رَدِّ قادیانیّت
رسائل
- حضرت مولانا محمد عاشق الٰہیؒ بلند شہری
- حضرت مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ
- حضرت مولانا عبدالرحیمؒ منہاج
- امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ
- حضرت مولانا ابو ریحان ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ
- حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ
- جناب غلام محمد شوخ بٹالوی
- حضرت مولانا شہاب الدینؒ
اِحتسابِ قادیانیّت
جلد ٣٩
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٣٩
- حضرت مولانا محمد محدث تھانیسریؒ
- امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ
- حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
- حضرت مولانا شہاب الدینؒ
- حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہریؒ
- حضرت مولانا عبدالرحیم منہاجؒ
- حضرت مولانا ابوریحان ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ
- جناب غلام احمد شوخ بٹالوی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم الله الرحمن الرحیم
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد انتالیس (٣٩) مصنفین : حضرت مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حضرت مولانا شہاب الدینؒ حضرت مولانا محمد عاشق الٰہیؒ بلند شہری حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ حضرت مولانا ابوریحان ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ جناب غلام محمد شوخ بٹالویؒ
صفحات : ٥٩٢ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور طبع اوّل : اگست ٢٠١١ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٩
عرض مرتب ٤
- ١...... تائید آسمانی در رد نشان آسمانی حضرت مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ ١٥
- ٢...... نئے ظہور پر ایمان امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ ٤٧
- ٣...... قادیانیت مطالعہ و جائزہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ٤٩
- ٤...... قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت " " " ١٦٥
- ٥...... قادیانیت کا ظہور " " " ١٩١
- ٦...... رفع الحجاب عن وجه الكذاب حضرت مولانا شہاب الدینؒ ٢٠٧
- ٧...... قادیانیوں کا چہرہ ان کے اصلی آئینہ میں حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری ٢٨٩
- ٨...... مرزائیوں کے غور وفکر کے لئے " " " ٣١٧
- ٩...... نبوت کے نام پر قرآن پاک میں شرمناک تحریف حضرت مولانا عبدالرحیم منہاجؒ ٣٢٧
- ١٠...... قرآن اور ختم نبوت " " " ٣٥٩
- ١١...... عقیدہ ختم نبوت اور اسلام حضرت مولانا ابوریحان ضیاء الرحمن فاروقیؒ ٣٦٧
- ١٢...... قادیانی غیر مسلم کیوں؟ " " " ٤٣١
- ١٣...... مرزا ناصر احمد خلیفہ مرزائے قادیانی پر چند سوال (حصہ اوّل) جناب غلام محمد شوخ بٹالویؒ ٤٧٣
- ١٤...... مرزا ناصر احمد خلیفہ مرزائے قادیانی پر چند سوال (حصہ دوم) " " ٤٩٩
- ١٥...... ختم نبوت " " ٥٢٣
- ١٦...... مقفے کلام بجواب احمدیت کا پیغام " " ٥٦٧
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ!
عرض مرتب
الحمد لله وكفى وسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء . اما بعد! قارئین کرام ! لیجئے محض اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے ”احتساب قادیانیت“ کی جلد نمبر انتالیس (٣٩) پیش خدمت ہے۔
- ❁....... اس جلد میں سب سے پہلا رسالہ:
- ١....... تائید آسمانی در رد نشان آسمانی: اس رسالہ کے مؤلف حضرت مولانا محمد جعفر
تھانیسریؒ ہیں جو ١٨٣٨ء میں پیدا ہوئے۔ مرزا قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا۔ (جیسا کہ اس نے خود اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ میں لکھا ہے) اس لحاظ سے مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ مرزا قادیانی کے ہم عصر ہیں۔ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا وصال ١٩٠٥ء میں ہوا۔ جب کہ مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مردود ہوا۔ مولانا ولی اللہ ولی ہانسوی کی پیش گوئیوں پر مشتمل ٥٢ اشعار کا رسالہ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا مملوکہ مرزا قادیانی کے پاس رہا۔ جیسا کہ خود مولانا تھانیسریؒ نے اس کتاب میں ذکر کیا ہے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی نے تحریف کی اور غلط طور پر ولی ہانسوی کے اشعار کو اپنے اوپر فٹ کیا۔ جس اپنے کتاپچہ میں مرزا قادیانی نے یہ کھیل کھیلا اس رسالہ کا نام اس نے ”نشان آسمانی“ رکھا۔ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ نے مرزا ملعون کے رسالہ ”نشان آسمانی“ کا رد لکھا۔ جس کا نام ”تائید آسمانی در رد نشان آسمانی“ تجویز کیا۔ آپ نے ١٨٩٢ء میں یہ رسالہ لکھا۔ اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد سولہ سال مرزا قادیانی زندہ رہا۔ لیکن مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کے رسالہ کا جواب دینے کی جرات نہ ہوئی۔ یوں یہ رسالہ لکھ کر مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ نے مرزا قادیانی کو ”سولہ آنے جھوٹا“ ثابت کر دیا۔
ایک سو بیس سال قبل کے رسالہ کو احتساب کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت پر میری خوشیوں کے ٹھکانہ کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے؟ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ
کے فیض یافتگان سے براہ راست فیض یافتہ تھے۔ آپ نے مرزا قادیانی کی مجلسوں میں جا جا کر مرزا قادیانی کے حالات کو دیکھا۔ جوں جوں دیکھتے گئے توں توں مرزا قادیانی کا کفر مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ پر الم نشرح ہوتا گیا۔ یہ ساری تفصیل آپ اس رسالہ میں پڑھیں گے۔ پڑھیں اور سر دھنیں کہ تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء میں سے مرزا قادیانی کا جس جس نے زمانہ پایا۔ سبھی نے مرزا قادیانی کے کفر کا اعلان کیا۔ چاہے وہ مولانا پیر مہر علی شاہ صاحبؒ سے لے کر مولانا جماعت علی شاہؒ تک ہوں، یا مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے لے کر شاہ عبدالرحیم ولایتی تک ہوں، یا حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے لے کر مولانا محمد لدھیانویؒ تک ہوں، یا مولانا نواب صدیق حسن خانؒ سے لے کر مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ تک ہوں، یا مولانا علی الحائریؒ سے لے کر سید آل حسن زیدیؒ تک ہوں۔ ان میں مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ بھی صف اوّل میں شامل ہیں۔ جنہوں نے مرزا قادیانی کو دیکھا اور اعلان کیا کہ مرزا قادیانی کافر و کذاب تھا۔ رد میں یہ رسالہ لکھا۔
- ٭...... اس جلد میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: فروری ١٩٥٨ء) کا ایک
رسالہ جس کا نام ہے:
- ٢...... نئے ظہور پر ایمان: ١٩٢٦ء کے ماہ جون میں کسی صاحب نے امام الہند مولانا
ابوالکلام آزادؒ سے دریافت کیا تھا۔ قادیانیوں کے اس دعویٰ میں کہاں تک صداقت ہے کہ ”مسلمانوں کو حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ ظہور پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔“ اس کے جواب میں آپ نے جو مکتوب ارسال فرمایا وہ اس کتابچہ میں آپ ملاحظہ کریں گے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یہ خط و کتابت ادبستان لاہور ١٩٥٢ء نے ”نئے ظہور پر ایمان“ کے نام سے شائع کی تھی۔ قریباً ساٹھ سال بعد دوبارہ ہم اس کو جلد ہٰذا میں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ قادیانی عیاری کا دندان شکن جواب بھی ہے اور ایک تاریخی ورثہ بھی۔ الحمد للہ! کہ یہ اس جلد میں محفوظ ہو گیا۔ فالحمدللہ!
٭...... اس جلد میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (وفات: دسمبر ١٩٩٩ء) کے ”رد قادیانیت“ پر تین رسائل شامل اشاعت ہیں۔ مولانا ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے رکن، دمشق یونیورسٹی کے مشیر، دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن، عرب وعجم کے رئیس العلماء، قافلہ حریت کے سرخیل، برصغیر پاک و ہند کی موجودہ دور میں سب سے بڑی علمی اور روحانی شخصیت تھے۔ تین صد کتابوں کے آپ مصنف تھے۔ تاریخ، سیرت وسوانح آپ کے پسندیدہ مضامین تھے اور انہیں عنوانات پر آپ کی زیادہ تر تصانیف ہیں۔ قدرت نے اتنی جامعیت بخشی تھی کہ اردو کی طرح عربی زبان پر آپ کو نہ صرف عبور تھا۔ بلکہ اکثر کتابیں آپ نے اصلاً عربی میں تصنیف فرمائیں۔ بعد میں اردو کا ان کو جامہ پہنایا گیا۔ عربی ادب کے بھی آپ امام مانے جاتے تھے۔ ان کے علم وفضل کے سامنے عرب وعجم کے علماء کی گردنیں جھکتی نظر آتی تھیں۔ قدیم وجدید علم پر آپ کو دسترس تھی۔ شرق وغرب نے آپ کے علم کی گہرائی کا سکہ مانا۔ ہزاروں شاگرد، لاکھوں عقیدت مند، بیسوں مساجد ومدارس آپ کی یادگار ہیں۔
آپ کی بیعت کا تعلق قطب الارشاد حضرت عبدالقادر رائے پوریؒ سے تھا۔ آپ حضرتؒ سے مجاز بھی تھے اور غالباً ہندوستان میں آپ حضرت رائے پوریؒ کے آخری خلیفہ تھے۔ آپ کے وصال سے مساجد ومدارس کی طرح خانقاہوں کی علمی وعملی رونق بھی متاثر ہوئی۔ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم پر آپ نے لاہور میں بیٹھ کر عرب دنیا کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے ”القادیانیہ“ عربی زبان میں تحریر فرمائی۔ اس کے مقدمہ میں آپ نے فرمایا کہ میرے پاس دو کتب خانے جمع ہیں۔ ایک خاموش یعنی کتابیں ہیں۔ دوسرا بولنے والا کتب خانہ یعنی حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں۔ شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے حکم پر تمام تر حوالہ جات فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے ان کو مہیا فرمائے۔ یہاں سے مسودہ تیار کر کے لکھنؤ تشریف لے گئے اور پھر سب سے پہلے عربی ایڈیشن کی اشاعت کا دمشق
سے اہتمام کیا گیا اور یہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے شائع کی اور پھر مصنف کے توسط سے دنیا بھر کے علماء ومشائخ بالخصوص عرب دنیا میں تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ اس کتاب کو اردو میں منتقل کیا جائے۔ چنانچہ اردو ایڈیشن میں عربی سے اردو میں حوالہ جات کو منتقل کرنے کی بجائے مرزائیوں کی اصل اردو کتابوں سے ہی حوالہ جات کو نقل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے مولانا محمد علی جالندھری کو ذیل کا خط تحریر فرمایا۔ یہ مورخہ ٦؍ مئی ١٩٥٨ء کا خط ہے۔ اس میں آپ نے تحریر فرمایا:
باسمه!
محبّی ومخدومی زید لطفہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید کہ مزاج بخیر ہوگا!
میں اپنی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے رائے بریلی میں تاخیر سے آیا۔ فہرست مآخذ (یعنی قادیانی کتب) کے متعلق دیکھنا تھا۔ کچھ کتابیں ندوۃ العلماء میں ہیں یا نہیں؟ چنانچہ مقابلہ کر کے ان کتابوں کو حذف کر دیا جو یہاں موجود ہیں تاکہ پاکستان سے انہیں لانے کی زحمت سے بچیں۔ اب وہی کتابیں لکھ رہا ہوں جو یہاں نہیں ہیں اور ان کو وہیں (پاکستان) سے لانا پڑے گا۔ آپ کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوگی کہ ”فیصلہ آسمانی“ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ اور علاوہ ازیں مولانا مونگیریؒ کی تقریباً ١٣، ١٤ کتابیں اور رسالے رد قادیانیت میں کتب خانہ ندوۃ العلماء میں موجود ہیں۔ کئی روز سے لاہور کا کوئی خط نہیں آیا۔ جس سے کچھ نظام سفر کا حال معلوم ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ حضرت والا دامت برکاتہم (حضرت رائے پوریؒ) کے مزاج مبارک بالکل بعافیت ہوں گے۔ مخدومی مولانا عبدالجلیل صاحب کی خدمت میں دو ہی روز ہوئے ہوں گے۔ ایک خط ارسال خدمت کیا ہے۔ مولانا محمد حیات کی خدمت میں میری طرف سے بہت سلام۔ قلم زد کتابیں یہاں کتب خانہ میں موجود ہیں۔
والسلام! ....... آپ کا علی ....... مورخہ ١٦؍ شوال المکرم ١٣٧٧ھ
چنانچہ آپ کا خط ملتے ہی حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے جواب اور پھر کتابیں ڈاک سے بھجوادیں اور ساتھ ہی تحریر کیا کہ اردو ایڈیشن (قادیانیت) لکھنو سے شائع کرالیں۔ رقم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے بیت المال سے بھجوادی جائے گی۔ چنانچہ اس کے جواب میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے تحریر فرمایا:
حضرت مولانا المحترم زید مجدہ والطافہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید کہ مزاج بخیر ہوگا!
گرامی نامہ اور اس کے بعد رجسٹرڈ پیکٹ ملا۔ اس توجہ کے لئے شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت عطا فرمائے۔ جناب نے بھی لکھنؤ میں طباعت کی تاکید فرمائی ہے اور یہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابھی مصارف کا کوئی اندازہ نہیں۔ رقم کا پہنچنا بہت مشکل ہے۔ البتہ یہ صورت ممکن ہے کہ حضرت والا (حضرت رائے پوریؒ) کے ساتھ جو رفقاء خدام رائے پور تشریف لائیں وہ قانونی رقوم اپنے ساتھ لے آئیں۔ یعنی جتنی رقم لانے کی (قانوناً) اجازت ہے۔ ہر ایک رفیق اتنی ہی رقم لے آئے۔ علی الحساب وہ رائے پور میں محفوظ رہے۔ جب ضرورت ہو وہاں سے حاصل کر لی جائے۔ ابھی مجھے خود مصارف کا اندازہ نہیں۔ کتابوں کی فہرست یہ معلوم کرنے کے بعد کہ کتب خانہ ندوۃ العلماء میں کون سی کتابیں ہیں۔ بعد میں بھجواؤں گا۔ بڑی عنایت ہوگی۔ اگر حضرت شاہ (سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ) صاحب مدظلہ کی خدمت میں میرا سلام نیاز پہنچا دیا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ...... طالب دعا: ابوالحسن علی جواب کا پتہ: مرکز دعوت اصلاح و تبلیغ کچہری روڈ لکھنؤ
غرض آپ کو رد قادیانیت کے عنوان پر حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے لگایا تھا۔ آپ کی اس متذکرہ کتاب کے عربی اردو انگریزی کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ البتہ سب سے پہلے اس کتاب کو شائع کرنے کی سعادت مجلس تحفظ ختم نبوت کے حصہ میں آئی۔ اس کے علاوہ رد قادیانیت پر آپ کے مندرجہ ذیل مقالہ جات بھی ہیں:
- ١...... القادیانیہ ثورۃ علی نبوۃ محمدیہ۔
- ٢...... قادیانیت اسلام اور نبوت محمدیہ کے خلاف ایک بغاوت۔
- ٣...... القادیانی والقادیانیہ دراسۃ وتحلیل۔
پاکستان میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو آپ نے حضرت شیخ بنوریؒ کو جو والا نامہ تحریر فرمایا وہ یہ ہے:
”سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیاز مند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جس کے متعلق بدیع الزمان الهمدانی ١ کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں۔ فتح فاق الفتوح وامنت عليه الملائكه والروح ! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سید آدم بنوریؒ اور ان کے شیخ حضرت امام ربانیؒ اور آپ کے استاذ ومربی حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی روح ضرور مسرور ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی عليها الف الف سلام ! کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی۔ فهنيئالكم وطوبی ! اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا“
(ماہنامہ بینات حضرت بنوریؒ نمبر ص ٤٦٢ محرم الحرام ١٣٩٨ھ)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے چناب نگر میں اپنا مرکز قائم کیا۔ حضرت مولانا علی میاں ڈھڈیاں سے واپسی پر حضرت مولانا محمد حیات کو ملنے کے لئے تشریف لائے۔ گزشتہ چند سالوں میں فتنہ قادیانیت نے دوبارہ انڈیا میں پر پرزے نکالنے شروع کئے تو دارالعلوم دیوبند کے ذمہ دار حضرات نے مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند کی بنیاد رکھی اور ایک عظیم الشان سیمینار کا اہتمام کیا۔ اس میں آپ برابر کے شریک سفر رہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کل ہند کے زیر اہتمام مورخہ ١٤ / جون ١٩٩٧ء کو عظیم الشان کل ہند سطح پر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے متعلق آپ نے حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کو ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا:
بسم الله الرحمن الرحيم!
گرامی منزلت جناب مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، زیدت مکارمہ!
امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوگا۔ دارالعلوم کے جلسہ انتظامی (مجلس شوریٰ) میں شرکت کا دعوت نامہ اور رد قادیانیت کے جلسہ کی اطلاع لکھنؤ میں ملی تھی۔ راقم نے اپنی صحت کی کمزوری، سن رسیدگی اور کچھ دن آرام کے لئے بمبئی کے سفر اور قیام کا ذکر کر کے حاضری سے معذرت کا خط لکھا تھا، جو پہنچا ہوگا۔ لیکن بمبئی میں ٤؍جون کا روزنامہ ”انقلاب“ دیکھا تو اس میں ١٤؍جون کو دہلی میں رد قادیانیت کے جلسہ کی جو دارالعلوم دیوبند کی طرف سے اور آپ کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، اطلاع پڑھی۔ اس سے بہت خوشی ہوئی اور یہ ارادہ کر لیا کہ میں قیام کو مختصر کر کے ١٣؍جون کو دہلی میں پہنچ جاؤں اور جلسہ میں شرکت کی سعادت جو دینی غیرت کا تقاضا ہے، حاصل کروں۔ چنانچہ یہ پروگرام بنایا کہ ١٣؍جون تک دہلی پہنچ جاؤں اور ١٤؍جون کو جلسہ میں شریک ہوں۔ میں صدق دل سے آپ کو، دارالعلوم کو اور اس جلسہ کے تمام محرکین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے بروقت قدم اٹھایا اور دارالعلوم کی روایات دفاع عن الدين او دفاع عن العقیدۃ الاسلامیہ کا ثبوت دیا۔ راقم بمبئی کے قیام میں قادیانیت ہی پر تبصرہ اور اس کے سلسلہ میں کچھ لکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے قادیانیت پر عربی میں مستقل کتاب لاہور میں لکھ چکا تھا جو بلاد عربیہ میں بہت مقبول ہوئی اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے اس وقت تک اس کے پانچ ایڈیشن نکالے ہیں اور انگریزی ترجمہ کے بھی دو ایڈیشن شائع کئے۔ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ندوۃ العلماء کی طرف سے آپ کی خدمت میں عربی اور اردو ایڈیشن کے بعض رسائل پہنچے ہوں گے۔
اطلاعاً آپ کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا جا رہا ہے۔ راقم کا قیام اوکھلا جامعہ نگر میں مولوی عباس صاحب ندوی کے مکان پر رہے گا۔ جلسہ میں انشاء اللہ! شرکت کی سعادت حاصل کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو ہر طرح سے مفید اور کامیاب کرے۔ برائے کرم ہمارا سلام اور
مبارک باد صاحبزادہ گرامی قدر مولانا اسعد میاں کی خدمت میں بھی پہنچا دیجئے۔ اطال الله بقاء! راقم: ابوالحسن علی ندوی، بقلم عبدالرزاق ندوی، بمبئی، سہاگ پیلس مدن پورہ
مورخہ ٥/ جون ١٩٩٧ء
(منقول از ماہنامہ آئینہ دارالعلوم دیوبند مورخہ ١٥/ جون تا ١٥/ جولائی ١٩٩٧ء)
چنانچہ دہلی تشریف لائے اور قادیانیوں کے خلاف معرکہ کی تقریر فرمائی۔ اسی طرح لکھنؤ میں دنیا بھر کے سکالروں کا سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس میں بھی قادیانیوں کے متعلق علمی مقالہ جات پیش ہوئے۔ غرض مولانا کا وجود انعام الہی تھا۔ آپ نے قادیانی فتنہ کے خلاف تین کتب ورسائل تحریر فرمائے جو اس جلد میں پیش خدمت ہیں:
- ٣/١...... قادیانیت (مطالعہ و تجزیہ): جیسے تفصیل گذر چکی کہ پہلے یہ عربی میں تھی۔ پھر اسے اردو
کا قالب پہنایا۔ اردو ایڈیشن اس جلد میں شامل ہے۔
- ٤/٢...... قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت: یہ مضمون آپ نے ١٩٥٣ء
کی تحریک ختم نبوت کے دوران تحریر فرمایا۔ تخریب پسند تحریکیں نامی کتاب ١٩٧٢ء میں رابطہ عالم اسلامی نے شائع کی۔ اس میں سے یہ مضمون لے کر اس کتاب میں شامل کیا ہے۔
ضمیمہ: تخریب پسند تحریکیں شائع کرتے وقت رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب فضیلۃ الشیخ محمد صالح قزاز نے تقریظ لکھی اور مصر کے معروف عالم و سکالر جناب حسین مخلوف نے پیش لفظ تحریر کیا۔ ہم نے ضمیمہ کے طور پر ان دونوں کو جمع کر دیا ہے۔
- ٥/٣...... قادیانیت کا ظہور: اس کا دعویٰ اور دعوت اور اس کے مؤید و سرپرست، یہ تیسرا رسالہ
ہے جو حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا اس جلد میں شائع کیا گیا ہے۔
- ٦...... رفع الحجاب عن وجہ الکذاب: جو مولانا شہاب الدین صاحب کی مرتب کردہ ہے۔
مولانا شہاب الدین جامع مسجد چوبرجی کوارٹر لاہور کے خطیب تھے۔ آپ نے یہ کتاب ستمبر ١٩٥٢ء میں تحریر فرمائی۔ جب لاہور میں تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے حالات پیدا ہورہے تھے۔ اس زمانہ کی یہ مرتب کردہ کتاب ہے۔
٧/١ ...... قادیانیوں کا چہرہ ان کے اصلی آئینہ میں: مولانا مفتی محمد عاشق الہی بلند شہری (وفات نومبر ٢٠٠١ء) کا یہ رسالہ مرتب کردہ ہے۔ جو اکتوبر ١٩٨٨ء میں دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوا۔ مولانا عاشق الہی بلند شہری بلند پایہ عالم دین تھے۔ آپ عرصہ تک دارالعلوم کراچی، پاکستان کے مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحبؒ کی زیر سرپرستی پڑھاتے رہے۔ آپ نے عربی میں ایک رسالہ ماہی القادیانیہ بھی تحریر کیا۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے بھی شائع کیا۔ ہم نے اس جلد میں ”قادیانیوں کا چہرہ“ صرف اردو کا رسالہ لیا ہے۔ مولانا عاشق الہی صاحبؒ کراچی سے ہجرت کر کے حجاز مقدس چلے گئے۔ مدینہ طیبہ میں آپ کا قیام رہا۔ آپ کا معمول رہا کہ عصر سے عشاء تک اور صبح تہجد سے اشراق تک مسجد نبوی میں قیام کرتے۔ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں خوب ذوق وشوق سے عبادت گزاری کے ساتھ ساتھ علمی خدمات سرانجام دیں۔ آپ نے قیام مدینہ کے دوران بہت تصنیفی خدمات سرانجام دیں۔ ان میں ایک اردو کی تفسیر بھی ہے۔ جس کا نام ”انوار البیان“ ہے۔ جو ٩؍جلدوں پر مشتمل ہے۔ آپ اکثر وبیشتر پاکستان کے دینی رسائل کے لئے مضامین بھی تحریر فرمایا کرتے تھے۔ آپ کا مدینہ طیبہ میں وصال ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ آپ کا ایک مضمون کا نام تھا:
٨/٢ ...... مرزائیوں کے غور وفکر کے لئے (خیر خواہی کے جذبہ سے): یہ مضمون مولانا عاشق الہی صاحب نے لکھ کر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی خدمت میں بغرض اشاعت پیش کیا۔ حضرت قبلہؒ کے حکم پر خانقاہ سراجیہ کندیاں کے متوسل جناب حافظ نذیر احمد صاحب نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا۔
٩/١ ...... نبوت کے نام پر قرآن پاک میں شرمناک تحریف: فیصل آباد میں مسیحی حضرات کے نامور پادری تھے۔ جناب ڈیوڈ منہاس۔ اللہ رَبّ العزت نے انہیں توفیق بخشی۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اب آپ کا نام ”مولانا عبدالرحیم منہاج“ قرار پایا۔ مولانا عبدالرحیم منہاج نے مرزا قادیانی کے بیٹا مرزا محمود کی نام نہاد تفسیر صغیر سے تحریف کے چند نمونے جمع کئے۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی وحضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ نے اس رسالہ کی تقریظ لکھی۔ یہ رسالہ اولاً ادارہ دعوت وارشاد چنیوٹ سے شائع ہوا۔ اب ہم اس جلد میں اس کو محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔
- ١٠/٢....... قرآن اور ختم نبوت: یہ رسالہ بھی مولانا عبدالرحیم منہاج مرحوم کا ہے۔ جو ١٩٨٥ء
میں ادارہ دعوت وارشاد نے شائع کیا۔ اب ہم اس جلد میں اس کو محفوظ کر رہے ہیں۔
- ١١/١....... عقیدۂ ختم نبوت اور اسلام: مولانا ضیاء الرحمن فاروقی سمندری فیصل آباد کے رہائشی
تھے۔ دارالعلوم کبیر والا ، جامعہ رشیدیہ ساہیوال، خیر المدارس ملتان میں پڑھتے رہے۔ دورہ حدیث شریف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجودہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کے پاس جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا ضلع لودھراں سے کیا۔ فراغت کے بعد دارالعلوم فاروقیہ کراچی سے رابطہ جوڑا۔ پھر حق تعالیٰ نے تبلیغ اسلام کے محاذ پر لگا دیا۔ آپ نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ تحریر کی طرح تقریر کے بھی صاحب طرز اور ماہر تھے۔ (جنوری ١٩٩٧ء) میں لاہور ایک بم دھماکہ میں جان بحق ہوئے۔ حق تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آپ نے ’’عقیدۂ ختم نبوت اور اسلام‘‘ کے نام سے قادیانیوں کے خلاف کتاب تحریر کی۔ جو اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔
- ١٢/٢....... قادیانی غیر مسلم کیوں: یہ بھی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی صاحب کا مرتب کردہ رسالہ
ہے۔ جو اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔
- ١٣/١....... میاں ناصر احمد خلیفہ ثالث مرزائے قادیانی پر چند سوال (حصہ اول):
- ١٤/٢....... میاں ناصر احمد خلیفہ ثالث مرزائے قادیانی پر چند سوال (حصہ دوم): یہ دونوں رسائل
جناب ایم غلام محمد شوخ بٹالوی ساکن مرڑ روڑی والا چک نمبر ١٤١ ڈاکخانہ خاص تحصیل و ضلع شیخوپورہ (حال ضلع سانگلہ ہل) کے مرتب کردہ ہیں۔ پہلا حصہ اکتوبر ١٩٧٧ء میں اور دوسرا حصہ ستمبر ١٩٦٨ء میں شائع ہوئے۔ مرزا قادیانی کی کتب کے مطالعہ سے جو اشکالات وارد ہوتے تھے۔ وہ مرزا ناصر کو لکھ کر بھیجے، مگر مرزا ناصر کی بولتی بند ہوگئی۔ متضاد حوالہ جات کی وہ کیا توجیہہ کرتا۔ مثلاً مرزا نے کہا کہ ’’حضور علیہ السلام کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔‘‘ کچھ عرصہ بعد خود کہا کہ ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں‘‘ اب دونوں عبارتیں مرزا قادیانی کی ہیں۔ مرزا ناصر کیا جواب دیتا؟
- ١٥/٣....... ختم نبوت بجواب خاتم النبیین نمبر مرزائیہ: ١٩٥٢ء میں قادیانیوں نے الفضل کا نمبر
خاتم النبیین کے نام سے شائع کیا۔ جو دجل و دھوکہ دہی کا مرقع تھا۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین
احقر یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ جامعہ محمدی شریف نے اس کے جوابات تحریر فرمائے۔ ایم غلام محمد شوخ بٹالوی نے بھی قادیانی نمبر کا جواب تحریر فرمایا جو اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔
- ٤/ ١٦...... مقفے کلام: قادیانیوں نے ”احمدیت کا پیغام“ رسالہ شائع کیا۔ جناب ایم غلام محمد
شوخ بٹالوی نے مقفے کلام کے نام سے اس کا جواب تحریر کیا۔ جو اس جلد میں شامل ہے۔
گویا احتساب قادیانیت کی جلد انتالیس (٣٩) میں:
- ١ ...... حضرت مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کا ١ رسالہ
- ٢ ...... حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کا ١ رسالہ
- ٣ ...... حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے ٣ رسائل
- ٤ ...... مولانا شہاب الدینؒ لاہوری کا ١ رسالہ
- ٥ ...... حضرت مولانا عاشق الٰہیؒ بلند شہری کے ٢ رسائل
- ٦ ...... مولانا عبدالرحیم منہاجؒ کے ٢ رسائل
- ٧ ...... مولانا ضیاء الرحمن فاروقیؒ کے ٢ رسائل
- ٨ ...... جناب غلام محمد شوخ بٹالویؒ کے ٤ رسائل
آٹھ مصنفین کے ٹوٹل ١٦ رسائل
اس جلد میں پیش خدمت ہیں۔
غلام محمد شوخ بٹالوی کے صرف چار رسائل میسر آئے۔ ورنہ آخری رسالہ پر سلسلہ اشاعت نمبر: ١١ درج ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے اور بھی یقینی طور پر رسائل تھے۔ جن تک ہماری رسائی نہیں ہوئی۔ چلو جتنے ہو گئے الحمد للہ! باقی کی اللہ تعالیٰ کسی اور کو توفیق بخشیں گے کہ وہ جمع کردیں ۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز! اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ والسلام!
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا!
١٨؍ رمضان ١٤٣٢ھ ، بمطابق ١٩؍ اگست ٢٠١١ء
جوابات میں شامل
غلام محمد
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ھوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تائید آسمانی
دَر
رد نشان آسمانی
سلسلہ ان تک ادہ طبع
حضرت مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ
٢٠٢١ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مولوی محمد جعفر تھانیسریؒ اور ان کا کتابچہ ”تائید آسمانی“
مولوی صاحب موصوف (ولادت ١٨٣٨ء وفات ١٩٠٥ء) تحریک مجاہدین ہند سے متعلقہ علمی حلقوں میں اب غیر متعارف نہیں رہے۔ وہ ”کالا پانی“ (خود نوشت حالاتِ زندگی) اور سوانح احمدی (حضرت سید احمد شہیدؒ کے سوانح حیات) دو مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔ تھانیسر ضلع انبالہ (ہند) کی ارائیں برادری کی ایک دیندار خوشحال اور زمیندار شخصیت میاں جیون کے ہاں پیدا ہوئے۔ دس بارہ سال کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ طبیعت محنتی اور ذہین پائی تھی۔ جلد جلد منازل ترقی طے کرتے گئے۔ بتقاضائے حالات گرد و پیش، قانون کے پیشے میں حسبِ ضرورت قابلیت پیدا کر لی اور عرائض نویسی شروع کر دی۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کا اپنا اچھا خاصہ حلقہ پیدا ہو گیا۔
سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے وہ دور بڑا پُر آشوب تھا۔ ہنگامہ ١٨٥٧ء کے بعد مسلمان بحیثیت قوم سراسیمہ اور گویا دبکے بیٹھے تھے۔ البتہ سرفروشوں یعنی وہابیوں کی ایک جماعت تھی جو شہیدین بالا کوٹ کی تحریک جہاد کو زندہ رکھے ہوئے اور سارے ہندوستان میں تنہا برطانوی سطوت و جبروت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے علم جہاد اٹھائے کھڑی اور میدان ہائے جنگ میں دادِ شجاعت دے رہی تھی اور انگریز بہادر کا ناک میں دم کر رکھا تھا اور یہ تھی صادقین صادقپور کی جماعت۔
سارے ملک (ہندوستان) میں اس انقلابی دینی تحریک کا غلغلہ تھا۔ کسی مجاہد کی وساطت سے ہمارے یہ مولوی صاحب بھی اس میں شامل ہو گئے اور مردانہ وار حصہ لینے کے سبب جلد ہی علمائے صادق پور کے معتمد علیہ اور تحریک میں نہایت سرگرم عمل ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی حکومت نے ان کو گرفتار کر لیا۔ ١٨٦٣ء میں مقدمہ چلا جس کے دوران مختلف جیلوں میں رکھے گئے۔ ١٨٦٤ء میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ جو بعد میں ”حبس دوام عبور دریائے شور“ تبدیل کر دی گئی۔ چند ماہ لاہور جیل وغیرہ میں رکھا گیا۔ پھر ١٨٦٦ء کو جزائر انڈیمان (کالا پانی) بھیج دیئے گئے۔ بہت سکون اور صبر و تحمل سے سترہ سال کی قید کاٹی اور ١٨٨٣ء میں باعزت رہائی پا کر وہاں سے واپس انبالہ پہنچ گئے۔
٢
مولوی محمد جعفر کو باقی اوصاف حسنہ کے ساتھ مطالعہ کا بھی ذوق تھا۔ پڑھنے، پڑھانے اور تالیف و تصنیف سے بھی بہت شغف تھا۔ زمانہ اسیری میں بھی بھر پور علمی شغل رکھا۔ چنانچہ وہاں اور وطن واپسی کے بعد کی ان کی تحریری یادگاریں حسب ذیل ہیں۔
- ☆...... ترجمہ آئین پورٹ ........ (ایک دفعہ طبع ہوا تھا)
- ☆...... تاریخ پورٹ بلیر (تاریخی نام تواریخ عجیب ١٢٩٦ھ غالباً ایک دفعہ طبع ہوئی)
- ☆...... سوانح احمدی (تاریخی نام تواریخ عجیبہ) حضرت سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاء کے
حالات و سوانح (متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے)
- ☆...... کالا پانی (تاریخی نام تواریخ عجیب ١٣٠٢ھ) یہ کتاب بہت دلچسپ اور سبق آموز
ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں طبع ہوئی اور تاحال شائع ہورہی ہے۔
- ☆...... نصائح جعفری یہ بھی اپنے ہی حالات انہوں نے لکھے تھے اور انگریزی حکومت کے
افسروں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ تاہم اس کا خلاصہ ان کے مقدمہ انبالہ میں پیش ہوا اور ”ہمارے ہندوستانی مسلمان“ (ترجمہ کتاب ولیم، ولسن ہنٹر) میں آگیا ہے۔
(ص ١٣٨، ١٤٨ طبع ١٩٥٥ء قومی کتب خانہ لاہور)
- ☆...... برکات الاسلام۔ رسالہ تائید آسمانی کے اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب طبع ہوگئی
تھی۔ جس میں اسلام کی خوبیاں، اسلامی اخلاق، ترجمہ رسالہ الاربعین فی احوال المہدین اسلام کے روشن مستقبل اور مرزائے قادیانی کے جھوٹے دعاوی کی حقیقت کا بیان تھا۔ غالباً ١٨٩٨ء میں طبع ہوئی۔ لیکن ہماری اس تک رسائی نہیں ہوسکی۔
- ☆...... رسالہ تائید آسمانی بجواب رسالہ ”نشان آسمانی“ از مرزائے قادیانی ١٣٠٩ھ میں
تالیف اور ١٣١٠ھ، ١٨٩٢ء میں اختر ہند پریس ہال بازار امرتسر (مشرقی پنجاب) طبع ہوا۔ اور قصہ آخر الذکر تالیف کا یہ ہے کہ مرزائے قادیانی کو مولوی محمد جعفر کے ہاں سے ایک (عربی) رسالہ بنام الاربعین فی احوال المہدین ہاتھ آگیا۔ جس کے ساتھ نعمت اللہ ولی نامی کسی شاعر کی طرف منسوب ایک قصیدہ بھی تھا۔ جس میں پیشین گوئیوں کی بھرمار تھی۔
مرزا قادیانی نے جو مسیح دجال کا مظہر اتم ہونے کے ناطے سے عوام کی نفسیات سے کھیلنے میں خوب ماہر تھے۔ ان پیشین گوئیوں کے لئے ”نشان آسمانی“ کے طور پر رسالہ دھر گھسیٹا۔ مولوی محمد جعفر نے تائید آسمانی میں اسی رسالے کا سب تار و پود بکھیر دیا ہے۔ مولوی صاحب موصوف دیباچہ میں لکھتے ہیں۔
٢
”رسالہ نشان آسمانی جس میں مرزا قادیانی نے اپنے کو مسیح زمان اور مہدی دوران اور مجدد الوقت قرار دے کر ..... چند اشعار مؤلفہ شاہ نعمت اللہ ولی ہانسوی سے اپنے دعوؤں پر استدلال کر کے اس شہادت کو نشان آسمانی ٹھہرایا ہے۔ میری نظر سے بھی گزرا چونکہ اس رسالہ میں مرزا قادیانی نے بے حد خود ستائی کر کے دھوکہ بازی سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہا ہے۔ اس واسطے بنظر اظہار حق ایک مختصر جواب اس رسالہ کا میں بھی عرض کرتا ہوں ۔“
آٹھ نو برس ہوئے (شاید ١٨٨٣،٨٢ء) اربعین فی احوال المہدیین جس کے اخیر میں یہ اشعار بھی چھپے ہوئے ہیں۔ خود میرا بھیجا ہوا عرصہ دراز تک مرزا قادیانی کے ملاحظہ میں رہ چکا ہے اور مرزا قادیانی نے جس قدر اپنی پیشین گوئیاں تولد فرزند وغیرہ کو نوٹوں میں زیر اشعار مذکور اپنے رسالہ میں تحریر کیا ہے۔ وہ پیشین گوئیاں قریب تمام کے ان اشعار کے ملاحظہ کے بعد مرزا قادیانی نے تحریر کی ہیں۔
(ص٧)
مولوی صاحب مرحوم نے مرزا قادیانی کی نفسیات کا بحیثیت معاصر خوب جائزہ لے کر ان کو کریڈٹ دیا ہے کہ وہ: ”عمدہ فلاسفر، مسرف، فضول خرچ، خوش پوش، نفیس خوار، نہایت دور اندیش، باوجود پیری اور بے مائیگی باکرہ خواتین کے حریص، بڑے گہرے اور ڈونگے، عقلمند، خوش تقریر، خوش تحریر اور مسکین صورت اور طرح طرح کے حیلوں سے طالب زر ہیں۔“
(ص٢٦، ٢٧)
مرزائی حضرات اپنے ”مجدد و نبی“ کی اتباع میں ”شاہ نعمت اللہ ولی“ کی پیشین گوئیوں کا شگوفہ موقع بے موقع چھوڑتے رہتے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ”تائید آسمانی“ کو پھر سے شائع کر دیا جائے۔ تا کہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ بجائے ”اذا خرجت العقرب فالنعل حاضرة“ اس ”نشان دجال“ کو اسی وقت بے نشان کر دیا گیا تھا۔ جب اس نے سر نکالا تھا۔
رہا یہ کہ ”شاہ نعمت اللہ ولی“ کون تھے؟ تو اس پر ”ریسرچ“ کرنے کی کوشش تو بہت کی گئی۔ مگر کثرت تعبیر ہا سے اس خواب کو ہنوز پریشان ہی کہا جاسکتا ہے۔
مرزائی اہل قلم اربعین فی احوال المہدیین کو مولانا محمد اسماعیل شہیدؒ کی تالیف ظاہر کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک چھوٹا سا رسالہ ہے۔ جس میں جناب مہدی موعود کے متعلق چالیس
٤
روایات (رطب ویابس) جمع کی گئی ہیں اور آخر میں صحیح بخاری کی ہرقل ابوسفیان مکالمے والی حدیث پر اس کو ختم کیا ہے۔ یہ مولانا ولایت علی صادق پوریؒ کی تالیف ہے اور ”مجموعہ رسائل تسعہ مولانا ولایت علی وغیرہ“ مطبوعہ (فاروقی) دہلی مع ترجمہ شائع ہوا۔ جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ مولانا شہیدؒ کی طرف اس کے انتساب کا کہیں اشارہ تک نہیں ملتا۔ دعویٰ تو یہ مدت سے کیا جاتا ہے کہ ١٢٦٨ھ میں کلکتہ سے طبع ہوا تھا۔ لیکن باوجود مطالبے کے آج تک دکھایا نہیں گیا۔ جو عکس مرزائی شائع کرتے ہیں وہ بوجوہ مشکوک ہے۔
بہر حال یہ کتابچہ بقامت کہتر قیمت بہتر کا مصداق ہے اور گو سفر کی حالت میں قلم برداشتہ لکھا گیا (ص٣٢، ٣٣) مگر ہے معلومات نادرہ اور فوائد علمیہ پر مشتمل امید ہے اہل علم وفضل اس سے محظوظ اور عوام مستفید ہوں گے۔ وباللہ التوفيق وهو الهادى الى سواء الطريق!
خاکسار: محمد عطاء اللہ حنیف عفا اللہ عنہ ماجناہ مدیر الاعتصام لاہور، مورخہ ٢ محرم الحرام ١٤٠٠ھ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بعد حمد وصلوٰۃ خاکسار محمد جعفر تھانیسری بخدمت ناظرین با انصاف کے عرض کرتا ہے کہ رسالہ ”نشان آسمانی“ جس میں مرزا قادیانی نے اپنے کو مسیح زمان اور مہدی دوران اور مجدد الوقت قرار دے کر بیان کریم بخش جمال پوری اور چند اشعار مؤلفہ شاہ نعمت اللہ ولی ہانسوی سے اپنے تینوں دعوؤں پر استدلال کر کے اس شہادت کو نشان آسمانی ٹھہرایا ہے۔ میری نظر سے بھی گزرا۔ چونکہ اس رسالہ میں مرزا قادیانی نے بیجا اپنی خودستائی کر کے دھوکہ بازی سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہا ہے۔ اس واسطے بنظر اظہار حق ایک مختصر جواب اس رسالہ کا میں بھی عرض کرتا ہوں۔
پہلی شہادت کریم بخش
- اوّل...... رنگینی عبارت اظہار گواہ مذکورہ اور مبالغہ اظہار صداقت اور ہر طرح کی سخت قسموں کو
بوچھاڑ اور وعید شدید کی بھر مار عقلاً اور شرعاً اس بیان کو بے وقعت اور غیر معتبر کر رہی ہے۔
- دوم...... موافق قاعدہ شریعت اور قانون عدالت کے پہلے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ گلاب شاہ فقیر
جس کی پیشین گوئی کا کریم بخش مذکور راوی ہے۔ ایسی پیشین گوئیوں کی لیاقت رکھتا تھا یا نہیں۔
٥
سوم...... چند عادل اور معتبر لوگوں کی شہادت سے پہلے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ کریم بخش مذکورہ کو مثل دوسرے لوگوں کے دروغ گوئی سے اپنے پیرومرشد کے دعوے کو ثابت کرانے کا چسکا تو نہیں ہے۔
چہارم...... ان شکوک کے رفع ہونے کے بعد بھی شرعاً بیان واحد سے کوئی دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ دو گواہ عادل اس کی تصدیق نہ کریں۔ ”واستشهدوا شهيدين من رجالکم (البقرہ:٢٨٢)“ خود قرآن مجید میں وارد ہے۔
پنجم...... مولوی محمد حسن صاحب لدھیانوی جن کو اپنی راست گوئی اور اتقاء پر کریم بخش مذکور نے گواہ بنایا ہے اپنے کارڈ مورخہ ١٨؍جولائی ١٨٩٢ء میں تحریر کرتے ہیں کہ: ”میں کریم بخش کے اتقاء اور دیانت اور صداقت اور پیشین گوئی کی روایت میں ان میں سے کسی بات پر شہادت نہیں دے سکتا۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ آدمی نمازی ہے۔ سال گذشتہ کے ماہ رمضان میں پیشین گوئی کے الفاظ کم سنے گئے تھے۔ جب مرزا قادیانی کا قیام لدھیانہ میں ہوا تو پھر مضمون پیشین گوئی کا بڑھ گیا۔ اس کا سبب اللہ کو معلوم ہے۔“
ششم...... ایک طرف نواس بن سمعان صحابی حضرت ﷺ سے (صحیح مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال) میں روایت کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا اور وہ مینار سفید شرقی دمشق پر اتریں گے اور دوسری طرف کریم بخش جمالپوری کہہ رہا ہے کہ مسیح قادیان میں پیدا ہو کر لدھیانہ میں نزول فرماویں گے۔ پہلی پیشین گوئی کے فرمانے والے نبی معصوم ﷺ ہیں اور دوسری کے کہنے والے ایک مستور الحال دبنگ فقیر ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے لائق حواری ہی ایمان سے بتلاویں کہ ان دونوں متناقض روایتوں میں کون سی روایت قابل تسلیم ہے۔ اگر اس فرقہ کو شریعت محمدی اور قانون عدالت سے ذرا بھی مس ہے تو پھر کبھی ایسی لچر اور پوچ شہادت کو ایسے دعویٰ عظیم کے ثبوت میں پیش نہ کریں گے۔
دوسری شہادت از اشعار نعمت اللہ ولی
آٹھ نو برس ہوئے ”اربعین فی احوال المہدین“ میں جس کے اخیر میں یہ اشعار بھی چھپے ہوئے ہیں۔ خود میرا بھیجا ہوا عرصۂ دراز تک مرزا قادیانی کے ملاحظہ میں رہ چکا ہے اور مرزا قادیانی نے جس قدر اپنی پیشین گوئیوں تولد فرزند وغیرہ کو نوٹوں میں زیر اشعار مذکور اپنے
٦
رسالہ میں تحریر کیا ہے۔ وہ پیشین گوئیاں قریب تمام کے، ان اشعار کے ملاحظہ کے بعد مرزا قادیانی نے تحریر فرمائی ہیں۔ پس ایسی صورت میں فریق مخالف یہ کہنے کا استحقاق رکھتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اسی دن کے واسطے عمداً ان پیشین گوئیوں کو لکھ کر کے رکھا تھا تاکہ ان اشعار کے ساتھ وہ ان کو بیان کر کے اپنے مفید مطلب نتیجہ نکال سکیں۔
اب پہلے ہم ان اشعار کی اصلیت اور وقعت پر غور کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے ایام غدر ١٨٥٧ء کے دیکھے ہیں۔ ان کو یاد ہوگا کہ ایام غدر سے پہلے کسی مفسد نے ایک اور قصیدہ جس کا وزن یہ تھا۔
از طرف شاہ نعمت اللہ ولی تحریر کر کے اس میں شاہ بابر سے لے کر کل شاہان خاندان تیموریہ کو نام بنام لکھ کر پھر ذکر حکومت انگریزی اور اس کے بعد ١٢٦٠ھ میں زوال سلطنت انگلیشیہ اور آمد شاہ غزنی قرار دی تھی۔ مگر جب ١٢٦٠ھ ہجری خالی چلا گیا تو پھر اسی ساٹھ کے ستر اور پھر ستر کے اسی سال اس قصیدہ میں تحریف کئے گئے تھے۔ جو غالباً اصل بناء غدر ١٨٥٧ء اور جنگ ١٨٦٣ء کی تھی۔ لیکن بناوٹی بات سے سوائے مفسدہ پردازی کے اور کوئی کام نہیں نکلتا۔ وہ سارے زمانے موجودہ گزر گئے۔ مگر اب تک شاہ غزنی نہ آیا اور نہ آوے۔ میرے خیال میں یہ اشعار پر بہار بھی جن سے مرزا قادیانی نے اپنے سادہ لوح مریدوں کا دل خوش کرنے کو اپنی مہدیت اور مسیحیت اور مجددیت پر استدلال کیا ہے۔ غالباً اسی قسم کے ہوں گے۔ کیونکہ مؤلف اشعار تک حسب قاعدہ محدثین سلسلہ روایت ثابت نہیں ہوتا اور یہ اشعار ١٢٦٠ھ میں شائع ہوئے۔ اس سے آگے ان کا پتہ نہیں چلتا اور نہ اصل دیوان جس کا حوالہ جامع اربعین دیتا ہے۔ ہمارے ملاحظہ سے گزرے اور بفرض محال اگر مؤلف اشعار تک بھی سلسلہ روات قائم ہو جاوے تو بھی اس الہام سے کوئی یقینی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ کیونکہ ہماری شریعت میں الہام ایک ظنی چیز ہے اور مؤمن اور کافر دونوں ہی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ شاہ نعمت اللہ ولی کے اس قصیدہ میں جو اربعین کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ کل ٥٥ شعر ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے اپنے مفید مطلب صرف چوبیس شعر درج رسالہ (نشانِ آسمانی ص ١١ تا ١٧، خزائن ج ٤ ص ٣٧١ تا ٣٧٧) کے فرمائے ہیں۔ اس واسطے میں ان کل شعروں کو درج ذیل کر کے پھر مرزا قادیانی کے نوٹوں پر بحث کروں گا اور اشعار مذکور یہ ہیں۔
٧
قصیدہ نعمت اللہ ہانسوی جو تخمیناً سات سو برس ہوئے لکھا گیا تھا
- ١۔ قدرت کرد گار مے بینم حالت روز گار مے بینم
- ٢۔ از نجوم ایں سخن نمے گویم بلکہ از کرد گار مے بینم
- ٣۔ در خراسان و مصر شام و عراق فتنہ کار زار مے بینم
- ٤۔ ہمہ را حال میشود دیگر گشتہ در ہزار مے بینم
- ٥۔ قصہ بس غریب مے شنوم غصہ در دیار مے بینم
- ٦۔ غارت وقتل لشکر بسیار از یمین ویسار مے بینم
- ٧۔ بس فرومایگاں بے حاصل عالم وخوند کار مے بینم
- ٨۔ مذہب دیں ضعیف مے یابم مبدع افتخار مے بینم
- ٩۔ دوستاں عزیز ہر قومے گشتہ غمخوار و خوار مے بینم
- ١٠۔ منصب وعزل سبکئ عمال ہر یکے را دو بارے مے بینم
- ١١۔ ترک وتاجیک را بہم دیگر خصم و گیر دار مے بینم
- ١٢۔ مکر وتزویر وحیلہ در ہر جا از صغار وکبار مے بینم
- ١٣۔ بقعہء خیر سخت گشت خراب جائے جمع شرارے مے بینم
- ١٤۔ اندکے امن گر بود امروز در حد کوہسارے مے بینم
- ١٥۔ گرچہ مے بینم ایں ہمہ غم نیست شادئ غم گسارے مے بینم
- ١٦۔ بعد امسال چند سال دگر عالمے چوں نگارے مے بینم
- ١٧۔ پادشاہے تمام دانائی سرور باوقارے مے بینم
- ١٨۔ حکم امسال صورتے دگراست نہ چو بیمار زارے مے بینم
- ١٩۔ غین رے سال چوں گذشت زسال بوالعجب کاروبارے مے بینم
- ٢٠۔ گردد آئینہ ضمیر جہاں گرد و زنگ و غبارے مے بینم
٨
- ٢١۔ ظلمت
- ٢٢۔ جنگ و
- ٢٣۔ بندہ را
- ٢٤۔ ہر کہ ا
- ٢٥۔ سکہ نو
- ٢٦۔ ہریک از
- ٢٧۔ ماہ رار
- ٢٨۔ تاجر از
- ٢٩۔ حال ہند
- ٣٠۔ بعض اش
- ٣١۔ ہمدلی
- ٣٢۔ غم مخور زا
- ٣٣۔ چوں زمستا
- ٣٤۔ دور اوچو
- ٣٥۔ بندگانِ
- ٣٦۔ بادشاہِ
- ٣٧۔ صورت
- ٣٨۔ ید بیضا
- ٣٩۔ گلشن شر
- ٤٠۔ تاچہل سا
- ٤١۔ عاصیاں
- ٤٢۔ غازی دو
- ٤٣۔ زینت شر
- ٤٤۔ گنج کسر
٢٢۔ جنگ و آشوب فتنہ وبیداد در میان وکنارے بینم
٢٣۔ بندہ را خواجہ وش ہمی یا بم خواجہ را بندہ وارے بینم
٢٤۔ ہر کہ او بار بار بود امسال خاطرش زیر بارے بینم
٢٥۔ سکہ نو زنند بر رخ زر در ہمش کم عیارے بینم
٢٦۔ ہر یک از حاکمان ہفت اقلیم دیگرے را دو چارے بینم
٢٧۔ ماہ را روسیاہ مے نگرم مہر را دل فگارے بینم
٢٨۔ تاجر از دور دست بے ہمراہ ماندہ در رہگزارے بینم
٢٩۔ حال ہند و خراب مے یا بم جور ترک تتارے بینم
٣٠۔ بعض اشجار بوستان جہاں بے بہار وثمارے بینم
٣١۔ ہمدلی وقناعت و کنجے حالیا اختیارے بینم
٣٢۔ غم مخور زانکہ من دریں تشویش خرمی وصل یارے بینم
٣٣۔ چوں زمستان دے بہمن بگذشت شمس خوش بہارے بینم
٣٤۔ دور او چوں شود تمام بکام پسرش یاد گارے بینم
٣٥۔ بندگان جناب حضرت او سر بسر تاجدارے بینم
٣٦۔ بادشاہ تمام ہفت اقلیم شاہ عالی تبارے بینم
٣٧۔ صورت وسیرتش چو پیغمبر علم وحلمش شعارے بینم
٣٨۔ ید بیضا کہ با او تابندہ باز با ذوالفقارے بینم
٣٩۔ گلشن شرع را ہمی بویم گل دیں را بہارے بینم
٤٠۔ تا چہل سال اے برادر من دور آں شہسوارے بینم
٤١۔ عاصیاں از امام معصوم خجل و شرمسارے بینم
٤٢۔ غازی دوستدار دشمن کش ہمدم ویار غارے بینم
٤٣۔ زینت شرع ٭ رونق اسلام محکم و استوارے بینم
٤٤۔ گنج کسریٰ ونقد اسکندر ہمہ بر روئے کارے بینم
٩
٤٦۔ ا ح م د دال مے خوانم نام آں نامدارے بینم
٤٧۔ دین و دنیا ازو شود معمور خلق زو بختیارے بینم
٤٨۔ مہدیٔ وقت وعیسئے دوران ہر دو را شہسوارے بینم
٤٩۔ ایں جہاں را چو مصر مے نگرم عدل او را حصارے بینم
٥٠۔ ہفت باشد وزیر سلطانم ہمہ را کامگارے بینم
٥١۔ برکف دشت ساقی وحدت بادۂ خوش گوارے بینم
٥٢۔ تیغ آہن ولان زنگ زدہ کند و بے اعتبارے بینم
٥٣۔ گرگ با میش شیر با آہو در چرا با قرارے بینم
٥٤۔ ترک عیار ست مے نگرم خصم او در خمارے بینم
٥٥۔ نعمت اللہ نشست بر کنجے از ہمہ برکنارے بینم
ان شعروں میں غین رے سال والے انیسویں شعر سے کھلم کھلا یہ ثابت ہوتا ہے کہ شروع تیرہویں صدی سے (جس کے پہلے دن یعنی یکم محرم ١٢٠١ھ کو سید احمد صاحب کی پیدائش ہوئی) عجیب وغریب واقعات ظاہر ہوں گے اور جیسے کہ سترھویں شعر سے ثابت ہوتا ہے۔ بادشاہ دانا اور سرور یعنی سید باوقار کا دور شروع ہوگا۔ مگر چونتیسویں شعر ”چوں زمستان بے چمن گذشت“ سے چودھویں صدی کے سر پر مرزا قادیانی اپنے ظہور کا زمانہ نکالتے ہیں۔ یہ سراسر ان کی ہٹ دھرمی اور تحکم ہے۔ اس استنباط کو صرف مرزا قادیانی کے سادہ لوح مرید قبول کر سکتے ہیں۔ کیونکہ نہ حروف تہجی سے چودھویں صدی نکلتی ہے اور نہ معنوں اور مطلب سے یہ بات پائی جاتی ہے اور جو چالیسویں شعر تا چہل سال اے برادر من کے نوٹ میں مرزا قادیانی اپنی عمر مبارک کے اور تیس برس باقی بتلا کر اپنے کو مصداق اس شعر کا ٹھہراتے ہیں۔ سو اس دعوے کی صداقت اس وقت ہو سکتی ہے کہ جب اور تیس برس تک مرزا قادیانی اس دنیا میں زندہ رہیں اور اگر خدانخواستہ جیسے کہ بظاہر حال ان کے ضعف اور کثرت امراض سے پایا جاتا ہے۔ قبل از تیس برس آخرت کو سدھارے تو پھر وہی ظریف کا قول صادق ہوگا کہ تو ایسا دعویٰ مت کر کہ جس کی شہادت تیس برس کے بعد پیش کر سکے اور جو پینتیسویں شعر صورت وسیرتش چو پیغمبر کے نوٹ میں مرزا قادیانی اپنے ظاہر و باطن کو نبی
١٠
کی مانند اور شان نبوت کو اپنے اندر نمایاں بتلا کر اپنے کو اس شعر کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ سو اس لغو تطبیق کو صرف آپ کے سادہ لوح مرید قبول کر سکتے ہیں۔ مگر جنہوں نے حلیہ مبارک رسول کریم ﷺ کا کتابوں میں پڑھا ہے وہ کبھی مرزا قادیانی کے اس نوٹ کو تسلیم نہ کریں گے۔ مرزا قادیانی کا حلیہ مبارک اور کبوتر کی گردن کیسی سیاہ رنگی ہوئی داڑھی بلکہ از سر تا پا مرزا قادیانی کا لباس اور زرین کلا۔ کسی طرح پر بھی حلیہ اور لباس نبوی سے مشابہ نہیں ہے۔ میرے خیال میں مرزا قادیانی کے پاس سوائے اس کے اور کوئی جواب نہ ہوگا کہ یہاں صرف روحانی مشابہت مراد ہے۔ نہ ظاہری، رہا مرزا قادیانی کا علم اور حلم اور سیرت! سو مرزا قادیانی کی فلسفیانہ اور حکیمانہ پیچدار اور لچھے دار عبارت اور آپ کا تبحر علم فلسفہ اور منطق اور کلام اور مناظرہ وغیرہ میں اور گالیاں اور سخت کلامی جو مرزا قادیانی کی اکثر تحریرات میں موجود ہے اور مرزا قادیانی کا وہ غصہ اور گرم مزاجی کہ جس سے ایک دم میں ایک لائق اور معزز بیٹا عاق اور ایک محترمہ اور بے قصور بیوی کو طلاق تک کی نوبت پہنچ گئی اور طرح طرح کے حیلوں سے آپ کی ہر تحریر اور تصنیف میں روپیہ کی طلب اور ”ھل من مزید“ کا نقشہ اور ترک جمعہ اور جماعت اور خوش معاملگی یا وعدہ خلافی اشاعت براہین احمدیہ اور سراج منیر میں اور بہت سی آپ کی دوسری عملی کاروائیاں آپ کو سیرت محمدی سے کوسوں دور پھینک رہی ہیں اور چھیالیسویں شعر
میں احمد نام ہے جو سید احمد صاحب کے نام نامی سے مطابق ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا اسم مبارک غلام احمد ہے نہ کہ احمد اور غلام آپ کے اسم کا ایک جزو ہے۔ جیسے عبداللہ میں عبد ہے۔ پیشین گوئی کرنے والے پر یہ کیا محال تھا کہ غلام احمد آپ کا پورا نام پیشین گوئی میں بیان کرتا۔ جیسے کہ گلاب شاہ کی وضعی پیشین گوئی میں مرزا قادیانی کا نام غلام احمد بیان کیا گیا ہے اور جو سینتالیسویں شعر
کو مرزا قادیانی اپنے طرف نسبت کر کے ترقی دین کو اپنے ذریعہ سے ہونا بیان کرتے ہیں اور اپنے مریدوں کو وعدہ اقبال اور فلاح دارین کا سناتے ہیں۔ اس میں بھی سراسر ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ کیونکہ بظاہر حال سید احمد صاحب سے دین و دنیا معمور ہوئی ہے۔ نہ کہ مرزا قادیانی
١١
سے، اس کی تصدیق کے واسطے سوانح احمدی کو ملاحظہ فرمائیے۔ جہاں لکھا ہے کہ سید صاحب سے چالیس لاکھ مسلمانوں نے بیعت کر کے اکثر نے ان میں سے مرتبہ ولایت کا حاصل کر لیا اور تیس ہزار نصرانی اور ہندو سید صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ جہاں تک مجھ کو علم ہے میں بیان کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے جذبۂ مسیحی سے آج تک ایک کافر مسلمان نہیں ہوا۔ گو ہزاروں روپیہ بقول مرزا قادیانی اجرائے اشتہارات اور اشاعت کتب میں ضائع ہوا، اور نہ آج تک کسی مشرک اور بدعتی کو مرزا قادیانی کے ہاتھ پر توبہ نصیب ہوئی۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی سے خود مرزا قادیانی کے صاحب خانہ اور اولاد اور بھائیوں تک کو بھی ہدایت نہیں ہوئی۔ بلکہ بعض خاص خدمت گار مرزا قادیانی کے فرض نماز تک بھی نہیں پڑھتے۔ سید احمد صاحب کے دروازہ کے ادنیٰ فیض یافتہ اس ملک میں مولوی شیخ عبید اللہ صاحب نو مسلم اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ہوئے۔ جن کے ہاتھ سے ہزاروں خلقت کو ہدایت ہوگئی اور صدہا ہندو مسلمان ہوگئے۔ ہزاروں خلقت نے ان کے وعظ اور تذکیر اور صحبت سے اپنے آبائی طریق شرک اور بدعت اور فسق و فجور کو چھوڑ دیا اور مرزا قادیانی کے ہاتھ سے باوجود ایسے عظیم دعوے کے ان لوگوں کے ہزارویں حصہ بھی ہدایت نہیں ہوئی۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”جذبات الٰہی سے ہدایت پا کر اور حق اور حقانیت کی طرف ترقی کر کے نفس اور نفسانی امور کو میں نے چھوڑ دیا ہے اور بکلی ظلمت نفس اور جذبات نفسانیہ سے میں علیحدہ ہو گیا ہوں اور میرا جسم جو تخت گاہ نفس کا تھا اور رخنہ جسمانیہ سے پاک ہو کر ایک مصفا قطرہ کی طرح ہو گیا ہے اور خداوند تعالیٰ کی نظر میں فقط ایک مجرد روح میں باقی رہ گیا ہوں۔ جو گدازش کے بعد باقی رہ گئی ہے اور اطاعت کاملہ مولیٰ میں میں نے ملائک سے مشابہت پیدا کر کے اب عنداللہ میرا حق ہو گیا ہے کہ مجھ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ کہا جائے اور اسی سبب سے میرا نام آسمان میں عیسیٰ رکھا گیا ہے اور خداوند تعالیٰ کے خاص ہاتھ سے ایک روحانی پیدائش مجھ کو مل گئی ہے۔ جو جسمانی باپ سے مجھ کو نہیں ملی تھی۔“
(نشان آسمانی ص ٨، خزائن ج ٤ ص ٣٦٨ ملخص)
اب تعجب ہے کہ ایسے ملائک صفت مجرد روح موسوم بہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ اور آسمانی عیسیٰ سے اپنے اہل بیت تک کو بھی ہدایت نہ ہوئی اور رخنہ جسمانیہ سے پاک ہو کر اور مجرد روح اور مصفا قطرہ باقی رہ کر پھر باکرہ خواتین کی حرص اب تک باقی ہے؟ اور جیسے مرزا قادیانی جب اپنی خود ستائی کرتے ہیں۔ ان باتوں میں سے کسی بات کا دعویٰ سید صاحب یا آپ کے خلیفوں کو نہ تھا۔ مگر
١٢
با آں انکساری ان کے ہاتھ سے ضلع کے ضلع اور ملک کے ملک موحد متبع سنت اور متقی پرہیزگار ہوگئے۔ سید صاحب جب بڑی بڑی مجلسوں میں صرف یہ کلمہ فرمایا کرتے تھے کہ بھائیو! خدا سے ڈرو۔ تو سامعین کے روتے روتے چھاتی (پھٹ) جاتی تھی اور تمامی امراض قلبی اس کلمہ سے دور ہو جاتے تھے تو اس سے خوب ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا حال مرزا قادیانی کے قال سے مطابق نہیں ہے۔ یہ مضامین جو مرزا قادیانی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔ ضرور تصانیف ابن عربی یا امام غزالی یا کسی دوسرے اولیاء اللہ کی کتاب سے سرقہ کر کے لکھے جاتے ہیں۔
ایسے اندھے مریدو! میرے اس نوٹ کو غور سے پڑھ کر اس میں فکر کرو۔ ورنہ سخت پچھتاؤ گے اور پھر کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ مسیح ابن مریم ٹاٹ پہن کر جنگلوں میں رہا کرتے تھے اور ساری عمر میں نہ شادی کی اور نہ گھر بنایا۔ مسیح ابن مریم علیہ السلام جنگلوں کے پھل پھول یا روکھی سوکھی روٹی کھا کر یاد خدا میں مست رہا کرتے تھے۔ اب یہاں مثیل مسیح کے امیرانہ پوشاک زیب تن رہتی ہے اور باوجود یکہ گھر میں دو بیویاں موجود ہیں۔ پھر ایک تیسری کی سخت طلب ہے۔ جس کے نہ ملنے پر بے گناہ اور محترمہ بیوی کو طلاق اور معزز فرزند کو عاق ہونے کی نوبت پہنچی اور مثیل مسیح ایک ایسے پر تکلف مکان میں رہتا ہے۔ جیسے امراء کی شان کے لائق ہے اور بجائے پھل پھول اور روکھی پھیکی روٹی کے، مثیل کی خوراک نہایت عمدہ اور لذیذ کھانے ہیں جس پر ہزارہا روپیہ مریدوں کا خرچ ہوتا ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو کسی شخص نے اچھے استاد کہہ دیا تھا۔ اس پر حضرت مسیح علیہ السلام بہت خفا ہوئے اور فرمایا کہ سوائے خدا کے کوئی بھی اچھا نہیں ہے۔ یہاں مثیل مسیح کی خود ستائی کی یہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ درجہ الوہیت سمیت کوئی درجہ خود ستائی کا باقی ہی نہیں رہا۔ جب کوئی ظاہری نشان ہدایت اور ترقی اسلام کا اس مثیل میں پایا نہیں جاتا تو اس وقت یہ حیلہ کر دیتا ہے کہ روحی طور پر مجھ سے دین و دنیا کی ترقی ہوگی۔ یہ روحی طور کا حیلہ بھی مرزا قادیانی کے واسطے ایک بڑی ٹٹی ہے۔
اے ناظرین با انصاف! مرزا قادیانی ایک بڑا مکار اور عیار اور روبہ بازی سے جھوٹ کو سچ کر کے دکھلا دینے والا ہے۔ مرزا قادیانی کی فلسفیانہ تحریرات اور مذہبی دام کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو بزرگان دین سے پہلے سابقہ رہا ہو اور اس کے اندر بھی ایک شمع نورانی شناخت حق ناحق کا موجود ہو۔ ورنہ اس کے مکر اور جال دجال، کی خرق عادات سے کم نہیں ہیں۔ وہ رات دن صدہا
١٣
تصانیف بزرگان دین کی اپنے سامنے رکھ کر ان میں سے بڑے بڑے مضامین منتخب کر کے بطور الہام اور کوئی بطور پند نصیحت وغیرہ وغیرہ شائع کر کے اپنے مریدوں کو خوش کرتا رہتا ہے۔ غرض سینتالیسویں شعر کا جس پر یہ بحث لکھی گئی ہے۔ مرزا قادیانی ہرگز مستحق نہیں ہے۔
پھر چھتیسویں شعر میں بادشاہ تمام ہفت اقلیم شاہ عالی تبار کی نسبت بھی مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ میں خلیفۃ اللہ اور بادشاہ ہوں۔ مجھ کو ملک عظیم دیا جائے گا اور مجھ پر زمین کے خزانے کھولے جائیں گے اور اس بادشاہی سے مراد دنیا کی ظاہری بادشاہی نہیں ہے۔ بلکہ روحانی بادشاہی ہے۔ اب ہم اس روحانی ٹٹی سے سخت حیران ہیں۔ احادیث نبوی اور یہ شعر بآواز دہل مہدی علیہ السلام کی ظاہری سلطنت اور ہفت اقلیم کی بادشاہی بیان کر کے اس کو ایک سید عالی خاندان بتا رہی ہیں اور یہاں ایک مغل زادہ اس بشارت کو اپنی طرف نسبت کر کے صرف اپنے شیطانی اوہام کو ثبوت دعویٰ میں بشارت کرتا ہے۔ حالانکہ مغلوں کی نسبت رسول خداﷺ خبر دیتے ہیں کہ اے مسلمانو! تم سے ترک یعنی مغل، چھوٹی آنکھوں والے، چپٹی ناک والے جنگ کریں گے۔ تواریخ سے پایا جاتا ہے کہ قوم مغل بکری، بھیڑ پالنے والے مثل ہمارے ملک کے گڈریوں کے تھے اور چنگڑوں اور سانسی اور نٹوں کی طرح سرکیوں اور خیموں میں رہا کرتے تھے۔ رہزنی اور لوٹ مار ان کا پیشہ تھا۔ چنگیز خان اور ہلاکو اور تیمور لنگ یہ تینوں مشہور سفاک اسی قوم سے ہوئے ہیں۔ ان مغلوں نے خلفاء عباسیہ کے وقت میں مسلمانوں پر بہت سے حملے کر کے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ بیدریغ کر دیا ہے۔ تیمور کے تھوڑا اوپر یہ قوم مشرف باسلام ہوئی اور بہ برکت اسلام اس وقت سے ان میں تہذیب اور آدمیت داخل ہو کر شریفوں میں شمار ہونے لگے۔ پھر تعجب ہے کہ بجائے اولاد فاطمہؓ کے اور قریشی الاصل کے، ایک مغل کو نبوت اور مسیحیت اور مجددیت اور مہدیت کل عہدے عطاء ہو جاویں۔
اور یہ جو جابجا مرزا قادیانی اپنے کو فارسی الاصل ٹھہرا کر اس حدیث ثریا والی کو جو باتفاق جملہ علماء متقدمین امام ابو حنیفہؒ کی شان میں وارد ہوئے۔ اپنے مصداق ٹھہراتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو علم تواریخ اور جغرافیہ میں پورا دخل نہیں ہے۔ فارسی الاصل تو پارسی قوم ہے۔ نہ کہ مغل۔ نقشہ ایشیاء کا ہاتھ میں اٹھا کر دیکھو، مسکن مغل جس کا صدر مقام سمرقند ہے۔ طہران دارالسلطنت فارس سے ایک ہزار میل کے فاصلہ پر ہے۔ تو پھر کیوں کر مرزا قادیانی فارسی الاصل ہوئے؟
١٤
اور جو انتالیسویں شعر:
ہر دو را شاہسوارے بینم
کی نسبت مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ وہ شخص واحد مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہوگا اور وہ میں ہوں اور سوائے میرے تیرہ سو برس سے کسی دوسرے آدمی نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اب ناظرین با انصاف! غور کریں کہ مہدی وقت اور عیسیٰ دوراں کے بیچ میں جو ”واو عطف“ کا واقع ہے اور مصرعہ ثانی میں لفظ ”ہر دو“ کا کیا صاف نہیں بتلا رہے ہیں کہ وہ دو شخص ہوں گے۔ ان دونوں لفظوں کی تقدیم تاخیر صاف خبر دیتی ہے کہ مہدی پہلے آوے گا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور یہ دونوں بزرگ بڑے عالی رتبہ ہوں گے۔ تواریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ خلفائے عباسیہ کے عہد میں بہت آدمی مسیح ہونے کے دعویدار ہو چکے ہیں۔ بلکہ اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے ہزاروں خرق عادات بلکہ مردوں کو زندہ کر کے دکھلا دیا تھا۔ مگر آخر گرفتار ہو کر اپنی سزا کو پہنچے۔ عمل داری اسلام میں مشکل سے مرزا قادیانی یہ طوفان برپا کر سکتے۔ مرزا قادیانی شکر کریں کہ اس وقت ایسے آزاد اور لامذہب گورنمنٹ کی عمل داری ہے کہ اگر وہ اپنے کو خداوند تعالیٰ یا اس سے بھی بڑا بتا دیں تو یہی گورنمنٹ ان کو کچھ نہ کہے گی۔ اب میں اپنے ناظرین باانصاف کو اس قصیدہ کا وہ شعر بھی سناتا ہوں۔ جس میں دراصل مرزا قادیانی کے ظہور پر فتور کی خبر دی گئی ہے اور وہ یہ ہے۔
خصم او در خمارے بینم
جس کے کھلے کھلے یہ معنی ہیں کہ بعد ظہور مہدی اور وصل یار کے مرزا قادیانی کی عیاری سست ہو کر اس کا جوش وخروش مٹ جاوے گا۔ اس قصیدے میں بعد ذکر بادشاہ دانا اور سید وقار اور تسلط سرکار انگریزی کے انتیسویں شعر میں ہندوؤں یعنی سکھوں کی سلطنت کا زوال اور ایک ترک یعنی مغل کے جور کا بیان کر کے پھر قحط سالیوں کا ذکر اور وصل یار کی خوشی سنائی ہے۔ جس سے معلوم
١٥
ہوتا ہے کہ ان ایام قحط سالی کے قبل سے مرزا قادیانی کا فتور شروع ہو جاوے گا۔ مگر بعد خرمی وصل یار یعنی ظہور مہدی کے پھر اخیر قصیدہ میں جا کر بیان کیا ہے کہ اس مرزا قادیانی کی عیاری آخر کو سست ہو کر اس کے سارے جوش وخروش مٹ جاویں گے۔ میں نے جواب الزامیہ اور تشریح اشعار صرف مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کی تردید میں تحریر کی ہے۔ ورنہ دراصل میرے نزدیک ان اشعار کی کچھ اصل نہیں ہے۔ ”واللہ اعلم بالصواب“
مرزا قادیانی واسطے اظہار اس امر کے کہ پیغمبر خدا ﷺ نے خبر دی ہے کہ مہدی علیہ السلام پر مولوی کفر کا فتویٰ دیویں گے۔ مولوی نواب صدیق حسن صاحب کی تحریر سے استدلال کر کے اپنے فتوے کفر سے اپنی مہدیت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر چونکہ مولانا مرحوم نے اس مقام پر یہ بھی لکھا ہے کہ مہدی علیہ السلام کی تلوار سے ڈر کر بظاہر علماء ان کے مطیع ہو جاویں گے اور مرزا قادیانی اس شرم کے دور کرنے کے واسطے لکھتے ہیں کہ مولوی صدیق حسن صاحب نے تلوار کے معنے الٹے سمجھے ہیں۔ کیونکہ مہدی کے پاس تلوار کہاں سے آئی؟ وہ تو ایک غریب، ڈرپوک، نازک مزاج اور کمزور اور بیمار ہوگا۔ اس مہدی کی بادشاہی اس دنیا کی بادشاہی نہیں ہے۔ اس کی تو روحی بادشاہی ہوگی۔ اس چالاکی اور حیلہ بازی کو وہی سمجھ سکتا ہے۔ جس کو دل کی آنکھ ہو اور وہ ایلیا اور یوحنا کا قصہ جس کو بمقابلہ احادیث نبوی مرزا قادیانی انجیل سے نقل کیا کرتے ہیں۔ نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔ پھر بمقابلہ مسلمانوں کے وہ قصہ کس واسطے بار بار ذکر کیا جاتا ہے؟ اگر انجیل سے وہ قصہ لیا جاتا ہے تو اسی انجیل میں بڑی صراحت سے یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح آسمان پر ہے اور بڑی شان وشوکت سے نزول فرما کر یہاں کی بادشاہت کرے گا۔
حدیثوں سے ثابت ہے کہ مہدی اولاد فاطمہؓ سے ہوگا اور یہ بھی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ وہ بارہ خلیفے جن میں چند خلیفے ملقب بہ مہدی ہوں گے۔ قوم قریش سے ہوں گے۔ اب جو مرزا قادیانی مہدی ہونے کے دعویدار ہو بیٹھے تو نہ معلوم ان احادیث صحیحہ کی مرزا قادیانی نے کیا تاویل یا استعارہ کیا ہے؟ یا اپنے کو روحی سید یا روحی قریشی قرار دیا ہے۔ اگر ناظرین با انصاف! ان چالیس حدیثوں کو جو ”اربعین فی احوال المہدین“ میں چھپی ہیں۔ ملاحظہ فرماویں یا
١٦
میرے رسالہ ”برکات اسلام کا باب فیوچر آف اسلام“ غور سے دیکھیں تو مرزا قادیانی کے کل دعاوی باطل نظر آویں گے۔
میں نے چار برس پہلے سے مرزا قادیانی کے کل دعووں کی حقیقت کو اپنے رسالہ ”برکات اسلام“ میں بیان کر دیا ہے۔ وہاں دیکھنا چاہئے۔ اب بظاہر کوئی منصب اور مرتبہ اولاد آدم کا باقی نہیں رہا۔ جس کے دعویدار مرزا قادیانی نہ ہوئے ہوں۔ نبی، مسیح، مہدی، مجددالوقت، مرزا قادیانی ہوچکے اور ان کے حواریوں نے ان چاروں منصبوں کی تصدیق کرکے مرتبہ صدیقیت حاصل کرلیا ہے۔ اب صرف درجہ الوہیت باقی ہے۔ جس کی بنیاد مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ (توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤) میں اس طرح پر قائم کردی ہے کہ: ”مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت (یعنی ابن خدا) کے لفظ سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں ۔“ یعنی میں خدا کا بیٹا ہوں۔ امید ہے کہ اب چند روز بعد کھلم کھلا الوہیت کا دعویٰ ہوکر مقبول صدیقوں سے اس کی تصدیق بھی ہوجائے گی۔
مجھ کو مرزا قادیانی کی اور چند باتوں پر تعجب آتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مرزا قادیانی مثیل مسیح اور مثیل سید احمد ہونے کے تو دعویدار ہیں۔ مگر جیسے حضرت مسیح، حضرت یحییٰ علیہ السلام سے اور سید صاحب، مولوی عبدالعزیز صاحب سے بیعت ہوکر مرید ہوئے تھے۔ مرزا قادیانی آج تک کسی کے مرید نہیں ہوئے۔ اس وقت تک بے پیر ہیں۔ پس ایسے بے پیر اور بے مرشدے سے سلسلہ ہدایت کیسے قائم ہوسکے؟ اور بوجہ نہ ہونے کسی پیر طریقت اور استاد راہ شریعت کے مرزا قادیانی کو لطائف اور مشاہدہ مراقبہ ومکاشفہ اور طریق توجہ اور دیگر نکات راہ نبوت اور راہ ولایت سے بے خبری ہے۔ اسی سبب سے سلسلہ ہدایت قائم نہیں ہوتا اور مسترشدین پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ پڑے گا اور یہ مقام افسوس ہے کہ مرزا قادیانی تحصیل منطق اور فلسفہ میں تو بٹالہ کے شیعوں کے شاگرد ہوئے اور اس طریقہ رشد اور ہدایت میں آج تک بے پیر رہے۔ اس وقت بھی ہم دوستانہ طور پر مرزا قادیانی کو رائے دیتے ہیں کہ سید صاحب سے فیض یافتہ لوگ اس وقت بھی ہندوستان میں موجود ہیں۔ اگر اپنا دارین کا بھلا چاہیں تو ان کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوکر اور راہ تعلیم اور ہدایت کی سیکھ کر پھر خلقت کو فیض پہنچاویں۔ خودستائی اور تکبر شیطان کا کام ہے اس سے باز آویں۔
١٧
میں نے سید صاحب کے گروہ کے بہت بزرگوں کو دیکھا ہے اور برسوں تک ان کی صحبت میں رہنے کا مجھ کو اتفاق ہوا ہے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر راست راست لکھتا ہوں کہ ان بزرگوں کے سامنے بیٹھنے سے جو دل پر اثر ہو کر اس دنیا ناپائیدار کی حقیقت کھلتی تھی وہ اس وقت تک میرے دل پر چھائی ہوئی ہے اور ان بزرگوں کی نظر ہدایت اثر اور ان کے کلام ہدایت نشان سے جو ہزاروں بدکاروں اور فاسقوں اور ملحدوں اور کافروں کی کایا پلٹ ہوئی تھی۔ اس کی کیفیت اس وقت مجھ کو یاد ہے۔ جب مرزا قادیانی ١٨٨٤ء کے قریب انبالہ میں رونق افروز ہوئے تھے تو میں بارہا اسی جانچ کے واسطے ان کی مجلس میں جا کر عرصہ دراز تک ان کے سامنے یا قریب بیٹھا رہا اور یہ بھی حلف سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو ان اوصاف اور کمالات سے جو میں نے اپنے بزرگوں میں دیکھے تھے بالکل خالی پایا۔ مرزا قادیانی کو اس کوچہ سے ذرہ بھی مس نہیں ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں ہے کہ مرزا قادیانی ایک فلاسفر، خوش تقریر، خوش تحریر اور نہایت دور اندیش اور بڑے ڈھونگئے عقلمند اور مسکین صورت اور فضول خرچ اور مسرف خوش پوش اور نفیس خوار اور بڑے متواضع اور باوجود پیری اور بے مائیگی باکرہ خواتین کے حریص، طرح بہ طرح کے حیلوں سے ہمیشہ طالب زر ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جو فتوی تکفیر مرزا قادیانی پر لکھا گیا ہے۔ میں نے اس کو بہت غور اور تأمل سے دیکھا ہے۔ وہ تکفیر مرزا قادیانی پر نہیں ہے۔ بلکہ ان مضامین کفریہ کے قائل پر ہے جو سائل نے مفتیوں کے سامنے پیش کئے ہیں۔ مفتی کا کام تحقیقات اور چھان بین کا نہیں ہے۔ وہ منصب قاضی کا ہے۔ مفتی کا منصب یہ ہے کہ جو سوال اس کے سامنے پیش ہووے مطابق اس سوال کے قرآن وحدیث اور فقہ سے اس کا جواب لکھ دیوے۔ اب اس فتوے یا کسی دوسرے فتوے پر صرف یہ اعتراض قائم ہو سکتا ہے کہ سوال جو مفتی صاحب کے سامنے پیش ہوا فلاں فلاں عبارت اور مضمون کے گھٹانے یا بڑھانے کے سبب سے غلط ہے یا جواب جو مفتی نے دیا ہے وہ مطابق سوال سائل کے نہیں تھا۔ یا جواب منشاء قرآن وحدیث اور فقہ کے برخلاف ہے۔ ان کے سوا کوئی اعتراض کسی مفتی یا فتوے پر قائم نہیں ہو سکتا۔ جو مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کے نادان مرید مثل عورتوں کے روتے ہیں کہ جس مولوی نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتوی دیا وہ خود کافر ہو گیا اور
١٨
حضرت ﷺ نے پیشین گوئی کی ہے کہ مہدی کو علماء کافر کہیں گے۔ مرزا قادیانی مہدی ہیں۔ پس اس فتویٰ کفر سے وہ پیشین گوئی ثابت ہو گئی اور کوئی بزرگ پیشین مولویوں کے فتوے کفر سے نہیں بچا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اعتراض ایسے بیہودہ اور لایعنی ہیں کہ جس سے ان کی کم فہمی اور جہالت ثابت ہوتی ہے۔ اگر حسب تشریح مذکورہ بالا اس فتوے میں کچھ نقص ہے تو اس کو کیوں نہیں پیش کرتے۔ اگر دراصل نقص ہوگا تو ایسے مفتیوں کو سخت مشکل ہو گی اور ان کو اپنا فتویٰ واپس لینا ہو گا۔
تیسرے! مرزا قادیانی کے ابتدائی حالات سے لے کر جو اس وقت تک غور کر کے دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بڑے گہرے عقلمند ہیں اور تحصیل زر کے ایسے عمدہ حیلے آپ کو معلوم ہیں جو کسی بڑے عقلمند سے بھی نہ بن آئیں۔
جب مرزا قادیانی کی زمینداری وغیرہ پر ان کے لواحق دخیل ہو گئے اور ان کی معاش تنگ ہو گئی تو انہوں نے اوّل براہین احمدیہ کے لکھنے کا ارادہ ظاہر کر کے جلی قلم سے دس ہزار روپیہ انعام کا ایک اشتہار جاری کیا اور اس سے مسلمانوں کے دلوں پر اپنی ہمدردی اور دل سوزی اور جان ثاری ثابت کر کے براہین احمدیہ کے مضامین کی خوبی اور اس کے حجم یعنی تین چار سو جزو کی تعداد بتلا کر صرف پانچ روپیہ پیشگی اس کی قیمت مقرر فرمائی اور اکثر رؤسا اور امراء ہند کے پاس اس کے نسخے بھیج کر نقدی کی مدد ان سے مانگی اور جہاں تک ممکن ہوا بذریعہ اخباروں کے تمام ہندوستان میں اس کا ولولہ ڈلوا کر معاونین اور خریداروں سے خوب روپیہ وصول فرمایا اور جب دیکھا کہ کتاب مذکور کی خوب شہرت ہو گئی تو مثل انگریزی تاجروں کے بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ اس کی قیمت مقرر کر دی اور جب اور بھی اس کی خریداری زیادہ ہو گئی تو بجائے دس روپیہ کے پچیس روپیہ اس کی قیمت بڑھا دی۔ بلکہ بہت لوگوں سے ایک ایک سو جزو کی قیمت اس وعدہ پر کہ چھاپ کر دی جائے گی اور ساری کتاب لکھی ہوئی تیار ہے۔ جب ہزار ہا روپیہ ان حیلوں اور چالوں سے وصول ہو گیا تو بعد چھاپنے چند جزوں کے کل خریداروں کو سوکھا جواب دے دیا گیا اور پیچھے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سوائے ان جزوں کے جو چھپ چکی ہیں۔ باقی کتاب اب تک لکھی بھی نہیں گئی اور جب کہ شے مبیع دنیا میں موجود ہی نہ تھی تو اس کی بیع قطعی فاسد اور حرام تھی اور جو روپیہ ایسی بیع فاسد سے وصول ہوا وہ مال بھی حرام تھا اور جن جن لوگوں نے وہ روپیہ وصول کیا وہ اس فعل حرام کے معین تھے اور مرزا قادیانی اور ان
١٩
کے اہل بیت تو اب تک غالباً اس روپیہ کو کھا رہے ہیں اور مہمان نوازی بھی اس روپیہ سے ہوتی تھی۔ ”گوشت خر دندان سگ“ سات آٹھ برس سے بیچارے مظلوم خریدار مارے مارے پھرتے ہیں۔ نہ حسب وعدہ تین سو جزو کی کتاب ان کو چھاپ کر دی جاتی ہے اور نہ ان کا روپیہ واپس کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد چھ سات برس ہوئے مرزا قادیانی نے یہ ظاہر کیا کہ ایک رسالہ موسوم بہ ”سراج منیر“ جس میں سید احمد صاحب نجم الہند اور لیکھرام پنڈت اور دوسرے مرزا قادیانی کے بڑے بڑے مخالفوں کی تاریخ موت اور حالات نزول آفات اور دوسرے بہت سے حادثات کی اس میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ عنقریب ہفتہ عشرہ میں چھپنے والا ہے۔ جس سے حقیقت اسلام کی پوری حجت قائم ہو جاوے گی۔ سب مسلمان اس کے واسطے چندہ دیویں۔ چنانچہ ہزار ہا روپیہ انبالہ اور پٹیالہ وغیرہ شہروں سے بطور چندہ وصول کر کے مرزا قادیانی اپنے حظوظ نفسانی میں خرچ کر بیٹھے اور وہ رسالہ آج تک نہیں چھپا۔ انہیں دنوں میں مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ الہ دیا نام قوم کنچن ساکن انبالہ اپنے برے کاموں اور پیشہ سے تائب ہو کر موحد مسلمان ہو گیا ہے اور اس کے پاس چند ہزار روپیہ زنا کاری کی کمائی کا موجود ہے۔ جس کو وہ بوجہ اتقاء اور پرہیز گاری کے اپنے کام میں خرچ نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے یہ خبر فرحت اثر سن کر فوراً کہلا بھیجا کہ وہ کل روپیہ ہمارے پاس بھیج دو۔ ہم اشتہارات وغیرہ میں خرچ کر دیویں گے۔ مگر جب الہ دیا مذکور نے دیگر علماء دیندار سے اس کے جواز کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے منع کر دیا کہ راہ خدا میں ایسے روپیہ کا دینا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس سبب سے مرزا قادیانی کا یہ شکار خالی گیا۔ اس کے بعد اور چند رسالے مرزا قادیانی نے چھاپے اور بطمع حصول زر بعضوں کی عمدہ عمدہ جلدیں بنوا کر اکثر امراء اور روساء ہند کے پاس بھیجیں اور عام خریداروں کے واسطے بھی اصلی خرچ سے چوگنی یا چھ گنی قیمت مقرر کر کے خوب نفع اٹھائے۔ یہاں تک کہ جو لوگ مرزا قادیانی کو بزرگ سمجھ کر دعا کرانے کو آئے تو ان سے بھی پیشگی محنتانہ دعاء کرنے کا نقد وصول کر کے آج تک نہ ان کا روپیہ واپس دیا نہ اپنی دعاء پر دغا سے ان کا مطلب حاصل کرایا۔ بعوض دعاء پیشگی نقد لے لینے کی سنت بھی اسی ”بزرگ“ سے جاری ہوئی۔ میر ناصر نواب نقشہ نویس مرزا قادیانی کے خسر جن کا توبہ نامہ مرزا قادیانی نے مشتہر کرایا تھا۔ بوجہ اپنی قرابت قریبہ کے مرزا قادیانی کی کل روباہ بازیوں سے واقف ہیں۔ انہوں نے ایک دیوان بھی مرزا قادیانی کی روباہ بازیوں کی تشریح میں لکھا ہے۔ ٢٠
اب یہ بزرگ پٹیالہ موجود ہیں۔ ان سے مرزا قادیانی کی چالوں کو سننا چاہئے۔ تب اصل حقیقت معلوم ہوگی۔ میرے ایک دوست فتح خاں پورٹر بھی ایک زمانہ میں نوکری چاکری چھوڑ چھاڑ کر کئی برس تک مرزا قادیانی کے خادم خاص اور راز دار ہو کر رہے ہیں۔ جب وہ مرزا قادیانی کے کل حالات اور عیاری سے پورا واقف ہو گیا تو اس نے بھی لاحول پڑھ کر مرزا قادیانی کی صحبت سے کنارہ کیا۔ اب جس کسی کو مرزا قادیانی کی روباہ بازیوں اور چالوں کی پوری تفصیل سننی منظور ہو تو وہ فتح خان پورٹر سے جو اب کوئٹہ میں مقیم ہے۔ ملاقات کرے یا مرزا قادیانی کے دوسرے عزیزوں اور قرابت داروں سے مل کر اس مسیح زمان اور مہدی دوران اور مجدد الوقت اور نبی، فلاسفر اور ابن اللہ کا پورا حال سنے۔ صرف مرزا قادیانی کی تحریرات پر دھوکہ نہ کھاوے۔ قال کو حال سے ملانا ضروری ہے۔ ورنہ خسر الدنیا والآخرۃ ہو جاؤ گے۔
مرزا قادیانی کی ہر تحریر اور تصنیف میں طرح طرح کے حیلوں سے روپیہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور جب کوئی مرید آپ کی تواضع کرتا ہے تو پھر ورق کے ورق اس کی تعریف اور اس کے جنتی اور صدیق اور پاک روح ہونے میں چھاپ کر اس سے دوسرے مریدوں کو ارسال زر کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ”مبارک وہ شخص ہے جو مرزا قادیانی کو روپیہ ارسال کر کے اپنے جنتی ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیوے۔“ کتاب چھاپ کر یا اور جائز طور سے روپیہ کمانا کچھ منع نہیں ہے۔ مگر مذہبی جال بچھا کر اور خلاف واقعہ بیان کر کے روپیہ حاصل کرنا قطعی حرام ہے۔ میں نے محض بنظر اختصار صرف وہی واقعات بیان کئے ہیں جو رسالہ ”نشان آسمانی“ سے متعلق ہیں۔ اگر میں مرزا قادیانی کی ساری تواریخ یا سوانح دہ سالہ تحریر کروں تو اس کے واسطے ایک بڑی کتاب درکار ہوگی۔ میں مرزا قادیانی کی لیاقت علمی اور سحر البیانی اور سکینی کا قائل ہوں۔ میں ان کو ہند میں اوّل درجہ کا خوش تقریر اور خوش تحریر جانتا ہوں اور جب تک مرزا قادیانی مجدد الوقت تھے۔ گو میں ان کی مجددی کا قائل نہ تھا۔ مگر دوسرے قائلوں سے معترض بھی نہ تھا اور جب مرزا قادیانی مسیحیت کے دعویدار ہوئے تو میں گو اس دعویٰ کو جھوٹ جانتا تھا۔ مگر لوگوں سے یہی کہتا تھا کہ تھوڑی انتظار کرو۔ اگر مرزا قادیانی سچا مسیح ہے تو اس کے نشان جلد ظاہر ہو جاویں گے۔ ورنہ مثل دوسرے کاذب دعویداروں کے جھک مار کر مر جاوے گا۔ اب مرزا قادیانی غالباً چند ضرورتوں کے سبب سے مہدی وقت ہونے کے یہی دعویدار ہو بیٹھے اور مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید کے ریمارکوں پر معترض
٢١
ہو کر لوگوں کو نہایت سادہ اور بے خبر اور اپنی اوقات کا ناحق ضائع کرنے والا قرار دے کر ہمارے پیر و مرشد سید صاحب پر بھی اپنی فوقیت اور بزرگی ظاہر کرنی شروع کی۔ جس کے جواب میں یہ مختصر رسالہ سفر میں چلتے ہوئے میں نے کھینچ دیا ہے۔ ”میں نے اس رسالہ کے لکھنے کے وقت اکثر مقبول اوقات میں اپنے رب سے یہ دعا بھی کی ہے کہ اگر تیرے نزدیک یہ دعاوی اس شخص کے غلط ہوں تو میرا سینہ اس کا جواب لکھنے کے واسطے کھول دے اور میرے قلم سے وہ تحریر کرا جس میں تیری مرضی ہو۔ اس دعاء کی قبولیت کے آثار مجھ پر ظاہر ہو کر میرا سینہ ایسا کھل گیا تھا کہ جس سے بلاتامل فوراً یہ رسالہ میرے قلم سے تحریر ہو گیا۔ اب میں اپنے رب کریم اور رحیم سے دعا کرتا ہوں کہ جیسے اس نے اپنے فضل عمیم سے یہ مضامین میرے سینہ پر وارد کر کے لکھوائے ہیں۔ ویسے ہی اس کے پڑھنے اور سننے والوں کو اس سے ہدایت کر کے راہ راست پر ان کو قائم کر دے اور اس فتنہ سے نجات دے۔ آمین یا رب العالمین آمین !
مجھ کو ایسا بھی معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اس رسالہ کی اشاعت میں سعی کر کے ان لوگوں کو یہ نسخہ حیات بخش پہنچادیں گے جو اس مرض مہلک میں پہلے سے مریض ہیں یا اس وبائے عام میں ان کے پڑجانے کا اندیشہ ہے تو ایسے لوگوں کو بہت ثواب ملے گا۔ پس جن لوگوں کے پاس یہ رسالہ پہنچے۔ ان پر فرض ہے کہ اس کی اشاعت میں دل و جان سے کوشش کر کے ہر کہہ ومہہ کو اس کے مضمون سے مطلع کر دیویں۔ بلکہ صاحب مقدرت ان رسالوں کو خرید کر بیماروں اور غریبوں کے پاس پہنچا دیں اور ناظرین! با انصاف اور خصوصاً ان لوگوں سے جو اس نسخہ حیات بخش سے شفا پاویں۔ میری یہ عرض ہے کہ مجھ گنہگار کے حق میں دعا کریں کہ اللہ رب العزت بدولت اس سعی کے میرے گناہ معاف فرما کر جیسے مجھ کو قید فرنگ سے نجات بخشی ہے۔ ویسے ہی اس دنیائے غدار سے با ایمان اٹھا کر زیر لواء احمدی روز قیامت کے میرا حشر کرے۔ آمین یا رب العالمین!
العبد محمد جعفر تھانیسری، مؤلف تاریخ و تواریخ عجیب و برکات اسلام ، و سوانح احمدی مقیم صدر بازار کیمپ انبالہ وکیل ریاست ارنولی مورخہ ٢٣؍ جولائی ١٨٩٢ء (ازمقام ریاست ارنولی)
٢٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
نئے ظہور
پر
ایمان
امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
١٩۔ الف بالی گنج سرکلر روڈ کلکتہ مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٢٦ء
حبی فی الله السلام علیکم!
خط پہنچا۔ آپ دریافت کرتے ہیں احمدی فرقہ کے دونوں گروہوں میں سے کون سا فرقہ حق پر ہے؟ قادیانی یا لاہوری؟ میرے نزدیک دونوں حق وصواب پر نہیں ہیں۔ البتہ قادیانی گروہ اپنے غلو میں بہت دور تک چلا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کے بنیادی عقائد متزلزل ہوگئے ہیں۔ مثلاً اس کا یہ اعتقاد کہ اب ایمان ونجات کے لئے اسلام کے معلوم ومسلم عقائد کافی نہیں۔ مرزا قادیانی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ لیکن لاہوری گروہ کو اس غلو سے انکار ہے۔ وہ نہ تو مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار کرتا ہے نہ ایمان کی شرائط میں کسی نئی شرط کا اضافہ کرتا ہے۔ اسے جو ٹھوکر لگی ہے اس بے محل اعتقاد میں لگی ہے۔ جو اس نے مرزا قادیانی کے لئے پیدا کرلیا ہے۔ باقی رہے مرزا قادیانی کے دعاوی تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے اسلام کے اصول ومبادیات کو سمجھا ہے اور عقل سلیم سے بے بہرہ نہیں، یہ دعاوی ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم کرسکتا ہے۔
آپ نے اپنی طبیعت کے اضطراب کا ذکر کیا ہے۔ میں آپ کو ایک موٹی بات لکھتا ہوں۔ اگر غور کیجئے گا تو انشاء اللہ ہر طرح کے اضطراب وشکوک دور ہوجائیں گے۔
آپ دو باتوں پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں؟ ایک یہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ دوسری یہ کہ انسان کی نجات کے لئے جن جن باتوں کے ماننے کی ضرورت تھی وہ سب اس نے صاف صاف بتلادی ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی اعتقاد شرط نجات ہو اور اس نے صاف وصریح نہ بتلادیا ہو۔
اگر یقین رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ رکھتے ہیں، تو غور کیجئے۔ اگر ایک زمانہ میں مسلمانوں کے لئے کسی نئے ظہور پر ایمان لانا ضروری تھا تو کیا ضروری نہ تھا کہ قرآن اس کا صاف وصریح حکم دیتا۔ کم از کم اتنی صراحت کے ساتھ جتنی صراحت کے ساتھ ”اقیمو الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ“ کا حکم دیا گیا ہے؟
٢
اچھا قرآن کی ایک ایک آیت دیکھتے جائیے۔ کہیں آپ کو یہ حکم ملتا ہے کہ ایک زمانہ میں کوئی نبی یا مسیح یا مجدد یا محدث (بالفتح) مبعوث ہو گا اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہو گا کہ اسے پہچانیں اور اس پر ایمان لائیں؟ اگر کوئی ایسا حکم نہیں ملتا تو پھر آپ پر کون سی مصیبت آ پڑی ہے کہ بیٹھے بٹھائے اس جھگڑے میں پڑیں اور ایک نئے ایمان اور نئی شرائط نجات کے سراغ میں نکلیں؟
قرآن اور مرزائیت
اس بارے میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ تیسری کوئی نہیں۔ یا تو نجات کے لئے وہ عقائد کافی ہیں جو قرآن نے صاف صاف بتلادیئے ہیں۔ یا پھر کافی نہیں ہیں۔ اگر کافی ہیں تو قرآن نے کہیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ کسی نئے ظہور پر ایمان لاؤ۔ اگر کافی نہیں ہیں اور نئے شرائط نجات کی گنجائش باقی ہے تو پھر قرآن ناقص نکلا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اعلان ”الیوم اکملت لکم دینکم“ میں صادق نہیں۔ ہر مسلمان کے سامنے دونوں راہیں کھلی ہیں جو راہ چاہے اختیار کر لے۔ اگر قرآن پر ایمان ہے تو نئی شرط کی گنجائش نہیں۔ اگر نئی شرط نجات مانی جاتی ہے تو قرآن اپنی جگہ باقی نہیں رہا ۔ ”والعاقبة للمتقین“ ابوالکلام!
(گذشتہ مکتوب پر سائل نے پھر کچھ خدشات پیش کئے جس پر مولانا نے ذیل کا مکتوب گرامی ارسال فرمایا)
١٩۔ الف بالی گنج سرکلر روڈ کلکتہ مورخہ ٥؍اپریل ١٩٢٦ء حبی فی اللہ السلام علیکم!
خط پہنچا۔ میں پچھلے خط میں جو کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس پر پوری طرح غور کیجئے جو نئے سوالات آپ نے لکھے ہیں۔ ان سب کا جواب اس میں ہے۔ کسی ایسے سوال کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔
مجدد کی کوئی ضرورت نہیں
جو لوگ کہتے ہیں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ ہر صدی کے مجدد پر ایمان لائیں۔ ان سے پوچھئے کہ یہ حکم کس قرآن میں نازل ہوا ہے۔ قرآن سے مقصود وہ قرآن ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے تو بتلائیے کس پارہ کس سورۃ کس آیت میں یہ بات کہی گئی ہے؟ کہ ہر
صدی میں ایک مجدد آئے گا اور مسلمانوں کے ضروری ہے کہ اس کی معرفت حاصل کریں اور اس پر ایمان لائیں؟ اگر نہیں کہی گئی تو ہمیں کون سی ضرورت ہے کہ اس لغویت میں پڑیں۔ ہم نہیں جانتے کہ مجدد کیا بلا ہوتی ہے؟ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ کی آخری آیت آچکی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے اور جس کے مبلغ محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔
جو انسان اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرتا ہے اس کے لئے نجات ہے۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے اور نہ جاننے کی ضرورت ہے۔
جو شخص کہتا ہے کہ نجات وسعادت کے حصول کے لئے یہ کافی نہیں اور کسی مجدد پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یا تو اسلام پر بہتان لگاتا ہے یا اسلام کی ا ب ج د اس نے نہیں سمجھی ہے۔
باقی رہا نزول مسیح کا معاملہ تو یہ ایک نہایت اہم معاملہ ہے اور اگر کسی زمانے میں مسلمانوں کی نجات وسعادت اس پر موقوف رہنے والی تھی تو ضروری تھا کہ قرآن صاف صاف اسے بیان کر دیتا۔ اسی طرح صاف صاف جس طرح اس نے تمام مہمات دینیہ واعتقادیہ بیان کر دی ہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ قرآن میں کوئی تصریح موجود نہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کے اعتقاد پر مجبور ہوں۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ اب نہ کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے نہ حقیقی۔ قرآن آچکا ہے اور دین کامل ہو چکا۔
اگر آپ طالب حقیقت ہیں تو ان جھگڑوں میں نہ پڑیئے۔ نہ ان خرافات کے بارے میں سوالات کیجئے۔ ہمیں تلاش نجات کی ہے۔ نجات کے لئے قرآن کامل ہے تو پھر وہ عقائد کافی ہیں جو قرآن نے بتلا دیئے ہیں۔ زیادہ کاوش میں ہم پڑیں ہی کیوں؟ ابوالکلام!
(دوسرے مکتوب میں بعض باتوں سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس سلسلہ میں مولانا سے دریافت کیا گیا کہ:
- ١...... کیا آپ کے نزدیک صحیح حدیث حجت ہے یا نہیں؟
- ٢...... آپ کے الفاظ ”اب نہ کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے نہ حقیقی۔ قرآن آچکا اور دین
کامل ہو چکا۔“ کا کیا مطلب؟
اس کے جواب میں مولانا نے ایک مستقل بیان تحریر فرما کر بہت بڑی غلط فہمی کا ازالہ کر دیا)
٤
١٩۔ الف بالی گنج سرکلر روڈ کلکتہ
مورخہ ٢٦ جون ١٩٢٦ء
حبی فی اللہ السلام علیکم!
خط پہنچا۔ معاف کیجئے گا۔ اگر آپ حضرات کے نظر و مطالعہ کا یہی حال ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تحریر بھی سود مند ہو سکتی ہے۔ ایک شخص نے لکھا کہ میں اپنے ایمان و نجات کے بارے میں سخت مضطرب ہو رہا ہوں۔ کیونکہ مجھے بتلایا جا رہا ہے کہ مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے۔ یہ شخص کوئی عالم دین نہیں ہے۔ تفسیر وحدیث کا ماہر نہیں ہے۔ صرف اس درجہ کی دینی معلومات رکھتا ہے جو ہر پڑھے لکھے مسلمان کو ہوا کرتی ہے۔ میں نے اس کے جواب میں ایک موٹی سی بات لکھ دی۔ جس کے پرکھنے کے لئے کسی غیر معمولی علم ونظر کی ضرورت نہیں۔ یعنی وہ قرآن کو کلام الٰہی مانتا ہے یا نہیں؟ اور اس بات پر یقین رکھتا ہے یا نہیں کہ ایمان و نجات کی تمام شرطیں اس میں بیان کر دی گئی ہیں؟ اگر یقین رکھتا ہے تو دیکھ لے قرآن میں کہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ کسی نئے ظہور پر بحیثیت ایک نبی کے ایمان لانا ضروری ہوگا؟ اگر نہیں دیا گیا ہے تو کم از کم یہ بات واضح ہو گئی کہ شرائط ایمان ونجات میں کوئی نیا اضافہ نہیں ہو سکتا اور اس کے رفع اضطراب کے لئے یہ کافی ہے۔ فرمائیے! اس میں احادیث کے حجت ہونے کا سوال کہاں سے پیدا ہو گیا؟ اگر ایک شخص کہے کہ قرآن میں یہ بات نہیں آئی تو کیا اس سے لازم آگیا کہ وہ حدیث کا منکر ہے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون!
میں ایک مستفسر کو جو اپنا اضطراب قلب ظاہر کرتا اور ایک قطعی اور فیصلہ کن بات کا خواہش مند ہے۔ کیوں یہ لکھوں کہ احادیث کا مطالعہ کرے؟ میں جانتا ہوں وہ احادیث کے مطالعہ سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے علم و نظر کی ضرورت ہے۔ لیکن قرآن ایک ایسی چیز ہے جس سے کوئی مسلمان بھی بے خبری ظاہر نہیں کر سکتا۔ جو شخص چاہے اس کا ترجمہ اٹھا کر دیکھ سکتا ہے اور براہ راست فیصلہ کر سکتا ہے کہ فلاں بات کا اس میں حکم دیا گیا ہے یا نہیں؟ اس طرح ایک قطعی اور فیصلہ کن حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ دوسرے طریقوں سے نہیں آسکتی۔ اب آپ نے مجھے خط لکھا ہے تو میں آپ کو نہ صرف قرآن کا حوالہ دوں گا۔ بلکہ احادیث بھی لکھوں گا۔ تمام احادیث دیکھتے جائیے۔ کسی حدیث میں بھی یہ حکم نہیں ملے گا کہ آئندہ مسلمانوں کو کسی نئے ظہور پر
٥
بھی ایمان لانا چاہئے۔ ورنہ شہادتین کا اقرار بے سود ہو جائے گا اور یہ اس لئے لکھوں گا۔ مجھے معلوم ہے مخاطب احادیث کی خبر رکھتا ہے اور ان کے مطالعہ و نظر سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ اگر لوگوں میں چشم بصیرت ہوتی تو معلوم کر لیتے کہ میں نے اس خط میں جو بات لکھ دی ہے۔ اس نے ساری بحثوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ یہی جنس اب ہمارے بازاروں میں ناپید ہو گئی ہے۔
حدیث حجت شرعی ہے
آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ”صحیح حدیث آپ کے نزدیک حجت ہے یا نہیں۔“ میں اس کا آپ کو کیا جواب دوں؟ یہ سوال آپ اس شخص سے کر رہے ہیں جس نے اپنی بے شمار تحریروں میں نہ صرف احادیث کو حجت شرعی اور واجب العمل ثابت کیا ہے۔ بلکہ صاف صاف لکھ دیا ہے کہ ”ويعلمهم الکتب والحكمة“ میں حکمت سے مقصود سنت ہے کہ ”الا انی اوتیت الکتب ومثلہ“
حدیث مجدد پر روشنی
یہ آپ کا سوال ویسا ہی ہے جیسا ایک صاحب نے مجدد کی نسبت سوال کیا ہے۔ میں نے اس خط میں لکھا ہے کہ اسلامی عقائد میں کسی ایسے مجدد کی ہستی ثابت نہیں۔ جس پر ایمان لانا شرط اسلام و نجات ہو۔ ظاہر ہے کہ اس میں جس مجدد کی ہستی سے انکار کیا گیا ہے۔ اس سے مقصود ایسا مجدد ہے۔ جس پر ایمان بالرسل کی طرح ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہو۔ نہ کہ مجدد لغوی۔ یعنی ایسے مصلحین امت جو دین میں تازگی پیدا کر دیں۔ لیکن وہ لکھتے ہیں۔ اس سے نفس تجدید کا انکار لازم آ گیا اور حدیث ”ومن يجددلها دينها (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢، باب ما يذكر في قدر المائة)“ کا کیا جواب ہے؟ اب کہئے میں اس کا کیا جواب دوں؟ جن لوگوں کو اتنی سمجھ بھی نہیں ہے کہ کون سی بات کس محل اور کس مخاطب میں کہی گئی ہے اور کس بات کا زور کس نقطہ پر پڑ رہا ہے۔ ان سے کوئی عہدہ برآ ہو تو کیونکر ہو؟ یہ صاحب مجھے حدیث تجدید یاد دلا رہے ہیں۔ حالانکہ اگر انہوں نے تذکرہ پڑھا ہوتا تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ میرے لئے یہ یاد دہانی غیر ضروری ہے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ اس دور میں مقام تجدید کے غوامض و دقائق سے پردہ اٹھائے وہ کم از کم حدیث ”من يجددلها دينها“ سے بے خبر نہیں ہو سکتا۔
٦
نزول مسیح علیہ السلام
آخر میں آپ نے سوال کیا ہے۔ اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ: ”اب نہ کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے نہ حقیقی۔ قرآن آچکا اور دین کامل ہوچکا۔“ جواب یہ ہے جو اردو زبان میں اس جملہ کا ہوسکتا ہے۔ یعنی دین اسلام اپنی تکمیل میں اب کسی نئے ظہور کا محتاج نہیں۔ اس کے لئے نہ تو کسی بروزی مسیح کی ضرورت ہے نہ حقیقی کی۔ ہاں بلاشبہ احادیث میں حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک ایسے نزول کی خبر دی گئی ہے۔ جو قیامت کے آثار ومقدمات میں سے ہوگا۔ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ان کا ظہور بحیثیت رسول کے ہوگا۔ یا تکمیل دین کا معاملہ ان کے نزول پر موقوف ہے۔ پس تکمیل دین کے لئے ہم کسی نئے ظہور پر اعتقاد نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دین کا معاملہ کامل ہوچکا۔ پھر کیا آپ کو اس اعتقاد سے انکار ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں۔ قرآن ناقص ہے۔ دین کا معاملہ پورا نہ ہوسکا اور اب نئے نئے ظہور ہوتے رہیں گے۔ تاکہ دین کامل ہوجائے۔
میری سمجھ کچھ کام نہیں دیتی۔ آخر آپ کے احباب کو تشویش کس بات پر ہوئی ہے۔ ان خطوں میں کون سی بات ایسی ہے جو اس درجہ ناگوار گزری؟ کیا یہ بات کہ قرآن کی کسی آیت میں کسی نئے ظہور پر ایمان لانا شرط نجات بتلایا گیا ہے؟ آپ لکھتے ہیں اس سے حدیث کا انکار لازم آگیا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو براہ عنایت مجھے اس حدیث سے مطلع کیجئے۔ چونکہ میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے۔ نہ مسلمانوں کا کوئی ایسا اعتقاد ہے۔ اس لئے یہ ناقابل معافی جرم مجھ سے سرزد ہوگیا۔
اگر کہا جائے یہ بات شرائط ایمان ونجات میں سے نہیں ہوسکتی۔ اگر ہوتی تو ضروری تھا کہ قرآن نے حکم دیا ہوتا۔ کیونکہ شرائط ایمان ونجات کے اعلان میں وہ ناقص نہیں تو آپ کہیں کہ اس سے حدیث کا انکار لازم آگیا۔ اگر کہا جائے اسلامی عقائد میں کسی ایسے مجدد امت کی جگہ نہیں جس پر ایمان لانا مثل اقرار شہادتین کے ضروری ہو تو کہا جائے۔ نفس تجدید سے انکار کردیا گیا اور مصلحین امت کی ہستی باقی نہیں رہی۔ اگر کہا جائے قرآن آچکا۔ دین کامل ہوچکا۔ اب تکمیل دین کے لئے نہ کسی بروزی مسیح کی ضرورت ہے نہ حقیقی کی۔ تو کہا جائے کہ نزول مسیح کی خبر سے انکار کردیا گیا اور صحیحین کی روایات کا کیا جواب ہے؟ گویا روایات میں جس نزول کی خبر دی گئی ہے وہ دین وقرآن کے نقص کی تکمیل کے لئے ہے۔ اگر لوگوں کی فہم وبصیرت اور عقل وانصاف کا یہی حال ہے تو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ اللہ مسلمانوں کی حالت پر رحم کرے۔
٧
آپ لکھتے ہیں: ’’ایک خاص جماعت کے لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ حدیث کے حجت ہونے سے انکار کر دیا گیا۔‘‘ ٹھیک ہے وہ ضرور ایسا کرتے ہوں گے۔ لیکن معاف کیجئے گا۔ آپ کی عقل و بصیرت کو کیا ہو گیا؟ کیا محض اس لئے کہ چند آدمیوں نے ایک بات کہہ دی۔ بدحواس ہو جانا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ حدیث سے انکار کر دیا گیا؟ کیا آپ کے لئے ضروری نہیں تھا کہ ان خطوں کی عبارت پڑھتے اور پوچھتے کہ حدیث کے حجت ہونے نہ ہونے کا سوال کہاں سے پیدا ہو گیا؟
میں آپ کے اخلاص ومحبت کا شکر گزار ہوں۔ مجھے یقین ہے۔ یہ محبت و اخلاص کی خلش ہے۔ جس نے آپ کو خط لکھنے اور استفسار حال پر مجبور کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ لیکن میری طبیعت پر ان باتوں کا جو اثر پڑتا ہے وہ بالکل دوسرا ہے۔ میں ان باتوں میں زمانہ کی فکری اور اخلاقی حالت کی جھلک دیکھتا ہوں اور وہ مجھے بہت ہی افسوس ناک دکھائی دیتی ہے۔
ابوالکلام!
(گذشتہ خطوط میں ظہور مسیح اور حدیث مجدد پر جن خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ شاید مولانا آزاد کو احادیث متعلقہ نزول مسیح سے انکار ہے۔ چنانچہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ نے بھی تشویش کا اظہار فرمایا اور اپنے اخبار اہل حدیث میں مولانا آزاد کے نام ایک مکتوب مفتوح شائع کیا۔ جس میں مطالبہ کیا کہ مولانا اپنے نظریہ کی وضاحت فرمائیں۔ اس کے جواب میں مولانا ابوالکلام آزاد نے جو مکتوب مدیر اہل حدیث کو ارسال فرمایا وہ تمام و کمال درج ذیل ہے)
١٩۔ الف بالی گنج سرکلر روڈ کلکتہ مورخہ ١٣؍ جولائی ١٩٢٦ء
مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ نے از راہ عنایت اہل حدیث کا جو پرچہ بھیجا تھا وہ وصول ہوا۔ جو تحریر اس میں شائع فرمائی ہے وہ نظر سے گزری۔ حیران ہوں کہ آخر ان خطوط میں کون سی ایسی بات تھی۔ جس سے ان دور از کار نتائج کی طرف آپ کا ذہن منتقل ہوا۔ یہ خطوط ایک خاص شخص کے، خاص استفسار کے جواب میں لکھے گئے ہیں اور ضروری ہے کہ اسے پیش نظر رکھا جائے۔ مستفسر نے لکھا تھا کہ ایک عرصہ سے بعض احمدی مبلغ قادیانی طریقہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ میں نے کئی
٨
صاحبوں سے استفسار کیا۔ لیکن جوابات سے ردوکد کا ایک لمبا چوڑا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دل کا کانٹا نکلتا نہیں۔ جو بات سب سے زیادہ مضطرب کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ ایمان و نجات کا ہے۔ اگر واقعی کسی نئے ظہور پر ایمان لانا ضروری ہو اور میں انہی بحثوں میں رہ جاؤں تو کل کو میرا کیا حشر ہوگا؟
میں نے اس کے جواب میں ایک ایسی موٹی سی بات لکھ دی جو مخاطب کے اذعان ورفع اضطراب کے لئے قاطع اور محکم ہو سکتی تھی اور جس فہم کے لئے نہ تو اصول و مقدمات کی ضرورت ہے۔ نہ علم وفن کی استعداد کی۔ ایک لمحہ میں ساری ردوکد ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے لکھا کہ اتنی بات مانتے ہو یا نہیں کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جن باتوں پر ایمان لانا شرط اسلام و نجات ہے۔ وہ اس نے بتلادیئے ہیں۔ اچھا کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کا کوئی ترجمہ اٹھا کر دیکھ لو۔ کہیں یہ حکم پاتے ہو کہ آئندہ ایک زمانے میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بے سود ہو جائے گا اور ایک نئے ظہور پر ایمان لانا پڑے گا۔ یا کسی زمانے میں اسلام کی پچھلی دو شہادتیں بیکار ہو جائیں گی اور ایک تیسری شہادت کا اضافہ ہو جائے گا۔ مثلاً ایمان بالمجدد؟ اگر نہیں پاتے تو پھر کون سی مصیبت آ پڑی ہے کہ اس جھگڑے میں پڑتے ہو اور اپنے ایمان ونجات کی طرف سے مضطرب ہوتے ہو۔
بلاشبہ اس تخاطب میں میں نے صرف قرآن کا ذکر کیا۔ احادیث کا ذکر نہیں کیا۔ مگر اس لئے نہیں کیا کہ مخاطب کے لئے اتنا ہی کہنا قاطع و فیصلہ کن تھا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ احادیث میں بھی کہیں یہ بات نہیں آئی ہے کہ آئندہ شرائط ایمان میں ایک نئی شرط بڑھ جائے گی اور ایک نئے رسول پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔
اب فرمائیے! اگر ایسا لکھ دیا گیا تو اس میں کون سی برائی کی بات ہوگئی۔ جو اس درجہ ناگواری خاطر کا موجب ہو رہی ہے۔ کیا قرآن کا حوالہ دینا انکار حدیث کے لئے مستلزم ہے۔ کیا احادیث میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ نئے نئے ظہوروں پر ایمان باللہ وایمان بالرسول کی طرح ایمان لاتے رہنا۔
اس کے بعد مستفسر نے اپنے مبلغ دوست کا قول نقل کیا کہ مسلمانوں کو ہر صدی کے مجدد پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام بحیثیت رسول کے آئیں گے اور انہیں کے ہاتھوں اس دین کی تکمیل ہوگی۔ میں نے
٩
اس کے جواب میں لکھا کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ اسلامی عقائد میں کسی ایسے مجدد کی جگہ نہیں۔ جس پر ایمان بالرسل کی طرح ایمان لاتے رہنے کا حکم دیا گیا ہو۔ باقی رہا نزول مسیح کا معاملہ تو شرائط ایمان کی ترمیم و تنسیخ کا معاملہ نہایت اہم اور اساسی معاملہ ہے۔ اگر مسلمانوں کی نجات آئندہ کسی نئے ایمان پر موقوف رہنے والی ہوتی تو ضروری تھا کہ اس کا صاف صاف حکم دے دیا جاتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ پس ہمارا عقیدہ یہی ہونا چاہئے کہ دین کامل ہو چکا۔ آخری کتاب نازل ہو چکی اور اب تکمیل دین کے لئے نہ کسی بروزی مسیح کی گنجائش ہے۔ نہ حقیقی مسیح کی۔
یہ ظاہر ہے کہ اس عبارت میں جو نفی کی گئی ہے وہ کسی ایسے نزول کی کی گئی ہے۔ جو دین کی تکمیل کے لئے ہوگا اور بحیثیت رسول کے ہوگا نہ کہ نفس نزول کی۔
چنانچہ سیاق و سباق اس کی صاف شہادت دے رہا ہے۔ اس سے اوپر مجدد کی نفی کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی مقصود ایسی تجدید نہیں ہے۔ جس پر ایمان لانا مثل ایمان بالرسل کے ضروری ہو۔ ورنہ حدیث ”من يجددلها دينها“ موجود ہے اور مجدد لغوی سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ ایسے مجدد یعنی مصلحین حق پیدا ہوچکے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے۔”حتى یاتی امر الله وهم غالبون“
بلاشبہ روایات میں نزول مسیح علیہ السلام کی خبر دی گئی ہے اور صحیحین کی روایات اس باب میں معلوم و مشہور ہیں۔ اس سے کسے انکار ہے؟ لیکن اس معاملہ کا تعلق قیامت کے آثار و مقدمات سے ہے۔ نہ کہ تکمیل دین کے معاملہ سے، نیز انہی روایت میں تصریحات موجود ہیں کہ حضرت مسیح کا نزول بحیثیت رسول کے نہیں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں۔ اس تیرہ سو برس میں مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہ رہا ہے کہ دین ناقص نہیں اور اپنے تکمیل کے لئے کسی نئے ظہور کا محتاج نہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے؟ آپ پوچھتے ہیں احادیث کے بارے میں میرا عقیدہ کیا ہے؟ میں اس کا آپ کو کیا جواب دوں۔ کیا آپ کو میرے عقیدہ کی خبر نہیں؟ کیا آپ کی نظر سے میری بے شمار تحریرات نہیں گزر چکی ہیں؟ یہ سوال آپ اس شخص سے کر رہے ہیں۔ جو اپنی تحریرات میں نہ صرف حدیث کو حجت اور واجب العمل ثابت کر چکا ہے۔ بلکہ جس کو اس فہم کی توفیق ملی ہے کہ”ويعلمهم الكتاب والحكمة“ میں حکمت سے مقصود سنت ہے اور جس نے جابجا مقدام کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ:”الا انى اوتيت الكتاب ومثله معه“نیز روایت مشہور ”يوشك رجل شبعان
١٠
علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ“
اتنا ہی نہیں بلکہ جس کی تمام قلمی جدوجہد یکسر دعوت اتباع کتاب وسنت پر مبنی رہی ہے اور جس کے عقیدہ میں کتاب کا ہر وہ اتباع، اتباع نہیں جو سنت کے اتباع سے خالی ہو۔
یہ ظاہر ہے کہ میں ایک شخص کے استفسار کا جواب لکھ رہا تھا۔ کوئی کتاب تصنیف نہیں کر رہا تھا۔ اس طرح کے سوالات روز لوگ کرتے رہتے ہیں اور کم سے کم جملوں میں جو جواب دے سکتا ہوں دے دیا کرتا ہوں۔ اسی استفسار کا جواب سینکڑوں آدمیوں کو دیا ہوگا۔ ہر بات کا ایک محل ہوتا ہے اور چاہئے اس محل میں رہ کر اس پر غور کیا جائے۔ پھر خصوصاً اگر تحریر کسی ایسے شخص کی ہو، جس کے عقائد مسلک سے ہم ناواقف نہیں تو اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہی مطلب ٹھہرائیں جو اس کے عقیدہ ومسلک کے لحاظ سے ہونا چاہئے۔
اہل حق و دانش کا طریقہ جو ہمیں بتلایا گیا ہے۔ وہ تو یہ ہے: ”یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئك الذین ھدا ھم اللّٰه واولئك ھم اولوا الالباب“
یہاں تک تو آپ کے استفسار کا جواب تھا۔ اب ایک دو لطیفے بھی سن لیجئے۔ آپ نے اپنے مضمون کے آخر میں لکھا ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر مجھے اس کا جواب دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابھی آپ نے رائے قائم نہیں کی ہے۔ میرے جواب کا انتظار ہے۔ لیکن مضمون کی سرخی میں آپ نے از راہ عنایت تنابز بالالقاب کے ساتھ میرا نام درج کر دیا ہے۔ گویا جزم ویقین کے ساتھ فیصلہ کر لیا۔ لطیفہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ ہو چکا تو پھر استفسار کیوں؟ اور اگر استفسار ہے تو پھر یہ تنابز بالالقاب کیوں؟
دوسرا لطیفہ یہ ہے کہ خطوط میرے تھے۔ استفسار مجھ سے کرنا ہے۔ لیکن مضمون آپ اخبار میں شائع کرتے ہیں اور پھر اس کا پرچہ ڈاک کے ذریعے بھیج دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس ڈاک کے ذریعہ آپ کا اخبار مجھے مل سکتا ہے۔ اسی ڈاک کے ذریعہ آپ کا خط مجھے نہیں مل جاتا؟ شاید آپ نے خیال کیا۔ خط بھیجنے کا زیادہ محفوظ ذریعہ یہی ہے کہ اخبار میں چھاپ دیا جائے۔ خیر! ہر چہ از دوست میرسد نیکوست ۔ امید ہے مع الخیر ہوں گے۔ ابوالکلام!
(اسی سلسلہ میں ایک اور صاحب کے جواب میں حضرت مولانا نے جو مکتوب تحریر فرمایا وہ بھی ذیل میں درج کیا جاتا ہے)
١١.
عزیزی! السلام علیکم! آپ نے اخبار کا جو پرچہ بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا۔ جن صاحب نے میرے خطوط شائع کئے ہیں۔ اگر وہ ان کے ساتھ اپنے خطوط بھی شائع کر دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اس طرح جواب کی نوعیت پوری طرح واضح ہو جاتی۔ جس عبارت کی نسبت آپ دریافت کرتے ہیں وہ دراصل ان کے ایک خاص سوال کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ احمدی جماعت کے مبلغ کہتے ہیں۔ ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ ظہور پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور دین کی تکمیل انہی کے ہاتھوں ظہور میں آئے گی۔ میں نے جواب میں لکھا کہ یہ صحیح نہیں اگر کسی زمانہ میں مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری ہونے والی تھی کہ کسی نئے ظہور پر ایمان لائیں اور دو شہادتوں پر ایک تیسری شہادت کا اضافہ ہو جائے تو ضروری تھا کہ اس کا انہیں صاف صاف حکم دیا جاتا۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اب تکمیل دین کے لئے نہ کسی بروزی مسیح کی ضرورت ہے نہ حقیقی مسیح کی، قرآن آچکا اور دین کا معاملہ کامل ہوچکا۔ پس اس عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ روایات میں جس نزول مسیح کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا تعلق قیامت کے آثار و مقدمات سے ہے۔ دین کی تکمیل سے نہیں ہے کہ حضرت مسیح بحیثیت ایک نبی کے نازل ہوں گے اور ہر مسلمان کے لئے ضروری ہوگا کہ نبوت کے ایک نئے ظہور پر ایمان لائے۔
یہ مطلب نہیں ہے کہ بسلسلہ آثار قیامت نزول مسیح کی جو خبر دی گئی ہے۔ اس کی نفی کی جائے۔ چنانچہ عبارت مسئولہ عنہا کا بغور مطالعہ کیجئے۔ سارا زور تکمیل دین اور شرائط ایمان و نجات کے معاملہ پر پڑ رہا ہے۔
اور جو کچھ نفی کی گئی ہے۔ اسی کی کی گئی ہے۔ عبارت کے الفاظ یہ ہیں۔ ”اگر کسی زمانہ میں مسلمانوں کی نجات و سعادت اس پر موقوف رہنے والی تھی۔ تو ضروری تھا کہ قرآن صاف صاف اسے بیان کر دیتا۔ اس طرح صاف صاف جس طرح تمام مہمات اعتقادیہ کر دی ہیں۔“
یعنی نزول مسیح کی خبر محض آثار قیامت کے سلسلہ میں دی گئی ہے۔ مسلمانوں کی نجات و سعادت کے معاملہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو اس کا ہمیں حکم دیا جاتا۔ پس اب تکمیل دین کے لئے نہ تو کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے نہ حقیقی۔ ابوالکلام!
١٢
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیت
مطالعہ و جائزہ
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده!
