میں نہ ام کہتے ہیں اور نہ کسی مشابہت کی وجہ سے اس کا نام آم رکھا گیا۔ علمی شیخی بگھارنے کی آڑ میں جھوٹ بولنا اور گندی تشریح کرنا صرف مرزا قادیانی کو زیب دیتا ہے۔
قادیانیوں کو مخلصانہ مشورہ
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ تمام مسلمان اپنے محلہ کی مسجدوں کے مولویوں، تبلیغی جماعت والوں، سنتوں بھرا اجتماع کرنے والوں، جماعت اسلامی والوں اور دیگر مولویوں سے پوچھیں کہ ان کے اجتماعات میں بہت رو رو کے دعائیں ہوتی ہیں مگر جمعہ، رمضان المبارک کی ستائیسویں رات اور دیگر اجتماعات میں یہ دعا کیوں نہیں مانگی جاتی: "اے اللہ! ہماری مدد کے لیے اب عیسیٰ اور مہدی کو جلد از جلد بھیج دے۔ اب اور مزید انتظار نہیں ہوتا۔" اگر سچے مسلمان ہیں تو یہ تحریک چلائیں اور اگر سرکاری مسلمان ہیں تو چپ رہیں"۔
قادیانیوں سے درخواست ہے کہ وہ قرآن یا حدیث کا وہ حوالہ پیش کریں جہاں لکھا ہے کہ حضرت امام مہدیؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دعائیں کرنے سے آئیں گے؟ حضرت امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی دس قریبی نشانیوں میں سے ہے۔ دیگر نشانیوں میں دجال کا خروج، یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض، تین مقامات سے زمین کا دھنس جانا، دھواں اور سورج کا مغرب سے نکلنا وغیرہ شامل ہیں۔ لہٰذا امام مہدی اور حضرت عیسیٰ
علیہ السلام اپنے مقررہ وقت یعنی قیامت کے بالکل قریب آئیں گے نہ کہ دعائیں کرنے سے؟ چونکہ قادیانیوں کے نزدیک یہ سب علامات آج سے 100 سال قبل پوری ہو چکی ہیں۔ لہذا تمام قادیانیوں کو مل کر دعا کرنی چاہیے: ”یا اللہ ! جلد قیامت بھیج دے تا کہ مرزا قادیانی سچا مسیح ثابت ہو جائے؟ جو صحیح قادیانی ہے، وہ ضرور یہ دعا کرے گا۔ جو غیر ملکی ویزہ یا قادیانی لڑکی کے چکر میں قادیانی ہوا ہے، وہ یہ دعا نہیں کرے گا۔ آزمائش شرط ہے!
ایسے کو تیسا
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ مرزا قادیانی کی مخالفت اس کی صداقت کا ثبوت ہے۔ اگر اس منطق کو مان لیا جائے تو قادیانی بتائیں کہ اگر مرزا قادیانی کی مخالفت اس کی صداقت کا ثبوت ہے تو بہا اللہ ایرانی کی مخالفت اس کی صداقت کا ثبوت کیوں نہیں؟
قادیانیوں کے اماموں کا قرآن میں ذکر
- وجعلنهم ائمة يدعون الى النار ويوم القيمة لا ينصرون
واتبعنهم فى هذه الدنيا لعنة ويوم القيمة هم من المقبوحين (القصص:41، 42)
ترجمہ: ”اور ہم نے بنایا تھا انہیں ایسے پیشوا جو بلا رہے تھے (اپنی رعایا کو ) آگ کی طرف۔ اور روزِ حشر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی ان کا شمار ملعونوں میں ہوگا۔“۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے خلیفے گمراہی کے امام ہیں یا ہدایت کے؟؟؟
قادیانی عبادت گاہیں اور مسجد ضرار
حضور نبی کریم ﷺ کے بابرکت زمانے میں بعض غیر مسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عبادت گاہ بنائی جو ”مسجد ضرار“ کے نام سے مشہور ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی الٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا۔ قرآن کریم کی آیات
ذیل اسی واقعہ سے متعلق ہیں۔
- والذين اتخذوا مسجدا ضرارا وكفرا وتفريقا بين المؤمنين
وارصادا لمن حارب الله رسوله من قبل وليحلفن ان اردنا الا الحسنى ط والله يشهد انهم لكذبون O لا تقم فيه ابدا لمسجد اسس على التقوى من اول يوم احق ان تقوم فيه ط فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين O افمن اسس بنيانه على تقوى من الله ورضوان خير ام من اسس بنيانه على شفا جرف هار فانهار به فى نار جهنم ط والله لا يهدى القوم الظلمين O لا يزال بنيانهم الذى بنوا ريبة فى قلوبهم الا ان تقطع قلوبهم ط والله عليم حكيم O
(التوبہ: 107 تا 110)
ترجمہ: ”اور وہ لوگ جنہوں نے بنائی ہے مسجد نقصان پہنچانے کے لیے کفر کرنے کے لیے اور پھوٹ ڈالنے کے لیے مومنوں کے درمیان اور (اسے) کمین گاہ بنایا ہے اس کے لیے جو لڑتا رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے اب تک اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ نہیں ارادہ کیا ہم نے مگر بھلائی کا۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔ آپ نہ کھڑے ہوں اس میں کبھی۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے پہلے دن سے وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ کھڑے ہوں اس میں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں صاف ستھرا رہنے کو۔ اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پاک صاف لوگوں سے۔ تو کیا وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ پر اور (اس کی) رضا جوئی پر بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی وادی کے کھوکھلے دہانے کے کنارے پر جو گرنے والا ہے۔ پس وہ گر پڑا اسے لے کر دوزخ کی آگ میں۔ اور اللہ تعالیٰ راہِ حق پر نہیں چلاتا ظالم قوم کو۔ ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، کھٹکتی رہے گی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پارہ پارہ ہو جائیں ان کے دل اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے“۔
ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ:
- (الف) کسی غیر مسلم گروہ کی اسلام کے نام پر تعمیر کردہ ”مسجد“ ، ”مسجد ضرار“ کہلائے گی۔
- (ب) غیر مسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسب ذیل ہوں گے۔
- 1- اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔
- 2- عقائد کفر کی اشاعت کرنا۔
- 3- مسلمانوں کی جماعت میں انتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا۔
- 4- خدا اور رسول کے دشمنوں کے لیے ایک اڈا بنانا۔
- (ج) چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابل برداشت ہیں۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ
ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ قادیانی منافقین کی بنائی ہوئی نام نہاد مسجدیں بھی مسجد ضرار کی طرح ہیں۔
مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کی ایک اور دھوکے بازی
قرآن کریم سے ثابت ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہ سکے، اللہ تعالیٰ نے اپنے جو احسانات حضرت عیسیٰ پر گنوائے ہیں، ان میں ایک ہے ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ (المائدہ: 110) اور جب ہم نے روک دیا بنی اسرائیل کو آپ سے (آپ تک پہنچنے سے) ...... غور کریں، یہ نہیں فرمایا: ”ہم نے آپ کو بنی اسرائیل سے دور کر دیا“ بلکہ فرمایا کہ ”بنی اسرائیل (یہود) کو آپ سے دور رکھا، انہیں آپ تک پہنچنے سے روک دیا...... عربی میں ”کف“ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو کسی چیز تک پہنچنے ہی نہ دینا۔ اسے روک دینا۔ یہ آیت صریح ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہ سکے، لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی مخالفت میں یہ بکواس کی:
- ❑ ”پھر بعد اس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے
اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا، سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لیے تیار ہوئے...... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تا کہ شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آ گئی...... انھوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا...... سو پہلے انھوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں...... جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی
نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں، اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا....... پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 380 تا 382 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 295، 297، از مرزا قادیانی)
ہمارا چیلنج ہے کہ قرآن میں جہاں بھی لفظ ”کف“ آیا ہے، اس کا معنی کسی چیز کو دوسری چیز تک پہنچنے سے روکنا اور مکمل حفاظت کے معنوں میں ہی ہے۔ لفظ ”کف“ کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے کسی قسم کا کوئی گزند نہ پہنچے۔ اگر کوئی مرزائی اس کے خلاف ثابت کرسکتا ہے تو سامنے آئے............
اب مرزا قادیانی کا ایک فریب ملاحظہ کیجیے۔ لکھتا ہے:
- ”دیکھو حضور نبی رحمت ﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ احد کی لڑائی
میں حضور نبی رحمت ﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا واذ کففت بنی اسرائیل عنک، یعنی یاد کرو وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے تجھ سے روک دیا حالانکہ تواتر قوی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی اذ کففت کے ہیں جیسا کہ واللہ یعصمک من الناس کے ہیں۔“ (نزول المسیح صفحہ 151 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 529 از مرزا قادیانی)
آئیے اب مرزا قادیانی کی جہالت اور دھوکے کا تجزیہ کرتے ہیں:
”عصم“ کے معنی ہیں بچالینا یعنی دشمن کے طرح طرح کے حملے کرنا اور اس کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا، لیکن ”کف“ کے معنی ہیں روک لینا یعنی ایک چیز کو دوسری چیز تک پہنچنے کا موقع ہی نہ دینا، لہٰذا دونوں الفاظ آپس میں ایک جیسے کس طرح ہو سکتے ہیں؟، چلیں بفرض محال ہم اس مرزائی ڈھکوسلے کو تھوڑی دیر کے لیے تسلیم کرلیتے ہیں تو بھی مرزا قادیانی جھوٹا ہی ثابت ہوگا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ سے وعدہ عصمت فرمایا تو اس کے بعد آپ ﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند نہ پہنچا سکے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ غزوہ احد میں آپ ﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک ٹوٹ جانا اس وعدہ عصمت یعنی آیت ”واللہ یعصمک من الناس“ (المائدہ:67) کے نزول کے بعد ہوا، یہ بھی اس کے قرآنی علوم اور تاریخ سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہونے کا
واقعہ غزوہ احد کا ہے جو کہ سنہ 3 ہجری میں ہوا، جبکہ یہ آیت سورۃ مائدہ کی ہے جو سنہ 5 اور 7 ہجری کے درمیان نازل ہوئی۔ مرزا کا مرید اور لاہوری گروپ کا بانی مولوی محمد علی لاہوری لکھتا ہے ”ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورہ (المائدہ) میں ہے، غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے اکثر حصے کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے“۔ (بیان القرآن، از محمد علی لاہوری صفحہ 588)، اس کے علاوہ خود مرزائی جماعت کے نزدیک نویں صدی کے مجدد علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ”والله يعصمك من الناس کے بارے میں صحیح ابن حبان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ سفر میں نازل ہوئی، ابن ابی حاتم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے کہ یہ آیت ذات الرقاع میں اور غزوہ بنی انمار میں نازل ہوئی۔“ (الاتقان فی تفسیر القرآن، جلد 1 صفحہ 19) تحقیقی بات یہی ہے اور تاریخ اسلامی کا ایک طالب علم بھی جانتا ہے کہ غزوہ بنی انمار سنہ 5 ہجری میں ہوا تھا۔ یعنی یہ آیت غزوہ احد کے بعد نازل ہوئی۔ پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ”جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد پیش آیا تھا“ ایک سیاہ جھوٹ ہے، لیکن اصل بات وہی ہے کہ ”عصمت“ اور ”کف“ کے معنی میں فرق ہے۔ عصمت کا معنی ہے ”بچانا“ یعنی جان بچانا اور ”کف“ کا معنی ہے ”روک دینا“، یعنی کسی چیز کو دوسری چیز تک پہنچنے سے روک دینا، اللہ نے یہود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روک دیا۔ ہے کوئی مرزائی جو ثابت کرے کہ انہیں یہود نے پکڑ کر صلیب پر ڈالا؟ اگر ہے تو سامنے آئے۔...... قرآن وحدیث سے اس جھوٹ کا کوئی ثبوت دے۔
قادیانی یاجوج و ماجوج ہیں؟
مرزا قادیانی اپنی کتاب ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ میں لکھتا ہے:
- ”اسی زمانہ کے بارہ میں جو میرا زمانہ ہے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں خبر دیتا ہے
جس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ آخری دنوں میں طرح طرح کے مذاہب پیدا ہو جائیں گے اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر حملہ کرے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے یعنی تعصب بہت بڑھ جائے گا اور لوگ طلب حق کو چھوڑ کر خواہ مخواہ اپنے مذاہب کی حمایت کریں گے اور کینے اور تعصب ایسے حد اعتدال سے گزر جائیں گے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نگل لینا چاہے گی۔ تب انہیں دونوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے
مونہہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لیے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ قرآن شریف کے اس میں الفاظ یہ ہیں ونفخ فی الصور فجمعنا ہم جمعا۔ اور یہ بات کہ وہ نفخ کیا ہوگا اور اس کی کیفیت کیا ہوگی، اس کی تفصیل وقتاً فوقتاً خود ظاہر ہوتی جائے گی۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 82، 83 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 108، 109 از مرزا قادیانی)
اس تحریر میں مرزا قادیانی نے حسب عادت قرآن کریم کی سورۃ الکہف کی آیت 99 کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے یہ مرزائی مفروضہ نکالا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب اللہ ایک نئے فرقے کی بنیاد ڈالے گا (وہ اس سے مراد اپنا مرزائی ٹولہ لے رہا ہے، نیز وہ اقرار کر رہا ہے کہ مرزائی ٹولہ اس کے نزدیک ایک نیا فرقہ ہے جو تیرہویں صدی میں پیدا ہوا)۔ مرزا قادیانی نے اپنے اس مفروضے پر دلیل کے لیے سورۃ الکہف کی آیت کا جو ٹکڑا پیش کیا، وہ ہے (ونفخ فی الصور فجمعنہم جمعا) اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو جمع کر دیں گے، دوستو! اس آیت کا پہلا حصہ ہے (وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض) اور اس دن ہم انہیں کھلا چھوڑ دیں گے اور ایک دوسرے کے اندر گھل مل جائیں گے، آئیے دیکھتے ہیں یہ کن لوگوں کا ذکر ہورہا ہے؟ اس سے پہلے یاجوج و ماجوج کا ذکر ہورہا ہے، جب ذوالقرنین نے ایک دیوار بنا کر انہیں بند کر دیا تو اس نے کہا کہ (فاذا جاء وعد ربی جعلہ دکاء و کان وعد ربی حقا (الکہف:98)) یہ اس وقت تک باہر نہیں نکل سکتے جب تک اللہ کی میعاد نہ آجائے اور یہ دیوار ختم نہ کردی جائے، آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ایسا ہوگا یعنی جب یاجوج و ماجوج کے سامنے سے رکاوٹ دور کر دی جائے گی تو اس وقت وہ اپنی تعداد کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے اندر گھل مل رہے ہوں گے، تو اس کے بعد قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور ہم انہیں حساب کتاب کے لیے جمع کریں گے (اگر سورۃ الکہف کی یہ آیات کسی تفسیر یا ترجمہ قرآن میں پڑھی جائیں تو بات بالکل واضح ہے کہ یہاں یاجوج و ماجوج کا ذکر ہورہا ہے) لیکن مرزا قادیانی اس سے کچھ اور ثابت کرنے چلا ہے اور خدا کی قدرت وہ اپنے گروہ کو یاجوج و ماجوج ثابت کر بیٹھا۔ وہ قرآن مجید میں تحریف معنوی کرنے چلا تھا اور خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار بیٹھا۔ اب مرزا قادیانی تو اس دنیا میں
نہیں، اس کا کوئی چیلا ہی بتائے کہ کیا تم واقعی یاجوج وماجوج ہو؟
قادیانی مذہب کے چند عجیب وغریب اصول حدیث
- اصول نمبر 1: کسی بھی جھوٹی بات یا من گھڑت پیشگوئی کو ”حدیث رسول ﷺ“ کہا جاسکتا ہے،
چاہے اس کا کوئی ثبوت نہ ہو، اب اگر وہ جھوٹی بات یا پیشگوئی پوری ہوجائے تو سمجھو کہ وہ یقینی طور پر فرمان رسول تھا۔
- اصول نمبر 2: جو حدیث مرزا قادیانی کے دعوے کو جھٹلاتی ہو، چاہے وہ صحیح اور مستند ہو لیکن اگر
اسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح بخاری میں ذکر نہیں کیا تو وہ حدیث صحیح نہیں ہوسکتی، ہاں جب مرزا قادیانی کی عزت کا معاملہ ہو تو پھر کوئی بھی جھوٹی بلا سند روایت چاہے وہ کسی ایسی کتاب میں مذکور ہو جو حدیث کی کتاب ہی نہ ہو اور صحیح بخاری میں بھی نہ ہو تو وہ صحیح حدیث ہوگی۔
- اصول نمبر 3: جب کسی جھوٹی روایت سے مرزا قادیانی کی تائید مقصود ہو تو پھر اس جھوٹی روایت
کے الفاظ میں بھی ترجمے کے وقت اپنی طرف سے الفاظ کا اضافہ کردو، (مثال کے طور پر ”اول لیلة من رمضان“ کا ترجمہ کرو ”رمضان کی تیرھویں رات“ اور ”النصف منہ“ کا ترجمہ کرو ”اٹھائیس رمضان“ جبکہ ”اول لیلة من رمضان“ کا ترجمہ ہے ”رمضان کی پہلی رات“ اور ”النصف منہ“ کا ترجمہ ہے ”رمضان کا نصف“)
- اصول نمبر 4: یہ تینوں اصول اتنی زیادہ ڈھٹائی اور بے حیائی سے بولو کہ سچ لگنے لگیں اور گوئبلز کی
روح اس سے شرمانے لگے۔
قادیانی مربیوں کو انعامی چیلنج
قادیانی پادری کہتے ہیں کہ آیت ”وما قتلوہ وما صلبوہ“۔ (النساء: 157) میں ’صلب‘ کا معنی ’صلیب دینا‘ نہیں، بلکہ ’صلیب پر موت‘ ہے۔
دنیا بھر کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ اگر ’صلب‘ کا معنی ’صلیب دینا‘ نہیں تو عربی زبان کا وہ لفظ جس کا معنی ’صلیب دینا‘ ہو، کا ثبوت دے کر 10,000 روپے کا نقد انعام حاصل کریں۔
امام مہدی کی بیعت ضروری ہے!
”حضرت ثوبانؓ جو حضور نبی کریمﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جب تم دیکھو کہ سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے آرہے ہیں تو ان میں شامل ہوجانا، اگرچہ برف کے اوپر گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ چلنا پڑے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ (احمد و بیہقی)۔
سوال یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی کے دور میں خراسان کی طرف سے سیاہ جھنڈے قادیان کی طرف آئے تھے؟
تمام قادیانی متوجہ ہوں!
مرزا قادیانی اپنی کتاب ”کشتی نوح“ میں کہتا ہے:
- ”جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے اور
قمار بازی سے، بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
تمام قادیانی متوجہ ہوں کہ ٹانک وائن پینے اور تریاق الٰہی نام سے افیون کھانے میں کوئی حرج نہیں اور نہ کسی کی بیوی (محمدی بیگم) پر نظر رکھنا بدنظری ہے اور نہ 50 کتابوں کی قیمت وصول کرکے صرف 5 کتابیں دے دینا اور کہنا کہ صفر کا فرق ہے، خیانت کہلاتا ہے اور نہ اپنے آپ کو حضرت محمدﷺ کی دوسری بعث کہہ کر، نبوت کا دعویدار بننا، اسلامی عقیدۂ ختم نبوت پر ناجائز تصرف کہلاتا ہے؟
مرزا قادیانی قطعاً مہدی نہیں ہو سکتا
مہدی کے معنی ہیں ہدایت یافتہ اور ہدایت یافتہ شخص جھوٹ نہیں بولتا۔ مرزا قادیانی چونکہ جھوٹ بولتا اور لکھتا تھا۔ لہٰذا جھوٹ بولنے والا مہدی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مرزا قادیانی مہدی نہیں تھا۔ مہدی ہونا تو درکنار جھوٹ بولنے والا تو شریف انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کسی قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ نہیں بولتا اور لکھتا تھا تو وہ ہمارا
چیلنج قبول کرے، ہم اگر مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت نہ کرسکے تو ہر قسم کی سزا بھگتنے کو تیار ہیں اور اگر ثابت کر دیا تو پھر ہمارے حریف کو مرزا قادیانی پر لعنت کرنی ہوگی۔ اگر کسی قادیانی میں ہمت ہے تو سامنے آئے!
قادیانیوں سے ایک فکر انگیز سوال
مرزا قادیانی کے بقول اسے حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع سے نبوت ملی، تو گزارش یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کی اتباع سے نبوت مل سکتی ہے تو کیا آپ ﷺ کی اتباع اور پیروی سے دوزخ سے بھی نجات مل سکتی ہے یا نہیں؟ اگر سرکار دو عالم ﷺ کی اتباع سے نجات مل سکتی ہے تو پھر مرزا قادیانی کو نبی ماننے کی کیا ضرورت؟ اگر (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کی اتباع سے نجات نہیں مل سکتی تو پھر آپ ﷺ کی اتباع سے نبوت کیسے مل سکتی ہے؟
مرزا مسرور کے گھوڑے
قادیانی خلیفہ مرزا مسرور نے ایک جاب ویب سائٹ پر اپنے مجوزہ اصطبل کی دیکھ بھال کے لیے اشتہار دیا ہے جس کی تعمیر تقریباً مکمل ہوچکی ہے، سالانہ تنخواہ 25 ہزار پاؤنڈ، سہولتیں 15 ہزار پاؤنڈ اور ایک مکمل آراستہ گھر مع گاڑی (تقریباً 10 ہزار سالانہ)
ایک سٹینڈرڈ اصطبل پر کم از کم گھوڑے: 25 ایک گھوڑے کی قیمت 125,000£ =25 × 5000£ سالانہ خرچہ انگلینڈ کے لحاظ سے 3,75,000£ =25 × 10,000£ ایک سٹینڈرڈ اصطبل کا خرچہ / (صفائی، ویٹرنری ڈاکٹر کی وزٹ وغیرہ) 570,000£
یہ ہے تقریباً 15,000 قادیانی خاندانوں کے سالانہ چندے کے برابر۔ مرزا مسرور نے قادیانیوں کو بلاوجہ کے شوق پالنے سے منع کیا تاکہ اضافی رقوم چندہ میں دی جاسکیں۔
مرزا قادیانی...........ٹیو را چاچا
پرانے وقتوں کی بات ہے ایک شخص نظر بچا کر لوگوں کی شادیوں میں گھس جایا کرتا تھا اور بڑی چالاکی سے کھانا کھا جایا کرتا تھا۔ جب لڑکی والے پوچھتے کہ کس کی طرف سے ہو تو کہتا کہ لڑکے والوں کی طرف سے اور جب لڑکے والے پوچھتے تو کہتا کہ لڑکی والوں کی طرف سے...... ایک دفعہ وہ اسی طرح سے شادی میں گیا تو وہاں کھانا کھا رہا تھا۔ اتنے میں نکاح کا ٹائم آ گیا اور لڑکی والے اور لڑکے والے آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ اب تو پھنس گیا۔ کسی نے اس سے پوچھ لیا کہ کون ہے؟ اس نے اچانک جواب میں کہا کہ میں لڑکی کا ٹیو را چاچا ہوں۔ لڑکی اور لڑکے والے پریشان ہو گئے کہ یہ ”ٹیو را“ کون ہوتا ہے۔ پھر اس سے پریشان ہو کر پوچھا کہ ٹیو را کون ہوتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں اور لڑکی کا باپ مل کر چھوٹی عمر میں (ٹٹو) چلایا کرتے تھے۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ جس کا عیسیٰ علیہ السلام سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ بس ذلیل ہوتا رہتا ہے ٹیو را چاچا کی طرح۔
کوئی پاگل بھی مثل قادیانی ہو، نہیں ممکن
نبی حق کا جو مرزا قادیانی ہو، نہیں ممکن
سخن جس کا ہو بیہودہ، زبان جس کی فقط گالی
وہ گستاخ، انبیائے حق کا ثانی ہو، نہیں ممکن
ہوں پیروکار جس کے دین مسلم کے کھلے شاتم
وہ ننگ دین و ملت جاودانی ہو، نہیں ممکن
تراجم جس کے قرآن اور حدیثوں کے ہیں رندانہ
کہیں ایسا کوئی ابلیس ثانی ہو، نہیں ممکن
جو شاتم گند میں ڈوبا، سڑا لتھڑا غلاظت میں
کسی حق کے عقیدے کا وہ بانی ہو، نہیں ممکن
کبھی دعویٰ حمل کا اور کبھی دعویٰ نبوت کا
کوئی پاگل بھی مثل قادیانی ہو، نہیں ممکن
کوئی مذہب فروش ایسا نمازی ہو، نہیں ممکن
چلو درویش بھیجیں مل کے سب مردود پر لعنت
کہ سگ لعنت زدہ، حق کی نشانی ہو، نہیں ممکن
(فاروق درویش)
مرزا قادیانی کا اقرار ........... میں مسیح ابن مریم نہیں
قادیانی حضرات مرزا قادیانی کو مسیح ابن مریم مانتے ہیں اور مرزا کو مسیح ثابت کرنے کے لیے بہت سی احادیث اور بزرگان امت کے اقوال تحریف کر کے پیش کرتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی خود کو مسیح ابن مریم کہتا ہے یا نہیں؟ مرزا قادیانی اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں لکھتا ہے:
- ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے
پر لگاوے گا، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 190 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)
اب قادیانی یا تو مرزا کو مسیح ابن مریم کہنا چھوڑ دیں یا مرزا کو مسیح مان کر مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق کذاب بن جائیں۔
مولوی سے قادیانیوں کی نفرت
مرزا قادیانی کا مولویوں کے بارے میں کہنا ہے:
- ”میں ہرگز اپنے آپ کو مولوی نہیں کہتا اور نہ میں راضی ہوں کہ کبھی کوئی مجھے مولوی
کہے بلکہ مجھے تو اس لفظ سے ایسا رنج ہوتا ہے جیسا کہ کسی نے گالی دے دی۔“
(ملفوظات جلد اول (طبع جدید) صفحہ 6 از مرزا قادیانی)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قادیانی مولویوں کو کون سی گالی دی جائے جن کا ذکر قادیانی لٹریچر میں ملتا ہے۔ چند معروف قادیانی مولویوں کے نام ملاحظہ کیجیے:
حکیم مولوی نور الدین مولوی رحیم بخش ایم اے مولوی شیر علی
مولوی عبدالکریم سیالکوٹی مولوی ذوالفقار علی خان مولوی محمد علی لاہوری مولوی عبداللہ سنوری مولوی محمد احسن مولوی عبداللہ تیماپوری مولوی محبوب علی مولوی محمد اسماعیل مولوی غلام رسول راجیکی مولوی جان محمد مولوی مبارک احمد مولوی دوست محمد شاہد
یاد رہے کہ مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے کہ اس کو پڑھانے والے بھی مولوی تھے ملاحظہ کیجیے:
- ”جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری
تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔“
(کتاب البریہ صفحہ 160، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180 از مرزا قادیانی)
- ”جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال
پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا، ان کا نام گل علی شاہ تھا۔“
(کتاب البریہ صفحہ 160، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 181 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے چند سوالات
- مرزا قادیانی کے کتنے مولوی استاد تھے؟
- کس مولوی سے مرزا قادیانی نے قرآن کے سبق پڑھے؟
- کتنے سال مرزا قادیانی نے مولویوں سے پڑھا؟
- کس مولوی سے مشورہ کرنے کے بعد مرزا قادیانی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا؟
- آنے والا مہدی قرآن وحدیث میں کسی مولوی کا شاگرد ہوگا یا نہیں؟
مولوی عزت کا لفظ
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا۔ مولوی ایک عزت کا لفظ ہے جو
مسلمانوں کے لیے خاص ہے“۔ (ذکر حبیب از مفتی صادق قادیانی صفحہ 111)
قادیانی اور کتا
ایک قادیانی نے فیس بک پر لکھا کہ ”جن لوگوں کا پنجاب کے گاؤں سے معمولی سا بھی تعلق ہے، وہ جانتے ہوں گے کہ گاؤں میں لوگ دو روٹیاں زیادہ پکاتے ہیں، ایک مولوی
کی اور دوسری کتے کی۔“
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہ تھا، تو مرزا قادیانی کو مولوی والی روٹی ملتی تھی یا کتے والی؟ حوالہ ملاحظہ کیجیے: مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے:
- ”ہمارے والد صاحب کی وجوہ معاش کچھ تو گورنمنٹ میں ضبط ہو گئے اور کچھ شرکا
کول گئے اور ہم خالی ہاتھ رہ گئے ۔“ (حقیقت الوحی صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 264 از مرزا قادیانی)
- ”مجھے صرف اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی۔“ (نزول المسیح، صفحہ 118 مندرجہ
روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 496، از مرزا قادیانی)
فیس بک قادیانیوں کے لیے ممنوع ہے۔ قادیانی خلیفہ کا اعلان
قادیانی جماعت کے پانچویں خلیفہ مرزا مسرور نے دنیا بھر کے قادیانیوں کو انٹرنیٹ پر فیس بک کے استعمال سے منع کرتے ہوئے کہا: ”فیس بک، یہ تو اب جو غیر ہیں، وہ بھی بولنے لگے ہیں۔ حکومتیں بھی بولنے لگی ہیں کہ یہ غلط ہے جس نے ایجاد کیا ہے، اس کا یہ تصور ہے، اس کا یہ خیال ہے، اس نے کہا ہے کہ میرے نزدیک ہر ایک کی جو پرائیویٹ زندگی ہے، وہ بھی پبلش ہو جانی چاہیے۔ اگر اپنے بچے کو یہ Realize کرائیں، اگر تم یہ چاہتی ہو کہ تم ننگی ہو کر بازار میں کھڑی ہو جاؤ، تو تم ضرور فیس بک میں چلی جاؤ کیونکہ اس نے اس کی مثال دی ہے کہ میرے نزدیک اگر کوئی شخص چاہے مرد ہو یا عورت ہو بچہ ہو اپنے آپ کو ننگا کر کے فیس بک پر لانا چاہتا ہے تو یہ اس کا پرسنل matter ہے اور اسی لیے میں نے فیس بک بنائی ہے۔ تو اگر ننگا ہونا چاہتی ہو تو ہو جاؤ۔ پھر ننگا ہو کر بازار میں کھڑی ہو جاؤ اور پھر احمدیت کو چھوڑ دو۔ بس ایک ہی اس کا علاج ہے۔ اس کو خیر آباد کہہ دو اور مجھے تو جس لڑکی کا جس طرح پتہ لگے گا کہ فیس بک میں آئی ہیں اور بعضوں کی ایسی تصویریں آئی ہیں ان کو میں نے سزا دی ہے۔ جماعت سے اخراج کیا ہے۔“ (روزنامہ الفضل چناب نگر، 6 جولائی 2011ء صفحہ 5، 6، ماہنامہ ”تشحیذ الاذہان، اگست 2011ء)
قادیانیوں کی آفیشل ویب سائٹ پر دی گئی پالیسی کے مطابق قادیانی خلیفہ مرزا مسرور نے واضح الفاظ میں تمام قادیانیوں کو فیس بک پر انفرادی اکاؤنٹ بنانے سے منع کیا ہے
اور پہلے سے موجود اکاؤنٹ کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ مرزا مسرور کے ان واضح احکامات کے باوجود بے شمار قادیانی لڑکے لڑکیاں فیس بک پر مسلمانوں سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں، لاجواب ہوتے ہیں، اس کے ردعمل میں گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں، اور یوں مرزا قادیانی کی اس تحریر کا منہ بولتا ثبوت بن جاتے ہیں۔
- ’’ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔‘‘
(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)
اس کے بعد دلائل نہ ہونے کی وجہ سے فیس بک سے بھاگ جاتے ہیں اور یوں مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر کا مصداق بن جاتے ہیں۔
- ’’جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر
جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔‘‘
(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)
حالانکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا:
- ’’میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی
سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کردیں گے‘‘۔
(تجلیات الٰہیہ صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409 از مرزا قادیانی)
قادیانی کت پن
- ’’ہمارا ہرگز یہ طریق نہیں کہ مناظرات ومجادلات میں یا اپنی تالیفات میں کسی نوع
کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لیے پسند رکھیں یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں ۔‘‘
(شحنہ حق، صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 324، از مرزا قادیانی)
- ’’ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی لڑکی بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ
کھایا؟ اس نے جواب دیا بیٹی انسان سے ’’کت پن‘‘ نہیں ہوتا، اسی طرح جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے، نہیں تو وہی ’’کت پن‘‘ کی مثال لازم
آئے گی۔‘‘ (ملفوظات جلد اول طبع جدید، صفحہ 64 از مرزا قادیانی)
- ’’ہمارے لوگ مخالفین سے سختی سے پیش نہ آیا کریں۔ ان کی درشتی کا نرمی سے جواب
دیں اور ملاطفت سے سلوک کریں۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 179 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
- ’’بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔ لیکن بڑا وہ ہے جو
مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔۔۔۔۔۔۔ مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔۔۔۔۔۔۔ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول طبع جدید صفحہ 22 از مرزا قادیانی)
- ’’ہمارے اصول میں داخل نہیں کہ اختلاف مذہبی کے سبب کسی کے ساتھ بدخلقی
کریں اور بدخلقی مناسب بھی نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک غیر مذہب والا ایک بیمار کی مانند ہے جس کو صحت روحانی حاصل نہیں۔ پس بیمار تو اور بھی قابل رحم ہے جس کے ساتھ بہت خلق اور حلم اور نرمی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ اگر بیمار کے ساتھ بدخلقی کی جاوے تو اس کی بیماری اور بھی بڑھ جائے گی۔ اگر کسی میں کجی اور غلطی ہے تو محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 41، طبع جدید از مرزا قادیانی)
- ’’یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی
حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے، خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کردی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آگئی ہیں، عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے۔ یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے‘‘۔
(تحفہ قیصریہ، صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 12 صفحہ 259 از مرزا قادیانی)
آنجہانی مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے اخذ ہوتا ہے کہ ہر ایک کی عزت اور
ادب کرنا چاہیے۔ کسی کو گالی نہیں دینا چاہیے۔ کوئی دل دکھانے والا لفظ اپنے مخالف کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی میں غلطی ہے تو اسے محبت و پیار سے سمجھانا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت نے اپنے مخالفین کو ایسی غلیظ گالیاں دیں کہ کوئی بدنام زمانہ بھٹیارن بھی پناہ مانگے۔ آئیے ملاحظہ کیجیے:
- ”انّ العدا صاروا خنازير الفلا۔ ونسائهم من دونهن الاکلب۔ دشمن
ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدی صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی)
- ”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا
شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
- ”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة و ينتفع من
معارفها و يقبلنى و يصدق دعوتى۔ الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون۔“ ترجمہ ”یہ وہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان، محبت وموّدت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کے علوم سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے مگر وہ لوگ جو کنجریوں کی اولاد ہیں، وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے اس (عبدالحق غزنوی) کی بیوی کے رحم پر مُہر لگادی“
(حقیقتہ الوحی تتمہ صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)
اے ناداں قادیانی
پیشاب اور اسہال نے مت تھی ماری
اپنے ہی حمل سے خود آپ ہی پیدا ہو گیا
سوچا ہے کبھی تم نے کیا بھید تھا مرزا
مرزا قادیانی کا شیطانی خواب
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”آج ہی ایک خواب میں دیکھا کہ ایک چوغہ زریں جس پر بہت سنہری کام کیا ہوا
ہے، مجھے غیب سے دیا گیا ہے۔ ایک چور اس چوغہ کو لے کر بھاگا۔ اس چور کے پیچھے کوئی آدمی بھاگا جس نے چور کو پکڑا اور چوغہ واپس لے لیا۔ بعد اس کے وہ چوغہ ایک کتاب کی شکل میں ہو گیا جس کو تفسیر کبیر کہتے ہیں اور معلوم ہوا کہ چور اس کو اس غرض سے لے کر بھاگا تھا کہ اس تفسیر کو نابود کردے۔
اس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ چور سے مراد شیطان ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہمارے ملفوظات لوگوں کی نظر سے غائب کر دے مگر ایسا نہیں ہوگا اور تفسیر کبیر جو چوغہ کے رنگ میں دکھائی گئی، اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے موجب عزت اور زینت ہوگی۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، ایڈیشن چہارم طبع جدید، صفحہ 566، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ خواب تھا یا کشف۔ خواب نیند میں ہوتا ہے اور کشف بیداری میں ہوتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی کوئی تفسیر نہیں لکھی اور نہ اسے پورا قرآن مجید یاد تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو قرآن
مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے۔ مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کی ایک اور تحریر ملاحظہ کیجیے جس میں وہ لکھتا ہے کہ (نعوذ باللہ) خدا چور ہے۔
- ”وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ
فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔“
(تجلیات الٰہیہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 396 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا خدا بھی چور (جس کا نام مرزا قادیانی نے یلاش بتایا) اور مرزا قادیانی کا شیطان بھی چور۔ سوچیے! مرزا قادیانی خود کیا ہے۔ یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔
انبیا کا قتل
قادیانیوں کے لا تعداد خود ساختہ عقائد میں سے ایک جھوٹا اور من گھڑت عقیدہ یہ بھی ہے کہ انبیا علیہم السلام قتل نہیں ہوئے۔ اس عقیدے پر قادیانیوں کا مکمل ایمان ہے، یہاں تک کہ ایک قادیانی نے قسم اٹھائی کہ انبیا قتل نہیں ہوئے۔ واضح رہے کہ اس باطل عقیدے کے رد میں ہم نے انہیں قرآن مجید کی متعدد آیات پیش کی ہیں جن کا یہ انکار کرتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا تفسیر صغیر میں ترجمے میں اعتراف سکین پیج میں دکھایا، اس کا بھی انکار، مرزا قادیانی نے توریت کے حوالے سے بھی انبیا کے قتل کا ذکر کیا ہے، اس کا بھی انکار، تفسیر ابن کثیر سے احادیث کے سکین پیج بھی لگائے کہ انبیا قتل ہوئے ہیں، اس کا بھی انکار، اب آخر میں لعنت الله علی الکاذبین کہتے ہوئے ایک اور ناقابل تردید حوالہ، مرزا قادیانی کی کتاب سے پیش کرتے ہیں۔ اب اس کا بھی انکار کرنا ہے تو ہماری طرف سے اتمام حجت ہو چکی۔
- ”یعنی اے بنی اسرائیل کیا تمہاری یہ عادت ہوگئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس
آیا تو تم نے بعض کی ان میں سے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا“۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 34 از مرزا قادیانی)
- ”ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں جھوٹے نبی کی علامت لکھی ہے کہ وہ
قتل کیا جاوے اور ادھر ایسی عبارتیں بھی ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نبی قتل ہوئے تو پھر وہ علامت کیسے صحیح ہوسکتی ہے؟ فرمایا:.......... قرآن شریف کے صریح الفاظ سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ نے قتل نبی حرام کیا ہو بلکہ حضور نبی رحمت ﷺ کی نسبت لکھا ہے افائن مات او قتل (آل عمران: 144) جس سے قتل انبیا کا جواز معلوم ہوتا ہے۔.................... توریت میں جس قتل کا ذکر ہے تو اس سے نامرادی اور ناکامی کی موت ہے۔ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریبی رشتہ دار تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کے قتل ہو جانے سے دین پر کوئی تباہی نہ آسکتی تھی۔ اگر یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام ان کی جگہ کھڑے ہوگئے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یحییٰ علیہ السلام کوئی صاحب شریعت نہ تھے، ہو سکتا ہے کہ
یہ وعدہ توریت کا صاحب شریعت کے لیے ہو۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ 414، 415 از مرزا قادیانی)
- ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ ہر الٰہی سلسلہ کا پہلا
اور آخری نبی قتل سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ مگر درمیانی نبی اگر ان کے ساتھ مخصوص طور پر حفاظت کا وعدہ نہ ہو اور وہ اپنی بعثت کی غرض کو پورا کر چکے ہوں تو وہ قتل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل سے محفوظ رکھا اور محمدی سلسلے میں حضور نبی کریم ﷺ کو قتل سے محفوظ رکھا اور میرے ساتھ بھی اس کا حفاظت کا وعدہ ہے مگر فرماتے تھے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام دشمنوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے تھے‘‘۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 761 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
قادیانی فقہ
- ”اگر کسی شخص کے کپڑے ناپاک ہوں، ان پر نجاست لگی ہوئی ہو اور اس کے پاس
اور کپڑے نہ ہوں جو بدل سکے اور نماز کا وقت آ جائے تو انہی گندے کپڑوں کے ساتھ، وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر پردہ ہے تو کپڑے اتار کر ننگے جسم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ پروا نہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں ہیں یا جسم پر کوئی کپڑا نہیں ہے۔‘‘
(فقہ احمدیہ، عبادات صفحہ 64 از تدوین فقہ کمیٹی سلسلہ عالیہ احمدیہ ربوہ چناب نگر)
دس جوتے
- (۱) مرزا صاحب قادیان: میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان۔
- (۲) عزیزہ بیگم: میاں محمد احمد صاحب خلیفہ قادیان کی بیوی۔
- (۳) ابوبکر صدیق: عزیزہ بیگم اور مسماۃ سلمیٰ کے والد۔
- (۴) مسماۃ سلمیٰ: ابوبکر کی لڑکی، جس کا عدالتی بیان درج ذیل ہے۔
- (۵) احسان علی: ایک قادیانی دوا فروش، قادیان میں۔
”میرے باپ کا نام ابوبکر ہے، وہ مرزا صاحب قادیان کا خسر ہے، میں بھی مرزا صاحب قادیان کے گھر میں تقریباً 5 سال رہی ہوں، میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں۔ چار سال ہوئے ہیں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی دوکان پر گئی تھی، میں
نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی، اول احسان علی نے میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مضربوں کے کمرہ میں جاؤں، اس دوسرے کمرہ میں اس نے مجھے لٹایا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری، لوگ میرے رولا کرنے پر اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلایا اور احسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی۔ احسان علی نے میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر میں جا کر عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی اور اس وقت مرزا صاحب وہاں موجود تھے، ان ایام میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی، مرزا صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کی اور احسان علی کو کہا کہ قادیان سے نکل جاؤ۔ احسان علی نے معافی مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے اور ٹھہر سکتا ہے، چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے، یہ جوتیاں مرزا صاحب کے سامنے ماری تھیں۔...... جبکہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماریں تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہوگئے تھے ان ایام میں بغیر پردہ کے باہر پھرا کرتی تھی...... اس کے بعد میں سودا لینے بازار نہیں گئی۔‘‘ (مسماۃ سلمیٰ کی حلفیہ شہادت جو اس نے بتاریخ 10 جولائی 1935ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی عدالت میں ادا کی۔ بمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیر دفعہ 500 احسان علی بنام محمد اسمعیل، نمبری 2/86 مرجوعہ 17 جولائی 1935ء منفصلہ 21 ستمبر 1935ء ”قادیانی مذہب“ مولفہ پروفیسر محمد الیاس برنی۔ طبع پنجم صفحہ 824)
قادیانی مسیح بننے کا آسان نسخہ
مرزا قادیانی اپنے مسیح ہونے کی دونشانیاں بتاتا ہے، سر درد اور کثرت پیشاب کے ساتھ دستوں کا آنا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ’’احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ کی چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر
بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے۔ اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 44 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 46 از مرزا قادیانی)
لیجیے ! اب قادیانیوں کا مسئلہ حل ہو گیا۔ ان کے بچوں کو جب دست لگیں تو سمجھ لیں، وہ آدھے ”مسیح“ بن گئے ہیں اور جب بڑے ہو کر ان کو سر درد ہو تو پھر لازم ہے، وہ ”مسیح“ ہونے کا اعلان کر دیں۔ قادیانی اس کو بھی مرزا قادیانی کی نبوت کا ”فیضان“ سمجھیں کہ ان کا ہر بچہ بڑا ہو کر ”مسیح موعود“ بن جائے گا ................ نہیں سمجھ آئی تو سردرد ہونے اور دست آنے کا انتظار کرو۔
دلچسپ لطیفہ
نصرت جہاں بیگم بہت اچھے موڈ میں مرزا قادیانی سے، آج میرے کان میں کچھ گرم سا، کچھ نرم سا، کچھ میٹھا سا کہو۔ مرزا قادیانی آہستہ سے بولا: مجھے حمل ہو گیا ہے۔
ایک اور اہم سوال
ایسے مدعی نبوت کا نام بتائیں جو بیس سال تک خود اپنے اوپر لعنت کرتا رہا اور نہ صرف اپنے اوپر بلکہ اگر کوئی اس کو نبی مانے، اس کو بھی لعنتی سمجھتا رہا؟ پھر اچانک اس نے انگریز کے اشارے پر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔
مرزا قادیانی کی تصویر کے بارے ایک سوال کا جواب
- ❑ ”(تصویر کے متعلق) حضرت مسیح موعود نے بڑی تفصیل سے اس مسئلہ پر روشنی
ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ (تصویر کو) عام اشتہاری رنگ دینا ناجائز ہے اور ضرورت سے زیادہ عزت کا مقام دے کر گھروں میں ایسی جگہ لٹکانا جس سے تعظیم کے غلط خیالات پیدا ہوں، وہ بھی پسند نہیں کرتا ............ بہتر ہے کہ اس کو صندوق میں بند کر کے رکھ دو۔“ (روزنامہ ”الفضل“ ربوہ۔ جلد 53، شمارہ نمبر 83، صفحہ 3 مورخہ 16 اپریل 2003ء، مضمون مجلس عرفان مرزا طاہر قادیانی خلیفہ چہارم۔ صفحہ 3)
سوال ہے!
مذہب فخر کی علامت ہے۔ ہر شخص خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اس کا
اظہار کرتے ہوئے خوشی و انبساط محسوس کرتا ہے۔ لیکن دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنی شناخت لکھواتے اور اپنا مذہب بتاتے ہوئے نہ صرف جھگڑتا ہے بلکہ سر کو بھی شرم سے جھکا لیتا ہے، کیا آپ ایسے گروہ کا نام بتا سکتے ہیں؟
دعا
”یا اللہ تمام قادیانیوں (مرزائیوں) کو ان کے نبی مرزا قادیانی اسہالی کی طرح ہیضہ اور اسہال کی بیماری میں مبتلا کر کے، ان کا پاخانہ چارپائی کے قریب نکال کر، ان کو موت دے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ان کے نبی اور مسیح موعود مرزا قادیانی اسہالی کی موت واقع ہوئی تھی۔“............. ہے کوئی قادیانی جو اس دعا پر آمین کہے؟
دھوکے والے الفاظ
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول
چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگنے کا احتمال ہے۔“ (انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی اس تحریر کی روشنی میں قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تقریر یا تحریر میں ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں جن سے عام مسلمانوں کو دھوکہ لگنے کا احتمال ہو۔ پاکستان کا آئین، قانون، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے فیصلے بھی قادیانیوں کو دھوکہ دینے والے الفاظ استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ جبکہ قادیانی ایسے الفاظ کا استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس لیے سپریم کورٹ نے قادیانیوں کے خلاف اپنے ایک فیصلہ (ایس سی ایم آر 1993ء ظہیر الدین بنام سرکار) میں قرار دیا ہے کہ دھوکہ دینا کسی کا حق نہیں ہے اور قادیانی دوسروں کو دھوکہ دینا اپنا مذہبی اور قانونی حق سمجھتے ہیں۔ قادیانی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، اس کی بیوی کو ام المومنین، اس کے دوستوں کو صحابہ کرام، اس کے شہر کو مکہ مکرمہ، اس کی کتاب کو قرآن مجید، اس کی باتوں کو احادیث مبارکہ اور اپنے مذہب کو اسلام کہتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کلمہ بھی مسلمانوں والا پڑھتے ہیں اور ”محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی“ لیتے ہیں۔ یہی دھوکے
والے الفاظ ہیں جن کے استعمال سے آئین وقانون قادیانیوں کو روکتا ہے۔
قادیانی کلمہ
- ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل فرمایا
کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 305 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
قادیانی اپنے نبی کا کلمہ اپنانے کے بجائے مسلمانوں کا کلمہ اپنانے کی ضد کیوں کرتے ہیں؟ کیا انہیں مرزا قادیانی کے کلمے پر یقین نہیں؟
کیا رسول اللہ ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لیے کسی نبی کی توہین کی جاسکتی ہے؟
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ یا عیسیٰ کی ہتک کی ہے۔ یاد رکھو میرا (مرزا
قادیانی کا) مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت قائم کروں۔ اوّل تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں، ہم سب کی عزت کرتے ہیں لیکن اگر ایسا (یعنی عزت قائم) کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو بیشک ہو........... لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔“ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان۔ جلد 21 نمبر 138 صفحہ 12، مورخہ 20 مئی 1934ء تقریر میاں محمود احمد خلیفہ دوئم قادیان)
مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود کا کہنا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود کی اتباع میں، میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلائیں کہ فلاں
بات سے حضرت عیسیٰ کی ہتک ہوتی ہے، اگر رسول کریم ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہے تو ہمیں ہرگز اس کی پروا نہیں ہوگی، بیشک آپ لوگ ہمیں سنگسار کریں یا قتل کریں۔“ (روزنامہ ”الفضل“ قادیان۔ جلد 21 نمبر 138 صفحہ 12، مورخہ 20 مئی 1934ء تقریر میاں محمود احمد خلیفہ دوئم قادیان)
پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا ایسا عمل یا عقیدہ صحابہؓ اور امت مسلمہ میں سے کسی کا تھا یا ہے؟
قادیانیوں سے بچیں
- وقد نزل عليكم فى الكتب ان اذا سمعتم ايت الله يكفر بها و يستهز
ابها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا فى حديث غيره. انكم اذا مثلهم ان الله جامع المنفقين والكفرين فى جهنم جميعا (النساء:140)
ترجمہ: ”اور تحقیق اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر (یہ حکم) کتاب میں کہ جب تم سنو اللہ کی آیتوں کو کہ انکار کیا جا رہا ہے ان کا اور مذاق اڑایا جا رہا ہے ان کا تو مت بیٹھو ان (کفر و استہزاء کرنے والوں) کے ساتھ یہاں تک کہ وہ مشغول ہو جائیں کسی دوسری بات میں ورنہ تم بھی انہیں کی طرح ہو گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں“۔
- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”آخر زمانہ میں (بہت سے) جھوٹے دجال لوگ ہوں گے۔ تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے، نہ تمہارے آباؤ اجداد نے سنا ہوگا۔ تم ایسے لوگوں سے بچے رہنا، مبادا وہ تمہیں گمراہ اور فتنہ میں مبتلا کردیں“۔ (صحیح مسلم)
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
- ”جلد ہی تم انسانوں میں سے ایسے شیطانوں کو دیکھو گے کہ ان میں سے ایک
حدیث کو سنے گا اور اسے اپنے علاوہ کسی اور پر اس کا اطلاق کرے گا اور اسی طرح یہ اصل جن کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان کے متعلق لوگوں کو دھوکہ دیتا جائے گا۔ (کنز العمال)
معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا احادیث مبارکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے منکرین ختم نبوت قادیانی فتنہ کے بارے میں ارشاد فرمائی۔
مرزا قادیانی نے قرآن اور بائبل پر کیا جھوٹ بولا؟
مرزا قادیانی نے لکھا ”قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی ۔“
(کشتی نوح صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 5 از مرزا قادیانی)
اور پھر حاشیے میں بائبل کے یہ حوالے لکھے:
(زکریا: باب 14 فقرہ 12، انجیل متی باب 24 فقرہ 8، مکاشفات باب 22 فقرہ 8)
دنیا بھر کے قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیت یا بائبل سے جو حوالے مرزا قادیانی نے اوپر لکھے ہیں، ان میں سے وہ الفاظ دکھا دیں جن کے اندر ”مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی“ کا ذکر ہے۔
قادیانیوں سے ایک دلچسپ سوال
قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی نے مینارہ بنوایا چندہ اکٹھا کر کے ............ اور اس کا نام ”منارۃ المسیح“ رکھا ............ وہ ظاہری طور پر کیوں بنایا؟؟؟ مینارے سے ”کچھ اور“ بھی تو مراد لے سکتا تھا ............ تاویل کر سکتا تھا ....... یہ ایک چیز مرزا قادیانی نے کیوں ظاہری لی؟
مرزا قادیانی کو قرآن حفظ نہ تھا
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس پر قرآن مجید دوبار نازل ہوا۔ لیکن اسے قرآن مجید حفظ نہ تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو قرآن
مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے۔ مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 44 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
تحریف قرآن کی قادیانی سازش
حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت ملاحظہ کیجیے:
اصل آیت
- ”اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک
من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا
الی یوم القیمة. (آل عمران: 55)
آنجہانی مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ یہ آیت اس پر نازل ہوئی۔ ملاحظہ کیجیے:
تحریف شدہ آیت
- ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی وجاعل الذین
اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمة.“
(حقیقت الوحی صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 87 از مرزا قادیانی)
اس آیت میں مرزا قادیانی ومطھرک من الذین کفروا کے الفاظ حذف کر گیا۔ حالانکہ اس کا کہنا ہے:
- ”دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنے
والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو، اس کو دجال کہتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)
- ”یوں ہی کسی آیت کا سر پیر کاٹ کر اور اپنے مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا یہ تو
اُن لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گنڈے کہلاتے ہیں۔“
(چشمہ معرفت صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 203، 204 از مرزا قادیانی)
اسی طرح سورۃ النحل کی ایک آیت میں تحریف کی گئی۔ ملاحظہ کیجیے:
اصل آیت
- ”ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظه الحسنة
وجادلهم بالتی هی احسن“۔ (النحل:125)
تحریف شدہ آیت
- ”جادلهم بالحکمة والموعظه الحسنة.“
(نور الحق صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:
- ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک غلط
بات سے محفوظ رکھتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 حصہ دوئم مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272، از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کے لیے عینک
- اس عینک سے آپ کو ہر وہ جگہ جہاں لفظ ”عیسیٰ ابن مریم“ لکھا ہوگا، ”مرزا غلام
احمد قادیانی“ لکھا ہوا نظر آئے گا۔
- اس عینک سے ہر جگہ جہاں لفظ ”توفی“ لکھا ہوگا، اس کے معنی صرف ”موت“
نظر آئے گا۔
- اس عینک سے ہر جگہ جہاں لفظ ”قد خلت“ لکھا ہوگا، اس کے معنی ”پہلے سب
فوت ہو گئے“ نظر آئے گا۔
- مرزا قادیانی کی وہ پیشگوئی جس کے مطابق لڑکا پیدا ہونا تھا لیکن لڑکی پیدا ہوگئی،
اس عینک سے پڑھیں گے تو ”لڑکی کی جگہ آپ کو لڑکا“ لکھا ہوا نظر آئے گا۔
- اس عینک سے مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش 1839ء کی جگہ آپ کو 1835ء نظر
آئے گی۔
- اس عینک سے مرزا قادیانی کی کتابوں میں لکھا ہوا ”پچاس“ کا لفظ ”پانچ“ اور
”پانچ“ کا لفظ ”پچاس“ کے برابر نظر آئے گا۔
- اس عینک سے مرزا قادیانی کی موت آپ کو بستر کے پاس پاخانہ کرتے ہوئے نظر
نہیں آئے گی۔
- اس عینک سے آپ کو مرزا قادیانی حج اور عمرہ کرتا ہوا نظر آئے گا حالانکہ اس نے
کبھی خواب میں بھی مکہ مکرمہ نہیں دیکھا۔
اسلام مردہ دین؟
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔
یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے۔“
(ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 447 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے درخواست ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریر غور سے پڑھیں ۔ مرزا قادیانی کہہ رہا ہے کہ جس دین میں نبیوں کا سلسلہ بند ہو جائے ، وہ مردہ دین ہے۔ اب کیا مرزا قادیانی کا کوئی چیلا بتائے گا کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تو 105 سال ہوگئے، اس کے بعد یہ سلسلہ کیوں بند ہے؟ اس کے بعد تمہارا نبی کون ہے؟ مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کے مرید چراغ دین جموی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مگر مرزا نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا؟ کیا مرزا قادیانی کی موت کے ساتھ تمہارا مذہب بھی مرگیا ہے؟؟؟
کیا اب بھی ہم غیر مسلم ہیں؟
قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ وہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم بھی کلمہ پڑھتے ہیں، نماز ، روزہ کی پابندی کرتے ہیں، ہم غیر مسلم کیسے ہوئے؟ اس کے علاوہ وہ مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریریں بھی پیش کرتے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
- ”ہم مسلمان ہیں۔ خدائے وحدہٗ لاشریک پر ایمان لاتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ
کے قائل ہیں۔ اور خدا کی کتاب قرآن اور اس کے رسول محمد ﷺ کو خاتم الانبیا مانتے ہیں اور فرشتوں اور یوم البعث اور دوزخ اور بہشت پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں اور اہل قبلہ ہیں اور جو کچھ خدا اور رسول نے حرام کیا ہے، اس کو حرام سمجھتے ہیں اور جو کچھ حلال کیا، اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور نہ ہم شریعت میں کچھ بڑھاتے ہیں اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرّہ کی کمی بیشی نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اللہ ﷺ سے ہمیں پہنچا، اس کو قبول کرتے ہیں، چاہے ہم اس کو سمجھیں یا اس کے بھید کو نہ سمجھیں اور اس کی حقیقت تک پہنچ نہ سکیں۔ اور ہم اللہ کے فضل سے مومن موحد مسلم ہیں۔“
(نور الحق، حصہ اوّل، صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 7 از مرزا قادیانی)
- ”جائے تعجب ہے کہ ایک شخص کلمہ گو ہو اور اہل قبلہ اور موحد اور اللہ اور رسول ﷺ کو
ماننے والا اور ان سے سچی محبت رکھنے والا اور قرآن پر ایمان لانے والا ہو اور پھر کسی جزئی اختلاف کی وجہ سے وہ ایسا کافر ٹھہر جائے کہ یہود و نصاریٰ کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر شمار ہو۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 258، 259 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 258، 259 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام! آپ نے مرزا قادیانی کی تحریریں ملاحظہ کیں۔ جس میں اس نے رونا رویا ہے کہ ہم اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہیں، پھر بھی ہمیں کافر کہا جاتا ہے۔ قادیانی حضرات فیس بک پر مرزا قادیانی کی یہ تحریریں پیش کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ مسلمان بھی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اسلامی احکامات کی سختی سے پابندی کرتے ہیں، اس کے باوجود وہ قادیانیوں کے نزدیک کافر اور جہنمی کیوں ہیں؟ صرف اس لیے کہ وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے؟ ملاحظہ کیجیے:
- ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا
مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ
کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا
چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“
(کلمۃ الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ❑ ”اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعودؑ نے الذین کفروا غیر احمدی مسلمانوں
کو قرار دیا ہے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ❑ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوارالعلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے باپ کی تاریخ پیدائش
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
- ❑ ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی
روایت نمبر 470 میں سنین کے لحاظ سے جو واقعات درج ہیں، ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے۔ جو درج ذیل ہے:۔
- 1- (الف) حضرت مسیح موعود نے اپنے والد مرزا غلام مرتضےٰ کی وفات کی تاریخ 20۔
اگست 1875ء تحریر فرمائی ہے (دیکھو نزول المسیح صفحہ 207) مگر سیرۃ المہدی میں 1876ء درج ہے۔ پھر ایک اور جگہ حضرت صاحب نے اپنے والد کی وفات جون 1874ء لکھی ہے (نزول المسیح صفحہ 116)
خاکسار عرض کرتا ہے کہ خود حضرت صاحب کی تحریر کا اختلاف ظاہر کر رہا ہے کہ آپ نے یہ تاریخیں زبانی یادداشت پر قیاساً لکھی ہیں۔ مگر میں نے جو تاریخ لکھی ہے، وہ سرکاری ریکارڈ سے لکھی ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ 1876ء ہی درست ہے۔ اور خود حضرت صاحب کی کتاب کشف الغطاء میں بھی یہ سرکاری حوالہ درج ہے۔“
(سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم صفحہ، 710، طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے )
مرزا قادیانی کے والد کی تاریخ وفات
- ❑ مرزا قادیانی نے اپنے والد مرزا غلام مرتضیٰ کی تاریخ وفات 20 اگست 1875ء
تحریر کی ہے۔ (نزول المسیح صفحہ 207 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 585 از مرزا قادیانی)
- ❑ ایک اور جگہ پر اپنے والد کی تاریخ وفات جون 1874ء لکھی ہے۔
(نزول المسیح صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 494 تا 496 از مرزا قادیانی)
- ایک اور کتاب میں تاریخ وفات 1876ء لکھی ہے۔
(کشف الغطاء صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 184 از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:
- ”وان الله لا یترکنی علی خطا طرفة عین و یعصمنی من کل مین و
یحفظنی من سبل الشیاطین.“
ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے خطا پر قائم نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر ایک خطا سے محفوظ رکھتا ہے اور شیاطین کے راستوں سے میری حفاظت کرتا ہے۔“
(نور الحق صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 272 از مرزا قادیانی)
ایک نہایت دلچسپ سوال
مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد تین لاکھ بتائی ہے (حقیقت الوحی صفحہ 70، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 تتمہ صفحہ 503 از مرزا قادیانی) اور ایک اور جگہ دس لاکھ تک بتائی ہے۔ (تذکرہ الشہادتین صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 43 از مرزا قادیانی) اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی مجھے مرزا قادیانی کے دس معجزے ہی گنوا سکتا ہے؟ دو معجزے تو میں بتا دیتا ہوں۔ مرزا قادیانی کا دن میں سو سو بار پیشاب کرنا بھی ایک ”معجزہ“ تھا۔ دوسرا: مرزا قادیانی کو حمل ہوا تھا جو کہ آج تک کسی مرد کو نہیں ہوا۔ (حتیٰ کہ کسی نامرد کو بھی نہیں ہوا)۔ باقیوں کے لیے مرزائیوں کے جواب کا انتظار ہے۔
نزول عیسیٰ علیہ السلام
اسلامی عقائد میں یہ عقیدہ تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ قرآن وحدیث میں ان کی کئی ایک نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔ ان نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی شخص کافر نہ رہے گا اور جہاد ختم ہوجائے گا۔
حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے:
- ❑ حدثنا اسحق قال اخبرنا یعقوب بن ابراہیم قال حدثنا ابی صالح عن
ابی شہاب ان سعید بن المسیب سمع ابوہریرہؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتّیٰ تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیہا. ثم یقول ابی ہریرہؓ فاقرؤا ان شئتم و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ. (بخاری ومسلم)
(ترجمہ) حضرت ابوہریرہؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً ابن مریم تمہارے درمیان حاکم عادل ہو کر اتریں گے، پس صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جنگ ختم کر دیں گے، مال کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال و متاع سے ایک سجدہ (قدر و قیمت کے لحاظ سے) اچھا معلوم ہوگا۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے تھے کہ اگر تم نزول عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل اس ارشاد نبوی کے ساتھ قرآن سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ’’ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کیونکہ اس میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جتنے اہل کتاب ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
اس حدیث کا سہارا لیتے ہوئے آنجہانی مرزا قادیانی نے انگریز کی شہ پر اپنے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میرے آنے سے جہاد کی فرضیت ختم ہو گئی ہے۔ حالانکہ حدیث مبارکہ میں ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کا ذکر ہے جبکہ مرزا قادیانی ابن چراغ بی بی ہے۔ ابن مریم سے ابن چراغ بی بی مراد لینا قادیانی تاویلات کی ادنیٰ مثال ہے۔
مذکورہ بالا حدیث بخاری شریف میں درج ہے۔ حدیث کی اس کتاب کے بارے مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ’’کتاب اللہ قرآن کریم کو نمبر اول اور اس سے مقدم سمجھتا ہوں۔ مگر بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ یقین رکھتا ہوں اور واجب العمل مانتا ہوں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل طبع جدید اشتہار نمبر 63 صفحہ 197، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے:
- ”کوئی امر اور کوئی دعویٰ اور کوئی نشان مخالف قرآن اور احادیث صحیحہ مرفوعہ ہونے
کی حالت میں قابل قبول نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل طبع جدید اشتہار نمبر 73 صفحہ 222، 223، از مرزا قادیانی)
- ”یاد رکھو جو شخص احادیث کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے، وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں
ہوسکتا کیونکہ اسلام کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے کہ جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں ہرگز مومن نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔“ (ملفوظات جلد پنجم، طبع جدید صفحہ 553، 554 از مرزا قادیانی)
- ”ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے جو قرآن
شریف کے مخالف نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد دوم، طبع جدید صفحہ 349 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا مزید کہنا ہے:
- ”مسلمانوں کے لیے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔“
(کشتی نوح صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 65 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ صحیح بخاری کی یہ حدیث اس کے دعویٰ ”مسیح موعود“ کی مکمل طور پر نفی کرتی ہے تو اس نے کہا:
- ”کیا حضور نبی رحمت ﷺ کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟
بلکہ حضور نبی رحمت ﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے؟ پوچھا تو یہ جائے گا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے؟“ (ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 472 از مرزا قادیانی)
پھر اس نے اپنی نام نہاد وحی کو قرآن مجید کے مقابل لاکر احادیث مبارکہ کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا:
- ”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر
نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کے بارے مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کو جید صحابی رسول ﷺ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ انہوں نے حدیث مبارکہ بیان کر کے آخر میں اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں اگر کسی کو کوئی شک وشبہ ہے تو وہ قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ لے۔
وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ط وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا۔ (نساء:159)
ترجمہ: ”اور سب ہی اہل کتاب اس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ضرور ایمان لے آئیں گے اور قیامت کے دن وہ ان کے بارہ میں شہادت دیں گے۔“
اس پر آنجہانی مرزا قادیانی نے حضرت ابوہریرہؓ کے بارے نہایت گستاخانہ زبان استعمال کی۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 از مرزا قادیانی)
- ”جیسا کہ ابوہریرہؓ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
- ”جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ ابوہریرہ کے قول کو ایک
ردی متاع کی طرح پھینک دے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 410 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)
- ”بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابوہریرہ)......
اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑ جانے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت و ان من اهل الكتب الا ليومنن به قبل موته کے ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)
مرزا مسرور اپنے دادا کی نظر میں
فیس بک پر ایک صاحب نے قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی بڑی بڑی مونچھوں اور موجودہ خلیفہ مرزا مسرور کی جوانی کی چند تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں مرزا مسرور ڈاڑھی مونچھ کے بغیر غیر محرم عورتوں کی محافل میں ”مصروف شغل“ ہے۔ ان تصاویر کے نیچے مرزا قادیانی کی ایک تحریر لگائی گئی ہے جو قادیانیوں کے لیے نہایت توجہ طلب اور فکر انگیز ہے، ملاحظہ کیجیے:
- ”اس زمانے میں سب سے بدبخت لوگ وہ ہیں جن کی دنیا چھین لی گئی اور ان
میں سے بہت سے دین سے برگشتہ ہو رہے ہیں۔ کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر ان پر، کوئی مصیبت ہلاک نہیں کرتی مگر انہی لوگوں کو، کوئی بدعت پیدا نہیں ہوتی مگر وہ ان میں راہ پا لیتی ہے اور دنیا نے اپنا مال و زر ان کے سامنے پیش نہیں کیا مگر اس کے ذریعہ ان کی آنکھیں پھوٹ گئیں۔ ہم ان کے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے شعار کو ترک کر دیا ہے اور سنن نبویہ کے نشان مٹا دیے ہیں۔ نصرانی لباس پہننے کے ساتھ ساتھ ڈاڑھیاں مونڈتے، مونچھوں کو لمبا کرتے ہیں۔ پس وہ اس زمانہ میں ان سب سے زیادہ بدبخت ہیں جن پر آسمان نے سایہ کیا ہے اور جنہیں زمین نے پناہ دی ہے۔ اللہ کا فضل جب بھی آتا ہے، اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اللہ کا رحم جب بھی آتا ہے تو اس سے بھاگ جاتے ہیں اور اللہ کا خوان جب بھی قریب آتا ہے تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور دوسری راہوں کی پیروی کرتے ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ضمیمہ الاستفتاء صفحہ 32 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 653 از مرزا قادیانی)
قادیانی چیلنج کا منہ توڑ جواب
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنے جسم عنصری کے
ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں مگر یاد رہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب
میں مسافر کے لیے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔ اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا، وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔
(کتاب البریہ صفحہ 207، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 225 حاشیہ از مرزا قادیانی
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ یہ چیلنج 1898ء میں دیا گیا تھا اور اس پر سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر اس کے خلاف ایک بھی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ ہم یہ چیلنج قبول کرتے ہیں اور اس کی مثال مرزا قادیانی کی کتب ہی سے پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- □ ’’اب پہلے ہم صفائی بیان کے لیے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث
اور اخبار کی کتابوں کے رُو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے، وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘‘
(توضیح مرام صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 52 از مرزا قادیانی)
اس تحریر میں مرزا قادیانی نے کئی انبیائے کرام علیہم السلام کے آسمان پر جانے اور پھر کسی وقت زمین پر آنے کو تسلیم کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ بات احادیث مبارکہ اور بائبل کی روشنی میں کہی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء (کنز العمال جلد 14 صفحہ 619) مرزا قادیانی نے اس
روایت کو نقل کیا مگر بددیانتی کی مثال ملاحظہ کریں کہ لفظ ”سماء“ غائب کر گیا۔ (حمامة البشریٰ صفحہ 146 وصفحہ 148 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 312، 314 از مرزا قادیانی) اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی یہ تحریر بھی ملاحظہ کیجیے۔ ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومہ. یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے کامل علوم کے ساتھ نازل ہوں گے۔ (آئینہ کمالات صفحہ 409 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 409 از مرزا قادیانی) اس عبارت میں نزول بھی ہے اور سماء بھی۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ ”سماء“ کا لفظ مرزا قادیانی کہاں سے لے آیا۔ اس طرح ازالہ اوہام میں بھی ”سماء“ یعنی آسمان سے نازل ہونا موجود ہے: ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) ”حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔“ (قادیانی رسالہ ماہنامہ ”تشحیذ الاذہان قادیان“ صفحہ 5، جون 1906ء اخبار بدر جون 1906ء) ”واني انا المسيح النازل من السماء.“ ترجمہ: ”میں ہی وہ مسیح ہوں جو آسمان سے اترا ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 83 از مرزا قادیانی) الا يعلمون. ان المسيح ينزل من السماء بجميع علومہ. ولا ياخذ شيئا من الارض مالهم لا يشعرون. ترجمہ: ”کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ بے شک مسیح علیہ السلام اپنے تمام علوم کے ساتھ آسمان سے نازل ہوں گے اور زمین میں (کسی شخص سے) کوئی شے (علم) حاصل نہیں کریں گے۔“ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 409 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 409 از مرزا قادیانی) خود مرزا قادیانی کا یہ اقبالی اعتراف موجود ہے کہ ”براہین احمدیہ میں، میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔“ (حقیقة الوحی صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)۔ مسیح موعود کی خصوصیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”اب حدیثوں پر نظر غور کرنے سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم اترنے والا ہے جس کی تعریفیں لکھی ہیں کہ وہ گندم گوں ہوگا اور بال اس کے سیدھے ہوں گے اور مسلمان کہلائے گا اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے آئے گا اور مغز شریعت جس کو وہ بھول گئے ہوں گے انہیں یاد دلائے گا اور ضرور ہے کہ وہ اس وقت نازل ہو جس وقت انتہا تک شر اور فتن پہنچ جائیں اور
مسلمانوں پر تنزل کا زمانہ ہو جو یہودیوں پر اُن کے آخری دنوں میں آیا تھا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 359 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 459 از مرزا قادیانی) اس عبارت میں مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم (ابن غلام مرتضیٰ نہیں) اترنے والا ہے، وہ یہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ ابن مریم نازل ہوں گے۔ اب ظاہر بات ہے کہ اوپر سے اترنا اور نازل ہونا، اوپر سے اترنا اور نازل ہونا ہوتا ہے، نہ کہ ماں کے پیٹ سے۔ اب مرزا قادیانی نہ اترا اور نہ نازل ہوا بلکہ ماں کے پیٹ سے برآمد ہوا۔ لہٰذا وہ اپنی اس تحریر کے مطابق بھی جھوٹا ہے۔ ان تصریحات سے قادیانیوں کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ اس قسم کا شبہ پیش کریں اور جہاں تک آسمان پر چڑھنے اور اترنے کو ناممکن سمجھنے کی بات ہے تو دیگر آیات و احادیث سے قطع نظر خود مرزا قادیانی کے نزدیک بھی غلط ہے۔ عقل کے ترازو پر خدائی قدرتوں کو تولنا ایمان نہیں بلکہ بے ایمانی و دیوانگی ہے۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اس کے دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی پر کوئی شخص انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ’’تم کوئی عیب، افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے ۔ تاہم یہ
خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے، یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لیے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 62 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کو شائد معلوم نہیں تھا کہ ایسا دعویٰ صرف اللہ تعالیٰ کا سچا نبی ہی کر سکتا ہے۔ جھوٹے مدعی نبوت کی پوری زندگی فسق و فجور، گناہوں اور کرپشن سے بھری ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی خود ان ’’اخلاقی بیماریوں‘‘ کا شکار تھا۔ دعویٰ نبوت سے پہلے اس نے اپنی کتاب کی فروخت کے لیے لوگوں سے پیشگی رقوم حاصل کیں مگر کتاب نہ دی جس پر لوگوں نے اس کی اخلاقی بد دیانتی پر اسے خوب طعنے دیے اور فقرے کسے۔ مرزا قادیانی نے خود اس کا اعتراف کیا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”مجھے ان مسلمانوں کی حالت پر نہایت افسوس ہے کہ جو اپنے پانچ یا دس روپیہ کے
مقابل پر 36 جزو کی ایسی کتاب پا کر جو معارف اسلام سے بھری ہوئی ہے، ایسے شرمناک طور پر بدگوئی اور بدزبانی پر مستعد ہوگئے کہ گویا ان کا روپیہ کسی چور نے چھین لیا یا ان پر کوئی قزاق پڑا اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں کچھ بھی ان کو نہیں دیا گیا اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنی سے اس قدر اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔ اس عاجز کو چور قرار دیا، مکار ٹھہرایا، مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔ حرام خور کہہ کر نام لیا۔ دغا باز نام رکھا اور اپنے پانچ یا دس روپیہ کے غم میں وہ سیاپا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لُوٹا گیا اور باقی کچھ نہ رہا“۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول، طبع جدید صفحہ 331 از مرزا قادیانی)
گھر کا بھیدی
”مرزا شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود کے سالے اور (ان کے فرزند) مرزا فضل احمد صاحب کے خسر تھے، انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے۔ تسبیح کے دانے پھیرتے جاتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے۔ بڑا لٹیرا ہے، لوگوں کو لوٹنے کے لیے دکان کھول رکھی ہے۔ بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دارالصنعاء کے پاس بیٹھے رہتے۔ بڑی لمبی سفید داڑھی تھی۔ سفید رنگ تھا۔ تسبیح ہاتھ میں لیے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے۔ تسبیح لیے بیٹھے رہتے۔ جو کوئی نیا آدمی آتا، اسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کردیتے کہ مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے کے لیے کھولی گئی ہے۔ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں۔ میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم تھی۔ بھائی نے جائیداد سے بھی محروم کردیا۔ اس لیے یہ دکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی خیرخواہی کے لیے آپ کو
بتائی ہیں‘‘۔ (مرزا بشیر الدین کی تقریر، جلسہ سالانہ 1945ء، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، نمبر 91، جلد 34، مورخہ 17 اپریل 1946ء)
لطیفہ
ایک دفعہ مرزا قادیانی نے اپنی بیگم نصرت جہاں بیگم سے کہا کہ اگر مجھے بادشاہت مل جائے تو میں پوری دنیا کے حالات بدل دوں گا۔ نصرت جہاں بیگم نے غصے سے مرزا قادیانی سے کہا کھوتے کے بچے، حالات تو پتا نہیں کب بدلیں گے، پہلے اپنی شلوار بدل لو، یہ تم نے میری پہنی ہوئی ہے۔
مسلمان کی قادیانی تعریف
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے
اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
آنجہانی مرزا قادیانی کا بیٹا ’’مسلمان کی تعریف‘‘ کے بارے میں لکھتا ہے:
- ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ
کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو ایک خط لکھا جس میں اس نے چاپلوسی کی انتہا کردی۔ مرزا قادیانی کو امید تھی کہ جواب میں ملکہ اس کا شکریہ ادا
کرے گی مگر ایسا نہ ہوا جس پر مرزا قادیانی نے شکوہ کے انداز میں ایک اور خط لکھا جس کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
- ”اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں
نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی۔ اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک مشرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بےمثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے۔ مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانسشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو۔ اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 112 از مرزا قادیانی)
جبکہ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”بدقسمت اور بدبخت آدمی ہے جو عیسائیوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ اسلام ایسے
گندوں کو باہر پھینکتا ہے۔“ (ملفوظات جلد چہارم، طبع جدید صفحہ 385 از مرزا قادیانی)
واقعی اسلام نے مرزا قادیانی ایسے گندوں کو اپنے دائرہ سے باہر پھینک دیا ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی نشانی
اکثر قادیانی فیس بک پر ایک حدیث پیش کرتے ہیں: ”حضرت حذیفہ بن یمانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”1240
کے بعد اللہ تعالیٰ مہدی کو مبعوث فرمائے گا۔“
(النجم الثاقب، از مولوی کرم علی مطبوعہ 1310ھ بمطابق 1893ء)
پھر مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں: ”امام مہدی کا انتظار کرنے والے مسلمانو! اس وقت 1434 ہجری کا سال چل رہا ہے۔ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کے ارشاد کے مطابق امام مہدی کو بھیج دیا۔ جن کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ آپ لوگوں کا انتظار بے فائدہ ہے“۔
ہمارا چیلنج ہے کہ مذکورہ بالا حدیث قادیانیوں کی اپنی گھڑی ہوئی ہے۔ کوئی قادیانی آج تک حدیث کی کسی کتاب میں اس کا ثبوت پیش نہیں کر سکا جہاں یہ حدیث موجود ہو؟ مذکورہ بالا حدیث دکھانے پر قادیانیوں کو 10 ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔
قادیانیوں کے نزدیک مقدم و مقدس شخصیت کون؟
رواداری، برداشت اور ”محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“ کا نعرہ لگانے والی قادیانی جماعت اپنے جھوٹے مسیح موعود کی ہتک بارے کس قدر جذباتی اور اشتعال میں آجاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا
دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ حضرت مسیح موعود اور سلسلہ کی ہتک ہے“۔ (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 23 نمبر 43 صفحہ 5 مورخہ 20 اگست 1935ء)
قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے مزید کہا:
- ”اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ پھر کس
طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے امام ان کے خاندان کی خواتین، جماعت کے معزز کارکنوں اور معزز خواتین کے خلاف اس درجہ شرمناک اور حیا سوز جھوٹے اور بناوٹی الزامات لگائے جائیں اور بار بار لگائے جائیں، لیکن کوئی فتنہ نہ پیدا ہو، ہر شخص جانتا ہے کہ اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا فتنہ فساد حتیٰ کہ قتل و خونریزی معمولی بات ہے“۔
(اخبار الفضل قادیان جلد 17 نمبر 91 صفحہ 1 مورخہ 4 مئی 1930ء)
اس کے برعکس جب راجپال نے حضور خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان
میں توہین کی اور اس کے نتیجہ میں غازی علم الدین شہیدؒ نے اس گستاخ رسول کو جہنم واصل کیا تو قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے حضرت غازیؒ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے اس عظیم فعل کو ناجائز قرار دیا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ’’اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیا کی توہین کی وجہ
سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیا کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے......
وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھوکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کرلو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 8،9 مورخہ 19 اپریل 1929ء)
عشق رسول ﷺ
قادیانی اکثر و بیشتر انٹرنیٹ پر مرزا قادیانی کا یہ شعر بڑے شد و مد کے ساتھ پیش کرتے ہیں:
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
خدا کے عشق کے بعد میں محمدﷺ کے عشق میں مخمور ہوں۔ خدا کی قسم! اگر یہ کفر ہے تو میں سب سے بڑا کافر ہوں۔
قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ اگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ درست ہے تو کیا مندرجہ ذیل تحریریں کفر و ارتداد کے زمرے میں نہیں آتیں؟ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ’’پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ
والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی)
- ❑ هو الذی ارسل رسوله بالہدی و دین الحق ليظهره علی الدين كله
کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منہم لما یلحقوا بہم میں فرمایا تھا۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ❑ ’’ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی
کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بينی وبين المصطفیٰ فما عرفنی و ماریٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
کیا چودھویں صدی کے بعد بھی نبوت جاری ہے؟؟
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ’’محدثین کا اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ کوئی کشف اور الہام چودہویں صدی سے
آگے نہیں جاتا‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 351، طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ پھر وہ یہ عقیدہ کیوں رکھتے ہیں کہ نبوت جاری ہے۔ ظاہر ہے جو نبی ہوگا، اسے کشف اور الہام بھی ہوگا۔ جب کشف اور الہام بند ہے تو نبوت چہ معنی دارد؟
مناظرہ سے فرار
مرزا قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو مناظرے کا چیلنج دیا تو پیر صاحب نے اس چیلنج کو مرزا قادیانی کی تمام شرائط پر قبول کر لیا۔ لیکن جب مرزا قادیانی کو پتہ چلا کہ جناب پیر صاحب مناظرہ کے لیے لاہور تشریف لا رہے ہیں تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مقررہ تاریخ کو وہ اس مناظرہ میں نہ آیا اور پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے مندرجہ ذیل عذر کیا:
- ”اور میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی
پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 461 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اسے الہام ہوا ہے:
- ”واللّٰہ یعصمک من عندہ ولو لم یعصمک الناس ۔ (اور اللہ تعالیٰ تیری
حفاظت کرے گا، اگرچہ لوگ تیری حفاظت نہ کریں)“۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ
179 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
موٹا آدمی
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ موٹا آدمی منافق ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے ایک دفعہ میں اور چند اور آدمی جن
میں غالباً مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے، حضرت صاحب سے ملنے کے لیے اندر آپ کے مکان میں گئے۔ اس وقت آپ نے ہم کو خربوزے کھانے کے لیے دیے۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جو خربوزہ مجھے آپ نے دیا، وہ زیادہ موٹا تھا، چنانچہ آپ نے دیکھتے ہوئے فرمایا: اسے کھا کر دیکھیں یہ کیسا ہے؟ پھر خود ہی مسکرا کر فرمایا، موٹا آدمی منافق ہوتا ہے۔“
(سیرت المہدی جلد اول طبع جدید، صفحہ 99، پرانا ایڈیشن صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
ایک صاحب نے فیس بک پر مرزا مسرور سمیت کئی قادیانیوں کی تصاویر لگائی ہیں جو نہ صرف موٹے بلکہ ان کے پیٹ بھی کمر سے خاصے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ قادیانیوں میں کتنی کثیر تعداد میں منافق موجود ہیں۔
مرزا قادیانی کی دھوکہ دہی
قادیانیت دھوکہ دہی کا دوسرا نام ہے۔ اس نام نہاد مذہب کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی بذات خود جھوٹا اور دھوکے باز شخص تھا۔ اس کے فراڈ کے کئی ایک واقعات قادیانی لٹریچر سے اس کے حالات زندگی میں ملتے ہیں۔ کہاوت مشہور ہے گرو جِہاں دے ٹپنے۔ چیلے انہاں دے شٹرپ۔ (یعنی جن کے گرو تیز رو ہوں، ان کے چیلے چانٹے اس سے بھی تیز چلنے والے ہوتے ہیں)۔ قادیانی قیادت کے تمام افراد اس پر پورا اترتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے قریبی ساتھی اور قادیانی جماعت کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین نے مرزا قادیانی کو 500 روپے بھجوانے کا وعدہ کیا۔ مرزا قادیانی نے اسے مشورہ دیا کہ یہ رقم منی آرڈر کرنے پر کافی خرچ آئے گا۔ لہٰذا وہ اس نوٹ کے دو حصے کرے اور ایک ایک حصہ بذریعہ ڈاک، خط بھجوا دے۔ چنانچہ نور الدین نے اپنے ”نبی“ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے کرنسی نوٹ پھاڑ کر علیحدہ علیحدہ بھجوا دیا تاکہ ڈاک خرچ سے بچا جاسکے۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب
بعد السلام علیکم۔ آج نصف قطعہ نوٹ پانچسو روپیہ پہنچ گیا۔ چونکہ موسم برسات ہے۔ اگر براہ مہربانی دوسرا ٹکڑا رجسٹری شدہ خط میں ارسال فرما دیں تو انشاء اللہ کسی قدر احتیاط سے پہنچ جائے ۔“ (مکتوبات احمد جلد دوم طبع جدید، مکتوب نمبر 26، صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی پریشانی
ایک دفعہ مرزا قادیانی نے اپنی بیگم نصرت جہاں بیگم سے کہا کہ ایک بات میرے سینے پر پہاڑ سا بوجھ بن کر سوار ہے اور مجھے بہت پریشان کرتی ہے۔ اگر میں پوچھوں تو تم نے سچ سچ بتانا ہے۔ نصرت جہاں بیگم نے کہا کہ ایسی کونسی بات ہے جو آپ کو پریشان کیے رکھتی ہے، آپ پوچھیں، میں سچ جواب دوں گی۔ مرزا قادیانی کہنے لگا ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے
تمام بچوں کی شکلیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، صرف بشیر الدین محمود کی شکل سب سے علیحدہ ہے۔ سچ سچ بتاؤ کہ یہ کس کا بیٹا ہے؟ نصرت جہاں بیگم نے کہا، بوجھ تو میرے سینے پر بھی بہت بڑا تھا، میں ڈرتے ڈرتے آپ کو بتاتی نہیں تھی، سچی بات یہ ہے کہ صرف یہی آپ کا بیٹا ہے۔
نصرت جہاں بیگم کا خط، مرزا قادیانی کے نام
نصرت جہاں بیگم نے مرزا قادیانی کو خط لکھا: اس نے خط لکھتے ہوئے کہیں بھی Dash یا Fullstop نہیں لگایا۔ خط لکھنے کے بعد اسے یاد آیا تو اس نے جلدی جلدی اندازے سے Dash لگا دیا تو خط کچھ یوں ہوگیا۔
پیارے دسوندی۔
آپ نے کئی دنوں سے پیار بھرا خط نہیں لکھا بھانو کو۔ نوکری سے نکال دیا ہے ہماری گائیں نے۔ بچھڑا دیا ہے عبدالکریم سیالکوٹی نے۔ سگریٹ پینی شروع کردی ہے میں نے۔ بہت خط ڈالے پر تم نہیں آئے کبوتر کے بچے۔ بلی کھا گئی ہے گھی۔ لدھیانہ سے آتے وقت لے آنا اک خوبصورت عورت۔ میری سہیلی بن گئی ہے نور الدین کی بیوی۔ اس وقت TV پر Dance کر رہی ہے ہماری مرغی۔ بیچ دی ہے تمہاری ماں چراغ بی بی۔ تمہیں یاد کرتی ہے پڑوسن۔ مجھے تنگ کرتی ہے ہماری زمین۔ سرسوں اگ آئی ہے بچے کی ماں کے سر پر۔ پھوڑا ہوگیا ہے میرے پاؤں میں۔ چوٹ لگ گئی ہے تمہاری چٹھی کو۔ ہر وقت ترستی ہوں نور الدین کے لیے۔ سندیش ہے کہ یہ بھی ساتھ میں آئے نہیں۔ تو میں ناراض ہو جاؤں گی ان سے۔ ضرور مل کر آنا۔
آپ کی پتنی نچھو
قادیانی مردود
- □ ”مولوی عبدالستار مہاجر کابلی (یکے از شاگردان عبداللطیف کابلی) نے میرے
پاس بیان کیا کہ مولوی غلام محمد احمدی مہاجر متوطن علاقہ خوست (کابل) نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں اس مضمون کا عریضہ لکھا تھا کہ حضور (مرزا قادیانی) پر درود کس طرح بھیجا جائے۔ جس کا جواب حضور نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرما کر بھیجا تھا اور اس میں
حضور نے آپ پر درود بھیجنے کے لیے یہ الفاظ لکھے تھے۔
اللهم صل علی محمد وال محمد واصحاب محمد وعلی عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم.
(رسالہ درود شریف، صفحہ 232 از محمد اسماعیل)
لعنت الله علی المرزا قادیانی و علی قوم المرزائیت
خدا کی سنت
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمینی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر جانا، دو ہزار سال وہاں رہنا اور بوڑھا نہ ہونا، یہ تو کبھی خدا کی سنت نہیں رہی۔
قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے، کیا کسی نبی کو ہیضہ کی موت سے مارنا، اللہ کی سنت رہی ہے؟ اگر کبھی کوئی نبی ہیضہ سے مرا ہو تو اس کا ثبوت دو؟ خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے۔
”لیکن جہاں کوئی پیچ پڑ جاتا ہے اور دین پر اعتراض وارد ہوتا ہے وہاں تو خدا تعالیٰ اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے اور معجزہ نمائی کرتا ہے۔“
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 296 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی!
ایک دفعہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
- ”ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے“۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم ، صفحہ 614 از مرزا قادیانی)
ایک اور جگہ مرزا قادیانی نے ہیضہ کے بارے میں لکھا:
- ”ہیضہ اللہ کے غضب کی تلوار ہے“۔ (مفہوم)
(حقیقت الوحی صفحہ 364 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 364 از مرزا قادیانی)
یہ تلوار خود مرزا قادیانی پر کیسے چلی، ملاحظہ فرمائیے آنکھوں دیکھا حال بزبان قادیانیوں کی اماں جان:
- ”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود
کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے
پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
قادیانی کہتے ہیں کہ: مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لیے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ”نام نہاد صحابی“ اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ”اقرار صالح“ موجود ہے، میر ناصر نواب لکھتا ہے:
- ❑ ”حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر
جاکر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
علما ستاروں کی مانند
حضرت انس بن مالکؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بے شک
زمین پر علما کی مثال آسمان پر موجود ستاروں کی سی ہے۔ لوگ ستاروں کے ذریعے خشکی اور تری میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں لوگ علما سے دینی امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان علما سے مراد علمائے حق ہیں جو حقیقی معنوں میں اللہ کی رضا اور ملت کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں، اس سے پیٹ پرست علما مراد نہیں جو سارے کام محض دنیا کی خاطر کرتے ہیں۔ جس طرح ستاروں کے مٹ جانے کے بعد لوگ رستہ نہیں پائیں گے اور بھٹکتے رہیں گے، اسی طرح صحیح علما کی عدم موجودگی میں لوگ گمراہ ہی ہوں گے۔
(مسند احمد طبع بیروت جلد 3 صفحہ 157)
حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے لو لا العلماء لصار الناس مثل البہائم۔ اگر علمائے حق نہ ہوتے تو لوگ جانوروں کی طرح ہوتے یعنی وہ نہ صحیح عقیدہ اپنا سکتے اور نہ حلال و حرام میں امتیاز کر سکتے۔
قادیانی موجودہ دور کے علمائے کرام کو بدنام کرنے کے لیے ایک ضعیف حدیث بار بار پیش کرتے ہیں جس میں ذکر ہے کہ علما بدترین مخلوق ہیں۔ ہم یہاں قادیانی دھوکے کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس حدیث کی روایت آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس حدیث کا حوالہ مشکوٰۃ کا ہے لیکن یہ اصل حدیث امام بیہقی کی کتاب شعب الایمان میں ہے۔ (شعب الایمان جلد 3 صفحہ 317 حدیث نمبر 1763) اب قادیانیوں کا دھوکہ دیکھیں کہ کوئی قادیانی کبھی اس حدیث کی سند بیان نہیں کرے گا کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ یہ حدیث سند کے حساب سے ضعیف ہے۔ اس حدیث کے حاشیہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ سب سے پہلی بات کہ حضرت علی بن حسین رضی اللہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی عنہ سے نہیں ملے۔ اس کے راوی عبداللہ بن دکین کے بارے میں امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے اور امام ابو زرعۃ کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے۔
(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 317 حدیث نمبر 1763)
امام ابن عدی نے عبداللہ بن دکین کا ذکر کر کے امام یحییٰ بن معین کا یہی قول نقل کیا کہ یہ کچھ نہیں ہے۔ (الکامل فی الضعفا جلد 5 صفحہ 377)
امام رازی اپنی کتاب میں عبداللہ بن دکین کا ذکر کرتے ہوئے امام یحییٰ بن معین کا قول بیان کیا کہ یہ ضعیف ہے اور آگے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمان سے اس راوی کے
بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ منکر حدیث ہے اور ان کی محمد بن جعفر سے بیان کی گئی حدیث منکر ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل جلد 5 صفحہ 49 ، 50) اب قادیانی حضرات جو ہر بار حیات عیسیٰ علیہ السلام پہ احادیث پیش کرنے پر یہ اعتراضات کرتے رہتے ہیں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث ضعیف ہیں اور قابل قبول نہیں، ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں اور اگر ہمت ہے تو اپنی بیان کردہ اس حدیث کو صحیح ثابت کریں یا اس حدیث کو بیان کرنا چھوڑ دیں۔
قادیانی دہشت گردی
”چناب نگر بینک ڈکیتی میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا اور پولیس کو مطلوب ڈاکو قادیانی جماعت کا اہم رکن نکلا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز بنک ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا ڈاکو عمران قادیانی دہشت گرد تنظیم خدام الاحمدیہ کا دہشت گرد نکلا۔ اس کے والد کا نام ڈاکٹر نذیر مظہر ہے جو کہ چناب نگر کی قریبی آبادی احمد نگر کا رہائشی ہے اور اس کے والد نے وہاں کلینک بھی بنا رکھا ہے۔ عمران کے اہل خانہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ہلاک ہونے والا ڈاکو عمران گذشتہ چند روز قبل پاکستان ڈکیتیاں کرنے کی نیت سے آیا جہاں اس نے عالمی گروہ کے ساتھ............ کیا جو کہ گذشتہ روز بنک ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ واضح رہے کہ بنک ڈکیتی کے دوران گذشتہ روز عمران ڈاکو نے ڈی ایس پی سرکل چناب نگر کو بھی قتل کر دیا تھا اور 6 گھنٹے تک مقابلے کے بعد پولیس مقابلے میں ڈاکو مارا گیا۔ ڈی پی او مبشر میکن کے مطابق فرار ہونے والے دیگر چار ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے تمام پولیس اسٹیشنوں میں ناکے لگا دیے ہیں۔ دوسری جانب متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی قادیانی ہاتھ ملوث ہے اور اس قسم کے قادیانی گروہ ملک کی سالمیت کے درپے ہیں جو ملک عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں“۔
(روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد)
اور نام بدل گیا
دوستو! آپ نے بہت سے پاگلوں کے بارے میں سنا ہوگا، لیکن میں آج آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں جس کی احمقانہ حرکتیں اسے دنیا کا نمبر ایک
پاگل ثابت کرتی ہیں۔
آپ کے سامنے مرزا قادیانی کی ایک ہی کتاب کے دو صفحات ہیں صفحہ نمبر 73 اور صفحہ نمبر 74۔ لیکن اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اس کتاب کا نام کیا ہے؟؟ تو آپ سوچ میں پڑ جائیں گے۔ کیونکہ صفحہ 73 پر کتاب کا نام لکھا ہے ”نصرۃ الحق“ اور اس سے اگلے صفحہ پر نام لکھا ہے۔ ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ ............ یہ کتاب جب مرزا قادیانی نے لکھنی شروع کی تو اس کا نام تھا "نصرۃ الحق" اور جیسے ہی اس کے 73 صفحات مکمل ہوئے تو نہ جانے مرزا قادیانی کو کیا دورہ پڑا کہ اس کا نام بدل کر ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ لکھنا شروع کر دیا، اور بتایا بھی نہیں کہ میں اب اس کتاب کا نام بدل رہا ہوں .. یہ شاید دنیا کی واحد کتاب ہے جس کا صفحہ 73 تک نام الگ ہے اور اس سے آگے نام الگ ہے جبکہ مرزا قادیانی نے 28 مئی 1892ء کو ایک اشتہار کے ذریعے بتایا کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کا دوسرا نام ”ضرورت قرآن“ رکھا گیا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات صفحہ 267 (اشتہار نمبر 85) طبع جدید از مرزا قادیانی)۔ حالانکہ پوری کتاب میں اس نام کا ذکر تک نہیں۔
کیوں اب یقین آیا کہ مرزا قادیانی پاگل تھا؟ بالکل اسی طرح مرزا قادیانی زندگی بھر اپنے نام بھی بدلتا رہا....... کبھی ”مجدد“، کبھی ”محدث“، کبھی ”مامور“، کبھی ”ملہم“، کبھی ”مثیل مسیح“، کبھی ”مسیح موعود“، کبھی ”ظلی بروزی نبی“، کبھی ”صاحب شریعت رسول“، کبھی ”مہدی“، کبھی ”کرشن“، کبھی ”آریوں کا بادشاہ“۔
ادریس علیہ السلام یا الیاس علیہ السلام؟
دوستو! کیا آپ نے کوئی ایسا امتی دیکھا ہے جو اپنے نبی کی غلطی کو درست کرتا ہو؟
حیران نہ ہوں، قادیان کے پنجابی مسیلمہ کذاب کی امت میں آپ کو یہ مثال بھی ملے گی .....
آپ کے سامنے مرزا قادیانی کی کتاب ”توضیح مرام“ کا ایک صفحہ ہے، اس میں مرزا قادیانی دراصل ”تحریف شدہ“ بائبل کے ایک جھوٹے قصے سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نبیوں کی پیش گوئیوں میں نام کچھ اور ہوتا ہے لیکن اس سے مراد کچھ اور لیتے ہیں۔ (مرزا کے اس مغالطے کا جواب بھی اسی بائبل میں ہی موجود ہے کہ یحییٰ علیہ السلام نے اپنے ایلیا ہونے کا انکار کیا، اور اگر بائبل کے اس جھوٹے قصے کو درست مان لیا جائے تو پھر اللہ کے دو نبیوں حضرت عیسیٰ اور
حضرت یحییٰ علیہما السلام میں سے کسی ایک کو نعوذ باللہ جھوٹا تسلیم کرنا ہوگا، یہ کہانی پھر کبھی سہی).. یہاں آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ عبرانی زبان میں "ایلیا" جس نبی کو کہا جاتا ہے، ان کا نام عربی میں "الیاس علیہ السلام" ہے، لیکن مرزا کی جہالت دیکھیں کہ اس نے اس صفحہ پر ایک نہیں دو بار ’ایلیا‘ کا نام ’ادریس علیہ السلام‘ لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ”یوحنا“ کا نام ’ایلیا اور ادریس ہے۔۔۔۔۔۔“ جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ بائبل میں "ایلیا" کس کا نام ہے، وہ چلا ہے بائبل کا حوالہ دینے......اور پھر یہ تین الگ الگ نبی ہیں ’ایلیا‘، جنہیں ’الیاس‘ کہا جاتا ہے، ”یوحنا" کو یحییٰ کہا جاتا ہے اور ادریس علیہم السلام، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی، جب مرزا قادیانی اس دنیا سے چلا گیا تو اس کی جہالت کا نقش پا یہ ثبوت اس کی کتاب میں زندہ رہا۔ اس کی امت اب کتاب میں تبدیلی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ مرزا کی کتاب تو چھپ چکی تھی اور وہ دنیا سے بھی چلا گیا تھا اور اس کی زندگی میں اس کو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مرزا! تو نے ’الیاس‘ کی جگہ ’ادریس‘ لکھ دیا ہے۔ تو مرزا قادیانی کے ایک چیلے مولوی جلال شمس نے اپنے نبی کی غلطی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی اور صفحہ کے نیچے فٹ نوٹ کے طور پر لکھ دیا کہ ”الیاس پڑھا جائے“۔ اسے کہتے ہیں: خواجہ کا گواہ ڈڈّو۔
سر ظفر اللہ قادیانی کی پاکستان دشمنی
”برصغیر کی تقسیم کا فارمولا سر ظفر اللہ خاں قادیانی نے تیار کر کے وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو کے سپرد کیا تھا اور وائسرائے نے یہ مسودہ انہی سفارشات کے ساتھ حکومت برطانیہ کو بھیجا تھا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف طبقوں کے نمائندہ افراد کو اپنا آلہ کار بنایا تھا جس میں ہندو، اچھوت، خطاب یافتہ مسلمان اور تینوں طبقوں کے مشیر و مقررین شامل تھے۔ چوہدری ظفر اللہ خاں جو بعد میں پاکستان کے وزیر خارجہ بھی بنے، ایک مخصوص اقلیتی مذہبی طبقے (قادیانیت) سے تعلق رکھتے تھے جو بظاہر مسلمان ہونے کا دعویدار ہے۔ یہ طبقہ اپنے مخصوص مفادات کی حفاظت کے لیے انگریزوں کا آلہ کار بنا، مسٹر ظفر اللہ خاں نے انگریز وائسرائے سے درخواست کی تھی کہ ظاہر نہ کیا جائے کہ اس مسودے کا مصنف کون ہے تا کہ مسلمان رہنما بد اعتمادی کا شکار نہ ہو جائیں اور ان کے اقلیتی فرقہ کے لیے مصائب کا موجب بنیں۔ اگر برصغیر کی تقسیم کے اس فارمولے پر عمل نہ کیا جاتا تو غیر
منصفانہ تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان کو موجودہ درپیش مشکلات اور بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ چوہدری ظفراللہ درپردہ انگریزوں کے آلہ کار تھے اور انہوں نے اپنے طرز عمل سے قائد اعظمؒ اور مسلم لیگ سے صریحاً غداری کی۔ (روزنامہ جنگ لاہور، 21 دسمبر 1989ء)
قرارداد پاکستان کی تیاری اور سر ظفراللہ خان؟
”تاریخ کے فیصلے بھی عجب ہوتے ہیں کہ بعض فیصلوں پر صدیوں تک بحث کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن لوگ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ انسان بنیادی طور پر ”حال“ میں زندہ رہتا ہے اور اکثر مستقبل کی دور دراز پیچیدگیوں کا صحیح ادراک نہیں کر سکتا۔ اسی صورتحال میں توجیہیں، توضیحیں، وضاحتیں اور بے نتیجہ بحث جنم لیتی ہیں۔ قرارداد لاہور (قرارداد پاکستان) 23 مارچ 1940ء کو پیش کی گئی اور اگلے دن 24 مارچ کو منظور ہوئی۔ اکہتر برس گزر چکے، اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔ قرارداد کی تشکیل اور اس کے مصنفین سے لے کر اس کے متن تک لاکھوں صفحات لکھے جا چکے ہیں لیکن اتفاق رائے کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ دلچسپ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس قرارداد کا مفہوم بھی لوگوں کا اپنا اپنا ہے جس طرح سچ ہر کسی کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد کسی غیر ملکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظمؒ نے واضح کیا تھا کہ ہم نے ایک ریاست کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا حوالہ سٹینلے والپرٹ نے اپنی کتاب ”جناح آف پاکستان“ میں دیا ہے۔ گاندھی سے خط کتابت میں بھی قائد اعظمؒ کا موقف یہی تھا کہ وہ ایک ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ قرارداد کو بغور پڑھا جائے تو دوسرا تاثر ابھرتا ہے۔ یوں قاری کنفیوژن کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے۔ مولانا فضل الحق سے لے کر شیخ مجیب الرحمٰن سے ہوتے ہوئے ولی خان اور دوسرے قومیت پرست سیاسی لیڈروں تک ہر کسی کا اصرار ہے کہ قرارداد لاہور دو آزاد مسلمان مملکتوں کا تصور اور مطالبہ تھا جس نے 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد عملی شکل اختیار کر لی۔ بہر حال یہ ایک طویل بحث ہے۔ اس پر پھر کبھی......!!
جہاں قرارداد لاہور کے متن کے بارے میں کنفیوژن اور کئی آرا ہیں، وہاں اس کے لکھنے والے ہاتھوں اور مصنفین کے بارے میں بھی متعدد آرا پائی جاتی ہیں۔ اصلی (اوریجنل) مسودات اور کاغذات کی موجودگی کے باوجود اس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ ختم نہیں
ہو رہا۔ گذشتہ دنوں محترم نذیر لغاری صاحب نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ قرارداد کا ڈرافٹ سر ظفر اللہ خان قادیانی نے تیار کیا تھا۔ اس حوالے سے مجھے کئی فون آئے اور کئی دن تک وضاحتیں کرتا رہا کہ اس مسودے کا سر ظفر اللہ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ طلبہ کا اصرار تھا کہ میں اس کی کالم میں وضاحت کروں تاکہ غلط تاثر کی تصحیح ہو سکے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ تحقیق میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا، اس لیے ضروری نہیں کہ میں جو کچھ لکھوں وہ حرفِ آخر ہی ہو۔ میں نے اس موضوع پر جو کچھ پڑھا اور جتنا ریکارڈ کھنگالا، اس سے سر ظفر اللہ خان کا قرارداد کی ڈرافٹنگ کے حوالے سے کوئی سراغ نہیں ملتا۔ شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے یہ قرارداد پیش کی تھی۔ ان کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ قرارداد انہوں نے ڈرافٹ کی تھی حالانکہ سچ یہ ہے کہ مولوی فضل الحق اس اجلاس میں کلکتہ سے تاخیر سے پہنچے تھے اور قرارداد ان کی آمد سے قبل سارے مراحل طے کر کے حتمی صورت اختیار کر چکی تھی۔ چودھری خلیق الزماں نے بھی اپنی کتاب میں قرارداد کی ’’تحریر‘‘ کا کریڈٹ لیا ہے لیکن تحقیق کے میدان میں اتریں تو ان کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک آزاد مسلمان مملکت کے قیام کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا اور 1939ء میں سندھ مسلم لیگ یہ مطالبہ کر کے سبقت حاصل کر چکی تھی چنانچہ جب مسلم لیگ نے لاہور میں مارچ کے مہینے میں جلسہ کر کے یہ قرارداد منظور کرنے کا فیصلہ کیا تو حکومتِ برطانیہ نے قائدِ اعظمؒ پر جلسہ ملتوی کرنے کے لیے ہر قسم کا دباؤ ڈالا اور اس ضمن میں سر ظفر اللہ خان اور پنجاب پریمیئر یا وزیرِ اعظم سر سکندر حیات کی بھی خدمات حاصل کی گئیں لیکن قائدِ اعظمؒ نے ان کے دلائل کو مسترد کر دیا۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 20 مارچ 1940ء کو وائسرائے ہند لنلتھگو نے لارڈ زٹلینڈ کو جو خفیہ خط لکھا اس میں یہ ذکر کیا کہ میں نے سر ظفر اللہ خان سے لیگی اجلاس ملتوی کرانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے کہا ہے لیکن مجھے امید نہیں کہ قائدِ اعظمؒ آزاد مملکت کے مطالبے یا اجلاس کو ملتوی کرنے پر رضامند ہوں۔ سوال یہ ہے کہ سر ظفر اللہ خان کا قرارداد لاہور کی ڈرافٹنگ سے تعلق کا تاثر کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ 10 جنوری 1939ء کو وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو نے اعلان کیا کہ ہندوستان کو ڈومینین کا درجہ دے دیا جائے۔ مطلب یہ کہ سوراج یا آزادی دے دی جائے گی۔ اس اعلان کے جواب میں سر ظفر اللہ خان نے وائسرائے کے لیے ایک نوٹ تیار کیا جس میں انہوں نے مسلم لیگ اور کانگریس کے مطالبے اور موقف کا تجزیہ کیا اور مسلمانوں کے حوالے سے تین سکیموں کا جائزہ
لیا۔ پہلی سکیم چودھری رحمت علی کے تصورِ پاکستان کی تھی، دوسری مشرق اور مغرب میں دو مسلمان مملکتوں کے قیام کے حوالے سے تھی جنہیں براہِ راست تاج برطانیہ کے ماتحت ہونا تھا۔ اس نوٹ میں انہوں نے علیحدگی کی تحریکوں کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کی حمایت کی۔ ان تمام مسودات اور سرکاری ریکارڈ کا مطالعہ کرنے کے بعد سید شریف الدین پیرزادہ اپنی انگریزی کتاب ”پاکستان کا ارتقا“ میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ سر ظفر اللہ خان کا قراردادِ پاکستان کی ڈرافٹنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ انہوں نے بعدازاں ایک پبلک بیان میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی تقسیم ہند کا کوئی فارمولا پیش نہیں کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ اس حوالے سے قائداعظمؒ ان کی رائے کو کوئی اہمیت دیتے۔ (پیرزادہ صفحہ نمبر 208)
قرارداد پاکستان کا اصلی مسودہ اور اس پر کی گئی ترمیمات اور حذف کیے گئے پیراگراف کراچی یونیورسٹی کے آرکائیوز میں موجود ہیں۔ پس منظر کے طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس 21 مارچ 1940ء کو لاہور میں ہوا جس میں قرارداد لاہور کی ڈرافٹنگ کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی جو قائداعظمؒ، سرسکندر حیات، ملک برکت علی اور نواب اسماعیل خان پر مشتمل تھی۔ پیر علی محمد راشدی کا دعویٰ ہے کہ ڈرافٹ ریزولیشن قائداعظمؒ نے تیار کیا اور مجھے دیا کہ میں اسے سرسکندر حیات کو پہنچا دوں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ ڈرافٹ مولانا غلام رسول، شیخ عالم اور میر مقبول کی موجودگی میں سرسکندر کو دیا۔ سرسکندر حیات نے پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں 11 مارچ 1941ء کو انکشاف کیا کہ اوریجنل ڈرافٹ انہوں نے تیار کیا تھا جس کا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے حلیہ بدل کر رکھ دیا۔ اس بیان کی مسلم لیگ کی جانب سے کبھی تردید نہیں کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنیادی ڈرافٹ سرسکندر نے تیار کیا تھا جس میں مسلم لیگ نے بنیادی تبدیلیاں کیں۔ 22 مارچ کو رات آٹھ بجے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قائداعظمؒ نے اراکین کو بتایا کہ قرارداد ٹائپ ہورہی ہے۔ اس دوران قائداعظمؒ دیر تک دو قومی نظریئے پر گفتگو کرتے رہے۔ جب ڈرافٹ آ گیا تو لیاقت علی خان نے اسے پڑھ کر سنایا اور مولانا ظفر علی خان نے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ اراکین ورکنگ کمیٹی قرارداد کے مسودے پر غور و خوض کے لیے مزید وقت چاہتے تھے چنانچہ کمیٹی کا اجلاس دن گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ اگلے دن قرارداد کے ڈرافٹ پر سات گھنٹے تک بحث ہوتی رہی جس میں بہت سی تبدیلیاں کی گئیں اور پھر مسودہ منظور کرلیا گیا۔ اکثر
ترمیمات مسلمان اقلیتی صوبوں کی جانب سے تجویز کی گئی تھیں۔
ان تجاویز اور ترمیمات کا ریکارڈ کراچی یونیورسٹی کے فریڈم موومنٹ آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ جو ترمیمیں منظور ہوئیں اور جو نہ ہوسکیں ان کا احوال بھی درج ہے۔ 23 مارچ 1940ء کو جلسے کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعتوں سے ہوا۔ قرارداد پیش ہوئی تو چودھری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی اور پھر مولانا ظفر علی خان، سردار اورنگزیب اور عبداللہ ہارون نے اس کی حمایت میں تقاریر کیں۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو اجلاس 24 مارچ تک ملتوی کردیا۔ 24 مارچ کو قرارداد کی حمایت میں بہت سی تقاریر ہوئیں۔ نہایت جوش و خروش اور اعلیٰ ترین جذبات کے ساتھ قرارداد کو منظور کرلیا گیا۔ دراصل یہ قرارداد مسلمانان ہند و پاکستان کے لیے ایک نئی صبح کا طلوع تھا جس نے شک و شبہات اور مایوسیوں کے اندھیروں کو ختم کردیا اور ان کی منزل کا تصور واضح کردیا۔ نشان منزل سے لے کر حصول منزل تک کا سفر سات سال میں کیسے طے ہوا، تاریخ اسے معجزہ قرار دیتی ہے اور مسلمان اسے رضائے الٰہی سمجھتے ہیں‘‘۔
(جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم مطبوعہ روزنامہ جنگ)
نبی بڑا کہ امتی؟
ملک عزیز پاکستان کے ممتاز سینئر کالم نگار اور بین الاقوامی شہرت یافتہ مزاح نگار جناب عطاء الحق قاسمی اپنے مستقل کالم ’’روزن دیوار سے‘‘ میں ’’بھارت میں بھگوان، پاکستان میں مراثی‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے کالم میں قادیانیت کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں:
’’برطانیہ میں میری ملاقات ایک قادیانی دوست سے ہوئی جو اچھا شاعر ہے۔ اس نے میری خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر وہ ہر جملے بعد کہتا ’’حضرت صاحب نے فرمایا‘‘ جس پر میں بہت بدمزہ ہوتا تھا۔ جب اس نے دسویں بارہویں بار کہا ’’حضرت صاحب نے فرمایا‘‘ اور یوں بالواسطہ تبلیغ کے ذریعے مجھے اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کی تو میرے خون نے جوش مارا، میں نے اپنے اس شاعر دوست کو مخاطب کیا اور کہا ’’تم نے مرزا قادیانی صاحب کا شعری مجموعہ ’’دُرِثمین‘‘ پڑھا ہے؟‘‘ بولا ’’پڑھا ہے‘‘ میں نے کہا ’’میری ایماندارانہ رائے یہ ہے کہ تم مرزا صاحب سے کہیں بہتر شاعر ہو‘‘ اس پر اس نے بے ساختہ کہا ’’ہاں! یہ ٹھیک ہے‘‘ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
”تو پھر یاد رکھو، مرزا صاحب نبی نہیں ہیں، کیونکہ نبی کسی بھی شعبے میں اپنے امتی سے کم تر نہیں ہوتا“۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور 5 اکتوبر 1995ء)
باپ بیٹے کا تضاد
مکہ امن کی جگہ نہیں
- ”حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عنداللہ حج نہ کرنے کے
لیے عذر صحیح ہیں چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے من استطاع الیہ سبیلا۔ (آل عمران: 97)۔ عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بداندیش علماء مکہ سے فتویٰ لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لیے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جبکہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہے اس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں حضور نبی رحمت ﷺ نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو۔“
(ایام الصلح صفحہ 189، مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 415 از مرزا قادیانی)
مکہ امن کی جگہ ہے
اس کے برعکس مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود قرآنی آیت وھذا البلد الامین (التین: 3) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”یعنی مکہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے امن والا
قرار دیا تھا جس پر ہزاروں سال گزر گئے تھے لیکن باوجود اس کے عرب لوگ اب تک اس کی حرمت کا خیال رکھتے تھے۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ مکہ سے تعلق رکھنے والا مذہب سچا ہے۔ چنانچہ آخر مکہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور اسلام ہی مکہ کا مذہب کہلایا، اور پھر مسلمانوں کے تعلق کی وجہ سے مکہ کو ایک اور نیا امن ملا جو آج تک چلا جاتا ہے۔ بلکہ وہ امن ایسا ہے کہ اس سے پہلے بھی اسے نصیب نہ تھا کیونکہ پہلے زمانہ میں نسئی وغیرہ کے ذریعہ سے اس کے امن کو آگے پیچھے کر لیا جاتا تھا۔ مگر اب اسلام نے ایسے بارہ مہینے مقرر کر دیئے ہیں جن کو آگے
پیچھے کرنے کی کسی کو جرأت نہیں۔ اس لیے حرم کے علاقہ کی حفاظت سارا سال علم کے ماتحت ہوتی ہے اور اس سے پہلے صرف مکہ والوں کے اپنے خیالات کے ماتحت ہوتی تھی“۔
(تفسیر صغیر صفحہ 834 از مرزا محمود قادیانی خلیفہ)
قادیانی شرمناک تحریریں
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی لکھا گیا ہے کہ دوسرے جہان میں بھی یہ
دونوں لذتیں ہوں گی۔ مگر مشابہت میں اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ ایک ہی ہو جائیں گی یعنی اس جہان میں جو ایک شخص اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرے گا، وہ اس بات میں فرق نہیں کرسکے گا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرتا ہے یا محبت الہیہ کے دریائے بے پایاں میں غرق ہے“۔
(براہین احمدیہ جلد پنجم ضمیمہ صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 196، 197 از مرزا قادیانی)
- ”اگر کوئی عابد زاہد خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو اور اس صدق اور جوش کا جو
اس کے دل میں ہے، انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آ کر اس کا دروازہ کھول دے تو اس کی حالت وہی ہوتی ہے جو ایک زانی کے عین زنا کے وقت پکڑا جانے سے، کیونکہ اصل غرض تو دونوں کی ایک ہی ہے یعنی اخفائے راز۔“
(ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ 196، از مرزا قادیانی)
دوسروں کو نصیحت اور خود مرزا فضیحت
اسلام ایک وقت میں چار شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے اور تمام بیویوں سے انصاف اور برابری کا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس نام نہاد نبوت کا دعویدار مرزا قادیانی اپنی جماعت کو کثرت سے شادیاں کرنے کی تلقین کرتا ہے اور دوسری بیویوں کی نسبت پہلی بیوی سے زیادہ اچھا برتاؤ کرنے کا کہتا ہے۔ یاد رہے مرزا قادیانی نے خود دوسری بیوی کے کہنے پر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے ڈالی تھی، اور اس کا گھر میں ”پھجے دی ماں“ کے لقب سے تمسخر اڑایا جاتا تھا۔
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”میرا تو یہی جی چاہتا ہے کہ میری جماعت کے لوگ کثرت ازدواج کریں اور
کثرت اولاد سے جماعت کو بڑھا دیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیوی کے ساتھ دوسری بیوی کی نسبت زیادہ اچھا سلوک کریں تاکہ اسے تکلیف نہ ہو۔ دوسری بیوی، پہلی بیوی کو اسی لیے ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ میری غور و پرداخت اور حقوق میں کمی کی جائے گی۔ مگر میری جماعت کو اس طرح نہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ عورتیں اس بات سے ناراض ہوتی ہیں۔ مگر میں تو یہی تعلیم دوں گا۔ ہاں یہ شرط ساتھ رہے گی کہ پہلی بیوی کو غور و پرداخت اور اس کے حقوق دوسری کی نسبت زیادہ توجہ اور غور سے ادا ہوں اور دوسری کی نسبت پہلی کو زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کی جائے۔“ (ذکر حبیب صفحہ 115 از مفتی صادق)
اب اس کے برعکس مرزا قادیانی کا اپنی پہلی بیوی سے رویہ ملاحظہ کیجیے:
- ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو، اوائل سے ہی
مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ’پھجے دی ماں‘ کہا کرتے تھے، بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ (اپنی دوسری والدہ کی بابت یہ بے رحم حقیقت نگاری کیا نام پائے گی؟ کوئی قادیانی ہی اس پر تبصرہ کرے!۔ مرتب) ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انھیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا، ہوتا رہا، اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لیے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیے جاؤں گا۔ انھوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے، میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے 2 مئی 1891ء کو شائع کیا تھا اور
جس کی سرخی تھی ”اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین۔“ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہو گئے تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوں گے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا۔ نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی، میں انھیں دیکھنے کے لیے گئی۔ واپس آ کر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھجے کی ماں بیمار ہے، اور یہ تکلیف ہے۔ آپ خاموش رہے۔ میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمھیں دو گولیاں دیتا ہوں، یہ دے آؤ۔ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے، اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں، سو میں کر دیا کرتی تھی۔“
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 33، 34 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
خاندان مسیح موعودیت یا خاندان جنسیات
اگر ایک عام قادیانی عورت ہو یا مرد، کسی مخلوط پارٹی میں شامل ہو جائیں تو سزا اخراج، اگر کسی مسلمان سے نکاح کر لیں تو اخراج!!! لیکن آپ یقین نہیں کریں گے کہ اگر مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد کسی سے بھی ناجائز جنسی تعلقات قائم کر لیں حتیٰ کہ کسی لڑکی کو حاملہ کر دیں تو اخراج یا کوئی اور سزا تو دور کی بات، اس کی معمولی سرزنش بھی نہیں کی جاتی اور وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ عام قادیانی ان زانیوں کا دفاع کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ خاندان مسیح موعود کے افراد ہیں اور ان کو سب کچھ جائز ہے۔ مرزا ناصر احمد (تیسرے خلیفہ) کی بیٹی ام الشکور (شکری) اور اس کا خاوند پاشا جو مرزا قادیانی کی بیٹی ام الحفیظ کا بیٹا ہے۔ ان دونوں میاں بیوی نے اپنے بچوں کے لیے ایک آیا ملازمہ کے طور پر رکھی تھی جو بچوں کی دیکھ بھال کرتی۔ یہ آیا جوان اور خوبصورت تھی، شکری بیگم اکثر لندن آتی جاتی تھیں اور اس کی غیر حاضری میں پاشا میاں، اس آیا کے ساتھ شب ہجر کو شب وصال میں بدلتے تھے۔ پھر یہ آیا حاملہ ہوئیں اور شکری بیگم نے شور مچایا۔ باپ خلیفہ اور ساس مرزا قادیانی کی بیٹی،
خلیفہ نے زانی داماد کو کوئی سزا نہ دی اور نہ ہی آیا کو۔ ماں جو بیٹی مرزا قادیانی کی تھی نہ ہی اس نے کوئی سرزنش کی، بلکہ شکری کو طلاق دلا کر آیا کو بہو بنالیا۔ وہ ناجائز بچہ بھی خلافت کا اتنا ہی حقدار ہے جتنے باقی امیدوار، یہ بچہ جوان ہوچکا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مرزا مسرور کے بعد اگلا خلیفہ ہو کیونکہ اس کی رگوں میں بھی مرزا خاندان کا ناجائز خون گردش کر رہا ہے۔ اگر کسی نوجوان قادیانی کو شک ہو تو ان احباب سے رابطہ کر کے اس واقعہ کی سچائی معلوم کی جاسکتی ہے۔ مرزا مسرور، مرزا لقمان، شکری، مرزا انس، پاشا، فائزہ بنت مرزا طاہر سمیت سب اس حمام میں ننگے ہیں۔
پاخانے والے کمرے میں وقت گزاری
مرزا قادیانی کا معمول تھا کہ وہ روزانہ دو سے تین گھنٹے ایک پاخانے والے کمرے میں گزارتا تھا، مرزا قادیانی نے خاص طور پر پاخانے والے کمرے کو مختص کیا اور اسے اپنے بیٹھنے کے لیے صاف کرایا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ”حضرت مسیح موعود کی عادت تھی کہ دن میں کسی ایک وقت ایک یا دو گھنٹہ کے
واسطہ سب سے بالکل علیحدہ ہو جاتے تھے۔ گورداسپور میں جس مکان میں ہم سب منزل کیے ہوئے تھے۔ اس کی زمین کی منزل پر دروازہ سے داخل ہوتے ہوئے بائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جو پاخانہ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مگر پاخانہ کے واسطے کوٹھے کے اوپر اور جگہیں بھی تھیں۔ پس اس نیچے والے کمرے کو حضور نے صاف کرایا۔ اسے خوب دھویا گیا اور اس میں فرش کیا گیا اور دوپہر کے وقت دو یا تین گھنٹے کے قریب حضور بالکل علیحدہ اندر سے کنڈی لگا کر اس میں بیٹھے رہتے تھے۔“ (ذکر حبیب صفحہ 34 از مفتی صادق)
مرزا قادیانی ایک گٹر زدہ آدمی تھا۔ اسے خوشبو سے نفرت اور بدبو سے پیار تھا۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص کے پاس بڑا متعفن زدہ بکرا تھا جس سے نہایت بدبو آتی تھی۔ اس شخص نے اس کو ایک کمرے میں بند کیا اور اعلان کیا کہ جو شخص اس کمرہ میں 10 منٹ گزارے گا، اسے دس ہزار روپے انعام ملے گا۔ چنانچہ بہت سے لوگ آئے اور ایک دو منٹ کے بعد جب بدبو سے ان کا دماغ پھٹنے لگتا تو وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل آتے۔ مرزا قادیانی کو جب معلوم ہوا تو اس نے یہ انعام حاصل کرنے کا سوچا، چنانچہ وہ بکرے والے کمرے میں گیا، دو منٹ بعد عجیب واقعہ پیش آیا کہ بکرا ناک پر ہاتھ رکھ کر کمرے سے باہر آ گیا۔
مرزا قادیانی کے نزدیک ربانی فیصلے کا طریقہ
- ”اور ربانی فیصلہ کے لیے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری
صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کیے جائیں، میدان مقابلہ کے لیے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے، تیار ہوں۔ پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کاذب اور مورد غضب ہے، خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے۔“
(انجام آتھم صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت سب سے بڑی ٹیکس نادہندہ نکلی
- ”پاکستان کی تاریخ کا 129 ارب روپے کی سب سے بڑی ٹیکس چوری کا مقدمہ
لاہور ہائی کورٹ میں تحریک جدید انجمن احمدیہ چناب نگر کے خلاف موجود ہے۔ قادیانیوں کی یہ تنظیم ملک کی سب سے بڑی ٹیکس چور تنظیم نکلی ہے۔ ایف بی آر نے ملک کی مختلف عدالتوں میں 225 ارب روپے کی ٹیکس چوری کے 351 مقدمات دائر کیے ہیں، جن سے 129 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگی قادیانیوں کی تنظیم کے ذمے ہے۔ فیصل آباد کے ریجنل ٹیکس ہیڈ آفس (آر ٹی او) نے صدر انجمن احمدیہ چناب نگر (ربوہ) سے انکم ٹیکس آرڈی نینس کی شق 125 (5A) کے تحت 64,639 ارب روپے کا ٹیکس طلب کیا، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے 29 مئی 2012ء کو حکم امتناعی جاری کیا، لیکن آر ٹی او فیصل آباد، قادیانی انجمن کو ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی رقم بہت بڑی ہے، اسے معاف نہیں کیا جاسکتا۔ قادیانی انجمن نے یہ رقم مزید ایک سال ادا نہیں کی، جس سے یہ بڑھ کر تقریباً 129 ارب روپے ہوگئی ہے۔ اس سال قومی خزانے میں محاصل کی مد میں بہت کم آمدنی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ 129 ارب روپے کا ٹیکس کم از کم 500 سے 660 ارب روپے کی آمدنی پر لگتا ہے۔“ (روزنامہ ”امت“ کراچی 25 مارچ 2013ء)
100 سال اور ماں مرگئی!
قادیانی جماعت کے لیے سال 2008ء جو کہ بہت اہمیت کا حامل تھا اور جماعت نے جو پروگرام قادیانی خلافت کی صد سالہ جوبلی منانے کے سلسلے میں بنا رکھے تھے، وہ سب مرزا مسرور کی بزدلی اور اللہ کی لعنت کے مستحق ہوئے، مرزا مسرور قادیان نہ جاسکا، جوبلی کا آخری پروگرام عذاب الہی کا شکار ہوا، مرزا مسرور بستر مرگ پر پڑی اپنی ماں سے بھی نہ مل سکا اور یہ بھی اللہ کی طرف سے قادیانی خلیفہ اور جماعت کو ایک وارننگ ملی ہے کہ ”سو سال اور ماں مرگئی“۔ نیا سال 2009ء بھی جماعت کے لیے ذلت اور لعنت کا پیغام لے کر نمودار ہوا۔ شمالی امریکہ کی سب سے بڑی قادیانی عبادت گاہ بیت النور پر مقدمہ اور جماعتی عہدیداروں کی نااہلی کا پردہ چاک کرتے ہوئے نئے سال کی آمد ہوئی۔ حال ہی میں مرزا مسرور نے ایک قادیانی نوجوان کو ایک عیسائی لڑکی سے شادی کی خود اجازت دی۔ وہ لڑکی کبھی قادیانی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ رکھتی ہے۔ لڑکی نکاح کے موقع پر اپنی موجودگی بھی نہیں چاہتی تھی اور اسے نکاح کے ساتھ گرجے کی تمام رسومات بھی ادا کرنا ضروری تھیں جو کہ ادا کی گئیں۔ قادیانی جماعت عیسائی لڑکی کی ولی بنی اور جماعت کے مربی نے قادیانی لڑکے اور عیسائی لڑکی کا نکاح پڑھایا۔ (احمدی ڈاٹ آرگ)
قادیانی مربی
پنجاب کے دیہاتوں میں اب بھی کبھی کبھار آپ کو ”دولے شاہ کے چوہے“ دیکھنے کو ملتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ بچے ہیں جنہیں بچپن میں ان کے ماں باپ دولے شاہ کو عطیہ کر دیتے تھے (اسلام کے نام پر)۔ اور دولے شاہ ان بچوں کے سروں پر لوہے کے غلاف چڑھا دیتا تاکہ ان کے دماغوں کی نشوونما نہ ہوسکے۔ جب ایک مخصوص عرصے تک ان کے دماغ نشوونما کرنا روک دیتے اور یہ بچے سوچنے سمجھنے سے بالکل عاری ہوجاتے اور اس بات کا یقین ہوجاتا کہ یہ اب بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے تو چھوٹے چھوٹے سروں والے ان بچوں سے بھیک منگوانے کا کام لیا جاتا۔ جبکہ قادیانی جماعت میں انہیں مربی کا نام دیا جاتا ہے۔ قادیانی جماعت کے مارکیٹنگ ایجنٹ جو معمولی تنخواہوں پر گرمی سردی میں
بسوں ویگنوں میں دھکے کھاتے، مرزا مسرور کی عیاشیوں کے لیے گلی گلی چندہ چندہ کی صدائیں لگاتے پھرتے ہیں۔ نابالغ ذہنوں کو میٹرک پاس کرتے ہی ان کے والدین خدا رسول کے واسطے دے کر اور اسلام کی اشاعت اور سربلندی کے نام پر ان کی پوری زندگی ایک ایسے خاندان کو وقف کر دینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا مالک بننے کے بعد ان معصوم بچوں کو ایک ایسی بندگلی میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں پہنچ کر ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں بچتا کہ یا تو وہ سر جھکا کر اس ظلم کو سہتے رہیں یا یہ جماعت ہی چھوڑ دیں۔ اگر آپ جامعہ احمدیہ کے کردار پر غور کریں تو آپ کو خود بخود اس بات کا جواب مل جائے گا کہ امیر و مشنری انچارج بنتے ہی ہمارے مربی لمبے لمبے ہاتھ کیوں مارنے لگ جاتے ہیں۔ 15 سال کا ایک بچہ جو دنیا کے کسی بھی قانون کے تحت کسی قسم کا Contract کرنے کا مجاز ہی نہیں، اس سے اس کی پوری زندگی وقف کرنے کا Contract کروالینا اور پھر 8 سال تک جامعہ احمدیہ میں ذلیل کرنے کے بعد ایک ایسی ڈگری دینا جس ڈگری کی حیثیت ایک کاغذ کے پرزے سے زیادہ نہیں............. 24، 25 سال کا وہ جوان اب اگر اپنے فیصلے سے روگردانی کرتے ہوئے وقف ختم بھی کرنا چاہے تو اس کے لیے ممکن نہیں، کیونکہ اس کی زندگی کے قیمتی 8 سال اس ظالمانہ نظام کی نذر ہوچکے ہوتے ہیں، پھر نئے سرے سے 25 سال کی عمر میں ایف اے کرنا اور کیریئر بنانا کسی طور پر ممکن نہیں۔ اس کی حالت تو وہ ہے کہ ’دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا‘۔ اور اصل ظلم کی ابتدا تو جامعہ سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے جب ان معصوم نوجوانوں کو پاکستان کے ایسے دور دراز دیہاتوں اور گوٹھوں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں قادیانی عبادت گاہوں میں جھاڑو دینے اور صدر جماعت کی ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ ان کی تعیناتی کا بنیادی مقصد صرف اور صرف گھر گھر جاکر قادیانی جماعت کے لیے چندہ اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔
مرزائیت، یہودیت، عیسائیت اور اسلام ایک تقابل، ایک جائزہ
یہودی عقیدہ: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو مصلوب کرکے قتل کر دیا گیا۔ عیسائی عقیدہ: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو مصلوب کرکے قتل کر دیا گیا۔ مرزائی عقیدہ: یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا، انہیں شدید زخمی کیا جس
سے وہ بے ہوش ہو گئے، یہودی انہیں مردہ سمجھ کر چلے گئے۔ (ازالہ اوہام، صفحہ 196 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 296 اور نزول المسیح صفحہ 20، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 396 حاشیہ)
قرآن مجید کا فیصلہ: وما قتلوه وما صلبوه، اور نہ انہوں نے اسے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) قتل کیا نہ مصلوب کیا۔ (النساء: 157)
نتیجہ: کیا کرشن جی مہاراج مرزا قادیانی کا کوئی امتی قرآن وحدیث سے ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا؟
یہودی عقیدہ: (مرزا قادیانی لکھتا ہے) یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح (جس سے اس زمانہ کا مسیح مراد ہے) پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔
(حقیقت الوحی صفحہ 154، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 158 از مرزا قادیانی)
مرزائی عقیدہ: مسیح بن مریم دو ہیں ایک بنی اسرائیل والے اور دوسرا امت محمدیہ کا مسیح (بالکل یہودیوں والا عقیدہ)
قرآن وحدیث کا فیصلہ: قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں انبیا کی تاریخ میں صرف ایک عیسیٰ اور مسیح کا ذکر ہے اور وہ ہیں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔ قرآن و حدیث میں کہیں یہ اشارتاً بھی ذکر نہیں کہ دو مسیح بن مریم ہیں۔ ایک اسرائیل والے، دوسرے اس امت والے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ جو مسیح قرب قیامت نازل ہوں گے، وہ وہی ہیں جو مجھ سے پہلے نبی ہوئے ہیں اور میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ حدیث کے الفاظ ہیں لم یکن بینی وبینہ نبی نہیں ہوا میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی انہی الفاظ کے ساتھ حدیث مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی کتاب حقیقۃ النبوۃ میں پوری نقل کی ہے۔ (حقیقۃ النبوۃ حصہ اول مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 508 از مرزا محمود قادیانی خلیفہ)
ایک نہایت اہم بات: قرآن کریم نے یہود ونصاریٰ کے تمام کفریہ عقائد کو وضاحت کے ساتھ رد کیا، چاہے وہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہنے کا عقیدہ ہو، چاہے وہ تین خداؤں کا عقیدہ ہو، چاہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل یا مصلوب کیے جانے کا عقیدہ ہو....... لیکن ایک عقیدہ ایسا بھی ہے جس کی قرآن
نے خود تصدیق کی ہے اور اس کا رد نہیں کیا، وہ ہے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا رفع الی السماء کا عقیدہ ............ جہاں قرآن نے ان کے قتل اور مصلوب ہونے کا رد کیا، وہیں صاف فرما دیا ............ بل رفعه الله اليه ............ اللہ نے ان کا اپنی طرف رفع کر لیا...... کیا کوئی قادیانی پادری قرآن وحدیث سے کوئی ایسی دلیل دکھا سکتا ہے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے عقیدے کا رد ہو؟
قادیانیوں کا متوقع نبی ............ زاہد خاں
حال ہی میں جرمنی میں زاہد خاں نامی ایک شخص نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ زاہد خاں کا کہنا ہے کہ عالم ارواح میں اس کی مرزا غلام احمد قادیانی سے ملاقات ہو چکی ہے۔ مرزا قادیانی اپنے مشن سے خوش نہیں تھا۔ مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ وہ قادیانیوں تک صحیح طریقے سے اپنا پیغام نہ پہنچا سکا۔ زاہد خاں نے قادیانیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی کا نامکمل مشن اب وہ پورا کرے گا۔
قادیانیوں سے درخواست ہے کہ وہ زاہد خاں کو اپنا نبی تسلیم کر لیں کیونکہ آپ لوگ نبی کے معیار کو اس قدر نیچے لا چکے ہیں کہ کوئی بھی آپ کا نبی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے اور آپ کے پاس اسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں یہ شخص آپ کے قائم کردہ نبی کے ہر معیار پر پورا اترتا ہے مثلاً اس کے دعویٰ کو 23 سال سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور جو اُس کے پاس ان باتوں کا ثبوت بھی ہے۔ قادیانی عقیدے کے مطابق نبی آسکتے ہیں اس سلسلے میں مرزا قادیانی کی ایک تحریر پیش خدمت ہے:
- ❑ "تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی
نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں۔"
(چشمہ معرفت صفحہ 324 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 340 از مرزا قادیانی)
میرا یہ موضوع زیر بحث لانے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ کسی غیر مسلم ریاست میں جھوٹی نبوت کا دعویٰ کتنا آسان ہے اور دوسرا آپ کو چیلنج دینا ہے کہ اسے جھوٹا ثابت کر کے دکھائیں جو کہ آپ نہیں کر سکتے کیونکہ انہی باتوں سے مرزا قادیانی بھی جھوٹا ثابت ہوگا۔ اب
میرا تو آپ کو مشورہ ہے کہ بہتر یہی ہے کہ اسے نبی تسلیم کرلیں اور اپنے مذہب کو ایک نیا موڑ دیں اگر یہ نہیں کرنا تو پھر اسے جھوٹا ثابت کر دکھائیں۔ ویسے میرے خیال سے تو یہ شخص ہر طرح سے موزوں ہے آپ کے نبی بننے کے لیے اور اس سے اچھا نبی آپ کو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا، اس لیے ناشکری نہ کریں اور اپنی اولین فرصت میں اس نئے نبی کی بیعت کریں یا کم از کم اس کے دعوؤں پر ہمدردانہ غور ضرور کریں۔
مرزا قادیانی کی مباہلہ سے توبہ
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:
- (1) میں ایسی پیشگوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی
خیال کیے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- (2) میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا
کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے، یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- (3) میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشا ہو یا جو
ایسا منشا رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- (4) میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا
پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں۔ یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال، کافر، کاذب بٹالوی نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
- (5) میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا
پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لیے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیشگوئی کرنے کے لیے بلاؤں گا۔
- (6) جہاں تک میرے احاطۂ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا
اختیار ہے، ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کار بند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر 1، 2، 3، 4، 5، 6 میں اقرار کیا ہے۔
العبد گواہ شد دستخط مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین بی۔اے جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ ایل ایل بی مجسٹریٹ ضلع گورداسپور 24 فروری 1899ء
شیخ راحیل بنام مرزا مسرور
جناب محترم مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس جماعت احمدیہ السلام علیکم!
میں پیدائشی احمدی تھا اور پچھلے 17 سال سے جرمنی میں ہوں، ایک لمبا عرصہ جماعتی خدمت اور اطاعت کے بعد نیز مطالعہ، تجربہ اور غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کر لوں۔ میرے نزدیک جماعت احمدیہ کوئی اسلامی فرقہ نہیں بلکہ مذہب کے نام پر پیسے اکٹھے کرنے والا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ جس میں اگر آپ عہدیداروں کو غلط بات یا جماعت میں سیاست سے بچنے کی طرف توجہ دلائیں گے یا کسی مجبوری پر جماعتی خدمت سے معذرت کریں گے تو آپ پر شراب پینے والا صدر مسلط کر دیا جائے گا۔ لوگوں سے پہلے سے ووٹ کے وعدے لے کر لجنہ کی صدر بننے والی خاتون آپ کی بیوی اور بچیوں پر مسلط کر دی جائے گی اور آپ کے خلاف ہر جگہ اور ہر وقت جھوٹا پروپیگنڈہ یا بطور سیکرٹری مال و زعیم انصار اللہ کے طور پر مسلط کیے جاتے ہیں اور شکایت کرنے پر سیاستیں
کرنے والے ریجنل امیر اور مربی ان کو تحفظ دیتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر اخراج کی دھمکی ملتی ہو، اس وجہ سے بھی اور اس کے علاوہ میری بچی کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور ظلم کرنے والے کو جماعتی مرکز میں پناہ دی گئی اور بھی بعض ایسی باتیں میرے سامنے آئیں کہ میں نے مناسب سمجھا ہے کہ میں اس جماعت سے علیحدگی اختیار کرلوں اور اسلام کے نام پر استحصالی نظام سے تعلق توڑ کر حضرت محمد ﷺ کی صحیح غلامی میں آجاؤں۔ لہٰذا آج مورخہ 23 اگست 2003ء کو میں اس خط کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ سے اپنی علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ مجھے استقامت دے۔ آمین! دستخط: شیخ راحیل احمد
تمام قادیانی متوجہ ہوں
یہاں ہم قرآن کریم کی دو آیات (البقرہ:243 اور 259) پیش کررہے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے دو واقعات کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم نے اس کا ترجمہ بھی پیش کردیا ہے، اب آپ سے مطالبہ ہے کہ:
- (1) آیت نمبر 243 کے بارے میں مکمل معلومات لکھ کر دیں کہ یہ کون لوگ تھے؟ کہاں
کے رہنے والے تھے؟ وہ کس موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے بھاگے تھے؟ اور پھر انہیں اللہ نے جو موت دی وہ کیا تھی؟ اور پھر انہیں جو زندہ کیا وہ کیا تھا؟ اور اگر موت کا کوئی اور معنی یہاں مراد ہے تو وہ کیا ہے؟ تاکہ ہمیں پتہ چل جائے کہ ”ممیتک“ کا اور کون کون سا معنی ہوتا ہے؟ ہماری تفاسیر کے حوالے نہ دیں کیونکہ وہاں اس آیت میں موت کا مطلب حقیقی موت ہی لکھا ہے............
- (2) آیت نمبر 259 کی جو تفسیر آپ کرتے ہیں وہ پوری لکھ دیں، یہاں موت سے کیا
مراد ہے؟ ایسی تفسیر کہ آیت کے الفاظ اور عربی کے خلاف نہ ہو، اور یہ بھی بتا دیں کہ اللہ نے کس شخصیت کو فرمایا ہے کہ ”ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور آیت بنا رہے ہیں“۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ اپنی تفسیر پوری لکھ دیں تاکہ اس کے بعد ہم اس پر کوئی تبصرہ کریں............
- ❑ الم تر الى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت
فقال لهم الله موتوا ثم احياهم ان الله لذو فضل على الناس
ولكن اكثر الناس لا يشكرون. (البقرۃ: 243)
ترجمہ : ”بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں ) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے“۔
- او كالذى مرعلى قرية وهى خاوية على عروشها قال انى
يحيى هذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما اوبعض يوم قال بل لبثت مائة عام فانظر الى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر الى حمارك ولنجعلك اية للناس وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شى قدير. (البقرۃ: 259)
ترجمہ : ” یا جیسے ایک شخص تھا کہ ایک بستی پر ایسی حالت میں اس کا گزر ہوا کہ اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گر گئے تھے۔ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اس بستی (کے مردوں) کو اس کے مرنے کے بعد کس کیفیت سے زندہ کریں گے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سو برس تک مردہ رکھا پھر اس کو زندہ کر اٹھایا (اور پھر ) پوچھا کہ تو کتنے ( دنوں ) اس حالت میں رہا۔ اس شخص نے جواب دیا کہ ایک دن رہا ہوں گا یا ایک دن سے بھی کم ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تو (اس حالت ) میں سو برس رہا ہے تو اپنے کھانے (کی چیز ) اور پینے کی (چیز کو ) دیکھ لے کہ نہیں سڑی گلی اور (دوسرے) اپنے گدھے کی طرف نظر کر اور تا کہ ہم تجھ کو ایک نظیر لوگوں کے لیے بنا دیں اور (اس گدھے کی ) ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کسی طرح ترکیب دیئے دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو واضح ہوگئی تو کہہ اٹھا کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں ۔“
ہندی مسیح، پنجابی عیسیٰ اور انگریزی خدا کا بیٹا!
قرآن کریم میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جسے عیسائیوں سے مباہلہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی جتنی بھی تفسیریں لکھی گئی ہیں اور اسلامی تاریخ کی کسی بھی کتاب سے اگر اس واقعہ نجران کی تفصیل سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے وفد کو یہ کہا ہو کہ تم جس عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہو وہ تو مر چکا، جبکہ آپ اُسے زندہ مانتے ہو وغیرہ تو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟ سوچنے کی بات ہے، قادیانی غور کریں کہ کیا واقعہ نجران میں کسی موقع پر حضور خاتم النبیین ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ یا وفات شدہ ہونے کا ذکر کیا؟ اگر عیسائیت کی موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے مشروط ہے تو کیوں حضور نبی کریم ﷺ نجران کے وفد کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بتا کر عیسائیت کو مردہ نہ کیا؟؟
مونچھیں
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”اصل میں زیادہ لمبی لمبی (مونچھیں) رکھنا بھی تکبر اور نخوت کو بڑھاتا ہے، اسی
واسطے شریعت اسلام نے فرمایا ہے کہ مونچھیں کٹواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ۔ یہ یہود اور عیسائی اور ہندوؤں کا کام ہے کہ وہ اکثر تکبر سے مونچھوں کو بڑھاتے ہیں اور تاؤ دے کر ایک متکبرانہ وضع بناتے ہیں خصوصاً سکھ لوگ، مگر ہماری شریعت کیا پاک ہے کہ جس جگہ سے کسی قسم کی بدی کا احتمال بھی تھا، اس سے بھی منع کر دیا۔ بھلا یہ باتیں کسی اور میں کہاں پائی جاتی ہیں۔ (ملفوظات
جلد سوم طبع جدید صفحہ 131 از مرزا قادیانی)
یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے مرزا محمود کی لمبی لمبی مونچھیں تھیں۔ اس سلسلہ میں آپ قادیانی لٹریچر سے اس کی تصویریں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی مذکورہ تحریر کے مطابق مرزا محمود نے یہود، عیسائی اور ہندوؤں کا کام کیا۔ کیا قادیانی اس بات سے متفق ہیں؟
احمدیہ کلب کی اصلیت
”ہم سابق احمدی جو اس کلٹ میں پیدا ہوئے، کبھی کبھار ان شاطر دماغوں کے
بارے میں ضرور سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں جن کی تخلیق ”نظام جماعت احمدیہ“ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگرچہ باقی احمدیوں کی طرح ہم بھی اسی کلٹ میں پلے بڑھے تھے اور ہمارے ذہنوں کو بھی اس کے کلٹ کے حساب سے ڈھالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن خدا کے فضل و کرم کے ساتھ ہم میں اتنا شعور اور عقل تھی کہ ہم اس ظالمانہ نظام کو سمجھ سکیں اور اس کی زنجیروں کو توڑ کر مرزا خاندان کے چنگل سے نکل سکیں۔ ہم نے جو چیز اپنے تجربے سے سمجھی، وہ یہ تھی کہ اس کلٹ کی تخلیق کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کا چندوں کے نام پر خون نچوڑنا اور جہاں تک ممکن ہو سکے اختیارات کا حصول تھا۔
جنہوں نے مشرقی اور مغربی دنیا کو دیکھا ہے، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جب دھوکے بازی یا بلیک میلنگ کی بات ہو تو کوئی دوسرا مذہبی یا سیاسی گروپ جماعت احمدیہ سے جیت نہیں سکتا۔ احمدیوں کو مجبور کیا جاتا ہے ایک خاص مقصد کے تحت تیار کردہ تشہیری لٹریچر خریدنے پر جیسے الفضل، خالد، مصباح اور تشحیذ الاذہان وغیرہ۔ احمدیوں کے دماغ میڈیا کے خطرناک ہتھکنڈوں اور کامیابیوں وعظمت کے جھوٹے مناظر دکھا کر تباہ کر دیے جاتے ہیں جو کہ اس خوبصورتی سے پیش کیے جاتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔
احمدی حضرات یہ بات سمجھ نہیں پاتے کہ مربی یا ان کے مبلغ اصل میں ”مرکز“ کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ یہ ایک انٹیلی جنس ایجنٹ کی طرح مرزا خاندان یا دوسرے لفظوں میں اپنے آقاؤں کے لیے معلومات جمع کرتے ہیں۔ پہلی چیز احمدی بچوں کو سکھائی جاتی ہے، وہ یہ ہوتی ہے کہ مربیان مقدس گائے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی اسلام اور احمدیت کو دی ہوتی ہے لیکن مربیوں کا اصل کام مرکز کو ایک مخصوص قسم کے احمدیوں کے متعلق مطلع کرنا ہوتا ہے جو شہرت یا اختیارات کے بھوکے ہوتے جنہیں احمدیہ زبان میں ”مخلص“ کہا جاتا ہے اور یہ حضرات عموماً پہلے سے ہی آفیسرز / عہدیدار منتخب ہو چکے ہوتے ہیں۔
مربی اور عہدیدار دن رات احمدیوں کی برین واش کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں اور انہیں ہر وقت خلیفہ کے بارے میں سوچنے اور اس کی اندھی تقلید کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مربیوں کی زندگی کی بقا اور ان کی ترقی کا انحصار غریب احمدیوں کا چندوں کے نام پر زیادہ سے زیادہ خون نچوڑنے پر ہوتا ہے اور یہ غیر اخلاقی طریقے سے اکٹھا کیا ہوا پیسہ اور دیگر وسائل مرزا خاندان اپنے قبضہ میں رکھتا ہے لیکن اس میں سے تھوڑا بہت وہ عہدیداروں اور مربیوں کو
بھی دے دیتا ہے جو عام طور پر ”قرض حسنہ“ یا بغیر سودی قرضہ کی شکل میں ہوتا ہے جسے وہ آگے اپنے کسی کاروبار میں انویسٹ کر دیتے ہیں۔ ”تجنید“ یا ”بجٹ“ کے نام پر خالصتاً نجی اور ذاتی معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں جیسے کہ تاریخ پیدائش، بچوں کے کوائف، آمدن وغیرہ۔ احمدیوں کے ذہن اس حد تک زہر آلود کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ ڈیڑھ بلین مسلمانوں کو جوکر اور کافر سمجھنے لگتے ہیں۔ منافق احمدی مغربی ممالک میں سیاسی پناہ لے لیتے ہیں اور اپنی خصلت سے مجبور ہو کر ان کو بھی چونا لگا دیتے ہیں۔ چالاک احمدی، سادہ لوح احمدیوں کی کمائی سے سیدھے جنت میں پہنچ جاتے ہیں اور سوئمنگ پول، لائبریریز، شاندار گھر، شاپنگ مال، کیبل ٹی وی جیسی سہولتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ربوہ جیسے شہر کے لائف اسٹائل کا مزہ لوٹتے ہیں۔“
(سابق قادیانی اے کے شیخ صاحب کی ایک شاہکار تحریر)
قادیانی شعائر
- ❑ ”قادیانی جماعت کا اہم رکن اور گلشن احمدیہ نرسری کا انچارج عورت سے رنگ
رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا، تفصیلات کے مطابق قادیانی جماعت کا اہم رکن اور گلشن احمدیہ نرسری چناب نگر کا انچارج میر مظفر احمد جو کہ ایک مکان میں عورت کے ساتھ رنگ رلیاں منانے میں مصروف تھا کہ صدر عمومی جماعت احمدیہ اللہ بخش صادق نے اطلاع ملنے پر چھاپہ مار کر رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جسے قادیانی جماعت کے صدر دفتر میں لے جا کر بند کر دیا گیا ہے اور ابھی تک یہ کیس پولیس کو نہیں دیا گیا“۔ (روزنامہ انصاف لاہور 12 اپریل 2004ء)
رفع سے مراد عزت کی موت؟
منشی غلام قادیانی نے آیت (بل رفعه الله اليه) جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر ہے، میں لفظ (رفع) کا مطلب بیان کیا ہے: ”اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو“۔
(ازالہ اوہام صفحہ 323 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 423 از مرزا قادیانی)
سوال: دنیا کا وہ کون سا لغت یا ڈکشنری ہے جس میں عربی کے لفظ ’رفع‘ کا مطلب لکھا
ہے ’عزت کی موت‘؟ نیز اگر اس کا معنی عزت کی موت ہے تو (وما قتلوہ یقینا بل رفعہ الله الیہ) کا ترجمہ ہوگا: ”یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہرگز قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں عزت کی موت دے دی“۔ اس طرح اس آیت سے تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ واقعہ صلیب سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہوگئی تھی (عزت کے ساتھ) کیونکہ یہاں (بل) اضرابیہ کے بعد لفظ (رفعہ) کو ماضی کے صیغے کے ساتھ لانا اس طرف اشارہ ہے کہ رفع باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے یعنی تمہارے صلب اور قتل سے پہلے ہی ان کا رفع ہوگیا (مرزا کے مطابق ان کی عزت والی موت ہوگئی) جبکہ مرزا نے یہ جھوٹ خود لکھ رکھا ہے کہ واقعہ صلیب سے پہلے یا اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت نہیں ہوئی بلکہ وہ اس کے 87 سال بعد کشمیر میں فوت ہوئے، لہٰذا کوئی مربی ہمیں سمجھائے گا کہ اس رفع کا معنی ”وہ موت جو عزت کے ساتھ ہو“ کیسے ہوسکتا ہے؟؟ پھر اگر ”رفع“ کا معنی عزت والی موت ہے تو حدیث میں اس کے مقابلے میں لفظ ”نزول“ آیا ہے تو کیا اس کا معنی ہوگا ”ذلت والی موت“؟
روز محشر، مرزا قادیانی کا اپنے چیلوں سے خطاب
- ❑ ”اے نادان مرزائیو! بغور سنو، میں تو ایک معذور و مجبور، مجمع الامراض، مخبوط الحواس
اور مراقی انسان تھا۔ میں نے اگر قرآن وحدیث میں امام الضلالہ کی تعلیم وتفہیم سے دجل و فریب اور کذب وافترا کا چکر چلا کر دعویٰ مجددیت، مہدویت، مسیحیت اور نبوت ورسالت کر دیا تھا اور اپنے نہ ماننے والوں کو کافر، خارج از اسلام اور جہنمی کہہ دیا تھا تو یہ سب میری ایک طبعی اور معاشی مجبوری تھی۔ آخر ہر مجبور اور معذور انسان معاشی ضرورت کے لیے کوئی نہ کوئی حیلہ اور چکر چلا ہی لیتا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ رمق زندگی قائم نہیں رکھ سکتا۔ چنانچہ میرا بھی یہی معاملہ تھا۔ دیکھو میں نے کسی کو طاقت یا دھونس بازی سے اپنے مکر وفریب میں نہ پھانسا تھا بلکہ صرف پیر ضلالت کی طرح زبانی کلامی دعوت ہی دیتا تھا۔ اپیل اور فرمائش ہی کرتا تھا جسے تم نے اپنی جہالت کی بنا پر قبول کرلیا جبکہ باقی کروڑوں انسانوں نے رد کردیا۔ بلکہ الٹا میرا ہر روز مقابلہ اور زبردست تعاقب کرتے رہے۔ آخر میں نے ان کا کیا بگاڑ لیا تھا۔ تم ویسے ہی مجھ سے دور رہتے تو کیا ہی اچھا ہوتا! دیکھو! میرے ساتھ برسرپیکار ہونے والے، رحمت کائنات ﷺ کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے سایہ خلد بریں کے وارث بن گئے اور تم
میرے ساتھ دائمی عتاب وعذاب کا شکار ہوچکے ہو۔‘
مرزا قادیانی کی عمر
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے ایک الہام میں کہا:
- ’’چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے۔ تا یہ نتیجہ نکالیں کہ
جھوٹا تھا تبھی جلد مرگیا۔ اس لیے پہلے ہی سے اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ثمانين حولا او قريبا من ذالك. او تزيد عليه سنينا. وترى نسلا بعيدا. یعنی تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ، اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع جدید صفحہ 5، از مرزا قادیانی)
پھر لکھا:
- ’’اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو
کہتا ہے کہ صرف جولائی 1907ء سے (لے کر) 14 مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں، ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے‘‘۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع جدید صفحہ 624، 625، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا الہامات اور وحیوں سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا اور الہاماً بتایا تھا کہ اس کی عمر 80 سال یا دو تین سال کم یا زیادہ ہوگی۔ اس بنا پر مرزا قادیانی نے پیش گوئی کردی کہ اس کی عمر 80 سال کے قریب ہوگی۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کو سچا یا جھوٹا جانچنے کے لیے بڑا آسان فارمولا ہے کہ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات دیکھ لی جائے۔ زیادہ لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو آنجہانی ہوا۔ اب صرف یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی کس سال میں پیدا ہوا؟ اس کا فیصلہ خود مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں سے کر لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے سوانح میں لکھتا ہے:
- ’’میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے
آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں 1857ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔‘‘
(کتاب البریہ صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177 از مرزا قادیانی)
یہ مرزا قادیانی کی اپنی واضح تحریر ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی ایسی مشکل بات نہیں جس کی تاویل کی جاسکے۔ مرزا قادیانی نے صریح اور صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اس کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ اس بات کی مزید تصدیق خود اس کے اپنے دوسرے بیان سے بھی ہوتی ہے کہ جب اس کا والد مرزا غلام مرتضیٰ فوت ہوا تو مرزا قادیانی کی عمر 34، 35 سال تھی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ’’میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا
انتقال ہوا۔‘‘ (کتاب البریہ صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 192 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال 1874ء میں ہوا۔ اس کا اقرار مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ’’نزول المسیح‘‘ کے صفحہ 116 پر کیا ہے۔
(نزول المسیح صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 494 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا سال ولادت 1839ء یا 1840ء تھا اور سال وفات 1908ء۔
قارئین کرام! آپ خود حساب کرلیں کہ مرزا قادیانی نے کتنی عمر پائی تھی؟ اگر سال ولادت 1839ء تسلیم کیا جائے تو کل عمر 69 سال بنتی ہے اور اگر 1840ء مان لیا جائے تو کل عمر 68 سال بنتی ہے۔ لہٰذا الہامی دعوؤں، خدائی وحیوں اور بشارتوں کے باوجود مرزا قادیانی کی عمر 80 سال کے قریب نہ ہوئی اور اس کی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔
جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے اُسے الہام کیا ہے:
- ’’بَارَکَ اللّٰہُ فِیْ اِلْھَامِکَ وَوَحْیِکَ وَرُؤْیَاکَ.
ترجمہ: برکت دی اللہ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری رؤیا میں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی)
قادیانی عقیدہ، مرزا قادیانی کے بعد نبوت بند!
قادیانی خلیفہ میاں مرزا محمود نے اپنی ایک تحریر میں لکھا:
- ”پس نبوت بند کہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں
آسکتے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت میں سے صرف ایک نبی اللہ آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کردی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا“۔ (ماہنامہ تشحیذ الاذہان قادیان مئی 1914ء ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
حالانکہ یہ وہی خبیث ہے جس نے کہا تھا:
- ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم
یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا، تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں“۔
(انوارِ خلافت صفحہ 65 مندرجہ انوار العلوم جلد 3، صفحہ 127، از مرزا بشیر الدین محمود)
قادیانی بتائیں کہ مرزا محمود کی کون سی بات درست ہے۔ امت محمدیہ میں ایک سے زائد نبی نہیں آسکتا یا ہزاروں نبی آسکتے ہیں۔
خوارزم بادشاہ، بوعلی سینا اور مرزا قادیانی
اسلام کا مشہور حکیم بوعلی سینا 370ھ (980ء) میں پیدا ہوا اور 428ھ (1037ء) خوارزم شاہیوں کے ظہور سے 42 برس پہلے فوت ہوگیا تھا۔ لیکن آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”اور پھر دیکھا خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا، اس کی تیر کمان میرے
ہاتھ میں ہے۔ بوعلی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شیر کو بھی شکار کیا“۔ (الحکم جلد 7 نمبر 4 صفحہ 15 مورخہ 31 جنوری 1903ء)
(ملفوظات جلد سوم طبع جدید، صفحہ 46، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ لکھتا ہے:
- ”حضرت مرزا صاحب کی کتب بھی جبریلی تائید سے لکھی گئیں“۔
(روزنامہ الفضل قادیان 10 جنوری 1921ء)
مرزا قادیانی کی ایک فحش اور شرمناک تحریر
- ’’ایک معزز آریہ کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی، دوسری شادی کر نہیں سکتا کہ وید کی
رو سے حرام ہے، آخر نیوگ کی ٹھہرتی ہے، یار دوست مشورہ دیتے ہیں کہ لالہ صاحب نیوگ کرایئے، اولاد بہت ہو جائے گی۔ ایک بول اٹھتا ہے کہ مہر سنگھ جو اسی محلہ میں رہتا ہے، اس کام کے بہت لائق ہے۔ لالہ بھاری لال نے اس سے نیوگ کرایا تھا، لڑکا پیدا ہو گیا۔ یہ لالہ لڑکا پیدا ہونے کا نام سن کر باغ باغ ہو گیا۔ بولا مہاراج آپ ہی نے سب کام کرنے ہیں، میں تو مہر سنگھ کا واقف بھی نہیں۔ مہاراج شریر النفس بولے کہ ہاں ہم سمجھا دیں گے، رات کو آجائے گا۔ مہر سنگھ کو خبر دی گئی، وہ محلہ میں ایک مشہور قمار باز، اول نمبر کا بدمعاش اور حرام کار تھا۔ سنتے ہی بہت خوش ہو گیا اور انہیں کاموں کو وہ چاہتا تھا پھر اس سے زیادہ اس کو کیا چاہیے تھا۔ ایک نوجوان عورت اور پھر خوبصورت، شام ہوتے ہی آموجود ہوا۔ لالہ صاحب نے پہلے ہی دلالہ عورتوں کی طرح ایک کوٹھری میں نرم بستر بچھوا رکھا تھا اور کچھ دودھ اور حلوا بھی دو برتنوں میں سرہانے کی طاق میں رکھوا دیا تھا تا اگر بیرج داتا کو ضعف ہو تو کھا پی لیں۔ پھر کیا تھا آتے ہی بیرج داتا نے لالہ دیوث کے نام و ناموس کا شیشہ توڑ دیا اور وہ بد بخت عورت تمام رات اس سے منہ کالا کراتی رہی اور اس پلید نے جو شہوت کا مارا تھا، نہایت قابل شرم اس عورت سے حرکتیں کیں اور لالہ باہر کے دالان میں سوئے اور تمام رات اپنے کانوں سے بے حیائی کی باتیں سنتے رہے بلکہ تختوں کی دراڑوں سے مشاہدہ بھی کرتے رہے۔ صبح وہ خبیث اچھی طرح لالہ کی ناک کاٹ کوٹھری سے باہر نکلا۔ لالہ تو منتظر ہی تھے، دیکھ کر اس کی طرف دوڑے اور بڑے ادب سے اس پلید بدمعاش کو کہا سردار صاحب رات کیا کیفیت گذری؟ اس نے مسکرا کر مبارک باد دی اور اشاروں میں جتا دیا کہ حمل ٹھہر گیا۔ لالہ دیوث سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تو اسی دن سے آپ پر یقین ہو گیا تھا جبکہ میں نے بھاری لالہ کے گھر کی کیفیت سنی تھی اور پھر کہا وید حقیقت میں ودیا سے بھرا ہوا ہے۔ کیا عمدہ تدبیر لکھی ہے جو خطا نہ گئی۔ مہر سنگھ نے کہا کہ ہاں لالہ صاحب، سب سچ ہے کیا وید کی آگیا کبھی خطا بھی ہو جاتی ہے میں تو انہی باتوں کے خیال سے وید کو ست ودیاؤں کا پستک مانتا ہوں۔ اور دراصل مہر سنگھ ایک شہوت پرست آدمی تھا۔ اس کو کسی وید شاستر اور شرتی شلوک کی پروا نہ تھی اور نہ ان پر کچھ
اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے صرف لالہ دیوث کی حماقت کی باتیں سن کر اس کے خوش کرنے کے لیے ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر اپنے دل میں بہت ہنسا کہ اس دیوث کی پکڑ لینے کے لیے کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ پھر اس کے بعد مہر سنگھ تو رخصت ہوا اور لالہ گھر کی طرف خوش خوش آیا اور اسے یقین تھا کہ اس کی استری رام دئی بہت ہی خوشی کی حالت میں ہوگی کیونکہ مراد پوری ہوئی۔ لیکن اس نے اپنے گمان کے برخلاف اپنی عورت کو روتے پایا اور اس کو دیکھ کر تو وہ بہت ہی روئی، یہاں تک کہ چیخیں نکل گئیں، اور ہچکی آنی شروع ہوئی۔ لالہ نے حیران سا ہو کر عورت کو کہا کہ ”ہے بھاگوان آج تو خوشی کا دن ہے کہ دل کی مرادیں پوری ہوئیں اور بیج ٹھہر گیا پھر تو روتی کیوں ہے؟ وہ بولی میں کیوں نہ روؤں، تو نے سارے کنبے میں میری مٹی پلید کی اور اپنی ناک کاٹ ڈالی اور ساتھ ہی میری بھی۔ اس سے بہتر تھا کہ میں پہلے ہی مر جاتی۔ لالہ دیوث بولا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر اب بچہ ہونے کی بھی کس قدر خوشی ہوگی، وہ خوشیاں بھی تو تُو ہی کرے گی مگر رام دئی شاید کوئی نیک اصل کی تھی۔ اس نے ترت جواب دیا کہ حرام کے بچہ پر کوئی حرام کا ہی ہو تو خوشی منائے۔ لالہ تیز ہو کر بولا کہ ہے ہے کیا کہہ دیا۔ یہ تو وید آ گیا ہے۔ عورت کو یہ بات سن کر آگ لگ گئی، بولی میں نہیں سمجھ سکتی کہ یہ کیسا وید ہے جو بدکاری سکھلاتا اور زنا کاری کی تعلیم دیتا ہے۔ یوں تو دنیا کے مذاہب ہزاروں باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی مذہب نے وید کے سوا یہ تعلیم بھی دی ہو کہ اپنی پاک دامن عورتوں کو دوسروں سے ہم بستر کراؤ۔ آخر مذہب پاکیزگی سکھلانے کے لیے ہوتا ہے نہ بدکاری اور حرام کاری میں ترقی دینے کے لیے۔ جب رام دئی سب باتیں کہہ چکی تو لالہ نے کہا کہ چپ رہو، اب جو ہوا سو ہوا۔ ایسا نہ ہو کہ شریک سنیں اور میرا ناک کاٹیں۔ رام دئی نے کہا کہ اے بے حیا کیا ابھی تک تیرا ناک تیرے منہ پر باقی ہے۔ ساری رات تیرے شریک نے جو تیرا ہمسایہ اور تیرا پکا دشمن ہے، تیری سہروں کی بیاہتا اور عزت کے خاندان والی سے تیرے ہی بستر پر چڑھ کر تیرے ہی گھر میں خرابی کی اور ہر ایک ناپاک حرکت کے وقت جتا بھی دیا کہ میں نے خوب بدلا لیا۔ سو کیا اس بے غیرتی کے بعد تو جیتا ہے۔ کاش تو اس سے پہلے ہی مرا ہوتا۔ اب وہ شریک اور پھر دشمن باتیں بنانے اور ٹھٹھا کرنے سے کب باز رہے گا بلکہ وہ تو کہہ گیا ہے کہ میں اس فتح عظیم کو چھپا نہیں سکتا کہ جو آج وساوامل کے مقابل پر مجھے حاصل ہوئی۔ میں ضرور رام دئی کا سارا نقشہ محلہ کے لوگوں پر ظاہر کروں گا، سو یاد رکھ کہ وہ ہر ایک مجلس میں تیرا ناک
کاٹے گا اور ہر ایک لڑائی میں یہ قصہ تجھے جتائے گا اور اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعویٰ کر دے کہ رام دئی میری ہی عورت ہے کیونکہ وہ اشارہ سے یہ بھی کہہ گیا ہے کہ آئندہ بھی میں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ لالہ دیوث نے کہا کہ نکاح کا دعویٰ ثابت ہونا تو مشکل ہے البتہ یارانہ کا اظہار کرے تو کرے تا ہماری اور بھی رسوائی ہو، بہتر تو یہ ہے کہ ہم دیش ہی چھوڑ دیں۔ بیٹا ہونے کا خیال تھا، وہ تو ایشر نے دے ہی دیا۔ بیٹے کا نام سن کر عورت زہر خندہ ہنسی اور کہا کہ تجھے کس طرح اور کیونکر یقین ہوا کہ ضرور بیٹا ہوگا، اول تو پیٹ ہونے میں ہی شک ہے اور پھر اگر ہو بھی تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں کہ لڑکا ہی ہوگا، کیا بیٹا ہونا کسی کے اختیار میں رکھا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ حمل ہی خطا جائے یا لڑکی پیدا ہو۔ لالہ دیوث بولے کہ اگر حمل خطا گیا تو میں کھڑک سنگھ کو جو اسی محلہ میں رہتا ہے، نیوگ کے لیے بلا لاؤں گا۔ عورت نہایت غصہ سے بولی کہ اگر کھڑک سنگھ بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر کیا کرے گا؟ لالہ بولا کہ تو جانتی ہے کہ نرائن سنگھ بھی ان دونوں سے کم نہیں، اس کو بلا لاؤں گا۔ پھر اگر ضرورت پڑی تو جیمل سنگھ، لہنا سنگھ، بوڑ سنگھ، جیون سنگھ، صوبا سنگھ، خزان سنگھ، ارجن سنگھ، رام سنگھ، کشن سنگھ، دیال سنگھ سب اس محلہ میں رہتے ہیں اور زور اور قوت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، میرے کہنے پر سب حاضر ہو سکتے ہیں۔ عورت بولی کہ میں اس سے بہتر تجھے صلاح دیتی ہوں کہ مجھے بازار میں ہی بٹھا دے، تب دس بیس کیا ہزاروں لاکھوں آ سکتے ہیں، منہ کالا جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا مگر یاد رکھ کہ بیٹا ہونا پھر بھی اپنے بس میں نہیں اور اگر ہوا بھی تو تجھے اس سے کیا جس کا وہ نطفہ ہے آخر وہ اسی کا ہوگا اور اسی کی خو بو، لائے گا کیونکہ درحقیقت وہ اسی کا بیٹا ہے، اس کے بعد رام دئی نے کچھ سوچ کر پھر رونا شروع کیا اور دور دور تک آواز گئی اور آواز سن کر ایک پنڈت نہال چند نام دوڑا آیا اور آتے ہی کہا کہ لالہ سکھ تو ہے، یہ کیسی رونے کی آواز آئی۔ لالہ ناک کٹا چاہتا تو نہیں تھا کہ نہال چند کے آگے قصہ بیان کرے مگر اس خوف سے کہ رام دئی اس وقت غصہ میں ہے، اگر میں بیان نہ کروں تو وہ ضرور بیان کر دے گی۔ کچھ کھسیانا سا ہو کر زبان دبا کر کہنے لگا کہ مہاراج آپ جانتے ہیں کہ وید میں وقت ضرورت نیوگ کے لیے آ گیا ہے۔ سو میں نے بہت دنوں سوچ کر رات کو نیوگ کرایا تھا، مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے نیوگ کے لیے مہر سنگھ کو بلا لیا، پیچھے معلوم ہوا کہ وہ میرے دشمن کرم سنگھ کا بیٹا اور نہایت شریر آدمی ہے، وہ مجھے اور میری استری کو ضرور خراب کرے گا اور وہ وعدہ کر گیا ہے کہ میں یہ ساری کیفیت خوب شائع
کروں گا۔ نہال چند بولا کہ درحقیقت بڑی غلطی ہوئی اور پھر بولا کہ وساوامل تیری سمجھ پر نہایت ہی افسوس ہے۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ نیوگ کے لیے پہلا حق برہمنوں کا ہے اور غالباً یہ بھی تجھ پر پوشیدہ نہیں ہوگا کہ اس محلہ کی تمام کھترانی عورتیں مجھ سے ہی نیوگ کراتی ہیں اور میں دن رات اسی سیوا میں لگا ہوا ہوں پھر اگر تجھے نیوگ کی ضرورت تھی تو مجھے بلا لیا ہوتا۔ سب کام سدھ ہو جاتا اور کوئی بات نہ نکلتی۔ اس محلہ میں اب تک تین ہزار کے قریب ہندو عورتوں نے نیوگ کرایا ہے مگر کیا کبھی تم نے اس کا ذکر بھی سنا، یہ پردہ کی باتیں ہیں، سب کچھ ہوتا ہے پھر ذکر نہیں کیا جاتا لیکن مہر سنگھ تو ایسا نہیں کرے گا۔ ذرہ دو چار گھنٹوں تک دیکھنا کہ سارے شہر میں رام دئی کے نیوگ کا شور و غوغا ہوگا۔ لالہ دیوث بولا کہ درحقیقت مجھ سے سخت غلطی ہوئی۔ اب کیا کروں؟ اس وقت شریر پنڈت نے جو بباعث نہ ہونے رسم پردہ کے رام دئی کو دیکھ چکا تھا کہ جوان اور خوش شکل ہے، نہایت بے حیائی کا جواب دیا کہ اگر اسی وقت رام دئی مجھ سے نیوگ کرے تو میں ذمہ دار ہوتا ہوں کہ مہر سنگھ کے فتنہ کو میں سنبھال لوں گا اور پہلا حمل ایک شکی بات ہے۔ اب بہر حال یقینی ہو جائے گا۔ تب وساوامل دیوث تو اس بات پر بھی راضی ہو گیا مگر رام دئی نے سن کر سخت گالیاں اس کو نکالیں۔ تب وسا وامل نے پنڈت کو کہا کہ مہاراج اس کا یہی حال ہے، ہرگز نیوگ کرنا نہیں چاہتی۔ پہلے بھی مشکل سے کرایا تھا جس کو یاد کر کے اب تک رو رہی ہے کہ میرا منہ کالا کیا۔ اسی سے تو اس نے چیخیں ماری تھی جن کو آپ سن کر دوڑے آئے۔ تب وہ شہوت پرست پنڈت وساوامل کی یہ بات سن کر رام دئی کی طرف متوجہ ہوا اور کہا نہیں بھاگوان نیوگ کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ یہ وید آ گیا ہے مسلمان بھی تو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور وہ عورتیں کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہیں۔ سو جیسے طلاق جیسے نیوگ۔ بات ایک ہی ہے۔“
(آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34 از مرزا قادیانی)
کہتے ہیں کہ جو کچھ برتن کے اندر ہوتا ہے، وہی باہر ٹپکتا ہے۔ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی جس طرح ظاہری طور پر بدصورت تھا، اسی طرح باطنی طور پر بھی بد سیرت تھا۔ قادیانی امت اسے ’’سلطان القلم‘‘ کہتی ہے۔ اس پنجابی نبی کی تحریرات کو ملاحظہ کیا جائے تو جا بجا بدکلامی و بدگوئی کی نجاست وغلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ اوپر غلاظت کے ڈھیر میں نمونہ کے طور پر ’’سلطان القلم‘‘ کی تحریروں میں سے صرف ایک اقتباس نقل کیا گیا
ہے، وگرنہ مرزا قادیانی کی ساری کتابیں ایسی ہی تحریروں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس فحش، مخرب اخلاق، حیا سوز، گندی اور بازاری تحریر سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کسی شریف انسان کی تحریر نہیں ہوسکتی۔
ہے کوئی قادیانی جو اپنے ”نبی“ کی اس تحریر کو اپنی جوان بیٹیوں اور بہنوں کے سامنے بآواز بلند پڑھ سکے؟
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کچھ کہتا ہے جو اُسے اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی ملاحظہ کیجیے:
- ”وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحٰی“
(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم، صفحہ 309 از مرزا قادیانی)
میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا
مرزا قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مجھ سے وعدہ کیا:
- ”واوحی الی ربی ووعدنی انه سینصرنی حتی یبلغ امری مشارق
الارض ومغاربھا۔ وتتموج بحور الحق حتی یعجب الناس حباب غواربھا۔“
ترجمہ: ”میرے رب نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشرق ومغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔“
”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 260، طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
دلچسپ خواب
- ”میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ محمود خوش لباس کے ساتھ ایک جگہ آئی ہے
جہاں مولوی نور دین بیٹھے ہیں اور آ کر دو جوڑا کڑا مولوی صاحب کو دیے ہیں۔ پھر دیکھا کہ وہ کھانا تیار کر رہی ہیں اور منشی جلال الدین بیٹھے ہیں اور پھر ایک عورت آئی ہے جس کا نام اغلباً بھاگ بھری (ہے) جوان عورت ہے جس نے مجھ کو بلایا ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، طبع چہارم صفحہ 201 از مرزا قادیانی)
فتنہ قادیانیت سے چوکنا رہیں
اسلام کے نام پر دھوکہ دینے والی قادیانی ویب سائٹس آپ کے قیمتی ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ ان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یہ آپ کی دینی ذمہ داری ہے۔
www.alislam.org www.askislam.org www.reviewofreligions.org www.islamicFAQ.org www.free-islamic-course.org www.fazleumarfoundation.org www.islamahmadiyya.net www.jalsasalana.org www.muslimsunrise.com www.mta.tv www.thepersecution.org www.tahirfoudation.org www.alislam.al www.ahmadiyya.org.au www.ahmadiyya.at www.ahmadiyyabangla.org www.ahmadiyya.be www.ahmadija.ba www.ahmediyya.org www.ahmadiyya.ca www.ahmadiyya.fr www.ahmadiyya.de www.ahmadiyya.or.id www.islamahmadiyya.ie www.alislam.it
www.islam-ahmedia.org www.ahmadija.org.mt www.ahmadiyya.mu www.ahmadiyya-islam.nl www.ahmadiyya.org.nz www.ahmadiyyang.org www.ahmadiyya.no www.ahmadiyya.pl www.ahmadia.pt www.ahmadiyya.es www.ahmadiyya.se www.ahmadiyya.ch www.ahmediye.org www.ahmadiyya.org.uk www.ahmadiyya.us
مرزا قادیانی کی تعلیمات کے اثرات
تقریباً 1839ء یا 1840ء میں انڈیا میں پیدا ہونے والا ایک شخص جو بعد میں نبوت کا دعویدار بنا۔ اس نے اسلام کی تعلیمات کو اپنی عقل کے اندر سمیٹنے کی کوشش کی۔ جو بات یا معجزات اس شخص کی عقل میں نہ آتے تو اپنے دجل اور فریب سے بے تکی سی تاویل کر دیتا۔ جس کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق تک نہ ہوتا۔ دور جدید کی ٹیکنالوجی سے لے کر ٹرانسپورٹ تک کا مرزا نے اپنی تاویلات میں سہارا لیا۔ کہیں تو چادروں سے مراد پیشاب اور سر کا درد لکھ دیا۔ خوابوں کی تعبیروں کا فارمولا ان باتوں پر اپلائی کرتا تھا جو خواب نہ ہوتی تھیں بلکہ حقیقت میں بیان ہوتی تھیں۔ یہ سب تاویلات اور دعوے مذہب میں کر کے مرزا کو کیا حاصل ہوا؟ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزا نے ایک الگ گروہ تشکیل دیا اور اپنا چندہ کا بزنس مذہب سے منسلک کر دیا۔ مرزا کی موت کے بعد مرزا کے حواریوں نے اس بزنس کو آگے بڑھایا، اور اس طرح 100 سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ مرزا کی اس چندہ کمپنی میں زوال آنا شروع ہو گیا۔ مرزا کی کمپنی پہلے دو حصوں میں ٹوٹ گئی، پھر آہستہ آہستہ مزید حصے ہوئے۔ سب سے بڑا حصہ آج
بھی مرزا خاندان کے پاس ہے۔ لاکھوں لوگوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کر کے ان کو ہاتھوں ہاتھ لوٹا جا رہا ہے۔ مرزائیت کے موجودہ خلیفہ مرزا مسرور نے جتنا زور چندہ پر دیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ بہر حال مرزا کی تاویلات دم توڑتی جا رہی ہیں کیونکہ زمانہ ترقی کر گیا ہے۔ لوگ وہ پہلے والے بیوقوف نہیں رہے، مرزا کی کمپنی کے ایمپلائی اس کمپنی کو چھوڑ رہے ہیں، لیکن مرزا کی ان تاویلات کی وجہ سے یہ ایمپلائی ایک کشمکش کا شکار ہیں۔ بہت سے مرزائی جو نظام سے بغاوت کرنے کے بعد نہ اسلام میں ہیں نہ مرزائیت میں، ان کے دماغ مرزا کی تعلیمات کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں اور یہ لوگ ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کا مذہب سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور مایوسی میں یہ لوگ آج اسلام کو آڑے ہاتھ لے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک نبوت ایک کاروبار ہے، ڈھونگ ہے۔ بہت سے مرزائی جو کسی عہدے پر مرزا کی خاندانی کمپنی میں ہیں، وہ صرف اس لیے ہیں کیونکہ ان کا روزگار چل رہا ہے، ذہنی طور پر یہ لوگ بھی مایوس اور مفلوج ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ باغی قادیانی اسلام کے خلاف پیجز اور گروپ چلا رہے ہیں۔
مگس مسیح!
