ابنِ مریم علیہ السلام زندہ ہیں، حق کی قسم · مولانا محمد ابراہیم
Ibnay Maryam Zinda Hain Haq ki Kasam · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

ابنِ مَرْیَمْ علیہ السلام زندہ ہیں

حق کی قسم

از قلم

حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب

(واسو) منڈی بہاؤالدین ضلع گجرات

۵

ناشر

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان

فون نمبر 332820-0466 فیکس 331330-0466

E.mail chinioti@fsd.comsats.net.pk

IRSHAD PRINTING PRESS CHINIOT Phone: 0466-332820, Mob: 0320-4890351

صفحہ 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ الذی رفع المسیح ابن مریم حیا فھو عنده فی السماء و ینزل من السماء فی اخر الزمان وصلی اللہ تعالیٰ علی سید الرسل و خاتم الانبیاء ط و علیٰ الہ و بارک وسلم .

اما بعد! برادران اسلام! مرزائیوں کے مقابلہ میں مسئلہ حیات ووفات حضرت مسیح علیہ السلام پر بحث کرنی اصل بحث تو نہیں بلکہ ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی ذات پر بحث کرنی زیادہ مناسب ہے۔ مگر چونکہ مرزائی حضرات نے مسئلہ حیات ووفات حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی عمارت کا ایک بنیادی پتھر بنا رکھا ہے۔ اس لئے اس مختصر رسالہ میں فقط دو دلیلوں سے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دلائل کو میرے گم گشتہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے مخاطبین کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔ (آمین)

احقر محمد ابراہیم ادارہ ہذا

صفحہ 2

پہلی دلیل

ما المسيح ابن مريم الا رسول ج قد خلت من قبله الرسل ط وامه صديقه كانا يا كلان الطعام ط (پ۶ رکوع ۱۴ سورۃ مائدہ) یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ۲۴۸ حصہ دوم طبع ص ۶۰۳ قادیان۔ روحانی خزائن ص ۴۲۵ جلد ۳)

و ما محمد الا رسول ج قد خلت من قبله الرسل ط افائن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ط (پارہ ۴ سورۃ آل عمران رکوع ۶) یعنی محمد ﷺ صرف ایک نبی ہیں اور ان سے پہلے نبی سب فوت ہو گئے ہیں۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۴۲۹ طبع ص ۶۰۶ قادیان روحانی خزائن ص ۴۲۷ جلد ۳)

یہ دونوں آیتیں حضرت رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ دونوں کا طرز بیان ایک ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ اور دونوں کے الفاظ ایک ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ ایک آیت میں المسیح ابن مریم مذکور ہیں اور دوسری میں حضرت محمد ﷺ مرقوم ہیں یعنی اسماء کا فرق ہے لہٰذا جو معنی اور تفسیر دوسری آیت میں حضرت محمد ﷺ کے متعلق کریں گے وہ ہی پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سمجھیں گے۔ کیونکہ مرزا صاحب ازالہ اوہام حصہ اول ص ۳۲۷، ۳۲۸ میں لکھتے ہیں کہ "بلکہ قرآن شریف کے بعض مقامات دوسرے مقامات کیلئے خود مفسر اور شارح ہیں" لہٰذا اگر کلام اللہ کی آیت ما محمد الا رسول ج کے نزول کے وقت حضرت رسول کریم ﷺ زندہ بجسدہ العنصری موجود تھے تو بعینہ اسی دلیل سے ما المسیح ابن مریم الا رسول کی آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت ہو جائے گی۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت محمد ﷺ نزول آیت کے وقت زندہ تھے

صفحہ 3

۔ پس جس دلیل سے حضرت محمدﷺ کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے اسی دلیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

تحقیق معنی خلت

مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ لفظ کے معنی موضوع لہ اس کے تمام افراد میں پائے جانے ضروری ہیں (ضمیمہ حقیقۃ الوحی الاستفتاء ص ۴۳۔ روحانی خزائن ص ۶۶۵ جلد ۲۲) خلت مشتق خلو سے ہے اور خلو کے معنی ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ جانا ہے جسے انتقال مکانی بھی کہتے ہیں اور دوسرے معنی گزرنا ہے اور یہ ہر ذی علم سمجھ سکتا ہے کہ گزرنا زمانے کی صفت بالذات ہوا کرتی ہے اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے تو یہ معنی یعنی گزرنا بعلاقہ ظرفیت و مظروفیت ان چیزوں کی صفت بھی ہو سکتا ہے مگر بالذات نہیں بلکہ بالعرض ۔

پہلے معنی کی مثالیں : و اذا خلوا الی شیاطینہم ۔ و اذا خلا بعضہم الی بعض ۔ واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ ۔ فخلوا سبیلہم ۔

دوسرے معنی کی مثالیں : کلو او اشربوا ھنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیہ ۔ سنت اللہ التی قد خلت من قبل ۔

ناظرین کرام! خلو کے معنی کسی لغت کی کتاب میں موت کے نہیں کئے گئے۔ کیونکہ اگر خلت کے معنی مرنا اور معدوم ہونا کئے جائیں تو پھر آیت سنت اللہ التی قد خلت من قبل اور آیت ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا میں تناقض لازم آئے گا۔ کیونکہ بموجب مذہب مرزا صاحب پہلی آیت کا مفاد یہ ہے کہ سنت اللہ معدوم ہو چکی اور مر چکی اور دوسری آیت کا مفاد یہ ہے کہ سنت الہی تبدیل نہیں ہو سکتی یعنی اسے ہمیشہ کیلئے اپنے حال پر بقا حاصل ہے

صفحہ 4

لہٰذا یہ صریح تناقض ہوا ۔

لہٰذا آیت زیر بحث کے معنی ہوں گے کہ جگہ خالی کر گئے اور گزر چکے ہیں۔ پیشتر اس کے کئی رسول ۔ اور یہ معنی زندوں اور مردوں ہر دو پر آ سکتے ہیں کیونکہ جگہ خالی کرنے اور گزرنے کی کیفیت صرف موت ہی میں منحصر نہیں بلکہ یہ لفظ خلو مردوں کے حق میں انتقال بالموت کے معنوں میں معین ہو گا۔ اور زندوں کے حق میں جگہ تبدیل کرنے کے معنوں میں کہ جس طرح ہم کہا کرتے ہیں کہ اس شہر میں ایسے حاکم کئی گزرے ہیں پس جس طرح یہ جملہ خواہ وہ حاکم مر گیا ہو خواہ وہاں سے تبدیل ہو کر دوسری جگہ چلا گیا ہو۔ ہر دو حال میں صحیح المعنی رہتا ہے۔ اسی طرح یہ آیت قد خلت من قبلہ الرسل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بدلالت آیت بل رفعہ اللہ الیہ و دیگر آیات کا معنی جگہ کے تبدیل کرنے کے معین ہوں گے۔

تحقیق من قبلہ

من قبلہ نہ تو صفت الرسل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کا حال بن سکتا ہے کیونکہ تمام نحویوں کا اتفاق ہے کہ صفت موصوف سے مقدم نہیں ہوتی اور حال اپنے ذوالحال پر اس وقت مقدم کیا جاتا ہے۔ جب ذوالحال نکرہ اور ما نحن فیہ میں الرسل معرفہ ہے۔ پس معین ہوا کہ من قبلہ محل ظرف میں واقع ہے اور ظرفوں کیلئے ضروری ہے کہ کسی فعل کے متعلق ہوں لہٰذا من قبلہ خلت کے متعلق ہے۔

تحقیق الف و لام الرسل

اوپر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ من قبلہ نہ تو صفت الرسل ہے اور نہ ہی اس کا حال ہے بلکہ فعل خلت کے متعلق ہے۔ پس یہ ترکیب اس الف و لام کے استغراقی نہ ہونے کیلئے کافی حجت ہے۔ کیونکہ مرزائیوں کی رائے کے مطابق آیت من قبلہ الرسل کے یہ معنی ہوئے کہ