حرف گفتنی
دسمبر ١٩٥٧ء کے اواخر اور جنوری ١٩٥٨ء کے اوائل میں پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام لاہور میں مجلس مذاکرات اسلامی (اسلامک کلوکیم) کا انعقاد ہوا۔ جس میں عالم اسلام اور مغربی ممالک کے بہت سے ممتاز و نامور اہل علم واہل فکر نے شرکت کی۔ خاص طور پر شرق اوسط کے سر بر آوردہ علماء نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ مجلس مذاکرات کے ناظم و داعی کی طرف سے دعوت وصول ہونے کے باوجود راقم سطور ان تاریخوں میں تو نہیں پہنچ سکا۔ مجلس کے اختتام کے بعد ہی جب لاہور پہنچا تو مجلسیں اس کے تذکروں سے گرم تھیں۔ خصوصیت کے ساتھ مصر و شام کے نمائندوں نے شریعت اسلام کی جو پرزور وکالت اور اپنی دینی حمیت کا جو شاندار مظاہرہ کیا تھا۔ اس کا اعتراف اور تذکرہ عام تھا۔
اس مجلس میں شرکت کے لئے مصر و شام و عراق کے جو علماء واساتذہ آئے تھے۔ انہوں نے ہندوستان و پاکستان کی مشہور مذہبی تحریک قادیانیت اور اس کے اساسی عقائد و خیالات کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ ان کی یہ جستجو اور تحقیق کا شوق بالکل حق بجانب اور قدرتی امر تھا۔ اسی زمین میں اس تحریک کا ظہور اور نشوونما ہوا اور یہیں سے اس کے متعلق مستند معلومات اور مواد حاصل ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر ان کے پاکستانی و ہندوستانی دوستوں کو اس خلاء کا شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ ان کو پیش کرنے کے لئے عربی میں جدید طرز کی کوئی کتاب موجود نہیں۔ اسی احساس کا نتیجہ تھا کہ میں جب لاہور پہنچا تو میرے شیخ ومربی حضرت ”مولانا عبد القادر صاحب رائے پوری مدظلہ“ نے اس موضوع پر عربی میں ایک مکمل کتاب کی تالیف کا حکم دیا۔
مشرق اوسط کی سیاحت اور مصر و شام کے قیام کے دوران میں اگرچہ بارہا اس ضرورت کا خود احساس ہوا تھا۔ لیکن اس کی طرف توجہ کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ موضوع افتاد طبع اور اس وقت تک کی ذہنی تربیت کے خلاف تھا۔ مصنف کا ذوق اس وقت تک قادیانی لٹریچر اور خود مرزا قادیانی کی تصنیفات کے مختصر سے مختصر حصہ کے مطالعہ کے لئے بھی کبھی آمادہ نہیں ہوسکا تھا اور وہ اس کوچہ سے یکسر نا بلد تھا۔ لیکن اس تحریک نے (جس کی تعمیل عین سعادت تھی) اس موضوع کی
٢
طرف پوری طرح متوجہ ہونے کی تقریب پیدا کر دی۔ چند ہی دن میں قیام گاہ کا ایک کمرہ قادیانی لٹریچر کا کتاب خانہ اور دارالتصنیف بن گیا اور پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ یہ کام شروع ہوا۔ ایک مہینہ اس علمی و تصنیفی اعتکاف میں اس طرح گزرا کہ گویا دنیا کی خبر نہ تھی اور سوائے اس موضوع کے کوئی دوسرا موضوع فکر نہ تھا۔
مصنف کا ذہن چونکہ فطرۃ تاریخی واقع ہوا ہے اور وہ اس شہر میں بالکل نو وارد تھا۔ اس لئے اس نے اپنا سفر تحریک کے آغاز سے شروع کیا اور اس کے نشوونما اور ارتقاء کی ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلہ کا جائزہ لیتا ہوا چلا ۔ گویا اس کے مشاہدات اور معلومات تحریک کے طبعی نشو و نما کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اس طرز مطالعہ نے تحریک کی فطرت ومزاج اور اس کے تدریجی ارتقاء اور اس کے مضمرات کے سمجھنے میں بڑی مدد دی اور بعض ایسے حقائق کا انکشاف کیا جو اس تحریک کو ایک شکل میں دیکھنے سے ظاہر نہیں ہو سکتے۔ مصنف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات کا براہ راست مطالعہ کیا اور انہیں کے ذریعہ ان کی دعوت و تحریک اور نظام کو سمجھنے اور ایک غیر جانبدار مؤرخ اور طالب حق کی طرح آزادانہ رائے قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس مطالعہ و جستجو کا نتیجہ وہ عربی کتاب تھی جو ”القادیانی والقادیانیۃ“ (مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی تحریک قادیانیت) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔
اس کتاب کے تیار ہو جانے کے بعد حضرت مولانا عبد القادر صاحب مدظلہ کا حکم ہوا کہ اس کا اردو میں ترجمہ بھی کر دیا جائے۔ چونکہ اس ترجمہ میں اصل عبارتوں کو نقل کرنا تھا۔ اس لئے دوبارہ اس پورے کتب خانہ کی ضرورت پیش آئی جو لاہور میں فراہم کیا گیا تھا۔ مناسب سمجھا گیا کہ اس کام کی تکمیل بھی لاہور میں ہو۔ چنانچہ دوبارہ لاہور کا سفر کیا گیا اور الحمد للہ کہ یہ عربی کتاب اردو میں منتقل ہو گئی۔ اس کتاب کو ترجمہ کہنے کے بجائے اس موضوع پر مستقل تصنیف کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ عبارتیں (جن کا کتاب میں حوالہ دیا گیا ہے) پوری احتیاط کے ساتھ اپنے صحیح مآخذ سے نقل کی گئی ہیں۔ عربی کے مقابلہ میں کچھ قیمتی اضافے اور بعض مفید ترمیمیں بھی کی گئی ہیں۔
مناظرانہ ومتکلمانہ مباحث کی ہندوستان کے دورِ آخر میں ایک خاص زبان اور خاص اسلوب تحریر بن گیا ہے۔ جس کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ مصنف نے اس کی پابندی ضروری نہیں سمجھی۔ اس کتاب میں مناظرانہ جوش کے بجائے مؤرخانہ متانت زیادہ ملے گی اور جو لوگ مناظرانہ وفریقانہ کتابوں کے ایک خاص طرز اور لہجہ کے عادی ہیں۔ شاید ان کو اس کتاب کو پڑھ کر مایوسی اور شکایت ہو۔ لیکن مصنف اس کے لئے معذرت کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس نے یہ کتاب
٣
جس طبقہ اور جس مقصد کے لئے لکھی ہے اور جو معیار اس کے لئے مقرر کیا ہے۔ اس کے لئے یہی طرز مناسب تھا۔
میں اپنے ان تمام بزرگوں اور دوستوں کا شکر گزار ہوں۔ جنہوں نے میری علمی رہنمائی کی ضروری کتابیں فراہم کیں اور اس کام کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولت اور راحت کا اہتمام کیا۔ اگر ناچیز مصنف نے اس کتاب کی تالیف سے دین کی کوئی خدمت انجام دی ہے۔ تو یقیناً یہ سب اس اجر میں شریک ہیں۔
قارئین سے آخر میں یہ گزارش کرنی ہے کہ زندگی تو بڑی چیز ہے۔ انسان اپنے حقیر سے حقیر اندوختہ اور ملکیت بھی بے محل صرف کرنے سے احتیاط کرتا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے بھی امین و محافظ کی تلاش کرتا ہے۔ ایمان (جس پر نجات اور آخرت کی ابدی سعادت کا انحصار ہے) یقیناً اس سے زیادہ مستحق ہے کہ انسان اس کے بارے میں پوری احتیاط اور غور و فکر سے کام لے اور جذبات و تعلقات اور دنیوی منافع سے بالکل صرف نظر کر لے۔ یہ کتاب اپنے مستند و مرتب معلومات، بانی تحریک کے بیانات اور تحریروں اور تاریخی وثائق کے ذریعے وہ روشنی اور مواد فراہم کرتی ہے۔ جو ایک سلیم الطبع اور انصاف پسند انسان کو صحیح اور بے لاگ رائے قائم کرنے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔ ”وعلی الله قصد السبیل“
پروفیسر محمد الیاس برنی مرحوم کی کتاب ”قادیانی مذہب“ نے مصنف کی ابتدائی رہنمائی کی اور اس سے کتاب کی ترتیب کا خاکہ بنانے میں بڑی مدد ملی۔ اگرچہ مصنف نے منقولات واقتباسات پر اکتفا نہیں کیا اور مرزا اور قادیانی جماعت کی تصنیفات کا براہ راست اور بطور خود مطالعہ کیا۔ پھر بھی اس جلیل القدر کتاب سے بہت سے قادیانی مآخذ کا علم ہوا۔ اور یکجا بہت سے معلومات حاصل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی حمیت اور علمی خدمت قبول فرمائے اور ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ ابوالحسن علی ندوی ...... ١١؍ربیع الاول ١٣٧٨ھ
باب اوّل ...... تحریک کا زمانہ اور ماحول اور اس کی مرکزی بنیادی شخصیتیں
فصل اوّل ...... انیسویں صدی عیسوی کا ہندوستان
انیسویں صدی عیسوی تاریخ میں اس لحاظ سے خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اسلامی ممالک میں دماغی بے چینی اور اندرونی کشمکش اپنے شباب کو پہنچ چکی تھی۔ ہندوستان اس بے چینی و کشمکش کا خاص میدان تھا۔ یہاں بیک وقت مغربی و مشرقی تہذیبوں، جدید و قدیم نظام تعلیم اور نظام فکر اور
٤
اسلام و مسیحیت میں معرکہ کار زار گرم تھا اور دونوں طاقتیں زندگی کے لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما تھیں۔
١٨٥٧ء کی آزادی کی کوشش ناکام ہو چکی تھی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے دل شکست کے صدمہ سے زخمی اور ان کا دماغ ناکامی کی چوٹ سے مفلوج ہو رہا تھا۔ وہ دوہری غلامی کے خطرہ سے دو چار تھے۔ سیاسی غلامی اور تہذیبی غلامی، ایک طرف نو خیز فاتح انگریزی سلطنت نے نئی تہذیب و ثقافت کی توسیع و اشاعت کا کام شروع کر دیا تھا۔ دوسری طرف ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلے ہوئے عیسائی پادری مسیحیت کی دعوت و تبلیغ میں خاص سرگرمی دکھا رہے تھے۔ وہ عقائد میں تزلزل پیدا کر دینے اور عقیدہ اور شریعت اسلامی کے ماخذوں اور سرچشموں کے بارے میں مشکوک اور بدگمان بنا دینے کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس پر اسلامی تعلیمات نے پورے طور پر اثر نہیں کیا تھا۔ اس دعوت و تلقین کا خاص طور پر ہدف اور اسکول و کالج اس ذہنی انتشار اور اندرونی کشمکش کا خصوصیت کے ساتھ میدان تھے۔ ہندوستان میں قبول مسیحیت کے واقعات بھی پیش آنے لگے۔ لیکن اس وقت کا اصل مسئلہ اور اسلام کے لئے صحیح خطرہ ارتداد نہ تھا۔ بلکہ الحاد اور عقائد میں تردد و تزلزل تھا۔ عیسائی پادریوں اور مسلمان عالموں میں جا بجا مناظرے اور مباحثے ہوئے۔ جن میں عام طور پر علمائے اسلام کو فتح ہوئی اور عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کا علمی اور عقلی تفوق اور استحکام ثابت ہوا۔ لیکن ان سب کے نتیجہ میں بہر حال طبیعتوں میں ایک بے چینی اور افکار و عقائد میں تزلزل پیدا ہو رہا تھا۔
دوسری طرف فرق اسلامیہ کا آپس کا اختلاف تشویش ناک صورت اختیار کر گیا تھا۔ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کی تردید میں سرگرم اور کمر بستہ تھا۔ مذہبی مناظروں اور مجادلوں کا بازار گرم تھا۔ جن کے نتیجہ میں اکثر زدو کوب، قتل و قتال اور عدالتی چارہ جوئیوں کی نوبت آتی۔ سارے ہندوستان میں ایک مذہبی خانہ جنگی سی برپا تھی۔ اس صورتحال نے بھی ذہنوں میں انتشار، تعلقات میں کشیدگی اور طبیعتوں میں بیزاری پیدا کر دی تھی اور علماء کے وقار اور دین کے احترام کو بڑا صدمہ پہنچا تھا۔
دوسری طرف خام صوفیوں اور جاہل دلق پوشوں نے طریقت و ولایت کو بازیچہ اطفال بنا رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے ”شطحات“ (وہ کلمات و ملفوظات جو صوفیا سے غلبۂ حال اور سکر میں صادر ہوتے ہیں۔) والہامات کی بڑے پیمانے پر اشاعت کی تھی۔ جا بجا لوگ الہام کا دعویٰ اور عجیب و غریب خوارق اور بشارتوں کی روایت کرتے پھرتے تھے۔ اس کے اثر سے عوام میں اسرار
٥
ورموز، خوارق و کرامات اور غیبی اطلاعات خوابوں اور پیش گوئیوں کے سننے کا غیر معمولی شوق پیدا ہو گیا تھا۔ جو شخص یہ جنس جتنی زیادہ پیش کرتا تھا۔ اتنا ہی وہ عوام میں مقبول ہوتا اور ان کی عقیدت و احترام کا مرکز بنتا۔ عیار درویشوں اور چالاک دین فروشوں نے عوام کی اس ذہنیت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ طبیعتیں اور دماغ نا قابل فہم چیز کے قبول کرنے کے لئے ہر نئی چیز کو ماننے کے لئے، ہر دعوت و تحریک کا ساتھ دینے کے لئے اور ہر روایت و افسانے کی تصدیق کے لئے تیار ہو گئی تھیں۔
مسلمانوں پر عام طور پر یاس و نا امیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔ ١٨٥٧ء کی جدوجہد کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چلے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور ملہم اور مؤید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی۔ کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے۔ مجلسوں میں زمانہ آخر کے فتنوں اور واقعات کا چرچا تھا۔ شاہ نعمت اللہ ولی کشمیری کے طرز کی پیش گوئیوں اور الہامات سے سہارا حاصل اور غم غلط کیا جاتا تھا۔ خواب، فالوں اور غیبی اشاروں میں مقناطیس کی کشش تھی اور وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے مومیائی کا کام دیتے تھے۔
پنجاب ذہنی انتشار و بے یقینی ، ضعیف الاعتقادی اور دینی ناواقفیت کا خاص مرکز تھا۔ ہندوستان کا یہ علاقہ اسی برس تک مسلسل سکھ حکومت کے مصائب برداشت کر چکا تھا۔ جو ایک طرح کی مطلق العنان فوجی حکومت تھی۔ ایک صدی سے کم کے اس عرصہ میں پنجاب کے مسلمانوں کے عقائد میں تزلزل اور دینی حمیت میں خاصا ضعف آچکا تھا۔ صحیح اسلامی تعلیم عرصہ سے مفقود تھی۔ اسلامی زندگی اور معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہوچکی تھیں۔ دماغوں اور طبیعتوں میں انتشار و پراگندگی تھی اور مختصراً اقبال کے الفاظ میں ۔
اندراں کشور مسلمانی بمرد
اس صورتحال نے پنجاب کو ذہنی بغاوت اور ایک ایسی جدت پسند تحریک و دعوت کے سرسبز و کامیاب ہونے کے لئے موزوں ترین میدان بنا دیا تھا۔ جس کی بنیاد تاویلات و الہامات پر ہو۔ قوم کے بڑے حصے کا مزاج وہ بن گیا تھا۔ جس کو اقبال نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہارتا ہے بہت جلد
(ضرب کلیم)
اس انیسویں صدی کا اختتام تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نئی دعوت و تحریک کے ساتھ منظر عام پر آئے ان کو اپنی دعوت اور اپنے حوصلوں اور بلند ارادوں کی تکمیل کے لئے مناسب زمانہ اور مناسب جگہ ملی۔ طبیعتوں کی عام بے چینی عوام کی عجائب پرستی ، معتدل ذرائع اصلاح وانقلاب سے مایوسی ، علماء کے وقار واعتماد کا زوال وتنزل ، مذہبی بحثوں کی گرم بازاری اور اس کے نتیجہ میں عامیانہ ذوق جستجو اور طبیعتوں کی آزادی ، ہر چیز ان کے لئے معاون اور سازگار ثابت ہوئی۔ دوسری طرف حکومت وقت نے ( جو مجاہدین کی تحریک سے زک اٹھا چکی تھی اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور جوش مذہبی سے پریشان وہراساں رہتی تھی ) اس تحریک کا خیر مقدم کیا۔ جس نے حکومت برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور اخلاص کو اپنے بنیادی عقائد اور مقاصد میں شامل کیا تھا اور جس کے بانی کا حکومت کے ساتھ قدیم اور غیر مشتبہ تعلق تھا۔ ان تمام عناصر واسباب نے مل کر وہ مناسب ومعاون ماحول فراہم کیا۔ جس میں یہ تحریک وجود میں آئی اور اس نے اپنے پیرو اور ہم خیال پیدا کر لئے اور ایک مستقل فرقہ کی بنیاد پڑ گئی۔
اس تحریک کے ظہور اور ارتقاء اس کے مزاج ونظام ، اس کے نتائج واثرات اور اس کی دینی وتاریخی حیثیت پر ہم آئندہ صفحات میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
فصل دوم ...... مرزا غلام احمد قادیانی ١
نسب اور خاندان
مرزا قادیانی کا نسبی تعلق مغل قوم اور اس کی خاص شاخ برلاس سے ہے۔ کتاب البریہ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں : ”ہماری قوم مغل برلاس ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٣٤ حاشیہ ،خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)
لیکن کچھ عرصہ کے بعد ان کو بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ وہ ایرانی النسل ہیں۔
١ مرزا قادیانی کے حالات کے سلسلہ میں ہم نے خود مرزا قادیانی کے بیانات وتصریحات اور ان کی تحریروں پر اکتفاء کی ہے۔ اس کے بعد ان کے حالات زندگی کے سلسلہ میں اس کتاب کا سب سے بڑا ماخذ ان کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد کی تصنیف سیرۃ المہدی اور قادیانی جماعت کی دوسری مستند کتابیں ہیں۔
٧
اسی کتاب کے حاشیہ پر وہ لکھتے ہیں: ”الہام میری نسبت یہ ہے’الایمان معلقا بالثریا لناله رجل من فارس١‘ یعنی اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو یہ مرد جو فارس الاصل ہے وہ جا کر اس کو لے لیتا اور پھر ایک تیسرا الہام میری نسبت یہ ہے۔’ان الذین کفروا رد علیہم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ ‘یعنی جو لوگ کافر ہوئے۔ اس مرد نے جو فارسی الاصل ہے۔ ان کے مذاہب کو رد کر دیا۔ خدا اس کی کوشش کا شکر گزار ہے۔ یہ تمام الہامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ والحق ما اظہرہ اللہ“
(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٤٥، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)
نیز اربعین میں لکھتے ہیں: ”یادر ہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا کہ ہماری بعض دادیاں شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کے کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ کسی دوسرے کو ہرگز معلوم نہیں۔ اسی کا علم صحیح اور یقینی اور دوسرے کا ظنی اور تخمینی ہے۔“
(اربعین ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
مرزا قادیانی کے پردادا مرزا گل محمد، صاحب جائداد و املاک تھے اور پنجاب میں ان کی اچھی خاصی ریاست تھی۔ مرزا قادیانی نے ان کی رئیسانہ شان، تزک و احتشام ان کے وسیع دستر خوان اور ان کے دینی اثرات کو تفصیل سے لکھا ہے۔
(کتاب البریہ ص ١٤٧، ١٥٢، خزائن ج ١٣ ص ١٦٥، ١٧٠)
ان کے انتقال کے بعد اس ریاست کو زوال آیا اور سکھ ریاست کے دیہاتوں پر قابض ہو گئے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کے دادا مرزا عطاء محمد کے پاس صرف قادیان رہ گیا۔ آخر میں سکھوں نے اس پر بھی قبضہ کر لیا اور مرزا قادیانی کے خاندان کو قادیان سے نکال دیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخر زمانہ میں مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیان واپس آئے
١؎ یہ حدیث صحاح میں الفاظ کے خفیف اختلاف کے ساتھ آئی ہے۔ بعض روایتوں میں رجال من فارس بھی ہے۔ علماء و محدثین نے اس سے حضرت سلمان فارسی اور ان ایرانی النسل علماء و اکابر کو مراد لیا ہے جو اپنی قوت ایمانی اور خدمت دینی میں خاص امتیاز رکھتے تھے۔ انہیں میں امام ابو حنیفہ بھی ہیں جو فارسی الاصل ہیں۔
٨
اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے علاقہ میں پانچ گاؤں واپس ملے۔
(کتاب البریہ ص ١٥٦، ١٥٨، خزائن ج ١٣ ص ١٧٦، ١٧٧)
مرزا قادیانی کا خاندان انگریزی حکومت سے جو پنجاب میں نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ شروع سے وفادارانہ ومخلصانہ تعلق رکھتا تھا۔ اس خاندان کے متعدد افراد نے اس نئی حکومت کی ترقی اور اس کے استحکام میں جانبازی اور جانثاری سے کام لیا تھا اور بعض نازک موقعوں پر اس کی مدد کی تھی۔
مرزا قادیانی کتاب البریہ کے شروع میں ”اشتہار واجب الاظہار“ میں لکھتے ہیں:
”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں۔ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب جموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“
(کتاب البریہ ص ١٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
پیدائش، تعلیم و تربیت
مرزا قادیانی سکھ حکومت کے آخری عہد ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان میں پیدا ہوئے۔
(کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
خود ان کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٨٥٧ء کے ہنگامہ کے وقت وہ سولہ سترہ برس کے تھے۔
(کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
مرزا قادیانی نے اپنے گھر ہی پر متوسطات تک تعلیم پائی۔ انہوں نے مولوی فضل الٰہی مولوی فضل احمد اور مولوی گل علی شاہ سے نحو اور منطق کی کتابیں پڑھیں۔ طب کی کتابیں اپنے والد صاحب سے پڑھیں جو ایک حاذق طبیب تھے۔ مرزا قادیانی کو اپنی طالب علمی کے زمانہ میں کتابوں کے مطالعہ میں بڑا انہماک تھا۔ وہ لکھتے تھے: ”ان دنوں میں مجھے کتابوں کی طرف اس
٩
قدر توجہ تھی۔ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔“
(کتاب البریہ ص١٦٣، خزائن ج١٣ ص١٨١)
یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہا اور مرزا قادیانی کو اپنے والد کے اصرار سے آبائی زمینداری کے حصول کے لئے جدوجہد اور عدالتی کارروائیوں میں مصروف ہونا پڑا۔
وہ لکھتے ہیں: ”مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان جھگڑوں میں ضائع ہوا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔“
(کتاب البریہ ص١٦٤، خزائن ج١٣ ص١٨٢)
ملازمت اور مشغولیت
مرزا قادیانی نے سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازمت کر لی تھی۔ وہ ١٨٦٤ء سے ١٨٦٨ء تک چار سال اس ملازمت میں رہے۔
دوران ملازمت میں انہوں نے انگریزی کی بھی ایک دو کتابیں پڑھیں۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٥٥، روایت نمبر١٦)
اسی زمانہ میں انہوں نے مختاری کا امتحان دیا۔ لیکن اس میں ناکامیاب رہے۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٥٦، ایضاً)
١٨٦٨ء میں وہ اس ملازمت سے استعفاء دے کر قادیان آگئے اور بدستور زمینداری کے کاموں میں مشغول ہو گئے۔ ”مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔“
(کتاب البریہ ص١٦٩، خزائن ج١٣ ص١٨٧)
اخلاق واوصاف
مرزا قادیانی بچپن ہی سے بہت سادہ لوح تھے۔ دنیا کی چیزوں سے ناواقفیت اور استغراقی کیفیت شروع ہی سے ان میں نمایاں تھی۔ ان کو گھڑی میں چابی دینے میں ناغہ ہو جاتا۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٤٧، روایت نمبر٤٤٤)
”جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسہ یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔ گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص١٨٠، روایت نمبر١٢٥)
فرط استغراق میں دائیں بائیں جوتے کا امتیاز مشکل ہو جاتا تھا۔ مرزا بشیر احمد صاحب
١٠
سیرت المہدی میں لکھتے ہیں: ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ۔ ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٦٧، روایت نمبر ٨٣)
”بار بار پیشاب آنے کی وجہ سے اکثر جیب میں ڈھیلے رکھتے تھے اور شیرینی سے غیر معمولی رغبت کی وجہ سے گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔“
(تتمہ براہین احمدیہ طبع اول ج ١ ص ٦٧، مرزا کے حالات مرتبہ معراج دین قادیانی)
مرزا قادیانی کی صحت اور شکایتیں
مرزا قادیانی کو جوانی میں ہسٹیریا کی شکایت ہوگئی تھی اور کبھی کبھی اس کا ایسا دورہ پڑتا تھا کہ بیہوش ہو کر گر جاتے تھے۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦، روایت نمبر ١٩)
مرزا قادیانی کبھی اس کو ہسٹیریا اور کبھی مراق سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ان کو ذیابیطس اور کثرت بول کی بھی شکایت تھی۔ ایک جگہ یہ لکھتے ہیں کہ: ”میں دائم المرض آدمی ہوں ۔“ تحریر فرماتے ہیں: ”ہمیشہ درد سر، دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسرا عارضہ جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(اربعین ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)
مرزا قادیانی نے اپنی جوانی میں مجاہدات اور چلہ کشی بھی کی اور مسلسل روزے بھی رکھے۔ انہوں نے ایک طویل چلہ کیا۔ جس میں برابر چھ ماہ تک روزے رکھے۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٧٦، روایت نمبر ٩٧)
انہوں نے ١٨٨٦ء میں ہوشیار پور میں ایک چلہ کھینچا۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٦٩، ٧٠، روایت نمبر ٨٨)
آخر میں خرابی صحت اور کمزوری کی وجہ سے ان مجاہدات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا۔ ٣١/ مارچ ١٨٩١ء کے خط میں حکیم نورالدین صاحب کو لکھتے ہیں: ”اب طبیعت متحمل شدائد مجاہدات
١١
نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجہ کی محنت اور خوض وتوجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ص١٠٣ نمبر٢)
مرجعیت اور فارغ البالی
مرزا قادیانی نے اپنی زندگی عسرت وتنگی اور ایک معمولی حیثیت سے شروع کی۔ لیکن جب دعوت وتحریک نے فروغ پایا اور وہ ایک کثیر التعداد اور مرفه الحال، فرقے کے روحانی پیشوا اور مقتداء ہوئے تو ان کو پوری فارغ البالی حاصل ہوگئی اور وہ امیرانہ زندگی گزارنے لگے۔ ان کو خود بھی اس انقلاب اور ابتدائی اور آخری زندگی کے اس تفاوت کا احساس تھا۔ ١٩٠٧ء میں ایک موقع پر اپنی ابتدائی حالت اور موجودہ حالت کا مقابلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں ایک شخص بھی نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے ہماری مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہیں تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدائے تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو۔“
اس کے نیچے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”اگرچہ منی آرڈروں کے ذریعہ ہزار ہا روپے آچکے ہیں۔ مگر اس سے زیادہ وہ ہیں جو خود مخلص لوگوں نے آکر دیئے اور جو خطوط کے اندر نوٹ آئے اور بعض مخلصوں نے نوٹ یا سونا اس طرح بھیجا جو اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا اور مجھے اب تک معلوم نہیں کہ ان کے نام کیا کیا ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١١ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٢٢١)
نکاح اور اولاد
مرزا قادیانی نے ١٨٥٢ء یا ١٨٥٣ء میں پہلا نکاح اپنے خاندان میں کیا۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٥٠، روایت نمبر٢٦٧)
ان بی بی سے دو صاحبزادے مرزا سلطان احمد، مرزا فضل احمد ہوئے۔ ان بی بی کو ١٨٩١ء میں انہوں نے طلاق دے دی تھی۔ ان کی دوسری شادی ١٨٨٤ء میں دہلی میں نواب ناصر کی صاحبزادی سے ہوئی۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١٥١، روایت نمبر٢٦٧)
١٢
مرزا قادیانی کی بقیہ اولاد انہیں کے بطن سے ہے۔ ان سے تین صاحبزادے ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود، مرزا بشیر احمد (مصنف سیرۃ المہدی) مرزا شریف احمد۔
وفات
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔
(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو باب ثانی فصل دوم)
پھر ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا۔
(ملاحظہ ہو باب ثانی فصل سوم)
تو علمائے اسلام نے ان کی تردید ومخالفت شروع کی۔ تردید ومخالفت کرنے والوں میں مشہور عالم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مدیر اہل حدیث پیش پیش اور نمایاں تھے۔ مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار جاری کیا۔ جس میں مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ”اگر میں ایسا ہی کذّاب ومفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت وحسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔“
”اور اگر میں کذّاب ومفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں ١؎ تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)
اس اشتہار کے ایک سال بعد ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی بمقام لاہور بعد عشاء اسہال میں مبتلا ہوئے۔ اسہال کے ساتھ استفراغ بھی تھا۔ رات ہی کو علاج کی تدبیر کی گئی۔ لیکن ضعف بڑھتا گیا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔ بالآخر ٢٦؍مئی سہ شنبہ کو دن چڑھے آپ نے انتقال کیا۔ مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب صاحب کا بیان ہے۔
”حضرت مرزا صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ میں جب حضرت صاحب کے پاس
١؎ مولانا نے مرزا قادیانی کی وفات کے پورے چالیس برس بعد ١٥؍ مارچ ١٩٤٨ء میں اسی برس کی عمر میں (سرگودھا میں) وفات پائی۔
١٣
پہنچا تو آپ نے مجھے خطاب کر کے فرمایا۔ میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے دن دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
نعش قادیان لے جائی گئی۔ ٢٧؍ مئی ١٩٠٨ء کو تدفین عمل میں آئی۔ حکیم نور الدین صاحب بھیروی خلیفہ اور جانشین مقرر ہوئے۔
فصل سوم ...... حکیم نور الدین صاحب بھیروی
مذہب و تحریک قادیانیت کی تاریخ میں اہمیت و مرکزیت کے لحاظ سے مرزا قادیانی کے بعد حکیم نورالدین بھیروی ہی کا درجہ ہے۔ بعض اہل نظر کا خیال ہے کہ حکیم صاحب اس پورے سلسلے میں دماغ کا درجہ رکھتے ہیں اور اس تحریک و نظام کا علمی و فکری سرچشمہ ان کی ذات ہے۔
نشو و نما اور تعلیم
حکیم نور الدین ١٢٥٨ھ (١٨٤١ء) میں بھیرہ (ضلع سرگودھا سابق شاہ پور پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ اس حساب سے ١٨٥٧ء میں وہ سولہ برس کے جوان تھے اور مرزا قادیانی سے ایک ہی دو سال چھوٹے تھے۔ ان کے والد حافظ غلام رسول صاحب بھیرہ کی ایک مسجد کے امام تھے۔ ان کی سوانح میں بتایا گیا ہے کہ وہ نسبتاً فاروقی ہیں۔
ان کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہوئی۔ اپنی والدہ صاحبہ سے پنجابی زبان میں فقہ کی کتابیں پڑھیں۔ پھر بچپن میں لاہور گئے۔ وہاں منشی محمد قاسم کشمیری سے فارسی اور مرزا امام ویردی سے کچھ خوش خطی سیکھی۔ مگر ان دونوں چیزوں سے انہیں کچھ دل چسپی نہیں ہوئی۔ یہ دونوں استاد شیعہ تھے۔ ١٢٧٢ھ میں وہ وطن واپس آئے اور انہوں نے کچھ عرصہ تک میاں حاجی شرف الدین سے کچھ پڑھا۔ اسی زمانہ میں باضابطہ عربی کی تعلیم شروع ہوئی۔ حضرت سید احمد صاحب کے مجاہدین سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کتب کے اثر و صحبت سے ان کو ترجمہ قرآن کا شوق ہوا اور انہوں نے تقویۃ الایمان اور مشارق الانوار شوق سے پڑھیں۔ کچھ عرصہ کے بعد لاہور آکر کسی قدر علم طب کی تحصیل کی۔ ابھی ابتدائی تعلیم ہی تھی کہ ١٨٥٨ء میں انہوں نے راولپنڈی کے نارمل
١؎ حکیم صاحب کے حالات مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نور الدین مصنفہ اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی سے ماخوذ ہیں۔ یہ حالات حکیم صاحب کے خود سنائے ہوئے ہیں۔ اکبر شاہ خان صاحب (صاحب تصنیفات کثیرہ) نے جو اس وقت حکیم صاحب کے پیرو اور ان کے شاگرد رشید تھے، قلمبند کر لئے تھے۔
١٤
اسکول میں ملازمت کر لی تھے۔ ایک تفصیلی امتحان می کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔ کی تکمیل کی طرف متوجہ ہ صاحب کے نام سے مشہو سلسلہ جاری رکھا۔ وہاں افغانی سے، اصول الشاشی صاحب سے، صدرا و غیر رسالہ و میر زاہد ملا جلال بہ اسماعیل شہید کی حمایت کا گفتگو کرتے تھے۔ رام پو صاحب سے طب کی تعلی رام پور کا قصد کیا تو وہ بھی سے مزید ادب کی تعلیم و خدمت میں مجموعی طور وہ بھوپال آئے۔ جو اس ایک بڑا علمی مرکز بن گیا اور اپنے پاس ٹھہرایا۔ ب صاحب بڈھانوی خلیف نے تکمیل علم اور حصول ۔
١؎ یہاں پر خود سنایا کہ انہوں نے صاحب نے فرمایا: ”خ سے مراد یہ ہے کہ اگر تم یرید ”خدا ہی کی رسول ہی کی صفت ہے
اسکول میں ملازمت کر لی۔ خود فارسی پڑھاتے تھے اور ایک ماسٹر سے حساب و جغرافیہ پڑھتے تھے۔ ایک تحصیلی امتحان میں کامیابی حاصل کر کے وہ پنڈ دادن خان میں ہیڈ ماسٹر ہو گئے اور عربی کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔ چار برس کے بعد ملازمت سے تعلق جاتا رہا اور وہ پورے طور پر اپنی تعلیم کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوئے۔ کچھ عرصہ مولوی احمد الدین صاحب سے (جو بکے والے قاضی صاحب کے نام سے مشہور تھے) پڑھا۔ پھر شوقِ علم میں ہندوستان کا سفر کیا اور رام پور میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہاں مشکوٰۃ مولانا حسن شاہ صاحب سے، شرح وقایہ مولوی عزیز اللہ صاحب افغانی سے، اصول الشاشی و میبذی مولانا ارشاد حسین صاحب سے، دیوان متنبی مولوی سعد اللہ صاحب سے، صدرا وغیرہ مولوی عبد العلی صاحب سے پڑھیں۔ منطق کی منتہیانہ کتابیں میر زاہد رسالہ و میر زاہد ملا جلال بھی بے دلی اور بے رغبتی سے پڑھیں۔ اس زمانہ میں حکیم صاحب کو مولانا اسماعیل شہیدؒ کی حمایت کا بڑا جوش تھا اور کبھی کبھی وہ اپنے اساتذہ سے بڑی بے باکی اور دلیری سے گفتگو کرتے تھے۔ رام پور سے حکیم صاحب لکھنؤ آئے اور وہاں کے ایک نامی طبیب حکیم علی حسین صاحب سے طب کی تعلیم شروع کی۔ حکیم صاحب نے جب نواب کلب علی خان مرحوم کی طلبی پر رام پور کا قصد کیا تو وہ بھی ساتھ گئے۔ رام پور کے دورانِ قیام میں انہوں نے مفتی سعد اللہ صاحب سے مزید ادب کی تعلیم حاصل کی۔ حکیم نور الدین صاحب حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کی صحبت و خدمت میں مجموعی طور پر دو برس رہے۔ رام پور سے عربی کی تکمیل اور درس حدیث کے شوق میں وہ بھوپال آئے۔ جو اس وقت رئیسہ بھوپال کی قدر دانی اور نامی گرامی علماء کے اجتماع کی وجہ سے ایک بڑا علمی مرکز بن گیا تھا۔ وہاں منشی جمال الدین خان صاحب مدار المہام نے ان کی سر پرستی کی اور اپنے پاس ٹھہرایا۔ بھوپال میں انہوں نے مولانا مفتی عبد القیوم صاحب (فرزند مولانا عبد الحئی صاحب بڈھانوی خلیفہ حضرت سید احمد شہیدؒ) سے بخاری اور ہدایہ کا درس لیا۔ بھوپال سے انہوں نے تکمیل علم اور حصول سعادت کی نیت سے حرمین شریفین کا قصد کیا۔
١؎ یہاں پر یہ لطیفہ قابل شنید ہے جو حکیم صاحب نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے خود سنایا کہ انہوں نے مفتی عبد القیوم صاحب سے چلتے وقت عرض کیا کہ مجھے وصیت کیجئے۔ مفتی صاحب نے فرمایا: ”خدا نہ بننا اور رسول نہ بننا۔“ مفتی صاحب نے اس کی تشریح کی کہ خدا نہ بننے سے مراد یہ ہے کہ اگر تمہاری کوئی خواہش پوری نہ ہو تو کبیدہ خاطر نہ ہونا۔ اس لئے کہ ”فعال لما یرید“ خدا ہی کی صفت ہے اور اگر کوئی تمہارا فتویٰ نہ مانے تو اس کو جہنمی نہ سمجھنا۔ اس لئے کہ یہ رسول ہی کی صفت ہے کہ اس کی نافرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔ (مرقاۃ الیقین ص ٨٨)
١٥
حکیم صاحب نے مکہ معظمہ میں شیخ محمد خزرجی سے ابوداؤد ، سید حسین سے صحیح مسلم اور مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی (صاحب اظہار الحق) سے مسلم الثبوت پڑھنا شروع کیا ۔ بعض مرتبہ اساتذہ سے مباحثہ ہوتا تھا اور ان کا عدم تقلید کا رجحان اور اپنی رائے اور فہم پر اعتماد و اصرار کا اظہار ہوتا تھا۔
(مرقاۃ الیقین ص ٩٥، ٩٦)
حکیم صاحب نے ابوداؤد ، ابن ماجہ شیخ محمد خزرجی سے ختم کیں۔ اسی دوران میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددیؒ مکہ معظمہ تشریف لائے۔ شاہ صاحب جب مدینہ منورہ واپس گئے تو حکیم صاحب بھی مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور شاہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت سلوک کی اور چھ مہینے ان کی خدمت میں ٹھہر کر استفادہ کیا۔
قیام وطن اور ملازمت
حکیم صاحب حج و زیارت سے فارغ ہو کر اپنے وطن بھیرہ واپس آئے اور یہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔ اس دوران میں عمل بالحدیث اور رسوم مروجہ کے سلسلے میں ان کے اور اہل شہر کے درمیان بحث و مباحثہ اور ردوکد ہوئی اور اس کے نتیجہ میں شہر میں ایک عام برہمی اور شورش پیدا ہوئی ۔ حکیم صاحب کی طبیعت میں لوگوں کی جہالت اور جمود و تعصب اور اپنے علمی تفوق اور تبحر کا احساس پیدا ہوا۔ اسی دوران وہ دہلی بھی گئے ۔ جہاں لارڈ لٹن کا دربار ہو رہا تھا۔ وہاں منشی جمال الدین خان صاحب مدارالمہام بھوپال سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور وہ اپنے ساتھ ان کو بھوپال لے آئے ۔ کچھ عرصہ وہ وہاں قیام کر کے وطن واپس آئے اور بھیرہ میں مطب شروع کر دیا۔ ان کی حذاقت اور کمال فن کا شہرہ سن کر مہاراجہ جموں نے ان کو اپنا طبیب خاص مقرر کر لیا اور انہوں نے ایک عرصہ تک جموں ، پونچھ اور کشمیر کے والیان ریاست کی خدمت کی ۔ حکیم صاحب نے اپنی طبی مہارت ، طلاقت لسانی اور علم و ذکاوت سے ریاست میں بڑا اثر و رسوخ پیدا کر لیا تھا اور وہ ریاست کے امور اور مہاراجہ کے مزاج میں خاصے دخیل ہو گئے تھے۔
مرزا قادیانی سے تعارف و تعلق
جموں کے زمانہ قیام ہی میں حکیم صاحب کا مرزا قادیانی سے تعارف ہوا۔ جو بسلسلہ ملازمت سیالکوٹ میں مقیم تھے۔ غالباً بھیرہ آتے جاتے وہ سیالکوٹ سے گزرتے تھے اور ہم مذاقی اور طبعی مناسبت کی وجہ سے وہ مرزا قادیانی سے ملتے ہوئے جاتے تھے۔ (دونوں کو مذاہب غیر کے مطالعہ اور آریہ سماج و عیسائیوں کی تردید و مناظرہ کا شوق تھا ۔ )
یہ تعارف و ملاقات بہت جلد دوستی میں تبدیل ہو گئی اور دونوں ایک دوسرے کے ہمدم
١٦
وہمراز بن گئے۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢)
جب مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ تصنیف کی تو حکیم صاحب نے تصدیق براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔ حکیم صاحب کی مرزا قادیانی سے عقیدت و شیفتگی بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ مرزا قادیانی سے بیعت بھی ہو گئے تھے اور انہوں نے ان کو اپنا پیرومرشد اور امام اور مقتداء مان لیا تھا۔ حکیم صاحب کے مندرجہ ذیل خط سے ان کے اس گہرے تعلق اور عقیدت کا پتہ چلتا ہے۔
مولانا، مرشدنا، امامنا، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عالی جناب! میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زماں سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے۔ وہ مطالب حاصل کروں۔ اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفا دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔ میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں ہے۔ آپ کا ہے۔ حضرت پیرومرشد! میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں قربان ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجا لاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔ حضرت پیر و مرشد! نا بکار شرمسار عرض کرتا ہے۔ اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔ میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ مجھ پر ڈال دیا جائے۔ پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ دعا فرمائیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔
(مرقاۃ الیقین ص ١٧، ١٨)
حکیم صاحب مرزا قادیانی کے بارے میں ایسے راسخ الاعتقاد تھے کہ جب مرزا قادیانی نے ”فتح اسلام“ اور ”توضیح مرام“ تصنیف کیں اور حکیم صاحب کو ابھی دیکھنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ ایک شخص نے حکیم صاحب سے کہا کہ کیا نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ حکیم صاحب نے کہا، نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ حکیم صاحب نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ صادق و راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔ حکیم صاحب نے یہ روایت خود ہی سنائی اور یہ قصہ سنا کر فرمایا کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ میرا تو ایمان یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کریں اور
١٧
قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے واقعی آپ کو صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہو گا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٩٨، ٩٩، روایت نمبر ١٠٩)
حکیم صاحب نے جموں کے تعلق ہی کے زمانہ میں مرزا قادیانی کی ہدایت و تلقین سے عیسائیت کی تردید میں ”فصل الخطاب“ کے نام سے ایک کتاب چار جلدوں میں لکھی۔ وہ مرزا قادیانی کی تصانیف کی طباعت و اشاعت کے مصارف میں بڑی عالی حوصلگی اور دریا دلی سے حصہ لیتے رہے اور مرزا قادیانی نے بارہا ان سے بیش قرار رقمیں قرض لیں اور ان کی حمیت اسلامی نصرت دینی اور بلند ہمتی کا اعتراف کیا۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ دوم ص ٤٥)
مرزا قادیانی کا ان کے بارے میں مشہور شعر ہے ؎
ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے
(مرقاۃ الیقین ص ١٧)
قیام قادیان و خلافت
بعض اسباب اور کار پردازان ریاست کے جوڑ توڑ سے مہاراجہ کی طبیعت حکیم صاحب سے کبیدہ اور کشیدہ ہو گئی اور ١٨٩٣ء یا ١٨٩٤ء میں یہ تعلقِ ملازمت ختم ہو گیا اور حکیم صاحب اپنے وطن بھیرہ چلے گئے۔ جہاں کچھ عرصہ قیام اور مطب کرنے کے بعد وہ مستقل طور پر قادیان منتقل ہو گئے اور انہوں نے اپنی زندگی مرزا قادیانی کی حمایت اور تحریک کی دعوت و اشاعت کے لئے وقف کر دی۔
مرزا قادیانی کی وفات (٢٦ مئی ١٩٠٨ء) پر وہ مرزا قادیانی کے خلیفۂ اوّل قرار پائے۔ لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ خلیفۃ المسیح الموعود اور نور الدین اعظم ان کا خطاب ہوا۔ حکیم صاحب کو ایک عرصہ تک ان لوگوں کی تکفیر میں تردد تھا۔ جو مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے۔ لیکن پھر وہ ان کی تکفیر کے قائل ہو گئے۔
(کلمۃ الفصل ص ١٢٠، ١٢١)
حکیم صاحب کی خلافت کے بارے میں کچھ تنازعہ بھی پیش آیا اور کچھ لوگوں نے ان کی خلافت پر سخت اعتراضات کئے۔ ایک ایسے ہی موقع پر انہوں نے ارشاد فرمایا: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔ سو اب کس میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا۔ مجھے تمہارا امام و خلیفہ
١٨
FC
بنادیا۔ ہزار نالائقیاں مجھ پر تھوپو، مجھ پر نہیں خدا پر لگیں گی۔ جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔"
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ص٢٣٢ نمبر ٢ ج ١٤)
ایک دوسرے موقع پر فرمایا: ”مجھے خدا نے خلیفہ بنادیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔ اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔“
(تشحیذ الاذہان قادیان ج ٩ نمبر ١١)
وفات
حکیم صاحب چھ سال تک منصب خلافت پر فائز رہے۔ وہ گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے اور صاحب فراش ہو گئے اور اسی صدمہ سے ١٣ مارچ ١٩١٤ء کو انتقال کیا۔ انتقال سے چند روز پہلے ان کی زبان بند ہو گئی تھی۔
(الفضل مورخہ ٢٣؍ فروری ١٩٣٢ء)
انہوں نے مرزا بشیر الدین محمود فرزند اکبر مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا جانشین وخلیفہ منتخب کیا۔
حکیم صاحب کی شخصیت اور ذہن و مزاج
حکیم صاحب کی داستان زندگی پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بے چین طبیعت پائی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے بڑے حصے میں ذہنی کشمکش میں مبتلا رہے۔ ان میں شروع سے عقل پرستی کا رجحان پایا جاتا تھا۔ پہلے وہ مذاہب اربعہ کی تقلید کی بندش سے آزاد ہوئے اور اس میں ان کو خاصا غلو رہا۔ پھر وہ سرسید احمد خان مرحوم کے لٹریچر سے متاثر ہوئے اور ان کے ذہن نے ان کی تعلیمات اور ان کے طرز فکر کو پورے طور پر جذب کر لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ہندوستان میں سائنس اور طبیعات کی ابتدائی معلومات اور اس کی نئی تحقیقات نئی نئی آئی تھیں اور ہندوستانی مسلمانوں کا عقلیت پسند طبقہ ان سے بڑا متاثر ہو رہا تھا۔ جو لوگ دینی رجحان رکھتے تھے۔ وہ دینی حقائق اور قرآن کے بیان و تعلیمات کو ان طبیعاتی معلومات و تحقیقات کے ساتھ منطبق کرتے اور اگر آسانی سے منطبق نہ ہوسکتیں تو قرآن مجید کی آیات اور الفاظ کی بڑی سے بڑی تاویل اور توجیہہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ حکیم صاحب کا درس تفسیر اس طرز فکر اور اس ذہنی رجحان کا ایک نمونہ تھا۔
(اس کا نمونہ ان کے حلقہ درس کے نامور تربیت یافتہ مولوی محمد علی لاہوری کی تفسیر بیان القرآن اردو، انگریزی میں دیکھا جا سکتا ہے)
مرزا بشیر احمد سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں: ”حضرت نور الدین صاحب خلیفہ اوّل بھی
١٩
سر سید کے خیالات اور طبیعت سے بہت متاثر تھے ...... مگر حضرت صاحب کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ دھلتا گیا۔"
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٥٩، روایت نمبر ١٥٠)
لیکن حکیم صاحب کے خیالات کے مطالعہ اور ان کے تلامذہ کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ سرسید کے اثر سے، خواہ افتاد طبع سے وہ آخر تک اس طرز پر قائم رہے اور ان کا ذہن اس سانچے میں پورے طور پر ڈھل چکا تھا اور یہ ان کا مزاج بن چکا تھا۔
حکیم صاحب کی شخصیت اور زندگی کا نفسیاتی طریقہ پر مطالعہ کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ روشن خیالی اور عقلیت پسندی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر خوش اعتقادی اور دینی گرویدگی کا اچھا خاصہ مادہ پایا جاتا تھا۔ وہ عقلیت اور عدم تقلید کے ساتھ ساتھ الہامات اور خوابوں سے بڑے متاثر ہوتے تھے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ روشن خیالی اور حریت فکر بلکہ ذہنی بغاوت کے ساتھ ساتھ ایک ہی شخص کی شخصیت میں خوش عقیدگی اور انفعال کا بھی پورا پورا مادہ ہوتا ہے۔ وہ بعض اداروں، نظاموں اور شخصیتوں کے خلاف بڑے جوش و خروش کے ساتھ علم بغاوت بلند کرتا ہے اور آخر دم تک ان سے برسر جنگ رہتا ہے۔ لیکن کسی شخصیت و دعوت کے سامنے وہ بالکل سرافگندہ و سپر انداختہ نظر آتا ہے اور اپنے قوائے فکر کو بالکل معطل کر دیتا ہے۔ انسان کی زندگی عمل و رد عمل کا ایک عجیب مجموعہ اور اس کی شخصیت مختلف عناصر کا ایک ایسا مرکب نظر آتی ہے کہ انسان ایک منفرد شخصیت نہیں بلکہ مختلف شخصیتوں کا ایک مجموعہ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی چیز کا سمجھنا انسان کی شخصیت اور اس کے مقاصد و محرکات کے سمجھنے سے زیادہ مشکل نہیں۔
باب دوم ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدہ اور دعوت
کا تدریجی ارتقاء اور دعاوی کی ترتیب
فصل اوّل ...... مرزا قادیانی مصنف و مبلغ اسلام کی
حیثیت سے تصنیف و مناظرہ کے میدان میں
مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق اس وقت تک ہماری معلومات یہ تھیں کہ وہ ضلع گورداسپور کے ایک قصبہ میں مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں منہمک ہیں۔ ان کی جو تصنیفات ١٨٨٠ء کے بعد شائع ہوئی ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے مطالعہ کا موضوع زیادہ تر کتب
٢٠
مذاہب اور خاص طور پر مسیحیت، سناتن دھرم اور آریہ سماج کی کتابیں ہیں۔
یہ دور مذہبی مناظروں کا دور تھا اور اہل علم کے طبقہ میں سب سے بڑا ذوق، مقابلہ مذاہب اور مناظرۂ فرق کا پایا جاتا تھا۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ عیسائی پادری مذہب مسیحیت کی تبلیغ و دعوت اور دین اسلام کی تردید میں سرگرم تھے۔ حکومت وقت جس کا سرکاری مذہب مسیحیت تھا۔ ان کی پشت پناہ اور سرپرست تھی۔ وہ ہندوستان کو یسوع مسیح کا عطیہ اور انعام سمجھتی تھی۔ دوسری طرف آریہ سماجی مبلغ جوش وخروش سے اسلام کی تردید کر رہے تھے۔ انگریزوں کی مصلحت (جو ١٨٥٧ء کی متحدہ کوشش اور ہندوستان کے اتحاد کی چوٹ کھا چکے تھے) یہ تھی کہ ان مناظرانہ سرگرمیوں کی ہمت افزائی کی جائے۔ اس لئے کہ ان کے نتیجہ میں ملک میں ایک کشمکش اور ذہنی واخلاقی انتشار پیدا ہوتا تھا اور تمام مذاہب اور فرقوں کو ایک ایسی طاقتور حکومت کا وجود غنیمت معلوم ہوتا تھا جو ان سب کی حفاظت کرے اور جس کے سایہ میں یہ سب امن وامان کے ساتھ مناظرہ ومباحثہ کرتے رہیں۔ ایسے ماحول میں جو شخص اسلام کی مدافعت اور مذاہب غیر کی تردید کا علم بلند کرتا وہ مسلمانوں کا مرکز توجہ وعقیدت بن جاتا۔
مرزا قادیانی کی حوصلہ مند طبیعت اور دور بین نگاہ نے اس میدان کو اپنی سرگرمیوں کے لئے انتخاب کیا۔ انہوں نے ایک بہت بڑی ضخیم کتاب کی تصنیف کا بیڑہ اٹھایا۔ جس میں اسلام کی صداقت، قرآن کے اعجاز اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو بدلائل عقلی ثابت کیا جائے گا اور بیک وقت مسیحیت، سناتن دھرم، آریہ سماج اور برہمو سماج کی تردید ہوگی۔ انہوں نے اس کتاب کا نام ”براہین احمدیہ“ تجویز کیا۔
براہین احمدیہ اور مرزا قادیانی کا چیلنج
براہین احمدیہ کی تصنیف ١٨٧٩ء سے شروع ہوتی ہے۔
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٥١، روایت نمبر ٤٦٧)
مصنف نے ذمہ داری لی کہ وہ اس کتاب میں صداقت اسلام کی تین سو دلیلیں پیش کرے گا۔ مرزا قادیانی نے ملک کے دوسرے اہل علم اور اہل نظر حضرات اور مصنفین سے بھی کتاب کے موضوع کے سلسلہ میں خط و کتابت کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے خیالات اور مضامین بھیجیں۔ جن سے اس کتاب کی تصنیف میں مدد لی جائے۔ جن لوگوں نے ان کی اس دعوت کو قبول کیا۔ ان میں مولوی چراغ علی صاحب بھی تھے۔ جو سرسید کی بزم علمی کے ایک اہم رکن تھے۔ مرزا قادیانی نے ان کے مضامین و تحقیقات کو بھی کتاب میں شامل کیا۔
٢١
لیکن اس کا کہیں کتاب میں حوالہ نہیں۔ ڈاکٹر عبدالحق صاحب نے اپنی کتاب (چند ہم عصر ص ٥٥،٥٤) میں اور ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اپنے ایک مضمون میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔
(حرف اقبال ص ١٣١)
بالآخر یہ کتاب جس کا سینکڑوں آدمیوں کو انتظار واشتیاق تھا۔ چار حصوں میں (بڑے سائز کے پانچ سو باسٹھ صفحات) میں چھپ کر نکلی۔ مصنف نے اس کتاب کے ساتھ ایک اعلان بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی میں شائع کیا اور اس کو سلاطین، وزراء، پادری صاحبان اور پنڈتوں کے پاس بھیجا۔ جس میں انہوں نے پہلی مرتبہ اس کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے خدا کی طرف سے مامور ہیں اور وہ تمام اہل مذاہب کو مطمئن کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس اشتہار میں صاف صاف کہا گیا ہے: ”یہ عاجز (مؤلف براہین احمدیہ) حضرت قادر مطلق جل شانہ، کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کے طرز پر کمال مسکینی وفروتنی وغربت وتذلل وتواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بے خبر ہیں۔ صراط مستقیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے اور اس عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے انوار دکھائی دیتے ہیں) دکھا دے۔ اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ تالیف پائی ہے۔ جس کی ٣٧ جزو چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہذا میں درج ہے۔ لیکن چونکہ ساری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے۔ اسی لئے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل یہ خط مع اشتہار انگریزی شائع کیا جائے اور اس کی ایک کاپی بخدمت معزز پادری صاحبان پنجاب وہندوستان وانگلستان وغیرہ بلاد جہاں تک ارسال خط ممکن ہو جو اپنی قوم میں خاص طور پر مشہور معزز ہیں۔ برہمو صاحبان وآریہ صاحبان ونیچری صاحبان وحضرات مولوی صاحبان جو وجود خوارق وکرامات سے منکر ہیں اور اس وجہ سے اس عاجز سے بدظن ہیں۔ ارسال کی جاوے۔“
(مرزا غلام احمد قادیانی کے مختصر حالات، مرتبہ معراج دین عمر قادیانی، براہین احمدیہ ص ٨٢ حصہ اول طبع اول)
انہوں نے چیلنج کیا کہ اس کتاب کی کوئی نظیر پیش کی جائے اور کسی مذہب کے نمائندے اپنے دین کی صداقت کے لئے اسی تعداد میں یا اس سے کم تعداد میں دلائل پیش کریں۔ وہ براہین احمدیہ کے شروع میں لکھتے ہیں: ”میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں۔ یہ اشتہار اپنی طرف سے بہ وعدہ دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت قرآن مجید ونبوت حضرت محمد مصطفے ﷺ سے منکر ہیں۔ اتماماً للحجت شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد
٢٢
جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارۂ حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اس کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کی ہیں۔ اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھلادیں۔ یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کرسکیں۔ تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر یہ کلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کردیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبضہ و دخل دے دوں گا ۔“
(براہین احمدیہ ص ١٧، ٢٦، خزائن ج ١ ص ٢٤، ٢٨)
مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو اس عظیم خدمت اسلام میں مالی امداد دینے اور فراخ دلی اور عالی حوصلگی سے حصہ لینے کی دعوت دی۔
(براہین احمدیہ ص ٥، خزائن ج ١ ص ٥)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس دعوت پر مسلمانوں نے اس جوش وخروش سے لبیک نہیں کہی۔ جس کی مرزا قادیانی توقع کرتے تھے۔ براہین احمدیہ کی بعد کی جلدوں میں انہوں نے اس کا بڑا شکوہ کیا ہے اور اس پر اپنے بڑے رنج کا اظہار کیا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٩، خزائن ج ١ ص ٥٩)
ان اشتہارات میں جو کتاب کا دیباچہ اور مرزا قادیانی کی آئندہ زندگی اور عزائم کی تمہید تھی۔ ایک مدعیانہ روح، نیز لوگوں کو مطمئن کرنے اور حق کو ثابت کرنے کے لئے آسمانی نشانیوں پر اعتماد نظر آتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان اشتہارات میں کسی قدر تجارتی اور کاروباری روح بھی جھلکتی ہے۔
تبلیغ و سیاست
مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے تیسرے اور چوتھے حصہ کے شروع میں ”اسلامی انجمنوں کی خدمت میں التماس ضروری اور مسلمانوں کی نازک حالت اور انگریزی گورنمنٹ“ کے عنوان سے انگریزی حکومت کی کھل کر مدح وتوصیف کی اور اس کے مسلمانوں پر احسانات گنائے ہیں اور اس بات کی پرزور اپیل کی ہے کہ تمام اسلامی انجمنیں مل کر ایک میموریل تیار کر کے اور اس پر تمام سربرآوردہ مسلمانوں سے دستخط کرا کر گورنمنٹ میں بھیجیں۔ اس میں اپنی خاندانی خدمات کا
٢٣
پھر تذکرہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاد کی ممانعت کی بھی پرزور تحریک ہے۔
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ١٤٩، خزائن ج ١ ص ١٣٩)
اس طرح مرزا قادیانی کی پہلی تصنیف بھی انگریزی حکومت کی منقبت و ثناء اور مسلمانوں کو سیاسی مشورہ دینے سے خالی نظر نہیں آتی۔
کتاب کا انجام
اس کتاب کی تالیف و اشاعت کا سلسلہ ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک جاری رہا۔ چوتھے حصہ پر یہ سلسلہ رک گیا۔ پانچواں حصہ جو کتاب کا آخری حصہ ہے۔ آغاز تصنیف کے پورے پچیس سال بعد ١٩٠٥ء میں شائع ہوا۔
(سیرت المہدی حصہ دوم ص ١٥٤، روایت نمبر ٤٦٧)
مصنف نے حصہ پنجم میں اس کا اعتراف کیا ہے کہ ٢٣ برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا۔
(دیباچہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢، خزائن ج ٢١ ص ٣)
اس دوران میں بہت سے لوگ جنہوں نے کتاب کے چار حصے خریدے تھے اور پوری کتاب کی قیمت داخل کر چکے تھے۔ انتقال کر گئے۔ بعض لوگوں نے جو پیشگی قیمت ادا کر چکے تھے۔ اس پر ناگواری و ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ جس کے لئے مصنف نے حصہ پنجم کے مقدمہ میں معذرت بھی کی ہے۔ اس میں انہوں نے اس کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ پہلے اس کا خیال تھا کہ وہ اسلام کی صداقت پر تین سو دلیلیں پیش کریں گے۔ لیکن اب انہوں نے اس خیال کو ترک کر دیا ہے۔ اسی طرح سے پہلے پچاس حصوں میں شائع کرنے کا قصد تھا۔ لیکن اب پانچ حصوں پر اکتفا کریں گے۔ اس لئے کہ ان دونوں عددوں میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا، اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“
(دیباچہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)
مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی میں لکھا ہے: ”اب جب براہین احمدیہ کی چار جلدیں شائع شدہ موجود ہیں۔ ان کا مقدمہ اور حواشی وغیرہ سب دوران اشاعت کے زمانہ کے ہیں اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے۔ یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے اس میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نامکمل طور پر۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١١١، ١١٢، روایت نمبر ١٣٣)
٢٤
کتاب پر ایک اجمالی نظر
جو شخص براہین احمدیہ کا مطالعہ کرے گا وہ مصنف کی بسیار نویسی، دراز نفسی اور صبر و جفاکشی سے ضرور متاثر ہوگا۔ یہ تمام صفات ایسی ہیں جو مصنف کو عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب مناظر اور ایک بڑا مصنف ثابت کرتی ہیں۔ لیکن کتاب کے پڑھنے والے کو اس ضخیم دفتر میں کوئی نادر علمی تحقیق اور مسیحیت کے مآخذ اور اس کی قدیم کتابوں اور اس کے اسرار و حقائق سے اس طرح کی واقفیت نہیں نظر آتی جو مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی (م ١٣٠٩ھ) مصنف اظہار الحق وازالۃ الاوہام وغیرہ کی تصنیفات میں نظر آتی ہے نہ وہ شیریں گفتاری اور ندرت استدلال نظر آتی ہے۔ جو مولانا محمد قاسم نانوتوی (م ١٢٩٧ھ) مصنف تقریر دل پذیر و حجۃ الاسلام وغیرہ کی خصوصیت ہے۔
الہامات و دعاوی
پڑھنے والے کو اس کتاب میں اس کثرت سے الہامات اور خوارق، کشف، مکالمات خداوندی پیش گوئیاں اور طویل و عریض دعوے ملتے ہیں۔ جن سے اس کی طبیعت بدمزہ و منغص ہو جاتی ہے اور کتاب ایک پاکیزہ علمی بحث اور ایک مہذب دینی مباحثہ کے بجائے ایک مدعیانہ تصنیف بن جاتی ہے۔ جس میں مصنف نے اپنی شخصیت کا صاف صاف اشتہار دیا ہے اور جگہ جگہ اس کا ڈھنڈورا پیٹا ہے۔
کتاب کا مرکزی مضمون اور جوہر یہ ہے کہ الہام کا سلسلہ نہ منقطع ہوا ہے نہ اس کو منقطع ہونا چاہئے۔ یہی الہام دعوے کی صحت اور مذہب و عقیدے کی صداقت کی سب سے زیادہ طاقتور دلیل ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کا اتباع کامل کرے گا۔ اس کو علم ظاہر اور علم باطن سے سرفراز کیا جائے گا۔ جو انبیاء علیہم السلام کو اصالتاً عطاء ہوا تھا اور اس کو علم یقینی اور علم قطعی حاصل ہوگا۔ اس کا علم لدنی انبیاء کے علم سے مشابہ ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں امثل کے لفظ سے اور قرآن مجید میں صدیق کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ ان کے ظہور کا زمانہ انبیاء کی بعثت کے زمانہ سے مشابہ ہوگا اور انہیں سے اسلام کی حجت قائم ہوگی اور ان کا الہام یقینی و قطعی الہام ہوگا۔
(براہین احمدیہ ص ٢٣٣، ٢٣٤، خزائن ج ١ ص ٢٥٧، ٢٥٨)
اس الہام کے بقاء و تسلسل کے ثبوت میں انہوں نے بطور نمونہ اپنے طویل الہامات کا ایک سلسلہ نقل کیا ہے۔ وہ براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں: ”اس الہام کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں ۔ مگر جو ابھی اس حاشیہ کے تحریر کے وقت یعنی مارچ ١٨٨٢ء میں ہوا ہے۔ جس میں یہ امر غیبی
٢٥
بطور پیش گوئی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس اشتہاری کتاب کے ذریعہ سے اور اس کے مضامین پر مطلع ہونے سے انجام کار مخالفین کو شکست فاش آئے گی اور حق کے طالبوں کو ہدایت ملے گی اور بد عقیدگی دور ہو گی اور لوگ خدائے تعالیٰ کے القاء اور رجوع دلانے سے مدد کریں گے اور متوجہ ہوں گے اور آئیں گے وغیر ہا من الامور۔“
(براہین احمدیہ حصہ سوم ج ١ ص ٢٢٨، خزائن ج ١ ص ٢٦٤)
اس کے بعد مرزا قادیانی نے وہ طویل تازہ الہام نقل کیا۔ جو تقریباً تمام تر قرآن مجید کی مختلف آیتوں کے غیر مربوط ٹکڑوں کا مجموعہ ہے۔ یہ الہام براہین کی تقریباً چالیس سطروں میں آیا ہے اور ان چالیس سطروں میں تقریباً ٥٣، ٥٤ آیتوں کے ٹکڑے ہیں۔ بیچ بیچ میں چند حدیثیں بھی ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ جو مرزا قادیانی کے جملے ہیں وہ ہندوستانی عربی کا ایک نمونہ ہیں۔ نمونہ کے طور پر اس کی آخری سطریں جس میں نسبتاً آیات کم ہیں۔ درج کی جاتی ہیں۔
"كن في الدنيا كانك غريب او عابر سبيل وكن من الصالحين الصديقين وامر بالمعروف وانه عن المنكر وصل على محمد وآل محمد الصلوة هو المربى انى رافعك الى والقيت عليك محبة منى، لا اله الا الله فاكتب وليطبع وليرسل في الارض، خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس، وبشر الذين آمنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم، واتل عليهم ما اوحى اليك من ربك . ولا تصعر لخلق الله ولا تسئم من الناس . اصحاب الصفة وما ادرك ما اصحاب الصفة . ترى اعينهم تفيض من الدمع يصلون عليك ربنا اننا سمعنا مناديا ينادى للايمان وداعياً الى الله وسراجاً منيرا“
ترجمہ: دنیا میں ایسے رہو جیسے پردیسی یا مسافر رہتا ہے اور نیکوں اور صدیقوں میں شامل ہو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور حضرت محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر درود بھیجو۔ درود وصلوٰۃ ہی پرورش کرنے والی ہے۔ بیشک میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور میں نے تیری محبت لوگوں کے دل میں پیدا کر دی ہے۔ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس لکھ اور چھپنا چاہئے اور ملک میں بھیجنا چاہئے۔ توحید اختیار کرو، توحید اختیار کرو۔ اے ابناء فارس! اور بشارت دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے کہ ان کا ان کے رب کے یہاں بڑا پایہ ہے۔ اور ان کو پڑھ کر سناؤ جو تمہاری طرف رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے اور مخلوق خدا کے لئے منہ نہ پھلاؤ اور لوگوں سے نہ اکتاؤ، چبوترے والے اور تمہیں کیا خبر کیا ہیں۔ چبوترے والے، تم دیکھتے ہو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ تم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو پکارتے ہوئے
٢٦
سنا کہ ایمان کی صدا لگاتا ہے۔ اللہ کی طرف بلانے والا بن کر اور روشن چراغ امید رکھو۔
(براہین احمدیہ ص ٢٤٢، خزائن ج ١ ص ٢٦٧، ٢٦٨)
اسی طرح سے جلد چہارم میں ایک الہام نقل کیا گیا ہے۔ وہ بھی اسی طرح سے قرآن مجید کی آیتوں اور الفاظ قرآنی کا ایک غیر مربوط مجموعہ ہے۔ اس میں عربیت اور قواعد کی بھی فاش غلطیاں ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ اس لئے متن و ترجمہ دونوں نقل کئے جاتے ہیں۔
”واذا قيل لهم امنوا كما امن الناس قالوا انؤمن كما امن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولكن لا يعلمون ويحبون ان يدهنون قل يايها الكافرون لا اعبد ما تعبدون، قيل ارجعوا الى الله فلا ترجعون وقيل استحوذوا فلا تستحوذون، ام تسئلهم من خرج فهم من مغرم مثقلون بل اتيناهم بالحق فهم للحق كارهون، سبحانه وتعالى عما يصفون، احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا أمنا وهم لا يفتنون، يحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا ولا يخفى على الله خافيه ولا يصلحه شئ قبل اصلاحه ومن رد من مطبعه فلا مردله“ اور
جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ۔ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بیوقوف ایمان لائے ہیں۔ خبردار رہو وہی بیوقوف ہیں۔ مگر جانتے نہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے مداہنہ کرو۔ کہہ اے کافرو میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا۔ جس کی تم کرتے ہو۔ تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کرو۔ سو تم رجوع نہیں کرتے اور تم کو کہا گیا جو تم اپنے نفسوں پر غالب آجاؤ۔ سو تم غالب نہیں آتے۔ کیا تو ان لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔ پس وہ اس تاوان کی وجہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتا ہے اور وہ حق سے کراہت کر رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ ان عیبوں سے پاک و برتر ہے۔ جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحاں لئے صرف زبانی ایمان کے دعوے سے چھوٹ جاویں گے۔ چاہتے ہیں جو ایسے کاموں سے تعریف کی جائے۔ جن کو انہوں نے کیا نہیں اور جب تک وہ کسی چیز کی اصلاح نہ کرے۔ اصلاح نہیں ہو سکتی اور جو شخص اس کے مطبع سے رد کیا جائے اس کو کوئی واپس نہیں لا سکتا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٠٩، خزائن ج ١ ص ٦٠٧)
عربی کے علاوہ اس کتاب میں دو انگریزی کے الہام بھی درج ہیں۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٠)
٢٧
براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی کا عقیدہ
براہین احمدیہ کے ان چار حصوں میں جو ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک شائع ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے صرف اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ الہام کا سلسلہ برابر جاری ہے اور جاری رہے گا اور انبیاء کی وراثت علم لدنی اور نور یقین اور علم قطعی کے باب میں جاری ہے۔ اس کتاب میں اپنی ذات کے متعلق وہ بار بار اظہار کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی اصلاح اور اسلام کی دعوت کے لئے خدا کی طرف سے مامور اور عصر حاضر کے مجدد ہیں اور ان کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مماثلت حاصل ہے۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص٣٩، روایت نمبر ٤٧)
اس کتاب میں ان کو حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور دوبارہ اترنے کا بھی اقرار ہے۔ خود مرزا قادیانی نے نزول مسیح کے ضمیمہ میں جو ١٩٠٢ء کی تالیف ہے اور براہین احمدیہ کے حصہ پنجم میں جو ١٩٠٥ء کی تصنیف ہے۔ اس کا اعتراف اور اس امر پر اظہار تعجب کیا ہے کہ وہ اس وقت تک عقیدہ رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔
(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٨٥، خزائن ج ٢١ ص ١١١)
براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی بڑی شدومد سے کسی جدید نبوت اور کسی جدید وحی کا انکار کرتے ہیں۔ اس لئے کہ قرآن مجید اور اس کی تعلیمات کو کسی تحریف کا خطرہ نہیں ہے اور نہ مسلمانوں کے دور بت پرستی و مخلوق پرستی کی طرف واپس جانے کا کوئی اندیشہ ہے۔ بلکہ اس کے برعکس مشرکین کی طبیعتیں بباعث متواتر استماع تعلیم فرقانی اور دائمی صحبت اہل توحید کچھ کچھ توحید کی طرف میل کرتی جاتی ہیں اور نبوت و وحی کا کام انہیں دونوں خطرات کا سدباب کرنا اور انہیں دونوں خرابیوں کی اصلاح ہے۔ اس لئے اب کسی جدید شریعت اور کسی نئے الہام کی ضرورت نہیں اور یہ ثابت ہو گیا کہ رسول اللہﷺ خاتم رسل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”اور جب کہ قرآن مجید کے اصول حقہ کا محرف و مبدل ہو جانا یا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا، عندالعقل محال و ممتنع ہوا تو نئی شریعت و نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقلی لازم آیا۔ کیونکہ جو امر مستلزم محال ہو۔ وہ بھی محال ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ حقیقت میں خاتم رسل ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ١١١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ١٠٣)
کتاب کا اثر اور اس کا ردعمل
معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے بہت سے علمی و دینی حلقوں میں اس کتاب کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب بہت صحیح وقت پر شائع ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی اور ان
٢٨
کے دوستوں نے اس کی تشہیر وتبلیغ بھی بہت جوش وخروش سے کی تھی۔ اس کتاب کی کامیابی اور اس کی تاثیر کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس میں دوسرے مذاہب کو چیلنج کیا تھا اور کتاب جواب دہی کے بجائے حملہ آورانہ انداز میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کے خاص معترفین اور پر جوش تائید کرنے والوں میں مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں اس پر ایک طویل تبصرہ یا تقریظ لکھی۔ جو رسالہ کے چھ نمبروں میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کتاب کو بڑے شاندار الفاظ میں سراہا گیا ہے اور اس کو عصر حاضر کا ایک علمی کارنامہ اور تصنیفی شاہکار قرار دیا گیا ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی مولانا، مرزا قادیانی کے دعاوی اور الہامات سے کھٹک گئے اور بالآخر وہ ان کے بڑے حریف اور مد مقابل بن گئے۔
اس کے برخلاف بعض علماء کو اسی کتاب سے کھٹک پیدا ہوئی اور ان کو یہ نظر آنے لگا کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے یا عنقریب دعویٰ کرنے والا ہے۔ ان صاحب فراست لوگوں میں مولانا عبدالقادر صاحب لدھیانوی مرحوم کے دونوں صاحبزادے مولانا محمد صاحب اور مولانا عبدالعزیز صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ امرتسر کے اہل حدیث علماء اور غزنوی حضرات میں سے بھی چند صاحبوں نے ان الہامات کی مخالفت کی اور اس کو مستبعد قرار دیا۔
(رسالہ اشاعۃ السنۃ ج٧ نمبر٦، جون ١٨٨٤ء)
اس کتاب کی اشاعت نے مرزا قادیانی کو دفعۃً قادیان کے گوشہ گمنامی سے نکال کر شہرت واحترام کے منظر عام پر کھڑا کر دیا اور لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف اٹھ گئیں۔
مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی میں صحیح لکھا ہے: ”براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ نشینی میں درویشانہ حالت تھی۔ گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کرنے کا سلسلہ آپ نے شروع فرما دیا تھا اور اس قسم کے اشتہار سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آ گیا تھا۔ مگر بہت کم...... دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا اور لوگوں کی نظریں اس دیہات کے رہنے والے گمنام شخص کی طرف حیرت کے ساتھ اٹھنی شروع ہوئیں۔ جس نے اس تحدی اور اتنے بڑے انعام کے وعدے کے ساتھ اسلام کی حقانیت کے متعلق ایک عظیم الشان کتاب لکھنے کا اعلان کیا۔ اب گویا آفتاب ہدایت جو لاریب اس سے قبل طلوع کر چکا تھا۔ افق سے بلند ہونے لگا۔ اس کے بعد براہین احمدیہ کی اشاعت نے ملک کے مذہبی حلقہ میں ایک
٢٩
غیر معمولی تموج پیدا کر دیا۔ مسلمانوں نے عام طور پر مصنف براہین کا ایک مجدد ذی شان کے طور پر خیر مقدم کیا اور مخالفین اسلام کے کیمپ میں بھی اس گولہ باری سے ایک ہلچل مچ گئی ۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٠٤، روایت نمبر ١١٦)
خود مرزا قادیانی براہین احمدیہ کی تصنیف سے پہلے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ نہ کوئی موافق تھا۔ نہ مخالف، کیونکہ میں اس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک احد من الناس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠)
اس سے آگے لکھتے ہیں: ”اس قصبہ (قادیان) کے تمام لوگ اور دوسرے ہزار ہا لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صدہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو کہ یہ کس کی قبر ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٠)
آریہ سماج سے مناظرہ
١٨٨٦ء میں مرزا قادیانی نے ہوشیار پور میں مرلی دھر آریہ سماج سے مناظرہ کیا۔ اس مناظرہ کے بارہ میں انہوں نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ”سرمہ چشم آریہ“ ہے۔ یہ کتاب مناظرہ مذاہب و فرق میں ان کی دوسری تصنیف ہے۔
پہلے دن کے مناظرہ کا موضوع بحث ”معجزہ شق القمر کا عقلی ونقلی ثبوت“ تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنی اس کتاب میں نہ صرف اس معجزہ بلکہ معجزات انبیاء کی پر زور و مدلل وکالت کی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ معجزات وخوارق کا وقوع عقلاً ممکن ہے۔ محدود انسانی عقل اور علم اور محدود وانفرادی تجربات کو اس کا حق نہیں کہ وہ ان معجزات وخوارق کا انکار کریں اور اس وسیع کائنات کے احاطہ کا دعویٰ کریں۔ وہ بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ انسان کا علم محدود، مختصر اور امکان کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کا اس پر بھی زور ہے کہ مذاہب وعقائد کے لئے ایمان بالغیب ضروری ہے اور اس میں اور عقل میں کوئی منافات نہیں۔ اس لئے کہ عقل غیر محیط ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے رفع ونزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں اور حضرت مسیح کے صدیوں تک آسمان میں رہنے پر جو عقلی اشکال پیش کئے ہیں اور بعد میں ان کے اندر جو عقلیت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کی تردید میں اس کتاب سے زیادہ موزوں کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کتاب میں مصنف کی جو شخصیت نظر آتی ہے۔ وہ بعد کی کتابوں کی شخصیت سے بہت مختلف ہے۔
٣٠
رخ کی تبدیلی
مرزا قادیانی کو اپنی ان دو کتابوں کے لکھنے کے بعد اپنی شخصیت کا ایک نیا انکشاف ہوا۔ ان کو اپنی تحریر و متکلمانہ و مناظرانہ صلاحیتوں کا علم ہوا اور ان کو اندازہ ہوا کہ ان میں اپنے ماحول کو متاثر کرنے اور ایک نئی تحریک و دعوت کو چلانے کی اچھی استعداد ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس انکشاف نے ان کے ذہن میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی۔ اب ان کا رخ عیسائیوں اور آریہ سماجیوں سے مناظرہ کرنے کے بجائے خود مسلمانوں کو دعوت مناظرہ و مقابلہ دینے کی طرف ہو گیا۔
فصل دوم ...... مسیح موعود کا دعویٰ
مرزا قادیانی اور حکیم صاحب کے تعلقات
پچھلے صفحات میں ہم کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ حکیم نور الدین صاحب بسلسلۂ ملازمت جموں میں مقیم تھے۔ اسی زمانہ میں مرزا قادیانی سیالکوٹ میں حاکم ضلع کے یہاں ملازم تھے۔ دونوں میں خاص ذہنی مناسبت اور ذوقی اتحاد تھا۔ دونوں مذہبی مناظرے کے شائق اور دونوں بلند حوصلہ طبیعت رکھتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی شخصیت سے متاثر ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان ١٨٨٥ء سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کے مجموعہ مکاتیب میں پہلا خط حکیم صاحب کے نام ٨؍مارچ ١٨٨٥ء کا ملتا ہے۔ یہ خط و کتابت برابر جاری رہتی ہے اور دونوں خانگی و ازدواجی امور تک میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی حکیم صاحب کی ملاقات کے لئے جنوری ١٨٨٨ء میں کشمیر کا سفر اختیار کرتے ہیں اور ایک مہینہ حکیم صاحب کے پاس قیام کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی برابر حکیم صاحب کو الہامات، مبشرات اور نادر علوم و تحقیقات سے مطلع کرتے رہتے ہیں۔ وہ حکیم صاحب سے علماء کی مخالفت و تکفیر کی بھی شکایت کرتے ہیں۔ ١٥؍جولائی ١٨٩٠ء کے ایک خط میں وہ حکیم صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: ”اور میں نے سنا ہے ان لوگوں نے کچھ دبی زبان سے کافر کہنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ ایک بڑے امر کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔“
(مکتوبات احمدیہ ج٥ ص٧٩)
١٨٩٠ء تک مرزا قادیانی کا دعویٰ
مرزا قادیانی نے اس وقت تک صرف مجدد و مامور ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مصنف سیرۃ
٣١
المہدی (مرزا بشیر احمد ) کے بقول صرف یہ فرماتے رہے کہ: ”مجھے اصلاح خلق کے لئے مسیح ناصری کے رنگ میں قائم کیا گیا ہے اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے“۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٣٩، روایت نمبر ٤٧)
انہوں نے براہین احمدیہ میں اس خیال کو ظاہر کیا تھا کہ دین اسلام کا غلبہ جس کا وعدہ ”هو الذی ارسل رسوله بالہدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله “ میں کیا گیا ہے۔ مسیح موعود کے ذریعہ ظہور میں آئے گا۔ جن کی دنیا میں دوبارہ آمد کی احادیث میں خبر دی گئی ہے۔ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی اس پہلی زندگی کا نمونہ ہیں۔ جب وہ اس دنیا میں تھے۔ وہ لکھتے ہیں: ” یہ آیت هو الذی ارسل رسوله “ جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبۂ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے ۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج١ ص ٥٩٣)
ایک اہم مشورہ
١٨٩١ء عیسوی تقویم کا وہ سال ہے۔ جو مرزا قادیانی کی زندگی اور قادیانیت کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اسی سال کے آغاز میں حکیم صاحب نے ایک خط میں مرزا قادیانی کو مشورہ دیا کہ وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کریں ١؎۔ ہم کو حکیم صاحب کا اصل خط تو نہیں مل سکا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس خط کا جو جواب دیا ہے۔ اس میں حکیم صاحب کے اس مشورہ کا حوالہ ہے۔ یہ خط ان کے
١؎ حکیم صاحب نے اپنے خط میں اگرچہ صرف مثیل مسیح کے لفظ لکھے ہیں۔ لیکن جیسا کہ فتح اسلام اور ازالہ اوہام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ مثیل مسیح اور مسیح موعود دونوں لفظ مترادف ہیں اور مرزا قادیانی ان دونوں کو ان کتابوں میں ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ خود (توضیح مرام کے ص ٢، خزائن ج ٣ ص ٥١) پر لکھتے ہیں کہ: ”اس نزول سے مراد درحقیقت مسیح ابن مریم کا نزول نہیں ہے۔ بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ جس کا مصداق حسب اعلام والہام الٰہی یہی عاجز ہے ۔“
٣٢
مجموعۂ مکاتیب میں موجود ہے اور اس پر ٢٤ جنوری ١٨٩١ء کی تاریخ درج ہے۔ اس سے اس تحریک کے فکری سرچشمہ کا اور اس کے اصل مجوز ومصنف کا علم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے اس تاریخی خط کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
”جو کچھ آں مخدوم نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟ درحقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت نہیں۔ یہ بندہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر لیوے۔ لیکن ہم ابتلاء سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔ خدا تعالیٰ نے ترقیات کے ذریعہ صرف ابتلاء ہی کو رکھا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ دوم ص ٨٥)
اس مشورہ کے حقیقی اسباب ومحرکات کیا تھے؟ کیا یہ حکیم صاحب کی دور بینی اور دور اندیشی اور حوصلہ مند طبیعت ہی کا نتیجہ تھا۔ یا یہ حکومت وقت کے اشارہ سے تھا۔ جس کو ماضی قریب میں حضرت سید احمد صاحبؒ کی دینی وروحانی شخصیت اور ان کی تحریک ودعوت سے بڑا نقصان پہنچ چکا تھا اور اسی دور میں مہدی سوڈانی کے دعوے مہدویت سے سوڈان میں ایک زبردست شورش اور بغاوت پیدا ہوچکی تھی۔ اس سب کے توڑ اور آئندہ کے خطرات کے سدباب کے لئے یہی صورت مناسب تھی کہ کوئی قابل اعتماد شخصیت جس نے مسلمانوں میں اپنی دینی خدمات اور جوشِ مذہبی سے اثر ورسوخ پیدا کرلیا ہو۔ مسیح موعود کے دعوے اور اعلان کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ مسلمان جو ایک عرصہ سے مسیح موعود کے منتظر ہیں۔ اس کے گرد جمع ہوجائیں؟ ہم وثوق کے ساتھ ان میں سے کسی ایک چیز کی تعیین نہیں کر سکتے اور یہ اسباب ومحرکات کا پتہ لگانا آسان نہیں۔ لیکن اس خط سے اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اس تحریک کا آغاز کس طرح ہوتا ہے۔
انبیاء کا اعلانِ نبوت کسی تحریک ومشورہ سے نہیں ہوتا
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انبیاء ومرسلین کا معاملہ ان خارجی تحریکات ومشوروں اور رہنماؤں سے بالکل الگ ہے۔ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اور ان کو ان کے منصب ومقام کی قطعی اور واضح طریقہ پر خبر دی جاتی ہے۔ وہ اس یقین سے سرشار ہوتے ہیں اور پہلے دن سے اس کا اعلان اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے عقیدہ اور دعوت کا سلسلہ کسی تجویز یا رہنمائی کا رہینِ منت نہیں ہوتا۔ ان کا پہلے دن سے یہ کہنا ہوتا ہے: ”وبذالك امرت وانا اوّل المسلمین وبذالك امرت وانا اوّل المؤمنین“ مجھے اس کا حکم ہوا ہے اور میں پہلا
٣٣
فرمانبردار ہوں۔ مجھے اسی کا حکم ہے اور میں اس پر پہلا یقین کرنے والا ہوں۔
نزول مسیح کا عقیدہ
نزول مسیح کا عقیدہ ایک اسلامی عقیدہ ١؎ ہے۔ مسلمان اس عقیدہ سے واقف اور اس کے قائل تھے۔ احادیث میں اس کی اطلاع دی گئی ہے اور مسلمان حالات کی خرابی اور پیہم حوادث و مصائب کے اثر سے کسی مردغیب کے منتظر بھی تھے اور بالخصوص تیرھویں صدی کے خاتمہ پر ظہور مسیح کا چرچا بھی تھا۔ حکیم صاحب کو اس کا خیال ہو سکتا تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنی دینی خدمات سے جو مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کی بناء پر مسلمان ان کے اس دعوائے مسیحیت کو تسلیم کر لیں گے۔
١؎ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور دوبارہ اترنے کا عقیدہ مسلمانوں کے ان عقائد میں سے ہے۔ جن پر قرآن بھی دلالت کرتا ہے اور جو متواتر احادیث و آثار سے ثابت ہے اور جو مسلمانوں میں بلا کسی انقطاع کے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ نے اس کی تصریح کی ہے کہ نزول مسیح کی احادیث درجہ تواتر کو پہنچ چکی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابوالحسین آبریؒ سے تواتر کا قول نقل کیا ہے۔ علامہ شوکانیؒ کا ایک مستقل رسالہ اس موضوع پر ”التوضیح في تواتر ما جاء في المنتظر والدجال والمسيح“ کے نام سے ہے۔ جہاں تک نقل کا تعلق ہے۔ کسی قابل اعتماد شخصیت سے اس کے خلاف منقول نہیں۔ معتزلہ کی طرف بھی اس کی نسبت صحیح نہیں۔ علامہ ابن حزمؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب الفصل فی الملل والنحل میں صاف لکھ دیا ہے کہ عقیدۂ نزول تواتر سے ثابت ہے۔ ان نقول و تفصیلات کے لئے مولانا انور شاہ صاحبؒ کی جلیل القدر تصنیف ”عقیدۃ الاسلام“ ملاحظہ کی جائے۔ جہاں تک مسئلہ کے عقلی پہلو کا تعلق ہے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محیط اور اللہ کی صفات و افعال کو کامل ماننے کے بعد کسی ایسی چیز کے امکان وقوع میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں جو نقل صحیح اور تواتر سے ثابت ہو۔ خصوصیت کے ساتھ طبیعیات و علوم طبعیہ کی جدید ترقیات و فتوحات کے بعد اور ان واقعات کے پے در پے وقوع کے بعد جو علم واکتشافات کی اس ترقی سے پہلے عقلی طور پر محال و ناممکن الوقوع سمجھے جاتے تھے اور ایسے وقت میں جب مصنوعی چاند قلیل سے قلیل وقت میں دنیا کے گرد چکر لگا لیتے ہیں اور انسان چاند تک پہنچنے اور خلا اور فضائے بسیط میں سفر کی کوشش کر رہا ہے۔ فاطر کائنات کے حکم وارادہ سے کسی ہستی کا زمین سے اوپر جانا اور طویل مدت تک رہنا کیا ناممکن اور مستبعد ہے؟ اس مسئلہ میں ان عقلی اشکالات کو پیش کرنا جو یونانی فلسفہ کی قدیم ہیئت کے خیالی مفروضات اور نظری قیاسات پر مبنی ہیں۔ ایک ایسی طفلانہ ذہنیت ہے جس کی اس ترقی یافتہ زمانہ میں گنجائش نہیں۔
٣٤
مرزا قادیانی مثیل مسیح ہونے کے مدعی
مرزا قادیانی نے جس انداز میں حکیم صاحب کی پیش کش قبول کرنے سے معذرت کی ہے اور ان کے خط سے جس کسر نفسی ، تواضع اور خشیت کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ بڑی قابل قدر چیز ہے اور اس سے مرزا قادیانی کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ان کی کتابوں کا تاریخی جائزہ لینے کے بعد یہ تاثر اور عقیدت جلد ختم ہو جاتی ہے۔ اچانک یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حکیم صاحب کی اس تجویز کو قبول کر لیا اور تھوڑے ہی دنوں میں انہوں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ اور اعلان کر دیا۔
اس سلسلۂ تصانیف کے بعد جس میں اسلام کی خالص حمایت اور مذاہب غیر کی تردید تھی اور جو مسیح موعود کے دعوے سے بالکل خالی ہیں۔
(براہین احمدیہ، سرمہ چشم آریہ، شحنہ حق)
مرزا قادیانی کی پہلی تصنیف ”فتح اسلام“ ہے۔ یہ ١٨٩١ء میں شائع ہوئی اور یہی وہ تاریخی سن ہے جو ان کے دو دوروں کے درمیان حد فاصل کا کام دیتا ہے۔ اس کتاب میں ہم پہلی مرتبہ ان کا یہ دعویٰ پڑھتے ہیں کہ وہ مثیل مسیح اور مسیح موعود ہیں ١؎۔
وہ لکھتے ہیں: ”اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آبا، گزر گئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں۔ وہ وقت تم نے پالیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں رک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا۔ تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اسی طرح بھیجا گیا ہوں۔ جس طرح وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا۔ جس کی روح ہیروڈیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان پر اٹھائی گئی۔ سو جب
١؎ مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی میں لکھا ہے: ”حضرت مسیح موعود نے ١٨٩٠ء کے اواخر میں ”فتح اسلام“ تصنیف فرمائی تھی اور اس کی اشاعت شروع ١٨٩١ء میں لدھیانہ سے کی گئی۔ یہ وہ پہلا رسالہ ہے جس میں آپ نے اپنے مثیل مسیح ہونے اور مسیح ناصری کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ گویا مسیح موعود کے دعوے کا یہ سب سے پہلا اعلان ہے۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٢٦٨، روایت نمبر ٢٧٨) اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی مثیل مسیح اور مسیح موعود کو مترادف الفاظ مانتے ہیں۔
٣٥
دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاءﷺ ہے۔ دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا۔ جس کے حق میں ہے۔ ”انا ارسلنا اليكم رسولاً شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولاً“ تو اس کو بھی جو اپنی کاروائیوں میں کلیم اوّل کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا۔ ایک مثیل مسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل مسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی پا کر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اوّل کے زمانہ سے مسیح ابن مریم علیہ السلام کے زمانہ تک تھی۔ یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اور وہ اترنا روحانی طور پر تھا۔ جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اترا۔ جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا۔ تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو ۔“
(فتح اسلام ص ١١، خزائن ج ٣ ص ٨)
یہ عبارت اگر چہ کافی گنجلک اور الجھی ہوئی ہے (اور شاید ایسا قصداً کیا گیا ہے) صراحت کے ساتھ مرزا قادیانی کے عقیدہ اور نئے دعوے کو ظاہر کرتی ہے اور یہ کہ وہ مثیل مسیح ہیں۔ ان کی تینوں کتابیں ”فتح اسلام ، توضیح مرام اور ازالۃ اوہام“ جو ١٨٩١ء کی تالیف ہیں۔ اسی موضوع پر ہیں اور ان میں بار بار اسی بات کو دہرایا گیا ہے۔ اسی کتاب (فتح اسلام) کے دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ”سو اس عاجز کو اور بزرگوں کی فطرتی مشابہت سے علاوہ جس کی تفصیل براہین احمدیہ میں بہ بسط تمام مندرج ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی فطرت سے ایک خاص مشابہت ہے اور اسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا۔ تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔ سو میں صلیب کو توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ میں آسمان سے اترا ہوں۔ ان پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے۔“
(فتح اسلام ص ١٧ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ١١)
انہوں نے اپنی کتاب (توضیح مرام جو ”فتح اسلام“ کے بعد دوسری تصنیف ہے) کی ابتداء اس صاف و صریح عبارت سے کی ہے: ”مسلمانوں اور عیسائیوں کا کسی قدر اختلاف کے ساتھ یہ خیال ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام اسی عنصری وجود سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور پھر وہ کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ میں اس خیال کا غلط ہونا اپنے اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس نزول سے مراد در حقیقت مسیح بن مریم علیہ السلام کا نزول نہیں بلکہ استعارہ کے طور پر ایک مثیل مسیح کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ جس کا مصداق حسب اعلام والہام الٰہی یہی عاجز ہے۔“
(توضیح مرام ص ١، خزائن ج ٣ ص ٥١)
٣٦
علمی اشکال اور ان کا حل
حکیم نور الدین چونکہ احادیث و روایات پر وسیع نظر رکھتے تھے۔ اس لئے وقتاً فوقتاً ان علمی اشکالات پر متنبہ اور ان دقتوں کی طرف بھی متوجہ کرتے رہتے تھے۔ جو اس دعوے کے بعد پیش آتے ہیں اور ان کے حل میں بھی مدد دیتے تھے۔ اس بارہ میں کہ ان صفات کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں وارد ہوتی ہیں۔ مرزا قادیانی کسی طرح اپنے اوپر منطبق کریں۔ خاص ذہانت و رہنمائی کی ضرورت تھی۔ یہاں ان اشکالات اور ان کے حل کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
دمشق کی تشریح
نزول مسیح کی روایات ہیں جن کی بنیاد پر مرزا قادیانی نے مسیح موعود کے دعوے کی عمارت اٹھائی ہے۔ نزول مسیح کی کیفیت اور متعدد تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول دمشق میں ہوگا۔ اب اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں تو اس اطلاع کے صحیح ہونے کی کیا صورت ہے؟ دمشق اور قادیان میں بہت بڑا فاصلہ ہے اور دونوں کا فرق جغرافیہ کے ایک مبتدی طالب علم بلکہ ایک عامی کو بھی معلوم ہے۔ شاید مرزا قادیانی کا ذہن خود اس اشکال کی طرف منتقل نہیں ہوا تھا۔ حکیم نور الدین نے (جو حدیث کے ایک اچھے طالب علم رہ چکے تھے) ان کو اس الجھن کی طرف متوجہ کیا۔ اب بہتر یہ ہے کہ ہم خود مرزا قادیانی کی زبان سے سنیں کہ ان کو اس مسئلہ کی طرف کس طرح توجہ ہوئی اور انہوں نے اس کا حل کیا تجویز کیا۔ ”ازالہ اوہام“ کے ایک حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”یہ عاجز بھی اس بات (دمشق کی حقیقت) کی تفتیش کی طرف متوجہ نہیں ہوا کہ وہ معنی کیا ہیں کہ اسی اثناء میں میرے ایک دوست اور محب واثق مولوی حکیم نور الدین اس جگہ قادیان تشریف لائے اور انہوں نے اس بات کے لئے درخواست کی جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق و نیز اور چند ایسے مجمل الفاظ ہیں۔ ان کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے۔ چونکہ ان دنوں میں میری طبیعت علیل اور دماغ نا قابل جد و جہد تھا۔ اس لئے میں ان تمام مقاصد کی طرف توجہ کرنے سے مجبور رہا۔ صرف تھوڑی سی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پر کھل گئی۔“ (ازالہ اوہام ص ٦٣، ٦٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٤، ١٣٥) اس کے بعد دمشق کے بارے میں اپنی تحقیق اور انکشاف اس طرح پیش کیا ہے: ”پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تاویل میں میرے پر من جانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے۔ جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی
٣٧
عادات و خیالات کے پیرو ہیں۔ جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی خواہشوں کو اپنا معمول بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور کیونکہ طبیب کو بیماروں کی طرف آنا چاہئے۔ اس لئے ضرور تھا کہ مسیح ایسے ہی لوگوں میں نازل ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٦، ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٥، ١٣٦)
”پس مسیح کا دمشق میں اترنا صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی مثیل مسیح جو حسین سے بھی بوجہ مشابہت ان دونوں بزرگوں کی مماثلت رکھتا ہے۔ یزیدیوں کی تنبیہ اور ملزم کرنے کے لئے جو مثیل یہود ہیں اترے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٦)
”دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨، ٦٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٦، ١٣٧)
”تب اس نے مجھ سے کہا کہ یہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ (قادیان) دمشق کے مشابہ ہے۔ سو خدا تعالیٰ نے ایک بڑے کام کے لئے اس دمشق میں اس عاجز کو اتارا۔ بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء من المسجد الذی من دخله کان آمنا وتبارک الذی انزلنی فی ہذا المقام“
(ازالہ اوہام ص ١٣٥ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٨)
دو زرد چادریں
احادیث میں نزول مسیح کے وقت کی کیفیات اور واقعہ کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ان کو مرزا غلام احمد قادیانی اپنے اوپر منطبق کرنے میں ایسی موشگافیوں اور نکتہ آفرینیوں سے کام لیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے قارئین یا سامعین پر اعتماد ہے کہ وہ بعید سے بعید تاویل اور نا قابل فہم نکتہ بھی قبول کرلیں گے۔
مرزا قادیانی کے مخالفین نے ان پر اعتراض کیا کہ نزول کی جن احادیث سے وہ استدلال کرتے ہیں اور ان پر اپنی دعوت و دعوے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان میں یہ بھی تو آیا ہے کہ جس وقت حضرت مسیح علیہ السلام نزول فرمائیں گے ان پر دو زرد چادریں ہوں گی۔ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارہ میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کی رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں
٣٨
ہے کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری بیماری جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“
(ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١)
دمشق کا مینارۂ شرقی
حدیثوں میں دمشق کے مینارۂ شرقی کا بھی ذکر آتا ہے۔ جہاں پر حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دمشق کے لفظ کی طرح اس کی تاویل کی زحمت برداشت کرنے کے بجائے یہ مناسب سمجھا کہ قادیان کے مشرقی حصہ میں مینارہ ہی تعمیر کر دیا جائے۔ انہوں نے ١٩٠٠ء میں اس بات کا فیصلہ کر لیا۔ جیسا کہ سیرۃ المہدی سے معلوم ہوتا ہے اور اس کے لئے چندہ کی فہرست بھی کھول دی اور لوگوں کو اس میں چندہ کی ترغیب دی اور ١٩٠٣ء میں اس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔ لیکن اس مینارہ کی تکمیل ان کی زندگی میں نہیں ہو سکی۔
(سیرۃ المہدی حصہ ٢، ص ١٥٢ روایت ٤٦٧، اشتہار چندہ مینارۃ المسیح شامل خطبہ الہامیہ ص ١٥، خزائن ج ١٦ ص ١٥)
یہ سعادت ان کے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے حصہ میں آئی۔
طنز و استہزاء
ان تینوں تصنیفات میں مرزا قادیانی کی طبیعت کا جوش بہت بڑھ گیا ہے اور ان کی تحریر میں طنز و تعریض کا ایک ایسا عنصر اور ایسی تلخی آ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کتابیں سنجیدہ بحث ونظر کی کتابوں اور اصلاحی و دعوتی تصنیفات کے بجائے ہجوم طنز کی کتابوں میں شامل ہو جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں مرزا قادیانی نے جو اسلوب تحریر اختیار کیا ہے۔ وہ پیغمبروں سے قطع نظر اور مصلحین ومجددین کو بھی چھوڑ کر متین و سنجیدہ مصنفین اور باوقار اہل قلم سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ انہوں نے حیات ونزول مسیح کے عقیدہ کا اور اس کے ماننے والوں کا جس انداز میں مذاق اڑایا ہے وہ ایک علمی بزم سے زیادہ امراء کے درباروں اور مصاحبوں کی فقرہ بازیوں سے مشابہ ہے۔ نیز ان کے اندر جو مجادلانہ روح اور وکیلانہ موشگافیاں ہیں۔ ان کو کلام نبوت اور مزاج نبوت سے کوئی مناسبت نہیں۔
حضرت مسیح کے آسمان پر اس وقت تک زندہ رہنے کو عقلاً محال ثابت کرتے ہوئے اور اس میں عقلی اشکالات بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ازاں جملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض
٣٩
محال کے طور پر قبول کرلیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی و آسمانی اجسام کے لئے ضروری ہے۔ آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور یہ مرور زمانہ لابدی ولازمی طور پر ایک دن ضرور اس کے لئے موت واجب ہوگی۔ پس اس صورتحال میں تو حضرت مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کرکے آسمان پر ہی فوت ہوگئے ہیں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے۔ اسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں گے اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کو تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت کے گزرنے پر پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں۔ پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش نہیں معلوم ہوتا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٩، ٥٠، خزائن ج ٣ ص ١٢٧)
ایک جگہ حدیث کے ٹکڑے ”ويقتل الخنزير“ کے عام فہم معنی پر تعریض کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے۔ اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٤١، خزائن ج ٣ ص ١٢٣)
ایک دوسری جگہ نزول مسیح کی حقیقت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ایسا نہ ہو کہ کسی
١؎ مرزا قادیانی کے زمانہ میں علوم طبعیہ نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور دوسرے سیاروں اور خلاؤں کے متعلق ایسے تجربات نہیں ہوئے تھے کہ ان کو یہ معلوم ہوتا کہ زمان ومکان ( Time & Space ) کے زمینی قوانین اور پیمانے دوسرے سیاروں اور خلاؤں میں نافذ نہیں اور وہاں وقت کا تصور اور اس کا پیمانہ یہاں کے تصور اور پیمانہ سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں کے ایک ہزار سال وہاں کی ایک ساعت کے برابر ہو سکتے ہیں۔ تو اسی طرح سے تغیر وفنا اور احساسات وضروریات میں دونوں عالم بہت مختلف ہیں۔ انسان کی یہ قدیم کمزوری ہے کہ وہ اپنے معلومات اور تجربات اور اپنے زمانہ کے مشہورات ومسلمات پر ضرورت سے زائد اعتماد کرتا ہے اور ان کی بناء پر بہت سے حقائق کا جو ابھی اس کے علم و تجربہ میں نہیں آئے۔ شدومد سے انکار کرنے لگتا ہے۔ ”بل كذبوا بما لم يحيطوا بعلمه ولما يأتهم تاويله (يونس: ٣٩)“ بات یہ ہے کہ جھٹلانے لگے۔ جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت۔
٤٠
غبارہ (بیلون) پر چڑھنے والے اور پھر تمہارے سامنے اترنے والے کے دھوکہ میں آ جاؤ۔ سو ہوشیار رہنا، آئندہ تم اپنے اس جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے اترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٨٣، خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)
ایک جگہ عقیدۂ نزول مسیح کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بھائیو! اس بحث کی دو ٹانگیں تھیں:
- ١....... ایک تو ابن مریم کا آخری زمانہ میں جسم خاکی کے ساتھ آسمان سے اترنا تو اس ٹانگ
کو تو قرآن شریف اور نیز بعض احادیث نے بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کی خبر دے کر توڑ دی ہے۔
- ٢....... دوسری ٹانگ دجال معہود کا آخری زمانہ میں ظاہر ہونا تھا۔ سو اس ٹانگ کو صحیح مسلم اور
صحیح بخاری کی متفق علیہ حدیثوں نے جو صحابہ کی روایت سے ہیں۔ دو ٹکڑے کر دیا اور ابن صیاد کو دجال معہود ٹھہرا کر آخر مسلمانوں کی جماعت میں داخل کر کے مار بھی دیا۔
اب جب کہ اس بحث کی دو ٹانگیں ٹوٹ گئیں تو پھر اب تیرہ سو برس کے بعد یہ مردہ جس کے دونوں پیر نہیں۔ کیوں اور کس کے سہارے کھڑا ہو سکتا ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٤، ٤٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٢٣)
ایک دوسری جگہ اس تمسخر کے انداز میں لکھتے ہیں: ”کیا احادیث پر اجماع ثابت ہو سکتا ہے کہ مسیح آ کر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا اور دجال خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور ابن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھر کے فرض طواف کعبہ بجا لائے گا۔ کیا معلوم نہیں کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گزرے ہیں۔ وہ کیسے بے ٹھکانا اپنی ہانکیں ہانک رہے ہیں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٧، ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٢٦)
ایک دوسری جگہ علمائے اہل سنت کا خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ”اے حضرات مولوی صاحبان جبکہ عام طور پر قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور ابتداء سے آج تک بعض اقوال صحابہ ومفسرین بھی اس کو مانتے ہی چلے آتے ہیں۔ تو آپ لوگ ناحق ضد کیوں کرتے ہیں۔ کہیں عیسائیوں کے خدا کو مرنے بھی تو دو۔ کب تک اس کو حی لا یموت کہتے جاؤ گے۔ کچھ انتہاء بھی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٦٩، خزائن ج ٣ ص ٣٥١)
اپنے دور کے طبیعاتی تحقیقات سے مرعوبیت
مرزا قادیانی کی اس دور کی تصنیفات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانہ کے علوم
٤١
طبیعات کے ان معلومات سے بہت مرعوب ہیں۔ جن کا اس زمانہ میں ہندوستان میں نیا نیا چرچا ہوا تھا۔ حالانکہ علومِ طبعیہ اس وقت یورپ میں بھی دورِ طفولیت میں تھے اور مرزا قادیانی کی معلومات اس سلسلہ میں اور بھی سرسری (Second Hand) ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عقیدۂ نزولِ مسیح کے انکار کا ایک بڑا محرک یہی ہے کہ یہ عقیدہ سائنس کی جدید معلومات و مسلمات سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لئے تضحیک کا باعث ہوگا۔
ازالہ اوہام میں ایک جگہ لکھتے ہیں: ”اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ ایسے عقیدہ کے ساتھ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے۔ اگر افریقہ کے ریگستان یا عرب کے صحرا نشینوں اور بدوؤں میں یا سمندر کے جزیروں کے اور وحشی لوگوں کی جماعتوں پر ایسے بے سروپا باتیں پھیلائیں تو شاید آسانی سے پھیل سکیں۔ لیکن ہم ایسی تعلیمات کو جو عقل و تجربہ اور طبعی اور فلسفہ سے بکلی مخالف اور نیز ہمارے نبی ﷺ کی طرف سے ثابت نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ ان کے مخالف حدیثیں ثابت ہورہی ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز نہیں پھیلا سکتے اور نہ یورپ و امریکہ کے محقق طبع لوگوں کی طرف جو اپنے دین کی لغویات سے دستبردار ہورہے ہیں۔ بطور ہدیہ اور تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دل و دماغ کو نئے علوم کی روشنی نے انسانی قوتوں میں ترقی دی ہے۔ وہ ایسی باتوں کو کیونکر تسلیم کرلیں گے۔ جن میں سراسر خدا تعالیٰ کی توہین اور اس کی توحید کی اہانت اور اس کے قانونِ قدرت کا ابطال اور اس کے کتابی اصول کی تنسیخ پائی جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨٨، ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٥، ٢٤٦)
اس طرح کی تنقیدات کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ لکھنے والا ”سرمہ چشم آریہ“ کا مصنف نہیں ہے۔ جس نے معجزات کے امکانِ وقوع پر زور دار بحث کی ہے اور اس سے انکار کیا ہے کہ عقل اور محدود انسانی تجربوں کی بناء پر ان مافوق الطبیعات چیزوں کا انکار کرنا درست ہے۔
جمل کے حساب سے استدلال
اس کتاب میں مرزا قادیانی نے جمل کے حساب سے بھی بہت استدلال کیا ہے اور
١؎ معلوم نہیں مرزا قادیانی نے دوسرے حقائق غیبیہ، وحی، ملائکہ، جنت و نار کے اعتقاد اور ان کی تبلیغ کو کس طرح گوارا فرمایا اور دین کے مطالبہ ایمان بالغیب کو جو دین کی روح اور ہدایت کی شرط و اساس ہے۔ کس طرح قبول کیا۔ اقتباس بالا سے اس ذہنی مرعوبیت اور علوم جدیدہ کی تقدیس کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو انیسویں صدی کے نصف آخر میں سطحی النظر مصنفین اور نیم تعلیم یافتہ اصحاب کا شعار بن گئی تھی۔
٤٢
یہاں ان کا انداز باطنی مصنفین اور داعیوں سے مل جاتا ہے۔ جو اعداد جمل سے بڑے بڑے دینی حقائق اور عقائد ثابت کرتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں: ”مجھے کشفی طور پر مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی سچ ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے۔ ”مرزا غلام احمد قادیانی“ اس نام کے عدد پورے پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ محض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)
دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کے آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔ قرآن شریف میں جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت: ”وانا علی ذہاب بہ لقادرون“١؎، جس کے بحساب جمل ١٢٧٤ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سطح کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے۔ جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
ان کتابوں میں مرزا قادیانی نے احادیث میں آئے ہوئے الفاظ و کلمات کی تشریح و تاویل اور ان کا مصداق تجویز کرنے میں ایسی فیاضی اور بے تکلفی سے کام لیا ہے جو کسی مصنف اور شاعر کے لئے اپنے کلام کی تشریح میں بھی مشکل ہے۔ انہوں نے ان تمام الفاظ کو مجازات و استعارات قرار دے دیا ہے اور ان باطنیہ متقدمین کی یاد تازہ کردی ہے۔ جو دینی اصطلاحات اور ان شرعی الفاظ کے (جس کے لفظ اور معنی دونوں تواتر سے چلے آرہے ہیں) ایسے دور از کار اور مضحک معنی بیان کرتے تھے۔ جن کے لئے نہ کوئی لغوی بنیاد تھی، نہ عقلی اور اس طرح امت میں الحاد و فساد کا ایک بڑا دروازہ کھول دیا تھا۔ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں بار بار تصریح کی ہے کہ آنحضرتﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت پورے طور پر واضح نہیں ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف اجمالی علم عطاء کیا تھا۔
(ازالہ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٣)
١؎ واضح رہے کہ سورۂ مؤمنون کی یہ آیت آسمانی بارش کے متعلق ہے۔ پوری اس طرح ہے۔ ”وانزلنا من السماء ماء بقدر فاسکناہ فی الارض وانا علی ذہاب بہ لقادرون“
٤٣
حضرت مسیح کشمیر میں
مرزا قادیانی وفات مسیح کے بارے میں برابر غور وخوض کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آخر میں ان کی تحقیق یہ ہوئی کہ ان کا انتقال کشمیر میں ہوا اور وہ وہیں مدفون ہوئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے حسب عادت بڑی باریک باتیں پیدا کی ہیں جو ان کی مضمون آفرینی کی دلیل ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کشمیری زبان میں کشمیر کا تلفظ کشیر ہے اور پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ اصل میں عبرانی زبان کا ہے۔ جو دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک ک جو مماثلت وتشبیہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ایک ”اشیر“ جس کے معنی عبرانی زبان میں ”شام“ کے ہیں یعنی شام کی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فلسطین سے ہندوستان کے اس علاقہ کی طرف ہجرت کی جو اپنی آب وہوا کی خوبی، موسم کی خوشگواری اور سرسبزی وشادابی میں شام سے بہت مشابہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو تسلی دینے اور ان کا دل خوش کرنے کے لئے اس کا نام ”کاشیر“ رکھ دیا۔ الف کثرت استعمال سے ساقط ہو گیا اور وہ ”کشیر“ بن گیا۔ پھر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ سری نگر کے محلہ خان یار میں ”یوز آصف“ کی قبر کے نام سے جو قبر مشہور ہے وہ حضرت مسیح ہی کی قبر ہے۔ جن کو شاہزادہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی اس نادر تحقیق کو ثابت کرنے اور یوز آصف اور ان کی قبر کو حضرت مسیح کی قبر قرار دینے میں ایسی خیال آرائی اور نکتہ آفرینی سے کام لیا ہے کہ وہ ایک علمی تحقیق سے زیادہ شاعری اور افسانہ نویسی معلوم ہونے لگتی ہے اور مستشرقین جو رائی کو پہاڑ بنانے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے گرد نظر آنے لگتے ہیں۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٢٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٣)
اس مقام پر پہنچ کر مرزا قادیانی کے روحانی تجربات اور دعاوی کی ایک منزل طے ہوجاتی ہے۔ وہ اس منزل پر ”مسیح موعود“ ہونے کے مدعی ہیں اور اس کو عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔
فصل سوم ....... مسیح موعود کے دعویٰ سے نبوت تک
ایک مرتب خاکہ
مرزا قادیانی کی تصنیفات کا غیر جانبدارانہ مگر ناقدانہ مطالعہ کرنے سے پڑھنے والے کو
٤٤
یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کے اعلانات اور دعاوی کے تدریجی منازل ایک مرتب اسکیم اور خاکے کے ماتحت ہیں اور انہوں نے ان منزلوں کو طے کرنے اور ان کا اعلان کرنے میں بڑے صبر و تحمل اور احتیاط سے کام لیا۔ وہ الہام، علم باطنی اور علم یقینی کو رسول اللہ ﷺ کے اتباع کامل کا لازمی نتیجہ اور ایک قدرتی منزل قرار دیتے ہیں۔ جو فنائیت فی الرسول کے بعد لازمی طور پر پیش آتی ہے۔ وہ نبوت اور نبی کا لفظ صاف صاف زبان سے کہے بغیر صفات نبوت اور خصائص نبوت پر گفتگو کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ صفات افراد امت اور کملائے امت کو بطریق طبیعت و وساطت حاصل ہوتی ہیں۔ اس منطق اور ان مقدمات کا طبعی نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ ایک دن مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کر دیں اور اس کی اپنی زبان سے تصریح کر دیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے مناسب ماحول اور مناسب تقریب کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ اس کا اطمینان کر لینا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کی عقیدت اور ان کا جذبۂ اطاعت اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ وہ ان کے دوسرے دعاوی کی طرح اس کو بھی قبول کرلیں گے؟۔
اعلان اور صراحت
بالآخر یہ واقعہ پیش آ گیا۔ یہ ١٩٠٠ء کی بات ہے۔ مولوی عبدالکریم نے جو جمعہ کے خطیب تھے۔ ایک خطبۂ جمعہ پڑھا۔ جس میں مرزا قادیانی کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے۔ اس خطبہ کو سن کر مولوی سید محمد احسن امروہی نے بہت پیچ و تاب کھائے۔ جب یہ بات مولوی عبدالکریم کو معلوم ہوئی تو پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو حضور مجھے بتلائیں میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ہو چکا اور مرزا قادیانی جانے لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے مرزا قادیانی کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہو تو حضور درست فرمائیں۔ مرزا قادیانی مڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا، مولوی صاحب ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا ۔ یہ خطبہ سن کر مولوی محمد احسن غصہ میں بھرے واپس آئے اور مسجد کے اوپر ٹہلنے لگے۔ جب مولوی عبدالکریم واپس آئے تو مولوی محمد احسن ان سے لڑنے لگے۔ آواز بہت بلند ہوگئی تو مرزا قادیانی مکان سے نکلے اور یہ آیت پڑھی: ”یایہا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤)
٤٥
اس طرح مولوی عبدالکریم صاحب کے اعلان خطبہ سے اس نئے دور کا افتتاح ہو گیا اور مرزا قادیانی کو معلوم ہو گیا کہ لوگ اتنے راسخ الایمان ہو چکے ہیں کہ وہ ان کے ہر دعوے کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود نے بڑی خوبی سے اس حقیقت کو ظاہر کیا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو ان صفات سے موصوف کرتے تھے جو غیر انبیاء میں پائی ہی نہیں جاسکتیں۔ پھر بھی وہ نبوت کا انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کو جب اس تضاد کا احساس ہوا اور ان کو یہ اندازہ ہوا کہ ان صفات میں اور ان دعاوی میں جو وہ ابھی تک کرتے رہتے ہیں۔ مطابقت نہیں ہے تو انہوں نے اپنی نبوت کا کھلا اعلان کر دیا۔ مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں: ”خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداء نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے تھے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کے شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں پائی نہیں جاتیں اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے۔۔۔۔۔نہ کہ کیفیت محدثیت ، تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤)
بہر حال خواہ مرزا قادیانی کے اتنے عرصے تک صاف صاف دعوائے نبوت نہ کرنے کی وجہ یہ ہو کہ ان کے خیال میں نبی کے لئے نئی شریعت لے کر آنا اور بعض احکام کو منسوخ کرنا اور نبوت کا بلا واسطہ ہونا ضروری تھا۔ یہاں تک کہ ان کی یہ غلط فہمی دور ہوئی اور خدا نے ان کو اس اعلان پر مامور کیا۔ یا اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک ابھی اس کا وقت نہیں آیا تھا اور ان کو اس کے لئے مناسب وقت اور ماحول کا انتظار تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ بالآخر اس طبعی نتیجہ تک پہنچ گئے۔ جس پر ان کو اپنے ان دعاوی کے بعد پہنچنا چاہئے تھا۔
تصریحات اور چیلنج
جیسا کہ مرزا بشیر الدین محمود کا بیان ہے ١٩٠١ء سے یہ بات طے ہوگئی اور مرزا قادیانی ٤٦
اپنی تصنیفات میں اس کو بصراحت لکھنے لگے۔ ان کے رسائل کا وہ مجموعہ جس کا نام اربعین ؎١ ہے۔ منصب جدید کے اعلانات اور تصریحات سے بھرا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی کی صاف گوئی اور صراحت بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے ١٩٠٢ء میں ایک رسالہ تحفۃ الندوہ کے نام سے لکھا۔ جس کے مخاطب مجلس ندوۃ العلماء کے ارکان اور وہ تمام علماء تھے۔ جو ندوہ کے اجلاس امرتسر (منعقدہ ١٩٠٢ء) میں شرکت کے لئے آئے تھے۔
مرزا قادیانی اس رسالہ میں لکھتے ہیں: ”پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں۔ یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے۔ جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی ؎٢ اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے۔ گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے۔ وہ آسمان پر قابل مواخذہ ہے۔ کیونکہ جس امر کو اس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا۔ رد کر دیا۔ میں صرف یہ نہیں کہتا کہ میں اگر جھوٹا ہوتا تو ہلاک کیا جاتا۔ بلکہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد اور آنحضرت ﷺ کی طرح میں سچا ہوں اور میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے زیادہ نشان
؎١ مرزا قادیانی نے ابتداء میں اپنے قارئین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ چالیس کی تعداد میں رسائل لکھیں گے۔ لیکن انہوں نے چار نمبروں پر اس سلسلہ کو ختم کر دیا۔ اس کی وجہ وہ خود بیان کرتے ہیں۔ ”در حقیقت وہ امر ہو چکا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا۔ اس لئے میں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر پر ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے خدائے عزوجل نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا۔ اس طرح میں بھی اپنے رب کریم کی سنت پر ناظرین کے لئے تخفیف تصنیف کر کے نمبر ٤ کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دیتا ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)
؎٢ فیض محمدی سے وحی پانے کو مرزا قادیانی ظلی نبوت سے تعبیر کرتے ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
؎٣ ایک غلطی کا ازالہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے سر چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی۔ مگر بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
٤٧
دکھلائے ہیں۔ قرآن نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی ہے اور زمین نے بھی، اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص٤، خزائن ج١٩ ص٩٦)
اسی طرح حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں: ”غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦،٤٠٧)
مرزا قادیانی کی تمام مابعد تصنیفات ان تصریحات اور غیر مشتبہ عبارتوں سے لبریز ہیں۔ جن کا اس مختصر کتاب میں استیعاب ممکن نہیں۔ جس کو مزید تفصیل اور تحقیق کی ضرورت ہو۔ اس کو مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی اور مرزا بشیر الدین کی کتاب حقیقت النبوۃ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
مستقل نبوت
مرزا قادیانی کی تصنیفات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی مستقل صاحب شریعت ہونے کے بھی قائل تھے۔ انہوں نے اربعین میں تشریعی یا صاحب شریعت نبی کی تعریف کی ہے کہ جس کی وحی میں امر و نہی ہو اور وہ کوئی قانون مقرر کرے۔ اگرچہ یہ امر و نہی کسی نبی سابق کی کتاب میں پہلے آچکے ہوں۔ ان کے نزدیک صاحب شریعت نبی کے لئے اس کی شرط نہیں کہ وہ بالکل جدید احکام لائے۔ پھر وہ صاف صاف دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس تعریف کے مطابق صاحب شریعت اور مستقل نبی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔
١؎ یہ مرزا قادیانی کا محض دعویٰ ہے جو سراسر تاریخی ناواقفیت اور کوتاہ علمی پر مبنی ہے۔ امت محمدیہ میں اتنی بڑی تعداد میں جس کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں۔ ایسے اولیائے کبار گزرے ہیں۔ جن پر بارش کی طرح فیوض روحانی الہامات ربانی اور علوم و معارف کا فیضان ہوا۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس کو وحی الٰہی کا نام نہیں دیا اور نہ کوئی دعویٰ کیا۔
٤٨
کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذالك ازکٰی لهم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اِنّ ھٰذا لفی الصحف الاولٰی صحف ابراهیم وموسٰی“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦)
بعض اہم قطعی ومتواتر احکام شریعت کو پوری صراحت وقوت کے ساتھ منسوخ وکالعدم کر دینا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کو ایسا صاحب شریعت اور صاحب امر ونہی نبی سمجھتے تھے۔ جو قرآنی شریعت کو منسوخ کر سکتا ہے۔ چنانچہ جہاد جیسے منصوص قرآنی حکم کو جس پر امت کا تعامل اور تواتر ہے اور جس کے متعلق صریح حدیث ہے۔ ”الجهاد ماض الی یوم القیامة“ کی ممانعت کرنا اور اس کو منسوخ قرار دینا اس کا روشن ثبوت ہے۔ جہاد کی منسوخی وممانعت کے سلسلہ میں یہاں پر صرف ایک اقتباس کافی ہوگا۔
اربعین نمبر ٤ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں: ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے نہیں بچا سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
منکرین نبوت کی تکفیر اور ان کے ساتھ کفار کا سا معاملہ
دعواے نبوت کا قدرتی اور منطقی نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس جدید نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کی تکفیر کی جائے۔ خود مرزا قادیانی نے اس کو صرف نبی تشریعی ہی کا حق تسلیم کیا ہے کہ اس کے نہ ماننے والوں کی تکفیر کی جائے۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا نہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں تو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
٤٩
اس کے بعد مرزا قادیانی کی تصنیفات ان سب لوگوں کی تکفیر سے جو ان پر ایمان نہیں رکھتے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں پر صرف چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی براہین احمدیہ کے حصہ پنجم میں تحریر فرماتے ہیں: ”انہیں دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرنا بجائے گا اور اس کرنا کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھینچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں۔ جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٨٢، ٨٣، خزائن ج٢١ ص١٠٨، ١٠٩)
مرزا قادیانی کے الہام میں جو آپ نے ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کو شائع کیا ہے۔ کہا گیا ہے: ”مجھے الہام ہوا ہے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص٦٠٧)
حقیقت الوحی میں فرماتے ہیں: ”کفر دو قسم پر ہے:۔
- اول ...... ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول
نہیں مانتا۔
- دوم ...... دوسرے یہ کفر کہ وہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا
ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا۔ وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن وحدیث کے، خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص١٧٩، ١٨٠، خزائن ج٢٢ ص١٨٥، ١٨٦)
اور یہی مرکزی قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے۔ اس کے امیر وقائد مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب آئینہ صداقت میں فرماتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص٣٥)
اس سلسلہ میں خلیفہ بشیر الدین صاحب اور قادیانی جماعت کے ذمہ دار حضرات کی
٥٠
تصریحات کا احاطہ مشکل ہے۔ اس کے لئے مرزا بشیر احمد کی کتاب کلمۃ الفصل کا مطالعہ کافی ہوگا۔
مسلمانوں کو کافر سمجھنے کی بنیاد پر مستند قادیانی جماعت نے ان پر کفار کے تمام فقہی احکام جاری کئے۔ چنانچہ قادیانیوں کو ممانعت ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلقات رکھیں۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں فرمایا: ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت ص ٧٥)
اور انوار خلافت میں فرماتے ہیں: ”اور اب (مرزا غلام احمد قادیانی) سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ مگر آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے لڑکی غیر احمدیوں کو دے دی تو حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوار خلافت ص ٩٣، ٩٤)
ایک جگہ اس حکم کی مزید تفصیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے۔ جو قرآن حکیم ایک ایک مؤمن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مؤمن اہل کتاب عورت کو بیاہ لا سکتا ہے۔ مگر مؤمنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے۔ مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔ حضور (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے۔ بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہیں دینی چاہئے۔ اگر ملے تو بیشک لو۔ لینے میں حرج نہیں۔ دینے میں گناہ ہے۔“
(الحکم مورخہ ١٤؍ اپریل ١٩٠٨ء)
اسی طرح سے غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا ان کے نزدیک درست نہیں۔ خود مرزا قادیانی نے اربعین کے حاشیہ میں لکھا ہے: ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہیں۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے ...... اور قطعی حرام ہے کہ مکفر
٥١
اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
اسی طرح سے ان کو مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنے کی بھی ممانعت ہے۔ اخبار الفضل (١٥؍ دسمبر ١٩٢١ء) میں ہے: ”حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد صاحب مرحوم) کا جنازہ اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھے۔“
میاں بشیر الدین احمد صاحب ایک مکتوب میں جو اخبار الفضل (١٣؍ اپریل ١٩٢٦ء) میں درج ہوا ہے۔ لکھتے ہیں: ”میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کا جنازہ جائز نہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک وہ احمدی نہیں ہے۔ انہوں نے یہاں تک فتویٰ دیا ہے کہ غیر احمدی بچے کا بھی جنازہ پڑھنا درست نہیں۔“
(الفضل ج ٩ نمبر ٧٩)
”جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح کسی غیر احمدی بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جاسکتا ہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٤٣)
اسی حکم کی تعمیل میں چوہدری ظفر اللہ خان نے (جو پاکستان کے وزیر خارجہ تھے ) بانیٔ پاکستان مسٹر جناح کے جنازہ میں موجود ہونے کے باوجود شرکت نہیں کی۔
اس عقیدہ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو عبادات و فرائض قادیانی سلسلہ میں داخل ہونے سے پہلے ادا کئے گئے ہیں۔ وہ باطل سمجھے جاتے ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان سے فرض ادا نہیں ہوا۔ چنانچہ ایک استفتاء کے جواب میں یہ لکھا گیا کہ جس نے اس زمانہ میں حج فرض ادا کیا ہو کہ آپ (مرزا قادیانی) کا دعویٰ پوری طرح شائع ہو چکا اور ملک کے لوگوں پر عموماً اتمام حجت کر دیا گیا اور حضور (مرزا قادیانی) نے غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا تو اس کا حج فرض ادا نہیں ہوا۔
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢٧ مئی ١٩٣٣ء)
عقیدہ تناسخ و حلول
مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ تناسخ و حلول کے بھی قائل تھے اور ان کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کی روح اور حقیقت ایک دوسرے کے جسم میں ظہور کرتی رہی ہیں۔ تریاق القلوب میں ہے: ”غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود دوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو اور طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٧)
٥٢
ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں: ”اسی جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا حلول کسی کامل متبع میں جلوہ گر ہوتا ہے اور جو حدیث میں آیا ہے کہ مہدی پیدا ہوگا۔ اس کا نام میرا ہی نام ہوگا۔ اس کا خلق میرا ہی خلق ہوگا۔ اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو اسی نزول روحانیت کی طرف اشارہ ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٣٤٦، خزائن ج ٥ ص ٣٤٦)
آئینہ کمالات اسلام میں ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز پا کر زمین میں اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اس کا ہم طبع ہو۔ گویا وہی ہو۔ سو اس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے مطابق ایک شبیہ عطا کی اور اس میں مسیح کی ہمت اور سیرت اور روحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدت اتصال کیا گیا۔ گویا وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی توجہات نے اس کے دل کو اپنی قرار گاہ بنایا اور اس میں ہو کر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا۔ پس ان معنوں سے اس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے۔ جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، ٢٥٥، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤، ٢٥٥)
نبی کی دو بعثتیں
مرزا قادیانی کا یہ بھی عقیدہ اور اعلان ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں تھیں۔ یہاں انہیں کے عربی متن و ترجمہ کی دو عبارتیں نقل کی جاتی ہیں: ”واعلم ان نبينا ﷺ کما بعث فی الالف الخامس کذالک بعث فی الاخر الالف السادس باتخاذه بروز المسيح الموعود“ اور جان کہ ہمارے نبی ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے۔ ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨٠، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠)
آگے چل کر لکھتے ہیں کہ بعثت ثانیہ بعثت اولیٰ سے کہیں زیادہ طاقتوں کی حامل اور روشن ہے: ”بل الحق ان روحانيته عليه السلام كان في أخر الالف السادس اعنى فی هذه الايام اشد واقوى واكمل من تلك الاعوام بل كالبدر التام“ بلکہ حق یہ
٥٣
ہے کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨١، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
مرزا قادیانی کا احساس برتری
نبوت اور کمالات نبوت کے بارے میں مرزا قادیانی کا احساس برتری جو ایک خاص نفسیاتی کیفیت ہے۔ اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ اوّل تو اپنے کو تمام انبیاء کا ہم پلہ اور ہم چشم سمجھتے تھے۔ نزول المسیح میں فرماتے ہیں۔
داد آں جام را مرا بہ تمام
پھر آگے چل کر فرماتے ہیں۔
من بہ عرفان نہ کمترم زکسے
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
پھر اس سے آگے بڑھ کر وہ اپنے کو جامع کمالات انبیاء سمجھتے ہیں۔ اسی کتاب میں فرماتے ہیں۔
در برم جلوہ گر ہمہ ابرار
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
پھر آگے چل کر فرماتے ہیں۔
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
اتنا ہی نہیں بلکہ ان کا عقیدہ اور اعلان ہے کہ ان سے نسل آدم کی تکمیل ہوئی ہے اور ان کے بغیر یہ گلشن انسانیت ناتمام تھا۔ ان کا شعر ہے۔
٥٤
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار
(براہین احمدیہ ح٥ ص١١٣، خزائن ج٢١ ص١٤٤)
ان کا یہ خیال بھی معلوم ہوتا ہے کہ کمالات نبوت اور کمالات روحانیت کے زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ترقی کی ہے اور ان کا ظہور اتم ان کی ذات میں ہوا ہے۔
”فكذلك طلعت روحانية نبيناﷺ في الالف الخامس باجمال صفاتها وما كان ذلك الزمان منتهى ترقياتها بل كانت قدما اولى لمعارج كمالاتها ثم كملت وتجلت تلك الروحانية في آخر الالف السادس اعني في هذا الحين كما خلق آدم في آخر اليوم السادس باذن الله احسن الخالقين واتخذت روحانية نبينا خير الرسل مظهرا من أمته لتبلغ كمال ظهورها وغلبة نورها كما كان وعد الله في الكتاب المبين فأنا ذلك المظهر الموعود والنور المعهود“ اسی طرح ہمارے نبی کریمﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا منتہی نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کی معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔ جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر رسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں وہی مظہر ہوں، وہی نور معہود ہوں۔“
(خطبہ الہامیہ ص٧٧، ٧٨، خزائن ج١٦ ص٢٦٦، ٢٦٧)
اعجاز احمدی میں تو انہوں نے اپنے معجزات و آیات کو معجزۂ نبوی پر ترجیح دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں؎
غسا القمران المشرقان اتنكر
(اعجاز احمدی ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)
اور خود ہی اس کا ترجمہ کیا ہے: ”اور اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند و سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔“
٥٥
مرزا قادیانی کے یہ ارشادات اس بات کے لئے کافی تھے کہ ان کے غالی عقیدت مند اور ان کے جانشین اس پر ایک بلند عمارت تعمیر کر لیں۔ جیسا کہ فرق و مذاہب کی تاریخ میں ہمیشہ پیش آتا ہے۔ چنانچہ ان کے بہت سے متبعین ان کو اکثر انبیاء پر صراحت کے ساتھ فضیلت دینے لگے۔ خود مرزا بشیر الدین محمود نے حقیقت النبوۃ میں لکھا ہے: ”دنیا میں بہت سے نبی گزرے ہیں ۔مگر ان کے شاگرد محدثیت کے درجہ سے آگے نہیں بڑھے۔ سوائے ہمارے نبی علیہ السلام کے جو اس کے فیضان نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ اس کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا ۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)
مرزا بشیر الدین محمود صاحب کے پر جوش متبعین نے اس بات کو اور بھی آگے بڑھا دیا۔ (الفضل قادیان ج ١٤ نمبر ٨٥) میں ہے: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے۔ آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ کا شاگرد اور آپ کا ظل ہونے کا تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔“
باب سوم ...... مرزا قادیانی کی سیرت و زندگی پر ایک نظر
فصل اوّل ...... دعوت کے فروغ اور رجوع عام
کے بعد مرزا قادیانی کی زندگی
مرزا قادیانی کا ابتدائی زمانہ
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی عسرت و غربت کے ساتھ شروع کی تھی۔ زمینداری کا بڑا حصہ نکل چکا تھا۔ آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا۔ وہ خود اس دور کے متعلق لکھتے ہیں: ”مجھے صرف اپنے دسترخوان اور روٹی کی فکر تھی۔“
(نزول المسیح ص ١١٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٦)
وہ پچیس برس سے گمنامی اور غربت کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے اس زمانہ کی غربت و گمنامی کی خود تصویر کھینچی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ”اس زمانہ میں درحقیقت میں اس مردہ کی طرح تھا جو قبر میں صد ہا سال سے مدفون ہو اور کوئی نہ جانتا ہو یہ کس کی قبر ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦١)
٥٦
یہ حالت اس وقت تک رہی کہ مرزا قادیانی ایک مصنف اور اسلام کے وکیل کی حیثیت سے ملک کے سامنے آئے۔ پھر انہوں نے ایک مبلغ اور روحانی پیشواء کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ پھر انہوں نے مسیح موعود اور آخر میں ”مستقل پیغمبر“ کی حیثیت اختیار کی۔ اس وقت حالات میں بڑا انقلاب ہوا۔ اب وہ ایک ترقی پذیر فرقہ اور ایک آسودہ حال طبقہ کے روحانی پیشواء اور مقتدائے اعظم تھے۔ ہر طرف سے تحائف نذرانوں اور پیشکشوں کا دریا امنڈ رہا تھا اور وہ ہزاروں آدمیوں کی روحانی عقیدت اور خلوص ومحبت کا مرکز تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ ساری دولت فارغ البالی وخوشحالی ایک دینی دعوت اور تحریک کے راستہ سے آئی تھی اور ایک دینی جذبہ ہی لوگوں کے ایثار اور مرزا قادیانی کی مالی خدمت کا محرک تھا۔ ایک مؤرخ اور سوانح نگار اور ایک نقاد اس موقع پر یہ دیکھے گا کہ اس انقلاب حال نے مرزا قادیانی کی زندگی اور ان کے رویہ میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ مرزا قادیانی ایک بڑی دینی دعوت لے کر اور ایک بہت بڑے دعوے اور اعلان کے ساتھ (جس سے بڑا دعویٰ اور اعلان مذہب کی اصطلاحات اور زبان میں ممکن نہیں) کھڑے ہوئے تھے۔ اس لئے یہ بات دیکھنے کی ہے کہ ان کی زندگی کو اس دعوت اور دعوے سے کیا مطابقت اور مناسبت ہے۔ سرور عالم سید الانبیاء (ﷺ) کی حیات طیبہ سے موازنہ کرنا اور اس سلسلہ میں آپ کا نام نامی بیچ میں لانا تو سوء ادب اور مذاق سلیم پر بھی بار ہے کہ یہ وہ بارگاہ قدس ہے کہ؎
لیکن امت محمدی کے ان افراد کی زندگی سے موازنہ بیجا نہ ہوگا۔ جو کسی دینی تحریک ودعوت کے علمبردار اور اپنے زمانہ کے مقتداء اور روحانی پیشوا تھے۔
حاملین دعوت اور دینی و روحانی شخصیتوں کا طرز عمل
اسلام کی تاریخ دعوت وتجدید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جولوگ اپنے زمانہ میں دینی دعوت واصلاح کے علمبردار تھے اور جنہوں نے اپنے لئے اتباع نبوی کا راستہ اختیار کیا اور جن کو خدا نے حلاوت ایمانی سے شادکام کیا۔ ان کو جس قدر مرجعیت حاصل ہوئی اور جس قدر ان کے لئے فارغ البالی اور آسودہ زندگی کے اسباب مہیا ہوئے۔ اسی قدر ان میں زہد کا جذبہ، ایثار وقناعت کا جوش، دولت وامارت سے وحشت اور آخرت کا شوق بڑھا۔ ان کی ساری زندگی اس اصول ویقین کے ماتحت تھی کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ ”اللهم لا عیش الا عیش
٥٧
الآخرة“ دینی اور روحانی شخصیتوں کی تاریخ میں ہر جگہ یہی نظر آتا ہے کہ وہ اس دنیا میں مسافرانہ گزر کرتے تھے اور ان کے سامنے ہمیشہ یہی ارشاد نبوی رہتا تھا۔
”مالی وللدنیا وما انا والدنیا الا کراکب استظل تحت شجرة ثم راح و ترکها (احمد، ترمذی، ابن ماجه) “ مجھے دنیا سے کیا سروکار؟ میری مثال تو ایسے سوار کی سی ہے۔ جس نے کچھ دیر ایک درخت کے سایہ میں آرام لیا۔ پھر اٹھا اور چھوڑ کر چل دیا۔
ان کی کیفیت وہ رہتی تھی۔ جو حضرت علیؓ کے ایک رفیق نے ان کی تعریف کرتے ہوئے بیان کی ہے: ”یستوحش من الدنیا وزہرتہا ویستانس بالیل وظلمتہ کان واللہ غزیر الدمعة طویل الفکرة یقلب کفہ ویخاطب نفسہ یعجبہ من اللباس ما خشن ومن الطعام ما جشب (صفة الصفوة) “ دنیا اور بہار دنیا سے ان کو وحشت ہوتی، رات کی تاریکی میں ان کا دل لگتا تھا۔ آنکھیں پر آب ہر وقت فکر و غم میں ڈوبے ہوئے، رفتار زمانہ پر متعجب، نفس سے ہر وقت مخاطب، کپڑا وہ مرغوب جو معمولی اور موٹا جھوٹا ہو۔ غذا وہ مرغوب جو غریبانہ اور سادہ ہو۔
اولیائے متقدمین اور اسلام کی جلیل القدر روحانی شخصیتوں کا یہاں ذکر نہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا بھی یہاں تذکرہ نہیں کہ وہ بھی ایک خلیفۂ راشد تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے غلاموں میں ایسے صاحب شوکت و عظمت سلاطین گزرے ہیں جن کا زہد و تقشف، جفاکشی، احتیاط وورع، قبائے شاہی میں فقیری و درویشی اور تخت سلطنت پر بوریہ نشینی آج بھی تاریخ میں یادگار اور انسانیت کے لئے سرمایہ افتخار ہے۔ نورالدین زنگیؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، ناصرالدین محمودؒ، مظفر حلیمؒ اور سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ ١؎ نے جس طرح کی زندگی گزاری، وہ زہد و درویشی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ خود مرزا قادیانی کے زمانہ میں ایسے داعی الی اللہ علمائے ربانی اور مشائخ طریقت موجود تھے۔ جو
١؎ سلطان کے سوانح نگار اور ان کے معتمد خاص قاضی ابن شداد لکھتے ہیں کہ سلطان نے اپنے ترکہ میں صرف ٤٧ درہم چھوڑے تھے۔ کوئی ملک، مکان، جائیداد، باغ، گاؤں، زراعت نہیں چھوڑی۔ ان کی تجہیز و تکفین میں ایک پیسہ بھی ان کی میراث سے صرف نہیں ہوا۔ سارا سامان قرض سے کیا گیا۔ یہاں تک کہ قبر کے لئے گھاس کے پولے بھی قرض سے آئے۔ کفن کا انتظام ان کے وزیر و کاتب قاضی فاضل نے کسی جائز و حلال ذریعہ سے کیا اور یہ اس سلطان کا حال ہے جس کے قبضہ میں شام، مصر، سوڈان، عراق و حجاز اور مشرق وسطیٰ کا پورا علاقہ تھا۔
٥٨
روپیہ پر رات گزارنے کو گناہ سمجھتے تھے اور جو کچھ ان کے پاس آتا تھا وہ فقراء اور اہل حاجت میں تقسیم کر دیتے تھے۔ جن کا حال یہ تھا کہ جس قدر آسودگی کے اسباب زیادہ ہوتے تھے اور جس قدر لوگوں کا رجوع ان کی طرف بڑھتا تھا۔ جس قدر تحائف وہدایا کی بارش ہوتی تھی۔ اسی قدر ان کا استغناء اور زہد ترقی کرتا تھا۔ مرزا قادیانی ہی کے زمانہ میں مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا سید عبداللہ غزنویؒ، مولانا محمد نعیم فرنگی محلیؒ جیسے حضرات موجود تھے۔ جنہوں نے فقر محمدی کا ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔
صدق نبوت کی ایک دلیل
ایسی زاہدانہ زندگی جس میں اول سے آخر تک کوئی تفاوت نہ ہو۔ غربت وامارت کے زمانہ میں یکساں طرز عمل اور دولت دنیا سے بے تعلقی وبے اثری خود مرزا قادیانی کے نزدیک نبوت محمدی کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت واقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی یادگار تیار نہ ہوئی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہوکر کھانا نہ کھایا۔“
(براہین احمدیہ ص١١٧، خزائن ج١ ص١٠٩)
دین کا داعی یا سیاسی قائد؟
اب ہم اس معیار کو سامنے رکھ کر جو خود مرزا قادیانی نے ہم کو دیا ہے اور جو مزاج نبوت کے عین مطابق ہے۔ ہم خود مرزا قادیانی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ہم کو اس مطالعہ میں نظر آتا ہے کہ جب ان کی تحریک پھیل گئی اور وہ ایک بڑے فرقہ کے روحانی پیشوا اور اس کی عقیدتوں اور فیاضانہ اولوالعزمیوں کا مرکز بن گئے تو ان کی ابتدائی اور اس آخری زندگی میں بڑا فرق نمایاں ہوا۔ ہمیں اس موقع پر ان کے حالات دین کے داعیوں اور مبلغوں اور درسگاہ نبوت کے فیض یافتہ نفوس قدسیہ سے الگ سیاسی قائدین اور غیر دینی تحریکوں کے بانیوں سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ چیز ان کے مخلص ومقرب ساتھیوں کے لئے بھی اضطراب کا باعث ہوئی اور دل کی بات زبانوں پر آنے لگی۔
مرزا قادیانی کی خانگی زندگی
مرزا قادیانی کی خانگی زندگی جس ترفہ اور جیسے تجمل اور تنعم کی تھی۔ وہ راسخ الاعتقاد
٥٩
متبعین کے لئے بھی ایک شبہ اور اعتراض کا موجب بن گئی تھی۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک روز اپنے مخصوص دوستوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ ان کے گھر کی جو بیبیاں مرزا قادیانی کے گھر کی رہائش اور معیار زندگی دیکھ چکی ہیں۔ وہ کسی طرح سے ایثار و قناعت اور سلسلہ کی اشاعت و ترقی کے لئے اپنی ضرورتوں سے پس انداز کر کے روپیہ بھیجنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت احمدیہ لاہور) اور قادیانی جماعت کے مشہور عالم مولوی سرور شاہ صاحب قادیانی سے کہا: ”میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں۔ آپ اس کا جواب دیں۔ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء و صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ جو و خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں۔ وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر پر چڑھ گئیں کہ تم تو بڑے جھوٹے ہو۔ ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء و صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیہ کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکا دیتے رہے اور آئندہ ہرگز ہم تمہارے دھوکے میں نہ آویں گی۔ پس وہ اب ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔“
(کشف الاختلاف ص ١٣، ١٤)
خواجہ صاحب نے یہ بھی فرمایا: ”ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو۔ پھر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں۔“
(کشف الاختلاف ص ١٣، ١٤)
اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا۔
مالی اعتراضات
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں ان کی نگرانی میں لنگر کا جو انتظام تھا اس سے بہت سے مخلصین مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک اس میں بہت سی بے عنوانیاں ہوتی تھیں۔ اس بحث نے بہت طول کھینچا۔ معترضین میں خواجہ کمال الدین پیش پیش تھے اور مولوی محمد علی صاحب بھی ان کے مؤید تھے۔ خواجہ کمال الدین نے ایک موقع پر مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا: ”یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی
٦٠
کے لئے روپیہ دیتے ہیں۔ وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا۔ بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر وہ روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہو سکے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہو سکتے ہیں۔“
(کشف الاختلاف ص ١٦،١٥)
یہ اعتراضات مرزا قادیانی کے کان تک بھی پہنچے اور انہوں نے اس پر بڑی ناگواری وناراضگی کا اظہار کیا۔ مولوی سرور شاہ صاحب لکھتے ہیں:
مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جائے گا۔ مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔
(کشف الاختلاف ص ١٤)
خود مرزا قادیانی نے اپنے انتقال سے کچھ پہلے اس مالی الزام کا تذکرہ اور اس پر اپنے رنج وملال کا اظہار کیا۔ مرزا بشیر الدین مولوی حکیم نور الدین کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
”حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی اس دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آ کر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا۔ کہا کہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق۔ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے۔“
”پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقع پر جو عمارت مدرسہ کا چندہ لینے گیا تھا۔ مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) آپ تو خوب عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو، جس کا جواب
٦١
مولوی محمد علی نے یہ لکھ دیا کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن بشریت ہے کیا ضرور کہ ہم نبی کی بشریت کی پیروی کریں ١؎“
آمدنی کے نئے نئے ذرائع
مرزا قادیانی ہی کی زندگی میں قادیان کے ”بہشتی مقبرہ“ میں جگہ پانے کے لئے جو شرائط وضع کی گئیں اور ایک قبر کی جگہ کے لئے جو گراں قدر قیمت اور نذرانہ رکھا گیا اور اس کا جس ترغیب و تشویق کے ساتھ اعلان کیا گیا۔
(الوصیت ص ١٥، ١٩ خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦، ٣٢١)
اس نے قرون وسطیٰ کے ارباب کلیسا کے پروانۂ غفران کے بیع و شراء اور جنت کی قبالہ فروشی کی یاد تازہ کر دی اور مرکز قادیان کے لئے آمدنی کا ایک وسیع و مستقل سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ رفتہ رفتہ سلسلۂ قادیانیت کا ایک عظیم محکمہ بن گیا۔ قادیان کے ترجمان ”الفضل“ نے اپنی ایک اشاعت میں صحیح لکھا ہے کہ : ”مقبرۂ بہشتی اس سلسلہ کا ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے اور ایسا عظیم الشان انسٹیٹیوشن یعنی محکمہ ہے۔ جس کی اہمیت ہر دوسرے محکمہ سے بڑھ کر ہے ۔“
(الفضل قادیان ج ٢٤، نمبر ٦٥ ، مورخہ ١٥؍ ستمبر ١٩٣٦ء)
قادیان اور ربوہ کی دینی ریاست
اس سارے آغاز کا انجام یہ ہوا کہ تحریک قادیانیت کا مرکز قادیان اور تقسیم ہند کے بعد سے اس کا جانشین ربوہ (موجودہ چناب نگر) ایک اہم دینی ریاست بن گیا۔ جس میں قادیان کے ”خاندان نبوت“ اور اس کے صدر نشین مرزا بشیر الدین محمود کو امارت و ریاست کے وہ سب لوازم، ایک مذہبی آمر اور مطلق العنان فرماں روا کے سب اختیارات اور خوش باشی و عیش کوشی کے وہ سب مواقع مہیا ہیں۔ جو اس زمانہ میں کسی بڑے سے بڑے انسان کو مہیا ہو سکتے ہیں۔ اس دینی و روحانی مرکز کی اندرونی زندگی اور اس کے امیر کی اخلاقی حالت حسن بن صباح باطنی کے قلعۂ الموت کی یاد تازہ کرتی ہے۔ جو پانچویں صدی ہجری میں مذہبی استبداد اور عیش و عشرت کا ایک پراسرار مرکز تھا۔
(ملاحظہ ہو راحت ملک صاحب کی کتاب ”دورِ حاضر کا مذہبی آمر“)
١؎ مرزا بشیر الدین محمود کا خط بنام مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اوّل مندرجہ حقیقت الاختلاف مصنفہ مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور ص ٥٠، ہم نے مالی اعتراضات کے سلسلہ میں صرف مخصوص و معتمد اہل تعلق کے بیانات پر اکتفا کیا ہے۔ ورنہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کی کتاب الذکر الحکیم وغیرہ میں اس سلسلہ کا بہت مواد موجود ہے۔
٦٢
فصل دوم ...... انگریزی حکومت کی تائید و حمایت اور جہاد کی ممانعت
برطانیہ عظمیٰ اور عالم اسلام
انیسویں صدی کے آغاز میں عالم اسلام پر یورپ کے حملے شروع ہو چکے تھے اور اس نے ممالک اسلامیہ کو اپنے اثر و اقتدار میں لے لیا تھا۔ یورپ کی اس مشرقی ترکتاز میں برطانیہ عظمیٰ پیش پیش اور مشرق میں مغربی پیش قدمیوں اور سیاسی و مادی سیادت کا علمبردار و نقیب تھا۔ ہندوستان اور مصر اس کے زیر اقتدار تھے۔ دولت عثمانیہ اس کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ہدف اور جزیرۃ العرب اس کی ہوس اقتدار سے ہر وقت خطرہ میں تھا۔
ہندوستان پر ١٨٥٧ء سے پہلے ہی عملاً انگریزی تسلط قائم ہو چکا تھا۔ شاہجہان و اورنگزیب کے جانشین انگریزوں کے وظیفہ خوار اور سیاسی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے تھے۔ انگریز ملک کی بساط سیاست کے اصل شاطر اور سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ١٧٩٩ء میں ہندوستان کے مرد مجاہد ٹیپو سلطانؒ نے میدان کارزار میں شہادت سے سرخروئی حاصل کی اور انگریزوں کے حق میں ملک کا سیاسی مطلع بالکل صاف ہو گیا۔ سلطنت کے استحکام پر اعتماد کر کے پادریوں نے مسیحیت کی صاف صاف تبلیغ شروع کی۔ اس تبلیغ کا نشانہ قدرتی طور پر زیادہ تر مسلمان تھے۔ جن سے براہ راست ملک حاصل کیا گیا تھا۔ تعلیمات اسلام اور اصول اسلام کا مضحکہ اڑایا جانے لگا۔ ملک میں اخلاقی و اجتماعی انتشار و بدظنی کا دور دورہ ہوا۔ اسلام کی اجتماعی زندگی کی بنیادیں تزلزل میں آگئیں۔ مغربی تہذیب نے مسلمانوں کے گھروں اور ان کے دل و دماغ پر چھاپہ مارا۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ میں الحاد فیشن کے طور پر شروع ہوا۔
اس سب کے ردعمل میں ١٨٥٧ء کا ہنگامہ ظہور میں آیا۔ جس میں علم قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔ جیسا سب کو معلوم ہے۔ انگریز اس معرکہ میں کامیاب ہوئے اور یہ ملک ایسٹ انڈیا کمپنی کے انتظام سے نکل کر براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت ہو گیا۔ زخم خوردہ فاتحین نے ہنگامہ کے اصل ذمہ دار ”باغی مسلمانوں“ سے سخت انتقام لیا۔ انہوں نے ان کو بے عزت کیا۔ ان کے علماء و صلحاء اور روساء و شرفاء کو پھانسیوں پر چڑھایا۔ اسلامی اوقاف ضبط کر لئے۔ شریفانہ ملازمت کے دروازے ان پر بند کر دیئے۔ ملک کے نظم و نسق سے ان کو کلیۃً بے دخل کر دیا۔
(ڈاکٹر سر ولیم ہنٹر کی کتاب Our Indian Mussalmans اور سرسید کی اسباب بغاوت ہند)
٦٣
وہ ایک شکست خوردہ قوم کے ذلیل افراد بن کر رہ گئے اور اس ملک میں قرآن کی اس ابدی حقیقت کی تفسیر و تصویر نظر آئی۔
"ان الملوك اذا دخلوا قرية افسدوها وجعلوا اعزة اهلها اذلة (النمل:٣٤) "﴿بے شک بادشاہ و فاتح جب کسی بستی میں فاتحانہ داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے معزز ترین شہریوں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں۔﴾
انگریز اس ملک میں محض نا خدا ترس فرمانروا اور جابر حاکم نہ تھے۔ بلکہ وہ ایک ایسی تہذیب کے علمبردار تھے جو اس ملک میں فساد و الحاد اور اخلاقی انتشار کا سرچشمہ تھی۔ وہ عملاً ان تمام اقدار حیات کے منکر اور ان اخلاقی و دینی معیاروں سے منحرف تھے۔ جن پر اسلام کے اخلاقی و اجتماعی نظام کی بنیاد ہے۔ وہ ایک جرائم پیشہ قوم تھے۔ جس کی تاریخ عالم اسلام پر مظالم اور سیاسی جرائم سے داغ داغ ہے۔
انبیاء علیہم السلام اور ان کے جانشینوں کا طرز عمل
انبیاء علیہم السلام اور ان کے جانشینوں اور پیروؤں کی جو کچھ تاریخ اور سیرت دنیا میں محفوظ ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ظالموں اور مجرموں کے حریف اور مد مقابل رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ہر ایسی بات سے احتراز کیا ہے۔ جس سے ان کی تائید و امداد ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ مقولہ قرآن مجید میں منقول ہے: "رب بما انعمت علی فلن اكون ظهيراً للمجرمين (قصص:١٧) "﴿اے رب جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا۔ پھر میں کبھی گنہگاروں اور مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔﴾
کفر و ظلم اور اس کے علمبرداروں کے خلاف ان کے دل میں جو جذبہ اور غصہ تھا۔ اس کا اظہار ان کی مشہور دعا سے ہوتا ہے جو انہوں نے فرعون وقت اور اس کے ارکانِ سلطنت کے خلاف کی تھی۔
"ربنا انك آتيت فرعون وملائه زينة واموالا فى الحيوة الدنيا ربنا ليضلوا عن سبيلك ربنا اطمس على اموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يرووا العذاب الاليم (يونس:٨٨) "﴿اے رب ہمارے تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں رونق اور مال دیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ تیرے راستے سے بہکائیں گے۔ اے رب ان کی دولت پر جھاڑو پھیر دے اور ان کے دل کو سخت کردے کہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ ایمان نہ لائیں۔﴾
٦٤
خود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا: ”ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون (هود:١١٣)“ ﴿اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں۔ پھر تم کو لگے گی آگ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔﴾
رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے: ”افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر“ ﴿جہاد کی اعلیٰ ترین قسم ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔﴾
رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ، ان کے سچے جانشینوں نے کسی جابر حکومت اور کسی باطل طاقت کے ساتھ کبھی تعاون نہیں کیا اور ان کی زبان کبھی اس کی تعریف وتائید سے ملوث نہیں ہوئی۔ اسلام کی تاریخ دعوت وعزیمت سلاطین وقت کے سامنے کلمہ حق کہنے کے واقعات اور ظالموں کے مقابلے میں علم جہاد بلند کرنے کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ اس افضل جہاد سے تاریخ اسلام کا کوئی مختصر سے مختصر عہد اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا گوشہ بھی خالی نہیں ہے۔
انگریزی حکومت کی تائید وحمایت اور جہاد کی حرمت
لیکن قرآن مجید کی ان روشن تعلیمات اور روح اسلام کے بالکل برخلاف اور انبیاء ومرسلین، صحابہ و تابعین اور ان کے متبعین کے اسوۂ حسنہ کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی جن کو مامور من اللہ اور مرسل من عند اللہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اپنے عہد کے طاغوت اکبر انگریز کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ وہ اس حکومت کی تائید وحمایت میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ جو اسلامی مملکت کی غاصب اور اسلامی اقتدار کی سب سے بڑی حریف اور اپنے زمانہ میں فساد والحاد کی سب سے بڑی علمبردار تھی۔ وہ ایسے کھلے لفظوں میں اس حکومت کی مدح وثنا کرتے ہیں۔ جس کے لئے ایک صاحب ضمیر انسان تیار نہیں ہوسکتا۔ ان کو شروع سے اس مسئلے کا اتنا اہتمام تھا کہ ان کی کوئی تصنیف مشکل سے اس سے خالی نظر آتی ہے۔ انہوں نے پہلی اور سب سے اہم تصنیف، براہین احمدیہ کے حصہ اول میں جس طرح اس حکومت کی تعریف وتوصیف کی ہے اور اس کے احسانات وخدمات گنائے ہیں اور جس طرح اسلامی انجمنوں کو مسلمانوں کی طرف سے وفاداری کا محضر پیش کرنے اور جہاد کو منسوخ وممنوع قرار دینے کا مشورہ دیا ہے۔ وہ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ اس موضوع پر انہوں نے ایک وسیع کتب خانہ تیار کر دیا۔ جس میں انہوں نے بار بار اپنی وفاداری اور اخلاص اور اپنی خاندانی خدمات اور انگریزی حکومت کی تائید وحمایت اور اپنی سرگرمی اور انہماک کا ذکر کیا ہے اور ایک ایسے زمانے میں جب مسلمانوں میں دینی
٦٥
حمیت کو بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔ بار بار جہاد کے حرام و ممنوع ہونے کا اعلان کیا۔ یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند عبارتیں اور اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں کہ اگر وہ اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)
اپنی کتاب شہادت القرآن کے آخر میں لکھتے ہیں: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی کہ جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٥ ص ٣٨٠)
ایک درخواست میں جو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ٢٤؍فروری ١٨٩٨ء کو پیش کی گئی تھی۔ لکھتے ہیں: ”دوسرا امر قابل گذارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر کو پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔...... اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرفِ زر کثیر چھاپ کر بلادِ اسلام میں پہنچائیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال
٦٦
کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جانثار۔“
(تبلیغ رسالت ج٦ص٦٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٣٦٦، ٣٦٧)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی۔ وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچے دل سے اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینے میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد اسلام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا۔ اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔“
(ستارۂ قیصریہ ص٣، ٤، خزائن ج١٥ص١١٤)
مرزا قادیانی کی خصوصی توجہ مسئلہ جہاد پر مرکوز تھی۔ جو انگریزی حکومت کے لئے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ تمام ممالک اسلامیہ میں (جن کا بڑا حصہ برطانیہ کے زیر اقتدار آچکا تھا) خاص تشویش اور اضطراب کا باعث تھا۔ مرزا قادیانی نے جہاد کے دائمی طور پر منسوخ اور ممنوع ہو جانے کا اعلان فرمایا اور اس کو اپنے مسیح موعود ہونے کا نشان قرار دیا۔ چندہ منارۃ المسیح کے اعلان میں فرماتے ہیں: ”تیسرے یہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کھولو اور اس حدیث کو پڑھو جو مسیح موعود کے حق میں ہے۔ یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنی ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو
٦٧
جہاد کی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٦،٢٨٥)
جہاد کے اس موقوف ہونے کو وہ اپنی ”بعثت“ کا مقصد اعظم قرار دیتے ہیں۔ تریاق القلوب کے ضمیمہ ”اشتہار واجب الاظہار“ میں لکھتے ہیں: ”غرض میں اس لئے ظاہر نہیں ہوا کہ جنگ و جدل کا میدان گرم کروں۔ بلکہ اس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح صلح و آشتی کے دروازے کھول دوں اگر صلح کاری کی بنیاد درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ فضول ہے اور اس پر ایمان لانا بھی فضول۔“
(تریاق القلوب ص ٣٣٢، خزائن ج ١٥ ص ٥٢١)
ایک جگہ اور بھی صفائی اور اختصار کے ساتھ لکھا ہے: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
انگریزی حکومت کا قلعہ اور تعویذ
مرزا قادیانی نے اپنے عربی رسالہ ”نور الحق“ میں پوری صفائی اور وضاحت کے ساتھ یہاں تک لکھ دیا ہے کہ ان کا وجود انگریزی حکومت کے لئے ایک قلعہ اور حصار اور تعویذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی خدمات گناتے ہوئے لکھتے ہیں: ”فلی ان ادعی التفرد فی ھذہ الخدمات ولی ان اقول اننی وحید فی ھذہ التائیدات ولی ان اقول انی حرز لھا وحصن حافظ من الآفات وبشرنی ربی وقال ما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم فلیس للدولۃ نظیری ومثیلی فی نصری وعونی وستعلم الدولۃ ان کانت من المتوسمین“ مجھے حق ہے کہ میں دعویٰ کروں کہ میں ان خدمات میں منفرد ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں تائیدات میں یکتا ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں یہ کہوں کہ میں اس حکومت کے لئے تعویذ اور ایسا قلعہ ہوں جو اس کو آفات ومصائب سے محفوظ رکھنے والا ہے اور میرے رب نے مجھے بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔ جب تک تم ان میں ہو پس حقیقتاً اس حکومت کے پاس میرا کوئی ہمسر اور نصرت وتائید میں میرا کوئی مثیل نہیں۔ اگر خدا نے اس حکومت کو نگاہ اور مردم شناسی عطاء کی ہے تو وہ اس کی تصدیق کرے گی۔“
(نور الحق ص ٣٤،٣٣، خزائن ج ٨ ص ٢٥)
خود کاشتہ پودا
مرزا قادیانی نے اس درخواست میں جو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ٢٤؍فروری ١٨٩٨ء
٦٨
میں پیش کی تھی۔ یہاں تک لکھا ہے: ”یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربے سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے خیر خواہ اور خدمت گزار ہے۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کے ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(تبلیغ رسالت ج٧ ص١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١)
کسی درخواست میں اپنی اور اپنی جماعت کے لئے سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ کے الفاظ آئے ہیں۔
پادریوں کے مناظرے میں جوش اور تیزی کی وجہ
مرزا قادیانی کو انگریزی حکومت کے ساتھ ایسا اخلاص اور اس کی خیر خواہی کا ایسا جذبہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے جوش نفرت کو کم کرنے کے لئے مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ انہوں نے عیسائی مناظرین اور پادریوں کے مقابلے میں جس جوش اور سرگرمی کا اظہار کیا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ان عیسائی پادریوں نے اسلام کی تردید اور پیغمبر اسلام کی توہین میں ایسا رویہ اختیار کیا تھا۔ جس سے مسلمانوں میں جوش اور اشتعال پیدا ہو جانے اور حکومت وقت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اس لئے میں نے بھی مصلحتاً وقصداً ان کی تردید میں جوش و تاثیر کا اظہار کیا۔ تاکہ مسلمانوں کا جوش طبیعت فرو ہو جائے اور ان کو تسکین ہو۔
وہ لکھتے ہیں: ”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے....... تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں میں جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان کے جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب
٦٩
انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔“
(تریاق القلوب ص ٣٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٧)
انگریزی حکومت کے رضا کار اور جاسوس
ان تعلیمات اور اس عقیدہ اور تبلیغ کا نتیجہ یہ تھا کہ انگریزی حکومت کی وفاداری اور اخلاص اور اس کی خدمت کا جذبہ قادیانی جماعت کے ذہن اور اس کی سیرت و اخلاق کا ایک جزو بن گیا اور انگریزی حکومت کو اس جماعت میں سے ایسے مخلص خادم اور ایسے مستعد رضا کار ہاتھ آئے۔ جنہوں نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر حکومت کی گرانقدر خدمات انجام دیں اور اس کی خاطر اپنا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ افغانستان میں عبداللطیف قادیانیت کا ایک پرجوش داعی تھا جو جہاد کی برملا تردید کرتا تھا۔ وہ افغان قوم کے اس جذبہ جہاد کو فنا کرنے کے درپے تھا۔ جس نے کبھی اس ملک میں کسی غیر مسلم فاتح یا حکمران کے قدم جمنے نہیں دیئے اور جو انگریزی حکومت کو ہمیشہ پریشان کرتا رہا ہے۔ اسی بناء پر حکومت افغانستان نے اس کو قتل کر دیا۔
مرزا بشیر الدین محمود نے خود اس کا اطالوی مصنف کی کتاب کے حوالے سے ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں: ”وہ اطالوی مصنف لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف کو اس وجہ سے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور پڑ جائے گا اور اس پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔“
اسی خطبہ میں وہ ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر وہ اس بڑھے ہوئے جوش کا شکار ہو گئے۔ جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا اور وہ اسی ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہوگئے۔ جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔“
اسی طرح ملا عبدالحکیم و ملا نور علی قادیانی کے پاس سے ایسی دستاویزیں اور خطوط برآمد ہوئے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ افغانی حکومت کے غدار اور انگریزی حکومت کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں۔
اخبار ”الفضل“ نے افغانی اخبار ”امان افغان“ کے حوالہ سے اس اطلاع کو شائع کیا۔ وہ لکھتا ہے: ”افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحکیم چہار آسیائی اور ملا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں
٧٠
کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہور نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہوکر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ١١؍ رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔
(الفضل قادیان مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء)
مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے اس سپاسنامہ میں جو ١٩؍ جنوری ١٩٢٢ء کو پرنس آف ویلز کو پیش کیا تھا۔ ان واقعات کا ذکر کیا اور ظاہر کیا کہ یہ سب قربانیاں انگریزی حکومت کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا نتیجہ ہیں۔
تو نیز برسر بام آ کہ خوش تماشا نیست
اندازہ کی غلطی
مرزا قادیانی حکومت برطانیہ کا اقبال اور اس کی وسعت و استحکام دیکھ کر یقین رکھتے تھے کہ ہندوستان میں انگریزی حکومت کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ ان کے نزدیک اس سے وفاداری کا اظہار اور اس کی قسمت سے اپنی قسمت وابستہ کر دینا ایک بڑی سیاسی دور بینی اور اعلیٰ درجہ کے تدبر کی بات تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص دینی فراست اور سیاسی بصیرت دونوں سے محروم ہو۔ اس کا یہی فیصلہ اور اندازہ ہوگا۔ ان کے علم و ادراک پر یہ بات بالکل مخفی رہی کہ ان کے انتقال پر نصف صدی نہ گزرنے پائے گی کہ یہ غیر متزلزل انگریزی حکومت جس کو وہ ”سایۂ الٰہ“ اور ”دولت دین پناہ“ سمجھتے تھے۔ ہندوستان سے اس طرح کوچ کر جائے گی کہ جیسے کبھی یہاں اس کا وجود نہ تھا اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں اس کا ستارۂ اقبال غروب ہو جائے گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اس غیر اسلامی اور مخالفِ اسلام حکومت سے جس طرح اپنی نیاز مندی کا اظہار کیا ہے اور جس جوش کے ساتھ مسلمانوں کو محکومی اور غلامی کی زندگی کو نعمت سمجھنے کی تلقین کی ہے۔ اس کو اس منصب و مقام سے کچھ مناسبت نہیں۔ جس کے وہ مدعی ہیں۔
اقبال مرحوم نے اسی بوالعجبی اور تضاد کی طرف اپنے اشعار میں اشارہ کیا ہے۔
گرچہ گوید از مقام بایزید
١٧
زندگانی از خودی محرومیت
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقصہا گرد کلیسا کرد و مرد
فصل سوم ...... مرزا غلام احمد قادیانی کی درشت کلامی اور دشنام طرازی
انبیاء اور ان کے متبعین کا طرز کلام
انبیاء علیہم السلام اور ان کے متبعین کے متعلق یقین اور تواتر سے معلوم ہے کہ وہ نہایت شیریں کلام، پاکیزہ زبان، صابر و متحمل، عالی ظرف، فراخ حوصلہ اور دشمن نواز ہوتے ہیں۔ وہ دشنام کا جواب سلام سے، بددعا کا جواب دعا سے، تکبر کا جواب فروتنی سے اور رذالت کا جواب شرافت سے دیتے ہیں۔ ان کی زبان کبھی کسی دشنام اور کسی فحش کلامی سے آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ اگر کسی کی تردید یا مذمت کرتے ہیں تو سادہ اور واضح الفاظ میں وہ کسی کے نسب پر حملہ کرنے، اس کے خاندان یا آباؤ اجداد پر الزام لگانے اور درباری شاعروں اور لطیفہ گویوں کی طرح چٹکی لینے اور فقرہ چست کرنے کے فن سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں۔ ان کا کلام موافقت ومخالفت دونوں موقعوں پر ان کی سیرت اور فطرت کی طرح پاکیزہ، معتدل، متوازن اور واضح ہوتا ہے۔ صحابہ کرام آنحضرت ﷺ کی تعریف میں فرماتے ہیں: ” ماکان رسول الله ﷺ فاحشا ولا متفحشا ولا صخاباً في الاسواق“ ﴿رسول اللہ ﷺ نہ عادۃً سخت گو تھے نہ بہ تکلف سخت
(ترمذی)
گو بنتے تھے۔ نہ بازاروں میں خلاف وقار باتیں کرنے والے تھے۔﴾
خود آپؐ نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذی“ ﴿مومن نہ طعن و تشنیع کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت بھیجنے
(ترمذی)
والا ہوتا ہے۔ نہ سخت گو نہ فحش کلام۔﴾
اس کے مقابلہ میں آپؐ نے منافق کی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے: ”واذا خاصم فجر“ ﴿اور جب اس کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فوراً گالی گلوچ پر اتر آتا
(بخاری، مسلم)
ہے۔﴾
حضرات انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص جناب سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان تو
بہت رفیع ہے۔ ان کے غلام بھی ان پستیوں سے بلند ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے دشمنوں اور بدخواہوں کے حق میں اکثر یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے ؎
ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد
ہر کہ او خارے نہد در راہ ما از دشمنی
ہر گلے کز باغ عمرش بشگفد بے خار باد
خود مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ پیشواؤں اور ان ہستیوں کے لئے جو امامت اور دینی عظمت کے مرتبہ سے سرفراز ہوں۔ تحمل، ضبط نفس اور عفو و حلم کی صفت بہت ضرورت ہے۔ ”ضرورۃ الامام“ میں لکھتے ہیں: ”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں، سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ ایک نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درست بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ بات میں منہ سے جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح سے امام زماں نہیں ہو سکتا۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
لیکن اس کے بالکل برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفین کو (جن میں جلیل القدر علماء اور عظیم المرتبت مشائخ تھے) ان الفاظ سے یاد کیا ہے اور ان کی ان الفاظ میں ہجو کی اور خاک اڑائی ہے کہ بار بار تہذیب کی نگاہیں نیچی اور حیاء کی پیشانی عرق آلودہ ہو جاتی ہے۔ ان مخالفین کے لئے ”ذریۃ البغایا“ (بدکار عورتوں کی اولاد) کا کلمہ تو مرزا قادیانی کا تکیہ کلام ہے۔
(التبلیغ ص ٢٣٥، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)
ان کی اس ہجو کے زیادہ تیز اور شوخ نمونے عربی نظم ونثر میں ہیں۔ لیکن چونکہ اصناف ادب میں سے طنزیات و ہجویات کا ترجمہ سب سے زیادہ نازک اور مشکل کام ہے۔ اس لئے یہاں چند ہی نمونوں کے ترجمے پیش کئے جاتے ہیں۔
فرماتے ہیں: ”اگر یہ گالی دیتے ہیں تو میں نے ان کے کپڑے اتار لئے ہیں اور ان کو ایسا مردار بنا کر چھوڑ دیا ہے جو پہچانا نہیں جاتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨٢)
٧٣
دوسری جگہ اپنے مخالفین کو اس طرح یاد کرتے ہیں: ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ص ٥٣)
انہوں نے اپنے حریف مقابل مولوی سعد اللہ صاحب لدھیانوی کو ان الفاظ میں یاد کیا ہے کہ قلم بھی اس کا ترجمہ کرنے سے معذرت کرتا ہے۔ اس لئے عربی دان اصحاب کے لئے اصل اشعار نقل کر دیئے جاتے ہیں۔
غولا لعينا نطفة السفهاء
شكس خبيث مفسد ومزور
نحس يسمى السعد فى الجهلاء
اذيتنى خبثا فلست بصادق
ان لم تمت بالخزى يا ابن بغاء
(انجام آتھم ص ٢٨١،٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ٢٨١،٢٨٢)
انہوں نے ایک ہی مقام پر اپنے عصر کے اکابر علماء وشیوخ کو جو اسلامی ہندوستان کا جوہر اور عالم اسلام کے چیدہ و برگزیدہ بزرگ، عارف باللہ اور جید عالم تھے۔ اپنے ہجو و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی، مولانا عبد الحق حقانی، مفتی عبد اللہ ٹونکی، مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا احمد حسن امروہی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جیسے اعاظم رجال ہیں۔ ان کے لئے انہوں نے ذباب وکلاب، شیطان لعین، شیطان اعمیٰ، غول اغویٰ اور شقی و ملعون کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
اسی طرح اپنے زمانے کے مشہور عالم اور شیخ طریقت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی شان میں ایک ہجویہ قصیدہ لکھا ہے۔ جس کے دو شعروں کا ترجمہ انہیں کے قلم سے حسب ذیل ہے: ”پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعونوں کے سبب سے ملعون ہو گئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔ اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٩ص ١٨٨)
ان مطاعن اور درشت کلامیوں سے بھی ان کی پر جوش طبیعت کو تسکین نہیں ہوئی۔ وہ بعض موقعوں پر مخالفین پر لعنت کرتے ہوئے لعنت کی تعداد کو کسی ایک ہندسہ میں ظاہر کرنے کے بجائے لفظ لعنت کو علیحدہ علیحدہ لکھتے ہیں۔ ضمیمہ نزول المسیح میں انہوں نے مولانا ثناء اللہ صاحب
کے لئے دس مرتبہ لعنت لکھا ہے اور نور الحق میں عیسائیوں کے لئے ایک ہزار بار لعنت کا لفظ لکھا ہے۔ یہ لعنت نامہ ان کے جوش طبیعت کا عجیب مرقع ہے۔
(نورالحق ص ١٥٨ تا ١٦٢ خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)
یہاں پر مرزا قادیانی کے طرز کلام کے چند مزید نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔ جن میں انہوں نے اپنے مخالف علماء کو مجموعی طور پر مخاطب کیا ہے۔ انجام آتھم کے ایک حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں: ”اے بدذات فرقۂ مولویان! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت داری کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو!! تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو! تم سچائی کے تیز شعاعوں کو کیونکر چھپا سکتے ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
اس تحریر میں لکھتے ہیں: ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
یہ موضوع نہ تو محرر سطور کے لئے خوشگوار ہے۔ نہ قارئین کتاب کے لئے دلچسپ و مرغوب۔ اس لئے ہم انہیں چند نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں۔
فصل چہارم ...... ایک پیش گوئی جو پوری نہ ہوئی
محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی
١٨٨٨ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے (جب کہ ان کی عمر پچاس سال کی تھی) اپنے ایک رشتہ دار مرزا احمد بیگ کی نو عمر صاحبزادی محمدی بیگم کے نکاح کا پیام دیا۔ ان کا بیان ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس بات کے لئے مأمور تھے اور خدا نے صاف اور صریح الفاظ میں اس کام کی تکمیل کا وعدہ فرمایا تھا۔ وہ اپنے ایک اشتہار میں جو ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو شائع اور تقسیم ہوا۔ لکھتے ہیں: ”اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں کے
٧٥
نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط کے ساتھ کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار مورخہ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦)
ازالۃ اوہام میں اس پیش گوئی کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں: ”خدائے تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالۃ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
پیش گوئی کی اہمیت اور اس کی قطعیت
یہ مسئلہ اگر چہ ایک خانگی مسئلہ تھا اور کسی مؤرخ یا ناقد کو ایسے خانگی و ذاتی مسائل سے کوئی بحث نہیں ہونی چاہئے۔ دنیا میں لوگ شادی کے پیام دیتے ہیں۔ کبھی منظور ہوتے ہیں، کبھی منظور نہیں ہوتے۔ لیکن اس پیام اور اس واقعہ کو ایک خاص اہمیت اور امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار اور اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ اسی اشتہار میں اپنی اس پیش گوئی کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”یہ خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
یہ بھی خیال ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات غیبی اطلاع کے سمجھنے میں اشتباہ ہو جاتا ہے اور مبہم الفاظ کے اشتراک کی وجہ سے اس کا کوئی غلط مصداق ٹھہر لیتا ہے۔ لیکن خود مرزا قادیانی کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پیش گوئی میں جو بڑی تحدی اور چیلنج کے ساتھ مخالفوں کے سامنے پیش کی
٧٦
گئی تھی۔ اس شبہ کا کوئی جواز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں : ”جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعوے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خاص طور کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٠٩)
ممکن ہے لوگ اس پیش گوئی کو زیادہ اہمیت نہ دیتے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں ان پیش گوئیوں میں کوئی بات نئی نہ تھی۔ ان کی تصنیفات، اشتہارات اور ان کی دعوتی زندگی ان پیش گوئیوں سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن اس پیش گوئی میں ایک خاص انفرادیت اور تشخص ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کو ایک نشان آسمانی اور فیصلہ آسمانی کے طور پر پیش کیا اور اس کو نہ صرف اپنے صدق و کذب بلکہ اسلام کی شکست و فتح کا معیار بنا دیا۔ وہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کے مذکورہ بالا اشتہار میں لکھتے ہیں: ”پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔“
چنانچہ عربی الہام میں اس بارے میں یہ ہے: ”كذبوا بآيتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمت الله ، ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك ، عسى ان يبعثك ربك مقاماً محموداً“ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔ جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو دل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدائے تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٧،٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٦،٢٨٧)
اس کے بعد بھی امکان تھا کہ لوگ اپنی مشغولیتوں میں اس قصہ کو بھول جاتے لیکن
٧٧
مرزا قادیانی کو اس درجہ اس پیش گوئی کی تکمیل پر یقین تھا کہ وہ بار بار اس کا اعادہ کرتے رہتے تھے اور زیادہ سے زیادہ مؤکد الفاظ میں اس کا اعلان فرماتے تھے۔ وہ آسمانی فیصلہ میں فرماتے ہیں: ”اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں۔ جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے: ”ويستنبؤنك احق هو قل ای وربی انه لحق وما انت بمعجزين زوجنکہا لا مبدل لكلماتی وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر “ اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠)
اپنے اس عربی خط میں جو علماء ومشائخ ہندوستان کے نام تحریر کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”والقدر قدر مبرم من عند الرب العظیم وسیاتی وقته بفضل الله الکریم فوالذی بعث لنا محمد المصطفى وجعله خير الرسل وخير الورى ان هذا حق فسوف ترى وانی اجعل هذا النباء معیار لصدقی وکذبی وما قلت الا بعد ما انبئت من ربی“ تقدیر مبرم ہے۔ جس کا خدا کی طرف سے آخری فیصلہ ہوچکا ہے اور اس کا وقت بفضل خدا آ کر رہے گا۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام انبیاء اور تمام مخلوقات میں افضل بنایا۔ یہ ایک امر حق ہے تم کو خود نظر آ جائے گا اور میں اس پیش گوئی کو اپنے صدق وکذب کا معیار ٹھہراتا ہوں اور میں نے اس وقت تک یہ بات نہیں کہی۔ جب تک مجھے اپنے رب کی طرف سے اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
ازالہ اوہام میں اس پیش گوئی کی عظمت اور اس کے نشان آسمانی ہونے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس (پیش گوئی) کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ خدا کا فعل ہے اور یہ پیش گوئی ایک سخت قوم کے مقابلہ پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جس کو ان کے حال کی خبر ہوگی۔ وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہوگا۔ جو شخص اشتہار کو پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو۔ اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
٧٨
مرزا قادیانی کو شدت علالت اور قرب وفات کے خطرہ سے جب کبھی اس پیش گوئی کے بارے میں تردد ہوا۔ جدید الہام کے ذریعے سے ان کو اس کا اطمینان دلایا گیا۔ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ (جیسا کہ اب تک یعنی ١٦؍ اپریل ١٨٩١ء ہے۔ پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کی نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور اب جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا: ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، ٣٠٦)
غرض محمدی بیگم سے نکاح مرزا قادیانی کے نزدیک ایک طے شدہ امر تھا۔ جس کا فیصلہ آسمان پر ہو چکا تھا اور جس میں تغیر وتخلف کا کوئی امکان نہ تھا۔ انہوں نے اس کو نہ صرف اپنے صدق وکذب بلکہ اپنے خبر دینے والے کے صدق وکذب کا معیار بنا دیا تھا اور چونکہ اپنے کو وہ اسلام کا صحیح نمائندہ اور وکیل اور اپنی عزت کو اسلام کی عزت سمجھتے تھے۔ اس موقع پر اسلام کی فتح وشکست کا سوال کھڑا کر دیا تھا۔
مرزا احمد بیگ کا انکار اور مرزا قادیانی کا اصرار
مرزا احمد بیگ نے مرزا غلام احمد قادیانی کا پیام نامنظور کیا اور اپنے ایک عزیز مرزا سلطان محمد سے اپنی لڑکی کا عقد کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ مرزا قادیانی کو اس کا علم ہوا۔ مسئلہ (خود مرزا قادیانی کے جوش اور خود اعتمادی کی وجہ سے) خاندانی حدود سے نکل کر پبلک میں آ چکا تھا اور اخباروں اور رسالوں کا عنوان اور مجلسوں کا موضوع سخن بنا ہوا تھا۔ ہندو، مسلمان اور سکھوں کو اس مسئلہ سے ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی جو اپنی خصوصیات اور امتیازی شان کی وجہ سے بالعموم شاہی خاندان اور مشاہیر کی شادیوں اور رشتہ داریوں سے بھی نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی نے اپنے بار بار کے اشتہارات اور تحدی سے خود اس مسئلہ کو پیچیدہ اور نازک بنا دیا تھا۔ لڑکی کے خاندان کے لوگوں نے (جو مرزا قادیانی سے دینی اختلاف بھی رکھتے تھے اور جن کی خودداری اور شرافت کو مرزا قادیانی کے اعلانات اور تشہیر سے ٹھیس لگی تھی) لڑکی کو مرزا قادیانی کے حبالہ عقد میں دینے
٧٩
سے انکار کر دیا۔ مسئلہ ایسا مابہ النزاع اور سنجیدہ بن گیا تھا کہ مرزا قادیانی کے لئے اس رشتہ کا ہو جانا ضروری تھا اور وہ اتنے واضح اور قطعی الفاظ میں اس کی پیش گوئی اور یقین دہانی کر چکے تھے کہ ان کے لئے نہ اس سے دستبردار ہونا ممکن تھا نہ اس کی تاویل۔ خود مرزا قادیانی اصولاً اس کے قائل تھے کہ ملہم کو پیش گوئی کی تکمیل کے لئے خود بھی جدوجہد اور تدبیر کرنی چاہئے اور یہ اس کے منصب ومقام کے منافی نہیں۔ ١؎ اسی بناء پر نزول مسیح کی پیش گوئی کے ایک جز ”منارۃ شرقی“ کی تعمیر کا انہوں نے اہتمام کیا تھا اور اپنی زندگی میں اس کا آغاز کر دیا تھا۔ اسی اصول کی بناء پر انہوں نے محمدی بیگم کے ولی اس کے والد اور اس کے رشتہ داروں کو ہر طرح سے اس رشتہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس کے لئے ترغیب وترہیب کے تمام ذرائع اختیار کئے۔ ان کی درخواست اور ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کے اشتہار میں بھی دونوں پہلو (ترغیب وترہیب) موجود ہیں۔ وہ عقد ہو جانے کی حالت میں انعامات خداوندی کا وعدہ کرتے ہیں اور انکار کی حالت میں اس کے اجڑ جانے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ اور اس کے پھوپھا مرزا علی شیر بیگ اور پھوپھی اور ان دوسرے اعزہ کو جو اس رشتہ کے بارے میں مؤثر ومفید ہو سکتے تھے۔ بڑی لجاجت اور خوشامد کے خط لکھے کہ وہ اپنے اثر ورسوخ سے کام لے کر یہ رشتہ اگر کرا دیں۔ مرزا احمد بیگ کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ”اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں گا اور آپ کی درازیٔ عمر کے لئے ارحم الراحمین کے جناب میں دُعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔“
دوسرے خط میں لکھتے ہیں: ”میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٤)
١؎ وہ حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨ میں لکھتے ہیں: ”اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
٨٠
مرزا علی شیر بیگ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ”اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی لڑکی سے کیا غرض؟ کہیں جائے۔ مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میرے عزت کے پیاسے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥)
آپ نے مرزا احمد بیگ کے نام ایک خط میں یہ بھی لکھا کہ: ”آپ کو شاید معلوم ہوگا کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔“
اسی خط میں لکھتے ہیں: ”میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٤)
مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ ان کی بہو عزت بی بی فضل احمد مرحوم کی اہلیہ اور اس کی والدہ اہلیہ مرزا شیر علی بیگ جو لڑکی کی پھوپھی تھیں۔ مرزا قادیانی کے نکاح کی مخالف اور مرزا سلطان محمد سے محمدی بیگم کے نکاح کے لئے ساعی اور مؤید ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کو لکھا: ”میں نے ان کی خدمت میں (اہلیہ مرزا شیر علی بیگ کی خدمت میں) خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی (مرزا احمد بیگ) کو اس نکاح سے روک نہ دیں تو جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی (عزت بی بی) کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب (محمدی بیگم) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضے میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال اس کا مال ہوگا۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٦)
مرزا قادیانی نے عزت بی بی سے اپنی والدہ کے نام خط لکھوایا۔ جس میں اس نے لکھا
٨١
کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو واقعی مرزا قادیانی میرے شوہر سے مجھے طلاق دلوا دیں گے اور میری خانہ بربادی ہو جائے گی۔
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧)
فضل احمد مرحوم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ مرزا قادیانی کے دوسرے صاحبزادے مرزا سلطان احمد بھی محمدی بیگم کے گھر والوں کے ہمنوا تھے اور ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے مرزا سلطان احمد کو بالفاظ خود عاق اور محروم الارث اور ان کی والدہ کو طلاق دے دی۔
(تبلیغ رسالت حصہ دوم ص ٩، مجموعہ اشتہارات ج اول ص ٢٢١)
بالآخر ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے نکاح ہو گیا۔ مگر مرزا قادیانی اس کے بعد بھی پیش گوئی کی تکمیل سے مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے ١٩٠١ء میں عدالت ضلع گورداسپور میں حلفیہ بیان میں کہا: ”سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ۔ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید یقین کامل ہے۔ خدا کی باتیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء)
مرزا قادیانی نے اپنے پہلے اشتہار میں پیش گوئی کی تھی کہ جس کسی دوسرے شخص سے محمدی بیگم کا نکاح ہوگا۔ وہ اڑھائی سال کے اندر انتقال کر جائے گا۔ یہ اڑھائی سال کی مدت گزر گئی اور مرزا سلطان محمد صاحب بقید حیات تھے اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے تھے۔ مرزا قادیانی نے اس میعاد کے گزر جانے کے بعد اس میں توسیع فرمادی۔
اشتہار مورخہ ٦؍ ستمبر ١٨٩٦ء میں لکھتے ہیں: ”عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے۔ جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ: ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ یعنی میری بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣)
٨٢
اسی اشتہار میں دوسری جگہ اس التواء کی حکمت بیان کرتے ہیں: ”قرآن بتلا رہا ہے کہ ایسی پیش گوئیوں کی میعادیں معلق تقدیر کی قسم میں سے ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان کے تبدل اور تغیر کے وجوہ پیدا ہونے کے وقت ضرور وہ تاریخیں اور میعادیں ٹل جاتی ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے۔ جس سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ پس ہر ایک پیش گوئی جو وحی اور الہام کے ذریعے سے ہو گی۔ ضرور ہے کہ وہ اسی سنت کے موافق ہو۔ جو خدا تعالیٰ کی کتابوں میں قرار پا چکی ہیں اور اس زمانہ میں اس سے یہ فائدہ بھی متصور ہے کہ جو علوم ربانی دنیا سے اٹھ گئے ہیں۔ پھر ان لوگوں کی نظر ان پر پڑے اور معارف قرآنی کی تجدید ہو جائے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ص٤٥)
مرزا قادیانی کو بہرحال اس پیش گوئی کے سچ ہونے پر اصرار اور اس کی تکمیل کا یقین تھا۔ انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“
(انجام آتھم ص٣١ حاشیہ، خزائن ج١١ص٣١)
مرزا سلطان محمد کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت دی۔ وہ پہلی جنگ عظیم میں شریک ہوئے اور زخمی ہوئے۔ لیکن بچ گئے اور مرزا قادیانی کی وفات کے بعد عرصہ زندہ رہے۔
مرزا قادیانی نے ١٩٠٨ء میں وفات پائی اور یہ نکاح جو بقول ان کے آسمان پر ہو چکا تھا۔ زمین پر نہ ہو سکا۔ لیکن جماعت کے راسخ العقیدہ افراد کے نزدیک اب بھی اس کے متعلق قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جب تک نسل آدم کا سلسلہ باقی ہے۔ اس پیش گوئی کے تحقق کا امکان ہے۔ حکیم نور الدین صاحب نے اس کی عجیب تقریر فرمائی۔ وہ اپنے ایک مضمون میں جو وفات مسیح موعود کے عنوان سے ١٩٠٨ء میں قادیان کے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوا تھا۔ لکھتے ہیں: ”اب وہ تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد اور مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات (لڑکیوں کی لڑکیوں) کو حکم بنات نہیں مل سکتا اور کیا مرزا قادیانی کی اولاد مرزا قادیانی کی عصبہ نہیں۔ میں نے تو بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت (مرزا قادیانی) کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج٧، نمبر٦، ٧، بابت جون، جولائی ١٩٠٨ء ص ٢٨٩)
٨٣
باب چہارم ...... تحریک قادیانیت کا تنقیدی جائزہ
فصل اوّل ...... ایک مستقل مذہب اور ایک متوازی امت
ایک غلط فہمی
قادیانیت کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے صدہا دینی وعلمی اختلافات اور مکاتب فکر میں سے ایک دینی وعلمی اختلاف رائے اور ایک خاص مکتب فکر ہے اور اس کے پیرو امت اسلامیہ کے مذہبی فرقوں اور جماعتوں میں سے ایک مذہبی فرقہ اور جماعت ہیں اور یہ اسلام کی کلامی وفقہی تاریخ کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔
لیکن قادیانیت کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کرنے سے یہ غلط فہمی اور خوش گمانی دور ہو جاتی ہے اور ایک منصف مزاج اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ قادیانیت ایک مستقل مذہب اور قادیانی ایک مستقل امت ہیں۔ جو دین اسلام اور امت اسلامیہ کے بالکل متوازی چلتے ہیں اور اس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے اس بیان میں کوئی مبالغہ اور غلط بیانی نہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک جز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود الفضل قادیان ٣ جولائی ١٩٣١ء)
اور یہ کہ: ”حضرت خلیفۂ اوّل نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور ہے۔“
(مرزا محمود الفضل ٣١ دسمبر ١٩١٣ء)
اسلام کی تاریخ میں اس سے پہلے ایک اور تحریک کی نظیر ملتی ہے۔ جس نے اسلام کا نام لیتے ہوئے اور اپنے دائرہ عمل کو مسلمانوں کے اندر محدود رکھتے ہوئے اسلام کے نظام عقائد و افکار اور نظام زندگی کے بالکل متوازی ایک نظام اعتقاد و فکر اور ایک نظام زندگی کی بنیاد ڈالی اور اسلام کے دائرہ میں ”ریاست اندرون ریاست“ کی تعمیر کی کوشش کی۔ یہ تحریک باطنیت ہے یا اسماعیلیت جس سے قادیانیت کو حیرت انگیز مماثلت حاصل ہے۔ (ہمارا اسماعیلی مذہب اس کا نظام از ڈاکٹر زاہد علی دکن)
٨٤
قادیانی تحریک کا متوازی مذہبی نظام
قادیانی تحریک اسلام کے دینی نظام اور زندگی کے ڈھانچہ کے مقابلے میں ایک نیا دینی نظام اور زندگی کا نیا ڈھانچہ پیش کرتی ہے۔ وہ دینی زندگی کے تمام شعبوں اور مطالبوں کو بطور خود خانہ پری کرنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے پیروؤں کو جدید نبوت، جدید مرکز محبت وعقیدت، نئی دعوت، نئے روحانی مرکز اور مقدسات، نئے مذہبی شعائر، نئے مقتداء، نئے اکابر، نئی تاریخی شخصیتیں، عطاء کرتی ہے۔ غرض یہ کہ وہ قلب ودماغ اور فکر واعتقاد کا نیا مرکز قائم کرتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو اس کو ایک فرقہ اور فقہی یا کلامی دبستان یا مکتب خیال سے زیادہ ایک مستقل مذہب اور نظام زندگی کی شکل عطا کرتی ہے۔ اس کے اندر اس بات کا ایک واضح رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ نئی مذہبی بنیادوں پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر کرے اور مذہبی زندگی کو ایک نئی شکل اور مستقل وجود بخشے۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ جو افراد خلوص اور جوش کے ساتھ اس تحریک ودعوت کو قبول کرتے ہیں اور اس کے دائرہ میں آ جاتے ہیں۔ ان کے فکر واعتقاد کا مرکز بدل جاتا ہے اور ان کی زندگی میں قدیم دینی مرکزوں اور اداروں (اپنے وسیع معنی میں) اور شخصیتوں کی جگہ پر جدید دینی مرکز اور ادارے اور شخصیتیں آ جاتی ہیں اور وہ ایک نئی امت بن جاتے ہیں جو اپنے جذبات، طریق فکر، عقیدت ومحبت میں ایک مستقل شخصیت اور وجود کے مالک ہوتے ہیں۔ انفرادیت اور تقابل کا یہ رجحان قادیانیت کے اندر شروع سے کام کر رہا ہے اور اب وہ بلوغ وپختگی کے اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ قادیانی اصحاب بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ اسلامی شعائر ومقدسات کے ساتھ قادیانی شعائر اور مقدسات کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان کا ہم پلہ اور مساوی قرار دیتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کو اسلام کے دینی نظام میں جو مرکز ومقام حاصل ہے۔ وہ ظاہر ہے۔ لیکن قادیانی اصحاب مرزا قادیانی کے رفقاء اور ہم نشینوں کو صحابہؓ رسول ہی کا درجہ دیتے ہیں۔ ایک قادیانی ذمہ دار اس ذہنیت کی اس طرح ترجمانی کرتے ہیں: ”ان دونوں گروہوں (صحابہ کرام اور رفقائے مرزا غلام احمد قادیانی) میں تفریق کرنی یا ایک کو دوسرے سے مجموعی رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں۔ یہ دونوں فرقے درحقیقت ایک ہی جماعت میں ہیں۔ صرف زمانہ کا فرق ہے۔ وہ بعثت اولیٰ کے تربیت یافتہ ہیں اور یہ بعثت ثانیہ کے۔“
(الفضل مورخہ ٢٨ مئی ١٩١٨ء)
اسی طرح وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مدفن کو مرقد رسول ﷺ اور گنبد خضراء کا مماثل شبیہ بتاتے ہیں۔ الفضل نے ١٨ دسمبر ١٩٢٢ء کی اشاعت میں قادیان کے شعبۂ تربیت کا یہ بیان
٨٥
شائع کیا تھا۔ جس میں ان شرکائے جلسہ کی دینی بے حسی اور بدذوقی کی شکایت کرتے ہوئے جو قادیان حاضر ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کے مدفن پر حاضری نہیں دیتے۔ کہا گیا ہے: ”کیا حال ہے اس شخص کا جو قادیان دارالامان میں آئے اور دو قدم چل کر مقبرہ بہشتی میں حاضر نہ ہو۔ اس میں وہ روضہ مطہرہ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے۔ جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبیین نے فرمایا: ”یدفن معی فی قبری“ اس اعتبار سے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد بیضا پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں۔ جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص، جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٤٨)
قادیانی اصحاب اس دینی و روحانی تعلق کی بناء پر جو نئی نبوت اور نئے اسلام کا مرکز ہونے کی بناء پر قادیان کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ قادیان اسلام کے مقامات میں سے ایک اہم ترین اور عظیم ترین مقام ہے اور وہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ساتھ قادیان کا نام لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی ایک تقریر میں کہا: ”ہم مدینہ منورہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح ہم قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے۔ خدا تعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور ان تینوں مقامات کو اپنی تجلی کے اظہار کے لئے چنا۔“
خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان کو سرزمین حرم سے تشبیہ و تمثیل دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔
(درثمین اردو ص ٥٢)
ان کے نزدیک قادیان کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے۔ منارۃ المسیح کے اشتہار (٢٨ مئی ١٩٠٠ء) میں آپ نے لکھا ہے: ”جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا۔ ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت ﷺ کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔ پس اس پہلو کی رو سے جو اسلام کے انتہائے زمانہ تک آنحضرت ﷺ کا سیر کشفی ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں
٨٦
واقع ہے۔ جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے: ”مبارك ومبارك وكل امر مبارك جعل فيه“ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا۔ قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔“
(تذکرہ ص ٢٥٢، طبع ٣)
ان سب بیانات اور قادیان کے بارے میں اعتقادات کا منطقی اور طبعی نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ اس کے لئے شد رحال کر کے سفر کرنے اور وہاں سال بسال حاضر ہونے کو حج ہی کا سا ایک مقدس عمل بلکہ ایک طرح کا حج سمجھا جانے لگے۔ چنانچہ قادیانیت کے رہنماؤں اور ذمہ داروں نے سفر قادیان کو ظلی حج کا لقب دیا ہے اور اس کو ان لوگوں کے لئے جو خانہ کعبہ کے حج کو نہ جاسکیں ”حج اسلام کا حج بدل“ قرار دیا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: ”چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں، حالانکہ الہی تحریکات پہلے غرباء میں پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تا وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
اس بارے میں اتنا غلو ہونے لگا کہ قادیان کے سفر کو حج بیت اللہ پر ترجیح دی جانے لگی اور یہ اس ذہنیت کا لازمی و قدرتی نتیجہ ہے کہ قادیانیت ایک زندہ اور جدید مذہب اور اس کا مرکز ایک زندہ اور جدید مذہب کا روحانی مرکز ثقل ہے۔ جس سے نئی زندگی اور نئی مذہبی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی بناء پر ایک قادیانی بزرگ نے ارشاد فرمایا کہ: ”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے۔ وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس حج ظلی کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک حج رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر آج کل کے حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔“
(پیغام صلح ج ٢١ نمبر ٢٢)
انفرادیت کا رجحان اور ایک مستقل دین اور نئی تاریخ کے آغاز کا احساس اتنا بڑھ گیا کہ قادیانی حضرات نے اپنی نئی تقویم کی بنیاد ڈال دی اور سال کے مہینوں کے نئے ناموں سے تاریخ لکھنے لگے۔ قادیانیت کے سرکاری ترجمان ”الفضل“ میں مہینوں کے جو نام چھپتے ہیں۔ وہ حسب ذیل ہیں: ”صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، اخاء، نبوت، فتح ۔“
خالص ہندوستانی مذہب ہونے کی حیثیت سے قادیانیت کا خیر مقدم
ان مذہبی تصورات اور انفرادیت کے رجحانات کا نتیجہ یہ ہے کہ مذہب و تحریک
٨٧
قادیانیت کا دینی، روحانی، سیاسی مرکز بجائے جزیرۃ العرب اور مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کے (جو اسلام کا گہوارہ اور اس کی زندگی کا سرچشمہ اور ابدی مرکز ہیں) قادیان بننے لگا جو اس نئے مذہب وتحریک کے ظہور اور نشو ونما کا مرکز ہے۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوگا کہ قادیانیت اور اس کے پیروؤں کی وابستگی عرب و حجاز سے روز بروز کم ہوتی چلی جائے گی اور اس کی دلچسپیاں اور تو جہات ہندوستان میں محدود ہونے لگیں گی۔ جس کی سرزمین سے یہ دعوت و تحریک اٹھی اور جس کی خاک سے اس کا بانی اور داعی پیدا ہوا اور بالآخر اسی میں نشوونما پا کر اور اپنی زندگی کی منزلیں طے کر کے دفن ہوا۔ یہ اس آغاز اور طریق فکر کا قدرتی نتیجہ ہے جو اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوگا اور جس طرح درخت کے پھل پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ اس تحریک و دعوت کے مزاج اور اس کے طریق کار کے اس منطقی نتیجہ پر بھی تعجب کا کوئی موقع نہیں۔
قادیانیت کے اس مزاج اور اس کے اس رخ کا ہندوستان کے ان قوم پرستوں نے پرجوش خیر مقدم کیا۔ جن کو ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ پرانی شکایت ہے کہ ان کی اصلی وابستگی سرزمین حجاز سے ہے اور وہ ہمیشہ عرب کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس عنصر کے نزدیک ہندوستانی قومیت متحدہ کے لئے یہ بات تشویش اور انتشار کا باعث ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک اہم اور کثیر التعداد عنصر ایک بیرونی ملک سے روحانی و قلبی تعلق رکھے اور اس کا دینی مرکز ، اس کی روحانی شخصیتیں، اس کے مقامات مقدسہ اور اس کا عزیز ترین تاریخی سرمایہ ہندوستان کے بجائے کسی اور ملک یا حصہ زمین میں ہو۔ ہندوستان کے اس قوم پرست عنصر نے قادیانیت کا اس حیثیت سے پرجوش استقبال کیا ہے کہ وہ ایک خالص ہندوستانی تحریک ہے اور اس کا مرکز ہندوستان سے باہر ہونے کے بجائے ہندوستان کے اندر ہے۔ ان کے نزدیک ہندوستان کی مشترک قومیت کے نقطۂ نظر سے یہ ایک بڑا مسرت بخش اور اطمینان آفریں رجحان اور امید کی ایک کرن ہے۔ ایک ہندو اخبار میں ایک ہندو مضمون نگار ڈاکٹر شنکر داس نے بڑی خوبی کے ساتھ اس عنصر کی ترجمانی کی ہے اور اس تبدیلی کو بیان کیا ہے جو احمدیت ایک مسلمان کے ذہن اور رخ میں پیدا کر دیتی ہے۔ انہوں نے اس نکتہ کو سمجھنے میں بڑی ذہانت کا ثبوت دیا ہے کہ قادیانیت ایک اسلامی فرقہ نہیں بلکہ ایک مستقل مذہب اور ایک متوازی قوم ہے جو خالص ہندوستانی بنیادوں پر ایک نئے مذہب اور ایک نئے معاشرہ کی تعمیر کرتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ”سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے در پیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ کبھی ان
٨٨
کے ساتھ سودے، معاہدے اور پیکٹ کئے جاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ دن رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔
اس تاریکی میں، اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آؤ ہم احمدیہ تحریک کا قومی نگاہ سے مطالعہ کریں۔ پنجاب کی سرزمین میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے مسلمانو! خدا نے قرآن میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا ہے وہ میں ہی ہوں۔ آؤ میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے روز نہیں بخشے گا اور تم دوزخی ہو جاؤ گے۔ میں مرزا قادیانی کے اس اعلان کی صداقت یا بطلان پر بحث نہ کرتے ہوئے صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے مسلمانوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ ایک مرزائی مسلمان کا عقیدہ ہے کہ:
- ١....... خدا نئے سرے سے لوگوں کی رہبری کے لئے ایک انسان پیدا کرتا ہے جو اس وقت کا نبی
ہوتا ہے۔
- ٢....... خدا نے عرب کے لوگوں میں ان کی اخلاقی گراوٹ کے زمانہ میں حضرت محمد ﷺ کو
نبی بنا کر بھیجا۔
- ٣....... حضرت محمد (ﷺ) کے بعد خدا کو ایک نبی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس لئے
مرزا قادیانی کو بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔
میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام کرشن، وید، گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن جاتا ہے تو اس کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد (ﷺ) میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جہاں اس کی خلافت پہلے
٨٩
عرب اور ترکستان (ترکی) میں تھی۔ اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لئے روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔
کوئی بھی احمدی چاہے عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو۔ وہ روحانی شکتی کے لئے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیان کی سرزمین اس کے لئے پنیہ بھومی (سرزمین نجات) ہے اور اسی میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لئے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفہ اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔“
آگے چل کر لکھتے ہیں: ”یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان احمدیہ تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جو ہر وقت پان اسلام ازم و پان عربی سنگٹھن کے خواب دیکھتے ہیں۔ کتنی ہی مایوس کن ہو۔ مگر ایک قوم پرست کے لئے باعث مسرت ہے۔“
(مضمون ڈاکٹر شنکر داس، مندرجہ اخبار بندے ماترم مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٣٢ء)
فصل دوم ...... نبوت محمدی کے خلاف بغاوت
ختم نبوت انعام خداوندی اور امت اسلامیہ کا امتیاز ہے
یہ عقیدہ کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ اسلام خدا کا آخری پیغام اور زندگی کا مکمل نظام ہے۔ ایک انعام خداوندی اور موہبت الٰہی تھا۔ جس کو خدا نے اس امت کے ساتھ مخصوص کیا۔ اسی لئے ایک یہودی عالم نے حضرت عمرؓ کے سامنے اس پر بڑے رشک اور حسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے۔ جس کو آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں کی کتاب میں نازل ہوتی اور ہم سے متعلق ہوتی تو ہم اس دن کو جس میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اپنا قومی تہوار اور یوم جشن بنا لیتے۔ اس کی مراد سورۂ مائدہ کی اس آیت ”اليوم اكملت لکم دينكم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ سے تھی۔ جس میں ختم نبوت اور تکمیل نعمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس نعمت کی جلالت وعظمت اور اس اعلان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا فرمایا کہ ہمیں کسی نئے یوم مسرت کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت خود ایسے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ جو اسلام میں ایک
٩٠
عظیم الشان اجتماع اور عبادت کا دن ہے۔ اس موقع پر دو عیدیں جمع تھیں۔ یوم عرفہ (٩ ذی الحجہ) اور روز جمعہ۔
ذہنی انتشار سے حفاظت
اس عقیدہ نے اسلام کو انتشار پیدا کرنے والی اور ملت کو پارہ پارہ کرنے والی ان تحریکات اور دعوتوں کا شکار ہونے سے بچایا جو تاریخ اسلام کی طویل مدت اور عالم اسلام کے وسیع رقبہ میں وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہیں۔ اسی عقیدہ کا فیض تھا کہ اسلام ان مدعیان نبوت اور محرفین اسلام کا بازیچہ اطفال بننے سے محفوظ رہا۔ جو تاریخ کے مختلف وقفوں اور عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں پیدا ہوتے رہے۔ ختم نبوت کے اسی حصار کے اندر یہ ملت ان مدعیوں کے دستبرد اور یورش سے محفوظ رہی۔ جو اس کے ڈھانچے کو بدل کر ایک نیا ڈھانچہ بنانا چاہتے تھے اور وہ ان تمام سازشوں اور خطرناک حملوں کا مقابلہ کرسکی۔ جن سے کسی پیغمبر کی امت اس سے پہلے محفوظ نہیں رہی اور اتنے طویل عرصہ تک اس کی دینی اور اعتقادی یکسانیت قائم رہی۔ اگر یہ عقیدہ اور حصار نہ ہوتا تو یہ امت واحدہ ایسی مختلف اور متعدد امتوں میں تقسیم ہو جاتی۔ جن میں سے ہر امت کا روحانی مرکز الگ ہوتا۔ علمی وتہذیبی سرچشمہ الگ ہوتا۔ ہر ایک کی الگ تاریخ ہوتی۔ ہر ایک کے الگ اسلاف اور مذہبی پیشوا اور مقتداء ہوتے۔ ہر ایک کا الگ ماضی ہوتا۔
ختم نبوت کا زندگی اور تمدن پر احسان
عقیدہ ختم نبوت درحقیقت نوع انسانی کے لئے ایک شرف و امتیاز ہے۔ وہ اس بات کا اعلان ہے کہ نوع انسانی سن بلوغ کو پہنچ گئی ہے اور اس میں یہ لیاقت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ خدا کے آخری پیغام کو قبول کرے۔ اب انسانی معاشرے کو کسی نئی وحی، کسی نئی آسمانی پیغام کی ضرورت نہیں۔ اس عقیدے سے انسان کے اندر خوداعتمادی کی روح پیدا ہوتی ہے۔ اس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اپنے نقطہ عروج کو پہنچ چکا ہے اور اب دنیا کو اس سے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔ اب دنیا کو نئی وحی کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی پیدا کی ہوئی، طاقتوں سے فائدہ اٹھانے اور خدا کے نازل کئے ہوئے دین واخلاق کے بنیادی اصولوں پر زندگی کی تنظیم کے لئے زمین کی طرف اور اپنی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عقیدہ ختم نبوت انسان کو پیچھے کی طرف لے جانے کے بجائے آگے کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ انسان کے سامنے اپنی طاقتوں کو صرف کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ انسان کو اپنی جدوجہد کا حقیقی میدان اور رخ بتلاتا ہے۔ اگر ختم نبوت کا
٩١
عقیدہ نہ ہو تو انسان ہمیشہ تذبذب و بے اعتمادی کے عالم میں رہے گا۔ وہ ہمیشہ زمین کی طرف دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھے گا۔ وہ ہمیشہ اپنے مستقبل سے غیر مطمئن اور متشکک رہے گا۔ اس کو ہر مرتبہ ہر نیا شخص یہ بتلائے گا کہ گلشن انسانیت اور روضۂ آدم ابھی نامکمل تھا۔ اب وہ برگ و بار سے مکمل ہوا ہے اور وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ جب اس وقت تک یہ نامکمل رہا تو آئندہ کی کیا ضمانت ہے۔ اس طرح وہ بجائے اس کی آبیاری اور اس کے پھلوں اور پھولوں سے متمتع ہونے کے نئے باغبان کا منتظر رہے گا جو اس کو برگ و بار سے مکمل کرے۔
قادیانیت کی جسارت اور جدت
اسلام کے خلاف وقتاً فوقتاً جو تحریکیں اٹھیں۔ ان میں قادیانیت کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ وہ تحریکیں یا تو اسلام کے نظام حکومت کے خلاف تھیں۔ یا شریعت اسلامی کے خلاف، لیکن قادیانیت در حقیقت نبوت محمدی کے خلاف ایک سازش ہے۔ وہ اسلام کی ابدیت اور امت کی وحدت کو چیلنج ہے۔ اس نے ختم نبوت سے انکار کر کے اس سرحدی خط کو بھی عبور کر لیا جو اس امت کو دوسری امتوں سے ممتاز و منفصل کرتا ہے اور جو کسی مملکت کے حدود کو حاصر کرنے کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اپنے ایک انگریزی مضمون میں جو ہندوستان کے مشہور اخبار اسٹیٹس مین (Statesman) میں شائع ہوا تھا۔ بڑی خوبی سے قادیانیت کی اس جسارت اور جدت کو واضح کیا ہے۔
وہ فرماتے ہیں: ”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت، الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو سماج خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو
٩٢
راہیں ہیں یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“
(حرف اقبال ص ١٣٥، ١٣٦)
ایک دوسرے مضمون میں لکھتے ہیں: ”مسلمان ان تحریکوں کے مقابلہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔“
آگے چل کر لکھتے ہیں: ”یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایسی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا۔ جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث ہے۔“
(حرف اقبال ص ١٢٢، ١٢٣)
دعویداران نبوت
مرزا غلام احمد قادیانی کی جدوجہد اور تحریک کا لازمی اور منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ نبوت کی حرمت وعظمت اور اس منصب کی آبرو اور شرف اٹھ جائے۔ انہوں نے نبوت کے اجراء وتسلسل پر جو زورِ قلم صرف کیا اور اس کی جس طرح تبلیغ واشاعت کی۔ انہوں نے الہام کو جو اہمیت دی اور اس پر جس طرح نبوت کی بنیاد رکھی۔ اس کا نتیجہ یہی ہونا چاہئے کہ نبوت بازیچہ اطفال بن جائے۔ وہ اگر چہ نبوت کے اجراء وتسلسل کی تقریر محض اپنی نبوت کے امکان وثبوت کے لئے کرتے ہیں اور ختم نبوت کا اظہار محض اپنی حد تک ہے۔ ورنہ آنے والوں کے لئے وہ اپنے ہی کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔
١؎ خطبہ الہامیہ ص ١١٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٧، ٢٧٨ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”فکان خاليا موضع لبنة اعنى المنعم عليه من هذه العمارة فاراد الله ان يتم النباء ويكمل البناء باللبنة الاخيرة ايها الناظرون “ خود ہی اس کا ترجمہ فرماتے ہیں: ”اور اس عمارت میں ایک امت کی جگہ خالی تھی۔ یعنی منعم علیہم پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کر کمال تک پہنچادے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“
٩٣
علامہ اقبال کے بلیغ الفاظ میں : ”خود بانی احمدیت کا استدلال جو قرون وسطیٰ کے متکلمین کے لئے زیبا ہو سکتا ہے یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا ہو سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی۔ خود اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد ﷺ کی روحانیت ایک زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے مترادف ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کے بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسانی کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیا کی تاریخ میں بالخصوص کیا تہذیبی قدر رکھتا ہے۔ بانی احمدیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تصور ان معنوں میں کہ محمد ﷺ کا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد ﷺ کی نبوت کو نامکمل پیش کرتا ہے۔ جب میں بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ ان کے دعوائے نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں پیغمبر اسلام کی تخلیقی قوت کو صرف ایک نبی یعنی تحریک احمدیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔“
(حرف اقبال)
لیکن لوگوں کا ذہن اس نکتہ کے سمجھنے سے قاصر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت آفرینی کی قوت ایک فرد واحد کے لئے مخصوص اور اس کی ذات تک محدود ہو اور نہ اس سے پہلے اس قوت نے اپنا فعل کیا ہو اور نہ اس شخص کے بعد (جو بعثت محمدی کے تیرہ سو سال بعد آتا ہے اور اس کے بعد معلوم نہیں دنیا کو کتنے ہزار سال تک رہنا ہے) یہ فعل کر سکے، چنانچہ دوسروں کا ذکر خود مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے کہ : ”خدا تعالیٰ کافروں کی نسبت کہتا ہے ”ما قدروا اللہ حق قدرہ“ یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا اور سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ اس لئے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ خواہ کتنا ہی زہد و اتقاء میں بڑھ جائے، پرہیز گاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گزر جائے۔ معرفت الٰہی کو کتنا ہی حاصل کرے۔ لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر ہی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک ہی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص٦٢)
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد لوگوں کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی عام جرأت ہو گئی۔ ہم کو کم سے کم ہندوستان کی تاریخ میں جو خاصی حد تک تفصیل کے ساتھ محفوظ ہے۔ اکبر کے سوا کسی
٩٤
شخصیت کا علم نہیں ۔ جس نے ختم نبوت کا انکار اور دین جدید کے ظہور کی جسارت کی ہو ۔ اکبر نے بھی اس منظم اور واضح طریقہ پر جدید نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ لیکن مرزا قادیانی کے بعد یہ دروازہ عمومی طور پر کھل گیا ۔ پروفیسر الیاس برنی نے ١٣٥٥ھ تک سات مدعیان نبوت کا حوالہ دیا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر زیادہ اہتمام سے ان مدعیان نبوت کی مردم شماری ہو تو صرف پنجاب میں اس سے بہت زیادہ تعداد ثابت ہو گی ۔ ان مدعیان نبوت کی کثرت اور خام خیالی پر خود مرزا بشیر الدین محمود نے احتجاج فرمایا ۔
انہوں نے ایک تقریر میں فرمایا : ”دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہو گئے ہیں ۔ ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے ۔ واقعہ میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب نہیں اب بھی ہوتے ہوں ۔ مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے ۔ ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا ۔ خشیت اللہ پائی جاتی تھی ۔ آگے خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے ۔ مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی ۔ ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا ۔ مگر نقص یہ ہو گیا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا گئے ۔“
(الفضل مورخہ یکم جنوری ١٩٣٥ء)
تفریق بین المسلمین
ان جدید نبوتوں سے عالم اسلام میں جو زبردست انتشار مسلمانوں میں جو عظیم تفریق اور امت واحدہ کی جو افسوسناک تقسیم ہو گی ۔ اس کے تصور سے بھی ایک مسلمان کو وحشت ہوتی ہے ۔ لادینیت اور مذہب بیزاری کے اس دور میں خود بخود لوگوں میں ”انا الحق“ اور ”انا النبی“ کہنے کا ذوق نہیں رہا ۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے لٹریچر کے اثر اور سبک سر قادیانی مبلغین کی تبلیغ سے اگر آج عالم اسلام میں نبوت کے دعوے کا ذوق پیدا ہو جائے اور عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں مختلف اشخاص اپنا اپنا علم نبوت بلند کر دیں اور جو اس علم کے نیچے نہ آئے نبوت کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان کی تکفیر شروع کر دیں تو عالم اسلام میں کیسا ذہنی اور دینی انتشار اور تصادم پیدا ہو گا اور کس طرح عالم اسلام مختلف دینی محاذوں میں تقسیم ہو جائے گا اور جو امت رنگ و نسل اور قوم و وطن کی تفریق مٹانے اور ساری نوع انسانی کو ایک دوسرے کا بھائی اور ہمدرد بنانے آئی ہے ۔ وہ کس طرح دینی تعصبات اور باہمی تفریق و تکفیر کا شکار ہو کر رہ جائے گی ۔ اس
٩٥
خطرہ کو مولوی محمد علی لاہوری نے بھی محسوس کیا اور بڑی خوبی اور قوت کے ساتھ اپنے ایک مضمون میں اس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن انہوں نے غور نہیں کیا کہ اس خطرہ کا دروازہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کھولا ہے اور اسلام کی پوری تاریخ میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبوت کے اجراء و تسلسل کو ایک دعوت اور تحریک کے طور پر پیش کیا ہے۔ مولوی محمد علی اہل بصیرت کو خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”خدارا غور کرو کہ اگر یہ عقیدہ میاں صاحب کا درست ہے کہ نبی آتے رہیں گے اور ہزاروں نبی آئیں گے۔ ١؎ جیسا کہ انہوں نے بالصراحت، انوار خلافت، میں لکھ دیا ہے تو یہ ہزاروں گروہ ایک دوسرے کو کافر کہنے والے ہوں گے یا نہیں اور اسلامی وحدت کہاں ہوگی؟ یہ بھی مان لو کہ وہ سارے ہی احمدی جماعت میں ہی ہوں گے۔ پھر احمدی جماعت کے کتنے ٹکڑے ہوں گے۔ آخر گذشتہ سنتوں سے تم اتنے ناواقف نہیں ہو کہ کس طرح نبی کے آنے پر ایک گروہ اس کے ساتھ اور ایک خلاف ہوتا ہے۔ وہ خدا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کل دنیا کی قوموں کو ایک کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ کیا اب وہ مسلمانوں کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہوں اور آپس میں کوئی تعلقات اخوت اسلامی کے نہ رہ گئے ہوں۔ یاد رکھو! اگر اسلام کو کل ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ سچا ہے تو یہ مصیبت کا دن اسلام پر کبھی نہیں آسکتا کہ ہزاروں نبی اپنی اپنی ٹولیاں علیحدہ علیحدہ لیے پھرتے ہوں اور ہزار ہا ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہوں۔ جن کے پجاری اپنی اپنی جگہ ایمان اور نجات کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہوں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر بے ایمان قرار دے رہے ہوں۔“
(رد تکفیر اہل قبلہ ص ٥٠، ٤٩)
ایک غلط اور خطرناک مفروضہ
مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک مفروضہ جس نے اسلامی ذہن کے لئے بے چینی اور اسلامی معاشرہ کے لئے انتشار کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ ہے کہ وہ ”مکالمات و مخاطبات الٰہیہ“ کو مذہب کی صداقت کی شرط اور اتباع اور مجاہدات کا قدرتی نتیجہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس مذہب میں مکالمات و مخاطبات الٰہیہ کا سلسلہ جاری نہ ہو وہ مذہب مردہ اور باطل ہے۔ بلکہ شیطانی مذہب ہے اور جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور جس مذہب کے پیرو زہد و مجاہدہ کے باوجود اس دولت سے سرفراز نہ ہوں وہ گمراہ، محروم اور نابینا ہیں۔
١؎ میاں صاحب اس عقیدہ کے مصنف یا موجد نہیں ہیں۔ انہوں نے تو صرف مرزا قادیانی کی ترجمانی کی ہے۔
٩٦
وہ لکھتے ہیں: ”ایسا نبی کیا عزت اور کیا مرتبت اور کیا تاثیر اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے۔ جس کی پیروی کے دعوے کرنے والے صرف اندھے اور نابینا ہوں اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات و مخاطبات سے ان کی آنکھیں نہ کھولے۔ یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں قصے ہیں اور کوئی اگر چہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے۔ اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرے۔ تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٤)
مکالمات کو شرط قرار دینے کے نتائج
مرزا قادیانی نے مکالمات و مخاطبات الٰہیہ کو معرفت و نجات اور صداقت و حقانیت کی شرط قرار دے کر اس مذہب کو جس کو اللہ تعالیٰ نے سہل اور ہر شخص کے لئے قابل عمل قرار دیا تھا۔ نہایت مشکل اور نہایت محدود بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر (البقرہ: ١٨٥) “
﴿اللہ تمہارے اوپر آسانی چاہتا ہے۔ دشواری نہیں چاہتا۔﴾
”وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج: ٧٨) “ ﴿اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل۔﴾
” لا یکلف اللّٰہ نفساً الا وسعھا (البقرہ: ٢٨٦)“ ﴿اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے۔﴾
لیکن اگر معرفت و نجات کے لئے مکالمات و مخاطبات الٰہیہ شرط ہیں تو اس دین سے زیادہ دشوار چیز کوئی نہیں۔ اس لئے کہ بکثرت لوگ اس مکالمہ والہام سے فطرۃً مناسبت نہیں رکھتے اور خواہ وہ کیسے ہی مجاہدات کریں مکالمہ والہام کا دروازہ ان پر نہیں کھلتا۔ بہت سے لوگ اس سے
٩٧
فطری مناسبت رکھتے ہیں۔ مگر ان کو ان مجاہدات کی (جو مکالمہ اور مخاطبت الہیہ کے لئے شرط ہیں) فرصت یا توفیق نہیں۔ وہ عالمگیر مذہب جو ساری انسانیت کی فلاح کے لئے آیا ہے اور سب کو خدا کے دین کی دعوت دیتا ہے۔ معرفت و نجات اور مغفرت و رضا اور وصول الی اللہ کے لئے ایسی کڑی شرطیں نہیں لگا سکتا۔ جس کو کروڑوں انسانوں میں سے چند پورا کر سکیں۔
پھر قرآن مجید میں مؤمنین اور فلاح یافتہ انسانوں کی صفات ملاحظہ ہوں۔ سورۃ المومنون کا پہلا رکوع پڑھئے: ”قد افلح المؤمنون الذين هم في صلاتهم خاشعون“ سورۃ الفرقان کا آخری رکوع پڑھئے۔ ”وعباد الرحمن الذين يمشون على الارض هونا“ اور خود پہلی سورت کی پہلی آیت پڑھئے۔
”آلم . ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلوة ومما رزقنهم ينفقون (البقرہ:١تا٣)“ اس کتاب میں کچھ شک نہیں۔ راہ بتلاتی ہے ڈرنے والوں کو، جو کہ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اس میں کہیں بھی مکالمہ الہی کو ہدایت و فلاح کی شرط قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ اس کے برعکس ایمان بالغیب کو ہدایت کی پہلی شرط قرار دیا گیا ہے اور ایمان بالغیب کا مفہوم یہی ہے کہ نبی کے اعتماد پر (جس کو اللہ تعالیٰ اجتبائی طور پر مکالمہ الہی کے لئے انتخاب فرماتا ہے) غیبی حقائق پر جو تنہا عقل اور حواس ظاہری کی مدد سے معلوم نہیں کئے جاسکتے۔ تسلیم کیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی کا ارشاد تسلیم کر لیا جائے کہ مکالمہ الہی معرفت اور نجات کے لئے شرط ہے تو ایمان بالغیب کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس پر قرآن مجید کا اصرار سمجھ میں نہیں آتا۔
پھر یہ صحابہ کرامؓ کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنے مکالمات و مخاطبات الہیہ سے سرفراز تھے؟ اور حدیث و تاریخ سے کتنوں کے متعلق ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ان کو مکالمہ و مخاطبہ حاصل تھا؟ کوئی شخص جو اس دور کی تاریخ اور اس جماعت کے مزاج و حالات بلکہ انسانی طبائع ونفسیات سے واقف ہے۔ اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایک لاکھ افراد سے متجاوز اس قدسی جماعت کو مکالمہ و مخاطبہ خداوندی حاصل تھا اور جب صحابہ کرامؓ کا یہ حال تھا تو بعد کے لوگوں کا کیا ذکر؟
٩٨
سلسلہ نبوت کے انکار کی روح
مکالمات و مخاطبات الہیہ کی یہ اہمیت اور عمومیت درحقیقت نبوت کے خلاف در پردہ بغاوت اور ایک مخفی سازش ہے۔ مکالمات ومخاطبات کے اس عموم وتسلسل کے بعد عقلاً وعملاً سلسلہ انبیاء علیہم السلام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قرآن مجید اور تمام آسمانی مذاہب نے انسانوں کی ہدایت اور معرفت الٰہی کے حصول، ذات وصفات اور منشاء خداوندی کی شناخت اور حقائق غیبی کے علم کو سلسلہ نبوت سے وابستہ اور مربوط کیا ہے۔ قرآن ہدایت یافتہ مومنین کی زبان سے کہتا ہے: ”الحمدلله الذی هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله لقد جاءت رسل ربنا بالحق (الاعراف: ٤٣)“ ﴿شکر اس اللہ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ۔ بے شک لائے رسول ہمارے رب کی سچی بات۔﴾
دوسری جگہ ذات وصفات کے بارے میں مشرکانہ وجاہلانہ خیالات وعقائد کی تردید کرتے ہوئے ارشاد ہے: ”سبحان ربك رب العزت عما يصفون ٠ وسلام على المرسلين ٠ والحمد لله رب العلمين (الصفت: ١٨٠تا١٨٢)“ ﴿پاک ذات ہے تیرے رب کی، وہ پروردگار عزت والا، پاک ہے ان باتوں سے جو بیان کرتے ہیں اور سلام ہے رسولوں پر اور سب خوبی ہے اللہ کو، جو رب ہے سارے جہان کا۔﴾
بعثت انبیاء کی حکمت ومصلحت بتلاتے ہوئے فرماتا ہے: ”لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل (النساء: ١٦٥)“ ﴿تا کہ لوگوں کے لئے اللہ پر الزام کا موقع نہ رہے۔ رسولوں (کے پہنچنے) کے بعد۔﴾
مرزا قادیانی کے فلسفہ تسلسل وبقائے وحی اور مکالمات ومخاطبات الہیہ کے عموم ولزوم پر اگر دقت نظر سے غور کیا جائے اور اس کی عملی تحلیل وتجزیہ کیا جائے تو اس میں ختم نبوت کے بجائے سلسلہ نبوت کے انکار کی روح نظر آئے گی اور ہدایت ومعرفت الٰہی بھی مسمریزم اور جدید تحریک استحضار ارواح (SPRITUALISM) وغیرہ کی طرح ایک روحانی تجربہ اور عمل بن کر رہ جائے گی۔
مکالمات کے سرچشمہ کا تعین
پھر ان مکالمات ومخاطبات الٰہی کی تنقید کا کیا معیار ہے اور اس کی کیا ضمانت ہے کہ انسان جو کچھ سن رہا ہے وہ خود اس کے باطن کی آواز یا اس کے ماحول اور تربیت کی صدائے
٩٩
بازگشت یا اس کی اندرونی خواہشات اور اثرات کا نتیجہ نہیں؟ جن لوگوں نے مکاشفات و مکالمات کے قدیم مجموعے دیکھے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کا کتنا بڑا حصہ ان غلط مفروضات و نظریات کی تصدیق اور تبلیغ کرتا تھا جو قدیم علم الاصنام (MYTHOLOGY) نے پیدا کر دیئے تھے۔ مصر کی فلاطونیتِ جدیدہ (NEO-PLATONISM) کے روحانی مشاہدات اور ربانی مکالمات ملاحظہ ہوں۔ کیا ان کے مکاشفات اور مکالمات نے اس وقت کے صنمیات اور فلسفیانہ مفروضات کی تصدیق نہیں کی؟ خود اسلامی دور میں بعض اہل مکاشفہ و مکالمہ، عقلِ اوّل سے مصافحہ کرنا اس سے ہم کلام ہونا بیان کرتے ہیں۔ جو محض فلسفۂ قدیم بلکہ یونانی علم الاصنام کا ایک ذہنی تخیل تھا۔ خود مرزا قادیانی کے مکالمات ومخاطبات میں کتنا بڑا حصہ ان کے زمانہ ماحول اور تربیت کے تحت الشعور اثرات کا نتیجہ اور اس انحطاط پذیر اور مائل بہ زوال معاشرے کا عکس معلوم ہوتا ہے۔ جس میں انہوں نے نشو ونما پایا اور جس میں وہ اپنی دعوت لے کر کھڑے ہوئے۔ بلکہ کتنا بڑا حصہ وہ ہے جس کے متعلق ایک مبصر کو جو ہندوستان کی سیاسی تاریخ سے واقف ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا سر چشمہ عالم غیب کے بجائے ہندوستان کا سیاسی اقتدار اعلیٰ ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے جو فلسفہ کے بھی عظیم فاضل ہیں اور انہوں نے مرزا قادیانی کی تحریک اور ان کے مکالمات والہامات کا بھی نظر غائر سے مطالعہ کیا ہے۔ اس حقیقت کو اپنے مخصوص علمی انداز میں خوب واضح کیا ہے۔ اس مضمون میں جو انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے بعض شبہات و سوالات کے جواب میں لکھا تھا۔ فرماتے ہیں: ’’میں یہ ضرور کہوں گا کہ بانی احمدیت نے ایک آواز سنی۔ لیکن اس امر کا تصفیہ کہ یہ آواز اُس خدا کی طرف سے تھی جس کے ہاتھ میں زندگی اور طاقت ہے یا لوگوں کے روحانی افلاس سے پیدا ہوئی۔ اس تحریک کی نوعیت پر منحصر ہونا چاہئے جو اس آواز کی آفریدہ ہے اور ان افکار و جذبات پر بھی جو اس آواز نے اپنے سننے والوں میں پیدا کئے ہیں۔ قارئین ! یہ نہ سمجھیں کہ میں استعارات استعمال کر رہا ہوں۔ اقوام کی تاریخ حیات بتلاتی ہے کہ جب کسی قوم کی زندگی میں انحطاط شروع ہو جاتا ہے تو انحطاط ہی الہام کا ماخذ بن جاتا ہے اور اس قوم کے شعراء، فلاسفہ، صوفیہ، مدبرین اس سے متأثر ہو جاتے ہیں اور مبلغین کی ایک ایسی جماعت وجود میں آ جاتی ہے جس کا مقصدِ واحد یہ ہوتا ہے کہ منطق کی سحر آفرین قوتوں سے اس قوم کی زندگی ہر اس پہلو کی تعریف و تحسین کرے جو نہایت ذلیل و قبیح ہوتا ہے۔ یہ مبلغین غیر شعوری طور پر مایوسی کو امید کے درخشاں لباس میں چھپا دیتے ہیں۔ کردار کے روایتی اقتدار کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کی روحانی قوّت مٹا دیتے ہیں جو ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی قوّت ارادی پر ذرا ١٠٠
غور کرو۔ جنہیں الہام کی بنیاد پر یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو۔ پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے۔ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔
(حرفِ اقبال ص ١٥٧،١٥٨)
فصل سوم ....... قادیانیت کی لاہوری شاخ اور اس کا عقیدہ اور تفسیر
مولوی محمد علی اور لاہوری شاخ کا موقف اور عقیدہ
قادیانیت کی اس شاخ نے جس کا مرکز قادیان اور اب ربوہ (موجودہ چناب نگر) ہے اور جس کی قیادت مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اکبر مرزا بشیر الدین محمود کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے عقیدہ کو اپنی جماعت کی اساس بنایا ہے۔ وہ پوری وضاحت اور استقامت کے ساتھ اس عقیدہ پر قائم ہے۔ اس عقیدہ پر علمی و اسلامی نقطۂ نظر سے جو تنقید کی جائے اور اس کو اسلام سے جس قدر بعید اور اس کے لئے خطرناک سمجھا جائے وہ درست ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس شاخ نے ایک واضح اور قطعی موقف اختیار کیا ہے اور اپنی اخلاقی جرأت کا ثبوت دیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ مرزا قادیانی کے منشاء کی صحیح ترجمانی و نمائندگی اور ان کی تعلیمات و تصریحات کی محض صدائے بازگشت ہے۔
لیکن لاہوری شاخ کا موقف (جس کی قیادت مولوی محمد علی صاحب کرتے ہیں) بڑا عجیب اور ناقابل فہم ہے۔ مرزا قادیانی کی تصنیفات اور تحریروں کا مطالعہ کرنے والا قطعی اور بدیہی طور پر دیکھتا ہے کہ وہ صاف صاف نبوت کے مدعی ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے۔ اس کی تکفیر کرتے ہیں۔ اگر الفاظ کے معنی متعین ہیں اور لغت اور اہل زبان کا قول اس بارے میں قولِ فیصل ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کتابیں ملک کی زبان میں افادہ عام کے لئے لکھی ہیں تو اس میں شبہ باقی نہیں رہتا کہ وہ اپنی کتابوں میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ صاحبِ وحی ہوں۔ صاحب امر و نہی اور صاحبِ شریعت ہوں۔ میرا منکر کافر اور جہنمی ہے۔ لیکن مولوی محمد علی، مرزا قادیانی کے خود ان کی ذات اور ان کی اولاد سے زیادہ ہمدرد ہیں۔ وہ اپنے عقیدہ میں ان کی عظمت اور ان کے کارناموں اور خدمات کی آبرو بچانا چاہتے ہیں اور دراصل وہ شعوری یا غیر شعوری طریقہ پر اپنے قلبی تعلق اور دینی عقیدت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور اپنی روح اور دینی شعور کو اس صدمہ کی تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں۔ جو ان کے نبوت کے دعوے اور عامۂ مسلمین
١٠١
کی تکفیر سے بچتی ہے۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کہیں اصطلاحی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جہاں جہاں نبوت، وحی و کفر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ وہ محض صوفیانہ اصطلاحات اور مجازات و استعارات ہیں۔ ظاہر ہے کہ معروف و مروج الفاظ اور مشہور دینی اصطلاحات کو تصوف کا رمز اور مجاز و استعارہ ثابت کرنے کے بعد ہر مصنف اور ہر داعی کی تقریر و تحریر کی ہر طرح تاویل و توجیہہ ہوسکتی ہے اور پھر کسی چیز کا بھی ثبوت ممکن نہیں۔
مولوی محمد علی، مرزا قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدد اعظم اور مصلح اکبر اور اس سے بڑھ کر مسیح موعود مانتے ہیں اور اس نقطہ پر دونوں شاخوں کا اجتماع ہو جاتا ہے۔ ان کی تفسیر میں مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے ارشادات موجود ہیں۔ سورۃ بقرہ کی آیت ”ورسولا الی بنی اسرائیل“ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”محمد ﷺ کے بعد جو کافۃ الناس کی طرف مبعوث ہو گئے اور جن کا زمانہ نبوت قیامت تک ممتد ہے۔ کسی دوسرے رسول یا نبی کا محتاج اپنے آپ کو سمجھنا اس نعمت عظمیٰ کی ناشکر گزاری ہے۔ پس حدیث میں جو ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ہے۔ اس کے معنی صرف یہی ہو سکتے ہیں کہ اس امت میں سے کوئی شخص ابن مریم کے رنگ میں آجائے۔ جس طرح الیاس کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی یوں پوری ہوئی کہ حضرت یحییٰ، الیاس کے رنگ میں آگئے۔ حضرت عیسیٰ کو قرآن کریم کی یہ تصریح امت محمدیہ میں آنے سے روکتی ہے۔“
(تفسیر بیان القرآن حصہ اول ص ٣٦٧)
انہوں نے اپنی تصنیفات میں عام طور پر مرزا قادیانی کے لئے مسیح موعود کا لقب استعمال کیا ہے۔ ہمیں یہاں پر ان کے اس عقیدہ کے بجائے ان کی تفسیر پر ایک ناقدانہ نظر ڈالنی ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ اس سے کس رجحان کا پتہ چلتا ہے اور وہ کس طرح کا دینی ذہن اور فہم پیدا کر سکتی ہے۔
تفسیر بیان القرآن
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری کے ذہن نے سرسید کے لٹریچر اور ان کی تفسیر قرآن کے اسلوب اور ان کے فکر کو پورے طور پر جذب کر لیا تھا۔ مولوی نورالدین کے درس تفسیر اور صحبت نے اس رجحان اور ذوق کو مزید تقویت اور غذا پہنچائی۔ وہ اس طبقہ اور گروہ کے بہترین نمائندہ ہیں۔ جس کو اسلام کے تحفظ اور عصر جدید کے سامنے قرآن پیش کرنے اور جدید تعلیم یافتہ
١٠٢
طبقہ میں اس کی اشاعت کا شوق ہے۔ لیکن اس کی ذہنی ساخت اور اس کی گزشتہ تعلیم وتربیت غیبی حقائق اور ماورائے عقل ، واقعات کو قبول کرنے سے بالکل قاصر ہے۔ اس نے سائنس اور علوم جدیدہ کی تحقیقات یا (صحیح تر الفاظ میں) مشہور نظریات ومسائل کو مسلمات و بدیہیات کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اور ان کو کسی چیز کے (خواہ وہ مذہب کی تعلیمات اور صحف سماوی کے مضامین ہوں) رد و قبول کے لئے معیار ومیزان سمجھ لیا ہے۔ اس کا ذہن اور اس کی ثقافت حقیقتاً عالم غیب اور معجزات و خوارق کو تسلیم کرنے سے اباء کرتی ہے۔ لیکن وہ اپنے نسلی یا دینی لگاؤ کی وجہ سے قرآن مجید اور اسلام کے نصوص سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس نے درمیان کی راہ یہ نکالی ہے کہ ان حقائق غیبی اور معجزات ومافوق الفطرۃ واقعات کی تشریح اس طرح کی جائے کہ جدید نظریات ومعلومات سے وہ متصادم نہ ہوں اور ان کے تسلیم کرنے میں ذہن پر غیر ضروری بار نہ پڑے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ آیات قرآنی کی تفسیر اور تاویل میں ہر طرح کا تکلف اور ہر طرح کی موشگافی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور ہر کمزور سے کمزور چیز کا سہارا لینے سے بھی اس کو عذر نہیں۔ وہ اپنی ان تشریحات اور تاویلات میں اصول تفسیر، زبان وادب کے قواعد، عرف واستعمال، قدیم کلام کی سند وحجت، قرآن کے مخاطبین اور اولین اور اہل زبان کے فہم، متقدمین کی تفاسیر، غرض ہر اس چیز سے جو اس راہ میں حارج اور قرآن مجید اور فہم جدید کی تطبیق میں خلل انداز ہو۔ دستبردار ہونے کے لئے تیار ہے۔ سرسید مرحوم کی تفسیر کا ضخیم دفتر اور مولوی محمد علی لاہوری کے تفسیری نوٹس اور حواشی اس طرز تفسیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔
- ١.......سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل
کے لئے (جو ایک بے آب دشت میں پڑگئی تھی) پانی مانگا، تو ارشاد ہوا کہ اپنا عصا چٹان پر مارو۔ چنانچہ اس عمل سے قدرت الٰہی سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل نے آسودہ ہو کر اپنی پیاس بجھائی۔
”واذ استسقیٰ موسٰی لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا قد علم کل اناس مشربھم (البقرہ:٦٠)“
آیات کی اس تفسیر کی رو سے جو عربی کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے اور آج تک عہد
١٠٣
رسالت سے اس وقت تک کی جاتی رہی۔ یہ ماننا پڑتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے چٹان سے پانی کے چشمے مافوق الفطرت اور خارق عادت طریقہ پر جاری ہوئے۔ یہ بات چونکہ روزمرہ کے مشاہدہ اور طبعیات وعلم طبقات الارض کے عام قوانین سے الگ ہے۔ اس لئے اس ظاہری معنے کو چھوڑ کر مولوی محمد علی نے ضرب اور عصا کے وہ معنی بیان کئے ہیں جو کلام عرب میں خاص ترکیب اور خاص محاورات میں بطور مجاز واستعارہ کے مراد لئے جاتے ہیں۔ یعنی ضرب فی الارض کے معنی زمین میں چلنا، عصا کے معنی اجتماع و ائتلاف اور جماعت اور پھر الفاظ کے ان مجازی معنی کی مدد سے آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اپنی جماعت کے ساتھ پہاڑ پر چلے جاؤ۔ اور اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی پہاڑ پر چلے جانے کی ہدایت فرمائی جہاں ان کو بارہ چشمے مل گئے۔
(تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج١ ص ٤٤)
یہ سب تکلفات انہوں نے اس لئے گوارا کئے کہ اس معجزہ اور خارق عادت واقعہ کے ماننے اور اس کا ثبوت پیش کرنے سے وہ بچ جائیں اور ان کے قارئین کے ذہن پر ایمان بالغیب اور تصدیق معجزات کا بوجھ نہ پڑے۔
- ٢....... اسی سورۃ کی آیت ہے : ”واذ قتلتم نفساً فادّٰرَءْتُمْ فیھا واللّٰہ مخرجٌ ماکنتم
تکتمون فقلنا اضربوہ ببعضھا کذلک یحیی اللّٰہ الموتیٰ ویریکم اٰیٰتہ لعلکم تعقلون (البقرہ:٧٣) ﴿اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ پھر آپس میں اختلاف کیا اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ جو تم چھپاتے تھے۔ پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنے نشان دکھاتا ہے تاہم عقل سے کام لو۔﴾
اس کے مشہور معنی اور تفسیر یہی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک قتل ہو گیا تھا۔ قاتل کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ مقتول کے ورثاء نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرنے کی درخواست کی۔ اس سے پہلے ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا اور انہوں نے بعد از خرابی بسیار اس حکم کی تعمیل کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حکم الٰہی کی مصلحت اور اس کی تعمیل کا فائدہ بتلانے کے لئے حکم دیا کہ اسی گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے مس کرو۔ وہ اپنے قاتل کا نام بتلادے گا۔ بنی اسرائیل کو احکام کی عظمت اور ان کی تعمیل کی برکت ومنفعت بتلانے کے لئے یہ طریقہ نہایت مناسب وموزوں تھا اور ایک خالی الذہن آدمی آیات کے سیاق وسباق سے یہی معنی سمجھے گا۔ لیکن
١٠٤
چونکہ اس میں کئی مافوق الفطرۃ اور خارق عادت واقعات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی صاحب نے اس کی بالکل الگ تفسیر بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”قرائن صفائی سے بتاتے ہیں کہ ان الفاظ میں کسی نبی کے قتل کا ذکر ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسا نبی جس کے قتل میں اختلاف ہوا ہو اور کامیابی نہ ہوئی ہو۔ وہ مسیح علیہ السلام ہیں۔ گویا قوم یہود کی بے اعتدالیوں کا نقشہ کھینچا ہے کہ ایک طرف تو گائے تک کو ذبح کرنے میں اس قدر لیت ولعل کرتے ہیں اور دوسری طرف ایک عظیم الشان نبی کو قتل کرنے میں اس قدر دلیری ہے۔ رہا یہ سوال کہ ”فقلنا اضربوہ ببعضھا“ سے کیا مراد ہے؟ ”اضربوہ“ میں ضمیر نفس کی طرف جاتی ہے۔ کیونکہ بعض وقت نفس کی ضمیر بلحاظ معنی مذکر آ جاتی ہے اور بعضھا کی ضمیر فعل قتل کی طرف جاتی ہے۔ یعنی بعض قتل سے اس کو مار دو، یا فعل قتل پورا اس پر وارد نہ ہونے دو اور یہی سچ ہے کہ حضرت مسیح پر پورا فعل قتل وارد نہیں ہوا۔ صلیب پر آپ صرف تین گھنٹے رہے اور اتنی تھوڑی دیر میں کوئی شخص صلیب کی موت مر نہیں سکتا۔ آپ کے ساتھ جو چور صلیب دیئے گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔ آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔ یہی ”فاضربوہ ببعضھا“ ہے اور ”کذلک یحیی اللہ الموتی“ کہہ کر بتلا دیا کہ جس کو تم مردہ خیال کر بیٹھے تھے اسے خدا نے یوں زندہ رکھا۔“
(تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج ١ ص ٥٠)
آیات کی یہ تفسیر اس ذہنیت کا بہترین نمونہ ہے۔ ایک معجزہ کے وقوع سے بچنے کے لئے کس طرح تکلف سے کام لیا گیا ہے اور کس طرح مونث کی ضمیر کو مذکر اور مذکر (فعل قتل) کی ضمیر کو مونث ثابت کیا گیا ہے اور سیاق و سباق کے بالکل برخلاف ان آیات کو حضرت مسیح سے متعلق کیا گیا ہے۔
- ٣...... قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول بار بار دہرایا ہے کہ میں بطور معجزہ اور
ثبوت نبوت کے تمہارے سامنے مٹی کے جانور بناتا ہوں اور پھر ان کو پھونک مار کر ہوا میں اڑاتا ہوں۔ ”انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ (آل عمران)“ اس میں بے جان چیزوں میں روح ڈالنے کے معجزہ سے بچنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب نے اس آیت کو تمام تر استعارات پر مشتمل بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”برنگ استعارہ یہاں طیر سے مراد ایسے لوگ ہیں جو زمین اور زمینی چیزوں سے اوپر اٹھ کر خدا کی طرف
١٠٥
پرواز کر سکیں اور یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کس طرح نبی کے نفخ سے انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زمینی خیالات کو ترک کر کے عالم روحانیت میں پرواز کرے۔“
(ج١ص٣٤١)
- ٤.......سورۃ النمل میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا:
”يايها الناس علمنا منطق الطير واوتينا من کل شئ (النمل:١٦) ”اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر ایک چیز دی گئی ہے۔“
چونکہ کسی انسان کا پرندوں کی بولی سمجھنا عام مشاہدات و تجربات کے خلاف ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی نے اس سے نامہ بری مراد لی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”سلطنت کے سامانوں میں بالخصوص قدیم زمانہ میں سب سے بڑا کام جو پرندوں سے لیا جاتا تھا وہ نامہ بری کا کام تھا۔ تو مجازاً وہ نامہ جو پرندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔ منطق الطیر ہی کہلائے گا۔“
اگلی آیت ”حتی اذا اتوا علي واد النمل قالت نملة يايها النمل ادخلوا مساکنکم “ میں وادی النمل سے مراد مشہور تفسیر اور متبادر معنی کے مطابق چیونٹیوں کا گاؤں نہیں۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ ایک عرب قبیلہ بنی نملہ نام کی ایک وادی تھی اور نملۃ سے مراد اسی کا ایک فرد تھا۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہ کوئی قوم تھی جن کو علم ہوا کہ حضرت سلیمان اپنی افواج کے ساتھ آ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو ہم خواہ مخواہ مخالف سمجھ کر مارے جائیں۔“
(ج٣ص١٤٠٩)
- ٥.......سورہ سبا میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے: ”فلما قضينا عليه
الموت مادلهم علی موته الا دابة الارض تأكل منسأته (السباء:١٤) ”سو جب ہم نے اس پر (سلیمان علیہ السلام پر ) موت کا حکم صادر کیا تو انہیں (جنات) کو اس کی موت کا پتہ کسی چیز نے نہ دیا۔ مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کا عصا کھاتا رہا۔“
مفسرین اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”حضرت سلیمان علیہ السلام جنوں کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے۔ جب معلوم ہوا کہ میری موت آ پہنچی جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں در بند کر کے عبادت الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کر لی۔ آپ کی نعش مبارک لکڑی کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہو سکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہو گئی۔ جس عصاء پر ٹیک لگا رہے تھے۔ گھن کے کھانے سے گرا۔ تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات کو خود اپنی غیب دانی کی حقیقت کھل گئی اور ان کے معتقد انسانوں کو بھی پتہ لگ گیا کہ اگر انہیں غیب کی خبر ہوتی تو کیا اس ذلت آمیز تکلیف میں پڑے رہتے۔“
(تفسیر عثمانی ص٥٥٧)
١٠٦
اس میں بھی چونکہ چند غیر معمولی واقعات اور آیات قدرت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے مولوی محمد علی صاحب نے ”دابۃ الارض“ اور ”منساۃ“ کے بالکل الگ معنی بیان کر کے لکھا ہے: ”اصل بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان کی وفات کے جلد ہی بعد اس سلطنت کی حالت خراب ہو گئی۔ حضرت سلیمان کے بیٹے رحبعام کے تخت نشین ہونے کے تھوڑی دیر بعد یربعام کی انگیخت پر بنی اسرائیل نے کچھ مطالبات پیش کئے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کے پرانے مشیروں نے رحبعام کو مشورہ دیا کہ وہ قوم کو تنگ نہ کرے اور ان کے مطالبات کو قبول کر لے۔ مگر اس نے بجائے ان مشیروں کی بات سننے کے اپنے نوجوان ساتھیوں کے کہنے پر بنی اسرائیل کے مطالبات کا سخت جواب دیا اور ان پر سختی کرنے کی ٹھانی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دس قومیں باغی ہوگئیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت برباد ہو گئی اور رحبعام کی حکومت صرف ایک چھوٹی سی شاخ پر رہ گئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ غیر اسرائیلی قومیں بھی آزاد ہوگئیں۔ (دیکھو سلاطین، باب ١٢) پس دابۃ الارض یہی رحبعام، حضرت سلیمان کا بیٹا ہے۔ جس کی نظر صرف زمین تک محدود تھی اور سلیمان کے عصاء کا کھایا جانا اس سلطنت کی بربادی ہے اور جن سے مراد غیر قومیں ہیں۔ جنہوں نے اب تک بنی اسرائیل کی ماتحتی کا جوا، اٹھایا تھا۔“
(ج٣ ص١٥٣٦)
- ٦....... ”وتفقد الطير فقال مالي لا ارى الهدهد ام كان من الغائبين
(النمل: ٢٠) “ ﴿اور خبر لی اڑتے جانوروں کی تو کہا۔ کیا ہے جو میں نہیں دیکھتا۔ ہدہد کو یا ہے وہ غائب۔﴾
قدیم زمانہ سے اس وقت تک سب نے ہدہد سے مراد مخصوص پرندہ سمجھا ہے اور سیاق و سباق بھی یہی بتلاتا ہے۔ اس لئے کہ اوپر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پرندوں کی زبان جاننے کا ذکر ہے اور پرندوں ہی کا اس موقع پر وہ جائزہ لے رہے ہیں۔ ”وتفقد الطير“ لیکن چونکہ اس واقعہ میں ایک غرابت اور خارق عادت بات ہے کہ پرندہ سے کوئی انسان بات چیت کرے اور اس کا محاسبہ کرے اور وہ اپنی کارگزاری پیش کرے۔ اس لئے مولوی محمد علی کے نزدیک ہدہد سے مراد حضرت سلیمان کے صیغہ خبر رسانی کا افسر اعلیٰ یا خفیہ پولیس کا انسپکٹر جنرل مراد ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ”ہدہد کسی شخص کا نام ہے جو اس محکمہ خبر رسانی سے تعلق رکھتا ہے اور جس کی موجودگی جائزہ کے وقت ضروری تھی۔ کیونکہ پرندوں سے خبر رسانی کا ہی کام لیا جاتا تھا، تو حضرت
١٠٧
سلیمان نے جب پرندوں کو طلب کیا تا کہ سب سامانوں کی حالت سے واقفیت حاصل کریں تو افسر محکمہ کو غائب پایا تو فرمایا۔ ہد ہد کہاں ہے؟ اور پرندوں اور جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام عام طور پر رکھے جاتے ہیں۔ فکس (لومڑ) اور ولف (بھیڑیا) وغیرہ۔ آج مہذب قوموں میں بھی ایسے نام رکھتے ہیں اور ہندوؤں میں طوطا رام اور مسلمانوں میں شیر اور باز بلکہ شیر باز عام نام ہیں۔ عرب میں بھی ایسے نام رکھ لئے جاتے تھے جیسے اسد وغیرہ۔“
(تفسیر بیان القرآن از محمد علی قادیانی ج ٣ ص ١٠٢٠)
- ٧۔ ”قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا
(الجن: ١) ”کہہ دو کہ مجھ کو حکم آیا کہ کتنے جنوں کے لوگ سن گئے۔ پھر کہنے لگے کہ ہم نے ایک قرآن عجیب سنا ہے۔﴾
یہاں جن سے مراد خدا کی وہی مخلوق ہے جو عام طور پر نظروں سے مخفی رہتی ہے اور جس کا ثبوت قرآن وحدیث، تواتر اور مشاہدہ سے ہے۔ اس آیت میں مفسرین کے نزدیک اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ کئی جن ادھر کو گزرے اور قرآن کی آواز پر فریفتہ ہوکر سچے دل سے ایمان لے آئے۔ پھر اپنی قوم میں جا کر سب ماجرا بیان کیا۔
(تفسیر عثمانی)
لیکن مولوی محمد علی نے لغت عرف ، کلام عرب اور تفسیر مشہور کے برخلاف جن سے مراد عیسائی قومیں لی ہیں۔
وہ لکھتے ہیں: ”جن سے مراد انسان ہی ہیں۔ چونکہ یہ باہر کے لوگ تھے جو اہل عرب کی نظر سے مخفی تھے۔ اس لئے انہیں جن کہا گیا اور یہ جن عیسائی تھے۔“
آگے چل کر لکھتے ہیں: ”ممکن ہے یہ سب ذکر بطور پیش گوئی کے ہو اور مطلب یہ ہو کہ عیسائی اقوام جو بوجہ اپنی عظمت کے کبھی جن کی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ آخر ان کا ایک حصہ بھی قرآن کریم کی صداقت پر ایمان لائے گا۔“
یہاں ہم انہیں چند نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ورنہ یہ تفسیر جو تین ضخیم جلدوں میں ہے۔ انہی نوادر تفسیر سے بھری ہوئی ہے۔
اس جگہ ایک سلیم الفطرت انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابہ کرامؓ جو
١٠٨
قرآن مجید کے مخاطب اوّل تھے اور قرآن مجید ان کی زبان میں نازل ہوا تھا اور صحبتِ نبوی سے انہوں نے قرآن مجید کا صحیح فہم حاصل کیا تھا۔ ان آیات کے یہی معنی سمجھتے تھے۔ کیا وہ بھی ”اضرب بعصاك الحجر“ سے جماعت کو پہاڑ پر لے جانے کا مفہوم سمجھتے تھے۔ ”فاضربوہ ببعضھا“ کے بھی معنی ان کے نزدیک بھی یہی تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر فعل قتل کا اثر پورا وارد نہ ہونے دو۔ طیر سے مراد وہ ملکی نفوس ہیں جو زمین اور زمینی چیزوں سے بلند ہو کر خدا کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ منطق الطیر سے مراد نامہ بر کبوتر ہیں اور ”وادی النمل“ سے مراد کسی قبیلہ کی بستی ہے۔ ”دابة الارض“ سے مراد حضرت سلیمان کا بیٹا رحبعام ہے۔ جس کی نظر صرف زمین تک محدود تھی۔ ”ھدھد“ سے مراد حضرت سلیمان کے محکمہ مخبر رسانی کا افسر اعلیٰ ہے۔ سورۂ جن میں جن کے لفظ سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کیا تابعین اور ان کے بعد کے اہل زبان اور علماء ومفسرین میں سے کسی نے ان آیات اور الفاظ کے یہ معنی سمجھے؟ اثبات میں تو اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ اس لئے کہ متقدمین کا تفسیری ذخیرہ ہمارے سامنے ہے۔ ان میں کہیں اس کا وجود نہیں اور خود اس زمانہ کے اہل عربیت اور ادباء کا ذہن بھی ان معانی کی طرف منتقل نہیں ہوسکتا۔ پھر اگر واقعہ یہ ہے کہ نزول قرآن کے تیرہ سو برس بعد ایک عجمی نژاد کے ذہن میں پہلی مرتبہ ان آیات والفاظ کے یہ معانی آئے ہیں تو قرآن مجید میں جو جابجا اپنے لئے الکتاب المبین (واضح کتاب) عربی مبین (واضح عربی زبان) کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ان کا کیا مطلب ہے؟ سورۂ شعراء میں ارشاد ہوتا ہے: ”نزل به الروح الامين على قلبك لتكون من المنذرين بلسان عربي مبين (الشعراء: ١٩٣تا١٩٥)“ ﴿لے کر اترا ہے اس کو فرشتہ معتبر تیرے دل پر کہ تو ہو ڈر سنا دینے والا کھلی عربی زبان میں۔﴾
”الٓر تلك آيت الكتاب المبین ٠ انا انزلنه قرآنا عربیا لعلکم تعقلون (یوسف: ١تا٢)“ ﴿یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی، ہم نے اس کو اتارا ہے۔ قرآن عربی زبان کا، تاکہ تم سمجھ لو۔﴾
”ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر (القمر: ١٧)“ ﴿ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے۔ سمجھنے کے لئے، پھر ہے کوئی سوچنے والا۔﴾
١٠٩
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن مجید کی آیات تیرہ سو برس تک بے معنی رہیں اور اس کی ہدایت تیرہ سو برس کے بعد سے شروع ہوئی۔ الفاظ کے ظاہری اور کثیر الاستعمال معنی عربیت کے اصول وقواعد، قرآن کے مخاطبین اولین کے فہم، آیات کے سیاق وسباق اور احادیث صحیحہ سے صرف نظر کر کے قرآن مجید کی تفسیر کرنا، قرآن مجید کی تحریف معنوی اور تلاعب بالقرآن (قرآن کو کھیل بنالینا ہے) جو الحاد کا دروازہ کھولتا ہے اور کلام الہی کو تختہ مشق اور بازیچہ اطفال بنا دیتا ہے اور امت کے بہترین افراد اور بہترین زمانہ کی نافہمی اور جہالت کا ثبوت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے سرسید کی تفسیر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔ (مولوی محمد علی کی تفسیر پر بھی اس سے بہتر تبصرہ ممکن نہیں)
”جو تاویلیں قرآن کریم کی نہ خدائے تعالیٰ کے علم میں تھیں۔ نہ اس کے رسول کے علم میں، نہ صحابہ کے علم میں، نہ اولیاء اور قطبوں اور غوثوں اور ابدال کے علم میں اور نہ ان پر دلالت النص نہ اشارۃ النص، وہ سید صاحب کو سوجھیں ۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٢٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
فصل چہارم ...... قادیانیت نے عالم اسلام کو کیا عطاء کیا؟
اب جب ہم اپنے اس تحقیقی سفر کی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں اور اس کتاب کی آخری سطریں زیر تحریر ہیں ہم کو ایک عملی اور حقیقت پسند انسان کے نقطہ نظر سے تحریک قادیانیت کا تاریخی جائزہ لینا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نے اسلام کی تاریخ اصلاح وتجدید میں کون سا کارنامہ سرانجام دیا اور عالم اسلام کی جدید نسل کو کیا عطا کیا۔ نصف صدی کے اس پر شور اور ہنگامہ خیز مدت کا حاصل کیا ہے؟ تحریک کے بانی نے اسلامی مسائل اور متنازع فیہ امور پر جو ایک وسیع ومہیب کتب خانہ یادگار چھوڑا ہے اور جو تقریباً ٧٠ برس سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ اور ماحصل کیا ہے؟ قادیانیت عصر جدید کے لئے کیا پیغام رکھتی ہے؟۔
ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے پہلے ہم کو اس عالم اسلامی پر ایک نظر ڈالنی چاہئے۔ جس میں اس تحریک کا ظہور ہوا اور یہ دیکھنا چاہئے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر میں اس کی کیا حالت تھی اور اس کے کیا حقیقی مسائل و مشکلات تھے۔
اس عہد کا سب سے بڑا واقعہ جس کو کوئی مؤرخ اور کوئی مصلح نظر انداز نہیں کر سکتا۔
١١٠
یہ تھا کہ اسی زمانہ میں یورپ نے عالم اسلام پر بالعموم اور ہندوستان پر بالخصوص یورش کی تھی۔ اس کے جلو میں جو نظام تعلیم تھا وہ خدا پرستی اور خدا شناسی کی روح سے عاری تھا۔ جو تہذیب تھی وہ الحاد اور نفس پرستی سے معمور تھی۔ عالم اسلام، ایمان، علم اور مادی طاقت میں کمزور ہو جانے کی وجہ سے اس نوخیز و مسلح مغربی طاقت کا آسانی سے شکار ہو گیا۔ اس وقت مذہب میں (جس کی نمائندگی کے لئے صرف اسلام ہی میدان میں تھا) اور یورپ کی ملحدانہ اور مادہ پرست تہذیب میں تصادم ہوا۔ اس تصادم نے ایسے نئے سیاسی، تمدنی، علمی اور اجتماعی مسائل پیدا کر دیئے۔ جن کو صرف طاقتور ایمان، راسخ و غیر متزلزل عقیدہ و یقین، وسیع اور عمیق علم، غیر مشکوک اعتماد و استقامت ہی سے حل کیا جا سکتا تھا۔
اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک طاقتور علمی و روحانی شخصیت کی ضرورت تھی جو عالم اسلام میں روح جہاد اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کر دے۔ جو اپنی ایمانی قوت اور دماغی صلاحیت سے دین میں ادنیٰ تحریف و ترمیم کئے بغیر اسلام کے ابدی پیغام اور عصر حاضر کی بے چین روح کے درمیان مصالحت و رفاقت پیدا کر سکے اور شوخ و پر جوش مغرب سے آنکھیں ملا سکے۔
دوسری طرف عالم اسلام مختلف دینی و اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار تھا۔ اس کے چہرے کا سب سے بڑا داغ وہ شرک جلی تھا جو اس کے گوشہ گوشہ میں پایا جاتا تھا۔ قبریں اور تعزیے بے محابا پج رہے تھے۔ غیر اللہ کے نام کی صاف صاف دہائی دی جاتی تھی۔ بدعات کا گھر گھر چرچا تھا۔ خرافات اور توہمات کا دور دورہ تھا۔ یہ صورتحال ایک ایسے دینی مصلح اور داعی کا تقاضا کر رہی تھی جو اسلامی معاشرہ کے اندر جاہلیت کے اثرات کا مقابلہ اور مسلمانوں کے گھروں میں اس کا تعاقب کرے جو پوری وضاحت اور جرات کے ساتھ توحید و سنت کی دعوت اور اپنی پوری قوت کے ساتھ ”الا للہ الدین الخالص“ کا نعرہ بلند کرے۔
اسی کے ساتھ بیرونی حکومت اور مادہ پرست تہذیب کے اثر سے مسلمانوں میں ایک خطرناک اجتماعی انتشار اور افسوسناک اخلاقی زوال رونما تھا۔ اخلاقی انحطاط، فسق و فجور کی حد تک، تعیش و اسراف، نفس پرستی کی حد تک، حکومت و اہل حکومت سے مرعوبیت ذہنی غلامی اور ذلت کی حد تک، مغربی تہذیب کی نقالی اور حکمران قوم (انگریز) کی تقلید کفر کی حد تک پہنچ رہی تھی۔ اس وقت
١١١
ایک ایسے مصلح کی ضرورت تھی جو اس اخلاقی و ذہنی انحطاط کی بڑھتی ہوئی رو کو روکے اور اس خطرناک رجحان کا مقابلہ کرے جو محکومیت و غلامی کے اس دور میں پیدا ہو گیا تھا۔
تعلیمی اور علمی حیثیت سے حالت یہ تھی کہ عوام اور محنت کش طبقہ دین کے مبادی و اولیات سے ناواقف اور دین کے فرائض سے بھی غافل تھا۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ شریعت اسلامی، تاریخ اسلام اور اپنے ماضی سے بے خبر اور اسلام کے مستقبل سے مایوس تھا۔ اسلامی علوم رو بہ زوال اور پرانے تعلیمی مرکز عالم نزع میں تھے۔ اس وقت ایک طاقتور تعلیمی تحریک اور دعوت کی ضرورت تھی۔ نئے مکاتب و مدارس کے قیام، نئی اور مؤثر اسلامی تصنیفات اور نئے سلسلۂ نشر واشاعت کی ضرورت تھی جو امت کے مختلف طبقوں میں مذہبی واقفیت، دینی شعور اور ذہنی اطمینان پیدا کرے۔
اس سب کے علاوہ اور اس سب سے بڑھ کر عالم اسلام کی سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ انبیاء علیہم السلام کے طریق دعوت کے مطابق اس امت کو ایمان اور عمل صالح اور اس صحیح اسلامی زندگی اور سیرت کی دعوت دی جائے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے فتح ونصرت، دشمنوں پر غلبہ اور دین و دنیا میں فلاح وسعادت اور سربلندی کا وعدہ فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کی ضرورت دین جدید نہیں۔ ایمان جدید ہے۔ کسی دور میں بھی اس کو نئے دین اور نئے پیغمبر کی ضرورت نہیں تھی۔ دین کے ان ابدی حقائق وعقائد اور تعلیمات پر نئے ایمان اور نئے جوش کی ضرورت تھی۔ جس سے زمانہ کے نئے فتنوں اور زندگی کی نئی ترغیبات کا مقابلہ کیا جاسکے۔
زندگی کے ان شعبوں اور ضرورتوں کے لئے جن کا اوپر تذکرہ ہوا۔ عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں مختلف شخصیتیں اور جماعتیں سامنے آئیں۔ جنہوں نے بغیر کسی دعوے اور بغیر امت سازی کی کوشش کے، وقت کی ان ضرورتوں اور مطالبوں کو پورا کیا اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا۔ انہوں نے کسی نئے مذہب اور کسی نئی نبوت کا علم بلند نہیں کیا اور نہ مسلمانوں میں کوئی تفریق اور انتشار پیدا کیا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو کسی بے نتیجہ کام میں ضائع نہیں کیا۔ ان کا نفع ہر ضرر سے خالی، ان کی دعوت ہر خطرہ سے پاک اور ان کا کام ہر شبہ سے بالاتر ہے۔ عالم اسلام نے اپنا کچھ کھوئے بغیر ان سے نفع حاصل کیا اور مسلمان ان کی مخلصانہ خدمات کے ہمیشہ شکرگزار رہیں گے۔
ایک ایسے نازک وقت میں عالم اسلام کے نازک ترین مقام ہندوستان میں جو ذہنی
١١٤
سیاسی کشمکش کا خاص میدان بنا ہوا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی دعوت اور تحریک کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ وہ عالم اسلام کے حقیقی مسائل مشکلات اور وقت کے اصلاحی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام ذہنی صلاحیتیں، علم وقلم کی طاقت ایک ہی مسئلہ پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ وہ مسئلہ کیا ہے؟ وفات مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ۔
اس مسئلہ سے جو کچھ وقت بچتا ہے وہ حرمت جہاد اور حکومت وقت کی وفاداری اور اخلاص کی دعوت کی نذر ہو جاتا ہے۔ ربع صدی کی تصنیفی وعلمی زندگی اور جدوجہد کا موضوع اور ان کی دلچسپیوں کا مرکز یہی مسئلہ اور اس کے سلسلہ میں مخالفین سے نبرد آزمائی اور معرکہ آرائی ہے۔ اگر ان کی تصنیفات سے ان مضامین کو خارج کر دیا جائے جو حیات مسیح ونزول مسیح اور ان کے دعاوی اور اس سے پیدا ہونے والے مباحث سے متعلق ہیں تو ان کے تصنیفی کارنامہ کی ساری اہمیت اور وسعت ختم ہو جائے گی۔
پھر یہ بھی دیکھئے کہ اس عالم اسلام میں جو پہلے سے مذہبی اختلافات اور دینی نزاعات کا شکار تھا اور جس میں اب کسی نزاع کے برداشت کرنے کی طاقت نہ تھی۔ وہ نئی نبوت کا علم بلند کرتے ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے اس کی تکفیر کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے اور مسلمانوں کے درمیان ایک آہنی اور ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ جس کے ایک جانب ان کے متبعین کی ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف پورا عالم اسلام ہے جو مراکش سے چین تک پھیلا ہوا ہے اور جس میں عظیم ترین افراد، صالح ترین جماعتیں اور مفید ترین ادارے ہیں۔ اس طرح انہوں نے عالم اسلام میں بلا ضرورت ایسا انتشار اور ایک ایسی نئی تقسیم پیدا کردی جس نے مسلمانوں کی مشکلات میں ایک نیا اضافہ اور عصر حاضر کے مسائل میں نئی پیچیدگی پیدا کردی۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے در حقیقت اسلام کے علمی ودینی ذخیرہ میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا۔ جس کے لئے اصلاح وتجدید کی تاریخ ان کی معترف اور مسلمانوں کی نسل جدید ان کی شکر گزار ہو۔ انہوں نے نہ تو کوئی عمومی دینی خدمت انجام دی جس کا نفع دنیا کے سارے مسلمانوں کو پہنچے۔ نہ وقت کے جدید مسائل میں سے کسی مسئلہ کو حل کیا۔ نہ ان کی تحریک موجودہ انسانی تہذیب کے لئے جو سخت مشکلات اور موت وحیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ کوئی پیغام رکھتی ہے۔ نہ اس نے
١١٣
یورپ اور ہندوستان کے اندر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کی جدوجہد کا تمام تر میدان مسلمانوں کے اندر ہے اور اس کا نتیجہ صرف ذہنی انتشار اور غیر ضروری مذہبی کشمکش ہے۔ جو اس نے اسلامی معاشرے میں پیدا کر دی ہے۔ وہ اگر کسی چیز میں کامیاب کہے جا سکتے ہیں تو صرف اس میں کہ انہوں نے اپنے خاندان اور ورثاء کے لئے سر آغا خاں کے اسلاف کی طرح پیشوائی کی ایک مسند اور ایک دینی ریاست پیدا کر دی ہے۔ جس کے اندر ان کو روحانی سیادت اور مادی عیش وعشرت حاصل ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں وہ ذہنی انتشار نہ ہوتا۔ جس کا پنجاب خاص میدان تھا۔ اگر انگریزی حکومت کے اثر سے اسلامی معاشرہ میں اسلام کی بنیادیں متزلزل اور اسلامی ذہن ماؤف نہ ہو چکا ہوتا۔ اگر مسلمانوں کی نئی نسل دینی تعلیمات اور اسلام کی اصلاحی وتجدیدی شخصیتوں اور نیابت انبیاء اور عظمت انسانی کی حقیقی صفات سے اتنی بے خبر نہ ہوتی اور آخر میں حکومت وقت کی پشت پناہی اور سر پرستی نہ ہوتی تو یہ تحریک جس کی بنیاد زیادہ تر الہامات، خوابوں، تاویلات اور بے کیف و بے مغز نکتہ آفرینیوں پر ہے اور جو عصر جدید کے لئے کوئی نیا اخلاقی و روحانی پیغام اور مسائل حاضرہ کو حل کرنے کے لئے کوئی مجتہدانہ مقام نہیں رکھتی۔ کبھی بھی اتنی مدت تک باقی نہیں رہ سکتی تھی۔ جیسی کہ اس برسر انحطاط سوسائٹی اور اس پراگندہ دماغ، پراگندہ دل نسل میں رہ سکی۔ اسلام کی صحیح تعلیمات اور دعوت سے انحراف اور ان مخلصین و مجاہدین کی (جو ماضی قریب میں اس ملک میں پیدا ہوئے اور اسلام کے عروج اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اپنا سب کچھ مٹا کر چلے گئے) ناقدری کی سزا خدا نے یہ دی کہ ہندوستانی مسلمانوں پر ایک نئے ذہنی طاعون کو مسلط کر دیا اور ایک شخص کو ان کے درمیان کھڑا کر دیا۔ جو امت میں فساد کا مستقل بیج بو گیا ہے۔
دو سال ہوئے دمشق یونیورسٹی کے طلبہ واساتذہ کے سامنے اسلام کی تاریخ اصلاح وتجدید کے موضوع پر ایک سلسلہ تقریر کے دوران میں راقم سطور نے تحریک باطنیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
حضرات! میں جب باطنیت، اخوان الصفاء اور ایران کی بہائی اور ہندوستان کی قادیانیت کی تاریخ پڑھتا ہوں تو مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ اس تحریک کے بانیوں نے اسلام اور بعثت محمدی کی تاریخ پڑھی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص تنہا جزیرۃ العرب میں ایک دعوت لے کر کھڑا
١١٤
ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں نہ مال ہے نہ اسلحہ۔ وہ ایک عقیدہ اور ایک دین کی دعوت دیتا ہے اور کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ایک نئی امت ، ایک نئی حکومت ، ایک نئی تہذیب وجود میں آ جاتی ہے۔ وہ تاریخ کا رخ تبدیل کر دیتا ہے اور واقعات کا دھارا بدل دیتا ہے۔ ان کی بلند حوصلہ طبیعتوں نے ان سے کہا کہ اس کا نیا تجربہ کیوں نہ کیا جائے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ ذہانت، دماغی صلاحیت، تنظیمی لیاقت بھی رکھتے ہیں اور پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ پھر کیوں نہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی اور کس طرح انہی واقعات کا ظہور نہ ہوگا۔ جو طبعی اسباب اور عمل کے ماتحت گزشتہ دور میں ہو چکے ہیں۔ ان کو امید تھی کہ پھر اسی معجزہ کا ظہور ہوگا۔ جس کا تاریخ نے چھٹی صدی میں مشاہدہ کیا۔ اس لئے کہ فطرت انسانی ناقابل تبدیل ہے اور لوگوں میں ہمیشہ سے ہر دعوت قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔
ان بلند حوصلہ انسانوں نے اس یکہ و تنہا ہستی کو تو دیکھا جو بغیر کسی سرمایہ اور بغیر کسی فوجی طاقت وحمایت کے ایک دینی دعوت لے کر کھڑی ہوئی۔ لیکن اس کے پیچھے اس ربانی حمایت اور ارادۂ الٰہی کو نہیں دیکھا جو اس کی کامیابی، غلبہ اور قیامت تک باقی رہنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور جس نے اعلان کر دیا تھا۔
”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (الصف:٩)“
﴿وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تا کہ سب دینوں پر غالب کرے۔ خواہ شرک کرنے والے کتنا ہی برا مانیں۔﴾
نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر ان کی کوششیں کامیاب اور بار آور ہوئیں اور انہوں نے ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اپنے ساتھی اور پیرو پیدا کر لئے۔ ان میں سے بعض (باطنیہ) نے عظیم الشان سلطنت (فاطمیہ ) بھی قائم کر لی اور یہ سلطنت عرصہ تک پھلی پھولی اور ایک زمانہ میں اس نے سوڈان سے مراکش تک قبضہ کر لیا۔
لیکن جب تک ان کی تنظیم ان کے مخفی انتظامات اور ان کی شعبدہ بازیاں باقی رہیں۔ یہ عروج بھی باقی رہا۔
لیکن پھر وقت آیا کہ یہ سب عروج واقتدار اور یہ سب ترقی واقبال ایک افسانہ بن کر رہ
١١٥
گیا۔ ان کے مذاہب ایک مختصر دائرہ میں محدود ہوکر رہ گئے۔ جن کا زندگی پر کوئی اثر اور دنیا میں کوئی مقام نہیں۔
اس کے بالمقابل اسلام جس کو رسول اللہ لے کر آئے۔ وہ آج بھی دنیا کی عظیم ترین روحانی طاقت ہے اور آج اس کے ساتھ ایک عظیم الشان امت ہے۔ آج بھی وہ ایک تہذیب رکھتا ہے اور بہت سی سلطنتوں اور قوموں کا مذہب ہے۔ نبوت محمدی کا آفتاب آج بھی بلند اور روشن ہے اور تاریخ کے کسی دور میں بھی وہ گہن میں نہیں آیا۔
کتاب کے مآخذ
اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانی مصنفین کی جن کتابوں کے اقتباسات اور حوالے پیش کئے گئے ہیں۔ ان کے نام بہ ترتیب حروف تہجی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ جن کتابوں پر ایڈیشن ، سن طباعت اور مطبع کا نام درج ہے۔ اس کا بھی تذکرہ کر دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ کتابوں کی مختلف اشاعتوں کے صفحات میں بڑا فرق و تفاوت ہے۔
- ١...... الاربعین ١١...... پیغام صلح لاہور
- ٢...... ازالۃ الاوہام ١٢...... تبلیغ رسالت
- ٣...... آسمانی فیصلہ ١٣...... تحفۃ الندوة مطبع ضیاء الاسلام قادیان
- ٤...... اعجاز احمدی ١٤...... تریاق القلوب // // //
- ٥...... انجام آتھم ١٥...... تشحیذ الاذہان
- ٦...... انوار خلافت ١٦...... توضیح مرام مطبع دوم ١٨٩٧ء
- ٧...... آئینہ کمالات اسلام ١٧...... حقیقت الوحی ١٩٠٧ء
- ٨...... ایک غلطی کا ازالہ ١٨...... حقیقت النبوۃ ١٩١٥ء
- ٩...... براہین احمدیہ ١٩...... الحکم
- ١٠...... بیان القرآن جلد اول ١٩٣٠ء ٢٠...... حیات ناصر
بیان القرآن جلد دوم ١٩٣١ء بیان القرآن جلد سوم ١٩٣٢ء از مولوی محمد علی لاہوری مطبوعہ کریمی پریس
☆......................☆
١١٦
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانیت
اسلام اور نبوت محمدی کے
خلاف ایک بغاوت
ضمیمہ
تقریظ: جناب محمد صالح قزاز سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی
تقریظ: جناب حسنین محمد مخلوف رکن مجمع البحوث الاسلامیہ
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ!