اللہ کے نبی حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے متعلق قرآن مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسیح کی صفات و معجزات کا ذکر ہے۔ مرزا غلام مسیح کی خاصیت یہ رہی کہ وہ ہر کام جو کسی نبی نے کیا ہو، اسے کسی نہ کسی طور اپنی ذات پر چسپاں کرتا یا اس کو ظلی و بروزی قرار دے کر اپنی ذات کا حصہ بناتا۔ مرزا غلام مسیح نے مردہ انسانوں کو زندہ کرنا تو دور کی بات، خود اپنی بیماریوں کا بھی علاج نہ کر پایا، البتہ مکھیوں کو زندہ کرنے کا نسخہ ڈھونڈ نکالا۔ اسی طرح اگر آپ مرزا قادیانی کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنی نبوت کی سچائی کے لیے یہ واقعہ بھی پیش کرتا ہے کہ انبیا کرام نے بکریاں چرائی ہیں اور ایک دفعہ مرزا غلام مسیح کو بھی ایک چرواہے نے اپنی بکریوں کا خیال رکھنے کا کہا، اس طرح انبیا والا کام بھی اللہ نے ان سے لے لیا۔ پس ثابت ہوا کہ میں نبی ہوں۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام مسیح، مردہ مکھی کو زندہ کس طرح کرتا ہے؟
- ”اور جو کائنات میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے عجیب خواص رکھے ہیں، ان
خواص کی انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی، پس وہ ہر یک وقت اور ہر زمانہ میں دھوکا کھانے کو طیار ہیں اور کیونکر دھوکہ نہ کھاویں۔ خواص اشیا کے ایسے ہی حیرت افزا ہیں اور بے خبری کی حالت میں موجب زیادت حیرت ہوتے ہیں، مثلاً مکھی اور دوسرے بعض جانوروں میں یہ خاصیت ہے کہ اگر ایسے طور پر مرجائیں کہ ان کے اعضا میں کچھ زیادہ تفرق اتصال واقع نہ ہوا ہو اور اعضا اپنی اصلی ہیئت اور وضع پر سلامت رہیں اور متعفن ہونے بھی نہ پاویں بلکہ ابھی تازہ ہی ہوں اور موت پر دو تین گھنٹہ سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو جیسے پانی میں مری ہوئی مکھیاں ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر نمک باریک پیس کر اس مکھی وغیرہ کو اس کے نیچے دبایا جاوے اور پھر اسی قدر خاکستر بھی اس پر ڈالی جاوے تو وہ مکھی زندہ ہو کر اڑ جاتی ہے۔“
(براہین احمدیہ جلد اول صفحہ 550 تا 554 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 550 تا 554 از مرزا قادیانی)
کھانا کتا کھا گیا!
- ”مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے ایک خادمہ کھانا لائی اور حضرت کے سامنے
رکھ دیا اور عرض کیا، کھانا حاضر ہے، فرمایا، خوب کیا، مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا۔ وہ چلی گئی اور آپ پھر لکھنے میں مصروف ہوگئے، اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو بھی خوب صاف کیا اور بڑے سکون اور وقار سے چل دیا۔“
(سیرت مسیح موعود صفحہ 32 از عبدالکریم سیالکوٹی)
ایک ہی بات ہے، مرزا صاحب نے کھا لیا یا کتے نے۔
سولہویں صدی کو چودھویں صدی بنانے کا قادیانی طریقہ
مرزا قادیانی کے بقول حضور نبی کریم ﷺ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد 22 ویں صدی میں آئے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم ﷺ کے درمیان 570 سال کا فاصلہ ہے۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرق (2100-570) 1530 سال بنتا ہے جو کہ سولہویں صدی بنتی ہے۔ جبکہ قادیانی سولہویں کو چودھویں صدی ثابت کرنے کے لیے جو مختلف حیلے اختیار کر رہے ہیں، اس کی مثال کچھ اس طرح ہے۔
ایک بھولے قادیانی کی ایک قادیانی لجنہ سے شادی ہوگئی اور تین ماہ بعد بچہ بھی پیدا
ہوگیا۔ بھولا قادیانی خوشی خوشی دوستوں کو خبر سنانے چلا گیا۔ دوستوں کے ذلیل کرنے پر وہ واپس اپنی بیوی کے پاس آیا۔ اس قادیانی اور اس کی بیوی کا مکالمہ ملاحظہ فرمائیں:
قادیانی: (غصے سے) یہ بچہ میرا نہیں۔
بیوی: وہ کیسے؟
قادیانی: بچہ نو ماہ بعد پیدا ہوتا ہے۔ یہ تین ماہ میں پیدا ہو گیا ہے۔
بیوی: سرتاج! آپ کو غلطی لگی ہے۔ بچہ نو ماہ بعد ہی پیدا ہوا ہے۔
قادیانی: وہ کیسے؟
بیوی: اچھا یہ بتاؤ۔ شادی کو کتنے ماہ ہوئے ہیں؟
قادیانی: تین
بیوی: اور میری شادی کو کتنے ماہ ہوئے ہیں؟
قادیانی: تین
بیوی: اب بتاؤ، تین جمع تین کتنے ہوئے؟
قادیانی: چھ
بیوی: اب یہ بتاؤ، ہم دونوں کی شادی کو کتنے ماہ ہوئے ہیں؟
قادیانی: تین
بیوی: اب یہ بتاؤ، چھ اور تین کتنے ہوتے ہیں؟
قادیانی: نو
بیوی: اب بتاؤ، نو ماہ پورے ہوئے کہ نہیں؟
خاتم الخلفا............بقلم مرزا قادیانی
ویسے تو مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث کے حوالے سے بے شمار جھوٹ بولے ہیں لیکن زیر موضوع جھوٹ سب پر بازی لے گیا۔
مرزا قادیانی نے ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 554 میں لکھا ہے کہ ”قرآن شریف میں جس شخص کا نام خاتم الخلفا رکھا گیا ہے، اس کا نام احادیث میں مسیح موعود رکھا گیا ہے۔“ اب اصول، منطق اور دعوے کے مطابق تو قادیانیوں کو قرآن کی آیت پیش کرنی
چاہیے جہاں خاتم الخلفا کا ذکر ہے لیکن کوئی مرزائی مربی ہمت نہیں کرتا آیت پیش کرنے کی۔ الٹا ہم سے توریت و انجیل وغیرہ کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں جن کا موضوع اور دعوے سے بالکل کوئی تعلق نہیں بنتا۔ چونکہ قرآن کی بات کی گئی ہے، اس لیے قرآن سے ہی اس کا جواب دیا جانا چاہیے لیکن جواب ندارد، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ (الحجر: 9) اب اس قرآن میں خاتم الخلفا مرزا کو نظر آ گیا لیکن مرزائی مربیوں کو نظر کیوں نہیں آیا۔ کیا قرآن نعوذ باللہ بدل گیا؟ قرآن کے 30 پارے، 114 سورتیں ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ خاتم الخلفا نہیں مل رہا؟ ہاں ایک دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مرزا نے کسی آیت کا مطلب اخذ کیا ہو تو پھر بھی سوال وہی ہے کہ وہ آیت ہی پیش کر دی جائے ہم شکر گزار ہوں گے۔
جواب دینے میں یہ ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن پر بات کی گئی ہے۔ اس لیے قرآن سے ہی جواب دیا جائے۔ توریت و انجیل پر بات کرنے سے پرہیز کیا جائے اور یاد رہے کہ اگر قرآن سے اس کا جواب نہیں دیا گیا تو ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ مرزا قادیانی نے قرآن پر جھوٹ باندھا ہے۔
خاتم الخلفاء کا ترجمہ
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”منجملہ ان کے ایک نام اس کا خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر
میں آنے والا ہے“۔
(چشمہ معرفت صفحہ 318 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 333 از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ کیا ”خاتم الخلفاء“ کا ترجمہ ”ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے“۔ ٹھیک ہے یا نہیں؟ امید ہے بغیر کسی چونکہ، چنانچہ، اگر، مگر کے جواب آئے گا۔
جرمنی سے ایک قادیانی کا کھلا خط
عزیز دوستو! بے نظیر بھٹو کے Surrey Mahal محل کے متعلق تو آپ نے بہت کچھ سنا ہوگا۔ تو آئیے آج ہم آپ کو اپنے خلیفہ مرزا مسرور کے Surrey محل کے بارہ
میں بھی کچھ بتاتے چلیں۔
میرا تعلق جرمنی سے ہے، بچوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا کہ ہمیں پیرس کی سیر کرائی جائے چنانچہ گزشتہ سال مجھے اپنی فیملی کے ساتھ پیرس جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک عام احمدی کی طرح ہمیں یہ بھی اشتیاق تھا کہ پیرس میں احمدیہ مسجد بھی دیکھی جائے اور یہ ہر احمدی کی ایک طبعی خواہش بھی ہوتی ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہم نے جمعۃ المبارک کے دن کا انتخاب کیا کہ ”ہم خرمہ و ہم ثواب“ مسجد بھی دیکھ لیں گے اور جمعہ بھی پڑھ لیں گے۔ ہم نماز سے دو گھنٹے قبل مشن ہاؤس جا پہنچے۔ گیٹ پر حسب معمول پہرہ تھا۔ مختصر تعارف کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ مسجد کے احاطے میں ایک دوست سے السلام علیکم کیا تو وہ خوشی سے ہمیں ملے اور انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہم جرمنی سے آئے ہیں اور مشن ہاؤس دیکھنے کا اشتیاق ہمیں یہاں لے آیا۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ ہمیں مشن ہاؤس کا تعارف کرایا جائے۔ اس پر وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے اور ہمیں بتانا شروع کر دیا کہ یہ مشن ہاؤس کی پہلی عمارت ہے۔ یہی مسجد ہے۔ یہ ایک ساتھ والا گھر ہے جسے خرید کر مشن ہاؤس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ عمارت کچن کی ہے اور وہ ساتھ والا بڑا گھر، جہاں عام احمدی کو اندر جانے کی اجازت نہیں، وہ ہمارے حضور کا Surrey محل ہے۔ لفظ ”حضور“ اور Surrey محل“ سن کر ہماری تشنگی اور بڑھی اور ہم نے بھی ایک کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اور گلے کو صاف کرتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پوچھا کہ بھائی یہ حضور اور Surrey محل کا کیا قصہ ہے۔ جب ان کو یہ یقین ہو گیا کہ ہم ان سے مکمل با اعتمادی سے پوچھ رہے ہیں تو وہ یوں گویا ہوئے: ”یہ 2008ء یا 2009ء کا واقعہ ہے کہ ہمارے حضور فرانس آئے اور صبح کی نماز کے بعد سیر پر جاتے ہوئے اس Villa کے سامنے کھڑے ہو گئے اور پہلی نظر شفقت ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ کس کا گھر ہے اور کتنا خوبصورت گھر ہے“! جب خلیفہ صاحب سیر سے واپس آئے تو صبح صبح ہی خلافت کے خوشامدیوں نے خلیفہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس گھر کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ اندر سے ایک کھنک بابا کھانستے ہوئے نکلا۔ پہلے تو ان داڑھی والوں کو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہو گیا۔ پھر رسمی سلام دعا کے بعد ان خلافت کے ”ٹٹوؤں“ نے کہا کہ بابا جی تم نے اپنا مکان بیچنا ہے؟ اسی پر وہ بابا پہلے تو خوب ہنسا اور پھر کہا کہ تم لوگوں کی عقل تو خراب نہیں ہو گئی۔ میں نے تو اپنا مکان
بیچنے کی کسی سے بات تک نہیں کی۔ اس پر یہ خوشامدی کہنے لگے کہ نہیں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تمہارا مکان ہمارے خلیفہ کو پسند ہے، اس لیے تم منہ مانگی قیمت لو۔ اس پر بابا جی نے ازراہِ تفنن کہا کہ اچھا تو پھر چھ لاکھ یورو دے دو۔ معاملہ خلیفہ صاحب کے سامنے آیا تو حضور نے کہا ’’ہمیں منظور ہے‘‘۔ چنانچہ بات پکی ہوگئی اور بیعانہ دے دیا گیا۔ یہاں یہ بھی میں واضح کردوں کہ مکان کی قیمت 3 لاکھ یورو سے زیادہ نہیں تھی۔ چنانچہ یہ سودا چھ لاکھ یورو میں ہوگیا اور یہ Surrey محل خرید لیا گیا۔
بعد میں جب جماعت میں کھسر پھسر ہونے لگی تو جماعت کے لوگوں کے منہ بند کرنے کے لیے کہا گیا کہ یہ حضور کے داماد نے خریدا ہے۔ اگر جماعت کے سرکردہ کہتے ہیں کہ کوا سفید ہے تو چلیے ہم بھی کہتے ہیں کہ سفید ہی ہوگا۔ چنانچہ اس گھر کو خلیفہ کے داماد پر تھوپ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہنے لگے کہ خدارا میرا نام نہیں لینا مگر ساتھ ہی یہ بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ اس گھر کو ائیر کنڈیشنڈ کیا گیا ہے تاکہ خلیفہ صاحب کو ’’یورپ کی لُو‘‘ نہ لگ جائے۔ پورا سال اس گھر کی زیب و آسائش اور پورے گھر کے صحن اور لان کی صفائی و کٹائی کے سارے اخراجات جماعت احمدیہ فرانس اٹھاتی ہے۔ نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر! مسرور کا Surrey محل زندہ باد!
تو آئیے احمدی دوستو! اب ہم اپنے پیارے خلیفہ سے صرف چند سوالات کرتے ہیں اور وہ بھی معذرت کے ساتھ۔ کیونکہ ان سوالات سے بے شمار خلافت کے پروانوں کی دل آزاری کا خطرہ ہے:۔
بخدمت جناب مرزا مسرور صاحب!
- -1 کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ Villa آپ کا ہے یا آپ کے داماد کا ہے اور کیا آپ
اس کی ملکیت کے کاغذات Internet پر دکھا سکتے ہیں؟
- -2 اگر یہ Villa آپ کے داماد کا ہے تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے داماد کی
ماہوار آمدن کیا ہے اور وہ کون سا کاروبار کرتے ہیں؟ (پرائیویٹ سیکریٹری کے دفتر میں خطوط کو سیدھا کرنے کے علاوہ)
- -3 اگر صرف پیرس کے Villa کو ہی سامنے رکھا جائے تو ان کی 2003ء سے
2008ء، 5 سال کی ماہوار ’’صرف خالی بچت‘‘ دس ہزار یورو بنتی ہے۔ تو کیا آپ کے داماد اپنی اس آمدن کے مطابق چندہ بھی دیتے ہیں اور اگر اپنی اسی آمدن کے
مطابق وہ چندہ دیتے ہیں تو براہ کرم اس چندہ کی صرف چند رسیدیں Internet پر ہمیں دکھا دیں جبکہ ایک عام احمدی کے سوشل پر بھی آپ چندہ لیتے ہیں؟
- 4- 2008ء سے 2013ء تک مزید 5 سال کی جائیداد کو بھی جماعت کے سامنے
لاسکتے ہیں۔
- 5- اے احمدی دوستو! کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے کتنی دیر انتظار کرو گے۔ سوچو!
ہاں سوچو! رسول پاک ﷺ کی سادگی اور بھوک کا یہ حال تھا کہ وہ پیٹ پر پتھر باندھتے تھے اور ہمارے خلیفہ بے چارے کی سادگی کا یہ حال ہے کہ ہر سال مرسیڈیز کار کا نیا ماڈل ان کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔ اللہ اکبر، سوچنے کا مقام ہے۔
(عبداللہ آف جرمنی)
موجودہ قادیانی خلیفہ اور عیسائیت
مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی ساری زندگی دوغلی پالیسی ، منافقت اور جھوٹ کے گرد گھومتی ہے۔ مرزا قادیانی کا مؤقف ہے کہ اس نے عیسائیوں کی اس لیے مخالفت کی ہے تاکہ انگریزوں کی عیسائی حکومت کی مدد کی جائے اور مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے ان کے دلوں سے انگریزوں کی نفرت ختم کی جائے ، جو مسلمان برطانوی تسلط کے خلاف جہاد کر رہے ہیں ان مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا جذبہ ختم کر کے ان کے دلوں میں انگریز سرکار کی محبت ڈالی جائے۔
قادیانی جماعت کا موجود خلیفہ مرزا مسرور اسی برطانوی سرکار کی غلامی میں سر جھکا کر برطانیہ میں رہ رہا ہے اور عیسائیت کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہتا اور نہ ہی اسے ایسا کرنے کی کبھی جرأت ہو سکتی ہے۔ ”جس کا کھاؤ اسی کا گاؤ“ ! کے مصداق وہ عیسائی حکومتوں کی حمایت کرتا ہے اور مسلمانوں کی مخالفت کرتا رہتا ہے۔ اس سے بڑھ کر بے ضمیری اور بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے؟ یہ لوگ ہندوستان کے لوگوں سے غداری اور ان کی مخالفت کر کے پاکستان بھاگ آئے اور پاکستان کے لوگوں کی مخالفت اور ان سے غداری کر کے برطانیہ بھاگ آئے۔ اب یہاں سے پتا نہیں کہ یہ مخلوق کہاں بھاگ کر جائے گی!!! جو اپنوں کے
غدار ہوں وہ دوسروں کے کبھی بھی وفادار نہیں ہو سکتے!!! یہ تاریخ کا اہم سبق ہے۔ یہ نہ ہندوستان میں محب وطن تھے نہ یہ پاکستان کے محب وطن تھے۔ اس لیے برطانیہ کے لوگوں کو بھی ان سے خبردار رہنا چاہیے!!! یہ حب الوطنی کے نام سے ہی آشنا نہیں۔ یہ کسی کے سگے نہیں۔ یہ کسی کے وفادار نہیں!!! ان کو صرف اپنا مفاد عزیز ہے۔
بیت الفتوح لندن میں چوری
دفتر پرائیویٹ سیکریٹری سے آمدہ اطلاع کے مطابق 2009ء میں قادیانیوں کی عبادت گاہ بیت الفتوح لندن برطانیہ سے سونے کے زیورات اور ہزاروں پونڈ کیش کی چوری ہوئی جس کی کہیں بھی رپورٹ درج نہ کرائی گئی اور اس جرم کو چھپا لیا گیا۔ اس کی تفاصیل جو ہم تک پہنچی ہیں، نظام جماعت کے شعبہ سیکورٹی نے بیت الفتوح کے تمام سیکورٹی کیمرہ جات کی صفائی کا حکم دیا، صفائی کرنے والا سٹاف صبح سویرے مسجد کھول کر کیمروں کی صفائی کرنے لگا، یاد رہے کنٹرول روم سے تمام کیمروں کو بند کر دیا گیا تھا، اب چوری کرنے والے مخلص موصی قادیانی نے پہلے مسجد میں رکھے Donation Box کو توڑا جس میں نقد رقم لوگ ڈالتے ہیں، مرزا مسرور کے حکم کے مطابق پچاس ہزار (50,000) پونڈ کی چوری کا اظہار کیا گیا جبکہ چوری ہونے والی رقم اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے، اس کے بعد وہ مخلص موصی سارق دفتروں کا رُخ کرتا ہے اور فنانس آفس سے چندے اور خیرات میں آئے ہوئے تمام زیورات کو سمیٹتا ہے۔ اس کے بعد عیدی کی رقم جو دفتر ملازمین کو نظام جماعت اور خلیفہ مسرور دیتا ہے، وہ بھی سمیٹی اور انتہائی اطمینان سے گھر روانہ ہوا اور آج تک اس کے خلاف نہ تو کوئی جماعتی کارروائی ہوئی اور نہ ہی پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کارروائی مرزا مسرور کے داماد نے کی ہے جو ایک عرصہ سے ان چیزوں کے تعاقب میں تھا۔
کیا قادیانی مذہب میں ایک بھی ایسا باضمیر اور منصف قادیانی ہے جو اس واقعے کے متعلق مرزا مسرور سے دریافت کرے کہ کیا یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی؟ اگر جھوٹی ہو تو ہم ہر کارروائی کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اور اگر سچ ہے تو کیا وہ ایک اچھے شہری اور احمدی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پولیس کو اس کی اطلاع دیں گے؟؟
قادیانی، نفسیاتی امراض کا شکار قابل رحم لوگ
میں پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ قادیانی نفسیاتی مریض ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لیے میری دس کے قریب پوسٹوں پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جس میں میرا مقصد ان کی ایک ذہنی بیماری ڈلیوژن آف گرینجیور (Delusion of Grandeur) کی علامات کو ایک ایک کرکے ڈسکس کرنا ہے اور ساتھ میں لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ یہ لوگ ماہر نفسیات کا کیس ہیں تاکہ ان کی جانوں پر مزید ظلم بند ہو اور ان کو پکڑ کر کسی پاگل خانے میں ایڈمٹ کرا کر ان کا علاج کیا جاسکے۔
A delusion of grandeur is the fixed, false belief that one possesses superior qualities such as genius, fame omnipotence, or wealth.
ڈلیوژن آف گرینجیور پختہ لیکن جھوٹا یقین ہوتا ہے جس میں مریض مصر ہوتا ہے کہ اس میں غیر معمولی خوبیاں ہیں جیسے ذہانت، شہرت، طاقت یا دولت مندی۔
میرے نزدیک قادیانیت کا دوسرا نام احمقوں کی جنت ہونا چاہیے۔ زمینی حقائق کچھ اور ہوں گے لیکن باتیں کچھ اور کریں گے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھنگڑے ایسے ڈالیں گے جیسے دنیا فتح کر لی ہے۔ پلے ان کے ”ککھ“ نہیں ہے لیکن منصوبے شیخ چلیوں والے بنائیں گے۔ اس قوم کے صرف دعوے ہی ان کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں مثلاً اس قوم کے سربراہ کا دعویٰ خلیفہ آف اسلام ہونے کا ہے۔ یہ اتنا احمقانہ دعویٰ ہے کہ اس کی سرے سے کوئی تک ہی نہیں بنتی لیکن انہیں یقین ہے کہ یہی اصل خلیفہ ہے پورے عالم اسلام کا اور حال یہ ہے کہ اس خلیفہ آف اسلام کے اصل وطن پاکستان میں یہ اپنی جانیں تک غیر محفوظ سمجھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ کریں، یہ بات کرتے ہیں عالمی امن کی اور تو اور خود کو اتنا اہم سمجھتے ہیں۔ عالمی جنگ رکوانے کے لیے خط لکھ دیتے ہیں ملکی سربراہوں کو اور وہ ان کو جواب دینے کے بھی قابل نہیں سمجھتے۔
ان کے ساتھ ”کتے والی“ ہو رہی ہوتی ہے لیکن یہ پھر بھی عقل نہیں کرتے۔ ہوتے پرلے درجے کے احمق ہیں لیکن اتنا ان کو اپنی ذہانت پر یقین اور اعتماد ہوتا ہے کہ عربی آیات اور احادیث کا مسلمانوں کو مطلب سمجھانے بیٹھ جاتے ہیں جو کہ خود اہل زبان ہیں۔ بھکاریوں
سے بھی نچلے درجے پر گر کر چندے مانگیں گے، کچھ پیسے اکٹھے کر کے چند مہنگی گاڑیاں لیں گے دو چار بلڈنگز بنالیں گے یا سال میں ایک آدھ مہنگی دعوت کرلیں گے اور فرض کرلیں گے کہ غیر معمولی ترقی کر لی ہے۔ اب جتنی ترقی اس نام نہاد مسیح کی جماعت نے سو سالوں میں کی ہے اس سے زیادہ ایک عیسائی بل گیٹس چند مہینوں میں کر لیتا ہے۔
گھر میں بیٹھے ہوں گے لیکن یہ یقین ہوگا کہ احمدیت پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ایسے جیسے روزانہ پوری دنیا کا چکر لگا کے آتے ہوں۔ برطانیہ میں ایک انگریز بھی ان کی عبادت گاہوں میں نماز پڑھنے نہیں آتا یعنی ایک انگریز بھی احمدی نہیں ہوا لیکن ان کو یقین ہے کہ انگریز دھڑا دھڑ احمدی ہو رہے ہیں۔ اصل لطیفہ میں اب سنانے لگا ہوں کہ ان ساری ابنارمل باتوں کے بعد اب یہ نفسیاتی مریض چل پڑے ہیں دنیا پر غلبہ حاصل کرنے اور ان کے سکندر اعظم یعنی خلیفہ کی حالت یہ ہے کہ سامنے پڑے کاغذ کے سوا ایک لفظ بھی خود سے نہیں بول سکتا لیکن ان کو یقین ہے کہ اس شخص نے 7 ارب کے قریب لوگوں کو کنٹرول کر لینا ہے اور موصوف کا حال یہ ہے کہ اپنی ڈھائی لاکھ کی جماعت کو بھی انصاف نہیں دے سکتا۔
آواہن
اقتدار اور دولت کا خون منہ کو لگ جائے تو بات کہیں رکنے سے نہیں رکتی۔ چنانچہ مرزا قادیانی ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے لیے کبھی کرشن کا اوتار بنا، کبھی رودر گوپال بنا، کبھی سکھوں کے لیے جے سنگھ بہادر بھی، کبھی مہدی مسیح بلکہ تمام پیغمبروں کے نام اپنے اوپر چسپاں کیے۔ اپنی کتاب ’حقیقۃ الوحی‘ میں ایک وحی بھی لکھی ”آواہن“۔ جس کے معنی بھی خود کیے کہ ”خدا تمہارے اندر اتر آیا“۔
(کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے ایک اہم سوال
کیا یہ ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن مجید کے بعض معنی قرون اولیٰ سے چھپادے اور صدیوں کے مجددین اور اولیائے کرام اور علمائے کرام مشرکانہ معنی پر جمے رہے، حتیٰ کہ مرزا غلام قادیانی مجدد و مامور ہو کر بھی دس سال تک عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتا رہا اور بعد میں
کہا کہ حیات مسیح کا عقیدہ مشرکانہ ہے۔ کیا شرک عظیم اجتہاد کی وجہ سے برداشت کیا جاسکتا ہے؟
مکہ مکرمہ فتنہ کی جگہ ہے (نعوذ باللہ)...... مرزا قادیانی کی بکواس
قرآن میں مکہ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
والتين والزيتون o وطور سينين o وهذا البلد الأمين o (التین: 1 تا 3)
’’قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ اور طور سینین کی۔ اور اس امن والے شہر (مکہ) کی‘‘۔
ہر مسلمان یہ ایمان رکھتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس مکہ شہر کے پرامن ہونے کی قسم کھالی تو یہ کبھی بھی معاذ اللہ فتنہ کی جگہ نہیں ہوگی۔ مرزا قادیانی کی علمی پستی اور قرآن سے ناواقفیت کی یہ حالت ہے کہ وہ لفظ امن کے مقابل فتنہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جہالت کا اعلیٰ ثبوت اس طرح پیش کرتا ہے۔
- ’’مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں‘‘۔
(ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 415 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ: اگر فتووں سے کوئی جگہ پُر امن نہیں رہتی تو مرزا قادیانی یہ کیوں بھول گیا جب اس نے یہ فتویٰ دیا کہ ’’ان کو نہ ماننے والے جہنمی اور کافر ہیں‘‘۔
- ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے‘‘۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے‘‘۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ’’جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا‘‘۔
(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی)
- ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔
(کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
- ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
تو وہ خود پہلے اپنی ذات، اپنے گھر، اپنی عبادت گاہ کو وہ باعث فتنہ بنا رہا ہے! اگر فتووں سے ہی گھر، شہر اور ملک فتنہ بنتے ہیں تو سوچیں کیا تمام قادیانی اپنی ذات میں فتنہ نہیں ہیں جو دن رات اپنے علاوہ سب کو (غیر احمدی) مسلمان نہ ہونے کا راگ الاپتے ہیں؟
اسلام اور قادیانیت
اسلام کہتا ہے کہ وحی حضرت محمدﷺ پر ختم۔ قادیانی کہتا ہے کہ وحی مرزا ملعون پر ختم۔ اسلام کہتا ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی۔ قادیانی کہتا ہے کہ مرزا آخری نبی۔ اسلام کہتا ہے کہ دین حضرت محمدﷺ پر مکمل۔ قادیانی کہتا ہے دین مرزا پر مکمل۔ اسلام کہتا ہے کہ حضرت محمدﷺ پر ایمان قادیانی کہتا ہے مرزا پر ایمان لانے پر لانے پر نجات۔ نجات۔ اسلام کہتا ہے جو حضرت محمدﷺ کو آخری نبی قادیانی کہتا ہے جو مرزا ملعون کو آخری نبی نہ نہ مانے وہ کافر۔ مانے وہ کافر۔ اسلام کہتا ہے حضرت محمدﷺ کی شان سب سے اعلیٰ۔ قادیانی کہتا ہے مرزا کی شان سب سے اعلیٰ۔
اے مسلمان! کیا اب بھی تجھے قادیانی (مرزائی) کے کفر میں شک ہے؟
کیا صاحبزادہ رضوان احمد مسلمان ہے؟
آج کل انٹرنیٹ پر ایک بحث چل رہی ہے کہ کیا مرزا قادیانی کا پڑپوتا اور مرزا ناصر کا پوتا اور مرزا لقمان کا صاحبزادہ مرزا رضوان احمد مسلمان ہے؟ انٹرنیٹ پر لکھنے والے لوگ اس موضوع پر بحث مباحثہ کر رہے ہیں اور اپنی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ جو بحث مباحثہ ہو رہا ہے، اس پر انٹرنیٹ میں دیے گئے مواد کی روشنی میں اردو داں حضرات کی خدمت میں کچھ اظہار کروں۔ قادیانی جماعت میں توڑ پھوڑ کا
سلسلہ اور اختلافات کا چکر یوں تو مرزا طاہر کے مرنے کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا اور اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ قادیانیوں ہی میں ایک گروپ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اپنے آپ کو لبرل کہلاتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ قادیانی جماعت کے اندر جمہوریت آنی چاہیے۔ نامزدگیوں کی بجائے خلافت ”امارت“ جیسے دوسرے عہدیداران کا براہ راست انتخاب ہونا چاہیے۔ یہ فتنہ اندر ہی اندر چل ہی رہا تھا کہ اس نئے چکر نے ایک سنسنی پیدا کر دی کہ مرزا لقمان کا صاحبزادہ مسلمان ہے، اگرچہ اس کی تحقیق کی ضروت ہے۔ چناب نگر ”سابقہ ربوہ“ سے ایک صاحب نے جو خبر انٹرنیٹ پر دی ہے اس کے مطابق قادیانیوں کا تیسرا خلیفہ مرزا ناصر کے بیٹے مرزا لقمان نے درانی فیملی کی ایک خاتون جو کہ چارسدہ میں مقیم تھی، ان سے 1976ء میں شادی کی جس کا نام شاہدہ درانی تھا۔ شاہدہ درانی ایک نہایت قابل عزت گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا خاندان جدی پشتی چارسدہ میں بہت بڑا زمیندار گھرانہ یا بہت بڑا جاگیردار خاندان ہے۔ یہ تو پتہ نہیں کہ اس کے خاندان میں کس نے قادیانیت کو قبول کیا۔ البتہ شاہدہ کا باپ قادیانی تھا۔ شاہدہ درانی کے باپ نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی خاطر چناب نگر سابقہ ربوہ میں صدر محلہ میں منتقل ہوگئے۔ جہاں کے رہنے والے اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ شاہدہ کی ماں کی طرف جو خاندان تھا، وہ بھی نہایت قابل عزت، قابل احترام قادیانی خاندان تصور کیا جاتا تھا۔ شاہدہ کا ایک ماموں امام رفیق جو کہ برطانیہ قادیانی جماعت کا ایک اہم عہدیدار تھا، اس کے مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان سے قریبی تعلقات تھے۔ امام رفیق جو کہ شاہدہ کی والدہ کا حقیقی بھائی تھا۔ جس کی وجہ سے لقمان کو درانی خاندان کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک موقع پر مرزا لقمان نے شاہدہ درانی کو دیکھ لیا اور شدید نفسانی خواہشات کی بنا پر اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ اگرچہ درانی خاندان نہایت قدامت پسند تھا اور لقمان کی پہنچ سے بہت دور تھا لیکن اس کے باوجود خلیفہ ثالث مرزا ناصر نے لقمان کے لیے شاہدہ کا رشتہ درانی خاندان سے مانگا۔ اس رشتے کے سلسلے میں درانی خاندان میں آپس میں اختلاف پایا جاتا تھا لیکن امام رفیق نے دباؤ ڈال کر رشتہ طے کروا دیا اور یوں مرزا لقمان اور شاہدہ درانی کی شادی انجام پائی۔ شادی کے بعد ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ان میاں بیوی کے درمیان شدید اختلافات اس بنا پر پیدا ہو گئے کہ مرزا لقمان کی دوستی اور کئی لڑکیوں سے تھی۔ شاہدہ درانی نے پھر لقمان سے طلاق کا مطالبہ کیا
لیکن ان دونوں کا جو بچہ پیدا ہوا تھا، اس بچے کے ساتھ خلیفہ جی اور ان کی بیوی بہت محبت کرتے تھے۔ پوتے کی محبت ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ شاہدہ کو لاہور لے جایا گیا اور طلاق کے بعد دونوں میں ایک معاہدہ ہوا اور معاہدہ یہ ہوا کہ بچہ لقمان کے ساتھ قصر خلافت میں رہے گا اور بچہ کی ماں شاہدہ درانی ایک ہفتے کے بعد صرف 2 گھنٹے کے لیے اسے دیکھنے آیا کرے گی۔ شاہدہ اپنے باپ کے گھر چلی گئی اور بیٹے کو خلیفہ جی کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ تھوڑے عرصہ بعد بیٹے کو شاہدہ کے پاس 2 گھنٹے کے لیے ہفتے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا اور 10 سے 12 گارڈز کی نگرانی میں بچے کو وہاں بھیجا جاتا رہا۔ شاہدہ درانی سے ملنے کے لیے اس بات کی تصدیق محلے میں رہنے والے افراد بھی کرتے ہیں۔ 2 ماہ کے بعد درانی خاندان نے ایک منصوبہ بنایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب 1977ء میں ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کر کے مارشل لاء لگا دیا تھا۔ اس وقت شاہدہ درانی کے ایک ماموں کرنل نذیر احمد کی تقرری کھاریاں میں عمل میں آئی۔ ایک دن بچے کو ماں کے گھر لایا گیا۔ اس موقع پر درانی خاندان کے گھر، گیٹ کے پیچھے ایک فوجی جیپ کھڑی تھی، اس جیپ میں اس کے بھائی اور چند رشتہ دار مسلح سوار تھے۔ اس جیپ کے اندر شاہدہ اور اس کے بیٹے کو بھی بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد مسلح دستے نے گیٹ کھلوایا اور امور عامہ کے گارڈز کو دھمکیاں دیتے ہوئے کھاریاں چلے گئے۔ اب درانی خاندان ”چناب نگر“ سابقہ ربوہ چھوڑ چکا تھا اور قادیانیت کو خیر باد کہہ کر اپنے گاؤں چارسدہ چلے گئے تھے۔ اس کے بعد امام رفیق کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور تیسرے خلیفہ مرزا ناصر نے حکم نامہ جاری کیا کہ برطانیہ کا عہدہ چھوڑ دیں اور واپس ربوہ بلا کر ان کی تقرری بحیثیت پرسنل سیکرٹری خلیفہ ثالث کر دی گئی تا کہ درانی خاندان پر دباؤ ڈال کر لقمان کے بیٹے کو واپس چناب نگر سابقہ ربوہ لایا جائے۔ اس کے بعد سے لقمان نے اپنے بچے کو نہیں دیکھا اور شاہدہ درانی نے اپنے بچے کی دیکھ بھال اور اس کی تعلیم و تربیت کے لیے دوسری شادی نہیں کی۔ ایک اطلاع کے مطابق مرزا لقمان برطانیہ جانے سے قبل پشاور آیا۔ بچہ کو دیکھنے کے لیے اور چارسدہ کے ارد گرد گاڑی چلا رہا تھا۔ درانی خاندان نے جب اسے دیکھا تو مرزا لقمان کو پیغام بھیجا کہ بندوق کی گولی سے اڑا دیں گے، اگر دوبارہ چارسدہ کے پاس نظر آیا۔ مرزا لقمان واپس آ گیا، اپنے بچے کو دیکھے بغیر۔ لقمان اور شاہدہ کے صاحبزادے مرزا رضوان احمد خان نے جو ایک نوجوان پشاور یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز ڈگری کی ہے، کبھی
ربوہ چناب نگر نہیں آیا اور وہ قادیانی نہیں ہے۔
(جناب مولانا عبدالرحمٰن باوا، لندن کا مضمون مندرجہ روزنامہ اسلام، کراچی 5 دسمبر 2004ء)
محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں
’’قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے والی نرسنگ کی طالبہ کو اس کے اہل خانہ نے گھر میں قید کرلیا اور شوہر کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ اس ضمن میں لڑکی کے شوہر کامران علی نے ’امت‘ کو بتایا کہ مکان نمبر 110 ماڈل کالونی کی رہائشی 21 سالہ قرۃ العین نے 18 مارچ 2012ء کو اپنی خوشی سے قادیانیت چھوڑ کر جامعہ بنوریہ میں اسلام قبول کیا اور 7 مئی کو اس کا میرے ساتھ نکاح ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نے یہ بات اپنے گھر والوں سے اس لیے بھی چھپائی تھی کہ وہ کسی طرح بھی اس بات کو قبول نہ کرتے۔ اس کی اور میری جان کے دشمن بن جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ میری بیوی پی این شفا میں نرسنگ کی طالبہ ہے، وہ وہاں رہائش پذیر تھی کہ نجانے کیسے ان کے والدین کو پتہ چل گیا اور وہ اسے وہاں سے 17 مئی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس موقع پر اس کا چچا علی عظمت بھی ان کے ہمراہ تھا۔ کامران نے بتایا کہ جیسے ہی ان کے علم میں یہ بات آئی تو ان کے ایک عزیز نے قرۃ العین کے چچا سے ان کے سیل فون نمبر پر رابطہ کیا، تو انہوں نے میری بیوی کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ اس کے شوہر سے کہو کہ وہ اس کا پیچھا چھوڑ دے ورنہ قتل کر کے اس کی لاش بوری میں پیک کردیں گے اور اس کے تمام اہل خانہ کا وہ حشر کریں گے کہ دنیا ان سے عبرت پکڑے گی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کا ماموں انتہائی بااثر آدمی ہے اور اسی کے ایما پر لڑکی کو انتظامیہ نے اس کے قادیانی رشتے داروں کے حوالے کیا ہے۔ قرۃ العین کے شوہر کامران علی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کی بیوی کو اس کے قادیانی رشتے داروں نے یا تو قتل کر دیا ہے یا پھر اسے نامعلوم مقام پر قید میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا کر مرتد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب کہ ایک اطلاع کے مطابق اسے گھر میں قید رکھا گیا ہے۔ کامران نے یقین ظاہر کیا کہ اس کی بیوی کسی بھی صورت میں مرتد نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایمانی قوت کے لحاظ سے بہت پختہ ہے۔ کامران نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے کر اس کی بیوی کو اس کے قادیانی رشتے داروں کے قبضے سے بحفاظت بازیاب کرانے کا حکم دیں
اور مجھ سمیت میرے تمام خاندان والوں کو قتل کی دھمکیاں دینے والے لڑکی کے چچا علی عظمت قادیانی کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات دیں۔‘‘
(روزنامہ امت، کراچی 20 مئی 2012ء)
جوئے اور حرام کی کمائی، قادیانی خلیفہ تک رسائی!
قادیانی مذہب میں خلیفہ کے منظور نظر ہونے کے لیے شرافت و دیانت کی ضرورت نہیں بلکہ جوئے اور حرام کی دولت کا ہونا ضروری ہے۔ قادیانی خلیفہ جہاں عام قادیانی کے خون پسینہ کی کمائی سے گھوڑوں کو گھاس ڈالتا ہے اور ظاہر ہے، عام قادیانی کی رسائی بھی گھاس کے میدان تک ہے اور وہ جو جوئے اور حرام کی کمائی سے ریڈ کارپٹ پر خلیفہ کا قدم ڈالتے ہیں، وہ خلیفہ کے کمرہ خاص تک رسائی رکھتے ہیں اور خلیفہ ان جرائم پیشہ جواریوں کی پشت پناہی بھی کرتا ہے۔ حال ہی میں فلوریڈا، امریکہ میں قادیانی جماعت کے سیکریٹری جنرل اور قادیانی خلیفہ کا منظور نظر طارق وحید جوئے کے ایک بڑے سکینڈل میں گرفتار ہوا ہے جس کی تفصیلات سے قادیانی قیادت منہ چھپا رہی ہے۔
قادیانی اخبار ’الفضل‘ سے قادیانیوں کی بیزاری
قادیانی اخبار ’الفضل‘ کو جاری ہوئے سو سال اور چند ماہ ہو چکے ہیں، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دو سو ملین کی تعداد کا مذہب احمدیت الفضل اخبار کی اشاعت دس ہزار بھی پوری نہیں کر سکا، جبکہ دعویٰ یہ کہ ہر احمدی احمدیہ مذہب کی تعلیمات سے واقف ہے، کیا اس سے بڑا کوئی اور مذاق ہو سکتا ہے؟ قادیانی خلیفوں کی زبانی ’’الفضل‘‘ کے بارے میں حقائق ملاحظہ کیجیے:
- ’’خلیفۃ المسیح الرابع نے 1982ء میں اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جلسہ 1983ء
تک الفضل کی اشاعت کم از کم دس ہزار ہو جائے گی اور پھر 1984ء میں آپ نے فرمایا: ’’ابھی تک اشاعت تھوڑی ہے۔ دس ہزار تو میں نے کم سے کم کہی تھی، پندرہ بیس ہزار ہونی چاہیے۔‘‘
آج اس خواہش کے 30 سال بعد ہم پندرہ بیس ہزار تو کجا دس ہزار والی خواہش کو بھی پورا نہیں کر سکے۔ اب جبکہ الفضل کے اجرا کو ایک سو سال ہو چکے ہیں۔ اور اس موقع پر ایک سکیم خلیفۃ المسیح الخامس نے منظور فرمائی ہے اور اس سکیم کی شق نمبر VIII یہ ہے کہ: ’’خلیفۃ
لمسیح الرابع کی خواہش کے مطابق الفضل کی خریداری بیس ہزار کرنے کے ٹارگٹ کو پورا کیا جائے‘‘۔ (روزنامہ الفضل چناب نگر (ربوہ) 28 نومبر 2013ء، صفحہ 4 اور 5)
دو باتیں
- ’’مرزا بشیر الدین محمود نے کہا: دو باتیں تو مجھ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ
پالک کا نام سن کر میرے پٹھوں میں تشنج شروع ہو جاتا ہے اور جسم پر کپکپی سی ہونے لگی ہے۔ آج ہی کھانے میں ساگ تھا۔ جب میں نے اس کے متعلق پوچھا اور بتایا گیا کہ پالک کا ساگ ہے تو یہی حالت ہوئی۔ میں نے اس کے اٹھا لینے کے لیے کہا اور پھر پندرہ بیس منٹ کے بعد میری حالت برقرار ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب میں کسی بیمار کے پاس جاؤں۔ خود بیمار ہو جاتا ہوں اور بخار ہو جاتا ہے‘‘ (ڈائری مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیانی مورخہ 27 اکتوبر 1921ء جلد 9 نمبر 33 صفحہ 5)
باریک ایمان
- ’’ایک اور بات بھی ہے جو میری نوٹ بک میں درج ہے اور وہ واقعہ بھی اسی
جالندھر کا ہے۔ ہماری جماعت کے ایک آدمی ہمارے بھائی منشی محمد اروڑا صاحب نے سوال کیا کہ حضرت، ایمان کتنی طرح کا ہوتا ہے؟ آپ نے جو جواب اس کا فرمایا، بہت ہی لطیف اور سلیس ہے۔ فرمایا: ’’ایمان دو قسم کا ہوتا ہے۔ موٹا اور باریک، موٹا ایمان تو یہی ہے کہ دین العجائز پر عمل کرے اور باریک ایمان یہ ہے کہ میرے پیچھے ہولے۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 1 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
فراڈ، دھوکہ اور فریب کسے کہتے ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف اور صرف قادیانی حضرات دیں گے۔
قادیانیو! کیا چار اور چالیس میں کچھ فرق نہیں ہے؟ کیا پانچ اور پچاس برابر ہوسکتے ہیں؟ اگر آج ایک قادیانی کسی دکان دار سے کوئی چیز خریدنے جائے اور دکاندار اس چیز کی قیمت پچاس روپے بتائے لیکن قادیانی اپنے نبی و مہدی موعود مرزا غلام قادیانی کی طرح
صرف پانچ روپے دے کر کہے کہ یہ لو اور مجھے چیز دے دو۔ دکاندار کہے گا قادیانی جی مجھے پچاس چاہئیں یہ چیز پانچ روپے کی نہیں ہے، اب قادیانی کہے کہ یار میں نے تمہیں پچاس ہی دیے ہیں دیکھ لو پچاس اور پانچ میں صرف ایک زیرو کا ہی تو فرق ہے۔ بتائیے کیا وہ دکاندار اس قادیانی کی درگت بنائے گا کہ نہیں کہ تم مجھ سے فراڈ کر رہے ہو، سر بازار مجھے دھوکہ دے رہے ہو۔
مرزا غلام قادیانی کے دونوں واقعات کو بغور دیکھیں اور فیصلہ خود کریں مرزا قادیانی نے بھی بھولی بھالی قوم کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا تھا۔ قادیانیو! خدارا ایک مرتبہ اپنے مذہب پر نظر ثانی کرو کہ آپ کے مرزا صاحب کس قسم کا دھوکہ دیا کرتے تھے۔
- ”میں نے اپنا ارادہ یہ ظاہر کیا تھا کہ اس رسالہ اربعین کے چالیس اشتہار جدا جدا
شائع کروں۔ اور میرا خیال تھا، میں صرف ایک ایک صفحہ کا اشتہار یا کبھی ڈیڑھ صفحہ یا غایت کار دو صفحہ کا اشتہار شائع کروں گا اور یا کبھی شاید تین یا چار صفحہ لکھنے کا اتفاق ہوجائے گا۔ لیکن ایسے اتفاقات پیش آگئے کہ اس کے برخلاف ظہور میں آیا اور نمبر دو اور تین اور چار رسالوں کی طرح ہو گئے۔ چنانچہ اس رسالہ کی قریباً ستر (70) صفحہ تک نوبت پہنچ گئی اور درحقیقت وہ امر پورا ہو چکا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا اس لیے میں ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے خدائے عزوجل نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا۔ اسی طرح میں بھی اپنے رب کریم کی سنت پر ناظرین کے لیے تخفیف پسند کر کے نمبر چار کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دے دیتا ہوں“۔ (اربعین نمبر 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442، از مرزا قادیانی)
- ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ
پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9، مرزا قادیانی)
ایک سال میں پانچ کروڑ قادیانی اپنا مذہب چھوڑ گئے !
- ”پوری دنیا میں اس جماعت کی تعداد کئی ملین کی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق یہ
تعداد 200 ملین کے قریب ہے۔ زیادہ تر پاکستان میں رہتے ہیں۔“
(روزنامہ الفضل چناب نگر (ربوہ) 4 جون 2012ء)
- ”حضور انور (قادیانی خلیفہ مرزا مسرور) نے فرمایا 125 سال قبل ایک آدمی تھا۔
1908ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود کی وفات ہوئی تو اس وقت قریباً نصف ملین احمدی تھے۔ اب ہم ایک سو پچاس ملین ہیں۔“
(روزنامہ الفضل چناب نگر (ربوہ) 24 اکتوبر 2013ء)
خدا کا چراگاہ
مرزا قادیانی نے لکھا:
- ”انی امرت من الرحمن فاتونی، انی حمی الرحمن.
میں خدا کی طرف سے خلیفہ کیا گیا ہوں پس تم میری طرف آجاؤ۔ میں خدا کا چراگاہ ہوں“۔
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 560 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی کتاب ’اعجاز المسیح‘ کا پس منظر، اور اس کا پوسٹ مارٹم
مرزا غلام قادیانی نے جب حضرت پیر مہر علی شاہؒ سے مناظرہ میں نہ آ کر شکست کا اظہار کیا تو سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کا کہا کہ میں ایک ایسی تفسیر عربی زبان میں لکھوں گا جس کی کوئی نظیر نہیں ہوگی۔ جب مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر لکھی تو اس کی عربی پر مہر تصدیق ثبت کروانے کے لیے دنیائے علم و ادب کے علما پر نظر ڈالی تو اس کی نگاہ مصر کے الشیخ محمد رشید رضا (مدیر المنار) پر پڑی۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اعجاز المسیح کا ایک نسخہ ان کے پاس تقریظ لکھنے کے لیے بھیجا تاکہ کتاب کے ادبی رنگ کو اجاگر کرنے میں مدد مل سکے اور لوگوں کو بتایا جا سکے کہ دیکھیں کتنے بڑے عربی ادب کے ماہر عالم نے میری عربی کتاب کی تصدیق کی ہے۔ اتفاق دیکھیں کہ جس کو تقریظ لکھنے کے لیے مرزا قادیانی نے خود چنا تھا، اسی شیخ الادب نے مرزا قادیانی کی کتاب نہایت بیزاری سے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ یہ کتاب فاش اغلاط کا مجموعہ ہے، صرفی و نحوی اور ادبی سیکڑوں اغلاط ہیں۔ اس پر جب مرزا قادیانی کو منہ کی کھانی پڑی تو وہ الشیخ رشید رضا پر الہدیٰ رسالہ میں برس پڑا اور شیخ الادب کو لعن طعن اور گالیاں دینا
شروع کردیں جو کہ اس کی عادت تھی۔
دوستو! یہ تھا اعجاز المسیح کا پس منظر، جس کتاب کے بارے مرزا قادیانی سمیت پوری جماعت قادیانیہ کا دعویٰ ہے کہ اس کی نظیر کوئی کتاب نہیں اور کوئی ایسی کتاب لکھ ہی نہیں سکتا۔ میں علم عربی کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہونے کی حیثیت سے کوشش کر رہا ہوں کہ کتاب کے ٹائٹل پیج پر فن عربی کی غلطیوں کو عوام قادیانیہ کے سامنے لایا جائے تاکہ ان کو علم ہوسکے کہ ان کا مرزا قادیانی کتنے پانی میں تھا۔ میں مختلف اقساط میں وہ غلطیاں پیش کر رہا ہوں مگر کسی مربی کی جرأت نہیں ہو پارہی کہ میری نکالی گئی غلطی کا علمی محاسبہ کر سکے۔ ملک صباح ظفر قادیانی تنخواہ یافتہ مربی نے اپنے تئیں ناکام کوشش کی ہے۔ اس نے میری نکالی گئی پہلی غلطی کا جواب دیا ہے اور ہوسکتا ہے میری اگلی پوسٹوں کے جواب دینے کی بھی کوشش کریں۔ میں ان کی جوابی پوسٹ پر صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ جہالت کا کوئی علاج نہیں، سوال جب علمی ہو تو جواب بھی علمی ہونا چاہیے مربی جی!
مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز المسیح جس کو مرزا قادیانی نے عربی زبان میں لکھا اور دعویٰ کیا کہ یہ کتاب اسے اللہ کی جانب سے ملی ہے، الہام ہوئی ہے۔ ہم اس کتاب کے ٹائٹل پیج پر جب غور کرتے ہیں تو اس میں 100 فاش قسم کی صرفی، نحوی اور بلاغۃ العربی کی غلطیاں ہیں۔
من سره ان يقرء الفاتحة مع معارفها المخفية. وحقائقها الروحانية. فليقرء تفسيرنا هذا بالتدبر و صحة النية ولا يحسر عن ساعده للمقابلة. فانه كتاب ليس له جواب. ومن قام للجواب وتنم. فسوف يرى انه تندم وتذر. فطوبى لمن حمن ما اصطفيناه. واخذ ما اعطيناه. وما كان كالذى ليس الصفاقة. وخلح الصداقة. وهذا رد على الذين يجهلوننا ويصبغون التلبيس. ويقولون ليس عندهم من علم بل عصبة من مفاليس. وانا اقررنا بان كتبنا كلما من حول الله ذى الجلال. وما نحن الا كالجهال. وان كتابى هذا بليغ. وفصيح ومليح. وانى سميتة اعجاز المسيح وقد طبع
مذکورہ عبارت کو بغور پڑھیں پہلا جملہ المخفية، دوسرا جملہ الروحانية، تیسرا
جملہ صحة النیة جبکہ چوتھا جملہ للمقابلة پر ختم ہورہا ہے۔ اگر تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کلام میں سجع نہیں ہے۔ صحة النیة دیگر تمام سے غیر مسجع و غیر مقفی ہے۔ مرزا قادیانی کے پاس ذخیرہ الفاظ تو تھا مگر اس کا عربی استعمال کرنا نہ آتا تھا۔ اسی طرح ولا يحسر عن ساعدہ للمقابلة کو بغور دیکھیں یہ کلمہ پورے کا پورا ایک لطیفہ سے کم نہیں۔ اردو میں ایک محاورہ ہے کہ مقابلہ کے لیے آستین چڑھانا، مرزا قادیانی نے اس اردو محاورہ کا عربی ترجمہ کر دیا ہے جبکہ علم ادب سے تعلق رکھنے والا بخوبی جانتا ہے کہ ہر زبان کے اپنے محاورات ہوتے ہیں۔ کہاں اردو محاورات اور کہاں عربی محاورات۔ اس جملہ کو دیکھ کر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ہے کہ ایک استاد نے شاگرد کو کہا بیٹا انگلش میں ترجمہ کرو ’’وہ گیا کہ ایسا گیا کہ گیا ہی گیا‘‘۔ شاگرد بھی مرزا قادیانی کی طرح لکیر کا فقیر تھا۔ اس نے ترجمہ کچھ یوں کیا کہ "He went k asa went k went he went" یہی کچھ حال مرزا قادیانی کی عربی کا ہے کہ اس نے اپنی اردو اور پنجابی کو عربی میں دھکیل دیا ہے۔ کاش مرزا قادیانی کی عربی کی بھی عربی ترجمہ نگاری ہو جائے۔ عربی کا ایک معمولی سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ حسر یحسر کھولنے کے معنیٰ میں آتا ہے نہ کہ چڑھانے کے معنیٰ میں۔
اس مقام پر المخفیۃ نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ الخفیة ہوتا تو کلام فصاحت و بلاغت کے مطابق ہوتا۔ المخفیۃ کلام عرب میں ایک متروک لفظ ہے جس کو اہل عرب بہت قلیل استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اس کو دیکھنا چاہیں تو اس مخفیۃ کے لفظ کو الشاملة عربی سافٹ وئیر میں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں، جب میں نے اس لفظ کو الشاملة سافٹ ویئر (جس میں چونتیس سو کتب ہیں اور ان میں سے کئی کتب پچاس پچاس جلدوں پر مشتمل ہیں) میں ڈالا تو نتائج صرف چھپن برآمد ہوئے۔ لیکن جب خفیة کے لفظ کی سرچ کی گئی تو اڑسٹھ سو پچیس نتائج برآمد ہوئے۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ یہ لفظ کلام عرب میں کالمتروک ہے۔ یہ کلمہ در حقیقت اردو یا پنجابی میں کلام میں مستعمل ہے جیسے کہ ہم کہتے ہیں مخفی اسرار و رموز، مرزا قادیانی چونکہ پنجابی تھا، اس لیے اس نے اپنی عربی کو بھی پنجابی میں ہی لکھا۔ لہٰذا فصاحة الکلام فی العرب وہی ہے جو کلمہ مستعمل ہو۔ بلاغت کی ابتدائی کتاب دروس البلاغۃ میں اس کی وضاحت دیکھی جاسکتی ہے۔ ایسے ہی آپ نے لحن خفی سنا ہوگا۔ لحن مخفی کبھی نہیں سنا ہوگا، ایسے ہی ذکر خفی، عبادت خفی اس کی مشہور مثالیں ہیں۔
عربی کا قاعدہ ہے کہ کلام وہ فصیح و بلیغ ہے جو زبان پر ثقیل نہ ہو۔ قارئین اس کا خود مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ الحفیۃ میں زبان اٹک رہی ہے، زبان پر ایک ثقل محسوس ہورہا ہے اور یہی ثقل اس کی فصاحت و بلاغت کو ختم کر رہا ہے۔
بالتدبر وصحة النبيتة میں باہم وزن نہیں ہے۔ بالتدبر کے ساتھ اگر والتفکر آتا تو کلام مسجع و مقفیٰ ہو جاتا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کلام عرب میں یہ لفظ عمومی طور پر ایسے ہی استعمال ہوا ہے۔ ہمارے اس دعوٰی کی دلیل جاننے کے لیے وہی الشاملة سافٹ وئیر جس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا تھا، اس میں ڈال کر سرچ کر کے دیکھ لیں۔ جب میں نے اس لفظ کو الشاملة میں ڈالا تو 224 نتائج برآمد ہوئے جن میں سے اکثر بالتدبر و التفکر یا پھر والتامل کے ساتھ یہ لفظ ظاہر ہوا۔ یہ ریسرچ اس بات کی دلیل ہے کہ کلام عرب میں بالتدبر کے ساتھ والتفکر یا والتامل مستعمل ہے جب کہ بالتدبر کا تنہا استعمال کلام عرب میں کالمتروک ہے۔
کھانسی، پان، زردہ اور قصیدہ اعجازیہ
- ”بار بار کھانسی اٹھی تھی فرمایا آج صاحبزادہ صاحب آپ کو کھانسی ہو رہی ہے، کیا
سبب ہے۔ میں نے عرض کیا کہ شام سے میں حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوں، پان نہیں کھایا مجھے حضور اجازت دیں تو میں گھر سے پان کھا بھی آؤں اور دو چار گلوریاں ساتھ لے آؤں۔ فرمایا جاؤ یہ لکھے جاؤ کاپی کی ضرورت ہے، پریس میں چھاپ رہے ہیں، دیر ہو جائے گی۔ میں پان لاتا ہوں۔ یہ فرما کر بالا خانہ سے نیچے کے مکان میں گئے۔ مجھے آپ کے بولنے کی آواز آتی تھی۔ فرماتے تھے جلد بتلاؤ محمود کی والدہ کہاں ہیں؟ اتنے میں حضرت محمود صاحب کی والدہ جناب ام المومنین آ گئیں۔ حضور نے فرمایا صاحبزادہ صاحب کاپی لکھ رہے ہیں، وہ گھر جائیں گے تو دیر ہو جائے گی آٹھ دس پان مع مصالحہ لگا کر دو تو حضرت ام المومنین نے دس پان ثابت لگا کر دیئے اور ایک تھالی میں رکھ کر لائے۔ میں نے پان تو منہ میں ڈال لیا الائچی بھی کھالی اور چھالیہ بھی، چونکہ زردہ نہیں تھا۔ سوچنے لگا حضرت اقدس ہنسے اور فرمایا سوچ میں کیوں پڑ گئے۔ میں نے عرض کیا کہ زردہ نہیں ہے، فرمایا زردہ کیا؟ میں نے عرض کیا کہ تمباکو فرمایا، تمباکو کو زردہ کیوں کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ چونکہ تمباکو حقہ میں
پیا جاتا ہے جو کھاتے ہیں، پینے سے کراہت کرتے ہیں، اس کا نام رفع کراہت کے لیے زردہ رکھ لیا ہے۔ اس نام میں ذرا تکلف اور نزاکت ہے اور اس کا رنگ بھی زرد ہوتا ہے اس لیے زردہ نام رکھ لیا۔ فرمایا ہندوستانی بھی تکلف اور نزاکت پر مرتے ہیں۔ ان کو معاد کا کوئی فکر نہیں ہے فرمایا اگر نہ کھاؤ تو کیا ہو، میں نے عرض کیا کہ پہلے جب میں خالی بغیر زردہ کے پان کھاتا تھا تو زردہ ذرا سا بھی پان میں پڑ جاتا تھا یا چھالیہ میں مل جاتا تو چکر آجاتا تھا اور اب جو دانتوں کے درد کے واسطے کھانے لگا تو بغیر زردہ کے مزہ ہی نہیں آتا، پان پھیکا بدمزہ معلوم ہوتا ہے۔ فرمایا ہاں کھانے والے یہی کہا کرتے ہیں پھر دوبارہ حضور جلدی جلدی بالا خانہ سے نیچے زنانہ میں گئے اور ام المومنین سے فرمایا کہ پانوں میں زردہ تو نہیں ہے۔ صاحبزادہ صاحب منہ میں پان لیے بیٹھے ہیں۔ جلدی زردہ دو جلدی، میں حضرت اقدس ہاتھ ہی میں زردہ لے کر آئے اور فرمایا لو صاحبزادہ صاحب زردہ بھی لو کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو وہ بھی کہو میں نے عرض کیا کہ روشنی کم ہے پھر حضور نیچے مکان میں تشریف لے گئے اور دس بارہ موم بتیاں لے کر آئے اور فرمایا تم لکھے جاؤ ہم روشن کردیں گے۔ سو حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے چار بتی یکدم روشن کردیں اور باقی میرے پاس رکھ دیں اور آپ قصیدہ (قصیدہ اعجازیہ) لکھنے میں مشغول ہو گئے“۔ (تذکرہ المہدی صفحہ 17 تا 18 از سراج الحق نعمانی قادیانی)
مرزا قادیانی کی گستاخی
آنجہانی مرزا قادیانی نے حضور نبی رحمت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے لکھا:
- ترجمہ: ”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بعض خفیف امتحان بھی رکھے
ہوئے تھے جیسا کہ یہ بھی دستور تھا کہ کوئی شخص آنحضرت ﷺ سے کسی قسم کا مشورہ نہ لے جب تک پہلے نذرانہ داخل نہ کرے۔“
(رسالہ الوصیت ضمیمہ صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 328 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی اس مذکورہ بکواس اور ہفوات کا ثبوت قرآن وحدیث میں سے دے سکتا ہے؟ جبکہ قرآن کہتا ہے:
- ترجمہ: ”اور (یاد رکھو) نہ تمہارے اموال اور نہ ہی تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو
تمہیں ہمارا قرب بخش دیں۔ مگر جو ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا (سے ہی) ہمارا قرب نصیب ہوگا۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے لیے دوگنا صلہ ہے ان کے عملوں کا اور وہ بالا خانوں میں امن وامان سے رہیں گے‘‘۔ (سبا: 37)
- ترجمہ: ”فرمائیے (لوگو!) جو معاوضہ میں نے تم سے مانگا ہے وہ تم اپنے پاس رکھو۔
میری (دلسوزیوں) کا اجر تو (میرے) اللہ کے ذمہ ہے، اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا: 47)
- ترجمہ: ”اور اے میری قوم! میں طلب نہیں کرتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال۔
نہیں میرا اجر مگر اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور میں (تمہیں خوش کرنے کے لیے) ان کو نکالنے والا نہیں جو ایمان لے آئے ہیں۔ بے شک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور البتہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم ایسی قوم ہو جو (حقیقت سے) ناواقف ہے۔ (ھود: 29)
- ترجمہ: ”آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر اور نہ میں بناوٹ کرنے
والوں میں سے ہوں‘‘۔ (ص: 86)
- ترجمہ: ”یہ وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان
لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے۔ آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا (اس دعوتِ حق) پر کوئی معاوضہ بجز قرابت کی محبت کے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی ہم دوبالا کردیں گے اس میں اس کے لیے حسن۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔‘‘ (شوریٰ: 23)
- ترجمہ: ”دریں اثنا آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا۔ اس نے کہا
اے میری قوم! پیروی کرو رسولوں کی۔ پیروی کرو ان (پاکبازوں) کی جو تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے اور وہ سیدھی راہ پر ہیں‘‘۔ (یٰسین: 20، 21)
جھوٹ پر جھوٹ
مرزا قادیانی نے ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن قیمؒ کے بارے میں یہ کذب بیانی کی:
- ”ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں،
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں‘‘۔
(کتاب البریہ صفحہ 203 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
آئیے کذاب قادیان کے جھوٹ کا پول کھولتے ہیں، امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
- ❑ ”نبی ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی خبر دی ہے
اور فرمایا ہے کہ ”وہ امت کیسے ہلاک ہوگی جس کے شروع میں، میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔“
(زیارۃ القبور والاستنجاد بالمقبور صفحہ: 49)
ابن تیمیہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر موجود ہونے کا عقیدہ اپنی کتاب ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ میں بے شمار جگہ پر ذکر کیا ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے کیا لکھا ہے:
- ❑ ”اور مسیح بن مریم علیہم السلام زندہ ہیں۔ ان کو موت نہیں آئی اور ان کی غذا وہی
ہے جو فرشتوں کی غذا ہے۔“
(التبیان فی ایمان القرآن صفحہ: 580)
اور اپنی کتاب (ہدایۃ الحیاری صفحہ 384، 385) میں لکھتے ہیں:
- ❑ ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول (عیسیٰ علیہ السلام) کی تکریم کی اور
ان کی حفاظت کی تاکہ بندروں کے بھائی (یہودی) ان تک نہ پہنچ سکیں جیسے کہ عیسائی خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ لیا تھا، بلکہ اللہ نے ان کی تائید اور مدد کرتے ہوئے انہیں اپنی طرف اس طرح اٹھا لیا کہ ان کے دشمن انہیں ایک کانٹا بھی نہ چبھو سکے اور نہ ہی کوئی تکلیف دے سکے، پس اللہ نے ان کو اپنی طرف رفع کر لیا اور اپنے آسمان میں ان کی رہائش رکھی اور وہ انہیں دوبارہ زمین کی طرف لوٹائے گا۔“
مرزا قادیانی کا حضور نبی کریم ﷺ پر جھوٹ
- ❑ ”اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم ﷺ پر اعتراض ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام
کیوں نہیں ہوتا تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا ’ایں مشت خاک را گر نبخشم چہ کنم۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 598 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانی تحقیق
- ❑ ”بعض درختوں کے پھل جب پختہ ہوتے اور کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ
سب کے سب پرندے بن جاتے ہیں اور دوسرے درختوں کی طرف پرواز کرتے ہیں جیسا کہ
گولر کا پھل بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت صفحہ 328 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 343 از مرزا قادیانی)
حدیث کے نام پر جھوٹ
- ’’احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشارِ نورانیت اس
حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔‘‘
(ضرورۃ الامام صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 475 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے دور میں جن عورتوں کو الہام ہوتا تھا کیا قادیانی اس کی فہرست بمعہ الہام فراہم کر سکتے ہیں؟ ان قادیانی بچوں کے نام بتائیں جو نبوت کرتے تھے؟ ان لوگوں کے نام بھی بتائیں جن سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مکالمہ کیا؟
مرغ سے مراد لڑکا
- ’’خواب دیکھا کہ ایک مرغ میرے بستر (پر) بیٹھا ہے۔ میں نے اس کی ٹانگ
(پر) سوٹی ماری اور پھر پکڑ کر اپنی زوجہ کو دیا جس سے مراد لڑکا کہتے ہیں۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 438 از مرزا قادیانی)
کوئی میرے دلدار کی خبر لا دے
’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح کسی اور کے ساتھ ہوگیا تو مرزا قادیانی کو یقین نہیں آتا تھا کیونکہ اس کے ’’یلاش‘‘ نے اسے کچھ اور بتایا تھا۔...... تو مرزا نے خبر کی تصدیق کے لیے اپنے ایک مرید کو یہ خط لکھا، مرزا کی ایک ’’نامحرم‘‘ لڑکی کے بارے میں بے قراری اور بے تابی ملاحظہ کریں!
- ’’مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب
میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کی نسبت جو آپ نے خبر دی تھی کہ بیس روز سے نکاح ہو گیا ہے۔ قادیان میں اس خبر کی کچھ اصلیت معلوم نہیں ہوتی۔ یعنی نکاح ہو جانا کوئی شخص بیان نہیں کرتا۔ لہٰذا مکلّف ہوں کہ دوبارہ
اس امر کی نسبت اچھی طرح تحقیقات کر کے تحریر فرما دیں کہ نکاح اب تک ہوا یا نہیں اور اگر نہیں ہوا تو کیا وجہ ہے؟ مگر بہت جلد جواب ارسال فرما دیں اور نیز سلطان احمد کے معاملہ میں ارقام فرماویں کہ اس نے کیا جواب دیا ہے؟
28 ستمبر 1891ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گوداسپور’’
(مکتوبات احمد جلد دوم طبع جدید صفحہ 582 از مرزا قادیانی)
کھوچل مسیح
”مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب عنایت نامہ پہنچا۔ چونکہ آپ کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ وہ سر دفتر صاحب جن کی لڑکی سے رشتہ کی درخواست ہے۔ کچھ متلون مزاج اور تیز مزاج ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ خاص طور پر پہلے ان سے کھلے کھلے طور پر تذکرہ کر لیں کہ چھوٹی لڑکی سے ناطہ ہوگا اور نیز یہ کہ شریعت کی پابندی سے نکاح ہوگا۔ کوئی اسراف کا نام نہیں ہوگا۔ شریفانہ رسموں میں سے جو کپڑے زیور کی ان کے خاندان میں رسم ہو۔ اس سے وہ خود اطلاع دے دیں۔ تا وہ تیار کیا جاوے اور ان سے پختہ اقرار لے لیں کہ وہ اس پر قائم رہیں اور نیز یہ قابل گذارش ہے کہ اگر میں اس جگہ سے کوئی عورت بھیجوں تو وہ حجام عورت ہوگی اور وہ اکیلی نہیں آسکتی۔ کیونکہ جوان عورت ہوگی۔ اس کے ساتھ اس کا خاوند جاوے گا اور اس اجرت میں سات معہ آٹھ روپیہ اس کو دینے پڑیں گے اور دو آدمیوں کے آنے جانے کا دو روپیہ یکہ کا کرایہ ہوگا اور چھ سات روپیہ ریل کا کرایہ دو آدمیوں کی آمد و رفت کا ہوگا۔ غرض اس طرح ہمیں قریباً بیس روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ لیکن اگر آپ انبالہ سے کسی عورت کو میری طرف سے تین چار روپیہ دے دیں تا وہ لڑکی کو دیکھ کر دیانت سے بیان کر دے تو خرچ کی کفایت رہے گی۔ ہم تو اس قدر خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن ایسا نہ ہو کہ گورداسپورہ کے معاملہ کی طرح سب کچھ خرچ ہوکر پھر ان کی طرف سے جواب ہو جاوے۔ آپ مہربانی فرما کر کوشش کریں کہ کوئی حجام
عورت جو دیانت دار معلوم ہو۔ اسے کچھ دے کر بھیج دیں۔ وہ کل حلیہ بیان کر دے کہ آنکھیں کیسی ہیں، ناک کیسا ہے، گردن کیسی ہے، یعنی لمبی ہے یا کوتاہ اور بدن کیسا ہے، فربہ یا لاغر، منہ کتابی چہرہ ہے، یا گول، سر چھوٹا ہے یا بڑا، قد لمبا ہے یا کوتاہ، آنکھیں کبری ہیں یا سیاہ، رنگ گورا ہے یا گندمی یا سیاہ۔ منہ پر داغ چیچک ہیں یا نہیں یا صاف۔ غرض تمام مراتب جن کے لیے یہاں سے کسی عورت کو بھیجنا تھا، بیان کر دے اور دیانت سے بیان کرے۔ اس سے ہمیں فائدہ ہو گا چونکہ اس کا مجھے زیادہ فکر ہے۔ میری طرف سے یہ خرچ دیا جاوے۔ میں تو اب بھی روپیہ خرچ کر کے کسی عورت کو اس کے خاوند کے ساتھ بھیج سکتا تھا۔ مگر اندیشہ ہوا کہ کچی بات میں گورداسپور کی طرح صورت پیش نہ آجائے۔ اگر آپ توجہ فرمائیں گے تو آپ کو انبالہ شہر سے بھی کوئی دانا اور حسن و قبح کو پرکھنے والی اور دیانت دار عورت میسر آ جائے گی۔ آپ کسی سے مشورہ کر کے ایسی عورت تلاش کر لیں اور یہ غلط ہے کہ اخویم مولوی محمد علی صاحب کی پہلی عورت موجود ہے۔ مدت ہوئی کہ وہ اس پہلی کو طلاق دے چکے ہیں۔ اب کوئی عورت نہیں، پوری تفتیش کے بعد آپ جلد جواب دیں۔
31 /اکتوبر 1899ء ضلع گورداسپور
والسلام خاکسار غلام احمد عفی
(مکتوبات احمد جلد دوم طبع جدید صفحہ 648 از مرزا قادیانی)
بیوقوفی کی تاویل
آنجہانی مرزا قادیانی اپنا ایک ”معجزہ“ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ❑ ”پچاسواں نشان۔ ایک دفعہ مجھے لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا اور میرے
ساتھ وہی شیخ حامد علی اور دوسرا شخص فتح خان نام ساکن ایک گاؤں متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا اور تیسرا شخص عبدالرحیم نام ساکن انبالہ چھاؤنی تھا اور بعض اور بھی تھے جو یاد نہیں رہے۔ جس صبح ہم نے ریل پر سوار ہونا تھا، مجھے الہام کے ذریعہ سے بتایا گیا تھا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہو گا اور کچھ حرج بھی............ جب ٹکٹ لینے کا وقت آیا تو میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ تا ٹکٹ کے لیے روپیہ دوں تو معلوم ہوا کہ وہ رومال جس میں روپیہ تھا، گم ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے
کہ چوغہ اتارنے کے وقت کہیں گر پڑا۔ مگر مجھے بجائے غم کے خوشی ہوئی کہ ایک حصہ پیشگوئی کا پورا ہو گیا۔ پھر ہم ٹکٹ کا انتظام کر کے ریل پر سوار ہو گئے۔ جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو شاید اس وقت دس بجے رات کا وقت تھا اور وہاں صرف پانچ منٹ کے لیے ریل ٹھہرتی تھی۔ میرے ایک ہمراہی شیخ عبدالرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لودہانہ آ گیا؟ اس نے شرارت سے یا کسی اپنی خود غرضی سے جواب دیا کہ ہاں آ گیا۔ تب ہم مع اپنے تمام اسباب کے جلد جلد اتر آئے۔ اتنے میں ریل روانہ ہو گئی۔ اترنے کے ساتھ ہی ایک ویرانہ اسٹیشن دیکھ کر پتہ لگ گیا کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ وہ ایسا ویرانہ اسٹیشن تھا کہ بیٹھنے کے لیے چارپائی بھی نہیں ملتی تھی اور نہ روٹی کا سامان ہو سکتا تھا مگر اس امر کے خیال سے کہ اس حرجہ کے پیش آنے سے دوسرا حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو گیا۔ اس قدر مجھے خوشی ہوئی کہ گویا اس مقام میں کسی نے ہمیں بھاری دعوت دی اور گویا ہر ایک قسم کا خوش مزہ کھانا ہمیں مل گیا‘‘۔
(حقیقت الوحی صفحہ 246 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 256 از مرزا قادیانی)
قادیانی ترجمہ
- ’’چولہ صاحب پر بار بار قرآن کی اس آیت کو لکھا ہے کہ قل هو الله احد الله
الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفوا احد یعنی کہہ خدا وہ عظیم الشان خدا ہے جو اس سے پاک ہے جو کسی عورت کے پیٹ سے نکلے۔‘‘
(ست بچن صفحہ 139 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 263 از مرزا قادیانی)
حدیث کے نام پر!
’’حدیث میں آیا ہے کہ خدا شیرنی کی طرح جس کا کوئی بچہ اٹھا لے جاوے، اس پر جھپٹتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل طبع جدید صفحہ 438 از مرزا قادیانی)
مربی حضرات سے درخواست ہے ایسی کوئی حدیث پیش کر دیں؟ کیا کوئی قادیانی اتنی ہمت رکھتا ہے؟
مرزا مسرور اپنی بیگم کے برقعہ پر شرمندہ؟
جب سے یورپ میں برقعہ پر بحث ہوئی ہے، مرزا مسرور کی بیگم غائب۔ کسی سفر پر، کسی جگہ بھی بیگم کی تصویر نہیں اور نہ ہی کسی اور خاتون خانہ کی۔ وجہ ہے برقعہ۔ اگر خاندان کی عورتیں برقعہ نہ پہنے ہوئے دیکھی گئیں تو جماعت کو کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ ہوتی ہے منافقت کی سزا اور ان تمام مرزا خاندان کے سرداروں کی کئی دہائیوں سے عوام پر برقعہ کے مسئلہ پر ظلم ہو رہا ہے، اس کا حساب دینا پڑے گا۔ اس ایک مسئلہ سے ہی اس مذہب کی منافقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
سلطان القلم کی سرقہ بازی
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے 85 کے قریب کتابیں لکھیں۔ وہ خود کو ”سلطان القلم“ کہلواتا تھا۔ ناقابل تردید شواہد کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی کتابیں دوسروں کا چربہ اور سرقہ پر مبنی ہیں۔ وہ اپنے دور کے جید دانشوروں سے علمی بھیک مانگتا اور پھر اس پر قبضہ کر لیتا۔ اس سلسلہ میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب ”چند ہم عصر“ میں مولوی چراغ علی کے حالات و واقعات تحریر کرتے ہوئے یہ انکشاف و اکتشاف کیا:
- ”اس موقع پر یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم
کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پر زور کتاب براہین احمدیہ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔ ...... مرزا صاحب اپنے ایک خط میں کہتے ہیں کہ ”ماسوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں“۔ ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں ”آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا، اس لیے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں، اور میں نے بھی ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے، تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علی حقانیۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اُس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے
اُن کو زیب و زینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرما دیں اور جہاں تک جلد ہو سکے، مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرما دیں‘‘۔ اس کے بعد پنجاب میں آریوں کے شور و شغب اور عداوت اسلام کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے کہ ”دوسری گزارش یہ ہے کہ اگر چہ میں نے ایک جگہ سے وید کا انگریزی ترجمہ بھی طلب کیا ہے اور امید کہ عنقریب آجائے گا اور پنڈت دیانند کی وید بھاش کی کئی جلدیں بھی میرے پاس ہیں، اور ان کا ستیارتھ پرکاش بھی موجود ہے۔ لیکن تاہم آپ کو بھی تکلیف دیتا ہوں کہ آپ کو جو اپنی ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم ہوئے ہوں یا جو وید پر اعتراض ہوتے ہوں، اُن اعتراضوں کو ضرور ہمراہ دوسرے مضمون اپنے کے بھیج دیں لیکن یہ خیال رہے کہ کتب مسلمہ آریہ سماج کی صرف وید اور منو اسمرت ہے....... سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا‘‘۔ ایک اور خط مورخہ 19 فروری 1879ء میں تحریر فرماتے ہیں ”فرقان مجید کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے نہ موجب ناگواری۔ میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا۔ آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القا ہوں، میرے پاس بھیج دیں، تا اُسے رسالہ میں حسب موقع اندراج پا جائے۔ یا سفیر ہند میں لیکن جو براہین (جیسے معجزات وغیرہ) زمانہ گزشتہ سے تعلق رکھتے ہوں، اُن کا تحریر کرنا ضروری نہیں کہ منقولات مخالف پر حجت قویہ نہیں آسکتیں۔ جو نفس الامر میں خوبی اور عمدگی کتاب اللہ میں پائی جائے یا جو عند العقل اُس کی ضرورت ہو، وہ دکھلانی چاہیے۔ بہر صورت میں اُس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی۔ آپ بمقتضا اس کے کہ الکریم اذا وعد وفا مضمون تحریر فرما دیں۔ لیکن یہ کوشش کریں کہ کیف ما اتفق مجھ کو اس سے اطلاع ہو جائے اور آخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ہم کو اور آپ کو جلد تر توفیق بخشے کہ منکر کتاب الٰہی کو دنداں شکن جواب سے ملزم اور نادم کریں، ولاحول ولاقوۃ الا باللہ‘‘۔ اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ 10 مئی 1879ء میں تحریر فرماتے ہیں ”کتاب (براہین احمدیہ) ڈیڑھ سو جزو ہے جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے اور آپ کی تحریر ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی‘‘۔ ان تحریروں سے
ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔
(چند ہم عصر از بابائے اردو مولوی عبدالحق)
مرزا غلام احمد قادیانی ...... ابوالقاسم حریری، بدیع الزماں ہمدانی
’’ادبی سراغرسان کی فہرست میں ایک سے ایک نام آئے ہیں، ان لوگوں نے دوسروں کی متاع عزیز پر بے تکلف چھاپہ مارا ہے۔ عموماً اس قسم کے لوگوں میں کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو کوچہ علم وادب میں نئے نئے داخل ہوں۔ جن کو حصول شہرت کی آرزو بے چین رکھتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ جلدی سے نام پیدا ہو جائے حالانکہ علم وادب ہو یا کوئی اور ہنر، اسکی راہ میں بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، مشق وریاضت کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کے بعد ایک مقام حاصل ہوتا ہے پھر لوگوں کی نظریں ان کی جانب اٹھنے لگتی ہیں اور ان کے نام، اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوعمری وجواں سالی کے زمانے میں شہرت طلبی جن لوگوں کو اکساتی ہے، وہ دوسروں کی تحریروں پر چھاپہ مارتے ہیں اور ان کو اپنے نام سے چھپواتے ہیں تو اس حرکت سے بڑا نقصان ان کو پہنچتا ہے۔ بدنامی تو الگ ایک چیز ہے، خود ان کی اپنی صلاحیت تخلیق بھی متاثر ہوتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو کسی نہ کسی اعتبار سے نمایاں ہو چکے ہوں، جانے پہچانے بھی جاتے ہوں، وہ اگر دوسرے اہل قلم کی تحریریں اڑا لینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تو ان کی یہ حرکت نوعمروں کی شہرت طلبی سے بھی کہیں زیادہ ان کی طبعی خرابی کی غماز ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ چوری ہے اور چوری بہت بری چیز ہے پھر بھی وہ چوری کرتے ہیں۔
ادبی سراغرسان نے ابتک جن لوگوں کا تذکرہ کیا ہے، وہ اسی دوسری قسم کے ہیں، جو کسی نہ کسی حیثیت سے متعارف ہو چکے تھے۔ یہ اگر کسی اور کی محنت وکاوش کے ذخیرے سے استفادہ کرتے، اس کو اپنی زبان میں منتقل کرتے، اس کا ترجمہ یا تلخیص کرتے، اپنے کسی مضمون یا مقالے یا کتاب میں اس کے اقتباسات درج کرتے اور اس کا حوالہ دیتے تو یہ علمی کام بھی ہوتا۔ خود ان کا اور ان کی تحریروں کا مرتبہ بھی بڑھتا اور بددیانتی کا داغ لگنے سے بھی ان کا دامن محفوظ رہتا۔
یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس قسم کے لوگ صرف ہمارے ہی زمانے میں ہیں، اچھے برے ہر زمانے میں ہوئے ہیں۔ یہ انسانی طبیعت کا ایک بڑا میلان ہے اور تزکیہ نفس سے
محرومی کا نتیجہ۔ ایسے لوگ کچھ نہ کچھ ہر زمانے میں رہے ہوں گے۔ قوموں کے اندر جب ابھرنے کا جذبہ ہوتا ہے، ان میں معاشی فارغ البالی اور نفس کی پاکیزگی عام ہوتی ہے اور محنت و مشقت کی عزت و توقیر ہوتی ہے تو چوری اور ڈکیتی کی واردات بہت کم ہوتی ہے۔ اسی طرح جب عملی و اخلاقی ماحول ہوتا ہے، علم عام ہوتا ہے اور مواقع سب کو میسر ہوتے ہیں تو علمی چوری بلکہ ہر قسم کی چوری، ڈکیتی اور بددیانتی بھی بہت کم ہوتی ہے، اس لئے کہ قانون و اصول اور اخلاقی ضابطوں کے اثرات اور عیب و ہنر کے احساسات سارے معاشرے پر سایہ فگن رہتے ہیں۔ اور لوگ خود غرضی و نفس پرستی کے بجائے اپنی قوم کو اور اس کے افراد کو زیادہ سے زیادہ مفید ماحول اور عزت و وقار کی فضا مہیا کرنے کی دھن میں لگ جاتے ہیں اور ان کے اندر ایک روح الاجتماع کارفرما ہو جاتی ہے، اور وہ خوب سے خوب تر کی جانب بڑھنے لگتے ہیں، لیکن جب یہ نہیں ہوتا، ان کی روح الاجتماع کمزور یا ناپید ہونے لگتی ہے تو فساد نفس ابھرنے لگتا ہے اور یہی فساد نفس ہے جو مختلف روپ اختیار کرتا ہے اور بھیس پر بھیس بدلنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ سرقہ بھی فساد نفس ہی کی ایک شکل ہے۔
لوگ ایسی حرکت تو کر جاتے ہیں مگر یہ بات ان کے ذہنوں سے اتر جاتی ہے کہ کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی شخص ان کی اس چوری کو بھی پکڑے گا ضرور۔ اور سرقہ بہر حال سرقے ہی کی صورت میں سب کی نظروں کے سامنے آئیگا۔
مرزا قادیانی صاحب اپنے دعوؤں میں ترقی کرتے ہوئے معلوم نہیں کیا کیا ہو گئے، اور بڑھتے بڑھتے اظہار ترقی کے لئے سرقے تک اتر آئے جس زمانے میں ان کی کتاب اعجاز المسیح چھپی، اسی زمانے میں ایک ماہر زبان عربی ممتاز الافاضل نے خالص ادبی و لسانی اعتبار سے نحوی اور صرفی غلطیوں کو نمایاں کیا تھا۔ اس کتاب پر انہوں نے خاصہ طویل تبصرہ مطبع فیضی لاہور سے حسب فرمائش سید مہدی حسین ترمذی چھپا تھا، یہ تبصرہ بھی چونکہ ”چہ دلاور است دزدے“ کے تحت آتا ہے، اس لئے ہم اس کا بھی کچھ حصہ درج کئے دیتے ہیں۔ فاضل تبصرہ نگار کو کتاب کے نام نے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ”یہ کتاب معجزہ کیسے بن سکتی ہے جس میں ابو القاسم حریری اور بدیع الزماں ہمدانی کے جملے کے جملے اڑا کر درج کر لئے گئے ہیں اور پھر نحوی و صرفی غلطیاں الگ کی گئی ہیں۔“ حریری و ہمدانی کی روحیں اس پر تو اتنی بیقرار نہیں ہوئی ہونگی کہ ان کی عبارتوں کا سرقہ ہوا مگر اس بنا پر وہ یقیناً بہت زیادہ تڑپی
ہونگی کہ ان کے یہ جواہر پارے کن ہاتھوں میں چلے گئے اور ان کی فکر وفن کے بیش بہا موتی کس طرح خاک میں رلے کہ جس شخص کو صنائع وبدائع اور مناسبت لفظی ومعنوی کی نزاکتیں تو الگ رہیں تذکیر و تانیث کی بھی خبر نہ ہو، اس نے غضب ہی کیا کہ اس خزانہ ادبی پر یوں ہاتھ مارا۔ فاضل تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ ”اول تو سرقہ فرمایا پھر یہ بھی لکھا کہ حریری اور بدیعی میرے سامنے پیشہ برابر بھی وقعت نہیں رکھتے......، چہ دلاور است دزدے“...... ممتاز الافاضل نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”جہاں تک سمجھ میں آیا ہے بیچارے حریری کے مقامات کو خوب ہی لوٹا ہے کیونکہ معلوم تھا کہ اب قطع ید (چور کے ہاتھ کاٹنے) کا حکم تو جاری ہو نہیں سکتا“۔
”مسیلمہ نے باوجود عرب ہونے کے اعجاز فی اللسان ہونے کا دعویٰ کیا...... تو اپنی چال بھی بھولا۔ منجملہ اس کی ان آیات کے جن کو وہ آیات سمجھتا تھا ایک یہ بھی ہے کہ
ان الذين يغسلون ثيابهم ولا يجدون ما يلبسون اولئک هم المغسلون“
آخر میں بجز مضحکہ کے اور کوئی بات اسے حاصل نہ ہوئی۔
مرزا کے اعجاز میں دیکھئے:۔
تعاميت او تماریت عند غلوائک وفعلت ما فعلت وسدرت فی خیلائک۔
حریری نے اپنے مقامہ اول میں لکھا تھا:۔
ايها السادر فی غلوائه السادل ثوب خیلائه۔
آپ نے حریری کی اسی عبارت کو اپنی تحریر میں بگاڑ کر لکھا لیکن آپ کو وہ دستگاہ کہاں جو حریری کو حاصل ہے؟ اس نے تو ہر لفظ کو اس کے مناسب الفاظ کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ مگر آپ نے ایک ہی لکڑی سے سب کو ہانکا ہے۔ اس نے سدول (کے لفظ) کو ثوب خیلاء کے ساتھ استعمال کیا تھا، آپ نے ”سدرو“ (کے لفظ) ہی کو الٹ کر اس قافیہ کے ساتھ استعمال کیا اور غلواء کے ساتھ مماراۃ اور تعامی کو دخل دیا، حالانکہ صاحبان فن پر مخفی نہیں ہے کہ غلواء میں تعامی اور مماراۃ کو چنداں دخل نہیں۔ (دیکھئے) اسی تعامیت کے کلمہ کو حریری نے جب صرف کیا تو یوں کہا تھا کہ ”وتجلّی لک العبر فتعامیت“ اب اہل انصاف دیکھیں کہ کون کامل ہے اور کون ناقص۔
مرزا نے اپنی کتاب کی تعریف میں یہ عبارت درج کی:۔
وانہ کنز المعارف ومدینتہا وماء الحقائق وطینتہا بدیع نے طرفہ کی تعریف میں یوں لکھا: ہوما والاشعار وطینتہار وکنز القوافنی ومدینتہا. صرف فقروں کو الٹ دیا ہے (ص: 55)۔ باقی وہی ترکیب ہے جو بدیع ہمدانی کی ہے۔
مرزا نے ص: 108 پر لکھا:۔ فجعل الشیخ ینضنض تضنضنة التصل وتحملق حملقته البازی المطل. حریری نے مقامہ نمبر 23 میں لکھا تھا:۔ فوجب علی الذین یضنضنون تضنضنة وتحملقون حملقة البازی المطل. آپ نے صرف واحد کو جمع سے بدل دیا۔
مرزا نے لکھا ہے: تاسوو اجراحہم وتریش جناحہم. حریری نے مقامہ نمبر 29 میں لکھا تھا۔ من تاسو جراحک او تریش جناحک.
مطلب سرقے سے ہے، تغییرِ ضمیر سے سرقہ چھپ نہیں سکتا۔ مگر آپ نے ”تاسو“ کے آگے ایک الف جمع بھی لکھ دیا ہے، یہ آپ کی لیاقت ہے حالانکہ وہ واحد ہے۔
مرزا کی یہ عبارت دیکھئے: ففیہ بلاد الاسرار وحصونہا وسہل الحقائق وحزونہا وعیون البصیرہ وعیونہا وخیل البراہین و متونہا.
بدیعی نے بیسویں مقامہ میں ابوالفتح کی زبانی کہا تھا سلوا عنی البلاد وحصونہا والجبال وحزونہا والاودیة وبطونہا والبحار وعیونہا والخیل و متونہا.
بدیعی نے جبال اور حزون کہا تھا۔ آپ نے جبال کو بدل کر سہل رکھ دیا۔ لیکن بدیعی کا فہم آپ کو کہاں نصیب، جبال کا بدل دینا تو سہل تھا مگر مناسبت کا پیدا کرنا پہاڑ ہو گیا۔ (یہ تو سرقے کی ایک فہرست تھی) اب اغلاط ملاحظہ فرمائیے اور اپنے کیے سے توبہ کیجیے۔
کتاب اعجاز المسیح روحانی خزائن کی جلد 18 کے صفحہ 3 پر ہے۔ "ولوی الیہم کزافرہ" ...... لوئ کو لازم استعمال کیا ہے حالانکہ یہ متعدی ہے۔
ص: 6، 7 پر یہ عبارت لکھی ہے۔ "وکفل امورہم کما ہی عادتہ باصفیائہ وشرح صدور ہم کما ہی سیرتہ فی اولیائہ"...... ہی ہی کی ضمیریں تو موجود ہیں مگر مرجع ندارد۔ اگر عادتہ اور سیرتہ کو مرجع قرار دیجئے تو یہ آپ کی لیاقت ہے۔
صفحہ 11 پر ہے۔ "فسقوہ واکفروہ"۔ کسی کو کفر کی طرف نسبت دینے کیلئے کفروہ باب تفعیل سے آتا ہے، باب افعال سے نہیں۔ پیغمبر جدید کو "صرف میر" بھی یاد نہیں، اے واہ۔
ص: 13، 14 پر ہے۔ "ترکوا الدین غریبا کشہداء الکربلاء"۔ اس جملے میں دو غلطیاں ہیں، ایک تو یہ ہے کہ دین کو غریب سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا ماخذ معلوم نہیں۔ دوسرا لفظ کربلاء علم غیر صفت ہے۔ اس پر الف لام کس قاعدے سے لایا گیا ہے۔ اگر الکربلاء کسی عرب نے استعمال کیا ہو تو دکھلائیے۔
ص: 15 پر ہے "بل یریدون ان یسفکو قاتلہ ویغتالون" اس جملے میں بھی دو غلطیاں ہیں، اول تو یسفکوا دم قاتلہ یا یسفکون دمہ کہنا چاہئے تھا۔ دوسری غلطی یہ کہ باوجود ان ناصبہ کے یغتالون سے نون اعرابی نہیں گرایا گیا حالانکہ معطوف علیہ سے نون حذف ہو گیا ہے۔
ص: 17 پر ہے۔ "یقعون من الشح علی کل غضارۃ ولو کان فیہ لحم فارۃ" اس میں فیہ کی ضمیر غضارۃ کی طرف راجع ہے۔ مرجع مونث، ضمیر مذکر ، عجب تماشا ہے۔
یہی حال ص: 22 پر ہے "من ھذا الرحیق" کہ مشار الیہ مونث ہے اور اسم اشارہ مذکر ۔
ص: 23 پر ہے "تنکرون باعجازی" ب سے صلہ انکار کا؟ بہت صحیح، واہ۔
ص:27 پر ہے ”ثم طفق المخالفون یمدحونہ علی فتح المیدان“ خوب میدان ہے۔ میدان فتح کرنا اردو کا محاورہ ہے۔ عربی داں لوگ یوں نہیں لکھتے۔ ذرا عرب کے اشعار و محاورات کو دیکھئے۔
صفحہ 29 پر ہے، ”ولکن الله اخرجنی لہذا الوغی“ اس میں ھذا مذکر ہے اور وغی مونث۔ کیا اچھی ترکیب ہے، نر اور مادہ کا جوڑ خوب لگایا ہے اگرچہ عبارت غلط ہوگئی۔
اور ص:29 ہی پر ہے ”وان ارم جدران الاسلام“ ترمیم سے ارم خوب نکالا بے مثل۔ اور ایک جملہ یہ بھی ہے ”وقطعت النحور والا عناق من منجنیق“ مگر منجنیق سے تو آج تک کسی کی گردن نہیں کاٹی گئی۔
ص:41 پر ہے ”ومنبع اللو لوء والمرجان“ لولو اور مرجان کے واسطے منبع نہیں ہوتا۔
ص:47 پر ہے ”خفایا القرآن لا یظہر الا علی الذی ظہر“ خفایا کی طرف ضمیر مذکر ”یظہر“ کی راجع ہے، دوسرے ”ظہر علیہ“ کے معنی غلب علیہ کے آتے ہیں۔ ظہور کے معنی میں نہیں۔
ص:48 پر ہے، ”ولا یمسہ الا الذی کان من المتطہرین“ یہ مضمون قرآن مجید سے چرایا تو گیا مگر چوری بھی نہ بن پڑی۔ عبارت غلط ہوگئی فقط۔ اس عبارت میں یمس مضارع ہے اور کان ماضی۔
ص:62 پر ہے ”سفرت عن وجہھا“ سفرت غلط اسفرت صحیح ہے۔ سفرت کے ساتھ ”عن“ کا استعمال بے محل۔
ص:63 پر ہے
”ازال وسخ مئین“ مئین کے وسخ آج ہی سنے۔
ص:89 پر ہے۔
”هو اثر الکی فی اللسان العربیہ“ لسان اس معنے میں مذکر ہے پھر ”عربیہ“ اس کی صفت کیونکر ہو سکتی ہے۔ دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں استعمال کیا ہے۔ لسان عربی مبین۔ یعنی ”عربی“ فرمایا ”عربیہ“ نہیں فرمایا۔
ص:160 پر سطر 9 دیکھیے، لکھا ہے:
”وعطلت العشار“ قرآن مجید کے معنی نہیں سمجھے۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ ریل چلی، اونٹوں کی سواری کی ضرورت نہ رہی۔ مقصود یہ ہے کہ زمانہ بہت سہل ونرم ہو گیا۔ حالانکہ عطلت العشار سے نہایت سختی مقصود ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عشار ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جن کے دس مہینے کے حمل ہوں۔ عرب ان کو بہت محبوب رکھتے ہیں لیکن جب وہ معطل کر دی جائیں تو ظاہر ہے کہ بہت سخت زمانہ ہو گا...... اس سے معلوم ہوا کہ آپ قرآن کو نہیں سمجھے۔ بیکار اقتباس فرماتے ہیں۔“
تذکرہ تو ہمیں اس مضمون میں صرف سرقے کا کرنا تھا۔ کہ یہی ادبی سراغرساں کا فریضہ ہے لیکن کیا کیجئے زبان کے قواعد، نحو وصرف، صنائع وبدائع، مناسبات لفظی اور پھر تذکیر و تانیث کے مسائل بھی اپنی جگہ بہت اہم ہیں، اس لیے چند غلطیوں کی جانب بھی اشارہ کر دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ”اعجاز المسیح“ کو دیکھا ہو یا دیکھیں تو وہ کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جائیں کہ ایسی غلطی بھی کی جاسکتی ہے۔ زبان کوئی سی بھی ہو، اس کے قواعد واصول سے آدمی واقف نہ ہو تو ہمیشہ غلطی کرے گا۔ چہ جائیکہ عربی زبان جو قرآن وحدیث کی زبان ہے، کوئی اس کو نہ جانے تو اس سے فاش غلطیوں کے سرزد ہونے کا بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کتاب کا نام مرزا نے اعجاز المسیح رکھا تھا مگر اس کے تقریباً ہر صفحے پر سرقے اور لسانی و ادبی غلطیوں ہی کا ”اعجاز“ نمایاں نظر آتا ہے۔ فاضل تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ غلطیاں اتنی ہیں کہ ”ہم کہاں تک لکھیں“۔ اور ہم نے بھی اس مضمون میں سے چند ہی مثالیں یہاں دی ہیں اور انہیں پر اکتفا کیا ہے، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ سب عربی زبان کے جملے اور عبارتیں ہیں، اگر ان سب کو درج کیا جاتا تو مضمون جو یوں بھی ثقیل ہے اور ثقیل ہو جاتا، اور اگر ترجمے بھی ساتھ ہی درج کئے
جاتے تو بہت طویل ہو جاتا۔
(جریدہ نمبر 27 چہ دلاور است مشرق و مغرب میں سرقہ بازی کی تاریخ، شعبہ
تصنیف وتالیف ترجمہ جامع کراچی، مضمون نگار سید حسن مثنیٰ ندوی صفحہ نمبر 268)
مرزا قادیانی کا دوسروں کی کتابوں سے استفادہ
مکرمی محبی اخویم سلمہٗ تعالیٰ
یہ عاجز قادیان میں آگیا ہے اور ایک رسالہ دافع الشبہات تالیف کرنے کی فکر میں ہے۔ براہ مہربانی وہ کتاب جو آپ نے مولوی غلام حسین صاحب سے لی ہے یعنی تاویل الاحادیث شاہ ولی اللہ صاحب ضرور مجھ کو بھیج دیں۔ ہرگز توقف نہ فرماویں کہ اس کا دیکھنا ضروری ہے۔
والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان
(مکتوبات احمد جلد دوم طبع جدید صفحہ 587 از مرزا قادیانی)
جرمن سیاستدان ثمینہ خان کا انکشاف آمیز انٹرویو
محترمہ ثمینہ خاں ایک پاکستانی نژاد جرمن سیاستدان ہیں اور جرمنی کی اسمبلی کی ممبر ہیں۔ وہ بائیں بازو کی دی لنک پارٹی کی معزز رکن ہیں اور انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، سماجی انصاف، انسانوں کی فلاح و بہبود اور قانون کی حکمرانی کے لیے انتھک جدوجہد کر رہی ہیں جنہیں ہر جگہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اہل ڈنمارک کے لیے مجاہد ختم نبوت جناب محمد اسلم (علی پوری ۔ ڈنمارک) اور راجہ غفور افضل نے ریڈیو اینڈ ٹی وی ”آپ کی آواز ڈنمارک“ کے لیے ان سے انٹرویو کیا۔ جس میں انہوں نے کہا:
”احمدی کہلانے والے لوگوں کے بارے میں مجھے بھی پہلے یہی غلط فہمی تھی کہ یہ بے حد شریف انسان ہیں اور میں نے انسانی ہمدردی کے تحت مختلف مواقع پر ان کی مدد بھی کی ہے۔ میں نے موجودہ اور سابقہ احمدیوں سے جب رابطہ کیا تو مجھ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ جماعت احمدیہ کے اندر موجود اور اس سے نکل جانے والوں کی حالت بے حد ابتر ہے۔
اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کا پتہ چلا کہ یہ لوگ عورتوں پر بے حد ظلم کرتے ہیں۔ اپنی احمدی عورتوں کو انہوں نے جرمن معاشرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ ان کے بے حد مظالم سے تنگ آ کر ان کی عورتیں حکومتی سطح پر قائم کیے گئے عورتوں کے پناہ گاہ کے مراکز (وومن شیلٹر سینٹر) میں آ گئی ہیں۔ احمدیوں کی ایک عجیب نفسیاتی کیفیت ہے۔ اگر ان کی تعریف کرو یا ان کی مدد کرو تو یہ تعریف کرتے رہتے ہیں لیکن اگر ذرا سی بھی ان کے کسی کام پر نکتہ چینی کرو تو ان کا اصلی چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور پھر یہ انسان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ میں نے جب ان کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہی کہ ہم پاکستانی نژاد لوگوں کے لیے یہ شرم کا مقام ہے کہ پچاس فیصد عورتیں ان پناہ گاہ کے مراکز میں احمدی عورتیں ہیں۔ اس کا کچھ تدارک کرو۔ تو احمدی الٹا میرے پیچھے پڑ گئے۔ اس کے بعد عورتوں کی پناہ گاہ کے مرکز میں آگ لگ گئی۔ میں نے لوگوں سے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حادثہ نہیں ہے بلکہ مرکز کو آگ لگائی گئی ہے اور پاکستان میں بھی ان کا یہی طریقہ واردات ہے جس کے بعد یہ پاکستان سے باہر بھاگ آتے ہیں۔
میرے خیال میں یہ ایک نسل پرست فاشسٹ جماعت ہے جو کہ منظم طور پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ جماعت انسانی حقوق کی تنظیموں کا سہارا لیتی ہے۔ لیکن یہ ایک بے حد خطرناک جماعت ہے۔ اس کی حرکات پر ہم سب کو عام طور پر اور حکومتی ایجنسیوں کو خاص طور پر نگاہ رکھنی چاہیے۔ قادیانیوں کے موجودہ نام نہاد خلیفہ مرزا مسرور احمد کی کزن محترمہ فوزیہ فیضی نے خود پر کیے گئے مظالم پر سے پردہ اٹھا کر ان کی شرافت کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کوئی بھی عورت اپنی عزت پر حرف نہیں آنے دینا چاہتی۔ وہ شرم و حیا کی پیکر ہوتی ہے اور دنیا کے سامنے خود کو ننگا نہیں کرتی۔ محترمہ فوزیہ فیضی نے خود پر ہونے والے جنسی تشدد سے پردہ اٹھایا ہے۔ جس سے ان کی مظلومیت کا پتہ چلتا ہے اور انسان ان کی داستانیں سن کر کانپ اٹھتا ہے! محترمہ فوزیہ نے مجھ سے رابطہ قائم کیا اور مجھے بتلایا کہ جماعت احمدیہ میں اخلاق یا انسانیت نامی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ تو ایک تجارتی کمپنی ہے جو کہ اپنے لیڈر اور اس کے خاص ساتھیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ اگر اس کی ذرا بھی مخالفت کرو تو اس کے لوگ اپنے مخالفوں پر جسمانی حملے کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ہم اس عظیم عورت کی جرأت کو سلام کرتے ہیں جس نے اپنی عزت کی پروا نہ کرتے ہوئے جماعت احمدیہ اور اس
کے بڑوں کے کردار کو دنیا کے سامنے ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
جن لوگوں نے جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیا ہے، ان کے ساتھ جماعت کے رویہ سے آپ کو جماعت احمدیہ کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ جماعت احمدیہ میں بھی موجود لوگ اسے چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن وہ خوف اور تذبذب کا شکار ہیں کہ بعد میں جماعت احمدیہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ جماعت احمدیہ میں اگر کوئی غلطی کرے تو اسے ٹارچر کیا جاتا ہے۔ کوئی چندہ نہ دے تو اسے دھمکایا جاتا ہے، اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور اسے چندہ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے رہنماؤں کی زندگی کی عیاشیوں کے لیے چندہ ضروری ہے۔ جماعت احمدیہ نے ملکی نظام کے مقابلہ میں اپنا متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ ان کا رویہ بے حد غلط ہے اور یہ جماعت اب ایک درد سر بنتی جا رہی ہے۔ اس کے لوگ غیر قانونی کام کرتے ہیں اور ثبوت نہیں چھوڑتے۔ بیرونی طور پر دکھاوے کے لیے یہ احمدی شور مچاتے ہیں کہ یہ قانون کا احترام کرتے ہیں جبکہ اندرونی طور پر یہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ عورتیں ان کی بات نہ مانیں تو ان پر غیر قانونی طور پر تشدد کرتے ہیں۔ یہ ٹارچر کرتے ہیں اور ہمارے پاس اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ وہی کچھ کرتے ہیں جو کہ ہٹلر اور مسولینی نے کیا تھا۔ ہم یورپ میں ہٹلر اور مسولینی کا نظام نہیں لانا چاہتے۔ یہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ ان کو مسلمانوں سے خطرہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں ان کے وجود سے مسلمانوں کو خطرہ ہے۔ مشہور جرمن پروفیسر مسز شلوٹی ٹانے لکھا ہے کہ ”جماعت احمدیہ ایک مافیا گروپ ہے۔ جس سے ان کی اصل حقیقت کا پتہ چلتا ہے“۔
ان کا اپنے احمدیوں کو مجبور کرنا ہی ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔ چندہ نہ دو تو بائیکاٹ، ان کے نام نہاد خلیفہ کی بات نہ مانو تو اپنے احمدیوں کا بائیکاٹ کرنا روزمرہ کی بات ہے۔ جماعت احمدیہ مختلف حیلوں بہانوں سے قادیانیوں کو پاکستان سے یہاں لا کر انہیں سیاسی پناہ دلاتی ہے۔ اس طرح اسے سیاسی پناہ کے دوران مالی بینیفٹ ملتا ہے جو اس کے کام تھوڑا آتا ہے اور جماعت احمدیہ کے کام زیادہ آتا ہے۔ ہم نے کئی دفعہ سرکاری حکام کو متنبہ کیا ہے کہ سیاسی پناہ کے دوران دی گئی مالی امداد ان بے چارے قادیانیوں کے نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے کام آتی ہے۔ اگر کوئی قادیانی جماعت احمدیہ کے سامنے اکڑ جائے تو جماعت احمدیہ اسے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرے گی اور اس طرح اسے حکومت سیاسی پناہ نہیں دے گی۔
یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ انہیں زبردستی غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی عوام اور ان کا کلچر غلط ہے۔ یہ پاکستان کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں میں مبتلا ہیں۔ اسلام میں کوئی چندہ نہ دے تو کوئی بات نہیں لیکن قادیانیوں کے ہاں اس کی پابندی ہے۔ یورپ میں اتنے مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرتا! یہ لوگ مظلوم بن کر ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں۔ ججوں اور پولیس کو غلط استعمال کرتے ہیں۔ بچوں کو سکھاتے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی ہمارے خون کے پیاسے ہیں حالانکہ یہ الٹا مسلمانوں سے دشمنی کرتے ہیں۔ آخر ان کے سلیبس میں موجود ان باتوں سے ان کے بچے اور مربی کیا سیکھیں گے؟ یہ لوگوں کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ یاد رکھیے یورپ میں قادیانی قانون نہیں چلے گا، یہاں ان ملکوں کا اپنا قانون ہی چلے گا۔ قانون کے متوازی دوسرا قادیانی قانون بھی نہیں چلے گا۔
دراصل سب سے بڑی رکاوٹ زبان کی ہے۔ کیونکہ ان کے مذہب کے بانی مرزا قادیانی کی سب کتابیں اردو میں ہیں اور قادیانیوں نے جان بوجھ کر ان کا ترجمہ دوسری غیر ملکی زبانوں میں نہیں کیا تاکہ ان کے جھوٹے مذہب کا پول نہ کھل جائے۔ ان کی کتابیں بھی نہیں ملتیں۔ آخر ہم کیا کریں؟ یورپ نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔
اب یہ یہاں آہستہ آہستہ اپنا اصلی رنگ دکھا رہے ہیں جس سے اب یورپی عوام کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ انہوں نے ان کا ساتھ تو دیا لیکن اب پچھتا رہے ہیں۔ ان کے جرائم سامنے آ رہے ہیں تو یہ عوام میں اپنی ہمدردی کھو رہے ہیں۔ یہ بے حد کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے خلیفہ کو ملکی اور یورپی پارلیمنٹ لے کر آئیں۔ اس لیے اب احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔
بلاشبہ ڈنمارک انسانی حقوق کا علمبردار لبرل ملک ہے۔ ڈینش اس بات پر غور کریں کہ قادیانی کسی بھی مذہب اور اس کے ماننے والوں کا احترام نہیں کرتے۔ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہیں سیاسی پناہ دیتے وقت ڈنمارک والے صرف ان کی باتوں پر ہی یقین نہ کریں بلکہ حقائق کی چھان بین کریں۔ مسلمان نسل پرست نہیں ہیں بلکہ قادیانی ذہنیت کے خلاف ہیں۔ یہ اس بہانہ سے یورپ میں بھاگ کر آ جاتے ہیں کہ پاکستان میں ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔ پھر یہاں مستقل رہائشی پرمٹ لے کر اسی پاکستان میں جاتے ہیں۔ وہاں جائیداد خریدتے ہیں اور عیش کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں سیاسی پناہ دیتے وقت ڈنمارک کے حکام ساری حقیقتوں کو مدنظر رکھیں۔ یک طرفہ فیصلہ نہ کریں! یہ ہماری ان سے پرزور اپیل ہے۔
قادیانیوں سے تین سوال
- -1 قرآن وحدیث میں ”ظلی بروزی ناقص غیرمستقل“ نام کی کسی نبوت کا ذکر ہے؟
اگر ہے تو وہ آیت یا حدیث لکھ دیں جس میں ”نبوت“ کے ساتھ ”ظلی بروزی غیر مستقل“ کی قید ہو۔ کسی چونکہ چنانچہ، اگر مگر کے بغیر۔
- -2 کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی ”بغیر شریعت والا لیکن مستقل نبی“ آ سکتا ہے کہ
نہیں؟ اگر نہیں آ سکتا تو اس کی دلیل پیش کریں۔
- -3 آپ کے عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی کے بعد کوئی ”ظلی بروزی غیر مستقل
نبی“ آ سکتا ہے کہ نہیں؟ واضح جواب دیں۔
جس طرح سوال مختصر ہیں، اسی طرح جواب بھی سوال کے مطابق مختصر دیں۔
مردم شماری پر ریمارک
- ❑ ”گزٹ میں چونکہ حسب دستور مردم شماری پر ریمارک لکھا جا رہا ہے انہوں نے
اس غلطی کو شائع کر دیا ہے کہ احمدیہ فرقہ کا بانی مرزا غلام احمد ہے۔ اس نے اوّل ابتدا چوہڑوں سے کی۔ پھر ترقی کرتے کرتے اعلیٰ طبقہ کے آدمی اس کے پیرو ہو گئے۔ حضرت اقدس نے فرمایا:
اس کی بہت جلد تردید ہونی چاہیے یہ تو ہماری عزت پر سخت حملہ کیا گیا ہے چنانچہ اسی وقت حکم صادر ہوا کہ:
ایک خط جلد تر انگریزی زبان میں چھاپ کر گورنمنٹ اور مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس بھیجا جاوے تاکہ اس غلطی کا ازالہ ہو اور لکھا جاوے۔ گورنمنٹ کو معلوم ہو گا کہ چوہڑے ایک جرائم پیشہ قوم ہے، ان سے ہمارا کبھی بھی تعلق نہیں ہوا۔ ایک شخص نامی مرزا امام دین قادیان میں ہے جس سے ہماری تیس برس سے عداوت چلی آتی ہے اور کوئی میل ملاپ اس کا اور ہمارا نہیں ہے۔ اس کا تعلق چوہڑوں سے رہا اور اب بھی ہے۔ اس کی عادات اور چال چلن کو ہم پر تھوپ دینا سخت درجہ کی دلآزاری ہماری اور ہماری جماعت کی ہے اور یہ عزت پر سخت حملہ ہے اور بڑی مکروہ کارروائی ہے جو کہ سرزد ہوئی ہے اور چوہڑے تو درکنار ہمیں تو ایسے لوگوں سے بھی تعلق نہیں ہے جو کہ ادنیٰ درجہ کے مسلمان اور رذیل صفات رکھتے ہیں۔ ہماری جماعت میں عمدہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک چال چلن کے لوگ ہیں اور وہ سب حسنہ صفات
سے متصف ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو ہم ساتھ رکھتے ہیں۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ صاحب ضلع گورداسپور سے اس امر کی تحقیقات کرے اور عدل سے کام لے کر اس آلودگی کو ہم سے دور کرے۔ ہم خود امام دین کو اسی لیے نفرت سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ایسی قوم سے تعلق ہے۔ پنجاب میں یہ مسلم امر ہے کہ جس شخص کے زیادہ تر تعلقات چوڑھوں سے ہوں، اس کا چال چلن اچھا نہیں ہوا کرتا۔ اس گورنمنٹ کا فرض ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کرے۔‘‘
(البدر جلد 2 صفحہ 36، 37 مورخہ 20 فروری 1903ء)
قرآن کے مطابق مرزا نبی نہیں تھا
مرزائیوں سے جب بھی مرزا کے متعلق بات کی جائے تو مرزائی کہتے ہیں کہ قرآن سے معیار نبوت دکھاؤ، ہم اس کے مطابق مرزا کو سچا ثابت کریں گے۔ کوئی مرزائی آج تک تو مرزا کو قرآن کی رو سے نبی یا رسول ثابت تو نہ کر سکا لیکن ان شاء اللہ میں یہ ثابت کروں گا کہ قرآن کی رو سے مرزا نبی نہیں تھا۔ تو دوستو! حاضر ہے پہلی آیت۔
- ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ سنۃ اللہ فی الذین خلوا
من قبل و کان امر اللہ قدرا مقدورا۔
نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو۔ یہی اللہ کی سنت ان سب انبیا کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ (احزاب: 38)
دوستو! سچے نبی کی اللہ نے ایک تعریف یہ بیان کی ہے جو کام اللہ نے اس پر مقرر کر دیا ہو، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور اللہ نے یہ بات کسی ایک خاص نبی کے لیے نہیں کہی بلکہ انبیا کے معاملے میں اللہ کی یہ سنت رہی ہے اور اللہ خود کہہ رہا ہے کہ اس کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ جو فیصلہ کر دے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بدل سکتی اور نبی کو اللہ جو کام سونپ دے، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ تو دوستو! ایک صحیح ترین روایت کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے۔
حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے:
- ابو ہریرة یحدث عن النبی ﷺ قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی
بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او لیثنیهما.
(صحیح مسلم حدیث نمبر 316 ، جلد 1 صفحہ 408)
’’حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) روحا ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ) کی گھاٹی میں حج یا عمرہ یا دونوں کی لبیک ( تلبیہ) پکاریں گے ایک ہی ساتھ ۔‘‘
اس حدیث کی رو سے اللہ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے اور ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ۔ تو دوستو ! اگر مرزا قادیانی یعنی اگر وہی عیسیٰ ہے جس کا وعدہ احادیث میں ہے تو پھر اسے تو حج ضرور کرنا چاہیے تھا۔ لیکن مرزا حج نہ کر سکا۔ تو اس قرآنی آیت کی رو سے ثابت ہو گیا کہ مرزا نبی نہیں ہے کیونکہ اگر مرزا نبی ہوتا تو وہ حج ضرور کرتا اور اللہ اپنے قطعی فیصلے کی رو سے اس کے لیے حج کرنے کی ہر رکاوٹ ہٹا دیتا ۔
حدیث کے نام پر جھوٹ
- ❑ ’’غرض میرے وجود میں ایک حصہ اسرائیلی ہے اور ایک حصہ فاطمی ۔ اور میں دونوں
مبارک پیوندوں سے مرکب ہوں اور احادیث اور آثار کو دیکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ آنے والے مہدی آخر الزمان کی نسبت یہی لکھا ہے کہ وہ مرکب الوجود ہوگا۔ ایک حصہ بدن کا اسرائیلی اور ایک حصہ محمدی ۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 118 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی ایسی کوئی حدیث دکھا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو انہیں ماننا چاہیے کہ مرزا قادیانی حدیث کے نام پر جھوٹ بولتا تھا۔ بقول مرزا قادیانی جھوٹا آدمی کنجر اور ولد الزنا ہوتا ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ’’چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے، قرآن سے،
اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے، حاجت بیان نہیں۔‘‘
(شہادۃ القرآن صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 365 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر
حدیث سے یعنی ایک حدیث نہیں بہت ساری حدیثوں سے اور قرآن سے اور اولیا کے مکاشفات سے پایہ ثبوت پہنچتا ہے، حاجت بیان نہیں۔ قادیانی ہمیں بہت ساری حدیث نہیں صرف ایک حدیث دکھا دیں، چودھویں صدی والی اور قرآن کی صرف ایک آیت اور کچھ بھی نہ دکھاؤ۔ یا پھر مان لو کہ مرزا قادیانی جھوٹا اور گوہ کھانے والا انسان تھا۔ میں نہیں بلکہ مرزا قادیانی خود کہہ رہا ہے کہ غلط بیانی اور بہتان طرازی نہایت ہی شریر ہے اور بدذات لوگوں کا کام ہے۔ (آریہ دھرم صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 13 از مرزا قادیانی) اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے‘‘۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”حدیثوں سے صاف طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت محمدﷺ
بھی دنیا میں ظاہر ہوں گے اور حضرت مسیح بھی مگر دونوں بروزی طور پر آئیں گے نہ حقیقی طور پر۔“
(نزول المسیح صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 384 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی ایسی کوئی حدیث دکھا سکتا ہے؟
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”ہمارے نبیﷺ فرماتے ہیں کہ میری قبر کے نیچے روضہ بہشت ہے۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 365 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 287 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی احادیث کی کسی کتاب سے حدیث کا عربی متن اور حوالہ بتا سکتا ہے۔
مرزا قادیانی کا ایک اور شاہکار جھوٹ
مرزا بشیر احمد ایم اے اپنے باپ مرزا قادیانی کے حوالے سے ایک روایت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود فرمایا
کرتے تھے کہ اصل میں عربی زبان کی ستائیس لاکھ لغت ہے جس میں سے قرآن مجید میں صرف چار ہزار کے قریب استعمال ہوئی ہے۔ عربی میں ہزار نام تو صرف اونٹ کا ہے اور چار سو نام شہد کا۔“ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 824 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
ہے کوئی قادیانی پنڈت جو اونٹ کے 50 نام ہی گنوا سکے؟ ہے کوئی قادیانی مربی جو شہد کے 30 نام ہی گنوا سکے؟ ہے کوئی قادیانی جو عربی کی 27 لاکھ لغت ثابت کر سکے؟ ہے کوئی قادیانی جو مرزا کو سچا ثابت کر سکے؟
قادیانی شینڈی شاہ کا معافی راگ
دفتر امیر جماعت لندن سے ایک اطلاع کے مطابق جس کی تصدیق شینڈی شاہ کے ڈرائیور خان بابا نے بھی کی کہ ایم ٹی اے میں کام کرنے والی ہر لجنہ کا انٹرویو شینڈی شاہ لیا کرتا اور اس کی کوشش ہوتی کہ ہر ایک کے ساتھ اس کے ذاتی تعلقات قائم ہو جائیں جس میں شینڈی شاہ ہمیشہ کامیاب رہا۔ شینڈی شاہ کی منظور نظر لجنات کی ایک لمبی لسٹ ہے، یاد رہے شینڈی شاہ جہاں جوان بیٹیوں کا باپ ہے وہاں جوان بہو کا سسر بھی جس کے بال سفید ہیں اور دانت مصنوعی مگر جنسی ہوس زدہ جذبہ عشق کے زور پر ایسا کہ بیٹیوں کی عمر کے برابر لجنات کو اپنے بستر کی زینت بنانا اس کا ہر دلعزیز مشغلہ ہے۔
امیر جماعت لندن نے ایک نجی محفل میں شینڈی شاہ کے کارنامے سناتے ہوئے بتایا کہ ایک نہایت مخلص خاتون جو کہ مطلقہ تھیں، ان کا نام بھی امیر صاحب نے بتایا (فوزیہ شاہ جن کے دو بچے بیٹا غالب نامی اور بیٹی ہما ) فوزیہ ایم ٹی اے میں کام کرنے آئیں اور ان کا انٹرویو شینڈی شاہ نے لیا اور پہلی نظر میں دل نہیں بلکہ جسم ہار بیٹھے اور فوزیہ شاہ کو ایسے پیغامات اور اشارے دیے کہ وہ دل ہار بیٹھیں۔ دونوں میں ملنا ملانا ہوا، عہد و پیمان ہوئے، فوزیہ شاہ نے اپنے والدین کو بتایا کہ شینڈی شاہ سے شادی کرنا چاہتی ہیں اور آپ حضور (مرزا طاہر احمد ) سے بات کریں، والدین نے مرزا طاہر سے بات کی اور انہوں نے شینڈی شاہ سے اس بابت دریافت کیا۔ شاہ صاحب مکر گئے کہ میں تو جانتا ہی نہیں، یہ مجھ میں دلچسپی لیتی ہوگی، میں نہیں۔ شینڈی شاہ کی چند خاص منظور نظر لجنات۔ ماریہ جس کے ساتھ پیار و محبت کے پیغامات کی بھرمار ہے اور یہ لڑکی شینڈی کی بیٹی سے بھی کم عمر ہے، ایک لڑکی عطیہ نذیر کو پاکستان سے سٹوڈنٹ ویزہ پر بلایا، ایم ٹی اے میں کام دیا اور اس معصوم بچی کے ساتھ جو ظلم اس شینڈی جانور نے کیا، کاش وہ بچی جماعت کی نام نہاد عزت کو چولہے میں ڈالتی اور اس پر مقدمہ کر دیتی۔ شینڈی شاہ نے اس بچی کو حاملہ کیا اور پھر حمل گرایا گیا۔ اس کے بعد دھمکیاں ملنے پر وہ واپس پاکستان چلی گئی۔
ذہانت
یہ واقعہ اوکاڑہ شہر کا پاکستان بننے سے پہلے کا ہے۔ اس وقت انگریز حکومت قادیانیوں کا پورا پورا ساتھ دیتی تھی۔ ایک دکان پر تین لڑکے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب سے ایک قادیانی گزرا۔ انہوں نے اسے سنانے کے لیے مرزا کو دو تین گالیاں نکال دیں۔ اس قادیانی نے عدالت میں ہتک عزت کا دعوی کر دیا۔ اس پر اوکاڑہ شہر کے مسلمانوں نے مجلس احرار لاہور کے دفتر خط لکھ کر ساری صورت حال بتائی اور درخواست کی کہ مدد کے لیے کسی کو بھیجا جائے جو عدالتی کارروائی میں ہماری مدد کر سکے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ نے حضرت محمد حیات رحمۃ اللہ کو حکم دیا: آپ اوکاڑہ چلے جائیں اور کیس کی پیروی کریں۔ مولانا حیات اوکاڑہ پہنچے، دوستوں سے ملاقات کی، سارے کیس کا مطالعہ کیا، پھر ایک وکیل سے خدمات حاصل کیں۔ اسے کتابیں دکھائی، حوالے دکھائے اور یہ بھی بتایا کہ مرزا نے مسلمانوں کو کیا کیا گالیاں دی ہیں۔ مقررہ تاریخ کو عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ سب لوگ مقدمے کی کارروائی کو سننا چاہتے تھے۔ مولانا حیات نے وکیل کو جو تیاری کروائی تھی، وکیل نے اسے چھوڑا اور اس قادیانی سے پوچھنے لگا کہ: آپ بتائیں انھوں نے مرزا کو کون کونسی گالیاں دی ہیں؟ قادیانی کو یہ سن کر سکتہ ہو گیا کہ وکیل نے یہ کیا سوال کر دیا اور مجسٹریٹ منہ پر رومال رکھ کر مسکرانے لگا کہ وکیل نے کیا خوب سوال کیا ہے۔ آخر تنگ آ کر قادیانی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ کونسی گالی دی تھی۔ اس پر وکیل نے کہا: کوئی بات نہیں، میں گالیاں نکالتا ہوں۔ آپ سنتے جائیں۔ جب وہ گالی آجائے، مجھے بتا دیں۔ وکیل نے ایک سانس میں مرزا کو کئی گالیاں نکال دیں، پھر اس قادیانی سے پوچھا: کیا ان گالیوں میں وہ گالی آئی ہے جو ان لڑکوں نے نکالی ہے؟ قادیانی نے پھر کہا: مجھے یاد نہیں۔ اس پر وکیل نے کہا: تو پھر اور سنو۔ اس مرتبہ وکیل نے پوری 5 گالیاں نکالی۔ میجسٹریٹ اور تمام حاضرین بری طرح ہنس رہے تھے۔ بس قادیانی ساکت و جامد کھڑا تھا۔ اس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔ اب وکیل نے پھر کہا: ان گالیوں میں وہ گالی آئی ہے؟ اس نے پھر کہا: مجھے یاد نہیں۔ اس پر وکیل نے کہا: میں کل اور گالیاں یاد کر کے آؤں گا۔ آپ کل کی تاریخ دے دیں، اسے شاید کل تک وہ گالی یاد آجائے۔ دوسرے دن جب وکیل اور مسلمان عدالت میں پہنچے تو قادیانی وہاں موجود نہ تھا۔ میجسٹریٹ نے وکیل صاحب کو بتایا کہ: وہ کل ہی درخواست دے گیا تھا کہ میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں۔ اس طرح وہ لڑکے مقدمہ جیت گئے۔
ترجمہ حدیث میں تحریف
مرزا بشیر احمد کی حدیث کے ترجمہ میں تحریف پیش ہے۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے کی کتاب کا ایک صفحہ، اس میں وہ صحیح بخاری کے حوالے سے ایک حدیث نقل کر رہا ہے جس میں حضور نبی کریم ﷺ نے اللہ کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ ”ابن مریم“ ضرور نازل ہوں گے۔...... لیکن جب اس نے حدیث کا ترجمہ کیا تو اس میں اپنی طرف سے بہت سے الفاظ ڈال دیے جیسے ”وہ اپنے ایک مثیل کے ذریعے نازل ہوگا“ وغیرہ۔ جبکہ حدیث میں ایسا کوئی لفظ یا کوئی اشارہ نہیں جس کا یہ معنی ہو۔ اس کے باپ نے جو کام شروع کیا تھا، قرآن اور حدیث میں تحریف کا، بیٹوں نے بھی وہ روایت زندہ رکھی۔ حوالہ ملاحظہ کیجیے:
- ”آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد ایک خاص تاریکی کے زمانہ کا بھی ذکر فرمایا تھا
جس میں غیر معمولی دجالی فتنوں کا ظہور مقدر تھا اور چونکہ بڑے فتنہ کو فرو کرنے کے لیے بڑے مصلح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس زمانہ میں ایک عالی شان مجدد یعنی مثیل مسیح کا نزول ہوگا۔ چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں:
حدثنا اسحق قال اخبرنا یعقوب بن ابراہیم قال حدثنا ابی صالح عن ابی شہاب ان سعید بن المسیب سمع ابو ہریرہؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الحرب ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتّىٰ تکون السجدة الواحدة خیر من الدنیا وما فیہا. ثم یقول ابی ہریرہؓ فاقروان شئتم و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ. (بخاری ومسلم)
”یعنی مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ضرور ضرور مسیح ابن مریم اپنے ایک مثیل کے ذریعہ نازل ہوگا۔ وہ تمام دینی اختلافات میں حکم بن کر فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ حق و انصاف کا فیصلہ ہوگا۔ وہ صلیبی فتنہ کے زور کے وقت میں آئے گا اور اس فتنہ کو پاش پاش کردے گا اور اس وقت دنیا میں خنزیری گندوں اور پلیدیوں کا بھی زور ہوگا اور مسیح ان پلیدیوں کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔ مگر
یہ سب کام دلائل اور براہین اور روحانی نشانوں کے ذریعہ ہوگا کیونکہ مذہبی جنگ اور جزیہ اس زمانہ میں موقوف ہوجائے گا...... ہاں ہاں اس وقت تمہاری کیسی اچھی حالت ہوگی جب مسیح تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا ایک امام ہوگا۔‘‘
(ختم نبوت کی حقیقت از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کی موت اور ہیضہ
مرزا قادیانی کا الہام اور ہیضہ سے اس کی موت سے کچھ دیر پہلے مرزا قادیانی کا ایک الہام پیش کیا تھا جو اسے جولائی 1907ء میں ہوا، وہ الہام یہ تھا ’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے‘‘۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم، صفحہ 614، از مرزا قادیانی) میں نے مرزا قادیانی کی امت سے پوچھا تھا کہ اس الہام کا کیا مطلب ہے؟ لیکن کوئی قادیانی پادری مجھے اس کا مطلب نہ بتا سکا، تو دوستو! آج میں آپ کے سامنے ایک بار پھر مرزا کو ہونے والا وہ الہام پیش کر رہا ہوں جس میں اسے بتایا گیا کہ ’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے‘‘ یعنی تجھے ہیضہ ہونے والا ہے اور پھر کچھ مہینوں کے بعد اسے ہیضہ ہوا اور وہ ہیضے سے مر گیا۔ اس طرح قادیانیوں کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کے حضرت صاحب کا کم از کم ایک الہام تو سچ ہوا اور انہیں اب اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے کہ مرزا کی موت ہیضے سے ہوئی تھی۔ کیونکہ مرزا نے خود اپنے خسر میر ناصر کو بتایا تھا کہ ’’میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے‘‘۔ (حیات ناصر صفحہ 14 از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی) اور تم یہ بھی کہتے ہو کہ مرزا قادیانی حکیم بھی تھا تو حکیم صاحب نے خود کہا کہ مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔
اخراج، مبارک ہو
قادیانی مذہب کی نئی نسل میں ہمت اور شعور پیدا ہوچکا ہے، اب وہ مرزا خاندان کے اسلام کے نام پر بنائے گئے ظالم قوانین کی پروا کیے بغیر اپنی مرضی اور اپنی خوشی کے لیے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر رہی ہے اور قادیانی مذہب کا گدی نشین سوائے ’’اخراج‘‘ کے انہیں اور کیا دے سکتا ہے۔ اے نئی نسل! یہ سزا نہیں، یہ رہائی کا پروانہ ہے جو آپ کو مبارک ہو!
ایک انوکھا مدعی نبوت
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے نہ کبھی امامت کرائی! نہ کبھی باقاعدہ روزے رکھے! نہ کبھی معتکف ہوا! نہ کبھی حج کیا! نہ کبھی زکوٰۃ دی! لیکن اس کے باوجود یہ دعویٰ کہ وہ امام مہدی ہے، عیسیٰ ابن مریم ہے اور وہ نبی ورسول ہے اور جو یہ نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
خبیث اور جھوٹا کون؟
پہلا موقف: مرزا قادیانی نے کہا:
- ’’آنحضرت ﷺ نے دین اسلام کی دعوت کے لیے زمین میں خون کی نہریں چلا
دیں‘‘۔
(حقیقت الوحی صفحہ 159، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 159 از مرزا قادیانی)
دوسرا موقف: مرزا قادیانی نے کہا:
- وہ تمام لوگ خبیث اور جھوٹے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا (مفہوم)۔
(ملفوظات جلد دوم طبع جدید، صفحہ 129)
قادیانیوں کی اقسام
جس طرح جانوروں کی اقسام ہوتی ہیں، اسی طرح قادیانیوں کی بھی اقسام ہیں۔ ہم آپ کے لیے اسے اپنے الفاظ میں کچھ اضافے کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
سپریم قادیانی: خلیفہ یا جماعت کا سربراہ، سب سے اعلیٰ اور ہر طرح سے بااختیار
ممتاز قادیانی: خاندان یا مرزا قادیانی کی فیملی سے تعلق رکھنے والے۔
سپر قادیانی: خاندان یا مرزا قادیانی کی فیملی سے تعلق رکھنے والے افراد سے شادی کرنے والے۔
گریٹ قادیانی: خاندان یا مرزا قادیانی کی فیملی سے تعلق رکھنے والے افراد کے دوست احباب۔
تنخواہ دار قادیانی: جماعت کے ملازمین جیسے مربیان، واقفین، مبلغین وغیرہ۔
خاص قادیانی: عہدیدار یا آفیسرز ایسے قادیانی جو رضا کارانہ طور پر جماعتی نظام کا حصہ ہوں جیسے صدر، امیر، قائد وغیرہ۔
موقع پرست قادیانی: عام طور پر جماعتی نظام سے دور لیکن جماعت سے کسی بھی قسم کا مالی یا کوئی اور فائدہ لینے کے لیے ہردم تیار۔
لاتعلق قادیانی: جماعتی معاملات سے بے پروا لیکن باقاعدگی سے چندہ دینے والا اور اسی میں اللہ کی خوشنودی سمجھنے والا لبرل قادیانی۔
برین واشڈ قادیانی: مرزا قادیانی کو سچا نبی اور خلافت کو سب کچھ ماننے اور اس پر سب کچھ قربان کرنے والا اندھا، بہرہ اور گونگا قادیانی۔
اخراج زدہ قادیانی: صرف نظام جماعت سے الگ کیا ہوا لیکن عقیدے کے لحاظ سے مکمل قادیانی۔
غیر مسروری قادیانی: دوسرے قادیانی فرقوں سے تعلق رکھنے والے جیسے لاہوری، گرین احمدیت وغیرہ۔
مجبور لیکن باضمیر قادیانی: حقیقت سے آگاہ اور دل میں قادیانیت کو برا کہنے والا لیکن مصلحتوں کے تحت کفر میں پھنسا ہوا مجبور قادیانی۔
قادیانی حضرات سے ایک معلوماتی سوال
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”کشتی نوح“ مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 49 پر اپنے ایک الہام کا ذکر کیا ہے جو اس طرح ہے۔
- ❑ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی..........
قادیانی حضرات سے گزارش ہے کہ اس کا لفظی ترجمہ کر دیں، شکریہ
نوٹ: اور یاد رہے، یہ الہام اس کو اپنی ذات کے لیے ہوا تھا کسی اور کے لیے نہیں۔ دوسری بات قادیانی اور مربی حضرات کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جہاں فعل ”توفی“ ہو اور اس کا فاعل اللہ ہو اور اس کا مفعول جاندار ہو تو وہاں توفی کے معنی موت ہوتے ہیں۔ قادیانی حضرات اور مربی حضرات اپنے اس دعویٰ کے مطابق یہاں لفظی ترجمہ کر دیں کیونکہ یہ اصول مرزا قادیانی کے اس الہام میں بھی موجود ہے۔
جدید عیسائیت
مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی دو بعثتوں کا
نظریہ ایجاد کیا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ ایک بار تو چھٹی صدی عیسوی میں مکہ میں مبعوث ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ (نعوذ باللہ ) مرزا قادیانی کی شکل میں قادیان کی ملعون بستی میں۔ مکی بعثت کا دور تیرہویں صدی ہجری پر ختم ہوگیا اور اب چودھویں صدی سے قیامت تک قادیانی بعثت و نبوت کا دور ہوگا۔ اس طرح مرزا قادیانی نے آپ ﷺ کی بعثت کو تیرہویں صدی کے بعد کالعدم قرار دے کر خاتم النبیین کا منصب خود سنبھال لیا اور نبی کریم ﷺ کے تمام کمالات مخصوصہ کو اپنی جانب منسوب کرنے کے لیے قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں بے دریغ تحریف کر ڈالی۔ اسلامی عقائد کا مذاق اڑایا، انبیاء علیہم السلام کو فحش گالیاں دیں، تمام امت مسلمہ کو گمراہ اور کافر و مشرک قرار دیا۔ قصر اسلام کو منہدم کر کے ”جدید عیسائیت“ کی بنیاد رکھی۔ انگریز کی ابدی غلامی کو مسلمانوں کے لیے فرض و واجب قرار دیا، مسئلہ جہاد کو حرام اور منسوخ ٹھہرایا اور مجاہدین اسلام کو منکر خدا قرار دیا۔ جن لوگوں کو قادیانیت کی گہرائی کا علم نہیں، اور وہ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں، انہیں اس فتنہ کی شدت کا احساس نہیں ہوسکتا، واقعہ یہ ہے کہ صدر اول سے لے کر آج تک جتنے فتنے پیدا ہوئے، ان سب کی مجموعی فتنہ پردازی بھی فتنہ قادیانیت کے سامنے شرمندہ ہے۔ اگر ملاحدہ و زندقہ اور مدعیان نبوت و مہدویت کی تحریفات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں قادیانی تحریفات کو جگہ دی جائے تو یقین ہے کہ قادیانی کی تحریفات کا پلڑہ بھاری رہے گا۔
مرزائی مذہب میں ”ہندو لڑکی“ کے ساتھ نکاح جائز ہے
”اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔ اب اگر ایک مسلمان مرد ہندو لڑکی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرے تو اس پر دوسرے مسلمان کفر کا فتویٰ لگا دیں۔ مگر اسلام میں ایسے نکاح کی اجازت ہے اور اس سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان پوتا کہہ کر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو تو دوسری طرف ایک ہندو نواسہ کہہ کر اس پر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو۔ اس ذریعہ کو اختیار کرنے سے مذاہب کے اختلاف دور ہوجائیں گے، رنگوں اور زبانوں کے فرق دور ہوجائیں گے اور وہ سب روکیں جو تعلقات کی وسعت میں حائل ہیں، دور ہوجائیں گی“۔ (خطبات محمود جلد سوم صفحہ 448 از مرزا محمود ابن مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کتنے قادیانیوں نے ہندو اور یہودی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کیے؟
قادیانی گروہ اور دجال
- ”چونکہ وہ گروہ ہے، اس لیے اس کا نام دجال رکھا گیا ہے کیونکہ عربی زبان میں دجال
گروہ کو بھی کہتے ہیں“۔ (حقیقت الوحی صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
- ”اگر ہماری زندگی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو، دلِ
ما شاد و چشم ما روشن، ہم اور ہمارا گروہ سب سے پہلے ان کو قبول کر لے گا اور اس پہلی بات کے قبول کرنے کا بھی ثواب پائے گا“۔
(ازالہ اوہام حصہ اول صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، از مرزا قادیانی)
مولانا رومؒ کی ایک پرانی پیش گوئی
حضور اکرم ﷺ کے دورِ اوّل میں ایک مسیلمہ، کذاب کا لقب پا گیا۔ لیکن اس کے بعد اور بھی کئی مسیلمہ کھڑے ہوئے۔ مولانا رومؒ نے فرمایا کہ ان مدعیانِ نبوت میں ایک کو احمد کا لقب دیا جائے گا۔ یہ اس طرح ہوگا کہ جس طرح گداگر پیسے مانگنے کے لیے اون کا شیر لیے پھرتے ہیں اور اس میں شیر کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، احمد لقب والا مدعی نبوت بھی اندر سے بالکل خالی ہوگا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
تا بخواند بر سلیمے زاں فسوں
کار مرداں روشنی و گرمی است
کار دزداں حیلہ و بے شرمی است
شیر پشمیں از برائے گدا کنند
بومسیلمہ را لقب احمد کنند
مسیلمہ را لقب کذاب ماند
سر محمد را اولو الالباب ماند
(مثنوی شریف دفتر اوّل صفحہ 63)
ترجمہ: کمینہ فطرت آدمی درویشوں کے کلمات چرا لیتا ہے۔ (ان کی باتیں اپنے نام سے پیش کرتا ہے) تا وہ کسی بھولے بھالے پر اپنا منتر چلا دے۔ مردوں کا کام روشنی دینا اور ایمان کی حرارت دینا ہے اور کمینوں کا کام دھوکہ دینا اور بے شرمی اختیار کرنا ہے۔ گداگری کے لیے لوگ اون کے شیر لیے پھریں گے اور ایک دعویدار نبوت کو احمد کا لقب دیا جائے گا۔ مسیلمہ کذاب کے لیے کذاب کا لقب باقی رہا اور حضورﷺ اولالباب کے آقا اور سردار مانے گئے۔
یہ پیش گوئی آنجہانی مرزا قادیانی پر سو فیصد منطبق ہوتی ہے۔ اس نے احمد کا نقلی لقب اختیار کیا اور اس کی آڑ میں لاکھوں لوگوں کو گمراہ کر کے مسیلمہ کذاب کہلایا۔
قادیانیوں کو نیا مسیح موعود مبارک ہو
35 سال سے خود کو مسیح قرار دینے والے 66 سالہ شخص نے 3 ملکوں سے بے دخل ہونے کے بعد بالآخر برازیل میں پڑاؤ ڈال دیا ہے۔ انری کرسٹو (Inri Cristo) نامی خود ساختہ مسیح نے ہزاروں پیروکار بنا لیے ہیں۔ جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ خود ساختہ مسیح کا کہنا ہے کہ کرسمس ڈے کو نہیں منانا چاہیے۔ انری کرسٹو کا کہنا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں امیر لوگ غریبوں کی تذلیل کرتے ہیں کیونکہ امرا کے بیٹے عمدہ اور قیمتی تحفے غریب عیسائیوں کے بچوں کو دکھا کر ان کا دل دکھاتے ہیں۔ انری کرسٹو کے متنازع نظریات کی بنیاد پر اسے برطانیہ، امریکہ اور وینزویلا سے بے دخل کیا جاچکا ہے جبکہ وہ ان نظریات کی بنیاد پر 40 بار جیل جاچکا ہے۔ برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انری کرسٹو خود کو مسیح قرار دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ جب اس کی عمر 2 برس تھی تو اس وقت سے خدا نے اسے بتا دیا کہ مسیح کی روح تم میں ڈال دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انری کرسٹو کے خود ساختہ دعوے کے باوجود ہزاروں عیسائی مذہب کے لوگ اس کے پیروکار ہوچکے ہیں اور ان میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ انری کرسٹو ہر ہفتے کی صبح اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتا ہے۔ انری کرسٹو صرف سفید لباس زیب تن کرتا ہے اور اس کے تعمیر کردہ چرچ میں سیکڑوں پیروکار بھی رہائش پذیر ہیں اور وہ کھانے میں صرف پھل استعمال کرتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں
مرزا قادیانی ایک حدیث شریف کو اپنے دعویٰ مسیح موعود کے ثبوت میں پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- ”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لیے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک
پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(انجامِ آتھم صفحہ 337 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یہ تحریر 1896ء کی ہے، اس وقت تک مرزا قادیانی کی دو شادیاں ہو چکی تھیں اور ان میں سے اولاد بھی تھی، بلکہ پہلی بیوی (ماموں زاد حرمت بی بی عرف پھجے دی ماں) کو محمدی بیگم کے ساتھ شادی نہ کروانے کے جرم میں طلاق بھی دے چکا تھا اور اسی جرم میں سب سے بڑے بیٹے مرزا فضل احمد کو عاق بھی کر چکا تھا اور اپنی دوسری بہو عزت بی بی زوجہ فضل احمد کو بھی طلاق دلوا چکا تھا۔ اس کے بعد تاحیات مرزا قادیانی کی تیسری شادی محمدی بیگم یا کسی اور عورت سے نہیں ہوئی اور نہ ہی (شادی نہ ہونے کی وجہ سے) وہ خاص اولاد ہوئی، اس طرح مرزا قادیانی نے خود ثابت کر دیا کہ وہ رسول کریمﷺ کی پیش گوئی پر بھی پورا نہیں اترا۔ لہٰذا مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہے۔
کیا مرزا قادیانی دہریہ تھا؟
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”اسی طرح اس زمانہ میں جبکہ بمبئی میں طاعون کا نام و نشان نہ تھا۔ طاعون کے
آنے کے لیے دعا کی گئی اور وہ منظور ہوگئی۔ چنانچہ 1311ھ میں جس کو 9 برس ہو گئے، یہ
دعائیہ شعر حمامۃ البشریٰ میں موجود ہے۔
دیکھو صفحہ اول قصیدہ حمامۃ البشریٰ، یعنی جب فسق کا طوفان برپا ہوا تو میں نے خدا سے چاہا کہ طاعون آوے۔‘‘
(نزول المسیح صفحہ 155 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 533 از مرزا قادیانی)
جبکہ دوسری طرف مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ لوگ خود عذاب طلب کرتے تھے، کمبخت یہ نہیں
کہتے کہ دعا کرو کہ ہمیں ہدایت ہو جائے، طاعون ہی مانگتے ہیں دراصل یہ لوگ دہریہ ہیں، خدا پر ان لوگوں کو ایمان نہیں ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم طبع جدید، صفحہ 549، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی طرف سے وفات مسیح کے باطل عقیدے
پر پیش کردہ تیس آیات کا مکمل و مدلل جواب
شہر ارتداد ربوہ (چناب نگر) میں قاتلانہ حملوں اور خونی دھمکیوں کی ڈراؤنی فضا میں تحفظ ختم نبوت کا چراغ روشن کرنے والے مجاہد ختم نبوت جناب مولانا محمد مغیرہ چناب نگر (ربوہ) کی قدیم اور مرکزی جامع مسجد احرار کے خطیب اور مجلس احرار اسلام پاکستان کے شعبہ تبلیغ کے ناظم ہیں۔ قادیانی عقائد پر ان کی مضبوط گرفت ہے۔ وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آنجہانی مرزا قادیانی کی عربی دانی اور پازندانہ تاویلات پڑھ کر کوئی آدمی اپنی ہنسی ضبط نہیں کرسکتا۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں قرآن مجید کی 30 آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کی ناکام اور مذموم کوشش کی جسے علمائے کرام نے اپنے اپنے علمی رنگ میں اس کا خوب رد کیا۔ مولانا محمد مغیرہ نے آنجہانی مرزا قادیانی کے تیس نام نہاد اور بودے دلائل کو جس خوبصورت علمی اور تحقیقی پیرائے میں رد کیا، وہ انہی کا حصہ ہے۔ آئیے اس علمی خزانے سے مستفید ہوں۔
آیت نمبر 1: يٰعِيْسٰى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ
الْقِيَامَةِ. (آل عمران: 55)
”یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا اور تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔“ (خزائن جلد 3، ص 423)
گو کہ ازالہ اوہام میں اس آیت کو وفات مسیح پر پیش کرنے میں صرف ترجمہ کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے مگر مرزا قادیانی نے مختلف جگہوں پر مختلف انداز سے تبصرہ کر کے کوشش کی ہے کہ اس آیت سے وفات مسیح ثابت ہو۔ مثلاً :
- (1) ”علم نحو“ میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور
انسان مفعول بہ ہو، ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔ (خزائن، جلد: 17، ص: 162)
- (2) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے تئیس مقامات میں لفظ توفی کو قبض روح کے موقع
پر استعمال کیا ہے۔ اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا معنی نہیں جس کے بجز قبض روح اور مارنے کے اور معنی ہوں۔ (خزائن، جلد: 17، ص: 90)
- (3) اور احادیث میں جہاں کہیں توفی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے، اس کے معنی مارنا ہی
آیا ہے جیسے کہ محدثین پر پوشیدہ نہیں اور ”علم لغت“ میں یہ مسلّم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں کہیں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہے، وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنی توفی کے نہیں آتے۔ (خزائن، جلد: 17، ص: 90)
- (4) اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اشعار و
قصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدائے تعالیٰ فاعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پایا گیا ہے۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جلّ شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا۔ (خزائن، جلد: 3، ص: 603)
- (5) اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے انی متوفیک پہلے لکھا اور رافعک بعد
اس کے بیان فرمایا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد از وفات ہوا۔ (خزائن، جلد:3، ص:330)
- (6) قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کیے گئے
ہیں لیکن حال کے متعصب مُلّا جن کو یہودیوں کی طرز پر یحرفون الکلم عن مواضعہ کی عادت ہے اور مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لیے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلامِ الہی کی تحریف وتبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدا تعالیٰ کے ان چار ترتیب وار فقروں میں دو فقروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے۔ (خزائن، جلد:3، ص:607-608)
- (7) کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ جواہرات مرصع کی طرح اپنے اپنے محل پر چسپاں
ہیں۔ (خزائن، جلد:3، ص:612)
یہ وہ فرمودات ہیں جو مختلف جگہوں پر انی متوفیک کو ذکر کرنے کے بعد مرزا قادیانی ذکر کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام ثابت ہو رہی ہے۔ لیجیے نمبر وار جواب پیش خدمت ہیں۔
جواب نمبر 1: یہ قاعدہ مرزا قادیانی کا اپنا ذاتی، اختراعی اور من گھڑت ہے، نحو کی کوئی کتاب روئے زمین پر ایسی موجود نہیں جس میں یہ قاعدہ منقول ہو۔ مرزا قادیانی حسب عادت جھوٹ بول رہا ہے۔ مرزا قادیانی تو اب دنیا میں نہیں رہا، البتہ مرزا قادیانی کی اُمتِ کاذبہ نحو کی کسی چھوٹی بڑی کتاب سے یہ قاعدہ دکھائیں اور منہ مانگا انعام لیں۔
جواب نمبر 2: یہی قاعدہ مرزا قادیانی کے اپنے الہام میں ٹوٹ رہا ہے، ملاحظہ کیجیے۔
- -1 انی متوفیک ورافعک الی. ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف
اٹھاؤں گا ۔“ (خزائن، جلد:1، ص:620)
- -2 ”براہین احمدیہ کا وہ الہام یعنی یا عیسیٰ انی متوفیک جو سترہ برس سے شائع
ہو چکا ہے اس کے اس وقت خوب معنی کھلے یعنی یہ الہام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس وقت بطور تسلی ہوا تھا جب یہود ان کے مصلوب کرنے کے لیے کوشش کر رہے تھے اور اس جگہ بجائے یہود ہنود کوشش کر رہے ہیں اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ میں
تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موت سے بچاؤں گا“۔ (خزائن، جلد: 12، ص: 23)
ان جگہوں پر مرزا قادیانی نے متوفیک کے معنی کیے ہیں:
(1) میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔ (2) ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا۔
ان جگہوں پر مرزا قادیانی کا اپنا الہامی اختراعی قاعدہ اپنے ہاتھوں چکنا چور ہو رہا ہے۔ ان جگہوں پر لفظ توفی ہے، خدا فاعل ہے اور مرزا مفعول بہ ہے اور مرزا قادیانی کے اختراعی قاعدہ کی تمام شرائط پائی جارہی ہیں مگر موت کے معنی نہیں کیے جارہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ مرزا قادیانی کا اپنا اختراعی قاعدہ ان کے اپنے ہاتھوں چکنا چور ہو رہا ہے۔ ”قرار صرف سچائی کو ہے“!
جواب نمبر 3: مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”اول سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا نہیں جس کے بجز قبض روح اور مارنے کے اور معنی ہو سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ جب کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر لفظ توفی موجود ہے مگر معنی موت نہیں۔ ذیل میں چند آیات پیش خدمت ہیں اور اس کا ترجمہ بھی ہم اپنی طرف سے نہیں بلکہ مرزا بشیر الدین جو مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ بھی ہے، کی لکھی ہوئی تفسیر صغیر‘ کے ترجمہ سے پیش کر رہے ہیں تا کہ مخالفین کی کج روی کا علاج بالمثل بھی ساتھ ساتھ ہو۔ ملاحظہ ہو:
- 1- ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ . (البقرہ: 281)
پھر ہر ایک شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہو گا پورا (پورا) دے دیا جائے گا اور ان پر (کوئی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
- 2- وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ . (آل عمران: 25)
ہر شخص نے جو کچھ کمایا ہو گا (اس دن) وہ اسے پورا پورا دے دیا جائے گا اور ان پر (کچھ بھی) ظلم نہیں ہو گا۔
- 3- فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ (النساء: 173)
پھر جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک (ایمان کے مناسب حال) عمل کیے تھے انہیں وہ ان کے پورے پورے بدلے دے گا۔
- 4- وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ . (آل عمران: 185)
اور تمہیں صرف قیامت کے دن (ہی) تمہارے (اعمال کے) پورے پورے بدلے دیے جائیں گے۔
- 5- يَوْمَ تَأْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ
لَا يُظْلَمُوْنَ . (النحل : 112)
جس دن ہر شخص اپنی جان کے متعلق جھگڑتا ہوا آئے گا اور ہر شخص نے جو کچھ کیا ہوگا (اس کا اجر) اس پورا پورا دیا جائے اور اور ان پر (کسی رنگ میں بھی) ظلم نہ کیا جائے گا۔
- 6- الَّذِيْنَ إِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ . (مطففین : 2)
جو تول کر لیتے ہیں تو خوب پورا کر کے لیتے ہیں۔
ان مذکورہ پیش کردہ تمام آیات قرآنیہ میں توفی کا معنی موت نہیں بلکہ ان مذکورہ آیات میں لفظ توفی اپنے حقیقی معنی اخذ الشئی وافیاً (کسی چیز کو پورا پورا لے لینا) میں ہے اور وہ بھی مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ کی زبانی۔ جس سے واضح طور پر مرزا قادیانی کا کیا ہوا دعویٰ کہ ”اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا نہیں جس کے بجز قبض روح اور مارنے کے معنی ہوں“ غلط ثابت ہوا۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کا کہنا کہ ”احادیث میں جہاں کہیں توفی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے اس کے معنی مارنا ہی آیا ہے“، یہ بھی غلط دعویٰ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ پڑھیے آنکھوں کو ٹھنڈک بخشیے اور مرزا قادیانی کا جھوٹا دعویٰ لاچاری سے دم توڑتا ہوا دیکھیے۔ الفاظ حدیث مبارکہ یہ ہیں:
عن ابن عمر رضی الله عنه واذا رمى الجمار لا يدرى احد ماله حتى يتوفه الله يوم القيامة (الترغیب والترہیب،ص: 205، باب ما جاء فی فضل الحج)
ترجمہ: جب جمرہ رمی کیا جائے نہیں جانتا کوئی آدمی کہ اس کے لیے کیا ثواب ہے یہاں تک کہ پورا انعام دے گا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن۔
ایسے ہی اس حدیث میں مرزا کے اختراعی قانون کی تمام شرائط موجود ہیں مگر معنی موت نہیں لیا جاسکتا۔ اس کا دعویٰ کہ ”احادیث میں جہاں کہیں توفی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے۔ اس کے معنی مارنا ہی آیا ہے“۔ بھی غلط ثابت ہوا۔
نوٹ: توفی کا مادہ وفی ہے اور اس کا حقیقی (ما وضع لہ) معنی کسی چیز کا پورا لینا ہے جب کہ مجازی طور پر نیند اور موت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے مگر کسی قرینہ کے سبب۔ نیز
امام رازی اپنی شہرہ آفاق ”تفسیر کبیر“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ توفی کی تین قسمیں ہیں۔
- (1) موت (2) نیند (3) اصعاد الی السماء یعنی آسمان پر اٹھانا
اس لیے علمائے سابقین نے اس آیت میں تینوں معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے انی متوفیک میں تینوں معانی کو بیان کیا ہے۔ اکثر مفسرین نے توفی کا حقیقی معنی پورا پورا لینا بیان کیا ہے جبکہ بعض نے نیند اور بعض نے اس سے موت معنی مراد لیا ہے اگر اس کا نیند معنی کیا جائے تو پھر معنی اس طرح کیا جائے گا اے عیسیٰ میں تجھے سلاؤں گا اور اسی حالت میں تجھے آسمان پر اٹھاؤں گا۔ اور اگر اس آیت میں توفی کا معنی موت لیا جائے تو پھر آیت قرآنیہ میں عمل تقدیم و تاخیر جاری کیا جائے گا کہ رفع اور تطہیر (الیٰ آخرہ) کا وقوع پہلے ہوگا اور موت نزول علی الارض کے بعد واقع ہوگی اور اسی آخری بات کو یعنی آیت میں تقدیم و تاخیر کے عمل کو جاری کرنے پر مرزا قادیانی سیخ پا ہو رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ متوفیک میں معنی موت ہیں، پہلے اس کو ذکر کیا گیا اور وقوع بھی موت کا پہلے ہوگا، عمل تقدیم و تاخیر تحریف قرآنی ہے اور مولویوں نے تحریف قرآنی پر کمر باندھ لی ہے کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ جواہر مرصع کی طرح اپنے محل پر چسپاں ہیں۔
جواب نمبر 4: مرزا قادیانی کا غصہ تو قبر میں جا کر ٹھنڈا ہو چکا ہو گا مگر جو کچھ انہوں نے کہا ہے اور اسی بات کو بنیاد بنا کر مرزائی مربیان بھی اپنی گفتگو میں لاف زنی کرتے ہیں۔ یہ سراسر غلط بیانی ہے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر ایسا ہوا ہے کہ ظاہری ترتیب میں ایک جملہ پہلے مذکور ہے جب کہ عملاً اس کا وقوع بعد میں ہوتا ہے۔ مثلاً :
- (1) وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ .
(سورۃ بقرہ، آیت: 43)
- (2) وَ اسْجُدِيْ وَ ارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ . (سورۃ آل عمران، آیت: 43)
- (3) مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا. (سورۃ جاثیہ، آیت: 24)
- (4) وَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ . (سورۃ بقرہ، آیت: 58)
قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا . (سورۃ اعراف، آیت: 161)
- (5) وَ اَوْحَيْنَا اِلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ
وَ عِيْسٰى وَ اَيُّوْبَ وَ يُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَيْمٰنَ . (سورۃ نساء، آیت: 163)
ان مذکورہ پیش کردہ آیات پر کچھ تفصیل، تا کہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
آیت نمبر (1) میں پہلے ذکر ہے نماز کا پھر حکم زکوۃ کا اور پھر حکم ہے رکوع کرنے کا۔ اگر مرزا قادیانی کی بات کو ہی (جو بے اصل ہے) سامنے رکھا جائے تو اس آیت پر ترتیب وار عمل نہیں ہو سکتا۔
آیت نمبر (2) میں سجدہ کا حکم پہلے اور رکوع کا بعد میں جبکہ تمام مسلمان بلکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ رکوع عملاً پہلے ہے اور سجدہ بعد میں ہے۔
آیت نمبر (3) میں لفظی ترتیب دنیا کی زندگی میں موت کو پہلے ذکر کر رہی ہے اور حیات کو بعد میں جبکہ انسان پہلے زندہ ہوتا ہے تب ہی اس پر موت آتی ہے۔
آیت نمبر (4) میں ایک جگہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ سورہ بقرہ میں ادخلوا الباب سجداً پہلے ہے اور قولوا حطۃ بعد میں ہے جبکہ یہی قصہ جب سورۃ اعراف میں بیان ہوا تو قولوا حطۃ پہلے ہے اور ادخلوا الباب بعد میں ہے۔
آیت نمبر (5) میں پیش کردہ آیت کو آپ ایک نظر دیکھیں آیت کی ترتیب میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ایوب علیہ السلام، یونس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام پر مقدم ہیں جبکہ پورا دین محمدی قرآن و حدیث اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب انبیا و رسل سے آخر میں ہیں اور ان سے ایوب علیہ السلام، یونس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام بعثت میں مقدم ہیں مگر مرزا قادیانی کی بات مانی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر مقدم مانے جائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کی بات کا نہ ماننا ہی بہتر ہے کہ جس نے مرزا قادیانی کی اتباع کی، وہ سیدھا جہنم پہنچا۔
حاصل کلام :
گو کہ مرزا قادیانی کا اٹھایا ہوا اعتراض ابھی پیش کردہ تفصیلی جواب سے ٹوٹ چکا ہے مگر مقصد افہام و تفہیم ہے۔ اس لیے نہایت ہی آسان اور سادہ لفظوں میں عرض گزار ہیں کہ جناب مرزا قادیانی آپ علما کو طعنہ نہ دیں کہ مولویوں نے کلام الٰہی کی تحریف و تبدل پر کمر باندھ لی ہے۔ ہم اپنی تمام تر مبنی بر حقیقت علمی باتیں چھوڑتے ہیں، مہربانی کریں اور آنجناب اپنے
فرمان ”قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کیے گئے ہیں“۔ کو ملحوظ رکھتے ہوئے صحیح لفظی ترتیب سے ترجمہ کریں کہ آپ کے بقول متوفیک کا پہلے نمبر ہو پھر آپ کے فرمان کے مطابق رفع روحانی ہو پھر تطہیر من الکفار ہو۔ مگر آپ بھی اپنے بیان کردہ ہٹ دھرمی پر مبنی اصول کے مطابق ترتیب طبعی کے مطابق ترتیب قائم نہیں رکھ سکتے کیونکہ مرزا قادیانی کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے بعد یعنی واقعہ صلیب سے کئی سال بعد کشمیر میں ہوئی یعنی ”مطہرک من الذین کفروا“ کا وقوع پہلے ہوا جب کہ موت اور رفع روحانی بعد میں ہوا۔
حالانکہ ترتیب طبعی میں تطہیر من الکفار تیسرے نمبر پر ہے، اس لیے مرزا قادیانی اپنے فرمودات کے مطابق ترتیب طبعی قائم نہ رکھ سکا اور اپنے فتویٰ کے مطابق کلامِ الٰہی میں تحریف کا مرتکب ہوا۔ ملاحظہ فرمائیں:
”مگر بعد اس کے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غش میں آ گیا کہ گویا وہ موت ہی تھی۔ بہرحال پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی ...... بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے“۔
(خزائن، جلد: 19، ص: 57)
وضاحتی نوٹ:
توفی کا مادہ وفی ہے اور اس کا حقیقی ما وضع لہ معنی اخذ الشئی وافیاً جبکہ مجازی طور پر نیند اور موت پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ حسب قرینہ کہ اگر اس جگہ لیل یا منام کا لفظ موجود ہے تو وہاں اسی قرینہ کے مطابق توفی سے مراد نیند معنی ہوگا اور اگر کسی جگہ لفظ موت ہو تو پھر توفی سے معنی موت لیا جائے گا۔ اور دونوں قرائن موجود نہیں ہیں تو وہاں حقیقی معنی اخذ الشئی وافیا ہی لیا جائے۔ لیکن مرزا قادیانی کا کہنا کہ جہاں بھی توفی کا لفظ موجود ہے، وہاں سوائے قبض روح اور موت کے اور کوئی معنی ہے ہی نہیں، یہ انتہائی جہالت اور ہٹ دھرمی ہے۔
- 2۔ بعض دفعہ بات کرتے کرتے قادیانی کہہ دیتا ہے کہ ہر جگہ توفی سے مراد موت ہے
مگر جب عیسیٰ علیہ السلام کے لیے لفظ توفی بولا جائے تو جھٹ مولوی معنی موت
کرنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس وسوسے کے جواب میں قرآن مجید سے تقریباً 65 قرآنی آیات پیش خدمت ہیں جن میں مادہ وفی مختلف صیغوں میں موجود ہے اور حسب قرینہ اس کا معنی کیا جا رہا ہے۔ یقیناً کسی قرینہ کی وجہ سے کئی جگہوں پر موت یا نیند بھی معنی کیا جا سکے گا لیکن ایسا بھی ہو گا کہ نیند، موت دونوں معنی نہیں ہوسکیں گے بلکہ کسی چیز کا پورا پورا لینا معنی ہو رہا ہوگا۔ ان آیات کا ترجمہ مسلمان علما کے تراجم اور قادیانی ”تفسیر صغیر“ از مرزا بشیر الدین قادیانی خلیفہ یا ایسے ہی قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کے ترجمہ سے دیکھ سکتے ہیں۔
جس سے یہ بات آپ کے سامنے کھل کر آجائے گی کہ مرزا قادیانی کا کہنا کہ جہاں بھی قرآن مجید میں لفظ توفی ہے، وہاں سوائے قبض روح اور موت کے اور کوئی معنی نہیں، کس قدر جھوٹ پر مبنی ہے۔
- 1- وَ أَوْفُوْا بِعَهْدِيْ أُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ .
(بقرہ: 40)
- 2- وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا .
(بقرہ: 177)
- 3- وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ
وَ عَشْرًا .
(بقرہ: 234)
- 4- وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ .
(بقرہ: 240)
- 5- وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ .
(بقرہ: 272)
- 6- ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ .
(بقرہ: 281)
- 7- فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ .
(آل عمران: 25)
- 8- اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ .
(آل عمران: 55)
- 9- وَ اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ .
(آل عمران: 57)
- 10- بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ .
(آل عمران: 76)
- 11- ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ .
(آل عمران: 161)
- 12- وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ .
(آل عمران: 185)
- 13- فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيِّئٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ .
(آل عمران: 193)
- 14 - فَأَمْسِكُوْهُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ. (النساء: 15)
- 15 - إِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفَّهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِيْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ. (النساء: 97)
- 16 - فَأَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ أُجُوْرَهُمْ. (النساء: 173)
- 17 - يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ. (مائدہ: 1)
- 18 - فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ. (مائدہ: 117)
- 19 - هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ. (انعام: 60)
- 20- حَتّٰى إِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ. (انعام: 61)
- 21- اَوْفُوا الْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ. (انعام: 152)
- 22- وَ إِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا. (انعام: 152)
- 23- حَتّٰى إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوْا أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ
اللّٰهِ. (اعراف: 37)
- 24- فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ. (اعراف: 85)
- 25- رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ. (اعراف: 126)
- 26- وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ. (انفال: 60)
- 27- وَ لَوْ تَرٰى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمَلٰٓئِكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ أَدْبَارَهُمْ
وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ. (انفال: 50)
- 28- مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ. (توبہ: 111)
- 29- وَ إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ. (یونس: 46)
- 30- وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمْ. (یونس: 104)
- 31- مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيْهَا. (ہود: 15)
- 32- يٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ. (ہود: 85)
- 33- وَ إِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْصٍ. (ہود: 109)
- 34- وَ إِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ. (ہود: 111)
- 35- أَلَا تَرَوْنَ أَنِّيْ أُوْفِي الْكَيْلَ وَ أَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ. (یوسف: 59)
- 36- وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَيْنَا. (یوسف: 88)
- 37- تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ أَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ. (یوسف: 101)
- 38- الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ. (رعد: 20)
- 39- وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ
الْبَلٰغُ. (رعد: 40)
- 40- الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ. (نحل: 28)
- 41- الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَيِّبِيْنَ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُم. (نحل: 32)
- 42- وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰكُمْ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ. (نحل: 70)
- 43- وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ. (نحل: 91)
- 44- يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰی كُلُّ نَفْسٍ مَّا
عَمِلَتْ. (نحل: 111)
- 45- وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا. (الاسراء: 34)
- 46- وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ. (الاسراء: 35)
- 47- وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰی وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ. (حج: 5)
- 48- وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ. (حج: 29)
- 49- يَوْمَئِذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ. (نور: 25)
- 50- حَتّٰٓی اِذَا جَآءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ. (نور: 39)
- 51- اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ. (شعراء: 181)
- 52- قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ. (سجدہ: 11)
- 53- لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ. (فاطر: 30)
- 54- اِنَّمَا يُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ. (زمر: 10)
- 55- اَللّٰهُ يَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا. (زمر: 42)
- 56- وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ. (زمر: 70)
- 57- وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی. (غافر: 67)
- 58- فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ. (غافر: 77)
- 59- وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا وَلِيُوَفِّيَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ. (احقاف: 19)
- 60- فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ.
(محمد: 27)
- 61- وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا.
(فتح: 10)
- 62- وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰى.
(النجم: 37)
- 63- ثُمَّ يُجْزٰهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى .
(النجم: 61)
- 64- يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا .
(دہر: 7)
- 65- الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ.
(مطففین: 2)
آیت نمبر 2: بل رفعه الله اليه.
اس آیت کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے: مسیح ابن مریم مقتول و مصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھا لیا۔ جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے ”ورفعناه مكانا علیا“ یہ آیت حضرت ادریس علیہ السلام کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے ادریس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا۔ کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گیا تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لیے لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت اوپر ہی فوت ہو جائیں اور یا زمین پر آ کر فوت ہو مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خاکی موت کے بعد پھر خاک میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی سے حشر ہوگا اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اور دوبارہ آسمان سے نازل ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لیے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علّیین تک پہنچائی جاتی ہیں ”فی مقعد صدق
عند ملیک مقتدر“ (خزائن، جلد: 3، ص: 423)
جواب:
اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:
- 1- مرزا قادیانی نے اپنی من مانی بات ثابت کرنے کے لیے پوری آیت پیش کرنے
کے بجائے آیت کے درمیان کا ایک ٹکڑا ذکر کیا۔ یہ ایسے ہے جیسا کہ کوئی قرآن مجید سورۃ نسا کی آیت 43 کا یہ ٹکڑا ”لا تقربوا الصلوۃ“ ذکر کرے اور نماز نہ پڑھنے پر دلیل بنائے کہ قرآن مجید میں نماز سے روکا گیا ہے۔ کوئی عقل مند اس دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ ایسے ہی مرزا قادیانی نے آیت کا ایک ٹکڑا ”بل رفعہ اللہ الیہ“ ذکر کیا اور پھر کمال یہ ہے کہ لفظی ترجمہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی بلکہ مرادی معنی وہ بھی منشائے حق کے مخالف کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو‘۔ حالانکہ عربی لغت کا ابتدائی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ رفع کا حقیقی معنی اٹھانا اور اوپر لے جانا ہے اور اس کا مجازی معنی بلندی درجات ہے۔ اگر رفع اجسام کا ہے تو معنی حقیقی مراد لیے جائیں گے جیسے رفعنا فوقکم الطور ۔ (بقرہ: 63) اللہ الذی رفع السمٰوت بغیر عمد ترونہا۔ (رعد: 2) اور اگر رفع اعمال، درجات ہو تو وہاں مجازی معنی مقصود ہو گا جیسے ورفعنا لک ذکرک۔ (الم نشرح: 4) نرفع درجت من نشاء۔ (یوسف: 76) تو واضح ہوا کہ رفع کا معنی تو اٹھانا بلند کرنا ، اوپر لے جانا ہی ٹھہرا جیسی چیز ہوگی ویسے ہی اس کا رفع ہوگا۔ اس مختصر سی وضاحت کے بعد دیکھتے ہیں بل رفعہ اللہ الیہ کو پوری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو کیا اس صورت میں اس ٹکڑے کے وہ معنی کیے جاسکتے ہیں جو مرزا قادیانی نے کیے ہیں۔
پوری آیت:
”وقولہم انا قتلنا المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ و ما قتلوہ و ما صلبوہ ولکن شبہ لہم ان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن و ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ و کان اللہ عزیزا حکیما“
اور ہم اس آیت کا ترجمہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے دست راست اور مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین بھیروی کا کیا ہوا ترجمہ پیش کرتے ہیں پڑھیے اور مرزا قادیانی کی سعی نامراد اور دھوکہ دہی پر داد دیجیے۔ حکیم نورالدین لکھتا ہے:
”اور کہنا یہودیوں کا کہ ہم لوگوں نے عیسیٰ مسیح رسول اللہ مریم کے بیٹے کو قتل کیا اور ان لوگوں نے نہ مارا اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اس کو لیکن قتل اور سولی دینے کا شبہ ہوا ان کو اور ہر آئینہ جن لوگوں نے اختلاف کیا اس میں وہ اس کے متعلق شک میں ہیں اور ان لوگوں کو کچھ بھی یقینی علم نہیں مگر گمان کی پیروی اور نہ مارا اس کو از راہ یقین بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“ (فصل الخطاب، ص: 313-314)
حکیم نورالدین کے ترجمہ ذکر کرنے کے بعد ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حسب عادت دھوکہ دہی سے کام لیا اور دھوکہ آخر دھوکہ ہے کبھی تو اس سے پردہ اٹھے گا۔ اور یہاں پر تو مرزا قادیانی کے خلیفہ حکیم نورالدین کے ہاتھوں ہی پردہ فاش ہو گیا کہ رفع کا معنی عزت کی موت کرنا مرزا قادیانی کی دھوکہ دہی ہے۔
- 2- اگر آپ تھوڑی سی توجہ کریں تو آپ خود اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ یہاں رفع کا
معنی عزت کی موت نہیں کیا جا سکتا۔ شروع آیت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نام مذکور ہے اور پھر آگے ہے ما قتلوہ .ما صلبوہ .ما قتلوہ یقیناً اور ان جگہوں پر ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم مبارک ہی ہے کیونکہ جسم ہی قتل کیا جاتا ہے اور جسم ہی کو سولی پر لٹکایا جاتا ہے تو رفع کی ضمیر کا مرجع بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم ہی ہوگا۔ نیز یہودی، جسم عیسیٰ کے قتل کرنے کے مدعی تھے جس کی نفی کی گئی اور اسی جسم سے متعلق کہا گیا کہ اسی جسم عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اگر رفع سے مراد جسم کی بجائے روح ہو اور رفع بمعنی موت ہو جیسے مرزا قادیانی کر رہا ہے تو پھر قتل اور صلب کی نفی کرنا بے معنی ہو گا نیز رفع سے اگر روحانی رفع بمعنی موت ہو تو کان اللہ عزیزا حکیما (النساء: 158) کے جملہ کی یہاں ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی ترکیب ایسے موقع پر کی جاتی ہے جہاں کوئی زبردست اور غیر معمولی کام ہوا ہو۔
اس لیے مرزا قادیانی کا کہنا کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو، ہر حال میں غلط ہے۔ اس کو کوئی بھی عقل مند درست اور صحیح نہیں کہہ سکتا۔
انتباہ: مرزائی مربّین جب رفع کی لغوی تحقیق کے سامنے لاجواب ہو جاتے ہیں تو بجائے ماننے کے عقلی سوالات شروع کر دیتے ہیں۔
سوال: عیسیٰ علیہ السلام انسان ہوتے ہوئے آسمان پر کیسے جاسکتے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان کئی ناری کرّے ہیں جن سے گزرنے کی انسان تاب نہیں لاسکتا۔
جواب: (1) مرزا قادیانی لکھتا ہے:
”بل حياة كليم الله ثابت بنص القرآن الا تقرأ فى القرآن ما قال الله تعالىٰ عز و جل فلا تكن فى مرية من لقائه وانت تعلم ان هذه الآية نزلت فى موسىٰ فهى دليل صريح على حياة موسىٰ عليه السلام لانه لقى رسول الله صلى الله عليه وسلّم والاموات لا يلاقون الاحياء .
ترجمہ: بلکہ حضرت کلیم اللہ (موسیٰ علیہ السلام) کی حیات قرآن کی نص سے ثابت ہے۔ کیا تم قرآن میں پڑھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”فلا تكن فى مرية من لقائه“ (تو اُس کی ملاقات کے بارے میں شک نہ کر) اور تمھیں معلوم ہے کہ یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات پر صریح دلیل ہے۔ کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور مردے زندوں سے ملاقات نہیں کیا کرتے“۔
(خزائن،جلد:7،ص:221)
جواب (2) مرزا قادیانی لکھتا ہے:
”هذا موسى فتى الله الذى اشار الله فى كتابه الىٰ حياته و فرض علينا ان نؤمن بانه حى فى السماء ولم يمت وليس من الميتين“.
ترجمہ: یہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے وہ طاقت ور بندے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ان کی حیات کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہم پر فرض کیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ ہیں، فوت نہیں ہوئے اور مردوں میں سے نہیں“۔
(خزائن،جلد:8،ص:69)
ان دو حوالہ جات کے ذکر کرنے کے بعد واضح ہے کہ مرزا قادیانی، حضرت موسیٰ
علیہ السلام کو زندہ آسمان پر مانتا ہے۔ ہم مرزائیوں سے کہتے ہیں کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام، مرزا قادیانی کے بقول آسمان پر چلے گئے اور ناری کُرّوں سے گزر گئے، ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام بھی گزر گئے۔ ما ھو جوابکم فھو جوابنا.
جواب (3) بڑی حیرانی ہے کہ آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے پر اعتراض ہے کہ ناری کُرّوں سے انسان کا گزرنا محال ہے مگر جب مرزا قادیانی ماننے پر آئے تو ایک کافر کا کرتہ (چولا) آسمان سے اترنا مان لیا، نہ معلوم وہ کیسے ناری کُرّوں سے بچ کر زمین پر آگیا۔
ملاحظہ فرمائیں:
”بعض لوگ انگد کے جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی“۔ (خزائن، جلد: 10،ص: 157)
گرو نانک کا چولہ جب مرزا قادیانی آسمان سے اترنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں پر نظر کر کے مان رہا ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے لیے خدا تعالیٰ کی قدرتیں معاذ اللہ مرزا قادیانی کو کیوں بھول جاتی ہیں۔
سوال 2: بل رفعہ اللہ الیہ میں الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہیں مگر اس سے کیسے ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمان پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تو صفت یہ ہے کہ فأینما تولوا فثم وجہ اللہ (بقرہ: 115) تم جس طرف منہ کرو گے۔ ادھر ہی اللہ کا رخ ہے۔
جواب (1) أ أمنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض. (مُلک: 16)
ترجمہ: کیا تم آسمان میں رہنے والی ہستی سے اس بات سے امن میں آگئے ہو کہ وہ تم کو دنیا میں ذلیل کر دے (ترجمہ از تفسیر صغیر، مصنفہ مرزا بشیر الدین) اس جگہ آسمان میں رہنے والی ہستی اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔
جواب (2)
مرزا قادیانی خود بھی اللہ تعالیٰ کو آسمان پر مانتا ہے، صرف دو حوالے ملاحظہ کیجیے:
- (الف) ”الا یعلمون ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ“.
کیا وہ نہیں جانتے کہ مسیح (علیہ السلام) آسمان سے اپنے تمام علوم کے ساتھ نازل ہوں گے۔ (خزائن، جلد: 5، ص: 409)
اس جگہ پر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا مان رہا ہے۔ آسمان پر گئے تھے تو اتر رہے ہیں؟
(ب) ”لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے۔
(خزائن، جلد: 15، ص: 499)
آیت نمبر: 3
”تیسری آیت جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی گواہی دے رہی ہے، یہ ہے فلما توفیتنی كنت انت الرقيب عليهم یعنی جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔ ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں توفی کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ ولكن اعبد الله الذی يتوفكم اور پھر فرماتا ہے حتى اذا جاء تهم رسلنا يتوفونهم۔ (الجزء نمبر 8، سورۃ الاعراف) اور پھر فرماتا ہے توفته رسلنا ایسا ہی قرآن شریف کے تئیس مقام میں برابر توفی کے معنی اماتت اور قبض روح ہے لیکن افسوس کہ بعض علما نے محض الحاد اور تحریف کی رو سے اس جگہ توفیتنی سے مراد رفعتنی لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنی نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہے۔ پس یہی تو الحاد ہے جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اوّل سے آخر تک التزام کیا ہے۔ ان کو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کر دیا گیا ہے۔ توفی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جا بجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے چنانچہ میں نے غور سے صحاح ستہ کو دیکھا تو ہر ایک جگہ جو توفی کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے منہ سے تو انہی معنوں میں محدود پایا گیا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا توفی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنی ہوں۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں بطور اصطلاح کے قبض روح کے لیے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تا روح کی بقا پر دلالت کرے افسوس کہ بعض علما جب دیکھتے ہیں کہ توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے، واذ قال الله يعيسى ءَانت
قلت للناس اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے یعنی فلما توفیتنی وہ بھی بصیغہ ماضی ہے اور اس قصہ سے پہلے جو بعض دوسرے قصے قرآن کریم میں اسی طرز سے بیان کیے گئے ہیں وہ بھی انہیں معنوں کے مؤید ہیں مثلاً یہ قصہ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ کیا اس کے یہ معنی کرنے چاہئیں کہ خدا تعالیٰ کسی استقبال کے زمانہ میں ایسا سوال کرے گا تو سوا اس کے قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے اور وہ حدیثیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور باز پرس سوالات ہی کرتے ہیں‘‘۔
(روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 425)
مرزا قادیانی کی طرف سے وفات مسیح پر پیش کی جانے والی یہ تیسری آیت ہے مگر مرزا قادیانی نے حسب عادت پوری آیت ذکر کرنے کے بجائے آیت کا صرف ایک ٹکڑا پیش کیا اور اس پر ایک لمبی تقریر پیش کر دی۔ مرزا قادیانی کی پوری تحریر سے چند باتیں قابلِ غور ہیں:۔
- 1- مرزا قادیانی کا اصرار ہے کہ توفی کا معنی پورے قرآن شریف میں روح کو قبض
کرنے اور جسم کو بے کار چھوڑ دینے کے ہیں۔
- 2- مثال کے طور پر اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے قرآن کی چند آیات پیش کی ہیں
کہ ان میں توفی کا معنی موت ہی ہے اور بتانا یہ چاہتا ہے کہ جب ان آیات قرآنیہ میں توفی سے معنی موت ہے تو ایسے ہی قرآن میں جہاں کہیں بھی توفی کا لفظ ہو تو وہاں معنی موت ہی ہوگا۔
- 3- اس جگہ توفیتنی کا معنی رفعتنی (تو نے مجھے اُٹھا لیا) کرنا الحاد اور تحریف ہے۔
- 4- فلما توفیتنی (جو ماضی کا صیغہ ہے) سے پہلے جو آیت ہے اذ قال اللّٰہ
یعیسیٰ اس میں بھی ’’قال‘‘ ماضی کا صیغہ ہے اور پھر اس جگہ قال کے شروع میں لفظ اذ موجود ہے جو ماضی کے لیے خاص ہے جس سے واضح ہے کہ فلما توفیتنی کے نزول کے وقت یہ ماضی کا قصہ تھا۔
جواب شق نمبر 1: کیا توفی کا معنی پورے قرآن شریف میں روح کو قبض کرنے اور جسم کو بے کار چھوڑنے کے ہیں۔ اس پر ہم تفصیل کے ساتھ وفات مسیح پر مرزا قادیانی کی
پیش کردہ پہلی آیت کے تحت بیان کر آئے ہیں۔
جواب شق نمبر 2: جو آیات مرزا قادیانی نے پیش کر کے باور کروایا ہے کہ ان آیات میں توفی کے موت معنی ہیں، لہٰذا باقی جہاں کہیں قرآن میں لفظ توفی ہوگا، وہاں بھی معنی موت ہی ہوں گے، یہ ان کی جہالت اور کج روی کا ثبوت ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف سے پیش کردہ آیات میں تو واضح طور پر توفی کا معنی موت کرنے کے قرائن موجود ہیں۔ اس سے دوسرے معنی کی نفی کرنا کیسے درست مانا جا سکتا ہے؟
جواب شق 3: مرزا قادیانی کا کہنا کہ ”فلما توفیتنی کا معنی رفعتنی کرنا الحاد وتحریف ہے“ یہ اُن کی جہالت کی دلیل ہے۔ جبکہ بڑے بڑے علما اور مفسرین نے یہی معنی کیا ہے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں:
فلما توفیتنی یعنی قبضتنی ورفعتنی الیک۔ (تفسیر مظہری) توفیتنی قبضتنی الیک بالرفع. (تفسیر بحر المحیط) فلما توفیتنی ای رفعتنی الی السماء. (تفسیر نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور) فلما توفیتنی رفعتنی من بینہم. (تفسیر ابن عباس) فلما توفیتنی ای قبضتنی بالرفع الی السماء. (تفسیر روح المعانی) فلما توفیتنی فالمراد منہ وفاۃ الرفع الی السماء. (تفسیر کبیر)
اس کے علاوہ بھی اگر آپ مفسرین کی تفاسیر کا مطالعہ کریں تو آپ کو اسی معنی کی تائید ملے گی۔ مذکورہ مفسرین میں اُمت کے سب سے بڑے مفسر سیدنا ابن عباسؓ کی تفسیر ابن عباس میں بھی یہی مرقوم ہے تو کون ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مخالف خیال رکھے۔ ان حضرات کو ملحد ومحرف کہنا اپنے آپ کو ملحد ومحرف بنانا ہے۔
جواب شق 4: (الف) فلما توفیتنی صیغہ ماضی کا ہے اور اس آیت کے شروع میں لفظ اذ ہے جو ماضی کے لیے خاص ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ فلما توفیتنی کے نزول کے وقت یہ ماضی کا قصہ تھا۔
جناب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تو نبی و رسول کا ہے مگر علمی کمال یہ ہے کہ آنجہانی کو آیت کے سیاق وسباق کا بھی پتہ نہیں۔ حالانکہ واضح طور پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس آیت کا سیاق وسباق خود بتلا رہا ہے کہ اس آیت کا تعلق قیامت کے دن سے ہی
ہے اور یہ سارا واقعہ یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ما ذا اجبتم قالوا لا علم لنا (مائدہ: 109) سے شروع ہو کر قال اللہ ھذا یوم ینفع اللہ الصادقین صدقھم (119) پر مکمل ہورہا ہے۔ جس طرح یوم یجمع اللہ الرسل کا تعلق بھی قیامت کے دن سے ہے۔ ایسے ہی واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ فلما تو فیتنی کا قول بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا قیامت کے دن ہوگا۔ باقی رہی یہ بات کہ تو فیتنی اور اذ قال اللہ یعیسیٰ ماضی کے صیغے میں اور معنی مستقبل کیوں کیے جائیں تو ہم آپ کو بتلاتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ علم بلاغت کا یہ اصول ہے کہ جو امر یقین الوقوع ہو، اس کو ماضی کے صیغہ سے ذکر کر دیا جاتا ہے تا کہ اس کا قطعی ہونا واضح ہو جائے جس کی قرآن مجید میں کئی مثالیں موجود ہیں:
- ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون.
(یٰسین:51)
- ولو ترٰی اذ وقفوا علی النار فقالوا یلیتنا نرد ولا نکذب بآیات ربنا و
نکون من المومنین.
(انعام:72)
- ولو ترٰی اذ وقفوا علی ربھم الیس ھذا بالحق قالوا بلیٰ و ربنا.
(انعام:30)
- ولو ترٰی اذا المجرمون ناکسوا رؤسھم عند ربھم.
(سجدہ:12)
- ولو ترٰی اذ فزعوا فلا فوت و اخذوا من مکان قریب و قالو آمنا بہ
(سباء:51)
مذکورہ پیش کردہ آیات میں سے پہلی آیت کا تعلق قیامت کے برپا ہونے سے ہے اور باقی آیات کا قیامت کے دن پیش آنے والے واقعات سے ہے۔ مگر ان آیات میں مضارع کے بجائے ماضی کے صیغے ذکر ہوئے ہیں، باقی رہا لفظ ’’اذ‘‘ کہ وہ ماضی کے لیے خاص ہے اور پھر اس پر مرزا قادیانی کی ضد یہ بھی مرزا قادیانی کی جہالت کا بین ثبوت ہے۔ شاید کسی جگہ اتنا ہی لکھا دیکھ لیا ہوگا اور وہی لکھ دیا جب کہ نحو کی کتب میں جہاں تفصیلات موجود ہیں وہاں علمائے نحو نے یوں تحریر کیا ہے اذ الكائنة للماضى...... قد تجئ للمستقبل. (لفظ) اذ ماضی کے لیے ہے مگر کبھی کبھی مستقبل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اذ الأغلال فی أعناقہم والسلاسل يسحبون.
(شرح جامی، بحث اسماء ظروف)
جواب (2)
- (الف) مرزا قادیانی خود بھی ایک جگہ ہمارے اس موقف کی تائید میں لکھ رہا ہے:
”جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آ جاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو، مضارع کو ماضی پر لاتے ہیں تاکہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن مجید میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ونفخ فی الصور فاذاہم من الاجداث الیٰ ربہم ینسلون.“ اور جیسا کہ فرماتا ہے: ”اذ قال الله یعیسیٰ ابن مریم أ ء نت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون الله. قال الله ہٰذا یوم ینفع الصادقین صدقہم. ترجمہ: بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب یعنی ”فلما توفیتنی“ یوم حساب کو دیں گے جس دن مخلوق کو اُٹھایا جائے گا اور وہ حاضر ہوں گے۔ (روحانی خزائن، جلد: 21، ص: 159)
- (ب) نیز مرزا قادیانی لکھتا ہے: ان عیسٰی یجیب بھذا الجواب یوم الحساب
یعنی فلما توفیتنی فی یوم یبعث الخلق و یحضرون. (روحانی خزائن، جلد: 22، ص: 665)
قارئین محترم: ان مذکورہ دونوں حوالوں سے مرزا قادیانی کے اٹھائے ہوئے شبہات ان کے اپنے ہاتھوں چکنا چور ہورہے ہیں۔
مرزائی حضرات وساوس اور شبہات پیدا کرنے کے بڑے ماہر ہیں۔ ان کی طرف سے ایک وسوسہ ملاحظہ ہو:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح بخاری جلد: 2، ص: 665 پر آیت فلما توفیتنی کے تحت ایک حدیث لائے ہیں جس کا آخری حصہ ہے:
وانہ یجاء برجال من امتی فیؤخذ بھم ذات الشمال فاقول یا رب أصحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم فیقال ان ہؤلاء
لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم.
ترجمہ: میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے اور ان کو بائیں جانب (یعنی دوزخ کی جانب) لے کر چلیں گے۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں جس پر جواب میں کہا جائے گا کہ تمھیں نہیں معلوم کہ تمھارے بعد انھوں نے نئی نئی باتیں (بدعتیں) نکالیں (اس پر) میں کہوں گا جو عبد صالح (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا کہ كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم اور کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب سے تم ان سے جدا ہوئے، یہ لوگ ایڑیوں کے بل اسلام سے پھرتے رہے۔
قادیانی استدلال:
اس حدیث سے واضح ہے کہ میں بھی وہی کہوں گا جو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا اور یقیناً اس آیت میں یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے فلما توفيتنى تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی فلما توفيتنى ہی کہیں گے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فلما توفيتنى کے فرمانے میں یقیناً موت معنی کیے جائیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام کے فرمان فلما توفيتنى میں توفی کا معنی موت کیوں نہ کیے جائیں؟
جواب نمبر 1:
مرزائیوں کا یہ وسوسہ تار عنکبوت سے زیادہ طاقت ور نہیں ہے۔ ان کا اعتراض اس وقت تھا اگر حدیث میں یہ جملہ یوں ہوتا : اقول ما قال العبد الصالح کہ میں وہی بات کروں گا جو عبد صالح (حضرت مسیح علیہ السلام) نے کہی۔ حالانکہ ایسے نہیں بلکہ اقول كما قال العبد الصالح ہے۔ عربی گرامر کے ابتدائی طالب علم کو بھی اس کا علم ہے کہ ”ما“ اور ”کما“ میں فرق ہے۔ ”ما“ اسماء موصولہ میں سے ہے جبکہ ”کما“ میں ”ما“ کے ساتھ تو حرف تشبیہ ہے۔ یہی حرف تشبیہ مرزائیوں کے اس وسوسہ کا علاج شافی ہے کیونکہ حرف تشبیہ کے ساتھ دو چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ مگر دونوں میں تشبیہ من کل الوجوہ نہیں ہوتی جیسے كما بدأنا اوّل خلق نعيده. (انبیاء: 104) (جیسے ہم نے اول مرتبہ پیدا کیا، ویسے ہی دُہرائیں گے)۔ اس آیت میں دوسری تخلیق کو پہلی تخلیق سے مشابہت دی
جارہی ہے تو پہلی مرتبہ تو والدین کے ذریعے تخلیق ہوئی۔ کیا قیامت کے دن بھی ایسے ہی ہوگی ۔ حالانکہ ایسے نہیں ایسے ہی قرآن مجید میں ہے: كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلکم (البقرہ:182) ( تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلوں پر فرض کیے گئے ) اور مرزا قادیانی بھی اس کی تائید کرتا ہے:
”یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھنے میں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسے ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دُم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہو جاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے۔ (روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 138)
مماثلت ہمیشہ من وجہ مغایرت کو چاہتی ہے یہ ممکن نہیں کہ ایک چیز اپنے نفس کی مثیل کہلائے بلکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ مغایرت ضروری ہے۔
(روحانی خزائن، جلد: 17، ص: 193)
اس پوری تفصیل سے اس بات کا سمجھنا آسان ہو گیا جواب نمبر 1: قول مشبہ ہے جبکہ کما قال العبد الصالح و كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم مشبہ بہ ہے (اور نحوی کلیہ جس کی مرزا قادیانی سے بھی تائید پیش کی گئی ) کے باعث اس جگہ مغایرت کا ہونا ضروری ہے لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توفی سے مراد طبعی وفات شریفہ ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی سے بھی موت مراد لینا جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
جواب (2) اعتراض کرنے والا یا سوال کرنے والا جب سوال کرتا ہے تو اکثر و بیشتر جواب دینے والا خارجی طور پر جواب دینے کے درپے ہو جاتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے پہلے سوال ہی کو دیکھا جائے کہ ممکن ہے اسی سوال ہی میں جواب موجود ہو۔ قادیانیوں نے جو حدیث سے سوال اخذ کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اپنی نافرمان امت کے حالات معلوم ہونے پر کہوں گا اقول کما قال العبد الصالح
وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم، فلما توفيتنی (الخ) اس جگہ توفی سے جیسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی موت طبعی مراد ہے ایسے ہی حضرت مسیح علیہ السلام کی توفی سے بھی موت ہی مراد یقینی ہے۔
اس کے خارجی جوابات اپنی جگہ مگر اسی فلما توفيتنی والی آیت کو آپ ذرا توجہ سے پڑھیں تو اس آیت میں یہ بھی موجود ہے تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک۔ (مائدہ:116) اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام نے لفظ نفس اپنے لیے بھی استعمال کیا اور یہی لفظ انہوں نے اپنے کلام میں اللہ تعالیٰ کے لیے بھی استعمال کیا لیکن کوئی صاحب ایمان دونوں جگہوں پر نفس کا معنی ایک ہی مراد لے گا، ہرگز نہیں۔ یہی لفظ نفس عیسیٰ علیہ السلام نے جب بولا اپنے لیے تو معنی مفہوم اور۔ اور یہی لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لیے تو اس کا معنی مفہوم اور ہوگا۔ ایسے ہی توفی عیسیٰ علیہ السلام کی الگ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی الگ۔ اس کو ایک سمجھنا کم علمی ، کج روی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اعتراض:
جیسے کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قادیانی وساوس اور شبہات پیدا کرنے کے ماہر ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وساوس ہی ان کی اصل پہچان ہے۔ آیت مذکور پیش کر کے ساتھ کہنے لگ جائیں گے کہ اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی اُمت کے بگڑنے اور ان کے احوال کے بارے میں پوچھا جانے کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ مجھ کو علم نہیں۔ اگر ان کو زندہ آسمان پر مانا جائے اور قرب قیامت ان کا نزول علی الارض مانا جائے تو پھر یقیناً عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کے بگڑنے کا علم ہو جانا چاہیے تھا مگر بارگاہ ایزدی میں وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے علم نہیں، میں بے خبر ہوں۔ حیات مسیح کا عقیدہ رکھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت مسیح کو جھوٹا تصور کیا جائے۔ (معاذ اللہ)
قارئین یہ سوال سننے کے بعد بعض لوگ اس زیرِ بحث آیت کو سمجھنے کی طرف توجہ کرنے کے بجائے پریشان ہو جاتے ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
آپ قرآن مجید کی آیت کی طرف توجہ فرمائیں ، بار بار پڑھیں ، الفاظ سوالیہ یہ ہیں:
أَ ءَنْتَ قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون الله قال سبحنک ما يكون لی ان اقول ما ليس لی بحق. (المائدہ:116)
اس آیت میں سوال قول کا ہے کہ تو نے لوگوں سے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو معبود بناؤ تو جواب بھی اسی قول کا ہوگا کہ ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق کہ میرے مناسب نہیں کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔ امت کے بگڑنے کے علم کا نہ سوال ہوگا اور نہ جواب۔ مذکورہ زیر بحث آیت سے قطعی یہ سوال نہیں اخذ ہوتا بلکہ یہ سوال قادیانیوں کے دماغی خلل کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔
آیت 4: چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ ان من اهل الكتاب الا ليومنن به قبل موته اور ہم اسی رسالہ میں اس کی تفصیل بیان کر چکے ہیں۔
(روحانی خزائن، جلد: 3،ص: 425)
دوسری جگہ پر کسی سائل کا جواب دیتے ہوئے اما الجواب سے مرزا قادیانی لکھتا ہے:
”کہ سائل کو یہ دھوکہ لگا ہے کہ اس نے اپنے دل میں خیال کر لیا ہے کہ آیت فرقانی کا منشا یہ ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب کے فرقوں کا اس پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں جیسا کہ سائل سمجھا ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے، وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔ ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہو چکے ہیں اور خدا جانے آئندہ بھی کس قدر کفران کی وجہ سے آتشی تنور میں پڑیں گے۔ اگر خدا کا یہ منشا ہوتا کہ وہ اہل کتاب فوت شدہ مسیح کے نازل ہونے کے وقت اس پر ایمان لاویں گے کہ ان سب کو اس وقت تک زندہ رکھتا جب تک کہ مسیح آسمان سے نازل ہوتا لیکن اب مرنے کے بعد ان کا ایمان لانا کیونکر ممکن ہے۔“
(جلد: 3،ص: 288)
ایک جگہ پر مرزا قادیانی اسی آیت سے متعلق یوں تحریر کرتا ہے:
”بعض لوگ شرمندے سے ہو کر دبی زبان یہ تاویل پیش کرتے ہیں
کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مومنوں کی فوج میں داخل ہو جائیں گے لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت
نہیں ۔ (روحانی خزائن ، جلد: 3، ص: 289)
جواب: قارئین محترم ! اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:
- نمبر ایک آیت کے الفاظ لیؤمنن کا معنی ”بہ“ اور ”قبل موتہ“ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔
- نمبر 2: مرزا قادیانی کی طرف سے اس کے تحت مذکورہ باتوں کا لکھنا
- نمبر 1: آیت میں موجود لیؤمنن ۔ صیغہ واحد مذکر غائب موکد بانون ثقیلہ کہ اس کے شروع
میں لام تاکید ہے اس سے دو مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں ۔ ایک یہ کہ چونکہ یہ مضارع کا صیغہ ہے اور مضارع میں زمانہ حال و مستقبل دونوں کا احتمال ہوتا ہے اور مضارع پر موکد بانون ثقیلہ لگانے سے مستقبل کے لیے خاص کر دیا جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ مضارع کے جس صیغہ میں نون ثقیلہ لگا دیا جائے تو اس فعل میں قطعیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس جگہ پر اس پر لام مفتوح برائے تاکید ہے ۔ گویا اس سے تاکید در تاکید کا فائدہ ہوا جو عربی گرامر کے ابتدائی طالب علم سے بھی کوئی مخفی بات نہیں ہے اور تمام اہل فن اس پر متفق ہیں اور قرآن مجید میں جہاں بھی ایسے صیغہ جات سے کوئی بات بیان کی گئی ہے تو ہر جگہ یہی مفہوم ہے۔ مثلاً
ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ . (آل عمران: 81)
ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم . (تکاثر: 8) لنجزین الذین صبروا اجرہم باحسن ما کانوا یعملون. (نحل: 96) فلنحیینہ حیاتاً طیبہ . (نحل: 97) لندخلنہم فی الصلحین . (عنکبوت: 9)
باقی رہا اس آیت میں بہ اور موتہ کی ضمیر کے مرجع کا مسئلہ تو پھر آپ قولہم انا قتلنا المسیح سے یکون علیہم شہیدا۔ تک توجہ سے دیکھیں تو تقریباً بہ اور موتہ کے علاوہ باقی ضمیریں تو آیت کے شروع میں موجود اسم ظاہر کی طرف لوٹیں ان دو ضمیروں کا مرجع کوئی دوسرا کیوں تلاش کیا جائے اور یہی جمہور مفسرین کا مذہب ہے۔ اس پر دو حوالے پیش
خدمت ہیں۔ (1) تفسیر المحیط میں ہے ”والظاهر ان الضميرين فى به وموته عائدان علی عیسیٰ وهو سياق الكلام۔ اور ایسے ہی امام برہان الدین (متوفی: 885ھ) نے اپنی تفسیر نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور میں یوں تحریر فرمایا ہے: ”ليؤمنن بہ ای بعیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام قبل موتہ ای موت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام۔
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”زمانہ صعود مسیح اور اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہیں مسیح کی موت سے پہلے تو لازم تھا کہ ان سب کو اس وقت تک زندہ رکھا جاتا جب تک کہ مسیح آسمان سے نازل ہوتے۔
مرزا قادیانی کی اس عبارت میں ایک ایک لفظ مغالطہ پر مبنی ہے اور مغالطہ دینا مرزا قادیانی کی عادت ہے۔ اس آیت میں تو صرف اتنا ہے کہ جو نزول مسیح کے وقت اہل کتاب ہوں گے، وہ ایمان لے آئیں گے۔ اس سے تمام اہل کتاب اوّل تا آخر کہاں مراد ہیں۔ اگر یہی مفہوم لیا جائے جو مرزا قادیانی لے رہا ہے تو پھر قل یا اہل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا و بینکم (آل عمران:64) میں تمام اہل کتاب ابتداء سے انتہاء تک مراد ہوں گے؟ نہیں بلکہ جو اس وقت موجود تھے، انہیں کو مخاطب کیا گیا ہے۔
واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللّٰہ الیکم۔ (صف:6)
کیا اس آیت میں عیسیٰ ابن مریم تمام بنی اسرائیل کو فرما رہے ہیں کہ میں تم سب بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں یا جو اس وقت موجود تھے، بات واضح ہے کہ جو اس وقت موجود تھے یقیناً انہی سے فرما رہے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ...... خود تو مراق کا مریض تھا ہی مگر اوروں کو بھی اس مرض میں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے۔ ایسے ہی مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”بعض لوگ شرمندے سے ہو کر دبی زبان میں یہ تاویل پیش کرتے ہیں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے“۔ کس قدر لغو ہے۔
ساری امت کے اکابر علما مفسرین اسی بات کے قائل ہیں کہ جب مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اس وقت جو اہل کتاب ہونگے وہی ان پر ایمان لائیں گے۔
آیت نمبر: 5
ما المسیح ابن مریم الا رسولٌ قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یا کلان الطعام.
یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں۔ ماں اس کی صدیقہ ہے جب دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے، یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے ہاں کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے۔ جیسا کہ کانا کا لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے جو حال کو چھوڑ کر گزشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔ اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم طعام کھانے سے اس وجہ سے روکی گئی کہ وہ فوت ہو گئی اور چونکہ کانا کے لفظ میں جو تثنیہ کا صیغہ ہے حضرت عیسیٰ بھی حضرت مریم کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے داخل ہیں لہٰذا مریم کی موت کے ساتھ ان کی موت بھی ماننی پڑی کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکی گئیں لیکن ابن مریم کسی اور وجہ سے اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ ما جعلنہم جسداً لا یاکلون الطعام جس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقع حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہو گیا کہ وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لیے ضروری ہے اس سے قطعی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ زندہ نہیں۔ (خزائن، جلد: 3، ص: 426)
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے اپنی مرضی کا مفہوم نکالنے کے لیے کچھ باتیں زیادہ کر دی ہیں مثلاً پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں، اس آیت میں
کوئی لفظ بھی نہیں جس کا یہ معنی ہو، دوسرا یہ کہ جب وہ زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے، یہاں جب وہ زندہ تھے کس لفظ کا ترجمہ ہے۔
ہاں کانا یأکلان الطعام. جس کا معنی یہ ہے وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ یعنی جس طرح دوسری مخلوق خدا کھاتی ہے وہ بھی کھاتے تھے جس سے مقصود صرف یہ ہے کہ وہ مخلوق تھے خود الہ نہ تھے۔ یہاں وفات وحیات کا ذکر تک نہیں، باقی مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ کانا ماضی کا صیغہ ہے لہٰذا دونوں زمانہ ماضی میں کھانا کھاتے تھے۔ اب مریم بھی نہیں کھاتی تو وہ فوت ہوگئی ایسے ہی مسیح کی موت بھی ماننا پڑی کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک حکم میں شامل تھے۔
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ کانا ماضی کا صیغہ ہے لہٰذا یہ قصہ بھی ماضی کا ہوگا۔ اب عیسیٰ کھانا نہیں کھاتے۔ یہ ان کا اپنا اٹکل پچو ہے۔ ذرا توجہ کرو قرآن میں ہے کہ:
- (1) كان الله على كل شئی قديراً. (احزاب:27)
- (2) ما كان الله ليضل قوماً بعد اذ هداهم (توبہ:115)
- (3) ما كان المؤمنون لينفروا كافة (توبہ:122)
- (4) ما كان للنبى والذين آمنوا (توبہ:113)
مثال نمبر (1) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ مثال نمبر (2) اللہ تعالیٰ کی شان سے یہ بعید ہے کہ ایک قوم کو ہدایت دے اور پیچھے گمراہ کر دے یہاں بھی کان ہے مگر ماضی کا معنی نہیں ہے۔ مثال نمبر (3) مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں کان ماضی ہے مگر معنی استقبال ہے۔ مثال نمبر (4) مسلمانوں اور نبی کو لائق نہیں، کیا یہ معنی ہوں، لائق نہیں تھا۔
ایسے ہی دوسری بات کہ مریم کے طعام نہ کھانے کی وجہ موت ہے اور مسیح کے طعام نہ کھانے کی وجہ بھی موت ہی ہو کیونکر؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ دو شخصوں کا ایک مشترکہ فعل سے جدا ہونا مختلف اسباب سے ہو، مثلاً زید اور عمر اکٹھے لاہور رہتے تھے، زید نے تعلیم چھوڑ دی اور عمر، ولایت چلا گیا، اب لاہور میں رہائش دونوں کا مشترکہ فعل ہے مگر لاہور سے نکلنے کے مختلف اسباب ہیں۔ ایسے ہی مریم کا کھانا نہ کھانا موت کی وجہ سے ہے اور مسیح کا نہ کھانا دنیا سے آسمانوں پر چلے جانے کی وجہ سے ہے۔ اگر یہی طرز استدلال اپنایا جائے تو یہ بھی سنیے کہ
قرآن میں ہے ”قل فمن یملک من اللہ شیئاً ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامه و من فی الارض جمیعا. (المائدہ: 17) اور کہہ سکتا ہے کوئی کہ نہ جمیع من فی الارض ہلاک ہوا اور نہ ہی مسیح ابن مریم اور اس کی ماں کو ہلاکت ہوئی جیسے جمیع من فی الارض آج موجود ہے ایسے ہی مسیح اور اس کی والدہ بھی زندہ ہیں۔ کیا قادیانی یہ استدلال مان لیں گے؟ باقی مرزا قادیانی نے کیونکر سمجھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھانا نہیں کھاتے، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ طعام تبدیل ہوا، کھانا کھانا ختم نہیں ہوا۔
کیا یہ سچ ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کی غذا خون ہے جب پیٹ سے باہر آتا ہے تو اس کی غذا خون ختم ہوکر دودھ شروع ہو جاتی ہے اور پھر چند مہینوں بعد دودھ پر گزارہ مشکل ہو جاتا ہے تو دودھ بحیثیت غذا ختم ہو جاتا ہے، روٹی غذا کی جگہ آ جاتی ہے۔ اس لیے ایک غذا کے تبدیل ہونے سے کسی کی موت ثابت نہیں ہوتی تو حضرت مسیح آسمانوں پر ہیں جو آسمان والوں کی غذا وہی ان کی غذا۔ زمین پر رہنے والے اولیاء اللہ بھی ذکر الٰہی سے سرور اور قوت حاصل کرتے ہیں اور کئی کئی دن روٹی نہیں کھاتے مگر زندہ رہتے ہیں۔ نیز زمین پر جو غذا ہے وہ آسمان سے نازل ہوتی ہے وفی السماء رزقکم. (ذاریات: 22) وینزل لکم من السماء رزقا. (مومن: 13) نیز زمین پر غذا دینے والا بھی رب ہے اور آسمان پر بھی رزق اسی کے ذمہ ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ قادر مطلق نہیں کہ وہ کسی کو جب چاہے جہاں چاہے وہاں کے ماحول کے مناسب رزق دے۔
خَلَتْ کا معنی:
خلت، خلا یخلو سے ہے جس کا معنی حقیقی گزرنا ہے، اس کا معنی حقیقی موت، ہے ہی نہیں اور اگر کسی جگہ پر خلا کا لفظ موت کے لیے استعمال ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ موت کے معنی کے لیے حقیقتاً وضع بھی کیا گیا ہے۔ نیز موت کا لفظ حقیقتا موت ہی کے لیے وضع کیا گیا ہے مگر وہ بھی کبھی کبھی اپنے حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی پر ہوتا ہے جیسے اللھم باسمک اموت واحیا. اب یہاں اموت موت سے ہے معنی حقیقی موت ہی ہے اگر یہاں معنی موت نہیں ہے تو پھر خلت جو حقیقتاً معنی موت کے لیے وضع ہی نہیں کیا گیا تو اس کو کیسے موت کے معنی میں لیا جائے اس کا لفظی معنی گزرنا ہے اور زندوں مُردوں دونوں کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے۔
- (1) واذا خلوا الی شیاطینہم. (بقرہ: 14) (جب وہ اپنے شیطانوں کے پاس تنہا
ہوتے ہیں) زندوں کے لیے استعمال ہوا ہے یہاں معنی موت نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس کا معنی موت کیسے ہوا۔
- (2) سنة الله التی قد خلت فی عبادہ. (مومن: 85) (اللہ کا دستور ہے جو اس
کے بندوں میں جاری ہے۔ کیا یہاں سنت اللہ ”فوت ہوگئی“ معنی کیا جاسکتا ہے۔
- (3) واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ. (آل عمران: 119)
جس وقت اکیلے ہوتے ہیں تو مارے غصہ کے تجھ پر انگلیاں کاٹتے ہیں، یہاں بھی زندوں پر استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات ہیں جہاں موت کا معنی ہو ہی نہیں سکتا۔ بہر حال یہاں صرف مطلق خلو گزرنا مراد ہے۔ یہاں سے چلے گئے ،آگے ان کا کیا ہے، اس کا بیان اس لفظ کے معنی میں شامل نہیں ہے ،وہ اس کے دائرۂ مفہوم سے خارج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا سیاق وسباق دیکھیں تو صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں صرف ان کی الوہیت کا انکار مقصود ہے جو کھاتا پیتا ہو وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے۔
آیت نمبر: 6 ۔ و ما جعلناھم جسداً لا یأکلون الطعام.
”اور درحقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے نہیں رہ سکتا۔ یہی سنت اللہ ہے تو پھر حضرت مسیح کیونکر اب تک بغیر طعام زندہ موجود ہیں اور اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے ولن تجد لسنة الله تبدیلا۔ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی زندگی بھی اس جہاں کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی ان کو بھی مار چکی ہے بے شک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی شہدا کی طرح زندہ ہیں“ (جلد:3 ،ص:427)
اس کے جواب میں تین باتیں پیش خدمت ہیں
- (1) اس آیت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ کوئی جسم ایسا نہیں جسے طعام کی ضرورت نہ
ہو۔ ہر جسم کو طعام کی ضرورت ہے مگر اس کا مفہوم یہ نہیں کہ فلاں وقت تک یا فلاں
مدت تک کھانا ضروری ہے۔ اگر نہیں کھائے گا تو مر جائے گا۔ وہ مدت اس آیت کے کس لفظ سے سمجھ آ رہی ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی و یسقینی (الحدیث) نیز اصحاب کہف کا تذکرہ قرآن میں واضح موجود ہے کہ 309 سال تک بغیر کھائے پئے زندہ رہے جب اٹھے تو ایک آدمی کھانا لینے کے لیے گیا۔ اب وہ 309 سال تک بغیر کھائے پئے زندہ رہے ان کو موت نہیں آئی۔ نیز مرزا قادیانی سمجھتا ہے کہ غذا صرف روٹی سالن ہے جب کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ذکر اذکار بھی اپنی جگہ پر غذا کا کام دے رہے ہیں تو وہاں بھی کھانا پینا تو پایا گیا۔
- (2) و لن تجد لسنت الله تبدیلا. (احزاب: 62) مرزا قادیانی کا حال بھی عجیب
ہے کہ اب یہ سنت اللہ ہو گیا کہ بغیر کھانے کے زندہ نہ رہنا۔ کیا خدا اپنے قانون کو تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر رکھتا ہے اور یقیناً رکھتا ہے تو پھر وہ آپ کے بقول اپنے قانون کو اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ کیا یہ بات صحیح نہیں کہ اللہ نے آگ کے لیے قانون بنایا ہے کہ وہ جلائے مگر قرآن کہتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو گلزار کر دیا گیا۔ نیز مرزا قادیانی خود بھی تسلیم کر چکا ہے کہ عبادالرحمٰن اس قدر زور سے صدق وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ ان سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہے جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام چونکہ صدق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا۔ اس لیے ہر ایک ابتلا کے وقت خدا تعالیٰ نے اس کی مدد کی جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا، خدا نے آگ کو اس کے لیے سرد کر دیا۔ (خزائن جلد:22، ص:52) اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کوئی کھائے پیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور حضرت عیسیٰ نہیں کھاتے پیتے تو پھر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے حضرت عیسیٰ سے بھی وہ معاملہ ہے جو دوسروں سے ہرگز نہیں ہے۔ ان کو بغیر کھائے پیے زندہ رکھا ہوا ہے اور اس سے سنت اللہ کی تبدیلی میں کوئی حرج نہیں، نیز مرزا قادیانی سمجھ بیٹھا ہے جیسے ان کا گزر ان مقویات گوشت مرغ بادام والی غذا کے بغیر نہیں ہو سکتا، ایسے مسیح بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔
- (3) مرزا قادیانی کا کہنا کہ اصحاب کہف زندہ ہیں مگر شہدا والی زندگی ان کو حاصل ہے
بہت بڑی فاش غلطی ہے۔ کس قدر غضب کی بات ہے کہاں قرآن وحدیث یا تاریخ میں ہے کہ اصحاب کہف کفار سے لڑے اور کفار کے ہاتھوں مارے گئے کہ ان کو شہیدوں کی مانند زندگی عطا ہوئی، قرآن تو صاف لفظوں میں دنیا کی زندگی ان کے لیے بیان کرتا ہے مگر صد حیف مرزا پر! ایسے ہی سارا دھرم ہے جو جی میں آیا لکھ مارا۔
آیت نمبر: 7۔ و ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل أ فان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم.
محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہو گئے ہیں اب کیا اگر وہ بھی فوت ہو جائیں یا مارے جائیں تو ان کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھر جاؤ۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو کوئی ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک موجود ہے اور ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ رہتے تو پھر یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوسکی۔ (جلد:3، ص:427)
مرزا قادیانی اس آیت کو پیش کر کے دو طرح سے وفات مسیح ثابت کر رہا ہے:
- 1- محمد صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے۔
- 2- ظاہر ہے کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ رہتے تو پھر یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی ہے
صحیح نہیں ہوسکی۔
اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:
جواب (1) (الف) کسی بھی کلام کے عموم سے کسی خاص جزئی پر استدلال کرنا خلاف حقیقت ہے کیونکہ عموم کی دلالت اپنے افراد پر نہایت کمزور ہوتی ہے۔ خصوصاً ایسے موقع پر جبکہ کسی خاص جزئی کا حکم کسی مستقل دلیل سے الگ ثابت ہو چکا ہو۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج۔ (دہر:1)
یہاں واضح موجود ہے کہ تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے نطفہ سے پیدا کیا ہے مگر اس عموم میں حضرت آدم وحوا وعیسیٰ ابن مریم علیہم السلام شامل نہیں ہیں۔
- (ب) ظهر الفساد فی البر والبحر بما كسبت ایدی الناس. (روم: 41)
اس جگہ بیان ہوا کہ تمام انسانوں کے اعمال ظهر الفساد فی البر والبحر کا سبب ہیں جب کہ اولیا صالحین کے بما كسبت (اعمال) تو فساد کو ختم کرنے کا سبب ہیں۔
- (ج) لأملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين. (ہود: 119)
یہاں بھی اگر عموم مراد ہو تو اللہ کی پناہ ! اس لیے کسی کلام کے عموم سے کسی خاص جزئی سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔
جواب (2) کلام الٰہی پر غور کیا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ اگر اس آیت سے مراد صرف وہی ہوتی جو مرزا قادیانی نے کہی ہے تو مقام کے تقاضا کے مطابق قرآن کے الفاظ قد خلت من قبله الرسل افان مات أو قتل انقلبتم على اعقابکم کی بجائے عبارت اس طرح زیادہ موزوں تھی قد ماتت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم مگر ایسا نہیں تو ظاہر ہے کہ ضرور کوئی وجہ ہے کہ قد خلت کہا گیا قد ماتت نہیں کہا گیا۔
جواب (3) مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو یہ دلیل جو خدا تعالیٰ نے پیش کی ہے صحیح نہیں ہو سکتی“۔ سوائے جہالت، ہٹ دھرمی کے اور کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ دلیل وفات مسیح پر خدا تعالیٰ نے پیش نہیں کی بلکہ مرزا قادیانی نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ یہ دلیل خدا تعالیٰ نے وفات مسیح پر پیش کی ہے اگر بالفرض والمحال یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دلیل ہے تو ”پھر ذرا یہ بتا دو کہ اگر نبی کے لیے ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو کوئی ایسا نبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے“ کلام اللہ کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟
جواب (4) ترجمہ (سب نبی فوت ہو چکے ہیں) میں ”سب“ کس لفظ کا ترجمہ ہے؟۔ بلاشبہ یہ ترجمہ غیر منقول، خلاف قاعدہ اور صریح غلط ہے۔ غالباً مرزا قادیانی نے ”الرسل“ پر موجود الف لام کو برائے استغراق فرض کر کے یہ ترجمہ کیا ہے کہ تمام رسول فوت ہو چکے ہیں اور کوئی رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر ذرا توجہ کی جائے تو بات بالکل واضح ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اُس وقت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔ تو ”الرسل“ (تمام رسول) سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
ذات پاک کو کس قانون کے تحت خارج کرتے ہیں؟
جواب (5) اس آیت میں دو لفظ ہیں جو مرزا قادیانی کی بنیاد ہیں۔ (1) قد خلت (2) الرسل پر الف لام استغراقی ہے، خلت کے بارے میں واضح ہو چکا ہے کہ یہ لفظ خلا یخلو سے ہے جس کے معنی ماوضع لہ موت نہیں اور الرسل پر الف لام استغراقی لینا کسی اعتبار سے درست اور صحیح نہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود زندہ تھے تو پھر کیسے الرسل پر الف لام استغراقی مان لیا جائے۔ استغراق کا مفہوم یہ کہ جمیع افراد اس میں شامل ہوں۔
قارئین محترم! جو کچھ اوپر مذکور ہوا، ان تمام گزارشات کو پیش کرنے کے باوجود بھی اگر کوئی قادیانی مربی مرزا قادیانی کی طرح ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے اور خلت کا معنی موت کرنے اور الرسل پر الف لام استغراق (یہ علم نحو کی اصطلاح ہے) کا ہونے پر ہی مُصر ہو تو اس کا علاج بالمثل کریں۔ جو درج ذیل ہے کہ مرزا قادیانی خلت کا معنیٰ موت نہیں کر رہا۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل. (الخ)
یعنی مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے۔ (روحانی خزائن،جلد:6،ص:89)
یہاں مرزا قادیانی خلت کا معنی موت نہیں کر رہا جبکہ لفظ خلت موجود ہے نیز مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا تعالیٰ نے ذکر بھی نہیں کیا۔ (روحانی خزائن،جلد:14،ص:387)
اب سنائیں کہ زیر بحث آیت میں الرسل پر الف لام کا استغراقی لیا جائے تو یقیناً سارے نبیوں کی وفات اس میں داخل ہے جبکہ مرزا قادیانی نے واضح لکھا کہ بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا نے ذکر بھی نہیں کیا تو مرزا قادیانی کے ہاتھوں خود الرسل پر الف لام کے استغراقی ہونے کی بات ختم ہورہی ہے، اس لیے آپ ہٹ دھرمی چھوڑیں اور یہاں پر الف لام کے استغراقی ہونے پر مصر نہ ہوں۔ ہاں اس آیت میں الرسل پر الف لام جنسی مراد ہے۔
آیت نمبر: 8۔و ما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افان متّ فہم الخلدون.
”یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو زندہ اور ایک حالت پر رہنے نہیں دیا پس اگر کوئی مر گیا تو یہ لوگ باقی رہ جائیں گے۔ اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے نہیں بچا اور نہ آئندہ بچے گا اور لغت کی رو سے خلود کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے کیونکہ تغیر موت اور زوال کی تمہید ہے پس نفی خلود سے ثابت ہوا کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر ایک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح بن مریم کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے باعث فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ (روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 427)
قارئین: اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں،
- (1) پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح آسمانوں پر زندہ ہیں اور
قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے پھر بعد اس کے وفات پائیں گے مسلمان اس بات کے قائل ہی نہیں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے تو مرزا قادیانی نے کیسے سمجھ لیا کہ وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس آیت کو پیش کر کے خلود کا رد کرنے لگے۔
- (2) اس آیت میں ایسا کوئی بھی تذکرہ نہیں جس سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کی
وفات کا تذکرہ ہو۔
- (3) مرزا قادیانی نے اس آیت کے مفہوم عام سے بطور سنت اللہ کے وفات مسیح پر
استدلال کیا ہے حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام سنت اللہ میں داخل ہی نہیں بلکہ وہ آیت اللہ ہیں، اس لیے سنت اللہ کہہ کر اس آیت کو حضرت مسیح کی وفات پر پیش کرنا صحیح نہیں۔
- (4) مرزا قادیانی کی وجہ استدلال، خلود کے مفہوم میں داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت
میں رہنا اور نفی خلود سے ثابت ہے کہ ہر شخص کی حرکت موت کی طرف ہو رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے فوت ہو گیا ہے، یہ بالکل مرزا قادیانی کے مذہب کے خلاف ہے، کیونکہ وہ تو اس بات کے قائل ہی نہیں کہ اتنا لمبا عرصہ سے آسمان پر ہیں یا تو وہ پہلے اس بات
کو مانیں کہ وہ آسمانوں پر اتنا لمبا عرصہ رہنے اور شیخ فانی ہو جانے کے بعد امتداد سے ضعف آ کر فوت ہو گئے جب یہ آپ کا مذہب ہی نہیں تو پھر اس طریقہ سے استدلال کرنا چہ معنی دارد؟ ہاں پہلے اس بات کو تسلیم کریں کہ وہ ایک لمبا زمانہ تک زندہ رہے پھر یہ استدلال پیش کیجیے لیکن ساتھ یہ بھی کوئی حد بطور کلیہ کے ذکر کریں کہ اتنی لمبی مدت تک کوئی شخص شیخ فانی ہو جاتا ہے اگر آپ کو معلوم ہو تو فرمائیں۔
آیت نمبر: 9۔ تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون
اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہو گیا ان کے اعمال ان کے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے اور ان کے کاموں سے تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔ (جلد: 3، ص: 428)
توجہ کی جائے تو مرزا قادیانی کا اس آیت سے استدلال تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ تلک اسم اشارہ ہے اور اس کا مشارأ علیہ ایک یہ آیت ہے جس میں ابراہیم یعقوب اسماعیل اسحٰق علیہم السلام کا ذکر ہے کہ جب کہ دوسری جگہ اس سے ماقبل میں یہ ام تقولون ان ابراہم سے وما اللہ بغافل عما تعملون جو تلک کا مشار الیہ ہے اب جس جماعت کا ذکر پہلے ہے جن کو اس جگہ اُمت کہا گیا اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تک نہیں ہے نیز مرزا قادیانی سے سوال ہے کہ (اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں) یہ کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔
آیت نمبر: 10۔ وأوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ ما دمت حیا.
اس کی تفصیل ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں ، (خزائن جلد: 3، ص: 331) اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریقہ نماز پڑھنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یوں ہی پڑے رہتے ہیں مردے جو ہوئے اور جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھا کریں گے۔ (خزائن جلد: 3، ص: 428) نیز اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ (احکام شرعیہ) کا بجا لانا محال ہے
اور جو شخص مسیح کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع الجسد آسمان کی طرف اٹھایا گیا اس کو اس آیت موصوفہ کے منشا کے موافق یہ بھی ماننا پڑے گا۔ تمام احکام شرعی جو انجیل اور تورات کی رُو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح پر اب بھی (بوجہ موجود فی السما ہوں گے) واجب ہے کہ تو اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہ پھر آپ ہی اس کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کی والدہ سے جدا کر دے اور تا حیات زکوٰۃ کا حکم دیوے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایسی جگہ پہنچا دے جس جگہ نہ وہ آپ زکوٰۃ دے سکتے ہیں نہ زکوٰۃ کے لیے کسی دوسرے کو نصیحت کر سکتے ہیں اور صلوٰۃ کے لیے تاکید کرے اور جماعت مؤمنین سے دور پھینک دیوے جن کی رفاقت تکمیل صلوٰۃ کے لیے ضروری ہے کیا ایسا اٹھائے جانے بجز بہت سے نقصان عمل اور ضائع ہونے حقوق العباد اور فوت ہونے خدمت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کچھ اور بھی فائدہ ہوا۔
(جلد:3، ص:331-332)
اس مذکورہ بالا عبارت میں چند باتیں قابل توجہ ہیں:
- (1) انجیلی طریقہ نماز پڑھنے کی وصیت کی گئی تھی۔
- (2) حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یونہی پڑے رہتے ہیں مردہ جو ہوئے۔
- (3) جب دنیا میں عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر
مسلمانوں کی طرح نماز پڑھا کریں گے۔
- (4) ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالانا محال ہے۔
- (5) تا حیات والدہ کی خدمت کی تاکید کی تھی تو وفات مریم کے بعد اس حکم کی تعمیل
کیسے ممکن ہے۔
- (6) عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ خود ہی تا حیات نماز و زکوٰۃ کا حکم دے اور خود ہی اس
ماحول سے دور کر دے پھر خدمت والدہ کا حکم دے اور پھر خود ہی والدہ کو موت دے کر اس کی تعمیل میں مانع پیدا کر دے۔
اب نمبر وار ان سب پیدا کردہ مشکلات کے حل کی طرف توجہ دیں:
جواب شق 1: قرآن میں یہ الفاظ موجود ہیں اوصانی بالصلوٰۃ (مریم: اس میں صرف یہ ہے کہ مجھے نماز کی وصیت کی گئی ہے۔ لیکن یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ انجیلی طریقہ پر وصیت کی گئی ہے۔ یقیناً نماز کا طریق ان کا وہی تھا جو انجیلی تھا جب شریعت محمدیہ کا دور آیا انجیلی دور ختم ہوا تو آپ یقیناً نماز انجیلی کی بجائے محمدی نماز پڑھتے ہوں گے اب زمین آسمان میں شریعت محمدی کا دور دورہ ہے۔
جواب شق 2: مرزا قادیانی کی بہت بڑی جرأت اور دلیری ہے ایسی بات کرنا، کوئی ذی عقل ایسی بات نہیں کر سکتا، پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی آسمان پر گیا کہ اس کو معلوم ہوا کہ یحییٰ علیہ السلام یونہی پڑے رہتے ہیں، حالانکہ یہ بالکل باطل ہے کیونکہ وہ کسی کا آسمان جانا محال جانتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ کیا اس کے پاس اس پر کوئی روایت موجود ہے تو کوئی قادیانی بتائے، تیسری بات یہ ہے کہ یہ تمسخر ہے اس کا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جب میں دوسرے آسمان پر پہنچا اچانک عیسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ جبریل نے کہا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں، ان کو سلام کریں اور میں نے سلام کیا، تو مردہ جو ہوئے کہنا، تمسخر نہیں تو اور کیا ہے۔ مرزا قادیانی کو علم ہی نہیں کہ انبیا کا درجہ کتنا بلند و ارفع ہے گو کہ مرنے کے بعد ایک انسان تکلیفی احکامات سے سبکدوش ہو جاتا ہے مگر انبیا علیہم السلام جن کے جسم میں عبادت الہی ہے وہ مرنے کے بعد بھی عبادات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔ لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قبر میں نماز پڑھنا صحیح حدیث سے ثابت ہے، اس لیے وہ پڑے ہی نہیں رہتے بلکہ وہ بھی عبادات میں مشغول رہا کرتے ہیں۔
جواب شق 3: اگر مرزا قادیانی میں کوئی عقل کا ذرہ ہوتا تو کسی کو راہ سے بھٹکانے کی کوشش نہ کرتا۔ یہ پریشانی تو ان کو ہوئی مگر دیکھو تو سہی اس کا حل قرآن مجید میں موجود ہے کہ ’’واذ أخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم‘‘ الیٰ آخرہ۔ مفہوم کہ ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ جب میرا آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ جب تعمیل حکم خداوندی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدی کی متابعت کر کے اسی طریقہ پر نماز پڑھیں گے تو پھر وصیت خداوندی کے برخلاف کیسے ہو گیا۔ نیز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ ایک نبی کا دوسرے نبی کی تابع فرمانی میں کیا حرج ہے، سابقہ نبی کتنے گزرے ہیں کہ ایک نبی دوسرے کی تابع فرمانی کر رہا ہے جیسے
حضرت ہارون علیہ السلام نبی بھی تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تابع فرمانی بھی کرتے تھے۔ جواب شق 4: صلوٰۃ و زکوٰۃ وغیرہ تمام احکام تکلیف شرعی سے متعلق ہیں۔ اور ان کا محل تعمیل دار دنیا ہے نیز احکام شرعیہ کی ادائیگی اسباب پر موقوف ہے جب تک سبب نہ ہو گا وہ حکم شرعی لاگو نہ ہو سکے گا مثلاً نماز کے لیے حکم ہے اقیموا الصلوٰۃ مگر ساتھ یہ بھی کہ کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً (النساء: 103) بھی ہے وقت ہوگا تو اقیموا الصلوٰۃ موجود ہے مگر لازم ہو گا جب ظہر کا وقت ہوا ایسے ہی زکوٰۃ کہ اس کے لیے مال نصاب کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے سال اس پر گزر جائے تب جا کر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام کے پاس کبھی ذاتی مال جمع نہیں ہوا۔ جب مال جمع ہی نہیں ہوا تو پہلا سبب ہی معدوم ہوا تو اس پر زکوٰۃ کیسے واجب ہوگی، اب آسمان پر محال ہونے کی بات تب کریں جب آپ دنیا میں اس کو انبیا علیہم السلام کے لیے ثابت کرسکیں۔ کسی نبی کے پاس نہ کبھی مال جمع ہوا نہ زکوٰۃ یہ تو دنیا میں بھی انبیا علیہم السلام کے لیے ایک محال ہو گیا۔ آپ کو آسمان کی فکر دامن گیر ہے۔ ایسے ہی (5) کا جواب اس میں آگیا کہ والدہ زندہ ہوتی تو ان کی خدمت ہوتی۔ جب وہ وفات پاگئیں، سبب ہی نہ رہا تو حکم کیسے باقی رہا؟ کتنے لوگ ہوں گے خدائی حکم کے مطابق والدین کے ساتھ حسن سلوک ان کے ذمہ ہے لیکن ان کے والدین زندہ نہیں ہیں تو وہ اس حکم کو کیسے بجالائیں (کوئی ہے عقل کی رتی)
جواب شق: 6۔ یہ عجیب ابلیسی فیصلہ ہے اگر یہی سوچ ہو تو معاذ اللہ کئی احکامات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں مثلاً احکام وراثت والدین کے لیے بچوں کے دودھ پلانے کا حکم، مثلاً اگر کسی کے پاس مال نہیں تو ان کی اولاد میں تقسیم وراثت کا مسئلہ ہی نہیں وغیرہ وغیرہ تو تمام احکامات اسباب پر موقوف ہیں۔ جب سبب ہی نہیں تو انسان ہرگز تارک احکام نہ کہلائے گا۔ اگر ذرہ برابر توجہ کر لی جائے تو بات صاف ہے کہ مرزا قادیانی پر بھی زکوٰۃ فرض تھی، حج فرض تھا مگر ساری زندگی نہ حج کیا نہ زکوٰۃ دی نہ قربانی دی کبھی رمضان کے روزوں کی مکمل توفیق نہ ہوئی، نیز اگر کوئی نماز نہیں پڑھتا تو زکوٰۃ نہیں دیتا، احکام خداوندی بجا نہیں لاتا تو اس سے اس کی وفات کیسے ثابت ہوگئی۔ ذرا ماحول پر نظر دوڑائیں تو سہی، ہاں یہ بھی یاد رہے کہ آسمان پر فرشتے نماز پڑھتے ہیں عبادت کرتے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کی نماز و عبادات میں کیا چیز حارج و رکاوٹ ہے۔
آیت نمبر 11: والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا۔ اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے صرف تین بیان کیے ہیں حالانکہ اگر رفع ونزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا کیا نعوذ باللہ رفع ونزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سو اس جگہ پر خدا تعالیٰ کا رفع نزول کا ترک کرنا جو مسیح کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے۔ صاف اس بات پر دلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اور خلاف واقعہ ہے۔ بلکہ وہ رفع یومِ اموت میں داخل ہے اور سراسر باطل ہے۔ (جلد: 3، ص: 438)
اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں۔
- (1) یہ آیت وفات مسیح پر پیش کی گئی ہے۔ مگر ان کا یہ عمل اس آیت کو وفات مسیح پر پیش
کرنا اپنے گلے پڑتا نظر آ رہا ہے۔ مثلاً اس آیت میں یوم ولادت سے یوم موت تک سلامتی کا ذکر ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی کہہ چکا ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایسی غشی میں آ گیا کہ گویا وہ موت ہی تھی۔ (روحانی خزائن، جلد: 19، ص: 57) مسیح ان کے حوالے کیا گیا، اس کو تازیانے لگائے گئے جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا، سب نے دیکھا۔ (روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 295) اگر اسی کا نام سلامتی ہے تو یہ سلامتی کا تصور کس کا پیش کردہ ہے۔ کیا کسی لغت میں سلامتی کے یہ معنی دکھائے جا سکتے ہیں کہ پہلے کوڑے مارے جائیں جن کے صدمات اور ضربوں سے گوشت پارہ پارہ ہو جائے۔ ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور پاؤں کے تلووں میں لمبے لمبے کیل ٹھونکے جائیں اور ان سے خون جاری ہو۔ اگر اس کا نام سلامتی ہے تو یہ سلامتی کا تصور کس کا پیش کردہ ہے۔
- (2) اس آیت میں اموت کا لفظ ہے جو مستقبل کا معنی دے رہا ہے۔ اگر اس آیت کے
نزول کے وقت اموت کہ ”میں مر جاؤں گا“ جب بھی مجھ پر سلامتی ہو گی، مستقبل کا صیغہ ہے تو یقیناً اس وقت ابھی مرے نہیں تھے۔ اس کے بعد اگر مر گئے ہیں تو اس کا ذکر کس جگہ پر ہے۔
- (3) اب اس بات کی طرف جو مرزا قادیانی نے کہی ہے کہ ”واقعات عظیمہ جو حضرت
مسیح کے وجود کے متعلق تھے، صرف تین بیان کیے گئے ہیں اگر رفع و نزول واقعات صحیحہ ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔“ یہ سوائے دھوکہ کے کچھ بھی نہیں۔ اگر یہی طرزِ استدلال صحیح ہے تو قرآن مجید میں ہے ”کتب علیکم الصیام“ (بقرہ: 183) کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ کوئی کہہ سکتا ہے۔ اگر نماز حج زکوٰۃ بھی فرض ہوتے تو اس آیت میں ان کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ فرض ہی نہیں۔ ایسے ہی مسلمانوں کا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو اس آیت میں اس کا ذکر ضرور موجود ہوتا۔ تو طرزِ استدلال ایک ایسا باب کھول رہا ہے اس سے کئی قسم کے اعتراض وارد ہو سکتے ہیں اور کئی اہم مسائل میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
نیز احادیث کی کتب میں کئی ایسے واقعات موجود ہیں کہ سائل نے آکر حضور علیہ الصلوٰۃ السلام سے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے؟ جواب میں آپ نے کبھی کلمہ شہادت، کبھی زکوٰۃ اور کبھی حج بیان فرمایا۔ کیا ایسی احادیث کو سامنے رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ اس حدیث میں فلاں رکن کا ذکر نہیں لہٰذا وہ ارکان اسلام میں سے نہیں۔ کیا یہ طرزِ استدلال درست ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے مرزا قادیانی خود بھی اپنی کتب میں حیاتِ مسیح، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کا آسمان پر جانا پھر قیامت سے پہلے نزول فرمانا لکھ چکا ہے۔ تو اس آیت سے اس طرزِ طریق پر رفع و نزول کے ذکر نہ ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کرنا کیسے درست ہے۔ لہٰذا اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام پر استدلال کرنا باطل ہے۔ حقیقت میں یہ پوری عبارت اس قبیل سے ہے جیسا کہا جاتا ہے الحمد لله اوّلہ و آخرہ، بسم اللہ اوّلہ و آخرہ۔ ایسے ہی یہ آیت ہے کہ سلام علیٰ اوّلہ و آخرہ
آیت نمبر 12: و منکم من یتوفیٰ ومنکم من یرد الیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئاً۔
اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے۔ بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں، یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کیے
جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو
جاتے ہیں۔ (خزائن جلد: 3، ص، 428)
جواب: عبارت قرآنی اصل میں پوری آیت کا ایک ٹکڑا ہے پوری آیت تفصیل کا قدرے خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ یہ آیت قیامت کے منکرین کو سمجھا رہی ہے کہ وہ خدا جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے علقہ بنایا، پھر مضغہ بنایا، ماں کے پیٹ میں جگہ دی پھر پورا بنا کر پیدا فرمایا پھر جوان کیا، پھر تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو کوئی بڑھاپے کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ پھر اس کو کوئی علم نہیں رہتا۔ یہ آیت خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو محالات عقلی کے پیش نظر ان کو سمجھا رہا ہے کہ تم محالات عقلی کی طرف کیوں جاتے ہو؟ تم اپنی پیدائش اور زندگی کے مختلف منازل کو دیکھو، اللہ نے کس طرح تمھیں بنایا۔ جوان کیا ، بڑھاپا لائے۔ کیا اب وہ دوبارہ تمہیں زندہ نہیں کر سکتا؟ جیسا کہ تمہاری پیدائش ایک محال تھی اور اللہ اس پر قادر ہے تو قیامت کی صبح تمہیں دوبارہ زندہ کرنا، قبروں سے اٹھانا بھی محال نہیں۔ اس آیت میں صرف قانون فطرت کا بیان ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس آیت میں ذکر ہے نطفہ سے پیدائش کا۔ مگر مسیح علیہ السلام تو نطفہ سے پیدا نہیں ہوئے۔ (جب مسیح علیہ السلام پہلے سے ہی اس قانون سے مستثنیٰ ہے بغیر مس کرنے مرد کے، صدیقہ کے پیٹ میں خلاف قانون پیدا کیا) تو یہ آیت مسیح علیہ السلام کی وفات پر ہرگز پیش نہیں کی جاسکتی۔ پھر علم طب سے یہ بات ثابت ہے کہ ہڈی نطفہ سے بنتی ہے مسیح علیہ السلام میں ہڈی تھی مگر نطفہ سے نہیں۔ یہ خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ ایسا ہی درازی عمر کے باوجود ارذل العمر سے اللہ کی قدرت سے محفوظ ہیں۔ باقی مرزا قادیانی کا کہنا کہ ”سنت دو ہی طرح تم پر جاری ہے بعض عمر طبعی سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں (الخ) کن الفاظ کا ترجمہ ہے آیت میں نہ دو کا لفظ ہے نہ طبعی موت کا۔ دو طریق اور طبعی موت مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے لگائے ہیں کیونکہ بعض بچے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔ بعض حمل ساقط ہو جاتے ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی کا پیش کردہ دو کا حصر ٹوٹ رہا ہے۔ نیز مرزا قادیانی کا کہنا کہ بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں مگر، عمر طبعی کی حد بیان نہیں کی، عمر طبعی کیا ہوتی ہے؟ کہ اس سے تجاوز کر جائے تو وہ عمر ارذل ہے۔ یہ اللہ کے علم میں ہے کہ کس کی کتنی عمر طبعی ہے۔ جب عمر مقرر اختتام کو پہنچتی ہے۔ موت آ جاتی ہے۔ خدا کا فرمان ہے۔ اذا جاء اجلہم لا یستأخرون
ساعة ولا يستقدمون. (اعراف: 34) (جب اُن کی مقررہ عمر آجائے گی تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوں گے نہ ہی آگے) اور یہ تجربات سے ظاہر ہے کہ سو سال کی عمر بڑھاپے کی عمر ہے لیکن قوٰی مضبوط اور صحیح ہیں۔
آیت نمبر 13: ولکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین. تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے۔ یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مرجاؤ۔ یہ آیت خاکی جسم کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے۔ کیونکہ لکم جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے۔ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا۔
(روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 428)
جواب (1) اس کے جواب میں چند باتیں ہیں۔ مرزا قادیانی نے مذکورہ ترجمہ میں ”جسم خاکی“ اور ”مرجاؤ گے“ قرآن کے کس لفظ کا ترجمہ کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”لکم میں لام تخصیص ہے“ کس کے لیے؟ یہ جان بوجھ کر واضح نہیں کیا۔ البتہ لام تخصیص ماننا ہی اس بات کا توڑ ہے کہ یہ آیت وفاتِ مسیح علیہ السلام پر دلالت نہیں کرتی۔
جواب (2) لکم میں ضمیر کا مرجع آدم حوا اور شیطان ہیں۔ لکم میں انہی کی تخصیص ہے۔ کیونکہ پس منظر میں انہی کا تذکرہ ہے۔ انہیں سے کہا گیا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین. اور اس وقت کہا گیا جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش ہی نہیں ہوئی تو اس حکم میں ان کو کیونکر شامل کیا جا سکتا ہے۔
جواب (3) اگر بقول یا بضد مرزا ”ذریات“ بھی اس سے مراد لی جائے تو پھر بھی ان کی دلیل نہیں بن سکتی۔ کیونکہ دوسری آیات میں یہ بات آئی ہے کہ جنات زمین چھوڑ کر آسمان پر چڑھتے ہیں کہ شہاب ثاقب ان کے پیچھے لگ کر ان کو خاک کر دیتے ہیں حالانکہ ان کا مستقر بھی زمین ہے۔
جواب (4) اگر عام بھی لیا جائے تو اس لیے وفاتِ مسیح علیہ السلام پر دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ مستقر بمعنی ہیڈ کوارٹر کے ہے جس کو صدر مقام بھی بولا جاتا ہے کسی کا اپنے ہیڈ
کوارٹر میں رہنا اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ کسی اور جگہ پر نہ جا سکے، اس کی بے شمار مثالیں دنیا میں موجود ہیں۔
جواب (5) الیٰ حین کا ترجمہ مرزا قادیانی نے کیا ہے ”یہاں تک کہ مر جاؤ“ مگر کسی لغت سے حین کا ترجمہ موت نہیں دکھا سکتے۔ اگر بالفرض والمحال موت معنی کر بھی لیا جائے تو مرزا قادیانی کو فائدہ مند نہیں بلکہ پریشانی کا ہی سبب بنے گا۔ کیونکہ اس وقت جو ترجمہ ہوگا کہ موت تک زمین میں رہنا ہے۔ اس سے ثابت ہوگا موت آنے کے بعد زمین پر رہنا ختم۔ اب لاشیں کہاں جائیں گی۔ زمین پر رہنے کا وقت ختم ہو گیا باقی آسمان ہی بچا۔
آیت نمبر 14: و من نعمره ننكسه فی الخلق۔
اگر مسیح ابن مریم کی نسبت سے کہا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قوٰی میں بالکل فرق آ گیا ہوگا اور یہ حالت صرف موت کو چاہتی ہے۔
(روحانی خزائن جلد:3 ص:429)
جواب: اس کے جواب میں بھی چند باتیں ہیں:
- (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کوئی قاعدہ کلیہ بیان کرے کہ اصل عمر کی مقدار
کتنی ہے جس کو ارذل کہہ سکیں۔ ہم توریت وغیرہ کتب میں یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر نو سو تیس سال، حضرت شیث علیہ السلام کی عمر نو سو بارہ سال، حضرت نوح علیہ السلام کی ہزار، حضرت ادریس علیہ السلام کی تین سو پینسٹھ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمریں تھیں مگر ان کی قوٰی میں فرق نہیں آیا۔ یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ کتنی عمر میں قوٰی کمزور ہو جاتے ہیں۔ کئی واقعات ایسے ہیں کہ پچاس یا پچپن سال کی عمر میں دانت ختم، آنکھوں کی بینائی کام کرنا چھوڑ گئی۔ کان موجود ہیں مگر سنائی نہیں دیتا اور تمام اعضا جواب دے گئے۔ مگر کئی اشخاص ایسے ہیں کہ سو برس کی عمر ہو گئی آنکھیں اور باقی اعضا پوری آب و تاب سے کام کر رہے ہیں۔ اور وہ روز مرہ کام کاج کرتے، چلتے پھرتے ہوئے نہیں تھکتے۔
- (2) دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس بات کو مان چکا ہے کہ انبیا علیہم السلام
کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ مخلوق سے مختلف ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ قانون مان لیا جائے تو بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نبی تھے جن کا معاملہ خداوندی اور لوگوں سے ہٹ کر ہے۔
- (3) یہ قیاس آرائیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ناواقفیت کی بنا پر ہیں۔
- (4) آسمان کے حالات کو زمین کے حالات پر قیاس کرنا بڑی غلطی ہے۔ آسمان پر رہنے
سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی وگرنہ جبرائیل علیہ السلام، حاملین عرش اور دوسرے فرشتے سب کمزور ہو کر تھک گئے ہوتے۔ عرش نیچے گرا دیتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معراج کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ نے واپسی پر یہ ارشاد فرمایا رآیت عیسیٰ علیہ السلام شاباً
(مسند احمد، جلد: 1، ص: 374)
آیت نمبر 15: الله الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوة ثم جعل من بعد قوة ضعفا و شیبه.
خدا وہ خدا ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا پھر ضعف کے بعد قوت دی پھر قوت کے بعد ضعف اور پیرانہ سالی دی یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کوئی انسان اس قانونِ قدرت سے باہر نہیں ہے۔ (روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 429)
جواب: اس آیت میں بھی وفات مسیح علیہ السلام کا کوئی ذکر نہیں، اشارۃً نہ کنایۃً !
- (1) اس جگہ سورۃ روم کی آیت 54 کو سامنے رکھ کر توجہ کیجیے کہ وہ لڑکا جو پیدا ہونے پر
ہی فوت ہو گیا اور ایک جوان ہو کر فوت ہو گیا اس آیت کا مصداق کیسے بن سکتے ہیں؟ جب عام حالات میں بھی اس آیت کو قانونِ کلیہ نہیں بنایا جا سکتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی پیدائش سے تمام زندگی عام لوگوں سے کئی اعتبار سے مختلف ہے اور آیت اللہ میں ان کا شمار ہوتا ہے ان پر اس آیت کو چسپاں کر کے ان کے لیے اس آیت سے موت پر دلیل پکڑنا کیسے درست ہے۔
- (2) مرزا قادیانی کا کہنا کہ پیرانہ سالی دی۔ اب پیرانہ سالی اور عمر درازی تو اس سے
ثابت ہوتی ہے، موت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر دیکھا جائے تو یہ آیت کسی کی
موت پر دلیل نہیں بن سکتی تو مسیح علیہ السلام کی موت پر دلیل کیسے بن جائے گی؟
- (3) ہمارے عقیدے کے مطابق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ثم جعل من بعد
ضعف قوة کے مصداق بحال ہیں اور نزول کے بعد ثم جعل من بعد قوة ضعفا و شیبہ کی حالت ان پر طاری ہوگی۔
آیت نمبر 16: انما مثل الحیوٰۃ الدنیا کماء انزلناہ من السمآء فاختلط بہ نبات الارض مما یأکل الناس والانعام.
اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے کہ جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں پھر زمین کی روئیدگی مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے اور آخر کار کاٹی جاتی ہے۔ یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے۔ اوّل کمال کی طرف رخ کرتا ہے، پھر اس کا زوال ہو جاتا ہے کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھا گیا ہے۔
(روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 430)
جواب: مرزا قادیانی کا کمال ہے کہ دلیل دے رہا ہے وفات مسیح علیہ السلام پر مگر اس کو ذرہ برابر بھی خیال نہیں کہ میں کس طرف جا رہا ہوں۔ اس آیت سے تو یہ ثابت ہوا کہ پانی سے کھیتی اور پھل تیار ہوتے ہیں اور پھر کھیتی کاٹ دی جاتی ہے۔ اسی طرح انسان ہے جو اس کو زندگی ملتی ہے بالآخر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ اس کا کوئی بھی انکاری نہیں، اختلاف درازیٔ عمر میں چل رہا ہے۔ اب ذرا دیکھتے ہیں کہ کون کون سی کھیتی کتنی مدت میں تیار ہو کر کاٹی جاتی ہے۔ ذرا دیکھو کدو، کھیرا اور ترکاریوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے جلد پک کر کاٹ لی جاتی ہے۔ یہ بھی کھیتی ہے جب کہ گندم، جو کئی مہینوں کے بعد تیار ہوتی ہے پھر کاٹی جاتی ہے اور دیر تک ان کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کھیتی ہے۔ درختوں میں آڑو کا درخت دو سال میں تیار ہوتا ہے اور پھل دیتا ہے، یہ بھی کھیتی ہے۔ آم اور سیب کا درخت دس بارہ سال میں تیار ہوتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ یہ بھی ایک کھیتی ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں مشاہدہ میں آئی ہیں کہ کھیتوں کی عمروں میں بھی برابری نہیں اور نہ ہی قانون قدرت ہر ایک میں یکساں جاری۔ بعض حیوانات بہت عمر کے ہوتے ہیں ہیں جیسے سانپ اور گوہ اور بعض تھوڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ اس مذکورہ مثال قرآنی میں وجہ شبہ صرف نشو ونما ہے مگر عمر کی کوئی حد نہیں۔ ایسا ہی انسانوں کی
عمریں مساوی نہیں۔ ان میں قانون نشو ونما تو جاری ہے مگر مساوی نہیں، سب میں مشیتِ ایزدی کام کر رہی ہے۔ منشا حق کے مطابق سب نباتات پھل پھول دے رہے ہیں۔ جب تک حکم ہے پھل دے رہے ہیں، آخر ختم ہو جائیں گے مگر یہ ہرگز نہیں کہ سب ایک مدت کے بعد ختم ہو جائیں گے۔ بعض درخت سینکڑوں سال باقی رہتے ہیں بعض چند سالوں میں فنا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حیوان، انسان نشو ونما میں تو ایک ہی قانونِ قدرت کے تابع ہیں مگر اپنی ہستی قائم رکھنے میں مختلف مدارج ہیں جو مختلف اور متعدد قوانین کے تحت ہیں۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی ہیں۔
آیت نمبر 17: ثم انکم بعد ذلک لمیتون.
”یعنی اوّل رفتہ رفتہ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر کمال پورا کرنے کے بعد زوال کی طرف مائل کرتے ہو، یہاں تک کہ مر جاتے ہو“۔ (روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 430)
- جواب (1) اس میں کون سا لفظ ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے؟
- جواب (2) اس کا صاف معنی یہ ہے کہ پھر تم بعد اس کے مرنے والے ہو۔ اگر اس کو کھینچ کر مسیح
علیہ السلام پر لاگو کیا بھی جائے تو اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کی بجائے حیات ثابت ہوتی ہے کہ وہ مرنے والے ہیں۔ ہم بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ یقیناً مرنے والے ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
- جواب (3) اگر مرزا قادیانی کے طریقِ استدلال کو اپنایا جائے تو کوئی جا کر مرزا مسرور سے
کہے کہ تم مر چکے ہو...... کیوں جی؟ پھر یہ آیت پڑھ دے اور مرزا قادیانی کا استدلال پیش کر دے اور کھڑا ہو جائے کہ یقیناً تم مر چکے ہو۔ کیسا ہے؟ ایسے شخص کو پاگل ہی کہا جائے گا۔ اب آپ مرزا قادیانی کے بارے میں کیا کہتے ہیں، وہ کیا تھے؟
آیت نمبر 18: الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء (الی) لأولی الالباب.
اس آیت کا جواب پہلے آیت نمبر 14 میں آ چکا ہے۔
آیت نمبر 19: ما ارسلنا من قبلک من المرسلین الا انہم یأکلون الطعام و یمشون فی الاسواق.
”ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ اور پہلے ہم بہ نص قرآنی
ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لزوم سے طعام کا ہے۔ سو چونکہ اب نبی طعام نہیں کھاتے ، اس سے ثابت ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جس کلمہ حصر میں مسیح بھی داخل ہیں“۔
(روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 431)
جواب: اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:
- (1) یہ آیت منکرین نبوت سے متعلق ہے اور ان کا جواب ہے کیونکہ وہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کو بہ نظر حقارت دیکھتے اور کہتے ما لہذا الرسول یأکل الطعام و یمشی فی الاسواق (فرقان: 7) یہ کیسا رسول ہے کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا کھانا پینا بازاروں میں چلنا پھرنا نبوت کے منافی نہیں۔ سارے پیغمبر ایسے ہی تھے وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ کوئی ہے عقل مند جو یہ کہے کہ یہ آیت وفات مسیح علیہ السلام پر دلیل ہے۔
- (2) یہ بھی وضاحت ہونی چاہیے کیا کھانا پینا اور بازاروں میں چلنا پھرنا انبیا علیہم السلام
کے لیے لازم تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ وقت کھاتے پیتے ہی رہتے ہوں بلکہ یوں کہو کہ ہر نبی نے اپنی تمام عمر کا ہر لمحہ اپنے کھانا پینے اور بازاروں میں چلتے پھرتے گزارا۔ یقیناً کوئی بھی اس آیت سے ایسا مفہوم اخذ کرنے کے لیے تیار نہیں نیز اگر کوئی یہ کہہ دے کہ مرزا مسرور فوت ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے ان کو کبھی بھی کھاتے پیتے نہیں دیکھا، کیا اس سے وہ فوت شدہ مانے جائیں گے؟
- (3) مرزا قادیانی کا بار بار کہنا کہ مسیح کھانا نہیں کھاتے ، اس لیے وہ فوت ہو گئے۔ کیا ہر
کسی کی زندگی کے لیے لازم ہے کہ جب وہ کھانا کھائے تو تمام انسانوں کو دکھا کر کھائے ۔ جو شخص اس کو کھانا کھاتے نہ دیکھ سکے۔ اس کے نزدیک دوسرا شخص فوت شدہ ہی مانا جائے۔
- (4) معتکف اور صائم کو دیکھ کر یہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اب بازاروں میں چلنے پھرنے اور
دن کو کھانے پینے کی صفت ختم ہو گئی لہٰذا وہ فوت ہو گئے۔
آیت نمبر 20: والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئاً و ہم يخلقون
اموات غیر احیاء و ما یشعرون ایان یبعثون. جو لوگ غیر اللہ کی پرستش کیے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود و نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے۔ اگر اب بھی آپ لوگ مسیح بن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوئے تو یہ سیدھے منہ کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں قرآن ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سن کر پھر وہیں ٹھہر نہ جانا کیا ایمانداروں کا کام ہے۔ (روحانی خزائن، جلد: 3، ص: 431)
جواب: اس کے جواب میں چند باتیں ہیں:
- (1) ترجمہ کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے ”جو لوگ“ کے لفظ اپنی طرف سے کیے ہیں۔
جبکہ قرآن میں تین باتیں ایسی ہیں جو عموم کا مفہوم رکھتی ہیں۔ کوئی جن و انس، حیوان اس سے باہر نہیں (1) من دون اللہ میں کل مخلوق شامل ہے (2) کسی شئی کا خالق نہ ہونا یہ بھی سب کو شامل ہے (3) مخلوق ہونا اللہ کے بغیر سب کو محیط ہے۔ پس ان صفتوں والا اگر کسی قوم کا یا قبیلے کا معبود سمجھا جاتا ہے تو وہ مردود ہے
- (2) اگر توجہ کی جائے تو مرزا قادیانی اس آیت کو وفات مسیح علیہ السلام پر اس لیے پیش
کر رہا ہے کہ چونکہ عیسائی، عیسیٰ علیہ السلام کو معبود جانتے ہیں اور اس آیت میں صاف موجود ہے والذین یدعون من دون اللہ اور پھر ہے اموات غیر احیاء شامل ہو گئے۔ یہ طریقہ دھوکہ دہی ہے جس سے پردہ چاک کرتے ہیں۔
- (الف) جیسے عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو معبود جانتے ہیں، ایسے ہی روح القدس کو بھی
معبود سمجھتے ہیں، ان کے مذہب پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ثالث ثلاثہ کے قائل ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ، دوسرے مسیح علیہ السلام، تیسرے روح القدس۔ کیا اس آیت سے صرف مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت ہوئی یا روح القدس کی بھی۔ اگر روح القدس کی وفات ماننے کے لیے تیار نہیں تو آخر کیوں؟ وہ بھی تو من دون اللہ میں شامل ہیں۔
- (ب) قرآن مجید کی آیت انکم و ما تعبدون من دون الله حصب جهنم.
(انبیا: 98) جب نازل ہوئی تو مشرکین بغلیں بجانے لگے، تالیاں بجائیں اور کہا کہ ہمارے بُت اگر جہنم میں ڈالے جائیں گے تو عیسائیوں کا معبود مسیح بھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ما ضربوه لک الا جدلا بل هم قوم خصمون . ان هو الا عبد انعمنا عليه ( زخرف: 58- 59) مسیح کی جو مثال انہوں نے بیان کی ہے، ان کا مجادلہ (بے بات کا مجادلہ) ہے ، یہ لوگ محض خصومت کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں بلکہ وہ ( حضرت مسیح علیہ السلام) تو خدا کے بندے ہیں جس پر اللہ نے نعمت کی ہے۔
مرزا قادیانی نے جو طریقہ استدلال اختیار کیا ہے، یہ مشرکین کر چکے اور اس استدلال کی خدا تعالیٰ نے نفی کر دی ہے۔ مرزا قادیانی فیصلہ کرے کہ اب اس کے بعد اس کے استدلال کی کیا حیثیت رہی؟
- (3) اس آیت میں بُت مراد ہیں نہ کہ مسیح علیہ السلام ۔ کیونکہ اموات غیر احیاء بتوں
کی صفت ہے جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ تھے ( اور زندہ ہیں ) ۔ بتوں میں کبھی بھی حیات نہیں رہی تو حضرت مسیح علیہ السلام میں مرزا قادیانی کے بقول حیات تھی تو اس میں کیسے شامل ہوں گے؟
- (4) اموات غیر احیاء کے الفاظ پر توجہ کر لی جائے۔ کیا من دون اللہ میں سے جن کو
پکارا جاتا ہے یہ اموات غیر احیاء حالاً ہیں یا مآلاً ۔ اگر حالاً مراد لی جائے تو یہ باطل ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی نے آج ہی کسی کو معبود بنایا اور معبود صاحب ابھی فوت ہو گئے ۔ البتہ مآلاً ہو سکتا ہے آخر مرنا ہے ۔ یہ بات صحیح ہے ۔ اگر اس اعتبار سے اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو بھی شامل کر لیا جائے تو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ یقیناً وہ مرنے والے ہیں مگر اس نے ابھی وفات نہیں پائی ۔ اس سے اس وقت وفات مسیح علیہ السلام ثابت نہیں ہوتی ۔
- (5) قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج چاند کی بھی پوجا کی جاتی ہے ۔ کیا وہ
وفات پا چکے ہیں یعنی فنا ہو چکے ہیں ۔ ہرگز نہیں، حالانکہ ان کی پوجا کرنے والے اب بھی موجود ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کے لیے کیوں اتنی سختی ہے کہ
چونکہ وہ معبود بنائے گئے تو وہ فوت ہوگئے۔
آیت نمبر 21: ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين.
محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں آ نہیں سکتا۔ کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے اور رسولی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔ اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح ابن مریم ہرگز نہیں آئے گا اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مر گیا۔ اور یہ خیال کہ پھر وہ موت کے بعد زندہ ہو گیا، مخالف کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ اگر وہ زندہ بھی ہو گیا تاہم اس کی رسالت جو اس کے لیے لازم غیر منفک ہے اسے دنیا میں آنے سے روکتی ہے۔ ماسوا اس کے ہم بیان کر آئے ہیں کہ مسیح کا مرنے کے بعد زندہ ہونا اس قسم کا نہیں جیسا کہ خیال کیا گیا ہے بلکہ شہدا کی زندگی کے موافق ہے جس میں مراتب قرب و کمال حاصل ہوتے ہیں۔ اس قسم کی حیات کا قرآن کریم میں جا بجا بیان کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے یہ آیت قرآن شریف میں درج ہے والذی یمیتنی ثم یحیین یعنی وہ خدا جو مجھے مارتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے۔ اس موت اور حیات سے مراد صرف جسمانی موت اور حیات نہیں بلکہ اس موت اور حیات کی طرف اشارہ ہے جو سالک کو اپنے مقامات و منازل سلوک میں پیش آتی ہے۔ چنانچہ وہ خلق کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور خالق حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے رفقا کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور رفیق اعلیٰ کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے۔ اور پھر اپنے نفس کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور محبوب حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی موتیں اس پر وارد ہوتی رہتی ہیں اور کئی حیاتیں۔ یہاں تک کہ کامل حیات کے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے۔ سو وہ کامل حیات جو اس سفلی دنیا کے چھوڑنے کے بعد ملتی ہے، وہ جسم خاکی کی حیات نہیں بلکہ اور رنگ اور شان کی حیات ہے۔ قال الله تعالیٰ وان الدار الاخرة لهى الحيوان لو كانو يعلمون. (الجزو نمبر 21)
(روحانی خزائن جلد 3، ص 431، 432)
اس آیت کے تحت مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے، وہ لمبی داستان ہے۔ اصل یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس آیت کے تحت حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور بہ نفس نفیس قیامت سے پہلے آنے والے ہیں تو حضور کے بعد پھر یہ آیت کسی کے آنے کو تسلیم نہیں کرتی، تو وہ کیسے آسکتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمت ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ و لتنصرنہ قال ا اقررتم و اخذتم علیٰ ذلکم اصری قالوا اقررنا. (آل عمران: 81)
جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام انبیا سے وعدہ لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں تو پھر آجائے تمہارے پاس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) جو تصدیق کرے جو تمہارے پاس والی کتاب کی اس رسول پر تم ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا، تم نے اقرار کیا اور میرا عہد قبول کیا تو انبیا نے کہا ہم نے اقرار کیا۔
اس آیت میں یہ بات واضح ہے کہ جس قدر انبیا اور رسول حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک گزرے ہیں۔ یہ سب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں اپنے آپ کو داخل و شمار سمجھیں گے اور ان پر ایمان لائیں گے۔ اس آیت کی عملی تفسیر معراج کی رات سامنے آئی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امامت فرمائی۔ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیا نے آپ ﷺ کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا اور مقتدی بنے۔ اس آیت کے مفہوم کے مطابق سارے کے سارے انبیا علیہم السلام جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت میں شامل معلوم ہوئے ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس میثاق ازلی کے ایفا کے طور پر دنیا میں آنا خلیفۃ المسلمین بننا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ درجۂ رسالت کا مظہر ہے۔ نہ کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجۂ خاتمیت کے منافی۔
اب اس کے بعد مرزا قادیانی کا لکھنا کہ مسیح علیہ السلام کا آپ کے بعد آنا آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کون سی ضرورت آن پڑی کے وہ اپنے لکھے کا انکار کر رہا ہے۔ اس لیے قرآن مجید یہ شہادت دیتا ہے کہ تمام
انبیا علیہم السلام، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہیں۔ لہٰذا ان میں سے کسی ایک کا آنا اور خلیفہ بننا بعینہ ایسے ہی جیسے سیدنا صدیق وسیدنا فاروق رضی اللہ عنہما۔ نیز جیسے سیدنا ابوبکر وسیدنا عمر رضی اللہ عنہما صحابیت کا مقام پا چکے ایسے ہی حضرت مسیح علیہ السلام بھی یہ مقام معراج کی رات پاچکے ہیں کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات ملنا ثابت ہے۔ اس قضیے کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ہمارے ملک کا بادشاہ دوسرے ملک میں جائے تو باوجود اس کے کہ وہ ہمارے ملک کا بادشاہ ہے، دوسرے ملک والے اس کو پروٹوکول تو بادشاہ کا دیں گے لیکن دوسرے ملک میں اس کا کسی قسم کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اور نہ اس بادشاہ کے منصب، عزت و وقار میں کوئی کمی آئے گی۔ ایسے ہی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اب وہ امتِ محمدیہ میں آئیں گے تو اس کی مثال ایسے ہی جیسے ایک ملک کا بادشاہ دوسرے ملک میں جائے۔ اور پھر یہ کہ اسی دنیاوی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کر چکے ہیں تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بھی ٹھہرے۔ نبوت ان کو پہلے مل چکی اور بنی اسرائیل کے لیے نبوت کے کارہائے نمایاں ادا کرچکے۔ اور حضور کی صحابیت کا شرف اب مل گیا۔ نبوت کا وہ کام ختم کرچکے تو اب صحابی کی حیثیت سے حضور کی امت میں تشریف لائیں گے اور سیدنا ابوبکر وسیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی طرح حضور کے خلیفہ بھی ہوں گے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ایک نبی یا رسول کیسے امتی ہو کر آسکتا ہے کہ یہ خلافِ عقل بات ہے کہ نبوت ورسالت کا مقام اعلیٰ ہے امتی کا مقام کم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ انبیا کی تاریخ میں یہ بات موجود ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی بھی تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اُمتی اور صحابی بھی تھے اور یحییٰ علیہ السلام خود نبی بھی تھے اور زکریا علیہ السلام کے اُمتی بھی تھے۔
آیت نمبر 22: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون.
یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جاوے۔ سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گزشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی
آ جاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہم شکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپ ہی فیصل کر چکے ہیں اور ان کے فیصلہ کا ہمارے فیصلہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملا کی نبی اور انجیل جو ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اترنا کس طور سے حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے۔
(روحانی خزائن، جلد 3، ص 433)
قارئین کرام آیت کا درست ترجمہ یہ ہے: ’’اگر تم کو معلوم نہ ہو تب اہل کتاب سے پوچھو‘‘ اس واضح ترجمہ کے بعد پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر اہل اسلام کبھی بھی ”لا تعلمون“ (لاعلمی) کی پوزیشن میں نہیں رہے بلکہ قرآن مجید سے لے کر احادیث رسول تک ہر جگہ اس مسئلہ کی اتنی وضاحت موجود ہے کہ کسی کو اس مسئلہ کے سمجھنے میں دقت ہی نہیں رہی، اس واقعہ کی اتنی تفصیل موجود ہے کہ شاید اتنی تفصیل کسی پیش گوئی میں ہو۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہم صرف اتمامِ حُجّت کے لیے اہل کتاب سے رجوع کرنے میں بخل نہیں کرتے۔
(لیجیے انجیل متی باب: 24، فقرہ: 3 پر ہے) جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے اخیر کا نشان کیا ہے۔
(فقرہ: 4) اور یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار رہو کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (فقرہ: 5) کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔
انجیل کی اس عبارت سے جو باتیں واضح ہوتی ہیں:
- (1) حضرت مسیح علیہ السلام خود اصالتاً نزول فرمائیں گے کیونکہ مسیح علیہ السلام کے
شاگردوں کا سوال ظاہر کرتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے شاگردوں کو فرمایا کہ میں خود ہی قیامت کے قریب آؤں گا۔
- (2) دوسری بات کہ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے نیز یہ بات خود بخود
واضح ہو گئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں، جبھی تو اصالتاً آنے کا ذکر ہے۔
آیت نمبر: 23
یٰا ایتها النفس المطمئنہ ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة.فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی.
”یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ پھر اس کے بعد میرے ان بندوں میں داخل ہو جا جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں اور میرے بہشت کے اندر آ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔ لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاری نے بھی مبسوط طور پر اپنے صحیح میں لکھا ہے۔ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے لہٰذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ضروری طور پر ماننا پڑا“۔
(روحانی خزائن، جلد 3، ص 433)
جواب نمبر (1) اس آیت کا تعلق قیامت برپا ہو جانے کے بعد سے ہے جو لوگ میزان اعمال سے گزر کر کامیابی حاصل کر لیں گے ان کے حق میں یہ آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ یا ایتها النفس المطمئنة.ارجعی الیٰ ربّک راضیة مرضیة.فادخلی فی عبادی.وادخلی جنتی.
(فجر: 27۔ 28۔ 29)
ترجمہ: اے اطمینان والے نفس اپنے رب کی طرف پھر جا تو اس سے راضی وہ تیرے سے راضی پھر میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں چلا آ۔
کیا قیامت برپا ہو چکی، حساب و کتاب ہو چکا؟ اللہ فرما رہے ہیں۔ یا ایتها النفس المطمئنة.
جواب نمبر (2) مرزا قادیانی نے حسب سابق تحریف سے کام لیا ہے اور اپنے من مانے ترجمہ کو حاصل کرنے کے لیے آیت کے نیچے اپنی مرضی کا ترجمہ کر کے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہا ہے۔ مثلاً ”جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں“ اس آیت میں کسی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے۔ ”انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا“ یہ پورا مفہوم قرآن کی کس آیت یا احادیث کے ذخیرے میں کس حدیث سے اخذ کیا گیا ہے؟
جواب نمبر (3) ملاقات اور رویت کی تین قسمیں ہیں:
- 1- زندہ کی زندہ سے ملاقات ، یہ تو انسان روزانہ ایک دوسرے سے ملتا جلتا رہتا ہے۔
- 2- ایک دوسرے سے روحانی ملاقات جو خواب میں کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ دو آدمی
آپس میں ملاقات کر رہے ہیں مگر دونوں فوت ہو چکے ہیں۔
- 3- ایک طرف سے جسمانی دنیوی زندگی والا دوسری طرف روحانی زندگی میں ۔ جن
میں ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان قبر والوں کو ایک معمولی گناہ غیبت اور پیشاب سے پرہیز نہ کرنے پر عذاب ہو رہا ہے۔
جواب نمبر (4) معراج والی حدیث کا حوالہ دے کر مرزا قادیانی خود پھنس رہا ہے کیونکہ اگر مسیح علیہ السلام باقی فوت شدہ انبیا علیہم السلام میں دیکھے گئے، اس لیے ان کو فوت شدہ مانا جائے تو پھر کیا خیال ہے۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ان میں دیکھے گئے کیا وہ بھی فوت شدہ تھے؟ نیز مرزا قادیانی کا کہنا کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا تو مرزا قادیانی سے پوچھا جا سکتا ہے کیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت شدہ تھے کہ وہ فوت شدہ نبیوں میں دیکھے گئے۔ بہرحال مذکورہ بالا تحریر سے واضح ہوا کہ مرزا قادیانی کا اس آیت کو وفات مسیح پر دلیل بنا کر پیش کرنا باطل ٹھہرا ، نیز حدیث معراج سے استدلال کرنا بھی باطل ٹھہرا۔
آیت نمبر 24: الله الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم.
(پارہ 21 ، سورة الروم)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون قدرت یہ بتلایا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے پھر تکمیل اور تربیت کے لیے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقسوم اسے ملتا ہے پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان آیات میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کی رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں حالانکہ قرآن کریم اوّل سے آخر تک یہ التزام رکھتا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال
لیتا ہے یا اس کے واقعات خاصہ بیان کر دیتا ہے۔
(روحانی خزائن، جلد 3، ص 434)
مرزا کی اس عبارت میں یہ باتیں توجہ طلب ہیں:
- (1) اللہ تعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔
- (2) ان آیات میں کوئی کلمہ استثنائی نہیں جس کی رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے
ہوں حالانکہ قرآن کریم اوّل سے آخر تک یہ التزام رکھتا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے ان کو باہر نکال لیتا ہے۔
جواب نمبر (1): مرزا قادیانی اس آیت کو قانون کلی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ آیت قانون کلی نہیں ہے بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی رزق حاصل کیے بغیر فوت ہو جاتا ہے، نیز ثم یحییکم میں حیات کی کسی خاص مقدار کو نہیں مقرر کیا گیا کہ کوئی کتنا زندہ رہے گا۔ حالانکہ دیکھا گیا ہے کہ کسی کو ایک لمحہ کی زندگی میسر آتی تو کسی کو سو سال۔
جواب نمبر (2): دوسرا کلیہ بھی بالکل غلط ہے اور قرآنی اسلوب کے خلاف ہے مثلاً قرآن مجید میں: خلق من ماء دافق یخرج من بین الصلب والترائب۔ (طارق: 6-7) ترجمہ: وہ پیدا کیا گیا ہے اچھلتے ہوئے پانی سے جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔
توجہ کیجیے، انسان کی تخلیق کا یہ قانون مطلق ہے مگر حضرت آدم و حوا حضرت مسیح علیہم السلام اس میں شامل بھی نہیں، ان کو لفظاً مستثنیٰ قرار بھی نہیں دیا گیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی پیش کردہ آیت سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہاں ہم مسیح علیہ السلام سے متعلق ان چاروں مراحل کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس وقت وہ ثم رزقکم کے مرحلہ میں ہیں۔ پھر آخر میں ثم یمیتکم کے مرحلے میں آئیں گے۔ اگر مرزا قادیانی کی طرف سے پیش کردہ آیت کی طرف توجہ کی جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر چارگانہ واقعات کے ساتھ الگ الگ حرف ثم لگا ہوا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ یہ تمام واقعات کسی شخص پر آن واحد میں نہیں گزرے بلکہ ان سب میں تراخی (دیر اور فاصلہ) اور ترتیب کا ہونا ضروری ہے اور پھر یہ کہ آیت کے ابتدائی جملے ماضی کے ہیں (خلقکم، رزقکم) (روم: 40) جب کہ یمیتکم، یحییکم مضارع ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ دو مرحلے گزر گئے ہیں جب کہ دو آئندہ ہونے والے ہیں۔ جب
پوری آیت کا مفہوم مجموعی زندہ جانداروں کی وفات بالفعل کا مقتضی نہیں ہے بلکہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب نے مرجانا ہے تو پھر وفات مسیح علیہ السلام پر اس سے استدلال کرنا چہ معنی دارد؟
آیت نمبر 25: کل من علیها فان، و یبقیٰ وجه ربک ذو الجلال والاکرام
(پارہ نمبر: 27، سورۃ الرحمٰن)
یعنی ہر ایک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے، وہ معرض فنا میں ہے، یعنی دمبدم فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر ایک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں۔ وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جوان کو بڑھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں۔ خدا تعالیٰ نے فان کا لفظ اختیار کیا یفنیٰ نہیں کہا تا کہ معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک دفعہ واقع ہو گی بلکہ سلسلۂ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہردم فنا کام کر رہی ہے، بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔
اے حضرات مولوی صاحبان کہاں گئی تمہاری توحید اور کہاں گئے وہ لمبے چوڑے دعوے اطاعتِ قرآن کریم کے۔ هل من کم رجل فی قلبه عظمة القرآن مثقال ذرّة؟
(روحانی خزائن، جلد 3، ص 434)
جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری مخلوق فنا ہونے والی ہے مگر کب؟ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مرزا مسرور (قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ) فوت ہو گیا ہے اور دلیل میں یہ آیت پڑھ دے تو کیا اس سے مان لیا جائے گا کہ واقعتاً مرزا مسرور فوت ہو چکا ہے؟ یا یہ کہا جائے کہ ساری دنیا فنا ہو چکی ہے اور اس پر یہ آیت پڑھ دی جائے تو واقعتاً اس کی بات مان لی جائے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ فنا دو قسم پر ہے (1) فنا بالفعل (2) فنا بالقوہ
اس آیت میں فنا بالفعل کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں ہے، فنا بالقوہ کا تذکرہ ہے کہ
یقیناً ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح علیہ السلام فنا میں آنے والے ہیں مگر اس وقت ان پر فنا نہیں ہے کیونکہ فنا بالفعل کا اس آیت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ تو اس سے وفات مسیح علیہ السلام پر استدلال کیسے درست ہے؟
آیت نمبر 26: ان المتقین فی جنٰتٍ و نهر فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر.
(پارہ 27، سورۃ القمر)
’’یعنی متقی لوگ جو خدا تعالیٰ سے ڈر کر ہر ایک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنّات اور نہر میں ہیں ، صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے پاس۔ اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ سو اگر رافعک الیّ کے یہی معنی ہیں جو مسیح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا جیسا کہ دوسری آیت یعنی ارجعی الیٰ ربک جو رافعک الی کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ (روحانی خزائن، جلد 3، ص 435)
اس جگہ مرزا قادیانی کی استدلالی عبارت سے یہ باتیں قابل ذکر ہیں:
- (1) وہ فوت ہونے کے بعد جنّات اور نہر میں ہیں۔
- (2) خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے
پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔
- (3) خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا،
بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔
جواب نمبر (1) آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے ’’وہ فوت ہونے کے بعد‘‘ کی عبارت خود ہی بڑھا
دی ہے جب کہ اس آیت میں ایسے الفاظ نہیں ہیں جن کا یہ ترجمہ ہو۔ مرزا قادیانی یہ الفاظ ”وہ فوت ہونے کے بعد“ بڑھا کر اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کر کے پیش کرنا چاہتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اپنی منشا پوری نہیں کر سکا کیونکہ اس آیت میں قیامت کے بعد متقیوں کے جنت میں داخلے کا ذکر ہے نہ کہ مرنے کے ساتھ ہی جنت میں داخلہ کا ذکر ہے۔
جواب نمبر (2) مرزا قادیانی کا کہنا کہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا، یہ تینوں ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں، یہ مرزا قادیانی کا اپنا گھریلو تصور ہے۔
جواب نمبر (3) اگر مقربین میں داخل ہونا وفات کی دلیل ہے تو پھر معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مقربین (انبیا علیہم السلام) میں داخل ہوئے۔ بوجہ مقربین میں داخل ہونے کے آپ ﷺ پر بھی موت کا آ جانا لازمی ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ تو پھر مسیح علیہ السلام کا مقربین میں صرف داخل ہونا کیونکر ان کی موت کی دلیل ہے۔ نیز اس آیت سے کسی طور پر وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنا درست نہیں کیونکہ اس آیت میں کچھ بھی اشارہ نہیں کہ مسیح بہشت میں داخل ہو گیا جو مرنے کے بعد ہونا تھا۔ بلکہ یہ تو عام وعدہ خداوندی ہے کہ متقی و پرہیز گار لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
آیت نمبر 27:
ان الذين سبقت لهم منّا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون لا یسمعون حسیسھا و ھم فی ما اشتھت انفسھم خٰلدون۔
یعنی جو لوگ جنتی ہیں اور ان کا جنتی ہونا ہماری طرف سے قرار پا چکا ہے۔ وہ دوزخ سے دور کیے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذّات میں ہیں۔ اس آیت سے مراد حضرت عزیر اور حضرت مسیح ہیں اور ان کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے ان کی موت بھی بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔ (روحانی خزائن، جلد 3، ص 435، 436)
جواب: اس کے جواب میں چند باتیں پیش خدمت ہیں:۔
- (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ اس آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے، اس کا تعلق قیامت برپا
ہونے کے بعد سے ہے۔
- (2) دوسری بات یہ کہ اس آیت کا مصداق صرف حضرت مسیح وعزیر علیہما السلام کو ہی بتانا
سراسر بددیانتی ہے۔
- (3) تیسری بات یہ کہ اگر مرزا قادیانی کی یہ بات مان لی جائے کہ مرنے کے ساتھ ہی
نیکوکار بہشت میں چلے جاتے ہیں تو کیا ہم مرزا قادیانی سے پوچھ سکتے ہیں کہ بہشت زمین پر ہے یا آسمان پر؟ اگر زمین پر ہے تو یہ بالکل باطل ہے اور اگر کہا جائے کہ بہشت آسمان پر ہے تو پھر انسان کا جسد عنصری آسمان پر جانا ثابت ہوگا۔ یہ بات مرزا قادیانی کے پورے مشن کو ہلا کر رکھ دے گی۔ لہٰذا اس آیت سے بھی وفات مسیح علیہ السلام پر دلیل پکڑنا باطل ٹھہرا۔
آیت نمبر 28: این ما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدہ.
یعنی جس جگہ تم ہو، اسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع برجوں میں بود و باش اختیار کرو۔ اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر ایک جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثنا کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلاشبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔
موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض وآفات منجر الی الموت تک پہنچاتا ہے۔ اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔ (روحانی خزائن، جلد 3، ص 436)
اس کے تحت چند باتیں پیش خدمت ہیں:
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس آیت کی شان نزول دیکھی جائے کہ یہ آیت کس پس منظر میں نازل ہوئی اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے جب مدینہ تشریف لے گئے تو کفار مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس سازش کا پتہ چلنے پر کفار کے ساتھ مقابلہ کے لیے تیاری کا حکم فرمایا تو بعض کمزور طبع حضرات نے مقابلہ سے جی چرایا جس پر تنبیہاً کئی آیات نازل ہوئیں، ان میں ایک آیت یہ بھی ہے جس میں ہے کہ مقابلہ کرنے سے جی چرا رہے ہو کہ موت نہ آئے۔ موت تو کہیں بھی آسکتی ہے اگرچہ بلند و بالا برجوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ موت کا لازم ہونا اور بات ہے واقع ہونا اور بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ زمانہ سے لوازم
موت وارد ہوتے ہیں مثلاً بیماری یا بڑھاپا وغیرہ تو یہ کوئی قانون نہیں ہے بلکہ بعض پیدائش کے ساتھ ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور بعض طبعی عمر پاتے ہیں موت نہ بیماری سے آتی ہے نہ بڑھاپے کی وجہ سے بلکہ اللہ کے علم میں جو اس کا وقت ہو، اسی وقت موت کسی پر آتی ہے۔ باقی مرزا قادیانی کا کہنا کہ زمانہ سے جسم پر لوازم موت وارد ہوتے ہیں، یہ کفار کا نظریہ ہے اسلام کا سکھایا ہوا عقیدہ نہیں۔
آیت نمبر 29: ما اتکم الرسول فخذوه و ما نهکم عنه فانتهوا یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہٰذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔ سو پہلے وہ حدیث سنو جو مشکوٰۃ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہے اور وہ یہ ہے : و عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اعمار امتی ما بین الستين الى السبعین و اقلهم من يجوز ذالك رواه الترمذی و ابن ماجه
یعنی اکثر عمریں میری امت کی ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی۔ اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔ پھر اتنا فرق کیونکر ممکن ہے کہ اور لوگ ستر برس تک مشکل سے پہنچیں اور ان کا یہ حال ہو کہ دو ہزار کے قریب ان کی زندگی کے برس گزر گئے اور اب تک مرنے میں نہیں آتے۔ بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا میں آ کر پھر چالیس یا پینتالیس برس زندہ رہیں گے۔ پھر دوسری حدیث مسلم کی ہے جو جابر سے روایت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے:
و عن جابر قال سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول قبل ان يموت بشهر تسئلوني عن الساعة و انما علمها عند الله و اقسم بالله ما على الارض من نفس منفوسة ياتى عليها مائة سنه وهى حية رواه مسلم
اور روایت ہے جابر سے کہا، سنا میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے
جو وہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ کوئی ایسی زمین پر مخلوق نہیں جو اس پر سو برس گزرے اور وہ زندہ رہے۔ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص زمین کی مخلوقات میں سے ہو وہ شخص سو برس کے بعد زندہ نہیں رہے گا۔ اور ارض کی قید سے مطلب یہ ہے کہ تا آسمان کی مخلوقات اس سے باہر نکالی جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان کی مخلوقات میں سے نہیں بلکہ وہ زمین کی مخلوقات اور ما علی الارض میں داخل ہیں۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی جسم خاکی زمین پر رہے تو فوت ہو جائے گا اور اگر آسمان پر جانا تو خود بموجب نص قرآن کریم کے ممتنع ہے۔ بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔
(روحانی خزائن، جلد 3، ص436، 437)
جواب: ہمیں یہ بات منظور ہے اور کسی مسلمان کو یہ کیونکر منظور نہیں ہوگی، آئیے احادیث رسول کی طرف دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات سیدنا مسیح علیہ السلام و نزول مسیح سے متعلق کیا فرمایا ہے۔
- (1) حضرت امام حسن بصری سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے
فرمایا ”ان عیسیٰ لم یمت و انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ“ (تفسیر ابن کثیر) حضرت امام حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور بے شک وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔
- (2) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ سے بات کرتے ہوئے فرمایا ”الستم تعلمون
ان ربنا حیی لا یموت و ان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء“
ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے بے شک ہمارا رب زندہ ہے نہیں مرے گا اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آنے والی ہے۔
- (3) عن عبد اللہ ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل
عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج و یولد لہ و یمکث خمس و
اربعین سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسىٰ ابن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر.
(باب نزول عیسیٰ مشکوٰۃ، 480) (درمنثور، جلد: 2، ص: 36)
ترجمہ: عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اترے گا عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی اور ٹھہرے گا پینتالیس سال پھر فوت ہوگا اور دفن کیا جائے گا میرے مقبرے میں پس میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک مقبرے سے کھڑے ہوں گے ابوبکر و عمر کے درمیان۔
اب اس کے بعد کسی مرزائی کو کیا حق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے خلاف کہے۔ باقی دو حدیثیں جو مرزا نے پیش کی ہیں ان پر بھی اگر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی وفات مسیح پر دلیل نہیں بن سکتی۔
- (1) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اعمار امتى ما بين الستين الى
السبعين واقلهم من يجوز ذالك. (ترمذی، جلد: 2، ص: 195)
ترجمہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال تک ہوں گی اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو اس سے تجاوز کریں۔
یہ حدیث خود اپنے معنی پر واضح ہے کہ یقیناً کچھ لوگ ہوں گے اگر چہ تھوڑے ہی ہوں جن کی عمریں اس سے زیادہ ہوں گی۔ وہ زیادہ کتنی ہوں گی اس کی کوئی حد بیان نہیں کی گئی پھر عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ساٹھ سے ستر برس کی عمر بنا کر ان کا اسی عمر میں وفات کا مقدر ماننا کیونکر درست ہے۔ ہمارے خیال میں یقیناً وہ ان نفوس میں شامل ہیں جو اقلهم من يجوز ذالك میں شامل ہیں اور ساٹھ ستر سے کتنا متجاوز ہوں گے، اس سے متعلق حدیث میں کوئی حد نہیں، اس حدیث کو وفات مسیح علیہ السلام پر پیش کرنا دھوکہ فریب یا جہالت ہے۔
- (2) مرزا قادیانی کی طرف سے پیش کردہ دوسری حدیث:
عن جابر سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول ان يموت بشهر تسئلونى عن الساعة و انما علمها عند الله اقسم باالله ما على الارض من منفوسة تاتى مائة سنة و فى رواية وهى حية. (مسلم، جلد 2، ص: 310)
(زیر بحث حدیث کے ضروری حصہ کا ترجمہ پیش خدمت ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں قسم کھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی زمین کے اوپر جاندار کہ اس پر سو برس گزریں اور وہ زندہ ہو۔ حدیث کا ترجمہ خود واضح کر رہا ہے کہ یہ ان کے لیے ہے جو علی الارض ہیں۔ اس وقت مسیح علیہ السلام زمین پر نہیں تھے تو وہ اس ماعلی الارض کے زمرہ میں کیسے آسکتے ہیں۔
آیت نمبر 30: او ترقٰی فی السماء قل سبحان ربی هل کنت الاّ بشراً رسولاً.
یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آویں گے۔ ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک تر ہے کہ اس دارالابتلا میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھلا وے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھا اور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جاوے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم کا آسمان پر جانا صحیح مان لیا جائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہر جائے گا اور کلام الٰہی میں تناقض اور اختلاف لازم آئے گا۔ لہٰذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسدہ العنصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔ بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت یحییٰ اور حضرت آدم اور حضرت ادریس اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف وغیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں۔ اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیونکر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آسمانوں میں دیکھا اور اگر اٹھائے گئے تھے تو پھر ناحق مسیح ابن مریم کے رفع کے کیوں اور طور پر معنی کیے جاتے ہیں۔ تعجب کہ توفی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے جابجا ان کے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی بدیہی طور پر کھلا ہے کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جا ملے جو ان سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیونکر پہنچ گئے آخر اٹھائے گئے تبھی تو آسمان میں پہنچے۔ کیا تم قرآن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے و رفعنٰہ مکانا علیا کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو مسیح کے بارہ میں آیا ہے؟ کیا اس کے اٹھائے جانے کے معنی نہیں ہیں فانی تصرفون۔
(روحانی خزائن، جلد 3، ص 437، 438)
جواب: دھوکہ و فریب مرزا قادیانی کا شیوہ اور عادت بن چکی ہے جب تک کہ وہ کسی بات
میں دھوکہ نہ کرے، ان کی بات بنتی ہی نہیں۔ چونکہ اس کا سارا کام ہی بناوٹی ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے پر یہ اس کی آخری دلیل ہے۔ مگر کمال ہے کہ آیت کے اول و آخر کو ملا کر درمیان کے کئی الفاظ کو بالکل اڑا کر ایک آیت کی صورت میں پیش کیا اور پھر ایسی حرکت کرنے کے باوجود بھی جب اس کا کام پورا نہیں ہوا تو پھر اپنے مقصد براری کے لیے ترجمہ کرنے میں طبع آزمائی کی کہ بات بن جائے۔ لیکن جو ترجمہ کیا، وہ پوری آیت کو اگر پڑھا جائے تو اس کا الٹ بن گیا۔ مثلاً مرزا قادیانی نے ترجمہ اس طرح سے کیا ہے: ”یعنی کفار کہتے ہیں تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایمان لے آویں گے“۔
جب کہ پوری آیت کو درست طور پر لکھا جائے تو اس کے الفاظ اور ترجمہ اس طرح ہے او ترقی فی السماء و لن نؤمن لرقیک حتی تنزل علینا کتباً نقرؤہ. ”یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھیں“۔
دھوکہ واضح آشکارا ہو رہا ہے کہ کفار نے کہا کہ تیرے آسمان پر چڑھ جانے سے بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ جب کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے ”تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھا تب ہم ایمان لے آئیں گے“۔ بتائیے! دھوکہ و فریب کس کو کہتے ہیں؟
قارئین محترم اردو جاننے والے ہر فرد کو یہ دعوت ہے کہ مرزا قادیانی کی طرف سے پیش کردہ آیت پندرہویں پارے میں موجود سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 93 کو اپنی نظروں سے دیکھیں اور مرزا قادیانی کا کیا ہوا ترجمہ پڑھیں، آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ قرآن کی آیت کیا کہہ رہی ہے اور مرزا قادیانی کیا بکواس کر رہا ہے جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے باقی دلائل کے کیا خدوخال ہوں گے؟ صداقت صرف اسلام میں ہے اور اسلام میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر ہونا اتنا واضح ہے کہ قرآن و حدیث، صحابہ، تابعین مفسرین، محدثین سب کے سب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کے قائل اور قیامت سے پہلے ان کے نزول علی الارض اور انتقال فرمانے کے بعد روضہ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام میں مدفون ہونے میں متفق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی حقانیت پر یقین عطا فرمائے، اسلام کے تمام عقائد بشمول حیات سیدنا مسیح علیہ السلام پر ایمان پر استقامت عطا فرمائے! (آمین)
حلف نامہ برائے قبولیت اسلام، قادیانیت سے برأت کا اعلان
بسم الله الرحمن الرحيم
میں _________________________ ولد _________________________ سکنہ ............................ قومی شناختی کارڈ نمبر _________________________ آج بتاریخ _________________________ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے مندرجہ ذیل گواہان کے روبرو بقائم ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ و لالچ ، جبر و اکراہ کے اپنی رضا ورغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے کھلا اعلان کرتا ہوں کہ
- (1) میں اپنے سابقہ مذہب قادیانیت/ احمدیت (ربوی یا لاہوری گروپ) سے توبہ
کر کے اسلام قبول کرتا ہوں اور اس بات کی حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے اور وہی معبود برحق ہے۔ حضور نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مانتا ہوں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی ، بروزی ، تشریعی ، غیر تشریعی یا نیا نبی نہیں۔ میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان لاتا ہوں اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کے بعد جو بھی شخص ختم نبوت کا انکار کرے یا نبوت کا دعویٰ کرے، خواہ بالواسطہ یا بلا واسطہ یا تاویل کے ساتھ ، ایسا شخص زندیق ، کافر ، کذاب ، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ میں قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدے کا اظہار کرنا ضروری اور اپنے ایمان کا اہم جزو سمجھتا ہوں کہ جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ پنجاب آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ملعون ، کذاب ، دجال ، مرتد اور زندیق تھا اور وہ اپنے دعویٰ مجددیت ، مہدویت ، مسیحیت، نبوت و رسالت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کے تمام پیروکار قادیانیوں جو خود کو احمدی یا لاہوری کہلواتے ہیں، کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ جو شخص ان کے کفر میں شک کرے، اسے بھی کافر یقین کرتا ہوں۔
1974ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے والی آئینی ترمیم کو درست قرار دیتا ہوں ۔ 1984ء میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال اور خود کو مسلمان کہلوانے سے روکنے والے امتناع قادیانیت
آرڈیننس، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B ، 298/C اور قانون توہین رسالت ﷺ کی دفعہ 295/C کو دل و جان سے تسلیم کرتا ہوں۔ قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتا ہوں اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ نیز قادیانیت کے بارے میں علمائے کرام کے تمام فتاویٰ جات کو درست مانتا ہوں۔ میں یہ بھی ایمان رکھتا ہوں کہ ابن مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور قرب قیامت آسمان سے ان کا نزول ہوگا اور وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے۔ ان کی معاونت حضرت مہدیؑ کریں گے جو اس امت میں حضور نبی کریم ﷺ کی اولاد سے پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو وہ موجود ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پوری دنیا اسلام قبول کرلے گی۔
- (2) میں حلفیہ اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے رویے سے ثابت کروں گا کہ آئندہ
قادیانیوں سے مذہب یا عقیدہ کے لحاظ سے میرا کسی قسم کا معاشی یا معاشرتی کوئی تعلق نہیں۔ یعنی قادیانیوں سے کوئی کاروبار یا کسی خوشی، غمی کی تقریب جس میں قادیانی شریک ہوں، خود کو لاتعلق رکھوں گا۔
- (3) میں حلفیہ اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے ماں باپ، بھائیوں اور خاندان والوں سے
کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھوں گا جب تک کہ وہ سچے دل سے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول نہیں کرلیتے۔
- (4) میں حلفیہ اعلان کرتا ہوں کہ چونکہ میرے والدین اور قریبی رشتہ دار قادیانی مذہب
سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان سے ملنے جلنے سے مکمل پرہیز کروں گا۔
میں ایک دفعہ پھر اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی رضا و رغبت اور مکمل ہوش مندی کے ساتھ بغیر کسی جبر و اکراہ یا لالچ اور دباؤ کے پوری آزادی کے ساتھ آج اس حلفیہ اقرار نامہ پر دل و جان سے دستخط کرکے غیر مشروط طور پر قادیانیت سے
مکمل برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام پر استقامت بخشتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے خلاف جہاد کرنے اور تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
دستخط نومسلم ____________________ دستخط گواہ ____________________ دستخط تصدیق کنندہ اور مہر____________________ دستخط گواہ ____________________ بتاریخ ____________________
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے اور ان کا انجام
دین دشمن لابیوں کے فیورٹ مرزا قادیانی نے اپنے مشن کی ترویج و تکمیل کے لیے 1880ء میں پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے۔ اس نے اپنے مطلوبہ ہدف کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں مرحلہ وار رنگا رنگ کے دعوے اور اعلان کرنے شروع کر دیئے تا آنکہ 1891ء میں بظاہر دعویٰ مسیحیت اور 1901ء میں دعویٰ نبوت داغ دیا، پھر اس نے ان مختلف دعوؤں کو نہایت چابکدستی سے ایک ہی لڑی میں پرو کر عوام الناس کے سامنے نہایت گھن گرج کے ساتھ پیش کیا اور قدم قدم پر وارننگ دینا شروع کر دی کہ میں خدا کا مامور ہوں۔ میری بعثت کے یہ مقاصد ہیں جو میں ہر صورت میں پورا کر کے جاؤں گا۔ چنانچہ ایسے اظہار اور اعلانات مرزا قادیانی کی کتابوں میں بکثرت ملتے ہیں مگر ایک موقع پر مرزا قادیانی نہایت وضاحت اور اہتمام کے ساتھ ان مقاصد اور ان کی تکمیل کا اعلان یوں کرتا ہے:
- ’’اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخیر وقت تک مجھ سے وفا
کرے گا۔ اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لیے دعائیں کریں، یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں، تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے اور اگر انسانوں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہوں گے اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لیے گواہی دیں۔ پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو، کاذبوں کے منہ اور ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔ خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔ میں اس زندگی پر
لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افترا کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔ وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لیے مجھے پیدا کیا ہے۔ ہرگز ممکن نہیں کہ میں اس میں سستی کروں اگرچہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف سے باہم مل کر مجھے کچلنا چاہیں، انسان کیا ہے؟ محض ایک کیڑا اور بشر کیا ہے؟ محض ایک مضغہ پس کیونکر میں حی و قیوم کے حکم کو ایک کیڑے یا ایک مضغہ کے لیے ٹال دوں جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔ خدا کے مامورین کے آنے کے لیے بھی ایک موسم ہوتا ہے اور پھر جانے کے لیے بھی ایک موسم، پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔ خدا سے مت لڑو، یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو‘‘۔
(اربعین نمبر 3 ص 14، 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 400، 401 از مرزا قادیانی)
ملاحظہ کیجیے کہ مرزا قادیانی کس دھڑلے اور اعتماد کے ساتھ اپنی حفاظت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے مگر اس میں وہ کہاں تک کامیاب ہوا۔ اس کا ثبوت کسی دوسرے کی زبان سے نہیں یا حاصل مطالعہ اور ظن و تخمین سے نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے ملاحظہ کیجیے۔
- ’’مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی راہ میں وہ اطاعت اور تقویٰ کا حق بجا نہیں لا سکا
جو میری مراد تھی اور اس کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا جو میری تمنا تھی۔ میں اس درد کو ساتھ لے جاؤں گا کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا، میں کر نہیں سکا...... جب مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی اور مردہ ہوں نہ زندہ‘‘
(حقیقت الوحی صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 493 از مرزا قادیانی)
چنانچہ اسی حقیقت کے پیش نظر مرزا قادیانی نے یہ اعلان کیا تھا:
- کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)
یاد رہے...... مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم نور الدین
’’فقیر کی تاریخ پیدائش 14 دسمبر 1945ء / مطابق 10 محرم الحرام 1365ھ بروز
جمعہ ہے۔ قمری اعتبار سے 59 سال اور شمسی اعتبار سے 58 سال پورے ہو رہے ہیں۔ تقریباً چوبیس سال کی عمر (1967ء) میں تحفظ ختم نبوت جماعت کے پلیٹ فارم سے کام کرنے کی سعادت سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا۔ اس محاذ پر جب کام شروع کیا تو ڈاڑھی پوری اتر چکی تھی، اب مکمل سفید ہو چکی ہے۔ چھتیس سال سے قادیانیت اور رد قادیانیت کا لٹریچر پڑھتے عمر گزری ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں کہ: ”تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے کرتے مروں اور مرتے مرتے کام کروں“ والا معاملہ ہو جائے تو رحمت حق سے اور کیا چاہیے؟۔
قارئین کرام! اس داستان آرائی سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس چھتیس سال کے عرصہ میں جب بھی کسی قادیانی کتاب کو اٹھا کر دیکھا تو قادیانیوں کا کوئی نہ کوئی ایسا نیا فریب سامنے آیا کہ عقل دنگ رہ گئی۔ آج 9 دسمبر 2003ء کو جرمنی میں قادیانیت کو ترک کر کے مسلمان ہونے والے ہمارے بھائی محترم جناب شیخ راحیل احمد صاحب کا مضمون جرمنی سے بذریعہ فیکس موصول ہوا۔ اس کے حوالہ جات اصل قادیانی کتب سے موازنہ کر رہا تھا کہ مکتوبات احمد جلد دوم کی ضرورت پڑگئی۔ یہ جلد مرزا غلام احمد قادیانی کے ان مکتوبات پر مشتمل ہے جو حکیم نور الدین قادیانی کے نام مرزا قادیانی نے تحریر کیے تھے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 41 مکتوب نمبر 26 پر نظر پڑی تو ایک نئی بات کا انکشاف ہوا۔ فریب اور دھوکہ، جب مال کا شاخسانہ ہے۔ میرے خیال میں آج تک شاید کسی بڑے سے بڑے فریبی و فراڈی دنیا دار نے یہ چال نہ چلی ہو گی جو مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین نے چلی۔ عقل حیران رہ گئی۔ میں ششدر رہ گیا کہ یا اللہ! اس طرح کا مکر و فریب تو کسی کمینے دنیا دار کو بھی شیطان نے نہ سکھلایا ہو گا بلکہ میرے خیال میں شیطان کو خود یہ تدبیر نہ سوجھی ہو گی جو مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین قادیانی کو سوجھی۔ ایسی چال چلی کہ فراڈ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
قارئین کرام! انگریز کے زمانہ میں اور اس وقت بھی محفوظ ذرائع سے رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھجوانے کے دو طریقے ہیں۔ بینک سے رقم بھجوانا یا ڈاک خانہ سے منی آرڈر وغیرہ کے ذریعہ سے۔ بینک سے رقم بھجوائیں تو ڈرافٹ وغیرہ! اس پر سروس چارجز ادا کرنے کے علاوہ ڈرافٹ رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوانا ہو گا۔ رقم زیادہ ہو تو اس پر خاصا خرچ آتا ہے۔ منی آرڈر یا تار منی پر بھی خرچ آتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کے پاس حکیم نور الدین اس زمانہ میں کشمیر سے پنجاب قادیان رقم بھجوانا چاہتا ہے۔ رقم بھی خاصی ہے۔ یعنی اس زمانہ میں پانچ سو
روپیہ بھارتی جموں وکشمیر سے بھارتی پنجاب قادیان بھجوانی ہے جس زمانہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر ایم اے کی سیرت المہدی جلد اول صفحہ 182 کے مطابق: ”ایک آنہ کا سیر گوشت ملتا تھا“۔ حساب لگائیں کہ:
- -1 ایک روپیہ کے سولہ آنے۔ ایک آنہ کا ایک کلو گوشت۔ تو پانچ سو روپے کا گوشت
آٹھ ہزار کلو، اس زمانہ میں ملتا تھا۔ آج کل گوشت کی قیمت عموماً سات سو روپے کلو ہے۔ آٹھ ہزار کلو گوشت آج خریدنا چاہیں تو آٹھ ہزار کو سات سو سے ضرب دیں۔ یہ چھپن لاکھ روپیہ بنتا ہے۔
- -2 یا یوں حساب لگائیں کہ اس زمانہ کا ایک کلو گوشت ایک آنہ میں جو آج کل سات سو
روپے کے برابر ہے۔ سولہ آنہ کو سات سو سے ضرب دیں تو گیارہ ہزار دو سو روپیہ بنتا ہے۔ گویا اس زمانہ کا ایک روپیہ آج کل کے گیارہ ہزار دوسو روپیہ کے برابر ہے۔ اس زمانہ کے پانچ صد روپیہ کی رقم آج کل کے حساب سے لگانی ہو تو گیارہ ہزار دوسو کو پانچ سو سے ضرب دیں تو نتیجہ وہی چھپن لاکھ روپیہ ہوتا ہے۔
چلیں حساب ہو گیا۔ چھپن لاکھ آج بینک سے یا ڈاکخانہ سے بھجوانے ہوں تو جتنا خرچہ آئے گا، اتنا خرچہ نور الدین قادیانی کو پانچ صد روپیہ پر اس زمانہ میں خرچ کرنا پڑتا۔ آج کل مہنگائی کے چکر کو قادیانی نہ روئیں۔ حکیم نور الدین کے چکر کو دیکھیں کہ اس زمانہ میں پانچ صد روپیہ بھجوانے پر دس بارہ روپے بھی اس دور میں خرچ ہوتے تو روپے کے حساب کو سامنے رکھیں تو اس زمانہ کے دس بارہ روپے بھی آج کل کے حساب سے خاصی رقم تھی۔ مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین قادیانی اس خاصی رقم سے بچنے کے لیے کیا چال چلتے ہیں؟
سوچا کہ اگر پانچ صد روپیہ کا نوٹ لفافہ میں ڈال کر بھیج دیں تو اس سے کافی بچت ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دور میں بھی آج کل کی طرح لفافہ میں نوٹ ڈال کر بھیجنا خلاف قانون تھا اور یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں لفافہ سنسر ہو گیا یا کسی نے کھول کر پانچ صد روپیہ کا نوٹ نکال لیا تو مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین دنیا دار بنئے کی طرح جو دس بارہ روپے خرچ نہیں کرتے، وہ پانچ صد روپے ضائع ہونے یا مقدر نکال لینے پر ویسے ہی آنجہانی ہو جاتے۔
حکیم نور الدین نے ”باہمی مشورہ“ سے (اس باہمی مشورہ کے لفظ کو یاد رکھیں۔ اس کی خبر بعد میں لیں گے۔ پہلے مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین کی خبر قادیانی حضرات خود لے
لیں) نور الدین نے پانچ صد روپے کے نوٹ کے دو ٹکڑے کیے۔ ایک ٹکڑا بیکار ہے۔ اسے بھیجنا قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ اس لیے کہ ردی کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ کوئی کھولے بھی تو ردی کاغذ کا ٹکڑا اس کے کس کام کا؟ چنانچہ نوٹ کا آدھا ٹکڑا ڈاک کے ذریعے قادیان پہنچ گیا۔ اب مرزا قادیانی نے اسے محفوظ کر کے حکیم نور الدین کو خط سے اطلاع دی کہ پانچ صد روپیہ کے نوٹ کا ایک قطعہ مل گیا ہے، اب دوسرا بھیج دیں، لیکن احتیاط کریں، بارشیں ہیں۔ بارش میں بھیگ کر ضائع نہ ہو جائے۔ اس لیے کہ آج کل کی طرح ڈاکئے اس زمانہ میں بھی عام ڈاک کی زیادہ احتیاط نہ کرتے تھے۔ اب کے دوسرا ٹکڑا بھیج دیں، لیکن رجسٹرڈ ڈاک سے۔ قادیان پہنچ گیا دوسرا ٹکڑا۔ اب پانچ صد روپیہ کا نوٹ جوڑ کر مرزا قادیانی قادیان میں اور حکیم نور الدین کشمیر میں اس کامیاب ”انوکھے فراڈ“ پر جشن منائیں اور صدارت کرے اس جشن کی ابلیس، اور مبارک باد دے باپ بیٹے مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین کو کہ آپ نے وہ کر دکھایا جو آج تک میرے کسی چیلے کو کیا، خود مجھے بھی نہ سوجھی تھی۔ قارئین کرام! انتظار کی زحمت کو معاف فرمائیں اور پڑھیں مرزا قادیانی کا مکتوب:
- ❑ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم
”آج نصف قطعہ نوٹ پانچ سو روپیہ پہنچ گیا۔ چونکہ موسم برسات کا ہے۔ اگر براہ مہربانی دوسرا ٹکڑا رجسٹری شدہ خط میں ارسال فرمائیں تو انشاء اللہ روپیہ کسی قدر احتیاط سے پہنچ جاوے“۔
خاکسار غلام احمد از قادیان 11 جولائی 1887ء (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 41 طبع جدید)
اب قادیانیوں سے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول مقبولﷺ کو اگر وہ مانتے ہیں تو ان کے نام پر، نہیں تو شرف انسانیت کے نام پر (ان سے) اپیل ہے کہ وہ ہماری تمہیدات اور مرزا قادیانی کے خط کے مندرجات کو بار بار ٹھنڈے دل سے پڑھیں کہ ایسے فراڈیے مذہبی رہنما تھے؟۔ یا فراڈ کے چیمپئن اور شیطان کے کان کترنے والے ٹھگ اور مکار؟۔
ہماری تلخ نوائی کو قادیانی معاف کریں۔ ہم جب مرزا قادیانی کے ان بیہودہ افعال اور کفریہ اقوال کو دیکھتے ہیں اور پھر آپ لوگوں کی سادگی تو یہ امر ہمیں تلخ نوائی پر مجبور کر دیتا ہے۔ ”باہمی مشورہ“ کا لفظ اس لیے لکھا کہ مرزا قادیانی نے لفافہ کھولتے ہی پانچ صد روپیہ کے ایک ٹکڑا کو دیکھتے ہی کوئی تعجب نہیں کیا۔ بلکہ جھٹ سے اس کے ملنے کی اطلاع یابی کے
لیے خط لکھ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام دونوں نے ”باہمی مشورہ“ سے کیا۔ فرمائیے آپ کی کیا رائے ہے۔
ایک اور امر رہ جاتا ہے کہ کیا وہ دوسرا ٹکڑا پانچ صد روپیہ کا نورالدین نے کشمیر سے قادیان مرزا قادیانی کو بھیجا اس کا، اسی کتاب کے صفحہ 42 پر موجود ہے کہ مرزا قادیانی نے دوسرے مکتوب (نمبر 27) میں لکھا ہے کہ : ”آج نصف قطعہ (دوسرا) نوٹ پانچ سو روپیہ بذریعہ رجسٹری شدہ پہنچ گیا“۔ اس دوسرے ٹکڑا نوٹ پانچ صد ملنے کی اطلاع یابی کے خط پر تاریخ 26 جولائی 1887ء ہے۔ گویا پندرہ دنوں میں دونوں کامیاب فراڈ کر کے فارغ ہو گئے۔ اس فراڈ کو اب مرزا قادیانی اور نورالدین نے کاروبار بنالیا۔ چنانچہ نورالدین نے دوصد چالیس روپے اس کے بعد مرزا قادیانی کو بھجوائے۔ لیکن نوٹوں کے آدھے آدھے حصے تھے۔ جب وہ مل گئے تو پھر اسی دوسو چالیس کے نوٹوں کے دوسرے باقیماندہ ٹکڑے بھجوا دئیے۔ چنانچہ 31 اکتوبر 1887ء کے مکتوب بنام نورالدین میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
- ❑ ”بقیہ نصف قطعہ نوٹ دوصد چالیس روپے بھی پہنچ گئے تھے“۔
(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 47 طبع جدید)
قارئین کرام! اس سے کہیں زیادہ درد ناک پہلو یہ ہے کہ اس کارستانی ”کارشیطانی“ پر مرزا قادیانی، حکیم نورالدین کو لکھتا ہے : ”اور میں نہایت ممنون ہوں کہ آں مکرم بروش صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سچے دل سے اور پورے جوش سے نصرت اسلام میں مشغول ہیں“۔ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 47 طبع جدید)
لیجیے! اب حکیم نورالدین صحابی بن گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی نبی بن گیا۔ (معاذ اللہ ) کیا قادیانیوں میں کوئی اللہ کا بندہ ایسا ہے جو اس انوکھے فراڈ کے کیس پر توجہ کر کے فراڈ نرا فراڈ قادیانیت سے تائب ہو جائے؟۔
(حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا مضمون مطبوعہ ماہنامہ لولاک ملتان )
محکمہ انکم ٹیکس کا نوٹس اور مرزا قادیانی کا جھوٹا بیان حلفی
”1892ء میں محکمہ انکم ٹیکس کو پتا چلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی آمدن انکم ٹیکس کے قابل ہو گئی ہے تو انہوں نے مرزا صاحب کو ایک نوٹس بھیجا۔ نوٹس پڑھ کر مرزا صاحب
پریشان ہو گئے۔ انہوں نے مسٹر ڈیکسن ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کے ہاں عذر داری داخل کر دی۔ انہوں نے منشی تاج الدین تحصیلدار پرگنہ بٹالہ ضلع گورداسپور کو انکوائری کے لیے بھیجا۔ مرزا صاحب نے تحصیل دار مذکورہ کے سامنے ایک بیان حلفی داخل کیا جس میں اپنی جائیداد اور مریدین کی تفصیل پیش کرنا پڑی۔ اب اس مدعی نبوت اور مال کے پجاری کے بیان حلفی کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی تحصیل دار کی وہ رپورٹ اپنی کتاب میں بقلم خود نقل کی ہے:
- ❑ ”(1 اس فرقہ (فرقۂ مرزائیہ) میں حسب فہرست مسلکہ ہذا 318 آدمی ہیں۔ (یہ
رپورٹ 1898ء کی ہے جب کہ اس سے قبل 1896ء، 1897ء میں مرزا صاحب اپنے ہاتھوں سے اپنی کتاب میں اپنے جان نثار و مریدین کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ بتا چکے تھے۔ ملاحظہ ہو ضمیمہ انجام آتھم ص: 26، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 310) اب دونوں میں ایک تعداد غلط ہے۔
(ضرورۃ الامام صفحہ 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 514 از مرزا قادیانی)
- (2) بیان حلفی میں دوسری بات یہ لکھوائی: ”اس کو تعلقہ داری زمین اور باغ کی
آمدنی ہے۔ تعلقہ داری کی سالانہ آمدنی تخمیناً 10 / 82 ہے۔ زمین کی تخمیناً 300 روپے سالانہ کی، باغ کی آمدنی 200 روپے، 400 روپے اور 500 روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دوسو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے، ورنہ اوسط سالانہ آمدنی قریباً چار ہزار روپے ہوتی ہے اور وہ پانچ مدوں میں خرچ ہوتی ہے (مہمان خانہ، مسافر، یتیم و بیوہ، مدرسہ، سالانہ و دیگر جلسہ جات، خط و کتابت مذہبی) اور اس کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی“۔
(ضرورۃ الامام صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 516)
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس سے دو سال قبل یعنی 1896ء میں مرزا صاحب لکھ چکے ہیں کہ مندرجہ بالا پانچ مدات میں سے صرف لنگر خانہ کا خرچہ چھے ہزار روپیہ سالانہ ہے۔ دیگر مدات اس کے علاوہ ہیں۔ یہ بھی لکھا کہ مباہلہ کے روز سے آج تک 15 ہزار روپے کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا، جس کو شک ہو وہ ڈاک خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم سے لے لے، اور رجوع
خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ، ستر روپے ماہوار کا خرچہ ہوتا ، اب اوسط خرچہ کبھی پانسو اور کبھی چھ سو ماہوار تک ہوتا ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ، صفحہ 28، روحانی خزائن، جلد 11، صفحہ 312)
اب دونوں آمدنیوں کا موازنہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے مرزا صاحب نے کتنا غلط اور جھوٹ پر مبنی بیان حلفی دیا ۔ علاوہ ازیں مرزا صاحب نے ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک فراڈ کیا کہ 27 جون 1898ء کو ایک رجسٹری کے ذریعہ اپنی تمام زمین اپنی دوسری بیوی نصرت جہاں کے پاس رہن (گروی) رکھ کر چار ہزار روپے کا زیور اور ایک ہزار نقد وصول پا لیا، اور میعاد رہن تیس سال رکھی اور صاف لفظوں میں لکھا :
- "مرزا صاحب کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ
کے پاس گروی رکھ کر اس سے چار ہزار روپے کا زیور اور ایک ہزار نقد وصول پایا ہے تو جس شخص کی عورت اس قدر روپیہ دے سکتی ہو، اس کی نسبت گمان گزرتا ہے کہ وہ مالدار ہو گا"۔
(ضرورۃ الامام ص : 47 ، روحانی خزائن جلد 13 ص : 517)
ملاحظہ فرمائیے کہ انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے مرزا صاحب نے جھوٹا بیان حلفی پیش کر کے اپنے آپ کو کس قدر قلیل آمدنی والا ثابت کیا۔ اور پھر اپنی پہلی زوجہ مطلقہ (پھجے دی ماں) کے حق مہر سے بچنے کے لیے اپنی تمام جائیداد زوجہ ثانیہ نصرت جہاں کے نام فرضی رہن رکھ دی۔ بیان حلفی میں یہ لکھ کر دیا کہ مریدوں کی آمدن اس کے ذاتی اخراجات میں صرف نہیں ہوتی۔ لیکن کثیر العیال والاولاد ہونے کے ساتھ ساتھ رئیسانہ اور ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزارنا ، کئی کئی ملازم ، ملازمہ اور نوکر چاکر رکھنا، سلس البول (بار بار پیشاب آنا ) اور دیگر بیماریوں میں دائمی طور پر مبتلا ہونا ، یہ سب اخراجات اور مصارف کہاں سے پورے ہوتے تھے؟
مرزا غلام احمد نے مرزا بشیر الدین کی والدہ (یعنی اپنی دوسری بیوی ) نصرت جہاں سے 55 سال کی عمر میں شادی کی تھی۔ اس وقت نصرت جہاں کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ میں اس زمانہ میں بالکل نامرد تھا۔ چنانچہ کئی لوگوں نے ان کو اس شادی سے منع بھی کیا جن میں ایک مولوی محمد حسین بٹالوی بھی تھے، لیکن مرزا صاحب نے پھر بھی شادی کر لی۔ اب انہیں مشک وعنبر سے تیار کردہ یاقوتیوں اور لبوب کی ضرورت تھی۔ چنانچہ وہ آئے روز لاہور سے مشک وعنبر جو کہ اس زمانہ میں بھی نہایت قیمتی مفردات شمار ہوتے تھے،
منگواتے رہتے تھے۔ مرزا صاحب کے ایک مرید نے ایک چھوٹا سا رسالہ ”خطوط امام بنام غلام“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ ان خطوط کو پڑھیے جن سے پتا چلتا ہے کہ دو دو تولہ کستوری انہوں نے منگوائی ہے۔ مفرح عنبری جو کہ ایک گراں قیمت مرکب ہے، وہ بھی اکثر استعمال کرتے تھے۔ ایک دفعہ اپنے لیے دوسو ساٹھ روپے کا خیمہ منگوایا کیونکہ وحی الٰہی (بقول ان کے) کی بنا پر رہائشی مکان خطرناک ہو گیا تھا۔ ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھ کر ایک تو ان کے انکم ٹیکس والے بیان حلفی کو ملاحظہ فرمائیں، اور دوسرے یہ دیکھیں کہ سیالکوٹ کچہری میں 15 روپے ماہوار پر چار سال کام کرنے والا مرزا غلام احمد اپنی تصنیف وتالیف اور نبوت اور مسیحیت کے کاروبار میں اب کس قدر مالدار اور امیر ہو گیا تھا۔ لوگوں کو سادگی کا سبق دیتا جب کہ خود اپنے گھر کے اندر عیش وعشرت اور ٹھاٹھ کی زندگی گزارتا۔ اسی پر خواجہ کمال الدین اکثر معترض رہتے تھے۔
مختصر یہ کہ نبوت کا یہ تدریجی دعویٰ مرزا صاحب نے صرف اور صرف دنیا کی دولت اکٹھی کرنے کے لیے کیا تھا، ورنہ وہ خود بھی سمجھتے تھے کہ نہ وہ مجدد ہیں، نہ محدث اور نہ مسیح و رسول۔ ان دعوؤں کے ذریعہ سے انہوں نے دولت دنیا اکٹھی کی، یہاں تک کہ آپ کے بعد آپ کے ایک لڑکے نے 1920ء میں ڈیڑھ لاکھ روپے کی جائیداد برائے بیع نامہ مورخہ 21 جون 1920ء رجسٹری شدہ 5 جولائی 1920ء از مرزا اکرم بیگ ولد مرزا فضل بیگ و خاتون سردار بیگم بیوہ مرزا فضل بیگ ساکنان قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور سے خریدی۔ خود مرزا صاحب نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 221 میں لکھا ہے کہ مجھے اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور سالہا سال سے ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہوجاتا ہے۔ یہ تین لاکھ آج کل کے تین کروڑ کے برابر ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کیونکہ جب مرزا صاحب کی تعلقہ داری کی سالانہ آمدنی صرف 82 روپے ہوتی ہے اور اس کے وسیع وعریض مکان کا کرایہ دو روپے ماہوار ہے تو اس سے اس تین لاکھ روپے کی آج کل کی قیمت کا اندازہ لگالیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ 211 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 221 پر تو مرزا قادیانی نے یہ لکھ دیا کہ ”مجھے اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے“۔ لیکن چند صفحات آگے یعنی صفحہ 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 254 پر یہاں
تک لکھا کہ ”اس وقت سے آج تک دو لاکھ سے بھی زیادہ روپیہ آیا ہے، اور اس قدر ہر ایک طرف سے تحائف آئے ہیں کہ اگر وہ سب جمع کیے جاتے تو کئی کوٹھے ان سے بھر جاتے“۔ اسی کتاب کے صفحہ 240 پر لکھا کہ ”اب میرے سلسلہ کی تمام شاخوں سے قریباً تین ہزار روپے ماہواری آمدنی ہے“۔
لائے ہیں بزمِ یار سے دونوں خبر الگ الگ
غرضیکہ مرزا صاحب کا یہ سارا ڈھونگ کسب مال کے لیے تھا، وگرنہ مسیحیت اور نبوت کا دعویٰ اس کے بارہ میں انہیں خود بھی پتا تھا کہ وہ اس میں سراسر جھوٹے ہیں۔ پھر جو شخص صرف دنیا کی دولت کے لیے غلط اور جھوٹا بیان حلفی دیتا ہے، دین کے بارہ میں اس پر کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے؟“ (ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان نومبر 2006ء)
ٹیکس چور
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے قادیانیوں کی 2 بڑی تنظیموں کے نام سے قائم کمپنیوں کو ایک کھرب 29 ارب سے زائد مالیت کا ٹیکس نادہندہ ہونے پر نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ ایف بی آر کو ریجنل ٹیکس آفس فیصل آباد نے ایک رپورٹ ارسال کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ میسرز تحریک جدید انجمن احمدیہ اور میسرز چناب نگر ایک کھرب 29 ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ٹیکس ادا نہیں کیا، جس کے بعد ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈی نینس مجریہ 2001 کی شق 138(1) اور 138(2) کے تحت نوٹس جاری کر دیئے مگر مذکورہ کمپنیوں نے اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا، ایف بی آر ذرائع کے مطابق میسرز تحریک جدید انجمن احمدیہ کا ٹیکس نمبر 2170396 اور اس کے ذمہ 64 ارب 63 کروڑ 46 لاکھ روپے جب کہ میسرز چناب نگر جس کا ٹیکس نمبر 0688018 ہے اس کے ذمہ مجموعی طور پر 64 ارب 62 کروڑ 88 لاکھ 50 ہزار روپے واجب الادا ہیں۔
(ہفت روزہ ضرب مومن، کراچی 21 تا 27 ستمبر 2012ء)
سلطان القلم کی عربی دانی
”راقم 42-1941ء میں اورینٹل کالج لاہور میں ایم۔ اے عربی کا متعلم تھا اور کالج سے ملحقہ ولنر (Wollner) ہاسٹل کے کمرہ نمبر 2 میں قیام پذیر تھا۔ اس کے ساتھ تین قادیانی متعلم بھی تھے، نصیب احمد شاہ، مبارک احمد مسعود اور بشارت الرحمٰن۔ مؤخر الذکر طالب علم عبدالرحمٰن مصری کا بیٹا تھا، خوش رو شاعر تھا اور اس کا بڑا بھائی کینیا میں مشن کا انچارج بتایا جاتا تھا۔ بشارت الرحمٰن مرزا صاحب کی عربی دانی کے دعووں کی باتیں کرتا رہتا۔ اس زمانے میں ہمارے استاد محمد العربی الہلالی المراکشی نئے نئے اورینٹل کالج میں ملازم ہوئے تھے، اور ہمیں عربی ادب پر لیکچر دیتے تھے۔ وہ نوجوان تھے اور توجہ سے پڑھاتے تھے۔ عربی بولنے پر ہمت افزائی کرتے تھے۔ مجھ پر شفقت فرماتے اور فارغ وقت میں میرے کمرے میں، جو بہت نزدیک تھا، تشریف لے آتے۔ مجھ سے انگریزی سیکھنے اور اُردو بولنے کی کوشش کرتے۔ میرے ہم جماعت فضل الرحمٰن (بعد کے مشہور ڈاکٹر فضل الرحمٰن، سابق ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد) بھی میرے کمرے میں موجود ہوتے۔ یہ پس منظر قادیانی حضرات کی عربی دانی کی حقیقت کے اظہار کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اب راقم اپنی 1943ء تا 1945ء کے روزنامچے کے اندراج کی نقل ذیل میں پیش کرتا ہے۔ فوٹو اسٹیٹ بھی حاضر کی جاسکتی ہے:
”ولنر (Wolner) ہوسٹل کی ایک اور یاد۔ بشارت الرحمٰن قادیانی مرزا صاحب کی کتاب ”اعجاز المسیح“ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ کیسے مرزا صاحب نے اپنے زمانے کے علماء کو دعوت دی کہ ایسی تشریح وتفسیر لکھیں۔ کیسے انہوں نے دس ہزار روپے اس آدمی کو دینے کا اعلان کیا جو اس میں سے ایک بھی غلطی نکال دے۔ میں نے کتاب دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد کہا گیا کہ انعام ایک ہزار روپیہ تھا، اور چند دنوں کے بعد انعام کی رقم اس سے نصف رہ گئی۔ میں نے کہا کہ میں انعام کا خواہش مند نہیں۔ کتاب دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ وہ کتاب لے آئے۔ میں نے استاذی محمد العربی الہلالی المراکشی سے ذکر کیا۔ انہوں نے مندرجہ ذیل غلطیوں کی طرف چند منٹوں میں میری توجہ دلائی۔ میں نے یہ کاغذ کا پرزہ اپنے خطوں میں دبا
پایا۔ اس کو نقل کر دینا محفوظ سمجھتا ہوں۔ کچھ غلطیاں Indianism کی ہیں۔“
یہاں ایک وضاحت کر دوں کہ نظارۃ اشاعت ربوہ پاکستان نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تصانیف ”روحانی خزائن“ کے نام سے 23 جلدوں میں شائع کر دی ہیں۔ ”اعجاز المسیح“ جلد نمبر 18 میں شامل ہے۔ جلد نمبر 18 سے مراجعت کی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس میں وہ غلطیاں جوں کی توں ہیں جو اس ایڈیشن میں تھیں جو جناب بشارت الرحمن صاحب نے مجھے 1943ء میں پڑھنے کو دیا تھا، اس لیے صفحہ نمبر ”روحانی خزائن“ کا دے رہا ہوں تاکہ قاری کو سہولت رہے۔
ٹائٹل
- -1 ولا يحسر عن ساعده: صحیح یہ ہے، حسر عن راسہ وشمر عن ساعدہ۔
- -2 للمقابلة: اُردو ترکیب ہے، عربی میں ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔
- -3 کتابٌ ليسَ له جوابٌ: ترکیب اور محاورہ اُردو کا ہے، عربی کا نہیں۔ کتابٌ لَا
مَثِيلَ لَهُ او نظِيرَ لَهُ ہونا چاہیے۔
- -4 بِحَوْلِ اللّٰهِ ہوتا ہے، مِن حولِ اللّٰهِ نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر 3: اَرَی لهم: اری خود متعدی ہے۔ ایک حالت میں دو مفعول تک بھی متعدی ہوتا ہے۔ اس لیے حرف جار کی ضرورت نہیں رہتی۔
صفحہ نمبر 4: و خلتُ راحتُها من بُخلِ المُزْنَة: اگر (اس کی ہتھیلی) بخل سے خالی ہوگئی تو اس کا مطلب سخاوت ہوگا۔ لیکن مرزا صاحب کا مطلب اس کے برعکس ہے۔
صفحہ نمبر 7: اُبْعِثُ و اُرْسِلتُ نبیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اُنْزِلَ، وحی فرشتہ یا کتاب اللہ کے لیے“۔
میں نے کتاب واپس کرتے ہوئے بشارت الرحمن کو ان غلطیوں کے متعلق بتا دیا تھا۔ ازاں بعد اس موضوع پر ان سے میری بات نہ ہوئی۔ میں بسلسلۂ ملازمت دہلی چلا گیا۔ پھر آج تک میری اُن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ تو جہاں ایک نبی صاحب کی عربی دانی کا یہ عالم تھا، وہاں اُن کے خلیفہ نے علت و معلول کی معمولی غلطی، نص قرآنی کو اپنے إلقاء میں اُلٹ پھیر کر دینے میں کر دی تو کیا غضب کیا۔ کاش کوئی عرب عالم مرزا صاحب کی عربی
تصنیفات کا بلحاظ صحت زبان محاسبہ کر کے ہمارے سامنے لائے تا کہ جعلی نبوت کا پردہ اس لحاظ سے بھی چاک ہو جائے۔“
(اقبال اور قادیانیت، تحقیق کے نئے زاویے از ڈاکٹر مقبول الٰہی مطبوعہ ماہنامہ سیارہ لاہور شمارہ نمبر 56)
مراق مرزا
مراق: ایک قسم کا مالیخولیا۔ جنون (پاگل پن)۔ سودا (پاگل پن) مراقی: جنونی (پاگل) جو جنون میں مبتلا ہو۔ (فیروز اللغات اردو، ص: 1224) مراق ایک قسم کا مالیخولیا ہے۔ (اصل بیاض نورالدین، ج: 2، ص: 211۔) اس سلسلہ میں قادیانی ڈاکٹر کی فیصلہ کن تحریر ملاحظہ کیجیے:
- ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی
کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لیے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے‘‘۔
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز، قادیان، ص: 7-6 بابت ماہ اگست 1926ء)
اب مالیخولیا مراق کے کرشمے بھی ملاحظہ کیجیے:
- ’’مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع
ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے...... اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں...... مالیخولیا خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بہ خوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں...... بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے...... اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں‘‘۔
(شرح الاسباب والعلامات امراض رأس مالیخولیا، مصنفہ برہان الدین نفیس)
- ’’مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں جس میں مریض زمانہ صحت
میں مشغول رہا ہو مثلاً...... مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرتا ہے‘‘۔
(اکسیر اعظم، جلد: 1، صفحہ: 188 مصنفہ حکیم محمد اعظم خان صاحب)
- مرزا قادیانی نے اقرار کیا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔
(رسالہ ریویو قادیان بابت اپریل 1925ء)
- ”مراق کا مرض حضرت صاحب میں موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اثرات کے تحت
پیدا ہوا۔ (رسالہ ریویو اگست 1926ء) حضرت صاحب نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا کہ مجھ کو مراق ہے۔ (ایضاً) حضرت صاحب کی تمام بیماریوں مراق وغیرہ کا سبب عصبی کمزوری تھا۔
(ریویو مئی 1927ء ایضاً)
مرزا قادیانی نے اپنی بیماری مراق کے متعلق خود لکھا:
- ”آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے
بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کیے جاتا ہوں ۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 565 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
- ”دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح
وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرتِ بول۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 32، 33 از مرزا قادیانی)
- ”کئی دفعہ تو قلم برابر چلتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا لکھ رہے ہیں“۔
(ملفوظات، ج: اوّل، صفحہ 449 طبع جدید)
مرزا قادیانی کے نزدیک مراقی کی بات قابل تسلیم نہیں۔ وہ لکھتا ہے:
- ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم سمیت آسمان پر جانے کی بات کسی مراقی عورت
کا وہم تھا۔ (لہٰذا قابل تسلیم نہیں)
(کتاب البریہ، ص: 256 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 13، صفحہ 274 کا حاشیہ)
مراق، ہسٹیریا وغیرہ پر مرزا قادیانی کی بیوی اور بیٹے کی گواہی ملاحظہ کیجیے:
- ”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دورانِ سر
اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو 1888ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت
خراب ہو گئی ۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لیے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کے ایک پرانے مخلص خادم تھے۔ اب فوت ہو چکے ہیں) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی، تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے ۔ خاکسار نے پوچھا: دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے، خصوصاً گردن کے پٹھے۔ اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی ۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی ۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 19 صفحہ 14 تا 16 طبع جدید، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن حضرت مسیح موعود)
- ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح
موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں
میں گھبرا کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذلک۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 340 روایت نمبر 372 طبع جدید ،از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا کو پڑنے والے دوروں کا ذکر روایت نمبر 81، ص: 59 روایت نمبر 788، ص: 726 میں بھی ہے۔ اسی طرح سیرت المہدی، ج:2، ص: 172 روایت نمبر 1256، ج:1، ص: 804 روایت نمبر 938 میں بھی ہے۔
مرزا بشیر احمد کا بیان بہت معتبر ہے کیونکہ وہ لکھتا ہے۔
- ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا
خاندان اس علم میں ماہر رہا ہے“۔ (سیرت المہدی، جلد اوّل، صفحہ 40 روایت نمبر 50)
اسی بارے میں روایت نمبر 209، ص: 206 پر موجود ہے۔ مرزا قادیانی خود بھی طب پڑھاتا رہا جس کے بارے میں روایت نمبر 759، ص: 688 طبع جدید میں ذکر ہے۔
دوسری وجہ اس بیان کے معتبر ہونے کی یہ ہے کہ مرزا بشیر احمد نے لکھا:
- ”میں انشاء اللہ تعالیٰ صرف وہی روایات تحریر کروں گا۔ جن کو میں صحیح سمجھتا ہوں“۔
(سیرت المہدی، جلد اوّل، عرض حال، صفحہ 2 طبع جدید)
- ”سیٹھی غلام نبی صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے
کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔ یہ طبیعتوں کی مناسبت ہے۔ جس قدر ایسے آدمی ہیں کچھ چلے آویں گے“۔
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 822 روایت نمبر 967 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا دجال کی یہ خصوصیت ہے کہ جو کمی اس میں ہوتی ہے، وہ سچے انبیاء کے ذمے بھی لگا دیتا ہے مثلاً انبیاء کی وحی میں شیطانی ملاوٹ وغیرہ
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”ہماری جماعت میں کوئی بیس پچیس بلکہ تیس کے قریب ایسے آدمی ہوں گے جو
الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مجھے ان کے جنون کا ہی اندیشہ رہتا ہے۔...... مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کو جنون نہ ہو جاوے...... زانی، فاسق، فاجر تو ابھی توبہ کر سکتے ہیں مگر ایسے لوگ کبھی توبہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھ لیتے ہیں اور ایسی باتوں سے اکڑ باز
ہو جاتے ہیں“۔ (ملفوظات، جلد پنجم، صفحہ 347-348 طبع جدید مورخہ اکتوبر 1907ء)
اب مراق کے واقعاتی ثبوت ملاحظہ کیجیے:
- 1- مرزا نے براہین احمدیہ میں صفحہ 146 تا 562 میں 522 صفحوں پر حاشیہ اور حاشیہ در
حاشیہ لکھا۔ (روحانی خزائن، جلد: 1، صفحہ: 150 تا 672)
اتنا طویل حاشیہ لکھنے کے بجائے سلیم العقل آدمی علیحدہ کتاب لکھتا ہے۔
- 2- کتاب البریہ میں صفحہ 136 تا 262 مندرجہ روحانی خزائن ج 13 صفحہ: 154 تا
280 میں 127 صفحات پر حاشیہ لکھا۔
ڈاکٹر شاہنواز قادیانی کے اس بیان سے یہ بات بھی کھل گئی کہ مرزا قادیانی واقعی مراق کا مریض تھا، اس صورت میں اگر اس نے وحی و الہام کے دعویٰ کیے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو بھی یہی مرض تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:
- ”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے“۔
(منظور الٰہی، ص:244 از منظور الٰہی قادیانی)
ڈاکٹر شاہنواز نے مرزا محمود قادیانی کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے:
- ”حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے“۔
(ریویو اگست 1926ء، صفحہ 11)
اور میں مسلمان ہوگیا
”15،16 سال قبل کی بات بتاتا ہوں، جب میں قادیانیت کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہو چکا تھا۔ میں ان دنوں ہالینڈ میں تھا۔ ہالینڈ میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ تھا، تیاریاں جاری تھیں، میں گو کہ کنفیوژ تھا اور مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کس طرح اپنے ذہن کی گتھیوں کو سلجھاؤں۔ میری خواہش تھی کہ قادیانیوں کے عقائد اور ان کے نظریات کے حوالے سے جو خلفشار میرے ذہن میں ہے۔ اسے دور کروں۔ میں نے اس عرصے میں جس حد تک ممکن ہو سکا، قادیانی مربیوں سے بات کی، ان سے مسائل پر بات کی، تحفظات پر بات ہوئی، مگر کوئی مطمئن نہیں کر سکا۔ مجھے معلوم ہوا کہ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر ہالینڈ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لیے آنے والے ہیں۔ میں چونکہ مرزا طاہر سے واقفیت رکھتا تھا، سوچا کہ چلو اس بہانے ناصرف مرزا طاہر سے ملاقات ہو جائے گی بلکہ جو ذہن میں خلفشار ہیں، وہ بھی دور کر
لوں گا۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے بیان کر رہا ہوں اور آج بھی جو میں کہنے جا رہا ہوں، اس کے گواہ موجود ہیں کیونکہ یہ کوئی 15، 16 سال پرانی بات ہے۔ ہالینڈ کے سالانہ جلسہ میں مرزا طاہر شریک ہوئے۔ میں بھی پہنچ گیا۔ وہاں مرزا طاہر سے ملاقات ہوئی۔ تمام قادیانی جانتے ہیں کہ ہر سالانہ جلسہ میں ایک سوال و جواب کی محفل ہوتی ہے جسے ”مجلس عرفان“ کہتے ہیں۔ اس محفل میں، میں خصوصیت کے ساتھ شریک ہوا۔ سوال جواب کا جب دور شروع ہوا تو میں نے بھی سوال کے لیے ہاتھ کھڑا کر دیا۔ ظاہری بات تھی کہ بہت محدود تعداد میں لوگ تھے بلکہ چیدہ چیدہ شخصیات موجود تھیں۔ میں تو پہلے ہی ذہنی خلفشار میں تھا، حق کی جستجو میں تھا۔ مجھے اپنی اندرونی کیفیت کا پتہ تھا اور شاید اسی دن سے میری زندگی کے نئے باب کا آغاز ہوا۔ خیر ہوا یوں کہ مرزا طاہر نے جب میرا ہاتھ سوال کے لیے اٹھا دیکھا تو مسکرا کر کہا جی قریشی صاحب فرمائیں، میں یہاں اپنے تمام قارئین کو آپ کے توسط سے گواہ بنا کر ایک سوال کرتا ہوں اور میں چاہوں گا کہ وہ جب میرے کیے گئے سوالات کو جو میں نے اس وقت مرزا طاہر سے کیے۔ ایمانداری سے فیصلہ کریں کہ میں نے وہ سوال قادیانیت سے اختلاف کے حوالے سے کیے تھے یا میرے اندرونی خلفشار کا مظہر تھے۔ چنانچہ میں نے پہلا سوال کیا کہ حضرت یہ بتائیں کہ میں نے سعودی عرب میں دیکھا کہ وہاں تمام لوگ نماز تو وقت پر ادا کرتے ہیں مگر صرف فرض پڑھتے ہیں مگر سنتیں و نوافل وہاں ادا نہیں کیے جاتے، ایسا کیوں ہے؟ جب میں نے یہ سوال کیا تو حاضرین میں ایک نوجوان موجود تھا، اس نے بھی میرے سوال کی تائید میں کہا کہ ہاں میں بھی 13 سال سعودی عرب میں مقیم رہا ہوں۔ میں نے انہیں ایسا ہی پایا کہ وہ لوگ فرض تو وقت پر ادا کرتے ہیں مگر سنتیں و نوافل نہیں پڑھتے۔ اب یقین کریں کہ مرزا طاہر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ”میں سعودی عرب کبھی نہیں گیا میں نے انہیں ایسا کرتے نہیں دیکھا، لہٰذا میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں“ آپ یقین کریں کہ اس کا جواب سن کر وہاں ایک قہقہہ لگا اور مجھے بہت ندامت اٹھانی پڑی۔ مجھے کیا کوئی بھی صاحب فہم آدمی اس قسم کے جواب کی توقع کسی نیم پڑھے لکھے فرد سے نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ وقت یہ بات کہے۔ خیر میں نے ہمت نہیں ہاری میں نے ایک سوال کی اجازت اور طلب کی اور پوچھا کہ کہتے ہیں کہ حجر اسود جب نصب ہوا تھا تو اس کا رنگ سفید تھا کہ وہ جنت کا پتھر ہے مگر گناہگاروں کے بوسوں سے اب اس کا رنگ کالا پڑ گیا ہے، کیا
یہ سچ بات ہے یا صرف سنی سنائی ہے۔ آپ یقین کریں مرزا طاہر کا جواب تھا، ”میں نے عرض کیا، میں سعودی عرب نہیں گیا ہوں، لہٰذا میں نے حجر اسود نہیں دیکھا اور میرے علم میں نہیں کہ اس بات میں کس حد تک صداقت ہے“۔ آپ یقین کریں اس کے بعد تو میری وہ حالت تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا، آج بھی جب میں اس واقعہ کو سوچتا ہوں تو تھرا جاتا ہوں۔
ایم ٹی اے پر جو قادیانیوں کا ٹی وی ہے ایک روز مرزا طاہر نے دعویٰ کیا کہ 20 کروڑ افراد قادیانی مذہب اختیار کر چکے ہیں۔ میں نے جب اس سلسلے میں ذمہ دار قادیانیوں سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ وہ 20 کروڑ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں خلیفہ نے دعویٰ کیا ہے، وہ کہاں رہتے ہیں، کیا کرتے ہیں، تو اس پر میرے خلاف محاذ بنا لیا گیا اور مجھے قادیانیت سے باقاعدہ فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا درحقیقت میں نے خود ہی اس گمراہ مذہب پر لعنت بھیج دی“۔ (سابق قادیانی عبدالکریم انور قریشی کا انٹرویو مطبوعہ ہفت روزہ تکبیر کراچی)
پاکستان کے ”داخلی صیہونی“
”سر ظفر اللہ خان اور پس پردہ حال ہی میں اسرائیل اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر اسرائیل میں ایک تحقیقی کتاب شائع ہوئی ہے۔
"Beyond the Veil: Israel-Pakistan Relations"
اس کا نام ہی موضوع کی طرف اشارہ کر رہا ہے، یعنی اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات ”پس پردہ“ کیسے رہے ہیں۔ مصنف کا نام ہے پی آر کمار سوامی۔ نام سے ہندو معلوم ہوتے ہیں۔ یہ تحقیقی کام تل ابیب یونیورسٹی کے ”جافے سینٹر برائے اسٹریٹیجک اسٹڈیز“ کے زیر اہتمام انجام پایا اور مارچ 2000ء میں شائع ہوا ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی اپنی یہود نواز لابی شروع دن سے کیا کیا گل کھلاتی رہی ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان (1893ء - 1985ء) کیا کچھ کرتے رہے ہیں؟ بہت سوں کو اس کا علم تک نہ ہوگا۔ جب یہ صاحب پاکستان کے وزیر خارجہ (1947ء تا 1954ء) تھے تو فلسطین اور عرب کاز کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی مراکز میں اپنی لمبی لمبی اور خطیبانہ تقریروں کی وجہ سے بہت شہرت رکھتے تھے۔ ہمیں آج تک ان کے بارے میں یہی حسن ظن رہا کہ لمبی تقریروں کے حوالے سے اس بین
الاقوامی شہرت یافتہ وکیل نے بے شک ریکارڈ قائم کیا‘ یہ دوسری بات ہے کہ مقدمہ جیت نہ سکے۔ اب مذکورہ تحقیقی کتاب ’’پس پردہ‘‘ سے انکشاف ہوا کہ موصوف اپنے کیس کے لیے مخلص تھے نہ دیانتدار۔ ظفر اللہ خان کا بھی پس منظر فیروز خان نون سے مختلف نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ قادیانی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ قادیانی گروپ انگریزوں کی تخلیق تھی۔ یہ لوگ اپنے ’’مذہبی عقیدے‘‘ کی رو سے سلطنت برطانیہ کے وفادار تھے۔
قیام پاکستان سے قبل ظفر اللہ خان فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے جج تھے۔ 1945ء میں (یعنی پاکستان قائم ہونے سے دو سال پہلے) وہ دولت مشترکہ کے باہمی تعلقات پر ہونے والی ایک کانفرنس میں حکومت ہند کے نمائندے کی حیثیت سے لندن گئے۔ وہاں ان کی ملاقات جیوش ایجنسی کے سربراہ وائز مین سے ہوئی اور ان کے مشورے اور تعاون سے چھ روزہ دورے پر فلسطین پہنچے۔ وائز مین نے (جو بعد میں قائم ہونے والی اسرائیلی مملکت کے صدر مامور ہوئے) یروشلم میں اپنے آدمیوں کو تاکید کی کہ ’’فلسطین میں ظفر اللہ صاحب کے قیام کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ اور خوشگوار بنایا جائے اور ہمارے کام اور مقاصد سے انہیں اچھی طرح متعارف کرایا جائے (ظفر اللہ خان نے اپنی خود نوشت ”تحدیث نعمت“ میں اعتراف کر رکھا ہے کہ انہوں نے یروشلم کے قریب ہی روسی یہودیوں کی ایک بستی کا دورہ کیا تھا اور جیوش ایجنسی کے نمائندے ڈاکٹر کوہن سے تبادلہ خیال کیا تھا لیکن انہوں نے وائز مین سے اپنی ملاقات اور اپنے دورے کا احوال خط کی صورت میں لکھنے کا ذکر نہیں کیا)‘‘۔ چنانچہ ہوا بھی ایسا ہی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جب ’’جیوش ایجنسی‘‘ کے زیر ہدایت ظفر اللہ صاحب نے فلسطین کا دورہ کیا تو ان کی ’’خوشگوار‘‘ قلب ماہیت ہوگئی۔ انہوں نے دورہ مکمل کرنے کے بعد وائز مین کو خط لکھا کہ ’’میں نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ اور الجھا ہوا ہے۔ ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ اس کا کوئی جائز اور منصفانہ حل جلد نکل آئے گا‘‘۔
ظفر اللہ خان نے اپنے خط میں اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ فلسطین کے مسئلے میں پیچیدگی کیا تھی جو اس دورے سے پہلے ان کے ذہن میں نہ تھی، اور چھ روزہ دورے سے اُن کے ذہن میں آگئی، اور یہ کہ انہیں یہ امید کیسے پیدا ہوئی کہ مسئلے کا کوئی جائز اور منصفانہ حل نکل آئے گا اور وہ بھی جلد۔ انہوں نے اظہار حقیقت میں بڑی کفایت لفظی سے کام لیا۔ بہرحال جب دو سال کے بعد 29 نومبر 1947ء کو اقوام متحدہ نے تقسیم فلسطین کی قرارداد منظور کر لی تو
اسرائیلی محقق اُریل ہیڈ (Urial Heyd) نے جو لندن میں اسرائیلی جاسوس بھی تھا، بیان کیا کہ ”ظفر اللہ خان کے خیالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ دمشق میں مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل تقسیم ہے، حالانکہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ اقوام متحدہ میں تقسیم فلسطین کی شدید مخالفت کر چکے تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے عربوں کو مشورہ دیا کہ وہ اسرائیلی ریاست قائم ہونے دیں۔ کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں“۔ گویا صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک آدمی کا ایک چہرہ نہ تھا۔ اس کے دو چہرے تھے۔ وائزمین کو اپنی خفیہ ایجنسی سے جو رپورٹیں موصول ہوئیں، ان سے ترغیب پا کر وائزمین نے ظفر اللہ خان کو لکھا کہ تقسیم ہند اور تقسیم فلسطین میں کس قدر مماثلت ہے۔ دوسرے لفظوں میں وائزمین نے یہ توقع ظاہر کی کہ پاکستان کے لیے اسرائیلی مؤقف کا سمجھنا دشوار نہ ہونا چاہیے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔ لیکن پاکستان نے تقسیم فلسطین کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، بلکہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کو رکنیت دینے پر بھی سخت مخالفت کی۔ حتیٰ کہ جب اسرائیل نے پاکستان سے رسمی طور پر اسے تسلیم کیے جانے کی تحریری درخواست کی تو پاکستان نے اس کی رسید تک نہ دی۔ ظاہر ہے، یہ ظفر اللہ خان کے اختیارات سے باہر تھا۔ اس کے باوجود تاریخی قومی اتفاق رائے اور یقیناً وزیر اعظم لیاقت علی خان (1895ء ۔ 1951ء) کی پیٹھ پیچھے، ظفر اللہ خان اور وزارت خارجہ میں ان کے آدمی صہیونیت کے عزائم و مقاصد کے مفاد میں برابر کام کرتے رہے۔ اس وقت کے اقوام متحدہ میں اسرائیلی نمائندے ابا ایبان کو (جو بعد ازاں اسرائیل کے وزیر خارجہ بنے) جانے کہاں سے ایک ”خوشخبری“ ملی جو ممکن ہے یا تو خود ظفر اللہ یا اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اے ایس بخاری نے انہیں دی ہو، بہر حال 1949ء کے اواخر میں تل ابیب میں انہوں نے بتایا کہ ”خوشخبری“ یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب انڈیا کو ہراساں کرنے کے لیے اپنی حکومت پر دباؤ ڈال رہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے“۔ بہر حال یہ اسکیم کاغذات سے آگے نہ بڑھ سکی۔ یا تو پاکستان کی وزارت خارجہ کے یہود نواز افسروں کو اپنی تجاویز آخری منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کرنے کی جرأت نہ ہو سکی یا اگر وزیر خارجہ نے ہمت کر کے یہ اسکیم کابینہ کے سامنے پیش کی ہو گی تو کابینہ کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ سے انڈیا کو پریشان کرنے کا خوبصورت خیال آیا ہوگا۔
بہر حال، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ظفر اللہ خان اسرائیلیوں کو برابر یقین دلاتے رہے
کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے۔ چنانچہ مذاکرات و مکالمات کے تسلسل میں جب 14 جنوری 1953ء کو ابا ایبان کی ملاقات ظفر اللہ خان سے ہوئی تو انہوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو بتایا کہ لیاقت علی خان کی سابقہ حکومت تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی، لیکن موجودہ حکومت، جس کے سربراہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین (1894ء-1964ء) ہیں، اپنی پیش رو حکومت کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ موجودہ حکومت زیادہ کمزور ہے اور مسلمان انتہا پسندوں کے عوامی دباؤ کی مزاحمت نہ کر سکے گی۔ ظفر اللہ خان نے ابا ایبان سے کہا ”میں اپنی اعتدال پسندی کی وجہ سے خود معتوب رہتا ہوں“۔
لیاقت علی خان کا قتل 16 اکتوبر 1951ء کو ہو چکا تھا۔ اس لیے ان کی ذات یا پالیسی کے بارے میں غلط بیانی سے کام لینا مشکل نہیں۔ بہرحال یہ سچ ہے یا جھوٹ، ایک بات طے ہے کہ ظفر اللہ خان کی یہود نواز سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوئی اور وہ دوسرے طریقوں سے صیہونیت کے کاز کے لیے کام کرتے رہے۔
اس ضمن میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ لیاقت علی خان کسی بھی فوجی بلاک میں شامل ہونے کے خلاف تھے۔ حتی کہ انہوں نے جنوبی کوریا اپنا علامتی طبی امدادی دستہ بھی بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے برعکس ان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان ”مڈل ایسٹ ڈیفنس آرگنائزیشن“ (میڈو) اور اس طرح کے دوہرے امریکی منصوبوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مجوزہ غیر اشتراکی بلاک میں اسرائیل کو بھی شامل کیا جائے، جس میں وہ پاکستان، عراق، ایران، ترکی اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں۔ ظفر اللہ خان کے نزدیک یہ بات ”ناقابل تصور“ تھی کہ مشرق وسطیٰ کی کوئی دفاعی تنظیم اسرائیل کے بغیر کیسے بن سکتی ہے۔
لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ظفر اللہ خان کو اتنی آزادی حاصل ہو گئی کہ انہوں نے فروری 1952ء میں قاہرہ میں کھلم کھلا کہا کہ ”اسرائیل مشرق وسطیٰ کے بدن کا ایک لا ینفک عضو ہے“۔ انہوں نے مصر پر زور ڈالا کہ وہ اس مسئلے کا کوئی پر امن حل نکالے۔ دوسرے لفظوں میں عرب اور فلسطین کی سرزمین کو آزاد کرانے کا خیال دل سے نکال دے اور فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کر لے۔
لیاقت علی خان کے بعد پاکستان یکے بعد دیگرے متعدد فوجی اتحادوں میں شامل ہوتا چلا گیا۔ مئی 1954ء میں امریکہ کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہوا۔ ستمبر 1954ء میں
ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) میں اور فروری 1955ء میں بغداد پیکٹ میں شامل ہوا۔ عراق میں بادشاہت کی معزولی کے بعد ”بغداد پیکٹ“ کا نام بدل کر ”سنٹو“ (سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن) کر دیا گیا۔ ظفر اللہ خان صاحب نے پاکستان کو سیٹو کا رکن بناتے وقت آرمی سے مشورہ کیا نہ پوچھا نہ بتایا۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے لکھا کہ مجھے تو اس کی اطلاع اس وقت ہوئی جب پاکستان ”سیٹو“ میں شامل ہو چکا تھا۔
مذکورہ کتاب ”پس پردہ“ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی قیادت میں بننے والے ان اتحادیوں میں پاکستان کو شامل رکھنے کے منصوبے میں پس پردہ اسرائیلیوں کا ہاتھ تھا۔ اگر امریکہ پاکستان کو تھوڑی بہت ”فوجی امداد“ سے نوازتا رہے تو اسرائیل کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ یہودیوں کو ظفر اللہ خان اور ان کے نالائق حواریوں نے یقین دلا رکھا تھا کہ پاکستان کی امریکہ سے وابستگی کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل سے اس کا کوئی جھگڑا نہیں۔ چنانچہ اسرائیلی یہی سمجھتے رہے کہ پاکستان کی امریکہ نوازی سے پاکستان کا مؤقف اسرائیل کے بارے میں نرم رہے گا اور وقت نے ثابت کر دیا کہ اُن کا یہ خیال بالکل درست تھا۔
ظفر اللہ خان پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے اور اس راہ پر گامزن تھے، لیکن ان کے اپنے کردار اور ان کے ہم عقیدہ قادیانیوں کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف اس قدر اضطراب پیدا ہو گیا کہ بالآخر 1954ء میں انہوں نے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا، لیکن ان کی خدمات کا صلہ جلد ہی مل گیا۔
17 اکتوبر 1954ء کو یہود کے ’یومِ کپور‘ کے موقع پر ان کا انتخاب ہیگ میں واقع ”انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس“ میں بطور جج ہوا۔ اس واقعے کا خود حکومت پاکستان کو بھی علم نہ تھا۔ اقوام متحدہ میں ان کے نام کی سفارش امریکی وزارت خارجہ نے کی تھی۔ انتخابی عمل کے وقت اسرائیل کے مندوب ابا ایبان موجود نہ تھے لیکن ان کے وفد کے ایک رکن نے کہا کہ ایبان موجود ہوتے، تب بھی وہ ظفر اللہ ہی کو ووٹ دیتے۔
اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کی، پاکستان کی ”حقیقت پسندانہ“ حکمت عملی (تل ابیب سے شائع ہونے والی کتاب ”پس پردہ“ کے مطابق) ظفر اللہ کے ساتھ شروع ہوئی اور وزارت خارجہ سے اُن کی روانگی کے ساتھ ہی رخصت نہیں ہوئی بلکہ بعد میں بھی جاری رہی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ پاکستان سے کبھی گئے ہی نہ تھے۔ انٹرنیشنل کورٹ میں اپنی ججی کی پہلی
میقات مکمل کرنے کے بعد وہ مزید چار سال کے لیے پاکستان کی ”خدمت“ پر مامور ہو گئے۔ اس مرتبہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے۔
ظفر اللہ خان کو پاکستان کی رجعت پسندانہ اور اطاعت شعارانہ خارجہ پالیسی کا نظریاتی باپ کہنا چاہیے۔ وزارت خارجہ اور سفارتی خدمت پر مامور، خام اور غیر صورت زدہ لوگوں کے ذہن اور خیالات کو متشکل کرنے میں اُن کا اثر و رسوخ بہت گہرا اور دیر پا ثابت ہوا۔ فارن سروس کے پہلے گروپ نے تربیت برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں حاصل کی۔ چنانچہ جب وہ حصول تربیت کے بعد اپنے اپنے عہدوں پر فائز ہوئے، تو وہ خوب جانتے تھے کہ مشروبات کے جام کیونکر بنائے جاتے ہیں، کیونکر اچھالے جاتے ہیں، بہرحال ان کو ایک عظیم قوم کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی قوم کا نام روشن کرنا ہے، دنیا کے سامنے ان کا بھرم اور وقار قائم رکھنا ہے۔
ظفر اللہ خان صاحب کے مستعفی ہونے تک پورا ”پاکستان فارن آفس، عالمی سیاست کے بارے میں قادیانی وصیہونی نظریات میں جذب ہو چکا تھا۔ ظفر اللہ کے جانشین حمید الحق چودھری کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور اُن کو انگریز سرپرستی سے کوئی نسبت نہ تھی۔ تاہم بحیثیت وزیر خارجہ ان کے یک سالہ عہد (26 ستمبر 1955ء تا 12 ستمبر 1956ء) میں بھی وزارت خارجہ کا موٹو وہی رہا جو سر ظفر اللہ خان اور سر فیروز خان نون کا تھا۔ یہ کہ ”اسرائیل قائم رہنے کے لیے بنا ہے“۔
ایسے حمید الحق چودھری کے بعد آئے سر فیروز خان نون، سر زمین فلسطین کے اندر اسرائیل قائم کرنے کے ایسے عجیب منصوبے کے موجد، کہ برطانوی سامراجیوں پر نہ یہود نوازی کا الزام آئے نہ عربوں کے خلاف ہونے کا۔
(پاکستان کے ”داخلی صیہونی“ از احمد عرفان)
سجاح بنت حارث
سجاح بنت حارث قبیلہ بنو تمیم کی ایک ممتاز عورت تھی۔ بنو تمیم اس زمانہ میں عرب کے شمال مغربی گوشہ میں آباد تھے جو فرات و دجلہ کے دوآبہ میں واقع ہے۔ اسی اعتبار سے اس علاقہ کو الجزیرہ کہا جاتا ہے۔ سجاح مسیح المذہب تھی اور اپنے ہم عقیدہ لوگوں میں راہبہ و کاہنہ کی حیثیت سے مشہور تھی۔ وہ اس درجہ فصیح اللسان تھی کہ اس کی ہر بات پر چلتے ہوئے جادو کا گمان
ہوتا تھا، اس درجہ بلیغ تھی کہ ہر جملہ نکات واسرار کا حامل نظر آتا تھا، اس قدر فہیم وعقیل تھی کہ اپنی دور اندیشی کے باعث آنے والے وقت کا نقشہ صفحۂ حال پر کھینچ دیتی تھی لیکن ان خوبیوں کے علاوہ جس وصف نے اسے ریگستان عراق میں ممتاز کر رکھا تھا، وہ اس کا حسن جہاں سوز تھا۔
11ھ میں جب مسیلمہ کی متنبیت کا سورج نصف النہار پر تھا، اس زمانہ میں متذبذبین اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ رسول ہاشمی ﷺ پر نبوت ورسالت کی جو راہ ختم ہوئی تھی، اس کے لیے نیا رستہ کھل چکا ہے۔ سجاح نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ جب حضور ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو اس وقت الجزیرہ سے حسن و لطافت میں ڈوبی ہوئی ایک آواز اُٹھی۔ یہ آواز سجاح کے منہ سے نکلی تھی جس نے دجلہ وفرات کے ساحلوں پر اعتقادی انقلاب برپا کر دیا۔ سجاح نے کہا کہ میں غیر مشروط طور پر نبیہ ہوں۔ کتاب الادیان میں لکھا ہے کہ جب سجاح سے پوچھا گیا کہ محمد ﷺ کی نبوت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ نبی برحق تھے اور ان کے خاتم النبیین ہونے میں شبہ نہیں لیکن وہ خاتم النبیات نہیں تھے۔ مردوں کی نبوت تو واقعی ختم ہو چکی ہے، اب عورتوں کی رسالت کا زمانہ آیا ہے اور اس عہد کی میں سب سے پہلی نبیہ ہوں۔
بعض لوگوں نے کہا کہ اگر تم نبیہ ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ سجاح نے اپنی نرگسی آنکھوں کو جنبش دیتے ہوئے کہا کہ میں بذات خود معجزہ ہوں۔ میرا حسن ہی میری صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس زمانہ میں سجاح چونکہ عالم دلربائی میں منفرد تھی۔ اس لیے سب کو یہ معجزہ تسلیم کرنا پڑا۔ سجاح کے تیر اعتقاد کا سب سے پہلا شکار قبیلہ بنو تغلب کا رئیس تھا جس نے اس کے حسن سے مسحور ہوکر مسیحیت ترک کر دی اور سجاح کا دین اختیار کر لیا۔
عرب میں خواہ لاکھ خوبیاں ہوں لیکن اس کی یہ کمزوری چھپائے نہیں چھپتی کہ وہ حسن اور جدت کا دلدادہ ہوتا ہے۔ سجاح کے دین سے یہ دونوں چیزیں وابستہ تھیں۔ اس لیے اسے دن دوگنی رات چوگنی کامیابی ہونے لگی۔ سینکڑوں حسن پرست محض جذبات محبت سے مجبور ہو کر اس کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے شیوخ عرب کو تحریری طور پر دعوت دی۔ چونکہ سجاح کے حسن کا شہرہ گھر گھر پہنچ چکا تھا، اس لیے الجزیرہ کے اکثر شیوخ نے اپنے دل سے مجبور ہوکر اس کا دین قبول کر لیا۔
جب اعتقادی طور پر سجاح کامیاب ہوگئی تو اسے حکمرانی کا شوق بے قرار کرنے
لگا۔ وہ موجودہ زمانہ کے متنبیوں کی طرح تو تھی نہیں کہ غلامی اور بزدلی ہی کو منشائے نبوت قرار دے لیتی۔ اسے معلوم تھا کہ جس مذہب پر سیاسی قوت کا ہاتھ نہ ہو، وہ میدان زندگی میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا۔ اس لیے سجاح نے اپنی جماعت کو عسکری نظام سے بدلنا شروع کر دیا۔ اس کا خیال تھا کہ مردوں کی نبوت چونکہ ختم ہو چکی ہے، اس لیے مردانہ خلافت کا وجود بھی غیر ضروری ہے۔ لہٰذا وہ مدینہ پر فوج کشی کرنے پر آمادہ ہوگئی لیکن الجزیرہ کے قبائل میں خانہ جنگی کی آگ پوشیدہ طور پر سلگ رہی تھی جسے شعلہ زن کرنے کے لیے دونوں پارٹیوں کے لیڈر بے قرار تھے۔ بنو تمیم کی مخالف جماعت کے شیخ کا نام وکیع بن مالک تھا، اس نے سجاح کو اپنی اغراض کے دام میں الجھا لیا اور ابن مالک کے کہنے پر مدینہ پر چڑھائی کرنے کی بجائے بنو تمیم پر حملہ کر دیا۔ تمیمی پہلی جھڑپ کی بھی تاب نہ لا سکے اور بے سروسامانی کی حالت میں ادھر ادھر بھاگ نکلے لیکن سجاح کی فتح بھی اس کے لیے کامیابی کا باعث نہ ہو سکی۔ چنانچہ بنو رباب نے دوسرے قبائل سے متفق ہو کر اس پر دھاوا بول دیا۔ آخر گھمسان کی لڑائی کے بعد سجاح کو بری طرح پسپا ہونا پڑا لیکن کامیاب و فاتح قبیلے سجاح کی تیغ حسن سے مسخر ہو گئے۔ انہوں نے اس کا مذہب اختیار کر لیا اور متفقہ قوت سے مدینہ پر حملہ کرنے کی ٹھان لی۔ وہ ہزاروں جانبازوں کا لشکر لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی لیکن رستہ ہی میں نباج کے مقام پر اوس بن خزیمہ نے بنی عمرو کے نوجوانوں کو لے کر اس پر حملہ کر دیا جس میں لشکر سجاح کے دو سالار گرفتار کر لیے گئے۔ اس نے جب دیکھا کہ بنو عمرو کا مقابلہ آسان نہیں تو اس نے صلح کر لی۔ اس مصالحت پر ابن مالک ناراض ہو گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلا آیا۔
اس کے بعد سجاح آگے چل پڑی۔ رستہ میں اسے خدا جانے کیا خیال آیا کہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگی کہ مجھے خدا کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ یمامہ پر حملہ کیا جائے۔ اس زمانہ میں یمامہ اور اس کے قرب و جوار میں مسیلمہ کی متنبیت کا طوطی بول رہا تھا اور وہ حضرت شرحبیلؓ وحضرت عکرمہؓ کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ مسیلمہ نے جب دیکھا کہ سجاح طوفانی ندی کی طرح بڑھتی چلی آرہی ہے تو اسے فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر سجاح سے لڑائی چھیڑ دی گئی تو اسلامی لشکر کو آگے بڑھنے کا موقع مل جائے گا۔ لہٰذا اس نے حکمت عملی سے کام لینا شروع کر دیا اور بنو حنیفہ کے چالیس مدبروں کو سجاح کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ پہلے عرب کا سارا ملک آدھا ہمارا اور آدھا قریش کا تھا لیکن قریش نے عہد شکنی کی ہے، اس لیے ان کا حصہ میں
تمہیں دیتا ہوں۔ بنو حنیفہ کا وفد جب سجاح کے پاس پہنچا تو جہاں وہ مسیلمہ کی شرط منوانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں ارکان وفد نے یہ اندازہ بھی صحیح طور پر لگا لیا کہ یہ خوبصورت عورت تلوار کی بجائے محبت سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واپس آ کر مسیلمہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ وہ ایسے موقع کے انتظار میں پہلے ہی سے تھا۔ اس لیے سجاح کو دعوت ملاقات دی گئی جسے اس نے منظور کر لیا۔
مسیلمہ نے ایک آراستہ خیمہ نصب کیا جس میں قسم قسم کی خوشبوئیں لا کر رکھ دی گئیں کیونکہ اسے معلوم تھا کہ عورت کا جذبۂ محبت خوشبو سے بیدار ہو جاتا ہے۔ سجاح بن ٹھن کر دلربا یانہ انداز میں اس کے پاس آئی۔ مسیلمہ اگرچہ عمر کے اعتبار سے قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا لیکن اس کا جسم جوانوں کی طرح توانا اور دلکش تھا۔ مسیلمہ نے سجاح سے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ کہیے آج آپ پر وحی نازل ہوئی یا نہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں البتہ آپ اپنی وحی سے مجھے آگاہ کر دیں۔ مسیلمہ بہت حقیقت فہم تھا۔ اس کی نظریں سجاح کے دل میں ڈوب کر جذبات کا مطالعہ کر رہی تھیں، اس لیے وہ سمجھ چکا تھا کہ اس عورت پر رسالت کی ہوس رانی کا جوش غالب آ چکا ہے۔ اس نے کہا کہ آج مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے:
تسعیٰ بین صفاق وحشی
یعنی ! کیا تم اپنے رب کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ حاملہ عورتوں سے کیسا سلوک کرتا ہے۔ ان میں سے چلتے پھرتے جاندار پیدا کرتا ہے جو پیدائش کے وقت پردوں اور جھلیوں سے لپٹے ہوئے ہیں۔
یہ وحی سجاح کے سفلی جذبات کی ان سنی آواز کا صحیح جواب تھی۔ اس لیے وہ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ جوش شباب نے شرم و حیا کی حدیں پھاند کر بے تکلفی کے میدان میں کودنا چاہا لیکن اس نے مسیلمہ کی الہام میں لپٹی ہوئی ہوس رانی کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے دوبارہ کہا کہ کوئی اور آیت سناؤ۔ مسیلمہ نے جواب دیا کہ یہ آیتیں بھی آج ہی نازل ہوئی ہیں:
فیھن ایلاجاً ثم نخرجھا اذا نشاء اخراجا فینتجن لنا سخالاً انتاجاً۔
ان آیتوں میں شب عروسی کے خلوت افروز معاملات کا تذکرہ نہایت بے باکی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس لیے مسیلمہ کا الہام سجاح کے سمندر ہوس پر تلملا دینے والا تازیانہ ثابت ہوا۔ بالآخر ہوس نے آنکھیں کھولیں، شرم وحیا اور عفت کروٹ بدل کر سو گئی۔ دونوں رات بھر باغ عشرت کی گلچینی میں مصروف رہے۔
جب سورج نے پردۂ افق سے اس انوکھے تماشہ کو جھانک جھانک کر دیکھنا شروع کیا تو ایک آراستہ خیمہ میں سجاح کے پیراہن متنبیت کی دھجیاں اڑ چکی تھیں اور اس کے ساتھ ہی دامن عفت پارہ پارہ ہو چکا تھا لیکن دونوں کے امتی باہر کھڑے اس خوش قسمتی میں مبتلا تھے کہ شاید سجاح ومسیلمہ پر الہامی استغراق کی کیفیت طاری ہے۔ مگر یہاں تو کچھ اور ہی عالم تھا اور اس استغراق کا سلسلہ متواتر تین شبانہ روز جاری رہا۔ مسیلمہ اگرچہ بوڑھا تھا لیکن ایک پیکر شباب کی ہم آغوشی سے اسے جوانی کی دولت دوبارہ میسر آگئی۔ جب تیسرے دن دونوں کے ارمان معصیت کا لباس پہن کر نکل گئے تو سجاح خیمہ سے باہر نکلی۔ اس کا گل حسن، صرصر ہوس کے جھونکوں سے کسی حد تک مرجھا چکا تھا لیکن گفتار و کردار میں صبح بہار کی رنگینیاں مسکرا رہی تھیں۔ اس کی پیشانی پر اگر چہ عرق ندامت کے قطرے چمک رہے تھے لیکن ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ تھی تا کہ لشکریوں میں سے کسی کو بلبل چہ گفت، گل چہ شنید وصبا چہ کرد‘ کے مسئلہ سے آگاہی نہ ہو سکے لیکن عشق اور شعلہ رموز واسرار کے تنکوں میں چھپا نہیں کرتا۔ اس لیے فوجی سردار سجاح کے رویہ کو شک وشبہ کی نظروں سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے بے قراری کے ساتھ پوچھا کہ مسیلمہ سے کیا قرار پایا۔ سجاح بات کو چھپانا چاہتی تھی لیکن اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ مسیلمہ واقعی سچا رسول ہے اور میں نے اس سے نکاح کر لیا ہے کیونکہ مرسلہ کے لیے ایک رسول کی بھی ضرورت تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ مہر کیا ٹھہرا ہے۔ اس سوال پر سجاح سٹپٹا سی گئی اور اس نے مارے ندامت کے آنکھیں جھکا لیں اور دبے لب سے کہنے لگی کہ افسوس یہ بات تو کہنا میں بھول ہی گئی۔
سجاح اپنی غلط کاری پر بہت پشیمان ہوئی اور تلافی مافات کے لیے مسیلمہ کے پاس دوبارہ گئی لیکن وہاں جا کر دیکھا تو خیمہ کا نام ونشان تک نہ تھا اور مسیلمہ قلعہ کے دروازے بند کر کے محصور ہو چکا تھا۔ کیونکہ اسے خطرہ تھا کہ کہیں سجاح کے پیرو اس عیش پرستانہ نکاح سے مشتعل ہو کر حملہ نہ کر دیں۔ سجاح نے قلعہ کے دروازے پر پہنچ کر دربانوں کی معرفت دعوت
ملاقات دی لیکن مسیلمہ نے اس پیغام کو مزعومہ خطرے کا پیش خیمہ سمجھا، اس لیے دروازے پر تو نہ آیا لیکن قلعہ کی دیوار پر کھڑا ہو کر پوچھنے لگا: کہو سجاح کیا کہتی ہو۔ سجاح نے کہا کہ تم نے میری عارضی خواہشوں سے فائدہ اٹھا کر نکاح تو کر لیا لیکن یہ تو بتاؤ کہ حق مہر کیا مقرر کیا ہے۔ مسیلمہ نے سوال کا جواب دینے کی بجائے پوچھا کہ تمہارے ساتھ تمہارا مناد بھی ہے؟ سجاح نے جواب دیا کہ ہاں شبث بن ربعی میرا مؤذن یہیں ہے۔ مسیلمہ نے کہا: ”تو جاؤ منادی کرا دو کہ محمد ﷺ کی معرفت جو پانچ نمازیں فرض کی گئی تھیں، ان میں سے خدا نے فجر اور عشاء کی نمازیں مسیلمہ کے مہر کے طور پر معاف کر دی ہیں“۔
اس واقعہ کے بعد سجاح کے عقیدت مندوں میں اس کے متعلق بدگمانی پیدا ہو گئی اور وہ پکار پکار کر اس مفہوم کا شعر پڑھنے لگے: ہماری نبی وہ عورت ہے جسے ہم ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں حالانکہ دوسرے لوگوں کے رسول مرد ہوتے ہیں۔
اس کے بعد مسیلمہ نے سجاح سے کہا کہ یمامہ کی نصف پیداوار تمہاری ہے اور اس آدھے حصے میں سے آدھا تو آپ لے جاؤ اور آدھے حصے کی وصولی کے لیے اپنے آدمی چھوڑ جاؤ۔ سجاح نے اپنے تین آدمی اس کام کے لیے چھوڑ دیے اور اپنے لشکریوں کے ساتھ جزیرہ کو روانہ ہو گئی لیکن رستہ ہی میں اس کی بدقسمتی حضرت خالد بن ولیدؓ کے بھیس میں رونما ہو گئی۔ حضرت خالدؓ کو دیکھتے ہی سجاح کے حامی اس درجہ حواس باختہ ہوئے کہ لڑائی کی دعوت کا انتظار کیے بغیر ہی بھاگ نکلے۔ سجاح بھی بھاگ کر جزیرہ میں آ گئی اور اس کے جو عامل یمامہ میں مقیم تھے، وہ بھی اسلامی لشکر کی یلغار کے وقت بھاگ گئے۔ سجاح جب جزیرہ میں پہنچی تو اس کا حلقۂ عقیدت ختم ہو چکا تھا۔ کوئی اسے منہ لگانے پر آمادہ نہ تھا۔ اس کسمپرسی کے باعث اس کا دماغ جنون متنبیت سے پاک ہو گیا اور تمام ہنگامہ آرائیوں سے الگ ہو کر تنہائی کی زندگی بسر کرنے لگی۔ بالآخر جب حضرت امیر معاویہؓ کا عہد آیا تو قبیلہ بنو تمیم میں اس درجہ قحط پڑا کہ شکم پری کے لیے کوئی وسیلہ و ذریعہ نہ رہا۔ حضرت امیر معاویہؓ نے از راہ مہربانی بنو تمیم کے تمام قبیلوں کو بصرہ کے قرب و جوار میں لا کر آباد کیا۔ سجاح بھی مہاجرین کے ساتھ تھی۔ اس نے یہاں آتے ہی اسلام قبول کر لیا اور ایک متقی، صالح، پرہیزگار اور پابند شریعت دختر اسلام کی حیثیت میں اس جہان سے رخصت ہوئی۔
قادیانی، اسرائیلی گٹھ جوڑ
”سوئٹزر لینڈ کے پہاڑی شہر ڈیوس میں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس منعقد ہوتا ہے، جس میں دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور دانشوروں کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ جنوری 1994ء میں اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کو ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کی دعوت دی گئی۔ بے نظیر بھٹو کے وفد میں یہ راقم بھی بطور اخبار نویس شامل تھا۔ اس اجلاس میں معروف امریکی دانشور سیموئیل ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کا تصور پیش کرتے ہوئے مغرب کو اسلام کے خطرہ سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو تہذیب اور مغربی تہذیب آپس میں فطری اتحاد ہیں جبکہ اسلامی تہذیب کا اتحاد چینی تہذیب کے ساتھ ہو سکتا ہے، دس سال پہلے سیموئیل ہنٹنگٹن کے خیالات پر اکثر مبصرین کو حیرت ہوئی تھی، ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں سیموئیل ہنٹنگٹن کی تقریر کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز نے خطاب کیا۔ بے نظیر بھٹو کا خطاب آخری سیشن میں تھا، لہذا میں چائے پینے کے لیے کانفرنس ہال سے باہر نکلا تو شمعون پیریز بھی باہر نکلتے دکھائی دیئے۔ میری صحافیانہ رگ پھڑکی اور میں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ ہال کے باہر شدید برف باری ہو رہی تھی اور پھسلن کے باعث گاڑیوں کا حرکت کرنا مشکل تھا۔ شمعون پیریز کو بتایا گیا کہ ہال سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایسی مشینیں موجود ہیں جو برف صاف کر رہی ہیں اور گاڑیاں چل سکتی ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب شمعون پیریز اپنے دو محافظوں کے ہمراہ پیدل ہی روانہ ہو گئے۔ ایک سوئس صحافی نے بھاگ کر ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور تعارف کروا کر ملاقات کا وقت مانگا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے اسے کہا کہ آؤ میرے ساتھ، پندرہ بیس منٹ پیدل چلو اور گفتگو کر لو لیکن سوئس صحافی کو واپس کانفرنس ہال میں جانا تھا، اس نے معذرت کر لی۔ میں فوراً چھلانگ مار کر شمعون پیریز کے سامنے آگیا اور بغیر تعارف کروائے اعلان کیا کہ میں ان کے ساتھ برف باری میں پیدل چلنے کے تیار ہوں، انہوں نے کوئی جواب دینے سے پہلے میرے گریبان میں لٹکے ہوئے کانفرنس کارڈ پر نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے پوچھا: کیا تم پاکستانی ہو؟ میں نے اثبات میں جواب دیا اور زور دے کر کہا میں صحافی ہوں اور میرا تعلق روز نامہ جنگ سے ہے، شمعون پیریز نے جواب میں کہا: ہاں، ہاں، یہ اردو کا اخبار ہے اور لندن سے بھی شائع ہوتا ہے۔ اس جواب نے مجھے حیران سے زیادہ پریشان کر دیا۔ اسرائیلی وزیر
خارجہ نے اشارے سے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ میں اپنے چھوٹے سے بیگ میں سے ٹیپ ریکارڈ نکالنا چاہتا تھا، ایک محافظ نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ تھام لیا اور انگریزی میں کہا کہ کیمرہ مت نکالو، میں نے بتایا کہ یہ ٹیپ ریکارڈ ہے، شمعون پیریز بولے کہ ٹھیک ہے، تم نکال سکتے ہو لیکن ابھی نہیں، ہوٹل پہنچ کر کافی پئیں گے، پھر تم انٹرویو کر لینا۔ اب ہم پیدل چلتے ہوئے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے میری قومیت پوچھی، میں نے بتایا کہ پاکستانی ہوں، انہوں نے کہا کہ نسلی قومیت بتاؤ میں نے بتایا: کشمیری ہوں، شمعون پیریز نے کہا کہ ”میر“ کشمیری ہوتے ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے ان گمشدہ قبائل سے ہے جو ہزاروں سال پہلے فلسطین سے دربدر ہوئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ اس سلسلے میں ایک یہودی مصنف فیبر قیصر نے انگریزی میں کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ” Jesus died in kashmir “ ہے اور کتاب میں میر، بٹ، ڈار، گنائی، منٹو، شال، گابا، کچلو اور بہت سی دیگر کشمیری ذاتوں کا تعلق نہ صرف بنی اسرائیل سے جوڑا گیا ہے بلکہ یہودیوں کی پرانی کتاب کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں، لیکن محققین کی اکثریت ان دعوؤں کو درست تسلیم نہیں کرتی کیونکہ فیبر قیصر کی کتاب میں قادیانیوں کے عقائد کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر میں موت ہوئی۔ ان کا مقبرہ بھی وہیں ہے اور قادیانیوں کا جھوٹا پیغمبر مرزا غلام احمد قادیانی اصلی مسیح موعود تھا (نعوذ باللہ)۔ شمعون پیریز نے پوچھا کہ پھر تم کون ہو؟ یہ ایک مشکل سوال تھا، اس وقت تک مجھے صرف اتنا پتہ تھا کہ میرے بزرگوں کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ مہاجر بن کر سیالکوٹ آئے تھے اور ہجرت کے دوران میرے نانا غلام احمد جراح کا آدھے سے زیادہ خاندان جموں کے نواح میں قتل ہو گیا اور میری والدہ اپنی دو بہنوں کو لاشوں سے بھری ہوئی بس میں چھپا کر بڑی مشکل سے سیالکوٹ پہنچیں، میرے دادا میر عبدالعزیز بتایا کرتے تھے کہ ہمارا تعلق میر شاہ ہمدانؒ سے ہے اور ہمارے بہت سے رشتہ دار بڈگام اور اننت ناگ میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے زیادہ پتہ نہیں تھا۔
بہر حال باتیں کرتے کرتے ہم ہوٹل پہنچے۔ وہاں میں نے شمعون پیریز کا دس منٹ کا انٹرویو ریکارڈ کیا اور شام کو میں واپس جنیوا آ گیا۔ اس ملاقات کے بعد میں نے قادیانیوں کی کشمیر میں دلچسپی کی وجوہات پر معلومات حاصل کرنا شروع کیں، شاعر مشرق علامہ اقبالؒ وہ پہلے جہاندیدہ شخص تھے جنہوں نے 1931ء میں قادیانیوں کی حقیقت جان لی۔ قادیانیوں نے ہندوستانی
مسلمانوں کی قائم کردہ کشمیر کمیٹی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کو اپنے کانوں سے توہین رسالت کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے اسے کشمیر کمیٹی سے نکلوا دیا۔ قادیانی اس زمانے سے کشمیر کو ایک قادیانی ریاست (مرزائی اسٹیٹ) بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کو اسرائیل میں اپنا دفتر قائم کرنے کی اجازت ہے اور لندن میں قائم احمدیہ ٹیلی ویژن کو دنیا بھر میں قادیانیت پھیلانے کے لیے یہودی اداروں سے امداد ملتی ہے۔ قادیانیوں اور یہودیوں میں محبت کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ دونوں ختم نبوت کے منکرین ہیں اور دوسری یہ کہ دونوں جہاد کا خاتمہ چاہتے ہیں، قادیانیوں کے جھوٹے پیغمبر مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں یہ نظم شامل کی ہے:
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے لیے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد‘‘
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78 از مرزا قادیانی)
مذکورہ بالا اشعار پر غور کیجیے! آج کے تمام روشن خیال اور لبرل مخالفین جہاد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات میں زیادہ فرق نہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جو قادیانیوں میں یہودیوں کے گٹھ جوڑ کا باعث بنا اور آخر کار قادیانیوں کی کوششوں سے یروشلم اور نئی دہلی میں بھی نئے روابط اور نئی دوستی تشکیل پائی۔ آج جماعت احمدیہ کو اسرائیل اور ہندوستانی خفیہ اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ قادیانی جماعت نے کچھ عرصہ قبل منصور اعجاز نامی امریکی بزنس مین کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر میں اپنا نیٹ ورک بنانے کا آغاز کیا۔ منصور اعجاز کے والدین قادیانی تھے اور منصور اعجاز اسرائیلی ادارے موساد کا زرخرید ایجنٹ ہے۔ چار سال قبل منصور اعجاز نے بھارتی فوج کی حفاظت میں سرینگر کا دورہ کیا، اس دورے کا مقصد کشمیر میں امن کا قیام تھا لیکن
حقیقت میں اس دورے کے بعد کشمیر میں اسرائیل اور بھارت نے بہت سے خفیہ اور علانیہ مشترکہ منصوبے شروع کیے ۔ پچھلے دنوں واشنگٹن میں میری ملاقات کچھ ایسے اعتدال پسند یہودی دانشوروں سے ہوئی جو اسرائیل کی کشمیر میں بڑھی ہوئی دلچسپی سے پریشان ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مسئلہ فلسطین کی وجہ سے ہر یہودی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اگر اسرائیل نے کشمیر میں بھی مداخلت بڑھا دی تو اس نفرت میں مزید اضافہ ہو گا ۔ غور کیا جائے تو کشمیر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی صرف ایک وجہ نظر آتی ہے، وہ یہ کہ جموں اور سرینگر کے ایئر پورٹ پاکستان کے بہت قریب ہیں ۔ اسرائیل ان ہوائی اڈوں کو پاکستان پر حملے کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے خود مجھے بتایا کہ مئی 1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے دو دن قبل ہمیں سعودی عرب نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فضائیہ سرینگر ایئر پورٹ سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز پر حملہ کرنے والی ہے ۔ گوہر ایوب کے بقول ہم نے راتوں رات بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور وارننگ دی کہ اگر ہماری تنصیبات پر حملہ ہوا تو جواب میں دہلی ، کلکتہ، ممبئی اور بنگلور کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ بھارتی ہائی کمشنر نے فوری طور پر نئی دہلی کو اس وارننگ کی اطلاع دی اور یوں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا اسرائیلی منصوبہ ناکام بنایا گیا ۔ افسوس کہ عالم عرب، پاکستان اور کشمیر کے خلاف اسرائیلی اور بھارتی عزائم سے پوری طرح خبر دار نہیں ہے ۔ 22 دسمبر 2004ء کے اخبارات میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ساختہ جاسوس طیارے تعینات کر دیئے گئے ہیں جو مجاہدین کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں ۔ اسرائیل کی ان مجاہدین سے نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے لڑائی ہے ۔ اسرائیل کا اصل نشانہ یہ مجاہدین نہیں بلکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ مجاہدین کے بعد ایٹمی پروگرام کی باری ہوگی ، یہ بات اگر ارباب اختیار کو سمجھ آ جائے تو انہیں کشمیری مجاہدین دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کے محافظ نظر آئیں گے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ صرف ہندوستانی رائے عامہ کو نہیں بلکہ مغربی اور مشرق وسطی کی رائے عامہ کو بھی کشمیر میں اسرائیلی عزائم سے خبر دار کرے، کیونکہ اسرائیل کی کوئی بھی غلطی صرف اس خطہ کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ایک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے‘‘۔
(حامد میر کا مضمون مطبوعہ ’’روزنامہ اوصاف‘‘ اسلام آباد)
اپنی بیٹیوں کو قتل کر دو!!
کبابیر ایک چھوٹا سا شہر ہے جو کہ اسرائیل کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے حیفا میں کارمل کی پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ شہر اسرائیل ہی نہیں بلکہ تمام عرب دنیا میں قادیانی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 1928ء میں جلال الدین شمس نامی قادیانی مبلغ نے اس آبادی کے ایک سرکردہ فرد، عبدالقادر عودہ کو یقین دلایا کہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی نامی ایک مجدد پیدا ہوئے تھے جنہوں نے اسلام کی تجدید کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ حسب معمول مرزا صاحب کے دعوائے نبوت و رسالت اور مہدویت و مسیح موعودیت سے اس نو احمدی کو تاریکی میں رکھا گیا تھا تا وقتیکہ ان کے ذہن کو صاف کر کے قادیانیت پر راسخ نہ کر دیا گیا۔ اس بدقسمت واقعے نے فلسطین میں قادیانیت کی داغ بیل ڈالی اور جیسا کہ افریقہ کے دور دراز علاقوں میں ہوتا آ رہا ہے، تمام آبادی اور ان کی نسلیں آہستہ آہستہ قادیانیت کے قعر مذلت میں گرتی چلی گئیں۔ آج سے ایک دہائی پہلے تک اس شہر کے 2000 افراد قادیانی تھے مگر گذشتہ چند سالوں میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 800 رہ گئی ہے۔
یہودیوں کی حکومت میں قادیانی جماعت کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس جماعت نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انگریز سرکار کیلئے لازوال خدمات انجام دیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کے بھیس میں قادیانی جاسوسوں نے بلاد اسلامیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کبابیر کا شہر ایک ایسی پہاڑی پر واقع ہے جس کے ایک طرف اثلیث کی بندرگاہ ہے جو کہ اسرائیل کا انتہائی اہم بحری مرکز ہے جہاں پر یہودیوں کی اسلحہ ساز فیکٹری بھی قائم ہے۔ کبابیر کے دوسری طرف حیفا کی بندرگاہ۔ گویا کہ یہ حساس مقام دفاعی نقطۂ نظر سے اسرائیل کیلئے نہایت اہم ہے۔ اسرائیل کی تاریخ شاہد کہ اس نے اپنے دفاع کی خاطر فلسطینی مسلمانوں کی ہر اس آبادی کو تباہ و برباد یا بیدخل کر دیا جو اس کیلئے کسی طرح بھی خطرہ ثابت ہو سکتی تھی۔ چنانچہ قادیانیوں کی اس حساس مقام پر مستقل رہائش، یہودیوں سے ان کے قریبی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی طرح اسرائیلی حکومت میں عرب احمدیوں کا اہم عہدوں پر فائز ہونا بھی اس تعلق کی شہادت دیتا ہے۔
میں، ڈاکٹر احمد عودہ، ایک فلسطینی مسلمان ہوں اور اب سویڈن میں مقیم ہوں۔ احمدی گھرانے میں میری پیدائش، ایک بدقسمت حادثہ ہے۔ جس پر میرا کوئی کنٹرول نہ تھا جو
آج بھی میرے گلے میں لعنت کے طوق کے طور پر پڑا ہوا ہے۔ میں شروع ہی سے ہی جماعت کی مختلف سرگرمیوں میں بہت متحرک تھا۔ خدام الاحمدیہ کا پریزیڈنٹ، مجلس شوریٰ کا ممبر، اسٹاک ہالم کی جماعت کا پریزیڈنٹ کے منصب پر فائز ہوا جس پر میں آخر وقت تک (1989ء) برقرار رہا۔ 1989ء میں جب مرزا طاہر نے پہلی دفعہ مباہلہ کا چیلنج دیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے اصل عقائد کا مجھ پر انکشاف ہوا۔ میں بمع اپنے دو بھائیوں صالح اور حسن کے احمدیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔
حال ہی میں، میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کبابیر گیا تو وہاں پر چند حیرت انگیز باتوں کا انکشاف ہوا جو میں قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ دنیا کے دوسرے علاقوں کی طرح اسرائیل میں بھی جماعت ہمیشہ ایک مشنری کے کنٹرول میں ہوتی ہے جسے مبشر کہا جاتا ہے۔ عموماً یہ ایک پنجابی قادیانی ہوتا ہے جس کے پاس انڈین یا انگلش پاسپورٹ ہوتا ہے، کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ پر کوئی اسرائیل نہیں آ سکتا۔ مبشر کی یہ پوسٹ جماعت میں بہت سود مند مانی جاتی ہے کیونکہ اوپر کی کمائی بہت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اسرائیل کا مشن بھی کچھ خاص مختلف نہ تھا۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ اسرائیل میں مبشروں کے اس رویہ نے عام قادیانیوں کو ان سے بہت بدظن کر دیا ہے۔ کوثر قادیانی صاحب گزشتہ مشنری تھے جن کا تعلق انڈیا سے تھا۔ انہوں نے تحفے تحائف اور مسجد کے چندے کے نام سے خوب پیسے بٹورے حتیٰ کہ لندن مرکز تک شکایات پہنچائی گئی۔ بالآخر کوثر قادیانی کو بڑا بے آبرو ہو کر 1997ء کے موسم گرما میں اسرائیل سے رخصت ہونا پڑا۔
مشنریوں کی ان حرکات کی وجہ سے فلسطین کی جماعت میں تین گروہ بن چکے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو مشنری اور لندن کے وفادار ہیں۔ دوسرے جو مشنریوں کی حرکتوں سے سخت نالاں ہیں مگر اب بھی لندن جماعت کے ساتھ ہیں اور تیسرے وہ ہیں جن کو نہ تو مشنریوں کی اور نہ ہی لندن جماعت کی پرواہ ہے۔
دسمبر 1997ء میں انڈیا سے ایک نوجوان مشنری، باسط رسول ڈار صاحب، اسرائیل پہنچے۔ ان کا تعلق کشمیر سے تھا اور بڑے فخر سے وہ اپنے اجداد کا رشتہ یہودیوں سے جوڑتے ہیں۔ باسط رسول ڈار کو عربی سے بہت معمولی شغف ہے مگر انگریزی اچھی بولتے ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑا کام مشنری انچارج کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کر کے اس کی حاکمیت
کو دوبارہ تسلیم کرانا تھا۔ اسرائیل میں قادیانیوں کی گرتی ہوئی تعداد مرکز کے لیے بہت تشویشناک تھی اور یہ باسط رسول ڈار کی ذمہ داری تھی کہ اس میں اضافہ کیا جائے تا کہ 1999ء کے جلسہ سالانہ میں قادیانیوں کو دکھایا جاسکے کہ مشرق وسطیٰ میں کتنے لوگ قادیانیت میں داخل ہوئے ۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عرب دنیا میں قادیانی تحریک مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ۔ چنانچہ ماسوا گنے چنے چند لوگوں کے جو اپنی اغراض کے تحت جماعت میں شامل ہوئے ہیں ، عام مسلمانوں نے اس تحریک کو مسترد کر دیا ہے۔
نئے مشنری صاحب نے آتے ہی تمام قادیانیوں کو تجدید بیعت اور بیعت فارم دوبارہ پر کر کے جمع کروانے کا حکم دیا۔ غالباً اپنی کارکردگی کا قادیانی خلیفہ کے سامنے مظاہرہ کرنے کا ارادہ ہو گا یا پھر یہ تاثر دینا ہو گا کہ اتنے لوگوں نے اس سال بیعت کی ہے! واللہ اعلم ۔
فلسطین میں رہنے والے مسلمان ابھی اسلام اور قادیانیت کے فرق سے بڑی حد تک نا آشنا ہیں نہ ہی فلسطینی قادیانی اس معاملے میں بہت زیادہ باخبر یا محتاط ہیں ۔ چنانچہ بہت سے خاندانوں میں مخلوط شادیاں ہو رہی ہیں حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنے پیروکاروں کو مسلمانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم کرنے ، مسلمان امام کے پیچھے نماز پڑھنے اور مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے سے قطعاً منع کر دیا تھا کیونکہ ان کی نظر میں تمام مسلمان کافر ، جہنمی اور طوائف کی اولاد ہیں ۔ ان حالات میں مشنری انچارج نے کیا رویہ اپنایا ؟ آیئے دیکھتے ہیں :
جناب ایم ۔اے ۔عودہ دو جواں سال بچوں کے باپ ہیں ۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور انگریزی زبان بآسانی بولتے ہیں ۔ وہ انتہائی مخلص پیدائشی قادیانی ہیں جو پہلے کبابیر میں احمدیہ اسکول میں پڑھاتے تھے اور اب ٹھیکہ داری کرتے ہیں ۔ ان کا بیٹا بھی بہت مخلص قادیانی ہے اور جلد ہی نئے مشنری سے قریب ہو گیا۔ اس کی بہن کی ایک مسلمان لڑکے سے منگنی ہو چکی ہے۔ چنانچہ جب ایم عودہ صاحب نے اپنے خاندان کا بیعت فارم پر کر کے دیا تو رسول ڈار صاحب نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ مشنری صاحب نے ان سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو مجبور کریں کہ وہ اس منگنی کو توڑ دے ۔ جب ایم عودہ صاحب نے ایسا کرنے سے معذوری ظاہر کی تو مشنری انچارج نے ان کو حکم دیا کہ اس صورت میں وہ اپنی بیٹی کو قتل کر دیں۔ ایم عودہ صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ لوگوں نے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کروایا کہ ڈار صاحب صحیح انگریزی نہیں بول سکتے اس لیے غلط فہمی ہو گئی ہے۔ اس قسم کے کئی واقعات
ظہور پذیر ہونے کے بعد لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں کہ یہ کیسے نبی کا مبشر ہے؟ ایک طرف حضور اکرم ﷺ تھے جنہوں نے آ کر معصوم لڑکیوں کے قتل کی رسم کو بند کروایا اور دوسری طرف یہ مرزا غلام قادیانی کا مبشر ہے جو لڑکیوں کو قتل کا حکم دے رہا ہے۔
(ماہنامہ الفتویٰ انٹرنیشنل جولائی 1999ء مدیر جناب سید راشد علی)
قادیانی جماعت کو قانونی نوٹس
قادیانی جماعت کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت وہ خبر ہے جو ”النداء انٹرنیشنل“ میں شائع ہوئی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر نے پچھلے سال اپنے 1988ء کے مباہلے کے چیلنج کا اعادہ کیا تھا جس کو انٹی احمدیہ موومنٹ کی طرف سے اس ناچیز نے قبول کرنے کا اعلان کیا۔ گزشتہ سال جب میرے ایک دوست ڈاکٹر اقبال احمد کا ایک حادثہ میں اچانک انتقال ہو گیا تو قادیانیوں نے حسب معمول پراپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ یہ واقعہ مرزا طاہر کے مباہلے میں کامیابی کا نشان ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کا اخبار مطبوعہ کینیڈا لکھتا ہے:
”چند سال پہلے ڈاکٹر اقبال نے ”2 ان 1“ نامی کتاب کا انگریزی سے عربی میں ترجمہ کیا جس کو ٹھٹھہ پاکستان کے سید عبدالحفیظ شاہ نے تحریر کیا تھا۔ (اردو سے انگریزی میں ترجمہ ان کے ایک ساتھی ڈاکٹر سید راشد علی نے کیا تھا)۔ اس کتاب میں بانی جماعت احمدیہ، حضرت مرزا غلام احمد آف قادیان کے بارے میں نہایت ہی گندی اور نامناسب زبان استعمال کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اقبال احمد نے اس کتاب میں کارٹون شامل کیے ہیں اور اپنے احساس تفاخر کے اظہار کے طور پر کارٹونوں پر اپنے دستخط ”اقبال“ لکھ کر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس روز ڈاکٹر اقبال کو ذلت آمیز موت دے کر ایک زبردست نشان دکھلایا...... یہ قہری تجلی جو اللہ نے کتاب ”2 ان 1“ کے مترجم کے بارے میں دکھائی ہے، مباہلے میں ہماری فتح کا کھلا نشان ہے“۔ (النداء انٹرنیشنل جماعت احمدیہ کینیڈا مورخہ مارچ 1998ء)
یا مظہر العجائب! یہ بیان جماعت کی ذہنیت، اخلاقی پستی اور بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کہاں کی منطق اور کون سا انصاف ہے کہ ایک شخص جس نے کتاب لکھی (یعنی سید عبدالحفیظ شاہ) یا جس نے کتاب کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کروایا، جو اللہ کے فضل و کرم دنیا بھر میں قادیانیت کے خلاف عمل پیرا ہے اور جو بار بار مرزا طاہر کو مباہلے کے لیے للکار رہا ہے
اور سب سے بڑھ کر جس نے مباہلے کے موجودہ چیلنج کو قبول کیا، اس کا بال بھی بیکا نہ ہوا اور ایک ایسا شخص جس نے مباہلے کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ مباہلے کا شکار ہو جائے۔ یقیناً اس قسم کی نامعقولیت مرزا طاہر ہی سے متوقع ہے اور ان کے پیروکار ہی اس کو قبول کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فراڈ اور سفید جھوٹ جو اس سارے ڈرامے میں بولا گیا اور جس کے اوپر پوری قادیانیت کی مباہلے میں کامیابی کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، وہ یہ ہے ڈاکٹر اقبال، اللہ کی اس قہری تجلی کا شکار صرف اس لیے ہوا کہ اس نے مرزا قادیانی کے کارٹون بنا کر مرزا صاحب کی توہین کی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ اپنے دستخط بھی کیے ہیں۔ اس حقیقت کو دانستہ چھپایا گیا کہ ڈاکٹر اقبال اور کارٹونسٹ اقبال دو مختلف شخصیتوں کے نام ہیں۔ کارٹونسٹ اقبال، اللہ کے فضل وکرم سے نہ صرف بقید حیات ہیں بلکہ آج بھی اپنے فن کے ذریعے مرزا قادیانی کی زندگی کے مختلف گوشوں کو عوام کے سامنے عیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں اقبال احمد (کارٹونسٹ) نے مرزا طاہر اور اس کی سر پرستی میں نکلنے والے اخبار ”النداء انٹرنیشنل“ کے مدیر کو اس غلط خبر کے چھاپنے پر جس کی وجہ سے ان کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا، 50,000 ڈالر ہرجانہ ادا کرنے اور غیر مشروط معافی شائع کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ بصورت دیگر اقبال صاحب نے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
(ماہنامہ الفتویٰ انٹرنیشنل جولائی 1999ء مدیر جناب سید راشد علی)
پیشین گوئیاں اور ان کی حقیقت
پتھر کے زمانے سے آج تک لوگ جادو ٹونے، تعویز گنڈے اور مختلف قسم کی پیش گوئیاں کرتے چلے آئے ہیں۔ ان پیش گوئیوں میں کچھ علم اور عمل کا دخل ہوتا ہے۔ مثلاً: نجوم، علم جعفر، قیافہ شناسی، مکاشفات وغیرہ کی شکل میں مختلف زمانوں اور تہذیبوں میں یہ طور طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں۔ ہندو تہذیب میں علم سیارگان کی مدد سے حساب کتاب لگا کر لوگوں کا زائچہ اور جنم پتری بنا کر ان کی تقدیر کا حال اور پیش آنے والے واقعات بتائے جاتے ہیں۔ عیسائی پادری، یہودی راہب بھی اس طرح اپنے معتقدین کو حساب کتاب لگا کر آنے والے واقعات سے مطلع کرتے ہیں۔ تھوڑا اور نیچے اتر آئیں تو ایک زمانہ تھا کہ گلیوں میں رومال ڈالے لوگ آواز لگاتے گھومتے تھے کہ ”قسمت کا حال معلوم کروالو“ اور اس طرح چند پیسے
کماتے تھے۔ طوطوں کے ذریعے قسمت کا حال بتانے والے تو آج بھی سڑک کے کنارے بیٹھے نظر آئیں گے۔ غرضیکہ اس قسم کے تمام لوگ انسان کی اس کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کہ وہ کسی طرح مستقبل کا حال جاننا چاہتا ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ آج تک کسی طوطے نے پیغمبری کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی طرح ان مستقبل اور قسمت کا حال بتانے والے لوگوں میں سے کسی نے آج تک پیغمبری تو چھوڑیں، ولایت تک کا دعویٰ نہیں کیا۔ ناسٹرے ڈیمس (Nostradamus) ایک فرانسیسی ڈاکٹر تھا۔ اس کی پیش گوئیاں چار سو سال سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ اس نے کبھی پیغمبری کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی طرح جین ڈکسن بھی ہر سال پیش گوئیاں کرتی ہے۔ محکمہ موسمیات والے تو روزانہ موسم کا پیشگی حال بتاتے ہیں۔ غرضیکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ اپنے اپنے علم (جفر، نجوم وغیرہ) کو اپنی غیب دانی کا سبب قرار دیتے ہیں نہ کہ پیغمبری کو۔ اور رہا طوطا تو وہ بیچارہ جس لفافے پر اس کی غذا لگی ہوئی ہے، اس کو اُٹھا لیتا ہے۔ نہ کبھی طوطے نے، نہ کبھی اس فال نکالنے والے نے کوئی دعویٰ کیا۔ الغرض پیشگوئی کرنا فی نفسہ کوئی مقام نہیں۔ اس کے لیے متقی اور پرہیز گار ہونا شرط ہے اور نہ کسی مذہب کی کوئی قید ہے۔
قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی ایک ایسا منفرد بدبخت انسان تھا کہ جس نے اپنی پیش گوئیوں کے بل بوتے پر اپنی نبوت کی عمارت کھڑی کر لی۔ خود کہتا ہے:
- ”بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور خدا
کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ ان کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے (تجربہ کے لیے مرزا قادیانی ان کے پاس جاتے تھے یا وہ ان کے پاس آتے تھے؟) کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا، انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ تھا کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا، ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہو گئیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 3 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 5 از مرزا قادیانی)
اور پھر اسی کو اپنی نبوت کا نشان قرار دیتا ہے۔ اب قادیانی حضرات اپنے نام نہاد نبی کی Category خود مقرر کر لیں۔ مرزا قادیانی نے جتنے زور و شور سے اپنی کسی پیش گوئی
کو اپنی سچائی کا معیار قرار دیا، اتنی ہی منہ کی کھائی۔ محمدی بیگم سے الہامی شادی ہو (روحانی خزائن جلد 5، ص: 325) یا آتھم کی موت کا الہام (روحانی خزائن جلد: 6، ص: 292)...... جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ نہ محمدی بیگم کے رشتہ داروں کو رشوت کے لالچ نے کام کیا اور نہ آتھم کے لیے اندھے کنویں میں چنے پڑھوا کر پھینکوانے کا کوئی فائدہ ہوا۔
حرام گوشت کھلانے کی قادیانی سازش
Wembley Meat House, London کا مالک شجاع، لندن میں قادیانی جماعت کا ایک معروف اور سرگرم رکن ہے۔ BBC Television سے لندن کے اس مشہور گوشت کے بیوپاری کے بارے میں ایک Documentary دکھائی گئی۔ یہ شخص ایک زمانے سے مختلف دکانوں، اداروں اور اسکول کے مسلمان بچوں کے لیے حلال گوشت فراہم کر رہا ہے۔ BBC کی تحقیقات کے مطابق یہ شخص دانستہ حرام گوشت اور حلال گوشت کو مخلوط کر کے فروخت کرنے میں مصروف ہے جسے BBC کے کیمرہ مین نے موقع پر پہنچ کر فلم بند کیا۔ یہ شخص مختلف دکانوں سے سؤر کا اور جھٹکے کا گوشت جمع کر رہا ہے۔
BBC نے اپنی اس دستاویزی فلم میں اگرچہ اس شخص کے اس فعل قبیح کے اسباب بیان نہیں کیے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شجاع ایک معروف قادیانی ہے اور قادیانی ہر وہ ذریعہ اختیار کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جس سے ہمارے ایمان کو نقصان پہنچے۔ مسلمانوں کو دیدہ و دانستہ حرام گوشت کھلانے کی اس مذموم حرکت کے پیچھے بھی یہی جذبہ کارفرما ہے۔
مرزا قادیانی اور ہتھیار بندی
میں ”سیرت المہدی“ جس کا مصنف مرزا قادیانی کا ہونہار اور اس کی طرف سے ”قمر الانبیاء“ کا خطاب پانے والا سپوت مرزا بشیر احمد ایم اے ہے، کا مطالعہ کر رہا تھا کہ میرے سامنے یہ روایت آئی۔
- ”بیان کیا مجھ سے شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود
نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے۔ ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جو اب موجود ہے، وہ نامرد ہے۔ گویا اس کی اولاد آگے
نہیں چلے گی۔ (خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگر ابھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔ اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے۔ اس کا لڑکا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی نامرد ہے؟ حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے۔ مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے غصے کے لہجے میں فرمایا۔ ”جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 34، 35 از مرزا بشیر احمد)
پوری روایت درج کر دی ہے تا کہ کمی بیشی کا الزام نہ لگے۔ روایت پڑھنے کے بعد میرے تاثرات اور سوالات کیا تھے، میری خواہش ہے کہ میں آپ کو بھی ان میں شریک کروں تا کہ مل کر انجوائے کریں اور قادیانی بھائیوں سے جواب پوچھیں!
دیکھئے، یہ ”عظیم الشان نبی“ کس طرح سینہ تان کر قانون، اخلاق اور شرافت کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کیا ”نبی“ کا یہ کام ہے کہ مخالفین کی انتہائی نجی زندگی کے بارے میں خبریں حاصل کرے اور ان کو پھیلائے؟ ایک مرید توجہ دلاتا ہے کہ یہ بات قانوناً غلط ہے، (اخلاق اور شرافت کی وجہ سے نہیں)، تو اس کو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور یاد دلایا جاتا ہے کہ دھیان کرو اور اپنی اوقات میں رہو، لیکن وہ پڑھا لکھا مرید پھر بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اپنے پیر کو قانون توڑنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی صائب رائے پر اصرار کرتا ہے تو ”امام الزمان“ غصہ سے سرخ ہو جاتے ہیں وہ پھر اصرار کرتا ہے تو کہتے ہیں ”اس وقت نبی ہتھیار لگا کر باہر آیا ہوا ہے اور اب یہ ہتھیار نہیں اتریں گے“۔ اب ہوتا کیا ہے، یہ سنتے اور دیکھتے ہی کہ (خود ساختہ) نبی ہتھیار لگا کر باہر آ گیا ہے، مارے حیرت کے مریدانِ باوفا کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں، آنکھیں پھٹ جاتی ہیں اور کانوں کو یقین نہیں آتا کہ جہاد کو حرام قرار دے کر، اب حضرت صاحب خود ہتھیار باندھ کر نکل آئے ہیں؟ مریدان باوفا کی سٹی گم ہے کہ ہم کونسے ہتھیار باندھ کر پیر کی پیروی کریں۔ اور پھر چشم فلک کے ساتھ دنیا اور مرید ان بے حیا نے بھی دیکھا اور سنا کہ ان ہتھیاروں کے ساتھ مرزا صاحب کیسے جنگ کرتے ہیں؟ حملہ ہوتا ہے اور پھر سب دیکھتے ہیں کہ ایک گولہ پھٹتا ہے اور اس میں سے آواز آتی ہے
سعد اللہ کا بیٹا نامرد ہے، دوسرا گولہ پھٹتا ہے، آواز آتی ہے، سعد اللہ سفیہوں کا نطفہ ہے...... اس طرح ثابت کر دیا کہ اپنے دشمنوں کو گالیاں دینے سے اسے نہ اخلاق، نہ شرافت اور نہ ہی قانون روک سکتا ہے۔ اور پھر واقعی مرزا صاحب دوسروں کو گالیاں دینے والے ہتھیار باندھے ہوئے باہر نکلے تھے، زندگی بھر وہ ہتھیار نہیں اتارے اور ان ہتھیاروں سے مرزا صاحب نے وفات تک دشمنوں کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیا، اور اس زہریلی ایٹمی گالیوں کے حملوں کی تابکاری ابھی تک تباہی پھیلا رہی ہے، اور پتہ نہیں کب تک شرافت اور اخلاق ان حملوں کا ماتم کرتے رہیں گے؟ ساری عمر حکام کے تلوے چاٹے اور مخالفین کو گندی گالیوں سے نوازا۔ کیا نبی کے ہتھیار ایسے ہوتے ہیں؟ (بشکریہ احمدی ڈاٹ آرگ)
خطرہ ایمان...... دودھ...... قادیان
قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے مکہ اور مدینہ کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا:
- ”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار
یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“
(حقیقۃ الرؤیا، صفحہ 46 طبع اوّل از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)
جب میں نے یہ عبارت پہلی بار پڑھی تو میرے ذہن میں کوئی خیال پیدا نہ ہوا کیونکہ بطور قادیانی میرے ذہن میں مکہ اور مدینہ کی حرمت کو نفسیاتی طریقوں سے گھٹا دیا گیا تھا اور قادیان و ربوہ کی زمین بھی میرے لیے ارض حرم کا نعم البدل تھی، لیکن جب میں تحقیقی دور میں داخل ہوا اور اس تحریر کو قادیانی عینک کے بغیر، مسلمان کی حیثیت سے پڑھا تو کئی سوالات اس وقت سے میرے ذہن میں بار بار اٹھتے ہیں، پیش خدمت ہیں، شاید کوئی قادیانی دوست ان کے جواب سے نوازے؟
- 1- پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ مرزا محمود کے خیال میں مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں
کا دودھ کب خشک ہوا؟
- 2- اگر کافی عرصہ سے خشک تھا تو مرزا قادیانی کے علم دین کی پرورش کس دودھ سے
ہوئی؟ دودھ نہ ملے تو پرورش بھی صحیح نہیں ہوتی؟
- 3- اگر مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد خشک ہوا تو یہ کیسا نبی ہے کہ آتے ہی جس
مذہب کو ترقی دینی تھی اُسی کی روحانی چھاتیاں خشک کردیں؟
- 4- حج کس مقصد کے لیے ہے۔ جب مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے کسی کو روحانیت کا
دودھ نہیں ملنا تو پھر حج کا کیا مقصد؟
- 5- کیا خدا نے دین کی تکمیل کی بشارت دی تھی تو اس میں یہ مفہوم نہیں تھا کہ یہ دین
کی چھاتیاں سدا بہار ہیں اور ان چھاتیوں کا دودھ جنت کی نہروں کی طرح کبھی خشک ہونے والا نہیں اور ان کے خالص دودھ سے اب قیامت تک انسانیت سیراب ہوگی؟
- 6- قادیان کی چھاتیوں کا دودھ کب تک رہے گا اور قادیانی چھاتیوں کا دودھ خشک
ہونے کے بعد قادیانیوں کو کس کی چھاتیاں دیکھنا پڑیں گی؟
- 7- مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ مرزا قادیانی کے دور تک یا پھر ایک لمبے عرصہ تک
موجود رہا مگر قادیان کی چھاتیوں کا دودھ تو مرزا قادیانی کی زندگی تک بھی نہ رہا یا کم از کم اس کے زمانہ میں بھی کوئی صحت مند تبدیلی نظر نہیں آتی، بعد کی بات تو بہت دور کی ہے؟ اس کے اپنے شکوے کہ میرے ”اصحاب“ نے کچھ نہیں سیکھا اور اس کی اپنی زندگی کے دوران مرزا قادیانی نے جن لوگوں کی بڑی عزت کی اور بہت اعتماد کا اظہار کیا، میرا مطلب محمد علی لاہوری اور خواجہ کمال الدین وغیرہ، ان کے متعلق مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے زمانہ ہی سے منافقت کا شکار تھے اور ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے تو مرزا قادیانی پر بددیانتی کے الزامات بھی لگائے۔
- 8- کیا قادیان کی چھاتیوں کا دودھ مرزا قادیانی کے خاندان کے لیے ہی تھا یا اوروں
کے لیے بھی تھا یا ہے، کیونکہ ہمیں تو اس دودھ کے فوائد سوائے ان کے خاندان کے کہیں نظر نہیں آئے؟
- 9- کیا چھاتیاں مرزا محمود کے ذہن پر اتنی سوار تھیں کہ اسے دین میں بھی دودھ بھری یا
سوکھی چھاتیوں کے علاوہ، کوئی اور مناسب تشبیہہ نہ مل سکی؟ میرے خیال میں مرزا محمود مجبور تھا، خاندانی ورثہ کا تسلسل ہے، باپ کو نماز اور جنسی فعل میں مطابقت نظر آتی ہے، بیٹے کو خطبوں اور تقریروں میں کبھی چھاتیاں یاد آتی ہیں اور کبھی بٹالوی صاحب کے والد کا آلہ تناسل یاد آتا ہے، یورپ یاترا پر جاتے ہیں تو وہاں بھی او پیرا میں سپیشل چھاتیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں، اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ موجودہ خلیفہ کو اپنی جماعت کی عورتیں مجموعی طور پر ننگی نظر آتی ہیں اور وہ کیا کینیڈا اور کیا لندن کا جلسہ، گراموفون پر اٹکی ہوئی سوئی کی طرح ایک ہی بات کہ ”جماعت کی عورتیں اپنا ننگ ڈھانپیں“۔ اور یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ اللہ ہی جانے؟ (بشکریہ احمدی ڈاٹ آرگ)
مرزا قادیانی کے ایام بعثت
- (1) ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں...... بلکہ میری طرف سے
عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں“۔
(ازالۃ اوہام صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192، سن اشاعت
1891ء از مرزا قادیانی)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1884ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 25 سال، 4 ماہ 26 دن بنتے ہیں۔
- (2) ”براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ظاہر ہوگا کہ یہ عاجز تجدید دین کے لیے اپنی عمر کے
سن چالیس میں مبعوث ہوا، جس کو گیاراں برس کے گذر گیا“۔
(نشان آسمانی صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 364 از مرزا قادیانی، سن اشاعت 1892ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1881ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 26 سال 10 ماہ 26 دن ہوتے ہیں۔
- (3) ”واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لیے بالہام
خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔ سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس
برس کامل گزر بھی گئے۔ دیکھو براہین احمدیہ ص: 238“۔
(نشان آسمانی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 374 از مرزا قادیانی: سن اشاعت : 1892ء)
اس عبارت کے مطابق سنہ بعث 1882ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعث تقریباً 25 سال 11 ماہ بنتے ہیں۔
- (4) ”اس عاجز کے دعویٰ مجدد اور مثیل مسیح ہونے اور دعوے ہمکلام الٰہی ہونے پر اب
بفضلہٖ تعالیٰ گیارہواں برس جاتا ہے۔ کیا یہ نشان نہیں ہے“۔
(نشان آسمانی صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 397 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1892ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعث 1881ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعث قریباً 26 سال 11 ماہ 26 دن ہوتے ہیں اس کتاب کے تینوں اقتباسات کے خط کشیدہ حصے قابل غور ہیں۔
- (5) ”یہ عاجز قریباً گیارہ برس سے شرف مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے“۔
(برکات الدعاء صفحہ 26، مندرجہ روحانی جلد 6 صفحہ 26 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1893ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعث 1882ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعث قریباً 26 سال 26 دن ہوتے ہیں۔
- (6) ”میں آج تم میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ سولہ برس سے حق کی دعوت کر رہا ہوں۔ تمہیں یہ بھی
سمجھ نہیں کہ مفتری جلد ضائع ہو جاتا ہے“۔
(ضیاء الحق صفحہ 69، مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 317 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1895ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعث 1879ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعث قریباً 29 سال 4 ماہ 26 دن ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ 1893ء میں گیارہ برس اور 1895ء میں سولہ برس لکھے ہیں۔
- (7) ”میرے دعویٰ الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت
نہیں دی جاتی۔
(انجام آتھم صفحہ 49، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 49 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1897ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعث 1876ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعث قریباً 31 سال 5 ماہ بنتے ہیں۔
- (8) "کیا کسی کو یاد ہے کہ کاذب اور مفتری کو افتراؤں کے دن سے پچیس برس تک
مہلت دی گئی جیسا کہ اس بندہ کو"۔
(سراج منیر صفحہ 2، مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 4 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1897ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1872ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 36 سال 4 ماہ 26 دن بنتے ہیں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ انجام آتھم (22 جنوری 1897ء) میں مدت بعثت پچیس برس تحریر فرمائی ہے۔
- (9) "میں تمہارے پاس تخمیناً بیس برس سے آیا ہوں۔ بس سوچ کہ کیا یہ دروغ گو
کی مدت ہے"۔
(حجۃ اللہ صفحہ 96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 234 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1897ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1877ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 31 سال 4 ماہ 26 دن بنتے ہیں۔
- (10) "اگر میں جھوٹا ہوتا تو دعوے کے بعد تیس سال تک کیسے زندہ رہتا"۔
(خطبہ الہامیہ صفحہ 313، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 313 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1902ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1870ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 36 سال ایک ماہ 15 دن ثابت ہیں۔
- (11) "براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور
مکالمات الٰہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے"۔
(اربعین نمبر 3 صفحہ 49، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 391 از مرزا قادیانی دسمبر 1900ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1870ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 37 سال 5 ماہ 12 دن ثابت ہوتا ہے۔
- (12) "قریباً تیس سال سے یہ سلسلہ جاری ہے"۔
(دافع البلاء صفحہ 26، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 242 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1902ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1872ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 36 سال ایک ماہ 4 دن ثابت ہوتے ہیں۔
- (13) ”حافظ صاحب علم سے بے بہرہ ہیں ...... کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ
کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افتراء کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے 23 برس پورے کیے ہوں“۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 44 از مرزا قادیانی 1902ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1879ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 28 سال 8 ماہ 25 دن بنتے ہیں
- (14) ”اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک میں نے چالیس
کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کیے ہیں“۔
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 30، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 66 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1902ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق قریباً سنہ بعثت 1881ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 27 سال 8 ماہ 26 دن ثابت ہوتے ہیں۔
- (15) ”تم دیکھتے ہو کہ میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کا 23 برس سے بھی زیادہ کا ہے جیسا
کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصہ پر نظر ڈال کر تم سمجھ سکتے ہو“۔
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1903ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق بعثت 1880ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 28 سال 7 ماہ 26 دن بنتے ہیں۔
- (16) ”میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کا اور نیز مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہونے کا
قریباً ستائس برس سے ہے یعنی اس زمانہ سے بھی بہت پہلے ہے کہ جب براہین احمدیہ ابھی تالیف نہیں ہوئی تھی“۔
(لیکچر لاہور ص 43، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 188 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1904ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1877ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 30 سال 8 ماہ 23 دن بنتے ہیں۔
- (17) ”میری عمر 67 سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ تیس سال سے بڑھ گیا ہے“۔
(لیکچر لدھیانہ صفحہ 45، مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 293 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1905ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1882ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 26 سال 6 ماہ 22 دن بنتے ہیں۔
(18) ”میں تقریباً تئیس برس سے اپنی وحی برابر آج کے دن تک شائع کرتا رہا ہوں“۔
(تحفۃ الندوہ صفحہ 12، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 100 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1906ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1882ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 25 سال 7 ماہ 21 دن بنتے ہیں۔
(19) ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں“۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 154، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1907ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1884ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 24 سال بنتے ہیں۔
(20) ”میرے اس دعویٰ وحی اور الہام پر پچیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں۔ کیونکہ وہ تئیس برس تھے اور یہ تیس برس کے قریب۔ اور ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہے“۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 214 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1907ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1877ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت تقریباً 31 سال 12 دن بنتے ہیں۔
(21) جب مجھ کو یہ الہام ہوا کہ الیس اللہ بکاف عبدہ تو میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا“۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 211، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1907ء)
نوٹ: یہ الہام غالباً 1880ء کا ہے۔ اس کے مطابق سنہ بعثت 1880ء معلوم ہوتا ہے۔ وفات تک بعثت تقریباً 28 سال 4 ماہ 26 دن ہونے چاہئیں۔
(22) ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب سلسلۂ الہامات کا شروع ہوا تو اس زمانہ میں، میں جوان
تھا۔ اب میں بوڑھا ہوا اور ستر سال کے قریب عمر پہنچ گئی اور اس زمانہ پر قریباً پینتیس سال گذر گئے“۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 29، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 461 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1907ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت ثابت 1872ء ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 36 سال ہوتے ہیں۔
- (23) ”ہر ایک کو معلوم ہے کہ میرے اس دعوے پر کہ میں خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر آیا
ہوں اور اس کے مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف ہوں۔ چھبیس برس کے قریب عرصہ گذر گیا ہے“۔
(ضمیمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 1، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 611 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1907ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1881ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 27 سال بنتے ہیں۔
- (24) ”ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 105، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 135 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1908)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1878ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 30 سال بنتے ہیں۔
- (25) ”ایک عظیم الشان خدا کا نشان یہ ہے کہ آج سے ستائیس برس پہلے یا کچھ زیادہ
میری یہ حالت تھی کہ میں ایک احد من الناس تھا اور ایسا گمنام تھا کہ صرف چند آدمی ہوں گے جو میرے صورت آشنا ہوں گے اور کسی عزت اور وجاہت کا مالک نہیں تھا...... اس زمانہ میں خدا نے میرے آئندہ عروج اور شوکت وجلال کی خبر دی جو دو سال بعد میری کتاب براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہو گئی جس کو آج پچیس برس گذر گئے“۔
چشمہ معرفت صفحہ 35، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 405 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1908ء)
نوٹ: اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1881ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 27 سال 11 دن بنتے ہیں۔
- (26) ”میں تخمیناً بیس برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں“۔
(پیغام صلح صفحہ 13، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 447 از مرزا قادیانی سن اشاعت 1908ء)
نوٹ: یہ مرزا صاحب کی وفات سے دو دن قبل کی کتاب ہے۔ اس عبارت کے مطابق سنہ بعثت 1878ء ثابت ہوتا ہے۔ وفات تک ایام بعثت قریباً 30 سال 2 دن بنتے ہیں۔
نوٹ: مرزا صاحب کے ایام بعثت پڑھ کر آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کے دعویٰ نبوت میں کتنی صداقت ہے۔ ایک سنہ کی کتابوں ہی میں نہیں، ایک کتاب میں بھی کہیں کچھ اور کہیں کچھ مدت تحریر کی ہے۔ منصب نبوت پر فائز ہونا تو نہایت اہم بات ہے، حجاج کرام تو حج ادا کرنے کے سال کو بھی یاد رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بہت بڑا انعام خداوندی ہے۔ یہی حال دنیاوی اعزازات و معاملات کا ہے۔ ہر شخص اپنے ڈاکٹر، انجینئر ، جسٹس، چیف جسٹس، وکیل، بیرسٹر، لیکچرار، پروفیسر، وی سی، ایس پی، آئی جی، کرنل، جنرل، سفیر، وزیر، یا صدر مملکت ہونے کے سن کو نہیں بھولتا۔ ایسے ہی اور اہم معاملات، مثلاً شادی بیاہ، موت میت، دکان کا افتتاح یا مکان کی تعمیر وغیرہ کا سن یاد رکھنا بھی عام سی بات ہے۔ حیرت و تعجب ہے، مرزا صاحب کو اپنا سال بعثت کیوں صحیح یاد نہیں رہا، جب کہ پانچ استادوں کے شاگرد اور (بقول خود) پڑھے لکھے نبی تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی وحی ضرور لکھی ہوگی۔ اگر نہیں لکھی تو یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ یا تو وہ وحی کا مطلب نہیں سمجھے یا وہ بھول گئے ہوں۔ سوال یہ ہے جو شخص اتنا غبی ہو، کیا وہ نبی ہوسکتا ہے؟۔
مرزا قادیانی کے ایام بعثت کے تضادات...... ایک نظر میں
- (1) سنہ بعثت 1884ء: ایام بعثت قریباً 25 سال 4 ماہ 26 دن۔
- (2) سنہ بعثت 1881ء: ایام بعثت قریباً 26 سال 10 ماہ 26 دن۔
- (3) سنہ بعثت 1882ء: ایام بعثت قریباً 25 سال 11 ماہ۔
- (4) سنہ بعثت 1881ء: ایام بعثت قریباً 26 سال 11 ماہ 26 دن۔
- (5) سنہ بعثت 1882ء: ایام بعثت قریباً 26 سال 26 دن۔
- (6) سنہ بعثت 1879ء : ایام بعثت قریباً 29 سال 4 ماہ 26 دن۔
- (7) سنہ بعثت 1876ء : ایام بعثت قریباً 31 سال 5 ماہ۔
- (8) سنہ بعثت 1872ء : ایام بعثت قریباً 36 سال 4 ماہ 26 دن۔
- (9) سنہ بعثت 1877ء : ایام بعثت قریباً 31 سال 4 ماہ 26 دن۔
- (10) سنہ بعثت 1870ء : ایام بعثت قریباً 36 سال ایک ماہ 15 دن۔
- (11) سنہ بعثت 1870ء : ایام بعثت قریباً 37 سال 5 ماہ 12 دن۔
- (12) سنہ بعثت 1872ء : ایام بعثت قریباً 36 سال ایک ماہ 4 دن۔
- (13) سنہ بعثت 1879ء : ایام بعثت قریباً 28 سال 8 ماہ 25 دن۔
- (14) سنہ بعثت 1881ء : ایام بعثت قریباً 27 سال 8 ماہ 26 دن۔
- (15) سنہ بعثت 1880ء : ایام بعثت قریباً 28 سال 7 ماہ 26 دن۔
- (16) سنہ بعثت 1877ء : ایام بعثت قریباً 30 سال 8 ماہ 23 دن۔
- (17) سنہ بعثت 1882ء : ایام بعثت قریباً 26 سال 6 ماہ 22 دن۔
- (18) سنہ بعثت 1883ء : ایام بعثت قریباً 25 سال 7 ماہ 21 دن۔
- (19) سنہ بعثت 1884ء : ایام بعثت قریباً 24 سال۔
- (20) سنہ بعثت 1877ء : ایام بعثت قریباً 31 سال 12 دن۔
- (21) سنہ بعثت 1880ء : ایام بعثت قریباً 28 سال 4 ماہ 26 دن۔
- (22) سنہ بعثت 1872ء : ایام بعثت قریباً 36 سال۔
- (23) سنہ بعثت 1881ء : ایام بعثت قریباً 27 سال۔
- (24) سنہ بعثت 1878ء : ایام بعثت قریباً 30 سال۔
- (25) سنہ بعثت 1881ء : ایام بعثت قریباً 27 سال 11 دن۔
- (26) سنہ بعثت 1878ء : ایام بعثت قریباً 30 سال 2 دن۔
علامہ اقبال اور مسئلہ ختم نبوت
اس سرمدی حقیقت کا تکرار مسلمان کے ایمان کو ہر بار ایک نئی تازگی بخشتا ہے کہ حضور خیر البشر بآبائنا ہو و امہاتنا کے وصال کے ساتھ بنی آدم پر حق کی حجت ہمیشہ کے
لیے ختم ہو گئی۔ فطرت انسانی کو ذہنی، اخلاقی اور روحانی عروج کے انتہائی نقطہ پر پہنچانے کے لیے خدائے بزرگ و برتر کی ارحم الراحمین نے جو آسمانی ضابطہ مرتب کیا تھا، کامل و مکمل ہو گیا جو نعمتیں انسان کو اپنے پروردگار کی طرف سے ملنے والی تھیں۔ اُن میں کسی مزید اضافہ کی گنجائش باقی نہ رہی یعنی اس کی دینی و دنیوی فلاح کا وہ دستور العمل جس کا جامع نام اسلام ہے، اپنی آخری شکل میں اس کے سامنے آگیا۔ رب اکبر کے اسی احسان عمیم اسی انعام عظیم کا نام ختم نبوت ہے۔ جو ملت بیضا کے اوراق کی شیرازہ بند اور اس کی حیات جاودانی کی سرمدیت کی ضامن ہے۔ جس زادۂ توحید کو مبدء فیاض سے سوچنے اور سمجھنے کی کچھ بھی توفیق ارزانی ہوئی ہے، اس کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بد ستور جاری رہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا کا آخری پیغام جسے حضورﷺ نے اس کے بندوں تک پہنچایا، ہنوز تشنہ تکمیل تھا، ابھی انسان کو اپنی دنیوی فلاح اور اخروی نجات کے لئے کسی نئی ہدایت، کسی جدید رہنمائی کی ضرورت تھی اور اس شریعت پر جس کے آخری علم بردار حضور خواجہ دو جہاںﷺ تھے، کسی نئی شریعت کا اضافہ ہونے والا تھا۔ ظاہر ہے کہ نبوت کے ارتقاء جاری کا یہ امکان اگر تسلیم کر لیا جائے تو پھر مسلمانوں کی قومی وحدت اور ان کے نظام اجتماعی کا پارہ پارہ ہو جانا چند دن کی بات ہے۔ اسی خطرہ کو حضور سرور کون و مکانﷺ کی چشم جہاں بیں نے جس کے لیے علام الغیوب کے فیضان نہانی نے سراپردہ غیب کا ایک گوشہ سرکا دیا تھا، پہلے سے دیکھ کر اپنی امت کو متنبہ کر دیا کہ سيكون في امتي ثلثون دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبي الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي.
یہ قابل رشک شرف پنجاب کی قسمت میں لکھا تھا کہ اس کی الحاد پرور خاک سے ایک شخص جس کا نام مرزا غلام احمد ہے، اٹھے اور از راہ غایت شوخ چشمی یہ دعوے کر دے کہ نبوت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں ہوئی بلکہ بدستور جاری ہے۔ اور میں اس زمانہ کا نبی ہوں جس پر وحی آتی ہے اور جس کا کلام قرآن مجید کی طرح خطا سے پاک اور لغزشوں سے منزہ ہے اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے، وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ اس شخص نے کلام اللہ کی آیات کو من مانی تاویلوں اور سوچی سمجھی ہوئی تحریفوں سے کچھ کا کچھ کر دیا۔ رسول اللہ کی شریعت غرا کے احکام کو اپنی خرافات واہیہ کا بازیچہ بنا دیا۔ اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ میں ایک ایسا خوفناک فتنہ پیدا کر دیا کہ دنیائے اسلام کے طول و عرض میں شور قیامت
بپا ہو گیا۔ اس شخص نے دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کو جو اس کے مزخرفات لایعنی کے منکر تھے، بیک کشش قلم دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ اور اپنی مٹھی بھر جماعت کو جس کی تعداد اس کے انوکھے دعوے کے بعد سے لے کر اس وقت تک کلہم چھپن ہزار تک پہنچی ہے، اسلام کا واحد اجارہ دار قرار دیا۔
ہندوستان میں اگر حکومت اسلامی ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اس قسم کا خطرناک ملحد جو نہ خدا کا قائل ہو، نہ قرآن کا اور جو حطام دنیوی کی خاطر اسلام کی سیزدہ صد سالہ روشن حقیقتوں کو جھٹلانے اور مسلمانوں کی مجاہدانہ فطرت کو غلامانہ دنائت کے زہریلے جراثیم سے آلودہ کرنے میں ذرا باک نہ کرتا ہو، یوں کھلے بندوں چھوڑ دیا جاتا، لیکن مسلمانوں کی شومی قسمت اور اس کی خوبی تقدیر سے حکومت اغیار کی تھی جسے مسلمانوں کی تہذیب اور مسلمانوں کے نفسیات سے طبعاً کچھ بہت زیادہ ہمدردی نہ ہو سکتی تھی۔ مرزا غلام احمد کی عیاری نے حکومت کو باور کرا دیا کہ صرف مرزائی ہی اس کے وفادار ہو سکتے ہیں جن کا مذہب اس وفاداری کو جزو ایمان قرار دیتا ہے۔ باقی تمام وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں، اگر بالفعل باغی نہ ہوں تو بالقوۃ ضرور باغی ہیں۔ اور ان کی بغاوت کے استقبالی خطرہ سے بچنے کی یہی سبیل ہو سکتی ہے کہ تمام مسلمانوں کو مرزائیت کا حلقہ بگوش بنا دیا جائے۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، قادیانیت کا یہ خطرہ میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا اور میری ساری عمر اس ہولناک فتنہ کا مقابلہ کرنے میں گزر رہی ہے۔ مسلمانوں نے اول اول قادیانی خطرہ کو کچھ بہت زیادہ اہمیت نہ دی۔ علمائے امت نے اتنا ضرور کیا کہ جس طرح غلام احمد قادیانی نے ان کو اور باقی تمام مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا، اسی طرح انہوں نے بھی اس پر اور اس کی امت قلیل الانفار پر کفر کا فتویٰ لگا دیا یا اس کے مایہ ناز مسئلہ ممات مسیح پر اس کے ساتھ اور اس کے اتباع و اعوان کے ساتھ ہنگامہ خیز مناظرے کر لئے۔ لیکن زہر کا یہ تریاق کچھ بہت زیادہ سود مند ثابت نہ ہوا اور مرزائیوں کا پروپیگنڈا اس مذہبی رواداری کے سایہ میں جس کا حکومت وقت کو ادعا ہے، پروان چڑھتا رہا۔
آخر میرے شور و غل اور میرے رفقا کی ہائے و ہو نے عام مسلمانوں کی آنکھیں کھولیں اور جب حکومت نے میرزائیت کی پیٹھ پر علی الاعلان تھپکیاں دینی شروع کیں تو ان کو صاف نظر آنے لگا کہ جس فتنہ سے انہیں پالا پڑا ہے وہ کس قدر ہولناک ہے۔ میں پہلے دن
سے پکار رہا ہوں کہ فرقہ ضالہ مرزائیہ جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے میں شب و روز مصروف ہے، ہرگز یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کا شمار مسلمانوں میں ہو بلکہ سکھوں، پارسیوں، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کی طرح اس فرقہ کا شمار بھی سرکاری کاغذوں میں ایک جداگانہ اقلیت کے طور پر ہونا چاہیے۔ جب حکومت کی امپیریل مصلحتوں نے چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی کو جس کے عقیدہ میں تمام مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں، وائسرائے کی کونسل میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تو ”زمیندار“ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ قادیانی فتنہ اب خطرناک تر ہونے والا ہے۔ چنانچہ طول و عرض ہند میں اس کے خلاف احتجاج ہوا مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور چودھری ظفر اللہ خاں کا تقرر عمل میں آ ہی گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک مسلمان برابر پکار رہے ہیں کہ قادیانیوں کا اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ انہیں ایک جداگانہ اقلیت قرار دیا جائے، حکومت ان کے ساتھ ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے جو مراعات چاہے کرے لیکن انہیں اسلام کا نمائندہ سمجھ کر نہ کرے اس لیے کہ مسلمانوں سے ان کا کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔
مسلمانانِ ہند کا یہ سارا شور حکومت کے بہرے کانوں پر پڑا۔ اس اہم مسئلہ پر جس نے مسلمانوں کو ایک عرصہ سے بے چین کر رکھا ہے، اگر اس نے کبھی لب کشائی کی ضرورت بھی محسوس کی تو مسلمانوں کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ سارا شور غیر ذمہ دار اور متعصب لوگوں کا بپا کیا ہوا ہے۔ مسلمانوں کا ذمہ دار اور فہیم طبقہ مرزائیوں کو پکا مسلمان سمجھتا ہے۔
آخر وہ وقت بھی آیا کہ حکومت کی نگاہ میں جو لوگ ذمہ دار اور فہیم اور غیر متعصب تھے، انہوں نے عامہ مسلمین کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے لگی لپٹی رکھے بغیر حکومت کو جتا دیا کہ قادیانیت ایک بالکل جداگانہ مذہب ہے جسے اسلام سے کوئی واسطہ نہیں اور اگر حکومت نے قادیانیوں کو ایک علیحدہ اقلیت قرار دینے میں کوتاہی کی تو مسلمانوں کا یہ شبہ یقین کے درجہ کو پہنچ جائے گا کہ حکومت مسلمانوں کی وحدت ملی کو پارہ پارہ ہوتا ہوا دیکھنے کی خود متمنی ہے۔
خدا بھلا کرے علامہ اقبال کا جن کے حکیمانہ بیان نے ان ساری حقیقتوں کو بکمال شرح وبسط الم نشرح کر کے مسلمانانِ ہند کی ایک ایسی عظیم الشان خدمت انجام دی جس کا صلہ
انہیں حضور سرور کون ومکان ﷺ کی ختم المرسلینی ہی کی بارگاہ سے مل سکتا ہے۔
علامہ اقبال کا یہ دعوے کہ ختم نبوت کا عقیدہ جو دین حجازی کے آغوش میں پرورش پا کر ملت بیضا کی وحدت و اکتناز کا حصار عافیت بن گیا، بنی آدم کی ثقافت کی تاریخ میں اپنے اچھوتے پن کے لحاظ سے اپنا جواب آپ ہے۔ ایک روشن و تابناک حقیقت ہے جسے تاریخ آج تک نہیں جھٹلا سکی۔ توحید اور رسالت کا صحیح تصور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق صرف سامی تہذیب کو میسر ہوئی ہے۔ یہ تہذیب جس کا دور ابو الانبیا حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے شروع ہوتا ہے، کوئی پانچ ہزار سال پرانی ہے اور اس کی ورق گردانی سے مذہب کے طالب علم کو یہ پتہ تو چلتا ہے کہ ہر نبی نے جو خدائے بزرگ و برتر کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے کیلئے من جانب اللہ مامور ہوا، اس پیغام کی تکمیل کے لیے اپنے کسی جانشین کے آنے کی پیشین گوئی کی اور اس کی امت اپنے قوائے ذہنی و اخلاقی و روحانی کو درجہ کمال تک پہنچانے کی امید میں کسی آنے والے نبی کی آمد کی منتظر رہی۔ لیکن ہزار جستجو کے بعد بھی اس واقعہ کا سراغ ابداً نہیں ملتا کہ کسی رسول یا نبی نے یہ دعوے کیا ہو کہ دین کامل ومکمل ہوگیا، حق کی حجت تمام ہوگئی اور میرے بعد ابدالآباد تک کیلئے نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ یہ دعوٰی انسان نے آج سے کوئی ساڑھے تیرہ سو سال پہلے اول اول وادی بطحا میں سنا، جب کائنات کا ذرہ ذرہ اس آسمانی حقیقت کی شہادت دیتا ہوا پایا گیا کہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔
- ❑ ابراہیم آذر آئے اور دنیا والوں کو یہ خوشخبری دیتے گئے کہ ”میں (خدا) نے اسمعیل
کی نسبت تیری سنی دیکھ میں نے اسے برکت دی ہے۔ میں اس کو بار آور کروں گا۔ اس کی نسل بے شمار ہوگی ،اس سے بارہ سردار ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا“۔
(تورات کتاب پیدائش باب 17 فقرہ 20، 21)
- ❑ موسیٰ عمران آئے اور دین قیم کے نور کے اتمام کا مژدہ اہل عالم کو یہ کہہ کر سناتے
گئے کہ ”خداوند جو تیرا خدا ہے، تیرے بھائیوں میں سے تیرے لیے ایک نبی میری مانند پیدا کرے گا۔ تم اس کی سنیو اور خدا نے مجھ سے کہا کہ میں تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی پیدا کروں گا۔ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ جو کچھ میں حکم دوں گا، وہ میرے نام سے ان کو سنائے گا۔ اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میرا کلام جو وہ نبی کہے گا، نہ سنے گا،
میں اس سے مواخذہ کروں گا۔ مگر جو نبی ایسی دلیری کرے گا کہ میری طرف وہ احکام منسوب کرے گا جس کی نسبت میں نے حکم نہیں دیا یا میرے سوا کسی اور معبود کی نسبت گفتگو کرے گا، وہ نبی ہلاک کیا جائے گا‘‘۔ (استثناء باب 18 فقرات 15، 18، 19 تا 20)
- ”عیسیٰ مریم آئے اور جب گئے تو اپنی امت کو یہ بشارت دیتے گئے کہ ”میں تم
سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے ضرور ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو فارقلیط نہیں آئے گا مگر اگر میں جاؤں تو میں اس کو تمہارے پاس بھیج دوں گا‘‘۔
(انجیل یوحنا باب 16 فقرہ 7)
اسی قسم کی بیسیوں منقولی شہادتوں سے جن پر معقولی دلائل کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت آفتاب عالمتاب کی طرح روشن ہے کہ امم عالم کی کم از کم چار ہزار سال کی تاریخ میں ختم نبوت کے عقیدہ سے کسی قوم کا دماغ آشنا نہیں ہوا۔ اس عقیدہ کے عالم وجود میں آنے کا ایک وقت مقرر تھا۔ وہ ساعت موقوت حضور خواجہ کون ومکان ﷺ کے مسند رسالت پر فائز ہونے کے ساتھ آئی جو حق کے نقطۂ اوج اور باطل کے نقطۂ حضیض پہ پہنچنے کی ساعت تھی۔
ختم نبوت کے اس عقیدہ کو جھٹلانے کی جرأت اس ساڑھے تیرہ سو سال کے عرصہ میں اگرچہ متعدد پرستاران طاغوت کو ہوئی ہے لیکن اس جرأت کا سب سے زیادہ بے باکانہ مظاہرہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قلیل الانفار ذریت کی طرف سے ہوا اور میرا پختہ یقین ہے کہ اسی تکذیب کی پاداش میں طائفہ قادیانیہ جس کے نیم جان بدن میں حکومت وقت کے سیاسی مصالح نے تھوڑی بہت حرکت پیدا کر رکھی ہے، اپنے وقت پر اسی طرح گرد روزگار میں دب کر ہمیشہ کے لیے فنا ہو جائے گا جس طرح اس سے پہلے دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کی امتیں نیست و نابود ہو چکی ہیں‘‘۔
(مولانا ظفر علی خاں کا مضمون مطبوعہ روزنامہ زمیندار 9 مئی 1935ء)
قادیانی کرتوت
فخر الدین ملتانی ایک سچا قادیانی تھا۔ مسیح موعود کی خاطر اپنے شہر کو چھوڑ کر قادیان میں آ بسا تھا۔ مسیح موعود کے ”صحابی“ اور احمدیہ کتاب گھر قادیان کے مالک تھے۔ جب عبدالرحمٰن مصری نے مرزا محمود پر بدکاری کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی تحقیق کا
مطالبہ کیا تو ان کے معقول اور مناسب موقف کو دیکھتے ہوئے فخر الدین ملتانی نے بھی ان کی تائید کی اور مرزا محمود کو زنا کاری اور بدکاری کے ہولناک الزامات سے بریت کے لیے آسان رستے بتائے کہ یا تو آپ موکد بعذاب قسم کھا کر ان الزامات سے اپنی بریت کا اعلان کریں۔ یا جماعت کی طرف سے ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھایا جائے جو سارے الزامات کا جائزہ لے کر کسی نتیجہ پر پہنچے۔ لیکن مرزا محمود کے حواریوں نے اسلام میں زنا کے الزام کے ثبوت کے طور پر چار گواہوں کی آڑ لے کر مرزا محمود کی بدکاریوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔ تب عبدالرحمن مصری، فخر الدین ملتانی اور ان کے احباب کی طرف سے ان الفاظ میں مرزا محمود کو کھلا چیلنج دیا گیا: ”سنا ہے کہ آپ نے چار گواہوں کا ذکر لوگوں سے کیا ہے۔ اگرچہ ہم سے تو نہیں کیا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ اسی کے لیے تیاری فرمالیں۔ ہم صرف چار ہی نہیں بلکہ بہت سی شہادتوں کے علاوہ لڑکیوں اور لڑکوں کی شہادت کے خود جناب والا کی اپنی شہادت بھی پیش کریں گے۔ اگر ہم ثبوت نہ دے سکے تو آپ کی بریت ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ کے لیے ذلیل ہونے کے علاوہ ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لیے بھی تیار ہیں“ یہ ایسی صورتحال تھی کہ چار گواہوں کا عذر کرنے والے بُری طرح جکڑے گئے تھے۔ تب ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کے لیے نا قابل یقین حد تک شرمناک سوشل بائیکاٹ کی سزا دینے کے ساتھ ان لوگوں کو قتل کرنے کی تحریک کی گئی۔ فخر الدین ملتانی کا سوشل بائیکاٹ کتنا شرمناک تھا، اس کا اندازہ ان درد ناک اشتہارات سے کیا جاسکتا ہے جو انہوں نے تب جماعت کے نام لکھے تھے۔ ان میں سے صرف ایک اقتباس دیکھیں اور قادیان میں قادیانی خلافت کے طرز حکومت اور حکومتی دہشت گردی کا اندازہ کریں۔
- ❑ ”میرے اخراج کے اعلان میں سزا صرف یہ ظاہر کی گئی تھی کہ کلام، سلام، پیام فخر
الدین سے بند۔ مگر اس سزا کی عملاً جو تشریح کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ
- 1- میری اہلیہ اور میرے بچوں کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے، اس جرم میں کہ وہ میرے
بچے ہیں۔
- 2- میرے شیر خوار اور بیمار بچہ کا دودھ بند کرا دیا گیا ہے۔ اس جرم میں کہ وہ میرا بچہ
ہے۔ (اس بچے کا ایک بازو بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ ناقل)
- 3- میری معذور بیوی کو نہلانے والی عورت کو میرے گھر آنے سے روک دیا گیا ہے
- 5- میرے مکانوں کے کرایہ داروں کو مجبور کر کے مکان خالی کرا دیئے گئے ہیں
- 7- میرے مکان کے ارد گرد چوبیس گھنٹہ بیسیوں آدمیوں اور لڑکوں کا پہرہ رکھ کر میرے
اہل و عیال کو اور مجھے بے جا تخویف اور ہیبت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
- 8- احمدی دوکانداروں کو مجھے ضروریات زندگی دینے سے روکا گیا ہے۔
- 9- میرے کاروبار کو مطلقاً بند کر کے مجھے اور میرے اہل و عیال کو نان شبینہ کا محتاج اور
مفلوک الحال بنانے کی اسکیم بنائی گئی ہے......
- 11- میرے مکان کی بیرونی کھڑکیوں کے سامنے 24 گھنٹہ اس قسم کے لڑکوں کو بٹھایا
جاتا ہے جن میں سے بعض لڑکے رات کو ہمارے احتیاطی ٹارچ روشن کرنے پر سامنے الف ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں......
- 13- میرے بچوں کو سکول میں تعلیم دینے سے انکار کر کے نکال دیا گیا ہے، کیونکہ وہ
میرے بچے ہیں“۔
(بحوالہ اشتہار ”میرے پر اسرار اخراج کے اعلان کی حقیقت“ مطبوعہ جولائی 1937ء)
معاملہ صرف اتنے انسانیت سوز اور شرمناک سوشل بائیکاٹ تک نہیں رہا۔ مرزا محمود نے زنا کاری کے الزامات سے بریت ظاہر کرنے کے لیے کوئی معقول یا شریفانہ راستہ اختیار کرنے کے بجائے ان لوگوں کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے اشتعال انگیز خطبے دینا شروع کر دیئے، تب مرزا محمود نے قادیان کے اندر اپنی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو خطبے دیئے ان کے چند اقتباسات سے ساری حقیقت از خود واضح ہو جائے گی:
- 1- ”تم میں سے بعض تقریر کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مر جائیں
گے۔ مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہیں کریں گے۔ مگر جب کوئی ان پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں...... بھلا ایسے...... نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں“
(”روزنامہ الفضل قادیان“ قادیان 5، جون 1937ء)
- 2- ”کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے
حضرت مسیح (یعنی مرزا قادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں
میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہیے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔“
(تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 25 نمبر 129، صفحہ 6 مورخہ 5 جون 1937ء)
- 3- مظلومیت کے رنگ میں عمر قید چھوڑ، پھانسی پر بھی لٹکایا جائے، ہم اسے باعث
عزت سمجھیں گے“ (روزنامہ الفضل قادیان: 11 جولائی 1937ء)
- 4- 6 اگست 1937ء کو مرزا محمود نے ایک انتہائی اشتعال انگیز خطبہ دیا جس کا ذکر
”الفضل“ کے حوالہ سے کرنے کے بجائے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عدالتی ریمارکس سے کرنا زیادہ مناسب ہے کہ اس میں اس خطبہ کے جواب میں فخر الدین ملتانی کا جواب بھی عدالت نے از خود بیان کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جج نے لکھا۔
”مورخہ 23 جولائی کو خلیفہ نے ایک خطبہ دیا جو بعد میں یکم اگست کے اخبار ”الفضل“ میں، جو کہ جماعت کا سرکاری پرچہ ہے، شائع ہوا اس خطبہ میں خلیفہ نے جماعت سے علیحدہ ہونے والے اشخاص پر حملے کئے اور ایسے الفاظ ان کی نسبت استعمال کیے ہیں جن کے متعلق یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وہ منحوس (Unfortunnate) اور افسوسناک تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فخر الدین نے جو اس انجمن کا سیکرٹری تھا جس کے صدر شیخ عبدالرحمٰن مصری ہیں، ان کا جواب لکھا، جس میں اس نے کہا:
اسی لیے تو ہم بار بار جماعت سے آزاد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاکہ اس کے روبرو تمام امور اور شہادتوں اور مخفی در مخفی حقائق پیش ہو کر اس قضیہ کا جلد فیصلہ ہو جائے کہ کس کا خاندان ”فحاشی کا مرکز“ یا باالفاظ دیگر وہ ہے جو خلیفہ نے بیان کیا“
(فیصلہ عدالت عالیہ لاہور ۔ ایف بی ڈبلیو سکیمپ ۔ جج عدالت عالیہ ہائیکورٹ لاہور ۔ مورخہ 23 ستمبر 1937ء)
مرزا محمود کے ان اشتعال خطبات کے نتیجے میں 7 اگست 1937ء کو فخر الدین ملتانی پر عزیز احمد نامی ایک قادیانی نے سرعام تیز دھار آلہ سے حملہ کر دیا۔ انہیں زخمی حالت میں گوردا سپور ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ 13 اگست کو جان بحق ہو گئے۔ دن دہاڑے اور کتنے ہی لوگوں کے سامنے فخر الدین ملتانی کا قتل کیا گیا لیکن قادیان کے تمام چشم دید گواہوں کو خوفزدہ کر کے
گواہی دینے سے روک دیا گیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی گاؤں کا جاگیر دار قتل کراتا ہے اور پورے گاؤں کو دھمکاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں گاؤں کا ہر فرد اس وقوعہ سے لاعلمی کا اظہار کر کے اپنی جان بچاتا ہے۔ ڈاکٹر گوربخش سنگھ ایم بی بی ایس کی دوکان بھی اس بازار میں تھی جہاں قتل کیا گیا۔ وہ جماعت کے دباؤ میں نہ آئے۔ اسی لیے ان کی گواہی نے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ مرزا محمود کی سفاکی اور بے رحمی یہیں تک نہیں رہی۔ قتل کرانے کے بعد زنا کار مرزا محمود نے فخر الدین ملتانی کی نعش سے بھی انتقام لیا۔ جب ان کی نعش قادیان لائی گئی تو قبر کھودنے والے مزدوروں کو قبر کھودنے سے روکا گیا، لحد کے لیے اینٹیں دینے سے منع کیا گیا اور نعش کے لیے لکڑی کا بکس بنانے والے مستریوں کو بکس بنانے سے روک دیا گیا۔ بعض باہر سے آئے ہوئے اہل اسلام نے ان کی تدفین کر کے انسانیت کا ثبوت دیا لیکن قادیان کی ریاستی دہشت گردی کے سامنے ان کی انسانیت کے سارے مکارانہ دعوے ننگے ہو کر رہ گئے۔
ایک طرف ظلم اور بربریت کا یہ منظر تھا، دوسری طرف مرزا محمود نے فخر الدین ملتانی صاحب کے قتل کے بعد قاتل سے اپنی بریت کا اظہار کر دیا۔ چنانچہ ”الفضل“ قادیان میں قتل کے بعد مرزا محمود نے فرمایا: ”بے شک میاں عزیز احمد صاحب نے جو فعل کیا، وہ خلاف شریعت تھا اور ہم اسے برا ہی قرار دیتے ہیں“ لیکن یہ صرف قتل کرانے کے جرم سے بچنے کے لیے ایک زنا کار شخص کا جھوٹا اور مکارانہ بیان تھا۔ اندرون خانہ اس قاتل کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں مولوی فضل دین کو تمام ذمہ داری سونپی گئی اور مرزا عبدالحق کو مقدمہ کی پیروی کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس کے باوجود مجرم کو سزائے موت ہو گئی۔ جب عزیز احمد کی لاش قادیان میں لائی گئی تب اس کا زبردست ماتمی جلوس نکالا گیا۔ مرزا محمود نے خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسے شہید احمدیت قرار دیا گیا۔ حالانکہ وہ شہید محمودیت تھا۔ موصی نہ ہوتے ہوئے اس کی تدفین ”بہشتی مقبرہ“ میں کی گئی۔ اس کے نامہ اعمال میں ایک ہی نیکی تھی کہ اس نے مرزا محمود کو زنا کاری کے شرمناک الزامات سے نجات دلانے کے لیے دلائل کے ساتھ ایک الزام لگانے والے کا خون کر دیا۔ لیکن آج وقت بتا رہا کہ مرزا محمود زنا کاری کے الزام سے بری ہو سکا نہ فخر الدین ملتانی کا خون رائیگاں گیا۔ آج وہ سارے پوشیدہ راز، انٹرنیٹ کے ذریعے ساری دنیا کے سامنے آ گئے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ خود کو دلائل کے میدان میں نا قابل تسخیر سمجھنے والے اور لیاقت علی خان کی شہادت کے حوالے سے اور دوسری
معمولی باتوں پر موکد بعذاب قسمیں کھانے والے قادیانی خلیفوں (مثال کے طور پر دیکھیں مرزا طاہر کا ساٹھ موضوعات پر مباہلہ کا نام نہاد چیلنج) کو اپنے باپ مرزا محمود کی پاکیزگی کے لیے حلفیہ بیان دینے کے مطالبہ پر اور زنا کے الزامات سے اس کی بریت کے لیے موکد بعذاب قسم کھانے کے تقاضہ پر کیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ کیا آج بھی مرزا محمود کی اولاد میں سے کوئی ہے جو اپنے باپ کی زنا کاری کے تمام الزامات سے بریت کے لیے صرف ویسے ہی قسم کھا لے جیسے مرزا طاہر نے اپنے ساٹھ موضوعات والے مباہلہ کے چیلنج میں قسمیں کھائی تھیں۔ صرف ایک موضوع پر ویسی قسم کھانے کا مطالبہ ہے۔ مرزا محمود کی زنا کاریوں سے بریت کی قسم...... ہے کوئی خاندان خلافت میں مرد بہادر جو اس جرأت کے لیے آج بھی تیار ہو!
یہ ہیں قادیانی مربی!
مربی...... نظام جماعت کا ایک اہم حصہ، جسے چندوں کے نام پر خون کی طرح چوسی گئی رقوم کا بے دریغ استعمال کر کے مربی یا مبلغ صرف اس لیے بنایا جاتا ہے کہ ایک تو وہ تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائے اور دوسرا غلامان قادیانیت کی تربیت اس انداز سے کرے کہ جن کی وفاداری کتوں سے بڑھ کر ہو کیونکہ کتا وفاداری کے عوض مالک سے پیٹ بھرنے کے لیے غذا بھی لیتا ہے جب کہ ایک مخلص قادیانی کو اس طرح سدھایا جانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اڑتالیس چندوں کی شکل میں غذا بھی جماعت کو فراہم کرے اور پھٹکاریں سننے کے ساتھ ساتھ دہلیز کے باہر بیٹھ کر متواتر دم بھی ہلاتا رہے کیونکہ جب دم ہلنی بند ہو جائے تو مخلص قادیانی کا لفظ سکڑ کر فقط قادیانی رہ جاتا ہے۔ آج کا مربی یہ دونوں کام نہیں کرتا، تبلیغ اس لیے نہیں کرتا کہ وہ جھوٹ نے اس قدر کر دی ہے کہ آئندہ پچاس سالوں تک اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اور تربیت اس نہیں کر پاتا کہ آج کل اسے اور بہت سے کام ہیں۔ آئیے ذرا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں کہ آج کا قادیانی مربی ہے کیا اور کرتا کیا ہے؟
مربیوں کی دو اقسام ہیں۔ پہلی قسم کے وہ مربی جو با رسوخ ہیں جن کے تعلقات اعلیٰ سطح پر ہیں جن کے بڑوں نے خاندان مغلیہ کی بے پناہ خدمت کی ہوئی ہے۔ ان کی بدکاریوں میں شامل رہے ہیں یا ان پر پردے ڈالتے رہے ہیں اور ہر انتخاب خلافت کے موقع پر شاہی خاندان کا ساتھ دیتے رہے ہیں، ایسے مربی امریکہ، کینڈا اور یورپ کے رنگین
ممالک میں تعینات ہیں اور ہر سیاہ سفید کے مالک ہیں۔ نہ یہ خدا سے ڈرتے ہیں اور نہ خدا کی مخلوق سے، ان کے ہاتھ اور زبانوں سے کوئی محفوظ نہیں، زندگی کی ہر آسائشوں سے مالا مال ہیں۔ گھر، گاڑی، پٹرول، ٹیلیفون، فیکس، ٹی وی، ویڈیو موبائل فون، فرنیچر، اخبارات میڈیکل فیسلیٹی اور ہر چیز مفت ملنے کے علاوہ معقول تنخواہ وصول کرتے ہیں، ان میں سے اکثر زیادہ گھی کھانے کی وجہ سے باؤلے ہو چکے ہیں۔ یہ خود کسی سے سلام نہیں لیتے، سلام کا جواب دینے کے بجائے صرف گردن ہلا دینا ہی کافی سمجھتے ہیں، چہرے پر ہر وقت تیوریاں چڑھائے رکھتے ہیں، نمازیوں کو بلاوجہ انتظار کروا کر نماز پڑھاتے ہیں، مسجد کے داخلی دروازے سے لے کر اگلی صف تک پہنچتے پہنچتے دو تین شرفاء کو بغیر وجہ کے جھڑک کر گزریں گے، خطبات میں حاضرین کو جھڑکیاں دینا فرض سمجھتے ہیں، بیماری کا بہانہ بنا کر روزہ نہیں رکھتے مگر افطار پارٹیوں میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ کھانا شروع کریں گے تو مرغ کی ٹانگ کو سب سے پہلے ہاتھ ڈالیں گے، سفر کریں گے تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھیں گے، اپنا بریف کیس ہمیشہ دوسرے کو پکڑائیں گے، کسی کے گھر دعوت پر جائیں گے تو خالی ہاتھ ہونگے جبکہ واپسی پر دونوں ہاتھوں میں گفٹ پیکٹ ہوں گے۔ قادیانی مربی تو بیمار مریض کے منہ پر لگی آکسیجن بھی اٹھا کر گھر لے جانے کی سوچ میں ہوتے ہیں کہ شاید گھر کے پودوں کے کام آسکے۔ ان کو جتنا مرضی کھلائیں پلائیں مگر اگر کبھی آپ کو کوئی دفتری کام پڑ جائے تو آٹھ دس چکر ضرور لگوائیں گے۔ اچھی غذا کی خاطر اکثر بے معنی دوروں پر رہتے ہیں۔ پاکستان میں بیل گاڑیوں اور ریڑھوں کے پیچھے بھاگنے والے یہاں اکثر جہازوں میں سفر کرنا پسند کریں گے اور فخر سے بتائیں گے کہ ہم خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔ ان کا تبادلہ عمومی طور پر تین سال بعد ہوتا ہے مگر بھائی اگر خلیفہ وقت کا پرائیویٹ سیکریٹری ہو تو پھر تبادلے کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ امراء کے متوازی اپنی علیحدہ لابی بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اب ایک بیچارے مربی کو اتنے سارے کام ہوں تو پھر تبلیغ اور تربیت کا کام بھلا وہ کیسے کر سکتا ہے؟
دوسری قسم کے وہ مربی ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی وفا داریاں تو قصر خلافت تک ہوتی ہیں مگر تعلق داریاں نہیں اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے شاہی خاندان کی کوئی خاص خدمت کی ہوئی ہے تو چاہے وہ جامعہ احمدیہ کے ایوارڈ یافتہ ہی کیوں نہ ہوں، ان کی تقرریاں تھر پارکر، لیہ، چیچو کی ملیاں، گھوٹکی اور انا پکا جیسے علاقوں
میں ہی ہوتی ہیں۔ اگر کسی پر رحم آگیا تو اسے افریقہ کے کسی بھوکے ننگے ملک لائبیریا، صومالیہ یا کانگو کی بے رحم فضاؤں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جہاں وہ جیتے ہیں نہ مرتے ، ان کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، دعوتوں میں انہیں مکی کی روٹی اور ساگ ہی ملتا ہے اور تحفے کے طور پر گنے کی گٹھری، ان کے نہ تو تن پر ڈھنگ کے کپڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی پاؤں میں اچھے جوتے ، ان کے بیوی بچے بھی بڑی کسمپرسی میں گزر بسر کرتے ہیں، جلد از جلد تبادلوں کی وجہ سے ان کے بستر ہمیشہ ہر وقت بندھے ہی رہتے ہیں۔ یہ روٹی کے چکر میں نہ تبلیغ کر پاتے ہیں اور نہ تربیت۔
ان دونوں اقسام کے مربیوں میں جو واضح فرق ہے اس کی ایک چھوٹی سی جھلک یہ ہے کہ ربوہ میں ایک بڑی کلغی والے شاہی وفادار مبلغ ابوالمنیر نورالحق کے ایک بیٹے سے جب ربوہ کے چند قادیانی لڑکوں نے بدفعلی کی تو جماعتی طریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیس فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور مہینوں ملزموں کی ضمانتیں بھی نہیں ہونے دی گئیں اور فیصل آباد میں متعین ایک غریب مربی کی نوجوان بیٹی سے جب جماعت کے ایک بڑے نامور ستون کے ایک بیٹے نے زیادتی کی تو صاحبزادے کو تو کچھ نہ کہا گیا البتہ مربی صاحب کو سندھ کے دور دراز ایک ایسے بیابان علاقے میں بھیج دیا گیا جہاں نہ دیوا تھا نہ بتی۔
جرمنی میں ایک مربی ہیں باسط طارق مربیوں کی نیند، جسامت اور توند کے حساب سے بنے بنائے سانڈ ہیں۔ ایک دعوت میں خود ہی کہہ رہے تھے کہ وہ مربی، مربی ہوتا جو ڈھائی من کا نہ ہو، موصوف ریچھ کی طرح رج کے کھاتے اور دب کے سوتے ہیں۔ ان کی تقرری کولون میں ہوئی تو امیر جماعت جرمنی بنفس نفیس خود ان کی تعارفی تقریب میں شامل ہوئے۔ امیر صاحب جب اپنے ساتھ بیٹھے باسط صاحب کا تعارف کروا چکے تو انہیں خطاب کی دعوت دی مگر یہ دیکھ کر سارا ہال کشت زعفران بن گیا کہ باسط صاحب کرسی پر بیٹھے سو چکے تھے۔ مرزا طاہر ایک مرتبہ جرمنی آئے تو جرمنوں کے ساتھ ان کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، باسط صاحب کی چونکہ جرمن زبان اچھی تھی، اس لیے بطور ترجمان انہیں مرزا طاہر کے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا گیا۔ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک جملہ اردو کا مکمل ہونے پر ترجمان ساتھ ہی اس کا ترجمہ جرمن میں کرتا ہے۔ تقریب شروع ہوئی تو مرزا طاہر نے جملہ مکمل کیا اور خاموش ہو گئے۔ جب باسط صاحب نے ترجمہ نہیں کیا تو انہوں نے یہ سوچ کر دوبارہ اپنی بات دہرائی کہ
شاید ترجمان کو سمجھ نہ آئی ہو مگر جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی باسط صاحب کے خراٹے کی آواز سے انہیں رکنا پڑا اور جب انہوں نے غور سے ساتھ بیٹھے مربی باسط کو دیکھا تو وہ سو رہے تھے، اس کے بعد ...... دوبارہ کبھی وہ مرزا طاہر احمد کے ساتھ بطور ترجمان نظر نہیں آئے۔
کولون کے ریجنل امیر ڈاکٹر بشارت کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ مربی جلال شمس کے ہمراہ کسی جماعت کا دورہ کرنے جانا تھا، وقت مقرر کرنے کے بعد طے پایا کہ مربی صاحب اپنی گاڑی پر انہیں بھی گھر سے لے چلیں گے۔ یادرہے کہ مربی صاحب کی رہائش گاہ ڈاکٹر بشارت صاحب کی رہائش گاہ سے صرف پچیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جب مربی صاحب کو گھر سے چلے اڑھائی گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گئے تو ڈاکٹر بشارت نے متعلقہ جماعت کو فون کر کے نہ آنے کی معذرت کر لی اور پھر مربی صاحب کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔ مربی صاحب کی بیگم کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں۔ آخر خدا خدا کر کے مربی صاحب جب امیر صاحب کے گھر پہنچے تو کہا کہ میں طے شدہ وقت سے دس منٹ پہلے ہی گھر سے روانہ ہو گیا تھا۔ راستے میں ایک پارکنگ میں یہ سوچ کر گاڑی کھڑی کر لی کہ کیوں نہ دس منٹ آنکھ لگا لی جائے چنانچہ جب آنکھ کھلی تو اڑھائی گھنٹے ہو چکے تھے۔
بڑے میاں سو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ
مرزا محمود کے خاص رفیق اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے مبلغ مفتی صادق جب امریکہ گئے تو وہاں مالی مشکلات کی وجہ سے انہیں رہائش کی مشکل پیش آئی۔ بچت کی خاطر بطور Paying گیسٹ ایک امریکن خاتون کے مکان میں اس کے ساتھ رہنے لگے۔ اکیلی عورت اکیلے مربی صاحب، رنگین موسم، جوان راتیں اوپر سے تنہائی، عورت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو رات کو بستر اٹھا کر مربی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی کہ میں بھی حسیں اور تم بھی جوان تو پھر دیر کس بات کی؟ مربی صاحب نے لاحول ولا پڑھا اور پاکستان اپنے گرو مرزا بشیر الدین محمود سے رابطہ کیا اور مشورہ چاہا۔ گرو اس کام کے کاریگر تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ نکاح کرلو، منافع ہی منافع ہے۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ چنانچہ مولوی صاحب نے چند دوست بلائے، نکاح پڑھا اور مرغی حلال کر لی۔ وقت خوبصورتی سے گزر رہا تھا۔ قادیانی تبلیغ عروج پر تھی کہ ایک روز وہ عورت ہاتھ میں ٹیلیگرام لیے چیختی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی
اور کہنے لگی مربی صاحب، سامان اٹھاؤ اور جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے تیر ہو جاؤ کیونکہ میرا خاوند چھٹیوں پر آج ہی گھر واپس آ رہا ہے۔ مربی صاحب جو شاید نکاح سے قبل عورت سے یہ پوچھنا بھول گئے تھے کہ وہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ۔ نا چار جلدی میں جو ہاتھ آیا، سامان سمیٹا اور ”بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے“ کہتے ہوئے کہیں اور روانہ ہو گئے۔ وقت گزرا، مربی صاحب دوسرے جہاں سدھار گئے۔ ان کا ہونہار بیٹا احمد صادق مبلغ بنا اور امریکہ تعینات ہوا۔ چونکہ بڑی نامور شخصیت کی اولاد تھی۔ سوچا کہ باپ کی طرح کوئی بڑا کام کروں، بیوی کی لاکھوں ڈالر کی لائف انشورنس کروا کر پاکستان بھجوا دیا تو تھوڑا عرصہ بعد پاکستان سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ منگوا کر کلیم کر دیا۔ انشورنس سے رقم لی اور امیر ہو گئے۔ کسی نے شکایت کی یا انشورنس کمپنی کو شک گزرا تو انہوں نے اپنا نمائندہ ربوہ ان کے گھر ایک گفٹ پیکٹ دے کر بھجوایا کہ احمد صادق صاحب نے اپنی بیوی کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔ بیوی نے دستخط کر کے تحفہ وصول کر لیا اور یوں احمد صادق صاحب تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچانے کے بجائے خود جیل پہنچ گئے اور والد صاحب کی طرح نام روشن کر گئے۔
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
مسعود احمد جہلمی جرمنی میں مشنری انچارج تھے جو کہ امریکن نیشنلیٹی رکھتے تھے۔ انہوں نے قادیانی پناہ گزینوں کے لیے خصوصی سیل بنایا تھا جس کے وہ خود انچارج تھے۔ یہ اس شخص کی ہی محنت کا نتیجہ ہے کہ جماعت کے ہزاروں لوگ آج جرمن میں آباد ہیں۔ قادیانی خلیفہ نے انہیں خصوصی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ ضرورت پڑنے پر کبھی بھی ان سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ نیشنل امیر پیٹر (عبداللہ) واگس باوزر کو یہ بات پسند نہیں تھی۔ اس لیے وہ ان سے اختلاف رکھتا تھا اور موقع کی تلاش میں تھا کہ کب وہ ان کو راستے سے ہٹائے۔ آخر کار شہنشاہ وقت مرزا طاہر سے وہ انہیں جماعتی پابندیوں کی سزا دلوانے میں کامیاب ہو گیا۔ بوڑھا شخص جس کی ساری عمر جماعت کی خدمت میں گزری، یہ جھٹکا برداشت نہ کر سکا اور اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔ گھر والوں نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد جہلمی صاحب نے آنکھیں کھولیں اور بتایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے چند لمحات کی مہلت لے کر آیا ہوں۔ انہوں نے سب کو سلام کیا اور ایک صاحب کا نام لے کر
کہا کہ ان کا اسائلم کیس ختم ہو چکا ہے، اس کی فوری مدد کریں ورنہ اسے پاکستان واپس بھجوایا دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے خدا حافظ کہا اور آنکھیں بند کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اگلے جمعہ کے روز لندن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے مرزا طاہر نے مصنوعی دکھ کا اظہار کیا اور مسعود جہلمی کی خدمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دراصل مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بے قصور ہیں۔ اس کے بعد مرزا طاہر نے خوش ہوتے ہوئے امیر صاحب جرمنی کو کہا کہ جہلمی کی قبر پر ایک خوبصورت سا سنگ مرمر کا کتبہ جماعت جرمنی کے خرچ پر لگایا جائے۔ امیر صاحب جرمنی جو مسعود جہلمی سے دلی عداوت رکھتے تھے۔ انہوں نے چند عہدیداروں کی ڈیوٹی لگائی کہ کتبے کی قیمت معلوم کر کے بتائیں، چنانچہ جب قیمت بتائی گئی تو امیر صاحب نے کہا کہ جماعت اس خرچ کی متحمل نہیں ہو سکتی، کتبہ لگانے سے ہی انکار کر دیا۔ اس طرح نیشنل امیر جرمنی ایک تو خلیفہ وقت کی بات کو ٹھکرا کر یہ ثابت کر گیا کہ وہ خلیفہ وقت کا صرف معروف فیصلہ ہی ماننے کا پابند ہے۔ اور دوسری طرف وہ مرنے والے سے اپنی دشمنی بھی نبھا گیا۔ اس کے بعد امیر جرمنی نے مرحوم کی بیوہ کو جماعت کی رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ بیوہ عورت نے فریاد کی کہ بچوں کو لے کر کہاں جاؤں جب کہ میرا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ امیر جرمنی نے ازراہ شفقت اسے پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا۔ عورت نے بہت آہ زاری کی مگر امیر ٹس سے مس نہ ہوا۔ امیر جرمنی کی ہی ایک ڈسی ہوئی سابقہ نیشنل سیکریٹری نے جہلمی صاحب کی بیوہ کو مشورہ دیا کہ امریکن ایمبیسی میں انسانی ہمدردی کی درخواست دو۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ایمبیسی سے درخواست کی کہ میرا میاں دنیا سے چل بسا ہے جو کہ امریکن نیشنلٹی رکھتا تھا اور کسی وجہ سے ہم شہریت نہ لے سکے۔ اب میرے بچوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے، ہماری انسانی ہمدردی کے تحت مدد کی جائے۔ چند ماہ بعد جب ایمبیسی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو عورت خود پتہ کرنے گئی، معلوم ہوا کہ ایمبیسی تو کب کا جواب بھیج چکی ہے کہ حکومت امریکہ نے آپ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آپ آکر ویزہ اور امریکہ جانے کے ٹکٹ لے جائیں، وہاں آپ کے لیے مکان کا انتظام بھی کر دیا گیا ہے۔ بعد میں پردہ اٹھنے پر معلوم ہوا کہ امیر کے وفاداروں نے اس اطلاع والا خط ہی غائب کر دیا تھا کہ جہلمی صاحب کی بیوہ تک نہ پہنچ سکے اور یوں اپنی ساری زندگی قادیانی جماعت کی خدمت کرنے والے مربی کے مرنے کے بعد اس کے بیوی بچوں کو ایک عیسائی ملک نے پالنے کے لیے اپنے ملک بلا لیا۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟
مرزا قادیانی نے اپنی مبہم اور بے مقصد تحریروں کو گندی مثالوں سے اس طرح مزین کیا ہے اور کتاب مبین کے الفاظ اور مفہوم کو اس طرح توڑا موڑا ہے کہ ان سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا ایک جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ وہ اکثر قاری کو الفاظ کی بھول بھلیوں میں الجھا کر اپنی مرضی کا مطلب سامنے لاتا ہے کہ پڑھنے والا اس کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اس کے ہر دعوے اور جواب میں دورنگی پائی جاتی ہے؛ ہاں بھی اور نہیں بھی۔ وہ اپنے لیے ہر راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جس سے وہ بوقت ضرورت فرار حاصل کر سکے، مثلاً اس کی ذات کیا تھی؟ یہ کسی کو معلوم نہیں مگر مغل قوم کے حوالے سے مرزا کہلاتا تھا۔ کبھی چینی نسل میں سے ہونا بیان کرتا تھا، اور کبھی منگول بن جاتا تھا۔ امیر تیمور کے حوالے سے بابر اور ان کے کزن ہادی بیگ برلاس کی طرح ترک بنا اور پھر ایک حدیث شریف پر پورا اترنے کے لیے کسی پرانی دادی یا نانی کا ذکر کر کے آل سادات ہونے دعویٰ کر دیا اور دوسری حدیث کے حوالے سے سلمان فارسیؓ کے رشتہ دار ”ابنائے فارس“ بن بیٹھا۔ اس نے سید، قریشی، فاطمی ہونے کے علاوہ ”رُدَر گوپال اور سنگھ بہادر“ کے خطابات والے الہامات بھی لکھ رکھے تھے کہ ضرورت پڑنے پر اس وقت کوئی تردد نہ کرنا پڑے۔ وہ بڑے دھڑلے سے نبی ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور خود ہی وقتی طور پہ اسے پس پشت بھی ڈال دیتا ہے، کہتا ہے کہ میں ہوں تو نبی لیکن ...... اگر مسلمان بھائی ناراض ہوتے ہیں تو اسے (لفظ نبی کو) کاٹا ہوا سمجھ لیں۔ لیکن اس کے بعد کی تحریروں میں پھر نبی، نبی، نبی، تواتر سے لکھے جاتے ہیں یعنی میں لکھتا جاتا ہوں تم میرے پیچھے پیچھے کاٹتے آؤ۔ پھر کچھ عرصہ بعد ظلی نبی کی شکل میں ابھرتا ہے، اپنی پیشگوئیوں کو اللہ کی طرف سے بتاتا ہے اور ان کو روک بھی دیتا ہے گویا اللہ تعالیٰ کو یوں کہتا ہے کہ ذرا ٹھہرو ابھی نہیں کیونکہ میں ایک سرکاری افسر کو تحریری اقرار نامہ دے چکا ہوں کہ اب اس وقت تک کوئی دھمکی والا الہام یا ڈراؤنی پیشگوئی شائع نہیں کرونگا جب تک سرکار اجازت نہ دے۔ یوں بھی کہتا ہے کہ اللہ نے ہی میری تربیت کی ہے، اس لیے کہ میں مہدی (ہدایت یافتہ) ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ مجھے یہ الہام سمجھ نہیں آیا اور فلاں زبان سے ناواقف ہوں۔ اپنے آپ کو ”حکم“ (آخری فیصلہ کرنے والا) بھی ٹھہراتا ہے اور مسئلہ حکیم نور الدین یا مولوی احسن امروہوی سے پوچھتا ہے۔ وہ امام الزماں کہلواتا ہے لیکن خود نماز کسی اور کی امامت میں پڑھتا ہے۔ وہ خدا کو ماننے اور توحید خالص کا
دعویدار بھی ہے لیکن پھنس جانے پر شرک کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، ٹونے ٹوٹکے پہ یقین رکھتا ہے اور (آتھم کے بارے میں پیشگوئی جھوٹی نکلنے کی آخری رات کے آخری پہر میں ) قادیان کے شمال میں ایک اندھے کنوئیں میں آیہ کریمہ پڑھے ہوئے چنے پھنکواتا (کہ شاید یہی سفلی عمل آتھم کا خاتمہ کر دے)۔ انسانیت سے پیار کا دعوے دار بھی ہے اور اپنے پرائے کی ایسی تفریق کہ الحفیظ والامان، اپنا بیٹا محمود ایک کتاب کا مسودہ ضائع کر دیتا ہے تو ماتھے پر شکن نہیں آتی، غریب نوکر کی معصوم بچی سے جناب کے استنجے کے لیے لوٹے میں پانی زیادہ گرم چلا جاتا ہے تو حضرت حاجت خانے سے باہر آتے ہیں اور اس بچی کے ہاتھوں پر وہ گرم پانی ڈال کر اسے سبق سکھاتے ہیں کہ وہ مدتوں یاد رکھے۔ سخاوت کا عالم یہ کہ کوئی مانگے یا نہ مانگے آپ ہزار سے کم لعنت نہیں دیتے تھے، انعام میں دس دس ہزار روپے کا اعلان فرماتے، لیکن زکوٰۃ ساری عمر ادا نہیں کی۔ کسی نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں صاحب نصاب نہیں ہوں۔ حضور نبی کریم ﷺ کو طائف کی وادی میں لہولہان کیا جاتا ہے، ساحر، مجنوں تک کہا جاتا ہے، آپؐ جواباً یہی کہتے ہیں شاید کوئی سعید روح اللہ کے پیغام کو ماننے والی ان سے پیدا ہو گی، اس لیے ان کو کوئی گالی یا بددعا نہیں دی۔ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو کتیوں اور کنجریوں کی اولاد بتاتا ہے اور موت کی بددعا دیتا ہے اس پر ستم یہ کہ اپنے آپ کو عین محمد بھی کہتا ہے۔ اپنے ماننے والوں کو صحابہ کی جماعت قرار دیتا ہے اور جو اس کو نہ مانے، چاہے اس غریب نے مرزا قادیانی کا نام بھی نہ سنا ہو، وہ کافر اور جہنمی ٹھہرتا ہے، اس کی سادگی پہ قربان جائیں۔ ایک نہ ماننے والی (محمدی بیگم) (بقول اس کے کافرہ جس کے والدین مشرک اور اسلام کے باغی مشہور کیا) سے شادی کے لیے اس حد تک بے تاب کہ اس کی شلوار سونگھے بغیر نہ دن گزرتے تھے نہ راتیں کٹتی تھیں۔
لاحول ولا......!
- ”قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ
میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر 1907ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے
ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم (خاص حصہ ) کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 265 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
غور طلب بات یہ ہے کہ عرصہ دراز تک ایک شخص دوران نماز نبی کے دعویدار کے ساتھ انتہائی فحش اور نازیبا حرکات کرتا رہا اور جسم کے حصوں پر ہاتھ پھیرتا رہا اور پچھلی صف میں جگہ پانے کی صورت میں ہر سجدے کے دوران چھلانگیں لگا لگا کر یہ حرکتیں کرتا رہا اور نمازیوں کے آگے سے گزر کر ان کی نمازیں بھی خراب کرتا رہا مگر بجائے اس شخص کو مسجد میں آنے سے منع کرنے کے، تحریر میں بھی اسے مخلص اور بھلا مانس لکھا گیا۔ دوران نماز ایسی حرکتیں جب بار بار ہو رہی ہوں تو یقیناً کوئی بھی شخص ایسی بے ہودہ حرکات دیکھ کر اپنی نماز توجہ سے ادا نہیں کر سکتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے کم اور تماشا دیکھنے زیادہ آتے ہوں۔ اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق کے حامل نبی کے دعویدار اور اس کے امتی کے اخلاق کا اندازہ مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
مرزا قادیانی کے بیٹے نے کچھ ایسے واقعات بیان کیے ہیں جو کہ کسی بھی شریف آدمی کو زیب نہیں دیتے، مثلاً سیرت المہدی کے حصہ سوم کے صفحہ 213 پر لکھتا ہے کہ رات کو سوتے وقت اس کا پہرہ قادیانی ”صحابیوں“ کی بیویاں دیا کرتی تھیں جو ان کے اتنے قریب ہوتی تھیں کہ ان کے ہلتے ہونٹ بھی دیکھ سکیں۔ ان وفاداروں میں مائی فجو ، منشیانی اہلیہ منشی محمد دین اور اہلیہ بابو شاہ دین کے نام لیے گئے ہیں۔
- ”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن
صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں، میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے، ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو ، منشیانی اہلیہ محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو
شاہدین ہوتی تھیں۔‘‘ (سیرت المہدی ، جلد سوم صفحہ 213 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) سوچنے کی بات یہ ہے جب یہ عورتیں ساری ساری رات کسی غیر مرد کا پہرہ دیا کرتی تھیں تو رات بھر ان کے اپنے مرد کہاں جاتے تھے؟ اور پھر پہرہ کیا قادیانی مرد نہیں دے سکتے تھے؟ دعویٰ تو حقیقی اسلام کا تھا مگر اسلام تو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ دن کے اجالے میں بھی کوئی غیر مرد کسی عورت کے ساتھ گزارے مگر یہاں تو معاملہ پوری پوری رات کا تھا۔
مرزا محمود پر لگنے والے زنا کے الزامات کی تاریخ کا خلاصہ
ایسے قادیانی حضرات جو حقائق سے حقیقتاً واقف نہیں ہیں اور اپنی نیک نیت سے اپنے مذہب پر قائم ہیں، ان کے لیے یہاں تاریخ سے چند ایسے حقائق پیش کیے جارہے ہیں جنہیں عام طور پر قادیانی لوگوں سے مخفی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے شک قادیانی حضرات ان حقائق کو فوراً تسلیم نہ کریں۔ ان کے لیے موقع ہے کہ وہ پوری ایمانداری سے اس موضوع پر تحقیق کریں۔ دونوں طرف کے موقف تلاش کریں اور پھر خود کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ قادیانیت کی موجودہ صورت کو اگر محمودیت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ مرزا محمود نے عالم شباب میں قادیانی خلافت پر قبضہ کرنے کے بعد خاندانی خلافت کو پکا کرنے اور لاہوریوں کے علمی سوالات سے جان چھڑانے کے لیے ایسے ایسے عقائد بھی جماعت سے منسوب کر دیئے جو قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کے ذہن میں بھی نہ تھے۔ اس موضوع پر الگ مضمون لکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانیت کی موجودہ صورت کو آسانی سے محمودیت کہا جا سکتا ہے۔ اور محمودیت کی اصل حقیقت کیا ہے، اس کے لیے تاریخ بتاتی ہے کہ مرزا محمود انتہائی زنا کار اور بدکار انسان تھا۔ اس جملے سے یقیناً بہت سارے قادیانی حضرات کو دکھ ہو گا۔ ان سب سے معذرت کرنے کے ساتھ ان سے درخواست ہے کہ وہ پہلے ان حقائق کی ایمانداری سے تصدیق کریں پھر جو ان کا ضمیر فیصلہ کرے اس پر عمل کریں۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی مرزا محمود پر بدکاری کا پہلا الزام لگا تھا۔ جس پر مرزا قادیانی نے ایک کمیشن انکوائری کے لیے بٹھایا۔ اس میں مولوی نور الدین اور مولوی محمد علی شامل تھے۔ تب مرزا محمود کی والدہ نصرت جہاں نے جا کر ان کے سامنے جھولی پھیلا کر مرزا محمود کی بریت کی منت کی۔ یہ حقائق آن دی ریکارڈ ہیں۔ اور مولوی محمد علی نے اس
کا اقرار بھی کیا ہے۔ قادیانی حضرات اس سے انکار کریں تو سارے نام اور شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کیس میں انہیں باعزت بری نہیں کیا گیا بلکہ شک کا فائدہ دیا گیا، لیکن اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے مرزا محمود پر الزامات کا سلسلہ اوائل عمر سے ہی لگ گیا تھا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات !
1914 میں اپنے عالم شباب میں زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد مرزا محمود کو کھل کر زنا کاری کے مواقع ملنے لگے۔ وہ کئی مریدنیوں سے زنا کر کے پھر انہیں دھمکاتے کہ اگر کسی کو بتاؤ گی تو کوئی تمہارا یقین نہیں کرے گا اور تمہیں جماعتی طور پر بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ کھیل جاری تھا کہ 1927 میں پہلی بار ایک شور اٹھا۔ یہ شور اٹھانے والے میاں زاہد، عبدالکریم اور ان کے خاندان کے افراد تھے۔ عبدالحق کی بیوی سکینہ نے بتایا کہ حضور نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ سکینہ کے سارے میکے والوں اور عبدالحق کے بھائیوں نے خلیفہ کے خلاف آواز اٹھائی۔ مباہلہ کے ذریعے زنا کے الزام سے بریت کا مطالبہ کیا۔ مرزا محمود نے زنا سے بریت کے لیے مباہلہ کا مطالبہ نہیں مانا۔ سکینہ کے شوہر عبدالحق کو جماعتی طور پر نوازا گیا اور وہ آج تک مرزا عبدالحق کے نام سے مشہور ہے۔ سکینہ مرتے دم تک اپنے الزام پر قائم رہی لیکن اسے نفسیاتی مریضہ بنا دیا گیا۔ مرزا عبدالحق کے بھائی مرزا نہ بن سکے۔ ان سب کو اور زاہد اور عبدالکریم وغیرہ کو قادیانی تاریخ میں ”فتنہ مستریاں“ قرار دیا گیا۔ اگر وہ بھی اپنی عزتوں کو مرزا محمود کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیتے تو مرزا عبدالحق کی طرح وہ بھی ”مستری“ کہلانے کے بجائے ”مرزا“ کے اعزاز سے نواز دیئے جاتے۔ مرزا عبدالحق نہ صرف مستری سے ترقی کر کے مرزا بن گیا بلکہ وہ قادیانی تاریخ کا پہلا ایسا کردار ہے جو رائل فیملی سے نہ ہونے کے باوجود بھی ساری زندگی اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہا۔ جماعت کے صوبائی صدر کا عہدہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کے پاس ہے۔ میاں زاہد تو مرزا محمود کا دست راست تھا۔ اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ مرزا محمود اس کی بہن اور عبدالحق کی بیوی سکینہ کے ساتھ بھی زنا کر جائے گا۔ اس معرکہ حق و باطل میں مرزا محمود مباہلہ کر کے اپنی بریت کے لیے بالکل تیار نہ ہوا۔ تاہم اس کا چرچا مذہبی دنیا میں بڑے پیمانے پر ہوا۔
زنا کا الزام ایسا ہے کہ جس خاتون کے ساتھ ایسا وقوعہ ہو، وہ مارے شرم کے کچھ بول ہی نہیں سکتی۔ یہ تو قادیانی تاریخ میں وقتاً فوقتاً چند جرأت مند لوگ اٹھتے رہے اور اپنے گھر
کی عزت کی رسوائی برداشت کر کے بھی مرزا محمود کے اصل کردار کو بے نقاب کر گئے۔ میاں زاہد اور عبدالکریم مباہلہ والوں کے بعد 1937 میں عبدالرحمن مصری نے اس ظلم کے خلاف فریاد کی اور آواز اٹھائی۔ عبدالرحمن مصری مولوی فاضل اور بی اے تھا۔ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ ان کا نام لالہ شنکر داس تھا۔ مرزا غلام احمد کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس کے ہاتھ پر 1905 میں بیعت کی۔ مصر سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ احمدیہ قادیان کا ہیڈ ماسٹر رہا۔ مختلف جماعتی شعبوں کا ناظر جیسے اہم عہدے پر فائز رہا۔ مرزا محمود کی قادیان سے عدم موجودگی میں اسے امیر مقامی بنایا جاتا۔ مرزا محمود نے اس کی اولاد کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس کے بیٹے بشیر مصری کے ساتھ اغلام کیا، ان کی بیٹی کے ساتھ زنا کیا۔ اس پر اس نے مرزا محمود کو وقفے وقفے سے تین خطوط لکھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی حق گوئی کو ”فتنہ مصریاں“ قرار دے دیا گیا لیکن زنا کے الزامات کے لیے نہ کسی آزاد کمیشن کو مقرر کیا گیا نہ حلفاً یا مباہلہ کی صورت میں کوئی تردید کرنے کی جرات کی گئی۔ 1956ء میں حقیقت پسند پارٹی کے لوگوں نے حلفیہ بیانات دے کر مرزا محمود پر ہولناک قسم کے الزامات لگائے اور انہیں حلف اٹھانے یا مباہلہ کرنے کی طرف بلایا۔ اس بار بھی مرزا محمود حلف اٹھانے یا مباہلہ کرنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ البتہ ایسے بیشتر لوگوں میں سے بعض خود جماعت سے الگ ہو گئے اور بعض کو جماعت سے نکال دیا گیا۔ حکیم نورالدین جو قادیانی جماعت کا پہلا خلیفہ تھا، اس کے دو بیٹوں میاں عبدالمنان اور میاں عبدالوہاب کو بھی نکال دیا گیا اور اس کی آواز حق کو فتنہ، میاں وہاب، میاں منان قرار دے دیا گیا۔
تعارفی خاکہ
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے!
- 1- مرزا بشیر الدین محمود
- 2- مرزا بشیر احمد ایم۔اے
- 3- مرزا شریف احمد (پہلوان)
- 1- مرزا محمود
بدنام زمانہ خلیفہ زا......، فخر الدین ملتانی صاحب کا قا......، انتظامی امور کا انتہائی
قابل اور لفظوں سے کھیلنے کا ماہر!
- -2 مرزا بشیر احمد،
ایم۔ اے، گھر کے رازوں سے پردہ اٹھانے والا، سیرۃ المہدی کا مصنف!
- -3 مرزا شریف احمد،
دینی و دنیاوی تعلیم سے عاری۔ افیونی اور پسندیدہ کھیل لڑکوں سے کھیلنا! سب سے بڑی قابلیت، جواب ملا کہ مرزا مسرور آف خلیفہ جماعت کے ”دادا جی“!
مرزا شریف احمد، کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے! پہلے قادیان میں پہلوانی کرتے رہے، پاکستان آ کر مرزا محمود نے نشے کی لت ڈال دی جو افیون سے شروع ہو کر لڑکوں کے ساتھ کھیل کھیلنے پر اختتام پذیر ہوئی، اسی کھیل کے دوران دنیا سے رخصت ہوئے!۔ مرزا منصور کی شکل میں جو مرزا مسرور کے نامی گرامی والد ہونے کا بھی شرف حاصل کر گئے، (یہ نشہ بھی کیا شے ہے کہ ایک طرف زندگی کو کھا جاتا ہے، دوسری طرف زندگی کا شہتیر بھی ہے، نشہ والوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”بات یہ ہے کہ شراب اور اُس کے بہن بھرا (بھنگ، افیون وغیرہ) ایسی خراب
شے ہیں کہ ان سے مٹی پلید ہوتی ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 423 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا شریف کے بیٹے تھے: مرزا منصور احمد صاحب جن کے چشم و چراغ مرزا مسرور ہیں۔ مرزا منصور احمد کیا تھے، یہ بھی ایک داستان ہے، مہذب لفظوں میں ان جیسا مرزا خاندان میں اور کوئی اتھرا غنڈہ نہ تھا، انتہائی سفاک اور بد مزاج شخص، تفصیل پھر۔
ناصرہ بیگم
یہ والدہ تھیں مرزا مسرور کی اور مشہور زمانہ بیٹی مرزا محمود کی....... بہن مرزا ناصر احمد کی....... جن کے متعلق اس وقت اتنا ہی کافی ہے کہ قادیان کی ڈھاب اور مردہ بچہ۔ تفصیل پھر۔
مرزا منصور اور ناصرہ بیگم کے بطن سے جن بچوں نے جنم لیا وہ خاندانی شادیوں کی عبرتناک کہانی ہے، امتہ القدوس ان کے پورے جسم پر کوئی بال نہیں۔
مرزا ادریس احمد، ان کے جسم پر کوئی بال نہیں۔
مرزا مغفور احمد. تفصیل نامعلوم ۔ مرزا مسرور احمد جماعت کے نئے خلیفہ، دینی تعلیم کا خانہ خالی، پیشہ خلافت، آپ کی شادی مرزا طاہر کی بھانجی امتہ السبوحی کے ساتھ، تفصیل پھر۔
بہت سے لوگوں کو یہ مختصر تعارف کی جھلک پسند نہ آئے گی اس میں ان کا قصور نہ ہو گا کیونکہ انہیں کچھ علم نہیں اور نہ ہی تصور کر سکتے ہیں کہ اس ظالم خاندان اور اس کے ظالمانہ نظام نے کس طرح سے معصوم بچوں کو بلکنے پر مجبور کیا، کس طرح سے معصوم لڑکیوں کی عزتیں اس شاہی خاندان کے نابکار شہزادوں نے لوٹیں، کس طرح سے عمر رسیدہ لوگوں کو بے عزت کر کے شہر بدر کیا گیا۔ یہ خاندان صرف اپنی غلامی کرانا جانتا ہے، سوال یا انکار کا لفظ ان کی لغت میں نہیں ہے۔
اے ظالم خاندان اور نظام سن لے! اب یہ قلم ایسے تازیانے لگائے گا کہ مرزا عبدالحق کی مظلوم بیوی، فخر الدین ملتانی، عبدالرحمن مصری، میاں زاہد، امیر ولی کی بیٹی، ڈھاب کا مردہ بچہ، جسے آپ قصہ پارینہ بنا بیٹھے ہو، تمہیں سونے نہ دے گا۔ وقت حساب آ پہنچا ہے۔ لیکن ہم اب بھی انسانیت اور تہذیب کی حد میں رہتے ہوئے موقع دے رہے ہیں کہ اب بھی وقت ہے، اپنے بڑھے ہوئے سفاک ہاتھوں کو روک لو!