صفحہ 5

تمام رسول جو صفت رسالت سے موصوف تھے وہ محمد ﷺ سے پیشتر فوت ہو چکے ہیں اور یہ معنی بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ اس آیت کے پہلے فقرے یعنی ما محمد الا رسول الخ سے ثابت ہے کہ محمد ﷺ رسول ہیں اور فقرے قد خلت من قبلہ الرسل سے بوقت استغراق مراد لینے کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نعوذ باللہ من ذالک رسول نہیں وهل هذا الا تناقض فی القرآن وهو بدیہی البطلان پس ثابت ہوا کہ من قبلہ اس بات کا قرینہ قطعیہ ہے کہ الرسل میں الف لام استغراقی نہیں بلکہ جنس کے لئے ہے جو لابشرط شیئی کے مرتبہ میں ملحوظ ہوتی ہے۔ نہ بشرط لا کے مرتبہ میں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس معنی سے قرآن شریف کی آیت میں تعارض واقع ہو خصوصاً کسی نبی برحق کی رسالت کا انکار لازم آتا ہو تو وہ معنی بالکل باطل ہیں۔

دیکھئے آیت ما المسیح ابن مریم الا رسول ج قد خلت من قبلہ الرسل میں بھی الرسل معرف الف و لام ہے اگر اس کو استغراقی قرار دیں گے تو لازم آئے گا کہ آنحضرت ﷺ بوقت نزول آیت مذکورہ فوت ہو گئے ہیں۔ اور یہ صریح باطل ہے یا معاذ اللہ انکار نبوت محمدی و عیسوی لازم آئے گا کیونکہ ما المسیح ابن مریم الا رسول سے نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہو رہی ہے۔ اور قد خلت من قبلہ الرسل جبکہ الف لام الرسل کا استغراقی قرار دیا جائے۔ عدم نبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہو رہی ہے۔

کیونکہ اس کے معنی پھر یہ ہوں گے کہ سب پیغمبر جو صفت رسالت و نبوت سے موصوف تھے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پیشتر فوت ہو چکے ہیں۔ لہٰذا یہ نبی نہیں اور یہ صریح تناقض ہے اور آنحضرتؐ کا انکار نبوت یوں لازم آئے گا کہ جب یہ معنی کیے کہ سب رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیشتر فوت ہو گئے ہیں تو آنحضرت ﷺ کا قبل از مسیح وفات پانا لازم آئے گا۔ حالانکہ آپ ﷺ بعد از مسیح مبعوث بر رسالت ہوئے ہیں۔ اور بوقت نزول آیت مذکورہ زندہ تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ الف لام جب جمع کے صیغہ پر آتا ہے تو فائدہ

صفحہ 6

استغراق کا دیتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ نہیں کیونکہ دیکھئے آیت و لقد اتینا موسیٰ الکتاب و قفینا من بعدہ بالرسل میں لفظ الرسل بصیغہ جمع معرف باللام ہے۔ لیکن یہاں استغراق افراد قطعا باطل ہے کیونکہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی اور اس کے پیچھے اس کے آئین پر کئی رسول بھیجے نہ یہ کہ سب رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھیجے گئے کیونکہ یہ معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے پہلے رسول نہیں ہیں بلکہ کئی رسول آپ سے پہلے ہوئے اور کئی رسول آپ کے بعد پس اسی طرح آیت مذکورہ میں بھی الرسل سے مراد کئی رسول ہیں نہ کہ سارے رسول اسی طرح قرآن مجید میں کئی مقامات پر جمع کا لفظ الف لام کے ساتھ آیا ہے اور وہاں استغراق افراد مراد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے۔ جیسے اذ جاء تہم الرسل (حم سجدہ) قد خلت من قبلہم المثلت و واقعات عذاب (رعد) اور ان الذین یکفرون بآیات اللہ و یقتلون النبین بغیر حق (آل عمران) و اذ قالت الملئکۃ یمریم ان اللہ یبشرک۔ اور واذ قالت الملئکۃ یمریم ان اللہ اصطفک (آل عمران) فسجدوا الملئکۃ کلہم اجمعون

تحقیق آیت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ بطرز عقلی

امور تنقیح طلب یعنی اعتراضات

پہلا اعتراض : خلت بمعنی موت ہے۔

جواب : یہ دونوں مقدمے جو کبریٰ کے لئے بنائے ہیں مسلم نہیں اور عدم صحت تفریع کا استحالہ اس صورت میں کہ دونوں مقدمہ یا ایک نہ پایا جائے نیز مسلم نہیں۔ کیونکہ یہ استحالہ بہر حال لازم آئیگا۔ خواہ وہ دونوں مقدمہ مان لئے جائیں یا نہ۔ کیونکہ کتب لغت میں خلو کے معنی گزرنا ہے نہ کہ موت اور گزرنا اور جانا ہر ایک قسم کے انتقال مکانی پر صادق آتا ہے۔ اگر بلندی سے پستی کی جانب انتقال ہو تو اس گزرنے کو خفض۔ اور پستی سے بلندی کی طرف

صفحہ 7

انتقال ہو تو اس گزرنے کو رفع کہتے ہیں۔ ایسے ہی اگر قدام سے خلف کی جانب یا برعکس اس کے ہوا سے بھی گزرنا کہتے ہیں اور موت کے ہر قسم کو خواہ جرح سے ہو یا بلا جرح گزرنا سب کو شامل ہے۔ لہذا خلو کے معنی گزرنا یہ عام معنی ہیں اور موت کے ساتھ اس کی تفسیر کرنی یہ بعینہ اخص کے ساتھ تفسیر کرنی ہے کیونکہ خلو موت کی ایک قسم ہے۔ کما مر۔ اور اگر ہم الرسل کے معنی جمع مستغراق ہونے کو مان بھی لیں تو بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا فوت ہو جانا لازم نہیں آتا کیونکہ خلو بمعنی گزرنا ایک عام چیز ہے گو نوع رسول کے ہر فرد کو ثابت ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس امر عام کا ہر ہر قسم بھی نوع رسول کے ہر ہر فرد کو ثابت ہو۔

دوسرا اعتراض : الرسل معرف بالف لام استغراقی ہے (ازالہ اوہام حصہ دوم ص

۴۲۵ ربوہ ص ۸۹۵ قادیان۔ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۴۲۵)۔

جواب : یہ کہنا کہ جمع جو معرف بلام ہو وہ تمام افراد کو شامل ہوتا ہے۔ مسلم نہیں۔ کما مر تحقیقہ دیکھئے آیت فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون میں لفظ الملئکہ جمع بھی ہے اور معرف بلام بھی ہے اگر اس الف لام کو استغراقی قرار دیا جائے تو پھر کلھم اور اجمعون کا ذکر بے فائدہ ہونا لازم آئے گا۔ حالانکہ استغراق کا فائدہ لفظ کل اور اجمعون نے ہی دیا ہے نہ الملئکہ نے ورنہ و قفینا من بعدہ بالرسل اور اذ جائتہم الرسل اور قد خلت من قبلہم المثلات اور یقتلون نبین بغیر حق اور واذقالت الملئکۃ میں بھی الف لام استغراقی ماننا پڑے گا جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

اور اگر مان لیں کہ آیت و ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کے ماسوا جتنے رسول تھے وہ سب فوت ہو گئے ہیں تو اس صورت میں آیت ما المسیح ابن مریم الا رسول (الخ) اس پر دلالت کرے گی کہ حضرت مسیح علیہ