قادیانیت ...... اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت
(یہ مضمون ١٩٥٣ء میں ان دنوں لکھا گیا جب پنجاب (پاکستان) میں عام تحریک شروع تھی جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ کر رہی تھی اور حکومت اس تحریک کو دبانے کے لئے اپنا پورا زور صرف کر رہی تھی)
میں اس مقالہ میں ایک ایسے مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو ہر مسلمان کی توجہ کا مستحق ہے۔ خواہ وہ کسی ملک میں بستا ہو۔ اس لئے کہ اس کا تعلق اسلام کے بعض بالکل بنیادی اصولوں سے ہے۔ اگر مسلمانوں نے اس سے غفلت برتی تو اس کا قوی خطرہ ہے کہ یہ معاملہ ایسی سنگین شکل اختیار کرلے کہ پورے عالم اسلامی اور پورے نظام اسلامی کے لئے شدید خطرہ بن جائے اور پھر اس کی تلافی ممکن نہ ہو۔
پاکستان میں حال ہی میں جو شدید ہنگامے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے پورے ملک کی توجہات کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور کیا پبلک اور کیا حکومت۔ سب کے سامنے بس ایک ہی مسئلہ رہ گیا تھا۔ ان ہنگاموں نے مسئلہ قادیانیت کی طرف جس کو بہت سے مسلمان بھولتے جا رہے تھے دوبارہ متوجہ کر دیا اور بہت سے متعجب ہو کر پوچھنے لگے کہ کیا واقعی یہ مسئلہ اتنا اہم اور اس قدر سنگین ہے کہ پورے ملک کا تنہا مرکز توجہ بن جائے اور اس سرے سے اس سرے تک سارا ملک زیر و زبر ہو جائے؟۔ لیکن کیا جائے مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے واقعۃً اتنی ہی اہمیت کا مستحق ہے!
پاکستان کے اسلامی ذہن کا اس طرف متوجہ ہونا بالکل بجا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہستی اور پاکستان کی نوخیز ریاست کے مستقبل کے لئے یہ ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ باہر والے بہت کم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ مسئلہ کی واقعی اہمیت کیا ہے اور اس ملک کی اسلامی زندگی سے اس کا کس قدر گہرا تعلق ہے۔ یہ کشمکش کسی فرقہ بندی، تنگ خیالی اور مذہبی عصبیت کا شوشہ نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے۔ بلکہ خالص اسلامی مصالح اور مسلمانوں کی زندگی کا تقاضا ہے۔
آئیے اس کو تاریخی اور علمی حقائق کی روشنی میں دیکھیں۔ علمی اور تاریخی حیثیت سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانیت فرنگی سیاست کے بطن سے وجود میں آئی ہے۔ صورت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے ربع اول میں ہندوستان کے مشہور ومعروف مجاہد حضرت سید احمد شہیدؒ (١٢٤٦ھ) نے جو جہاد کی تحریک چلائی۔ اس سے مسلمانوں میں جہاد اور قربانی کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے سینوں میں اسلامی شجاعت اور حوصلہ مندی موجزن ہونے لگی اور وہ ہزاروں کی تعداد میں سر ہتھیلیوں پر لئے ہوئے اس تحریک کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ جس کی سرگرمیاں برطانوی حکومت کے لئے پریشانی اور تشویش کا باعث تھیں۔ ادھر سوڈان میں شیخ محمد احمد سوڈانی نے جہاد اور مہدویت کا نعرہ بلند کیا۔ جس سے سوڈان میں برطانیہ کا اقتدار تزلزل میں آ گیا۔ اس کو معلوم تھا کہ یہ چنگاری اگر بھڑک اٹھی تو پھر قابو میں نہیں آئے گی۔ اور پھر سید جمال الدین افغانی کی تحریک ”اتحاد اسلامی“ کو اس نے پھیلتے اور مسلمانوں میں مقبول ہوتے دیکھا۔ اس نے ان سب خطرات کو محسوس کیا۔ اس نے مسلمانوں کے مزاج وطبیعت کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور اس کو معلوم تھا کہ ان کا مزاج، دینی مزاج ہے۔ دین ہی انہیں گرماتا ہے اور دین ہی انہیں سلا سکتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر قابو پانے کی واحد شکل یہ ہے کہ ان کے عقائد پر اور ان کے دینی میلان اور نفسیات پر قابو پایا جائے۔ مسلمانوں کے مزاج میں نفوذ حاصل کرنے کے لئے دین کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس مقصد کے لئے برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں سے کسی شخص کو ایک بہت اونچے دینی منصب کے نام سے ابھارا جائے کہ مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ انہیں حکومت کی وفاداری اور خیر خواہی کا ایسا سبق پڑھائے کہ پھر انگریزوں کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔ یہ حربہ تھا جو برطانوی حکومت نے اختیار کیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا مزاج بدلنے کے لئے کوئی حربہ اس سے زیادہ کارگر نہیں ہو سکتا تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی......! جو ذہنی انتشار کا مریض تھا اور بڑی شدت سے اپنے دل
١؎ اس شخص میں تین ایسی چیزیں بیک وقت جمع تھیں جنہیں دیکھ کر ایک مورخ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ ان میں اہم ترین اور حقیقی سبب کسے قرار دیا جائے جس نے اس شخص سے یہ ساری حرکات سرزد کرائیں۔ (١) کوئی رہنمائی کے منصب پر پہنچا جائے اور نبوت کے نام سے پورے عالم اسلامی پر چھایا جائے۔ (٢) وہ مالیخولیا جس کے بار بار تذکرہ سے اس کی اور اس سے متعلق اس کے ماننے والوں کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ (٣) مبہم اور غیر واضح قسم کے سیاسی اغراض ومقاصد اور سرکار انگریزی کی خدمت گزاری اور نمک حلالی۔ ملاحظہ ہو الیاس احمد برنی کی کتاب ”قادیانی مذہب“
٣
میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ وہ ایک نئے دین کا بانی بنے۔ اس کے کچھ متبعین اور مومنین ہوں اور تاریخ میں اس کا ویسا ہی نام اور مقام ہو جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ انگریزوں کو اس کام کے لئے موزوں شخص نظر آیا اور گویا انہیں اس کی شخصیت میں ایک ایجنٹ مل گیا۔ جو ان کے اغراض کے لئے مسلمانوں میں کام کرے۔ چنانچہ اس نے بڑی تیزی سے کام شروع کیا۔ پہلے منصب تجدید کا دعویٰ کیا۔ پھر ترقی کر کے امام مہدی بن گیا۔ کچھ دن اور گزرے تو مسیح موعود ہونے کی بشارت ہو گئی اور آخر کار نبوت کا تخت بچھا دیا اور انگریز نے جو چاہا تھا وہ پورا ہو گیا۔ اس قادیانی نے اپنا پارٹ بڑی خوبی سے ادا کیا اور انگریز نے بھی اس کی سر پرستی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کی حفاظت بھی کی اور ہر طرح کی سہولتیں اس کے کام میں پہنچائیں۔ قادیانی نے بھی گورنمنٹ کے ان احسانات کو فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ اس بات کا معترف رہا کہ اس کا نمود برطانیہ عظمیٰ کا رہین منت ہے۔
چنانچہ اپنی ایک تحریر (عرض بحضور گورنر پنجاب بتاریخ ٢٤؍فروری ١٨٩٨ء....تفصیل کے لئے دیکھئے میر قاسم علی کی کتاب ”تبلیغ رسالت“ ج ٧) میں خود کو حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیتا ہے اور ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گزاریوں کو گناتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھا کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
ایک دوسری جگہ لکھتا ہے: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں۔ تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کردوں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
اور اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتا ہے کہ: ”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھتے جائیں گے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
٤
ایک اور جگہ کہتا ہے کہ:”میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زر کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک (ہندوستان) پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جاں نثار ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٦، ٣٦٧)
مرزا غلام احمد قادیانی کی اس تحریک اور اس کی اس جماعت نے انگریزی حکومت کے لئے بہترین جاسوس اور بڑے سچے دوست اور جاں نثار تیار کئے۔ اس گروہ کے بعض چیدہ اشخاص نے ہند اور بیرون ہند میں انگریزی حکومت کی بڑی خدمات کیں اور اس سلسلہ میں جانی قربانی تک سے دریغ نہیں کیا۔ جیسے عبداللطیف قادیانی جو افغانستان میں قادیانی مذہب کی تبلیغ اور جہاد کی مخالفت کرتا تھا۔ اس کو حکومت افغانستان نے قتل کیا۔ کیونکہ اس کی دعوت سے اس بات کا خطرہ تھا کہ افغان قوم کا وہ جذبہ جہاد اور حوصلہ جنگ فنا ہو جائے جس کے لئے وہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ایسے ہی ملا عبدالحلیم قادیانی اور ملا نور علی قادیانی اسی انگریزی حکومت کے لئے افغانستان میں فنا کے گھاٹ اترے۔ کیونکہ ان کے قبضہ سے حکومت افغانستان کو کچھ ایسے خطوط اور کاغذات ملے جن سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ دونوں برطانوی حکومت کے ایجنٹ ہیں اور حکومت افغانستان کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ جیسا کہ افغانستان کے وزیر داخلہ کے ١٩٢٥ء کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے اور قادیانیوں کے سرکاری اخبار ”الفضل“ نے اپنی ٣؍مارچ ١٩٢٥ء کی اشاعت میں اس بیان کو نقل کیا اور اس قربانی پر بہت ہی خوشی کا اظہار کیا۔
علیٰ ہذا یہ قادیانی جماعت اپنے دور اول سے اب تک برابر تمام وطنی تحریکات سے کنارہ کش رہی۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس نے کوئی حصہ لیا اور نہ اس کے بعد۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ انگریزوں کی چودھراہٹ میں یورپی قزاقوں کی ٹولی (مستعمرین) کے ہاتھوں عالم اسلامی پر جو مصائب ٹوٹ رہے تھے وہ ان کے لئے موجب غم
٥
نہیں باعث مسرت تھے۔ انہیں کبھی عام زندگی سے، اسلامی مسائل سے، یا ان اسلامی تحریکات سے جو اسلامی حمیت یا سیاسی شعور کا نتیجہ تھیں۔ کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ان کا کام ہمیشہ مذہبی مباحثے اور موشگافیاں تھیں اور ان کی دلچسپیوں کا دائرہ صرف وفات مسیح، حیات مسیح، نزول مسیح اور نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر مباحثوں اور مناظروں تک محدود رہا۔
ہندوستان کے علماء اسلام اور ارباب فکر ونظر نے اس قادیانی فتنہ کو بہت اندیشہ کی نگاہ سے دیکھا اور اپنے زبان و قلم اور علم کے ہتھیاروں سے اس فتنہ کی جڑ کاٹنے کی پوری پوری کوشش کی اور ظاہر ہے کہ ایک ایسے سیاسی اقتدار کے دور میں جو خود اس فتنہ کا مربی اور سرپرست ہو۔ اس لئے زیادہ کوئی کوشش ممکن نہ تھی۔ ان مجاہدین اسلام میں سر فہرست ان چار حضرات کے نام ہیں۔ مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ (بانی ندوۃ العلماء) مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) اور اسلامی جماعتوں میں سے سب سے جوش اور سرگرمی سے اس باغی گروہ کے خلاف جنگ کرنے والی جماعت مجلس احرار اسلام رہی۔ جس کے قائد اور روح رواں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔
اور انہیں کے زمرہ میں اسلام کے مایہ ناز مفکر ڈاکٹر محمد اقبالؒ بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنی بعض تصنیفات میں بہت صاف صاف لکھا کہ قادیانیت نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ اسلام کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ ایک مستقل دین ہے۔ اس کے ماننے والے ایک الگ امت ہیں اور یہ امت عظیم اسلامی امت کا ہرگز جزو نہیں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اقبالؒ کوئی دقیانوسی آدمی نہ تھے۔ ان کا شمار دنیائے اسلام کے منتخب تعلیم یافتہ اور روشن خیال افراد میں تھا اور وہ اتحاد اسلامی کے ان اول درجہ کے داعیوں میں سے تھے۔ جن کی دعوت کا اولین اصول بے تعصبی اور روا داری ہے۔ لیکن چونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو قریب سے جانتے تھے اور اس کے مذہب اور اس کے مقاصد واسرار سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ اس لئے وہ بھی اس فتنہ کے ساتھ سخت رویہ کرنے پر مجبور ہوئے اور وہ پہلے شخص تھے جس نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کر کے ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا خیال پیش کیا۔ یہاں ہم ان کے مقالات اور خطبات کے بعض اقتباسات پیش کرتے ہیں۔
١؎ معلوم ہوا کہ بانی قادیانیت اور علامہ موصوف دونوں پنجاب ہی کے رہنے والے تھے۔
٦
علامہ مرحوم نے ہندوستان کے مشہور انگریزی اخبار ”اسٹیٹس مین“ جس نے ایک بار اس مسئلہ کو اٹھایا تھا۔ ایک مراسلہ لکھا کہ: ”قادیانیت حضرت محمدﷺ کی نبوت کے متوازی ایک علیحدہ نبوت پر ایک نئے گروہ کی بنیاد رکھنے کی منظم کوشش کا نام ہے۔“
(اسٹیٹس مین، مورخہ ١٠؍ جون ١٩٣٥ء)
اور اسی زمانہ میں جب ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے یہ سوال کیا کہ مسلمان قادیانیوں کو اسلام سے جدا کرنے پر آخر کیوں اصرار کرتے ہیں جب کہ قادیانی بھی مسلمانوں کے بہت سے فرقوں کی طرح انہی کا ایک فرقہ١؎ ہیں۔ تو علامہ مرحوم ہی نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا۔ ہم اس بات پر اس لئے مصر ہیں کہ: ”قادیانی تحریک نبی عربیﷺ کی امت میں سے نبی ہندی کی امت کو تراشنے کی کوشش کر رہی ہے۔“
اور کہا کہ: ”ہندوستان میں اسلام کی حیات اجتماعیہ کے لئے یہ تحریک اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جتنی یہودی نظام حیات کے لئے یہود کے ایک باغی فلسفی ”اسپینوزا“ (SPINOZA) کے عقائد ہو سکتے تھے۔“
اللہ تعالیٰ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کے لئے ڈاکٹر اقبال مرحوم کا سینہ کھول دیا تھا اور وہ اس حقیقت سے کما حقہ آشنا تھے کہ یہ عقیدہ ہی اسلام کی حیات اجتماعی اور امت کی شیرازہ بندی کا واحد محافظ ہے اور اس عقیدہ سے بغاوت کسی حال میں رعایت کی مستحق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ بغاوت قصر اسلامی کی بنیاد پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے۔ ماقبل میں ”اسٹیٹس مین“ کے جس مراسلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
١؎ ہندوستان کے وطن پرست لیڈر عام طور پر قادیانیت کو پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ اگر پھیلے گی تو ہندوستان کے تقدس میں اضافہ ہوگا اور مسلمان اپنا رخ حجاز سے پھیر کر ہندوستان ہی کو اپنا قبلہ اور اپنا روحانی مرکز قرار دے لیں گے اور جیسا کہ ان لیڈروں کا خیال ہے۔ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں وطن پرستی کی جڑیں بہت مضبوط ہو جائیں گی۔ جن دنوں پاکستان میں قادیانیت دشمن تحریک چل رہی تھی۔ بعض ہندو اخبارات کو قادیانیوں کے ساتھ بڑی ہمدردی تھی۔ ان اخبارات نے قادیانیوں کی تائید میں مضامین شائع کئے۔ اپنے پڑھنے والوں کو جمہور مسلمانوں کے مقابلہ میں قادیانیوں کا مؤید اور ہمنواء بنانے کی کوشش کی اور یہاں تک لکھ گئے کہ پاکستان میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی یہ کشمکش دراصل عربی نبوت اور ہندی نبوت کی کشمکش ہے اور ان دو مختلف نبوتوں کے پیروؤں کی کشمکش ہے۔
اسی میں لکھتے ہیں کہ : ” یہ عقیدہ کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ تنہا یہی وہ عامل ہے جو اسلام اور ان ادیان کے درمیان ایک مکمل سرحدی خط ( Line Of Demarcation) کھینچتا ہے۔ جو توحید میں مسلمانوں کے ہم عقیدہ ہیں اور محمد ﷺ کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن وحی و نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ جیسے کہ ہندوستان میں برہمو سماج ۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے دیکھ کر کسی گروہ پر داخل اسلام یا خارج اسلام ہونے کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ میں تاریخ میں کسی ایسے مسلمان گروہ کا نام نہیں جانتا جس نے اس خط کو پھاند جانے کی جرأت کی ہو۔ ایران کے فرقہ بہائیہ نے ضرور عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا۔ لیکن انہوں نے صاف صاف یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ایک الگ جماعت ہیں جو عرف عام کے اعتبار سے مسلمان نہیں ۔“
” بے شک ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف آیا ہوا دین ہے۔ لیکن اس کا قیام بحیثیت ایک سوسائٹی یا بحیثیت ایک امت سراسر حضرت محمد کی شخصیت پر موقوف ہے۔ اس لئے قادیانیوں کے سامنے بس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور خود کو مسلمانوں سے جدا کرلیں۔ یا ختم نبوت کی انوکھی تفسیر سے دست بردار ہو جائیں۔ ورنہ ان کی یہ سیاسی ڈھب کی تاویلات ان کے دل کے اس چور کی غمازی کر رہی ہیں کہ یہ لوگ صرف ان فوائد کے لالچ میں مسلمانوں کے دائرے میں گھسے رہنا چاہتے ہیں جو فوائد مسلمان کے نام سے وابستہ ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر ان فوائد اور منافع میں انہیں کوئی حصہ نہیں مل سکتا ۔“
موصوف ایک دوسرے موقع پر لکھتے ہیں کہ : ” ہر وہ گروہ جو معروف و مصطلح اسلام سے انحراف کرے اور اس کا دینی فکر و مزاج ایک نئی نبوت کی بنیاد پر استوار ہو اور وہ ان تمام مسلمانوں کی صاف صاف تکفیر کرتا ہو جو اس نئی خانہ ساز نبوت کی تصدیق نہ کریں۔ وہ گروہ اسلام کی سالمیت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس پر سختی سے نظر رکھنی چاہئے۔ اسلامی معاشرہ کی وحدت صرف عقیدہ ختم نبوت پر منحصر ہے۔“
یہ تھا اقبال جیسے روشن خیال فاضل کا رویہ قادیانیت کے بارے میں۔ لیکن وقت گزرتا رہا قادیانی اپنے کام میں مشغول رہے۔ فتنے اٹھاتے رہے۔ مناظرے کرتے رہے۔ شکوک وشبہات کا روگ لگاتے رہے اور انگریزی سیاست کی خدمت کرتے رہے۔ ان کا مرکز ضلع
٨
گورداسپور (پنجاب) کا ایک قصبہ قادیان تھا۔ انگریز کے سایہ عاطفت میں یہ شرانگیزیاں کر رہے تھے۔ لیکن یہ بات کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی کہ کسی وقت کوئی بڑی سیاسی قوت بھی ان کے قبضہ میں آجائے گی اور کوئی ایسی بنی بنائی مملکت ہاتھ آجائے گی۔ جس میں ان کو اقتدار اعلیٰ حاصل ہوگا۔ کیونکہ اوّلاً تو انہوں نے ملک کی سیاسی جدوجہد اور جنگ آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا اور دوسرے یہ کہ ان کی تعداد بہت تھوڑی اور مسلمانوں کی غیر معمولی اکثریت سے دبی ہوئی تھی۔ لیکن ١٩٤٧ء میں یکا یک مملکت پاکستان کی داغ بیل پڑ گئی اور یہ چیز جس کا تصور بھی قادیانی اپنے حالات کے پیش نظر نہیں کر سکتے تھے۔ بغیر ایک قطرہ خون گرائے ہوئے انہیں مل گئی۔ یعنی حکومت اور طاقت...... یہ کیسے ہوا؟ اس کی تفصیل بڑی عجیب ہے۔
ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بن گیا۔ برطانوی حکومت اپنا بوریا بستر لے کر ہندوستان سے چل پڑی۔ مگر چلتے وقت سر ظفر اللہ خاں کو پاکستان میں متعین کر گئی۔ یہ صاحب اپنی انگریز دوستی میں مشہور بلکہ انگریز ہی کے ساختہ و پرداختہ تھے اور انگریز حکمران جانتے تھے کہ تنہا یہی شخص ہے جو اس سر زمین پر انگریز کے مفاد کا ضامن ہوگا اور اس ملک کو برطانیہ کا خیمہ بردار بنا کر رکھے گا۔ چنانچہ اس غرض کے لئے محمد علی جناح مرحوم کو دھوکا دیا گیا۔ بلکہ بعض واقفین کے قول کے بمطابق ان پر زور ڈالا گیا کہ سر ظفر اللہ خاں کو پاکستانی کابینہ میں لے لیں اور خاص طور پر وزارت خارجہ کا قلمدان ان کے سپرد کر دیں۔ کیونکہ انگریز اور اس کے اتحادیوں کے لئے یہی شعبہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اس کے زیر اثر آنے کے بعد یہ ممکن تھا کہ مشرق وسطیٰ پر ان سامراجیوں کی سیاست مسلط رہے۔ کیونکہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی اسلامی حکومت ہے اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں پر اس کا اثر پڑنا ناگزیر ہے۔ بہر حال اس نئی مملکت کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان ہوئے۔ جن کا ایمان یہ ہے کہ اس ملک کی غالب اکثریت کافر ہے۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو نہیں مانتی۔ ظفر اللہ خان کا ایسا سمجھنا ان کے دین و عقیدہ کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے رفقاء نے تصریح کی ہے کہ جو مسلمان اس نئے دین پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ ان کو لڑکی دینا جائز نہیں۔ الغرض ان کے ساتھ کفار کا سا معاملہ کرنا چاہئے۔ مرزا بشیر الدین ابن غلام احمد اور موجودہ خلیفہ اپنی کتاب ”آئینہ صداقت“ میں لکھتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ
٩
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
اور یہی خلیفہ صاحب ایک عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہتے ہیں: ”ہم چونکہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ غیر احمدی کافر ہیں۔“
(بیان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٦، ٢٩؍ جون ١٩٢٢ء)
ایک تقریر میں اپنے اور مسلمانوں کے اختلافات کے سلسلے میں مرزا قادیانی کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ کی ذات اور رسول کریمﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣٠؍ جولائی ١٩٣١ء)
اور حد یہ ہے کہ پاکستان کے قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کا انتقال ہوا تو اپنے عقیدہ کی بناء پر سر ظفر اللہ خان نے آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
سر ظفر اللہ خان نے پورے عزم اور دور اندیشی کے ساتھ اپنے اثر و اقتدار سے فائدہ اٹھا کر وزارت خارجہ اور سفارت کی تمام اسامیوں کو قادیانیوں سے پاٹ دیا۔ علیٰ ہذا دوسرے سرکاری محکموں میں بھی ان کو گھسایا اور مسلم ملازمین کی گردنوں پر ان قادیانی افسروں کو مسلط کر دیا۔ جو جس طرح جی میں آتا ہے ان پر حکم چلاتے ہیں۔ عہدوں کے ناجائز دباؤ سے ان میں قادیانیت پھیلاتے ہیں اور جو نہ مانے وہ طرح طرح کی زیادتیوں اور برخاستگی کا نشانہ بنتا ہے۔
دوسری اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ قادیانی بہت بڑی تعداد میں پاکستانی فوج میں گھس گئے۔ فوج، پولیس اور ہوائی سروس کے بڑے بڑے عہدوں پر چھا گئے اور ان محکموں میں ایسی مضبوط اکثریت بنالی کہ اگر ان کی مصلحت کا تقاضہ ہو تو ایک کامیاب بغاوت کر سکتے ہیں اور جب چاہیں زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔
مزید برآں انہوں نے پنجاب میں ربوہ (چناب نگر) کے نام سے ایک آزاد ریاست (حکومت در حکومت کے طور سے) قائم کی جو ایک خالص قادیانی نو آبادی ہے۔ جہاں قانوناً نہ سہی لیکن عملاً کوئی سرکاری نوکری کسی غیر قادیانی کو ہرگز نہیں دی جاتی۔ حتیٰ کہ ریلوے اسٹیشن کے عملہ تک میں کوئی غیر قادیانی نہیں رکھا جاتا۔ بجا نہ ہوگا اگر پاکستان کے اس ربوہ کی
١٠
فلسطین کی مملکت اسرائیل سے تشبیہ دی جائے کہ دونوں ہی مسلمانوں کے سینہ پر سوار ہیں اور ان کی گھات میں ہیں۔
یہ تھے وہ اسباب جنہوں نے پاکستان کے مسلم رہنماؤں کو ایک گہرے فکر میں ڈبودیا اور انہوں نے غور کیا تو اس صورتحال میں پاکستان کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک ننگی تلوار دیکھی۔ انہوں نے دیکھا کہ ملک کے قلب میں برطانیہ کی ایجنسی قائم ہے۔ قصر اسلامی کو اندر ہی اندر ایک گھن لگ رہا ہے اور ہدایت ربانی ”يا ايها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يالونكم خبالاً ودوا ما عنتم قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفي صدورهم اكبر (آل عمران:١١٨) “اے ایمان والو مت بناؤ بھیدی اپنے غیر میں سے۔ وہ کمی نہیں کرتے ہیں تمہاری خرابی میں۔ ان کو خوشی ہے تم جس قدر تکلیف پاؤ۔ نکل پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اور جو چھپا ہے ان کے جی میں سو اس سے بھی سوا ہے۔﴿ کے بالکل خلاف ہو رہا ہے۔
تب انہوں نے کہا کہ اس مشکل کا حل صرف یہ ہے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دیا جائے اور پاکستانی حکومت ان کے ساتھ ایک غیر مسلم اقلیت کی طرح معاملہ کرے۔ یہ بعینہ وہی تجویز تھی جو سب سے پہلے ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے پیش کی تھی اور اپنے خطبات و مقالات میں بہت شدت وقوت کے ساتھ اس کی دعوت دیتے رہے تھے۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ کہا کہ: ”قادیانیت اسلام سے اس سے کہیں زیادہ مغائر ہے۔ جتنے کہ سکھ ہندوؤں سے۔ لیکن انگریزی حکومت نے سکھوں کو غیر ہندو اقلیت قرار دیا۔ حالانکہ ان دونوں میں بہت سے معاشرتی، مذہبی اور تہذیبی تعلقات قائم ہیں اور آپس میں بیاہ شادی تک کرتے ہیں۔ جب کہ قادیانیت مسلمانوں سے مناکحت کرنے اور انہیں داماد بنانے کو قادیانیوں کے لئے حرام ٹھہراتی ہے اور ان کے بانی نے مسلمانوں سے ہر قسم کے تعلقات کو یہ کہہ کر ناجائز قرار دے دیا ہے کہ مسلمانوں کی مثال خراب شدہ دودھ کی ہے۔ جب کہ ہم تازہ دودھ کی مانند ہیں۔“
اپنے مسئلہ کے علاوہ اپنے ملک کی بہبودی کے نقطہ نظر سے بھی پاکستان کے مسلمانوں نے قادیانیت پر غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمارا ملک اپنی سیاست میں، اپنے تصرفات میں اور اپنے معاملات، اپنے سیاسی مصالح اور اسلامی تقاضوں کے مطابق انجام دینے میں اس وقت تک ہرگز آزاد نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خارجہ اور داخلہ پالیسی بیرونی طاقتوں اور ان کے ایجنٹوں
١١
کے اثرات سے بالکل پاک نہ ہو۔ لیاقت علی خان مرحوم اپنے آخری ایام میں اس خطرہ کو محسوس کرنے لگے تھے اور مذکورہ صورتحال سے غیر مطمئن ہو گئے تھے اور جیسا کہ واقفین کا کہنا ہے کہ ان کا احساس اور شعور بھی ان کے ناگہانی قتل کے اسباب میں سے ہے۔
الغرض ان باتوں نے پاکستان کی تمام اسلامی جماعتوں اور مختلف دینی پارٹیوں اور شخصیتوں کو متحدہ طور پر اس مسئلہ کی فکر کرنے پر آمادہ کیا اور ان سب کے ٣٣ نمائندوں کا ایک اجتماع جنوری ١٩٥٣ء میں کراچی میں منعقد ہوا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ جس کو اقلیتی حقوق حاصل ہوں اور تناسب آبادی کے لحاظ سے پاکستانی پارلیمنٹ کی نشستوں میں اور سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ مقرر ہو، تا کہ حکومت کے ذرائع اور نظم و نسق کی مشینری پر یہ لوگ ناحق طور سے قبضہ نہ جما سکیں اور مسلمانوں کو خود ان کی اس ریاست میں تنگ نہ کر سکیں۔ جس کی تاسیس کے لئے انہوں نے اپنے جسم و جان کی قربانی دی۔
لیکن پاکستان کی حکومت نے اس منصفانہ اور بلند بانگ مطالبہ کی طرف سے اپنے کان بند کر لئے اور ذرہ برابر توجہ نہ کی۔ حکومت کی اس روش کو دیکھ کر ان قائدین نے ایک عمومی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے ذریعہ سے حکومت کے اس رویہ کے خلاف عمومی ناراضگی کا اظہار ہو اور حکومت کو ماننا پڑے کہ یہ مطالبہ چند خواص کے سر کا سودا نہیں ۔ بلکہ عوام کے دل کی آرزو ہے اور واقعہ یہ ہے کہ تحریک اس قدر عوامی جوش و خروش سے لبریز اور لرزہ خیز تھی کہ اس کی مثال اس ملک کی پچھلی تاریخ میں دور تک ملنی مشکل ہے۔
اس تحریک کو جسے حکومت نے بغاوت کا نام دیا۔ کچل ڈالنے کے لئے حکومت نے اپنے تمام وسائل استعمال کر ڈالے۔ حالانکہ وہ بغاوت نہیں تھی وہ ایک ایسی قوم کی طرف سے جائز قسم کا مطالبہ تھا جو نہایت ٹھنڈا مزاج رکھتی اور اپنی حکومت کی وفادار تھی اور جس نے اس کی خدمت اور اس کا دفاع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ حکومت نے فوج طلب کی جس نے ”بغاوت“ کو کچل ڈالنے کے لئے اندھا دھند فائرنگ کی ۔ ہزاروں علماء اور دین دار لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور پنجاب کو جو اس تحریک کا مرکز تھا فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اس آزمائش کا سب سے بڑا حصہ لاہور شہر کے حصہ میں آیا۔ جس پر دو ماہ سے زائد عرصہ تک مارشل لاء نافذ رہا اور بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ اور بذریعہ فائرنگ لوگوں کے قتل کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے تحریک کے
١٢
رہنماؤں پر فوجی عدالت میں مقدمات چلائے اور بعض کو پھانسی تک کی سزا سنا ڈالی۔ جن رہنماؤں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ان میں پاکستان کی جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی تھے۔ انہیں پھانسی کی سزا لاہور کی فوجی عدالت نے سنائی۔ اگرچہ اگلے ہی روز اسے چودہ سال قید بامشقت سے تبدیل کرنا پڑا۔ مولانا کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ”قادیانی مسئلہ“ کے نام سے ایک کتابچہ لکھا جس میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں قادیانیت کا مؤقف بیان کیا اور وہ اسباب گنائے جن کی بناء پر پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ضروری تھا۔ اس کتابچہ کا اسلوب بیان نہایت علمی اور حقائق پر مبنی تھا اور وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی۔ جماعت اسلامی کے دوسرے رہنماؤں کو بھی کئی کئی سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
مگر افسوس کہ عالم اسلامی نے اب تک قادیانیت کے خطرے کو نہیں سمجھا ہے۔ عالم اسلامی اب تک اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ قادیانیت محض ایک عقیدہ یا مذہبی فرقہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے نظم ملی کو درہم برہم کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ سیدنا محمدﷺ کے لائے ہوئے اسلام کے خلاف ایک خطرناک بغاوت ہے۔ قادیانیت کو اس اسلام سے عناد ہے اور ہر ہر معاملہ میں وہ اس کی مزاحم ہے۔ قادیانیت چاہتی ہے کہ عقائد و افکار اور جذبات میں اسلام کی جگہ اسے مل جائے اور بنی آدم کی اطاعت و محبت اور احترام و عقیدت سے جو حصہ وافر اسلام کو ملا ہے وہ اس
١؎ پاکستان میں عام لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حکومت نے اس موقع کو جماعت اسلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے غنیمت جانا۔ کیونکہ یہ جماعت ایک طرف ملک میں اس اسلامی دستور کے نفاذ کا مسلسل مطالبہ کر رہی تھی جس کا ریاست پاکستان نے وعدہ کیا تھا اور اس کی بنیاد پر وہ قائم بھی ہوئی تھی اور دوسری طرف حکومت پاکستان پر زور دے رہی تھی کہ اپنی تمام پالیسیوں اور ملک کی عام زندگی کو اسلام کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کرے۔ حکومت کے ذمہ دار حضرات اس مطالبہ کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ کیونکہ وہ دین کو سیاست سے الگ ہونے کے قائل تھے اور ریاست کو خالص لادینی ریاست بنا ڈالنے پر تلے تھے۔ اب یہی لوگ نہایت تیزی سے ترکی جمہوریت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کمالی سیاست کو اپنائے ہوئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان ہر اس تحریک کا سختی سے نوٹس لیتی ہے جو اس کے لادینی رجحان پر تنقید کرتی اور اس سے اسلامی اصولوں اور اسلامی نظام زندگی کے نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ لیکن یہی حکومت دوسری طرف قادیانی عنصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ جس کی ان دنوں ظفر اللہ قیادت کر رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان دو خطرات کے درمیان گھر کر رہ گیا ہے۔ یا وہ لادینیت کا شکار ہو یا قادیانیت کی گود میں چلا جائے۔
١٣
کی طرف منتقل ہو جائے۔ قادیانیت صاف طور پر اعلان کرتی ہے کہ مرزا قادیانی نہ صرف صحابہؓ کرام اور امت کے جلیل القدر اولیاء ومجددین وائمہ عظام سے بزرگ تر ہیں۔ بلکہ بہت سے اولو العزم انبیاء ورسل (علیٰ نبینا وعلیہم السلام) سے افضل واقدس ہیں۔ قادیانیت کی نظر میں اصحاب نبی ﷺ اور اصحاب غلام احمد (علیہ ماعلیہ) میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ کے برابر بلکہ شاید کچھ زیادہ ہے۔ اس کے خلفاء، خلفاء راشدین کے ہمسر ہیں۔ اس کا شہر قادیان شرف ومجد میں مکہ معظمہ اور مدینۃ الرسول کا ہم پلہ ہے اور قادیان کا حج مکہ مکرمہ کے حج سے کمتر نہیں ہے۔
مرزا بشیر الدین قادیانی خلیفہ دوم کی ”حقیقت النبوۃ“ دیکھئے، مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ”وہ بعض اولو العزم نبیوں سے بھی آگے نکل گئے ۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)
(اخبار الفضل قادیان ج١٤، ٢٩؍ اپریل ١٩٢٧ء) کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ: ”دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہت سوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔“
یہی اخبار (ج٥ مورخہ ٢٨ مئی ١٩١٨ء) کی اشاعت میں اصحاب نبی اور اصحاب مرزا کو برابر قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”پس ان دونوں گروہوں میں تفریق کرنی یا ایک کو دوسرے سے مجموعی رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں۔ یہ دونوں فرقے در حقیقت ایک ہی جماعت ہیں۔ صرف زمانہ کا فرق ہے۔ وہ بعثت اولیٰ کے تربیت یافتہ ہیں یہ بعثت ثانیہ کے ۔“
(الفضل قادیان مورخہ ١٧ اگست ١٩١٥ء، ج٣ نمبر٥٥) میں ہے کہ: ”مسیح موعود محمد است وعین محمد است“
(انوار خلافت ص ١٨) میں میاں محمود احمد خلیفہ قادیان لکھتے ہیں: ”اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت ”اسمہ احمد“ کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں۔“
قادیانیت اسی پر بس نہیں کرتی۔ بلکہ حضور سید الاولین والآخرین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی افضلیت کا دعویٰ کرتی ہے۔
مرزا غلام احمد اپنے خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی
١٤
ترقیات کی انتہاء نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ٧٧، خزائن ج١٦ ص٢٦٦)
اور مزید یہ بھی کہتے ہیں: ”لہ خسف القمر المنیر وان لی ، غسا القمران المشرقان اتنکر “اس کے (یعنی نبی کریم کے) لئے صرف چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں (کے گرہن) کا۔ اب کیا انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)
قادیانیت کی نظر میں مرزا قادیانی کے مدفن کا بھی وہی مرتبہ ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ کے مزار مبارک کا۔ ملاحظہ فرمائیے صیغۂ تربیت قادیان کی طرف سے قادیان جانے والوں کے لئے ہدایت کا اقتباس!
”اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد بیضاء پر پڑ رہا ہے۔ آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے محروم رہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج١٠ نمبر ٤٨، مورخہ ١٨ دسمبر ١٩٢٢ء)
علیٰ ہٰذا قادیانی یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کا قادیان تین مقدس و متبرک مقامات میں سے ایک ہے۔ مرزا محمود احمد خلیفۂ قادیان تحریر فرماتے ہیں کہ: ”خدائے تعالیٰ نے ان تینوں مقامات (مکہ، مدینہ اور قادیان) کو مقدس کیا اور تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے اظہار کے لئے چنا۔‘‘
(الفضل قادیان مورخہ ٣ ستمبر ١٩٣٥ء)
پھر ایک قدم اور بڑھا کر قادیانیت، بلد حرام اور مسجد اقصیٰ کے متعلق قرآنی آیت کو قادیان پر چسپاں کرتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد ہے کہ: ”ومن دخله كان آمنا “ ان کی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا گیا ہے۔
(ملخص از حاشیہ در حاشیہ براہین احمدیہ ص٥٥٨، خزائن ج٢١ ص٢٦٦، ٢٦٧)
(درثمین ص٥٢) پر ارشاد ہے۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
١٥
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠، مورخہ ٢١ اگست ١٩٣٢ء) میں رقم طراز ہے: ”سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حوله (بنی اسرائیل: ١)“ کی آیت کریمہ میں مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے۔
اور جب یہ بات ہے کہ قادیان بلد اللہ الحرام کا ہم مرتبہ بلکہ کچھ سوا ہے تو لا محالہ اس کا سفر بھی حج کے برابر یا کچھ فائق تر ہوگا۔ چنانچہ میاں محمود احمد صاحب خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں: ”اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تاکہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تاکہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔“
(الفضل یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
اور قادیانی جماعت کے لئے ایک اور بزرگ ایک قدم آگے بڑھا کر فرماتے ہیں کہ: ”جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی حضرت مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس حج ظلی کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر آج کل حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور ج ٢١ نمبر ٢٢)
ان باتوں سے اندازہ کیجئے کہ قادیانیت کس طرح ایک مستقل عالمی دین بننے کے لئے کوشاں اور امیدوار ہے۔ جس کا خود اپنا ایک نبی ہو۔ صحابہ اور خلفاء ہوں۔ مقامات مقدسہ ہوں اپنی مستقل تاریخ اور شخصیات ہوں اپنا مستقل ادب اور لٹریچر ہو اور اپنے متبعین کا رشتہ اسلام کے لافانی ورثہ سے اس کی تاریخ اور شخصیات سے اس کے اولین سرچشموں اور ماخذوں سے ، اس کے مقدسات اور روحانی مراکز سے منقطع کر کے کسی طرح ان میں سے ہر ایک کے عوض میں ایک نئی چیز اپنے متبعین کے لئے فراہم کرتی ہے۔ مگر ان چیزوں کا بدل کوئی چیز کہاں بن سکتی ہے۔ معاذ اللہ عن ذالک!
اور اسی طرح سے انسان نبی عربی ﷺ کی محبت واطاعت کی سرشاری ، آپؐ کے ذکر کی شیفتگی ، آپؐ کی سیرۃ پاک کے مطالعہ اور آپؐ کے نقش قدم کے اتباع سے برگشتہ ہو کر نبی قادیانی کی محبت میں اور اس کی عظمت وعبقریت کے گن گانے میں، اس کی تاریخ کا مطالعہ کرنے میں اور اس کے نقش قدم پر چلنے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ انسان اسلام کی تابناک تاریخ ایمان و جوانمردی کی تاریخ ، شرافت انسانی کی تاریخ کو چھوڑ کر ایک ایسی تاریخ پر فریفتہ ہو جاتا ہے جو سراسر ذلت
١٦
ومسکنت کی تاریخ ہے۔ ظالم حکمرانوں اور جابر حکومتوں کی حاشیہ نشینی کی تاریخ ہے۔ جی حضوری اور چاپلوسی کی تاریخ ہے اور جاسوسی اور منافقت کی تاریخ ہے۔ وہ انسان ان اسلامی شخصیتوں سے منہ موڑ کر جو بجا طور پر سرمایہ انسانیت اور آدمیت کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ انسانیت کے ان سپوتوں سے منہ موڑ کر جو فضیلت کے پہاڑ اور تاریخ کے انمٹ نقوش ہیں۔ ان پست فطرت اور حباب آسا لوگوں کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ جو غلاموں کی زبان کے سوا کوئی زبان نہیں جانتے اور جنہیں مکر و دغا اور ضمیر فروشی کے علاوہ کوئی دوسرا فن نہیں آتا۔ وہ انسان زندہ و پائندہ اسلامی علوم و معارف کو پس پشت ڈال کر ایک ایسے پست اور لچر لٹریچر کی طرف مائل ہو جاتا ہے جس میں رکیک طرز بیان، فحش کلامی، گندی گالیوں، کھلے ہوئے تناقض، سفید جھوٹ، لمبے چوڑے دعوؤں، مضحکہ خیز تاویلوں اور ایسی پیش گوئیوں کے طومار کے سوا جو سچی نہ ہوئیں اور نہ (انشاء اللہ کبھی ہوں گی) کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ انسان اس مقدس شہر سے جہاں وحی نازل ہوئی ہے اور جہاں ملائک اترتے ہیں۔ جہاں مدرسہ انسانیت ہے۔ جو پناہ گاہ آدمیت ہے اور جس کے افق سے اس عالم کی صبح صادق نمودار ہوئی۔ اس شہر سے رشتہ عقیدت توڑ کر اس شہر کو مرکز عقیدت بناتا ہے۔ جو جاسوسی کا آشیانہ اور ملت اسلامی کے فتنے و الم کا گڑھ ہے۔ جہاں پر قومی و شرعی ناکردنی کی جاتی ہے۔ یہ ہے ملت قادیانی جو ہر خیر کو ایک شر سے بدلتی ہے۔ بِئْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلاً!
قادیانی مذہب عالم اسلامی کے جسم کا وہ مادہ فاسد ہے جو اس کے شریانوں میں بے غیرتی اور بزدلی، مغربی سامراجیوں کے حضور جبہ سائی اور کاسہ لیسی اور ان ظالم حکمرانوں کے لئے تذلل اور نیاز مندی کا زہر پھیلاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی زمین کو جور و فساد سے بھر دیا اور دنیا کے مسلمانوں کو اپنی غلامی کے شکنجے میں کس لیا ہے۔
اس قادیانیت کے جرائم کوئی کہاں تک گنائے؟ یہ وحدت کلمہ کو پارہ پارہ کر کے دنیائے اسلام کو انتشار فکر میں مبتلا کرتی ہے۔ اسلام کے حقیقی سرچشموں، اس کی اصلی ماخذوں اور مستند بزرگوں پر اعتماد کو متزلزل کرتی ہے۔ امت کے شاندار ماضی، اس کے تابناک ایام اور جلیل القدر اشخاص سے امت کا رشتہ کاٹتی ہے اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور طفیلیوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔ وہ اسلام کی لازوال طاقت اور سدا بہار زندگی سے بدگمان کرتی ہے اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی طرف سے مایوس کرتی ہے۔
١٧
قادیانیت مسلمانوں کا ذہن، عالمی مسائل اور اس نظام عدل کی اقامت سے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو پیدا فرمایا تھا۔ ہٹا کر چند لغو مسائل کی طرف لگاتی ہے اور اس عظیم امت کو اس یورپین قوم کی گاڑی کا قلی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ جس کے ایماء سے یہ پیدا ہوئی اور جس کی حفاظت میں یہ پلی۔
افسوس اس قادیانیت نے مرزا غلام احمد جیسے پست اور کم ظرف آدمی کو نبوت کا تاج پہنا کر انسانیت کو اتنا ہی سرنگوں کر دیا۔ جتنا محمد ﷺ کی نبوت نے اسے سربلند کیا تھا۔ قادیانیت نے پوری انسانیت کی توہین کی ہے۔ اس کی جبین شرافت پر داغ لگایا ہے۔ اس لئے اس کا وجود ایک ایسے گناہ کا وجود ہے جو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا اور ایک ایسے جرم کا وجود ہے جس کو تاریخ بھلا نہیں سکتی۔
قادیانیت کا مسئلہ کسی ایک ملک یا حکومت کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ کسی کا گھریلو اور داخلی معاملہ ہے۔ یہ پوری دنیائے اسلام کا مسئلہ ہے۔ یہ عقیدۂ اسلامی کا سوال ہے۔ عزت رسول کا سوال ہے۔ اشرف انسانیت کا سوال ہے اور اس کرۂ ارض میں ایک ذرّہ خیر نہیں۔ اگر یہ عقیدہ مٹ جاتا ہے اگر اس عزت کو ہاتھ لگایا جاتا ہے اور اگر اس شرف کو داغ دار کیا جاتا ہے۔
یہ چند ٹھوس حقائق ہیں اور خدا جانتا ہے کہ ان کے لکھنے کا محرک بجز دینی حمیت اور دلی کرب اور اندیشۂ مستقبل کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن جو لوگ واقعات سے دور اور اوہام و خیالات ہی کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور حقیقتوں کے بارے میں بھی اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کی نظر میں دین وعقیدہ کی خود کوئی قیمت نہیں اور جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ میرے پاس کوئی عذر نہیں۔
٭ ٭ ٭
١٨
ضمیمہ!
تعارف
نومبر ١٩٧٤ء میں رابطہ عالم اسلامی نے ”تخریب پسند تحریکیں“ کے نام سے قادیانیت پر مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، شیخ محمد خضر حسینؒ کے مضامین شائع کئے۔ اس کتاب میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا جو مضمون شائع ہوا۔ ”قادیانیت اسلام اور نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت“ اس کا نام ہے۔ (مولانا موصوف کی کتاب ”قادیانیت“ کا دوسرا باب بھی اسی نام پر ہے۔ لیکن ان دونوں میں فرق تھا۔ اس لئے ہم نے کتاب ”قادیانیت“ کے دوسرے باب کو بھی اصل مقام پر رہنے دیا۔ اس نئے کتابچہ کے اس مضمون کو بھی مستقل نام سے علیحدہ شامل کر دیا) ”تخریب پسند تحریکوں“ نامی کتاب پر رابطہ عالم اسلامی کے محمد صالح قزاز نے تقریظ لکھی اور مصر معروف سکالر حسین مخلوف نے پیش لفظ تحریر کیا۔ ان دونوں کو اس رسالہ کے ضمیمہ کے طور پر یہاں شائع کر رہے ہیں۔ (فقیر مرتب)
برادر مسلم ! ہم آپ کی خدمت میں ایک باطل فرقہ ”قادیانیت“ کے بارے میں یہ چند رسائل پیش کر رہے ہیں جو تحریک اسلامی کے چوٹی کے نامور علماء نے اس تخریب پسند تحریک کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تجربات کی روشنی میں لکھے ہیں۔
”قادیانیت“ ایک ایسی تحریک ہے جو چند دوسری تخریب پسند تحریکوں سے مل کر عالم اسلامی کے جسم کو بودا اور کھوکھلا کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں آپ سے توقع ہے کہ ان تخریب پسند لوگوں کی تباہ کن سرگرمیوں سے متعلق جو معلومات آپ کے علم میں آئیں ۔ ان سے آپ ہمیں مطلع فرماتے رہیں گے۔ اس لئے کہ اہل اسلام کے باہمی تعاون میں بڑی خیر و برکت ہے۔ اللہ کے حضور دعا ہے کہ ہمیں امت اسلامیہ کی بھلائی کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد صالح قزاز، سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی
١٩
پیش لفظ!
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله رب العالمين ، والصلوة والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه الهداة المتقين!
قادیانی گروہ ان جانے پہچانے گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ جس کی خبر خود رسول کریم ﷺ نے اپنی اس حدیث مبارک میں دی ہے۔ جس میں آپ نے اپنے بعد اپنی امت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے بارے میں فرمایا ہے۔
اس گروہ کی بنیاد ہندوستان میں انیسویں صدی عیسوی میں ”مرزا غلام احمد قادیانی“ نے رکھی۔ یہ شخص ١٨٣٨ء میں قادیان نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہیں اس نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر طب، منطق اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد ایک مدت تک انگریزی حکومت کی ملازمت میں رہا۔ ایام جوانی میں وہ سخت دماغی اور اعصابی عارضہ کا شکار ہوا۔ چنانچہ جڑی بوٹیوں اور بعض نشہ آور چیزوں سے اپنا علاج کرتا رہا۔
شروع شروع اس نے دعویٰ کیا کہ خدا کی طرف سے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرز پر مخلوق کی اصلاح کرے اور یہ کہ اسے کچھ الہامات ومکاشفات ہوتے ہیں۔ جن کا مشاہدہ قادیان میں اس کے ساتھ رہنے والے کرتے ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ وہ مندرجہ ذیل گمراہیوں کی طرف بڑھتا رہا:
- ١...... یہ کہ مسیح کی روح اس میں حلول کر گئی ہے۔
- ٢...... یہ کہ اسے جو الہام ہوتا ہے وہ قرآن کریم ، توریت اور انجیل کی طرح خدا کا کلام ہے۔
- ٣...... یہ کہ آخری زمانہ میں ”قادیان“ میں مسیح کا نزول ہوگا۔
- ٤...... یہ کہ ”قادیان“ ہی وہ مقدس بستی ہے جس کا ”مسجد اقصیٰ“ کے نام سے قرآن کریم میں
بطور کنایہ ذکر کیا گیا ہے اور مکہ ومدینہ کے بعد تیسرا مقدس مقام ہے۔
- ٥...... یہ کہ اس کا حج کرنا فرض ہے۔
٢٠
- ٦...... یہ کہ اس پر دس ہزار سے زائد آیات وحی کی گئی ہیں۔
- ٧...... یہ کہ جو اسے جھوٹا قرار دے گا وہ کافر ہے۔
- ٨...... یہ کہ قرآن کریم نیز محمدﷺ اور پہلے زمانہ کے تمام انبیاء نے اس کی نبوت کی شہادت
دی ہے۔ بلکہ اس کی بعثت کے زمانہ اور جگہ کی تعیین بھی کی ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
یہ تھا اس کا عقیدہ جس کا اس نے اعلان کیا اور اپنی کتابوں جیسے ”براہین احمدیہ“ اور ”تبلیغ رسالت“ میں اس کی دعوت پیش کی۔ ان کتابوں کو ہم نے پڑھا اور ان میں جو کفر بکا گیا ہے اور اللہ و رسول پر جو افتراء پردازی کی گئی ہے۔ اس کا بھی جائزہ لیا۔ یہی اس کے ماننے والوں کا بھی عقیدہ ہے۔ جس کی وہ ہر وقت اور ہر جگہ اشاعت کرتے پھرتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی دراصل ایک نئے دین کی بنیاد رکھنے کا خواہش مند تھا۔ جس کی تبلیغ کی جائے اور بہت سے لوگ اس میں اس کی پیروی کریں۔ اس پر ایمان لائیں۔ تبلیغ کے کام میں اس کی پشت پناہی کریں۔ وہ انگریزوں کا بھی اطاعت گزار رہا۔ جن کی ان دنوں ہندوستان پر حکومت تھی۔ اس لئے انگریزی حکومت کی خدمت گزاری کے لئے اس نے اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ”میں اپنے ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں۔ جو ان کی دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
نیز وہ کہتا ہے: ”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھتے جائیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
وہ یہ بھی کہتا ہے: ”انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کے حرام ہونے کے بارے میں میں نے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں۔ جنہوں نے ہمارے اوپر احسان کیا اور جن کی پورے خلوص سے اطاعت کرنا ہمارا فرض ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٢ ملخص)
٢١
اس کھلم کھلا فتنہ اور ضلالت نے مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگا دی۔ اس لئے ہر زمانہ میں ممتاز مسلمان علماء اور مفکرین نے اپنے قلم اور زبان سے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر اور نمایاں مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مولانا محمد علی مونگیریؒ (بانی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو) مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مشہور شاعر اسلام علامہ محمد اقبالؒ ہیں۔ جنہوں نے صاف صاف بیان کیا کہ قادیانیت نبوت محمدیہ کے خلاف کھلم کھلا بغاوت ہے۔ اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش اور اسلام سے ہٹ کر الگ ایک مذہب ہے۔ یہ علامہ محمد اقبالؒ ہی تھے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک فرقہ قرار دیا جائے۔
١٩٠٨ء میں جب اس مکار اور دغاباز شخص کا انتقال ہوا تو اس کا ایک ساتھی اور مکاری میں اس کے ساتھ شریک شخص جس کا نام حکیم نورالدین تھا اور جس نے ”تصدیق براہین احمدیہ“ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ اس کا جانشین ہوا اور اس غلط نظریہ کی تائید و تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ یہاں تک کہ ١٩١٤ء میں وہ بھی اس دنیا سے چل بسا۔ مرنے سے پہلے اس نے بانی فرقہ غلام احمد کے بڑے لڑکے ”بشیر الدین محمود“ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔
قادیانیوں کی ایک دوسری شاخ بھی ہے۔ جسے ”لاہوری پارٹی“ کہا جاتا ہے۔ اس کا سرغنہ محمد علی تھا۔ جس نے انگریزی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی اور بہت سی کتابیں ہیں۔ جن میں اس نے قرآن کریم کی اپنے عقیدہ کے مطابق مضحکہ خیز تحریفات کی ہیں۔ آگے چل کر اس کے ترجمہ قرآن سے متعلق مختصر طور پر ہم اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
ان مذکورہ اشیاء کا ذکر ہم اپنی کتاب ”فتاویٰ شرعیہ“ میں کر چکے ہیں۔ اس سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ قادیانی ایک خارج از اسلام فرقہ ہے۔ جو ہر طرح سے مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے اور اپنے جھوٹے اور گمراہ بانی سلسلہ کی تصدیق کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ہے اس باطل فرقہ کے حالات، عقائد اور تعلیمات کی ایک جھلک۔ جسے ہم نے نہایت مختصر انداز میں بعض قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کر کے قارئین کے سامنے رکھا ہے۔ ان ہی قابل اعتماد ذرائع میں سے مندرجہ ذیل تین رسائل ہیں۔
٢٢
پہلا رسالہ ہمارے بھائی اور دوست، سرزمین ہند میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے والے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا ہے۔ جن کو اسلامی تبلیغ اور اللہ کی راہ میں مخلصانہ جہاد کا طویل اور گہرا تجربہ ہے۔
دوسرا رسالہ ہمارے بھائی، محقق کبیر، رہنمائے علماء، رہبر عاملین اور پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے۔
تیسرا رسالہ ہمارے بھائی مشہور صاحب قلم محقق اور سابق شیخ ازہر علامہ محمد خضر حسین کا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ جو شخص بھی ان تینوں رسائل کا بغور مطالعہ کرے گا اسے قادیانیوں کے خارج از اسلام، کافر فرقہ ہونے کے بارے میں نہایت ٹھوس دلائل اور واضح معلومات دستیاب ہو جائیں گی۔ نیز اسے پتہ چلے گا کہ قادیانی کس حد تک اسلام سے دشمنی رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے دین حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں۔ اس مقصد کے لئے وہ دنیا بھر میں اپنے باطل عقائد اور گمراہ کن افکار کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان رسائل کے مؤلفین کو ان کے اس کارخیر پر جزائے خیر دے اور ان رسائل کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے حق میں باعث خیر بنائے۔ آمین!
قادیانیوں کا ترجمہ قرآن پاک
اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ گمراہ قادیانی رہنما محمد علی نے قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اس کی دنیا بھر میں اشاعت کی۔ لیکن اس میں کسی جگہ اپنے قادیانی ہونے کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔ تاکہ جو شخص اسے پڑھے یہی سمجھے کہ یہ قرآن مجید کا ایک ایسے مسلمان عالم کے قلم سے دیانتدارانہ صحیح ترجمہ ہے جو قرآن مجید کا احترام کرتا اور خدمت اسلام کے جذبہ سے انگریزی میں اس کا ترجمہ کر کے شائع کر رہا ہے۔ تاکہ انگریز اور ......... انگریزی جاننے والے دوسرے لوگ اللہ کی کتاب، اس کے احکام، محاسن اور سچی تعلیمات کو سمجھ سکیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا نہایت جھوٹا اور گمراہ کن ترجمہ ہے۔ جس میں اپنی خواہش کے مطابق طرح طرح کی تحریفات کی گئی ہیں اور غیر اسلامی باتوں کو لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس ترجمہ قرآن سے محمد علی کا
٢٣
مقصد ان مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت و دشمنی کے جذبہ کو تسکین دینا تھا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان ماننے سے انکاری ہیں اور اسے اور اس کے ماننے والوں کو خارج از اسلام سمجھتے ہیں۔
مرزا مبارک احمد نامی ایک قادیانی نے پاکستان سے اپنے ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ مملکت سعودی عرب کو پیش کیا۔ جسے مملکت نے مکہ معظمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے حوالے کیا کہ اس کے متعلق شرعی حکم بیان کیا جائے۔
جب رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹریٹ نے اندازہ لگایا کہ اس میں تحریف، گمراہ کن خیالات اور باطل تاویلات کے ذریعہ کتاب اللہ کے خلاف جگہ جگہ ایسے زہر آلود حملے کئے گئے ہیں۔ جن کی تمام مشاہیر علمائے تفسیر نکیر کرتے ہیں تو اس ترجمہ قرآن کو رابطہ کی ثقافتی کمیٹی کے سپرد کیا گیا کہ اس کو بغور مطالعہ کر کے اس کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد رابطہ کے سیکرٹریٹ جنرل کو جو رپورٹ پیش کی۔ اسے شعبان ١٣٩١ھ میں ہونے والے مجلس تاسیسی کے تیرہویں سالانہ اجلاس کے سامنے پڑھا گیا۔ تو مجلس نے اتفاق رائے سے ذیل کی قرارداد پاس کی۔
”ہندوستان میں غلام احمد قادیانی نامی ایک شخص کی طرف منسوب قادیانی گروہ ایک گمراہ اور خارج از اسلام فرقہ ہے۔ جو کھلم کھلا باطل عقائد کی تبلیغ کرتا اور ان منکرات کا ارتکاب کرتا ہے۔ جنہیں دین حنیف قطعی طور پر حرام قرار دیتا ہے۔
اپنے جس عقیدہ کی وہ اپنے تمام ماننے والوں میں ہر جگہ اشاعت کرتا ہے۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے دس ہزار سے زائد آیات وحی کی گئی ہیں اور یہ کہ جو شخص اسے جھٹلائے گا وہ کافر ہوگا۔ یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ یہ کہ اس پر قرآن، توریت اور انجیل جیسی وحی آتی ہے۔ یہ کہ اس میں مسیح علیہ السلام کی روح حلول کر گئی ہے۔ یہ کہ قادیان کا حج کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ یہ کہ مکہ اور مدینہ کی طرح وہ ایک مقدس شہر ہے اور یہ کہ قرآن مجید میں جس مسجد اقصیٰ کا ذکر آیا ہے۔ اس سے مراد بطور کنایہ قادیان ہی ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے باطل عقائد اور گمراہ کن خیالات ہیں۔ جو اس کی کتابوں ”براہین احمدیہ“ اور ”تبلیغ رسالت“ وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بہت سے ایسے عقائد و دعاوی بھی ہیں جن کا مقصد انگریزوں کی چاپلوسی تھا۔ جو ان دنوں ہندوستان پر حکومت کر
٢٤
رہے تھے۔ تاکہ انہیں اور ان کی حکومت کو استحکام حاصل ہو اور مسلمانوں کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ ظالم استعمار کا کبھی مقابلہ نہ کر سکیں اور ہمیشہ ان کے سامنے سرنگوں رہیں۔
یہ گمراہ کن خیالات اور باطل عقائد تمام قادیانیوں کا شیوہ ہیں۔ جس کی وہ ہر جگہ اور ہر آن تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ان کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن کریم کا ترجمہ ہے۔ جس میں وہ اپنے باطل عقائد کے مطابق من مانی تاویلات و تحریفات کر کے اپنے تمام حلقوں بلکہ ان دوسرے ممالک میں بھی پھیلاتے ہیں۔ جن میں انہوں نے اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں اور جہاں انہوں نے اپنی مسجدیں بنائیں اور درسگاہیں قائم کی ہیں۔ تاکہ عام مسلمانوں اور اسلام کا مطالعہ نہ کر سکنے والے غیر مسلموں کو گمراہ کر سکیں۔ نیز لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ان کا ایک ہتھکنڈہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے اور اپنے بچوں کے نام مسلمانوں جیسے رکھتے ہیں۔ جیسے محمد، احمد، علی، بہاءالدین وغیرہ۔
اسی قسم کا ایک ترجمہ قرآن مجید وہ ہے جو گمراہ محمد علی نے کیا ہے۔ قادیانی اس کی اشاعت کرنے اور اس سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام لیتے ہیں۔ چونکہ یہ اور بہت سے دوسرے تراجم قرآن جو قادیانیوں کی طرف سے شائع ہوئے ہیں۔ سب باطل، گمراہ کن اور جھوٹے ہیں۔ جن کی تکذیب قرآن کریم کی وہ تفسیریں کرتی ہیں جو نبی کریم ﷺ، صحابہ، تابعین اور مختلف زمانوں میں علمائے اسلام سے منقول اور ثابت شدہ ہیں۔ علاوہ ازیں ان میں ایسی غلط تحریفات و تاویلات بھی پائی جاتی ہیں جن کو نہ عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ قرآن کریم کا بلیغ نظم و اسلوب اور جن کا مقصد محض اپنے فاسد مذہبی عقائد و دعاوی کی تائید ہے۔ اس لئے مجلس تاسیسی اتفاق رائے سے طے کرتی ہے کہ اس گمراہ اور دشمن اسلام فرقہ کا شائع کردہ یہ ترجمہ قرآن باطل ہے۔ جس سے تمام مسلم و غیر مسلم ممالک کے لوگوں کو خبردار کرنا اور بچانا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لئے نشر و اشاعت کے معروف ذرائع سے کام لے کر تمام اسلامی انجمنوں کو خبردار کیا جائے کہ وہ اپنے طور پر اللہ کی کتاب اور مسلمانوں سے نصیحت کے جذبہ سے قرآن کریم کی اس گمراہ فرقہ کے ہاتھوں بے حرمتی کو روکنے کے لئے جو کچھ کر سکتی ہیں۔ اس میں کوتاہی نہ کریں۔ مجلس یہ بھی طے کرتی ہے کہ مصر کے سابق مفتی نیز رابطہ کی مجلس تاسیسی کے رکن
٢٥
شیخ حسنین محمد مخلوف کے ذمہ یہ کام لگایا جائے کہ رابطہ کی طرف سے اس ترجمہ قرآن کے بارے میں شرعی حکم بیان کریں اور قادیانیت سے متعلق مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور شیخ محمد خضر حسین کے تالیف کردہ رسائل پر پیش لفظ لکھیں۔ جس کے بعد ان تینوں رسالوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرا کے انہیں اس پیش لفظ کے ساتھ یکجا شائع کیا جائے۔ تاکہ دنیا کے مسلمان زیادہ سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں اور ان کے ذریعہ اللہ کی مدد سے ان دغابازوں کی مکاری اور فریب کا پول کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مکاروں اور خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو کبھی آگے بڑھنے نہیں دیتا۔‘‘
میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے توفیق بخشی کہ میں نے مکہ معظمہ میں بیٹھ کر مذکورہ بالا پیش لفظ لکھا۔ اللہ تعالیٰ مذکورہ تینوں رسائل کے مؤلفین کو جزائے خیر عطاء فرمائے کہ انہوں نے عام مسلمانوں کے فائدے کے لئے یہ رسائل لکھ کر قادیانی گروہ کے باطل عقائد کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی طرف سے شائع کردہ تراجم قرآن سے دور رہیں۔ کیونکہ ان تراجم میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کو چھپا کر پیش کیا گیا ہے۔
قادیانیوں کی کتابوں میں جو کھلم کھلا کفر پایا جاتا ہے میں بار بار مسلمانوں کو اس سے خبردار رہنے اور بچنے کی تلقین کرتا ہوں اور رابطہ عالم اسلام کی مجلس تاسیسی اور اس کے سکریٹریٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ان تینوں رسائل کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرا کے وسیع پیمانہ پر شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رابطہ کا یہ کارنامہ حق کی راہ میں جہاد کا حکم رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد اللہ کی کتاب اس کے دشمنوں کی شر انگیزیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
’’واللہ تعالیٰ ولی المتقین، والھادی الی الحق، والی طریق مستقیم‘‘
حسنین محمد مخلوف سابق مفتی مصر و رکن مجلس تاسیسی، رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ رکن مجمع البحوث الاسلامیہ، قاہرہ، مکہ مکرمہ ٢٢؍ شوال ١٣٩٦ھ، مطابق ٢٨؍ نومبر ١٩٧٦ء
٢٦
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیت
کا
ظہور
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين خاتم النبيين محمد واله وصحبه اجمعين!
ختم نبوت انعام خداوندی اور امت اسلامیہ کا امتیاز ہے
یہ عقیدہ کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ اسلام خدا کا آخری پیغام اور زندگی کا مکمل نظام ہے۔ ایک انعام خداوندی اور موہبت الہی ہے۔ جس کو خدا نے اس امت کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واضح اور صریح اعلان قرآن مجید کی حسب ذیل آیت ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠) “ ﴿محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ البتہ اللہ کے رسول ہیں اور (سب) نبیوں کے ختم پر ہیں۔﴾
خاتَم اور خاتِم دونوں کے معنی لغت میں آخر کے ہیں
”خاتمهم وخاتمهم اى آخرهم“
(لسان العرب ج ٣ ص ٢٥)
”خاتم النبيين اى آخرهم“
(تاج العروس فی جواہر القاموس ج ١٦ ص ١٨٩، ١٩٠)
”خاتم النبيين وخاتم النبيين لانه ختم النبوة اى تممها بمجيئه“
(مفردات راغب اصفهانی ج ١ ص ١٤٢)
”هو الذى ختم النبوة بمجيئه“
(تاج العروس ج ١٦ ص ١٨٩، ١٩٠)
”خاتم النبيين اى آخر الانبياء“
(کشاف ج ٣ ص ٥٤٤، ٥٤٥)
”والمعنى انه لا نبى بعده“
(بحر الرائق ج ٨ ص ١٢٠)
”خَاتَم النبيين بفتح التاء اى آخرهم“
(معالم التنزیل ج ٣ ص ١٧٨)
”هذه الآية نص فى انه لا نبى بعده وبذلك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول الله عن جماعة من الصحابة“
(تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٣٨١)
٢
ختم نبوت یعنی ذات محمدی پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو جانا امت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جو اجراء نبوت کا اب بھی قائل ہے۔ اہل تحقیق نے تصریح کر دی ہے کہ وہ اجماع امت سے زندیق بلکہ مرتد ہے۔
لفظ خاتم میں دو قرأتیں ہیں۔ امام حسن اور عاصم کی قرأت خاتم بفتح التاء ہے اور دوسرے ائمہ قرأت خاتم بکسر التاء پڑھتے ہیں۔ حاصل معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی انبیاء کو ختم کرنے والے، کیونکہ خاتم خواہ بکسر التاء ہو یا بفتح التاء دونوں کے معنی آخر کے ہی آتے ہیں اور مہر کے معنی میں بھی یہ دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں اور نتیجہ دوسرے معنی کا بھی وہی آخر کے معنی ہوتے ہیں۔ کیونکہ مہر کسی چیز پر بند کرنے کے لئے آخر ہی میں کی جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اور آپ کا آخری پیغمبر ہونا، آپ کے بعد کسی نبی کا دنیا میں مبعوث نہ ہونا اور ہر مدعی نبوت کا کافر و کاذب ہونا ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ کرام سے لے کر آج تک ہر دور کے مسلمانوں کا اجماع و اتفاق رہا ہے۔
ایک یہودی عالم نے حضرت عمرؓ کے سامنے اس پر بڑے رشک اور حسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے۔ جس کو آپ لوگ پڑھتے رہتے ہیں۔ اگر وہ ہم یہودیوں کی کتاب میں نازل ہوئی ہوتی اور ہم سے متعلق ہوتی تو ہم اس دن کو جس میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اپنا قومی تہوار اور یوم جشن بنا لیتے۔ اس کی مراد سورہ مائدہ کی اس آیت: ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ: ٣)“ ﴿آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین صرف اسلام کو منظور فرما کر راضی ہو چکا ہوں۔﴾ سے تھی جس میں ختم نبوت اور تکمیل نعمت کا اعلان کیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس نعمت کی جلالت و عظمت اور اس اعلان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا فرمایا کہ ہمیں کسی نئے یوم مسرت اور تہوار کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت خود ایسے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ جو اسلام میں ایک عظیم الشان اجتماع اور عبادت کا دن ہے۔ اس موقع پر دو دو عیدیں جمع تھیں۔ یوم عرفہ (٩/ ذی الحجہ) اور روز جمعہ۔
(مسند امام احمد ج ١ ص ٢٨)
روایت صحیح بخاری، کتب صحاح و سنن، حدیث کے الفاظ مسند امام احمد بن حنبل کے ہیں۔ حدیث مذکور حسب ذیل ہے۔ ”جاء رجل من الیهود الی عمر بن الخطاب فقال
٣
يا امير المؤمنين انكم تقرؤن آية في كتابكم لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيداً قال واى آية؟ فقال قوله اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى، فقال عمر والله انى لا علم اليوم الذى نزلت على رسول الله ﷺ والساعة التى نزلت فيها على رسول الله ﷺ عشية عرفة يوم جمعة“
ذہنی انتشار سے حفاظت
اس عقیدہ نے اسلام کو انتشار پیدا کرنے والی اور ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والی ان تحریکات اور دعوتوں کا شکار ہونے سے بچایا جو تاریخ اسلام کی طویل مدت اور عالم اسلام کے وسیع ترین رقبہ میں وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہی ہیں۔ اس عقیدہ کا فیض تھا کہ اسلام ان مدعیان نبوت اور محرفین دین کا بازیچۂ اطفال بننے سے محفوظ رہا۔ جو تاریخ کے مختلف وقفوں اور عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں پیدا ہوتے رہے۔ ختم نبوت کے اسی حصار کے اندر یہ ملت ان مدعیوں کی دست برد اور یورش سے محفوظ رہی جو اس ڈھانچہ کو بدل کر ایک نیا ڈھانچہ بنانا چاہتے تھے اور وہ ان تمام سازشوں اور خطرناک حملوں کا مقابلہ کر سکی۔ جن سے کسی پیغمبر کی امت اس سے پہلے محفوظ نہیں رہی اور اتنے طویل عرصہ تک اس کی دینی اور اعتقادی وحدت اور یکسانی قائم رہی۔ اگر یہ عقیدہ اور یہ حصار نہ ہوتا تو یہ امت واحدہ ایسی صدہا امتوں میں تقسیم ہو جاتی۔ جن میں سے ہر امت کا روحانی مرکز الگ ہوتا۔ علمی و تہذیبی سرچشمہ الگ ہوتا۔ ہر ایک کی الگ تاریخ ہوتی۔ ہر ایک کے الگ اسلاف اور مذہبی پیشواء اور مقتداء ہوتے۔ ہر ایک کا الگ ماضی ہوتا۔
ختم نبوت کا زندگی اور تمدن پر احسان
عقیدہ ختم نبوت درحقیقت نوع انسانی کے لئے ایک شرف و امتیاز ہے۔ وہ اس بات کا اعلان ہے کہ نوع انسان سن بلوغ کو پہنچ گئی ہے اور اس میں یہ لیاقت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ خدا کے آخری پیغام کو قبول کرے۔ اب انسانی معاشرہ کو کسی نئی وحی کسی نئے آسمانی پیغام کی ضرورت نہیں۔ اس عقیدہ سے انسان کے اندر خود اعتمادی کی روح پیدا ہوتی ہے۔ اس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین اپنے نقطہ عروج کو پہنچ چکا ہے اور اب دنیا کو اس سے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔ اب دنیا کو نئی
٤
وحی کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں سے فائدہ اٹھانے اور خدا کے نازل کئے ہوئے دین واخلاق کے بنیادی اصولوں پر زندگی کی تنظیم کے لئے زمین کی طرف اور اپنی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔
عقیدہ ختم نبوت انسان کو پیچھے کی طرف لے جانے کے بجائے آگے کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ انسان کے سامنے اپنی طاقتوں کو صرف کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ انسان کو اپنی جدوجہد کا حقیقی میدان اور رخ بتاتا ہے۔ اگر ختم نبوت کا عقیدہ نہ ہو تو انسان ہمیشہ تذبذب و بے اعتمادی کے عالم میں رہے گا۔ وہ ہمیشہ زمین کی طرف دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھے گا۔ وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کی طرف سے غیر مطمئن اور متشکک رہے گا۔ اس کو ہر مرتبہ ہر نیا شخص یہ بتلائے گا کہ گلشن انسانیت اور روضۂ آدم ابھی تک نامکمل تھا۔ اب وہ برگ وبار سے مکمل ہوا ہے اور وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گا کہ جب اس وقت تک نامکمل رہا تو آئندہ کی کیا ضمانت ہے؟ اسی طرح وہ بجائے اس کی آبیاری اور اس کے پھلوں اور پھولوں سے متمتع ہونے کے نئے باغبان کا منتظر رہے گا۔ جو اس کو برگ وبار سے مکمل کرے۔
ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کا شعر
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ وبار
(درثمین اردو ص ١٣٥)
علامہ اقبالؒ نے یہ حکیمانہ ومبصرانہ بات کہی ہے کہ: ’’دین وشریعت کی بقاء تو کتاب وسنت سے ہے۔ لیکن امت کی بقاء ختم نبوت کے عقیدہ سے وابستہ ہے اور یہ امت جب ہی تک ایک امت ہے۔ جب تک وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہے اور یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔‘‘
(علامہ محمد اقبال کا مقالہ بجواب مضمون پنڈت جواہر لال نہرو Islam And Ahmadism)
قادیانیت کی جسارت اور جدت
اسلام کے خلاف وقتاً فوقتاً جو تحریکیں اٹھیں۔ ان میں قادیانیت کو خاص امتیاز حاصل
٥
ہے۔ وہ تحریکیں یا تو اسلام کے نظام حکومت کے خلاف تھیں یا شریعت اسلامی کے خلاف۔ لیکن قادیانیت درحقیقت نبوت محمدی کے خلاف ایک سازش ہے۔ وہ اسلام کی ابدیت اور امت کی وحدت کو چیلنج ہے۔ اس نے ختم نبوت سے انکار کر کے اس سرحدی خط کو بھی عبور کر لیا۔ جو اس امت کو دوسری امتوں سے ممتاز و منفصل کرتا ہے اور جو کسی مملکت کے حدود کو حاجز اور حد فاصل بنانے کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اپنے ایک انگریزی مضمون میں جو ہندوستان کے مشہور اخبار ”سٹیٹس مین“ میں شائع ہوا تھا۔ بڑی خوبی سے قادیانیت کی اس جسارت اور جدت کو واضح کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ”اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے۔ جس کے حدود مقرر ہیں۔ یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں؟ مثلاً برہمو سماج والے خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعہ وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہے اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں ہو کر انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“
(حرف اقبال ص ١٣٦، ١٣٧)
امت اسلامیہ کا زمانہ سب سے زیادہ پر از تغیرات ہے
یہ دین چونکہ آخری اور عالمگیر دین ہے اور یہ امت آخری اور عالمگیر امت ہے۔ اس
٦
لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیا کے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا اور ایسی کشمکش کا اس کو مقابلہ کرنا ہوگا۔ جو کسی دوسری امت کو دنیا کی تاریخ میں پیش نہیں آئی۔ اس امت کو جو زمانہ دیا گیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ پر از تغیرات اور پر از انقلابات ہے اور اس کے حالات میں جتنا تنوع ہے وہ تاریخ کے کسی گزشتہ دور میں نظر نہیں آتا۔
اسلام کی بقاء اور تسلسل کے لئے غیبی انتظامات
ماحول کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور مکان و زمان کی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے دو انتظامات فرمائے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ کو ایسی کامل و مکمل اور زندہ تعلیمات عطاء فرمائی ہیں جو ہر کشمکش اور ہر تبدیلی کا بآسانی مقابلہ کر سکتی ہیں اور ان میں ہر زمانہ کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ دوسرے اس نے اس کا ذمہ لیا ہے (اور اس وقت تک کی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے) کہ وہ اس دین کو ہر دور میں ایسے زندہ اشخاص عطاء فرماتا رہے گا جو ان تعلیمات کو زندگی میں منتقل کرتے رہیں گے اور مجموعاً یا انفراداً اس دین کو تازہ اور اس امت کو سرگرم عمل رکھیں گے۔ اس دین میں ایسے اشخاص کے پیدا کرنے کی جو صلاحیت اور طاقت ہے اس کا اس سے پہلے کسی دین سے اظہار نہیں ہوا اور یہ امت تاریخ عالم میں جیسی مردم خیز ثابت ہوئی ہے۔ دنیا کی قوموں اور امتوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ محض اتفاقی بات نہیں ہے۔ بلکہ انتظام خداوندی ہے کہ جس دور میں جس صلاحیت وقوت کے آدمی کی ضرورت اور زہر کو جس تریاق کی حاجت تھی وہ اس امت کو عطا ہوا۔
(تاریخ دعوت وعزیمت حصہ اول ص ٢٣)
ادیان سابقہ میں دعویداران نبوت کی کثرت
یہودی اور مسیحی تاریخ کو پڑھنے والا اس بات کو صاف طریقہ پر دیکھتا ہے کہ مدعیان نبوت کا کثرت سے پیدا ہونا یہودی دنیا کے لئے اپنے حلقہ اثر میں اور مسیحی دنیا کے لئے اپنے حلقہ اثر میں ایک عظیم الشان آزمائش اور فتنہ بنا ہوا تھا۔ یہ ان کے لئے ایک زبردست بحران (Crisis) اور ایک اہم مسئلہ (Problem) کی حیثیت رکھتا ہے۔ راقم کو سب سے پہلے اس کی طرف توجہ علامہ اقبالؒ (اللہ تعالیٰ ان کے درجے بلند فرمائے) کی تحریر سے منعطف ہوئی کہ
٧
انہوں نے یہ بصیرت افروز اور عمیق نکتہ لکھا ہے کہ ختم نبوت اس امت کا طرۂ امتیاز اور اس کے حق میں نعمت عظمیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عظیم الشان نعمت عطاء فرمائی ہے کہ ختم نبوت کا مختتم اعلان کر دیا۔ گویا انسانوں کو یہ بتایا کہ اب تمہیں بار بار وحی کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھنا نہیں ہے۔ اب زمین کی طرف دیکھو۔ اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں زمین کو (جس میں تم خلیفۃ اللہ فی الارض) بنائے گئے ہو۔ آباد کرنے اور اپنی صلاحیتوں سے انسانوں کی قسمت بدلنے، سہولت بہم پہنچانے اور ان کے لئے وہ ماحول مہیا کرنے میں صرف کرو۔ جو ان کو نجات اخروی اور سعادت دنیوی کے حصول میں معاون ہو۔ اب تم اپنی توانائی اس میں ضائع نہ کرو کہ ہر تھوڑے وقفہ کے بعد آسمان کی طرف دیکھا کرو کہ کوئی نیا نبی تو نہیں آ رہا ہے۔ کوئی نیا الہام تو نہیں ہو رہا ہے؟ آسمان سے براہ راست کوئی نئی رہنمائی ہونے والی ہے؟ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ ختم نبوت ایک ایسی نعمت ہے جس نے اس امت کو انتشار، ذہنی کشمکش اور جعل سازوں کی سازشوں کا شکار ہونے سے بچالیا۔
(علامہ اقبال کے مدراس کے لیکچرز Reconstruction of Religious Thought in Islam)
راقم نے اسی روشنی میں یہودیت اور مسیحیت کی تاریخ براہ راست پڑھنی شروع کی تو اس نے دیکھا کہ یہودی اور مسیحی علماء سر پکڑ کر (اور اس میں مبالغہ یا غلط بیانی نہیں) رو رہے ہیں اور اس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ عجیب مصیبت ہے روز ایک نیا مدعی نبوت پیدا ہوتا ہے۔ اس کو صادق و کاذب ثابت کرنے کے لئے کوئی پیمانہ چاہئے اور وہ بھی ایسا ہونا چاہئے کہ جو سب کی سمجھ میں آئے۔ ہماری طاقت اور ذہانت اسی میں صرف ہورہی ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ فلاں جعلی مدعی نبوت ہے۔ فلاں دجال و کذاب ہے۔ صدیوں تک یہودی اور مسیحی دنیا اس آزمائش میں مبتلا رہی ہے۔
یہاں معتبر یہودی و عیسائی مآخذ کے صرف دو اقتباس پیش کئے جاتے ہیں۔ امریکی برطانی جیوش ہسٹاریکل سوسائٹی کا ایک فاضل رکن البرٹ ایم ہائمسن انسائیکلو پیڈیا مذاہب و اخلاق میں لکھتا ہے: ”یہودی حکومت کی آزادی سلب ہو جانے کے بعد پچھلی چند نسلوں تک بہت سے خود ساختہ مسیحاؤں کا ذکر یہود کی تاریخ میں ملتا ہے۔ جلاوطنی کے تاریک ترین زمانوں میں امید اور خوشخبری کے یہ پیغام بر، خود ساختہ قائدین کی حیثیت سے یہود کو ان کے وطن (جہاں سے
٨
ان کے آباؤ اجداد نکال باہر کئے گئے تھے) واپس لے جانے کی امیدیں دلاتے رہتے تھے۔ اکثر اوقات اور خصوصاً قدیم زمانہ میں ایسے ”مسیح“ ان مقامات پر اور ایسے زمانہ میں پیدا ہوتے تھے۔ جہاں یہود پر ظلم و ستم انتہاء کو پہنچ جاتا تھا اور اس کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہو جاتے تھے۔ اس قسم کی تحریکیں عموماً سیاسی نوعیت کی حامل ہوا کرتی تھیں۔ خصوصاً بعد کے زمانہ میں تو تقریباً ہر تحریک کا یہی رنگ تھا۔ اگر چہ یہ تحریکیں مذہبی عنصر سے کم عاری ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اکثر ان کے بانی بدعات کو فروغ دے کر اپنی سیادت کا دائرہ اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ جس کے نتیجہ میں یہودیت کی اصل تعلیمات کو بہت نقصان پہنچتا تھا۔ نئے نئے فرقے جنم لیتے اور پھر بالآخر عیسائیت یا اسلام میں ضم ہو جاتے تھے۔“
(Encyclopaedia of Religions and Ethics)
مدرسہ دینیات میں یونانی، رومی اور مشرقی کلیسا کی تاریخ کے پروفیسر ہارٹ فورڈ مسیحیت کو پیش آنے والے اس ابتلاء کے بارے میں لکھتے ہیں: ”ان جھوٹے نبیوں کے ظہور نے جو ماورائی حکمت (Superior Wisdom) کے مدعی ہوتے تھے۔ بہت جلد بے اعتمادی پیدا کر دی اور کلیساؤں اور ان کے رہنماؤں کو اس خطرہ کا احساس دلایا جو ان کی فلاح و بہبود کے گرد منڈلا رہا تھا۔ تاہم ابھی کوئی ایسا تادیبی طریقہ وجود میں نہیں آیا تھا جو جانا پہچانا بھی ہوتا اور ان مکاروں کا زور بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جنہیں یہ دعویٰ تھا کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے اور ان پر بذریعہ وحی اپنے راز ہائے سربستہ منکشف کرتا ہے۔ ابھی تک ایسا کوئی معیار نہیں دریافت ہو پایا تھا جس کے ذریعہ ان مدعیان روحانیت کی صداقت کا امتحان لیا جاسکتا۔ ایسے معیار کا دریافت ہونا قطعاً ضروری تھا اور اگر یہ دریافت نہ بھی ہوتا تو بھی کلیسا اس کی تخلیق کر کے رہتا تاکہ اس کے ذریعہ مذہب کو بنیادی اصولوں میں انتشار اور زندگی کو الحاد کے راستہ پر جا پڑنے سے بچا سکے اور اس طرح خود اپنی حفاظت کا انتظام کر سکے۔“
(Encyclopaedia Of Religions and Ethics. Vol:X, Pg:383)
قادیانیت کا وجود اور اس کا اصل محرک و سرپرست
علمی اور تاریخی حیثیت سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قادیانیت فرنگی سیاست
٩
کے بطن سے وجود میں آئی ہے۔ صورت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے ربع اوّل میں ہندوستان کے مشہور ومعروف مجاہد حضرت سید احمد شہید (١٢٤٦ھ، ١٨٣٠ء) نے جو جہاد کی تحریک چلائی۔ اس سے مسلمانوں میں جہاد اور قربانی کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے سینوں میں اسلامی شجاعت اور حوصلہ مندی موجزن ہونے لگی اور وہ ہزاروں کی تعداد میں سر ہتھیلیوں پر لئے ہوئے اس تحریک کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگئے۔ جس کی سرگرمیاں برطانوی حکومت کے لئے پریشانی اور تشویش کا باعث تھیں۔
معتبر تاریخی روایات اور معاصر باخبر شخصیتوں کی شہادت ہے کہ سید احمد شہیدؒ کے ہاتھ پر بیعت و توبہ کرنے والوں کی تعداد ٣٠ لاکھ تھی اور ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ٤٠ ہزار تک پہنچتی ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں برطانوی اقتدار کے قائم ہونے کے خطرہ کا سب سے پہلے احساس (سلطان ٹیپو شہید ١٢١٣ھ ، ١٧٩٩ء کے بعد) انہیں کو اور ان کی جماعت کو ہوا۔ ١٨٥٧ء کے ہنگامہ سے (جس کو غدر سے تعبیر کیا جاتا ہے) بہت پہلے ان کو اس خطرہ کا مقابلہ کرنے اور ملک کو اس سے بچانے کی ضرورت کا احساس ہوا۔ انہوں نے اس وقت کے مہاراجہ گوالیار دولت راؤ سندھیا اور ان کے وزیر ہندو راؤ کو جو خط لکھا اس میں صاف طور پر تحریر فرمایا: ”یہ بیگانگان، بعید الوطن، و تاجران متاع فروش“ ہمارے ملک پر قابض ہوتے جارہے ہیں۔ آئیے ہم آپ مل کر ان کا مقابلہ کریں اور ملک کو اس خطرہ سے محفوظ کریں۔ پھر بعد میں دیکھا جائے گا کہ کون سی ذمہ داری کس کے سپرد کی جائے اور کس کو کیا اختیار دیا جائے۔
(سیرت سید احمد شہیدؒ)
انگریزی اقتدار کا مقابلہ کرنے میں بھی بہت بڑا ہاتھ ان کی جماعت کے مجاہدین کا تھا۔
(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سر ولیم ہنٹر کی کتاب Our Indian Musalmans)
واقفین جانتے ہیں کہ اس بیعت سے عقیدہ کی تصحیح، توحید خالص، اتباع سنت، عمل بالشریعت اور تزکیہ نفس کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ اور عزم بھی واضح اور طاقت ور طریقہ پر پیدا ہوتا تھا۔
اس کی ایک مثال اور ثبوت یہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے افواج کے کمانڈر جنرل بخت خاں جن کے سپرد خاص طور پر انگریزی افواج سے جنگ اور مقابلہ کی ذمہ داری تھی۔
١٠
کہتے ہیں کہ میں جب سید صاحب کے مشہور اور جلیل القدر خلیفہ مولانا کرامت علی جونپوریؒ سے بیعت ہوا تو انہوں نے بیعت کے دوران مجھ سے یہ وعدہ بھی لیا کہ میں انگریزی افواج سے جنگ بھی کروں گا۔
ہندوستان میں نوخیز انگریزی اقتدار کو اس جماعت کے مجاہدین سے خوف وخطرہ کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ٢؍ مئی ١٨٦٤ء کو انبالہ عدالت میں انگریز جج ایڈورڈس نے مولانا یحییٰ علی عظیم آبادیؒ، مولانا احمد اللہ عظیم آبادیؒ، مولوی محمد جعفر تھانیسریؒ اور مولانا عبدالرحیم صادق پوریؒ کو حکومت انگریزی کے خلاف سازش اور جدوجہد کی بناء پر پھانسی دیئے جانے کا حکم سنایا۔ لیکن یہ حکم سن کر ان کے چہرے پر ایسی مسرت ظاہر ہوئی کہ مجمع دیکھ کر حیران رہ گیا۔ جب ایک انگریز افسر نے اس کی وجہ دریافت کی اور کہا کہ میں نے آج تک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ پھانسی کا حکم سنایا جائے اور پھانسی پانے والے ایسے خوش اور مطمئن ہوں۔
اس پر مولوی محمد جعفر صاحبؒ نے جواب دیا کہ ہمیں اس کی خوشی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شہادت کی نعمت نصیب فرمائی۔ تم بے چاروں کو اس کا مزا کیا معلوم؟ دوسرے دونوں ملزموں نے بھی اسی مسرت کا اظہار کیا۔ پھانسی گھر میں بھی ان چاروں ملزموں کے مسرت وبشاشت کا یہی حال تھا۔
انگریز ان قیدیوں کے سرور و نشاط کو دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتے اور ان سے پوچھتے کہ تم موت کے دروازہ پر ہو اور کچھ دن میں تم کو پھانسی ہونے والی ہے۔ لیکن تمہارے اوپر اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا۔ وہ جواب دیتے کہ اس شہادت کی وجہ سے جس کے برابر کوئی نعمت و سعادت نہیں۔ یہ حضرات کچھ عرصہ پھانسی گھر میں رہے اور انگریز حکام کے لئے یہ مسئلہ ایک معمہ بن گیا۔ بالآخر ایک دن انبالہ میں حاکم ضلع (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) جیل میں آیا اور اس نے ان تینوں کو خطاب کر کے کہا: ”اے باغیو! چونکہ تم پھانسی کے خواہش مند ہو اور اس کو راہِ خدا میں شہادت سمجھتے ہو اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ تم اپنی دلی مراد کو پہنچو اور خوشی سے ہمکنار ہو اس لئے ہم پھانسی کا حکم تبدیل کر کے تم کو جزائر انڈمان میں عمر قید (حبس دوام بعبور دریائے شور) کی سزا دیتے ہیں۔“
١١
مولانا یحییٰ علیؓ نے چار سال کے بعد جزائر انڈمان کے پورٹ بلیر میں وفات پائی۔ مولوی محمد جعفر تھانیسری ١٨ سال قید بامشقت کے بعد رہا ہوئے۔ مولانا احمد اللہ صاحبؒ رہا ہو کر ہندوستان آئے۔
ادھر کچھ عرصہ کے بعد سوڈان میں شیخ محمد احمد سوڈانی نے جہاد اور مہدویت کا نعرہ بلند کیا۔ جس سے سوڈان میں برطانیہ کا اقتدار تزلزل میں آگیا۔ اس کو معلوم تھا کہ یہ چنگاری اگر بھڑک اٹھی تو پھر قابو میں نہیں آئے گی اور پھر سید جمال الدین افغانی کی تحریک اتحاد اسلامی کو اس نے پھیلتے اور مسلمانوں میں مقبول ہوتے دیکھا۔ انگریزی حکومت نے ان سب خطرات کو محسوس کیا۔ اس نے مسلمانوں کے مزاج وطبیعت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ ان کا مزاج دینی مزاج ہے۔ دین ہی انہیں گرماتا ہے اور دین ہی انہیں ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر قابو پانے کی واحد شکل یہ ہے کہ ان کے عقائد پر اور ان کے دینی میلان اور نفسیات پر قابو پایا جائے۔ مسلمانوں کے مزاج میں دخل حاصل کرنے کے لئے دین کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔
اس مقصد کے لئے برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں ہی میں سے کسی شخص کو ایک بہت اونچے دینی منصب کے نام سے ابھارا جائے کہ مسلمان عقیدت کے ساتھ اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ انہیں حکومت کی وفاداری اور خیر خواہی کا ایسا سبق پڑھائے کہ پھر انگریزوں کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔ یہ حربہ تھا جو برطانوی حکومت نے اختیار کیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا مزاج بدلنے کے لئے کوئی حربہ اس سے زیادہ کارگر نہیں ہو سکتا تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی جو ذہنی انتشار کے مریض تھے اور بڑی شدت سے اپنے دل میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ وہ ایک نئے دین کے بانی بنیں۔ ان کے کچھ متبعین اور موافقین ہوں اور تاریخ میں ان کا ویسا ہی نام اور مقام ہو۔ جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ انگریز کو اس کام کے لئے موزوں شخص نظر آئے اور گویا انہیں ان کی شخصیت میں ایک ایجنٹ مل گیا جو ان کے اغراض کے لئے مسلمانوں میں کام کرے، چنانچہ انہوں نے بڑی تیزی سے کام شروع کیا۔ پہلے منصب تجدید کا دعویٰ کیا۔ پھر ترقی کر کے امام مہدی بن گئے۔ کچھ دن اور گزرے تو مسیح موعود ہونے کی بشارت دی اور آخر کار نبوت کا تخت بچھا دیا اور انگریز نے جو چاہا تھا وہ پورا ہو گیا۔
١٢
اس نے اپنا پارٹ بڑی خوبی سے ادا کیا اور انگریز نے بھی اس تحریک کی سرپرستی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کی حفاظت میں کمی اور ہر طرح کی سہولتیں اس کام میں بہم پہنچائیں۔ مرزا قادیانی نے بھی گورنمنٹ کے ان احسانات کو فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ وہ اس بات کے معترف رہے کہ ان کا وجود برطانیہ عظمیٰ کا رہین منت ہے۔ چنانچہ اپنی ایک تحریر میں خود کو حکومت برطانیہ کا ”خود کاشتہ پودا“ قرار دیا ہے۔ وہ اپنی اس درخواست میں جو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ٢٤ فروری ١٨٩٨ء میں پیش کی تھی۔ لکھتے ہیں: ”یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کا خیر خواہ اور خدمت گزار ہے۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
اور ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گزاریوں کو گناتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھا کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٥ خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں۔ تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال ”جہاد“ وغیرہ کو دور کر دوں۔ جو ان کی دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١)
١٣
اور اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھتے جائیں گے۔ ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
ایک جگہ اور کہتے ہیں کہ: ”میں نے بیسیوں کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زرکثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک (ہندوستان) پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاتے ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام ملک کے لئے بڑی برکت ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جانثار۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٦، ٣٦٧)
مرزا غلام احمد قادیانی کی اس تحریک اور ان کی اس جماعت نے انگریزی حکومت کے لئے بہترین جاسوس اور بڑے سچے دوست اور جانثار فراہم کئے۔ اس گروہ کے بعض چیدہ اشخاص نے ہند اور بیرون ہند میں انگریزی حکومت کی بیش قیمت خدمات انجام دیں اور اس سلسلہ میں جانی قربانی تک سے دریغ نہیں کیا۔ جیسے عبداللطیف قادیانی جو افغانستان میں مذہب قادیانی کی تبلیغ اور جہاد کی مخالفت کرتے تھے۔ ان کو حکومت افغانستان نے قتل کیا۔ کیونکہ ان کی دعوت سے اس بات کا خطرہ تھا کہ افغان قوم کا وہ جذبہ جہاد اور حوصلہ جنگ فنا ہو جائے۔ جس کے لئے وہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ایسی ہی ملا عبدالحلیم قادیانی اور ملا نورعلی قادیانی اسی انگریزی حکومت کے لئے افغانستان میں فنا کے گھاٹ اترے۔ کیونکہ ان کے پاس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ دونوں برطانوی حکومت کے ایجنٹ ہیں اور حکومت افغانستان کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ جیسا کہ افغانستان کے وزیر داخلہ کے ١٩٢٥ء کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے اور قادیانیوں کے سرکاری اخبار ”الفضل“ نے اپنی ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء کی اشاعت میں اس بیان کو نقل کیا اور اس قربانی پر بڑے فخریہ انداز میں تبصرہ کیا۔
١٤
علیٰ ہٰذا یہ قادیانی جماعت اپنے دور آغاز سے اب تک برابر تمام قوم پرور و وطن دوست تحریکات سے کنارہ کش رہی۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس نے کوئی حصہ لیا نہ ان کے بعد، اور صرف یہی نہیں بلکہ انگریزوں کی چودھراہٹ میں پوری قزاقوں کی ٹولی (مستعمرین) کے ہاتھوں عالم اسلام پر جو مصائب ٹوٹ رہے تھے وہ ان کے لئے موجب غم نہیں باعث مسرت تھے۔ انہیں کبھی عام زندگی سے اسلامی مسائل سے یا ان اسلامی تحریکات سے جو اسلامی حمیت یا سیاسی شعور کا نتیجہ تھیں۔ کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ان کا کام ہمیشہ مذہبی مباحثہ اور موشگافیاں تھیں اور ان کی دلچسپیوں کا دائرہ صرف وفات مسیح، حیات مسیح، نزول مسیح اور نبوت مرزا غلام احمد پر مباحثوں اور مناظروں تک محدود رہا۔
مرزا قادیانی کا خاندان انگریزی حکومت سے جو پنجاب میں نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ شروع سے فرمانبردارانہ ومخلصانہ تعلق رکھتا تھا۔ اس خاندان کے متعدد افراد نے اس نئی حکومت کی ترقی اور اس کے استحکام میں جاں بازی اور جانثاری سے کام لیا تھا اور بعض نازک موقعوں پر اس کی مدد کی تھی۔
مرزا قادیانی کتاب البریہ کے شروع میں ”اشتہار واجب الاظہار“ میں لکھتے ہیں:
”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار وخیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیاں خوشنودی حکام ان کو ملی تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں۔ مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ گئی ہیں۔ ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ میرے دادا صاحب کی وفات کے بعد پھر میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب جموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔“
(کتاب البریہ ص١٥٤، خزائن ج١٣ ص١٧٦،١٧٧)
١٥
وفات
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کیا تو علمائے اسلام نے ان کی تردید اور مخالفت شروع کی۔ تردید اور مخالفت کرنے والوں میں مشہور عالم مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری مدیر ’’اہل حدیث‘‘ پیش پیش اور نمایاں تھے۔ مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں ایک اشتہار جاری کیا جس میں مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ”اگر میں ایسا ہی کذاب و مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام و ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب و مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨)
اس اشتہار کے ایک سال بعد ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی بمقام لاہور میں بعد از عشاء اسہال میں مبتلا ہوئے۔ اسہال کے ساتھ استفراغ بھی تھا۔ رات ہی کو علاج کی تدبیر کی گئی۔ لیکن ضعف بڑھتا گیا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔ بالآخر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء شنبہ کو دن چڑھے مرزا قادیانی نے انتقال کیا۔ مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب کا بیان ہے: ”حضرت مرزا صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے خطاب کر کے فرمایا میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے دن ١٠ بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔“
(حیات ناصر)
جب کہ مولانا ثناء اللہ صاحب نے مرزا قادیانی کی وفات کے پورے چالیس برس بعد مورخہ ١٥؍ مارچ ١٩٤٨ء میں اسی برس کی عمر میں وفات پائی۔
١٦
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
رفع الحجاب
عن
وجه الكذاب
حضرت مولانا شہاب الدینؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد!
ناظرین پر واضح ہو کہ اس رسالہ میں اکاذیب مرزا کا اظہار مشتے از خروارے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کے جھوٹ اللہ کی قسم ہے۔ اگر جمع کئے جائیں تو کئی سو صفحوں کی کتاب تیار ہوسکتی ہے اور اپنے مخالفین کو سوقیانہ مغلظات سنا کر اپنے دل کا بخار نکالنا اکاذب سے کئی حصے زیادہ ہے۔ تکبر، تفاخر، تعلّی، انا خیر کی بدبو ہر ہر سطر سے آتی ہے۔ جب دلائل قاطعہ سے عاجز اور مضطر ہو جاتا ہے تو اپنی وحی کے قلعہ میں پناہ گزیں ہو کر کہا ہے کہ مجھے اپنی وحی پر اسی طرح ایمان اور یقین ہے۔ جس طرح قرآن پر ہے۔ میں اپنی وحی سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ سبحان اللہ!
عیب باشد چشم نابینا وباز
میں حکم ہوں اگر احادیث کو اور تفاسیر کو مان لوں۔ تو میری وحی کدھر جائے۔ جس اعتراض کا جواب نہ دارد ہو یہ کہہ کر جان چھوڑانے کے واسطے نہایت بے حیائی اور پوری ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ اس میں تمام انبیاء میرے شریک ہیں۔ اسی طرح اس کی امت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی ہو۔ عوام کو دھوکہ اور فریب دینے کے واسطے اپنی اور اپنے پیغمبر کی روسیاہی پر پردہ ڈالنے کے واسطے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے رد میں ہمارے مخالف ہماری کتابوں کی عبارات کو کٹ کٹا، توڑ پھوڑ کر اور سیاق و سباق کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے جس سے غلط مطلب برآمد ہو، پیش کرتے ہیں۔ سو میں ہر دو طائفہ مرزائیہ کو اعلان کرتا ہوں کہ میری اسی تحریر میں میرے روبرو ہو کر اگر ایسا دکھلا دو تو منہ مانگا انعام یا تاوان دوں گا۔
رسالہ ہٰذا میں میرا مقصد اور غرض فقط یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ انگریز خدا کی رحمتوں سے ایک بڑی بھاری رحمت ہے برطانیہ خدا کے انعاموں سے ایک عظیم الشان انعام ہے۔ انگریز ایک اس قسم کے انڈے ہیں کہ عنقریب ان سے اسلام کے چوزے نکلنے والے ہیں۔ برطانیہ اسلام کا خیر خواہ ہے۔ برطانیہ مسلمانوں کے لئے خدا کا سایہ ہے۔ برطانیہ انصاف اور عدل کا مجسمہ ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ برطانیہ کا شاہی خاندان اسلام کی آغوش میں آیا کہ آیا، انگریز کی ناشکری خدا کی ناشکری ہے۔ انگریز کا مخالف خدا کا دشمن ہے۔ اسلام اور مسلمانوں پر انگریز کے احسانات کی بارش رات دن برس رہی ہے۔ یہ کہاں تک صحیح ہے؟ بقول مرزا قادیانی کے
٢
میرے والد کی ساری عمر انگریز کی خوشنودی کے حصول میں عموماً بسر ہوئی اور خصوصاً ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر معہ پچاس سواروں کے بے گناہ مسلمان مرد اور عورتوں کو تہ تیغ کرنا ان اوراق میں مفصل دکھلایا ہے اور بیرون ہند ممالک اسلامیہ میں مرزا قادیانی کی کفر پرستی اور امداد کفار کیا کیا رنگ لائی اور لا رہی ہے۔ اس کے متعلق معلومات صحیحہ کا ایک معتد بہ ذخیرہ بھی ناظرین کو ملے گا۔ ناظرین کو یہ بات ضروری یاد رکھنی چاہئے کہ عالم کون و فساد میں شیاطین استراق السمع کے طور پر امور تکونیہ اپنے چیلوں کو القا کر دیا کرتے ہیں۔ (جیسا کہ قرآن اور حدیث میں ہے) پھر وہ شیاطین کے چیلے اس القائے شیطانی کو اپنی وحی اور علم سکوتی قرار دے کر عوام جہلاء میں ان کی اشاعت کرتے ہیں اور وہ القاء شیطانی، صدق و کذب دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس واسطے اس شیطان کے چیلے کی کئی باتیں صحیح اور سچی ثابت ہوتی ہیں اور کئی غلط اور جھوٹی نکلتی ہیں۔ عوام معتقدین جھوٹ سے اغماض اور چشم پوشی کرتے ہیں اور سچی پر نظر رکھتے ہیں۔
ناظرین ! اب مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیاں اور اس کے معجزات کو غور سے دیکھیں تو اس سے ایک انچ بھر کا تفاوت نہ ہوگا۔ بالفرض برطانیہ کا شاہی خاندان (بقول مرزا قادیانی) اگر اسلام کو قبول کرلے تو مرزا قادیانی کو سچا مان لیا جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ (نزول المسیح ص ٢٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٠٦) پر جہاں یہ جھوٹی گپ ہانکی ہے کہ مکے اور مدینہ کے درمیان جو ریل گاڑی جاری ہورہی ہے۔ یہ میری نبوت اور مسیحیت کی دلیل ہے۔ پھر اس میں یہ لکھا ہے کہ پیش گوئی کی میعاد یہ نہیں کہ پچاس سال تک ہونی چاہئے۔ اکثر واقعات روزمرہ معمولی اور ادنیٰ ادنیٰ امور عادیہ یا افتادہ حقیر اشیاء کو معجزہ کہتا ہے۔
شہاب الدین، مورخہ ٨؍ ستمبر ١٩٥٢ء
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لله وحدہ والصلوٰۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ٠ اما بعد !
مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کی دو جماعتیں ہیں۔ ایک لاہوری اور دوسری جماعت قادیانی ہے۔ اوّل الذکر کا عقیدہ مرزا قادیانی کے متعلق یہ ہے کہ مرزا قادیانی مجدد تھے۔ مسیح موعود تھے۔ یعنی جس مسیح کی آمد کا ذکر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح قیامت کے قریب نازل ہو کر قتل خنازیر اور کسر صلیب کرے گا۔ وہ مرزا قادیانی ہی تھے اور قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے نبی تھے اور رسول تھے۔ چنانچہ قادیانی مبلغ اپنی تقریرات و تحریرات میں بڑے زور و شور اور شدومد
٣
سے”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم“ قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا سلسلہ جاری ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے منکر کو قادیانی جماعت خارج از اسلام گردانتی ہے۔ اگر کوئی قادیانی غیر قادیانی کو اپنی لڑکی کا رشتہ دے دے تو اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے اور اس سے اپنے تعلقات منقطع کر لیتے ہیں۔ غیر مرزائی کی اقتداء ان کے ہاں حرام اور قطعاً ناجائز ہے۔ بلکہ غیر مرزائی کا نوزائیدہ بچہ اگر مرجائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا بھی حرام سمجھتے ہیں۔
غرض یہ لوگ مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت کے منکر کے ساتھ وہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔ جو مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر کے ساتھ رکھتے ہیں۔ لاہوری اور قادیانی باہم دست وگریبان ہیں کہ مرزا قادیانی کیا تھے۔ مرزا قادیانی کی تصانیف سے ہر دو جماعت اپنے اپنے مسلک اور عقیدہ کے موافق اپنے نفس کو تسکین اور اپنے قلب کو اطمینان دے سکتی ہیں۔ مگر حقیقت اور واقع میں ہر دو فریق میں سے کون صادق ہے یا دونوں فریب خوردہ ہیں۔ یہ فیصلہ ان میں سے ہر وہ شخص نہایت آسانی سے کر سکے گا۔ جو ان اوراق کو غور و انصاف سے مطالعہ کرے گا اور اپنی متاع ایمان کو ہر چیز سے عزیز تر خیال کرے گا۔ ہٹ، ضد، عناد یا دنیاوی طمع اور لالچ یہ ایسی موذی چیزیں ہیں کہ انسان کو صراط المستقیم سے ہزارہا کوس دور پھینک کر تباہ اور برباد کر دیتی ہیں۔ مجھے رب العزت، علیم بذات الصدور کی ذات پاک کی قسم ہے کہ اس تحریر سے میرا مقصد اور میری غرض فہرست مصنفین میں شمار ہونا ہرگز نہیں ہے۔ کتاب اور سنت کی روشنی میں صرف یہ دیکھانا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی کا میزان شرعی میں کیا وزن ہے۔ مجھے یہ بھی تسلیم ہے کہ مرزا قادیانی اپنی وحی میں صادق القول تھے۔ لیکن (وہ وحی القائے شیطان تھی نہ الہام رحمٰن) آگے تھوڑی دور قرآن اور حدیث سے واضح ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کی وحی کس نوع سے تھی۔ قرآن اور سنت واقوال صحابہؓ سے ثابت ہے کہ وحی کے اقسام وانواع ہیں الحاصل میری غرض اس تحریر سے صاف یہ ہے کہ شاید کوئی سلیم العقل وضاحت حق کے بعد عذاب قیامت سے ڈر کر حق کو قبول کرے تو بادشاہ صادق المصدوق ﷺ ”لان یھدی اللہ تعالیٰ بک رجلاً واحدا لک خیر من حمر النعم (رواہ مسلم)“ واضح ہو کہ انبیاء علیہم السلام کو جو دلائل وبراہین صداقت نبوۃ کے واسطے من جانب اللہ عطاء ہوتے ہیں۔ جو اصطلاح میں معجزات سے موسوم ہیں وہ حسب حال زمانہ مختلف اور متعدد ہوتے ہیں۔ من جملہ ان دلائل کے نبی اور رسول اپنی زندگی کا وہ حصہ جو اس نے قبل از مامور من اللہ گزارا ہو اپنے مخالفین کے پیش کرتا ہے کہ دیکھو میری صداقت کے دیگر
٤
براہین کے علاوہ میری گذشتہ عمر پیدائش سے لے کر تاحال تمہارے سامنے ہے۔ میرے قول اور فعل میں کوئی عیب اور دھبہ ہے۔ جس سے انسانیت پر آنچ آئے؟ ہرگز نہیں ہے۔ چنانچہ خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق قرآن نے حضور ﷺ کی گذشتہ عمر کو بایں الفاظ پیش کیا ہے ۔ "فقد لبثت فیکم عمراً من قبله افلا تعقلون" یعنی غور کرو کہ میں دعوئے نبوت سے پہلے تم لوگوں میں ایک پوری عمر بسر کر چکا ہوں۔ غور کرو میں تم میں کوئی نیا آدمی نہیں جس کے خصائل و حالات کی تمہیں خبر نہ ہو۔ میری گذشتہ زندگی کا ہر لمحہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ میرے عادات و اخلاق آج سے پہلے چالیس سال تک کے تمہیں معلوم ہیں۔ بجز صداقت، امانت اور عفت کے مجھ میں کبھی کچھ تم نے دیکھا ہے؟ انسان کی عمر میں ابتدائی چالیس برس کا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں انسان کے اندر مختلف خواہشات اور امنگیں ابھرتی ہیں۔ انسان ان کے حصول کی خاطر جھوٹ، فریب، مکر، حیلہ سازی اور دغابازی سے نہیں جھجکتا۔
ابوسفیان کو جب قیصر روم کے دربار میں لایا گیا تو قیصر نے حضور ﷺ کے متعلق مختلف کئی قسم کے سوالات کئے۔ منجملہ ان سوالات کے ایک یہ سوال تھا کہ اس مدعی نبوت (یعنی حضور ﷺ ) نے کبھی جھوٹ بھی بولا ہے؟ تو ابوسفیان باوجود بدترین دشمن ہونے کے، بغیر اس کے کچھ نہ کہہ سکا کہ نہیں محمد نے کبھی جھوٹ نہیں کہا۔ اس کا دامن اس داغ سے بالکل پاک ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کی نبوت، رسالت اور مجد دیت کو زیر بحث لانے سے پہلے مرزا قادیانی کی گذشتہ زندگی کو مشتے نمونہ از خروار کے طور پر خود مرزا قادیانی کی زبان اور آپ کے قلم سے لکھے ہوئے کارنامے کو پیش کرنے کے بعد فیصلہ لاہوری اور قادیانی حضرات کے انصاف پر چھوڑ دیں گے اور ہر دو جماعت سے مودبانہ پوچھیں گے۔ اپنی عمر کے جو شخص پورے گیاراں برس رات دن اسلام اور مسلمانوں کی خونریزی اور کفار کی خوشنودی حاصل کرنے میں گزار دے نبوت ورسالت اور مجددیت کی قباء اس پر کسی صورت بھی فٹ آسکتی ہے؟ پادری عمادالدین نے مرزا قادیانی کے خلاف ایک مضمون لکھا کہ مرزا قادیانی حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرنی چاہتا ہے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عربی زبان میں ایک رسالہ تحت اللفظ اردو ترجمہ لکھ کر شائع کیا ہے۔ رسالہ کا نام
(نور الحق حصہ اول ص ٢٧ تا ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٣٦ تا ٤٥)
جواب یہ: ”اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں
٥
ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا باپ مرزا غلام مرتضیٰ ابن مرزا عطاء محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی۔ بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہو گیا اور حکام پر کھل گیا۔
اور سرکار انگریزی ان حکام سے دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہر ایک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔
اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں۔ کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب خلوص اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے ظہور میں آئیں۔ خاص کر دہلی کے زمانہ فساد میں۔
اور اس گورنمنٹ کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ سو میرے والد نے اس مفسدہ کے دنوں میں پچاس گھوڑے مع سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد میں سب سے بڑھ گیا۔ باوجودیکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور ختم ہو کر گردش کے دن آگئے تھے۔ پس جو شخص ایک صحیح نظر اور دل امین رکھتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ سوچے ۔
اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔
پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجالاتا رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں ہی میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا۔ جس کا نام مرزا غلام قادر تھا اور سرکار
انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں۔ جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھی اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے بعد اللہ جلشانہ کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے۔ بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطاء کئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دے گئے اور وہ نور مجھ کو عطاء ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس الہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔ میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں۔ اگر چہ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔ سو میں اس کی مدد کے لئے اپنی قلم اور اپنے ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے خدا تعالی سے عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا۔ جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں اور اس رب کی طرف اس کی رہنمائی کروں جو در حقیقت مخلوقات کا رب ہے۔ کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے باپ دادا پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور اقبال کے لئے دعا کریں اور اس کے عقبی کے لئے خدا تعالی سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں جانتا ہے اور اس رب کو پہچانے جو اکیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں۔
سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہر ایک کتاب میں، میں نے لکھا کہ دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے اور مسلمانوں کی اولاد کا ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان سے جائز نہیں جو اس پر خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ ان پر اس گورنمنٹ کا شکر
٧
واجب ہے اور اس کی اطاعت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہر یک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور درحقیقت ہمیں اسی نے ان بیقراریوں اور دل کے لرزوں سے بچایا۔ سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پر از روئے دین و دیانت واجب ہے اور جو شخص آدمیوں کا شکر نہیں کرتا۔ اس نے خدا کا شکر بھی نہیں کیا اور خدا انہیں کو دوست رکھتا ہے۔ جو طریق انصاف پر چلتے ہیں۔
اور ہم ان دنوں اور ان زمانوں کو بھول نہیں گئے۔ جو اس گورنمنٹ سے پہلے ہم پر گزرے اور بخدا ہمیں ان وقتوں میں دومنٹ بھی امن نہیں تھا۔ چہ جائیکہ ایک دن یا دو دن ہو اور ہم ڈرتے ڈرتے شام کرتے اور صبح کرتے تھے۔
سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام ملکوں اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو یعنی دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے۔ جن میں عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں۔ تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آجائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت کریں۔ یہ میرا کام اور یہ میری خدمت ہے اور خدا میری نیت کو جانتا ہے اور وہ سب سے بہتر محاسبہ کرنے والا ہے۔
اور میں نے یہ کام گورنمنٹ کے ڈر سے نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیدوار ہو کر کیا ہے۔ بلکہ یہ کام محض اللہ اور نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار اور ہمارے مولا نے جو خدا کا پیارا اور اس کا دوست محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں۔ جن کے ہم نعمت پروردہ ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو۔ پس اسی وجہ سے میں نے اس گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو بتلایا تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے۔
اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو میری کتاب حمامۃ البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن پر غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو
٨
بھی دیکھے تا کہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں۔ وہ خطا پر ہیں۔
پس میں اگر اس گورنمنٹ کا دشمن ہوتا تو میں ایسے کام کرتا جو میری اس کاروائی کے خلاف ہوتے اور یہ کتابیں اور یہ اشتہارات بلاد عرب اور تمام بلاد اسلامیہ کی طرف روانہ نہ کرتا اور ان نصیحتوں کے لئے آگے قدم نہ اٹھاتا۔ پس اے آنکھوں والو! تم سوچو کہ میں نے یہ کام کیوں کئے اور کیوں یہ کتابیں جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے۔ ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں۔ کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام کی امید رکھتا تھا۔ یا میں یہ جانتا تھا کہ وہ ان باتوں سے مجھ سے خوش ہو جائیں گے اور دوستی اور برادری میں ترقی کریں گے۔ سو اگر ان غرضوں میں سے کوئی غرض نہیں تھی۔ بلکہ کھلا کھلا نتیجہ قوم کی ناراضگی تھی اور ان کی تیز زبانی کے ساتھ طعن تھے۔ سواس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس کام پر آمادہ کیا۔ کیا میرے لئے ان کتابوں کی ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے۔ بلکہ وہ اسلامی ملک تھے اور ان لوگوں کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا اور اگر کوئی فائدہ پوشیدہ ہو تو ایسا شخص جو میرے پر بدظن رکھتا اور اعتراض کرنے والا ہے۔ اس فائدہ کو بیان کرے اور اگر وہ سچا ہے تو سمجھو کہ بجز اظہار حق کے اور کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ یہ میری باتیں اور یہ تحریریں بعض علماء کے غضبناک ہونے کا موجب ہوئیں اور جہالت سے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے حق کے سمجھنے کے بعد اور ہدایت کا رستہ کھلنے کے پیچھے ان کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے۔ سو میں نے بیان کر دیا۔ اگر چہ میری قوم کراہت کرتی رہی۔ پس جب کہ میرا خلوص اس گورنمنٹ سے اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس قدر دلائل سے اس کو ثابت کر دیا جو دانشمندوں کے لئے کافی ہیں۔ پس جو شخص اس کے بعد میرے پر بدگمانی کرے ایسا آدمی بجز ناپاک فطرت اور بجز ایسے شخص کے جس کی عادت میں نیش زنی اور شرارت داخل ہے اور کون ہو درحقیقت یہ اسی کا کام ہے جو شرارت کو پسند کرتا اور نیک بختی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔
اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آ گئے اور موافق ہو گئے۔ جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے۔
٩
اور میں نے ان امدادوں میں ایک طویل زمانہ صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس انہیں اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس یہ دعویٰ کر سکتا ہوں۔ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ ایسا خدا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو پس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور امداد میں کوئی دوسرا میری نظیر اور مثل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی۔ اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔‘‘
قبل اس کے ہم خود مرزا قادیانی کی خون ریزی اسلام والمسلمین کا ثبوت اور خود ان کا تعارف خود مرزا قادیانی کے قلم اور زبان سے اہل انصاف سے کرائیں۔ مرزا قادیانی کے والد صاحب اور مرزا قادیانی کے برادر کلاں کے کارناموں کو ذرا ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی کا یہ جملہ قابل غور ہے۔ ’’ولم یزل کان ابی مشغوف الخدمات حتی شاخ و جاء وقت الوفات کہ میرے باپ کو ساری عمر مرنے تک انگریز کی خدمت کا عشق رہا ہے۔ میرے باپ نے جو انگریز کی خدمات انجام دی ہیں۔ میں ان کے لکھنے سے عاجز اور قاصر ہوں۔ میرا باپ تمام خدمات گزاروں سے سبقت لے گیا اور خاص کر دلی کے فساد کو مٹانے کے واسطے جب انگریزوں پر نہایت نازک وقت تھا میرا باپ معہ پچاس گھوڑوں اور پچاس سواروں کے انگریزوں کا ممد و معاون ہوا۔ میرے باپ کے پاس حکومت کا دل اور جان سے خیر خواہ ہونے کی چٹھیاں تھیں۔‘‘
ناظرین ١٨٥٧ء کی وہ جنگ جو مسلمانوں نے انگریز کے خلاف لڑی جس کو انگریزوں نے بے ایمانی سے غدر سے موسوم کیا وہ ایک آخری خون تھا۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے مذہب اور ملک کو آزاد کرانے کے واسطے بہایا۔ آخر مرزا قادیانی کے والد اور اسی وضع قماش کے پنجابیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو شکست ہوئی اور انگریزوں نے آکسفورڈ کے چند پروفیسروں سے ایک کتاب لکھوائی۔ محض جھوٹ اور بہتان گھڑ کر دنیا میں ثابت کرنا چاہا۔ ١٨٥٧ء میں ہندوستان کی جنگ میں مسلمان ظالم اور باغی تھے اور انگریز بالکل معصوم اور حق بجانب تھے۔ اس کے جواب میں ایک ٹامس نام انگریز نے نہایت معتبر ذریعہ اور باوثوق حوالہ جات سے ایک کتاب
١٠
بنام ”تصویر کا دوسرا رخ“ شائع کی۔ جس میں مسلمانوں کا حق بجانب ہونا ثابت کیا۔ سرسید مرحوم نے بھی ایک کتاب لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمان حق بجانب تھے اور بے قصور تھے۔ ناظرین کو یاد ہوگا مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان اللہ کے فضل سے ہمیشہ نور علیٰ نور کا مصداق رہا ہے؟ آخر مرزا قادیانی کے باپ کی امداد نے اور انگریز نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ ایک انگریز ٹامس کی زبانی سنئے۔
ٹامس لکھتا ہے: ”ایک سو سے زائد انگریزوں نے اس درد بھری داستان کو افسانوں، ناولوں، تاریخی پیراؤں میں جس مکاری سے پیش کیا ہے۔ وہ نہ صرف بیان کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ بلکہ فن تاریخ کے دامن پر ایک بد نما داغ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس رویہ سے مقصود یہ تھا کہ انگریز دنیا میں حق پرست، منصف مزاج، بردبار، شریف الطبع، جوانمرد، فیاض، وفادار اور اولوالعزم ثابت ہوں اور ہندوستانی جاہل، وحشی، شیطان سیرت، نا تربیت یافتہ، غدار اور باغی ظاہر ہوں۔ تاکہ ان کے دکھی دل کی پکار کوئی نہ سنے۔ نہ ہی ان کی باتوں پر اعتبار کرے اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرے۔ ان کے اوپر جس قسم کا تشدد اور جبر اختیار کیا جائے۔ اس کی شنوائی نہ ہو اور انگریز قوم بے فکر ہو کر ان پر حکومت کرے۔ اپنا رعب داب، عظمت و وقار قائم رکھے اور من مانی باتیں ان سے منوائے۔ ہندوستان میں غلامی کی جڑیں مضبوط ہوں اور ہندوستانیوں کی دلی تمنائیں سب خاک میں مل جائیں۔ ان کے جذبات آزادی سرد پڑ جائیں۔ لیکن انگریز قوم کے اس پروپیگنڈے نے جہاں یہ کیا کہ ہندوستان میں انگریزی راج نہ صرف قائم ہی رہا۔ بلکہ اس کی عمر ستر سال اور دراز ہو گئی اور ابھی معلوم نہیں کہ کتنا عرصہ تک رہے گی۔ وہاں اس نے ہندوستانیوں کے دلوں میں منافرت و حقارت کے جذبات کو اور بڑھا دیا۔ حریت اور آزادی کے ولولوں کو اور زیادہ تیز کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کی سر زمین پر جنگ آزادی کا ایک ہولناک اور تباہ کن طوفان پھر سے اٹھتا ہوا نظر آنے لگا۔ جس سے زمانہ نے ایک مہیب انقلاب کی طرح ڈال دی اور تاریخ ہند کے ناتمام صفحہ پر اتمام وتکمیل کا ضمیمہ شروع کر دیا۔“
(تصویر کا دوسرا رخ ص ٥٧)
مسٹر ایڈورڈ ٹامس نے اسی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے ایک کتاب ”دی اور سائیڈ آف دی میڈل، یعنی تصویر کا دوسرا رخ“ کے نام سے لکھی۔ جس کے ذریعہ سے اس نے یہ کوشش
١١
کی ہے کہ ہندوستانیوں اور انگریزوں کی باہمی منافرت دور ہو جائے اور انگریزی حکومت اور ہندوستانیوں میں مفاہمت اور دوستی و اعتماد کے روابط اچھی طرح قائم ہو جائیں تاکہ آزادی کے خطرات کا سدباب بوجہ احسن ہوسکے۔
اس کتاب کے بعض اہم اقتباسات کا اردو ترجمہ ١٩٢٧ء میں الہلال کے دو نمبروں میں شائع ہوا۔ مصنف نے انگریزوں کے جبر و استبداد کا کوئی ایسا واقعہ بھی نہیں لیا۔ جو خود ان کے نزدیک قابل قبول نہ ہو۔ انگریزوں کے برخلاف ہندوستانیوں کے عائد کردہ الزامات کو مصنف نے خود ان ہی کے خطوں اور دستاویزوں سے ثابت کیا ہے اور ان تحریرات کی تائید میں پارلیمنٹ کے ریکارڈ اور حکومت کی محفوظ مسلوں کا حوالہ پیش کیا ہے۔ مثلاً یہ حقیقت کہ انگریزوں نے زندہ مسلمانوں کے جسم پر سؤر کی چربی مل کر پھانسی دیا یا زندہ آگ میں جلایا اور ہندوستانیوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بدفعلی کریں۔ اس کے متعلق مسٹر ڈی لین ایڈیٹر ٹائمز آف انڈیا جیسی معتبر اور مشہور ہستی اپنے ایک آرٹیکل میں اس پر وثوق کا اظہار کر چکی ہے۔ حکومت کے ذمہ دار افراد نے اس وقت سے لے کر اب تک اس کی تردید نہیں کی۔ حالانکہ حکومت کا پریس پر پورا قبضہ تھا۔
وائسرائے ہند لارڈ کیننگ نے لکھا: ”گورنمنٹ کی معتدل پالیسی پر حرف گیری کرنا اور اسے غدر کے پھوٹنے کی بناء قرار دینا درست نہیں۔ بلکہ درحقیقت اس آگ کا محرک وہ بیدردانہ سزا کا حکم ہے۔ جو نہایت ہی ذلیل طریقہ سے میرٹھ کی چھاؤنی میں صادر کیا گیا تھا۔ بنگالی مؤرخ بابو رمیش چندر دت جو کہ حکومت کا ایک مقتدر رکن رہ چکا ہے۔ لکھتا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتداء میں شمالی اور وسطی ہندوستان کی فوج میں بغاوت شروع ہوئی۔ لیکن بعض سیاسی اور مذہبی اسباب کی وجہ سے اس نے وہاں کی بڑی بڑی جماعتوں میں پھیل کر ایک عام سیاسی بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔ لارڈ ڈلہوزی کے عہد میں ہندوستان کے بڑے بڑے حصوں کو یکے بعد دیگرے ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقبوضات میں شامل کئے جانے کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہوئے کہ کمپنی کا منشاء دراصل تمام ہندوستان کو فتح کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے کمپنی نے تمام معاہدات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔“
نواب معین الدین حسن خان جو ہمارے محاصرے کے وقت دہلی میں موجود تھے لکھتے
١٢
ہیں کہ: ”میں اپنے قصے کو اس بیان سے شروع کروں گا کہ ہندوستان میں انگریزوں کی موجودگی ہندوستانیوں کے نزدیک مداخلت بے جا کی حیثیت رکھتی ہے اور اودھ کو اپنی مملکت میں ملا لینے کے بعد یہ احساس اور زیادہ گہرا اور شدید ہو گیا۔“
مسٹر ڈزرائیلی وزیر اعظم انگلستان نے مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٨٥٧ء کو اپنی تقریر کے دوران میں فرمایا کہ: ”مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ بنگالی دستہ کے باغیوں نے محض فوجی تکلیفات کی بناء پر بغاوت نہیں کی بلکہ در پردہ وہ ملک کی عام سیاسی بے چینی میں اٹھے تھے۔ دوسری قوموں کے جذبات کا احترام کرنا ہماری حکومت کا ہمیشہ سے اصول رہا ہے۔ چنانچہ اس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ملک کی تقریباً تمام مقتدر جماعتیں اپنے آپ کو خطرہ میں محسوس کر رہی ہیں۔“
(دی انڈین نیریٹو آف دی میوٹنی ص ٣١، ٣٢)
لارڈ رابرٹس مسٹر ایٹسن کی ایک چٹھی کا اقتباس پیش کرتے ہیں جو اس نے غدر کے ایام میں بحیثیت سپہ سالار لارڈ کیننگ وائسرائے ہند کو لکھی تھی۔ کارتوسوں کا معائنہ کرنے کے بعد مجھے سپاہیوں کے اعتراضات پر مطلقاً کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ مجھے ہرگز یہ خیال نہیں تھا کہ کارتوسوں میں ایسی چکنی چیز کا استعمال کیا جائے گا۔ جو بالکل چربی ہے۔ گولی کے دبانے کے بعد بندوق کے منہ کی نالی اسی چربی سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے بعد اپنی رائے کو ذیل کے الفاظ میں ظاہر کرتا ہے۔ میری رائے میں ان کارتوسوں کے استعمال سے سپاہیوں کے مذہبی جذبات کو ناقابل یقین طریق سے ٹھکرا دیا گیا ہے۔ (یاد رہے کہ ان کارتوسوں میں سؤر کی چربی کا استعمال کیا گیا تھا)
مصنف لکھتا ہے: ”افسوس ہے کہ اس پردہ پوشی پر بھی معاندانہ رنگ اختیار کیا گیا۔ یعنی انگریز مؤرخین نے اپنی قوم کی سیاہ کاریاں چھپانے میں تو پوری سرگرمی کا اظہار کیا۔ مگر دوسری طرف ہندوستانی زیادتیوں کی دل کھول کر تشہیر کی۔ اس لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم ان مستور اور پوشیدہ واقعات کے رخ سے نقاب الٹ کر ایک فیصلہ کن نظر ڈالیں۔ تا کہ رعایا کے سامنے اس تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاسکے۔ نیز غم وغصہ کی اس آگ کا اندازہ کیا جاسکے جو اس وقت تک ہندوستانی سینوں میں ہمارے خلاف سلگ رہی ہے۔“
١٠؍ جون ١٨٥٧ء کو پشاور میں سرکاری حکم سے پھانسی دینے کا واقعہ ہی ایک ایسی روشن مثال ہے جو دنیا کے اطمینان کے لئے کافی ہوگی۔ ایک سو بیس انسانوں کو ایک ناکام غدر قبل از وقت
١٣
بغاوت کے جرم میں ماخوذ کیا گیا۔ ان کے متعلق مسٹر نکلس نے ڈپٹی کمشنر پشاور سے سفارش کرتے ہوئے کہا تھا۔ باغیوں کی کثیر تعداد ایسے اشخاص پر مشتمل ہے جو بالارادہ بغاوت پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بلکہ ایک عام ہنگامے کے سیلاب میں بہہ کر ان افعال کے مرتکب ہوئے اور اگرچہ انہوں نے اپنے افسران کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ لیکن انہوں نے اپنے افسران کا خون گرانا پسند نہیں کیا۔ گو وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت نرمی کے خیالات کو ہٹا کر سختی کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ میری رائے میں آپ بے شک باقی باغیوں کو توپ سے اڑا دیں۔ لیکن ایسے نوجوانوں کو جو بمشکل ابھی لڑکپن کی عمر سے گزرے ہیں اور ان سپاہیوں کو جو آخر وقت تک مطیع و فرمانبردار رہے ہیں۔ اگرچہ آخر میں انہوں نے لغزش کھائی اور اپنے آپ کو بغاوت کے سیلاب کی نذر کر دیا ہے ضرور رحم کیا جائے۔
اس پر سر جان لارنس نے لکھا ہے۔ ”چونکہ یہ لڑتے ہوئے گرفتار ہوئے ہیں۔ اس لئے کسی رحم کے مستحق نہیں۔“
لیفٹیننٹ رابرٹس نے پشاور کی متذکرہ صدر پھانسیوں کے بعد اپنی والدہ کو ایک چٹھی میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ”ہم پشاور سے جہلم پیادہ پا سفر کرتے ہوئے پہنچے اور راستہ میں کچھ کام بھی کرتے چلے آئے۔ یعنی باغیوں سے اسلحہ چھیننا اور ان کو پھانسیوں پر لٹکایا۔ چنانچہ توپ سے باندھ کر اڑا دینے کا جو طریقہ ہم نے اکثر استعمال کیا ہے۔ اس کا لوگوں پر ایک خاص اثر ہوا۔ یعنی ہماری ہیبت ان کے دلوں میں بیٹھ گئی۔ یہ طریقہ سزا اگرچہ نہایت ہی دلخراش منظر ہے۔ لیکن بحالات موجودہ اس کے سوا چارہ نہیں۔ فوجی عدالت کے حکم سے فی الفور سر قلم کر دیئے جاتے ہیں اور یہی پالیسی اس وقت ہر چھاؤنی میں عمل میں لائی جاتی ہے۔“
لارڈ رابرٹس کے نزدیک ان کی تحریر کے مطابق اس کام کا مقصد یہ تھا: ”کہ ان بدمعاش مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ خدا کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔“
عہد گذشتہ میں سزا دینے کا کوئی دردناک طریقہ اگر بدن کے رونگٹے کھڑا کر دیتا ہے تو وہ میخیں گرم کر کے مجرموں کو داغنا ہے۔ دماغ پر اس سزا کا نہایت مہلک اثر پڑتا ہے۔ لیکن گورنمنٹ بنگال کے سرکاری کاغذات میں اب بھی ایسی دستاویزیں محفوظ ہیں۔ جن کے مطالعہ
١١٤
سے پتہ چلتا ہے کہ انگریز نہایت کثرت سے اس ہولناک سزا کا استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ ایک انگریز افسر کی چٹھی ابھی تک محفوظ ہے۔ جس میں اٹھارھویں صدی کے آخری دور کے حالات پر بحث کرتے ہوئے اس درد ناک طریق سزا کی ذیل کے الفاظ میں مذمت کی ہے۔
”آخر کب تک ہم بنی نوع انسان کو اس دلخراش طریق پر گرم سلاخوں پر سکڑتے اور بھنتے دیکھنے کی اذیت برداشت کرتے رہیں گے۔“ نکلسن مسٹر ایڈورڈز کو خط لکھتے ہوئے یوں رقمطراز ہے۔
”دہلی میں انگریز عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کے خلاف ہمیں ایک ایسا قانون پاس کرنا چاہئے۔ جس کی رو سے ہم ان کو زندہ ہی جلاسکیں۔ یا زندہ ان کی کھال اتار سکیں۔ یا گرم سلاخوں سے اذیت دے کر ان کو فنا کے گھاٹ اتار سکیں۔ ایسے ظالموں کو محض پھانسی کی سزا سے ہلاک کر دینے کا خیال ہی مجھے دیوانہ کئے دیتا ہے۔ میری یہ دلی خواہش ہے کہ کاش میں دنیا کے کسی ایسے گمنام گوشے میں چلا جاؤں۔ جہاں مجھے یہ حق حاصل ہو کہ میں حسب ضرورت سنگین انتقام لے کر دل کی بھڑاس نکال سکوں۔“
اس دستاویز میں آگے چل کر وہ انتقام کی آگ کو فرو کرنے کے لئے مفروضہ مذہبی تعلیم تک کو دلیل کے طور پر پیش کرنے سے نہیں چوکتا۔
چنانچہ وہ لکھتا ہے: ”میرا خیال یہ ہے کہ اس قسم کی ایذادہی کے طریقے مناسب اور صحیح نہ بھی ہوں پھر بھی ہمیں ان طریقوں کو بالضرور استعمال کرنا چاہئے۔ کیونکہ یہاں پر اس قسم کے انتقام لینے کے طریقے رائج ہیں۔ دوسری طرف انجیل مقدس میں یہ بھی حکم ہے کہ مجرموں کے اعمال کی مناسبت سے سزا دی جائے گی۔ اگر ایسے قاتلوں کے حق میں پھانسی کی سزا کافی سمجھی جائے گی تو میرے خیال میں معمولی سزا کے مستحق ہیں۔ اگر میرے بس میں ہو باوجود اس امر کے کہ مجھے پہلے ہی یہ بتا دیا جاتا کہ میری موت کل واقع ہونے والی ہے۔ پھر بھی میں ان بدبختوں کو ایسی شدید ایذائیں دے کر ہلاک کرتا جہاں تک کہ میرا دماغ یاوری کرتا۔“
کوپر ڈپٹی کمشنر امرتسر غدر کے شروع ایام میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”مسٹر مونٹ گمری گورنر پنجاب کے حکم سے پنجاب میں جہاں کے عام طور پر لوگ ابھی تک وفادار ہیں۔ ایک سکھ پلٹن کے صوبیدار، سوار پولیس کے رسالدار اور ایک داروغہ جیل
١٥
کو فرض کی کوتاہی کے الزام میں پھانسی پر لٹکانا ضروری سمجھا گیا۔ لارڈ رابرٹس ایک چٹھی کے دوران میں جو اس نے دسمبر میں اپنی بہن کو لکھی۔ اس امید کا اظہار کرتا ہے: ”ہم مستقبل قریب میں ایک خوشگوار نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔ یعنی اگر خدا نے چاہا تو وسط فروری تک ہم باغیوں کو نیست و نابود کر دیں گے۔“
لیفٹیننٹ مجنڈی لکھتا ہے: ”ایک عینی شاہد بیان کرتا ہے کہ کس طرح سکھوں اور انگریزوں نے ایک مسلمان قیدی کے چہرہ کو بار بار سنگینوں سے زخمی کر کے زندہ ہلکی آگ میں جلایا۔ بدنصیب قیدی کے جلتے ہوئے گوشت سے مکروہ بدبو نکل کر آس پاس کی فضا کو مسموم بنا رہی تھی۔ انیسویں صدی میں جب کہ تہذیب اور شائستگی پر ناز کیا جاتا تھا۔ ایک ایسا دردناک نظارہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک انسان نہایت وحشیانہ طریق سے زندہ آگ میں جلایا جا رہا ہے اور سکھ اور یورپین نہایت اطمینان اور متانت سے چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر ارد گرد کھڑے دیکھ رہے ہیں گویا کہ وہ ایک تفریح کا سامان تھا۔“
ٹائمز آف انڈیا کے فوجی نامہ نگار مسٹر رسل نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے۔ چند دنوں کے بعد میں نے اس شخص کی جلی ہوئی ہڈیوں کو اسی میدان میں پڑا ہوا پایا۔
ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر مسٹر ڈی لین جو آئر لینڈ کے رہنے والے ہیں۔ اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں: ”زندہ مسلمانوں کو سور کی کھال میں سینا، یا پھانسی سے پہلے ان کے جسم پر سور کی چربی ملنا یا زندہ آگ میں جلانا یا ہندوستانیوں کو مجبور کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بدفعلی کریں۔ ایسی مکروہ اور منتقمانہ حرکات کی دنیا کی کوئی تہذیب بھی کبھی اجازت نہیں دیتی۔ ہماری گردنیں شرم اور ندامت سے جھک جاتی ہیں اور یقیناً ایسی حرکات عیسائیت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔ جن کا کفارہ لازمی طور پر ہمیں ایک دن ادا کرنا پڑے گا۔ اس قسم کی دردناک جسمانی اور دماغی سزاؤں کے دینے کا ہمیں مطلقاً کوئی حق نہیں اور نہ ہی یورپ میں ہم ایسی سزائیں دینے کی جرات کر سکتے ہیں۔“
جب اگست میں انگریزی فوج ہندوستانی دیہات جلانے کی مہم سے واپس آ رہی تھی تو راستے میں انہوں نے وفادار سپاہیوں کی ایک جماعت کو بلاوجہ گولیوں اور سنگینوں کا نشانہ بنا دیا۔ چنانچہ انتقام کے اس خوفناک مظاہرے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹائمز آف انڈیا نے اس واقعہ کو
١٦
جنگلی یا وحشی انصاف سے تعبیر کیا۔ جنرل آؤٹ ریم کی رائے میں واقعہ معصوم انسانوں کا سنگدلانہ قتل تھا۔ چنانچہ ستمبر میں جنرل آؤٹ ریم نے مسٹر گرانٹ کو ایک مراسلہ میں اس بات کا صاف اظہار کیا۔
سپاہی اس حد تک خوف زدہ ہو گئے تھے کہ اوّل تو انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ پھر باغیوں میں شامل ہو کر ہمارے مقابلہ میں انتہائی مشکلات پیدا کرنے میں پورا زور صرف کر دیا۔ با ایں ہمہ ان پر کسی قسم کے رحم کا اظہار نہیں کیا گیا۔
رابرٹ ایک ماتحت فوجی افسر کا خط مورخہ بیس فروری ١٨٥٨ء جو اس نے اپنی بہن کو لکھا اس بات کا مکمل شاہد ہے۔ عبارت حسب ذیل ہے۔ ’’تمہیں ہرگز یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ میں سپاہیوں یا ان بدمعاشوں پر جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کرنے میں حصہ لیا۔ کبھی کسی قسم کے رحم کا اظہار کرتا ہوں۔ برخلاف اس کے غالباً چند آدمی ایسے نکلیں گے جو میری طرح بے رحم اور سنگدل ہوں۔ قیدی کے سامنے آتے ہی پھانسی دینے کے لئے سب سے پہلے میری آواز بلند ہوتی ہے۔ کو پر ہمیں بتاتا ہے۔ قیدیوں کی دائمی نجات کا راستہ نہایت آسان تھا۔ یعنی باغیوں کو دیکھ کر فی الفور نکلس کا نعرہ ’’لالا لئیے فرانسیسی مقولہ یعنی پھانسی پر لے چلو‘‘ بلند کیا جاتا تھا۔‘‘
ایک پادری کی بیوہ فاتحانہ انداز میں لکھتی ہے۔ ’’بہت سے باغی جب گرفتار ہو کر آئے تو ان کو سنگینوں کی نوک سے گرجے کے فرش کو صاف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بعضوں نے اس کام کو جھجکتے ہوئے کیا اور بعض نے پھرتی سے تاکہ شاید پھانسی کی سزا سے بچ جائیں۔ لیکن بے سود۔ کیونکہ وہ سب کے سب پھانسی پر لٹکا دیئے گئے۔‘‘
میجنڈی لکھتا ہے: ’’وہ رات ہم نے جامع مسجد پر پہرہ دیتے ہوئے بسر کی۔ تمام رات آج کے بیچ کے قیدیوں کو گولی سے اڑا دینے اور پھانسی پر لٹکانے میں گزر گئی۔ بہت سے بیچارے تو اسی وقت ختم ہو گئے۔ لیکن آخر وقت تک ان کے چہروں سے شجاعت اور ضبط کے آثار ہویدا تھے۔ جو اس سے کسی بڑے مقصد کے شایان شان علامت تھیں۔‘‘
میجر ریناڈ کو جب وہ ہر اول فوج کا ایک دستہ لے کر کانپور کے محصورین کی امداد کے لئے روانہ ہو رہا تھا۔ ذیل کی ہدایات جنرل نیل کی طرف سے موصول ہوئیں۔
’’بعض دیہات کو ان کی مجرمانہ حرکات کی بناء پر عام تباہی کے لئے منتخب کر دیا گیا
١٧
ہے ۔ جہاں کی تمام مرد آبادی کو قتل کر دینا ہوگا۔ باغی رجمنٹوں کے تمام ایسے سپاہی فی الفور پھانسی پر لٹکا دیئے جائیں ۔ جو اپنے چال چلن کے متعلق اطمینان بخش ثبوت نہ پہنچا سکیں ۔ قصبہ فتح پور کی تمام آبادی کو محاصرہ میں لے کر تہ تیغ کیا جائے ۔ کیونکہ اس قصبہ نے بغاوت میں حصہ لیا ہے ۔ باغیوں کے تمام سرغنوں کو اور بالخصوص فتح پور کے تمام سرغنوں کو فی الفور پھانسی پر لٹکا دیا جائے ۔ اگر وہاں کا ڈپٹی کلکٹر قابو میں آجائے تو اسے وہیں پھانسی دے دی جائے اور اس کے سر کو کاٹ کر وہاں کی سب سے بڑی عمارت پر لٹکا دیا جائے ۔“
(کے ای کی کتاب پانچ باب دوم)
قتل عام بلاتمیز مجرم وغیر مجرم اس حد تک تھا کہ بیگم اودھ نے ١٨٥٨ء میں نہایت ہی مایوسانہ وقار کے ساتھ ایک اعلان میں لکھا: ”کسی شخص نے یہ خواب میں بھی نہیں دیکھا کہ انگریز نے کبھی کسی مجرم کو معاف کیا ہو ۔“
(منٹگمری مارٹن باب ٢٦)
لارڈ کیننگ نے اپنے ایک مراسلہ میں جو ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں بھیجا گیا تھا ۔ یورپین قوم کی طبائع پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ہماری قوم کے دماغ میں ایک عالمگیر دیوانگی اور انتقام کا جذبہ موجزن ہے ۔ چنانچہ اس میں وہ بزرگ بھی شامل ہیں ۔ جن سے بہتر طرز عمل کی توقع تھی ۔ ایسی گری ہوئی ذہنیت کو دیکھ کر ناممکن ہے کہ ان کے ہم قوم ساتھیوں کی گردنیں ندامت اور شرمندگی سے نہ جھک جائیں ۔ کیونکہ ہر دس آدمیوں میں سے ایک بھی تو ایسا دکھائی نہیں دیتا جو چالیس یا پچاس ہزار انسانوں کے بے دریغ قتل و پھانسی کو ضروری اور صحیح نہ سمجھتا ہو ۔“
لیکن بدقسمتی سے لارڈ کیننگ اپنے جذبات کو عملی جامہ پہنانے میں ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے ۔ یعنی ان کے افعال ہمیشہ ان کے اعلیٰ جذبات کے مطابق نہیں ہوا کرتے تھے ۔ چنانچہ فوجی عدالتوں اور سپیشل کمشنروں کے تشدد اور ظلم کا ذکر کرتے ہوئے سر جان کیمپ بیل لکھتا ہے: ”متعدد دفعہ مارشل لاء کا ذکر سنا ہے ۔ یہ مارشل لاء سوائے اس کے کہ ایک فوجی سپاہی کو اختیار دیا جائے کہ جس کو چاہے جان سے ہلاک کر دے اور جس کی جائیداد پر چاہے قبضہ کر لے، کچھ نہیں ۔ میرے نزدیک تو مارشل لاء یا فوجی قانون کے یہی معنی ہیں ۔ اگرچہ صاف طور پر الفاظ میں اس کی تشریح نہیں کی جاتی ۔“
چنانچہ بتاریخ ٦ / جون ١٨٥٧ء کو لارڈ کیننگ کی گورنمنٹ نے مارشل لاء جاری کرنے کا اعلان کر دیا تو اس کے بعد حکومت کا یہ فرض تھا کہ آنکھیں کھول کر ان خطرناک قانون کے استعمال
١٨
کی پوری پوری نگرانی کرتی۔ باایں ہمہ اس غفلت کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ رحم اور انصاف کے اعلیٰ اصول تو ایک ردی کاغذ کی حیثیت سے ایک طرف ڈال دیئے گئے اور ان کی جگہ فوجیوں نے خوب دل کھول کر نہایت ہی وحشیانہ طریق پر بے دریغ خون کی ندیاں بہائیں۔ یہاں تک کہ اس تمام مکروہ طرز عمل میں فوجی قانون کو نمائشی استعمال بھی نہیں کیا گیا۔
(سمریز آف مائی انڈین کیریئر ص٢٣٢)
سر جان کیمپ بل کے مقابلہ میں ایک معمولی دماغ کے انگریز افسر کو یہی خیال سوجھا تھا۔ چنانچہ (میوٹنی ص١٩٥) پر لکھتا ہے: ”میرے خیال میں اس لڑائی کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مجرموں کے مقابلہ میں معصوم اور بے گناہ انسانوں کو زیادہ اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔ اودھ کے غریب دیہاتیوں کے درمیان انتقام لیتے وقت کوئی تمیز نہیں کی گئی۔ اگرچہ مؤخر الذکر کے خلاف بھی کسی قدر ناانصافی یا لوٹ مار کا شبہ کیا جاتا تھا۔ پھر بھی یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ وہ بغاوت کے مرتکب نہیں ہوئے۔ زیادہ سے زیادہ ان کے خلاف یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بغاوت سے فائدہ اٹھا کر اپنے ملک کو غیر ملکیوں کے ہاتھوں سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اب رہا یہ امر کہ یہ ان کا طرز عمل درست تھا یا غلط تو یہ ایک دوسرا سوال ہے۔ انہوں نے تو اپنے تئیں حق بجانب سمجھ کر اپنے وطن کو آزاد کرنے کے لئے کوشش کی۔ اس لئے ہم اس جذبہ کو برا نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ ہمارے حق میں یہ زیادہ مفید اور تسلی بخش ہوتا۔ اگر ہم سپاہیوں کو چھوڑ کر اودھ کے باشندوں کی جان بخشی کر دیتے اور ایسی دردناک سزائیں نہ دیتے۔“
مسٹر رسل اس سوال کی مزید وضاحت اس طرح کرتا ہے۔ اس جرم پر سول رعایا کو ہولناک سزائیں دینا کہ انہوں نے نہتے ہونے کے باوجود مسلح باغی سپاہیوں کا مقابلہ کیوں نہ کیا۔ سیاسی نقطہ نظر سے یہ ایک فاش غلطی ہے۔ محض ہمدردی کا اظہار کسی کے مجرم ہونے کی دلیل نہیں بن جاتا۔ یہ تو انسانیت اور انصاف کے خلاف ہے کہ تمام اضلاع کو ہی تاخت و تاراج کیا جائے۔ محض اس جرم پر کہ باغیوں نے ان علاقوں پر پڑاؤ کیا تھا۔
ان ہولناک واقعات کی یاد کو محو کرنے کے لئے غالباً کئی سو سال درکار ہوں گے۔ لیکن باہمی اعتماد کی کیفیت تو میرے خیال میں کبھی پیدا نہیں ہوگی۔
فریڈرک کوپر ڈپٹی کمشنر امرتسر نے ان واقعات کو ایک کتاب کی شکل دی۔ وہ لکھتا ہے:
١٩
”باغیوں کی قسمت کو بدلنے کے لئے قدرت اور اتفاقات حسنہ نے ہمارا ساتھ دیا۔ کیونکہ اگر انہوں نے بھاگنے کے لئے کوشش کی ہوتی لازماً ایک ہولناک لڑائی شروع ہو جاتی۔ لیکن شکر ہے کہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ بلکہ قدرت نے ان کے دماغ میں خاموش رہنے کا سوال ایسا ڈال دیا جو بالکل ہمارے حق میں تھا۔ جب ہم نے دو کشتیوں پر سپاہ کو بھیجا۔ دریائے راوی کے کنارے اس طرف شمال کی جانب وہ باغیوں کو پکڑ لائے تو وہ سنگینوں اور پستولوں کی چمک سے خائف ہوکر پست کر دونوں ہاتھ سینوں پر باندھے ساحل کی طرف پوری خاموشی اور عاجزی کے ساتھ بڑھے۔ اگرچہ بعض نے ان میں سے چھلانگیں ماریں۔ لیکن فی الفور ان کی طرف سنگینوں کا رخ کیا گیا۔ جس کو دیکھ کر انہوں نے کشتیوں کی طرف رخ کیا۔ وہ بھی ایک عجیب بھیانک نظارہ تھا۔ جب کہ ان کے لمبے لمبے عکس پانی پر سورج کی کرنوں سے پڑتے دکھائی دیتے تھے۔ چونکہ حکم دیا گیا تھا کہ کسی آدمی کو گولی سے نہ مارا جائے۔ اس لئے ان احمقوں نے سمجھا کہ مسٹر کوپر، کا منشاء ان کو جان سے مارنے کا نہیں بلکہ ان کے خلاف باقاعدہ مقدمے چلائے جائیں گے۔ چنانچہ اس غلط امید کے بھروسے چھبیس تنومند جوانوں نے اپنے آپ کو ایک ہی شخص کے ہاتھ سے بندھوانے کے لئے پیش کردیا۔ آدھی رات کو (٢٨٢) دوسو بیاسی آدمیوں کو قید کر کے کوتوالی کے ایک برج میں بند کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ باغیوں کی کافی تعداد کو دیہاتیوں کے رحم پر چھوڑ دیا گیا۔ جن کے انجام کے متعلق تاریخ کے صفحات آج تک خاموش ہیں کہ دیہاتیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ چونکہ اسی رات بارش ہوگئی تھی۔ اس لئے پھانسیوں کو دوسرے دن پر اٹھا دیا گیا۔ دوسرے دن بقر عید کا دن تھا۔ چنانچہ مسلمان سواروں کو اس تہوار کے منانے کے لئے امرتسر بھیج دیا گیا اور صرف ایک عیسائی افسر وفادار سکھوں کی امداد سے ایک مختلف قسم کی قربانی کرنے کے لئے وہاں پر اکیلا رہ گیا۔ جو مطلقاً نہ گھبرایا بلکہ پورے حوصلے اور جرأت سے اس کام کو بخوبی سر انجام دیا اور اتفاق سے قریب ہی ایک ویران کنواں مل گیا۔ جس سے اس مشکل کا حل بھی نکل آیا کہ تعفن سے وہاں کے رہنے والوں کی صحت خراب نہ ہو۔ ان دوسو بیاسی میں سے تقریباً ڈیڑھ سو باغیوں کو جب اس طرح گولی سے اڑا دیا گیا تو قتل کرنے والوں میں سے ایک شخص غش کھا کر گر پڑا جو ہلاک کرنے والوں میں سے سب سے بوڑھا سپاہی تھا۔ اس لئے آرام کرنے کے لئے تھوڑا سا وقفہ دیا گیا اور جب تعداد دوسو سینتیس تک پہنچ گئی تو ایک افسر نے اطلاع دی کہ باقی باغی برج سے
٢٠
باہر آنے سے انکا اس پر برج کے در سے ہال ویل کے باہر لایا گیا۔ جو خو گئے تھے۔ آگے کو لاشوں کے ساتھ گا لارنس گورنر پنجاب میں اپنی خوشنودی مورخ فتح آپ نے حاصل کی پولیس نے نہا آپ کی مشکور ہے ہوگی۔ نیز توقع ہے وقت تک مفرور ہیں رابرٹ لیفٹیننٹ گورنر مقرر جائے کم ہے۔ ایسے کہ تم زندہ ہو یہ کام تین پلٹنیں کسی قدر میری دلی خواہش چھوڑا جائے۔“ کوپر نے لکھا۔ جس کی درند واقعہ کی قطعاً کوئی حا
باہر آنے سے انکار کرتے ہیں۔ جبکہ وہ چند گھنٹے عارضی طور پر پہلے سے بند کر دیئے گئے تھے۔ اس پر برج کے دروازے کھولے گئے تو معاً ایک نہایت ہی درد ناک نظارہ دیکھنے میں آیا۔ جس سے ہال ویل کے بلیک ہول کی یاد دوبارہ تازہ ہو گئی۔ یعنی پینتالیس انسانوں کی مردہ لاشوں کو باہر لایا گیا۔ جو خوف، گرمی، سفر کی صعوبت اور دم کے گھٹنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ آگے کوپر، لکھتا ہے کہ بعد میں ان مردہ اور نیم مردہ لاشوں کو اپنے مقتول ساتھیوں کی لاشوں کے ساتھ گاؤں کے بھنگیوں کے ہاتھوں قریب کے ویران کنویں میں پھنکوا دیا گیا۔ جہاں لارنس گورنر پنجاب نے کوپر کی ان حرکات کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہوئے ذیل کے الفاظ میں اپنی خوشنودی کا سرٹیفکیٹ بھیجا۔“
مورخہ ٢ اگست ١٨٥٧ء میرے پیارے کوپر! ہندوستانی پیادوں کی پلٹن نمبر ٢٦ پر جو فتح آپ نے حاصل کی ہے۔ میں اس کامیابی پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔ آپ نے اور آپ کی پولیس نے نہایت جرأت اور دلیری سے باغیوں کی سرکوبی میں حصہ لیا۔ جس کے لئے حکومت آپ کی مشکور ہے۔ مجھے یقین ہے کہ باغیوں کی سزایابی دوسروں کے لئے عبرت کا باعث ہوگی۔ نیز توقع ہے کہ تمام ایسے افراد کو قابو میں لانے کی جملہ تدابیر پر عمل کیا جائے گا۔ جو اس وقت تک مفرور ہیں۔
رابرٹ منٹگمری نے ذیل کا خط مسٹر کوپر کے نام لکھا۔ وہ لارنس کے بعد پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا۔ آپ نے درست قدم اٹھایا۔ جس کے لئے آپ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایسے نازک وقت میں سوچنا یا دیر کرنا یا واپس لوٹنا کوئی فائدہ نہیں دیا کرتا۔ جب تک کہ تم زندہ ہو یہ کامیابی ایک قیمتی موتی کی طرح تمہاری کلاہ افتخار پر چمکتی رہے گی۔ یہاں پر بھی باقی تین پلٹنیں کسی قدر مذبذب تھیں۔ لیکن اب مجھے یقین ہے کہ وہ کوئی مزید ایسی حماقت کریں تا کہ ان میں سے ایک بھی سپاہی کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔“
کوپر نے اپنی سفاکانہ حرکات کے بعد ہوڈسن کو ایک ایسے فعل پر مبارک بادی کا خط لکھا۔ جس کی درندگی اور سفاکی کو کسی نے بھی پسند نہیں کیا۔ بلکہ ان انگریز افسران نے بھی اس واقعہ کی قطعاً کوئی حمایت نہ کی۔ جنہوں نے غدر کی یاداشتیں مرتب کیں۔
٢١
میرے پیارے ہوڈسن ، بادشاہ کو گرفتار کرنے اور اس کے بچوں کو قتل کرنے پر تم اور تمہاری پلٹن ہر طرح کی مبارک باد کے مستحق ہو۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی ایسے معاملات میں ہمیشہ کامیاب رہو گے۔ (جس سفاکانہ طریقہ سے بادشاہ اور اس کے بچوں کو قتل کیا گیا۔ اس کو احاطہ تحریر میں لانے سے دل دہلتا ہے)
کوپر کی سنگدلی یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔ ایک سپاہی اس قدر شدید زخمی تھا کہ پھانسی دینے کے مقام پر پہنچ نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ مسٹر منٹگمری کے مشورہ پر اس کی پھانسی کی سزا ملتوی کی گئی۔ (صرف ملتوی) تاکہ وہ وعدہ معاف گواہ کی حیثیت سے آئندہ مفید ثابت ہو سکے۔
منٹگمری نے لکھا: ”زخمی سپاہی سے جس قدر حالات معلوم ہوسکیں۔ قلمبند کرلئے جائیں۔ تاکہ وہ اس کے بعد لاہور پہنچ کر باغیوں کا انجام اپنی زبان سے خود لوگوں میں بیان کرے۔ لاہور سے باہر تم کافی خوں ریزی کرچکے ہو اور یہاں پر فوجیوں کے سامنے ایسی نمائش کی سخت ضرورت ہے۔ نیز جس طریق سے اس وقت سزائیں دی گئی ہیں۔ ان کے متعلق بھی لوگوں کو آگاہ کرنا لازمی ہے۔
مندرجہ بالا حکم کے مطابق تمام زخمی اور اکتالیس کے قریب باغیوں کو دیہاتوں سے تلاش کر کے بھیج دیا گیا۔ جن کو فوجیوں کے سامنے توپوں سے باندھ کر اڑا دیا گیا۔ کوپر کے الفاظ میں نمبر ٢٦ پلٹن کو قرار واقعی سزا دی گئی اور سب کی سب تباہ کردی گئی ۔“
(منٹگمری مارٹن باب ٢٢)
پھانسیوں کے متعلق اخبار ٹائمز لکھتا ہے۔
بغاوت کے اعلان کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر پانچ سو آدمیوں کو قانون کی رو سے سزا دی گئی۔ قارئین یہاں پر بجا طور پر سوال کریں گے کہ ان کا جرم کیا تھا اور کس قانون کے ماتحت اس کثیر تعداد کو پھانسیاں دی گئیں۔ حالانکہ اس وقت کے ذمہ دار حکام کی اپنی رپورٹوں سے یہ تصدیق ہوچکی ہے کہ باغی بالکل نہتے تھے اور طوفان سے ڈر کر بھاگ نکلے تھے۔ نیز محاصرے کے وقت بھوک اور مسافت کی تکلیف اور صدمے سے ان کی حالت نیم مردہ انسانوں کی تھی۔
مسٹر گر یتھڈ جو محاصرین کے ساتھ سول کمشنر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ لکھتا ہے کہ: ”دو انگریزوں کے قتل کے عوض پانچ سو باغیوں کی جان لینا ایک ایسا خوفناک بدلہ ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکے گا ۔“
چنانچہ اس سفاکی کی انتہاء ہوجاتی ہے۔ جب ہم کوپر کے ذیل کے الفاظ کو پڑھتے ہیں جو اس نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے لکھے۔
٢٢
”ایک کنواں تو کانپور میں ہے۔ لیکن ایک دوسرا کنواں بھی ہے۔ جو انبالہ ضلع امرتسر میں ہے۔“
ایک افسر جو ریناؤ کے دستے کے ساتھ متعین تھا۔ بتلاتا ہے کہ ہندوستانیوں کو اس کثرت کے ساتھ پھانسیوں پر لٹکایا گیا۔ جو بیان سے باہر ہے۔ ملاحظہ ہو (رسل کی ڈائری ص٢٢١، ٢٢٢) دو دن کے اندر بیالیس آدمیوں کو سڑک کے کنارے پھانسی دی گئی۔ بارہ آدمیوں کو صرف اس جرم پر پھانسی کی سزا ملی کہ جب فوج مارچ کرتی ہوئی ان کے سامنے سے گزری تو ان کے چہرے دوسری طرف کیوں تھے۔ جہاں جہاں فوج نے پڑاؤ کئے وہاں پر قرب و جوار کے تمام دیہات جلے ہوئے تھے۔ یہ کہنا کہ یہ سب مظالم کانپور کے حادثہ کا جواب تھے۔ صحیح نہیں کیونکہ کانپور کا شیطانی واقعہ ان خوفناک حوادث کے بہت بعد پیش آتا ہے۔ افسر مذکور نے احتجاجاً مشورہ دیا کہ اگر ہم اسی طرح دیہات کے جلانے کی کاروائی کرتے رہیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ فوج کو راستے میں رسد اور چارہ بالکل دستیاب نہیں ہو سکے گا۔
دہلی کے محاصرہ کے متعلق چمپن کی نریٹو میں تحریر ہے۔
”گولہ باری کے وقت پانی پلانے والوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ پانی مہیا کریں۔ حالانکہ بہت سے اس کام میں گولیوں کا نشانہ بنائے گئے۔ پانی مہیا کرنے کے لئے ان کو گولیوں کی زد سے گزرنا پڑتا تھا۔ جس سے وہ بدقسمت مفت میں گولیوں کا شکار بنتے تھے۔ سائیس گھسیارے اور کہاروں کو دن کی گرمی اور رات کی سردی میں کھلے میدان کے اندر ہماری خدمت کرتے ہوئے زخمی بھی ہوئے تھے۔ دہلی کے باشندوں کے قتل عام کی منادی کی گئی۔ حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کے متعلق ہمیں علم تھا کہ وہ ہماری فتح کے خواہشمند تھے۔ ہمارے اکثر نوجوان تو محض خون گرانے کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اپنی ہی فوج کے ہندوستانی اردلیوں اور پوربی گھسیاروں وغیرہ کو گولی سے اڑا دینے کی تمنا کا علانیہ طور پر اظہار کرتے تھے۔“
کے۔ ای ان مکروہ حالات پر پردہ ڈالتے ہوئے لکھتا ہے۔ جس سے تھوڑی تھوڑی مقلب طور پر حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے۔ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ انگریزوں کے سلوک میں سختی کا عنصر غدر کے بعد پیدا ہوا یا اس سے پہلے بھی موجود تھا۔ یعنی غدر سے پہلے بھی ہندوستانی ملازمین کے ساتھ کوئی بہتر سلوک نہیں ہوتا تھا۔ بنابریں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ برا سلوک کسی منتقمانہ رنگ سے کیا گیا تھا۔
مجنڈی لکھنؤ کے محاصرہ کا ایک عارضی سکون کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے۔ ”تفریح کا وہ دلچسپ مشغلہ تھا۔ جو ہندوستانی خدام کو چھیڑ کر خوف و خطر کی حالت میں دھکیلنے سے پیدا ہوتا تھا۔ یعنی جس وقت یہ غریب انسان اپنے آقاؤں وغیرہ کا کھانا لے کر آتے تھے تو انہیں مجبوراً ایک بازار کے ایسے حصے سے گزر کر آنا ہوتا تھا جو عین دشمن کی گولیوں کی زد میں واقع تھا۔ بعض دفعہ ہم خود بھی ان کے خوف و ہراس کو بڑھانے کے لئے اور لطف اٹھانے کے لئے ان کی ٹانگوں کے درمیان پتھر پھینک دیا کرتے تھے۔ جنہیں یہ بیچارے بندوق کی گولیاں سمجھ کر جان بچانے کے لئے بے ساختہ چھلانگیں لگاتے تھے۔“
مجنڈی لکھتا ہے۔ ”اگر کوئی خادم فربہ اندام یا بزدل ہونے کی وجہ سے بھاگنے کے ناقابل ہوتا تھا تو اسے ڈرانے اور اس کا تمسخر اڑانے کے لئے ہم حقے کو اس کی ٹانگوں کے درمیان پھینک دیتے تھے۔ جسے وہ غلطی سے توپ کا گولہ سمجھ لیتا تھا۔ ان کے گورے آقا اپنی پناہ گاہ سے کھلکھلا کر ہنس دیتے تھے۔ حالانکہ ونسینٹ سمتھ ایسے ہی خدام اور دیہاتیوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے : ”انہوں نے ہمارے آدمیوں کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر پناہ دی اور جان بچائی۔“
(آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا ص ٧٢٢) پر تحریر ہے: ”وفاداری، مروت اور ایثار کی سینکڑوں ایسی مثالیں ملتی ہیں جو انسانی فطرت کا طرہ امتیاز ہیں۔“
(کے ای بک پانچ چیپٹر دوم کتاب نمبر ٥ باب دوم) میں لکھتا ہے : ”آج بھی گورنمنٹ ہند کی وہ تمام یاداشتیں پارلیمنٹ کے محفوظ ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ کانپور کے حادثہ سے بہت عرصہ پہلے باغیوں کے علاوہ عام آبادی میں سے عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں تک کو بھی پھانسی کے تختہ پر لٹکایا گیا۔ نہ صرف سولی پر ہی اکتفا کیا گیا۔ بلکہ دیہات میں ان کو اپنے مکانوں ہی میں بند کر کے آگ میں جلا کر خاکستر کیا گیا اور شاذ و نادر ہی کسی ایک کو گولی سے مارنے کی تکلیف کی گئی ہو۔ ہم نے حتی الامکان کسی ذی روح آبادی کو زندہ نہیں رہنے دیا۔ یہاں تک کہ ان سیاہ فام انسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے نظاروں سے اپنی خون آشامی کی پیاس بجھا کر لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔“
(کے ای بک پانچ باب دوم) میں تحریر ہے: ”بنارس اور الہ آباد میں کانپور کے حادثہ سے پہلے ایک موقعہ پر چند نوجوان لڑکوں کو محض اس بناء پر پھانسی کی سزا دی گئی کہ انہوں نے غالباً تفنن
٢٤
طمع کے طور پر باغیوں کی جھنڈیاں اٹھاتے ہوئے بازاروں میں منادی کی تھی۔ سزائے موت دینے والی عدالت کے ایک افسر نے پرنم آنکھوں سے کمانڈنگ افسر کے پاس جا کر درخواست کی کہ ان نابالغ مجرموں پر رحم کر کے پھانسی کی سزا تبدیل کی جائے۔ لیکن بے سود۔ پھانسیاں دینے کے لئے رضا کارانہ ٹولیاں بنائی گئیں۔ جنہوں نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے دیہات میں دورہ کیا۔ اس حالت میں کہ ان کے ساتھ پھانسی دینے کا سامان بھی مکمل نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو پھانسی دینے کے طریق سے مکمل واقفیت تھی۔ ایک شریف آدمی اپنی کامیابی کا اس طریق سے فخریہ اظہار کرتا تھا کہ ہم پھانسی دیتے وقت عام طور پر آم کے درخت اور ہاتھی کو استعمال کرتے تھے۔ یعنی ملزم کو ہاتھی پر بٹھا کر درخت کے نیچے لے جاتے تھے اور اوپر سے رسہ ڈال کر ہاتھی کو ہنکایا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ملزم اس طرح تڑپنے اور جان کنی کی حالت میں اکثر اوقات انگریزی کے آٹھ ہندسے (8) کی دلچسپ شکل بن کر رہ جاتا تھا۔‘
(سہارنپور کی حالت بحوالہ کتاب سر جارج کیمپ بیل کتاب اوّل خط محررہ بارہ اگست ١٨٥٧ء) یہاں پر حالات ایسے نازک تھے کہ ہمیں مناسب انتظام قائم رکھنے کے لئے متعدد پھانسیاں دینے کی ضرورت پیش آئی۔ (آگرہ کی حالت بحوالہ کتاب اے لیڈیز اسکیپ فرام گوالیار ص ٢١٢)
یہاں کے دیہات سے متعدد کسانوں کو جنہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا۔ گرفتار کیا گیا اور ان باغی سپاہیوں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ جو قرب و جوار سے پکڑے گئے تھے۔
دہلی کی حالت: قبضہ کرنے کے بعد (کتاب محولہ بالا ص ٢٦٩) مسز کوپ لینڈ ٢٣ ستمبر ١٨٥٧ء کو اپنی ایک چٹھی میں لکھتی ہیں کہ دہلی کے محاصرے سے لے کر اب تک اعلیٰ فوجی حاکم کے حکم سے چار سو سے لے کر پانچ سو تک بدقسمت انسانوں کو قتل کی سزا دی گئی۔ چنانچہ وہ اب اپنی جگہ سے استعفیٰ دینے کا خیال کر رہا ہے۔ خونریزی کے عادی سپاہیوں نے مزید برآں جوش انتقام کو فرو کرنے کے لئے پھانسی دینے والے جلادوں کو رشوت دے کر آمادہ کیا ہوا تھا کہ انہیں پھانسی کے تختے پر زیادہ دیر لٹکے رہنے دیا جائے۔ تاکہ لاش کے تڑپنے کی دردناک کیفیت دیکھ کر جسے وہ ناچ سے تشبیہ دیتے تھے۔ اپنی خونخوار طبائع کے لئے دلچسپی کا سامان بنا سکیں۔ اس کے میزبان کیپٹن گارسٹن نے بتایا کہ جھجر کے نواب صاحب کو جان دینے میں بہت عرصہ لگا۔ کیونکہ وہ ابھی اس کو پھانسی پر لٹکتے ہوئے دیکھ کر آیا ہے۔
(کتاب مذکورہ بالا کے ص ٢٧٣ پر تحریر ہے۔ ”ایک دن ایک ہندوستانی جوہری مسز
٢٥
گارسٹن کے پاس سونے چاندی کے کچھ ظروف بیچنے کے لئے لایا اور مسز موصوفہ نے یہ سمجھ کر کہ دام کچھ زیادہ بتائے گئے ہیں۔ ویسے ہی تفنن طبع سے کہا کہ دیکھو تم کو مٹکاف صاحب کے پاس بھیج دیں گے۔ چنانچہ اس فقرہ کو سنتے ہی وہ حواس باختہ ہو گیا اور اس طرح سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا کہ اپنے قیمتی ظروف وہیں چھوڑ گیا۔ جس کے بعد کبھی اس نے اپنی صورت نہ دکھائی اور نہ ہی اپنے ظروف کا مطالبہ کیا۔“
جولائی میں ہندوستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل ان کونسل نے ٢٤؍ دسمبر ١٨٥٧ء کو شمال مغربی سرحدی صوبہ اور پنجاب کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا۔ ان صوبوں میں نہ صرف ہر قسم کے جرائم کے بدلے میں بلکہ ایسے مشتبہ جرائم کے عوض بھی اندھا دھند پھانسیاں دینے کی کارروائی جس میں مرد عورت بوڑھے اور بچے کی تمیز روا نہ رکھی گئی۔ نیز بے شمار دیہات کے جلائے جانے کی وجہ سے آبادی کے اس حصہ میں بھی نفرت اور دہشت پھیل گئی ہے۔ جو اس وقت تک گورنمنٹ کے خلاف نہ تھی۔
جھانسی کانپور اور دہلی میں اگرچہ منتقمانہ حیثیت سے اس قسم کی قتل و غارتگری کے لئے کسی قدر گنجائش بھی موجود تھی۔ لیکن لکھنؤ میں تو بلا وجہ قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ جس کی تفصیل ایک افسر کے قلم سے ذیل میں دی جاتی ہے۔
(میجنڈی ص ١٩٦، ١٩٥) لکھنؤ پر قبضہ کرنے کے بعد قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ چنانچہ ہر ایسے ہندوستانی کو قطع نظر اس کے کہ وہ سپاہی ہے یا اودھ کا دیہاتی۔ بیدریغ تہ تیغ کیا گیا۔ یہاں تک کہ نہ تو کوئی سوال ہی کیا جاتا تھا اور نہ ہی اس قسم کا کوئی تکلف روا رکھا جاتا تھا۔ بلکہ محض سیاہ رنگت ہی اس کے مجرم ہونے کے لئے کافی دلیل سمجھی جاتی تھی۔ لیٹرز ان دی بمبے ٹیلیگراف منٹگمری مارٹن میں تحریر ہے۔ دہلی میں ہماری فوج کے شہر میں داخل ہونے پر تمام ایسے لوگ جو شہر کی چار دیواری کے اندر چلتے پھرتے نظر آئے۔ سنگینوں سے وہیں پر ختم کر دیئے گئے۔ ایسے بدقسمت انسانوں کی تعداد بہت کافی تھی۔ آپ اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک گھر میں چالیس یا پچاس ایسے اشخاص ہمارے خوف سے پناہ گزیں ہو گئے جو باغی نہ تھے۔ بلکہ غریب شہری تھے اور ہمارے عفو و کرم پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ جن کے متعلق میں خوشی سے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ وہ سخت مایوس ہوئے۔ کیونکہ ہم نے اسی جگہ ان کو سنگینوں سے ڈھیر کر دیا۔“
(میجنڈی ص ١٩٦، ١٩٥) پر لکھتا ہے: ”لکھنؤ میں ایک درخت کی شاخ اور ایک رسہ ہلاکت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ یا اگر یہ اشیاء مہیا نہ ہوں تو بندوق کی ایک گولی بے گناہ انسان کے
٢٦
دماغ کو چیرتی ہوئی نکل جاتی تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو جاتا تھا۔“
ٹائمز کا نامہ نگار لکھتا ہے: (خطوط محررہ ١٦/١١/٥٧، ١٧/١١/٥٧، ١٩/١١/٥٧) ”میں نے دہلی کے بازاروں میں سیر کرنا مطلقاً چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ کل ایک ایسا دردناک واقعہ دیکھنے میں آیا۔ جس سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یعنی جب ایک افسر بیس سپاہی لے کر شہر کی گشت کو جانے لگا تو میں بھی ان کے ہمراہ ہولیا اور راستے میں ہم نے چودہ عورتوں کی لاشوں کو شعلوں میں لپٹے ہوئے بازار میں پڑا پایا۔ جن کے سر دھڑوں سے ان کے خاوندوں نے جدا کئے تھے۔ چنانچہ ایک عینی شاہد سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ دردناک حادثہ اس لئے ظہور پذیر ہوا کہ ان مستورات کے خاوندوں کو شبہ تھا کہ اگر انگریز سپاہیوں کے قابو میں آ گئیں تو وہ ان کی عصمت دری کر دیں گے۔ اس لئے بحالات موجودہ اپنے ناموس کے تحفظ کا یہی طریقہ مناسب خیال کیا گیا۔ جس کے بعد خود بھی انہوں نے خودکشی کر لی۔ چنانچہ ہم نے ان کے خاوندوں کی لاشوں کو بھی بعد میں دیکھا۔“
پھر لکھا ہے۔ ”نادر شاہ کی تاریخ لوٹ اور قتل عام کے بعد جب اس نے چاندنی چوک کی مسجد میں بیٹھ کر غارتگری کا حکم دیا تھا۔ ایسا دردناک نظارہ آج سے پہلے شاہجہاں کے دارالخلافہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔“
(ہومز ص ٣٨٦) پر لکھا ہے۔ ”باغیوں کے جرائم کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ سنگین پاداش باشندگان دہلی کو برداشت کرنی پڑی۔ ہزارہا مرد، عورتوں اور بچوں کو بے گناہ خانماں برباد ہو کر جنگلوں اور ویرانوں کی خاک چھاننی پڑی اور جتنا مال واسباب وہ پیچھے چھوڑ گئے ان سے ہمیشہ کے لئے ان کو ہاتھ دھونے پڑے۔ کیونکہ سپاہیوں نے گھروں کے کونے کونے کھود کر تمام قیمتی اشیاء کو قبضہ میں کر لیا اور باقی سامان کو توڑ پھوڑ کر خراب کر دیا۔ جس کو کہ وہ اٹھا کر نہیں لے جاسکتے ہیں۔“
اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں نے اہتمام سے غدر کے متعلق کتابوں سے صرف ایسے واقعات اپنی کتاب کے لئے منتخب کئے ہیں۔ جو ہمارے خلاف جاتے تھے۔ مجھے تو اس میں شبہ ہے کہ جن واقعات کو میں نے اپنی کتاب میں ترتیب دیا ہے۔ ان کو کسی صفحہ میں بھی غیر معمولی کہا جاسکے۔ سوائے ان دو واقعات کے جن میں سے ایک میں تو سکھوں کے مظالم کا ذکر ہے اور دوسرے میں مسٹر کوپر کے شدید مظالم بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں پر میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ
٢٧
اگرچہ میں نے مسٹر کوپر کی کتاب سے بعض سنگین واقعات کو نقل کیا ہے۔ لیکن میں نے ان سے بھی زیادہ شدید اور رنجیدہ واقعات کو پھر بھی چھوڑ دیا ہے۔ غدر کے متعلق تقریباً تمام دستاویزیں زبان حال سے ہماری زیادتیوں کا اعلان کرتی ہیں۔ ١٩٢٣ء میں غدر کے حالات پر دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام لارڈ رابرٹس کے خطوط اور دوسری کا نام مس سومرویل ٹریک ہے۔ ان ہر دو کتب میں ہماری زیادتیاں بالکل عیاں طور پر ظاہر ہوئی ہیں۔ لیکن دوسری کتاب میں تو مس موصوفہ کے چچا جان کے وہ خطوط بھی شامل کئے گئے ہیں جو بے انتہاء خونریزی کے مظہر ہیں۔ بعض دوستوں کو پڑھ کر پچھلے باب کے متعلق یہ خیال پیدا ہوگا کہ بہتر ہوتا۔ اگر واقعات کے اس غلیظ کیچڑ کو زمانہ کی تہ کے نیچے ہی بیٹھے رہنے دیا جاتا اور اس طریقہ سے اسے ہلایا نہ جاتا۔ لیکن ہمارے نزدیک یہی طریقہ مناسب تھا۔ کیونکہ بے شمار انگریزی تواریخ کے مطالعہ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ تمام انگریز مورخین نے ہندوستانی باغیوں کے سیاہ اعمال کو عالم آشکارا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ مگر اس کے مقابلہ میں ہندوستانیوں کے مصائب اور ناگفتہ بہ حالت سے ہماری قوم تا حال نا آشنا رکھی گئی۔
میں نے تو جنرل نیل کے ان کارناموں کو بالکل چھوڑ دیا ہے۔ جو کانپور کے خونی حادثہ سے بدرجہا زیادہ سنگین تھے۔ نیز ہوڈسن کی مشہور زمانہ سنگدلی کی کاروائی کو میں نے بالکل نہیں چھیڑا۔ اگرچہ میرے پاس عینی مشاہدوں کی دستاویزیں موجود تھیں۔ ہوڈسن کیوں اس قدر بدنام ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مقتول شہزادے تھے یا اس لئے کہ وہ خود اپنی فوج میں ہر دل عزیز افسر نہیں تھا۔ لیکن اس سے بدرجہا سنگین مظالم کے واقعات موجود ہیں۔ جو ابھی تک پردۂ اخفاء میں ہیں اور دنیا ان سے قطعاً لا علم ہے۔ میں نے جتنے واقعات قلمبند کئے ہیں۔ ان میں سے ایک بھی تو کسی ہندوستانی کے قلم یا زبان سے نکلا ہوا نہیں ہے۔ نیز شاذ و نادر ہی کوئی ایک فقرہ ”وحشت و بربریت کی آماجگاہ“ یعنی اینگلو انڈین اخبارات یا اس سے کم درجہ پر اپنے ملک کے اخبارات سے نقل کیا ہوگا۔
ناظرین! اہل انصاف مرزا قادیانی کے والد کی زندگی انگریز کی خوشنودی اور اسی کی رضا جوئی میں دم دینے تک رہے۔ خود مرزا قادیانی کی زبان اور قلم سے سن چکے ہیں اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ والد کے مرنے کے بعد میرے بڑے بھائی کی موت بھی اسی طرح اعانت کفر و کفار پر ہوئی اور ان دونوں کی موت کے بعد میں ان دونوں کے نقش قدم پر پورے گیارہ برس ان کی اقتداء
٢٨
کی عرب، عجم، روم، شام وغیرہ سارے ممالک اسلامی میں ہندوستان اور مسلمانوں سے چوری چوری بے شمار کتابیں لکھ کر جہاد کے خلاف شائع کرتا رہا۔ چوری کی وجہ اور منشاء یہ تھی کہ اگر مسلمانوں اور علماء کو اس کا علم ہو جاتا تو وہ مجھ سے ناراض ہوتے۔ چونکہ میں اپنے والد اور بھائی کی طرح دولت مند نہ تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ اور زبان سے انگریز کی خدمات اس قدر انجام دی ہیں کہ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ اس فن میں میرا کوئی شریک ہرگز نہیں۔ منفرد اور بے مثل اور لاثانی ہوں تو یہ میرا دعویٰ بالکل بجا اور صحیح ہے اور میں نے انگریز کی حمایت اور جہاد کا رد محض خدا اور رسول کی خوشنودی کے واسطے لکھا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے تحریر کیا کہ: ”اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (انگریز حکومت) اسلام کو بنظر محبت دیکھتی ہے اور گمراہی پر گامزن نہیں۔ بلکہ تدبیر میں اپنے دنوں کو بسر کرتی ہے اور متکبر کی طرح کنارہ کش نہیں اور میں اس کے رشد کے آثار پاتا ہوں اور گمان کرتا ہوں کہ وہ جلد اسلام کی طرف میل کرے گی اور خدا اس کو گمراہوں اور غافلوں میں نہیں چھوڑے گا اور ایک طائفہ ان کے علماء کا ہمارے دین میں داخل ہو گیا۔ جو جوانان خوشرو اور پسندیدہ صورت ہیں اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو ایمان ایک وقت تک پوشیدہ رکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ملکہ مکرمہ ہدایت پانے کے لئے امید کی جگہ ہے اور اس کے دل کو حب اسلام اور شوق اس روشنی کا دیا گیا ہے اور عنقریب ہے کہ خدا تعالیٰ اس ملکہ نورانی وجہ کے دل اور اس کے شہزادوں کے دلوں میں نور توحید ڈال دے۔ اور خدا تعالیٰ پر یہ مشکل نہیں۔ بلکہ اس کی قدرت ایسے ہی کام کرتی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ اپنی طرف طالبوں کے دل کھینچ لیتا ہے اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے رکن اس گورنمنٹ کے دن بدن توحید کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور ان کے دل ان عقائد باطلہ سے نفرت کر گئے ہیں اور ان کی شان کے لائق بھی نہیں کہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کریں۔ جو انسانوں کی طرح صفات میں اور تمام لوازم انسانیت میں ان کا شریک ہے اور ایسا شرک ان سے کیونکر ہو سکے اور خدا نے ان کو کئی قسم کے علم عطاء کئے ہیں اور فہم اور عقل عطاء کی ہے اور ہم اس قوم کے محققوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں پاتے جو ان واہیات باتوں پر راضی ہو۔ مگر شاذ و نادر جو اس ایک بال کی طرح ہے۔ جو سیاہ بالوں میں ہو اور میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کے انڈے ہیں اور عنقریب ان میں سے اسلام کے بچے پیدا ہوں گے اور ان کے منہ الٰہی دین کی طرف پھیرے جائیں گے۔
کیونکہ یہ ایک ایسی قوم ہے کہ جو ہر ایک بات کی تفتیش کرتی ہے اور اس حق سے آنکھ
٢٩
بند نہیں کرتی جو کھل گیا ہو اور حق کے قبول کرنے سے شرم نہیں کرتی اور ڈھونڈتی ہے اور تھکتی نہیں۔ جو اسے ڈھونڈے گا پائے گا۔ اگر چہ دیر بعد پاوے اور اس نکتہ چین نے جو دولت برطانیہ کو میری بغاوت سے ڈرایا ہے سو یہ تو ایک صرف سخن چینی اور گالی ہے۔ اس سے زیادہ نہیں اور ہمارے بھید پر کوئی مہر نہیں ہے اور گورنمنٹ اس نکتہ چین کی نسبت زیادہ واقف اور زمانہ دیدہ ہے اور ہمارا خاندان اس کے نزدیک اس نواح میں اول درجہ کا مشہور ہے اور اپنی رعایا کو وہ درجہ بدرجہ پہچانتی ہے۔ سو اس پر نکتہ چین کی غرض پوشیدہ نہیں اور اس نکتہ چین کے اس جزع فزع کا اصل مقصد چھپا نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کو خوب جانتی ہے۔ جو حکام کو اپنے جوش تعصب اور عداوت اور فساد فطرت سے دھوکا دینا چاہتے ہیں اور ان کے برتن میں بجز فساد کے زہر کے اور کچھ نہیں۔ ان کے دل میں بجز مرتد ہونے کے دشمنی کی اور کوئی بات نہیں۔ خدا تعالیٰ اور اس کے جلال سے ان لوگوں نے منہ پھیر لیا اور زمین میں فساد پر آمادہ ہو گئے اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے خیر خواہوں میں سے ہیں اور کیونکر نہ ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس کے سبب سے ہماری مصیبتوں کو دور کیا اور نیز اس سے ہماری زندگی کی تلخی کو دور فرمایا اور ہم سانپوں والی زمین پر بستے تھے تو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان سانپوں کو ہلاک کیا۔ جو ہمارے گرد تھے اور اس کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ سو ہم اس احسان کو بھول نہیں سکتے اور ہم شکر گزار ہیں۔
اور جو اس نکتہ چین نے جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے۔ سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افتراء نہیں اور اگر کوئی سوچنے والا ہو۔ سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا۔ بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں۔
اور مؤمنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق خدا کو جبرًا اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مؤمنوں پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں گے۔ اگر وہ باز نہ آئیں مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ کون سا فساد ان فسادوں میں سے ان میں پایا جاتا ہے کیا وہ ہمیں ہماری نماز اور روزہ اور حج اور اشاعت مذہب سے ہم کو منع کرتی ہے یا دین کے
٣٠
بارے میں ہم سے لڑتی ہے۔ یا ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالتی ہے۔ یا لوگوں کو جبر اور ظلم سے عیسائی بناتی ہے۔ ہرگز نہیں۔
بلکہ وہ ہمارے لئے مددگاروں میں سے ہے۔ پھر قرآن کے ان حکموں پر نظر ڈالو جن میں خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے۔ جو ہم پر احسان کریں اور ہمارے کاموں کی رعایت رکھیں اور ہماری حاجات کی متکفل ہو جائیں اور ہمارے بوجھوں کو اٹھالیں اور ہمیں پریشان گردی کے بعد اپنی پناہ میں لے آویں۔ کیا خدا تعالیٰ ہم کو اس سے منع کرتا ہے کہ ہم نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کریں اور ولی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو انصاف اور عدل اور احسان کرنے کے لئے فرماتا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
اور قرآن میں اس نے یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور امر بالمعروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا کہ تم سے لوگ ہمیشہ ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافروں کو قتل کریں اور ان کو دین میں جبراً داخل کرتے رہیں اور اس نے تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کریں اور یہ نہیں کہا کہ ان کو تلواروں سے قتل کر ڈالو۔ مگر اس حالت میں جب کہ وہ دین سے روکیں اور اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور دشمنوں کے مقام پر کھڑے ہو جائیں۔ پس دیکھ تو سہی ہمارے پروردگار نے جو تمام عالموں کا رب ہے کیا کچھ فرماتا ہے اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قرآن میں سے نہیں ہے اور وہ صرف ضرورت کے وقت تجویز کیا گیا ہے۔ یعنی ایسے وقت میں جب کہ ظالموں کا ظلم انتہاء تک پہنچ جائے۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٤٣ تا ٤٤، خزائن ج ٨ ص ٥٩ تا ٦٢)
بچشم اہل بصیرت برہنہ مے آئی
جہاد بالسیف فی سبیل اللہ کو قرآن کریم نے اسلام اور مسلمانوں کے بقاء کا سبب دین اور دنیا کی کامیابی کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآن نے جہاد کی وجہ یہ نہیں بتلائی کہ کفار نماز اور روزہ سے مانع ہوں تو جہاد کرو۔ جناب عالی قرآن کا فتویٰ سنئے۔ سورۃ توبہ پارہ دس ارشاد قرآن ہے۔ ”قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتو الکتاب حتی یعطوا الجزیۃ
٣١
عن يدوهم صغرون“ جنگ کرو ان یہود اور نصاریٰ جو خدا اور قیامت پر ایمان نہیں لائے اور جن چیزوں کو خدا اور اس کے رسول نے حرام کیا وہ حرام نہیں جانتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ دیکھئے۔ قرآن نے انتہائے جنگ یہود اور نصاریٰ سے ادائے جزیہ قرار دیا ہے اور آیت” ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة “ کی تفسیر صحابہ نے ترک جہاد کی ہے۔ یعنی جہاد کا چھوڑ دینا اسلام اور مسلمانوں کی موت اور ہلاکت کا باعث ہے۔ مرزا قادیانی تو وہاں پہنچ گئے جہاں ان کو پہنچنا چاہئے تھا۔ اب ان کے خلف الرشید جن کا یہ قول ہے کہ میرے ابا جی کے خلاف جو کوئی بولے گا۔ میرے منہ میں زبان اور ہاتھ میں قلم ہے۔ فرماویں کہ قرآن میں کہاں ہے کہ جب کفار نماز وغیرہ سے مانع ہوں تو جہاد کرو۔ ورنہ قرآن کا تو حکم ہے۔ ”وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله“ یعنی جہاد جاری رکھو۔ یہاں تک کہ شرک اور کفر نہ رہے اور دین الٰہی کا چرچہ ہو۔ جہاد فی سبیل اللہ قرآن کا وہ حکم اور وہ امر ہے جس کو ایک ڈرپوک، بزدل، نامرد، جبن کا مارا ہوا ہرگز ادا نہیں کر سکتا۔ اسلام کے لباس میں منافق بے ایمان ہمیشہ اس کے خلاف رہے ہیں۔ میں ہر ایک مرزائی (خواہ لاہوری ہو یا قادیانی) کی خدمت میں سوال کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ (میں جانتا ہوں کہ انگریز اسلام کے انڈے ہیں۔ ان سے اسلام کے چوزے برآمد ہونے والے ہیں) سچ ہے یا جھوٹ۔ اسلام کا آخری انڈہ ہندوستان میں مخنث بیضہ ہے۔ جس نے تمہارے دارالامان قادیان کو بھی تمہارے حق میں دارالموت اور دارالخوف بنا کر چھوڑا۔ یہ مسیح موعود اور مہدی موعود ظلی اور بروزی نبوت کے مدعی کے قلب سلیم و وجدان صحیح اور بالغ النظر ہونے کا پورے سولہ آنے ثبوت ہے اور یہ کہ انگریز اسلام کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ذرا غور فرمائیے۔ روم، شام، فارس، ترک، صقالیہ، بربرہ، مصر، سوڈان وغیرہ جن کو حضرت صدیق، عمر، علی، رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ماتحتی میں صحابہ کرام نے فتح کیا یہ تمام ممالک صحابہ کو مدینہ میں نماز سے منع کرتے تھے یا مکہ میں حج کرنے سے مانع تھے۔ مرزا قادیانی کے عقیدہ کے مطابق یہ حضرات نعوذ باللہ فسادی، غاصب، ڈاکو، ظالم تھے۔ مرزا قادیانی نے پورے گیارہ برس بیرون ہند ممالک اسلامی میں انگریز کی خوشنودی کے واسطے جہاد کے خلاف اپنی تصانیف کی اشاعت فرمائی۔ وہاں ان اسلام کے چوزوں نے اسلامی محبت کے کیا کیا گل کھلائے۔ ناظرین ملاحظہ فرماویں۔
مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک پر جو مظالم برطانوی سامراج نے روا رکھے ہیں۔ ان کی
٣٢
داستان طویل ہے۔ مسلم ممالک اب تک اس درد کی ٹیس محسوس کر رہے ہیں جو انگریزی اقتدار کا ایک مکروہ ثمرہ ہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر ایک منصف مزاج انسان سہم کر رہ جاتا ہے کہ انسان اس قدر پست اور ذلیل بھی ہو سکتا ہے۔ کیا اخلاق و انصاف کے نام پر اخلاق و انصاف کا منہ چڑایا جاسکتا ہے۔ اب ہم قارئین کو ان حیاسوز، مظالم، قتل و غارتگری اور درندگی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں جو برطانوی درندوں نے ایک منظم پالیسی کے ماتحت مصر، ترکی، شام، فلسطین، شرق اردن، ایران، عراق اور افغانستان میں روا رکھی۔
مصر: برطانیہ نے مصر کے اندرونی سیاسی و اقتصادی خلفشار سے فائدہ اٹھا کر سب سے پہلے دوستی کے بھیس میں نہر سویز پر حقوق ملکیت حاصل کئے۔ پھر اس کی حفاظت و نگرانی کے بہانے برطانوی فوجیں وہاں داخل کیں اور آہستہ آہستہ مصر کی اقتصادی تباہی مکمل کرنے کے بعد مصر کے پورے مالیات پر قبضہ کر لیا اور پھر اندر ہی اندر سازشوں کا جال پھیلا کر قومی تحریکوں کی جڑیں کاٹنی شروع کیں اور بالآخر فوجی قوت سے کام لے کر ١٨٨٢ء میں پورے ملک پر تسلط جما لیا۔ اب اس کا راستہ صاف تھا۔ مصر میں انگریزی ایجنٹ لارڈ کرومر نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار خدمات سرانجام دیں۔
آج کل مصر میں جو کشمکش جاری ہے وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ نہر سویز برطانوی تجارت اور خوشحالی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ جمہوریت نواز اور منصف مزاج قوم مصر کو اس کا حق واپس لوٹانا نہیں چاہتی۔
مراکو اور ٹیونس میں فرانس نے جو انسانیت کش ظلم ڈھائے۔ ان کی ذمہ داری بھی کسی حد تک برطانیہ پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ برطانیہ اور فرانس میں یہ سمجھوتہ خفیہ طور پر ہو چکا تھا کہ وہ مراکو اور ٹیونس کے مسئلہ پر فرانس کی مخالفت نہیں کرے گا اور فرانس مصر پر برطانوی قبضہ کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھائے گا۔
ترکی: پہلی جنگ عظیم میں ترکی کو زک پہنچانے کے لئے برطانیہ نے سب سے مؤثر حربہ یہ استعمال کیا کہ اپنے خفیہ ایجنٹ بھیج کر عربوں کو ترکوں کے خلاف بھڑکایا۔ چنانچہ شام میں عرب ترکوں سے باغی ہو گئے۔ عراق میں عربوں نے ترکوں کے خلاف سازش کر کے انہیں کمزور بنایا۔ شریف حسین نے انگریزوں سے یہ خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ عرب قبائل کو ترکوں کے خلاف بھڑکا کر آمادۂ جنگ کرنے میں ان کی مدد کرے گا۔ بشرطیکہ اسے ارض مقدس کی سلطانی سونپ دی
٣٣
جائے۔ اس سلسلہ میں ایک انگریز کرنل لارنس نے جو ابن حسین کے نام سے عوام میں مشہور تھا۔ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ عربی لباس پہن کر عرب محفلوں میں شریک ہوتا اور گزشتہ تاریخی واقعات سنا کر عربوں کو ترکوں کے خلاف نفرت اور غیض وغضب کے جذبات کو ہوا دیتا۔
پھر معاہدہ سیورے میں برطانیہ نے یہ چالاکی کی کہ ترکی کے تمام زرخیز علاقے اس سے چھین لئے اور دوسری طرف کردوں اور آرمینیوں کی آزاد ریاستیں قائم کر دی گئیں۔ ایک امریکن مؤرخ نے لکھا ہے: ”یہ صلح نامہ شہنشاہی حرص و آز کی ایک شرمناک ترین مثال ہے۔ جو آج کل کی مہذب وتجدد پسند حکومتوں کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس کے مقابلہ میں روس کے معاہدہ بریسٹ لٹافسک کی شرائط بھی نرم معلوم ہوتی ہیں اور وارسیلز کی شرائط تو یقیناً اس کے مقابلے میں فیاضانہ کہی جاسکتی ہیں۔“
اس کے بعد برطانیہ اور اس کے حلیفوں نے قومی پارلیمنٹ کو تسلیم کر لینے کے بہانے سے ترک لیڈروں کو قسطنطنیہ میں پارلیمنٹ کا اجلاس باقاعدہ طور پر منعقد کرنے کے بہانے سے بلایا اور چھاپہ مار کر چالیس ترک لیڈروں کو گرفتار کرلیا اور انہیں جزیرہ مالٹا میں لے جا کر نظر بند کردیا گیا۔ جب یونان نے ترکی پر حملہ کیا تو برطانیہ نے درپردہ اس کی امداد کی۔ لیکن ترک اپنی بے مثال ہمت اور جرأت کے بل بوتے پر کامیاب ہوئے۔
شام: برطانیہ نے عربوں کو آزادی اور خود مختاری کے سبز باغ دکھا کر ترکوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا تھا۔ جب خاتمہ جنگ پر آزادی دینے کا وقت آیا تو برطانیہ اور فرانس نے آپس میں ایک خفیہ معاہدہ کیا۔ جس کی رو سے یہ طے پایا کہ:
- ١...... فلسطین کے علاقے کو بین الاقوامی بنا دیا جائے گا۔ یعنی یورپ کی سب حکومتیں یا
بالفاظ دیگر برطانیہ و فرانس مل کر اس پر تسلط رکھیں گے۔
- ٢...... حیفہ کی فلسطینی بندرگاہ اور بغداد اور بصرہ کے علاقے خلیج فارس کے ساحل تک
برطانوی اقتدار میں رہیں گے۔
- ٣...... شام کا ساحلی علاقہ فرانس کے اقتدار میں رہے گا۔ البتہ ساحل شام کے مشرق کا علاقہ،
حلب اور دمشق سے لے کر موصل تک آزاد عرب ریاست بنا دیا جائے گا۔ لیکن اس آزاد ریاست کے جنوب میں برطانیہ کا اثر ونفوذ رہے گا اور یہاں کی حکومت کو برطانیہ سیاسی مشیر فراہم کرے گا اور شمال کے علاقے میں فرانس کو یہی حق حاصل ہوگا۔
٣٤
ناواقف عربوں کو جب اس تقسیم کا پتہ چلا تو وہ سخت برہم ہوئے۔ لیکن جب یہ سوالات کہ نہر سویز پر کس کا غلبہ ہوگا۔ عراق کا پٹرول کس کے پاس جائے گا اور بصرہ و بغداد کے ہوائی اڈے کس کے تصرف میں ہوں گے۔ سامنے آئے اور برطانیہ و فرانس کے سیاسی، تجارتی اور معاشی مفادات پر زد پڑنے کا امکان پیدا ہوا تو عربوں سے کئے گئے سارے اعلان اور وعدے پس پشت ڈال دیئے گئے اور اس آزاد عرب ریاست کے حصے بخرے برطانیہ اور فرانس کے حسب منشاء کر دیئے گئے۔
پیرس کی صلح کانفرنس میں فیصل نے لاکھ زور مارا کہ حجاز عراق فلسطین اور شام کو خطہ عرب سے الگ کیونکر کیا جاسکتا ہے اور علاقے کے رہنے والے ہر اعتبار سے ایک ہیں۔ لیکن مار آستین کرنل لارس کی شرارت سے اس احتجاج کو پرکاہ کی سی اہمیت بھی نہ دی گئی۔ اس طرح فلسطین کو یہودیوں کے لئے کھول دیا گیا۔ تا کہ وہ وہاں اپنا قومی وطن بنا سکیں۔
١٩١٧ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے اعلان کیا کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنایا جائے گا۔ عرب یہ سن کر ہکے بکے رہ گئے۔ تمام دنیا سے یہودی کھنچ کھنچ کر فلسطین میں آنے شروع ہوئے۔ آبادی کے بڑھ جانے سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ یہودیوں نے بنی اسرائیلی معاشرت کو زندہ کرنے کے لئے عربوں کے موجودہ تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ لسانی یکجہتی ختم کر دی گئی۔ مالدار یہودیوں نے غریب عربوں سے جائیدادیں خرید کر انہیں سخت مصیبت میں ڈال دیا۔ فلسطین کی پوری آبادی اسرائیلی حکومت کے نام سے عرب دنیا کے سینہ میں ناسور بن چکی ہے۔
شرق اردن: شرق اردن کی ریاست بھی برطانیہ اور فرانس کے مقدس وعدوں اور اعلانوں کی عملی تعبیر ہے۔ عرب دنیا کے چند منتخب افراد میں سے عبداللہ کو شرق اردن کا والی بنایا گیا۔ لیکن حکومت میں تمام تر عمل دخل برطانیہ کو ہی حاصل ہے۔ آج کل شرق اردن میں شاہ عبداللہ کا بیٹا امیر طلال برسر حکومت ہے۔
ایران: دیکھئے ڈاکٹر مصدق وزیر اعظم ایران کی وہ تقاریر جو انہوں نے یو۔ این۔ او میں کی ہیں۔ ان میں ایرانی تیل پر برطانیہ کے قبضہ کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔
عراق: ١٩١٨ء میں جنگ عظیم ختم ہوئی۔ لیکن عراق کو آزادی کے بجائے انگریزوں کی فوجی حکومت کی ماتحتی نصیب ہوئی۔ برطانیہ کے اس چنگل سے نکلنے کے لئے عراقیوں نے ١٩٢٠ء
٣٥
میں بغاوت کر دی۔ اس بغاوت کے وقت عراقیوں کے جو احساسات تھے۔ اس کا اندازہ کرنل لارنس کے ان الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ (التوائے جنگ کے بعد) دو سال کی انگریزی حکومت سے عربوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہو۔ ہماری حکومت انگریزی فیشن کی حکومت ہے اور اس کی زبان عربی کی بجائے انگریزی ہے۔ ہماری حکومت کے ساڑھے چار سو افسروں میں سے ایک بھی عراقی نہیں۔ حالانکہ ترکی حکومت کے زمانے میں ستر فیصدی افسر عراقی ہوتے تھے۔ اس وقت ہمارے اسی ہزار آدمی پولیس میں کام کر رہے ہیں۔ تاکہ امن وامان قائم رکھ سکیں۔ ان لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ عوام دباتے رہیں۔ اپنے ملک کے فوج اور سول کے شعبوں میں عراقیوں کی یہ کسمپرسی بلاشبہ عراقیوں کے لئے سوہان روح ہونی چاہئے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم نے عراق کی سرسبزی و خوشحالی میں اضافہ کیا ہے۔ مگر خالی سرسبزی اور خوشحالی سے کیا ہوتا ہے۔ جب کہ آزادی و خودمختاری کی نعمت سے وہ محروم ہیں۔
فلسطین: فلسطین دنیا کا وہ بد نصیب ترین علاقہ ہے جو ١٩١٤ء کی جنگ کے بعد برطانیہ کی سیاست کا سب سے زیادہ شکار ہوا۔ یہ علاقہ ہر لحاظ سے شام کا ایک ضلع ہے۔ لیکن ١٩٢٠ء میں جب عرب کی تقسیم کی گئی تو چھ سات لاکھ انسانوں کی اس مختصر سی بستی کو شام سے جدا کر دیا گیا اور مزید ستم یہ کہ ساری دنیا کے یہودیوں کو یہاں لا کر بسانے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ:
- ١....... فلسطین برطانیہ کا دست نگر ہو کر رہ گیا۔ اس کی اقتصادی حالت خراب ہو گئی۔
- ٢....... معاشرتی حالت بے حد ناقص ہو گئی۔ کیونکہ یہودیوں نے عربی تہذیب و تمدن کو مٹا کر
اپنی پرانی معاشرت کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔
- ٣....... لسانی یکجہتی برباد ہو گئی۔ کیونکہ یہود اور برطانیہ کی ملی بھگت سے عربی کی بجائے عبرانی
زبان کو دفتری اور تعلیمی زبان بنادیا گیا۔
- ٤....... قومی اتحاد ختم ہو گیا اور یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک مستقل کشمکش کا آغاز ہوا۔
- ٥....... یہودیوں نے دولت خرچ کر کے مقامی عرب آبادی کی زمینیں خرید لیں اور قدیم
باشندوں کو سخت مصیبت میں ڈال دیا۔
- ٦....... دنیا بھر کے سرمایہ دار یہودیوں کی آمد سے چیزوں کی قیمتیں بے تحاشا بڑھ گئیں اور
عرب مفلس تر ہوتے چلے گئے۔
٣٦
- ٧...... یکم جنوری ١٩٣٧ء تک مسلمانوں کے لئے سلطنت عثمانیہ کا پرانا اسلامی قانون
نافذ تھا۔ مگر اس تاریخ کے بعد اس کی جگہ انگریزی قانون جاری کر دیا گیا۔ یہ ہیں وہ انعامات جو عربوں کو جنگ میں ترکوں کے خلاف برطانیہ کی مدد کرنے کے صلے میں ملے۔
١٩١٧ء میں جنرل ایلن بائی نے عربوں کی مدد سے فلسطین کو فتح کیا تو وہ برطانیہ کے وعدوں کے مطابق اس خیال میں مگن تھے کہ اب عنقریب آزاد عرب سلطنت قائم ہوگی۔ لیکن وہ ہکے بکے رہ گئے۔ جب ٢ نومبر ١٩١٧ء کو برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے اعلان کیا کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنایا جائے گا۔ دراصل یہاں برطانیہ دوہری چال چل رہا تھا۔ جنگ کے دوران میں اسے ترکوں کے خلاف لڑنے کے لئے عربوں کی امداد کی ضرورت تھی۔ اس نے ان سے آزاد عرب سلطنت کا وعدہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک یہودی سائنسدان (جس نے لکڑی سے الکحل (شراب کا جوہر) نکالنے کا طریقہ دریافت کر کے برطانیہ کو بتایا) کو اس کی خدمت کے معاوضے میں یہودیوں سے مالی امداد حاصل کرنے کے صلے میں ان کے ساتھ وطن الیہود بنانے کا خفیہ وعدہ کر لیا۔ یہ دونوں متضاد وعدے پورے نہ ہو سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔ فلسطین کے برطانوی ہائی کمشنر نے جو نسلاً یہودی تھا اور جسے برطانیہ نے محض یہودیوں کی تحریک کو مدد پہنچانے کی خاطر وہاں متعین کیا تھا۔ اس فضا کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ لیکن بیکار اس نے ١٩٢٣ء میں فلسطین کے باشندوں کی وزارت بنانے کی پیشکش کی۔ لیکن عرب اس جھانسے میں نہ آئے۔ ١٩٢٥ء میں اسے واپس بلالیا گیا اور اس کی جگہ دوسرا ہائی کمشنر آیا جو اگرچہ یہودی نہ تھا۔ لیکن برطانوی پالیسی سے تجاوز نہ کر سکتا تھا۔ اس لئے وہ عربوں اور یہودیوں میں مفاہمت نہ کرا سکا۔ ١٩٢٦ء میں اس نے یہودیوں کو ان کی اکثریت کے علاقوں میں جہاں زبردستی یہودیوں کی اکثریت پیدا کی گئی تھی۔ داخلی خود مختاری دے دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی اور بھی منظم اور طاقتور ہو گئے۔ لیکن عربوں کی حالت اور خراب ہوگئی۔ بلوے اور ہنگامے پھر شروع ہوگئے۔
اب برطانیہ نے پالیسی بدلی اور اعلان کیا کہ یہودیوں کی آمد کو محدود کر دیا جائے گا۔ لیکن اس سے یہودی ناراض ہوگئے۔ چونکہ وہ انگلستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ انہوں نے برطانوی سیاست پر اثر ڈالا تو اس وقت کا وزیر اعظم ریمزے میکڈونلڈ جھک گیا اور اس نے اس اعلان کو کالعدم کر دیا۔
٣٧
برطانیہ کی سیاسی مصلحتوں نے جب یہودیوں کو عربوں کے سروں پر مسلط کرنے کا اعلان کیا تو دنیا بھر سے یہودیوں کے غول کے غول کھنچے چلے آنے شروع ہو گئے۔ ١٩٢٢ء میں مردم شماری ہوئی۔ تو کل آبادی ساڑھے سات لاکھ تھی۔ جس میں یہودی ایک لاکھ سے کم تھے۔ ١٩٣١ء میں دوسری مردم شماری ہوئی تو آبادی دس لاکھ اور یہودی کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ ١٩٤٢ء میں یہودیوں کی تعداد پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ١٩٢٢ء میں ان کا تناسب چھ فیصدی تھا۔ لیکن بیس سال بعد ١٩٤٢ء میں ٣٣ فیصد ہو گیا۔ یعنی ساڑھے پانچ سو فیصدی اضافہ اور یہ نتیجہ تھا۔ برطانیہ کی مکارانہ پالیسی کا جو وہ محض اپنے مفاد کی خاطر فلسطین کے اندر اختیار کئے ہوئے تھا۔
ان حالات میں عربوں کی خفیہ اور اعلانیہ تحریکیں شروع ہوئیں تو ١٩٣٧ء میں ایک شاہی تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا گیا۔ جس نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ ملک کی اقتصادی حالت کے پیش نظر یہودیوں کی بے روک آمد پر پابندیاں لگائی جانی ضروری ہیں۔ لیکن یہ تجویز عربوں نے اس بناء پر رد کر دی کہ وہ یہودیوں کا داخلہ فوراً بند کرنا چاہتے تھے اور یہودیوں کو بھی ناگوار گزری۔ کیونکہ وہ کسی قسم کی پابندی نہیں چاہتے تھے۔ عرب آزادی کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہودی اس کی مخالفت کرتے تھے۔ جب عربوں کا مطالبہ بہت بڑھا تو یہودیوں نے کہا کہ اچھا جس علاقے میں ہماری اکثریت ہے۔ اسے جداگانہ حکومت میں تبدیل کر دیا جائے۔ عربوں کو اس سے اور بھی طیش آیا۔ کیونکہ فلسطین کو پہلے ہی شام سے جدا کر کے کمزور کر دیا گیا تھا۔ اب اس کے مزید ٹکڑے کر کے اسے بالکل بے جان بنایا جا رہا تھا۔ لیکن برطانیہ ہمیشہ اور ہر جگہ اپنی مصلحت اور مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس نے تھوڑی سی ٹال مٹول کے بعد اس تقسیم کو تسلیم کر لیا۔ یہ تقسیم پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اس یہودی ریاست کا جو آج اسرائیل کے نام سے دنیائے اسلام کے جگر میں نشتر کا حکم رکھتی ہے اور جس سے اردگرد کی مسلمان حکومتیں ہر وقت ترساں اور لرزاں ہیں۔ برطانوی ڈپلومیسی کا کرشمہ دیکھئے کہ پہلے دنیا بھر سے لا لا کر یہودی جمع کئے گئے اور پھر ان کی مستقل ریاست بنا دی گئی۔
عراق و شام : ١٨۔١٩١٤ء کی جنگ عظیم کے دوران میں برطانیہ اور فرانس کے مابین دو خفیہ معاہدے ہوئے۔ پہلا ١٩١٥ء میں جس کی رو سے ترکی سلطنت کے ایک بڑے حصے یعنی بلاد عرب کو دو منطقوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک منطقہ شام جس پر فرانس کا اثر و نفوذ تسلیم کر لیا گیا اور دوسرا منطقہ عراق جس پر برطانوی حقوق قائم ہو گئے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عربوں کی حمایت حاصل
٣٨
کرنے کی خاطر عربی لیڈروں کو یقین دلایا گیا کہ جنگ کے اختتام پر ایک آزاد عربی حکومت قائم کر دی جائے گی۔ دوسرا معاہدہ ١٩١٦ء میں ہوا۔ جب کہ ترکی حکومت کی شکست کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ اس کے ذریعے طے پایا کہ عراق کلیتہ برطانیہ کے قبضے میں رہے۔ شام فرانس کے حصے میں آئے۔ فلسطین ایک بین الملکی علاقہ ہو۔ حیفہ کی مشہور بندرگاہ ، بغداد اور بصرہ کے مشہور علاقے خلیج فارس کے ساحل تک برطانیہ کے اقتدار میں رہیں۔ سواحل شام کے ممالک کو بھی اسی طرح آپس میں تقسیم کر لیا گیا۔ اس معاہدے کا انکشاف اس وقت ہوا جب روس کی اشتراکی حکومت نے اپنی پیشرو زار کی حکومت کے کاغذات میں سے اس معاہدے کو نکال برطانیہ اور فرانس کو ننگا کرنے کی خاطر اسے شائع کر دیا۔ لیکن عربوں کو آخر تک یقین دلایا جاتا رہا کہ یہ جنگ محض آپ کو ترکی کے پنجہ ستم سے آزاد کرانے کے لئے اور آپ کی ایک مستقل سلطنت قائم کرنے کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ فاتح بغداد جنرل ماڈ کے ایک اعلان کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
”ہم آپ کے شہر میں فاتحانہ حیثیت سے داخل نہیں ہوئے..... بلکہ نجات دہندہ کی حیثیت سے آپ کو آزادی دلوانے آئے ہیں..... ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ کے علماء وفقہاء کی دیرینہ آرزوئیں پوری ہوں۔ آپ کا ملک پھر آزاد ہو اور اس میں ایسے آئین قوانین نافذ ہوں۔ جو آپ کی مقدس شریعت اور قومی روایات کے مطابق ہوں۔“
لیکن ان یقین دہانیوں کے باوجود برطانیہ اور فرانس نے عربی ممالک کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ جس کا ردعمل یہ ہوا کہ ان ممالک میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا۔ ان تحریکوں کو بزور شمشیر دبایا گیا۔ شام میں فرانس نے بے انتہاء مظالم ڈھائے۔ عراق میں جہاں ترکوں نے کبھی ١٤ ہزار سے زیادہ فوج نہ رکھی تھی۔ برطانیہ نے ٩٠ ہزار سے زیادہ فوج مسلط کر دی اور قتل وغارت کا بازار گرم کر دیا۔ صرف ١٩٢٠ء کے ایک موسم گرما میں دس ہزار عربوں کو قتل کر ڈالا گیا۔ لیکن اس کے باوجود جب تحریک آزادی تھمتی نظر نہ آئی تو اس نے یہ چال چلی کہ اہل عراق کو اپنا بادشاہ منتخب کرنے کا اختیار دینے کا اعلان کر دیا اور شریف حسین کے لڑکے فیصل کو جس نے برطانیہ کے زیر اثر رہ کر کام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اہل عراق کی خواہشات کے خلاف بادشاہ بنا دیا۔ عراق کے بااثر لیڈر طالب پاشا کو جس نے جنگ کے دوران میں برطانیہ کی عظیم الشان خدمات انجام دی تھیں۔ گرفتار کر لیا گیا اور لنکا لے جا کر قید کر دیا گیا۔ یہیں پر بس نہیں کیا۔ بلکہ عراقی حکومت کو ایسے معاہدے پر مجبور کیا گیا کہ جس کی رو سے عراق ہمیشہ کے لئے برطانیہ کے زیر اثر آ گیا۔ اس
٣٩
معاہدے کی تصدیق کے لئے عراقی پارلیمنٹ کے ارکان کو بستروں سے اٹھا اٹھا کر پولیس کی معرفت بلوایا گیا اور جبراً ان سے ووٹ دلوائے گئے۔
مصر : ١٨٧٥ء میں خدیو مصر اسماعیل پاشا کو جو کہ ایک نہایت عیاش طبع انسان تھا اور جس کے عہد میں مصری عوام کی حالت دگرگوں ہو چکی تھی۔ انگلستان کے وزیر اعظم نے جھانسا دیا کہ نہر سویز میں مصر کے جو حصے ہیں وہ انگلستان کے ہاتھ بیچ دو۔ چنانچہ ایک لاکھ ٧٧ ہزار حصوں کا فیصلہ صرف چالیس لاکھ گنی میں ہو گیا۔ یہ سودا برطانیہ کے لئے مصر پر اپنا اقتدار قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا۔ اب اس نہر کی حفاظت و نگرانی کے بہانے انگریزی فوجیں مصر میں داخل ہونے لگیں۔ ادھر خدیو مصر اپنی عیش پسندیوں کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور نہر سویز کو بیچ ڈالنے کے باوجود اس کی گلو خلاصی نہ ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین سال بعد مصر کی آمدنی کے خاص شعبے انگلستان اور فرانس کے کنٹرول میں آگئے اور خدیو کو صرف ایک مقرر رقم دی جانے لگی۔
ان سازشی کاروائیوں سے مصری عوام بھڑک اٹھے۔ خود اسماعیل پاشا نے بھی اس دلدل سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے چاہے۔ لیکن انگریزوں نے سلطان ترکی سے درپردہ ساز باز کر کے اسے معزول کروا دیا۔ یوں مصر میں انگریزی قبضے کی ابتداء ہوئی۔
١٨٨٢ء میں مصر کے وزیر جنگ عرابی پاشا کی قیادت میں مصری عوام نے ترکی اور فرنگی اقتداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ پسے ہوئے عوام اور پوری مصری فوج نے اس کا ساتھ دیا۔ مگر انگریزوں نے فرانس، ترکی اور خدیوتیوں کے سامنے اس بغاوت کا بھیانک نقشہ کھینچ کر ان کی تائید حاصل کی اور اس تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے فوجی اقدامات شروع کر دئے۔ دونوں فوجوں میں باقاعدہ جنگ ہوئی۔ برطانیہ نے اسکندریہ کے خوبصورت شہر پر بے دریغ بم برسائے۔ دو مہینے کے جدال و قتال کے بعد بالآخر عرابی پاشا کو شکست ہوئی۔ اسے گرفتار کر کے سزائے موت تجویز کی گئی۔ لیکن بعد ازاں اس کی مقبولیت عامہ سے ڈر کر اسے لنکا (سیلون) میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد برطانیہ کا ایک ایجنٹ مستقل طور پر مصر میں رہنے لگا اور بظاہر آزاد لیکن در حقیقت غلام ملک پر فرمانروائی کرنے لگا۔
گو شکست کھا کر بظاہر مصری عوام دب گئے۔ لیکن جلد ہی برطانوی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہوں نے مہدی سوڈانی کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع کر دیا۔ جس نے
٤٠
انا المہدی کا نعرہ لگا کر جہاد شروع کر رکھا تھا اور سوڈان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا تھا۔ مہدی کی یہ جدوجہد مصری، ترکی اور برطانوی تینوں حکومتوں کو ناگوار گزری۔ کیونکہ آئینی طور پر مصر کے زیر حکومت تھا اور مصر برائے نام ترکی کے زیر تسلط تھا۔ لیکن چونکہ ترکی اور مصر کی حکومتیں اس بغاوت کو فرو کرنے کی طاقت نہ رکھتی تھیں۔ اس لئے برطانیہ نے اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ١٨٨٩ء میں مصر کی حکومت سے سوڈان کی نگرانی اپنی طرف منتقل کرا لی۔ اس وقت مہدی کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کا بیٹا خلیفہ کی حیثیت سے اس کے کام کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ انگریزوں نے پوری قوت کے ساتھ ادھر توجہ کی اور ١٨٩٦ء میں لارڈ کچنر کی کمانڈ میں انگریزوں اور مصریوں کی متحدہ فوجوں نے سوڈانیوں کے خلاف جنگی کاروائی شروع کی جو دو سال تک جاری رہی۔ عوام کے دل سے مہدی کی عظمت کو دور کرنے اور اپنی آتش غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لئے انگریزوں نے قبروں سے ہڈیاں نکال کر ان کی توہین و تذلیل کی۔
تحریک مہدی کی شکست کے بعد ١٨٩٩ء میں برطانیہ و مصر کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کی رو سے سوڈان کی پوری حکومت پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا اور مصر میں حکومت کی نگرانی کے لئے ایک گورنر جنرل کا رہنا طے پایا۔ اس کے بعد مصر کے اصل حاکم انگریز تھے۔ وہ ظاہراً ترکی آئین وضوابط کی پابندی کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بہت سے ترکی ٹوپی بھی پہنتے اور حکومت کی طرف سے دیئے گئے خطاب پاشا کو بڑے فخر سے اپنے ناموں کے ساتھ لکھتے۔ لیکن یہ ان کی ریا کاری تھی۔ مصریوں سے ان کا جو سلوک تھا۔ اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو مشہور انگریز مصنف برنارڈ شا کے بیان کردہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ کافی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ کسی گاؤں میں چند انگریز افسر کبوتروں کا شکار کھیلنے گئے۔ وہاں ان کا گاؤں والوں سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تین مصری کسان زخمی ہوئے اور ایک نوجوان لڑکی انگریزوں کی گولیوں سے مرگئی اور ان کے گھر کو آگ لگ گئی۔ لڑکی کے شوہر نے طیش میں آ کر حملہ کرنے والے انگریز پر لاٹھی سے وار کیا۔ گاؤں کے دوسرے لوگ بھی اس کی مدد کو آئے۔ وہ انگریز بھاگے تاکہ اور مدد لائیں۔ ان میں سے ایک لو لگنے کے باعث راستے میں ہی گر کر مر گیا۔ تین انگریز جو وہیں رہ گئے تھے۔ ان کی گاؤں والوں نے خاصی مرمت کردی۔ اب انگریزی ریزیڈنٹ لارڈ کرومر کی آتش غضب بھڑک اٹھی۔ اس نے تمام گاؤں والوں کو گرفتار کر لیا اور سرسری تحقیقات کے بعد مقتول لڑکی کے خاوند اور اس کے ایک ساتھی کو عمر بھر کی قید سخت ایک ساٹھ سالہ بوڑھے کو اس کے گھر کے سامنے پھانسی، ایک اور پچاس سالہ کسان اور
٤١
ہیں اور بائیس سالہ دو نوجوان لڑکوں کو پھانسی دی گئی۔ ہر پھانسی پانے والے کو آدھ گھنٹہ تک لٹکا رہنے دیا جاتا تھا اور اس دوران میں بقیہ کسانوں کو پچاس پچاس کوڑے مارے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک آدمی کو پندرہ سال چھ کو سات سال، تین کو ایک سال قید سخت کی سزا دی گئی۔ مصنف مذکورہ نے یہ واقعہ لارڈ کرومر کی اس رپورٹ سے لیا ہے۔ جو اس نے برطانوی پارلیمنٹ کو بھیجی۔ پارلیمنٹ میں جب اس ظلم عظیم کا ذکر ہوا تو ان سزاؤں پر پورے اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
مصر کے اندر برطانوی مظالم کا تذکرہ ادھورا رہ جائے گا۔ اگر برطانیہ کے اس سلوک کا ذکر نہ کیا جائے جو اس نے جنگ عظیم کے دوران میں اہل مصر سے روا رکھا۔ ١٩١٤ء میں جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے چند دن بعد برطانیہ کی طرف سے مصر کی بابت یہ اعلان کیا گیا کہ مصر کو ملک معظم کی حمایت میں لیا جاتا ہے۔ آج کے بعد اسے برطانیہ کا زیر حمایت علاقہ سمجھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی خدیو مصر عباس ثانی کو معزول کر کے حسین کامل کو سلطان مصر بنا دیا گیا۔ اب بظاہر مصر جنگ میں شریک نہیں تھا۔ لیکن جنگ کے پورے چار سال میں اس کا کچومر نکال کر رکھ دیا۔ برطانیہ کا وعدہ تھا کہ مصریوں کو جنگ کے لئے بھرتی نہیں کرے گا۔ لیکن اس کے باوجود امدادی فوج کے نام سے مصری نوجوانوں کی ایک فوج تیار کی گئی۔ جسے ترکوں کے خلاف لڑایا گیا۔ اس کے علاوہ ہزاروں کسانوں کو ناقص اجرتیں دے کر جبراً کام لیا گیا۔ دریائے نیل کے دہانے کے پورے علاقے میں مارشل لاء نافذ تھا اور مصری عوام برطانوی فوج کے لئے لکڑیاں چیرنے اور پانی ڈھونے والے رہ گئے تھے۔ غلے کی تمام پیداوار فوجی ضروریات کے بہانے ضبط کی جاتی تھی۔ روئی کی پوری کی پوری فصلیں بہت ہی معمولی نرخ پر خرید لی جاتی تھیں۔ اونٹ اور خچر جو مصریوں کی گرانمایہ پونجی ہیں۔ سب فوجی ضروریات کے لئے لے لئے گئے تھے۔ غرض قاہرہ اور اسکندریہ کے ہوٹل والوں کو چھوڑ کر باقی سارا مصر جنگ کے دوران میں سخت مصیبت میں مبتلا تھا۔ مصری انگریزوں کے سخت شاکی تھے اور دامن پھیلا پھیلا کر اس دن کی دعا مانگا کرتے تھے۔ جب جنگ ختم ہو گی اور انگریزی چھاؤنیاں مصر سے واپس جائیں گی۔
یہ نمونہ ہے ان برکات کا جو برطانوی تسلط کے دوران میں مصر کو حاصل ہوئیں اور وہ ان برکات سے آج تک متمتع ہو رہا ہے۔ یہ ہے مختصر داستان مرزا قادیانی کے ممدوح رحیم و کریم دولت برطانیہ کی جن کو مرزا قادیانی نے اپنی پیش گوئی میں اسلامی انڈے قرار دے کر فرمایا کہ ان سے اسلام کے چوزے نکلیں گے۔
٤٢
اہمیت جہاد ...... کتاب اور حدیث کی روشنی میں
- ...... ١ میری آرزو اور خواہش ہے کہ میں اللہ کے راستے قتل کیا جاؤں اور پھر مجھے زندہ کیا
جائے۔ پھر قتل کیا جاؤں اور پھر مجھے زندگی عطاء ہو۔
- ...... ٢ فرمایا مجاہد فی سبیل اللہ کی مثال اس شخص کی ہے جو ساری رات نماز میں قرآن کی
تلاوت میں گزار دے اور دن کو روزہ رکھے۔
- ...... ٣ فرمایا مجاہد فی سبیل اللہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ دو چیزوں میں سے ایک چیز
اس کو ضرور عطا کرے گا۔ اگر شہید ہو تو جنت۔ ورنہ سالم غانم اور اجر عظیم آئے گا۔
- ...... ٤ فرمایا صبح کے وقت تھوڑی دیر شام کو تھوڑا سا وقت، جہاد فی سبیل اللہ تمام دنیا و مافیہا
سے بہتر ہے۔
- ...... ٥ حدیث قدسی یعنی حضورؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی بندہ میرے بندوں سے
میدان جنگ میں محض میری رضا کی خاطر رہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس کے تمام گناہ بخش کر اس کو داخل جنت کروں گا یا اس کو سالم معہ غنیمت اس کے گھر لاؤں گا۔
- ...... ٦ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور جہاد غم اور ہم
سے نجات دیتا ہے۔
- ...... ٧ فرمایا جو شخص مسلمان اتنی دیر تک بھی میدان جنگ میں فی سبیل اللہ لڑا۔ جس قدر اونٹنی
کا دودھ دہنے میں دیر لگتی ہے تو جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے۔
- ...... ٨ فرمایا جنت میں سو درجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے واسطے تیار کیا ہے۔ ہر ایک
درجے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
- ...... ٩ فرمایا جنت کا ایک خاص دروازہ ہے جس کا نام باب المجاہدین ہے۔ مجاہدین کے بغیر
کوئی داخل نہ ہوگا۔
- ...... ١٠ فرمایا جس شخص نے مجاہدین کو جہاد کے واسطے خرچ دیا اور خود گھر میں بیٹھا رہا اس کو
ایک روپیہ کے عوض سات سو کا ثواب ملے گا۔
- ...... ١١ اور فرمایا جو شخص اپنے خرچ پر فی سبیل اللہ خود میدان جنگ میں جہاد کے واسطے گیا۔
اس کو فی روپیہ خرچ کرنے کے بدلے سات ہزار کا اللہ تعالیٰ اجر عطاء کرے گا۔ پھر حضورؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ”واللہ یضاعف من یشاء“
٤٣
- ١٢...... فرمایا جس نے مجاہد کی کسی قسم کی اعانت کی اللہ تعالیٰ اس کو میدان قیامت میں سایہ
دے گا۔ اس روز بغیر اس کے سایہ کے، کوئی سایہ نہ ہوگا۔
- ١٣...... فرمایا جس شخص کے قدم جہاد میں غبار آلودہ ہوئے۔ ان قدموں پر اللہ تعالیٰ نے
دوزخ کی آگ حرام کی ہے۔
- ١٤...... فرمایا غبار فی سبیل اللہ اور دوزخ کا دھواں جمع ہرگز نہ ہوں گے۔
- ١٥...... فرمایا جس کے قدم جہاد میں غبار آلود ہوئے اس کے تمام جسم پر دوزخ حرام ہو گی۔
- ١٦...... فرمایا جس شخص کو فی سبیل اللہ جنگ میں کوئی زخم ہوا۔ قیامت کے دن اس زخم کا رنگ
زعفرانی ہوگا اور خوشبو مثل کستوری کے ہوگی۔
- ١٧...... فرمایا ایک رات اور ایک دن مسلم فوج کا یا سرحد کا جو شخص پہرا دے تو اس کے حق میں
ایک مہینہ نفلی روزہ اور ساری رات ایک مہینہ عبادت کرنے سے بہتر ہے اور اگر وہ پہرا دیتا ہوا اپنی موت مر جائے تو جو نیک عمل اپنی زندگی میں کرتا تھا وہ عمل اس کا قیامت تک جاری رہے گا۔
- ١٨...... فرمایا مرنے کے بعد سوا شہید کے، ہر ایک کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں۔
- ١٩...... فرمایا کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے اور تم کو جنگ میں
داخل کرے۔ جہاد کرو اللہ کے راستے میں جو شخص تھوڑی دیر بھی اللہ کے راستے میں لڑا جنت اس پر واجب ہو گئی۔
- ٢٠...... فرمایا جس آنکھ نے ایک رات مسلمان فوج کا پہرہ دیا، دوزخ اس پر حرام ہو گئی۔
- ٢١...... ایک صحابی نے ایک دفعہ ساری رات پہرہ دیا۔ اس کو فرمایا جنت تم پر واجب ہو گئی
ہے۔
- ٢٢...... فرمایا سواری کا اور تیرنے کا فن سیکھو۔ ان دونوں سے تیرنے کا فن مجھے زیادہ
محبوب ہے۔
- ٢٣...... ایک شخص نے عرض کی حضور ﷺ مجھے کوئی وصیت فرمادیں۔ فرمایا خدا کا خوف تمام
نیکیوں کی جڑ ہے اور اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ رہبانیت ہے۔
- ٢٤...... حضور سے پوچھا گیا کون سا جہاد بہتر ہے۔ فرمایا جو اپنے مال اور جان سے مشرکین
سے لڑے۔
٤٤
- ٢٥...... عرض کیا گیا بہترین قتل کون سا ہے۔ فرمایا جس کا خون اللہ کے راستے میں گرایا جائے
اور اس کا گھوڑا بھی اللہ کے راستے میں مارا جائے۔
- ٢٦...... فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت اللہ کے راستے میں ہمیشہ جہاد کرتی رہے گی۔
جہاں تک قیامت قائم ہو اور دوسرا لفظ یہ ہے کہ آخر حصہ اس امت کا مسیح دجال سے لڑے گا۔
قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ مشتری ہو کر مسلمانوں کی جان اور مال لینا چاہتا ہے اور اس کے عوض میں جنت دے گا اور جو لوگ اللہ کے راستے میں ماریں یا مارے جائیں یہ سودا بازی ہے اللہ سے۔ ابنِ قیمؒ نے اللہ کے اس سودا بازی کی اللہ کے رسولؐ کے ایک فعل سے مثال دی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت جابرؓ سے اونٹ خریدا۔ اس کے بعد اونٹ کو معہ اس کی قیمت کے واپس کر دیا۔ یہی مثال ہے قرآن کی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جان جہاد کے لئے خریدتا ہے اور اس کے عوض میں جنت عطاء کرتا ہے اور پھر اس شہید کو جان بھی واپس دے دیتا ہے۔ یہ اس کی جود اور محض فضل اور کرم ہے۔ نسائی میں ہے کہ تم لوگ جب جہاد کو چھوڑ دو گے۔ تو غیر مسلم حاکم اللہ تعالیٰ تم پر مسلط کرے گا۔ جہاں تک کہ تم پھر جہاد کی طرف لوٹو۔
میں نے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے احادیث کے ترجمہ پر اکتفا کیا ہے۔ یہ تمام احادیث شیخ الاسلام ابن قیم کی شہرہ آفاق کتاب زاد المعاد میں موجود ہیں۔
”قال الله تعالى قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الاخر ولا يحرمون ما حرم الله ورسوله ولا يدينون دين الحق من الذين اوتو الكتاب حتى يعطوا الجزية عن يد وهم صاغرون“
آیت کا ترجمہ یہ ہے۔ جو لوگ خدا اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ سچے دین (اسلام) پر ان کا ایمان ہے اور نہ وہ لوگ خدا اور اس کے رسول کے محرمات کو (جیسا خنزیر) حرام سمجھتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ ان سے جنگ کرتے رہو۔ اس وقت تک کہ یہ لوگ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ ذلیل اور خوار ہو کر۔
اب قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوستان میں انگریزی تسلط اور انگریزی راج میں مسلمان ہر طرح جنگ کرنے سے مجبور اور عاجز تھے۔ لیکن حتی المقدور اپنی آزادی کے اسباب اور وسائل کو تلاش کرنا اور کم سے کم آیت مذکورہ بالا کے ارشاد کے مطابق کہ نصاریٰ ہمارے محکوم ہونے
٤٥
چاہتیں نہ حاکم ۔ یہ اعتقاد اور یقین ہر مسلمان پر عین فرض تھا۔ چنانچہ اس فرض کی ادائیگی میں ایک مقدس جماعت علماء نے اپنی عمریں بسر کیں اور انگریز کے بڑے بڑے مظالم، قید و بند کے مصائب کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا اور انگریز کی قہر مانی قوت اور سطوت ان کو رضاء الہی اور حق گوئی سے ایک لمحہ تک اس مقدس فرض سے غافل نہ کر سکی۔ میری مراد اس جماعت سے حضرات علماء دیوبند ہیں ۔ رحمة الله عليهم اجمعين وشكر الله!
١٣٢٧ھ میں بعد فراغت کتب درسیہ خاکسار راقم الحروف نے شیخ الہند نہیں شیخ العالم حضرت مولانا محمود الحسن نور اللہ مرقدہ کی خدمت اقدس میں درخواست بیعت کی تو فرمایا میں جب مدرسہ کے بعد گھر جاؤں تو گھر آجانا، حسب الحکم جب بندہ حاضر ہوا تو فرمایا بانی مدرسہ حضرت قاسم العلوم کی بنائے مدرسہ سے غرض یہ تھی کہ ایک جماعت ایسی تیار کی جائے جو اطراف اکناف عالم میں تطہیر ہند از کفر کی سعی کرے۔ ورنہ قیامت میں ہم سب سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ تنہائی میں گھر بیٹھ کر اس خیال کو دل میں لانا بھی لوگ موت تصور کرتے تھے۔ اسی زمانے میں مرزا قادیانی جہاد کا رد، قرآن کی تردید، کفر کی حمایت، انگریز کی خوشنودی حاصل کرتے کرتے مسیح موعود اور مہدی موعود، نبی، رسول بن گئے یا للعجب دعویٰ یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ سے قرآن کے معارف بڑھ کر سمجھ سکتا ہوں اور جہاد کے رد میں یہ آیت قرآنی پیش کرتے ہیں۔ ”ولتکن منکم امة يدعون الى الخير“ سچ فرمایا : ”اذا لم تستحيی فافعل ماشئت“ یعنی بے حیا باش وآنچہ خواہی بکو۔ مرزا قادیانی کی کتاب (کرامت الصادقین ص١٨،خزائن ج ٧ص٦١) پر غلیظ اور گندہ کفر موجود ہے۔ ” پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا ہے۔ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ یہ بدیہی البطلان ہے۔“
نعوذ بالله من ذالك الکفر ! آیت مذکورہ کو جہاد کے خلاف اس کے رد میں پیش کرنا نا قرآن سے بیگانگی جہالت غباوت اور دغا بازی کا کھلا ثبوت ہے۔ دعوت الی الخیر کے اقسام میں سے ایک قسم تلوار بھی ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ جنگ احزاب کے بعد جب افواج کفار واپس ہوئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا آج کے بعد ہم ہمیشہ ان پر حملہ کریں گے۔ کفار ہم پر حملہ آور نہ ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جزیرۃ العرب کے بعد تمام روئے زمین پر حاملین قرآن اور فدایان رسول ﷺ نے دعوۃ الی الخیر کا یہ فرض جہاد بالسیف سے ادا کیا۔ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق حضرت ابوبکر، حضرت فاروق اعظم، حضرت عثمان اور حضرت علی اسد اللہ اور ان کی تمام
٤٦
افواج مہاجر اور انصار، قرآن کریم جن کی مدح اور تعریف کرتا تھکتا نہیں۔ نعوذ باللہ خونی ظالم ڈاکو فساد فی الارض کے بانی تھے۔ نہ انہوں نے قرآن سمجھا اور نہ حضور ﷺ کی حدیث سے واقف تھے۔ مرزا قادیانی نے قرآن سے یہ سمجھا کہ انگریز اسلام کے انڈے ہیں۔ جن سے عنقریب اسلام کے بچے مرغے نکلنے والے ہیں۔ سبحان اللہ ! مسیح موعود، مہدی، نبی، رسول کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف صحیح اور پوری ہوئی اور اب تک ہورہی ہے۔ ڈائر اور اڈوائیر جیسے خادمان اسلام ہزاروں نہیں لکھوکھا پیدا ہوئے۔ لارنس اور چرچل وغیرہ نے تو احیائے سنت اور توحید کی اشاعت میں وہ وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کہ اسلام کی تاریخ میں ان کے اسماء گرامی زر خالص سے لکھے جائیں گے۔ اب جو کچھ مصر، شام، فلسطین، ایران، عرب میں بقول مرزا قادیانی یہ اسلام کے چوزے اسلام اور مسلمانوں کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تمام دنیا پر ظاہر ہے۔ مسیح موعود نبی رسول محدث ہونا تو کجا، جس شخص میں نفس ایمان کی رتی بھی یا کم سے کم شرافت ہی ہو۔ وہ بھی اس قسم کے جھوٹ اور کذب بیانی سے عار اور احتراز ضروری سمجھے گا۔
احادیث متواترہ ادلہ محکمہ معمول بہا الامت سے تمسخر و استہزاء کرنے کے بعد بھی نبی اور رسول ہیں۔ سبحان اللہ ! اور مخالف کو دشنام دہی میں ایک بازاری سے کم نہ رہتا۔ جناب کا خاصہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق حضرت ابو ہریرہؓ سے بخاری اور مسلم میں حدیثیں مروی ہیں۔ مرزا قادیانی نے حضرت ابو ہریرہؓ کے حق میں جو گستاخی اور جو کلمات نازیبا اور ناشائستہ کہے ہیں۔ وہ ایک مسلمان سن کر بے ساختہ کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے اور جھوٹے پر خدا کی ہزار لعنت ہے۔ باب نزول عیسیٰ میں ہم مرزا قادیانی کے بعینہ الفاظ معہ حوالہ کتاب اور صفحہ پیش کریں گے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ قرآن اور سنت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام نے اسلام اور مسلمانوں کی روح جس پر اسلام کا بقاء ہے۔ اس کو مرزا قادیانی نے مٹانے میں کن کن روبہ بازیوں اور حیلہ سازیوں سے کام لیا اور یہ سب کچھ محض اغراض دنیوی شہوات نفسانی اور انگریز کی خوشنودی کے واسطے کیا۔ صحیح بخاری کی حدیث جو مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں ہے۔ یضع الحرب کی تفسیر ان الفاظ سے کی ہے۔ یعنی: ”کہ مسیح موعود کفار سے نہیں لڑے گا اور نہ جنگ کرے گا۔ بلکہ جو کچھ کرے گا اپنی نظر اور اپنی ہمت سے کرے گا اور خدا اس کی نظر میں عجیب عجیب تاثیرات رکھ دے گا اور اس کے فہم اور عقل کو تلوار و نیزہ کی قوت دے گا اور اس کو دلائل سے بھرا ہوا بیان عطاء کرے گا اور ایسی حجتیں اس کو سکھلائے گا جو اہل طغیان کا قطع عذرات کریں۔ پس یہی
٢٧
آسمانی حربہ ہے۔ جس کو انسان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ بلکہ رحمان کے ہاتھوں سے ملا ہے اور آسمان سے نازل ہوا ہے۔ نہ زمیں کی کارستانیوں سے۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے۔ جو ہمارا یہی اعتقاد ہے۔ جو ہم نے ذکر کر دیا نہ جیسا کہ اس نکتہ چین کند ذہن اور سفلہ مزاج نے سمجھا اور وہ ہمارے نزدیک صریح غلطی ہے اور ہم ایسے قائل کا تخطیہ کرتے ہیں۔ بیشک خطا کی جس نے ایسا کہا اور صریح ضلالت میں پڑ گیا۔ پس وہ حق جو ہم کو حکیم مطلق نے دکھایا اور لطیف علیم نے بتایا۔ وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حربہ آسمانی ہے۔ نہ زمینی اور لڑائیاں اس کی روحانی نظروں کے ساتھ ہیں۔ نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے قتل کرے گا۔ یعنی تصرف باطن اور اتمام حجت کے ساتھ نہ تیر اور نیزہ اور تلوار سے اور اس کی آسمانی بادشاہت ہے۔ نہ زمینی۔“
(نور الحق ص٥٢، خزائن ج٨ ص٧١، ٧٢)
تضع الحرب کی تفسیر یہ کہ مسیح جنگ نہیں کرے گا۔ یہ باطل اور لغو بیہودہ جھوٹ ہے۔ حدیث کا ایک ٹکڑا لے کر پوری حدیث کو چھوڑ دینا یہ کس قدر عیاری چالاکی اور دغا بازی ہے۔ جس صحیح بخاری کا مرزا قادیانی حوالہ دے رہے ہیں۔ اسی صحیح بخاری میں پوری حدیث یہ ہے۔ ”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا فیکسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة خير من الدنيا وما فيها“ حضورﷺ فرماتے ہیں۔ مجھے ذات پاک کی قسم ہے۔ جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ضرور عیسیٰ ابن مریم نازل ہوگا۔ حاکم عادل ہوگا۔ صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر قتل کرے گا۔ انکم ٹیکس نہ لے گا۔ دنیا میں مال کی فراوانی ہوگی۔ نماز کی ایک رکعت کو لوگ دنیا کے خزانوں پر ترجیح دیں گے۔ کیا یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔ تضع الحرب کا مطلب اور تفسیر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے مذکورہ بالا کارنامے انجام پانے کے بعد کفر کا زور ٹوٹ جائے گا۔ جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کے آسمانی حربے نے اور مرزا قادیانی کے تصرف نے دنیا میں کیا کیا، یہ ساری دنیا مرزائی اور غیر مرزائی پر واضح ہے کہ جناب کے دعویٰ مسیحیت ومہدویت کے زمانے سے لے کر آج تک ساری دنیا فتنہ اور فساد میں مبتلا ہو کر دن بدن تباہی اور بربادی کی لپیٹ میں گھر رہی ہے۔ کوئی انسان بشرطیکہ بے حیا اور ڈھیٹ نہ ہو۔ حدیث مذکورہ کا مصداق مرزا قادیانی کو کسی صورت بھی قرار دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا مرزا قادیانی حاکم تھے؟ جزیہ موقوف کرنا مرزا قادیانی کے اختیار میں تھا۔ (نور الحق حصہ
٤٨
اول) میں جہاد کا رد لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ہم حکومت کے انعام کے امیدوار ہیں۔ اسی کتاب کے میں عیسائی پادریوں کو اپنی فطری عادت کے مطابق مغلظات سناتے سناتے فرماتے ہیں۔ ”فحاصل الكلام انهم الدجال المعهود وانا المسيح الموعود وهذا فيصلہ اتفق عليه القرآن والانجيل وكدها الرب الجليل فما لكم لا تقبلون فيصلہ اتفق عليها حكمين عدلين “ حاصل کلام یہ ہے کہ یہ لوگ دجال معہود ہیں اور میں مسیح موعود ہوں اور یہ قرآن اور انجیل کا متفقہ فیصلہ ہے اور اس کو مؤکد طور پر خدا نے بیان فرمایا۔ کیا وجہ ہے کہ تم اس فیصلہ کو قبول نہیں کرتے۔ جس پر دو عادل حاکموں نے اتفاق کیا ہے ۔“ (نور الحق ص ٦٠ ،خزائن ج ٨ ص ٨٣ ) اب یہ عبارت کسی توضیح اور تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین کروڑ دفع کے سوا اور کیا کہا جائے لاہوری اور قادیانی ہر دو جماعت کے ہر ہر فرد کو ہماری گزارش ہے کہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا بتائیں کہ قرآن کی کسی سورت میں ہے اور اسی کتاب نور الحق میں جہاد کا رد لکھنے کے بعد کہ میں نے انگریز کی حکومت کے حق میں عرب مصر شام وغیرہ تمام ممالک اسلامیہ میں پورے گیارہ سال خرچ کئے۔ پادری عمادالدین ہمارے خلاف حکومت کو اکسا کر کامیاب نہیں ہو سکتا اور ہم سے حکومت بھی ناراض نہیں ہو سکتی ۔ فرماتے ہیں کہ:” بـل نــحــن مستحقون ان تسبغ الدولة علينا من اعظم العطيات تجزى جزا بمزاياها وتعيننا عند الضرورة وتحسبنا من المحسنين“ بلکہ ہم مستحق اس بات کے ہیں کہ سرکار انگریزی اپنے کامل انعام سے ہم کو متمتع فرمادے اور ہمارے نیک کام کی جزا بڑھ کر دے اور ضرورتوں کے وقت ہماری امداد کرنے اور ہمیں اپنے احسان کرنے والوں میں خیال کرے۔“
(نور الحق حصہ اول ص ٣٨، خزائن ج ٨ ص ٥٢)
ناظرین! خدارا انصاف، مسیح موعود اور مہدی معہود کی یہ شان ہونی چاہئے۔ کیا جہاد کا جو روح ہے، رد کرے اور معاونت کفر پر کفار سے طالب انعام رہتا ہو خدا کی قسم مجھے پھر خدا کی قسم اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کی ادنیٰ ترین جھلک بھی جس کو نصیب ہو بلکہ نفس ایمان بھی جس میں ہو وہ ایسا کام ہر گز نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ مسیحیت و معہودیت اور بروز محمدی وظل محمدی کا مدعی ہو ۔ فقط !
باب وحی کے بیان میں
قرآن کریم نے وحی کو دو قسم پر تقسیم کیا ہے۔ وحی رحمانی اور وحی شیطانی۔ وحی رحمانی جیسا
٤٩
کہ فرمایا: ”انا اوحينا اليك كما اوحينا الى نوح والنبيين من بعده“ اور وحی شیطانی جیسا کہ فرمایا: ”كذالك جعلنا لكل نبى عدوا شياطين الانس والجن يوحى بعضهم الى بعض زخرف القول غروراً“ اور فرمایا: ”وان الشياطين ليوحون الى اولياء هم ليجادلوكم“ ہر دو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر نبی کے واسطے ہم نے انسانی شیطان اور جنی شیطان دشمن بنا دیئے ہیں۔ ملمع سازی اور ابلہ فریبی کی باتیں بعض بعض کی طرف وحی کرتے رہتے ہیں اور شیطان وحی کرتے رہتے ہیں اپنے دوستوں کی طرف تاکہ وہ دین کے متعلق تم سے جھگڑیں۔ مختار ابن عبید عبداللہ ابن عمر کا سالا ہے۔ اس کے متعلق ابن عمر کو کہا گیا کہ مختار کا دعویٰ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ تو ابن عمر نے فرمایا کہ وہ سچ اور سچ کہتا ہے کہ شیطان اس کی طرف وحی کرتا ہے اور مختار نے جب حج کیا تو ابن عباس کو کہا گیا کہ مختار کا دعویٰ ہے کہ میں صاحب وحی ہوں۔ انہوں نے فرمایا سچ کہتا ہے۔ اس پر شیطانی وحی آتی ہے۔ ہر دو حضرات نے آیات مذکورہ کا حوالہ دیا کہ وحی شیطانی ہوا کرتی ہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ مختار جب کوفہ میں تھا۔ ابراہیم بن اشتر کی زیر کردگی اس نے اپنی فوجوں کو بنی امیہ کی افواج سے جنگ کی ترغیب دی اور کہا مجھ پر وحی ہوتی ہے کہ موصل میں تمہاری فوجیں فتح پائیں گی۔ چنانچہ موصل کے تین میل پہلے طرفین کی فوجیں باہم ٹکرائیں اور مختار کی افواج کو فتح ہوئی۔
امام شعمی لکھتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی مختار نے میرے روبرو کی تھی۔ جب فتح ہوئی تو مختار کے شیاطین معاونین نے مجھ سے کہا کہ دیکھ شعمی اب موقعہ ہے کہ مختار کی وحی پر ایمان لاؤ۔ میں نے کہا پیشین گوئی موصل کی تھی اور موصل میں تمہیں فتح نہیں ہوئی تو انہوں نے کہا: ”ومن يضلل الله فلا هادى له“ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ وحی شیطانی ہوا کرتی ہے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے ہے کہ ایک وقت حضور ﷺ رات میں چند صحابہ انصار کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک ستارا ٹوٹا اور روشنی ہوئی۔ تو صحابہ کو فرمایا کہ جہالت کے زمانے میں جب ستارا ٹوٹتا تو تم اس کے متعلق کیا اعتقاد رکھا کرتے تھے۔ تو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم خیال کرتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی ہستی پیدا ہو گی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی کی موت یا پیدائش کے واسطے ایسا نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ جب کوئی زمین پر اللہ تعالیٰ حکم نازل کرنا چاہتا ہے تو اہل عرش کو اطلاع دی جاتی ہے تو اہل عرش سے آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں۔ پھر اہل عرش ان کو اطلاع دیتے ہیں۔ پھر درجہ بدرجہ اس حکم کی اطلاع جب آسمان دنیا کے فرشتوں کو پہنچتی ہے تو شیاطین کچھ سن لیتے ہیں کہ
٥٠
فلاں وقت زمین پر فلاں حادثہ کسی قوم یا کسی خاندان یا کسی فرد کے متعلق ظہور پذیر ہوگا۔ پھر شیاطین اس میں کچھ اور اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اپنے چیلے چانٹوں کو اس خبر کی اطلاع دیتے ہیں اور وہ شیطان کے چیلے پیشین گوئی کے طور پر اعلان کر دیتے ہیں کہ ہمیں فلاں قسم کی وحی ہوئی ہے۔ چونکہ وہ القاء شیطانی صدق اور کذب سے مخلوط ہوتا ہے۔ اس واسطے وہ پیشین گوئی کبھی کبھی سچی ہوا کرتی ہے اور کبھی جھوٹی ثابت ہو کر مدعی کا منہ کالا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسود عنسی مدعی نبوت کو شیطان بعض امور غیبیہ پر اطلاع دیا کرتے تھے۔ جب مسلمانوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تو مسلمان اس بات سے خائف تھے اور اندیشہ ناک تھے کہ کہیں شیطان اس کو ہمارے اس مشورہ کی اطلاع نہ کر دے۔ چنانچہ اسود کا قاتل کہتا ہے کہ ہم جب اس کے قتل کا پورا عزم کر چکے تو اسود نے مجھے بلا کر کہا کہ مجھے وحی ہوئی ہے کہ تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم نے اپنے خاندان کی لڑکی تیرے نکاح میں دے دی ہے۔ اگر ہم تیرے دشمن ہوتے تو ایسا کیوں کرتے۔ آخر اس کی عورت نے جب اس کا کفر دیکھا اس نے مسلمانوں کو اس کے قتل پر اعانت کی اور قتل کر دیا گیا اور اسی طرح مسیلمہ کذاب کو شیاطین مغیبات پر اطلاع دیا کرتے تھے اور اس کی اعانت مدد کرتے تھے اور حارث دمشقی نے عبدالملک بن مروان کے زمانے میں دعویٰ نبوت کیا اور قید کر دیا گیا اس کے پاؤں میں آہنی زنجیر ڈال دیئے جاتے تو شیاطین اس کو کھول دیتے تھے۔ تلوار اور نیزوں کے وار اس پر کارگر نہ ہوتے تھے۔ پتھروں کو چھوتا تھا تو پتھر اس کی نبوت کی شہادت دیتے تھے۔ پتھر کو ہاتھ لگاتا تو پتھر سے تسبیح کی آواز آتی اور لوگوں کو بے شمار سواروں اور پیادوں کی افواج ہوا میں دکھلاتا اور کہتا کہ یہ فوجیں فرشتوں کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے میری امداد کے واسطے معین کر دی ہیں۔ جب اس کو قتل کے واسطے عبدالملک بن مروان کے سامنے جلاد نے نیزہ مارا۔ اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔ آخر خلیفہ عبدالملک نے جلاد کو کہا کہ بسم اللہ پڑھ کر وار کرو۔ چنانچہ بسم اللہ پڑھ کر جلاد نے نیزہ مارا تو حارث واصل جہنم ہوا۔ مسیلمہ کذاب بھی حضور ﷺ کی نبوت کا منکر نہیں تھا اور قرآن کے کلام اللہ ہونے کا قائل تھا اور اس کا یہ دعویٰ تھا کہ محمد ﷺ بھی رسول ہیں اور میں بھی رسول ہوں۔ ہم دونوں پر وحی نازل ہوتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا بھی بعینہ یہی دعویٰ ہے اور ایسے گمراہوں کے پاس بسا اوقات شیطان میوہ جات حلوہ وغیرہ لاتا ہے۔ جو اس ملک میں اس وقت دستیاب نہیں ہوتے اور بعضوں کو حج کے موسم میں شیاطین اڑا کر مکہ میں مقام عرفات پر لے جاتے ہیں کہ حضور ہم آپ کو حج کرانا چاہتے ہیں اور بعض گمراہ کن مصیبت یا کسی اور حاجت کے وقت مخلوق کو غائبانہ
٥١
پکارتے ہیں۔ خواہ وہ زندہ ہو یا میت ہو اور خواہ وہ مستغاث مسلمان ہو یا کافر نصرانی ہو یا کوئی مشرک ہو تو شیطان اس مستغاث بہ کی صورت و شکل پر ظاہر ہو کر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتا ہے اور مستغیث اپنے ظن اور اعتقاد میں سمجھتا ہے کہ یہ وہی حضرت ہیں یا فرشتہ ان کی شکل پر ظاہر ہوا ہے۔ جن کو میں نے پکارا ہے۔ حالانکہ وہ شیطان تھا۔ اس کو گمراہ کرنے کے واسطے یہ اس کی چال تھی۔ جیسا زمانہ جاہلیت میں شیاطین بتوں میں گھس کر مشرکین سے ہم کلام ہوا کرتے تھے۔ یہ سب مضامین ابن تیمیہ اور ابن کثیر کی کتابوں میں بعینہ موجود ہیں۔ ہم نے ان کی عربی عبارات کا اردو میں ٹھیٹھ ترجمہ کر دیا۔
(البدایہ والنہایہ از ابن کثیر ص ٢٧)
اور ٧٩ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حارث بن سعید متنبئ کذاب کو قتل کیا۔ یہ شخص ابوطلاس عیدری کا غلام تھا اور ایک روایت میں ہے کہ حاکم بن مروان کا غلام تھا۔ اصل اس کا مسکن جولا تھا اور دمشق میں سکونت پذیر تھا۔ نہایت عابد پرہیز گار تھا۔ پھر اس کے ساتھ شیطان نے اپنا داؤ کھیلا اور یہ اسلام سے نکل گیا اور اللہ کی آیات کا منکر ہوا اور حزب اللہ مخلصین سے جدا ہو کر شیطان کے تابعین سے ہو کر گمراہ ہوا۔ دین دنیا کا خسارہ اٹھا کر برباد اور خراب ہوا اور اس کا والد اپنے مسکن جولا میں تھا کہ حارث کو شیطان نے بہکایا۔ عبدالرحمن بن حسان کہتے ہیں کہ یہ شخص اس درجہ کا عابد زاہد تھا۔ اگر سونے کا لباس پہن کر بیٹھتا تو بھی اس کے چہرے پر زہد اور عبادت کے آثار نمایاں ہوتے اور جب یہ شخص تسبیح تہلیل میں شروع ہوتا تو سامعین حیران رہ جاتے۔ اس نے اپنے والد کو جولا میں لکھا کہ آپ جلدی تشریف لائیں۔ مجھے عجیب و غریب اشیاء پیش آتی ہیں۔ کہیں یہ شیطان کا دھوکا نہ ہو اور اس کے والد نے اس کو جواب دیا کہ شیطان کا اثر افاک اثیم پر ہوتا ہے۔ تم جس کے مامور ہوئے ہو اس پر قائم رہو اور یہ شخص مسجد میں اہل مسجد سے علیحدہ علیحدہ ہر شخص کو ملتا اور اپنا دعویٰ نبوت ظاہر کرتا اور کہتا کہ اگر تم میری نبوت کی تصدیق نہ کرو۔ میرے بھید کو بھی ظاہر نہ کرنا اور لوگوں کو بہت عجائبات دیکھا تا۔ اگر مسجد کے ستون کو ٹھوکر لگاتا تو اس سے بلند آواز سے سبحان اللہ والحمد للہ کی آوازیں آتیں اور ابونجمہ کا قول ہے کہ حارث متنبئ سرد موسم کے پھل اور میوے گرم موسم میں کھلاتا اور لوگوں کو کہتا کہ باہر میدان میں آؤ۔ تمہیں اپنی فوجوں کا معائنہ کراؤں اور لوگ جب باہر جاتے تو ہزار ہا پیادہ اور سوار لوگوں کو نظر آتے اور یہ کہتا کہ یہ فرشتے میری امداد کے لئے رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اس کی نبوت کا چرچا عام ہو گیا اور اس نے ایک دن قاسم بن مخیمہ کو دعوت دی اور کہا کہ اگر تم مجھے نبی نہ مانو تو میرے راز کو ظاہر نہ کرنا اور میں
٥٢
اللہ کی طرف سے جن کے متعلق ر پھر قاسم اس کے نبوت کی اطلاع مروان کے پاس دیا اور حارث مجھ رہا اور خلیفہ عبد میں آیا اور وہاں تھی اور اس کو علم ترکوں کا فوجی و قدس میں رہتا جب یہ شخص بیت دیجئے اور ہر ایک کا اعلان کروں جہاں حارث چھ مشرف زیارت اجازت نہیں ہے روشنی کی وجہ سے زمین دوز غار لو یہ حارث نے ڈال دیا گیا۔ ب زمین پڑتے تھے نے اس کو طعام تلقین اور وعظ اور خلیفہ نے ج
اللہ کی طرف سے نبی ہوں۔ تو قاسم نے کہا تو اللہ کا دشمن اور ملعون ہے اور ان دجالوں میں سے ہے جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی ہے کہ میرے بعد جھوٹے مدعیان نبوت آئیں گے۔ پھر قاسم اس کے پاس سے اٹھ کر ابو ادریس قاضی دمشق کے پاس گیا اور اس کو حارث کے دعویٰ نبوت کی اطلاع دی۔ پھر قاضی ابو ادریس اور مکحول اور عبداللہ بن ابی زائدہ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے پاس گئے اور حارث کا ماجرہ بیان کیا۔ عبدالملک بن مروان نے اس کے پکڑنے کا حکم دیا اور حارث چھپ کر بیت المقدس کی طرف چلا گیا اور خفیہ اپنی نبوت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا رہا اور خلیفہ عبدالملک نے نہایت اہتمام سے اس کی تلاش کا حکم دیا۔ جہاں تک کہ خود مقام نصیریہ میں آیا اور وہاں خلیفہ کو ایک شخص اہل نصیریہ سے ملاقات ہوئی۔ اس کو حارث کے پاس آمدورفت تھی اور اس کو علم تھا کہ وہ بیت المقدس میں فلاں جگہ چھپا ہوا ہے۔ اس نے خلیفہ کو کہا کہ خاص ایک ترکوں کا فوجی دستہ میرے ہمراہ دیجئے تو خلیفہ نے اس کو فوجی ترکی سپاہی دے کر اپنے نائب کو جو قدس میں رہتا تھا۔ لکھا کہ اس شخص کی امداد تم پر فرض ہے اور جو کچھ یہ کہے تمہیں ویسا ہی کرنا ہوگا اور جب یہ شخص بیت المقدس میں پہنچا تو شاہی نائب کو کہا کہ موم بتیاں جس قدر دستیاب ہوسکیں جمع کر دیجئے اور ہر ایک فوجی کے پاس ایک موم بتی ہونی لازمی ہے اور جس وقت میں ان کے روشن کرنے کا اعلان کروں۔ فوراً بتیاں روشن کر دی جائیں۔ یہ کہہ کر یہ شخص نصیری اکیلا اس حویلی میں گیا۔ جہاں حارث چھپا ہوا تھا اور اس کے دربان کو کہا کہ میں نبی اللہ سے ملاقات کرنی چاہتا ہوں اور مشرف زیارت ہونا چاہتا ہوں۔ دربان نے کہا صبح سے پہلے نبی اللہ کے پاس جانے کی کسی کو اجازت نہیں۔ پس اس شخص نے فوجی دستے کو چلا کر موم بتیوں کے روشن کرنے کا اعلان کیا۔ روشنی کی وجہ سے گویا رات دن ہوگیا اور نصیری نے حارث کو پکڑنے کا جب قصد کیا تو حارث زمین دوز غار میں چھپ گیا۔ نصیری نے اپنا ہاتھ ڈال کر حارث کا دامن پکڑ لیا اور فوجیوں کو کہا کہ لو یہ حارث ہے۔ پکڑو۔ پکڑ کر اس کے پاؤں میں لوہے کے زنجیر اور گردن میں لوہے کا طوق ڈال دیا گیا۔ یہ واقعہ کئی دفعہ پیش آیا۔ پاؤں سے آہنی بیڑیاں اور گردن سے طوق ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پڑتے تھے اور حارث کہتا تھا یہ میرا معجزہ ہے۔ جب خلیفہ عبدالملک کے پاس لایا گیا تو اس نے اس کو علماء کے حوالے کر دیا کہ یہ شخص شیطان کے بہکانے سے مدعی نبوت ہے۔ اس کو توبہ کی تلقین اور وعظ نصیحت کی جائے۔ علماء نے بہتیرا سمجھایا لیکن بے سود۔ آخر خلیفہ کے سامنے لایا گیا اور خلیفہ نے جلاد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ جلاد نے جب نیزہ مارا تو نیزہ دوہرا اور ٹیڑھا ہو کر بیکار
٥٣
ہو گیا اور حارث پر ذرا بھر نہ اثر ہوا۔ خلیفہ نے جلاد کو کہا کہ شاید تم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بغیر وار کیا ہے۔ جلاد نے کہا۔ بیشک میں بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تھا۔ دوبارہ جب بسم اللہ پڑھ کر وار کیا تو نیزہ حارث کے جگر سے پار تھا۔ اور مردار ہو کر مرا۔ ولید بن مسلم کی روایت ہے وہ کہتے تھے کہ الا بن زیاد عدوی کہتے تھے کہ مجھے عباد الملک پر یہ غبطہ ہے کہ اس نے حارث متنبتی کذاب کو قتل کر کے اجر عظیم حاصل کیا۔
باب نزول عیسیٰ علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بجسد العنصری مرفوع علی السماء ہونا اور دوبارہ زمین پر نازل ہو کر دجال کو قتل کرنا اس کا ثبوت قرآن اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ جن احادیث صحیحہ متواترہ سے نزول مسیح علیہ السلام کا ثبوت ہے وہ احادیث اپنی صحت اور ثبوت میں ان احادیث سے ائمہ حدیث کے نزدیک کم نہیں ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہے کہ صبح کی نماز کے دو رکعت فرض اور ظہر عصر عشاء کے چار چار فرض اور شام کے تین فرض اور ہر رکعت کے اندر ایک رکوع اور دو سجدہ ہیں۔ جس طرح امت محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام تعداد رکعات نماز میں متفق اور متحد ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم کے نزول پر امت محمدی حضور ﷺ سے لے کر آج تک متفق اور متحد ہے۔ بلکہ حضرات محدثین کے نزدیک نزول مسیح کے متعلق جو احادیث ہیں وہ تعداد رکعات والی احادیث سے بوجوہ اقویٰ اور اثبت ہیں۔ ”کمالا یخفی علی ماھر الفن“ اب اگر کوئی شخص صبح کی نماز کے فرض تین رکعت اور شام کی دو فرض کہے یا ہر رکعت کے اندر صرف ایک سجدہ یا تین سجدوں کا قائل ہو، تو وہ جھوٹا ہے۔ اسی طرح نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کاذب اور مفتری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اوّل تعامل امت ہے اور ثانی عقیدہ امت ہے۔ مرزا قادیانی کا امام مالک، ابن حزم اور ابن قیم، وابن تیمیہ پر بہتان وافتراء کہ یہ حضرات وفات مسیح کے قائل تھے اور بحوالہ امام بخاری حضرت ابن عباسؓ کے قول کی حقیقت عنقریب انشاء اللہ واضح ہو جائے گی۔ قرآن اور احادیث واجماع سے نزول مسیح علیہ السلام پیش کرنے سے اوّل مناسب ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال معہ حوالہ کتب و صفحہ ہم ناظرین کو دکھلائیں اور پھر ان اماموں کے اقوال ان کی تصانیف سے معہ حوالہ کتب و صفحہ ان کی عبارات نقل کر دیں۔ تا روئے سیاہ شود آنکہ دروغش باشد، تعجب بر تعجب۔ حیرت در حیرت ہے کہ ایک شخص بیسیوں سینکڑوں نہیں ہزار ہا جھوٹ بک کر مسیح موعود اور مہدی معہود، نبی اور رسول کے منصب پر متمکن اور قابض رہے اور اس پر اس کے جہلاء
٥٤
امتی آمنا و صدقنا کہیں۔ عقل اور شرم وحیاء کو بالائے طاق رکھ کر خدا کے عذاب اور خوف قیامت کی ذرا بھر پرواہ نہ کریں۔ خسر الدنیا والآخرہ کا مصداق ہوں۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب (انجام آتھم ص١٣٢، خزائن ج١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں اور بڑی دلیری سے لکھتے ہیں کہ امام مالک اور ابن حزم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔ ابن حزم نے اپنی مشہور کتاب ملل والنحل ج٣ ص٢٤٩ اور جلد چہارم ص ١٨٠ اور ص ٢٥٦ پر نزول حضرت عیسیٰ کے منکر کو قطعی کافر کہا ہے۔ جلد ثالث میں یہ عبارت ہے۔ ”واما من قال ان الله عزوجل هو فلان لانسان بعينه او ان الله يحل في جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد ﷺ نبياً غير عیسیٰ ابن مریم فانه لا يختلف اثنان فی تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا علی کل احد“ ترجمہ یہ ہے۔ جو کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص انسان میں یا مخلوقات کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول فرماتا ہے یا جو کوئی کہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی بغیر عیسیٰ بن مریم کے آئے گا، تو اس اعتقاد کے معتقد کو کافر کہنے میں امت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ یعنی تمام امت کا اس کے کفر پر اجماع اور اتفاق ہے۔ دیکھئے ابن حزمؒ نے جھوٹے کے منہ پر کس زور کا جوتا مارا۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب مذکورہ بالا میں کہا ہے کہ حضرت امام مالکؒ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے۔ سنئے! امام ابی مالکی نے شرح مسلم میں اور عتیبہ میں امام مالک کا قول ان الفاظ میں نقل فرمایا ہے۔ ”قال مالك بيننا الناس قيام تجتمعون لا قامت الصلوٰة فتغشاهم غمامة فاذا عیسیٰ قد نزل “ زرقانی مالکی اور ابو عبداللہ رازی مالکی نے شرح ترمذی میں امام مالک کا مذہب بڑی شرح بسط سے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ یہ دوسرا جوتا ہے۔ امام مالک کا جھوٹے مفتری کے منہ پر لعنت اللہ علی الکاذبین، مرزا قادیانی نے اسی کتاب مذکورہ میں کہا ہے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ بھی حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل تھے۔
ناظرین سنئے! شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الجواب الصحیح “ میں لکھتے ہیں۔
اہل اسلام اور اہل کتاب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسیح دو ہیں۔ ایک مسیح صاحب ہدایت اور دوسرا مسیح ضلال اور اہل کتاب کا قول ہے کہ مسیح ضلال حضرت یوسف کی اولاد سے ہے
٥٥
اور اہل اسلام واہل کتاب اس بات پر بھی متحد اور متفق ہیں کہ مسیح صاحب ہدایت آنے والا ہے اور مسیح ضلال بھی آنے والا ہے۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ کا اتفاق ہے کہ مسیح صاحب ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا اور پھر وہ دوبارہ آئیں گے۔ لیکن اہل اسلام کا قول ہے کہ وہ قبل قیامت نازل ہوں گے اور مسیح ضلال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اسلام کے سوا کوئی دین نہ رہے گا۔ تمام یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے۔ جیسا قرآن میں ہے: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا“ اور جمہور کا قول صحیح یہ ہے کہ قبل موت عیسیٰ علیہ السلام اور نصاریٰ کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ قیامت کے دن آئیں گے۔ مخلوق کا حساب لیں گے اور جزاء سزا دیں گے۔ انتہاء بلفظہ!
(الجواب الصحیح ص١١٣)
اسی واسطے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ”انه قد كان فى الامم قبلكم محدثون فان يكن فى امتى احد فعمرؓ“ یعنی گزشتہ امتوں میں محدث صاحب الہام ہوتے تھے اور تاکید و صیغہ جزم کے ساتھ فرمایا اور اپنی امت کے حق میں صرف ان کے ساتھ معلق فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت حضور کے بعد کسی نبی کی محتاج نہیں ہے۔ بخلاف گزشتہ امتوں کے کہ ان میں ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آتا تھا۔ اس واسطے وہ لوگ محدثین اور ملہمین کے محتاج تھے اور امت محمدی جب کسی نبی کی محتاج نہیں ہے تو اس کو کسی ملہم اور محدث کی تو بطریق اولیٰ ہرگز احتیاج نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان کا عمل شریعت محمدی پر ہوگا۔ انتہاء بلفظہ!
(الجواب الصحیح ص ٣٦٠)
یہ تیسرا جوتا ابن تیمیہ کا جھوٹے کے منہ پر لعنت اللہ علی الکاذبین انسان کا بجسد العنصری آسمان پر جانا ثابت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے اور دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ مسلمان اور نصاریٰ اس بات پر دونوں گروہ متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ جسم اور روح کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ چنانچہ احادیث صحیحہ میں اس کی خبر محمد رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ یہاں تک تو دونوں گروہ متفق ہیں۔ مگر اکثر نصاریٰ یہ کہتے ہیں۔ حضرت مسیح مصلوب ہونے کے بعد قبر سے نکل کر آسمان پر گئے اور یہود کا قول ہے کہ وہ سولی دیئے گئے اور آسمان پر نہیں گئے اور مسلمانوں کا
٥٦
مذہب یہ ہے جیسا کہ کتاب اور سنت سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول زمین پر قیامت سے پہلے قیام قیامت کے واسطے شرط ہے۔
(انتہاء بلفظہ الجواب ج٢ ص ١٦٥)
مفتری کذاب کے منہ پر پھر جوتا لعنت اللہ علی الکاذبین!
امام ابن قیم اپنی کتاب اقسام القرآن میں فرماتے ہیں: ”وهذا المسيح ابن مريم ؑ حى لم يمت وغذاه من جنس غذاء الملائكۃ“ اور یہی امام اپنی کتاب ہدایت الحیاریٰ میں فرماتے ہیں کہ مسلمان اور یہود و نصاریٰ ہر سہ گروہ ایک مسیح کی آمد کے منتظر ہیں۔ یہودیوں کا مسیح دجال ملعون ہے اور نصاریٰ مسیح کو خدا کہتے ہیں اور مسلمان جس مسیح کے منتظر ہیں وہ عبداللہ اور اس کا رسول اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم عذرا بتول کی طرف القاء فرمایا۔ عیسیٰ بن مریم وہ بھائی ہے محمد بن عبداللہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کا، وہ نازل ہو کر دین الٰہی اور توحید کو غالب کرے گا اور خدا کے ان دشمنوں کو جنہوں نے اس کو اور اس کی والدہ ماجدہ کو خدا ٹھہرایا قتل کرے گا۔ نیز یہودیوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اس کو اس کی والدہ کو بہتانوں سے متہم ٹھہرایا۔ یہی مسیح ہے جس کا نازل ہونا کتاب اور سنت سے ثابت ہے اور مسلمانوں کو جس کا انتظار ہے اس کو آسمان سے اترتا ہوا مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا شہر اور جگہ اور بوقت نزول لباس اور اترنے کے بعد ان کے کارنامے سب کی تفصیل فرمائی ہے۔ گویا کہ قبل از نزول ابھی مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہے ہیں۔ ایسا کامل مکمل نقشہ کھینچا کہ کسی بے ایمان کذاب مفتری کے واسطے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انتہاء بلفظہ کتاب ہدایت الحیاریٰ امام بن قیم رحمت اللہ علیہ!
ناظرین! امام مالکؒ اور ابن حزم و شیخ الاسلام بن تیمیہؒ اور امام ابن قیمؒ کی عبارات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ملاحظہ فرما چکے۔ اب خود فیصلہ فرمائیے کہ ایسا دلیر کذاب بہتان گر ایک شریف اور معمولی مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ نبی اور مسیح موعود اور مہدی معہود ہو۔ لاہوری اور قادیانی ہر دو جماعت کے وہ لوگ جو کسی منصب دنیاوی پر متمکن ہیں اور عطا دنیوی کے واسطے اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ کا مصداق ہو چکے ہیں۔ ان سے تو بہت کم امید ہے کہ وہ اسی گمراہی اور کفر سے تائب ہوں۔ مرزا بشیر الدین خلیفہ کو بالفرض اگر اس کا والد خود آ کر کہے کہ میرا راستہ اہل جہنم کا راستہ ہے تو یہ اپنے والد کو بھی جھوٹا کہے گا۔ مگر عوام مرزائی تو اپنی عاقبت کو تباہ اور برباد نہ کریں۔ جس شخص کی کذب بیانی اور افتراء پردازی اور فحش نگاری سے
٥٧
خدا تعالٰی اور حضورﷺ صحابہ کرام اور ائمہ اسلام اور قرآن کریم محفوظ نہ رہے ہوں وہ مسیح ہو سکتا ہے؟ چنانچہ خدا تعالٰی کے متعلق یہ کہتا ہوا نہ شرم کرے کہ ”خدا نے مجھ پر رجولیت کا اظہار فرمایا“ اور حضورﷺ کے متعلق یہ بکواس کہ ”جو کچھ حضورﷺ نے قرآن کے متعلق فرمایا ہے۔ اس سے بڑھ کر کہا جاسکتا ہے۔“ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق حضرت ابو ہریرہؓ سے حدیثیں مسلم و بخاری میں مروی ہیں۔ تو حضرت ابو ہریرہؓ کے حق اور شان میں وہ گستاخی ہے کہ کوئی مسلمان ہرگز ہرگز نہیں کر سکتا۔ چنانچہ یہ سب کفریات انشاء اللہ عنقریب اپنے اپنے محل پر ناظرین کے سامنے آجائیں گے۔
قبل ازیں کہ کتاب اور سنت واجماع امت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر ہونے اور قریب قیامت نازل ہو کر دجال کو قتل کرنے کا ثبوت ہم پیش کریں۔ لفظ توفی کا معنی لغوی اور محاورہ قرآن اس باب میں کیا ہے۔ ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں۔ سب سے اوّل قابل غور یہ ہے کہ قرآن کو الحمد سے لے کر والناس تک بار بار پڑھ جائیے۔ لفظ توفی اور حیوۃ میں تقابل کسی ایک جگہ میں بھی ہرگز نہ ملے گا۔ جیسا کہ موت کے لفظ کے مقابل لفظ حیوۃ قرآن میں آیا ہے۔ قرآن کریم نے لفظ حیوۃ کی ضد موت کو بیسیوں جگہ فرمایا ہے اور توفی کو ایک جگہ بھی نہیں کہا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ توفی کا معنی موت نہیں ہے۔ آیات ذیل پر غور کیجئے۔ ”يحيى الارض بعد موتھا“ اور ”یحیی ویمیت“ اور ”کفاتاً احیاء وامواتاً“ اور ”یحییکم ویمیتکم ھو امات واحیا“ اور ”لا یموت فیھا ولا یحیی“ اور ”یخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی“ اور ”ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء“ اور ”اموات غیر احیاء“ اور ”ومن یخرج الحی من المیت“ اور ”توکل علی الحی الذی لا یموت“ اور نمرود نے کہا ”انا احی وامیت“ اور ”احیی الموتی باذن اللہ“ اور ”فاحینا بہ الارض بعد موتھا“ اور ”علی ان یحیی الموتی“ اور ”یحیی ویمیت وھو علی کل شئ قدیر“ اور آیات کثیرہ ہیں۔ قرآن میں جس سے صاف ظاہر ہے کہ حیوۃ کی ضد موت ہے نہ توفی اور مقابلات توفی قرآن نے اور امور بیان کئے۔ باعتبار اس کے معنی کے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ”کنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم“ بیان توفی کا مقابل ”فیھم“ کو لایا گیا ہے۔ آیت کریمہ ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی
٥٨
قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى “ میں توفی کو مقسم قرار دیا ہے اور اس کی دو قسمیں فرمائیں۔ ایک ارسال اور دوسری امساک۔ حین موتھا کی قید نے صاف بتلا دیا ہے کہ توفی کا معنی عین موت نہیں ہے اور فی منامھا کی قید سے ظاہر ہوا کہ نوم میں توفی ہوتی ہے اور موت نہیں ہوتی۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے مقابل میں شرم اور حیا اور خدا کا خوف نہیں ہے۔ ورنہ قرآن نے صاف فیصلہ دے دیا ہے کہ توفی لغت عرب اور محاورہ قرآن میں موت کے واسطے موضوع نہیں ہے اور سنئے :”وهو الذى يتوفاكم باليل ويعلم ما جرحتم بالنهار ثم يبعثكم “ یہاں توفی کا مقابل جرح یا بعث ہے موت نہیں ہے اور سنئے۔ قرآن میں توفی کی اسناد اکثر فرشتوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی آئی ہے۔ موت کی اسناد قرآن میں سوا اللہ تعالیٰ کے ہرگز نہیں ہے۔ جیسا کہ: ”هو يحيى ويميت واليه ترجعون “ اور ”حتى اذا جاء احدكم الموت توفته رسلنا “ اور سنئے ”حتى يتوفاهن الموت “ یہاں اگر ”یمیتھن الموت “ کہا جائے تو رکیک ہے۔ جس کو قرآن کی فصاحت برداشت نہیں کرسکتی۔ کیونکہ فعل فاعل کا عین نہیں ہوا کرتا اور سنئے۔ ”آیت الله يتوفى الانفس “ سے مراد ارواح ہیں۔ نہ اشخاص تو آیت کا مطلب ہر حال میں اخذ بقبض ہوگا۔ اس واسطے کہ روح کو موت اور فناء نہیں ہے۔ حین موتھا سے مراد موت ابدان ہوگی۔ روح کی طرف اضافت ادنیٰ ملابست کی وجہ سے ہے اور لیجئے ”وانما توفون اجوركم يوم القيامة “ کیا قیامت کے دن اجر اور ثواب کو موت دی جائے گی اور لیجئے ”وانا لموفوهم نصيبهم غير منقوص وغير ذالك الايات الكثيره “ الغرض مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ جب فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول ذی روح ہو تو توفی کا معنی سوا موت کے اور کوئی نہیں۔ یہ سفید جھوٹ ثابت ہوا اور توفی کا معنی اخذ الشی بتمامہ یعنی کسی چیز کو جمیع اجزائه لینا اور شرح قاموس میں ہے۔ ”مات فلان ميتة بوفاء ای فی طول العمر وليس التوفى ههنا فى عيسى عليه السلام الا بعد استيفاء عمره “ اور ائمہ لغت اور تفسیر کے ہاں توفی کا معنی گنتی کا پورا کرنا بھی ہے۔ امام زجاج نے ”حتى اذا جاء تهم رسلنا يتوفونهم “ کی تفسیر ”يستوفون عددهم عند حشرهم الى النار “ کی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ توفی حشر میں ہوگی توفی موت کے معنی میں کنایہ کے طور پر مستعمل ہے۔ نہ وضعاً امام ابوالبقاء عسکری جن کے متعلق ابن خلکان نے لکھا ہے کہ علم نحو اور فن لغت میں اپنے عہد میں فرید المثال اور بے نظیر تھے۔ اپنی کلیات میں لکھا ہے کہ توفی کا معنی اماتت و قبض روح عوام الناس ٥٩
کے نزدیک ہے اور فصحاء و بلغاء کے کلام میں توفی کا معنی استیفاء واخذ الحق ہے۔ ظلم یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی کے ہاں ایسے مواقع پر تمام ائمہ لغت مسلوب الامامت اور ابعد عن العلوم ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً جب اپنی اصطلاح میں ہر احلام کا نام الہام رکھ دیتے ہیں۔ پھر نہ کتاب وسنت اور نہ لغت کا لحاظ کسی چیز کی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ اپنے الہامات کے باعث نبی رسول مسیح موعود بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لاحول ولا قوة نعوذ بالله من ذالك!
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گئے اور قتل ہو گئے۔ بلکہ یوں فرمایا ہے کہ یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی“
حضرت مسیح کا قول ”فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم“ اور سورۃ النساء میں یہودیوں کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان کو ذلیل خوار کیا۔ ان کی ذلت کی وجہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی وجہ سے اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور حضرت مریم پر بہتان عظیم لگانے کے باعث اور ان کے یہ کہنے کے باعث کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ جو اللہ کا رسول بزعم خود تھا اور بات یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح کو نہ قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو شبہے میں ڈال دیا۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ کے متعلق اختلاف میں ہیں۔ ان کو کوئی علم نہیں۔ مگر ظن وگمان کا اتباع کر رہے ہیں۔ یقینی بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ غالب حکیم ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی مذمت کی ہے۔ حضرت مریم پر بہتان لگانے سے اور حضرت عیسیٰ کے قتل کے مدعی ہونے کی وجہ سے اور اس مذمت میں نصارٰی داخل نہیں ہیں۔ اس واسطے کہ سولی کا سوانگ صرف یہودیوں نے رچایا تھا۔ اس موقع پر کوئی نصرانی موجود نہ تھا۔ حضرت عیسیٰ کے حواری بھی مارے ڈر کے غائب تھے اور اس موقع پر صرف یہودی حاضر تھے اور جو نصرانی حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کے قائل ہوئے ہیں وہ بھی ان یہودیوں سے نقل کرتے ہیں۔ جو اس وقت ظالموں کے ممد اور مددگار تھے اور وہ کوئی مجمع کثیر نہ تھا کہ ان کا کذب عقلاً ممتنع ہو۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور مصلوب ہونے کی نفی کی ہے اور فرمایا کہ جمیع اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ہیں۔ جمہور مفسرین کا یہ قول ہے اور بعض کا قول ہے کہ ضمیر کا مرجع یہود ہے اور یہ قول ضعیف ہے۔ جیسا کہ بعض نے مرجع حضور ﷺ کو قرار دیا ہے۔ اس واسطے کہ کوئی اہل کتاب
٦٠
قبل از موت حضورﷺ پر ایمان لائے تو مؤمن ہو کر مرا نہ کافر اور قبل موتہ کا مرجع یہودی اور نصرانی تو ہو ہی نہیں سکتا کہ خلاف واقع اور مشاہدہ ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ غرغرہ کے وقت کا ایمان مراد ہے۔ یہ ایمان ایمان شرعی نہیں ہے کہ سودمند ہو۔ اس وقت تو مغیبات کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی خصوصیت کا کیا معنی اور اللہ تعالیٰ کا قول لیؤمنن یہ فعل مقسم علیہ ہے اور مستقبل کے واسطے ہوا کرتا ہے اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہود اور نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ پر ایمان لانا اللہ کے اس خبر دینے کے بعد ہوگا اور اگر قبل موتہ اسکا ہی مراد ہوتا تو عبارت یوں ہوتی ۔ الا من یؤمن بہ اور لیؤمنن بہ نہ ہوتی اور آیت میں مراد اہل کتاب سے یہود اور نصاریٰ دونوں فریق کہ حضرت عیسیٰ پر ان کے نزول کے بعد ایمان لائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں نہ کاذب ہیں اور نہ خدا ہیں اور جمیع اہل کتاب کا ایمان لانا حضرت عیسیٰ پر مراد اس عموم سے وہ عموم ہے جو لوگ اس وقت موجود ہوں گے جو مر چکے ہوں گے۔ وہ اس عموم میں داخل نہیں ہیں۔ جیسا کہ حدیث ہے کہ دجال ہر شہر میں داخل ہوگا۔ سوا مکہ اور مدینہ کے، ظاہر ہے جو شہر دجال سے پہلے برباد اور ویران ہو چکے ہوں گے۔ وہ مراد نہیں ہو سکتے۔ یہود و نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ پر ایمان لانا اس کا سبب ظاہر ہے۔ جب ان کو مؤید من اللہ رسول دیکھیں گے کہ نہ کذاب ہیں اور نہ رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ان پر ایمان لانا ذکر فرمایا۔ جب وہ زمین پر نازل ہوں گے اور وہ قبل از قیامت نازل ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ نہیں ہے وہ عیسیٰ مگر بندہ۔ ہم نے اس پر انعام کیا اور بنی اسرائیلوں کے لئے ایک مثال اس کو بنایا اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے زمین پر خلیفے بناتے اور بیشک وہ عیسیٰ قیامت کے واسطے ایک شرط ہیں۔ پس تم کوئی شک نہ کرو اور بخاری اور مسلم میں ہے۔
فرمایا رسول اللہﷺ نے عیسیٰ بن مریم تم میں نازل ہوں گے۔ حاکم اور عادل ہو کر۔ امام اور منصف ہو کر۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور فرمایا اللہ نے کہ یہودیوں نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی چڑھایا اور یقینی بات ہے کہ اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ نے ان کو زندہ اٹھا لیا اور قتل سے سلامت رکھا۔ یہ قرآن کا بیان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں گے۔ اس کی وفات سے پہلے اور لفظ توفی لغت عرب میں اس کا معنی کسی چیز کا پورا پورا لے لینا اور قبض کرنا ہے اور یہ تین قسم ہے۔ توفی النوم، توفی الموت، توفی الروح والبدن جمعاً اسی سبب سے عیسیٰ علیہ السلام زمین کے رہنے والوں میں جو حوائج ہوتے ہیں
٦١
ان سے پاک کر دیئے گئے۔ مثلاً کھانا پینا، لباس، بول براز وغیرہ۔
(جواب الصحیح ج ٢ ص ٢٨٠)
اور اللہ تعالیٰ کا قول انی متوفیک کے متعلق چند امور یاد رکھنے چاہئیں۔ لفظ توفی کے متعلق کلیات ابوالبقاء میں ہے۔ ”التوفی اماتة وقبض الروح عليه استعمال العامة اوالاستيفاء اخذ الحق وعليه استعمال البلغاء“ (توفی کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا) گویا ان کے نزدیک موت پر بھی توفی کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کر لی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو کہ خدا تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اسے بطریق اولیٰ کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے توفی کے معنی قبض روح لکھے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح معہ البدن کو توفی نہیں کہتے نہ کوئی ضابطہ بتلایا ہے کہ جب توفی کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو۔ تو بجز موت کے کوئی معنی نہ ہوسکیں گے۔ ہاں چونکہ عموماً قبض روح کا وقوع بدن سے جدا کر کے ہوتا ہے۔ اس لئے کثرت عادت کے لحاظ سے اکثر موت کا لفظ اس کے ساتھ لکھ دیتے ہیں۔ دونوں کا معنوی مدلول قبض روح معہ البدن کو شامل ہے۔
دیکھئے! ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها (زمر: ٤٢)“ پس توفی نفس قبض روح کی دو صورتیں بتلائیں۔ موت اور نیند اس تقسیم سے نیز توفی کو انفس پر وارد کر کے اور حین موتھا کی قید لگا کر بتلا دیا کہ توفی اور موت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے۔ دوسرا وہ جو نیند کی صورت ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں پر توفی کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں۔ ”يتوفاكم باليل ويعلم ماجرحتم بالنهار (انعام)“ اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر توفی کا اطلاق جائز رکھا۔ حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر آل عمران اور مائدہ کی دو آیتوں میں توفی کا لفظ قبض روح معہ البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کون سا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت اور نوم میں لفظ توفی کا استعمال قرآن کریم نے ہی شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عموماً اس حقیقت سے ہی نا آشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالیٰ کوئی چیز آدمی سے وصول کر لیتا ہے۔ اسی لئے لغۃً اس کا استعمال موت اور نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا۔ قرآن کریم نے موت وغیرہ
٦٢
کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اول اس لفظ کا استعمال شروع کیا تو اسی کو حق ہے کہ موت ونوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کرلے۔
بہر حال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک توفی سے مراد موت نہیں اور ابن عباسؓ سے بھی صحیح ترین روایت یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ زندہ اٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں۔ بلکہ تلخیص الحبیر میں حافظ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کیا ہے اور کما فی اکمال المعلم میں امام مالکؒ سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح علیہ السلام نے دکھلائے۔ ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کر دیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا میرے پھونک مارنے سے باذن اللہ پرند بن کر اوپر اڑا چلا جاتا ہے۔ کیا وہ بشر جس پر خدا نے روح اللہ کا لفظ اطلاق کیا اور روح القدس کے نفخہ سے پیدا ہوا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا کے حکم سے اڑ کر آسمان تک چلا جائے۔ جس کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی اچھے اور مردے زندہ ہو جائیں۔ اگر وہ اس موطن کون وفساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں کی طرح آسمان پر زندہ اور تندرست رہے۔ تو کیا استبعاد ہے۔ قال قتادہؓ ...................... مع الملائکہ فہو معہم حول العرش وصار انسیا ملکيا سماويا ارضيا “ اور جب توفی کا معنی اخذ الشی بتمامہ ثابت ہوا تو توفی مقدمات رفع سے ہے اور یہی وجہ ہے مفسرین کے اختلاف کی، لفظ توفی میں چونکہ اس کے تین معنی ہیں۔ مفسرین نے اس واسطے کبھی معنی ایک لیا کبھی دوسرا اور کبھی تیسرا۔ بلکہ ایک ہی مفسر نے کبھی ایک جگہ ایک معنی اور دوسری جگہ دوسرا معنی مراد لیا ہے اور یہ حقیقتاً اختلاف نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے الدرالمنثور میں النسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ میں صحیح سند سے عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا نقل کیا ہے اور ابن عباسؓ ہی سے بخاری نے موت کا معنی نقل کیا ہے۔ اسی واسطے کہ موت بعد از نزول قرب قیامت میں ہوگی اور امام بخاریؒ نے ابن عباسؓ کا قول بلا اسناد نقل کیا ہے۔ امام ابن حجرؒ نے فتح میں کہا ہے کہ ابن عباسؓ کی مراد موت سے بعد از نزول ہے۔ دوسرا یہ قول ابن عباسؓ کا اس کی اسناد میں عندالمحدثین متکلم فی ہے۔ یعنی محدثین کو اس کی صحت اور عدم صحت میں اختلاف ہے۔ یہی وجہ ہے امام بخاریؒ کا اس قول کو بے محل اور بلا سند نقل کرنے کی اور مرزائی ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان
٦٣
سے نازل ہونا کسی حدیث میں نہیں آیا۔ یعنی حدیث میں لفظ سما کوئی نہیں ہے۔ جواباً عرض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ”ینزل من السماء“ امام بیہقی کی کتاب اسماء والصفات ص ٤٠١ پر صحیح سند سے موجود ہے اور کنز العمال میں موجود ہے۔
نیز قابل غور بات یہ ہے کہ تمام مفسرین کے ہاں یہ بات مسلم ہے اور مرزائی بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ مولوی محمد علی لاہوری نے بھی یہی لکھا ہے کہ سورۃ آل عمران ابتداء سے لے کر آیت مباہلہ تک وفد نجران کی آمد پر نازل ہوئی۔ یہ نصرانیوں کا وفد جس میں ستر کے قریب بڑے بڑے پادری موجود تھے۔ مدینہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے مناظرہ کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا ہونے کا جب حضور ﷺ نے انکار کیا تو انہوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ عیسیٰ کا باپ کون تھا۔ اس پر یہ قریباً نوے آیات نازل ہوئیں۔ انہی آیات سے یہ آیت بھی ہے۔ ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک“ عیسائیوں کا یہ مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور دوبارہ قیامت کے دن نازل ہوں گے۔ اب قابل غور یہ ہے کہ اگر انی متوفیک کا معنی موت ہوتا تو قرآن نے ان کو اور تمام مسلمانوں کو وہی لفظ بول کر جو ان کے عقیدہ کے موافق تھے۔ ہمیشہ کے لئے غلطی میں مبتلاء کیوں رکھا اور نصرانیوں نے اس کو تسلیم کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ متوفی کا معنی موت آیت میں نہیں ہے اور اسی مناظرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے ان نصرانیوں کو فرمایا۔ ”ان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء“ یعنی عیسیٰ پر ایک وقت فنا آئے گی۔ یأتی صیغہ مستقبل کا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ پر آئندہ ایک زمانے میں موت آئے گی۔ محمد علی لاہوری نے اپنی تفسیر میں مضارع کا ماضی کے معنی کے ساتھ ترجمہ کیا ہے کہ عیسیٰ پر فنا آچکی ہے۔ یہ نہایت بددیانتی اور بے ایمانی ہے۔ جس شخص میں معمولی حیاء بھی ہو۔ وہ بھی ایسا فریب اور دغا کرنے سے شرماوے۔ مگر ان لوگوں کی اپنے نبی کے موافق عادت ہے کہ جھوٹ سے ذرا بھر پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کسی کتاب میں یأتی کے سوا اتی کا لفظ ہرگز نہیں آیا۔
طرہ یہ ہے کہ بزعم خود مسیح موعود صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق قرآن اور دوصد احادیث اور حضور ﷺ کے زمانے سے آج تک تمام امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ان کی وفات کا قائل ہے اور حضرت موسیٰ کے آسمان پر زندہ ہونے کا قائل ہے کہ حضرت موسیٰ کی تاحال وفات نہیں ہوئی۔ چنانچہ اپنی کتاب (نور الحق حصہ
٦٤
اول ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨، ٦٩) پر یہ ارشاد ہے: ”عیسیٰ صرف ان نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے۔ جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔“
یہ عبارت کا ترجمہ مرزا قادیانی کا ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہے۔
ناظرین اور سنئے ! مرزا قادیانی اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٣٥، خزائن ج ٧ ص ٢٢١) پر یوں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ ”بل حياة كلیم الله ثابت بنص القرآن الا تقرء في القرآن ما قال الله تعالى فلا تكن فى مرية من لقائه وانت تعلم ان هذه الاية نزلت فى موسى فهى دليل صريح على حيات موسى لانه لقى رسول الله والاموات لا يلاقون الاحياء “ترجمہ: بلکہ موسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ کیا تو نہیں پڑھتا قرآن میں جو کچھ اللہ نے فرمایا۔ فلا تكن فی مرية اور تجھے علم ہے کہ یہ آیت حضرت موسیٰ کے حق میں نازل ہوئی ہے اور یہ صریح دلیل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کی۔ اس واسطے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ملے ہیں اور مردے زندوں سے ملاقات نہیں کرتے۔“
قربان جائیے۔ تیری مسیحیت اور مہدویت پر کچھ شرم اور حیاء ہو یا خوف خدا ہو تو اس کذب اور افتراء پر اس قدر جسارت اور دلیری ممکن نہیں۔ کیا یہ صریح دلیل نہیں ہے تمہاری جہالت اور کمینگی کی۔
اچھا صاحب! یہ فرمائیے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام موسوی شریعت کے خادم ہو سکتے ہیں تو شریعت محمدی کے خادم ہونے میں شرعاً عقلاً کیا قباحت ہے اور تم لوگ اپنے بے ایمان اور بے حیاء ہونے کے باعث قرآن اور سنت سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہو اور کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اتنی مدت سے بول براز کرتے رہے تو آسمان پر کس قدر غلاظت جمع ہو چکی ہوگی۔ اب اگر مسلمان تمہاری اس حماقت کا الزامی جواب یہ دیویں کہ حضرت موسیٰ کے متعلق جو تم جواب دو گے وہی ہماری طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جواب ہے۔ تمہیں شرم
٦٥
اور حیاء ہو تو ان خرافات سے اجتناب کرو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور تحقیر کر کے تم ملعون ہو گئے۔ جیسا کہ تم اور تمہارے کذاب نبی نے ان کو قاتل خونی ڈاکو شرابی وغیرہ وغیرہ کہا۔ کیا یہ نصوص صریحہ کی تکذیب اور انکار نہیں ہے۔ چنانچہ (نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ ص ٦٨) پر بڑے کذاب کی یہ عبارت ہے: ”كلم الله موسى على جبل وكلم الشيطن عيسىٰ على جبل فانظر الفرق بينهما ان كنت من الناظرين“ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر کلام کیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہاڑ پر شیطان نے کلام کیا۔ دونوں میں فرق کیا ہے۔ اے مخاطب تو خود غور کر۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وفات نہ پانے کا یقین یہ دو حال سے خالی نہیں ہے۔ یا نصوص سے بے خبری یا دیدہ دانستہ کتاب اور سنت کا نقض، ہر حالت میں کفر صریح اور بے حیائی قبیح ہے۔ نعوذ بالله من ذالك الكفر!
سورہ سجدہ پارہ ٢١ میں یہ آیت ”ولقد آتينا موسى الكتاب فلا تكن في مرية من لقائه“ اب دیکھئے من لقاء میں ضمیر کا مرجع قاعدہ نحوی کے رو سے کتاب ہے۔ جو اقرب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی۔ اسی طرح آپ کو قرآن دیا۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور ضمیر کا مرجع اگر لفظ موسیٰ ہی کو مان لیا جائے تو یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ حضرت موسیٰ کی وفات نہیں ہوئی۔ دیکھو حضرت موسیٰ کی وفات کا بیان صحیح بخاری میں ہے۔ بسط اور وضاحت سے حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ فلاں ریگ کے سرخ ٹیلے کے قریب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر شریف ہے۔ میں نے ان کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
اگر ضمیر کا مرجع لفظ موسیٰ ہو تو مطلب یہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ کو کتاب تورات دی گئی۔ اس میں کوئی شک نہ کیا جائے۔ حضرت موسیٰ کی موت اور حیات سے آیت کا کوئی تعلق اور تعرض قطعاً نہیں ہے۔ ایک شیطانی مغالطہ ٹھگ کا یہ بھی ہے کہ اس قدر طویل زندگی شرک باللہ ہے۔ حالانکہ حدیث میں ہے۔ ہر نبی کو اختیار دیا جاتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بخاری میں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھیں۔ جس قدر آپ کے ہاتھ کے نیچے بال آئیں گے۔ اسی قدر ہر بال کے عوض ایک سال زندگی عطاء ہو گی۔ تو کیا یہ شرک ہوتا۔ لا حول ولا قوة الا بالله العظيم!