اسلام کے متوازی مذہب قادیانیت
قادیانی حضرات بالعموم یہ شکایت کرتے ہیں کہ امت مسلمہ انہیں اپنا حصہ نہیں سمجھتی۔ کبھی کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان یا سعودی عرب کو کوئی حق نہیں ہے کہ کسی کلمہ گو کو کافر قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیں اور کبھی یہ کہ مسلمان علما کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کے کفر و اسلام کا فیصلہ کریں۔ جو بھی اپنے منہ سے خود کو مسلمان کہتا ہے اسے مسلمان شمار کرنا چاہیے، وغیرہ۔
قادیانیوں نے کبھی یہ غور نہیں کیا کہ زبان سے خود کو مسلمان کہنا اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب عمل سراسر اس کے خلاف ہو اور جب بھی کوئی موقع آیا ہے، انہوں نے اپنے آپ کو عملاً مسلمانوں سے الگ رکھا ہے اور علی الاعلان ان سے الگ ہونے پر اصرار کیا ہے۔
اسلام کے پانچ ستونوں میں سے چار یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ عمل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پر باہم عمل ہی مسلمانوں کو ایک امت کی صورت میں مربوط کرتا ہے لیکن قادیانیوں نے ان امور کی بجا آوری کے وقت ڈنکے کی چوٹ اپنے آپ کو جمہور مسلمانوں سے الگ رکھا ہے اور الگ شمار کیا جانے پر اصرار کیا ہے۔
نماز کو لیجیے تو یہ باقی مسلمانوں کے ساتھ مسلمان امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حتیٰ کہ خانہ، کعبہ اور مسجد نبوی میں بھی نماز میں اس لیے شریک نہیں ہوتے کہ کہ وہاں کا امام مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا، اس لیے اس کے پیچھے نماز حرام ہے۔ نماز جنازہ کو لیں تو یہ مسلمانوں کے کمسن معصوم بچوں کو بھی سانپ کا بچہ سانپ، (مرزا محمود) کہہ کر اس کی نماز جنازہ سے الگ ہو جاتے ہیں۔ 1948 میں جب ساری پاکستانی قوم قائداعظم کی وفات سے نڈھال تھی اور کراچی میں تمام مسالک کے مسلمان اکٹھے ہو کر بابائے قوم کی نماز جنازہ ادا کر رہے تھے تو قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ اپنی پھندنے والی رومی ٹوپی گود میں رکھے ایک طرف بیٹھا تھا اور اسی طرح تصویر کھنچوائی جو بعد میں اخباروں میں چھپی ۔ اخباری نمائندوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ ”مجھے مسلمان حکومت کا کافر ملازم یا کافر حکومت کا مسلمان نوکر سمجھ لیں“۔
پاکستان کی حکومت نے مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کر کے اسے مسلمان مستحقین میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا تو قادیانیوں نے بنکوں کو درخواستیں دے دیں کہ ہماری زکوٰۃ نہ کاٹی جائے کہ اس طرح کہیں دوسرے مسلمانوں پر خرچ نہ ہو جائے۔ حج کا فریضہ جو اجتماعی نمازوں اور امام کعبہ کے خطبہ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا، وہاں بھی یا تو یہ نماز ادا ہی نہیں کرتے اور اگر دکھاوے کے لیے کرتے ہیں تو اپنی قیام گاہ پر واپس آ کر اسے دہرا لیتے ہیں۔ (اپنے حج کے بارے میں مرزا محمود کا بیان)۔
یہیں پر بس نہیں؛ انہوں نے تمام اسلامی شعائر اور آثار و علامات کے بالمقابل ویسے ہی اپنے متوازی شعائر بنا لیے ہیں۔ بعض جگہ اگر اصطلاح وہی مسلمانوں والی رکھی ہے تو اس سے مراد کچھ اور لیتے ہیں۔ اس طرح دین اسلام کے متوازی انہوں نے اپنا ایک متوازی مذہب الگ بنا لیا ہے۔ لیکن معاشی، معاشرتی اور سیاسی فوائد کے لیے مسلمانوں کے اندر گھسنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ نعرہ لگاتے ہیں تو کبھی ”اسلام زندہ باد“ نہیں کہیں گے بلکہ ”اسلام احمدیت زندہ باد“ (یعنی اسلام کی جو شکل انہوں نے بنائی ہے، وہ زندہ باد)۔ ان کے
جلسے جلوسوں میں اگر کوئی غلطی سے ”خاتم النبین زندہ باد“ کہہ بھی دے تو دوسرا فوراً ”مرزا غلام احمد کی جے“ کا جے جے کار بول دے گا۔
اس متوازی مذہب اور اسلام کے بالمقابل ان کے اپنے شعائر اور اصطلاحات کی ایک فہرست ملاحظہ فرمائیے اور فیصلہ کیجئے کہ اس کے بعد کیا یہ لوگ مسلمانوں میں شمار ہونے کے لائق رہتے ہیں اور امت اسلامیہ اگر ان کو اپنے سے الگ کوئی مذہب قرار دے تو انہیں گلے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ خود تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائی ہے اور اسی طرح رہنے پر مصر ہیں تو پھر جمہور مسلمانوں سے شکایت کیسی؟
- 1- نبی اور رسول: حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے آخری نبی
اور رسول ہیں۔
قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد نے بھی نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ (نعوذ باللہ) محمد ثانی بن بیٹھا۔
- 2- درود و سلام: قرآن مجید رسول پاک ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیتا ہے اور جملہ مسلمان
مختلف الفاظ میں والہانہ اپنے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم، علیہ الصلوٰۃ والسلام، وغیرہ
قادیانی حضرات مرزا کو علیہ الصلوٰۃ والسلام، علیہ السلام وغیرہ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔
- 3- قرآن: حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کا مجموعہ،
جس کی تلاوت کو مسلمان عبادت سمجھتے ہیں۔
تذکرہ: مرزا قادیانی کی وحیوں کا مجموعہ، جس کی تلاوت ہر قادیانی پر لازم ہے۔
- 4- حدیث: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور احوال کے مجموعے۔
سیرۃ المہدی: مرزا بشیر احمد کے جمع کردہ مرزا قادیانی کے حالات و واقعات جس کی روایات کو بعینہ احادیث کے انداز میں لکھتا ہے مثلاً ”بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش نے کہ بتایا ان کو مرزا سلطان احمد نے کہ ......“
- 5- خلافت اور خلفا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں کو خلفائے راشدین کہا جاتا
ہے اور ان مقدسین کو امیر المومنین کے لقب سے مخاطب کیا جاتا تھا۔
قادیانیوں نے قادیانی گدی نشینوں کو خلیفہ کا اسلامی نام دیا جنہیں یہ خلفائے
راشدین کہتے ہیں اور امیر المومنین کے لقب سے پکارتے ہیں۔
- -6 صحابہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو صحابہؓ یا اصحاب رسولؐ کہا جاتا ہے اور
قرآنی اسلوب کے مطابق ان کے نام کے بعد ”رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ کا لاحقہ استعمال کیا جاتا ہے۔
قادیانیوں نے مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو ”صحابہؓ“ کا نام دیا ہے اور ان کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑی باقاعدگی سے لکھتے اور پکارتے ہیں۔
(313 بدری صحابہ کے بالمقابل مرزا قادیانی نے اپنے 313 ”صحابہؓ“ کی فہرست الگ بنائی)۔
- -7 ام المومنین: حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ازواج مطہرات کو
قرآن نے امہات المومنین کا رتبہ اور نام دیا ہے۔
قادیانیوں نے مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کو ام المومنین بنالیا ہے۔
- -8 اہل بیت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افراد خانہ کو اہل بیت اور پورے گھرانے کو
خاندان نبوی، کی اصطلاحات سے یاد کیا جاتا ہے۔
قادیانیوں کے ہاں بھی یہی اصطلاحات اختیار کی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی کے خاندان کو ”اہل بیت“ کہتے ہیں۔
- -9 پنجتن پاک: تمام عالم اسلام میں یہ اصطلاح نبی پاک ﷺ حضرت علیؓ، سیدہ فاطمہ
زہراؓ اور حسنین کریمین کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
جبکہ مرزا قادیانی نے اپنی زوجہ ثانی کے پانچ بچوں کو ”یہی ہیں پنجتن جن پر ہے بناء“ لکھا ہے۔
- -10 سید الشہداء: مسلمانوں کے نزدیک یہ اعزاز سیدنا حضرت حمزہؓ اور حضرت امام
حسینؓ کے لیے مخصوص ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنے ایک مرید عبداللطیف کابلی کو سید الشہدا لکھا ہے جبکہ مرزا طاہر نے اپنے ایک بھانجے بھتیجے بنام مرزا غلام قادر کو یہ خطاب عطا کیا۔
- -11 ارض حرم: امت مسلمہ مکہ معظمہ کو ارض حرم کہتی ہے۔
مرزا قادیانی نے ”زمین قادیان“ کو ارض حرم قرار دیا۔
- -12 دارالہجرت: اسلامی اصطلاح میں مدینہ طیبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی
مناسبت سے اس نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قادیانیوں کے مرزا محمود کے بسائے ہوئے شہر، ربوہ کو یہ نام دے کر اپنی انا کی تسکین کر لی۔
- -13 مدینۃ الرسولؐ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی برکت سے یثرب کا قصبہ
مدینۃ الرسول کہلایا۔ قادیانیوں نے قادیان کو ’’مدینۃ المسیح‘‘ بنا لیا۔ تقسیم ملک سے قبل الفضل قادیان کے پہلے صفحے پر ایک چوکھٹے میں ’’مدینۃ المسیح کی خبریں‘‘ شائع ہوتی تھیں۔ اب البدر قادیان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
- -14 جنت البقیع: مدینہ منورہ میں واقع قبرستان کا نام ہے جس میں حضور ﷺ کی ازواج
مطہراتؓ ، خاندان نبوی کے افرادؓ اور ممتاز صحابہ کرامؓ کے مزار ہیں۔ مرزا قادیانی نے قادیان میں ’’بہشتی مقبرہ‘‘ بنایا جس میں وہ خود اپنے مزعومہ ’’صحابہ‘‘ کے ساتھ مدفون ہے۔
- -15 فریضہ حج۔
اسلام کے اس رکن سے مماثل اس نے ’’جلسہ سالانہ‘‘ کے نام پر کھڑاگ رچایا اور اسے ’’ظلی‘‘ حج کا نام دیا۔
- -16 رسول مدنی ﷺ : عامۃ المسلمین حضور اقدس ﷺ کو والہانہ پیار سے یہ لقب دے
کر اس کے حوالے سے نعتیں لکھتے ہیں اور آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس کے مقابلہ پر ’’رسول قدنی‘‘ ایجاد کیا اور مرزا کی شان میں نظمیں لکھی ہیں۔
- -17 خاتم: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی تھی جسے زیب انگشت فرمایا اور
آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء پہنتے رہے مرزا قادیانی بھی کئی انگوٹھیاں پہنا کرتا تھا جن میں سے ایک اب ان کے جانشینوں کی انگلی پر رہتی ہے جو کم و بیش ’’خلافت‘‘ کی نشانی بن گئی ہے اور ان کے مرید مصافحہ کرتے وقت اسے چومتے ہیں اور اس گمراہ رسم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے خود
قادیانی خلیفہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے چمواتا ہے۔ (آنجہانی تیسرے خلیفہ مرزا ناصر تو اس انگوٹھی کو دلہنوں کو وقت رخصت چموایا کرتے تھے۔ غالباً برکت کے لیے)۔
- -18 اسلامی تقویم: حضرت عمرؓ کی جاری کردہ ہجری تقویم کے مہینوں کے نام محرم، صفر،
ربیع الاول وغیرہ ہیں۔ قادیانیوں نے یہاں بھی اپنا کیلنڈر بنا رکھا ہے جسے ”ھش“ کہتے ہیں اور اس کے مہینوں کے نام، صلح، تبلیغ، امان وغیرہ ہیں۔
- -19 مسلمانوں کے ہیرو: اسلامی جنگوں کے مشہور ہیرو حضرت خالد بن ولیدؓ کو مسلمانوں
کا بچہ بچہ جانتا ہے اور ان پر فخر کرتا ہے۔ قادیانیوں نے اپنی رسمِ قبیحہ کے تحت اللہ دتہ جالندھری، جلال الدین شمس اور عبدالرحمٰن خادم گجراتی ایسے خبیثوں کو ”خالد بن ولید“ کا خطاب دے رکھا ہے۔
- -20 کلمہ طیبہ: حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ کلمہ سکھایا:
لا اله الا الله محمد رسول الله قادیانی کلمہ: اب یہ روایت من وعن ملاحظہ فرمائیے:
- ❑ ”ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل فرمایا
کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 305 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
ایک آسان سوال
مرزا قادیانی پر ہونے والی ”وحی مقدس“ کے مطابق ایک شخص ”سلطان بیگ“ نے مرنا تھا۔...... کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے یہ ”سلطان بیگ“ کون تھا اور کیا وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مر گیا یا نہیں؟ مرزا قادیانی نے اپنے الہام میں کہا:
- ❑ ”پھر آواز دینے والے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے، جان
کندن میں ہے، میں نے کہا کہ اب عنقریب وہ مر جائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اس کی موت کے دن صلح ہو گی۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 224 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یلاشی محبت اور ویلنٹائن ڈے
14 فروری کو ہر سال عالمی بے غیرتی ڈے بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن محبت کے نام پر بے غیرتی کی حد کو چھوا جاتا ہے۔ لیکن آج ہم آپ کو ایک ناکام بے غیرت عاشق کی داستان سناتے ہیں ...... یہ انڈیا میں انگریزوں کے زمانے میں ملکہ وکٹوریہ کے ایک خود کاشتہ عاشق مرزا غلام قادیانی عرف گرو مہاراج کرشنا سنگھ دسوندی کی کہانی ہے ...... یہ ایک ایسا عاشق تھا جس نے عاشقی میں کچھ ایسے ہتھکنڈے متعارف کروائے کہ آپ بھی پریشان ہو جائیں گے۔ ہوا یوں کہ مرزا کی جب نامردی عروج پر تھی اور ”زدجام عشق“ کے کُشتے کھائے جا رہا تھا تو اسی دوران مرزا کو محمدی بیگم نامی ایک دوشیزہ سے عشق ہو گیا۔ یاد رہے کہ یہ محبت یک طرفہ تھی جبکہ مرزا کا دعویٰ نبی ہونے کا بھی تھا۔ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو یہ کہا کہ ہمارا نکاح آپ کی بیٹی سے آسمان پر ہو چکا ہے اور یہ نکاح مرزائی خدا ”یلاش“ نے خود پڑھایا ہے۔ چنانچہ یہ مرزا کی ایک پیشگوئی بن گئی ...... جب انکار ہوا تو اس عاشق کا دل ٹوٹ گیا لیکن ہمت نہیں ہارا، مرزا نامرد تو تھا ہی، ساتھ میں بزدل بھی تھا۔ نہ اپنی معشوقہ کو اٹھا سکتا تھا، نہ کسی سے لڑ سکتا تھا۔ کیونکہ ظاہری طور پر موصوف ایک آنکھ سے بھینگے اور دائیں ہاتھ سے لولے تھے۔ اور دن میں سو سو مرتبہ پیشاب آتا تھا۔ یہ سمجھ لیجیے کہ عاشق صاحب بیماریوں کا ہسپتال تھا۔ بہر حال دماغ بڑا شاطر تھا ...... تو مرزا نے نئی عاشقی متعارف کرائی، مرزا نے اپنی معشوقہ کی عزت کی پرواہ کیے بغیر، دھڑا دھڑ اخبار میں اشتہار دینے شروع کر دیے کہ محمدی بیگم، مرزا کی ہو کر رہے گی۔ اگر کسی اور کی ہوئی تو محمدی بیگم کا والد مر جائے گا اور جس سے شادی ہوگی وہ خاوند بھی مر جائے گا وغیرہ ...... اور تو اور لوگوں کو کہتا محمدی بیگم سے رشتہ کروا دو، انعام دوں گا۔ محمدی بیگم کے والد نے مرزا کی ان چھچھوری حرکتوں سے تنگ آ کر محمدی بیگم کی شادی کہیں اور کر دی، کہ شاید مرزا باز آجائے ...... لیکن کیا کہنا اس عاشق کا اور اس کی بے غیرتی کا۔ 10 سال تک یہ عاشق اپنی معشوقہ کے متعلق اخبارات میں اشتہار دیتا رہا اور شادی شدہ محمدی بیگم کو بدنام کرتا رہا ...... لوگ کہتے ہیں کہ مرزا کے عشق کا ظرف یہاں تک تھا کہ جناب محمدی بیگم کی شلوار سونگھا کرتے تھے ...... محبت نے مرزا کو بے چین کر رکھا تھا۔ بار بار کہتا کہ محمدی بیگم سے نکاح ہو کر رہے گا، اس کا خاوند مر جائے گا اور بیوہ ہو کر میرے پاس آ جائے گی۔ بس اسی پاگل پن میں مرزا نے نبی اور پتا نہیں کیا کیا دعوے کر ڈالے،، اور
مخولیات کرتا رہا اور آخر ناکامی کے ساتھ یہ عاشق اپنی نجاست میں مرگیا، اپنا ایمان تو تباہ کیا، ساتھ میں اوروں کے ایمان بھی تباہ کر گیا....... اس عاشق کے چاہنے والوں کو مرزائی کہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کسی مرزائی کی ماں، بیٹی، بہن کی ہوس ہو جائے تو کیا وہ مرزا ایسے گھٹیا ہتھکنڈے اپنا سکتا ہے؟
مسلمانوں کے قرآن اور قادیانی قرآن میں کیا فرق ہے؟
قادیانی حضرات متوجہ ہوں۔ مسلمانوں کے قرآن کی سورۃ المومنون کی آیات 18 تا 19 پیش خدمت ہیں۔ پہلے یہ آیات اور ان کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
وانزلنا من السمآء مآءً بقدر فاسكنه فى الارض وانا على ذهاب به لقدرون فانشانا لكم به جنت من نخيل واعناب لكم فيها فواكه كثيرة و منها تاكلون (المومنون: 18، 19)
ترجمہ: ”اور ہم نے اتارا آسمان سے پانی اندازہ کے مطابق پھر ہم نے ٹھہرا لیا اسے زمین میں اور یقیناً ہم اسے بالکل ناپید کرنے پر پوری طرح قادر ہیں۔ پھر ہم نے اگائے تمہارے لیے اس پانی سے باغات، کھجوروں اور انگوروں کے، تمہارے لیے ان میں بہت سے پھل ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔“
آیات کا مفہوم واضح ہے کہ اللہ بارش کی صورت میں پانی نازل کرتا ہے اور اسے زمین میں محفوظ کرتا ہے جس سے سارے جاندار فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو اس پانی کو ختم کر دے، اسی پانی سے کھجور اور انگوروں کے باغات پیدا ہوتے اور پھل میوے پیدا ہوتے ہیں۔ بعد میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ اللہ کا کلام یعنی قرآن کریم 1857ء میں اٹھا لیا جائے گا بلکہ ان آیات میں قرآن کا کوئی ذکر ہی نہیں۔
آنجہانی مرزا قادیانی نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھا:
- ”آیت اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِه لَقٰدِرُوْنَ میں 1857ء کی طرف اشارہ ہے جس میں
ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہو گئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل 1274 ہیں اور 1274 کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو 1857ء ہوتا ہے۔ سو درحقیقت ضعف اسلام کا زمانہ ابتدائی یہی
1857ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا............. پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ 1857ء میں میرا کلام آسمان پر اٹھایا جائے گا، یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے‘‘۔
(ازالہ اوہام صفحہ 389 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 489، 490 از مرزا قادیانی)
نوٹ : مرزا قادیانی 1857ء کی جنگ آزادی کو ’’مفسدہ‘‘ لکھ رہا ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے جو لوگ انگریز کے خلاف اٹھے، انہوں نے قرآن پر عمل نہیں کیا....... دوسری بات مرزا نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ 1857ء کی جنگ آزادی 1274 ہجری میں ہوئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انگریز کے خلاف یہ جنگ مئی 1857ء کو میرٹھ سے شروع ہوئی اور یہ ہجری مہینہ رمضان 1273 ہجری تھا، اور جون میں دوسرے علاقوں میں انگریز کے خلاف شورش ہوئی اور ختم ہوگئی۔ اس طرح یہ ساری کہانی 1273 ہجری میں ہی ختم ہوگئی۔ مرزا کا سارا علم الاعداد بھسم ہو گیا۔ اس نے آیت کے الفاظ کاٹ کر 1274 ہجری نکالا اور پھر اپنی من گھڑت تفسیر کی بنیاد اس پر رکھی...... مرزا کے امتی بتائیں کہ اللہ کا قرآن صرف ہندوستان سے اٹھا لیا گیا تھا یا ساری دنیا سے؟
ذرا سوچیے !
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ❑ ”ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسیٰ پرستی ، بت پرستی سے کم نہیں۔ اور مریم کا بیٹا کشلیا
کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔“
(انجام آتھم صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 41 از مرزا قادیانی)
یعنی مرزا قادیانی کا کہنا ہے: ”مریم کا بیٹا“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کشلیا کے بیٹے (راجہ رام چندر) کے برابر ہے؟
نوٹ : کشلیا ہندووں کے راجہ رام چندر کی ماں کا نام ہے قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کی مذکورہ عبارت سے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کا پہلو نکلتا ہے یا نہیں؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں“
(تحفۃ الندوہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 98 از مرزا قادیانی)
کیا یہ ”ابن مریم“ بھی کشلیا کے بیٹے کے برابر ہے یا اس سے بڑھ کر ہے؟ مرزا قادیانی خود ”مریم“ بھی ہے، کیا ہم اسے ”کشلیا“ کہہ سکتے ہیں؟
تضاد
پہلا موقف
مرزا قادیانی نے کہا:
- ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی دعوت کیلئے زمین میں خون کی
نہریں چلا دیں“۔ (حقیقت الوحی صفحہ 155 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 159 از مرزا قادیانی)
دوسرا موقف
- ”وہ تمام لوگ خبیث اور جھوٹے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر
پھیلا“۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 129 طبع جدید از مرزا قادیانی)
بلا تبصرہ
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”زرد چادروں سے مراد اگر یہی ہو جو ہمارے مخالف بیان کرتے ہیں تو پھر عام
ہندو جوگیوں اور مسیح میں مابہ الامتیاز کیا ہو گیا۔ اصل میں خدا کی چادر اپنے الگ معنی رکھتی ہے اور وہ وہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہوئے ہیں کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق حال ہیں۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 161 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا کی دلیل دیکھو، کوئی معقول دلیل نہ آئی تو ہندووں جوگیوں والی مثال دے دی تاویل تو ڈھنگ کی کرتا۔ اگر 2 چادروں سے مراد بیماریاں ہے تو پھر مسیح اور مریض میں کیا فرق، پیشاب کی بیماری تو ایک چوہڑے کو بھی لاحق ہوسکتی ہے، پھر مسیح اور چوہڑے میں کیا فرق ہوا؟ دست کی بیماری تو بچوں کو بھی ہوتی ہے، تو پھر مسیح اور بچوں میں کیا فرق ہوا؟ سر پر پگڑی رکھ لی ہے مرزے نے تو ایک سکھ میں اور مسیح میں کیا فرق ہوا؟ مرزا نے غرارہ پہن لیا تو
ایک عورت میں اور مسیح میں کیا فرق ہوا؟ مرزا نے جوتے الٹے پہن لیے تو ایک پاگل میں اور مسیح میں کیا فرق ہوا؟
شیزان کا استعمال مسلمانوں کے لیے حرام ہے
دارالعلوم کراچی کا فتویٰ
بخدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم دارالعلوم کورنگی کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد سلام مسنون۔ مندرجہ ذیل مسئلہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرما کر ممنون فرمادیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مشروبات کی دنیا میں ایک نیا مشروب ’’شیزان‘‘ نام کا آیا ہے، جسے لوگ بڑے شوق سے پیتے ہیں اور کمپنی کی جانب سے اس کی تشہیر بھی کافی ہوتی ہے۔ لیکن سننے میں آیا کہ یہ کمپنی قادیانیوں کی ہے اور ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ میں اس مشروب کا بائیکاٹ کرنے کیلئے بھی کہا گیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس مشروب کا بیچنا، پینا اور اس سے حاصل شدہ کمائی کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا قادیانیوں کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے؟ پھر اشکال یہ ہے کہ اگر ’’شیزان‘‘ قادیانیوں (جو کہ غیر مسلم ہیں) کی مصنوعات میں سے ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے تو دیگر بیشتر مشروبات بھی غیر مسلم انگریز کمپنیوں کے تیار کردہ ہیں، انھیں بھی ممنوع ہونا چاہیے (حالانکہ آج تک کسی نے اس سے منع نہیں کیا) امید قوی ہے کہ جناب والا اس مشکل کو حل فرما کر مطمئن فرمادیں گے اور مدلل ومکمل جواب مسئلہ مذکور کا عنایت فرما کر ممنون فرمادیں گے۔ المستفتی: حافظ امین
الجواب ومنہ الصدق والصواب
سب سے پہلے یہ اصولی بات ذہن نشین کرلیں کہ مصنوعات میں سے کسی بھی چیز کو صرف اس وجہ سے ناجائز نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی غیر مسلم کمپنی کی تیار شدہ ہے بلکہ ناجائز ہونے کی اصل وجہ کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ جو غیر مسلم کمپنی اپنی مصنوعات کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ مخصوص طریقہ سے ایک خاص مشن کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اور ان کو نقصان پہنچانے میں صرف کرتی ہو۔ اسی طرح دین اسلام کے خلاف اپنے غلط عقیدے اور نظریئے کی نشر واشاعت میں خرچ کرتی ہو اور اس سے واقعۃً اسلام اور مسلمانوں کو نقصان
پہنچنے کا سخت اندیشہ بھی ہو تو ایسی صورت میں اس غیر مسلم کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا اور ان کے کاروبار کو آگے بڑھانے کا موقع دینا، گویا ان کے ناجائز عزائم اور اسلام کے خلاف ان کے مشن میں پس پردہ تعاون کرنے کے مترادف ہے، جو کسی بھی مسلمان کے لیے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، اور نہ ایمانی جذبہ رکھنے والا کوئی مسلمان ایسا کام کر سکتا ہے اور جن غیر مسلم کمپنیوں کا معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے تو پھر ایسے غیر مسلم کمپنی کی جائز مصنوعات کو خریدنا مسلمانوں کیلئے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
ان تفصیلات کے بعد اصل مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے کئی سوالات کے ذریعہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ”شیزان فیکٹری“ کی مصنوعات کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ مرزائیت کی تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے اور اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچانے میں صرف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ”شیزان فیکٹری“ مرزائیوں کو سالانہ لاکھوں روپیہ مرزائیت کی نشر و اشاعت کے لیے دیتی ہے۔ اگر یہ باتیں درست ہیں تو ایسی صورت میں ”شیزان“ کی مصنوعات میں سے کسی چیز کا خریدنا، بیچنا اور اپنے استعمال میں لانا مسلمانوں کیلئے جائز نہیں۔
اور جہاں تک دوسری غیر مسلم کمپنیوں کی مصنوعات کی خرید و فروخت کا تعلق ہے تو اس کا حکم بھی اسی تفصیل کے مطابق ہے کہ اگر غیر مسلم کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کی آمدنی کا بڑا حصہ مرزائیوں کی طرح ایک خاص مشن کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صرف کرتی ہو تو ان کی مصنوعات کی خرید وفروخت بھی مسلمانوں کیلئے جائز نہیں۔ واللہ اعلم
محمد کمال الدین غفرلہ دارالافتاء دارالعلوم ۔ کراچی 14، 18، 11، 1408ھ
جواب صحیح ہے اور مرزائیوں اور دوسرے غیر مسلموں مثلاً عیسائیوں اور یہودیوں میں فرق یہ بھی ہے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں ، لہٰذا کسی التباس کا اندیشہ نہیں ، اس کے برخلاف مرزائی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ مسلمان کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ 19، 11، 1408ھ
کیا شیزان مسلمانوں نے خرید لی؟
شیزان کمپنی کا مالک اور بنیاد رکھنے والا شاہ نواز قادیانی جس کے مرنے پر قادیانی اخبارات میں خوب ماتم ہوا۔
شیزان کے بورڈ آف ڈائریکٹر اور ٹاپ شیئر ہولڈرز
محمود نواز قادیانی (بیٹا شاہنواز قادیانی) منیر نواز قادیانی (بیٹا شاہنواز قادیانی) امت الحی قادیانی (بیٹی شاہنواز قادیانی) محمد خالد قادیانی (داماد شاہنواز قادیانی) امتہ الباری نعیم قادیانی (بیٹی شاہنواز قادیانی) محمد نعیم چوہدری قادیانی (داماد شاہنواز قادیانی) بشریٰ محمود قادیانی (محمود نواز کی بیوی) عابدہ منیر نواز قادیانی (منیر نواز کی بیوی) سیفی چوہدری قادیانی، خالد چوہدری (ان قادیانیوں کا ملازم)
ان حقائق کے بعد قادیانی نواز مسلمان بتائیں، کیا شیزان مسلمانوں نے خرید لی ہے؟
شیزان کا بائیکاٹ، چند شبہات کا ازالہ
علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“
قادیانیوں کے ایسے ہی کفریہ عقائد وعزائم اور علامہ اقبالؒ کے مذکورہ قول کی روشنی میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس کے بعد 26 اپریل 1984ء کو صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے تعزیرات پاکستان میں دفعہ 298 بی اور 298 سی کا اضافہ کرتے ہوئے قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے غلط استعمال اور اپنے مذہب (قادیانیت) کی تبلیغ سے روک دیا۔ بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کے ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے نہ صرف قادیانیوں کو اپنے کفریہ عقائد کی تبلیغ و تشہیر سے منع کر دیا بلکہ اس کی خلاف
ورزی پر سخت سزا بھی مقرر کی۔
بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اس آرڈینینس کے نفاذ سے پہلے شیزان بیکرز اور ریسٹورنٹس میں جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی ایک بڑی تصویر آویزاں ہوتی تھی۔ جس کے نیچے جلی حروف میں ”بفیضانِ نظر حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام“ لکھا ہوتا تھا (نعوذ باللہ)۔ امتناع قادیانیت آرڈینینس کے نفاذ کے بعد تمام بیکرز اور ریسٹورنٹس سے یہ تصویر ہٹا دی گئی۔ لیکن شیزان کمپنی بند روڈ لاہور کے اندر واقع جنرل منیجر کے دفتر میں آج بھی یہ تصویر آویزاں ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
شیزان کمپنی کا مالک معروف متعصب اور جنونی قادیانی شاہنواز تھا جس نے اپنی کمپنی کا نام شیزان اپنے ذاتی نام شاہنواز چوہدری کے حروف سے نکال کر بنایا تھا۔ 1990ء میں جب شیزان کمپنی کا مالک چوہدری شاہ نواز مرا تو قادیانی اخبار ”روزنامہ الفضل“ نے اس کی موت پر جو تعریفی کلمات کہے، وہ ہر قادیانی نواز کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں: قادیانی روزنامہ ”الفضل“ لکھتا ہے۔
”احباب جماعت کو نہایت افسوس سے اطلاع دی جاتی ہے کہ مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب 23 مارچ 1990ء کی شب لاہور میں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال فرما گئے۔ آپ کی عمر 85 برس تھی۔ محترم چوہدری شاہ نواز صاحب جماعت احمدیہ کے مخیر اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے احباب میں سے تھے۔ آپ کو روسی زبان میں ترجمہ و طباعت قرآن کریم کا سارا خرچ ادا کرنے کی بھی توفیق ملی۔ چنانچہ سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ نے جلسہ سالانہ 1983ء کے دوسرے روز 27 دسمبر کو خطاب فرماتے ہوئے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کا ذکر فرمایا۔
”روسی زبان میں ہم ابھی تک ترجمہ قرآن شائع نہیں کر سکے تھے، اس کے اخراجات بھی بہت زیادہ اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے محترم چوہدری شاہ نواز صاحب کے دل میں یہ تحریک ڈالی، انہوں نے کہا کہ وہ روسی زبان میں ترجمہ و نظر ثانی کے سارے اخراجات ادا کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید نیکی کی توفیق دی ...... ایک نیکی دوسری نیکی کو جنم دیتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں روسی زبان میں قرآن کریم کی طباعت کے بھی سارے اخراجات ادا کروں گا“۔ (الفضل 14 جنوری 1984ء)
اسی طرح خطاب جلسہ سالانہ لندن 1987ء کے موقع پر فرمایا ”مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب کو رشین قرآن کریم کا خرچ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔“ حضور نے مزید فرمایا: ”جاپانی زبان کے متعلق چوہدری شاہ نواز صاحب کے بچوں نے اپنے باپ کے علاوہ یہ پیش کش کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی رقم جمع بھی کروا چکے ہیں۔“
(ضمیمہ قادیانی ماہنامہ ”خالد“ اکتوبر 1987ء۔ ص 6 کالم 2)
قادیانی ”روزنامہ الفضل“ شیزان کے مالک چوہدری شاہنواز کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے:
”آپ پاکستان کے نمایاں صنعت کاروں میں سے تھے آپ نے نہایت کامیاب تجارتی ادارے قائم کیے ان میں شاہ نواز لمیٹڈ، شیزان انٹرنیشنل، شاہ تاج شوگر ملز اور شاہ نواز ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں۔“ (روزنامہ الفضل ربوہ، 26 مارچ 1990ء)
شیزان کی مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے جب قادیانی مسلمانوں پر پھبتی کستے ہوئے کہتے ہیں کہ اس قرآن (تذکرہ، مجموعہ وحی الہامات مرزا قادیانی) کی اشاعت کی رقم مسلمانوں کی جیب سے آئی ہے جو بڑے شوق سے ہماری مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے قرآن علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مسلمانوں کا قرآن وہ ہے جو حضور خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوا۔ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس میں آج تک معمولی زیر زبر کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکی جبکہ قادیانیوں کا قرآن ”تذکرہ“ ہے جو جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کے الہامات پر مبنی ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کے قرآن کا ایک حصہ اس پر دوبارہ نازل ہوا۔ قادیانی کمپنی کے مالک شاہنواز نے جو قرآن روسی یا جاپانی زبان میں شائع کروا کر تقسیم کیا، وہ قادیانیوں کا قرآن ”تذکرہ“ ہے۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے (مسلمانوں اور قادیانیوں کا تفصیلی موقف سننے کے بعد) قادیانیوں کو ان کے عقائد کی بنا پر متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ قادیانی آئین پاکستان کی اس شق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور باقی لوگ (اہل اسلام) غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ ایک نئے نبی (مرزا قادیانی) کی نبوت کے منکر ہیں۔ دراصل ان کا یہ دعویٰ ہی فساد کا
باعث بنتا اور فتنے کے دروازے کھولتا ہے۔ جو شخص پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتا، اس کے تحت متعین کی گئی اپنی حیثیت کو نہیں مانتا، اصولی طور پر وہ آئین کے اندر دیے گئے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتا۔
قادیانیوں کو پاکستان میں ہر قسم کے کاروبار کی مکمل اجازت اور آزادی ہے۔ لیکن وہ اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کی تشہیر کرتے وقت شعائر اسلامی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جو آئین و قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کے بھی مترادف ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں افطار کے وقت مسلمانوں کی اکثریت ٹی وی کے سامنے اذان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے تو عین افطار کے وقت قادیانی کمپنی شیزان کی طرف سے ”روزہ کھولنے کی دعا“ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس سے عام مسلمان، قادیانیوں کے دجل کا شکار ہو کر شیزان کمپنی کو بھی مسلمانوں کا ہی ایک ادارہ سمجھتا ہے اور پھر اس کی مصنوعات کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔ اور جب اسے اس کے بائیکاٹ کا کہا جاتا ہے تو وہ تذبذب اور شبہات کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسرائیل میں قادیانی جماعت کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قادیانی مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی جماعت ہے۔ یہودی دوسرا بنیا ہے جو کبھی خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ اسرائیل نے قادیانیوں کو اپنے نظریاتی ملک میں جو مذہبی آزادی دے رکھی ہے، وہ اس کے اصول اور قواعد و ضوابط کے صریحاً خلاف ہے۔ قادیانی جماعت یہودی ٹکڑوں پر پلنے والا استعماری پٹھو ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج میں کئی سو قادیانی شامل ہیں جو فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تشدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور روابط کا اندازہ قومی اخبارات میں 22 فروری 1985ء کے ”یروشلم پوسٹ“ کے حوالے سے چھپنے والی تصویر سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں دو قادیانی مبلغوں کو اسرائیلی صدر کے ساتھ نہایت مودب انداز میں ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے قادیانی سربراہ شیخ شریف امینی نئے سربراہ شیخ محمد حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کروا رہے ہیں۔ اس موقع پر شیخ شریف نے قادیانیوں کو اسرائیل میں مکمل مذہبی آزادی دینے پر اسرائیلی حکومت کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تصویر قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور یہود دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسرائیلی صدر شیمون پیریز (Shimon
(Peres) نے ستمبر 2007ء میں اسرائیل کے شہر کبابیر (Kababir) میں واقع قادیانی عبادت گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی صدر نے قادیانی جماعت کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی طور پر ہرممکن امداد اور تعاون کا یقین دلایا۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اسرائیل میں مسلمانوں کی کسی کمپنی کو کاروبار کی اجازت نہیں جبکہ حیفا میں شیزان کمپنی کا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔ اس طرح انہیں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کاروبار کرنے کی کھلی اجازت ہے بلکہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کی بھی مکمل آزادی ہے۔ یہ بات مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
شیزان کمپنی سادہ لوح مسلمان دکاندار کو شیزان کی مصنوعات رکھنے پر دوسری کمپنیوں کے مقابلہ میں مفت ایمٹی یا زیادہ منافع دینے کا اعلان کرتی ہے۔ جس سے دکاندار لالچ میں آکر نہ صرف اپنی دکان پر شیزان کی تمام مصنوعات رکھتا ہے بلکہ اپنی دکان کو پینٹ کروا کر شیزان کی تشہیر کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کسی کاروبار سے وابستہ یا دکاندار ہیں تو آپ کی دینی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ آپ ہر قسم کے لین دین اور خرید و فروخت میں قادیانیوں کی تمام تر مصنوعات بالخصوص شیزان وغیرہ کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شیزان گستاخان رسول ﷺ مرزائیوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کی آمدنی کا ایک کثیر حصہ دارالکفر ربوہ جاتا ہے۔ مسلمان اپنی کم علمی کی بنا پر اس کے مشروبات اور دیگر مصنوعات خرید کر کم از کم 30 پیسے فی روپیہ ربوہ فنڈ میں جمع کرواتے ہیں اور اس طرح اپنے آقا و مولا حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ، دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی مخالفت کے بھیانک جرم میں شریک ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ شیزان کی تمام اشیا حرام اور لحم الخنزیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ معروف سابق قادیانی مرزا محمد حسین نے ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیزان کمپنی کے مالک شاہنواز قادیانی کی خصوصی ہدایت پر اس کی تمام مصنوعات میں ربوہ کے نام نہاد بہشتی مقبرہ کی ناپاک مٹی بطور تبرک استعمال ہوتی ہے۔ لہذا شیزان کی تمام تر مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہر غیور مسلمان عاشق رسول ﷺ کا دینی و ملی فرض ہے۔
ابی لہب سے مراد
مرزا غلام قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”غرض براہین احمدیہ کے اس الہام میں سورۂ تبت کی پہلی آیت کا مصداق اس
شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور توہین کے ساتھ حملہ کیا...... یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 130 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 216 از مرزا قادیانی)
تبت یدا ” کی یہ جو تفسیر مرزا غلام قادیانی نے کی ہے، پوری امت میں سے کسی بھی مفسر یا مجدد نے نہیں کی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملعون قادیانی پورے قرآن مجید کو اپنے اوپر فٹ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ نیز یہ سورۂ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کے متعلق تھی، مرزا قادیانی نے اپنے اوپر فٹ کر لی۔ یہ تحریف، تلبیس اور دجل وافتراء کا وہ نمونہ ہے کہ پوری قادیانیت اس کی نظیر لانے سے قاصر ہے۔
نبی کی تین تعریفات
قادیانیوں سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ مرزا محمود بن مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ النبوۃ میں لکھا ہے کہ نبی تین طرح کے ہوتے ہیں:
- ”ایک نبی شریعت لانے والے ہوتے ہیں۔ ایک بغیر شریعت کے ہوتے ہیں۔
اور ایک نبی دوسرے کی اتباع سے نبی بنتے ہیں۔
(حقیقۃ النبوۃ صفحہ 161 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 479 از مرزا محمود)
بشیر الدین محمود نے یہ جو نبی کی تین قسمیں بیان کی ہیں، کیا قرآن یا حدیث میں کسی جگہ مذکور ہیں یا یہ مرزا بشیر کی خود ساختہ تقسیمات ہیں؟ ہمیں تو نبی کی ایسی تقسیمات قرآن و حدیث میں کہیں نظر نہیں آئیں۔ کیا کوئی قادیانی ان تقسیمات کو قرآن وحدیث سے دکھا سکتا ہے؟ اگر نہ دکھا سکے تو کم از کم مرزا بشیر الدین محمود کو جھوٹا ضرور کہہ دینا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دینا کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین
ایک دلچسپ اشتہار
قادیانی اخبار ”الفضل“ میں ایک اشتہار شائع ہوا، ملاحظہ کیجیے:
ضرورت ہے
ایسے احمدی نوجوان جو میٹرک پاس ہیں اور عمر 24 سال سے کم ہے۔ جسمانی
ساخت اور عمومی صحت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ اگر ملازمت کے خواہاں ہیں تو اپنی درخواستیں مقامی صدر اور امیر صاحب ضلع کی تصدیق و توثیق کے ساتھ 15 اکتوبر 2003ء تک نظارت ہذا کو بھجوائیں۔ (نظارت امور عامہ) (روزنامہ الفضل ربوہ 18 ستمبر 2003ء)
نہ ملازمت کا پتہ نہ تنخواہ کا؟ قابلیت صرف جسمانی ساخت اعلیٰ اور عمومی صحت درجہ کی ہو؟؟؟ عمر بھی 24 سال سے کم ہو؟؟؟؟ ایسی بھی کیا پردہ داری ہے؟ خلیفہ جی کام تو بتاؤ؟ قادیانی لڑکو تیار ہو جاؤ، اب تمہاری خیر نہیں؟؟؟؟
ساری جماعت کا جنازہ
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ’’ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ 1905ء کے زلزلہ کے بعد
جب باغ میں رہائش تھی تو ایک دن حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کا جنازہ پڑھ دیا ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ پورا واقعہ یوں ہے کہ ان ایام میں آپ نے جب ایک دفعہ کسی احمدی کا جنازہ پڑھا تو اس میں بہت دیر تک دعا فرماتے رہے اور پھر نماز کے بعد فرمایا کہ ہمیں علم نہیں کہ ہمیں اپنے دوستوں میں سے کس کس کے جنازہ میں شرکت کا موقعہ ملے گا۔ اس لیے میں نے اس جنازہ میں سارے دوستوں کے لیے جنازہ کی دعا مانگ لی ہے اور اپنی طرف سے سب کا جنازہ پڑھ دیا ہے‘‘۔
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 515 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کا شوشہ
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے کمال جھوٹ بولا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ’’کیا اب تک اسلام کے رد میں دس کروڑ کے قریب کتاب نہیں لکھی گئی؟
(ایام الصلح صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 325 از مرزا قادیانی)
دس کروڑ کا عدد منہ سے کہہ لینا آسان ہے، گذشتہ ساڑھے چودہ سو سال میں چند ہزار یا چند لاکھ کتابیں تو ضرور اسلام کے خلاف لکھی گئیں مگر دس کروڑ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا
قادیانیوں کے پاس اس کی کوئی فہرست ہے؟ کیا کوئی قادیانی جواب دے گا؟؟
سوچ قادیانی سوچ
مرزا قادیانی کی منافقت اور تضاد بیانی ملاحظہ کیجیے، لکھتا ہے:
- ”یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق
سے خروج ہے“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 503 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22، صفحہ 503 از مرزا قادیانی)
- ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
قادیانیو! بتاؤ کیا یہ کھلا تضاد نہیں!
مرزا قادیانی علم الاعداد کی روشنی میں
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ
دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 185 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 189، 190 از مرزا قادیانی)
قرآن مجید میں ہے: هل انبئكم على من تنزل الشياطين. (الشعراء: 221) ”کیا میں بتاؤں تمہیں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں“۔ پھر اگلی آیت میں ہے۔ تنزل علی کل افاک اثیم. وہ ہر جھوٹے بدکار پر اترتے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ تنزل علی کل افاک اثیم کے اعداد بھی پورے 1300 بنتے ہیں۔ مرزا قادیانی 1326ء میں مرا۔ اور لقد دخل فی قعر جہنم کے اعداد بھی 1326 بنتے ہیں۔ اب اس سے بڑھ کر مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا اور کیا ثبوت درکار ہے۔
مرزا قادیانی، مزید علم الاعداد کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشعراء کی آیت 221 میں فرمایا:
- ”هل انبكم على من تنزل الشیطین.
کیا میں بتاؤں تمہیں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں؟
آگے آیت نمبر 222 میں فرمایا:
تنزل علی کل افاک اثیم.
وہ اترتے ہیں ہر جھوٹ گھڑنے والے بدکار پر۔
یعنی جھوٹے اور بدکار لوگوں کو شیطانی وحی ہوتی ہے۔ آئیے ہم اس آیت نمبر 222 کو علم الاعداد کی روشنی میں دیکھتے ہیں اور پھر آپ کو مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا ایک پکا ثبوت دیتے ہیں۔
تنزل علی کل افاک اثیم.
ت 400 ا 1 ن 50 ف 80 ز 7 ا 1 ل 30 ک 20 ع 70 ا 1 ل 30 ث 500 ی 10 ی 10 ک 20 م 40 ل 30 کل اعداد 1300
غلام احمد قادیانی
غ 1000 ق 100 ل 30 ا 1 ا 1 د 4
م 40 ی 10 ا 1 ا 1 ح 8 ن 50 م 40 ی 10 د 4 کل اعداد 1300
اس طرح علم اعداد اور علم جمل کے مطابق مرزا قادیانی ایک نمبر کا جھوٹا اور بدکار شخص تھا جس پر شیطانی وحی آتی تھی۔
میں قادیانیت چھوڑتا ہوں!
میرا نام بلال احمد باجوہ کیلگری کینیڈا ہے۔ میرا خاندان احمدیت کا اندھا عقیدت مند ہے اور میرے خاندان نے بہت سے جانے پہچانے لوگ احمدیت کو دیئے ہیں، جن میں چوہدری ظہور احمد باجوہ سابق ناظر امور عامہ (میرے تایا)، چوہدری فتح محمد سیال (میری نانی کے والد)، ٹونی باجوہ نائب امیر امریکہ (میرا کزن) وغیرہ۔ میں مکمل تفصیل اور احمدیت کے ظالمانہ نظام کے کرتوت اپنے انٹرویو میں بتاوں گا جو میں اے کے شیخ صاحب کو ریکارڈ کرا رہا ہوں۔ میں نے قادیانیت چھوڑنے کا فیصلہ باہوش وحواس کیا ہے جس کی اطلاع مرزا مسرور احمد کو بذریعہ فیکس کر دی ہے اور نقل اے کے شیخ صاحب کو دے دی ہے۔
قادیانیوں کے نبی
قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا کو نبی مان لو، اسی میں نجات ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ مرزا کو نبی مان لینے کے باوجود بھی نجات ممکن نہیں ہوسکتی کیونکہ قادیانیوں کے عقیدہ و ایمان کے مطابق یہ سب اللہ کے نبی ہیں۔
خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو
(قادیانی اخبار پیغام صلح لاہور ج 21 نمبر 22، مورخہ 11 اپریل 1933ء)
قادیانی بتائیں کہ مذکورہ شخصیات کے نبی ہونے کی ان کے پاس کیا قطعی دلیل ہے؟ اگر کوئی مرزا کو نبی مانے لیکن ان شخصیات کو نبی نہ مانے تو وہ مرزائیوں کے نزدیک کافر ہوگا یا مسلمان؟ قادیانی حضرات مذکورہ شخصیات پر ایمان لانے کی دعوت کیوں نہیں دیتے۔ اگر یہ نبی ہیں تو ان پر ایمان لانا کیوں ضروری نہیں؟ قادیانی اپنے بچوں کے نام ان شخصیات کے نام پر کیوں نہیں رکھتے؟
قادیانیوں کی ایک علامت
- واذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله والى الرسول رايت المنفقين
يصدون عنك صدودا (النساء:61)
(ترجمہ:) ”اور جب کہا جائے انہیں کہ آؤ اس (کتاب) کی طرف جو اتاری ہے اللہ نے اور (آؤ) رسول (ﷺ) کی طرف تو آپ دیکھیں گے منافقوں کو کہ منہ موڑ لیتے ہیں آپ سے رُوگردانی کرتے ہوئے“۔
منافقین کا کام ہے کہ وہ صرف قرآن، قرآن کی رٹ لگائیں گے، حدیث کو چھوڑ دیں گے۔ لیکن جب حدیث سنائی جائے تو بھاگ جائیں گے۔ یہی کچھ حال قادیانیت کا ہے۔ قادیانی کبھی بھی قرآن و حدیث کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے۔ یاد رکھیں قرآن مجید میں امور کی اجمالی بحثیں ہیں جبکہ احادیث ان اجمالیات کی تفصیل و تشریح ہیں۔
حیات مسیح کی دلیل
- لقد کفر الذین قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم. قل فمن يملک من
الله شيئا ان اراد ان يهلک المسيح ابن مريم وامه ومن فی الارض جميعا. ولله ملک السمٰوٰت والارض وما بينهما. يخلق ما يشاء. والله علٰی کل شی ء قدير (المائدہ:17)
ترجمہ: ”یقیناً کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح بن مریم ہی ہے۔ (اے حبیب!) آپ فرمائیے کون قدرت رکھتا ہے، اللہ کے حکم میں سے کوئی چیز روک دے (یعنی) اگر وہ ارادہ فرمائے کہ ہلاک کر دے مسیح بن مریم کو اور اسکی والدہ کو اور جو کوئی بھی زمین میں ہے سب کو (تو اسے کون روک سکتا ہے) اور اللہ ہی کے لیے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔“
قرآن کی اس آیت میں واضح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فنا کی گھاٹ اتار دے تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ ذکر فرما رہا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہوتے تو اللہ واضح فرماتا کہ جس کو تم اللہ مانتے ہو، اس کو اللہ موت دے چکا ہے اور اس کی قبر فلانی جگہ ہے، لیکن اللہ نے یہاں صرف یہ فرمایا کہ اگر اللہ مسیح کو فنا کر دے تو بھی کچھ نہیں کر سکتے۔
”صرف قرآن“ کا شور مچانے والوں سے سوال
- عقیدہ نمبر 1: ایک مسیح موعود نے آنا ہے، اور وہ مسیح موعود مرزا غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔
- عقیدہ نمبر 2: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو یہود نے پکڑ کر دو چوروں کے ساتھ صلیب پر
ڈالا، انہیں مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے تو وہ انہیں مردہ سمجھ کر چلے گئے۔
- عقیدہ نمبر 3: نبی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو مستقل اور حقیقی نبی نہیں ہوتے بلکہ ”ظلی بروزی
ناقص“ نبی ہوتے ہیں۔
- عقیدہ نمبر 4: ایک ”مہدی“ نے آنا ہے اور وہ مہدی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
- عقیدہ نمبر 5: ایک ایسے شخص نے آنا تھا جو ”ظلی بروزی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، مثیل مسیح
(علیہ السلام) اور مہدی ہوگا۔ یعنی 3 ان 1۔
کیا قادیانی حضرات اپنے یہ عقائد قرآن مجید سے ثابت کر سکتے ہیں؟
قادیانی بتائیں......؟؟؟
مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:
- ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 157 از مرزا قادیانی)
کیا اُن افریقی بادشاہوں کو برکت مل گئی ہے جو مرزا قادیانی کے کپڑے لے کر گئے تھے؟ کیا افریقہ میں بھوک پیاس اور ایڈز کا خاتمہ ہوگیا؟
دوغلا مذہب
- ”میرے نزدیک غیر احمدی کافر ہیں“
(مرزا محمود خلیفہ قادیان کا بیان، الفضل قادیان، 26 جون 1922ء صفحہ 6)
- ”جن بعض لوگوں نے ہم پر کفر کا فتویٰ دیا ہے، وہ فتویٰ غلط ہے، ان کو کوئی حق
نہ تھا کہ وہ ہمیں کافر کہتے،،
(مرزا محمود، خلیفہ قادیان کا بیان۔ روزنامہ الفضل قادیان، 26 جون 1922ء صفحہ 7)
خلیفہ صاحب! آپ کو کس نے حق دیا تھا کہ آپ غیر مرزائیوں کو کافر کہتے پھریں؟ ان کو بھی جنہوں نے کبھی آپ کے باپ کا نام بھی نہ سنا ہو؟
رجولیت
- ”در حقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں
جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
- ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ
کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)
- ”اُس (اللہ تعالیٰ) نے براہین احمدیہؒ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر
جیسا کہ ”براہین احمدیہؒ“ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہؒ کے حصہ
چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا یہ رجولیت کوئی بری چیز ہے۔ اگر بری ہے تو جو رجولیت مرزے غلام قادیانی نے اپنے ’’یلاش‘‘ خدا سے کروائی تھی، اس کے بارے کیا خیال ہے؟
نبوت ساز فیکٹری۔ مرزائیت کا ایک اور نیا ماڈل 2014
1901 میں گورداسپور ۔ انڈیا کے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت 2013 میں جرمن مقیم محرف مرزائی عبدالغفار جنبہ کا دعویٰ نبوت 2014 میں حیدرآباد انڈیا کے مرزائی محمود احمد خان ہیجڑا کا دعویٰ نبوت 2014 میں جرمنی کے طاہر نسیم قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
دجال قادیان کی کذب بیانی
حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں صرف ایک آدمی کے ساتھ مباہلہ کیا جن کا نام تھا ’’میاں عبدالحق غزنوی رحمتہ اللہ علیہ‘‘، اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے کسی کے ساتھ کوئی مباہلہ نہ کیا اور میاں عبدالحق غزنوی کے ساتھ مباہلے کے بعد خود مرزا انکی زندگی میں بمرض ہیضہ ہلاک ہو گیا اور میاں عبدالحق غزنوی اس کے کئی سال بعد تک زندہ رہے...... پھر نہ جانے مرزا قادیانی کس منہ سے کہتا رہا؟
- ❑ ’’جتنے لوگ مقابلہ کرنے والے ہمارے مقابلہ میں آئے ۔ خدا تعالیٰ نے سب کو
ہلاک کر دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ موت مانگی‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 86 طبع جدید از مرزا قادیانی)
چومی سے زندگی، قادیانی عجوبہ
- مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے ایک قصہ بیان فرمایا کہ ایک بادشاہ تھا اس کی لڑکی پر کوئی فقیر عاشق ہو گیا اور کوئی صورت وصل کی نہ تھی۔ کہاں وہ فقیر اور کہاں وہ بادشاہ زادی! آخر وہ فقیر اس غم میں مر گیا۔ جب غسل دے کر اور کفن پہنا کر اسے دفن کرنے کے لیے تیار کیا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ اس کے ہونٹ ابھی ہل رہے ہیں۔ کان لگا کر غور سے سنا تو یہ شعر سنائی دیئے۔
ویں مردہ تنم بدو سپارید
گر بوسہ دہد بریں لبانم
ور زندہ شوم عجب مدارید
بادشاہ نے سن کر کہا، اچھا اس کی آزمائش کر لو۔ چنانچہ شہزادی کو کہا کہ اس مردہ کو بوسہ دو۔ اس کے بوسہ دینے کی دیر تھی کہ وہ شخص اٹھ بیٹھا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہے تو یہ ایک قصہ مگر اس سے حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا کہ گوہر مقصود کامل جانا ایک ایسی چیز ہے کہ گویا مردہ کو بھی زندہ کر دیتی ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 811 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور قرآن کے انکاری ہیں۔ لیکن ایک شخص کی چومی سے زندہ ہونے پر ایمان لاتے ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ نہیں کر سکتے تھے (استغفر اللہ)
مرزا قادیانی کی موت...... قرآن مجید کی روشنی میں
ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شىء ومن قال سانزل مثل ما انزل الله. ولو ترى اذا الظلمون فى غمرات الموت والملئكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم. اليوم تجزون عذاب الهون
بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن ايته تستكبرون (الانعام: 93)
ترجمہ: ”اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا کہے کہ وحی کی گئی ہے میری طرف، حالانکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کچھ بھی اور (کون زیادہ ظالم ہے اس سے) جو کہے کہ میں (بھی) نازل کروں گا ایسا ہی (کلام) جیسے نازل کیا ہے اللہ نے۔ کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں (گرفتار) ہوں اور فرشتے بڑھا رہے ہوں (ان کی طرف) اپنے ہاتھ (اور انہیں کہیں کہ) نکالو اپنی جانوں کو۔ آج تمہیں دیا جائے گا ذلت کا عذاب اس وجہ سے کہ تم بہتان لگاتے تھے اللہ تعالیٰ پر ناحق اور تم اس کی آیتوں (کے ماننے) سے تکبر کیا کرتے تھے“۔
اے ”غلمدی“، اے دشمن اسلام!
اپنے دجال مرزا قادیانی کی تحریریں پڑھ، قادیان کو ”دارالامان“ لکھا تھا اس نے، لیکن اسی قادیان سے اس کا بیٹا سکھوں سے ڈر کر بھاگ آیا۔ قادیان دارالامان نہ رہا۔ وہ اسے پناہ نہ دے سکا...... تم نے ”ربوہ“ بنایا لیکن وہ بن گیا ”چناب نگر“ اور تمہارا کاغذی خلیفہ وہاں سے بھی بھاگا اور پناہ ملی تو کہاں؟ ان کے پاس جنہیں ”مرزا کرشن“ دجال اور یاجوج و ماجوج لکھتا رہا، آج مرزا اینڈ کمپنی کے خرچے ”دس فیصد“ جبری چندے پر چل رہے ہیں، جو مرزائی چندہ نہ دے، اسے کمپنی سے نکال دیا جاتا ہے، جو دس فیصد نہ دے، اس پر ”بہشتی مقبرے“ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ہاں پادری عبداللہ آتھم کے ہاتھوں ذلت بھول گئے؟ میاں عبدالحق غزنویؒ کے ساتھ مرزا نے مباہلہ کیا اور پھر وہ میاں صاحب کی زندگی میں مر گیا، کیا یہ بھول گئے؟ محمدی بیگم کو سلطان محمد بیاہ کر لے گیا اور مرزا ہاتھ ملتا رہ گیا، کیا یہ بھول گئے؟ وہ تو کہا کرتا تھا کہ ”محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی...... سوچ مرزائی سوچ
مرزا قادیانی قتل کے منصوبوں سے کیسے بچا؟
”اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کا اس ملک میں راج نہ ہوتا، تو یہ مدت سے
میرے قتل سے دل خوش کر لیتے ۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 133 طبع جدید از مرزا قادیانی)
ریح والی نماز
- ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی
عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے، حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لیے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہوجاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں حضور۔ فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہوجائے گی، آپ پڑھائیے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو، نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔‘‘
(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ 111 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
مرزا قادیانی کی موت پر کیسے پردہ ڈالا گیا؟
ملفوظات میں مرزا قادیانی کی موت کا حال اس طرح لکھا گیا:
- ’’جب فجر کی اذان کان میں پڑی تو حضور نے پوچھا کہ ’’کیا صبح ہوگئی‘‘ جواب
ملنے پر فجر کی نماز کی نیت باندھی اور ادا کی۔ آخری الفاظ وہ الفاظ جن پر حضرت مسیح موعود اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے یہ تھے:۔
’’اے میرے پیارے۔ اے میرے پیارے۔ اے میرے پیارے اللہ۔ اے میرے پیارے اللہ‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 695 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اس کے برعکس اصل صورت حال کیا ہے، مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
- ’’حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود
کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف
لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے ، اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کردیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
جبکہ مرزا قادیانی کا سسر لکھتا ہے:
- ’’حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر
جا کر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ۔‘‘ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔‘‘
(حیاتِ ناصر صفحہ 14 ، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
اب قادیانی بتائیں کہ کون جھوٹ بولتا ہے، مرزا قادیانی، اُس کا بیٹا یا اُس کا سسر؟
قادیانیوں سے ایک اہم سوال
قادیانی بتائیں : اگر ’’احمد‘‘ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے تو آپ اُن کے ماننے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو ’’غیر احمدی‘‘ کیوں کہتے ہو؟
سوال نبی سے، جواب مولوی سے پوچھو!
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی ایک جعلی مسیح موعود اور نقلی نبی تھا، ہے اور رہے گا، لیکن جن کے لیے یہ سچا ہے، ذرا ان سے پوچھتے ہیں، ایک شرعی مسئلہ میں مرزا کو
مولوی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ مرزا جو کہ ایک ذہنی مریض تھا، اس سے کسی نے سوال پوچھا قربانی کے بکرے کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟ تو مرزا کا جواب ملاحظہ کیجیے: مرزا جو نبی ہونے کا دعوے دار تھا، ایک فقہی مسئلہ تو حل نہیں کر سکا۔ جواب میں کہتا ہے مولوی سے پوچھو...... مرزا کو اہل حدیث اور علمائے احناف کی کیا ضرورت؟، مرزا تو اختلاف ختم کرنے آیا تھا، اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ جواب مولوی سے پوچھو...... ملاحظہ کیجیے مرزا قادیانی سے سوال اور اس کا جواب:
- ’’سوال: پیش ہوا، ایک سال کا بکرا بھی قربانی کے لیے جائز ہے؟
فرمایا: مولوی صاحب سے پوچھ لو۔ اہل حدیث و حنفاء کا اس میں اختلاف ہے۔ مولوی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ دو سال سے کم کا بکرا قربانی کے لیے اہل حدیث کے نزدیک جائز نہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 426 طبع جدید از مرزا قادیانی)
عجیب الہام
مرزا قادیانی نے اپنے الہام میں کہا:
- ’’یہ پہلے بھی کئی مرتبہ الہام ہوا ہے۔ مگر رات میں اس کے عجیب معنی سمجھائے گئے،
وہ یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ آئندہ لیکھرام جیسے، عبداللہ آتھم جیسے، پادری فنڈل جیسے، عماد الدین جیسے پیدا ہی نہیں کروں گا ۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم صفحہ 672 از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ کیا لیکھرام، عبداللہ آتھم، پادری فنڈل، عماد الدین جیسے پیدا ہونے بند ہو گئے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ سلمان رشدی کون ہے؟
آسمان سے کون اترے گا؟
مرزا قادیانی نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اقوال صحابہؓ، مفسرینؒ، محدثینؒ اور اکابرین امتؒ کی بات کو رد کرتے ہوئے یہ عقیدہ نکالا کہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام نے آسمان سے نازل نہیں ہونا...... لیکن دوسری طرف وہ اپنی ایک پیشگوئی یہ لکھتا ہے کہ اسکی ذریت یعنی اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو آسمان سے اترے گا اور عربی میں الفاظ لکھے ’’کان اللہ نزل من السماء‘‘، گویا کہ اللہ آسمان سے نازل ہو گیا...... کیا کوئی مرزائی
مربی بتائے گا کہ: مرزا کی ذریت میں سے کون ہے جو آسمان سے اترا؟ مرزا نے لکھا ”گویا کہ اللہ آسمان سے اتر آیا“، کیا اللہ آسمان پر ہے جو وہاں سے اترے گا؟ مرزا قادیانی کی تحریر ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ”خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی
ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی، وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا اور وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں، رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء“
(ازالہ اوہام صفحہ 156 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 180 از مرزا قادیانی)
المسیح الدجال کی حقیقت
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”اصل بات یہ ہے کہ دجال بھی مسیح موعود کی طرح ایک موعود ہے۔ اس کا نام المسیح
الدجال ہے۔ سورۃ تحریم میں جیسے مسیح موعود کے لیے بشارت اور نص موجود ہے۔ اسی نص سے بطور اشارۃ النص کے دجال کے وجود پر ایک دلیل لطیف قائم ہوتی ہے۔ یعنی جیسے مریم میں نفخ روح سے ایک مسیح پیدا ہوا۔ اسی طرح کے بالمقابل ایک خبیث وجود کا ہونا ضروری ہے جس میں روح القدس کی بجائے خبیث روح کا نفخ ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بعض عورتوں کو رجا کی بیماری ہوتی ہے اور وہ خیالی طور پر اس کو حمل ہی سمجھتی ہیں یہاں تک کہ حاملہ عورتوں کی طرح سارے لوازم ان کو پیش آتے ہیں اور چوتھے مہینے حرکت بھی محسوس ہوتی ہے۔ مگر آخر کو کچھ بھی نہیں نکلتا۔ اسی طرح پر المسیح الدجال کے متعلق خیالات کا ایک بت بنایا گیا ہے اور قوت واہمہ نے اس کا ایک وجود خلق کر لیا۔ جو آخر کار ان لوگوں کے اعتقاد میں ایک خارجی وجود کی صورت میں نظر آیا۔ المسیح الدجال کی حقیقت تو یہ ہے“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 571 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اپنی بیان کردہ اس مذکورہ حقیقت پر سو فیصد پورا اترتا ہے۔
مرزائیوں کی احمقانہ باتیں
ایک مرزائی کو مناظرہ کے دوران سکائپ پر بتایا کہ جب مرزا قادیانی مرنے لگا تھا تو اسے ٹٹیاں لگی ہوئی تھیں تو اس پر مرزائی کہنے لگا۔ اگلا اور پچھلا صفحہ لگاؤ تو حقیقت سامنے آجائے گی۔
آج کا سوال
تاریخ عالم میں وہ کون سا ’’مدعی نبوت‘‘ ہے جس کے پیروکاروں میں اس بات پر اختلاف ہوا کہ ان کے پیشوا نے نبوت کا دعوی کیا تھا کہ نہیں؟
تلاش ہے ایک حدیث کی
مرزا قادیانی نے کہا: ’’حدیث میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں چالیس برس موت دنیا سے اٹھ جائے گی‘‘ (ملفوظات: جلد اول، صفحہ 202 طبع جدید از مرزا قادیانی) میں نے یہ حدیث بہت ڈھونڈھی لیکن نہیں ملی، اگر مرزا قادیانی کا کوئی امتی یہ حدیث ڈھونڈھنے میں ہماری مدد کر دے تو ہم اس کے شکر گزار ہوں گے......
اور مرزا قادیانی ناکام ہو گیا!
کچھ دھوکے باز مربیوں نے شوشہ چھوڑا ہے کہ مرزا قادیانی جس نے اپنی زندگی میں صرف ایک عیسائی عبداللہ آتھم سے پنگا لیا اور ذلیل و خوار ہوا ’’ اس نے‘‘ کسر صلیب ’’کر دی تھی......جبکہ مرزا قادیانی کا اپنا بیان ہے جو مارچ 1903ء میں دیا گیا۔ وہ کہتا ہے:
- ’’چالیس یا پچاس کتابیں لکھی ہیں مگر ان سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لئے ہم
آئے ہیں‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 191 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزائیوں کی اقسام
مرزائیوں کی اقسام بارے مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’ فرمایا، ہمارے مریدوں کے بھی کئی قسم کے طبقے ہیں۔ ایک تو طاعونی ہیں
جو طاعون سے ڈر کر اس سے بچنے کی نیت سے اب آ رہے ہیں ایک طاعونی جماعت ہے یعنی وہ جماعت جو طاعون کے نشان کو دیکھ کر اس سلسلہ میں داخل ہوئی ہے اور یہ جماعت کثرت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ دوسرے قمری اور شمسی ہیں جو کہ قمر اور شمس کا گرہن دیکھ کر داخل بیعت ہوئے۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 267، 268 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں علامہ ابن کثیرؒ کا فرمان
- ’’حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس نے بھی مقام نبوت کا دعویٰ کیا، وہ
بہت جھوٹا، بہت بڑا افترا پرداز، بڑا ہی مکار، فریبی، خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا، اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیرؒ جلد 3 صفحہ 494)
Was Mirza Qadiani Lezbian?
جب مرزا غلام احمد قادیانی دو سال کے لئے مریم بنا تو کیا اس کا نکاح نصرت جہاں بیگم سے ٹوٹ گیا تھا یا نہیں؟ کیا اسلام میں ایک عورت کا دوسری عورت کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے؟
بلا تبصرہ
قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا کہنا ہے:
- ’’یہ سمجھنا کہ قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک ہی معنی ہیں اور زیادہ بیوقوفی ہے۔
قرآن کریم کی کوئی آیت نہیں جو صرف ایک مطلب اپنے اندر رکھتی ہو۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو جن آیتوں سے وفات مسیح ثابت ہے، وہ میرے لیے منسوخ کی طرح ہوتیں مگر یہ غلط ہے۔ باوجود وفات مسیح تسلیم کرنے کے میرے لیے بھی وہ آیتیں اپنے اندر کئی معارف رکھتی ہیں۔ مثلاً يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ والی آیت دوسروں کے لیے یہ مفہوم رکھتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں مگر میرے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جائے، اگر ساری دنیا مل کر بھی اُسے مارنا چاہے تو نہیں مار سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص میرے سامنے یہ آیت اس غرض کے لیے پیش کرے کہ اس سے وفات مسیح ثابت ہوتی
ہے تو وہ میرا وقت ضائع کرتا ہے‘‘۔ (خطبات محمود جلد 17 صفحہ 71 از مرزا بشیر الدین محمود)
لاہور
پاکستان کے دل لاہور کے بارے میں آنجہانی مرزا قادیانی اور مرزا محمود کی ہرزہ سرائی ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ”خلیفہ المسیح الثانی نے سورۃ الغاشیۃ آیت 4 تا 7 کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ:
حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”ابھی کیا ہے۔ ابھی وہ دن آئیں گے جب کہ لوگ کہیں گے کہ ”لاہور بھی کوئی شہر ہوتا تھا“۔
لاہور کی تباہی کی پیش گوئی جو مسیح موعود کے زمانہ میں شائع ہوچکی تھی وہ یہ ہے:
”لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سر زمین میں ایسے اجزاء ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈال ہے۔ ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہا سال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔ کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہو جائیں گے۔ دنیا سے اُن کا نام ونشان مٹ جائے گا اور اُن کے آثار تک باقی نہ رہیں گے لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی‘‘۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 676 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
قادیانی بتائیں کہ کیا لاہور کا نام ونشان مٹ گیا، اب کون ہے مرزائی جو آ کر مرزا قادیانی اور اس کے ناجائز بیٹے کی بے گور و کفن اور متعفن ننگی لاش کو ڈھانپے اور آخری غسل دیتے ہوئے اُس کے چہرے سے لعنت کی سیاہی کو صاف کرے جو ہم نے اُس کے چہرے پر مل دی ہے۔ لعنت الله علی الکاذبین .
آج کے سوالات
کیا محمدی بیگم کے 2 نکاح ہوئے: ایک جو مرزا قادیانی کے بقول آسمان پر پڑھایا گیا....... مرزا قادیانی کے ساتھ ( یہ نکاح خدا کی ذات کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے کہ یہ نکاح خدا نے پڑھایا ہے دوسرا جو مرزا سلطان بیگ سے ہوا....... (یہ نکاح مولوی نے پڑھایا ہے ) کیا نکاح ہوسکتا ہے؟ کیا مولوی کے پڑھائے ہوئے نکاح سے مرزا کے خدا کا پڑھایا ہوا نکاح ٹوٹ گیا؟
مرزا قادیانی کے خدا کے پڑھائے ہوئے نکاح کی کیا وقعت رہ گئی جب مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ کوئی اور لے جائے؟ کیا نبی سے نکاح ہونا عذاب ہے یا اعزاز؟ کیا آسمان پر پڑھایا ہوا مرزا کا نکاح عذاب تھا یا اعزاز؟ اگر مولوی کا پڑھایا ہوا نکاح محمدی بیگم کے لیے عذاب تھا؟ تو یہ عذاب کیونکر نہ آیا؟ کیا مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کو طلاق دے دی تھی؟ کیا مرزا قادیانی اس آسمانی نکاح میں طلاق دینے کا حق رکھتا تھا؟ کیا محمدی بیگم کو پتا تھا اس کا نکاح آسمان پر ہو گیا، تو اس نے یہ نکاح کیوں نہیں قبول کیا؟ کیا محمدی بیگم مرزا کے خدا اور مرزا کی نافرمان ٹھہری؟ اس نافرمانی کی سزا محمدی بیگم کو کیا ملی؟ کیا محمدی بیگم اور اس کے خاوند نے گناہ کبیرہ کیا یا صغیرہ؟ کیا اس گناہ کی سزا مرزا سلطان بیگ کو ملی؟ کیا کسی کی بیوی کے متعلق اشتہار دینا جائز ہے؟ کیا مرزا کا خدا اس نکاح کو نہیں روک سکتا تھا؟ اور کیوں نہ روکا؟
مرزا غلام قادیانی کے پاکیزہ خواب والہام کی ایک جھلک
- ”ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں، میں نے دیکھی جس کا حلیہ ابھی تک
میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے بیان کیا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارات سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں۔ اور کہا میں چلنے کو تھی مگر تیرے لیے رہ گئی“۔
(ازالہ اوہام صفحہ 213 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 205، 206 از مرزا قادیانی)
قادیانی مربیوں سے میرا سوال ہے کہ کیا انبیاء کو ایسے خواب آیا کرتے ہیں؟ اور پھر مرزا کو غیر محرم لڑکیوں کے خواب آنا۔ کہیں یہ رانی مرزا جی کی کوئی پرانی داشتہ تو نہیں تھی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کا خواب بھی عجیب تھا کہ لڑکی کو خواب میں دیکھا اور اس کا حسن و جمال کا نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ لیا۔ کیا اس کو کعبۃ اللہ یا مدینۃ الرسول کا نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنے کے لیے نہیں ملا؟
قادیانی مربی توجہ فرمائیں!
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو
اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے
والے ٹھہریں گے‘‘۔ (ریویو آف ریلیجنز جلد 6 شمارہ 9 ستمبر 1907ء) کیا کوئی قادیانی یہ حدیث ڈھونڈنے میں ہماری مدد کرے گا؟
انعامی سوال
- -1 مرزا قادیانی اپنی کتاب ”انجام آتھم“ کے صفحہ 135 اور 321 پر لکھتا ہے کہ عیسیٰ
کو خدا یا خدا کا بیٹا اُن کے مرنے کے بعد نصاریٰ نے بنایا۔ شرک تو شرک، اُس کی تخم ریزی بھی حضرت عیسیٰؑ کے فوت ہونے کے بعد ہوئی۔
- -2 مرزا قادیانی اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ کے صفحہ 55 پر لکھتا ہے کہ عیسیٰ
120 سال کی عمر میں فوت ہوئے، لہٰذا شرک کی تخم ریزی 120 عیسوی کے بعد ہوئی تھی۔
- -3 مرزا قادیانی اپنی کتاب ”چشمہ مسیحی“ صفحہ 375 پر لکھتا ہے کہ پولوس نے حضرت
عیسیٰؑ کو خدا بنادیا۔ (یعنی شرک کی تخم ریزی کی)۔
- -4 پولوس 65 عیسوی میں فوت ہوا (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی ”مرزائی موت“
سے 55 سال پہلے) (120 عیسوی - 65 عیسوی = 55 سال قبل)۔
- -5 انعامی سوال کیا مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں سے اس کا دعویٰ غلط ثابت نہیں ہوگیا
کہ شرک کی تخم ریزی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوئی؟ کیا شرک کی تخم ریزی حضرت عیسیٰؑ کی ”مرزائی موت“ سے 55 سال قبل نہیں ہوئی؟
قادیانی کرپشن
قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کے رائٹ ہینڈ اور بہت سے خاندانوں اور مربیوں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے والے سلطان محمود انور کے دور عروج یعنی نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے دوران جب پورے پاکستان کے قادیانی آپ کے رحم و کرم پر ہوتے تھے تو آپ نے اپنے اس وقت بیروزگار بیٹے کو ایک ایسے کام پر لگایا کہ آج موصوف ربوہ میں کئی کنال پر محیط ایک عالیشان محل میں اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ پہلے پہل تو موصوف نے اور امیر جماعت اسلام آباد نے جلسہ سالانہ لندن پر ڈیوٹیوں کی آڑ میں کئی کئی لاکھ روپے لے کر لوگوں کو لندن اسمگل
کرنا شروع کیا۔ جب کاروبار خوب چل نکلا تو اپنے بڑے بیٹے کو باقاعدہ ایک ٹریول ایجنٹ کے روپ میں متعارف کروانا شروع کیا...... دیکھتے ہی دیکھتے خوب پیسہ اکٹھا ہو گیا کیونکہ لوگ تو ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ کے کہنے میں آ کر پیسہ ان کے بیٹے کو دیتے رہے مگر بیٹا باپ سے بھی آگے نکلا۔ اس نے سوچا کہ موقع اچھا ہے، چل پیسہ سمیٹ اور نکل ۔ موصوف راتوں رات لندن بھاگ گئے ۔ اب لوگ اس انتظار میں دن کاٹتے رہے کہ شاید آج کل میں ہمارا ویزہ بھی آ جائے مگر ندارد ۔ آخر تنگ آ کر لگے لوگ مرزا طاہر کو شکایتیں لگانے کہ ہائے ہم لٹ گئے مگر وہاں سے ایک ہی جواب تھا کہ ہم سے پوچھ کر دیا تھا پیسہ؟ ادھر آئے روز انجمن کوارٹرز میں مولوی صاحب کے گھر ایک نیا ہنگامہ ہوتا رہا۔ جب لوگ اپنا پیسہ لینے آتے ، دروازہ توڑتے اور گالیاں بکتے موصوف کو، ان کی اوقات یاد دلاتے تھے۔ موصوف کے صاحبزادے کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ لندن پہنچتے ہی اس کی لالچی طبیعت پھر بھڑکی اور باپ بیٹے نے ایک نئے کاروبار کی بنیاد ڈالی یعنی قیمتی پتھروں کی سمگلنگ ۔ وہ بھی انہیں سادہ لوح قادیانیوں کے ذریعہ سے لندن جانے والے ہر قادیانی کے ذریعہ تھوڑے تھوڑے قیمتی پتھر لندن جانے لگے اور یہاں سے کوڑیوں کے بھاؤ خریدے گئے پتھر لاکھوں میں بکنے لگے۔ دھن برسنے لگا۔ مرزا طاہر نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے سلطان محمود کو ناظر اصلاح و ارشاد سے ناظر خدمت درویشان بھیج دیا دکھاوے کے لیے اور بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لیے موصوف کے صاحبزادے نے لندن میں ایک پریس اور اسلام آباد پاکستان میں ایک سافٹ ویئر ہاؤس کھول لیا اور در پردہ یہ کام پورے زور سے جاری رہا۔ چند ماہ موصوف نے ربوہ میں اپنے نئے گھر میں ایک عالیشان دعوت کا اہتمام کیا۔ اب مربی صاحب مہنگی ترین امپورٹڈ گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور یہی کہتے ہیں ، جو پایا، خلافت سے پایا۔ جو پایا اس جماعت سے پایا۔ اب اگلی دفعہ آپ ربوہ جائیں تو ان کا گھر دیکھنے ضرور جائیں ، آپ حیران رہ جائیں گے۔ یاد رہے کہ مرزا لقمان اور موجودہ نائب ناظر مرکزیہ حنیف محمود بھی اس کاروبار میں برابر کے شریک رہ چکے ہیں۔
”دجال‘‘ اگر تمثیلی ہے تو ”عیسیٰ ابن مریم‘‘ کیوں نہیں؟
مرزائی مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ احادیث میں جہاں ”دجال‘‘ کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد ”تمثیلی‘‘ دجال ہے۔ یہ کوئی شخصیت نہیں بلکہ ایک ”فتنہ‘‘ ہے جسے وہ کبھی ”عیسائی فتنہ‘‘
کبھی ”عیسائیت کا بھوت“ کہتے ہیں۔ اس طرح ”دجال“ ان کے مطابق ایک ”فرد“ نہیں بلکہ یہ ایک گروہ کا نام ہے، اب انہی احادیث میں جن کے اندر ”دجال“ کا ذکر ہے ایک اور ”شخصیت“ کا بھی ذکر ہے جن کے ہاتھوں دجال کا قتل ہونا بیان ہوا ہے، اور اس شخصیت کا نام ”عیسیٰ ابن مریم“ بتایا گیا ہے، مرزائی مربی ہمیں یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ دجال کا قتل بھی ایک استعارہ ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دجال ”ایک فتنے اور ایک گروہ“ کا نام ہے تو پھر ”عیسیٰ ابن مریم“ بھی ایک گروہ یا اچھائی کی ایک تحریک“ کا نام کیوں نہیں ہو سکتا؟ دوسرے لفظوں میں ”دجال“ اگر تمثیلی ہے تو ”عیسیٰ ابن مریم“ تمثیلی کیوں نہیں؟، کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ مرزائی مذہب ”دجال“ سے مراد تو ”عیسائیت کا فتنہ“ اور ”گروہ پادریاں“ لیتا ہے، لیکن ”عیسیٰ ابن مریم“ سے مراد ایک شخصیت یعنی ”چراغ بی بی اور حکیم غلام مرتضیٰ کا بیٹا غلام احمد عرف کرشن“ لیتا ہے؟ اگر تاویل کی قینچی چلانی ہے تو دونوں طرف برابر چلاؤ۔ سوچ مرزائی سوچ!
مرزا قادیانی کا خاص مرید مفتی صادق اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”حضرت مسیح موعود کی عادت تھی کہ دن میں کسی ایک وقت ایک یا دو گھنٹہ کے
واسطے سب سے بالکل علیحدہ ہو جاتے تھے۔ گورداسپور میں جس مکان میں ہم سب منزل کیے ہوئے تھے۔ اُس کی زمین کی منزل پر دروازہ سے داخل ہوتے ہوئے بائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو پاخانہ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مگر پاخانہ کے واسطے کوٹھے کے اُوپر اور جگہیں بھی تھیں۔ پس اس نیچے والے کمرے کو حضور نے صاف کرایا۔ اُسے خوب دھویا گیا۔ اور اُس میں فرش کیا گیا۔ اور دوپہر کے وقت دو یا تین گھنٹے کے قریب حضور بالکل علیحدہ اندر سے کنڈی لگا کر اس میں بیٹھے رہتے تھے“۔ (ذکر حبیب صفحہ 134 از مفتی صادق قادیانی)
مربی صاحبان بتا دیں، وہ قبر کہاں ہے؟
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ قادیانی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ”یہودی و
نصاریٰ‘‘ دونوں بنی اسرائیل ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ کر باقی تمام انبیاء دونوں کے ہیں لیکن قادیانی مربی صاحبان! آپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ قبر کہاں واقع ہے جسے عیسائیوں نے سجدہ گاہ بنایا؟ کشمیر میں؟ بلدۃ القدس میں؟ یا گلیل میں؟
یہ حدیث تو ہماری دلیل ہے...... عیسائی تو شروع دن سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روئے زمین پر کوئی ایسی قبر نہیں جس میں وہ آج دفن ہیں‘‘ تو پھر وہ سجدہ کس قبر کو کرتے ہیں؟ اور ہمارے آقا علیہ السلام کی بات جھوٹ ہو نہیں سکتی، کیا قادیانی مربی اس حدیث کو ’’جھوٹ‘‘ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا عیسائیوں سے مذاق اڑوانا چاہتے ہیں؟؟ مربی جی! اس حدیث میں ’’یہود ونصاریٰ کے متفق علیہ انبیاء کا ذکر ہے۔ یہی بات تمام محدثین نے لکھی ہے...... آپ کے مرزا محمود نے تو لکھا ہے کہ ’’عیسائیوں کے بھی بہت سے انبیاء تھے‘‘ (حوالہ محفوظ) کیا یہ بات ٹھیک ہے یا وہ بھی ’’بنی اسرائیل‘‘ کے انبیاء کا ہی ذکر کر رہا ہے؟، اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی قبر کہیں ہوتی تو ضرور عیسائی اسے سجدہ گاہ بنائے ہوئے ہوتے، کشمیر میں تو کوئی ہندو بھی اس قبر کو سجدہ نہیں کرتا جسے مرزا نے ان کی قبر بتایا ہے...... اس کا فراڈ ہونا تو کنفرم ہے۔ اس حدیث کی رو سے ہمارا سدا بہار چیلنج ہے مرزائی امت کو کہ ثابت کرو عیسائی کسی قبر کے بارے میں یہ کہتے ہوں کہ ’’یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہیں‘‘؟
دجال قادیان کی CV
ذاتی معلومات
نام: غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ (ماں کا نام چراغ بی بی) لقب دسوندی، کرشن، آریوں کا بادشاہ، جے سنگھ بہادر نسل: نسلیں ہیں بے شمار (آدم زاد بہرحال نہیں) سن پیدائش: بے شمار دفعہ بدلی گئی (خود 1839ء یا 1840ء بتایا ہے) مستقل پتہ، جہنم
شناختی علامات (Identity Marks)
آنکھیں پوری نہ کھلنا، دائمی دست آنا، دن میں سو سو بار پیشاب کرنا، ٹانک وائن کا شوق فرمانا، نامحرم لڑکیوں سے پہرہ داری کروانا، مریدوں کی آمدنی کا دسواں حصہ لینا، ملکہ
وکٹوریہ کے قصیدے پڑھنا، الٹی سیدھی پیش گوئیاں کرنا اور پھر ذلیل ہونا۔
دعوے(Claims)
مامور من اللہ، مجدد، محدث، جے سنگھ، مثیل مسیح، مسیح موعود، ظلی بروزی نبی وصاحب شریعت نبی، کرشن گوپال، خدا کا بیٹا، خدا کی بیوی۔
تعلیمی صلاحیت / ڈگریاں (Qualification)
درج ذیل مضامین میں ماسٹر ڈگری:
- قرآن کریم پر جھوٹ بولنا
- جھوٹی احادیث گھڑنا
- جعلی اور خانہ ساز نبوت تیار کرنا
درج ذیل مضامین میں پی ایچ ڈی کی ڈگری:
جھوٹ، بد زبانی، اللہ کی توہین، انبیاء کی توہین، اسلامی حکومتوں سے عناد، یہود و نصاریٰ کی ابدی غلامی، الٹے سیدھے الہام بنانا۔
دیگر قابل ذکر خصوصیات (Extra Qualifications)
شدید دماغی خلل، موروثی مراق، مختاری امتحان فیل، نامردی، حب زر و مال، چندہ کرنے میں نام، فراڈ میں نا قابل یقین مہارت، 50 کو 5 بنانے کے فارمولے کا موجد۔
الہامی شیطان
ٹیچی، مٹھن لال، خیراتی، روشنی، حفیظ، شیر علی، میٹھی روٹیوں والا
کیا اللہ کا سچا نبی کافروں کی اطاعت کر سکتا ہے؟
- یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین. ان اللہ کان علیما
حکیما O (الاحزاب: 1)
ترجمہ: ”اے نبی (مکرم!) (حسب سابق) ڈرتے رہیے اللہ تعالیٰ سے اور نہ کہنا مانیے کفار اور منافقین کا۔ بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، بڑا دانا ہے“۔
- ولا تطع الکفرین والمنفقین ودع اذھم وتوکل علی اللہ. وکفی باللہ
وکیلا O (الاحزاب: 48)
ترجمہ : ’’اور نہ کہنا مانو کافروں اور منافقوں کا اور پروا نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ رکھو اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کا) کارساز‘‘۔ اگر کوئی دھوکے باز یہ کہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز ہوں اور مجھ میں اور آپ ﷺ میں کوئی فرق نہیں لیکن دوسرف طرف یہ کہے کہ صلیبیوں اور کافروں کی اطاعت ضروری ہے تو اس کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک باقی ہے؟
سیل.......سیل.......سیل
ہمارے ہاں ہر قسم کے مذہبی دعوئے گارنٹی پر کیے جاتے ہیں۔ کسی قسم کا بھی کوئی دعویٰ کروانے کے لیے بلا جھجک ہم سے رابطہ کیجیے۔ ہر قسم کا دعویٰ بے تکلفی کے ساتھ بولے گئے جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ ہر دعوے کی من گھڑت شرطیہ تاویل ہمارے مربی حضرات کے پاس موجود ہے۔ ہمارے چند فخریہ دعوے۔ مہدی ، مثیل مسیح ، مسیح موعود ، مریم، ظلی نبی، بروزی نبی ، کرشن، جلدی کیجئے۔ یہ پیشکش محدود مدت کے لیے ہے، انگریز سرکار کے لیے خصوصی رعایت۔ منجانب (مرزا غلام قادیانی المعروف لیٹرین والی سرکار)
ایک ذاتی سوال اور اس کا جواب
اکثر مجھ سے ایک سوال کیا جاتا ہے کہ جاء الحق بھائی آپ کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہو؟ دیوبندی؟ بریلوی؟ اہل حدیث؟ جماعت اسلامی؟ دعوت اسلامی؟ وغیرہ۔ مسلمان بھی یہ سوال کرتے ہیں اور قادیانیوں کو تو سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ سب سے پہلے مسلمان سے یہی سوال کرو......تو میں نے سوچا کہ آج اس سوال کا جواب دے ہی دوں اور میرا تعلق جس مکتب فکر کے ساتھ ہے، وہ صاف صاف بتا دوں تاکہ دوستوں کا تجسس دور ہو جائے تو سب اچھی طرح پڑھ لیں:
’’میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی، میاں شیر محمد شرقپوری، پیر سید جماعت علی شاہ، شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا غلام ہوں، میں سید انور شاہ کاشمیری، مولانا احمد علی لاہوری، عطاء اللہ شاہ بخاری، سید یوسف بنوری، مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہم کا خادم ہوں، میں مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا عبداللہ معمار امرتسری، علامہ احسان الٰہی ظہیر کا دیوانہ ہوں، میں علامہ اقبالؒ،
غازی علم الدین شہیدؒ، شورش کاشمیریؒ کے مکتبہ فکر کا امین ہوں، میں 1953ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے شہداء کے خون کی گرمی کو اپنے خون میں محسوس کرتا ہوں...... میں دیو بندی ہوں، میں بریلوی ہوں، میں اہل حدیث ہوں، ہاں ہاں کوئی کسی شک میں نہ رہے، اگر مرزا قادیانی ’’معجون مرکب‘‘ ہو سکتا ہے تو میں یہ سب کچھ کیوں نہیں ہو سکتا؟ بلکہ غور سے پڑھو میں ہر اس شخص کا غلام ہوں جو تاجدارِ ختمِ نبوت فداہ ابی و امی کی ختم نبوت کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کو پھوڑ دے اور گندے ہاتھوں کو توڑ دے، میں تو اس کتے کو بھی سلام کرتا ہوں جو کسی مرزائی پر بھونکے، کیونکہ میرا وجود، میری پہچان، میرا سب کچھ تو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر قربان ہے۔ اسی لیے تو مجھے ختم نبوت کے ڈاکو ’’سرکاری مسلمان‘‘ کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ میرے ایمان پر ’’سرکار مدینہ‘‘ کی مہر لگی ہے۔ الحمد للہ
دس ہزار مسیح
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ’’میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے
نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ 199 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 از مرزا قادیانی)
- ’’اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی
خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آ سکتا ہے‘‘
(ازالہ اوہام صفحہ 295 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
مرزا غلام قادیانی کا شاہکار جھوٹ ملاحظہ کیجیے کہ مرزا غلام قادیانی کے نزدیک دس ہزار تک مسیح (عیسیٰ) آ سکتے ہیں۔ جبکہ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے عیسیٰ ابن مریم کے (احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی نشانیوں کے مطابق) کسی دوسرے مسیح کے نزول کی خبر نہیں دی گئی ہے۔
قادیانیو! سوچو تم! کس انسان کے پیچھے لگے ہو۔ مرزا غلام قادیانی نے ایسی ایسی باتوں کو ایجاد کیا ہے جو عقل سے ماوراء ہیں اور جن کا قرآن وحدیث سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں ہے۔
فارسی النسل بارے مرزائی فراڈ
مفسر قرآن حضرت شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے جو مرزائیوں کے نزدیک نویں صدی ہجری کے مجدد ہیں (”عسل مصفیٰ“ صفحہ 164)، اپنی کتاب: ”تبیض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ“ میں بخاری و مسلم و دیگر کتب احادیث میں درج نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان: ”اگر ایمان ثریا ستارے کے بھی قریب ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے“ (بخاری) وغیرہ ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے۔
نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی کی ذات مغل برلاس تھی۔ لہٰذا قادیانی مربی اس حدیث کو مرزا قادیانی پر منطبق نہ کریں۔
جواب دو مسرور
کیا تمہاری وصیت ہے؟
ماہانہ کتنا چندہ دیتے ہو؟
کبھی عمرہ کیا؟
کبھی حج کیا؟
کبھی اعتکاف کے لیے بیٹھے؟
کبھی سامنے کاغذ رکھے بغیر تقریر کی؟
کبھی ایم۔ ٹی۔ اے پر لائیو کسی غیر قادیانی مسلم عالم سے مباحثہ کیا؟
کبھی اتنی ہمت ہوئی کہ اپنے باڈی گارڈز کے بغیر سفر کرو؟
کبھی ماہانہ چندہ میں کمی کی؟
کبھی قادیانیوں سے کہا کہ وہ حج اور عمرہ کا شوق بھی رکھیں؟
اگر ان گیارہ سوالوں کا جواب نہیں ہے تو یقین کرو کہ سفید پگڑی اور بیش قیمت
شیروانی پہن کر اپنے پیروکاروں کو بیوقوف بنا رہے ہو۔
مرزا محمود کا جھوٹا رویا
مرزائی خلیفہ مرزا محمود نے ایک رویا میں ایک کتاب دیکھی جس کا نام منہاج الطالبین لکھا۔ اس کے بعد دعویٰ کر دیا کہ اس نام کی کوئی کتاب ہے اور نہ کوئی مصنف جس نے اس نام سے کتاب لکھی ہو۔
(منہاج الطالبین صفحہ 11 مندرجہ انوار العلوم جلد 9 صفحہ 172، 173 از مرزا بشیر الدین محمود)
یاد رہے کہ منہاج الطالبین ایک بہت پرانی کتاب ہے، جس کو ابو زکریا محی الدین یحییٰ ابن شرف النووی (1233-1277) نے لکھا تھا اور اس کتاب کا پہلی دفعہ انگلش ترجمہ 1914ء میں کیا گیا تھا۔ اور اس طرح مرزا بشیر الدین، خلیفہ ثانی کا رویا جھوٹا اور شیطانی ثابت ہوا، اس طرح یہ مرزائی نقلی رویا بناتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی متعدد دفعہ ایسا ہی کیا۔
احتیاط کیجیے!
کسی مریض میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً کسی ماہر سرجن سے رجوع کریں، ورنہ مریض کوئی خطرناک مذہبی دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔
- دائمی دست آنا۔
- پیشاب کی کثرت (مریض کو دن میں کبھی سو بار پیشاب بھی آتا ہے)۔
- شدید دماغی خلل، دوران سر، تشنج، دل کی بیماری۔
- مراق کی وجہ سے ہسٹیریا کے دورے پڑنا۔
- نامردی
- قولنج زحیری (جس سے پاخانے کی راہ سے خون بھی آسکتا ہے)
- آنکھیں پوری نہ کھلنا
بوجھو تو جانیں......؟
سوال: یہ ”ٹیچی ٹیچی“ کیا ہے؟
- 1- سری لنکا کے مینڈک
- 2- مرزا قادیانی کے فرشتے
- 3- تھائی لینڈ کے مردے
دنیائے مرزائیت کو چیلنج
قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر کا کہنا ہے:
- ❑ ”دنیا کی کوئی طاقت جو دلائل میں قوی ہو، وہ ہتھیار نہیں اٹھایا کرتی اور دوسرے کی
بات کے بیان کرنے کی راہ میں قانونی روکیں نہیں ڈالا کرتی۔ یہ عقل کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے اور ان کے اپنے مفاد کے خلاف ہے۔ اس لیے تمام قانونی کوششیں جو اس بات میں صرف کی جا رہی ہیں کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کے خلاف تو حملے ہو جائیں لیکن جماعت احمدیہ کو جواب کا موقع نہ ملے۔ یہ شدید بزدلی کی علامت ہے اور شکست کا آخری اعتراف کہ ان کے پاس دلائل کا فقدان ہے۔“ (زهق الباطل باب اول صفحہ 2 از مرزا طاہر)
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ❑ ”ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“
(کتاب البریہ حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 221 از مرزا قادیانی)
کیا قادیانیوں میں کوئی پڑھا لکھا انسان ہے جو مجھے مرزا غلام قادیانی کی اس تحریر کو دنیا کی کسی کتاب سے ثابت کر دے کہ ”محدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔“
یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں والی جماعت
مرزا قادیانی سے کسی نے پوچھا کہ یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں سے کیا مراد ہے تو مرزا قادیانی نے جواب دیا:
- ❑ ”ان کے لمبے کانوں سے مراد جاسوسی کی مشق ہے جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے
ہیں کہ تار کا سلسلہ اور اخبار وغیرہ سب اسی میں ہیں۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 599 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جیسا کہ اس زمانے میں ٹیلی ویژن وغیرہ ایجاد نہیں ہوا تھا تو مرزا قادیانی نے یاجوج ماجوج کی تاویلات میں طیارہ کہہ کر یہ ثابت کر دیا کہ جیسے فون ٹی وی ان سے مراد یاجوج ماجوج کے لمبے کان ہی ہیں۔ ایک اور نکتہ بیان کرتا چلوں کہ اس زمانہ میں الفضل اور دوسرے اخباروں پر چھپنے والے الہاموں سے مراد یاجوج ماجوج کے کانوں پر چھپنا ہی تھا۔ اور مرزا کہتا ہے:
- ”خدا تعالیٰ ہمیں اکیلا کمزور یا ضعیف پا کر آسمان سے ہماری حمایت کے لیے تار
بھیج دیتا ہے“۔ (دیکھیے ملفوظات جلد دوئم طبع جدید صفحہ 424 از مرزا قادیانی)
اس سے بھی مراد یہی ہے کہ مرزا کو الہام میں یاجوج ماجوج کے لمبے کان نظر آتے تھے۔ اگر آپ مرزا قادیانی کی کتب دیکھیں تو بیشتر جگہ مرزا کو تار موصول ہوتی رہتی ہے۔ مختلف جگہ سے لوگ چندہ بذریعہ تار بھیجتے تھے تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ پوری مرزائیت یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ کہنا کہ مرزائیت سے مراد یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں والی جماعت ہے، تو غلط نہ ہوگا۔
مرزا قادیانی دوٹوک الفاظ میں اپنی عمر بتاتا ہے
نہ کوئی اندازہ نہ کوئی لفظ ”تقریباً“ نہ کوئی لفظ ”یا“ بلکہ صاف طور پر 4 نومبر 1905ء کو مرزا قادیانی نے اپنی عمر ”67 سال کی“ بتائی ہے۔
(لیکچر لدھیانہ صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 293 از مرزا قادیانی)
اگر مرزا قادیانی نومبر 1905ء میں 67 سال کا تھا تو اس کی پیدائش کا سال 1839ء کے لگ بھگ ہی بنتا ہے۔
مرزائی مربی کہتے ہیں کہ مرزا نے جو کچھ بھی اپنے پیدائش کے سال کے بارے میں لکھا، وہ اس کی بھول تھی اور اس کا اندازہ تھا جو کہ غلط ثابت ہوا۔ اسی طرح مرزا کے دونوں بیٹوں مرزا محمود اور مرزا بشیر احمد کی تحریروں کے بارے میں مرزائی مربی کہتے ہیں: ”انہوں نے بھی یہ بغیر تحقیق کے لکھ دیا اس وقت تک ابھی اس بارے میں تحقیق نہ ہوئی تھی“
حالانکہ مرزا قادیانی نے نومبر 1905ء میں لدھیانہ میں خود بنفس نفیس ایک لیکچر دیا اور اس میں ہزاروں لوگوں کے مجمع میں کہا کہ ”میری عمر 67 سال کی ہے“
نہ تو یہاں ”تقریباً 67 کہا اور نہ ہی کہا کہ 67 سال کے قریب ہے“...... قادیانی مربی کہتے ہیں: ”یہ لیکچر پڑھا گیا تھا اور مرزا کے کسی مرید نے پڑھ کر سنایا اور یہ 1905ء سے پہلے لکھا گیا تھا“......جبکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”لیکچر لدھیانہ“ کے ٹائیٹل پیج پر صاف لکھا ہے ”مرزا قادیانی نے ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں خود لیکچر دیا“ اور خود مرزا نے کہا کہ ”میں اس شہر میں 14 برس کے بعد آیا ہوں“...... جس سے واضح ہے کہ ”مرزا نے خود یہ لیکچر دیا“...... قادیانی مربیو! اب تو تمہاری ذلت انتہا کو پہنچ گئی......!
قرآن کریم کا ایک فیصلہ
- فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا
فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما (النساء:65)
ترجمہ: ”پس (اے مصطفیٰؐ) تیرے رب کی قسم، یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ حاکم بنائیں آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آپ نے کیا اور تسلیم کرلیں دل و جان سے۔“
جب قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا اثبات کیا اور نزول کا کہیں انکار نہ کیا بلکہ اشارۃ النص سے نزول کا بھی پتہ دے دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے واضح فرامین میں اللہ کی قسم اٹھا کر صاف اور واضح طور پر فرما دیا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قیامت سے پہلے نازل ہونگے، کہیں یہ فرمایا کہ آسمان سے نازل ہونگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین مقدسہ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ بہت سے صحابہ کرامؓ نے نقل فرمائے جو کہ تواتر کی حد تک پہنچتے ہیں اور صحیح ترین طریقے سے ثابت ہیں اور امت اسلامیہ نے ان احادیث کو ان کے ظاہری مفہوم پر ہی قبول کیا اور خیر القرون یعنی صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانے میں کسی ایک ہستی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا، تو اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دوٹوک فیصلے کو تسلیم نہ کرنے والے مذکورہ آیت کی رو سے کیا ہونگے؟ ذرا سوچیے!
وینود کھنہ، قادیانی جلسہ میں
دسمبر 2013ء میں قادیان بھارت میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا جس میں قادیانیوں کی خاص دعوت پر بالی وڈ کے معروف بھارتی اداکار وینود کھنہ Vinod) (Khanna نے خصوصی شرکت کی۔ قادیانی اخبارات اور ایم۔ ٹی۔ اے چینل نے اس کی خوب تشہیر اور کوریج کی۔ گویا قادیانیوں کے لیے یہ ایک اعزاز اور سعادت کی بات تھی کہ وینود کھنہ نے اس جلسہ میں شرکت کی۔ یاد رہے وینود کھنہ ریپ مناظر کی وجہ سے بھارتی فلموں میں خاصے مشہور بلکہ بدنام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وینود کھنہ قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کی پسندیدہ شخصیت ہے۔ خلیفہ صاحب ان کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتے ہیں، اس لیے وینود کھنہ کو جلسہ سالانہ میں خصوصی دعوت دی۔ سچ ہے: کند ہم جنس با ہم جنس پرواز ۔
مرزا قادیانی کا پہلا تصنیفی کارنامہ
جناب جاء الحق صاحب کی یہ پوسٹ فیس بک پر بہت پسند کی گئی۔ ملاحظہ کیجیے! مرزا قادیانی کا اشتہار بازی، مقدمہ بازی، مناظرہ بازی کے بعد پہلا تصنیفی کام ”براہین احمدیہ“ ہے۔ پہلا حصہ 1880ء میں شائع ہوا، اس کے اول میں خریداری کتاب کا اشتہار، پھر ”التماس از مولف“ جس میں چندہ دہندگان کے نام بھی ہیں، صفحہ 13 پر دیباچہ شروع ہوا جو صفحہ 24 پر ختم ہوا، اس کے بعد موٹے حروف کا اشتہار ہے، ایک صفحہ کی سات سطریں ہیں، یہ صفحہ 52 پر ختم ہوا، لیجیے! پہلا حصہ مکمل ہو گیا، گویا براہین احمدیہ کی پہلی جلد کے 52 صفحات ہیں۔ اب دوسرا حصہ 1881ء میں شائع ہوا۔ اس میں پہلے 20 صفحات اشتہارات کے ہیں، براہین احمدیہ کی پہلی چار جلدیں جب ایک ساتھ شائع ہوئیں تو ان کے صفحات مسلسل ہیں (روحانی خزائن جلد 1 میں یہ چاروں جلدیں ہیں) مسلسل صفحات میں سے صفحہ 70 پر جا کر کتاب کا مقدمہ دوسری جلد میں شروع ہوا، صفحہ 55 سے یہ دوسرا حصہ شروع ہو کر صفحہ 131 پر ختم ہو جاتا ہے، گویا دوسری جلد کے کل 76 صفحات ہیں۔ سال بھر میں دعوی مجددیت، مامور من اللہ، ملہم ہونے کا دعوی، لوگوں سے مضامین مانگے اور سال بھر میں 76 صفحات پر مشتمل جلد تیار کر پایا، اسے کہتے ہیں ”سلطان القلم“۔
تیسری جلد میں بھی حسب سابق ابتداء میں 10 صفحات کے اشتہارات، پھر جا کر پہلی فصل شروع ہوئی۔ اس میں تمہید در تمہید مسلسل صفحات کے صفحہ 143 سے شروع ہو کر صفحہ 310 پر پہنچے تو یہ جلد بھی ختم کر دی...... آخر میں پھر ”عذر و اطلاع“ کا دو صفحے کا اشتہار لگا دیا جو صفحہ 311 اور 312 پر ہے، لیکن یہاں تصنیف کی دنیا کا ایسا لازوال کمال دکھایا جو مرزا قادیانی کے سارے کمالات پر بھاری ہے۔ براہین احمدیہ کے تیسرے حصے کا صفحہ 310 پر اختتام کیا تو اس کا آخری جملہ ناتمام چھوڑ دیا، آخری جملہ یہ لکھا ”مگر جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا“، اور ان الفاظ پر تیسری جلد ختم ہو گئی۔ اب مسلسل صفحات کے صفحہ 313 سے جلد نمبر 4 شروع ہوئی، صفحہ 322 تک حسب عادت اشتہارات ہیں اور پھر صفحہ 322 پر صفحہ 310 کے ناتمام جملے کو مکمل کیا، تیسری جلد کے آخر میں صفحہ 310 کا آخری جملہ تھا ”خدا کے خواص کا ضروری ہونا“، اب چوتھی جلد میں صفحہ 322 پر اس جملے کا باقی حصہ اس طرح ہے ”یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا“، اور اس کے آگے بھی یہ شیطانی آنت پھیلتی جا رہی ہے۔ میرا آپ سب سے سوال ہے کہ کیا آج تک تصنیف کی دنیا میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ جملہ کا ایک حصہ کسی کتاب کی ایک جلد میں اور اور اس جملے کا دوسرا حصہ دوسری جلد میں ہو اور مسلسل صفحات میں 12 صفحات کا فرق بھی ہوا؟ ایک نا تمام جملہ دوسری جلد میں صفحہ 310 پر لکھا اور جلد ختم ، اگلی جلد کے 12 صفحات بعد جا کر اس جملے کو مکمل کیا، یہ ہے مرزا قادیانی، مجدد، مامور، ملہم اور سلطان القلم کی قابلیت اور ایسے ریکارڈ جسے آج تک کوئی احمق سے احمق انسان نہیں توڑ سکا اور نہ توڑ سکے گا۔
1880ء سے 1884ء تک چار جلدیں مرزا قادیانی نے براہین کی شائع کیں، ان چاروں جلدوں کے کل صفحات 673 ہیں، گویا فی جلد 168 صفحات ہوئے۔ چار سالوں میں مرزا قادیانی کی یہ کاوش سامنے آئی۔ مرزا قادیانی نے وعدہ کیا تھا کہ براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں ہونگی لیکن چار جلدیں لکھنے کے بعد براہین احمدیہ لکھنے کا سلسلہ بند کر دیا ...... پھر تقریباً 20 سال بعد 1905ء میں مرزا قادیانی نے ایک اور عجوبہ دکھایا، ایک کتاب لکھنی شروع کی جس کا نام ”نصرۃ الحق“ بتایا۔ جب اس کے 72 صفحات لکھ چکا تو ایک دم نہ جانے کیا خیال آیا کہ صفحہ نمبر 73 سے اس کا نام ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ لکھنا شروع کر دیا۔ آج بھی روحانی خزائن جلد 21 پر یہ عجوبہ دیکھا جا سکتا ہے۔ صفحہ 72 تک کتاب کا نام ”نصرۃ الحق“ لکھا ہے
اور صفحہ 73 سے نام بدل کر ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ لکھا ہے۔...... اور پھر صفحہ 411 سے ان کا نام ”خاتمہ نصرۃ الحق“ لکھا ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد اکتوبر 1908ء میں شائع ہوئی۔ اب مرزا قادیانی کی اس مایہ ناز کتاب کا تجزیہ کریں تو یہ ہے کہ پہلے چار حصوں میں حیات مسیح علیہ السلام کو قرآن سے ثابت کیا ہے لیکن آخری حصے میں وفات مسیح علیہ السلام کا بیان ہے، پہلے حصوں میں نبوت کے ختم ہونے کا بیان ہے اور آخری حصے میں نبوت کے جاری ہونے کا۔ گویا کہ ایک ہی کتاب کا پہلا حصہ اور آخری حصہ ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہی تضاد مرزا قادیانی کی زندگی کا خلاصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پانچویں جلد یعنی نصرت الحق اور براہین احمدیہ حصہ پنجم کے کل صفحات 428 ہیں اور پہلی چاروں جلدوں کے کل صفحات 673 ہیں۔ یہ سب ملا کر 1101 صفحات بنتے ہیں لیکن مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے بھی اپنے باپ سے دو ہاتھ آگے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ لکھتا ہے ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی اس کے مطابق مرزا قادیانی) نے 1879ء میں براہین کے متعلق اعلان شائع فرمایا تو اس وقت آپ براہین احمدیہ تصنیف فرما چکے تھے اور کتاب کا حجم تقریباً دو اڑھائی ہزار صفحات تک پہنچ گیا تھا اور اس میں آپ نے اسلام کی صداقت میں تین سو ایسے زبردست دلائل تحریر کیے تھے کہ جن کے متعلق آپ کا دعویٰ تھا کہ ان سے صداقت اسلام، آفتاب کی طرح ظاہر ہو جائے گی“ آگے لکھا ” تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے، اس میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نامکمل طور پر ”(سیرۃ المہدی، حصہ اول صفحہ 299 -100 طبع جدید)۔
تو یہ ہے مرزا قادیانی کا تصنیفی کارنامہ، مرزا بشیر احمد ایم اے کے مطابق اس کے باپ نے اسلام کی حقانیت کے تین سو دلائل لکھے تھے لیکن جب چھاپنے کا وقت آیا تو صرف ایک دلیل چھاپی اور وہ بھی نامکمل...... باقی 299 دلیلیں آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟......
یہی نہیں، مرزا قادیانی نے انتہائی ڈھٹائی اور کمال کفر کے ساتھ براہین احمدیہ کو کئی جگہ پر خدائی تصنیف قرار دیا۔ وہ بار بار اپنی کتابوں میں ایسے جملے لکھتا ہے ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود قرار دیا ہے اور میرا نام عیسیٰ رکھا ہے“ (تتمہ حقیقۃ الوحی، صفحہ 501 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 501) اور کہیں لکھا ”خدا تعالیٰ نے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے“ (تتمہ حقیقۃ
الوحی، جلد 22 صفحہ 502)، اس طرح کے اور بہت سے الفاظ مرزا کی کتابوں میں ملتے ہیں جہاں اس نے لکھا کہ ”خدا نے براہین احمدیہ میں فرمایا“ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی براہین احمدیہ کو قرآن کی طرح اللہ کی کتاب قرار دیتا ہے۔
آخر میں مرزا قادیانی کا ریکارڈ ساز لطیفہ بھی ملاحظہ فرمالیں، جیسا کہ آپ نے پڑھا، مرزا نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھے گا لیکن لکھیں ساڑھے چار ( آخری جلد میں کہیں نصرت الحق ہے اور کہیں براہین احمدیہ)، اب لوگ حیران و پریشان کہ 22-23 سالوں میں صرف ساڑھے چار جلدیں لکھیں ہیں تو پچاس کب پوری ہونگی؟ تو مرزا قادیانی نے حساب اور ریاضی کا ایسا قانون ایجاد کیا جس پر اسے بھی نوبیل انعام ملنا چاہیے تھا۔..... وہ قانون یہ ہے۔
- ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس
اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9 از مرزا قادیانی)
کیا مرزا قادیانی مہدی ہے؟
”مہدی“ کے بارے میں مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”اور جہاں تک مہدی کی آمد سے متعلقہ احادیث کا تعلق ہے تو تو جانتا ہے کہ وہ
سب کی سب ضعیف، مجروح ہیں اور ایک دوسری کی مخالف ہیں۔ یہاں تک کہ ابن ماجہ اور اس کے علاوہ دوسری کتب میں ایک حدیث آئی ہے کہ ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“ ،یعنی عیسیٰ ابن مریم ہی مہدی ہوگا“ پس کس طرح ان جیسی احادیث پر اعتماد کیا جا سکتا ہے جن میں شدت سے باہم اختلافات، تناقض اور ضعف پایا جاتا ہے اور ان کے راویوں پر بہت جرح ہوئی ہے جیسا کہ محدثین پر یہ بات مخفی نہیں۔
حاصل کلام یہ کہ یہ ساری احادیث اختلافات اور تناقضات سے خالی نہیں۔ پس ان سب سے الگ رہ اور احادیث کے تنازعات کو قرآن کی طرف لوٹا اور قرآن کو ان پر حاکم بنا تاکہ تجھ پر رشد و ہدایت ظاہر ہو۔ اور تو ان لوگوں میں سے ہو جائے جو ہدایت یافتہ ہیں۔ لیکن اگر تو احادیث کو ان کے تناقض اور ان میں شدید اختلاف اور ان کے یقین کے مرتبہ سے
گرے ہوئے ہونے کے باوجود قبول کرتا ہے تو تیرے لیے یہ کہیں زیادہ مناسب ہو گا کہ تو قرآن کو قبول کرے جو ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ باطل نہ تو اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے ۔ اگر تو یقین کی راہوں کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ صفحہ 90 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 315 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اگر مہدی کے بارے میں تمام احادیث ضعیف اور مجروح ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہیں تو پھر اس نے خود ”مہدی“ ہونے کا دعویٰ کیسے کیا؟ احمقوں کا احمق....... مرزائیوں پر لازم ہے کہ وہ صرف قرآن سے ثابت کریں کہ کسی مہدی نے آنا ہے اور وہ قادیانی غلام ہے۔
قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کے بارے میں!
اعداد و شمار کے جھوٹ میں قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا طاہر اپنے عہد کے سب سے بڑے کذاب ثابت ہوتے ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس میں جھوٹ کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہوئے دنیا بھر کے قادیانیوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا۔ تب اس سلسلے کا ایک خطبہ جرمنی کے جلسہ کے موقعہ پر دیا۔ اسی دن شام کو چھوٹے بچوں کے ساتھ مرزا طاہر کی مجلس سوال و جواب تھی۔ ایک چھوٹے سے بچے نے بڑی معصومیت کے ساتھ سوال کیا کہ آپ جھوٹ کے خلاف جہاد کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ہم میں سے اکثریت جھوٹ بول کر، جھوٹے بیانات دے کر یہاں پناہ حاصل کرتی ہے۔ اس بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر بٹھا دیا گیا۔ لیکن اگر غور کریں تو وہ معصوم بچہ اس بچے جیسا تھا جس نے خوشامدی اور ڈرے ہوئے لوگوں کے درمیان بڑی ہی معصومیت سے کہہ دیا تھا کہ ”بادشاہ ننگا ہے“۔
مرزا طاہر نے اپنی خلافت کے بالکل ابتدائی ایام میں خواتین کے پردہ کے بارے میں ایسے سخت خطبات دیئے تھے کہ اپنی بیٹیوں کی بعض سہیلیوں کے ہلکے پھلکے ریمارکس پر بھی غیض و غضب میں آ گئے تھے۔ وہ سارے خطبات آڈیو کیسٹ میں موجود ہیں۔ وہی مرزا طاہر لندن اور سارے یورپ اور امریکہ میں اپنی لجنہ اماء اللہ کو نہ صرف بے پردہ دیکھنے پر مجبور تھا بلکہ نوجوان نسل سے لے کر بزرگوں تک سب کی جنسی گمراہیوں کے قصے بھی دبانے میں
لگے رہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی جماعت کی مثالی پاکیزگی کے دعوے بھی کرتے جاتے تھے۔ ایم ٹی اے کے سٹوڈیو میں (پردہ پوشی کی غرض سے ملک اور افراد کے نام احتیاطاً نہیں لکھ رہا) ایک بڑے عہدیدار کی بیٹی اور تین عہدیداروں کے بیٹے اجتماعی طور پر رنگ رلیاں مناتے رہے۔ لڑکی حاملہ ہو گئی تو بات جماعت کے نوٹس میں آئی۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ جنسی گمراہیوں کی کئی مثالیں ہیں۔ حال ہی میں ایک مغربی ملک کے مشنری انچارج کی بیٹی کی شادی کھٹائی میں پڑ گئی۔ شادی کے کارڈز تقسیم ہو چکے تھے۔ اسی دوران لڑکے کو لڑکی کے اصل کردار کا پتہ چلا اور وہ شادی والے دن بھاگ گیا۔ تو یہ ہے مرزا طاہر کے پردہ کے ان بلند بانگ دعووں کا نتیجہ جو انہوں نے اپنی خلافت کے آغاز میں کئے تھے۔ کیا آغاز تھا اور کیا انجام ہے۔
مرزا طاہر نے خلافت کی پہلی بیعت لی تو سب سے پہلے مرزا انس، مرزا فرید اور مرزا لقمان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔ جس خلافت کی ابتداء ان تین ہاتھوں سے ہوئی، آج یہی تین بھائی مرزا طاہر کی درگاہ سے راندے ہوئے شمار ہوتے ہیں۔ مرزا طاہر نے اپنے ”پردہ کے احکامات“ کی دھجیاں خود بھی اڑائیں۔ ایک وقت تک مختلف تقریبات سے لے کر جلسہ سالانہ تک ایک خوبصورت سی گوری بوسنین خاتون مرزا طاہر کے پہلو میں بیٹھی ہوتی تھی۔ اسے بوسنین ترجمان کے طور پر رکھا گیا تھا۔ پھر قادیانی ٹی وی چینل پر بھی اس کے جلوے دکھائے جاتے رہے۔ اس سلسلے میں مزید کچھ کہنے کے بجائے مرزا طاہر کی اصل پر ایک نظر ڈال لیں۔ ان کے والد مرزا محمود جو خلیفہ ثانی کہلاتے ہیں اور اپنے اصل کردار کی وجہ سے واقف حال حلقوں میں خلیفہ زانی کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی ساری زندگی جنسی غلط کاریوں میں بسر ہوئی۔ مرزا محمود پر بدکاری کا پہلا الزام ان کے والد کی زندگی میں لگ گیا تھا۔ اس پر ایک انکوائری کمیشن بٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے دور اقتدار میں تقریباً ہر آٹھ دس سال کے بعد ان کے اپنے قریب ترین قادیانیوں میں شور اٹھتا اور ان پر جنسی بے راہروی کے ہولناک الزام لگائے جاتے رہے۔ انہیں اس مسئلے پر مباہلہ کا چیلنج دیا جاتا رہا لیکن وہ مرتے دم تک اس طرف نہیں آئے۔ یہ ایک وسیع مضمون ہے۔ گویا مرزا طاہر کے والد بزرگوار ایک ایسی عظیم ہستی تھے جن پر اس وقت تک زنا کاری کے الزام لگتے رہے جب تک وہ مفلوج ہو کر بستر پر گر نہیں گئے۔ مرزا طاہر کی والدہ مریم (ام طاہر) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مرزا محمود کی غلط کاریوں میں برابر کی شریک تھی۔ اسی وجہ سے آتشک جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو
گئی تھی۔ اس کا سارا بدن سر سے پیر تک گل سڑ گیا تھا۔ موت کے بعد بھی گندگی بہتی رہی۔ چار پانچ دفعہ کفن تبدیل کر کے گندگی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پھر قیمتی سے قیمتی خوشبویات کو استعمال کیا گیا تا کہ بدبو اور تعفن کو دبایا جا سکے۔ اس کے باوجود بدبو ختم نہیں ہوئی۔ تب چند انتہائی مخصوص لوگوں کے سوا باقی سارے قادیانیوں کو جنازے سے خاصے فاصلے پر رکھا گیا۔ پھر مدرسہ احمدیہ قادیان کے گیٹ کو بند کر کے لوگوں کو باہر ہی روک دیا گیا۔ مرزا طاہر کی والدہ کی تدفین کے بعد گیٹ کھولا گیا تا کہ لوگ آ کر قبر پر دعا کر لیں۔ یہ سب کچھ تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے وہ ساری تاریخ دنیا کے سامنے بڑے پیمانے پر آتی جائے گی۔
اب تو مرزا طاہر کے جھوٹ اور مکر و فریب سے بھی تعفن اٹھنے لگا ہے۔ ان کے مخفی کردار کے لیے کسی بوسنین خاتون یا ربوہ کی کسی جانگلی ملازمہ کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے والد اور والدہ کا پاک کردار ہی ان کے تقدس کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنی جس بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کی۔ قادیانی چینل پر اس تقریب کو براہ راست دکھایا گیا، وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔ وہ شادی رائل خاندان کے ایک فرد سے ہی ہوئی تھی۔ پھر ناکام کیوں ہوئی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ لڑکے کے سامنے مرزا طاہر کی خلافت کی شان وشوکت تھی، مرزا طاہر کی کروڑوں کی جائداد میں حصہ بھی شامل تھا۔ اس کے باوجود یہ رشتہ ناکام ہو گیا۔
کوئی اس لڑکے سے پوچھے کہ وہ لڑکی کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔ مرزا ناصر کے بیٹے مرزا لقمان احمد کے ساتھ اپنی ایک بیٹی کا رشتہ کر کے مرزا طاہر احمد نے اپنی خلافت تو پکی کر لی لیکن وہ رشتہ پکا نہ رہ سکا۔ مرزا طاہر نام لیے بغیر مرزا لقمان احمد کے خلاف دو تین خطبوں میں غیظ وغضب کا اظہار بھی کر چکے تھے۔ ویسے تو ہر بیٹی کا بھلا سوچنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ دونوں رشتے ہی کیوں ٹوٹ گئے جو خود ان کے رائل خاندان کے اندر طے ہوئے تھے۔ کہیں اس کی وجہ اندرون خانہ احوال سے زیادہ واقفیت تو نہیں ہے؟ مرزا طاہر کی نمائش پسندی کا تماشہ دیکھنا ہو تو قادیانی چینل دیکھئے اور لطف اٹھائیے۔ اسلامی خلفاء نے اپنی شخصیت کو منہا کر کے اسلام کی خدمت کی تھی۔ مرزا طاہر کی نفس پرستی کا یہ عالم تھا کہ بچوں کے پروگرام میں بھی خود ہی گھسے بیٹھے ہوتے تھے۔ ان کا یہ کردار انہیں ایک مذہبی ایکٹر بنا چکا تھا۔ نمائش پسندی کی ہوس میں ہی مرزا طاہر نے اپنے بارے میں ایک معمولی سے انگریز سے اپنی تعریف میں
کتاب لکھوائی اور اسے اس کا جو مجموعی معاوضہ دیا گیا، اس کے بارے میں جان کر ایک عام قادیانی کے تو ہوش ہی اڑ جائیں گے۔
اس سارے تجزیہ سے مرزا طاہر ایک نفس پرست، خود پسند، کمزور کردار کے مالک، کمزوروں کے ساتھ غضب ناک ہو جانے والے اور طاقتوروں کے سامنے سے فرار اختیار کر جانے والے ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے اور ان کے خاندان کا نام نہاد تقدس بھی خود ان کے اندرونی حالات سے ظاہر ہوا جاتا ہے۔ وہ اپنی بنیادی ترجیحات سے نہ صرف ہٹ گئے بلکہ جھوٹ بولنے کے عالمی ریکارڈ قائم کر گئے۔ سو باتوں کی بات...... قادیانی جماعت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اپنی تعداد کی گنتی کرا کے اس کی تصدیق کرا دے، اگر وہ اپنی اب تک کی بیان کردہ تعداد کا ایک چوتھائی حصہ بھی نکل آئیں تو ان کو سچا مان لیا جائے ورنہ ایسے کذاب لوگوں پر خدا کی لعنت تو پہلے سے ہی موجود ہے۔
چودھویں صدی کے مجدد کا کام
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”عیسائیوں کا فتنہ ام الفتن ہے، اس لیے چودھویں صدی کے مجدد کا کام یکسر
الصلیب ہے۔ پھر چونکہ یہ علامت اس پر صادق آئی، اس لیے چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود قرار پایا۔ کیونکہ احادیث سے مسیح موعود کا کام یکسر الصلیب ثابت ہوتا ہے...... پس طالب ہدایت سمجھ لے کہ موجودہ حالتوں میں چودھویں صدی کے مجدد کا یہ کام ہے کہ کسر صلیب کرے۔ کیونکہ صلیبی فتنہ خطرناک پھیلا ہوا ہے۔ اسلام ایسا دین تھا کہ اگر ایک بھی اس سے مرتد ہو جاتا، تو قیامت برپا ہو جاتی تھی، لیکن اب کس قدر افسوس ہے کہ مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے۔ اور وہ لوگ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ اب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی نسبت جس کی پاک باطنی کی کوئی نظیر دنیا میں موجود نہیں ۔ قسم قسم کے دل آزار بہتان لگا رہے ہیں کہ کروڑوں کتابیں اس سید المعصومین کی تکذیب میں اس گروہ کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ 109 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے:
- (1) بقول مرزا قادیانی عیسائی فتنہ ”ام الفتن“ اور خطرناک ہے تو آپ امریکہ، برطانیہ
اور جرمنی وغیرہ میں پناہ کیوں لیتے ہیں؟
- (2) مرزا قادیانی یا اس کے کسی خلیفہ نے عیسائی فتنہ کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
- (3) بقول مرزا قادیانی مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے، کیا اس کا
کوئی ثبوت ہے؟
- (4) بقول مرزا قادیانی عیسائیوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں
کروڑوں کتابیں شائع کیں، کیا قادیانی اس کی کوئی فہرست مہیا کر سکتے ہیں؟
حضرت امام حسینؓ کی توہین
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”امام حسینؓ پر میری فضیلت کا ذکر سن کر یونہی غصہ میں آتے ہیں۔ قرآن نے
کہاں امام حسین کا نام لیا ہے، زید کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہیے تھا کہ حسین کا نام بھی لے دیا جاتا۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 244 طبع جدید از مرزا قادیانی)
عیسائیوں سے کھانا اور معانقہ
- ❑ ”قبل از نماز ظہر حضرت اقدس سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور
معانقہ کرنا جائز ہے؟ فرمایا: میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں، یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 244 از مرزا قادیانی)
قادیانی خلیفہ مرزا مسرور تو ہر دوسرے دن عیسائیوں کی پارٹیوں میں شرکت کرتا ہے۔ قادیانی بتائیں کیا یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے یا نہیں؟
عیسائیت، مرزا قادیانی کی نظر میں
- ❑ ”عیسائیت بدبودار مذہب ہے۔“
(دافع البلاء صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 242 از مرزا قادیانی)
- "عیسائی لوگ دجال معہود ہیں۔"
(نور الحق صفحہ 61 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 83 از مرزا قادیانی)
- عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں وہ سب کا سب ردی اور باطل ہے۔۔۔۔۔۔"یہ
باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں ۔"
(دافع البلاء صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240، 241 از مرزا قادیانی)
- "اس مذہب کی بنیاد محض ایک لعنتی لکڑی پر ہے۔"
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 463 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- "عیسائی مذہب ردی مواد پیپ سے بھرا ہوا ایک پھوڑا ہے، اب وقت آ گیا ہے
کہ یہ ٹوٹ جاوے اور اس کی اندرونی غلاظت ظاہر ہو جاوے۔"
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 124 طبع جدید از مرزا قادیانی)
- "عیسائی دجال اور شیطان کے مظہر ہیں۔"
(انڈیکس صفحہ نمبر 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 75، 229 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی...... کرشن؟
آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ کرشن ہے۔ آئیے! اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی ہفوات ملاحظہ کیجئے:
- "کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔ گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی
ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے۔ وہ میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا کہ "ہے رودر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے" اسی وقت میں نے سمجھا کہ تمام دنیا ایک رودر گوپال کا انتظار کر رہی ہے۔ کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی۔ مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں۔ اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں یعنی سوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا۔ اور وہ میں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیشگوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں، یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہو گا اور انہوں نے اس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام
استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اور حقیقت ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 130 حاشیہ۔ مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 315 تا 317 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم
میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے، وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ درحقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کی صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔ کرشن کی دو صفت ہیں، ایک رودر یعنی درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار۔ اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 130 حاشیہ در حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 317 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں
کی اصلاح کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے، ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لیے جن سے زمین پُر ہوگئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں، ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے، اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کو سن کر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام اپنے اوپر لے کر کفر کو صریح طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے بغیر میں رہ نہیں سکتا اور آج یہ پہلا دن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو میں پیش کرتا ہوں کیونکہ جو لوگ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں، وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں
ڈرتے۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ 33 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228 از مرزا قادیانی)
- ’’اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے، درحقیقت ایک ایسا
کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتحمند اور بااقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پُر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ صفحہ 33، 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228، 229 از مرزا قادیانی)
- ’’مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن رودر
گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 229 از مرزا قادیانی)
- ’’جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ
کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی)
- ’’ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا
ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے۔ کرشن جی کہاں ہیں جس سے سوال کیا گیا، وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا: ’’ہے کرشن جی رودر گوپال‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 312 از مرزا قادیانی)
- ’’دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی
طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 343 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- ’’اور ایک دفعہ الہام ہوا:۔
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 344 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کی یہ تاویل نہایت بھونڈی ہے کہ یہ تو کشف اور خواب کی بات ہے۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ❑ ”ولا يخفی علیک ان رویا الانبیاء وحی،
یعنی انبیاء کا خواب وحی کے درجہ میں قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 190 از مرزا قادیانی)
لیجیے! اب کشف اور خواب کے بغیر مرنے سے ایک سال پہلے 1907ء میں مرزا قادیانی نے کہا:
- ❑ ”خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے
والا تھا، وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 86 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 522 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے سب سے پہلا دعویٰ ”ملہم من اللہ“ ہونے کا 1880ء میں کیا اور آخری دعویٰ 1907ء میں ”کرشن اوتار“ اور آریوں کا بادشاہ ”رودر گوپال“ ہونے کا کیا ہے اور اعتبار شروع و درمیان کا نہیں ہوتا، بلکہ ”العبرۃ بالخواتیم“ کے مطابق آخر کا ہوتا ہے، خود مرزا قادیانی کا اقرار ہے: ”سو آخری عمر کے قول اور فعل قابل اعتبار ہیں۔ اور اس کے مخالف سب ردی۔“ (ست بچن صفحہ 91 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہیں کہ
- 1- کیا کسی قادیانی خلیفہ نے ہندوؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ آنجہانی مرزا قادیانی کو
کرشن مان لیں؟
- 2- ہندومت کی کتاب ”گیتا“ کے کس صفحہ پر مرزا قادیانی کے کرشن ہونے کی خبر دی
گئی ہے؟
- 3- کیا مرزا قادیانی نے جھوٹ بول کر ہندوؤں کی دل آزاری نہیں کی؟
- ❑ ”ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا، وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک کشادہ
پیشانی والے ہیں۔ کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری
پیشانی سے ملا کر چسپاں کر دی۔‘‘ (الحکم جلد 12 نمبر 17 مورخہ 6 مارچ 1908ء صفحہ 7) ایک بار یہ الہام ہوا تھا کہ ”آریوں کا بادشاہ آیا‘‘ (الحکم جلد 12 نمبر 17، مورخہ 6
مارچ 1908ء صفحہ 7) (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 312 از مرزا قادیانی)
- ”دو دفعہ ہم نے رویا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی
طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اَوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں ۔‘‘ (الحکم جلد 6، نمبر 15، مورخہ 24 اپریل 1902ء صفحہ 8)
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 343 از مرزا قادیانی)
خود کاشتہ پودا...... مرزا قادیانی کا اہم اعتراف
- ”سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے
ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لیے دلیری نہ کر سکے۔‘‘
(اشتہار، بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ نمبر 187 بتاریخ 24 فروری 1898ء
مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 198 طبع جدید، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کیسا ”نبی‘‘ ہے جو کافروں کی منتیں کر رہا ہے کہ وہ اس کا اور اس کی جماعت کا خیال رکھیں۔ نبی باطل حکومتوں کی مخالفت کرتے تھے یا ان سے رحم کی بھیک مانگتے تھے؟ مندرجہ بالا تحریر کے بعد مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے مختلف شہروں میں مقیم 316 سرکردہ افراد کے نام لکھے جو اس کے مرید تھے اور حکومت سے درخواست کی کہ وہ ان کا خاص خیال
رکھے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آنجہانی مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں اپنی جماعت کو انگریز کا ”خود کاشتہ پودا“ کہا ہے۔ اسی لیے اس اشتہار کے آخر میں اپنی جماعت کے لوگوں کے نام لکھے۔ اگر اپنے خاندان کو خود کاشتہ پودا کہتا تو اپنے خاندان کے افراد کے نام لکھتا۔ چنانچہ اس نے اپنے مریدوں کے نام لکھ کر ثابت کیا کہ وہ اور اس کی جماعت انگریز کی ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔
سترہ سال سے یہ غم ہی مرا ناشتہ ہے
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت
یہ وہ پودا ہے جو سرکار کا خود کاشتہ ہے
پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات
- ❑ ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی، وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس
ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے جھوٹ اور مبالغہ آرائی کو ملاحظہ کیجیے کہ اس نے اپنے ایک اشتہار مطبوعہ 21 اکتوبر 1895ء میں دعویٰ کیا کہ اس نے انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں صدہا کتابیں تحریر کیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد اپنے ایک اور اشتہار مطبوعہ 22 مارچ 1897ء میں دعویٰ کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں بیسیوں کتابیں تحریر کی ہیں۔ پھر 2 سال 5 ماہ کے قلیل عرصہ کے بعد ستارہ قیصرہ کے نام سے ملکہ وکٹوریہ کے نام ایک خط میں دعویٰ کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں پچاس ہزار کتابیں تحریر کیں۔ مزید براں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے اس سلسلہ میں 50 ہزار کے قریب اشتہار شائع کیے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے اشتہارات کی کل تعداد صرف 292 ہے۔ مذکورہ حقیقت سے صاحبان علم و دانش، مرزا قادیانی کی مبالغہ آرائی اور انگریز پرستی کا با آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اسلام کی ترقی کا راز، انگریزوں کی آمد
- ❑ ”اب خیال کرو کہ انگریزوں کا قدم کس قدر مبارک ہے اور ان کے آنے سے کس
قدر ترقیاں ہوئی ہیں............غرض میں سچ کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کا قدم ڈالنا اس سلسلہ کے لیے بطور ارہاص تھا۔ ارہاص یہ ہوتا ہے کہ اصل چیز کے ظہور سے پہلے علامات ظاہر ہوں............کسی امر کے ظہور سے پہلے مقدمہ اور پیش خیمہ ہوتا ہے۔ انگریزوں کا آنا اسلام کی ترقی کا مقدمہ ہے............اگر اب اس نعمت کا انکار کریں تو خدا کا انکار ہوگا کیونکہ خدا ہی نے یہ نعمت بھیجی ہے۔“ (ملفوظات جلد پنجم طبع جدید صفحہ 114، از مرزا قادیانی)
سلطنت انگریزی، تمام عیوب سے پاک
- ❑ ”یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ ہم ایک ایسی سلطنت کے نیچے ہیں جو ان تمام
عیوب سے پاک ہے یعنی سلطنت انگریزی جو امن پسند ہے جس کو مذاہب کے اختلاف سے کوئی اعتراض نہیں۔ جس کا قانون ہے کہ ہر اہل مذہب آزادی سے اپنے فرض ادا کرے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ہماری تبلیغ ہر جگہ پہنچ جائے، اس لیے اس نے ہم کو اس سلطنت میں پیدا کیا۔“
(لیکچر لدھیانہ صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 268 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے انگریز کی خاطر تھپڑ بھی کھائے
پیش ہے مرزا قادیانی کی ایک تحریر جس میں وہ لکھتا ہے کہ جو طمانچہ عیسائیوں کو کھانا چاہیے تھا، وہ پادریوں اور آریوں سے ہم کھا رہے ہیں۔ اس کے بعد لکھتا ہے ”بلاشبہ ہمارا جان اور مال انگریز کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا“۔ کیا اب بھی کوئی شک باقی ہے کہ یہ آدمی انگریز کا پیدا کردہ اور اس کا خود کاشتہ پودا نہیں تھا جس کو صرف اسلام کو کمزور کرنے کے لیے تیار کیا گیا.......اور سب سے بڑا ثبوت یہ کہ جب قادیانی امت کو عالم اسلام نے لات مار کر نکال دیا تو اسی انگریز نے اسے اپنے ہاں پناہ دی۔
- ❑ ”وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہیے تھا، ہم لوگ
گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بربادیاں ہم اپنی محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے برداشت کرتے ہیں اور
کریں گے کیونکہ اُن احسانات کا ہم پر شکر کرنا واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کیے اور نہایت بد ذاتی ہوگی، اگر ایک لحظہ کے لیے بھی کوئی ہم میں سے ان نعمتوں کو فراموش کر دے جو اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے مسلمانوں کو ملی ہیں۔ بلاشبہ ہمارا جان و مال گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔ اور ہم غائبانہ اس کے اقبال کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘
(آریہ دھرم صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا ہے:
- ’’میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 149 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
60 ہزار اشتہارات
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ’’اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک میں نے چالیس
کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کیے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں اور ان سب میں میری مسلسل طور پر یہ عادت رہی ہے کہ اپنے جدید الہامات ساتھ ساتھ شائع کرتا رہا ہوں۔‘‘ (اربعین نمبر 3 صفحہ 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 418 از مرزا قادیانی)
آنجہانی مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء میں جہنم واصل ہوا۔ 23 مئی 1908ء تک اس نے اپنی زندگی میں کل 292 اشتہارات شائع کیے۔ مذکورہ حوالہ اس کی کتاب اربعین کا ہے جو 1900ء میں شائع ہوئی۔ 1900ء تک مرزا قادیانی نے 237 اشتہارات شائع کیے۔ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ اس نے 1900ء تک 60 ہزار اشتہارات شائع کیے جو سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ قادیانی خلیفہ مرزا مسرور سمیت تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ مرزا کے 60 ہزار اشتہارات کا ثبوت دیں اور ایک لاکھ روپے نقد انعام حاصل کریں۔ بصورت دیگر مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر اسلام کی آغوش میں آجائیں۔
خدا تعالیٰ سے عہد
- ”میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا بلکہ میں ان (والد غلام مرتضیٰ) کی
وفات کے بعد اللہ جلشانہ کی طرف جھک گیا اور ان میں جا ملا جنھوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کیے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الٰہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگر چہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اُٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔“
(نور الحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 38، 39 از مرزا قادیانی)
انگریز دوستی
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
- يايها الذين امنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى اولياء بعضهم
اولياء بعض ط ومن يتولهم منكم فانه منهم ط ان الله لا يهدى القوم الظلمين (المائدہ:51)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو شخص انہیں اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
حضور نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مشرک سے صحبت رکھے اور اس کے ساتھ سکونت پذیر رہے تو وہ بھی اسی جیسا ہے۔
(بحوالہ: ابوداؤد کتاب الجہاد رقم الحدیث 1014 جلد دوم)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا
شکر ادا کیا ہے، وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیا بلکہ قرآن شریف اور احادیث شریف نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں، مجھ کو اس شکر ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6، صفحہ 393 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”گورنمنٹ انگلیشیہ کی مخالفت کا خیال کبھی مؤلف کے آس پاس بھی نہیں پھٹکا۔ وہ
کیا اُن کے خاندان میں اس خیال کا کوئی آدمی نہیں ہے۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ 88 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6، صفحہ 384 از مرزا قادیانی)
قوم انگلش نے دیا آ کے سہارا ہم کو
مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے انگریزوں کے ہندوستان میں داخل ہونے سے پہلے اور بعد کے حالات پر ایک قصیدہ لکھا جس میں بتایا گیا کہ انگریزوں سے پہلے ہندوستان کا بہت بُرا حال تھا۔ ہر طرف لوٹ مار، ظلم و جبر اور بے رحمی تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ کو ہندوستانیوں کی حالت پر ترس آ گیا اور اللہ تعالیٰ نے انگریزوں کو اپنے رحم و فضل بنا کر ہندوستان کی طرف بھیجا۔ پھر ہر طرف حالات بدل گئے۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے لگے۔ لوگوں کے دل رحم سے بھر گئے۔ ہندوستان بہت ترقی کر گیا اور انگریزوں نے قادیانیوں پر عنایات کرتے ہوئے اپنے مذہب کو پھیلانے کا موقع دیا۔ چنانچہ انگریزوں کا آنا قادیانیت کے لیے مبارک ثابت ہوا۔
بحر افکار کے ہے پار اُتارا ہم کو
آگے مشکل تھا بہت کرنا گزارا ہم کو
ہند کی ڈوبی ہوئی کشتی ترائی اُس نے
ملک کی بگڑی ہوئی بات بنائی اُس نے
شیر و بکری بھی ہیں اک گھاٹ پہ پانی پیتے
نہیں ممکن کہ کوئی ترچھی نظر سے دیکھے
ایک ہی جا پہ ہیں سب رہتے بُرے اور بھلے
کیا مجال ان سے کسی کو بھی جو صدمہ پہنچے
قومِ انگلش! تیری ہر فرقے پہ ہے ایک نظر
اس لیے تجھ پہ ہمیں ناز ہے سب سے بڑھ کر
تھا مسیحا بھی تو پیدائشِ وقتِ قیصر
زندگی چھوٹے بڑے چین سے کرتے تھے بسر
اب مکرر جو ہے پھر وقت مسیحا آیا
قیصرِ رُوم کا کیوں ثانی نہ پیدا ہوتا
ابنِ مریمؑ سے ہے جس طرح یہ عالی رُتبہ
قیصرِ ہند بھی ہے قیصرِ رُوما سے بڑا
مصطفےٰؐ کا یہ غلام اور وہ غلامِ موسیٰؑ
دیکھ لو کس کا ہے دونوں میں سے درجہ بالا
قیصرِ روم کے محکوم تھے اِک دو صوبے
تاجِ انگلشیہ پہ ممکن نہیں سورج ڈوبے
(کلامِ محمود صفحہ 4 تا 7 از مرزا بشیر الدین محمود)
ملکہ کا کتا اور قادیانی تعزیت!
قادیانی جماعت کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے معروف سابق قادیانی جناب اے کے شیخ صاحب اپنی ویب سائٹ پر ایک اہم واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مفادات، چاپلوسی اور غلامی کیا کیا ناچ نچواتی ہے اس کی تازہ ترین مثال کچھ اس طرح سے ہے، کرسمس سے پہلے ملکہ برطانیہ کا جان سے پیارا Corgi کتا، ملکہ کی بیٹی شہزادی این کے کتے کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور ملکہ برطانیہ کے ساتھ ان کے خونی اور روحانی رشتہ داروں کو بھی سوگوار کر گیا، دنیا کے اخباروں، ٹی وی اور دیگر میڈیا نے بھی اس ناگہانی خبر کو خاص خبر بنایا ہے، جہاں پر دنیا کے سربراہوں نے ملکہ کو تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں، وہاں پر سب سے نمایاں اور حق نمک حلالی اور غلامی ادا کرتے ہوئے ”یلاش“ کے بنائے ہوئے ”خلیفہ“ نے بھی ملکہ عالیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے Corgi کے لیے فردوسِ بریں کی دعا کی ہے۔
کچھ احباب کو تعزیت ناگوار گزرے گی اور کہیں گے یہ نہیں ہو سکتا، خلیفہ صاحب نے ایسا نہیں کیا اور کچھ کہیں گے اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ ہمارے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہے، چلیے آپ اس پر اپنے دوستوں کے ساتھ اظہار خیال کریں، مگر اس سوال پر غور کریں تو عنایت ہوگی۔ کیا ”یلاش“ کے بنائے ہوئے خلیفہ نے کبھی ان مسلمانوں کی موت پر بھی تعزیت کی جن پر حکومت امریکہ اور برطانیہ نے قیامت خیز بمباری کی؟ کیا صرف اس لیے نہیں کہ وہ ہمارے خلیفہ صاحب کی بیعت میں شامل نہ تھے؟ کیا وہ ملکہ کا کتا خلیفہ صاحب کی بیعت کر چکا تھا؟ کیا وہ مسلمان، قادیانی نہ تھے تو کیا انسان بھی نہ تھے؟ جماعت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انگریز اگر کتا بھی پالتا ہے تو اس کا حسب نسب دیکھ کر پالتا ہے، لہٰذا یہ پتہ چل سکتا ہے کہ وہ Corgi قادیانی تھا یا نہیں!
تعزیت کے بعد اگر خلیفہ صاحب اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا فیصلہ کر لیں تو براہ مہربانی اس کا اعلان MTA پر ضرور کرا دیں اور ساتھ ہی دیگر تمام قادیانی جماعتوں کو ہدایت جاری فرما دیں کہ وہ بھی تعزیتی پیغامات فوری ارسال کریں، دیر کرنے کی صورت میں کہیں ہم ناشکروں میں شامل نہ کر دیے جائیں!“ (www.ahmedi.org)
فرقہ ورانہ فسادات
قادیانی جماعت ایک خطرناک سازشی سیاسی گروہ اور ملت اسلامیہ کی بدترین دشمن ہے۔ قادیانیوں کا بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے براہ راست رابطہ ہے۔ وہاں ان کے مشن قائم
ہیں جہاں سے وہ باقاعدہ ٹریننگ حاصل کر کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ عرصہ ہوا قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر نے دھمکی دی تھی کہ ”عنقریب پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور یہاں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔“
قادیانیوں نے اپنے سربراہ کی ”پیش گوئی“ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا شکار بنائے رکھنے کی مذموم کوششیں کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں وہ پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے فرقہ ورانہ فسادات پیدا کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ قادیانی خلیفہ کے حکم پر ہر سال قادیانی بجٹ میں کروڑوں روپے کی رقم مختص کی جاتی ہے۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور اور ملتان ان کے خاص ٹارگٹ ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی وجہ سے یہ منصوبے آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
محرم الحرام اور ربیع الاوّل کے مقدس مہینوں میں قادیانی وسیع پیمانے پر شیعہ سنی اور بریلوی، دیوبندی فساد کا خطرناک منصوبہ بناتے ہیں۔ گذشتہ سال انہی مواقع پر متنازعہ پمفلٹ کثیر تعداد میں شائع کروا کر تقسیم کیے گئے جس کا مقصد ملک میں بدامنی اور اشتعال پیدا کرنا تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش تھی کہ اس کی آڑ میں شیعہ، سنی اور دیوبندی، بریلوی فساد ہو جائے تاکہ یہ مسالک تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر الگ الگ ہو جائیں۔ علمائے کرام کو قادیانیوں کی بھیانک سازش کا نہ صرف بر وقت علم ہو گیا بلکہ ان کی دور اندیشی اور نور بصیرت سے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر فساد پھیلنے سے رک گیا۔ 1989ء میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں QSF کے صدر انس احمد قادیانی طالب علم کے کمرے سے ایسے ہزاروں پمفلٹ برآمد ہوئے۔ پولیس تفتیش میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ سارا لٹریچر ربوہ سے لاہور میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ دار الذکر واقع گڑھی شاہو میں آیا جو شہر میں تقسیم کرنے کے لیے سرگرم قادیانی نوجوانوں کو دیا گیا۔
فروری 1997ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑا تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کا نہ صرف بھاری مالی نقصان ہوا بلکہ پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ حکومت پنجاب نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس تنویر احمد خاں کی سربراہی میں یک رکنی تحقیقاتی ٹریبونل قائم کیا جس نے ستمبر 1997ء میں پنجاب حکومت کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس سانحہ کا ذمہ دار قادیانی
جماعت خانیوال کا صدر نور احمد ہے جس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم عیسائی تصادم کروایا۔ افسوس! حکومت نے اس سانحہ کے ذمہ دار قادیانی شرپسند کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
غدارِ پاکستان
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبیل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ”الفضل“ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبیل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر اظہارِ تشکر کیا۔
سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک سائنس کانفرنس ہورہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے کارڈ پر مندرجہ ذیل ریمارکس لکھ کر اسے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو واپس بھیج دیا۔
"I do not want to set foot on this accursed land untill the Constitutional amendement is withdrawn."
ترجمہ: ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“
جناب بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصے سے ان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ انہوں نے اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ عبدالسلام کو (وزیر اعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے) فی الفور برطرف کردیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کی بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ بہت عرصہ بعد پتہ چلا کہ وقار احمد بھی قادیانی تھا۔“
(ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر از یونس خلش، صفحہ 80)
فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ”آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔“
یہ بات اہل علم سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کے مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے پہلا ایٹم بم بنانے کا اعزاز بھی اسی شخص کو حاصل ہے۔ پاکستان اس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس سلسلے میں وہ بھارت کے کئی خفیہ دورے بھی کر چکا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امریکی کانگریس کی بہت بڑی لابی اس وقت یوول نیمان کے لیے نوبیل پرائز کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری مقصد امت مسلمہ کو نقصان پہنچانا ہے اور وہ اپنے نصب العین کے حصول کے لیے ہر وقت مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل کے شعبہ فزکس کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ شخص اسرائیل کا وزیر تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہا۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر اس کی خاص نظر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی امریکی دوستی کے منافی تھا۔ در حقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریز کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی پرزور سفارش پر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی (ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی) کو صدر ایوب نے 1958ء میں اپنے دور حکومت میں ایٹمی توانائی کمیشن کا رکن بنایا اور پھر ایک سال کے اندر اندر اس کا چیئرمین بنا دیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن کے ریکٹر سر پیٹرک لنسٹیڈ کی ملی بھگت سے 500 کے قریب نیوکلیئر فزکس، ریاضی، صحت و طب اور حیاتیات کے طلبہ اور ماہرین کو بیرونی ممالک بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کے تحقیقی مراکز میں حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تحقیق و تعلیم کے لیے بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ ان طلبہ اور ماہرین کی اکثریت قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ڈاکٹر عثمانی سے اس منصوبہ کو منظور کروا کر ان لوگوں کو باہر بھجوا دیا جو واپس آ کر ملک کے حساس کلیدی عہدوں بالخصوص ایٹمی انرجی کمیشن میں فائز ہو گئے۔ اس کے برعکس امریکی تعلیمی اداروں کے نیوکلیئر فزکس کے شعبہ میں مسلمان بالخصوص عرب طلبہ پر پابندی ہے جو اب تک برقرار ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1974ء میں جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے، ایٹمی قوت بننے کے سلسلہ میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا۔ حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط بنائی جائے لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہوئے تو پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کے اشارے پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ناکام بنانے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت تمام دوسرے محب وطن سائنس دانوں کو بے حوصلہ کرنے کے متعدد اقدامات کیے۔ پاکستان کے تمام ایٹمی راز ملک دشمن ممالک کو فراہم کیے۔ انہیں کہوٹہ ایٹمی سنٹر اور دوسرے حساس قومی معاملات کی ایک ایک خبر پہنچائی۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ پاکستان کبھی بھی دفاع کے معاملے میں خود کفیل نہ ہو سکے اور ہمیشہ بڑی طاقتوں کا دست نگر رہے۔ بھارت نے 11 مئی 98ء کو پوکھران میں 3 ایٹمی دھماکے کیے اور 13 مئی 1998ء کو 2 اور دھماکے کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی (بلوچستان) میں 2 ایٹمی دھماکے کیے اور پھر 30 مئی کو 2 مزید ایٹمی دھماکے کیے۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ کی رپورٹ کے مطابق: ”پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان ہوتے ہی ربوہ کے سرکردہ قادیانیوں کے
خفیہ اجلاس منعقد ہوئے۔ ربوہ میں ہو کا عالم تھا۔ قادیانیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے جبکہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔“ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، 29 مئی 1998ء)
جون 1998ء میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے لندن کی مرکزی قادیانی عبادت گاہ ”بیت الفضل“ میں پاکستانی عوام کو ایٹمی دھماکوں کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کا حق عقل سے استعمال کرنا چاہیے تھا جو اس نے نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسلمان عوام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”ایٹمی دھماکے کر کے جشن منالو، پتہ اس وقت چلے گا جب بھوک ناچے گی۔ جنونی دور ختم ہوگا تو ملک کا رہا سہا نظام بھوکے عوام اپنی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایٹمی دھماکوں سے پاکستان میں درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔“ (روزنامہ ”خبریں“ لاہور، 9 جون 1998ء)
پاکستان میں ایجنٹوں کا حصول اسرائیل کے لیے مشکل نہیں۔ پاکستانی قادیانیوں کا مرکز حیفا (اسرائیل) میں موجود ہے۔ یہ بات ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ یہودیوں اور قادیانیوں کے مقاصد مشترکہ ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسلحہ اور بعض اہم آلات کی سمگلنگ میں بعض سابق افسر بھی شامل ہیں، جن کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ماضی میں ایٹمی توانائی کمیشن میں 25 سے 30 تک قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے متعلق مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کہا تھا کہ اُسے نوبیل پرائز یہودیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیا۔ مصدقہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام نے کہوٹہ پلانٹ کے تمام نقشہ جات، ایٹم بم کا ماڈل اور اہم معلومات یہودی سائنس دانوں کو فراہم کیں۔
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم“ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی
دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرادی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ ”یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
”اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ”نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتاؤں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ”یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟“ میں نے کہا میں فنی اور تکنیکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ
بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کوریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہورہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس مبینہ اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار نے دانستہ طور پر ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں اور سازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ”خدمات“ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور نے ڈاکٹر عبدالسلام کی موت پر ”سلام میڈل“ کا اجرا کیا جو فزکس اور ریاضی کے شعبہ میں اول آنے والے طالب علموں کو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کالج کے اولڈ ہال کا نام ”سلام ہال“ رکھا اور مزید یہ کہ گورنمنٹ کالج میں اس کے نام کی ایک ”چیئر“ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ مزید براں 1998ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی کے موقعہ پر محکمہ ڈاک نے ان کی ”خدمات“ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 2 روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
بیوی کے ایام نے عزت رکھ لی
- ”مکرم مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹ، حافظ صاحب سے روایت کرتے ہیں:
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے (گویا نومبر 1884ء میں) ایک روز مجھے فرمایا: میاں حامد علی! سفر پر جانا ہے۔ چنانچہ یکہ کرایہ پر لیا۔ جب خاکروبوں کے محلہ کے قریب پہنچے تو مرزا اسمعیل بیگ صاحب سے فرمایا کہ میں دہلی شادی کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ وہیں رخصتانہ اور ولیمہ ہوگا۔ یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔ میں جا کر خط لکھوں گا۔ اس وقت سلطان احمد کی والدہ کو بتا دینا تا کہ میری واپسی تک وہ رو دھو بیٹھیں۔ میں حضور کی یہ بات سن کر سخت حیرت زدہ ہو
گیا، کیونکہ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ حضور اس وقت ازدواجی زندگی کے قابل نہ تھے۔ اور عرصہ سے میں مختلف حکیموں اور طبیبوں سے نسخے معلوم کر کے نوٹ کیا کرتا تھا (اور حضور کو کھلاتا تھا لیکن کسی کا بھی اثر نہ ہوتا تھا) مرزا اسمعیل بیگ صاحب کی موجودگی میں تو میں نے اپنے تئیں بمشکل ضبط کیا لیکن نہر کے پل پر پہنچے تو عرض کیا: آپ کی حالت آپ پر اور نہ مجھ پر مخفی ہے۔ پھر آپ نے شادی کا کیوں ارادہ
روزانہ ہم سے دریافت کرتے تھے کہ کیا خواب آئی ہے۔ دیگر احباب اپنی خوابیں سناتے تو حضور فرماتے کہ یہ اس امر کے متعلق نہیں۔ مجھے کوئی خواب نہ آئی تھی۔ ایک روز موضع تتھہ غلام نبی اپنے اہل وعیال کے پاس جانے کی میں نے اجازت لی اور ابھی قادیان سے نکلا ہی تھا کہ غیر اختیاری طور پر میری زبان پر دُرُود شریف جاری ہوگیا اور میں گاؤں تک درود شریف ہی پڑھتا گیا اور گھر پہنچا اور بچوں سے ملا، کھانا کھایا۔ لیکن میری یہ خاص کیفیت اسی طرح قائم تھی۔ تھکا ماندہ تھا، سو گیا۔ رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ملے اور فرمایا۔ حامد علی! تمہاری کا
اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہیں ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالتِ مردی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آوے۔ مگر باوجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوت، صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کیے۔‘‘
(اصحاب احمد جلد سیزدہم صفحہ 31 تا 33 از ملک صلاح الدین قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 552 پر)
قربان جائیں قادیانی لٹریچر پر، کوئی حجاب نہیں، کوئی پردہ نہیں۔ صدائے عام ہے............!!!
سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی
صدی کا سب سے بڑا جھوٹ
قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر کے دور میں قادیانیت میں داخل ہونے والوں کی تعداد کا اعلان اس قدر مبالغہ آمیز ہے کہ خدا کی پناہ! قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے:-
- 1993ء میں 2 لاکھ 4 ہزار 3 سو آٹھ نئے افراد، قادیانی جماعت میں داخل ہوئے۔
- 1994ء میں 4 لاکھ 21 ہزار 7 سو 53 افراد
- 1995ء میں 8 لاکھ 47 ہزار 7 سو پچیس افراد
- 1996ء میں 16 لاکھ 2 ہزار 7 سو 21 افراد
- 1997ء میں 30 لاکھ 4 ہزار 5 سو 85 افراد
- 1998ء میں 50 لاکھ 4 ہزار 5 سو 91 افراد
- 1999ء میں ایک کروڑ 8 لاکھ 20 ہزار 2 سو 26 افراد
- 2000ء میں 4 کروڑ 13 لاکھ 8 ہزار 9 سو 75 افراد
- 2001ء میں 8 کروڑ 10 لاکھ 6 ہزار سات سو اکیس افراد
- 2002ء میں 2 کروڑ 6 لاکھ 54 ہزار
- 2003ء میں (زبردست کم ہو کر) 8 لاکھ 92 ہزار 4 سو تین افراد
- 2004ء میں 3 لاکھ 4 ہزار نو سو دس افراد
- 2005ء میں 2 لاکھ 9 ہزار 7 سو ننانوے افراد
- 2006ء میں 2 لاکھ 93 ہزار 8 سو اکیاسی افراد
- 2007ء میں 2 لاکھ 61 ہزار 9 سو انہتر افراد
- 2008ء میں 3 لاکھ 54 ہزار 6 سو اڑتیس افراد
- 2009ء میں 4 لاکھ 16 ہزار افراد
- 2010ء میں 4 لاکھ 58 ہزار 7 سو ساٹھ افراد
- 2011ء میں 4 لاکھ 80 ہزار 8 سو بائیس افراد
- 2012ء میں 5 لاکھ 14 ہزار 3 سو باون افراد
- جبکہ 2013ء میں 5 لاکھ 40 ہزار 7 سو بیاسی نئے افراد
- 2014ء میں 5 لاکھ 55 ہزار 2 سو پینتیس
- 2015ء میں 5 لاکھ 67 ہزار 3 سو تیس نئے افراد
قادیانی مذہب میں شامل ہوئے۔ اس طرح گزشتہ 23 سالوں میں 17 کروڑ 7 لاکھ 26 ہزار 4 سو چھیاسی (17,07,26,486) نئے افراد قادیانی مذہب میں داخل ہوئے۔
(روزنامہ الفضل ربوہ 3 اگست 2005ء، 2 اگست 2006ء، یکم اگست 2007ء، 29 جولائی 2008ء،
29 جولائی 2009ء، 3 اگست 2010ء، 27 جولائی 2011ء، 11 ستمبر 2012ء، 3 ستمبر 2013ء،
4 ستمبر 2014ء اور 24 اگست 2015ء)
قادیانی جماعت کے ذمہ داران اگر جماعت کی تعداد کے حوالے سے اسی طرح غلو سے کام لیتے رہے تو یہ تعداد آئندہ چند سالوں میں شاید دنیا کی اصل تعداد سے بڑھ جائے۔ قادیانی جماعت کا اپنی تعداد کے حوالے سے مبالغہ آرائی
قادیانی جماعت کا اپنی آبادی میں اضافہ کا اعلان اس عہد کا بدترین جھوٹ ہے۔ سالانہ جلسہ (انگلینڈ) کے موقع پر ہر سال بغیر تحقیق اور غور وفکر کے ستائشی نعروں کی گونج میں کروڑوں کی تعداد کا اعلان پر اعلان کر کے آخر کس کو بیوقوف بنایا جارہا
نہیں کی جاتی مگر اب اسی نظام محمودیت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک عیسائی کی موت پر اس کی قبر پر دعائے مغفرت کرائی ہے اور باقی جماعت کو بھی ان الفاظ میں دعائے مغفرت کرنے کی تحریک کی گئی ہے۔ ”قبر تیار ہونے پر کثیر تعداد میں جمع افراد جماعت نے اجتماعی دعا کی۔ احباب جماعت سے درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے ساتھ اپنی رحمت ومغفرت کا سلوک فرمائے“۔ (بحوالہ ”اخبار احمدیہ جرمنی۔ مئی 2002ء...... مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن)
انکشافات
فرینکفرٹ...... سائٹ کے نمائندہ کے دورہ جرمنی کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں جن افراد کو اخراج کی سزا دی گئی تھی ، ان میں سے بعض افراد نے جماعت کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں پہلی پیشی دسمبر کے مہینہ میں ہے، جبکہ مزید دو تین مقدمات بھی دائر ہو رہے ہیں۔ جماعت کے موجودہ جنرل سیکرٹری زبیر احمد خلیل کے بارے میں مصدقہ اطلاع ہے کہ وہ سابقہ پاکستانی فوجی افسر ہیں۔ پاکستان میں ان کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ وہاں وہ فوج میں ہونے کے باوجود ایک ٹریول ایجنٹ کے ساتھ مل کر جماعت کے افراد کو بیرون ملک اسمگل کیا کرتے تھے۔ جماعت کے خلاف نئے دائر ہونے والے مقدمات میں ایک اہم مقدمہ افراد کی منظم اسمگلنگ کا بھی ہوگا۔ اس میں زبیر احمد خلیل کا کردار اور امور عامہ کے بعض سابقہ سیکرٹریوں کا کردار بھی کھل کر سامنے آئے گا۔ زبیر احمد خلیل کے بہنوئی ان سے پہلے جماعت کے جنرل سیکرٹری تھے اور ان کو دو دفعہ جماعت کی عورتوں کے ساتھ موقع پر پکڑا گیا تھا۔ ایک بار لانگن شہر کی ایک آئس کریم شاپ کی لیٹرین میں اور ایک بار زبیر احمد خلیل کی بہن نے خود نیشنل امیر کی معیت میں انھیں ایک گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا...... زبیر احمد خلیل کے کزن، مولوی پاوے کے فرزند اور مولانا عطاء المجیب راشد امام مسجد فضل لندن کے داماد مقصود الحق جو امور عامہ اور کئی دوسرے اہم شعبوں میں رہ چکے ہیں اور ہمیشہ اہم عہدوں پر فائز رہتے ہیں، ان کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ربوہ میں ایک بار ان کے ساتھ تین احمدیوں نے مل کر زبردستی بدفعلی کی تھی۔ اس پر مقصود الحق نے ربوہ کی پولیس سے رابطہ کیا، وہاں اپنے ساتھ ہونے والی اس بدفعلی کی شکایت درج کرانے گئے، جس کے نتیجہ میں ان کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ساری تفصیل بتانا پڑی۔ اس زیادتی کی خبر
تب اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ نیشنل امیر جرمنی کے بارے میں ایک ”ناری“ خبر کا انکشاف بھی ہوا ہے لیکن ابھی اس کے مزید شواہد جمع کیے جا رہے ہیں، جلد ہی نیشنل امیر جرمنی کی ”ناری خبر“ آن لائن ہو گی۔ ایسے سارے کرتوتوں والے لوگ یہاں جماعت کے افراد کی معمولی معمولی سی کوتاہیوں پر سخت فیصلے صادر کرتے ہیں۔
میں متعدد مغربی ممالک کا سفر کر چکا ہوں اور ان ممالک کے جماعتی عہدیدار گھرانوں کے حالات سے بہت اچھی طرح سے واقف ہوں۔ اس لیے میں سارے محمودیوں کو چیلنج دے کر کہتا ہوں کہ تمھارے سارے انگلینڈ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور دوسرے یورپین ممالک میں آباد گھرانوں میں سے ایک بھی عہدے دار کا گھر ایسا نہیں ہے جو زنا سے پاک ہو۔
جیسا گرو ویسے چیلے
اسلام آباد کے دوست نے بڑی بنیادی بات کہی ہے۔ مرزا محمود زانی تھا تو اس کی امت نے بھی زانی ہونا تھا۔ چونکہ فورم میں یہ نکتہ ابھارنے والا محمودی داؤد مجوکہ ہی لگتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہاری کنواری سالی تین ہفتے گھر سے بھاگی رہی تھی۔ اس کے کردار کے بارے میں کیا کہتی ہے جماعت؟ محمودیت کے ایک بڑے مبلغ مولوی ابراہیم بقاپوری کی بیٹی ربوہ میں پچاس کی دہائی میں گھر سے بھاگنے والی پہلی لڑکی تھی۔ اس کی بیٹی کے بارے میں کیا کہے گی جماعت؟ چوہدری ظفر اللہ خان کی ایک بیوی لاہور میں ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے احمدی سے تعلقات استوار کر کے گھر سے بھاگ گئی۔ دوسری بیوی نے انگلینڈ پہنچ کر چوہدری ظفر اللہ خان کی بجائے ایک نوجوان سے تعلقات استوار کر لیے۔ ایسے شرمناک کرداروں کے ہوتے ہوئے بھی جماعت کے افراد کو حیا نہیں آتی کہ دوسروں پر جھوٹے الزام لگا کر انگلی اٹھاتے ہیں۔ یہ سارے واقعات بالکل اوپن قسم کے واقعات ہیں۔ اب جماعت والے مغربی ملکوں میں کسی ایک قادیانی عہدے دار کا گھر کا نام بتائیں کہ وہ بڑا پاک صاف گھر ہے، سائٹ اسی گھر کا سارا کچا چٹھا کھول کر پیش کر دے گی۔ ویسے سائٹ کے نزدیک ہر گھر کی اپنی زندگی ہے کوئی جیسے چاہے زندگی گزارے لیکن جب ہر کسی کو آزادی ہے تو جماعت کے کسی فرد کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ جماعت چھوڑنے والوں کے خلاف اس قسم کی ہرزہ سرائی کرے۔ اس لیے بہتر ہے کسی مخالف کے بارے میں
اس طرح کی ہرزہ سرائی کرانے سے پہلے اپنے داغدار دامن کو دیکھ لیا کریں۔ وگرنہ سائٹ اسی سطح پر جماعت کو جواب دے گی جس سطح تک وہ گرتی جائے گی۔
”تفسیر کبیر“ کس نے لکھی؟
یہاں کینیڈا سے ملنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کے ابتدائی ایام میں ایک بار مربی ابوالمنیر نورالحق (عرف مولوی پاوا) نے مربی محمد صدیق گورداسپوری (خلافت لائبریری) کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے کہا کہ یار! ”تفسیر کبیر“ کا سارا کام ہم کرتے ہیں اور نام خلیفہ ثانی کا ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دونوں مربی بھی علماء کی اس کمیٹی میں شامل تھے جو مرزا محمود کی ”تفسیر کبیر“ لکھتے تھے۔ مربی صدیق گورداسپوری کو معلوم تھا کہ بات تو مولوی پاوے کی درست ہے لیکن خوشامد پسند مربی صدیق نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور جا کر مرزا محمود کو ساری بات سچ سچ بتا دی کہ مولوی پاوا اس طرح کہہ رہا تھا۔ مرزا محمود نے اسی وقت مولوی پاوے کو بلا لیا اور اس سے اس بارہ میں پوچھا۔ مولوی پاوا اس صورتحال کو بھانپ کر صاف مکر گیا کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا۔ آخر اس کے نتیجہ میں مسجد مبارک میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مربی محمد صدیق نے مربی نورالحق پاوا سے منسوب اپنے الزام کے سچ ہونے کے سلسلے میں حلفیہ قسم کھائی۔ جواباً مربی نورالحق پاوا نے اس الزام کی تردید میں حلفیہ قسم کھا کر اپنی بریت کی۔ دونوں نے اپنے اپنے حلفیہ بیان قرآن اٹھا کر دیے۔ اہل ربوہ کی ایک بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ اس حلفیہ الزام اور حلفیہ صفائی کے بعد دونوں فریقوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور دونوں ہی نظام جماعت کے پسندیدہ کردار رہے۔ اس وقوعہ کے وقت مربی نسیم مہدی کے خاندان کے کئی افراد بھی قادیانی عبادت گاہ میں موجود تھے۔ وہ خود بھی اس واقعہ کا ایک بار ذکر کر چکے ہیں۔
قادیانی جماعت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی
مرزا محمود نے غلط طور پر نظام جماعت کی انتہائی آمرانہ تشکیل کی اور پھر مرزا طاہر نے اسے مزید بھیانک روپ دیا۔ اس کے مطابق کسی ادنیٰ عہدیدار کی نافرمانی بھی خلیفہ کی نافرمانی ہے اور خلیفہ کی نافرمانی دراصل خدا کی نافرمانی ہے۔ اس طرح کسی بھی گھٹیا ذہنیت کے
حالانکہ کسی بھی بدکار عہدیدار کی نافرمانی کو براہ راست خدا کی نافرمانی بنا دیا گیا۔ اسی کے نتیجہ میں ہر مقامی حلقے سے لے کر نیشنل سطح تک کتنے ہی جھوٹے خدا پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے اپنے دائرے میں اپنی خدائی قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے ایک خاص طرز کی بیورو کریسی جماعت کے نظام کے نام پر وجود میں آ چکی ہے...... ایک اور فاش قسم کی غلطی یا ظلم یہ ہوا کہ جس عہدیدار کے خلاف کوئی جائز شکایت کی گئی‘ اس کی انکوائری اسی کے پاس بھیج دی گئی۔ یہ وہی کلچر ہے جو پٹواری کے خلاف شکایت کو پٹواری کے پاس انکوائری کے لیے بھیجنے والا کلچر ہے۔ اس کے جماعتی نظام کے نام پر خاصے بھیانک نتائج نکلے ہیں۔
مرزا مسرور نے جرمنی کے جلسہ کے موقع پر اپنے لکھائے ہوئے خطبہ جمعہ میں ایک موقع پر ان لوگوں پر برہمی کا اظہار کیا جو جماعت سے اختلاف رکھتے ہوئے جماعت کے اندر ہیں اور کہا کہ وہ جماعت سے نکل کیوں نہیں جاتے۔ ان کے اس فرمان کے نتیجہ میں اگلے دن یعنی ہفتہ کے روز ہی راحیل شیخ اور ان کے پورے خاندان نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کی خبر اتنے بڑے پیمانے پر نکلی کہ جماعت کے مرکزی پریس سیکرٹری کو وضاحتی بیان جاری کرنے پڑ گئے لیکن اس وضاحتی بیان میں ایک ایسی گھسی ہوئی بات دہرائی گئی جس کا ہمیں نوٹس لینا پڑ گیا۔ جماعت کے ترجمان نے دوسری وضاحتوں کے ساتھ یہ کہا کہ جماعت کا گند تھا جو جماعت سے نکل گیا۔ یہ ایسا بے ہودہ جواب یا عذر ہے جو کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے سے بھی بدتر ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب ایک مسلمان مرتد ہو جاتا تو یہ ایک قیامت برپا ہونے والی بات ہوتی۔ اگر جماعت سے نکلنے والوں کو مرتد کہا جاتا ہے تو ان کے نکلنے پر قیامت برپا ہونے کا احساس ہونے کے بجائے خوشی کی کیا بات ہے؟ اور سوال یہ ہے کہ جماعت کو اپنے ظالمانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے سسٹم کی تباہ کاریوں کا ابھی تک اندازہ کیوں نہیں ہوا؟ جماعت کی آبادی میں کروڑوں کے اضافہ کی ساری خبریں مکمل جھوٹ اور اس عہد کا بدترین جھوٹ ہیں لیکن جماعت سے نکلنے والے یہ اہم افراد قادیانیت کے وہ تربیت یافتہ تھے جو مرزا طاہر کے ”پیدا کردہ“ کروڑوں افراد پر بھاری تھے۔ انھیں گند کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اپنی غلطیوں کو ماننے پر تیار نہیں ہے۔ جو قومیں ایسی جھوٹی رعونت کا شکار ہو جاتی ہیں، وقت انھیں خود مار مار کر سمجھاتا ہے۔ جماعت کی قیادت کو شاید ابھی اندازہ نہیں ہے لیکن ہم وقت سے پہلے بتا رہے ہیں کہ
آنے والے وقت میں امریکہ کینیڈا اور یورپ کے تمام ممالک جماعت کے اندرونی نظام کی انسانیت سوز‘ مجرمانہ اور خلافِ قانون کاروائیوں کا سختی سے نوٹس لیں گی اور پھر جماعت کو ذلت کے ساتھ پسپائی اختیار کرنی پڑے گی۔ اس وقت کے آنے سے پہلے ہم جماعت کو انتباہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے داخلی انتظامی کردار میں بہتر تبدیلیاں لے آئے۔ وگرنہ ہمارا یہی لکھا ہوا ایک وقت ان کا منہ چڑائے گا۔ یہ وہ حقائق ہیں جو مستقبل قریب میں رونما ہونے والے ہیں۔ اگر جماعت کی ہائی کمان انھیں دیکھنے اور ان آنے والے دنوں کے قدموں کی چاپ سننے سے عاری ہے تو شورِ قیامت برپا ہونے پر خود ہی جان لے گی کہ نظامِ جماعت کی اطاعت کے نام پر غیر قانونی‘ خلافِ انسانیت اور خلافِ قانون اقدامات کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔
خلیفہ اور جھوٹ !
قرآن جھوٹ کو فساد فی الارض قرار دیتا ہے اور قادیانی خلیفہ جھوٹ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے ہوئے ہیں ۔ قادیانی قیادت جماعت کی تعداد کے معاملے میں ابتداء سے ہی منافقانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کبھی بھی جماعت نے اپنی سو سالہ سے زائد زندگی میں تعداد کے معاملے میں سچائی سے کام نہیں لیا۔ حساس ذہنوں میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ جماعت تعداد کے متعلق کیوں سچائی سے کام نہیں لیتی ۔ جماعت کس کو دھوکہ دے رہی ہے۔ اپنے لوگوں کو یا کہیں ایسا تو نہیں کہ نام نہاد تبلیغ کا شعبہ پوری تندہی سے خلیفہ صاحب کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہے اور بھولے بھالے خلیفہ صاحب بغیر تحقیق اور غور وفکر کے ہر جلسہ سالانہ کے موقع پر ستائشی نعروں کی گونج میں کروڑوں کی تعداد کا اعلان پہ اعلان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اب آنے والے جلسہ پر تعداد 160 ملین کا اعلان ہوگا اور اسے ایک الہی نشان قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے منہ پر طمانچہ خیال کریں گے اور ایم ٹی اے پر ہر روز تعداد کا ورد ہوگا۔ جماعت کا وہ نوجوان طبقہ جو تعلیم کے ساتھ ساتھ جماعت کے کاموں میں بھی عملی طور پر حصہ لے رہا ہے‘ اس وقت شدت سے اس مخمصے کا شکار ہے کہ کیوں خلیفہ صاحب بغیر سوچے سمجھے‘ بغیر تصدیق کے اعلان پہ اعلان کرتے چلے جاتے ہیں‘ آخر مبالغے اور جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ مانا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جوش و جذبہ میں یہ لکھ دیا کہ میں نے اتنا لکھا ہے کہ پچاس الماریاں بھر جائیں یا میرے نشانوں کی تعداد دس لاکھ ہے وغیرہ‘
ہمارے خیال میں وہ ایک جوش کے تحت اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے انھوں نے لکھا‘ مگر یہاں تو ایسا معاملہ نہیں ہے! جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی قبیلہ کا سردار، سربراہ کسی سیاسی یا ذاتی مفاد کی خاطر قادیانیت کو جائن کر لیتا ہے تو اس کا سارا قبیلہ اس کے نقش قدم پر چل نکلتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
- -1 کیا اس قبیلے جس کی تعداد لاکھوں اور کروڑوں بیان کی جاتی ہے‘ کہ اس اعلان
قادیانیت کو ہم تبدیلی ایمان و عقیدہ قرار دے سکتے ہیں؟
- -2 کیا خلیفہ صاحب اقرار کرتے ہیں کہ انھوں (نئے قادیانیوں) نے عقل و بصیرت
اور غور و فکر کے بعد قادیانیت کو قبول کیا ہے؟
- -3 کیا احمدیت کی باگ ڈور ان نئے احمدیوں کے ہاتھ دی جاسکتی ہے‘ اگر وہ اکثریت
کی بناء پر آنے والے خلیفہ کا انتخاب اپنے میں سے کرلیں؟
یقیناً قادیانی رہنما اس سوال کو احمقانہ قرار دیں گے اور فرنچ کٹ داڑھی کی اوٹ سے طنزیہ ہنسی کے ساتھ ارشاد فرمائیں گے خلیفہ اور مرزا فیملی سے باہر! عقل کے ناخن لو میاں! المیہ یہ کہ جماعت کی حالت ایک ایسے افیونی کی طرح ہے جو نشے میں بے سدھ پڑا ہے، اسے اپنے اردگرد کی کوئی ہوش نہیں، اسے صرف اپنے نشے سے غرض ہے‘ یعنی جماعت جانتے بوجھتے ہوئے اپنے آپ کو دھوکہ دے رہی ہے کہ جو خلیفہ صاحب سچ جھوٹ فرمائیں گے اس پر نعرہ احمدیت بلند کیا جائے اور دوسری طرف سے خلیفہ صاحب‘ مرزا غلام احمد کی جے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے احباب جماعت کا مالی‘ علمی اور اخلاقی جنازہ نکالتے ہیں۔ اللہ نے کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی جو اپنی حالت خود نہیں بدلتی!