صفحہ 8

السلام کے سوا جتنے رسول ہیں سب فوت ہو گئے ہیں اور یہ بات صریحاً غلط ہے مسلّم کہ ماسوا رسولوں میں آنحضرت ﷺ بھی داخل ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ آنحضرت ﷺ بھی اس آیت کے اترنے سے پہلے فوت ہو گئے ہیں اور یہ صریح جھوٹ ہے اس لئے کہ آیت آپ کی حیات طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔ لہذا الف لام استغراقی مراد لینا محال ہے اور جس چیز کے مان لینے سے محال لازم آئے اس کا ماننا بھی محال ہوتا ہے۔ اور نیز آیت ثانیہ ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات پر بوقت نزول آیت مذکورہ صریحاً دال ہے۔ کیوں کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہوتے تو پھر اللہ جل شانہ یوں فرماتے ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلا مع الرسل یا یوں فرماتے ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلا وقد خلت الرسل یا یوں فرماتے ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلا کما خلت الرسل یا فقط ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت الرسل پر ہی اکتفا فرماتے اور من قبلہ ساتھ نہ فرماتے لہذا معلوم ہوا کہ الف لام استغراقی نہیں بلکہ جنسی ہے۔

اور نیز حضرت مسیح علیہ السلام کی حیاتی اس آیت سے کچھ الف لام کو استغراقی مراد رکھنے پر ہی موقوف نہیں ہے تاکہ محذور مذکور یعنی رسول خدا کی وفات بوقت نزول آیت مذکورہ لازم نہ آئے۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیاتی الف لام کو جنسی قرار دے نے پر صریحاً ثابت ہے۔ جس کی توجیہ یوں ہو گی کہ جنس رسول خواہ کسی زمانہ میں اس کا وجود ہو قبل مسیح گزر چکا اور فوت ہو گیا اگرچہ مسیح ابھی تک نہیں فوت ہوئے لیکن وہ بھی اپنی جنس کی طرح فوت ہوں گے۔

تیسرا اعتراض : اگر خلت کو بمعنی موت نہ لیا جائے یا الرسل کو معرف بالف لام استغراقی نہ کہا جائے تو پھر فائن مات کا اس پر متفرع ہونا صحیح نہ ہو گا۔ کیونکہ اس تفریع کی

صفحہ 9

صحت آنحضرت ﷺ کے الرسل میں داخل ہونے پر موقوف ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کا لفظ الرسل میں داخل ہونا تب ہی درست ہوگا۔ جبکہ الرسل کا الف لام لام استغراقی ہو اور ایسے ہی اس تفریع کی صحت اس پر بھی موقوف ہے کہ خلو بمعنی موت ہو کیونکہ موت اور خلو کے درمیان غیریت سمجھیں یعنی خلو کو موت سے عام لیں تو پھر خاص کی تفریع عام پر لازم آئے گی اور یہ باطل ہے۔ کیونکہ تفریع تب ہی درست ہوتی ہے کہ جب متفرع علیہ کو متفرع لازم ہو لاغیر اور یہ ظاہر ہے کہ خاص عام کو لازم نہیں ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ فائن مات کی تفریع دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایک خلو کا بمعنی موت ہونا اور دوسرا الرسل کا معرف لام استغراق ہونا۔

جواب : مرزائی جو کہتے ہیں کہ اگر خلو کے معنی موت نہ کئے جائیں تو اخص کی تفریع اعم پر لازم آئے گی تو یہ قاعدہ بھی مردود ہے کیونکہ دراصل آیت مذکورہ میں متفرع بر تقدیر نہ موجود ہونے آنحضرت ﷺ کے درمیان قوم کے بعد ادائے رسالت انقلاب کالبعید سمجھنا اور ارتداد کے جواز کا انکار ہے۔ پس تقدیر کلام یوں ہوگی۔

”وما محمد الا رسول قد خلت ای مضت من قبله الرسل ط فهل یجوز لکم الارتداد بعد ما اقام لکم الدین المتین واظهر بینکم الشرع المبین ان نقل بالرفع کما رفع عیسٰی او بالموت کما حکمنا به فی سابق علمنا او بالقتل کما صاح به الشیطن و استقر فی قلوبکم ۔“

ہاں یہ بات ضروری البیان ہے کہ آیت مبارکہ میں موت اور قتل کا صریح ذکر کیا گیا ہے نہ رفع کا سو واضح ہو کہ موت کی تصریح کی وجہ یہ ہے کہ وہی آپ کے حق میں مقدر اور واقع کے مطابق تھی۔ اور قتل کی تصریح صرف ان کے زعم فاسدہ کی رعایت سے ہے تاکہ وہ ہر دو تقدیر (موت اور قتل) پر سمجھ جائیں کہ دین سے پھر جانا نا جائز ہے۔ آپ کا مقتول ہونا ان کا زعم ہی زعم تھا لیکن چونکہ انبیاء سابقین بہت سے مقتول

صفحہ 10

ہوچکے تھے جیسا کہ رب العزت فرماتے ہیں کہ و يقتلون النبين بغير حق تو رسول کریم ﷺ کے حق میں بھی یہ گمان قوت پکڑ گیا تھا اس واسطے آیت مذکورہ میں قتل کا ذکر کرنا ضروری تھا باقی رہا رفع کا ذکر باوجود یہ کہ عبارت میں مقصود ہے کیوں نہ ہوا۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔

موت، قتل، رفع جواز الارتداد کا انکار ہی متفرع ہے۔ لاغیر اس میں شک نہیں ہے کہ انتقال جو تینوں میں دائر ہے خلو کے ساتھ (جبکہ اس کا معنیٰ گزرنا ہو) مساوی ہے۔ اسلئے اب استحالہ لازم نہیں آیا کیونکہ اس صورت میں ایک مساوی کی دوسرے مساوی پر تفریع ہو گی۔ اور یہ جائز ہے۔ نہ اخص کی تفریع عام پر جو ناجائز ہے۔

دیکھو کہتے ہیں رأیت زیداً انه جسم نام حساس متحرك بالارادة مدرك للكلى والجزئى۔ پس اس مفصل پر تقریباً کہہ سکتے ہیں کہ انہ انسان کیونکہ یہ مجمل ہے اور یہ دونوں مساوی ہیں اسی طرح آیت مذکورہ میں ہر رسول کا گزرنا اور ہر تقدیر پر خواہ موت ہو یا قتل یا رفع جواز الارتداد کی نفی متفرع اور متفرع علیہ ہے۔ کیونکہ نسبتوں کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ دونوں وجودی ہوں یا دونوں عدمی یا ایک وجودی اور دوسرا عدمی اور یہ ضروری نہیں کہ وہ دونوں فقط وجودی ہوں یا عدمی باقی رہی بات کہ ارتداد کی نفی خلو بمعنى گزرنے کو کس طرح پر لازم ہے تو اس پر یہ دلیل ہے کہ اللہ جل شانہ نے پیغمبروں کو صرف اس واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ تا مطلقاً شریعت کو بیان کریں اور اس طریقہ کو جو اللہ تعالیٰ تک

صفحہ 11

پہنچانے والے معین کر دیں۔ اس واسطے مبعوث نہیں فرمایا کہ وہ اسی زمانہ تک شریعت کو ظاہر کریں کہ جب تک کہ وہ قوم کے درمیان موجود رہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ کوئی زمانہ بھی رسول سے خالی نہ ہو۔ اور یہ بالاتفاق باطل ہے۔ اس واسطے واضح ہو گیا کہ اخص کی تفریع عام پر (گو خلو سے گزرنا ہی مراد ہو) لازم نہیں آتی۔

ہاں یہ جو حضرت صدیق اکبرؓ نے آنحضرت محمد ﷺ کی وفات حسرت آیات پر آیت مذکورہ کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ انہوں نے تو لفظ خلت (گزرنے اور گئے) سے مدعا ثابت نہیں کیا بلکہ افائن مات سے استدلال کیا ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے بعد وفات حضرت محمد ﷺ فرمایا تھا کہ آپ ﷺ نہیں مرے اور نہ مریں گے اور یہ اس خیال سے فرمایا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کی موت جائز نہیں اور غیر ممکن ہے اس واسطے حضرت صدیق اکبرؓ نے آپ ﷺ کے اس خیال کو اٹھانے کے لئے اس آیت مبارکہ کو پڑھ کر افائن مات سے استدلال فرمایا کیونکہ اصل مدخول ان کا وہ ہوتا ہے کہ جس کا پایا جانا واقع میں مذکور ممکن اور جائز ہو لا غیر۔