٦٦
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر ایک اور مغالطہ شیطانی یہ دیا کرتے ہیں کہ بخاری وغیرہ کتب احادیث میں حضور ﷺ نے فرمایا۔ میرے پاس حوض کوثر پر لوگ آئیں گے تو میں کہوں گا یا رب یہ لوگ میرے صحابی ہیں تو مجھے کہا جائے گا۔ ’’انك لا تدري ما احدثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح‘‘ اس پر مرزا قادیانی اور اس کے چیلے عوام کو یہ شیطانی مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ دیکھو قال صیغہ ماضی حضور ﷺ کے زمانہ تکلم سے پہلے ہو چکا ہے۔ اسی سے ثابت ہوا کہ توفی کا معنی موت ہے۔
جواباً عرض ہے کہ یہ مغالطہ محض وسواس شیطانی ہے۔ دھوکا اور فریب ہے۔ اس کی وجہ جہالت ہے۔ جواب یہ ہے کہ حوض کوثر پر لوگوں کا ورود بعد از صراط و میزان ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقریباً اس سے اوّل کر چکے ہوں گے۔ دیکھو فتح الباری شرح صحیح بخاری از ابن حجر۔
اور دوسرا جواب یہ ہے کہ : ’’ فلما توفيتنى كنت انت الرقيب “ جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حضرت قیامت کے دن یہ فرمائیں گے اور صحابہؓ نے قرآن میں پڑھ لیا تو حضور ﷺ نے اس کو محکی عنہ قرار دے کر اس سے حکایت فرمائی کہ جیسا حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کے دن مشرکین سے بیزار ہوں گے۔ میں بھی اسی طرح مشرکوں سے اعلانِ بیزاری کروں گا۔ باقی یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام قیامت میں یہ اعلان کریں گے۔ اس کی دلیل مابعد آیت ہے۔ ’’قال الله هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم “ ہے۔ ایک اور شیطانی وسوسہ اور ان کا فریب ہے جو عوام جہال کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ یہ کہ جب عیسیٰ علیہ السلام حسب عقیدہ اہل اسلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور نصاریٰ کو کفر اور شرک پر دیکھیں تو قیامت کے دن اپنی بے خبری کا اعلان کیوں کریں گے کہ ”فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم “
یہ جواباً عرض ہے کہ جس بے ایمانی کے گندے چشمہ سے تم نے پیا ہے۔ افتراء، بہتان اور کذب اس کا خاصہ لازمہ اس سارے رکوع کو پڑھو اور بار بار پڑھو۔ حضرت عیسیٰ کا انکار کہاں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر میدانِ قیامت میں یہ سوال رب العزت سے ہوگا کہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے تم نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو خدا بناؤ تو اب حضرت مسیح کے ذمہ فقط اس سوال کا جواب ہے اور کچھ نہیں اور جواب عیسیٰ نے باری تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو مدنظر رکھتے
٦٧
ہوئے عرض کیا کہ ”ماقلت لهم الا ما امرتنی بہ“ اور اگر تمہارے اس شیطانی خیال اور وسوسہ کو مان لیا جائے تو اس سے پہلے رکوع کی اوّل آیت کو پڑھو جو یہ ہے۔ ”یوم یجمع الله الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب“ یعنی جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو اکٹھا کرے گا اور فرمائے گا تم کو کیا جواب ملا تو تمام رسول کہیں گے۔ ہمیں کوئی علم نہیں۔ اب تم بتاؤ حضرت محمد ﷺ کو علم نہیں کہ مجھے ابو جہل نے کیا جواب دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو علم نہیں کہ مجھے فرعون، ہامان، قارون نے کیا جواب دیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو علم نہیں کہ نمرود نے مجھے کیا جواب دیا۔ تمام رسول اپنے علم کی مطلقاً نفی فرما دیتے ہیں۔ تم اپنے نبی مصنوعی کی قبر پر بھی جا کر فریاد کرو تو تم کو جواب نہیں آئے گا۔ سوا مسلمان علماء کی کتب بینی کے اور وہ ہی علماء ہیں۔ جن کا ایمان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت نازل ہوں گے۔
ان وساوس کا بیان جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آ گیا۔ جہاں ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ توفی کا معنی لغت عرب میں موت کے لئے وضع نہیں ہے۔ اس کا اصلی اخذ الشی بتمامہ ہے اور استعارہ نیند اور موت ہے۔ قرآن احادیث دونوں کا متفق اسی پر فتویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے روح مع الجسد کے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ دوبارہ نازل ہوں گے۔ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو نہ قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا۔ یقینی اور سچی بات یہ ہے کہ یہودیوں نے ان کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔
اب اگر مرزائی مذہب کے مطابق رفع سے مراد رفع درجات ہے۔ موت طبعی مراد ہو تو قابل غور بات یہ ہے۔ یہود حضرت مسیح کی روح کو قتل کرنے کے درپے تھے یا جسم کو قتل کرنے کی سعی تھی۔ ظاہر ہے کہ قتل جسم ہی ہوتا ہے نہ روح۔ قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ یہود جس کو قتل کرنا چاہتے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ معلوم ہوا کہ مرفوع جسم معہ روح ہوا۔ نہ صرف روح اور قول اللہ وما قتلوہ یقیناً اسی زمانہ کی حکایت ہے۔ جس وقت وہ قتل کے درپے تھے تو بل رفعہ اللہ الیہ بھی اسی وقت ہونا چاہئے۔ نہ یہ کہ قتل کی نفی کے ستاسی اٹھاسی برس بعد کشمیر میں جا کر موت طبعی سے وفات ہوئی۔ جس طرح قادیانی متنبی کا شیطانی الہام ہے۔ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کا جانا قرآن حدیث یا تاریخ کسی سے کوئی ثبوت ہرگز نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ کشمیر میں جانا قرآن کی اس آیت کے خلاف قرآن نے حضرت عیسیٰ سے جو یہود کی سازش کے وقت چہار وعدے خداوندی بیان کئے ہیں۔
٦٨
ان میں سے ایک یہ ہے کہ ”مطهرك من الذين كفروا“ کشمیر اس وقت کفر اور شرک کا گہوارہ تھا۔ پھر کفار سے تطہیر کیسے ہوئی۔
لہٰذا مرزا قادیانی کا الہام غلط اور شیطانی وسوسہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ ناقابل قبول ہے۔ ایک اور بات قابل غور ہے جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ نصرانیوں کا یہ مذہب اور عقیدہ تھا۔ قرآن کے نزول سے اوّل کہ حضرت جسد مع الروح کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور جب وفد نصارٰی نجران جن میں بڑے بڑے علماء اور رؤسا تھے۔ حضورﷺ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ ”اذ قال الله يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة “ آیت ہذا میں اگر متوفیک کا معنی موت ہوتا تو نصرانی اس کا اپنے عقیدہ کے مطابق انکار کرتے۔ قرآن نے مسلمہ عقیدہ نصارٰی کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے الفاظ فرمائے۔ جن کو انہوں نے مان لیا اور ساتھ ہی مسلمانوں نے بھی قبول کر لیا۔ قرآن کا فرض تھا کہ جس طرح حضرت مسیح کی الوہیت اور خدائی کا ان کے روبرو رد کیا۔ اسی طرح ان کے اس عقیدہ کا بھی انکار کرتا کہ حضرت عیسیٰ کشمیر میں وفات پا چکے ہیں۔ تمہارا عقیدہ غلط ہے۔ آیت مذکورہ میں توفی مقدم ہے۔ رفع کا جیسا کہ ہم ائمہ لغت سے ثابت کر چکے ہیں کہ اخذ الشئ وتناول الشئ وقبض الشئ کو توفی الشئ کہتے ہیں۔ تو قبض واخذ کے بغیر رفع ممکن نہیں ہے۔ اسی تقریر پر تقدم تاخیر کی ضرورت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے۔ سلف میں توفی کی تفسیر میں اختلاف کی بلکہ ایک ہی مفسر نے کبھی کوئی معنی بیان کر دیا اور کبھی کوئی معنی فرما دیا۔ کبھی اخذ کبھی رفع اور کبھی اماتت جس مفسر سے اماتت منقول ہے۔ اس کی مراد بعد از نزول علی الارض ہے۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بلاسند قول نقل کیا ہے۔ امام حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں کہا ہے کہ عندالمحدثین اس قول کی صحت اور عدم صحت میں کلام ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے سند نقل نہیں کی اور فتح میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کا اجماع امت نقل فرمایا اور عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم اور نسائی وابن مردویہ نے عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے۔ امام ابن کثیر نے یہ سند بیان کر کے کہا۔ ہٰذا اسناد صحیح متنبی کذاب نے اس لفظی اختلاف کو حقیقی اختلاف قرار دے کر مفسرین پر طرح طرح کی بکواس کر کے کتاب اور سنت اور اجماع امت کا انکار کر کے اپنی جہالت کا ثبوت دیا ہے۔ لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم!
٦٩
ابن کثیر ابن ابی حاتم نے حسن بصری کی سند صحیح سے یہ حدیث نقل کی کہ حضورﷺ نے یہودیوں کو فرمایا: ”ان عیسیٰ لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة“ اسی طرح روح المعانی میں ہے۔ ابن جریر نے اس کو حسن بصری سے مرفوع نقل کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق اگر ہم احادیث کثیرہ کو نقل کریں تو کتاب کا حجم ہمارے اندازہ اور تخمینہ سے کئی حصے بڑھ جائے گا اور جب قرآن کریم کی تحریف میں یہودیوں سے ہزار درجہ متمنی قادیانی آگے نکل چکا ہے۔ وہاں حدیث کو پیش کرنا بے فائدہ اور بے سود ہے۔ اسی کذاب کی فطرت میں ہے کہ جو شخص اس کی شیخی اور شوخی اور کبر کے خلاف ہو۔ اس کو مغلظات سناتے اپنی باچھیں کھول کر اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ چنانچہ نزول مسیح کے متعلق صحابہؓ میں حضرت ابوہریرہؓ سے زیادہ تر حدیثیں مروی ہیں۔ اعجاز احمدی میں اور حمامتہ البشریٰ میں صحابی مذکور کو کم عقل کم درایت بے سمجھ یہودیوں سے سن کر رسول اللہ کی طرف منسوب کر دیا کرتا تھا۔ لکھ کر بے حیائی اور بے باکی سے گستاخی کی ہے اور لکھا ہے کہ میرے الہام کے مقابلہ میں حدیث کوئی چیز نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کے متعلق امام ابن کثیر نے امام شافعی کا قول نقل کیا ہے۔ ابوہریرہؓ صحابہؓ میں افضل نہیں تھے۔ لیکن احفظ تھے اور امام ابن کثیر ہی نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ابوہریرہؓ کو خلیفہ مروان نے اپنے دربار میں بلا کر کہا۔ میرے لڑکوں کو کچھ احادیث املاء کرا دو تو ابوہریرہؓ نے ایک سو حدیث املاء کرا دی۔ کچھ مدت کے بعد پھر خلیفہ نے ابوہریرہؓ کو بلا کر کہا کہ وہ املاء گم ہو گئی ہے۔ پھر دوبارہ انہیں احادیث کو املاء کرا دو۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ کچھ حرج نہیں ہے۔ پھر املاء کر لو۔ ابوہریرہؓ کو شاہی کرسی کے پیچھے بیٹھا کر کہا کہ وہی سابقہ احادیث املاء کرا دیجئے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے بالترتیب ایک سو احادیث سابقہ لکھوا دیں اور ان کو علم نہ تھا کہ خلیفہ میرا امتحان لے رہا ہے۔ چنانچہ مسودہ سابقہ کے مطابق من وعن ایک سو احادیث لکھوا دیں۔ جن میں کوئی افراط تفریط ذرا بھر نہ آئی۔ ان کے حافظہ کی وجہ ائمہ احادیث نے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ یہ بتائی ہے۔ ”قال
ابوہریرۃ قلت یا رسول الله اسمع منك اشیاء فما احفظھن قال ابسط رداءك فبسطته فحدث حدیثاً کثیراً فما نسیت شیئاً“
ترجمہ: ابوہریرہؓ فرماتے ہیں۔ میں نے اسلام لانے کے بعد ساری عمر حضورﷺ کی خدمت میں گزاری۔ جب تک حضورﷺ دنیا میں تشریف فرما رہے۔ مجھے علم کا بہت شوق تھا اور میں قوت لایموت پر بسر اوقات کرتا تھا اور حضورﷺ کی خدمت میں ہمیشہ رہا کرتا تھا۔ ایک دن
٧٠
میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بہت سی احادیث آپ سے سنتا ہوں اور محفوظ نہیں رہتیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اپنی چادر زمین پر بچھا دو۔ چنانچہ میں نے بچھا دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اس کو سینے سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد میں کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
(اکمال فی اسماء الرجال لصاحب المشکوٰۃ ص ٦٢٢)
ختم نبوت
”قال اللہ تعالیٰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئ علیما“
قبل اس کے کہ ہم آیت ہذا کی تفسیر اور توضیح ناظرین کے پیش کریں۔ یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ مفہوم سے جو انواع دلائل سے ایک نوع دلیل ہے۔ یہ بات قرآن کریم کی بیسیوں نہیں سینکڑوں آیات سے واضح ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
دیکھئے قرآن کریم جو اپنی شان میں اپنی صفت مخصوصہ بیان کرتا ہے۔
”ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئ وھدی ورحمۃ وبشریٰ للمسلمین وتفصیل کل شئ وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون مافرطنا فی الکتاب من شئ“ سلسلہ ایمان کی کڑیوں کو بیان کرتے ہوئے ہر جگہ اور ہر مقام پر یہ اعلان کرتا ہے۔
”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک واما انزل من قبلک . یا ایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتاب الذی نزل علیٰ رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل ولقد اوحینا الیک والی الذین من قبلک الم تر الی الذین یزعمون انھم آمنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک . یوحی الیک والی الذین من قبلک من رسول ولا نبی وما ارسلنا من قبلک من المرسلین وغیر ذالک من الایات الکثیرۃ“
اب ہر انسان کو غور کرنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اگر کوئی نبی یا رسول آنا ضروری ہوتا جس کے نہ ماننے پر کفر لازم ہوتا تو قرآن میں من قبلک من قبلک کا بار بار اعلان کر رہا ہے کہیں ایک آدھ جگہ من بعدک کیوں نہ کہتا کہ خبردار ایک نبی بعد میں بھی آنے والا ہے۔ اگر اس کو مؤمن نہ ٹھہرایا تو جہنم میں جاؤ گے۔ بلکہ انبیاء سابقین کی نسبت نبی لاحق پر قرآن کو زیادہ
٧١
زور دینا چاہئے تھا۔ اس واسطے کہ انبیاء سابقین پر ایمان مجمل کفایت کرتا ہے۔ برخلاف نبی لاحق کے اس کے متعلق ایمان کا معاملہ ابھی درپیش ہے۔ قرآن عملیات میں فروعات مثلاً غسل جنابت اور تیمم کی تعلیم تک کو بڑی شدومد سے بیان کرے اور ایمانیات میں جو چیز عمل کی موقوف علیہ ہو اور ایمان کی زنجیر کی ایک اہم اور ضروری کڑی کو بیان نہ کرے۔ یہ قرآن کے ہادی اور رحمۃ اور تفصیل کل شی اور تبیان کل شی کے سراسر منافی ہے اور قرآن کے طریقہ تعلیم اور ارشاد کے خلاف ہے۔ قرآن جو بیان امثلہ میں مچھر اور مکھی تک بیان کرنے میں کسی کافر مشرک سے نہ جھجکا اس کو کسی کا ڈر اور خوف تھا کہ ایک نبی بعد بھی آنے والا ہے۔ مقام بیان سکوت با وجود طاقت اور قدرت کے بڑا نقص اور سخت عیب ہے۔
"کما قال ولم ار فی عیوب الناس شیاً کنقص القادرین علی التمام“ یہ رب الرحمٰن والرحیم کی رحمت کے بالکل خلاف اس کا عکس ہے کہ قادیان میں نبی آنا تھا اور قرآن نے محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کہہ کر مخلوق کو چودہ صدیوں تک دھوکہ میں رکھا اور نبی بھی وہ جس میں تمام کمالات انبیاء ایک ایک کر کے بھر دیئے گئے ہوں۔ نعوذ باللہ من ذالک الخرافات والھذیان!
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) میں لکھا ہے کہ خاتم النبیین کا معنی نبی تراش ہے۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ خاتم کا لغۃً جیسا کہ قرأت مشہور لفظ مہر کو کہتے ہیں۔ خاتم النبیین کا معنی نبی تراش آیت تحریف کی یہودیا نہ ہے۔ عوام جہال کو گمراہ کرنے اور فریب دینے کے واسطے انہوں نے تراشے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ نبی کیا ہوا جو نبی تراش نہ ہو وہ نبی کیا ہے جو نبی گر اور نبی ساز نہ ہو۔ ہمارا نبی ﷺ چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ اس واسطے وہ نبی ساز ہیں۔ یہ اسی طرح بکواس ہے۔ جیسا کوئی کہے کہ قرآن تمام کتب سے افضل ہے اور اس کے مقابل ایک جاہل کہہ دے وہ قرآن کیسا ہے جو قرآن گر اور قرآن ساز نہ ہو۔ وہ اسلام کیا ہے جو اسلام گر نہ ہو۔ وہ مذہب کیا ہے جو مذہب تراش نہ ہو۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العظیم! خدا تعالیٰ اپنے غضب سے بچائے۔
اب آیت مذکورۃ الصدر کو غور سے دیکھئے۔ اس میں حضور ﷺ کے متعلق بالغ مردوں کے باپ ہونے کی نفی کی گئی ہے اور حضور ﷺ کے رسول اللہ ہونے اور خاتم النبیین ہونے کا اثبات فرمایا گیا ہے اور یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رسول اور نبی میں تباین کی نسبت نہیں
٧٢
ہے۔ جیسا کہ کان رسولا نبیا اور نہ نسبت مساوات ہے۔ جیسا وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی، رسول اور نبی میں نسبت عموم خصوصی کی ہے۔ رسول خاص اور نبی عام ہے۔ رسول رسول ہونے کے علاوہ نبی بھی ہوتا ہے۔ جیسا آیت مذکورۃ الصدر میں حضورﷺ کے رسول اور ختم النبیین ہونے کا اعلان ہے اور جمہور علماء کے نزدیک رسول وہ ہوتا ہے جو کتاب یا شریعت جدید لائے۔ یا شریعت قدیمہ کو کسی قوم جدید کی طرف پہنچانے کا مکلف ہو۔ جیسا حضرت اسماعیل علیہ السلام قوم جرہم کی طرف مبعوث ہوئے اور نبی صرف صاحب وحی ہوتا ہے۔ کتاب اور شریعت جدیدہ کے قیود کی اس کو تکلیف نہیں دی جاتی اور آیت ہذا میں اگر رسول اور نبی میں مادۂ افتراق یہ نکلا وحی بغیر شریعت و کتاب۔ بس اسی مادۂ افتراق کی وجہ سے اس عنوان کو تبدیل کیا گیا ہے کہ اضمار کی جگہ اظہار یہ آیت نبوت غیر تشریعیہ نہیں آ سکتا اور قرآن نے خاتم النبیین کی مطلقاً تصریح کی ہے۔ قرآن میں تشریعیہ اور غیر تشریعیہ کا کہیں ذکر نہیں ہے اور نہ ہی کسی حدیث صحیح میں اس کا اشارہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد نبوت غیر تشریعیہ جاری ہے۔ بلکہ اس کے خلاف صحیح احادیث سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ کسی قسم کی نبوت محمد رسول اللہﷺ کے بعد نہیں۔ بخاری اور مسلم، امام احمد بن حنبل کی مسند اور دیگر کتب احادیث میں یہ حدیث ہے۔ ”قال رسول الله کانت بنی اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی انه لا نبی بعدی . وسیکون خلفاء“
ترجمہ: فرمایا رسولﷺ نے بنی اسرائیل میں ایک نبی کے چلا جانے کے بعد دوسرا نبی آ جاتا تھا۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ بجائے نبوت خلافت ہوگی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سوا حضرت مسیح کے جس قدر انبیاء آئے ہیں۔ ان میں سے کوئی صاحب شریعت نہیں ہوا۔ تمام شریعت موسوی کے پابند رہے۔ جن کی اس حدیث میں حضورﷺ کے بعد نفی کی گئی ہے۔
دوسری حدیث ترمذی میں ہے۔ جس کو امام ترمذی نے حدیث حسن صحیح کہا ہے اور یہ ہے:”قال رسول الله ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی قال فشق ذالک علی الناس فقال لکن المبشرات فقالوا یا رسول الله وما المبشرات وقال رؤیا المسلم وهی جزء من اجزاء النبوة “ فرمایا رسول
٧٣
اللہ ﷺ نے میرے بعد نبوت اور رسالت قطعاً موقوف ہو چکی ہے۔ کوئی رسول اور کوئی نبی میرے بعد نہیں آئے گا اور یہ بات صحابہ کرامؓ پر گراں گزری تو حضور ﷺ نے فرمایا مبشرات باقی ہیں تو لوگوں نے عرض کیا مبشرات سے کیا مراد ہے۔ فرمایا مسلمان کا خواب یہ اجزائے نبوت میں سے ایک جز ہے۔ دوسرا اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ حدیث میں ”لا نبی بعدی“ میں حرف لا نکرہ پر داخل ہوا ہے اور نحو کے قاعدہ کے بموجب جب نکرہ تحت النفی ہو تو اس سے مراد نفی جنس کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ مجلس میں کہا جائے کہ یہاں کوئی عورت نہیں ہے تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ عرباً عورت نہیں ہے۔ یا ہندوانی نہیں یا یورپین نہیں ہے۔ جنس عورت کی نفی ہے کہ عورت کی قسم سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے۔ ایسے ہی لا نبی بعدی میں جنس نبوت کی نفی ہے۔ خواہ وہ تشریعیہ ہو یا غیر تشریعیہ ہو۔ غیر تشریعیہ کی قید من گھڑت اور قرآن پر ظلم ہے اور ایک قسم کی یہود یانہ تحریف ہے اور یہ لوگ شیخ ابن عربی کی ادھورا عبارات کو نقل کر کے عوام الناس کو بہکاتے ہیں کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کو جاری رہنے اور جاری رکھنے کے قائل ہیں۔ حالانکہ شیخ اپنی کتاب کے ٧٣ ویں باب میں سوال انیسویں میں تصریح فرماتے ہیں کہ میری مراد نبوت سے معنی لغوی ہے۔ نہ اصطلاح شرعی، نیز موضوعات ملا علی قاری سے استدلال کرتے ہیں کہ وہ بھی نبوت غیر تشریعیہ کے بعد از رسول اللہ قائل ہیں۔ حالانکہ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں اور مرقات میں باب فضائل علیؓ میں تصریح کی ہے کہ بعد از رسول اللہ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ یہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا۔ ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“
ظاہر ہے کہ اگر حضرت علیؓ نبی ہوتے تو کوئی شریعت جدید نہ لاتے ۔ شریعت محمدی کے تابع ہوتے ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کی نفی فرمادی اور مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو نبی ظلی اور بروزی کہنا یہ مذہب ہندوؤں کا ہے۔ اسلام میں یا اسلام سے پہلے تمام انبیاء کے مذاہب میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ہندو بھی وہ جو جوگی یا اہل تناسخ جو اوتار کے قائل ہیں۔ یہ ان کا عقیدہ ہے نہ کسی مسلمان کا۔
مرزا قادیانی ، خاتم النبیین کا معنی مہر زندہ قرآن پر افتراء کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ حالانکہ خاتم کا معنی مہر نہیں۔ اگر بالفرض اس کا معنی مہر مان لیا جائے تو رسول اللہ ﷺ مہر ٹھہرے نہ مہر زندہ ۔ مہر زندہ خدا ہوا نہ کہ رسول اللہ۔ کیونکہ مہر خود بخود کسی چیز پر چسپاں نہیں ہوتی ۔ جب کوئی
٧٤
چسپاں کنندہ نہ ہو اور نیز خاتم اس جگہ پر جب تک لفظ علی مقدر نہ مانا جائے کسی صورت میں معنی صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مضاف الیہ معنی معقول بہ ہے اور آیت میں خاتم النبیین سے مراد اشخاص خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبوت اصالۃ ہو یا اتباعاً۔ اگر اتباعاً مانا جائے پھر بھی نبوت آیت کی رو سے ممکن نہیں۔ کیونکہ تعدد اشخاص من حیث الشخصیت متغایر و متمایز ہر حالات میں ہوگا اور اتباع کا ڈھکوسلا محض ایک ذہنی ہے۔ جس کا وجود خارج میں نہیں ہے۔
ہر مغایر شخص کو کسی صورت میں مطروح النظر نہیں کہا جاسکتا اور مرزا قادیانی اپنی کتاب (حقیقت الوحی کے ص ٩٧ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) میں لکھتے ہیں کہ خاتم نبوت جاری ہونے کے لئے ہے نہ انتہاء کے لئے۔ یہ تحریف یہود یانہ ہے۔ کیونکہ لغت کے محاورات میں خاتم بکسر تا ہوتا ہے۔ جس کے معنی ختم کنندہ ہے۔ یا بفتح تا جس کا معنی ماختم بہ الشئی ہے۔ یعنی وہ چیز جس سے کسی چیز کو ختم کر دیا جائے۔ معالم التنزیل میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے۔ ”خاتم اللہ بہ النبوۃ وقرأ عاصم بفتح التاء علی الاسم ای اخرہم وقرأ الآخرون . بکسر التاء علی الفاعل لانہ خاتم النبیین فہو خاتمہم قال ابن عباس یرید لو لم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیاً “
علاوہ ازیں عربیت کے لحاظ سے بالاستثناء ہی کا ناتا آیت کریمہ سے باطل ثابت ہوتا ہے۔ اس واسطے کہ حرف لکن قصر قلب کے واسطے موضوع ہے۔ لکن کا ما بعد بدل کے طور ما قبل اس کا ہوتا ہے اور ہر دو کے درمیان تبادل اور تدافع کا ہونا شرط ہے۔ تاکہ بدل اور مبدل منہ جمع نہ ہو سکیں۔ اب آیت کے اندر غور کیجئے۔ ابوت اور ختم نبوت کے درمیان بلا واسطہ کوئی تدافع نہیں ہے کہ ثانی اول کا بدل ہو سکے اور لکن کی شرط پوری ہو جائے۔
دراصل حقیقت یہ ہے کہ ابوت اور نبوت میں اگرچہ عقلاً ونقلاً تلازم نہیں ہے۔ لیکن اولاد آدم علیہ السلام میں مشیت ایزدی نے سلسلہ نبوت جاری فرمایا۔ تا دور محمدی ﷺ آیا۔ ابوت مضاف الی المعانی ہونے کے باعث اسی سلسلہ کے اجزاء کی متضمن تھی اور قدرتاً یہ خیال ، توہم قلوب میں جاگزیں تھا کہ حضور ﷺ کی اولاد میں بھی جاری رہے گا تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ سلسلہ ابوت ختم ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی نبوت محمدی ﷺ یوم قیامت باقی رہے گی۔ حضور ﷺ نے نبیوں اور نبوت کو ختم کر دیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حرف لکن کے ماقبل اور مابعد
٧٥
میں بدل اور مبدل منہ ہونے کی۔ چونکہ ابوت حضور ﷺ کی بالغ مردوں میں نہیں ہے۔ اس سے تبنی کا بھی ابطال کیا۔ قصہ تبنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ اے مخاطبین تم نے سلسلہ ابوت کو جاری کر رکھا ہے۔ جو مناسب ہے اجراء نبوت کو ہماری تقدیر اور ہمارے علم میں وہ منقطع اور مسدود ہو چکا ہے۔ اسی نکتہ کے واسطے آیت میں لفظ ابوت کو اختیار فرمایا ہے۔ نہ لفظ تبنی کو آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کا کوئی فرزند موجود نہ تھا۔ لفظ تبنی کا ترک اسی وجہ سے کیا ہے اور مقام ابطال تبنی تھا۔ عوام سادہ لوح کو دام کفر میں پھنسانے کے واسطے یہ مکر اور حیلہ اختیار کیا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتے کرتے نبی اور رسول کے مرتبہ کو پہنچا ہوں اور میں فنا فی الرسول اور عاشق رسول ہوں اور حضور ﷺ کی مدح میں قصائد اور اشعار کہنے یہ سب دھوکا اور فریب ہے۔ ظاہر مدح نہ دکھاتے تو عوام شکار کیسے ہوں۔ جب کوئی ملحد کسی زمانہ میں آیا ہے تو اس نے اوّل اپنی پارسائی کا سکہ عوام الناس پر اسی طرح جمایا ہے۔
ابن حجر نے فتح الباری میں ثابت کیا ہے کہ دجال اکبر بھی تدریجاً خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اپنی بزرگی جتلائے گا۔ اپنی تزویر فروشی کرنا نسب کو تبدیل کرنا، ہر دو پر رسول اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔ کیا یہ اتباع رسول ہے اور عشق رسول ہے۔ حضور ﷺ نے اپنا نسب بدلنے والے کے متعلق فرمایا ہے۔ وہ اپنی ماں کا خاوند غیر کو بناتا ہے۔ قوم مرزا قادیانی کا مغل ہونا اس قوم کے سینکڑوں افراد کے پاس شجرہ نسب موجود ہے کہ مغلیہ خاندان سے ہیں۔ تمہارا الہام یہ ہے کہ میں فارسی الاصل ہوں اور حضرت سلمان فارسی مشہور صحابی کی اولاد سے ہوں۔
(حقیقت الوحی اور ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦) پر تمہاری یہ عبارت ہے۔
”خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی ہوں۔“
اب آپ ہی فرمائیے کہ ہم آپ کو مغل یا فارسی یا اسرائیل کیا کہیں یا کہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین!
غرض یہ دعویٰ کہ میں آنحضرت ﷺ کے تابع ہو کر آیا ہوں۔ آیت ہٰذا کی تکذیب ہے۔ اس واسطے کہ مرزا قادیانی کا وجود حضور ﷺ کے وجود پاک کا غیر ہے اور آیت نے مطلقاً حضور ﷺ کے بعد نبوت کی نفی کر دی ہے۔ اصالتاً یا اتباعاً کی کوئی قید قرآن نے نہیں بیان کی اور نبی صاحب شریعت ہو یا صاحب شریعت نہ ہو۔ یہ قیودات تمام کی تمام تعلیم ابلیسی کی ایجاد کردہ
٧٦
تمہارے ذہن ناقص کے اندر ہیں۔ خارج ہیں۔ ان کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اثر ہے۔ آیت نے جاہلیت کی ایک عرفی رسم کا جملہ اوّل میں رد کیا ہے۔ وہ رسم تبنیٰ کی ہے۔ اس خاص رسم کے رد کے بعد جملہ ثانی میں باقتضاء مقام تقسیم فرمادی ہے۔ ابوت کے دو جز ہوتے ہیں۔ ایک علاقہ پدری اور پسری اور دوسرا علاقہ ارث۔ علاقہ اوّل کی جگہ قرآن نے کہا ہے کہ رسالت ہے اور علاقہ ثانی کی جگہ ختم نبوت ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔”کتب فی الذکر ان محمد خاتم النبیین کذافی المواھب اللدنیۃ“ حدیث مسلم میں ہے کہ حضورﷺ نے نبوت کو حسیّات سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ نبوت کو ایک محل بے مثل خوبصورت سمجھنا چاہئے۔ جس کو دیکھ کر دیکھنے والے اس کی خوبصورتی سے حیران ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس محل کے ایک کونے پر ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے اور دیکھنے والے کہتے ہیں۔ کاش کہ یہ اینٹ کی جگہ پر کردی جاتی سو میں وہ آخری اینٹ ہوں۔ اب محل نبوت میں کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔ ایک شخص اپنے کسی کام کی نسبت اعلان کرتا ہے کہ میں نے یہ کام فلاں جگہ سے شروع کیا تھا اور اب اس کے اختتام کو پہنچا چکا ہوں۔ اس کے بعد کسی کو حق نہیں ہے کہ اس پر اعتراض کرے کہ نہیں ابھی کام میں نقص ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح اور صریح طور پر اعلان فرمادیا ہے کہ حضرت آدم کی اولاد میں جو نبوت کا سلسلہ ہم نے جاری کیا تھا۔ اب محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہوگیا۔ تو اب کسی زندیق اور ملحد کو کیا حق ہے کہ وہ کہے کہ ہاں الفاظ تو یہی ہیں۔ لیکن مراد اس سے یہ نہیں ہے اور حدیث میں جو تیس دجالوں کے آنے کی خبر دی گئی۔ اس سے مراد حصر نہیں ہے اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ولو تقول الایۃ کہ میں اگر جھوٹا ہوتا تو مجھے مہلت کیوں دی جاتی۔ جواباً عرض ہے کہ اب امکان شرعی کسی نبی کے آنے کا چونکہ نہیں رہا۔ اس لئے اگر کوئی ملحد اور زندیق دعویٰ کرے اور کچھ دن اس کو ڈھیل اور مہلت مل جائے تو آیت کے منافی نہیں ہے۔
اور حدیث عرباض بن ساریہ میں ہے۔ ”قال رسول اللہ انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینۃ “ اور رسول اللہﷺ کے بعد قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا یہ منافی خاتم النبیین کے نہیں ہے۔ کیونکہ وہ صرف اور فقط قتلِ دجال کے لئے نازل ہوں گے۔ نہ اجرائے نبوت کے واسطے۔ یہ خود رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے۔ گویا حضورﷺ کے اطلاع دینے کے بموجب باذن اللہ آئیں گے۔
٧٧
اور یاد رہے رسول اللہ ﷺ نے مقام نبوت کے مراحل و مسافات کو اول سے آخر تک بلا واسطہ غیر کے طے فرمایا ہے۔ اگر حضور ﷺ کی تابعداری کی وجہ سے آپ کے بعد کوئی اور نبی مانا جائے تو یہ حضور ﷺ کی تنقیص اور تحقیر ہے اور شان ختم نبوت کے خلاف ہے۔ مالک الملک اور مختار کل کے حکم کے سامنے سرنگوں نہ ہونا یہ سب سے اوّل کام ابلیس نے کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے سامنے اور اس کے مقابل اپنی کٹ حجتی پیش کی اور اب یہ ورثہ ابلیس اس طائفہ مردود کو نصیب ہوا ہے کہ قطعیات کے مقابلے میں شبہات کو اور اختراع شیطانی کو پیش کرتے ہیں۔ یہ مضمون ختم نبوت میں نے رسالہ خاتم النبیین سے لیا ہے جو تصنیف ہے۔ استاذی واستاذ العلماء والفضلاء فقیہ المثال مجسم زہد اور تقویٰ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صدر المدرسین مدرسہ عالیہ دیوبند نور اللہ تعالیٰ مرقدہ ورحمۃ اللہ علیہ۔ حضرت مرحوم کی ایک اور بے مثال تصنیف عقیدۃ الاسلام ہے۔ انشاء اللہ خدا نے چاہا تو اس کا اردو ترجمہ کیا جائے گا۔ جو قادیانی کے تمام خرافات کے مقابلے میں اس شعر کا پورا پورا مصداق ہے۔
فقد بطل السحر والساحر
خود ساختہ مسیح کی تصانیف میں جو کچھ مجھے نظر آیا میں ایمانداری سے عرض کرتا ہوں۔ تصنیف اپنے مصنف کے علم اور اخلاق کی آئینہ ہوتی ہے اور اس کے جذبات پر ..... ایک کامل سچا گواہ ہوتی ہے۔
مرزا قادیانی کی تصانیف میں خبط خلط تھا۔ فقط تساقط تعارض تناقض کی کوئی حد نہیں ہے۔ جیسا ایک سینہ زور نابینا سرپٹ دوڑ رہا ہے اور گڑھے اور چاہ یا دیوار وغیرہ کو کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ میرا انجام کیا ہوگا۔ اگر صرف کذب بیانی کو لکھا جائے تو ایک بڑی کتاب نہایت آسانی سے تیار ہوسکتی ہے۔ مثلاً یہ کہ سینہ المسیح کی نسبت حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب تک مجھے اس کے معنی معلوم نہیں ۔ (حقیقت الوحی ص ٢٢٣، شہادت القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٤٧، صحیح بخاری) میں حدیث صحیح ہے کہ ”ینادی من السماء هذا خليفة الله المهدی“ اور (چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢) ہندوستان میں کہ میں خدا کا نبی تھا۔
سوال....... تم نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ مجھ سے افضل ہیں اور اب
٧٨
کہتے ہو کہ میں عیسیٰ سے افضل ہوں۔
جواب ..... یہ خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا۔ میرا اس میں کیا قصور ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩، ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤) صحیح حدیث میں ہے کہ امام مہدی کے پاس ایک کتاب ہوگی۔ اس میں ان کے تین صد تیرہ اصحاب کے نام ہوں گے۔ (ازالہ اوہام) میں لکھا ہے کہ قبل موتہ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اسرار شریعت براہین احمدیہ حصہ خامس اور خزینۃ الفرقان ومراۃ الحقائق میں لکھا ہے کہ ضمیر کا مرجع کتابی ہے اور بہ کا مرجع رسول اللہ ﷺ ہیں۔
اپنی کتاب (ازالہ اوہام ”وانہ لعلم للساعة“) میں ضمیر کا مرجع قرآن کو کہا ہے اور حمامتہ البشریٰ مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو کہا ہے اور ملفوظات احمدیہ اخبار الحکم ساعت سے مراد کوئی عظیم الشان حادثہ ہے اور وہ ختم نبوت ہے اور حمامتہ البشریٰ میں کہا۔ مراد قیامت ہے اور اعجاز احمدی میں کہا ہے کہ مراد بنی اسرائیل پر عذاب اور اتمام الحجۃ میں کہا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر بیت المقدس میں ایک بڑے گرجا میں ہے اور اپنی کتاب راز حقیقت میں کہا ہے کہ کشمیر سری نگر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور سب کتابیں خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کی وحی سے لکھی گئی ہیں۔ نعوذ باللہ !
جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے۔ اسی طرح کے مردے یہاں بھی زندہ ہو چکے ہیں۔ میرے خاندان کی نسبت ایک اور وحی الہی ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا میری نسبت فرماتا ہے۔ ”سلمان منا“ اہل بیت سلمان یہ عاجز دو صلح کی بنیاد ڈالتا ہے۔ ہم میں سے ہے جو اہل بیت ہیں۔ یہ وحی الہی اس مشہور واقع کی طرف تصدیق کرتی ہے۔ جو بعض دادیاں اس عاجز کی سادات میں سے تھیں اور دو صلح سے مراد یہ کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ ایک صلح میرے ہاتھ سے اور میرے ذریعہ سے اسلام کے اندرونی فرقوں میں ہوگی اور بہت کچھ تفرقہ اٹھ جائے گا۔ دوسری صلح اسلام کے بیرونی دشمنوں کے ساتھ ہوگی کہ بہتوں کو اسلام کی حقانیت کی سمجھ دی جائے گی اور وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ تب میرا خاتمہ ہوگا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١ حاشیہ)
اے ناظرین ! خدارا انصاف کریں کیا اس سے بڑھ کر کوئی گپ ہو سکتی ہے۔ ”سلمان منا اہل البیت“ یہ ایک حدیث ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ مشہور صحابی کے حق میں اور انصاف کیجئے جو دھوکہ اس شخص کے باعث اسلام کو لگا اس کی نظیر تاریخ اسلام میں ہرگز نہیں ملتی۔ جو تفرقہ اس نے اسلام میں ڈالا اس کی کوئی مثال ہے؟ ہرگز نہیں ہے۔
٧٩
”والسماء والطارق“ دوپہر کے وقت والد کی بیماری پر یہ الہام ہوا اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ ان کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو غروب آفتاب کے بعد پڑے گا۔ یہ خدا کی طرف سے اپنے بندہ کی عزا پرسی (چند سطور کے بعد) میرے والد کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزا پرسی کی اور میرے والد کی طرف کی قسم دکھائی۔ جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ (حقیقت الوحی ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٨)
اہل علم اور عقل غور کریں کہ مرزا قادیانی کی قسم جھوٹی نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے والد کی وفات پر خدا قسم کیوں نہ کھاتا۔ آپ کے والد وہی بزرگ ہیں جنہوں نے بقول مرزا قادیانی ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے معہ پچاس سوار دلی جا کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ خدا نے اس انگریز کے غازی کی موت کی ضرور قسم کھائی ہو گی؟
”مجھے ہر ایک نبی کا نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے۔ جس کو رودر گوپال بھی کہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔
آریوں کا بادشاہ اور بادشاہت سے مراد صرف آسمانی بادشاہت ہے۔ آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں اور اس زمانے میں اس کے آنے کے منتظر ہیں۔ گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے۔ قریب ہے کہ مجھے شناخت کر لیں گے۔ کیونکہ خدا کا ہاتھ انہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے۔ پھر میں اپنے مقصد کی طرف رجوع کر کے لکھتا ہوں کہ چونکہ میں آخری خلیفہ ہوں۔ جیسا کہ تمام نبی لکھ چکے ہیں۔ میرے وقت میں انواع اقسام کے عجائب نشان اور قہری تجلیات کا ظہور ضروری تھا۔ سو ضرور ہے کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں کہ جب تک میرے نشان اور عجائبات قدرت ظاہر ہو جائیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٥ تا ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١ تا ٥٢٤)
یہ جھوٹ اور کذب کی چند مثالیں ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کی تمام کتب کذب اور افتراء سے مملو ہیں اور اگر الہامات کی طرف انسان رجوع کرے تو بعض الہامات میں صریح کفر اور بے حیائی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ مثل اس الہام کے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ نے اظہار فعل رجولیت فرمایا۔ غرض ایسے الہامات کی نقل کرتے ہوئے ایک مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
واضح ہو کہ اس پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق اور کذب کا معیار اور میزان
٨٠
قرار ٹھہرایا تھا۔ ہندو سکھ عیسائی اور مسلمان سب کے سامنے ١٨٨٨ء میں اشتہار دیا تھا اور اس پیش گوئی کے بعد پورے بیس سال تک مرزا قادیانی زندہ رہا۔ مرزا قادیانی کی موت ١٩٠٨ء کو ہوئی ہے اور کہا کہ یہ تقدیر مبرم قطعی ہے۔ کبھی ہرگز نہیں ٹلے گی۔ چنانچہ اپنی کتاب انجام آتھم میں کہا ہے کہ اللہ تمام موانع اور عوائق اٹھا دے گا اور ”وکذبوا بآیاتی وکانو بہ یستہزؤن فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک امر من لدنا انا کنا فاعلین“ اور اس پیش گوئی کے متعلق اپنی کتاب ازالہ میں لکھا: ”فلا تکونن من الممترین“ اور کہا یہ وحی سماوی ہے اور (کرامات الصادقین ص٩٠، خزائن ج٧ ص١٦٢) پر یہ بعینہ مرزا قادیانی کے قلم کی عبارت عربی کی ہے اور اردو ترجمہ راقم الحروف کا لفظی ہے۔ ملاحظہ ہو: ”اللہ تعالیٰ نے میرے دل کی سوزش کو دیکھا اور میرے دشمنوں کی زیادتی اور میرے دوستوں کی قلت کو دیکھا تو مجھے فتوحات کی بشارت دی اور معجزات و کرامات کی خوشخبری دی اور مجھ پر ظاہری تائیدات سے احسان فرمایا اور ان تائیدات سے یہ وعدہ بھی جو میرے رشتہ داروں کے متعلق میرے رب نے فرمایا ہے۔ وہ میرے رشتہ دار کی آیات کی تکذیب اور ان سے استہزاء کرتے اور خدا اور رسول سے کفر کرتے اور کہتے ہیں۔ خدا اور رسول کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ قرآن کی حاجت اور کہتے کہ ہم کسی معجزہ کو نہیں مانتے نہ جب تک اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے نفسوں کے اندر کوئی معجزہ نہ دکھائے اور کہتے۔ ہم نہیں جانتے کہ ایمان قرآن اور رسالت کیا ہے اور ہم کافر ہیں۔ پس میں اپنے رب کے سامنے بڑی ذلت اور عاجزی سے گڑگڑایا اور بڑی تضرع خشوع سے خدا کے دربار میں دست سوال دراز کیا تو میرے رب نے مجھے الہام فرمایا اور خبر دی کہ میں ان کو ان کے نفسوں سے اس طرح معجزہ دکھاؤں گا کہ ان کی لڑکیوں سے ایک لڑکی (اور اس کا نام بھی اللہ نے لیا) بیوہ کر دیا جائے گا اور اس لڑکی کا والد اور خاوند نکاح کے دن سے تین سال کے اندر مر جائیں گے۔ ان کے مرنے کے بعد ہم اس کی لڑکی تیرے پاس لوٹا دیں گے اور ان دونوں میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ ضرور مر جائیں گے۔ ہم اس کو ضرور تیری طرف لوٹائیں گے۔ خدا کی باتوں میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا ہے۔ تیرا رب جو چاہے کرتا ہے اور ان دونوں دعووں سے ایک پورا ہو گیا ہے کہ لڑکی کا والد میعاد کے اندر مر گیا ہے اور دوسرے وعدہ کا انتظار کرو اور انصاف سے غور کرو اور چراغ کی روشنی سے دیکھو کہ خدائی فعل ہے یا کسی مفتری کا کام ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کسی ملحد کافر کی دعا مقبولوں کی طرح قبول کرتا ہے۔ بلکہ ایسے شخص کا مرتبہ کسی طرح پوشیدہ رہ سکتا ہے۔ جس کی عزت و اکرام کی خاطر اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو
٨١
موت دے اور اس کو غیب کی خبر دینے والے سچوں میں گردانے۔ اللہ تعالیٰ غالب علی الغیب کسی کو نہیں بتاتا۔ لیکن جس کو پسند کرے مخلوق کی اصلاح کے واسطے رسول بنا کر انبیاء اور محدثین کے لباس میں بھیجے اور اس عورت کے خاوند کا نام سلطان محمد بن محمد بیگ علم الدین ہے اور اس کے خاوند کے چچا کا نام محمود بیگ ہے اور وہ قصبہ پٹی نزد لاہور کے رہنے والے ہیں۔ یا اللہ میری قوم اور میرے درمیان سچا فیصلہ کر۔“
(١٥؍ صفر ١٣٠٦ھ)
مرزا قادیانی نے کہیں پیش گوئی کے وقت یہ نہیں لکھا۔ یہ پیش گوئی شرطیہ ہے اور معلق ہے۔ بلکہ یہ کہا کہ یہ تقدیر الٰہی کا قطعی اٹل فیصلہ ہو چکا ہے کہ نکاح ہو گیا ہے۔ پھر نہایت بے حیائی اور ڈھٹائی سے حقیقت الوحی میں لکھا ہے کہ وہ نکاح مشروط بشرط تھا۔ جب شرط نہ پائی گئی تو مشروط بھی نہ پایا گیا اور سنیے میں نے مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری مرزائی سے سوال کیا کہ آپ کا اس پیش گوئی کے متعلق کیا خیال ہے۔ محمد علی صاحب نے کہا کہ میں نے مولوی نور الدین سے یہی سوال کیا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا ممکن ہے۔ حضرت مرزا صاحب کی نسل سے کسی نرینہ شخص کا نکاح مسمات کی نسل سے کسی لڑکی سے ہو جائے تو میں نے کہا۔ پھر تو دنیا میں کوئی پیش گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی تو مولوی محمد علی چپ رہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے۔ بقول مرزا قادیانی پیش گوئی پوری ہو گئی اور امتی کہتے ہیں ابھی نہیں ہوئی۔ علاوہ اس مرزا قادیانی نے جو تمسخر قرآن کا اڑایا ہے اس کی مثال دنیا میں سوا یہود اور نصرانیوں کے نہیں مل سکتی۔ تحریف اور تاویل سے انہوں نے بھی تورات اور انجیل سے یہی سلوک کیا۔ نور الحق حصہ دوم میں لکھا ہے کہ سورۃ قیامہ میں جو آیت ”فاذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر یقول الانسان یومئذ این المفر“ یہ میرے حق میں پیش گوئی ہے اور سورۃ تکویر کی تفسیر اس سے زیادہ خرافات پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ہزار ہا کفریات ہیں۔ جن کے بیان کے واسطے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے اور یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اس کے دعاوی کاذبہ کے مقابلہ میں اس کے نزدیک ادلہ محکمہ نصوصات قطعیہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ قاتلان اسلام میں سے اس جیسا بے رحم، ظالم شخص دنیا میں میرے علم میں اللہ کی قسم کوئی نہیں ہوا۔ اسلام اس کے حق میں زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے۔
ورنہ از دل بے رحم تو ہیچ تقصیر نہ بود
ختم شد!
٨٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیوں کا چہرہ
ان کے اصلی آئینہ میں
حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری
عرض ناشر
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وحده والصلوٰة على من لا نبى بعده وعلى آله واصحابه وعلى من اوفى بعده عهده ، اما بعد!
انگریزوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں غیر منقسم ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کے لئے جو بہت سی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک یہ تدبیر بھی تھی کہ انہوں نے ایک شخص سے نبوت کا دعویٰ اور جہاد کی منسوخی کا اعلان کرا دیا۔ انگریزوں کو چونکہ مسلمانوں ہی سے خطرہ تھا کہ مسلمان جوش جہاد میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے ملک واپس لے لیں۔ اس لئے جہاد کی منسوخی کا اعلان کرانا ضروری تھا۔ تیرہ سو سال سے مسلمان ختم نبوت کے عقیدہ کو مانتے آ رہے تھے۔ انہوں نے جب جھوٹی نبوت کا اعلان سنا تو اس کی مخالفت اور مدافعت میں کھڑے ہو گئے۔ جن حضرات اکابر نے اس سلسلہ میں خوب بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں شیخ المحدثین حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ اور ان کے تلامذہ جن میں احقر کے والد ماجد مفتی اعظم ہند و پاک حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ بھی تھے۔ حضرت موصوف نے رد قادیانیت پر عربی اور اردو میں کتابیں تالیف فرمائیں۔ پھر تقریباً پندرہ سال پہلے جب یہ معلوم ہوا کہ سعودی عرب میں ملازمتوں کے عنوان سے کچھ قادیانی داخل ہو گئے ہیں۔ جناب مولانا محمد عاشق الٰہی صاحب بلند شہریؒ سے عربی میں ایک مختصر سا رسالہ بنام القادیانیہ ماھی؟ تالیف کرایا جو عربی ممالک میں کثیر تعداد میں بھیجا گیا۔
حال ہی میں مولانا موصوف نے ایک رسالہ اردو میں تالیف فرمایا ہے۔ جو مختصر اور جامع ہے اور قادیانیوں کی نقاب کشائی کے لئے بالکل کافی اور وافی ہے۔ جن دوستوں کا قادیانیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ جو نکات اس رسالہ میں درج کئے گئے ہیں۔ ان کو قادیانیوں کے سامنے رکھیں اور ان کو غور و فکر کی دعوت دیں۔ حدیث شریف میں ہے۔
”لان يهدى الله بك رجل خير لك من حمر النعم ، وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب“ احقر: محمد رضی عثمانی ناظم دارالاشاعت کراچی نمبر ١
٢
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلی علی رسوله الکریم ، اما بعد!
یہ دنیا مجموعہ عجائبات ہے۔ جہاں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کے متبعین کی دعوت حق جاری ہے۔ وہاں ان کے دشمنوں کی دعوت باطل اور فتنہ پروری بھی اپنے جال میں پھنسانے کے لئے پورے زور وشور کے ساتھ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اہل شقاوت ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور مستحق عذاب بن جاتے ہیں۔
فتنوں اور فتنہ گروں کا تذکرہ
ان فتنوں کے بارے میں حضرت خاتم النبیین ﷺ نے پیش گوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”دعاة علی ابواب جهنم من اجابهم الیها قذفوه فیها (البخاری ج٢ ص١٠٤٩، باب کیف الامر اذا لم تکن جماعة) ”دوزخ کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے جو شخص ان کی دعوت کو قبول کر لے گا اسے دوزخ میں پھینک دیں گے۔“
راوی حدیث حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ”صفهم لنا“ یعنی ہمیں ان کا تعارف کرا دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: ”هم من جلدتنا ویتکلمون بالسنتنا“ وہ لوگ ہماری جماعت سے نسبت رکھنے والے ہوں گے اور اسی طرح کی باتیں کریں گے جیسی ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ ان ہی فتنوں میں سے جھوٹی نبوت کا فتنہ بھی ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے ان جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں بھی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ سنن، ترمذی میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”انه سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلهم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (سنن، ترمذی ج٢ ص٤٥، ابواب الفتن) ”عنقریب میری امت میں بڑے بڑے تیس جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے بارے میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں۔“
اس حدیث پاک میں بڑے بڑے تیس جھوٹے ایسے فتنہ پروروں کے ظہور کی خبر دی ہے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور (سنن ترمذی ج٢ ص٥٣، ابواب الرؤیا) میں ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد
٣
فرمایا: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ ﴿بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی۔ پس کوئی رسول اور کوئی نبی میرے بعد نہیں۔﴾
ختم نبوت اسلام کا بنیادی اصول اور اجماعی عقیدہ
احادیث کثیرہ جن کا شمار دشوار ہے اور آیت قرآنیہ ’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئ علیما (احزاب:٤٠) “﴿محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔﴾ کی صاف صاف تصریحات کے پیش نظر حضرات صحابہ کرام سے لے کر آج تک تمام مسلمان یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰﷺ کے بعد کوئی نیا نبی اور رسول قیامت تک نہیں آئے گا۔ جو شخص آپؐ کے بعد نبوت اور رسالت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ مرتد ہے ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور جو کوئی شخص کسی مدعیِ نبوت ورسالت کو حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ کے بعد نبی ورسول مانے وہ بھی کافر ہے اور جس کو حضرت محمد مصطفیٰ آخر الانبیاء والمرسلینﷺ پر نبوت ورسالت ختم ہونے میں شک ہو وہ بھی کافر ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی
حضرت فخر موجودات، خاتم النبیین والمرسلین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے بعد بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوئے۔ جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان جھوٹوں کو خلفاء وامراء اور ملوک وسلاطین نے کیفر کردار تک پہنچایا۔
انگریزوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں طرح طرح سے ایسی کوششیں کیں کہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کردیا جائے اور مسلمانوں کو اپنا ہمنواء بنایا جائے۔ تاکہ غیرمنقسم ہندوستان میں ان کے خبیث قدم جمے رہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بعض نام نہاد علماء کو بھی استعمال کیا اور ایک شخص کو نبوت کا دعویدار بنادیا۔ جس نے جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان کردیا اور انگریزوں کی وفاداری کا دھرم بھرا۔ یہ شخص غلام احمد نامی تھا۔ جو قصبہ قادیان ضلع گورداسپور، (مشرقی پنجاب) کا رہنے والا تھا۔ اس شخص کو مکر اور دجل اور تلبیس (حق اور باطل کو ملا دینا اور
٤
باطل کو حق بنا کر پیش کرنا) و تزویر (جھوٹ بنانا، جھوٹ بول کر باطل کو فروغ دینا) میں کمال حاصل تھا۔ اس کے مکر و فریب اور تلبیس کو حضرات علماء کرام نے متعدد کتابوں میں واضح طور پر لکھا ہے۔ یہ کتابیں عام طور پر مل جاتی ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید کی تصریحات
اور ان کے خلاف نصاریٰ کا کفریہ عقیدہ
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام جن کو قرآن مجید میں مسیح بن مریم بھی فرمایا ہے۔ ان کے بارے میں نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے تھے اور یہ کہ ان کو یہودیوں نے قتل کر دیا اور ان کا یہ قتل ان کے ماننے والوں کے لئے ذریعہ نجات اور کفارہ سیئات ہو گیا۔ اسی لئے ان کا پادری اتوار کو تقریر کے بعد چرچ میں حاضرین کے گذشتہ ہفتہ کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتانا اور ان کے مقتول ہونے کا عقیدہ رکھنا اور اوپر سے ان کے قتل کو کفارہ بنا لینا، نصاریٰ کا اپنا خود تراشیدہ اور خود ساختہ عقیدہ ہے۔ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا ہو اور یہ بتایا ہو کہ یہودی مجھے قتل کر دیں گے اور میرا قتل تمہارے لئے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن جائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل ہونے
کا عقیدہ قرآنی تصریح کے سراسر خلاف ہے
قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بہت واضح طریقے پر اعلان فرمایا ہے کہ وہ مقتول نہیں ہوئے۔
ارشاد ہے: ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٧)“ ﴿اور یہ یقینی بات ہے کہ ان لوگوں نے ان کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔﴾
قرآن پاک کی اس تصریح سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام قتل نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم بالا کی طرف اٹھا لیا اور اس بارے میں احادیث کثیرہ مروی
٥
ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام قیامت سے پہلے آسمان سے اتریں گے اور عدل و انصاف قائم کریں گے۔ قادیانی چونکہ ان کی وفات کے قائل ہیں۔ اس لئے آیت کریمہ کے معنی میں تحریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے رفع درجات مراد ہے۔ جب یہ جاہلانہ تاویل کرتے ہیں تو لفظ الیہ کا ترجمہ کھا جاتے ہیں اور جاہلوں کے سامنے ادھورا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔ ”قبحهم الله تعالى“
قرآنی تصریحات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے
قرآن کریم میں جگہ جگہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ابن مریم فرمایا ہے۔ جب کہ کسی دوسرے نبی کے نام کے ساتھ ان کے والد یا والدہ کا نام ذکر نہیں فرمایا۔ سورہ آل عمران میں فرمایا: ”ان مثل عيسىٰ عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون (آل عمران:٥٩)“ ﴿بے شک حالت عیسیٰؑ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشابہ حالت عجیبہ آدم کے ہے کہ ان کو مٹی سے بنایا۔ پھر ان کو حکم دیا کہ ہو جا بس وہ ہو گئے۔﴾
اس سے صاف واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عام انسانوں کی طرح نہ تھی۔ سورۃ انبیاء میں فرمایا: ”والتي احصنت فرجها فنفخنا فيها من روحنا وجعلنا ها وابنها آية للعالمين (الانبياء:٩١)“ ﴿اور اس بی بی کا تذکرہ کیجئے۔ جنہوں نے اپنے ناموس کو بچایا پھر ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے ان کو اور ان کے فرزند کو دنیا جہاں والوں کے لئے نشانی بنا دی۔﴾
اور سورۃ مریم کے آخر میں فرمایا: ”ومريم ابنت عمران التي احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا“ ﴿اور اللہ تعالیٰ عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرماتا ہے۔ جنہوں نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا۔ سو ہم نے ان کے چاک گریبان میں اپنی روح پھونک دی۔﴾
سورۃ مریم کے دوسرے رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔ وہاں ارشاد فرمایا ہے کہ جب فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کو یہ بتایا کہ میں تمہارے رب کا قاصد ہوں۔ تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا ہبہ کروں تو حضرت مریم نے فرمایا کہ: ”انىٰ يكون لي غلام ولم يمسني بشر ولم اك بغيا (مریم:٢٠)“ ﴿میرے لڑکا کس طرح ہو جائے گا۔ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔﴾
٦
فرشتے نے جواب دیا: ”كذالك قال ربك هو على ھين (مریم:٢١)“ ﴿یوں ہی ہو جائے گا۔ تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بات مجھ کو آسان ہے۔﴾
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوگئی تو ان کی قوم نے ان کی والدہ کو مطعون کیا۔ انہوں نے نومولود کی طرف اشارہ کر دیا (کہ یہ جواب دے گا) وہ لوگ کہنے لگے۔ ”کیف نکلم من کان فی المہد صبیاً (مریم:٢٩)“ ﴿ہم ایسے شخص سے کیونکر باتیں کریں جو ابھی گہوارہ میں بچہ ہی ہے۔﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”انی عبداللہ اتانی الکتاب وجعلنی نبیاً وجعلنی مبارکاً این ما کنت واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیاً وبراً بوا لدتی (مریم:٣٣)“ ﴿میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب دی اور اس نے مجھ کو برکت والا بنایا۔ میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔ جب تک میں زندہ رہوں اور مجھ کو میری والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا۔﴾
قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حمل فرشتہ کے پھونکنے سے قرار پایا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت مریم علیہا السلام نے فرشتہ سے کہا کہ میرے اولاد کیسے ہو گی۔ جب کہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں؟ اس پر فرشتہ نے کہا کہ تیرے رب کا فرمان ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے۔ پھر پیدائش کے بعد جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بارے میں واضح بیان دیا تو اس میں ”برا بوالدتی“ بھی فرمایا (یعنی اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں) یاد رہے کہ سورۂ مریم کے پہلے رکوع میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں ”برا بوالدیہ“ فرمایا ہے (کہ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں) اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ ہوتا تو وہ بھی ”برا بوالدی“ (اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا) فرماتے اور قرآن مجید میں ابن مریم کی بجائے ان کے باپ کی طرف نسبت ہوتی۔ ایسی واضح تصریحات کے باوجود مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ تجویز کیا اور یہ کہا کہ: ”انہوں نے اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بڑھئی کا کام کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
١؎ مرزا قادیانی نے اوّل تو مجدد ہونے کا دعویٰ کیا پھر اس کے دعوے ترقی کرتے رہے۔ مثیل مسیح، مسیح موعود پھر ظلی بروزی نبی پھر اصلی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا اور سارے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اپنے کو افضل بتا دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا عقیدہ تراشنے کی ضرورت....... (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٧
نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدائے پاک کا بیٹا بتا کر مشرک ہوئے اور مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا بتا کر کفر صریح اختیار کیا۔
مرزا قادیانی کا حیات مسیح سے انکار اور اپنے بارے میں مختلف دعوے
اوّل تو مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ تجویز کر کے قرآن مجید کی تکذیب کی اور پھر ان کی وفات کا اعلان کیا اور ان کی قبر کشمیر میں بتا دی اور یہ ظاہر کیا کہ جس مسیح کے آنے کا مسلمانوں کو انتظار ہے وہ میں ہوں۔
پہلے تو اپنے آپ کو مثیل مسیح بتایا۔ پھر عین مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر ظلی اور بروزی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ پھر اصلی نبوت کا مدعی بن گیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر فخر الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ کر بیٹھا۔
قرآن مجید میں حضرت سرور کونین ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کو چالو کرنے کے لئے لفظ خاتم النبیین کے معنی بدل دیئے اور قرآن مجید میں صریح تحریف کر دی۔
قادیانیوں کے جال میں کون لوگ پھنستے ہیں؟
قادیانیوں کے مکر و فریب کے جال میں وہ لوگ پھنس جاتے ہیں جو قرآن وحدیث کا علم نہیں رکھتے اور اہل علم سے دور رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی جماعت کے لوگ ایسے ہی لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں جنہوں نے انگریزی پڑھی ہو اور جنہیں قرآن وحدیث کی تصریحات سے واقفیت نہ ہو اور علماء حق کی صحبت نہ پائی ہو۔ کیونکہ ان کو دھوکہ دینا آسان ہوتا ہے اور چونکہ افریقہ کے بہت سے علاقوں میں صرف نام کے مسلمان ہیں۔ جو علوم قرآن وحدیث سے نا آشنا ہیں۔ اس لئے پاکستان قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو کافر قرار دیئے جانے کے بعد اب انہوں نے افریقہ
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) مرزا قادیانی کو اس لئے پیش آئی تھی کہ مسلمانوں کو ان کے آنے کا انتظار ہے۔ ان کی وفات بتا کر ان کی جگہ خود پیش کر دیا جائے گا۔ لیکن جب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تو اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے دعوٰی کی ضرورت ہی نہ رہی۔ لیکن قادیانی پھر بھی پرانی لکیر پیٹ رہے ہیں۔ وفات مسیح کے قائل ہیں اور اس کے لئے جو خود ساختہ دلیلیں تراشی تھیں ان کو پیش کرتے رہتے ہیں۔
٨
کے علاقوں میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ لوگ دجل وفریب میں بھی ماہر ہوتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو بحیثیت ایک جماعت کے ظاہر کرتے ہیں۔ جس کا نام جماعت احمدیہ رکھا ہوا ہے۔ پھر مالی خدمات کرتے رہتے ہیں اور دینی اسلامی باتیں سناتے ہیں اور یہ باتیں نئے آدمی کو ان کے قریب کرتی ہیں۔ خاتم النبیین ﷺ نے فتنہ پروروں کے بارے میں فرمادیا تھا کہ یہ لوگ ہماری ہی جیسی باتیں کریں گے اور جو شخص ان کی بات مان لے گا۔ اسے دوزخ میں پھینک دیں گے جو اہل شقاوت ہیں وہ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ قادیانی چونکہ اسلامی باتیں سنا کر ہی لوگوں کو اپنے مذہب کی دعوت دیتے ہیں اس لئے اپنے بارے میں یہ اعلان صاف نہیں کرتے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں اور اسی لئے ہندوؤں، سکھوں اور یہود ونصاریٰ کو اپنے دین کی دعوت نہیں دیتے۔ کیونکہ وہ اسلام کے عنوان سے متاثر نہیں ہوتے۔ نیز قادیانیوں کا مقصد مسلمانوں کو کافر بنانا ہے۔ ہندو وغیرہ تو پہلے ہی سے کافر ہیں۔ وہ بھی کافر خود بھی کافر ان پر محنت کرنا عبث ہے۔ جیسے جیسے کوئی شخص ان سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے مانوس کرتے رہتے ہیں اور کفریہ جراثیم اس کے ذہن میں پہنچاتے رہتے ہیں۔ بالآخر اس کے دل سے ایمان کھرچ دیتے ہیں اور اپنی طرح کا کافر، زندیق اور دجال بنالیتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ
یہ لوگ شروع میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا مسئلہ اٹھاتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان کی وفات ہوگئی۔ ایک مسلمان جب یہ بات سن کر چونک اٹھتا ہے۔ (کیونکہ وہ بچپن سے یہ سنتا ہوا آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں۔ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور عدل وانصاف قائم فرمائیں گے) تو یہ لوگ اس کے سامنے ایسی عبارتیں پیش کرتے جن سے ان کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ اس نوگرفتار کے پاس چونکہ علم نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کی باتوں کا جواب دینے سے عاجز رہ جاتا ہے۔ (کیونکہ عموماً یہ ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں جو قرآن وحدیث کے علوم سے واقف نہیں ہوتے) جب نئے آدمی کو یہ لوگ یہ باور کرا دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ہوچکی ہے تو یہ سمجھاتے ہیں کہ جس مسیح کے آنے کی حدیثوں میں خبر آئی ہے اور جس کے آنے کا مسلمانوں کو انتظار ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
٩
قادیانیوں کی طرف سے خاتم النبیین کی معنوی تحریف
قادیانی جماعت کے لوگ پہلے اپنے مرزا قادیانی کو مسیح موعود بتاتے ہیں۔ پھر کچھ دن کے بعد اس کو نبی بتا دیتے ہیں۔ جب نئی نبوت کی بات سامنے آتی ہے تو سننے والے کے کان کھڑے ہوتے ہیں اور جس کا عقیدہ اب تک یہ رہا ہو کہ حضور اقدس سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں وہ نئی نبوت کی بات سن کر چونک اٹھتا ہے اور آیت قرآنیہ پیش کرتا ہے۔ جس میں فخر کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بتایا ہے۔ مرزا قادیانی کے متبعین خاتم النبیین کا معنی افضل النبیین کرتے ہیں اور طرح طرح کی تاویل و تحریف کر کے اس متاثر ہونے والے شخص کو اپنا جیسا ملحد اور کافر بنا لیتے ہیں۔ جب مرزا قادیانی نے اپنے کو حضور خاتم النبیین ﷺ سے بھی افضل بتا دیا تو اب مذکورہ تاویل بھی ختم ہوئی (کہ خاتم النبیین افضل النبیین کے معنی میں ہے) لیکن بے علم لوگوں کو پھنسانے کے لئے انہوں نے یہ تاویل اپنے دلائل باطلہ کے اسٹاک میں رکھی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا۔ مرزا قادیانی کے متبعین صرف مسلمانوں میں اپنے کفر کی تبلیغ کرتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں اور بدھسٹوں میں اپنا کام نہیں کرتے۔
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حضرت خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد ہے:
”والله لينزلن ابن مريم حكما عادلا فيكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد (مسلم ج ١ ص ٣٠٢، باب نزول عيسى بن مريم عليه السلام)“ اللہ کی قسم ضرور ضرور ابن مریم نازل ہوں گے۔
١؎ شاید قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ کہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو حضور اقدس ﷺ سے کہاں افضل بتایا؟ لہٰذا ان کے دروغ کو بے فروغ کرنے کے لئے مرزا قادیانی کا ایک عربی شعر نقل کرتے ہیں۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ پر اپنی فوقیت اور فضیلت ظاہر کرتے ہوئے مرزا قادیانی اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) پر لکھتا ہے۔
غـســا القـمـران المـشـرقـان اتـنـكـر
ترجمہ: ان (محمد رسول اللہ ﷺ) کے لئے روشن چاند گرہن ہوا اور میرے لئے چاند سورج روشنی والے دونوں گرہن ہو گئے۔ کیا تو منکر ہوتا ہے۔ دیکھو دعوائے افضلیت کس قدر جھلک رہا ہے؟
١٠
جو فیصلے دینے والے عدل و انصاف والے ہوں گے اور بلاشبہ وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور اونٹوں کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ ان کو کام میں نہیں لایا جائے گا اور ان کے زمانہ میں ضرور ضرور آپس کا کینہ اور بغض اور حسد ختم ہو جائے گا اور (مال کی اس قدر کثرت ہوگی) کہ وہ مال دینے کے لئے بلائیں گے تو اسے کوئی بھی قبول نہ کرے گا۔﴾
اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دنیا میں دوبارہ تشریف لانے کی خبر ہے۔ جو تاکید مؤکد کے ساتھ بیان کی گئی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض خاص خاص اوصاف کا بھی ذکر ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ عادلانہ فیصلے فرمائیں گے اور یہ بھی ہے کہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم فرمائیں گے اور ان کے زمانہ میں کینہ، بغض، حسد سب ختم ہو جائے گا اور مال اس قدر کثیر ہوگا کہ وہ کسی کو مال دینے کے لئے بلائیں گے تو وہ قبول نہیں کرے گا۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کے آنے کی حدیثوں میں خبر دی گئی۔ اب اس حدیث کے مطابق مرزا قادیانی کو اس کی زندگی کے آئینہ میں دیکھ لیا جائے۔
- ......١ مرزا قادیانی ابن مریم نہیں تھا۔ اس کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ اور ماں کا نام چراغ بی
بی تھا اور فخر عالم ﷺ کی پیش گوئی ابن مریم کے بارے میں ہے۔ پھر مرزا قادیانی مذکورہ پیش گوئی کا مصداق کیسے ہو سکتا ہے؟
- ......٢ مرزا قادیانی کبھی حاکم، قاضی، چھوٹا موٹا مجسٹریٹ بھی نہیں ہوا کہ وہ فیصلے دیتا۔
- ......٣ حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑ دیں
گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ یہ دونوں کام کیوں کریں گے؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ نصرانی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں۔ آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد نصاریٰ نے ان کے قتل کا عقیدہ بنا لیا اور اپنے خیال باطل میں ان کے قتل کو اپنے گناہوں کا کفارہ تسلیم کر لیا اور چونکہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی (صلیب) پر چڑھایا گیا اور سولی ان کے عقیدہ میں آپ کے قتل کا اور نصاریٰ کے گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ بنی۔ اس لئے وہ صلیب کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس کی عبادت تک کرتے ہیں اور خنزیر کا گوشت نصاریٰ کی طبیعت ثانیہ بنا ہوا ہے۔ اس کو بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ لہٰذا نصرانیت کو سارے انسانوں کے سامنے باطل قرار دینے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ نصرانیوں کا مجھ سے کوئی
١١
تعلق نہیں۔ میں ان سے اور وہ مجھ سے بیزار ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ اب مرزا قادیانی کو دیکھ لو اس نے انگریزوں کا دم بھرا اور ان کی وفاداری کا اعلان کیا۔ ان کی حکومت ہندوستان میں باقی رکھنے کے لئے حوصلہ مندی سے ان کی خدمات انجام دیتا رہا اور یہ سب کو معلوم ہے کہ انگریز جہاں اپنی حکومت قائم کرتے تھے وہاں گرجا گھر بھی بناتے تھے اور اپنا مشن جاری کرتے تھے اور نصرانیت کی پوری طرح تبلیغ کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی خدمت کی اور ان کے دین نصرانیت کو تقویت پہنچائی اور نصرانیت کے پھیلنے کے لئے مواقع نکالے اور آج تک قادیانیوں کا نصرانیوں سے بہت زیادہ گٹھ جوڑ ہے اور درحقیقت مجدد سے لے کر نبوت تک کے سارے دعوے جو مرزا قادیانی نے کئے وہ سب نصاریٰ اور نصرانیت ہی کی تائید اور تقویت کے لئے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ جس کا مقصد اصلی ہی خدمت نصاریٰ ہو۔ مسیح موعود کے تو امتیازات خاصہ میں یہ بات شامل ہے کہ وہ نصرانیت کو ختم فرمائیں گے اور اس کو باطل قرار دیں گے۔
- ٤...... حدیث شریف میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے
میں اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ ان سے کوئی کام نہ لیا جائے گا اور مال بہت زیادہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی کو مال دینا چاہیں گے تو کوئی قبول نہ کرے گا اور ان کے زمانہ میں بغض ، کینہ، حسد سب ختم ہو جائے گا۔
اب مرزا قادیانی کے احوال پر نظر کرو۔ کیا اس کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکار کر دی گئی تھیں؟ اور کیا کینہ حسد بغض ختم ہو گیا تھا اور کیا مال کی اتنی کثرت تھی کہ مرزا قادیانی کسی کو مال دیتا تو
١؎ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠) پر انگریزوں سے اپنی وفاداری کا یوں اظہار کیا ہے۔ ”اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنے سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریز کا دل و جان سے خیرخواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔“ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔ جس مقصد سے انگریزوں نے اپنے وفادار کو نبی بنا کر کھڑا کیا تھا وہ مقصد تو ختم ہوا۔ کیونکہ انگریز ہندوستان سے دفع ہو گئے۔ لیکن وفادار کے وفادار یعنی مرزا قادیانی کے متبعین انگریزوں کی وفاداری میں لگے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کے دین کے بانی نے انگریزوں کی وفاداری دین میں شامل کر دی تھی۔
١٢
وہ قبول نہ کرتا۔ سب کو معلوم ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہوا۔ (مرزا قادیانی کو لوگوں سے چندہ لے کر اپنی ہی جیب بھرنے سے بے نیازی نہ تھی ؎١۔ وہ دوسروں کو مال دینے کے لئے کیا بلاتا ) خود قادیانیوں میں جو حسد وبغض تھا اور حکیم نورالدین اور اس کے خاندان اور دوسرے افراد کے ساتھ جو معاملات خلافت کی رسہ کشی وغیرہ کے سلسلہ میں پیش آئے ان سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے لوگوں تک میں ہی الفت قائم نہ کر سکا۔ پھر حدیث کی پیش گوئی کا مصداق مرزا قادیانی کیسے ہو سکتا ہے؟ اہل بصیرت آنکھیں کھولیں۔
سورۂ صف کی آیت قرآنیہ میں قادیانیوں کی تحریف
قادیانیوں کی تلبیسات بہت سی ہیں۔ ان میں سے ایک بہت بڑی تلبیس یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے سورۃ صف میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف: ٦)“ فرمایا ہے۔ اس کا مصداق اپنے مرزا قادیانی کو بتاتے ہیں اور جو لوگ قرآن وحدیث کا علم نہیں رکھتے (چاہے انہوں نے دوسرے علوم کی کتنی ہی ڈگریاں حاصل کر لی ہوں ) ان کو یہ سمجھا دیتے ہیں کہ دیکھو قرآن میں مرزا قادیانی کی نبوت کی خوشخبری دی گئی ۔
قادیانیوں کی تلبیس اور نص قرآنی سے اس کی تردید
اس میں کئی طرح سے تلبیس اور دجل وفریب ہے۔ اوّل تو یہ کہ قرآن مجید میں احمد کی
؎١ مرزا قادیانی پر مالیات کے سلسلہ میں خود اس کے مریدین ومتبعین اطمینان نہیں رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ قوم کی رقم بیجا خرچ کرتا ہے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین مرزائی کا بیان اس طرح سے موجود ہے۔ ”پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اس طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچایا کرتے تھے اور پھر قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہمارے سر پر چڑھ گئیں کہ تم جھوٹے ہو۔ ہم نے قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی باہر نہیں۔ حالانکہ ہمارا روپیا اپنا کمایا ہوا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔“
(کشف الاختلاف ص١٣)
١٣
رسالت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ غلام احمد کو اس کا مصداق بتانا صریح دھوکہ اور فریب ہے۔ مرزا قادیانی کا نام، ماں باپ کا رکھا ہوا شروع ہی سے غلام احمد تھا اور موت آنے تک اس کا یہی نام رہا۔ پھر اس کے نام سے لفظ غلام کو ہٹا کر اس کو احمد مرسل کا مصداق بتانا واضح تلبیس وتزویر ہے۔
دوم یہ کہ قرآن مجید میں الفاظ مذکورہ کے ساتھ ہی بلافصل یہ بھی فرمایا: ”فلما جاءهم بالبينات قالوا هذا سحر مبين (٦)“
یعنی جب احمد نامی شخصیت کی لوگوں کے سامنے آمد ہوئی جس کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی اور انہوں نے کھلے کھلے دلائل اپنی رسالت کے ثبوت میں پیش کئے تو اس وقت کے اولین مخاطبین نے یہ کہا کہ یہ کھلا جادو ہے۔ اس میں قادیانیوں کے دعوے کی دوطرح سے واضح تردید ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے بیان کے مطابق جب سورہ صف کی آیت نازل ہوئی تھی۔ اس سے پہلے احمد مرسل ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مخالفین ان کو جادوگر کہہ چکے تھے۔ جاء ماضی کا صیغہ ہے وہ یہ بتا رہا ہے کہ جس احمد رسول اللہ ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی۔ وہ بوقت نزول قرآن تشریف لاچکے ہیں۔ لہٰذا آیت مذکورہ کے نازل ہونے کے بعد کسی نئی شخصیت کے پیغمبر ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ پھر آیت کریمہ میں یہ بھی فرمایا کہ احمد رسول اللہ ﷺ جن کی آمد کی خوشخبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔ وہ کھلے کھلے دلائل اور معجزات لے کر آئے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جھوٹے دعوؤں اور تلبیس وتزویر اور تحریف کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ لہٰذا اس کو آیت کا مصداق وہی شخص قرار دے سکتا ہے جس کی عقل اور ایمان سلب ہوچکے ہوں۔
تیسری چیز جو آیت شریفہ میں مذکور ہے۔ جس سے قادیانیوں کے دعوے کی کھلی تردید ہورہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب احمد مرسل ﷺ تشریف لائے تو ان کے مخاطبین نے ان کے لائے ہوئے معجزات کو کھلا ہوا جادو بتایا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے مخاطبین نے یہی وطیرہ اختیار کیا تھا کہ ان کے معجزات کو جادو بتا کر ان کی نبوت کے ماننے سے انحراف کیا۔
سورۃ ذاریات میں فرمایا: ”كذالك ما أتى الذين من قبلهم من رسول الا قالوا ساحر أو مجنون (ذاریات:٥٢)“ کہ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں جس کو انہوں نے ساحر یا مجنون نہ کہا ہو۔ ﴾
١٤
دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی کو اس کے مخالفین نے جھوٹا بھی کہا، مکار اور فریبی بھی بتایا۔ اس کے امراض کا بھی پتہ چلایا اس کے شخصی احوال سے بھی بحث کی۔ لیکن اسے ساحر یعنی جادو گر نہیں کہا اور نہ اس بات کے کہنے کا کوئی موقعہ تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے خارق العادۃ (عام عادتوں کے خلاف) کوئی چیز ظاہر ہی نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے اسے جادوگر کہا جاتا۔
حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے پیش کردہ معجزات کا مقابلہ کرنے سے ان کی قوم کے لوگ عاجز تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا۔ اگر مرزا قادیانی سے بالفرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کسی ایسی چیز کا صدور ہوا ہوتا۔ جس سے لوگ عاجز ہوتے۔ مثلاً برص والوں کے جسم پر ہاتھ پھیر دینے سے برص کے مریض ٹھیک ہوگئے ١؎ ہوتے ،یا اندھے بینا ہوگئے ہوتے یا ایسی کسی چیز کا صدور ہوا ہوتا، جو فخر کائنات حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ سے بطور معجزہ صادر ہوئیں۔ (مثلاً کنکریوں نے تسبیح پڑھی۔ انگلیوں سے پانی جاری ہوا۔ بیل نے بات کی، چاند کے دو ٹکڑے ہوئے) تو مرزا قادیانی کو لوگ جادو گر کہتے۔ اس کے یہاں تو جھوٹی نبوت کے ثابت کرنے کے لئے جھوٹی پیش گوئیوں کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔
سورۂ صف میں جس احمد کی رسالت کی خوشخبری ہے
اس سے حضرت احمد مجتبیٰ خاتم النبیین ﷺ مراد ہیں
سورۂ صف کی آیت شریفہ میں جو ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف: ٦)“ فرمایا ہے۔ اس کا مصداق حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذات گرامی
١؎ مرزا قادیانی کے ہاتھ پھیرنے سے تو کسی مریض کو کیا شفا ہوتی۔ خود اس کا اپنا یہ حال تھا۔ دایاں ہاتھ ٹوٹ گیا اور اخیر عمر تک شل رہا کہ اس ہاتھ سے پانی تک اٹھا کر نہ پیا جا سکتا۔ دانت خراب اور ان میں کیڑا لگا ہوا۔ آنکھیں اس قدر خراب کہ کھولنے میں تکلیف ہو۔ دورانِ سر کی اس قدر تکلیف کہ موت سے تین برس پہلے تک اور اس سے پہلے بھی متعدد سال رمضان کے روزے نہ رکھے اور کبھی اس قدر غشی پڑ جاتی کہ چیخیں نکل جاتیں اور دورے اس قدر سخت پڑتے کہ ٹانگوں کو باندھ دیا جاتا اور اس کے علاوہ ذیابیطس اور تشنج قلب اور دق کی بیماری اور حالت مردی کالعدم اور دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور اور پھر ان سب پر مستزاد مالیخولیا اور مراق کا موذی مرض اور ہسٹریا بھی تھا۔ (تفصیل کے لئے سیرۃ المہدی سوانح مرزا، مصنفہ مرزا بشیر احمد فرزند مرزا قادیانی اور نزول المسیح، خزائن ج١٨ مصنفہ مرزا قادیانی کا مطالعہ کریں)
١٥
ہے ۔ آپ ﷺ کا اسم گرامی محمد ﷺ بھی تھا اور احمد ﷺ بھی تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی آپ ﷺ کے بہت سے نام ہیں، جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مروی ہیں۔
آنحضرت سرور عالم خاتم النبیین ﷺ کا اسم گرامی محمد ﷺ بھی ہے اور احمد ﷺ بھی اس بارے میں ہم یہاں دو حدیثیں نقل کرتے ہیں
پہلی حدیث ........ حضرت امام بخاریؒ نے اولاً تو اپنی کتاب میں ”ما جاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ“ کے عنوان سے باب قائم کیا ہے۔ پھر قرآن مجید سے رسول اللہ ﷺ کے دونوں نام ثابت کئے ہیں اور آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم (احزاب : ٤٠)“ اور دوسری آیت ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار“ اور تیسری آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ نقل کی ہے۔ اس کے بعد حدیث ذیل لکھی ہے۔
”عن جبير بن مطعمؓ قال ﷺ يقول ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی يمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی يحشر الناس علی قدمی وانا العاقب (صحیح بخاری ج٢ ص٧٦٧، باب يأتی من بعدی اسمہ احمد)“ ﴿حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں۔ میں محمدؐ ہوں میں احمدؐ ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں۔ میرے قدموں پر قیامت کے دن لوگ جمع کئے جائیں گے اور میں عاقب (سب سے پیچھے آنے والا) ہوں۔﴾
صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔ وہاں عاقب کے معنی یہ بتائے ہیں کہ: ”الذی لیس بعدہ نبی (صحیح مسلم ج٢ ص٢٦١، باب اسمائہ ﷺ)“ یعنی عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور (سنن ترمذی ج٢ ص١١١، باب ما جاء فی اسماء النبیؐ) میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں ۔ ”وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی (قال الترمذی حسن صحیح)“
دوسری حدیث: ”عن ابی موسیٰ الاشعریؓ عنہ قال کان رسول اللہ ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء فقال أنا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی
التوبة ونبى الرحمة (صحیح مسلم ج٢ ص ٢٦١، باب فی اسمائہﷺ) ﴿حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے سامنے اپنے چند نام ذکر فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور مقفی ہوں اور حاشر ہوں اور نبی التوبہ ہوں اور نبی الرحمہ ہوں۔﴾
ان حدیثوں میں آنحضرت سرور عالم خاتم النبیینﷺ کے چند اسماء گرامی مذکور ہیں۔ ان میں محمد بھی ہے اور احمد بھی ہے اور دیگر اسماء بھی ہیں۔ حدیث دوم میں ایک نام مقفی بھی ہے۔ اس کا حاصل بھی وہ ہے جو عاقب کا معنی ہے۔ یعنی جو آخری نبی بن کر آیا اور اس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
آنحضرتﷺ نے یہ جو فرمایا کہ میں حاشر ہوں۔ جس کے قدموں پر لوگ قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آپ کی قبر شق ہوگی اور آپ سب سے پہلے قبر سے باہر آئیں گے۔ آپ کے بعد باقی انسان قبروں سے نکلیں گے۔
آنحضرت سرور عالمﷺ کی دعوت سے
ایمان پھیلا اور مرزا قادیانی نے کفر پھیلایا
آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا۔ آنحضرت سرور عالمﷺ کے ذریعہ دنیا سے اندھیرا چھٹ گیا اور لاتعداد انسان آپ کی دعوت پر اور آپ کے خلفاء (امراء، علماء، مبلغین، مجاہدین) کی دعوت پر بے شمار انسان کفر چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ مرزا قادیانی سے یہ تو نہ ہوا کہ کافروں کو اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کرتا۔ بلکہ اس نے بہت سے اہل اسلام کے دین پر ڈاکہ ڈالا اور ان کے ایمان کا ناس کھویا۔ خود بھی کافر ہوا اور بہت سے مسلمانوں کو کافر بنایا۔ کافر انگریز کی وفاداری کی ہندوستان میں اس کے قدم جمانے کی کوشش کی جہاد کو منسوخ قرار دیا تا کہ کفر پھیلے اس کی خدمات کافروں کے حق میں رہیں۔ وہ کفر کا ماحی (مٹانے والا) نہ ہوا۔ بلکہ کفر کا حامی رہا۔ اس کے دین کا سب سے بڑا رکن انگریز کی خدمت اور اس کی وفاداری ہے۔
١٧
مرزا قادیانی کے متبعین احمدی نہیں بلکہ غلامی اور مرزائی ہیں
مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین اپنے کو احمدی کہتے ہیں اور بے علم لوگوں کو کچھ اس طرح سے باور کراتے ہیں کہ ہم احمد بن عبداللہ العربی ﷺ کی طرف منسوب ہیں اور حقیقت میں ان کی یہ نسبت ان کے نزدیک مرزاغلام احمد قادیانی کی طرف ہے۔ جس کا اظہار وہ اس وقت کرتے ہیں۔ جب کہ انسان ان کے دام تلبیس میں پھنس جاتا ہے۔ قادیانی اپنے کو جس جھوٹے نبی کی امت قرار دیتے ہیں۔ وہ مرزاغلام احمد قادیانی تھا۔ لہٰذا یہ لوگ غلامی یا مرزائی یا قادیانی کے لقب سے مشہور کئے جانے کے قابل ہیں۔ مسلمان قادیانیوں کو احمدی کہنے سے پرہیز کریں۔ قادیانیوں نے تو اپنے جھوٹے نبی سے جھوٹ اور مکر وفریب اور دجل سیکھا ہے۔ سادہ لوح مسلمانوں سے تعجب ہے کہ وہ جب مرزا قادیانی کے ماننے والوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کو احمدی کہتے ہیں۔ قادیانیوں کو احمدی کہنے والوں کے دل میں اگرچہ یہ نہ ہو کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے مسلمان ہیں اور احمد مجتبیٰ ﷺ سے نسبت رکھتے ہیں۔ لیکن ایسا کہنے سے غیر شعوری طور پر مرزائیوں کی ایک طرف سے تائید ہوتی ہے۔ اس لئے سب مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزا قادیانی کے ماننے والوں کو مرزائی یا قادیانی یا غلامی کہیں۔ لفظ احمدی ان کے لئے استعمال کرنے سے مکمل طریقہ پر سختی سے پرہیز کریں۔
مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا جھوٹی پیشین گوئیوں سے سہارا
جیسا کہ ہم نے عرض کیا مرزاغلام احمد قادیانی اپنی جھوٹی نبوت کے لئے پیشین گوئیوں کا سہارا لیتا تھا اور یہ پیش گوئیاں ہی اس کے خیال میں اس کے حق ہونے کا سب سے بڑا معجزہ تھیں۔ اب ہم اس کی بعض پیشین گوئیاں ذکر کرتے ہیں۔ جن کا جھوٹ ہونا دشمن اور دوست سب پر عیاں اور واضح ہو چکا ہے۔ اس کی کوئی بھی پیشین گوئی صحیح اور سچی ثابت نہیں ہوئی۔ لیکن ہم یہاں اس کی ایسی بعض پیشین گوئیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جن کو اس نے اپنی حقانیت کا معیار بنایا تھا۔
محمدی بیگم سے نکاح ہونے کی پیش گوئی اور اس کا جھوٹ ثابت ہونا
مرزاغلام احمد قادیانی کی ایک پیش گوئی یہ تھی کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگا۔ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ سارے موانع کو دور فرما دے گا اور یہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔
١٨
بلکہ مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ ”اس لڑکی کے نکاح کی خبر کو میں اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کا معیار سمجھتا ہوں۔“
اور یہ بھی کہا کہ : ”مجھے اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بتایا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً ملخص)
مرزا قادیانی کی دوسری پیش گوئیوں کی طرح یہ پیشین گوئی بھی جھوٹ ثابت ہوئی اور محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد نامی شخص کے ساتھ ہو گیا۔ اس پر مرزا قادیانی نے اپنا جھوٹا الہام اس طرح سے شائع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے باوجود تجھ پر واپس کروں گا اور یہ لڑکی میں تجھے دے چکا اور میری تقدیر بدلتی نہیں ہے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤١ ملخص)
ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے خوب عاجزی کے ساتھ اللہ پاک کے حضور میں دعا کی اور یوں عرض کیا کہ اے اللہ ! احمد بیگ کی بڑی بیٹی (محمدی بیگم) کا بالآخر میرے نکاح میں آنا آپ کی طرف سے اس کی خبر دی گئی ، لہٰذا آپ اس کو ظاہر فرمائیں تا کہ تیری مخلوق پر حجت قائم ہو جائے اور اگر یہ خبریں تیری طرف سے نہیں ہیں تو اے اللہ مجھے ذلت اور محرومی کے ساتھ ہلاک فرما۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٩ ملخص)
اس دعا اور الحاح وزاری کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمدی بیگم برابر اپنے شوہر کے گھر میں آباد رہی اور مرزا غلام احمد قادیانی کا آخر دم اس سے نکاح نہ ہوا۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اس دنیا سے رخصت ہوا اور اپنے اصلی ٹھکانہ پر پہنچ گیا۔ ہیضہ کے مرض میں اس کی موت ہوئی اور دنیا والوں نے اس کی ذلت اور محرومی دیکھ لی اور جس چیز کو اپنے سچا جھوٹا ہونے کا معیار بتایا تھا۔ وہی چیز اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل بن گئی ۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار “
مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مرزا قادیانی کا خطاب
اور ذلت وحسرت کے ساتھ مرزا قادیانی کی موت
ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے وہ یہ کہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ برابر مرزا قادیانی کا تعاقب کرتے رہتے تھے اور مرزا قادیانی کی تردید میں انہوں نے بہت زیادہ حصہ لیا ہے۔ ایک مرتبہ جب مرزا قادیانی کو جوش آیا تو اس نے یہ الفاظ شائع کر دیئے ۔
١٩
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر بہت نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
اس اعلان کے بعد صرف ایک سال اور ایک ماہ بعد مرزا قادیانی ذلت اور حسرت کے ساتھ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ جیسے دشمن کی زندگی میں ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گیا اور ساری دنیا کے سامنے اس کی رسوائی ظاہر ہو گئی۔
مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر بہت سے دلائل ہیں۔ جو حضرات علماء کرام نے اپنی تالیفات میں جمع کئے ہیں۔ ہم نے تو صرف دو ایسی چیزوں کا تذکرہ کیا ہے۔ جن کو مرزا قادیانی نے خود اپنا سچا یا جھوٹا ہونے کا معیار قرار دیا۔ پھر وہ ذلت اور محرومی کی موت مرا اور اپنے بیان کردہ معیار کے مطابق جھوٹا ثابت ہوا۔
مرزا قادیانی کی ایک اور جھوٹی پیشین گوئی
جس میں کہا تھا کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گا
مرزا قادیانی کی ایک اور پیشین گوئی کا تذکرہ کر دینا بھی رسالہ کے موضوع سے باہر نہ ہوگا اور وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے یہ پیشین گوئی کی تھی۔ جب تک طاعون دنیا میں رہے گا گو ستر سال تک رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
خداوند قدوس نے اس پیشین گوئی میں بھی جھوٹے مدعی کا جھوٹا ہونا ثابت فرما دیا۔ ستر برس تو بڑی بات تھی۔ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں قادیان کو طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جب کہ ملک کے دوسرے حصے اس وباء سے محفوظ رہے۔ نہ صرف یہ کہ قصبہ قادیان میں طاعون پھیلا۔ بلکہ مرزا قادیانی کا گھر بھی اس سے نہ بچ سکا۔
کلمہ گو ہونے کی بنیاد پر جو لوگ قادیانیوں کو کافر نہیں کہتے
وہ ایمان اور کفر کے مفہوم سے نابلد ہیں
بہت سے لوگ جنہیں ایمان کی حقیقت اور اس کے لوازم معلوم نہیں وہ قادیانیوں کو
٢٠
دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں۔ ہر کلمہ گو مسلمان ہے۔ حالانکہ کلمہ گو کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معبود وحدہ لاشریک ہونے کا سچے دل سے یقین کرے اور حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی نبوت اور رسالت کو دل سے تسلیم کرے اور جو کچھ حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے۔ اس سب کو تسلیم کرے اور آپ نے جو عقیدے بتائے ہیں۔ ان پر یقین کرے اور ان کو اپنا عقیدہ بنائے اور قرآن مجید کی ہر بات کو لفظی اور معنوی تحریف کے بغیر دل وجان سے مانے، جو شخص ان میں سے کسی بھی چیز سے منحرف ہو وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ خواہ زبان سے کتنی ہی بار کلمہ پڑھے اور مسلمان ہونے کا اظہار کرے۔
زمانہ نبوت میں منافق زبانی کلمہ گو تھے
پھر بھی قرآن نے ان کو کافر بتایا
یہ تو سب جانتے ہیں کہ فخر عالم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے۔ جو کلمہ پڑھتے تھے۔ پھر بھی کافر تھے۔ جن کو قرآن وحدیث میں منافقین کا لقب دیا گیا ہے۔ (سورہ بقرہ:٨) میں ارشاد ہے: ”ومن الناس من يقول امنا بالله وباليوم الاخر وما هم بمؤمنين “﴿ بعضے لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر۔ حالانکہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔﴾
دیکھو اس آیت میں ایمان کا اقرار کرنے والوں کو بھی غیر مؤمن بتایا ہے۔ یہ لوگ منافق تھے۔ زبان سے کلمہ اسلام پڑھتے تھے۔ قرآن نے ان کے بارے میں یہ فرمایا کہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر کلمہ گو مؤمن نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ فقہاء کی عبارات کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے یوں کہتے ہیں کہ کلمہ گو سب مسلمان ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ اہل قبلہ سب مسلمان ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے اور ان کی جہالت پر مبنی ہے۔ (ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر ص ١٨٩) کے تکملہ میں فرماتے ہیں: ”وان المراد بعدم تكفير احد من اهل القبلة عند اهل السنة أنه لا يكفر مالم يوجد شئ من امارات الكفر وعلاماته ولم يصدر عنه شئ من موجباته “﴿ جاننا ضروری ہے کہ حضرات اہل سنت نے یہ جو فرمایا ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہا جائے۔ یہ اس وقت ہے۔ جب اہل قبلہ سے کوئی چیز کفر کی علامت میں سے ظاہر نہ ہو اور کوئی ایسی چیز صادر نہ ہو۔ جس سے اس پر کفر عائد ہوتا ہو۔﴾
٢١
قادیانی چند وجوہ سے کافر ہیں
اب آجائیے! قادیانیوں کی طرف اور غور فرمائیے کہ یہ لوگ قرآن مجید کی آیت ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ کو نہیں مانتے ان کو یہ منظور نہیں کہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم ہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے وہ راضی ہی نہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ پھر سورۂ صف کی آیت میں تحریف کردی۔ ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کا مصداق غلام احمد قادیانی کو بنا دیا۔ اس صریح واضح کفر کے ہوتے ہوئے کلمہ گو ہونے کے دعویٰ کی بنیاد پر ان کو مسلمان سمجھنا سراسر کفر ہے۔ اللہ جل شانہ کے بارے میں مرزا قادیانی کی بکواس سنو گے تو حیران رہ جاؤ گے۔ سنو اس کی بات وہ کہتا ہے: ”قال الله تعالى انی مع الرسول اجیب اخطئ واصیب انی مع الرسول محیط“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں رسول کی بات قبول کرتا ہوں۔ غلطی کرتا ہوں اور صواب کو بھی پہنچاتا ہوں۔ میں رسول کو محیط ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩)
قادیانی مؤلف یار محمد اپنی کتاب (اسلامی قربانی ص ١٢) میں لکھتا ہے: ”مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔“
ساری مخلوق پر افضلیت کا دعویٰ کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ مجھے وہ کچھ دیا ہے جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔
(الاستفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥)
اور سرور عالم خاتم النبیین ﷺ پر اپنی فوقیت اور فضیلت ظاہر کرتے ہوئے مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”نبی اکرم ﷺ کے تین ہزار معجزے تھے۔“ (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) ”لیکن میرے معجزات دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣)
سرور عالم ﷺ پر فضیلت اور فوقیت ظاہر کرنے کے بارے میں مرزا قادیانی کا ایک عربی شعر بھی گزر چکا ہے۔
مرزا قادیانی کی ان باتوں اور عقیدوں کو دیکھو۔ کیا ان عقائد کے ہوتے ہوئے کوئی شخص مسلمان ہو سکتا ہے۔
٢٢
مرزا قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں جو کلمات لکھے ہیں۔ ان سے بھی مرزا قادیانی پر کفر عائد ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شراب خور بتاتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”یورپ کے لوگوں کو شراب سے جو ضرر پہنچا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مرض کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے شراب پیتے تھے۔“
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ)
مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ (حضرت) عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اپنے کو نیک آدمی کہتا۔ کیونکہ لوگ جانتے کہ عیسیٰ شرابی اور بدسیرت ہے۔
(ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٩٦)
اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ معجزہ ایک قسم کا لعب اور شعبدہ تھا اور مٹی ان کے ہاتھ میں مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری نے قوم کی زینت سے لے کر بچھڑا بنا دیا تھا۔
(ازالۃ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣ ملخص)
کس دیدہ دلیری سے مرزا قادیانی نے قرآن کی آیت کا مذاق اڑایا اور قرآن مجید نے جن چیزوں کو معجزہ بتایا ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کو شعبدہ بتایا۔ ”ورسولا الی بنی اسرائیل انی قد جئتکم بآیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ“ مرزا قادیانی نے ایک اردو شعر میں یہ بھی کہا ہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اور فارسی میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے کہتا ہے۔
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
(عیسیٰ کہاں ہے جو میرے منبر پر پاؤں رکھے)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کا فاحشہ عورتوں کی طرف میلان تھا۔ کیونکہ ان کی دادیاں فاحشہ تھیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
٢٣٠
تعجب ہے قادیانیوں کو ایسے شخص کے نبی ہونے پر اصرار ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی کے بارے میں ایسی گستاخیاں کی ہیں۔ ایسا شخص تو مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔
جو لوگ سب کچھ دیکھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ مرزا قادیانی کو خود نبی مانتے ہیں۔ بلکہ دوسرے مسلمانوں کے ایمان پر بھی ڈاکہ ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دے کر قادیانی جماعت میں شریک کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ جان بوجھ کر کفر اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ”اضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوۃ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرون“
قادیانیوں کی تلبیس کہ ہمارا مسلمانوں کا اختلاف حنفیہ شافعیہ
جیسا اختلاف ہے اور مولویوں کا کام ہی یہ ہے کہ مخالفین کو کافر بتایا کریں
جب حضرات علماء کرام نے مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کا کفر ظاہر کیا اور امت مسلمہ کو بتایا کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو قادیانیوں نے بھولے بھالے بے علم اور کم علم لوگوں کو یہ سمجھایا کہ مولوی کا تو کام یہی ہے کہ مسلمانوں کو کافر بنایا کریں۔ بہت سے فرقے آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ ہمیں بھی کافر کہنے لگے ہیں اور جو لوگ قرآن وحدیث کو نہیں جانتے۔ ان کو یہ سمجھاتے ہیں کہ ہمارا مسلمانوں سے ایسا ہی اختلاف ہے جیسا آپس میں حنفیہ، شافعیہ اختلاف رکھتے ہیں۔ چونکہ مکر وفریب ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور ان کے دین کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ اس لئے جھوٹ اور فریب سے ذرا پرہیز نہیں کرتے۔ حنفیہ اور شافعیہ کا اختلاف ایمان اور کفر کا اختلاف نہیں ہے۔ عقائد میں چاروں اماموں کے مقلدین متفق ہیں۔ مسائل میں فروعی اختلاف ہے۔ جس کی وجہ سے کفر عائد نہیں ہوتا اور اسی لئے وہ آپس میں ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے اور مانتے ہیں۔ خود قادیانی سارے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس کی تصریح مرزا قادیانی کے کلام میں موجود ہے ١؎۔ جب مسلمان ان کے نزدیک کافر ہیں تو یہ فروعی
١؎ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ”جو مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے۔ اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص١٦٨) اور مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود لکھتا ہے کہ: ”جو مسلمان مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص٣٥)
٢٤
اختلاف کیسے ہوا؟ یہ تو دو جماعتیں نہ ہوئیں۔ دو امتیں ہوئیں۔ ایک امت سچے نبی حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ہوئی اور دوسری امت نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا قادیانی کی ہوئی۔ یہ حنفیہ، شافعیہ جیسا اختلاف ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ کفر و ایمان کا اختلاف ہے۔ ارے قادیانیو! جب سیدنا خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی تم کو کافر کہتے ہیں اور تم ان کو کافر کہتے ہو تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دین اور تمہارا دین الگ الگ ہوا۔ پھر تم اسلام سے کیوں چپکے ہوئے ہو۔ اپنے بارے میں کھل کر اعلان کیوں نہیں کرتے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔ تمہیں مسلمانوں میں شامل اور شریک ہونے پر یہاں تک اصرار ہے کہ جب پاکستان قومی اسمبلی نے اور مسلمانوں کی تمام جماعتوں نے تمہیں کافر قرار دے دیا تو کیپ ٹاؤن کی ایک عورت (جو وہاں جج تھی) سے اپنے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرا لیا۔ علماء اسلام ماہرین قرآن وحدیث کا تمہیں کافر کہنا تو تمہارے نزدیک معتبر نہیں اور ایک یہودی عورت کا تمہیں مسلمان کہہ دینا تمہارے نزدیک معتبر ہے۔ یہ عجیب تماشا ہے۔ زندیقوں کی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔
سات ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستانی قومی اسمبلی نے مرزا قادیانی کے ماننے والی دونوں جماعتوں (قادیانی اور لاہوری) کو کافر قرار دے دیا۔ اس میں تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کے ارکان، مسلمانوں کے تمام فرقوں کے علماء اور مشائخ اور تمام وزراء وکلاء جسٹس وغیرہ شریک تھے۔ پھر چند سال بعد حکومت پاکستان نے قادیانیوں کے بارے میں آرڈیننس جاری کیا کہ قادیانی کوئی بھی اسلامی اصطلاحی لفظ اپنے لئے استعمال نہ کریں۔ تب بھی قادیانی اپنے کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے اعلان کے بعد یہ بہانہ بھی ختم ہوا کہ مولوی کی عادت ہی کافر کہنے کی ہے۔
مرزا قادیانی کی شخصیت
علمائے اسلام نے جب مرزا قادیانی کی شخصیت کا ذاتی طور پر جائزہ لیا اور اس کی زندگی کے حالات پڑھے جو اس نے اور اس کے ماننے والوں نے قلم بند کئے۔ ہیں تو ایسے ناگفتہ بہ حالات سامنے آئے۔ اس کے حالات پر مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ دعاوی مرزا، کذبات مرزا، مغلظات مرزا، امراض مرزا وغیرہ عنوانات پر علمائے اسلام کی تالیفات موجود ہیں۔ ان حالات کو جان کر ایک سمجھدار آدمی آسانی سے یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ ایسا شخص نبی تو کیا ہوتا ایک شریف اور
٢٥
محمد رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ پر کوئی طعنہ زنی کر سکے اور نہ ان کو کسی طرح کا کوئی طعن کرنے کا موقع ملا۔ قادیانی سمجھتے ہیں کہ ہماری جماعت کا بانی حالات کے اعتبار سے بہت نیچا آدمی تھا۔ اس لئے جب اس کی زندگی کو کریدا جاتا ہے اور کوئی شخص اس کے احوال پر نظر ڈالنے لگتا ہے۔ تو اس کی توجہ ہٹانے کے لئے یوں کہہ دیتے ہیں کہ آپ ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ ان کے دین کے باطل ہونے کی جہاں اور بہت سی دلیلیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دین کے بانی کی زندگی لوگوں کے سامنے لانے سے بچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی طرف کسی کی توجہ نہ ہو۔
مخلصانہ مشورہ
مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اب تک قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں۔ ہم ان کے سامنے قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرتے ہیں۔ اس کے معنی اور مفہوم اور واضح اعلان پر غور کریں۔ (سورۃ نساء:١١٥) میں ارشاد ہے: ”ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا“ ”اور جو شخص رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اختیار کرے کہ اس کے لئے ہدایت واضح ہو گئی اور مؤمنین کی راہ کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرے تو ہم اس کو وہ کچھ کرنے دیں گے جو وہ کرتا ہے اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔“
”فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم“
اس آیت کریمہ میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے خلاف راہ اختیار کرے گا اور مسلمانوں کے راستہ کے خلاف کسی دوسری راہ پر چلے گا تو ہم اس کو اس دنیا میں اس راہ پر چلنے دیں گے جو اس نے اپنے لئے اختیار کی اور ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے۔
اس آیت کریمہ کے مضمون پر غور کریں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کو اور مؤمنین کی راہ کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرنے کو دوزخ میں جانے کا سبب بتایا ہے۔ قرآن مجید میں فخر عالم حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بتایا۔ پھر خود آنحضرت ﷺ نے بار بار اس کا اعلان فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ قرآن نے بتایا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہ بھی بتایا کہ اللہ جل شانہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور آنحضرت سرور عالم ﷺ نے خبر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان تمام تصریحات کی وجہ سے حضرات صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ
٢٧
محمد رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ پر کوئی طعنہ نہ کر سکے اور نہ ان کو کسی طرح کا کوئی طعن کرنے کا موقع ملا۔ قادیانی سمجھتے ہیں کہ ہماری جماعت کا بانی حالات کے اعتبار سے بہت نیچا آدمی تھا۔ اس لئے جب اس کی زندگی کو کریدا جاتا ہے اور کوئی شخص اس کے احوال پر نظر ڈالنے لگتا ہے۔ تو اس کی توجہ ہٹانے کے لئے یوں کہہ دیتے ہیں کہ آپ ذاتیات پر اتر آئے ہیں۔ ان کے دین کے باطل ہونے کی جہاں اور بہت سی دلیلیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دین کے بانی کی زندگی لوگوں کے سامنے لانے سے بچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی طرف کسی کی توجہ نہ ہو۔
مخلصانہ مشورہ
مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اب تک قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب مانتے ہیں۔ ہم ان کے سامنے قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرتے ہیں۔ اس کے معنی اور مفہوم اور واضح اعلان پر غور کریں۔ (سورۃ نساء: ١١٥) میں ارشاد ہے: ”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا“ ﴿اور جو شخص رسول اللہ ﷺ کی مخالفت اختیار کرے کہ اس کے لئے ہدایت واضح ہو گئی اور مؤمنین کی راہ کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرے تو ہم اس کو وہ کچھ کرنے دیں گے جو وہ کرتا ہے اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔﴾
”فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم“
اس آیت کریمہ میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ جو شخص ہدایت ظاہر ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے خلاف راہ اختیار کرے گا اور مسلمانوں کے راستہ کے خلاف کسی دوسری راہ پر چلے گا تو ہم اس کو اس دنیا میں اس راہ پر چلنے دیں گے جو اس نے اپنے لئے اختیار کی اور ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے۔
اس آیت کریمہ کے مضمون پر غور کریں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کو اور مؤمنین کی راہ کے علاوہ دوسری راہ اختیار کرنے کو دوزخ میں جانے کا سبب بتایا ہے۔ قرآن مجید میں فخر عالم حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بتایا۔ پھر خود آنحضرت ﷺ نے بار بار اس کا اعلان فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ قرآن نے بتایا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور یہ بھی بتایا کہ اللہ جل شانہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور آنحضرت سرور عالم ﷺ نے خبر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان تمام تصریحات کی وجہ سے حضرات صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ
٢٧
والتحیۃ ) کا یہی عقیدہ ہے کہ نبوت ورسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی ورسول آنے والا نہیں ہے اور یہ کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں۔ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ تجویز کرنا اور ان کی موت کا قائل ہونا امت مسلمہ کے عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت میں عامۃ المسلمین کی راہ کو بھی معیار حق بتایا ہے۔ اب قادیانی اپنے بارے میں غور کریں کہ ان کی راہ حضرات صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک تمام اہل ایمان کے خلاف ہے۔ یا موافق؟ اگر خلاف ہے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ اس پر بھی غور کریں۔ اگر دوزخ کی آگ کے دائمی عذاب کے سہارے تو اختیار ہے کہ قادیانیت پر جئیں اور اس پر مریں، ورنہ قادیانیت سے توبہ کریں۔ دائرہ اسلام میں داخل ہوں اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے دامن میں جگہ لیں۔
آخری بات
ہم نے اس رسالہ میں بہت ضروری اور واضح باتیں عرض کر دی ہیں۔ قادیانیوں کے دین کو اور ان کی جماعت کے بانی کو سمجھنے کے لئے پروفیسر الیاس برنی مرحوم کی کتابیں ’’قادیانی مذہب‘‘ اور قادیانی قول وفعل کا مطالعہ کیا جائے۔ قادیانیت کے موضوع پر اور بہت سے علماء نے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان حضرات کی تالیفات بھی سامنے رکھیں۔ ہم قادیانی مذہب اختیار کرنے والوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے اس رسالہ کے نکات پر غور کریں اور خدائے پاک سے خوب رو رو کر عاجزانہ دعا کریں کہ اے اللہ تو مجھے اس دین پر چلا جو تیرے نزدیک مقبول ہے اور آخرت میں باعث نجات ہے۔ اگر میں گمراہی پر ہوں اور کفر اختیار کئے ہوئے ہوں تو مجھے حق دکھا دے اور اسی پر چلا دے۔ چند ہی روز اخلاص کے ساتھ دل کی گہرائی سے دعا کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور حق واضح ہو جائے گا۔ اگر کسی کو اللہ جل شانہ کے حضور میں دعا کرنے سے بھی انکار ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ حق سمجھانا حق کی راہ بتانا، باطل کو باطل بتانا ہمارا اتنا ہی کام ہے۔
اللہ جل شانہ ہمیں خاتم النبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین پر زندہ رکھے اور اس پر موت دے اور دشمنان اسلام کی جماعتوں کو شکست دے اور ان کی تدبیروں کو پارہ پارہ کرے۔
تمت!
٢٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزائیوں
کے
غور و فکر کے لئے
حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلند شہری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وكفى والصلوة والسلام على خاتم الانبياء والمرسلين سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه اجمعين ومن تبعهم باحسان الى يوم الدين ٠ اما بعد!
مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقدین نے مکر و فریب اور جھوٹ و بہتان اختیار کر کے مرزا قادیانی کو مجدد یا مہدی یا مسیح موعود یا ظلی بروزی نبی یا افضل النبیین ماننے اور جاہلوں سے منوانے کے لئے جو نام نہاد دلیلیں فراہم کی ہیں۔ ان کے بارے میں حضرات علماء کرام بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور قادیانیوں کی بار ہا تردید کر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ انہیں سورہ الاحزاب کی آیت کریمہ ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ کی تصریح کے خلاف ہی عقیدہ رکھنا ہے اور انہیں یہی محبوب ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عامۃ المسلمین خاص کر بے علم مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کھرچتے رہیں۔ اس لئے اپنے ضلال والحاد اور زندقیت سے باز نہیں آتے۔ دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ نے چونکہ انہیں اسی کام پر لگا دیا ہے اور ان سے قادیانیوں کا خاص گٹھ جوڑ ہے اور مسلمانوں ہی کے لئے دشمنوں نے اس فتنہ کو اٹھایا ہے۔ اس لئے قادیانی مبلغین آخرت سے غافل ہو کر اپنے دنیوی مفاد کے لئے قادیانیت کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اور ان کی یہ محنت ہندوؤں میں عیسائیوں میں اور یہودیوں میں اور دہریوں میں نہیں ہے۔
بے علم مسلمانوں میں یہ محنت کرتے ہیں۔ (ہمارے نزدیک بے علم لوگوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو دور دراز گاؤں میں رہتے ہیں۔ جاہل مؤمن ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں۔ جنہوں نے دنیوی ڈگریاں حاصل کر لی ہیں۔ لیکن قرآن وحدیث اور عقائد اسلامیہ سے ناواقف ہیں۔ جن پر امت مسلمہ کا اجماع ہے) چونکہ احادیث شریفہ میں مجددین کے آنے کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کی تشریف آوری کا ذکر آیا ہے۔ اس لئے ماضی بعید کی تاریخ میں ایسے لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ جنہیں شہرت کی طلب اور حب جاہ کی تڑپ نے مہدویت یا مسیحیت پر آمادہ کر دیا اور بعض لوگ ایسے بھی اٹھے جنہوں نے نبوت کا اعلان کر دیا۔
مجدد کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے۔ جس کا دعویٰ کیا جائے یا کسی کے مجدد ہونے پر ایمان لایا
٢
جائے۔ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے افراد کو بھیجتا رہے گا جو امت محمدیہ مسلمہ میں دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔ یعنی دین کو پھیلائیں گے جو اسلامی طریقے لوگوں سے چھوٹ گئے ہوں گے۔ ان کو زندہ کریں گے۔ اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر زمانہ میں ایک ہی شخص مجدد ہو، بہت سے حضرات سے اللہ تعالیٰ مجدد کا کام لیتا ہے۔ جو ایک ہی زمانہ میں ہوتے ہیں۔ احادیث شریفہ میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تشریف لائیں گے۔
(صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہم السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر کہے گا۔ ”صل لنا“ (ہمیں نماز پڑھا دیجئے) وہ فرمائیں گے ”لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة“ (میں نہیں پڑھاتا بے شک تم میں بعض بعض کے امیر ہیں۔ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے کرامت سے نوازا ہے) اور (سنن ابن ماجہ ص٢٩٨، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں ہے کہ مسلمانوں کا امام رجل صالح ہوگا۔ وہ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ وہ امام پیچھے ہٹ جائے گا تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے بڑھائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے مونڈھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ تم ہی آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ۔ کیونکہ آپ ہی کی امامت کے لئے نماز قائم کی گئی ہے۔ چنانچہ وہی امام (جو پہلے آگے بڑھ چکے تھے) حاضرین کو نماز پڑھا دیں گے۔
دفتر ختم نبوت گوجرانوالہ میں کام کرنے والے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں میں جو لوگ قادیانی ہیں۔ بے پڑھے ہیں۔ کچھ بھی نہیں جانتے۔ ان کو تبلیغ کی جائے اور سمجھایا جائے تو وہ (سنن ابن ماجہ ص٢٩٢، باب شدۃ الزمان) کی روایت سنا دیتے ہیں۔ ”لا المهدي الا عيسىٰ ابن مريم“ تعجب کی بات ہے کہ اس سے مرزا قادیانی کا نبی ہونا کیسے ثابت ہو جاتا ہے؟ لیکن قادیانی مبلغ ان کے پاس جاتے ہیں۔ انہیں بتا دیتے ہیں کہ دیکھو ہم اس حدیث کو مانتے ہیں۔ جاہل لوگ نہ کچھ سوال کر سکتے ہیں نہ جواب دے سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت ہو گئی۔ العیاذ باللہ!
چونکہ ملحدین اور زندیق لوگوں کے پاس دین و ایمان نہیں ہوتا۔ اس لئے نہ قرآن وحدیث کی تصریحات کو مانتے ہیں نہ عقل کو کام میں لاتے ہیں۔ فرض کرو حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ ایک ہی شخصیت ہو تب بھی اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ مرزا قادیانی نبی ہو جائے۔
٣
یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ مہدی علم نہیں ہے۔ صفت کا صیغہ ہے اور عیسیٰ علم ہے اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اخیر زمانہ میں کامل صاحب ہدایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے۔ ”كما ذكره محشى سنن ابن ماجه “پھر یہ حدیث شواذ میں سے ہے۔ دوسری احادیث، جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سے صاف ظاہر ہے کہ مہدی کی شخصیت اور ہے۔ ان کا نام محمد ہوگا اور ان کے والد کا نام وہی ہوگا جو رسول اللہ ﷺ کے والد کا نام تھا۔ (سنن ابی داؤد ج ٢ ص ٤٢٢، باب فی ذکر المہدی) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اور ہے اور ان کا نام عیسیٰ ہے اور مسیح لقب ہے۔
ان لوگوں کو سنن ابن ماجہ میں صرف یہی حدیث نظر آئی۔ (جب کہ اس سے بھی ان کا مدعی ثابت نہیں ہوتا ) اور حدیث کی دوسری کتابوں میں بلکہ سنن ابن ماجہ میں بھی کوئی اور حدیث نظر نہ پڑی اور اگر نظر پڑی تو ان کے زندیق مبلغین نے اس کو چھپا دیا اور جاہلوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ روایت یاد کرادی۔ ہم سنن ابن ماجہ ہی کو سامنے رکھ کر حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے بارے میں روایات نقل کرتے ہیں۔ دیکھئے (سنن ابن ماجہ ص ٣٠٠، باب خروج المہدی ) ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ”المهدي من ولد فاطمة “ یعنی حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
مرزا قادیانی کے معتقدین بتائیں کہ وہ تو خاندانی اعتبار سے مرزا تھا۔ سادات بنی فاطمہ میں سے نہیں تھا۔ بتائیے پھر کیسے مہدی ہو گیا؟ (سنن ابی داؤد ج ٢ ص ٤٢٢، باب ذکر المہدی) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”المهدي من عترتی من ولد فاطمة “ اور ابوداؤد میں یہ بھی ہے کہ: ”المهدي منی اجلی الجبهة اقنی الانف يملاء الارض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلما وجوراً ويملك سبع سنين “ ”مہدی مجھ سے ہوں گے۔ ان کی پیشانی روشن ہوگی۔ ناک بلند ہوگی۔ وہ زمین کو انصاف اور عدل سے بھر دیں گے۔ جیسا کہ وہ ان کی آمد سے پہلے ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی اور وہ سات سال حکومت کریں گے۔“
اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں معلوم کیجئے۔ (سنن ابن ماجہ) میں ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”لا تقوم الساعة حتی ينزل عيسیٰ ابن مريم حكماً مقسطاً امام عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتی لا يقبله احد “ (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩، ٤
(باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم، وھو فی صحیح البخاری ج١ ص٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام) قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہو جائیں۔ وہ انصاف کے ساتھ فیصلہ دینے والے ہوں گے اور امام عادل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کو بہا دیں گے۔ (یعنی خوب زیادہ سخاوت کریں گے) یہاں تک کہ کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔ یعنی مال کی کثرت کی وجہ سے کوئی بھی لینے کو تیار نہیں ہوگا۔
اب قادیانی ملحد یہ بتائیں کہ مرزائے قادیان مسیح موعود کیسے بنا؟ نہ وہ عیسیٰ ابن مریم تھا۔ نہ وہ کبھی حاکم بنا نہ اس نے صلیب کو توڑا، نہ خنزیر کو قتل کیا، نہ جزیہ ختم کیا، نہ مال کی سخاوت کی، وہ تو خود مریدین و معتقدین سے مال کھینچنے والا تھا۔
مزید سنئے۔ اسی (سنن ابن ماجہ ص٢٩٨، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) میں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھولنے کا حکم دیں گے۔ دروازہ کھولا جائے گا تو دجال سامنے آ جائے گا۔ اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے جو تلواریں لئے ہوئے ہوں گے۔ جب دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لے گا تو ایسے پگھلے گا جیسے پانی میں نمک پگھلتا ہے اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے۔ اسے باب لد کے قریب مشرقی جانب پکڑ لیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ اس وقت یہودی شکست کھا جائیں گے اور درختوں اور پتھروں اور دیواروں کے پیچھے چھپتے پھریں گے۔ (باب لد دمشق میں ہے جو شام کا مشہور شہر ہے) اب قادیانیت کے پھیلانے والے مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کھرچنے والے بتائیں کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں دجال کب نکلا جس کے ساتھ ستر ہزار یہودی تھے اور اس کو مرزا قادیانی نے کب قتل کیا۔ کیا مرزا قادیانی کبھی دمشق گیا ہے؟ کیا باب لد سے گزرا ہے؟ کیا اس زمانہ میں وہ دجال نکلا تھا۔ باب لد میں اسے اس نے کب قتل کیا ہے؟ مرزا دمشق تو کیا جاتا وہ تو حرمین شریفین کی زیارت سے بھی محروم رہا۔
قادیانیو! تمہارے پاس جھوٹ کے پلندوں کے سوا کچھ اور بھی ہے۔ تمہیں دوزخ سے بچنے کی ذرا بھی فکر ہے؟ یہ جو کہتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور مسیح موعود ہمارا مرزا قادیانی ہے۔ اس کا جھوٹ ہونا سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو رہا ہے اور ہاں سنن ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یاجوج ماجوج نکلیں گے۔
٥
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اے عیسیٰ میرے بندوں کو لے کر کوہ طور کی طرف چلے جائیے۔ میں اپنے ایسے بندے نکالنے والا ہوں جن سے مقابلہ کرنے کی کسی کو طاقت نہیں۔
(سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧ ، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم)
اس کے بعد یاجوج ماجوج نکلیں گے اور زمین پر پھیل جائیں گے۔ ارے قادیانیو! اب بتاؤ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اہل ایمان کو کوہ طور پر لے جانے کا اور یاجوج ماجوج کے نکلنے کا واقعہ دنیا کی تاریخ میں کب پیش آیا؟ جب وہ دنیا میں تشریف فرما تھے اس وقت تو یاجوج ماجوج نکلے نہیں تھے۔ جب قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ اس وقت یہ واقعہ پیش آئے گا۔ معلوم ہوا کہ تمہارا یہ کہنا کہ ان کی وفات ہوگئی ہے یہ جھوٹ ہے اور تمہارا یہ کہنا کہ مسیح موعود ہمارا مرزا ہے۔ حدیث بالا سے اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ تمہارا مرزا قادیانی کبھی طور پر نہیں گیا اور یاجوج ماجوج کا خروج اب تک نہیں ہوا۔ اس کی تفصیل سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے۔
(سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧، ٢٩٩، باب فتنہ الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام)
جو روایات ہم نے نقل کی ہے۔ حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی ہیں۔ لیکن سنن ابن ماجہ کا حوالہ خصوصیت کے ساتھ اس لئے دیا کہ قادیانی جو بحوالہ سنن ابن ماجہ ”لا مهدی الا عیسیٰ ابن مریم“ پیش کرتے ہیں۔ ان پر واضح ہو جائے کہ سنن ابن ماجہ میں۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی علیہما السلام کے بارے میں دوسری احادیث میں بھی موجود ہیں۔ ان کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
قادیانیو! چونکہ تمہارے نزدیک خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم نہیں ہوئی۔ اس لئے آپ کے بعد مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہو اور اس کی تبلیغ کرتے ہو اور قرآن کریم نے جو خاتم النبیین بتایا ہے اور آپ نے خود اپنے بارے میں ”انا خاتم النبیین“ فرمایا ہے۔
(صحیح بخاری ج ١ ص ١، باب خاتم النبیین)
اور اپنے اسماء بتاتے ہوئے ”العاقب الذی لیس بعدہ نبی“ فرمایا ہے۔
(صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٦١ ، باب فی اسماء ﷺ)
اور اپنے بارے میں ”لا نبی بعدی“ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ان سب واضح اعلانات کا انکار کرتے ہو۔ اس لئے سب مسلمان تمہیں کافر کہتے ہیں اور تم بھی انہیں ختم نبوت کے عقیدہ کی وجہ سے کافر کہتے ہو۔ اب تم یہ بتاؤ کہ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے۔ آپ کا تو یہ عقیدہ تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور
٦
جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں کیا عقیدہ ہے۔ وہ سورہ الاحزاب کی آیت لے کر نازل ہوئے۔ جس میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تصریح ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ (یادر ہے کہ قرأت متواترہ میں خاتم النبیین تا کے زبر کے ساتھ بھی ہے اور تا کے زیر کے ساتھ زیر والی قرأت سے صاف واضح ہے کہ ) آنحضرت ﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ اس میں افضل النبیین والی تمہاری تاویل وتحریف نہیں چلتی۔
اس کے بعد یہ بتاؤ کہ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد سے صحابہ اور تابعین اور محدثین اور ائمہ مجتہدین اور تمام مسلمین، چاروں امام اور ان کے مقلدین جو قرآن وحدیث کی تصریحات کے مطابق خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو جانے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وہ کافر تھے یا مؤمن۔ تمہارے عقیدہ کے مطابق ان سب کا کافر ہونا لازم آتا ہے۔ جب وہ حضرات کافر تھے (العیاذ باللہ ) تو ان کی کتابوں سے کیسے استدلال کرتے ہو؟ (سنن ابن ماجہ اور تمام کتب حدیث ان ہی حضرات کی روایت کی ہوئی ہیں ) اگر وہ لوگ مسلمان نہیں تھے جیسا کہ موجود مسلمانوں کو تم کافر کہتے ہو تو تمہارا اسلام سے اور قرآن وحدیث سے اور قرآن وحدیث کی روایت کرنے والوں سے بلکہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے کیا تعلق رہا؟ یہ سب حضرات عقیدہ ختم نبوت کے حامل تھے اور تم کہتے ہو کہ ان کا یہ عقیدہ غلط ہے اگر کوئی مرزائی یوں کہے کہ دور حاضرہ کے مسلمانوں کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کر دیا اور ان کے دعوائے نبوت سے پہلے جو لوگ تھے۔ ان کے سامنے مرزا قادیانی کا ظہور نہیں ہوا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل مسئلہ کا تعلق عقیدہ ختم نبوت سے ہے۔ کسی شخص کے دعوائے نبوت کرنے یا نہ کرنے سے نہیں ہے۔ اگر مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ نہ کرتا تب بھی عقیدہ ختم نبوت کے منکر کافر ہی ہوتے۔
قادیانیو! تمہارے عقیدہ کے مطابق تو کوئی بھی حق پر نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ختم نبوت کا اعلان غلط کیا۔ (العیاذ باللہ ) اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ”لا نبی بعدی“ غلط فرمایا (العیاذ باللہ ) اور حضرات صحابہؓ اور تابعینؒ اور ان کے بعد کے تمام مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کو آخر الانبیاء اور خاتم الانبیاء مانتے تھے۔ سب کو کافر بنا دیا۔ مسلمانوں کی عقائد کی کتابوں میں تو یہی لکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ دیکھو شرح عقائد نسفی میں ہے۔ ”واول الانبیاء ادم وآخرہم محمد علیہ السلام“ صدیوں سے یہ کتاب مسلمان پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں اور اسی کے مطابق ان کا عقیدہ رہا ہے اور (الاشباہ والنظائر ص٣٩٦) میں ہے۔ ”اذا لم
٧
يعرف ان محمداً آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من الضروريات ”جس نے یہ نہ پہچانا کہ محمد رسول اللہ ﷺ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔ قادیانیوں نے سب کا صفایا کر دیا۔ کروڑوں مسلمانوں کو کافر بنا دیا۔ تمہارے عقیدہ سے تو کوئی مؤمن ہی نہیں۔ ارے قادیانیو! خود رسول اللہ ﷺ بھی تمہاری زد سے نہیں بچے۔ کیونکہ آپ کا یہ عقیدہ تھا کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ جب تمہارا یہ حال ہے تو کون سے اسلام کی دہائی دیتے ہو اور بار بار یوں کہتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔
نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے خود تمہارا مرزا قادیانی بھی اس بات کا قائل تھا کہ خاتم النبیین محمد ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی آنے والا نہیں۔ اس نے اپنے رسالہ (ایام صلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣) میں لکھا کہ حدیث ”لا نبي بعدي“ میں نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت و دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات ردیہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی منقطع ہو چکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“
جامع مسجد دہلی میں ٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی نے اعلان کیا تھا کہ: ”اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
لہٰذا تمہارا مرزا قادیانی اسلامی عقیدہ کے اعتبار سے اور خود اپنے اقرار سے نبوت کا دعویٰ کر کے کافر ہو گیا۔ تم لوگ جو اسے نبی کہتے ہو۔ قرآن وحدیث کی رو سے اور خود اس کے سابق اعلان کے اعتبار سے کافر ہو گئے۔ جب تمہارے مرزا قادیانی نے خود کہہ دیا کہ ”لا نبي بعدي“ میں نفی عام ہے۔ اس کے بعد کسی بھی طرح کی نبوت کا بھی دعویٰ کرنا رسول اللہ ﷺ کی بات کو جھٹلانا ہوا۔ کیا آنحضرت ﷺ کو نسیان ہو سکتا ہے۔
اور مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے جو یہ حیلہ نکالا ہے کہ میں ظلی یا بروزی نبی ہوں اور یہ کہ میری صورت میں محمد ﷺ دوبارہ تشریف لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا اور بتایا تھا کہ میں دوبارہ دوسری شکل میں آؤں گا۔ جب آپؐ نے یہ نہیں
٨
فرمایا تو مرزا قادیانی نے خود اپنے پاس سے یہ بات کیسے کہہ دی؟ رسول اللہ ﷺ نے تو ”لا نبی بعدی“ فرمایا تھا۔ جس میں نفی عام ہے۔
قادیانیوں کا سارا دھندا جھوٹ اور مکر وفریب تو ہے ہی، مسلمانوں کو جب دعوت دیتے ہیں تو شروع میں جماعت احمدیہ کے نام سے تعارف کراتے ہیں۔ کچھ اخلاق کی اور خدمت اسلام کی باتیں کرتے ہیں۔ جب آدمی تھوڑا سا متاثر ہو جاتا ہے تو ذرا سے پر نکالتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا نام سناتے ہیں۔ پہلے اسے مہدی یا مجدد بتاتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ فریب کے جال میں پھنساتے پھنساتے مرزا قادیانی کی نبوت کا اقراری بنا لیتے ہیں۔ جس کسی شخص کو ختم نبوت کا عقیدہ معلوم ہو اور وہ شروع ہی میں یوں کہہ دے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ ختم نبوت کے عقیدہ کے منکر ہو۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے قائل ہو تو بالکل برملا کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو نبی نہیں مانتے۔ ہماری طرف یہ بات غلط منسوب کی جاتی ہے۔ ہم تو مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو اسے مجدد ماننا بھی کفر ہے۔ مجدد وہ ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کی تجدید کرے۔ یعنی اس کی اتنی خدمت کرے کہ عام طور سے جو شریعت کے احکام چھوڑ دیئے گئے ہوں۔ انہیں زندہ کرے اور امت میں پھیلائے۔ مرزا قادیانی نے محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کی کچھ بھی خدمت نہیں کی۔ بلکہ انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے جاری کئے ہوئے حکم جہاد کو منسوخ قرار دے دیا۔ بھلا کسی کو اس حکم کے منسوخ کرنے کی کیا مجال ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مشروع فرمایا ہے اور خاتم الانبیاء ﷺ نے اس پر عمل کیا ہو اور قیامت تک جاری رکھنے کا فیصلہ فرما دیا۔
خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد ہے: ”لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين على من ناوأهم حتى يقاتل اخرهم المسيح الدجال (رواه ابوداؤد ج ١ ص ٢٤٧، باب فى دوام الجهاد) ”ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی۔ یہ لوگ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال کو قتل کرے گا۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”والجہاد ماض مذ بعثنى الله الى ان يقاتل اخر هذه أمتى الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل (رواه ابوداؤد ج ١ ص ٢٤ حاشیہ) ”اور جہاد برابر جاری رہے گا۔ جب سے مجھے اللہ نے مبعوث فرمایا یہاں تک کہ اس امت کا آخری گروہ دجال سے قتال کرے گا۔ کسی ظالم کا ظلم اور کسی عادل کا عدل اسے باطل نہیں کرے گا۔
٩
خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ تو یہ فرمائیں کہ جہاد ہمیشہ کے لئے جاری ہے جو دجال کے قتل کرنے تک جاری رہے گا۔ لیکن مرزا قادیانی دجال کہتا ہے کہ میں جہاد کو منسوخ کرتا ہوں۔ یہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کی تجدید ہے یا تنسیخ ہے؟ پھر عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بارے میں یوں بھی کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی دوسری صورت میں تشریف لائے ہیں اور یہ پہلی صورت سے زیادہ اکمل ہے اور یوں بھی کہا کہ میں ظلی بروزی نبی ہوں۔ دعویٰ یہ ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ میری صورت میں دوبارہ آئے ہیں۔ لیکن ان کے دین پر ہاتھ صاف کیا جارہا ہے اور ان کے بتائے ہوئے احکام کو منسوخ کیا جارہا ہے۔ سچ ہے ملحد کا کوئی دین نہیں ہوتا اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ میں نے پہلے کیا کہا تھا۔ دروغ گو را حافظہ نہ باشد، تو مشہور ہے ہی۔
اب قادیانیوں نے یہ طریقہ نکالا ہے کہ ٹیلیفون کی ڈائری اٹھاتے ہیں۔ اس میں سے ٹیلیفون نمبر لیتے ہیں اور پتہ نوٹ کرتے ہیں۔ پھر اسے خط لکھتے ہیں یا ٹیلیفون پر بات کرتے ہیں اور اسے باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تو مظلوم ہیں۔ مسلمان ہیں، کلمہ گو ہیں، زبردستی ہم پر کفر لاگو کیا جارہا ہے۔ جب پاکستان اسمبلی نے تمہیں کافر قرار دے دیا جس کے ممبران ساری سیاسی پارٹیوں کے لوگ تھے اور ہر جماعت کے لوگ تھے۔ (علماء تو تھوڑے ہی تھے) تو اب یہ رونا اور گانا کہ ہم مظلوم مسلمان ہیں۔ بے علم لوگوں کو دھوکہ دینے کے سوا کیا ہے۔
قادیانیو! ذرا ہوش کی دوا کرو۔ یہ دنیا یہیں دھری رہ جائے گی۔ اپنے بارے میں دوزخ میں جانا کیوں طے کرلیا ہے اور مسلمانوں کے دلوں سے کیوں ایمان کھرچتے ہو۔ اس جان کو دوزخ سے بچاؤ اور مرزا طاہر اور اس کے خاندان کو مالدار اور اس کی جماعت باقی رکھنے کے لئے اس کی جماعت میں کیوں شریک ہو؟ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ”من شر الناس منزلة عند الله يوم القيامة عبد اذهب آخرته بدنياه (رواه ابن ماجه ص ٢٨٥، باب اذا التقى المسلمان بسيفهما) ” یعنی قیامت کے دن بدترین لوگوں میں وہ شخص بھی ہوگا جو اپنی آخرت کو دوسرے کی دنیا کی وجہ سے برباد کرے۔
قادیانی مبلغین سے واضح طور پر ہمارا کہنا ہے اور بطور خیر خواہی ہے کہ دل کی آنکھیں کھولیں اور اپنی موت کے بعد کی زندگی کی فکر کریں۔ عذاب الیم اور عتاب شدید سے اپنی جان بچائیں۔ قرآن کریم کی آیت ”فلا تغرنكم الحيوة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور“ بار بار پڑھیں اور اس کا مطلب ذہن میں بٹھائیں۔
١٠
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
مسجد اقصیٰ میں نبیوں نے پڑھی تھی جو نماز
مقتدی اس میں سبھی تھے امام آخر میں
نبوت کے نام پر
قرآن پاک
میں شرمناک تحریف
حضرت مولانا عبدالرحیم منہاجؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تقریظ ...... جناب مولانا محمد تقی عثمانی جسٹس سپریم کورٹ
الحمد لله وكفى، وسلام على عباده الذين اصطفى ، اما بعد! جناب مولانا عبدالرحیم منہاج صاحب نے زیر نظر کتابچے میں قادیانیوں، بالخصوص مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور ان کے دوسرے جانشین مرزا بشیر الدین محمود کی تحریف قرآن کے نمونے جمع فرمائے ہیں۔
قادیانیت اس لحاظ سے دنیا کا پرفریب ترین مذہب ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسلام کے نام سے دنیا میں متعارف کراتا ہے۔ لیکن چونکہ قرآن وسنت میں اس کے عقائد وافکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے وہ اپنی مقصد براری کے لئے قرآنی آیات میں معنوی تحریف کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
مولانا عبدالرحیم منہاج نے زیر نظر کتابچے میں واضح مثالوں سے سمجھایا ہے کہ یہ لوگ کس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ قرآن کریم میں معنوی تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں ان کا طرزعمل نہ صرف یہ کہ یہودی اور عیسائی تحریفات کے مشابہ ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی ان تحریفات کے ذریعہ عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں اور اپنی دور از کار تاویلوں اور تحریفات سے انہیں وہ مواد فراہم کیا ہے جو وہ سالہا سال کی کوششوں کے باوجود حاصل نہیں کر سکے تھے۔
فاضل مؤلف کی یہ کاوش ایک طالب حق کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ البتہ جس دل پر ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی مہر لگ چکی ہو۔ اس کے لئے روشن سے روشن دلیل بھی کارآمد نہیں ہوسکتی۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس تالیف کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائیں اور اسے لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین!
٢
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده ٠ اما بعد!