انسان کی بھی عجیب مجبوریاں ہیں! اس قفس سے آزادی بھی چاہتا ہے اور قربانی سے گریز بھی‘ چاہتا ہے کہ آزادی خود چل کر آ جائے اور گلے بھی خود لگے! کوئی اس لیے زبان نہیں کھولتا کہ باپ گھر سے نہ نکال دے گا‘ ماں صدمے سے مر جائے گی‘ سسرال والے بیوی لے جائیں گے اور بیٹی گھر واپس آ جائے گی اور جو بہن بیٹی بیاہنے والی ہیں ان کی شادیاں کیسے ہوں گی؟ وغیرہ وغیرہ! ایک لمحہ سوچیے کہ کیا یہ تمام مصائب کفار مکہ نے مسلمانوں کو نہیں دیے؟ کیا کفار مکہ اور جماعت احمدیہ کے ہتھکنڈوں میں کوئی فرق ہے؟ کیا ہمارے مصائب اور اس وقت کے مسلمانوں کے مصائب میں کوئی فرق ہے؟ یقیناً نہیں۔ کیا مذہب دنیا میں ایسے ہی
ہوتا ہے؟ کیا ہمیں آزادی اظہار رائے کا کوئی حق نہیں؟ کیا جس عمل کو جماعت ظلم قرار دیتی ہے وہی اپنے افراد کے ساتھ روا نہیں رکھتی؟ ہماری جماعت کے یہ فرعون خلیفے اور ان کے ہامان یہ مربی‘ مشنریز‘ مبلغ اور امیر وغیرہ جن سے خون آشام درندے بھی شرماتے ہیں‘ یہ لٹیرے انسانیت پر ذلت کا داغ نہیں ہیں؟
شکل مومناں کرتوت؟؟؟
قادیانی جماعت پاکستان کا اس وقت سالانہ بجٹ پچاس کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ جماعت کا انٹرنل آڈٹ کا مضبوط نظام ہونے کی وجہ سے بغیر اعلیٰ افسران کی مرضی کے خورد برد ناممکن ہے مگر اس کے باوجود گذشتہ برسوں لاکھوں روپے کا خلافت لائبریری اور وقف جدید کے شعبہ میں غبن ہوا‘ لائبریرین حبیب الرحمٰن زیروی کو تبدیل کر کے دوسرے محکمہ میں لگایا گیا جب کہ اللہ بخش صادق انچارج وقف جدید چند ماہ قبل 30 لاکھ روپے خرد برد کر کے اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا فرار ہو گیا۔ لائبریری کے اکاؤنٹنٹ کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا مگر اس کے باس کو بوجہ چھوڑ دیا گیا۔ مالی بدعنوانی کی یہ خبر کوئی نئی نہیں‘ عرصہ قبل صدر انجمن احمدیہ خزانہ کے ایک بڑے ستون سعید احمد عالمگیر بھی فیکٹری ایریا ربوہ میں ایک خوبصورت کوٹھی بنانے کے بعد ایک بڑی نقدی لے کر کینیڈا چلے گئے تھے۔ چند ماہ قبل شعائر اللہ ہادی علی چوہدری کے بارے میں فراڈ کی کہانیاں اخباروں کی زینت بنیں تو وہ بھی وقتی طور اپنے بھائی کے پاس کینیڈا چلے گئے تھے اور مک مکا کے بعد پھر واپس لندن تشریف لے آئے تھے‘ لگتا ہے کہ کینیڈا جماعتی چوروں کی محفوظ پناہ گاہ ہے‘ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں ایک رکن اسمبلی نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا دنیا بھر کے چوروں کی پناہ گاہ معلوم ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے احمدی ابھی ایم ٹی اے کے سابقہ روح رواں جسوال برادران کی مالی بدعنوانیوں کو نہیں بھولے‘ خود لندن میں بیٹھے ہر جماعتی سرخیل کے تین سے بھی زیادہ ذاتی مکانات ہیں‘ بغیر ڈکار کے کھانے پینے کا جب یہ سلسلہ اوپر سے ہی شروع ہو تو نچلی سطح پر راستہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے کہ جب بڑے ہی چور یا کانے ہوں تو پھر بھید کھلنے کا ڈر کیسا؟ لندن میں یورپ کی سب سے بڑی عبادت گاہ دارالفتوح کی مالی بدعنوانیوں سے پردہ بھی خود قادیانی خلیفہ نے ہی اٹھایا تھا‘ پانچ ملین پونڈ کا غبن اور مرزا طاہر کی خاموشی! کیا آج تک کسی کو لوگوں کی خون پسینے کی کمائی
کا کوئی جواب یا جواز دیا گیا؟ نہیں نہیں...... کبھی نہیں، اسی طرح کراچی کی بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانیاں بھی قادیانی خلیفہ مرزا طاہر ہی کے دور میں منظر عام پر آئیں۔ ربوہ کے فضل عمر ہسپتال کے سربراہ جب مرزا منور تھے تو ان کا دامن بھی چوری سے پاک نہ رہ سکا، مرزا منور احمد جب ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھے تو ربوہ کے ایک صاحب کی اہلیہ جو کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی، اس کو فوری فیصل آباد ہسپتال لے جانا پڑا، فضل عمر ہسپتال سے ایمبولنس مانگی گئی تو جواب دیا گیا کہ ایک گاڑی تو میاں صاحب شکار پر لے گئے ہیں جب کہ دوسری ایمبولنس کے دو ٹائر پنکچر ہیں، آپ اپنے خرچ پر ٹائر ڈلوا کر گاڑی لے جاسکتے ہیں۔ (سبحان اللہ، باکمال لوگ لاجواب سروس)
قادیانی جماعت میں نئی بیعتوں کی حقیقت
آپ نے اس بادشاہ کا قصہ تو سنا ہوگا، کہ جس کے دربار میں دو ہوشیار قسم کے چالباز آئے اور کہا کہ ہم ایک ایسا کپڑا تیار کر سکتے ہیں جو صرف عقلمند کو نظر آئے گا اور بیوقوف اس کپڑے کو نہیں دیکھ سکے گا۔ بادشاہ نے منہ مانگے پیسے دیے کہ اس کپڑے سے میرے لیے لباس تیار کرو۔ بادشاہ کے وزیر کپڑے کی تیاری کے دوران کپڑا دیکھنے جاتے رہے اور ان کو کچھ بھی نظر نہ آئے، لیکن وہ بیوقوف کہلانے کے ڈر سے یہ نہ کہیں کہ ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا، حتیٰ کہ وہ دن بھی آ گیا، کہ بادشاہ کو اس کپڑے کا لباس پہنایا گیا، لیکن بادشاہ کو بھی کوئی کپڑا نظر نہ آیا۔ لیکن اب وہ بھی سمجھا کہ اگر میں نے کہا کہ کپڑا نظر نہیں آ رہا تو ان لوگوں اور دوسروں پر میری بیوقوفی کا پول کھل جائے گا، کیونکہ آخر میرے یہ سب اہلکار کپڑے کو دیکھ رہے ہیں، وہ اب شہر میں نکلا تو لوگوں نے دیکھا کہ بادشاہ ننگا ہے، لیکن سب بیوقوف کہلانے کے ڈر سے خاموش رہے، لیکن ایک بچہ بول اٹھا کہ بادشاہ ننگا ہے، اس کی دیکھا دیکھی دوسرا بچہ بھی بول اٹھا اس طرح ہر طرف بادشاہ ننگا ہے، کی باتیں ہونے لگیں۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح خلیفہ رابع کو بھی دو ہوشیار جولاہوں نے بیعتوں کا لباس پہنایا اور ان کے مربیوں اور امراء نے وزیروں والا کردار ادا کیا، کہ کہیں ایک بھی قادیانی نظر نہ آنے کے باوجود قادیانیت کے ہزاروں پروانوں کے غول کے غول حضور کی چراگاہ میں چرتے ہوئے دکھا دیے اور خلیفہ رابع بھی اس بادشاہ کی طرح جس کو ننگا ہونے کے باوجود پورا یقین تھا کہ لباس پہنا ہوا ہے، کوئی نیا احمدی
نظر نہ آنے کے باوجود بھی یہ یقین کر بیٹھے کہ واقعی سیلاب کی طرح بیعتیں آ رہی ہیں، پہلے ہزاروں، پھر لاکھوں، پھر کروڑوں بیعتوں کا اعلان کرنا شروع کر دیا حالانکہ پوری دنیا میں، ہر جماعت میں ہر شخص دیکھ رہا تھا کہ سوائے جعلی کارروائی کہ کہیں کوئی بیعت نہیں ہے، مگر کوئی بھی منہ نہیں کھول رہا تھا کہ کہیں جماعت کے یہ بڑے بڑے بزرجمہر اس کے اخلاص پر شبہ کرتے ہوئے اسے منافق نہ قرار دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہیں اس کا جماعت کی رُکنیت کا سرٹیفکیٹ ہی نہ روک لیا جائے۔
- 1- کیا حقیقت میں سترہ (17) کروڑ قادیانی اس دنیا میں آج موجود ہیں؟ بیعتوں کی
اصل حقیقت کیا ہے؟ جس بھی امیر یا مشنری نے سب سے زیادہ بیعتیں کرائی ہیں، انھیں ماڈل کے طور پر جماعتوں میں متعارف کرایا جائے اور جنھوں نے غلط بیانی سے کام لے کر خلیفہ وقت کو دھوکا دیا اور جماعت کی بدنامی کا باعث بنے، انھیں بے نقاب کیا جائے۔
- 2- خاندان مسیح موعود کے وہ افراد جو کسی بھی وجہ سے جماعت کی بدنامی کا باعث بنے،
اور وہ بھی جو شراب، جوئے، زنا اور دھوکا دہی میں ملوث تھے یا ہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو ایک عام قادیانی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
مرزا طاہر کی طرف سے جماعت کا ہر سال کروڑوں میں اضافہ ہونے کے انتہائی مبالغہ آمیز اور کاذبانہ دعوؤں سے قطع نظر (مرزا طاہر کے ان دعوؤں کا بھر پور تجزیہ کیا جائے گا) اگر جماعت کو مجموعی طور پر چند لاکھ کی تعداد کے باوجود 14 کروڑ ہی مان لیا جائے تب بھی ان کے غلبہ کے دعوؤں سے ان کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ عیسائی دنیا گزشتہ دو ہزار سال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور ان کی خدائی میں شریک مانتی ہے۔ دو ہزار سال سے ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور آج دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ان کی ہے، سب سے زیادہ ظاہری شان و شوکت اور حکومت (وہ حکومت جس کے حصول کے لیے مرزا محمود ساری زندگی تڑپتے رہے) دنیا بھر میں عیسائیوں کے پاس ہے۔ ان کے بے شمار چرچ، تبلیغی مشن ہاؤس، مشنری دنیا بھر میں عیسائیت کو پھیلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا ہیں اور نہ ہی موجودہ عیسائیت حضرت عیسیٰ کا اصل مذہب ہے۔ اس لیے محض اپنی 50 لاکھ تعداد کو 14 کروڑ کہہ دینے سے غلبہ ملتا ہے اور نہ ہی ایم ٹی اے چینل پر مذہبی ایکٹنگ
کرنے سے قادیانیت پھیل رہی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی نام نہاد غلبہ سچائی کی دلیل بن سکتا ہے۔
قادیانی جماعت جرمنی کا نیا امیر
قادیانی جماعت جرمنی ایک عیسائی کے نام سے جرمنی میں رجسٹرڈ کرائی گئی ہے۔ جماعت کے موجودہ امیر کا ظاہری اسلامی نام عبداللہ واگس ہاؤزر بتایا جاتا ہے لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے فلمی اداکاروں کے اصل نام کچھ اور ہوتے ہیں اور لوگوں کے لیے فلمی نام کچھ اور ہوتے ہیں۔ جماعت کی رجسٹریشن جو یہاں کرائی گئی ہے اس میں ان کا جماعتی (فلمی) نام عبداللہ واگس ہاؤزر نہیں بلکہ اصلی نام Hans Peter Uwe Wagishauser ہے۔ اسی نام سے دستخط کیے گئے ہیں۔ جماعت کی طرف سے جماعت کے نئے دستور Constitution (اسے جرمن زبان میں Satzung کہتے ہیں) کی درخواست میں ایسا ہی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسی دستور میں لکھا ہے کہ جماعت کے چندہ جات لازمی نہیں ہیں بلکہ مرضی ہے تو دیں ورنہ بے شک نہ دیں۔ جبکہ سارے قادیانی جانتے ہیں کہ مسیح موعود کے لازمی چندہ جات کے بعد کتنے چندوں کا بوجھ دن بدن بڑھایا جا رہا ہے اور اسے جگا ٹیکس کے طور پر وصول کیا جاتا ہے۔
خیانت
مغل شہزادوں کی عیش وعشرت اور آرام اور ربوہ کے قادیانیوں کی بے وقعتی کا اندازہ ایک چھوٹی سی پرانی خبر سے لگایا جاسکتا ہے۔ ربوہ میں ایک اوورسیئر ہوا کرتے تھے۔ ان کا نام چوہدری غلام حسین تھا۔ ان کے خاندان کی بڑی جماعتی خدمات تھیں۔ تن من دھن سے جماعت کی خدمت میں جتے ہوئے چوہدری غلام حسین اوورسیئر کو ایک دن دل کا دورہ پڑا۔ ایمرجنسی میں جماعت کی واحد ایمبولینس منگائی گئی تو پتہ چلا کہ حضرت صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد ایمبولینس لے کر شکار کھیلنے گئے ہوئے ہیں۔ قومی امانت کو اصل مقصد کے بجائے ذاتی عیاشی کے لیے استعمال کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اوورسیئر چوہدری غلام حسین بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث مر گیا۔ ربوہ کے مکینوں کے لیے بے حسی اور اپنی عیش کے لیے جماعتی امانتوں میں خیانت کی ہزاروں مثالوں میں سے یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔
”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“
”میرے نانا صاحب گرامی 80ء کی دہائی کے اوائل میں ماہ فروری میں نارووال میں رحلت فرما گئے۔ اطلاع ملنے پر میری والدہ اور میرے بڑے بھائی کے ہمراہ میرا بغرض جنازہ وہاں جانا طے پایا۔ وہاں پہنچ کر مقامی اور غیر مقامی افراد کا ایک انبوہ دیکھنے کو ملا‘ نانا جان چونکہ ایک فدائی وشیدائی قادیانی تھے، اس لیے انھوں نے اپنی رہائش بھی احاطہ مسجد میں بنے ایک کمرے میں بمع نانی جان رکھی ہوئی تھی چونکہ جنازہ اگلے روز پڑھنا طے پایا تھا اس لیے جو افراد اس غرض سے تشریف لائے تھے ان کی اکثریت ساتھ والے گھروں میں رہائش پذیر ہو گئی۔ مربی سلسلہ جناب ہادی علی چوہدری صاحب کی راہ دیکھی جا رہی تھی، عالی مرتبہ شام کو تشریف لائے تو یہ جان کر کہ جنازہ کل پڑھنا طے پایا ہے، کافی سیخ پا ہوئے۔ خیر ان کی شب بسری کا انتظام دوسرے احباب کے ہمراہ عبادت گاہ میں کر دیا گیا اور حضرت مآب کے لیے عین محراب کے سامنے جگہ مخصوص کی گئی۔ شومی قسمت کہ میرے بڑے بھائی جو کہ میرے ہمراہ پہلے سے ہی وہاں لیٹے ہوئے تھے چونک گئے اور بولے کہ یار یہ بندہ صحیح نہیں ہے، اگر یہ یہاں سویا تو میں بھاگ جاؤں گا۔ اسی دوران ہادی علی صاحب عبات گاہ میں داخل ہوئے اور اپنی مخصوص جگہ پر آ کر لیٹ گئے۔ میرے بھائی حسب وعدہ اٹھ کر وہاں سے باہر چلے گئے۔ میں تعاقب میں گیا اور معاملہ جاننا چاہا تو بھائی بولے کہ جب ہم یہاں رہتے تھے تو ابو کے ان سے بہت اچھے مراسم تھے جس کی وجہ سے جماعتی امور کے سلسلے میں جب بھی مربی صاحب یہاں آتے ہمارے ہاں ہی ٹھہرتے۔ ابو نے مجھے کہہ رکھا تھا کہ یہ جب بھی تشریف لائیں میں ان کا بہت خیال رکھوں تب سے یہ خبیث میرے کمرہ میں ہی رات کو سوتا تھا اور ساری ساری رات مجھے پریشان کرتا تھا، کبھی یہ میرے بستر میں آ دھمکتا اور کبھی مجھے اپنے بستر میں آنے کی دعوت دیتا، ساری رات نہ خود سوتا اور نہ یہ مجھے سونے دیتا جب میرے انکار پر اس کا کچھ نہ بن پاتا تو مجھے کہتا کہ چلو تم جیتے میں ہارا اب تم جو چاہو کر لو اور میں ہاتھ جوڑ لیتا‘ باعث ندامت میں نے کسی سے بھی اس بات کا ذکر آج تک نہیں کیا اور اگر اب یہ بندہ پھر یہاں میرے ساتھ سوئے گا تو یہ پھر ویسی ہی حرکت کرنے کی کوشش کرے گا۔ میں نے بھائی کو تسلی دی اور کہا کہ ایک تو یہ خدا کا گھر ہے اور دوسرا اور بھی بہت سارے لوگ یہاں سو رہے
ہیں اور پھر میں بھی پاس ہی ہوں اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں، بھائی مان گیا اور میں احتیاط برتتے ہوئے دونوں کے درمیان سو گیا۔ پونے تین بجے رات اچانک ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز کے ساتھ ہی گھبرا کر میں اٹھ بیٹھا، ساتھ ہی کسی نے لائیٹ آن کر دی، کیا دیکھتے ہیں کہ مربی صاحب اپنی جگہ چھوڑ کر میرے بھائی کے پہلو میں آدھے ننگے لیٹے ہوئے رجولیت کی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے قادیانی تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ سب کے جاگ جانے کے بعد وہاں کافی تماشا ہوا اور اکثر احباب بغیر نماز جنازہ پڑھے وہاں سے رخصت ہوگئے۔ یہ ہادی علی چوہدری صاحب وہی مربی ہیں جو لندن میں خلیفہ وقت مرزا طاہر صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری بنے اور بعد میں مربیوں کے باس یعنی وکیل التبشیر بھی رہے۔ ماشااللہ!
کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے
جماعت کی اخلاقی حالت کا ایک نمونہ
10 اپریل 1996ء کو جرمنی کے ایک شہر Langen میں واقع Cafe Dolomiti میں جنسی بے راہروی کا ایک نہایت شرمناک واقعہ ہوا تھا۔ تب جماعت کی لجنہ اماء اللہ کی نیشنل مجلس عاملہ کی ایک اہم سیکرٹری کے خاوند، جو خود بھی نیشنل جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں اور جو جرمنی میں مرزا طاہر کی تقریروں کا ساتھ ساتھ جرمن ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے ہیں (ہم لجنہ کی نیشنل سیکرٹری اور ان کے نیشنل جنرل سیکرٹری شوہر کے نام احتراماً نہیں دے رہے) مذکورہ شخص جو عمر کے لحاظ سے خاصے بزرگ ہیں، مذکورہ کیفے میں گئے۔ وہاں ایک احمدی عورت، جو ربوہ گول بازار کے ایک معروف دوکاندار کی بیٹی ہے، کے ساتھ ”ملاقات“ کا وقت طے تھا۔ ملاقات کے دوران پہلے عورت اور پھر مرد ٹوائلٹ کے بہانے تہہ خانے میں چلے گئے۔ کیفے کے کاؤنٹر کلرک نے جب دیکھا کہ واپسی میں دیر ہوگئی ہے تو نیچے جاکر ان کی تلاش میں ٹوائلٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ جب ٹوائلٹ کا دروازہ کھلا تو عورت اپنے کپڑے درست کرتی ہوئی اور مرد بزرگ پتلون کی بیلٹ باندھتے ہوئے باہر نکلے۔ مغرب میں سیکس کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں کسی تیسرے فرد کی طرف سے کسی مداخلت کا سوال
نہیں پیدا ہوتا۔ لیکن ”سیکس ان ٹوائلٹ“؟ .......... کیفے میں موجود تمام لوگوں کے لیے یہ کوئی اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مضحکہ خیز صورتحال تھی، چنانچہ سب لوگوں نے دل کھول کر قہقہے لگائے۔ یہ واقعہ دوپہر گیارہ بجے سے بارہ بجے کے درمیان ہوا تھا۔ جرمنی کے مشنری انچارج سے لے کر نیشنل امیر تک سب کو اس واقعہ کا علم ہے۔
مالِ مفت دلِ بے رحم!
ربوہ (چناب نگر) سے ایک خاتون (لجنہ) نے ماہنامہ مصباح کے چند تراشے ارسال کیے ہیں جو 1957ء کی اشاعت سے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ جب میں احمدی آرگ پر جماعتی نظام، چندے کا عمومی مصرف اور خاندان مسیح موعود کا خصوصی، چندے کا غلط استعمال کے بارے میں پڑھتی تھی تو مجھے کبھی یقین نہیں آتا تھا کہ یہ سائٹ سچ لکھ رہی ہے مگر جب میں نے خود اپنی آنکھوں سے روزنامہ الفضل کی اشاعت ماہ جنوری 1998ء میں بحوالہ مصباح یہ مضمون پڑھا ”ہماری تاریخ ۔ بیگم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، یورپ کے چند ممالک کی سیر“ تو میری آنکھیں کھلی کھلی رہ گئیں کہ ہمیں تو ہر دم یہی نصیحت سننے کو ملتی ہے کہ سادگی اختیار کرو، سادہ زندگی بسر کرو اور اپنا پیٹ کاٹ کر بھی جماعت کے لیے مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو، مگر جب میں نے اسے پڑھا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب خلیفہ ثانی علاج کی خاطر یورپ گئے تھے اور جماعت کے پاس اتنا فنڈ بھی نہیں تھا کہ علاج کا پورا بوجھ برداشت کرسکتی اور اس وقت اگر میں غلط نہیں تو حضور کو بعض جماعت کے مخیّر احباب نے قرض بھی دیا تھا یا حضور نے لیا تھا، جبکہ خالصتاً جماعت کے پیسے پر جانے والے لوگوں نے کس طرح وہاں عیاشیاں کیں، کہاں کہاں ٹھہرے، کن کن ریسٹورانوں میں کھانے کھائے، اگر خاندان مسیح موعود کے پاس روپے پیسے کی اتنی فراوانی تھی تو نوبت قرض کی کیوں آئی؟ یہی پیسے چندے میں کیوں نہ دیے؟ کیا خاندان مسیح موعود پر چندہ واجب نہیں؟
بیگم صاحبہ لکھتی ہیں!
”خلیفہ ثانی سے فون پر طے کر لیا تھا کہ ہم آپکو رائن ہوٹل (Rhine Hotel) میں ملیں گے...... یہاں سے ہم نے اکٹھے ہالینڈ روانہ ہونا تھا...... ہمارا پروگرام یہ تھا کہ دوپہر
کا کھانا سینٹ پیٹرز برگ (St Petersberb) کے ایک ہوٹل میں کھائیں گے، اس ہوٹل کی خوبصورتی کی ایک دوست سے بہت تعریف سن چکے تھے، اس لیے وہاں جانے کا بہت شوق تھا، ...... کھانا وغیرہ کھا کر ہم لوگ ہوٹل کے ساتھ جو خوبصورت جنگل ہے، اس میں سیر کرتے رہے اور تصویریں لیں۔ یہاں سے (Bed godesberg) کے لیے روانہ ہوئے جہاں ہم نے حضرت ماموں جان (خلیفہ ثانی مرزا محمود صاحب) کو ملنا تھا، اس ہوٹل میں ہماری پہلے ہی بکنگ ہوئی ہوئی تھی۔ ...... پانچ بجے کے قریب ہم ہیگ پہنچ گئے یہاں جس کوٹھی میں رہائش کا انتظام کیا ہوا تھا، وہاں جماعت کے بہت سے دوست اور کچھ مستورات حضرت صاحب کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے، مکان میں چونکہ جگہ کم تھی اس لیے ہم ہوٹل میں ٹھہرے۔ ...... چوہدری صاحب (ظفر اللہ خان صاحب) نے اس ہوٹل کی بہت تعریف کی۔ ...... نہایت ہی خوبصورت ہوٹل تھا، ہوٹل کے سامنے بہت خوبصورت جھیل تھی جس میں بطخیں اور مرغابیاں تیرتی پھرتی تھیں۔ ...... ہیگ میں ہم بارہ دن ٹھہرے رات کو اپنے ہوٹل چلے جاتے تھے۔ ...... بہت پرلطف دن گزرے۔ ...... میں جتنا لطف وہاں اٹھا سکتی تھی، باوجود اتنے دلچسپ ماحول کے اتنا لطف نہ اٹھا سکی، روز شام کو سیر کے لیے چلے جاتے تھے، ایک دو دفعہ شاپنگ کے لیے بھی گئے۔ ...... ہیگ کے قیام کے دوران ہم تین روز کے لیے ہیمبرگ (جرمنی) گئے۔ ...... دو تین دفعہ ہیمبرگ میں دکانوں پر گئے۔ ...... چوتھے دن ہم ہیمبرگ سے پھر واپس ہیگ آگئے۔ ...... اس دفعہ آ کر ہمیں ہوٹل سمندر کے کنارے ملا، کمرے کے بالکل سامنے کمرے کی چوڑان کے برابر ایک شیشے کی کھڑکی تھی جس میں سے تمام سمندر کا نظارہ نظر آتا تھا، اور کھڑکی کے باہر بالکونی سی بنی ہوئی تھی جہاں میز کرسیاں رکھی ہوئی تھیں اور وہاں بیٹھ کر ساحل کا نظارہ بہت خوبصورت لگتا تھا۔‘‘
(سائٹ) ...... محترم قارئین: اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لیے آپ ’’روزنامہ الفضل ربوہ کے ماہ جنوری 1998ء کے شمارہ جات ملاحظہ کر سکتے ہیں یا ماہنامہ مصباح کے 1957ء کے شمارے، اس مضمون کے حوالے سے ہم آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہیں گے کہ وہ لوگ جو اشاعت اسلام کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ نکال کر صرف اور صرف اللہ کی خاطر اپنا مال جماعت کو دیتے ہیں، کیا وہ ایسی پُرتعیش اور رنگین کہانیوں کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ یہ پڑھتے ہوں گے کہ ’’سمندر کے کنارے ہوٹل میں قیام جہاں سے سمندر کا حسین نظارہ اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، دل کو لبھا
لینے والے نظارے“ جب کہ خود وہ لوگ جن کے پیسے پر یہ تمام عیاشیاں اور ان کے بچے ربوہ کی آگ برساتی دوپہر میں ننگے پاؤں ننگے سر، کلر زدہ مٹی کا غسل کرتے ہوئے سکول سے گھر کو لوٹتے ہیں، ربوہ کے باسی جب کھانا کھاتے تو ان کے لقموں میں ربوہ کی کلر زدہ مٹی بھی شامل ہوتی ، جبکہ خاندان مسیح موعود کے افراد انہی ذہنی و جسمانی غلاموں کے روپے پیسے پر ہالینڈ اور جرمنی کے ان ریستورانوں میں ان کھانوں سے اپنی اشتہاء مٹا رہے ہوتے جن سے یورپ کے امرا اپنی امارت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج بھی صورت وہی ہے بلکہ آج کل لوگوں کو نہیں، سربراہوں کو اپنی مالی حیثیت سے متاثر کیا جاتا ہے، غریب لوگوں سے وصول کیے ہوئے چندے سے سربراہوں کو قیمتی تحائف سے نوازا جاتا ہے۔ خاندان مرزا قادیانی کے افراد کے ناموں پر جتنی جائیداد اور دنیا کے مختلف ممالک میں فکسڈ ڈپازٹ ہیں، کیا وہ بتا سکتے ہیں یہ کیسے اور کہاں سے رقم لے کر ایسا ہوا؟ مرزا قادیانی کے خاندان کا ہر فرد کروڑوں کا مالک ہے۔ اور یہ تمام روپیہ پیسہ جماعت کے چندہ کا ہے، جماعت کے خون پسینے کی کمائی کا ہے جس پر یہ غاصب خاندان قابض ہے اور مسلسل سادہ لوح لوگوں کا استحصال کیے جارہا ہے، اور مالی قربانی کے نام پر آج بھی ان کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔
میں نے ربوہ دیکھا
ہر طرف مکر و ریا ہے میں کہاں آ نکلا
نہ محبت میں حلاوت نہ عداوت میں خلوص
نہ تو ظلمت نہ ضیا ہے، میں کہاں آ نکلا
چشم خود بیں میں نہاں حرص زر و گوہر کی
کذب کے لب پہ دعا ہے، میں کہاں آ نکلا
راستی لحظہ بہ لحظہ ہے رواں سوئے دروغ
صدق پابند جفا ہے، میں کہاں آ نکلا
دن دہاڑے ہی دکانوں پہ خدا بکتا ہے
نہ حجاب اور نہ حیا ہے، میں کہاں آ نکلا
کیسی بے درد فضا ہے میں کہاں آ نکلا
خندہ زن سفلگی ہے اس کی ہر ایک سلوٹ میں
یہ جو سرسبز قبا ہے، میں کہاں آ نکلا
دلنوازی کی ہواؤں کے پھریروں کے تلے
جانے کیا رینگ رہا ہے، میں کہاں آ نکلا
عجز سے کھلتی سمٹتی ہوئی باچھوں پہ نہ جا
ان کے سینوں میں دغا ہے، میں کہاں آ نکلا
یہ ہے مجبور مریدوں کی ارادت کا خمار
یہ جو آنکھوں میں جلا ہے، میں کہاں آ نکلا
قلب مومن پہ سیاہی کی تہیں اتنی دبیز
ناطقہ سہم گیا ہے، میں کہاں آ نکلا
الغرض یہ وہ تماشا ہے جہاں خوف خدا
چوکڑی بھول گیا ہے، میں کہاں آ نکلا
(ثاقب زیروی)
یاسر مرزا ابن مرزا افضل مشنری کینیڈا کی سرگرمیاں
کینیڈا سے ملنے والی ایک خبر کے مطابق وہاں پر جماعت کے اعلیٰ عہدیداران کی اولادیں بڑی حد تک بگڑ چکی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تازہ مثال یہ معلوم ہوئی ہے کہ وہاں کے ایک مشنری صاحب مرزا افضل ہیں۔ ان کا ایک بیٹا یاسر مرزا نامی ہے۔ اسکول کا طالب علم ہے۔ اس کے اسکول کا نام ہے: Glenforset High School یہ اسکول Fieldgate Mississauga میں واقع ہے۔ اس کی ہر طرح کی لڑکیوں سے دوستی ہے۔ ہر ہفتے یا زیادہ سے زیادہ دو تین ہفتے کے بعد اس کے ساتھ ایک نئی لڑکی ہوتی ہے۔ اسکول کے قادیانی طلبہ و طالبات سمیت کئی قادیانیوں نے یاسر مرزا ابن مرزا افضل مربی سلسلہ کو لڑکیوں کی بانہوں میں بانہیں ڈالنے کی حد تک تو سر عام دیکھا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی بہن کے
سامنے بھی ایسی حرکتیں کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ خبر کے مطابق حال ہی میں (دو ہفتے پہلے ) اسکول میں ایک حنا پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں اس کی بہن بھی شریک تھی۔ مگر یہ وہاں جا کر وہاں سے ایک لڑکی کو ساتھ لے کر پروگرام سے غائب ہو گیا۔ اگرچہ اس خبر میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اسے درج کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جماعت اپنی پاکیزگی کے دعوے نہ کیا کرے۔ یورپ اور امریکہ، کینیڈا میں جماعت کا مجموعی کردار اتنا گندہ ہو چکا ہے کہ اب یہ واقعی خلیفہ زانی مرزا محمود کی جماعت کے افراد لگتے ہیں۔ یہ جماعت اک شجر ہے جس کو محمودی صفت کے پھل لگے۔ یہ تو پھر نوجوانوں کی باتیں ہیں، یہاں تو اعلیٰ عہدیداران، مشنریز اور دیگر احباب بھی اپنی اپنی توفیق اور وسائل کے مطابق خشوع وخضوع سے جنسی غلط کاریوں میں مصروف ہیں۔
قادیانی خلیفہ مرزا محمود کا ایک قابل تقلید عمل
- ”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب
والا حصہ بھی دیکھوں۔ مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے، کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں۔ چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے، اس لیے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا، کیا یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے، وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔ تو یہ بھی ایک لباس ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں۔ نام تو اس کا بھی لباس ہے۔ مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔“
(روزنامہ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 24 جنوری 1934ء)
محرم اور غیر محرم میں فاصلہ
جرمنی سے موصولہ ایک اطلاع کے مطابق جرمنی کی جماعت کے نیشنل امیر پیٹرو اگس ہاؤزر اور فوزیہ نوری کے بارے میں پہلے جو خبر دی گئی تھی، نئی اطلاع سے اس کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ اگر یہ خبر غلط ثابت ہو جائے تو ہم ہر سزا کو بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پیٹرو اگس ہاؤزر نہ صرف نیشنل سیکرٹری جائیداد اسماعیل نوری کے گھر آتا جاتا ہے بلکہ اسماعیل نوری کی بیوی فوزیہ نوری نے اس کے سر میں تیل ڈال کر مالش بھی کی ہوئی ہے۔ یہ خبر سو فیصد سچ ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اسلام میں محرم اور غیر محرم کے درمیان کتنے فاصلے کا تعین ہے؟ اور کیا کسی خاتون کا کسی غیر محرم کے سر میں تیل ڈالنا جائز ہے؟ ابھی بات سر کے بالوں سے شروع ہوئی ہے...... یہ کہانی دور تک جانے والی ہے۔
سکھوں سے شادیاں اور ناجائز مراسم
جرمنی میں مقیم ایک قادیانی کی بال بچوں والی بیوی نے ایک سکھ سے جسمانی تعلقات قائم کر لیے اور کھلے عام اس کے ساتھ رہنے لگی۔ عورت کے خاوند نے جماعتی طور پر کارروائی کرنا چاہی تو اسے پتہ چلا کہ اس کی بیوی کی نظام جماعت کے لندن مرکز تک رسائی ہے۔ چنانچہ جماعت کا فیصلہ خاوند کے خلاف ہوا۔ خاوند نے عدالت سے رجوع کیا۔ شاید یورپی عدالتوں میں ایسے کیس نہ ہونے کے برابر ہوں کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو عورت کے مقابلہ میں مرد کے حوالہ کر دیا جائے۔ عدالتی فیصلہ خاوند کے حق میں ہوا اور اسے اس کے بچے دے دیے گئے۔ تب نظام جماعت نے اسے غیر علانیہ طور پر زیر عتاب رکھ لیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیوی کی بدکاری سے دُکھی شخص جماعت کے غیر انسانی اور غیر اسلامی رویے سے دلبرداشتہ ہو کر دل کے عارضہ میں مبتلا ہو گیا اور اسی بیماری میں چل بسا۔ اس کی سابقہ بیوی آج بھی اسی سکھ کے ساتھ رہتی ہے۔ مذکورہ شوہر کے ناروے میں مقیم رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ نظام جماعت ہی اس کے گھر کی بربادی اور اس کی ہلاکت کا موجب بنا ہے اور قدرت کی طرف سے مرزا طاہر کو اسی جرم کی یہ سزا ملی ہے کہ اس کی بیٹی کا خاوند مرزا لقمان بھی اب ایک سکھ عورت کے ساتھ رہتا ہے اور مرزا طاہر کی بیٹی بھی ویسی ہی اذیت میں مبتلا ہے جیسی اذیت میں اس کے نظام جماعت نے مذکورہ بالا خاوند کو مبتلا کیا تھا۔
چوہدری ظفر اللہ خان کی بھاگ جانے والی بیویاں
سر چوہدری ظفر اللہ خان جو نظام جماعت کے ایک بڑے فدائی تھے، ان کی ایک بیوی باقاعدہ طور پر گھر سے بھاگ گئی تھی۔ بعد میں اس نے ایک اور مشہور قادیانی صنعتکار (شاہنواز، شیزان کے مالک) سے شادی کر لی تھی۔ نظام جماعت نے اس غیر اخلاقی حرکت میں ملوث کسی فرد کو کوئی سزا نہیں دی۔ مذکورہ صنعت کار کے اداروں کے اشتہار آج بھی جماعتی رسائل میں چھپتے رہتے ہیں۔ سر چوہدری ظفر اللہ خان کی ایک اور بیوی جو پہلے ان کی سیکرٹری تھی، پھر انھوں نے اس سے شادی کر لی تھی، وہ انگلینڈ میں ایک نوجوان سے جسمانی تعلقات قائم کر بیٹھی اور سر چوہدری ظفر اللہ خان کو مجبور کیا کہ انھیں طلاق دے دیں۔ چنانچہ چوہدری صاحب کو ایسا ہی کرنا پڑا۔
جماعت کے مشنری کا ”پیپر میرج“ کرانے کا فراڈ
کینیڈا میں گنتی کے جو چند گورے احمدی کیے گئے تھے، ان میں سے ایک آئزک (اسحاق) صاحب بھی ہیں۔ آپ قادیانی جماعت کے مربی بھی ہیں۔ ان آئزک صاحب کی شادی ایک پاکستانی خاتون بشریٰ سے کر دی گئی۔ اب کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں مقیم بشریٰ کے بھائی اور کینیڈا کے مذکورہ مربی آئزک صاحب کے سالے عبدالرؤف نامی جوان کی شادی ایک قادیانی لڑکی کے ساتھ طے کرائی گئی۔ سال ڈیڑھ سال کی کاغذی کارروائی کے بعد جیسے ہی لڑکا کینیڈا پہنچا، اس نے آتے ہی شادی سے انکار کر دیا۔ بھید کھلا کہ پہلے ہی سے ان لوگوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ شادی کو صرف کینیڈا کے ویزے کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور کینیڈا پہنچتے ہی لڑکی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں جماعتی طور پر فریقین میں جھگڑا چل رہا ہے۔ اس کا شرمناک ترین پہلو یہ ہے کہ جماعت کے بعض عہدیداران لڑکی والوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی، اس لیے آدھا حق مہر دلا دیتے ہیں۔ نسیم مہدی سے کنفرم کر لیجئے کہ اس وقت پاکستان سے کسی ایجنٹ کے ذریعے کینیڈا پہنچنے کے لیے کم از کم پندرہ لاکھ روپے لگ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک طرف آئزک مربی کی بیوی اور سالے کی مکاری سامنے آتی ہے کہ ایک قادیانی بچی کی زندگی کو تاش کا پتہ سمجھ کر کھیلنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف یہ المیہ ہے کہ جماعت سارے حالات جانتے ہوئے ایسا فیصلہ کرنے پر زور دے
رہی ہے جو سراسر قادیانی لڑکیوں کی توہین کا فیصلہ ہے۔
جنسی بدکاریوں کا ڈنکا
جرمنی میں ابھی تک جتنے اعلیٰ عہدیدار موجود ہیں یا اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، ان میں سے طاقتور عہدیداروں میں ایک قدرِ مشترک پائی جاتی ہے۔ وہ انسانی اسمگلنگ کے جرم میں باقاعدہ طور پر ملوث رہے ہیں اور بعض ان میں سے نشہ باز بھی ہیں۔ مثلاً عاقل خان جو نیشنل سیکرٹری امورِ عامہ کے عہدۂ جلیلہ پر فائز تھے۔ عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کے بنیادی اسکینڈل میں گرفتار ہوئے۔ سزا پائی اور سرکاری جیل سے سزا بھگت کر نکلے۔ ان کے بعد عبدالسبحان طارق نیشنل سیکرٹری امورِ عامہ بھی انسانی اسمگلنگ کا کاروبار ”خدمتِ دین“ کے طور پر کرتے رہے۔ ان کے دستِ راست جعلی ڈاکٹر وسیم پارٹ ٹائم طور پر یہ کاروبار کرتے رہے۔ خود انھوں نے اپنی سالی کو پاکستان سے بلایا تو اپنی بیوی کے پاسپورٹ پر اپنی بیوی کے طور پر بلایا۔ (بعد میں آدھی گھر والی کو پوری گھر والی سمجھے رہے یا نہیں ...... یہ الگ کہانی ہے جو پھر سہی) پھر اپنے بھتیجے کو اپنے بیٹے کے پاسپورٹ پر بیٹے کے طور پر لے کر آئے اور اسے اپنے گھر میں باقاعدہ غلام کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ زبیر احمد خلیل پاکستان میں فوج میں اچھے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر باقاعدہ انسانی اسمگلنگ کرتے رہے۔ ان کے خلاف پاک فوج میں کارروائی ہونے لگی تو ملک چھوڑ کر نکل گئے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت جرمنی میں خصوصی طور پر انسانی اسمگلنگ کرنے والوں اور اس جرم میں دلچسپی لینے والوں کو اعلیٰ عہدوں کے لائق سمجھا جاتا ہے۔ نشہ بازی میں یوں تو کئی عہدیدار مبتلا ہیں۔ عبدالسبحان طارق کی شراب نوشی کی داستانیں اب ہر کوئی سناتا پھرتا ہے۔ خود نیشنل امیر پیٹر واگس ہاؤزر اور ہدایت اللہ نشہ باز رہ چکے ہیں۔ ممکن ہے نیشنل امیر پیٹر واگس ہاؤزر کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ قادیانیت قبول کرنے سے پہلے نشہ کرتے تھے اب نشہ نہیں کرتے لیکن ان کے صاحبزادے بھی نشہ باز ہیں۔ یہ محض الزام نہیں ہے۔ میڈیکل چیک اپ سے ان کے بیٹے کا نشہ باز ہونا ثابت ہوسکتا ہے۔ ناصر باغ میں کئی بار اسے سرعام سگریٹ میں چرس بھر کر پیتے دیکھا گیا ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں کی جنسی بدکاریوں کی داستان الگ سے ہے۔ ہر عہدیدار اپنے عہدے اور اپنی عمر کے مطابق جماعت کی سرگرم
خواتین کے ساتھ مشغول ہے اور یوں تبلیغی سرگرمیوں سے دین کا ڈنکا بج رہا ہے۔
تحریک جدید
”عبدالسبحان طارق صاحب ناظر امور عامہ (حقیقت میں ناظر عقوبت خانہ) کا کردار بچپن میں بھی نافع الناس تھا۔ ربوہ میں ریلوے روڈ پر دارالرحمت شرقی میں اپنی پھوپھی کے پاس رہتے تھے اور بڑے نرم، سفید اور ...... ہوا کرتے تھے اور ان سے اس وقت فیض پانے والے ایک دوست نے بتایا ہے کہ آج کل ان کو کوئی پرانا فیض یافتہ نظر آ جائے تو اس کو ڈرانے، دھمکانے کا کام بہانے بہانے سے شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ دباؤ میں رہے اور کہیں پول نہ کھول دے۔ پچھلے دنوں میں ایک نے ان کا گریبان بھی پکڑ لیا تھا اور شنید ہے کہ ان کے دفتر میں کسی صاحب نے بآواز بلند ماں بہن کی گالیاں بھی دی تھیں۔“
گرم ترین خبر یہ ہے کہ ان کی اہلیہ صاحبہ جن کا خلیفہ کے خاندان سے تعلق اور رشتہ داری ہے، مکرمی امیر صاحب جرمنی کے ان کے ساتھ جنسی تعلقات کافی عرصہ سے قائم ہیں۔ اور یہ تعلقات بھی عبدالسبحان طارق کو اخراج سے نہیں بچا سکے ............ اس پر قدرے حیرانگی ہے؟
دوسری اہم خبر یہ ہے کہ مبارک احمد تنویر مشنری بھی مرزا قادیانی کے صاحبزادے بشیر احمد ایم اے کی ”عادت“ پوری کر رہے ہیں اور عزیزم عدیل جو کہ بیت السبوح میں رہائش پذیر ہیں اور ایک اہم سیکرٹری صاحب کے فرزند ہیں، بیت السبوح کی ٹنل میں قابل اعتراض حالت میں پکڑے گئے اور بات کو رفع دفع کر دیا گیا۔ مگر تاڑنے والے تاڑ گئے تھے۔ مکرمی امیر صاحب کے زیر نگرانی کاشف عارف صاحب شعبہ ایم ٹی اے اور شعبہ لجنہ میں کام کرنے والی لڑکیاں پھنسائی گئیں۔ بذریعہ E.Mail اور جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت سارے لوگوں نے ان لڑکیوں کے ساتھ میٹنگ پوائنٹس پر ملاقاتیں کیں کیونکہ حضور انور تشریف نہیں لائے اور جلسہ سالانہ کا اہم شعبہ ملاقات نے دوسری ملاقات کا بندوبست کیا۔ اس کی تفصیل اور ثبوت مکرمی امیر صاحب کے پاس موجود ہیں۔ ان سے اس بارہ میں بیان حلفی لیا جا سکتا ہے۔
”ڈی این اے ٹیسٹ“
لاہور سے ایک دوست نے جنوری کے اداریہ میں خلیفہ مرزا طاہر کے ذکر کے ساتھ خلیفہ صلاح الدین کا ذکر کرنے پر ہمیں برا بھلا کہا ہے اور اسے بالکل بے جواز قرار دیا ہے۔ غصے میں لکھتے ہوئے مذکورہ دوست بہت آگے تک چلے گئے ہیں۔ ان کی برہمی چونکہ ان کے اس اخلاص کا نتیجہ ہے جو ان کی بے خبری کی وجہ سے ہے۔ اس لیے ان کی ساری برہمی کا برا منائے بغیر ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ”آئی ٹی“ پر جماعت کے ایک اہم کردار ”راون آئی“ نے خود ہی ڈی این اے ٹیسٹ کی پیش کش کی تھی، اور اس کے بعد اپنے اس نک نیم کے ساتھ کینیڈا کے جعلی مہدی کی ٹیم سے ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ...... ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز ایسی زبردست ہے کہ اس کی وجہ سے اب مرزا محمود کی نسل کی پہچان ہو کر رہے گی۔ حالات لازماً ایسا رخ اختیار کریں گے، آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں...... وہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے جب مرزا محمود کی ساری اولاد کو ان کی قبروں سے نکال کر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ جدید تر سائنس ان سب کی پہچان بتا دے گی۔ اگر سب اچھا ہوا تو اس سے مرزا محمود پر لگے سارے الزام باطل ہو جائیں گے اور سب اچھا نہ ہوا تو محمودیت کی اصلیت ظاہر ہو جائے گی۔ اس قیامت کی گھڑی سے اب نجات ممکن نہیں ہے۔
یہ روز محشر یہیں برپا ہوگا۔
اعتراف
فروری کے احمدیہ گزٹ میں جو لکھا گیا ہے کہ مرزا عبدالحق صاحب کا بیٹا مرزا طاہر احمد (چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ) اپنے دوستوں میں کہا کرتا تھا کہ وہ تو مرزا محمود کے نطفہ سے ہے، تو یہ بالکل درست بات ہے۔ اس کے لیے ایک ثبوت خود جماعت کے ایک اہم فرد راجہ غالب احمد ہیں۔ چونکہ مرزا طاہر اور راجہ غالب ایک ہی ادارہ میں تھے اس لیے وہاں راجہ غالب سے بھی انھوں نے یہ بات بارہا کہی تھی۔ راجہ غالب احمد کبھی بھی حلفاً اس کی تردید نہیں کر سکتے۔ اگر راجہ غالب احمد اس بیان کی تردید کرنا چاہیں تو ”احمدیہ گزٹ آن لائن“ کے صفحات حاضر ہیں۔ ورنہ ان کی خاموشی کا مطلب یہی ہوگا کہ مرزا طاہر نے ان سے مذکورہ بات کی تھی۔
فرار
مرزا محمود کا شرمناک قسم کا جنسی بداعمالیوں کا کردار ان کے مخالفین نے نہیں بلکہ ان کے اپنے مریدوں نے بے نقاب کیا ہے اور یہ مرید بھی وہ ہیں جو مختلف ادوار میں مرزا محمود کے انتہائی قریبی رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ان میں سے ایسے ہیں جن سے مرزا طاہر کی والدہ سمیت مرزا محمود کی باقی بیویاں پردہ تک نہیں کرتی تھیں (یہ اعتراف خود مرزا محمود کے خطبات میں محفوظ ہے) اور بعض ایسے ہیں جو مرزا محمود کی قادیان سے غیر موجودگی میں نائب امیرالمومنین سمجھے جاتے تھے۔ مرزا محمود کی پاکیزگی کا کوئی ثبوت دینے کا آسان راستہ وہی تھا کہ خود جماعتی تحقیقاتی کمیشن بٹھا لیا جاتا۔ مرزا قادیانی کے بیان کردہ اصول کے مطابق مباہلہ کے ذریعے صفائی دے دی جاتی یا پھر کم از کم حلفیہ بیان ہی دے دیا جاتا۔ مرزا محمود ساری زندگی ان میں سے کسی مناسب طریق کی طرف نہیں آئے۔ ان کے بعد ان کی ساری اولاد کو اس سلسلے میں مباہلہ نہ سہی کم از کم حلفیہ بیان دینے کے لیے بار بار دعوت دی گئی۔ مگر گھر کے سارے بھیدی اپنے باپ کے اصل کردار کو بخوبی جانتے تھے۔ اسی لیے کوئی اپنے باپ کی پاکیزگی کا سادہ سا حلف اٹھانے کی جرأت نہ کر سکا۔ جس قسم کے حلف اٹھانے کے لیے مرزا محمود کی اولاد سے مطالبہ کیا جاتا رہا۔ اگر مرزا طاہر کے 1988ء میں جاری کیے گئے مباہلہ کے ساٹھ نکات کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں ایسی ایسی معمولی باتوں کی تردید کے لیے بھی مباہلہ کیا گیا ہے جن کی اتنی اہمیت نہیں تھی۔ مثلاً یہ الزام کہ لیاقت علی خان کے قتل میں احمدیوں کی سازش شامل تھی۔ ذرا ان ساٹھ نکات کو دیکھیں تو سہی۔ اگر ایسے معمولی مسئلوں پر مباہلہ کے چیلنج دیے جارہے تھے تو پھر ایسے ہولناک الزامات کے جواب میں اپنی صفائی دینے کے لیے مرزا محمود نے مباہلہ کیوں نہیں کیا اور خود مرزا طاہر احمد نے جہاں اتنی معمولی باتوں کو بھی مباہلہ کے نکات میں شامل کیا، وہاں اپنے والد پر لگنے والے اتنے خوفناک جنسی الزامات کی صفائی دینے کے لیے اس نکتے کو کیوں شامل نہیں کیا، اس بات پر غور کریں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ اسی سوال پر غور کرنے سے آپ کو اپنے اندر سے ہی درست جواب مل جائے گا۔
مرزا محمود بمقابلہ کلنٹن
مرزا محمود کی پوری زندگی میں ان پر زنا کاریوں کے جو خوفناک قسم کے الزامات لگتے
رہے ہیں ان کے جواب کے لیے آسان اور معقول راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ابھی تک جماعت کی طرف سے کسی رنگ میں بھی جتنے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے یا جو کچھ کہنے کی کوشش کی گئی ہے، ان کے حوالے سے صرف اتنا ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کسی پر زنا کا الزام ہو اور اس کی طرف سے مرزا محمود کی صفائی والا جواب دیا جائے تو دنیا کا ہر زنا کار اس الزام سے بری قرار پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک سابق امریکی صدر بل کلنٹن اس لحاظ سے مرزا محمود سے بہت عظیم ہیں کہ معمولی ردوکد کے بعد انھوں نے نہ صرف اپنے جنسی سکینڈل کو تسلیم کر لیا بلکہ علی الاعلان اس پر شرمندگی کا اظہار بھی کر دیا۔
ایم ٹی اے کی خدمت
کینیڈا کے مشن ہاؤس میں مبشر ڈار کے باکسر بھائی اور ان کی منگیتر کے ساتھ رونما ہونے والا افسوس ناک واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جماعت میں امراء کے سر چڑھے عہدیدار بعض اوقات گھٹیا اور ذلیل حرکات صرف اس لیے کر ڈالتے ہیں کہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بچانے والے سائیں موجود ہیں، چند برس قبل جرمنی میں ایم ٹی اے کے لیے جب بچیوں کی ایک ہفت روزہ تربیتی کلاس کا فرینکفرٹ میں اہتمام کیا گیا تو ایک رات ایم ٹی اے کے ہنرمندوں نے ہی ایک کلاس میں آئی ہوئی بچی کا اجتماعی ریپ کر ڈالا اور جن کیمروں سے وہ خلیفہ وقت کے روحانی پروگراموں کی عکسبندی کرتے تھے، انہی کیمروں سے اس اجتماعی ریپ کی فلمبندی بھی کرتے رہے، ”مجاہدین“ چونکہ اپنوں میں سے تھے، اس لیے کیس کو دبا دیا گیا۔ باکسر بھائی نے اگر اپنے زور بازو سے ردعمل دکھایا تو یہ اس کا فطری عمل تھا جبکہ بدتمیزی کے مرتکب ہونے والے شخص کا اصولی طور پر نظام جماعت سے اخراج ضروری تھا جو ظاہر ہے سائیں ڈاڈھے ہونے کی وجہ سے نہیں ہوا۔ جماعت کے انتہائی اعلیٰ عہدے پر فائز ان کی بہن کے ساتھ جو بدسلوکی ہوئی یہ بھی غیر انسانی اور غیر مہذب سلوک کے زمرے میں آتی ہے۔ ان مہذب ممالک میں رہ کر بھی اگر ظلم اور زیادتی کے سامنے سر جھکانا ہی جماعت کا مطالبہ ہے تو پھر جماعت کی سچائی کے تمام دعوے ہی مشکوک ہو جاتے ہیں۔ جرمنی کے جلسہ سالانہ پر مرزا مسرور نے اپنی پہلی آمد پر ہی یہ احکام دیے ہیں کہ جماعتی عہدیدار اگر آپ پر کوئی غلط اور ظالمانہ فیصلہ بھی صادر کرتا ہے تو اس کا ناانصافی پر مبنی فیصلہ بھی بطور اطاعت
مان کر معاملہ خدا پر چھوڑ دیں، یہ وہ حکم ہے جس کی قرآن نہ صرف نفی کرتا ہے بلکہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کو اوّل درجے کا جہاد قرار دیتا ہے، مرزا مسرور کے اس غاصبانہ اور قرآن کے منکرانہ فیصلے پر عملدرآمد کر کے پوری جماعت گناہ کی مرتکب ہوگی۔
رہائی یا ظلم؟
ایڈمنٹن (کینیڈا) کی ایک معروف اور مخلص فیملی احمدیہ تحریک کے ظالمانہ نظام کی بھینٹ چڑھ گئی۔ مورخہ 12 نومبر 2004ء کو پورے کینیڈا کی جماعتوں میں اعلان کے مطابق، ایڈمنٹن کے جناب مرزا منظور احمد کے گھرانے جن میں ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں بمعہ بچوں اور مسز منظور کو جماعت سے اخراج کی غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر اسلامی سزا کا حکم سنایا گیا۔ حاصل کردہ معلومات کی تفصیلات کے مطابق اس ظلم کا پس منظر کچھ یوں ہے۔
مرزا منظور احمد کا تعلق ایک مخلص اور برین واش ربوی قادیانی گھرانے سے ہے، آپ کے ایک بھائی مرزا مقصود احمد پشاور کے امیر جماعت اور ایک بھائی مرزا حفیظ نوشہرہ کے امیر جماعت رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈین امیر مولوی نسیم مہدی صاحب کے سیکرٹری جناب کمانڈر اسلم، مرزا منظور کے ہم زلف ہیں، مرزا منظور فیملی کا جرم یہ ہے کہ منظور صاحب کی ایک نواسی نے قادیانی جماعت کو خیر باد کہہ کر ایک مسلمان نوجوان سے شادی کر لی تھی، جس میں خاندان کے کسی فرد نے شرکت نہ کی تھی، چند ماہ پیشتر جولائی میں اسی نواسی نے اپنے میکے اور سسرال کے افراد کے ساتھ کیلگری میں ایک مختصر سا فنکشن کیا جس میں خواتین و حضرات اکٹھے تھے، اس تقریب میں اطلاع کے مطابق لڑکیوں نے شادی کا سا ماحول بنا کر گیت گائے اور ناچ بھی کیا، یہاں یہ ذکر کر دینا ضروری ہے کہ سب سے زیادہ ناچ دُلہن کی بہن نے کیا جو مولوی نسیم مہدی کے سیکرٹری کمانڈر اسلم کی بہو ہیں، اور اس لڑکی کو مولوی مہدی یا مسرور صاحب نے اخراج سے مبرا رکھا، کیوں؟ مرزا منظور صاحب کو اخراج کی سزا نہیں دی گئی حالانکہ وہ شامل تھے، (غالباً اس لیے کہ انھوں ڈانس نہیں کیا تھا؟) جن افراد کا اخراج ہوا ہے ان کی کل تعداد بچوں سمیت تقریباً دس یا تیرہ ہے۔ اس میں دودھ پیتے بچے بھی شامل ہیں۔ کیا قادیانی خلیفہ مرزا مسرور صاحب آنے والے جلسہ کے موقعہ پر اس کی تعداد کا بھی ذکر کریں گے؟
اس ظلم کے حوالہ سے جو چند سوالات پیدا ہوتے ہیں، ان پر اظہار خیال کے لیے ہم
اپنے قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات سائیٹ کے لیے ہمیں ارسال کریں یا بحث فورم پر براہ راست لکھیں۔
- 1- تمام قادیانیوں کو جو اس تقریب میں شامل تھے خارج کیوں نہیں کیا گیا؟ صرف
خاص افراد کو ہی کیوں سزا دی گئی۔
- 2- قادیانی جب اس بات پر بضد ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو پھر دوسرے مسلمان سے
شادی یا ان سے ملنا جلنا باعث سزا کیوں؟
- 3- قادیانی خلیفہ مرزا مسرور صاحب منافقت سے کیوں کام لیتے ہیں، کیوں مسلمانوں
کو صاف نہیں کہتے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں؟ کیونکہ مسلمان صرف اور صرف وہ ہے جو غلام احمد قادیانی صاحب کو مانتا ہے۔ (”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
- 4- کیا یہ نفرت کی انتہا نہیں کہ وہ انسان جو اللہ، اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اور کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، صرف اس وجہ سے نفرت کیے جائیں کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے، اور اگر ایسے خیالات والے لوگ آپس میں مل بیٹھیں تو مجرم گردانے جائیں اور قادیانی جماعت کی نفرت کا شکار ہو جائیں۔
- 5- کیا احمدیہ کلٹ (Cult) نفرت نہیں پھیلا رہا؟ کیا یہ ٹولہ انسانوں کے بنیادی
حقوق اور جذبات کا استحصال نہیں کر رہا؟
ہمارے خیال کے مطابق یہ گھرانہ خوش قسمت ہے کہ اسے صیاد نے آزاد کر دیا، آپ اس کلٹ سے باہر نکل کر دیکھیں آپ کو احساس ہوگا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو نہ تو کسی خاص فرقے یا مذہب کی وجہ سے آپ کو ملنا پسند کریں گے بلکہ آپ سے محبت اور بھائی چارہ صرف اور صرف انسانیت کے ناتے سے رکھنا پسند کریں گے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے آپ کے بندھن، آپ کی رشتہ داریاں آپ کے آڑے آئیں گی، آپ کو اپنے جنازے کا خیال آئے گا، آپ کو اپنے غیر شادی شدہ بچوں کا خیال آئے گا اور یہ قادیانی کلٹ آپ کو مجبور کر دے گا کہ آپ اپنا سر ان کے پاؤں پر رکھ دیں۔ آپ رو رو کر ناک رگڑ رگڑ کر معافیاں مانگیں، اور فرعونی نظام اور اس کا ہامان ایک عجیب قسم کی خوشی محسوس کرے گا،
کیونکہ انھوں نے آپ کے ذہنوں میں یہ ڈال رکھا ہے کہ یہ خدا کے نمائندے ہیں، دوستو جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، یہ مذہبی غنڈے ہیں، یہ مذہبی دہشت گرد ہیں، یہ خود اللہ کے مجرم ہیں، انھیں اپنی خبر نہیں کہ ان کے ساتھ اللہ نے کیا سلوک کرنا ہے، عزیزو یہ طوق غلامی اگر خوش قسمتی سے اتر گیا ہے تو اس پر جشن مناؤ، شکرانے ادا کرو، حزن و ملال سے کام نہ لو، اللہ کی ذات پہ ایمان رکھتے ہوئے بھروسہ رکھو کہ یہ خود اپنی جان بخشی کے لیے باؤلے سگ کی طرح ہلکان ہو رہے ہیں، اللہ نگہبان سب کا۔
راسپوٹین
مرزا محمود کی ذاتی زندگی میں جنسی بھوک بھی شدت سے تھی، مرزا محمود نے سات شادیاں کیں، جو سب کی سب شادی کے وقت کنواریاں تھیں، وفات کے وقت ایک سے زیادہ بیوائیں چھوڑیں، محمودیت نے قادیان میں لوگوں کے قتل کرائے، اخراج جیسی غیر انسانی، غیر اخلاقی سزائیں دیں، گھروں کو جلوایا اور لوگوں کو قادیان بدر کیا۔ مرزا محمود قادیان میں اپنے ظلم و ستم کے میدان گرم کرنے کے بعد تقسیم ہند و پاک پر ربوہ پاکستان میں آ براجمان ہوئے اور اپنے غلبہ کی تسکین کو پورا کرنا چاہا جس میں پوری طرح کامیاب رہے۔ جہاں پر مرزا محمود ظلم و ستم میں لاثانی تھے وہاں محمودیت کو پھیلانے اور دنیا کے کناروں تک پہنچانے میں بھی لاثانی تھے، گو وہ خود کو ثانی کہلاتے تھے۔
مرزا محمود کی ہوس کاریاں
1934ء میں مرزا محمود کی زنا کاریاں قادیان کی حدود سے باہر نکل آئیں۔ لاہور کے سسل ہوٹل میں کوئی قادیانی منتظم تھا۔ مرزا محمود وہاں گئے تو اس ہوٹل کی اطالوی رقاصہ مس روفو کو دیکھ کر پھسل گئے۔ کسی کو پتہ نہ چلا اور مس روفو ہوٹل سے غائب ہو گئی۔ اسی دن شام کو ہوٹل میں ایک تقریب تھی۔ اس تقریب کے سلسلے کا سامان مس روفو کے کمرے میں بند تھا اور مس روفو غائب تھیں۔ اس وجہ سے اس کی گمشدگی کی خبر اخبارات تک پہنچی۔ اخبارات میں شور اٹھا تو پھر بھید کھلا کہ مس روفو کو مرزا محمود قادیان لے گئے ہیں۔ اس پر لوگ ہنسے اور
مرزا محمود کے کردار پر پھبتیاں کسی گئیں تو مرزا محمود نے خطبہ دیا (بحوالہ الفضل 18 مارچ 1934ء) کہ میں اس لیڈی کو اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو انگریزی سکھانے کے لیے لایا تھا۔ تب اخبارات نے لکھا کہ اطالویوں کا تو اپنا انگریزی لہجہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ پھر ایک طوائف اور رقّاصہ کے ذریعے مقدّس خاندان کی خواتین کو انگریزی سکھلانا؟ اور مس روفو تو خود بھی انگریزی نہیں جانتی تھی۔ قادیانی حضرات مولانا ظفر علی خاں کی وہ نظمیں بڑے اہتمام سے اپنے لٹریچر میں بطور سند درج کرتے رہتے ہیں جو انھوں نے مجلس احرار کے خلاف لکھی تھیں۔ مس روفو والے سکینڈل کے موقع پر بھی مولانا ظفر علی خاں نے بڑے مزے کی شاعری کی تھی۔ یہ شاعری تب ہی اخبار ”زمیندار“ میں شائع ہوتی رہی۔ امید ہے قادیانی حضرات ان دو نظموں سے حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ان سے لطف بھی اٹھائیں گے۔
اطالوی حسینہ
لاہور کا دمن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبرِ جمال تیری دل رُبا ادا
پروردگارِ عشق ترا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تری زلفِ سیاہ میں
ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو فتن
پروردۂ فسوں ہے، تری آنکھ کا خمار
آوردۂ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانۂ نشاط تیری ساقِ صندلی
بیعانۂ سرور ترا مرمری بدن!
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسنِ بے حجاب
جس پر فدا ہے شیخ تو لٹّو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشۂ نبوت ظلّی ہوا ہرن
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن
ہوٹل سسل کی رونق عریاں
ہوٹل سسل کی رونق عریاں کہاں گئی
اس کے جلو میں جاں گئی ایمان کے ساتھ ساتھ
کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
بن کے خروش حلقہ رندان لم یزل
لے کر گئی وہ حشر کا ساماں جہاں گئی
رومہ سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی
اب کس حریم ناز میں وہ جان جاں گئی
یہ چیستان سنی تو ”زمیندار“ نے کہا
اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی
اطالوی حسینہ مس روفو
زمانے کے اے بے خبر فیل سوفو!
ملے گا تمہیں یہ سبق قادیاں سے
جہاں چل کے سوتے میں آئی ہے روفو
دبستان میں جانا نہیں چاہتے ہو
تو پہنچو شبستان میں اے بے وقوفو
بہار آ رہی ہے خزاں جا رہی ہے
ہنسو کھل کھلا کر دمشقی شگوفو!
تمہیں داد دو اس کی عبد الرؤفو!
جب اوقات موجود ہے قادیاں کی
کہاں مر رہی ہو تفو اور زوفو!
31 مارچ 1924ء
فتنہ آخر زماں
لپٹا لیا کرتا ہے جو ہر شب نئی اک حور کو
جس نے ہنسایا ناچ کر کشمیر اور میسور کو
جس کی ترش روئی ملی نیبو کو اور امچور کو
لکھوں دمشقی گورخہ یا اندلس کی مادیاں
اے قادیاں اے قادیاں اے فتنۂ آخر زماں
جنس نفاق و کفر سے چمکی تری دکان ہے
بہتاں خدا پر باندھنا تیرے نبی کی شان ہے
الہام جو بھی ہے ترا آوردۂ شیطان ہے
یہ بھی خدا کا آخری اسلام پر احسان ہے
نقاش کی مٹھی میں گر پوشیدہ تیری جان ہے
اے قادیاں اے قادیاں اے دشمن اسلامیاں
اے فتنہ آخر زماں
غلط فہمی
قادیانی جماعت کا بحث مباحثہ کا جو طریق ہے اس کے مطابق یہ لوگ ذلت کے ساتھ ہارنے کے باوجود ہار نہیں مانتے۔ ان کو ان کی شکست کا احساس دلانے کے لیے بار بار
باور کرانا پڑتا ہے کہ تمھارے ساتھ یہ ہوا ہے۔ اس دوست کے بقول اگر جماعت محمودیہ کو سرعام تھپڑ بھی مار دیا جائے تو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کہیں گے کہ یہ تو پیار سے میرے گال سہلائے گئے ہیں۔ اس لیے انھیں تھپڑ مارنے کے بعد یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ تمھیں تھپڑ مارا گیا ہے....... اسی طرح جماعت اپنی فاش قسم کی غلطیوں پر پکڑے جانے کے بعد بجائے شرمندہ ہونے کے ان کی بے ہودہ تاویل کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اس سلسلے میں لندن کے دوست نے ساتھ ہی ایک لطیفہ بھیجا ہے اور اسے جماعت محمودیہ کی تاویلات پر عمدگی کے ساتھ چسپاں کیا ہے۔ لطیفہ یہ ہے۔ ایک شخص کسی دوسرے شہر کے پانچ روزہ دفتری دورے پر گیا ہوا تھا لیکن اسے اتفاق سے تیسرے دن ہی واپس آ جانا پڑا۔ واپس آیا تو گھر کے برآمدے میں ہی اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کسی غیر مرد کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے۔ وہ خاموشی سے گھر سے اپنے سسر کے پاس چلا گیا اور اسے بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔ میں نے اسے ٹیلی گرام دے دیا تھا کہ دورہ مختصر کر کے آ رہا ہوں....... لیکن واپس آیا ہوں تو تمہاری بیٹی کے یہ کرتوت ہیں۔ اس لیے میں کسی جھگڑے میں پڑنے کی بجائے اسے طلاق دینے لگا ہوں۔ اس کے سسر نے کہا تم ابھی طلاق نہ دو، لگتا ہے تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس لیے مجھے اس سے ایک بار بات کر لینے دو۔ چنانچہ وہ اپنی بیٹی سے بات کرنے گیا اور جب واپس آیا تو محمودی حضرات کی طرح بے حد خوش تھا۔ کہنے لگا دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ کوئی غلط فہمی ضرور ہوئی ہو گی۔ میری بیٹی نے قسم کھا کر کہا ہے کہ اسے تمہارا ٹیلی گرام نہیں ملا۔ ساری خرابی محکمہ ٹیلی گرام والوں کی ہے۔ بے شک محمودی حضرات کی ساری تاویلات کا سلسلہ بھی مذکورہ سسر کے جیسا ہے۔
ملک مشتاق احمد آف ٹیکساس پر حملہ
سائٹ کو اطلاع ملی ہے کہ ملک مشتاق احمد جو کہ لطف الرحمن (موجودہ امام الصلوٰۃ) اور شفیق الرحمن سابق صدر جماعت احمدیہ آسٹن کے بہنوئی ہیں، ان پر 3 مئی 2004ء کو تقریباً رات ساڑھے گیارہ بجے، ان کے مخلص احمدی بیٹے ملک احمد بلال نے اپنی والدہ اور دو بہنوں کی موجودگی میں جان لیوا حملہ کیا۔ ملک صاحب کی چھوٹی بیٹی امۃ العزیز طوبیٰ نے پولیس کو فون کر کے اپنے والد کی جان بچائی۔ سائٹ کی اطلاع کے مطابق اس حملے کا اصل محرک
جماعت کی پالیسی سے عدم اتفاق ہے، کیونکہ ملک مشتاق صاحب نے اپنی چھوٹی بیٹی طوبیٰ کا نکاح‘ جماعت کی مرضی کے خلاف ایک نو مسلم (سابق عیسائی) Anthony McMray کے ساتھ کر دیا ہے۔ نکاح سے قبل ملک صاحب نے جماعت سے رابطہ کیا تو جماعت نے کہا کہ مسٹر انتھونی کے لیے مسلمان ہونا کافی نہیں‘ وہ بیعت کرے اور کم از کم چھ مہینے احمدی رہے تو جماعت اس نکاح کی منظوری دے دے گی‘ ملک صاحب نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور لڑکے کا صرف مسلمان ہونا ہی کافی سمجھا اور اپنی بیٹی کا نکاح بذریعہ مسلمان مفتی کے پڑھوا دیا۔
یہ بات نہ تو مقامی جماعت اور نہ ہی ملک صاحب کے بیٹے اور بیوی اور ایک بیٹی کو منظور تھی۔ اب ملک صاحب جب بھی گھر والوں کے ساتھ اس بیٹی کی رخصتی کا پروگرام بنانے لگتے تو وہ (گھر والے) حیلوں بہانوں سے ٹال دیتے‘ جس رات ملک صاحب پر حملہ ہوا، اس وقت بھی اسی ٹال مٹول کی وجہ سے بات تلخی تک پہنچی اور مخلص احمدی بلال نے باپ پر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے پولیس بروقت پہنچ گئی اور ملک صاحب کی جان بچ گئی‘ پولیس نے کیس درج کر کے اور آئندہ اس قسم کے کسی حملے سے ملک مشتاق صاحب کو بچانے کے لیے مخلص احمدی ملک بلال کو اس کے باپ کے گھر سے نکال دیا ہے۔
جب ملک صاحب نے مقامی جماعت کے موجودہ صدر افتخار غنی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایک ہفتہ سے قبل ملنے سے معذرت کر لی کہ ان کے پاس وقت نہیں‘ اور یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ملک صاحب نے اپنے بیٹے اور بیوی کے رویہ اور جماعتی نظام کی در پردہ شہہ کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے حملے کا خدشہ تقریباً دو ماہ قبل ہی اپنے برادران نسبتی (لطف الرحمٰن اور شفیق الرحمٰن صاحبان) سے کر دیا تھا۔ کیا یہ حملہ جماعت نے کروایا ہے؟ کیا جماعت کسی طرح اس کی پلاننگ میں شامل ہے؟ (ہماری رائے میں یہ جماعت کی وہ تعلیم ہے جسے برین واش کہا جاتا ہے، اس وجہ سے ایسا ہوا ہے۔)
بشیر رفیق کو صدمہ؟
لندن سے آمدہ اطلاع کے مطابق لندن میں قادیانی عبادت گاہ کے سابق امام بشیر رفیق کے صاحبزادے جو جعلی پاسپورٹ بنانے کا کاروبار کرتے تھے اور جنھوں نے جماعت کے بے شمار افراد کو برطانیہ میں سیاسی پناہ دلوائی تھی۔ ان پر جعلی پاسپورٹ بنانے کا جو
مقدمہ چل رہا تھا، اس کا فیصلہ لندن کی عدالت نے کر دیا ہے اور انھیں 3 سال 10 ماہ سخت قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ڈھگے
ربوہ سے ایک قادیانی خاتون لکھتی ہیں کہ ایک مرتبہ عبادت گاہ مبارک میں خلیفۂ ثالث درس قرآن دے رہے تھے۔ جب آپ اس آیت کی تفسیر کر رہے تھے ”ناموں کو بگاڑا نہ کرو“ تو میرا ذہن ناموں میں الجھ کر رہ گیا‘ میں سوچنے لگی کہ خاندان مسیح موعود میں ہر اصل نام کو پیار سے بگاڑ کر پکارتے ہیں مثلاً آپا امتہ النصیر کو ”بی بی چھیرو“ امتہ الباسط کو ”بی بی باچھی“ یا مرزا مجید کو ”میاں موجی“ مرزا طاہر کو ”میاں طاری“ وغیرہ۔ تو کیا حضور کے خاندان کے لوگ قرآن کے حکم کے منافی چلتے ہیں؟ میرا ذہن کہاں سے کہاں جا رہا تھا کہ درس ختم ہو گیا اور میں گھر واپس آ گئی تو امی سے اپنی سوچ کا اظہار کیا‘ امی نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود اپنے ہر بچے کا پورا اور صحیح نام لے کر پکارتے تھے‘ آپ نے کبھی بھی کسی بچے کا نام نہ پیار سے نہ غصے سے بگاڑ کے لیا تھا۔ میں نے کہا میں یہی تو سوچ رہی ہوں کہ اب ایسا کیوں اور خصوصاً خاندان مسیح موعود میں؟ اور ایک واقعہ ایسا یاد آیا جو اتنا پرانا نہیں‘ چند روز پہلے خلیفہ الخامس کے دورۂ افریقہ کی تصاویر دیکھ رہی تھی کہ حضور اور بیگم صاحبہ جہاز سے باہر آ رہے ہیں‘ بیگم صاحبہ حضور سے آگے ہیں۔ اس سے وہ بات یاد آ گئی جب آپ ابھی حضور نہیں بنے تھے، اس وقت آپ ناظر اعلیٰ تھے‘ آپا صبوح (بیگم صاحبہ) نے کہیں جانا تھا اور حضور سے کہا کہ گاڑی کی ضرورت ہے، آپ نے دفتر فون کیا تو پتہ چلا کہ جو گاڑی آپ کے مصرف میں ہوتی ہے، وہ کوئی ناظر صاحب لے گئے ہیں‘ حضور نے آپا سے کہا کہ آپ انتظار کر لیں گاڑی آ جائے تو چلی جانا‘ آپا کو کوئی ضروری کام تھا تھوڑا سا غصہ آ گیا اور کہنے لگیں کہ آپ سختی نہیں کرتے بہت نرم ہیں جس کی وجہ سے یہ سب لوگ بہت لاپرواہ ہی نہیں بلکہ آپ کو ناظر اعلیٰ بھی نہیں سمجھتے اور آپ کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور آپ بالکل ”ڈھگے“ ہیں۔ حضور نے مسکرا کر جواب دیا اگر ہم نرم دل نہ ہوتے تو آپ بھی ہمیں ڈھگہ کہہ کر بچ نہ جاتیں۔ تصویریں دیکھ کر یہ بات یاد آ گئی اور مجھے یوں لگا کہ میں کہہ رہی ہوں ”ہمارے ڈھگے خلیفہ“ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے جو میرے دل میں ایسا گستاخانہ خیال آیا۔
نئے قادیانی؟
مرزا مسرور احمد کا دورہ افریقہ بظاہر تو کامیاب رہا یا کامیاب نظر آ رہا ہے۔ کچھ گھڑ سوار بادشاہ (یاد رہے کہ وہ بادشاہ پاکستان کے نمبرداروں کے برابر ہیں) بھی برکت ڈھونڈنے آئے اور غریب و نادار ملکوں کے صاحبان نے بھی ملاقاتیں کر لیں، اور ایک ملاقات میں تو ہنسنے کو یہ بھی سین ملتا ہے کہ جب بنین کے صدر سے ملاقات ختم ہوتی ہے تو مرزا مسرور اپنے ترجمان کے ذریعہ پوچھتے ہیں (آخر غلامانہ ذہنیت ابھی تک پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے) کہ کیا ہم آپ کی ملاقات کو اپنے ٹی وی پر دکھا سکتے ہیں، صدر صاحب جواب دیتے ہیں کہ آپ بیشک آسمانوں پر بھی دکھائیں۔ لیکن قادیانیوں اور دوسروں کو انتظار تھا کہ 200 ملین نئے قادیانیوں میں سے کچھ کی جھلک ملے گی، لیکن سادہ لوح مخلصین کے چہرے لٹک گئے کہ وہاں دس بیس ملین تو کیا ایک ملین بھی نہیں، بلکہ ایک لاکھ بھی نہیں نظر آئے، حالانکہ ہر قادیانی کے لیے خلیفہ صاحب کی وزٹ ایک بہت بڑا روحانی واقعہ ہے، جو افریقیوں کی زندگی میں کبھی کبھار ہی پیش آتا ہے، اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے یہ موقع جانے دیا ہو۔ بنین ہی کی بات ہے، جہاں جماعت کے انٹرنیشنل پریس سیکرٹری کے مطابق ملینز قادیانی ہوئے، وہاں ایک جگہ حضور پہنچتے ہیں، تو اتنا زیادہ مجمع تھا، اتنا زیادہ مجمع تھا، اتنا زیادہ مجمع تھا، کہ گنتی کرنے والے بھی پیچھے ہٹ گئے وہاں موجود تمام اصحاب سے حضور نے فرداً فرداً ہاتھ ملایا اور بچوں میں چاکلیٹ بھی تقسیم کیا، اور یہ سب ’’حضور کے معجزہ‘‘ سے صرف دس منٹ میں فارغ ہو گئے۔ اس سے صرف ایک بات ہی ظاہر ہوتی ہے کہ جماعت کا بیعتوں کا جھوٹ اور فراڈ کھل کر سامنے آ گیا ہے اور ناقابل تردید شواہد ان لوگوں کو مہیا کر گیا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ تھا۔ ان کا یہ سوال برحق اور ابھی تک جواب کا محتاج ہے کہ نئے قادیانی کہاں ہیں؟ ویسے بھی اب کینیڈا کے جلسہ میں مرزا مسرور صاحب شامل ہو رہے ہیں اور اس جلسہ میں نہ صرف امریکہ کے بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں حتیٰ کہ ہندوستان اور پاکستان سے بھی لوگ شامل ہوں گے۔ دیکھتے ہیں کہ وہاں 200 ملین کی کونسی جھلک ملتی ہے؟
قادیانی جماعت کا ’’اسلامی نمونہ‘‘
کینیڈا کی مسی ساگا جماعت کی لجنہ اور ناصرات کی طرف سے جماعت کی
عبادت گاہ میں ایک مزاحیہ خاکہ/ ٹیبلو پیش کیا گیا جس سے جماعت کے نظام کی اور ذہنی، سماجی و دینی حالت کی لاشعوری طور پر بڑی صحیح عکاسی کی گئی، یہ کوشش جس رنگ میں بھی تھی شعوری یا لاشعوری، اگر یہ باتیں جماعت میں پائی جاتی ہیں تو ایک ایسی جماعت کے لیے باعث شرم ہے جو اپنے آپ کو صحیح اسلام کی دعویدار گردانتی ہے۔ اور جہاں تک ہمارا علم ہے ایسے واقعات جماعت میں ہوئے بھی ہیں۔ جناب خلیفۃ الخامس کو چاہیے کہ یہ سٹیج شو اپنے دورۂ کینیڈا کے موقع پر حکماً (ہو بہو) کروا کر اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ دیکھیں۔ اس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مائیں جب اپنے لڑکے کے لیے رشتے ڈھونڈنے نکلتی ہیں تو لڑکی کیسی ہونی چاہیے؟ رنگ کیسا ہونا چاہیے ناک موٹا یا پتلا ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ، لیکن اصل بات کی طرف آتے ہیں، کہانی یہ ہے کہ ”ایک نوبیاہتا جوڑا ہے، خیر سے ساس سسر اور ایک عدد نند بھی ہے، ایک لڑکی نئی نئی پاکستان سے بیاہ کر لائی جاتی ہے، اب یہ نوبیاہتا جوڑا، کار میں مشن ہاؤس کی طرف روانہ ہوتا ہے، اور ساتھ میں ساس سسر اور نند بھی ہیں، لڑکا کار میں اگلی سیٹ پر اپنے ساتھ اپنی نوبیاہتا دلہن کو بٹھا لیتا ہے، یہ دیکھتے ہی ساس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے، دوسرے دلہن جب بھی کوئی بات کرنے لگتی ہے ساس فوراً مداخلت کرتی ہے اور اس کو کوئی بات نہیں کرنے دیتی، دلہا میاں یہ صورتحال دیکھ اور سمجھ کر کار روکتے ہیں اور دلہن کو پچھلی نشست پر بھیج دیتے ہیں اور اپنی اماں جان کو آگے بٹھا لیتے ہیں، فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی بڑھیا کی طبیعت ایک دم ٹھیک ہو جاتی ہے اور تمام تکلیفیں اُڑنچھو ہو جاتی ہیں، لیکن چند لمحات کے بعد بڑھیا کی نظر پچھلی سیٹ پر پڑتی ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ درمیان میں سسر صاحب بیٹھے ہیں اور ایک طرف بیٹی ہے اور دوسری طرف بہو ہے، فوراً گاڑی رکوا کر وہ کہتی ہیں کہ یہ بہو اور سسر اکٹھے کیوں بیٹھے ہیں، ان کے درمیان میں بیٹی کو بیٹھنا چاہیے۔ جماعت میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں، کیا یہ ہمارے بزرگوں کے اسلامی خیالات ہیں اور دینی تربیت ہے؟ یہ عورتوں کے مردوں کے بارے میں خیالات ہیں؟ کیا آپ بھی مرزا مسرور صاحب اسی لیے عورتوں میں جا کر خطاب نہیں کرتے؟ جماعت پیسے اکٹھے کرنے کے چکر میں پڑی ہوئی ہے اور یہاں بچیوں کی یہ تربیت ہو رہی ہے؟ اور عورتوں سے حسن سلوک کی جتنی بہتر اسلامی تعلیمات ہیں، کیا جماعت کے اندر یہی اسلامی نمونہ ہے؟
مرزا مسرور سے چند گزارشات
سنا ہے کہ مرزا مسرور صاحب براعظم امریکہ کی جماعتوں سے کافی ناراض تھے کہ یہاں سے تبلیغ پر کوئی کام نہیں ہوا اور نہ ہی جماعت کی روحانی حالت بہتر ہوئی، مگر بیگم صاحبہ کے اصرار پر صرف کینیڈا آنا قبول کر لیا، حضرت اب جب آپ کینیڈا آ ہی رہے ہیں تو آپ کی خدمت میں کچھ گذارشات ہیں۔ اگر آپ کی نظر کرم سے گزر جائیں تو شائد کچھ شکوک رفع ہو جائیں یا پھر یہ بات سچ ثابت ہو کہ آپ کو بنانے والے ہی اصل میں خدا ہیں۔
- -1 کیا قادیانی جماعت (Ahmadiyya Movement in Islam) مذہبی
جماعت ہے یا خیراتی ادارہ؟
- -2 کیا آپ تمام نوع انسانی کے لیے خلیفہ ہیں یا صرف ان کے جو قادیانی جماعت
کے ممبر ہیں؟
- -3 کیا آپ قادیانی جماعت کے نظام کو منصفانہ، انسانیت کا محترم اور مثالی نظام سمجھتے ہیں؟
- -4 کیا آپ جماعت سے صرف مالی قربانی ہی توقع کرتے ہیں یا جماعت کے
معاشرتی، اخلاقی اور سماجی مسائل کا حل بھی آپ کے پاس ہے؟
اس بات کو ہم اس طرح کہہ لیتے ہیں کہ اگر جماعت کا کوئی فرد چندہ ادا نہ کرے تو با قاعدہ اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور مرکز کو اس کی اطلاع ہوتی ہے اور نادہند کو جماعت کے کسی عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا وغیرہ، لیکن اس کے برعکس اگر کسی جماعت کے فرد کو کوئی سماجی یا معاشرتی مشکل پیش آجاتی ہے تو جماعت ملکی قوانین کا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لیتی ہے مزید اس وقت جماعت میں اُن لڑکیوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جو شادی کے چند سال بعد ہی مطلقہ ہو گئی ہیں، ان میں وہ بھی ہیں جن کا ابھی کوئی بچہ نہیں وہ بھی جن کے بچے ہیں، کسی کا ایک تو کسی کا ایک سے زیادہ۔ حضرت آپ یہ بتائیں کسی کو کھانے کو ملے یا نہ ملے کسی کو حکومت سے خیرات ملے تھوڑی یا صرف پیٹ بھرنے کی حد تک مگر اس قادیانی پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرات میں سے ”قادیانی خیراتی“ ادارے کا حصہ ضرور ادا کرے ورنہ وہ آپ کے درشن سے ہی نہ صرف محروم رہے گا بلکہ احباب جماعت کی نفرت بھری نگاہوں کا بھی ہر دم شکار ہو گا۔ خلیفہ صاحب! کینیڈا اور امریکہ کی نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ یورپ اور پاکستان سے
بھی نوجوان آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کے خاندان کی مالی ہوس کب پوری ہوگی؟ آپ کب اس نوجوان نسل کے مسائل پر توجہ فرمائیں گے؟ آپ کینیڈا کے خدام و ناصرات سے چند دینی سوالات پوچھ کر دیکھ لیں اور ساتھ ہی فلمی دنیا اور سیکس (Sex) کے متعلق بھی پوچھ لیں، پھر اگر ہمت ہو تو ایم۔ ٹی۔ اے پر اس کے نتیجے کا اعلان فرما دیجئے گا۔ لیکن حضور آپ کو تو ممبرز آف پارلیمنٹ و دیگر سیاسی اکابرین سے ہی فرصت نہ ہوگی۔ آپ کی بلا سے یہ نوجوان لڑکیاں تباہ ہوتی ہیں یا جسم فروشی کا دھندہ اختیار کرتی ہیں آپ کو تو آپ کا حصہ پھر بھی ملے گا۔ ویسے بھی حضرت مسیح موعود جسم فروشی کا پیسہ نظام جماعت اور اپنے لیے (اسلام کی خدمت کے نام پر) حلال کر چکے ہیں! جماعت کے نوجوان ڈرگز (Drugs) یا دوسری اخلاقی برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، آپ کی بلا سے! نیز اس کے علاوہ کینیڈا کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ چیریٹی تنظیمیں سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں، لیکن قادیانی جماعت اس قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے پوری طرح سیاست میں ملوث ہے اُس کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت مبشر ڈار صاحب کا واقعہ ہے!! ویسے بھی یہ کیسی چیریٹی یا دینی/مذہبی ایکٹیویٹی ہے کہ جماعت نہ صرف سیاست کو پروموٹ کرتی ہے بلکہ اپنے ممبران کو ملکی قانون کے بھی خلاف مجبور کرتی ہے کہ فلاں کو ووٹ دو اور فلاں کو نہ ووٹ دو؟ کیا کوئی اس کی کسی قسم کی وضاحت پیش کرے گا؟
مبارک مشن
وکیل البشیر مرزا مبارک احمد 1961ء کی گرمیوں میں یورپ آئے جس کو جماعت کے مشنوں کے کام کی پڑتال کا نام دیا جاتا تھا۔ مگر فی الواقع موصوف کی سالانہ یورپ یاترا ہوتی تھی، جس کا مقصد سیر و سفر اور خرید اشیاء تھا۔ میں اس کا ہمبرگ میں عینی شاہد ہوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ لطیف صاحب سے اور مجھ سے ہمبرگ میں تبلیغی سرگرمیوں کی روداد جاننا چاہیں گے۔ مگر ہوا اس کے الٹ۔ اس بارے میں مجھ سے کوئی سوال نہ کیا گیا۔ ان کو مشن کے خرچ پر ہمبرگ کے مہنگے ترین ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ وہ دو بار مشن ہاؤس میں ایک دو گھنٹوں کے لیے آئے جس کے دوران کھانا کھایا گیا اور ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ مشن کے کام اور تبلیغی سرگرمیوں کے بارے میں ایک بھی سوال نہ کیا گیا۔ لطیف صاحب ان کے ساتھ بازار میں خریداری کے لیے
گئے اور چونکہ ایک پرفیوم ان کو پسند نہ آئی تھی، اس لیے مجھے وہ پرفیوم واپس دینے کے لیے بازار بھیجا گیا۔ کیا میری غیر حاضری میں ان کو لطیف صاحب نے مشن کے کام کی رپورٹ پیش کی تھی؟ مجھ سے کیوں کوئی سوال نہ کیا گیا؟ کیا ان کو مشن کے کام میں کوئی دلچسپی نہ تھی؟
قادیانی عبادت گاہ میں مجامعت
ہمبرگ کے علاوہ جماعت احمدیہ نے ایک مسجد فرانکفرٹ میں بھی بنائی تھی۔ جس کا امام جرمن احمدی عبدالشکور کنزے تھا جس کو میں ربوہ کے زمانے سے جانتا تھا۔ اسے یہاں سے شکاگو بھیجا گیا تھا۔ جہاں پر کچھ برسوں تک کام کرنے کے بعد اس کو جرمنی بلا لیا گیا۔ ابتداء میں اسکو کچھ عرصہ تک ہمبرگ میں لطیف صاحب کے ساتھ مشن ہاؤس میں رہنا پڑا تھا، کیونکہ فرانکفرٹ میں بنائی جانے والی مسجد ابھی مکمل نہ ہوئی تھی۔ دونوں خاندان صاحب اولاد تھے اور مشن ہاؤس کی مکانیت بہت محدود تھی۔ لطیف صاحب نے کنزے صاحب کی فیملی کو تہہ خانے میں رکھنا چاہا تھا، مگر وہ لوگ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور انھوں نے مشن ہاؤس کے چار کمروں میں سے دو کو اپنے قبضے میں کر لیا۔ پھر عین انہی دنوں میں مرزا لطف الرحمن کو ہمبرگ میں متعین کر دیا گیا، جن کو تہہ خانے کے اس کمرے میں رکھا گیا، جس میں آگے چل کر مجھے رہنا پڑا۔ جب خدا خدا کر کے فرانکفرٹ کی مسجد بن گئی اور کنزے صاحب کو وہاں کا مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا تو مرزا لطف الرحمن نے اپنا بوریا بستر تہہ خانے والے کمرے سے اٹھا کر ان دو کمروں میں سے ایک میں رکھ لیا جو کنزے فیملی نے خالی کیے تھے۔ لطیف صاحب کو یہ چیز بالکل پسند نہ آئی اور انھوں نے وکالت التبشیر کو شکایت کا خط لکھا کہ مرزا لطف الرحمن کے اس طرح ان کی فیملی کے درمیان آ کر مقیم ہو جانے کے سبب ان کی بیوی کی پردہ دری ہوتی ہے۔ پھر ان کی بیٹی امتہ المجیب بلوغت کو پہنچ رہی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مرزا صاحب کی وجہ سے کوئی بدمزگی پیدا ہو۔ نیز مرزا صاحب ان کے احکام کی پابندی کرنے سے انکاری ہیں۔ جب مرزا صاحب سے جواب طلبی ہوئی تو انھوں نے لکھا کہ تہہ خانے میں رہنے کے سبب وہ نزلہ و زکام کے دائمی مریض بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر ان کی رہائش کا تہہ خانے سے باہر انتظام نہیں ہو سکتا، تو خطرہ ہے کہ ان کی بیماری بڑھ کر تپ دق کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے وہ لطیف صاحب کا حکم ماننے سے قاصر ہیں۔ اس پر ان کو تبدیل کر دیا گیا اور وہ
خاموشی سے ادھر چلے گئے۔ انھیں جرمنی میں آئے ہوئے بمشکل ڈیڑھ برس ہوا تھا۔ میرے ہمبرگ آنے کے کچھ عرصہ بعد فرانکفورٹ مشن سے تشویش ناک خبریں آنے لگیں کنزے کی بیوی قدسیہ نے اپنے خاوند کو عین مسجد (دارالذکر) کے اندر ایک مرد کے ساتھ مجامعت کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔ اس نے شور مچایا کہ اس کا خاوند ہم جنس پرست ہے۔ یہ بات البتہ شکاگو کے زمانے سے اس کے علم میں تھی۔ ہمبرگ میں بھی کنزے کا اٹھنا بیٹھنا ہم جنس پرستوں کے ساتھ تھا۔ چنانچہ اس کے ذریعہ قادیانی ہونے والا امین والٹر ہم جنس پرست تھا جب وہ ایک بار ہمبرگ مشن ہاؤس میں ہمیں ملنے کے لیے آیا، تو میں پہلی ہی نظر میں جان لیا تھا کہ اس کا جسم مردانہ ہے، مگر اس کی روح زنانہ ہے۔ لطیف صاحب بھی کنزے کی ہم جنس پرستی سے خوب واقف تھے مگر جب کنزے کی بیوی نے شور مچایا اور اپنے خاوند کو دھمکایا کہ وہ اس کی پولیس کے پاس رپورٹ کر دے گی کیونکہ وہ لونڈوں کو مسجد میں لا کر ان کے ساتھ لواطت کرتا ہے، تو بات بڑھ گئی میاں بیوی کے درمیان چپقلش پہلے سے چل رہی تھی۔ اب رپورٹیں ربوہ تک پہنچ گئیں۔ وہاں سے ایک نیا مبلغ بھیجے جانے کی خبر آ گئی۔ (قادیانی خلیفہ مرزا مسرور نے قادیانی جلسہ سالانہ کینیڈا 2004ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”احمدی جس ملک میں آباد ہے، وہ وہاں احمدیت کا سفیر ہے۔)
قادیانیت، ایک ہندو کی نظر میں
مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیت کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک معرکۃ الآرا مضمون بعنوان ”قادیانیت اور اسلام“ سپرد قلم فرمایا تھا، تو پنڈت جواہر لعل نہرو نے قادیانیت کی حمایت میں چند مضامین لکھے تھے، جن کا مفہوم یہ تھا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں۔ دانشوروں کی ایک کثیر تعداد نے پنڈت جی کی اس حمایت کو حیرت کی نظر سے دیکھا تھا کہ آخر پنڈت جی کو اس امر کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی کہ قادیانیوں کی حمایت میں اپنے قلم کو جنبش دیں؟ علامہ موصوف نے پنڈت جی کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ قادیانیوں کے عقائد اس قسم کے ہیں کہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد وحدت اسلامیہ پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ مسلمان اس امر کو گوارا نہیں کر سکتے کہ رسول عربی ﷺ کی امت میں سے قطع و برید کر کے ”ہندوستانی نبی“ کے لیے ایک جدید امت تیار کی جائے۔ جس کا دینی مرکز مکہ معظمہ کی
بجائے قادیان ہو۔ ہندوستان کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں مسلمانوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ہر اس تحریک سے قطعی طور پر مجتنب اور محترز رہیں جو ان کے اندر افتراق و انشقاق پیدا کرنے کا باعث ہو۔ وہ جذبہ جس نے پنڈت جی کو قادیانیوں کی حمایت پر کمر بستہ کیا‘ ارباب دانش کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے، معروف ہندو دانشور ڈاکٹر شنکر داس کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ کیجیے جو انھوں نے ”بندے ماترم“ میں شائع کرایا تھا۔
- ❑ ”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے‘ وہ یہ ہے کہ
ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے——ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کیے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب ہی کے گیت گاتے ہیں‘ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔
اس تاریکی میں، اس مایوسی کے عالم میں، ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک قادیانیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان قادیانیت کی طرف راغب ہوں گے‘ وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں قادیانی تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردہا اور عقیدت رام کشن‘ وید‘ گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے‘ اسی طرح جب کوئی مسلمان، قادیانی بن جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے‘ مکہ مدینہ اس کے لیے روایتی مقامات رہ جاتے ہیں‘ یہ بات عام مسلمانوں کے لیے جو ہر وقت پان اسلام ازم اور پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں‘ کتنی ہی مایوس کن ہو‘ مگر ایک قوم پرست کے لیے باعث مسرت ہے۔
ایک مرزائی چاہے عرب‘ ترکستان‘ ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو‘ وہ روحانی تسکین کے لیے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لیے سرزمین نجات ہے اور اس میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر قادیانی کے دل میں ہندوستان کے لیے پریم ہوگا‘ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب تک جتنے خلیفے اس فرقے کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔
اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب مرزائی قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدہ گرو گرنتھ صاحب میں رام کشن اندر وشنو سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر آتا ہے، مگر کیا سکھوں نے رام کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا؟ گوردواروں سے رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا؟ کیا سکھ اب ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے؟
اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب قادیانی کہیں گے کہ ہم محمدی مسلمان نہیں، ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو مانتے ہو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عیسیٰ، رام، کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو عیسائی یا محمدی ہو گئے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان قادیانی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قادیانیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی قادیانیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا، کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ (اخبار بندے ماترم 22 اپریل 1935ء)
مرزا قادیانی کے معجزے
- ”پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان
رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی)
1899ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ”تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیش گوئیاں جو
امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہوچکی ہیں۔“۔
(حقیقۃ المہدی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 441 از مرزا قادیانی)
1900ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ”وہ نشان جو خدا نے میرے ہاتھ پر ظاہر فرمائے، وہ 100 سے بھی زیادہ ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 485 طبع جدید اشتہار نمبر 236 مورخہ 15 دسمبر 1900ء از مرزا قادیانی)
1901ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ❑ ”پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے
پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں“۔
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210 از مرزا قادیانی)
1903ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ❑ ”مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اب تک دو لاکھ سے
زیادہ میرے ہاتھ میں نشان ظاہر ہو چکے ہیں“۔
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)
اس حوالہ سے 7 صفحات بعد مرزا قادیانی نے لکھا:
- ❑ ”سو یہ تمام اعتراضات جہالت اور نابینائی اور تعصب کی وجہ سے ہیں نہ دیانت اور
حق طلبی کی وجہ سے۔ جس شخص کے ہاتھ سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں“۔
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 43 از مرزا قادیانی)
- ❑ ”ایسا ہی وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صد ہا نشان ظاہر ہوئے۔ کیا زمین پر کوئی
ایسا انسان زندہ ہے کہ جو نشان نمائی میں میرا مقابلہ کر کے مجھ پر غالب آسکے۔“
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)
1905ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ❑ ”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں، وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس
لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں“۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)
1906ء میں مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کی تعداد کے بارے میں کہا:
- ❑ ”میرا ارادہ تھا کہ ان نشانوں کو تین سو تک اس کتاب میں لکھوں اور وہ تمام نشان جو
میری کتاب نزول المسیح اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں لکھے گئے ہیں اور دوسرے نئے نشان اس قدر اس میں لکھ دوں کہ تین سو کا عدد پورا ہو جائے مگر تین روز سے میں بیمار ہو گیا ہوں اور
آج انتیس ستمبر 1906ء کو اس قدر غلبہ مرض اور ضعف اور نقاہت ہے کہ میں لکھنے سے مجبور ہو گیا ہوں۔ اگر خدا نے چاہا تو حصہ پنجم براہین احمدیہ میں یہ تین سو نشان یا زیادہ اس سے لکھے جائیں گے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 400 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 400 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے مزید لکھا:
- ’’یاد رہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں
مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہے جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی)
- ’’خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لیے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کیے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 168 از مرزا قادیانی)
- ’’خدا نے میرے لیے وہ نشان دکھائے کہ اگر وہ ان امتوں کے وقت نشان
دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک کی گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 73 از مرزا قادیانی)
- ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم
میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 148 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 152 از مرزا قادیانی)
- ’’صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور
نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لیے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی صفحہ 150 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے اپنے معجزوں کے بارے میں کہا:
- ’’خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں
اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت صفحہ 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)
افغان پٹھان، مرزا قادیانی کی نظر میں
- ❑ ”دوسرے قرائن بھی صاف بتلا رہے ہیں کہ حقیقت میں یہ لوگ اسرائیلی ہیں۔
مثلاً کوہ سلیمان جو اول افغانوں کا مسکن تھا، خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس پہاڑ کا یہ نام اسرائیلی یادگار کے لحاظ سے رکھا گیا ہے۔ دوسرے ایک بڑا قرینہ یہ ہے کہ قلعہ خیبر جو افغانوں نے بنایا کچھ شک نہیں کہ یہ خیبر کا نام بھی محض اسرائیلی یادگار کے لیے اس خیبر کے نام پر جو عرب میں ہے جہاں یہودی رہتے تھے، رکھا تھا۔
تیسرا قرینہ ایک یہ بھی ہے کہ افغانوں کی شکلیں بھی اسرائیلیوں سے بہت ملتی ہیں۔ اگر ایک جماعت یہودیوں کی، ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑی کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا منہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرہ بیضاوی ایسا باہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔
چوتھا قرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے۔ افغانوں کے لیے لمبے کرتے اور جبے، یہ وہی وضع اور پیرایہ اسرائیلیوں کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے۔
پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہوجاتا ہے۔
چھٹا قرینہ افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیس ہمارا مورث اعلیٰ ہے، ان کے بنی اسرائیل ہونے کی تائید کرتا ہے کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تاریخ کے نام سے موسوم ہے، اس کے باب 9 آیت 36 میں قیس کا ذکر ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس سے ہمیں پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی دوسرا قیس ہوگا۔ جو مسلمان ہو گیا ہوگا اور یا یہ کہ مسلمان ہونے والے کا کوئی
اور نام ہوگا اور وہ اس قیس کی اولاد میں سے ہوگا اور پھر باعث خطائے حافظہ اس کا نام بھی قیس سمجھا گیا۔ بہر حال ایک ایسی قوم کے منہ سے قیس کا لفظ نکلنا جو کتب یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض نا خواندہ تھی۔ یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انہوں نے اپنے باپوں سے سنا تھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے۔ پہلی تاریخ آیت 39 کی یہ عبارت ہے۔ ’’اور نیر کے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے یہونتن۔‘‘
ساتواں قرینہ اخلاقی حالتیں ہیں۔ جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زود رنجی اور تلون مزاجی اور خود غرضی اور گردن کشی اور کج مزاجی اور کج روی اور دوسرے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں۔ اور اگر قرآن شریف کھول کر سورۂ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں اور یہ رائے یہاں تک صاف ہے کہ اکثر انگریزوں نے بھی یہی خیال کیا ہے۔ برنیر نے جہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیر کے مسلمان کشمیری بھی دراصل بنی اسرائیل ہیں، وہاں بعض انگریزوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور ان تمام لوگوں کو ان دس فرقوں میں سے ٹھہرایا ہے جو مشرق میں گم ہیں جن کا اب اس زمانہ میں پتہ ملا ہے کہ وہ در حقیقت سب کے سب مسلمان ہو گئے ہیں۔ پھر جبکہ افغانوں کی قوم کے اسرائیلی ہونے میں اتنے قرائن موجود ہیں اور خود وہ تعامل کے طور پر اپنے باپ دادوں سے سنتے آئے ہیں کہ قوم اسرائیلی ہیں اور یہ باتیں ان کی قوم میں واقعات شہرت یافتہ ہیں تو سخت نا انصافی ہوگی کہ ہم محض تحکم کے طور سے ان کے ان بیانات سے انکار کریں، ذرا یہ تو سوچنا چاہیے کہ ان کے دلائل کے مقابلہ پر ہمارے ہاتھ میں انکار کی کیا دلیل ہے؟ یہ ایک قانونی مسئلہ ہے کہ ہر ایک پرانی دستاویز جو چالیس برس سے زیادہ کی ہو، وہ اپنی صحت کا آپ ثبوت ہوتی ہے۔ پھر جبکہ صدہا سال سے دوسری قوموں کی طرح جو اپنی اپنی اصلیت بیان کرتی ہیں، افغان لوگ اپنی اصلیت قوم اسرائیل قرار دیتے ہیں تو ہم کیوں جھگڑا کریں اور کیا وجہ کہ ہم قبول نہ کریں؟ یاد رہے کہ یہ ایک دو کا بیان نہیں، یہ ایک قوم کا بیان ہے جو لاکھوں انسانوں کا مجموعہ ہے اور پشت بعد پشت کے گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔ اب جبکہ یہ بات فیصلہ پا چکی کہ تمام افغان در حقیقت بنی اسرائیل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ افغانوں کا عروج جو بنی اسرائیل
ہیں، شہاب الدین غوری کے وقت سے شروع ہوا اور جب بہلول لودی افغان تخت نشین ہوا۔ تب ہندوستان میں عام طور پر افغانوں کی امارت اور حکومت کی بنیاد پڑی اور یہ افغان بادشاہ یعنی بہلول بہت حریص تھا کہ ہندوستان میں افغانوں کی حکومت اور امارت پھیلا دے اور ان کو صاحب املاک اور جاگیر کرے۔ اس لیے اس نے اپنی سلطنت میں جوق جوق افغان طلب کر کے ان کو عہدے اور حکومت اور بڑے بڑے املاک عطا کیے اور جب تک کہ ہندوستان کی سلطنت بہلول اور شیر شاہ افغان سوری کے خاندان میں رہی، تب تک افغانوں کی آبادی اور ان کی دولت اور طاقت بڑی ترقی میں رہی، یہاں تک کہ یہ لوگ امارت اور حکومت میں اعلیٰ درجہ تک پہنچ گئے۔ افغانوں کی سلطنت اور اقبال اور دولت کے تصور کے وقت احمد شاہ ابدالی سدوزئی کے اقبال پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ جو افغانوں میں سے ایک زبردست بادشاہ ہوا ہے اور پھر تیمور شاہ سدوزئی اور شاہ زمان اور شجاع الملک اور شاہ محمود اور امیر دوست محمد خان اور امیر شیر علی خان ہوئے اور اب بھی والی ملک کابل افغان ہے جو اس ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے یعنی امیر عبدالرحمٰن۔
ان تمام واقعات سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کو جو دوبارہ آزادی اور شوکت اور سلطنت کا وعدہ دیا گیا تھا، وہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد آخر پورا ہوگیا۔ اس سے توریت کی سچائی پر ایک قوی دلیل پیدا ہوتی ہے کیونکہ توریت کے وہ تمام وعدے بڑی قوت اور شان کے ساتھ انجام کار پورے ہوگئے۔
(ایام الصلح صفحہ 73 تا 77 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 299 تا 303 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت کا چندہ سسٹم
یہ صحیح ہے کہ کسی بھی تنظیم کو چلانے کے لیے چندہ ضروری ہے، اور قادیانی جماعت میں چندہ جات کو جو اہمیت ہے، وہ کسی سے بھی مخفی نہیں، مرزا قادیانی سے لے کر تمام خلفاء نے چندوں پر ہی زور دیا ہے۔ لیکن خلیفہ ثانی کے دور سے جماعت نے جس طرح عام احمدیوں کے جذبات کو ابھار کر، مجبور کر کے، بلیک میل کر کے مذہب کے نام پر لوٹا جا رہا ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مرزا محمود کے دور میں ایک بار خواجہ حسن نظامی صاحب نے قادیان کو اپنے کچھ
دوستوں کے ساتھ مرزا محمود خلیفہ ثانی کی دعوت پر وزٹ کیا۔ اس کے بعد اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ”ہم نے قادیان میں امور عامہ کا معائنہ کیا، نشر و اشاعت اور تحریک جدید کے دفاتر دیکھے، غرض بہشتی مقبرہ پہنچے تو اسے سبزہ و رستہ کے اعتبار سے واقعی جنت معنوی پایا، لیکن ایک بات بڑی حیران کن تھی کہ اس کے تمام درختوں اور پیڑوں پر قطار اندر قطار بیٹھے ہوئے پرندے ایک ہی راگ الاپ رہے تھے چندہ۔ چندہ۔ چندہ!“ اس بات کو لکھے ہوئے بھی ساٹھ ستر سال گزر چکے ہیں، اس کے بعد سے مرزا محمود اور ان کے بیٹوں کے ادوار میں تو اس سے کہیں زیادہ غریب قادیانیوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ اور اب تو ان کی ہڈیاں بھی چوسی جا رہی ہیں۔ ہر شخص اس بوجھ تلے کراہ رہا ہے، مگر سسٹم اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بول نہیں سکتا، مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں ہی اس چندہ سسٹم کی بڑی گہری بنیادیں رکھ دی تھیں اور پہلے خلیفہ کو چونکہ اتنی ذاتی دلچسپی نہیں تھی اس لیے معاملہ کچھ حد میں رہا مگر جب گدی مرزا قادیانی کے بیٹوں اور پوتوں کے قبضے میں آئی تو آہستہ آہستہ شکنجہ سخت کرتے گئے اور مرید غریب ہوتے جا رہے ہیں لیکن خلیفے اربوں کی جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں اور مزید بن رہے ہیں۔ اب جب سے مرزا مسرور نے اقتدار سنبھالا ہے، اس کا بھی مطالبہ جماعت سے مزید قربانیوں کا ہے، اور سنا ہے کہ اب چندوں کے بقایا جات کی بڑی سختی سے پڑتال اور وصولی کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اب نویں نکور خلیفہ صاحب بھی اپنے پیشرو خلفاء کی ریت پر عمل کرتے ہوئے نئی تحریک ”طاہر فاؤنڈیشن“ جماعت کو پیش کر دی ہے! ویسے میں نے حتی الامکان موجودہ چندوں کی مکمل فہرست پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ کوئی کمی رہ گئی ہو تو توجہ دلانے والے کا مشکور ہوں گا۔
- 1- چندہ عام۔ ہر شخص کی آمد کا سولہواں حصہ (لازمی)
- 2- چندہ وصیت۔ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے خواہش مندوں کی آمد کا اور کل جائیداد کا
دسواں حصہ
- 3- چندہ جلسہ سالانہ
- 4- چندہ تحریک جدید
- 5- چندہ وقف جدید
- 6- چندہ انصار اللہ آمدنی کا سوواں حصہ (لازمی)
- -7 چندہ اشاعت انصار اللہ (لازمی)
- -8 چندہ سالانہ اجتماع انصار اللہ (لازمی)
- -9 چندہ خدام الاحمدیہ (لازمی)
- -10 چندہ سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ (لازمی)
- -11 چندہ اشاعت خدام الاحمدیہ (لازمی)
- -12 چندہ اطفال الاحمدیہ (لازمی)
- -13 چندہ سالانہ اجتماع اطفال الاحمدیہ (لازمی)
- -14 چندہ اشاعت اطفال الاحمدیہ (لازمی)
- -15 چندہ لجنہ اماء اللہ (لازمی)
- -16 چندہ سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ (لازمی)
- -17 چندہ اشاعت لجنہ اماء اللہ (لازمی)
- -18 چندہ ناصرات الاحمدیہ (لازمی)
- -19 چندہ سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ (لازمی)
- -20 چندہ اشاعت ناصرات الاحمدیہ (لازمی)
- -21 چندہ مساجد بیرون ملک
- -22 چندہ مساجد اندرون ملک
- -23 ایم ٹی اے (نیم لازمی)
- -24 صدقہ
- -25 زکوٰۃ
- -26 بیوت الحمد
- -27 درویش قادیان فنڈ
- -28 افریقہ فنڈ
- -29 یتامیٰ فنڈ
- -30 غربا فنڈ
- -31 نصرت جہاں فنڈ
- -32 فضل عمر فاؤنڈیشن فنڈ
- -33 مریم جہیز فنڈ
- -34 طلباء فنڈ
- -35 بیوگان فنڈ
- -36 سو مساجد جرمنی فنڈ
- -37 سو مساجد افریقہ فنڈ
- -38 عید فنڈ ۔ (یہ فطرانہ کے علاوہ ہے، جو عید کی نماز سے پہلے یا بعد وصول کیا جاتا ہے)
- -39 فطرانہ
- -40 عطیہ جات برائے ہیومینٹی فرسٹ (ضروری نوٹ۔ ہیومینٹی فرسٹ کی تنظیم بظاہر
انسانی ہمدردی کی تنظیم ہے، لیکن حقیقت میں شعبہ تبلیغ کا ذیلی ادارہ ہے اور جہاں تبلیغ کے چانس ہوں وہیں ان کی انسانی ہمدردی جاگتی ہے)
- -41 ہر دوسرے تیسرے سال نئی دیگوں کی تحریک، جیسے 2-3 سال قبل پانچ سو دیگوں کی تحریک
- -42 خاص تحریکات مثال کے طور پر لندن میں نئے مرکز کے لیے پانچ ملین کے بعد
مزید چندہ کا مطالبہ، وغیرہ وغیرہ
- -43 مساجد کے لیے مقامی جماعت سے پنکھوں، قالینوں، وغیرہ وغیرہ کی تحریک
- -44 بکروں کی قربانیاں خلیفہ وقت کی صحت وغیرہ کے لیے
- -45 لجنہ کے مرکزی / ریجنل / مقامی مینا بازار کے لیے دستکاری و دیگر اشیاء کے عطیہ جات
- -46 مقامی اخراجات کے لیے (مثال کے طور پر مقامی نماز سنٹر کا آدھا کرایہ مقامی
جماعت ادا کرے۔ نیز مقامی تبلیغی میٹنگز کے لیے توقع کی جاتی ہے کہ مقامی جماعت بوجھ اٹھائے۔ اگر پورا نہیں تو کچھ حصہ دے)
- -47 مقامی / ریجنل / مرکزی طور پر جماعتی / انصار / خدام / اطفال / لجنہ / ناصرات کے
اجلاس / اجتماعات / سالانہ جلسہ / شوریٰ / انٹرنیشنل جلسہ سالانہ کے علاوہ مختلف یوم، مثلاً سیرت النبی، یوم مسیح موعود، یوم مصلح موعود وغیرہ وغیرہ، جماعت / انصار / خدام اور لجنہ کے تحت تبلیغی میٹنگز، مقامی / ریجنل / مرکزی سطح پر منعقد ہوتی ہیں ، میں شمولیت کے لیے اخراجات کا حساب لگائیں تو صرف یہ اخراجات ہی ایک ہوشربا
رقم بن کر سامنے آئے گی۔
- 48- وقارعمل (دراصل بیگار عمل) کے نام پر جو جسمانی، ٹیکنیکل، وقت کی بلا معاوضہ
خدمات کا اجتماعی معاوضہ کا کوئی بھی حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ اگر ہم ویسٹرن سٹینڈرڈ کے مطابق کم از کم پانچ ڈالر فی گھنٹہ بھی لگائیں اور ہر قادیانی جب اپنا حساب خود لگائے کہ ایک سال میں کتنے گھنٹے اس نے وقارعمل کیا ہے اور کتنی دور اپنا پٹرول یا کرایہ خرچ کر کے گیا ہے، اور اگر اس نے اتنے گھنٹے کام کر کے پاکستان/انڈیا/افریقہ میں کسی غریب رشتہ دار کی مدد کی ہوتی تو کسی غریب کو سر چھپانے کو ایک کمرہ مل گیا ہوتا۔ یا کسی کا مناسب علاج ہو گیا ہوتا، یا کہیں ٹھیلا لگا کر بچوں کی روٹی کما کر دے سکتا۔ یا کسی غریب بیٹی کی رخصتی کا خرچہ مہیا ہو جاتا۔ یا کسی اندھے ہوتے ہوئے کی بینائی واپس لوٹ آتی، دوسرے اگر یہ واقعی ”وقارعمل“ ہے اور بیگار عمل نہیں تو مرزا خاندان کے شہزادے کیوں اس باوقار کام سے مستثنیٰ ہیں؟
- 49- طاہر فاؤنڈیشن۔ دی گئی فہرست سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اسلام جو کہ دین
فطرت ہے اس کو عام قادیانیوں کی جیب سے دین کے نام پر آخری روپیہ تک کھینچنے کی ہوس میں نظام جماعت اور اس کے کرتوں دھرتوں نے اسلام کو احمدیت کا نام دے کر دین فطرت کی بجائے، دین چندہ، بنا دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اتنا دے جتنا تجھے تکلیف میں نہ ڈالے، اور چندوں کی فہرست بتا رہی ہے کہ قادیانی تکلیف میں پڑے ہوئے ہیں یا نہیں؟ چندہ لینے کے لیے اور جو دے رہے ہیں ان سے اور زیادہ نکلوانے کے لیے ہر قسم کے ذاتی، جماعتی، سماجی اور نفسیاتی غرضیکہ ہر حربہ استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان میں قادیانیوں کی اصل تعداد
نیشنل رجسٹریشن اینڈ ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا) کے 2012ء کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں 29 لاکھ افراد غیرمسلم کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہیں۔ دنیا بھر میں یہ تاثر دیا یا پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں صرف مسلمان آباد ہیں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے رہنے اور پنپنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ عیسائیت، ہندوازم، سکھ ازم، بدھ ازم، بہائی ازم اور
قادیانیت سے تعلق رکھنے والے کم و بیش تیس لاکھ افراد پاکستان کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں اسلام کے علاوہ 7 مذاہب سے وابستہ افراد بستے ہیں۔
عام مسلمانوں کی طرح غیر مسلموں کی تعداد میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ نادرا روزانہ کم و بیش پندرہ ہزار کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کرتی ہے۔ نادرا حکام کا اندازہ ہے کہ اس وقت ملک کی بالغ آبادی میں 96 فیصد کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہے۔ نادرا میں رجسٹریشن کے لیے جو فارم پر کیا جاتا ہے اس میں مذہب کا خانہ بھی ہے۔ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ملک میں 14 لاکھ ہندو اور 12 لاکھ 70 ہزار عیسائی ہیں۔ ایک لاکھ 25 ہزار 68 افراد نے خود کو قادیانی مذہب کے پیروکار کی حیثیت سے رجسٹر کرایا ہے۔ 33 ہزار افراد نے خود کو بہائی، 6146 نے سکھ اور 4 ہزار نے خود کو پارسی یا زرتشتی کی حیثیت سے رجسٹر کرا رکھا ہے۔ نادرا کے ڈیٹا بیس میں 1500 افراد بدھسٹ کی حیثیت سے درج ہیں۔
(دی ایکسپریس ٹریبیون The Express Tribune، 2 ستمبر 2012ء)
محمد علی باب
حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
بیچارہ غلط پڑھتا تھا اعراب سمٰوات
اُس کی غلطی پر علماء تھے متبسم
بولا تمہیں معلوم نہیں میرے مقامات
اب میری امامت کے تصدق میں ہیں آزاد
محبوس تھے اعراب میں قرآن کے آیات
اس نظم میں اقبالؒ نے اپنے مخصوص انداز میں جھوٹے مدعی نبوت محمد علی باب کی جہالت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اس شخص نے 1844ء میں بمقام طہران (ایران) یہ دعویٰ کیا کہ میں مامور من اللہ ہوں، تاکہ لوگوں کو مہدی موعود اور مسیح موعود کے قبول کرنے کے لئے تیار کروں، جو میرے بعد ظاہر ہوگا۔ اسی لئے میں نے باب کا لقب اختیار کیا یعنی وہ دروازہ ہوں جس سے مسیح موعود دنیا میں داخل ہوگا۔ جب اس شخص نے ماموریت کا دعویٰ کیا تو ایران
کے مجتہد اعظم نے اس کو طلب کیا اور بہت سے نامور علماء کو جمع کر کے اس سے گفتگو کی۔ علماء نے اس سے مناظرہ کیا۔ دوران مناظرہ میں علی محمد باب نے اپنے دعوٰی کی تائید میں قرآن کی بعض آیات بھی پڑھیں، لیکن لفظ ”سموات“ کے اعراب غلط پڑھے۔ اس کی اس جہالت پر علماء اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکے اور بات بھی صحیح تھی جو شخص عربی کی عبارت صحیح نہ پڑھ سکے، وہ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر کیسے کر سکتا ہے۔ مثلاً جو شخص خَلَقَ السَّمٰوٰتِ کو خلق السمٰوٰتُ پڑھے، وہ دوسرے لفظوں میں یہ ثابت کر رہا ہے کہ میں عربی گرامر سے بالکل ناواقف ہوں اور اس قاعدہ سے واقف نہیں ہوں کہ سَمٰوات کی حالتِ نصبی کو فتحہ سے ظاہر نہیں کرتے، بلکہ کسرہ سے ظاہر کرتے ہیں۔ القصہ جب باب صاحب نے یہ دیکھا کہ علماء میری جہالت پر متبسم ہیں تو اس نے اپنی خفت مٹانے کے لئے کمال ایمانداری اور خلوص سے کام لے کر برملا کہہ دیا کہ حضرات! افسوس ہے کہ آپ میرے جلالت شان سے واقف نہیں ہیں، میں روحانیت کے اس بلند مقام پر پہنچ چکا ہوں، جہاں پہنچ کر انسان صرف و نحو کی پابندیوں سے بالکل بالاتر ہو جاتا ہے۔ بے شک میرے ظہور سے پہلے آپ لوگوں نے قرآنی آیات کو صرف و نحو کی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا، لیکن اب میری امامت کے طفیل میں، آیاتِ قرآنی، اعراب کی پابندی سے آزاد ہو گئی ہیں، چنانچہ آج کی تاریخ سے سَمٰواتُ، سَمٰواتِ اور سَمٰواتَ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ (فکر اقبال از پروفیسر یوسف سلیم چشتی مطبوعہ ماہنامہ ”چشم بیدار“ اپریل 2014ء)
حسن یوسف علیہ السلام اور مرزا قادیانی
آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ یوسف علیہ السلام ہے۔ حسن یوسف علیہ السلام دیکھ کر تو مصر کی عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں۔ کیا کوئی مرزائی، مرزا قادیانی کی تصویر دیکھ کر اپنی انگلیاں کاٹنے کو تیار ہے؟ انٹرنیٹ پر مرزا قادیانی کی تصویر آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے۔ جو مرزائی اسے دیکھ کر اپنی انگلیاں کاٹ لے، وہ اس کے نیچے اپنی کٹی ہوئی انگلیوں کی تصویر لگا دے اور دس ہزار روپے نقد انعام لے لے۔
اور مرزائیت کا جنازہ نکل گیا!
دوستو! مرزا قادیانی نے بڑے زور و شور کے ساتھ پیشگوئی کی تھی کہ ”مسمات محمدی
بیگم کا میرے نکاح میں آنا ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ...... میرا خدا ہر ایک روک دور کرنے کے بعد اسے میرے نکاح میں لائے گا ....... اسکا باپ اور خاوند دونوں مر جائیں گے اور پھر وہ میرے نکاح میں آئے گی‘۔ لیکن محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد نامی شخص کے ساتھ 7 اپریل 1892 کو ہو گیا۔ مرزا قادیانی 1908 میں مر گیا لیکن سلطان محمد اور محمدی بیگم بدستور خاوند بیوی تھے اور محمدی بیگم مرزا کے نکاح میں نہ آئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو خود اسکے ہاتھوں ذلیل اور لعنتی ثابت کر دیا۔ مرزا قادیانی کے چمچے انتہائی دجل و فریب کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ”سلطان محمد نے چونکہ توبہ کر لی تھی، وہ دل ہی دل میں ڈر گیا تھا، اس لیے اللہ نے اس کی موت ٹال دی تھی۔ لہٰذا محمدی بیگم بیوہ ہونے سے بچ گئی ، اس لیے مرزا کے نکاح میں بھی نہ آئی“ (جبکہ مرزا کی پیشگوئی ہر حال میں نکاح میں آنے کی تھی۔) آئیے آج ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ محمدی بیگم کا خاوند سلطان محمد مرزا قادیانی کو اپنی پوری زندگی جھوٹا سمجھتا رہا اور اس کی پیشگوئی سے کبھی نہ ڈرا۔ ہمارے پاس اخبار اہل حدیث امرتسر کے دو شمارے ہیں، ایک 14 مارچ 1924 کا اور دوسرا 14 نومبر 1930 کا ، ان شماروں میں سلطان محمد کے دو خط شائع کیے گئے اور مرزائی امت کو چیلنج دیا گیا کہ ان خطوط کو غلط ثابت کر کے مبلغ تین سو روپیہ انعام پائیں لیکن کوئی مرزائی سورما اس چیلنج کو نہ توڑ سکا ...... واضح رہے کہ سلطان محمد کی وفات 1948 میں ہوئی۔ اگر مرزائی دھوکے باز چاہتے تو وہ سلطان محمد سے ان خطوط کی تردید کروا سکتے تھے لیکن چونکہ سلطان محمد مرزائی مذہب کو جھوٹا سمجھتا تھا، اس لیے کوئی بھی مرزائی اس سے یہ تردید نہ کروا سکا۔
مرزائی ہمیشہ محمدی بیگم والا موضوع گول کر جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا نکاح بقول اس کے آسمان پر ہوا تھا، وہ دوشیزہ محمدی بیگم ہی تھی لیکن اس نکاح کا کوئی انجام نہیں ہوا۔ نہ یہ مرزا کی زوجیت میں آئی اور نہ مرزا قادیانی نے اسے طلاق دی،، تو پھر اس نکاح کا کیا ہوا؟
نقلی مسیح
نقلی مسیح اور جعلی مہدی (آنجہانی مرزا قادیانی) کے کذاب و دجال ہونے پر 125 سال گزر گئے۔ نہ قیامت آئی، نہ دجال قتل ہوا، نہ یاجوج و ماجوج ہلاک ہوئے اور نہ کسر
صلیب ہوا بلکہ نقلی مسیح کی امت دجالی فتنے اور یاجوج و ماجوج کی گود میں چلی گئی۔ تمام مسلمانوں کو مبارک ہو۔ جوں جوں سال گزرتے رہیں گے، مرزا قادیانی کے کذاب اور نقلی مسیح ہونے پر مہر لگتی رہے گی۔
قادیانی بتائیں!
کیا کسی حدیث میں یہ ہے کہ آنے والا مسیح مجدد ہوگا؟ کیا حضرت عیسیٰ ابن مریم نے مجدد ہونا ہے؟ کہاں لکھا ہے کہ کسر صلیب مجدد کا کام ہے؟ کیا کوئی مرزائی یہ حدیث پیش کر سکتا ہے جس سے مرزا قادیانی نے یہ مفروضہ نکالا ہے؟
مرزا قادیانی ذہنی مریض تھا
مشہور TV آرٹسٹ بشریٰ انصاری کے والد شیخ احمد بشیر اپنی ایک کتاب ”خون جگر ہونے تک“ میں لکھتے ہیں۔ ”میں وضاحت کردوں کہ میں مرزا غلام احمد کو کذاب نہیں سمجھتا، وہ ذہنی مریض تھے اور بیٹھے بیٹھے خواب دیکھتے تھے جن کو حقیقت سمجھتے تھے۔ اگر حکیم نور دین ہومیو پیتھک ہوتے اور مرزا صاحب کو معجون فلاسفہ کھلانے کی بجائے ” کینابس انڈیکا“ (ہندوستانی بھنگ) ہزار طاقت کی ایک پڑیا دے دیتے تو جھوٹی نبوت کا ٹنٹا کھڑا نہ ہوتا۔ اس فقیر کا یہ مطلب نہیں کہ مرزا صاحب قبلہ خدانخواستہ بھنگ پیتے تھے، مگر ان میں بھنگ پینے والی علامات پیدا تھیں۔ جن میں سے اولیں یہ ہے کہ اس کا مریض حضرت عیسیٰ سے رقابت رکھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتا ہے۔ ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو...... اس سے بہتر غلام احمد ہے“ ”ایسی گھٹیا بندش کا شاعر نبی کسی طرح نبی نہیں ہوسکتا۔“
مرزا قادیانی، ایک خط اور ایک رویا......
مرزائیت کا دارو مدار مرزا قادیانی کی تاویلات، خواب، رویا اور نام نہاد الہامات پر مبنی ہے جس کا پرچار قادیانی مربی ہر جگہ کرتے ہیں۔ بعض تو خود مرزا قادیانی سے اختلاف کر جاتے ہیں اور بعض کا علم صرف مرزائی پاکٹ بک تک محدود ہے۔ بڑے بڑے مرزائی مربی ہٹ دھرمی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ایک عام فہم مسلمان بھی پریشان ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی
مرزا کا پیروکار جو خود کو احمدی کہواتا ہے، وہ جب بحث یا مکالمہ کرتا ہے تو اس کا پہلا سوال مسلمانوں سے یہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر ثابت کرو۔ اگر اصولاً دیکھا جائے تو مرزا قادیانی اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا کوئی جوڑ ، کوئی تعلق نہیں بنتا اور نہ ہی یہ سوال ہونا چاہئے۔ لیکن چونکہ مرزائی اس مسئلے کو لے کر ایک عام مسلمان کو الجھانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کے کردار پر کوئی بات نہ کرے۔ مرزا قادیانی خود 52 سال تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ثابت کرتا رہا اور ان کی حیات کا قائل تھا۔ امت مسلمہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت نزول کی قائل ہے، صحابہ کرامؓ، نامور تابعینؒ، مفسرینؒ وغیرہ نے اپنی تصنیفات و بیانات میں بھی ان کے نزول کے متعلق بیان کیا ہے، چونکہ میرا موضوع سخن حضرت عیسیٰ کی حیات یا وفات نہیں بلکہ مرزا کی وہ تاویلات ہیں جس کی بنا پر یہ مرزائی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا راگ الاپتے ہیں۔
کہتے ہیں جھوٹا جب جھوٹ بولتا ہے تو اپنے ہی جھوٹ اس کے گلے پڑ جاتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ مرزا قادیانی سے ہوا۔ بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ کی وفات کا علم اسے بذریعہ الہام ہوا، ویسے اگر مرزا کے ایسے الہام اس کی کتابوں میں دیکھے جائیں تو بہت سے چٹکلے ایسے ہی بن جائیں۔ لیکن مرزا کو یہ الہام کیسے ہوا تھا کہ حضرت عیسیٰ وفات پا گئے اس کا علم مرزائیوں کو بھی نہیں ہے، اور مزید یہ کہ مرزا قادیانی کے مطابق وفات مسیح کا عقیدہ اس سے پہلے کسی اور پر نہیں کھولا گیا۔ مرزا لکھتا ہے:
- ❑ ’’عُلِّمت من لدنہ ان النزول فی اصل مفہومہ حق ولکن ما فہم
المسلمون حقیقتہ. لان اللہ تعالیٰ اراد اخفاءہ. فغلب قضاءہ و مکرہ و ابتلاءہ علی الافہام فصرف وجوہہم عن الحقیقة الروحانیة الی الخیالات الجسمانیة فکانوا بہا من القانعین۔ وبقی ہٰذا الخبر مکتومًا مستورًا کالحب فی السنبلة قرنا بعد قرن. حتی جاء زماننا...... فکشف اللہ الحقیقة علینا.
ترجمہ: مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ نزول اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے حق ہے لیکن مسلمان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کو پردہ اخفا میں رکھنے کا تھا۔ پس اللہ کا فیصلہ غالب آیا اور لوگوں کے ذہنوں کو اس مسئلہ کی حقیقت روحانیہ سے خیالات جسمانیہ کی طرف پھیر دیا گیا اور وہ اسی پر قانع ہو گئے اور یہ مسئلہ پردہ اخفا ہی میں رہا
جیسے کہ دانہ خوشے میں چھپا ہوتا ہے، کئی صدیوں تک حتی کہ ہمارا زمانہ آ گیا ...... پس اللہ تعالیٰ نے اس بات کی حقیقت کو ہم پر منکشف کیا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 552، 553 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 552 ، 553 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے چھپائی رکھی اور صرف مجھ پر منکشف کی ، کذب اور دجل کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اب مرزا قادیانی کی اس تحریر کو لیں تو خدارا مرزائی مربی یہ کہنا چھوڑ دیں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات قرآن میں مذکور ہے، لیکن یہ تو عقل کے اندھے ہیں۔ مرزا کی کتابوں کو کوڑے دان میں پھینکا ہوا ہے۔ مرزائی، وفات کی رٹ تو لگاتے ہی ہیں، ساتھ میں حضرت عیسیٰ کی قبریں بھی مرزا نے بنا ڈالیں، وہ بھی قادیان میں بیٹھ کر۔ ماہرین آثار قدیمہ والے کتنے بے وقوف ہیں، اس کا اندازہ مجھے مرزا کی تحریریں پڑھنے کے بعد ہوا کہ اتنا اہم انکشاف اور کسی کو خبر ہی نہیں اور آج 100 سال گزر گئے اور کسی بھی مرزائی نے مرزا کی اس دریافت کو گینز ورلڈ ریکارڈ میں درج نہ کروایا۔ 2000 سال پرانی قبر کا دریافت ہونا اور وہ بھی ایسی ہستی کی جس کے پیروکار اس ہستی کو خدا مانتے ہیں۔ کتنی مضحکہ خیز بات کہ اس قدیم دریافت پر کسی نے نظر ثانی نہ کی۔ افسوس کا مقام ہے یہ پوری مرزائی امت کے لیے۔ ویسے تو یہ مرزائی ڈاکٹر عبدالسلام کے نوبیل انعام ملنے پر قصیدے سناتے ہیں جس کو نوبیل انعام ملنا چاہئے، اس کے لیے کوئی تگ و دو نہیں؟ خیر مرزا کی اس قدیمی دریافت کو میں تفصیل میں لکھ دیتا ہوں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پہلی قبر بقول مرزا قادیانی کے:
- ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ
وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 473 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری قبر :
- ”اور لطف تو یہ کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم زیادہ صفائی
کے لیے اس جگہ حاشیہ میں اخویم حبی فی اللہ سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور انھیں کی حدود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیے، اور ثابت کرنا
چاہیے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا ہے اور اس صورت میں دوسرے انبیا کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہیں رہے گی اور ایمان اٹھ جائے گا اور کہنا پڑے گا کہ شاید وہ تمام قبریں جعلی ہی ہوں۔‘‘
(اتمام الحجہ صفحہ 24، 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 296، 297 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تیسری قبر: یہ قبر بڑی اہمیت کی حامل ہے جس پر سب مرزائی متفق ہیں اور اس کے لیے عجیب تاویلات کرتے ہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس قبر کے بارے میں الہام ہوا تھا، لیکن کیا ہوا تھا پتا نہیں۔ پہلی دو قبریں خبر تھی یا احکام، اس کے بارے میں نہ کوئی الہام ہوا تھا اور نہ کوئی خواب آئی بلکہ مرزا صاحب کی اپنی سائنسی کوشش سے یہ قبریں دریافت ہو سکی۔ بہر حال یہ تیسری قبر:
- ❑ ’’بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور
وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔‘‘
(کشتی نوح صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 57، 58 از مرزا قادیانی)
مرزائی مربیوں کی اس قبر کے متعلق منطق ملاحظہ کیجیے:
- -1 قرآن میں کشمیر کا ذکر ہے، اس لیے حضرت عیسیٰ کشمیر گئے اور وہاں وفات پا گئے
(ویسے مرزائیوں کے قرآن میں قادیان کا بھی ذکر ہے، اگر کشمیر کے ذکر کا اضافہ شامل کر لیا تو کون سے تعجب کی بات ہے، مرزائی فیکٹری کی تیار کردہ کوئی بھی دلیل، کوئی بھی تاویل کہیں بھی فٹ کی جا سکتی ہے، چائنا بھی اس معاملے میں پیچھے رہ گیا ہے )۔
- -2 چونکہ یہودیوں کے بارہ کے قریب قبائل اس وقت جلاوطن کر دیے گئے تھے، لہذا
حضرت عیسیٰ بھی ان کو تبلیغ کرنے کشمیر آ گئے تھے۔ (اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بارہ کے بارہ قبیلے کشمیر آ گئے تھے؟ ویسے تو یہودی آج تک ان بارہ قبیلوں کو ڈھونڈ رہے ہیں، مرزائیوں کے یہودیوں سے میرا مطلب اسرائیل سے اتنے اچھے تعلقات ہونے کے باوجود مرزا کی اس کاوش کو پوشیدہ رکھا گیا۔ افسوس کا مقام ہے مرزائیوں کے لیے جنہوں نے اپنے ہی رہنماؤں کو یہ دریافت نہ بتائی)۔
میری مرزائیوں سے اور مرزائیوں کے کاغذی خلیفہ سے گذارش ہے کہ اس انکشاف سے کم از کم انڈیا کی سرکار کو تو آگاہ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے
انڈیا کوئی قدم اٹھائے اور اس تاریخی انکشاف کی وجہ سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کم ہو جائیں۔ اس کے علاوہ دنیائے عیسائیت کا مرکز، ویٹی کن سے کشمیر منتقل ہو جائے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ مرزائی اس تاریخی دریافت کو نظر انداز کر رہے ہیں، ابھی تو اس انکشاف کو صرف سو سال ہوئے ہیں۔
مرزا کو حضرت عیسیٰ کی کشمیر کی طرف ہجرت اور یہودی قبیلوں کی آمد کی خبر کیسے ہوئی۔ یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ ملاحظہ کیجیے : یہ ہفتہ 10 جولائی 1899ء کی بات ہے : مرزا قادیانی کو ایک خط آیا۔ میں یہاں پر یہ خط لفظ بلفظ نقل کر دیتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مرزا کے تاریخی علوم کی بنیاد کیا تھی اور وہ اس دریافت پر کس طرح خوش ہوا۔
- ’’اس ہفتہ میں سب سے عجیب اور دلچسپ بات جو واقع ہوئی اور جس نے ہمارے
ایمانوں کو قوت بخشی وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔ اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل لکھا تھا کہ جلال آباد ( علاقہ کابل ) کے علاقہ میں یوز آصف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے یہ نبی شام سے آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے ، زیادہ تفصیل کا محل نہیں ، اس خط سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے‘‘۔ برادران ! دینی بات پر یہ خوشی کیا منجانب اللہ ہونے کا نشان نہیں؟ کون ہے آج جو اعلائے کلمتہ اللہ کی باتوں پر ایسی خوشی کرے؟‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 203 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی اس تحقیق پر کون سا ایسا ایوارڈ دیا جائے جس کی بنیاد صرف ایک خط ہے۔ کیا مرزائی یہ خط پیش کر سکتے ہیں؟ اسلام میں کسی یوز آصف کو کہاں حضرت عیسیٰ ابن مریم لکھا گیا ہے؟ قرآن یا بائبل میں؟ کیا یوز آصف حضرت عیسیٰ کا پشتو نام ہے؟ مرزائیوں کو چاہئے وہ NATO فوج سے فوری طور پر رابطہ کریں اور اس چبوترہ کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ مرزا صاحب نے خوشی کا اظہار بھی کیا تو کروڑوں روپے ملنے سے زیادہ کا ، لیکن یہ خط قیمتی اس لیے ہوا کیونکہ یہ نبوت کی دکانداری کی ایک کڑی تھی۔ روپے تو بعد میں آتے ہی رہے اور آج تک مرزائیت میں مرزا کے چندے چل رہے ہیں اور مزید کسر مرزائی کاغذی خلیفوں نے پوری کر دی، کم از کم دس سے زیادہ ایسے چندے ہیں جو ہر مرزائی پر لازم ہیں۔
اس وقت کے مرزائیوں کے ایمان کو تجدید و تقویت جو اس خط نے بخشی، اس کے ساتھ ایک نشان اور بھی ظاہر ہوا۔ اسی دن صبح ایک اور رویا یہ تھا۔ ملفوظات کے اسی صفحہ پر درج ہے یہ نشان۔ لیکن یہ نشان بھی کیا نشان ہے، آئیے دیکھتے ہیں !
- ❑ ”ایک رویا اور اس کی تعبیر : ہمارے ایمان کی تجدید وتقویت کے لیے ایک نشان یہ
ظاہر ہوا کہ ظہر کے وقت اچانک یہ خط آتا ہے، (یہ وہ خط ہے جس کا حوالہ میں نے اوپر دیا ہے ) اور صبح حضرت اقدس کو یہ رویا ہوتا ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند گویا حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوتی ہیں ، حضرت اقدس رویا میں عاجز عبدالکریم کو جو اس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دو روز قیام فرمایا ہے. ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے. (یادرہے مولوی عبدالکریم مرزا کا امام تھا ، یعنی مرزا ان صاحب کے پیچھے نماز پڑھتا تھا ۔)
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 203 طبع جدید )
اسی صفحہ پر مذکورہ رویاء کی تعبیر کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:
- ❑ ”اس رویا کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرتِ الٰہی شامل ہوا چاہتی ہے۔
اس لیے کہ حضرت ملکہ معظمہ کا اسم مبارک وکٹوریہ ہے جس کے معنی ہیں . مظفرہ منصورہ اور نیز چونکہ اس وقت حضرت ملکہ معظمہ کل روئے زمین کے سلاطین میں سب سے زیادہ کامیاب اور خوش نصیب ہیں۔ اس لیے آپ کا مہربانی کے لباس میں آپ کے مکان میں تشریف لانا بڑی برکت اور کامیابی کا نشان ہے۔ خدا کا علم وقدرت دیکھیے ۔ ظہر کے وقت اس رویا کی صحیح تعبیر پوری ہوگئی۔ اللہ اللہ! اس سے زیادہ نصرت کیا ہے کہ ایسے سامان مل رہے ہیں کہ جن سے دنیا کے کل نصاریٰ پر خدا کی روشن حجت پوری ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 203 طبع جدید )
رویا بھی ہوا تو کیا ہوا، بقول شاعر : کیا حسن لے کر آئے وہ ہمارے خواب میں ، ہم تو پسینہ سے پانی پانی ہوگئے گھبراہٹ میں ۔ مرزائیت کے ایمان کی تقویت دیکھیے کہ ایک گمنام خط پر اتنی خوشی اور پھر خوبصورت عورت کا خواب میں آنا ، پھر یہ نصرت کا نشان بن جانا ،، یہ نصرت کا نشان تو بننا ہی تھا کیونکہ مرزا انہی کا خود کاشتہ ہے۔ خواب میں بھی ملکہ آئی تو درباری سلیقہ سے نظریں جھکائے ، با ادب ، مرزا صاحب کے اس رویا سے مرزا کی روحانی اولاد سلمان رشدی کا خواب یاد آیا جس میں وہ برطانیہ کی ہی ملکہ کے ساتھ ہم بستری کر رہا تھا۔ کہیں مرزا کا
یہ رویا بھی تو ایسا ہی نہیں تھا۔ خیر یہاں بھی ملکہ وکٹوریہ کے نام میں ڈنڈی مار گئے جیسے مرزا صاحب اور ان کے پیروکار مارتے ہیں، ملکہ کا پورا نام Victoria Alexandrina تھا۔ اس نام کی بھی کوئی تاویل کر دیتا تو اچھا تھا۔
بہر حال مرزا قادیانی کی تاریخی دریافتیں یعنی حضرت عیسیٰ کی تین قبریں ، ایک چبوترہ ، یہودیوں کے گمشدہ جلاوطن قبیلوں کی تاریخ ، پشتو میں ایک نبی کا نام ، اس پر ماہر آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں مرزا کا نام سنہری حروف میں ضرور لکھا جانا چاہئے، لیکن کیا کوئی مرزائی اس عظیم دریافت پر دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے گا؟
قادیانی مسیحا!
بیرونی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے میں قادیانی مافیا نہایت سرگرم ہے۔ اس میں تازہ اضافہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک معروف برطانوی نیوروسرجن ہے جس پر زیر علاج خواتین سے جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔ خلافت احمدیہ کی برکات اور مرزا غلام احمد قادیانی کی دعاؤں سے احمدی ڈاکٹرز اپنے مریضوں سے اپنی جنسی تسکین کے لیے ہر ایسا غیر اخلاقی، غیر قانونی اور حیوانی رویہ اختیار کرتے ہیں کہ جس سے احمدیہ خلافت اور مرزا غلام احمد قادیانی کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق ان کے والد UK جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں۔ خلافت احمدیہ کی جنسی برکات زندہ باد؟؟؟؟ تفصیلات کے مطابق قادیانی جماعت انگلینڈ کے سرگرم اور اعلیٰ عہدیدار 50 سالہ نیورو سرجن ڈاکٹر نفیس حامد نے Priory Hospital Edgbaston اور Queen Elizabeth Hospital Bermingham میں جنوری 2011ء سے فروری 2013ء تک 50 کے قریب خواتین سے جنسی زیادتی کی۔ 3 دسمبر 2013ء کو اس پر برمنگھم کی عدالت کے مجسٹریٹ نے فردجرم عائد کی۔ این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر کو عدالتی کارروائی کا فیصلہ ہونے تک کام سے روک دیا گیا ہے۔ نفیس حامد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کے قادیانی خلیفہ مرزا مسرور سے قریبی تعلقات ہیں۔ قادیانی رائل فیملی کا شاید ہی کوئی ایسا فنکشن ہو جس میں نفیس حامد خصوصی طور پر مدعو نہ ہو۔
سازش کے پسِ پردہ سازش
معروف صحافی اور کالم نگار جناب صاحبزادہ قاری محمد سلمان عثمانی اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں لکھتے ہیں:
پاکستانی نژاد امریکی قادیانی ڈاکٹر مہدی علی چوہدری، قادیانیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر نشان عبرت بن گیا۔ یہ ڈاکٹر چناب نگر کے محلہ دارالرحمت راجیکی روڈ قادیانی عبادت گاہ، بیت ناصر کے قریب رہتا تھا۔ اس کے والد کا نام چوہدری فرزند علی تھا اور آرائیں فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے سابقہ مکان میں اب کریسنٹ سکول ہے۔ ڈاکٹر مہدی علی ماہر امراض قلب تھا اور فضل عمر ہسپتال کے شعبہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں رضا کارانہ خدمات سر انجام دینا چاہتا تھا۔ 25، 30 سال قبل امریکہ چلا گیا، وہ وہاں کی شہریت رکھتا تھا، چند روز قبل چناب نگر میں آیا۔ قادیانیوں کے گیسٹ ہاؤس ”دارالضیافت“ میں سکیورٹی حصار میں تھا۔ مورخہ 26 مئی بروز پیر صبح تقریباً 5:15 بجے نام نہاد بہشتی مقبرہ اور والدین کی قبروں پر حاضری دینے کیلیے اپنی بیوی سالی اور بچوں کے ہمراہ پہنچا ہی تھا کہ ایک نامعلوم شخص نے ڈاکٹر مہدی کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا اور اس نے تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار دی۔ قبرستان میں ڈیوٹی پر موجود گن مین موجود ہونے کے باوجود اور قادیانی دہشت گرد تنظیم خدام الاحمدیہ کے سخت حفاظتی پہروں میں یہ سانحہ ہوا، کسی نے کوئی مداخلت نہیں کی، نہ ہی نا معلوم قاتلوں کا تعاقب کیا اور نہ ہی مزاحمت کی، بلکہ آرام وسکون سے تمام تماشہ دیکھتے رہے۔ اس کے قتل کے بعد بھی قادیانی جماعت نے کسی قابل ذکر سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا ...... آخر ایسا کیوں ......؟ کیا وہ قادیانی نہیں تھا......؟ ڈاکٹر مہدی علی کا قتل اور اس سے پہلے بھی چناب نگر میں قتل ہونے والے افراد خواہ کوئی بھی ہوں جن میں قادیانی باغی گروپ کے ارکان ہوں یا دوسرے قادیانی، ان کے پیچھے خود قادیانی مافیا ہے۔ قادیانیوں کا شروع سے ہی یہ وطیرہ چلا آ رہا ہے کہ پاکستان میں ہم پر بہت ظلم کیا جاتا ہے اور یہی جواز بنا کر مغربی دنیا کے سامنے اپنی مظلومیت کی خودساختہ اور من گھڑت داستانیں سنا کر ان کی اشیر باد حاصل کر کے پاکستان میں وہ مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل میں یہودیوں کو حاصل ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں قادیانیوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے امریکہ نے کہا کہ پاکستان میں قادیانیوں
پر جو کہ اقلیت ہیں، ان پر مظالم کیے جارہے ہیں اور دہشت گردی و ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ ان سب کاروائیوں میں قادیانی خود ملوث ہیں۔ قادیانی ایک عرصہ سے اندرونی انتشار و خلفشار کا شکار ہیں اور پسپائی کی طرف جارہے ہیں اور متعدد قادیانی اس انتشار کی وجہ سے قادیانیت ترک کر کے مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ ابھی گزشتہ دنوں امریکہ نے پاکستان پر یہ دباؤ ڈالا کہ پاکستان میں قادیانیوں کو مذہبی آزادی دی جائے اور قانون توہین رسالت کا خاتمہ کیا جائے۔ دراصل ڈاکٹر مہدی علی قادیانی کا قتل اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ قادیانی پاکستان میں خود دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے اپنے ہی لوگوں کو مروا کر الزام دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں اور دوسری جانب امریکہ کے سامنے اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں۔ یہی تو ان کی چال ہے جس کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قادیانی مغربی ممالک کے سامنے جو مبالغہ آرائی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان میں قادیانیوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسری اقلیتوں کو ہیں اور تمام اقلیتی برادریوں کے حقوق و تحفظ کا بہر صورت خیال رکھا جاتا ہے۔ قادیانی اپنے مغربی آقاؤں امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کی اشیر باد سے پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کر کے ملک عزیز کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ ڈاکٹر مہدی علی کا قتل بھی قادیانی سازش ہے جو دراصل اقلیت کے نام پر پاکستان کو بدنام کرنے کا ناپاک منصوبہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے واقعات کر کے قادیانی مغرب کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ امریکہ اور قادیانی انہی کارروائیوں کو جواز بنا کر قانون توہین رسالت اور 1974ء کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم اور 1984 کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خاتمے کیلیے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ تین سال قبل ایک صحافی رانا ابرار حسین کو قادیانی غنڈوں نے دن دیہاڑے شہید کر دیا، چند ماہ بعد قادیانی جماعت کے باغی چوہدری احمد یوسف کو قتل کر دیا گیا، مقدمہ درج ہوا لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے...... آخر کیوں؟ احمد یوسف قتل کیس کا مرکزی ملزم ماسٹر عبدالقدوس، فضل عمر ہسپتال میں مر گیا، اس کا مقدمہ پولیس کے تفتیشی افسران پر ہوا ،جبکہ قادیانیوں پر ہونا چاہیے تھا
......ایسا کیوں ہوا......؟ اب ڈاکٹر مہدی کا قتل ہوا، آخر یہ قادیانی دہشت گردی کب تک جاری رہے گی...... قادیانی یہ ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے کہ چناب نگر میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اہم شاہراہیں بند ہیں، روڈ بلاک ہیں، جگہ جگہ قادیانی عبادت گاہوں کے ایک ایک فرلانگ سے زیادہ فاصلے پر لوہے کے بیریئر اور سیمنٹڈ بلاک رکھے گئے ہیں، خدام الاحمدیہ جو قادیانی مسلح فورس ہے جس کے ہر لمحہ دن رات موبائل گاڑی پر مسلح گشت جاری رہنے کے باوجود چناب نگر میں آئے روز گینگ ریپ، چوریاں، ڈکیتیاں اور بیگناہوں کا قتل کیوں؟ قانون کے رکھوالے ان پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالتے؟ قادیانیوں کو یہود و ہنود کی مکمل اشیر باد اور سرپرستی حاصل ہے۔ اب چناب نگر ان کی الگ سے ریاست کا نقشہ اور منظر پیش کر رہا ہے، حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ الگ کرنسی کے علاوہ پورا سسٹم الگ ریاست کا تصور پیش کر رہا ہے۔ ہمیں قادیانی آنجہانی ڈاکٹر کے قتل سے کوئی سروکار نہیں ، لیکن ایسے پے در پے قتل عام پر ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب/مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، قادیانی دہشت گردی سے سہمے سہمے نظر آتے ہیں۔ چونکہ قتل کی اس واردات سے قادیانیوں کے اندرونی انتشار کا بخوبی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ قادیانی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور آئے روز بڑی تعداد میں مرزائیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام بھی ہورہے ہیں، انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب قادیانی فتنہ قصہ پارینہ بن جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ چناب نگر میں ہونے والی دہشت گردی کا قلع قمع کرے، اور جتنے بھی بیگناہ افراد مارے گئے ہیں، ان کے اصل قاتلوں کو اور ان کے سرپرستوں کو بلکہ قادیانی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ کی جائے، جرم ثابت ہونے پر ان کے خلاف مقدمات چلا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں قادیانیوں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے تاکہ اس پروپیگنڈہ کا اثر ختم ہو اور قادیانی مسلمانوں اور پاکستان کو بدنام نہ کر سکیں۔ چناب نگر میں کوئی مسلمان ایسا سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا بلکہ وہ آئے روز خود قادیانیوں کی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔
دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس قتل کو مرزائی عقیدہ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا خوب پروپیگنڈا ہوا۔ مقتول کو ہلاک کرنے
والے افراد نامعلوم ہیں بلکہ اسی طرح جس طرح کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے قتل ہوتے ہیں، لیکن چناب نگر (ربوہ) نہ ہی کراچی ہے اور نہ ہی وہاں ٹارگٹ کلنگ کی واردات ہوتی ہے۔ لیکن یہ خاص واردات کیوں اور اس کا مقصد کیا ہے؟ اس وقت یورپ اور امریکا میں Human Trafficking، جو کہ پناہ گزینوں کی آڑ میں کی جا رہی ہے، ان میں ملوث مرزائی مافیا کافی حد تک شامل ہے۔ جرمنی میں کچھ عرصہ پہلے قادیانی جماعت کے عہدے دار پکڑے گئے جو Asylum Business اور انسانوں کی سمگلنگ کے کاروبار میں ملوث تھے۔ مرزائی اور نام نہاد مرزائی جو کہ کاغذات میں مرزائی لکھ کر بیرون ملک جاتے ہیں، ان سے قادیانی جماعت کروڑوں کی رقم حاصل کرتی ہے۔ بہرحال اس وقت قادیانی جماعت کی ساکھ کافی حد تک اسائلم کے معاملے میں خراب ہو چکی ہے۔ اس وقت بہت سے کیسز پینڈنگ سٹیٹس کے ساتھ امیگریشن میں پڑے ہیں۔
قادیانی جماعت پہلے بھی Victimhood جیسے فارمولے اپنا چکی ہے۔ اپنے ہی لوگوں کو مروا کر دنیا کے سامنے مظلوم ظاہر کر کے اس بزنس کو چلائے ہوئے ہیں اور اب ایک امریکن شہری مرزائی کو مروا کر انٹرنیشنل کمیونٹی میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مرزائی جماعت پاکستان میں محفوظ نہیں ہے۔ اسی کیس کی بنا پر انٹرنیشنل میڈیا، انٹرنیشنل کمیونٹی سے ہمدردیاں حاصل کی جائیں گی اور پھر ویزے اور امداد حاصل کی جائیں گی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ صبح سویرے کس کو خبر تھی کہ ڈاکٹر مہدی قبرستان جائے گا؟ مرزائیوں کے نام نہاد بہشتی مقبرہ کی انتظامیہ یا وہ افراد جو اس کے گھر کے قریب ڈاکٹر مہدی کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈاکٹر مہدی کو عقیدہ کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے تو وہ پھر ڈاکٹر مہدی کے ساتھ جانے والا کزن کیسے بچ گیا، کیا اس کا عقیدہ بدل گیا تھا؟ ڈاکٹر مہدی کے ساتھ تین یا پانچ سال کا بچہ بھی تھا، کیا ڈاکٹر مہدی نے اس کو اٹھایا ہوا تھا کہ نہیں؟ اگر نہیں تو ساتھ چل رہا تھا؟ ڈاکٹر مہدی کا کزن کتنی دوری پر کھڑا تھا، رپورٹ کے مطابق گیارہ گولیاں شاٹ کی گئیں۔ 5 گولیاں ڈاکٹر مہدی کو لگیں۔ ڈاکٹر مہدی کے کزن کو خراش تک نہیں آئی۔ کیوں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اور بہت سے ایسے سوالات ہیں جو کہ اس کیس پر اٹھائے جا سکتے ہیں۔ شکوک وشبہات کی پہلی کڑی ڈاکٹر مہدی کے کزن، جماعت احمدیہ کے افراد اور قبرستان کی انتظامیہ کی ہی طرف اشارہ کرتی ہے۔ واقعات کے مطابق مختلف خبریں ہیں۔ ذرائع
کے مطابق ڈاکٹر مہدی کی بیوی اور تین سال کا بچہ ساتھ تھے۔ اگر کزن ساتھ نہ بھی تھا تو بیوی اور بچہ کیسے بچ گئے؟ اس کے علاوہ مرزائیوں میں گروہ بندی ہو چکی ہے۔ قادیانی جماعت کے کرتا دھرتا زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے ہوئے ہیں، آپس کی لڑائی میں جو مارے جاتے ہیں یا قتل کر دیے جاتے ہیں، اسے مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے تا کہ انٹرنیشنل سطح پر بدنامی ہو اور خود کو پاکستان میں مظلوم باور کرایا جا سکے۔
لیکن یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ مرزائیوں کے ساتھ پیش آنے والا ہر حادثہ فوراً عقیدے کے ساتھ جوڑ کر مظلوم ہونے کی ڈُگڈگی بجائی جاتی ہے۔ ہر روز پاکستان میں شہری ایسے ہی حادثات کی بنا پر قتل ہوتے ہیں۔ قادیانیت ہمیشہ سے پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتی آئی ہے۔ افسوس ہے اس کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر ذاتی مفادات حاصل کرنا کہاں کی دیانت داری ہے؟ چند سال قبل چناب نگر میں احمد یوسف کو خود مرزائیوں نے قتل کیا اور آج بھی احمد یوسف کے اہل خانہ کی طرف سے نامزد ملزمان (جو کہ مرزائی ہیں) پر مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ایک دفعہ اس پہلو کو ضرور سوچیے کہ ڈاکٹر مہدی کو پاکستان آئے کچھ دن ہوئے اور طاہر ہارٹ ہسپتال بھی چناب نگر میں ہی ہے۔ ان کے آنے جانے کی ہر حرکت چناب نگر کے مرزائیوں کے علاوہ اور کون جان سکتا ہے؟
پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کو جس جگہ قتل کیا گیا، وہاں قادیانیوں کی جانب سے مسلح گارڈز چوبیس گھنٹے کھڑے رہتے ہیں، جو واردات کے وقت بھاگ اٹھے تھے۔ ذرائع کے مطابق، ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ قتل جائیداد کے جھگڑے پر کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈاکٹر مہدی کو چناب نگر کے بہشتی مقبرے Paid) (Paradise میں کیوں نہیں دفن کیا گیا؟ کیا ڈاکٹر مہدی نے قادیانی نظام اور عقیدے کے خلاف بغاوت کر دی تھی؟ ہر ایک قادیانی آرزو کرتا ہے کہ اس کو بہشتی مقبرے Paid) (Paradise میں دفن کیا جائے، اور جیسا کہ بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر مہدی اپنے رشتہ داروں کی قبروں پر صبح سویرے Heavenly Graveyard میں گیا اور وہاں واپسی پر قتل کر دیا گیا۔ کہیں ایسا تو نہیں قادیانی جماعت نے اغوا کر کے خود ہی قتل کر دیا اور بعد میں قتل کا تعلق عقیدے سے جوڑ دیا ہو۔ خفیہ ایجنسیاں ڈاکٹر مہدی کے قتل کی آزادانہ تحقیقات، قادیانی جماعت کی قیادت سے شروع کرے تو اس کیس کی بلی تھیلے سے باہر آ جائے گی۔
فیصل آباد کا مشہور قادیانی سرجن ڈاکٹر شمس الحق طیب جنوری 2000ء میں قتل ہوا۔ قادیانی جماعت نے اسے مذہبی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس قتل کا الزام مسلمانوں پر عائد کر دیا۔ لاہور میں بی بی سی کے نمائندے جناب شاہد ملک نے بھی بغیر کسی تحقیق کے گوئبلز کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا پر خبر دے دی کہ ڈاکٹر شمس الحق طیب مذہبی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی بد روح کو خوش کرنے کے لیے اس خبر کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر قادیانیوں کی مظلومیت کا رونا رویا اور کہا کہ پاکستان میں قادیانی غیر محفوظ ہیں۔ اس خبر سے عالمی برادری میں مسلمانوں کا وقار خاک میں مل گیا۔ اس سازش کے پس پردہ حقائق کچھ اس طرح بولتے ہیں کہ فیصل آباد کے ایس ایس پی جناب آفتاب احمد چیمہ نے 4 ماہ کی تگ و دو کے بعد قتل کیس کے مرکزی ملزم محمود احمد قادیانی کو گرفتار کیا جس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے شمس الحق طیب کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ واقعات کے مطابق ملزم محمود احمد قادیانی‘ ڈاکٹر شمس الحق طیب کی کوٹھی میں کام کرتا تھا جہاں اس کی دوستی ڈاکٹر شمس کی خوبصورت سالی شاہدہ سے ہوگئی۔ شاہدہ بے حد دلکش اور خوبرو لڑکی ہے۔ وہ اکثر ساڑھی پہنتی۔ بلاؤز اور ساڑھی کے درمیان اس کا پیٹ قیامت ڈھاتا۔ اس کے جسم میں انتہائی شفافیت ہے جو شائد اس کی ملائم جلد کی شہادت ہے۔ اس کی نسوں کو دیکھنے سے خیال اٹھتا کہ اگر وہ کوئی رنگ دار شراب پیئے تو وہ اس کی مرمری گردن سے نیچے اترتی ہوئی صاف دکھائی دے گی۔ اس کا بلا خیز حسن اور اس کی خاطر تواضع کے طور و اطوار ایک اجنبی کا پیشاب خطا کر دیتے ہیں۔ ایک روز شاہدہ اور ملزم محمود احمد دونوں ڈاکٹر شمس کی کوٹھی میں رنگ رلیاں منا رہے تھے کہ اچانک عین موقع پر ڈاکٹر شمس آ گئے۔ اس نے دونوں کو غیر اخلاقی حالت میں دیکھا تو غصے سے پاگل ہو گیا۔ محمود موقع سے فرار ہو گیا۔ اس واقعہ کے اگلے روز محمود احمد قادیانی نے اپنے ساتھیوں بابر رشید، واجد علی عرف بھولا، عمران اور محمد ندیم کے ہمراہ ڈاکٹر شمس کو قتل کر دیا۔ ایس ایس پی آفتاب چیمہ نے پانچوں ملزمان کو 15 مئی 2000ء کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا جہاں محمود احمد قادیانی اور اس کے ساتھیوں نے ڈاکٹر شمس کے قتل کا اعتراف کیا۔ ربوہ میں ڈاکٹر شمس کے جنازہ پر لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جب انہوں نے ڈاکٹر شمس کی اہلیہ کو رنگین منی سکرٹ Mini Skirt پہنے دیکھا جو اتنی مختصر تھی کہ اس کا تمام نسوانی حسن پوری تابانی کے ساتھ عیاں ہو رہا تھا۔
اس کے بال کٹے ہوئے تھے، وہ اس وقت انسانی کردار کی پستی کی علامت معلوم ہو رہی تھی۔
ڈاکٹر مہدی علی قمر لاوارث، یا مرزا مسرور احمد لاشوں کا سوداگر؟
قادیانی خواتین و حضرات! خدارا آنکھیں کھولیں، اپنے لیے نہیں تو اپنی نسلوں کے لیے تھوڑا غور کرلیں ورنہ جسے آپ ”اصل اسلام اور خدا کے مامور“ سمجھ کر اپنی جان، مال اور اولاد کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں، وہ آپ کے بچوں اور نوجوانوں کی لاشیں فروخت کر کے اپنی نسل کو دوام بخش دے گا۔ چند نکات جن پر آپ کو انسانیت اور اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر سوچنا ہوگا:
- 1- ڈاکٹر مہدی علی قمر کے ورثا کون ہیں؟ مہدی علی کی بیوہ، بچے، بہن بھائی، محلے دار،
نوکر، چوکیدار یا جماعت احمدیہ؟
- 2- ڈاکٹر مہدی علی قمر کے قتل کی ”ایف آئی آر“ کس وارث کی مدعیت میں درج کرائی گئی؟
- 3- ڈاکٹر مہدی علی قمر کی لاش کو کینیڈا کیوں لایا گیا؟ جبکہ ہر قادیانی کی خواہش ہے کہ
اسے قادیان یا ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے؟
- 4- مغربی میڈیا کے سامنے ڈاکٹر مہدی علی قمر کی جوان بھتیجی ”درثمین“ کو پیش کیا گیا، آہ و
بکا کے لیے، کیوں؟ بیوہ وجیہہ مہدی کو اپنے احساسات ظاہر نہیں کرنے دیے گئے؟
- 5- ڈاکٹر مہدی علی کا قتل کن افراد کی آنکھوں کے سامنے ہوا، کون مقتول کے ساتھ تھے؟
- 6- کیا مرزا مسرور، ڈاکٹر مہدی کے مقدمے کی پیروی بھی کرے گا یا قیمت وصول
کرنے پر ہی اکتفا کرے گا؟
ایف آئی آر میں چوکیدار کا بیان پڑھیں کہ وہ کہہ رہا ہے کہ قتل ”مذہبی منافرت“ کی بناء پر ہوا، ڈاکٹر امریکن نیشنل ہیں، وقف عارضی پر آئے ہوئے تھے، قتل بیگم وجیہہ مہدی صاحبہ نے بچشم خود دیکھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ربوہ کے قبرستان کے چوکیداروں کو ہر اس احمدی کا نام دیا جاتا ہے جو ”وقف عارضی“ کے لیے پاکستان آتا ہے؟ کیا قبرستان کے چوکیداروں کو ہر باہر سے آنے والے کا Most Updated Status فراہم کیا جاتا ہے؟ کیا قبرستان کے چوکیداروں کو قاتلوں نے قتل سے قبل بتایا کہ وہ اس لیے قتل کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر ”احمدی“ ہے؟ کیا قاتلوں نے چوکیداروں کو بتایا کہ وہ قتل ”مذہبی منافرت“ کی بنا پر کرنے جارہے ہیں؟ سوچنا چاہیے! یہ تمام باتیں، معلومات اور الفاظ، چوکیدار کے منہ میں کس
نے ڈالے؟ کیوں وجیہہ بیگم کو بیان نہیں لکھوانے دیا گیا؟ اس قتل کا اصل Beneficiary کون ہے؟ احمدیہ کلٹ یا پسماندگان (بیوہ اور بچے)؟
خاتم کا ترجمہ، مرزا قادیانی کی نظر میں
مرزا قادیانی کی کتابوں میں لفظ ”خاتم“ سے کیا مراد ہے؟ میں ایسی تحریریں پیش کر رہا ہوں جن میں ”خاتم الانبیاء“ یا ”خاتم الاولیاء“ یا ”خاتم الاولاد“ یا ”خاتم کتب سماوی“ یا ”خاتم الشرائع“ وغیرہ کے الفاظ ملتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب جگہ ”خاتم“ کا معنی ”آخری“ کے علاوہ اور کوئی نہیں بن سکتا۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام عیسیٰ ہے“۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 412 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 412، از مرزا قادیانی)
کیا عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی نہیں تھے؟
- ”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان
کے لیے خاتم الاولاد تھا“۔
(تریاق القلوب صفحہ 157 روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی نے خود بتا دیا کہ چونکہ میرے بعد میرے والدین کے گھر اور کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس لیے میں ان کے لیے خاتم الاولاد یعنی آخری اولاد تھا۔
- ”قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے“۔
(ازالہ اوہام صفحہ 138 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170)
اس کا یہی مطلب ہے کہ قرآن شریف آسمانی کتابوں میں آخری کتاب ہے، اگر کوئی اور مفہوم ہے تو بیان کریں۔
- ”خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں۔ منجملہ ان کے ایک نام خاتم الخلفاء
ہے، یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے“۔
(چشمہ معرفت صفحہ 318 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 333)
لیجیے مرزا قادیانی نے خاتم الخلفاء کا خود ہی مطلب بیان کر دیا یعنی ”ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے“ کوئی مرزائی مربی نیا یا پرانا بتائے کہ مرزا قادیانی کی اس تحریر میں
”خاتم“ کا لفظ ”جمع“ کی طرف یعنی (خلفاء) کی طرف منسوب ہے اور مرزا اس کا ترجمہ کر رہا ہے ”ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے۔“ بتاؤ یہ مرزا کی جہالت ہے یا ترجمہ ٹھیک ہے؟
- میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں
اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ (چشمہ معرفت صفحہ 325 روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 340) یہاں مرزا قادیانی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شریعت کو خاتم الشرائع لکھا ہے یعنی آخری شریعت جس کے بعد کوئی اور شریعت نہیں۔
- ”اور تیرہواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء
تھا“۔ (تحفہ گولڑویہ صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 123) یہاں عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا خاتم الانبیاء لکھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔
- ”چونکہ ہمارے سید و رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی
نبی نہیں آ سکتا، اس لیے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے“
(شہادۃ القرآن صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 323-324)
یہ تحریر خود بڑی واضح ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں مرزا قادیانی نے آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کا کیا ترجمہ کیا ہے؟ لکھتا ہے:
- ”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے
والا ہے نبیوں کا“۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔
(ازالہ اوہام صفحہ 331 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 431، از مرزا قادیانی)
لیجیے مرزا قادیانی نے یہاں ”خاتم النبیین“ کا خود ترجمہ کیا ہے ”ختم کرنے والا نبیوں کا“ اگر مرزا قادیانی کو اس وقت اس آیت کا صحیح ترجمہ معلوم نہیں تھا (جیسا کہ کچھ قادیانی مربی کہتے ہیں) تو پھر اس نے قرآن کی ایک آیت کا اپنی طرف سے غلط مفہوم بیان کیوں کیا؟ کیا قرآن کی آیات کے مفہوم بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں؟
ایک علمی نکتہ
سورة الاحزاب کی آیت ما كان محمد ابا احد من رجالكم و لکن رسول الله و خاتم النبین میں لفظ خاتم النبین کے مطلب کے متعلق قادیانی جماعت کا موقف ہے: ”خاتم النبین کا معنی ”نبیوں کی مہر“ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے نبوت ملے گی۔ جو شخص رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہر لگا دیں گے تو وہ نبی بن جائے گا“۔
(حقیقت الوحی صفحہ 97 حاشیہ مندرجہ خزائن جلد 22 صفحہ 100)
جبکہ قرآن وسنت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام اسلاف امت کی تفاسیر کے علاوہ لغت عرب کی تمام کتابوں میں خاتم النبین کا مطلب آخری نبی ہونے پر اجماع ہے۔ یہ ایک بہت پرانا چیلنج بھی ہے کہ قادیانی جماعت اپنی ایجاد کردہ اس تفسیر کا ثبوت شاید اوپر گنائے گئے ماخذین میں سے کہیں سے بھی پیش نہیں کرسکی نہ کرسکتی ہے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابیں اس تفسیر کو جھٹلاتی ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھتا ہے:
- ”میرے ساتھ (جڑواں) ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ
لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا“۔
(تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)
جب مرزا قادیانی اور خود اس کی جماعت بھی خاتم الاولاد کا ترجمہ آخری ولد کرتے ہیں اور مرزا کو اپنے والدین کا آخری بیٹا مانتے ہیں کہ اس بعد کسی قسم کا کوئی جھوٹا، سچا، بہرہ، گونگا بیٹا پیدا نہیں ہوا تو پھر خاتم النبین کا بھی یہی ترجمہ انہیں ماننا پڑے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل نبی آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ورنہ ان کے بنائے گئے خاتم النبین کے معنی ”حضور کی مہر سے نبی بنیں گے“ کے مطابق ، ترجمہ بھی مرزائیوں کو یہی کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا قادیانی مہر لگاتا جائے گا اور مرزا قادیانی کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔
دوسری بات نہایت اہم ہے۔ قادیانی مربیوں کا کہنا ہے کہ یہ مہر اتباع کرنے کے بعد لگے گی۔ جبکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے۔
- ”خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری
کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے“۔
(حقیقت الوحی صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 70)
لیجیے مرزا قادیانی نے خود کہہ دیا کہ میں حضور ﷺ کی اتباع سے نبی نہیں بنا بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ جب خاتم النبین کی مہر سے کوئی بھی یہاں تک کہ خود مرزا بھی نبی نہیں بنا تو یہ ترجمہ کرنے کا فائدہ؟ قادیانیوں نے جہالت اور بے وقوفی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ والضحیٰ چہرے کے مالک نبی کامل سردار الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ایک کانے دجال کو نبی ماننے کے نتیجہ میں سزا کے طور پر ان لوگوں کی عقلیں سلب ہو چکی ہیں۔
کیا مرزائی 1974ء سے پہلے مسلمان سمجھے جاتے تھے؟
قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں بھٹو حکومت نے 1974ء میں قومی اسمبلی کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اس سے پہلے ہم مسلمان تھے۔ ذیل میں مرزا قادیانی کا ایک اشتہار جو 7 مئی 1907ء کو شائع ہوا، درج کیا جا رہا ہے جس میں مرزا قادیانی اعتراف کرتا ہے کہ وہ اور اس کی جماعت پوری امت مسلمہ کی نظر میں کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔ ملاحظہ کیجیے: آنجہانی مرزا قادیانی نے لکھا:
- ”سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں
ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لیے دانت پیس رہی ہے کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خدادا نعمت کی قدر کرو ............ اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کرے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں، تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے مگر تم نہیں ہو۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہارے نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو اور تمہیں قتل کرنا اور تمہارا مال لوٹ لینا
اور تمہاری بیویوں پر جبر کر کے اپنے نکاح میں لے آنا اور تمہاری میت کی توہین کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دینا نہ صرف جائز بلکہ بڑا ثواب کا کام ہے۔ سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کیے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 708 اشتہار نمبر 287 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا جھوٹا حلف
مرزا قادیانی کا اپنے استادوں کے بارے میں کہنا ہے:
- ”جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا،
جنھوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی، اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے، وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا ۔“
(کتاب البریہ صفحہ 162 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 180، 181 [حاشیہ] از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے مرزا کے مذکورہ بیان کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا:
- ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے حضرت مسیح موعود کی
زندگی کے مندرجہ ذیل واقعات ذیل کے سنین میں وقوع پذیر ہوئے ہیں:۔ واللہ اعلم !