چنانچہ یہ بات ان لوگوں پر واضح ہے جو بحث معانی حروف پر آگاہ ہیں۔ پس جبکہ رسول اکرم ﷺ کے واسطے موت کا ہونا ممکن اور جائز ہو تو حضرت فاروق اعظمؓ کا خیال جو اس کے ناممکن ہونے پر جما ہوا تھا بالکل اٹھ گیا۔ یہاں حضرت صدیق اکبرؓ نے افائن مات سے استدلال فرمایا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہے کہ اس موقع پر حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ آیت مبارکہ انك ميت و انهم ميتون بھی تلاوت کی تھی۔ اور اگر الف لام استغراقی نہ مانا جائے تب بھی تفریع مذکور جائز ہے۔ کیونکہ آیت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ صرف خدا کے مقرب بندے اور سچے رسول ہیں۔ اس سے پہلے پیغمبروں کی جنس گزری اور گئی اور یہ ظاہر بات ہے کہ جو چیز (مثلاً موت) جنس کے بعض افراد کو باعتبار ذات ثابت ہو اس کا باقی افراد کو بھی ثابت ہونا جائز ہے۔

صفحہ 12

پس جیسا کہ اس چیز کا ثبوت بعض افراد کیلئے ملزوم الامکان ہے ویسے ہی باقی افراد کیلئے بھی ملزوم الامکان ہے۔

اور اگر ہم دونوں مقدموں کو یعنی الف لام کا استغراقی ہونا اور خلو کا بمعنی موت ہونا مان بھی لیں تو پھر بھی تفریع کی عدم صحت کا الزام دور نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ دونوں مقدموں کے تسلیم نہ کرنے کی تقدیر پر دور نہیں ہوتا کیونکہ الرسل کا لفظ گو ہم کو جمع مستغرق اور خلو کو بمعنی موت ہی لیں تو بھی ہمارے سردار محمد ﷺ کو شامل نہیں ہو گا کیونکہ اس کلام ربانی قد خلت من قبلہ میں آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کا خلو بیان کیا گیا ہے ۔ اور یہ بدیہی امر ہے کہ ان کا خلو آپ ﷺ سے پہلے یہی معنی ہے کہ وہ آپ ﷺ پر وصف خلو میں سبقت لے گئے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے وصف میں متاخر ہیں ظاہر ہے کہ ان کی پیش دستی اور آپ ﷺ کا متاخر یہ دونوں زمانی ہیں۔ اس میں متقدم اور متاخر اکٹھے موصوف نہیں ہوتے اس لئے لازم ہوا کہ جس زمانہ میں اور رسول علیہ السلام وصف خلو کے ساتھ موصوف ہوتے تھے۔ اس وقت میں رسول کریم ﷺ اس وصف کے ساتھ موصوف نہ تھے ۔

وجہ یہ ہے کہ اگر ہم مان لیں کہ رسول اکرم ﷺ بھی ان پیغمبروں کے ساتھ ہی خلو سے موصوف ہو چکے تھے تو بریں تقدیر لازم آئے گا آیت میں ایک چیز کے اپنے آپ پر مقدم ہونے کی خبر دی گئی ہو۔ اور یہ باطل ہے۔ البتہ جب یہ اعتقاد کر لیں کہ جس زمانہ میں اور پیغمبروں کو خلو عارض ہوا تب جناب رسالت مآب ﷺ کو یہ وصف لاحق نہ ہوا۔ تو پھر بلا شبہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے لئے خلو اور گزرنا ممکن تھا۔ جیسا کہ اور انبیاء گزرے اور گئے بنا براں کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہوا کہ رسول اکرم ﷺ اس زمانے میں کہ دوسرے انبیا اس میں وصف خلو سے موصوف ہو گئے تھے۔ خلو کے ساتھ موصوف نہ ہوئے تھے تو پھر یہ ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ رسل ماضیہ میں اس سبب سے کہ وہ اس وصف سے خالی تھے داخل نہیں ہوئے۔ پس جس حالت میں یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ انبیاء سابقین میں

صفحہ 13

یہ جہان میں داخل ہی نہیں ہوئے ہیں پھر کیونکر خلو کا حکم جو ان پر لگایا گیا ہے آنحضرت ﷺ کی طرف منتقل ہو گا۔

آخر تو یہ صریح القشم بات ہے کہ انتقال موقوف اور داخل ہونا موقوف علیہ ہے۔ پس جہاں پر موقوف علیہ ہی نہیں پایا گیا۔ موقوف کیسے پایا جائے گا۔ لہٰذا قادیانیوں مرزائیوں کا خلو کا صرف موت ہی میں مستعمل سمجھنا اور الرسل کو جمع مستغرق ٹھہرانا بالکل نافع نہیں ہے

كيف والتمسك بالحشيش لا ينفع الغريق ـ

اب قادیانی مرزائی اس الزام کے دفعیہ میں جو پیش کریں گے وہی ہماری طرف سے بھی حاضر ہے مگر مع ھذا ہمارا پلہ بھاری ہے۔ کیونکہ ہم تو ماسوا اس کے بھی جواب دے چکے ہیں کما مر۔ شاید قادیانی ہمارے ہی جواب کو اپنی طرف سے جواب سمجھ بیٹھیں۔ لیکن یہ ان کے لئے نافع نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا جواب ایسی چیزوں پر دلالت کرتا ہے کہ جو مرزائیوں قادیانیوں کے مدعا اور نقیض کو شامل ہے۔ کیا دیکھتے نہیں کہ کسی چیز کا امکان جیسا کہ اس چیز کے وجود کو مقارن ہے ویسے ہی اس کے عدم کو مقارن ہے اور یہ بدیہی ہے کہ مدعا اور غیر مدعا جو ثابت ہو اس کا پایا جانا گو مانع اور تسلیم نہ کرنے والے سائل کو نافع ہو مگر دلیل پیش کرنے والے کو ہر گز نافع نہیں ہے۔ یہ قاعدہ بالکل ظاہر اور مسلمات سے ہے۔ گو قادیانیوں اور مرزائیوں پر بوجہ ان کی کم علمی کے پوشیدہ ہو۔

چوتھا اعتراض : ان ہر دو مقدمتین (خلو کا بمعنی موت اور الرسل کا معرف

بالف لام استغراق ہونا) میں سے ایک کو شکل اول کا صغریٰ اور دوسرے کو کبریٰ بنائیں گے تو شکل یہ ہے۔

صغریٰ کبریٰ ان المسیح رسول وکل رسول مات

صفحہ 14

نتیجہ

تو اس قیاس سے یہ نتیجہ برآمد ہوگا ان المسیح مات اور یہی مطلوب ہے۔ اور صغریٰ کی دلیل و رسولاً الی بنی اسرائیل اور و ما المسیح ابن مریم الا رسول ہے اور کبریٰ کی دلیل وہ دو مقدمے ہیں کہ جن کا ذکر ہو چکا۔ یعنی خلو کا بمعنی موت ہونا اور الرسل کا معرف بالف لام استغراق ہونا کیونکہ جب خلو بمعنی موت ہو اور اس کی نسبت الرسل کی جانب کی گئی اور الرسل کا معرف بالف لام استغراق ہونا ثابت ہوا تو حضرت مسیح علیہ السلام کا الرسل میں داخل ہونا یقیناً سمجھنا پڑے گا۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام کی موت کا کبریٰ کے ضمن میں ثابت ہونا لازم آئے گا۔