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتابوں میں آخری کتاب ہے جو اس کے آخری پیغمبر خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی۔ قرآن کریم سے پہلے جو آسمانی کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی حیثیت دائمی نہ تھی۔ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل شریعت اور بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی حیثیت ایک مستقل آئین کی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علاوہ کسی آسمانی کتاب کی حفاظت کی نہ تو کوئی ضمانت دی اور نہ ہی اس کی حفاظت کے اسباب پیدا کئے۔ لیکن قرآن کریم کی حفاظت کا خود ذمہ لیا اور فرمایا: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ کیونکہ انسانی ہدایت کے لئے حضور اکرم ﷺ کے بعد نبی کوئی نہ تھا اور قرآن کریم کے بعد آسمان سے ہدایت کا کوئی پیغام آنے والا نہ تھا۔
اس لئے ضروری تھا کہ اس مکمل ضابطۂ حیات اور بنی نوع انسان کے اس ہدایت نامہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ خود اپنے ذمہ لیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آخری کتاب کی ہر اعتبار سے وہ محیر العقول حفاظت فرمائی کہ دنیا دنگ رہ گئی اور دشمن کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں کہ آج چودہ سو سال گزر جانے کے بعد قرآن اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اور لاکھوں مسلمان اس مقدس کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کئے ہوئے ہیں اور مسلسل تواتر سے چلے آرہے ہیں۔ پھر نہ صرف الفاظ وحروف کی حفاظت ہورہی ہے۔ بلکہ صوت ولہجہ تک کی حفاظت ہورہی ہے۔ جس کی نظیر کسی مذہب والا پیش نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ظاہری الفاظ وحروف کی حفاظت کا بندوبست کیا۔ اسی طرح اس کے مطالب ومعانی کی حفاظت کا بھی اہتمام کیا۔ تاکہ کوئی ملحد اور زندیق اور ہوا پرست اگر کلام الٰہی کی غلط معانی اور غلط تعبیر وتفسیر کرے تو اس کی نشاندہی اور محاسبہ کیا جاسکے۔ قرآن کریم کا صحیح معنی اور مفہوم وہی ہے جو شاگردان رسول صحابہ کرامؓ کے توسط سے اب تک پورے تسلسل اور تواتر سے پہنچ رہا ہے اور جب بھی کوئی ملحد وزندیق تحریف معنوی کرتا ہے تو علماء حق فوراً اس کی نشاندہی کرکے حفاظت قرآن کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔
٣
پچھلی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار کے خود ساختہ پودا مرزائیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جانشینوں نے اپنی خود ساختہ نبوت اور دیگر باطل نظریات کی تائید وحمایت میں دل کھول کر معنوی تحریف کی اور قرآن کریم کو اپنے باطل نظریات کے سانچے میں ڈھالنے کی سعی مذموم کرتے رہے اور اس ضمن میں اپنے پیشرو اساتذہ یہودی ونصاریٰ سے بھی سبقت لے گئے۔
مولانا عبدالرحیم منہاج (سابق ڈیوڈ منہاس) فاضل عیسائیت جن کا اصل موضوع عیسائیت ہے۔ انہوں نے غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کی تفسیر صغیر سے تحریف کے چند نمونے قارئین کرام کے لئے جمع کئے ہیں۔ اس میں پورا استقصاء نہیں کیا گیا۔ لیکن مولانا کی محنت وکاوش قابل داد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرمائیں اور اسے بھٹکے ہوئے مرزائیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں۔ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ فائدہ عوام کے لئے اس کی اشاعت کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ (مولانا) منظور احمد چنیوٹی
بات پرانی انداز نیا
تاریخ اور قرآن پاک گواہ ہیں کہ منطق وفلسفہ، تفسیر وتعبیر، توضیح وتشریح اشارہ وکنایہ، امکان وقرینہ اور تاویل وقیاس کا سہارا لے کر بعض لوگوں نے پتھر اور لکڑی تک کو خدا ثابت کر دکھایا اور پھر اپنی چرب زبانی اور مبالغہ آمیزی کی بدولت نہ صرف یہ کہ عوام سے پتھر اور لکڑی کی پرستش کروائی۔ بلکہ ان میں اخلاص وایثار اور قربانی کا ایسا جذبہ بھی پیدا کیا کہ یہ خود تراشیدہ خداؤں کے پجاری پیغمبران خدا سے بھی ٹکرا گئے۔ حضور اقدس ﷺ کے بعد چند لوگوں نے اسی پرانے اور قدیم طریق کو اپناتے ہوئے منطق وفلسفہ، تفسیر وتعبیر، توضیح وتشریح، اشارہ وکنایہ، امکان وقرینہ، تاویل قیاس سے کام لے کر خود کو مامور من اللہ، مصلح ومجدد، مہدی ومسیح اور نبی تک منوانے کی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ یہ خلاف حقیقت دعوے پتھر اور لکڑی کے خدا منوانے سے کسی بھی طرح تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات پورے وثوق اور کامل یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ان کے ہمنواء اور ان کے جانشینوں کی تعلیمات میں تجدید دین، اصلاح ملت اور احیاء اسلام کے نام پر قرآن وحدیث کی ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی جس کی انہوں نے خود ساختہ تعبیر، من مانی تفسیر اور من گھڑت تاویل نہ کی ہو۔ حضور ﷺ نے انہی لوگوں سے دور رہنے کی تاکید فرمائی تھی۔
٤
آپ نے فرمایا: ”یکون فی آخر الزمان دجالون، کذابون، یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فایاکم وایاهم لا یضلونکم ولا یفتنونکم (مسلم ج ١ ص ١٠، باب النہی عن الروایہ عن الضعفاء)“ آخری زمانہ میں بڑے کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو تم کو ایسی باتیں آکر سنائیں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی۔ لہٰذا تم ایسے لوگوں کے قریب بھی نہ بھٹکنا اور خود کو ان سے بچانا وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
تاویل وقیاس کی بات تو جانے دیجئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو نبی منوانے کے لئے قرآن پاک کی معنوی تحریف کرنے تک سے اجتناب نہیں کیا اور یہ اندوہناک سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ بلکہ ان کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک میں معنوی تحریف اور تغیر وتبدل کی وہ مثال قائم کی کہ بائبل کے محرفین بھی منہ دیکھتے رہ گئے۔
یہ کتابچہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود کی قرآن پاک میں تحریفات کو منظر عام پر لانے کے لئے مرتب کیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ قرآن پاک میں تحریف کرنے کی مذموم کوشش میں قادیانی زعماء تنہا نہیں بلکہ اللہ کے سچے دین اسلام کے ازلی دشمن بدفطرت و بدطینت، کینہ پرور یہودی بھی بارہا یہ مذموم کوشش کر چکے ہیں۔ ابھی گذشتہ ماہ ہی یہ جگر سوز خبر اخبارات میں چھپی تھی کہ گذشتہ ماہ یہودیوں نے قرآن پاک کے ایسے نسخے پاکستان میں پہنچادیئے ہیں۔ جن میں تحریف کی گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے ایسے تمام محرف شدہ نسخے برآمد کر کے ان کو تلف کر دیا۔ خدا کرے یہ کتابچہ بہت سے لوگوں کی ہدایت کا باعث بنے۔
عبد الرحیم منہاج
یہودی طرزعمل
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی یہودیوں کے کلام الٰہی میں تحریف کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”یہودی بھی ایسے کام کرتے تھے۔ اپنی رائے سے اپنی تفسیر میں بعض آیات کے معنی کرتے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کر دیتے تھے۔ جن کی نسبت قرآن مجید میں آیت موجود ہے۔ ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ معنوی بھی، سو ایسی تحریفوں سے ہر مسلمان کو ڈرنا چاہئے۔“
(چشمہ معرفت ص ٧٨، ٧٩)
مرزا قادیانی کی یہ عبارت دیگراں را نصیحت خود را فضیحت“ کی مصداق ہے۔
٥
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی خود ساختہ نبوت کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ثابت کرنے کے لئے یہودی طرز فکر کے مطابق قرآن پاک میں معنوی تحریف کرنے کے خود مرتکب ہوئے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قرآن پاک کی آیت: ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون“ اور جو نازل کیا گیا آپ پر اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے انبیاء پر اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ آیت حضور ﷺ کو اس معنی میں خاتم النبیین قرار دیتی ہے کہ اب آپؐ کے بعد قیامت ہی آئے گی اور کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ بلکہ صرف قیامت آئے گی۔ مرزا قادیانی یہ اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزمان پر جو کچھ اتار گیا اس پر ایمان لاوے اور اس پیغمبر سے پہلے جو کتاب اور صحیفے سابقہ انبیاء اور رسولوں پر نازل ہوئے ان کو بھی مانے۔ ”وبالاخرة هم يوقنون“ اور طالب نجات وہ ہے جو پیچھے آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا و سزا مانتا ہو۔“
(الحکم ج ١٤ ش ٣٥،٣٤ ص ٩)
حضور ﷺ کے بعد نبی یا رسول آنے کی بجائے قیامت کے آنے کا اقرار تو مرزا قادیانی نے کر لیا۔ لیکن انہیں احساس ہوا کہ ان کا دعویٰ نبوت ایسا دعویٰ ہے جس کی تصدیق قرآن پاک سے ہونا ممکن نہیں اور قرآن پاک کی تصدیق کے بغیر مسلمان ان کی کوئی بات مان لیں یہ خارج از امکان ہے۔ بس یہی وہ احساس تھا جس نے مرزا قادیانی کو کلام الٰہی میں تحریف کرنے اور یہودی راہ پر گامزن ہونے پر مجبور کیا۔ احساس محرومی کا شکار ہو کر اپنی بناوٹی اور خود ساختہ نبوت کو قرآن پاک سے جواز فراہم کرنے کے لئے یہودی طرز عمل یعنی تحریف کتاب اللہ پر آمادہ ہوئے اور قرآن پاک میں معنوی تحریف کر ڈالی اور قرآن پاک کے لفظ آخرۃ کے معنی قیامت کو اپنی تحریف کے نتیجہ میں لفظ وحی سے بدل دیا اور اپنے قلم سے اپنی یہودی ذہنیت کا اقرار کرتے ہوئے لکھا۔
”آج میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن مجید میں موجود ہے۔ ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔ اس امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء یکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون“ میں تین وحیوں کا ذکر ہے۔ ”ما انزل اليك“ سے قرآن شریف کی وحی ”وما انزل
٦
من قبلك“ سے انبیاء سابقین کی وحی اور ”آخرۃ“ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔ ”آخرۃ“ کے معنی پیچھے آنے والی۔ وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔ سیاق کلام سے ثابت ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی۔ کیونکہ اس سے پہلے دو وحیوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جو آنحضرتﷺ سے پہلے نازل ہوئی۔ دوسری وہ جو آپ کے بعد نازل ہونے والی تھی۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ ش ٢ ص ١٦٤ حاشیہ)
خود ساختہ منصب نبوت پر خود کو فائز کرنے کے لئے قرآن پاک میں معنوی تحریف کرنا مرزاغلام احمد قادیانی کا ایسا کردار ہے جو آپ کو یہودی ضلالت و گمراہی کے دائرے سے باہر نہیں رہنے دیتا۔ عقل سلیم اور فہم مستقیم کے حامل افراد کے لئے یہ دیکھنا کہ مرزا قادیانی کی اصلیت کیا ہے۔ اس کے لئے ان کا یہی تحریف قرآن والا عمل کافی ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے ایک شعر میں کہا ہے۔
لیکن وہ لوگ جن پر خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کا اطلاق ہوتا ہے۔ ” ختم اللہ علیٰ قلوبہم وعلیٰ سمعہم وعلیٰ ابصارہم غشاوۃ“ ﴿اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔﴾
ایک قدم اور آگے چلئے
آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود نہ صرف یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسرے جانشین و وارث تھے۔ بلکہ مرزا قادیانی کی بناوٹی نبوت کے کھیون ہار بھی تھے۔ آپ نے اپنے والد کی تحریف کے خلاف لفظ آخرۃ کے معنی قیامت تو کئے۔ لیکن اپنی آبائی گدی پر بحیثیت خلیفہ ثانی اور مصلح موعود کے براجمان رہنے کے لئے عقل و شعور کو خیر باد کہہ کر لفظ آخرۃ کے معنوں کا منطقی نتیجہ وحی نکالا۔ آپ لفظ آخرۃ پر مفصل بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”لفظی معنی ”وبالاخرة ہم یوقنون“ کے یہ ہیں کہ بعد میں آنے والی شے پر یقین رکھتے ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ بعد میں آنے والی شے کیا ہے تو اگر اس امر کو دیکھا جائے کہ
١؎ مرزا قادیانی کو جب تحریف کرنا مقصود نہیں تھا تو آپ نے آخرۃ کے معنی پیچھے آنے والی گھڑی یعنی قیامت کئے۔ لیکن جب تحریف کی گئی تو آخرۃ کے معنی پیچھے آنے والی وحی لینے لگے۔ سچ ہے کہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔
قرآن مجید میں آخرۃ کا لفظ زیادہ تر کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ تو اس کے معنی قیامت یا مابعد الموت زندگی کے ہوتے ہیں۔
مثلاً فرمایا: ”ماله فى الاخرة من خلاق“ ایسے شخص کا حصہ مابعدالموت زندگی میں نہ ہوگا۔ یا فرمایا: ”بل ادراک علمهم فى الاخرة“ بعدالموت زندگی کے بارے میں ان کا علم کامل ہو گیا۔ ایسے متعدد مقامات پر لفظ آخرۃ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ بس اگر قرآن شریف میں اس لفظ کی کثرت کو دیکھا جائے تو اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ (مگر بالعموم ایسے موقعہ پر خالی آخرۃ کی جگہ ”یوم الاخرة“ کے الفاظ آئے ہیں) لیکن اگر مضمون اور اس کے مطالب کو دیکھا جائے تو چونکہ اس جگہ پہلے آنحضرت ﷺ کی وحی پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ پھر آپ سے پہلے جو وحی نازل ہوتی رہی۔ اس کا ذکر ہے۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ آخرۃ سے مراد اس جگہ بعد میں آنے والی وحی ہے۔“
(تفسیر کبیر ج ١ ص ١٤٤ کالم نمبر ٢)
قرآن پاک کی دو آیات کا حوالہ دیتے ہوئے لفظ آخرۃ کے اصلی معنی ”قیامت“ تسلیم کرنے کے باوجود مرزا بشیر الدین محمود نے یہ فریب کیا کہ قوسین کے مابین لکھ دیا۔ (مگر ایسے موقعہ پر عموماً خالی آخرۃ کی جگہ ”یوم الاخرة“ کے الفاظ آئے ہیں) حالانکہ انہوں نے لفظ آخرۃ کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے بطور مثال قرآن شریف کی جن دو آیتوں کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں بھی قیامت کے معنی ہیں۔ ”آخرة“ کا لفظ خالی استعمال ہوا ہے۔ درحقیقت مرزا بشیر الدین کو اپنے ماننے والے عقل سے عاری لوگوں کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ قرآن پاک میں قیامت کے لئے محض ”آخرة“ کا لفظ نہیں آیا۔ بلکہ ”یوم الاخرة“ کے الفاظ آئے ہیں۔ آخرت کا لفظ صرف بعد میں آنے والی وحی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک میں اپنے اپنے مقام پر محل وموقعہ کے مطابق قیامت کے لئے آخرت اور یوم الاخرة کے الفاظ دونوں آئے ہیں۔ البتہ ”آخرة“ بمعنی بعد میں آنے والی وحی قرآن کریم یا لغات عربی میں بھی کہیں نہیں آیا۔ تماشہ یہ ہے کہ مرزا بشیر الدین نے اپنے والد کی قرآن پاک میں کی ہوئی معنوی تحریف کی حمایت میں لفظ ”آخرة“ کا منطقی نتیجہ بعد میں آنے والی وحی بیان کرنے کے باوجود اس آیت کا لفظی ترجمہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ لفظ ”آخرة“ کے معنی وحی نہیں کیا بلکہ سرے سے اس لفظ کا ترجمہ ہی گول کر گئے۔ البتہ قوسین میں آئندہ ہونے والی موعودہ باتیں لکھ دیا۔ پوری آیت کا ترجمہ ان کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔
٨
”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون“
اور جو اس پر جو تم پر نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور (آئندہ ہونے والی موعودہ باتوں ) پر (بھی) یقین رکھتے ہیں۔
(تفسیر کبیر ج ١ ص ١٤٥، ١٤٦)
لطیفہ یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ماننے والوں کو دھوکا اس طرح دیا کہ لفظ ”آخرۃ“ کا ترجمہ قیامت مان کر خود ساختہ منطقی استدلال سے اس کی مراد بعد میں آنے والی وحی لے لی۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود اپنے والد کے اس منطقی استدلال سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ کیونکہ انہوں نے لفظ ”آخرۃ“ کا منطقی نتیجہ بعد میں آنے والی وحی مراد رکھنے کے باوجود ترجمہ آئندہ ہونے والی موعودہ باتیں کر دیا۔ اب سوال پیدا ہوا کہ یہ آئندہ ہونے والی موعودہ باتیں کیا بلا ہیں۔ چونکہ مرزا بشیر الدین محمود اس دارفانی میں قیام نہیں رکھتے اور اس جگہ جہاں وہ قیام پذیر ہیں۔ وہاں لیجائے جانے سے ہم خدا سے پناہ چاہتے ہیں۔ اس لئے کم از کم قیامت تک یہ سوال تشنۂ جواب ہی رہے گا۔
ایک اور اشتراک عمل
یہودیوں اور عیسائیوں میں اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کرنے کا ایک ہی طریق ہے۔ تورات اور انجیل کا کوئی مقام جو ان کے اپنے اختیار کردہ عقیدہ کے خلاف ہو۔ اوّل تو اس مقام کی عبارت کی تاویل کرتے ہیں۔ لیکن اگر تاویل سے ان کے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوں تو پھر اس جگہ کی عبارت میں ردو بدل کر دیا جاتا ہے۔ تحریف وحذف کی اس یہودی اور عیسائی مشترکہ زنجیر کی تیسری کڑی مرزا قادیانی نے بنا کر ان سے الحاق کر لیا ہے۔ یہ یوں ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے سورۂ آل عمران: ٨١ کی تاویل کر کے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جناب مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ اسلام سے مذاق ہے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کو سزا بھی ہے۔ استدلال ان کا یہ ہے کہ قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق جناب رسالت مآب ﷺ کی بعثت سے پہلے آنے والے تمام انبیاء آپ پر ایمان لا کر آپ کے امتی بن چکے ہیں۔ اس لئے اب یہ ممکن نہیں کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام انفرادی طور پر دنیا میں آ کر حضور ﷺ پر دوبارہ ایمان لائیں۔ پوری بات مرزا قادیانی کے قلم کے نشانات کے نتیجہ میں ملاحظہ ہو۔
”وإذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم
٩
رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه ، قال أقررتم وأخذتم على ذالكم اصرى قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين “
اور یاد کرو جب اللہ نے تمام رسولوں سے عہد لیا تھا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں گا۔ پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا۔ جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی اور کہا گیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہوگئے۔ انہوں نے کہا ہم نے اقرار کر لیا۔ تب خدا نے فرمایا اب اپنے اقرار کے گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں ۔“ (حقیقت الوحی ص ١٣٠، ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٣، ١٣٤)
اپنی ایک اور کتاب میں اس آیت کی تاویل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لتؤمنن به ولتنصرنه “ بس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔ پھر ( اب دوبارہ ) حضرت عیسیٰ کو امتی بنانے کے کیا معنی ہیں اور کون سی خصوصیت ہے۔ کیا وہ اپنے پہلے ایمان سے برگشتہ ہوگئے تھے۔ جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے۔ تا نعوذ باللہ (ان کو) یہ سزا دی گئی ہے کہ زمین پر دوبارہ اتار کر دوبارہ تجدید ایمان کرائی جائے۔ مگر دوسرے نبیوں کے لئے وہ پہلا ایمان کافی رہا۔ ایسی کچی باتیں اسلام سے تمسخر ہے یا نہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٠)
مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ تاویل کر کے اپنے خیال کے مطابق جناب مسیح علیہ السلام کے دوبارہ نہ آنے کا جواز پیدا کیا اور اپنے خیال میں مسئلہ تو حل کر لیا۔ لیکن نادانستہ طور پر وہ اپنے اس عقیدہ کی تردید کر گئے کہ اب حضور ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آپ کا امتی نہ ہو۔ اب صرف آپ کا امتی ہی نبی آ سکتا ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ کی کامل تابعداری کر کے آپ کے فیض سے مقام نبوت پر فائز ہو سکتا ہے۔
تاویل کے بعد تحریف
اپنے والد کے بعد مرزا بشیر الدین کو دقت یہ پیش آئی کہ اگر وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ تمام انبیاء سابقین حضور ﷺ پہ ایمان لانے کی بناء پر آپ ﷺ کے امتی ہیں تو امتی نبی اور غیر امتی نبی کا امتیاز ختم ہوتا ہے۔ اس صورت میں ماننا یہ پڑتا ہے کہ اب حضور ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی نہیں آ سکتا۔ اب آپ کا کوئی امتی بھی نبی ہو سکتا ہے جبکہ یہ ثابت ہو کہ آپ سے پہلے انبیاء آپ کے امتی
١٠
نہ تھے۔ سو مرزا بشیر الدین نے اپنے والد کو امتی نبی بنانے کے لئے قرآن پاک کی اس آیت میں معنوی تحریف کر کے یہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں حضور ﷺ پر ایمان لانے کا عہد انبیاء سے نہیں بلکہ اہل کتاب سے نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا۔ تفسیر صغیر میں آپ لکھتے ہیں: ”اذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول قال ء اقررتم واخذتم على ذالكم اصری قالو اقررنا . قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين“
اور اس وقت کو بھی یاد کرو۔ (جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے ) سب نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا کہ جو بھی کتاب وحکمت میں تمہیں دوں پھر تمہارے پاس کوئی (ایسا) رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا (اور) فرمایا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری ذمہ داری قبول کرتے ہو۔ انہوں نے کہا تھا ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا اب تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں ۔“
(ترجمہ آل عمران:٨١،تفسیر صغیر ص ١٩٠ ایڈیشن ١٩٧٩ء)
عیسائیوں کی تقلید
یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں نظریہ ضرورت کے تحت عقائد میں ترمیم کی جاتی ہے۔ پھر تبدیل شدہ عقیدہ کی روشنی میں کتاب مقدس بائبل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اگر بائبل کے کسی مقام کی عبارت ان کے ترمیم شدہ عقیدہ سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو اس عبارت کو بدل دیا جاتا ہے اور اس نئی تحریف کو اپنے سادہ لوح اور عقل کے اندھے عوام سے منوانے کے لئے بائبل کے ان مقامات میں کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے۔ جو ان کے اس عقیدہ سے غیر متعلق ہوں اور عذر یہ دیا جاتا ہے کہ بائبل میں پائی جانے والی ان اغلاط وتحریفات سے ان عقائد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے پادری ولیم مچن صاحب لکھتے ہیں: ”یونانی زبان سنسکرت کی طرح ایسی زبان ہے۔ جن میں الفاظ کے آگے پیچھے لگانے سے مطلب میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا اور نسخوں کی غلطیوں میں سے بہتیری غلطیاں اس قسم کی ہیں کہ ان سے مسیحی مسلمات (عقائد) کے کسی مسئلہ میں کوئی شک وشبہ پیدا نہیں ہوتا۔“
(تفسیر لوقا ص ٢١)
قرآن پاک میں معنوی تحریف کرنے میں مرزا بشیر الدین نے یہی عیسائیوں والا رویہ اختیار کیا۔ آپ نے اپنی اہم ضرورت کے تحت سورہ البقرہ آیت ٣ کے ترجمہ میں حرف عطف
١١
”واو“ کو حرف تردید ”یا“ سے بدل دیا۔ لیکن اس تحریف کا جواز بنانے کے لئے قرآن پاک کے اور بہت سے مقامات کی آیات کے بعض حروف کو حذف کر کے لکھ دیا کہ اس سے آیت کے مطلب میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بطور نمونہ صرف چند آیات ملاحظہ ہوں۔
- ١...... ”فبشرهم بعذاب الیم“ تو اسے دردناک عذاب کی خبر دے۔
- ٢...... عربی ”فا“ ہے جس کے معنی ”پس“ کے ہیں۔ اردو میں اس کے بغیر فقرہ مکمل ہو جاتا
ہے۔ اس لئے ہم نے ”پس“ کا لفظ اڑا دیا۔
(تفسیر صغیر ص ٨١)
- ٢...... ”فـاولئـك عسى الله ان يـعـفـو عـنـهـم وكـان الله عـفـواً غـفـوراً
(النساء: ١٠٠)“ ﴿ان لوگوں کے متعلق خدا کی بخشش قریب ہے۔ کیونکہ اللہ پہلے ہی بہت معاف کرنے والا ہے۔﴾
قرآن مجید میں ”فا“ آتا ہے۔ مگر اردو میں اس کے ترجمہ کے بغیر کام چل جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے اردو میں اسے حذف کر دیا ہے۔
(تفسیر صغیر ص ١٢٥)
- ٣...... ”الـذين قـال لهم الناس ان الناس قد جمعو لكم فاخشوهم فزادهم
ایمـانـا وقـالو حسبنا الله ونعم الوکيل (آل عمران: ١٧٣)“ ﴿یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دشمنوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف لشکر جمع کیا ہے۔ اس لئے تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان کو اور بھی بڑھا دیا اور انہوں نے کہا ہمارے لئے اللہ کی ذات کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔﴾
عربی میں ”الـنـاس“ کا لفظ ہے۔ جس کے معنی آدمیوں کے ہیں۔ مگر مراد وہ آدمی ہیں جو مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اس لئے ترجمہ میں دشمن کا لفظ رکھا گیا ہے۔
(تفسیر صغیر ص ١٠٣)
- ٤...... ”فلما جاء هم ما عرفوا کفروا به فلعنة الله علی الکفرین“ ﴿جب ان
کے پاس وہ چیز آ گئی۔ جس کو انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کر دیا۔ پس ایسے کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔﴾
یہاں ”فا“ کا ترجمہ چھوڑا گیا ہے۔ کیونکہ اردو میں ایسے موقعہ پر کوئی لفظ استعمال نہیں ہوتا۔
(تفسیر صغیر ص ٤١)
- ٥...... ”وان کـل لـمـا جـمـيـع لـديـنـا محضرون (یسین: ٣٢)“ ﴿اور سب لوگ
ہمارے حضور جمع کئے جائیں گے۔﴾
١٢
قرآن مجید میں سب پر دلالت کے لئے دو لفظ آئے ہیں۔ مگر اردو میں ایک ایک لفظ کافی ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے ایک کا ترجمہ کر دیا ہے اور دوسرے کو چھوڑ دیا ہے۔
(تفسیر صغیر ص٥٧٩)
مرزا بشیر الدین نے قرآن پاک کی اور بہت سی آیات کے حروف کا ترجمہ یا تو حذف کر دیا یا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے بطور نمونہ صرف انہی آیات کو پیش کرنے پر قناعت کی ہے۔
ایک قدم اور آگے
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب چشمہ معرفت (جس کا حوالہ ہم شروع میں دے چکے ہیں) یہودیوں کی کتاب اللہ میں تحریف کرنے کا ایک طریقہ یہ بتلایا ہے۔
”اپنی رائے سے اپنی تفسیر میں بعض آیات کے معنی کرتے ہیں۔ بعض الفاظ کو مقدم اور بعض مؤخر کر دیتے ہیں۔“
آپ کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود اس میدان میں یہودیوں سے پیچھے نہیں رہے۔ آپ نے بھی تفسیر میں قرآن پاک کی بعض آیات کے معنی کرتے وقت بعض الفاظ کو آگے اور بعض کو پیچھے کر دیا ہے۔ ان کی تفسیر میں یہ جسارت بھی دیکھ لیجئے۔
”وما جعله الله الا بشرى لكم ولتطمئن قلوبكم به وما النصر الا من عند الله العزيز الحكيم (آل عمران:١٢٧) ”﴿اور اللہ نے یہ بات صرف تمہارے لئے خوشخبری کے طور پر اور اس لئے کہ تمہارے دل اس کے ذریعہ سے اطمینان پائیں۔ مقرر کی ہے۔﴾
ورنہ مدد تو (صرف) اللہ ہی کی طرف سے (آتی) ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔
”ليقطع طرفا من الذين كفروا او يكبتهم فينقلبوا خائبين (آل عمران:١٢٨) ”﴿(اللہ) کافروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر دے۔ تاکہ وہ ناکام واپس جائیں۔﴾ یہ آیت ١٢٨ کے حصہ کا ترجمہ ہے جو مضمون کی وضاحت کے لئے پہلے کر دیا گیا ہے۔
(تفسیر صغیر ص٩٦، ٩٧)
مضمون کی وضاحت تو اس کے بغیر بھی سمجھ میں آتی ہے۔ البتہ آیات کے تراجم کے آگے پیچھے کرنے کے بغیر یہودیوں سے مماثلت، مشابہت اور الحاق نہیں ہوتا۔
١٣٠
قتل انبیاء کا انکار
مرزا غلام احمد قادیانی کی مصنوعی امت کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت سچا نہ ہوتا تو آپ ٢٣ سال کے اندر اندر ضرور قتل ہو جاتے۔ یہ دلیل خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب اربعین میں قرآن پاک کی ایک آیت جو حضور ﷺ کی صداقت کے ثبوت میں نازل ہوئی تھی کو بنیاد بنا کر خود اپنے لئے زمین ہموار کی ہے اور عندیہ یہ دیا ہے کہ قرآن پاک اور بائبل میں جھوٹے نبی کی نشانی اس کا قتل ہونا بتائی گئی ہے۔
علماء اسلام نے مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دلیل یہ کہہ کر رد کر دی کہ اناجیل اور قرآن پاک دونوں میں اللہ کے سچے نبیوں کا قتل ہو جانا بیان کیا ہے۔ اس لئے کسی مدعی نبوت کا قتل ہونا یا نہ ہونا اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایسی وزنی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والے اس کے جواب سے عاجز آگئے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کی ان آیات میں معنوی تحریف کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ہاتھوں انبیاء علیہم السلام کے قتل ہونے کی خبر دی اور مرزا بشیر الدین نے ان معنوی تحریف کی وہ یہ ہیں۔
- ١....... ”يقتلون النبيين بغير الحق (البقرة:٦١)“ ﴿اور نبیوں کو ناحق قتل کرنا
چاہتے تھے۔﴾
- ٢....... ”يقتلون الانبياء بغير حق (النساء:١٥٦)“ ﴿اور ان کے نبیوں کو قتل کرنے
کی بلاوجہ کوشش کے سبب سے۔﴾
(تفسیر صغیر ص ١٦، ٩٤، ١٣٥)
اس معنوی تحریف میں مرزا بشیر الدین کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے سچے انبیاء میں سے کوئی نبی قتل نہیں ہوا۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنے کے باوجود قتل نہ ہونا ان کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔
سوال یہ ہے کہ کلام الٰہی میں تحریف کرنا اور پھر قتل نہ ہونا یہ کس کی دلیل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک نے جن یہودیوں کے کتاب اللہ میں تحریف کرنے کا راز فاش کیا۔ اس مذموم حرکت کی پاداش میں ان کا قتل ہونا بیان نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین دونوں نے قرآن پاک میں معنوی تحریف کی اور قتل نہیں ہوئے۔ کیا یہ ان کے سچے اور پکے یہودی ہونے کی دلیل نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اللہ کے کلام میں تحریف کرنے والوں کے بارے میں یہ نہیں کیا؟
١٤
”ضربت عليهم الذلة والمسكنة وباء و بغضب من الله“ ذلت وخواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی ہے اور اللہ کے غضب میں گھر گئے ہیں۔
علامت ایمان کا انکار
مرزا بشیر الدین کو ایک مسئلہ درپیش ہوا کہ آیت ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون“ میں تین حروف واؤ ہیں۔ عربی زبان میں واؤ حرف عطف جمع مطلق کے لئے آتا ہے۔ جو دو باتوں کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس آیت میں ایک واؤ نے حضورﷺ کی وحی پر ایمان لانے کے ساتھ آپ سے پہلے انبیاء پر نازل ہونے والی وحی کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ دوسرے واؤ نے انبیاء سابقین کی وحی اور حضورﷺ کی وحی کے ساتھ آخرت یعنی قیامت پر بھی ایمان لانے کو لازم ٹھہرایا۔ اس طرح تکمیل ایمان کی شرائط کے لحاظ سے انبیاء سابقین، حضورﷺ اور آپ کے بعد قیامت پر ایمان لانا ضروری قرار پایا۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار تینوں شرائط ایمان سے انکار ہے اور اسی کا نام کفر ہے۔
پس ایک مسلمان کے لئے حضورﷺ کی وحی پر اور آپ سے پہلے انبیاء کی وحی پر اور آپ کے بعد کسی وحی پر نہیں بلکہ قیامت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ لہٰذا اس مقام پر قرآن پاک کی اس آیت میں پائے جانے والے لفظ آخرۃ کا ترجمہ وحی یا موعود باتیں کرنے سے انکار قیامت لازم آتا ہے۔ جو سراسر کفر ہے۔
دوم! یہ کہ چونکہ اس آیت میں آخرۃ سے پہلے دو وحیوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اس لئے سیاق کلام کے اعتبار سے بھی لفظ آخرۃ کا ترجمہ وحی یا موعود باتیں نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن صاحب، داد دیجئے! ہٹ دھرمی اور ضد کی کہ مرزا بشیر الدین محمود نے اس آیت میں معنوی تحریف کرتے ہوئے انبیاء سابقین کی وحی اور حضورﷺ کی وحی کے مابین پائے جانے والے حرف عطف واؤ کے اردو ترجمہ ”اور“ کو اردو کے حروف تردید ”یا“ سے بدل دیا تا کہ یہ کہا جاسکے کہ چونکہ اس آیت میں آخرۃ سے پہلے دو وحیوں کا ذکر ہے۔ جن پر ایمان لانا لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ اس لئے یہاں آخرۃ سے مراد بعد میں آنے والی وحی ہے۔ جس پر ایمان لانا ضروری اور لازمی ہے۔ جسارت ملاحظہ ہو۔
”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم يوقنون“ اور جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
١٥
آیت میں ”واؤ“ جس کے معنی ”اور“ کے ہیں۔ لیکن ہم نے ”اور“ کی بجائے ”یا“ استعمال کیا ہے تاکہ مفہوم آسانی سے سمجھ میں آسکے۔
(تفسیر صغیر ص ٥)
اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے انبیاء پر مجموعی طور پر ایمان لانا لازمی ہے، اختیاری نہیں۔ انبیاء میں سے کسی ایک کا انکار سب انبیاء کا انکار ہے۔ اگر مرزا بشیر الدین کی بات مانی جائے تو مطلب ہوگا کہ کوئی کافر ہوتا ہے تو ہوا کرے۔ مگر مرزا قادیانی کو تو نبی مانے! لطیفہ یاد آیا۔ پولوس کو لوگوں نے کہا تمہارا دعویٰ تو رسالت کا ہے۔ لیکن باتیں بے وقوفی والی کرتے ہو۔ پولوس نے جواب دیا۔
”میں پھر کہتا ہوں کہ مجھے کوئی بے وقوف نہ سمجھے۔ ورنہ بے وقوف ہی سمجھ کر قبول کرو تاکہ میں بھی تھوڑا سا فخر کروں۔“
(٢۔ کرنتھیوں ١١: ١٦، ١٧)
عیسائیت کی حمایت، تاویل پھر تحریف
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا دعویٰ نبوت عیسائیت سے مشروط تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی قرآن پاک کی ہر اس آیت کی تاویل کر کے اس کے مفہوم کو عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس آیت میں عیسائیوں کے خود ساختہ عقیدہ کا بطلان موجود ہے یا جس آیت سے جناب مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر انبیاء سابقین کی طرف منسوب بائبل کے کسی بیان کی تردید ہوتی ہے۔ اپنی اس روش کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی نے سب سے زیادہ زور قرآن پاک کی ان آیات کی تاویل کرنے پر دیا جو جناب مسیح علیہ السلام کی موت کی نفی اور آپ کی حیات کے اثبات میں نازل ہوئی ہیں۔
دراصل موجودہ عیسائیت کی بنیاد ہی جناب مسیح علیہ السلام کی موت پر رکھی گئی ہے۔ جیسا کہ ان کا رسول پولوس عہد جدید میں لکھتا ہے۔ ”مسیح کتاب مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں کے لئے موا اور دفن ہوا۔ تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھا۔“
(١۔ کرنتھیوں ١٥: ٣)
اب اگر عیسائی اسلامی عقیدہ کے مطابق مانتے ہیں کہ جناب مسیح موعود فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں تو اس سے ان کا یہ عقیدہ باطل ٹھہرتا ہے کہ جناب مسیح نے ان گناہوں کے بدلے بطور کفارہ کے اپنی جان دے دی۔
اور اسی طرح اگر وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام آسمان سے دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے تو اس کے کچھ عرصہ بعد آپ وفات پائیں گے تو اس کی رو ان کے عقیدہ آسمان -
١٦
کی بادشاہی پر پڑتی ہے۔ وہ انتظار میں ہیں کہ مسیح علیہ السلام آسمان سے خدا کی حیثیت میں نازل ہوں گے اور زمین پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حکومت کریں گے۔ دنیا میں قرآن پاک ہی وہ واحد کتاب ہے کہ جس نے عیسائیوں کے وفات مسیح کے دعوے کو چیلنج کیا ہے اور یہ کہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد ان کی زندگی ابدی نہیں ہوگی۔ بلکہ وہ وفات پائیں گے۔ سو پادری صاحبان قرآن کریم کی زد سے اپنے عقیدہ کو بچانے کے لئے قرآن پاک کی آیات کے منشاء و مقصود کو ان کے اصول وقواعد اور مضمون کے سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے قرآن پاک سے وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ وہ باور کراسکیں کہ آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے جناب مسیح علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے اور آسمان سے دوبارہ نازل ہونے کے بعد ان کی وفات نہیں ہوگی۔ وہ ابدی زندگی کے حامل ہوں گے۔
چنانچہ ایک عیسائی مناد لکھتا ہے: ”تمام راسخ الاعتقاد مسلمان از روئے قرآن مجید واحادیث متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ اصح بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور آسمان پر زندہ موجود ہیں اور پھر آسمان سے نازل ہوں گے۔“
لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ از روئے قرآن مجید عیسیٰ المسیح کی موت آسمان پر زندہ اٹھائے جانے سے پہلے واقع ہوئی یا ان کے دوبارہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد ہوگی۔
قرآن مجید میں سورہ آل عمران آیت ٥٥ میں ”متوفيك“ یعنی وفات مسیح کا حکم پہلے ہے اور ”رافعك“ یعنی زندہ بجسد عنصری اٹھائے جانے کا بعد از وفات ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ المسیح کی وفات یعنی موت پہلے واقع ہوئی اور وہ بعد از موت بجسد عنصری زندہ ہوئے اور آسمان پر اٹھائے گئے۔
(فلسفہ وحدت الوجود ص ٧٧)
قرآن مجید سے وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے کا یہ وہی انداز ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں سے لیا ہے اور اس کو اپنا کر عیسائیوں کی اس بات کی تائید کی کہ از روئے قرآن مجید جناب مسیح علیہ السلام کی وفات ہوئی اور بعد از وفات وہ اٹھائے گئے۔ آپ لکھتے ہیں: ”قرآن مجید کی نصوص بینہ اس بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے۔ جس زمانہ میں وہ بنی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لئے آیا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ“ اس جگہ ظاہر ہے کہ
١٧
خدا تعالیٰ نے ”انی متوفیک“ پہلے لکھا ہے اور ”رافعک“ بعد اس کے فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ (حضرت مسیح علیہ السلام کی) وفات پہلے ہوئی اور ”رفع“ (اٹھایا جانا) بعد از وفات ہوا۔“
(ازالۃ اوہام ج٢ ص٤٢٥، خزائن ج٣ ص٣٢٠)
بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ یہودی اور عیسائی قومیں جناب مسیح علیہ السلام کی وفات کے جو اسباب بتاتے ہیں۔ قرآن پاک نے ان کی بھی تردید فرمادی کہ ایسا سرے سے ہوا ہی نہیں۔ جب کہ اناجیل اربعہ میں جناب مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کہانی بڑے دردناک اور توہین آمیز پیرایہ میں لکھی ہوئی ہے کہ کس طرح وہ صلیب کے ذریعے سے موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ اناجیل اربعہ کی اس مشترکہ کہانی کی تردید قرآن پاک نے یہ کہہ کر کر دی ہے۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللّٰہ الیہ (النساء:١٥٧) ”نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی شک میں ہی مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں محض گمان ہی کی پیروی ہے۔ یقیناً انہوں نے (مسیح) کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔“
یہ ایسی بات ہے کہ جس کی عیسائی کوئی تاویل یا توجیہہ نہیں کر سکتے۔ اس بارے میں پریشان ہیں کہ قرآن پاک کی اس آیت کا حل کیا ہو۔ اپنی اس پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے عیسائی مناد لکھتا ہے: ”قرآن مجید میں سورہ آل عمران: ٥٥ میں ”توفیک“ یعنی وفات عیسیٰ کا حکم پہلے ہے اور ”رافعک“ یعنی جسد عنصری رفع آسمانی کا حکم بعد از وفات ہے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ مسیح کی وفات یعنی موت پہلے واقع ہوئی ہے اور وہ بعد از موت زندہ ہوئے اور آسمان پر اٹھالئے گئے اور وہ آسمان پر زندہ ہیں اور پھر اسی جسم میں آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ سورہ آل عمران: ٥٥ یعنی ”انی متوفیک“ اور سورہ نساء: ١٥٧ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کا اختلاف کس طرح دور کیا جائے۔“
(فلسفہ وحدۃ الوجود ص ٧٧)
مناد صاحب کی مذکورہ بالا عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی پوری کوشش کے باوجود سورہ نساء کی آیت ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کو قرآن پاک سے ان کو وفات مسیح ثابت کرنے نہیں دیتی۔ عیسائیوں کی پریشانی کا ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ البتہ مرزا غلام احمد
١٨
قادیانی نے عیسائیوں کی اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے قرآن پاک کی اس آیت کی تاویل یہ کی ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق صلیب پر چڑھائے ضرور گئے تھے۔ البتہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔ مرزا قادیانی نے یہ بیان کر کے عیسائیوں کو ایسی تاویل فراہم کردی۔ جس کے سہارے انہیں ان صدیوں کے اضطراب سے سکون نصیب ہو گیا۔ اپنی تاویل کی وضاحت کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں۔
”اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم ٠ وما قتلوه يقيناً “ یعنی یہودیوں نے درحقیقت نہ حضرت مسیح کو قتل کیا اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا۔ بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوگئے ہیں۔ ان کے پاس وہ دلائل نہیں جن کے وجہ سے ان کے دل مطمئن ہوسکیں کہ یقیناً حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بظاہر مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا۔ مگر یہ ایک دھوکہ ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کیا کہ دراصل مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٥١،٥٢، خزائن ج ١٥ ص ٥١)
قرآن کریم کے حوالے سے جناب مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کھینچا ہوا مان لینا عیسائیوں کی اتنی بڑی حمایت ہے۔ جس کا وہ تصور تک نہیں کر سکتے تھے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار انہوں نے قرآن پاک کے حوالے سے سنا کہ حضرت مسیح کو مصلوب کرنے میں وہ واقعی کامیاب رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کا مسیح علیہ السلام کی مصلوبیت کا اقرار ایسا اقرار ہے جس کی بنیاد قرآن پاک کا متن نہیں بلکہ ان کی وہ تاویل ہے جو ایک شخص کی ذاتی رائے قرار دی جاسکتی ہے اور ذاتی رائے بھی وہ جس کی تائید اصل الفاظ نہیں کرتے۔ سو اس تشنگی کو مرزا بشیر الدین محمود نے اس طرح سراب بنایا کہ قرآن پاک میں باقاعدہ معنوی تحریف کرکے مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا دیا اور یوں انہوں نے اپنے والد کے عیسائی عقیدہ کی حمایت کی اور عیسائیوں کے پرانے جلے درخت کو نئے سرے سے بارآور بنا دیا۔
مرزا بشیر الدین کی تفسیر صغیر کا یہ مقام ملاحظہ ہو: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الاتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما“
١٩
حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے اسے صلیب پر لٹکا کر مارا۔ بلکہ وہ ان کے لئے مصلوب کے مشابہ بنا دیا گیا اور جن لوگوں نے اس (یعنی مسیح کے زندہ اتارے جانے) میں اختلاف کیا وہ یقیناً اس (کے زندہ اتارے جانے کی وجہ) سے شک (میں پڑے ہوئے) ہیں۔ انہیں اس کے متعلق کوئی بھی یقینی علم نہیں ہے۔ ہاں (صرف ایک) وہم کی پیروی کر رہے ہیں اور انہوں نے اس واقعہ کی اصلیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ (اور جو سمجھا ہے غلط سمجھا ہے) واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے اپنے حضور میں عزت و رفعت دی (اور وہ صلیب پر مر نہیں گیا تھا) کیونکہ اللہ غالب (اور حکمت والا ہے)
مرزا بشیر الدین نے حاشیہ میں غلط اور جھوٹ لکھا ہے کہ تورات میں ہے کہ جو صلیب پر مرے وہ لعنتی ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ جو زندہ شخص صلیب پر مر جائے وہ لعنتی ہے۔ بلکہ تورات کی پانچویں کتاب استثناء جس کا حوالہ مرزا بشیر الدین نے دیا ہے لکھا ہے۔
”اگر کوئی شخص گناہ کرے جس سے اس کا قتل واجب ہو تو اسے مار کر اس کی لاش درخت سے ٹانگ دے تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے۔ کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے۔“
(استثناء ٢١: ٢٢، ٢٣)
یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ نہیں کہ جو صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھایا جائے وہ لعنتی ہے۔ عیسائی جناب مسیح علیہ السلام کو صرف صلیب پر چڑھائے جانے کی بناء پر لعنتی مانتے ہیں۔ جیسا کہ ان کا ایک رسول عہد جدید میں لکھتا ہے۔
”مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی (صلیب) پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔“
(گلتیوں ١٣:٣)
١؎ تورات میں ہے کہ جو صلیب پر مرے یعنی کاٹھ پر چڑھایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔
(استثناء: ٢٢،٢١، تفسیر صغیر ص ١٣٥، ١٣٦)
٢؎ اور نہیں مارا اس کو نہ سولی دی۔ اس کو اور لیکن شبہ ڈالا گیا واسطے ان کے اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا۔ انہوں نے بیچ اس کے البتہ بیچ شک کے ہیں۔ اس سے نہیں واسطے ان کے ساتھ اس کے کچھ علم مگر پیروی کرنا گمان کا اور نہ مارا اس کو بہ یقین بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ غالب حکمت والا۔
(شاہ رفیع الدین)
٢٠
اصل حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کریم کے ارشاد کے خلاف عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق جناب مسیح علیہ السلام کا زندہ صلیب پر چڑھایا جانا مان کر آپ کو لعنتی مان لیا ہے اور اپنے پیروکاروں سے بھی مسیح علیہ السلام کو لعنتی منوانے کے لئے یہ بات بنائی ہے کہ چونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ جو صلیب پر مارا جائے وہ لعنتی ہے۔ سو یہودیوں نے آپ کو لعنتی ثابت کرنے کے لئے صلیب پر چڑھا دیا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو لعنتی بننے سے بچانے کے لئے صلیب پر مرنے نہیں دیا۔ بلکہ بیہوشی کی حالت میں صلیب سے زندہ اتروا لیا۔ یہ مضمون مرزا قادیانی نے مختلف طریق تحریر سے اپنی متعدد کتابوں میں سینکڑوں صفحات پر مشتمل الجھی ہوئی عبارت میں پھیلا دیا اور اصل بات (مسیح علیہ السلام کے لعنتی ماننے) کو ایک بھید بنا کر عندیہ یہ دیا کہ مسیح علیہ السلام کی موت کا اقرار کرنے سے عیسائیت کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ آج بھی ان کے پیروکار یہ واویلا مچاتے نہیں تھکتے کہ مسیح کی موت کے اقرار کے ذریعہ عیسائیت کا مقابلہ ہم نے کیا ہے اور کر رہے ہیں اور یہ کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے حضورﷺ کی پیش گوئی کے مطابق کسر صلیب کر (توڑ) دی ہے۔ لیکن عیسائیت کی کونسلوں کے بشارتی بورڈوں (تبلیغی انجمن) کی رپورٹ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح علیہ السلام کی موت کا اقرار کر کے عیسائیت کی تائید و ترقی اور کامیابی بخشی اور ان کے عقیدہ کو ایسا روشن کر دیا ہے کہ انہیں اس تاویل کے سہارے اپنی کامیابی کا گمان تک نہ تھا۔ چنانچہ ١٩٥٥ء میں پاکستان کرسچن کونسل کے بشارتی بورڈ نے اپنی رپورٹ میں لکھا: ”بے شک صلیب کا پیغام اہل اسلام کے نزدیک ٹھوکر کا باعث ہے۔ لیکن فی الحقیقت ہماری فتح عظیم صلیب کے پیغام میں ہے۔ احمدی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ احمدیت کے بانی نے صلیب کو توڑ دیا ہے۔ حالانکہ فی الحقیقت صلیب کی تجلیات نے احمدیت کے بانی کے وسیلہ سے جمیع اہل سنت والجماعت خلفاء سلف کے چودہ سو سال کے اس اجماعی اسلامی عقیدہ کو کہ یسوع مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے تھے۔ بلکہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور وہ اب تک زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ دوبارہ اس دنیا میں آنے والے ہیں۔ ایسا پاش پاش کر کے رکھ دیا کہ نادم ہونے کی بجائے فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے صلیب کی بجائے اپنے ہی اسلامی عقیدہ کو توڑ ڈالا ہے۔ اہل اسلام آج تک یہ مسئلہ حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔“
(رپورٹ مسیحی بشارتی بورڈ ص ١٠٠، ١٩٥٥ء)
٢١
ایڈیشن در ایڈیشن تحریف
گزشتہ دو سو سال سے عیسائی اپنی مذہبی دستاویز کتاب مقدس (بائبل) میں سائنسی بنیادوں پر تحریف کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کو انہوں نے اصلاح کا نام دے رکھا ہے۔ باقاعدہ پادریوں کی ایک جماعت بائبل کے مضامین کا جائزہ لیتی ہے اور ان میں زمانہ کے لحاظ سے ردو بدل اور تحریف وحذف کرتی ہے۔ اس اجتماعی تحریف کو انگریزی زبان میں ورژن (Version) کہتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ عیسائیت کے تمام فرقوں کی بائبل کے ہر ایڈیشن پر ریوائزڈ ورژن (Revised Version) نظر ثانی شدہ متن لکھا ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایڈیشن میں تحریف کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔
١٩٥٦ء میں انسائیکلو پیڈیا کولرس نے لکھا تھا کہ (١٩٤٨ء سے اب تک) صرف انگریزی زبان کی بائبل کے پچاس ایڈیشنوں میں تحریف ہوئی ہے اور عہد جدید کے ساتھ تو ایک سو دس بار ایسا ہوا ہے۔
(بحوالہ پاکستان میں مسیحیت ص ١١٠)
بائبل کی تاریخ تحریف اس وقت پیش نظر نہیں۔ بلکہ بتانا یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی ایڈیشن در ایڈیشن اپنی مذہبی کتاب میں تحریف کرنے میں اکیلے نہیں بلکہ مرزا بشیر الدین بھی ان کے ہم رکاب ہیں۔ مرزا بشیر الدین نے بھی اپنی تفسیر صغیر کے مختلف ایڈیشنوں میں تحریف در تحریف کر کے محرفین کتاب اللہ کی اسمبلی کی ایک نشست جیت لی ہے۔ ہم بطور ثبوت تفسیر صغیر ایڈیشن سوم اور ایڈیشن دس میں موازنہ سے ان کی قرآن پاک میں معنوی تحریف اور ایڈیشن در ایڈیشن کی تبدیل و ترمیم کی مثال پیش کرتے ہیں۔ صرف چند آیات کی تحریف پیش کریں گے۔ تفسیر صغیر کے ان تحریف در تحریف ایڈیشنوں کا موازنہ کرنے کا طریق ہم نے یہ اختیار کیا ہے کہ درمیان میں قرآن پاک کی آیت اور اس کے دائیں وبائیں تحریف شدہ ایڈیشنوں کے تراجم دیئے ہیں تاکہ قارئین کو غور کرنے میں آسانی ہو۔
- .......١ ”وإذ قتلتم نفساً فادرتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون (آل
عمران:٧٣)“
”اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا۔ پھر تم میں سے ہر ایک نے اپنے سر سے الزام دور کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ جو کچھ تم چھپاتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے والا تھا۔“
(ترجمہ: تفسیر صغیر ایڈیشن ١٩٥٨ء ص ٢٠)
٢٢
”اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل (کرنے کا دعویٰ کیا) پھر تم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا۔ حالانکہ جو (کچھ) تم چھپاتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے والا تھا۔“
(ترجمہ: تفسیر صغیر ایڈیشن ١٩٧٩ء ص ١٨)
- ٢...... ”عفا الله عنك لم اذنت لهم حتى يتبين لك الذين صدقوا وتعلم
الكذبين (توبه:٤٤)“
”اللہ تعالیٰ تمہاری غلطی کے بد اثر کو مٹا دے۔ آخر تم نے کیوں (اجازت مانگنے والوں) کو پیچھے رہنے کی اجازت دی تھی۔ (تم ان کے جانے پر اصرار کرتے) یہاں تک کہ سچ بولنے والے تجھ پر ظاہر ہوجاتے اور جھوٹوں کو بھی جان لیتا۔“
(ص ٣٨٧، ٣٨٨)
”اللہ نے تیری غلطی کے بداثرات کو مٹا دیا اور تجھے عزت دی۔ آخر تم نے کیوں ان اجازت مانگنے والوں پیچھے رہنے کی اجازت دی تھی۔ (تم ان کے جانے پر اصرار کرتے) یہاں تک سچ بولنے والے تجھ پر ظاہر ہوجاتے اور تو جھوٹوں کو بھی جان لیتا۔“
(ص ٣٤٩)
- ٣...... ”والقوا الى الله يومئذ السلم وضل عنهم ما كانوا يفترون
(نحل:٨٨)“
”اور (اس حالت کو دیکھ کر) وہ ظالم جلد اللہ (تعالیٰ سے اپنی) اطاعت کا اظہار کریں گے اور اس دن وہ (سب کچھ ان کے ذہنوں سے) غائب ہوجائے گا۔ جسے وہ اپنے پاس سے گھڑا کرتے تھے۔“
(ص ٥٣٩)
”اور اس دن وہ (ظالم جلدی سے) اللہ کے حضور (اپنی) اطاعت کا اظہار کریں گے اور وہ (سب کچھ) جسے وہ اپنے پاس سے گھڑا کرتے تھے۔ ان (کے ذہنوں) سے غائب ہو جائے گا۔“
(ص ٣٤٢)
- ٤...... ”ولما جاء عيسى بالبينت قال قد جئتكم بالحكمة ولا بين لكم
بعض الذى تختلفون فيه فاتقوا الله واطيعون (زخرف:٦٤)“
”اور جب عیسیٰ (بعثت ثانیہ میں) آیا (یعنی) آئے گا تو اس نے کہا (یعنی وہ کہے گا) میں تمہارے پاس حکمت کی باتوں کے ساتھ آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں بعض باتیں سمجھا دوں۔ جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ پس اللہ (تعالیٰ) کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“
(ص ١٠٣)
٢٣
”اور جب عیسیٰ (بعثت ثانیہ میں) نشانات کے ساتھ آئے گا تو وہ کہے گا کہ میں تمہارے پاس حکمت کی باتوں کے ساتھ آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں تاکہ تم کو بعض وہ باتیں سمجھا دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت اختیار کرو۔“
(ص٦٥١)
تحریف تفسیر در تفسیر
یہ قرآن پاک کے ترجمہ میں ایڈیشن در ایڈیشن تحریف کا ایک نمونہ تھا۔ اب مرزا بشیر الدین محمود ہی کے ہاتھ سے تفسیر در تفسیر تحریف کا رنگ بھی دیکھ لیجئے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک میں جو کھلی تحریف کی اس سے زیادہ تاریک مثال شاید ہی کوئی ہو۔ آپ قادیان میں درس قرآن پاک دیا کرتے تھے۔ ١٩٤٠ء میں انہوں نے اپنی ان تقاریر کو تفسیر کبیر کے نام سے شائع کیا جو دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ربوہ منتقل ہونے کے بعد مرزا بشیر الدین کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ آپ نے ان جدید و پیچیدہ اور لاینحل مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے تفسیر کبیر کے ترجمہ قرآن میں تحریف و ترمیم کی مہم پھر نئے سرے سے شروع کی اور قطع و برید کا یہ نیا نسخہ پہلی بار ١٩٥٧ء میں تفسیر صغیر کے نام سے ربوہ سے شائع ہوا۔ ایڈیشن در ایڈیشن کی تحریف کی طرح ناظرین کی آسانی کے لئے تفسیر در تفسیر تحریف کو بھی ہم اس طرح پیش کر رہے ہیں کہ پہلے قرآن پاک کی آیت پھر تفسیر کبیر اور اس کے بعد تفسیر صغیر کے تراجم، موازنہ ملاحظہ ہو۔
- ١...... ”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالاخرة هم
يوقنون (البقره:٤)“
”اور جو اس پر جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور آئندہ ہونے والی (موعود باتوں) پر (بھی) یقین رکھتے ہیں۔“
(تفسیر کبیر ص٩٦، ١٣٥، ١٣٦)
”اور جو کچھ تجھ پر نازل کیا گیا ہے۔ یا جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا تھا ایمان لائے ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود باتوں پر (بھی) یقین رکھتے ہیں۔“
(تفسیر صغیر ص٥)
- ٢...... ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء
كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه قال ءاقررتم واخذتم على ذالكم اصري قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين“
٢٢
”یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ فرماتے ہوئے پختہ عہد لیا کہ میں تم کو کتاب وحکمت دینے کے بعد جو ایسا رسول آئے جو تمہارے پاس ہے۔ وہ اس کا مصدق ہو تم اس پر ایمان لانا اور اسی کی مدد کرنا۔ پھر فرمایا۔ اقرار کرتے ہو اس بات پر مجھ سے پختہ عہد باندھتے ہو۔ انہوں نے جواب میں کہا، ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اس پر فرمایا تم بھی گواہ رہو اور میں بھی تمہارا گواہ رہوں گا۔“
(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٣٨٤)
”اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب اللہ نے (اہل کتاب سے) سب نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا کہ جو کچھ کتاب اور حکمت میں تمہیں دوں پھر تمہارے پاس کوئی (ایسا) رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو۔ جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا (اور) اور فرمایا تھا کہ تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے ذمہ داری قبول کرتے ہو (اور) انہوں نے کہا تھا ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا اب تم گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ایک گواہ ہوں۔“
(تفسیر صغیر ص ٩٠)
- ٣....... ”قل کونوا حجارة او حدیدا او خلقاً مما یکبر فی صدورکم
فسیقولون من یعیدنا (بنی اسرائیل: ٥١)“
”تو (انہیں) کہہ (کہ) تم (خواہ) پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی اور ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں عظمت رکھتی ہو۔ (تب بھی تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا) اس پر وہ ضرور کہیں گے (کہ کون ہمیں دوبارہ) وجود میں لا کر زندہ کرے گا۔“
(تفسیر کبیر ج ٤ ص ٣٤٧)
”تو (انہیں) کہہ (کہ) تم (خواہ) پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی اور ایسی مخلوق تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت نظر آتی ہو۔ (تب بھی) تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا (یہ سن کر) وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون ہمیں دوبارہ زندہ کر کے وجود میں لائے گا۔“
(تفسیر صغیر ص ٣٥٥)
راز درون پردہ ....... بھید کی بات
گزشتہ اوراق میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پیشوایان قادیانیت قرآن پاک میں معنوی تحریف کر کے بالواسطہ طور پر عیسائیوں کے باطل عقائد کی حمایت کی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے مفروضہ دعوؤں کے خلاف جانے والی آیات میں معنوی تحریف کر کے انہیں اپنے راستے سے ہٹانے اور اپنے خود ساختہ عقائد اور قرآن پاک میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس میں ضمنی طور پر نادانستہ طور پر عیسائیت کی
٢٥
حمایت ہو بھی گئی تو اسے دانستہ حمایت کرنا نہیں کہا جا سکتا۔ اس معنوی تحریف سے مقصد ہی تطبیق کی راہ تھی۔ یہ بات یہاں تک محدود نہیں رہی۔ یہ حضرات یہاں بھی رک جاتے تو بہت ممکن تھا کہ ہم بعض مضامین میں ہم ان سے اتفاق کر لیتے۔ مگر اسے کیا کہئے کہ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن مجید کی بعض ایسی آیات کے ترجمہ میں بھی تحریف کر دی ہے کہ ان آیات کا مضمون ان کے والد گرامی کے مفروضہ دعوؤں کی تائید نہیں کر سکا اور نہ ہی تردید۔ مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن پاک میں معنوی تحریف بلاوجہ نہیں کی۔ دراصل اس اقدام سے انہوں نے اپنے ان موروثی مادی مفادات کا تحفظ کیا ہے جو مادی مفادات ان کے والد بزرگوار کے مفروضہ دعوؤں کی بناء تھے اور آپ جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ: ”میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(بعنوان گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ، شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
یہ بھی معلوم ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ انگریزی کا مذہب عیسائیت ہے۔ جن کی مذہبی کتاب کا نام بائبل ہے۔ جو جناب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سعادت سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء کے صحیفوں اور ان کے نام منسوب بہت سی کتابوں کا ایک مجموعہ ہے۔ قرآن پاک نے بائبل کے چند مضامین کی تردید اور چند ایک کی تطہیر کی ہے اور بائبل میں انبیاء علیہم السلام سے منسوب بہت سے واقعات کا قرآن پاک نے سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور اس میں بعض انبیاء سے متعلق چند باتیں ایسی بھی بتائی گئی ہیں کہ جو بائبل میں نہیں پائی جاتیں لیکن قرآن مجید میں ان کو اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سو قرآن پاک کے ان مقامات کی آیات میں معنوی تحریف کر کے مرزا بشیر الدین نے قرآن مجید کو بائبل کے سانچے میں ڈھالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ مثلاً:
”جناب موسیٰ علیہ السلام کا خدا کے حکم سے اپنی لاٹھی کو سمندر پر مارنا اور سمندر کے پانی کا دو حصوں میں پھٹ کر راستہ دے دینا قوم موسیٰ کا پانی کی دو دیواروں کے بیچ سے گزر جانا اور لشکر فرعون کا غرق ہو جانا۔ قرآن پاک نے اسے معجزہ قرار دیا ہے۔ یہ مضمون قرآن پاک کے متعدد مقامات پر اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سورہ شعراء میں ہے: ” فلما تراء الجمعن قال اصحب موسے انا لمدرکون قال کلا ان معی ربی سیهدین فاوحینا الی
٢٦
الیٰ موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (شعرا) ”تو پھر (جب فرعون کے لشکر کا بنی اسرائیل سے) سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا بالکل نہیں۔ میرے ساتھ میرا رب ہے۔ جلد ہی کوئی راہ دکھا دے گا۔ مجھ کو۔ تب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے سوٹے کو سمندر پر مارو (جب اس نے سوٹا مارا تو پانی) پھٹ گیا اور پھٹ کر الگ ہونے والے پانی کا ہر ٹکڑا دونوں طرف ایک بڑے پہاڑ کی طرح نظر آنے لگا۔“
قرآن پاک کے برعکس مقدس بائبل میں لکھا ہے: ”پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا دیا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہو گیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے۔“
(خروج ١٤: ٢١، ٢٢)
مرزا بشیر الدین فرماتے ہیں: ”واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون“ ”اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑا پھر ہم نے تم کو نجات دی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعون کی قوم کو غرق کر دیا۔“
”اس وقت جوار بھاٹا کے اصول کے مطابق سمندر پیچھے ہٹ گیا اور قوم موسیٰ سمندر سے نکل گئی۔ مگر فرعون کے لشکر کے آنے پر پانی کے لوٹنے کا وقت آ گیا اور وہ ڈوب گیا۔ چونکہ جوار بھاٹا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق آتا ہے۔ خدا تعالیٰ ہی موسیٰ اور فرعون کو اس وقت سمندر پر لے گیا تھا جب جوار بھاٹے کا اثر خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق موسیٰ اور فرعون پر پڑ سکتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے سمندر کو پھاڑ کر تم کو نجات دی۔“ (تفسیر صغیر ص١٢)
قرآن پاک کے مقابلے میں سمندر کا پھاڑا جانا بائبل میں پوربی آندھی چلنے کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے مرزا بشیر الدین نے عیسائیوں کی حمایت میں بائبل کے مضمون کے مطابق قرآن پاک کی تفسیر یہ بیان کی کہ سمندر کا پھاڑا جانا جوار بھاٹے کا نتیجہ تھا۔ حالانکہ نہ پوربی ہوا پانی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور نہ جوار بھاٹا سمندر کے درمیان آکر سمندر کو پھاڑ کر پیچھے ہٹاتا ہے۔ یہ خلاف عقل واہیات بات مرزا بشیر الدین نے قرآن پاک کے خلاف اپنے مفاد میں صرف عیسائیوں کو خوش کرنے کے لئے کی ہے۔
ایک اور چاپلوسی
قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ جو جناب داؤد علیہ السلام کا پیش رو تھا
٢٧
مفسر قرآن طالوت کی فوج کی آزمائش کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔
”فلما فصل طالوت بالجنود قال ان اللہ مبتلکم بنہر فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی الا من اغترف غرفۃ بیدہ فشربوا منہ الا قلیلا منہم فلما جاوزہ ہو والذین آمنوا معہ قالوا لا طاقۃ لنا الیوم بجالوت وجنودہ قال الذین یظنون انہم ملقوا اللہ کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصبرین ۔ ولما برزوا لجالوت وجنودہ قالوا ربنا افرغ علینا صبراً وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین فہزموہم باذن اللہ وقتل داؤد جالوت واتہ اللہ الملک والحکمۃ وعلمہ مما یشاء“
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اس نے کہا ایک دریا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جو اس کا پانی پیئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی وہ ہے جو اس میں پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ چلو پی لے تو پی لے۔ مگر ایک گروہ قلیل کے سوا سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔
پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا آج ہم جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لیکن جو یہ یقین رکھنے والے تھے کہ ان کو ایک دن اللہ سے ملنا ہے۔ انہوں نے کہا بارہا ایسا ہوا ہے کہ قلیل گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آ گیا۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے میں نکلے تو دعا کی اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر۔ ہمارے قدم جما اور کافروں پر ہمیں فتح نصیب فرما۔ آخر کار انہوں نے اللہ کے حکم سے کافروں کو مار بھگایا اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا علم چاہا اسے دیا۔
(البقرہ: ٢٥٠،٢٤٩)
بائبل میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ طالوت (ساؤل) کی زیر قیادت جہاد کے دوران داؤد علیہ السلام نے جالوت (جولیت) کو قتل کر دیا تھا۔ لیکن طالوت کی فوجوں کا دریا کے پانی سے آزمائے جانے کا ذکر نہیں ہے۔ بائبل کے بیان کے مطابق دریا کے پانی سے طالوت سے دو سو سال پہلے گزرنے والے ایک سورما جدعون کے رضا کار ساتھیوں کی دریا کے پانی سے آزمائش ہوئی تھی۔ جدعون اور اس کے ساتھیوں کے پانی کے ذریعے امتحان کا واقعہ بائبل کی کتاب ”قضاۃ“ باب ٧ ، ٨ میں لکھا ہے۔
٢٨
مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی تفسیر میں قرآن پاک کی مخالفت اور بائبل کی تائید وتصدیق کر کے طالوت کو جدعون قرار دے کر دریا کے پانی سے جدعون کے ساتھیوں کا امتحان لیا جانا تسلیم کیا۔
آپ لکھتے ہیں: ”طالوت سے مراد جدعون ہے اور یہ صفاتی نام ہے۔ پرانے عہد نامے کی کتاب ”قضاۃ“ باب ٧ سے معلوم ہوتا ہے کہ جدعون کے ساتھیوں کا نہر کے ذریعہ سے امتحان ہوا تھا۔“
(تفسیر صغیر ص ٦٤)
علماء عیسائیت کو اعتراف ہے کہ جدعون کے دو سال بعد بنی اسرائیل کے مطالبہ پر سیموئیل نبی نے ساؤل (طالوت) کو بادشاہ بنایا تھا اور اس بادشاہ کی زیر قیادت داؤد علیہ السلام نے فلسطینی جولیت (جالوت) کو قتل کیا تھا۔ یہ باور کیا جانا ممکن نہیں کہ طالوت سے مراد جدعون ہے۔ اس لئے کہ قرآن پاک نے محض یہ اشارہ نہیں فرمایا کہ طالوت کے ساتھیوں کا پانی کے ذریعہ سے امتحان لیا گیا تھا۔ بلکہ یہ کہ طالوت کے ساتھیوں کا امتحان لیا گیا تھا اور اس کے ایک ساتھی داؤد نے جالوت کافر کو قتل کیا تھا۔ جب کہ بائبل کی کتاب ”قضاۃ“ میں صرف بتایا گیا ہے کہ جدعون کے ساتھیوں کا امتحان نہر کے پانی کے ذریعہ لیا گیا تھا۔ گویا کہ جدعون اور طالوت کے درمیان داؤد علیہ السلام کا وجود آ کر طالوت کی مراد جدعون نہیں لینے دیتا۔
مرزا بشیر الدین نے یہاں شرافت کا دامن چھوڑ کر جھوٹ کا سہارا لے کر عجیب منطق بکھیری ہے۔ جو دروغ گوئی کا عظیم تر شاہکار ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ”اب ایک سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ بائبل کی رو سے داؤد نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ لیکن قرآن کریم نے جدعون کے واقعہ میں بھی جالوت کا ذکر کیا ہے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جالوت بھی ایک صفاتی نام ہے۔ عبرانی کے لحاظ سے بھی اور عربی کے لحاظ سے بھی۔ جالوت اس شخص کو کہتے ہیں جو ملک میں فساد کرتا پھرے۔ یعنی ڈاکے مارتا پھرے اور منظم حکومتوں کے خلاف اٹھنے والے اسی طرح کام کیا کرتے ہیں۔ پس معنوں کے لحاظ سے بھی جدعون کے دشمن کو جالوت کہا گیا ہے اور داؤد کے دشمن کو بھی جالوت کہا گیا ہے۔ جدعون کا دشمن بھی آوارہ گرد ڈاکو تھا۔ جو ملک میں فساد پھیلاتا پھرتا تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اسی طرح داؤد علیہ السلام نے ملک میں امن قائم کرنے کے لئے جس دشمن کا مقابلہ کیا وہ بھی آوارہ گرد فسادی تھا اور جالوت کہلانے کا مستحق تھا۔ پس دونوں کے دشمنوں کو جالوت کہا گیا ہے۔“
(تفسیر صغیر ص ٦٥)
١ یہ بھی جھوٹ ہے۔ قرآن پاک میں سرے سے لفظ جدعون ہی موجود نہیں۔
٢٩
موازنہ حق و باطل
مرزا بشیر الدین صاحب کی بیان کردہ تفاسیر کے مطالعہ سے نہ صرف اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کی بنیادی نبوت کو اسلامی لبادہ میں پیش کرنے کی ناکام کوشش میں قرآن پاک کی مطلوبہ آیات میں معنوی تحریف کی۔ بلکہ انہوں نے قرآن پاک کے ان مقامات میں بھی معنوی تحریف کی جو مقامات نیچریوں کے نزدیک قابل تاویل ہیں۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہادیان قادیانیت نے عیسائیوں کی حمایت میں قرآن پاک کی بہت سی آیات میں معنوی تحریف کی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ انہوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں اہل باطل کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اختیار کیا۔ جناب آدم علیہ السلام، ابلیس اور فرشتوں کے بارے میں نازل ہونے والی دو ایک آیات کے تراجم اس طرح ملاحظہ فرمائیں تاکہ حق و باطل میں موازنہ کرنے میں آسانی رہے۔
- ١....... ”واذ قلنا للملئکة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس کان من الجن
ففسق عن امر ربہ (الکھف: ٥١)“
”اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو (مل کر) سجدہ کرو۔ اس پر انہوں نے تو اس حکم کے مطابق اس کے ساتھ ہوکر سجدہ کیا۔“
(ترجمہ: مرزا بشیر الدین محمود، تفسیر صغیر ص ٤٧٣)
”اور جس وقت کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو پس سجدہ کیا انہوں نے مگر ابلیس نے نہ کیا۔“
(ترجمہ: شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ)
- ٢....... ”قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک قال انا خیر منہ خلقتنی من نار
وخلقته من طین“
” (اس پر خدا نے اس سے) کہا کہ میرے حکم کے باوجود تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ میں تو اس (آدم) سے بہتر ہوں تو نے میری فطرت میں آگ رکھی ہے اور اس کی فطرت میں گیلی مٹی کی صفت رکھی ہے۔“
(ترجمہ: مرزا بشیر الدین محمود)
”کہا کس چیز نے منع کیا تجھ کو کہ نہ سجدہ کیا تو نے جب حکم کیا میں نے تجھ کو۔ کہا میں بہتر ہوں اس سے پیدا کیا تو نے مجھ کو آگ سے اور پیدا کیا اس کو مٹی سے۔“
(ترجمہ: شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ)
٣٠
تاویل
امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ”مسویٰ شرح عربی موطا“ میں لکھتے ہیں: ”بیان ذالك ان المخالف للدين الحق ان لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهرا ولا باطنا فهو كافر وان اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهم المنافق ، وان اعترف به ظاهرا لكنه يفسر بعض ماثبت من الدين ضرورة بخلاف مافسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الامة فهو الزنديق “ شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو۔ نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر تو وہ کافر کہلاتا ہے اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہؓ و تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔
تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں: ”ثم التاويل تاويلان، تاويل لا يخالف قاطعاً من الكتاب والسنة واتفق الامة وتاويل يصادم ما ثبت بقاطع فذالك الزندقه “ پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ تاویل جو کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلہ کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے۔ پس ایسی تاویل زندقہ ہے۔
آگے زندقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں: ”او قال ان النبى ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لا يجوز ان يسمى بعده احد بالنبي واما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثاً من الله تعالى الى الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطا فيما يرى فهو موجود فى الامة بعده فهو الزنديق (مسویٰ ج ٢ ص ١٣٠) “ یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم ﷺ بلاشبہ خاتم النبیین ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطاء پر قائم رہنے سے معصوم ہونا۔ یہ آپ ﷺ کے بعد بھی امت میں موجود ہے تو یہ شخص زندیق ہے۔
خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو۔ اسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن وسنت کی تاویلیں کرتا ہو۔ ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔
٣١
دوم ! یہ کہ زندیق مرتد کے حکم میں ہے۔ بلکہ ایک اعتبار سے زندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائق قبول ہے۔ لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ درمختار میں ہے: ”او كذا الكافر بسبب (الزندقه) لا توبة له وجعله في الفتح ظاهر المذهب لكن في حظر الخانية الفتوى على انه (اذا اخذ) الساحر او الزنديق المعروف الداعى قبل توبة ثم تاب لم تقبل توبة ويقتل، ولو اخذ بعدها قبلت (شامی ج٤ ص ٢٤٢)“ اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو اس کی توبہ قابل قبول نہیں اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے۔ لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زندیق جو معروف اور داعی ہو توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں۔ بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تھی تو، توبہ قبول کی جائے گی۔
البحر الرائق میں ہے: ”لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدين ....... وفى الخانية: قالوا ان جاء الزنديق قبل ان يؤخذ فاقر انه زنديق فتاب عن ذلك تقبل توبة وان اخذ ثم تاب لم تقبل توبة ويقتل (شامی ج٥ ص١٣٦)“ ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو ....... اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آ کر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے۔ پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔
قادیانیوں کا زندیق ہونا بالکل واضح ہے۔ کیونکہ ان کے عقائد اسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں اور وہ قرآن وسنت کے نصوص میں غلط سلط تاویلیں کر کے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں۔ ان کے سوا باقی پوری امت گمراہ اور کافر و بے ایمان ہے۔ جیسا کہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ آنجہانی مرزا بشیر الدین لکھتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
٣٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قرآن
اور
ختم نبوت
حضرت مولانا عبدالرحیم منہاجؒ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق رسالت مآب ﷺ کی نبوت محض ایک شعوری نہیں ہے۔ بلکہ کمال شعور ہے۔ قرآن کریم نے شعور کی بتدریج بلوغت یا کمالیت کو حضور اکرم ﷺ کا امتیازی منصب قرار دے کر بڑے ہی لطیف انداز میں اس کے اختتام پذیر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔
”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن رسول ہیں اللہ کے اور مہر سب نبیوں پر اور اللہ سب چیزوں کو جاننے والا ہے۔﴾
قرآن پاک میں آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دے کر بات ختم نہیں کر دی گئی۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب نبوت ورسالت کی علت غائی یعنی راہنمائی و ہدایت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (المائدہ:٣)“ ﴿آج میں تمہارے لئے تمہارا دین پورا کر چکا ہوں اور میں نے اپنا احسان تم پر پورا کیا اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔﴾
گویا کہ ختم نبوت اور تکمیل دین دونوں لازم وملزوم ہیں۔ اگر حضور اکرم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو یقیناً اسلام بھی اکمل اور مکمل ہے اور اگر آپ ﷺ خاتم نبوت نہیں تو پھر اس دین اسلام کو بھی کامل اور مکمل باور نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا دعویٰ اس ناقابل تسلیم حقیقت کا غماز ہے کہ معاذ اللہ اسلام مکمل دین نہیں۔
قرآن پاک نے موقع ومحل کے مطابق اپنے مضامین میں ختم نبوت اور تکمیل دین کے دعویٰ میں ان تمام عوارضات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے جو کسی بھی چیز کی تکمیل کے مرحلہ دار منازل کے سلسلہ میں بالترتیب بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً:
ہم دنیا میں قاعدہ جاری وساری دیکھتے ہیں۔ جس کے تحت ہر چیز پروان چڑھتی اور فنا ہو جاتی ہے۔ اس باقاعدگی کو تدریجی ارتقاء کا نام دیا گیا ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز اس تدریجی ارتقاء کے قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک درخت کا بیج بویا گیا ہو اور وہ یک لخت ابھر کر درخت بن گیا ہو اور پھل دینے لگا ہو۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ آپ ایک بیج بوتے ہیں اور وہ چند دنوں کے بعد اُگتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے بڑھتا ہے اور بتدریج ارتقاء کی منازل طے کرکے
درخت بنتا ہے اور وہ پکتا ہے۔ اس طرح ایک مدت انتظار کے بعد کھایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح کائنات کی ہر چیز ارتقاء کے عمل کے تحت پیدا ہوتی ہے اور مرحلہ وار منزل بمنزل دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ جوان یا مکمل ہوتی ہے اور پھر اسی قاعدہ کلیہ اور قانون کے تحت بتدریج ضعف کا شکار ہو کر فنا ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان بھی اسی تدریجی ارتقاء کے عمل کے تحت پیدا ہوتا بالغ ہوتا اور ضعیف ہو کر فنا ہو جاتا ہے۔
"هو الذى خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم يخرجكم طفلا ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا ومنكم من يتوفى من قبل ولتبلغوا اجلا مسمى ولعلكم تعقلون (المؤمن:٦٧) "وہی ہے جس نے تم کو خاک سے بنایا اور پانی کی بوند سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر تم کو بچہ نکالتا ہے۔ پھر تاکہ پہنچو پورے زور کو پھر تاکہ ہو جاؤ بوڑھے اور تم میں کوئی ایسا ہے کہ مر جاتا ہے پہلے اس سے اور تاکہ پہنچو لکھے ہوئے وعدے کو تاکہ تم سوچو۔ ﴿
قرآن مجید کا یہ ارشاد ہے کہ انسان تدریجی ارتقاء کے عمل کے تحت پیدا ہوتا، جوان ہوتا اور بوڑھا ہو جاتا ہے۔ ایک مشاہدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا اور یہ بھی مشاہدہ ہے کہ تدریجی ارتقاء کی بالیدگی یا دوڑ یکطرفہ ہے جو نمود سے بلوغ اور بلوغ سے ضعف یعنی فنا کی طرف یکسانیت کے ساتھ ایک ہی نہج پر جاری وساری ہے۔ بچپن، جوانی کی طرف بڑھتا ہے اور جوانی بڑھاپے میں ڈھلتی ہے۔ تدریجی ارتقاء کی یہ دوڑ یا روانی پلٹتی نہیں یعنی بڑھاپا جوانی کی طرف نہیں لوٹتا اور نہ جوانی بچپن کی طرف کھسکتی ہے۔ تدریجی ارتقاء یکطرفہ دوڑ خدا تعالیٰ کا ایک قطعی فیصلہ ہے کہ ہر نمود کو کمال اور ہر کمال کو زوال لازم ہے۔
یہ مادی کائنات جس خدا کا فعل ہے۔ الہام (نبوت) اسی خدا کا قول ہے۔ جس خدا نے اس مادی کائنات کو تدریجی ارتقاء کے تحت عروج و کمال بخشا۔ اسی خدا نے روحانیت (نبوت) کو بھی تدریجی ارتقاء کے تحت ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اب اگر بڑھاپا جوانی کی طرف نہیں پلٹ سکتا تو پھر تکمیل دین اور ختم نبوت کے بعد نبی کیسے آسکتا ہے۔ اس صورت میں اجرائے نبوت کا دعویٰ بڑھاپے کو جوانی میں تبدیل کرنے کا ناقابل یقین بلکہ مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔
قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق نہ صرف یہ کہ انسانیت کا آغاز جناب آدم علیہ السلام کے وجود کی تخلیق سے ہوا تھا۔ بلکہ آغاز رسالت بھی آدم علیہ السلام کی نبوت سے ہوا تھا۔ گویا کہ آدم علیہ السلام کی نبوت ایک بیج تھی جو مادیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ بتدریج پرورش پاتی چلی گئی
٣
اور زمانہ بزمانہ نبوت کی تدریجی ترقی کے مدارج کے لحاظ سے خدا تعالیٰ ہر ہر درجے کی نبوت کے معیار کے مطابق انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا رہا۔ اپنے وقت اور زمانہ کے اعتبار سے ہر نبی کی نبوت تدریجی طور کے لحاظ سے مکمل اور کامل تھی۔ لیکن بالغ یا جوان نہ تھی۔ جس طرح ایک بچے کی قمیض اس کے وجود کی تدریج پیدائش کے اعتبار سے مکمل قمیض ہوتی ہے۔ لیکن ایک جوان آدمی کے وجود کو ڈھانپنے کی صلاحیت نہ رکھنے کے باوجود اسے ناقص اور ناتمام نہیں کہا جاسکتا۔
اسی طرح حضور اکرمﷺ سے قبل مبعوث ہونے والے انبیاء علیہم السلام کی نبوت کو ارتقائی منازل کے اعتبار سے مختص بالقوم یا مختص بالزمان تو قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ناقص و ناتمام نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ انبیاء سابقین علیہم السلام کی نبوت اپنے اپنے ترقی پذیر تدریجی مراحل کے لحاظ سے اسی طرح کامل اور مکمل تھی۔ جس طرح کہ حضور اکرمﷺ کی نبوت کے اعتبار سے کامل اور مکمل ہے۔ ”انا اوحينا اليك كما اوحينا الى نوح والنبيين من بعده (النساء:١٦٣) ”ہم نے تیری طرف وحی بھیجی۔ جیسا کہ وحی بھیجی نوح علیہ السلام پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے۔“
پس ثابت ہوا کہ نبوت اپنی جنس کے اعتبار سے اپنی پیدائش کے وقت بھی کامل اور مکمل تھی۔ لیکن اسے عالمگیر عروج و کمال، تدریجی ارتقاء کے عمل کے تحت ہی بخشا گیا۔ یعنی نبوت کی ابتداء چند افراد پر مشتمل نہایت محدود ماحول کے لئے جناب آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اس کی ترقی پذیر تدریجی عمل کی انتہائی پرواز آپ کے لامحدود مقام پر منتج ہوئی۔ گویا کہ نبوت کی بلوغت یا عالمگیر حیثیت کو ہی ختم نبوت کا عنوان دیا گیا۔
اگر قرآن پاک نبوت کے تدریجی ترقی کے مضمون کو تکمیل دین یا ختم نبوت کے بیان پر ختم کردیتا تو حقیقت کوئی اور روپ دھار سکتی تھی۔ لیکن قرآن پاک نے حقیقت کو حقیقت ہی کی نہج پر رکھنے کے لئے ختم نبوت کے بیان کے اعتدال کے ساتھ ہی تدریجی عمل کے انجام کا مضمون منسلک کر دیا اور یوں اسلام کی لامحدود اور لامتناہی فصیل میں کوئی گوشہ کوئی رخنہ اور ایسا باریک سے باریک سوراخ نہیں رہنے دیا گیا۔ جس سے ختم نبوت کے بعد اجرائے نبوت کے شبہ کی شعاع تک داخل نہ ہو سکتی ہو۔
قرآن پاک نے ختم نبوت کے مضمون کو شرائط ایمان کے اعتبار سے تدریجی ارتقاء کے اصول کے تحت تین ادوار ماضی، حال، مستقبل میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ (سورۃ بقرہ:٥) میں اہل ایمان سے ماضی کی ترقی پذیر نبوت پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مستقبل میں فنا یعنی قیامت کے آنے کا انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔
٤
”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون (البقره:٤)“ ﴿اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا ہے۔ تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔﴾
حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اس آیت کی تفسیر کے تحت اپنے مخصوص محققانہ انداز میں ختم نبوت کا مضمون بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”آیت کے اس طرز بیان سے ایک اہم اصولی مسئلہ بھی نکل آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کی وحی آخری وحی۔ کیونکہ اگر قرآن پاک کے بعد کوئی اور کتاب یا وحی بھی نازل ہونے والی ہوتی تو جس طرح اس آیت میں پچھلی کتابوں اور وحی پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آئندہ نازل ہونے والی کتاب اور وحی پر ایمان لانے کا ذکر بھی ضرور ہوتا۔ بلکہ اس کی ضرورت زیادہ تھی۔ کیونکہ تورات وانجیل اور تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا تو پہلے سے جاری اور معلوم تھا۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی سلسلہ وحی اور نبوت جاری ہوتا تو ضرورت اس کی تھی کہ اس کتاب اور اس نبی کا ذکر زیادہ اہتمام سے کیا جاتا جو بعد میں آنے والے ہوں تا کہ کسی کو اشتباہ نہ رہے۔“
”مگر قرآن پاک نے جہاں ایمان کا ذکر کیا تو آنحضرت ﷺ سے پہلے نازل ہونے والی وحی اور پہلے انبیاء کا ذکر فرمایا۔ بعد میں آنے والی کسی وحی یا نبی کا کہیں قطعاً ذکر نہیں۔ پھر صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن پاک میں یہ مضمون اوّل سے آخر تک مختلف مقامات میں چالیس پچاس آیتوں میں آیا ہے۔ سب میں آنحضرت ﷺ سے پہلے انبیاء پہلی وحی پہلی کتابوں کا ذکر ہے۔ کسی ایک آیت میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ آئندہ بھی کوئی وحی یا نبی آنے والا ہے۔ جس پر ایمان لانا مثلاً ارشاد ہے۔
- ١...... ”وما ارسلنا من قبلك (نحل:٤٣)“
- ٢...... ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك (مؤمن:٧٨)“
- ٣...... ”ولقد ارسلنا من قبلك رسلا (روم:٤٧)“
- ٤...... ”وما انزل من قبلك (النساء:٦٠)“
- ٥...... ”ولقد اوحی اليك والی الذين من قبلك (زمر:٦٥)“
- ٦...... ”كذلك یوحی اليك والی الذين من قبلك (شوری:٣)“
- ٧...... ”كما كتب علی الذين من قبلكم (بقره:١٨٣)“
- ٨...... ”سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا (اسرائیل:٧٧)“
ان آیات میں اور ان کی امثال دوسری آیات میں جہاں کہیں نبی یا رسول یا وحی و کتاب
٥
بھیجنے کا ذکر ہے، سب کے ساتھ ”من قبل“ اور ”من قبلك“ کی قید لگی ہوئی ہے۔ کہیں ”من بعد“ کا اشارہ تک نہیں۔ اگر ختم نبوت اور انقطاع وحی کا دوسری آیات میں صراحۃ ذکر نہ ہوتا تو قرآن کا یہ طرز ہی اس مضمون کی شہادت کے لئے کافی تھا۔“
(معارف القرآن ج١ ص٥٩، ٦٠)
یہ بات کہ قرآن پاک کی کوئی ایک آیت بھی حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کی آمد کی طرف خفیف سے خفیف اشارہ نہیں کرتی۔ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا اعتراف منکرین ختم نبوت بلکہ اجرائے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی ہے۔ یہاں تک کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اعتراف کیا کہ ان پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر قرآن پاک میں موجود نہیں۔ لیکن کسی مصلحت کے تحت انہیں دعویٰ نبوت ضرور کرنا تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنی تصوراتی اور اختراعی وحی کے لئے قرآن پاک سے جواز پیدا کرنے کے لئے قرآن پاک میں معنوی تحریف کر ڈالی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”آج میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ قرآن مجید اور اس سے پہلے وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن میں موجود ہے۔ ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔ اس امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یکا یک بطور القاء میرے دل میں یہ بات ڈال گئی۔
”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون “ میں تین وحیوں کا ذکر ہے۔ ”بما انزل اليك “ سے قرآن مجید کی وحی اور آخرت سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔
(ریویو آف ریلیجنز ج١٤ ص١٣٦ حاشیہ)
منکرین ختم نبوت نے قرآن پاک سے اجرائے نبوت ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں صرف اسی ایک آیت میں معنوی تحریف نہیں بلکہ ان لوگوں نے اپنے مقصد کی براری کے لئے قرآن پاک سے جتنی بھی آیات پیش کی ہیں۔ ان کی یا تو من گھڑت اور خود ساختہ تاویل کی ہے۔ یا پھر ان میں معنوی تحریف سے کام لیا ہے۔ دراصل منکرین ختم نبوت کا یہ مذموم عمل ان کی طرف سے اس بات کا ناقابل تردید اعتراف ہے کہ اصول وضابطہ اور قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے حضور اکرم ﷺ کے بعد قرآن پاک کی تعلیم میں کسی نئی نبوت کے آنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
منکرین ختم نبوت حضور اکرم ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کے دعویٰ میں یہ آیت بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (الاعراف:٣٥)“
حالانکہ آیت پاک کا مضمون ایک خبر ہے جو رسول اکرم ﷺ کو دی گئی۔ آغاز آدمیت کے وقت ہی اولاد کو خبردار کر دیا گیا تھا کہ نبوت کا ابھی تو آغاز ہوا ہے۔ اس کے بعد تمہاری اصلاح
٦
اور ہدایت کے لئے تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے بتدریج رسول آتے رہیں گے۔ اس خبر کے بعد قرآن مجید کے متعدد مقامات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کے مطابق ہر ہر ایک ملک، ہر ہر بستی، ہر ہر قوم کی طرف اپنے رسول مبعوث فرمائے۔ ”ولكل قوم هاد (الرعد:٧)“ ”ہر قوم کے لئے ایک ہادی (بھیجا جا چکا ہے) (الحجر:١٠) میں فرمایا: ”ولقد ارسلنا من قبلك في شيع الاولين“ ”اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے لوگوں کی جماعتوں میں رسول بھیجے تھے۔ سورۃ نحل میں ہے۔ ”ولقد بعثنا في كل امة رسولاً“ ”یقیناً ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا ہے۔
اقوام عالم کی طرف فرداً فرداً انبیاء کی آمد کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا۔ جب تک کہ تدریجی ارتقاء کے کلیہ وقاعدہ کے مطابق نبوت بلوغت کو نہ پہنچی اور جب نبوت بھر پور جوبن اور شباب پر آتی ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے نبوت کے عروج و کمال کی لامحدود وسعت کے تقاضا کے مطابق جناب رسول اللہ ﷺ کو وسیع تر ہمہ گیر اور عالمگیر رسالت پر فائز فرما کر مبعوث فرمایا: ”قل يا أيها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً، وما ارسلنك الا رحمة للعالمين“ یہاں شبہ کیا جاسکتا ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ واقعی تمام انسانوں اور معلوم نامعلوم جہانوں کے لئے ہمہ گیر نبی بنا کر مبعوث کئے گئے تھے۔ لیکن آپ کی یہ وسیع تر اور لامحدود رسالت زمانی تھی۔ قرآن پاک نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ آپ ﷺ کی رسالت زمانی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ ”واخرين منهم لما يلحقوا بهم (الجمعه:٣)“ ”آپ ﷺ قیامت تک پیدا ہونے والوں کے لئے بھی نبی ہیں۔ پس اب اس قسم کا شبہ کرنے کی بھی گنجائش نہیں ہے۔
منکرین ختم نبوت مسلمانوں کی بداعمالیوں کی بنیاد بنا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ خرابیوں کی اصلاح و تربیت کے لئے نبی کا آنا ناگزیر امر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح و تربیت اور دین کی طرف راہنمائی کی ضرورت ہر دور اور ہر زمانہ میں رہی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی ضرورت شدید تر ہے۔ اس کے باوجود تبلیغ و اصلاح کے اس اہم اور ناگزیر فریضہ کی ادائیگی کے لئے دنیائے اسلام میں کسی نبی کے نمود کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میں نبیوں والا یہ اہم کام ملت اسلامیہ کے سپرد کر کے اجرائے نبوت کا تصور بالکل مسدود کر دیا گیا ہے۔ ”كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر (آل عمران:١١٠)“ ﴿”اب دنیا میں تم ہی وہ بہترین گروہ ہو جسے انسانوں کی اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔﴾
٧
یہی وہ کام ہے جو انبیاء کرام اوائل دنیا سے کرتے چلے آرہے تھے۔ اب چونکہ حضور اکرم ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ اگرچہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور نبیوں والا کام باقی ہے۔ اس لئے اللہ رب العزت نے تبلیغ واصلاح والا فریضہ نبوت ورسالت آپ ﷺ کی امت کے ذمہ لگا دیا ہے۔ ”ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر (آل عمران: ١٠٤)“ ﴿تم میں ضرور کچھ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں اور برائی سے روکیں۔﴾
ایک اور مقام پر فرمایا: ”تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان (المائدہ: ٢)“ ﴿جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان سب میں تعاون کریں اور جو کام گناہ اور زیادتی کے ہیں۔ ان میں کسی کا ساتھ نہ دو۔﴾
(سورہ توبہ: ٧١) میں کہا گیا ہے: ”والمؤمنون والمؤمنات بعضهم اولياء بعض يامرون بالمعروف وينهون عن المنكر“ ﴿مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔﴾ اب فرمائیے حضرات جس اہم کام کے لئے انبیاء مبعوث ہوا کرتے تھے اب وہی اہم کام نبیوں سے ہی متعلق نہ رہا۔ تو نبی آکر کرے گا کیا؟ سوائے اس کے وحدت اسلامیہ میں انتشار وافتراق بغض وعناد اور تفریق وتصادم کی ایک نئی لہر پیدا کر دے۔ تاکہ مخالفین اسلام ملت اسلامیہ کا احاطہ کرنے میں دشواری محسوس نہ کریں۔ سو ہوا بھی یہی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کی بدولت ایک ایسا گروہ پیدا کیا جسے اپنے مسلمان ہونے کے اصرار کے باوجود جس کی اپنی کامیابی اہل اسلام کی تباہی میں پنہاں اور پوشیدہ ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے بارہا یہ اقرار کیا تھا کہ ان کے مفادات اسلام اور مسلمانوں کے دشمن کرسچن عقیدہ کے حامل انگریز سے وابستہ ہیں۔ ان کی سرپرستی کے بغیر وہ نہ مکہ شریف میں محفوظ ہیں اور نہ ہی مدینہ منورہ ان کی پناہ گاہ ہے۔
ان کے اپنے الفاظ میں: ”خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت (برطانیہ) کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے۔ نہ یہ امن مکہ مکرمہ میں مل سکتا ہے اور نہ ہی مدینہ منورہ اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں۔“
(تریاق القلوب ص ٢٦، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦)
عبدالرحیم منہاج (سابق ڈیوڈ منہاس) ادارہ دعوۃ وارشاد (رجسٹرڈ) چنیوٹ
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مسجد اکبری انارکلی لاہور مسجد شہید گنج نولکھا لاہور
عقیدہ
ختم نبوت
اور
اسلام
حضرت مولانا ابوریحان ضیاء الرحمن فاروقی ؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”سیکون فی امتی ثلثون دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (مشکوٰۃ شریف)“ ﴿عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے دعویٰ نبوت کرے گا۔ حالانکہ کہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
عرض مؤلف
عہد حاضر میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کبھی آنحضرت ﷺ سے محبت اور کبھی خود کو مسلمان کہہ کر، کبھی مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے اختلافات کا ذکر کر کے، کبھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے ابھی تک نزول نہ ہونے کا سہارا لے کر، کبھی چودھویں صدی کے آخر میں قیامت آنا یقینی ہے۔ ایسے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کر کے مسلمانوں کی نئی نسل کو دھوکا دے رہے ہیں۔ بالخصوص برطانیہ، امریکا اور دیگر افریقی اور یورپین ممالک میں مسلمانوں کے سادہ اور دینِ اسلام سے بے بہرہ نوجوانوں کو دام فریب میں پھنسانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
راقم نے برطانیہ کے پہلے تبلیغی دورے میں شدت کے ساتھ اس ضرورت کو محسوس کیا کہ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کو قرآن و حدیث، ائمہ اور اساطینِ امت کی تصریحات کی صورت میں مختصر اور جامع انداز میں زیبِ قرطاس کر کے انگریزی، فرانسیسی، عربی اور اردو کی زبانوں میں عام کیا جائے۔ ان ممالک میں جو نئی نسل مسلمانوں کے گھرانوں میں جنم لے رہی ہے۔ اکثریت کے والدین طویل عرصہ سے اپنے ممالکِ ہند و پاک سے ترکِ سکونت کے باعث خود بھی ان مسائل سے نا آشنا ہیں۔ جب کہ ان کی اولاد کو سرے سے ان حقائق کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں۔
ضرورت ہے کہ خالص قرآن و حدیث کی زبان میں تیار ہونے والے اس مجموعہ کو اسلامی اقدار کے فروغ کی ایک کاوش سمجھ کر مسلمانوں کو چاہئے کہ اسے زیادہ سے زیادہ تعداد میں عام کر کے آنحضرت ﷺ سے غلامی اور محبت کا ثبوت دیں۔ اس مجموعہ کی اردو، انگریزی، فرانسیسی، اور عربی ایڈیشنوں کی اشاعت کے لئے جن احباب نے تعاون کیا وہ پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔
ابوریحان ضیاء الرحمٰن فاروقی سمندری فیصل آباد
تقدیم
مسئلہ ختم نبوت اور اس کی اہمیت
ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے۔ جس کے بغیر اسلام کی آفاقیت اور عالم گیر حیثیت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ اور آپ کی رسالت عظمیٰ کا سب سے اہم پہلو آپ کی شان خاتمیت ہے۔ آنحضرت ﷺ قیامت تک آنے والی ہر قوم ہر نسل اور تمام انسانیت کے رہبر و رہنما ہیں۔ آپ ہی تمام انبیاء کے سرتاج اور تمام رسولوں کے مقتداء ہیں۔ آپ کی نبوت ورسالت کا سورج قیامت تک چمکتا رہے گا۔ آپ کی عظمت شان قرآن کے الفاظ میں ملاحظہ ہو ۔ ”ومــــــــــا ارسلنك الا رحمة لعلمين (الانبياء:١٠٧) ”ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔“
تمام جہانوں کے لئے رحمت کا یہ خطاب کسی پہلے پیغمبر کے لئے نہیں لایا گیا۔ جہانوں کی عظمت کا یہ تاج صرف آنحضرت ﷺ ہی کے سر اقدس پر سجایا گیا ہے۔ آپ نہ صرف انسانوں بلکہ دنیا بھر کی ہر مخلوق کے نبی ہیں۔ پوری کائنات کی ہدایت وفلاح صرف آپ ہی کے قدموں کے ساتھ وابستہ ہے۔ خلفاء، ائمہ، صلحاء، صوفیاء اور علماء و مفسرین ومحدثین اور ١٤ سو سالوں سے لے کر قیامت تک آنے والا ہر مصلح ہر مربی بطور امتی آپ کی تعلیمات کا امین ہے۔ آپ کے احکامات کا پیرو ہے۔ آپ کے اسوۂ حسنہ کا ریزہ چین ہے۔ آپ کی غلامی پر فخر ہے۔ کسی مسلمان کے لئے کسی ظلی نبی، بروزی رسول، کی قطعاً کوئی حاجت نہیں۔ حتیٰ کہ اہل اسلام کے عقیدہ کے مطابق جب قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ وہ صرف حضور ﷺ کے امتی کی حیثیت سے دنیا بھر کو اسلام کی حقانیت ہی کا درس دیں گے۔ مہدی علیہ الرضوان بھی آپ ہی کی عظمت شان کے نغمے سراہیں گے۔ بڑی بڑی عبقری صفت شخصیتیں اور قوموں کی سربراہی کرنے والے اولوالعزم بادشاہ، رؤسا اپنے اپنے عہد میں صرف آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت اور آپ کی رفعت و سروری کے ترانے گاتے رہیں گے۔
ان میں کوئی بھی شخص دین اسلام میں نہ اضافہ و ترمیم کرسکتا ہے نہ اپنی طرف سے اس میں تحریف وتبدل کا اختیار رکھتا ہے۔ وحی الٰہی کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی
٣
وفات کے بعد قیامت تک کسی کے لئے جبرائیل امین تشریف نہیں لائیں گے۔ کوئی اللہ کا حکم، کوئی کتاب الہی کی آیت، کوئی فرمان خداوندی کا حصہ باقی نہیں رہا۔ جسے نازل کیا جاتا۔ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے۔ قرآن عظیم کے بے شمار مقامات پر آپ کی آفاقی حیثیت اور ہمہ گیری کا ذکر کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں ہر ایک کی طرف سے اپنی قوم کا خطاب قرآن میں یا قوم کے ساتھ معنون کیا گیا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی عظمت شان ملاحظہ ہو کہ آپؐ کے جملہ خطابات:
- ☆...... ”قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف:١٥٨)“
﴿کہہ (اے نبی) اے لوگو! میں تم تمام کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔﴾
- ☆...... ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس (سبا:٢٨)“ ﴿ہم نے آپ کو تمام انسانیت
کے لئے بھیجا ہے۔﴾ کی صورت میں نقل کئے گئے ہیں۔
اس طرح قرآن عظیم کی ٢٠٠ سے زائد آیات اور آنحضرت ﷺ کے دو ہزار فرامین، توریت، انجیل، زبور کی متعدد بشارتیں، ایک لاکھ چوالیس ہزار صحابہ کرام کا اجماع، عمر بن عبدالعزیزؒ اور اسلام کے جلیل القدر شارح، ائمہ اربعہ، دو لاکھ محدثین، ستر ہزار مفسرین، ہر عہد کی اولوالعزم اور برگزیدہ اسلامی شخصیتیں، امام غزالی، امام ابن تیمیہ، امام رازی، ابن حجر عسقلانی، جلال الدین سیوطیؒ، مصلحین عظام میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ اجمیریؒ، حضرت سید علی ہجویریؒ، حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیؒ، سید جمال الدین افغانی، حضرت مجدد الف ثانیؒ، امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویؒ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے اپنے اپنے عہد میں ختم نبوت کی تائید وتصویب فرمائی۔ جب کسی جھوٹے مدعی نبوت نے سر اٹھایا ہر عہد اور ہر قرن میں اسلام کی مقتدر ہستیوں نے حیات عیسیٰ، نزول مسیح میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ان مسائل کو اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین کی حیثیت حاصل ہے۔
١٤٠٠ سالہ اسلامی تاریخ کے جھوٹے مدعیان نبوت کی مختصر سرگزشت
نام مدعی
اسود عنسی۔ اصل نام عبہلہ بن کعب بن عوف عنسی تھا۔ رنگ کالا ہونے کی وجہ سے اسود کہلایا۔ علاقہ یمن میں ایک موضع کہف حتار میں پیدا ہوا۔ حضرموت سے طائف تک اس کی حکومت رہی۔
٤
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
عہد رسالت میں۔
مجاہدین ختم نبوت
ابتداء میں عمرو بن حزمؓ اور خالد بن سعیدؓ سے مقابلہ ہوا۔ ان دونوں صحابہؓ کو شکست ہوئی۔ بعد ازاں حضرت فیروزؓ کے لشکر کے ہاتھوں سے شکست ہوئی اور اس کے علاقہ میں حضرت معاذ بن جبلؓ کی حکومت قائم ہوئی۔
انجام
بالآخر حضرت فیروزؓ نے اس کے اپنے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا۔ (ابن خلدون ج٢ ص ٣٩٥) اس کی ساری سلطنت ٹکڑے ہوگئی۔ تمام پیرو بغاوت کر گئے۔ بیشتر مسلمان ہو گئے۔ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی اس کے قتل کی خبر دی گئی۔ لیکن جب مسلمان قاصد خبر لے کر مدینہ پہنچا تو آنحضرت ﷺ وفات پا چکے تھے۔
نام مدعی
طلیحہ بن خویلد اسدی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
عہد رسالت مآبؐ میں مرتد ہو کر نواح خیبر میں سمیرا کے مقام پر دعویٰ نبوت کیا اور تھوڑے عرصہ میں ہزاروں لوگ اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔ من گھڑت عربی کی عبارتوں کو وحی کہا کرتا تھا۔ اس نے اپنے بھائی کو حضور ﷺ کے پاس حضور ﷺ کو اپنی نبوت کی دعوت دینے کے لئے روانہ کیا۔ آپؐ نے اس کے لئے بددعا فرمائی۔
مجاہدین ختم نبوت
آنحضرت ﷺ نے حضرت ضرار بن ازورؓ کو اس کے مقابلہ کے لئے روانہ فرمایا۔ حضرت ابوبکرؓ نے نعمان بن مقرنؓ کو لشکر کا قائد بنا کر روانہ کیا۔ اسامہ بن زیدؓ نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ مرتدین کو شکست ہوئی۔ کچھ مرتدین ذی خشی اور ذی قصہ میں مقیم ہوئے تو خود حضرت ابو بکرؓ مقابلہ کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت عکاشہؓ اور ثابت بن ارقمؓ اسی جنگ میں شہید ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں فتح ہوئی۔
٥
انجام
طلیحہ کے بھائی حبال کی قیادت میں مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا۔ اسلام کے ان پہلے مرتدین کا مقابلہ خود امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خود کیا۔ یہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ حضرت ابوبکرؓ کی پہلی فتح تھی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں طلیحہ کا بھائی حبال قتل ہوا۔ طلیحہ بھاگ جانے میں کامیاب ہوا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں طلیحہ نے توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔
(ابن خلدون ج ٢ ص ٤٠٦)
نام مدعی
مسیلمہ بن کبیر بن حبیب۔ لقب: کذاب، شہر: یمامہ، کنیت: ابو ثمامہ، ابو ہارون المعروف رحمان یمامہ عمر میں حضورﷺ کے والد حضرت عبداللہ سے بھی بڑا تھا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
عہد رسالت میں شروع ہو کر ١٢ھ تک عروج رہا۔
(تاریخ ابن خلدون)
مجاہدین ختم نبوت
جلیل القدر صحابہؓ میں حضرت عکرمہؓ، حضرت شرحبیل بن حسنہؓ، ابو حذیفہ، زید بن خطابؓ، (اس معرکہ میں شہید ہوئے) ثابت بن قیسؓ، براء بن عازبؓ، خالد بن ولیدؓ، معاویہ بن ابوسفیانؓ (آخری معرکہ میں کل ١٣ ہزار صحابہ اور مسیلمہ کے فوجیوں کی تعداد ٤٠ ہزار تھی) آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد یہی پہلا معرکہ ہے۔ جس میں بڑی تعداد غازیانِ بدر بھی شریک ہوئے۔
(ابن اثیر ج ٢ ص ٢١٨)
١۔ مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور حضرت فاروق اعظمؓ کا عتاب: ختم نبوت کے مسئلہ پر قائم ہونے والے اسلام کے اس عظیم الشان معرکہ میں حضرت فاروق اعظمؓ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے تھے۔ جب لشکر اسلام کامیاب ہو کر مدینہ واپس پہنچا تو حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جو اس لڑائی میں شریک تھے۔ فرمایا کیا بات ہے تمہارے چچا تو اس لڑائی میں شہید ہوں اور تم زندہ رہو؟ تم زیدؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے؟ کیا تمہیں شوقِ شہادت نہ تھا۔ جناب عبداللہؓ نے عرض کیا۔ چچا صاحب اور میں دونوں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی درخواست کی تھی۔ ان کی دعا قبول ہوئی اور میں اس شہادت سے محروم رہا۔ حالانکہ میں نے بھی دعا میں کوئی کمی نہ کی تھی۔ (فتوح البلدان) یہ تھی ختم نبوت کی اہمیت۔
٦
انجام
مسیلمہ جنگ یمامہ میں اباض نامی ایک باغ میں حضرت وحشی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے ہمراہ اکیس ہزار آدمی جہنم رسید ہوئے۔ حضرت وحشی نے اس کا سر نیزے پر عبرت کے لئے جب لہرایا تو اس کے باقی ماندہ لشکریوں میں بھگدڑ مچ گئی اور سخت بدحواسی کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس لڑائی میں ٦٦٠ مسلمان شہید ہوئے۔ ابن اثیر کی ایک روایت کے مطابق شہدائے اسلام کی تعداد ایک ہزار اسی تھی۔ (جب کہ دوسری روایات میں تعداد شہداء بارہ صد بیان ہوئی ہے)
نام مدعی
سجاح بنت حارث تمیمیہ۔ سب سے پہلے بنی تغلب نے اس کی جھوٹی نبوت کو قبول کیا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
عہد ابوبکر صدیق۔
مجاہدین ختم نبوت
حضرت خالد بن ولید۔
انجام
مسیلمہ کذاب سے نکاح کر لیا تھا۔ مہر میں نماز عشاء اور فجر معاف کر دی گئیں۔ مسیلمہ قتل ہوا۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے دورۂ بصرہ میں بنی تغلب کو قحط سے نجات دلائی تو اس اثناء میں سجاح بھی بصرہ آگئی تھی۔ یہاں آکر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ آخر عمر میں بہت نیک خاتون بنی اور بصرہ ہی میں وفات ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کے صحابی حضرت سمرہ بن جندبؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(ابن اثیر ج ٢ ص ٢١٣)
نام مدعی
مختار ابن عبید ثقفی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٦٠ھ میں اس نے دعویٰ نبوت کیا۔
٧
مجاہدین ختم نبوت
حضرت مصعب بن زبیرؓ نے کوفہ پر حملہ کر کے مختار بن ابوعبید ثقفی اور اس کے ٨ ہزار آدمیوں کو جہنم رسید کیا۔ بیس ہزار میدان جنگ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ حادثہ ١٤؍ رمضان ٦٧ھ میں پیش آیا۔ اس وقت مختار کی عمر ٦٧ سال تھی۔
انجام
اوائل میں خارجی المذہب تھا۔ حضرت حسنؓ پر قاتلانہ حملہ کوفہ میں اس نے کیا تھا۔ خود آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ ”فی ثقیف کذاب“ قبیلہ ثقیف میں ایک جھوٹا مدعی اور ایک ظالم حکمران پیدا ہوگا۔ علماء تاریخ نے اوّل سے مراد مختار اور دوسرے سے مراد حجاج بن یوسف لکھا ہے۔ اس کی جماعت کا نام فرقہ کیسانیہ ہے۔ مدعی نبوت ہونے سے پہلے اس نے شیعہ میں تفرقہ کی رسم جاری کی۔ یہ خارجیت سے رافضیت کی طرف آ گیا تھا۔ ایک موقعہ پر اس نے کچھ قاتلان حسینؓ کو بھی قتل کیا۔ مختار کی جماعت میں سب سے مؤثر ابراہیم بن اشتر تھا۔ جس کی وجہ سے مختار کو پے در پے کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ جب ابراہیم، مختار سے علیحدہ ہوا تو اس کی وجہ اس کا دعویٰ نبوت تھا۔ حضرت مصعب بن زبیرؓ سے آخری معرکہ کوفہ کے قریب حروراء کے مقام پر ہوا۔ اکثر فوج قلعہ بند ہوگئی۔ قتل کے بعد مختار کے دونوں ہاتھ کاٹ کر مسجد کے پاس کیلوں سے نصب کر کے لٹکا دیئے گئے۔ اب مختار کی بیویاں پیش کی گئیں۔ ان سے حضرت مصعبؓ نے پوچھا مختار کی نبوت و وحی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ ام ثابت بنت سمرہ نے مختار کی نبوت کے دعوے کو جھوٹ کہا۔ عمرہ بنت نعمان نے مختار کی نبوت کا اقرار کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے فرمان منگوا کر اس عورت کو بطور مرتدہ قتل کر دیا گیا۔
(ابن اثیر کامل ج ٤ ص ٢٧ تا ٣٧ ملخص)
نام مدعی
حارث کذاب بن عبدالرحمن بن سعید۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
عبدالملک بن مروان کا زمانہ تھا۔
٨
کس نے مقابلہ کیا
عبدالملک نے حارث کے دعویٰ نبوت کے بعد گرفتاری کا حکم دیا تو حارث بھاگ کر بیت المقدس کے علاقے میں روپوش ہوگیا۔
انجام
ایک بصری بیت المقدس کی روپوشی کے دوران آ کر مرید ہوا اور اس کی نکتہ آفرینیوں پر عش عش کرنے لگا۔ تھوڑے عرصہ بعد اپنے علاقہ بصرہ میں لوٹا تو بصرہ کے قریب صمرہ میں جہاں ان دنوں عبدالملک بن مروان ٹھہرا ہوا تھا۔ پہنچ کر حارث کے تمام حالات بتائے۔ عبدالملک نے اسے کہا یہ جھوٹا مدعی نبوت ہے اور آپؐ پر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ بصری نے کہا میں اس کی گرفتاری میں مدد دینے کو تیار ہوں۔ ٤٠ پولیس کے آدمیوں کے ہمراہ بصری بیت المقدس آیا اور رات کے وقت حارث کی قیام گاہ میں پہنچا۔ دربان نے پولیس کو دیکھا تو ہوش اڑ گئے۔ شور مچا کر کہا نبی اللہ کو قتل کرنا چاہتے ہو وہ تو آسمانوں پر چلے گئے ہیں۔ اندر حارث موجود نہ تھا۔ لیکن بصری کو حارث کے چھپنے کی طاق والی جگہ معلوم تھی۔ اس نے ٹٹولا تو حارث کے کپڑوں کو چھو لیا۔ فوراً پولیس نے زنجیروں سے جکڑا اور عبدالملک کے دربار میں پیش کیا۔ اس نے قوی ہیکل جلاد کے ذریعے ایک مجمع عام میں نیزہ مار کر ہلاک کر دیا۔ ٦٩ھ کا واقعہ ہے۔
(دائرۃ المعارف ج ٦ ص ٦٤٤)
نام مدعی
مغیرہ بن سعید عجلی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
ہشام بن عبدالملک کے دور میں ١١٥ھ میں اس نے دعویٰ نبوت کیا۔
کس نے مقابلہ کیا
گورنر عراق خالد بن عبداللہ نے خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے حکم سے ١١٩ھ میں زندہ آگ میں جلا دیا۔
انجام
یہ فرقہ مغیریہ کا بانی تھا۔ جو غالی روافضین کا ایک گروہ تھا۔ اس نے حضرت امام باقر کی وفات کے بعد پہلے امامت اور پھر نبوت کا دعویٰ کیا۔
(تاریخ طبری ج ٤ ص ١٧٤)
٩
نام مدعی
بیان بن سمعان تمیمی ۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
ہشام بن عبدالملک کے دور میں ۔
کس نے مقابلہ کیا
بیان نے جب امام باقرؑ کو نبوت کی دعوت دی تو آپ نے بددعا کی، چند ہی دنوں بعد بیان گورنر عراق خالد کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور اسے زندہ جلا دیا گیا۔
انجام
بیان کا موقف تھا کہ امامت ابن الحنفیہ کے بعد ان کے فرزند ابو ہاشم عبداللہ کو منتقل ہوئی۔ پھر ایک خط کے ذریعے بیان کی طرف منتقل ہو گئی۔ یہ غالی روافض کے فرقہ بیانیہ کا بانی تھا۔ بیان بن سمعان نبوت کا مدعی تھا۔ کہا کرتا تھا کہ اس نے حضرت امام باقرؑ کو بھی اسی خانہ ساز نبوت کی دعوت دی تھی۔ امام جعفرؑ نے بھی فرمایا کہ وہ امام زین العابدینؑ کی تکذیب کرتا تھا۔
(الملل والنحل شہرستانی ج ١ ص ١٥٢)
نام مدعی
ابو منصور عجلی ۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
١٢١ھ میں ہشام بن عبدالملک کے دور میں ۔
کس نے مقابلہ کیا
گورنر عراق یوسف بن عمر ثقفی نے کوفہ میں قتل کیا۔
انجام
یہ شخص ابتداء میں امام جعفر صادقؑ کا معتقد تھا اور غالی رافضی تھا۔ امام موصوف نے اس کو عقائد رفض کے باعث اپنے ہاں سے نکالا تو چند دنوں کے بعد کہنے لگا۔ امام باقرؑ کے بعد امامت میری طرف منتقل ہوگئی ہے۔ (ائمہ تلبیس ص ١٨٨) یہ نبوت کے جاری رہنے کا مدعی تھا۔ جنت دوزخ کا منکر تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ جبرائیل امین بھول کر حضور ﷺ کے پاس گئے ہیں۔ اصل
١٠
وحی کے حقدار حضرت علی تھے۔ اس کے نزدیک امامت اصل میں نبوت ہی کا نام ہے۔ اجرائے نبوت کے اس عقیدے کی وجہ سے گورنر عراق یوسف بن عمر ثقفی نے خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے حکم سے اس کو گرفتار کر کے کوفہ میں تختہ دار پر لٹکا دیا۔
(الملل والنحل شہرستانی ج١ ص ١٧٩)
نام مدعی
صالح بن طریف برغواطی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
١٢٥ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔
کس نے مقابلہ کیا
صالح نے ٤٧ سال تک جھوٹی نبوت کا کاروبار چلایا۔ اپنی قوم کو بیٹے کے سپرد کر کے گوشہ نشین ہو گیا۔ اس کی کاذب نبوت کے اثرات پانچویں صدی ہجری تک رہے اور بعد ازاں نام و نشان بھی مٹ گیا۔
انجام
یہ یہودی الاصل تھا۔ سرزمین اندلس کا رہنے والا تھا۔ مغرب اقصیٰ میں آ کر وحشی قوم بربری میں آ کر دعویٰ نبوت کر دیا۔ علم نجوم و علم سحر کا ماہر ہونے کی وجہ سے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کرتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اس علاقہ میں بڑی حکومت قائم کر لی۔ یہ اپنے آپ کو خاتم النبیین اور مہدی موعود کہتا تھا۔ اس کے نزدیک ١١ محرم کے دن ہر شخص پر قربانی واجب تھی۔ اس کے دعوؤں کے عجائبات بے شمار ہیں۔ اس کی جماعت کو برغواطی گروہ کہا جاتا ہے۔
(تاریخ ابن خلدون ج ٦ ص ٢٠٩، ٢١١)
نام مدعی
بہا فرید زوزانی نیشاپوری۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
خلافت بنی عباس میں ابومسلم خراسانی کے دور میں اس نے دعویٰ نبوت کیا۔
کس نے مقابلہ کیا
ابومسلم نیشاپور آیا تو اسے جھوٹے مدعی نبوت کا علم ہوا۔ اس نے عبداللہ بن شعبہ کو
١١
گرفتاری کا حکم دیا۔ جب ابو مسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ایسا وار کیا کہ سر قلم کر کے اس کی نبوت کا خاتمہ کر دیا۔
انجام
اس کا نام بہاء فرید اور شہر کا نام زوزان تھا۔ یہ مجوسی النسل تھا۔ خواف ضلع نیشاپور کے قریب ایک قصبہ سراوند کا رہنے والا تھا۔ اس نے مجوس کے پیغمبر زرتشت کی پیغمبری کی تصدیق کر کے اپنے تئیں دعویٰ نبوت کیا اس نے اپنی امت پر سات نمازیں فرض کیں۔ اس نے ایک فارسی میں کتاب لکھ کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا قرآن ہے۔ اس کو سجدہ کیا کرو۔ نمازیں سورج کی طرف منہ کر کے پڑھی جاتی تھیں۔ اس کے پیروکار بہاء فریدیہ کہلاتے ہیں۔ ابو مسلم خراسانی نے جب اس کو قتل کیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی نبوت بھی ختم ہوگئی۔
(الاثار الباقية من القرون الخالية للبيرونی ص ٢١٠، ٢١١)
نام مدعی
اسحاق اخرس مغربی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
١٣٥ھ میں اصفہان میں دعویٰ نبوت کیا۔ اس وقت سفاح عباسی کا دور تھا۔
کس نے مقابلہ کیا
خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی (کتاب الاذکیاء ابن جوزی)
انجام
اسحاق اخرس انتہائی عیار اور مکار شخص تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی ظلی نبوت کا دعویٰ کیا کہ اصل نبوت حضور ﷺ کی ہے اور یہ بالتبع ہے۔ کہانت اور نجوم کے کئی کرشمے دیکھ کر لوگ حیرت کرتے تھے۔ ابتدائی دس سال گونگا بنا رہا۔ پھر اچانک بول کر کہنے لگا کہ حوض کوثر کے پانی نے زبان کھول دی ہے۔ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے لشکر اسلام کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ کہتے ہیں اس کے پیروکار اب بھی عمان میں پائے جاتے ہیں۔
نام مدعی
استاذ سیس خراسانی۔
١٢
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے دور میں ہرات اور بجستان میں ظاہر ہوا۔
کس نے مقابلہ کیا
پہلا مقابلہ ہاشم نے کیا۔ پہلے معرکہ میں یہ شہید ہو گئے تو حازم بن خزیمہ چالیس ہزار کا لشکر لے کر مقابلہ میں آئے۔ اس لڑائی میں شکست کے بعد استادسیس کا نام ونشان مٹ گیا۔
انجام
ایسی عیاری کے ساتھ شعبدہ بازی دکھلائی کہ دعویٰ نبوت کے چند ہی دنوں بعد اس کے پیروکاروں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی۔ بڑی تعداد دیکھ کر اس نے اسلامی حکومت کے خلاف لشکر تیار کیا۔ ادھر خلیفہ اسلام نے سپہ سالار ہاشم کے ذریعے لشکر اسلام روانہ کیا۔ ہاشم شہید ہو گئے۔ پھر خازم بن خزیمہ کی قیادت میں عساکر اسلامیہ نے ایسا مقابلہ کیا کہ دشمن کے سترہ ہزار قتل ہوئے۔ جب کہ چودہ ہزار آدمی گرفتار ہوئے۔ استادسیس بھی گرفتار ہوا۔
(تاریخ طبری ج ٤ ص ٤٩٥)
نام مدعی
ابو عیسیٰ اسحاق اصفہانی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی۔
کس نے مقابلہ کیا
ابو جعفر عباسی کے لشکر نے پہلے ہی حملہ میں جھوٹے مدعی نبوت کو تہ تیغ کر دیا۔
انجام
یہ اصفہان کا ایک یہودی تھا۔ یہود کے ایک گروہ عیسویہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بعینہ وہی دعویٰ جو آخر میں مرزا قادیانی نے کیا۔ رے کے مقام پر مسلمانوں کے لشکر کے ہاتھوں ابوعیسیٰ مارا گیا۔
نام مدعی
عبداللہ بن میمون اہوازی۔
١٣
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٠١ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔
کس نے مقابلہ کیا
اس دور میں اہل سنت والجماعت نے اس سے کئی مناظرے کئے۔ بعد ازاں علاقہ مرو کی طرف بھاگ گیا۔
انجام
ابتداء میں شیعہ کے اسماعیلی فرقہ کا پیروکار تھا اور لوگوں کو اسی کی دعوت دیتا تھا۔ لیکن بعد میں اس مذہب میں کچھ ترامیم کر کے اپنی نبوت ومہدویت کا دعویٰ کر دیا۔ اس کا باپ میمون بن دیصان مشہور فرقہ شیعہ باطنیہ کا بانی تھا۔ یہ مجوسی النسل تھا۔ در پردہ اسلام کا بدترین دشمن تھا۔ عبد اللہ کا عقیدہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا وجود ہی سرے سے کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنی نبوت کو پوری امت کہنے لگا۔ مقام رے میں بیمار ہو کر فوت ہوا۔
(الفرق بین الفرق ص ٢١٧ تا ٢٢٥ ملخص)
نام مدعی
یحییٰ بن فارس۔
انجام
اس نے اپنے آپ کو مسیح موعود کہنا شروع کیا۔ شعبدہ بازی سے کئی کئی کرشمے دکھلانے شروع کئے۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد اس کے فریب کی کہانی پوری دنیا پر آشکار ہو گئی۔
(آئمہ تلبیس ص ١٩٨)
نام مدعی
علی بن محمد بن عبدالرحیم قبیلہ عبدالقیس موضع درو بلمن مضافات رے خوارج کے فرقہ ازارقہ سے تعلق رکھتا تھا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٣٩ھ میں خلیفہ مستنصر عباسی کے دور میں بحرین کے علاقہ میں دعویٰ نبوت کیا۔ اس کا امیر البحر بہبود زنگی تھا۔ ٢٥٤ھ میں بحرین سے بصرہ آیا۔ بصرہ میں بنو ضبیعہ نے اس کو پناہ دی اور اس کی نبوت کاذبہ کا اقرار کیا۔
١٤
کس نے مقابلہ کیا
پانچ مرتبہ یہ اہل بصرہ کے ساتھ لڑائی میں فاتح بنتا رہا۔ بالآخر ابوالعباس اور موفق کے ہاتھوں قتل ہوا۔
انجام
جھوٹے مدعیان نبوت میں معرکہ آرائی اور جنگجویانہ صلاحیت تاریخ میں علی بن محمد خارجی کے سوا کسی اور میں نظر نہیں آتی۔ انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ ایک عام جاہل قسم کے شعبدہ باز نے کس طرح لاکھوں عوام کو لٹو کر لیا اور حقیقت و معرفت کس طرح افتراء و کذب اور بے بنیاد دعوؤں کے ملبے تلے دب کر رہ گئی۔ علی بن محمد خارجی نے ٢٥٢ھ میں ایلہ میں گھس کر گورنر عبید اللہ بن مخبہ اور اس کی مختصر سی فوج کو تہہ تیغ کیا اور پورے شہر کو آگ لگادی۔ اب اہواز تک سارا علاقہ اس کے زیر نگین تھا۔
٢٥٧ھ میں خلیفہ معتمد نے سعید بن صالح ایک مشہور سپہ سالار کو خارجی کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا۔ لیکن سعید کو ناکامی ہوئی۔ سعید شکست خوردہ ہو کر بغداد چلا گیا۔ خلیفہ معتمد نے سعید کے بعد جعفر بن منصور خیاط کو جو بڑے بڑے معرکوں میں نام پاچکا تھا۔ یہ بھی علی خارجی اور فوجی زنگیوں کے حملوں کی تاب نہ لاکر خائب و خاسر واپس لوٹے۔ زنگیوں کے ایک سپہ سالار علی بن ابان نے ٢٥٧ھ کے آخر میں بصرہ فتح کر لیا۔ وہاں کے باشندوں میں اکثریت کو قتل کر کے بقایا کو غلام بنایا۔ بصرہ کے تمام محلات اور اسلامی مکاتب کو آگ لگا دی۔ جب بصرہ کی تباہی کی خبریں بغداد پہنچیں تو خلیفہ معتمد نے محمد المعروف مولا کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ کیا۔ لیکن دس دن کی لڑائی کے بعد مولا کو شکست ہوئی۔ زنگیوں نے اس کا لشکر لوٹ لیا۔ مولا کے بعد ٩ سال تک دفتر خلافت سے برابر فوجیں جاتی رہیں۔ لیکن علی خارجی اور اس کی سپاہ کے مقابلوں کی تاب نہ لا سکیں۔
بالآخر خلیفہ معتمد نے ابوالعباس اپنے بھتیجے اور ولی عہد کو زنگیوں کی مہم پر روانہ کیا۔ ابوالعباس ربیع الثانی ٢٦٦ھ میں دس ہزار فوج پیادہ و سوار کا لشکر لے کر زنگیوں کی طرف روانہ ہوا۔ علی خارجی نے اس کے مقابلہ کے لئے بے شمار فوج جمع کی تھی۔ ابوالعباس گو کہ ایک ناتجربہ کار شہزادہ تھا۔ لیکن جرأت و ہیبت اور استقلال و بہادری کے ساتھ ساتھ وہ ہر وقت خدا کے حضور سجدہ ریز رہتا تھا۔ اس کے پہلے ہی حملہ میں زنگی حبشی کو شکست فاش ہوئی۔ ٢٦٧ھ میں ابوالعباس کا
١٥
نامور والد موفق بھی اسی معرکے میں شہید ہوا۔ بعدازاں اس کی نگرانی میں عساکر خلافت نے زنگیوں کے مرکز منصورہ پر قبضہ کیا۔
مختلف علاقوں سے جنگوں پہ جنگیں لڑتا رہا۔ بالآخر ابوالعباس معتمد بن موفق کی قیادت میں بصرہ کے ٢٠ ہزار مسلمان قیدیوں کو رہائی ملی۔ کئی ہزار مسلمان عورتوں اور بچوں کو آزادی میسر آئی۔ علی محمد خارجی کے سپہ سالار خلیل اور ابن ابان گرفتار ہوئے۔ ٢٧٠ھ میں یکم صفر کو حکومت کے ١٤ سال ٤ مہینے گزار کر خانہ ساز نبوت سمیت قتل ہوا۔ علی خارجی کا سر کاٹ کر ایک نیزے پر چڑھایا گیا۔ علی خارجی دعویٰ نبوت کے ساتھ ساتھ اہل بیت کا بھی بہت بڑا دشمن تھا۔ ہر وقت حضرت علیؓ کو گالیاں بکتا رہتا۔ سادات عظام کی عورتوں کو اس نے تین تین درہم کے عوض فروخت کیا تھا۔ ایک ایک زنگی کے گھر میں دس دس سید زادیاں تھیں۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٦ ص ٢٠٦ تا ٦٣٣ ملخص)
نام مدعی
حمدان بن اشعث المعروف قرمط بانی فرقہ قرامطیہ ۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٧٨ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔
(ابن خلدون)
کس نے مقابلہ کیا
گورنر کوفہ ہیصم نے ٢٨٠ھ میں۔
انجام
حمدان کا عقیدہ تھا کہ حضرت علیؓ کے بیٹے امام محمد ابن حنفیہ کے فرزند احمد، اللہ کے رسول تھے۔ اس نے کہا میں ہی مہدی موعود ہوں۔ پھر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس نے اپنے پیروکاروں پر پچاس نمازیں فرض کی تھیں۔ چند دنوں کے بعد اس نے صرف صبح اور شام میں دو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ اس کے نزدیک قبلہ بیت المقدس، شراب حلال، غسل جنابت موقوف تھا۔ اس نے جمعہ کی بجائے دوشنبہ کو تعطیل کا حکم دیا۔ گورنر کوفہ ہیصم نے اس کو گرفتار کیا۔ گورنر کی ایک لونڈی نے رات کو فرار ہونے میں مدد دی۔ اس وقت دنیا میں پھیلے ہوئے بوہرے اسی من گھڑت نبی کی یادگار ہیں۔ ٣٩٦ھ میں اسی فرقے کی بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے سلطان محمود غزنوی نے سندھ، ملتان اور کئی علاقوں سے چن چن کر قرمطی لوگوں کو قتل کیا۔ تاریخ فرشتہ میں ان لوگوں کو فرقہ اسماعیلیہ قرار دیا گیا ہے۔
(تاریخ ابن خلدون ج ٣ ص ٣٣٣)
١٦
نام مدعی
ابو سعید حسن بن بہرام جنابی قرمطی قطیف مضافات بحرین۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٨٠ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
اپنے خادم صقلبی کے ہاتھوں ٣٠١ھ میں مارا گیا۔
انجام
اس نے مہدی آخرالزمان ہونے کا دعویٰ کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل ہوا۔ یہ نہایت غالی شیعہ تھا۔ اس نے تھوڑے دنوں میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ مل کر بصرہ پر قبضہ کرنے کی سازش کی تھی۔ لیکن ناکام رہا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٨ ص ٣٩٦)
نام مدعی
زکرویہ بن ماہر۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
خلیفہ معتضد بن موفق عباسی۔ ٢٨٠ھ
کس نے مقابلہ کیا
شبل یہ معتضد عباسی کا غلام تھا۔ پہلا مقابلہ اس نے کیا۔ اس کے بعد حسین بن حمدان نے بغداد سے روانہ ہو کر سماوا کے مقام پر زکرویہ کے سالار کو قتل کر ڈالا۔ یہ خلیفہ مکتفی کے ابتدائی دور کی بات ہے۔
انجام
اس نے دعویٰ کیا کہ خلافت اور امارت بنو عباس کا حق نہیں، یہ اپنے آپ کو حضرت مہدی کا ایلچی اور حامل وحی قرار دیتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ تمام نبیوں کی روحیں اس کے اندر حلول کر گئی ہیں۔ خلیفہ مکتفی نے وصیف بن صوار زکرویہ کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا۔ پہلے ہی حملہ میں زکرویہ قتل ہوا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٦ ص ١٤٨ تا ١٤٤ ملخص)
١٧
نام مدعی
یحییٰ بن زکرویہ قرمطی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٨٩ھ بعہد خلیفہ مکتفی باللہ۔
کس نے مقابلہ کیا
سالار مکتفی باللہ۔
انجام
مہدویت اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ عساکر اسلامیہ سے جنگ کی نوبت آئی اور عین میدان جنگ میں آخر ٢٨٩ھ میں مارا گیا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٦ ص ٤٠٩)
نام مدعی
حسین بن زکرویہ المعروف صاحب الشامہ، کنیت ابوالعباس اپنے آپ کو احمد کے نام سے موسوم کرتا تھا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣٠٠ھ کے بعد سن کا تعین کسی تاریخ میں نہیں۔
انجام
پہلے پہل دعویٰ مہدویت کیا۔ یہ جھوٹے مدعی زکرویہ کا بیٹا تھا۔ اسلامی فوجوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔
(ابن اثیر ج ٦ ص ١٤١ تا ١٤٢ ملخص)
نام مدعی
عبیداللہ (کوفہ)
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٧٠ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
ابراہیم بن ابی اغلب زیادۃ اللہ والی افریقہ۔
١٨
انجام
٢٧٠ھ میں اس نے دعویٰ مہدویت کیا اور اپنے ساتھیوں کو فرقہ مہدویہ کا لقب دیا۔ شیعہ فرق کی مہدویہ شاخ کے اسی بانی نے یہ عقیدہ گھڑا کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ، حضرت مقدادؓ، حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابو ذر غفاریؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ کے علاوہ تمام صحابہؓ مرتد ہو گئے تھے۔ اس نے اسکندریہ اور کئی علاقوں کو بزور شمشیر فتح کر لیا تھا۔ یہ اپنے دعویٰ مہدویت پر ٣٢٢ھ یعنی مرنے تک قائم رہا۔ اس کے مرنے کے بعد ٥٦٧ھ تک اس کی عبیدی حکومت قائم رہی۔ شہر مہدویہ تیونس کے قریب ہے۔ اس کا دارالحکومت تھا۔ اکثر مورخین نے اسی کو اسماعیلی فرقہ کا بانی لکھا ہے۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٦ ص ٤٤٦ تا ٤٦٤ ملخص)
نام مدعی
علی بن فضل یمنی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٢٩٣ھ علاقہ صنعا۔
انجام
یہ ابتداء میں اسماعیلی فرقہ کا پیروکار تھا۔ بعد ازاں اس نے دعویٰ نبوت کیا۔ اس نے اپنا کلمہ بنایا تھا۔ "اشهد ان علی بن الفضل رسول الله" (العیاذ باللہ) اس نے بیٹیوں سے نکاح جائز قرار دیا تھا۔ ٣٠٣ھ میں جام زہر پلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کا فتنہ ١٩ سال تک قائم رہنے کے بعد اس کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔
(ائمہ تلبیس ص ٢٦٠)
نام مدعی
عبدالعزیز باسندی علاقہ باصفانیاں۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣٢٢ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔
کس نے مقابلہ کیا
حاکم باصفانیاں ابو علی بن محمد بن مظفر کے لشکر نے اس کی بستی اور پیروکاروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
١٩
انجام
اس کو قتل کر کے اس کا سر ابوعلی کے پاس بھیج دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی خانہ ساز
(تاریخ ابن اثیر ج ٧ ص ١٠٢)
نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
نام مدعی
ابوالطیب احمد بن حسین کوفہ کے محلہ کندہ میں پیدا ہوا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣١٥ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
گورنر کوفہ امیر لولو نے اسے قید کیا وہیں اس نے اپنے آپ کو جھوٹا کہا اور توبہ کی۔
انجام
ابوالطیب عربی کا بے مثال شاعر تھا۔ اس کا مجموعہ کلام اس وقت مدارس عربیہ کے
(تاریخ ابن خلکان ج ١ ص ٣٦ تا ٤٧ ملخص)
نصاب میں دیوان متنبی کے نام سے داخل نصاب ہے۔
نام مدعی
ابو علی منصور ملقب الحاکم بامر اللہ یہ رافضی الاصل تھا۔ ساڑھے گیارہ سال کی عمر میں اپنے باپ کی جگہ تخت مصر پر بیٹھا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣٨٦ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
بہن کے ہاتھوں قتل۔
انجام
اس نے نبوت و ربوبیت دونوں کا دعویٰ کیا۔ علم نجوم میں ماہر تھا۔ ٤١١ھ میں بہن کی طرف سے بدعقیدگی کی وجہ سے دو حبشیوں سے قتل کروا کے کوہ مقطم پر ڈال دیا۔ اس کی جماعت کو
(تاریخ ابن اثیر ج ٨ ص ١٢٨)
فرقہ دروز کا نام دیا گیا ہے۔
٢٠
نام مدعی
اصغر ابوالحسین تغلبی رأس عین کا رہنے والا تھا۔ یہ شہر حران اور نصیبین کے درمیان ہے۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٤٣٩ھ میں دعویٰ نبوت کیا۔ لوگوں نے وضاحت طلب کی تو اپنے آپ کو مرزا قادیانی کی طرح مسیح موعود کہنا شروع کر دیا۔
کس نے مقابلہ کیا
بنو نمیر کے جوان۔
انجام
بنو نمیری جوانوں نے گرفتار کر کے شاہ روم کے ایلچی نصر الدولہ کی عدالت میں پیش کیا۔ اس نے ہمیشہ کے لئے قید میں ڈال دیا۔ اسی حالت قید میں جہنم رسید ہو گیا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٨ ص ٢٧٩)
نام مدعی
ابو طاہر قرمطی یہ ابو سعید قرمطی کا لڑکا تھا۔ اس کے قتل ہونے کے بعد اس کو بھی شوق ہوا کہ یہ دعویٰ مہدویت و نبوت کرے۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣٠١ھ ولی عہد مقتدر۔ (بغداد)
کس نے مقابلہ کیا
خلیفہ مقتدر بن یوسف کے گورنر سبک شہید محمد بن عبداللہ یوسف بن ابی الساج منصب بن قیس اسی منصب نے ہی ایک مرتبہ ابو طاہر کی فوجوں کو شکست دی۔
انجام
ابو طاہر نے احساء، قطیف، طائف، بحرین کے لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کر دیا۔ مختلف شعبدہ بازیوں نے عام لوگوں کے قلب و جگر سے دولت ایمان گم کر دی۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ اللہ کی روح میرے اندر حلول کر گئی ہے۔ یہ شخص اسلام اور اہل اسلام کے لئے تاتاریوں
٢١
سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ اس نے بے شمار مسلمانوں کو قتل کیا۔ مقتدر کے کئی بصری سپہ سالاروں کو شکست دی۔ اس نے خانہ کعبہ کے مقابلہ میں دارالہجرۃ بنا کر لوگوں کو اس کے طواف کا حکم دیا۔ حجر اسود کو مکہ سے اٹھا کر لے جانے کے لئے بڑھا۔ مگر خدام کعبہ آڑے آگئے۔ یہ واقعہ ٣١٧ھ کو پیش آیا۔ اس نے دس سال تک حج کعبہ موقوف کر دیا تھا۔ (ائمہ تلبیس ص٢٣٤) ابو طاہر اس واقعہ کے فوراً بعد چیچک کے مرض میں مبتلا ہوا۔ اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو کر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٧ ص ١٧)
نام مدعی
حامیم بن من اللہ حکمی سرزمین ریف واقع ملک مغرب میں دعویٰ نبوت کیا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٣١٣ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
قبیلہ مصمودہ۔
انجام
حامیم ٣٢٩ھ میں قبیلہ مصمودہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔
(ائمہ تلبیس ص٢٧٢)
نام مدعی
حسن بن صباح حمیری یہ شہر طوس علاقہ خراسان میں پیدا ہوا۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
خواجہ نظام الملک ٤٨٣ھ۔
کس نے مقابلہ کیا
سلطان سنجر برادر خورد سلطان محمد۔ پہلا سلطان بغداد۔
انجام
اس کا والد اسماعیلی فرقے کا پیرو تھا۔ جس کا نام اسلامی تاریخ میں ایک بہت ہی بڑے فتنہ پرور، کاذب اور بے مثال دجل وفریب کے حامل کی حیثیت سے لیا جاتا ہے۔ شیعہ کے قریب قریب تمام فرقے اسی کی سازش سے ظہور پذیر ہوئے۔ آخر میں خود اس نے دعویٰ نبوت کر کے
٢٢
مہبط وحی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس نے رے کے علاقے میں ایک جنت بنائی۔ اپنے آپ کو شیخ الجبل کہنا شروع کیا۔ اس کی تیشہ کاری سے اسماعیلی فرقہ کے ٢١ فرقے بنے اور خود حسنی فرقہ کا حکمران مقرر ہوا۔ ٢٨ ربیع الثانی ٥١٨ھ کو ٩٠ سال کی عمر پا کر قلعہ الموت میں واصل بحق ہوا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٩ ص ٣٩٧ تا ٤١٣ ملخص)
نام مدعی
رشید الدین بن ابوالحسن سنان۔
انجام
یہ قلعہ الموت میں اسماعیلیوں کا سردار تھا۔ سنان نے نبوت کا دعویٰ کر کے ایک الہامی کتاب بھی معتقدین کے سامنے پیش کی۔
(ائمہ تلبیس ص ٣٢٩)
نام مدعی
محمد بن عبداللہ تومرت۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
٥١٤ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا۔
انجام
اس نے امام غزالی کے دور میں شعبدہ بازی کے ذریعے کئی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ ٥٢٤ھ میں تومرت مرگیا۔
(تاریخ ابن اثیر ج ٩ ص ١٩٥)
نام مدعی
حسین بن حمدان خصیبی۔
کس زمانہ میں دعویٰ کیا
بعہد خلیفہ مستعصم باللہ۔
کس نے مقابلہ کیا
٣٣٨ھ میں جیل میں مرگیا۔
انجام
یہ ایک غالی شیعہ تھا۔ مدعی نبوت ہونے کے بعد سوریہ اور پھر دمشق گیا۔ حکام نے جیل
٢٣
ڈال دیا۔ کچھ عرصہ بعد انتقال کر گیا۔ صاحب کتاب الدعاۃ نے اسے فرقہ نصیریہ کا بانی لکھا ہے۔
(آئمہ تلبیس ص ٤٠٢)
عصر حاضر کے جھوٹے مدعی نبوت
مرزا غلام احمد قادیانی کے چند مندرجہ ذیل دعوؤں پر غور کیجئے اور اس کے بعد آنے والے صفحات میں قرآن و حدیث کی واضح تشریحات کے مطابق ختم نبوت کی اہمیت اور اس کے منکرین کی چالبازیوں کا موازنہ کیجئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ نعوذ باللہ وہ محمد رسول اللہ ہے۔ ملاحظہ ہو قرآن کی آیت: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ ”اس وحی الٰہی میں خدا نے میرا نام محمد رکھا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
حالانکہ ١٤٠٠ سال کے تمام مفسرین و مجتہدین، ائمہ اور ہر مکتب فکر کے علماء کی متفقہ رائے ہے کہ: ”سورۃ فتح ٢٦ ویں پارے کی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کی جاں نثاری کا ذکر ہے۔“
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ نعوذ باللہ محمد رسول اللہ ہے۔ ”اور خدا نے مجھ پر اس رسول کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا ...... جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ میں فرق کرتا ہے۔ اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨، ٢٥٩ ملخص)
آنحضرت ﷺ کے ساتھ تئیس سال سے زیادہ عرصہ گزارنے والے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور دیگر تمام صحابہ کرامؓ میں تو کوئی ایسا فیض نہ پا سکا جو نبی بن سکے۔ بلکہ وہ تو صرف خلیفہ بن سکے اور چودھویں صدی میں پیدا ہونے والے مرزا قادیانی کی طرف نامعلوم کس نبوت کا فیض پہنچ گیا؟ (فیا للعجب)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ بروزی طور پر یعنی عکس کے طور پر وہ نعوذ باللہ خاتم الانبیاء ہے۔ ملاحظہ ہو: ”میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم (الجمعۃ: ٣)“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ (مرزا قادیانی کی کتاب) میں میرا نام محمد اور احمد رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
٢٤
حالانکہ قرآن کریم کے تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت کریمہ سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات ستودہ صفات ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ (نعوذ باللہ) اس کا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اسی پر اکتفا نہیں۔ بلکہ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ کر ہے۔ ملاحظہ ہو: ”اسی کے (مرزا قادیانی) طفیل آج بر وتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ (مرزا قادیانی) وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ اللعالمین بن کر آیا تھا۔“ (معاذ اللہ)
(اخبار الفضل مورخہ ٢٦؍ ستمبر ١٩١٧ء)
یہ بھی کہا گیا کہ مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء نعوذ باللہ حضور ﷺ سے زیادہ تھا۔ ملاحظہ ہو: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(ریویو مئی ١٩٢٩ء ، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٢٦٦)
جملہ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے تمام علمی ، عملی، صوری، معنوی، کمالات کی جامع شخصیت صرف آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ آپ ہی تمام عالم کے نجات دہندہ پوری انسانیت کے رہبر اعظم ہیں۔ آپ کی کتاب قرآن اور فرامین احادیث قیامت تک آنے والی تمام دنیا کی رہبری کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی رہیں گی۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں جب آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ ایک سو سے زائد نشانیوں کے ساتھ نازل ہوں گے تو وہ بھی کوئی نئی وحی، نئے الہام، نئے لائحہ کا اعلان نہ کریں گے۔ بلکہ صرف آپ کی تعلیمات ہی کے فروغ کی تحریک اٹھائیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی کے من گھڑت اور بے بنیاد دعاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف مدعی ہو کر اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا بروز، عکس، ظل (سایہ) قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف اپنے تئیں ذہنی ارتقاء ترقی درجات میں آپ ﷺ سے برتری کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔ قرآنی آیات کو اپنے اوپر منطبق بھی کرتے ہیں۔ اپنی نام نہاد وحی کی بہت بڑی ضخیم
٢٥
کتاب تذکرہ بھی علیحدہ طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگر انہیں آنحضرت ﷺ کی غلامی کا دعویٰ ہے تو انہیں صرف قرآن کریم کی آفاقی تعلیمات ہی کا درس دینا چاہئے تھا۔ مگر مرزا قادیانی کی وحی بھی علیحدہ، دعوے بھی منفرد، الہامات بھی نرالے، مکاشفات بھی عجیب، لن ترانیاں بھی حیاء سوز اور پھر کبھی مہدویت کا دعویٰ کیا۔ کبھی مسیحیت کی چادر اوڑھی، کبھی محمد اور احمد اپنا نام رکھا۔ پھر کبھی اپنے آپ کو ابراہیم، یوسف بھی نام دیا۔
مذکورہ دعووں کو سامنے رکھ کر ناظرین کو چاہئے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی عالم گیر شخصیت اور آپؐ ہی کی اتباع کی تاکید، آپؐ ہی کی آفاقی حیثیت کے سلسلے میں قرآن کی تعلیمات وتشریحات پر غور فرمائیں کہ اگر آپؐ کے بعد آپؐ ہی کے عکس اور سایہ کے طور پر کسی ایسے شخص کی بعثت ضروری تھی تو کم از کم کسی اشارے کنائے میں اس کا بھی ذکر ہوتا۔ اس کی وحی کی خبر بھی دی جاتی۔ اس پر ایمان لانے کی تاکید بھی کی جاتی۔
ہاں! مگر جن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی اس کی تمام نشانیاں آپؐ نے بتلا کر ساری امت کو ہر قسم کے دھوکے سے بچا لیا ہے۔
ختم نبوت کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کے آخری حصے میں ہم نے علامات مسیح درج کر کے نئی نسل کے سامنے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کے کذب کو آشکارا کر دیا ہے کہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا ظل اور بروز کہہ کر مسیح بننے والا یہ نام نہاد مدعی کسی بھی نشانی پر پورا نہیں اترتا اور اپنے دعوؤں کی روشنی میں اس کا اپنا چہرہ ایسا بھیانک اور قبیح نظر آتا ہے جس کے سامنے اس کی تمام رام کہانی جھوٹ کا پلندہ اور دجل و فریب کا منبع قرار پاتی ہے۔
ختم نبوت قرآن کی روشنی میں
ختم نبوت کا واضح اعلان
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب:٤٠) “ ﴿(حضرت) محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے (حقیقی) باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔﴾
٢٦
تکمیل دین کا دستاویزی حکم
"اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا (المائده:٣) " ﴿آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے اور (اپنی دین والی) نعمت تمہارے اوپر پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا ہے۔﴾
آنحضرتﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں
"وما ارسلنك الا رحمة للعلمين (الانبياء:١٠٧) " ﴿ہم نے تجھے (اے پیغمبرﷺ) تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔﴾
آنحضرتﷺ کی عالم گیر نبوت کا اعلان
"وما ارسلنك الا كافة للناس بشيراً ونذيرا (السبا:٢٨) " ﴿ہم نے تمہیں تمام دنیا کے انسانوں کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔﴾
آنحضرتﷺ قیامت تک آنے والی ہر قوم اور ہر نسل کے لئے رسول ہیں
"قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً (الاعراف:١٥٨)" ﴿اے پیغمبر (ﷺ) تم کہہ دو کہ میں تم تمام دنیا والوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔﴾
تمام مذاہب پر آنحضرتﷺ کے غلبہ اسلام کا اعلان
"هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله (الجمعة:٩) " ﴿وہی خداوند ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور سچے دین کے ساتھ تاکہ غالب کرے اس کو تمام دوسرے دینوں پر۔﴾
آنحضرتﷺ تمام جہانوں کے ڈرانے والے ہیں
"تبارك الذى نزل الفرقان على عبده ليكون للعلمين نذيرا (الفرقان:١) " ﴿بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن کو اپنے بندے محمدﷺ پر نازل کیا تا کہ یہ تمام جہانوں کو ڈرائے۔﴾
آنحضرتﷺ کی اتباع ہی خدا سے محبت کی دلیل ہے
"قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم (آل عمران:٣١) " ﴿کہہ دو اے پیغمبر (ﷺ) ان سے اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت بھی کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا۔﴾
٢٧
آنحضرت ﷺ ہی صرف اطاعت کے لائق ہیں
"وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله (النساء: ٦٤)" ﴿ہم نے رسول کو صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔﴾
قرآن میں صرف آپ اور آپ سے پہلے انبیاء کرام کا ذکر
"الم تر الى الذين يزعمون انهم أمنوا بما انزل اليك وما انزل من قبلك (النساء: ٦٠)" "کیا آپ نے ان لوگوں کو کہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ جو آپ پر بھی نازل کی گئی اور جو آپ سے پہلے بھی نازل کی گئیں۔ ف...... اگر حضور ﷺ کے بعد بھی کسی نے نبی بن کر آنا ہوتا یا کسی وحی کا آنا متوقع ہوتا تو اس آیت میں اس کا بھی ذکر ہوتا۔
آنحضرت ﷺ تمام انسانوں کے لئے رسول ہیں
"وارسلنك للناس رسولا (النساء: ٧٩)" ﴿اور ہم نے تجھے (اے رسول) تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔﴾
امت محمدیہ سے پہلی امتوں کا ذکر
"ولقد ارسلنا الى امم من قبلك (الانعام: ٤٢)" ﴿اور ہم نے رسول بھیجے تجھ سے پہلی امتوں کی طرف۔﴾
حضور پر نازل ہونے والی کتاب قرآن عظیم تمام جہانوں کے لئے ہدایت ہے
"ان هو الا ذكر للعلمين (ص: ٨٧)" ﴿یہ قرآن تمام جہانوں کے لئے نصیحت ہے۔﴾ (اگر آپ کے بعد بھی وحی آنا ہوتی تو یہاں اس کی نصیحتوں کا ذکر ہوتا)
آنحضرت ﷺ کی اطاعت ہی خدا کی اطاعت ہے
"ومن يطع الرسول فقد اطاع الله ومن تولى فما ارسلنك عليهم حفيظا (النساء: ٨٠)" ﴿اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے گویا کہ اللہ کی اطاعت کی اور ہم نے تجھ کو ان پر نگران نہیں بنایا۔﴾
صرف اور صرف آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا حکم
"اتبعوا ما انزل اليكم من ربكم ولا تتبعوا من دونه اولياء (الاعراف: ٣)" ﴿پیروی کرو ان کی جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور کسی کی پیروی نہ کرو۔﴾
٢٨
آنحضرت ﷺ کی اطاعت ہی کامیابی کی دلیل ہے
”ومن يطع الله ورسوله ويخش الله ويتقه فاولئك هم الفائزون (النور:٥٢) ”اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور اللہ سے ڈرتا رہا وہی کامیاب ہے۔﴾
آنحضرت ﷺ ہی برہان نبوت کے حامل ہیں
”يا ايها الناس قد جاءكم برهان من ربكم وانزلنا اليكم نوراً مبينا (النساء:١٧٤) ﴿اے لوگو! تم کو تمہارے رب کی طرف سے سند (محمد ﷺ) پہنچ چکی ہے اور اتاری ہم نے واضح روشنی۔﴾
آنحضرت ﷺ سے پہلے نبیوں کے جھٹلائے جانے کا ذکر
”ولقد كذبت رسل من قبلك (الانعام:٣٤) ”اور البتہ تحقیق تجھ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا۔﴾ (اور اگر حضور ﷺ کے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا تو بعد کے انبیاء کا بھی ذکر ہوتا)
آنحضرت ﷺ کی اتباع ہی مسلمانوں کا صحیح راستہ ہے
”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النساء:١١٥) ”اور جو کوئی حضور ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرے جب کہ اس پر حق ظاہر ہو گیا۔ ہم اس کو مسلمانوں کے راستہ سے ہٹا دیں گے اور اس کے لئے دوزخ میں بڑا عذاب اور برا ٹھکانہ ہے۔﴾
ہر معاملہ میں آنحضرت ﷺ ہی کو فیصل ماننے کا حکم
”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم (النساء:٦٥) ”تیرے رب کی قسم ہے۔ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے جب تک تجھے اپنے ہر جھگڑے میں فیصل تسلیم نہ کریں۔﴾
آنحضرت ﷺ اور تمام مسلمانوں کو اللہ ہی کافی ہے
”يا ايها النبى حسبك الله ومن اتبعك المؤمنين (الانفال:٦٤)“ ﴿اے پیغمبر تجھے اور تمام مومنین کو اللہ ہی کافی ہے۔﴾
٢٩
آنحضرت ﷺ کی امت کو پچھلی وحی پر ایمان لانے کا حکم
”وآمنوا بما انزلت مصدقا لما معكم (البقره:٤١)“ ﴿اور ایمان لاؤ اس وحی پر جو نازل کی گئی ہے۔ تصدیق کرنے والی ہے اس وحی کی جو تمہارے پاس (قرآن) ہے۔﴾ (اگر آپﷺ کے بعد بھی کسی وحی نے نازل ہونا ہوتا تو یہاں اس پر بھی ایمان لانے کا حکم ہوتا)
علم دین میں پختگی کی دلیل حضورﷺ اور آپﷺ سے پہلے انبیاء کی وحی پر ایمان لانا ہے
”لكن الراسخون في العلم منهم والمؤمنون يؤمنون بما انزل اليك (النساء:١٦٢) “ ﴿لیکن جولوگ علم میں ثابت ہیں۔ اس وحی پر ایمان لاتے ہیں۔ جو آپ پر نازل ہوئی اور آپ سے پہلے انبیاء پر نازل ہوئی۔﴾
آنحضرت ﷺ کی تابعداری ہی ہدایت کا راستہ ہے
”ويطيعون الله ورسوله اولئك سيرحمهم الله (التوبة:٧١)“ ﴿مسلمان اللہ اور اس کے رسول (محمدﷺ) کے حکم پر چلتے ہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے گا۔﴾
اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کا حکم
”فامنوا بالله ورسوله والنور الذى انزل (التغابن:٨)“ ﴿پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل کیا۔﴾ اگر قرآن کے بعد کسی وحی کا آنا متوقع ہوتا (جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی نام نہاد وحی کا نام تذکرہ رکھ کر دنیا بھر کو دھوکا دیا ہے) تو یہاں اس وحی کا ضرور ذکر ہوتا۔
قیامت تک آنے والی تمام انسانیت کو آنحضرت ﷺ کے حکم پر چلنے کا حکم
”وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهكم عنه فانتهوا (الحشر:٧)“ ﴿اور جو چیز آنحضرت ﷺ تم کو دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔﴾
انسانی کردار کے لئے اعلیٰ نمونہ، آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ پر چلنے کا حکم
”لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة (الاحزاب:٢١)“ ”فامنوا بالله ورسوله النبى الامى الذى يؤمن بالله وكلمته واتبعوه لعلكم تهتدون (الاعراف:١٥٨)“ ﴿ایمان لاؤ اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے امی نبی پر۔ اس کے تابع ہو جاؤ تو شاید ہدایت پا جاؤ۔﴾
٣٠
ایمان کا مدار آنحضرتﷺ کی وحی پر ایمان لانا ہے
”والذين آمنوا وعملوا الصلحت وآمنوا بما نزل على محمد وهو الحق من ربهم (محمد:٢)“ ﴿جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور اس وحی پر ایمان لائے۔ جو آنحضرتﷺ پر نازل ہوئی...... (ان کے گناہ معاف کر دیئے گئے)﴾
حضورﷺ پر ایمان لانے ہی میں بہتری ہے
”يأيها الناس قد جاءكم الرسول بالحق من ربكم فآمنوا خيرا لكم (النساء: ١٧٠)“ ﴿اے تمام لوگو! بے شک پیغمبر تمہارے پاس حق لایا ہے۔ پس ایمان لانا تمہارے لئے بہتر ہے۔﴾
رحمت کا نزول آنحضرتﷺ کی غلامی میں ہے
البتہ تحقیق تمہارے لئے حضورﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب:٢١) (جس امت کو آنحضرتﷺ ہی کی اتباع کا حکم ہو اگر اس میں آپ کے بعد کسی بھی نبی کے آنے کا ذکر ہوتا تو کم از کم اس کی پیروی کا بھی ضرور تذکرہ ہوتا۔ اگر وہ ظل نبی ہوتا تب بھی حضورﷺ کے واسطے سے یا اس کے واسطے سے حضورﷺ کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین ہوتی)
زندگی کے تمام معاملات کے لئے احکام خداوندی
”هو الذى انزل اليكم الكتاب مفصلا (الانعام:١١٤)“ ﴿وہ ذات جس نے اتارا تم پر اس کتاب کو جو مفصل ہے۔﴾
وحی الہی کی دائمی حفاظت
”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون (الحجر:٩)“ ﴿ہم نے آپ اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔﴾
وحی الہی کی امتیازی حیثیت اور عالم گیر چیلنج
”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان يأتوا بمثل هذا القران (الاسراء:٨٨)“ ﴿کہہ اگر جمع ہوویں آدمی اور جن اس پر کہ لاویں ایسا قرآن۔﴾
حضورﷺ سے پہلے امتوں کا ذکر
”ولقد ارسلنا الى امم من قبلك (انعام:٤٢)“ ﴿اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت امتوں پر تجھ سے پہلے۔﴾
٣١
ختم نبوت احادیث کی روشنی میں
ختم نبوت کی اہمیت کے بارے میں ایک فیصلہ کن مثال
”مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه لبنة وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (صحيح بخاری ج ١ ص ٥٠١) “ ﴿ میری مثال پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے کہ جیسے کسی شخص نے گھر بنایا۔ اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس لوگ اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (تاکہ تعمیر مکمل ہو) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا اور میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
آخری نبی کی آخری مسجد
”انا خاتم الانبياء ومسجدى خاتم مساجد الانبياء (كنز العمال ج ١٢ ص ٢٧٠) “ ﴿ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد بھی انبیاء کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔ ﴾
بنی اسرائیل کے بعد نبی اور حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہیں
”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے نبی کیا کرتے تھے۔ ایک نبی کے بعد اللہ دوسرے نبی کو بھیج دیتے تھے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ بلکہ بہت سے خلفاء ہوں گے۔﴾
آنحضرت ﷺ کے بعد تیس جھوٹے دجالوں کا ذکر
”سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ترمذی ج ٢ ص ٤٥) “ ﴿ عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جن میں ہر ایک یہی کہے گا میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾
٣٢
آخری نبی کی آخری امت اور قیامت میں سب سے پہلے اٹھنا
”نحن الاخرون السابقون يوم القيمة بيد انهم اوتوا الكتاب من قبله واوتينا من بعدهم (صحیح بخاری ج ١ ص ١٢٠، باب فرض الجمعة)“ ﴿ہم سب سے آخر میں اور قیامت میں سب سے پہلے اٹھیں گے۔ اس وجہ سے کہ پہلی امتوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد ملی۔﴾
تمام رسولوں کی قیادت اور ساری دنیا کی شفاعت کا تاج حضور کے سر پر
”انا قائد المرسلين ولا فخر و انا خاتم النبيين ولا فخر واول شافع ومشفع ولا فخر (سنن دارمی ج ١ ص ٢٧)“ ﴿میں تمام رسولوں کا پیشوا ہوں۔ اس میں کوئی فخر نہیں۔ میں آخری نبی ہوں اس میں کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے روز پہلا شفاعت کرنے والا ہوں۔ کوئی فخر نہیں۔﴾
آدم صفی اللہ اور آپ خاتم الانبیاء ہیں
”قال جبرئيل للنبى ﷺ يقول ربك ان كنت قد ختمت بك الانبياء وما خلقت خلقا اكرم منك (خصائص كبرى)“ ﴿حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے کہا آپ کا پروردگار فرماتا ہے کہ ہم نے آدم علیہ السلام کو صفی اللہ بنایا ہے تو آپ پر تمام انبیاء کو ختم کرکے آپ کی شان بڑھادی ہے۔﴾
نبوت نہیں صرف بشارات
”يايها الناس انه لم يبق من النبوة الا المبشرات (بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥، باب الرؤيا الصالحة)“ ﴿اے لوگو! نبوت کا کوئی جز سوائے اچھے خوابوں کے باقی نہیں۔﴾
آخر میں آنے والا
”ان لى عشرة اسماء محمد، احمد، ابوالقاسم، فاتح، خاتم، ماحی، عاقب، حاشر، یسین، طہ (مسند امام احمد بن حنبل ج ٤ ص ٢٣٩ حاشيه)“ ﴿خدا نے میرے دس نام رکھے ہیں جن میں ایک نام ہے ”عاقب“ آخر میں آنے والا۔﴾
٣٤
٢٧ دجال مردوں اور ٤ عورتوں کا ذکر
”فى امتى كذابون دجالون سبعة وعشرون، منهم اربع نسوة وانى خاتم النبيين لا نبى بعدى (طحاوى مشكل الآثار ج٤ ص١٠٤)“ ﴿میری امت میں ٢٧ جھوٹے دجال مرد اور ٤ جھوٹی دجال عورتیں پیدا ہوں گی۔ (جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے) حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
آخری نبی کا آخری امت کو خطاب
”لا نبى بعدى ولا امة بعد امتكم فاعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم واطيعوا ولاة امركم تدخلوا جنة ربكم (كنز العمال ج١٠ ص٢٩٤)“ ﴿میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ تم اپنے رب کی عبادت کرو۔ پانچ وقت نماز پڑھو۔ رمضان کے روزے رکھو۔ (نیک) حاکم کی اطاعت کرو، تمہارا رب تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔﴾
ختم نبوت کا واضح حکم
”واما الناقة التى رايتها واريتنى بعثتها فهى الساعة علينا تقوم لا نبى بعدى ولا امة بعد امتى (ابن كثير ج٩ ص٣٦٩)“ ﴿(ابو یعلیٰ جہنیؓ سے حضور ﷺ نے فرمایا) تم نے خواب میں اونٹنی کو دیکھا کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔ اس سے مراد قیامت ہے جو ہماری امت پر قائم ہوگی۔ کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ کوئی دوسری امت۔﴾
موسیٰ کے بعد ہارون کی مثال
”الا ترضى ان تكون بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (مسلم ج٢ ص٢٧٨، باب من فضائل علیؓ)“ ﴿(غزوہ تبوک کے خاص موقع پر حضور اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا) اے علیؓ! تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے ساتھ ہارون (علیہم السلام) تھے۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت نہیں خلافت
”خير هذه الامة بعد نبيها ابوبكر وعمر (كنز العمال ج١١ ص٥٦٧، حديث نمبر ٣٢٦٨٤)“ ﴿اس امت کے نبی کے بعد (خلیفہ اول) ابوبکرؓ اور (خلیفہ دوم) عمرؓ کا درجہ ہے۔﴾
٣٤
دنیا میں آخری اور قیامت میں پہلے
"نحن الاخرون من اهل الدنيا والاولون يوم القيمة (بخاری ج ١ ص ١٢٠) ”ہم دنیا میں سب سے آخر میں آئے اور قیامت میں سب سے پہلے مبعوث ہوں گے۔﴾
سب انبیاء سے پہلے اور آخر
"يا اباذر اوّل الانبياء آدم وآخره محمد (كنزالعمال ج ١١ ص ٤٨٠، حدیث نمبر ٣٢٢٦٩) ”اے ابوذرؓ ! نبیوں میں سب سے پہلے آدم ہیں اور آخر میں محمدﷺ ہیں۔﴾
حضورﷺ اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں
"بعثت انا والساعة كهاتين (بخارى ج ٢ ص ٩٦٣، باب بعثت انا والساعة) ”میں اور قیامت دو انگلیوں کی طرح ملے ہوئے ہیں۔﴾
تخلیق میں پہلے اور بعثت میں آخری
"كنت اوّل الناس فى الخلق وآخرهم فى البعث (كنز العمال ج ١١ ص ٤٠٩ حدیث نمبر ٣١٩١٦) ”میں تخلیق میں سب لوگوں سے پہلے ہوں اور بعثت میں تمام انبیاء سے آخر ہوں۔﴾ (قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں میثاق انبیاء کا ذکر ہے)
عبدیت اور ختم نبوت
"انى عبدالله وخاتم النبيين (بيهقى وابن كثير) ”میں اللہ کا بندہ اور آخری نبی ہوں۔﴾
نبوت کے بعد خلافت راشدہ
"لى النبوة ولكم الخلافة (كنز العمال ج ١١ ص ٧٠٦، حدیث نمبر ٣٢٤٣٨) ”میرے لئے نبوت ہے اور تمہارے لئے خلافت۔﴾
میری اور میرے خلفاء کی سیرت ہی مدار نجات ہے
"عليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين (مشكوة شريف ص ٣٠) “
٣٥
﴿لازم ہے تم پر کہ میرے اور میرے خلفاء راشدین کے طریقوں کو لازم پکڑو۔﴾ (اگر حضورﷺ کے بعد کسی نبی یا ظلی نبی یا نیا مصلح بن کر آنا تھا تو اس حکم میں ان کے طریقوں پر چلنے کا بھی ضرور ذکر ہوتا)
خدا کی قسم میں آخری ہی ہوں
”فواللہ انا الحاشر ....... وانا العاقب وانا المقفى (كنز العمال ج ١١ ص ٤٦٣، حدیث نمبر ٣٢١٧٢)“ ﴿پس خدا کی قسم میں حشر کے دن لوگوں کو جمع کرنے والا ہوں اور میں ہی آخر میں آنے والا ہوں۔﴾
دجالوں کے بغیر قیامت نہیں آئے گی
”لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلثون كذاباً كلهم يزعم انه نبى الله (طبرانی ج ٧ ص ١٨٩، حدیث نمبر ٦٧٩٧)“ ﴿اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک ٣٠ جھوٹے کذاب (مدعیان نبوت) پیدا نہ ہو جائیں۔﴾
آنحضرتﷺ ہر ایک کے نبی ہیں
”انا رسول من ادرك حياً ومن يولد بعدى (كنز العمال ج ١١ ص ٤٠٤، حديث نمبر ٣١٨٨٥)“ ﴿میں اس کا بھی رسول ہوں۔ جسے زندگی میں پالوں اور اس کا بھی رسول ہوں جو میرے بعد (قیامت تک) پیدا ہوگا۔﴾
سچے خواب باقی رہ گئے
”ذهبت النبوة الا المبشرات (ابن ماجہ ص ٢٧٨، باب الرؤيا الصالحة)“ ﴿نبوت چلی گئی صرف سچے خواب باقی رہ گئے۔﴾
حضرت آدم علیہ السلام سے ختم نبوت کا ثبوت
”بين كتفى آدم مكتوب محمد رسول الله وخاتم النبيين (ترمذى ج ٢ ص ٢٠٥)“ ﴿حضرت آدم کے دو کندھوں کے درمیان لکھا ہوا تھا۔ محمد اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔﴾
حضورﷺ کی نبوت میں کسی دوسرے سچے نبی کا آنا
”لو نزل موسى حياً وتركتمونى لضللتم انا حظكم من النبيين
٣٦
وانتم حظى من الامم (كنز العمال ج١ ص١٨٣، حدیث نمبر٩٢٧) ”تم میں اگر موسیٰ بھی زندہ ہو کر آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرو تو بھی تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ کیونکہ انبیاء میں، میں تمہارا حصہ ہوں اور امتوں میں تم میرا حصہ ہو۔“
رسالت اور نبوت کا اختتام
”ان الرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي (ترمذی ج٢ ص٥٣، باب ذهبت النبوة) ”بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول۔“
نبی کے بعد سب سے بہتر (امتی) ابوبکرؓ ہیں
”يا ابا الدردا اتمشى امام من هو خير منك فى الدنيا والآخرة الا لا تطلع الشمس بعد الانبياء على خير ابي بكر (اوكماقال) (كنز العمال ج١١ ص٥٥٧، حدیث نمبر٣٢٦٢٢) ”اے ابوالدرداؓ! تم اس شخص کے آگے چلتے ہو جو تم سے دنیا اور آخرت میں افضل ہے۔ یاد رکھو، انبیاء کے بعد سورج ابوبکرؓ سے بہتر کسی شخص پر طلوع نہیں ہوگا۔“
چچا خاتم ہجرت اور آپؐ خاتم نبوت
”اطمئن ياعم فانك خاتم المهاجرين فى الهجرة كما انا خاتم النبيين فى النبوة (كنز العمال ج١١ ص٦٩٩، حدیث نمبر٣٣٣٨٧) ”اے چچا (عباسؓ) آپ مطمئن رہیں۔ اس لئے کہ آپ خاتم المہاجرین ہیں۔ جیسے میں خاتم النبیین ہوں۔“
ختم نبوت کے بارے میں آپؐ کا آخری اعلان
”يا ايها الناس انا خاتم النبيين لا نبي بعدي (کنزالعمال ج٥ ص٢٩٤، حدیث نمبر ١٢٩٢٢) ”اے لوگو! میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔(از خطبہ حجۃ الوداع)“
اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا
”لوكان بعدي نبياً لكان عمر بن خطاب (ترمذی ج٢ ص٢٠٩) “ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن خطاب ہوتا ۔“
٢٧
ستر امتیں پوری ہوگئیں
”نحن نكمل يوم القيمة سبعون نحن آخرها وخيرها (كنزالعمال ج ٦ ص ٦٤) “ ﴿ہم ستر امتیں پوری کریں گے۔ جن میں ہم سب سے آخر اور بہتر ہوں گے۔﴾
محمد اور احمد آپ ہی ہیں
”انا محمد واحمد وحاشر الذى احشر الناس على قدمى (كنزالعمال ج ١١ ص ٤٦٣، حدیث نمبر ٣٢١٧)“ ﴿میں محمد اور احمد ہوں اور حاشر ہوں۔ یعنی میرے زمانہ کے بعد لوگ حشر میں جمع ہوں گے۔﴾
رحمت و درود پڑھنے کا حکم
”قولوا اللهم صلّ على سيد المرسلين وامام المتقين وخاتم النبيين (كنز العمال) “ ﴿تم کہا کرو۔ اے اللہ ! تمام رسولوں کے سردار اور متقیوں کے پیشوا اور نبیوں کے ختم کرنے والے پر رحمت نازل فرما۔﴾
مسیح موعود (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہونے کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے چند دعوے اور اس کے بعد آنے والے صفحات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی علامات اور مرزا قادیانی کے دجل و تلبیس اور دھوکہ دہی کے چند نمونے۔
”اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا اس عاجز نے کیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)
”عیسیٰ جس کا نام تم لیتے ہو۔ وہ دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰ کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔ پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کرلو۔“
(ہمارا موقف ص ١٠)
”میں بار بار کہتا ہوں خدا نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور مجھے بتا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ص ١٧)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں
قرآن وحدیث کی بیان کردہ علامات
علامات قیامت کے طور پر سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ احادیث جن مسائل کی
٣٨
نسبت وارد ہوئی ہیں۔ وہ خروج دجال اور نزول مسیح ایسے اہم واقعات ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علامات کو تو قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی احادیث نے اس قدر روشن اور واضح کر دیا ہے کہ ایسی بے مثال وضاحت ہی اس واقعہ کے غیر معمولی ہونے کی دلیل ہے۔ کسی اور پیغمبر کی ولادت، مسکن، والدہ کا نام، حسب ونسب، سیرت و کردار، ساحرانہ قوتیں، خوارق عادات قرآن وحدیث میں اس انداز سے کسی نبی اور رسول کے لئے بیان نہیں کی گئیں۔ ان حالات پر نظر کرتے ہوئے یقین کرنا پڑتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ کی یہ اہمیت اسرار ورموز اور مصلحت وحکمت پر مبنی ہے اور بقول حضرت مفتی محمد شفیعؒ۔
”قرآن کی وضاحت کے بعد حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ١٠٠ سے زائد نشانیاں بتلا کر قیامت تک آنے والی اپنی امت کے ہاتھوں ایک مسیح موعود کی نشانیوں پر مشتمل ایک ایسی چٹھی دے دی ہے۔ جس کی موجودگی میں کوئی جھوٹا مدعی اہل حق کو راہ حق سے بھٹکا نہیں سکتا۔ جب بھی کوئی جھوٹا مدعی پیدا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے پیغمبری سورج سے زیادہ روشن ان ہدایات کو دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک اگر کسی انسان میں وہ علامتیں پائی نہیں گئیں تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ یا آپ نے آنا ہی نہیں یا اس طرح کبھی مرزا قادیانی کہتا ہے۔ پھر مجھے قبول کرلو۔“
بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ ان میں آپ کی بیان کردہ تمام علامات پائی جائیں گی۔ اس موقع پر قرآن وحدیث کی بیان کردہ چند علامات ملاحظہ ہوں۔ جن کا ذکر حضرت مفتی محمد شفیعؒ نے اپنی نامور تصنیف ”ختم نبوت“ میں کیا ہے۔
”ذالك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون“ بسم الله الرحمن الرحيم!