1836ء یا 1837ء ۔ ولادت حضرت مسیح موعود ۔ 1842ء یا 1843ء ۔ ابتدائی تعلیم از منشی فضل الٰہی صاحب ۔ 1846ء یا 1847ء ۔ صرف ونحو کی تعلیم از مولوی فضل احمد صاحب ۔ 1852ء یا 1853ء ۔ حضرت مسیح موعود کی پہلی شادی (غالباً)۔ 1853ء یا 1854ء ۔ نحو و منطق و حکمت و دیگر علوم مروجہ کی تعلیم از مولوی گل علی شاہ صاحب اور اسی زمانہ کے قریب بعض کتب طب اپنے والد ماجد سے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 150 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
اب مرزا قادیانی مذکورہ حقائق سے انکار کرتے ہوئے حلفاً جھوٹ بولتا ہے:
- ’’سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا، سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا
علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا۔ اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔‘‘
(ایام الصلح صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)
لمبی چوڑی بات نہیں، بس کوئی قادیانی اتنا بتا دے کہ جھوٹا حلف دینے والا سچا ہوتا ہے یا کاذب؟
مرزا قادیانی اور ختم نبوت کا مفہوم
ختم نبوت کا معنی کیا ہے؟ پیش خدمت ہے مرزا قادیانی کی طرف سے ختم نبوت کا بیان کیا گیا مفہوم اور مطلب۔ یہ جنوری 1899ء میں قادیان سے شائع ہونے والے مرزائی اخبار ’’الحکم‘‘ کا اقتباس ہے۔ یاد رہے اس وقت تک مرزا قادیانی نے ابھی کھل کر دعوائے نبوت نہیں کیا تھا، اس لیے اس میں ختم نبوت کا مفہوم بھی وہی بیان کیا جو پوری امت کرتی ہے۔ بعد میں جب وہ گمراہ ہوا تو اس نے عجیب وغریب مطلب بیان کرنے شروع کر دیے۔
- ’’ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبیین کے بڑے معنے یہی
ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ پر ختم کیا۔ یہ تو موٹے اور ظاہر معنے ہیں۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا۔ یہ سچ
اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہوگئی۔ اس لیے قرآن الیوم اکملت لکم دینکم کا مصداق اسلام ہو گیا۔ غرض یہ نشانات نبوت ہیں۔ ان کی کیفیت اور کنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں، ان باتوں میں مومن کو ضروری نہیں ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔ اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزئی مسائل کا ثبوت دے۔ الغرض مہر نبوت آنحضرت ﷺ کے نشان نبوت میں سے ایک نشان ہے جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔‘‘ (اخبار الحکم قادیان 10 جنوری 1899ء صفحہ 8، 9)
اصحاب صفہ
صفہ کے معنی ہیں چبوترہ (تھڑا)۔ مسجد نبوی ﷺ سے متصل پیچھے کی جانب تھوڑا سا چبوترہ بنا دیا گیا تھا جہاں علم سیکھنے والے فقرا صحابہ کرامؓ مستقل طور پر رہتے تھے۔ یہ حضرات اصحاب صفہ کہلاتے تھے۔ ان حضرات میں حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت صہیبؓ اور حضرت بلالؓ وغیرہم شامل تھے۔ صحابہ کرامؓ کا یہ گروہ محض عبادت الٰہی اور صحبت رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتا تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر مہاجرین مکہ تھے اور فقر و غنا کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے پیروکاروں کو اصحاب صفہ سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا:
- ’’خدا فرماتا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے اپنے وطنوں سے تیرے پاس قادیان میں
ہجرت کر کے آئیں گے اور تمہارے گھروں کے کسی حصہ میں رہیں گے، وہ اصحاب الصفہ کہلائیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 73 از مرزا قادیانی)
محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں
الفاظ اور جملے، نعروں کا پیراہن پہننے کے بعد بہت ہی خوبصورت اور خوشنما نظر آتے ہیں۔ وہ انسانی نفسیات اور جذبات کو جلدی متاثر کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی اور سیدھا
سادا شخص ان نعروں کی حقیقت و معقولیت کو سمجھنے اور ان کی صداقت کو جانچنے کے بجائے ان نعروں سے مرعوب ہو جاتا ہے، جیسے انتخابات کے موقع پر سیاستدانوں کے نعرے ہوتے ہیں...... ان نعروں سے بھولی بھالی عوام کو بے وقوف بنا کر لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔
ایسے خوش کن، دل ربا اور پُر فریب نعرے صرف دنیا داری اور دنیا کے کاروبار کی حد تک محدود نہیں ہے، متاع ایمان کے سوداگر بھی عقیدہ و مذہب کی خرید و فروخت میں ان خوشنما اور خوبصورت و جاذب نظر نعروں کا خوب استعمال کرتے ہیں، تاکہ مذہبی معاملات اور معلومات میں کورے اور بھولے افراد کا استحصال کیا جاسکے۔
قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں
کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔“
(اربعین نمبر 1 صفحہ نمبر 2 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 17 صفحہ 344، از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی مزید لکھتا ہے:
- ”یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا
ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 455 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی ان تحریروں کی روشنی میں ہم قادیانی جماعت کا دلفریب نعرہ "Love for all, hatred for none" یعنی ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“ کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ پُرکشش نعرہ قادیانیوں کا مرکزی مونو گرام ہے۔ قادیانی جماعت نے اپنی ویب سائٹ کے پہلے صفحہ پر سب سے اوپر نمایاں طور پر اسے چسپاں کر رکھا ہے۔ قادیانی اسے اپنے ذاتی لیٹر پیڈ، ای میلز وغیرہ میں ایک تحریکی و دعوتی نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہر قادیانی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اپنی تقریر و تحریر میں اسے بکثرت استعمال کرتا ہے۔
17 مئی 2005ء کو قادیانی جماعت کا موجودہ خلیفہ مرزا مسرور دورہ افریقہ کے دوران جب یوگنڈا پہنچا تو اس نے وہاں کے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے
کہا کہ میرا پیغام ہے:
"Love, love and love peace, peace and peace"
مزید کہا:
”Love for all hatred for none ہمارا سلوگن ہے۔“
مزید کہا:
”ہم امن کا ہی پیغام دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ محبت و پیار سے رہیں۔“ (الفضل انٹرنیشنل لندن 24 تا 30 جون 2005ء)
ظاہری طور پر دلوں کو موہ لینے والا یہ انتہائی خوبصورت نعرہ درحقیقت منافقت پر مبنی اور حقائق کے بالکل خلاف ہے۔ قادیانیوں کی عملی زندگی میں یہ چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ خود قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کی تحریریں اقوام عالم بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہائی گندی گالیوں اور بے پناہ نفرت وحقارت سے بھری ہوئی ہیں۔ عیسائیوں کے بارے میں مرزا قادیانی کا مندرجہ ذیل بیان پڑھیں اور آپ خود فیصلہ کریں کہ قادیانی جماعت اپنے نعرہ ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں“ میں کسی قدر مخلص ہے۔
- ”میں عیسائیوں کے خود ساختہ خدا کی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ کراہت اور
نفرت رکھتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر کل مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلہ میں رکھ دی جائے اور میری نفرت ایک طرف تو میرا پلہ اس سے بھاری ہوگا۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 251 طبع جدید از مرزا قادیانی)
اسی سلسلہ میں ایک دوسرا حوالہ ملاحظہ کیجیے:
- ”شکر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ خود مجھے بھی ایسی حالت پیش آئی۔ سردی کا موسم
تھا۔ مجھے غسل کی حاجت ہو گئی۔ پانی گرم کرنے کے لیے کوئی سامان اس جگہ نہ تھا۔ ایک پادری کی لکھی ہوئی کتاب ”میزان الحق“ میرے پاس تھی، اس وقت وہ کام آئی۔ میں نے اس کو جلا کر پانی گرم کر لیا اور خدا تعالیٰ کا شکر کیا۔ اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ بعض وقت شیطان بھی کام آ جاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 608 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی یہ تحریر نفرت وحقارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ایک رات اُسے غسل کی حاجت ہوئی اور اس نے پانی گرم کرنے کے لیے ایک پادری کی
کتاب ”میزان الحق“ کو چولہے میں رکھ کر آگ لگا کر پانی گرم کیا۔ حالانکہ یہ قوی امکان ہے کہ کتاب میزان الحق میں حوالہ کے طور پر قرآن مجید کی آیات بھی ہوں گی۔ احادیث مبارکہ بھی درج ہوں گی۔ لیکن مرزا قادیانی نے کمال گستاخی کرتے ہوئے اسے نذر آتش کر دیا اور وہ بھی کس مقصد کے لیے؟ بجائے اس پر شرمندہ ہونے کے مرزا قادیانی اپنے اس کارنامے پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ قادیانی بتائیں کہ کیا یہ محبت والا کام ہے یا نفرت والا؟ کیا قادیانی کس شخص کو اجازت دیں گے کہ وہ غسل کے لیے مرزا قادیانی کی کتابیں جلا کر اس سے پانی گرم کرے اور بعد میں یہ کہے: ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں ۔“
مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”سمعت ان بعض الجھال یقولون ان المھدی من بنی فاطمہ“ میں نے
سنا بعض جاہلوں سے کہ وہ کہتے ہیں بے شک مہدی علیہ السلام بنی فاطمہ سے ہوں گے۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 157 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 241)
اب سوال یہ ہے کہ ”ان المھدی من ولد فاطمۃ“ یہ حدیث شریف ہے۔ اس فرمان رسالت ﷺ کو مرزا قادیانی جاہلوں کا قول بتاتا ہے (نعوذ باللہ)۔ اس ملعون قادیانی کا فتویٰ براہ راست حضور نبی کریم ﷺ پر ہے، جو سرتا پا اہانت رسول ﷺ ہے۔ کیا قادیانی، مرزا قادیانی کے اس ملعون قول کو دیکھ کر قادیانیت کو ترک کرنے کی جرأت اپنے اندر رکھتے ہیں؟
مرزا قادیانی کی بات کا عملی تجربہ
ایک قادیانی رو رہا تھا، دوسرے نے وجہ پوچھی تو بولا: مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے، قادیانیوں کے مرد دودھ دیتے ہیں۔ ایک پٹھان کو پتہ چلا تو اس نے صبح سے مجھے باندھ کر رکھا ہوا ہے۔ کہتا ہے کہ دودھ دو گے تو چھوڑوں گا۔ دودھ تو نہ نکلا، بس میری چیخ نکل گئی۔
اگر مرزا قادیانی، مریم تھا تو اس کا شوہر کون؟
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اربعین میں اپنا ایک الہام نقل کیا۔
- ”یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ“۔ (اربعین نمبر 2 صفحہ 7 مندرجہ
روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 353) اور اس کا ترجمہ کیا۔ ”اے مریم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو“ (اربعین نمبر 2 خزائن جلد 17 صفحہ 364)
اب سوال یہ ہے کہ اس الہام میں ”تیرے دوست“ کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ پھر مریم کی بیوی کا کیا معنی ہے؟ کیا عورت کی بیوی ہوتی ہے؟ اگر ”زوج“ کا معنی شوہر ہو تو مرزا قادیانی کا شوہر کون تھا؟ نیز اگر مرزا مریم ہے تو سر پر پگڑی اور چہرے پر ڈاڑھی کا کیا بنے گا؟ کیا خواتین کے لیے پگڑی اور ڈاڑھی شرعاً وفطرتاً ہے؟
قادیانیوں کی مقدس کتاب ”تذکرہ“ میں ایک دلچسپ تحریف
”تذکرہ“ قادیانیوں کی وہ کتاب ہے جسے یہ لوگ مقدس سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے ”نبی“ مرزا قادیانی کے وحی و الہامات درج ہیں۔ لیکن اس تمام کے باوجود قادیانیوں نے اس کتاب میں تحریف و تبدیلی کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ مرزا قادیانی کا ایک الہام جو اس کے مطابق اسے 15 جنوری 1906ء کو ہوا۔ اس میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”صبح پیر کے دن میں نے خواب میں دیکھا کہ مرزا امام الدین کی کنچنی (طوائف) بیوی
گر پڑی ہوئی ہے“۔ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 591 طبع سوم 1969ء از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا یہ الہام اس کی ”امت“ نے تذکرہ سے حذف کردیا ہے۔ اگر قادیانی ویب سائٹ پر تذکرہ کو دیکھیں تو وہاں اردو زبان میں جو آن لائن تذکرہ انہوں نے لگایا ہوا ہے، وہ اکتوبر 2006ء کا ایڈیشن ہے اور جو انگلش زبان میں آن لائن تذکرہ ہے، وہ 2004ء کا ایڈیشن ہے۔ ان دونوں آن لائن تذکرہ میں قادیانیوں نے مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا الہام حذف کردیا ہے جبکہ مرزا قادیانی کا یہ الہام تذکرہ کا انگلش زبان کا 1976ء کا پہلا ایڈیشن (اسی کا دوسرا ایڈیشن 2004ء کا ہے جو آن لائن ہے) اور اردو زبان کا 1969ء کا تیسرا ایڈیشن ہے جس میں صفحہ نمبر 591 پر یہ الہام دیکھا جاسکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قادیانیوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو ذرا ماضی میں جانا پڑے گا۔ مرزا امام الدین کی وہ بیوی جس کو مرزا قادیانی نے خواب میں گر پڑی ہوئی دیکھا تھا اور اس کو کنچنی یعنی طوائف کہا تھا، وہ عورت مرزا قادیانی
کے بڑے بیٹے مرزا سلطان کی ساس تھی یعنی مرزا قادیانی کی سمدھن ۔ مرزا امام الدین کی وہ بیوی جس کو مرزا قادیانی طوائف کہہ رہا ہے، اس کی بیٹی مرزا سلطان کی بیوی اور مرزا قادیانی کی بہو تھی جس کا نام خورشید تھا، اس خورشید کا بیٹا مرزا رشید تھا یعنی مرزا قادیانی کا پوتا اور اس طوائف کا نواسہ۔ اس مرزا رشید کی ایک بیٹی تھی جس کا نام تھا آصفہ بیگم عرف آپی اور جس کی پرنانی کو مرزا قادیانی نے اپنے الہام کی رو سے طوائف کہا تھا۔ یہی آصفہ بیگم قادیانیوں کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر کی بیوی تھی یعنی مرزا طاہر کی بیوی آصفہ بیگم کی پرنانی ایک طوائف تھی .......... ہاتھ لا استاد، کیسی رہی!
قادیانیوں سے چند اہم سوالات
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت المہدی“ میں لکھتا ہے:
- ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسیح کے بے باپ پیدا
ہونے کا ذکر تھا۔ حضرت مسیح نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے مسیح کو بے باپ پیدا کیا تاکہ یہ ظاہر کرے کہ اب بنی اسرائیل میں ایک مرد بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کے نطفہ سے ایک پیغمبر پیدا ہو سکے۔ اور اب اس قوم میں نبوت کا خاتمہ ہے اور آئندہ بنی اسماعیل میں نبی پیدا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس نکتہ کو اپنی بعض کتابوں میں بھی بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل سے نبوت کا انعام تدریجاً چھینا ہے۔ اوّل اوّل حضرت یحییٰ کو ایک بوڑھے اور مایوس شخص کے گھر خارق عادت طور پر پیدا کیا۔ جس سے یہ جتانا منظور تھا کہ اب بنی اسرائیل سے نبوت کا انعام نکلنے والا ہے اور وہ اپنے اعمال کی وجہ سے محروم ہو چکے ہیں۔ صرف خدا کے فضل نے سنبھال رکھا ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح کو ایک ایسی عورت کے بطن سے پیدا کیا جسے کبھی کسی مرد نے نہیں چھوا تھا اور چونکہ نسل کا شمار پدری جانب سے ہوتا ہے اس لیے گویا بڑی حد تک بنو اسرائیل سے نبوت کو چھین لیا اور آخر آنحضرت ﷺ کو پیدا کر کے نبوت کو کلی طور پر بنو اسماعیل کی طرف منتقل کر لیا گیا۔“
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 609 روایت نمبر 645 طبع جدید از مرزا بشیر احمد ایم اے)
یہاں چند سوال پیدا ہوتے ہیں:
پہلا سوال: کیا حضرت یحییٰ علیہ السلام کے والد حضرت ذکریا علیہ السلام ایک مایوس انسان تھے۔ جس قوم کا نبی مایوس ہو، اس قوم کا پھر کیا قصور ہے۔
دوسرا سوال: کیا مرزا قادیانی یہ کہنا چاہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس قابل نہیں تھے کہ ان کے نطفہ سے کوئی نبی پیدا ہو جبکہ بقول اس کے کہ کشمیر میں ان کی شادی بھی ہوئی تھی تو پھر ان کی اولاد کہاں ہے؟
تیسرا سوال: جب نبوت کلی طور پر بنو اسماعیل میں منتقل ہوگئی اور آئندہ نبی بھی بنو اسماعیل سے ہونے تھے تو یہ نبوت مغلوں میں کیسے چلی گئی اور اگر نبوت بنی اسماعیل میں ہی رہنا تھی تو مغلوں کا تعلق کون سے اسماعیلی قبیلے سے تھا؟
مرزا قادیانی، جھوٹوں کا سردار
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”کسوف وخسوف والی حدیث نہایت صحیح ہے“۔
(ایام الصلح صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 419 از مرزا قادیانی)
تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ اس روایت کو بواسطہ محدثین کرام یا بلا واسطہ موافق اصول احادیث کے صحیح ثابت کردیں اور منہ مانگا انعام حاصل کریں۔ ہے کوئی قادیانی مرد جو میدان میں آئے؟
عورتوں کو ”وہاں“ جانے کی اجازت نہیں!!
کیا قادیانی خلیفہ مرزا مسرور، عطا المجیب راشد، مرزا خورشید احمد، میاں احمد، مرزا انوار احمد، مرزا حنیف احمد انکار کرسکتے ہیں یا چیلنج کرسکتے ہیں؟ اگر ان حضرات میں رتی برابر بھی حیا اور غیرت باقی ہے تو اس بات کو چیلنج کریں:
”میں اپنی بیوی، بیٹی اور اپنے خاندان کی کسی عورت کو کبھی مرزا قادیانی کے خاندان کے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دوں گا“۔
(مرکزی صدر عمومی جناب حکیم مولوی خورشید احمد (مرحوم) آف خورشید یونانی دواخانہ ربوہ)
”میں اپنے گھر کی عورتوں کو مرزا خاندان کے گھر جانے کی اجازت نہیں دے
سکتا“۔ (ارجمند خان صاحب آف پشاور،استاد خلیفہ ثالث مرزا ناصر احمد )
ان دونوں قادیانیوں کی اولادیں ابھی زندہ ہیں جن سے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ کیا وہ ربوہ میں کبھی خاندان مرزا محمود احمد ( خلیفہ ثانی ) کے گھروں میں گئیں؟
کیا اس کی وجہ مرزا خاندان کا گندا اور سفلہ کردار تھا جس سے یہ لوگ اپنی عورتوں کو بچانا چاہتے تھے۔ یہ دو نام نمونے کے طور پر ہیں۔ ورنہ ایک لمبی فہرست ہے ان جانے پہچانے لوگوں کی جن کی عورتیں کبھی مرزا خاندان کے گھروں میں نہیں گئیں اور جو گئیں وہ بمشکل ان کے چنگل سے بچ سکیں ۔ یہاں ایک اور لمبی فہرست ہے ان خواتین کی جن کی عصمت دری کی ” خاندان مسیح موعود“ کے بدمعاشوں نے ۔ اگر چیلنج کریں تو وہ فہرست بھی پیش کی جاسکتی ہے۔
کیا مرزا قادیانی ضعیف حدیثیں بیان کرتا تھا؟
مرزا قادیانی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے جو احادیث بیان کیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ذکر کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا“ (ازالہ اوہام صفحہ 119 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 219 از مرزا قادیانی) آج مرزا کے امتی کہتے ہیں کہ ”یہ حدیث ضعیف ہے“، تو میرا سوال ہے کہ اگر یہ واقعی ضعیف تھی تو پھر مرزا نے کیوں پیش کی؟ جبکہ مرزا کا دعویٰ تو یہ تھا کہ ”خدا نے مجھے بتلا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی“ (اربعین نمبر 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی)
کتھے مہر علیؒ ......
مجاہد ختم نبوت حضرت پیر مہر علی شاہؒ (جن کے نام سے ہی مرزا قادیانی کانپتا تھا) نے 1902ء میں ایک پیش گوئی کی تھی جو مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر ہنس رہی ہے.......... آپ بھی ملاحظہ کیجیے:
- ”ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا میں حاضر ہو کر سلام
کرنا اور جواب سلام سے مشرف ہونا ، یہ نعمت ( مرزا ) قادیانی کو کبھی نصیب نہ ہوگی“ ۔
(سیف چشتیائی ، صفحہ 108 ، شائع شدہ 1981ء)
اس پیش گوئی کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی تقریباً چھ سال زندہ رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے مدینہ منورہ کی حاضری کی توفیق نہ دی۔
لو مردہ زندہ ہوگیا!
قادیانی اخبار لکھتا ہے:
- ’’احمدی قوم کے لیے یہ امر ازدیاد ایمان کا موجب ہوگا کہ حضرت مسیح موعود کے
ہاتھ پر 31 جولائی 1901ء کو ایک مردہ زندہ ہوگیا۔ تفصیلی طور پر اس کے حالات، ناظرین کو کسی دوسرے وقت پر معلوم ہوں گے، مختصر یہ ہے کہ 31 جولائی 1901ء کو حضرت اقدس کے چوتھے صاحبزادہ مبارک احمد یکا یک سخت بیمار ہوگئے اور چند بار غش آیا، یہاں تک کہ آخری مرتبہ ایسا ہوا کہ غش کے ساتھ ہی بدن بے حس و حرکت اور سرد ہوگیا۔ نبض چھوٹ گئی سب عورتوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا۔ حضرت اقدس اس وقت دعا کرتے تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ آپ تکلیف نہ اٹھائیں، لڑکا فوت ہوچکا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ دیا ہے۔ با ایں ہمہ آپ دعا کرتے ہوئے عرق گلاب لینے گئے اور آ کر صاحبزادہ کے منہ پر چھینٹے دیئے، پہلے کچھ حرکت ہوئی۔ اور پھر آہستہ آہستہ صاحبزادہ صاحب ہوش میں آگئے۔ حضرت ام المومنین نے آپ کے حضور میں عرض کی کہ میں ہزار قسم کھانے کو تیار ہوں کہ احیاء موتیٰ اسی کو کہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے فرزند اور اس دنیا کی زندگی کے دلدادہ سنت اللہ سے نا آشنا اور تاریکی کے جن ان باتوں کو ہنسی کی نگاہ سے دیکھیں گے مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ عظیم الشان معجزہ ہے جو احیاء موتیٰ کا ہمارے مسیح موعود کے ہاتھ سے ظہور میں آیا الحمد للہ علی ذلک۔ اس سے حضرت مسیح کے معجزات احیاء موتیٰ کی ایک تفسیر ہوگئی ہے۔ حضرت اقدس نے باہر آ کر فرمایا کہ لڑکے کی نبض مفقود ہوچکی تھی اور علامات موت بالکل ظاہر ہوچکی تھیں۔ آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ میں نے عرق گلاب چھڑکا اور دعا کی کہ الٰہی زیادہ خوف شماتت اعداء کا ہے۔ اس سے بچ جائیں۔ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں چونکہ علماء یہود کی برکت جاتی رہی تھی اور موٹے اور سطحی خیال کے لوگ تھے۔ کسی مرگی والے کو شفا ہوئی ہوگی۔ انہوں نے یہی سمجھ لیا؟ غرض یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ احیاء موتیٰ دیکھی الحمد للہ اب
صاحبزادہ صاحب تندرست ہیں۔ اللہ تعالیٰ اگلی عمر میں برکت دے آمین ثم آمین!“
(اخبار الحکم قادیان جلد 5 شمارہ 30، 17 اگست 1901ء)
متضاد اعتقاد اور تناقض
پہلا موقف :
- ”پس میرے سوا دوسرے مسیح کے لیے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ
نہیں ۔“
(خطبہ الہامیہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 243 از مرزا قادیانی)
دوسرا موقف:
- ”اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ
ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آ سکتا ہے“۔
(ازالہ اوہام صفحہ 151 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہر گز نہیں رکھ سکتا۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی)
- ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی)
تصویر بولتی ہے
برتن کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی شکل دیکھ کر خود فیصلہ کریں کہ کیا ایسے ہوتے ہیں نبی؟
آنکھیں ...... چھوٹی بڑی ...... بڑی آنکھ اتنی چھوٹی کہ آنکھ کی سفیدی اور سیاہی کا امتیاز مشکل ہے .............. ہاتھی کی طرح لٹکتے ہوئے لمبے لمبے کان ...... آوارہ ڈاڑھی ...... جیسے مکڑی کے جالے کا ویرانہ ............. بے ڈھب ماتھا ............ کسی پوٹھوہاری علاقے کا منظر پیش کرتا ہے ............. لمبوترا سا سر ...... جس کا عیب چھپانے کے لیے سر پر سکھوں والا ”پگڑ“ باندھ
دیا گیا ہے............ ابرو کے بال....... یوں ٹوٹے ہوئے جیسے ”بال جھڑ“ کا مریض ہو............ کچھوے کی طرح اندر دبکی ہوئی گردن....... خمیری روٹی کی طرح پھولے ہوئے بڑے بڑے ہونٹ............ پھولے ہوئے نتھنے....... جیسے کم آکسیجن والی ہوا میں سانس لے رہا ہو............ پچکے ہوئے گال....... جیسے چہرے پر کوئی باکسر مشق کرتا رہا ہو....... چہرے پر....... رعب نہ دبدبہ............ روشنی نہ ضیاء....... وجاہت نہ ملاحت....... امانت نہ دیانت....... شرافت نہ صداقت............ وقار نہ افتخار....... شوکت نہ تمکنت....... قابلیت نہ انسانیت............ بتائیں کیا یہ شکل کسی نبی کی ہوسکتی ہے؟ (نعوذ باللہ ) ہرگز نہیں............ اللہ کی قسم....... ہرگز نہیں............ مرزا قادیانی دنیا کا سب سے بدشکل اور منحوس شخص تھا۔ اس کی تصویر ہی اس کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
ناواقف
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”یہ وہ پیش گوئی ہے کہ انگریزی میں خدائے واحد لاشریک نے کی حالانکہ میں
انگریزی خوان نہیں ہوں اور بکلی اس زبان سے ناواقف ہوں“۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 317 از مرزا قادیانی)
جبکہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ”کچہری کے ملازم منشیوں کے لیے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے
ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن پنشنر ہیں، استاد مقرر ہوئے۔ مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں“۔
(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 141 طبع جدید از مرزا بشیر احمد)
عجیب بات ہے....... ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھی ہیں....... اور پھر بھی کہتے ہیں ”بکلی اس زبان سے ناواقف ہوں“؟ ہت تیرے کی!
سفید جھوٹ
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی
کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے، وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آ گیا ہے اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند ۔“
(اربعین نمبر 3 صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)
کرشن مہاراجہ، جے سنگھ بہادر مرزا قادیانی ابن چراغ بی بی کا کوئی پجاری صحیح بخاری، صحیح مسلم یا انجیل سے کوئی ثبوت دے سکتا ہے جس میں مرزا بن چراغ بی بی کا ذکر ہے...... اور اگر نہ پیش کر سکے تو پھر تسلیم کرو کہ مرزا دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا اور کذاب تھا۔
اعجاز نمائی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے مرزا کا اشتہار
مرزا قادیانی کی پہلی کتاب براہین احمدیہ کی طباعت سے اسے توقع تھی کہ اس کی بزرگی کا چرچا چار دانگ عالم میں بجنے لگے گا۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! اس کی توقعات کے برعکس علمائے اسلام نے اس پر کفر کا فتویٰ جاری کردیا۔ اب مرزا قادیانی نے ایک نیا پینترہ بدلا۔ چونکہ دل میں اپنی بڑائی منوانا مقصود تھی۔ چنانچہ اپنی روحانی قوت واعجاز نمائی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔ 1885ء میں اس نے ایک اشتہار شائع جس کی کئی ہزار انگریزی اور اردو کاپیاں تقسیم کی گئیں جس میں غیر مسلم رؤسا و مقتدایان مذہب کو معجزہ دیکھنے کی دعوت دی گئی۔ ملاحظہ کیجیے:
- ”آپ کو اس دین کی حقانیت یا آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ
طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لائیں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر ان آسمانی نشانوں کا بچشم خود مشاہدہ کرلیں لیکن شرط نیت سے (جو طالب صادق کی نشانی ہے) کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ (قادیان میں) شرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جائیں گے۔ اس شرط نیت سے آئیں گے تو ضرور آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے۔ اس امر کا خدا سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں ۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 26 طبع جدید از مرزا قادیانی)
سبحان اللہ! کیا اعجاز نمائی کا دعویٰ ہے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ کس
کے پاس اتنی فرصت ہوگی کہ تمام کاروبار حیات چھوڑ کر سال بھر تک مرزا قادیانی کے ساتھ قیام کرے، اس انتظار میں کہ پتہ نہیں کب مرزا قادیانی کے ہاتھوں معجزہ سرزد ہو جائے اور پھر اس پر طرہ تماشا یہ کہ پیش بندی کے طور پر نیت کی قید بھی لگادی کہ اگر کچھ نہ ہوا تو یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ نیت صادق نہ تھی۔ ہاتھ لا استاد کیسی رہی!
ایک کامیاب مباہلہ
قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر نے اپنے خطبہ میں کہا:
”حضور نے کراچی والے مباہلہ کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے علماء کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ میں ساری دنیا کی جماعتوں کا سربراہ ہوں اور میرا کام یہ نہیں ہے کہ ہر للو پنجو کو جو مباہلہ چیلنج کرے، اس کا مباہلہ قبول ہی کروں یا اسے جوابی چیلنج دوں لیکن پتہ نہیں کیوں لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ دو مربی صاحبان نے بظاہر ایک مخالف (جناب الیاس ستار) کے جال میں پھنس کر مباحثہ میں اس کو بلوالیا۔ وہ پہلے سے ارادہ لے کر آیا تھا کہ مباحثہ کے دوران اچانک میں مباہلہ کا چیلنج پیش کروں گا۔ حضور نے فرمایا کہ مجھ پر ہرگز لازم نہیں تھا کہ اس کے چیلنج کو من وعن قبول کرتا۔ اگر کرنا بھی تھا تو اس پر قدغن لگائی جاتی کہ تم اپنے پیچھے قوم کے رہنما بتا، کون تمہاری تائید میں ہیں، کون تسلیم کرتا ہے کہ ہاں اگر تم ہار جاؤ تو ہم احمدیت کی فتح کو تسلیم کرلیں گے مگر ان سب باتوں سے قطع نظر ہمارے دو بھولے بھالے مربیان نے اس مباہلے کا چیلنج نہ صرف قبول کرلیا بلکہ میرا چیلنج اس کو دے دیا۔ حضور نے فرمایا کہ ان کو کوئی حق نہیں تھا کہ یہ کام کرتے مگر میں کہتا ہوں کہ وہ احمدی فوج کے لڑنے والے ہی تھے، اس لیے انہوں نے تسلیم کرلیا تو میں بھی تسلیم کرتا ہوں اور اس پہلو سے میں اس مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرچکا ہوں۔
حضور نے فرمایا کہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر دشمن کے یہ الزامات سچے ہیں تو ہم پر ایک سال کے اندر اندر اپنا غضب نازل فرما اور ذلت اور نکبت کی مار دے کر اپنے عذاب اور قہری تجلیوں کا نشانہ بنا اور اس طور سے اپنے عذاب کی چکی میں پیس تاکہ دنیا خوب اچھی طرح دیکھ لے کہ ان آفات میں بندے کی شرارت اور دشمنی اور بغض کا دخل نہیں بلکہ محض خدا کی غیرت اور قدرت کا ہاتھ ہے۔ یہ سب عجائب کام ہیں جو تو دکھلاتا ہے۔
اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ میں آپ کے سامنے یہ بات کھول رہا ہوں کہ صرف یہ ایک سال اس مباہلہ کرنے والے کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔ کیونکہ اس سال جماعت کو مٹنا چاہیے تھا۔ بجائے مٹنے کے یہ اور بھی زندہ ہو گئی۔ زندہ سے زندہ تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پس ان سب کی تعلیات الٹی ان پر پڑتی ہیں۔ ہمیں ان کی کوئی بھی پرواہ نہیں۔ آئندہ کے لیے میری نصیحت یہ ہے کہ اس معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ دن بدن جماعت ترقی پر ترقی کرتی چلی جائے گی اور ہر سال خواہ کوئی مباہلہ قبول کرے یا نہ کرے، اس کے اوپر ہماری طرف سے یہ لعنت کا انبار بڑھتا ہی چلا جائے گا اور اللہ کرے گا تو ایسا ہی ہوگا اور ہم میں سے جو زندہ رہیں گے، وہ سب اس کو دیکھیں گے۔‘‘
(روزنامہ الفضل انٹرنیشنل 20 اگست تا 26 اگست 1999ء)
کہتے ہیں اللہ تعالیٰ جب کسی گستاخ کو سزا دیتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی عقل سلب کر لیتے ہیں (یعنی اس کی مت ماری جاتی ہے) قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ، مرزا طاہر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ مرزا طاہر کی موت سے متصل آخری چار سال نہایت عبرتناک تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خدائی گرفت میں آچکا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، شدید کھانسی، سانس کی تکلیف، معدہ کی تکلیف، طبیعت میں بے چینی، پیٹ کی بیماری، اعصابی کمزوری، خون میں شوگر، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہارٹ اٹیک جیسے مرض بری طرح اسے چمٹے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک آوارہ مزاج اور جنسی مریض بھی تھا۔ یہ مرض اسے اپنے والد سے وراثتاً بلکہ نسلاً منتقل ہوا تھا۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ اس کی جنسی عیاشیوں کے قصے، جب وہ ’’میاں تاری‘‘ کے نام سے مشہور تھا، ربوہ میں اب بھی زبان زد عام ہیں۔ وہ شراب و کباب کا رسیا تھا۔ لجنہ سے تعلق رکھنے والی شاید ہی کوئی ایسی لڑکی ہو، جس نے مرزا طاہر سے سلسلہ عالیہ کا ’’جنسی فیض‘‘ حاصل نہ کیا ہو۔ جماعت کے عہدیدار اور مربی بیرون ممالک بالخصوص یورپ میں اپنی تعیناتی کے لیے ہمیشہ بے چین رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کسی با رسوخ شخص کی سفارش کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ وہ لوگ اپنی حسین و جمیل بیویوں اور لڑکیوں کو مرزا طاہر کے پاس اس سفارش کے لیے استعمال کرتے، حالانکہ انہیں یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہوتی کہ اس کے بدلے میں وہ کیا قیمت ادا کر رہے ہیں؟
5 جولائی 2002ء کو قادیانی عبادت گاہ بیت الفضل لندن میں مرزا طاہر خطبہ دیتے
ہوئے، اپنے خدائی گرفت میں آنے کا نظارہ ایم ٹی اے کے ذریعے پوری دنیا کو دکھا گیا۔ خطبہ جمعہ معمول سے دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے شروع ہوا۔ مرزا طاہر احمد کی حالت تشہد پڑھنے سے ہی ظاہر ہو رہی تھی۔ قرأت کے ساتھ تشہد پڑھنے کی قوت سلب کر لی گئی تو مرزا طاہر نے سورۃ فاتحہ بھی خطبہ کی ریڈنگ کی طرح پڑھنا شروع کر دی۔ ایسا اس کے خطبوں میں پہلی بار ہوا۔ پھر خطبے کی حالت خاصی خراب تھی۔ مرزا طاہر کی آواز سے کاغذ پلٹنے کی آواز زیادہ صاف تھی۔ لگ بھگ 25 منٹ کے خطبہ کے دوران مرزا طاہر کی حالت زار قابل رحم تھی۔ برطانوی ٹائم کے مطابق ایک بج کر پینتالیس منٹ پر اس وقت یہ حالت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب وہ ڈائس کو تھامنے کے لائق بھی نہ رہا۔ اسے گرتے ہوئے صاف دیکھا گیا۔ جماعت کے دو افراد نے فوراً لپک کر اسے سنبھالنے کی کوشش کی۔ اسی دوران ایم ٹی اے والوں نے اس عبرتناک نظارہ سے کیمرہ ہٹا لیا اور ایم ٹی اے کے چینل پر مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔ لگ بھگ چار منٹ کی خاموشی کے بعد کیمرہ عبادت گاہ سے منسلکہ بیت الخلا تک لایا گیا اور مرزا طاہر سے خطبہ ثانی سنوانے کی کوشش کی گئی لیکن پھر فوراً ہی آواز بند کر دی گئی اور ایم ٹی اے پر پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ کافی وقفہ کے بعد عطاء المجیب راشد امام مسجد فضل لندن نے اعلان کیا کہ حضرت صاحب کو دوران خطبہ ضعف ہو گیا تھا، اب وہ بہتر ہیں۔ احباب دعا کریں۔ برطانوی وقت کے مطابق چار بج کر پانچ منٹ پر اس خطبہ کو دوبارہ دیا جانا تھا۔ چار بجے اناؤنسر نے اس خطبہ کو دکھانے کا اعلان کیا مگر اس کے ساتھ ہی پھر ایم ٹی اے پر جیسے اس اعلان کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ لمبی خاموشی کے بعد مولوی عطاء المجیب راشد کے اعلان کی ریکارڈنگ دوبارہ سنائی گئی اور پھر مرزا طاہر احمد کا 7 جون 2002ء کا خطبہ دوبارہ لگایا گیا جبکہ اصولاً 5 جولائی کا خطبہ لگانا چاہیے تھا۔ 5 جولائی کا خطبہ روک کر دراصل لندن کے قادیانی ملشیوں نے مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کا خود بھی اعتراف کیا۔
5 جولائی کے خطبہ جمعہ میں خدائی مار کے بعد مرزا طاہر کو جب تھوڑا سا ہوش آیا تو اس نے خود نماز پڑھانے کی ضد کی۔ عطاء المجیب راشد جو نماز پڑھانے کے لیے آگے آچکا تھا، اسے واپس بھیجا گیا۔ مرزا طاہر نے نماز شروع کی اور ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ جمعہ نماز بھی خراب کی۔ اس سلسلے میں اندر کی مزید خبر یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد کو ان کے ”ملشیے“ ایک عرصہ سے کہہ رہے تھے کہ آپ خطبہ نہ دیں لیکن وہ ضد کر کے خود خطبہ دیتا تھا۔ شاید خدا نے
اس کا عبرتناک انجام ایم ٹی اے کے ذریعے پوری دنیا کو دکھانا تھا۔ یہ مرزا طاہر کی ضد سے زیادہ خدائی تقدیر تھی جس نے اسے اس طرح عبرت کا نشان بنایا تھا۔ نماز جمعہ مرزا طاہر نے پڑھائی تو ایک رکعت کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر عطاء المجیب راشد نے باقی نماز پڑھانی شروع کی تو مرزا طاہر نے اپنی مخبوط الحواسی میں اسے ڈانٹ دیا کہ جب میں نے نماز کا سلام پھیر دیا ہے تو نماز مکمل ہو گئی ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ مرزا طاہر پہلی رکعت پڑھا کر کھڑا ہوا اور پھر کھڑے کھڑے ہی سلام پھیر دیا۔ شاید کوئی جنازہ پڑھا دیا ہو۔ جن لوگوں نے ایم ٹی اے پر یہ دلچسپ کامیڈی شو دیکھا ہو ، وہ مدتوں اسے بھول نہ پائیں گے۔
مرزا طاہر کی عذاب ناک علالت اور 5 جولائی کو ایم ٹی اے پر سرِ عام اس کے گرنے کا منظر دیکھ کر پوری جماعت میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے نتیجہ میں فوری طور پر ربوہ میں سختی سے حکم دے دیا گیا ہے کہ مرزا طاہر کی بیماری اور ٹی وی پر گرتے ہوئے دیکھے جانے کے موضوع پر کوئی کسی سے کسی قسم کی بات نہ کرے! یہ پابندی اس حد تک عائد کی گئی کہ ربوہ کے کسی ریستوران یا چائے خانہ میں اگر اس موضوع پر کوئی بات کی جاتی تو ویٹر فوری طور پر کہتا: جی یہاں اس موضوع پر کوئی بات نہ کرے۔
12 جولائی 2002ء کو جب مرزا طاہر نے خطبہ جمعہ دیا تو اس کی حالت دیدنی تھی۔ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ خطبہ کی ریڈنگ، ہر وقت تنی رہنے والی گردن مجرموں کی گردنوں کی طرح جھکی ہوئی ، فرعون کی طرح تنی ہوئی آنکھیں جواب ایک لمحہ کے لیے بھی نہ اٹھ سکیں ۔ 75 فیصد خطبہ کے الفاظ سمجھ ہی نہیں آتے تھے کہ مرزا طاہر کیا کہہ رہا ہے۔ بس منمناہٹ کا احساس ہوتا تھا۔ اس مرتبہ مرزا طاہر نے بمشکل 15 منٹ خطبہ دے کر کام نمٹا دیا۔ جب بھی مرزا طاہر کی حالت دیدنی ہوتی، کیمرہ مین فوری طور پر اس سے کیمرہ ہٹا کر عبادت گاہ کے گنبد یا نئے بیت الخلا کی طرف کر دیتا۔ مرزا طاہر بعض اوقات دواؤں کی ڈبل خوراک کے نتیجہ میں وقفے وقفے کے لیے اپنے حواس میں آجاتا۔ اور بعض اوقات نماز پڑھاتا۔ لیکن ہر نماز میں بھول جاتا۔ اس کی ایک نماز بھی قرأت یا رکعت کی خرابی کے بغیر مکمل نہ ہوتی۔ دوا کا اثر زائل ہوتے ہی مرزا طاہر پھر اپنی اصل حالت میں آجاتا اور مخبوط الحواسیوں میں مبتلا ہو جاتا۔
19 جولائی 2002ء کو مرزا طاہر نے بیت الذکر فضل لندن میں جمعہ کا خطبہ دیا۔ بکری کی منمناہٹ کی طرح اس کی آواز سنائی دیتی تھی۔ پورے چہرہ پر سوجن کے اثرات تھے
جس سے گمان کیا جاتا تھا کہ ان کی بیماریوں کی دوا کی خوراک ڈبل سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے۔ ٹی وی کیمرہ والوں نے نہ تو مرزا طاہر کو عبادت گاہ میں داخل ہوتے دکھایا نہ اٹھتے یا بیٹھتے دکھایا۔ جب ایسی نوبت آتی تو کیمرہ مسجد کے باہر چلا جاتا۔ اس بار تو احتیاط کا یہ عالم رہا کہ مرزا طاہر جب پانی پینے لگتا تو تب بھی کیمرہ اس کے چہرے سے ہٹا کر نئے تعمیر شدہ بیت الخلا دکھانے شروع کر دیئے جاتے۔
26 جولائی 2002ء کو سالانہ جلسہ شروع ہوا تو مرزا طاہر کو ”لوائے احمدیت“ لہرانے کے لیے بڑے حفاظتی اور احتیاطی دائرے میں لایا گیا۔ آنے اور جانے کا منظر چند قدم کی حد تک دکھایا گیا اور اس میں بھی چاروں طرف سے اسے اس حد تک گھیر رکھا تھا کہ وہ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ پردہ تان کر اس کی چال کو بھی مخفی رکھا گیا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرزا طاہر کی دونوں آنکھوں کے زاویے الگ الگ ہو گئے تھے، دراصل جب کسی انسان کی دونوں آنکھیں کسی چیز کو دیکھنے کے لیے ایک زاویے پر آتی ہیں تو تب اس چیز کو ٹھیک سے دیکھ پاتا ہے۔ مرزا طاہر کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے زاویوں کا ربط ٹوٹ گیا تھا۔ وہ دیکھتا کسی اور طرف اور چیز کسی اور طرف ہوتی۔ وہ دیکھ کہیں اور طرف ہوتا، اس کے قدم کہیں اور پڑ رہے ہوتے۔ اسی لیے اسے چلتا ہوا بھی نہیں دکھایا گیا۔ کاغذ پر لکھا ہوا جو وہ پڑھتا، اس میں لکھی ہوئی دو تین لائنیں بھی گڈ مڈ کر دیتا۔ وجہ یہی ہے کہ اس کی آنکھیں ایک زاویے پر نہیں ٹھہرتی تھیں۔ اس کی یہ بیماری مزید بڑھی۔ وہ تلاوت کے لائق بھی نہ رہا۔ اسی لیے جلسہ کی اپنی چھ سات منٹ کی آخری تقریر کی ریڈنگ کے آغاز ہی میں اسے تشہد تعوذ والا صفحہ لکھا ہوا ہونے کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ ان کی عبرتناک بیماریوں میں یہ ایک اور عبرتناک اضافہ تھا۔ معمولی سا اختلاف رائے رکھنے والوں کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والے مرزا طاہر کی آنکھیں خدا نے ہمیشہ کے لیے ٹیڑھی کر دی تھیں۔ اس کے فوراً بعد خطبہ جمعہ دیا گیا۔ مرزا طاہر احمد نے خطبہ بیٹھ کر دیا۔ خطبہ میں ان کی حالت اتنی پتلی تھی کہ جلد ہی کیمرے کو ان سے خاصا دور کر لیا گیا۔ ادھر جلسہ میں شریک قادیانی اچھے خاصے پریشان تھے۔ اس لیے ان کے حواس باختہ چہرے دکھانے سے بھی گریز کیا جا رہا تھا۔ خطبہ جمعہ کو جلسہ کی افتتاحی تقریر شمار کیا جانا چاہیے۔ مرزا طاہر کی آواز کی منمناہٹ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اور خطبہ کا دورانیہ مزید گھٹ گیا تھا۔ یہ افتتاحی خطبہ پندرہ منٹ تک رہا۔ اس میں بمشکل پانچ منٹ کے دورانیہ کے
الفاظ سمجھ میں آئے، باقی خطبہ مرزا قادیانی کی اکثر وحیوں کی طرح ناقابل فہم تھا۔ اپنے بیٹھ کر خطبہ دینے کی افسوسناک حالت کا مرزا طاہر کو خود بھی اندازہ تھا۔
28 جولائی 2002ء کو قادیانی سالانہ جلسہ اختتام پذیر ہو گیا۔ آخری سیشن سے پہلے عالمی بیعت کا ناٹک رچایا گیا۔ لیکن اس بار عالمی بیعت کا کھیل انتہائی بے جان رہا۔ مرزا طاہر کو جس طرح لایا گیا، اس سے اردن کے شاہ حسین کا وہ منظر یاد آ گیا جب اس کی کلینیکل موت کی خبر جاری کر دی گئی تھی لیکن اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھ کر امریکہ سے اس کے وطن لے جایا گیا تھا۔ مرزا طاہر کی زندہ درگور حالت اسی منظر کی یاد دلاتی رہی۔ عالمی بیعت کے ڈرامے میں پہلے جس طرح جوش وخروش دکھایا جاتا تھا یا یوں کہہ لیں کہ جذباتی ایکٹنگ کی جاتی تھی، وہ اس بار بالکل مفقود تھی۔ جلسہ کے آخری سیشن میں مرزا طاہر نے خطاب کیا۔ یہ خطاب بمشکل سات منٹ جاری رہ سکا۔ اس بار بھی خطبہ بیٹھ کر دیا گیا۔ مزید ستم یہ ہوا کہ تقریر کے آغاز میں تشہد، تعوذ پڑھنے کے بجائے مرزا طاہر احمد نے براہ راست تقریر شروع کر دی۔ ابھی انہوں نے ”گزشتہ چند سالوں سے“ ہی کہا تھا کہ ان کو سنبھالنے کی ڈیوٹی پر مامور ایک صاحب نے فوراً ان کی طرف جھک کر انہیں یاد دلایا کہ تشہد، تعوذ پڑھ لیں۔ چنانچہ مرزا طاہر نے تقریر روک کر اپنی غلطی کی درستی کی۔ کیمرہ حسب معمول ان سے خاصا دور رکھا گیا۔
عالمی بیعت کے ڈرامہ کے اختتام پر مرزا طاہر ایک سجدہ کرایا کرتا تھا۔ اس سجدہ کے بعد مرزا طاہر نے اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھا لیا لیکن اس کی آواز اتنی نحیف ونزار تھی کہ شرکائے سجدہ میں سے کسی نے بھی نہیں سنی۔ صرف ایم ٹی اے کے ہائی سپیکرز نے اسے نشر کیا اور پھر یہ تماشا ایم ٹی اے پر ہی دیکھا گیا کہ مرزا طاہر نے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ ختم کر دیا۔ اس کے باوجود ساری جماعت سجدہ میں پڑی ہوئی تھی۔ خاصے وقفہ کے بعد اس دوران ڈیوٹی پر موجود کسی فرد نے کسی ذمہ دار کو توجہ دلائی تو کسی نے تکبیر کہہ کر اس بے امام سجدہ سے سب کو نجات دلائی۔ یہ سب قدرت کی طرف سے نشان ہیں۔ اس بار بعض مقررین کی تقاریر کے بعد باقاعدہ جلسہ گاہ سے تالیاں بجائی گئیں، جبکہ پہلے اس طرح تالیاں بجانے سے سختی سے روکا جاتا تھا۔ مرزا مظفر احمد (ایم ایم احمد) نہ صرف مرزا طاہر احمد کا سگا چچازاد بھائی بلکہ جماعتی لحاظ سے بھی بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ جلسہ سے پہلے اس کی وفات ہو گئی تھی، اور جلسہ کے پہلے دن امریکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ لیکن مرزا طاہر نے اپنی کسی تقریر میں اس کی وفات کا کوئی ذکر نہ کیا۔
اس سے مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس بار مرزا طاہر احمد کی حالتِ زار کی وجہ سے عالمی مجلس شوریٰ کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں جو وجہ بہانہ کے طور پر بیان کی گئی، اس سے خود جماعت مذاق کا نشانہ بنتی ہے۔ دراصل یہ مجلس مرزا طاہر احمد کی عبرتناک حالت کے باعث منسوخ کی گئی۔
6 ستمبر 2002ء کو مرزا طاہر نے حسب معمول عبادت گاہ بیت الفضل لندن میں جمعہ کا خطبہ دیا۔ مخبوط الحواسی کی کیفیت معمول کے مطابق رہی۔ آتے ہی مرزا طاہر نے خطبہ کے لیے اذان کا کہنے کے بجائے نماز کے لیے تکبیر کا حکم دے دیا۔ اس مدہوشی پر اس کے دو باڈی گارڈز نے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ کر باقاعدہ ’’اباؤٹ ٹرن‘‘ کیا۔ اس کے بعد اذان کرائی گئی اور پھر خطبہ ہوا۔ اور اس کا دورانیہ دس منٹ کے اندر ہی رہا۔ یوں ایک اور خطبہ اس کے Friday the 10th کا عبرتناک نشان بن گیا۔ 13 ستمبر کا خطبہ بھی مرزا طاہر کی دلچسپ اور لایعنی حرکتوں پر مشتمل تھا۔ 20 ستمبر کا خطبہ سابقہ خطبوں سے زیادہ عبرتناک رہا۔ خطبہ بمشکل 7 منٹ کا رہا۔ آواز بکری کی منمناہٹ جیسی تھی۔ اس بار سورۃ فاتحہ ایک بار پڑھ کر پھر دوبارہ پڑھ دی۔ اس سے مرزا طاہر احمد کی غیرحاضر دماغی اور پاگل پن کی عمومی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا تھا۔ خطبہ ثانیہ ہر بار بھول جانا اب تو مرزا طاہر کا معمول بن گیا تھا۔ 27 ستمبر کا خطبہ بھی حسب سابق رہا۔ قابل ذکر بات اتنی ہے کہ Friday the 10th والی تفسیر کے مطابق دس منٹ کے اندر اندر ہونے والے خطبہ کا دورانیہ سات منٹ سے گھٹ کر چھ منٹ ہو گیا۔ مرزا طاہر کا مسلسل کم ہوتا ہوا خطبہ کا دورانیہ اس قرآنی فرمان کے مطابق تھا کہ ’’ہم ان کو ان کے کناروں سے کم کرتے چلے آرہے ہیں۔‘‘
14 اکتوبر 2002ء کو جب مرزا طاہر کی انجیوپلاسٹی ہوئی تو لندن کے مشہور کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سٹیفن جینکنز (Dr. Stephen Jenkins) نے مرزا طاہر سے برملا اپنی رائے کا اظہار کیا کہ شراب نوشی اور زیادتی جماع کی وجہ سے آپ کے جسم کے پٹھے بے حد کمزور ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا دل بھی روز بروز کمزور ہو رہا ہے۔ میں نے اس طرح کی خطرناک رپورٹیں پہلے کبھی کسی مریض کی نہیں دیکھیں۔ لہٰذا اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو آپ کو اس فعل قبیح سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا۔ مرزا طاہر نے ڈاکٹروں کے بورڈ جن میں لندن کے ڈاکٹر سٹیفن جکنز (کارڈیالوجسٹ)، ڈاکٹر نکوسیف (نیورو سرجن)، لیڈی ڈاکٹر وڈ،
ڈاکٹر مسٹر پیٹر ٹیلر (ویسکولر سرجن) ڈاکٹر بشیر الدین خلیل (نیوروفزیشن)، ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ، ڈاکٹر عبدالسلام (ماہر امراض سینہ) ڈاکٹر شاہد، ڈاکٹر نعیم احمد (فزیشن)، ڈاکٹر مرزا مبشر احمد، ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، ڈاکٹر شکیل احمد اور ڈاکٹر مجیب الحق شامل تھے اور اپنے اہل خانہ کے سامنے کھسیانے ہو کر وعدہ کیا کہ وہ اس مشورہ پر عمل کرے گا۔ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ چور چوری سے باز آ جاتا ہے، ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ اور رسی جل جاتی ہے لیکن بل نہیں جاتا۔ دو ہفتے بعد جب مرزا طاہر کے دل کی تکلیف مزید بڑھی تو ڈاکٹروں نے انجیوگرافی پر زور دیا جس پر 29 اکتوبر کو مرزا طاہر کو سینٹ تھامس ہسپتال (St.Thomas's Hospital) میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ لندن کا سب سے بہترین ہسپتال ہے اور سنٹرل لندن میں واقع ہے۔
اس واقعہ کے تین دن بعد مرزا طاہر کا ایک اور آپریشن ہوا۔ دراصل اینجو پلاسٹی کے نتیجے میں مرزا طاہر کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ گئی۔ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کی وجہ سے خون کی ایک بڑی نالی جو دماغ کی طرف جاتی ہے، اس میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ سے مرزا طاہر کی ٹانگیں سکڑ رہی تھیں۔ ڈاکٹروں کی رائے میں اس کی سرجری ضروری تھی۔ چنانچہ ایک اور آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ آپریشن London Bridge Hospital میں کیا گیا۔ اس ہسپتال کا کمرہ نمبر 203 مرزا طاہر کے لیے ریزرو کیا گیا۔ 29 اکتوبر 2002ء کو مرزا طاہر کو ICU میں لایا گیا اور پھر 30 اکتوبر 2002ء کو لندن وقت کے شام چھ بجے آپریشن ہوا۔ آپریشن کے دوران مرزا طاہر کو قے آئی جو سانس کی نالی کے راستے پھیپھڑوں میں چلی گئی جس سے سانس لینے میں نہایت دقت اور Aspiration نمونیہ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پھیپھڑوں نے ایک حد تک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے مرزا طاہر کو 3 دن تک Artificial Respirator استعمال کروایا گیا۔ آپریشن کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی یہ کیفیت Adult Respiratory Distress Syndrome(ARDS) کہلاتی ہے جو عموماً جان لیوا ہوتی ہے خصوصاً جبکہ مریض شوگر اور بلڈ پریشر کے عوارض سے بھی دوچار ہو۔ چنانچہ مرزا طاہر کا ایک اور آپریشن ہوا۔ ڈاکٹر پیٹر ٹیلر جو لندن کے معروف ویسکولر سرجن ہیں، نے مرزا طاہر کا Carotid Endarterectomy کا آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں خون کی نالی میں جو Blood Cloting ہو جاتی تھی، اس کو کھولا گیا۔ اس کے بعد کئی دن مرزا طاہر کو مصنوعی سانس کی مشین پر رکھا گیا۔ اس دوران ڈاکٹروں نے تفصیلی
معائنہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ خون کی نالی کو کھولنے کے لیے آپریشن ضروری ہے۔ چنانچہ 30 اکتوبر 2003ء کو لندن کے وقت کے مطابق شام چھ بجے مرزا طاہر کے پیٹ کا آپریشن ہوا۔ بعد ازاں مختلف ٹیسٹوں سے پتہ چلا کہ فالج کے معمولی حملے سے مرزا طاہر کے دماغ پر اثر ہو رہا ہے۔ لہٰذا فوری طور پر لندن بلکہ دنیا کے سب سے بڑے نیورو سرجن ڈاکٹر نکلیوسیف سے وقت لیا گیا جس نے مرزا طاہر کے دماغ کا آپریشن کیا۔ یہ آپریشن کامیاب نہ ہو سکا اور مرزا طاہر کی دماغی حالت پہلے سے زیادہ غیر ہو گئی۔ اس کے بعد مرزا طاہر کوئی خطبہ دینے کے لائق نہ رہا۔ اس کے جملہ عوارض کی یلغار نے اسے کیمرے سے دور کر دیا۔ اس دوران جہاں دنیا بھر میں جماعت کو دعاؤں اور صدقوں پر لگا دیا گیا، وہیں معروف فلمی گیتوں کی دھنوں میں ایم ٹی اے سے دعائیہ نظموں کو نشر کیا جاتا رہا۔ ان گیتوں میں سے بعض فلمی مجروں کی دھنیں بھی تھیں۔ شاید جماعت اس طرح تبلیغی مجروں کا کوئی سلسلہ متعارف کرانا چاہتی تھی۔
6 اور 7 نومبر 2002ء کی درمیانی رات کو مرزا طاہر کے پیٹ کا ایکسرے اور ٹیسٹ لیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ شوگر کی وجہ سے بڑی آنت کا عمل صحیح کام نہیں کر رہا جس کی وجہ سے بار بار پیٹ کی تکلیف بڑھ رہی ہے۔ کمزوری اور نقاہت عروج پر تھی۔ نومبر کا پورا مہینہ مرزا طاہر ایم ٹی اے کی سکرین پر درشن دینے نہیں آسکا۔ اس دوران جماعت کو جھوٹی سچی تسلیاں دینے کے لیے اعلان کیے جاتے رہے کہ آج ”حضور“ نے اپنے دفتر میں تشریف لا کر ڈاک ملاحظہ کی، آج چیدہ چیدہ احباب سے ملاقاتیں کیں۔ بہتر ہوتا کہ پانچ منٹ کی ریکارڈنگ کر کے ایم ٹی اے کے ناظرین کو بھی کرسی پر بیٹھے ہوئے ”حضور“ کا درشن کرا دیا جاتا اور اس کی آواز سنا دی جاتی، تاکہ آنکھوں دیکھی، کانوں سنی سے بہتر ہوتی۔
مرزا طاہر کی عبرتناک حالت کے بارے میں مرزا قادیانی کے چند الہامات کا تذکرہ ضروری ہے۔ ان الہامات کے بارے میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب انہیں برسوں سے تعلق رکھتے ہیں جن برسوں میں مرزا طاہر شدید خدائی گرفت میں آیا تھا۔ یعنی 1901ء اور 1902ء میں یہ الہامات ہوئے اور پورے ایک سو سال کے بعد ”پوری جلالی شان کے ساتھ“ 2001ء اور 2002ء میں مرزا طاہر پر پورے ہوئے۔ مرزا طاہر کی چار ذلت آمیز شکستوں کو ذہن میں رکھیں۔
- 1- کراچی کے جناب الیاس ستار سے مباہلہ میں شکست کے بعد اس موضوع پر مرزا
طاہر کی طرف سے مکمل خاموشی اور خود منہ مانگی موت میں گرفتار ہونا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا طاہر نے جولائی کی آخری تاریخوں میں لندن کے جلسہ سالانہ کے موقع پر علی الاعلان جناب الیاس ستار کے ساتھ مباہلہ قبول کیا تھا۔ اس مباہلہ میں بہت واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ جھوٹے کو خدا ایک سال کے اندر سزا دے۔ چنانچہ مرزا طاہر اسی سال دو مہینوں کے اندر ہی شدید خدائی گرفت میں آ گیا۔ یہ سال اس پر خدائی ذلتوں اور مار کا سال تھا۔ جناب الیاس ستار، اس مباہلہ کی فتح کا جشن مناتے رہے لیکن مرزا طاہر پر خدائی مار کی گرفت اتنی شدید تھی کہ وہ آتھم سے بڑھ کر خوفزدہ حالت میں اس مباہلہ کے انجام کے بارے میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالنے کی جرأت نہ کر سکا۔ مرزا طاہر کی مرتے دم تک اس مسئلے پر خاموشی خود اس کی ذلت آمیز شکست کا زندہ ثبوت ہے۔ مرزا طاہر نے جولائی میں مباہلہ قبول کیا۔ 20 اگست 1999ء کو باہمی طے شدہ عہد کے مطابق الفضل لندن میں مباہلہ کی دعوت قبول کرنے کا اعلان شائع کیا گیا۔ جمعہ کی صبح یہ اعلان الفضل لندن نے شائع کیا اور چند گھنٹوں کے بعد جمعہ کے خطبہ کے دوران ہی مرزا طاہر پر خدائی مار پڑ گئی۔ ایک سال کی مدت تو کیا چند گھنٹوں میں ہی مرزا طاہر خدائی گرفت میں آ گیا۔ اس پر فالج کا حملہ ہوا۔ پھر وہ ایم ٹی اے کی سکرین سے لمبے عرصہ کے لیے غائب ہو گیا۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور وہ قادیانی جو سچے خدا پر یقین رکھتے ہیں، مباہلے میں خدائی فیصلے سے خود ہی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ مرزا طاہر سرتا پا کاذب اور مفتری تھا۔ اس نے زندگی بھر مباہلے کا پر فریب چکر چلائے رکھا۔ اس کی اپنی کوشش یہی تھی کہ سچ مچ میں مباہلہ نہ ہونے پائے۔ لیکن آخر کار وہ اپنے مکروں کے جال میں خود ہی پھنس گیا۔ اور اس کے نتیجہ میں ذلت ناک انجام سے دوچار ہوا۔ جبکہ الیاس ستار صاحب آج کل کراچی میں ایمان وصحت کی بہترین کیفیات میں اپنی بھر پور خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ فللّٰہ الحمد!
مرزا طاہر کو شاید وہم بھی نہ ہو گا کہ وہ یوں اچانک مر جائے گا۔ اس کی چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی فائزہ لقمان اس کے پاس تھی۔ دوسری بیٹی شوکت جہاں اپنے میاں سے لڑائی جھگڑے کے بعد مستقل پاکستان میں تھی۔ دوسری دو بیٹیاں کسی اور ملک کی سیر پر گئی ہوئی تھیں۔ ایک دن پہلے اس کی طبیعت قدرے بہتر تھی۔ 19 اپریل 2003ء کو ناشتہ کی میز پر اس کو دل کا دورہ پڑا اور ساتھ ہی جسم کے بائیں طرف فالج کا حملہ ہو گیا جو پہلے سے زیادہ
شدید تھا۔ اس سے فوری طور پر مرزا طاہر کا منہ ٹیڑھا ہو گیا۔ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق یہ لقوہ تھا۔ بائیں آنکھ، بازو، ٹانگ اور دیگر اعضا بری طرح ساکت ہو کر رہ گئے۔ مرزا طاہر کچھ بولنے کی کوشش کرتا مگر مرزا قادیانی کی وحیوں کی طرح کچھ سمجھ میں نہ آتا۔ وہ میز پر پڑی ادویات کے ڈھیر کو دیکھتا تو چیخنے لگتا۔ اس دوران وہ دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی کو بری طرح کھینچتا اور یکدم چپ ہو جاتا پھر بے تحاشا ہنستا اور اچانک رونے لگتا۔ کمرے میں لٹکی مرزا قادیانی کی تصویر کو دیکھتا تو غصے سے اول فول بکنے لگتا۔ اسی اثنا میں ایک عجیب حادثہ یہ ہوا کہ مرزا طاہر کے جسم کے تمام بال گرنا شروع ہو گئے اور آناً فاناً پورا جسم بالوں سے حتیٰ کہ داڑھی اور بھنویں تک صاف ہو گئیں۔ مرزا طاہر کی شکل بگڑ کر اتنی کریہہ اور مکروہ ہو گئی کہ دیکھتے ہوئے متلی آتی تھی۔ اس کے کپڑے بول و براز سے لتھڑے پڑے تھے۔ جو شخص اس کے کپڑے تبدیل کرنے کے لیے آگے بڑھتا، مرزا طاہر غصے سے اس کے منہ پر تھوکتا اور چلاتا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جسم کو فالج کے مزید اثرات سے بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی مگر ناکام رہے۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ موت کا فرشتہ سر پر آن کھڑا ہے۔ ڈاکٹروں کے علاوہ موقع پر درجنوں قریبی عزیز اور جماعت کے اعلیٰ عہدیدار اس صورتحال کے عینی شاہد ہیں۔
چند گھنٹوں بعد دل کا دوسرا اٹیک ہوا، جو پہلے کی نسبت زیادہ شدید تھا۔ راز دار درون خانہ کے مطابق یہ کسی ذہنی اذیت کا باعث تھا۔ ذہنی اذیت یقیناً مرزا لقمان کی مرزا طاہر کی چھوٹی بیٹی اور اپنی خوبرو سالی طوبیٰ کے ساتھ وہ اخلاق سوز حرکات تھیں جس کا مقصد مرزا طاہر کو ذہنی ٹارچر اور بلیک میلنگ کرنا تھا جیسا کہ مرزا لقمان وقتاً فوقتاً ایسا کرتا رہتا تھا۔ بہر حال یہ ظاہر ہو گیا کہ 6 اپریل 1902ء ”اپریل والے الہام“ کے مطابق اپریل کے مہینے میں اس کی لرزا دینے والی موت واقع ہوئی۔
لندن میں جہاں اپریل میں بھی سردی ہوتی ہے، مرزا طاہر کی لاش جس کمرہ میں رکھی گئی، وہاں برف اور ایئر کنڈیشنز کا بھی انتظام کیا گیا تا کہ لاش مزید خراب نہ ہو۔ اس کے جسم سے شدید بدبو آ رہی تھی جس سے آس پاس کا سارا ماحول متعفن ہو گیا۔ فوری طور پر لاش کی Embalming کروائی گئی یعنی حنوط کیا گیا۔ تقریباً 5 گھنٹے میں یہ مرحلہ طے ہوا۔ اس پراسس میں خون کی نالی میں خاص دوا ڈالی جاتی ہے جس سے جسم محفوظ رہتا ہے اور گلنا سڑنا نہیں۔ مگر ہزار کوششوں کے باوجود لاش تیزی سے گل سڑ رہی تھی اور سیاہی مائل ہونے کی وجہ
سے چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا۔ لہٰذا مشاورت ہوئی جس میں رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے، عطاء المجیب راشد، منیر احمد جاوید، ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، بشیر احمد، مرزا سفیر احمد، مرزا لقمان احمد، کریم اسد خاں اور سلطان ہارون خان شامل تھے۔ ڈاکٹر مسعود الحسن نوری کی ہدایت پر فوری طور پر رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے نے ایک تابوت تیار کروایا جس کے اوپر شیشہ لگا ہوا تھا تاکہ لوگ چہرہ دیکھ سکیں۔ مگر چہرہ متغیر ہونے بلکہ خدائی عذاب کی گرفت میں آنے کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ لوگوں کو مرزا طاہر کا چہرہ نہ دکھایا جائے۔ چنانچہ ایک اور تابوت خریدا گیا۔ یہ تابوت ایلومینیم کا تھا جس میں لاش والا تابوت ڈال کر سیل کر دیا گیا۔ اس تابوت کے اندر تھرما پور چاروں طرف لگایا گیا۔ بیوقوفی یہ کی گئی کہ بند تابوت بھی دیدار اور زیارت کے لیے رکھا رہنے دیا گیا۔ اس پر چہرہ دیکھنے والے جب کہتے کہ چہرہ دیکھنا ہے تو ان کو کہا جاتا کہ بس تابوت کی زیارت کرتے جاؤ، اور آگے بڑھتے جاؤ۔ یہ منظر ایم ٹی اے چینل پر صاف دیکھا جا رہا تھا۔ چنانچہ انہیں اس حماقت کا احساس ہوا تو ایم ٹی اے پر مزید دیدار بند کر دیا گیا۔ تدفین سے پہلے تابوت کو قبر کے قریب رکھا گیا اور اس پر پلاسٹک شیٹ لپیٹی گئی اور پھر رسیوں کی مدد سے گڑھے میں اتارا گیا۔ اس سے پہلے جتنے بھی قادیانی خلیفے مرے، انہیں دفنانے کے بعد موقع پر موجود ہر قادیانی اظہار عقیدت کے طور پر تھوڑی سی مٹی قبر میں ڈال کر اپنے دل کی پیاس بجھا لیتا تھا، مگر اس دفعہ نیا تماشا یہ ہوا کہ کسی بھی قادیانی کو مرزا طاہر کی قبر پر مٹی ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قادیانیوں کا خیال تھا کہ مرزا طاہر کے جنازہ پر کروڑوں کا اجتماع ہوگا اور پھر جنازہ کی تعداد کو دنیا بھر میں مشتہر کر کے قادیانیت کی نام نہاد صداقت کا گوئبلز ڈھنڈورا پیٹا جائے گا۔ لہٰذا انھوں نے جنازہ میں شرکت کرنے کی غرض سے برطانیہ آنے والے قادیانیوں کے، ویزہ کے حصول کے لیے شرائط نرم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ قادیانی جماعت UK کے امیر رفیق احمد حیات نے فوراً ممبر آف پارلیمنٹ ٹونی کولمین سے فون پر رابطہ کیا اور ویزہ کے اجرا کی راہ میں حائل مشکلات کا ذکر کر کے مدد کی درخواست کی۔ ٹونی کولمین کو برطانیہ میں قادیانی جماعت کا سب سے بڑا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ کئی دفعہ برطانوی پارلیمنٹ میں حکومت پاکستان پر زور دے چکے ہیں کہ قادیانیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دی جانے والی ترمیم ختم کی جائے۔ ٹونی کولمین لانگ ویک اینڈ کی وجہ سے لندن سے باہر کہیں جا رہے
تھے، وہ اپنے سارے پروگرام ختم کر کے واپس آئے، اپنے دفتر کے عملہ کو بلایا اور دفتر خارجہ سے ہنگامی رابطہ کر کے مجاز افسران کے ساتھ متعلقہ امور کے حوالہ سے تفصیلات کو طے کیا اور یوں فارن آفس نے فوری طور پر دنیا بھر کے تمام برطانوی سفارت خانوں کو ہدایات روانہ کر دیں کہ قادیانیوں کے لیے ویزوں کا فوری اور آسان ترین اجرا ممکن بنایا جائے تا کہ وہ بروقت برطانیہ پہنچ کر مرزا طاہر کے جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ اگرچہ دنیا بھر میں قائم برطانوی سفارت خانے ایسٹر کی تعطیلات کی وجہ سے بند تھے مگر ٹونی کولین کی بھر پور کاوش سے پوری دنیا سے ہر اس قادیانی کو ویزہ جاری کر دیا گیا جو جنازہ کی غرض سے برطانیہ آنا چاہتا تھا۔
ان ساری کوششوں کے باوجود مرزا طاہر کے جنازہ پر صرف 3 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ اس صورتحال پر قادیانیوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ نئے قادیانی امیر مرزا مسرور نے بیرونی ممالک کی ذیلی تنظیموں کے صدور اور جملہ مربی انچارجوں سے اپنی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں اس شرمندگی اور ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مرزا طاہر کے جنازہ کو برطانیہ کے مختلف ٹیلی ویژن نیٹ ورکس جن میں BBC.SKY, ARY اور ITV شامل ہیں، نے ٹیلی کاسٹ کیا۔ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ 1993ء سے 2003ء تک 16 کروڑ 57 لاکھ 68 ہزار 8 نئے افراد نے مرزا طاہر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اس صورتحال میں قادیانی قیادت کے لیے یہ بات زبردست ہزیمت اور جگ ہنسائی کا باعث تھی کہ جنازہ میں صرف 3 ہزار افراد شامل ہوئے۔
ایک دلچسپ سوال
اگر مرزائی حضرات کرشنا، رام، کنفیوشس کو نبی مانتے ہے (جس کی کوئی دلیل نہیں ہے) تو وہ ان نبیوں کے نام پر اپنے بچوں کے نام کیوں نہیں رکھتے؟ کیوں نہیں ان کے پیرو کار بنتے تا کہ پتا چلے آج کسی مرزائی کا نکاح کسی چنگ لنگ نے پڑھایا ہے۔ پتا چلے کہ مرزائیوں نے اپنی عبادت اپنے امام رام چندر پانڈے جی کے پیچھے کی......
ترکی بہ ترکی
جناب قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں:
”ہالینڈ میں پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے برسبیل تذکرہ یہ بتایا کہ اگر ہم سور کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا ایک من بھاتا ”کھاجا“ قیمہ کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چوہدری ظفر اللہ خاں (سابق قادیانی وزیر خارجہ) بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکے اور رائی کی چٹنی میں ڈبو ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے، میں نے عفت سے کہا آج تو چوہدری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ بھی ٹھیک ہی منگوایا ہوگا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو، پہلے پوچھ لینا چاہیے۔ ہم دونوں چوہدری صاحب کے پاس گئے۔ عفت نے پوچھا، چوہدری صاحب، یہ تو آپ کی ریسپشن (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہوگا؟ چوہدری صاحب نے جواب دیا۔ ریسپشن (Reception) کی انتظامیہ کا محکمہ الگ ہے، قیمہ اچھا ہی لائے ہوں گے۔ لو یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا تو چوہدری صاحب بولے ”بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے“ دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا، یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟“
(شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب صفحہ 1068)
قادیانی پاکٹ بک کے مصنف کی حدیث میں تحریف
قادیانی پاکٹ بک کے مصنف ملک عبدالرحمن قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کو ایک شخصیت ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث نقل کی اور اس میں سے ”والمہدی فی وسطھا“ کے الفاظ حذف کر دیے تاکہ لوگوں کو دھوکا دیا جا سکے اور یوں اپنے یہودی ہونے کا ثبوت دے دیا۔
(قادیانی پاکٹ بک صفحہ 240 از ملک عبدالرحمن قادیانی گجراتی)
اور اس کے ساتھ ساتھ پاکٹ بک کے مصنف نے ان کتابوں کے حوالے بھی لکھے جہاں یہ حدیث لکھی ہے تو جب میں نے ان مذکورہ حوالوں میں اس حدیث کو دیکھا تو پتہ
چلا کہ اس قادیانی نے کس طرح حدیث میں تحریف کی ہے۔ حدیث کے الفاظ یوں ہیں: عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لن تهلک امة انا فی اولها و عیسٰی بن مریم فی آخرها والمهدی فی وسطها.
(کنز العمال جلد 14 صفحہ 266 حدیث 38671)
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ترجمہ: ”وہ امت کبھی ہلاک نہیں ہوگی جس کے اوّل میں مَیں ہوں اور آخر میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور درمیان میں مہدی علیہ الرضوان۔“
قارئین کرام! دیکھیے قادیانی اپنے مقصد کے لیے احادیث میں تحریف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہودی کہیں کے۔
صدیقہ کون؟
آنجہانی مرزا قادیانی نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا کہا، آئیے! مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی زبانی سنتے ہیں:
- ”مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا: ایک دفعہ
میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لیے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں ”بھرجائی کانیے سلام آکھناں واں!“ جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔“
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 220 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں مرزا قادیانی کی نفرت و کدورت اور بغض و عناد آپ نے ملاحظہ کیا۔ اب ملکہ وکٹوریہ کے بارے میں مرزا قادیانی کے خیالات و نظریات ملاحظہ کیجیے:
- ”اُس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا۔ کہ ہم
نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اِس دن کے
آنے سے مسرت ہوئی، کون اس کو اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے، خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے!
وہ خدا جو زمین کو بنانے والا اور آسمانوں کو اونچا کرنے والا اور چمکتے ہوئے سورج اور چاند کو ہمارے لیے کام میں لگانے والا ہے۔ اس کی جناب میں ہم دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو جو اپنی رعایا کی مختلف اقوام کو کنارِ عاطفت میں لیے ہوئے ہے جس کے ایک وجود سے کروڑہا انسانوں کو آرام پہنچ رہا ہے۔ تادیر گاہ سلامت رکھے۔ اور ایسا ہو کہ جلسہ جوبلی کی تقریب پر (جس کی خوشی سے کروڑ ہا دِل برٹش انڈیا اور انگلستان کے جوش نشاط میں ان پھولوں کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو نسیم صبا کی ٹھنڈی ہوا سے شگفتہ ہو کر پرندوں کی طرح اپنے پروں کو ہلاتے ہیں) جس زور شور سے زمین مبارکباد کے لیے اُچھل رہی ہے۔ ایسا ہی آسمان بھی اپنے آفتاب و ماہتاب اور تمام ستاروں کے ساتھ مبارکبادیاں دیوے۔ اور عنایت صمدی ایسا کرے کہ جیسا کہ ہماری عالی شان محسنہ ملکہ معظمہ والی ہند و انگلستان اپنی رعایا کے تمام بوڑھوں اور بچوں کے دلوں میں ہر دلعزیز ہے۔ ویسا ہی آسمانی فرشتوں کے دلوں میں بھی ہر دلعزیز ہو جائے۔ وہ قادر جس نے بیشمار دنیوی برکتیں اس کو عطا کیں۔ دینی برکتوں سے بھی اسے مالا مال کرے۔ وہ رحیم جس نے اس جہان میں اس کو خوش رکھا، اگلے جہان میں بھی خوشی کے سامان اس کے لیے عطا کرے۔ خدا کے کاموں سے کیا بعید ہے کہ ایسا مبارک وجود جس سے کروڑہا بلکہ بے شمار نیکی کے کام ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ اس کے ہاتھ سے یہ آخری نیکی بھی ہو جائے کہ انگلستان کو رحم اور امن کے ساتھ انسان پرستی سے پاک کر دیا جائے۔ تا فرشتوں کی روحیں بھی پھول اُٹھیں۔ کہ اے موحدہ صدیقہ تجھے آسمان سے بھی مبارکباد جیسا کہ زمین سے!!“
(تحفہ قیصریہ صفحہ 2, 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12، صفحہ 254، 255 از مرزا قادیانی)
حکومت بتائے!
سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا کی بیوی کو ام
المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید، محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے مسلمانوں کے پُرزور مطالبہ پر ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR) (1718 میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین وقانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ
بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا: ’’ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردّعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہوسکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضورﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ ردّعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرمؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقضِ امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہوسکتا ہے۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار 1718 SCMR 1993ء)
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا: ’’ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی
مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پرامن طور پر مناتے ہیں۔‘‘
(ظہیر الدین بنام سرکار 1718 SCMR 1993ء)
افسوس ہے کہ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ حکومت بتائے ...... ان حالات میں ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
مرزا قادیانی کی پہلی کتاب، دجالوں کے پریس میں
مرزا قادیانی کی سب سے پہلی کتاب ”براہین احمدیہ“ ایک پادری کے مطبع میں چھپی تھی۔ مرزا قادیانی کے نزدیک دجال سے مراد ہے ”پادریوں کا گروہ“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب دجالوں سے کیوں چھپوائی؟ حوالہ ملاحظہ کیجیے:
- ”میں تو براہین احمدیہ کے چھپنے کے وقت ایسا گمنام شخص تھا کہ امرتسر میں ایک
پادری کے مطبع میں جس کا نام رجب علی تھا، میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی“۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 79، 80 از مرزا قادیانی)
قادیانی اشتہار
قادیانیوں کے لیے ایک نئے نبی کی ضرورت ہے کیونکہ مرزا قادیانی ایکسپائر ہوگیا ہے۔ خوبصورت ہو، ہینڈسم ہو، دونوں آنکھیں برابر ہوں، ٹانک وائن نہ پیتا ہو، سو سو بار پیشاب نہ کرے، دادا کی پینشن نہ چرائے، پیشاب صاف کرنے والے مٹی کے ڈھیلے نہ کھائے، الٹی اور سیدھی جوتی میں فرق جانے، مرغا سر پر نہ باندھے، اپنے آپ کو نطفے سے نہ تشبیہہ دے ...... درخواستیں مطلوب ہیں۔ معیار پر پورا اترنے والوں کو ہی کال کی جائے گی۔
قادیانی خواتین و حضرات ذرا سوچیے!
بقول مرزا قادیانی: اللہ اس سے ہمکلام ہوتا تھا اور ہمکلامی بھی اس طرح کہ ” آج تمہیں بذریعہ ڈاک پانچ روپے آئیں گے۔ یا دس روپے آئیں گے وغیرہ“ (مفہوم لکھا ہے اصل الفاظ تذکرہ میں محفوظ ہیں) یا پھر، اس کمرے سے نکل جاؤ، اس کی چھت گرنے والی ہے
وغیرہ۔ لیکن جب مرزا قادیانی کی غفلت اور جہالت نے اس کی بیٹی عصمت کی جان لے لی تو اللہ نے مرزا قادیانی کو کیوں متنبہ نہیں کیا کہ ”اے مرزا، اپنی بیٹی کو چنبیلی کا تیل نہ پلاؤ یہ شربت نہیں تیل ہے۔“ قادیانی سوچیں ایک شخص کو روپے پیسے کے الہام اور وحیاں تو عام ہوتی ہیں مگر جب انسانی جان لینے کی بات آتی ہے تو الہام اور وحی رخصت پر چلے جاتے ہیں۔
قادیانیوں سے ایک سچا مگر کڑوا سوال
کسی کی زمینی منکوحہ کی طرف کوئی نظر اُٹھا کر دیکھے تو غیرت مند انسان اسے برداشت نہیں کرتا مگر مرزائیوں کے جھوٹے نبی کی آسمانی منکوحہ کو نہ صرف مرزا اور مرزائیوں کی آنکھوں کے سامنے سلطان احمد لے گیا بلکہ اسے ساری زندگی اپنے پاس رکھا اور بچے پیدا کیے اور مرزا تو چلو بے غیرت تھا مگر کسی مرزائی نے بھی اپنی ماں کو چھڑانے کی کوششیں نہ کی......مرزے کے ماننے والوں میں کوئی غیرت مند پٹھان، کوئی جرأت مند جٹ، کوئی جوشیلا راجپوت، کوئی حیا والا باجوہ، کوئی بہادر بٹ تو ضرور ہوا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا وجہ تھی کہ سب قادیانی ایسے ہی کھسی، بے شرم، بے حس اور بے غیرت ہو گئے تھے کہ کسی کو بھی اپنی ماں کی غیرت نہ آئی۔
95 سال عمر کی دعا
آنجہانی مرزا قادیانی اپنے ایک رویا میں لکھتا ہے: ”میں ایک قبر پر بیٹھا ہوں ۔ صاحب قبر میرے سامنے بیٹھا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ آج بہت سی دعائیں امور ضروری کے متعلق مانگ لوں اور یہ شخص آمین کہتا جاوے۔ آخر میں نے دعائیں مانگنی شروع کیں جن میں سے بعض دعائیں یاد ہیں اور بعض بھول گئیں۔ ہر ایک دعا پر وہ شخص بڑی شرح صدر سے آمین کہتا تھا۔ ایک دعا یہ ہے کہ الہی ! میرے سلسلے کو ترقی ہو اور تیری نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہو اور بعض دعائیں اپنے دوستوں کے حق میں تھیں ۔ اتنے میں خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ میری عمر 95 سال ہو جاوے۔ میں نے دعا کی، اس نے آمین نہ کہی۔ میں نے وجہ پوچھی، وہ خاموش ہو رہا۔ پھر میں نے اس سے سخت تکرار اور اصرار شروع کیا یہاں تک کہ اس سے ہاتھا پائی کرتا تھا۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے کہا اچھا دعا کرو، میں آمین کہوں گا۔ چنانچہ میں نے دعا کی کہ الہی میری
عمر 95 برس کی ہو جاوے۔ اس نے آمین کہی۔ میں نے اس سے کہا کہ ہر ایک دعا پر تو شرح صدر سے آمین کہتا تھا، اس دعا پر کیا ہوگیا۔ اس نے ایک دفتر عذروں کا بیان کیا کہ یہ وجہ تھی فلاں وجہ تھی، جو میرے ذہن سے جاتا رہا مگر مفہوم بعض عذروں کا یہ تھا کہ گویا وہ کہتا ہے کہ جب ہم کسی امر کی نسبت آمین کہتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔“
(تذکرہ وحی مقدس مجموعہ وحی والہامات صفحہ 413، 414 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
امریکہ میں بااثر قادیانی کریم احمد پر قتل کا مقدمہ
”امریکی صدر بارک اوباما کی الیکشن مہم میں بھاری فنڈز دینے والے نینسی پلوسی کے ذاتی دوست اور ڈیموکریٹ سینیٹرز کو بھاری چندے دے کر امریکہ میں قادیانیت کو وائٹ ہاؤس تک لے جانے والے اہم قادیانی کریم احمد پر فراڈ اور قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ”امت“ کو دستیاب اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں مقیم قادیانی کریم احمد نے 2012ء میں اوباما کی الیکشن مہم میں ایک بلین ڈالر کا عطیہ دے کر ڈیموکریٹک پارٹی میں بے پناہ اثر و رسوخ حاصل کرلیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کریم احمد نے ان فنڈز کے بدلے میں امریکی دارالحکومت میں قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور کی آمد کا راستہ ہموار کیا اور 27 جون 2012ء کو مرزا مسرور کو نینسی پلوسی نے ڈنر دیا اور اس کا استقبال بھی کیا اور اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے کریم احمد نے امریکی ایوان میں کاکس بنوائی اور پاکستان کے خلاف خصوصی پروپیگنڈہ مہم بھی چلوائی۔ تاہم اب کریم احمد کے خلاف نہ صرف مقدمہ شروع ہوچکا ہے بلکہ گرینڈ جیوری نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے چارج شیٹ کے 2 سیٹ سیل بند کرکے عدالت میں بھجوائے ہیں۔
امریکی میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں چارج شیٹوں میں 35 الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں زیادہ الزامات ڈاکٹروں اور فارمیسی ماہرین کو رشوت دینے، انشورنس کی کک بیکس حاصل کرنے اور جعلی کلیم داخل کرنے کے ہیں جبکہ ایک الزام ایک 5 ماہ کے بچے کے قتل کا بھی ہے، جسے غیر ارادی قتل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ تمام الزامات کریمنل پروسیجر کے ہیں اور کریم احمد اور اس کے ساتھیوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ بنیادی الزام یہ ہے کہ کریم احمد نے اپنی لینڈ مارک میڈیکل مینجمنٹ کے ذریعے ایک نباتاتی کریم بنائی جسے تجربات اور بعد میں فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کرتے وقت امریکہ کے ڈاکٹروں اور فارمیسی ماہرین کو رشوت پیش کی کہ وہ یہ کریم زیادہ سے زیادہ مریضوں کو لکھ کر دیں۔ اور یہ دھندہ 2009ء سے 2013ء تک جاری رہا جبکہ دوسری جانب اس کریم احمد نے بے شمار انشورنس ایجنسیوں کو جعلی انشورنس کلیم بھجوائے اور بھاری رقم اس فراڈ سے حاصل کی۔ اس کمپنی کے غیر معمولی منافع اور کریم احمد کی جانب سے سیاسی اشرافیہ پر دولت لٹانے کے عمل نے شکوک و شبہات پیدا کیے اور بعض محکموں نے اس کے خلاف اکتوبر 2013ء سے تحقیقات شروع کردیں۔ بعد ازاں کمپنی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ بھی مارا گیا اور 17 جون 2014ء کو کیلیفورنیا کی گرینڈ جیوری نے اپنی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے دو چارج شیٹ عدالت کو بھجوا دی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ دونوں چارج شیٹ سر بمہر ہونے کے سبب تفصیلات کا علم نہیں ہوسکا مگر یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ دونوں چارج شیٹوں میں 35 الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں اس کے 15 ساتھیوں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے جن میں مائیکل روڈلف، ڈاکٹر اینڈریو جرمنسکی، بروس کرنک، ڈینیل کین، اینڈریو ایم ڈی، مائیکل رالف اور راحیل خان شامل ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق ڈاکٹر ڈینیل کین نے 2.5 ملین، ڈاکٹر اینڈریو نے 1.9 ملین، ڈاکٹر رالف نے 1 ملین اور راحیل خان نے 1 ملین ڈالر رشوت لے کر لوگوں کو غیر ضروری طور پر کریم احمد کی جعلی کریم لکھ کر دینے کا اعتراف کر لیا ہے اور انہی لوگوں نے اسے جعلی انشورنس کمپنیوں کے سلسلے میں بھی مدد کی۔ بتایا جاتا ہے کہ رضا کارانہ طور پر اقبال جرم کرنے کے باعث یہ ڈاکٹر سزا میں تخفیف اور رعایت کے مستحق قرار پاسکتے ہیں مگر ان کی گواہی سے کریم احمد کے لیے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے جس کے خلاف چارج شیٹ میں غیر ارادی قتل کا بھی الزام ہے اور اس الزام میں فارماسسٹ مائیکل روڈلف اور ڈاکٹر جرمنسکی کو بھی شریک ملزم قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق چونکہ چارج شیٹ سربمہر ہے، اس لیے زیادہ تفصیل نہیں معلوم ہوسکی کہ یہ قتل کیسے اور کب کیا گیا۔ تاہم امریکی ٹی وی چینل NBC4-1 کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ 3 فروری 2013ء کو لاس اینجلس کاؤنٹی اسپتال میں ایک 5 ماہ کے بچے اینڈریو کیلکوس کی موت واقع ہوئی تھی جسے انسانی غلطی سے قتل قرار دیا
گیا تھا کیونکہ 5 ماہ کے مریض بچے کو دی گئی ادویات غیر معیاری تھیں جس کے باعث وہ ہلاک ہوگیا۔ 1-NBC4 کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر، فارماسسٹ اور ادویات فراہم کرنے والی کمپنی کے مالک کی حیثیت سے کریم احمد، مائیکل روڈلف اور ڈاکٹر اینڈریو اس قتل کے شریک ملزم قرار دیے جا رہے ہیں اور یہ دونوں چارج شیٹس جلد عدالت میں زیر بحث آئیں گی اور اس معاملہ میں گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے امریکی میڈیا نے کریم احمد کی کمپنی کا موقف بھی شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الزامات درست نہیں ہیں۔ کریم احمد ان الزامات کا دفاع کریں گے۔ مگر دوسری جانب چناب نگر سے دستیاب اطلاعات کے مطابق قادیانیت کے مرکز پر گویا یہ خبر بجلی بن کر گری اور قادیانی مرکز کریم احمد کی گرفتاری کو امریکہ میں اپنے مفادات کے لیے تباہ کن خیال کر رہا ہے اور انہیں خطرہ ہے کہ کریم کے ذریعے جس طرح سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا تھا اور قادیانیت کو امریکیوں کی خواہشات کے مطابق فروغ دینے کی کوشش کی جارہی تھی، یہ سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔ اس لیے میڈیا میں اس خبر کو چھپانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔“ (معروف صحافی سیف اللہ خالد کی انکشافاتی تحریر، روزنامہ امت کراچی 26 جون 2014ء)
مرزائیوں کی چالاکیاں
قادیانی مربی حضرات مرزا قادیانی کے بارے میں اکثر یہ بھونڈی دلیل دیتے ہیں کہ ہر نبی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ان مرزائیوں سے گزارش ہے کہ نبی تو بڑی دور کی بات ہے، سب سے پہلے آپ مرزا قادیانی کو اس کی اپنی کتابوں سے ایک انسان ثابت کر دو۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنا مذاق خود اڑا رہا ہے، ہم اس کا کیا مذاق اڑائیں گے۔ کہیں مرزا قادیانی خود کو بشر کی جائے نفرت کہتا ہے تو کہیں خود کو اللہ اور کبھی اللہ کا بیٹا تو کہیں عورتوں کے ننگے خواب بیان کرتا اور کہیں اپنے احتلام کا ذکر، کبھی اپنی جماعت کو سوروں کی جماعت کہتا ہے، کہیں گندی گالیوں میں خود ہی لپٹا جاتا ہے تو کہیں انگریزوں کی اطاعت کا درس دیتا ہے اور کہیں انبیاء کرام علیہم السلام سے تقابل کرتے ہوئے، خود کو افضل بھی کہتا ہے اور خود شراب پینے کا دعویٰ کرتا ہے اور کبھی عورتوں کی محبت میں نہ پوری ہونے والی پیشگوئیاں اللہ سے منسوب کرتا ہے۔ مرزائیو! خود بتاؤ کون کس کا مذاق اڑا رہا ہے؟
تنظیمی چندے پر قادیانی خلیفہ کی عیاشی کے ریکارڈ
قادیانیوں کے سربراہ اور نام نہاد خلیفہ پنجم نے تنظیم کے چندے پر عیاشی کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں جبکہ قادیانیوں کی جماعت نے پیسے کے زور پر افریقہ کے غریب مسلمانوں کو مرتد بنانے کے سلسلے میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی اپنا نیٹ ورک مضبوط کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں قادیانی جماعت کو بعض یورپی ممالک کی سرکاری سپورٹ بھی حاصل ہے جس کا مقصد اسلام کا اصل چہرہ مسخ کرنے کی ناپاک کوشش ہے۔
جرمنی میں موجود قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والے ایک سابق رکن نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور کی عیاشیوں پر قادیانی جماعت کے اندر خاصی بے چینی پائی جاتی ہے اور اس ایشو پر آنے والے برسوں میں بغاوت ہوسکتی ہے۔ مذکورہ سابق رکن نے بتایا کہ مرزا مسرور اس وقت جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے پوش علاقے میں اپنے لیے ایک عالیشان محل تعمیر کرا رہا ہے، جسے ”بیت المحمود“ کا نام دیا گیا ہے۔ محل کی تعمیر کے تمام اخراجات قادیانی جماعت کے چندے سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ سات سے آٹھ ایکڑ اراضی پر محیط اس محل کی تعمیر دو برس پہلے شروع کی گئی تھی، اور رواں برس اس کی تعمیر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ محل کی تعمیر کا تخمینہ ساڑھے تین سو ملین یورو لگایا گیا ہے۔ جس میں بیش قیمت فرنیچر کی خریداری شامل ہے۔ محل میں درجنوں کمروں کے علاوہ جدید ترین ڈرائنگ رومز اور خواب گاہیں بھی ہیں۔ محل کا ایک حصہ سرونٹ کوارٹرز کے لیے مخصوص ہوگا، جبکہ ایک حصے میں ”خلیفہ“ کی خدمت کے لیے ”قادیانی حوریں“ ہوں گی۔ سابقہ رکن نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں ذاتی محل کی تعمیر کے علاوہ ناروے میں مرزا مسرور ایک ذاتی گیسٹ ہاؤس بھی تعمیر کرا رہا ہے۔ ناروے کے شہر اوسلو کے مہنگے ترین علاقے فرسٹ (Furust) میں یہ گیسٹ ہاؤس تقریباً 6 کنال اراضی پر تعمیر کیا جارہا ہے جس کا 30 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ گیسٹ ہاؤس کی تعمیر تین برس پہلے شروع کی گئی تھی اور اس پروجیکٹ کو اگلے برس تک پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تعمیری کام میں تاخیر کا سبب بتاتے ہوئے سابقہ رکن کا کہنا تھا کہ مرزا مسرور کے بادشاہوں سے بڑھ کر شاہانہ اخراجات اور افریقہ کے غریب ممالک میں سیاہ فام مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے چندے کی رقم کے بے دریغ استعمال نے قادیانی جماعت کے نام نہاد خلیفہ کا ہاتھ وقتی طور پر تنگ کر دیا تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ اوسلو
میں واقع قادیانی جماعت کی قدیم عبادت گاہ جسے ”مسجد نور“ کا نام دیا گیا تھا۔ مرزا مسرور نے 15 ملین نارویجن کرون کے عوض بینک میں گروی رکھوا دی اور یہ سارا پیسہ اپنے ذاتی گیسٹ ہاؤس کی تعمیر پر لگا دیا۔ جبکہ یورپ میں مزید نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کے نام پر دنیا بھر میں پھیلے قادیانی جماعت کے لوگوں سے اضافی چندہ لیا گیا۔ اس میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے زیور بھی چندے کے نام پر دے دیئے۔ اب یہ تمام پیسہ بھی مرزا مسرور ذاتی گیسٹ کی تعمیر پر خرچ کر رہا ہے۔ طویل وعریض گیسٹ ہاؤس کا ایک حصہ سوئمنگ پول اور ایک حصہ ہیلی پیڈ کے لیے بھی مخصوص ہے۔ سابقہ رکن نے بتایا کہ اوسلو کا قادیانی عبادت خانہ گروی رکھوانے کے بعد اس میں بچوں کا اسکول کھول لیا گیا ہے۔
قادیانی جماعت میں چندہ وصولی کا طریقہ کار سمجھنے کے لیے ”امت“ کو لندن میں قادیانیوں کے اہم ذریعے سے رابطہ کرنا پڑا۔ لندن میں موجود ذریعے نے بتایا کہ قادیانی جماعت میں چندہ وصولی کے چار طریقے رائج ہیں۔ (1) چندہ عام (2) چندہ مجلس (3) تحریک جدید (4) وقف جدید۔ چندہ عام کے تحت دنیا بھر میں پھیلے قادیانی جماعت کے ارکان ہر ماہ اپنی تنخواہ کا 10 فیصد چندے کے طور پر جمع کراتے ہیں۔ جبکہ چندہ مجلس کے نام پر قادیانی جماعت کے ارکان کی تنخواہوں سے ماہانہ دو فیصد رقم وصول کی جاتی ہے۔ دوسری جانب تحریک جدید کے تحت قادیانی جماعت کے مالدار لوگوں سے بھاری رقم لی جاتی ہے۔ یہ فنڈ قادیانیوں کے خلیفہ دوئم مرزا بشیر الدین نے قائم کیا تھا اور اس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کو مرتد بنانے کے مشن پر جانے والے ارکان کی مالی مدد کرنا تھی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اسی طرح وقف جدید کے نام پر قادیانیوں کے خلیفہ سوئم مرزا ناصر نے فنڈ قائم کیا تھا۔ وقف جدید کے تحت وصول کی جانے والی بھاری رقوم کو دنیا بھر میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ذریعے کے بقول چندہ وصولی کے ان چاروں طریقوں سے سالانہ اربوں روپے جمع کیے جاتے ہیں جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ یہ ساری رقم مرزا مسرور کے تصرف میں ہوتی ہے اور کوئی اس کی بابت پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا۔ کچھ عرصے پہلے قادیانی جماعت کے چند ارکان نے یہ حساب کتاب جاننے کی کوشش کی تھی، نتیجتاً انہیں قادیانی جماعت سے باہر کر دیا گیا۔ اس چندے کی رقم پر مرزا مسرور کیسے عیاشی کر رہا ہے؟ اس کی ایک ہلکی سی جھلک قادیانیت سے تائب ہونے والے سابق رکن کی زبانی ملاحظہ
فرما ئیں ۔ سابقہ رکن نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کرنا، لندن میں مقیم مرزا مسرور کے معمول کا حصہ ہے اور وہ ایک دورے پر 80 سے 90 کروڑ روپے خرچ کرتا ہے۔ عموماً اس کے ہمراہ ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل ”کابینہ“ ہوتی ہے جس میں زیادہ تر خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔ مرزا مسرور نے تازہ ترین دورہ رواں برس کے وسط میں جرمنی کا کیا تھا۔ سابقہ رکن کے بقول پچھلے برس آسٹریلیا کے دورے پر مرزا مسرور نے 10 ملین ڈالر (تقریباً 98 کروڑ 10 لاکھ پاکستانی روپے) پھونک ڈالے ۔ اس نا قابل یقین اخراجات کا سبب بتاتے ہوئے سابقہ رکن کا کہنا تھا کہ ہر غیر ملکی دورے پر مرزا مسرور چارٹرڈ طیارے استعمال کرتا ہے اور جب تک دورہ جاری رہتا ہے، کرائے پر لیے گئے جدید سہولتوں سے آراستہ یہ طیارے متعلقہ ممالک کے ائیر پورٹس پر کھڑے رہتے ہیں۔ بعد ازاں ان طیاروں میں ہی مرزا مسرور اور اس کی نام نہاد کابینہ کے لوگوں کی واپسی ہوتی ہے۔ سابقہ رکن کا کہنا تھا کہ جرمنی میں سالانہ خطاب کی تقریب اور دیگر مواقع پر بھی مرزا مسرور، قادیانی جماعت کے لوگوں کو سادگی کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم تنظیم کے چندے میں دی جائے، تاکہ دنیا بھر میں قادیانیت کو مزید تیزی کے ساتھ پھیلایا جائے۔ اس کے برعکس اپنے ذاتی اخراجات کے حوالے سے اس نے ”رنگیلا شاہ“ کو بھی مات دے دی ہے۔ سابقہ رکن کے بقول مرزا مسرور جو شیروانی ایک بار پہن لے، دوبارہ اسے ہاتھ نہیں لگاتا۔ مرزا مسرور کے خاندان کے تقریباً تمام لوگ اس وقت ارب پتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے ربوہ میں عالیشان محل ہیں۔ جہاں لوڈشیڈنگ کا کوئی تصور اس لیے نہیں ہے کہ ان محلات کو دیو ہیکل جنریٹر بجلی فراہم کرتے ہیں۔
قادیانیوں کی احمدیہ جماعت کو مرزا مسرور کے خاندان نے ”ہائی جیک“ کر رکھا ہے۔ اور پچھلی کئی دہائیوں سے تنظیم کی نام نہاد خلافت کی پگڑی اسی خاندان کے کسی فرد کے سر پر سج رہی ہے۔ اس ایشو پر بھی قادیانیوں کی نئی نسل میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے، بلکہ قادیانی جماعت کے سابق رکن کے بقول قادیانیوں کی نئی نسل کی اکثریت نے یہ ادراک کرلیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام میں انتشار پھیلانے کے لیے فتنہ کھڑا کیا تھا اور یہ کہ پاکستان میں نو جوانوں کی ایک بڑی تعداد قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتی ہے کیونکہ حقیقت ان پر آشکار ہو چکی ہے۔ تاہم انہیں خدشہ ہے کہ معاشرہ شاید انہیں قبول نہیں
کرے گا۔ مذکورہ سابقہ رکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر موثر طریقے سے تبلیغ کی جائے اور اگر اس سے قادیانیوں کی نئی نسل عدم تحفظ کے خوف سے باہر نکل آتی ہے تو 70 فیصد سے زائد نوجوان قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال سے قادیانیوں کی موجودہ قیادت واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس نے اپنی ساری توجہ افریقہ کے غریب ممالک اور یورپ پر مرکوز کر دی ہے، جہاں مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں کو قادیانی بنایا جا رہا ہے۔
قادیانی جماعت کا پہلا نام نہاد خلیفہ حکیم نور الدین تھا۔ اس کے بعد جتنے خلیفہ آئے، وہ مرزا مسرور کے خاندان میں سے تھے۔ ان میں خلیفہ دوئم مرزا بشیر الدین، خلیفہ سوم ناصر اور خلیفہ چہارم مرزا طاہر شامل ہیں۔ جبکہ مرزا مسرور قادیانیوں کا پانچواں نام نہاد خلیفہ ہے۔ قادیانی جماعت کے سابق رکن کے بقول قادیانی جماعت میں خلیفہ انتخاب ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے تاہم جب پانچواں خلیفہ منتخب کرنے کے لیے الیکشن جاری تھا تو ایک شخص نے جو اس وقت لندن میں قادیانی عبادت گاہ کا انچارج ہے، یہ بے پرکی اڑائی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خواب میں آکر اسے کہا ہے کہ نیا خلیفہ مرزا مسرور کو بنایا جائے۔ حالانکہ اس نام نہاد خلافت کے تین امیدوار تھے اور ووٹنگ کے ذریعے مرزا مسرور کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ سابق رکن کے مطابق خواب بیان کرنے والے شخص کو باقاعدہ مرزا مسرور کے خاندان کی طرف سے اسائنمنٹ ملی تھی۔ بعد میں اسے خوب نوازا گیا۔ اس وقت مرزا مسرور کے خاندان کی اکثریت ارب پتی ہے اور تنظیم کو ملنے والے چندے پر عیاشی کر رہی ہے جبکہ مرزا مسرور نے اپنی ”کابینہ“ میں بھی اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کر رکھا ہے۔ اپریل 2003ء میں مرزا مسرور کو قادیانیوں کی خلافت ملی اور 2004ء میں وہ لندن چلا آیا۔ اس سے اگلے برس اس بنیاد پر اسے سیاسی پناہ مل گئی کہ پاکستان میں اس کی جان کو خطرہ ہے۔
مرزا مسرور کی ابتدائی زندگی سے واقف ایک ذریعے نے ”امت“ کو بتایا کہ 1950ء میں پیدا ہونے والا قادیانیوں کا پانچواں ”خلیفہ“ شروع سے ہی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث اور عیش وعشرت کا دلدادہ رہا ہے۔ مرزا مسرور نے فیصل آباد زرعی یونیورسٹی سے ایگری کلچرل میں ماسٹر کیا۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک بار طالبات کو چھیڑنے پر اس کی نہ صرف جم کر پٹائی کی گئی بلکہ یونیورسٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ بعد ازاں توبہ کرنے اور آئندہ اس قسم کی کوئی غیر اخلاقی حرکت نہ کرنے کی یقین دہانی پر اسے یونیورسٹی
میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت ملی۔ ذریعے کے بقول قادیانیوں کے حلقوں میں بہت سوں کو اس واقعہ کا علم ہے لیکن کسی کو اسے زبان پر لانے کی اجازت نہیں کہ انہیں باور کرا دیا گیا ہے کہ ”خلیفہ“ کی کردار کشی کی سزا تنظیم سے اخراج ہے۔
لندن میں موجود ذریعے نے بتایا کہ برطانیہ میں قادیانیوں کے پرائیویٹ ٹی وی چینل ایم ٹی اے کا ڈائریکٹر نصیر شاہ اور کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک سابق سرکاری ملازم زرتشت منیر، مرزا مسرور کے خاص لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مرزا مسرور نے اسپین کا دورہ کیا تھا۔ اس کے ہمراہ نصیر شاہ نے بھی جانا تھا تاہم نشے میں دھت نصیر شاہ کو لندن پولیس نے اس وقت دھر لیا، جب ایئر پورٹ کی طرف جاتے ہوئے اس کی گاڑی الٹ گئی۔ طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ نصیر شاہ نے چار بوتلیں چڑھا رکھی تھیں۔ جس پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ (روزنامہ ”امت“ کراچی جولائی 2014ء)
قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کا عقیدہ
1908ء میں مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد حکیم نورالدین خلیفہ بنا۔ 1914ء میں اس کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت میں جھگڑا پیدا ہو گیا۔ مرزا قادیانی کا دیرینہ دوست مولوی محمد علی لاہوری چاہتا تھا کہ وہ قادیانی خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے خاندان والے چاہتے تھے کہ ”خلافت“ خاندان سے باہر نہ جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اس قادیانی گدی پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد محمد علی لاہوری اپنے ساتھیوں سمیت قادیان چھوڑ کر لاہور آ گیا اور یہاں اپریل 1914ء میں ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام“ کے نام سے نئی تنظیم بنا کر کام شروع کر دیا۔ لاہوری جماعت کا عقیدہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ محمد علی لاہوری مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت کو نہ صرف مانتا تھا بلکہ پورے زور وشور کے ساتھ اسکی تبلیغ و تشہیر بھی کرتا تھا۔ اس نے پورے زور قلم کے ساتھ اپنے پرچہ میں تحریر کیا:
- ”اور آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ
میں دنیا کی اصلاح کے لیے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے، وہ بھی شہرت پسند نہیں بلکہ ایک عرصہ دراز تک جب تک اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ لوگوں سے بیعت توبہ لیں آپ کو کسی سے
کچھ سروکار نہ تھا اور سالہا سال تک گوشہ خلوت سے باہر نہیں نکلے، یہی سنت قدیم سے انبیاء کی چلی آئی ہے۔“ (ریویو آف ریلیجنز جلد 5، شمارہ نمبر 4، صفحہ 132، اپریل 1906ء)
- ”آنحضرت ﷺ کے بعد خدا تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند
کردیے لیکن آپ کے متبعین کامل کے لیے جو آپ کے رنگ میں رنگین ہوکر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔“
(ریویو آف ریلیجنز جلد 5، شمارہ نمبر 5، صفحہ 186، مئی 1906ء)
- ”الغرض جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے گا، اس کو اس امر کے تسلیم کرنے میں
ذرا بھی تامل نہ ہوگا کہ حضرت مرزا غلام احمد اسی پاک گروہ میں سے عظیم الشان فرد ہے جو انبیاء کے نام سے ممتاز ہے۔“ (ریویو آف ریلیجنز جلد 9، شمارہ نمبر 7، صفحہ 252، جولائی 1910ء)
- جھوٹے مدعی نبوت کو نصرت نہیں دی جاتی بلکہ اسے ہلاک کرکے نیست و نابود کردیا
جاتا ہے۔...... اس طرح مرزا صاحب کے ساتھ نہیں کیا۔ پس جس شخص کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کے مقرر کردہ قوانین کی رو سے جھوٹوں والا سلوک نہیں کرتا بلکہ صادقوں اور سچے رسولوں والا سلوک کرتا ہے، اس کی صداقت پر شبہ کرنا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنا اور اس کے کلام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت کسی کی صداقت کا نہیں ہوسکتا اور اگر یہ ثبوت کافی نہیں تو پھر کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہوسکے گی۔“
(ریویو آف ریلیجنز جلد 7، شمارہ نمبر 7، صفحہ 294، جولائی 1908ء)
- ”سب سے اوّل یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر ایک نبی نے جو خدا کی طرف سے آیا
ہے، دو باتوں پر زور دیا ہے، اوّل یہ کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں اور دوسرا یہ کہ اُس کی نبوت کو اور اُس کے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کر لیں۔ چنانچہ قرآن شریف کے پڑھنے والے پر یہ امر پوشیدہ نہیں۔ ان میں اوّل الذکر امر تو اس کے مشن کا اصل مقصد ہوتا ہے اور ثانی الذکر کا تسلیم کرنا اس کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا پر زندہ ایمان بغیر نبی کو ماننے کے پیدا نہیں ہو سکتا............ سو یاد رکھنا چاہیے کہ بعینہٖ اُسی قدیم سنت الٰہی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو بھی مبعوث فرمایا ہے۔ سو آپ کا اپنے دعوے کو پیش کرنا اس لیے نہیں کہ یہ آپ کے مشن کا اصل مقصد ہے بلکہ یہ تو ایک ذریعہ اس مقصد تک پہنچنے کا ہے۔ چنانچہ اس امر کو آپ بارہا اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان کر
چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی میرے مامور فرمانے سے غرض تو صرف یہ ہے کہ تا لوگوں کو اس کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا ہو اور وہ گناہ سے نجات حاصل کریں۔ باقی رہا موت مسیح کا مسئلہ یا ایسے ہی اور مسائل یہ تو اتفاقی بحثیں ہیں جو درمیان میں آگئی ہیں۔“
(ریویو آف ریلیجنز جلد 4، شمارہ نمبر 2، صفحہ 465، 466، دسمبر 1905ء)
- ❑ ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے
ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے، خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے، حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔“ (پیغام صلح 16 اکتوبر 1913ء ص 2)
- ❑ ”ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ
حضرت مسیح موعود و مہدی موعود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لیے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر، ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے“۔
(پیغام صلح 7 ستمبر 1913ء ص 3)
- ❑ ”اس امر کو آپ (مرزا قادیانی) بارہا اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان کر چکے
ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی میرے مامور فرمانے سے غرض تو صرف یہ ہے کہ تا لوگوں کو اس کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا ہو اور وہ گناہ سے نجات حاصل کریں۔ باقی رہا موت مسیح کا مسئلہ یا ایسے ہی اور مسائل، یہ تو اتفاقی بحثیں ہیں جو درمیان میں آگئی ہیں۔
(ریویو آف ریلیجنز، دسمبر 1905ء جلد 4، نمبر 12)
- ❑ ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود
یعنی (مرزا قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لیے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔“
(اخبار پیغام صلح جلد 1، شمارہ نمبر 25، صفحہ 3، 7 ستمبر 1913ء)
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کی لاہوری جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیح موعود‘‘ مانتی ہے۔ جبکہ ’’مسیح موعود‘‘ نبی ہوں گے۔ قرآن وحدیث کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور شریعت محمدیہ ﷺ کی اتباع کریں گے جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن وسنت میں جس مسیح کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے اور آچکا ہے۔ اس تناظر میں بھی لاہوری جماعت مرزا قادیانی کو نبی مانتی ہے۔ 7 ستمبر 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے لاہوری گروپ کے صدر، صدر الدین پر جرح کرتے ہوئے نہایت دلچسپ نکتہ اُٹھایا کہ آپ (لاہوری جماعت) 1914ء تک قادیانی عقائد پر ڈٹے رہے۔ 1914ء میں قادیانی جماعت کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین کے بعد خلیفہ کے انتخاب پر آپ کا جھگڑا ہوا۔ محمد علی لاہوری جب خلیفہ نہ بن سکے تو انہوں نے قادیان سے لاہور آکر اپنی الگ جماعت بنالی اور موقف اختیار کیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کا جھگڑا خلافت کے مسئلہ پر مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود سے تھا مگر آپ نے سٹیٹس مرزا قادیانی کا کم کردیا۔ یعنی نبی سے مجدد پر لے آئے۔ اس پر پورا ایوان کشت زعفران بن گیا۔ بقول پروفیسر محمد الیاس برنی: ’’قادیانیوں کی ان دونوں جماعتوں میں درحقیقت کوئی فرق نہیں بلکہ یہ اختلاف اور نزاع صرف اقتدار کا ہے۔ اگر مولوی محمد علی کو مرزا محمود کی جگہ خلافت مل جاتی تو وہ بھی وہی کہتا جو عام قادیانی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ان دونوں جماعتوں (ربوی جماعت اور لاہوری جماعت) میں صرف اتنا فرق ہے کہ ایک کا رنگ گہرا عنابی اور دوسرے کا ہلکا گلابی ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ بناوٹی ہے۔‘‘
(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ از پروفیسر محمد الیاس برنی)
قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا محمود، لاہوری قادیانیوں کی منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتا ہے:
- □ ’’مفتی محمد صادق صاحب ومولوی صدر الدین صاحب یکے از رفقائے مولوی محمد علی
ایک تبلیغی دورہ پر بھیجے گئے تھے۔ اس دورہ کے دوران میں مولوی شبلی صاحب نعمانی بانی ندوہ
سے بھی ان کو ملاقات کا موقع ملا۔ سلسلہ گفتگو میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کا بھی ذکر آیا اور جناب مولوی شبلی صاحب کے سوال پر ان صاحبان نے جواب دیا کہ ہم مرزا صاحب کو لغوی معنوں میں نبی مانتے ہیں۔ گو یہ جواب درست تھا۔ کیونکہ لغوی معنے اور شرعی اصطلاح ایک ہی ہے۔ مگر چونکہ یہ جواب ایک رنگ اخفاء کا رکھتا تھا۔ اور اس طرف اشارہ ہوتا تھا کہ گویا خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی کے کچھ اور معنے ہیں۔ مجھے ناپسند ہوا اور مجھے خوف ہوا کہ یہ طریق جماعت میں عام نہ ہو جائے خصوصاً جبکہ میں نے دیکھا کہ اس سال چند دنیاوی تحریکوں (مثلاً مسلم یونیورسٹی) کی رو میں بہہ کر بعض احمدی اپنے مرکز سے ہٹ رہے ہیں تو میں اس جواب سے اور بھی ڈرا اور میں نے چاہا کہ سالانہ جلسہ کے موقع پر خاص طور پر اپنی جماعت کو توجہ دلاؤں۔ حضرت خلیفہ اوّل اس تقریر کے موقع پر موجود نہ تھے مگر خواجہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب موجود تھے۔ ان لوگوں کی موجودگی میں تمام جماعت کے روبرو میں نے اس موضوع پر تقریر کی اور میری یہ تقریر اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ میں ہمیشہ حضرت مسیح موعود کو نبی سمجھتا رہا ہوں۔ چند فقرات اس تقریر کے جو 19 جنوری 1911ء کے پرچہ بدر میں شائع ہوچکی ہے، میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔
- ”وہی خدا ہے جس نے اپنے فضل سے تمہیں توفیق دی کہ تم ایک نبی کی اتباع
کرو۔“ (بدر جنوری 1911ء صفحہ 6، کالم 3)
پھر احمدیوں اور غیر احمدیوں کے متعلق لکھا ہے۔
- ”سوداگروں کے درمیان بھی میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ ایک جنس ہی ہے تو بھی وہ
کہتا ہے۔ نہیں جی ہمارا غلہ خاص قسم کا ہے اور تم تو دونوں فریقوں میں بین فرق دیکھتے ہو اور پھر تم میں سے بعض ہیں جو کہہ دیتے ہیں کچھ فرق نہیں۔ کیا یہ فرق نہیں کہ تم ایک نبی کے متبع ہو اور دوسری قوم ایک نبی کی مکذب ہے۔“ (بدر 19 جنوری 1911ء صفحہ 6)
یہ بھی یاد رکھو کہ مرزا صاحب نبی ہیں اور بحیثیت رسول اللہ کے خاتم النبیین ہونے کے آپؐ کی اتباع سے آپ کو نبوت کا درجہ ملا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اور کتنے لوگ یہی درجہ پائیں گے۔ ہم انہیں کیوں نبی نہ کہیں۔ جب خدا نے انہیں نبی کہا ہے۔ چنانچہ آخری عمر کا الہام ہے۔ کہ يَاَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ اَوَالْمُعْتَرَ۔ (تذکرہ صفحہ 746 ایڈیشن چہارم)
- ”جو مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے وہ خدا کی درگاہ سے مردود ہے
کیونکہ خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا ۔‘‘ ( بدر 19 جنوری 1911ء صفحہ 7)
- ”تم اپنے امتیازی نشان کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ کو نبی مانتے ہو اور
تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں۔ مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کونسا اسلام پیش کرو گے۔ کیا جو خدا نے تمہیں نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا ، وہ چھپاؤ گے ۔“
- ”ایک نبی ہم میں بھی خدا کی طرف سے آیا۔ اگر اس کی اتباع کرینگے تو وہی پھل
پائینگے جو صحابہ کرام کے لیے مقرر ہو چکے ہیں ۔ ( بدر 19 جنوری 1911ء صفحہ 7)
ان عبارتوں سے میرا مذہب نبوت مسیح موعود کے متعلق بخوبی ظاہر ہے اور یہ تقریر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ اور چونکہ میری تقریر کے بعد صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ سنائے جانے اور چندہ کی تحریک کا وقت تھا اور یہ لوگ انجمن کے عہدہ دار تھے، اس لیے اس وقت خاص طور پر جلسہ میں موجود تھے اور نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت تک ہمیں تمہارے خیالات کا علم نہ تھا۔
غرض 1906ء سے لے کر 1910ء کے دسمبر تک میری مختلف تحریرات اس پر شاہد ہیں کہ میں ہمیشہ سے حضرت مسیح موعود کو نبی مانتا رہا ہوں۔ اس کے بعد 1911ء کے مارچ میں، میں نے ایک مضمون حضرت مسیح موعود کے نہ ماننے والوں کے درجہ کے متعلق لکھا جو اپریل 1911ء کے تشحیذ اور 4 مئی 1911ء کے بدر اور 14 مئی 1911ء کے الحکم میں شائع ہوا۔ اور اس کے بعد ایک لمبا سلسلہ مضامین اور تقریروں کا شروع ہو گیا جس کا انکار خود مولوی محمد علی صاحب نے بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں۔“۔
(آئینہ صداقت صفحہ 125، مندرجہ انوارالعلوم جلد 6 صفحہ 125 از مرزا بشیرالدین محمود قادیانی)
معروف دانشور جناب شکیل عثمانی اپنے ایک گرانقدر مضمون ”غامدی صاحب کا جواب بیانیہ، دستور پاکستان اور قادیانیت“ میں لکھتے ہیں:
”مولوی محمد علی صاحب لاہوری اور جماعت احمدیہ لاہور مرزا صاحب کو صرف مجدد نہیں مانتے بلکہ انہیں مسیح موعود بھی مانتے ہیں اور اس نکتے پر احمدیت کی دونوں شاخوں کا اتفاق ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی زندگی میں ان کے حکم پر ایک رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ قادیان سے جاری کیا گیا اور ان کی ایما پر مولوی محمد علی صاحب
لاہوری کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ یہ دولسانی مجلّہ تھا۔ مولوی صاحب برسوں اس کے ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے اپنے بیسیوں مضامین میں مرزا صاحب کے لیے نبی اور رسول کا لفظ استعمال کیا اور اشارتاً بھی نہیں لکھا کہ وہ ان الفاظ کو استعارے کے طور پر یا مجازی مفہوم میں استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے مضامین کے اقتباسات ہم آگے چل کر پیش کریں گے۔ پہلے عدالت میں مولوی محمد علی صاحب لاہوری کا ایک بیان حلفی ملاحظہ فرمائیے:
13 مئی 1904ء کو گورداسپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں مولوی محمد علی صاحب نے ایک بیان حلفی دیا جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ جو شخص مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تکذیب کرے، وہ کذاب ہوتا ہے۔ اگر مرزا صاحب نے کذاب لکھا تو ٹھیک کہا۔ مولوی صاحب اس بیان میں لکھتے ہیں:
- ’’مکذب مدعیٔ نبوت کذاب ہوتا ہے، مرزا صاحب ملزم مدعیٔ نبوت ہے، اس کے
مرید اس کو دعوے میں سچا، دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔‘‘
(ماہنامہ فرقان قادیان، جلد 1، نمبر 1، جنوری 1942ء، ص 15، مباحثہ راولپنڈی، ص 272)
مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے احمدیہ بلڈنگز میں تقریر کرتے ہوئے کہا:
- ’’مخالف خواہ کوئی بھی معنی کرے مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے،
صدیق بنا سکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے مگر چاہیے مانگنے والا...... ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا (یعنی مرزا غلام احمد صاحب) وہ صادق تھا، خدا کا برگزیدہ اور مقدس رسول تھا۔‘‘ (’’الحکم‘‘ قادیان جلد 1، شمارہ 42، 18 جولائی 1908ء)
مولوی محمد علی صاحب لاہوری کی تبلیغی ترک تازیوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ دیکھیے وہ اپنے ایک مضمون میں ہندوؤں سے مرزا صاحب کا تعارف کس طرح کراتے ہیں:
- ’’ہم خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے
دلوں پر سے پردے اٹھ جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے کے لیے کھل جائیں جو دینِ اسلام تعلیم کرتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خدا تعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز، جلد 3، نمبر 11، ص 411، نومبر 1904ء)
مولوی محمد علی صاحب لاہوری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
- ❑ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خداوند تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے
دروازے بند کر دیے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کامل کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگیں ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کاملہ سے نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز، ج 4، ص 186، بحوالہ تبدیلی عقائد، مولوی محمد علی صاحب از محمد اسماعیل قادیانی ص 22، مطبوعہ احمدیہ کتاب گھر قادیان)
1913ء میں جماعتِ احمدیہ کو اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑا۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین صاحب محمود اپنے حامیوں پر مشتمل ایک تنظیم ”انصار اللہ‘‘ قائم کر چکے تھے۔ وہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری اور ان کے رفقا (جن کی اکثریت لاہور سے تعلق رکھتی تھی) کے خلاف تھے۔ اُس وقت قادیان کے اخبارات ”بدر‘‘ اور ”الحکم‘‘ مرزا بشیر الدین صاحب کے زیرِ اثر تھے۔ ان حالات میں مولوی محمد علی صاحب کے قریبی رفیق ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ نے (جو بعد کو انجمن اشاعت اسلام لاہور المعروف جماعتِ احمدیہ لاہور کے معتمدِ مالیات منتخب ہوئے) لاہور سے ہفت روزہ پیغامِ صلح جاری کیا۔ اس اخبار کی مالی اور اخلاقی مدد اُن تمام احمدیوں نے کی جو بعد کو جماعتِ احمدیہ لاہور میں شامل ہوئے۔ یہ شروع سے احمدیوں کے لاہوری فریق کا ترجمان رہا ہے۔ یہ اخبار لکھتا ہے:
- ❑ ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے
ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیحِ موعود مہدیِ موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغامِ صلح کے ساتھ تعلق ہے، خدا تعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے، حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیحِ موعود و مہدیِ معہود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔‘‘ (پیغامِ صلح 16؍ اکتوبر 1913ء ص 2)
اس حلفیہ بیان کے بعد لاہوری جماعت کے اصل عقائد سے پردہ اٹھ جاتا ہے۔
مولوی محمد علی صاحب لاہوری انگریزی ریویو آف ریلیجنز میں لکھتے ہیں:
- ❑ "The Ahmadiyya movement stands in the same
relation to Islam in which Christianity Stood to Judaism"
ترجمہ: احمدیہ تحریک اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔
(ریویو آف ریلیجنز انگریزی، جلد5، شمارہ نمبر5، صفحہ 171 مئی 1906ء واضح رہے کہ یہ 1906ء کی تحریر ہے)
یہ تحریر خود وضاحت کررہی ہے کہ جس طرح عیسائیت اور یہودیت الگ الگ مذہبی اکائیاں ہیں، اسی طرح احمدیت اور اسلام بھی الگ الگ مذہبی اکائیاں ہیں۔ قارئین نوٹ کریں گے کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری کی یہ تحریریں 1914ء سے قبل کی ہیں۔ 13 مارچ 1914ء کو مرزا صاحب کے خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب کے انتقال کے بعد احمدیوں کی اکثریت نے مرزا صاحب کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین صاحب محمود کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ مولوی محمد علی صاحب نے مرزا بشیر الدین صاحب محمود کے ہاتھ پر بیعت کرنے اور انہیں خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یادرہے کہ مولوی محمد علی کی مستقل رہائش قادیان میں تھی۔ مرزا محمود صاحب کے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد مولوی صاحب کو سوقیانہ نعروں کا نشانہ بنایا جانے لگا اور انہیں مرزا محمود صاحب کی بیعت نہ کرنے پر کھلے عام فاسق کہا گیا۔ اس طرح مولوی صاحب کا قادیان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ جب حالات بہت خراب ہو گئے تو وہ 20 اپریل 1914ء کو قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے، جہاں انہوں نے اپنے رفقا کے اشتراک سے الگ جماعت قائم کی۔ یہ تھا اصل اختلاف جس کے نتیجے میں جماعت احمدیہ لاہور کا قیام عمل میں آیا۔ ایک صاحب دانش کی رائے کے مطابق اپنی علیحدگی کے جواز کی فراہمی، جماعت قادیان سے بغض اور مسلمانوں کی ہمدردیوں کا حصول، وہ محرکات تھے جن کے تحت مولوی محمد علی صاحب لاہوری اور ان کی جماعت نے اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع کا اعلان کیے بغیر یہ کہنا شروع کیا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب کو نبی نہیں بلکہ مجدد مانتے ہیں۔
(ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 15 جنوری 2016ء)
لاہوری مرزائی جماعت کے بانی اور موجد مولوی محمد علی لاہوری جب ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر ہوتے تھے تو مرزا قادیانی کو ”نبی“ لکھا کرتے تھے۔ کیا لاہوری جماعت کا
کوئی ممبر بتائے گا کہ مولوی محمد علی نے اپنا عقیدہ کب بدلا اور کیوں بدلا؟
حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مرتدوں کا قتل
مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ”مرتدوں کی طرف یہ خط لکھا۔ ”ہم یہاں حضرت صدیق اکبر کا وہ خط لکھتے ہیں جو انہوں نے عرب کے ان قبائل کی طرف لکھا تھا جو مرتد ہو گئے تھے“...... مجھے پتہ چلا ہے کہ تم میں کچھ لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اپنے دین سے پھر گئے ہیں...... میں تمہاری طرف مہاجرین و انصار میں سے فلاں کو بھیج رہا ہوں، اور میں نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ کسی کو قتل نہ کریں یہاں تک کہ اسے اللہ کی طرف نہ بلا لیں، پس جس نے ان کی بات مانی، اسے چھوڑ دیں اور جس نے انکار کیا ان سے لڑائی کریں اور جو ان کے ہاتھ آئے، اسے آگ سے جلا دیں اور قتل کر دیں، عورتوں کو قیدی بنا لیں اور کسی سے بھی اسلام کے علاوہ اور کچھ قبول نہ کریں۔“
(سرالخلافہ صفحہ 66 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8، صفحہ 395، 396 از مرزا قادیانی)
قادیانیت میں وحی والہام کا دعویٰ کرنے والے، مرزا قادیانی کی نظر میں
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- □ ”ہماری جماعت میں کوئی بیس پچیس بلکہ تیس کے قریب ایسے آدمی ہوں گے جو
الہام کا دعویٰ کرتے ہیں، مجھے ان کے جنون کا ہی اندیشہ رہتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے اور اپنے اس معاملہ کو دیکھے جو وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اور حدیث النفس کا خیال نہ رکھے۔ ایسے لوگوں کے خط جب مجھے بھی آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ میں خوش ہوں، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کو جنون نہ ہو جاوے۔ جب وہ خط میں پڑھتا ہوں تو بدن کانپ جاتا ہے۔ اللہ کریم نے کاہنوں اور مجنونوں کی جو تردید کی ہے تو اسی واسطے کہ آخر ان کو بھی بعض باتیں معلوم ہو جایا کرتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے تعلق کو خدا تعالیٰ سے پاک کرے۔ زانی، فاسق، فاجر تو ابھی توبہ کر سکتے ہیں مگر ایسے لوگ کبھی توبہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھ لیتے ہیں اور ایسی باتوں سے اکڑ باز ہو جاتے ہیں۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 347، 348 طبع جدید از مرزا قادیانی)
قادیانیوں کو مبارک ہو
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے بعد نبوت جاری ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ نبوت رحمت ہے اور رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ قیامت تک جاری ہے۔ قادیانی حضرات آنجہانی مرزا قادیانی کو نبی و رسول مانتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب جرمنی میں مشہور قادیانی غفار جنبہ نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل غفار جنبہ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق (کہ نبوت جاری ہے) غفار جنبہ کی بیعت کر لیں، ورنہ سمجھا جائے گا کہ قادیانی اپنے عقیدہ میں جھوٹے اور منافق ہیں۔
لیلہ القدر کی قادیانی تفسیر
- ❑ ”خدا تعالیٰ سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اس کا
کلام اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، وہ لیلۃ القدر میں ہی اُترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر اُس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دُور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر رکھا گیا ہے۔ مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اُس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے۔ گزر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔ تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لیے اندر طیار ہو رہتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ۔ یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسی برس کے بڈھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پا لیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لیے کہ اس لیلۃ القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح
القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لیے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اُٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمت غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔
اب اے مسلمانو، غور سے ان آیات کو پڑھو کہ کس قدر خدا تعالیٰ اس زمانہ کی تعریف بیان فرماتا ہے جس میں ضرورت کے وقت پر کوئی مصلح دنیا میں بھیجتا ہے۔ کیا تم ایسے زمانہ کا قدر نہیں کرو گے۔ کیا تم خدا تعالیٰ کے فرمودوں کو بنظر استہزاء دیکھو گے؟
(فتح اسلام صفحہ 55، 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 32، 33 از مرزا قادیانی)
لیلۃ القدر کی معنوی توہین
- ”رمضان 1936ء کا ذکر ہے کہ قادیان میں لوگ حسب معمول لیلۃ القدر کی تلاش
میں تھے کہ ایک روز مکرمی اخویم بابو فضل احمد صاحب بٹالوی مہاجر نے مجھے اپنی رؤیا سنائی کہ مجھے تو آج معلوم ہوا ہے کہ نصرت جہاں بیگم لیلۃ القدر ہیں۔ میں پہلے تو اس فقرہ کو سن کر کچھ حیران سا ہوا پھر مجھ پر بھی واضح ہو گیا کہ حقیقتاً انسان ہی لیلۃ القدر ہوتے ہیں نہ کہ زمانہ، زمانہ بعض مبارک وجودوں سے منور اور مبارک ہو کر لیلۃ القدر کہلانے لگتا ہے۔ مگر یہ خاصیت اس زمانہ کی نہیں ہے بلکہ اس مبارک وجود کے فیضان کی ہے جو اسے بابرکت کر دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود اور اسی طرح دیگر انبیاء علیہم السلام کے زمانے ان کی برکات کی وجہ سے لیلۃ القدر کہلاتے ہیں اور جب تک ایسے وجود دنیا میں رہتے ہیں۔ برکات کی ایک فضا عالم پر چھائی رہتی ہے۔ پس اگرچہ لیلۃ القدر کہنے کو ایک زمانہ یا ایک رات ہوتی ہے مگر اس کی پشت پر کسی زندہ وجود کے برکات ہوتے ہیں جو اسے بابرکت بنائے رکھتے ہیں۔ ان معنوں میں کیا شک ہے کہ حضرت علیاء (نصرت جہاں بیگم) کا وجود بھی ایک بہت بڑی لیلۃ القدر ہے۔“ (سیرت نصرت جہاں بیگم از شیخ محمود عرفانی و شیخ یعقوب عرفانی قادیانی)
قادیانی عقیدہ...... مرزا قادیانی محمد رسول اللہ
روزنامہ الفضل اپنی ایک اشاعت میں لکھتا ہے:
- ’’الغرض حضرت مسیح موعود کی تحریروں سے یہ بات پختہ طور سے ثابت ہورہی ہے
کہ حضرت مسیح موعود یقیناً محمدﷺ تھے اور آپ کو چونکہ آنحضرتﷺ کا بروزی وجود عطا کیا گیا تھا۔ اس لیے آپ عین محمدﷺ تھے اور آپ میں جمیع کمالات محمدیہ معہ نبوت محمدیہ کامل طور پر منعکس تھے۔ پس اس لیے آپ کے عین محمدﷺ ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں۔‘‘
(روزنامہ الفضل 16 ستمبر 1915ء، صفحہ 7 مضمون مسیح موعود محمد است و عین محمد است)
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ’’مسیح موعود (مرزا غلام قادیانی) کا آنا گویا آنحضرتﷺ ہی کا آنا ہے جو بروزی
رنگ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے دوئی لازم آتی اور غیرت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا ۔ بروز میں دوئی نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی غیر شخص آ جاوے تو غیرت ہوتی ہے لیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کیسی ؟ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھے اور پاس اس کی بیوی بھی موجود ہو تو کیا اس کی بیوی آئینہ والی تصویر کو دیکھ کر پردہ کرے گی اور اس کو یہ خیال ہوگا کہ کوئی نامحرم شخص آ گیا ہے۔ اس لیے پردہ کرنا چاہیے اور یا خاوند کو غیرت محسوس ہوگی کہ کوئی اجنبی شخص گھر میں آ گیا ہے اور میری بیوی سامنے ہے۔ نہیں بلکہ آئینہ میں انہیں خاوند بیوی کی شکلوں کا بروز ہوتا ہے اور کوئی اس بروز کو غیر نہیں جانتا اور نہ ہی ان میں کسی قسم کی دوئی ہوتی ہے ۔ (ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی)
یہ مرزا قادیانی کی سینکڑوں کفریہ عبارتوں میں سے فقط ایک دو ہیں۔ اگر کسی نے شرم و حیا کا لباس اتار نہیں پھینکا اور اپنے منہ میں مرزا غلام قادیانی کی منافقانہ زبان نہیں رکھ لی تو پھر وہ بتائے کہ جب مرزا قادیانی خود کو محمد ہی کہتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ ہم کلمہ پڑھتے وقت محمد سے مرزا مراد نہیں لیتے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی منافقت اور غلیظ جھوٹ اس دنیا میں ہو سکتا ہے!
قادیانیوں کی ایک علامت
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
- واذا قیل لهم تعالوا الى ما انزل الله والى الرسول رایت المنفقین
یصدون عنک صدودا ۔ (النساء: 61)
ترجمہ: اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول
کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں۔ منافقین کا کام ہے کہ وہ صرف قرآن قرآن کی رٹ لگائیں گے، حدیث کو چھوڑ دیں گے۔ لیکن جب حدیث سنائی جائے تو بھاگ جائیں گے۔ یہی کچھ حال قادیانیت کا ہے۔ قادیانی کبھی بھی قرآن وحدیث کو ساتھ ساتھ لے کر نہیں چلیں گے۔ یاد رکھیں قرآن میں امور کی اجمالی بحثیں ہیں جبکہ احادیث ان اجمالیات کی تفصیل و تشریح ہیں۔
لونڈی
- ”بیوی صاحبہ (نصرت جہاں بیگم) کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں (نورالدین) نے
سنا ہے کہ میں تو (نصرت جہاں بیگم) آپ کی لونڈی ہوں۔“
(مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین نیو ایڈیشن: صفحہ 6 (پرانا ایڈیشن صفحہ 7)
کیا کوئی قادیانی مربی یہ عقدہ حل کر سکتا ہے کہ یہاں لونڈی سے کیا مراد ہے؟
سچا کون باپ یا بیٹا؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر رفع“ کا ذکر کیا یا نہیں؟ مرزا قادیانی کا بیٹا کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرگز ایسا کوئی ذکر نہیں کیا تھا جبکہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام مرزائیوں کی طرح مرزا کے بیٹے نے بھی مرزا کی کتابیں نہیں پڑھی تھیں؟
- ”اگر صحابہؓ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ جا بیٹھے ہیں تو
کیا حضرت عمرؓ یا ان کے ہم خیال صحابیؓ اس واقعہ کو اپنے خیال کی تائید میں پیش نہ کرتے؟“
(دعوة الامیر صفحہ 107 مندرجہ انوار العلوم جلد 7، صفحہ 347 از مرزا بشیر الدین محمود)
آنجہانی مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ”عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت ﷺ فوت ہو گئے تو میں اپنی
اسی تلوار سے اُس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسیٰ بن مریم اُٹھائے گئے۔“
(تحفہ غزنویہ صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 581 از مرزا قادیانی)
جماعت انبیاء اور مرزا قادیانی
معراج کی رات جب امام الانبیاء ﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء و رسل کی امامت فرمائی تھی تو اس وقت مرزا قادیانی کس صف میں کھڑا تھا؟ ہے کوئی قادیانی جو اس بات کا جواب دے؟
ذرا سوچیے!
مرزا قادیانی کہتا ہے۔
- ”جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ ”مضمون بالا
رہا۔“ (حقیقت الوحی ص 279 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 291 از مرزا قادیانی)
میرا سوال یہ ہے کہ یہ جملہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اگر ٹھیک ہے تو اس پر مثالیں اُردو کی کسی مستند کتاب سے دی جائیں۔ ورنہ اس بات پر غور لازم ہے کہ مرزا تو جاہل تھا لیکن کیا ”یلاش“ بھی جاہل تھا۔ ذرا سوچیئے!!
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
- ”حضور (مرزا قادیانی) نے مجھے لاہور سے بعض اشیا لانے کے لیے ایک فہرست
لکھ کر دی۔ جب میں چلنے لگا تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لیے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔ میں نے کہا کہ اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسین میرے لیے برانڈی کی بوتل نہیں لائیں گے۔ حضور ان کو تاکید فرما دیں۔ حقیقۃً میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزا قادیانی) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین! جب تک تم برانڈی کی بوتلیں نہ لے لو، لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لیے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دکان سے دو بوتلیں برانڈی کی غالباً چار روپیہ میں خرید کر پیر صاحب کو لا دیں۔ ان کی اہلیہ کے لیے ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی۔“
(اخبار ”الحکم“ قادیان، جلد 39، نمبر 25، مورخہ 7 نومبر 1936ء)
محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
”اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیا خریدنی خود خرید دیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں مگر ٹانک وائن چاہیے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام (مرزا غلام احمد)
(خطوط امام بنام غلام، صفحہ 5، مجموعہ مکتوبات، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب، بنام حکیم محمد حسین قریشی صاحب قادیانی، مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)
- ”ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی
معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جواباً تحریر فرماتے ہیں حسب ارشاد پلومر کی دکان سے دریافت کیا گیا، جواب حسب ذیل ملا:
”ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ڈیڑھ روپیہ ہے۔“ (21 ستمبر 1933ء)
(”سودائے مرزا، صفحہ 39، حاشیہ، طبع دوم، مصنفہ حکیم محمد علی صاحب، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)
- ”پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے
مریضوں سے کرواتے یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لیے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لیے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے، نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا تھا تو اطبا یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی پڑتا تھا تو اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور علاج پی بھی لی ہو تو کیا قباحت لازم آ گئی۔“
(از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی، فریق لاہوری، مندرجہ اخبار ”پیغام صلح“ جلد 23، نمبر 15،
مورخہ 4 مارچ 1935ء، جلد 23، نمبر 65، مورخہ 11 اکتوبر 1935ء)
- ”پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا
کہ میاں مبارک احمد صاحب حجرے میں بیماری کی حالت میں پڑے تھے۔ حجرے کے باہر برآمدہ میں حضرت مسیح موعود بیٹھے ہوئے تھے اور حضور کے سامنے نصف دائرہ میں چند ڈاکٹر صاحبان اور غالباً حضرت خلیفہ اول بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ درمیان میں پورٹ وائن (شراب) کی وہی بوتل جو صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم کے لیے منگائی گئی تھی، پڑی ہوئی تھی۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم طبع جدید صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم)
- ”پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا
کہ میاں مبارک احمد صاحب بیمار تھے۔ ان کے لیے ڈاکٹروں نے تجویز کی کہ پورٹ وائن (شراب) ایک چمچہ دی جائے۔ چنانچہ ایک بوتل امرتسر یا لاہور سے منگوائی گئی۔ میں حضرت مسیح موعود کے مکان کے اس حصہ میں رہتا تھا جہاں حضور کی دواؤں کی الماری تھی۔ میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تشریف لائے۔ اُن کے ہاتھ میں بوتل تھی۔ انہوں نے بوتل الماری میں رکھ دی اور مجھ سے فرمایا کہ پیر جی پانی چاہیے۔ میں نے کہا کیا کرو گے؟ کہا کہ ابا نے فرمایا ہے کہ ہاتھ دھو لینا کیونکہ شراب کی بوتل پکڑی ہے۔ پھر ہاتھ دھو لیے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد دوم طبع جدید صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم)
مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک اور جھوٹ
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”خدا کی تمام کتابوں میں خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پھیلے گی اور حج
روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موعود ظاہر ہوگا۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 108 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 816
مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 572 از مرزا قادیانی)
- ”سچ بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روا رکھ لیتا ہے تو حیا اور خدا کا خوف بھی کم ہو
جاتا ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 131 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 573 از مرزا قادیانی)
- ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں
میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(چشمہ معرفت صفحہ 223، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23، صفحہ 231 از مرزا قادیانی)
تمام سنجیدہ مرزائیوں سے التماس ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی اس بات پر غور کریں اور اگر وہ مرزا قادیانی کی یہ باتیں خدا کی تمام کتابوں سے ثابت نہ کر پائیں تو لازمی ہے کہ ان کی باقی باتوں پر بھی اعتبار نہیں رہتا۔ سوچیے۔ ضرور سوچیے !!
یلاش؟
- ’’اسی مضمون کے لکھنے کے وقت خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ یلاش خدا کا
ہی نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اَب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔ اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئے کہ یٰا لَا شَرِیْکَ اس نام کے الہام سے یہ غرض ہے کہ کوئی انسان کسی ایسی قابل تعریف صفت یا اسم یا کسی فعل سے مخصوص نہیں۔ جو وہ صفت یا اسم یا فعل کسی دوسرے میں نہیں پایا جاتا۔ یہی سِرّ ہے جس کی وجہ سے ہر ایک نبی کی صفات اور معجزات اِظلال کے رنگ میں اس کی اُمت کے خاص لوگوں میں ظاہر ہوتی ہے جو اس کے جوہر سے مناسبت تامہ رکھتے ہیں تا کسی خصوصیت کے دھوکہ میں جہلا اُمت کے کسی نبی کو لاشریک نہ ٹھہرائیں۔ یہ سخت کفر ہے جو کسی نبی کو یلاش کا نام دیا جائے۔‘‘ (تذکرہ مجموعہ وحی الہامات طبع چہارم صفحہ 310 از مرزا قادیانی)
مرزائی ہونا کافی نہیں!
- ’’ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہے، اس کے لیے ضروری ہے
کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔ اگر پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کا کوئی احمدی پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام نہیں لکھائے گا تو پہلے اسے سزا دی جائے گی اور اگر اس سے بھی اس کی اصلاح نہ ہوئی تو اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔‘‘ (مشعل راہ جلد 1، صفحہ 297، از مرزا بشیر الدین محمود)
ایک چیلنج
عقیدہ نمبر 1: ایک مسیح موعود نے آنا ہے اور وہ مسیح موعود غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔
عقیدہ نمبر 2: حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو یہود نے پکڑ کر دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا، انہیں مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے تو انہیں مردہ سمجھ کر چلے گئے۔
عقیدہ نمبر 3: نبی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو مستقل اور حقیقی نبی نہیں ہوتے بلکہ ”ظلی بروزی“ نبی ہوتے ہیں۔
عقیدہ نمبر 4: ایک ”مہدی“ نے آنا ہے اور وہ مہدی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
عقیدہ نمبر 5: ایک ایسے شخص نے آنا تھا جو ”ظلی بروزی محمد (ﷺ)، مثیل مسیح (علیہ السلام) اور مہدی ہو، اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔“ (3 in 1)
مناظروں میں صرف قرآن اور صرف قرآن کا شور مچانے والے مربی حضرات اپنے یہ عقائد قرآن سے ثابت کر دیں!
ایک اہم سوال
کیا قادیانیوں میں خلیفہ مرزا مسرور سمیت کوئی ایک بھی ایسا انسان ہے جس کو قرآن حکیم، اصول قرآن، اصول حدیث یا بلاغت و فلسفہ و کلام کے فنون آتے ہوں یا صرف و نحو پر گرفت ہو؟
ہے کوئی قادیانی جو اس چیلنج کو قبول کر کے قادیانی جماعت کو شرمندگی و ضلالت سے بچائے!
مرزا قادیانی سائنس دان
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”پانی کا قطرہ بھی گول شکل پر ظاہر ہوتا ہے اور تمام ستارے جو نظر آتے ہیں، ان کی
شکل گول ہے اور ہوا کی شکل بھی گول ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 233 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 319 از مرزا قادیانی)
سائنس کا معمولی سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ گیس کی شکل نہیں ہوتی۔ نہیں معلوم کہ مرزا قادیانی کو ہوا کی شکل کیسے نظر آئی اور پانی تو مائع ہے اور مائع کی کوئی خاص شکل یعنی (Definite shape) نہیں ہوتی۔ بلکہ مائع کا تو حجم ہوتا ہے۔ اب اس خودکاشتہ سائنس دان کا کیا کیا جائے؟
قادیانیوں سے ایک آسان سوال
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”اس حساب کی رو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب 6 ہزار میں سے گیارہ
برس رہتے تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 252 از مرزا قادیانی)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ دنیا کی عمر کا چھٹا ہزار کب ختم ہوا تا کہ ہم اس میں سے 11 سال نکال کر صحیح حساب لگا سکیں کہ مرزا قادیانی کب پیدا ہوا تھا؟
عبدالحکیم اور ”عبدالحکیم“
”ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مرزائے قادیانی کے ایک بڑے مرید نے (جن کا نام ڈاکٹر عبدالحکیم ہے) مرزا کی بیعت سے دست برداری اختیار کی یا بالفاظ دیگر وہ مرزائی اسلام سے بدل کر زمرۂ مرتدین میں داخل ہوگئے۔ یہ امر کہ بخیال فرقہ مرزائی اس کا ارتداد معمولی ارتداد نہیں بل کہ عظیم الشان ارتداد ہے اور کہ اس ارتداد کا اثر مرزائی حلقہ میں کیا رنگ اختیار کر چکا ہے۔ مرزائیوں کی تحریرات سے بخوبی روشن ہے اور سب سے بڑی اور ضروری بات جو اس ارتداد سے وابستہ ہے، وہ خداؤں کی (معاذ اللہ) الہامی جنگ ہے۔ یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے خدا نے ان کو خبر دی ہے کہ مرزا جو کذاب اور مفتری اور فریبی وغیرہ وغیرہ غرض کہ بہت کچھ ہے، وہ تین سال تک ہلاک ہو جائے گا۔ برخلاف اس کے مرزا صاحب کے خدا نے یہ کہہ دیا کہ عبدالحکیم ہی ہلاک ہو گا مگر مرزا صاحب کا خدا چونکہ بارہا میعاد کو مقرر کر کے ٹھوکر کھا چکا ہے، اس لیے اس نے یہ دُور اندیشی بہت عمدہ کی کہ میعاد ندارد۔ خیر اس سے ہمیں بحث نہیں۔ وہ دونوں جانیں اور ان دونوں کے متضاد خدا۔ (نعوذ باللہ) لیکن اب ایک نیا پہلو اس
بحث کا پیدا ہو گیا ہے وہ یہ کہ مرزا صاحب کو بتاریخ ۱۹ اکتوبر یہ الہام ہوا کہ ”اے عبدالحکیم! خدا تعالیٰ تجھے ہر ایک ضرر سے بچائے، اندھا ہونے اور مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے“ یہ عبارت الہام کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میرے دل میں ڈالا گیا کہ ”عبدالحکیم“ میرا نام رکھا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اب الہامی سٹیج پر دو ”عبدالحکیم“ کھڑے ہیں۔ ایک ڈاکٹر عبدالحکیم اور ایک مرزا عبدالحکیم۔
یہ طے شدہ اور ثابت شدہ امر ہے کہ مرزا صاحب اپنے الہام کا معنی اور مطلب بوقت ملہم ہونے کے نہیں سمجھ سکتے۔ بظاہر تو وہ کچھ مطلب سمجھتے ہیں لیکن آخر میں اس کا مطلب اور کچھ ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے وقت باوجود یہ کہ ان کو الہام ہو رہا تھا کہ تو مسیح ہے مگر وہ پھر بھی یہ عقیدہ قائم رکھے ہوئے تھے کہ مسیح زندہ آسمان پر موجود ہیں اور جب دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو اسلام سب دینوں پر غالب ہوگا۔ نکاح آسمانی کے الہام میں بھی ان کو ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کا کیا راز تھا۔ پہلے تو وہ منتظر رہے آخر جب منکوحہ آسمانی بذریعہ نکاح زمینی دوسرے کے قبضہ میں چلی گئی تو اس الہام کے متعلق ان کو یہ تفہیم ہوئی کہ الہام کے لفظ ”انا رادوھا“ کا مطلب ہی یہی ہے کہ پہلے اس کا دوسرے کے قبضہ میں جانا ضروری ہے بعدازاں پھر وہ آئے گی۔ آخر اڑھائی سال کا وعدہ ہوا کہ اس عرصہ میں اس کا عارضی خاوند مر جائے گا اور وہ ایام عدت سے پہلے ہی آجائے گی اور پھر حکم بھی ہوا تھا (بنیا دیوے ہی نہیں ۔ پورا اول) کہ جب وہ بھاگ کر آ جائے تو اس کو پناہ دینا لیکن ابھی تک باوجود دس بارہ برس گزر جانے کے بھی روز اول ہے۔
مرغ بسمل کی طرح لاشہ پھڑکتا جائے گا
خدا کی شان ہے:
قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں
ایک دفعہ مرزا صاحب کو دو بکریوں کے ذبح ہونے کا الہامی کھیل دکھایا گیا تھا جس سے مرزا صاحب کے ذہن رسا نے مستنبط کیا تھا کہ دو دشمن (پنڈت لیکھ رام اور کوئی دوسرا بھی) ذبح ہوں گے لیکن عبداللطیف نامی ایک پٹھان جب کابل میں مرزا کی بیعت کرنے کے
جرم میں توپ سے اُڑایا گیا اور کوئی دوسرا دوست بھی اسی قسم کی اذیت کا شکار ہوا تو الہامی کھیل کا سین (Scene) یاد آ گیا اور یہ رائے قرار پائی کہ اس سے دشمنوں کا ذبح ہونا مراد نہ تھا بلکہ انہی دوستوں کے ذبح ہونے کی خبر تھی۔ غرض کہ مرزا صاحب کا دماغ ہمیشہ الہاموں کے سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس لیے اب یہ رائے قائم کر دینا کہ ”عبد الحکیم“ مرزا صاحب کا ہی نام رکھا گیا تا وقت یہ کہ بعد کے واقعات سے ثابت نہ ہو جائے، قابل قبول نہیں۔ لیکن اگر بفرض محال، مان لیا جائے کہ مرزا صاحب کا نام فی الواقع ”عبد الحکیم“ رکھا گیا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نام میں ایسی کون سی خصوصیت ہے کہ مرزا صاحب کے (وہمی) خدا نے ان کے لیے یہ پسند کیا۔ اس کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:
اول یہ کہ نام بہت عمدہ ہے اور ایسے نیک بندے کا نام ہے کہ جو چاہ کفر و ضلالت سے نکل کر اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوا۔ اگر یہ شق ہے تو مرزا صاحب کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس کی تقلید کرے تاکہ اسم با مسمّی ہو جائے۔ اگر یہ نہیں تو دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عبد الحکیم فی الواقع مرتد ہے اور خدا کی نظروں میں گنہگار ہے، اس صورت میں مرزا صاحب کے لیے ایسے دشمن کا نام تجویز کرنا گویا یہ پتہ بتاتا ہے کہ مرزا صاحب کا خاتمہ بھی ویسا ہی ہو گا جیسا کہ عبد الحکیم کا۔
تیسری کوئی صورت پیدا نہیں ہو سکتی اور دوسری صورت جہاں تک ہمارا خیال ہے مرزا صاحب پسند نہ فرمائیں گے کیوں کہ خلاف قاعدہ ہے۔ حضرت موسیٰ کا دشمن فرعون تھا لیکن خدا نے حضرت موسیٰ کا نام فرعون نہیں رکھا۔ علی ہذا تمام انبیاء کے دشمن دنیا میں موجود تھے مگر انبیاء دشمنوں کے نام سے موسوم نہیں ہوئے، اس لیے ماننا پڑے گا کہ شق اول صحیح ہے۔
مرزا صاحب کے اپنے ہی الہام سے راستہ صاف ہو گیا ہے اگر وہ اب بھی خدا سے نہ ڈریں اور تمام کفر و لغویات سے باز نہ آئیں تو ان کی مرضی۔ مگر ان کے الہامات زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ وہ غلطی پر ہیں۔ آئندہ ان کا اختیار“
(رد قادیانیت اور سنی صحافت از محمد ثاقب رضا قادری)
بدعتی مسیح
- ”ایک روز ایک شخص نے سوال کیا کہ دلائل الخیرات کا ورد اور پڑھنا کیسا ہے؟
فرمایا دلائل الخیرات میں جتنا وقت خرچ ہو، اگر نماز اور قرآن شریف کی تلاوت میں خرچ ہو تو کتنا فائدہ ہوتا ہے۔ یہ کتابیں قرآن شریف اور نماز سے روک دیتی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور حکم ہے اور انسانوں کا بناوٹی وظیفہ ہے۔ فرمایا قرآن شریف کی آیتوں اور سورتوں کا بھی لوگ وظیفہ کرتے ہیں اور یہ بدعت ہے اور ناسمجھی سے ایسا کرتے ہیں۔ قرآن شریف وظیفہ کے لیے نہیں ہے یہ عمل کرنے کے لیے اور اخلاق کو درست کرنے کے لیے ہے۔‘‘
(تذکرۃ المہدی صفحہ 183 از پیر سراج الحق نعمانی قادیانی)
- بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف
ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو (مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی) میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی جیسے الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل الخ ہے۔ اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے، اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے، اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیر آباد کنوئیں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 178 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
قادیانیت میں آخری نبی؟
کیا مرزا غلام احمد، قادیانی مذہب کے مطابق ’’آخری نبی‘‘ ہے؟...... سوال بہت اہم ہے اس لیے جواب صاف ہونا چاہیے۔ یہ سوال اس لیے کیا ہے تاکہ پتہ چلے کہ مرزا
قادیانی کے امتیوں کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے بعد بھی نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ اگر تو مرزا قادیانی اپنے دعوے کے مطابق امت محمدیہ کا آخری نبی ہے تو ثابت ہوگا کہ اب یہ ظلی بروزی نبوت بھی بند ہو گئی ہے۔ گویا کہ قرآن کی وہ آیات اب منسوخ ہو چکی ہیں جن سے مرزائی مربی حضرات اجراء نبوت ثابت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اور اگر مرزا قادیانی آخری نبی نہیں ہے تو پھر مرزا کی اس تحریر کا کیا مطلب ہے؟؟؟
قادیانی چور
قادیانی اکثر دوسروں کی کم علمی کا فائدہ اٹھا کر انہیں قادیانی بناتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنی ہر چیز انگریزی اور دوسری کتابوں سے مستعار لی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بولگر کرسٹن کی لکھی ہوئی ایک کتاب ”جیسس لیوڈ ان انڈیا“ جو حیدر علی مولجی کی دوبارہ اشاعت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس سے تھوڑا تھوڑا ترجمہ مار کر ”یسوع مسیح ہندستان میں“ لکھ ڈالی اور اس کو مرزا قادیانی کا الہام قرار دے دیا یعنی یہ بات مرزا غلام قادیانی کو الہامی طور پر پتہ چلی کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے یعنی یسوع مسیح کی روح مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ظہور پذیر ہوئی؟ (نعوذ باللہ)
مرزا قادیانی کی تضاد بیانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہیں
- ”حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔“
(ازالہ اوہام صفحہ 623 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 436 از مرزا قادیانی)
- ”یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں
داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لتؤمنن بہ ولتنصرنہ۔ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 133 مندرجہ روحانی
خزائن جلد 21 صفحہ 300 از مرزا قادیانی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نہیں ہیں
- ”حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر
اتباع آنحضرت ﷺ اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو، اور پھر آنحضرت ﷺ کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے کیونکہ گو وہ اپنے درجہ میں آنحضرت ﷺ سے کیسے ہی کم ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں آ کر آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل نہ ہوں تب تک نعوذ باللہ وہ گمراہ اور بے دین ہیں یا وہ ناقص ہیں اور ان کی معرفت ناتمام ہے۔ پس میں اپنے مخالفوں کو یقیناً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 364 از مرزا قادیانی)
طاعون اور مرزا قادیانی کی دعا
انیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں طاعون کی وبا پھیل گئی جس سے لوگوں میں خوف و ہراس کا پایا جانا ایک فطری امر تھا۔ اس وبا میں بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب مرزا قادیانی کو ان حالات کا علم ہوا کہ ملک کے مختلف حصے طاعون کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں تو اس نے دعویٰ کیا کہ میں نے طاعون کے آنے کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔ سو یہ طاعون خود بخود نہیں آیا بلکہ میں نے اس کے آنے کی دعا کی تھی جو آسمانوں میں سنی گئی اور مبارک خدا نے پورے ملک میں طاعون پھیلا دیا۔ اب اس طاعون سے سارے لوگ تباہ ہو جائیں گے سوائے ان کے جو میری نبوت کو مانیں گے۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ قادیان کے سوا کوئی جگہ محفوظ نہ ہوگی اور جب تک لوگ میری رسالت کو تسلیم نہ کر لیں گے ان سے طاعون کا عذاب ختم نہیں کیا جائے گا۔ مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ’’براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں یہ الہام درج تھا، دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا اس کو قبول کرے گا اور زور دار حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا اس پر مجھے خیال آیا کہ ...... اس الہام میں ایک پیش گوئی تھی جو اس وقت طاعون پر صادق آ رہی ہے اور زور دار حملوں سے طاعون مراد ہے‘‘۔ (ملفوظات احمدیہ جلد 7، ص 522 مرتبہ منظور الٰہی قادیانی) یعنی مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس وقت اسے کسی نے نہ مانا اس پر خدا کی غیرت کو جوش آیا اور اس نے کئی سالوں پہلے والے الہام کو حقیقت بنا دیا۔ مرزا
قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کا کہنا ہے کہ: ”خدا کا قاعدہ ہے کہ بعض اوقات اس قسم کی بیماریوں کو بھی اپنے مرسلین کی صداقت کا نشان قرار دیتا ہے اور ان (بیماریوں) کے ذریعہ سے اپنے قائم کردہ سلسلوں کو ترقی دیتا ہے، (سلسلہ احمدیہ ص 120 از مرزا بشیر احمد ایم اے، مطبوعہ قادیان 1939ء) مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ یہ طاعون خود بخود نہیں آیا بلکہ درحقیقت اس نے خود طاعون پھیلنے کی دعا کی تھی۔
- ”میں نے طاعون پھیلنے کے لیے دعا کی ہے۔ سو وہ دعا قبول ہو کر ملک میں طاعون
پھیل گئی۔“ (حقیقت الوحی صفحہ 235 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 235 از مرزا قادیانی)
- ”مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم
بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست نابود ہوں۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 570 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 570 از مرزا قادیانی)
- ”ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانچ سو آدمی اور کبھی ہزار دو ہزا آدمی بذریعہ طاعون
ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ پس ہمارے لیے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لیے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 568، 570 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 568، 570 از مرزا قادیانی)
ایک طرف تو مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ خدا نے ان کو رحمت بنا کر بھیجا:
- انت منی بمنزلة لا یعلمها الخلق. وما ارسلنک الا رحمة للعالمین.