جواب : جب آپ یہ سمجھ چکے کہ الرسل کا الف لام استغراقی نہیں تو پھر شکل مذکورہ کے کبریٰ کی کلیت بھی غیر مسلّم ٹھہری پس یہ نتیجہ کہ ان المیسح مات اس سے حاصل نہ ہوگا کیونکہ شکل اول میں کبریٰ کی کلیت شرط ہے جب شرط یعنی کلیت جاتی رہی لہٰذا نتیجہ جو مشروط ہے وہ بھی جاتا رہا۔ اور حقیقت قد خلت من قبلہ الرسل قضیہ مہملہ ہے (قضیہ مہملہ وہ قضیہ ہے کہ جس میں افراد کی مقدار بیان نہ کی گئی ہو یعنی اس میں نہ یہ حکم ہو تمام افراد پر ہے اور نہ یوں حکم ہو کہ یہ حکم بعض افراد پر ہے جیسے کہ قد خلت من قبلہ الرسل میں نہ تو تمام افراد رسول اور نہ بعض افراد رسول پر حکم لگایا گیا ہے) اور یہ بمنزلہ جزئیہ ہے لہٰذا یہ شکل اول کا کبریٰ نہیں بن سکتا کیونکہ اس میں کبریٰ کی کلیت شرط ہے لیکن اس مہملہ کو ممکنہ کلیہ لازم ہے وہ شکل اول کا کبریٰ بن سکتا ہے۔ جیسا کہ کہیں کہ ان المیسح رسول و جنس الرسل قد خلا بالفعل والاطلاق پھر ممکنہ کلیہ کو جو اس مہملہ کو لازم ہے بجائے اس کبریٰ کے رکھیں گے۔ اور صغریٰ مذکور سے منضم کریں گے تب نتیجہ صحیح نکل آئیگا اور شکل بھی صحیح ہو جائے گی

صفحہ 15

ان المسیح رسول و کل رسول فان ومیت بالامکان پس نتیجہ یہ نکل آئیگا کہ ان المسیح میت بالامکان پس اس صورت میں ایک تو تفریع درست ہوئی اور نہ کوئی محال عقلی اور شرعی عائد ہوا دیکھئے صرف ایک ہی مقدمہ کے تسلیم نہ کرنے کی حالت میں یہ کیفیت ہوئی تو پھر جس حالت میں دونوں مقدموں کو تسلیم نہ کریں گے تو قادیانی کے مدعا کا کہاں ٹھکانہ ہے۔

جنگ احد میں آنحضرت محمد ﷺ کی نسبت یہ غلط خبر اڑائی گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو بعض لوگوں نے نبوت اور موت میں منافات سمجھی اور ارتداد کا راستہ اختیار کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کو باطل ثابت کرنے کیلئے یہ آیت نازل فرمائی اور ظاہر فرمادیا کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں کیونکہ جس طرح بعض دیگر رسولوں کے حق میں ان کے فوت ہو جانے سے ان کی نبوت میں کوئی قدح واقع نہیں ہوتی اسی طرح اگر آنحضرت ﷺ بھی طبعی موت سے فوت ہو جائیں یا میدان جنگ میں شہید ہو جائیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ آپ ﷺ نبی برحق نہیں پس چونکہ اس آیت مبارکہ سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ نبوت اور موت میں منافات نہیں ہے اس لئے استغراق افراد یعنی سب رسولوں کو فوت شدہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں صرف ایک رسول یا چند رسولوں کی موت کے ذکر سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے۔ پس الف لام الرسل استغراقی نہ ہوا بلکہ اسکے معنی یہ ہوئے کہ آپ سے پہلے کئی رسول ہو چکے ہیں لہذا الف لام جنسی ہوا نہ کہ استغراقی اور الف لام عہدی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ان رسولوں کا ذکر نہیں اور مشککین کا یہ قول کہ کوئی نبی فوت نہیں ہو سکتا سالبہ کلیہ ہے اور خدا تعالیٰ کو اس کی تردید منظور ہے اور یہ بات عام معلوم ہو کہ سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے۔ نہ کہ موجبہ کلیہ۔ کیونکہ منافات ہونے کی صورت میں سلب کلی ضروری ہے۔ اور جب معلوم ہو چکا کہ بعض فوت ہو چکے ہیں کلیت ٹوٹ گئی اور منافات کا دعویٰ باطل ہو گیا جو کہ سلب کلی تھا اور سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ

صفحہ 16

ہونے کے یہی معنی ہیں۔ فافہم ولا تکن من القاصرین ! استاذ ابراہیم کی علمی عظمت (سلام)

دوسری دلیل

واذ قال الله یا عیسی ابن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الہین من دون الله ط قال سبحنک ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق ط ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک ط انک انت علام الغیوب ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا الله ربی وربکم و کنتُ علیہم شہید اما دمت فیہم فلما تو فیتنی کنت انت الرقیب علیہم و انت علی کل شئی شہید ط آیت اَأَنْتَ قُلْتَ للناس اتخذونی و امی الہین من دون الله ـ

اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے نہ تو علم وعدم علم سے سوال ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام! تجھے عیسائیوں کی گمراہی کا علم ہے کہ نہیں اور نہ تعین وقت سے سوال ہے کہ اے عیسیٰ! یہ عیسائی کب بگڑے اور گمراہ ہوئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جواب مشکل ہو جاتا اور اگر علم یا عدم علم سے سوال ہوتا تو علاوہ غیر مفید ہونے کے مفید تبکیت بھی نہ ہوتا۔

لہٰذا سوال فقط قول کا ہے کہ اے عیسیٰ تو نے عیسائیوں سے یہ بات کہی تھی کہ نہیں اور اس سوال کے ہونے کی وجہ یہ ہے تاکہ عیسائیوں کے لئے تبکیت اور حضرت عیسیٰ کے لئے تبرئہ ہو جائے یہ بھی واضح رہے کہ یہاں سوال فاعل سے ہے نہ نفس فعل سے جیسا کہ تقدیم مسندالیہ سے مع تقریر حرف استفہام مستفاد ہوتا ہے۔ لہٰذا وقوع فعل سے بھی سوال نہیں بلکہ اصل سوال فاعل سے ہے ۔

اب آیت مذکورہ کے جمیع اجزاء پر غور کیجئے کہ کس جز سے اصل سوال کا جواب نکلتا ہے اور کونسا جز جواب سے فاضل اور زائد ہے۔

صفحہ 17

بعد غور یہ امر واضح ہوا کہ چونکہ مقام محاسن تعبیر اور رعایت آداب کا ہے۔ لہٰذا سب سے اول مسیح علیہ السلام اپنے جواب کو با تسبیح کرتے ہیں تاکہ اول شئی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے جواب میں ہو وہ خداوند عالم جل شانہ کی ایسی ناپاک خیال سے پاکیزگی اور طہارت ہو۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ سبحانك پھر دوسرے مرتبہ میں خود اپنا بھی ایسے افعال سے بیزار ہونا بتلایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ط ان کنت قلته فقد علمته تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک انک انت علام الغیوب ط

لیکن اب تک اصل جواب نہیں دیا اگرچہ اظہار ناراضگی اور بیزاری سے جواب مفہوم ہو جاتا ہے۔ مگر صراحتاً جواب نہیں کیونکہ انت قلت کا جواب قلت یا ما قلت ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ اہل عرف و محاورہ شاہد ہیں۔ اصل جواب کو تیسرے مرتبہ میں رکھ فرماتے ہیں۔ ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم اور یہ صریح جواب ہے کہ سوال ایزدی کا جس کو تیسرے مرتبہ میں رکھا ہے تاکہ خدائے تقدیس اور اپنے اظہار بیزاری اور عدم استحقاق کے بعد جواب اور زیادہ موثر ہو اور غایت ادب بھی ملحوظ رہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ ملائکہ نے کہا تھا۔ سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا ۔

چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ کا یہ جواب بحیثیت مدعی علیہ ہونے کے ہے۔ لہٰذا جو امر کہ بحیثیت شہید ہونے کے ان پر ضرور تھا۔ اس کو بھی مقرون بالجواب کر دیا تاکہ اپنا تبریہ مکمل ہو جائے۔ کیونکہ جو شخص خدا کی طرف سے احوال امت پر شہید اور گواہ مقرر کیا گیا ہے اس پر ضروری ہے کہ وہ خود امت کے زشت اور قبیح افعال میں شرکت نہ کرے کیونکہ جو خدا کا گواہ ہو گا وہ خود بالعکس خدا کی مخالفت کیسے کر سکتا ہے لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ جب تک میں ان میں تھا اس وقت تک تیرا شہید اور تیری طرف سے ان کے افعال پر گواہ تھا۔ لہٰذا میں ایسی بات کیونکہ کہہ سکتا تھا۔ رہا بعد کا معاملہ سو وہ میری شہادت سے باہر ہے اس کا مطلب