مسیح موعود کا نام، کنیت اور لقب
- ١ آپ کا نام عیسیٰ ہے۔ - علیہ السلام ذالك عيسى ابن مريم (مريم:٣٤)
- ٢ آپ کی کنیت عیسیٰ ابن مریم ہے۔ - ذالك عيسى ابن مريم قول الحق (مريم:٣٤)
٣٩
٣ آپ کا لقب مسیح ہے۔ اسمه المسيح عيسى ابن مريم (آل عمران:٤٥)
٤ آپ کا لقب کلمۃ اللہ ہے۔ ان الله يبشرك بكلمة منه (آل عمران:٤٥)
٥ آپ کا لقب روح اللہ ہے۔ كلمة القاها الى مريم وروح منه (نسآء:١٧١)
مسیح موعود کے خاندان کی پوری تفصیل
٦ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام مریم ہے۔ ذالك عيسى ابن مريم (مريم:٣٤)
٧ آپ بغیر باپ کے بقدرت خداوندی انى يكون لى غلام ولم يمسسنى صرف ماں سے پیدا ہوئے۔ بشر ولم اك بغياً (مريم:٢٠)
٨ آپ کے نانا عمران علیہ السلام ہیں۔ مريم ابنت عمران التى (التحريم:١٢)
٩ آپ کی نانی امرأۃ عمران (حنہ) ہیں۔ اذ قالت امرأة عمران (آل عمران:٣٥)
١٠ آپ کے ماموں ہارون ١ ہیں۔ ياخت هرون (مريم:٢٨)
١١ آپ کی نانی کی یہ نذر کہ اس حمل سے جو بچہ انى نذرت لك ما فى بطنى محرراً پیدا ہوگا وہ بیت المقدس کے لئے وقف (آل عمران:٣٥) کروں گی۔
١٢ پھر حمل سے لڑکی کا پیدا ہونا فلما وضعتها (آل عمران:٣٦)
١٣ پھر ان کا عذر کرنا کہ یہ عورت ہونے کی وجہ انى وضعتها انثى (آل عمران:٣٦) سے وقف کے قابل نہیں۔
١٤ اس لڑکی کا نام مریم رکھنا۔ انى سميتها مريم (آل عمران:٣٦)
ا۔ ہارون سے اس جگہ ہارون نبی علیہ السلام مراد نہیں ۔ کیونکہ وہ تو مریم سے بہت پہلے گزر چکے تھے۔ بلکہ ان کے نام پر حضرت مریم کے بھائی کا نام ہارون رکھا گیا تھا۔ (کذا رواہ مسلم والنسائی والترمذی مرفوعاً )
٤٠
والدہ ما
١٥ | مر
١٦ | ان سال
١٧ | مجاہ میں کف
١٨ | ان رز
١٩ | زکر الله
٢٠ | فر
٢١ | ان
٢٢ | ان
٢٣ | تا ہو
حص
٢٤ |
٢٥ | ا ؤ
والدہ مسیح علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے بعض حالات
- ١٥ مس شیطان سے محفوظ رہنا۔ انى اعيذھابك (آل عمران:٣٦)
- ١٦ ان کا نشوونما غیر عادی طور پر ایک دن میں سال بھر کے برابر ہونا۔ وانبتها نباتاً حسنا (آل عمران:٣٧)
- ١٧ مجاورین بیت المقدس کا مریم کی تربیت میں جھگڑنا اور حضرت زکریا علیہ السلام کا کفیل ہونا۔ اذ يختصون (آل عمران:٤٤)
- ١٨ ان کو محراب میں ٹھہرانا اور ان کے پاس غیبی رزق آنا۔ كلما دخل عليها زكريا المحراب وجد عندها رزقا (آل عمران:٣٧)
- ١٩ زکریا کا سوال اور مریم کا جواب کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قالت هو من عند الله (آل عمران:٣٧)
- ٢٠ فرشتوں کا ان سے کلام کرنا۔ اذ قالت الملئكة يمريم (آل عمران:٤٢)
- ٢١ ان کا اللہ کے نزدیک مقبول ہونا۔ ان الله اصطفك (آل عمران:٤٢)
- ٢٢ ان کا حیض سے پاک ہونا۔ وطهرك (آل عمران:٤٢)
- ٢٣ تمام دنیا کی موجودہ عورتوں سے افضل ہونا۔ واصطفك على نساء العلمين (آل عمران:٤٢)
حضرت مسیح علیہ السلام کے ابتدائی حالات استقرار حمل وغیرہ
- ٢٤ مریم کا ایک گوشہ میں جانا۔ اذا انتبذت (مريم:١٦)
- ٢٥ اس گوشہ کا شرقی جانب میں ہونا۔ ان کا پردہ ڈالنا۔ مكاناً شرقياً فاتخذت من دونهم حجابا (مريم:١٧)
٤١
٢٦ ان کے پاس بشکل انسان فرشتہ کا آنا۔ فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرا سوياً (مريم:١٧)
٢٧ مریم کا پناہ مانگنا۔ انى اعوذ بالرحمن منك (مريم:١٨)
٢٨ فرشتہ کا من جانب اللہ ولادت حضرت عیسیٰ لاہب لك غلاما زكياً (مريم:١٩) علیہ السلام کی خبر دینا۔
٢٩ مریم کا اس خبر پر تعجب کرنا کہ بغیر صحبت مرد انى يكون لى غلام ولم يمسسنى کے کیسے بچہ ہوگا؟ بشر (مريم:٢٠)
٣٠ فرشتہ کا منجانب اللہ یہ پیغام دینا کہ اللہ تعالیٰ قال ربك هو على هين (مريم:٢١) پر یہ سب آسان ہے۔
٣١ بحکم خداوندی بغیر صحبت مرد کے ان کا حاملہ فحملته (مريم:٢٢) ہونا۔
٣٢ درد زہ کے وقت ایک کھجور کے درخت کے فاجاءها المخاض الى جذع نیچے آجانا۔ النخلة (مريم:٢٣)
آپ کی ولادت کس جگہ اور کس طرح ہوئی
٣٣ مسکونہ مکان سے دور ایک باغ کے گوشہ فانتبذت به مكانا قصياً میں ولادت ہوئی۔ (مريم:٢٢)
٣٤ حضرت مریم ایک کھجور کے درخت کے تنے پر الى جذع النخلة (مريم:٢٣) ٹیک لگائے ہوئے تھیں۔
٣٥ ولادت کے بعد مریم کے بوجہ حیا کے قالت يليتنى مت قبل هذا وكنت پریشان ہونا اور لوگوں کی تہمت سے ڈرنا۔ نسياً منسياً (مريم:٢٣)
٣٦ درخت کے نیچے سے فرشتہ کا آواز دینا۔ فناداها من تحتها (مريم:٢٤)
٣٧ کہ گھبراؤ نہیں اللہ نے تمہیں ایک سردار دیا الا تحزنى قد جعل ربك تحتك ہے۔ سرياً (مريم:٢٤)
٤٢
٣٨ ول ٣٩ حض لا ت ٤٠ الت ٤١ حض جان فرما ٤٢ مسیح ٤٣ برص ٤٤ مادر ز ٤٥ مٹی ک ٤٦ آدمیو کہ کیا ٤٧ جو چیز رکھی ہی ٤٨ کفار رق
٣٨ ولادت کے بعد حضرت مریم کی غذا تازہ تساقط عليك رطباً جنياً کھجوریں۔ (مریم:٢٥)
٣٩ حضرت مریم کا آپ کو گود میں اٹھا کر گھر فاتت به قومها تحمله (مریم:٢٧) لانا۔
٤٠ ان کی قوم کا تہمت رکھنا اور بدنام کرنا۔ يمريم لقد جئت شيئاً فريا
(مریم:٢٧)
٤١ حضرت مریم سے رفع تہمت کے لئے من قال اني عبدالله آتنى الكتاب جانب اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلام وجعلني نبياً (مریم:٣٠) فرمانا اور یہ فرمانا کہ میں نبی ہوں۔
حضرت مسیح موعود کے خصائص
٤٢ مسیح موعود کا مردوں کو بحکم خدا زندہ کرنا۔ واحيى الموتى (آل عمران:٤٩)
٤٣ برص کے بیمار کو شفا دینا۔ ابرى الاكمه والابرص (آل عمران:٤٩)
٤٤ مادر زاد اندھے کو بحکم الہی شفا دینا۔ ابرى الاكمه والابرص (آل عمران:٤٩)
٤٥ مٹی کی چڑیوں میں بحکم الہی جان ڈالنا۔ فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله
(آل عمران:٤٩)
٤٦ آدمیوں کے کھائے ہوئے کھانے کو بتا دینا وانبئكم بما تأكلون (آل کہ کیا کھایا تھا؟ عمران:٤٩)
٤٧ جو چیزیں لوگوں کے گھروں میں چھپی ہوئی وما تدخرون في بيوتكم (آل رکھی ہیں ان کو بن دیکھے بتا دینا۔ عمران:٤٩)
٤٨ کفار بنی اسرائیل کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ومكروا ومكر الله والله خير کو قتل کرنے کا مکر کرنا اور حفاظت الہی الماكرين (آل عمران:٥٤)
٤٣
- ٤٩ کفار کے نرغہ کے وقت آپ کو آسمان پر زندہ اٹھانا۔ انی متوفيك ورافعك الى (آل عمران: ٥٥)
حضرت مسیح موعود کا حلیہ
- ٥٠ آپ کا وجیہ ہونا۔ وجيهاً في الدنيا والاخرة (آل عمران: ٤٥)
- ٥١ آپ کا قد و قامت درمیانہ ہے۔ حدیث بروایت ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح
- ٥٢ رنگ سفید سرخی مائل ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٧) ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح
- ٥٣ بالوں کی لمبائی دونوں شانوں تک ہوگی۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٧) ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح
- ٥٤ بالوں کا رنگ بہت سیاہ چمکدار ہوگا۔ جیسے نہانے کے بعد بال ہوتے ہیں۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٧) ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح
- ٥٥ بال گھنگریالے ہوں گے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٧) ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح (بعض روایات میں ہے کہ سیدھے بال ہوں گے۔ ممکن ہے کہ اختلاف دو وقتوں کے لحاظ سے ہو)
- ٥٦ صحابہ میں آپ کے مشابہ عروہ بن مسعود ہیں۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠٣) ابوداؤد وابن ابی شیبہ واحمد وابن حبان وصححہ ابن حجر فی الفتح
- ٥٧ آپ کی خوراک لوبیا اور جو چیزیں آگ پر نہ پکیں۔ (ابن عساکر ج ٢٠ ص ١١٨، رواہ دیلمی)
٤٤
آخر زمانہ میں آپ کا دوبارہ نزول
- ٥٨ قرب قیامت میں پھر آسمان سے اترنا۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٦، حدیث نمبر ٣٨٦٧١
- ٥٩ نزول کے وقت آپ کا لباس، دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧)
- ٦٠ آپ کے سر پر ایک لمبی ٹوپی ہوگی۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٨، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦
- ٦١ آپ ایک زرہ پہنیں گے۔
حدیث نمبر ٦٨، درمنثور
بوقت نزول آپ کے بعض حالات
- ٦٢ دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔
مسند احمد ج ٤ ص ١٨١
- ٦٣ آپ کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا۔ جس سے دجال کو قتل کریں گے۔
ابن عساکر ج ٢٠ ص ١٥٢
- ٦٤ اس وقت جس کسی کافر پر آپ کے سانس کی ہوا پہنچ جائے گی وہ مر جائے گا۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٦، حدیث نمبر ٣٨٧٤٠
- ٦٥ سانس کی ہوا اتنی دور تک پہنچے گی جہاں تک آپ کی نظر جائے گی۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٦، حدیث نمبر ٣٨٧٤٠
مقام نزول اور وقت نزول کی مکمل تعیین و توضیح
- ٦٦ آپ کا نزول دمشق میں ہوگا۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٦، حدیث نمبر ٣٨٧٤٠
٤٥
٦٧ دمشق کی جامع مسجد میں نزول ہوگا۔ کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٦، حدیث نمبر ٣٨٧٤٠
٦٨ جامع مسجد دمشق کے بھی شرقی گوشہ میں نزول ہوگا۔ کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٦، حدیث نمبر ٣٨٧٤٠
٦٩ نماز صبح کے وقت آپ نازل ہوں گے۔ مسند احمد ج ٤ ص ٢١٧
بوقت نزول حاضرین کا مجمع اور ان کی کیفیت
٧٠ مسلمانوں کی ایک جماعت مع امام مہدی کے مسجد میں موجود ہوگی۔ جو دجال سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے ہوں گے۔ ابن ماجہ ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم
٧١ ان کی تعداد آٹھ سو مرد اور چار سو عورتیں ہوں گی۔ کنز العمال ج ١٤ ص ٣٣٨، حدیث نمبر ٣٨٨٦٣
٧٢ بوقت نزول عیسیٰ علیہ السلام یہ لوگ نماز کے لئے صفیں درست کرتے ہوئے ہوں گے۔ مسلم ج ٢ ص ٣٩٢
٧٣ اس جماعت کے امام اس وقت حضرت مہدی ہوں گے۔ ابن ماجہ ص ٢٩٨
٧٤ حضرت مہدی علیہ السلام کو امامت کے لئے بلائیں گے اور وہ انکار کریں گے۔ مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم
٧٥ جب حضرت مہدی پیچھے ہٹنے لگیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انہیں کو امام بنائیں گے۔ ابن ماجہ ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام
٤٦
- ٧٦ پھر حضرت مہدی نماز پڑھائیں گے۔
ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة
الدجال وخروج عيسى عليه السلام
بعد نزول آپ کتنے دن دنیا میں رہیں گے
- ٧٧ آپ چالیس سال دنیا میں قیام فرمائیں
گے۔
ابوداؤد، ابن ابی شیبه، احمد،
ابن حبان، ابن جریر
بعد نزول آپ کا نکاح اور اولاد
- ٧٨ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں نکاح
ہوگا۔
فتح الباری ، حدیث نمبر ١٠١،
كتاب الخطط للمقريزى
- ٧٩ بعد نزول آپ کے اولاد ہوگی۔
مشكوة ص ٤٨٠
نزول کے بعد مسیح موعود کے کارنامے
- ٨٠ آپ صلیب توڑیں گے۔ یعنی صلیب پرستی
کو اٹھا دیں گے۔
مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول
عيسى عليه السلام
- ٨١ خنزیر کو قتل کریں گے۔ یعنی نصرانیت کو
مٹائیں گے۔
مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول
عيسى عليه السلام
- ٨٢ آپ نماز سے فارغ ہوکر دروازہ مسجد
کھلوائیں گے اور اس کے پیچھے دجال ہوگا۔
ابن ماجه ص ٢٩٨
- ٨٣ دجال اور اس کے ساتھیوں سے جہاد کریں
گے۔
ابن ماجه ص ٢٩٨
٤٧
- ٨٤ دجال کو قتل فرمائیں گے۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٨٥ دجال کا قتل ارض فلسطین میں باب لد کے
پاس ہوگا۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٨٦ اس کے بعد تمام دنیا مسلمان ہو جائے گی۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٨٧ جو یہودی باقی ہوں گے چن چن کر قتل کر
دیئے جائیں گے۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٨٨ کسی یہودی کو کوئی چیز پناہ نہ دے سکے گی۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٨٩ یہاں تک کہ درخت اور پتھر بول اٹھیں گے
کہ ہمارے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے۔
ابن ماجہ ص ٢٩٨
- ٩٠ اس وقت اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ
جائیں گے۔
مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧
- ٩١ اور جہاد موقوف ہو جائے گا۔ کیونکہ کوئی کافر
ہی باقی نہ رہے گا۔
بخاری ج ١ ص ٤٩٠
- ٩٢ اور اس لئے جزیہ کا حکم بھی باقی نہ رہے گا۔
مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول
عیسیٰ
- ٩٣ مال و زر لوگوں میں اتنا عام کر دیں گے کہ
کوئی قبول نہ کرے گا۔
مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول
عیسیٰ
- ٩٤ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کی امامت
کریں گے۔
مسلم، مسند احمد
- ٩٥ حضرت مسیح مقام فج الروحاء میں تشریف
لے جائیں گے۔
مسلم ج ١ ص ٤٠٨
٤٨
- ٩٦ حج یا عمرہ یا دونوں کریں گے۔
مسلم ج ١ ص ٤٠٨
- ٩٧ رسول اللہ ﷺ کے روضہ اقدس پر تشریف
لے جائیں گے۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٣٣٥، حدیث
نمبر ٣٨٨٥٠
- ٩٨ نبی کریم ﷺ ان کے سلام کا جواب دیں
گے۔ جس کو سب حاضرین سنیں گے۔
کنز العمال ص ٣٣٥، حدیث
نمبر ٣٨٨٥٠
مسیح موعود لوگوں کو کس مذہب پر چلائیں گے
- ٩٩ آپ قرآن وحدیث پر خود بھی عمل کریں
گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ یحکم بشرعنا لا بشرعہ
مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہری وباطنی برکات
- ١٠٠ ہر قسم کی دینی ودنیوی برکات نازل ہوں
گے
مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧
- ١٠١ سب کے دلوں سے بغض وحسد اور کینہ نکل
جائے گا۔
مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول
عیسیٰ علیہ السلام
- ١٠٢ ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ ایک جماعت کے
لئے کافی ہوگا۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٨، حدیث
نمبر ٣٨٧٤٠
- ١٠٣ ایک دودھ دینے والی اونٹنی لوگوں کی ایک
جماعت کے لئے کافی ہوگی۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٨، حدیث
نمبر ٣٨٧٤٠
- ١٠٤ ایک دودھ والی بکری ایک قبیلہ کے لئے کافی
ہو جائے گی۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٢٨٨، حدیث
نمبر ٣٨٧٤٠
٤٩
١٠٥ ہر ڈنگ والے زہریلے جانور کا ڈنگ وغیرہ ابن ماجہ ص ٢٩٨ نکال لیا جائے گا۔
١٠٦ یہاں تک کہ ایک لڑکی اگر سانپ کے منہ ابن ماجہ ص ٢٩٨ میں ہاتھ دے گی تو وہ اس کو نقصان نہ پہنچائے گا۔
١٠٧ ایک لڑکی شیر کو بھگا دے گی اور وہ اس کو کوئی ابن ماجہ ص ٢٩٨ تکلیف نہ پہنچا سکے گا۔
١٠٨ بھیڑیا بکریوں کے ساتھ ایسا رہے گا جیسے کتا ابن ماجہ ص ٢٩٨ ریوڑ کی حفاظت کے لئے رہتا ہے۔
١٠٩ ساری زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر ابن ماجہ ص ٢٩٨ جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے۔
١١٠ صدقات کا وصول کرنا چھوڑ دیا جائے گا۔ ابن ماجہ ص ٢٩٨
یہ برکات کتنی مدت تک رہیں گی؟
١١١ یہ برکات سات سال تک رہیں گی۔ مسلم ج ٢ ص ٤٠٣، باب ذکر الدجال
لوگوں کے حالات متفرقہ جو مسیح موعود کے وقت میں ہوں گے
١١٢ رومی لشکر مقام اعماق یا دابق میں اترے گا۔ مسلم ج ٢ ص ٣٩١، کتاب الفتن واشراط الساعۃ
١١٣ ان سے جہاد کے لئے مدینہ منورہ سے ایک مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب لشکر چلے گا۔ الفتن واشراط الساعۃ
٥٠
١١٤ یہ لشکر ا ہوگا۔
١١٥ ان کے جائیں گے
١١٦ ایک تہائی
١١٧ ایک تہائی
١١٨ ایک تہائی
١١٩ قسطنطنیہ
١٢٠ جس وقت ہوں گے جائے گی
١٢١ لیکن جس آئیں گے
١٢٢ عرب اس سب ک گے۔
- ١١٤ یہ لشکر اپنے زمانہ کے بہترین لوگوں کا مجمع ہوگا۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١١٥ ان کے جہاد میں لوگوں کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١١٦ ایک تہائی حصہ شکست کھائے گا۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١١٧ ایک تہائی شہید ہو جائے گا۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١١٨ ایک تہائی فتح پا جائیں گے۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١١٩ قسطنطنیہ فتح کریں گے۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
پہلے خروج دجال کی غلط خبر کا مشہور ہونا
- ١٢٠ جس وقت وہ غنیمت تقسیم کرنے میں مشغول ہوں گے تو خروج دجال کی غلط خبر مشہور ہو جائے گی۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
- ١٢١ لیکن جب یہ لوگ ملک شام میں واپس آئیں گے تو دجال نکل آئے گا۔
مسلم ج ٢ ص ٣٩١، ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة
اس زمانے میں عرب کا حال
- ١٢٢ عرب اس زمانے میں بہت کم ہوں گے اور سب کے سب بیت المقدس میں ہوں گے۔
ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال
٨١
لوگوں کے بقیہ حالات
- ١٢٣ مسلمان دجال سے بچ کر افیق پہاڑ پر جمع ہو
جائیں گے۔ (یہ پہاڑ ملک شام میں ہے)
احمد ج ٤ ص ٢١٦، ٢١٧
- ١٢٤ اس وقت مسلمان سخت فقر و فاقہ میں مبتلا
ہوں گے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ اپنی کمان کا چلہ جلا کر کھا جائیں گے۔
احمد ج ٤ ص ٢١٦، ٢١٧
- ١٢٥ اس وقت اچانک ایک منادی آواز دے گا
کہ تمہارا فریاد رس آ گیا۔
احمد ج ٤ ص ٢١٦، ٢١٧
- ١٢٦ لوگ تعجب سے کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ
بھرے ہوئے کی آواز ہے۔
احمد ج ٤ ص ٢١٦، ٢١٧
غزوۂ ہندوستان کا ذکر
- ١٢٧ ایک مسلمانوں کا لشکر ہندوستان پر جہاد
کرے گا اور اس کے بادشاہوں کو قید کر لے گا۔
ابونعیم ج ١ ص ٤٠٩، حدیث
نمبر ١٢٣٦
- ١٢٨ یہ لشکر اللہ کے نزدیک مقبول اور مغفور ہوگا۔
ابونعیم ج ١ ص ٤٠٩، حدیث
نمبر ١٢٣٦
- ١٢٩ جس وقت یہ لشکر واپس ہوگا تو عیسیٰ علیہ
السلام کو ملک شام میں پائے گا۔
ابونعیم ج ١ ص ٤٠٩، حدیث
نمبر ١٢٣٦
- ١٣٠ بنی عباس اس وقت گاؤں میں رہیں گے۔
کنز العمال ج ١٤ ص ٦٢٠، حدیث
نمبر ٣٩٧٢٧
٥٢
- ١٣١ اور سیاہ کپڑے پہنیں گے۔
کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠، حدیث
نمبر ٣٩٧٢٧
- ١٣٢ اور ان کے متبعین اہل خراسان ہوں گے۔
کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث
نمبر ٣٩٧٢٧
- ١٣٣ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعتماد پر
تمام دنیا سے مستغنی ہو جائیں گے۔
کنزالعمال ج ١٤ ص ٦٢٠، حدیث
نمبر ٣٩٧٢٧
مسیح موعود کے اہم واقعات
آپ کے نزول سے پہلے دجال کا خروج
- ١٣٤ شام وعراق کے درمیان دجال نکلے گا۔
کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٨٥، حدیث
نمبر ٣٨٧٤٠
دجال کی علامات
حدیث
- ١٣٥ اس کی پیشانی پر کافر اس صورت میں لکھا
ہوگا۔ ک ، ف ، ر
مسند احمد
حدیث
- ١٣٦ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔
مسند احمد
حدیث
- ١٣٧ داہنی آنکھ میں سخت ناخنہ ہوگا۔
مسند احمد
حدیث
- ١٣٨ تمام دنیا میں پھر جائے گا کوئی جگہ باقی نہ
رہے گی۔ جس کو وہ فتح نہ کرے۔
مسند احمد
حدیث
- ١٣٩ البتہ حرمین، مکہ و مدینہ اس کے شر سے محفوظ
رہیں گے۔
مسند احمد
٥٣
١٤٠ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ہر راستہ پر فرشتوں کا پہرہ ہوگا۔ جو دجال کو اندر نہ گھسنے دیں گے۔ مسند احمد
١٤١ جب مکہ و مدینہ سے دفع کر دیا جائے گا تو ظریب احمر میں سبخہ (کھاری زمین) کے ختم پر جا کر ٹھہرے گا۔ مسند احمد
١٤٢ اس وقت میں تین زلزلے آئیں گے جو منافقین کو مدینہ سے نکال پھینکیں گے اور تمام منافق مرد وعورت دجال کے ساتھ ہو جائیں گے۔ مسند احمد
١٤٣ اس کے ساتھ ظاہری طور پر جنت دوزخ ہوگی۔ مگر حقیقت میں اس کی جنت دوزخ اور دوزخ جنت ہوگی۔ مسند احمد
١٤٤ اس کے زمانہ میں ایک دن سال کے برابر اور دوسرا مہینہ کے برابر اور تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا اور پھر باقی ایام عادت کے موافق ہوں گے۔ مسند احمد
١٤٥ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا جس کے دونوں ہاتھوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا۔ مسند احمد
١٤٦ اس کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو لوگوں سے کلام کریں گے۔ مسند احمد
٥٤
- ١٤٧ جب وہ بادل کو کہے گا فوراً بارش ہو جائے گی ۔
مسند احمد
- ١٤٨ اور جب چاہے گا تو قحط پڑ جائے گا۔
مسند احمد
- ١٤٩ مادر زاد اندھے اور ابرص کو تندرست کر دے گا۔
مسند احمد
- ١٥٠ زمین کے پوشیدہ خزانوں کو حکم دے گا تو فوراً باہر آ کر اس کے پیچھے ہو جائیں گے۔
طبرانی
- ١٥١ دجال ایک نوجوان آدمی کو بلائے گا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے بیچ سے کر دے گا اور پھر اس کو بلائے گا تو وہ صحیح سالم ہو کر ہنستا ہوا سامنے آ جائے گا۔
طبرانی
- ١٥٢ اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے۔ جن کے پاس جڑاؤ تلواریں اور ساج ہوں گے۔
طبرانی
- ١٥٣ لوگوں کے تین فرقے ہو جائیں گے۔ ایک فرقہ دجال کا اتباع کرے گا اور ایک فرقہ اپنی کاشت کاری میں لگا رہے گا اور ایک فرقہ دریائے فرات کے کنارے پر اس کے ساتھ جہاد کرے گا۔
ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٥٤ مسلمان ملک شام کی بستیوں میں جمع ہو جائیں گے اور دجال کے پاس ایک ابتدائی لشکر بھیجیں گے۔
ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
٥٥
- ١٥٥ اس لشکر میں ایک شخص ایک سرخ (یا سیاہ، سفید) گھوڑے پر سوار ہوگا اور یہ سارا لشکر شہید ہو جائے گا۔ ان میں سے ایک بھی واپس نہ آئے گا۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
دجال کی ہلاکت اور اس کے لشکر کی شکست
- ١٥٦ دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٥٧ اس وقت تمام یہودیوں کو شکست ہوگی۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
یاجوج ماجوج کا نکلنا اور ان کے بعض حالات
- ١٥٨ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو نکالے گا۔ جن کا سیلاب تمام عالم کو گھیر لے گا۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٥٩ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام مسلمانوں کو طور پہاڑ پر جمع فرمائیں گے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٠ یاجوج ماجوج کا ابتدائی حصہ جب دریائے طبریہ پر گزرے گا تو سب دریا کو پی کر صاف کر دے گا۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦١ اس وقت ایک بیل لوگوں کے لئے سو دینار سے بہتر ہوگا۔ (بوجہ قحط کے یا دنیا سے قلت رغبت کی وجہ سے)
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
٥٦
مسیح موعود کا یاجوج ماجوج کے لئے بددعا فرمانا اور ان کی ہلاکت
- ١٦٢ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے لئے بددعا فرمائیں گے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٣ اللہ تعالیٰ ان کے گلوں میں ایک گلٹی نکال دے گا۔ جس سے سب کے سب دفعۃً مرے ہوئے رہ جائیں گے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جبل طور سے اترنا
- ١٦٤ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر جبل طور سے زمین پر اتریں گے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٥ مگر تمام زمین یاجوج ماجوج کے مردوں کی بدبو سے بھری ہوئی ہوگی۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٦ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دعا فرمائیں گے کہ بدبو دور ہو جائے۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٧ اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جس سے تمام زمین دھل جائے گی۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
- ١٦٨ پھر زمین اپنی اصلی حالت پر پھولوں اور پھلوں سے بھر جائے گی۔
ابن ابی شیبہ، عباس، ابن حمید، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم
مسیح موعود کی وفات اور اس سے قبل وبعد کے حالات
- ١٦٩ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو فرمائیں گے کہ میرے بعد ایک شخص کو خلیفہ بنائیں جس کا نام مقعد ہے۔
الاشاعة البرزنجی
٥٧
١٧٠ اس کے بعد آپ کی وفات ہو جائے گی۔ مسند احمد
١٧١ نبی اکرم ﷺ کے روضہ اطہر میں چوتھی قبر مسند احمد آپ کی ہو گی۔
١٧٢ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعمیل ارشاد مسند احمد کے لئے مقعد کو خلیفہ بنائیں گے۔
١٧٣ پھر مقعد کا بھی انتقال ہو جائے گا۔ مسند احمد
١٧٤ پھر لوگوں کے سینوں سے قرآن اٹھا لیا مسند احمد جائے گا۔
١٧٥ یہ واقعہ مقعد کی موت سے تین سال بعد مسند احمد ہوگا۔
١٧٦ اس کے بعد قیامت کا حال ایسا ہو گا جیسے کوئی مسند احمد پورے نو ماہ کی حاملہ کا کہ معلوم نہیں کب ولادت ہو جائے۔
١٧٧ اس کے بعد قیامت کی بالکل قریبی علامات مسند احمد ظاہر ہوں گی۔
”ذالك عيسى ابن مريم قول الحق الذى فيه يمترون“
ختم نبوت کے بارے صحابہ کرامؓ کا اجماع
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کا قول ہے: ”اور اجماع صحابہؓ حجت قطعیہ ہے۔ اس کا اتباع فرض ہے۔ بلکہ وہ تمام شرعی حجتوں سے زیادہ مؤکد اور سب سے مقدم ہے۔“
(اقامۃ الدلیل ج ٣ ص ١٣٠)
”ادلہ شرعیہ میں سب سے زیادہ بڑی دلیل صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔ علماء اصول کا
٥٨
اتفاق ہے کہ کسی مسئلہ میں تمام صحابہ کرام کی آراء جمع ہو جائیں تو وہ بالکل ایسا ہی قطعی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی آیات۔“
(ختم نبوت ص ٣٠١)
صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع مسئلہ ختم نبوت اس کے منکر کے مرتد اور واجب القتل ہونے پر ہوا ہے۔
مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی کی طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کا منکر نہ تھا۔ بلکہ بعینہ مرزا قادیانی کی طرح آپ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان کے کلمات میں اشہد ان محمد رسول اللہ پکارا جاتا تھا۔ تاہم کبھی بھی مسیلمہ کذاب نے خود کو بعینہ محمد رسول اللہ نہیں کہا تھا۔ جب کہ مرزا قادیانی نے کئی جگہ پر محمد رسول اللہ اپنے لئے استعمال کیا ہے۔ گویا کہ عہد حاضر کا مسیلمہ اعتبار سے کفر، نفاق، ارتداد، فریب کاری اور دجل میں آنحضرت ﷺ کے مسیلمہ سے کہیں آگے ہے۔
اجماع صحابہ کی نسبت حضرت مفتی محمد شفیع رقم طراز ہیں۔ ”مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن پر ایمان کے علاوہ نماز، روزہ پر بھی ایمان رکھتا تھا۔ لیکن ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار اور دعوائے نبوت کی وجہ سے باجماع صحابہ کافر سمجھا گیا اور حضرت ابوبکر صدیق نے صحابہ کرام، مہاجرین وانصار اور تابعین کا ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں مسیلمہ کے خلاف جہاد کے لئے روانہ کیا۔ جمہور صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی انکار نہ کیا اور کسی نے یہ نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ، کلمہ گو ہیں۔ قرآن پڑھتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے...... الحاصل بلاخوف وبلا نکیر یہ آسمان نبوت کے ستارے اور حزب اللہ کا ایک جم غفیر یمامہ کی طرف بڑھا اور ١٢٠٠ صحابہ کرام اس میں شہید ہوئے۔ ٤٠ ہزار مسیلمہ کے فوجیوں میں ٢٨ ہزار مع مسیلمہ قتل ہوئے...... کسی صحابی نے مسیلمہ یا اس کی فوج سے کوئی دلیل طلب نہ کی۔ نہ معجزات دریافت کئے..... صحابہ کرام کی اس جہاد کے لئے روانگی اور آمادہ ہو جانے سے صاف معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا خواہ وہ کسی تاویل اور کسی پیرایہ سے ہو باجماع صحابہ موجب کفر وارتداد ہے۔...... اس سے بلا تکلف یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے دعویٰ نبوت میں غیر تشریعی یا غیر مستقل، یا ظلی بروزی، لغوی و جزوی کی جو آڑ لی ہے۔ وہ حقیقت میں پوری امت مسلمہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ان کا یہ فریب اور دھوکہ ان کو کفر
٥٩
سے نہیں بچا سکتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام اسلامی فرائض و احکام بہ صدق دل سے تسلیم کرنے کے باوجود نئی نبوت کا ادعا اور اس کا اتباع ہی اتنا بڑا کفر ہے کہ سارے دوسرے شعائر پر ایمان لانا بھی کچھ کام نہیں آسکتا۔“
(ختم نبوت ص٤٠٤)
آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق امت میں بہت سے کذاب لوگوں نے دعویٰ نبوت کیا۔ جن کی تفصیل شروع میں بیان ہوچکی ہے۔ مگر صحابہ کرامؓ و تابعین اور ان کے بعد تمام خلفاء اسلام نے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو ایک مرتد کے ساتھ ہونا چاہئے۔
تورات، انجیل، زبور اور کتب قدیمہ میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کی اہمیت
قرآن و حدیث کی واضح ہدایات کے بعد کسی دوسرے ذریعے سے اب تشفی کی ضرورت تو نہ رہی۔ تاہم کتب سابقہ اور صحائف انبیاء کے مجموعوں سے چند ایسی روایات نقل کی جاتی ہیں۔ جس سے آپ کی عالمگیر نبوت اور خاتمیت کبریٰ کی نشان دہی ہورہی ہے۔ تاکہ؎
کے مصداق شاید اس حصے کے ذریعے کسی مرزائی کے لوح قلب پر ہدایت آشکار ہو جائے اور اس طرح اس مجموعہ مفیدہ کا مقصد پورا ہوسکے۔
تورات کی بے مثال شہادت
آنحضرت ﷺ کے صحابی حضرت کعب بن احبارؓ کا بیان ہے: ”میرے والد مکرم تورات اور اس کلام پاک کے سب سے زیادہ عالم تھے۔ جب ان کی وفات قریب آئی تو مجھے بلایا اور کہا۔ بیٹا تم جانتے ہو جو کچھ علم مجھے حاصل تھا۔ میں نے تم سے نہیں چھپایا۔ مگر دو ورق ابھی تک تم پر ظاہر نہیں کئے۔ جن میں ایک نبی کا ذکر ہے۔ جن کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ تمہیں پہلے سے اس پر مطلع کردوں۔ کیونکہ خطرہ تھا کہ کوئی کذاب اٹھے اور تم اس جھوٹے نبی کو موجود سمجھ کر اطاعت شروع کردو۔ لہٰذا ان دونوں ورقوں کو میں نے اس طاق میں جس کو تم دیکھ رہے ہو۔ گارے سے بند کر دیا۔“
کعبؓ فرماتے ہیں: ”میں نے پھر یہ دو ورق اس طاق سے نکالے تو ان میں یہ کلمات درج تھے۔ ’محمد رسول اللہ وخاتم النبیین لا نبی بعدہ‘ محمد اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے ختم کرانے والے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(رواہ ابونعیم از در منثور ج٣ ص١٣٢)
٦٠
حضرت شعیب علیہ السلام کی گواہی
اسلامی تاریخ کے عظیم سکالر علامہ جلال الدین سیوطیؒ درمنثور ج٣ص١١٤ میں رقم طراز ہیں: ”حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام پر اللہ کی وحی نازل ہوئی اور ان کی طویل کلام کے ضمن میں درج ذیل کلمات درج تھے۔ ”انی باعث نبياً امياً...... اختم بكتابهم الكتب وبشريعتهم الشرائع وبدينهم الاديان “ میں ایک نبی امی بھیجنے والا ہوں۔ ان کی جائے پیدائش مکہ اور معجزات گاہ مدینہ اور اقتدار ملک شام تک ہوگا۔ ان کی امت کو بہترین امت بناؤں گا۔ ان کی کتاب پر آسمانی کتابیں اور ان کے دین پر تمام ادیان ختم کردوں گا۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان
امام التفسیر ابن جریر طبریؒ آیہ کریمہ”واخذ الالواح “ کے تحت لکھتے ہیں: ”قال موسىٰ يارب انى اجد فى الالواح امة هم الاخرون فى الخلق السابقون فى دخول الجنة ربى اجعلهم امتى قال تلك امة محمد ﷺ “ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب میں تورات کی تختیوں میں ایک ایسی امت دیکھتا ہوں جو پیدائش میں سب سے آخری ہے اور دخول جنت میں سب سے مقدم ہے۔ اے میرے رب ان کو میری امت بنادے۔ اللہ نے فرمایا وہ تو محمد ﷺ کی امت ہے۔
کنیسہ ابی غنی کے ایک پادری کا اعلان ختم نبوت
مشہور صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں۔ میں نے حضور ﷺ کے بارے میں اسکندریہ کے ہر قبطی اور رومی سے پوچھا۔ چنانچہ کنیسہ ابی غنی کے ایک پادری سے دریافت کیا۔ ”اخبرنى هل بقى من الانبياء قال نعم وهو آخر الانبياء ليس بينه وبين عيسىٰ ابن مريم احد قد امرنا عيسىٰ باتباعه وهو النبى الامى العربى اسمه احمد “ مجھے بتلاؤ کہ کیا انبیاء میں سے کوئی نبی باقی ہیں۔ اس نے کہا ہاں اور وہی آخر الانبیاء ہیں۔ ان کے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں ان کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ وہ نبی عربی امی ہیں۔ ان کا نام احمد ہے۔ (دلائل النبوۃ ص٢٠)
یہودی کا اعلان ختم نبوت
حضرت حسانؓ سے روایت ہے: ”میں آخر شب ایک ٹیلہ پر تھا کہ یکا یک ایک آواز
٦١
بلند ہوئی۔ جس سے زیادہ بلند آواز میں نے کبھی نہیں سنی تھی۔ دیکھا گیا تو وہ ایک یہودی تھا۔ جو مدینہ طیبہ کے ایک ٹیلہ پر ایک مشعل لئے ہوئے ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے اور کہا کیا ہوا کیوں چلاتے ہو؟ حضرت حسانؓ کا بیان ہے: ”میں نے اور لوگوں نے اس کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ”هذا كوكب احمد قد طلع كوكب لا يطلع الا بالنبوة ولم يبق من الانبياء الا احمد“ یہ ستارہ احمد طلوع ہو چکا۔ یہ ستارہ ہمیشہ نبوت کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انبیاء میں سے احمد (ﷺ) کے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔ جو مبعوث نہ ہوا ہو۔“
(دلائل النبوۃ بحوالہ ختم نبوت از مفتی محمد شفیع ص ١٤)
حضرت خویضہ بن مسعود فرماتے ہیں: ”یہود ہمارے ساتھ رہتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک ایسے نبی کے پیدا ہونے کا ذکر کیا کرتے تھے جو مکہ میں مبعوث ہوں گے اور ان کا نام احمد ہوگا اور انبیاء میں سے ان کے سوا کسی کی بعثت باقی نہیں رہی اور یہ سب ہماری کتابوں میں موجود ہے۔“
(دلائل النبوۃ بحوالہ ختم نبوت از مفتی محمد شفیع ص ١٧)
صحیفہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میں ختم نبوت کا ذکر
امام شعمیؒ کا بیان ہے: ”انه كائن من ولدك شعوب وشعوب حتى يأتى النبى الامى الذى يكون خاتم الانبياء“ آپ کی اولاد میں قبائل در قبائل ہوتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ نبی امی آجائیں۔ جو خاتم الانبياء ہوں گے۔
(خصائص ج ١ ص ٩)
یہود بنی قریظہ اور بنی نضیر کے راہبوں کا اعلان ختم نبوت
حضرت سعد بن ثابتؓ سے روایت ہے۔ یہود بنی قریظہ اور بنی نضیر کے پادری نبی کریم ﷺ کی صفات بیان کیا کرتے تھے۔ جب کوکب احمر طلوع ہوا تو سب نے متفقہ طور پر کہا: ”انه نبى وانه لا نبى بعده واسمه احمد“ محمد ﷺ نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ کا نام احمد ہے۔
(خصائص ج ١ ص ٢٧، از سیوطیؒ)
حضرت یعقوب علیہ السلام کا اعلان ختم نبوت
محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی: ”انى ابعث من ذريتك ملوكاً وانبياء حتى ابعث النبى الامى الذى بنى امته هيكل بيت المقدس وهو خاتم الانبياء واسمه احمد“ میں آپ کی ذریت میں بادشاہ اور انبیاء پیدا کروں گا۔ یہاں تک کہ حرم والے نبی مبعوث ہوں۔ جن کی امت
٦٢
ہیکل بیت المقدس کو بنائے گی اور خاتم الانبیاء ہوں گے اور ان کا نام احمد ہوگا۔
(خصائص ج١ ص٩)
ختم نبوت کے بارے میں صحابہ کرام، ائمہ عظام اور اسلامی زعما کی رائے
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق: اب وحی منقطع ہوچکی ہے اور دین الٰہی مکمل ہو چکا ہے۔
(تاریخ الخلفاء سیوطی ص٩٤)
حضرت سیدنا فاروق اعظم: آج ہم وحی کو، خدا کی جانب سے نئے کلام کو، گم کر چکے ہیں۔
(کنزالعمال ج٢ ص٥٠)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ: آپؐ نبوت کے ختم کرنے والے تھے۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
(شمائل ترمذی)
حضرت عائشہؓ: آنحضرتﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہو گیا۔
(مشکوٰۃ شریف)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ: آپؐ کا ظہور سب انبیاء کے بعد ہوا۔
(مشکوٰۃ شریف)
خصائص اور احادیث کی کتابوں سے جن صحابہ کرام سے ختم نبوت کی تصدیق وتائید جھلکتی ہے۔ ان کی تعداد ١٠٠ کے قریب ہے۔
(ختم نبوت ص٣١٤)
طبقات المحدثین: مفتی محمد شفیعؒ نے ٥٨ محدثین کا ذکر کیا ہے۔ جن میں امام بخاریؒ سے لے کر امام شعبیؒ تک تمام نے مسئلہ ختم نبوت پر اجماع نقل کیا ہے۔ امام الحدیث قاضی عیاضؒ کے مطابق ختم نبوت کے مسئلہ پر محدثین کا بھی اجماع ہے۔ کسی محدث نے کبھی بھی مسئلہ ختم نبوت سے سرمو اختلاف نہیں کیا۔
شیخ الاسلام ابوزرعہ عراقیؒ: مہر نبوت سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپؐ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔
محدث عبدالرؤف مناویؒ: مہر نبوت کی اضافت نبوت کی طرف اس لئے ہے کہ وہ اختتام نبوت کی علامت ہے۔ کیونکہ کسی شے پر مہر جب ہی ہوتی ہے جب وہ ختم ہو چکے۔
حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ: آنحضرتﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کذاب اور دجال ہے۔
امام طحاویؒ: آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بغاوت اور گمراہی ہے اور آپؐ ہی تمام مخلوق جن و انس کے نبی اور رسول ہیں۔
حافظ ابن قیمؒ: آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی، رسول نہ آپ کے دور میں، آپؐ آخری نبی ہیں۔
امام شاہ ولی اللہؒ: آنحضرتﷺ کا سب سے بڑا امتیاز آپؐ کی ختم نبوت ہے۔
٦٣
حضرت مجدد الف ثانیؒ: حضور ﷺ کے بعد قیامت تک وحی کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ: مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و مسیحیت کے کذب پر کوئی شک نہیں۔
طبقات المفسرین: مفتی محمد شفیعؒ کے مطابق امام ابو جعفر طبریؒ، امام راغب اصفہانیؒ، امام ابن کثیرؒ، سید محمود آلوسیؒ، حضرت شاہ رفیع الدینؒ، حضرت شاہ عبد القادر دہلویؒ اور آپ کے بعد حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ تمام مفسرین نے بالاتفاق آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر اور مرتد قرار دیا ہے۔
طبقات فقہاء
امام ابو حنیفہؒ: آنحضرت ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت سے دلیل مانگنے والا بھی کافر ہے۔
امام مالکؒ: آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نئے نبی اور رسول کی بعثت نہیں۔
امام شافعیؒ: امت محمدیہ کا سب سے بڑا اجماع آپ کے آخری ہونے پر ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ: حضور ﷺ کے بعد قیامت تک خلفاء اور اسلام کے سچے علماء اس مشن کے وارث ہوں گے۔
اسی طرح دیگر اکابرین اسلام میں علامہ ابن نجیم صاحب بحر الرائق، شرح کنز الدقائق، صاحب ہدایہ، صاحب فتاویٰ عالمگیر، شیخ سلیمان شرح منہاج، علامہ ابن حجر مکی، ابن حجر عسقلانیؒ، علامہ جلال الدین سیوطیؒ، حضرت ملا علی قاریؒ، امام عبد الرشید بخاری صاحب خلاصۃ الفتاویٰ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے بھی آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کے مدعی نبوت کو کاذب، دجال اور کافر قرار دیا ہے۔
حضرات متکلمین میں امام ابن حزم اندلسی، علامہ تفتازانی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، شیخ عبد الغنی نابلسی، صاحب شرح کفایۃ العوام، حجۃ الاسلام امام غزالیؒ نے نہایت وضاحت کے ساتھ ختم نبوت کا اثبات کر کے ہر جھوٹے مدعی نبوت کا رد فرمایا ہے۔
صوفیائے کرام میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ، مولانا جامیؒ، شیخ محی الدین ابن عربیؒ، شیخ تقی الدین عبد المالکؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت شیخ بہاء الدین زکریا ملتانیؒ، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت سید علی ہجویریؒ اور دنیا بھر کے مقتدایان اسلام اور مشائخین عظام میں سے کسی ایک نے بھی اجرائے نبوت کا قول نہیں کہا۔ سب کی طرف سے جھوٹے مدعی نبوت پر کفر کا فتویٰ صادر کیا گیا ہے۔
٦٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی
غیر مسلم کیوں؟
حضرت مولانا ابو ریحان ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حرف اوّل
دن کو سورج نکلتا ہے، روشنی چمکتی ہے، تمازت ارضی سے گلہائے رنگارنگ میں مہک پھوٹتی ہے۔ سبزوں میں لہک جھلکتی ہے۔ آفتاب عالم کا گوشہ گوشہ اس روشنی میں کاروبار حیات کا نظارہ کرتا ہے۔ سپیدہ سحر جونہی نمودار ہوتا ہے۔ جمال صباحت کی رنگینی اور کمال حسن کی رعنائی ذرہ ذرہ سے فروزاں ہو جاتی ہے۔ آفتاب عالم تاب کی اس کارگزاری پر جس طرح کسی کو شک نہیں گذرتا، اضمحلال نہیں آتا، ریب نہیں اٹھتا، ماہتاب چمکتا ہے، ستارے جھلملاتے ہیں، گلزار عالم کو حلاوت ملتی ہے، بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزل کا پتہ ملتا ہے۔ سمندروں کا خروش، پہاڑوں کی بلندی، آسمانوں کی وسعت، ارض عالم پر سکتے کا عالم طاری رہتا ہے۔ فکر ونظر کے زاویے، طمانیت کے خلعت سے مرصع ہوتے ہیں۔ تاہم گردش ایام کی بوقلمونیوں کے اس عظیم ہجوم میں قمر منیر کی چاندنی میں سرمو فرق نہ آیا۔ گردش دہر کی بادسموم سے اس کا پروگرام نہیں ٹوٹا۔ کسی کو وہم نہیں ہوتا۔ اس کی روشنی میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ اس کی جہاں آرائی، میٹھی میٹھی روشنی کے لباس میں جلوہ گر رہتی ہے۔ جلوہ فگن رہتی ہے۔ لمعہ افروز ہوتی ہے۔
بالکل اسی طرح ہم کو مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کوئی شک نہیں۔ لیکن صرف ان لوگوں کے لئے جو حق کے متلاشی ہوں، صراط مستقیم کے طالب ہوں، جدید علوم، جدید سائنس اور جدید تمدن سے آراستہ ہوں۔ مگر ان کے قلب وجگر میں کسی بھی غلط فہمی کے باعث مرزا قادیانی کے دعوؤں نے اثر جمالیا ہو، جن کے پاس لارڈ میکالے کا نظام تعلیم ہو، مگر دنیا کے سب سے بڑے معلم حضرت محمد ﷺ کے علوم ومعارف سے ان کو کچھ حصہ بھی میسر نہ آیا ہو۔ جو جدت طرازی کی چمک دمک میں اسلام کو عقل کے ترازو میں تولنے کے عادی ہوں اور دین فطرت کے حسن و کمال سے کوئی روشنی انہیں نہ ملی ہو۔ انہیں روحانیت کے مفہوم ہی سے شناسائی ہو نہ دینی اقدار سے ان کے مشام جان معطر ہو سکے ہوں۔
امید ہے ایسے بھائیوں کے لئے نہایت آزادانہ، حقیقت پسندانہ، غور وفکر کے ذریعے سچا راستہ بتانے میں علامہ ضیاء الرحمن فاروقیؒ کی یہ تحریر ضرور روشنی کا باعث ہوگی۔ (ادارہ)
٢
عرض مؤلف
اس کتاب کی ضرورت
٢٧؍ جولائی ١٩٨٦ء کو ویمبلے سنٹر لندن میں منعقد ہونے والی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونے کے بعد راقم کو پورے برطانیہ کے تفصیلی دورے کا موقع ملا۔ یہاں آ کر محسوس ہوا کہ یہاں کے مسلمان بے شمار مسائل کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ Freedom (آزادی) ہے۔ اس ہیجان کی کالی کالی گھٹاؤں میں اسلامیت کا تشخص حرف غلط کی طرح مٹتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل نہ صرف یہ کہ اپنے اسلامی تمدن وثقافت کو بھولتی جا رہی ہے۔ بلکہ اب تو اسے اسلام کی ابتدائی اصطلاحات سے بھی یک گونہ بعد ہو چکا ہے۔ تبلیغی جماعت اور علماء حق کے مدارس عربیہ اور مراکز اسلامیہ کے ذریعے روشنی کی جو کرنیں فروزاں ہیں۔ ان پر شب خون مارنے کے لئے گھر گھر میں ویڈیو فلمیں، بلیو پرنٹ، سر راہ حیا اور غیرت کا ننگا ناچ، اس پر مستزاد ہے۔ نئی مسلمان نسل کی اسلام سے بیگانگی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی وہ جماعت ہے جس کا بیج ایک ڈیڑھ صدی قبل خود انگریز ہی نے برصغیر میں بویا تھا اور اس کے ذریعے فرنگی سامراج نے اسلامی جہاد کی منسوخی سے لے کر امت مسلمہ میں تفرق وتشتت کی صورت میں بہت بڑا کریڈٹ حاصل کیا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے حواریوں کی یہی قادیانی جماعت ہے۔
قادیانی گروہ کے مکروہ چہرے سے پورے عالم اسلام میں پردہ اٹھ چکا ہے اور اسلام کے نام سے اسلام دشمنی کرنے والے اس گروہ کی سنڈاس سے ایک عالم متعفن ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات، مصر اور تمام اسلامی ممالک میں اس جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اہل اسلام کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اسلامی تنظیموں کی طرف سے یہ بات اب روز روشن کی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ قادیانیوں کا مذہبی، معاشرتی، تمدنی اور روحانی طور پر آنحضرتﷺ اور آپ کے دین اسلام سے قطعی کوئی رشتہ نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار جو کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس میں ”مـــــحـــــمـــــد رســـــول اللہ“ کے لفظ سے مراد خود مرزا قادیانی ہے اور یہ لوگ دھوکہ کے طور پر امت مسلمہ کو آنحضرتﷺ کا پیروکار ثابت کر کے آپ کی غلامی کے دعوے الاپتے ہیں۔ جب کہ حقیقت
٣
حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں کئی جگہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا ہم مثل اور بعینہ خود کو العیاذ باللہ محمد رسول اللہ ﷺ قرار دیا ہے۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠) کئی مقامات پر اپنے تئیں آپؐ سے بڑا ثابت کیا۔
عالم اسلام میں اس دجل وفریب کی قلعی کھل جانے کے بعد اب اس گروہ نے اپنے آقا انگریز کے پہلو میں بیٹھ کر سادہ لوح تارکین وطن مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔ علاوہ ازیں غیر مسلم اقوام کے سامنے اسلام کے علمبردار بن کر انہیں ”دعوتِ اسلام“ دینے لگے۔ برطانیہ کے علاوہ جرمنی، کینیڈا اور کئی افریقی ممالک میں اپنے مراکز قائم کر کے علماءِ اسلام سے نفرت اور مرزا قادیانی کی نبوت ومسیحیت کا فروغ شروع کیا۔
برطانیہ کے کئی شہروں میں انگریزی اور اردو میں ہر مسلمان کے گھر ایسے ایسے پمفلٹ پھینکے گئے کہ دفعۃً اسلام کا نام دیکھ کر ہر مسلمان متوجہ ہوا۔ نئے انداز اور نئے لہجے میں لکھے گئے اس پرفریب لٹریچر میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے نائب مرزا بشیر الدین اور مرزا ناصر کے لئے ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جو ایک برگزیدہ پیغمبر کے شایان شان ہیں۔ انتہائی خوبصورت طباعت سے مزین اس زہر کو نئی نسل کے حلقوم میں ڈالنے کی سعی ناکام جاری ہے۔ کیسٹوں کے ذریعے نام نہاد اسلام کا پیغام پہنچانے میں ہر قادیانی منہمک ہے۔ اعلیٰ سطحی انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ میں جہاں عام طور پر علماءِ اسلام کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ انتہائی زور وشور سے جھوٹی نبوت کے کارندے سرگرم ہیں۔
مجھے اعتراف ہے کہ اپنی ایک صدی پر مشتمل نہایت شاندار روایات کے عین مطابق حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قائم کردہ عالمی تنظیم ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے بہت بڑی حد تک اہل اسلام کو قادیانی فتنے کی چالبازیوں سے آگاہ کرنے کے لئے دور دور تک ان لوگوں کا تعاقب کیا۔ بے شمار پمفلٹ اور لاتعداد کتابیں، مختلف زبانوں میں شائع کیں۔ ادارہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان کی طرف سے علامہ منظور احمد چنیوٹیؒ نے بھی ان تھک جدوجہد کے ذریعے دنیا بھر میں عصرِ حاضر کے اس غیر مسلم گروہ کی سازشوں سے پردہ اٹھایا۔ یہ تمام کوششیں بے حد قابل تحسین ہیں۔ لیکن اس مطالعاتی سفر میں بڑے بڑے ثقافتی اداروں، کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں اور ایڈن برا، مانچسٹر، ڈنڈی کے تعلیمی اداروں میں جن اصحاب، فلسطینی طلباء اور اساتذہ، یمنی، سعودی، ترکی اور لبنانی مسلمان دانشوروں اور بڑے بڑے شہروں کے ایشیائی کاروباری مسلمان حلقوں اور گلاسگو، لندن، مانچسٹر، برمنگھم، بریڈفورڈ اور برسٹل کے احباب سے
٤
میری ملاقات ہوئی۔ انہیں بہت حد تک قادیانی گروہ کے جملہ عقائد ان کی گہری سازشوں اور اسلام دشمنی کا قطعاً علم نہ تھا۔ میں نے کئی تقریبات میں کھلے عام مسلمانوں کے ساتھ قادیانیوں کو علیک سلیک کرتے دیکھا تو میری حیرت و استعجاب کی حد نہ رہی۔
راقم نے ضروری سمجھا کہ فوری طور پر ایک مختصر مگر جامع کتاب منظر عام پر لا کر اسے برطانیہ، کینیڈا، افریقہ اور ہند و پاک میں مسلمانوں کے گھر پہنچایا جائے۔ اس مجموعے کو ایک پیغام کی صورت میں ہر نوجوان تک پہنچایا جائے۔ تاکہ ہر مسلمان کو قادیانیوں سے مسلمانوں کے اصل اختلافات کا علم ہو سکے۔
آنحضرت ﷺ کے ہر امتی پر لازم ہے کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کے خلاف کمر بستہ ہو۔ اس من گھڑت اور اسلام کے نام نہاد دعویداروں کا پردہ چاک کریں۔ زیر نظر مجموعے کی جملہ اشاعتوں کے لئے برطانیہ کے جن مخلص احباب نے تعاون کیا وہ پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس مجموعے کو دنیا بھر پھیلانے کے لئے اپنا اسلامی فریضہ ادا کرے۔ نیز اس ذخیرے کو نہایت حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔
سادہ لوح قادیانیوں سے درخواست ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر نہایت ٹھنڈے دل سے قادیانیت کا اصل روپ ملاحظہ کریں اور جس شخص کو وہ غلطی سے نبی یا مسیح موعود مان چکے ہیں۔ اس کی تمام رام کہانی سے ہم آغوش ہو کر اس گروہ کے کفریہ عقائد سے توبہ کریں۔
والسلام ! ضیاء الرحمٰن فاروقی حال وارد : ایڈن برا، اسکاٹ لینڈ
عامۃ الناس، سادہ لوح مسلمانوں اور توہم پرست غیر مسلموں کو
مرزائیت کے دام فریب میں پھنسانے کے لئے قادیانیوں کے پانچ حربے
جن سے خود آگاہ رہنا اور دوسرے لوگوں کو آگاہ کرنا ہر مسلمان پر نماز، روزے کی طرح فرض ہے۔ مرزائی کہتے ہیں:
- ☆...... مرزا غلام احمد قادیانی بھی ختم نبوت کے قائل تھے اور آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتے
تھے اور منکر ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے تھے لے
لے اس بارے میں قادیانی حضرات قرآنی آیات میں تحریف کر کے ١٤٠٠ سالہ جملہ مفسرین کے خلاف من گھڑت مطالب کے ذریعے قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔
٥
خاتم النبیین میں ”خاتم“ کا معنی مہر کر کے کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے مرزا قادیانی کی نبوت پر مہر لگا دی ہے۔ حالانکہ اس حقیقت سے ایک عام آدمی بھی واقف ہے کہ مہر ہمیشہ ہر چیز کے آخر میں لگائی جاتی ہے اور پھر چودہ سو سال کے کسی بھی مفسر نے اس کا معنی نبوت کے جاری کرنے والی مہر کا نہیں لیا۔ جب کہ نبوت کا خاتم کی مہر کیا ہے؟ پھر قرآن کی ١٠٠ سے زائد آیات اور ٢٠٠ سے زیادہ احادیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔
- ☆...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت میں دوبارہ آنے کی تمام روایات کو
مرزا قادیانی پر منطبق کر کے کہتے ہیں۔ مولوی لوگ جس عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں کہتے ہیں، وہ تو فوت ہو چکا ہے اور اس (عیسیٰ علیہ السلام) کی قبر سری نگر (مقبوضہ کشمیر) میں موجود ہے اور وہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو بنی اسرائیل کی قوم کے نبی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے امتی تھے۔ اب مرزا قادیانی امت محمدیہ ہی کی طرف سے مسیح بن کر آئے ہیں۔ یہ حضور (ﷺ) کے امتی بھی ہیں اور مسیح بھی۔
- ☆...... دنیا میں سب سے زیادہ فساد کرنے والے مولوی لوگ خصوصاً سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
کے ماننے والے ہیں۔ انہی ملاؤں نے ملت اسلامیہ کو فرقہ واریت کے ذریعے لڑایا، ان کا کام ہی ایک دوسرے کو کافر بنانا ہے۔ اگر یہ احمدیوں کے خلاف ہیں تو آپس میں بھی تو یہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ لہٰذا نہ ان کے قریب جاؤ اور نہ مولویوں کی بات سنو۔
- ☆...... سادہ لوح عام لوگوں میں خوش خلقی، عاجزی، فروتنی، بیچارگی کا پیکر بن کر ان کے دکھ
درد میں شریک ہونا اور ایک نمونہ اخلاق کی صورت میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی پیش کش اور اس سلسلہ میں ملازمت دلوانا، شادی کرانا اور روزگار مہیا کرنا ..... اس طرح ایک عام مسلمان کو دنیوی حرص میں مبتلا کر کے دولت ایمان سے بالکل خالی کر دیتے ہیں۔
- ☆...... اسلام کی حقانیت کے بلند بانگ دعوے کرنا، قرآنی آیات واحادیث کی علماء اسلام کی
طرح تشریح کرنا، اسلامی شعائر کو اپنانا، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنا، اپنے نام نہاد اسلام کے بارے میں کئی زبانوں میں لٹریچر فراہم کرنا، اپنے مربیوں کے ذریعے اسلام سے ناواقف انگریزی دانوں، جدید تہذیب کے پرستاروں، نئی نسل کو من گھڑت اسلام کے چھوٹے چھوٹے کتابچے، اس موضوع پر تقاریر کے کیسٹ فراہم کرنا اور رفتہ رفتہ خالی اذہان کو اسلام کے نام پر احمدیت سے روشناس کرانا اور پھر اسی ”احمدیت“ کے لبادے میں وہ زہر ان کے قلوب میں اتارنا جس کا تریاق
٦
سوائے قرآن وحدیث کے صحیح فہم اور ١٤ سوسالہ علماء اسلام کی سچی توجیہات وتشریحات کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔
قادیانیت مسلم قائدین کی نظر میں
مولانا ظفر علی خانؒ
”قادیانی گروہ انگریز کی کوکھ سے پیدا ہوا۔ اسے انگریز ہی کا حرامی بچہ کہنا چاہئے۔“
شورش کاشمیریؒ
”قادیانیوں کے عزائم خطرناک ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان قوم کے پاس ایٹمی قوت ہو۔ ان کی زیر زمین سازشیں اور ان کی دہشت گرد ”الفرقان بٹالین“ کا قیام اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ برطانوی سامراج کے بل بوتے پر بندوق کی گولی سے قادیانی انقلاب برپا کر دیں۔ لیکن آئندہ وقت ان کو بتا دے گا کہ تمہارے جھوٹے نبی کی جس طرح تمام پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہو چکی ہیں۔ اسی طرح آہستہ آہستہ تمہارا وجود بھی پوری دنیا سے مٹ کر رہے گا۔“
(ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ (پاکستان) کی تقریر کا اقتباس)
حضرت علامہ اقبالؒ
”جہاں تک مجھے معلوم ہے کسی اسلامی فرقہ نے ختم نبوت کی حد فاصل کو نہیں توڑا۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ایک الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ لیکن اسلام بحیثیت سوسائٹی یا ملت کے رسول کریم ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے۔“
”میری رائے میں قادیانیوں کے لئے دو راستے ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کرلیں۔ یہ تاویلیں صرف اس وجہ سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں ہو۔ تاکہ انہیں سیاسی طور پر فائدہ حاصل ہوسکے۔“
(حرف اقبال ص ١٤٨)
حضرت علامہؒ ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”مسلمان قادیانیوں کو اسلامی وحدت کے لئے خطرہ تصور کرے گا کہ اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے۔ اسلام ایسی
٧
تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو۔“
(قادیانی اور غیر مسلم ، حرف اقبال ص ١٢٢)
پہلا باب ....... عالم اسلام اور قادیانی جماعت
افغانستان
- ☆...... ١٩٠٢ء میں افغانستان کی حکومت نے عبداللطیف نامی ایک قادیانی کو مرتد ہونے کی
وجہ سے آنحضرت ﷺ کی اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے پھانسی کی سزادی۔ جس میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”من ارتد فاقتلوہ“ جو مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔
- ☆...... ١٩٣٢ء میں ملا عبدالحکیم اور انور (قادیانی) انگریزوں کے لئے جاسوسی کی غرض سے
افغانستان گئے۔ وہاں راز فاش ہونے کے باعث ان دونوں کو سزائے موت دے دی گئی۔
ماریشس
- ☆...... نومبر ١٩٢٧ء میں ماریشس (بحر ہند کا ایک جزیرہ) کے ایک چیف جسٹس نے قادیانیوں
کو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔
ترکی
- ☆...... ٢٠؍جنوری ١٩٣٥ء کو مصطفےٰ کمال پاشا (ترک حکمران) نے علماء ترکیہ کے فتویٰ کے
مطابق ایک قادیانی کو پھانسی دی۔
شام اور مصر
- ☆...... ١٩٥٧ء میں شام اور ١٩٥٨ء میں مصری حکومت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار
دے کر ان کی جماعت کو خلاف قانون قرار دے دیا۔
- ☆...... ١٠؍اپریل ١٩٧٤ء کو رابطہ عالم اسلامی کے ایک اجلاس میں قادیانیوں کے خلاف ایک
قرارداد منظور ہوئی۔ جسے ١٠٤ ملکوں نے متفقہ طور پر منظور کر کے دنیا بھر کے اسلامی ملکوں کو قادیانیت کے کفر و ارتداد اور ان کی غیر مسلم حیثیت کو عالم اسلام پر آشکار کر دیا۔
عرب ممالک
- ☆...... رابطہ کے اجلاس کے بعد آخر اپریل ١٩٧٤ء میں سعودی عرب، ابوظہبی، دبئی، بحرین
اور قطر میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
٨
پاکستان
- ☆...... ١٩٦٩ء میں جیمس آباد (سندھ) پاکستان کی ایک عدالت نے فیملی کیس میں قادیانیوں
کو غیر مسلم قرار دے دیا۔
- ☆...... ١٩٥٣ء میں ایک قادیانی مسٹر ظفر اللہ خان کو پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تو اس
کے خلاف حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے پہلی تحریک ختم نبوت چلائی گئی۔ جس میں دس ہزار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
- ☆...... ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت
قرار دے کر امت مسلمہ کو جہاں ان کی سازشوں سے آگاہ کیا۔ وہاں نئے ذہن کے قادیانیوں کو بھی باور کرایا گیا کہ تم جس مرزا قادیانی کے پیروکار ہو۔ اس کے دھوکہ اور فریب کی کہانی اب تمام امت پر روشن ہوچکی ہے۔ اس لئے انہیں نہایت ٹھنڈے دل سے غور کرکے اس جداگانہ روش کو ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ جس تحریک کے نتیجہ میں کیا گیا۔ اس کی قیادت شیخ الاسلام علامہ محمد یوسف بنوریؒ نے کی تھی۔
- ☆...... ١٩٧٤ء میں جس پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے خلاف قرارداد پاس کی۔ اس میں کئی
روز تک قادیانی امت کے سربراہ ناصر اور عالم اسلام کے عظیم معلم مولانا مفتی محمودؒ (اور دیگر ارکان پارلیمنٹ) کے درمیان مکالمہ ہوتا رہا۔ اس موقع پر پوری پارلیمنٹ نے مولانا مفتی محمودؒ کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے قادیانی امت کو مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ قرار دیا۔
- ☆...... ٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء میں پاکستان کی حکومت نے ایک قانون کے ذریعے قادیانی امت
پر اذان کہنے، کلمہ طیبہ لکھنے اور اپنے عبادت خانے کو مسجد کہنے پر پابندی لگا دی۔ تاکہ قادیانی تحریر و تقریر کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ کر کے امت مسلمہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔
اس سلسلہ میں قادیانیوں نے پاکستان کی شرعی عدالت میں حکومت کے خلاف دعویٰ دائر کیا کہ کسی بھی انسان کو کلمہ طیبہ پڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔
٩
شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا: ”قادیانی چونکہ کلمہ طیبہ کی آڑ میں مسلمانوں کی اصطلاحات کو استعمال کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ اس لئے حکومت کا قانون حقائق پر مبنی ہے۔“
فاضل عدالت کے مطابق: ”مرزا قادیانی نے خود کو ’محمد‘ لکھا ہے۔ اس لئے کلمہ طیبہ میں قادیانیوں کی مراد ’مرزا قادیانی‘ ہے۔ اس لئے یہ صریح دھوکہ ہے۔ ”مرزا قادیانی بہت بڑا دھوکے باز اور مفتری انسان تھا۔“
جنوبی افریقہ
- ☆ ...... ٦ / ستمبر ١٩٨٢ء کو جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت
قرار دے دیا۔
قادیانیوں کے بارے میں اہم پیغام ہر مسلمان کے نام
مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک صدی قبل برطانوی سامراج انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ، اپنے خلاف نت نئے دن ہونے والی مسلمانوں کی جنگ آزادی کی روک تھام اور امت مسلمہ کو لڑانے کے لئے ایک آلہ کے طور پر امت مسلمہ کے مقابل کھڑا کیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک قادیانی امت اپنے باطل نظریات کی اشاعت میں مصروف ہے۔ قادیانیوں کی تبلیغ کا اصل محور، دین اسلام سے ناواقف انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ اور سادہ لوح مسلمان ہیں۔ جن کو کبھی علماء کے خلاف (مسلمانوں کے بعض فروعی مسائل کے اختلافات کی آڑ میں) پروپیگنڈہ کر کے ان کی اسلامی تحریکات کو ملا ازم کا نام دے کر مشتعل کیا جاتا ہے۔ کبھی مرزا قادیانی کے ابتدائی دور کی تحریریں پیش کر کے دھوکہ دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی تو خود ختم نبوت کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ کبھی یہ کہہ کر کہ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن کر آئے ہیں اور جس عیسیٰ کی ملا لوگ بات کرتے ہیں وہ تو موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے اور مرزا قادیانی حضور ﷺ کے امتی ہیں اور تم موسیٰ علیہ السلام کے عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے کے بجائے حضرت محمد ﷺ کے غلام عیسیٰ کو مانو۔ اور کبھی خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کر کے کہتے ہیں کہ خاتم کا معنی مہر ہے اور مرزا قادیانی پر حضور ﷺ نے نبوت کی مہر لگا دی ہے۔ ایسی فریب کاریوں اور دھوکہ دہی سے آگاہ کرنے کے لئے جب علماء اسلام قرآن و حدیث کے ہزاروں حوالے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث
١٠
میں آئندہ سینکڑوں نشانیاں پیش کر کے امت مسلمہ کے سامنے قادیانی دجل کا پردہ چاک کرتے ہیں تو ان کے پاس سوائے اس کے کوئی بات نہیں رہ جاتی کہ علماء کا کام ہی لڑانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مسئلہ ختم نبوت کے تمام پہلو پوری امت محمدیہ پر سورج سے زیادہ روشن ہوچکے ہیں۔ اس لئے قادیانی دجل وفریب کا استیصال صرف علماء ہی کا کام نہیں رہا۔ بلکہ ہر مسلمان کو ختم نبوت کے بارے میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے عشق رسول ﷺ کا ثبوت دینا چاہئے۔
شاعر مشرق مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے بھی عالم اسلام کو اس خطرہ سے خبردار کیا تھا۔ ابتداء میں قادیانیوں کی سرگرمیوں سے بہت سے مسلمان ناواقف تھے اور وہ اسے ایک اسلامی تحریک سمجھتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کی تحریریں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ یہ اسلام کے لئے عیسائیوں سے بھی بڑا خطرہ ہیں۔ کسی پڑھے لکھے انسان کا قادیانی ہونا عقل سے بعید ہے۔ بلاشبہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔
عالم اسلام کی ہر حکومت کے نام
اس وقت دنیا میں اسرائیلی جارحیت کا شور وغوغا برپا ہے۔ یہودیوں کی ناپاک سازشوں سے لاکھوں فلسطینی ظلم کی چکی میں پس کر شہید ہو چکے ہیں۔ مگر اس حقیقت کو فراموش نہ کرنا چاہئے کہ یہودیوں کی طرح قادیانی گروہ بھی اسلام دشمنی میں کسی طرح کم نہیں۔ بلکہ قادیانیوں کے طریقہ واردات اور تبلیغی سرگرمیوں میں ایسا زہر پوشیدہ ہے کہ جس کا ادراک عام آدمی نہیں کر سکتا۔
اب جب کہ قادیانی پورے عالم اسلام کے تمام ممالک میں غیر مسلم اقلیت قرار پا چکے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں غیر مسلم ممالک کے اقلیتی مسلمان اور غیر مسلم قوموں کے ہاں اپنے تئیں دعویٰ مسلمان کی صورت میں لوگوں کو ”قادیانی احمدی مسلمان“ بنانے تک محدود ہو گئی ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہر مسلم حکمران، جہاں اپنے اپنے ملک میں ان کی پوشیدہ سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے وہاں ان سے غیر مسلم ممالک کے اقلیتی مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اور ان کو اس فتنہ عظیم کی چالبازیوں سے خبردار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
برصغیر کے ایک نامور ادیب اور رہنما آغا شورش کاشمیریؒ نے پاکستان کے قادیانی مرکز ”ربوہ“ کو عجمی اسرائیل قرار دے کر کئی سال پیشتر ملت اسلامیہ کو اس خطرہ سے آگاہ کر دیا تھا۔ خود مرزا قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے: ”میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔“
١١
دوسرا باب ...... شان نبوت اور شان رسالت
نبی کی تعریف
اصطلاح شریعت میں ”نبی“ کا اطلاق اس برگزیدہ ہستی پر ہوتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل اور رحمت سے امت کی اصلاح کے لئے منتخب فرمائے۔ اس پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ وہ براہ راست اللہ کا شاگرد ہوتا ہے۔
نبی اور رسول کا فرق
اصطلاح شریعت میں جو برگزیدہ ہستی نئی شریعت یا نئی کتاب کے ساتھ مبعوث ہو، اسے رسول کہا جاتا ہے۔ جو شخصیت پچھلے پیغمبر کی شریعت ہی کا درس دے، اسے نبی کہتے ہیں۔ ہر رسول پر نبی کا بھی اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن ہر نبی کو رسول نہیں کہا جاسکتا۔ محققین کی رائے کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش نبیوں میں صرف تین سو پندرہ رسول تھے۔
نبی اور رسول کا مقام
قرآن وحدیث کے مطابق نبی اور رسول ہر قسم کے عیب سے پاک اور ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ ان برگزیدہ ہستیوں کو اللہ کے خصوصی بندوں کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ یہ جہاں مامور من اللہ ہوتے ہیں وہاں ان کی اطاعت بھی امت پر فرض قرار پاتی ہے۔ یہ مقام کسی کو بھی کسب اور ذاتی محنت سے دستیاب نہیں ہوسکتا۔ اس منصب کے لئے براہ راست خدائے ذوالمنن کے انتخاب کا دخل ہوتا ہے۔
اللہ کا ہر نبی اور رسول صاحب وحی ہوتا ہے۔ نبی کے علاوہ کسی بھی شخص پر خواہ وہ کتنا ہی نیک سیرۃ اور صالح فطرت ہو۔ وحی نبوت کا نزول ممکن نہیں۔ اس طرح ہر پیغمبر وحی الٰہی کے ذریعے براہ راست اللہ کا شاگرد ہوتا ہے۔ کسی انسان سے تعلیم حاصل کرنے والا کبھی اللہ کا پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل واکمل اور مقدس ترین جماعت ہے۔ کسی بھی پیغمبر سے کبیرہ یا صغیرہ گناہ ممکن نہیں ہے۔ اہل اسلام کے عقیدہ کے مطابق تمام انبیاء علیہم السلام اپنے مشن میں کامیاب ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ بلاشبہ انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں کئی انبیاء ایسے بھی گزرے ہیں۔ جن کا حکم صرف چند افراد نے مانا۔ یا صرف ایک نے یا آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق ایسے بھی پیغمبر قیامت میں اٹھیں
١٢
گے ۔ جن کے ساتھ ایک بھی امتی نہ ہوگا۔ لیکن انہیں کسی طور بھی ناکام قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ہر پیغمبر استقلال و استقامت اور جرات و سطوت کا پیکر ہوتا ہے ۔ اسے اپنے مشن میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ ہر وقت اس پر اللہ کی حفاظت کا سایہ سر افگن رہتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کی قدسی الاصل جماعت مفترض الطاعت ، معصوم عن الخطاء ، منزہ عن العیب اور مرکز وحی الہی ہوتی ہے ۔
تمام انبیاء علیہم السلام میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور ان کی کتابوں اور صحائف کی روشنی میں ہمارے سردار آنحضرت ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام اور ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ آپ کی عظمت ، شان اور رفعت و بلندی میں کسی مخالف کو بھی کلام نہیں ۔ آپ کے اعجاز و کمال کی دستاویز ایسے حقائق اور ٹھوس دلائل سے عبارت ہے ۔ جو آپ کی آفاقیت و ہمہ گیری اور جامعیت و کاملیت کی عظیم شاہکار ہے ۔ آنحضرت ﷺ اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن عظیم سے لے کر آپ کی سیرۃ طیبہ کے تمام معاشرتی اور نجی پہلوؤں تک ہر جگہ آپ کی سیادت و قیادت اور اولوالعزمی آشکار ہوتی ہے ۔ آپ کے بارے میں جہاں حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں شاہد عدل ہیں ۔ وہاں قرآن کے یہ بیانات آپ کی حقانیت کی روشن دلیل ہیں ۔
- ☆ ....... ”وما ارسلنك الا رحمة للعلمين“ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت
بنا کر بھیجا ہے ۔
- ☆ ....... ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة“ جب اللہ
نے وعدہ لیا تمام انبیاء سے کہ تمہیں ایک کتاب اور حکمت دوں گا ۔ پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے گا۔ تم ضرور اس پر ایمان لاؤ ۔
ختم نبوت کی اہمیت
آپ ﷺ کی اس ہمہ گیری اور آفاقیت کے بعد اگر نبوت کے جاری رہنے کا عقیدہ رکھا جائے تو یہ آنحضرت ﷺ کی قیامت تک رہنے والی ہدایت سے عملاً بغاوت ہے۔ چونکہ آپ تمام مسلمانوں کے پیغمبر اور مصلح ہیں۔ اس لئے اب کسی بھی قسم کی نئی نبوت کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ہاں آپ کے خلفاء اور وارث علماء ہی آپ کے مشن کے علمبردار ہیں ۔ آپ کے آفاقی پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کی ذمہ داری صرف علماء حق پر ہے۔
١٤
آنحضرتﷺ کے عالمگیر پیغام کی یہ ہمہ گیری کیا کم ہے کہ مدینہ منورہ کی ریاست سے جو امن و آشتی کی کرن پھوٹی۔ اس کی روشنی ١١ لاکھ مربع میل کے وسیع و عریض ایسے ایسے علاقوں تک بھی پہنچ گئی۔ جہاں قوموں کی زندگیاں ظلم و جبر کے اندھیروں میں جاں بلب تھیں۔ ان کی حقیقت مستعار کا جہاز کفر و شرک اور جور و طغیان کے سمندر میں ہچکولے کھا رہا تھا۔ روما اور ایران کی دو طاقتوں کے درمیان یہ تیسرا انقلاب ظلمت کدہ دھر میں سپیدۂ سحر کی مانند روشن ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نخوت و غرور کے سارے دیوتا جھک گئے۔
تیسرا باب ...... ختم نبوت کے مشن کی مختصر تاریخ
سرکار دوجہاں آنحضرتﷺ کی مسند پر آپ کے جانشین خلافت راشدہ کے امین ہو کر سارے عالم پر چھا گئے۔ ١١ لاکھ سے بڑھ کر رقعہ نبوت کا جغرافیہ حضرت امیر معاویہؓ کے عہد زریں میں ٦٤ لاکھ مربع میل تک پھیل گیا۔ فتوحات کا یہ سلسلہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت سے شروع ہوا تھا۔ آپ کے خلفاء کے بعد دین اسلام کے فروغ کا بیڑا امت مسلمہ کے جید اکابرین علماء حق کے سپرد ہوا۔
ملاحظہ ہو کہ اب قرآن کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے امت محمدیہ ہی کی ایک جماعت مفسرین کے نام سے نمایاں ہوئی۔ جو حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے شروع ہو کر شاہ ولی اللہؒ تک اور اس کے بعد ان کے خانوادوں اور شاگردوں سے ہو کر ہم تک پہنچتی ہے۔ اس جماعت نے جان جوکھوں میں ڈال کر قرآن کے ایک ایک زیر، زبر پر عرق ریزی کی وہ مثالیں قائم کیں۔ جن کا تصور بھی عام انسان نہیں کر سکتا۔
آنحضرتﷺ کے اعجاز و کمالات کی روشنی
آپ کی احادیث کی تہذیب و تنقیح، روایت و درایت کے اصول، لغوی اور اصطلاحی تشریحات سلسلہ سند واتصال پر ایک ایسی جماعت متعین ہوئی۔ جن کے تقویٰ و طہارت اور پاکیزگی نفس پر ایک زمانہ رطب اللسان ہے۔ یہ جماعت محدثین کے نام سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابوداؤدؒ، امام نسائیؒ سے ہوتی ہوئی شاہ ولی اللہؒ اور ان کے خانوادوں اور شاگردوں سے ہو کر ہم تک پہنچتی ہے۔ یہ آنحضرتﷺ کے جامع کلام کا وہ اعجاز ہے۔ جس کا تصور بھی دنیا کے کسی معلم کے حصے میں نہیں آیا۔
١٤
پھر ایک جماعت جو قرآن وحدیث کے اسرار ورموز، حقائق ومعارف اور مسائل واحکام کی تہذیب پر جمع ہوئی۔ ان کی کاوش ائمہ صحابہ کرامؓ سے لے کر امام اعظم ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ کے ذریعے کئی ائمہ سے ہوکر امام الہند حضرت شاہ ولی اللہؒ کے ذریعے دنیا تک پہنچی۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں علم کلام، علم فلسفہ، علم ادب وانشاء میں ایسے ایسے عظیم مصلح پیدا ہوئے جو آسمانِ علم وفضل کے گوہر تابدار بھی تھے۔ چمنستان ولایت کے آفتاب بھی تھے۔ ان میں امام غزالیؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام رازیؒ، امام مجدد الف ثانیؒ، امام قاسم نانوتویؒ، شیخ الہند محمود الحسنؒ اور اپنے اپنے عہد میں بڑی بڑی کئی عہد ساز شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ اسلام کے یہ تمام اکابرین اور علماء محنت و کاوش، سعی پیہم، جہد مسلسل، عرق ریزی اور محنت شاقہ کے باوجود اپنے کسب و فعل سے نبی نہ بن سکے۔ صرف وراثت نبوت کے حامل ہو کر آنحضرت ﷺ کی عالمگیر نبوت اور رسالت کا پیغام سناتے رہے۔ اکابرین اسلام کا وجود اور ان کے عہد ساز کارنامے دراصل آپ کی ہمہ گیری اور آفاقیت کی بہت بڑی دلیل ہیں۔ گردش زمانہ کی رنگ برنگ محفلوں میں کئی لوگوں نے جھوٹے طور پر دعویٰ نبوت بھی کیا۔ لیکن اپنے اپنے عہد میں ہر ایک وارثِ پیغمبر، عالم دین اور امام نے اس کی دھجیاں بکھیر کر اس کے دجل و فریب کا پردہ چاک کیا۔ اس کی تحریف اور تلبیس سے اس نے ملت اسلامیہ کو آگاہ کیا۔
مرزا قادیانی کے خلاف ہندوستان کے علماء کی پہلی جدوجہد
برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے عہد غلامی میں انگریز کی سرپرستی میں امت مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اسلامی جہاد کی منسوخی کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت بن کر نمودار ہوا تو علماء حق نے وراثت نبوت کے عین مطابق مرزا قادیانی کا تعاقب کیا۔
علماء حق کے جملہ مکاتب فکر جو چند فروعی مسائل میں باہم اختلاف بھی رکھتے تھے۔ لیکن جب ان کے سامنے آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کا مسئلہ پیش ہوا تو سب کے سب علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا عبدالقادر لدھیانویؒ کے صاحبزادے مولانا عبدالعزیز لدھیانوی، مولانا محمد عبداللہ اور مولانا محمد لدھیانوی پاک و ہند کے مشہور بزرگ حضرت سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، سید نذیر حسین دہلویؒ اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا قادیانی کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔
١٥
ختم نبوت کی دو تحریکیں
١٩٢٩ء کے بعد حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، پیر سید فیض الحسنؒ اور مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ نے مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے مرزا قادیانی گروہ کے خلاف اپنی دینی ذمہ داری کو پورا کیا۔
١٩٤٧ء کو قیام پاکستان کے بعد جب قادیانیوں کے ایک سرکردہ لیڈر مسٹر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنایا گیا تو اس نے نہایت چال بازی سے پوری دنیا کے سفارت خانوں میں قادیانی بھرتی کرنے شروع کر دیئے اور اس طرح اس فتنہ کے جراثیم دنیا بھر میں پھیلنے شروع ہوئے۔
ہر موقع پر دینی تعلیم سے نادانی ہی نے یہ گل کھلایا ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو جو شخص بھی اپنی سحر کاری اور شعبدہ بازی سے جس طرح بھی ورغلانا چاہے اسے چنداں تکلیف نہیں ہوتی۔ بعینہ اسی طرح مرزا قادیانی کے پیروکاروں نے مہدویت سے لے کر مسیحیت اور مستقل نبوت تک گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے اپنے مقتداء کو اپنی کتابوں اور پمفلٹوں کے ذریعے متعارف کرانا شروع کیا کہ بہت سے تعلیم یافتہ لوگ بھی ان کے جال میں آگئے۔ اس سلسلہ میں ١٩٥٣ء میں پاکستان میں قادیانی وزیر خارجہ کے خلاف بے مثال، پہلی عوامی تحریک چلی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ کم و بیش دس ہزار مسلمانوں نے اس تحریک میں جام شہادت نوش کیا۔
اس تحریک کے بعد حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے حکم پر تمام مسلمانوں کی مشترکہ تنظیم ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ عمل میں آئی۔ جس کی کوششوں سے علامہ محمد یوسف بنوریؒ اور مولانا تاج محمودؒ کی قیادت میں ١٩٧٤ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانی جماعت کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مسئلہ پیش ہوا۔ اس کے بعد فاضل ممبران کے سامنے قادیانی سربراہ مرزا ناصر کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمودؒ نے ملت اسلامیہ کا مؤقف پیش کیا۔
پارلیمنٹ میں اکثریت ان مسلمانوں کی تھی جو انگریزی تعلیم میں تو کئی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے فاضل تھے۔ لیکن دینی تعلیم کی ابجد سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں کے اختلافات کو بریلوی، دیوبندی اختلافات کی مانند سمجھتے تھے۔ لیکن جب مفتی محمودؒ نے قرآن وحدیث کے مستند حوالوں اور مرزا قادیانی کی کتابوں سے ان کے کفر و زندقہ اور
١٦
دجل وتلبیس کا پردہ چاک کیا تو خود وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو بھی ورطہ حیرت میں رہ گئے۔ بالآخر پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس ٩٠ سالہ مسئلہ کو حل کر کے قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ایک تاریخ ساز فیصلہ سرانجام دیا۔
امتناع قادیانیت آرڈینینس ١٩٨٤ء
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بیورو کریسی کی اندرونی سازشوں کے باعث اس قانون پر عمل درآمد نہ ہوا۔ ١٩٨٤ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک تحریک کے نتیجے میں مندرجہ ذیل آرڈینینس جاری کیا۔
- ☆...... قادیانی جماعت آئندہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
- ☆...... قادیانی اپنی عبادت گاہوں کو مسجد قرار نہیں دے سکتے۔
- ☆...... کوئی قادیانی اپنے مذہب کی کسی ذریعے سے بھی تبلیغ نہیں کر سکے گا۔
- ☆...... قادیانی اپنی عبادت گاہوں میں اذان نہیں دے سکتے۔
یہ آرڈینینس جاری ہونا تھا کہ قادیانیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ اس قانون سے ایک طرف سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے کفر و ارتداد کا علم ہوا تو دوسری طرف قادیانیوں نے پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ کلمہ طیبہ پڑھنے سے کوئی کسی کو کیسے روک سکتا ہے۔ ایک عیسائی، یہودی اگر حضور اکرمﷺ کا کلمہ پڑھنا چاہے تو آپ اسے کیسے روک سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈہ ایسی شدت اور گھناؤنے انداز میں کیا گیا کہ ایک اعلیٰ سطحی انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کے ساتھ ہی قادیانیوں نے پاکستان کی شرعی عدالت میں حکومت پاکستان کے اس آرڈینینس کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ جس میں قادیانیوں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ کسی انسان کو حضورﷺ کا کلمہ طیبہ پڑھنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ دنیا بھر کے دانشور حلقے متوجہ ہو گئے۔ لیکن علماء حق کی نمائندہ تنظیم ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی فراہم کردہ معلومات اور قادیانیوں کے دلائل سننے کے بعد شرعی عدالت نے جو فیصلہ تحریر کیا تھا وہ یہ تھا۔
پاکستان کی شرعی عدالت کا فیصلہ
٢٦؍ اپریل ١٩٨٤ء کو موجودہ حکومت نے آرڈینینس جاری کیا۔ قادیانیوں کے ان مذموم عقائد اور سرگرمیوں کی بیخ کنی کر دی جو ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کی دل آزاری کا
١٧
باعث تھیں۔ اس پر قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں ایک درخواست دی کہ اس آرڈینینس کے نفاذ سے وہ اپنی عبادات کے حق سے محروم کر دیئے گئے ہیں اور اپنے عقائد پر عمل نہیں کر سکتے۔
وفاقی شرعی عدالت نے طویل سماعت کے بعد اس درخواست کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اتوار ٢٨ اکتوبر ١٩٨٤ء کو اپنے اس فیصلے کو جاری کر دیا۔ جس میں مرزا قادیانی کو کافر، دھوکے باز اور بے ایمان قرار دیا گیا اور اس کے نبی ہونے کے دعوے کو غلط قرار دیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت نے قرآن وسنت اور سنی و شیعہ دونوں فرقوں کے مستند اور نامور مفسرین کی تشریحات اور آراء کو پیش کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ حضرت محمدﷺ پر نبوت کا سلسلہ قطعی طور پر ختم ہو چکا ہے اور یہ کہ حضور اکرمﷺ آخری نبی تھے۔ جن کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ عدالت سماعت کے بعد جن نتائج پر پہنچی ہے۔ ان کو قلمبند کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں امت مسلمہ کے ایک فرد اور اسلامی شریعت کے پیروکار کے طور پر ظاہر ہوں گے اور یہ کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود ہے اور نہ مہدی۔ جو لوگ قرآن پاک کی واضح آیات کو اپنی تاویلات اور تحریف کے ذریعے غلط معنی پہناتے ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں اور چونکہ مرزا قادیانی نے یہ کہا تھا اس لئے وہ کافر تھا۔ مرزا قادیانی کی زندگی کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دھوکے باز اور بے ایمان آدمی تھا۔ اس نے درجہ بدرجہ اور منصوبے کے ساتھ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے خود کو محدث اور بعد میں ظلی اور بروزی نبی اور رسول اور مسیح منوانے کی کوشش کی۔ اس کی تمام پیش گوئیاں غلط پائی گئیں۔ لیکن اپنے مخالفین کے تمسخر سے بچنے کے لئے اس نے بعض اوقات اپنی تحریروں کی اس طرح تاویل کی ہے کہ اس نے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ مرزا قادیانی نے خود اس بات کا اعلان کیا کہ خدا نے اس پر وحی کی ہے کہ جس شخص تک میرا یعنی مرزا قادیانی کا پیغام پہنچے اور جو مجھے نبی نہ قبول کر لے وہ مسلمان نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے بارے میں یہی بات چوہدری ظفر اللہ خان نے کہی تھی۔ جنہوں نے حضرت قائد اعظمؒ کی نماز جنازہ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ قادیانیوں اور لاہوریوں کی طرف سے مسلمانوں کی مقدس شخصیات اور مقامات کے خطابات اور القابات کے استعمال خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام قرار دینے اور مسلمانوں کی طرح اذان دینے پر ١٩٨٤ء کے آرڈینینس نمبر ٢٠ کے تحت جو سزا یا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ایک جائز فیصلہ ہے۔
شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے بعد قادیانیت کے لئے بالکل اندھیرا چھا گیا۔ دجل
١٨
تلبیس کے تمام حربے ناکام ہو گئے۔ فریب کاری کے سارے پتے ختم ہو گئے۔ ہر شخص سے اپنی جائیداد کا دسواں حصہ جماعت کے لئے وقف کرنے والی اس جماعت کا موجودہ سربراہ سب سے پہلے پاکستان سے فرار ہو کر لندن پہنچا اور فیصلہ کے مطابق انہوں نے یہ طے کیا کہ چالبازی کے انہی حربوں کے لئے اب یورپین اور افریقی ممالک کی وہ سرزمین مناسب ہے۔ جہاں آزادی کے نام پر دنیا کا ہر عیب چھپ سکتا ہے۔ ہر دھوکہ چل سکتا ہے۔ ہر دجل کارگر ہو سکتا ہے اور تلبیس کا ہر گر خوب چل سکتا ہے۔ چنانچہ لندن، جرمنی، کینیڈا اور افریقی ممالک میں بڑی بڑی کالونیاں تعمیر کرنے کے لئے کئی کئی ہزار ایکڑ اراضی خریدی گئی۔ کروڑوں ڈالرز کے ذریعے بیشمار مراکز قائم کر کے سادہ لوح اور دین اسلام سے بے بہرہ لوگوں میں اسلام ہی کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی نبوت اور نام نہاد مسیحیت کا پرچار کیا گیا۔ دیگر غیر مسلم اقوام کے سامنے آنحضرت ﷺ کے اسلام کی دعوت کا نام لے کر مختلف حربوں کے ذریعے دنیا بھر کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ علماء حق نے وراثت نبوت کی ذمہ داری کے عین مطابق تعاقب کرتے ہوئے اب یورپ میں بھی آ پہنچے ہیں تو قادیانی کبھی ان کو دہشت گرد جماعت کا نام دے کر، کبھی مسلمانوں کو لڑانے والے گروہ کے نام سے پکار رہے ہیں۔ قادیانی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں مختلف زبانوں میں اپنا لٹریچر پھیلا کر اپنے اصل چہرے کو چھپانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن فتح بالآخر اسلام ہی کی ہوگی اور اب علماء نے دنیا بھر سے قادیانیت کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
چوتھا باب ....... مسیح علیہ السلام کا تعارف
قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق قرب قیامت میں آسمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (مسیح موعود) نازل ہوں گے۔ ٤٠ سال تک دنیا میں ان کی حکومت ہوگی۔ وہ اپنے آپ کو حضور کا امتی کہلائیں گے۔ کسی ایک جگہ بھی اپنے آپ کو ”نبی“ کے لفظ سے یاد نہیں کریں گے۔ ان کی تمام علامات کو راقم کی کتاب ”اسلام اور عقیدہ ختم نبوت“ میں تحریر کر دیا گیا ہے۔ لیکن ان میں سے چند ایک ملاحظہ ہوں۔
- ☆ ....... آپ کا نزول دمشق میں ہوگا۔
(مسلم)
- ☆ ....... دمشق کی جامع مسجد میں نزول ہوگا۔
(مسلم)
١٩
- ☆ ...... جامع مسجد دمشق کے شرقی گوشہ میں نزول ہوگا۔
(مسلم)
- ☆ ...... آپ نماز صبح کے وقت نازل ہوں گے۔
(مسلم)
- ☆ ...... نزول کے وقت آپ دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔
(ابو داؤد)
- ☆ ...... آپ کے سر پر ایک لمبی ٹوپی ہوگی۔
(ابن عساکر)
- ☆ ...... آپ ایک زرہ پہنیں گے۔
(در منثور)
- ☆ ...... آپ چالیس سال تک دنیا میں قیام فرمائیں گے۔
(ابو داؤد، ابن ابی شیبہ، احمد، ابن حبان، ابن جریر)
- ☆ ...... حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں نکاح ہوگا۔
(فتح الباری، حدیث نمبر ٧١، کتاب الخطط للمقریزی)
- ☆ ...... بعد نزول آپ کے اولاد ہوگی۔
(فتح الباری)
- ☆ ...... آپ صلیب توڑیں گے، یعنی صلیب پرستی کو اٹھا دیں گے۔
(بخاری، مسلم)
- ☆ ...... اس وقت اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔
(ابو داؤد، احمد، ابن ابی شیبہ، ابن حبان، ابن جریر)
- ☆ ...... خنزیر کو قتل کریں گے۔ یعنی نصرانیت کو مٹائیں گے۔
(مسلم، بخاری)
کتاب وسنت کے تمام ذخیرے کے مطابق کسی ایک نبی کے بارے میں اس قدر وضاحت کے ساتھ تعارف سامنے نہیں آیا۔ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ چونکہ ایک طویل عرصہ تک وہ چوتھے آسمان پر مقیم رہا اور اب اسے زمین پر نازل ہونا ہے تو آپ نے ان کی آمد کو اس قدر واضح علامات کے ساتھ روشن کر دیا ہے کہ کوئی جھوٹا انسان کسی بھی تاویل سے ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ مذکورہ علامات کے بعد ہر انسان ملاحظہ کر سکتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے مطابق ان میں سے ایک بھی علامت مرزا قادیانی میں موجود نہیں تو ہم اسے من گھڑت پروپیگنڈے اور جھوٹی تعبیر و تاویل کے تحت کس طرح مسیح موعود تسلیم کر لیں۔
پانچواں باب ...... مرزا قادیانی کا تعارف
- ☆ ...... ١٨٣٩ء میں مرزا قادیانی، قصبہ قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔
(کتاب البریہ ص١٥٩، خزائن ج١٣ ص١٧٧)
٢٠
- ☆ ...... ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں وہ سترہ برس کے تھے۔
- ☆ ...... ١٨٦٢ء تک ابتدائی عربی، فارسی کی تعلیم مولوی فضل الٰہی اور مولوی گل علی شاہ سے
حاصل کی۔ طب کی کتابیں اپنے والد مرزا غلام مرتضیٰ سے پڑھیں۔
(کتاب البریہ ص١٦٣، خزائن ج١٣ ص١٨١)
- ☆ ...... ١٨٥٢ء میں پہلا نکاح کیا۔ پہلی بیوی کو ١٨٦١ء میں طلاق دی۔ ١٨٨٤ء میں دوسری
شادی ہوئی۔ پہلی بیوی سے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے۔ جب کہ دوسری بیوی سے مرزا بشیر الدین محمود، مرزا بشیر احمد اور مرزا شریف احمد پیدا ہوئے۔ یعنی پہلی بیوی سے ٢ اور دوسری سے ٣ بیٹے۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص٥٣، روایت ٥٩)
- ☆ ...... ١٨٦٤ء سے ١٨٦٨ء تک شہر سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں کلرک رہے۔
(سیرۃ المہدی ص٤٤، حصہ اوّل روایت ٤٩)
- ☆ ...... ١٨٦٨ء میں انہوں نے سیالکوٹ میں ہی مختاری کا امتحان دیا مگر فیل ہو گئے۔
(سیرۃ المہدی ص١٥٧، حصہ اوّل، روایت ١٥٠)
- ☆ ...... ١٨٩١ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود یعنی عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔
- ☆ ...... ١٨٩٧ء میں مستقل نبوت کے مدعی ہوئے۔
- ☆ ...... ١٩٠١ء میں ایک موقع پر انہوں نے اپنے آپ کو حضرت محمد ﷺ کے برابر قرار دیا۔
- ☆ ...... ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کی بیماری لاحق ہوئی۔
(حیات ناصر ص٩)
اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو صبح لاہور کے برانڈتھ روڈ پر انتقال کر گئے اور نعش قادیان پہنچائی گئی۔
چھٹا باب ...... مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی کہانی خود ان کی زبانی
غور و فکر رکھنے والے قادیانیوں کے لئے لمحہ فکریہ
مولانا ثناء اللہ امرتسری کو چیلنج اور رسوائی
مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو اپنے حریف اور مقابل مشہور عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے نام ایک اشتہار جاری کیا۔ جس میں انہوں نے مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں، جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ
٢١
مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی ..... اور اگر میں کذاب و مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ جھوٹے ہونے کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں۔ بلکہ خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ یعنی طاعون اور ہیضہ وغیرہ جیسی مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٢٠ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
ملاحظہ ہو کہ مرزا قادیانی تو اس اشتہار کے ایک سال بعد ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ کی بیماری میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اس پیش گوئی کے ٤٠ سال بعد مورخہ ١٥؍ مارچ ١٩٤٨ء سرگودھا میں فوت ہوئے۔
(قادیانیت ص ٢٩)
عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ مناظرہ اور رسوائی
١٨٩٣ء میں بمقام امرتسر (متحدہ ہندوستان) عبداللہ آتھم نامی ایک عیسائی کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ کئی دنوں کے مناظرہ کے بعد بھی جب مرزا قادیانی کامیاب نہ ہو سکے تو ایک اشتہار کے ذریعے یہ اعلان کیا۔
’’عبداللہ آتھم پادری پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے خوب گریہ زاری اور تضرع سے التجاء کی ہے کہ وہ فیصلہ فرمائیں تو انہوں نے مجھے یہ معجزہ عطا فرمایا ہے کہ کذاب (عبداللہ آتھم) مورخہ ٥ جون ١٨٩٣ء سے پہلے پندرہ ماہ میں نہ مرے اور میری بات سچ نہ ہو تو میں ہر سزا کے قابل ہوں۔ میرا چہرہ سیاہ پڑ جائے۔ میں رسوا ہو جاؤں۔ میری گردن رسی ڈال کر گلا گھونٹ دیا جائے۔ میں اللہ عظیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو میں نے کہا ہے ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ زمین و آسمان اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ مگر میری پیشگوئی کے خلاف نہ ہوگا۔‘‘
(جنگ مقدس ص ٢١١، ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)
ملاحظہ ہو کہ اس بلند بانگ پیشین گوئی سے پورا ہندوستان دہل گیا۔ بڑے پُر اثر اور خود اعتمادی کے ساتھ کئے جانے والے اس دعوے کا جو نتیجہ نکلا وہ اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اگر قادیانیوں کے دلوں پر مہر نہ لگ گئی ہوتی اور ہدایت و فلاح کے دروازے مکمل طور پر ان کے لئے بند نہ ہو گئے ہوتے تو چلو اسی وقت خود انہی کے الفاظ کے مطابق رسی ڈال کر انہیں گھسیٹا نہ ہی جاتا۔ لیکن ایسے جھوٹے مدعی سے پہلو تہی کر لی جاتی۔ اس کے من گھڑت دعووں کو تاویل و تعبیر کے
٢٢
خاتمے کی بجائے اس کے کذب وافتراء کو آشکارا کیا جاتا۔
اس پیشین گوئی کے نتیجے کے بارے میں خود مرزا قادیانی کے ہی صاحبزادے مرزا بشیر احمد کی زبان سے اعتراف ملاحظہ فرمائیں: ”جب عبداللہ آتھم کی مدت میں ایک روز باقی رہ گیا تو مجھے اور حامد علی کو حضرت مسیح موعود نے مسور کے دانوں پر فلاں فلاں سورۃ پڑھ کر دم کرنے کا حکم دیا۔ ”ہم نے شب بھر میں وظیفہ کامل کیا۔ صبح کو ہمیں ساتھ لے کر قادیان سے باہر شمالی گوشہ میں چلے اور کہا: ”یہ (مسور کے دانے) میں اس ویران کنویں میں ڈالوں گا اور تم خود اگر تیزی کے ساتھ یہاں سے بھاگ نکلنا۔“
ہم نے ایسا ہی کیا، پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔
(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٧٨، روایت ١٦٠)
ڈھکوسلہ آخر ڈھکوسلہ ہی ہوتا ہے۔ اپنوں کو مطمئن کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے کیا کیا حربے استعمال کئے۔ ایک اور قادیانی محمد یعقوب کی زبانی سنئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے داماد نے لکھا: ”مولانائے مکرم آپ کو پیشین گوئی کے الفاظ یاد ہیں۔ آج آخری دن ہے۔ عبداللہ آتھم کی مدت پوری ہو رہی ہے۔“
(سیرت المسیح الموعود ص ٧)
مرزا قادیانی کی تاویل یا کذب ملاحظہ فرمائیے اور سر دھنئے۔ کیا اس وحی کا انجام یہ نہیں ہوا۔ جو بصورت اعتراف ایک شخص یعقوب قادیانی نے یوں (سیرۃ المسیح الموعود ص ٧) پر نقل کیا ہے۔
”١٥ ماہ گزرنے کے بعد جب آخری دن ہوا۔ قادیانیوں کے چہرے سیاہ پڑ گئے۔ دل پریشان تھے۔ حسرت و یاس غالب تھی۔ لوگ رو رو کر چیخ و پکار کے ساتھ اللہ سے دعائیں کر رہے تھے۔ چیخ و واویلا اس حد تک پہنچا کہ مخالفین بھی سہم گئے۔“
لیکن آخری روز گزرنے کے بعد جب عبداللہ آتھم کے مرنے کی کوئی خبر نہ آئی تو مرزا قادیانی نے حسب عادت ایک جھوٹ اور تراشا کہ عبداللہ آتھم نے عیسائیت سے توبہ کر لی ہے۔ لیکن چند روز بعد ہی مورخہ ١٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء کے اخبار وفادار لاہور میں عبداللہ آتھم کا درج ذیل بیان شائع ہوا۔
”میں غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کا منتظر ہوں...... صحیح سالم ہوں اور مسیحیت پر قائم ہوں۔ میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے۔ اس (مرزا قادیانی) کو خدا نے جھوٹا کیا۔“
اب بتائیے کہ کیا سچے نبی اور رسول کے دعوؤں اور پیشین گوئیوں کا یہی انجام ہوتا ہے؟ اس اعلان کے بعد قادیانیوں کے چہرے سیاہ پڑ گئے اور ایک طویل عرصہ تک
٢٣
خاموشی رہی۔ افسوس ہے کہ ذلت ورسوائی کے بعد مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے اور سادہ لوح اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ پڑھے لکھے لوگوں کو اسے نبی تسلیم کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے تھی۔
محمدی بیگم سے نکاح
مرزا قادیانی کے عجیب وغریب دعوے
١٨٨٨ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی عمر پچاس سال تھی۔ اپنے ایک رشتہ دار مرزا احمد بیگ کو ان کی نوعمر صاحبزادی محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک اشتہار مورخہ ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء کو شائع کیا۔ جس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ”اس خدائے قادر، حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے کوشش کر اور ان کو کہہ دے کہ یہ نکاح تمہارے لئے موجب رحمت ہوگا۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ کسی بھی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی تو وہ روز نکاح سے ڈھائی سال بعد اور اس (لڑکی) کا والد تین سال بعد فوت ہو جائے گا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام میں رقمطراز ہیں: ”خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ احمد بیگ کی دختر کلاں تمہارے نکاح میں ضرور آئے گی۔ لوگ بہت عداوت کریں گے۔ لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ ہر طرح اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے ہر ایک روک درمیان سے اٹھا دے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر اس نکاح کو اپنے حق اور باطل ہونے کا معیار بتایا: ”واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔“
پیش گوئی کے چار سال بعد تک بھی جب محمدی بیگم کے والد احمد بیگ بے حد دباؤ کے باوجود نکاح پر آمادہ نہ ہوئے تو پھر مرزا قادیانی منت سماجت اور حرص وطمع کے حربے استعمال کرنے لگے۔ احمد بیگ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ”اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان کے ساتھ ساتھ نیکی بھی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں گا اور آپ کی
٢٤
درازی عمر کے لئے دعا کرتا رہوں گا۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ آپ مانگیں میں آپ کو دوں گا۔‘‘
(کلمہ فضل رحمانی بحوالہ قادیانی مذہب)
قارئین کرام! ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ کس طرح ایک لڑکی کے عشق میں خدا پر جھوٹ باندھنے لگے۔ کیا کسی لڑکی سے شادی کے لئے کسی نبی کا یہ انداز ہو سکتا ہے؟
بالآخر مورخہ ٧ اپریل ١٨٩٢ء کو محمدی بیگم کا نکاح ان کے والد نے مرزا سلطان محمد سے کر دیا۔ مگر مرزا قادیانی اس نکاح کے بعد بھی پیش گوئی کی تکمیل سے مایوس نہ ہوئے۔ انہوں نے ضلع گورداسپور کی عدالت ١٩٠١ء میں حلفیہ طور پر یہ بیان دیا: ”وہ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ ضرور آئے گی۔ یقین کامل ہے کہ خدا کی باتیں ٹلتی نہیں۔ ہو کر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم ماہ اگست ١٩٠١ء)
مرزا قادیانی کا کذب سورج سے زیادہ روشن ہوتا گیا۔ من گھڑت دعووں کی قلعی کھلتی گئی۔ حتیٰ کہ خود مرزا قادیانی نے کچھ عرصہ بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر یہاں تک لکھ دیا کہ: ”یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔“
حالات نے ثابت کر دیا کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کی وفات یعنی ١٩٠٨ء تک ان کے نکاح میں نہیں آئی۔ کیا اس طرح مرزا قادیانی بد سے بدتر ثابت نہ ہوئے۔
مرزا قادیانی کی بازاری زبان
مرزا غلام احمد قادیانی (العیاذ باللہ) اگر اللہ کے سچے رسول، نبی یا مسیح موعود تھے تو کیا کسی نبی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کے لئے بازاری زبان استعمال کرے۔ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء جن میں بعض کو ان کی قوموں نے ذبح کرنے، جلاوطن کرنے اور ہر قسم کے مصائب کا سزاوار بنایا۔ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے مخالفوں کے لئے درج ذیل ایسے کلمات استعمال کئے جو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام) پر درج کئے ہیں: ”کل مسلمانوں نے میری دعوت کو قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے نہیں مانا۔“
نیز اپنی کتاب (نجم الہدی ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) پر گوہر افشاں ہیں ۔ ”بلاشبہ ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔“
کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ایک رسالہ (ہمارا موقف ص ٥١) میں یہ نہیں لکھا کہ: ”میں امتی ہوں ۔ خاتم النبیین کا خادم ہوں ۔“
پھر اپنی ہی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) پر اپنے ہی اس دعوے کی دھجیاں بکھیر کر دجل و تلبیس کی شاہراہ پر گامزن رہتے ہوئے لکھا: ”محمد رسول الله والذين معه اس وحی الٰہی میں خدا نے میرا نام محمد رکھا ۔“
کیا مرزا قادیانی نے اپنی ایک کتاب (ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٤) پر یہ نہیں تحریر کیا ہے کہ: ”اب جبرائیل امین کو بعد وفات رسول اللہ ہمیشہ کے لئے وحی لانے سے منع کیا گیا ہے۔ کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آ سکتا ۔“
اور پھر خود ہی اس دعوے کا خون اس طرح کیا: ”حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوئی ہے۔ اس میں میرے لئے ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی موجود ہیں۔ نہ ایک بلکہ تین ہزار دفعہ ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
کوئی سچا نبی تو کیا ایک معقول انسان بھی اس قسم کی تضاد بیانی اور منافقت سے کام لے سکتا ہے؟
بموجب آیت ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه “ اگر مرزا قادیانی سچے نبی ہوتے تو لازم ہے کہ مرزا قادیانی پر بھی وحی ان کی اپنی قوم کی زبان میں آتی جو پنجابی تھی۔ لیکن ان پر متعدد زبانوں میں نازل ہوئی اور ان کا مجموعہ وحی ”تذکرہ“ کئی زبانوں کا معجون مرکب کیسے بن گیا؟ یہ تو ایک قرآنی آیت کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
کیا مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨، جو ١٨٩١ء میں شائع ہوئی) پر یہ نہیں تحریر کیا کہ: ”جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مسیلمہ کذاب کی مثل، کافر اور خبیث ہے۔“
اور آپ کے اسی مرزا قادیانی نے ١٨٩٩ء میں کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) پر یہ نہیں لکھا: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسی نے میرا نام نبی رکھا۔“
٢٦
پھر (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر لکھتے ہیں: ”سچا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
کیا مرزا قادیانی اپنے ١٨٩١ء والے دعوے کی رو سے ١٨٩٩ء میں خود ہی کذاب اور کافر نہ ہوئے؟
اگر مرزا قادیانی آپ کے بقول مسیح موعود یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے طور پر دنیا میں آئے ہیں تو جس مسیح کی علامات ٢٠٠ سے زیادہ قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں اور آنحضرت ﷺ کے مطابق آپ کا نام عیسیٰ، والدہ کا نام مریم، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں شادی کرائیں گے۔ امام مہدی ان سے پہلے آچکے ہوں گے۔ وہ دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینارہ کے قریب اتر کر پوری دنیا سے یہود و عیسائیت اور کفر کا خاتمہ کر کے دجال کو قتل کر کے پورے عالم میں آنحضرت ﷺ کی شریعت کا نفاذ کرنا اور بالآخر فوت ہو کر آنحضرت ﷺ کے روضۂ اقدس میں موجود چوتھی قبر کی خالی جگہ پر دفن ہونا ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کون ہیں؟ اور آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ تواتر سے ثابت قطعی احادیث کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟
ساتواں باب
مرزا قادیانی کے عقائد ونظریات اپنی کتابوں کی روشنی میں
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے سارے پیروکاروں کی تحریک کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ اسلام کے نام پر اسلام کے قلعہ کو مسمار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے عقائد ونظریات قرآن وحدیث سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ اس تحریک میں دراصل انگریزی دور استبداد کی پیدا کردہ ایک یادگار مرزا قادیانی کو ایک نبی کے طور پر پیش کرنے کے لئے قرآن وحدیث کے معانی میں ایسی تحریف اور خیانت سے کام لیا ہے کہ جس کی جسارت کوئی عیسائی اور یہودی بھی نہیں کر سکا۔
قادیانیوں کا کلمہ طیبہ ...... ایک اہم سوال
غیر مسلم ممالک میں اکثر قادیانیوں کے پروپیگنڈے کا محور یہ سوال ہے کہ ایک قادیانی اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو دیگر مسلمانوں کو اس کی اس اسلامیت پر خوش ہونا چاہئے۔ لیکن مولوی حضرات اور حکومت ان کے در پے آزار ہو جاتی ہے۔ انہیں کلمہ طیبہ
٢٧
لکھنے اور پڑھنے کے جرم میں سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ مٹایا جاتا ہے۔ ایک عیسائی کلمہ پڑھے تو آپ خوش ہوں، ایک یہودی مسلمان کہلائے تو آپ اسے خوش آمدید کہیں۔ لیکن قادیانیوں کے کلمہ طیبہ اور قرآن پڑھنے سے علماء اسلام کو جو ضد ہے وہ ایک ڈھٹائی ہے۔ تعصب ہے، سوقیانہ ذہنیت ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ایک آدمی اپنے آپ کو کتا کہے تو اسے کہنے کا حق ہے۔ بلاشبہ وہ سب انسانوں کو انسان نظر آ رہا ہے۔ لیکن قانونی طور پر اسے اپنے آپ کو آزادی کے ساتھ کسی بھی لقب کے ساتھ معنون کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ یہ سوال ہر آدمی کے قلب وجگر کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے ایک عام انسان کے دل میں بھی قادیانیوں سے ہمدردی پیدا ہونے لگتی ہے۔ سطحی طور پر بلاشبہ آپ کو قادیانیت کی مظلومیت کا احساس ہو۔ لیکن اگر غائرانہ نظر وفکر اور حقیقت پسندانہ تدبر کی عینک سے اس سوال کا جائزہ لیا جائے تو ایک دھوکے اور سراب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
بہتر ہوگا کہ آپ ہی کی زبان میں اس جواب کی وضاحت کی جائے۔ ملاحظہ ہو کہ آپ اپنے شہر میں ایک لارڈ میئر (Lard Mayor) کو منتخب کرتے ہوئے جمہوری طریقے سے اسے اپنے شہر کی قیادت سونپتے ہیں۔ سماجی طور پر اسے ایک ذمہ دار کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک عام آدمی بغیر مجوزہ اور طے شدہ طریقے کے اس کی کرسی پر براجمان ہو جائے اور اپنے آپ کو لارڈ میئر (Lard Mayor) کہنے لگے تو یقیناً آپ اسے ایسی آزادی ہر گز نہیں دے سکتے۔ ایک انسان کو کتا کہنے کا حق دے سکتے ہیں۔ لیکن ایک آدمی کے ”فادر آف سٹی“ بننے پر آپ بھی سیخ پا ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے مروجہ طریقہ اور طے شدہ ضابطہ کی خلاف ورزی کی اور سادہ لوح عوام کو دھوکہ دینا چاہا۔
قادیانیوں سے ہمارا اختلاف کلمہ پڑھنے اور مسلمان کہلانے سے صرف یہ ہے کہ وہ دھوکہ اور فریب کا راستہ چھوڑ دیں۔ ایک من گھڑت نبی کو ہمارے پیغمبر حضرت محمدﷺ کے مقابلے میں کھڑا کر کے آپؐ کے اسلام کا لیبل اپنے اوپر چسپاں نہ کریں۔ جب مرزا قادیانی نے خود کو محمد رسول اللہ تک لکھ دیا ہے تو اب کلمہ اس مرزا قادیانی کا پڑھ کر عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے حضور اکرمﷺ کے کلمہ طیبہ کا راگ نہ الاپیں۔
قادیانی گروہ ...... مسلمانوں کے مقابلے میں ایک متوازی جماعت
کیا قادیانی سربراہ مرزا غلام احمد قادیانی کی درج ذیل تصریحات جنہیں ان کے ٢٨
صاحبزادے نے ”یہ غل ہے۔ اللہ کی ذات سے (مسلمانوں ہ اور حضر
(انوار خ ”حضرت مسیح الموعو ظاہر ہیں اور مسلمان بلکہ اللہ نے تو سوروں دودھ، بدبودار خراب مرزا قادیانی نے اس ہوا اور غلام احمد قادیا دوسری ج شخص نے دریافت ک کہا بالکل ہم ان کو کا
ان تصری صورت میں تو دنیا ہ مسلمان کا مفہوم بدل قادیانیوں اور د قادیانیوں مسلمانوں کا اس قسم کا ہیں۔ لیکن قادیانی غیر ہیں۔ ان کے نفاق اور
صاحبزادے نے پیش کیا کے بعد بھی آپ انہیں اسلام کے ساتھ نتھی کریں گے۔ ”یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ اللہ کی ذات، رسول کریم ﷺ، قرآن، روزہ، زکوٰۃ، غرض کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے (مسلمانوں سے) اختلاف ہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣١ء)
اور حضرت خلیفۂ اول نے اعلان کیا کہ: ”ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢١ دسمبر ١٩١٤ء)
(انوار خلافت ص٩١) پر مرزا قادیانی کے صاحبزادے کی تصریحات درج ذیل ہیں: ”حضرت مسیح الموعود کا حکم ہے کہ مسلمانوں سے تمام تعلقات منقطع کر لئے جائیں۔ کیونکہ قادیانی طاہر ہیں اور مسلمان ناپاک ہیں۔ ناپاک کا پاک سے کوئی جوڑ نہیں ہو سکتا۔ یہ تعلق ہم نے نہیں توڑا بلکہ اللہ نے توڑا ہے۔ ان کے ساتھ (مسلمانوں کے ساتھ) تعلق کی ایسی مثال جس طرح خالص دودھ، بدبودار خراب دودھ کے ساتھ مل جائے۔ نماز جنازہ امت مسلمہ پر نہ پڑھے۔“ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے اپنے حقیقی بیٹے پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ صرف اس لئے کہ وہ اسلام سے برگشتہ نہ ہوا اور غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لایا۔
دوسری جگہ ان کا قول ملاحظہ ہو: ”لکھنؤ میں میری ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس شخص نے دریافت کیا کہ جو قادیانیوں کو نہ مانے تم اسے کافر کہتے ہو۔ کیا یہ درست ہے؟ میں نے کہا بالکل ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔ وہ شخص میرے اس جواب سے حیرت میں پڑ گیا۔“
(انوار خلافت ص٩٢)
ان تصریحات کے بعد بھی آپ قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑیں گے۔ اس صورت میں تو دنیا بھر کے ٢، ٣ لاکھ قادیانیوں کے مقابلے میں ایک ارب مسلمان کافر ٹھہرے۔ مسلمانی کا مفہوم بدل گیا۔ اسلام کے معنی تبدیل ہو گئے۔
قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں فرق
قادیانیوں کے مقابلے میں پاکستان یا دوسرے اسلامی ممالک میں عیسائیوں وغیرہ سے مسلمانوں کا اس قسم کا اختلاف نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ کھلے کافر اور علیحدہ تمدن کے علمبردار ہیں۔ لیکن قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود اسلام کا نام لے کر منافقت کے کمال سے بھی مزین ہیں۔ ان کے نفاق اور فریب کاری نے ہی پوری امت مسلمہ کو ان کے خلاف غضب آلود کر رکھا ہے۔
٢٩
خدا کے بارے میں مرزا قادیانی کا نظریہ
میں خدا ہوں
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٦٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
خدا کی اولاد ہونے کا دعویٰ
”یہ وحی آئی۔ ’انت منی بمنزله اولادی‘ اے مرزا تو مجھ سے میری اولاد جیسا ہے۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
مارنے اور زندہ کرنے کا دعویٰ
”اعطیت صفة الافناء والاحیاء من رب الافعال مجھے خدا کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
توحید ہونے کا دعویٰ
”انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی تو مجھ سے میری توحید کی مانند ہے۔“
(تذکرہ ص ٢)
کن فیکون ہونے کا دعویٰ
”انما امرك اذا اردت شيئا ان يقول له كن فيكون یعنی اے غلام احمد تیری یہ شان ہے کہ تو جس چیز کو کن کہہ دے وہ فوراً ہو جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
ساری کائنات کے سردار اور دنیا کے سب سے برگزیدہ پیغمبر
حضرت محمدﷺ کی برابری کا دعویٰ
”جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ (حضرت محمدﷺ) میں فرق کرتا ہے۔ اس نے مجھے دیکھا اور پہچانا نہیں۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”محمد رسول الله والذين معه کی قرآنی آیت میں خدا نے میرا ہی نام محمد رکھا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
٣٠
"آنحضرت ﷺ کے ٣ ہزار معجزات ہیں۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
"لیکن مرزا قادیانی کے ١٠ لاکھ نشانات ہیں۔"
(تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ١٥٣)
"آنحضرت ﷺ کے وقت دین کی حالت پہلی شب کے چاند کی طرح تھی۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت چودھویں رات کے ماہ کامل کی طرح ہو گئی۔"
(خطبہ الہامیہ ص ٢٧٢، خزائن ج ١٦ ص ٢٧٢)
"جو میری جماعت میں داخل ہو گیا وہ صحابہ میں داخل ہو گیا۔"
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
"وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین قرآن کی اس وحی الٰہی کے مطابق خدا نے مجھے ہی تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٤٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)
آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ) فضیلت کا دعویٰ
قرآن کی ایک آیت "واذ اخذ اللہ میثاق النبیین " جس میں آنحضرت ﷺ کی فضیلت اس طور پر موجود ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے انبیاء کی ارواح کو جمع کر کے تمام سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ آگے ارشاد ہے۔" لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال أأقررتم واخذتم علی ذالکم اصری (القرآن)"
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے حسب عادت قرآن کے معنی میں تحریف کر کے یہ آیت اپنے اوپر منطبق کر کے کہا: "تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی العیاذ باللہ) پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا۔"
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٩؍ ستمبر ١٩١٥ء) کے مطابق وضاحت کے ساتھ اس پر درج ذیل الفاظ لکھ کر آنحضرت ﷺ کی توہین کی گئی ہے۔ "اگر محمد رسول اللہ (ﷺ) زندہ ہوتے تو انہیں بھی چارہ نہ تھا کہ وہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اتباع سے جان چھڑاتے۔"
حالانکہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان تمام کتب احادیث میں موجود ہے۔" لــــو کـــــان
٣١
موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی ”اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو بھی ان کے لئے میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔“
ملاحظہ ہو کہ مرزا قادیانی کی بے مثال گستاخی اور ڈھٹائی کے بعد بھی اگر اس کے پیروکار یہ کہیں کہ مرزا قادیانی حضور اکرمﷺ کے امتی نبی تھے یا حضور اکرمﷺ کی نبوت کا سایہ تھے۔ تو اس کو دھوکہ فریب اور دجل وتلبیس کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے۔
تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین
”دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٨٥،خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
براہین احمدیہ (مرزا قادیانی کی من گھڑت وحی کی کتاب) میں خدا نے فرمایا کہ: ”میں آدم ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد رسول اللہ ہوں۔“
انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کے دعوے
”بہت سے انبیاء آئے۔ لیکن کوئی بھی اللہ کی معرفت میں مجھ سے آگے نہیں۔ وہ سب کچھ جو کل انبیاء کو عطا ہوا ۔ مجھے اکمل طور پر عطا ہوا۔“
(نزول المسیح ص٩٩،خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
”اے عزیزو! اس شخص (مرزا قادیانی) مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے خواہش کی ۔“
(اربعین نمبر٣ ص١٣،خزائن ج١٧ ص٤٤٢)
”خدا رسول اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٥٥،خزائن ج٢٢ ص١٥٩)
”میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا تھا۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٥١)
”حضور اکرمﷺ کے لئے چاند کو گرہن لگا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کو، اب تو کیا انکار کرے گا۔“
(اعجاز احمدی ص٧١،خزائن ج١٩ ص١٨٣)
”غلبہ کاملہ (دین اسلام) آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا۔ غلبہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت ظہور میں آئے گا۔“
(چشمہ معرفت ص٨٣،خزائن ج٢٣ ص٩١)
٣٢
”صد ہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشین گوئیاں سبقت لے گئی ہیں۔“
(ریویو کا نمبر اول ص ٣٩٣)
”خدا نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبیوں پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں شرمناک زبان
”وہ مسیح ابن مریم ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ معلوم کی راہ سے جو پلیدی، ناپاکی مبرز ہے۔ تولد پا کر مدت تک بھوک، پیاس، درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا۔“
(براہین احمدیہ ص ٣٧٩، خزائن ج ١ ص ٤٤١، ٤٤٢)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا قادیانی کے نظریات
خاندان پر زنا کا الزام
”عیسیٰ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ آپ کی تین دادیاں نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شراب پینے، جھوٹ بولنے کا الزام
”عیسیٰ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) جھوٹ کا عادی تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد اور نہ حق کا پرستار، متکبر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢١)
”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتا تھا۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت سے۔“
(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
٣٣
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کا دعویٰ
”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
”یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)
(عجیب ہے کہ مرزا قادیانی نے مسیحیت کے اپنے دعوٰی میں یہودیوں کے عقیدہ کو دلیل بنایا ہے)
”ایک دفعہ مجھے کسی دوست نے مشورہ دیا کہ ذیابیطس کی بیماری میں افیون مفید ہوتی ہے۔ علاج کی غرض سے اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ میں نے کہا: ”اگر میں افیون کھانے لگ جاؤں تو لوگ کہیں گے پہلا مسیح شرابی تھا۔ دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت طبع دوم ص ٦١)
”وہ مسیح ایک خاص قوم کے لئے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ چھوڑ گیا۔ جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ اس کے آنے سے ابتلاء اور فتنہ اور بڑھ گیا۔“
(اتمام الحجۃ ص ٢٨، خزائن ج ٨ ص ٣٠٨)
”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ عیسٰی (علیہ السلام) کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
”ہاں آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
٣٤
”جو جواب نہیں دے ”ب“ انجیل کا مغز کھلاتی یہ میری تعلیم ہے“
”یہ کوئی معجزہ صادر قاری شریعت پیغمبر، ال دعوؤں، خیانتوں لئے جس طرح شرافت اور اصو کے اس سب سے
عیس حکمرانوں کو اپنی رکاوٹ نظر آئی زبان اور تعصب
خلفاء راشد ” اٹھانے کے قاب سیدنا حسن ا ”
”یہود تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں۔ جن کا ہم جواب نہیں دے سکتے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص١٣، خزائن ج١٩ ص١٢٠)
”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی ہے۔ عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٦ حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٩٠)
”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص٦، خزائن ج١١ ص٢٩٠)
قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا قادیانی نے ایک جلیل القدر صاحب شریعت پیغمبر، اللہ کے سچے اور برگزیدہ رسول کے خلاف کس قدر ہرزہ سرائی کی ہے۔ اپنے جھوٹے دعووں، خیانتوں اور مخالفتوں کو دی جانے والی گالیوں کو چھپانے اور اپنے عیوب پر پردہ ڈالنے کے لئے جس طرح یہودیوں کی وکالت کی ہے۔ غیرت اور حیاء نام کی اگر کوئی چیز دنیا میں ہوتی، شرافت اور اصول پسندی کے پیکروں سے دنیا خالی نہ ہوگئی ہوتی تو چاہئے یہ تھا کہ انگریز اپنے پیغمبر کے اس سب سے بڑے دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے۔
عیسائی ریاستیں مسلمانوں سے بھی پہلے اس کے بیخ وبن اکھاڑ دیتیں۔ جب عیسائی حکمرانوں کو اپنی کرسی کے لئے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ ان کو اپنے اقتدار اور ہوس براری میں کچھ رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ جور وظلم کا ہر حربہ استعمال کر دیتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی غلاظت آلود زبان اور تعصب آمیز قلم کی تیشہ زنی سے وہ کچھ محسوس نہیں کرتے۔ تعجب ہے!
صحابہ کرام کی توہین
خلفاء راشدین حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کی توہین
”غلام احمد کہاں اور ابوبکر وعمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کہاں۔ وہ دونوں غلام احمد کی جوتیاں اٹھانے کے قابل بھی نہیں۔“
(المہدی)
سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے خلاف بدزبانی
”لوگ میرے متعلق کہتے ہیں کہ میں خود کو حسن وحسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے افضل
٣٥
سمجھتا ہوں تو میں کہتا ہوں درست ہے۔ میں ان دونوں سے خود کو افضل سمجھتا ہوں ۔“
(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
”ایک سو حسین (رضی اللہ عنہ ) میرے گریبان میں ہیں ۔“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں: ”ابا جان کی ایک لمحہ کی قربانی سو حسین (رضی اللہ عنہ ) کی قربانی سے افضل ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٦ جنوری ١٩٢٦ء)
آٹھواں باب ...... مرزا قادیانی کے گول مول اور مضحکہ خیز الہامات
مرزا قادیانی اور حمل
”میرا نام ابن مریم رکھا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے جو (مدت حمل ) دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
مرزا قادیانی بطور خدا کی بیوی
مرزا قادیانی کا ایک مرید قاضی یار محمد اپنے ایک پمفلٹ نمبر ٣٤ ۔ موسومہ اسلامی قربانی میں لکھتا ہے : ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی یہ کیفیت ظاہر فرمائی جو کشف کی حالت آپ پر طاری ہوئی۔ گویا کہ آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“
”ایک ناپاک روح کی آواز آئی۔ میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔“
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٥)
مرزا قادیانی اور حیض
”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی اور اہم خبر پر اطلاع پائے ۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ (حیض ) بچہ پیدا ہو گیا۔ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
نواں باب ...... مرزا غلام احمد قادیانی، تضادات کا مجموعہ
لائے بزم یار سے لوگ خبر الگ الگ
٣٦
میں اپنے آپ "صا طور پر نبوت یا رس معنوں کے لحاظ میں عام مسلمانو خدا کی قسم میں "میں ہے۔ اسی نے میر ظاہر کئے جو تین ل جھوٹوں پر مر "جو "جو رہتا۔" حضو ر ﷺ پر "آ تاریخ سے سوبر آدم پر قیامت تمام اولیاء ع چودھویں صدی
میں اپنے آپ کو نبی نہیں سمجھتا
"صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت بھی حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر بھی کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔"
(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
خدا کی قسم میں نبی ہوں
"میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے۔ اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے...... اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
جھوٹوں پر مرزا قادیانی کا فتویٰ
"جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)
"جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
"جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ہو جائے تو پھر دوسری کسی بات میں اس کا اعتبار نہیں رہتا۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ ، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
حضور ﷺ پر مرزا قادیانی کا بہتان
"آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔"
(ازالہ اوہام ج ١ ص ٢٥٢ ، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)
یہ صریح جھوٹ، بہتان اور افتراء ہے۔ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ سو سال تک بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔
تمام اولیاء عظام پر جھوٹ کا الزام
"اولیاء عظام گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگادی ہے کہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے آخر میں پیدا ہوگا۔ نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔"
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١)
٣٧
یہ بھی صریحاً کذب اور خود ساختہ افتراء ہے۔ کسی نبی کا کوئی ایسا کشف کسی کتاب میں موجود نہیں ہے۔
مجموعہ احادیث بخاری شریف پر جھوٹ
”بخاری (شریف) میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس مسیح موعود خلیفہ کے لئے آواز آئے گی۔ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی“
(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
صحیح بخاری میں یہ حدیث نہیں ہے۔
آنحضرت ﷺ پر ایک اور الزام
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو فوراً اور بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دو۔ ورنہ وہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔“
(اخبار الحکم مورخہ ٢٤ اگست ١٩٠٧ء)
یہ بھی حضور اکرم ﷺ پر سراسر بہتان ہے۔ ایسا حکم آپؐ نے کہیں نہیں دیا ہے۔
آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی کا ایک اور بہتان
”احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا امام ہوگا۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)
یہ بھی صاف جھوٹ ہے۔ کسی حدیث میں بھی مسیح کا چودھویں صدی میں آنا مذکور نہیں ہے۔
میرا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا
”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوسکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
میرا منکر جہنمی، کافر اور غیر ناجی ہے
”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
دسواں باب ...... دنیا بھر کے ہر قادیانی سے دس سوالات
ہر حوالے کی ذمہ داری مؤلف پر ہے اور مؤلف دنیا بھر کی کسی بھی عدالت میں ہر وقت ایسے حقائق فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔
٣٨
- ☆...... کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (تبلیغ رسالت ج٧ ص١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣
ص٢١) پر یہ نہیں لکھا کہ: ”میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں۔“ کسی غیر مسلم اور جابر سلطنت کا کوئی نبی، مسیح یا مہدی خود کاشتہ پودا ہو سکتا ہے۔
- ☆...... کیا مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ پر یہ نہیں لکھا کہ: ”١٤ویں صدی
آخری ہے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٨، خزائن ج٢١ ص٣٥٩)
کیا آج چودھویں صدی کو ختم ہوئے سات سال نہیں گزر چکے؟ کیا اب پندرہویں صدی کا سورج جب ہر روز چڑھتا ہے تو اس سے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کے کذب اور افتراء کا اظہار نہیں ہوتا؟
- ☆...... مورخہ ٥؍ جون ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی کا ایک عیسائی ڈپٹی عبداللہ آتھم سے امرتسر
(انڈیا) میں مناظرہ ہوا۔ پندرہ روز تک کوئی نتیجہ نہ نکلا تو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا۔ جس کا مضمون حسب ذیل تھا۔
”اللہ نے معجزہ کے ذریعے بتلایا ہے کہ یہ کذاب پندرہ ماہ میں مر جائے گا اور میری یہ بات سچ نہ ہو تو میں سزا کے قابل ہوں۔ میرا چہرہ سیاہ پڑ جائے۔ میں رسوا ہو جاؤں۔ میرے لئے سولی تیار رکھو۔ میری گردن میں رسی ڈال کر گلا گھونٹ دیا جائے۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو میں نے کہا ضرور واقع ہوگا۔ زمین و آسمان اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ مگر پیش گوئی کے خلاف نہ ہوگا۔“
(جنگ مقدس ص٢١١، خزائن ج٦ ص٢٩٣)
کیا اس وحی کا انجام یہ نہیں ہوا جو بطور اعتراف ایک شخص یعقوب قادیانی نے یوں (سیرۃ المسیح موعود ص٧) پر نقل کیا ہے۔
”پندرہ ماہ گزرنے کے بعد جب آخری دن ہوا تو قادیانیوں کے چہرے سیاہ پڑگئے۔ دل پریشان تھے۔ حسرت و یاس غالب تھی۔ لوگ رو رو کر چیخ و پکار کے ساتھ اللہ سے دعائیں کر رہے تھے۔ چیخ و واویلا اس حد تک پہنچا کہ مخالفین بھی سہم گئے۔“
لیکن آخری روز گزرنے کے بعد جب مرنے کی کوئی خبر نہ آئی تو مرزا قادیانی نے حسب عادت ایک جھوٹ اور تراشا کہ عبداللہ آتھم نے عیسائیت سے توبہ کر لی ہے۔ لیکن چند روز بعد ہی مورخہ ١٥؍ستمبر ١٨٩٤ء کے اخبار وفادار لاہور میں عبداللہ آتھم کا یہ بیان شائع ہوا: ”میں
٣٩
مرزا قادیانی کی پیش گوئی کا منتظر ہوں۔ صحیح سالم ہوں اور مسیحیت پر قائم ہوں۔ میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے۔ مرزا قادیانی کو خدا نے جھوٹا کیا۔‘‘
اب بتائیے کہ کیا سچے نبی اور رسول کے دعوؤں اور پیش گوئیوں کا یہی انجام ہوتا ہے؟
- ☆...... ١٨٨٨ء میں جب کہ مرزا قادیانی کی عمر ٥٠ سال تھی۔ اپنے ایک رشتہ دار مرزا احمد
بیگ کو ان کی نوعمر لڑکی محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک اشتہار مورخہ ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء کو شائع کرایا: ’’اس خدائے قادر، حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے کوشش کر اور ان کو کہہ دے کہ یہ نکاح تمہارے لئے موجب رحمت ہوگا۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ کسی بھی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی تو وہ نکاح کے روز سے ڈھائی سال بعد اور اس کا والد تین سال بعد فوت ہو جائے گا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص٢٨٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص٣٩٦، خزائن ج٣ ص٣٠٥) میں رقمطراز ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ احمد بیگ کی دختر کلاں تمہارے نکاح میں ضرور آئے گی۔ لوگ بہت عداوت کریں گے۔ لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ ہر طرح اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔ ہر ایک روک درمیان سے اٹھا دے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(آئینہ کمالات ص٢٨٨، خزائن ج٥ ص ایضاً) پر اس نکاح کو اپنے حق اور باطل ہونے کا معیار بنایا: ’’واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔‘‘
پیش گوئی کے ٤ سال بعد تک بھی جب محمدی بیگم کے والد احمد بیگ کے بے حد دباؤ کے باوجود نکاح پر آمادہ نہ ہوئے تو پھر مرزا قادیانی منت سماجت اور حرص وطمع کے حربے استعمال کرنے لگے۔ احمد بیگ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ نیکی بھی ہوگی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں گا اور آپ کی درازی عمر کے لئے دعا کرتا رہوں گا۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ آپ مانگیں میں آپ کو دوں گا۔‘‘
(کلمہ فضل رحمانی)
مرزا قادیانی کے اتنا گر جانے کے باوجود ان کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہو سکا اور بالآخر
مورخہ ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو محمدی بیگم کا نکاح ان کے والد نے ایک شخص مرزا سلطان محمد سے کر دیا۔
قارئین کرام! ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ کس طرح ایک لڑکی کے عشق میں مرزا قادیانی خدا پر جھوٹ باندھنے لگے۔ کیا کسی لڑکی سے شادی کے لئے کسی نبی کا یہ انداز ہو سکتا ہے؟
- ☆...... مرزا قادیانی (العیاذ باللہ) اگر اللہ کے سچے رسول، نبی یا مسیح موعود تھے تو کیا کسی نبی
کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کے لئے بازاری زبان استعمال کرے؟ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء جن میں بعض کو ان کی قوموں نے ذبح کرنے، جلاوطن کرنے اور ہر قسم کے جرم کا سزاوار بنایا۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے مخالفوں کے لئے درج ذیل ایسے کلمات استعمال کئے۔ جو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام) پر درج کئے ہیں: ”کل مسلمانوں نے میری دعوت کو قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“
نیز اپنی کتاب (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣) پر گوہر افشاں ہیں: ”بلاشبہ ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بڑھ گئیں۔“ کیا یہ الفاظ کسی نبی یا رسول کے شایان شان ہو سکتے ہیں؟
- ☆...... کیا مرزا قادیانی اپنے ایک رسالہ (ہمارا موقف ص ٥١) میں یہ نہیں لکھا کہ: ”میں امتی
ہوں، خاتم النبیین کا خادم ہوں۔“
پھر اپنی ہی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧) پر اپنے ہی اس دعوے کی دھجیاں اڑا کر دجل و تلبیس کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوئے۔ ”محمد رسول الله والذین معه اس وحی الہی میں خدا نے میرا نام محمد رکھا۔“
کیا کوئی مسلمان اس قسم کی غلط بیانیوں پر اعتبار کر سکتا ہے؟
- ☆...... کیا مرزا قادیانی نے خود اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢) پر یہ لکھا
کہ: ”اب جبرائیل امین کو بعد وفات رسول اللہ ﷺ کے ہمیشہ کے لئے وحی لانے سے منع کیا گیا ہے۔ کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا ۔“
اور پھر خود ہی اس دعوے کا خون اس طرح کر دیا: ”حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے۔ اس میں میرے لئے ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی موجود ہیں۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ صد ہا دفعہ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
کوئی کیا نبی تو کیا ایک معقول انسان بھی اس قسم کی تضاد بیانی اور منافقت سے کام لے سکتا ہے؟
- ☆...... بموجب آیت ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“
اگر مرزا قادیانی سچے نبی ہوتے تو لازم ہے کہ مرزا قادیانی پر بھی وحی ان کی اپنی قوم کی زبان میں آتی جو پنجابی تھی۔ لیکن ان پر متعدد زبانوں میں وحی کس طرح نازل ہوئی اور ان کا تذکرہ وحی کئی زبانوں کا معجون مرکب کیسے بن گیا۔ یہ تو ایک قرآنی آیت کی صریح خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کا کوئی مسلمان بھی ان عجیب وغریب اور جھوٹے دعوؤں پر اعتبار تو کیا انہیں سننے کو بھی تیار نہیں ہے۔
- ☆...... کیا مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٢٧، ٢٨، و، خزائن ج ١١ ص ایضاً) پر یہ نہیں
لکھا : ”جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مسیلمہ کذاب کی مثل ہے اور کافر اور خبیث ہے۔“
اور پھر آپ کے اسی مرزا قادیانی نے ١٨٩٩ء اپنی کتاب (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) پر یہ لکھتے ہوئے خود ہی اپنی تضاد بیانی کا ثبوت فراہم نہیں کیا: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
اور (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) پر یہ نہیں لکھا کہ : ”سچا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
کیا مرزا قادیانی اپنے ١٨٩١ء والے دعوے کی رو سے ١٨٩٩ء میں خود ہی کذاب اور کافر نہ ہوئے؟
- ☆...... اگر مرزا قادیانی آپ کے بقول مسیح موعود یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے طور پر دنیا
میں آئے ہیں تو جس مسیح کی علامت ٢٠٠ سے زیادہ قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں اور آنحضرت ﷺ کے مطابق آپ کا نام عیسیٰ ، والدہ کا نام مریم ہوگا۔ آپ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں شادی کریں گے۔ امام مہدی ان سے پہلے آچکے ہوں گے۔ وہ دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی میناروں سے اتر کر پوری دنیا سے یہودیت، عیسائیت اور ہر کفر کا خاتمہ کر کے دجال کو قتل کریں گے۔ پورے عالم میں حضور ﷺ کی شریعت نافذ کر کے بالآخر فوت ہو کر آنحضرت ﷺ کے روضہ اقدس میں موجود چوتھی قبر کی خالی جگہ پر دفن ہوں گے۔ وہ عیسیٰ کون ہیں؟ آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ تواتر سے ثابت قطعی احادیث مبارکہ کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟
٤٢
خاتم النبیین لا نبی بعدی
مرزا ناصر احمد
خلیفہ
مرزائے قادیانی پر
چند سوال
(حصہ اوّل)
جناب غلام محمد شوخ بٹالوی
دیباچہ
ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ، خاتم الانبیاء، سید المرسلین، شفیع المذنبین ﷺ کو ایسا خاتم النبیین مانتے رہے کہ آپؐ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ حضور ﷺ کی ذات پر ہو گیا ہے اور اب آپؐ کے بعد جو کوئی دعویٰ نبوت کا کرے گا وہ کافر، کاذب وغیرہ ہے اور میرا دعویٰ صرف مجدد وقت اور محدث کا ہے۔ جس کا ثبوت آئندہ صفحات پر آئے گا۔
اور میاں محمود احمد خلیفہ ثانی مرزائے قادیانی بھی ١٩١٠ء سے لے کر ١٩١٤ء تک بڑے زور شور سے اس امر کی تصدیق کرتے رہے۔ مگر بعد میں جب آپ تخت خلافت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے مرزا قادیانی کے اس عقیدہ کی پرزور تردید کر کے مرزا قادیانی کی نبوت کا اعلان کر دیا اور نہ ماننے والوں کو کافر قرار دے کر ان سے ہر قسم کا بائیکاٹ کر دیا۔
ان ہر دو تحریروں کے پڑھنے کے بعد ایک محقق کے واسطے بڑی مصیبت کا سامنا پڑ جاتا ہے کہ وہ دونوں تحریروں میں سے کس کی تحریر کو سچا اور کس کو جھوٹا خیال کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔
اب ہم میاں ناصر احمد خلیفہ ثالث مرزائے قادیانی پر یہ سوال کر کے جواب کے خواہاں ہیں کہ آپ دونوں تحریروں میں سے کس کو صحیح اور کس کو غلط تصور کرتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ میاں ناصر احمد نہایت متانت سے جواب دے کر مشکور فرمائیں گے۔
شوخ بٹالوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دربار مرزائے قدنی
سوال از شوخ: ...... مرزا قادیانی! علمائے محمدیہ آپ کی تحریرات مثلاً فتح اسلام، توضیح مرام سے یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ آپ حضرت سید المرسلین، شفیع المذنبین، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ، محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کر کے مدعی نبوت ہیں۔ لہٰذا اسی بناء پر انہوں نے متفقہ طور پر
از روئے شریعت محمدیہ آپ پر فتویٰ کفر لگا دیا ہے۔ از راہ کرم! آپ اپنے عقیدہ پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں۔
جواب مرزا...... ”اس شہر دہلی کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے...... یہ الزام سراسر افتراء ہے۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں۔ میں سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١،٢٣٢)
”دوسرے الزامات مجھ پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص...... ختم نبوت کا انکار ہے۔ یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ میں جناب خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو۔ اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٥٥)
”ان کا کہنا صحیح نہیں کہ میں تو نبوت کا مدعی نہیں کہ تا فوری عذاب نازل کروں۔ ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٩٧)
سوال...... مرزا قادیانی! اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ جب آپ نے اس قدر سخت بیان دے کر اپنی بریت پیش کی تو علمائے محمدیہ کو آپ کے بیانات پر تسلی نہ ہوئی۔ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ حلفیہ طور پر ہی فیصلہ کر لیتے۔
جواب...... ”بالآخر پھر میں عامۃ الناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں۔ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ میرا عقیدہ ہے اور ”ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔ میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے نام ہیں اور جس قدر قرآن کے حروف ہیں اور جس قدر آنحضرت ﷺ کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے خلاف نہیں۔“
(کرامات الصادقین ص٢٥، خزائن ج٧ ص٦٧)
”آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل...... اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس
٣
امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ص ٣٩٠)
”یعنی مجھے سزاوار نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جاملوں۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں ...... عربی عبارت : ماکان لی ان ادعی النبوۃ“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
”ومعاذ اللہ ......الخ! یعنی خدا کی پناہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہاں محمد مصطفے ﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا۔ میں نبوت کا مدعی بنتا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٨٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠٢)
”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ حاشیہ)
”وکیف یجیء نبی بعد رسولنا وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبیین“ یعنی رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آسکتا ہے۔ حالانکہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
”اومن بانّ رسولنا محمد المصطفے ﷺ افضل الرسل وخاتم النبیین وان ھؤلاء قد افتروا علی وقالوا ان ھذا الرجل یدعی انہ نبی“ میں ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے رسول محمد مصطفے ﷺ افضل الرسل خاتم النبیین ہیں اور ان لوگوں نے مجھ پر افتراء کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کو غلطی لگی ہے۔ آپ کس خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔“
(جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)
سوال ...... اچھا مرزا قادیانی! یہ تو آپ کے بیانات سے ثابت ہو گیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور اب آپ کے بعد کوئی نیا پرانا نبی نہیں آسکتا اور میں ہرگز ہرگز نبوت کا مدعی
٤
نہیں ۔ بلکہ ایسے شخص کو کافر، کاذب، بد بخت، مفتری، منحرف قرآن جانتا ہوں۔ مگر اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ حضورﷺ پر نور، دل کے سرور، رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کیوں ختم ہے اور کیوں کوئی نبی یا رسول نہیں آ سکتا؟
جواب...... ”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام ) حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بہ قیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل علیہ السلام ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
”حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں ۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)
”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبیﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا ۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
”یعنی ہمارے نبیﷺ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ جب کہ ان کی وفات کے بعد وحی الٰہی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
سوال...... مرزا قادیانی! اگر کوئی نبی آجائے تو؟
جواب...... ”اگر کوئی اور نبی نیا یا پرانا آئے تو ہمارے نبیﷺ کیونکر خاتم الانبیاء ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)
”اللہ کو شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ اس کو کہ سلسلہ
٥
نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کردے۔ بعد اس کے کہ اسے منقطع کر چکا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”اگر ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے اور نہ سلسلہ وحی نبوت منقطع متصور ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ تو یہ اعتراض لازم آئے گا کہ خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی دنیا میں آ گیا۔ ۔۔۔۔۔ یہ صریح طور پر نص قرآن کی تکذیب ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)
سوال ۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی! حضرت محمد رسول اللہﷺ کی نبوت کی میعاد کب تک ہے یا حضورﷺ کے بعد ہم کو کسی نبی کی حاجت ہے یا کہ نہیں؟
جواب ۔۔۔۔۔ ”حضرت ختم المرسلینﷺ کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے۔ کیونکہ ہمارے رسولﷺ کی تعلیمات اور اللہ کی کتاب تمام آنے والے زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے لئے علاج اور مداویٰ ہے۔ اس لئے ہمیں کسی دوسری نبی کی حاجت نہیں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)
سوال ۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی! کسی قسم کی نبوت آپ پر ختم ہے؟
جواب ۔۔۔۔۔ ”میں اس کے رسول پر دلی ایمان لاتا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“
ہر نبوت را بروشد اختتام
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
”محی الدین ابن عربی کا یہ قول ہے کہ حضورﷺ کے بعد شریعت والی نبوت بند ہے اور غیر تشریعی نبوت کا اجراء ہوسکتا ہے۔ مگر میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔“
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩٠٣ء)
سوال ۔۔۔۔۔ جب ہر ایک قسم کی نبوت حضرت محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہوگئی۔ (یعنی شریعت والی غیر تشریعی اور مطلق نبوت) تو اگر کسی وقت کسی انقلاب زمانہ کی وجہ سے مسلمان اپنے مذہبی اصولوں کو چھوڑ دیں اور فسق و فجور میں پڑ جائیں یا احکام دین کو بھلا دیں تو ان کی اصلاح کیسے ہوگی؟
جواب ۔۔۔۔۔ ”کیا آپ صاحبوں کو خبر نہیں کہ صحیحین سے ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ اس امت
٦
کے لئے بشارت دے چکے ہیں کہ اس امت میں پہلی امتوں کی طرح محدث پیدا ہوں گے اور محدث بفتح دال وہ لوگ ہیں جن سے مکالمات ومخاطبات الہیہ ہوتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٤٨، خزائن ج ١ ص ٦٥٥ حاشیہ)
”اس امت مرحومہ میں سلسلۂ خلافت دائمی اسی طور پر اور اسی کی مانند قائم کیا گیا۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں قائم کیا گیا تھا اور صرف اس قدر لفظی فرق رہا کہ پہلے انبیاء آتے تھے اب محدث آتے ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٦٠، خزائن ج ٦ ص ٣٥٦)
”چونکہ ہمارے سید و رسول ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٢٧، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤)
سوال...... مرزا قادیانی! آپ کے بیانات سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ البتہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق اس امت کی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً محدث آئیں گے۔ مگر آپ نے ابھی تک یہ ظاہر نہیں کیا کہ آپ نے اپنی تحریرات میں جو اپنی نسبت لفظ نبی کا استعمال کیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ جو کہ بنائے فتویٰ کفر ہے۔ اس کی بھی وضاحت کیجئے۔ تا کہ آپ کے مؤقف کا پتہ چل جائے اور ایک محقق کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔
جواب...... ”یعنی مکفرین کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ میں انبیاء میں سے ہوں۔“
اس کا جواب یہ ہے کہ اے بھائی معلوم رہے۔ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی۔ ”من الاعتراضات المکفرین . فاعلم یا اخی ما ادعیت النبوۃ“
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
سوال...... تو ایسا آپ کا قول کون سا تھا۔ جس کو وہ سمجھ نہ سکے اور آپ پر فوراً فتویٰ کفر لگا دیا۔ ذرا اس سے بھی آگاہ کریں کہ آپ کا دعویٰ کیا تھا؟
جواب...... نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ تھا جو خدا کے حکم سے کیا گیا۔
(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
٧
”لست نبی ...... الخ! یعنی میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں ۔تا کہ دین مصطفےٰﷺ کی تجدید کروں اور اس نے مجھے صدی کے سر پر بھیجا ہے۔“
(آئینہ ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ٣٨٣)
”وہ مجدد جو اس چودھویں صدی کے سر پر بموجب حدیث نبوی کے آنا چاہئے تھا۔ وہ یہی راقم ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٢٠، خزائن ج ١٥ ص ١٦٦)
”اذا اصطفانی ربی ...... الخ! یعنی رب نے مجھے اپنے دین کی تجدید کے لئے اور اپنے نبی کی عظمت کے لئے چنا اور مجھے حصہ دیا۔ الہامات ، مکالمات، مخاطبات اور مکاشفات سے اچھا حصہ اور مجھے محدث بنایا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧)
سوال ...... مرزا قادیانی! یہ تو ثابت ہو گیا کہ آپ کا دعویٰ محدث کا تھا۔ جس کو علماء نے دعویٰ نبوت سمجھا۔ اب آپ یہ تو فرمائیں کہ آپ کب سے مجدد کا دعویٰ کر رہے ہیں؟
جواب ...... یہ امر مسلم ہے کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہے۔ میں برابر پچیس سال سے مجدد ہونے کا دعویٰ کر رہا ہوں۔
(حقیقت الوحی ص ١٩٣، ١٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠١)
شوخ ...... مرزا قادیانی! اس کا مطلب یہ نکلا کہ ١٨٨٢ء میں آپ نے دعویٰ مجدد کا کیا اور یہ آپ کی آخری ایام زندگی کی تحریر ہے۔
سوال ...... مرزا قادیانی! مگر اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کی تحریرات میں متعدد بار جو لفظ نبی کا آیا ہے یا آپ کے الہامات میں لفظ نبی کا موجود ہے۔ اس کا کیا مطلب؟
جواب ...... ”میں کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں کہ میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد سوائے کثرت مکالمہ اور مخاطبہ کے اور کچھ نہیں اور یہ اہل سنت کے نزدیک مسلم ہے۔ پس صرف لفظی نزاع ہے۔ پس اے عقلمندو اور داناؤ جلدی نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی لعنت اس شخص پر جو اس کے خلاف ذرہ بھر دعوے کرے اور ساتھ ہی تمام لوگوں اور تمام فرشتوں کی لعنت اس پر ہو۔“
(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ١٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧)
”ہم بار ہا لکھ چکے ہیں۔ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ابتداء
٨
سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات متعدیہ کے اظہار اور اثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات ومخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے۔ سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر نہ اصل طور پر مجھے یہ نام دیا گیا۔ تا میں آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔
(چشمہ معرفت ص ٣٢٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)
نوٹ: یہ وہ کتاب ہے جو کہ مرزا قادیانی کی زندگی ختم ہونے سے صرف تین دن پہلے چھپی اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔
جواب ....... ”لیکن یاد رکھنا چاہئے جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدا تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی ﷺ سے نبی اللہ نکلا ہے۔ وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے۔ جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“
(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً حاشیہ)
”واللہ مکالمات ومخاطبات ....... الخ ! یعنی اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے اولیاء کو اپنے مکالمات ومخاطبات کا شرف عطا کرتا ہے اور ان اولیاء کو نبیوں کا رنگ تو دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ فی الحقیقت نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی حاجت کو مکمل کر دیا ہے۔ ان اولیاء کو صرف فہم قرآن عطاء کیا جاتا ہے۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥)
سوال ....... مرزا قادیانی ! نبوت کے متعلق تو آپ نے بڑا کچھ بیان کیا۔ مگر آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اسلامی اصطلاح میں نبوت کی تعریف کیا ہے؟
جواب ....... ”نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں۔ رسالت لغت عرب میں بھیجنے والے کو کہتے ہیں اور نبوت یہ ہے کہ خدا سے علم پا کر پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا، سو اسی حد تک مفہوم کو ذہن میں رکھ کر دل میں اس کے معنی کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے۔ مگر چونکہ اسلامی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض
٩
احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں۔ یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ چہارم ص ١٠٣)
سوال ...... مرزا قادیانی! جو حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرے آپ اسے کیا خیال کرتے ہیں؟
جواب ...... سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰﷺ ختم المرسلینﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰﷺ پر ختم ہوگئی۔
”ان پر (یعنی غلام دستگیر قصوری) واضح ہو کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجنابﷺ اولیاء اللہ کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگا دے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے...... غرض جب کہ نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧، ٢٩٨)
سوال ...... اچھا مرزا قادیانی! انبیاء کے آنے کی غرض کیا ہوتی ہے؟
جواب ...... ”انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کریں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩، خزائن ج ٥ ص ٣٣٩)
سوال ...... مرزا قادیانی! جو آپ کے دعویٰ کو نہ مانے وہ کون ہے؟
جواب ...... ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوسکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
سوال ...... مرزا قادیانی! آپ کوئی اپنا الہام تو سنائیں جو سب سے زیادہ آپ کو عزیز تر ہو؟
جواب ...... ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ ! اے اللہ تیری مہربانیوں نے مجھے گستاخ کر دیا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
١٠
بیان میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی پر چند سوال
سوال...... جناب میاں صاحب! جب مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے علمائے محمدیہ کو نبوت کی بو آئی تو انہوں نے مرزا قادیانی پر مدعی نبوت کا الزام دے کر ان کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ جب یہ فتویٰ تمام مسلمانوں تک پہنچ گیا تو مرزا قادیانی نے متعدد بیانات دے کر یہ ثابت کیا کہ اے لوگو میں مدعی نبوت نہیں۔ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات پر نبوت کو ختم جانتا ہوں اور یہ میرا ایمان ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ میری نبوت سے مراد صرف کثرت مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ ہے۔ میں ایک محدث ہوں اور جو حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت ہو، وہ کافر، کاذب، بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیا ان کی تشریحات کے ساتھ آپ کو اتفاق ہے؟
جواب...... ”آنحضرت ﷺ کی امت میں محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨ حصہ اوّل)
سوال...... تو پھر مرزا قادیانی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب...... ”پس یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی اور پہلے زمانہ میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی۔ مگر کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے۔ جیسے آنحضرت ﷺ اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا ہے تو مسیح موعود نبی اللہ تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)
سوال...... میاں صاحب! مرزا قادیانی تو اپنی نبوت سے مراد صرف کثرت مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ بتا کر اپنے آپ کو محدث بتا رہے ہیں اور آپ ان کو نبی اللہ کا خطاب دے کر عوام الناس میں ان کی نبوت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ اس کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا وجہ ہے۔ ہم تو یہی سمجھ رہے ہیں کہ مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ ہے۔ از راہ کرم اس پر روشنی ڈالیں۔ نوازش ہو گی۔
جواب...... ”حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداء نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے۔ یا بلا واسطہ نبی ہو یا باجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار
١١
کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے آپ اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ کیفیت نبوت ہے۔ نہ کہ کیفیت محدثیت۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا۔ اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت سے انکار کیا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٢)
سوال...... میاں صاحب! جب مرزا قادیانی پر اپنی نبوت کا انکشاف ہوا تو وہ زمانہ کون سا تھا؟ جواب...... ”غرضیکہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک جو اگست ١٨٩٩ء سے شروع ہوئی اور اکتوبر ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی۔ آپ کا یہی عقیدہ تھا۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کسی تحریر سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہو سکتا۔“
(القول الفصل ص ٢٤)
سوال...... مگر مرزا قادیانی کو یہ کیفیت کس طرح معلوم ہوئی کہ میں نبی اللہ ہوں اور کس چیز نے ان کی پہلی توجہ کو یکدم پھیر دیا کہ انہوں نے نبی اللہ ہونے کا اعلان کیا۔ جواب...... ”بار بار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا کہ تیس سال سے جو مجھ کو نبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں۔ بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ تھا۔“ (یعنی ١٩٠٣ء یا ١٩٠٤ء وغیرہ کا۔ ناقل)
(اخبار الفضل مورخہ ٦؍ستمبر ١٩٣١ء، خطبہ جمعہ تقریر میاں صاحب)
سوال...... میاں صاحب! مرزا قادیانی نے اپنے عقیدہ نبوت میں کس وقت تبدیلی شروع کی؟ جواب...... ”اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ایک غلطی کا ازالہ سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔ ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٩٠٠ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا۔ گو پورے زور اور صفائی سے نہ تھا۔ چنانچہ اس سال سے مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل الٰہی ثابت کیا اور ”لا نفرق بین احد من رسل“ والی آیت کا آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند فرمایا اور یہ
١٢
خطبہ اسی سال کے الحکم میں چھپ چکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پورا فیصلہ اس عقیدہ کا ١٩٠١ء میں ہوا۔“
(اخبار الفضل مورخہ ٦؍ ستمبر ١٩٣١ء، خطبہ جمعہ تقریر میاں صاحب)
سوال ...... میاں صاحب! جب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مقدمہ میں آپ بطور گواہ صفائی بعدالت دیوان سکھانند مجسٹریٹ درجہ اول ضلع گورداسپور مشرقی پنجاب انڈیا ١٩٣٥ء میں پیش ہوئے اور آپ نے جو حلفیہ بیان بروئے عدالت دیا تھا۔ یاد ہو تو ارشاد فرمائیں کہ کس سن میں آپ کے ابا جان نے دعویٰ نبوت کیا۔
جواب ...... ”١٨٩٠ء کا اخیر یا ١٨٩١ء کا شروع۔“
سوال ...... اچھا میاں صاحب! جو بیان حلفیہ تحقیقاتی عدالت میں آپ نے لاہور ہائی کورٹ پنجاب کے چیف جج مسٹر جسٹس محمد منیر اور مسٹر جسٹس کیانی صاحب کے روبرو ١٣ تا ١٥؍ جنوری ١٩٥٤ء کو دیا۔ اس میں آپ نے اپنے والد مرزا قادیانی کے پہلی مرتبہ دعویٰ نبوت کرنے کے متعلق جو کچھ کہا وہ بھی بیان کیجئے مہربانی ہوگی۔
جواب ...... ”جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے ١٨٩١ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔“
(بیان میاں محمود، مورخہ ١٣ تا ١٥؍ جنوری ١٩٥٤ء)
سوال ...... میاں صاحب! مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کب نبی کہا؟
جواب ...... ”جناب مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ١٨٨٠ء تا ١٨٨٤ء یعنی براہین احمدیہ کے زمانہ میں نبی کہا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٤٤)
سوال ...... اگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانا جائے تو پھر؟
جواب ...... ”اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے تو وہ نقص پیدا ہوتا ہے جو انسان کو کافر بنانے کے لئے کافی ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٤)
سوال ...... مرزا قادیانی تو (تریاق القلوب ص ١٠٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”ابتداء سے میرا یہ مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔“ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو مجازی نبی کہتے ہیں۔
جواب ...... ”حضرت مسیح موعود کو شریعت کی رو سے مجازی نبی قرار دینے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٨٠)
١٣
سوال...... اگر مجازی نہیں تو اور کون سی نبوت ہے؟ جواب...... ”قرآن کریم اور شریعت اسلام کی اصطلاح کی رو سے آپ حقیقی نبی تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٧)
سوال...... اس کا یہ مطلب نکلا کہ آپ صاحب شریعت نبی تھے کہ اس لئے کہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (سراج منیر ص ٤، ٣، خزائن ج ١٢ ص ٤) پر اس کے متعلق یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے الہام میں اس جگہ حقیقی معنی مراد نہیں۔ جو صاحب شریعت سے تعلق رکھتے ہیں۔“ مؤلف...... لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی بقول آپ کے صاحب شریعت نبی تھے۔ سوال...... میاں صاحب! مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا کب کیا؟ جواب...... ”مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت ١٩٠١ء میں کیا۔“
(القول الفصل ص ٢٤)
سوال...... میاں صاحب! اگر کوئی مدعی الہام یہ کہے کہ: ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ کہ اللہ تعالیٰ تیری مہربانیوں نے مجھے گستاخ کر دیا۔ تو اس کا یہ الہام صحیح ہے یا کہ نہیں۔ جواب...... ”نادان ہے وہ شخص جس نے یہ کہا کہ: ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“
(ملفوظات میاں صاحب اخبار الفضل مورخہ ٣؍ جنوری ١٩١٤ء)
سوال...... اچھا میاں صاحب! اگر ایک سائل مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے تو آپ کے پاس نبی ماننے کی کون سی دلیل ہے؟
بیان حلفیہ میاں صاحب
”میں قسم کھاتا ہوں کہ وہ خدا جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ خدا جو عذاب کی طاقت رکھتا ہے وہ خدا جس نے میری جان کو قبض کرنا ہے وہ خدا جو زندہ ہے اور سزا و جزا دینے والا ہے۔ وہ خدا جس نے آنحضرت ﷺ کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت مرزا قادیانی کو اس وقت بھی جب کہ حضرت مسیح موعود زندہ تھے۔ اسی طرح کا نبی مانتا تھا۔ جس طرح کا اب مانتا ہوں۔ میں اس بات کے لئے بھی قسم کھاتا ہوں کہ
١٤
خدا تعالیٰ نے رویا میں مجھے منہ در منہ کھڑے ہو کر کہا ہے کہ مسیح موعود نبی تھے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ غیر مبائعین سب کے سب عملی لحاظ سے برے ہیں اور ہماری جماعت کے سارے کے سارے لوگ عمل میں اچھے ہیں اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جن عقائد پر ہم ہیں وہ سچے ہیں۔ خدا تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ اس کی طرف سے حضرت مسیح موعود نبی ہو کر آئے۔ ہم نے اس کی زبان سے اور اپنے کانوں سے سنا اور اس کی تحریروں کو پڑھا۔ اس سے ہمیں ہرگز ہرگز انکار نہیں ۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل)
میاں ناصر احمد خلیفہ ثالث پر چند سوال
سوال ...... میاں ناصر احمد ! آپ کے دادا جان مرزا غلام احمد قادیانی و میاں بشیر الدین محمود احمد (آپ کے ابا جان) کے بیانات کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
خلاصہ بیان مرزا قادیانی
- ١...... میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔
- ٢...... مجھ پر الزام ہے کہ میں مدعی نبوت و رسالت ہوں۔
- ٣...... میں حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت و رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔
- ٤...... وحی رسالت حضرت محمد مصطفے ﷺ پر ختم ہوگئی۔
- ٥...... جو شخص حضور ﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج جانتا
ہوں۔
- ٦...... آپ کی ختم نبوت پر میرا ایمان ہے۔
- ٧...... میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کافر نہیں۔
- ٨...... میں اپنے بیان پر قرآن پاک کے حروف اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے کمالات
کے مطابق قسمیں کھاتا ہوں۔
- ٩...... میرا محکم ایمان ہے کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔
- ١٠...... آنجناب ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آسکتا۔
- ١١...... مجھے کب جائز ہے کہ میں دعویٰ نبوت کا کر کے خارج از اسلام ہو جاؤں اور قوم
کافرین سے جاملوں۔
١٥
- ١٢...... میں مسلمان ہو کر کس طرح نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہوں۔
- ١٣...... حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرنے والا بدبخت، مفتری اور محرف قرآن ہے۔
- ١٤...... رسول علم دین جبرائیل علیہ السلام سے حاصل کرتا ہے۔ مگر وحی رسالت پر تیرہ سو برس
سے مہر لگ گئی ہے۔
- ١٥...... جبرائیل علیہ السلام کو وحی نبوت کو لانے سے منع کیا گیا ہے۔
- ١٦...... اللہ تعالیٰ سلسلہ نبوت بعد حضور ﷺ پر ختم کر چکا ہے۔
- ١٧...... اگر کوئی نبی آجائے تو نص قرآن کریم کی تکذیب ہے۔
- ١٨...... حضور ﷺ کی نبوت کی میعاد قیامت تک ہے۔
- ١٩...... ہمیں اب کسی نبی کی حاجت نہیں۔
- ٢٠...... آپ کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔
- ٢١...... آپ پر ہر قسم کی نبوت ختم ہے۔ یعنی شریعت والی غیر تشریعی اور مطلق نبوت۔
- ٢٢...... حضور ﷺ کی بشارت کے مطابق اس امت میں بجائے نبیوں کے محدث ہوں گے۔
- ٢٣...... ان لوگوں نے میرا قول نہیں سمجھا میں محدث ہوں۔
- ٢٤...... مجھے اللہ تعالیٰ نے صدی کے سر پر بھیجا ہے تاکہ دین کی تجدید کروں۔
- ٢٥...... میرا دعویٰ مجدد پچیس سال سے چلا آ رہا ہے۔
- ٢٦...... اور اس پر تمام لوگوں کی ، فرشتوں کی لعنت ہو جو اس سے زیادہ اپنے آپ کو کہے۔
- ٢٧...... مجھے صرف نبیوں کا رنگ دیا گیا ہے۔ میں حقیقی نبی نہیں ہوں۔
- ٢٨...... میں ظلی طور پر نبی ہوں۔ میں مجازی معنوں کی رو سے نبی ہوں۔
- ٢٩...... اولیاء کو نبی ہونے کا رنگ دیا جاتا ہے۔ وہ فی الحقیقت نبی نہیں ہوتے۔
- ٣٠...... قرآن کریم نے شریعت کو مکمل کر دیا۔ اس لئے انہیں فہم قرآن دیا جاتا ہے۔
- ٣١...... اسلامی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا
بعض احکام شریعت کو منسوخ کرتے ہیں یا سابقہ نبی کی امت نہیں کہلاتے۔ مگر وہ میں نہیں ہوں۔
١٦
- ٣٢...... انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ایک دین سے دوسرا دین اور دوسرا قبلہ اور نئے احکام دین
مقرر کریں۔
- ٣٣...... میرا دعویٰ صرف ولایت اور مجددیت کا ہے۔
- ٣٤...... اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں نے مجھے گستاخ کر دیا۔
خلاصہ عقائد میاں محمود احمد قادیانی
- ١...... آنحضرت ﷺ کے بعد محدثیت ہی نہیں بلکہ نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے اور
مرزا قادیانی نبی اللہ تھے۔
- ٢...... مرزا قادیانی پہلے نبی کی تعریف کو نہ سمجھ سکے اور اسے محدث کی تعریف سمجھتے رہے۔ مگر
بعد میں انہوں نے سمجھا کہ یہ تعریف نبیوں کی ہے۔ محدثیت کی نہیں۔ تب آپ نے دعویٰ نبوت کا اعلان کیا اور جس نے مخالفت کی اس کو ڈانٹا۔
- ٣...... بار بار کی وحی نے آپ کی پہلی توجہ کو تیئیس سال کے بعد پھیر دیا۔ یہ زمانہ تریاق
القلوب کے بعد کا زمانہ تھا۔
- ٤...... مرزا قادیانی کے عقیدہ نبوت میں تبدیلی کا پہلا ثبوت ”ایک غلطی کا ازالہ“ سے ملتا
ہے۔ جو ١٩٠١ء میں لکھا گیا۔
- ٥...... حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مقدمہ میں ١٩٣٥ء میں جناب دیوان سکھانند
مجسٹریٹ صاحب درجہ اول ضلع گورداسپور میں آپ نے یہ حلفیہ بیان دیا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت ١٨٩٠ء کے اخیر یا ١٨٩١ء کے شروع میں کیا۔
- ٦...... تحقیقاتی عدالت میں آپ نے حلفیہ بیان لاہور ہائیکورٹ پنجاب کے چیف جسٹس
مسٹر محمد منیر اور مسٹر جسٹس کیانی صاحب کے روبرو مورخہ ١٣ تا ١٥ جنوری ١٩٥٤ء کو دیا۔ اس میں آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت ١٨٩١ء میں کیا۔
- ٧...... اگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانا جائے تو انسان کافر ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی حقیقی نبی
ہیں، مجازی وغیرہ نہیں۔
- ٨...... مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے ١٨٨٠ء تا ١٨٨٤ء میں نبی کہا۔
١٧
- ......٩ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے مجھے عالم رؤیا میں منہ درمنہ کھڑے ہو کر
کہا کہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔
- ......١٠ میں مرزا قادیانی کو اس وقت بھی ایسا ہی نبی جانتا تھا جیسا کہ اب مانتا ہوں۔
- ......١١ نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کرم ہائے تو مارا کرو گستاخ۔
شوخ...... لیجئے جناب میاں ناصر احمد ! یہ ہے آپ کے دادا جان اور آپ کے ابا جان کی تحریرات کا خلاصہ جو کہ ہم نے آپ کے آگے پیش کیا ہے۔ اب ہم اس کے متعلق آپ پر چند سوالات کر کے جواب طلب کرتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ اس کا نہایت سنجیدگی سے جواب دے کر مشکور فرمائیں گے۔ عین نوازش ہوگی۔
- سوال نمبر : ١...... جب مرزا قادیانی نے اپنی بریت پیش کرنے کے واسطے مسجد خانہ خدا میں خدا کی
قسم کھا کر یہ حلفیہ بیان دیا کہ مجھ پر یہ الزام ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہوں ۔ بلکہ میں تو حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر ، کاذب، بد بخت، مفتری، بے دین ، محرف قرآن، لعنتی اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور اس کے مقابلہ میں آپ کے ابا جان میاں محمود احمد کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی یعنی صاحب شریعت نبی تھے۔ جو ان کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے تو آپ ان دونوں بیانات میں سے کس کو سچا اور کس کو جھوٹا مانتے ہیں؟ اگر آپ یہ کہیں کہ میرے دادا صاحب مرزائے قادیان سچے تھے تو پھر آپ کے ابا جان میاں محمود احمد جھوٹے ٹھہرے اور اگر آپ یہ کہیں کہ میرے ابا جان سچے تھے تو پھر یقیناً مرزا قادیانی کی ذات پر حرف آتا ہے۔ بہر حال دونوں میں سے ایک کو سچا اور دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ دونوں کو سچا کہیں۔
"اگر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا نہیں کیا تو یقینا میاں صاحب نے مرزا قادیانی پر بڑا زبردست الزام لگایا۔ جس الزام کے جواب میں مرزا قادیانی نے علمائے محمدیہ کو کافر کہا۔ اگر علمائے محمدیہ مرزا قادیانی کے فتوے کی رو سے کافر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہی فتویٰ کسی دوسرے پر لاگو نہ ہو۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ میاں صاحب اپنے ابا جان مرزائے قادیان پر دعویٰ نبوت کا الزام لگا کر علمائے محمدیہ کے زمرہ میں شامل ہو گئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔"
١٨
لہٰذا میں نے لئے از روئے
(حقیقت الو...
- سوال نمبر ٢:
کیا ہے۔ جس جس نے مجھے " رہے گا وہ خدا ا " ومودت کی نگا وہی جو بدکار عور
شوخ...... لیجے فیصلہ دیں۔ کیو
- سوال نمبر ٣:
مرزا قادیانی کو نے جواب فتویٰ رسول ﷺ کی م حضور ﷺ کے محرف قرآن اس کے چہرے سرعت کے ساتھ کریں گے؟
میاں ہے۔ جب آپ
خلاصہ کلام مرزا: ”صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہے۔ لہٰذا میں نے قسم کھا کر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا نبوت کا دعویٰ نہیں۔ اس لئے از روئے حدیث مجھے کافر کہنے والے خود کافر ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٢٠، ١٦٣ (مفہوم) حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٣؍اگست ١٩٠٦ء)
سوال نمبر ٢: ...... چونکہ میاں صاحب نے مرزا قادیانی کو نبی قرار دے کر ان کی مخالفت کا پہلو اختیار کیا ہے۔ جس کے لئے مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی، مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔“
(تذکرہ ص ١٦٣)
”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“
(تذکرہ ص ٣٤٦)
”تلك كتب ينظر اليها ...... الخ! ان میری کتابوں کو ہر ایک مسلمان محبت، ومودت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صدق دل سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے۔ مگر وہی جو بدکار عورت کی اولاد ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
شوخ: ...... لیجئے میاں ناصر احمد! اس کا فیصلہ بھی ہم آپ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ دیں۔ کیونکہ آپ کے ابا جان نے مخالفت کا پہلو اختیار کیا ہے۔
سوال نمبر ٣: ...... اگر آپ یہ کہیں کہ واقعی مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا کیا اور میرے اباجان مرزا قادیانی کو نبی کہتے ہیں حق بجانب ہیں تو اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی نے جواب فتویٰ کفر کے بارے میں مسجد خانہ خدا میں رسول خدا ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر خدا اور رسول ﷺ کی قسم کھائی اور کلمہ پڑھ کر یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ جو حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرے۔ وہ بدبخت، مفتری، بے دین، دین اسلام سے خارج، محرف قرآن، کافر، کاذب اور لعنتی ہوتا ہے۔ یہ آٹھ لڑی کا سنہری سہرہ کس کے رخ انور پر لٹک کر اس کے چہرے کی رونق کو چار چاند لگائے گا اور جس کے اپنے ہی دیئے ہوئے فتویٰ جات بڑی سرعت کے ساتھ اس کی تشریف آوری پر اس کے گلے میں پڑ جائیں۔ اس کو کس زمرہ میں شمار کریں گے؟
میاں صاحب! گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ شریعت کا معاملہ ہے۔ جب آپ اپنی جماعت کے خلیفہ مقرر ہو چکے ہیں تو اس قسم کے ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ
١٩
پیچیدہ سوالات آپ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جن کا جواب دے کر آپ نے مرزا قادیانی کی صداقت کو پیش کرنا ہے۔ یہ تو ان سوالات کی ابھی پہلی کڑی ہے۔ آپ لوگوں نے ہم مسلمانوں کا حوصلہ نہیں دیکھا کہ جن کے سامنے حضرت محمد رسول اللہﷺ، حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسینؓ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مائی مریم علیہا السلام و دیگر پیغمبروں کی دل کھول کر توہین کی گئی اور پینتالیس کروڑ مسلمانوں کو دل کھول کر کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور حرامزادے وغیرہ وغیرہ کہا گیا کہ جن کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ماسوائے انگریز کو خوش کرنے کے۔ مگر ہم تو جو کچھ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں وہ بحوالہ کلام ہے اور وہ بھی آپ کے ہی بزرگوں کی، اس لئے کہ ہم بالکل بری الذمہ ہیں۔ اس لئے ان کا جواب دیتے وقت آپ کو چہرہ پر ملال نہیں لانا چاہئے۔ بلکہ خندہ پیشانی سے ہماری طرف جواب دے کر اپنی پوزیشن کو صاف کرنا چاہئے اور یہ بھی یادرہے کہ ہماری تحریر دشنام دہی میں شامل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی اس کے متعلق اپنی کتاب (ازالہ اوہام) پر اس طرح رقمطراز ہیں: ”دشنام دہی اور چیز ہے اور امر واقعہ کا بیان کرنا اور ہے۔ ہر محقق کو حق حاصل ہے کہ وہ مخالف گم گشتہ کے کان تک ہر بات کو پہنچائے۔ پھر سننے والا خواہ اس کو سن کر افروختہ ہو تو ہوا کرے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ١١٢)
- سوال نمبر:٤....... میاں صاحب! جب بقول آپ کے ابا جان کے مرزا قادیانی نبی ہیں اور نبی بھی
مستقل جو صاحب شریعت ہوتا ہے اور جس کے نہ ماننے والا کافر ہو جاتا ہے تو پھر آپ اپنا قبلہ، دین، اپنی شریعت، کلمہ وغیرہ وغیرہ ہم مسلمانوں سے کیوں علیحدہ نہیں کرتے۔ کیونکہ مرزا قادیانی (تریاق القلوب ص ١٣٠) پر اس کے متعلق لکھتے ہیں: ”انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور بعض احکام کو منسوخ کریں۔ بعض نئے احکام لاویں۔“
اور جو نئے احکامات مرزا قادیانی کے رب نے ”ربنا عاج“ (براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢، ٦٦٣) ان کو دیئے ہیں۔ ان کا اعلان کیوں نہیں کرتے۔ ان کو کیوں چھپائے ہوئے بیٹھے ہو؟
- سوال نمبر:٥....... میاں صاحب! سب سے زیادہ غور طلب بات تو یہ ہے کہ ایک طرف تو
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نبی ہوں۔ میں اپنے بیان پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں۔ جس قدر حروف قرآن مجید ہیں اور کمالات
٢٠
حضور علیہ السلام“ اور دوسری طرف آپ کے ابا جان میاں محمود احمد یہ فرما رہے ہیں کہ: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے رؤیا میں میرے منہ در منہ کھڑے ہو کر یہ کہا کہ مرزا قادیانی نبی ہیں اور میں مرزا قادیانی کو ایسا ہی نبی اس وقت بھی مانتا تھا جب وہ زندہ تھے۔“
اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک ہی خدا کی قسم کھا کر بیان دے رہے ہیں۔ اس میں سے کون سا فریق سچا ہے اور کون سا جھوٹا ہے۔ آیا مرزا قادیانی خانہ خدا میں قسم کھانے والے سچے ہیں یا کہ میاں محمود احمد صاحب جو کہ عالم رؤیا کا ثبوت دے کر قسم کھا رہے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو میاں صاحب کے خدا نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور اگر میاں صاحب سچے ہیں تو مرزا قادیانی نے خدا کا نام لے کر جھوٹی قسم کھائی؟ جس کے متعلق مرزا قادیانی یوں تحریر فرماتے ہیں: ”جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے۔“
(تذکرہ ص٣٠)
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ یہ آپ کے گھر کا معاملہ ہے۔ اس لئے اس فیصلے کو آپ کے سپرد کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہمارا کیا ہوا فیصلہ آپ کو تکلیف دہ ثابت ہو۔
سوال نمبر:٦...... جب میاں محمود مرزا قادیانی کو اس وقت بھی جب کہ وہ زندہ تھے تو ایسا ہی نبی مانتے تھے۔ جیسا کہ بعد میں مانتے رہے۔ یعنی مستقل نبی جو صاحب شریعت ہوتا ہے۔ تو میاں صاحب نے اپریل ١٩٢٠ء میں رسالہ تشحیذ الاذہان میں مضمون زیر بحث کیوں لکھا کہ: ”حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد اب کوئی شخص ایسا بھی نہیں ہو سکتا جس کے مقام نبوت پر کھڑا بھی کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ!“
کیوں ان کی نبوت کا اعلان نہ کیا گیا۔ کس لئے اس راز کو چھپائے رکھا۔ جب مرزا قادیانی مستقل نبی تھے اپنی شریعت کو کیوں رائج نہ کیا گیا۔ کیوں نہ اپنا کلمہ علیحدہ بنایا گیا۔ کیوں نہ اپنے دین کا نام علیحدہ رکھا گیا۔ کیوں حضور ﷺ کو خاتم النبیین کہا گیا۔ جب مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی تھے تو حضور ﷺ کس لئے خاتم النبیین ٹھہرے؟
اور جب حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں تو مرزا قادیانی کس طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مستقل یعنی صاحب شریعت نبی آگئے۔ کیا خاتم النبیین کا یہی مطلب ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین بھی ہوں اور بعد میں صاحب شریعت نبی بھی آجائے؟ میاں ناصر احمد
٢١
اس گورکھ دھندہ کو آپ ہی حل کیجئے۔ یہ تو بھول بھلیاں کے کھیل سے بھی اوپر چلا گیا۔ اس کو پڑھنے سننے والا تو حیرانی کے عالم میں ڈوب جاتا ہے اور اس کی عقل و فکر صاف طور پر جواب دے دیتی ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس یہ ایک عجیب قسم کا معمہ ہے۔ چونکہ یہ آپ کے گھر کا معاملہ ہے۔ جس کو آپ ہی خوش اسلوبی سے حل کر سکتے ہیں۔ اس میں اور کوئی دخل انداز نہیں ہو سکتا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کو آپ ہی احسن طریقہ سے حل کر کے اس کے جواب سے دنیائے عالم کو آگاہ کریں۔ عین نوازش ہوگی۔
مگر فیصلہ دیتے وقت کسی فریق کی رعایت نہ کرنا۔ ریا کار انسان کا فیصلہ دنیا کی نظروں میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا جو بے ریا کا فیصلہ عزت حاصل کر سکتا ہے۔
سوال نمبر: ٧...... میاں صاحب! جب آپ کے ابا جان میاں محمود احمد کو یہ قطعی طور پر یقین تھا کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہیں۔ امتی وغیرہ نہیں تو انہوں نے اس کا اظہار نہ کر کے کیا دنیا کو دھوکا نہیں دیا۔ یا حضور ﷺ کی ختم نبوت اعلان کر کے جھوٹ نہیں بولا؟ میاں ناصر احمد اس سوال کو تو حل کیجئے کہ جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی حقیقی نبی کی حیثیت سے تشریف لے آئے تو حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء کہہ کر کیا یہ دنیائے عالم کے پینتالیس کروڑ مسلمانوں کو دھوکا نہیں دیا۔ یا جھوٹ نہیں بولا۔ یا ١٩١٥ء تک کہ جب تک آپ کے ابا جان نے ”القول الفصل“ نہیں لکھی۔ جس میں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کا اعلان کیا۔ یا ”حقیقت النبوۃ کے زمانہ تک جس میں انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔ وہ کافر ہے۔“ اتنے عرصہ تک وہ خود بقول اپنے کیا ٹھہرے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ:
نوٹ: ایک اناڑی کھلاڑی کا اوچھا وار اپنے ہی ہاتھ سے اپنے ہی جسم پر پڑ جاتا ہے۔ جو کہ اس کی اپنی ہی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔
سوال نمبر: ٨...... جب اللہ تعالیٰ نے میاں صاحب کے ساتھ عالم رؤیا میں منہ در منہ کھڑے ہو کر مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق کی تو میاں صاحب کا اس کو صیغہ راز میں رکھنا کیا یہ ارشاد خداوندی کی توہین نہیں؟ اگر یہ توہین ہے تو اس کی سزا کا کون حقدار ہے۔ کیونکہ میاں صاحب نے اللہ تعالیٰ کی گواہی کو چھپائے رکھا اور اس کا نہ اظہار کر کے دنیا کو مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانے سے روکے رکھا تو اس کا گناہ کس کے سر پر ہوا؟
٢٢
ہاں اگر اس امر کی تصدیق خدا کی بجائے کوئی اور آدمی عالم رؤیا میں کرتا تو میاں صاحب اس کا اظہار نہ کرتے تو حق بجانب تھے۔ کیونکہ وہ کوئی یقینی بات نہ تھی۔ مگر خدا کی گواہی کا چھپانا یہ تو بڑا زبردست جرم ہے۔ جس کا ارتکاب میاں صاحب نے کیا اور یا پھر وہ خدا ہی نہیں تھا۔ جس نے عالم رؤیا میں مرزا قادیانی کو نبی کہا۔ اگر فی الحقیقت وہ خدا ہی تھا اور میاں صاحب کو پورے طور پر یقین تھا کہ یہ خدا ہی ہے۔ جو مجھے مرزا قادیانی کی نبوت کا یقین دلا رہا ہے تو انہوں نے اس کا اعلان کیوں نہ کیا۔ جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لانا تھا۔ بقول میاں صاحب ان کا کفر کی حالت میں مرنے کا گناہ کس کے ذمہ ہے؟
سوال نمبر:٩...... میاں ناصر احمد! آپ کے ابا جان میاں محمود احمد قادیانی مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے متعلق یوں ارشاد فرما رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت ١٨٨٠ء تا ١٨٨٤ء، ١٨٩٠ء، ١٨٩١ء، ١٩٠١ء، ١٩٠٢ء، ١٩٠٣ء وغیرہ میں کیا۔ ازراہ کرم اب آپ ہی بتائیں کہ ان سنین میں سے کون سا سن صحیح ہے کہ جس میں مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا کیا؟
سوال نمبر:١٠...... میاں ناصر احمد! آپ کے ابا جان ارشاد فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو مولوی عبدالکریم سیالکوٹی نے آیت قرآنی کے تحت نبی ورسول بنایا۔ ١٩٠٠ء میں مرزا قادیانی کو تئیس سالہ وحی الہی نے نبی بنایا اور ١٩٠٣ء، ١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی کو نبی بنایا اللہ تعالیٰ نے۔ اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ مرزا قادیانی کی نبوت کو مولوی عبدالکریم کی عطا کردہ تصور کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ۔ ١٩٠٠ء میں آپ ان کی نبوت کا آغاز مانیں گے یا کہ ١٩٠٣ء، ١٩٠٤ء میں۔ ازراہ کرم اس کا فیصلہ دے کر مشکور فرماویں۔ عین نوازش ہوگی۔
سوال نمبر:١١...... میاں ناصر صاحب! مرزا قادیانی اپنی کتاب (استفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص١٦، خزائن ج٢٢ص٦٣٧) پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میں کئی مرتبہ بیان کرچکا ہوں کہ میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد سوائے کثرت مکالمہ اور مخاطبہ کے اور کچھ نہیں اور یہ اہل سنت کے نزدیک مسلم ہے۔ پس صرف لفظی نزاع ہے۔ پس اے عقلمندو اور داناؤ جلدی نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی لعنت اس شخص پر جو اس کے خلاف ذرہ بھر دعویٰ کرے اور ساتھ ہی تمام لوگوں اور تمام فرشتوں کی لعنت اس پر ہو۔“ مگر آپ کے ابا جان میاں محمود احمد بڑی جرأت اور دلیری کے ساتھ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے متعلق (حقیقت النبوۃ ص١٢٤) پر یوں تحریر فرماتے ہیں: ”لیکن جب آپ کو معلوم ہوا
٢٣
کہ جو کیفیت اپنے دعوے کی آپ شروع دعوے سے بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ کیفیت نبوت ہے نہ کہ کیفیت محدثیت۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت سے انکار کیا۔“
شوخ...... اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک محقق ہر دو تحریرات مذکورہ بالا پڑھنے کے بعد کس کو سچا اور کس کو جھوٹا کہے گا؟ کیونکہ مرزا قادیانی کی تحریر تو ثابت کرتی ہے کہ جو حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرے اس پر اللہ اور تمام لوگوں اور تمام فرشتوں کی لعنت ہو۔
برخلاف اس کے میاں صاحب کے بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کا کیا۔ اب آپ ہی فرمائیں کہ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت بقول میاں صاحب اظہر من الشمس ہے تو اللہ تعالیٰ کی اور تمام لوگوں اور فرشتوں کی لعنت کا تین لڑیا ہار کس کے گلے میں پڑے گا؟
میاں ناصر احمد! اس ہار کا ڈیزائن آپ کے دادا جان کا تیار کیا ہوا ہے اور آپ کے ابا جان نے اس کو بالترتیب پرو کر تیار کر دیا ہے۔ اب آپ کا فرض ہے کہ اس کو باوضو ہو کر جو اس کا حقدار ہو۔ اس کے گلے میں ڈال کر اپنے فرض منصبی کو ادا کریں اور اپنے ”ربنا عاج“ کے حضور میں سرخرو ہو کر خوش و خرم ہو جائیں۔
سوال نمبر: ١٢...... میاں ناصر صاحب! آپ کے دادا جان مرزائے قادیان لکھتے ہیں کہ: ”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ ہی کوئی شریعت ہے۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔..... یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور ظلی طور پر نہ اصل طور پر مجھے یہ نام دیا گیا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)
حاصل مطلب یہ کہ حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا۔ ایسا دعویٰ کرنے والا بے دین اور مردود ہے۔ میں ظلی نبی ہوں۔
اور دوسری جگہ مرزا قادیانی اپنی نسبت یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ملاحظہ ہو: ”ابتداء سے میرا یہ مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوسکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
تیسرے مرزا قادیانی اس کا جواب ان الفاظ میں دیتے ہیں۔
٢٤
”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لائے ہوں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
شوخ ...... لیکن اس کے خلاف مرزا قادیانی اپنے ایک خط میں ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کو یوں تحریر فرماتے ہیں: ”خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
”پانچویں شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
شوخ ...... خلاصہ تحریرات مرزا قادیانی یہ نکلا۔ حضرت محمد رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ حضورﷺ کے بعد کوئی مستقل نبوت نہیں۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو وہ بے دین اور مردود ہے۔ میرے دعویٰ کا انکار کرنے والا کافر نہیں۔ کیونکہ صاحب شریعت نبی کے سوا اور دوسرا کوئی اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر نہیں کہہ سکتا۔ ملہم یا محدث کا انکار کرنے والا کافر نہیں میں ظلی نبی ہوں۔ لیکن ڈاکٹر عبدالحکیم کو لکھ رہے ہیں کہ میری دعوت کا منکر مسلمان نہیں۔ شریعت کی رو سے منکر مومن نہیں اور نہ ہی وہ مواخذہ سے بری ہے۔ کیونکہ کافر منکر ہی کو کہتے ہیں۔ لہٰذا دونوں خلاصوں کا مطلب یہ نکلا کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہیں اور ان کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے یہ اصول باندھ دیا ہے کہ صاحب شریعت کے سوا کوئی دوسرا اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر نہیں کہہ سکتا اور پھر لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم میرا منکر ہے۔ اس لئے وہ مسلمان نہیں اور قابل مواخذہ ہے اور (حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥) پر تحریر کرتے ہیں کہ میرا منکر کافر ہے اور (تریاق القلوب ص ١٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢) پر لکھتے ہیں کہ: ”کافر صرف صاحب شریعت نبی کے سوا اور کوئی اپنے منکر کو نہیں کہہ سکتا۔“ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ تشریعی نبوت کا تھا۔ مجدد یا محدث، ملہم یا ظلی نبی کا ہرگز ہرگز نہیں تھا۔
اور اگر اب بھی آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو ایک حوالہ اور مرزا قادیانی کا پیش کرتا ہوں۔
٢٥
جس سے مرزا قادیانی کا صاحب شریعت نبی ہونا اظہر من الشمس ہے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) پر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کر دیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
شوخ ...... لیجئے میاں صاحب! مرزا قادیانی کی تحریر کا مطلب یہ نکلا کہ صاحب شریعت نبی وہ ہوتا ہے کہ جس میں پانچ باتیں پائی جائیں۔ یعنی وحی، امر، نہی، امت اور قانون۔ لہٰذا مجھے نہ ماننے والے مجرم ہیں۔ کیونکہ مجھ میں یہ سب تعریفیں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے میں صاحب شریعت نبی ہوں۔ دیکھ لیا میاں صاحب ان واضح دلائل سے صاف طور پر عیاں ہے کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی تھے۔
اب ہمارا یہ سوال ہے کہ جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی بن کر آ گئے تو جو مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ جو حضور ﷺ کے بعد صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ بلاشبہ بے دین اور مردود ہے۔ اس کا حقدار کون ہوگا؟
سوال نمبر: ١٣ ...... میاں ناصر احمد! آپ کے دادا جان مرزا غلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ اے اللہ تیری مہربانیوں نے مجھے گستاخ کر دیا۔
(براہین احمدیہ نمبر ٤ ص ٥٥٤ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
اور آپ کے ابا جان میاں محمود احمد فرماتے ہیں کہ: ”نادان ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں کرتے اور سرکش نہیں کر دیا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔“
(ملفوظات میاں۔ مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣؍جنوری ١٩٠٧ء)
اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو سچا تصور کریں تو بقول اپنے گستاخ کہلانے کے حقدار ہیں اور اگر میاں محمود احمد کو سچا مانیں تو پھر مرزا قادیانی بقول میاں صاحب ”نادان“ گردانے جاتے ہیں۔ برائے مہربانی آپ ہی یہ فیصلہ دیں تو بہتر ہے کسی دوسرے کو اس کشمکش میں نہ ڈالیں۔ مہربانی ہوگی۔
وما علينا الا البلاغ۔ تمت! ٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا آخری نبی ﷺ مسجد شب بھر گول باغ لاہور
مرزا ناصر احمد
خلیفہ
مرزائے قادیانی پر
چند سوال
(حصہ دوم)
جناب غلام محمد شوخ بٹالوی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شیخ ...... مکرمی جناب مرزا ناصر احمد قادیانی! جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب مایہ ناز موسومہ ”براہین احمدیہ“ کا مطالعہ علماء محمدیہ نے بنظر غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ گو بظاہر مرزا قادیانی اپنے آپ کو اپنی تحریرات میں محدث ظاہر کرتے ہیں۔ مگر محدث کی تعریف جو فرما رہے ہیں وہ بالکل نبوت کے مشابہ ہے۔ لہٰذا یہ اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت محدثیت کے پردہ میں نشو ونما پا رہی ہے اور عنقریب یہ سن بلوغت کو پہنچ کر کوئی نیا گل کھلانے والی ہے۔ جس سے اسلام میں بڑا زبردست فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ اس خطرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مولانا مولوی نذیر حسین دہلویؒ اور حضرت مولانا مولوی محمد حسین بٹالویؒ میدان میں نکلے اور شام و سحر کی تکلیفات کو پس پشت ڈالتے ہوئے سارے ہندوستان کا دورہ کر کے چوٹی کے علماء کو اپنے ساتھ ملایا اور مرزا قادیانی کے خلاف متفقہ طور پر شریعت محمدیہ کے تحت فتویٰ کفر شائع کر کے سارے ہندوستان و دیگر ممالک میں تقسیم کیا اور اس کا نام ”فتویٰ کفر بحق مرزا قادیانی“ رکھا اور اس میں مرزا قادیانی کے کفر پر حسب ذیل استدلال پیش کئے۔
دلائل
- ١...... اگرچہ قادیانی نے یہ بات کہہ دی ہے کہ جس نبوت کا اس کو دعویٰ ہے اس کا دوسرا نام
محدث ہے اور اس محدث کے معنی سے نبوت کا وہ مدعی ہے۔ مگر ساتھ اس کے محدثیت کے معنی ایسے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت کی ایسی تشریح کر دی ہے کہ اس سے بجز نبوت اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس عبارت کی (توضیح مرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں صاف تصریح منقول ہے۔ جس سے صاف اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ کے نزدیک محدثیت کے وہی معنی اور حقیقت ہے۔ جو نبی کے معنی اور حقیقت ہے۔
اس سے یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ نے صرف لفظی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور اس میں صرف لفظی غلطی کا ارتکاب نہیں فرمایا۔ بلکہ آپ معنی نبوت کو اپنی ذات شریف میں متحقق سمجھتے ہیں اور حقیقتاً و معناً نبی ہونے کے مدعی ہیں۔
(فتویٰ کفر)
- ٢...... الغرض ”براہین“ کا مصنف اپنی زبان سے صریح دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نبی ہوں۔
تاکہ اہل اسلام خواص و عام بلوے نہ کریں۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی خاصہ خواص انبیاء سے
٢
باقی نہیں چھوڑا۔ جس کو اس نے اپنے لئے ثابت نہ کیا ہو۔
(فتویٰ کفر ص ٧٦، ٧٧)
- ٣...... قادیانی کا ختم نبوت تشریعی اور کلی سے مخصوص کرنا اور اپنے آپ کو محدث قرار دے کر
اپنے لئے جزوی نبوت اور ایک نوع نبوت کو تجویز کرنا اور ایک قسم کا نبی کہلانا صاف مشعر ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیاء بنی اسرائیل کی مانند (جو نئی شریعت نہ لائے بلکہ پیروی شریعت سابقہ کی کرتے اور نبی کہلاتے) نبی سمجھتا ہے۔ یہی امر اس کے ”قصیدہ الہامیہ“ کے اشعار ذیل سے سمجھ میں آتا ہے۔
(فتویٰ کفر ص ٧٣)
نوٹ...... الغرض جب یہ فتویٰ سارے پنجاب، ہندوستان وغیرہ ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ تو مرزا قادیانی کا قافیہ تنگ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ کسی گلی کوچہ بازار سے گزرنا مرزا قادیانی کے لئے سخت دشوار ہو گیا۔ کیونکہ اس فتویٰ کے ذریعے سے ہر ایک مسلمان کے دل میں مرزا قادیانی کی طرف سے اس قدر نفرت پیدا ہو گئی کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی سے سیدھے منہ بات کرنی بھی مناسب نہ سمجھتا تھا۔ جب مرزا قادیانی نے یہ دیکھا کہ ہر ایک مسلمان جوش و خروش میں میرے خلاف پھرتا نظر آ رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی من چلا کسی اور ہی ناجائز حرکت کا مرتکب ہو جائے تو انہوں نے عوام کی تسلی و تشفی کے لئے مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء کو دہلی میں حسب ذیل اشتہار شائع کیا کہ:
اشتہار مرزا
”میں نے سنا ہے کہ شہر دہلی میں علماء یہ مشہور کرتے ہیں کہ میں مدعی نبوت ہوں اور منکر عقائد اہل اسلام ہوں۔ اظہاراً للحق لکھتا ہوں کہ یہ سراسر افتراء ہے۔ بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ یہ وہ عقائد ہیں کہ جن کے ماننے سے کافر بھی مؤمن ہو سکتا ہے۔ میں ان عقائد پر ایمان رکھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
جب اس اشتہار سے عوام الناس کی تسلی و تشفی نہ ہوئی تو مرزا قادیانی نے مسجد خانہ خدا میں ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء کو منبر رسول کریم ﷺ پر کھڑے ہو کر اپنی پوزیشن کو صاف کرنے کے لئے یوں حلفیہ بیان دیا کہ: ”اب میں خانہ خدا دہلی میں (یعنی جامع مسجد دہلی میں) اقرار کرتا ہوں کہ
٣
حضور ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور منکر اسلام سمجھتا ہوں اور اس کو دین اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
مرزا قادیانی کے ہر دو بیانات کا خلاصہ یہ نکلا کہ: ”اے لوگو! میں خانہ خدا میں کھڑا ہو کر خدا اور اس کے رسول کو گواہ کر کے عوام الناس کے سامنے حلفیہ طور پر اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔ میں منکر عقائد اہل اسلام نہیں۔ میرا یہ ایمان ہے کہ نبوت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ میں ہرگز ہرگز مدعی نبوت نہیں۔ میں حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت و رسالت کو کافر، کاذب، بے دین، منکر اسلام اور دین اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
اس کے بعد لاہور میں مرزا قادیانی کے ساتھ مولوی غلام دستگیر قصوریؒ کا مناظرہ ہوا تو مرزا قادیانی نے ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ھ کو ایک تحریر لکھ کر مولوی صاحب کے نام بدیں الفاظ بھیج دی کہ: ”ان پر (یعنی غلام دستگیر قصوری پر) واضح ہو کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے قائل ہیں۔
(مندرجہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
اور ان مذکورہ بالا بیانات کی تائید میں مرزا قادیانی نے وقتاً فوقتاً حسب ذیل بیانات دیئے۔ ملاحظہ ہو کہ:
- ١...... ”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
- ٢...... ”مکفرین کے اعتراضوں میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی
ہے۔...... اور اللہ جانتا ہے کہ ان کا یہ قول صریح کذب ہے اور اس میں ذرہ بھی سچائی کی چاشنی نہیں اور نہ اس کا کوئی اصل ہے۔“
(حمامة البشریٰ ص ٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠)
- ٣...... ”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کس خیال سے کہہ رہے ہیں
کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرے وہ نبی بھی ہو جاتا ہے۔“
(جنگ مقدس ص ٧٤، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)
- ٤...... ”افتراء کے طور پر ہم پر تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٧، خزائن ج ١٣ ص ٢١٥)
٤
- ٥....... ”جاہل مخالف میری نسبت یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ
کرتا ہے۔ مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- ٦....... ”جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے کہ یہ دعویٰ نبوت کا کرتے ہیں وہ
جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- ٧....... ”اس عاجز نے موجودہ علماء کے مقابل پر ..... کئی مرتبہ خدا کی قسمیں کھا کر کہا کہ میں
کسی نبوت کا مدعی نہیں۔ مگر پھر بھی یہ لوگ تکفیر سے باز نہیں آتے ۔“
(مکتوبات بنام مولوی احمد اللہ امرتسری ، اخبار الحکم قادیان ج ٨ نمبر ٣)
- ٨....... ”ان لوگوں نے میرے بیانات کو نہیں سمجھا۔ خاص کر نذیر حسین پر بہت افسوس ہے
جس نے پیرانہ سالی میں اپنے تمام معلومات کو خاک میں ملا دیا۔“
(نشان آسمانی ص ٣١، خزائن ج ٤ ص ٣٩١)
- ٩....... ”ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے نامسعادت مند شاگرد محمد
حسین کا یہ سراسر افتراء ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ..... ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)
- ١٠....... ”جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں
پڑھا کہ محدث بھی ایک مرسل ہوتا ہے۔ کیا قرأت ولا محدث کی یاد نہیں رہی۔ پھر یہ کیسی بیہودہ نکتہ چینی ہے کہ مرسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“
(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)
- ١١....... ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدث کا دعویٰ ہے۔ جو خدا کے حکم سے کیا گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
چنانچہ مرزا قادیانی کے اتنا واویلا کرنے پر بھی مسلمان علماء اپنے موقف پر پورے طور پر ڈٹے رہے اور اپنا فتویٰ واپس لینے کے واسطے ہرگز ہرگز تیار نہ ہوئے۔
جب مرزا قادیانی نے یہ دیکھا کہ میرا اتنا واویلا کرنے پر بھی علماء محمدیہ میرے گلے سے کفر کا ہار اتارنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی مجھے مسلمان ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی عوام الناس کا سینہ میری طرف سے صاف ہوا ہے۔ بلکہ آگے سے بھی مجھے بری نگاہ سے دیکھتے ہیں تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ سب کچھ علماء محمدیہ کی تحریر و تقریر کا نتیجہ ہے تو انہوں نے انتقامی جذبات کے تحت علماء محمدیہ کو بمعہ ان مسلمانوں کے کہ جو علماء کو فتویٰ دینے میں حق بجانب سمجھتے تھے کس انداز میں کافر
٥
قرار دیا۔ ذرا اس کا بھی ملاحظہ ہو۔ لہذا مرزا قادیانی اس کے متعلق یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ:
فتویٰ مرزا بحق علماء محمدیہ
- .......١ ”مجھ کو بتایا گیا ہے کہ جو مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پا کر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا۔ وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٢٥٦،خزائن ج٥ ص ایضاً)
شرح....... چنانچہ اس پر مسلمانوں نے مرزا قادیانی پر سوال کیا کہ آپ کو علماء محمدیہ نے اس لئے کافر قرار دیا ہے کہ آپ مدعی نبوت ہیں۔ جو کہ شریعت محمدیہ کے بالکل خلاف ہے اور آپ علماء کو کیوں کافر قرار دے رہے ہیں تو مرزا قادیانی نے اس کا جواب اس پیرایہ میں دیا کہ:
- .......٢ وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میں مفتری نہیں اور مؤمن ہوں تو اس صورت میں وہ میری تکذیب کے بعد کافر ہوئے اور مجھے کافر ٹھہرا کر اپنے کفر پر مہر لگا دی۔ یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ : ”مؤمن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٧٩،خزائن ج٢٢ ص١٨٥)
- .......٣ ”پھر اس جھوٹ کو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے بیس کروڑ مسلمانوں اور کلمہ گو کو کافر ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی۔ خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور تمام پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتوؤں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے منہ کوئی نرم بات کرنا بھی ان کے نزدیک گناہ ہو گیا۔ کیا کوئی مولوی یا مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا۔ اگر کوئی ایسا کاغذ یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتویٰ کفر سے پہلے شائع ہوا ہے۔ جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہو تو وہ پیش کریں۔ ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر ٹھہرائیں آپ اور پھر ہم پر الزام لگائیں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔ اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر دل آزار ہے۔ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے اور پھر جب کہ ہمیں اپنے فتوؤں کے ذریعہ سے کافر ٹھہرا چکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے کہ جو شخص مسلمان کو کافر کہے تو کفر الٹ کر اسی پر پڑتا ہے تو اس صورت میں کیا ہمارا حق نہ تھا کہ بموجب انہیں کے اقرار کے ہم ان کو کافر کہتے۔“
(حقیقت الوحی ص١٢٠،خزائن ج٢٢ ص١٢٣)
- ٤...... ”پس میں اب بھی کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا۔ لیکن جن میں انہی کے ہاتھ سے ان کی
وجہ کفر پیدا ہو گئی ہے۔ ان کو کیونکر مومن کہہ سکتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٩)
- ٥...... ”ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے۔ جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ
بن جائے۔ اب جو انہیں کافر کہا جاتا ہے تو یہ انہی کے کافر بنانے کا نتیجہ ہے۔ ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی۔ ہم نے کہا کہ دو مسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں۔ اس نے جواب میں لکھا کہ ہم تو تجھے پکا کافر سمجھتے ہیں۔“
(مرزا قادیانی کی آخری تقریر جو میاں فضل حسین صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کے ساتھ گفتگو
کے رنگ میں ہوئی)
(منقول از تکفیر اہل قبلہ مولوی محمد علی لاہوری ص ٤٨)
اور اسی طرح مرزا قادیانی کے ایک اور خط کا ملاحظہ ہو۔ جو کہ انہیں مورخہ ١٧؍مارچ ١٩٠٨ء کو بلوچستان سے کسی ایک مرید نے لکھا۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:
- ٦...... ”جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے ملاں لوگوں نے اپنے تعصب کی
وجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ ان کے پیرو ہیں۔ پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفر مولویوں کے پیرو نہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے۔ ورنہ جو شخص مسلمان کو کافر کہے۔ وہ آپ کافر ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے پیچھے نماز کیونکر پڑھیں۔ یہ تو شرع شریف کی رو سے جائز نہیں۔“
(اخبار بدر ١٩٠٨ء)
اس کے بعد سب سے آخر میں مرزا قادیانی کا ایک خط درج کیا جاتا ہے جو کہ مرزا قادیانی نے ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کے نام لکھا جو کہ (اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٨؍اگست ١٩٠٦ء) کے پرچہ میں شائع ہوا۔ ملاحظہ ہو:
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
محبّی اخویم ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
اور جو خط مولوی محمد علی صاحب کے نام آیا تھا۔ میں نے اس کو سنا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ کیونکر مخالف لوگ ہم پر تہمتیں لگاتے ہیں۔ تکفیر کے معاملہ میں اصل بات یہ ہے کہ پہلے میں ان
٧
تمام لوگوں کو کلمہ گو خیال کرتا تھا اور کبھی میرے دل میں نہیں آیا کہ ان کو کافر قرار دوں۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے میری نسبت ایک استفتاء تیار کیا اور وہ استفتاء مولوی نذیر حسین دہلوی کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے فتویٰ دیا کہ یہ شخص اور اس کی جماعت کافر ہیں۔ اگر مر جائیں تو مسلمانوں کی قبروں میں ان کو دفن نہیں کرنا چاہئے۔ پھر بعد اس کے قریباً دوسو مہر تکفیر کی اس فتویٰ پر لگائی گئیں۔ یعنی تمام پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے اس پر مہریں لگا دیں کہ در حقیقت یہ شخص کافر ہے۔ بلکہ یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ کافر ہیں اور اگر یہ مسلمان ہیں تو پھر ہم کافر ہیں۔ کیونکہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کو کافر کہے تو کفر الٹ کر اسی پر پڑتا ہے۔ پس اس بناء پر ہمیں ان لوگوں کو کافر ٹھہرانا پڑا۔ ورنہ ہماری طرف سے ہرگز اس بات کی سبقت نہیں ہوئی کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ ان لوگوں نے خود سبقت کی۔ اس کا فتویٰ پہلے ان لوگوں کی طرف سے شائع ہوا۔ ہم نے کوئی کاغذ ان لوگوں کی تکفیر کا شائع نہیں کیا۔ اب جس شخص کو یہ امر گراں گزرتا ہو کہ اس کو کیوں کافر کہا جائے تو اس کے لئے یہ سہل امر ہے کہ وہ اس بات کا اقرار شائع کر دے کہ میں ان لوگوں کو کافر نہیں جانتا۔ بلکہ وہ لوگ کافر ہیں جنہوں نے ان کو کافر ٹھہرایا۔ اسی بات کا ہمارے مکفر اوّل مولوی محمد حسین وغیرہ کو اقرار ہے کہ بموجب اصول اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ پس جب کہ پنجاب ہندوستان کے تمام مولویوں نے مجھے اور میری جماعت کو کافر ٹھہرایا اور عدالتوں میں بھی لکھا دیا کہ یہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہیں تو پھر اس میں ہمارا کیا گناہ ہے۔ ان کو پوچھ کر دیکھ لیا جائے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ مسلمان کو کافر ٹھہرانے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگر ہم نے اس فتویٰ کفر کے بعد ان کو کافر ٹھہرایا تو وہ کاغذ پیش کرنا چاہئے۔ پھر جو شخص مولوی محمد حسین اور نذیر حسین وغیرہ کو باوجود اس فتویٰ کے مسلمان جانتا ہے تو کیونکر ہمیں مسلمان کہہ سکتا ہے اور اگر ہمیں مسلمان جانتا ہے تو کیونکر انہیں مسلمان قرار دیتا ہے۔ پس یہ اصلیت اس امر کی کہ ہم ان لوگوں کو کافر کہنے کے لئے مجبور ہوئے۔ والسلام!
نقل دستخط مرزا غلام احمد (اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٣ اگست ١٩٠٦ء)
نوٹ ...... لہٰذا مرزا قادیانی کے تمام فتاویٰ کا خلاصہ یہ نکلا کہ:
- ١...... میں مسلمان ہوں۔
- ٢...... میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔
- ٣...... میں مدعی نبوت نہیں۔
٨
- ٤......مجھ پر مدعی نبوت کا الزام ہے۔
- ٥......علماء محمدیہ مجھ کو کافر کہہ کر خود کافر ہو گئے۔
- ٦......مکفر علماء کا ساتھ دینے والے مسلمان بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔
- ٧......ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔
- ٨......جو لوگ ہم کو کافر کہہ کر خود کافر بن گئے ہیں۔ ہم ان کو مؤمن کہنے کے لئے تیار نہیں۔
- ٩......جو مسلمان مکفر علماء کا ساتھ دینے والے ہیں ان کے پیچھے نماز جائز نہیں وہ بھی کافر ہیں۔
- ١٠......میں مؤمن ہوں مجھے کافر کہہ کر علماء محمدیہ خود کافر بن گئے۔
چنانچہ جب مرزا قادیانی کی تحریر و تقریر کو عام جماعت مرزائیہ نے پڑھا، سنا تو انہوں نے کھلے بندوں عام مسلمانوں کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ جب کبھی کسی مسلمان کو مرزائی حضرات سے مذہبی گفتگو کا موقعہ ملا تو اس نے دریافت کیا کہ تم لوگ کل مسلمانوں کو کافر کیوں قرار دیتے ہو۔ تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ چونکہ مسلمانوں نے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی پر فتویٰ کفر لگایا اور انہوں نے اس فتویٰ کفر کی خانہ خدا دہلی میں تردید کردی اور خود حلفیہ بیان دے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانا اور اپنے آپ کو حضور ﷺ کا امتی ہونا بتلایا۔ لہذا شریعت کا مسئلہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو بلاوجہ کافر قرار دیتا ہے وہ کفر الٹ کر اس کافر کہنے والے پر ہی وارد ہوتا ہے۔ چونکہ مسلمان علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کو مدعی نبوت کا الزام لگا کر کافر قرار دیا اور مرزا قادیانی نے اس کی تردید کردی۔ لہذا اس مسئلہ کی رو سے یہ علماء کافر ہوئے اور آپ لوگ ان علماء کو مسلمان قرار دیتے ہو۔ لہذا کافر کو مسلمان کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ اس لئے آپ تمام مسلمان کافر ہیں اور اگر آج مسلمان اس بات کا اقرار کریں کہ مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر لگانے والے علماء حق بجانب نہیں تھے اور مرزا قادیانی اپنے بیانات کی رو سے سچے مسلمان تھے تو آپ لوگوں کو بھی مسلمان تصور کیا جائے گا اور پھر مرزا قادیانی کی طرف سے فتویٰ کفر صرف انہی علماء محمدیہ پر پڑے گا۔ باقی مسلمانوں پر نہیں۔
لیجئے مرزا ناصر احمد قادیانی ! اس قسم کے جوابات تو عام جماعت مرزائیہ کی طرف سے مسلمانوں کو ملنے شروع ہوگئے۔ مگر جب آپ کے ابا جان میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی مرزائے قادیانی کا دور خلافت ١٤؍مارچ ١٩١٤ء کو شروع ہوا تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ چنانچہ
٩
انہوں نے اعلانیہ طور پر عام مسلمانوں کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ جس کا تھوڑا سا نمونہ اس جگہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
ملاحظہ ہو : ” دوسرا سوال آپ کے کفر کے متعلق ہے کہ بعض جگہ حضرت مسیح موعود نے علماء کے کفر کا فتویٰ لگانے کی وجہ سے غیر احمدیوں کو کافر قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی تناقض نہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں جمع ہو سکتی ہیں۔“
مومن کو کافر کہنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے اور ماموریت کے نہ ماننے کی وجہ سے بھی۔ حضرت مسیح موعود امتی نبی تھے۔ امتی کو کافر کہہ کر بھی غیر احمدی کافر ہو گئے اور آپ کو نبی نہ مان کر بھی کافر۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٤؍ اپریل ١٩٣٠ء)
اسی طرح میاں صاحب نے تحقیقاتی عدالت لاہور میں مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٥٤ء کو ایک سوال کے جواب میں یوں تسلیم کیا کہ: ”ایک متفقہ حدیث کے مطابق جو شخص دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔“
لیجئے مرزا ناصر احمد قادیانی ! یہاں تک تو ہم نے علمائے محمدیہ کے فتویٰ کفر پر مرزا قادیانی اور آپ کے ابا جان کے تردیدی بیانات پیش کئے ہیں۔ اب فتویٰ کفر کے صحیح ہونے کے حق میں آپ کے ابا جان میاں محمود احمد قادیانی اور علماء مرزائیہ کے تائیدی بیانات بھی ملاحظہ ہوں۔
تصویر کا دوسرا رخ
جب آپ کے ابا جان مورخہ ١٤؍ اپریل ١٩١٤ء کو تخت خلافت قادیان پر رونق افروز ہوئے تو میاں صاحب نے ایک کتاب ”حقیقت النبوۃ“ ١٩١٥ء میں لکھی۔ جس میں آپ نے علماء محمدیہ کے اس فتویٰ کفر کی کھلے کھلے حسب ذیل الفاظ میں تائید کی۔ جو کہ انہوں نے مرزا قادیانی پر ١٨٩٠ء میں لگایا تھا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی نے مسجد خانہ خدا میں کھڑے ہو کر خدا رسول کو گواہ کر کے بذریعہ تحریر و تقریر تردیدی بیانات دیئے۔
بیانات میاں محمود احمد قادیانی
- ١....... ”براہین کے زمانہ سے آپ کو نبی پکارا جاتا تھا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٣٦)
- ٢....... ”ابتدائے ایام سے ایک ہی لفظ نبی اور رسول سے آپ کو پکارا گیا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٤٧)
- ٣....... ”وحی الٰہی ہمیشہ آپ کو نبی ظاہر کرتی رہی۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٤٧)
١٠
- ٤....... ”شروع سے آپ میں نبی ہونے کے مکمل شرائط پائے جاتے ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٢)
- ٥....... ”ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی
ہوجاتا ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٢)
- ٦....... ”ابتدائے دعویٰ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی کے مقام پر کھڑا کیا۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٧)
- ٧....... ”جس تعریف کو محدث کی تعریف خیال کرتے تھے۔ وہ درحقیقت نبوت کی تعریف
تھی۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٩)
- ٨....... ”نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں۔ جو نبیوں کے سوا اور کسی
میں پائی نہیں جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٣)
- ٩....... ”لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان
کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ کیفیت نبوت ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٣)
- ١٠....... ”(مرزا قادیانی) نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت
لائے۔ یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢٤)
- ١١....... ”پہلے آپ اپنی نبوت محدثوں کی سی قرار دیتے تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٤٩)
- ١٢....... ”پہلے آپ اپنی نبوت جزوی اور ناقص قرار دیتے تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٤٨)
- ١٣....... ”پہلے اپنی نبوت کو محدثیت قرار دیتے تھے۔ بعد میں اس کا نام نبوت ہی رکھتے ہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٤٩)
مرزا ناصر احمد قادیانی! اب آپ ہی خدا لگتی کہو کہ آپ کے ابا جان کے مذکورہ بیانات میں اور علمائے محمدیہ کے فتویٰ کفر کے بیانات میں کیا فرق ہے۔ کیا میاں صاحب نے ہمارے علماء محمدیہ کے فتویٰ کفر کی لفظ بلفظ تائید نہیں کی۔ کیا کوئی ایسا لفظ بچایا ہے کہ جس کو علماء نے فتویٰ کفر میں مرزا قادیانی کی طرف منسوب کیا ہو اور میاں صاحب نے اس کی تائید پرزور الفاظ میں نہ کی ہو۔ اگر آپ کی سمجھ میں نہ آئے اور آپ ہٹ دھرمی سے یہی رٹ لگاتے چلے جائیں کہ تم غلط بیانی کر رہے ہو۔ تو لیجئے ہم علماء کے فتویٰ کفر کے اقتباسات اور آپ کے ابا
١١
جان کے بیانات کا مقابلہ کر کے عوام الناس کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ تاکہ کسی قسم کا مغالطہ وغیرہ نہ رہے اور عقدہ حل ہو جائے۔
فتویٰ کفر کے اقتباسات
میاں محمود احمد کی تحریرات
- (١) ”اگرچہ قادیانی نے یہ بات کہہ دی ہے کہ جس نبوت کا اس کو دعویٰ ہے۔ اس کا دوسرا نام محدث ہے اور اس محدث کے معنی سے نبوت کا وہ مدعی ہے۔“
- (١) ”آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدثیت کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے۔“
- (٢) ”مگر ساتھ اس کے اس نے محدثیت کے معنی ایسے بیان کئے ہیں اور ان کی حقیقت کی ایسی تشریح کر دی ہے کہ اس سے بجز نبوت اور کچھ مراد نہیں ہو سکتا۔“
- (٢) ”پہلے اپنی نبوت کو محدثیت قرار دیتے تھے۔ لیکن بعد میں اس کا نام نبوت ہی رکھتے ہیں۔“
”جس سے صاف اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ کے نزدیک محدث کے وہی معنی اور حقیقت ہے جو نبی کے معنی اور حقیقت ہے۔“ ”پہلے آپ اپنی نبوت محدثوں کی سی قرار دیتے تھے۔“
- (٣) ”آپ معنی نبوت کو اپنی ذات شریف میں متحقق سمجھتے ہیں اور حقیقتاً معناً نبی ہونے کے مدعی ہیں۔“
- (٣) ”ابتدائے ایام سے ایک ہی لفظ نبی اور رسول سے آپ کو پکارا گیا۔ وحی الٰہی ہمیشہ آپ کو نبی ظاہر کرتی رہی۔“
- (٤) ”الغرض براہین کا مصنف ہر چند اپنی زبان سے صریح دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نبی ہوں۔ تا کہ اہل اسلام خواص وعوام بلوے نہ کریں۔“
- (٤) ”براہین کے زمانہ سے آپ کو نبی کے لفظ سے پکارا جاتا ہے۔“
”لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی خواصہ خواص انبیاء سے باقی نہیں چھوڑا۔ جس کو اس نے اپنے لئے ثابت نہ کیا ہو۔“ ”شروع دعویٰ سے آپ میں نبی ہونے کی مکمل شرائط پائی جاتی تھیں۔ ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔“
١٢
- (٥) ”قادیانی
مخصوص کرتا اور کر اپنے لئے جو تجویز کرتا اور ایک کہ وہ اپنے آپ (جو نئی شریعت سابقہ کی کرتے ہو یہی امر اس کے سے سمجھ میں آتا ہ
مرزا قادیان“ کی طرف بعد ہمارے علمائے ملاحظہ
- ١......”مخالف
بات کو سمجھ رہے ہ طرف سے کفر کا با
- ٢......”فی ال
نے کفر کے فتوے د
- ٣......”براہی
کی بناء پر بعض مخالف
- ٤......”خدا
رہے تھے۔“
- ٥......”وحی ا
حضور ہی تحویل فرما کو ماننے کے لئے چ
(٥) ” (مرزا قادیانی) نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔“
(٥) ” قادیانی کا ختم نبوت تشریعی اور کلی سے مخصوص کرنا اور ہے۔ آپ کو محدث قرار دے کر اپنے لئے جزئی نبوت اور ایک نوع نبوت کو تجویز کرنا اور ایک قسم کا نبی کہلانا صاف مشعر ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیاء بنی اسرائیل کی مانند (جو نئی شریعت نہ لائے بلکہ پیروی شریعت سابقہ کی کرتے اور نبی کہلاتے ) نبی سمجھتا ہے۔ یہی امر اس کے قصیدہ الہامیہ کے اشعار ذیل سے سمجھ میں آتا ہے۔“
مرزا ناصر احمد قادیانی ! اس کے بعد اب ہم آپ کی توجہ قادیانی پارٹی کے رسالہ ” فرقان قادیان“ کی طرف مبذول کراتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی قریباً پچپن سال کے بعد ہمارے علمائے محمدیہ کی لفظ بلفظ تصدیق مزید کی۔
ملاحظہ ہو: (رسالہ فرقان ستمبر ١٩٣٥ء) میں وہ لکھتے ہیں کہ:
- ١...... ” مخالف علماء حضور کی اپنی عبارت میں بلکہ خدائی الہامات میں وضاحت کے ساتھ اس
بات کو سمجھ رہے تھے کہ الہامات میں نبوت کے علاوہ کوئی اور بات پیش نہیں کی گئی اور یہی ان کی طرف سے کفر کا باعث ہوا۔“
- ٢...... ” فی الواقع حضرت مسیح موعود کے الہامات میں حضور کی نبوت ہی تھی۔ جس پر مخالفین
نے کفر کے فتوے لگائے۔“
- ٣...... ” براہین احمدیہ میں مذکورہ خدا کی وحی میں بھی نبوت کا دعویٰ موجود تھا اور ان الہامات
کی بناء پر بعض مخالف علماء نے حضور پر کفر کا فتویٰ لگایا۔“
- ٤...... ” خدا کی وحی میں دعویٰ نبوت موجود تھا۔ لوگ ان الہامات میں دعویٰ نبوت محسوس کر
رہے تھے۔“
- ٥...... ” وحی الٰہی میں اس وضاحت کے ساتھ حضور کی نبوت کو پیش کیا گیا تھا کہ جس کی صرف
حضور ہی تاویل فرما رہے تھے۔ لیکن اس کے برخلاف مخالفین حضور کی نبوت کے علاوہ کسی اور بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔“
١٣
- ٦...... "براہین کے زمانہ کے الہامات سے نبوت اس وضاحت سے ثابت ہو رہی تھی کہ
مخالفین دعویٰ نبوت کی بناء پر حضور پر فتویٰ کفر لگانے کے لئے معذور اور مجبور تھے۔"
شوخ ...... لیجئے ناصر احمد قادیانی! یہاں تک تو آپ کے علماء نے علمائے محمدیہ کے فتویٰ کفر کی لفظ بلفظ تصدیق مزید کر کے اس بات کو ثابت کر دیا کہ واقعی علمائے محمدیہ مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ لگانے میں حق بجانب تھے۔ اب آگے دیکھئے کہ جن علماء کو آپ کے مرزا قادیانی اور آپ کے ابا جان نے فتویٰ کفر کے لگانے کے عوضانہ میں کافر قرار دیا تھا۔ آپ کے علماء انہیں علمائے محمدیہ کو اس فتویٰ کفر کے لگانے میں حق بجانب سمجھتے ہوئے کن سنہری الفاظ میں ان کا شکریہ ادا کر کے خراج تحسین ادا کرتے ہیں۔
خراج تحسین
- ١...... مخالف بھی اگر صحیح صحیح بات کہہ جائے تو ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی اس موقعہ پر تعریف
کریں۔ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد حسین بٹالوی فتویٰ کفر لگا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے حضور کے صحیح دعویٰ کو حضور کے مفہوم میں لیا۔
(فرقان ستمبر ١٩٤٥ء)
- ٢...... اشد ترین مخالف بھی اگر کوئی صحیح بات کہہ جائے تو اسے اس کا حق دینا مؤمن کا فرض
ہے۔ ہم ان منکرین کی اس جگہ تعریف کئے بغیر رہ نہیں سکتے۔
(فرقان ستمبر ١٩٤٥ء)
نعرہ تکبیر ...... اللہ اکبر
اسلام ...... زندہ باد مولوی نذیر حسین دہلوی ...... زندہ باد مولوی محمد حسین بٹالوی ...... زندہ باد علمائے محمدیہ ...... زندہ باد
تبصرہ
شوخ ...... کیوں ناصر احمد ! اب فرمائیے کہ ہمارے علماء محمدیہ کے فتویٰ کفر کے الفاظ میں اور آپ کے قادیانی علماء کے تصدیقی بیانات میں کیا کوئی فرق ہے؟ کیا آپ کے علماء نے ہمارے علماء محمدیہ کے فتویٰ کفر کی پوری پوری تصدیق نہیں کی۔ کیا انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ: "مرزا قادیانی کی براہین احمدیہ میں خدائی الہامات کے تحت دعویٰ نبوت موجود تھا کہ جس کو علماء محمدیہ نے اچھی طرح سمجھ لیا اور اس واسطے وہ مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر لگانے پر مجبور تھے۔ گو مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کو تاویل میں ڈال کر عوام الناس کی تسلی تشفی کرنی چاہی۔ مگر
١٤
علماء محمدیہ نے آ ہمارے علماء محمد اب
- سوال نمبر: ١......
سے جو دعویٰ نبو کیا؟
- سوال نمبر: ٢......
انکار کرتے رہ
- سوال نمبر: ٣......
آئی؟
- سوال نمبر: ٤......
اس کی تاویل کر کوئی نہیں۔ مجھ
- سوال نمبر: ٥......
نے خانہ خدا د
- سوال نمبر: ٦......
جذبات کے تحت کھائی تو اس ج حدیث کے تحت
- سوال نمبر: ٧......
کر چکا تھا تو ہے؟
- سوال نمبر: ٨......
جنہوں نے مر
- سوال نمبر: ٩......
مرزا قادیانی ک
علماء محمدیہ نے ایک نہ مانہ اور مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر لگایا۔ اسی واسطے آپ کے علماء قادیانی نے ہمارے علماء محمدیہ کی تعریف بیان کر کے ان کو ”تعریف“ کے لفظ سے خراج تحسین ادا کیا۔ اب اس جگہ حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ:
- سوال نمبر:١...... جب مرزا قادیانی کے الہامات اور وحی الٰہی میں ١٨٨٠ء یعنی براہین کے زمانے
سے جو دعویٰ نبوت موجود تھا۔ تو مرزا قادیانی نے اسے کیوں چھپائے رکھا اور کیوں اس کا دعویٰ نہ کیا؟
- سوال نمبر:٢...... بتیس سال جو خدا مرزا قادیانی کو نبی اور رسول کہتا رہا تو مرزا قادیانی کیوں اس کا
انکار کرتے رہے؟
- سوال نمبر:٣...... اتنا طویل عرصہ تک مرزا قادیانی کو اپنے منصب نبوت و رسالت کی کیوں سمجھ نہ
آئی؟
- سوال نمبر:٤...... جب علماء محمدیہ نے اس کو صحیح سمجھ کر مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر لگایا تو مرزا قادیانی نے
اس کی تاویل کر کے عوام الناس کو کیوں دھوکہ دیا اور کہہ دیا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا دعویٰ نبوت کا کوئی نہیں۔ مجھے کافر کہنے والے خود کافر ہیں؟
- سوال نمبر:٥...... جب فتویٰ کفر کے سبب مرزا قادیانی کی شہرت سارے جہاں میں ہو گئی تو آپ
نے خانہ خدا دہلی میں کھڑے ہو کر کیوں جھوٹی قسم کھائی؟
- سوال نمبر:٦...... جب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی نے مسلمان علماء کو انتقامی
جذبات کے تحت کافر کہنے کے واسطے مسجد خانہ خدا میں خدا اور اس کے رسول کو گواہ کر کے جھوٹی قسم کھائی تو اس جھوٹی قسم کھانے کے عذاب کا حقدار کون ہو گا اور مسلمانوں کو ناحق کافر بنا کر متفقہ حدیث کے تحت کون کافر بنا؟
- سوال نمبر:٧...... جب خدا بقول آپ کے ابا جان اور آپ کے علماء کے مرزا قادیانی کو نبوت عطاء
کر چکا تھا تو کیوں انہوں نے جھوٹ بول کر یہ کہا کہ میں مدعی نبوت نہیں بلکہ میرا دعویٰ محدث کا ہے؟
- سوال نمبر:٨...... کیا ہمارے علمائے دین علمی لحاظ سے مرزا قادیانی پر سبقت نہیں لے گئے کہ
جنہوں نے مرزا قادیانی کی وحی نبوت کو اصلی معنوں میں سمجھا؟
- سوال نمبر:٩...... جب مرزا قادیانی خدا کی پاک وحی کو سمجھ ہی نہیں سکتے تو کیا خدا تعالیٰ نے
مرزا قادیانی کے انتخاب کے وقت غلطی نہیں کھائی؟
١٥
سوال نمبر: ١٠...... جو شخص وحی نبوت کے سمجھنے کا مادہ ہی نہ رکھتا ہو۔ اسے منصب نبوت کے لئے منتخب کرنا یہ کون سی دانائی ہے؟
سوال نمبر: ١١...... کیا خدا تعالیٰ کی ذات پر یہ دھبہ نہیں کہ اس نے مرزا قادیانی کو نبی منتخب کر کے سخت دھوکا کھایا اور ایک نااہل کو نبوت کے واسطے چنا؟
سوال نمبر: ١٢...... کیا خدا تعالیٰ کے علم غیب پر یہ سخت ترین حملہ نہیں؟
سوال نمبر: ١٣...... جو شخص نبوت اور محدثیت کے معنوں میں تمیز ہی نہیں کر سکتا۔ کیا وہ بھی نبی کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے؟
سوال نمبر: ١٤...... کیا آپ کے ابا جان اور آپ کے علماء قادیانی نے ہمارے علماء محمدیہ کے فتویٰ کفر کی تصدیق کر کے مرزا قادیانی کی مخالفت کا پہلو اختیار نہیں کیا؟
سوال نمبر: ١٥...... مرزا قادیانی کے فتویٰ کے مطابق تو علماء محمدیہ ١٨٩١ء میں کافر ہوئے اور آپ کے ابا جان ”حقیقت النبوۃ“ لکھ کر ١٩١٦ء میں اور قادیانی علماء حضرات ١٩٣٥ء میں کافر ہوئے تو امت مرزا پر یہ فتویٰ کس وقت شروع ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے نہ تو آپ کے مرزا قادیانی اور آپ کے ابا جان میاں محمود احمد صاحب کو کافر کہا اور نہ آپ کے علماء کو۔ کیونکہ کافر کو مسلمان کہنے والا اور مسلمان کو کافر کہنے والا از روئے حدیث متفقہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی و میاں صاحب دونوں کافر ہیں۔
سوال نمبر: ١٦...... یہ فرمائیں کہ ہمارے علماء محمدیہ کے کفر میں اور آپ کے ابا جان اور آپ کے علماء کے کفر میں کتنی ڈگری کا فرق ہے۔ کیونکہ آپ کے ابا جان نے ہمارے علماء کی تصدیق پچیس سال کے بعد کی اور آپ کے علماء مرزائیہ نے قریباً پچیس سال کے بعد خوب دیکھ بھال کر کے پھر تصدیق کی؟
سوال نمبر: ١٧...... جب بقول آپ کے ابا جان خدا براہین احمدیہ کے زمانہ میں یعنی ١٨٨٠ء میں مرزا قادیانی کو منصب نبوت عطاء کر چکا تھا۔ جس کا ماننا ہر ایک مسلمان کے واسطے بقول میاں صاحب فرض تھا اور نہ ماننے والا کافر۔ تو اتنے عرصہ میں جو خلقت اس دنیا فانی سے عالم بقا کو سدھار گئی۔ اس کے عذاب کا ذمہ دار کون ہوا۔
سوال نمبر: ١٨...... سب سے آخر میں ہماری آنکھیں آپ کی طرف بھی لگی ہوئی ہیں۔ برائے مہربانی آپ اپنی بھی رائے کا اظہار کر کے ہمیں مطمئن کریں کہ آپ کی رائے مرزا غلام احمد قادیانی
١٦
اور میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی اور علماء مرزائیہ کے متعلق کیا ہے؟
جواب کا منتظر ! شوخ بٹالوی
شوخ ...... مرزا ناصر احمد قادیانی ! اگر آپ ہمارے ”نبوت“ سے متعلق سوالات کے جواب میں یوں ارشاد فرماویں۔ جیسا کہ آپ کے ابا جان نے کہا کہ: ”مرزا قادیانی نبوت کو محدثیت خیال کرتے رہے۔“ ٢...... ”مسیح موعود شروع میں اس اجتہادی غلطی میں مبتلا تھے کہ ان چیزوں کا نام نبوت نہیں ۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦؍ مئی ١٩٣٩ء)
تو یہ بیان اس جگہ آپ کے واسطے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہمارے علماء محمدیہ نے تو یہ سمجھ لیا کہ مرزا قادیانی کی تحریرات میں دعویٰ نبوت موجود ہے۔ گو وہ محدثیت کے پردہ میں نشوونما پارہا ہے۔ جس کی تصدیق آپ کے علماء مرزائیہ نے بھی پوری پوری وضاحت کے ساتھ کر دی کہ واقعی وحی الٰہی اور الہامات مرزا قادیانی میں دعویٰ نبوت موجود تھا۔ جس کی وجہ سے علماء محمدیہ مرزا قادیانی پر فتویٰ لگانے کے لئے مجبور ہوگئے۔
تو اس جگہ پھر دوسرا سوال پیدا ہو جائے گا کہ : ”جب علماء محمدیہ آپ کے ابا جان اور آپ کے علماء قادیانی کو تو اس بات کی پوری پوری سمجھ آگئی کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور وحی الٰہی میں یہ دعویٰ نبوت موجود تھا۔ حالانکہ ان میں سے کسی کو بھی دعویٰ الہام اور وحی کا نہیں تھا۔ صرف دنیاوی علم کے ذریعہ سے وہ اس حد تک پہنچ گئے ۔ مگر کیا وجہ ہے کہ جس کو الہام اور وحی کا دعویٰ ہو۔ اس کو نبوت جیسے اہم معاملات کی سمجھ نہ آئے ۔“ یہ بات قرین قیاس سے باہر ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥) پر اس کے متعلق یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”نبیوں اور رسولوں کو ان کے دعویٰ کے متعلق اور ان کی تعلیموں کے متعلق بہت نزدیک سے دکھایا جاتا ہے اور اس میں اس قدر تواتر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ شک نہیں رہتا۔“ ٢...... ”جس یقین کو نبی کے دل میں اس کی نبوت کے بارے میں بٹھایا جاتا ہے۔ وہ دلائل تو آفتاب کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہو جاتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہو جاتا ہے اور بعض جزئیات میں اجتہاد کی غلطی ہو بھی تو وہ اس یقین کو مضر نہیں ہوتی۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)
١٧
- ٣........ ”بعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو امان اٹھ جاتا ہے
اور شک پڑ جاتا ہے کہ شاید اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعویٰ میں بھی دھوکہ کھایا ہے۔ یہ خیال سراسر سفسطہ ہے اور جو لوگ........ سودائی ہوتے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢، ١٣٣)
خلاصہ: خلاصہ ہر سہ تحریرات مرزا قادیانی یہ نکلا کہ نبی اور رسول اپنے دعویٰ نبوت اور رسالت میں دھوکہ نہیں کھاتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے دل میں ان کی نبوت کا یقین بٹھا دیتا ہے۔
مرزا ناصر احمد قادیانی! اگر آپ کے ابا جان کے مذکورہ بالا بیان (اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٦ مئی ١٩٢٩ء) کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ہمارا تو کوئی نقصان ہی نہیں۔ البتہ آپ کی بنی بنائی عمارت سطح زمین سے بھی پونے چار انچ اونچی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اگر مرزا قادیانی کی اجتہادی غلطی کو بقول آپ کے ابا جان تسلیم کر لیا جائے تو پھر مرزا قادیانی کا کہنا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔ مجھے وحی سے سرفراز کیا گیا۔ وغیرہ وغیرہ! یہ سب کچھ فراڈ ہی بن جائے گا اور اس کی اصلیت کچھ بھی نہیں رہے گی۔ کیونکہ مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ: ”مجھے اپنی وحی پر ایسا یقین ہے جیسا کہ قرآن پر۔“
(اعجاز احمدی ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٢٢)
جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مرزا قادیانی کی ”نبوت و رسالت“ سے آپ کو ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بیانات میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ نبیوں اور رسولوں کو دعویٰ نبوت میں اجتہادی غلطی نہیں لگ سکتی اور اگر نبی اور رسول کو اپنے دعویٰ نبوت میں اجتہادی غلطی لگ جائے تو پھر مرزا قادیانی کی حیثیت عوام جیسی ہو گئی۔ جس کو ماننے کے لئے ہر ایک شخص تیار ہے۔
اور اگر آپ ان کو نبیوں اور رسولوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو یہ خیال بمعہ اپنے ابا جان کے واپس لینا پڑے گا۔ ہمارا تو کام صرف سمجھانا ہے۔ عمل کرانا نہیں ہے۔
ناصر احمد قادیانی! اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے۔ جیسا کہ آپ اپنے ایک خط مورخہ ١٨ اگست ١٨٩٩ء میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی صادق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔“
١٨
چونکہ یہ مقرر کردہ شرائط مرزا قادیانی میں نہ پائی جاتی تھیں۔ اس لئے انہوں نے دعویٰ نبوت سے انکار کیا اور اپنے آپ کو محدث کہتے رہے۔ یہ صحیح نہیں کیونکہ آپ کے ابا جان میاں محمود احمد قادیانی اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ١٢٧) پر اس کے متعلق پوری وضاحت کے ساتھ تحریر فرمارہے ہیں۔
”مسیح موعود چونکہ ابتداءً نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے۔ یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہوجاتا ہے۔ لیکن آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔“
خلاصہ کلام مرزا قادیانی یہ نکلا کہ:
- ١...... مرزا قادیانی اوّل الذکر تین شرائط کو نبوت کی شرائط خیال کرتے تھے۔
- ٢...... اور باقی ان تمام شرائط کو جو ان میں پائی جاتی تھیں جو نبی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔
محدث کی شرائط خیال کرتے رہے۔
- ٣...... اسی وجہ سے وہ دعویٰ نبوت سے انکار کرتے رہے۔
- ٤...... مرزا قادیانی نبوت ومحدث کی تعریف سے بالکل ناواقف تھے۔
نوٹ...... واہ واہ مرزا ناصر احمد قادیانی! کیا کہنے آپ کے ابا جان کے علم وفضل کے ہم اس جگہ آپ کے علم وفضل کی پوری پوری داد دیتے ہوئے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ ایک ایسے نادان شخص کو جو نبوت اور محدثیت کی شرائط میں تمیز نہیں کر سکتا۔ ”نبوت“ کا دعویدار بنا رہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ ”مدعی سست گواہ چست“ اس جگہ ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہورہا ہے کہ شاید آپ لفظ نادان کو جو ہم نے استعمال کیا ہے۔ پڑھ کر برا نہ منائیں کہ ہمارے مرزا قادیانی کی نسبت ایسا لفظ کیوں استعمال کیا گیا۔ کیا ہمارا نبی نادان تھا۔ جس کو کہ ایسے لفظ سے لکھا جاتا ہے۔ میرے دوست! یہ خطاب ہماری طرف سے نہیں۔ یہ نادان کا خطاب
١٩
مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمت میں آپ کے ابا جان میاں بشیر الدین محمود قادیانی خلیفہ ثانی نے بطور نذرانہ پیش کیا ہوا ہے۔ ہم تو صرف یاد دلانے والوں میں سے ہیں۔
ملاحظہ ہو: میاں صاحب اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ١٣٣) پر یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”نادان مسلمان کا یہ خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے منسوخ کرے۔ یا بلاواسطہ نبوت پائے۔“
لیجئے مرزا ناصر احمد قادیانی! یہی الفاظ آپ کے دادا جان مرزا قادیان نے ١٧؍ اگست ١٨٩٩ء کے اشتہار میں لکھے تھے۔ جس کو ہم بیان کر چکے ہیں۔ چنانچہ آپ کی تسلی و تشفی کے لئے ہم اس کو دوبارہ لکھ کر آپ کی یاد کو تازہ کرا دیتے ہیں۔ آپ کے دادا جان نبی اور رسول کے معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ: ”مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہ معنی نہ سمجھ لیں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٠٣)
کیوں مرزا ناصر قادیانی! دیکھ لیا اپنے دادا جان مرزائے قادیان کی تحریر کو۔ جن معنوں کو آپ کے دادا جان نبی اور رسول کی تعریف میں اسلامی اصطلاح کے مطابق بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے ابا جان انہی معنوں کو ایک ”نادان“ کا خیال فرما رہے ہیں۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ کے دادا جان آپ کے ابا جان کی نظروں میں نادان تھے۔ اس لئے ہم نے میاں بشیر الدین محمود کے خیال کی ترجمانی کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے حق میں نادان کا لفظ استعمال کیا۔
لیجئے مرزا ناصر احمد قادیانی! ہماری تمام تر بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی کی براہین احمدیہ میں ١٨٨٠ء میں ہی مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت
موجود تھا۔
- ٢...... علمائے محمدیہ مرزا قادیانی پر فتویٰ کفر لگانے میں حق بجانب تھے۔
- ٣...... مرزا قادیانی نے علمائے محمدیہ کے مقابل ہر انتقامی جذبہ کے تحت مسجد خانہ خدا میں منبر
رسول کریم ﷺ پر کھڑے ہو کر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کیا اور علمائے محمدیہ کو متفقہ حدیث کے تحت کافر کہا۔
٢٠
- ٤...... مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ نبوت کی جھوٹی تاویلیں کر کے عوام الناس کو دھوکا دیا۔
- ٥...... علمائے محمدیہ کی تائید میاں بشیر الدین محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی مرزائے قادیانی نے
١٩١٦ء میں پچیس سال بعد اپنی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ میں کی ہے۔
- ٦...... میاں صاحب کی تائید مزید آپ کے رسالہ ”فرقان قادیان“ نے پچپن سال کے بعد
١٩٤٥ء میں کر کے ہمارے علمائے محمدیہ کا شکریہ ادا کیا اور تعریف کے لفظ کے ساتھ خراج تحسین ادا کیا۔
اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی پر بقول خود میاں محمود احمد قادیانی اور رسالہ فرقان قادیان کی رو سے حسب ذیل فتاویٰ صادر ہوتے ہیں۔ کہئے آپ کا ان کے متعلق کیا خیال ہے؟
فتاوے
- ١...... مرزا غلام احمد قادیانی اپنے حلفیہ بیانات کی رو سے نہ نبی نہ رسول نہ مامور من اللہ بلکہ
جھوٹے خدا رسول کا نام لے کر مسجد میں جھوٹی قسم کھانے والے کافر، کاذب، بے دین، منکر اسلام، دین اسلام سے خارج، دھوکہ باز اور لعنتی ثابت ہوتے ہیں۔
اور اگر میاں بشیر الدین محمود احمد قادیانی خلیفہ ثانی کے مقرر کردہ اصولوں کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو مرزا قادیانی نہ نبی نہ رسول بلکہ نادان انسان ہیں۔
اور اگر رسالہ فرقان قادیان کی رو سے دیکھا جائے تو ہمارے حضرت مولانا مولوی نذیر حسین دہلوی اور حضرت مولانا مولوی محمد حسین بٹالوی مرحوم بمعہ علمائے محمدیہ کی اس جماعت کے کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ کفر پر مہر ثبت کی تھیں۔ سب مسلمان تھے اور ان کو کافر کہنے والے متفقہ حدیث کی رو سے سب کافر۔
الغرض ہر طرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری مسلمانوں کی فتح ہی فتح ہے اور آپ کی یعنی قادیانیوں کی شکست۔
اور اگر ہم جھوٹ کہتے ہیں تو اس کا جواب تحریر کر کے ہمارے دلائل کا رد کریں۔ مگر یہ یاد رہے کہ مرزا قادیانی اور میاں صاحب کے مقرر کردہ اصولوں کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہوگا۔ فقط آداب!
مرزا ناصر احمد قادیانی! جواب دینے سے پیشتر ہمارے اس نقشہ کو بنظر غور دیکھیں۔ جس
٢١
گو کہ ہم نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے اخذ کر کے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ تا کہ فیصلہ کے وقت آپ کو کسی قسم کی دیکھ بھال کرنے کی تکلیف نہ ہو۔
جھوٹے کے متعلق فتاویٰ مرزا
- ١...... "جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
- ٢...... "جھوٹ ام الخبائث ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)
- ٣...... "وہ خنزیر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولنے سے شرماتے ہیں۔"
(شحنہ حق ص ٦٠، خزائن ج ٢ ص ٣٨٦)
- ٤...... "جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا۔ یہ کتوں کا طریق نہ انسان کا۔"
(انجام آتھم ص ٤٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٥...... "جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔"
(اربعین ج ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٤)
- ٦...... "جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔"
(ازالہ اوہام ص ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)
- ٧...... "قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب
ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو۔ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ ...... تیری کلام میں محض صدق ہو۔ ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔"
(نورالقرآن نمبر ٢ ص ٣٣، خزائن ج ٩ ص ٤٠٨)
- ٨...... "ہم لکھ چکے ہیں کہ نبی کے کلام میں جھوٹ جائز نہیں۔"
(مسیح ہندوستان میں ص ٢١، خزائن ج ١٥ ص ٢١)
- ٩...... "ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں
بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔"
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
کاذب کے متعلق فتاویٰ مرزا
- ١...... "کاذب کا خدا دشمن ہے۔ اس کو جہنم میں پہنچائے گا۔"
(حقیقت الوحی ص ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩١)
٢٢
- ٢...... "لعنت الله علی الکاذبین"
- ٣...... "کاذب کو خدا وہ عزت نہیں دیتا جو اس کے پاک نبیوں اور برگزیدوں کو دی جاتی
ہے۔"
(سراج المنیر ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٤٠٣)
- ٤...... "مردار خور کاذب کا کیا حق ہے کہ آسمان اس کے لئے نشان ظاہر کرے اور زمین اس
کے لئے خارق عادت عجوبے دکھائے۔"
(سراج المنیر ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٤٠٤)
جھوٹی قسم کھانے والے کے متعلق فتاویٰ مرزا
- ١...... "ہر ایک شخص طبعاً اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ خدا کی قسم کھا کر
جھوٹ بولے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٢٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٩)
- ٢...... "میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں۔ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے۔"
(نسیم دعوت ص ٨٧، خزائن ج ١٩ ص ٤٥٣)
دھوکہ باز کے متعلق فتاویٰ مرزا
- ١...... "بٹالوی نے اس اعتراض میں بھی شیطان ملعون کی طرح لوگوں کو دھوکہ دیا۔"
(انجام آتھم ص ٢٠، خزائن ج ١١ ص ٢٠)
فتویٰ محمودیہ
- ١...... "کیونکہ عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایک شخص خدا کا مامور بھی ہو اور لوگوں کو
دھوکہ دے کر حق سے دور بھی لے جاتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے علم پر ایک سخت حملہ ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک اس نے اپنے انتخاب میں سخت غلطی کی اور ایک ایسے شخص کو اپنا مامور بنا دیا جو دل کا ناپاک اور گندہ تھا اور بجائے حق اور صداقت کی اشاعت کے اپنی بڑائی اور عزت چاہتا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے یقین کو مقدم کرتا ہے۔"
(دعوت الامیر ص ٤٩)
کافر کے متعلق فتویٰ مرزا
- ١...... "اور کافر تو زنا کار سے بدتر ہے۔"
(نزول مسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٥)
مرزا قادیانی کا اپنے مخالف کے متعلق فتویٰ
- ١...... "جس نے میری مخالفت کا پہلو اختیار کیا وہ عیسائی، یہودی، مشرک، جہنمی ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
٢٣
- ......٢ ”جس نے میری تصدیق نہیں کی وہ ذریۃ البغایا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)
- ......٣ ”اور مجھے بشارت دی گئی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور
تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔“
(تذکرہ ص ١٦٣)
فتویٰ مرزا
- ......١ ”ممکن نہیں کہ سچا پیرو اپنے امام کی مخالفت کرے۔“
(اتمام الحجۃ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٩٤)
شوخ۔
شکریہ: جن دوستوں نے اس پمفلٹ میں کسی قسم بھی امداد کی ہے۔ خدا تعالیٰ اس کا اجر عظیم عطاء کرے۔ ادارہ ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
(شوخ بٹالوی)
آخری گذارش
میاں ناصر احمد قادیانی ! ہم نے اس مضمون میں جو کچھ لکھا ہے وہ نیک نیتی پر مبنی ہے۔ اس سے ہمارا نصب العین کسی دوست کی دل آزاری کرنا نہیں۔ گو اس میں بظاہر الفاظ آپ کو سخت معلوم ہوں گے۔ مگر حقیقتاً اگر بنظر غور اور انصاف سے دیکھا جائے تو اس میں ایک بھی لفظ ہماری طرف سے نہیں بلکہ وہ سب بحوالہ آپ کے بزرگوں اور علماء کے عقائد کی ترجمانی کی گئی ہے اور نہ ہی یہ دشنام دہی میں داخل ہے۔
کیونکہ آپ کے مرزا قادیانی اس کے متعلق جواب (ازالہ اوہام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ١١) پر یوں رقمطراز ہیں کہ : ”کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے۔ ہر ایک شخص اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دے۔ پھر اگر وہ سچ کو سن کر افروختہ ہو تو ہوا کرے۔“
ومـــــا عـــــلـــــيـــــنـــــا الا البـــــلاغ
آپ کا: شوخ بٹالوی!
٢٤
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
ختم نبوت
جناب غلام محمد شوخ بٹالوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دیباچہ
برادران اسلام! آج مسلمانوں اور مرزائیوں کے مابین جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ مسئلہ ”ختم نبوت“ ہے۔ یعنی مسلمان تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین اس طرح خیال کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد اب کوئی نبی یا رسول اصلاح خلق کے لئے تاقیامت پیدا نہیں ہوگا۔ آپ سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے بعد دروازہ نبوت قیامت تک بند کر دیا۔ آپؐ کی نبوت و رسالت قیامت تک ہے۔ آپؐ کی شریعت یعنی قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے اور اب کوئی دوسری شریعت بعد از قرآن مجید نہیں آسکتی وغیرہ وغیرہ!
اور جماعت مرزائیہ یہ کہتی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت قیامت تک جاری رہے گا اور مرزا قادیانی آپؐ کے بعد نبی ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مہر سے تاقیامت نبی بنتے رہیں گے۔
لیجئے حضرات! یہ ہے تفاوت مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان۔ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی گورنمنٹ برطانیہ آنجہانی کا خودکاشتہ پودہ تھا۔ جس کی تخم ریزی اس نے اپنے منحوس ہاتھوں سے کی۔ اس کی باڑ بن کر نہایت ناز و نعمت سے اس کو عالم طفلی سے بلوغ تک پالا پوسا۔ مگر جونہی یہ جوان ہوا تو اس کا پھل دیگر مذاہب کے لئے عموماً اور اسلام کے لئے خصوصاً تلخ ثابت ہوا۔
کیونکہ مرزا قادیانی نے پہلے تو مسئلہ جہاد کو منسوخ قرار دیا۔ بعد میں ختم نبوت کے منکر ہو کر خود مدعی نبوت بن بیٹھے اور ساتھ ہی انبیاء علیہم السلام کی توہین کے مرتکب ہوئے۔ جو کہ خلاف شریعت محمدیہ تھی اور اسی طرح سے ١٨٨٠ء سے لے کر ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء تک گورنمنٹ برطانیہ کی کٹھ پتلی بن کر ہر ایک مسلمان کے سینے میں نشتر لگاتا رہا اور اس پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے رہے۔ آخر کار ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو مرض ہیضہ سے سوا دس بجے قبل از دوپہر اس جہانِ فانی سے تشریف لے گئے۔ ”خس کم جہاں پاک“
اس کے بعد حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل مقرر ہوئے اور پھر ان کی وفات کے بعد مرزا قادیانی کے فرزند مرزا بشیرالدین محمود خلیفہ ثانی، قادیانی خلافت پر متمکن ہوئے اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس قدر مسلمانوں کے ساتھ بذریعہ تقریر و تحریر سلوک کیا کہ قلم احاطہ تحریر
٢
میں لانے سے قاصر ہے۔ چونکہ حکومت برطانیہ کی تھی اور یہ ان کے اکلوتے بیٹے کی طرح تھے۔ جن کی ناز برداری حکومت برطانیہ نے اپنا فرض قرار دیا ہوا تھا۔ اس لئے کسی کا شکوہ شکایت مرزائیوں کے خلاف نہیں سنا جاتا تھا۔ بلکہ ایسا کرنے والے کئی کئی سال کے لئے جیل خانوں کی ہوا کھانے کو بھیجے جاتے۔ جس کی وجہ سے جماعت مرزائی کے حوصلے اور بھی بڑھتے اور وہ دل کھول کھول کر مسلمانوں کے خلاف بدزبانی اور بدکلام کرتے چلے جاتے۔ لہٰذا یہ سلسلہ ١٤ اگست ١٩٤٧ء تک بدستور قائم رہا۔ چنانچہ اللہ جل شانہ عم نوالہ کی ذات بابرکات جوش رحمت میں آئی اور ١٥ اگست ١٩٤٧ء کو اپنا فضل وکرم کر کے مسلمانوں کے گلے سے برطانیہ کا ”طوق غلامی“ اتار کر قائد اعظمؒ کی وساطت سے ایک علیحدہ آزاد اسلامی سلطنت بخشی۔ جس کا نام ”پاکستان“ ہے اور اسلامی حکومتوں میں ایک اور سب سے بڑی سلطنت قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ نگہبان ہو۔ آمین ثم آمین!
اسلام زندہ باد ...... قائد اعظم زندہ باد ...... پاکستان زندہ باد
مگر مرزائیوں نے پاکستان میں آکر بھی اپنے ابا جان مرزا قادیان کی اتباع کر کے اس پرانی ”اپنی دھنا سری“ کی راگنی کو بغیر سروتان وسازوسامان ہروقت الاپنا شروع کردیا اور اس قدر تجاوز کر گئے کہ ”سر ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان“ نے مرزائیہ کانفرنس کراچی جہانگیر پارک میں ١٨ مئی ١٩٥٢ء کو اپنی تقریر میں اس قدر دریدہ دہنی کا ثبوت دیا کہ الامان۔ ملاحظہ ہو: ”اگر نعوذ باللہ آپ کے وجود (یعنی مرزا قادیانی کو) کو درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ وغیرہ!“
بس سر ظفر اللہ خان کا یہ کہنا اس کے لئے زہر قاتل ہو گیا۔ ایسے نازیبا الفاظ مسلمان کب برداشت کر سکتے تھے۔ جگہ جگہ پر اس کے خلاف جلسے و جلوس شروع ہو گئے۔ جس کے نتائج نہایت ہی ناخوشگوار ثابت ہوئے۔ سینکڑوں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ کئی ایک فدایان اسلام جام شہادت نوش کر کے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
آخر کار گورنمنٹ پاکستان کو اپنا انتظام برقرار رکھنے کی خاطر دفعہ ١٤٤ تعزیرات پاکستان کا نفاذ کر کے عام جلسوں اور جلوسوں پر پابندیاں عائد کرنی پڑیں۔ تاکہ دو فرقوں کے درمیان منافرت نہ پھیلے۔ چونکہ مسلمانوں نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کیا کہ جب ان کا نبی علیحدہ ہے اور یہ ہم کو مسلمان تصور نہیں کرتے تو ان کو اقلیت قرار دیا جائے وغیرہ ..... جس کے ساتھ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان خود بھی اتفاق رکھتے ہیں۔ مرزا محمود نے کہا: ”میں نے ایک نمائندہ کی معرفت
٣
ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلہ میں میں دو دو احمدی ”مرزائی“ پیش کرتا جاؤں گا۔
(الفضل قادیان مورخہ ١٣؍نومبر ١٩٤٦ء، منقول احسان اخبار ١٢؍جولائی ١٩٥٢ء)
جب ملک میں یہ شور برپا ہو گیا تو مرزائیوں نے اپنے نبی قادیانی کی پوزیشن صاف کرنے کے لئے اپنے اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍جولائی ١٩٥٢ء میں خاتم النبیین نمبر شائع کر کے اپنی جماعت کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً مفت تقسیم کیا اور اس میں اس بات پر زور دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر یہ ایک تہمت ہے کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کا کیا یا آپ منکر ختم نبوت ہیں۔ بلکہ وہ تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دیتے ہیں اور مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس کو کافر کاذب بے دین اور خارج از اسلام تصور کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
ناظرین! یہ حوالہ جات انہوں نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس لئے پیش کئے تاکہ سادہ لوح مسلمان اس کو پڑھ کر مرزا قادیانی کو بری الذمہ تصور کریں۔ اور اپنے علماء کرام اسلام پر بدظن ہو جائیں کہ وہ محض شرارت کی وجہ سے مرزا قادیانی کو ملزم قرار دیتے ہیں۔ دراصل ان کا دعویٰ ”نبوت“ نہیں اور نہ ہی آپ منکر نبوت ہیں۔ بلکہ ایسے شخص کو وہ بے دین، کافر، کاذب، لعنتی اور خارج از اسلام سمجھتے ہیں۔
لیجئے حضرات! یہ ہے حقیقت مرزائیوں کے خاتم النبیین نمبر کی۔ جو کہ انہوں نے ٢٧؍جولائی ١٩٥٢ء کے پرچہ الفضل میں شائع کیا۔
ہم حیران ہیں کہ مرزائی دن دہاڑے عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول ڈال رہے ہیں۔ یہ چیز تو ان لوگوں کے واسطے مرزائیوں کو کام دینے والی ہے کہ جو مرزا قادیانی کے لٹریچر سے ناواقفیت رکھتے ہیں۔ مگر جو حضرات مرزا قادیانی کی کتابوں سے پورے طور پر واقف ہیں وہ تو اس کو پڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بھلا اس بات کو کون نہیں جانتا کہ جب تک مرزا قادیانی کی پٹڑی نہیں جمی تھی اس وقت تک وہ حضور پرنور، دل کے سرور، حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ ختم الانبیاء سید المرسلین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کے قائل اور نبیوں کے
٤
عزت و تعظیم و تکریم بھر میں ہو گئی تو مر کے مرتکب ٹھہرے۔
میں دریافت کرتا ہو اقتباسات جس م میں شائع کر دیئے نبوت و رسالت ب فتویٰ صادر ہوتا ہے دیا ہے۔ جیسا کہ
کیا آ دعویٰ نبوت و رسالت یہ غلط ہے۔ انہی وا لہٰذا ہما النبیین نمبر ٢٧؍ جو مرزا قادیانی نے ا نبوت کو کافر، کاذب مگر ہو ہی کر کے ان تمام ع ناظرین ہتھکنڈوں سے خود جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بالمعروف وین
عزت و تعظیم و تکریم کے حامی رہے۔ مگر جونہی مرزا قادیانی کی جڑ جم گئی اور آپ کی شہرت زمانہ بھر میں ہوگئی تو مرزا قادیانی ختم نبوت کے منکر خود مدعی نبوت ہوکر انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کے مرتکب ٹھہرے۔
میں مرزائیوں سے عموماً اور میاں بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی قادیانی سے خصوصاً دریافت کرتا ہوں کہ انہوں نے عوام کو دھوکا دینے کی خاطر مرزا قادیانی کے چند ایک اقتباسات جن سے کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت ثابت ہوتی ہے۔ وہ پیش کر کے خاتم النبیین نمبر میں شائع کر دیئے۔ مگر وہ حوالہ جات کیوں پیش نہیں کئے گئے کہ جن سے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت ورسالت اور انبیاء علیہم السلام کی توہین ثابت ہوتی ہے۔ جن کے سبب سے ان پر کفر کا فتویٰ صادر آتا ہے۔ ان کو چھوا تک نہیں۔ ان حوالہ جات کو تو آپ نے اس طرح نظر انداز کر دیا ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎
یاد بھولے سے بھی کرتا نہیں مجھ کو کوئی
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان حوالہ جات کا کسی کو علم نہیں کہ جن میں مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت ورسالت وغیرہ کا کیا ہے۔ یا انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخیاں ثابت ہوتی ہیں۔ یہ غلط ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر تو علماء کرام نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دیا تھا۔
لہٰذا ہم ان تحریروں کو مرزا قادیانی کی مستند کتابوں سے پیش کر کے مرزائیوں کے خاتم النبیین نمبر ٢٧؍ جولائی ١٩٥٢ء کے الفضل کا جواب دیتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ واقعی مرزا قادیانی نے پہلے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا اور ختم نبوت کے منکر اور مدعی نبوت کو کافر، کاذب، بیدین، لعنتی ،مفتری اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا۔
مگر بعد میں ان سب سے بے نیاز ہوکر کھلے طور پر خدا کی قسم کے ساتھ دعویٰ نبوت خود ہی کر کے ان تمام فتاویٰ جات کے حقدار ٹھہرے۔
ناظرین ! اس رسالہ کو اوّل سے لے کر آخر تک ضرور پڑھیں اور جماعت مرزائیہ کے ہتھکنڈوں سے خود بھی بچیں اور عوام کو بھی بچنے کی تاکید فرمائیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویأمرون بالمعروف وینہون عن المنکر واولئک ہم المفلحون (آل عمران)“ اور چاہئے
٥
کہ ہو تم میں سے ایک جماعت کہ بلاویں طرف بھلائی کے اور منع کریں۔ نامعقول سے اور یہ لوگ وہی ہیں چھٹکارہ پانے والے۔﴾ اسی لئے یہ رسالہ مسلمانوں کے تحفظ ایمان کے لئے بعنوان۔
ختم نبوت
چند ایک مخلص دوستوں کے عطیہ سے چھپوا کر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس میں ذاتی منفعت کارفرما نہیں۔ والسلام! خادم قوم: شوخ بٹالوی
تمہید
مسئلہ ختم نبوت
ناظرین کرام! مسلمانوں کے واسطے یہ مسئلہ ایسا جزو ایمان ہے جیسا کہ ”لا اله الا الله“ کے ساتھ ”محمد رسول الله“ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے بغیر کلمہ پورا نہیں ہوتا۔ یعنی خالی توحید بغیر رسالت کے بیکار ہے۔ اسی طرح جب تک انسان ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ کے ساتھ حضور پرنور، سیدالمرسلین، شفیع المذنبین، محمد مصطفےٰ، احمد مجتبےٰ ﷺ کو خاتم النبیین نہ مانے اس وقت تک اس کا ایمان کامل نہیں ہوتا اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت ورسالت کرنے والے کو جب تک جھوٹا، دجال، کذاب وغیرہ یقین نہ کرے اس وقت تک وہ صحیح معنوں میں مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔ یعنی جس طرح توحید اور رسالت دونوں لازم وملزوم ہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کو خاتم النبیین یقین کرنا اور حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دعویدار کو جھوٹا، دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج تسلیم کرنا بھی لازم وملزوم ہیں۔ حاصل مطلب یہ کہ جب تک انسان ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ خاتم النبیین اور آپؐ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا جھوٹا، دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا اقرار نہ کرے۔ اس وقت تک وہ صحیح معنوں میں مسلمان ہونے کا حق نہیں رکھتا۔
کیوں نہ ہو یہ وہ مسئلہ ہے کہ جس کا ہم نے پیدا ہوتے ہی اقرار کیا۔ اب اپنے وعدہ کو نبھانا بھی ہمارا فرض منصبی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ہم نے پیدا ہوتے ہی اس بات کا کس طرح سے اقرار کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا پیدائش کے بعد کسی شخص نے آکر ہمارے کان میں یہ نہیں کہا
٦
تھا کہ ’اشھد ان محمد رسول الله‘ ”جس کا مطلب یہ ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔“
تو جب ہم نے پیدا ہوتے ہی اس بات کا اقرار کر لیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو یقیناً ہم کو اس اللہ کے رسول پر نازل شدہ احکام پر بھی ایمان لانا پڑا۔ نہیں نہیں بلکہ حضورﷺ کے ہر ارشاد کو بسر و چشم قبول کرنا یہ ہمارا فرض ہو گیا۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حضور پرنورﷺ کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا احکام نازل ہوئے اور اس کا نام کیا ہے تو معلوم ہو کہ اس کا نام قرآن مجید فرقان حمید ہے۔
جب ہم نے قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو ٢٢ پارہ سورۃ احزاب رکوع ٥ آیت ٤٠ میں ارشاد خداوندی اس طرح سے پایا۔ ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما“ ﴿نہیں محمد بالغ مردوں میں سے باپ کسی کا۔ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور ختم کرنے والا ہے تمام نبیوں کا اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔﴾
اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لفظ خاتم النبیین کے معنی کہ آپؐ پر نبوت ختم ہوگئی۔ کس طرح کئے گئے۔ سو جواباً عرض ہے کہ یہ معنی ہم نے نہ تو لغوی لحاظ سے کئے ہیں اور نہ ہی صرف کے زیر تحت اور نہ ہی کسی مجدد یا محدث یا کسی اور بزرگ کی تحریرات سے اخذ کئے ہیں۔ بلکہ یہ وہ معنی ہیں جس کو حضورﷺ نے خود بیان فرمایا۔ جیسا کہ آپؐ فرماتے ہیں۔ حدیث ابو داؤد، مسلم، مشکوٰۃ ”وانه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“ ﴿اور بے شک میری امت میں سے تیس جھوٹے کذاب ہوں گے۔ ہر ایک دعویٰ رسالت کا کرے گا۔ حالانکہ میں تمام نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾
حضرات! یہ وہ حدیث ہے جس کی تصدیق مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتب ذیل میں پر زور الفاظ میں کی اور اس کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ......1 مرزا قادیانی (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢) پر یوں رقمطراز ہیں: ”نزول مسیح
مجسم عنصری کو آیۂ خاتم النبیین بھی روکتی ہے اور حدیث بھی روکتی ہے کہ لا نبی بعدی تو پھر کیونکر جائز ہے کہ نبی کریم خاتم الانبیاء ہوں اور کوئی دوسرا نبی آجائے۔“
٧
- ٢...... اور اسی طرح مرزا قادیانی اپنی کتاب (البریہ ص١٩٩ حاشیہ، خزائن ج١٣ ص٢١٧) پر یوں
تحریر فرماتے ہیں: ”آنحضرتﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن کریم جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم پر نبوت ختم ہو چکی۔“
نوٹ ...... لیجئے حضرات! آپ کی تسلی و تشفی کے لئے صرف دو ہی حوالہ جات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کو قرآن وحدیث با اتفاق روک رہے ہیں۔ اگر وہ تشریف لے کر آئیں تو پھر حضرت محمد مصطفیٰﷺ خاتم النبیین نہیں ٹھہر سکتے۔
لیجئے حضرات! یہ وہ آیت ہے جس کو کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبرائیل علیہ السلام حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر نازل فرما کر حضور پر نبوت ختم کر دی۔ جس کی تشریح وتفسیر حضور اکرمﷺ نے حدیث ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ فرما کر اپنے اوپر نبوت کے ختم ہونے کا اقرار کیا اور اپنے بعد دعویٰ رسالت کرنے والے کو کذاب جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور اس کی تصدیق پرزور الفاظ میں مرزا قادیانی نے اپنی تحریرات میں کر کے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ آپ بروئے قرآن وحدیث خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد جو دعویٰ رسالت و نبوت کرے وہ کذاب، کھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جس کا مختصر سا نقشہ بندہ نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔
- ١...... یعنی حضورﷺ کی ختم نبوت کا اقرار پہلے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کیا۔
- ٢...... آپﷺ کی ختم نبوت کا اقرار آپ کے ارشاد نے کیا۔
- ٣...... حضورﷺ کی ختم نبوت کا اقرار مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال نے کیا۔
جس کا اعلان جلسہ عام میں کرنے سے ہم پر فرض عائد ہوتا ہے اور وہ اس بناء پر کہ ایسا بیان کرنے سے یعنی یہ ظاہر کرنے سے کہ حضور پرنور محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی آپ پر نبوت ختم ہو گئی اور اب جو کوئی دعویٰ نبوت بعد از حضور کرے وہ کذاب، جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ اس لئے کہ ایسا کہنے سے مرزائیوں کے دل دکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو حضورﷺ کے بعد نبی مانتے ہیں۔ جس کی وجہ سے متذکرہ القاب ان کے حق میں وارد ہوتے ہیں۔
ہم دریافت کرتے ہیں کہ کیا حضورﷺ کا خاتم النبیین ہونا از روئے قرآن وارشاد
٨
نیز یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے ثابت نہیں۔ جیسا کہ بندہ اوپر بیان کر چکا ہے تو جب یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ حضور ﷺ کی ذات پر نبوت ختم ہے۔ جس کی شہادت اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن پاک میں دے کر آپ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا اور حضور ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ اس کی تفسیر کی اور اپنے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو دجال، کذاب، جھوٹا، دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور مرزا قادیانی نے پرزور الفاظ میں اس کی تصدیق کی تو اب جماعت مرزائیہ یا کسی اور کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ اس کے بیان کرنے سے روکے یا مجرم قرار دے۔
جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں خاتم النبیین کہہ کر آپ پر نبوت ختم ہونے کی شہادت دے دی تو بتاؤ کہ ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ ہم اس شہادت کو چھپائیں اور لوگوں پر ظاہر نہ کریں اور اگر کوئی اس خدا کی گواہی کو چھپاتا، گواہی دینے سے گریز کرتا ہے یا حق کے بیان کرنے سے ڈرتا ہے تو ہمیں بتائیے بحکم خدا اس سزا کا کون حقدار ہو گا۔ جو کہ اس نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے: ”قوله تعالیٰ: ان الذين يكتمون ما انزل الله من الكتب ويشترون به ثمناً قليلاً اولئك ما ياكلون فى بطونهم الا النار (البقره)“ ﴿تحقیق وہ لوگ کہ چھپاتے ہیں جو کچھ کہ اتارا اللہ تعالیٰ نے کتاب سے اور مول لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا یہ لوگ کہ نہیں کھاتے بیچ پیٹوں اپنوں کے مگر آگ۔﴾
اور اس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: ”قوله تعالیٰ: ومن اظلم ممن كتم شهادة عنده من الله“ ﴿اور کون ہے بہت ظالم اس شخص سے چھپاتا ہے گواہی جو پاس ہے۔ اس کے اللہ کی طرف سے۔﴾
پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”قوله تعالیٰ: قل اطيعوا الله واطيعوا الرسول (النور)“ ﴿کہ خدا کی اطاعت کرو اور اس رسول کی اطاعت کرو۔﴾
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”قوله تعالیٰ: ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله ناراً خالداً فيها وله عذاب مهين (النساء)“ ﴿جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے باہر ہو جائے خدا اس کو جہنم میں داخل کرے گا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر ذلیل کرنے والا عذاب نازل ہو گا۔﴾
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے: ”قوله تعالیٰ: الم يعلموا انه
٩
﴿من يحادد الله (التوبہ) ”کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرے خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ ایک بہت بڑی رسوائی ہے۔ ﴾
خلاصہ کلام ربانی یہ نکلا کہ خدا کی گواہی کو چھپانے والا ظالم، دوزخ کی آگ پیٹ میں داخل کرنے والا، خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی، بڑے عذاب کا حق دار ہے۔
حضرات! یہ تو خدا اور رسول کی خلاف ورزی کرنے والے کے متعلق سن لیا۔ آپ نے فیصلہ قرآنی اب سنئے! جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق وغیرہ نہیں کرتا یا مخالفت کرتا ہے۔ اس کے واسطے مرزا قادیانی کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ ذرا اس کا بھی ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً) پر اس طرح رقمطراز ہیں: ”تلك كتب ينظر اليها كل مسلم“ ”ان میری کتابوں کو ہر ایک مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صدق دل سے فائدہ اٹھاتا ہے اور قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے۔ مگر وہ نہیں مانتا جو بدکار عورتوں کی اولاد ہے۔“
لیجئے حضرات! ہم خدا اور اس کے رسول کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں تو از روئے قرآن، ظالم، جہنمی، پیٹ میں دوزخ کی آگ ڈالنے والے ٹھہرتے ہیں اور اگر مرزا قادیانی کے کہے ہوئے الفاظ نہ مانیں تو پھر ہم بدکار عورتوں کی اولاد بنتے ہیں۔
اگر ہم بیان کرتے ہیں تو پھر ہم ارتکاب جرم کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ ہم جائیں تو کدھر جائیں۔ اگر ہم خدا رسول کے احکام کو پس پشت ڈال کر حق گوئی کے بیان کرنے سے گریز کریں تو خطرہ ہے ایمان کا، اور اگر ہم خدا رسول کے احکام کو بسر و چشم قبول کر کے حق گوئی کا اعلان کریں تو خطرہ ہے جان کا، اور اگر ہم مرزا قادیانی کی مخالفت کریں تو خطرہ ہے اپنے خاندان کا۔ ہماری جان عجیب مصیبت کے چکر میں پڑ گئی ہے کہ جس کا حل سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکام ہی اس کا حل کریں۔
دوسرے ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم مسئلہ ختم نبوت کو بیان کر کے یہ کہیں کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ پر نبوت ختم ہوگئی اور اب جو کوئی حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرنے والا ہے وہ کذاب، دجال، جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو یہ کہنے سے مرزائیوں کے دل دکھتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا ہے اور وہ ان کو نبی مانتے ہیں۔
١٠
مرزا قادیانی (اخبار بدر قادیان مورخہ ٥ / مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں پرزور الفاظ میں اعلان کرتے ہیں: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
اس کی تصدیق میاں محمود احمد نے اپنی حقیقت النبوۃ میں یوں کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے...... پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے...... اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا۔ تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) بھی نبی اللہ تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
شوخ...... اور حکومت بھی ایسا کہنے سے روکتی ہے کہ دو فرقوں کے درمیان منافرت پھیلتی ہے۔ جس سے کہ ملک میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
میں یہ کہتا ہوں
کیا مسلمانوں کے دل پتھر کے ہیں کہ جب ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ خاتم النبیین ﷺ یا بی بی فاطمۃ الزہراؓ خاتون جنت یا حضرت امام حسین علیہ السلام نواسہ رسول یا داماد رسول حضرت علی کرم اللہ وجہہ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا بی بی مریم علیہا السلام کی شان میں مرزا قادیانی یا ان کے حواری بدکلامی کریں تو ہم اس کو پڑھ کر یا سن کر نہ پگھلیں، یا ملال نہ لائیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے۔ کیا اس وقت ہمارے دل نہیں دکھتے۔ کیا ہمیں رنج محسوس نہیں ہوتا۔ کیا ہمارے سینے میں دل نہیں اور اگر ہے تو کیا اس میں رنج و ملال یا غم و غصہ کا خانہ خالی ہے۔ آخر ہم بھی تو انسان ہی ہیں اور مرزائیوں کی طرح ہمیں بھی قدرت نے دل و دماغ اور سوچ بچار اور محسوس کا مادہ بخشا ہے۔ کیا ہم اچھے برے نیک و بد دوست و دشمن کی تمیز نہیں کر سکتے۔ کیا عقل و شعور کے مرزائی ہی ٹھیکیدار ہیں۔ جو یہ تصور کئے بیٹھے ہیں کہ ہماری بدکلامی کو دوسرا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں وہ پہلا وقت جو گزر چکا وہ حکومت برطانیہ کی تھی۔ جس کا مرزا قادیانی خود کاشتہ پودہ تھا۔ جس کی پرورش برطانیہ نے ناز و نعمت کے ساتھ کی اور اس کو ایسی پیوند لگائی کہ جس کے سبب سے اس کا پھل مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ ثابت ہوا۔ مگر اب وہ زمانہ نہیں نہ وہ حکومت، اب یہ حکومت پاکستان ہے۔ جو اسلامی حکومت ہے اور ہم حکومت کے قانون کا احترام کرتے ہوئے حکومت سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس کا جلد از جلد مناسب انتظام کرے۔
١١
یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان ناموس رسول کے لئے اپنا جان ، مال ، تن ، من ، دھن ، اولاد سب کچھ قربان کر کے اگر تختہ دار پر بھی لٹکنا پڑے تو اس کو بسر و چشم قبول کرے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے ہادی و راہنما سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ یا آپ کی اہلبیت یا خدا کے کسی برگزیدہ نبی کی شان میں گستاخی آمیز کلمات سن کر ان کو برداشت کرے۔ جن کا کچھ حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
توہین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ و عیسیٰ علیہ السلام
- ......١
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
ترجمہ: میں مسیح زمانے کا ہوں میں موسیٰ کلیم اللہ ہوں ، میں محمد اور احمد ہوں۔
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
- ......٢
عیسیٰ کجا است تا بہ نہد پایہ ممبرم
ترجمہ: میں وہ ہوں کہ جو خوشخبری کے ساتھ آیا ہوں۔ عیسیٰ کو کیا طاقت ہے کہ میرے ممبر پر قدم رکھے۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ......٣
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ......٤
در برم جامہ ہمہ ابرار
(نزول مسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
١٢
......٥ ......٦ ......٧ ......٨ ہے اور اس ۔ ہیں ۔“ ......٩ ظہور میں آئے ٩۔ الف...... ......١٠ ......١١ آج تم میں سے
- ٥......
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بیشمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
- ٦......
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٧......
اور آگے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء)
”نبی کریم ﷺ کے تین ہزار معجزات اور اپنے تین لاکھ۔“ ملاحظہ ہو:
- ٨...... ”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں...... اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا
ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ٩...... ”کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے
ظہور میں آئے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٦٧، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
- ٩۔الف...... ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- ١٠...... ”میرا قدم اس بلندی پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں۔“
- ١١...... ”قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ
آج تم میں سے ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
١٣
- ١٢...... ”حسین کا ذکر اللہ کے مقابلہ میں گوہ کا ڈھیر ہے۔“
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٤)
- ١٣...... ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تم تلاش کرتے ہو۔“
(اخبار الحکم قادیان ڈائری ١٩٠١ء، ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)
- ١٤...... ”حضرت محمد مصطفےٰ (العیاذ باللہ) سور کی چربی والا پنیر کھا لیتے تھے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢١ فروری ١٩٢٢ء)
- ١٥...... ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔
حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
- ١٦...... ”حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔“
(ریویو بابت ماہ جون ١٩٢٩ء)
- ١٧...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) چور، مکار، جھوٹا، شریر، بدزبان آپ کی تین
نانیاں دادیاں کسبی عورتیں زنا کار جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجروں سے میل ملاپ بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہے۔ ہم ایسے ناپاک خیال، متکبر راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٩٤٢)
تصدیق توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
”ہماری قلم سے خلاف شان حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کچھ نکلا ہے وہ سب الزامی رنگ میں ہے۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)
- ١٨...... ”القصہ مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جو عورت...... بیت المقدس کی
خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی۔ اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔ افسوس اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نابکار نے ناجائز تعلقات کے شبہات شائع کئے۔“
(چشمہ مسیحی ص٢٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)
- ١٩...... ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکے رکھا۔
پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ
١٤
برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ وہ لوگ اس صورت میں قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔"
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
٢٠...... "میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ پنجتن پاک میرے پاس آئے اور دبڑ دبڑ کر کے جوتوں کی آواز سے ان میں سے ایک بڑی پاک وضع بی بی نے میرا سر اپنی ران پر رکھ کر مجھے مادر مہربان کی طرح اپنی گود میں لٹا لیا اور وہ بی بی فاطمۃ الزہرا تھیں۔"
(براہین احمدیہ ص ٥٠٣ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٩)
٢١...... "میں نے لاہور میں جا کر طوائفوں کو سمجھایا کہ اگر تم توبہ کرو تو تمہارا رتبہ دروپتی ، سیتا، مریم اور بی بی فاطمۃ الزہرا کی شان سے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کیسے ہو سکتا ہے تو میں نے کہا تم نہیں دیکھتیں جن کھیتوں میں زیادہ گند پڑتا ہے وہ زیادہ زرخیز ہیں۔"
(فلسفہ فلاسفر ص ٤٩، لطیفہ نمبر ٥٩ مصنفہ الہ دین قادیانی)
نوٹ...... الغرض! اس قسم کے کفریات اور گستاخی آمیز کلمات سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ہی موجود ہیں۔ جو مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کی دریدہ دہنی کا ثبوت ہیں۔ مگر طوالت مضمون کے سبب اس جگہ صرف انہیں حوالہ جات پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ عاقل را اشارہ کافی است! کیا کوئی مسلمان ان حوالہ جات کو سن کر پڑھ کر جوش میں نہیں آتا۔ یا اس کا خون کھولنے نہیں لگتا۔ یا اس کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوتے۔ اس وقت کہ جب وہ اپنی آنکھوں سے ان برگزیدہ ہستیوں کے متعلق اس قدر فحش الفاظ پڑھے یا سنے۔ جن کو کہ خدا نے اپنی خاص رحمت سے چن لیا ہو۔
کیا وجہ ہے کہ اگر ہم مسئلہ ختم نبوت جو کہ قرآن وحدیث یا اقوال مرزا قادیانی سے ثابت ہو رہا ہے۔ اس کو دہرائیں یا عوام کو بتائیں تو ہمیں قانون کی زد میں لاکر کسی دفعہ کے ماتحت جیل خانہ کی تنگ و تاریک کوٹھری میں اس لئے بھیج دیا جاتا ہے کہ اس سے منافرت پھیلتی ہے اور مرزائیوں کے دل پر ٹھیس لگتی ہے۔ مگر جب مرزا قادیانی یا اس کے حواری اس قدر فحش کلامی کے مرتکب ہوں تو ٹس سے مس نہیں ۔ کسی نے سچ کہا ہے۔
١٥
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
پہلا باب
برادران اسلام! اب ہم مسئلہ ختم نبوت ”مرزا قادیانی“ کے مسلمہ اقوال کی رو سے آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یعنی ان کے حوالہ جات ان کی اپنی ہی تحریرات سے پیش کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور اب تا قیامت اس دنیا پر امت کے لئے کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کسی کی ضرورت ہے۔
جب مرزا قادیانی کی تحریرات سے علمائے کرام اہل اسلام کو اس قسم کی بو آنی شروع ہوئی کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں۔ اسلامی عقائد سے منحرف ہو رہے ہیں تو انہوں نے جابجا جلسے کر کے مرزا قادیانی کی پالیسی کی وضاحت کرنی شروع کر دی اور مرزا قادیانی پر طرح طرح کے سوالات کر کے جواب طلبی کی تو مرزا قادیانی نے علمائے اہل اسلام کی تسلی و تشفی کے لئے یوں ارشاد فرمایا:
- سوال نمبر :١...... مرزا قادیانی! آپ کی تحریرات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ آپ بھی حضور پرنور
حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ کے بعد مدعی نبوت ہیں اور آپ بھی ختم نبوت کے منکر ہیں جو کہ سراسر اصول اسلام کے خلاف ہے۔
جواب مرزا
- ١...... ”میں نے سنا ہے کہ شہر دہلی میں علماء یہ مشہور کرتے ہیں کہ میں مدعی نبوت ہوں اور منکر
عقائد اہل اسلام ہوں۔ اظہاراً للحق لکھتا ہوں کہ یہ سراسر افتراء ہے۔ بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم سے شروع ہو کر نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی۔ یہ وہ عقائد ہیں کہ جن کے ماننے سے کافر بھی مؤمن ہو سکتا ہے۔ میں ان عقائد پر ایمان رکھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
- ٢...... ”اب میں خانہ خدا میں (یعنی جامع مسجد دہلی میں) اقرار کرتا ہوں کہ خاتم الانبیاء ﷺ کے ختم
رسالت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور منکر اسلام سمجھتا ہوں اور اس کو دین اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
١٦
- ٣...... ”مجھے دعویٰ نبوت نہ خروج از امت نہ میں منکر معجزات وملائک اور لیلۃ القدر سے
انکاری ہوں اور آنحضرتﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل ہوں۔“
(نشان آسمانی ص٣٠،خزائن ج٤ص٣٩٠)
- ٤...... ”ہمارے رسولﷺ خاتم النبیین ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص٢٧،خزائن ج٢٢ص٢٨٩)
- ٥...... ”آنحضرتﷺ خاتم النبیین ہیں۔“
(پیام امام ص٣١)
- سوال نمبر ٢:...... مرزا قادیانی یہ جو کچھ آپ نے فرمایا یہ آپ نے عوام کا رسمی عقیدہ بیان کیا ہے۔ یا
کہ اپنے صحیح خیالات کا اظہار ہے؟
جواب مرزا
- ١...... ”آنحضرتﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس
بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔“
(نشان آسمانی ص٣٠،خزائن ج٤ص٣٩٠)
- ٢...... ”ہم بھی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں: ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ کے
قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت ج٦ص٢،مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٩٧)
- ٣...... ”میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی کریمﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری
کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول کریمﷺ آدم علیہ السلام کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص٢١،خزائن ج٥ص٣١)
- ٤...... ”مولوی غلام دستگیر پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا
الله محمد رسول الله“ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٩٧)
- ٥...... ”ہم اس بات پر ایمان لائے ہیں کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد
کوئی نبی نہیں۔“
(مواہب الرحمن ص٦٦،خزائن ج١٩ص٢٨٥)
- ٦...... ”ہم اس بات پر ایمان لائے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت
محمد مصطفیٰﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔“
(ایام الصلح ص٨٦، ٨٧،خزائن ج١٤ص٣٢٣)
١٧
- ٧...... ”ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٨، خزائن ج ١٣ ص ٢١٦)
- ٨...... ”ہم مسلمان ہیں۔ ایمان رکھتے ہیں۔ خدا کی کتاب فرقان حمید پر اور ایمان رکھتے ہیں
کہ ہمارے سردار محمد مصطفیٰ ﷺ خدا کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور وہ سب دینوں سے بہتر دین لائے اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔“ (مواہب الرحمن ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥)
- ٩...... ”اور میں ایمان رکھتا ہوں اس پر کہ ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام رسولوں
سے افضل اور خاتم الانبیاء ہیں۔“
(حمامة البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٢)
- ١٠...... ”میں عامتہ الناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں
ہوں۔ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ میرا عقیدہ ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے میں اس اپنے بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں۔ جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر یہ قرآن شریف کے حروف ہیں اور جس قدر آنحضرت ﷺ کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔“
(کرامات الصادقین ص ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٤٣)
سوال نمبر:٣......مرزا قادیانی! یہ تو ثابت ہو گیا کہ آپ کا ایمان ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپ نے یہ عقیدہ کہاں سے پایا؟
جواب مرزا
- ١...... ”اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ ”ولکن رسول الله
وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تمام تار و پود اسلام کا درہم برہم ہو جاتا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)
- ٢...... ”یہ کہ قرآن کریم صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠٦، خزائن ج ١٣ ص ٢٢٤)
- ٣...... ”اور دوسری طرف قرآن کریم آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبیین رکھتا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠١، خزائن ج ١٣ ص ٢١٩)
١٨
- ٤...... ”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبی کریمﷺ کا بغیر
کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص٢٠، خزائن ج٧ص٢٠٠)
- ٥...... ”اسی طرح سب سے اوّل اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) یہ فیصلہ کیا ہے کہ
آنحضرتﷺ کو اسلام جیسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپﷺ کو خاتم النبیین ٹھہرایا اور قرآن جیسی کامل الکتاب عطاء فرمائی۔ جس کے بعد قیامت تک نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی نئی شریعت لے کر آئے گا۔“
(ملفوظات احمدیہ ص٣٣٩)
- ٦...... ”قرآن شریف میں آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا۔“
(اربعین نمبر٤ص٢٦، خزائن ج١٧ص٤٧٢)
- ٧...... ”عقیدہ کی رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی
ہے اور خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔“
(کشتی نوح ص١٥، خزائن ج١٩ص١٥،١٦)
- ٨...... ”خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن کریم کو اپنا دستورالعمل قرار دیتا
ہے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفےٰﷺ کو درحقیقت خاتم الانبیاء کہتا ہے۔“
(چشمہ معرفت ص٣٢٥، خزائن ج٢٣ص٣٤٠)
سوال نمبر:٤......مرزا قادیانی یہ تو ثابت ہوگیا کہ یہ آپ کا رسمی عقیدہ نہیں۔ بلکہ قرآن مجید کی رو سے آپ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو خاتم النبیین تصور کرتے ہیں اور یہ لقب انسانی لقب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور کو یہ انعام ہے اور اس سے حضورﷺ کی بزرگی عظمت، شان وشوکت ثابت ہوتی ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ معنی آپ نے کہاں سے اور کن الفاظ سے لئے ہیں۔ ذرا اس پر بھی روشنی ڈالئے۔
جواب مرزا
- ١...... ”ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبیین کے بڑے معنی یہ ہیں کہ
نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرتﷺ پر ختم کر دیا۔“
(ملفوظات احمدیہ ص٢٧٦)
- ٢...... ”اور اسی وجہ سے ہمارے نبی کریمﷺ خاتم النبیین ٹھہرے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ
کے ہاتھ پر وہ تمام کام پورا ہوگیا جو پہلے اس سے کسی نبی کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا تھا۔“
(ست بچن ص١٤٩، خزائن ج١٠ص٢٧٣)
سوال نمبر:٥......اچھا مرزا قادیانی! یہ تو ثابت ہوگیا کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ پر
١٩
اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم کردی اور نبوت کے امور کو اللہ تعالیٰ نے آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا اور کمالات نبوت کا دائرہ بھی آپؐ پر ختم ہو گیا اور قرآن کریم نے بھی نبوت آپؐ پر ختم کر دی۔ مگر یہ تو بتادیجئے کہ آپ کے خیال میں کوئی نبی آ بھی سکتا ہے یا کہ نہیں؟
جواب مرزا
- ......١ ”اگر کوئی نبی آجائے تو ہمارے نبی کریم ﷺ کیونکر خاتم الانبیاء ہیں۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)
- ......٢ ”ہمارے نبی کریم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا
اور نہ کوئی نیا۔“
(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٧)
- ......٣ ”میں ایمان محکم رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس امت میں کوئی
نبی نہیں آئے گا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
- ......٤ ”خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“
(انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨)
- ......٥ ”نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی کریم ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع
ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)
- سوال نمبر : ٦ ...... مرزا قادیانی! یہ تو آپ نے بتا دیا کہ نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے
بعد کوئی نبی نیا پرانا نہیں آسکتا۔ مگر اس کی بھی وضاحت فرما دیجئے کہ یہ آپ نے کہاں سے پایا کہ نبی کا آنا ممنوع ہے۔
جواب مرزا
- ......١ ”جب مسیح کی شان مظہر ہوگی تو بلاشبہ ختم نبوت کے منافی ہوگا۔ کیونکہ درحقیقت وہ نبی
ہے اور قرآن کی رو سے نبی کا آنا ممنوع ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١١)
- ......٢ ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا
نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن کریم جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی کریم ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨، ٢١٧)
٢٠
- ......٣ ”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں
وعدہ دیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول کریم ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت سے منع کیا گیا ہے۔ یہ باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
- ......٤ ”قرآن کریم میں تو ابن مریم کے دوبارہ آنے کا کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا
بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن کریم میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢،٣٩٣)
- ......٥ ”نزول مسیح مجسم عنصری کو آیت ”وخاتم النبیین“ بھی روکتی ہے اور حدیث بھی
روکتی ہے کہ ”لا نبی بعدی“ کیونکر جائز ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہو اور کوئی دوسرا نبی آجائے۔“
(ایام الصلح ص ٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٩)
- ......٦ ”قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث
میں خود آنحضرت ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا۔“
(کتاب البریہ ص ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)
- سوال نمبر: ٧...... مرزا قادیانی یہ تو ثابت ہوگیا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں اور خاتم النبیین کی
تفسیر حضور اکرم ﷺ نے ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ جو فرمائی ہے۔ درست ہے اور ”لا نبی بعدی“ میں نفی عام ہے۔ آپ کے بعد نیا پرانا کوئی نبی نہیں آسکتا اگر آجائے تو حضور خاتم النبیین کیسے ٹھہرے اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کا قرآن کریم میں بہ کمال وضاحت ذکر ہے۔ وغیرہ وغیرہ! مگر آپ نے جو کہا ہے کہ حقیقی معنوں کی رو سے آپ کے بعد کوئی نہیں آسکتا۔ اس کے کیا معنی؟
جواب مرزا
- ......١ ”یہ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ جس نے سمجھنا ہو وہ سمجھ لے۔ میرے پر ہی کھولا
گیا ہے۔ یہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین کے بعد بکلی بند ہیں۔ اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کی رو سے آسکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔ مگر ہمارے مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو
٢١
پُورے طور پر بند نہیں سمجھتے۔"
(سراج منیر ص٣، ٤، خزائن ج١٣ص٥)
- ٢...... "ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد
آنحضرت ﷺ نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے۔"
(سراج منیر ص٣، خزائن ج١٣ص٥)
- سوال نمبر: ٨...... مرزا قادیانی! آپ کے ارشادات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضور خاتم النبیین کے
بعد حقیقی نبوت کے دروازے بند ہیں تو کیا کوئی اور بھی نبوت، علاوہ حقیقی نبوت کے ہے جو جاری ہو سکتی ہے۔
جواب مرزا
- ١...... "محی الدین ابن عربیؒ نے لکھا ہے کہ نبوت تشریعی جائز نہیں۔ دوسری جائز ہے۔ مگر
میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔"
(ملفوظات احمدیہ ج ٥ ص ٣٥١، ٣٥٢)
- ٢......
ہر نبوت را برو شد اختتام
ترجمہ: وہ نبیوں کا سردار ہر مرتبے کا حقدار ہے اور ہر ایک قسم کی نبوت اس پر ختم ہے۔
(سراج منیر ص٩٥، خزائن ج١٣ص٩٥)
- ٣...... "میں اس پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ تمام نبوتیں آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئیں۔"
(خطبہ جمعہ مندرجہ الحکم ج ١٤ ص ١١، ١٢)
- ٤...... "اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی
ہو جانے کی رکھتا تھا۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٨، خزائن ج٥ ص ٢٣٨)
- سوال نمبر: ٩...... مرزا قادیانی! آپ کے عقیدہ سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ حضور پر نور حضرت محمد
مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ پر سب قسم کی نبوتیں ختم ہیں نبوت تشریعی یا غیر تشریعی غرض کسی قسم کی نبوت بعد از خاتم النبیین جائز نہیں۔ اب ذرا یہ تو واضح کر دیں کہ آیا اس کی کوئی میعاد بھی ٹھہرائی گئی ہے یا کہ کچھ عرصہ کے لئے یہ نبوت بند کی گئی ہے اور کن وجوہات کی بناء پر آپؐ کے بعد نبوت کا خاتمہ کر دیا گیا۔
٢٢
جواب مرزا
- ١...... ”اسی طرح سب سے اوّل اس نے (خدا تعالیٰ نے) یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ
کو اسلام جیسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپ کو ختم النبیین ٹھہرایا اور قرآن جیسی کامل الکتاب عطاء فرمائی۔ جس کے بعد قیامت تک نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی نئی شریعت لے کر آئے گا۔“
(ملفوظات احمدیہ ص ٣٣٩)
- ٢...... ”اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ’ولکن رسول اللہ خاتم النبیین‘ میں بھی اشارہ
ہے۔ پس اگر ہمارے نبی کریم اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والے زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسبت نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم ﷺ کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لئے نہ بھیجتا اور ہمیں محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔“
(حمامة البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٣، ٢٤٤)
- ٣...... ”فلا حاجة لنا الى نبی بعد محمد ﷺ وقد احاطت بركات كل
امّتہ“ ہم کو محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں۔
- سوال نمبر: ١٠...... اچھا مرزا قادیانی ! یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ آپ کے بیان کردہ بدیں وجوہات
اب نبی نہیں آسکتا؟
- ١...... خدائے تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین ٹھہرایا۔
- ٢...... آپ کو مکمل دین اسلام عطاء کیا۔
- ٣...... قرآن جیسی کامل کتاب عطاء کی۔
- ٤...... جس کے بعد نیا پرانا نبی قیامت تک نہیں آسکتا اور نہ ہی ہمیں کسی نبی کی حاجت ہے۔
اگر اس کے علاوہ خدا کسی موقع پر نبی بھیجنے کی ضرورت محسوس کرے تو پھر نبوت جاری ہو سکتی ہے یا کہ نہیں؟
جواب مرزا
- ١...... ”اور اللہ کو شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسلۂ نبوت کو
دوبارہ از سر نو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم منسوخ کردے اور ان پر بڑھائے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)
- سوال نمبر: ١١...... مرزا قادیانی ! یہ تو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت ورسالت ہی بند کیا ہے یا
کہ سلسلۂ وحی رسالت بھی؟
٢٣
جواب مرزا
- ......١ "قرآن کریم کے بعد خاتم النبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا
پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل علیہ السلام بپیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آئے مگر سلسلۂ وحی رسالت نہ ہو۔"
(ازالۃ اوہام ص٧٦١، خزائن ج٣ ص٥١١)
- ......٢ "ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت "خاتم
النبیین" میں وعدہ دیا گیا ہے کہ اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول کریم ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔"
(ازالۃ اوہام ص٥٧٧، خزائن ج٣ ص٤١٢)
- ......٣ "حسب تصریح قرآن کریم رسول اس کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل
علیہ السلام کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔
(ازالۃ اوہام ص٥٣٤، خزائن ج٣ ص٣٨٧)
- ......٤ "کیونکہ یہ ثابت حقیقت ہے کہ اصلی رسالت بالوحی حضرت آدم علیہ السلام سے شروع
ہوئی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر منقطع ہو کر ختم ہو گئی ہے۔"
(دین حق ص٢٧)
- ......٥ "اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام
کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد ورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔"
(ازالۃ اوہام ص٥٨٣، خزائن ج٣ ص٤١٤)
- سوال نمبر ١٢:...... مرزا قادیانی! یہ تو ثابت ہو گیا کہ نبوت رسالت اور وحی رسالت وغیرہ پر مہر لگ
گئی ہے۔ جو کہ قیامت تک نہیں ٹوٹ سکتی اور رسول بغیر وحی رسالت کے ہرگز نہیں آسکتا۔ کیونکہ اس کے ساتھ وحی رسالت کا ہونا لازمی امر ہے۔ مگر جبرائیل علیہ السلام کو خدا نے منع کر دیا ہے اور اگر رسول آئے تو اس کے ساتھ کتاب کا ہونا بھی لازمی ہے۔ چونکہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہو کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی ہے۔ اس لئے آپ خاتم النبیین ٹھہرے۔ مگر میں یہ پوچھتا ہوں کہ جو شخص حضور پرنور ﷺ کے بعد سلسلۂ وحی نبوت جاری کرے۔ اس کے لئے آپ کا کیا خیال ہے؟
٢٤
جواب مرزا
- ......١ ”اے لوگو! دشمنِ قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو۔
اس خدا سے شرم کرو۔ جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)
سوال نمبر: ١٣...... مرزا قادیانی! یہ تو ثابت ہو گیا کہ آپ کے خیال کے مطابق جو شخص خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری کرے وہ دشمن قرآن، خدا سے بے شرم وغیرہ ہوتا ہے۔ اب یہ بھی بتا دیجئے کہ جو شخص آپ کے بعد ختمِ نبوت کا منکر ہو کر دعویٰ نبوت کرے وہ کون ہے؟
جواب مرزا
- ......١ ”اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمنِ قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی
نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٢٥، خزائن ج ٤ ص ٣٣٥)
- ......٢ ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
- ......٣ ”بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں...... اور ختم المرسلین
کے بعد مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(اشتہار دہلی مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
- ......٤ ”کیا بدبخت مفتری جو خود نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان
رکھ سکتا ہے۔ اگر قرآن پر اس کا ایمان ہے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ بعد ختم الانبیاء کے میں بھی نبی ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)
سوال نمبر: ١٤...... مرزا قادیانی! آپ کے خیال کے مطابق حضورﷺ کے بعد جو شخص سلسلۂ نبوت کو جاری کرنے والا یا مدعی نبوت ہے وہ کافر کی اولاد، دشمن قرآن، بے حیاء، بے شرم، لعنتی، کاذب، کافر، بدبخت اور مفتری ہوتا ہے۔ مگر عوام میں یہ افواہ سرگرم ہے کہ آپ نے دعویٰ نبوت ورسالت کا کیا ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے۔ ذرا اس پر بھی روشنی ڈالئے۔
جواب مرزا
- ......١ ”میرا کوئی حق نہیں کہ رسالت یا نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو
جاؤں۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٢ ”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان
٢٥
لوگوں نے غلطی کی ہے اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
- ......٣ ”ان لوگوں نے مجھ پر افتراء کیا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا دعویٰ کرتا
ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٤)
- ......٤ ”میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کو غلطی ہے۔“
(جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)
- ......٥ ”اور اگر یہ اعتراض ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو بغیر اس کے کیا کہیں۔ لعنۃ
اللہ علی الکاذبین المفترین“
(انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥)
- ......٦ ”افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٩٧، خزائن ج ١٣ ص ٢١٥)
- ......٧ ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور
کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
سوال نمبر: ١٥...... مرزا قادیانی! آپ نے یہ فرمایا ہے کہ میں نے کوئی دعویٰ نبوت کا نہیں کیا اور نہ ہی مجھے روا ہے کہ میں دعویٰ نبوت کا کر کے اسلام سے خارج ہو کر کافروں کی جماعت سے جا ملوں۔ میرے قول کے سمجھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔ میں بجز اس کے کیا کہہ سکتا ہوں کہ جھوٹوں اور مفتریوں پر خدا کی لعنت۔ مرزا قادیانی! ذرا یہ تو فرمائیے کہ وہ آپ کا کون سا قول ہے۔ جس کے سمجھنے میں علمائے دین نے غلطی کھائی ہے۔ ذرا وہ دعویٰ بھی بیان فرما دیجئے تاکہ معاملہ صاف ہو جائے۔
جواب مرزا
- ......١ ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدث کا دعویٰ ہے جو خدا کے حکم سے کیا گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
شوخ ...... لیجئے حضرات! یہ ہیں وہ عقائد مرزا جن کے ذریعے سے عوام کو دھوکہ دینے کے واسطے مشتہر کیا اور لوگوں کو تسلی و تشفی کرنے کے لئے مسجد خانہ خدا میں کھڑے ہو کر اقرار کیا۔ اب ان تمام عقائد کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔
٢٦
خلاصہ عقائد مرزا
علمائے اسلام کا یہ مشہور کرنا کہ میں مدعی نبوت ہوں اور منکر عقائد اہل سنت ہوں۔ یہ غلط ہے میں عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد کسی مدعی نبوت کو کافر، کاذب، خارج از اسلام جانتا ہوں۔ میں حضورﷺ کی ختم رسالت کا قائل ہوں اور ختم نبوت کے منکر کو بے دین منکر اسلام اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔ نہ مجھے دعویٰ نبوت نہ خروج از امت، نہ منکر معجزات و ملائکہ اور لیلۃ القدر ہوں۔ بلکہ آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔ میرا اس بات پر محکم ایمان ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نیا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ ہماری کتاب قرآن کریم وسیلہ ہدایت ہے۔ آپﷺ آدم علیہ السلام کے فرزندوں کے سردار رسولوں کے سردار جن کے ساتھ خدائے تعالیٰ نے نبیوں کا خاتمہ کر دیا۔ ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے قائل ہیں۔ قرآن کریم اپنی آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ سے اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنی کی رو سے نہیں آسکتا۔ اگر آجائے تو اس سے تمام تار و پود اسلام کا درہم برہم ہوجاتا ہے۔ خدائے تعالیٰ نے بغیر کسی استثنیٰ کے ہمارے نبی کریمﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا ہے اور قرآن جیسی کامل کتاب دے کر قیامت تک خاتم النبیین ٹھہرایا۔
خاتم النبیین کے بڑے معنی یہ ہیں کہ امور نبوت کو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی کریمﷺ پر ختم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے کمالات نبوت کے دائرہ کو حضورﷺ پر ختم کرکے اپنے ہاتھوں وہ تمام کام پورا کیا جو کہ کسی نبی کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا تھا اور اب اگر کوئی نبی بعد از حضورﷺ تشریف لے آوے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے۔ باب نبوت کے بند ہونے سے محدث بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حضورﷺ کا خاتم النبیین ہونا۔ کسی دوسرے نبی کو آنے سے روکتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام بھی تشریف لے آئیں تو وہ ختم نبوت کا منافی ہوگا۔ قرآن کریم کی رو سے نبی کا آنا ممنوع ہے۔ حضورﷺ نے ”لا نبی بعدی“ والی حدیث کے ساتھ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ خدائے تعالیٰ نے آیت ”وخاتم النبیین“ میں وعدہ دیا ہے کہ اب بعد از وفات حضورﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے اور یہ صحیح امر ہے کہ اب کوئی شخص بحیثیت رسالت نہیں آسکتا۔ قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا تو ذکر نہیں۔ لیکن حضورﷺ کی ختم نبوت کا وضاحت کے ساتھ ذکر ہے اور ”لا نبی
٢٧
بعدی“ والی حدیث میں نفی عام ہے۔ اب کوئی حقیقی نبی نہیں آسکتا اور نہ ہی نئی شریعت آسکتی ہے۔ کیونکہ اب نبوت کے تمام دروازے بند ہیں۔ گو محی الدین ابن عربی کا خیال ہے کہ نبوت تشریعی بند ہے۔ مگر میرا یہ مذہب ہے کہ آپ پر نبوت تشریعی اور غیر تشریعی سب قسم کی ختم ہے۔ خدائے تعالیٰ نے خاتم النبیین میں یہ اشارہ کیا ہے کہ قرآن کریم آنے والے زمانوں کے واسطے بھی راہ ہدایت ہے اور محمد مصطفے ﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی کی ہمیں حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کے برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں اور رسول کا آنا اس لئے بند ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اب وحی رسالت نہیں لاسکتا اور بغیر وحی رسالت رسول نہیں۔
بروئے قرآن کریم رسول اس کو کہتے ہیں جس نے بذریعہ جبرائیل علیہ السلام عقائد دین حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ چکی ہے۔ اب اگر جبرائیل علیہ السلام وحی رسالت لے کر آئے تو وہ کتاب مخالف قرآن ہوگی جو لوگ خاتم النبیین کے بعد سلسلہ وحی نبوت جاری کرتے ہیں وہ بے شرم، دشمن قرآن، کافر کی اولاد ہیں اور جو آپ کے بعد دعویٰ نبوت ورسالت کا کرے وہ بلاشبہ مردود، بے دین، کاذب، کافر، بدبخت، مفتری اور بے ایمان ہوتا ہے۔ صرف میرا دعویٰ محدث کا ہے۔
دوسرا باب
حضرات! اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی میدان نبوت میں کس طرح آہستہ آہستہ قدم لگاتے چلے جاتے ہیں اور آخر کار کرسی نبوت پر کس طرح تشریف فرما ہو کر اپنے متذکرہ بالا عقائد سے بے نیاز ہو کر اعلانیہ دعویٰ نبوت ورسالت کر کے اپنے آپ کو نبی ورسول قرار دیتے ہیں۔ اب ہم مرزا قادیانی پر دوبارہ سوال کر کے جوابات عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں تا کہ عوام اس سے فائدہ اٹھائیں اور مرزائیوں کے جال سے بچ کر اپنے ایمان کا تحفظ کریں۔
تصویر کا دوسرا رخ
سوال نمبر:١.....مرزا قادیانی! آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میرا دعویٰ محدث کا ہے۔ ذرا اپنے دعویٰ کی تشریح فرما کر مشکور فرماویں۔ تا کہ مغالطہ دور ہووے۔
جواب مرزا
- ١....... ”حدیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ محدث بھی انبیاء ورسول کی طرح مرسلوں میں شامل
٢٨
ہیں ۔“
(ایام الصلح ص ٧٥، خزائن ج ١٤ص٣٠٩)
- ٢...... ”یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی
ہوتا ہے۔“
(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
سوال نمبر: ٢...... تو گویا آپ کے خیال میں نبوت ورسالت کا دروازہ بند نہیں بلکہ کھلا ہے اور آپ نبی ورسول ہیں۔
جواب مرزا
- ١...... ”نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدث کا دعویٰ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
- ٢...... ”وہ رسول نہیں بلکہ رسولوں کے مشابہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠)
- ٣...... ”وہ صرف ایک جزوی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدث کے اسم سے موصوف
ہے۔“
(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- ٤...... ”وہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ
اس میں پائی جائے گی جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٣٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)
- ٥...... ”جس حالت میں رویائے صالح نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں تو محدثیت جو قرآن
شریف میں نبوت ورسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے اور جس کے لئے بخاری شریف میں حدیث موجود ہے۔ اس کو اگر نبوت مجازی قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے دعویٰ نبوت لازم آئے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠، ٣٢١)
سوال نمبر: ٣...... مرزا قادیانی! تو گویا آپ کے خیال میں مجازی نبوت کا اجراء ہو سکتا ہے اجزائے نبوت کی تشریح تو فرمائیے؟
جواب مرزا
- ١...... ”کیوں کہ مستقل نبوت آپ پر ختم ہوچکی ہے۔ مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں فیض
محمدی سے وحی پانا قیامت تک جاری رہے گی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
- ٢...... ”حضور ﷺ کے ذات پر تمام کمالات نبوت ختم ہو گئے۔ مگر ایک قسم کی نہ ہوئی۔ یعنی وہ
نبوت جو آپ کے تابعداری سے حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ آپ کی نبوت کا ہی ظل اور مظہر ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ص ٣٤٠)
٢٩
- ......٣ ”نبوت تامہ کا دروازہ ہر وقت بند ہے اور نبوت جزویہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ جس
سے کثرت مکالمہ اور مبشرات اور منذرات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔“
- ......٤ ”خدائے تعالیٰ نے انعام دینے کے بعد ”اهدنا الصراط المستقيم“ کا حکم دیا
ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ نے اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث قرار دیا ہے۔ تاکہ یہ وجود ظلی ہمیشہ قائم رہے اور خلیفۃ الرسول بھی ظلی طور پر درحقیقت اپنے مرسل کا ظل ہوتا ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٥٦، خزائن ج ٦ ص ٣٥٢)
- سوال نمبر ٤:...... مرزا قادیانی! آپ کے خیال میں نبوت مستقل کے سوا ظلی، جزوی، مجازی، فیضی،
ناقص اور تابعداری کا دروازہ تاقیامت کھلا رہے گا۔ مگر ایسی نبوت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
جواب مرزا
- ......١ ”ہر ایک صدی کے سر پر اور خاص کر اس صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دور
پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے۔ ایک قائم مقام نبی کا پیدا کر دیتا ہے۔ جس کے آئینہ فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے نور سے لوگوں کو دکھاتا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٧، خزائن ج ٥ ص ٣٤٧)
- سوال نمبر ٥:...... مرزا قادیانی! یہ تو بتائیے کہ اس زمانے کے لئے بھی کسی بزرگ کی ضرورت ہے؟
جواب مرزا
- ......١ ”اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام زمان کون ہے۔ جس کی پیروی تمام
عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنا خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
- سوال نمبر ٦:...... مرزا قادیانی! امام زماں کی تشریح بھی کر دیجئے؟
جواب مرزا
- ......١ ”یاد رہے کہ امام زماں کے لفظ میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔ مگر جو
لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں۔ امام الزماں نہیں کہلا سکتے۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
٣٠
سوال نمبر:٧...... مرزا قادیانی! اس تشریح کی رو سے تو پھر آپ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں؟۔
جواب مرزا
- ا...... ”مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے۔ نبوت تامہ نہیں رکھتا...... جس کو محدث بھی
کہتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)
سوال نمبر:٨...... مرزا قادیانی! آپ کے بیان سے یہ ثابت ہوا کہ آپ تابع نبی ظلی نبی اور ناقص نبی ہیں اور حضور کی نبوت کا ایک جزو ہیں۔ یعنی آپ کی نبوت جزوی نبوت ہے۔ حقیقی نہیں ذرا حقیقی کی بھی تشریح کر دیجئے۔
جواب مرزا
- ا...... اصطلاح اسلام میں نبی یا رسول وہ ہے جو شریعت جدید لا کر احکام سابقہ کو منسوخ
کرے اور نبی سابق کی امت نہ کہلا کر مستقل طور پر خدا سے احکام حاصل کرتا ہے۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٧؍اگست ١٨٩٩ء)
سوال نمبر:٩...... مرزا قادیانی! تو گویا آپ کی نبوت ورسالت حقیقی نہیں جو کہ نئی شریعت لا کر پہلی شریعت کو منسوخ کرنے والی ہو۔
جواب مرزا
- ا...... ”میں اس طور پر جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں اور نہ رسول۔ مجھے بروزی صورت
نے نبی بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول رکھا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
سوال نمبر:١٠...... مرزا قادیانی! آپ کے بعض مرید تو آپ کو نبی خیال نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی ایک بزرگ ہیں اور آپ نے دعویٰ نبوت ورسالت نہیں کیا۔
جواب مرزا
- ا...... بعض مرید ہماری تعلیم سے ناواقف ہیں اور مخالفین کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم
نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ جو وحی میرے پر نازل ہوئی ہے۔ اس میں سینکڑوں دفعہ مجھے مرسل، رسول اور نبی کہا گیا ہے اور اس وقت تو بالکل تصریح اور توضیح کے ساتھ یہ لفظ موجود ہے۔
٣١
- ٢...... ”میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
سوال نمبر : ١١...... مرزا قادیانی ! وہ تو کہتے ہیں آپ نے انکار نبوت و رسالت کر کے اپنے آپ کو مجدد وغیرہ لکھا ہے؟
جواب مرزا
- ١...... ”جس جگہ میں نے نبوت ورسالت سے انکار کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میں
مستقل اور صاحب شریعت جدید نہیں ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)
- ٢...... ”کیونکہ خدا نے مجھے اپنے رسول کا بروز بنایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی اور رسول کہہ
کر پکارا ہے۔ اس لئے میرا نام محمد، احمد بھی رکھا گیا ہے۔“
- ٣...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٤...... ”میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا۔ جو میرے رسول کو
ملامت کرتا ہے۔“
(الحکم مورخہ ١٤ اپریل ١٩٠٦ء ص ٦ ، تذکرہ ص ٤٢٠)
- ٥...... ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ بہر حال جب
تک طاعون دنیا میں قائم رہے۔ گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
سوال نمبر : ١٢...... مرزا قادیانی ! اس سے یہ ثابت ہوا کہ آپ نبی اور رسول تو ہیں۔ مگر بغیر شریعت کے آپ اپنی نبوت سے کیا مراد لیتے ہیں؟
جواب مرزا
- ١...... ”اگر نبوت کے معنی صرف کثرت مکالمہ کئے جائیں تو کیا ہرج ہے...... یاد رہے
صفات باری کبھی معطل نہیں ہوتے۔ پس وہ بولنے کا سلسلہ ختم نہیں کرتا اور ایک گروہ ایسا بھی رہے گا جس سے کلام کرتا رہے گا۔ کوئی شخص دھوکہ نہ کھائے۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ میری نبوت مستقل نبوت نہیں ہے۔ کوئی مستقل نبی امتی نہیں ہوسکتا۔ مگر میں امتی ہوں اور میرا نام نبی اعزازی ہے جو اتباع نبی سے حاصل ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٩، ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٧، ٣٥٥)
٣٢
سوال نمبر:١٣......مرزا قادیانی! آپ نے یہ کہا ہے کہ میں امتی نبی اعزازی ہوں جو کہ مجھ کو اتباع سے حاصل ہوئی۔ اس کی مصلحت بھی بیان فرمائیے؟
جواب مرزا
- ......١ "ہمارا نبی ﷺ اس درجے کا نبی ہے اور اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٨٤، خزائن ج٢١ ص٣٥٥)
- ......٢ "شریعت والا کوئی نبی نہیں۔ بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہ جو پہلے امتی ہو۔"
(تجلیات الٰہیہ ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٤١٢)
سوال نمبر:١٤......مرزا قادیانی! کسی امتی کو نبی قرار دینے سے کوئی ہرج تو واقع نہیں ہوتا اور شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری ہے یا نہیں؟
جواب مرزا
- ......١ "نبی کے حقیقی معنی پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر
پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت ہو۔ اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔ پس ایک امتی کو نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔"
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٣٨، خزائن ج٢١ ص٣٠٦)
سوال نمبر:١٥......مرزا قادیانی! یہ تو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حضور ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے تو اس کے کیا معنی ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد امتی نبی، فیضی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، اعزازی نبی اور غیر تشریعی نبی ہو سکتا ہے۔ ذرا اس معمہ کو بھی حل کیجئے۔
جواب مرزا
- ......١ "وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت
کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہیں اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے۔ جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔"
(حقیقت الوحی ص٢٨، خزائن ج٢٢ ص٣٠،٢٩)
- ......٢ "اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم بنایا۔ یعنی آپ ﷺ کو اصناف کمال کے لئے
٣٣
مہر دی ۔ جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی ۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا ۔ یعنی آپ کو مہر کمالات نبوت بخشی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ اور کسی نبی کو نہیں ملی ۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
- ٣...... ”آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا ۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ
راست فیض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت اس شخص کو ملے گا ۔ جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہو ۔“
(ریویو مباحثہ ص ٧٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٢١٤)
سوال نمبر : ١٦......مرزا قادیانی ! آپ بار بار فرما رہے ہیں کہ آپ خاتم النبیین ہیں ۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ جو با شریعت ہو ، مگر وہی جو امتی ہو وہ نبی ہو سکتا ہے ۔ تیرہ سو سال میں کوئی اور بھی شخص امتی نبی گذرا ہے ؟
جواب مرزا
”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال گزر چکے ہیں ۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا ۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
سوال نمبر : ١٧......مرزا قادیانی ! تو گویا آپ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم نبی ہیں ۔ مگر یہ تو بتائیے کہ قرآن مجید کی رو سے نبی کا آنا جائز ہے ؟
جواب مرزا
- ١...... ”خدا تعالیٰ نے میری وحی میں بار بار امتی کر کے بھی پکارا اور نبی کر کے بھی پکارا ہے ۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)
- ٢...... ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ۔ وہ نبی
ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے ۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا ۔ مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی ۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔ مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩ ، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣ ، ١٥٤)
سوال نمبر : ١٨......مرزا قادیانی ! اگر آپ نبی ہیں تو عوام کو تسلی تشفی دلانے کے لئے آپ کے پاس کیا ثبوت ہے ؟
٣٤
جواب مرزا
”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٨ ،خزائن ج ٢٢ ص ٧١)
سوال نمبر:١٩...... مرزا قادیانی! آپ کو نبی کے واسطے کس نے منتخب کیا؟
جواب مرزا
”جاء نی آئل و اختار (ترجمہ:) میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا (حاشیہ) اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣،خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦ حاشیہ)
سوال نمبر :٢٠...... مرزا قادیانی! آپ اپنی نبوت کی تشریح تو کر دیجئے کہ آپ کیسے نبی ہیں؟
جواب مرزا
”میرے نادان مخالفوں کو خدا روز بروز انواع واقسام کے نشان دکھلانے سے ذلیل کرتا جاتا ہے اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا وہ اپنے تمام بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہم کلام ہوا۔ ایسا ہی وہ مجھ سے بھی ہم کلام ہوا...... اگر میں اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔ میری آخرت تباہ ہو جائے جو کلام مجھ پر نازل ہوا۔ وہ یقینی اور قطعی ہے...... اور میں اس پر اس طرح سے ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر...... اور خدا مجھے غیب کی خبریں بتاتا ہے۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ١٩، ٢٠،خزائن ج ٢٠ ص ٤١١، ٤١٢)
سوال نمبر :٢١...... مرزا قادیانی! تو پھر آپ کی نبوت کا انحصار نشانوں کثرت مکالمہ مخاطبہ اور غیب کی خبروں پر ہوا۔
جواب مرزا
”اگر غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتاؤ کس کے نام سے پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت میں اظہار غیب کے نہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥،خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
سوال نمبر :٢٢...... مرزا قادیانی! بھلا یہ تو بتائیے کہ آپ کو یہ کیسے علم ہو جاتا ہے کہ یہ الہامات منجانب اللہ ہیں؟
٣٥
جواب مرزا
”بعض الہامات کے وقت اگرچہ فرشتہ نظر نہیں آتا۔ تاہم الفاظ کے معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام فرشتے کے ذریعے سے نازل ہوا ہے۔ مثلاً الہامات میں ایسے الفاظ ”قال ربك“ اور ما نتنزل الا بامر ربك“
(الحکم ج ١١ نمبر ٢٤، ص ١٣)
سوال نمبر: ٢٣...... مرزا قادیانی! تو گویا آپ کی نبوت بذریعہ وحی ہوئی۔
جواب مرزا
”ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے۔ جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کرکے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر نازل ہوا۔“
(تتمہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
سوال نمبر: ٢٤...... مرزا قادیانی! اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس قوم کی طرف بھیجا ہے؟
جواب مرزا
”مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔ اس لئے کہ ہمارے آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آئے تھے تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں۔ جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دیئے گئے ہیں کہ جن کا دیا جانا اتمام حجت کے لئے مناسب تھا۔“
سوال نمبر: ٢٥...... مرزا قادیانی! آپ کی بعثت کا مقصد؟
جواب مرزا
- ١...... ”جیسے مسیح بن مریم نے انجیل میں توریت کا صحیح خلاصہ اور مغز اصلی پیش کیا تھا۔ اسی کام
کے لئے یہ عاجز مامور ہے۔ تا غافلوں کے سمجھانے کے لئے قرآن شریف کی اصلی تعلیم پیش کی جائے۔ مسیح صرف اسی کام کے لئے آیا تھا کہ توریت کے احکام شدومد کے ساتھ ظاہر کرے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی اسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے۔ تا قرآن کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مسیح موسیٰ کو دیا گیا تھا اور یہ مسیح مثیل موسیٰ کو دیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٣)
- ٢...... ”میں بہ کمال ادب وانکسار حضرات علمائے مسلمانان وعلمائے عیسایاں وپنڈتان
ہندواں وآریاں یہ اشتہار بھیجتا ہوں کہ میں اخلاقی واعتقادی وایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی
٣٦
اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔“
(اربعین نمبر ١ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣، ٤٣٤)
سوال نمبر ٢٦:......مرزا قادیانی! آپ اپنی نبوت ورسالت پر کوئی دلیل تو پیش کریں۔ جس سے کہ آپ کی نبوت یا رسالت ثابت ہو۔
جواب مرزا
- ١...... ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب
تک طاعون دنیا میں قائم رہے۔ گو ستر برس رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے ایک نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
- ٢...... ”اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے تو نئی بات نہیں۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا۔ جس سے
ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”یٰحسرۃً علی العباد مایاتیھم من الرسول الا کانوا بہ یستھزؤن“ یعنی بندوں پر افسوس کہ کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا۔ جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٨، ٣١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
- ٣...... ”اجتہادی غلطی میں سب انبیاء میرے شریک ہیں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٥٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٤٥)
- ٤...... ”یہ ہیں اعتراض یہودیوں اور ملحدوں کے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر
کرتے تھے اور عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ پس ضرور تھا کہ مجھ پر بھی کئے جاتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)
سوال نمبر ٢٧:......مرزا قادیانی! آپ اپنے اقوال کے مطابق تو خدا کے سابقہ پیغمبروں میں اپنے آپ کو شمار کر رہے ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ آپ کی نبوت کی تصدیق کون کرے گا؟
جواب مرزا
”یا نبی اللّٰہ کنت اعرفک“ اور زمین کہے گی کہ اے خدا کے نبی میں تجھے نہیں شناخت کرتی تھی۔
سوال نمبر ٢٨:......مرزا قادیانی! یہ جو دنیا میں طاعون، زلزلے اور طرح طرح کی مصیبتیں نازل ہورہی ہیں۔ کچھ ان کے متعلق بھی روشنی ڈالئے۔
٣٧
جواب مرزا
- ١...... ”ماسوائے اس کے ہر ایک قوم کو معلوم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان نے
ان لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا۔ جن لوگوں کو نوح علیہ السلام کے نام کی خبر بھی نہیں تھی۔ پس اصل بات یہ ہے۔ ”ما كنا معذبين حتى نبعث رسولا“ خدائے تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل نہیں فرماتا۔ جب تک کہ پہلے کوئی رسول نہیں بھیجتا۔ یہی سنت اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔ پس ان پر جو عذاب نازل ہوا۔ صرف میرے دعویٰ کے بعد ہوا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨٦)
- ٢...... ”مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے۔ کیونکہ قدیم
سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦١، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٥)
سوال نمبر: ٢٩...... مرزا قادیانی! آپ نے یہ تو بتا دیا کہ آپ نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ تو بتائیے کہ یہ نبوت و رسالت آپ کو کس طرح سے ملی۔ جب کہ بقول آپ کے حقیقی اور غیر حقیقی نبیوں کے تمام دروازے بند ہیں تو آپ مقام نبوت پر کس طرح اور کس راستے سے پہنچ گئے۔ کیونکہ یہ عقیدہ خاتم النبیین کے خلاف ہے۔
جواب مرزا
- ١...... ”اب یہ اعتراض کرنا کہ یہ عقیدہ خاتم النبیین کے خلاف ہے۔ بالکل غلط ہوگا۔ کیونکہ
”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ میں ایک پیشین گوئی ہے کہ ہندو، یہودی، عیسائی، یا رسمی مسلمان کے لئے پیشین گوئیوں کے دروازے بند کئے گئے ہیں اور نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئی ہیں۔ مگر سیرت صدیقی کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو اس کھڑکی سے اندر آتا ہے۔ اس پر نبوت محمدی کی چادر پہنائی جاتی ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ٢...... ”یہ شرف مجھے محض آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا ہے۔ اگر میں
آنحضرت ﷺ کی امت میں نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔ کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا کوئی نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١١، ٤١٢)
٣٨
سوال نمبر:٣٠...... مرزا قادیانی! آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ بالتشریح نبی ورسول نہیں اور وہ نبوت ورسالت حضورﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور آپ ظلی، بروزی، فیضی، ناقص، استعارہ، اعزازی اور امتی نبی بغیر شریعت کے ہیں۔ مگر یہ تو بتا دیجئے کہ اگر کوئی آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرے تو پھر اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
جواب مرزا
- ١...... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور
اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم، تذکرہ ص٦٠٧)
- ٢...... ”شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے۔ اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے
ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر کو منکر ہی کہتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥)
سوال نمبر:٣١...... مرزا قادیانی! یہ تو فرمائیے کہ کفر کس قسم کے نبی کے دعوے کے انکار سے لازم آتا ہے؟
جواب مرزا
”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)
سوال نمبر:٣٢...... مرزا قادیانی! یہ تو آپ نے بتا دیا کہ جو شخص نبی صاحب شریعت جدیدہ کے دعویٰ کا انکار کرنے والا ہے وہ کافر ہے۔ مگر آپ تو صاحب شریعت جدید نبی و رسول نہیں تو پھر آپ کے دعوے کے انکار سے کیسے کفر لازم آگیا؟ کیونکہ آپ تو ظلی، بروزی وغیرہ ہیں۔
جواب مرزا
”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنے وحی کے ذریعے سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔
٣٩
پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٧٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
سوال نمبر ٣٣:...... مرزا قادیانی! جو خدا کا کلام آپ پر نازل ہوا وہ کتنا ہوگا؟
جواب مرزا
”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جز سے کم نہ ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)
لیجئے حضرات! خلاصہ کلام مرزا یہ نکلا کہ شریعت امر ونہی کا نام ہے اور میری وحی میں بھی امر ونہی پائے جاتے ہیں۔ اس لئے میں بھی صاحب شریعت ہوں۔ دیگر انبیاء صاحب شریعت کے انکار کی طرح میرا انکار بھی کفر میں داخل ہے۔
لہٰذا اب ہم مرزا قادیانی کا کھلے طور پر دعویٰ نبوت و رسالت کا کرنا ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ذرا اس کا بھی ملاحظہ ہو۔
دعویٰ نبوت و رسالت مرزا
- ١...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٢...... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔
میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“
(خط مرزا بنام اخبار عام لاہور مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
نوٹ: حضرات! یہ خط مرزا قادیانی نے اپنے مرنے سے صرف تین روز پہلے اخبار عام لاہور کو شائع کرنے کے لئے بھیجا جو کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کے پرچہ میں شائع ہوا۔
خلاصہ تحریرات مرزا قادیانی یہ نکلا کہ میں محدث ہوں اور محدث بھی نبی اور رسول ہوتا ہے۔ میں امام زماں ہوں۔ امام الزماں میں نبی، رسول، محدث، مجدد سب داخل ہیں۔ حضورﷺ کے بعد آپؐ کے فیض سے حاصل ہونے والی نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپؐ خاتم النبیین اس طرح ہیں کہ آپؐ کے بعد نبوت تامہ کا دروازہ بند ہے۔ باقی نبوتیں جاری ہیں۔ میں امتی نبی، فیضی نبی، ناقص نبی، اطاعتی نبی، اعزازی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، غیر تشریعی نبی و رسول
٤٠
ہوں ۔ آپ کی مہر سے نبی بنتے رہیں گے۔ وحی رسالت جاری ہے۔ جبرائیل میرے پر وحی نبوت ورسالت لاتا رہا۔ مجھے اپنی وحی پر قرآن ، توریت ، زبور اور انجیل کی طرح یقین کامل ہے۔ میں نبی ورسول ہوں ۔ میرے نہ ماننے والا کافر ہے۔ اگر میں اپنی نبوت کا انکار کروں تو میں گنہگار ہوں گا۔ کیونکہ خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ میرے دعویٰ نبوت کے انکار کی وجہ سے دنیا پر طرح طرح کے عذاب اللہ تعالیٰ نے بھیجے۔ میں صاحب شریعت نبی ہوں ۔
حضرات! تصویر کے دوسرے رخ کا بھی آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزا قادیانی نے حضور پر نور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہوئے جو عقائد باب نمبر ١ میں پیش کئے۔ اب باب نمبر ٢ میں ان سب سے بے نیاز ہو کر کس طرح ان کے متضاد بیان دے کر اجرائے نبوت کر کے خود دعویٰ نبوت ورسالت باشریعت کا کیا ہے اور اپنے نہ ماننے والے کو کافر کا لقب عطاء کر کے خارج از اسلام قرار دیا ہے۔
اب ناظرین کرام! خود اندازہ لگالیں کہ مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی نے نہ تو دعویٰ نبوت ورسالت کا کیا اور نہ ہم ان کو نبی ورسول مانتے ہیں۔ بلکہ ہم ان کو صرف ایک بزرگ تصور کرتے ہیں۔ یہ کہاں تک درست ہے اور ہمارا رسالہ ”ختم نبوت“ پڑھ کر ان کے خاتم النبیین نمبر ٢٧/ فروری ١٩٥٢ء مندرجہ اخبار الفضل کا اندازہ لگائیں کہ انہوں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
اب ہم اس کے بعد مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت ورسالت کی تصدیق میں چند ایک حوالہ جات میاں مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی قادیانی کے ان کی اپنی تصنیفات سے پیش کرتے ہیں۔ جن میں کہ انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کا صاف طور پر اقرار کیا ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو:
کلام محمود
- ١...... ”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدائے تعالیٰ کی
قدرت کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص٦٢)
- ٢...... ”اگر میری گردن کی دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ
٤١
آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
- ٣...... ”جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی
جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) بھی نبی اللہ تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
ناظرین! ہم اپنے مضمون کو زیادہ طول دینا نہیں چاہتے۔ وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چند ایک حوالہ جات مرزا قادیانی کی کتابوں سے متعلقہ ختم نبوت جو کہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی ایک طرف تو حضورﷺ کی ختم نبوت کے قائل ہیں اور دوسری طرف اجرائے نبوت کے حامی۔
ایک طرف حضورﷺ کی نبوت قیامت تک رہنے کے قائل اور تمام قسم کی نبوتوں کے دروازے بند سمجھتے ہیں اور دوسری طرف نبوت کا دروازہ قیامت کھلا رہنے کے حامی ہیں۔ ایک طرف حضورﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف خود دعویٰ نبوت ورسالت کا کر کے نبی بن بیٹھے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
غرض کہ مرزا قادیانی کی یہ تمام تحریریں جو ہم نے اپنے رسالہ ”ختم نبوت“ میں پیش کی ہیں۔ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ اب ہم متضاد تحریروں کے متعلق مرزا قادیانی کا اپنا دیا ہوا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جس کے کلام میں تناقض ہو۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں:
- ١...... ”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس کی حالت ہے جو کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں
رکھتا ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
- ٢...... ”کسی سچے اور عقلمند یا قائم الحواس کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔“
(ست بچن ص ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)
٤٢
- ٣...... ”جس کی کلام میں تناقض ہو وہ پاگل ، جاہل، منافق خوشامدی ہوتا ہے۔“
(ست بچن ص ٢٩، خزائن ج١٠ص١٤٢)
- ٤...... ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص١١١، ١١٢، خزائن ج٢١ص٢٧٥)
- ٥...... ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو تناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ ایسے طریق سے انسان
پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص ٣١، خزائن ج١٠ص١٤٣)
- ٦...... ”تناسخ کا قائل ہونا اس شخص کا کام ہے جو اپنی کلام میں تناقض رکھتا ہو۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١١١، ١١٢، خزائن ج٢١ص٢٧٥)
- ٧...... ”کیونکہ بزرگوں کے کلام میں تناقض نہیں۔ ہم نے بہت دیکھا ہے۔“
(ست بچن ص ٢٩، خزائن ج١٠ص١٤١)
- ٨...... ”پھر تناقض کا قائل ہونا اس شخص کا کام ہے جو پرلے درجے کا جاہل ہو۔“
(ست بچن ص ٢٨، خزائن ج١٠ص١٤١)
- ٩...... ”مگر ظاہر ہے کہ کسی بیچارہ اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں
ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنون یا ایسا منافق ہو جو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“
(ست بچن ص ٢٨، خزائن ج١٠ص١٤١)
خلاصہ: تحریرات مرزا قادیانی یہ نکلا کہ جس کی کلام میں تناقض ہو وہ شخص جاہل، منافق، پاگل، مخبوط الحواس، مجنون، خوشامدی، جھوٹا، نہ عقلمند، نہ بیچارہ، نہ بزرگ، نہ صاف دل بلکہ تناسخ کا قائل ہوتا ہے۔
حضرات! ہم میاں بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی مرزا غلام احمد قادیانی سے یہ فتویٰ پوچھتے ہیں کہ جب ہم نے مرزا قادیانی کے متضاد اعتقادات متعلقہ رسالہ ختم نبوت میں جمع کر کے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی ایک طرف ختم نبوت کے قائل، دوسری طرف اجرائے نبوت کے حامی، ایک طرف ختم نبوت کے منکر کو کافر، بے دین وغیرہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ختم نبوت کے منکر ہو کر دعویٰ دار نبوت بن جاتے ہیں۔ ایک طرف حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا کرنے والے کو کافر، کاذب، لعنتی وغیرہ تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف خود نبوت و رسالت کا
٤٣
دعویٰ کر کے اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ ایک طرف قرآن مجید کو خاتم کتب سماوی سمجھتے ہیں اور دوسری طرف اپنے امر و نہی کا اعلان کر کے اپنی شریعت کو ظاہر کر رہے ہیں۔
الغرض! ایسے متضاد عقائد رکھنے والے کے متعلق مرزا قادیانی کے فتاویٰ جات جو کہ ہم نے مرزا قادیانی کی تحریرات سے پیش کئے ہیں۔ ان کا کون حقدار ہوا؟ کیونکہ مرزا قادیانی کے کلام میں زبردست تناقض موجود ہے۔ جس کی وجہ سے یہ تمام مرزا قادیانی کی ذات پر عائد ہوتے ہیں۔ شوخ بٹالوی!
سوال شوخ
کبھی کہتا رسول اللہ پر ختم نبوت ہے
مسلمان کے لئے قرآن ہی کافی شریعت ہے
نبی کے بعد جو کوئی کرے دعویٰ نبوت ہے
وہ کافر کاذب و بے دین خدا کی اس پر لعنت ہے
بتاؤ مرزائے قدنی کو ہم سمجھیں تو کیا سمجھیں
کیا پھر آپ ہی مرزے نے یہ دعویٰ نبوت کا
ادھر دم بھر رہے ہیں دوستو اپنی رسالت کا
ادھر جاری ہیں کرتے سلسلہ وحی نبوت کا
ہمیں ہرگز نہیں چلتا پتہ اس کی حکمت کا
بتاؤ مرزائے قدنی کو ہم سمجھیں تو کیا سمجھیں
ادھر دعویٰ محدث کا ادھر دعویٰ نبوت کا
ادھر ظلی بروزی کا ادھر صاحب شریعت کا
ادھر دعویٰ غلامی کا ادھر ہے افضلیت کا
پس عقدہ حل ہوا کیا شوخ ہے اس کی حقیقت کا
بتاؤ مرزائے قدنی کو ہم سمجھیں تو کیا سمجھیں
جواب کا منتظر : شوخ بٹالوی!
٤٤
سکتے ہیں اور ت جو کہ ہم انی کے کلام عائد ہوتے
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مصفّےٰ کلام
بجواب احمدیت کا پیغام
جناب غلام محمد شوخ بٹالوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سائل اختر کا آنا!
اختر ...... جناب شوخ صاحب السلام علیکم!
شوخ ...... وعلیکم السلام! اختر میاں کہو خیر تو ہے جو اتنی دیر کے بعد آئے۔
اختر ...... جی ہاں! اہل وعیال کی ناسازگی طبیعت کی وجہ سے کچھ پریشانی سی تھی۔
شوخ ...... کہو پھر اب کیا حالت ہے؟
اختر ...... خدا کا شکر ہے کہ اب تو چھوٹے بڑے آپ کی دعا سے رو بصحت ہیں۔
شوخ ...... مگر باوجود اس کے تمہارے چہرہ پر افسردگی کے آثار ظاہر ہیں۔ اس کی وجہ؟
اختر ...... کچھ روز کا ذکر ہے کہ جماعت مرزائیہ ربوہ کی طرف سے ایک پمفلٹ بعنوان ”احمدیت کا پیغام“ بندہ کو بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔ جس کو پڑھ کر طبیعت خراب ہوگئی۔
شوخ ...... کہو کہ اس میں کون سی ایسی بات تھی کہ جس کا یہ اثر ہے؟
اختر ...... شوخ صاحب! ہمیں جب کبھی علمائے محمدیہ کی وعظ سننے یا آپ جیسے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا تو یہی آواز ہمارے کانوں میں پڑی کہ جماعت مرزائیہ ہمارے خدا، رسول، کلمہ، نماز، روزہ، حج، جہاد، فرشتوں، قرآن، حدیث اور معجزات کی قائل نہیں اور نہ ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین مانتی ہے۔ بلکہ وہ سب سے بے نیاز ہو کر اپنے خدا رسول وغیرہ کا علیحدہ چارٹ تیار کر کے مرزا قادیانی کو نبی، رسول تسلیم کرتی ہے اور وہ اجرائے نبوت کی قائل ہے اور وہ حضور ﷺ کے بعد ایک نہیں بلکہ ہزاروں نبیوں کے آنے کی منتظر ہے۔ مگر جب ان کے ارسال کردہ احمدیت کا پیغام کا مطالعہ کیا تو حیرانی کی حد نہ رہی۔ کیونکہ اس میں میاں بشیر الدین محمود نے اپنی ساری جماعت کی طرف سے اعلان کیا ہوا ہے کہ ہماری جماعت خدا، رسول، کلمہ، نماز، روزہ، معجزات، فرشتوں وغیرہ کی قائل ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہے۔ جس کو پڑھ کر میں نے اپنے ناقص العلم کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ یا تو جماعت مرزائیہ غلط بیانی کر رہی ہے اور یا ہمارے علمائے دین ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں اور یا یہ مسئلہ بندہ کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بدیں وجوہات بندہ کے چہرہ پر افسردگی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے بندہ حاضر خدمت ہوا ہے۔ امید ہے کہ اس کے متعلق آپ میری تسلی کر کے مشکور فرمائیں گے۔
٢
شوخ ...... ا عقیدہ کے مط اختر ...... شوخ ...... اختر ...... شوخ ...... اختر ...... کیجئے۔ آپ شوخ ...... نماز، فرشتوں اگر دیکھا جا طریق جدید ہے۔ کیونکہ تم ...... ٢ رسول، کلمہ، ن مانتے ہیں۔ ا ...... ٣ وجہ ہے تم کو ا اختر ...... فرشتوں وغی کیسے پیدا ہو فرما دیجئے ۔ شوخ ...... نہایت اختص کے کہ ہم ا بہتر ہے۔
شوخ....... اختر میاں ! اس میں حیرانی کی کون سی بات ہے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنے عقیدہ کے مطابق صحیح لکھا ہے۔
اختر....... تو پھر اس کا یہ مطلب نکلا کہ ہمارے علمائے دین غلط بیانی کر رہے ہیں۔
شوخ....... نہیں نہیں ! وہ بھی جو کچھ ارشاد فرما رہے ہیں بالکل درست ہے۔
اختر....... تو پھر میں ہی ایسا کند ذہن ہوں جو اس معمہ کو حل نہیں کر سکا۔
شوخ....... نہیں نہیں اختر میاں ! تم بھی اپنے مؤقف میں درست ہو۔
اختر....... شوخ صاحب! یہ معاملہ تو شمع کے معمہ سے بھی زیادہ دقیق ہو گیا۔ برائے خدا اسے حل کیجئے ۔ آپ کا یہ جواب سن کر میرا تو دماغ چکرا گیا ہے۔
شوخ....... لو اختر میاں سنو! میاں صاحب نے اپنے احمدیت کے پیغام میں گو خدا، رسول، کلمہ، نماز، فرشتوں وغیرہ کا اقرار کر کے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانا ہے۔ مگر حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو وہ اقرار مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق نہیں۔ بلکہ اپنے خیالات کی رو سے طریق جدید کے مطابق خدا، رسول، کلمہ وغیرہ کا اقرار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے تم کو دھوکہ لگ گیا ہے۔ کیونکہ تم ان کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس لئے میاں صاحب نے تمہیں دھوکہ دیا۔
٢....... اور ہمارے علمائے دین اس لئے سچے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ جماعت مرزائیہ گو خدا، رسول، کلمہ وغیرہ کی قائل تو ہے مگر اس خدا، رسول اور کلمہ وغیرہ کی اقراری نہیں۔ جس کو کہ ہم مسلمان مانتے ہیں۔ اس لئے ہمارے علمائے دین بالکل صحیح فرما رہے ہیں۔
٣....... اور تم لوگ اس لئے سچے ہو کہ تم ظاہریت کو لیتے ہو۔ باطن کا تم کو کوئی علم نہیں۔ پس یہ وجہ ہے تم کو دھوکہ لگنے کی ۔ سمجھ لیا اختر میاں!
اختر....... شوخ صاحب ! یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ جب وہ اسی خدا، رسول، کلمہ اور فرشتوں وغیرہ کے اقراری ہیں جس کو کہ تمام مسلمان مانتے ہیں تو اس میں مسلم غیر مسلم کا سوال کیسے پیدا ہو گیا اور طریق جدید کا اس میں کیا تعلق ہے۔ مہربانی کر کے طریق جدید کی وضاحت فرما دیجئے ۔ عین نوازش ہو گی۔
شوخ....... لو اختر میاں سنو! اور خوب دھیان دے کر سنو۔ تا کہ تمہارا مغالطہ دور ہو۔ ہم اس کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کر کے تمہاری تسلی کرا دیتے ہیں۔ مگر میرا یہ خیال ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم اس کو اپنی طرف سے حل کریں۔ مخالفین ہی کے اپنے بیانات سے تمہاری تسلی کی جائے تو بہتر ہے۔ ورنہ تمہیں پھر مغالطہ لگنے کا امکان ہو جائے گا۔ ہم اس مسئلہ کے حل کے واسطے تمہیں
٣
مرزا غلام احمد قادیانی کی مجلس میں لے جاتے ہیں اور مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء یا دیگر رکنوں کی زبانی تمہاری تسلی کرا دیتے ہیں۔ کیوں! کہو یہ طریق درست ہے؟
اختر ...... جی ہاں! بالکل ٹھیک ہے۔
شوخ صاحب کا اختر میاں کو ہمراہ لے کر قادیانی دربار میں آنا۔
قادیانی دربار
شوخ ...... جناب مرزا صاحب آپ کے اللہ کا نام کیا ہے؟
مرزا ...... ”انی انا الصاعقہ“ میں صاعقہ ہوں۔
(ملفوظات احمدیہ ج٤ ص ٣٣٩)
شوخ ...... اس کا مطلب کیا ہے؟ مہربانی کر کے اس سے آگاہ کیجئے؟
مرزا ...... یہ اللہ کا نیا اسم ہے۔ آج تک کہیں نہیں سنا۔
(تذکرہ ص ٤٢٥)
شوخ ...... جناب مرزا جی آپ کے خدا کا نام کیا ہے؟
مرزا ...... خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ”یلاش“ خدا ہی کا نام ہے۔
(تذکرہ ص ٣٦٣، تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣)
شوخ ...... مرزا جی اس کا مطلب کیا ہے؟
مرزا ...... ”یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ ہی کسی لغت کی کتاب میں دیکھا ہے۔“
(تذکرہ ص ٣٦٣، تحفہ گولڑویہ ص ٦٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٣)
شوخ ...... اچھا مرزا جی! آپ کا رب کون سا ہے۔ اس کا نام بھی بتائیے۔
مرزا ...... مجھے الہام ہوا، ”ربنا عاج“ ہمارا رب عاجی ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)
شوخ ...... جناب اس کے کیا معنی ہیں۔ سمجھا کر مشکور فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔
مرزا ...... اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔
اختر ...... شوخ صاحب! کیا واقعی عاج کے معنی کسی کو معلوم نہیں؟
شوخ ...... اختر میاں سنو! لغت نے عاج کے معنی یوں بیان کئے ہیں۔ (١) استخوانِ فیل۔ (٢) ہاتھی دانت۔ (٣) گوبر۔
اختر ...... واہ سبحان اللہ! مرزا قادیانی کے رب کی تعریف تو خوب ہے۔
٤
ہاتھی کی ہڈیاں۔ ہاتھی کا دانت۔ گوبر کا ڈھیر۔ مثل مشہور ہے: ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔“ گوبر کا انبار چولہے، تنور اور تکئے کے دھوئیں کا سنگار۔
شوخ ...... مرزاجی یہ تو معلوم ہو گیا کہ آپ کے رب کا نام عاج ہے۔ خدا کا نام بلاش اور اللہ کا نام صاعقہ ہے۔ اب مہربانی فرما کر ان کی صفات سے بھی آگاہ کریں۔
مرزا ...... مجھے الہام ہوا۔ ”اخطی واصیب“ اس وحی کے ظاہری الفاظ یہ معنی رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی کروں گا۔ کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔ کبھی میرا ارادہ خطا جائے گا اور کبھی پورا ہو جائے گا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
اختر ...... شوخ صاحب! مرزا قادیانی کا اللہ بھی نیا رنگروٹ ہی معلوم ہوتا ہے۔
٢ ...... ”اصلی واصوم“ میں نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں، سوتا ہوں اور جاگتا ہوں۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
٣ ...... ”خدا فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔“
(تجلیات الہیہ ص ٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٦)
٤ ...... ”بابو الہی بخش چاہتا ہے تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر تجھ میں حیض نہیں رہا۔ بلکہ بچہ بن گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١، اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ)
٥ ...... خدا نے مجھے کہا: ”انت منی بمنزلة ولدی، انت منی بمنزلة اولادی“ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، حقیقت الوحی ص ١٨٦، تذکرہ ص ٥٨٥)
٦ ...... ”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ص ٤٩)
٧ ...... خلاصہ: مجھے اللہ تعالیٰ نے صفت مریمیت میں رکھا اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی۔ آخر دس مہینے کئی دن کے بعد مجھے درد زہ ہوئی جو تنا کھجور کی طرف لے گئی۔ آخر میں نے کہا کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی۔ اس سے مجھے عیسیٰ پیدا ہوا اور میں ابن مریم کہلایا۔
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
شوخ ...... مرزاجی! آپ پر آپ کے اللہ نے کوئی مہربانی بھی کی جو قابل ذکر ہو؟
مرزا ...... الہام: ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ اے اللہ تیریاں مہربانیاں نے مینوں گستاخ کر
٥
دیتا۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)
- ......٢ "لولاك لما خلقت الافلاك" اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین و آسمان کو پیدا نہ
کرتا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
شوخ ...... مرزا جی! آپ کا اللہ، رب اور خدا تو آپ پر بہت مہربان ہے۔ جو کہ آپ کے پاس چوروں کی طرح پوشیدہ آتا ہے۔ تمہارے حیض کا بچہ بنا کر اپنا بچہ قرار دیتا ہے۔ تمہیں اپنا فرزند اور اولاد اور بیٹا ہونا ظاہر کرتا ہے۔ تمہیں عورت بنا کر حاملہ ٹھہرا کر تم سے ہی تمہیں پیدا کرواتا ہے۔ کیا یہاں تک ہی محدود ہے یا اس کے آگے بھی آپ کو کوئی رتبہ عطاء ہوا ہے۔
مرزا ...... "رأيتني في المنام عين الله" میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عین اللہ ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
- ......٢ میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور میں نے یقین کیا کہ میں وہی
ہوں۔
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
شوخ ...... مرزا جی ! خدا بن کر کوئی کام بھی کیا؟ یا صرف خدا کی کرسی پر ہی رونق افروز ہوئے؟
مرزا ...... "میں نے زمین و آسمان کو بنایا اور آدم کو پیدا کیا ۔"
(کتاب البریہ ص ٧٨، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)
شوخ ...... کیوں بھئی اختر میاں ! سن لیا مرزا قادیانی کے اللہ اور رب اور خدا کے متعلق اس کے اپنے منہ کا اقرار۔ اب مرزا قادیانی کے بیانات کا خلاصہ ملاحظہ ہو۔
- ......١ مرزا قادیانی کا رب "عاج" عامی یعنی استخوان فیل، ہاتھی دانت، گوبر کا ڈھیر ۔
- ......٢ مرزا قادیانی کا خدا "یلاش" معنی نامعلوم ۔
- ......٣ مرزا قادیانی کا اللہ "صاعقہ" خطا کرنے والا، صواب کرنے والا، اپنے ارادہ میں
ناکام رہنے والا، سونے والا جاگنے والا، نمازی، روزہ دار، چوروں کی طرح پوشیدہ آنے والا ۔ مرزا قادیانی کو عورت بنا کر بچہ پیدا کرنے والا۔ مرزا قادیانی کو اپنا فرزند، اپنا بچہ، اپنی اولاد، اپنا بیٹا تصور کرنے والا ۔ مرزا قادیانی کے خون حیض سے بچہ بنا کر اس کو اپنا بچہ تصور کرنے والا ۔ ارادہ میں ناکام رہنے والا وغیرہ وغیرہ۔
اب مسلمانوں کے اللہ کے نام کی تعریف کا بھی ملاحظہ ہو۔ خدا نے اللہ اور رب کے نام کی قرآن شریف میں یوں تعریف بیان فرمائی ہے۔
- ......١ "الحمد لله رب العالمين . الرحمن الرحيم . مالك يوم الدين
٦
(فاتحہ: ١ تا ٢) "
- ......٢ بخشش
- ......٣ اور رو
- ......٤ "الله
السموت وما قائم رہنے والا ۔ نہ زمین کے۔
- ......٥ "الله
الستوى على الـ جو کچھ درمیان ان
- ......٦ "قل
احد (اخلاص نہ وہ کسی سے جنا یا گـ
- ......٧ "و اِذْ
فيها من يفسد اعلم ما لا تعلم میں پیدا کرنے والا فساد کرے بیچ اس بیان کرتے ہیں وا
- ......٨ "انمـ
سوائے اس کے ہو۔ پس ہو جاتی ۔
- ......٩ "يآ
رسوله والكِتٰب کے رسول پر اور اس (قرآن سے) پچـ
(فاتحہ:١ تا ٣) ”﴿سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جو پروردگار عالموں کا۔﴾
- ٢...... بخشش کرنے والا مہربان۔
- ٣...... اور روز جزا کا حاکم۔
- ٤...... ”الله لا اله الا هو الحى القيوم لا تاخذه سنة ولا نوم له ما فى
السموت وما فى الارض (بقر:٢٥٥)“ ﴿اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہ زندہ ہے ہمیشہ قائم رہنے والا۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اسی کے واسطے ہے جو کچھ بیچ آسمانوں کے ہے اور بیچ زمین کے۔﴾
- ٥...... ”الله الذى خلق السموت والارض وما بينهما فى ستة ايام ثم
استوى على العرش (سجده:٤)“ ﴿اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے بیچ چھ دن کے پھر قرار پکڑا اوپر عرش کے۔﴾
- ٦...... ”قل هو الله احد ٠ الله الصمد ٠ لم يلد ولم يولد ٠ ولم يكن له كفوا
احد (اخلاص)“ ﴿کہہ اے محمد وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہیں جنا اس نے کسی کو اور نہ وہ کسی سے جنایا گیا اور نہیں ہے واسطے اس کے برابری کرنے والا کوئی۔﴾
- ٧...... ”واذ قال ربك للملئكة انى جاعل فى الارض خليفة قالوا تجعل
فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك قال انى اعلم ما لا تعلمون (بقره:٣٠)“ ﴿اور جب کہا پروردگار تیرے نے واسطے فرشتوں کے تحقیق میں پیدا کرنے والا ہوں بیچ زمین کے نائب۔ کہا انہوں نے کیا بناتا ہے بیچ اس کے اس شخص کو کہ فساد کرے بیچ اس کے۔ ڈالے گا لہو اور ہم پاکی بیان کرتے ہیں۔ ساتھ تعریف تیری کے اور پاکی بیان کرتے ہیں واسطے تیرے۔ کہا تحقیق میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔﴾
- ٨...... ”انما امره اذا اراد شيئاً ان يقول له كن فيكون (يسين:٨٢)“
﴿سوائے اس کے کم نہیں کہ حکم اس کا جب چاہے پیدا کرنا کسی چیز کا یہ کہ کہتا ہے واسطے اس کے ہو۔ پس ہو جاتی ہے۔﴾
- ٩...... ”يايها الذين آمنوا آمنوا بالله ورسوله والكتب الذى نزل على
رسوله والكتب الذى انزل من قبل (النساء)“ ﴿اے مسلمانو! اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (محمدﷺ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو (قرآن سے) پہلے (دوسرے پیغمبروں پر) اتاریں۔﴾
٧
١٠....... ”قل اللهم ملك الملك تؤتى الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير انك على كل شئ قدير (آل عمران:٢٦)“ ﴿کہہ یا اللہ ملک الملک کے دیتا ہے تو ملک جس کو چاہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہے اور ذلت دیتا ہے جس کو چاہے بیچ ہاتھ تیرے کے ہے خیر۔ تحقیق تو اوپر ہر چیز کے قادر ہے۔﴾
١١....... ”تولج الليل فى النهار وتولج النهار فى الليل وتخرج الحى من الميت وتخرج الميت من الحى وترزق من يشاء بغير حساب (آل عمران:٢٧)“ ﴿تو (اللہ) ہی رات کو گھٹا کر دن میں شامل کردے اور تو ہی دن کو گھٹا کر رات میں شامل کردے اور نکالتا ہے زندے کو مردہ سے اور نکلتا ہے مردے کو زندہ سے اور رزق دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار۔﴾
١٢....... ”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور ختم کرنے والے سب نبیوں کے۔﴾
خلاصہ: سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جو سب کا پیدا کرنے والا بخشش کرنے والا۔ جزا کے دن کا مالک۔ وہی عبادت کے لائق ہے۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا نہ اسے اونگھ ہے نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان کو بنایا۔ اللہ ایک ہے جو اولاد سے پاک ہے۔ نہ اس کو کسی نے جنا، نہ جنایا گیا۔ اس نے آدم کو پیدا کیا۔ ہماری اصلاح کے لئے رسول اور کتابیں بھیجیں۔ وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے۔ جسے چاہے ملک دیتا ہے، عزت دیتا ہے، ذلت دیتا ہے۔ سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے۔ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردے کو نکالنے والا اور سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ کو خاتم النبیین کا لقب عطاء کر کے (یعنی آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا) بھیجنے والا۔
شوخ....... کیوں اختر میاں! دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی خدا، اللہ اور رب کے قائل تو ضرور ہیں۔ مگر یہ اس اللہ خدا اور رب کے ہرگز قائل نہیں۔ جس کو قرآن حکیم نے بیان کیا ہے۔ پس ان کی مثال بعینہ اس اہل ہنود کی ہے جو ایشور کی ہستی کا تو قائل ہے۔ مگر وہ ایشور پتھر کو تصور کئے بیٹھا ہے۔ اسی طرح یہ (مرزائی) اللہ، خدا اور رب کے تو قائل ہیں۔ مگر صاعقہ، یلاش یا گوبر کے انبار کے۔ قرآنی صفات والے اللہ، خدا اور رب کے قائل نہیں۔
٨
قادیانی دربار
لو اختر میاں اب دوسرا سوال بھی سنو اور غور کرو۔
شوخ ....... مرزا جی ! آپ کا دعویٰ کیا ہے؟
مرزا ....... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)
شوخ ....... رسول کے ساتھ تو شریعت اور جبرائیل کا آنا لازمی امر ہے۔ جس کے کہ آپ خود بھی اقراری ہیں۔ ملاحظہ ہو:
اقرار مرزا: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص٧٦١، خزائن ج٣ ص ٥١١)
شوخ ....... تو جب آپ نبی اور رسول ہیں تو آپ کا جبرائیل اور وحی رسالت کہاں ہے؟
مرزا ....... ”جاءنی آئل واختار“ میرے پاس آئل آیا اس نے مجھے چن لیا۔ (حاشیہ) اس جگہ آئل خدا نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص ١٠٦)
٢ ....... ”ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کر دیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر٤ ص٦،٧، خزائن ج١٧ ص ٤٣٥)
شوخ ....... مرزا قادیانی ! اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ آپ کی نبوت کوئی معمولی نبوت اور رسالت نہیں ۔ جو برائے نام ہو۔ بلکہ آپ کی نبوت اور رسالت بذریعہ وحی الہی بتوسط جبرائیل علیہ السلام صاحب شریعت ہونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف تو آپ یوں کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (احزاب:٤٠) میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے: ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ ﴿محمدﷺ تم میں سے کسی کے باپ نہیں مگر وہ ختم کرنے والا نبیوں کا۔﴾
(حمامة البشریٰ ص٨٨، خزائن ج٧ ص ١٨٤)
٩
اور اس کی تشریح آپ نے ان الفاظ میں کی ہے۔
مرزا...... ”یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا...... ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بہ قیامت منقطع ہے۔“
(ازالہ ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
٢...... ”اسی طرح سب سے اوّل اس نے (یعنی خدا نے) یہ فیصل کیا ہے کہ آنحضرت کو اسلام جیسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپ ﷺ کو خاتم النبیین ٹھہرایا اور قرآن جیسی کامل الکتاب عطاء فرمائی۔ جس کے بعد قیامت تک نہ کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی نئی شریعت لے کر آئے گا۔“
(ملفوظات احمدیہ ص ٣٣٩)
٣...... اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین “میں بھی اشارہ ہے۔ پس اگر ہمارے نبی کریم اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والے زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے علاج اور دوا کی رو سے مناسبت نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم ﷺ کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لئے نہ بھیجتا اور ہمیں محمد مصطفےٰ ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔”فلا حاجت لنا الی نبی بعد محمد ﷺ وقد احاطت برکات کل زمانہ “ہم کو محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کی برکات ہر زمانہ پر محیط ہیں۔
(حمامة البشریٰ ص ٤٩، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)
نوٹ...... مرزا قادیانی! ان تشریحات کے علاوہ آپ نے لفظ خاتم النبیین کی تشریح مزید ان الفاظ میں کی ہے۔
مرزا...... ”اے لوگو! دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣٥، خزائن ج ٤ ص ٣٤٥)
٣...... ”ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات حصہ دوم ص ٣٢٣)
٤...... ”بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“
(اشتہار دہلی مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)
٥...... ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ اگر قرآن پر اس کا ایمان ہے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ بعد ختم الانبیاء کے میں بھی نبی ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
١٠
- ......٦ ”میرا کوئی حق نہیں کہ رسالت یا نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٧ ”میں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان
لوگوں نے غلطی کی ہے اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٦٦، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٨ ”مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور
کافروں کی جماعت سے جاملوں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٦٦، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٩ ”میرا نبوت کا دعویٰ نہیں یہ آپ کو غلطی ہے۔“
(جنگ مقدس ص ٦٧، خزائن ج ٦ ص ١٥٦)
- ......١٠ ”افتراء کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٨١)
- ......١١ ”میں ایمان محکم رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس امت میں کوئی
نبی نہیں آئے گا۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
- ......١٢ ”اور اگر یہ اعتراض ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو بجز اس کے کیا کہیں۔
”لعنت اللہ علی الکاذبین المفترین!“
(انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥)
- ......١٣ ”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ ”محدث“ کا دعویٰ ہے جو خدا کے حکم سے کیا گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
تصویر کا دوسرا رخ
اور دوسری طرف آپ بڑے زور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ:
- ......١ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ......٢ ”ہم صاحب شریعت نبی ہیں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٧٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
تو اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آپ نے خاتم النبیین کے تحت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر قیامت تک رسالت اور نبوت کو ختم کر دیا اور پھر اب آپ ہی اجرائے نبوت کر کے خود ہی دعویٰ دار نبوت اور رسالت کے بن بیٹھے تو وہ القاب کس کے حصہ میں آئیں گے۔ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دیں۔
١١
اور دوسرے اس بات کا بھی جواب نہایت متانت سے دیں کہ جب خاتم النبیین کے تحت نبوت ختم ہوگئی تو اب اجرائے نبوت کیسے ہوئی اور اس کا ثبوت کس آیت قرآنی سے ملتا ہے۔ تا کہ اس کا جواب الجواب دے کر اس پر بحث کی جائے۔ (مرزا قادیانی نے خاموشی اختیار کر لی)
اور مرزا قادیانی کے بائیں بازو میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی مرزا قادیانی اس کے جواب میں یوں گویا ہوئے۔ ”چونکہ خاتم النبیین کی تا (بالفتح) اسم آلہ ہے۔ جس کے معنی صرف مہر ہیں کہ اب آپ کی مہر سے نبیوں کی تصدیق ہوگی اور تا بالکسر کسی قرآن میں نہیں۔ جس کے معنی یہ ہوں کہ آپ کے بعد نبوت ختم ہے۔ اس لئے آپ کے بعد نبی آسکتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٣٢ء)
شوخ...... میاں صاحب! اس کے دو جواب ہیں۔ ملاحظہ ہو:
- ١....... اگر خاتم النبیین کی تا (بالفتح) اسم آلہ ہے اور اس کے تحت نبی آسکتا ہے تو اس کا
جواب آپ کے پاس کیا ہے؟ جو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) پر ان الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ: ”چونکہ میرے بعد میرے والدین کے گھر میں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔ اس لئے میں اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد ٹھہرا۔“
- ٢....... ”اس طرح میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں۔ میرے ساتھ ایک
لڑکی پیدا ہوئی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩)
لیجئے میاں صاحب! مرزا قادیانی کی ہر دو تحریرات سے اپنا خاتم الاولاد ہونا ثابت ہے۔ یعنی ایسا کہ آپ کے بعد مرزا قادیانی کے والدین کے گھر کوئی لڑکی، لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے آپ خاتم الاولاد ٹھہرے تو جب یہاں پر بھی خاتم الاولاد میں تا (بالفتح) اسم آلہ ہے تو مرزا قادیانی کے بعد کسی قسم کا اندھا، کانا، لنگڑا، اپاہج، فالج گرا ہوا وغیرہ وغیرہ کوئی کج والا بچہ مرزا قادیانی کے والدین کے گھر کیوں پیدا نہیں ہوا۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریرات میں اس اصول کو کیوں مستثنیٰ رکھا گیا؟
ہاں! اگر مرزا قادیانی کے بعد کوئی اولاد مرزا قادیانی کے والدین کے گھر پیدا ہو جاتی تو یہاں پر بھی ہم اس کو تسلیم کر لیتے کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں تو گرہن والا بچہ بھی پیدا نہ ہوا جو حجت کے طور پر آپ لوگ معترض کے سامنے پیش کرسکیں۔
١٢
٢....... میاں صاحب! آپ نے اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١٠ء زیر عنوان "مضمون نجات" میں لفظ خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ: "حضور پاک حضرت محمد رسول اللہ ایسے خاتم النبیین ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آئے گا۔ جس کو مقام نبوت پر کھڑا بھی کیا جائے اور جو آئیں گے وہ اولیاء اللہ، متقی، پرہیز گار ہوں گے اور جو ان کو ملے گا وہ حضور کی وساطت سے ملے گا اور آپ کے مذہب، تعلیم، عہدہ کی میعاد قیامت تک ہے۔"
اسی طرح آپ نے مورخہ ١٣/مارچ ١٩١١ء کے اخبار الحکم میں زیر عنوان "خاتم النبیین" کے معنی کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ: "اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین کے مرتبہ پر قائم کر کے آپ پر ہر قسم کی نبوتوں کا خاتمہ کر دیا۔"
ان ہر دو تحریرات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے جو کہا ہے کہ اور تا بالکسر کسی قرآن میں نہیں۔
ہم آپ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ جب آپ نے رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١٠ء میں زیر عنوان مضمون "نجات" اور ١٣/مارچ ١٩١١ء کے اخبار الحکم کے زیر عنوان خاتم النبیین میں لفظ خاتم النبیین کی تشریح کی تھی اور کہا تھا کہ اب قیامت تک حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ بلکہ کسی کو مقام نبوت پر کھڑا بھی نہیں کیا جائے گا۔ اس وقت خاتم النبیین کی تا بالکسر تھی یا نہیں۔ جس کے تحت آپ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کے آنے کی نفی کی تھی اور اب بالکسر سے بالفتح کیسے بن گئی؟ ذرا اس کا فارمولا بھی بتلا دیجئے۔ تاکہ آپ کے اس خیال سے کوئی دوسرا بھی فائدہ حاصل کر سکے؟
(میاں صاحب پر بھی خاموشی کا عالم طاری ہوگیا)
اختر....... شوخ صاحب! اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے علمائے دین تو بڑے زور سے یہ کہا کرتے ہیں کہ اب حضور ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ مگر یہاں پر اس کے برعکس ثابت ہوا ہے اور دوسرے میاں صاحب جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کر رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
شوخ....... اختر میاں! تم نے دیکھا نہیں کہ پہلے مرزا قادیانی اور میاں صاحب دونوں ہمارے علمائے دین کی طرح اس بات کے قائل تھے کہ نبی کریم ﷺ ایسے خاتم النبیین ہیں کہ اب قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول پیدا نہیں ہو سکتا۔ مگر ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ جب میاں صاحب کا مرزا قادیانی کو نبی بنانا مطلوب تھا تو انہوں نے تا بالفتح کے اصول کے تحت ان کی
١٣
نبوت کا اعلان کر دیا اور جب ان کے سامنے خاتم الاولاد کی تا بالفتح تو رکھ کر جواب طلب کیا گیا تو خاموشی اختیار کر لی۔
اختر ...... مگر یہ خاموشی کسی وقت ٹوٹے گی بھی یا کہ ایسے ہی رہے گی؟
شوخ ...... ہاں ہاں! ٹوٹ سکتی ہے۔ یہ کون سی مشکل بات ہے۔ جو ہو نہیں سکتی۔
اختر ...... وہ کیسے ذرا ہمیں بھی سمجھا دیجئے۔
شوخ ...... دیکھو! اللہ تعالیٰ نے نیکی، بدی، موت، پیدائش، غمی، خوشی، عزت، بے عزتی، فقیری، امارت، تنگی، خوشحالی، بیماری، صحت وغیرہ کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی طرح ان کے اس جواب کا بھی وقت مقرر ہے۔
اختر ...... جی وہ کون سا وقت آئے گا کہ جب یہ لوگ اس کا صحیح جواب دے کر اپنی جان کو مصیبت سے رہا کرائیں گے؟
شوخ ...... اختر ! جب تک وہ مرزا قادیانی کی کتابوں سے خاتم اولاد کے لفظ کو نکال کر اس کی جگہ اور لفظ نہیں لکھتے۔ اس وقت تک ہمارا اعتراض بدستور قائم رہے گا اور ان کی طرف سے خاموشی۔
اختر ...... شوخ صاحب ! بھلا ایسا ہو سکتا ہے کہ امت مرزائیہ مرزا قادیانی کی کتاب سے یہ لفظ نکال دے یہ تو تحریف ہو جائے گی۔
شوخ ...... اختر میاں! ان کے لئے یہ بات کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کی تحریف کی۔
(حقیقت الوحی ص ١٣٠ مطبوعہ ١٩٠٧ء)
زیر آیت: ”الم یعلم“ اور جب ہم نے اکتوبر ١٩٣٤ء کو احرار کانفرنس قادیان میں مرزا قادیانی کی یہ تحریف دکھلا کر مرزا قادیانی کو ہزاروں آدمیوں کے سامنے بے نقاب کیا تو امت مرزا نے ہمارے اعتراض کرنے پر (حقیقت الوحی مطبوعہ ١٩٣٥ء، ١٩٥٠ء) کے ایڈیشنوں میں مرزا قادیانی کی تحریف قرآن کو صحیح کر دیا۔ یہ دونوں ایڈیشن ہمارے پاس موجود ہیں۔
اختر ...... اس کا یہ مطلب نکلا کہ مرزا قادیانی نے تو قرآن پاک کی تحریف کی اور امت مرزا نے مرزا قادیانی کی تصنیف کی۔ ”چہ خوب“ نہلے پر دہلہ پڑا۔ مگر آپ اس کو منظر عام پر لائے ہیں یا کہ نہیں۔
شوخ ...... اختر میاں! ہم نے ١٩٦٤ء میں ”کذبات مرزا“ لکھا۔ اس میں ہم نے اس کو وضاحت کے ساتھ لکھا اور عوام میں تقسیم کیا اور ہمیں جھوٹا ثابت کرنے والے کو مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد انعام دینے کا وعدہ کیا۔ مگر یہ لوگ پڑھ کر بالکل خاموش ہو گئے۔
١٤
اختر....... شوخ صاحب! میرے خیال میں میاں صاحب اس مہر خاموشی کو نہیں توڑیں گے۔ آپ اس سوال ہی کو جانے دیجئے۔ مجھے اس کی اصلیت کا پتہ چل گیا ہے۔ اب ان سے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ آپ نے اپنی ضرورت کے مطابق مرزا قادیانی کو نبی تو بنالیا۔ کیا اب کسی اور نبی کا آنا بھی (بعد از مرزا) مانتے ہیں یا کہ نہیں۔
محمود....... ”انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہوگئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدرت کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“
(انوار خلافت ص ٦٢)
شوخ....... میاں صاحب! آپ جو کچھ فرما رہے ہیں کیا یہ بالکل درست ہے؟
محمود....... ”اگر میری گردن کی دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٦٥)
شوخ....... اگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانا جائے تو؟
محمود....... ”اگر اس کو نبی نہ مانا جائے تو وہ نقص پیدا ہوتا ہے جو انسان کو کافر بنانے کے لئے کافی ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٤، حصہ اول)
شوخ....... جو شخص مرزا قادیانی کی بیعت میں شامل نہ ہو۔ اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
محمود....... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
شوخ....... تو جب آپ مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں تو پھر قرآن اور احادیث نبویہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
محمود....... ”یادرہے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اس کے ذریعہ ملتا ہے۔ یوں اپنے طور پر نہیں ملتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے نبی کے آگے دیوار کھنچ جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے اور اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا۔“
(خطبہ محمود اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٠ء)
١٥
٢...... ”حقیقی عید ہمارے لئے ہے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کلام الٰہی کو پڑھا جائے۔ جو حضرت مسیح موعود پر اترا۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے ہیں۔“
(اخبار الفضل مورخہ ١٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)
شوخ...... میاں صاحب احادیث نبوی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ محمود...... ”اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے۔ اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہیں رکھے گی۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے۔ اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔“
(الفضل مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩٢٠ء)
شوخ...... مرزا قادیانی! آپ کے بیٹے میاں محمود نے جو ارشاد فرمایا ہے۔ یہ کہاں تک صداقت پر مبنی ہے؟ مرزا...... ”حدیثوں کی بحث طریق تصفیہ نہیں ہے۔ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلود ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)
شوخ...... کیا یہ حدیثیں صحیح نہیں جو ہمارے مشاہدہ میں آرہی ہیں؟ مرزا...... ”اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرتﷺ فرما جاتے کہ میں نے احادیث جمع نہیں کیں۔ فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا۔ تم ان کو ماننا۔“
(البدر مورخہ ١٤؍ نومبر ١٩٠٢ء ص ١٨)
شوخ...... اور یہ جو مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ فلاں حدیث قابل قبول ہے اور فلاں نہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ مرزا...... ”یہ تمہارے بزرگوں کی اپنے منہ کی تجویزیں ہیں کہ فلاں حدیث صحیح ہے اور فلاں حسن اور فلاں مشہور اور فلاں موضوع ہے۔“
(اربعین نمبر ٢ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٢)
شوخ...... تو پھر ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔ مرزا...... ”کیا ان لوگوں کو آنحضرتﷺ کی وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا بلکہ آنحضرتﷺ کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن سے پوچھے جائیں گے نہ زید بکر کے جمع کردہ سرمایہ سے۔ یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر کیوں نہ ایمان
١٦
لائے۔“
(البدر مورخہ ١٢/نومبر ١٩٠٢ء، ص ١٨)
شوخ ...... میاں صاحب! احادیث نبویہ کا فیصلہ تو مرزا قادیانی نے کر دیا اور قرآن مجید کے متعلق آئیے اب آپ فرمائیں کہ ایک مرزائی کے لئے قرآن کریم مقدم ہے یا کہ الہامات مرزا قادیانی؟
محمود ...... ”قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خدا کے کلام ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے مقدم رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“
(الفضل مورخہ ٣٠/اپریل ١٩٥١ء)
شوخ ...... جو لوگ مرزا قادیانی کو نہیں مانتے ان کے دینی امور کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
محمود ...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
شوخ ...... میاں صاحب! آپ نے تو کمال صفائی سے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا۔ مگر اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ جب آپ کا رب، نبی، رسول، قرآن، حدیث، نماز وغیرہ مسلمانوں سے علیحدہ ہے تو پھر حج کے واسطے مسلمانوں کے ساتھ شرکت کیوں؟
محمود ...... ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥)
٢...... ”ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔“
(اخبار الفضل مورخہ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
شوخ ...... مگر حج تو از روئے قرآن خانہ کعبہ میں ہوتا ہے اور آپ کے حج کی جگہ؟
محمود ...... ”خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥)
شوخ ...... خدا تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی جگہ قادیان کو کیوں مقرر کیا۔ اس کی وجہ؟
محمود ...... ”کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔“
(سالانہ جلسہ ١٩١٤ء)
شوخ ...... آپ کا مسلمانوں سے کس کس بات میں اختلاف ہے؟ جس کی بناء پر آپ احمدی کہلائے؟
محمود ...... ”مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند دیگر مسائل میں نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اللہ کی ذات، رسولِ کریم، قرآن مجید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تفصیل سے ایک ایک چیز میں اختلاف بتایا ہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٩ نمبر ١٣، مورخہ ٣٠/جولائی ١٩٣١ء)
٢...... ”حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ ان (مسلمانوں) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور ہے۔
١٧
ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے۔ ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور ہے اور اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩١٨ء ص ٨)
شوخ ...... میاں صاحب! ذرا اس کی بھی تشریح فرما دیجئے۔ نوازش ہوگی۔
محمود ...... ”عبداللہ نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹر ویپ نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی۔ مگر آپ نے (مرزا قادیانی نے ) ان کو پانی کی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس اسلام میں آپ پر (مرزا پر ) ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں۔ اسے آپ اسلام ہی نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین ) نے اعلان کیا تھا کہ ان (مسلمانوں ) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ دسمبر ١٩١٤ء)
اختر ...... شوخ صاحب! ان کلمات کو سن کر میری تو حیرانی کی حد ہی نہیں رہی۔
شوخ ...... ابھی تو نے سنا ہی کیا ہے جو اتنے حیران پریشان ہو گئے۔ لو سنو! میاں صاحب! اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی کتاب (آئینہ صداقت ص ٥٣) اور (اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جنوری ١٩١١ء) میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ : ” تم ایک برگزیدہ نبی (مرزا قادیانی ) کو مانتے ہو اور تمہارے مخالف (مسلمان ) اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحب کے زمانے میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی ، غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں ۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے ۔ کیا تمہیں جو خدا نے نشان دیئے وہ چھپاؤ گے۔“
(آئینہ صداقت ص ٥٣)
شوخ ...... میاں صاحب! اس کی سمجھ نہیں آئی کہ مسلمانوں سے مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو کیوں علیحدہ کیا۔
محمود ...... ”جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات پر الزام کس لئے۔ پس آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔“
(الفضل مورخہ ٢٧؍ مئی ١٩٢٠ء)
شوخ ...... وہ قادیان سے بلند ہونے والی آواز کون سی ہے۔ ذرا اس سے آگاہ فرمائیں۔
محمود ...... (دین مرزا ) ” اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود کو فرمایا کہ جو دین تو لے کر آیا ہے۔ اسے تمام ادیان پر غالب کروں گا۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٣؍ جنوری ١٩٣٥ء)
١٨
شوخ...... اختر میاں! سن لئے مرزا قادیانی اور میاں بشیر الدین محمود کے عقائد۔ اب ہم تمہیں حکیم نور الدین خلیفہ اوّل کے عقائد سے واقفیت کراتے ہیں۔
اختر...... بہت اچھا آپ کی مہربانی ہوگی۔ دینی معاملات میں جتنی بھی تحقیق ہو جائے بہتر ہے۔
شوخ...... جناب حکیم صاحب نے تو مرزا قادیانی کو نبی بنانے کی وجہ تسمیہ اور مسلمانوں سے علیحدگی اختیار کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈال کر اپنے خیالات کا اظہار فرما دیا۔ اب آپ بھی اپنے خیالات سے مستفید فرمائیں کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نسبت ”خاتم النبیین“ کا لفظ ارشاد فرمایا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
حکیم...... ”رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید میں ”خاتم النبیین“ فرمایا۔ ہم اس بات پر ایمان لائے ہیں اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق کافر ہے۔ یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔“
(ارشاد حکیم نور الدین)
شوخ...... مرزا قادیانی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ حکیم...... ”حضرت مرزا صاحب خدا کے مرسل ہیں۔“
(کلام امیر ص٢٦)
شوخ...... مرزا قادیانی کے ماننے کے بغیر نجات ہو سکتی ہے یا نہیں؟ حکیم...... ”اگر خدا کا نام سچ ہے تو مرزا قادیانی کے ماننے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔“
(اخبار الحکم نمبر ٢٣ ج ١٥ مورخہ ١٥؍ستمبر ١٩١١ء)
شوخ...... اس قدر سخت حکم اس کی کیا وجہ ہے؟ حکیم...... ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔“
شوخ...... اور جو اس کو تسلیم نہ کرے۔ آپ اس کو کیا سمجھتے ہیں؟ حکیم...... ”اگر اسرائیلی مسیح کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍مئی ١٩١٤ء)
شوخ...... اچھا حکیم صاحب ذرا صفت ایمان تو بیان فرما کر مشکور فرمائیں۔ حکیم...... ”ایمان بالرسل نہ ہو تو کوئی شخص مؤمن مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں۔ عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک میں۔ کسی مامور اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍مئی ١٩١٤ء)
١٩
شوخ...... آپ کا اور دوسرے مسلمانوں کا آپس میں کیا اختلاف ہے؟
حکیم...... ”ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے۔ ”لا نفرق بین احد من رسل“ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو کفر ہوتا ہے۔“
(حج المصلیٰ)
شوخ...... حکیم صاحب آپ کے بیانات سے تو یہ ثابت ہورہا ہے کہ آپ میاں صاحب کے عقائد سے پورا پورا اتفاق رکھتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ اب آپ یہ فرمائیں کہ آپ کا ایمان مرزا قادیانی کے متعلق کیا ہے؟
حکیم...... ”میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔“
(سیرت المہدی ص ١٠٦ حصہ اوّل
ص ٨١)
شوخ...... حکیم صاحب! آپ کا یہ بیان سن کر تو میری حیرانی کی کوئی حد نہیں رہی۔ کیونکہ آپ نے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر یہ خطبہ ایک جمعہ عام میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا۔ جس کو اخبار الحکم ج ١٣ نمبر ١١، ١٢ میں عقائد احمدیہ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ جو آپ کے پیش نظر کئے جاتے ہیں۔
حکیم...... ”میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ تمام نبوتیں آنحضرت ﷺ پر ختم ہوئیں۔“
اور آگے چل کر جلی قلم سے یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں کہ:
حکیم...... ”اگر اس کے موافق کوئی بات ہو تو ہماری طرف سے سمجھو اور اگر اس کے خلاف ہو تو وہ ہمارے عقائد کے مطابق نہیں ہے۔“
اور پھر اسی طرح اسی جلسہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے کمالات کو دنیا کے سامنے پیش کر کے بڑے زور سے آپ نے یہ سوال کیا کہ:
حکیم...... ”اب آپ کے بعد کون نبی ہو سکتا ہے؟“
لیجئے حکیم صاحب! یہ ہے آپ کی تقریر جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے ایمان میں یہ بات داخل ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر تمام نبوتیں ختم ہیں۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی رسول نہیں ہو سکتا۔
اور دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ (مرزا قادیانی) خدا کے مرسل ہیں اور قرآنی رسولوں کی لسٹ میں ”لا نفرق بین احد من رسله“ کے مطابق شامل ہیں۔ آپ پر
٢٠
ایمان لائے بغیر نجات نہیں۔ آپ کو نہ ماننے والا کافر ہے۔ وغیرہ! مگر میرے خیال میں آپ مجبور ہیں۔ آپ کا اس میں کچھ قصور نہیں۔ جب آپ کے مرزا قادیانی حضرت محمد رسول اللہﷺ پر تمام نبوتوں کا خاتمہ کر کے پھر خود ہی صاحب شریعت نبی بن بیٹھے اور میاں صاحب نے ان کی تقلید کی اور رہی سہی کسر نکال دی تو آپ کا بھی فرض ہو گیا کہ آپ بھی اپنے پہلے ایمان کو بالائے طاق رکھ کر مرزا قادیانی کی بات پر لبیک کہیں۔ کیونکہ کسی نے کہا ہے کہ:
شوخ ...... جناب مفتی اعظم سرور شاہ صاحب اس کے متعلق آپ بھی کچھ اپنے عقیدہ پر روشنی ڈالیں۔ عین نوازش ہوگی۔
مفتی ...... ”ہمارا عقیدہ ہے کہ دوبارہ حضرت محمد رسول اللہﷺ ہی آئے ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ پہلے نبی تھے تو اس بعثت میں بھی نبی ہیں۔ مگر ہم نے مرزا قادیانی کو بحیثیت مرزا نہیں مانا بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ نے ہمیں محمد رسول اللہ کا چہرہ دکھایا ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩١٤ء)
شوخ ...... اچھا میاں بشیر احمد! کچھ آپ بھی اپنے اباجان کی مدح سرائی میں گوہر افشانی کیجئے۔
بیاں ہو شان تیری کیا حبیب کبریا تو ہے
کلیم اللہ بننے کا شرف حاصل ہوا تجھ کو
خدا بولے نہ کیوں تجھ سے کہ محبوب خدا تو ہے
اندھیرا چھا رہا تھا سب اجالا کر دیا جس نے
وہی بدر الدجٰی تو ہے وہی شمس الضحٰی تو ہے
(گلدستہ عرفان ص١)
اختر ...... شوخ صاحب! یہ دائیں طرف کون صاحب تشریف فرما ہیں؟
شوخ ...... میرے خیال میں اخبار فاروق کے ایڈیٹر میر قاسم علی ہیں۔
اختر ...... تو پھر ان کے خیالات کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔
شوخ ...... بہت اچھا! لو ہم ایڈیٹر کو بھی مخاطب کر لیتے ہیں۔ کہئے! جناب ایڈیٹر صاحب کچھ آپ بھی اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں گے؟
٢١
ایڈیٹر.......
ہے جلوہ ریز وہ اب قادیان کے سینے میں
(اخبار فاروق ٢١؍ اپریل ١٩٣٠ء)
شوخ....... لو سن لیا اختر میاں! بڑے میاں سو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ اچھا میر صاحب! کچھ اس کی وجہ تسمیہ بھی بتلائیے کہ مدینے کا سورج قادیان میں کیسے چمکا؟
میر....... ”حضرت اقدس نے جو زمانہ امتی بن کر گزارا ہے۔ وہ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ جب اس سے ترقی پا کر احمد اور مریم بن گئے تو نہ غلام احمد رہے اور نہ مریم۔ یہ ایک نقطہ ہے جو صرف خدا نے مجھے ہی سمجھایا ہے۔ پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا ایسا ہے کہ کسی پٹواری کو ڈپٹی کلکٹر بن جانے کے بعد بھی پٹواری کہتے جانا جو دراصل اس کی توہین اور گستاخی ہے۔“
(ازہاق الباطل ص٤٣٠)
شوخ....... جناب چوہدری ظفر اللہ خان! کچھ آپ بھی ارشاد فرمائیں؟
ظفر اللہ....... ”اگر (نعوذ باللہ) آپ کے وجود کو (مرزا قادیانی) درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ۔“
(تقریر مرزائیہ کانفرنس کراچی جہانگیر پارک مورخہ ٢٨؍ جنوری ١٩٥٢ء)
شوخ....... اکمل صاحب! آپ بھی کچھ اپنے خیال کے گل کھلائیں۔
اکمل....... ؎
غلام احمد ہوا ہے قادیاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء)
٢٢
شوخ ....... جناب ایڈیٹر صاحب اخبار الفضل کچھ آپ کے اخبار نے بھی کچھ اس کے متعلق حصہ لیا ہے؟
الفضل....... ؎
تیرے صدقے تیرے قربان رسول قدنی
عرش اعظم پہ تیری حمد خدا کرتا ہے
اللہ اللہ یہ تیری شان رسول قدنی
سرمہ چشم تیری خاک قدم بنواتے
غوث الاعظم شاہ جیلان رسول قدنی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٢٢ء)
ہے اب احمد مجتبےٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ میرزا بن کے آیا
(الفضل قادیان مورخہ ٢٨؍مئی ١٩٢٨ء)
شوخ ....... مولوی اللہ دتہ! کچھ آپ بھی ارشاد فرمائیں۔
اللہ دتہ....... ”آنحضرت ﷺ کی نبوت کا دور ختم ہے۔ اب حضرت مرزا صاحب کی نبوت کا زمانہ ہے۔“
(تقریر اللہ دتہ جالندھری جلسہ سیالکوٹ مورخہ ١٥؍جنوری ١٩٥٠ء)
شوخ ....... جناب مرزا قادیانی! آپ کے حواری جو کچھ کہہ رہے ہیں کیا یہ درست ہے؟
مرزا....... ؎
منم محمد واحمد کہ مجتبےٰ باشد
(تریاق القلوب ص ١٥٦ خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
٢٣
شوخ ...... مرزا قادیانی! اس کو تفصیل سے بیان کیجئے۔
مرزا ...... ”کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)
کلمہ کا مسئلہ
شوخ ...... اچھا میاں صاحب! جب مرزا قادیانی اپنے آپ کو صاحب شریعت رسول ثابت کر رہے ہیں اور آپ لوگ اس کو تسلیم کر رہے ہیں تو پھر آپ لوگ اپنا نیا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ ہمارا مسلمانوں کا کلمہ ”لا الہ الا الله محمد رسول اللہ“ کیوں پڑھتے ہو۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
بشیر احمد ...... ”ہم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر حضرت مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہی ہیں جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو پھر یہ سوال اٹھ سکتا تھا۔“
(کلمتہ الفصل ص ١٥٧، ١٥٨)
شوخ ...... کیوں مرزا قادیانی! کیا آپ واقعی محمد رسول اللہ ہیں؟
مرزا ...... ”محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا ہے اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
بشیر احمد ...... ”مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور اصول کی زیادتی ہو گئی ہے۔“
(کلمتہ الفصل ص ١٥٨)
شوخ ...... میاں محمود احمد! کچھ آپ بھی اس کے متعلق گوہر افشانی فرمائیے۔
محمود ...... ”مرزا صاحب عین محمد تھے۔ کیونکہ آپ کے کامل مظہر تھے۔ اس لئے آپ کے مقابلہ میں خادم تھے اور جب آپ کو الگ تصور کیا جائے تو آپ کو عین محمد کہا جائے گا۔ پس میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلتے چلتے عین محمد بن گئے۔“
(ذکر الہیٰ ص ٦٠)
شوخ ...... مولوی غلام رسول راجیکی! اس مسئلہ کے متعلق کچھ آپ بھی اپنی رائے کا اظہار کیجئے۔
٢٤
غلام رسول...... ”ایک غلطی کا ازالہ میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ”محمد رسول الله والذین معه“ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٥؍ جولائی ١٩١٥ء)
شوخ ...... جناب ایڈیٹر اخبار الفضل کچھ آپ بھی کہئے۔
ایڈیٹر ...... ”حضرت مسیح موعود کا وجود خاص آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے۔ حضرت مسیح موعود اور آنحضرت ﷺ آپس میں کوئی مغائرت نہیں رکھتے۔ بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٥؍ دسمبر ١٩١٥ء)
شوخ ...... کیوں بھئی اختر میاں! سن لیا کلمہ کا مسئلہ اور اس کا جواب۔ لو اب تمہیں مرزا قادیانی کے فرشتوں کا مسئلہ بھی حل کرا دیتے ہیں۔
اختر ....... بہت اچھا نوازش ہوگی۔ اس کا بھی فیصلہ ضروری امر ہے۔
فرشتوں کا مسئلہ
شوخ ...... مرزا قادیانی! جب آپ کا خدا، رسول، اسلام، نماز، حج وغیرہ وغیرہ ہم مسلمانوں سے علیحدہ ہیں تو آپ نے اپنے فرشتوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا کہ آپ کے رب کے فرشتے کون ہیں۔ جن کی معرفت آپ کو امر، نہی، الہام اور وحی وغیرہ وغیرہ ہوتی رہی ہے۔
مرزا ...... ”جاء نی آئل و اختار میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا۔ اس جگہ ”آئل“ خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)
- ٢...... دوسرا فرشتہ: ”تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوئے۔ جن میں سے ایک کا نام
خیراتی تھا۔“
(نزول المسیح ص ٢٣٦، خزائن ج ١٨ ص ٦١٤)
- ٣...... تیسرا فرشتہ: ”بوقت قلت آمدنی میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا ہے۔ مگر
انسان نہیں بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اور اس نے بہت سا روپیہ میری جھولی میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا میرا کچھ نام نہیں ہے۔ یعنی میرا کوئی نام نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہوگا۔ اس نے کہا میرا نام ٹیچی ٹیچی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦)
- ٤...... چوتھا فرشتہ: ”میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔
مگر خواب میں معلوم ہوا کہ اس کا نام ”شیر علی“ ہے۔ اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ٩٥، خزائن ج ١٥ ص ٣٥٢، تذکرہ ص ٤١)
٢٥
- ٥....... پانچواں فرشتہ: ”خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں
اسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دے دیا اور کہا کہ یہ میرا پرانا دوست ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلاتأمل اس پر دستخط کر دیئے۔ جو مٹھن لال دیکھا گیا مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔“
(الحکم ج ٩ ص ٣١، تذکرہ ص ٥١٥)
- ٦....... چھٹا فرشتہ: ”ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا۔ صورت
اس کی مثل انگریز کے تھی اور میز کرسی لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں! میں درشنی ادی ہوں۔“
(تذکرہ ص ٣١)
- ٧....... ساتواں فرشتہ: الہام ہوا ”وی کین ویٹ وی ول ڈو۔“
”اس وقت ایک ایسا لہجہ معلوم ہوا کہ گویا انگریز ہے۔ جو سر پر کھڑا بول رہا ہے اور یہ انگریزی کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨١ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٧٢)
شوخ....... اختر میاں! سن لئے مرزا قادیانی کے فرشتوں کے نام۔ جن کے ذریعہ سے مرزا قادیانی کا یہ کاروبار چل رہا تھا۔ یعنی آئل، خیراتی، ٹیچی ٹیچی، شیر علی، مٹھن لال، درشنی اور انگریز جس کا نام معلوم نہیں۔
اب ہمارے رب کے فرشتوں کے نام ملاحظہ ہوں:
- ١....... حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ ٢....... حضرت میکائیل علیہ السلام۔
- ٣....... حضرت اسرافیل علیہ السلام ٤....... حضرت عزرائیل علیہ السلام۔
کیوں بھئی اختر میاں! بندہ نے جو آپ سے کہا تھا کہ مرزائی لوگ رب، رسول، کلمہ، نماز، حج، قرآن اور فرشتوں وغیرہ کے قائل نہیں۔ بلکہ یہ اپنے ہی تیار کئے ہوئے رب، رسول، قرآن اور فرشتوں وغیرہ کے قائل ہیں۔ کیا یہ بات صحیح ہے یا کہ نہیں؟
اختر....... استغفر الله! استغفر الله!! اس سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ واقعی مرزا قادیانی کا اور ہمارا آپس میں بہت بڑا اختلاف ہے۔ خدا ہر مسلمان کو ان کے دجل و فریب سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
وما علينا الا البلاغ!
لہٰذا یہ پمفلٹ مسلمانوں کے تحفظ ایمان کے لئے چند مخلص دوستوں کے عطیہ سے چھپوا کر مفت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ادارہ ان دوستوں کا تہ دل سے شکر گزار ہے کہ جنہوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا ہے۔ خدا ان کو جزائے خیر دے۔ آمین ثم آمین!
٢٦