(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 64 از مرزا قادیانی)
استغفر اللہ! کتنا بڑا جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ ڈھٹائی اور بے شرمی تو دیکھیے کہ ایک طرف لوگوں کے لیے طاعون کی دعا کی جارہی ہے اور دوسری طرف حضور نبی کریم ﷺ کے لقب کو اپنے اوپر چسپاں کر لیا ہے۔ کہتا ہے:
- ”میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ
دنیا میں میرا کوئی دشمن نہیں ہے۔ میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔“ (اربعین نمبر 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 344)
کیا کوئی ماں اپنے بچوں کے لیے طاعونی موتوں کی دعا کر سکتی ہے؟ اب آئیے
آخری بات کی طرف۔ مرزا قادیانی کی دعا سے چار سال تک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں طاعون کی وجہ سے لوگ مرتے رہے۔ کیا طاعون اس وقت ختم ہوئی جب تمام لوگوں نے مرزا قادیانی کو خدا کا نبی تسلیم کیا؟
- ”1906ء کی تعداد: ”آج خدا تعالیٰ کے فضل سے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“
(حقیقت الوحی صفحہ 123 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 123، از مرزا قادیانی)
- ”طاعون کے بعد 1911ء کی مردم شماری میں احمدیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار چھ سو
پچانوے (18,695) تھی۔ کل پنجاب کی آبادی ایک کروڑ پچانوے لاکھ اناسی ہزار چھیالیس (1,95,79,046) تھی۔ ہندوستان بھر میں چالیس ہزار انگریز افسران تھے۔“
(ملخص 1911ء کی کتاب برائے مردم شماری صفحہ 169)
گویا طاعون کے بعد بھی صرف پنجاب میں ایک کروڑ پچانوے لاکھ ساٹھ ہزار لوگ مرزا قادیانی کے منکرین تھے۔ چالیس ہزار انگریز افسران تھے جو سب کے سب لوگ اس جھوٹے مسیح موعود کے منکر تھے اور ان میں سے ایک بھی نہیں مرا۔ حالانکہ خدا نے مرزا قادیانی کو صاف طور پر کہہ دیا تھا:
- ”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں
گے۔۔۔۔۔ سوائے عزیزو! اس (طاعون) کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کرلیا جائے۔“
(دافع البلاء صفحہ 9، 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 229، 232، از مرزا قادیانی)
قادیانی حضرات سوچیے! اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدے پورے کرتا ہے مگر مرزا قادیانی سے کیا ہوا ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی کے وحی و الہامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے بلکہ یہ دراصل شیطانی واہیات واحتلامات تھے۔ مرزا قادیانی اور اس کے مبلغین آپ کو جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حق کو حق کی شکل میں دکھا کر اس کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے اور باطل کو باطل کی شکل میں دکھا کر اس سے بچنے کی توفیق دے۔
طاعونی مرزائی
مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ❑ ”اس زمانہ میں لوگوں کے رجوع کو دیکھ کر بعض اوقات حضرت مسیح موعود مسکرا کر
فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگ طاعونی احمدی ہیں کہ جب لوگوں نے دوسرے دلائل سے نہیں مانا تو خدا نے انہیں عذاب کا طمانچہ دکھا کر منوایا“۔
(سلسلۂ احمدیہ ص 120 از مرزا بشیر احمد ایم اے، مطبوعہ قادیان 1939ء)
تکرار
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ❑ ”بعض لوگ طعن کرتے ہیں کہ میری تحریر میں تکرار ہوتا ہے۔ جو بات میں ایک
دفعہ لکھ چکا ہوتا ہوں، وہی پھر لکھ دیتا ہوں اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید میں بھول گیا ہوں۔ اس واسطے دوبارہ لکھ دیتا ہوں مگر اصل بات یہ ہے کہ میں تو نہیں بھولتا، مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بھول گیا ہوگا، اس واسطے پھر لکھ دیتا ہوں“۔
(ذکر حبیب: صفحہ 194، 195 از مفتی صادق)
آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد
مجاہد ختم نبوت رکن آزاد کشمیر اسمبلی جناب میجر حاجی محمد ایوب نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں 28 اپریل 1973ء کو آزاد کشمیر اسمبلی میں درج ذیل قرارداد پیش کی۔
- 1- قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
- 2- ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں، ان کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے۔
- 3- اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی
نمائندگی کا تعین کرایا جائے۔
- 4- قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی۔
جناب میجر محمد ایوب صاحب نے اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے دوسرے
دلائل کے علاوہ آئین پاکستان میں درج شدہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے مجوزہ حلف نامے بھی پڑھ کر سنائے اور کہا کہ آئین میں ان دونوں سربراہوں کے لیے مسلمان ہونا لازم قرار دیا گیا ہے اور ان حلف ناموں کے ضمن میں مسلمان کی جامع و مانع تعریف بھی شامل کر دی گئی ہے جس میں یہ بات واضح طور پر شامل ہے کہ حلف اٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی و رسول ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
میجر صاحب نے مزید کہا کہ آئین پاکستان کی اس دستاویز کی رو سے احمدی خود بخود غیر مسلم اقلیت قرار دے دیئے گئے ہیں، کیونکہ وہ حضور سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ حضور اکرم ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی و رسول مانتے ہیں۔ میجر صاحب نے مزید کہا کہ اس سے قبل آزاد کشمیر اسمبلی یہ قرارداد منظور کرچکی ہے کہ ریاست میں اسلامی قوانین نافذ کیے جائیں گے، اس لیے لازم ہے کہ اس معاملہ میں بھی شریعت کے مطابق واضح احکامات جاری کیے جائیں۔‘‘
آزاد کشمیر اسمبلی سے یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس ہونے کے بعد 30 اپریل 1973ء کے تمام قومی اخبارات میں اس خبر کے شائع ہونے پر پورے ملک میں مسرت اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام شہروں اور قصبوں سے صدر آزاد کشمیر مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان، اسپیکر اور جملہ اراکین آزاد کشمیر اسمبلی خصوصاً قرارداد کے محرک میجر محمد ایوب خان صاحب کے نام مبارکباد کی تاروں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا، مختلف اسلامی تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے خیر مقدم اور مبارکباد کے بیان جاری کیے گئے اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کی طرح وہ بھی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اس دیرینہ عوامی مطالبہ کو پورا کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور بعض دوسری جماعتوں کے نمائندہ وفود نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان سے ملاقات کر کے انہیں مبارکباد پیش کی اور درخواست کی کہ وہ اس قرارداد کی توثیق کر کے اس کو قانونی شکل دیں۔
مرزا قادیانی بمقابلہ ”جان سمتھ پگٹ“
مرزا قادیانی کی زندگی میں ایک انگریز نے بھی ”مسیح“ اور ”خدا“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کا نام سمتھ پگٹ (John Hugh Smyth Pigott) تھا۔ جب مرزا قادیانی کو
اُس کے دعوے کا علم ہوا تو اُس نے 24 نومبر 1902ء کو ایک انگریزی اشتہار شائع کروا کر یورپ اور امریکہ میں بھیجا ، اِس انگریزی اشتہار میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر لکھا کہ ”مسٹر پگٹ کا میری زندگی میں مرنا ، یہ میرے سچے ہونے کا ایک اور نشان ہوگا ، اگر میں ، مسٹر پگٹ سے پہلے مر گیا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ نہ میں سچا مسیح ہوں اور نہ میں خدا کی طرف سے ہوں ، لیکن اگر خدا نے مجھے مسٹر پگٹ کی موت پر گواہ بنا دیا (یعنی پگٹ میری زندگی میں ہی مر گیا) اور اس کا یہ مرنا میری دعا کی وجہ سے ہوگا تو پھر ساری دنیا گواہ رہے کہ میں ہی سچا مسیح ہوں اور خدا کی طرف سے ہوں“۔ مرزا کے انگریزی اشتہار کے الفاظ بھی ملاحظہ فرمالیں :۔
"The death of Mr.Pigott within my life-time shall be another sign of my truth. If I die before Mr.Pigott, I am not true Messiah nor I am from God.But if Almighty God makes me a witness of Mr.Pigott's death which shall be brought about by the efficency of my prayer, let the whole world bear witness that I am the true Messiah and that I come from God"
مرزا قادیانی کی طرف سے شائع کیا گیا دو صفحات پر مشتمل یہ انگریزی اشتہار ”احمدیہ گزٹ۔ کینیڈا ، مارچ، اپریل 2010ء کے صفحہ نمبر 29“ پر بھی موجود ہے۔
دوستو ! کیا آپ جانتے ہیں، کون پہلے مرا تھا ؟ آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں ، مرزا قادیانی مورخہ 26 مئی 1908ء کو اِس جہاں سے کوچ کر گیا ، جبکہ مسٹر پگٹ مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی تقریباً 19 سال تک زندہ رہا اور اس کی موت 1927ء میں ہوئی۔ اِس طرح ساری دنیا اس بات کی گواہ بن گئی کہ مرزا قادیانی جھوٹا مسیح تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں تھا۔
مرزا قادیانی کی مسٹر پگٹ کی زندگی میں موت نے جماعت مرزائیہ کو ایسا جھٹکا دیا کہ آج تک انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس کا کیا جواب دیں۔ مرزا قادیانی کی موت کے بعد پہلے تو جماعت مرزائیہ نے بھرپور کوشش کی کہ مرزا قادیانی کا یہ انگریزی اشتہار دنیا کی نظروں میں نہ آئے۔ مرزا قادیانی کے ”مجموعہ اشتہارات“ میں بھی آپ کو یہ اشتہار کہیں نہیں ملے گا ،
لیکن جب یہ اشتہار منظر عام پر آیا تو اپنی پرانی عادت کے مطابق ”مرزائی محققین“ نے یہاں بھی آتھم اور محمدی بیگم کے خاوند کے بارے میں استعمال کیا جانے والا روایتی مرزائی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ یہ شوشہ چھوڑا کہ ”مرزا قادیانی نے پگٹ کو یہ وارننگ دی تھی کہ اگر وہ اپنے دعووں سے باز نہ آیا تو پھر وہ میری زندگی میں مر جائے گا“ اور چونکہ مرزا قادیانی کے اس انگریزی اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مسٹر پگٹ نے کبھی اپنے مسیح یا خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا، لہٰذا مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی ٹل گئی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرزا قادیانی کے اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی کی زندگی میں پگٹ کی طرف سے یہ اعلان ہوتا کہ ”میں اپنے مسیح اور خدا ہونے کے دعوے سے دست بردار ہونے کا اعلان کرتا ہوں“ لیکن اس کی طرف سے ایسا کوئی اعلان مرزا کی زندگی میں تو کیا، کبھی بھی نہیں ہوا۔ وہ مسلسل اپنے نظریات کا پرچار کرتا رہا اور بدستور اپنے گروہ کا سربراہ رہا۔ خود جماعت قادیانیہ بھی اقرار کرتی ہے کہ ”اگرچہ انگلینڈ کے چرچ نے پگٹ کے خلاف سخت کارروائی بھی کی اور اسے چرچ سے الگ کر دیا گیا لیکن وہ اپنے دعوے سے باز نہ آیا اور یہی کہتا رہا کہ میں خدا ہوں“ (دیکھیں: مجلس انصار اللہ امریکہ کی طرف سے شائع شدہ انگریزی رسالہ Approaching the West، مصنف مبشر احمد ایم اے۔ ایل ایل بی، صفحہ 16)، نیز مرزا قادیانی کے بقول اس کے خدا نے اُسے بتایا تھا کہ پگٹ توبہ نہیں کرے گا،
20 نومبر 1902ء بروز پنجشنبہ مرزا قادیانی کو ایک خواب آیا جو یوں لکھا ہے: ”پگٹ کے متعلق دُعا اور توجہ کرنے سے حضرت اقدس نے رؤیا میں دیکھا کہ کچھ کتابیں ہیں جن پر تین بار تسبیح تسبیح لکھا ہوا تھا، پھر الہام ہوا: واللہ شدید العقاب. انھم لا یحسنون۔ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی (یعنی پگٹ کی۔ ناقل) موجودہ حالت خراب ہے اور یا آئندہ توبہ نہ کریں گے، اور یہ معنے بھی اس کے ہیں لا یؤمنون باللہ (یعنی اللہ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ناقل) اور یہ مطلب بھی اس سے ہے کہ اس نے یہ کام اچھا نہیں کیا، اللہ تعالیٰ پر یہ افتراء اور منصوبہ باندھا اور اللہ شدید العقاب ظاہر کرتا ہے کہ اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور عذاب الہی میں گرفتار ہوگا۔ حقیقت میں یہ بڑی شوخی ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا جائے“۔ (تذکرہ مجموعہ وحی الہامات، طبع چہارم صفحہ 360، 361 از مرزا قادیانی)
الغرض! مسٹر پگٹ کے بارے میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نے مرزا قادیانی
کے اشتہار کے بعد اپنے نظریات یا دعووں سے رجوع کرلیا تھا، لہذا مرزا قادیانی کا پگٹ کی زندگی میں ہی مرجانا اور پگٹ کا اس کے بعد کئی سال تک زندہ رہنا خود باقرار مرزا اُس کے جھوٹے ہونے کی ناقابل تردید دلیل ہے۔
مرزا غلام قادیانی کی پرورش، حرام لقمہ سے
قادیان کے الہامی صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملہم صاحب کے والد حکیم غلام مرتضیٰ، ان کے بھتیجوں اور دوسرے اقرباء کی کچھ زمین سکھوں نے اپنے عہد حکومت میں ضبط کر لی تھی اور یہ کہ جب پنجاب میں انگریزی حکومت قائم ہوئی تو مرزا غلام مرتضیٰ نے اس کی بازیابی کے لیے انگریز عدالتوں میں مقدمات دائر کیے۔ مرزا غلام قادیانی نے جو طویل رجسٹری شدہ مکتوب مولوی محمد حسین بٹالوی مرحوم کے نام 4 جنوری 1893ء کو بھیجا، اس میں لکھا تھا کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ان مقدمات پر آٹھ ہزار روپیہ خرچ برداشت کیا۔ (مکتوبات احمدیہ مکتوب نمبر 20، جلد اوّل، صفحہ 343 طبع جدید) اس کے پانچ سال بعد کتاب البریہ میں جو کہ 24 جنوری 1898ء کو شائع کی، یہ لکھ مارا کہ ان مقدمات پر میرے والد کے قریباً ستر ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔
(کتاب البریہ صفحہ 169 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 187 از مرزا قادیانی)
پھر اس کے ساڑھے چار سال بعد کتاب ”تریاق القلوب“ میں جو 28 اکتوبر 1902ء کو شائع ہوئی، نہ آٹھ ہزار کا ذکر کیا نہ ستر ہزار کا بلکہ اس کو ایک سنا سنایا قصہ قرار دیا۔ چنانچہ لکھا کہ ”اعظم بیگ نام ایک شخص لاہور کا باشندہ تھا جو ایکسٹرا اسسٹنٹ تھا، اس نے اپنی حیلہ سازی سے ہمارے بعض بے دخل شرکاء کو جو ملکیت قادیان کے سرکاری کاغذات کی رو سے حصہ دار تھے مگر ملکیت سے بالکل بے تعلق تھے اور مقدمات قادیان کے ہزار ہا روپیہ خرچ و حرج میں کسی کام میں شریک نہیں ہوئے تھے، اٹھایا اور کہا کہ اپنے حصے میرے پاس فروخت کر دو اور میں مقدمہ کروں گا۔ چنانچہ ان کو کچھ تھوڑا روپیہ دے کر خوش کر دیا اور ان سے ملکیت قادیان کے مقدمے کرائے اور آپ ان کو مدد دی۔ میرا بھائی مرزا غلام قادر جن کو اپنی فتح یابی کا بہت یقین تھا، سرگرمی سے جواب دہی میں مشغول ہوئے اور چونکہ میں نے سنا ہوا تھا کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ان دیہات پر ہزار ہا روپیہ خرچ کیا ہوا ہے اور شرکاء اس خرچ
میں کبھی شریک نہیں ہوئے۔
(تریاق القلوب، صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 209، 210 از مرزا قادیانی)
اور اگر بفرض محال آٹھ ہزار یا ستر ہزار روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ کر ڈالا تو اس کے ہرگز یہ معنی نہ تھے کہ مرزا غلام مرتضیٰ کے بھتیجوں اور دوسرے اقرباء کا اپنی جدی جائیداد پر کوئی حق ملکیت ہی باقی نہ رہ گیا تھا۔
قادیانی جواب دیں!
- دنیا کے کتنے ممالک تمہارے ہیں؟
- کتنے ممالک فتح کیے آج تک؟
- کتنے ممالک میں تمہاری حکومت ہے؟
- کتنے ممالک میں تمہارا سکہ چلتا ہے؟
- کتنے ممالک میں مرزا قادیانی کی شریعت نافذ ہے؟
- کتنے ممالک میں مرزا قادیانی کا وضع کردہ مذہب نافذ ہے؟
- کتنے ممالک میں مرزا قادیانی کی فقہ نافذ ہے؟
- کتنے ممالک میں مرزا قادیانی کی تعلیمات کو سرکاری درجہ حاصل ہے؟
- کتنے ممالک کے سکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں روحانی خزائن اور تذکرہ
پڑھایا جاتا ہے؟
- دنیا کے کتنے مرزائی حافظ قرآن وحدیث ہیں؟
- دنیا کے کتنے مرزائی روحانی خزائن کے حافظ ہیں؟
- دنیا کے کتنے مرزائی تذکرہ کے حافظ ہیں؟
- دنیا کے کتنے مرزائیوں نے مرزا کی ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں؟
- دنیا کے کتنے مرزائی ہیں جو مرزا قادیانی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس تمہاری ہے؟
- کیا دنیا کا سب سے بڑا ہسپتال تمہارا ہے؟
- کیا دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نیٹ ورک تمہارا ہے؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹیز، کالجز اور سکول مرزائیوں کے ہیں؟
- کیا دنیا کے سب سے بہترین ڈاکٹر، پروفیسر، سائنسدان، فلاسفر، انجینئر مرزائی ہیں؟
- کیا دنیا کا سب سے بڑا دفاعی نظام مرزائیوں کا ہے؟
- کیا سب سے بڑا عدالتی نظام مرزائیوں کا ہے؟
- کیا سب سے بڑی فوج مرزائیوں کی ہے؟
- کیا سب سے بڑی دفاعی قوت مرزائی ہیں؟
- کیا سب سے بڑا تجارتی نظام مرزائیوں کا ہے؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی ایئرکمپینز مرزائیوں کی ہیں؟
- کیا دنیا کے سب سے بڑے گاڑیاں، ہوائی جہاز، بحری جہاز، خلائی جہاز بنانے
کے پلانٹ تمہارے ہیں؟
- دنیا کے کتنے سمندر، دریا اور پہاڑ مرزائیوں کے قبضے میں ہیں؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں تمہاری ہیں؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرونک سامان بنانے والی کمپنیاں مرزائیوں کی ہیں؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی ادویات اور زرعی آلات بنانے والی کمپنیاں
مرزائیوں کی ہیں؟
- کیا دنیا کی سپر پاور مرزائی ہیں؟
- کیا دنیا کا سب سے بڑا ٹی وی نیٹ ورک، سوشل میڈیا یا پرنٹ میڈیا مرزائیوں کا ہے؟
- کیا دنیا کی سب سے بہترین انٹیلی جنس مرزائیوں کی ہے؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی سائنسی لیبارٹریز مرزائیوں کی ہیں؟
- کیا سوا سو سال میں ایک دن بھی قادیانی خلیفہ دجال کی پناہ سے آزاد ہوا؟
- دنیا کا کوئی ایک اسلامی ملک جس نے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کیا ہو؟
- دنیا کا کوئی ایک کافر ملک جس نے تم لوگوں کو مسلمان اور باقی تمام مسلمانوں کو
کافر کہا ہو؟
- کیا دنیا کی سب سے بڑی عبادت گاہیں مرزائیوں کی ہیں؟
- دنیا کے کون سے خطے میں مرزا قادیانی نے امن وامان قائم کیا؟
جب ان سب چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے تو کون سی ترقی اور کہاں کی ترقی کی ہے تم لوگوں نے؟
دوسری دفعہ کا ذکر ہے!
ایک دفعہ ایک مولوی صاحب سے کسی مرزائی نے پوچھا، مولوی صاحب مرزا صاحب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ مولوی صاحب سوچنے لگے کہ کس طرح جواب دوں تاکہ لوگوں کو بات سمجھ آجائے۔ قریب ہی ایک جاٹ بیٹھا تھا۔ اس نے کہا مولوی جی! مجھے بات کرنے دیں۔ جاٹ نے مخاطب سے کہا، آپ نے کیا پوچھا تھا۔ مرزائی کہنے لگا، میں نے مرزا کے متعلق پوچھا تھا۔ جاٹ نے کہا کون سا مرزا، مرزائی نے کہا آپ نہیں جانتے؟ مرزا صاحب مشہور آدمی ہیں۔ جاٹ نے کہا دو مرزے مشہور ہوئے ہیں۔ ایک مرزا صاحباں کا عاشق تھا اور دوسرا مرزا محمدی بیگم کا عاشق۔ جاٹ نے کہا، صاحباں کا عاشق مرزا کم از کم نر آدمی تھا۔ شادی والے دن وہ اپنی محبوبہ کو اٹھا کے لے گیا اور اسی وجہ سے صاحباں کے بھائیوں نے اسے قتل کر دیا۔ یوں اس نے اپنی جان اپنی محبوبہ پر قربان کر دی لیکن جو محمدی بیگم کا عاشق مرزا قادیانی تھا، وہ بہت بڑا دیوث اور بزدل نکلا۔ کہتا تھا میرا نکاح عرش پہ خدا نے محمدی بیگم سے کر دیا ہے لیکن مرزا کی خود ساختہ منکوحہ کی شادی مرزا سلطان محمد سے ہو گئی اور ”مرزائیوں کی ماں“ ساری عمر مرزا سلطان کے نکاح میں رہی۔ اس کے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں، اسی کے گھر میں اس کا انتقال ہوا۔ نہ مرزا کو غیرت آئی نہ مرزائیوں کو کہ اپنی ماں کو چھڑا لیں۔ مولوی کسی کا نکاح پڑھا دے تو کوئی اس کو ختم نہیں کروا سکتا مگر یہاں عرش پہ پڑھائے ہوئے نکاح کا مرزا کچھ بھی نہیں کر سکا۔ یہ سن کر اس مرزائی کا شرم سے برا حال ہو گیا اور وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
- ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی
انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسے ہی پوری کر دے گا۔“
(انجامِ آتھم صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 31 از مرزا قادیانی)
تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی 1908ء میں جہنم واصل ہوا اور مرزا سلطان اس
کے بعد 40 سال تک زندہ رہا۔
پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ اور مرزا قادیانی
دوستو! آج بڑا عجیب و غریب واقعہ ہوا ہے۔ میں مرزا غلام قادیانی کی کتاب ”نزول المسیح“ جو کہ روحانی خزائن کی جلد 18 ہے، پڑھ رہا تھا تو معلوم ہوا کہ مرزا غلام قادیانی نے کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے آخر کار ”پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ“ کی کتاب ”سیف چشتیائی“ کا جواب لکھنا شروع کیا جو کہ شروع ہوتا ہے صفحہ 456 سے اور مرزا غلام قادیانی اس پر پیر صاحب کی کتاب کا اقتباس نقل کرتا ہے جس کا وہ جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، وہ اقتباس کیا ہے، آئیے! دیکھتے ہیں!
- ❑ ”دیکھو اشتہار مذکورہ“ (5 نومبر 1901ء جس کا عنوان ہے ایک غلطی کا ازالہ)
صفحہ (1) سطر (13) چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں، ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے: هو الذي أرسل رسوله بالهدی و دین الحق ليظهره على الدين كله دیکھو صفحہ 498 براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول پکارا گیا ہے“۔
مرزا غلام قادیانی کی یہ بات نقل کرنے کے بعد پیر صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں صفحہ 457
”اقول۔ یہ آیت سورہ الفتح کے رکوع آخیر میں موجود ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کے دین پاک کے غالب کر دینے کا ذکر ہے، کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے خواب میں یا بیداری میں آیت مذکورہ سنائی دے جیسا کہ اکثر حفاظ اور شاغلین کو کثرت استعمال وخیال کے سبب ایسا ہوا کرتا ہے۔ فرض کیا بذریعہ الہام ہی سہی۔ تو کیا وہ شخص بشہادت اس آیت کے رسول کہلوانے کا مجاز ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ورنہ ”محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم“ کے سننے سے محمد رسول ﷺ بھی اور اصحاب کبار بھی ہر ایک سننے والا کیوں نہ ہو جبکہ ”رَسُوْلُهُ“ کے سننے سے رسول بن گیا تو ”محمد رسول الله“ کے سننے سے محمد رسول اللہ اور ”والذين معه“ کے سننے سے اصحاب کبار اور ”الکفار“ سننے سے کفار کیوں نہیں بن سکتا؟ ایسا ہی ”واقیموا الصلوٰۃ و اتوا الزکاۃ“ سننے سے کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نبی اور رسول ہوں اور نئی نماز و
زکوٰۃ کا حکم مجھ پر نازل ہوا ہے، ہرگز نہیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتا تو پھر اس آیت ”ارسل رسولہ بالھدی“ کے الہام ہونے سے بروزی رسالت کو ”رسولہ“ کے لفظ سے کس طرح مراد لے سکتا ہے۔ بینوا انصفوا۔ الغرض بتقدیر تسلیم الہام بآیۃ مذکورہ کادیانی کو استحقاق ”رسول“ کہلوانے کا ہرگز نہیں پہنچتا۔ بفرض محال اگر اس آیت مذکورہ کے سننے سے رسول کہلوانے کے مستحق بنیں تو اسی معنی سے رسول ہوں گے جو معنی اس آیت مذکورہ میں مراد ہے یعنی رسول اصلی ورنہ دلیل دعویٰ پر منطبق نہ ہوگی۔ کیونکہ دعویٰ میں رسول ظلی اور دلیل (یعنی ارسل رسولہ) میں رسول اصلی۔
نیز رسولہ سے رسول ظلی مراد لینے کی تقدیر پر تحریف معنوی کلام الٰہی میں لازم آوے گی۔ لہٰذا استدلال بآیت مسطورہ بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ کادیانی اصلی رسول ہونے کا مدعی ہے۔ چنانچہ اس کا اوتار کہلوانا بھی اسی پر شاہد ہے۔ کیونکہ صرف فنا فی الرسول ہونا ہی اس کا مقتضی نہیں۔
پھر اسی اشتہار میں متصل عبارت منقولہ بالا کے لکھتے ہیں ”پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول انبیاء کے حلّوں میں۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ 504“
(نزول المسیح ص 81، 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 457، 458 از مرزا قادیانی)
تو دوستو! پیر صاحب کی کتاب کا اقتباس نقل کر کے مرزا غلام قادیانی اس کے آگے لکھتا ہے ”الجواب“ اور یہ جو مرزا غلام قادیانی پیر صاحب کی بات کا جواب لکھنے کی کوشش کرتا ہے، یہ شروع ہوتا ہے خزائن کی جلد 18 کے صفحہ 459 سے۔ اس کے بعد یہ کتاب ختم ہوتی ہے صفحہ 620 پر۔ یعنی الجواب میں مرزا غلام قادیانی نے تقریباً 161 صفحے لکھے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا کہ ایک عجیب و غریب واقعہ وہ یہ تھا کہ ان 161 صفحوں پر کسی ایک صفحہ پر بھی مجھے پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی بات کا جواب نہ ملا۔ بس مرزا نے ڈنگ ٹپاؤ اور مٹی پاؤ سکیم سے کام لیا اور محض صفحات کالے کیے۔ اگر کسی قادیانی نے ان 161 صفحوں میں پیر صاحب کی کسی بات کا جواب پڑھا ہو تو ہمیں بھی ضرور بتائے اور نشاندہی کرے۔
ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر؟
وزیر اعظم نواز شریف نے معروف مسلمان پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ریاض الدین کے نام سے منسوب قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل سنٹر فار فزکس اور فیلوشپ کو ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی۔ اس سلسلہ میں تھوڑی سی نظر تاریخ پر ڈالتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 70 کے عشرے کے اوائل میں پاکستان میں فزکس میں تحقیق کا ادارہ قائم کرنے کا خیال پیش کیا تھا جس کی منظوری اُس وقت کے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین نے دی تھی جس کے لیے حکومت پاکستان نے فنڈ مختص کیا اور کئی سال تک پلاننگ ہوتی رہی۔ اسی دوران 1974ء میں پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جس کے فوری بعد ڈاکٹر عبدالسلام نے انتقاماً ہمیشہ کے لیے پاکستان چھوڑ دیا اور پاکستان میں فزکس کی تحقیق کا ادارہ قائم کرنے کا تمام پلان اور اس حوالے سے ہونے والی تمام منصوبہ بندی کا ریکارڈ بھی ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستانی حکومت کے پیسوں سے ہونے والی منصوبہ بندی کو استعمال کرتے ہوئے اٹلی میں انٹرنیشنل سینٹر فار تھیریٹکل فزکس کے نام سے تحقیقی ادارہ قائم کر دیا جس سے وہ آخر دم تک وابستہ رہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ایک مرتبہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود جب تحقیقاتی ادارہ نہ بن سکا تو دوبارہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں طویل عرصہ لگ گیا لیکن اس کا بیڑا ڈاکٹر عبدالسلام کے پائے کے ہی مسلمان سائنسدان ڈاکٹر ریاض الدین نے اٹھایا اور شبانہ روز محنت نے بالآخر پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا تحقیقاتی ادارے کی تخلیق کا خواب سچ کر دکھایا جس کا نام نیشنل سنٹر فار فزکس رکھا گیا۔ اس تحقیقاتی مرکز کا معیار اتنا اعلیٰ ہے کہ یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق 'سرن' سمیت فزک کے اکثر اداروں کی ممبر شپ اسے حاصل ہو گئی۔ ڈاکٹر ریاض الدین نے نہ صرف یہ ادارہ قائم کرنے کے لیے دن رات محنت کی بلکہ وہ دم آخر تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ اسی لیے ڈاکٹر ریاض الدین کی وفات کے بعد نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر ریاض الدین نیشنل سنٹر فار فزکس رکھ دیا گیا جسے وزیر اعظم نے تبدیل کر کے اسے ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی منظوری دی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک دوست سے پوچھا کہ نام کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ اُس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ریاض دنیا کے صف اول کے سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باعمل مسلمان بھی تھے۔ پانچ وقت باجماعت نماز ادا
کرنے کی وجہ سے وہ اکثر تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اسی لیے وہ فزکس کی دنیا میں گراں قدر خدمات کے باوجود گمنام رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم تحقیقاتی مرکز کا کسی با عمل انسان سے منسوب ہونا آج کی دنیا میں قابل قبول نہیں ہے۔
سوچنے کی بات
اگر قرآن مجید کی تیس آیات سے وفات مسیح ثابت ہے۔ اگر قرآن کے مطابق فوت شدہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا تو نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی سب احادیث خلاف قرآن ہونے کی وجہ سے ناقابل تسلیم ہیں۔ لہٰذا نہ کسی مثیل مسیح نے آنا ہے اور نہ اصلی نے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی احادیث کا غالب ترین حصہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہ وہی حضرت ابو ہریرہ ہیں جن کو مرزا قادیانی نے غبی اور درایت میں ردی قرار دے رکھا ہے۔ کیا کہتے ہیں قادیانی حضرات اس بارے میں؟
آخری مجدد اور آخری خلیفہ، مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کا
ایک اور ثبوت
دوستو! مرزا غلام قادیانی نے اپنے نقلی مسیح ہونے کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت بھی خود ہی پیش کیا ہے اور اپنے جھوٹے ہونے پر خود ہی مہر لگا دی ہے۔ مرزا قادیانی کی آخری کتابوں میں سے ایک کتاب ہے ”حقیقۃ الوحی“۔ اس میں ایک جگہ اپنے حق میں ظاہر ہونے والے ”آسمانی نشانوں“ کو گنواتے ہوئے سب سے پہلا نشان یوں لکھا ہے:
- ”پہلا نشان۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ یبعث لھذہ
الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدّد لھا دینھا. رواہ ابوداؤد یعنی خدا ہر صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے دین کو تازہ کرے گا اور اب اِس صدی (چودھویں صدی ناقل) کا چوبیسواں (24) سال جاتا ہے اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200)
آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو چودھویں صدی کا مجدد ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث شریف پیش کر رہا ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
جن کے بارے مرزا غلام قادیانی کا کہنا ہے کہ وہ ”کم سمجھ، اچھی درایت نہ رکھنے والا، غبی“ وغیرہ (نعوذ باللہ) ہیں۔ بہر حال اس کا استدلال یہ ہے کہ یہ تحریر لکھتے وقت تک چودھویں صدی ہجری کے بیس سال گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی نے بھی اس صدی کا مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ صرف میں (مرزا قادیانی) نے کیا ہے، لہٰذا میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں۔
اپنی اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اگلے صفحہ پر مندرجہ ذیل الفاظ لکھتا ہے، غور سے پڑھیے گا:
- ”یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو
آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں۔ یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری پڑ رہی ہے، زلزلے آ رہے ہیں۔ ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں، پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ اقرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں بھی تئیس سال گزر چکے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اس بات کی ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس کے دعوے پر پچیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں اور میں ہی وہ ایک ہوں جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔ جب تک میرے اس دعویٰ کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے، وہ میں ہی ہوں“۔ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201)
ہم یہاں اس بات پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ چودھویں صدی آخری زمانہ یا آخری صدی ہے؟ ہم مرزا قادیانی سے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ اس نے لکھا کہ ”میں ہی وہ شخص ہوں جس کے دعویٰ پر پچیس (25) برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں“ تو اگر اس نے یہ تحریر لکھنے سے پچیس (25) برس پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اس وقت تو ابھی تیرہویں صدی چل رہی تھی تو وہ چودھویں صدی کا مجدد کیسے ہوا؟ ہم یہ بھی نہیں پوچھتے کہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں میں 80 کے قریب مجددین میں سے جن کے نام قادیانیوں کی کتاب ”عسل مصفّیٰ، صفحہ 116 تا 120 طبع 1901ء“ میں لکھے ہیں، کس کس نے
مجدد ہونے کا دعویٰ کیا؟ ہمارا مقصد یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ مرزا قادیانی کا استدلال کچھ اس طرح بنتا ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ ہر صدی میں ایک مجدد آنا ہے اور میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں، اور اس بات پر اتفاق ہے کہ اس امت کا آخری مجدد مسیح موعود ہوگا جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا اور یہ زمانہ یعنی چودھویں صدی آخری زمانہ ہے، یعنی مرزا کے بقول وہ اس امت کا آخری مجدد ہے۔ بلکہ اس سے پہلے مرزا قادیانی اپنی اسی کتاب میں اپنے آپ کو قرآن کریم کی آیات کی رو سے اس امت کا ”آخری خلیفہ“ بھی لکھ چکا ہے:
- ”آیات قطعیہ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے
اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امت میں سے آئے گا۔“
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153)
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چودھویں صدی کے بعد کوئی صدی نہ آتی اور دنیا ختم ہو جاتی، لیکن چودھویں صدی ختم ہوئی، آج پندرھویں صدی کے بھی تقریباً 37 سال گزر چکے ہیں۔ ہر صدی کے سر پر مجدد آنے کی جو حدیث شریف مرزا قادیانی نے پیش کی تھی، اس میں ”علی رأس کل مائۃ“ یعنی ہر سو سال کے سر پر مجدد آنے کے الفاظ ہیں یعنی جب نئی صدی آتی رہے گی، مجدد آتے رہیں گے، حدیث شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ صرف چودھویں صدی تک مجدد آتے رہیں گے اور اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ پندرھویں صدی کا شروع ہونا ہی مرزا قادیانی کے اس دعوے کو غلط ثابت کر گیا کہ وہ اس امت کا آخری مجدد ہے کیونکہ اب حدیث شریف کی رو سے پندرھویں صدی کا بھی کوئی نہ کوئی مجدد ہونا ضروری ہے۔ جب مرزا قادیانی کا آخری مجدد ہونے کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا تو چونکہ اس نے خود لکھا تھا کہ ”آخری مجدد مسیح موعود“ کو ہونا ہے تو اس کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا۔
چھ کروڑ کتابیں
”خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم نے چھ کروڑ کتاب وساوس اور شبہات کے پھیلانے کے لیے اب تک تقسیم کر دی اور آئندہ بھی بڑی سرگرمی سے یہ کارروائی جاری ہے۔ اس قوم کے مقابل پر کس زمانہ میں کوئی نظیر مل سکتی ہے بلکہ چھ ہزار برس کی مدت پر نظر ڈالنے سے کوئی نظیر پیدا نہیں ہوئی تو پھر کیا ابھی تک منشائے حدیث کے موافق ثابت نہیں ہوا کہ ان
لوگوں کی فتنہ اندازی بے مثل و مانند ہے۔ زمانہ نے آخر کار جس فتنہ عظیمہ کو ظاہر کیا، وہ یہی فتنہ ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو گر جاؤں میں بٹھا دیا ۔ کروڑ ہا کتابیں رد اسلام میں تالیف ہو گئیں‘‘۔ (ازالہ اوہام ص 736، 737 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 496، 497 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی جھوٹ سے مبالغہ آرائی کرنے والے کو کیا کہتا ہے، قادیانی قوم اچھی طرح جانتی ہے۔
- ”خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں سے جھوٹ بولتا ہے“
(اعجاز احمدی بنام ضمیمہ نزول المسیح ، ص نمبر 69، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 ، صفحہ 181 از مرزا قادیانی)
فرعون اور مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کے مطابق ابو جہل اُمت محمدیہ کا فرعون تھا۔ وہ لکھتا ہے: ”ابوجہل اس اُمت کا فرعون تھا کیونکہ اس نے بھی نبی کریم صلعم کی چند دن پرورش کی تھی جیسا کہ فرعون مصری نے حضرت موسیٰ کی پرورش کی تھی‘‘۔ (ملفوظات جلد دوم طبع جدید صفحہ 202 از مرزا قادیانی)
قادیانی حضرات سے درخواست ہے کہ وہ بتائیں کہ مرزا قادیانی یہ کہانی کہاں سے لایا ہے؟
مرزائیوں کی مقدس کتاب تذکرہ میں تحریف
مرزائیوں کو بھی معلوم ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات فقط ایک ٹوپی ڈرامہ تھے اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے دوسری کتابوں کے ساتھ ساتھ تذکرہ ( مجموعہ وحی والہامات) میں بھی ہر ایڈیشن میں تحریف کرتے جا رہے ہیں لیکن اس طرح سے مرزا کا گند ختم نہیں ہوگا۔ قادیانی مذہب سے پورے کا پورا مرزا قادیانی ہی ڈیلیٹ کرنا پڑے گا پھر کہیں جا کر جان چھوٹے گی۔
پرانے ایڈیشن (طبع سوم) کے صفحہ 591 پر 15 جنوری 1906ء کا یہ الہام موجود ہے۔ ”صبح پیر کے دن میں نے خواب میں دیکھا کہ امام الدین کی کچنی (کنجری) بیوی گری پڑی ہوئی ہے‘‘ جبکہ نئے ایڈیشن (طبع چہارم) کے صفحہ 503 اور 504 پر جہاں جنوری 1906ء کے دوسرے الہام موجود ہیں مگر یہ الہام موجود نہیں ہے بلکہ اس کو نکال دیا گیا ہے۔
مرزائی حضرات، مرزا قادیانی کی تحریروں سے اس قدر شرمندہ ہوچکے ہیں کہ دھڑا دھڑ اس میں تحریفات شروع کر رکھی ہیں اور یہی بات اس کلٹ کو اپنے انجام کی طرف لے کر جائے گی۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت!
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے لیے اُن کے مریدین کیا کہانیاں اور قصے گھڑتے ہیں، ملاحظہ ہو۔ آخری صدی کے لیے مجدد کے لیے ”مقدر“ تھا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی معہود ہو اور نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے، اس لیے مرزا قادیانی نے خدا کا نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا‘‘۔ قادیانی بتائیں کہ یہ مقدر کب، کہاں اور کس نے کیا؟ مرزا قادیانی کو آئے گئے ہوئے بھی سو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ قادیانی حضرات بتائیں کہ قادیانیت کی صدی میں کتنے سال ہوتے ہیں۔
مسیح موعود بننے کا نسخہ!
آنجہانی مرزا قادیانی نے یوں تو ہر نبی کے نام کو اپنایا حتیٰ کہ بروزی طور پر ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا بھی دعویٰ کیا مگر مسیح موعود کیسے بنا، کون سے ایسے کرشمے تھے جنہوں نے موصوف کو مجبور کیا کہ وہ اپنے آپ کو مسیح موعود تسلیم کر لیں، آیئے انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
- ”اسی طرح صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت
آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لیے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں“۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 150 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153 از مرزا قادیانی)
آیئے اب دیکھتے ہیں کہ وہ صدہا نشان کس قسم کے ہیں جن سے موصوف مسیح موعود بننے پر مجبور ہوئے۔
- ”نشان 1: خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ ایک لڑکی تمہارے گھر میں پیدا ہوگی اور
مرجائے گی اور اس کا نام غاسق رکھا یعنی غروب ہونے والی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ طفولیت میں ہی مر جائے گی، چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق لڑکی پیدا ہوئی اور پیشگوئی کے
مطابق طفولیت میں ہی مرگئی‘‘۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 395)۔
- ☆ ’’نشان 2: مجھے وحی الہی سے بتلایا گیا کہ ایک اور لڑکی پیدا ہوگی، مگر وہ فوت ہو
جائے گی، چنانچہ وہ الہام قبل از وقت بہتوں کو بتلایا گیا۔ بعد اس کے وہ لڑکی پیدا ہوئی اور چند ماہ بعد فوت ہوگئی‘‘۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 228)
- ☆ ’’نشان 3: میں نے طاعون پھیلنے کے لیے دعا کی ہے، سو وہ دعا قبول ہو کر
ملک میں طاعون پھیل گئی‘‘۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 235)
- ☆ ’’نشان 4: مالی مشکلات اس قدر تھے کہ بیس (20) روپیہ ماہوار بھی نہیں آتے
تھے اور قرضہ لینا پڑتا تھا اور اب میرے سلسلہ کی تمام شاخوں سے قریباً تین ہزار (3000) روپیہ ماہواری آمدنی ہے‘‘۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 252)
- ☆ ’’نشان 5: لالہ چندو لال مجسٹریٹ اکسٹرا اسسٹنٹ گورداسپور کے تنزل کی
نسبت پیشگوئی چنانچہ وہ گورداسپور سے تبدیل ہو کر ملتان منصفی پر چلا گیا‘‘۔
(حقیقۃ الوحی صفحہ 226)
درج بالا چند نشان بطور نمونہ پیش کیے جن کی وجہ سے مرزا غلام قادیانی مجبور ہوا کہ وہ مان لے کہ وہ مسیح موعود ہے۔ اگر قادیانی حضرات مرزا قادیانی کی کتب کا مطالعہ کریں تو ان کو حیرت ہوگی کہ کہیں وہ ان نشانات کی وجہ سے مسیح موعود بنتا ہے اور کہیں اللہ تعالیٰ اس کو مسیح موعود بناتا ہے۔
قادیانی خلیفہ سے دو سوال
کیا کسی بھی قادیانی کے پاس ان دو سوالوں کے صحیح، سچے اور شائستہ جواب ہیں؟ اگر نہیں تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ جس شخص کو بقول آپ کے اللہ نے خلیفہ آف اسلام مقرر کیا، وہ جواب دے کر تشنگی ختم کرے۔
- 1- اگر نبوت جاری ہے تو کیا مرزا قادیانی کے علاوہ بھی کوئی نبی آ سکتا ہے یا مرزا
قادیانی ہی صرف اس منصب کے لیے مخصوص تھا؟
- 2- اگر آپ کا ایمان یقینی ہے کہ مرزا قادیانی نبی ہے تو پھر آپ اسے امام مہدی و
مسیح موعود کہہ کر کیوں ہائی لائٹ کرتے ہیں، جبکہ وہ آپ کے نزدیک نبی ہے؟
سب کا جنازہ پڑھ دیا
- ’’قاضی سید امیر حسین کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہونے پر جنازے کے ساتھ مسیح موعود
بھی تشریف لے گئے اور خود ہی جنازہ پڑھایا۔ عموماً جنازے کی نمازیں حضرت مسیح اگر موجود ہوتے ، تو خود ہی امامت کرتے ۔ اس وقت نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی کہ حضور میرے لیے بھی دعا کریں۔ فرمایا میں نے تو سب کا ہی جنازہ پڑھ دیا ہے۔‘‘ -(ذکر حبیب صفحہ 161، 162 از مفتی محمد صادق قادیانی)
سنگترہ اور ہیضہ
مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
- ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود اپنے باغ میں پھر رہے تھے جب آپ سنگترہ کے ایک
درخت کے پاس سے گزرے تو میں نے (یعنی بیگم نے) یا کسی اور نے کہا کہ اس وقت تو سنگترہ کو دل چاہتا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کیا تم نے سنگترہ لینا ہے؟ والدہ صاحبہ نے یا اس شخص نے کہا کہ ہاں لینا ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے اس درخت کی شاخوں پر ہاتھ مارا اور جب آپ کا ہاتھ شاخوں سے الگ ہوا تو آپ کے ہاتھ میں ایک سنگترہ تھا اور آپ نے فرمایا یہ لو۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ وہ سنگترہ کیسا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا زرد رنگ کا پکا ہوا سنگترہ تھا۔ میں نے پوچھا۔ کیا پھر آپ نے اسے کھایا؟ والدہ صاحبہ نے کہا یہ مجھے یاد نہیں۔........... خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا اس وقت سنگترہ کا موسم تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں اور وہ درخت بالکل پھل سے خالی تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد اول طبع جدید صفحہ 5 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
قادیانیوں سے سوال ہے کہ جب آپ یہ بات مانتے ہیں کہ خدا اپنی قدرت سے بغیر موسم کے پھل دے سکتا ہے تو پھر آپ اس بات کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا غلام قادیانی وبائی ہیضے میں بغیر موسم کے مبتلا نہیں ہوسکتا اور دلیل آپ کی یہ ہے کہ اس وقت ہیضہ کا موسم نہیں تھا۔ اگر بغیر موسم کے سنگترہ ہوسکتا ہے تو پھر بغیر موسم کے ہیضہ کیوں نہیں ہوسکتا؟
مرزا قادیانی کا ایک اور شاہکار جھوٹ
مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
- ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ اصل میں عربی
زبان کی ستائیس لاکھ لغت ہے جس میں سے قرآن مجید میں صرف چار ہزار کے قریب استعمال ہوئی ہے۔ عربی میں ہزار نام تو صرف اونٹ کا ہے اور چار سو نام شہد کا‘‘۔
(سیرت المہدی جلد سوم طبع جدید صفحہ 824 از مرزا بشیر احمد، ایم اے)
ہے کوئی قادیانی جو اونٹ کے 50 نام ہی گنوا سکے؟ شہد کے 30 نام ہی گنوا سکے؟ عربی کی 27 لاکھ لغت ثابت کر سکے؟ ہے کوئی قادیانی جو اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کو سچا ثابت کر سکے؟
ٹیچی ٹیچی
یہ پودا اُسی کا ہے خود کاشتہ
پلومر کی بھٹی سلامت رہے
ہے جس کی صبوحی میرا ناشتہ
کنہیا بھی ہوں اور مہدی بھی ہوں
ہے دونوں کی عزت مری داشتہ
یہ ہے ٹیچی ٹیچی کی بروقت ’’ٹِچ‘‘
جو ہے میری تھیلی زر انباشتہ
انتخاب از چمنستان: مولانا ظفر علی خاں
صرف قلم کا جہاد
مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ’’میرے نزدیک تو یہ ضرورت ایسی ضرورت ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہے۔
اُسے بھی چاہیے کہ وہ اپنا روپیہ اس دینی جہاد میں صرف کر دے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کو
پانچوں نمازیں اکٹھی پڑھنی پڑی تھیں۔ لیکن اب چونکہ تلوار کا جہاد نہیں بلکہ صرف قلم کا جہاد رہ گیا ہے۔ (ملفوظات جلد چہارم طبع جدید صفحہ 372 از مرزا قادیانی)
کیا کوئی قادیانی قرآن وسنت سے ثابت کر سکتا ہے کہ تلوار کا جہاد ختم ہو گیا ہے اور اب صرف قلم کا جہاد ہے؟
ابوجہل اور تیس سیپارے؟
قرآن جو ضابطہ حیات ہے، اللہ کا نوع انسانی اور کائنات کے لیے ایک پلان ہے جس میں قوانین اور نتائج درج ہیں۔ لیکن آپ کو حیرت ہوگی یہ جان کر کہ ایک پنجابی مدعی نبوت آنجہانی غلام قادیانی کہتا ہے کہ قرآن کا حجم جو کہ تیس (30) پاروں پر مشتمل ہے، اس کی وجہ ”ابوجہل“ اور مخالف لوگ تھے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
- ”اگر ابوجہل وغیرہ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے تیس سیپارے کیونکر ہوتے“؟
(ملفوظات جلد چہارم طبع جدید صفحہ 8 از مرزا قادیانی)
یہ بات مرزا قادیانی کی افیون زدہ ذہنیت اور علمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ مزید کہتا ہے:
- ”ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے۔ اس کے عوض میں پانچ
وقت کی نماز رکھی“۔ (ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ 142 از مرزا قادیانی)
کیا قادیانی حضرات اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے؟
ایک سوال مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے
مرزا قادیانی نے ایک جھوٹ بولا تھا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر ڈالا گیا تھا“ اس جھوٹ پر مرزا قادیانی نے اور بہت سے جھوٹ بولے، ہمارا سوال مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی درج ذیل ساری تحریریں پڑھیں اور پھر بتائیں کہ اس کے مطابق حضرت مسیح صلیب پر کتنے گھنٹے رہے؟ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ؟ دو گھنٹہ؟ چند منٹ یا تین گھنٹے؟ شرمندہ ہونے سے بہتر ہے کہ جواب وہ دے جسے جواب آتا ہے۔
- ”حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور
پھر اتارے گئے‘‘۔
(ایام الصلح صفحہ 125 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 351 از مرزا قادیانی)
- ’’حضرت مسیح علیہ السلام نہ تین دن تک صلیب پر رہے اور نہ تین دن کی بھوک اور
پیاس اٹھائی اور نہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ قریباً دو گھنٹہ تک صلیب پر رہے‘‘۔
(مسیح ہندوستان میں صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 22 از مرزا قادیانی)
- ’’عید فصح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا سا وقت اور آگے سبت کا خوف اور پھر آندھی کا
آ جانا ایسے اسباب یکدفعہ پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا‘‘۔
(ازالہ اوہام صفحہ 381 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 296 از مرزا قادیانی)
تصویر مرزا
- ’’میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے جو کہ
مضطر کرتی ہے، وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنالیں۔ کیونکہ اس طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور شرک تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے میں اپنی جماعت کو اس جگہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو ایسے کاموں سے دستکش رہیں۔ بعض صاحبوں کے میں نے کارڈ دیکھے ہیں اور ان کی پشت کے کنارہ پر اپنی تصویر دیکھی ہے۔ میں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ ایک صحیح اور مفید غرض کے لیے کام کرنا اور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویریں جابجا در و دیوار پر نصب کرتے ہیں یہ اور بات ہے۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر بشرک ہو جاتے ہیں اور بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ہندوؤں اور نصاریٰ میں پیدا ہو گئیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ جو شخص میرے نصائح کو عظمت اور عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرا سچا پیرو ہے وہ اس حکم کے بعد ایسے کاموں سے دستکش رہے گا ورنہ وہ میری باتوں ہدایتوں کے برخلاف اپنے تئیں چلاتا ہے اور شریعت کی راہ میں گستاخی سے قدم رکھتا ہے‘‘۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 195 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 367 از مرزا قادیانی)
جھوٹا کہیں کا......!
آنجہانی مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”کئی دنوں سے ابتلاؤں کا سامنا تھا۔ بیس پچیس دن رات تو میں سویا بھی نہیں۔
آج ذرا سی میری آنکھ لگ گئی۔“
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 619 از مرزا قادیانی)
کیا یہ بات انسانی عقل قبول کرتی ہے کہ کوئی نارمل انسان لگاتار دن رات بیس پچیس دن سوئے بغیر زندہ رہا ہو؟ قادیانی جواب دیں۔
قادیانی سانپ
آنجہانی مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ”سانپوں کی اقسام میں سے ایک قسم کے سانپوں کا نام ابتر ہے۔ اس قسم کے
سانپ کو شیطان کہتے ہیں۔ اگر حاملہ عورت اس کو دیکھے تو اس کا حمل ساقط ہو جاتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 440 از مرزا قادیانی)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف سانپ دیکھنے سے کسی حاملہ عورت کا حمل کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی قادیانی اس سلسلہ میں ربوہ میں ہونے والے اسقاط حمل کی مکمل فہرست مہیا کر سکتا ہے؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
- ”نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔“
(مسیح ہندوستان میں صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 21 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی اور کلرک
یہ ایک فرانسیسی کہانی ہے۔ ایک کلرک تھیٹر کی دوسری قطار میں بیٹھا ہوا تھا کہ اُسے چھینک آ جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ چھینک کسی کو کسی بھی بے وقت آ سکتی ہے کیونکہ یہ مدافعتی عمل ہے تو کلرک کو بھی چھینک آ گئی۔ اُس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی لیکن وہ بہت پریشان ہو گیا کیونکہ پہلی قطار میں ایک شخص اپنی گردن صاف کر رہا تھا جس پر کلرک کی چھینک کے چھینٹے پڑے تھے۔ کلرک پہچان گیا تھا کہ یہ شخص وزارت رسل و رسائل کا سول جنرل ہے اور یہ بات اُس پر گھبراہٹ طاری کر دیتی ہے کہ اُس نے ایک اتنے بڑے آفیسر پر چھینک دیا
وہ فوراً آفیسر سے معافی مانگتا ہے۔ آفیسر جواب دیتا ہے کوئی بات نہیں۔ لیکن کلرک کی تسلی نہیں ہوتی وہ پھر آفیسر سے معافی مانگتا ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر نہیں چھینکا اس لیے پلیز! مجھے معاف کر دیں۔ آفیسر کہتا ہے مہربانی کر کے چپ ہو جاؤ اپنا کام کرو اور مجھے تھیٹر دیکھنے دو۔ کلرک انتہائی کاسہ لیس اور چاپلوس قسم کا انسان تھا۔ اس لیے وہ آفیسر کے اس رویے سے گھبرا جاتا ہے لیکن شرمندوں کی طرح اپنے منہ پر ہنسی سجالیتا ہے لیکن پریشانی اُس کی دور نہیں ہوتی۔ تھیٹر میں وقفہ کے دوران کلرک دوبارہ اپنے آفیسر کے پاس پہنچ جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ جناب عالیٰ میں نے آپ پر چھینک دیا تھا، مجھے معاف کر دیں۔ میرا ہرگز ایسا ارادہ نہیں تھا۔ آفیسر کہتا ہے میری جان چھوڑ دو۔ میں تو اس واقعے کو بھول بھی گیا تھا۔ لیکن کاسہ لیس کلرک آفیسر کے جواب سے مطمئن نہیں ہو پاتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ آفیسر ناراض ہو چکا ہے اور جان بوجھ کر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا اس لیے ایسا کہہ رہا ہے اور کلرک یہ سوچ کر پریشان ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ اگر ابھی یہ ایسا نہیں سوچتا کہ میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا تو ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں ایسا سوچنا شروع کر دے۔ کلرک گھر جاتا ہے اور اپنی بیوی کو اس واقعے اور پریشانی کے بارے میں بتاتا ہے لیکن اُس کی بیوی کوئی دلچسپی نہیں لیتی لیکن کلرک ساری رات پریشان رہتا ہے اور اگلے دن بال کٹواتا ہے، نہاتا ہے، کپڑے بدلتا ہے اور خوب تیار ہو کر آفیسر کے دفتر پہنچ جاتا ہے۔ جنرل کا کمرہ ملاقاتیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ بھی اپنی باری کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے آخر اپنی باری پر وہ کلرک سے ملاقات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ حضور کل جو میں نے چھینک دیا تھا، مجھے اُس کی معافی دے دیں۔ یہ میری درخواست ہے۔ آفیسر کہتا ہے یہ کیا بکواس ہے اور کلرک بے چارے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور کلرک خود کو سمجھاتا ہے کہ ابھی آفیسر غصے میں ہے اس سے بعد میں معافی مانگنی چاہیے۔ یہ سوچ کر کلرک آفیسر کے دفتر کے باہر اُس کا انتظار شروع کر دیتا ہے۔ آفیسر اپنا کام ختم کر کے اپنے نجی کمرے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے کہ کلرک بھی لپک پڑتا ہے اور کہتا ہے کہ حضور مجھے بڑی شرمندگی ہے کہ میری وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی۔ آفیسر غصے سے اُس کی طرف دیکھتا ہے اور باہر جانے کا اشارہ کرتا ہے کہ یہاں سے نکل جاؤ لیکن کلرک بہت ڈھیٹ ہوتا ہے جانے کا نام ہی نہیں لیتا آخر آفیسر اپنے کمرے میں داخل ہو کر کمرہ بند کر لیتا ہے۔ کلرک کی پریشانی اور بھی بڑھ جاتی ہے کلرک اگلے دن پھر معافی مانگنے کے لیے جنرل کے دفتر پہنچ گیا اور کہنے لگا حضور زحمت دینے کی جرات
کی۔ میں معذرت کے لیے آیا تھا کیونکہ میری چھینک نے آپ کو تکلیف پہنچائی اور یہ چھینک غیر ارادی طور پر آگئی تھی ورنہ میری ہمت کیسے پڑ سکتی ہے کہ میں حضور پر چھینکوں۔ جنرل غصے سے چلاتا ہے کہ دفع ہو جاو یہاں سے وہ غصے سے کانپ رہا ہوتا ہے۔ کلرک واپس گھر کے لیے مڑتا ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا ہوتا ہے وہ لڑکھڑاتا ہوا گھر پہنچتا ہے اور صوفے پر لیٹتا ہے اور وہیں پہ مر جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک دوسرا کلرک قادیان کا رہنے والا تھا اور اس قادیانی کلرک نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی صورت میں ملکہ وکٹوریہ پر چھینک ماری اور اس کاسہ لیس، چاپلوس، اور بزدل کلرک کی بھی وہی حالت ہو گئی جو مذکورہ کہانی میں فرانسیسی کلرک کی ہوئی تھی۔ فوراً معافی کے لیے پہنچ گئے کہ حضور میں نے ایسا صرف وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ تو میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ملکہ وکٹوریہ نے کوئی توجہ نہیں دی جس طرح مذکورہ کہانی میں آفیسر نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن مرزا غلام قادیانی کی پریشانی کم نہیں ہوئی آخر کلرک جو ٹھہرا اب مرزا غلام قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو گنوانا شروع کیا کہ کس طرح وہ نسل درنسل انگریزوں کی غلامی کرتا آ رہا ہے اور کس طرح اس کے اباو اجداد انگریزوں کی خدمت کرتے رہے ہیں ہماری نسل درنسل غلامی کا خیال کر کے میری چھینک سے درگزر ہی فرما لی جائے۔ ملکہ وکٹوریہ آفیسر کی طرح اس واقعے کو بھول چکی ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کلرک اس واقعے کو بھولنے نہیں دے رہے کیونکہ پریشان ہیں کلرک جو ٹھہرے اس لیے ذہنی غلامی اور کاسہ لیسی و چاپلوسی کرنے سے باز نہیں رہ سکتے۔ لیکن جب کوئی جواب نہیں ملتا تو اب وہ نئے سرے سے معافی کے لیے عرض کرتے ہیں کہ حضور میں نے انگریز کی خدمت کے لیے پچاس سے زائد الماریاں بھی بھر دی ہیں جس میں جہاد کو حرام قرار دیا ہے اس لیے اب میری چھینک کی مجھے معافی دے دی جائے۔ ملکہ وکٹوریہ نے پھر اس کلرک کو کوئی توجہ نہیں دی نہ دینا چاہتی ہے لیکن یہ کاسہ لیس اور خوشامدی پھر فرانسیسی کلرک کی طرح پریشانی کے عالم میں دربار میں حاضر ہو کر کہتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ یہ فرقہ اول درجہ کا انگریز کا خیر خواہ ہے اور یہ خود بھی آپ ہی کا خودکاشتہ پودا ہے اس کا خیال کر کے اس کی چھینک پر درگزر فرمالیں۔ لیکن ملکہ وکٹوریہ پھر اس کلرک کو توجہ نہیں دیتی آخر وہ پھر ملکہ وکٹوریہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنی چھینک کی معافی کے لیے دربار میں حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے اسلام میں انگریز کی اطاعت فرض
ہو گئی ہے اور اس کی بدخواہی کرنے والا حرامی ٹھہرا دیا گیا ہے ملکہ وکٹوریہ کوئی جواب نہیں دیتی مکمل خاموشی ہے اور اس بات سے قادیانی کلرک پریشان ہے کہ ملکہ نے اُسے شاید چھینک کے لیے معاف نہیں کیا۔ وہ ملکہ سے تقاضا کرتا ہے کہ اُسے کلمہ شاہانہ سے نوازا جائے تا کہ اُسے تسلی ہو جائے کہ اُسے اس کی چھینک کی معافی مل گئی ہے۔ لیکن ملکہ وکٹوریہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی آخر اس پریشانی میں ایک دن مرزا غلام قادیانی کی حالت دگرگوں ہو جاتی ہے چارپائی سے ٹکراتا ہے پاس ہی عارضی لیٹرین بنی ہوئی ہے اور وہیں کہیں گر کر مر جاتا ہے۔ اس لیے کسی نے کیا خوب کہا تھا۔
کہ معمولی کلرکوں نے بھی نبی بننے کی ٹھانی ہے
مرزا غلام قادیانی کی کلرکی کو نبوت سمجھنے والے اپنی آخرت کا کچھ خیال کریں اور کلرکی اور نبوت کے فرق کو سمجھیں کہ نبی نہ تو ذہنی غلام ہوتا ہے نہ وہ کسی کی برتری کے زعم میں گرفتار ہوتا ہے نہ وہ چاپلوس ہوتا ہے نہ وہ غلو کرتا ہے اور نہ ہی کلمہ شاہانہ کے لیے کاسہ لیسی کرتا ہے اور نہ ہی احسان گنواتا ہے اپنی خاندانی غلامی کے۔ جب خدا نے ہر نام مرزا غلام قادیانی کو بقول اُس کے دے دیا تھا تو پھر کلمہ شاہانہ کی حسرت کرنا ہماری تو سمجھ سے باہر ہے۔ کیا اس سے مرزا غلام قادیانی کا مرتبہ خدا کے نزدیک بڑھ جانا تھا یا اُس کے درجات بلند ہو جانے تھے۔ اس کا مرزا غلام قادیانی کی اخروی زندگی پر کیا فرق پڑتا۔؟ نبی کی تو نظر ہی آخرت پر ہوتی ہے لیکن یہ کلرک ہمیشہ دنیا پر نظر رکھتا رہا۔ افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کی عقلوں پر جو مرزا غلام قادیانی کی کلرکی کو نبوت کہہ رہے ہوتے ہیں۔
السلام علیکم !
بعض قادیانی مسلمانوں کو السلام علیکم کہتے ہیں ،جبکہ آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے تمام پیروکاروں کو مسلمانوں کو نہ صرف سلام کہنے سے منع کیا ہے بلکہ ان کے ساتھ کھانے پینے سے بھی روکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ قادیانیوں کو اچھا سمجھتے ہیں ، مرزا قادیانی کے نزدیک وہ منافق ہیں۔ قادیانی اور قادیانی نوازوں کو مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریر پڑھ کر اپنی حیثیت کا خود تعین کرنا چاہیے۔
آنجہانی مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
- ❑ ”جو لوگ ہمارے مکفر ہیں اور ہم کو صریحاً گالیاں دیتے ہیں، ان سے السلام علیکم
مت لو اور نہ ان سے مل کر کھانا کھاؤ۔ ہاں خرید و فروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں۔ جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ ادھر کا ہوں اور نہ ادھر کا ہوں، اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمارا مصدق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے۔ ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہوتے ہیں۔ اُن کا یہ اصول ہوتا ہے کہ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام ان لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر یاد رکھو کہ جو شخص ایک طرف کا ہوگا، اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دکھے گا۔“ (ملفوظات جلد سوم طبع جدید صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
اشتہار
آرمی نے کمانڈو کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا۔
Selection Criteria Sex Male Citizen Pakistani Height 5'-6" (167.5 cm) Chest 31-33" (78-83 cm). Age 17 - 23 years Qualification - FSC from govenment institute 4 x Passport size photographs Computerized National Identity Card Photocopy of Father's CNIC. Domicile. Registration Fee Rs. 50/-
انٹرویو کے دن سکینہ نامی ایک ادھ موا نوجوان اندر داخل ہوا۔ آفیسر نے کہا آپ پاکستانی شہری ہیں؟
سکینہ: جی میں ترکمانستان سے آیا ہوں
آفیسر: لیکن گورنمنٹ نے اشتہار میں پاکستانی ہونے کی شرط رکھی تھی۔
سکینہ: جی وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کو یہاں غلطی لگی ہے، اصل میں ہم اپنے ملک میں پاکستان کو ترکمانستان کے ہی معنوں میں لیتے ہیں۔
آفیسر گہری نگاہوں سے سکینہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، آپ کا قد کتنا ہے؟
سکینہ: جی میرا قد تین فٹ تین انچ ہے۔
آفیسر: لیکن اشتہار میں 5 فٹ 6 انچ مانگا گیا تھا۔
سکینہ: جی آپ 5 فٹ 6 انچ کو ظاہری معنوں میں لے رہے ہیں جبکہ یہ ایک استعارہ تھا جس کا معنی 3 فٹ، 3 انچ ہے
آفیسر قدرے حیران ہوتے ہوئے بولا، آپ کی چھاتی کتنی ہے؟
سکینہ: جی میری چھاتی 31 سینٹی میٹر ہے
آفیسر: لیکن اشتہار میں تو 78 سینٹی میٹر مانگی گئی تھی
سکینہ: دیکھیں آپ شاید جانتے نہیں وہاں 31 کا ہندسہ موجود ہے اور میں نے بھی 31 ہی بتائی ہے
آفیسر تھوڑا تلخ لہجے سے، جناب پروفیسر صاحب وہ 31 انچ ہے نہ کہ سینٹی میٹر۔
سکینہ: جی یہاں 31 انچ کو 31 سینٹی میٹر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس لیے میں اس معیار پر پورا اترتا ہوں۔ 31 سینٹی میٹر کی چوڑی چھاتی ہے میری
آفیسر: اچھا عمر کتنی ہے تمہاری؟
شعیب: جی عمر تو 53 سال ہے لیکن گھر میں مجھے چھبو چھبو کہتے ہیں۔
آفیسر غصے سے: لیکن یہاں عمر کی زیادہ سے زیادہ حد 23 سال لکھی ہوئی ہے۔
شعیب: جی بتا رہا ہوں ناں کہ گھر میں مجھے چھبی چھبی کہتے ہیں۔
آفیسر: کیا مطلب چھبی چھبی؟
شعیب: جی چھبی کا مطلب چھبیس سال جیسا یعنی میں 26 سال کا لگتا ہوں۔
آفیسر تلخ لہجے میں۔ لیکن چھبی چھبی کہنے سے عمر 26 سال تھوڑی ہو جائے گی؟
شعیب: جی میرے گھر والے جاہل ہیں کیا؟ جہاں پلا بڑھا ہوں۔ ان کو زیادہ پتہ
ہے، میں کتنے سال کا لگتا ہوں۔ آپ اپنی ایک گواہی سے میرے پورے گھر کی گواہیوں کو رد نہیں کر سکتے۔
آفیسر: اچھا اپنی تعلیم بتاو کتنی ہے؟
شعیب: جی میں نے دو بار چھٹی جماعت کا امتحان دیا ہے اور دونوں بار ہی پاس ہوا ہوں۔
آفیسر: لیکن اشتہار میں کم سے کم تعلیم ایف ایس سی رکھی گئی ہے
شعیب: لگتا ہے آپ کو تو گنتی بھی نہیں آتی۔ دیکھیے چھے جمع چھے برابر 12 اور میں نے 2 بار 6 ویں کلاس پاس کی ہے تو 12 ہوگئیں۔
آفیسر: اس طرح 12 نہیں ہوتیں الو، اور ویسے بھی ایف ایس سی سائنس سبجکٹس کے ساتھ ہوتی ہے۔
شعیب: آپ مجھے اشتہار میں سے سائنس کا لفظ دکھائیں۔
آفیسر: جاہل آدمی ایف ایس سی سائنس کے ساتھ 12 کلاسیں پاس کرنے کو ہی کہتے ہیں۔
شعیب: جناب بھرتی اشتہار کے مطابق ہونی ہے یا آپ کے مطابق؟
آفیسر: جی اشتہار کے مطابق۔
شعیب: تو پھر مجھے اشتہار سے سائنس کا لفظ دکھائیں ورنہ آپ مجھے رجیکٹ نہیں کر سکتے۔
آفیسر: کون سے گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ سے یہ جماعتیں پاس کی ہیں؟
شعیب: جی اپنی امی سے۔
آفیسر تلملاتے ہوئے۔ لیکن ہم نے تو گورنمنٹ کے کسی انسٹیٹیوٹ کی شرط رکھی ہوئی ہے۔
شعیب: جی اصل میں وہ میرے ابو گھر میں میری امی کو بھی گورنمنٹ ہی پکارتے ہیں۔
آفیسر سکتے کی حالت میں: اچھا فوٹو لائے ہو ساتھ پاسپورٹ سائز؟
شعیب: جب میں خود آ گیا ہوں تو فوٹو کی کیا ضرورت ہے؟ اب اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر بیٹھ گئے ہو جن کی بھرتی میں کوئی اہمیت ہی نہیں
آفیسر: اچھا شناختی کارڈ دکھاؤ اپنا۔
شعیب: جی یہ لیں۔
آفیسر شناختی کارڈ دیکھتے ہوئے۔ اوہو جناب اس میں تو تصویر کسی اور کی لگی ہوئی ہے اور یہاں نام بھی سکینہ لکھا ہوا ہے۔
شعیب: جناب میں اس کا مثیل ہوں۔ میرے اندر وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو اس بندے کے اندر ہیں اور سکینہ والے دعوے سے میں دستبردار ہوگیا ہوں دراصل مجھے گھر والوں نے یہی بتایا تھا کہ وہاں سکینہ بولنا لیکن چونکہ عمر کا مسئلہ پیش آگیا، اس لیے میں پہلے والے دعوے سے دستبردار ہوتا ہوں۔ اب اسی لیے انٹرویو کے دوران ہی میں نے اپنا نام سکینہ سے شعیب ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ پس ایک لحاظ سے میں سکینہ ہوں اور دوسرے لحاظ سے مجھے شعیب سمجھا جاوے۔
آفیسر غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے بولا۔ الو کے پٹھے یہاں تو جنس بھی عورت لکھی ہوئی ہے۔
شعیب: جی آپ یہ روحانی باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ میں نے کہا تھا کہ مجھ میں شناختی کارڈ والی ہستی کے تمام کمالات موجود ہیں، مجھے حیض و نفاس بھی آتا ہے اور ابھی انٹرویو کے شروع میں مجھے حمل بھی ہوا تھا اور درمیان انٹرویو میں وضع حمل ہوا اور میں سکینہ سے شعیب بن گیا۔ اب آئی سمجھ؟
آفیسر: لیکن یہاں تو ایڈریس بھی کوئی اور لکھا ہوا ہے؟
سکینہ: جی یہ صرف ایک اجتہادی غلطی ہے۔
آفیسر بولا ڈنڈا اٹھاتے ہوئے بولا، اچھا میں سمجھ گیا تمہاری حالت کو، اپنا ڈومی سائل دکھاؤ۔
سکینہ: جی یہ رہا ڈومی سائل۔
آفیسر: لیکن یہ تو کسی سکینہ نام کی لڑکی کا ہے
سکینہ: جی وہ میں ہی ہوں
آفیسر: لیکن ابھی تم نے کہا کہ میں سکینہ کے دعوے سے دستبردار ہوں اور مجھے شعیب ہی لکھا اور پکارا جاوے، اب تم مکر رہے ہو اور سکینہ بن گئے؟
سکینہ: جی جہاں جہاں میں نے سکینہ ہونے سے انکار کیا، وہ عمر کے لحاظ سے تھا۔
میں نے کسی جگہ بھی ڈومی سائل کے لحاظ سے سکینہ ہونے کا انکار نہیں کیا۔ آفیسر ڈنڈا مضبوطی سے تھامتے ہوئے۔ اچھا 50 روپے فیس بھی تھی سکینہ: جی یہ لیں 5 روپے۔ آفیسر: اور باقی کے 45؟ سکینہ: جاہل آدمی 5 اور 50 میں صرف ایک نقطے کا ہی تو فرق ہے۔ اس لیے 5 کو 50 ہی سمجھو۔ آفیسر نے ڈنڈا اٹھایا اور بڑے احسن طریقے سے پورے 100 ڈنڈے برسائے اور کہا اب باہر جا کے کہنا کہ مجھے صرف ایک ڈنڈا مارا گیا ہے کیونکہ صرف 2 نقطوں کا ہی تو فرق ہے۔ اور میں بھی عدالت میں آرام سے کہہ دوں گا کہ مجھ سے اجتہادی غلطی ہوگئی تھی۔ الو کا پٹھہ پاگل ۔ دفع ہو جا یہاں سے۔
مرزائی حضرات خدا کو حاضر ناظر جان کر جواب دیں کہ کیا ایسے شخص کو فوج میں بھرتی کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ شخص دعوی کر سکتا ہے کہ میں نے اپنا انٹرویو مطلوبہ معیار کے عین مطابق صحیح دیا ہے؟ اگر عام دنیاوی عہدے کے لیے اس طرح کی مضحکہ خیز تاویلات باطلہ قابل قبول نہیں ہوسکتیں تو ایسی من گھڑت تاویلوں سے مرزا قادیانی نبی کیسے بن سکتا ہے؟ کیونکہ وہ بھی قرآن و حدیث کی بالکل اسی طرح تاویلات کر کے خود کو مسیح موعود اور نبی بناتا رہا۔
قادیانیوں کو ذلت میں عزت، شکست میں فتح اور ناکامی میں کامیابی نظر آتی ہے۔ جہاں لد سے مراد لدھیانہ، کعبہ سے مراد قادیان، مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد، جہنم سے مراد طاعون، محدث سے مراد نبی، زرد کپڑے سے مراد بیماری، مریم سے مراد مرزا قادیانی، ام المومنین سے مراد مرزا قادیانی کی بیوی، صحابہ سے مراد مرزا قادیانی کے ساتھی، مرزا پر اترنے والی وحی سے مراد قرآنی آیات اور مرزا قادیانی کی باتوں سے مراد احادیث ہوں، وہاں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
ناجی فرقہ
مرزائی حضرات آپ کا مغالطہ دور کرتا چلوں جو آپ اپنے آپ کو 73 ناجی فرقہ سمجھنے لگے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ حدیث مبارکہ میں وہ 73 فرقے امت محمدیہ میں ہونے
ہیں اور وہی 73 ناجی فرقہ ہوگا جو امت محمدیہ میں سے ہوگا اور آپ تو الگ ؟ آپ کو ہدایت دے امت محمدیہ میں سے ہی نہیں تو وہ 73 واں فرقہ کیسے۔ اب آپ پوچھیں گے تو ضرور کہ ہم امت محمدیہ میں سے باہر کیسے ہوئے تو حضرات بات یہ ہے کہ آپ کے مرزا جی نے ہی اصول لکھا ہے کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک امت بنائے جو اُسے نبی سمجھے اور اس شخص کے کلام کو اللہ کا کلام سمجھے۔ اب آپ مرزا غلام قادیانی کے بارے میں جانتے ہیں کہ اُس کا دعویٰ نبوت ہے اور آپ لوگ اُس کے کلام کو اللہ کا کلام مانتے ہیں تو آپ اُس کی اُمت کہلائے اور امت محمدیہ میں سے باہر ہوئے۔ لہٰذا اپنی اصلاح کریں شکریہ۔
دلیل
دلیل اس وقت طلب کی جاتی ہے جب دعویٰ درست ہو مگر مدعی مشکوک ہو۔ اگر دعویٰ ہی غلط ہو اور مدعی درست ہو، پھر بھی دلیل طلب کرنا اصول کے خلاف ہوگا۔ اگر دعویٰ نبوت بھی غلط ہو اور مدعی نبوت بھی چول ہو تو اس مدعی نبوت سے کس چیز کی طلب کرنی؟ اس لیے ہم مرزا قادیانی کو بغیر دلیل کے کذاب مانتے ہیں۔
ایک دوسری سوال
ایک سوال جو ذہن میں ہے وہ یہ کہ مرزائی حضرات، مرزا قادیانی کی باتوں کو کس درجے میں شمار کرتے ہیں؟ یہ ایک بہت سادہ سا سوال ہے۔ کیا کوئی قادیانی اس کا جواب دینا پسند کرے گا؟
جاہل مطلق
آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں عربی میں لکھا:
- ”ورکل ورکی“
(حقیقۃ الوحی ص 86، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 714 از مرزا قادیانی)
آج تک اُردو اور پنجابی میں سنا تھا کہ فلاں بندہ فلاں بندے کو چونا لگا گیا۔ مگر مرزا قادیانی پہلا عربی دان گزرا ہے جو اپنی ساری کی ساری ذریت کو عربی میں چونا لگا گیا۔ کوئی
عربی دان مرزائی ہے تو سامنے آئے اور ان دو الفاظ کا ترجمہ کر کے دکھائے، پوری ذریت مرزائیہ کو چیلنج ہے۔
مرزا قادیانی کا ایک اور جھوٹ
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا:
- ”عجیب بات ہے یہ لوگ کیسے پیچ میں پھنس گئے۔ ایک طرف یہ اعتقاد ہے کہ
صلیبی فتنہ کے وقت کوئی اور شخص سولی مل گیا اور حضرت مسیح بلا توقف دوسرے آسمان پر جا بیٹھے اور دوسری طرف یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ صلیبی حادثہ کے بعد وہ اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گزارا“۔
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 108 از مرزا قادیانی)
کیا مرزا قادیانی کا کوئی امتی یہ بتا سکتا ہے کہ کس مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ ”صلیبی حادثہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گزارا“۔ قادیانی حضرات یہ بتا کر مرزا قادیانی کو جھوٹا ہونے سے بچالیں۔ یاد رہے! حوالہ وہ پیش کیا جائے جس میں صلیبی حادثہ کے بعد سیاحت کا ذکر ہو۔
قادیانی گروہ ...... قرآنی آیات کی روشنی میں
- ”بے شک جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے یکساں ہے ان کے لیے چاہے آپ انہیں
ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ مہر لگادی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (البقرہ: 6، 7)
- ”اور جو تلاش کرے گا اسلام کے بغیر کوئی (اور) دین تو وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا
اس سے اور وہ قیامت کو زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہدایت دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ایمان لے آنے کے بعد اور وہ (پہلے خود) گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور آچکی تھیں ان کے پاس کھلی نشانیاں، اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر پھٹکار پڑتی رہے اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔ ہمیشہ رہیں اسی پھٹکار میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ مگر
وہ لوگ جنہوں نے (سچے دل سے) توبہ کر لی اس کے بعد اور اپنی اصلاح کر لی تو بے شک اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے (انہیں بخش دے گا) یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ہرگز نہ قبول کی جائے گی ان کی توبہ اور یہی لوگ ہیں جو گمراہ ہیں۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور مر گئے کفر ہی کی حالت میں تو ہرگز نہ قبول کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوضانہ دے اتنا سونا ایسے لوگوں کے لیے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہے ان کا کوئی مددگار ۔“ (آل عمران: 85 تا 91)
- ❑ ”ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دے دی اور ایک گروہ ہے کہ مقرر ہوگئی ان پر
گمراہی، انہوں نے بنا لیا شیطانوں کو (اپنا) دوست اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔“ (اعراف:30)
- ❑ ”بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی
رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب۔“ (احزاب: 57)
- ❑ ”بے شک وہ لوگ ثابت ہوچکی ہے جن پر آپ کے رب کی بات وہ ایمان نہیں
لائیں گے۔ اگرچہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں جب تک کہ وہ نہ دیکھ لیں دردناک عذاب۔ (یونس: 96، 97)
- ❑ ”اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو جس طرح وہ نہیں
ایمان لائے تھے اس کے ساتھ پہلی مرتبہ اور ہم چھوڑ دیں گے انہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔“ (انعام: 110)
قادیانی کتب کے اہم حوالہ جات
فتنہ قادیانیت کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی کی کل 83 کتابیں ہیں۔ قادیانی قیادت نے یہ سب کتابیں روحانی خزائن کے نام سے 23 جلدوں میں جمع کر دی ہیں۔ کسی بھی متنازعہ قادیانی عبارت کا حوالہ اگر روحانی خزائن سے دیا جائے تو اسے تلاش کرنا ہر خاص و عام کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس روحانی خزائن کی کوئی جلد ہے تو اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کتاب میں کہاں کہاں متنازعہ عبارات یا اہم
حوالے موجود ہیں جس سے کسی بھی قادیانی کو گفتگو یا مناظرہ میں لاجواب کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روحانی خزائن کی جلد سے اہم حوالہ جات کے صفحات نمبر درج کر دیے گئے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص کے پاس روحانی خزائن کی کوئی جلد ہو تو وہ اس کے شروع میں درج ذیل حوالہ جات نوٹ کر سکتا ہے جو بوقت ضرورت کام آسکتے ہیں۔
روحانی خزائن جلد 1
براہین احمدیہ
نئی شریعت، نیا الہام ...... ناممکن
(براہین احمدیہ صفحہ 112 خزائن جلد 1 صفحہ 103)
نبی کریم ﷺ پر نبوت کا ہر کمال ختم ہوگیا
(براہین احمدیہ ضمیمہ صفحہ 10 خزائن جلد 1 صفحہ 19)
حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت
(براہین احمدیہ صفحہ 368 خزائن جلد 1 صفحہ 440 (حاشیہ)
مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نمونہ
(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 499 خزائن جلد 1 صفحہ 593)
مختلف فرقوں کے بزرگوں کو بے ادبی سے یاد کرنا ...... پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت
(براہین احمدیہ صفحہ 102 خزائن جلد 1 صفحہ 92)
ربنا عاج
(براہین احمدیہ، صفحہ 556 خزائن جلد 1 صفحہ 662، 663)
ہوشعنا نعسا ...... پُر اسرار وحی
(براہین احمدیہ صفحہ 557 خزائن جلد 1 صفحہ 664)
مٹی اور گڑ کے ڈھیلے
(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ
67، مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)
جیب میں اینٹ
(مسیح موعود کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ طبع چہارم صفحہ
53، مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی)
انسان کے الفاظ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 393 (حاشیہ) خزائن جلد
اوّل صفحہ 393 (حاشیہ))
نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا
(دیباچہ براہین احمدیہ جلد اوّل صفحہ 7 خزائن جلد اوّل صفحہ 16)
پرلے درجے کا شریر النفس
(براہین احمدیہ صفحہ 102 خزائن جلد 1 صفحہ 90، 91)
دو بکریاں
(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 610 خزائن جلد 1 صفحہ 610
[حاشیہ در حاشیہ])
حضرت مسیح متواضع، حلیم اور عاجز
(براہین احمدیہ صفحہ 104 (حاشیہ) خزائن جلد 1 صفحہ 94)
کرمہائے تو مارا کرد گستاخ
(براہین احمدیہ صفحہ 554، 557 خزائن جلد 1 صفحہ 662،
664)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے صحیح معنی مجھ پر ظاہر کیے
(براہین احمدیہ صفحہ 239 خزائن جلد 1 صفحہ 265)
مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت
(براہین احمدیہ صفحہ 505 خزائن جلد 1 صفحہ 601)
" " " " " "
(براہین احمدیہ صفحہ 571 خزائن جلد 1 صفحہ 593)
سلطنت برطانیہ ...... نعمت الٰہی، نعمت عظمیٰ
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 140 خزائن جلد 1 صفحہ 140)
گورنمنٹ انگریزی کا رزق مقسوم
(براہین احمدیہ حصہ اوّل تا چہارم صفحہ 2، خزائن جلد 1، صفحہ 316)
حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 449 خزائن جلد 1 صفحہ 593)
حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے
(براہین احمدیہ جلد اوّل تا چہارم صفحہ 505، 506 خزائن جلد
1 ص 601، 602)
حضرت مسیح آسمانوں پر جا بیٹھے
(براہین احمدیہ صفحہ 381 حاشیہ خزائن جلد 1 صفحہ 431)
کمال تحقیق اور تدقیق
(براہین احمدیہ ٹائٹل، خزائن جلد 1 ٹائٹل پیج،)
منکرین اسلام کو لاجواب کرنے والی کتاب
(براہین احمدیہ صفحہ 16، خزائن جلد 1، صفحہ 23، 24،)
براہین احمدیہ: حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی
(براہین احمدیہ صفحہ 249 خزائن جلد 1 صفحہ 275، 276)
براہین احمدیہ: تفسیر قرآن جسے حضرت علیؓ نے تالیف کیا
(براہین احمدیہ صفحہ 504 خزائن جلد 1 صفحہ 599)
براہین احمدیہ میں درج تمام دلائل قرآن مجید سے لیے گئے ہیں
(براہین احمدیہ صفحہ 137 خزائن جلد 1 صفحہ 130، 131)
ہم نے اس کتاب میں اپنے قیاس سے کوئی دلیل نہیں لکھی
(براہین احمدیہ صفحہ 88 خزائن جلد 1 صفحہ 88)
براہین احمدیہ کے فوائد
(براہین احمدیہ صفحہ 129 خزائن جلد 1 صفحہ 129)
مجھ سے لغزش ہو جائے تو رحمت الٰہی جلد اس کا تدارک کر لیتی ہے
(براہین احمدیہ صفحہ 514 خزائن جلد 1 صفحہ 536)
براہین احمدیہ: بڑی تحقیقات کے بعد تالیف کی گئی
(براہین احمدیہ صفحہ 91 خزائن، جلد 1 صفحہ 79، 80، 81)
انی متوفیک کا معنی، تجھ کو پوری نعمت دوں گا
(براہین احمدیہ صفحہ 520 خزائن جلد 1 صفحہ 620)
انی متوفیک کا معنی، تجھے کامل اجر بخشوں گا
(براہین احمدیہ صفحہ 557، 558 خزائن جلد 1 صفحہ 664، 665)
روحانی خزائن جلد 2
سرمہ چشم آریہ
دودھ دینے والا بکرا
(سرمہ چشم آریہ صفحہ 51 خزائن جلد 2 صفحہ 99)
معجزہ، کرامت، نشان، خارق، عادت ایک ہی چیز ہے
(سرمہ چشم آریہ صفحہ 57، 58 خزائن جلد 2 صفحہ 105، 106)
اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض کرنا خود اللہ تعالیٰ کا انکار ہے
(سرمہ چشم آریہ صفحہ 64،63 خزائن جلد 2 صفحہ 111، 112)
شحنۂ حق
کنجر اور ولد الزنا بھی جھوٹ بولتے
(شحنہ حق صفحہ 60 خزائن جلد 2 صفحہ 386)
ہوئے شرماتے ہیں
اندھے کو اندھا کہنا بھی دل دکھانا ہے
(شحنہ حق صفحہ 40 خزائن جلد 2 صفحہ 366)
روحانی خزائن نمبر 3
فتح اسلام
قادیانی، جلنے والی لکڑیاں
(فتح اسلام صفحہ 68 خزائن جلد 3 صفحہ 40)
مجدد ان نعمتوں کا وارث ہوتا ہے
(فتح اسلام صفحہ 9 خزائن جلد 3 صفحہ 7)
جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں
توضیح مرام
اللہ تعالیٰ کے بے شمار ہاتھ پیر
(توضیح مرام، صفحہ 42، خزائن جلد 3 صفحہ 90)
بدکاروں کو سچی خوابیں
(توضیح مرام صفحہ 84 خزائن جلد 3 صفحہ 94، 95)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
(توضیح مرام صفحہ 4 خزائن جلد 3 صفحہ 52)
دوسرے نام
مسیح موعود صرف مسلمان ہوگا یا نبی
(توضیح مرام صفحہ 17 خزائن جلد 3 صفحہ 59)
دو نبی آسمان کی طرف اٹھائے گئے
(توضیح مرام صفحہ 4 خزائن جلد 3 صفحہ 52)
اور کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے
ازالہ اوہام
وحی رسالت بند ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 411، خزائن جلد 3 صفحہ 511)
وحی رسالت کے ساتھ حضرت
(ازالہ اوہام صفحہ 314، خزائن جلد 3 صفحہ 414)
جبرائیل علیہ السلام کی آمد، ناممکن
حضرت جبرائیل علیہ السلام کو وحی
(ازالہ اوہام صفحہ 577 خزائن جلد 3 صفحہ 412)
نبوت لانے سے منع کر دیا گیا ہے
وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 614 خزائن جلد 3 صفحہ 432)
ختم نبوت پر ایمان اور اصرار، قرآن مجید کی روشنی میں
(ازالہ اوہام صفحہ 331، خزائن جلد 3 صفحہ 431)
واقعہ معراج سے انکار
(ازالہ اوہام صفحہ 47 خزائن جلد 3 صفحہ 126)
رسولوں کی وحی میں شیطانی کلمہ
(ازالہ اوہام صفحہ 629 خزائن جلد 3 صفحہ 439)
چار سو نبیوں کی پیشگوئی جھوٹی نکلی
(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 629 خزائن جلد 3 صفحہ 439)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی تضحیک
(ازالہ اوہام صفحہ 154، 155 خزائن جلد 3 صفحہ 254 تا 259)
(ازالہ اوہام صفحہ 322 خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ))
(ازالہ اوہام صفحہ 6 خزائن جلد 3 صفحہ 106)
دو متضاد اعتقاد رکھنے والا
(ازالہ اوہام صفحہ 239 خزائن جلد 3 صفحہ 220)
قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 70 خزائن جلد 3 صفحہ 170)
قادیان کا نام قرآن مجید میں
(ازالہ اوہام صفحہ 40 خزائن جلد 3 صفحہ 140)
قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں! (معاذ اللہ)
(ازالہ اوہام صفحہ 28 خزائن جلد 3 صفحہ 115، 116
(حاشیہ))
مرزا قادیانی کو اللہ نے علم سکھایا
(ازالہ اوہام صفحہ 698 خزائن جلد 3 صفحہ 476)
امام بخاریؒ کا نام غلط
(ازالہ اوہام صفحہ 110 خزائن جلد 3 صفحہ 210)
میرے اندر آسمانی روح بول رہی ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 563 خزائن جلد 3 صفحہ 403)
جو میرے ہاتھ سے جام پیے گا، وہ ہرگز نہیں مرے گا
(ازالہ اوہام صفحہ 3 خزائن جلد 3 صفحہ 104)
کبھی دشنام دہی نہیں کی
(ازالہ اوہام صفحہ 9 خزائن جلد 3 صفحہ 109)
مومن لعان نہیں ہوتا
(ازالہ اوہام صفحہ 660 خزائن جلد 3 صفحہ 456)
دجال سے مراد با اقبال قومیں
(ازالہ اوہام صفحہ 174 خزائن جلد 3 صفحہ 174)
دابۃ الارض کون؟
(ازالہ اوہام صفحہ 270 خزائن جلد 3 صفحہ 370)
یاجوج ماجوج سے مراد انگریز اور روس ہیں
(ازالہ اوہام صفحہ 273 خزائن جلد 3 صفحہ 373)
قیامت کب آئے گی؟
(ازالہ اوہام صفحہ 127 خزائن جلد 3 ص 227)
بخاری شریف پر جھوٹ
(ازالہ اوہام صفحہ 510 خزائن جلد 3 صفحہ 610)
قرآن میں مثیل ابن مریم (جھوٹ)
(ازالہ اوہام صفحہ 214 خزائن جلد 3 صفحہ 314)
احادیث میں مثیل ابن مریم (جھوٹ)
(ازالہ اوہام صفحہ 536 خزائن جلد 3 صفحہ 388)
مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 185 خزائن جلد 3 صفحہ 189)
مسیح موعود کی پیش گوئی اجماع امت نہیں ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 402 خزائن جلد 3 صفحہ 308)
پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت نہیں ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 308 خزائن جلد 3 صفحہ 256, 257)
مسیح موعود؟؟؟
(ازالہ اوہام صفحہ 190 خزائن جلد 3 صفحہ 192)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی ہیں
(ازالہ اوہام صفحہ 623 خزائن جلد 3 صفحہ 436)
مسیح آسمان سے اتریں گے
(ازالہ اوہام صفحہ 81 خزائن جلد 3 صفحہ 142)
لُد ایک گاؤں
(ازالہ اوہام صفحہ 220 خزائن جلد 3 صفحہ 209)
لُد، بے جا جھگڑے کرنے والے
(ازالہ اوہام صفحہ 730 خزائن جلد 3، صفحہ 492، 493)
نبی دوسرے نبی کا مطیع مرزا قادیانی کی تحریر
(ازالہ اوہام صفحہ 569 خزائن جلد 3 صفحہ 407)
میں قرآن کی تفسیر تیار کروں گا
(ازالہ اوہام صفحہ 774 خزائن جلد 3 صفحہ 518)
ملحد اور کافر کون؟
(ازالہ اوہام صفحہ 70 خزائن جلد 3 صفحہ 170)
میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 563 خزائن جلد 3 صفحہ 403)
جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں، وہ بلائے نہیں بولتے
(ازالہ اوہام صفحہ 199 خزائن جلد 3 صفحہ 197)
میں قرآن کو دوبارہ واپس لاؤں گا
(ازالہ اوہام صفحہ 393 خزائن جلد 3 صفحہ 493)
عیسیٰ لدھیانہ میں آ کر قرآن کی غلطیاں نکالے گا
(ازالہ اوہام صفحہ 708 خزائن جلد 3 ص 482)
مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت
(ازالہ اوہام صفحہ 77 خزائن جلد 3 صفحہ 140)
احمد سے مراد مرزا قادیانی
(ازالہ اوہام صفحہ 673 خزائن جلد 3 صفحہ 463)
ہم اور ہماری اولاد پر فرض
(ازالہ اوہام صفحہ 132 خزائن جلد 3 صفحہ 166)
سخت جاہل، نادان اور نالائق مسلمان
(ازالہ اوہام صفحہ 510 خزائن جلد 3 صفحہ 373)
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے بڑھ کر
(ازالہ اوہام صفحہ 58 خزائن جلد 3 صفحہ 131)
رسول دنیا میں مطیع ہو کر نہیں آتا
(ازالہ اوہام صفحہ 576 خزائن جلد 3 صفحہ 411)
مسیح صلیب پر چڑھایا گیا
(ازالہ اوہام صفحہ 302 خزائن جلد 3 صفحہ 302)
دس ہزار سے زیادہ مسیح آسکتے ہیں
(ازالہ اوہام صفحہ 295 خزائن جلد 3 صفحہ 251)
پہلے بھی مہدی آئے، ممکن ہے آئندہ بھی آئیں
(ازالہ اوہام صفحہ 519 خزائن جلد 3 صفحہ 379)
مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں
(ازالہ اوہام صفحہ 457 خزائن جلد 3 صفحہ 344)
حضور نبی کریم ﷺ کی توہین
(ازالہ اوہام صفحہ 473 خزائن جلد 3 صفحہ 473)
دجال کا گدھا اور ریل گاڑی
(ازالہ اوہام صفحہ 398 خزائن جلد 3 صفحہ 493)
دجال ...... پادریوں کا گروہ
(ازالہ اوہام صفحہ 496 خزائن جلد 3 صفحہ 366)
دجال ....... اس زمانہ کے پادری
(ازالہ اوہام صفحہ 488 خزائن جلد 3 صفحہ 362)
دجال سے مراد جھوٹوں کا گروہ
(ازالہ اوہام صفحہ 362 خزائن جلد 3 صفحہ 362)
دجال معہود ....... پادریوں کا گروہ
(ازالہ اوہام صفحہ 365 خزائن جلد 3 صفحہ 365)
الحاد اور تحریف
(ازالہ اوہام صفحہ 745 خزائن، جلد 3 صفحہ 501،)
نزول مسیح کی پیش گوئی، قرآن مجید میں
(ازالہ اوہام صفحہ 675 خزائن جلد 3 صفحہ 464)
مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 557 خزائن جلد 3 صفحہ 400)
تواتر کیا ہے؟
(ازالہ اوہام صفحہ 556 خزائن جلد 3 صفحہ 399)
میں علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدد ہوں
(ازالہ اوہام صفحہ 179 خزائن جلد 3 صفحہ 179)
الہام: مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 302 خزائن جلد 3 صفحہ 402)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں فوت ہوئے
(ازالہ اوہام صفحہ 473 خزائن جلد 3 صفحہ 353)
کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود سمجھتے ہیں، وہ کذاب ہیں
(ازالہ اوہام صفحہ 190 خزائن جلد 3 صفحہ 192)
میرے جیسے دس ہزار مثیل مسیح
(ازالہ اوہام صفحہ 199 خزائن جلد 3 صفحہ 197)
بغیر باپ کے
(ازالہ اوہام صفحہ 659 خزائن جلد 3 صفحہ 456)
میں مسیح ابن مریم نہیں ہوں
(ازالہ اوہام صفحہ 190 خزائن جلد 3 صفحہ 192)
دمشق سے مراد قادیان
(ازالہ اوہام صفحہ 65 تا 67 خزائن جلد 3 صفحہ 135، 136)
قادیان میں یزیدی لوگ
(ازالہ اوہام صفحہ 69، 72 خزائن جلد 3 صفحہ 138)
انا انزلنہ قریباً من القادیان کی انوکھی تفسیر
(ازالہ اوہام صفحہ 75 خزائن جلد 3 صفحہ 139)
صحیح مسلم کی حدیث
(ازالہ اوہام صفحہ 81 خزائن جلد 3 صفحہ 142)
مقام لُد کہاں ہے؟
(ازالہ اوہام صفحہ 230 خزائن جلد 3 صفحہ 209)
یاجوج و ماجوج
(ازالہ اوہام صفحہ 273 خزائن جلد 3 صفحہ 373)
نئے معنی گھڑنے والا کون؟
(ازالہ اوہام صفحہ 745 خزائن جلد 3 صفحہ 501)
معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات
(ازالہ اوہام صفحہ 900 خزائن جلد 3 صفحہ 592)
حضرت عیسیٰ کی روح آسماں کی طرف اٹھائی گئی
(ازالہ اوہام صفحہ 133 خزائن جلد 3 صفحہ 233)
حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا
(ازالہ اوہام صفحہ 198 خزائن جلد 3 صفحہ 196، 197)
عقیدہ، سرسری پیروی کی وجہ سے
(ازالہ اوہام صفحہ 158 خزائن جلد 3 صفحہ 180)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی حقیقت
(ازالہ اوہام صفحہ 154، 155 خزائن جلد 3 صفحہ 254، 255)
میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 190، خزائن جلد 3، صفحہ 192)
نبی کریم ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت نہ کھلی (نعوذ باللہ)
(ازالہ اوہام صفحہ 692 خزائن جلد 3 صفحہ 473)
نزول مسیح کا عقیدہ
(ازالہ اوہام صفحہ 140 خزائن جلد 3 صفحہ 171)
ایمانیات میں نہیں ہے
(ازالہ اوہام صفحہ 541 خزائن جلد 3 صفحہ 390)
دجال مکہ مدینہ میں داخل نہ ہوگا
(ازالہ اوہام صفحہ 211 خزائن جلد 3 صفحہ 211)
روحانی خزائن جلد 4
آسمانی فیصلہ
نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج
(آسمانی فیصلہ صفحہ 3 خزائن جلد 4 صفحہ 313)
وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری کر کے دشمن قرآن نہ بنو
(آسمانی فیصلہ صفحہ 25 خزائن جلد 4 صفحہ 335)
جب دل بگڑتا ہے
(آسمانی فیصلہ، ص 37 خزائن جلد 4 ص 347)
میری فطرت
(آسمانی فیصلہ صفحہ 10 خزائن جلد 4 صفحہ 320)
میری طرف سے گالیوں کا جواب خدا دے گا
(آسمانی فیصلہ صفحہ 25 خزائن جلد 4 صفحہ 25)
تلخ بات
(آسمانی فیصلہ صفحہ 10 خزائن جلد 4 صفحہ 320)
نشان آسمانی
میرا نام غازی ہے
(نشان آسمانی صفحہ خزائن جلد 4 صفحہ 375)
روحانی خزائن جلد 5
آئینہ کمالاتِ اسلام
میں خود خدا ہوں
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 564 ، خزائن جلد 5 صفحہ 564)
قادیان کی فضیلت
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 352 خزائن جلد 5 صفحہ 352)
کنجریوں کی اولاد
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 547، 548 خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548)
عورت کی کارروائی
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 282 خزائن جلد 5 صفحہ 282)
نبیوں کی توہین کرنے والا خبیث، شیطان اور پلید ہے
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 598 خزائن جلد 5 صفحہ 598)
پرندوں کا اڑنا قرآن سے ثابت ہے
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 68 خزائن جلد 5 صفحہ 68)
اسمہ احمد سے مراد مرزا قادیانی کی تحریر
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 42 خزائن جلد 5 صفحہ 42)
نبی کے لیے شرط مرزا قادیانی کی تحریر
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 339 خزائن جلد 5 صفحہ 339)
روح القدس کی قدسیت ہر وقت ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 93 خزائن جلد 5 صفحہ 93)
مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 551 خزائن جلد 5 صفحہ 551)
صدق یا کذب جانچنے کا معیار
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 288 خزائن جلد 5 صفحہ 288)
مدعی کاذب کی پیش گوئی
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 326 خزائن جلد 5 صفحہ 326)
پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 281 خزائن جلد 5 صفحہ 281)
کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 322، 323 خزائن جلد 5 صفحہ 322، 323)
کمینے آدمی کی عادت
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 551 خزائن جلد 5 صفحہ 551)
ملکہ وکٹوریہ کی حکومت کے سائے میں
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 517 خزائن جلد 5 صفحہ 517)
مرزا قادیانی سلطنت برطانیہ کی تلوار
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 18 خزائن جلد 5 صفحہ 18)
قرآن مجید میں مسیح موعود سے مراد مثیل مسیح
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 357 خزائن جلد 5 صفحہ 357)
اللہ نے حضرت عیسیٰ کو زندہ کر کے اپنے پاس آسمان پر بلا لیا
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 277 خزائن جلد 5 صفحہ 277)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھوڑی سی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 282 خزائن جلد 5 صفحہ 283)
میں نے اپنا عقیدہ 10 سال تک چھپائے رکھا
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 551 خزائن جلد 5 صفحہ 551)
اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ کا واقعہ صحابہ کرام سے چھپائے رکھا
(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 426 خزائن جلد 5 صفحہ 426)
اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ کی حقیقت مجھ پر منکشف کی
(خزائن جلد 5 صفحہ 552، 553)
روحانی خزائن نمبر 6
جنگ مقدس
میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں
(جنگِ مقدس صفحہ 74 خزائن جلد 6 صفحہ 156)
مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت
(جنگِ مقدس، صفحہ 194 خزائن، جلد 6 صفحہ 276)
شہادۃ القرآن
بھیڑیوں کی جماعت
(شہادۃ القرآن صفحہ 99 خزائن جلد 6 صفحہ 395)
درندے، قادیانیوں سے اچھے
(شہادۃ القرآن صفحہ 2 (آخر) خزائن جلد 6 صفحہ 396)
قادیانی جلسہ، اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ
(شہادۃ القرآن صفحہ ’’ز‘‘ خزائن جلد 6 صفحہ 394)
کج دل لوگوں کی جماعت
(شہادۃ القرآن صفحہ 99 خزائن جلد 6 صفحہ 395)
تہذیب اور پرہیزگاری سے عاری جماعت
(شہادۃ القرآن صفحہ 99، خزائن جلد 6 صفحہ 395)
اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو بہتر تھا
(شہادۃ القرآن صفحہ 101 خزائن جلد 6 صفحہ 397)
ھٰذا خلیفۃ المہدی
(شہادۃ القرآن صفحہ 41 خزائن جلد 6 صفحہ 337)
بخاری شریف میں
(شہادۃ القرآن صفحہ 41 خزائن جلد 6 صفحہ 337)
رگ وریشہ میں شکرگزاری
(شہادۃ القرآن صفحہ 82، خزائن جلد 6، صفحہ 378)
ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ خدا کا
(شہادۃ القرآن صفحہ 84 خزائن جلد 6 صفحہ 380)
حرامی اور بدکار آدمی
(شہادۃ القرآن صفحہ 84، خزائن جلد 6 صفحہ 380)
اسلام کے دو حصے
(شہادۃ القرآن صفحہ 84، 85 خزائن جلد 6 صفحہ 380، 381)
یا اللہ انگریزوں کے چہرے آخرت میں بھی نورانی اور منور فرما!
(شہادۃ القرآن صفحہ 92 تا 97 خزائن جلد 6 صفحہ 388 تا 393)
خدا تعالیٰ برطانوی حکومت کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے!
(شہادۃ القرآن صفحہ 84 خزائن جلد 6 صفحہ 380)
احادیث کے چھوڑنے سے
(شہادۃ القرآن صفحہ 5 خزائن جلد 6 صفحہ 301)
مسیح موعود کے آنے کی خبر تواتر سے ہے
(شہادۃ القرآن صفحہ 2 خزائن جلد 6 صفحہ 298)
مسیح موعود کے بارے میں پیش گوئی ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل ہے
(شہادۃ القرآن صفحہ 8 خزائن جلد 6 صفحہ 304)
تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آنے والا شخص عیسیٰ بن مریم ہوگا
(شہادۃ القرآن صفحہ 2 خزائن جلد 6 صفحہ 298)
روحانی خزائن نمبر 7
تحفہ بغداد
صحابہ کرامؓ اور تابعین نزول عیسیٰ پر مجمل ایمان رکھتے تھے
(تحفہ بغداد صفحہ 7 خزائن جلد 7 صفحہ 8, 9)
کرامات الصادقین
خدا تعالیٰ کا قانون قدرت
(کرامت الصادقین صفحہ 8 خزائن جلد 7 صفحہ 50)
حمامۃ البشریٰ
نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 131 خزائن جلد 7 صفحہ 297)
معاذ اللہ، میں نبوت کا
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 136 خزائن جلد 7 صفحہ 302)
مدعی کیوں بنوں؟
قسم کی اہمیت
(حاشیہ حمامۃ البشریٰ صفحہ 26 خزائن جلد 7 صفحہ 192)
دابۃ الارض سے مراد علماء سو
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 142 خزائن جلد 7 صفحہ 308)
آسمان سے نہیں
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 40 خزائن جلد 7 صفحہ 206)
کبھی کسی کتاب میں قرآن و
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 72 خزائن جلد 7 صفحہ 285،)
حدیث کے خلاف نہیں لکھا
میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ
(حمامۃ البشریٰ صفحہ خزائن جلد 7 صفحہ 186،)
فرماتا ہے
تاویل کے بارے میں مرزا
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 14 خزائن جلد 7 صفحہ 192)
قادیانی کا فیصلہ
(حمامۃ البشریٰ صفحہ 35 خزائن جلد 7 صفحہ 221)
روحانی خزائن نمبر 8
نور الحق ہر دو حصہ
خراب عورتیں اور دجال کی نسل
(نور الحق صفحہ خزائن جلد 8 صفحہ 163)
میں گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ
(نور الحق، صفحہ 33، خزائن جلد 8، صفحہ 44، 45)
اور تعویذ ہوں
والد اور بھائی کے نقش قدم پر
(نور الحق صفحہ 38 خزائن جلد 8 صفحہ 38)
لعنت، لعنت، لعنت...... 1 تا
(نور الحق صفحہ 118 تا 122 خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162)
1000
اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر ایک لمحہ بھی
(نور الحق صفحہ 86 حصہ دوئم خزائن جلد 8 صفحہ 272،)
باقی نہیں رہنے دیتا
میرا باپ، بھائی اور میں
(نور الحق حصہ اوّل صفحہ 27، 28 خزائن جلد 8 صفحہ 37، 38)
قدیم خدمت گزار
(نور الحق صفحہ 36، 37 خزائن جلد 8 صفحہ 36، 37)
خدا تعالیٰ سے عہد
(نور الحق حصہ اوّل صفحہ 28، 29 خزائن جلد 8 صفحہ 38، 39)
مہربانی کے مینہ سے پرورش
(نور الحق حصہ اوّل صفحہ 6 خزائن جلد 8 صفحہ 6)
حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں
(نور الحق صفحہ 50 خزائن جلد 8 صفحہ 68، 69)
اتمام الحجۃ
قرآن مجید میں تحریف کرنے والا ملحد، بے ایمان، یہودی، سور اور بندر
(اتمام الحجہ صفحہ 19 خزائن جلد 8 صفحہ 291)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں موجود ہے
(اتمام الحجہ صفحہ 24، 25 خزائن جلد 8 صفحہ 296، 297)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر یروشلم میں ہے
(اتمام الحجہ صفحہ 21 خزائن جلد 8 صفحہ 299)
سر الخلافۃ
تائید الہی سے لکھے گئے رسائل
(سر الخلافہ صفحہ 101، 102 خزائن جلد 8 صفحہ 415، 416)
روحانی خزائن نمبر 9
انوار الاسلام
مرزا قادیانی کو نہ ماننے والے ولد الحرام
(انوار الاسلام صفحہ 30 خزائن جلد 9 صفحہ 31)
منن الرحمٰن
خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت میں کوئی شریک نہیں
(منن الرحمٰن صفحہ 39 خزائن جلد 9 صفحہ 164)
نور القرآن ہر دو حصہ
دین و رسالت کمال تک پہنچ گیا
(نور القرآن صفحہ 23 خزائن جلد 9 صفحہ 352)
اب نبی نہیں، مجدد آئیں گے
(نور القرآن صفحہ 10 خزائن جلد 9 صفحہ 339)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین
(نور القرآن صفحہ 24 خزائن جلد 9 صفحہ 353)
مسیح کا چال چلن
(نور القرآن صفحہ 12 خزائن جلد 9 صفحہ 387)
کاش ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا!
(نور القرآن صفحہ 42 خزائن جلد 9 صفحہ 417)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شرمناک بہتان
(نور القرآن صفحہ 17، 18 خزائن جلد 9 صفحہ 392، 393)
نبی کریم محمد ﷺ کا تقویٰ
(نور القرآن صفحہ 74 خزائن جلد 9 صفحہ 449)
اسلام کی اعلیٰ تعلیم
(نور القرآن صفحہ 72 خزائن جلد 9 صفحہ 447)
روحانی خزائن نمبر 10
آریہ دھرم
قانون دکھائی
(آریہ دھرم صفحہ 72 تا 75 خزائن جلد 10 صفحہ 72 تا 75)
قادیانی ترانہ
(آریہ دھرم صفحہ 75، 76 خزائن جلد 10 صفحہ 75، 76)
غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں
(آریہ دھرم صفحہ 13 خزائن جلد 10 صفحہ 13)
مرزا قادیانی کی ایک فحش اور شرمناک تحریر
(آریہ دھرم صفحہ 31 تا 34 خزائن جلد 10 صفحہ 31 تا 34)
سَت بچن
پاگل اور منافق کون؟
(ست بچن صفحہ 31 خزائن جلد 10 صفحہ 143)
سچے، عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام کی نشانی
(ست بچن صفحہ 30 خزائن جلد 10 صفحہ 142)
نعوذ باللہ
(ست بچن صفحہ 141 خزائن جلد 10 صفحہ 265)
شراب اور خدائی کا دعویٰ
(ست بچن حاشیہ صفحہ 172 خزائن جلد 10 صفحہ 296)
حرام کار عورتوں کے خمیر سے!
(ست بچن صفحہ 173 خزائن جلد 10 صفحہ 297، 298)
دیوانہ
(ست بچن صفحہ 171 خزائن جلد 10 صفحہ 295)
گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے
(ست بچن صفحہ 21 خزائن جلد 10 صفحہ 133)
حضرت مسیح شرابی، کبابی
(ست بچن صفحہ 172 خزائن جلد 10 صفحہ 296)
پرلے درجے کا جاہل
(ست بچن صفحہ 29 (حاشیہ) خزائن جلد 10 صفحہ 141)
چولہ آسمان سے نازل ہوا
(ست بچن صفحہ 37 خزائن جلد 10 صفحہ 157)
گورو نانک کے چولہ کی فرضی تصویر
(ست بچن صفحہ 52 خزائن جلد 10 صفحہ 172)
اسلامی اصول کی فلاسفی
روح اور جسم لازم و ملزوم ہیں
(اسلامی اصولوں کی فلاسفی صفحہ 90، 91 خزائن جلد 10 صفحہ 404، 405)
روحانی خزائن نمبر 11
انجام آتھم
مدعی نبوت، مسیلمہ کذاب کا بھائی
(انجام آتھم صفحہ 27، 28 خزائن جلد 11 صفحہ 27، 28)
آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بدبخت ہے
(انجام آتھم صفحہ 27 خزائن جلد 11 صفحہ 27)
ختم نبوت کے منکر کو ملعون سمجھتا ہوں
(انجام آتھم صفحہ 45 خزائن جلد 11 صفحہ 45)
اجماعی عقیدہ کا منکر لعنتی ہے
(انجام آتھم صفحہ 143، 144، خزائن جلد 11 صفحہ 143، 144)
خدا کا فرستادہ
(انجام آتھم صفحہ 62 خزائن جلد 11 صفحہ 62)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے (نعوذ باللہ)
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 خزائن جلد 11 صفحہ 289)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل چرا کر لکھی
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 خزائن جلد 11 صفحہ 290)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ نہیں
(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 خزائن جلد 11 صفحہ 290)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکر و فریب
(انجام آتھم صفحہ 7 خزائن جلد 11 صفحہ 291)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنجریاں
(انجام آتھم صفحہ 7 خزائن جلد 11 صفحہ 291)
دماغ میں خلل
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 6 خزائن جلد 11 صفحہ 290)
بندروں اور سوروں کی طرح
(انجام آتھم صفحہ 53 خزائن جلد 11 صفحہ 337)
خنزیر سے زیادہ پلید لوگ
(انجام آتھم صفحہ 21 خزائن جلد 11 صفحہ 305)
کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے
(انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 خزائن جلد 11 صفحہ 309)
اللہ نے جو مجھے سکھایا، وہ کسی اور کو نہ سکھایا
(انجام آتھم صفحہ 75 خزائن جلد 11 صفحہ 75)
پیٹ سے چوہا؟
(انجام آتھم صفحہ 311، 317 خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317)
لوگوں پر لطف اور رحم
(انجام آتھم صفحہ 55 خزائن جلد 11 صفحہ 55)
لوگوں سے نرمی اور احسان کر
(انجام آتھم صفحہ 60 خزائن جلد 11 صفحہ 55)
خنزیر سے زیادہ پلید لوگ
(انجام آتھم صفحہ 21 خزائن جلد 11 صفحہ 305)
جھوٹ کی نجاست، آسمانی لعنت
(انجام آتھم صفحہ 45 خزائن جلد 11 صفحہ 329)
خدائی لعنت کے دس لاکھ جوتے
(انجام آتھم صفحہ 46 خزائن جلد 11 صفحہ 330)
10 لاکھ لعنتیں
(انجام آتھم صفحہ 45 خزائن جلد 11 صفحہ 329، 330)
کدعہ سے مراد قادیان
(انجام آتھم صفحہ 45 خزائن جلد 11 صفحہ 329)
فرعون اور ہامان سے مراد
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 56 خزائن جلد 11، صفحہ 340)
کتوں کا طریق
(انجام آتھم صفحہ 43 خزائن جلد 11 صفحہ 43)
میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے
(انجام آتھم صفحہ 176 خزائن جلد 11 صفحہ 176)
مرزا احمد بیگ اور اس کا داماد
(انجام آتھم صفحہ 56، 57 خزائن جلد 11 صفحہ 340، 341)
کتابت کی غلطیاں
(انجام آتھم صفحہ 241، 242، روحانی خزائن جلد 11، صفحہ 241،
242)
قادیانی بزرگوں کا کارنامہ
(انجام آتھم صفحہ 283 خزائن جلد 11 صفحہ 283)
قادیانی مذہب اور عقیدہ
(انجام آتھم صفحہ 68 خزائن جلد 11 صفحہ 68)
میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی روح بولتی ہے
(انجام آتھم صفحہ 176 خزائن جلد 11 صفحہ 176)
پادری سب سے بڑے دجال
(انجام آتھم صفحہ 47 خزائن جلد 11 صفحہ 47)
دجال اکبر....... پادریوں کا فتنہ
(انجام آتھم صفحہ 47 خزائن جلد 11 صفحہ 47)
قرآن شریف صاف کہتا ہے
(انجام آتھم صفحہ 37 خزائن جلد 11 صفحہ 321)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا احادیث صحیحہ کے عین مطابق ہے
(انجامِ آتھم صفحہ 158 خزائن جلد 11 صفحہ 158)
جھوٹ بولنا،کتوں کا طریقہ
(انجام آتھم صفحہ 43 خزائن جلد 11 صفحہ 43)
خنزیر سے زیادہ پلید جو حق کی گواہی چھپائے
(انجامِ آتھم صفحہ 21 خزائن جلد 11 صفحہ 305)
روحانی خزائن نمبر 12
سراج منیر
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی
(سراج منیر صفحہ 9 خزائن جلد 12 صفحہ 93)
برہنہ شخص سے بغلگیری
(سراج منیر صفحہ 78 خزائن جلد 12 صفحہ 80)
دائم المرض اور طرح طرح کی بیماریاں
(سراج منیر صفحہ 15 خزائن جلد 12 صفحہ 17)
سرسید....... ایک منکر
(سراج منیر صفحہ 56 خزائن جلد 12 صفحہ 58)
سرسید....... دانا اور مردم شناس
(سراج منیر صفحہ 41 خزائن جلد 12 صفحہ 43)
برٹش گورنمنٹ میں آسمان، زمین سے نزدیک ہو گیا
(سراج منیر صفحہ 21 خزائن جلد 12، صفحہ 23)
خدا کی قسم مجھے قرآن کے حقائق و معارف ہر ایک شخص سے بڑھ کر سمجھائے گئے ہیں
(سراج منیر صفحہ 39 خزائن جلد 12 صفحہ 41)
اپنی طرف اٹھاؤں گا
(سراج منیر صفحہ 41 خزائن جلد 12 صفحہ 43)
میں تجھے ایسی ذلیل اور لعنتی موتوں سے بچاؤں گا
(سراج منیر صفحہ 21 خزائن جلد 12 صفحہ 23)
استفتاء اردو
توریت اور قرآن میں نبوت کا ثبوت
(استفتاء صفحہ 3 خزائن جلد 12 صفحہ 111)
(استفتاء صفحہ 8 خزائن جلد 12 صفحہ 116)
کمینہ کون؟
(ترجمہ: الاستفتاء صفحہ 36 ملحقہ حقیقۃ الوحی صفحہ 657 خزائن
جلد 22 صفحہ 657)
حجۃ اللہ
سلطان القلم کی گل افشانیاں
(حجۃ اللہ صفحہ 12 تا 18 خزائن جلد نمبر 12 ، ص 172 تا 236)
نرم اندام عورتیں اور ہمارے باکرہ مضامین
(حجۃ اللہ صفحہ 100 خزائن جلد 12 صفحہ 227 ، 238 ، 247)
تحفہ قیصریہ
میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں
(تحفہ قیصریہ صفحہ 21 خزائن جلد 12 صفحہ 273)
خدا کی پسند
(تحفہ قیصریہ صفحہ 3 ، خزائن جلد 12 ، صفحہ 255)
اے قیصرہ و ملکہ معظمہ!
(تحفہ قیصریہ صفحہ 14 تا 16 خزائن جلد 12 صفحہ 266 تا 268)
مبارک ، مبارک ، مبارک !!
(تحفہ قیصریہ صفحہ 1 ، خزائن جلد 12 ، صفحہ 253)
اے موحدہ صدیقہ، تجھے آسمان سے بھی مبارک باد
(تحفہ قیصریہ صفحہ 2 ، 3 خزائن جلد 12 ، صفحہ 254 ، 255)
یا اللہ ! ملکہ معظمہ کے دل میں الہام کر
(تحفہ قیصریہ صفحہ 31 ، 32 خزائن جلد 12 صفحہ 283 ، 284 )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سچا سفیر
(تحفہ قیصریہ صفحہ 21 ، 22 خزائن جلد 12 صفحہ 273 ، 274)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایلچی
(تحفہ قیصریہ صفحہ 23 ، خزائن جلد 12 صفحہ 275)
میرے اندر یسوع مسیح کی روح ہے
(تحفہ قیصریہ صفحہ 21 خزائن جلد 12 صفحہ 273)
سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی سُور بھی کھایا تھا؟
(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ 47 خزائن
جلد 12 صفحہ 373)
روحانی خزائن نمبر 13
کتاب البریہ
یہ جھوٹ ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا
(کتاب البریہ صفحہ 197 خزائن جلد 13 صفحہ 215)
”خدا تیرے اندر اتر آیا“
(کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103)
تاریخ پیدائش کا دلچسپ اختلاف
(کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 159 خزائن جلد 13 صفحہ 177)
نام ونسب
(کتاب البریہ (حاشیہ) صفحہ 144 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 162)
مقدمات میں وقت ضائع
(کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 164 خزائن جلد 13 صفحہ 182)
میرے کئی استاد تھے
(کتاب البریہ صفحہ 162 خزائن جلد 13 صفحہ 180، 181 [حاشیہ])
گالی جوابی طور پر ہے
(کتاب البریہ [دیباچہ] صفحہ 11 خزائن جلد 13 صفحہ 11)
انگریز سے التجا
(کتاب البریہ صفحہ 13 خزائن جلد 13 صفحہ 350)
میرے کئی استاد تھے
(کتاب البریہ صفحہ 161 تا 163 خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181)
خاندانی خدمات
(کتاب البریہ صفحہ 3 تا 6 خزائن جلد 13 صفحہ 4 تا 6)
ممانعت جہاد کی کتابیں، بے نظیر کارگزاری
(کتاب البریہ صفحہ 5 تا 8 خزائن جلد 13 صفحہ 6 تا 9)
سچی خیر خواہی
(کتاب البریہ صفحہ 14، خزائن جلد 13، صفحہ 14)
خدا کا شکر
(کتاب البریہ صفحہ 17، خزائن جلد 13 صفحہ 18)
قادیانی بیعت کی شرط
(کتاب البریہ صفحہ 9 خزائن جلد 13 صفحہ 10)
حق بات کو ظاہر کرنا فرض ہے
(کتاب البریہ صفحہ 4 خزائن جلد 13 صفحہ 340،)
بیس ہزار روپے تاوان !
(کتاب البریہ صفحہ 207 , 208، خزائن جلد 13،
صفحہ 226,225)
میں کسی خونی مہدی کا قائل نہیں ہوں
(کتاب البریہ صفحہ 11 خزائن جلد 13 صفحہ 347)
متواترات سے انکار گویا اسلام کا انکار ہے
(کتاب البریہ صفحہ 188 خزائن جلد 13 صفحہ 206)
میرا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے
(کتاب البریہ صفحہ 144 خزائن جلد 13 صفحہ 162)
البلاغ
پادریوں کی حمایت
(البلاغ صفحہ 24 خزائن جلد 13 صفحہ 392)
سرسید...... قدر مرداں بعد از مُردن
(البلاغ صفحہ 54 خزائن جلد 13 صفحہ 425)
ہمارا فرض ہے
(البلاغ صفحہ 20 خزائن جلد 13 صفحہ 400)
طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو
(البلاغ صفحہ 24 خزائن جلد 13 صفحہ 392)
ضرورۃ الامام
شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے
(ضرورۃ الامام صفحہ 13 خزائن جلد 13 صفحہ 483)
علمی قوت کی ضرورت
(ضرورۃ الامام صفحہ 10 خزائن جلد 13 صفحہ 480)
کثرت قبولیت دعا کا نشان
(ضرورۃ الامام صفحہ 27 خزائن جلد 13 صفحہ 497)
نہایت قابل شرم بات
(ضرورت الامام صفحہ 8 خزائن جلد 13 صفحہ 478)
میں امام الزماں ہوں
(ضرورۃ الامام صفحہ 24، خزائن جلد 13 صفحہ 495)
اولی الامر سے مراد...... انگریز حکمران
(ضرورۃ الامام صفحہ 23 خزائن جلد 13 صفحہ 493)
روحانی خزائن نمبر 14
نجم الہدیٰ
مسلمان مرد خنزیر، ان کی عورتیں کتیاں
(نجم الہدیٰ صفحہ 53 خزائن جلد 14 صفحہ 53)
مرد خنزیر، عورتیں کتیاں
(نجم الہدی صفحہ 53 جلد 14 صفحہ 53)
راز حقیقت
اعتراف حقیقت
(راز حقیقت صفحہ 13 خزائن جلد 14 صفحہ )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
(راز حقیقت صفحہ 19 خزائن جلد 14 صفحہ 171)
دوسرے نام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر
(راز حقیقت صفحہ 20 خزائن جلد 14 صفحہ 172)
میں ہے
کشف الغطاء
سرسید ...... دانا اور مردم شناس
(کشف الغطاء صفحہ 13 خزائن جلد 14 صفحہ 189)
با ادب گذارش!
(کشف الغطاء ٹائٹل پیج خزائن جلد 14 صفحہ 177)
قابل توجہ گورنمنٹ
(کشف الغطاء صفحہ 38 تا 40 خزائن جلد 14 صفحہ 214 تا 216)
والد کی خدمات
(کشف الغطاء صفحہ 4، خزائن جلد 14 صفحہ 180)
کیریکٹر سرٹیفکیٹ
(کشف الغطاء صفحہ 5 تا 9 خزائن جلد 14 صفحہ 180 تا 185)
19 برس سے ...... اپنا وقت بسر کیا
(کشف الغطاء صفحہ 9 خزائن جلد 14 صفحہ 185)
قادیانی اصول، ہدایتیں اور تعلیم
(کشف الغطاء صفحہ 37 خزائن جلد 14 صفحہ 213)
تنگ ظرف لوگ
(کشف الغطاء صفحہ 10، 11 خزائن جلد 14 صفحہ 186، 187)
با ادب گذارش!
(کشف الغطاء ٹائٹل پیج خزائن جلد 14 صفحہ 177)
ملکہ معظمہ کا واسطہ
(کشف الغطاء صفحہ 3 خزائن جلد 14 صفحہ 179)
مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے
(کشف الغطاء صفحہ 17 خزائن جلد 14 صفحہ 193)
میں عیسیٰ مسیح کے اخلاق کے ساتھ
(کشف الغطاء صفحہ 16 خزائن جلد 14 صفحہ 192)
ہم رنگ ہوں
ایام الصلح
حدیث لا نبی بعدی مستند ہے
(ایام الصلح صفحہ 167 خزائن جلد 14 صفحہ 393)
اہل سنت کی اجماعی رائے کو
(ایام الصلح صفحہ 87 خزائن جلد 14 صفحہ 323)
ماننا فرض ہے
خدا پر بہتان کا نتیجہ
(ایام الصلح صفحہ 115 خزائن جلد 14 صفحہ 341)
اعتراف عظمت
(ایام الصلح [ٹائیٹل پیج] صفحہ 2 خزائن جلد 14 صفحہ 228)
حضرت مریم صدیقہؑ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق
(ایام الصلح صفحہ 74 خزائن جلد 14 صفحہ 300)
افغانوں کی شکلیں اور رسوم
(ایام الصلح صفحہ 74 خزائن جلد 14 صفحہ 300)
’’سلطان القلم‘‘ کا دعویٰ
(ایام الصلح صفحہ 160 خزائن جلد 14 صفحہ 407)
حلفاً کہتا ہوں میرا کوئی استاد نہیں
(ایام الصلح صفحہ 168 خزائن جلد 14 صفحہ 394)
خدا جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے
(ایام الصلح صفحہ 115 خزائن جلد 14 صفحہ 341)
ناس سے مراد...... دجال
(ایام الصلح صفحہ 70 خزائن جلد 14 صفحہ 296)
ہمارا مذہب
(ایام الصلح صفحہ 97 خزائن جلد 14 صفحہ 323)
حضرت مسیح کے آنے سے متعلقہ احادیث کا جھوٹ ہونا ناممکن ہے
(ایام الصلح صفحہ 53 خزائن جلد 14 صفحہ 279)
’’سلطان القلم‘‘ کا دعویٰ
(ایام الصلح صفحہ 160 خزائن جلد 14 صفحہ 407)
ابن مریم سے اصل ہی کا آنا ثابت ہوتا ہے
(ایام الصلح صفحہ 153 خزائن جلد 14 صفحہ 379)
قرآن کے مخالف الہام
(ایام الصلح صفحہ 46 خزائن، جلد 14 صفحہ 272)
حضرت مریم صدیقہؑ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق
(ایام الصلح صفحہ 74 خزائن جلد 14 صفحہ 300)
مسیح موعود کا فرض؟
(ایام الصلح صفحہ 190 خزائن جلد 14 صفحہ 416)
مرزا قادیانی کا حج
(ایام الصلح صفحہ 190 خزائن جلد 14 صفحہ 416)
حقیقۃ المہدی
ناقصوں کا کشف، خواب اور الہام ناقص ہوتا ہے
(حقیقۃ المہدی صفحہ 16 خزائن جلد 14 صفحہ 442)
مہدی کے بارے میں تمام حدیثیں ناقابل اعتبار ہیں
(حقیقۃ المہدی صفحہ 3 خزائن جلد 14 صفحہ 429، 430)
مہدی کفار سے جنگ کرے گا، یہ باتیں صحیح نہیں
(حقیقۃ المہدی صفحہ 6، 7 خزائن جلد 14 صفحہ 432، 433)
نہ میں جہاد کا قائل اور نہ ایسے مہدی کو ماننے والا
(حقیقۃ المہدی صفحہ 11 خزائن جلد 14 صفحہ 437)
روحانی خزائن نمبر 15
مسیح ہندوستان میں
نزول مسیح کی پیش گوئی، انجیل میں
(مسیح ہندوستان میں صفحہ 38 خزائن جلد 15 صفحہ 38)
ستارہ قیصرہ
پچاس ہزار کتابیں، رسائل اور اشتہارات
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 خزائن جلد 15 صفحہ 114)
مجھے فخر ہے!
(ستارہ قیصرہ صفحہ 4 خزائن جلد 15 صفحہ 114، )
قادیانی جماعت....... انگریز کی وفادار جماعت
(ستارہ قیصریہ صفحہ 12 خزائن جلد 12، صفحہ 264)
اسے ضرور پڑھیں!
(ستارہ قیصرہ صفحہ 1 تا 18 خزائن جلد 15 صفحہ 109 تا 126)
تریاق القلوب
نبوت کا قادیانی تصور
(تریاق القلوب صفحہ 152 خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280)
مرزا قادیانی، احمد مجتبیٰ
(تریاق القلوب صفحہ 6 خزائن جلد 15 صفحہ 134)
حضرت آدم علیہ السلام سے مماثلت
(تریاق القلوب صفحہ 352 خزائن جلد 15 صفحہ 478 تا 480)
نبوت کا قادیانی تصور
(تریاق القلوب صفحہ 152 خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280)
پیٹ میں باتیں
(تریاق القلوب صفحہ 89 خزائن جلد 15 صفحہ 217)
مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی نہیں دے سکتا
(تریاق القلوب صفحہ 363 خزائن جلد 15 صفحہ 491)
میں معجون مرکب ہوں
(تریاق القلوب، صفحہ 159، خزائن جلد 15، صفحہ 287)
میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں
(تریاق القلوب، صفحہ 6، خزائن، جلد 15، صفحہ 134، )
ایک اور ہندو کاتب وحی
(تریاق القلوب صفحہ 59 خزائن جلد 15 صفحہ 260)
چوتھا مہینہ صفر، چوتھا دن چارشنبہ
(تریاق القلوب صفحہ 41 خزائن جلد 15 صفحہ 218)
پیدائش
(تریاق القلوب صفحہ 351 خزائن جلد 15 صفحہ 479)
سر اور پیر
(تریاق القلوب صفحہ 355 خزائن جلد 15 صفحہ 482، 483)
میں کون ہوں؟
(تریاق القلوب صفحہ 145 خزائن جلد 15 صفحہ 273)
قادیانی جماعت کا نام
(تریاق القلوب صفحہ 398 از روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 526)
تحفہ غزنویہ
پلید دل
(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 خزائن جلد 15 صفحہ 541)
اللہ تعالیٰ کا حکم
(تحفہ غزنویہ صفحہ 11 خزائن جلد 15 صفحہ 541)
روحانی خزائن نمبر 16
خطبۃ الہامیۃ
فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت
(خطبہ الہامیہ صفحہ 55، 56 خزائن جلد 16 صفحہ 55، 56)
مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ
(خطبہ الہامیہ صفحہ 171، خزائن جلد 16 صفحہ 258، 259)
پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر
(خطبہ الہامیہ صفحہ 182 خزائن جلد 16 صفحہ 271، 272)
آخری اینٹ کون؟
(خطبہ الہامیہ صفحہ 178، خزائن جلد 16 صفحہ 178)
حضرت آدم علیہ السلام کی توہین
(خطبہ الہامیہ صفحہ 312 خزائن جلد 16 صفحہ 312)
مرزا قادیانی بلندی کے مینارہ پر
(خطبہ الہامیہ صفحہ 70 خزائن جلد 16 صفحہ 70)
مسجد اقصیٰ کی توہین
(خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ 21 خزائن جلد 16 صفحہ 21)
مرزا قادیانی، خاتم الاولیا
(خطبہ الہامیہ صفحہ 70 خزائن جلد 16 صفحہ 70)
میں مجدد ہوں، میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 18 خزائن جلد 16 صفحہ 51)
میں احمد ہوں
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 21، خزائن، جلد 16، صفحہ 53،)
میں زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہوں
(خطبہ الہامیہ، صفحہ 21، خزائن، جلد 16، صفحہ 56،)
قادیان؟
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ صفحہ جلد خزائن جلد 16 صفحہ 22، 23)
مسجدِ اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد
(خطبہ الہامیہ صفحہ 21 خزائن جلد 16 صفحہ 21)
دوسری تحریر
(خطبہ الہامیہ صفحہ 20 خزائن جلد 16 صفحہ 20)
خلیفہ جو جنگ کا حکم نہ دے
(خطبہ الہامیہ صفحہ 83، 84 خزائن جلد 16 صفحہ 83، 84،)
عیسیٰ علیہ السلام کی مانند............
(خطبہ الہامیہ صفحہ 83، 84 خزائن جلد 16 صفحہ 83، 84،)
نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل مسلمان گمراہ ہیں
(خطبہ الہامیہ صفحہ 6 خزائن جلد 16 صفحہ 6)
لجة النور
قرآن سے دوسرے درجہ پر
(لجة النور صفحہ 128 خزائن جلد 16 صفحہ 464)
روحانی خزائن نمبر 17
گورنمنٹ انگریزی اور جہاد
ہر قادیانی کا عقیدہ
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ، صفحہ 6، 7، خزائن جلد 17 صفحہ 28، 29)
میں سچ سچ کہتا ہوں
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ: 8، 9 خزائن جلد: 17، صفحہ: 8، 9)
میں ایک حکم لے کر آیا ہوں
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 15 خزائن جلد 17، صفحہ 15)
مجھے مسیح ابن مریم کا جامہ پہنایا گیا ہے
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 14 خزائن جلد 17 صفحہ 14)
تحفۂ گولڑویہ
دجال کی نشانی
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 147 خزائن جلد 17 صفحہ 233)
نبی کریم ﷺ کے تین ہزار معجزات
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، خزائن جلد 17 صفحہ 153)
روضۂ رسول ﷺ کی توہین
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 112 (حاشیہ) خزائن جلد 17 صفحہ 205)
تکمیلِ اشاعتِ ہدایت
(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ) صفحہ 177 خزائن جلد 17 صفحہ 263)
طلاق سے پرہیز کرو
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 39 خزائن جلد 17 صفحہ 75)
آنکھوں کی نسبت خاص الہام
(تحفہ گولڑویہ [ضمیمہ] صفحہ 31 خزائن جلد 17 صفحہ 67)
جھوٹ کی نجاست
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 خزائن جلد 17 صفحہ 56)
جھوٹ بولنے والا مرتد
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 20 خزائن جلد 17 صفحہ 56)
کتاب سوانح یوسف آز
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 14 خزائن جلد 17 صفحہ 100)
مسیح موعود
(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 خزائن جلد 17 صفحہ 295)
کئی لاکھ پیش گوئیاں
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، خزائن جلد 17 صفحہ 153)
دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 42، خزائن جلد 17 صفحہ 77، 78)
”خونی مہدی“
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 137 خزائن جلد 17 صفحہ 223)
دجال ...... شیطان کا اسم اعظم
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 182، 183 خزائن جلد 17 صفحہ 268، 269)
دجال ایک جماعت ہے ...... منھم
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 150 خزائن جلد 11 صفحہ 236)
میری جماعت ....... منھم
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 132 خزائن جلد 11 صفحہ 218)
مرزا قادیانی کی دجالیت
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 149، 150 خزائن جلد 17 صفحہ 235، 236)
صدق وکذب آزمانے کے لیے ...... قرآن
(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ) صفحہ 102 خزائن جلد 17 صفحہ 264)
میں مسیح موعود ہوں
(تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) صفحہ 118 خزائن جلد 17 صفحہ 295)
مسیح آسماں سے نازل ہوگا
(تحفہ گولڑویہ ضمیمہ صفحہ 47 خزائن جلد 17 صفحہ 83)
عقیدہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام جھوٹا ہے
(تحفہ گولڑویہ صفحہ 8 خزائن جلد 17 صفحہ 94)
اربعین
خدا نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا
(اربعین نمبر 3 صفحہ 36، خزائن جلد 17 صفحہ 426)
مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب
(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6، خزائن جلد 17 صفحہ 349)
نبی کریم ﷺ سورج، مرزا قادیانی چاند
(اربعین نمبر 4، صفحہ 103، خزائن جلد 17 صفحہ 445، 446)
مرزا قادیانی کی تعلیم نوح کی کشتی
(اربعین نمبر 4، صفحہ 93 خزائن جلد 17 صفحہ 435)
مرزا قادیانی کو دیکھنے کے لیے نبیوں کی خواہش
(اربعین نمبر 14 صفحہ 100، خزائن جلد 17 صفحہ 442)
اپنی وحی پر ایمان
(اربعین نمبر 4 صفحہ 19، خزائن جلد 17 صفحہ 454)
حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت
(اربعین نمبر 3 صفحہ 38 خزائن جلد 17 صفحہ 420، 421)
تہذیب اخلاق
(اربعین نمبر 3 صفحہ 84 خزائن جلد 17 صفحہ 426)
جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے
(اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 114، 115 خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457)
میں میکائیل ہوں
(اربعین 3 (حاشیہ) صفحہ 25، خزائن جلد 17، صفحہ 413،)
مہدی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا
(اربعین نمبر 2 صفحہ 19 خزائن جلد 17 صفحہ 360، 361)
مہدی کے لیے ضروری ہے......
(اربعین نمبر 2 صفحہ 18 خزائن، جلد 17 صفحہ 360)
سر درد، کمی خواب، تشنج دل، ذیابیطس، کثرت پیشاب
(ضمیمہ اربعین نمبر 4 صفحہ 4 خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471)
مجھے تہذیب واخلاق کے ساتھ بھیجا گیا ہے
(اربعین نمبر 3 صفحہ 84 خزائن جلد 17 صفحہ 426)
بدزبانی طریق شرافت نہیں
(اربعین نمبر 4 صفحہ 129 خزائن جلد 17 صفحہ 471)
جھوٹے پر قیامت تک لعنت
(اربعین نمبر 3 خزائن جلد 17 صفحہ 398)
نبیوں کی بشارت اور خواہش
(اربعین نمبر 4 صفحہ 100 خزائن جلد 17 صفحہ 442)
مسیح موعود اور اس کی توہین
(اربعین صفحہ 18 خزائن جلد 17 صفحہ 404)
مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیت
(اربعین نمبر 3 صفحہ 35 خزائن جلد 17 صفحہ 425)
مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب
(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6، خزائن جلد 17 صفحہ 349)
اگر ایک بھی پیش گوئی جھوٹی نکلی
(اربعین نمبر 4 صفحہ 119 خزائن جلد 17 صفحہ 461)
مسیح موعود اور اس کی توہین
(اربعین صفحہ 18 خزائن جلد 17 صفحہ 404)
جہاد ختم
(اربعین نمبر 4 صفحہ 101 خزائن جلد 17 صفحہ 443)
خدا نے وعدہ کے مطابق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا
(اربعین نمبر 4 صفحہ 15 خزائن جلد 17 صفحہ 446)
خدا کا مسیح سے وعدہ
(اربعین نمبر 3 صفحہ 8 خزائن جلد 17 صفحہ 394)
روحانی خزائن نمبر 18
ایک غلطی کا ازالہ
ایک غلطی کا ازالہ
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3، خزائن جلد 18 صفحہ 206)
مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ہے
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، خزائن جلد 18 صفحہ 207)
مرزا قادیانی خاتم النبیین ہے
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 10، خزائن جلد 18 صفحہ 212)
سیدہ النساء حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شرمناک توہین
(ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 11)
میں خلیفۃ اللہ ہوں
(ایک غلطی کا ازالہ ، صفحہ 6 خزائن جلد 18 صفحہ 210)
میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں
(ایک غلطی کا ازالہ ، صفحہ 7، خزائن جلد 18، صفحہ 211،)
میں محمد ہوں
(ایک غلطی کا ازالہ ، صفحہ 3، خزائن، جلد 18، صفحہ 207،)
میں خاتم الانبیاء ہوں
(ایک غلطی کا ازالہ ، صفحہ 8، خزائن، جلد 18، صفحہ 212،)
خدا کا رسول
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 خزائن جلد 18 صفحہ 207)
دافع البلاء
سچا خدا
(دافع البلاء صفحہ 11، خزائن جلد 18 صفحہ 231)
قادیان، رسول کا تخت گاہ
(دافع البلاء صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 230)
شراب اور فاحشہ عورتیں
(دافع البلاء مقدمہ صفحہ 4 خزائن جلد 18 صفحہ 220)
پہلے مسیح سے بڑھ کر
(دافع البلاء صفحہ 13 خزائن جلد 18 صفحہ 233)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت
(دافع البلاء صفحہ 20 خزائن جلد 18 صفحہ 240)
حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر
(دافع البلاء صفحہ 17، خزائن جلد 18 صفحہ 233)
میں حضرت حسینؓ سے بڑھ کر ہوں
(دافع البلاء،صفحہ 17،خزائن جلد 18،صفحہ 233،)
میں ابن مریم سے افضل ہوں
(دافع البلاء،صفحہ 20،خزائن جلد 18،صفحہ 240،)
الہامی کتابیں تبدیل ہو چکی ہیں
(دافع البلاء صفحہ 19 خزائن جلد 18 صفحہ 239)
میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں
(دافع البلاء صفحہ 22 خزائن جلد 18 صفحہ 238)
الہدیٰ ولتبصرۃ لمن یریٰ
مقامِ لُد سے مراد لدھیانہ
(الہدیٰ صفحہ 92 خزائن جلد 18 صفحہ 341)
نزول المسیح
قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی وحی
(نزول المسیح صفحہ 133 خزائن جلد 18 صفحہ 509)
ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے
(نزول المسیح صفحہ 100،خزائن جلد 18 صفحہ 478،477)
خبیث لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمتیں لگاتے ہیں
(نزول المسیح (ضمیمہ) صفحہ 30 خزائن جلد 19 صفحہ 134)
کربلا کی سیر
(نزول المسیح صفحہ 99 خزائن جلد 18 صفحہ 477)
خدا کی قسم میری وحی کلام مجید ہے
(نزول المسیح حاشیہ صفحہ 72 خزائن جلد 18 صفحہ 448)
عیسائی، یہودی،مشرک
(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 خزائن جلد 18 صفحہ 382)
میں آدم اور احمد مختار ہوں
(نزول المسیح،صفحہ 99،خزائن جلد 18،صفحہ 477،)
تعجب کی بات
(نزول المسیح صفحہ 57 خزائن جلد 18 صفحہ 435)
ظن اور شک کی تاریکی
(نزول المسیح صفحہ 89 خزائن جلد 18 صفحہ 467)
بے یقینی کا کلام
(نزول المسیح صفحہ 108 خزائن جلد 18 صفحہ 486)
مجھ سے خدا تعالیٰ لکھواتا ہے
(نزول المسیح صفحہ 56 خزائن جلد 18 صفحہ 434)
قادیان میں بڑے بڑے خبیث، شریر، ناپاک طبع، کذاب اور مفتری رہتے ہیں
(نزول المسیح صفحہ 18 خزائن جلد 18 صفحہ 394)
یروشلم سے مراد قادیان
(نزول المسیح صفحہ 44 خزائن جلد 18 صفحہ 420)
دابۃ الارض سے مراد
(نزول المسیح صفحہ 39 خزائن جلد 18 صفحہ 416)
جھوٹے کی زندگی......لعنتی زندگی
(نزول المسیح صفحہ 2 خزائن جلد 18 صفحہ 380)
دابۃ الارض سے مراد طاعون
(نزول المسیح صفحہ 38 خزائن جلد 18 صفحہ 415، 416)
طاعون کی خواہش
(نزول المسیح صفحہ 157 خزائن جلد 18 صفحہ 533)
میری دادیاں سادات میں سے تھیں
(نزول المسیح صفحہ 48 خزائن جلد 18 صفحہ 426)
انگریزی نہیں آتی
(نزول المسیح صفحہ 140 خزائن جلد 18 صفحہ 516)
الہام دوسری زبانوں میں
(نزول المسیح صفحہ 59 خزائن جلد 18 صفحہ 435)
پہلی تحریر
(نزول المسیح صفحہ 149 خزائن جلد 18 صفحہ 527)
دوسری تحریر
(نزول المسیح صفحہ 132 خزائن جلد 18 صفحہ 510)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودی استاد
(نزول المسیح ص 60 خزائن ج 18 ص 438)
مجھے کوئی اندر سے تعلیم دیتا ہے
(نزول المسیح صفحہ 56 خزائن جلد 18 صفحہ 434)
مرزا قادیانی کا موقف
(ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 151 خزائن جلد 18 صفحہ 528، )
روحانی خزائن نمبر 19
کشتی نوح
تمام آدم زادوں کے لیے محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں
(کشتی نوح صفحہ 15 خزائن جلد 19 صفحہ 13)
حاملہ
(کشتی نوح صفحہ 47، خزائن جلد 19 صفحہ 50)
مرزا قادیانی کی ہزاروں پیش گوئیاں
(کشتی نوح صفحہ 6 خزائن جلد 19 صفحہ 6)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے
(کشتی نوح حاشیہ صفحہ 73 خزائن جلد 19 صفحہ 71)
عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی
(کشتی نوح صفحہ 52 خزائن جلد 19 صفحہ 50)
حضرت مریم کی اولاد؟
(کشتی نوح صفحہ 20 خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ))
حضرت مریم علیہا السلام کا دوسرا نکاح؟
(کشتی نوح صفحہ 20 خزائن جلد 19 صفحہ 18)
میں مریم اور عیسیٰ ہوں
(کشتی نوح، صفحہ 54، خزائن جلد 19، صفحہ 52)
میں مریم ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں ابن مریم ہوں
(کشتی نوح، صفحہ 52، خزائن جلد 19، صفحہ 50)
مرزا قادیانی کو درد زہ
(کشتی نوح صفحہ 48 خزائن جلد 19 صفحہ 51)
کروڑ ہا انسانوں کی موت
(کشتی نوح صفحہ 37 خزائن جلد 19 صفحہ 41)
بیوی سے حسن سلوک
(کشتی نوح صفحہ 21 خزائن جلد 19 صفحہ 19)
خدا کا کلام
(کشتی نوح صفحہ 7 خزائن جلد 19 صفحہ 95)
گالی مت دو
(کشتی نوح صفحہ 12 خزائن جلد 19 صفحہ 11)
قرآن مجید میں طاعون کا ذکر
(کشتی نوح صفحہ 5 خزائن جلد 19 صفحہ 5)
نبیوں کی پیشگوئیاں ٹلتی نہیں
(کشتی نوح صفحہ 5 خزائن جلد 19 صفحہ 5)
اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے
(کشتی نوح صفحہ 8 خزائن جلد 19 صفحہ 6)
خدا کا کلام
(کشتی نوح صفحہ 7 خزائن جلد 19 صفحہ 95)
صحیح بخاری میں
(کشتی نوح صفحہ 60 خزائن جلد 19 صفحہ 65)
خدا نے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا
(کشتی نوح صفحہ 47 خزائن جلد 19 صفحہ 50)
عیسیٰ پیدا ہو گیا
(کشتی نوح صفحہ 46 خزائن جلد 19 صفحہ 49)
حضرت مریم کی اولاد؟
(کشتی نوح صفحہ 20 خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ))
مجھے ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے
(کشتی نوح صفحہ 49 خزائن جلد 19 صفحہ 53)
مسیح موعود نبی کریم ﷺ کی قبر میں دفن ہوگا
(کشتی نوح صفحہ 18 خزائن جلد 19 صفحہ 16)
تحفۃ الندوہ
یہ خدا کا کلام ہے
(تحفہ الندوہ صفحہ 7 خزائن جلد 19 صفحہ 95)
قرآن نے میرا نام ابن مریم رکھا
(تحفہ الندوہ صفحہ 5 خزائن جلد 19 صفحہ 97، 98)
میں جھوٹا ہوں
(تحفۃ الندوہ صفحہ 10 خزائن جلد 19 صفحہ 98)
اعجاز احمدی
تیری خبر قرآن وحدیث میں
(اعجاز احمدی صفحہ 7 خزائن جلد 19 صفحہ 113)
افضلیت مرزا قادیانی
(اعجاز احمدی صفحہ 71،خزائن جلد 19 صفحہ 183)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں
(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 17 خزائن جلد 19 صفحہ 121)
حضرت ابوہریرہؓ کی توہین
(اعجاز احمدی صفحہ 18 خزائن جلد 19 صفحہ 127)
حضرت امام حسینؓ کی توہین
(اعجاز احمدی صفحہ 52 خزائن جلد 19 صفحہ 164)
مرزا قادیانی اور حضرت امام حسینؓ میں فرق
(اعجاز احمدی صفحہ 70 خزائن جلد 19 صفحہ 181)
احادیث رسول ﷺ کی توہین
(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 36 خزائن جلد 19 صفحہ 140)
جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے......
(اعجاز احمدی (نزول المسیح) صفحہ 5 خزائن جلد 19 صفحہ 109)
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی توہین
(اعجاز احمدی صفحہ 75 خزائن جلد 19 صفحہ 188)
علمائے کرام کی توہین
(اعجاز احمدی صفحہ 92 خزائن جلد 19 صفحہ 196)
اقرار کے بعد انکار
(اعجاز احمدی (نزول المسیح) صفحہ 30 خزائن جلد 19 صفحہ 140)
حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا رسمی عقیدہ
(اعجاز احمدی صفحہ 9 خزائن جلد 19 صفحہ 113,112)
متناقض باتوں کو براہین احمدیہ میں جمع کر دیا
(اعجاز احمدی صفحہ 10 خزائن جلد 19 صفحہ 114)
میں بارہ برس تک غافل رہا
(اعجاز احمدی صفحہ 9 خزائن جلد 19 صفحہ 113)
اس وحی کو سمجھ نہ سکا جو مجھے مسیح موعود بناتی ہے
(اعجاز احمدی صفحہ 10 خزائن جلد 19 صفحہ 114)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں
(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 17 خزائن جلد 19 صفحہ 121)
مواہب الرحمٰن
کبھی گالی کا جواب نہیں دیا
(مواہب الرحمٰن صفحہ 20 خزائن جلد 19 صفحہ 236)
میں از خود کوئی کام نہیں کرتا
(مواہب الرحمٰن صفحہ 5 خزائن جلد 19 صفحہ 221)
نسیم دعوت
شراب اور افیون
(نسیم دعوت صفحہ 69 خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435)
نیوگ ، روز کی مشق
(نسیم دعوت صفحہ 78 تا 80 خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 بمعہ حاشیہ)
ذیابطیس، سو سو دفعہ پیشاب
(نسیم دعوت صفحہ 74 ، 75 خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435)
سردرد، کثرتِ پیشاب و دست
(نسیم دعوت صفحہ 75 خزائن جلد 19 صفحہ 435)
روحانی خزائن نمبر 20
تذکرۃ الشہادتین
توریت وانجیل تحریف شدہ ہیں
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 3 خزائن جلد 20 صفحہ 4)
میں وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 79 خزائن جلد 20 صفحہ 79)
کتے
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 78 خزائن جلد 20 صفحہ 78)
سر اور دستوں کی بیماری
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 44 خزائن جلد 20 صفحہ 46)
زرد کپڑے سے مراد بیماری
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 46 خزائن جلد 20)
مرزا قادیانی کا اعتراف
(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 2 خزائن جلد 20 صفحہ 3 ، 4)
لیکچر لاہور
گورنمنٹ انگریزی کا زمانہ...... روحانی اور جسمانی برکات کا مجموعہ
(لیکچر لاہور صفحہ 30 خزائن، جلد 20 صفحہ 176)
لیکچر سیالکوٹ
میں کرشن ہوں
(لیکچر سیالکوٹ، صفحہ 24، 25 خزائن جلد 20 صفحہ 228)
دنیا کی عمر سات ہزار برس
(لیکچر سیالکوٹ صفحہ 5 خزائن جلد 20 صفحہ 207)
الوصیت
مرزا اور اس کے اہل وعیال کے لیے کوئی فیس نہیں
(الوصیت صفحہ 29 خزائن جلد 20 صفحہ 327)
بہشتی مقبرہ
(الوصیت صفحہ 17 خزائن جلد 20 صفحہ 316)
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی شرائط
(رسالہ الوصیت صفحہ 25 تا 29 خزائن جلد 20 صفحہ 323 تا 327)
چشمۂ مسیحی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیڑے مکوڑے
(چشمہ مسیحی صفحہ 24 خزائن جلد 20 صفحہ 356)
اخلاقی تعلیم؟
(چشمہ مسیحی صفحہ 14 خزائن جلد 20 صفحہ 346)
میں نے جو کچھ لکھا، وہ یہودیوں کے الفاظ ہیں
(چشمہ مسیحی صفحہ 4 خزائن جلد 20 صفحہ 336)
یہودیوں کی پیروی
(چشمہ مسیحی صفحہ 4 خزائن جلد 20 صفحہ 337)
نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ)
(چشمہ مسیحی صفحہ 24 خزائن جلد 20 صفحہ 355، 356)
تجلیات الٰہیہ
اللہ اور چور
(تجلیات الٰہیہ صفحہ 4، خزائن جلد 20 صفحہ 396)
میں چاند، اللہ سورج، میں سورج، اللہ چاند
(تجلیات الٰہیہ صفحہ 5 خزائن جلد 20 صفحہ 397)
قادیان کے آریہ اور ہم
بدتر ہر ایک بد سے
(قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ خزائن، جلد 20 صفحہ 458)
روحانی خزائن نمبر 21
براہین احمدیہ حصہ پنجم
ختم نبوت، ایک باطل عقیدہ، اسلام شیطانی مذہب
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 184، خزائن جلد 21
صفحہ 354)
اللہ کی زبان پر مرض
(خزائن جلد 21 صفحہ 312)
خدا سے نہانی تعلق
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 خزائن جلد 21 صفحہ 81)
مرزا قادیانی کے 10 لاکھ نشانات
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، خزائن جلد 21 صفحہ 72)
نشان اور معجزہ ایک ہی ہے
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63، خزائن جلد 21 صفحہ 63)
روضۂ آدم اور مرزا قادیانی
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114، خزائن جلد 21 صفحہ 144)
حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مرزا قادیانی کے لیے سجدہ
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99 خزائن جلد 21 صفحہ 260)
حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99، خزائن جلد 21 صفحہ 99)
نادان صحابی
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 خزائن جلد 21 صفحہ 285)
گالیاں سن کے دعا دو
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 خزائن جلد 21 صفحہ 144)
میں ذوالقرنین ہوں
(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 146 خزائن جلد 21 صفحہ 314)
مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟
(براہین احمدیہ (ضمیمہ) صفحہ 189 خزائن جلد 21 صفحہ 361)
ہوشعنا نعسا
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 79 خزائن جلد 21 صفحہ 104)
قادیانی خشوع و خضوع
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 تا 190 خزائن جلد 21
صفحہ 188 تا 190)
ہوں بشر کی جائے نفرت ...........
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 خزائن جلد 21 صفحہ 127)
ہم موت سے نہیں ڈرتے
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 153 خزائن جلد 21 صفحہ 321)
مجھے للکارنا اچھا نہیں
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 خزائن جلد 21 صفحہ 131، )
جیسے کتا مردار کی طرف
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 87 خزائن جلد 21 صفحہ 114)
لومڑی، سؤر اور سانپ
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 108 خزائن جلد 21 صفحہ 138)
جھوٹ بولنے والا کتوں، سوروں اور بندروں سے بدتر
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 126 خزائن جلد 21 صفحہ 292)
لعنت ہے مفتری پر
(نصرۃ الحق، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 11 خزائن جلد 21 صفحہ 21)
چودھویں صدی کا مجدد
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 188 خزائن جلد 21 صفحہ 359)
جھوٹے کے کلام میں تناقض
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 111 خزائن جلد 21 صفحہ 275)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نہیں ہیں
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 192 خزائن جلد 21 صفحہ 364)
تحریف حدیث
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 188 خزائن جلد 21 صفحہ 359، 360)
پانچ اور پچاس کا قادیانی فرق
(براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ صفحہ 7 خزائن جلد 21 صفحہ 9)
مکہ و مدینہ والے میرے لیے درندوں کی طرح ہیں
(براہین احمدیہ، حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 128 خزائن جلد 21 صفحہ 294)
تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام
(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 111 خزائن جلد 21 صفحہ 141)
میں وہ مہدی نہیں ہوں
(براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم صفحہ 186 خزائن جلد 21 صفحہ 356)
میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 186 خزائن جلد 21 صفحہ 356)
ہندوؤں کا اصول
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 125 خزائن جلد 21 صفحہ 291)
میں نے براہین احمدیہ میں غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا تھا
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 85 خزائن جلد 21 صفحہ 111)
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ گپ ہے
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 100 خزائن جلد 21 صفحہ 262)
اسلام کی زندگی اور موت
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 231 خزائن جلد 21 صفحہ 406)
ہم بزدل نہیں ہیں
(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 153 خزائن جلد 21 صفحہ 321)
ہم تیرے محافظ رہیں گے
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 57 خزائن، جلد 21، صفحہ 73،)
اصحاب صفہ کون؟
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 57 خزائن، جلد 21، صفحہ 73،)
روحانی خزائن نمبر 22
حقیقۃ الوحی
مخبوط الحواس کون؟
(خزائن جلد 22 صفحہ 191)
میرے پاس جبرائیل آیا
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106)
امور غیبیہ کی نعمت
(خزائن جلد 22 صفحہ 406)
خدا تعالیٰ کی وحی
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503)
کثرت وحی
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406، 407)
بارش کی طرح وحی نازل ہوئی
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153، 154)
23 برس کی متواتر وحی
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154)
امتی بھی، نبی بھی
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30)
خدا نے میرا نام نبی رکھا، تصدیق کے لیے تین لاکھ نشان دیئے
(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503)
ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا
(حقیقۃ الوحی صفحہ 102 خزائن جلد 22 صفحہ 105)
خدا کا مرسل
(حقیقۃ الوحی صفحہ 107 خزائن جلد 22 صفحہ 110)
اللہ خطا کرتا ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 103 خزائن جلد 22 صفحہ 106)
لڑکا اور خدا
(حقیقۃ الوحی صفحہ 95، 96، خزائن جلد 22 صفحہ 98، 99)
مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کی تعزیت
(حقیقۃ الوحی صفحہ 219 خزائن جلد 22 صفحہ 219)
اللہ تعالیٰ کے دستخط
(حقیقۃ الوحی صفحہ 255، خزائن جلد 22 صفحہ 267)
کن فیکون
(حقیقت الوحی صفحہ 108، خزائن جلد 22 صفحہ 108)
تمام انبیا کا مجموعہ
(حقیقت الوحی (حاشیہ) صفحہ 73، خزائن جلد 22 صفحہ 76)
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 83 خزائن جلد 22 صفحہ 519)
جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 خزائن جلد 22 صفحہ 215)
20 سپارے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 407 خزائن جلد 22 صفحہ 407)
مرزا قادیانی کے الہامات، قرآن کی طرح
(حقیقۃ الوحی صفحہ 220 خزائن جلد 22 صفحہ 220)
میں آریوں کا بادشاہ ہوں
(حقیقۃ الوحی، صفحہ 521، 522 خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522)
میں تمام انبیا کا مجموعہ ہوں
(حقیقت الوحی، (حاشیہ) صفحہ 73، خزائن، جلد 22، صفحہ 76)
والد کی وفات پر اللہ تعالیٰ کی تعزیت
(حقیقۃ الوحی صفحہ 219 خزائن جلد 22 صفحہ 219)
ہندوؤں کی نظر میں
(حقیقۃ الوحی (تتمہ) صفحہ 153 خزائن جلد 22 صفحہ 590، 591)
چوہڑی، زانیہ اور کنجروں کے خواب
(حقیقۃ الوحی صفحہ 3، خزائن جلد 22 صفحہ 5)
ٹیچی ٹیچی
(حقیقۃ الوحی صفحہ 332، خزائن جلد 22 صفحہ 346)
زلزلہ
(حقیقۃ الوحی صفحہ 97 خزائن جلد 22 صفحہ 97)
جنت ارضی
(حقیقۃ الوحی ضمیمہ الاستفتاء صفحہ 51 خزائن جلد 22 صفحہ 675)
مرگی
(حقیقۃ الوحی صفحہ 363 خزائن جلد 22 صفحہ 376)
قولنج زحیری
(حقیقۃ الوحی صفحہ 234 خزائن جلد 22 صفحہ 246)
دوزخ کا وعدہ
(حقیقۃ الوحی صفحہ 84 خزائن جلد 22 صفحہ 520)
رحم پر مُہر
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 444 خزائن جلد 22 صفحہ 444)
جہنم سے مُراد طاعون
(حقیقۃ الوحی صفحہ 145 خزائن جلد 22 صفحہ 583)
محدث سے مراد نبوت
(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 68، خزائن جلد 22 صفحہ 503)
دجال کون؟
(حقیقت الوحی صفحہ 456 خزائن جلد 22 صفحہ 456)
جھوٹ بولنے سے بدتر
(حقیقۃ الوحی صفحہ 27 خزائن جلد 22 صفحہ 459)
جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 خزائن جلد 22 صفحہ 215)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
(حقیقت الوحی صفحہ 31 خزائن، جلد 22 صفحہ 31)
کرشن نبی، رُدّر گوپال، آریوں کا بادشاہ
(حقیقت الوحی صفحہ 86 خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522)
انبیائے کرام اور زرد چادر کی تعبیر
(حقیقۃ الوحی صفحہ 307 خزائن جلد 22 صفحہ 320)
میری دادیاں مغلیہ خاندان سے تھیں
(حقیقۃ الوحی صفحہ 209 خزائن جلد 22 صفحہ 209)
دجال کون؟
(حقیقت الوحی صفحہ 456 خزائن جلد 22 صفحہ 456)
اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 51 خزائن جلد 22 صفحہ 485)
آخری مجدد کون؟
(حقیقۃ الوحی صفحہ 193 خزائن جلد 22 صفحہ 200)
ٹچی ٹچی
(حقیقۃ الوحی صفحہ 332، خزائن جلد 22 صفحہ 346)
سلطنت برطانیہ ...... امن و راحت کی پناہ گاہ
(حقیقت الوحی، ضمیمہ، الاستفتاء صفحہ 46، خزائن، جلد 22 صفحہ 668،)
دجال ...... خدا کے کلام میں تحریف کرنے والا
(حقیقۃ الوحی صفحہ 456 خزائن جلد 22 ص 456 )
دجال سے مراد ...... عیسائیت کا بھوت
(حقیقۃ الوحی صفحہ 45 خزائن جلد 22 صفحہ 45)
شیطان ...... دجال
(حقیقۃ الوحی صفحہ 41 خزائن جلد 22 صفحہ 41)
ملہم کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 16 خزائن جلد 22 صفحہ 18،)
خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا
(حقیقۃ الوحی صفحہ 75 خزائن جلد 22 صفحہ 75)
اللہ کا بچہ
(حقیقت الوحی تتمہ صفحہ 581 ، خزائن جلد 22 صفحہ 581)
میرا بھی یہی اعتقاد تھا جو مسلمانوں کا تھا لیکن ......
(”حقیقۃ الوحی صفحہ 149 خزائن جلد 22 صفحہ 153)
قرآنی عقیدہ الہاموں نے چھڑا دیا
(حقیقۃ الوحی صفحہ 602 خزائن جلد 22 صفحہ 602)
مخبط الحواس انسان
(حقیقۃ الوحی صفحہ 191 خزائن جلد 22 صفحہ 191)
جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 خزائن جلد 22 صفحہ 215)
نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر کوئی گناہ نہیں
(حقیقت الوحی حاشیہ صفحہ 30 خزائن جلد 22 صفحہ 32)
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ شرک عظیم ہے
(حقیقۃ الوحی الاستفتاء ضمیمہ صفحہ 39 خزائن جلد 22 صفحہ 660)
حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ گمراہی ہے
(حقیقت الوحی الاستفتاء صفحہ 47 خزائن جلد 22 صفحہ 670)
حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل کافر ہے
(حقیقۃ الوحی ضمیمہ صفحہ 44 خزائن جلد 22 صفحہ 666)
نزول عیسیٰ علیہ السلام میں عیسائیوں کا فائدہ ہے
(حقیقۃ الوحی صفحہ 31 خزائن جلد 22 صفحہ 31 (حاشیہ))
اعتراف
(حقیقۃ الوحی صفحہ 152 خزائن جلد 22 صفحہ 153,152)
آمدن
(حقیقت الوحی صفحہ 212 خزائن جلد 22 صفحہ 221,220)
روحانی خزائن نمبر 23
چشمہ معرفت
تمام نبوتیں رسول اللہ ﷺ پر ختم
(چشمہ معرفت صفحہ 324 خزائن جلد 23 صفحہ 340)
نبی کی تحقیر غضب الٰہی کا موجب
(چشمہ معرفت صفحہ 390 ، خزائن جلد 23 صفحہ 390)
مرزا قادیانی ، ہزار نبیوں پر بھاری
(چشمہ معرفت صفحہ 317 خزائن جلد 23 صفحہ 332)
غیر معقول اور بے ہودہ امر
(چشمہ معرفت صفحہ 209 خزائن جلد 23 صفحہ 218)
نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے
(چشمہ معرفت صفحہ 286 خزائن جلد 23 صفحہ 299)
عورتوں کی خاص قسم
(چشمہ معرفت صفحہ 218 خزائن جلد 23 صفحہ 226)
ہندوؤں کی توہین، پرمیشر کی جگہ
(چشمہ معرفت صفحہ 106 خزائن جلد 23 صفحہ 114)
جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے، وہ ہرگز جھوٹے نہیں ہوتے
(چشمہ معرفت صفحہ 378 خزائن جلد 23 صفحہ 378)
جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے
(چشمہ معرفت صفحہ 222 خزائن جلد 23 صفحہ 231)
سیاہ رنگ کا نبی
(چشمہ معرفت صفحہ 11 خزائن جلد 23 صفحہ 382)
الہام اپنی زبان میں
(چشمہ معرفت صفحہ 209 خزائن جلد 23 صفحہ 218)
الہامی کتابوں میں تبدیلی نہیں ہوئی
(چشمہ معرفت صفحہ 75 خزائن جلد 23 صفحہ 83)
معجزہ شق القمر مرزا قادیانی کی تحریر
(چشمہ معرفت صفحہ 42 خزائن جلد 23 صفحہ 411)
سخت شریر، بدمعاش اور گنڈا؟؟؟
(چشمہ معرفت صفحہ 195 خزائن جلد 23 صفحہ 203، 204)
تعصب
(چشمہ معرفت ص 68 خزائن ج 23 ص 436،)
پیغام صلح
میں زمین کی باتیں نہیں کہتا
(خزائن جلد 23 صفحہ 485)
میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا
(خزائن جلد 23 صفحہ 485)
نبی کریم ﷺ کے والد محترم مرزا قادیانی کی تحریر
(خزائن جلد 23 صفحہ 465)
۞......۞......۞
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، ناموس پر قربان ہو جانے والے خوش نصیبوں کا ایمان افروز تذکرہ
شہیدان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
محمد متین خالد
شہدائے جنگ یمامہ غازی علم دین شہیدؒ غازی حاجی محمد مانکؒ غازی میاں محمد شہیدؒ غازی عبداللہ شہیدؒ غازی فاروق احمد غازی احمد دین شہیدؒ غازی زاہد حسینؒ غازی عامر عبدالرحمن چیمہؒ شہدائے تحریک ختم نبوت 1953ء غازی عبدالقیوم شہیدؒ غازی مرید حسین شہیدؒ غازی عبدالرشید شہیدؒ غازی منظور حسین شہیدؒ غازی محمد صدیق شہیدؒ غازی عبدالمنانؒ غازی بابو معراج دین شہیدؒ غازی محمد عمران وحید
اس کے علاوہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر اور بہت سے دوسرے اہم مقالات
- ظلمت دہر میں ”چراغ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ کی اجلی اور کومل لوؤں سے اجالا کرنے والے ضوریز و ضیابار ماہتابی و
آفتابی کرداروں کا روشن تذکرہ
- تھانوں کی تنگ و تاریک حوالاتوں، پھانسی گھاٹوں کی بے نور فضاؤں اور جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں
”آبروئے ما ز نام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم است“ کا ورد کرنے والے کفن بردوش مجاہدوں کی زندہ جاوید روداد اور انوکھے مشاہدات
- ایک ایسی کتاب جس کا ایک ایک لفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہونے والے بدطینت انسان نما
ابلیسوں کے ایوانوں کے لیے برق قضا کی حیثیت رکھتا ہے۔
- یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں ........ خواجہ بطحا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر کٹ مرنے والوں اور دشمنان رسالت مآب
کے ناپاک وجود سے دھرتی کو پاک کرنے والی پاکیزہ ہستیوں کا مختصر مگر مبسوط انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اپنی نوعیت کی منفرد کتاب جس کا مطالعہ آپ کے جذبہ ایمانی کو ایک نیا ولولہ عطا کرے گا
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک گرانقدر تحفہ
تحفظ ختم نبوت اہمیت اور فضیلت
دینی غیرت وحمیت پر مبنی ایک فکر انگیز دستاویز
ایک ایسی تاریخی وتحقیقی کتاب
محمد متین خالد
- جو جنگ یمامہ سے لے کر آج تک (14 صدیوں پر مشتمل) دینی غیرت وحمیت اور
ایمانی جرأت وبسالت سے لبریز ولولہ انگیز حقائق و واقعات سے مزین ہے۔
- جو ”ختم نبوت زندہ باد“ کا ورد کرنے والے کفن بر دوش مجاہدوں کی زندہ و جاوید روداد
اور چشم کشا مشاہدات و تجربات پر مبنی ہے۔
- جس میں ”شہیدان ناموس رسالت ﷺ“ کے ماہتابی اور آفتابی کرداروں کا روشن
تذکرہ ہے۔
- جو قلم کی سیاہی سے نہیں، دلی سوز و گداز اور خون جگر سے لکھی گئی ہے۔
- جس کے مطالعہ سے خون رگوں میں جوش مارتا اور قاری تاریخ کے جھروکوں سے ہر واقعہ اپنی
پرنم آنکھوں سے براہ راست دیکھتا ہے۔
- جس کا ہر لفظ پاکیزہ، ایمان پرور، پرسوز اور باطل شکن ہے۔
- جس کے مطالعہ سے ہر مسلمان کے روح و قلب میں محبت رسول ﷺ کے خوابیدہ
جذبات واحساسات اجاگر ہو جاتے ہیں۔
- جس میں ”غداران ختم نبوت“ کا عبرتناک انجام، ہر قادیانی نواز کے لیے عبرت ونصیحت
کا سبق لیے ہوئے ہے۔
- جو قادیانی اور قادیانی نوازوں کی آنکھوں کا آشوب اور ان کے حلق میں چبھتا کانٹا ہے۔
- جس کا مطالعہ کارکنان ختم نبوت کے ایمان وایقان کو ایک نئی زندگی بخشتا ہے اور وہ ایک
نئے ولولے اور تازہ جذبے کے ساتھ اس محاذ پر برسر پیکار رہتے ہیں۔
آنکھوں کے راستے دل میں اتر جانے والی یہ کتاب ہر مسلمان کے لیے ایک گرانقدر تحفہ ہے...... اسے پڑھئے....... سمجھئے....... اور اس کی روشنی کو پھیلائیے....... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!
کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت ہر اچھے بک سٹال پر دستیاب ہے
اَوَّلِین مُجَاھِد تَحفُّظِ نامُوسِ رِسالَت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
شہیدوں کے سردار
سید الشہداء سیدنا حضرت حمزہؓ کی مستند سیرت و فضائل
اور شجاعت و شہادت پر مبنی ایک ایمان پرور اور ایقان افروز تالیف
محمد متین خالد
- ایسے تاجدارِ اقلیمِ شہادت کی لازوال اور جگر فگار داستان جنھوں نے حبِ رسول ﷺ کو تابندہ تر اور
ناموسِ رسالت ﷺ کو پائندہ تر بنا کر ملتِ بیضا کو ایک نیا اوجِ کمال بخشا۔
- ایسے خوش قسمت جنھیں حضورِ پرنور نبی محتشم ﷺ کے پیارے چچا، رضاعی بھائی اور حبیبِ لبیب
ہونے کا منفرد و یگانہ اور یکتا و اعلیٰ اعزاز حاصل ہے۔
- ایسے پیکرِ شجاعت جن کی حضورِ خاتم النبیین ﷺ سے محبت و عقیدت دینِ اسلام کی طرف اولین
راہنمائی اور جنھیں سابقون الاولون کے قافلے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
- ایسے خوش نصیب جنھیں حضورِ نبی الملاحم ﷺ نے سید الشہداء، اسد اللہ، اسد الرسول، فاعل الخیرات
اور کاشف الکربات ایسے معزز ترین اور صد آفرین القابات و خطابات سے سرفراز فرمایا۔
- ایسے شجیع و جری اور بہادر و دلاور جنھوں نے دینِ اسلام کی سربلندی و سرفرازی کی خاطر میدانِ کارزار میں
دیوانہ وار جان نچھاور کر کے اسے وقار و اعتبار کی ثروت بخشی اور یوں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
- ایسے عظیم المرتبت مجاہد جنھوں نے اپنے پاکیزہ لہو سے جبلِ احد پر لا الہ الا اللہ کا نقشِ دوام ثبت کیا۔
- ایسی نابغہ روزگار اور عبقری شخصیت جن کی عظیم الشان قربانی و ایثار سے چمنستانِ اسلام گلزار و گلنار بنا ہوا ہے۔
- ایسے بطلِ جلیل جن کی سرفروشی و جانثاری اور بہادری و حق گوئی کے حیرت انگیز کارنامے صفحاتِ دہر
پر زریں حروف سے رقم اور محبتِ رسول ﷺ کے انمول نقوش سے معمور ہیں۔
- ایسے ضیغمِ اسلام جن کے وجد آفریں تذکرہ کے بغیر تاریخِ اسلام نامکمل رہے گی۔
- ایسے بے مثال ہیرو جن کا دشمنانِ اسلام کے انبوہ میں بے خوفی و بے باکی کے عالم میں بانگِ دہل
قبولِ اسلام کا واقعہ پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے نہایت فخر و انبساط کا باعث ہے۔
- ایسے شہیدِ محبت جن کا نام ہونٹوں پر آتے ہی دل و دماغ میں ناقابلِ تسخیر جرات و شجاعت کے چراغ
جھلملانے لگتے اور آنکھیں اُن کے احترام میں جھک جاتی ہیں۔
- ایسے پاکباز اور اسلامی تاریخ کے روشن ستارے جو آج بھی روحانی طور پر مدینہ طیبہ کے والی اور حاکم ہیں۔
معروف صحافی و کالم نگار جناب منصور اصغر راجہ، صاحبِ علم و دانش حضرت مولانا محمد رضوان عزیز، اُردو ادب کے مایہ ناز نثر نگار جناب پروفیسر تفخر محمود گوندل، درویش صفت شخصیت جناب محمد جاوید چودھری، آسمانِ علم و ادب کے درخشندہ ستارے جناب محمد حامد سراج، اسلام اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ جناب اوریا مقبول جان کی محبت و عقیدت میں ڈوبی اور کوثر و تسنیم میں ڈھلی ہوئی گراں قدر تقاریظ کے ساتھ۔
ایک ایسی کتاب جس کا مطالعہ آپ کے ایمان و ایقان کو ایک نئی جلا بخشے گا اور آپ کے فکر و خیال میں ایک ولولہ تازہ پیدا کرے گا۔
گفتگو ہو یا مباحثہ، تقریر ہو یا مناظرہ
قادیانیوں کو
لاجواب کیجئے!
ایک شاہکار کتاب جس کے مطالعے سے آپ قادیانیوں
کو ہر موضوع پر آسانی سے شکست دے سکتے ہیں۔
ترتیب وتحقیق
محمد متین خالد
یہ شاہکار تالیف نہ صرف دلچسپ ،سنسنی خیز اور جذبات میں ولولے برپا کردینے والی ایک
منفرد دستاویز ہے بلکہ دلائل وبراہین اور علم نفسیات کی مدد سے قادیانیت کی اصل تصویر پیش کرنے
کے ساتھ ساتھ اس کے راز داران درون خانہ نے اپنے تجربوں، تجزیوں اور مشاہدوں کی روشنی
میں ثابت کیا ہے کہ یہ جعلی مذہب فتنہ وفساد، جرم وجاسوسی، اخلاقی تخریب کاری، ظلم وتشدد، عیاری و
فریب کاری، منفی ہتھکنڈوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا صدر دروازہ ہے!
چونکا دینے والے تاریخی حقائق وواقعات جو عام لوگوں سے اوجھل رہتے ہیں
کہانیوں سے زیادہ دلچسپ، حقائق سے زیادہ سبق آموز اور دلائل سے زیادہ اثر انگیز
ایک ایسی کتاب جسے آپ بار بار پڑھنا چاہیں