صفحہ 18

نہیں کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنانا میری توفی کے بعد ہوا ہے مجھے اسکی معلومات نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جب تک میں ان میں تھا میں نے ان کو یہ نہیں کہا کیونکہ میں ان میں شہید تھا۔ اور جب تو نے میری توفی کی۔ تو اس کے بعد جو معاملہ ہوا وہ میری شہادت سے خارج اور باہر ہے۔

اب اس تقدیر پر یہ ممکن ہے۔ کہ معاملہ وفات سے سابق ہی ہوا ہو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت میں داخل بھی ہو۔

کیونکہ آیت سے کسی طرح یہ نہیں نکلتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت حق نصاریٰ اسی بات پر تھی کہ وہ نہیں بگڑے دیکھئے آیت فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علی ھؤلاء شھیداً سے یہ بات صریحاً معلوم ہوتی ہے کہ خداوند تعالیٰ نے ہر امت کے لئے ایک شہید ہونا ضروری رکھا ہے اور وہ ہر امت کا نبی ہے جس سے اپنی اپنی امت پر شہادت لی جائے گی کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی حیثیت منجملہ اور حیثیات کے ایک یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ وہ بمنزلہ سرکاری گواہ کے ہوتے ہیں علیٰ ہٰذا نبی کا اپنی امت پر گواہ ہونے کا یہ مطلب ہو کہ وہ امت اسکے زمانہ میں نہیں بگڑی بلکہ بعد میں بگڑی ہے تو پھر ان نبیوں کے حق میں کیا کہو گے جن پر ایک بھی ایمان نہیں لایا۔ اگر بعض لائے اور بعض مرتد ہوئے تو کیا ایسے بعض مرتدین یا کفار جو اس نبی کے زمانہ میں موجود ہوں اس کی شہادت سے خارج ہوں گے یا العیاذ باللہ انبیاء علیہم السلام ان کے حق میں بھی یہی کہیں گے کہ وہ لوگ ہماری حیات میں گمراہ نہیں ہوئے لہٰذا یہ بڑی کج فہمی اور نا سمجھی کی بات ہے کہ شہادت کو مقصور علی الخیر کر دینا بلکہ شہادت جیسا کہ لغۃ و عرفاً (اصطلاحاً) عام ہے خواہ خیر پر ہو یا شر پر اسی طرح اس کو یہاں بھی عام ہی رکھنا چاہیئے۔ دیکھئے اسی آیت کے اخیر و انت علیٰ کل شئی شہید ہے کیا اسکا مطلب بھی یہ ہے کہ وہ خدا کی شہادت تک نہیں بگڑے۔ اس بنا پر تو سارے عالم کو صالح اور مومن کہنا پڑے گا۔ کیونکہ سارا عالم خدا کی زیر نگرانی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

صفحہ 19

لہذا یہ امر سوچنے کے لائق تھا کہ ذکر شہادت سے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا غرض ہے اور اپنی امت کے مشرکانہ افعال کی تخصیص اور تقریر سے کیا فائدہ متعلق ہے ہمارے مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو چکا ہے کہ اگر شہادت سے کوئی اور غرض نہ بھی ہو تب بھی شہادت فی نفسہ خود ایسی شئی ہے کہ جس کا ادا کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ آیت بالا سے معلوم ہو چکا ہے کہ ادائے شہادت فقط حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا فعل مخصوص نہیں بلکہ جمیع انبیا علیہم السلام سے اپنی اپنی امتوں کے حق میں شہادت لی جائے گی۔

اور لیجئے بخاری شریف جلد دوم ص ۷۰ او ص ۱۵۶ او جلد سوم ص ۹۰ ، ۱۱۳ کی وہ حدیث جس کو مرزائی قادیانی نے اپنے موافق مطلب سمجھ کر ازالہ اوہام جلد دوم کے ص ۸۹۹ روحانی خزائن ص ۵۸۵ جلد ۳ میں پیش کیا ہے اور اس سے وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر استدلال کیا ہے اور وہ روایت یہ ہے۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنهما قال قال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم تحشرون حفاة عراة غرلا ثم قرا كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين فاول من یکسی ابراهیم ثم يوخذ برجال من اصحابی ذات اليمين و ذات الشمال فاقول اصحابی فيقال انهم لا يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم فاقول كما قال العبد الصالح عيسى ابن مريم و كنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنی كنت انت الرقيب عليهم و انت على كل شى شهيد ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحکیم ۔ تو ذرا غور فرمائیے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جمیع کلمات سبحانك ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق ان كنت قلته فقد علمته ط تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسك انك انت علام الغيوب ما قلت لهم الا ما امرتنی به ان اعبدوا الله ربي و ربكم و كنت عليهم

صفحہ 20

شہیدا مادمت فی ہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم و انت علی کل شئی شہید الخ میں سے فقط اسی کو کیوں مخصوص کیا ہے اور بجائے و کنت علیہم شہیدا الخ۔

فاقول کما قال العبد الصالح سبحانك ما يكون لى ان اقول ما لیس لى بحق الخ ۔ کیوں نہ فرمایا اگر کچھ انصاف ہے تو سمجھو کہ یہ اسی وجہ سے ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور اجزاء مخصوص سوال ایزدی کے جواب میں ہی وارد تھے۔ لہٰذا ان کو آپ کیسے نقل فرما سکتے تھے جبکہ وہ سوال ہی آپ سے نہیں ہوا اس لئے آپ نے اس جز کو لے لیا جس میں سارے انبیا علیہم السلام شریک ہیں یعنی شہادت۔

لہٰذا حدیث نے نص کردی اس بات پر کہ و کنت علیہم شہیدا الخ ء انت قلت کا جواب نہیں بلکہ وہ امر ہے جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں اور سب پر ضروری ہے۔ ورنہ اگر اس کو ء انت قلت کا جواب قرار دیا جائے تو پھر بتلائیے کہ کیا یہی سوال حضرت نبی کریم ﷺ سے بھی ہوا تھا۔ اگر نہیں

صفحہ 21

ہوا تو اس کا جواب کیسا اس مقام پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ مقولہ کس وقت کا ہے تو ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف اسی حدیث شریف میں موجود ہے فاقول اصیحابی اصیحابی فیقال لی انک لا تدری ما احدثوا بعدک پس خود سیاق ہی میں نبی کریم ﷺ کا اس واقعہ سے عالم نہ ہونا اور آپ ﷺ کے اصحاب کا بعد میں بگڑنا موجود تھا تو پھر آنحضرت ﷺ نے و کنت علیہم شہیدا الخ سے علیٰ تفسیر المرزا کونسی نئی بات ذکر فرمائی حالانکہ بزعم مرزا جی جس بات کو آنحضرت ﷺ و کنت علیہم شہیدا الخ سے پیش کرنا چاہتے تھے وہ تو ان کے فرمانے سے پہلے ہی ان کے سامنے پیش کی جاچکی تھی اب کیا اس بات کو مکرر کرنا تھا۔

دوم : یہ کہ کیا نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم نہیں؟ کیا آپ ہی نے قیامت تک کے امت کے سارے احوال نہیں بیان کر دیئے؟ اور کیا قرب قیامت میں جو امت کا حال ہوگا وہ احادیث میں موجود نہیں؟

اگر یہ ساری باتیں موجود ہیں تو بروز حشر و کنت علیہم شہیدا الخ سے کیونکر نفی علم فرمائی گئی جب کہ دنیا میں ہی آپ کو امت کا مجموعی حال معلوم ہو چکا تھا۔ رھا انک لا تدری بحق جماعت مخصوصہ ہے نہ بحق امت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بحق امت ہے۔ اسلئے وہاں لفظ انت قلت للناس کا ہے۔ لہذا اس حدیث نے بالکل فیصلہ کر دیا کہ یہ آیت کس طرح جواب سوال نہیں کیونکہ اس آیت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے حق میں سفارش آمیز کلمات بھی فرماتے ہیں۔

ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفر لہم فانک انت العزیز الحکیم ط

اب ظاہر ہے کہ جملہ جواب سوال نہیں حالانکہ سیاق واحد ہی ہے۔ البتہ مقولہ ضرور ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جمیع مقولات کو جواب ہی بنا ڈالنا سخت نادانی ہے

صفحہ 22

تیسرا یہ کہ اگر آیت فلما توفیتنی کے وہ معنی بیان کئے جائیں تو پھر ذکر اشراک امت بعد مفارقت قطعاً خلاف مقتضی الحال ہے۔

چوتھا یہ کہ اگر فلما توفیتنی کو جواب ء انت قلت الخ کا جواب ہی بنایا جائے اور اس کے معنی موت کے کئے جائیں تو پھر آیت کا مطلب ہی درست نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ پھر عند الجواب موت کا ذکر کرنا ایک لغو امر ٹھہرے گا۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی ہی پر فوت ہو گئے تھے والعیاذ باللہ۔ جو عند الجواب موت کا ذکر کیا گیا یا سولی سے نجات پا کر بزعم مرزا قادیانی ستاسی سال کشمیر میں بھی زندہ رہے ہیں پس اگر سولی کے واقعہ کے بعد ستاسی سال اور بھی زندہ رہے ہیں تو پھر اہل شام کے انقطاع خبر کا ذریعہ موت کیوں بتلایا جاتا ہے حالانکہ ان کی خبر تو ہجرت الیٰ کشمیر سے ہی منقطع ہو چکی تھی اور موت تو ستاسی سال بعد ہوئی ہے لہٰذا جو انقطاع خبر کا اصل وقت اور سبب تھا اس کو تو ذکر نہ کرنا اور جو امر کہ ستاسی سال بعد واقع ہوا ہے اس کا تذکرہ کرنا کس قدر لغو ہے۔ لہٰذا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو! اسکے جواب میں مرزائی خیال کے موافق یہ جواب ہونا چاہئے کہ اے اللہ جب تک میں ان میں تھا ان کا محافظ اور نگہبان تھا اور جب تو نے مجھے کشمیر روانہ کر دیا پھر مجھے خبر نہیں کہ کیا ہوا کیونکہ دراصل انقطاع خبر زمانہ ہجرت سے ہی مستمر ہے۔ نہ وفات کے بعد سے پس ان ستاسی سال کے استثنا کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی جب کہ ان میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام انکے حالات سے بے خبر ہی تھے۔

(زعم مرزائیاں)

صفحہ 23

ہاں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی ہی پر فوت ہو چکے ہوں والعیاذ باللہ تو شاید ذکر توفی بمعنی موت درست ہو۔ کیونکہ اس تقدیر پر انقطاع خبر کا ذریعہ صرف موت ہی ہے۔

پانچواں اگر فلما تو فیتنی کو جواب سوال الٰہی اءنت قلت للناس کہا جائے تو پھر اس کے معنی موت لینے کسی طرح درست اور صحیح نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ علیہ السلام کو اہل کشمیر نے خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا بلکہ اہل شام اور اس کے قرب و جوار کے لوگوں نے آپ کو خدا کا بیٹا قرار دیا تھا۔ پس بموجب قول مرزا صاحب اہل شام (جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کے سوائے معبود جانا) کی خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آپ کی وفات سے ستاسی سال پیشتر منقطع ہو چکی تھی اور عرصہ ستاسی سال کی حیات (مزعومہ مرزا صاحب) میں آپ علیہ السلام کو اہل شام کے عقائد باطلہ کی کوئی خبر نہیں کہ پیچھے انہوں نے کیا بنا لیا پس سوال اءنت قلت للناس کے جواب میں عذر موت صحیح نہیں بلکہ ہجرت کشمیر کا عذر کرنا چاہیئے نہ کہ موت کا یعنی یہ کہنا چاہیئے تھا کہ فلما ھاجرت الی الکشمیر کنت انت الرقیب الخ لہٰذا ثابت ہوا کہ تو فیتنی کے معنی موت کے نہیں۔

بلکہ رفعتنی الی السماء (خازن) ہیں اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا بوجہ آسمان پر اٹھائے جانے کے نصاریٰ کے باطل اعتقادوں سے بے خبر ہو جانا ایک صحیح عذر اور با صواب جواب ہے۔ لہٰذا تو فیتنی کے معنی رفعتنی کئے جائیں گے چنانچہ تمام تفاسیر نے یہی معنی کئے ہیں۔ دیکھو تفسیر ابو السعود۔ تفسیر بیضاوی۔ تفسیر سراج منیر۔ تفسیر جامع البیان۔ تفسیر خازن۔ تفسیر کبیر۔ تفسیر معالم التنزیل اور تفسیر سواطع الالہام وغیرہ۔

اعتراض : جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بموجب عقیدہ اہلسنت دوسری دفعہ نزول فرما ہوں گے تو نصاریٰ کے افتراؤں اور برے اعتقادوں سے باخبر ہو جائیں گے۔ اور اہل

صفحہ 24

قول و كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم عدم اطلاع کا عذر صحیح نہیں ہے۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے اور نیز یہ کہ یہ سوال و جواب قیامت کو نہ ہو گا بلکہ عالم برزخ میں ہو چکا ہے۔

جواب : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے نصاریٰ وغیرہ بندوں کے اقوال وافعال پر مطلع ہونے کے دو مواقع ہیں اور دونوں قرآن وحدیث سے ثابت ہیں۔

اول : آسمان پر اٹھائے جانے سے پیشتر تبلیغ رسالت کے وقت۔

دوم : آسمان سے نازل ہونے کے بعد

اور یہ امر ظاہر اور مسلم ہے کہ نصاریٰ کے عقائد ان دونوں زمانوں کی درمیانی مدت میں بگڑے ہوئے ہیں سو آپ کا قول و كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم یعنی یا الٰہی ! جب تک میں ان میں رہا ان کے اقوال وافعال کو دیکھتا سنتا رہا ان دونوں زمانوں پر شامل ہے۔ اور فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم (یعنی جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کا نگہبان رہا یعنی اس عرصہ کی بابت مجھے کچھ علم نہیں) سے درمیانی زمانہ یعنی پہلی اور دوسری بار کی درمیانی مدت رفع میں نصاریٰ کے اقوال وافعال سے واقف نہ ہونے کا اظہار مقصود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول ثانی اور اس کے بعد قیامت کو یہود و نصاریٰ پر آپ کی شہادت کیلئے یہ آیت مبارکہ قرآن شریف میں موجود ہے۔

و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته و يوم القيمة يكون عليهم شهيدا

صفحہ 25

نظم درباره حیات

حضرت

مسیح علیہ السلام

ابن مریم زندہ ہیں خدا کی قسم
ہیں مگر افلاک پر وہ محترم
زندہ کہتا ہے انہیں قرآن پاک
ماننے میں ہم کو کس کا ہے باک
وہ نہیں شامل ابھی اموات میں
ذکر اس کا ہے کئی آیات میں
جس کو چاہے رب رکھے زندہ مدام
بندہ کر سکتا ہے اس میں کیا کلام
صفحہ 26

عقیدہ حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی اہمیت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ قرآن پاک کی کئی آیات سے ثابت ہے اور حضور اکرم ﷺ کی بے شمار احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے اپنی کتاب ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں ۱۰۰ سو سے زائد احادیث نقل فرمائی ہیں اور اس عقیدہ پر امت مسلمہ کا اجماع ہے اب اس باب میں فقط چند حوالے عرض کرتا ہوں جن سے آپ خود فیصلہ کرلیں گے اس عقیدہ کی کیا اہمیت ہے اور یہ عقیدہ کتنا ضروری ہے۔

(شرح عقیدہ السفارینیہ ص ۹۰ جلد ۲ مصر)

ترجمہ نزول حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار فلاسفہ ملحد اور بے دین لوگوں نے کیا ہے کہ جن کی مخالفت نا قابل التفات ہے۔

قارئین کرام : اگر اس عبارت میں ذالك الفلاسفة والملاحدة (والمرزائیۃ) شامل کر دیا جائے تو عبارت اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ کیونکہ جو عقیدہ مذکورہ بالا فرقوں کا ہے وہی عقیدہ مرزائیوں کا ہے۔

و انکرت المعتزلة والفلاسفة واليهود و النصارىٰ عروجه • بجسده الى السما

(الیواقیت والجواہر ص ۱۴۶ ط جلد ۲ مصر)

صفحہ 27

ترجمہ : معتزلہ فلاسفہ یہودی اور نصاریٰ نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔

قارئین کرام ! اگر اس عبارت میں بھی المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى (والمرزائیۃ) کا لفظ لگا دیا جائے تو عبارت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ جو عقیدہ ان چاروں فرقوں کا ہے وہی عقیدہ ان مرزائیوں کا ہے۔

(نووی شرح مسلم ص ۴۰۳ جلد ۲۔ پاکستان ص ۷۵ جلد ۱۸ مصر)

ترجمہ : معتزلہ اور جہمیہ نے نزول وحیات حضرت مسیح علیہ السلام کا انکار کیا ہے۔

قارئین کرام : اگر اس عبارت کے اندر بھی المعتزلة و الجهمية (والمرزائیۃ) کا لفظ بڑھا دیا جائے تو عبارت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ اس عقیدہ میں ہر سہ متفق ہیں۔

آمد بر سر مطلب

مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ معتزلہ فلاسفہ ملاحدہ جہمیہ یہودی اور نصاریٰ نزول وحیات حضرت مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں اور مرزائی بھی اس بات کے منکر ہیں اگر یہ چھ فرقے مسلمان ہیں تو مرزائی بھی مسلمان ہیں۔ اور اگر یہ چھ فرقے کافر ہیں اور یقیناً کافر ہیں تو مرزائی بھی یقیناً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

خدا ان سے محفوظ فرمائے۔ آمین

واخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمین

ولا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم

والصلوة والسلام علی سیدنا المرسلین و خاتم النبیین و علی اله و اصحابه

صفحہ 28

اس موضوع پر مندرجہ ذیل کتب کا

مطالعہ ضروری ہے

محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ

بابو محمد پیر بخش صاحبؒ

علاوہ ان کے اور بیشمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں جو مختلف مقامات سے دستیاب ہو سکتی ہیں

PDF 30

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد

چنیوٹ پاکستان

کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا ہر

مسلمان کا فرض اولین ہے!

ارشاد پرنٹنگ پریس اینڈ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر

اندرون جامعہ عربیہ چنیوٹ

فون نمبر 332820 - 0466-333732 موبائل 0320-4890351

PDF 31

حکومت سے مسلمانوں کے

مطالبات

منجانب خادم ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی

PDF 32

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت ۲۰ چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے اردو " " ۲۰ ۲۲ معرکہ حق و باطل اردو " " ۷۰ ۲۳ فتوی حیات مسیح اردو " " ۱۳۰ ۲۴ پنجابی نبی اردو " " ۳۰ ۲۵ مناظرہ ناروے اردو " " ۴۰ ۲۶ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا اردو " " ۴۰ ۲۷ معرکہ حق و باطل قادیانیت کے خلاف اردو " " ۴۰ ۲۸ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو " " ۷۰ ۲۹ حرف ناقدانہ جواب اک حرف ناصحانہ اردو " " ۲۰ ۳۰ ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو " " ۲۵ ۳۱ نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۰ ۳۲ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ ۳۳ قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۵ ۳۴ الحق الصریح بما تواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶ خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷ تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر و ماسٹر محمد روز ۵۰ ۳۸ تقریب سنگ بنیاد اردو و عربی استاد اشفاق ناصر و ملک مختار احمد ۵۰ ۳۹ خسوف و کسوف اردو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰

PDF 33

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف وتالیف قیمت

۱ القادیانی ومعتقداتہ عربی مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰ ۲ قادیانی اور ان کے عقائد اردو “ “ ۳۰ ۳ انگریزی نبی اردو “ “ ۲۵ ۴ عبرتناک انجام اردو “ “ ۳۵ ۵ علماء کنونشن اردو “ “ ۲۰ ۶ تو ربوہ اس کو ماں نہ بنا سکے اردو “ “ ۲۵ ۷ دورہ افریقہ اردو “ “ ۶۰ ۸ مناظرہ نائیجیریا اردو “ “ ۶۰ ۹ The Double Dealer انگلش “ “ ۶۰ ۱۰ Al-Qadiani & His Faith انگلش “ “ ۳۰ ۱۱ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کا تعارف اردو “ “ ۳۰ ۱۲ مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ اردو “ “ ۳۰ ۱۳ حصول الامانی فی الرد علی تلبیس القادیانی اردو “ “ ۲۴۰ ۱۴ Africa Speakes The Truth انگلش “ “ ۵۰ ۱۵ دورہ یورپ وافریقہ اردو “ “ ۵۰ ۱۶ تصویر کے دو رخ اردو “ “ ۲۵ ۱۷ برطانیہ میں مراسلت مباہلہ اردو “ “ ۳۰ ۱۸ ربوہ کا نام تبدیل کرو اردو “ “ ۲۰ ۱۹ الحقائق الاصلیہ فی جواب اللجنۃ الفکریہ اردو “ “ ۴۰

بقیہ تفصیل اندر والے صفحہ پر

PDF 34

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کا مختصر تعارف و اپیل

حضرات تقسیم ملک کے بعد چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر امت مرزائیہ (انگریز کے خود کاشتہ پودا) نے اپنا ایک مستقل مرکز ربوہ (مرزائیل) کے نام سے قائم کیا۔ یہ ان کی ارتدادی اور تخریبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جس میں تعلیم، علاج، ملازمت، رشتہ وغیرہ کے لالچ اور دیگر مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے اس میں ان کا ایک مستقل ادارہ نظارت اصلاح وارشاد کے نام سے قائم ہے جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے مبلغ تیار کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔

مختلف زبانوں میں گمراہ کن لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔

اس ادارے کا سالانہ بجٹ لاکھوں روپے ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید ضرورت تھی کہ قادیانیوں کے اس ادارے کے مقابلہ میں شہر چنیوٹ میں ایک مضبوط اور مستقل ادارہ قائم ہو جس کا مقصد وحید ان کا علمی، تبلیغی، سیاسی اور دینی محاسبہ کرنا ہو۔

الحمد للہ کہ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر استاذ العلماء محدث العصر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی زیر سرپرستی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد ۱۹۷۰ء کو چنیوٹ میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تین بنیادی شعبے ہیں۔

شعبہ تعلیم شعبہ تصنیف شعبہ تبلیغ

ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات باحسن طریق اندرون وبیرون ملک سرانجام دے رہا ہے۔ ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً 24 لاکھ روپے ہے۔ تعمیراتی کام اس کے علاوہ ہے جس میں آپ کے ہر قسم کے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس ادارے کے مستقل معاون بن کر خدام خاتم النبیین ﷺ کی فہرست میں اپنا نام رجسٹرڈ کرائیں اور حضور خاتم الانبیاءﷺ کی روح مبارک کو خوش کریں اور استدعا ہے کہ زکوٰۃ عشر، صدقات وغیرہ اور تعمیری سامان دے کر ثواب دارین حاصل کریں

ترسیل زر کیلئے

الداعی الی الخیر (خادم ختم نبوت) منظور احمد چنیوٹی ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان