احتساب قادیانیت جلد 9 · مولانا ثناء اللہ امرتسری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 9 · Maulana Sanaullah Amritsar
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ

احتسابِ قادیانیت

نہم

عالمی مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 514122

PDF 2

رَدِّ قادیانیت

رسائل

فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ

احتساب قادیانیت

نہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون: 514122

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحیم

دیباچہ ٣ فہرست ٤

PDF 4

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم !

دیباچہ

نحمده ونصلى على رسوله خاتم النبيين ، امابعد ! محض اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق واحسان، فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی جلد نہم قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ جلد نہم بھی جلد ہشتم کی طرح مناظر اسلام مشہور اہل حدیث رہنما فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رسائل پر مشتمل ہے۔ ان دونوں جلدوں میں مولانا مرحوم کے رسائل جمع ہو گئے ہیں۔ فالحمد للہ!

جلد دہم کے لئے اعلان کیا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے قصیدہ عربی کے جواب میں امت محمدیہ کے جن حضرات نے قصائد لکھے تھے وہ جلد دہم میں جمع کئے جائیں گے۔ قصیدہ جوابیہ جو حضرت مولانا قاضی ظفر دین صاحب مرحوم نے عربی میں تحریر کیا تھا اس کی مکمل قسطیں تاحال نہیں مل سکیں۔ یہ قصیدہ ١١ جنوری تا ٢٨ مارچ ١٩٠٧ء کے اخبار اہل حدیث امر تسر میں شائع ہوا تھا۔ جن حضرات کے پاس ہوں وہ مہربانی فرما کر تعاون فرمائیں۔ ان کو جمع کرنا اور ترجمہ کرنا خاصہ کام ہے۔ رفقاء تعاون فرمائیں۔ اس کے بغیر جلد دہم کی تیاری مشکل یا التواء میں پڑ سکتی ہے۔ اس لئے آپ حضرات ہماری مشکل کا احساس فرمائیں اور ان قسطوں کے حصول و جمع میں ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں۔ امید ہے کہ توجہ کی جائے گی۔

والسلام! فقیر اللہ وسایا ٧ ذی الحجہ ١٤٢٣ھ

خادم! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان، فون: 514122

PDF 5

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

مباحثہ دکن

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ عبادہٖ الذین اصطفٰی !

مباحثہ ہذا پر علماء کرام کی رائیں

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور شیخ عبدالرحمن صاحب احمدی میں جو مناظرہ بتاریخ ٣١؍ جنوری ١٩٢٣ء سکندر آباد میں ہوا۔ زمرۂ سامعین میں ہم لوگ بھی شریک تھے دونوں فریق کی گفتگو سننے کے بعد ہم لوگ جس نتیجہ تک پہنچے ہیں وہ حسب ذیل ہے۔

بحث اس میں تھی کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنے الہامی دعویٰ میں سچے تھے یا نہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا صاحب کی حسب ذیل عبارت پیش کی:

”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔“

(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اس کے بعد مرزا صاحب نے اپنا آخری فیصلہ ان لفظوں میں درج کیا ہے کہ:

”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی“

(ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اُس کے بعد یہ بیان دیا:

احمدی جماعت نے ان کے اس بیان کو تسلیم کیا۔ اس لئے ہم لوگ نہایت آسانی کے ساتھ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ مرزا صاحب اپنے قول کے موافق جھوٹے ہیں اور یہی مولوی ثناء اللہ صاحب کا دعویٰ تھا۔ اگرچہ اس کے بعد احمدی مناظر نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بجائے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خود مرزا صاحب کے اقوال و یقینیات کی تردید میں مصروف تھے۔ مثلاً مرزا صاحب اپنی پیشگوئیوں کے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ:

٢

صفحہ ٧

”میری سچائی کے جانچنے کے لئے میری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے تمہید میں ان کے اس نظریہ کا ذکر بھی کر دیا تھا لیکن احمدی مناظر نے خدا جانے کیوں اس کی تردید کی ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ”پیشگوئی اصل چیز نہیں“۔ مرزا صاحب تو پیشگوئی کو سب سے بڑھ کر محک امتحان خیال کرتے تھے لیکن ان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پیشگوئی سے کھرے کھوٹے کا امتیاز مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ان کے الفاظ یہ ہیں: ”پیشگوئی کا ایسا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اٹھ جائے ناممکن ہے۔“ حتیٰ کہ سب سے بڑھ کر محک امتحان کو انہوں نے متشابہات میں داخل کر دیا اسی طرح مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کو ”تقدیر مبرم“ قرار دیا تھا۔ لیکن ان کے وکیل نے اسے مشروط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ قطع نظر اس سے کہ یہ خود مرزا صاحب کی تردید تھی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب شرائط کی تشریح پوچھی تو انہوں نے ایسی عبارتیں پیش کیں جن سے کسی اور شرط کا بالکل پتہ نہیں چلتا اور زبردستی وہ مرزا صاحب کی بعض عبارتوں سے شرط پیدا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبارت اس سے اباء (انکار) کر رہی تھی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر اسے ”تقدیر مبرم“ بھی مان لیا جائے تب بھی اس کا ٹلنا مشکل نہیں۔ ثبوت میں انہوں نے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ”تقدیر مبرم“ کی ایک قسم ٹل سکتی ہے۔ عبارت مانگی گئی تو انہوں نے دینے سے انکار کیا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ عبارت مجدد صاحبؒ کے کلام میں نکل آوے تو میں اپنے تمام دعووں سے باز آ جاؤں گا۔ لیکن اس پر بھی ان کو انکار پر اصرار رہا۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ مجدد صاحبؒ کے کلاموں میں ہم لوگوں کے نزدیک بھی ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔ من ادعی فعلیہ البیان۔

علاوہ اس کے گفتگو سے بھی یہ بات غیر متعلق تھی۔ سوال تو یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت کے ساتھ مرزا صاحب کی صداقت وابستہ تھی۔ جب وہ نہ مرا تو ان کی صداقت بھی قطعی ہوا ہوگئی۔ ہم لوگوں کو اس پر سخت حیرت ہوئی کہ جب سلطان محمد مرزا صاحب کی دھمکیوں سے اعراض کر کے ان کی منکوحہ آسمانی پر قابض رہا اور ان کے الہام کے مقابلہ میں اس نے استقلال کے ساتھ احمد بیگ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھا۔ تو پھر اس کے توبہ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب خط دیکھا گیا تو اس میں سلطان محمد نے کچھ بھی نہیں لکھا تھا نہ اس نے مرزا صاحب کو ”نبی“ مانا ہے، نہ

٣

صفحہ ٤

١

’’مسیح‘‘ نہ ’’مہدی‘‘ کچھ بھی نہیں بلکہ اس نے یہ جملہ لکھ کر کہ ’’پہلے بھی جو خیال کرتا تھا وہی اب سمجھتا ہوں‘‘ خط کے الفاظ میں ایک دوسرے معنی پیدا کر دیئے۔ مثلاً اس نے مرزا صاحب کو شریف النفس نیک وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے اور کہتا ہے ان کو ہمیشہ یہی سمجھتا رہا ہوں تو اب سوال یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی سے نکاح کرنے کے وقت اور مرزا صاحب کی دھمکیوں کے بعد نکاح کو قائم رکھنے کے وقت کیا وہ مرزا صاحب کو اس معنی میں نیک سمجھتا تھا جس معنی سے مرزائی سمجھتے ہیں؟ کس قدر عجیب ہے کہ ایک شخص کسی کو موت کی بددعا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد تیری بیوی سے میں نکاح کروں گا اور وہ ایسے شخص کو نیک شریف بھی خیال کرتا ہو۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ بیان کہ اس خط میں تعریضی چوٹیں ہیں بالکل صحیح ہے اور ان الفاظ کے وہی معنی ہیں جو اس شعر میں ہیں ؎

بڑے پاک باطن بڑے صاف دل
ریاض آپ کو کچھ ہم ہی جانتے ہیں

بہر حال اگر مرزا صاحب کی پیشگوئی کو مبرم نہیں بلکہ مشروط بھی مان لیا جائے یا مبرم کے ٹل جانے کو بھی بفرض محال تسلیم کر لیا جائے اور اخیر میں پھر اس خط کو بھی سلطان محمد کا صحیح خط سمجھ لیا جائے اگر چہ اس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا، پھر بھی توبہ کا ثبوت نہیں ملتا اور ہر حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا فیصلہ قضی الرجل علی نفسہ (مرزا صاحب اپنا فیصلہ خود کر کے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں) بالکل صحیح ہے۔ الہام کا دعویٰ خود مرزا صاحب نے کیا تھا۔ حجت انہی کی بات ہو سکتی ہے دوسروں کو اس میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

دستخط محمد عبدالقدیر صدیقی پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔ دستخط حکیم مقصود علی خاں۔ دستخط عبدالحئی پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔ دستخط محمد عبدالواسع پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ۔ ابوالفدا نور محمد مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی۔ مناظر احسن گیلانی پروفیسر کلیہ عثمانیہ۔ مولوی محمد بن ابراہیم دہلوی۔ سید محمد بادشاہ قادری۔ مولوی الہ داد خاں۔ مولوی محمد امین پنجابی۔ حکیم شیخ احمد۔ مفتی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔

…… ٭ ……

صفحہ ٩

بسم الله الرحمان الرحیم نحمدہ ونصلی علی النبی وآلہ الکریم.

عرصہ سے ممالک محروسہ سرکار عالی (حیدر آباد دکن وغیرہ اضلاع) میں قادیانی مذہب کی تحریک بڑے زور سے پھیل رہی تھی جس کی وجہ سے دیندار طبقہ مسلمانوں میں سخت پریشانی تھی۔ کیونکہ سیٹھ الہ دین مرحوم سوداگر سکندر آباد کے بڑے بیٹے عبداللہ الہ دین نے قادیانی مذہب قبول کر کے اس کی اشاعت شروع کر دی تو خود ان کے بھائیوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ اب ضرورت محسوس ہوئی کہ قادیانی مذہب کے متعلق فیصلہ کن مقابلہ کیا جائے اس خدمت جلیلہ کے لئے دور دراز ملک پنجاب میں نظر پڑی تو حضرت مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری شیر پنجاب فاتح قادیان کو تکلیف دی گئی۔ جناب ممدوح مع مولانا محمد صاحب دہلوی اور مولوی محمد امین صاحب امرتسری کے ١٦ جنوری ١٩٢٣ء وارد سکندر آباد دکن ہوئے۔ پہلی تقریر آپ صاحبوں کی ١٩ جنوری ١٩٢٣ء کو سکندر آباد ہی میں ہوئی۔ جس میں سکندر آباد اور بلدہ حیدر آباد کے لوگ بکثرت شریک تھے مولانا فاتح قادیان کی تقریر کا تمام علاقہ میں ایک غلغلہ بلند ہوا۔ حیدر آباد میں کئی جگہ وعظ کے جلسے ہوئے جن میں مولانا محمد صاحب دہلوی اور مولوی محمد امین صاحب امرتسری کی تقریر عموماً توحید وسنت پر ہوتی اور مولانا فاتح قادیان کی تقریر کا اکثر حصہ قادیانی مذہب کے متعلق ہوتا۔ مولانا موصوف کا طرز بیان عجیب دلفریب ہے۔ مرزا صاحب قادیانی کی کتابیں تو گویا آپ کو حفظ ہیں ہر بات میں مرزا صاحب کی کتابوں سے حوالہ موجود۔ ان وعظوں کے اثر سے قادیانی جماعت بہت گھبرائی تو عبداللہ الہ دین قادیانی نے قادیان سے مرزائی عالموں کو بلایا اور مباحثہ کی بابت تحریک ہوئی۔

انجمن اہلحدیث سکندر آباد سے ان کی خط و کتابت ہو رہی تھی۔ جس میں مباحثہ کے بعد مباہلہ کا ذکر بھی آتا تھا۔ انجمن اہلحدیث نے لکھا کہ ہم شرعی مباہلہ کے لئے بھی تیار ہیں۔ ایک روز الہ دین صاحب کے بنگلہ پر چاروں بھائیوں نے مع بعض دیگر اصحاب کے ایک مجلس منعقد کی جس میں مباہلہ کا ذکر بھی آیا تو قادیانی جماعت نے کہا مولانا ثناء اللہ ہم سے مباہلہ کریں تو سال تک خدائی فیصلہ ہو جائے گا۔ مولانا موصوف نے فرمایا کہ سال کی مدت کا ثبوت قرآن میں یا حدیث میں نہیں۔ بلکہ حدیث شریف میں تو یہ ثابت ہے کہ مباہلہ کنندگان میں سے جو کاذب ہوتا اس پر

٥

صفحہ ١٠

فوراً اثر ہوتا اور اس کی ساری قوم ایک سال تک تباہ ہو جاتی۔ قادیانی جماعت نے انکار کیا کہ اس حدیث سے فوراً نزول عذاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔ مولانا فاتح نے فرمایا کہ اس حدیث کے معنی کسی اچھے عالم سے معلوم کیے جائیں۔ بعد ردو کد کے دوسرے روز چار بھائیوں میں سے خان صاحب احمد الدین ( قادیانی ) صاحب نے مولانا مناظر احسن صاحب پروفیسر عثمانیہ کالج پر حسن ظن ظاہر کیا چنانچہ وہ عبارت عثمانیہ کالج کے علماء کی خدمت میں پیش کی گئی جو مع جواب درج ذیل ہے۔ سوال:۔علماء کرام مندرجہ ذیل عبارت کا کیا مطلب بیان فرماتے ہیں؟ قال والذی نفسی بیده ان العذاب قد تدلی علی اهل نجران و لوتلاعنوا لمسخوا قردة وخنازير ولاضطرم عليهم الوادى نارا ولا استاصل الله نجران واهله حتى الطير على الشجر ولما حال الحول على النصارى كلهم حتى هلكوا.

(معالم التنزيل ج ١ ص ١٦٣)

اس عبارت سے موجودہ ملاعنین کاذبین پر فوری اثر پہنچنا چاہئے یا بالتراخی؟ الجواب:۔ اس عبارت سے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ ملاعنین پر اثر مباہلہ فوراً بلا مہلت ہوتا۔ محمد عبدالقدیر صدیقی۔ عبداللطیف پروفیسر مناظر احسن گیلانی پروفیسر محمد عبدالواسع پروفیسر

خدا کا شکر ہے کہ بجائے ایک عالم کے چار علماء نے عبارت کے معنی وہی بتائے جو مولانا فاتح کہتے تھے تاہم فریق ثانی نے ان معنی کو تسلیم نہ کیا۔ مگر مباحثہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے مواعظ کے جلسوں میں بار بار فرماتے رہے کہ میں چاہتا ہوں کہ قادیانیوں سے ہمارا مناظرہ فیصلہ کن ہو جس کی صورت یہ بتائی کہ سرکار عالی خلد اللہ ملکہ فریقین کی گفتگو سن کر سرکاری فیصلہ فرمائیں جو اسلامی دنیا میں کارآمد ہو۔ اس کے متعلق کارروائی ہو ہی رہی تھی کہ ان چار بھائیوں کی خواہش سے ایک مختصر سا مباحثہ ان کے مکان پر تجویز ہوا جس کی روئیداد درج ذیل ہے۔

مجلس مباحثہ میں جو حضرات علماء کرام تشریف فرما تھے ان کے اسماء گرامی مع ان کی تصدیقات کے اول درج ہو چکے ہیں۔

مباحثہ شروع ہونے سے پہلے جو واقعات اور اضطرابی حرکات جماعت احمدیہ سے ظاہر ہوئیں ان کو بیان کیا جائے تو طول ہوگا۔ اس لئے ہم ان سب کو چھوڑتے ہیں اور اصل بات کو پیش ناظرین کرتے ہیں۔ قرار پایا تھا کہ جلسہ کے انتظام کے لئے سید ہمایوں مرزا بیرسٹر حیدر آباد صدر

٦

صفحہ ١١

ہوں۔ صدر صاحب کے فیصلہ سے مولانا فاتح کو پہلا وقت ٢٠ منٹ تحریر پرچہ کے لئے دیا گیا۔ موصوف نے ١٥ منٹ میں پرچہ پورا کر دیا۔ چنانچہ پرچہ اول یہ ہے۔

پرچہ اول منجانب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری

جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں خدا کی طرف سے الہام پاتا ہوں میری سچائی کے جانچنے کے لئے میری پیشگوئیوں سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا (آئینہ کمالات ص ٢٨٨۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً) شہادۃ القرآن ص ٨٠ پر جناب موصوف نے ایک پیش گوئی مسلمانوں کے لئے خاص کی ہے جس کے کئی ایک حصے ہیں چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔

’’(١) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (٢) اس کا داماد اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (٣) مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (٤) پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے وغیرہ۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص ٨١۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)

یعنی داماد مرزا احمد بیگ کی موت کے متعلق اسی حوالہ میں کہا ہے کہ اس کی میعاد ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء سے قریباً گیارہ مہینہ باقی رہ گئی ہے۔ (شہادۃ القرآن ص ٧٩۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) جو اگست ١٨٩٤ء کو ختم ہوتی ہے یعنی مرزا صاحب کے الہام کے مطابق مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ اگست ١٨٩٤ء کے بعد بقید حیات دنیا میں نہیں رہ سکتا تھا جب وہ اس مدت کے بعد بھی زندہ رہا تو جناب مرزا صاحب نے آخری ایگریمنٹ (اقرار نامہ) ان لفظوں میں شائع کیا۔

’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہو گی۔‘‘

(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(ہمیں ان دونوں کے پورا ہونے پر بھی اعتراض ہے)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ مرزا سلطان محمد یعنی اس لڑکی کا خاوند جس سے مرزا قادیانی نے الہامی نکاح کا دعویٰ کیا تھا وہ اگر مرزا صاحب کی زندگی میں نہ مرے تو جناب مرزا قادیانی کے دعویٰ الہام و رسالت وغیرہ بقول ان کے جھوٹے ہوں گے اس کا نام جناب مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم رکھا ہے یعنی ان ٹل فیصلہ الٰہی، حوالہ رسالہ انجام آتھم ص ٣١، اسی کتاب کے

٧

صفحہ ١٢

ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ پر اس دعویٰ کو دوسرے لفظوں میں یوں شائع کیا ہے۔ فرماتے ہیں : ”یادرکھو کہ اس پیش گوئی (متعلقہ مرزا احمد بیگ) کی دوسری جزء پوری نہ ہوئی (یعنی داماد مرزا احمد بیگ مسمی سلطان محمد ناکح محمدی بیگم ساکن پٹی فوت نہ ہوا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

سلطان محمد مذکورہ اگست ١٨٩٢ء تک نہ مرا بلکہ وہ آج تک بعد انتقال جناب مرزا قادیانی زندہ ہے حالانکہ اس اثناء میں وہ جنگ عظیم کے دوران فرانس بھی گیا جہاں اس کی گدی میں گولی لگ کر سر سے نکل گئی مگر زندہ رہا اور آج تک بھی زندہ ہے اور اس کی اولاد بھی بہ کثرت آج تک خدا کے فضل سے موجود ہے۔ شریعت اسلامیہ کی تعلیم کا مفہوم ہے یـؤخـذ الـمـرء باقرارہ ۔ یعنی انسان اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتا ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے اقرار کیا نہ صرف کیا بلکہ شائع کیا کہ مرزا سلطان محمد کا مرنا میری زندگی میں ان ٹل فیصلہ الٰہی ہے یہ بھی فرمایا اگر وہ میری زندگی میں نہ مرے تو میں جھوٹا بلکہ یہ بھی صاف اقرار کیا کہ میں اس صورت میں یعنی مرزا سلطان محمد کے نہ مرنے کی صورت میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ جس صورت میں جناب مرزا صاحب کا یہ اقرار ہے اور الہامی اعلان ہے اب پبلک فیصلہ کرسکتی ہے کہ وہ اپنے دعوے میں کہاں تک سچے تھے۔ قضی الرجل علی نفسہ ۔ ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری مناظر محمدی سکندر آباد دکن دستخط سید ہمایوں مرزا صدر جلسہ

مؤلف :۔ اس پرچہ کا مضمون بالکل صاف ہے۔ حضرت مولانا فاتح قادیان کی تقریر کسی تشریح کی محتاج نہیں مختصر مضمون اس پرچہ کا دو لفظوں میں ہے کہ خود مرزا صاحب کے اقرار اور اعلان کے مطابق مرزا صاحب جھوٹے ہیں۔ اب فریق ثانی کا جواب ملاحظہ ہو۔

پرچہ اول منجانب مولوی شیخ عبدالرحمان صاحب احمدی مناظر

اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ

جناب مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی ایک پیشگوئی پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئی۔ پیشتر اس کے کہ میں اس پیشگوئی کے متعلق جواب دوں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختصر طور پر پابندئ وقت پیشگوئیوں کے سمجھنے کے متعلق جو اصل قرآن شریف واحادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے ہیں عرض کردوں۔ یادرہے کہ پیشگوئی کوئی اصل چیز نہیں ہے اصل چیز انبیاء علیہم السلام کی صداقت ہے اور ان کی اس غرض کا پورا ہونا ہے جس غرض کے لئے وہ اللہ

٨

صفحہ ١٣

تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور وہ غرض خدائے تعالیٰ اور اس کی تمام صفات پر کامل ایمان پیدا ہونا ہے پیشگوئی یا کوئی اور دلیل صحیح انبیاء کی صداقت کو ظاہر کرنے والی وہ اس اصل کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اصل چونکہ ایمان ہے اور ایمان کے متعلق شریعت نے قرار دیا ہے کہ وہ ایمان بالغیب ہے اس لئے کوئی دلیل ایسی نہیں ہو سکتی کہ وہ غیب کے پردہ کو اٹھا دے اور پیشگوئی چونکہ دلائل میں سے ایک دلیل ہے اس لئے اس پیشگوئی کا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اٹھ جائے ناکافی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تمام انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے متعلق لوگوں کو ابتلا آتے رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت رسول کریم کی وفات پر یہ فرمایا کہ اللہ کی قسم نبی کریم فوت نہیں ہوئے اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ میرے دل میں سوائے اس کے کوئی خیال نہیں گزرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور بھیجے گا اور پھر آپ منافقوں کے ہاتھ کاٹیں گے۔

در منثور بحوالہ بخاری و نسائی جلد ٢ ص ٨١

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم خود منافقوں کے ہاتھ کاٹیں گے مگر ایسا وقوع میں نہ آیا۔ اسی طرح جب نبی کریم ﷺ کو یہ بتایا گیا کہ آپ خانہ کعبہ کا طواف فرمائیں گے آپؐ نے اسی وقت صحابہ کو سفر کا حکم دیا چنانچہ تمام صحابہ کرام مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں مقام حدیبیہ پر کفار مکہ نے آ کر روکا اور ایک معاہدہ فریقین کے درمیان قرار پایا جس کی رو سے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف لوٹنا پڑا۔ اس پر تمام صحابہؓ کو شک پیدا ہوا اور حضرت عمرؓ نے حضرت نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ کیا آپ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں میں خدا کا رسول ہوں، تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ کیا آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ حضورؐ نے فرمایا کہ ہاں کہا تھا مگر یہ نہ کہا تھا کہ اس سال کریں گے۔ صحابہؓ کو اس سال حج نہ ہونے کی وجہ سے اس قدر ابتلاء آیا کہ رسول کریمؐ نے ان کو حکم دیا کہ قربانیاں ذبح کر دو اور سر منڈوا لو تو لکھا ہے کہ ایک صحابیؓ بھی اس حکم کی تعمیل میں نہ اٹھا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے تین بار فرمایا۔ فتح الباری جلد ٥ ص ٢٥٤، ٢٥٥۔ مگر کسی نے تعمیل نہ کی۔ یہ ابتلا اس لئے آیا کہ یہ سمجھا گیا تھا کہ پیشگوئی اسی طور پر پوری ہونی چاہئے جس طرح کہی جائے یا حضورؐ نے جس طرح سمجھا ہے۔ پس پیشگوئیوں کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں محکمات بھی ہوتی ہیں اور متشابہات بھی، یعنی بعض ایسی پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو کئی حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں بعض اوقات نبی ایک معنی سمجھتا ہے لیکن اس کے لحاظ سے پوری نہیں ہوتیں اس سبب سے لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں حضرت (مرزا صاحب) کی یہ پیش گوئی بھی اسی طرح کی پیشگوئیوں میں سے ہے۔ حضرت مسیح

٩

صفحہ ١٤

موعود (مرزا صاحب) کی بہت سی پیشگوئیاں ایسی بھی ہیں جو بین طور پر پوری ہوئی ہیں اگر مجھے موقع دیا گیا تو میں انشاء اللہ ان کو پیش کروں گا فی الحال چونکہ مجھے ایسی پیشگوئی کے متعلق بیان کرنا ہے جو متشابہات میں سے ہے اور جس کے متعلق فریق ثانی نے اعتراض کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ پیشگوئیوں کی غرض کیا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں وما نرسل بالآیات الا تخویفا ۔ ہم نشان نہیں بھیجا کرتے ہیں مگر ڈرانے کے لئے ۔ پھر فرماتے ہیں فاخذناهم بالباساء والضراء لعلهم يتضرعون ۔ ہم لوگوں کو دکھوں اور بیماریوں سے پکڑتے ہیں تاکہ وہ ہمارے حضور عاجزی و گریہ وزاری کریں۔ ان دونوں آیتوں سے البتہ یہ پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غرض ایسی پیشگوئیوں سے جن میں کسی پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ ضرور اس کو مورد عذاب ہی بنایا جائے بلکہ اصل منشاء الٰہی خوف پیدا کرنا ہوتا ہے اور توبہ و استغفار کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت جہاں شديد العقاب ہے یعنی عذاب دینے والا وہاں غافر الذنب وقابل التوب بھی ہے یعنی گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا۔ اس بات کی تصدیق کہ اللہ تعالیٰ عذاب کو چھوڑ بھی دیتا ہے اس آیت سے بھی ہوتی ہے رحمتی وسعت كل شیء یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے پس اگر انسان اپنے اعمال میں تغیر کر لے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو پکڑ لیتی ہے اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے لا يرد القضاء الا بالدعاء ۔ خدا کی قضا یعنی تقدیر کو نہیں ٹال سکتی ہے مگر دعا۔ ان چند باتوں کے بعد میں اصل اعتراض کی طرف آتا ہوں ۔ مرزا احمد بیگ اور ان کے داماد کے متعلق پیشگوئی کی جو غرض تھی وہ حضرت مرزا صاحب کے ان الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس پیشگوئی کی یہ بنیاد نہ تھی کہ خواہ مخواہ مرزا احمد بیگ کی بیٹی کی درخواست کی گئی تھی بلکہ بنیاد یہ تھی کہ فریق ثانی جن میں مرزا احمد بیگ بھی ایک تھا اس عاجز کے قریبی رشتہ دار مگر دین کے مخالف تھے۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ان پر اپنی حجت پوری کرے تو اس نے نشان دکھلانے میں وہ پہلو اختیار کیا جس کا ان تمام بے دین قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا اس اصلی غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل الفاظ کو بھی زیر نظر رکھا جائے۔ ”خدائے تعالیٰ نے اپنے الہام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی اس رشتہ سے دور کر دے گا اور آپ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر برکت دے گا ۔‘‘

اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہو گی یہ دونوں طرف برکت اور موت کے ایسے ہیں کہ جن کو

صفحہ ١٥

آزمانے کے بعد میرا صدق اور کذب معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ جس طرح چاہو آزما لو ” پرچہ نور افشاں ١٠۔ مئی ١٨٨٨ء۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اپنا صدق وکذب بتلانا منظور تھا۔ فریق مخالف نے حضور کے صدق وکذب کو پرکھنے کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی لڑکی کی شادی نہ کی۔ اگر اس کے نتیجہ میں ان پر تکالیف اور موت نہ آتی تو اب تک پیشگوئی جھوٹی نکلتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر لڑکی کی شادی دوسری جگہ ہونی تھی کہ مرزا احمد بیگ یعنی لڑکی کا والد حسب پیشگوئی چار ماہ کے اندر ہلاک ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ اس کی دو بہنیں اور اس کی ساس جو اس پیشگوئی میں روک پیدا کرنے والی تھیں فوت ہوگئیں اور احمد بیگ کا ایک لڑکا بھی ہلاک ہوا۔ اس قدر زبردست تباہی نے اس خاندان پر ایک سخت ہیبت وارد کی اور اس بھیانک اور خوفناک نظارہ کو دیکھ کر ان لوگوں کے دلوں میں توبہ اور خشیت کا خیال پیدا ہوا۔ اور قرآن شریف کی آیت کے ماتحت کہ ہم نشان خوف اور تضرع پیدا کرنے کے لئے بھیجتے ہیں ان کے خوف کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ جو گناہ بخشنے والا توبہ قبول کرنے والا اور بڑی وسیع رحمت والا ہے اس نے ان پر رحم کیا۔

(پانچ منٹ اور دیئے گئے)

چنانچہ ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھنے شروع کئے اور خاندان کے بہت سے لوگ احمدی ہوئے اور پیشگوئی میں یہ شرط محفوظ تھی۔ چنانچہ پیشگوئی کے الفاظ یہ تھے۔ رأيت هذا المرأة اثر البكاء على وجهها فقلت ايتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبک والمصيبة نازلة علیک. یعنی میں نے اس عورت کو دیکھا کہ رونے کے نشان اس کے چہرے پر ہیں میں نے کہا! اے عورت توبہ کر توبہ کر، کیونکہ مصیبت تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر آنے والی ہے اور تجھ پر بھی آنے والی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے احمد بیگ کے داماد کے متعلق اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے متعلق ایام الصلح ص ١٩٠ اردو۔ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرائط کی تھی اور ضرور ہے کہ اس وقت تک اس کا دوسرا حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت اور لڑکی کا نکاح میں آنا معرض توقف میں رہے۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اسباب نقض شرائط کے جمع ہوں۔ یعنی جب احمد بیگ کا داماد اس شرط کو توڑ دے یعنی اپنی توبہ اور رجوع سے باز آ جائے تو پھر وہ ضرور مرے گا اور لڑکی نکاح میں آ جائے گی۔ لیکن اگر وہ خشیتہ اللہ پر قائم رہا تو ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس بات کا ثبوت کہ احمد بیگ کا داماد خشیتہ اللہ پر قائم رہا، یہ ہے خط۔

السلام علیکم! نوازش نامہ آپ کا پہنچا یاد آوری کا مشکور ہوں۔ میں جناب مرزا جی

١١

صفحہ ١٦

صاحب مرحوم کو نیک بزرگ شریف النفس اسلام کا خدمت گزار خدا یاد پہلے بھی اور اب بھی خیال کر رہا ہوں۔ مجھے ان کے مریدوں سے کسی قسم کی مخالفت نہیں ہے۔ بلکہ افسوس کرتا ہوں کہ چند ایک امورات کی وجہ سے ان کی زندگی میں ان کا شرف حاصل نہ کر سکا۔ نیاز مند سلطان محمد ۔ یہ خط حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے بعد لکھا گیا ہے۔ دستخط عبدالرحمٰن احمدی مناظر۔ دستخط سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ۔ ٢٣۔١۔٣١ ختم ١٠ بجکر ٥ منٹ پر

نوٹ:۔ ناظرین! اس سارے مضمون میں احمدی مناظر نے ایک لفظ کا جواب بھی دیا؟ مولانا فاتح قادیان مناظر اسلام کی تقریر کا سارا مدار مرزا صاحب کی بتائی ہوئی تقدیر مبرم پر تھا تقدیر مبرم کے معنی صاف ہیں۔ قضاء ان ٹل یعنی نہ ٹلنے والا حکم الٰہی۔ پھر جس کو خود ملہم اور صاحب الہام اَن ٹل کہے وہ کیونکر ٹل جائے؟ اس کا جواب کچھ نہیں آیا بہر حال مولانا کا پرچہ دوم ملاحظہ کریں۔

......☆......

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

منجانب مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان امرتسری

(١٠ بجکر ٢٠ منٹ پر شروع ہوا)

لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ شیخ عبدالرحمٰن صاحب احمدی مناظر نے اپنے پرچہ میں جو کچھ تحریر کرایا وہ مرزا صاحب کی تصریحات کے بالکل برخلاف ہے۔ میں اصل فریق اس بحث میں مرزا صاحب کو سمجھتا ہوں۔ مناظر کو ایک وکیل کی پوزیشن سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ آپ نے پیشگوئی کو ایمان بالغیب کہا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں ”پیشگوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ دوسرے کے لئے بطور دلیل کام آئے“..... ”پیشگوئی میں وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے ۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٦ حاشیہ ۔ خزائن ج ١٧ ص ٦٠، ٦١)

شیخ عبدالرحمٰن صاحب احمدی مناظر کو دراصل خلط مبحث ہو گیا ہے۔ اس لئے میرے سوال کو نکاح کے ساتھ ملا دیا ہے۔ میں نے دانستہ اس لڑکی کے نکاح کو نہیں چھیڑا تھا بلکہ صرف سلطان محمد والا حصہ لیا تھا۔ آپ نے عجیب دو رنگی اپنے پرچہ میں دکھائی ہے جو اہل علم کے لئے قابل عبرت ہے۔ آپ اس پیشگوئی کو متشابہ بتلاتے ہیں پھر اس کے معنے کی تشریح بھی کرتے ہیں اور شرط شروط بیان کرتے ہیں ۔ ھل ھذا الا تہافت قبیح وتناقض صریح ۔ میں مطلب کی کہتا ہوں۔ مرزا

١٢

صفحہ ١٧

صاحب کے اصلی عربی الفاظ اس کے متعلق یہ ہیں ..... فالہمنی ربی وقال ساریہم آیۃ من انفسہم واخبرنی وقال اننی ساجعل بنتا من بناتہم آیۃ لہم۔ فسماہا وقال انہا سیجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلث سنۃ من یوم النکاح ثم نردہا الیک بعد موتہما ولا یکون احداہما من العاصمین (کرامات الصادقین سرورق صفحہ اخیر۔ خزائن ج ٧ ص ١٦٢) یعنی خدا نے مجھے الہام سے کہا کہ ان لوگوں کی ایک لڑکی تیرے لئے نشان بناؤں گا۔ جس کا نام بھی لیا، فرمایا کہ وہ لڑکی بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ نکاح کے دن سے تین سال تک مر جائیں گے پھر فرمایا کہ کان اصل المقصود الا ہلاکہ (انجام آتھم ص ٢١٦۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً) یعنی اصل مقصود پیشگوئی سے مانعین کو ہلاک کرنا مار ڈالنا ہے۔ مرزا صاحب کا الہام ہے۔ شاتان تذبحان۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے (جو آسمانی منکوحہ کا باپ تھا) دوسری بکری سے اس کا داماد ہے۔ فرماتے ہیں دو بکریوں کے ذبح ہونے کی پیشگوئی اس کے باپ اور اس کے داماد کی طرف اشارہ ہے جو آج سے سترہ سال پیشتر براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣١) پر ہے۔

میرے مخاطب نے حضرت عمرؓ اور حدیبیہ کا جو واقعہ بیان کیا ہے شکر ہے کہ اس کا جواب خود ہی دے دیا۔ (یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسی سال ہو جائے گا۔ مؤلف) حضرت عمرؓ کو آنحضرت ﷺ کے انتقال پر جو خیال زندگی کا پیدا ہوا تھا وہ از راہِ محبت تھا نہ از راہِ پیشگوئی۔ حدیبیہ میں حضرت عمرؓ کے سوال کا جواب دربارِ رسالت سے مل گیا اور حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے بلکہ اس جواب سے ایسے شرمندہ ہوئے، فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کئی کام خیرات کے کئے۔ تاکہ میری یہ غلطی خدا کے ہاں رفع ہو جائے۔ یہ فقرہ بھی اسی جگہ لکھا ہے جو احمدی مناظر نے (کتاب) پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ قرآن شریف میں اس پیشگوئی کے متعلق صاف فیصلہ ہے لقد صدق اللہ رسولہ الرؤیا بالحق۔ یعنی خدا نے اپنے نبی کا خواب سچا کر دیا۔ اس فیصلہ الٰہی کے بعد کسی کا حق نہیں کہ وہ اس پیشگوئی کو غلط یا مشتبہ کہہ سکے ورنہ قرآن کا انکار کرنا ہوگا۔ مجھے حیرت ہے کہ احمدی مناظر نے اپنے بیان میں اتنے تناقض اور تضاد کیوں اختیار کئے پہلے تو پیشگوئی کو ایمان بالغیب کے تحت لاتے ہیں اور آگے چل کر کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی کئی ایک پیشگوئیاں بیّن طور پر ظاہر ہوئیں کیا وہ ایمان بالغیب کے ماتحت نہ ہوں گی؟ ذرا سوچ سمجھ کر بات کیجئے اور کم سے کم یہ خیال کر کے کہئے کہ سامنے کون ہے ۔

١٣

صفحہ ١٨
سنبھل کے رکھو قدم دشت خار میں مجنوں
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

میرے اس جواب میں بہت سے حوالے موجود اور غیر موجود دیئے گئے جن کو جواب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا مدار دلیل ایک ہی لفظ ہے یعنی ”تقدیر مبرم“ جس کے معنی نہ ٹلنے والا حکم الٰہی ۔ غیر مشروط ناقابل اپیل‘ ناقابل استرداد‘ مبرم اسم مفعول کا صیغہ ہے ابرام سے، ابرام کے معنی مضبوط کرنا قرآن شریف میں ہے ام ابرموا امراً فانا مبرمون ۔ اگر مبرم تقدیر بھی کسی ایک آدھ چٹھی لکھنے سے ٹل جائے تو وہ مبرم کیا ہوئی؟ مرزا سلطان محمد کا خط جو پیش کیا گیا ہے وہ خود غیر مصدقہ ہے اس کے باریک نکتہ کو احمدیہ جماعت نہیں پہنچی ۔ وہ کس بلاغت سے احمدیہ فریق پر چوٹ کرتا ہے وہ کہتا ہے مجھے مرزا صاحب کی تقدیر مبرم کا شکار ہونا چاہئے تھا مگر نہ ہوا ۔

لہٰذا ضروری ہے کہ میں اس خط کی تشریح کر دوں ۔ اس خط میں جو یہ لکھا ہے کہ چند امورات کی وجہ سے شرف حاصل نہ کر سکا۔ اس کے ان امور سے مراد وہی بڑا امر ہے جس کا مرزا صاحب کو ساری عمر صدمہ رہا۔ میں اس صدمہ کا ذکر نہیں کرتا ۔ کیونکہ وہ پیشگوئی دوسری ہے۔ بہر حال میں اپنی تقریر کا خاتمہ اس پر کرتا ہوں کہ مرزا صاحب نے سلطان محمد کا مرنا اپنی زندگی میں تقدیر مبرم یعنی ان ٹل قرار دیا اور اس کے نہ مرنے کو اپنے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا۔ حالانکہ آج تک وہ مع ایک درجن بچوں اور بیوی موصوفہ کے زندہ موجود ہے میں اس شعر پر اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں ۔

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

میں اخیر میں مرزا صاحب کے ابتدائی اشتہار سے ایک فقرہ سناتا ہوں جو جولائی ١٨٨٨ء کا ہے۔ مرزا صاحب اس میں فرماتے ہیں کہ وہ لڑکی جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا‘‘ نکاح لڑکی کا ٧؍ اپریل ١٨٩٣ء کو ہوا (کتاب دافع الوساوس ص٤٨٠ ۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً) مجھے بھی حضرت مرزا صاحب کے اس نازک موقع پر بسا اوقات رحم آیا اور احمدی جماعت کے اضطراب پر تو میں رات دن پریشان رہتا ہوں کہ الٰہی تیرے نام سے ایک اللہ کا بندہ اظہار کرتا ہے اور اسے تقدیر مبرم قرار دیتا ہے۔ تیرے پاس کیا کمی تھی جہاں تیرے حکم سے رات دن ہزاروں لاکھوں انسان مرتے رہتے ہیں سلطان محمد کو بھی مار ڈالتا‘ مجھے خدا کی طرف سے القائی جواب ملتا

١٤

صفحہ ١٩

ہے انی اعلم ما لا تعلمون ۔ میں اپنے مخاطب کو اور دیگر حضرات (حاضرین) کو علم اور خشیت الٰہی کا واسطہ دے کر تقدیر مبرم کے لفظ پر توجہ دلاتا ہوں ۔ فقط

دستخط دستخط ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری مناظر از جانب فریق محمدیہ ۔ سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ (ختم ١٠ بج کر ٤٠ منٹ پر)

مؤلف :۔ اس پرچہ کا مضمون ہمارے نوٹ کا محتاج نہیں صاف ہے کہ تقدیر مبرم کے ماتحت مرزا سلطان محمد کو مرزا صاحب سے پہلے مر جانا چاہئے تھا مگر مرا نہیں ۔

جواب منجانب شیخ عبدالرحمن صاحب مناظر جماعت احمدیہ پرچہ دوم

(وقت ١٠ بج کر ١٠ منٹ)

قل جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا

مجھے افسوس ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے میری تقریر سمجھنے کی کوشش نہ کی اور باوجود اس کے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میرے کلام میں تناقض ہے ۔ مولوی صاحب مجھے کہتے ہیں کہ یہ خیال رکھ کر تقریر کرنا سامنے کون بیٹھا ہے سو جناب ! مولوی صاحب کو یاد رہے کہ میں اپنے سامنے اپنا شکار سمجھتا ہوں (جو مرزا صاحب کا شکاری ہو وہ آپ کا شکار کیسے ہو سکتا ہے؟ مؤلف ) مولوی صاحب کا بڑا زور اس بات پر ہے کہ سلطان محمد کیوں فوت نہ ہوا ۔ میں نے قرآن شریف کی آیات کے حوالوں سے اس بات کو ثابت کیا تھا کہ وہ عذاب کی پیشگوئیاں تضرع اور رجوع سے ٹل جایا کرتی ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس شخص کو معاف کر کے عذاب کو ہٹا لیتا ہے اور ان پیشگوئیوں کی صرف اتنی ہی غرض ہوتی ہے ۔ ان آیات کا قطعاً مولوی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا اور ان کے ماتحت میں نے ثابت کیا تھا کہ مرزا سلطان محمد نے خشیۃ اللہ کو اپنے دل میں داخل کیا اور وہ حضرت مرزا صاحب کو بجائے کاذب اور مکار خیال کرنے کے خدا پرست اور نیک اور بزرگ یقین کرنے لگ پڑا ۔ جس کے ثبوت میں میں نے اس کا ایک خط پیش کیا تھا ۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ خط غیر مصدقہ ہے اس رسالہ میں اس خط کا فوٹو دیا ہوا ہے جس کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے اگر یہ خط غیر مصدقہ تھا تو کیوں مرزا سلطان محمد سے اس وقت تک اس کی تردید نہیں کرائی یا خود اس شخص نے اس کی تردید نہیں کی ۔

باقی مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ چند امورات میں نکاح کا امر داخل ہے خارج از بحث

١٥

صفحہ ٢٠

بات ہے مجھے اس خط کے پیش کرنے سے صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ وہ شخص پیشگوئی کے وقوع کے بعد ڈرا اور حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس کو یقین ہو گیا کہ آپ خدا پرست اور بزرگ انسان ہیں اگر کوئی کہے رجوع سے تو یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ شخص بیعت میں داخل ہو جائے تو اس کے جواب میں قرآن شریف کی یہ آیت مدنظر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کا ذکر کر کے فرمایا ہے ما نریہم من آیة الا ہی اکبر من اختہا واخذناہم بالعذاب لعلہم یرجعون ۔یعنی ہم نہیں دکھاتے ان کو کوئی نشان مگر وہ پہلے نشان سے بڑا ہوتا ہے اور ہم نے ان کو عذاب سے پکڑ لیا تاکہ وہ رجوع کریں۔ اس کے بعد رجوع کا نقشہ کھینچا گیا ہے وہ ان الفاظ میں ہے وقالوا یایہا الساحر ادع لنا ربک بما عہد عندک اننا لمھتدون فلما کشفنا عنہم العذاب اذا ہم ینقضون یعنی انہوں نے موسیٰ کو کہا کہ اے جادوگر تو ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر۔ یہ ہے ان کا رجوع اس رجوع پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان سے عذاب ہٹا دیا جب اتنے سے رجوع پر بھی عذاب ہٹ سکتا ہے تو مرزا سلطان محمد صاحب کے اس قدر عظیم الشان رجوع پر کیوں عذاب نہیں ہٹ سکتا۔ جب کہ اس کے باقی عام رشتہ دار یعنی لڑکی کی والدہ اور اس کی لڑکیاں اور اس کے داماد اس کے اور رشتہ دار احمدی ہو چکے ہیں ١؎ اور اس خاندان کا سب سے بڑا سردار مرزا محمود بیگ صاحب بھی بیعت میں داخل ہو گئے ہیں اگر یہ پیشگوئی جھوٹی ہوتی تو سب سے پہلا اثر اس خاندان پر پڑنا چاہئے تھا مگر عجیب بات ہے کہ وہ سارا خاندان ٢؎ تو احمدی ہو جاتا ہے اور دوسرے لوگ انکار کر رہے ہیں میں نے ایام الصلح کے حوالہ سے بتایا تھا کہ یہ پیشگوئی بعض شرائط کے ساتھ معلق تھی۔ اس حوالہ پر جناب مولوی صاحب نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پھر میں نے اس شرط کے متعلق الہام بھی بتلایا تھا اس کی بھی کوئی تردید نہیں کی گئی۔ مولوی صاحب نے سب سے بڑا زور ”تقدیر مبرم“ کے لفظ پر دیا ہے مگر افسوس مولوی صاحب نے اس کے بعد کی چند سطریں چھوڑ دی ہیں میں ان کو پڑھ دیتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) فرماتے ہیں:

”فیصلہ تو آسمان ہے۔ احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں انجام آتھم ص ٣٣۔ اگر یہ بات اٹل تھی تو حضرت مرزا صاحب یہ کیوں فرماتے کہ تکذیب کرنے

١؎ ثبوت بذمہ قائل۔ (مؤلف) ٢؎ سارے خاندان سے کیا کام، دیکھنا تو یہ ہے کہ خود مرزا سلطان محمد کا کیا حال ہے کیا اس نے توبہ کی ہے؟ کیا اس نے اپنی بیوی مرزا صاحب کی منکوحہ کو چھوڑا بھی؟ پھر خالی خولی شبہ سے کیا فائدہ؟ (مؤلف)

١٦

صفحہ ٢١

پر عذاب آسکتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ پھر ”تقدیر مبرم“ کیا ہوئی تو یاد رہے کہ تقدیر مبرم نہ قرآن شریف کی اصطلاح ہے نہ حدیث کی۔ یہ صوفیاء کرام کی اصطلاح ہے۔ پس ہمیں صوفیاء کرام ہی کی کتب سے اس کے معنی تلاش کرنے پڑیں گے۔ امام مجدد صاحب الف ثانی سرہندیؒ اپنے مکتوبات ٢١٧ جلد اول ص ٢٢٣ پر فرماتے ہیں کہ تقدیر مبرم کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو ٹل جایا کرتی ہے اور اس کی تائید میں حضرت سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کا قول لائے ہیں۔ اس کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) بھی فرماتے ہیں کہ مومن کامل کا خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے اور اس کی خاطر سے اور اس کی تضرع و دعا سے بڑے بڑے پیچیدہ کام درست کئے جاتے ہیں اور بعض ایسی تقدیریں بھی جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدل جاتی ہیں۔ (آسمانی فیصلہ ص ١٤) پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ مرزا سلطان محمد صاحب کی وفات شرطی تھی۔ اگر وہ خشیۃ اللہ کو چھوڑ دیتا تو ضرور اس کی موت ہو جاتی۔ مگر چونکہ اس نے خشیۃ اللہ سے کام لیا، حتیٰ کہ اس کی یہ خشیۃ اللہ حضرت مرزا صاحب کی وفات کے بعد بھی دور نہ ہوئی اور اس کو حضرت مرزا صاحب کی تکذیب کی قطعاً جرأت نہیں ہوسکی۔ پس ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا آنا قانونِ الٰہی کے بالکل خلاف تھا۔ جناب مولوی صاحب نے میرے بیان پر جو اعتراض کئے ہیں وقت کے ختم ہونے کے خیال سے مفصل جواب نہیں دے سکتا۔ مگر اتنا عرض کر دیتا ہوں کہ جو صاحب بھی میری پہلی تقریر کو غور سے پڑھیں گے اسی میں ان کے جواب پائیں گے۔ مولوی صاحب نے کہا ہے کہ اصل پیشگوئی مانعین کو ہلاک کرنا تھا۔ میں نے پہلے ہی بتلا دیا ہے کہ تمام مانعین ہلاک کر دیئے گئے تھے (بڑا مانع نکاح تو مرزا سلطان محمد ہے جس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مؤلف) مولوی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ میں ان کی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کو نشان بنا دوں گا۔ سو یہ پیشگوئی واقع میں پوری ہوگئی۔ ان کی لڑکی زبردست نشان بنی اور اس لڑکی کی وجہ سے مطابق پیشگوئی سخت تباہی آئی اور جو باقی بچے ان کو ہدایت نصیب ہوئی۔ باقی اس کا بیوہ بن جانا یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ مشروط تھا سلطان محمد کی وفات کے ساتھ اور سلطان محمد نے رجوع کیا اس لئے وہ قانون اور قرآن شریف کی تعلیم کے ماتحت بیوہ نہیں ہو سکتی تھی۔ پس میں اپنی تقریر کو بوجہ ختم ہونے وقت کے ختم کر دیتا ہوں۔

دستخط عبدالرحمٰن احمدی دستخط سید ہمایوں مرزا پریذیڈنٹ جلسہ ٣١ جنوری ١٩٢٣ء

مؤلف :- اس تحریر کے سنانے کے وقت عجیب نظارہ تھا۔ مولانا فاتح قادیان نے اعلان کر دیا

١٧

صفحہ ٢٢

کہ اگر مجدد صاحب کی کتاب میں یہ مضمون ہو کہ تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے تو میں اپنا دعویٰ واپس لے لوں گا۔ لائیے کتاب دکھائیے۔ مگر فریق ثانی نے کتاب نہ دکھائی۔ کیونکہ اس میں یہ نہیں لکھا کہ تقدیر مبرم بدل جاتی ہے۔ بلکہ یہ لکھا ہے کہ بعض دفعہ اولیاء اللہ اپنے کشفوں میں کسی امر کو تقدیر مبرم جان جاتے ہیں حالانکہ وہ مبرم نہیں ہوتا اس لئے وہ دعا یا صدقہ سے ٹل جاتا ہے یہ نہیں کہ اصل تقدیر مبرم بھی ٹل جاتی ہے۔ احمدی مناظر کی چالاکی قابل داد ہے کہ آپ خود بھی تقدیر مبرم کے ٹل جانے کے قائل نہیں ہوئے اس لئے بڑی ہوشیاری سے مشابہ تقدیر مبرم کہتے ہیں اللہ اللہ کس قدر کمزوری ہے کہ خود صاحب الہام بلکہ نبی بلکہ رسول تو اتنا پر زور دعویٰ کریں کہ سلطان محمد کا مجھ سے پہلے مرنا تقدیر مبرم ہے۔ یہ بھی کہیں کہ مجھ سے پہلے نہ مرے تو میں جھوٹا۔ مگر احمدی مناظر کہتے ہیں کہ یہ تقدیر باوجود مبرم ہونے کے ٹل گئی حالانکہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے لا تبدیل لکلمات اللہ ۔ خدا کے حکم تبدیل نہیں ہو سکتے۔

مباحثہ دو روز ٹھہرا تھا۔ دوسرے روز فریق ثانی نے انکار کر دیا۔ خط پر خط لکھا، نہ آئے آخر یہ لکھا گیا کہ سامنے نہ آؤ تو اپنے اپنے مکان میں سے پرچہ لکھ بھیجو۔ اس پر بھی راضی نہ ہوئے تو تیسرا پرچہ بتاریخ ٢٢ فروری ١٩٢٣ء صبح کے ٩ بجے عبداللہ الہ دین قادیانی کو بھیج کر لکھا گیا کہ آج مغرب تک جواب کا انتظار ہوگا۔ وہ پرچہ انہوں نے واپس کر کے لکھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب کو حیدرآباد (دکن) بھیج دیں۔ ان کے اس لکھنے پر پرچہ مذکور بذریعہ ڈاک مکتوب الیہ کو بھیجا گیا تھا جو یہاں درج ہے۔

پرچہ نمبر ٣ منجانب مولانا مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری مناظر محمدی

شیخ عبدالرحمن صاحب! ”راستی موجب رضائے خدا است“ یہ ایک سنہرا مصرع ہے جس کی پابندی ہر ایک انسان پر فرض ہے میں اس کی پابندی میں آپ کے سامنے آپ کے نبی، رسول، پیشوا، مسیح موعود حضرت مرزا صاحب کا کلام مختلف مقامات سے رکھ دیتا ہوں۔ ایک تو وہی (انجام آتھم ص ٣١۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً) سے کہ مرزا سلطان محمد کا مرزا صاحب قادیانی سے پہلے مرنا تقدیر مبرم ہے۔ ”دوسرا کرامات الصادقین (کے سرورق صفحہ اخیر۔ خزائن ج ٧، ص ١٦٢) سے جس کا ترجمہ یوں ہے سلطان محمد یوم نکاح سے تین سال میں مر جائے گا اس کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے لا تبدیل لکلمات اللہ ۔ یعنی خدا کے احکام نہیں بدلا کرتے ”چونکہ آپ نے مرزا سلطان محمد کی پیشگوئی اور نکاح والی پیشگوئی دونوں کو ملا دیا ہے کیونکہ ایام الصلح کے جس مقام کا آپ نے حوالہ

١٨

صفحہ ٢٣

دیا ہے وہاں نکاح کا ذکر ہے اس لئے میں ان دونوں پیشگوئیوں کے الفاظ ایک جا کر کے باانصاف ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں۔

صاحب قادیانی سے پہلے مرنا تقدیر مبرم (ان ٹل) ہے۔

اور اس کی بیوی کا بیوہ ہونا اور مرزا صاحب قادیانی کے نکاح میں آنا تین دعوے کیے گئے ہیں۔ اور ان تینوں دعوؤں کو مدلل کیا گیا ہے اس الہامی عبارت لا تبدیل لکلمات الله یعنی خدا کے حکموں میں تبدیلی نہیں ہو سکتی سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ تینوں دعوے غیر متبدل ہیں۔ انجام آتھم ص ٢٢٣۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً کا حوالہ یہ ہے بل الامر قائم علی حالہ ولا یردہ احد باحتیالہ و القدر قدر مبرم من عند رب العظیم ۔یعنی یہ کام (نکاح مرزا) ہو کر رہے گا کوئی اس کو نہیں روک سکے گا یہ خدائی تقدیر مبرم ہے۔ آپ نے تقدیر مبرم کو قابل تبدیل بنانے کی کوشش کی ہے قطع نظر اس سے کہ آپ اس میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ یہ کوشش آپ کی مرزا صاحب قادیانی کی تصریحات کے خلاف ہے۔ آئیے ذرا خدا کا خوف دل میں رکھ کر اور یہ جان کر کہ ایک دن اس کے سامنے حاضری ہے جس کی شان یہ ہے لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد۔ مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل غور سے پڑھیں جو یہ ہے:

”نفس پیشگوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا صاحب قادیانی) کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ فقرہ موجود ہے ”لا تبدیل لکلمات الله“ یعنی میری بات ہر گز نہیں ٹلے گی پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے“

(اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء۔ مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٤٣)

یہ ہیں تقدیر مبرم کے معنی اور مراد جو مرزا صاحب نے خود بیان فرما دی ہے پس ان ساری عبارتوں کو ملا کر مندرجہ ذیل نتیجہ غور سے سنئے۔

محمدی بیگم کا نکاح مرزا میں آنا موقوف ہے مرزا سلطان محمد کی موت پر۔ قاعدہ اصولی ہے ”مقدمۃ الواجب واجب“ نکاح جب اٹل ٹھہرا تو سلطان محمد کی موت بھی مرزا صاحب کی زندگی میں ضروری اٹل ٹھہری چونکہ محمدی بیگم کا بعد انتقال اپنے خاوند سلطان محمد سلمہ اللہ کے بیوہ ہو کر نکاح مرزا میں آنا ضروری تھا جو نہیں ہوا اس لئے میں آپ کو اس خدائے علیم کے نام کا واسطہ دے کر حوالہ جات مذکورہ کے بعد (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) پر توجہ دلاتا

١٩

صفحہ ٢٤

ہوں جس میں مرزا سلطان محمد کی موت نہ آنے پر مرزا صاحب قادیانی نے اپنے حق میں تمام مخلوق سے بدترین بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ایسی منصوصات صریحہ کے ہوتے ہوئے آپ انجام آتھم ص ٣٢ کی عبارت کیوں پیش کرتے ہیں جس میں مرزا سلطان محمد کی اڑھائی سالہ میعاد گزر جانے کا جواب ہے وہ میری پیش کردہ عبارت تقدیر مبرم سے بے تعلق ہے اصل بات یہ ہے کہ سلطان محمد کی بابت جناب مرزا صاحب کی پیشگوئی دو صورتوں میں ہے ایک اڑھائی سالہ جس کی میعاد اگست ١٨٩٤ء کو ختم ہونے پر اعتراضات شروع ہوئے تو آپ نے اس کو اندازی پیشگوئی قرار دے کر التوا میں پڑ جانے کا اعلان کیا۔ اس التواء کی وجہ سلطان محمد کا خوف بتلایا اور اسی پر اس کو قسم کھانے کا صیغہ مذکور پر ذکر کیا ہے مجھے اس پیشگوئی اور اس کے التوا سے اس وقت بحث نہیں ہے دوسری صورت اس پیشگوئی کی یہ ہے جس کی عبارت میں نے نقل کی ہے کہ وہ تقدیر مبرم یعنی مرزا صاحب قادیانی کی زندگی میں اس کا مرنا ضروری ہے جس کی دنوں یا مہینوں یا سالوں سے تحدید نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ وہ مرزا صاحب قادیانی ہی کی زندگی میں مرے گا اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ محمدی بیگم (خدا اس کو اس صدمہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ) مرزا صاحب کے الہام کے مطابق نکاح ثانی سے مرزا صاحب کی منکوحہ بنے گی جو نہ بنی اور نہ سلطان محمد مرزا صاحب قادیانی کی زندگی میں بلکہ آج تک فوت نہ ہوا ان صحیح واقعات سے چشم پوشی کر کے جو شخص یا جماعت مرزا صاحب کی اس پیشگوئی کو سچا سمجھے میں ان کے حق میں بجز اس کے کیا کہہ سکتا ہوں ۔ ما لہؤلاء القوم لا یکادون یفقہون حدیثا ۔ اور اس شعر کے سوا میں کیا کہہ سکتا ہوں :

الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے
دے آدمی کو موت پر یہ بد ادا نہ دے

اطلاع:۔ اس پرچہ کا جواب آج ٢٥ فروری ١٩٢٣ء تک نہیں آیا۔ ناظرین پرچوں کو ملاحظہ کر کے حق و باطل میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔ آمین

خاکسار مرزا محمود علی بیگ سیکرٹری انجمن اہلحدیث سکندر آباد دکن مرقوم ٢٥ فروری ١٩٢٣ء

٢٠

صفحہ ٢٥

قادیانیوں کے ہتھکنڈے اور ان کا جواب

ناظرین کرام! پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی اور ان کی امت کے دعوے اور عقائد یہ ہیں کہ جو شخص مرزا صاحب قادیانی کو نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی مسعود، امام الزمان اور مجدد وغیرہ نہیں مانتا وہ کافر ہے اور اس کے پیچھے کسی مرزائی کی نماز درست نہیں چاہے مرزا صاحب کا منکر کیسا ہی عالم، دیندار، موحد اور متبع سنت ہو وہ کافر کا کافر ہی رہے گا اور جہنم میں جائے گا۔ قادیانی امت نے دنیا بھر کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا رکھا ہے عام مسلمان جب مرزا صاحب قادیانی کے جھوٹے دعوے اور الہامات اور غلط پیشگوئیوں کا انکار کرتے اور ان ہی کی کتابوں سے ان کا جھوٹ ثابت کرتے ہیں تو قادیانی لوگ تنگ آ کر دو باتیں پیش کیا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ مباہلہ کر لو جس میں دونوں فریق (محمدی اور احمدی) جھوٹے پر لعنت کریں۔ پھر دیکھو سال تک کیا ہوتا ہے۔ اس کا جواب مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب فاتح قادیان نے یہ دیا ہے کہ سال بھر کی مدت کسی روایت میں نہیں بلکہ تفسیر معالم التنزیل سے دکھایا کہ مباہلہ کی دعوت دینے والے کا اثر فریق ثانی پر فوراً ہونا چاہئے چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ولو يلاعنوا لمسخوا (الحدیث) (معالم ج ١ ص ١٦٤) یعنی مباہلہ کرنے والے اگر مباہلہ کرتے تو فوراً مسخ کئے جاتے کیونکہ ”لو“ حرف شرط ہے اور شرط کی جزا متصل ہوتی ہے۔ پس جب کبھی قادیانی لوگ مباہلہ کی دعوت دیں تو ہمارے برادران اسلام ان سے لکھوا لیں کہ مباہلہ ہوتے ہی ہم پر اثر نہ ہوا تو قادیانی جھوٹے ہوں گے اور مرزائی مذہب سے تائب ہوں گے۔ تائب نہ ہونے کی صورت میں اتنی رقم بطور تاوان ادا کریں گے بلکہ اقرار نامہ کے ساتھ ہی رقم تاوان کسی امانت دار کے پاس رکھوا لیں۔

دوسرا ہتھکنڈا ان کا یہ ہے، کہتے ہیں کہ آؤ قسم کھاؤ کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر ایک سال تک موت یا عذاب آئے اس کا جواب مولانا فاتح نے جو دیا ہے وہ مسلمان بھائیوں کے یاد رکھنے کے لئے درج ذیل ہے۔

.......☆.......

صفحہ ٢٦

قادیانی جماعت کو جواب

تلخیص از اشتہار مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری فاتح قادیان بزمانہ ورود حیدرآباد دکن (مورخہ ٦ فروری ١٩٢٣ء)

برادران اسلام! میں جب سے آیا ہوں میری تقریریں آپ نے سنیں۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ قادیانی مذہب کے جواب میں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا۔ میں تو صرف ان کے نبی رسول قادیان کے الفاظ سنا دیتا ہوں اس پر بھی میرے عنایت فرما قادیانی لوگ خفا ہیں۔ چنانچہ جب عبداللہ الہ دین صاحب احمدی سوداگر سکندر آباد نے ایک اشتہار دیا ہے جس میں موصوف نے لکھا ہے کہ مولوی ثناء اللہ تکذیب مرزا صاحب پر ہماری پیش کردہ عبارت میں حلف اٹھائیں تو ہم ان کو مبلغ پانسو روپیہ انعام دیں گے۔ اس عبارت میں سوائے طول فضول کے کچھ فائدہ نہیں بات صرف اتنی ہے کہ میں حلف اٹھاؤں کہ مرزا صاحب قادیانی دعویٰ مسیحیت وغیرہ میں جھوٹے تھے اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو ایک سال کے اندر ہلاک ہو جاؤں وغیرہ۔

میں جلسہ ٥؍ فروری ١٩٢٣ء میں اعلان کر چکا ہوں کہ میں عبداللہ الہ دین (قادیانی) کے الفاظ میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں مبلغ پانسو روپیہ پہلے انعام لے لوں گا۔ لیکن ایک سال تک میں زندہ سلامت رہا تو یقیناً احمدیوں کے نزدیک بھی سچا ثابت ہوں گا۔ پس عبداللہ الہ دین صاحب اور میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) تحریر کر دیں کہ بعد سال ہم آپ کو سچا جان کر بحکم قرآن شریف ”کونوا مع الصادقین“ مرزا صاحب قادیانی کا مذہب چھوڑ کر مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ ہو کر تبلیغ کریں گے اور دونوں یا کوئی ایک ایسا نہ کریں گے تو دس ہزار روپیہ انعامی رقم مولوی ثناء اللہ کو دیں گے۔ اگر خیال ہو کہ عبداللہ الہ دین صاحب اس عہد کے ذمہ دار اس لئے ہوں گے کہ انہوں نے اشتہار دیا خلیفہ قادیانی کیوں عہد لکھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسی مضمون کا ایک اشتہار منشی قاسم علی سہ صدی قادیانی نے دیا تھا تو اس پر لکھا تھا بحکم خلیفہ صاحب قادیان چونکہ حیدرآبادی اشتہار کا مضمون دراصل وہی مضمون ہے نیز خلیفہ قادیان سب کی جڑ بنیاد ہے اس لئے دونوں سے عہد لیا جائے گا۔

اطلاع عام:۔ مولانا امرتسری مدظلہ العالی کا مذکورہ بالا جواب سن کر قادیانی امت چوکڑی بھول گئی اور ہوش میں آ کر خاموش بیٹھ گئی اور آئندہ بھی امید نہیں کہ مولانا کے تجویز کردہ شرائط کو قبول کر کے کوئی قادیانی میدان میں آسکے۔

٢٢

صفحہ ٢٧
تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے
وہ ساری شیخی جاتی رہی دو گھڑی کے بعد

برادران اسلام سے توقع کی جاتی ہے کہ قادیانی لوگ جب کبھی سر اٹھائیں تو ان سے بطریق مذکورہ بالا اقرار نامہ لکھوالیا کریں گے تا اس جھوٹے نبی اور اس کے فرقہ باطلہ کی پوری قلعی کھل جائے۔

خاکسار سیکرٹری (جماعت اہلحدیث سکندر آباد حیدرآباد دکن)

قادیانی مباحثہ دکن کا اثر

اخبار رہبر دکن مورخہ ٣؍ رجب ١٣٤١ھ میں غلام صمدانی خان صاحب ساکن پل قدیم حیدرآباد نے اپنے اور اپنے ٩ متعلقین کے قادیانی مذہب سے تائب ہونے کی اطلاع درج کرائی ہے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مولانا ثناء اللہ صاحب کے وعظوں اور خصوصاً سکندر آباد کے مناظر کے اثر سے قادیانی مذہب کو ترک کر دیا۔ آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر قادیانی مذہب سچے اصول پر قائم ہوا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے یہ لوگ دب جاتے میں نے دیکھا کہ حضرات احمدی کی مناظرے کے روز عجیب حالت تھی کوئی گفتگو ان کی قرینہ کی نہ تھی۔

مذکورہ بالا دس حضرات کے علاوہ شیخ حسین صاحب ضلع میدک اور مزمل اللہ صاحب اور محمود علی صاحب حیدرآبادی وغیرہ کے قادیانی مذہب سے تائب ہونے کی اطلاعیں اخبار مذکور میں درج ہوئی ہیں۔ الحمد للہ۔ (مؤلف)

......☆......

PDF 28

ماہنامہ لولاک

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ، منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے:

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گزشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون وبیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔

زر سالانہ صرف 250/= روپے

رابطہ کے لئے:

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

PDF 29

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

شہادات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحیم. نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم! وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین.

پنجاب کے ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان میں ایک صاحب مرزا غلام احمد پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جن احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبل قیامت دنیا میں آنے کا ذکر ہے ان سے مراد میں ہوں یعنی میں عیسیٰ موعود ہوں۔ ان کے اس دعوے کی تردید میں خاکسار کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں زیادہ تر توجہ مرزا قادیانی کی ان پیشگوئیوں پر ہے جو موصوف نے اپنی صداقت کے اظہار کے لئے وحی اور الہام کے نام سے کی ہیں۔ اس لئے میرے بعض مخلص دوستوں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ ایسی بھی کوئی کتاب لکھوں جس میں دلائل حدیثیہ سے بھی گفتگو ہو یعنی ان احادیث کا ذکر بھی ہو جن میں حضرت عیسیٰ موعود کا آنا مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہو تو مضائقہ نہیں۔ اس لئے اس مختصر رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعوے کی تردید میں تین طرح کی شہادات ناظرین ملاحظہ فرمائیں گے:

امید ہے کہ ناظرین اس رسالہ کو اس بحث میں اچھوتا پائیں گے اور مقدور بھر اس کی اشاعت کر کے خدمت دین بجالائیں گے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ

ابوالوفاء ثناء اللہ ملقب بہ فاتح قادیان صفر ١٣٤٢ھ مطابق اکتوبر ١٩٢٣ء

صفحہ ٣١

دعویٰ مرزا صاحب

جناب مرزا قادیانی کا دعویٰ خود انہی کے الفاظ میں نقل کرنا مناسب ہے، گو آپ کا دعویٰ اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کسی کو مجال انکار نہیں، گو ان کے دعویٰ نبوت ورسالت وغیرہ کے متعلق ان کی امت میں اختلاف ہے لیکن ان کے دعویٰ مسیحیت کی بابت اختلاف نہیں۔ تاہم ہم انہی کے الفاظ میں ان کا دعویٰ سناتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

” و کنت اظن بعد ھذہ التسمیة ان المسیح الموعود خارج وما کنت اظن انہ انا حتی ظھر السر المخفی الذی اخفاہ اللہ علی کثیر من عبادہ ابتلاء ا من عندہ وسمانی ربی عیسی ابن مریم فی الالھام من عندہ وقال یا عیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة انا جعلناک عیسی ابن مریم وانت منی بمنزلة لا یعلمھا الخلق وانت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی وانک الیوم لدینا مکین امین۔ فھذا ھو الدعوی الذی یجادلنی قومی فیہ ویحسبوننی من المرتدین۔ “

(حمامة البشری ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٣، ١٨٤)

”خدا نے میرا نام متوکل رکھا۔ میں بعد اس کے بھی سمجھتا رہا کہ مسیح موعود آئے گا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں ہی ہوں گا‘ یہاں تک کہ مخفی بھید مجھ پر کھل گیا‘ جو بہت سے لوگوں پر نہیں کھلا اور میرے پروردگار نے اپنے الہام میں میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا‘ اور فرمایا اے عیسیٰ ! میں (خدا) نے تجھے عیسیٰ بن مریم کیا‘ اور تو مجھ سے ایسے مقام میں ہے کہ مخلوق اس کو نہیں جانتی اور تو (مرزا) میرے نزدیک میری توحید اور وحدت کے رتبے میں ہے اور تو آج ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے۔ پس یہی (مسیح موعود ہونے کا) دعویٰ ہے‘ جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھ کو مرتد جانتی ہے۔“

٣

صفحہ ٣٢

یہ عبارت صاف لفظوں میں مرزا قادیانی کا دعویٰ بتارہی ہے کہ آپ اس بات کے مدعی تھے کہ احادیث میں جن عیسیٰ موعود کی بابت خبر آئی ہے کہ وہ دنیا میں قریب قیامت کے ظاہر ہوں گے، وہ میں ہوں۔

یہ بھی اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مسلمان مرزا قادیانی سے اسی دعوے میں بحث اور نزاع کرتے ہیں، یعنی وہ آپ کو عیسیٰ موعود وغیرہ نہیں مانتے۔ اصلی نزاع یہی ہے، اس کے سوا باقی کوئی ہے تو فرعی۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے دعوے کی تقریر جو انہی کے الفاظ میں نقل کی گئی ہے۔

نوٹ:۔ امت (مرزائیہ) مرزا قادیانی کے دعوائے مسیحیت موعودہ کے اثبات سے عاجز ہوکر کبھی وفات عیسیٰ پر بحث کرنے لگ جاتی ہے، کبھی دجال اور اس کے گدھے کی بابت ادھر اُدھر کی بات شروع کر دیتی ہے جس سے اصل مقصد دور ہو جاتا ہے۔ اس لئے فریقین مسلمان اور قادیانی با انصاف سے امید ہے کہ مرزا قادیانی کے اس بیان کو غور سے پڑھ کر بس اسی (دعوائے مسیحیت موعودہ) پر مدار بحث رکھا کریں گے۔

ناظرین سے درخواست: اس کتاب کو اول سے آخر تک بغور دیکھیں گے تو بہت سی نئی معلومات پائیں گے۔ اس لئے مصنف کی درخواست ہے کہ اول سے آخر تک بغور ملاحظہ فرمائیں۔ (مصنف)

......☆......

باب اول

متعلق احادیث

چونکہ عیسیٰ موعود کا منصب اور تشریف آوری حدیثوں سے ثابت ہے۔ اس لئے ہم چند حدیثوں سے شہادت نقل کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان حدیثوں کے مطابق جناب مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں؟

پہلی شہادت: سب سے پہلے بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے جس کے الفاظ مع ترجمہ

٤

صفحہ ٣٣

یہ ہیں:

"عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض المال حتی لا یقبلہ احد حتی تکون السجدة الواحدة خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ . الآیة. متفق علیہ . (بخاری ج ١. ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم. مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم. مشکوٰة شریف ص ٤٧٩ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

ترجمہ: ”ابو ہریرةؓ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقسم ہے اللہ پاک کی! بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے، پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو (جس کو وہ پوجتے ہیں اسے) توڑ دیں گے اور خنزیر (جو خلاف حکم شریعت عیسائی کھاتے ہیں اس) کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا، لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال ومتاع سے اچھا معلوم ہوگا۔ (حدیث کے یہ الفاظ سن کر) ابو ہریرةؓ کہتے تھے کہ تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ آخِر تک“ (اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے اترتے وقت کل اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے)۔

یہ حدیث اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح کی محتاج نہیں۔ صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ موعود کو منصف حاکم یعنی بادشاہ قرار دیا ہے، اور مرزا صاحب کو یہ وصف حاصل نہ تھا، چنانچہ آگے اس کا ذکر آتا ہے۔

دوسری شہادت : دوسری شہادت اس سے بھی زیادہ صاف اور فیصلہ کن ہے، جو صحیح مسلم میں مروی ہے:

"عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او لیثنینہما. “

(مسلم ج ١ ص ٤٠٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن مسلم)

ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح موعود بفج الروحاء سے (جو مکہ مدینہ کے

٥

صفحہ ٣٤

درمیان جگہ ہے۔ نووی شرح مسلم) حج کا احرام باندھیں گے۔“

یہ حدیث حضرت مسیح موعود کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعیین کرتی ہے۔ مرزا قادیانی کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلمہ ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا۔

حیرت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت نے اور حدیثوں کے جوابات دینے پر تو توجہ کی چاہے کسی قسم کی ہو مگر اس حدیث کا نام بھی ان کی تحریرات میں ہم نے نہیں دیکھا۔ حالانکہ اخبار اہلحدیث مورخہ ٥؍ شوال (یکم جون ١٩٢٣ء) میں یہ حدیث نقل کر کے جواب طلب کیا گیا تھا۔

تیسری شہادت: تیسری شہادت وہ ہے جسے مرزا قادیانی نے خود بھی نقل کیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:

”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر.“

(مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ. ص ٤٨٠)

ترجمہ : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ زمین کی طرف اتریں گے، پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد پیدا ہوگی اور آپ پینتالیس سال زمین پر رہیں گے، پھر فوت ہو کر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے، پھر میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اور حضرت عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے، جبکہ ہم ابوبکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کے درمیان ہوں گے۔“

اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ موعود کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہوگا۔ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے خود اپنے استدلال میں لیا ہوا ہے۔ اس میں جو حضرت عیسیٰ موعود کے تزوج (نکاح) کا ذکر ہے، اس کی نسبت مرزا قادیانی نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ ان پر صادق آئے۔

ناظرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جناب موصوف نے ایک نکاح کی بابت الہامی پیشگوئی فرمائی تھی، جس کو اعجازی نکاح کہتے تھے۔ جناب ممدوح لکھتے ہیں کہ یہ نکاح جو حضرت عیسیٰ ابن مریم موعود کا مذکورہ حدیث میں آیا ہے، اس سے وہی اعجازی نکاح مراد ہے، جس کی بابت میں نے

صفحہ ٣٥

پیشگوئی کی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

”انه يتزوج وذالك ايماء الى اية يظهر عند تزوجه من يد القدرة وارادة حضرت الوتر وقد ذكرناها مفصلا فى كتابنا التبليغ والتحفة واثبتنا فيهما ان هذه الايت ستظهر على يدى . “

(حمامة البشرى ص ٢٦. خزائن ج٧ ص ٢٠٨)

ترجمہ: ”حضرت عیسیٰ موعود نکاح کریں گے‘ یہ اس نشان کی طرف اشارہ ہے جو اس کے نکاح کے موقع پر قادر کی قدرت سے ظاہر ہوگا‘ اور ہم نے اس نشان کو مفصل اپنی دو کتابوں تبلیغ اور تحفہ میں ذکر کیا ہوا ہے‘ اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا۔“

یعنی ( مرزا قادیانی یہ کہنا چاہتا ہے کہ ) یہ نکاح وہی ہے جو میرا ہوگا۔ تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ اس کو دوسری کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھتے ہیں:

”اس پیشگوئی (یعنی میرے نکاح) کی تصدیق کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ ”يتزوج ويولد له“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں‘ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے‘ اس میں کچھ خوبی نہیں ‘بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣۔ خزائن ج١١ حاشیہ ص ٣٣٧)

یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو اس حدیث کی تسلیم سے انکار نہیں بلکہ اس کو اپنی دلیل میں لایا کرتے تھے۔ اس لئے ہم بھی اس حدیث سے استدلال کرنے کا حق رکھتے ہیں‘ جو یوں ہے کہ:

”چونکہ مرزا قادیانی مدینہ شریف میں فوت ہو کر روضہ مقدسہ میں دفن نہیں ہوئے‘ اس لئے وہ عیسیٰ موعود نہیں۔“

الحمد للّٰہ! کہ از روئے احادیث شریفہ ہم نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت موعودہ کا صحیح نہیں:

٧

صفحہ ٣٦
آنکس کہ بقرآن و خبر از نرہي
اینست جوابش کہ جوابش ندہی

احادیث اس مضمون کی بکثرت ہیں (حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ مطبوعہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے ص ١٢٠ پر احادیث و آثار جمع کئے ہیں۔ مرتب) مگر ہم نے بہ نیت اختصار بطور نمونہ انہی تین حدیثوں پر اکتفا کیا کیونکہ ماننے والے کے لئے یہ بھی کافی سے زیادہ ہیں، نہ ماننے والے کو حجت بھی کچھ نہیں:

اگر صد باب حکمت پیش ناداں
بخوانی آیدش بازیچہ در گوش

مختصر مضمون احادیث ثلاثہ

تینوں حدیثوں کا مختصر مضمون تین فقروں میں ہے:

ان تینوں مضامین کے لحاظ سے مرزا قادیانی کے حق میں نتیجہ صاف ہے کہ:۔

”مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود نہ تھے۔“

مختصر بات ہو مضمون مطول ہووے

تتمہ باب اول: شاید کسی صاحب کو خیال ہو کہ جو الفاظ حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام کی بابت آئے، ان سے ان کی حقیقت مراد نہیں بلکہ مجاز مراد ہے۔ مثلاً بقول ان کے عیسیٰ مسیح سے خاص حضرت عیسیٰ مراد نہیں بلکہ مثل عیسیٰ مراد ہے، یا ”عدل حکم“ سے ظاہری حاکم مراد نہیں بلکہ روحانی مراد ہے۔ غرض یہ کہ ان جملہ اوصاف مسیحیہ میں سے جو وصف جناب مرزا صاحب میں نہیں پایا جاتا، اس سے مجازی وصف مراد ہے۔

اس کا جواب بالکل آسان ہے علماء بلاغت کا قانون ہے کہ مجاز وہاں مراد لی جاتی ہے جہاں حقیقت محال ہو۔

(ملاحظہ ہو مطول بحث حقیقت مجاز)

اب ہم دکھاتے ہیں کہ ان الفاظ کی حقیقت کی بابت، جو حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام کے حق میں آئے ہیں، مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں؟ کیا ان کی حقیقت کو محال جانتے ہیں یا ممکن؟

٨

صفحہ ٣٧

پس مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل کو بغور ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں:

”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں، کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا، درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان کی مراد بھی پوری ہو جائے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٠٠۔ خزائن ج ٣ ص ١٩٧۔ ١٩٨)

اس عبارت میں مرزا قادیانی کو تسلیم ہے کہ حقیقتہ مسیحیت محال نہیں بلکہ ممکن ہے۔ یہ بھی تسلیم ہے کہ ان کی حقیقت حکومت ظاہریہ ہے، جو مجھ میں نہیں۔ پس جب حقیقت ممکنہ ہے تو امکان حقیقت کے وقت مجاز کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ فافہم :

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہِ کنعاں کا

گو مرزا قادیانی کے اقرار کے بعد کسی شہادت کی حاجت نہیں، تاہم ایک گواہ ایسا پیش کیا جاتا ہے جس کی توثیق جناب مرزا قادیانی نے خود اعلیٰ درجہ کی، کی ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں:

”ان (حکیم نور الدین بھیروی) کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے، میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جاں نثار پایا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧٧۔ خزائن ج ٣ ص ٥٢٠)

یہی حکیم صاحب ہیں جو مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد خلیفۂ اول قادیاں ہوئے۔ وہی حکیم نور الدین صاحب اصولی طور پر ہماری تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے، استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد، منافق، بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لا سکتا ہے، اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔“

(ازالہ اوہام طبع اول ص ٨۔ خزائن ج ٣ ص ٦٣١)

پس ثابت ہوا کہ چونکہ عیسیٰ موعود علیہ السلام کا اپنی اصل حقیقت کے ساتھ آنا ممکن ہے، لہٰذا مرزا قادیانی عیسیٰ موعود نہیں ہیں۔ (الحمد للہ)

.......☆....... ٩

صفحہ ٣٨

دوسرا باب

مرزا قادیانی کے الہامات سے

مرزا قادیانی کے برخلاف شہادات

مرزا قادیانی کے الہامات تو بکثرت ہیں، جن میں امور غیبیہ کا دعویٰ کر کے انہیں اپنی صداقت کی شہادات بنایا ہے، ان سب کو دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ”الہامات مرزا“ ملاحظہ کریں۔ اس مختصر رسالہ میں ہم چند الہامات پیش کرتے ہیں:

پہلا الہام.......چوتھی شہادت

مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کے لئے ایک پیشگوئی فرمائی تھی، جو دراصل دو حصوں پر منقسم ہو کر دو پیشگوئیاں تھیں۔ ان دونوں پیشگوئیوں کی وجہ یہ پیش آئی تھی کہ مرزا قادیانی نے اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک نوعمر لڑکی سے نکاح کا پیغام دیا، جس کی بابت لکھتے ہیں:

”حديثة السن عذرا و كنت حينئذٍ جاوزت الخمسين.“

”یعنی وہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میں پچاس سال سے زیادہ ہوں۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٧٤۔ خزائن ج ٥۔ ص ایضاً)

اس لڑکی کے والد نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا تو مرزا قادیانی نے اعلان پر اعلان جاری کرنے شروع کر دیئے کہ خدا نے مجھے بذریعہ الہام فرمایا ہے کہ اگر یہ لڑکی کسی اور جگہ بیاہی گئی تو تین سال کے عرصہ میں اس کا خاوند مر جائے گا اور وہ بیوہ ہو کر میرے ساتھ بیاہی جائے گی۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا، او

١٠

صفحہ ٣٩

یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا، اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال میں فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“

پھر ان دونوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی ہے تو معلوم ہوا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنا دے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے:

”کذبوا بآیاتنا و کانوا بھا یستھزءون . فسیکفیکھم اللہ و یردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید انت معی و انا معک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا . “

”یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس کی لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گو اول میں احمق و نادان لوگ بد باطنی و بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدائے تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔“ (آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے۔ مصنف) خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ۔ ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧۔١٥٨)

یہ عبارت مرزا قادیانی کی ہے۔ اس میں مسماۃ مذکورہ کو خطبہ نکاح کے بعد دھمکی دی ہے اور دھمکی بھی معمولی نہیں بلکہ بیوہ ہونے کی، پھر اس کے بعد اصل مقصود کی یعنی اپنے نکاح میں آنے کی۔

١١

صفحہ ٤٠

اس پیشگوئی نے مرزائی امت کو سخت پریشان کر رکھا ہے‘ کوئی کچھ کہتا ہے‘ کوئی کچھ فرماتا ہے۔ ان سب کا جواب دینے سے مرزا قادیانی نے ہم کو سبکدوش فرما دیا ہے کیونکہ وہ بذات خود اس پیشگوئی کے متعلق ایک اعلان دے چکے ہیں جس کے سامنے غیر کی چل نہیں سکتی۔ امت مرزائیہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر مرزا قادیانی کا فرمان سنیں۔ موصوف کہتے ہیں:

”نفس پیشگوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا) کے نکاح میں آنا‘ یہ تقدیر مبرم (اٹل) ہے‘ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے: ”لا تبديل لكلمات الله“ یعنی میری (اللہ کی) یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء مندرجہ کتاب تبلیغ رسالت ج٣ ص ١١٥۔ مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٤٣)

ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی صاف گوئی ہوگی؟ جو مرزا قادیانی نے اس عبارت میں فرمائی ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ خدا جس امر کی بابت خبر دے‘ پھر اس کی تاکید کے لئے ”لا تبدیل“ فرمائے؟ پھر وہ تبدیل ہو جائے تو خدائی کلام کے جھوٹ ہونے میں کچھ شک رہتا ہے؟ خدا جزائے خیر دے مرزا قادیانی کو‘ جنہوں نے ایسی صاف گوئی کر کے ہمیں اپنی امت کی بے جا تاویلوں سے چھڑایا۔ عاملہم اللہ بما ہم اہلہ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح مرزا قادیانی سے ہو گیا؟ آہ! اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس کے ساتھ نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزا قادیانی کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کے دن بیچارے اس حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب ان کی قبر سے گویا یہ آواز آتی ہے:

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدّر جُدا نصیب جدا

اس پیشگوئی کو مفصّل دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ ”الہامات مرزا“ اور ”نکاح مرزا“ ملاحظہ کریں۔ (جو کہ احتساب قادیانیت کی اسی جلد میں شامل ہیں۔ مرتب)

دوسرا الہام...... پانچویں شہادت

پانچویں شہادت جو دراصل اسی پیشگوئی کے لئے بطور تمہید کے تھی‘ یوں ہے کہ اس لڑکی کا خاوند یعنی جس شخص سے وہ لڑکی باوجود پیغام مرزا غلام احمد قادیانی کے بیاہی گئی تھی‘ جس کا نام

١٢

صفحہ ٤١

مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور ہے۔ اس کے حق میں اسی پہلی پیشگوئی میں فرما چکے ہیں کہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال میں مر جائے گا۔ اس کی بابت یہ امر اظہار کرنا ضروری ہے کہ نکاح کس تاریخ کو ہوا؟ اور اس کی آخری مدت حیات کیا تھی؟ اور وہ اس مدت میں مرا یا نہیں؟ پس واضح ہو کہ نکاح مذکور حسب اطلاع خود مرزا قادیانی ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اس حساب سے ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء کا دن مرزا سلطان محمد کی زندگی کا آخری روز ہوتا مگر وہ آج (اکتوبر ١٩٢٣ء) تک زندہ ہے۔ (اور ١٩٣٨ء میں فوت ہوا۔ مرتب) حالانکہ اس عرصہ میں وہ فرانس کی جنگِ عظیم میں بھی شریک ہوا‘ جس میں اُس کے سر میں گولی بھی لگی مگر وہ زندہ رہا۔ جب اکتوبر ١٨٩٤ء گزر گیا اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا اور مخالفوں نے طعن و تشنیع کرنی شروع کی تو مرزا قادیانی نے ان کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ایک آخری اعلان شائع فرمایا‘ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفسِ پیشگوئی داماد احمد بیگ (مرزا سلطان محمد ناکح منکوحہ) کی تقدیر مبرم (اٹل) ہے‘ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

(رسالہ انجام آتھم حاشیہ ص ٣١‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ایضاً)

بس یہ آخری فیصلہ تھا جو خدا کے فضل سے ہوا بھی آخری کہ مرزا قادیانی خود تو مئی ١٩٠٨ء میں فوت ہوگئے اور ان کا رقیب‘ جس کی موت کی پیشگوئی تقدیر مبرم کی صورت میں کرتے تھے‘ ان کی دعا سے آج (اکتوبر ١٩٢٣ء) تک زندہ ہے۔ سچ ہے:

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

تیسرا الہام...... چھٹی شہادت

یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات اتنے ہیں کہ شمار بھی مشکل‘ لیکن ہم شہادت میں ان کو پیش کرتے ہیں جو بطور تحدی (دعوت) کے انہوں نے پیش کئے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ میری پیشگوئی سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوں‘ جیسا کہ ”براہین احمدیہ“ وغیرہ کتابوں کی یہ پیشگوئیاں کہ میں تجھے اسی (٨٠) برس یا

صفحہ ٤٢

چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا‘ اور مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کروں گا۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٣ حاشیہ۔ خزائن ج ١٥ حاشیہ ص ١٥٢)

یہ عبارت مرزا قادیانی کی عمر کی بابت پیشگوئی ہے کہ اسی سال کے ارد گرد ہو گی۔ اسی پیشگوئی کو دوسری کتاب میں‘ جو اس کے بعد چھپی ہے‘ بہت اچھے لفظوں میں آپ نے صاف کر دیا‘ فرماتے ہیں:

’’جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدے کے متعلق ہیں‘ وہ تو چوہتر (٧٤) اور چھیاسی (٨٦) کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧۔ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٩)

بہت خوب! آخری مدت تو متعین ہو گئی‘ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش کب کی ہے؟ شکر ہے کہ اس کے متعلق بھی ہمیں‘ دماغ سوزی کی ضرورت نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے ہم کو اس تکلیف سے سبکدوش فرما دیا ہے۔ چنانچہ آپ کا کلام ہے کہ:

’’چودہویں صدی کے شروع ہوتے وقت میری عمر چالیس سال کی تھی۔‘‘

(تریاق القلوب ص ٦٨۔ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

چنانچہ یہ عبارت مرزا قادیانی کی کتاب ہٰذا سے مزید تفصیل سے آگے آتی ہے۔ اس کے علاوہ فیصلہ کن شہادت بھی ہمارے پاس ہے‘ جو مرزا قادیانی کے خلیفۂ اول حکیم نور الدین نے مرزا قادیانی کی زندگی میں شائع کی تھی۔ حکیم صاحب موصوف نے مرزا قادیانی کی پیدائش سے اکسٹھ سالوں تک کا نقشہ یوں دیا ہے کہ پیدائش ١٨٣٩ء بتا کر ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٦٩ سال بتائی ہے۔

(رسالہ ’’نور الدین‘‘ ص ١٧٠۔ ١٧١ مصنفہ نور الدین)

پیدائش کا معاملہ صاف ہو گیا۔ رہا انتقال کا واقعہ‘ سو یہ تو بالکل صاف ہے کہ:

’’مرزا صاحب نے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو انتقال کیا ہے۔‘‘

(تحفہ شہزادہ ویلز ص ٦٢ مصنفہ مرزا محمود خلیفۂ قادیان)

ناظرین! خود مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین خلیفۂ اول قادیان کی شہادت سے مرزا قادیانی کی عمر بمشکل ٦٩ سال تک پہنچتی ہے‘ حالانکہ آپ بوحی الٰہی فیصلہ کر چکے ہیں کہ میری عمر چوہتر سے چھیاسی سال کے درمیان ہو گی۔

مرزائی دوستو! خدا کو حاضر ناظر جان کر بحکم الٰہی مثنیٰ و فرادیٰ ہو کر سوچو کہ یہ کیا بات ہے؟ جس بات کو مرزا قادیانی وحی الٰہی جتا کر بطور ثبوت پیش کرتے ہیں‘ وہی غلط ثابت ہوتی ہے۔

١٤

صفحہ ٤٣

گویا مرزا قادیانی بزبان حال کہتے ہیں:

جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

تتمہ: اس مذکورہ عبارت میں مرزا قادیانی نے یہ بھی ایک ضمنی پیشگوئی فرمادی ہے کہ:

”مخالفوں کے ہر ایک الزام سے تجھے بری کروں گا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣ حاشیہ خزائن ج ١٥ حاشیہ ص ١٥٢)

اور الزام تو رہے بجائے خود خود پر یہ الزام عمر کا بھی بحال رہا۔ سچ ہے:

یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

ساتویں شہادت (اقوال مرزائیہ سے)

مرزا قادیانی کی تردید کے لئے خود اس کے اپنے اقوال سے اس کی تردید کا معاملہ خدا کے فضل سے اتنا آسان ہے کہ کسی بیرونی شہادت کی حاجت نہیں بلکہ خود ان کے اپنے بیانات ہی ایسے ہیں کہ ان کے مخالف کو بہت کچھ مفید ہو سکتے ہیں۔ عدالتی اور شرعی طریق پر مدعا علیہ کا اپنا بیان جس قدر کارآمد ہوتا ہے دوسرے گواہوں کا نہیں۔ اس لئے عدالتی طریق ہے کہ مدعی چاہے تو اپنے مدعا علیہ سے بحیثیت گواہ کے بیان لے سکتا ہے۔ اس بیان میں مدعا علیہ اگر اقرار کر جائے تو دوسرے گواہوں کی نسبت بہت مفید ہوتا ہے۔

ٹھیک اسی طرح بفضلہ تعالیٰ مرزا قادیانی کے اپنے بیانات اتنے مفید ہیں کہ بیرونی شہادت اتنی مفید نہیں، کیونکہ مدعا علیہ کے بیان کے متعلق یہ مثل ہے جو بہت صحیح ہے:

”قضى الرجل على نفسہ“

ترجمہ: ”آدمی نے خود اپنے اوپر ڈگری کر لی“

پس اس اصول کے ماتحت ہم مرزا قادیانی کے اقوال بطور شہادت پیش کرتے ہیں، جن سے ہمارا دعویٰ (تکذیب مرزا) بآسانی ثابت ہو سکے۔

پہلا بیان:...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”تیسری مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے میری یہ ہے کہ وہ ظاہر نہیں ہوئے جب تک حضرت موسیٰ کی وفات پر چودھویں صدی کا ظہور نہیں ہوا۔ ایسا ہی میں بھی آنحضرت صلی اللہ

١٥

صفحہ ٤٤

علیہ وسلم کی ہجرت سے چودھویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔"

(رسالہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٧١ ۔ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٠٩)

اس بیان کی تردید: مرزا قادیانی اپنی دوسری کتاب میں یوں لکھتے ہیں:

"اور منجملہ ان علامات کے جو اس عاجز (مرزا) کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں پائی جاتی ہیں وہ خدمات خاصہ ہیں جو اس عاجز (مرزا) کو مسیح ابن مریم کی خدمات کے رنگ پر سپرد کی گئی ہیں کیونکہ مسیح اس وقت یہودیوں میں آیا تھا کہ جب توریت کا مغز او بطن یہودیوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا تھا، اور وہ زمانہ حضرت موسیٰ سے چوداں (یہ سلطان القلم کی اردو ہے۔ مصنف) سو برس بعد تھا کہ جب مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔ پس ایسے ہی زمانہ میں یہ عاجز (مرزا) آیا کہ جب قرآن کریم کا مغز او بطن مسلمانوں کے دلوں پر سے اٹھایا گیا، اور یہ زمانہ بھی حضرت مثیل (یعنی آنحضرت ﷺ ۔ مصنف) موسیٰ کے وقت سے اسی زمانہ کے قریب قریب گزر چکا تھا جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان میں زمانہ تھا۔"

(ازالۃ اوہام طبع اول ص ٦٩٢، ٦٩٣ ۔ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ کو چودہ سو برس سے کچھ زیادہ قرار دیا ہے کیونکہ چودہ سو برس بعد کا لفظ چودہ سو پر زیادتی چاہتا ہے عیسائیوں یہودیوں کی شہادت اس بارے میں ١٤٥١ ہے۔ (دیکھو تقدیس اللغات)

حالانکہ پہلے بیان میں تیرہ سو برس ختم ہو کر چودھویں صدی کے سر پر آنا لکھا ہے۔ اس دوسرے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک سو سال قبل از وقت تشریف لے آئے کیونکہ اس بیان کے مطابق مسیح موعود کی تشریف آوری کا وقت چودہ سو سال کے بعد ہے اور آپ چودھویں صدی کے شروع میں آئے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آپ ایک سو سال سے بھی کچھ پہلے تشریف لے آئے ہیں لہٰذا سر دست تشریف لے جائیے ہم آپ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔

دوسری تردید: مذکورہ بالا تردیدی بیان کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایک دوسرا بیان ایسا ہی صاف ہے جو ان دونوں کے مخالف ہے۔ آپ ایک جگہ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ پیشگوئیوں میں ہمیشہ ابہام ہوتا ہے صاف اور مفصل بیان نہیں ہوتا کیونکہ پیشگوئیوں میں سننے والوں کا امتحان (ابتلاء) کرنا منظور ہوتا ہے۔ چنانچہ توریت میں آنحضرت ﷺ کے حق میں پیشگوئی اسی قسم کی مبہم ہے جس میں وقت، ملک اور نام نہیں بتایا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ابتلاء خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیشگوئی کا بیان کرنا ارادہ الٰہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہئے

١٦

صفحہ ٤٥

تھا کہ:

’’اے موسیٰ! میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسمعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا ۔‘‘

(ازالۃ اوہام طبع اول ص ٢٧٨۔ خزائن ج ٣ ص ٢٤١)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے صاف تسلیم کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سرورِ کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم) پوری اکیس صدیاں گزار کر بائیسویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔

مرزائی دوستو! عبارت مرزا کو پھر غور سے پڑھو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اور سرورِ کائنات ﷺ کا درمیانی زمانہ کتنا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عیسوی سن کے حساب سے ٢٢؍اپریل ٥٧١ء کو ہوئی اور بعثت (رسالت) ١٢؍فروری ٦١٠ء کو ہوئی تھی۔ یہ چھ سو سال اکیس صدیوں سے نکال دیں تو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا درمیانی زمانہ پندرہ سو سال رہتا ہے۔

پس نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی بیان کے مطابق مقررہ وقت پر نہیں آئے بلکہ بہت پہلے تشریف لے آئے ہیں، لہٰذا آپ عیسیٰ موعود نہیں ۔ غالباً اسی لئے قبل از تکمیل کار تشریف لے گئے:

ایسا جانا تھا تو جانا! تمہیں کیا تھا آنا

آٹھویں شہادت...... اقبالی بیان مرزا قادیانی

مرزا قادیانی نے اپنا مسیح موعود ہونا ایک اور طریق سے بھی ثابت کیا ہے ۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’بالاتفاق تمام احادیث کے رو سے عمر دنیا کل سات ہزار برس قرار پایا تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٩٣۔ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٤)

اور بقول مرزا قادیانی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں ہزار میں پیدا ہوئے ہیں اور مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں پیدا ہونا مقرر تھا ۔ اپنے اس دعوے کو وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں جو سورۂ جمعہ میں ہے:

’’وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ‘‘

١٧

صفحہ ٤٦

پھر فرماتے ہیں کہ بس میں چونکہ چھٹے ہزار سال میں پیدا ہوا ہوں، لہٰذا میں مسیح موعود ہوں۔ اب سنئے آپ کے اپنے الفاظ جناب موصوف فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ ”واخرین منھم لما یلحقوا بھم“ ہے تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض اور ہدایت پائیں گے۔ پس جب کہ یہ امر نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا، ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا، تو اس صور ت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی موعود کے ظہور سے پورا ہوا۔ غرض جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہوئے تو جو بعض حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار ششم کے اخیر میں مبعوث ہوئے تھے اس سے بعث دوم مراد ہے، جو نص قطعی آیۂ کریمہ ”واخرین منھم لما یلحقوا بھم“ سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ نادان مولوی، جن کے ہاتھ میں صرف پوست ہی پوست ہے، حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا انتظار کر رہے ہیں، مگر قرآن شریف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے کیونکہ افاضہ بغیر بعث غیر ممکن ہے، اور بعث بغیر زندگی کے غیر ممکن ہے، اور حاصل اس آیۂ کریمہ یعنی ”واخرین منھم“ کا یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رسول ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، جو ہزار ششم میں بھی مبعوث ہو کر ایسا ہی افاضہ کرے گا جیسا کہ وہ ہزار پنجم میں افاضہ کرتا تھا، اور مبعوث ہونے کے اس جگہ یہی معنی ہیں کہ جب ہزار ششم آئے گا اور مہدی موعود اس کے آخر میں ظاہر ہوگا تو گو بظاہر مہدی معہود کے توسط سے دنیا کو ہدایت ہوگی لیکن دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نئے سرے سے اصلاح عالم کی طرف ایسی سرگرمی سے توجہ کرے گی کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مبعوث ہو کر دنیا میں آگئے ہیں، یعنی معنی اس آیت کے ہیں کہ ”واخرین منھم لما یلحقوا بھم“۔ پس یہ خبر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم کے متعلق ہے جس کے ساتھ یہ شرط ہے کہ وہ بعث ہزار ششم کے اخیر پر ہوگا، اسی حدیث سے اس

١٨

صفحہ ٤٧

بات کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود جو مظہر تجلیات محمدیہ ہے‘ جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعث دوم موقوف ہے‘ وہ چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص٩٤‘ ٩٥۔ خزائن ج١٧ حاشیہ ص٢٤٨ تا ٢٥٠)

اس عبارت کا مطلب ناظرین کے فہم عالی سے قریب کرنے کو اتنی تشریح کی ضرورت ہے کہ بقول مرزا قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دو دفعہ نبی ہو کر ظاہر ہونا مقدر تھا۔ ایک تو اس وقت جب آپ بصورت محمد مکہ معظمہ میں ظہور پذیر ہوئے۔ دوم اس وقت جب بشکل مرزا قادیانی بہ عہدۂ عیسیٰ موعود قادیان میں رونق افروز ہوئے۔ پہلی صورت میں آپ کا نام محمد تھا۔ دوسری میں احمد ہیں۔ محمدی صورت جلالی تھی یعنی جنگی اور احمدی صورت جمالی۔ یعنی صلح جو ہے چنانچہ اس کتاب کے دوسرے مقام پر مرزا قادیانی نے اس مضمون کو منجملہ تقریر میں یوں لکھا ہے فرماتے ہیں:

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا مگر بعث دوم جس کی طرف آیۂ کریمہ ”وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ“ میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت ” وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ“ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہوکر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالۃ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک ١؎ ہوں اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا۔ حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلۂ اس پیشگوئی کا زیروزبر ہو جاتا ہے بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں (١) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے ” مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ

١؎ شریک نہیں بلکہ اصل مصداق تھا۔ (دیکھو ازالۃ طبع اول ص٦٧٣۔ خزائن ج٣ص٤٦٣) مصنف

١٩

صفحہ ٢٨

رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (٢) دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “

(تحفہ گولڑویہ ص٩٦۔ خزائن ج١٧ ص٢٥٣‘٢٥٤)

گو اس عبارت کا مطلب صاف ہے تاہم اس کی مزید تشریح کے لئے مرزا قادیانی اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں۔ جو یوں ہے:

” یہ باریک بھید یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے وہ صرف اسم احمد کی تجلی ہے۔ کیونکہ بعثت دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کہ کوکب ششم منجملہ خنّس کنّس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کو خونریزی سے منع کرتا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔ اس لئے اگرچہ یہ بات حق ہے کہ اس بعث دوم میں بھی اسم محمد کی تجلی سے جو جلالی تجلی ہے اور جمالی تجلی کے ساتھ شامل ہے مگر وہ جلالی تجلی بھی روحانی طور پر ہو کر جمالی رنگ کے مشابہ ہو گئی ہے کیونکہ اس وقت جلالی تجلی کی تاثیر قہر سیفی نہیں بلکہ قہر استدلالی ہے وجہ یہ کہ اس وقت کے مبعوث پر پرتو ستارہ مشتری ہے نہ پرتو مریخ ۔ اسی وجہ سے بار بار اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر اتم ہے جو جمالی تجلی کو چاہتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص٩٦۔ خزائن ج١٧ حاشیہ ص٢٥٣)

اب تو یہ مضمون صاف ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ عیسیٰ موعود دنیا کی عمر سے چھٹے ہزار سال میں آئیں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ چھٹا ہزار کہاں تک ہے۔ ہم مرزا قادیانی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس عقدہ کا حل بھی خود فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں:

” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام سے قمری حساب کی رو سے (٤٧٣٩) چار ہزار سات سو انتالیس برس بعد میں مبعوث ہوئے اور شمسی حساب کی رو سے چار ہزار پانچ سو اٹھانوے برس بعد۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص٩٢۔ خزائن ج١٧ حاشیہ ص٣٤)

اب مطلع صاف ہے۔ پس ہجرت سے پہلے تیرہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں رہے اس حساب سے پورے تیرہ سو ہجری ہونے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سنہ نبوت ١٣١٣ھ ہوتا ہے۔ یہ عدد قمری حساب سے ٤٧٣٩ میں ملائیں تو تیرہویں صدی کے اخیر پر دنیا کی عمر چھ ہزار باون سال ہوتی ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ جناب مرزا قادیانی کس سنہ میں مسیح موعود کے عہدے پر مبعوث

٢٠

صفحہ ٤٩

(فائز) ہوئے۔ اس کے متعلق بھی ہمیں کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں بلکہ خود مدعا علیہ کا بیان ہمارے پاس ہے آپ لکھتے ہیں: ”یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعے سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے اور یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨۔ خزائن ج ١٥ص ٢٨٣)

یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی چودھویں صدی کے شروع میں چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر مسیحیت پر مامور ہوئے تھے۔ اسی مضمون کو دوسری کتاب میں مزید وضاحت سے لکھتے ہیں:۔ ”مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی سچ ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی۔ اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے ١؎ دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں ۔“

(ازالہ اوہام طبع اول ص ١٨٥‘١٨٦۔ خزائن ج ٣ ص ١٨٩‘١٩٠)

اس عبارت میں پہلی عبارت کی مزید تشریح ہے کہ کسی غبی سے غبی کو بھی شک نہیں رہتا کہ مرزا قادیانی کی بعثت چھٹا ہزار ختم ہو کر ساتویں ہزار میں سے باون سال گزر کر ہوئی لہٰذا بقول آپ کے آپ مسیح موعود نہیں ۔

ایک اور طرح سے : ہمارے گذشتہ بیان سے (جو درحقیقت مرزا قادیانی کا ذاتی بیان ہے) ساتویں ہزار کے باون سال گزرنے پر مرزا قادیانی مبعوث ہوئے ہیں جو ان کے

١؎ اہل علم اہل انصاف اس ’بلکہ‘ کو ملاحظہ کریں۔ نام تو ہے غلام احمد۔ چنانچہ قصبہ میں ہم نام کی نفی کرتے ہوئے صرف ’غلام احمد‘ ہی لکھتے ہیں مگر جب ترقی کر کے دنیا بھر کی نفی کرتے ہیں تو نام کے ساتھ مقامی نسبت کو بھی داخل کر کے ’غلام احمد قادیانی‘ پورا نام بتاتے ہیں۔ سچ ہے۔ (مصنف)

ایں کرامت ولی ماچہ عجب
گر بہ شا شید گفت باراں شد

٢١

صفحہ ٥٠

”لیٹ“ پہنچنے کی وجہ سے موجب ”فیل“ کے ہے اب ایک اور حساب سے بھی مرزا قادیانی کالیٹ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ:

”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص٩٥۔ خزائن ج١٧ حاشیہ ص٢٥٢)

بہت خوب۔ اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ چھٹا ہزار مرزا قادیانی کی گیارہ سال کی عمر پوری ہونے تک ختم ہو گیا۔ مگر گیارہ سال کی عمر میں تو مبعوث نہ ہوئے ہوں گے بلکہ بالغ ہو کر۔ بلکہ بحکم ”بلغ اربعین سنۃ۔“ چالیس سال کو پہنچ کر مسیحیت کے درجے پر مبعوث (مامور) ہوئے تو بھی ساتویں ہزار میں چلے گئے جو خلافِ وقتِ مقرر کے ہے۔

نوٹ: مرزا قادیانی اپنی تحریرات میں خود قمری حساب پر بنا کر رہے ہیں۔ یہاں تک فرما چکے ہیں کہ:

”میں چھٹے ہزار میں سے گیارہ سال رہتے میں پیدا ہوا تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٩٥ حاشیہ۔ خزائن ج١٧ حاشیہ ص٢٥٢)

اس لئے کسی ان کے حالی موالی کو یہ حق نہیں کہ وہ شمسی حساب سے چھ ہزار کا شمار کرے۔ کیونکہ ان کا ایسا کرنا ہم کو نہیں بلکہ ان کو مضر ہو گا اس لئے کہ شمسی حساب سے چھ ہزار سال ٢٠١٢ عیسوی میں پورے ہوں گے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کی پیدائش ٢٠١٠ء میں ہونی چاہئے حالانکہ وہ ١٩٠٨ء میں انتقال بھی کر گئے۔ (شاید بروزی طور پر دوبارہ آئیں)

ناظرین!

یہ ہیں وہ دلائل جن کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل میں غور کرے گا تو اس پر روزِ روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں (مرزا) خدا کی طرف سے ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص١٠٢۔ خزائن ج١٧ ص٢٧٤)

کچھ شک نہیں کہ ہم بھی انہی دلائل کی شہادت سے اس مرحلہ پر پہنچے ہیں کہ۔

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق!
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

٢٢

صفحہ ٥١

نویں شہادت ...... حرمین شریفین کے درمیان ریل

سلطان عبدالحمید خان مرحوم نے اسلامی دنیا میں تحریک کی تھی کہ حاجیوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے حجاز (مکہ مدینہ) میں ریل بنائی جائے چنانچہ مسلمانان دنیا نے اس تحریک کو قوی کام جان کر بطیب خاطر چندہ بھی دیا۔ چنانچہ ریل مذکور دمشق سے چل کر مدینہ طیبہ تک پہنچ گئی۔ آمدورفت بھی مدینہ منورہ تک شروع ہوگئی۔ اس وقت کے جوش کو دیکھ کر قرین قیاس بلکہ یقین تھا کہ چند ہی روز میں ریل مکہ معظمہ سے گزر کر بندر جدہ تک آنے والی ہے۔ اتنے میں مرزا قادیانی نے اعلان کر دیا کہ یہ ریل میری صداقت کی دلیل ہوگی۔ کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے ”واذا العشار عطلت“ یعنی اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ مسیح موعود کے آنے کے وقت مکہ مدینہ میں ریل بن کر اونٹوں کی سواری بند ہو جائے گی۔ چنانچہ حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ ”لیترکن القلاص فلا یسعی علیہا“ یعنی اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے ان پر سواری نہ لی جائے گی۔ یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ پس حجاز میں ریل بننے سے میرے دعوے کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس تشریح کے بعد مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سنئے آپ فرماتے ہیں:

”آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیشگوئی آیت کریمہ ”واذ العشار عطلت“ پوری ہوئی اور پیشگوئی حدیث ”ولیترکن القلاص فلا یسعی علیہا“ نے اپنی پوری پوری چمک دکھلا دی یہاں تک کہ عرب و عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس کی پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢۔ خزائن ج ١٩ص ١٠٨)

اس سال ١٩٢٣ء کے حاجی بھی شہادت دیتے ہیں کہ حرمین (مکہ مدینہ) کے درمیان اونٹوں پر سفر کر کے آئے ہیں۔ ہم حیران تھے کہ تمام مسلمانان دنیا کی ضرورت کے مطابق ریل کا انتظام ہوا۔ بہت سا حصہ اس کا بھی بن گیا مگر عین موقع پر؎

دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا

مدینہ شریف پہنچ کر ریل کی تیاری رک گئی۔ نہ بانی تحریک عبدالحمید خان رہے نہ وہاں ترکی سلطنت رہی غرض: آں قدح بشکست و آں ساقی نماند

آخر مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ کیا ہوئی ظاہری اسباب تو درحقیقت باطنی حکمت کی

٢٣

صفحہ ٥٢

تکمیل کے لئے ہوا کرتے ہیں۔ غور کرنے سے ہماری سمجھ میں یہی رمز آئی کہ چونکہ مرزا قادیانی نے اس ریل کو اپنے غلط دعوے کی دلیل میں پیش کیا تھا خدائی حکمت نے ریل کو بند کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ مرزا قادیانی اس بیان کی رو سے بھی غلطی پر ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانان دنیا کی ضروریات سفر کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی تکذیب کرانا خدا کے نزدیک زیادہ اہم ہے۔ سچ ہے۔ واللہ یعلم وانتم لا تعلمون.

(یادر ہے کہ ریل کے چلنے کے لئے مرزا نے تین سال کی میعاد بتائی تھی۔ اس میعاد میں ریل جاری نہ ہوئی۔ مرزا کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔ فقیر)

دسویں شہادت ...... قطعی فیصلہ

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّأُوْلِی النُّهٰی......

قرآن مجید میں ارشاد ہے:۔

”هُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهِ.“

(الصف : ٩)

”خدا نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو سارے مذاہب پر غالب کرے۔“

اس آیت کی تفسیر کے طور پر مرزا قادیانی اپنی مایہ ناز کتاب ’براہین احمدیہ‘ میں لکھتے ہیں:

”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله“ یہ آیت جسمانی اور سیاحت ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ کیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩ ۔ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)

اس جگہ جناب موصوف نے مسیح موعود کے لئے آیت موصوفہ سے یہ بات بتائی کہ وہ باسیاست یعنی ظاہری حکومت کے ساتھ آئیں گے (بہت خوب) مگر جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ خود کیا تو باوجود سیاست اور حکومت حاصل نہ ہونے کے آپ نے اس آیت پر قبضہ رکھا اور اپنے ہی حق میں اس کو چسپاں کیا۔ وہ بیان ایسا لطیف ہے کہ ہم ناظرین سے اس کو بغور پڑھنے کے لئے سفارش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

٤٤

صفحہ ٥٣

”چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گزرتا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہو لے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ “یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٢‘ ٨٣۔ خزائن ج ٢٠ص ٩٠‘ ٩١)

اس عبارت کی تشریح یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی زمانہ محمدی کی ابتداء رسالت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ سے ہوئی پھر وہی زمانہ ممتد ہو کر مسیح موعود کے زمانہ تک ایک ہی رہا اس زمانہ کے ایک سرے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو دوسرے سرے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں۔ زمانہ محمدی سے اسلام شروع ہو کر زمانہ مسیح موعود میں تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ یعنی دنیا کی کل قومیں مسلمان ہو کر ایک واحد اسلامی قوم (مسلمان) بن جائے گی۔ چونکہ یہ سب کام مسیح موعود کی معرفت ہوگا اس لئے آیت ھوالذی ارسل مسیح موعود (مرزا) کے حق میں چسپاں ہے۔ بہت خوب!

اب سوال یہ ہے کہ کیا مسیح موعود (مرزا) کے زمانہ میں یہ نتیجہ پیدا ہو گیا؟ بترتیب غور کرنے کے لئے ہم مسیح موعود (مرزا) کے گھر سے چلتے ہیں۔

کیا قادیان کے کل ہندو مسلمان ہو گئے؟ کیا قادیان کے ضلع گورداسپور کے کل غیر مسلم اسلام میں آ گئے؟ کیا پنجاب کے کل منکرین اسلام قائل اسلام بن گئے؟ کیا ہندوستان میں

٢٥

صفحہ ٥٤

اسلامی وحدت پیدا ہو گئی؟ ہندوستان سے باہر چلو۔ کیا انگلستان‘ فرانس‘ جرمنی‘ وغیرہ ممالک یورپ اسلام قبول کر گئے؟ یا افریقہ اور امریکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے؟ اگر سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو ہمارا یقین ہونا چاہئے کہ حضرت مرزا مسیح موعود ہیں اور اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو....... قادیانی دوستو!

للہ فی اللہ غور کر کے بتاؤ کہ مرزا قادیانی کون ہیں؟ ہمیں افسوس ہے مرزا قادیانی اپنے اس فرض کی ادائیگی میں بہت قاصر رہے اور بغیر ادا کئے فرض (اشاعت) کے جلدی چل دیئے۔

کیا آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے؟

فتنہ ارتداد اور سنگھٹن ١؎ کا ذکر

١؎ ہندو سنگھٹن کے معنی ہیں ہندوؤں کا اتحاد۔ (مصنف)

کفر اور مخالفت کا زور جیسا اب ہے مرزا قادیانی کے زمانہ میں نہ تھا۔ خود ہندوستان کو دیکھئے کہیں فتنہ ارتداد ہے تو کہیں سنگھٹن۔ خطرہ ہے کہ کوئی مرزائی دوست گھبرا کر جلدی میں نہ کہہ دیں کہ فتنہ ارتداد میں ہم نے یہ خدمت کی وہ کی‘ اس لئے ہم خادمانِ اسلام ہیں اور ہمارا پیشوا سچا ہے جواب

بات کو ذرا سوچ سمجھ کر منہ سے نکالنا چاہئے۔ سنئے! فتنہ ارتداد کیا ہے؟ اور اس کی تہ میں کیا ہے؟ ہم سے پوچھو تو یہ بھی مرزا قادیانی کے دعوے کی قدرتی تردید ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو کہتے تھے میرے زمانہ میں کل کفر کی قومیں مٹ کر ایک اسلامی وحدت پر آ جائیں گی مگر واقعہ یہ ہوا کہ غیر مسلموں اور اسلام کے دشمنوں نے یہاں تک غلبہ کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ داخل ہو کر ایک وحدت اسلامی پیدا کرتے۔ کلمہ گویوں کو داخل کفر کر کے ہندو سنگھٹن بنا رہے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی کے دعوے کی بہت کافی تردید ہوتی ہے کہ آئے تھے اسلامی وحدت پیدا کرنے اور ہو گئی ہندو سنگھٹن: نوشدارو نے کیا کیا اثر سم پیدا

آخری التماس

ناظرین! آپ شہادت دے سکتے ہیں کہ ہم نے مرزا قادیانی کے دعوے کی تکذیب پر جو شہادات عشرہ پیش کی ہیں۔ ایسی ہیں کہ ہر ایک منصف مزاج ان کو تسلیم کرے گا۔ اس لئے امید ہے کہ احمدی دوست بھی ان سے مستفید ہوں گے۔

اعلان عام

اور اگر وہ اس کو قبول کرنے کی بجائے جواب دینے کی کوشش کریں تو میں ان کی محنت کی قدر کرنے کو ”ایک ہزار روپیہ کا انعام دوں گا“۔

قادیانی دوستو! جواب کا ارادہ کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ مخاطب کون ہے؟

سَتَعْلَمُ لَيْلٰى اَىُّ دَيْنٍ تَدَايَنَتْ وَاَىُّ غَرِيْمٍ فِى التَّقَاضِىْ غَرِيْمُهَا

(نوٹ:۔ مرزا کا آخری فیصلہ کے نام سے اشتہار رسالہ ہٰذا کا حصہ تھا۔ مگر چونکہ رسالہ

فاتح قادیان میں شامل ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا گیا ہے (مرتب)

٦٦

PDF 55

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے بعد کوئی نبی نہیں

نکات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٥٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

ناظرین کو معلوم ہوگا کہ پنجابی نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ذمہ بے حساب عہدے لے رکھے تھے: مجدّد‘ مہدی‘ مسیح‘ کرشن وغیرہ ان سب کے ثبوت میں، اُن کے پاس دو قسم کے دلائل تھے: ایک لفظی‘ دوسرے روحانی۔ لفظی دلائل آیات واحادیث سے تھے‘ جن کی حقیقت معلوم ہے۔ روحانی دلائل دوقسموں پر تھے: (اول) الہامات ربانی متضمن پیشگوئیاں (دوم) قرآنی معارف اور نکات۔

جس طرح کہ مرزا قادیانی پر بحیثیت مدعی اِن تینوں قسموں کے دلائل بیان کرنا فرض تھا‘ اُسی طرح اُن کے منکروں کا بھی فرض تھا کہ وہ تینوں قسم کے دلائل سنیں اور غور کر کے صحیح ہونے کی صورت میں قبول کریں یا غلط ہونے کی صورت میں ردّ کریں۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ مرزا قادیانی کے دلائل قرآنیہ اور حدیثیہ کے جواب میں بھی ہماری تحریرات شائع ہوئی ہیں اور الہامات کے متعلق بھی کئی ایک رسائل مطبوع ہیں۔ آج ہم تیسری قسم ”نکات قرآنیہ مرزائیہ“ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

اس کی وجہ کیا ہوئی؟ مارچ ١٩٢٥ء میں حسب معمول قادیان میں اسلامیہ جلسہ ہوا‘ جس میں علماء دیوبند مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب وغیرہ بھی شریک تھے۔ مولوی صاحب موصوف نے اثناء تقریر میں مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ پر بھی چھینٹا ڈالا۔ بالفاظ دیگر مرزا قادیانی کے معارف قرآنیہ سے انکار کیا۔ اِس پر اخبار الفضل مورخہ ١٦؍جولائی ١٩٢٥ء میں خلیفہ صاحب قادیاں کی ایک تقریر شائع ہوئی جس کے دو حصے تھے: ایک مرزا غلام احمد (پنجابی نبی) کے بیان کردہ معارف کا‘ دوسرا خود خلیفہ قادیان (میاں محمود احمد صاحب) کا چیلنج‘ پہلے حصے کے متعلق اُن

٢

صفحہ ٥٧

کے الفاظ یہ ہیں:

دیو بندیوں کا چیلنج منظور اگر وہ (دیوبندی) لوگ اپنی اس بات پر مضبوط اور قائم ہیں اور اس کی صداقت کا معیار قرار دینے کے لئے تیار ہیں تو اس بات کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی کتابوں میں سے وہ حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ پہلی کتابوں میں قرآن کریم سے اخذ کر کے بیان کئے ہیں۔ کہہ دینے کو تو انہوں نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب نے کوئی معارف بیان نہیں کئے اور جو کئے وہ سرقہ ہیں، پچھلی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اگر اس بات پر ثابت قدم رہیں اور اس کو سچائی کا معیار سمجھیں تو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے ایسے قرآنی حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ حضرت مسیح موعود (مرزا نے) سے پہلے کسی نے لکھے ہیں۔

مگر دیوبندی مولوی صاحبان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کریم میں وہ معارف ہیں جو پہلی کتب میں نہیں ہیں۔ پس حضرت مرزا صاحب کے دعوے کے پرکھنے سے پہلے ہمیں جدت و کثرت کا معیار قائم کر لینا چاہئے اور اس کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ غیر احمدی علماء مل کر قرآن کے وہ معارف بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔ پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دوگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے؟ پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دوگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کریں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا، جس کے لئے مجھے چھ ماہ (ڈیڑھ سال) کی مدت ملے گی۔ اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں، ان کو پیش کروں گا۔ اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقع میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں نہیں پائے جاتے، اس کے بعد چھ ماہ (دو سال) کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ مسیح موعود کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا، جو پہلے کسی اسلامی مصنف نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ (اڑھائی سال) کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کر

٣

صفحہ ٥٨

لیں، اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے کئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دگنے ہیں یا نہیں؟ جو انہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں ۔ اگر میں ایسے دگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں، لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھائیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔‘‘

(الفضل ١٦ جولائی ١٩٢٥ء)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے معارف کا فیصلہ کم سے کم تین سال کے بعد ہو سکے گا۔ چونکہ یہ ایک فضول طول عمل تھا اس لئے کسی نے اس پر توجہ نہ کی۔ البتہ خلیفہ قادیان کی تقریر کا دوسرا حصہ قابل التفات ہو سکتا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’اگر مولوی صاحب (دیوبندی) اس طریق فیصلہ کو ناپسند کریں اور اس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں، میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کرلیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اس عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے؟ اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے؟

(خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ قادیاں) (الفضل ١٦ جولائی ١٩٢٥ء)

اس چیلنج کے جواب میں مَیں نے صاف لفظوں میں قبولیت لکھی (یعنی اس چیلنج کو قبول کیا) جو یہ ہے:

ہم اس چیلنج کی منظوری دیتے ہیں بلا تکلف ہم کو یہ صورت منظور ہے۔ پس آپ اسی میدان میں تشریف لے آئیں، جس میں مرزا قادیانی نے امرتسر میں مباہلہ کیا تھا۔ میں آپ کی طرف سے مقرر تاریخ اور جواب باصواب کا منتظر ہوں۔ پس سنئے:

٤

صفحہ ٥٩
ہم وہ نہیں کہ دور سے دعویٰ کیا کریں
ہم وہ نہیں کہ دون کی بیٹھے لیا کریں
اپنا تو یہ ہے قول آئے ہیں آئیے
دعویٰ اگر کیا ہے تو کچھ کر دکھائیے

(میں ہوں مرزا صاحب قادیانی نبی کا پرانا باوفاء)

(ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری) (ہفت روزہ اخبار اہلحدیث مورخہ ٢١ اگست ١٩٢٤ء)

اس صاف منظوری کے جواب میں روزنامہ الفضل مورخہ ٢٧ اکتوبر ١٩٢٤ء میں لکھا گیا کہ: ”ہمارا چیلنج علماء دیوبند کو ہے۔ تم (ثناء اللہ) ان سے وکالت نامہ حاصل کرو، پھر مقابلہ پر آؤ۔“

اس کے جواب میں میں نے اخبار اہلحدیث مورخہ ١٣ نومبر ١٩٢٥ء میں لکھا کہ مجھے دیوبندیوں سے وکالت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں آپ (خلیفہ قادیاں) امرتسر میں نہیں آتے تو سنئے:

”آپ بتراضی فریقین کوئی تاریخ مقرر کر کے بٹالہ (مشرقی پنجاب، ہندوستان) کی جامع مسجد میں آجائیں، جہاں آٹھ ٨ بجے صبح سے بارہ ١٢ بجے تک مجلس ہوگی، جس میں میں (ثناء اللہ) اور آپ (خلیفہ قادیاں) تفسیر القرآن لکھیں گے، اس طرح سے کہ مجھ سے اور آپ سے قریب دس دس گز تک کوئی آدمی نہ بیٹھے گا۔ ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم (انڈیپنڈنٹ) ہوگا۔“

(اخبار اہل حدیث ١٣ نومبر ١٩٢٥ء)

اتنی واضح اور صاف قبولیت (چیلنج) پر بھی خلیفہ صاحب معارف نمائی کو نہ نکلے بلکہ اخبار الفضل ٢٥ دسمبر ١٩٢٥ء میں حیلے حوالے بناتے رہے۔ لہٰذا ضرورت ہوئی کہ مرزا قادیانی کے نکات اور معارف قرآنیہ کا نمونہ پبلک کو دکھایا جائے تاکہ اپنے پرائے کو پورا یقین حاصل ہو جائے کہ واقعی مرزا قادیانی قرآن اور شریعت کے نکات جدیدہ کیسے بیان کیا کرتے تھے؟

تعرف الاشیاء باضدادها یہ ایک عربی کا مقبول مقولہ ہے اس کا مطلب بہت صحیح ہے کہ چیزوں کی پرکھ ان کے مقابلہ سے ہوتی ہے اس لئے مرزا قادیانی صاحب کے مد مقابل مولوی عبداللہ چکڑالوی بانی فرقہ چکڑالویہ (اہل قرآن) کے چند معارف جدیدہ بھی ہم بتادیں گے جو واقعی اس قابل ہونگے کہ پہلی کسی کتاب میں نہ ملیں گے تاکہ مرزا صاحب کو مخاطب کر کے ہمیں یہ کہنے کا موقع حاصل ہو:

٥

صفحہ ٦٠
مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے
آئینہ دیکھئے گا ذرہ دیکھ بھال کر

یوں تو مرزا قادیانی کی کل تصنیفات ”نکات“ سے پُر ہیں مگر ہم بطور نمونہ دس نکات نذر ناظرین کریں گے تا کہ ناظرین کو ”نکات مرزا“ کا نمونہ مل جائے اور وقت بھی کم خرچ ہو:

مختصر بات ہو مضمون مطول ہوئے
دہن و زلف کا مذکور مسلسل ہوئے

......☆......

نکات مرزا

نکتہ نمبر ١:...... مرزا قادیانی نے ایک کتاب تفسیر سورۃ فاتحہ کی لکھی ہے جس کا نام ہے ”اعجاز مسیح“ یعنی (بزعم خود) مسیح موعود ( مرزا صاحب) نے وہ تفسیر معجزے سے لکھی ہے۔ اس لئے اس میں کے بہت سے نکات عجیبہ قابل دید و شنید ہوں گے۔ لہذا ہم سب سے پہلے اسی سے شروع کرتے ہیں۔

موصوف نے اعوذ باللہ سے نکتہ سنجی شروع کی ہے۔ فرماتے ہیں ”شیطان رجیم“ سے مراد ”دجال“ ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”فحاصل الکلام ان الذی یقال لہ الشیطان الرجیم ھو الدجال اللئیم.“

(اعجاز مسیح ص ٨٣ خزائن ج ١٨ ص ٨٥)

”یعنی جس کو شیطان رجیم کہتے ہیں وہ دجال لعین ہے۔“

ناظرین !: اس دجال سے مراد مرزا جی کی اصطلاح میں عیسائیوں کے پادری لوگ ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اس دجال کی بابت مفصل فرماتے ہیں:

”اب اس تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ جیسے مثیل مسیح کو مسیح ابن مریم کہا گیا۔ اس امر کو نظر میں رکھ کر کہ اس نے مسیح ابن مریم کی روحانیت کو لیا اور مسیح کے وجود کو باطنی طور پر قائم کیا۔ ایسا ہی وہ دجال جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فوت ہو چکا ہے اس کی ظل اور مثال نے اسی آخری زمانہ میں اس کی جگہ لی۔ اور گرجا سے نکل کر مشارق و مغارب

٦

صفحہ ٦١

میں پھیل گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٨٥۔ خزائن ج ٣ ص ٣٦٠ / ٣٦١)

”پادریوں کی دجالیت کی نظیر ہرگز ہم کو نہیں ملے گی۔ انہوں نے ایک موہومی اور فرضی مسیح اپنی نظر کے سامنے رکھا ہوا ہے جو بقول ان کے زندہ ہے اور خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ سو حضرت مسیح ابن مریم نے خدائی دعویٰ ہرگز نہیں کیا۔ یہ لوگ اس کی طرف سے وکیل بن کر خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور اس دعویٰ کے سرسبز کرنے کے لئے کیا کچھ انہوں نے تحریفیں نہیں کیں اور کیا کچھ تلبیس کے کام استعمال میں نہیں لائے۔ اور مکہ مدینہ چھوڑ کر اور کون سی جگہ ہے جہاں یہ لوگ نہیں پہنچے۔ کیا کوئی دھوکہ دینے کا کام یا گمراہ کرنے کا منصوبہ یا بہکانے کا کوئی طریقہ ایسا بھی ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آیا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہ لوگ اپنے دجالانہ منصوبوں کی وجہ سے ایک عالم پر دائرہ کی طرح محیط ہو گئے؟“

(ازالہ اوہام ص ٤٨٩ خزائن ج ٣ ص ٣٦٢۔ ٣٦٣)

”دیکھو کہ اکیس ٢١ سال میں ان لوگوں نے اپنے پر تلبیس خیالات کے پھیلانے کے لئے سات کروڑ سے کچھ زیادہ کتابیں مفت تقسیم کی ہیں تا کہ کسی طرح لوگ اسلام سے دست بردار ہو جائیں اور حضرت مسیح کو خدا مان لیا جائے۔ اللہ اکبر! اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اول درجہ کے دجال نہیں اور ان کے الزام کے لئے ایک سچے مسیح کی ضرورت نہیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا؟“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٣ خزائن ج ٣ ص ٣٦٥)

”لہٰذا اس بات پر قطع اور یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح دجال جو گرجا سے نکلنے والا ہے یہی لوگ ہیں جن کے سحر کے مقابل پر معجزہ کی ضرورت تھی اور اگر انکار ہے تو پھر زمانہ گزشتہ کے دجالین میں سے ان کی نظیر پیش کرو“۔

(ازالہ اوہام ص ٤٩٥۔ خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)

اسی دجال کے قتل کرنے کو مسیح موعود (مرزا قادیانی خود بدولت) تشریف لائے۔

چنانچہ فرماتے ہیں (عربی اور فارسی دونوں مرزا قادیانی کی ہیں):

”ولایقتل الدجال الا بالحربۃ السماویۃ۔ ای بفضل من اللہ لا بالطاقۃ البشریۃ ۔فلا حرب ولا ضرب ولکن امر نازل من الحضرۃ الاحدیۃ۔ وکان ھذا الدجال یبعث بعض ذراریہ فی کل مائۃ من سنین۔ لیضل المومنین والموحدین والصالحین والقائمین علی الحق والطالبین۔ ویھدّ مبانی الدین ۔ویجعل صحف اللہ عضین ۔ وكان وعد من اللہ انہ یقتل فی آخر الزمان ویغلب الصلاح علی الطلاح والطغیان۔ وتبدل الارض ویتوب اکثر الناس الی الرحمان ۔وتشرق الارض بنور ربھا۔ وتخرج القلوب من ظلمات الشیطان ۔فھذا ھو موت الباطل ٧

صفحہ ٦٢

وموت الدجال وقتل هذا الثعبان . ام يقولون انه رجل يقتل فى وقت من الاوقات . كلا بل هو شيطان رجيم ابو السيّئات . يرجم فى آخر الزمان بازالة الجهلات واستيصال الخزعبلات . وعد حق من الله الرحيم . كما اشير فى قوله الشيطان الرجيم . فقد تمت كلمة ربنا صدقا وعدلا فى هذه الايام . ونظر الله الى الاسلام بعد ما عنت به البلايا والآلام . فانزل مسيحه لقتل الخناس . وقطع هذا الخصام . وما سُمّى الشيطان رجيما الا على طريق انباء الغيب فان الرجم هو القتل من غير الريب . ولما كان القدر قد جرى فى قتل هذا الدجال . عند نزول مسيح الله ذى الجلال . اخبر الله من قبل هذه الواقعة تسلية وتبشيرا لقوم يخافون ايام الضلال .“

”و دجال را کسے نتواند کشت مگر بحربہ سماوی۔ اے بفضل الہٰی غلبہ بر و خواہد شد نہ بطاقت بشری پس نہ جنگ خواہد شد نہ زدوکوب۔ مگر امرے است از خدا تعالیٰ وبود ایں دجال کہ بعض ذریات خود را در ہر صدی مامور مے کرد۔ تا مومناں وموحداں وصالحاں واہلِ حق وطالبانِ حق را گمراہ کند۔ وتا کہ بنیاد ہائے دین را بشکند۔ وکتاب الہٰی را پارہ پارہ کند۔ ووعدۂ خدا تعالیٰ این بود کہ دجال در آخر زمانہ قتل کردہ خواہد شد۔ ونیکی برفساد و گمراہی غالب خواہد گردید۔ وزمین دیگر خواہد شد۔ ومردم سُوئے خدا رجوع خواہند کرد۔ وزمین بنورِ پروردگار خود روشن کردہ خواہد شد۔ ودل ہا از تاریکی ہا بروں خواہند آمد۔ پس ہمیں است موتِ باطل۔ وموتِ دجال وقتل ایں اژدہائے بزرگ ۔ آیا مردم ایں مے گویند کہ دجال است کہ دروقتے از اوقات قتل کردہ خواہد شد۔ ہرگز نیست بل او شیطان کُشتنی است پدر بدیہا۔ کہ در آخر زمان بدور کردن امور باطلہ کشتہ خواہد شد وعدہ حق است از خدا تعالیٰ۔ چنانچہ در کلمہ شیطان رجیم سوئے او اشارہ شدہ۔ پس کلمہ رب ما از روئے راستی و عدل دریں روز بظہور رسید۔ ونظر کرد سوئے اسلام۔ بعد زانکہ نازل شد بر و بلایا ودردہا۔ پس مسیح خود را برائے قتلِ ابلیس نازل کرد۔ تا قطع خصومت کند۔ ونامِ شیطان از بہر ہمیں رجیم داشتہ شد کہ وعدۂ قتل او بود چرا کہ معنی رجم قتل است بے شک وشبہ وچونکہ تقدیر چنیں رفتہ بود کہ دجال درزمانہ مسیح قتل خواہد شد۔ (بیاض) خبر داد خدا تعالیٰ ازیں واقعہ برائے بشارت قومے کہ از روز ہائے ضلالت مے ترسند۔“

(اعجاز المسیح از ص ٨٢ تا ٨٧۔ خزائن ج ١٨ ص ٨٦ تا ٨٩)

خلاصہ: اس عبارت کا اردو میں خلاصہ یہ ہے کہ دجال موعود جس کا نام شیطان رجیم ہے‘ اس سے مراد پادریوں کا گروہ ہے۔ ”مسیح موعود“ (مرزا قادیانی) آسمانی حربہ اور دلائل قویہ سے اس کو

٨

صفحہ ٦٣

قتل کر ڈالے گا۔ خدا کی تقدیر میں یونہی لکھا تھا کہ اس دجال کا قتل مسیح موعود کے نازل ہونے سے ہوگا وغیرہ مگر افسوس کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) تشریف لائے اور چلے بھی گئے مگر دجال ہنوز اپنے کام میں مشغول بلکہ پہلے سے زیادہ مستعد ہے۔

نکتہ نمبر ٢:...... سورہ فاتحہ کی پہلی آیت الحمد للہ کی تفسیر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

"واليه اشار فى قوله تعالىٰ وله الحمد فى الاولىٰ والاخرة. فاومئ فيه الى احمدين وجعلهما من نعمائه الكاثره. فالاول منهما احمد ن المصطفےٰ و رسولنا المجتبیٰ. والثانى احمد آخر الزمان. الذى سمّى مسيحا ومهديا من الله المنان. وقد استنبطت هذه النكتة من قوله الحمدلله رب العالمين. فليتدبر من كان من المتدبرين."

"و سُوئے ایں اشارہ کردہ است در قولِ او تعالیٰ کہ او را حمد است در اول و آخر پس اشارت کرد سوئے دو احمد۔ و گردانید آں ہر دو را از جملہ نعمہائے ۔ پس اول ازیشاں احمد مصطفیٰ ونبی ما برگزیدہ است و دوم احمد آخر الزمان است آنکہ نام او مسیح و مہدی است از خدائے منان ۔ و مستنبط مے شود ایں نکتہ از قول او الحمد للہ رب العالمین پس باید کہ تدبر کند ہر کہ تدبر کنندہ باشد۔"

(اعجاز المسیح ص ١٣٤۔ ١٣٥۔ خزائن ج ١٨ ص ١٣٨۔ ١٣٩)

مطلب اس عبارت کا بھی یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے علاوہ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَةِ بھی قرآن مجید میں آیا ہے اس میں پہلی حمد سے مراد حضرت احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ دوسری حمد سے مراد غلام احمد (جو بعد میں صرف احمد رہ گیا تھا) کی طرف اشارہ ہے اور یہ نکتہ مرزا قادیانی نے الحمد للہ سے استنباط کیا ہے (جل جلالہ)۔ سچ ہے:

غلامی چھوڑ کر احمد بنا تُو
رَسُولِ حق باستحقاقِ مرزا!

علمائے کرام کی کیا مجال ہے جو یہ نکتہ کسی سابق تفسیر میں دکھا سکیں۔

نکتہ نمبر ٣:...... مرزا قادیانی اپنی اُسی کتاب ”اعجاز المسیح“ میں مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

"وسمى زمان المسيح الموعود يوم الدين لانه زمان يحيى فيه الدين ويحشر الناس ليقبلوا باليقين."

"و نامِ زمانہ مسیح یوم الدین نہادہ شد چرا کہ او زمانے است کہ درو دین زندہ خواہد

٩

صفحہ ٦٤

شد۔"

(اعجاز المسیح ص ١٣٣۔ خزائن ج ١٨ ص ١٧٧)

مطلب اس کا بھی صرف اپنی مسیحیت کا استنباط ہے، یعنی مسیح موعود (مرزا) کے زمانے کا نام یَوْمُ الدِّیْنَ ہے کیونکہ اس زمانہ میں دین اسلام زندہ ہو جائے گا۔

ناظرین! مسیح موعود (مرزا قادیانی) آئے اور تشریف لے گئے مگر دین اسلام کی حالت جو ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، کہ نہ اس کی ظاہری شان وشوکت رہی، نہ عمل رہا۔ ظاہری شوکت کا اندازہ تو خود اسی سے ہوسکتا ہے کہ (مرزا قادیانی) سے پہلے جتنے ممالک پر اسلامی حکومت تھی وہ آج نہیں۔ بصرہ سے لے کر خدا کی مقدس سرزمین بیت المقدس تک ہزاروں میل، طرابلس، عرب کا بہت سا حصہ، افریقہ کا سارا اسلامی حصہ اسلامی جھنڈے سے باہر ہوگیا۔ عملی حالت کسی سے مخفی نہیں، ہندوستان کی مجموعی اسلامی آبادی میں فی ہزار بھی ایک نہ ہوگا جو دین کی باتیں جانتا اور پابندی کرتا ہو۔ ہمارا بیان تو مخالفانہ کہا جائے گا، اس لئے ہم قادیانی اخبارات کا بیان درج کرتے ہیں، جو مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی کافی تردید ہے:

یا الٰہی رحم کر اب حال پر اسلام کے
رہ گئے مومن زمانہ میں فقط اک نام کے
تارکِ صوم و صلوٰۃ و پردہ و قرآن ہیں
نا خلف کیسے ہوئے اس دور میں اسلام کے
حامیانِ دین نے مسلم کو کافر کردیا
کافرستان بن گئے جو ملک تھے اسلام کے
ہیں مسلماں نام کے لیکن یہودی کام کے
آشنائے کفر ہیں نا آشنا اسلام کے
مصطفیٰ کامل سا لیڈر جب ملے احرار کو
مل کے باہم کیوں نہ ناچیں مرد و زن اسلام کے
تُو ہوا ہم سے خفا، جب ہم ہوئے تجھ سے جدا
ہے یہی اس کی جزا دن آ گئے آلام کے
یا الٰہی! پھر وہی بادِ بہاری چل پڑے
جس سے ہوں پھر سے ہرے سوکھے شجر اسلام کے

(اخبار فاروق ٢٠ دسمبر ١٩٢٥ء ص اول)

١٠

صفحہ ٦٥

نکتہ نمبر٤: ......مرزا قادیانی اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے نکتہ سنجی فرماتے ہیں:

ثم حث الناس على العبادة بقوله اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ففى هذه اشارة الى ان العابد فى الحقيقة هو الذى يحمده حق الحمد. فحاصل هذا الدعاء والمسئلة. ان يجعل الله احمد كل من تصدى للعبادة . وعلى هذا كان من الواجبات. ان يكون احمد فى آخر هذه الامة على قدم احمد الاول الذى هو سيد الكائنات ليفهم ان الدعاء استجيب من حضرة مستجيب الدعوات.“

”باز ترغیب داد مردم را بر عبادت بقول ایاک نعبد وایاک نستعین پس دریں اشارہ است کہ عابد درحقیقت ہماں شخص است کہ تعریف خدا تعالیٰ کند چنانکہ حق است۔ پس حاصل ایں دعا و درخواست ایں ست کہ خدا عبادت کنندہ را احمد بگرداند۔ وبناءً علیہ واجب بود کہ در آخر امت احمدے پیدا شود بر قدم آں احمد کہ او سید کائنات است تا فہمیدہ شود کہ ایں دعا کہ در سورہ فاتحہ کردہ شد در حضرت احدیت قبول شدہ است۔“

(اعجاز المسیح ص ١٦٣۔١٦٤ خزائن ج ١٨ص ١٦٧=١٦٨)

خلاصہ: اس کا بھی اتنا ہے کہ جوکوئی عبادت دل لگا کر کرتا ہے‘ خدا اُس کو احمد بنادیتا ہے‘ اس لئے ضروری تھا کہ پہلے احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریق پر آخری زمانہ میں بھی احمد یعنی غلام احمد پیدا ہوتا‘ تا کہ معلوم ہو کہ دعا قبول ہوگئی۔

لطیفہ: ...... دعا تو مانگیں حضرت صدیق اکبرؓ سے لے کر علماء دیوبند تک ساری امت اور احمد بنیں اکیلے مرزا قادیانی۔ باقی دعا گو کیوں محروم رہیں؟ آہ! کیا سچ ہے:

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہوں رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

نکتہ نمبر٥: ...... قرآن مجید میں ارشاد ہے:

”لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ“

”خدا نے تم مسلمانوں کی بدر میں مدد کی جب تم بہت کمزور تھے۔“

یہ آیت مبارکہ اپنا مطلب صاف بتارہی ہے کہ جنگ بدر کے متعلق ہے۔ مسلمان اس جنگ میں کل ٣١٣ نفر تھے‘ جن کے پاس اسلحہ جنگ بھی کافی نہ تھا‘ کفار کی بکثرت مسلح فوج تھی۔ اُس وقت خدا نے مسلمانوں کو فتح دی۔

مرزا قادیانی صاحب اس آیت سے نکتہ لطیفہ اپنے متعلق نکالتے ہیں:

”وقد اشار اليه القرآن فى قوله لقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة. وان

١١

صفحہ ٦٦

القرآن ذوالوجوه كما لا يخفى على العلماء الاجله فالمعنى الثانى لهذه الاية فى هذا المقام .ان الله ينصر المومنين بظهور المسيح الىٰ مئين تشابه عدتها ايام البدر التام. والمومنون اذلة فى تلك الايام. فانظر الىٰ هذه الاية كيف تشير الىٰ ضعف الاسلام .ثم تشير الىٰ كون هلاله بدرا فى اجل مسمى من الله العلام .كما هو مفهوم من لفظ البدر فالحمد لله على هذا الافضال والانعام .“

” واشارت کرد قرآن سوئے ایں معنے درقول او کہ خدا مدد شما کرد در بدر و شما ذلیل بودید۔ وقرآن ذوالوجوہ است چنانچہ بر علماء بزرگ پوشیدہ نیست پس معنی ثانی ایں آیت دریں مقام کہ خدا مدد مومناں بظہور مسیح تا آں صدی ہا خواہد کرد کہ شمار آں بدر تام را مشابہت دارد و مومناں دراں زمانہ ذلیل خواہند بود۔ پس بنگر سوئے ایں آیت چگونہ اشارت مے کند سوئے ضعف اسلام۔ باز اشارت مے کند سوئے ایںکہ آں ہلال در آخر بدر خواہد شد و باز اشارت میکند سوئے وقت ظہور مہدی۔ چنانچہ از لفظ بدر مفہوم مے شود پس حمد خدارا بریں فضل ونعمت دادن۔“

(اعجاز مسیح ص ١٨٣۔١٨٤۔ خزائن ج ١٨ ص ١٨٧۔١٨٨)

مطلب: اس عبارت کا یہ ہے کہ بدر کے چودہ سو عدد ہیں۔ چودہویں صدی میں خدا مسیح موعود (مرزا) کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ چنانچہ میرے (مرزا کے) آنے سے اسلام کا ہلال بدر ہو گیا ”جل جلالہ“

اگر کسی کو اسلام کی ترقی معلوم نہ ہوتو وہ قادیان میں جا کر دیکھ لے۔ کیوں؟

بیا در بزم رنداں تا بہ بینی عالم دیگر
بہشت دیگر و ابلیس دیگر آدم دیگر

نکتہ نمبر ٦: ......سورہ فاتحہ کی تفسیر کے خاتمہ پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

وحاصل ما قلنا فى هذا الباب ان الفاتحة تبشر بكون المسيح من هذه الامة فضلا من رب الارباب .

ودریں باب ہر چہ گفتیم حاصل آں ایں است کہ سورۃ فاتحہ بشارت مے دہد بہ مسیح از ہمیں امت

(اعجاز المسیح ص ١٨٤۔ خزائن ج ١٨ ص ١٨٨)

حضرات ناظرین کرام ! گزشتہ مفسرین کرام میں امام مسلمؒ اور امام رازیؒ بڑے نکتہ سنج ہوئے ہیں۔ امام ممدوح نے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے جو مطبوعہ مصر (١٥٨) صفحات پر ختم ہے۔ امام مسلمؒ وہ نکتہ سنج ہیں کہ امام رازیؒ مرحوم جیسے حکیم امت ان کے حق میں فرماتے ہیں:

١٢

صفحہ ٦٧

”هو حسن الكلام فى التفسير كثير الغوص على اللطائف والدقائق.“

(تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٤٦٦ زیر آیت: آیتک الا تکلم الناس)

مگر ہمارے پنجابی نبی اور مسیح موعود (مرزا) کی نکتہ سنجی کو وہ نہیں پہنچ سکے: کیا علماء دیوبند ایسے نکتے کسی سابقہ تفسیر میں دکھا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ان کے منہ سے بھی مجبوراً یہ نکل جائے گا:

نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری دلفریبی کو
بہت سے ہوچکے ہیں اگرچہ تم سے دلربا پہلے

لطیفہ: عرصہ ہوا مولوی ڈپٹی نذیر احمد صاحب مترجم قرآن دہلوی انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ میں تقریر کررہے تھے اثناء تقریر میں یہ ذکر کیا گیا کہ ہر فرقہ قرآن ہی سے دلیل لیتا ہے۔ ذرہ مرزا صاحب قادیانی کو تو پوچھئے وہ کہیں گے آہ ہا قرآن میرے ہی حق میں اترا ہے۔

اُس وقت تو ہم سامعین نے ڈپٹی صاحب موصوف کے اِس مقولہ کو بذلہ سنجی پر محمول کیا مگر بعد کے واقعات اور مرزا قادیانی کی تصنیفات نے اس کو صحیح ثابت کر دیا بلکہ مرزا صاحب نے آدھے قرآن ہی پر قبضہ نہیں رکھا۔ وہ یہاں تک ترقی کر گئے فرماتے ہیں:۔ ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٧۔ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

نکتہ نمبر ٧ :....... قرآن مجید میں ارشاد ہے:

” اذا الشمس كورت واذا النجوم انكدرت واذا الجبال سيرت واذا العشار عطلت واذا الوحوش حشرت واذا البحار سجرت واذا النفوس زوجت واذا الموءدة سئلت بای ذنب قتلت واذا الصحف نشرت واذا السماء كشطت واذا الجحيم سعرت واذا الجنة ازلفت علمت نفس مآ احضرت “

(سورۃ تکویر ١ تا ١٤)

اس سورۃ میں خداوند تعالیٰ نے قیامت سے پہلے کے چند واقعات بتا کر ارشاد فرمایا ہے کہ جب یہ واقعات ہو جائیں گے تو اس وقت ہر نفس کو اپنے کئے اعمال معلوم ہو جائیں گے چنانچہ ان آیتوں کا ترجمہ حسب ذیل ہے:۔ ”جب کہ سورج کی روشنی لپیٹ دی جائے گی اور جب کہ تاروں کی روشنی جاتی رہے گی

١٣

صفحہ ٦٨

اور جب کہ پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب کہ گیابھن اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور جب کہ جانور جمع کئے جائیں گے اور جب کہ دریاؤں میں آگ لگائی جائے گی اور جب کہ (نیک و بد) نفسوں کے جوڑے ملائے جائیں گے اور جب کہ زندہ دفن کی ہوئی (لڑکی) سے سوال کیا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی اور جب کہ نامہ اعمال پھیلائے جائیں گے اور جب کہ آسمان (اپنے مقام سے) کھینچ لیا جائے گا اور جب کہ دوزخ بھڑکائی جائے گی اور جب کہ جنت قریب کر دی جائے گی تو ہر نفس جان لے گا کہ وہ (کیا) کیا لے کر آیا ہے۔“

ان آیات کا ترجمہ ہی صاف بتا رہا ہے کہ مقصود ان سے یہ بتانا ہے کہ جب یہ واقعات ظاہر ہوں گے اس روز یوم الجزا (روز قیامت) ہوگا۔ ان آیات میں جو لفظ إِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ہے اس کی تفسیر میں مرزا قادیانی نکتہ سنجی فرماتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:۔

”اور یادر ہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا وَيُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعٰى عَلَيْهَا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہو جائے گی۔ پس کوئی اُن پر سوار ہو کر اُن کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمناً آ جاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اُس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آ جائے گی جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریباً وہ تمام کام جو اونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں۔ پس اس سے زیادہ تر صاف اور منکشف اور کیا پیشگوئی ہو گی۔ چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بیکار ہو جائے گی۔ یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے اس سے یقیناً یہ استدلال کرنا چاہئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر لوگ باوجود ان آیات بینات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں ان پیشگوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں۔ اب منصفین سوچ لیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی نسبت جن کی غیبی باتیں پوری ہوتی آنکھ سے دیکھی گئیں شک کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟

(شہادۃ القرآن۔ ص١٢۔١٣ خزائن ج٦ ص٣٠٨۔٣٠٩)

١٤

صفحہ ٦٩

ناظرین! یہ عبارت صاف بتارہی ہے کہ اونٹوں کی جگہ ریل کا بن جانا خاص عرب میں مراد ہے اسی لئے جناب مرزا قادیانی نے ملک عرب کا نام بھی لیا ہے۔ اس کی مزید توضیح دوسری کتاب میں موصوف نے فرمادی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دُنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے۔ اور پیشگوئی آیت کریمہ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ پوری ہوئی۔ اور پیشگوئی حدیث وَلَيُتْرَكُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعٰى عَلَيْهَا نے اپنی پوری چمک دکھادی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اُٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی صفحہ ٢۔ خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

قادیانی دوستو! مرزا قادیانی کی اس نکتہ سنجی کو اور کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو اس کے قائل ہیں کہ یہ نکتہ خدا نے اُن سے لکھوایا ہے۔ کیوں؟ تاکہ آپ لوگ مرزا قادیانی کی مسیحیت موعودہ کو اِس نکتہ سے جانچیں کہ مسیح موعود کی علامت یہ ہے کہ ملک عرب خاص کر حجاز میں ریل جاری ہو کر اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ پس جب تک عرب اور حجاز میں اونٹ چلتے ہیں آپ لوگوں کا حق نہیں کہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود سمجھیں۔ ورنہ خود مرزا قادیانی کے ارشاد کے خلاف ہوگا۔ کیا خوب ؎

اُلجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آ گیا

نکتہ نمبر ٨: ......قرآن شریف میں ایک بدترین قوم کا ذکر آیا ہے جس کا نام ”یاجوج ماجوج“ ہے جن کے حق میں فرمایا:۔ اِنَّ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ. (کہف : ٩٤) یعنی یاجوج ماجوج ملک میں فساد کرنے والے ہیں۔

مرزا قادیانی کی نکتہ سنج نگاہ میں یہ دونوں قومیں رُوس اور انگریز ہیں چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں:۔ ”فان یاجوج وماجوج هم النصارى من الروس والاقوام البرطانية“ ”یعنی یاجوج ماجوج عیسائی قومیں روس اور انگریز ہیں۔“

(حمامة البشریٰ حاشیہ ص ٢٨۔ خزائن ج ٧ حاشیہ ص ٢٠٩۔٢١٠)

٦٥

صفحہ ٧٠

چونکہ یہ نکتہ انگریزوں اور انگریزی حکومت کو بدترین قوم بناتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اپنی معمولی دُور اندیش نگاہ سے اس کا انتظام یہ کیا کہ فوراً سے پیشتر انگریزی حکومت کی وفاداری کا اعلان فرما دیا۔ ملاحظہ ہو:

”ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی جیسا کہ سورۂ کہف میں فرماتا ہے۔ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔

چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں اس لئے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اُس وقت ١؎ انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٥٠٨۔٥٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

یہی معنی ہیں......

حلف عدو سے قسم مجھ سے کھائی جاتی ہے
الگ ہر ایک سے چاہت بتائی جاتی ہے

نکتہ نمبر ٩:...... گذشتہ نکات تو قرآنی معارف اور نکات کا نمونہ ہیں۔ مناسب ہے کہ ایک نکتہ نکاتِ حدیثیہ کا نمونہ بھی بتائیں۔ تا کہ ناظرین مرزا قادیانی کو منکر حدیث نہ قرار دیں بلکہ وہ قائلِ حدیث تھے۔ اس لئے اُن کی عارفانہ نگاہ نے حدیثی نکتہ آفرینی میں بھی کمی نہیں کی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حدیث میں بے مثل نکتہ آفرینی کا ثبوت دیا۔

ترمذی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزول کی بابت حدیث یوں آئی ہے:۔

” فبینما ہو کذالک اذ ھبط عیسیٰ بن مریم بشرقی دمشق عند المنارۃ البیضاء بین مھرو دتین واضعا یدہ علی اجنحۃ ملکین.“

(ترمذی. باب ما جاء فی فتنۃ الدجال. ص ٢٤٧ ج ٢)

اس حدیث میں مسیح موعود کا شہر دمشق کے سفید منارہ کے قریب اُترنے کا ذکر ہے اور مرزا قادیانی خود مسیح موعود بننے کے مدعی تھے حالانکہ آپ قادیاں میں اُترے۔ اور دمشق کو خواب

١؎ یعنی روسی انگریزی جنگ میں۔

صفحہ ٧١

میں بھی نہ دیکھا تھا اس لئے اپنی معمولی نکتہ سنجی سے دمشق کے لفظ سے نکتہ استنباط کرتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں:

”خدا تعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا۔ تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رُو سے مسیح ہے۔ اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ دمشق پایہ تخت یزید ہو چکا ہے۔ اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے۔ وہ دمشق ہی ہے اور یزیدیوں کو ان یہودیوں سے بہت مشابہت ہے۔ جو حضرت مسیح کے وقت میں تھی۔ ایسا ہی حضرت امام حسین کو بھی اپنی مظلومانہ زندگی کی رُو سے حضرت مسیح سے غائت درجہ کی مماثلت ہے۔ پس مسیح کا دمشق میں اُترنا صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی مثیل مسیح جو حسین سے بھی بوجہ مشابہت ان دونوں بزرگوں کی مماثلت ١؎ رکھتا ہے۔ یزیدیوں کی تنبیہ اور ملوم کرنے کے لئے جو مثیل یہود میں اترے گا اور ظاہر ہے کہ یزیدی الطبع لوگ یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ دراصل یہودی ہیں۔ اس لئے دمشق کا لفظ صاف طور پر بیان کر رہا ہے کہ مسیح جو اُترنے والا ہے وہ بھی دراصل مسیح نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ یزیدی لوگ مثیل یہود ہیں ایسا ہی مسیح جو اُترنے والا ہے وہ بھی مثیل مسیح ہے۔ اور حسینی الفطرت ہے۔ یہ نکتہ ایک نہایت لطیف نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے صاف طور پر کھل جاتا ہے کہ دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے چونکہ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت سے اور مسیحی مشابہت سے متنبہ کرے۔ اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا۔ تا کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آ جائے جس میں لختِ جگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ

١؎ یہ مرزا قادیانی کی ابتدائی حالت ہے کہ ان دونوں بزرگوں سے مماثلت پر کفایت کی ہے۔ چند روز بعد جو ترقی کی تھی تو فضیلت کے مدعی ہو گئے تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔

”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے۔

اس امت کا مسیح موعود (مرزا) پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ (جل جلالہ)

(دافع البلاء۔ ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

١٧

صفحہ ٧٢

وسلم حضرت مسیح کی طرح کمال درجہ کے ظلم اور جور و جفا کی راہ سے دمشقی اشقیا کے محاصرہ میں آ کر قتل کیے گئے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس دمشق کو جس سے ایسے پُرظلم احکام نکلے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ درون لوگ پیدا ہو گئے تھے اس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل مسیح دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈکوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدائے تعالیٰ لعنت کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے۔ اس استعارہ کو خدائے تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ تا کہ پڑھنے والے دو فائدے اس سے حاصل کریں۔ ایک یہ کہ امام مظلوم حسین رضی اللہ عنہ کا درد ناک واقعہ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطور پیشگوئی اشارہ کی طرز پر حدیث نبوی میں خبر دی گئی ہے اس کی عظمت اور وقعت دلوں پر کھل جائے۔ دوسرے یہ کہ تا یقینی طور پر معلوم کر جاویں کہ جیسے دمشق میں رہنے والے دراصل یہودی نہیں تھے مگر یہودیوں کے کام انہوں نے کئے۔ ایسا ہی جو مسیح اُترنے والا ہے دراصل مسیح نہیں ہے مگر مسیح کی روحانی حالت کا مثیل ہے اور اس جگہ بغیر اُس شخص کے کہ جس کے دل میں واقعہ حسین کی وہ عظمت نہ ہو جو ہونی چاہئے۔ ہر ایک شخص اِس دمشقی خصوصیت کو جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور قبول کر لے گا۔ اور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے گویا حق الیقین تک پہنچ جائے گا۔ اور حضرت مسیح کو جو امام حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ بھی استعارہ در استعارہ ہے۔ جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیاں بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اِس میں سکونت رکھتے ہیں۔ دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے۔ اور شیر نام رکھتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسی ہی بدن پر پشم ہو۔ اور ایک دُم بھی ہو۔ بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہو جاتا ہے۔ اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اِس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارے میں قادیاں کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اُخرج منہ الیزیدیون یعنی اس میں یزیدی لوگ ١؎ پیدا کیے گئے ہیں۔ اب اگر چہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ

١؎ مرزائی فاضلو! ترجمہ صحیح ہے؟ (مصنف)

١٨

صفحہ ٧٣

اسی تام تصریح سے خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہو گا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔ مگر خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اُس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کی فطرت سے مشابہ ہیں اور یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے۔ ”اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِنَ الْقَادِيَانِ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَكَانَ وَعْدُاللَّهِ مَفْعُولاً “ یعنی ہم نے اس کو قادیاں کے قریب ١؎ اُتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اُتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اُترا۔ اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اِس الہام پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیاں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اِس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔“

(ازالہ اوہام۔ حاشیہ از صفحہ ٧٣ خزائن ج ٣ حاشیہ ص ١٤٦ تا ١٤٩)

ناظرین کرام! کیا اچھا نکتہ ہے۔ ہے کوئی جو اس نکتہ کا حوالہ کسی سابقہ تفسیر یا شرح حدیث میں دکھا سکے؟ کہاں دمشق ۔ کہاں قادیاں۔ کہاں یہودی، کہاں یزیدی اور کہاں بے چارے ساکنانِ قادیاں۔ کیا ٹھیک ہے ؎

چہ خوش گفت ست سعدی در زلیخا
الا یا ایہا الساقی ادرکاسا وناولہا

نکتہ نمبر ١٠:....... (الحاد کی بنیاد) حافظ شیرازی مرحوم کا شعر ہے :

بمئے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود ز راہ و رسم منزلہا

اس شعر کے غلط معنے کی سند پر ملحد فقیر اپنے مریدوں کو خلافِ شرع باتیں بتا کر گمراہ کیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے باوجود مسیح موعود ۔ مہدی مسعود اور مصلح اعظم اسلام ہونے کے ان گمراہ کنندوں کی تائید کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

” شرعی والہامی امور الگ الگ رہتے ہیں۔ اس لئے کشفی یا الہامی امور کو شریعت کے تابع نہیں رکھنا چاہئے۔ وحی الٰہی کا معاملہ اور ہی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی ایک دو نظیریں نہیں بلکہ ہزاروں نظائر موجود ہیں۔ بعض وقت ملہم کو الہام کی رُو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کی رُو سے اُن کی بجا آوری درست نہیں ہوتی۔ مگر ملہم کا یہ فرض ہوتا ہے کہ ان کی بجا آوری

١؎ قریب اُترا تو قادیانی کیوں ہوا؟ (مصنف)

١٩

صفحہ ٧٤

میں ہمہ تن مصروف رہے۔ ورنہ گناہگار ہوگا۔ حالانکہ شریعت اسے گنہگار نہیں ٹھہراتی۔ یہ تمام باتیں من لدنا علما کے ماتحت ہوتی ہیں۔ ایک جاہل بے بصیرت بے شک اسے خلاف شریعت قرار دے گا۔ مگر یہ اُس کی اپنی جہالت و کور باطنی ہے۔ کہ ان باتوں کو خلاف شریعت سمجھے۔ دراصل اہل باطن کے لئے وہ بھی ایک شریعت ہوتی ہے جس کی بجا آوری اُن پر فرض ہوتی ہے۔ ابتداء دنیا سے یہ باتیں دوش بدوش چلی آتی ہیں۔“

(مفہوم ملفوظات ج ٦ ص ١١۔١٢ اخبار الحکم ٢٤ جون ١٩٠٣ء مندرجہ خزینۃ العرفان ص ٥٨٢)

ناظرین ! کیا اچھا عارفانہ نکتہ ہے جس کو ہر ایک ملحد زندیق سامنے رکھ کر خلاف شرع امور کو رواج دے سکتا ہے۔

حضرات! یہ ہیں مسیح موعود اور اسلام کے مصلح اعظم۔ اور ان کے معارف اور نکات۔ آہ !

دوست ہی دشمنِ جاں ہو گیا اپنا حافظ
نوش دارو نے کیا ، کیا اثر سم پیدا

نکتہ نمبر ١١:....... (ایجاد مرید) پنجابی میں ایک کہاوت ہے:۔

”گرو جنہاندے پڑیں چیلے جانٹر شروپ“

یعنی جن کے پیر تیز رو ہوں اُن کے مرید اُن سے بھی تیز چلنے والے ہوتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے نکتہ آفرینی میں اپنے مریدوں کو بھی نکتہ آفرین بنا دیا۔ یہ نکتہ نمبر ١١ اُن کے مریدوں کی نکتہ آفرینی کی مثال ہے۔ ناظرین بغور پڑھیں۔

مرزا قادیانی کے ایک مرید مولوی عبداللہ تیماپوری ١؎ کی ہیں۔ آپ نے بھی سورۃ فاتحہ کی الہامی تفسیر لکھی ہے۔ ہم نے ساری تفسیر کو پڑھا اُس کے دیکھنے سے ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ صاحب لاہوت کی کہتے ہیں یا ناسُوت کی۔ مگر ایک مقام سے ان کا نکتہ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ملا جو نقل کرتے ہیں۔ لیکن پہلے اُس نکتہ کے مصنف کی عقیدت بحق مرزا قادیانی اور مصنف کا اعلیٰ درجہ اُنہی کے الفاظ میں بتاتے ہیں۔ مصنف صاحب شروع ہی میں لکھتے ہیں:۔ ”ناظرین! یہ وہی تفسیر کبیر ہے جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک رؤیا (خواب) میں دیکھا ہے۔ آپ کے ملفوظات کے سنہری چوغہ کو شیطان لوگوں کی نظروں سے غائب کرنے کے لئے لے بھاگا تھا۔ یہ خاکسار شیطان سے چھین کر واپس لایا ہے۔ اس کی تعبیر خود حضرت صاحب نے یہ کی ہے کہ وہ تفسیر ہمارے لئے

١؎ یعنی تیماپوری کی تصنیف۔

٢٠

صفحہ ٧٥

موجب عزت و زینت ہوگی۔ الحمد للہ اس فقیر مبارک سے حضور کی رؤیائے صادقہ روحانی و جسمانی طریق میں مجسم بن کر پوری ہوئی۔ یہ خاکپائے غلامانِ رسول اللہ آپ ہی کے اتباع کی برکت سے مردگی سے زندہ ہو کر ایک قاش عرفانِ الٰہی و عشقِ نبوت محمدی کی آپ ہی کے ہاتھوں سے کھایا ہے۔ جس کی خوشخبری براہین کے حاشیہ در حاشیہ ص ٢٤٨ میں دی گئی ہے اور اس عاجز کی زندگی کے ساتھ دینِ اسلام کی تروتازگی و ترقی منظور الٰہی ہے۔ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود (مرزا) کی صداقت زور آور حملوں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔‘‘

(تفسیر آسمانی سبقاً من الثانی۔ مؤلفہ عبداللہ تیجا پوری ص الف)

اس کے بعد مصنف موصوف تفسیر سورۃ فاتحہ کے الفاظ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے نکتہ نکالتے ہیں جو مرزا قادیانی کے نکتہ سے کم نہیں بلکہ بڑا نکتہ ہے۔ فرماتے ہیں:۔ ”رحمان و رحیم ۔ یا باسم محمد واحمد۔ یہ ایک تخم کی دو پھانک ہیں۔ یہ دونوں شقوں کے درمیان سے نور اللہ کا پودا بذریعہ عشق نکلا۔ پھر نیاز کی زمین سے ناز کا درخت بلند ہوا۔ اُس کی شاخیں آسمان میں جا لگیں۔ اُس کی ایک شاخ و ڈالی میں توحید کے خوشنما پھول لگے۔ یوں وحدت کثرت میں آ کر اپنا جلوہ دکھاتی اور امتدادِ زمانہ کی وجہ سے وحدت الوہیت کا تاج کثرت کے سر پر رکھا جاتا ہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ چونکہ وہ ذات اپنی الوہیت میں شرکت کو پسند نہیں کرتی۔ لہٰذا اس کی اصلاح کے لئے مامور من اللہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ فی زمانہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کے نادان بندوں نے اُس کی خدائی میں شریک گردانا۔ ہمیشہ کے لئے مسیح کو زندہ مانا۔ حقیقی پرندوں کے پیدا کرنے والے مُردوں کو جلانے والے یقین کر لیا۔ اسی مشرکانہ عقیدہ کو مٹانے کے لئے اللہ پاک نے اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کے بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی بادشاہِ زمین و آسمان نے اِس عاجز کو چُن لیا تاکہ زور آور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے اور اس کے ذریعہ سے بذریعہ الہام ایک نورِ حق کے آنے کی پیشگوئی بھی سُنائی۔ جو اِس عاجز کے وجود سے پوری ہوئی۔ وہ یہ ہے:

”وَجَاءَ کَ النُّوْرُ وَهُوَ اَفْضَلُ مِنْکَ ۔ اور اس نور کی بزرگی میں بطور استعارہ یہ الہام نازل ہوا ہے۔ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ یہ مرتبہ خاتم ولائتِ محمدی کی طرف اشارہ ہے۔ اور الہام ”پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد“ میں ظاہر ہونے والے راز کو کھولا ہے۔ غرض ایک وجہ سے مرتبہ احمدیت مرتبہ محمدیت کا ظل ہے اور ایک وجہ سے مرتبہ محمدیت مرتبہ احمدیت کا ظل ہے۔“

٢١

صفحہ ٧٦

”لہٰذا آپ (مرزا) خاتم ولائت احمدی ہوئے۔ اور اس عاجز کے وجود سے یہ کشف مرتبہ ناز روحانی میں ظل رحمانی کے درجہ پر یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد از روئے تولد روحانی مظہر جمال تھے۔ آپ کے وجود میں جمال کا غلبہ زیادہ تھا۔ اور جلال اُن میں پوشیدہ تھا۔ اس معنے کو جمالی رنگ میں آپ کا تولد ہوا۔ اور یہ عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مرتبہ جلال و جمال پر تولد پاکے خاتم ولایت محمدی ہوا ہے۔ اوّل بآخر نسبت دارد کا دورہ پورا ہو کر قدرت ثانی کا دوسرا دور۔ دَورِ محمدی کا آغاز ہوا۔ یہ مرتبہ ظلِ رحمانی ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدا ہی جانے کیا سے کیا ہونے والا ہے۔‘‘ (بریلی میں پاگلوں کا علاج ہونے والا ہے)

(تفسیر آسمانی سبعاً من المثانی۔ حصہ اول صفحہ ٦٧‘ ٦٨‘ ٦٩)

ناظرین! یہ ہیں وہ نکات جدیدہ جن کی بنا پر مرزا قادیانی مجدد اور مسیح موعود بنتے تھے جن کی جدت سے کسی مسلمان کو انکار نہ ہونا چاہئے بلکہ صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہئے کہ:

نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

حضرات کرام! ان سارے نکات کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی سورہ فاتحہ بلکہ دیگر مقامات قرآن سے بھی مرزا قادیانی کی بابت پیشگوئی اور نبوۃ (بروز محمد) کی طرف اشارہ ہے۔ کیا خوب:

خیال زاغ کو بلبل کی ہمسری کا ہے
غلام زادی کو دعویٰ پیمبری کا ہے

تصویر کا دوسرا رُخ

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی نکتہ آفرینی پر بہت فخر ہے کہ وہ قرآن مجید سے ایسے نکات نکالتے تھے کہ پہلی کتابوں میں ان کا نشان نہیں ملتا۔ ہم اصولاً ایسے نکات جدیدہ کے ماننے کے لئے تیار ہیں جو قرآن شریف سے استنباط ہوں خواہ پہلے کسی نے نہ لکھے ہوں مگر ایسے نکات ہوں کہ عربی عبارت قرآنی بقاعدہ زبان عربی اُن کی متحمل ہو۔ نہ کہ بالکل اجنبی محض بلکہ متضاد ہوں۔ مگر مرزا قادیانی اپنی جدّت طرازی میں کسی اصول کے پابند نہ تھے۔ بلکہ اُن کو محض یہ منظور تھا کہ جس طرح ہو کوئی نئی بات بنائی جائے۔ جس کی مثالیں گزشتہ صفحات پر ہم دکھا آئے ہیں چونکہ ایسی ہی بے قاعدہ تجدید کرنے والا مرزائی اصطلاح میں مجدّد ہوتا ہے اس لیے اس عنوان کے تحت ہم ایک ایسے شخص کو پیش کرتے ہیں جس کو مرزا قادیانی ملحد اور کیا نہیں کیا کہتے تھے۔ یعنی مولوی عبداللہ چکڑالوی بانی فرقہ اہل قرآن لاہور جو حدیث نبوی کے منکر تھے اور صرف قرآن

٢٢

صفحہ ٧٧

مجدد کو وحی الہی جانتے تھے۔ حالانکہ ان کے نکات اور معارف اپنی جدت میں مرزا قادیانی کے نکات سے کم نہیں۔ چنانچہ وہ بھی عشرۂ کاملہ کی صورت میں درج ذیل ہیں۔

چکڑالویہ نکتہ نمبر ١:...... قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہے:

”اے نبی! تو کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو تو میری تابعداری کرو۔ خدا تم سے پیار کرے گا۔“

اس آیت میں خاص صیغہ قُل امر مخاطب کا ہے۔ جس کے مخاطب خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر مولوی چکڑالوی نے اس میں عجیب جدت کی ہے لکھتے ہیں:۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُوْنِي .......

کہہ دے تو (اے صاحب قرآن ) اگر تم رضامندی چاہتے ہو اللہ تعالیٰ کی تو میرے موافق صرف قرآن مجید ہی پر عمل در آمد رکھو۔

حاشیہ:....... پس اس آیت میں ہر ایک مسلمان (قیامت تک قُل کا مخاطب و مکلف ہے۔ اور ہر ایک مؤمن مسلمان کو بقدر اپنی قدرت و طاقت کے قیامت تک یہ کہنا فرض ہے کہ اے عباد الرحمن میری موافقت کرو۔ یہاں کوئی قرینہ حالی یا مقالی ماقبل یا مابعد اشارۃً یا کنایۃً وہم و خیال تک میں بھی نہیں آسکتا کہ اس آیت کے مخاطب و مکلف خاص محمد رسول اللہ سلام علیہ ہی ہوں۔“

(پ ٣۔ قرآن معہ تفسیر چکڑالوی ص ١٣٦)

ناظرین! کیا یہ نکتہ جدیدہ نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر ٢: ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”اے عیسیٰ تو مٹی سے جانور بناتا تھا۔ پھر اُن میں پھونکتا تھا۔ پھر وہ اڑنے والے جانور بن جاتے تھے۔“ اس آیت کا ترجمہ چکڑالوی صاحب کرتے ہیں:۔

” وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًا بِإِذْنِيْ۔“

”اور تحقیق اصلاح و درست کرتا تھا تو اچھی طرح عبادالرحمن کی فطرت و خلقت کو مثل درست کرنے چار مخصوص شکاری پرندوں (باز۔ باشہ۔ شاہین۔ چرخ) کے مطابق ارشاد میری کتاب کے یعنی تو ایمانی روح ( کتاب اللہ) کا علم پہنچاتا تھا۔ رجوع کرنے والی فطرت میں پس وہ فرمانبردار ہو جاتی تھی کتاب اللہ کی مثل فرمانبردار ہونے ان چاروں مخصوص شکاری پرندوں کے

٢٣

صفحہ ٧٨

اور تو یہ سب کچھ کرتا تھا مطابق ارشاد کتاب میری کے۔"

(ترجمہ قرآن چکڑالوی پ ٧ ص ١٦)

مرزائی دوستو! داد دو.......

چکڑالویہ نکتہ نمبر ٣:....... قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ تو اپنا عصا دے مار پس وہ فوراً ہی اُن (جادوگروں) کے بنائے ہوئے سانپ نگل رہا تھا۔“

اس آیت کا ترجمہ مع تفسیر چکڑالوی صاحب درج ذیل ہے:۔ ”وَاَوْحَيْنَا اِلٰى مُوْسٰى اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ.“ ”پھر ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی طرف یہ کہ اب تو بیان کر اپنی نذارت کا ہر ایک مسئلہ۔ پس ناگاہ وہ ہر ایک مسئلہ ملیامیٹ کر گیا اُن کے سارے باطل بیان کو۔“

(سورۂ اعراف۔ پ ٩۔ صفحہ ٩)

مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟ کیا یہ نکتہ جدیدہ نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر ٤:....... قرآن شریف میں مذکور ہے: ”جس وقت حضرت موسیٰ پہاڑ پر آئے اُن کے ہاتھ میں عصا تھا۔ خدا نے پوچھا اے موسیٰ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے جواب عرض کیا۔ یہ میرا عصا ہے۔ حکم ہوا اسے پھینک دے۔ وغیرہ۔“

اس آیت کا ترجمہ اور نکتہ چکڑالوی مجدد لکھتے ہیں:۔ ”وَمَا تِلْکَ بِيَمِيْنِکَ يٰمُوْسٰى قَالَ هِىَ عَصَاىَ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِىْ وَلِىَ فِيْهَا مَارِبُ اُخْرٰى قَالَ اَلْقِهَا يٰمُوْسٰى فَاَلْقٰهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰى قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْاُوْلٰى وَاضْمُمْ يَدَکَ اِلٰى جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوْءٍ اٰيَةً اُخْرٰى لِنُرِيَکَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى “ ”جبکہ یہ ضروری اصول دین کے بیان ہو چکے تو پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ کیسے نظر آئے ہیں یہ عالی شان احکام میرے تیری مبارک سمجھ میں اے موسیٰ! اُس نے عرض کیا کہ یہ ہر ایک مسئلہ میری نذارت کا ہے میں خود بھی پُورا پُورا عمل درآمد اور مدارِ رسالت رکھوں گا ان پر اور ضرور ہی شائع و جاری کروں گا۔ میں یہ کل مسائل اپنے تابعداروں میں بھی کیونکہ ضرور ہی مجھ کو ان کے سبب سے طرح طرح کے فوائد و درجات جنت الفردوس مرزوق و موہوب ہوں گے ارشاد ہوا کہ ہاں اب جاکر تو سُنا پڑھا اے موسیٰ۔ پس موسیٰ نے ان مسئلوں کے سُنانے پڑھانے کی نسبت اپنے

٢٤

صفحہ ٧٩

دل میں سوچا سمجھا کہ میں کس طرح جاکر بیان کروں گا پس ناگاہ اس کو اپنے دل میں موہوم ہوئے وہ مسائل بڑے سانپ کی مانند جو کہ دوڑتا ہوا آ رہا تھا فرمایا علیم بذات الصدور نے کہ جا عملدرآمد کر انکی اشاعت اجرا میں اور ہرگز مت ڈر کسی سے ضرور پھیر دیویں گے ہم ان کو تیری پہلی اطمینان والی حالت ہی میں۔ پھر جب بشارت کے احکام صادر ہوئے تو ارشاد ہوا کہ پہلے مسائل نذارت کے بعد ان مسائل بشارت کو بھی جا کر سُنانا اور پڑھانا کیونکہ تمام حاضرین مجلس کو یہ مسائل بشارت ظاہر باہر طور پر بہت ہی خوش اور روشن نظر آئیں گی ہرگز ان سے ان کو ذرہ بھر بھی غصہ و جوش نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ بشارت کے مسائل اور ہی ڈھنگ کے ہیں آئندہ بھی ہمیشہ ہم پڑھاتے سکھاتے رہیں گے تجھ کو احکام اپنے جو کہ بہت ہی عظیم الشان وجلیل القدر ہوں گے ۔‘‘

(سورۂ طٰہٰ۔ پ١٦ ص١٩)

قادیانی ممبرو! انصاف سے دیکھو تو یہی ایک نکتہ صدی کا مجدد بننے کو کافی ہے مگر تم ایسے بخیل ہو کہ سوائے اپنے مجدد کے کسی دوسرے کو کب ماننے لگے۔ لیکن دنیا تو دیکھ رہی ہے کہ جن نکات کی وجہ سے تم مرزا قادیانی کو مجدد اور مسیح موعود وغیرہ وغیرہ مان رہے ہو اُسی قسم کے نکات جب دوسرا کوئی شخص بھی بتا سکتا ہے تو پھر وہ کیوں مجدد نہ ہو۔ کیا یہ سچ ہے ؎

يَخْتَلِفُ الرِّزْقَانِ وَالشَّيْءُ وَاحِدٌ
اِلٰى اَنْ يُّرٰى اِحْسَانُ هٰذَا لِذَا ذَنْبًا

چکڑالویہ نکتہ نمبر٥:...... مولوی عبداللہ چکڑالوی اہل قرآن چونکہ حدیث نبوی کے حجت شرعی ہونے سے منکر تھے۔ لہٰذا اُن پر اعتراض ہوا کہ نمازوں کی رکعتیں دو۔ تین ۔ چار ۔ قرآن مجید سے دکھاؤ تو آپ نے مندرجہ ذیل آیات سے یہ سوال حل کیا۔ وہ آیات مع ترجمہ یوں ہیں :۔

”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰئِكَةِ رُسُلًا اُولِيْ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ يَزِيْدُ فِیْ الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ۔“

”تمام نمازیں قرآنی خالص واسطے رضا مندی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کیونکہ وہ ہمیشہ پاک فطرت پیدا کرتا رہتا ہے تمام آسمانوں والے فرشتوں اور کل رُوئے زمین والے جن وانس کی اور بھیجتا رہا ہے اپنے فرشتوں جبرائیلوں کو تمہاری طرف اپنی رسالت کتاب اللہ دے کر خصوصاً وہی لاتے تمہاری صلواتوں یعنی رکعاتوں کو ہمیشہ دو دو بار پڑھا کرو ہر صبح، جمعہ اور عیدین کو اور تین تین پڑھا کرو ہر شام کے وقت اور چار چار بار پڑھا کرو ہر ظہر عصر عشا کو اس لئے کہ جبر نقصان کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے سے تمہاری تبدیل شدہ فطرت کا جس قدر کہ ہر ایک نمازی خود ہی چاہے

صفحہ ٨٠

خشوع خضوع کے ساتھ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر ایک ارادے پر ہمیشہ ہر طرح قادر رہتا ہے۔“

(پ ٢٢۔سورۂ فاطر صفحہ٢٧)

مرزائی دوستو! واللہ غور سے دیکھو تو پھڑک جاؤ۔ تمہارا دل مان جائے کہ نکتہ تو یہ ہے، مجدد تو یہ ہے۔ اور تم بے ساختہ چکڑالوی کے حق میں یہ شعر پڑھو:

حسیں ہو مہ جبیں ہو دل نشیں ہو
لقب جن کے ہیں اتنے وہ تمہیں ہو

چکڑالویہ نکتہ نمبر ٦:...... قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ اپنی قوم سے بھاگ کر بھری بیڑی میں جا بیٹھے۔ وہاں قرعہ اندازی ہوئی۔ آخر اُن کو دریا میں کودنا پڑا۔ دریا میں ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ ان آیات کا مشرح ترجمہ چکڑالوی صاحب فرماتے ہیں:۔

”إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِيْمٌ۔ فَلَوْ لَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ٠“

”تحقیق وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر جا سوار ہوا ایک بہت ہی بھری ہوئی کشتی پر پس ملاحظہ و معائنہ طبی کیا کسی سرکاری حکیم نے کشتی والوں کا تو بہت سے لوگ بسبب کسی مرض وقواعد حفظان صحت وغیرہ کے اس کشتی سے اُتار دیئے گئے پس اُنہیں میں آپ کو بھی اُتار دیا گیا۔ پھر چڑھا لیا اُس کو ایک ماہی گیر نے اپنے چھوٹے سے مچوے میں درآنحالیکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے والا تھا اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے آنے پر پس اگر اس وقت وہ نہ ہوتا خالص قرآنی توبہ کرنے والوں میں سے تو ضرور ہی وہ رہ جاتا دریا ہی میں جہاں سے وہ روز قیامت تک نہ نکلتا۔“

(سورۂ صافات۔ پارہ ٢٣ صفحہ ١٩)

کیا اچھا نکتہ ہے اور کیا اچھا ترجمہ ہے جو کسی عربی یا فارسی قاعدہ کا محتاج نہیں۔ ...... مرزائیو! کیا کہتے ہو؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر ٧:...... قرآن مجید میں ایمانداروں کو ارشاد ہے کہ اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھنا یعنی اللہ و رسول جب تک دین میں کوئی کام نہ بتا دیں۔ تم اُسے دین کا کام نہ سمجھنا۔ مولوی چکڑالوی چونکہ اتباع کے موقع پر رسول کے معنے قرآن کے کرتے ہیں اس لئے ان آیات کا ترجمہ بہت ہی عجیب کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:۔

”يَاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ

٢٦

صفحہ ٨١

اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ. "

"اے قرآنی مومنو! ہرگز کبھی بھی پیش نہ کرو کسی غیر اللہ کی تقریر و تحریر کو تعالیٰ کے سامنے یعنی اُس کے بھیجے ہوئے قرآن مجید کے آگے ضرور ہی ہمیشہ بچتے رہو اس مخالفت کتاب اللہ سے۔ کیونکہ تحقیق اللہ تمہاری تمام ظاہری و مخفی باتیں یکساں سننے والا اور تمہارے دلی خیالات کو بھی بہت ہی اچھی طرح جاننے والا ہے۔"

(پ ٢٦۔ سورۃ حجرات ۔ص ٢٦)

چکڑالوی نکتہ نمبر ٨ :...... قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ قیامت کی فنا کے وقت ملائکہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور عرش کو آٹھ فرشتے اُٹھائیں گے۔ اس آیت کا ترجمہ فرماتے ہیں :۔ " وَالْمَلَكُ عَلٰى اَرْجَآئِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ. " "اور آسمان کے پھٹ جانے کے وقت تمام فرشتے دوڑ جائیں گے اُس کے کناروں کی طرف۔ پھر وہ سب کے سب فوراً فنا ہو جائیں گے اور کتاب اللہ پر پُورا پُورا عمل درآمد کرنے والے سب کے سب عبادالرحمٰن اُس روز بلحاظ درجہ و مرتبہ آٹھ گروہ ہوں گے۔"

(پ ٢٩۔سورۃ الحاقہ ص ١٠)

چکڑالوی نکتہ نمبر ٩ :...... مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ نبوۃ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ سے پہلے فارس کی فوج ہاتھیوں پر سوار ہو کر کعبہ شریف کو گرانے آئی تھی خدا نے ان پر ابابیل بھیج کر ان کو تباہ کر دیا۔ ان کو اصحاب الفیل کہا جاتا ہے۔ ان آیات کا چکڑالوی ترجمہ ملاحظہ ہو :۔ " اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيْلِ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ وَّ اَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ. "

(سورۃ الفیل پ ٣٠۔ صفحہ ٤٤)

"اے ہر ایک صاحب قرآن کیا نہیں دیکھتا رہتا تو ہمیشہ یہ کہ کس طرح ذلیل و حقیر کرتا رہتا ہے پروردگار تیرا کتاب اللہ کے بے خبر و نادان لوگوں کو جو کہ خود ہی اپنے تعصب مذہبی و ہٹ دھرمی کے باعث بالکل سست عقل و ضعیف الرائے خود ہی ہو جاتے ہیں۔ اور کیا نہیں کر ڈالتا اللہ تعالیٰ ان کی بد اندیشی و بدخواہی کو جو کہ قرآنی مومنوں کے حق میں کرتے رہتے ہیں سراسر خسارہ دارین کا باعث۔ یعنی غلبہ دیتا ہے ان پر ضعیف و عاجز قرآنی مؤمنوں کو باوجودیکہ وہ اُن کی نسبت مچھروں و مکھیوں کی طرح اور بالکل پریشان حال پراگندہ روزی پراگندہ دل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آخر کار وہی عاجز مومن بھگا دیتے ہیں ان بڑے جاہ و جلال اور شان و شوکت والے کفار و مشرکین کو محض چھوٹے چھوٹے ذریعوں و سامانوں ہی سے جو کہ معمولی بیکار کنکروں کی طرح ہی ٢٧

صفحہ ٨٢

ہوا کرتے ہیں پس کر ڈالتا ہے ان بے فرمانوں کو اللہ تعالیٰ مویشیوں کے اُس چارہ کی طرح جو کہ بسبب گندہ ہونے کے ان کے کھانے سے بچ کر بالکل بیکار ہی رہ جائے۔“ مرزائی دوستو! اب تو مان جاؤ کہ مولوی چکڑالوی واقعی نکتہ آفرینی کی وجہ سے مجدّد تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مرزا صاحب کو نہ مانو۔ مگر جس وصف سے تم مرزا صاحب کو مجدّد اور مسیح موعود مانتے ہو اُسی وصف میں اگر کوئی اور بھی شریک ہو تو اس کو بھی اس لقب میں شریک کرنے سے تمہیں کون امر مانع ہے؟ پس اگر مرزا صاحب مسیح موعود اور مجدّد ہیں تو مولوی چکڑالوی کیوں نہیں؟

چکڑالویہ نکتہ نمبر ١٠:...... قرآن مجید کی سورہ کوثر مشہور ہے۔ جس کا ترجمہ بھی مشہور ہے۔ کہ خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر دیا اور حکم فرمایا کہ نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ مجدّد چکڑالوی جو اس کا مطلب بتاتے ہیں وہ قابل شنید نہیں بلکہ لائق دید ہے چنانچہ وہ یہ ہے:۔ ” اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ “ ”اے ہر ایک صاحب قرآن ! تحقیق عطا فرمایا ہے ہم نے تجھ کو یہ کامل صفات، جامع کمالات، قرآن مجید۔ جس میں سعادت دارین ہے پس تو ہمیشہ ہر ایک خالص قرآنی نماز ہی پڑھا کر خاص اپنے پروردگار ہی کی رضا مندی کے لئے خصوصاً اپنے وجود کے اونٹ (نفس) کو ذبح (ذلیل وحقیر یعنی کیڑا) کر ہر تکبیر کے وقت کیونکہ تحقیق ہر ایک مخالف تیرا تو اس قرآنی نماز سے خود بخود بالکل محروم و بے نصیب ہی رہتا ہے۔“

(کوثر۔ پ ٣٠۔ صفحہ ٤٥)

ناظرین کرام! ہم نے آپ کا بہت سا وقت بے فائدہ کام میں لیا کیونکہ بلحاظ عقیدہ نہ تو آپ نکات مرزا کے قائل ہوں گے نہ معارف چکڑالویہ کے معتقد۔ بلکہ درحقیقت اصل مطلب ہمارے لکھنے اور آپ کے پڑھنے کا صرف اتنا ہے کہ ایسے جدید مدعیوں کی وہ دلیل دیکھیں جن پر اُن کے دعویٰ کی بنیاد ہے یعنی قرآن مجید سے معارف نمائی۔ سو ہم نے دکھایا اور آپ نے دیکھا۔ الحمد للّٰہ ان سب کو جھوٹا پایا۔

مرزا کے مریدو! نکات مرزائیہ کے ساتھ ساتھ نکات چکڑالویہ بھی پڑھو اور ہمارے مندرجہ ذیل شعر کی تصدیق بھی کرو؎

آج دعویٰ اُن کی یکتائی کا باطل ہو گیا
رو برو اُن کے جو آئینہ مقابل ہو گیا

خادم دین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مصنف تفسیر ثنائی وغیرہ ماہ رجب المرجب ١٣٤٥ھ

٢٨

PDF 83

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ہندوستان

کے دو ریفارمر

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٨٤

پہلے مجھے دیکھئے

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمدة ونصلى على رسوله الكريم وعلى آله واصحابه اجمعين.

ہر چہ گیرد علتی علت شود
کفر گیرد کاملے ملت شود

(یعنی پیر یا گرو جو کام کریں۔ چیلے اور مرید بھی اُسے کرتے ہیں۔) اس مختصر سے ٹریکٹ (رسالہ) کے شائع کرنے سے ہماری دو غرضیں ہیں۔

کتاب ”رنگیلا رسول“ اور رسالہ ”ورتمان“ ہے۔ ہمارے اس ٹریکٹ سے معلوم ہوگا کہ آریوں کی یہ سخت کلامی دراصل فارسی شعر مندرجہ بالا کے ماتحت ہے۔ یعنی جو کام ان کے گرو سوامی دیانند کر گئے ہیں۔ وہی یہ لوگ کرتے ہیں۔

شاعر اُستاد صائب کہتا ہے:

دہن خویش بدشنام میالا صائب
کایں زرِ قلب بہر کس کہ دہی باز دہد

”اپنے منہ کو بدکلامی سے گندہ نہ کر۔ کیونکہ یہ کھوٹا پیسہ تو جس کو دے گا وہ تجھے واپس دے گا۔“

خادمِ دین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ ۔ کفاہ اللہ امر تسر ۔ ماہِ صفر ١٣٤٦ھ اگست ١٩٢٧ء

٢

صفحہ ٨٥

تَمْهِیْدٌ

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے: قُلْ لِّعِبَادِی یَقُوْلُوا الَّتِی هِیَ اَحْسَنُ اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ اِنَّ الشَّیْطَانَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا۔

(بنی

اسرائیل : ٥٣)

یعنی اے رسول (علیہ السلام) میرے بندوں کو کہہ دے کہ بات بہت ہی اچھی کہا کریں۔ سخت کلامی سے شیطان اُن میں عداوت ڈلوائے گا۔ بیشک شیطان انسان کا صریح دشمن ہے۔

اخلاقی صورت میں ہر ایک حکیم اور مصلح یہی تعلیم دیتا ہے۔ ہماری کتاب کے دو ہیروؤ میں سے سوامی دیانند کا قول ہے۔

”ہر جگہ اور ہر وقت انسان کو مناسب ہے کہ وہ شیریں کلامی کو کام میں لاوے۔ کسی اندھے کو ”اے اندھے“ کہہ کر پکارنا سچ تو ضرور ہے۔ لیکن سخت کلامی کے باعث ادھرم (بے دینی کا کام) ہے۔

اپدیش منجری ص ٢٠

یہ تو ہے سوامی دیانند جی کا قول، مگر فعل کیا ہے۔ اس کا ثبوت دو طرح سے ہے۔ (١) اجمالی (٢) تفصیلی۔ اجمالی بیان سوامی جی کی سوانح عمری کلاں کے دیباچہ میں لالہ منشی رام جی (بعد سوامی شردہانند جی) نے خود لکھا ہے۔ جس کے اصلی الفاظ یہ ہیں۔

”ایک روز اثناء ویاکھیان (تقریر) میں شری سوامی جی مہاراج پورانوں کی اسمبھو (ناممکن) باتوں کا کھنڈن (ردّ) کرتے کرتے ان کے اخلاقی تعلیم کا کھنڈن کرنے لگے۔ اُس وقت پادری سکاٹ۔ مسٹر ریڈ کلکٹر (ضلع بریلی) اور مسٹر ایڈورڈس صاحب کمشنر قسمت معہ پندرہ بیس صاحبان

٣

صفحہ ٨٦

انگریز کے رونق افروز تھے۔ سوامی جی نے پورانکوں کی پنچ کنواریوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک ایک کے وصف بیان کرنا شروع کیے۔ اور پورانکوں (ہندوؤں) کی عقل پر افسوس کیا۔ کہ دروپدی کو پانچ خسم کرا کے اسے کماری قرار دینا اور اسی طرح کی کنتی۔ تارا مندو دری وغیرہ کو کماری کہنا پورانکوں کی اخلاقی تعلیم کو ناقص ثابت کرتا ہے۔ سوامی جی کا طرز بیان ایسا پُر مذاق تھا کہ سامعین تھکنے کا نام نہیں جانتے تھے۔ اس پر صاحب کلکٹر اور صاحب کمشنر وغیرہ انگریز ہنستے اور اظہارِ خوشی کرتے رہے۔ لیکن اس مضمون کو ختم کر کے سوامی جی مہاراج بولے ”پورانیوں (ہندوؤں) کی تو یہ لیلا (حالت) ہے۔ اب کرانیوں کی لیلا سنو۔ یہ ایسے بھرشٹ (ناپاک) ہیں کہ کماری (کنواری) کے بیٹا پیدا ہونا بتلاتے اور پھر دوش (گناہ) سروگیہ شدہ سوروپ پرماتما (بے عیب خدا) پر لگاتے اور ایسا گھور پاپ کرتے ہوئے تنک بھی لچت (ذرہ بھی شرمندہ) نہیں ہوتے۔ اتنا کہنا ہی تھا کہ صاحب کلکٹر اور صاحب کمشنر کے چہرے مارے غصے کے سرخ ہو گئے۔ لیکن سوامی جی کا دھیان اسی زور شور سے جاری رہا۔ اُس روز عیسائی مت کا ویاکھیان کے خاتمہ تک کھنڈن کرتے رہے۔

دوسرے روز صبح کو ہی خزانچی لکھشمی نارائن کی صاحب کمشنر بہادر کی کوٹھی پر طلبی ہوئی صاحب بہادر نے فرمایا کہ اپنے پنڈت صاحب کو کہہ دو کہ بہت سختی سے کام نہ لیا کریں۔ ہم عیسائی لوگ تو مہذب ہیں۔ ہم تو بحث مباحثہ میں سختی سے نہیں گھبراتے لیکن اگر جاہل ہندو اور مسلمان برافروختہ ہوئے تو تمہارے پنڈت سوامی کے ویاکھیان بند ہو جائیں گے۔ خزانچی صاحب یہ پیغام سوامی جی کے پاس پہنچانے کا وعدہ کر کے واپس چلے آئے۔ لیکن سوامی جی تک یہ مضمون پہنچانے والا بہادر کہاں سے ملتا۔ کئی ایک ڈیوڑھی برداروں سے خزانچی جی نے استدعا کی لیکن کوئی بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ آخر کار چٹھی ایک ناستک (دھریہ) پر پڑی۔ اور اس کا ذمہ ٹھہرایا گیا۔ کہ وہ معاملہ پیش کر دیوے۔ خزانچی صاحب معہ اُس ناستک اور چند ایک دیگر آدمیوں کے اندر کمرے کے پہنچے۔ جس پر ناستک نے صرف یہ کہہ کر (کہ خزانچی صاحب کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں صاحب کمشنر نے بلایا تھا) کنارہ کیا۔ اور کل مصیبت گویا خزانچی صاحب کے سر پر ٹوٹ پڑی۔ اب خزانچی صاحب کہیں سر کھجلاتے ہیں۔ کہیں گلا صاف کرتے ہیں۔ آخر کار پانچ منٹ تک حیرت سے دیکھتے ہوئے سوامی جی نے فرمایا۔ بھئی تمہارا تو کوئی کام کرنے کا سمہ ہی نہیں ہے: اس لئے تم سمہ کی قیمت نہیں سمجھ سکتے۔ میرا سمہ امولیہ ہے۔ جو کچھ کہنا ہو کہہ دو‘‘ اس پر خزانچی صاحب بولے ”مہاراج! اگر سختی نہ کی جائے تو کیا حرج ہے۔ اس سے اثر بھی اچھا پڑتا ہے۔ اور انگریزوں کو ناراض کرنا بھی اچھا نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ یہ باتیں اٹک

٤

صفحہ ٨٧

اٹک کر بڑی مشکل سے خزانچی صاحب کے منہ سے نکلیں اس پر مہاراج ہنسے اور فرمایا ''ارے بات کیا تھی ۔ جس کے لئے گڑگڑاتا ہے اور ہمارا اتنا سمہ خراب کیا ۔ صاحب نے کہا ہو گا کہ تمہارا پنڈت سخت بولتا ہے ۔ ویاکھیان بند ہو جائیں گے ۔ یہ ہو گا ۔ وہ ہو گا ۔ ارے بھائی میں ہوتا تو نہیں کہ تجھے کھالوں گا ۔ اس نے تجھ سے کہا تو مجھ سے سیدھا کہہ دیتا ۔ ویرتھ اتنا سمہ (بے فائدہ اتنا وقت) کیوں گنوایا ۔

(دیباچہ ص ٧٦)

اس اجمال ہی سے سوامی جی کا سبھاؤ اور طرز کلام معلوم ہو سکتا ہے ۔ تاہم تفصیل کے لئے ناظرین حوالہ جات مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں ۔

سوامی جی کی مخاطب چار قومیں تھیں ۔ ہندو ۔ سکھ ۔ عیسائی ۔ اور مسلمان ۔ چینی بودھ وغیرہ ہندوؤں میں داخل ہیں ۔ مندرجہ ذیل حوالجات سے ثابت ہو گا کہ سوامی جی نے تیر کلام چلانے میں کسی قوم کا لحاظ نہیں کیا ۔ بلکہ ہر ایک کو مساوی حق بخشا جس پر یہ کہنا بجا ہے ؎

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

……☆……

ہندوؤں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

قوم میں پیدا ہوا تھا ۔ اس سے یہ تھوڑا سا پھیلا ۔ اس کے پیچھے منی داہن بھنگی خاندان میں پیدا شدہ ۔''

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١١ فقرہ ٣١)

سے کر لی ۔ کیا اس کو جائز سمجھا جائے ۔ پھر اندر وغیرہ کو پیدا کیا ۔ برہما ۔ وشنو ۔ رودر اور اندران کو پالکی کے اٹھانے والے کہار بنایا ۔ اس قسم کے گپوڑے لمبے چوڑے طبع زاد لکھے ہیں ۔''

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١١ فقرہ ٣٣)

نوٹ :۔ چونکہ ستیارتھ پرکاش کئی مرتبہ چھپی ہے ۔ اس کے صفحات باہمی مختلف ہیں ۔ کسی ناظر کے پاس کوئی طبع ہو گی کسی کے پاس کوئی ۔ ہم نے ان کی آسانی کے لئے یہی مناسب سمجھا کہ ستیارتھ پرکاش کے باب اور فقرے کا نمبر بتایا جائے ۔ مصنف

٥

صفحہ ٨٨

سب چیزیں لے کر آپ بھوگے۔ ویسے ہی لیلا (حالت) ان پجاریوں یعنی پوجا بمعنی نیک اعمال کے دشمنوں کی ہے۔ یہ لوگ چٹک مٹک جھلک بتوں کو بنا ٹھنا آپ ٹھگوں کی مانند بیچارے بیوقوف غریبوں کا مال اڑا کر موج کرتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٥٢)

شمالے نے پردے کو کھینچا جھٹ بت آڑ میں آ جاتا ہے۔ تب سب پنڈے اور پوجاری پکارتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٥٢)

’’تم بھینٹ کرو۔ تمہارے گناہ چھوٹ جائیں گے۔ اب زیارت ہوگی۔ جلدی کرو۔ وے بیچارے سادہ لوح آدمی دغابازوں کے ہاتھ لٹ جاتے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٥٨)

والوں نے بنائی ہوگی۔ اور وہی پہاڑ پوپ کا بہشت ہے۔ وہاں اترکاشی وغیرہ مقامات عابدوں کے لئے اچھے ہیں۔ لیکن وہ دوکانداروں کے لئے وہاں بھی دوکانداری ہے۔ دیو پریاگ پر ان کے گپوڑوں کی لیلا ہے۔ ایسی گپیں نہ ہانکیں تو وہاں کون جائے۔ وہاں مہنت پوجاری اور پنڈے آنکھ کے اندھے گانٹھ کے پوروں سے مال اڑا کر عیش وعشرت کرتے ہیں ویسے ہی بدری نارائن میں ٹھگ ودیا والے بہت سے بیٹھے ہیں۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٦٦)

ایسی جھوٹی باتیں لکھنے میں ذرا بھی حیا اور شرم نہ آئی۔ محض اندھا ہی بن گیا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٧٤)

دھرم شالا میں لوگ دان دیتے ہیں۔ عزیز دوست اور ذات میں خوب دعوتیں ہوتی ہیں۔ اچھے اچھے کپڑے ملتے ہیں۔ تمہارے کہنے کے مطابق سؤرگ میں کچھ نہیں ملتا۔ ایسے بے رحم، کنجوس، کنگال سؤرگ میں پوپ (ہندو پنڈت) جی خراب ہوں۔ وہاں بھلے لوگوں کا کیا کام ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٨١)

کتابیں ہیں۔ جن کا ماننا کسی عالم کا کام نہیں۔ بلکہ ان کو ماننا جہالت ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٨٧)

٦

صفحہ ٨٩

(ٹھگیوں) کے ہیں۔ سادھوؤں کے نہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٩٠)

برباد کرنے کے لئے ایک پاکھنڈ کھڑا کیا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ١٠٠)

جاوے۔ ان پاکھنڈیوں (ہندو پنڈتوں) کے دام میں نہ پھنسے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ١٠٦)

ہوئے۔ اور علم کے خلاف ہیں۔ جاہل کمینے اور وحشی لوگوں کو بہکا کر اپنے جال میں پھنسا کر اپنی مطلب براری کرتے ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ١٠٦)

گئی۔ یہ گپوڑہ لفظوں کی صورت میں اڑتا پھرتا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٧٦)

جَینیوں کے متعلق

اور علم سے بے بہرہ ہوں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٢ فقرہ ٩٥)

وغیرہ رکھنے کے لئے بُرے کاموں کے سمندر میں ڈبانے والا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٢ فقرہ ٩٦)

دوسرے مذہب والا نہ ہوگا۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٢ فقرہ ٩٨)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٢ فقرہ ١٠١)

بڑائیاں مارتے ہیں کہ گویا یہ جینی لوگ بھاٹوں کے بڑے بھائی ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٢ فقرہ ١٠٧)

٧

صفحہ ٩٠

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١٠٨)

بازاری عورت اپنے سوائے اور کسی کی تعریف نہیں کرتی۔ اس طرح یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١٠٩)

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١١٠)

جھوٹی باتوں کی کوئی تردید نہیں کرے گا۔ اسی لئے یہ خوف دلانے والے الفاظ لکھے ہیں۔ مگر یہ ناممکن ہے۔ اب تم کو کہاں تک سمجھاویں۔ تم تو جھوٹی مذمت اور دوسرے مذاہب سے مخالفت اور دشمنی کرنے پر ہی کمر بستہ ہو کر اپنی مطلب برآری کرنے میں حلوا کھانے کی برابر (لذت) سمجھتے ہو۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١١٤)

اس سے بڑھ کر دوسری کون سی بات ہوگی۔ ایسا بھونڈو (بے سمجھ) مذہب کون ہوگا۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١١٥)

پاکھنڈوں کی جڑ یہی جین مذہب ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٢ فقرہ ١١٩)

سکھوں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

گاؤں کی ہے۔ اس کو جانتے تھے۔ وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اگر جانتے ہوتے تو ”نربھے کو نربھو“ کیوں لکھتے اور اس کی مثال ان کا بنایا سنسکرتی سٹوتر ہے۔ چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی قدم رکھوں۔ لیکن بغیر پڑھے سنسکرت کیسے آ سکتی ہے۔ عام گنواروں کے سامنے جنہوں نے سنسکرت کبھی سنی بھی نہیں تھی۔ سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے۔

صفحہ ٩١

بات اپنی بڑائی عزت اور اپنی شہرت کی خواہش کے بغیر کبھی نہ کرتے۔ ان کو اپنی شہرت کی خواہش ضرور تھی۔ نہیں تو جیسی زبان جانتے تھے کہتے رہتے۔ اور یہ بھی کہہ دیتے کہ میں سنسکرت نہیں پڑھا۔ جب کچھ خود پسندی تھی تو عزت اور شہرت کے لئے کچھ ڈمبھ بھی کیا ہوگا۔ اسی لئے ان کے گرنتھ میں جابجا ویدوں کی مذمت اور تعریف بھی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو ان سے بھی کوئی وید کا معنی پوچھتا۔ جب نہ آتے تب عزت میں فرق آتا۔ اس لئے پہلے ہی اپنے چیلوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے خلاف کہتے تھے۔ اور کہیں کہیں وید کے بارے میں اچھا بھی کہا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٩٨)

(٢٦) ”سکھ بُت پرستی تو نہیں کرتے۔ لیکن اس سے بڑھ کر گرنتھ (کتاب) کی پرستش کرتے ہیں۔ کیا یہ بت پرستی نہیں ہے؟ کسی بے جان چیز کے سامنے سر جھکانا یا اس کی پرستش کرنی تمام بُت پرستی ہے۔ جیسے پوجاری لوگ بُت کا درشن کراتے اور نذریں لیتے ۔ ویسے نانک پنتھی لوگ گرنتھ (کتاب) کی پرستش کراتے کراتے بھینٹ بھی لیتے ہیں۔ لیکن بُت پرستی والے جتنی وید کی عزت کرتے ہیں اتنی یہ لوگ گرنتھ صاحب والے نہیں کرتے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١١ فقرہ ٩٨)

عیسائیوں کے متعلق سوامی جی کی تیز کلامی

(٢٧) ”خدا جھوٹا اور بہکانے والا ٹھہرا۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٣ فقرہ ٧)

(٢٨) ”اگر ایسی باتوں کے کرنے والا انسان فریبی اور مکار ہوتا ہے تو خدا ویسا کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ اگر کوئی دوسرے سے مکاری کرے گا تو وہ فریبی مکار کیوں نہ ہوگا؟ اور جن تینوں کو لعنت دی۔ وہ بلاقصور تھے۔ تو پھر وہ خدا غیر منصف نہ ہوا؟ اور یہ لعنت خدا پر ہونی چاہئے تھی۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٣ فقرہ ٧)

(٢٩) ”انجیلی حاسد خدا نے سب کی زبان خلط ملط کر کے ستیاناس کر دیا۔ اس نے یہ بڑا گناہ کیا۔ کیا یہ شیطان کے کام سے بھی بُرا کام نہیں ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٣ فقرہ ١٦)

(٣٠) ”تعجب ہے کہ کس جھوٹ اور مکر وفریب کی برکت سے اولیا اور پیغمبر بن جاتے ہیں۔ جب ایسے عیسائیوں کے ہادی دین ہوں۔ ان کے مذہب میں کیوں نہ گڑ بڑ مچے ۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب ١٣ فقرہ ٣٠)

٩

صفحہ ٩٢

چوپایوں تک کو بلاقصور مار ڈالا۔ اور اسے ذرا بھی ترس نہ آیا۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٣٩)

ہے۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٤٥)

جان لینے سے بھی باز نہیں رہتا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موسیٰ زنا کار (معاذ اللہ) تھا۔ کیونکہ اگر زنا کار نہ ہوتا تو باکرہ یعنی کنواری لڑکیوں کو اپنے لئے کیوں منگواتا۔ اور ایسی بے رحمی اور زنا کاری کا حکم کیوں دیتا۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٥٣)

ماننا بے علم۔ غیر مہذب آدمیوں کا کام ہے۔ شائستہ اور عالموں کا نہیں۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٦٠)

لڑکوں کی مانند بننے کی تعلیم کیوں دیتا۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٧٠)

اس کی بے علم آدمیوں کی سی خصلت تھی۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٧٨)

کونسی فوج ہے جو گر جائے گی؟ اگر عیسیٰ تھوڑا بھی علم پڑھا ہوتا۔ تو ضرور جان لیتا کہ یہ ستارے سب دنیا ہیں اور وہ کیونکر گر سکتے ہیں۔ چونکہ عیسیٰ بڑھئی کے گھر کا پیدا ہوا تھا ہمیشہ لکڑی چیرنے چھیلنے کاٹنے اور جوڑنے کا کام کرتا رہا ہوگا۔ اسے اس جنگلی ملک میں جب پیغمبر بننے کا شوق پیدا ہوا۔ تب ایسی باتیں بنانے لگا۔ کتنی باتیں اس کے منہ سے اچھی بھی نکلیں لیکن بہت سی بری بھی ہیں۔ وہاں کے لوگ جنگلی تھے۔ اس کی باتوں پر یقین کر بیٹھے۔ جیسا آج کل یورپ ترقی کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہی وقت ہوتا تو اس کے معجزے کوئی بھی نہ مانتا۔ باوجود کسی قدر علم ہونے کے عیسائی لوگ اب بھی ہٹ دھرمی اور پیچیدگی کے معاملات کی وجہ سے اس ردی مذہب سے کنارہ کش ہو کر مکمل سچائی سے بھرے ہوئے وید مارگ کی طرف رجوع نہیں ہوتے۔ یہی ان میں نقص ہے۔"

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٧٩)

١٠

صفحہ ٩٣

اس بات کو آج کل کے عیسائی خداوند کا کھانا کہتے ہیں۔ یہ بات کیسی بُری ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ٨٣)

محض لڑکوں کا کھیل معلوم ہوتا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ١٠٧)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٣ فقرہ ١٢٧)

مسلمانوں کے متعلق ستیارتھ پرکاش

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٦)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١۔١٢)

ہیں۔ ویسے ہی اُس زمانہ میں بھی ( پیغمبر اسلام نے ) فریب کیا ہوگا۔‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٤)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٩)

اپنا مطلب پورا کرنے کے لئے ہے۔ (یعنی) یہ لالچ دیں گے۔ تو لوگ خوب لڑیں گے، لوٹ مار کرنے سے عیش و عشرت حاصل ہوگی۔ بعد ازاں گپوڑے اڑائیں گے۔ ( پیغمبر اسلام نے ) اپنی مطلب برآری کے لئے اس قسم کی باتیں گھڑی ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٣١)

دیندار عالم کا بنایا ہوا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٤٠)

١١

صفحہ ٩٤

آتا جاتا ہے۔ اس سے تحقیق جانا جاتا ہے کہ قرآن کے مصنف کو علم ہیئت اور جغرافیہ بھی نہیں آتا تھا۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٤٢)

(٤٨) ’’واہ واہ جی دیکھو جی مسلمانوں کا خدا شعبدہ بازوں کی طرح کھیل کر رہا ہے۔ عقلمند لوگ ایسے خدا کو خیر باد کہہ کر کنارہ کشی کریں گے۔ اور جاہل لوگ پھنسیں گے۔ اس سے بھلائی کے عوض برائی اس کے پلے پڑے گی۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٤٣)

(٤٩) (بہشت کے ذکر میں) ’’بھلا یہ بہشت ہے۔ یا طوائف خانہ۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٤٦)

(٥٠) ’’دیکھئے محمد صاحب کی لیلا (کرتوت) کہ اگر تم میری طرف ہو گے تو خدا تمہاری طرف ہو گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد صاحب کی نیت صاف نہیں تھی اور یہ ثابت ہوتا ہے۔ محمد صاحب نے اپنی مطلب براری کے لئے قرآن بنایا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٤٨)

(٥١) (فرشتوں کے نزول کے ذکر میں) ’’یہ صرف جاہلوں کو لالچ دے کر پھنسانے کا ڈھکوسلا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٥١)

(٥٢) ’’خدا بھی مسلمانوں کے ساتھ جھوٹی محبت میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٥٢)

(٥٣) ’’(اسلامی) خدا اور شیطان میں کیا فرق رہا۔ ہاں اتنا فرق کہہ سکتے ہیں کہ خدا بڑا۔ اور وہ چھوٹا شیطان۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٥٧)

(٥٤) (جہاد کے ذکر میں) ’’ایسی تعلیم کنویں میں ڈالنی چاہئے‘ ایسی کتاب ایسے پیغمبر‘ ایسے خدا اور ایسے مذہب سے سوائے نقصان کے فائدہ کچھ بھی نہیں۔ ان کا نہ ہونا اچھا ہے۔ ایسے جاہلانہ مذہبوں سے علیحدہ رہ کر ویدوکت (ویدک مذہب) کے احکام کو تسلیم کرنا چاہئے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٥٨)

(٥٥) ’’اب دیکھئے۔ خدا اور رسول کی تعصب کی باتیں۔ محمد صاحب وغیرہ سمجھتے تھے‘ اگر ہم خدا کے نام سے ایسی باتیں نہ لکھیں گے تو اپنا مذہب ترقی نہ پاوے گا اور مال نہ ملے گا۔ عیش و عشرت نصیب نہ ہو گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی مطلب براری اور دوسروں کے کام بگاڑنے میں کامل استاد تھے اسی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ جھوٹ کے ماننے اور جھوٹ پر چلنے والے ہوں گے۔ نیکو کار عالم ان کی باتوں کو مستند نہیں مان سکتے۔‘‘

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٥٩)

(٥٦) ’’واہ جی واہ! مسلمانوں کی خدا کے گھر میں کچھ بھی دولت نہیں رہی ہو گی۔ اگر ہوتی تو

١٢

صفحہ ٩٥

قرض کیوں مانگتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے نام سے محمد صاحب نے اپنا مطلب نکالا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٦٤)

شیطان کا کام کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہشت اور دوزخ میں خدا ہی جائے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٦٥)

خدا اور محمد صاحب مانتے تھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ دونوں عالم نہیں تھے یہ شعبدہ بازوں کی باتیں ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٧٢)

تجھ پر سانپوں کو مارنے کے واسطے چھوڑیں گے۔ ویسی ہی یہ بات ہے۔ بھلا جو ایسا متعصب ہے۔ ایک قوم کو غرق کردے اور دوسری کو پار اُتارے وہ خدا ادھرمی (غیر منصف) کیوں نہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٧٣)

قرآن کے مصنف کا ہے۔ خدا کا نہیں۔ اگر خدا کا ہو تو ایسا خدا ہم سے دور رہے۔ اور ہم اس سے دور رہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٧٧)

باتیں کیوں لکھی ہوتیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٧٨)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٨٠)

ہے۔ خدا کیا ہے ایک تماشہ گر ہے۔ واہ جی واہ! محمد صاحب آپ نے گوکلئے گوسائیوں کی ہمسری کرلی۔ واہ اللہ میاں آپ نے اچھی سوداگری جاری کی۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٨٢)

وحشی لوگوں نے یہ کتاب بنائی ہوگی۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٨٨)

خدا بادلوں کا علم جانتا تو آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ساتھ یہ کیوں نہ لکھا کہ زمین سے پانی

١٣

صفحہ ٩٦

اس پر چڑھایا۔ اس سے تحقیق ہوا کہ قرآن کا مصنف بادلوں کے علم کو بھی نہیں جانتا۔ اگر نیک و بد اعمال کے بغیر رنج و راحت دیتا ہے۔ وہ طرفدار غیر منصف اور جاہل مطلق ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٩٤)

گمراہ کرنے پر بُرا کہلاتا ہے۔ تو خدا ہی ویسا ہی کام کرنے سے بڑا شیطان کیوں نہیں؟“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٩٥)

استاد کیوں نہیں؟“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ٩٨)

عقل چھوکروں کی ہوا کرتی ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٠١)

میں دلیل کا کام دیتی ہے۔ ایسے کو خدا کہنا صرف کم سمجھ آدمیوں کی باتیں ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٠٣)

باتیں کیوں لکھ دیتا۔ اس کتاب کے معتقد بھی بے علم ہیں۔ اگر صاحب علم ہوتے تو ایسی جھوٹی باتوں سے پُر کتاب کو کیوں مانتے؟ ایسی کتاب کو وحشی لوگ ہی مان سکتے ہیں۔ عالم نہیں مانتے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٠٦)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١٢)

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١٥)

دیندار عالم لوگ اس کو نہیں مانتے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١٦)

ہے۔ نہ کہ خدا کا۔ اگر یہ کتاب (قرآن) کلام الٰہی ہوتی تو ایسی لغو باتیں اس میں نہ ہوتیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١٨)

١٤

صفحہ ٩٧

(٧٥) (اللہ کی تعریف کے ذکر میں) ”اپنے ہی منہ سے اللہ آپ زبردست بنتا ہے اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا۔ جب شریف آدمی کا کام نہیں ہوسکتا تو خدا کا کیونکر ہوسکتا ہے۔ شعبدہ بازی کی جھلک بتلا کر جنگلی آدمیوں کو قابو کر کے آپ جنگلوں کا خدا بن بیٹھا ہے۔ ایسی بات خدا کی کتاب میں ہرگز نہیں ہو سکتی ۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١١٩)

(٧٦) (آسمان کی پیدائش کے ذکر میں) ”واہ صاحب! حکمت والے کتاب خوب ہے کہ جس میں بالکل علم کے خلاف آکاش کی پیدائش اور اس میں ستون لگانے اور زمین کو قائم رکھنے کے واسطے پہاڑ رکھنے کا ذکر ہے۔ تھوڑے علم والا بھی ایسی تحریر ہرگز نہیں کر سکتا۔ یہ تو سخت جہالت کی بات ہے۔ اس لئے یہ قرآن علم کی کتاب نہیں ہو سکتی۔ کیا یہ خلاف از علم بات نہیں ہے کہ کشتی کو آدمی کلوں اور اوزاروں سے چلاتے ہیں یا خدا کی مہربانی سے۔ اگر لوہے یا پتھر کی کشتی بنا کر سمندر میں چلائی جائے تو خدا کا نشان ڈوب تو نہ جائے گا؟ یہ کتاب نہ کسی عالم اور نہ خدا کی بنائی ہوئی ہو سکتی ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٢٤)

(٧٧) ”واہ قرآن کے خدا اور پیغمبر آپ نے ایسے قرآن کو جس کے رو سے دوسرے کو نقصان پہنچا کر اپنی مطلب براری کی جائے بنایا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ محمد صاحب بڑے شہوت پرست تھے۔ اگر نہ ہوتے تو لے پالک بیٹے کی جورو کو اپنی جورو کیوں بناتے۔ طرفہ یہ کہ ایسی باتوں کے کرنے والے کا خدا بھی طرفدار بن گیا۔ اور بے انصافی کو بھی انصاف قرار دیا۔ انسانوں میں وحشی سے وحشی انسان بھی بیٹے کی جورو کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہ کیا سخت غضب ہے کہ نبی کو شہوت رانی میں کچھ بھی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ بھلا کون عقل کا اندھا ہو گا جو اس قرآن کو خدا کا بنایا ہوا اور محمد صاحب کو پیغمبر اور قرآن کے بتلائے ہوئے خدا کو سچا خدا مان سکے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٢٧)

(٧٨) (دوزخی اپنے گمراہ کنندوں کے حق میں بد دعا کریں گے۔ سوامی جی نے سمجھا کہ بددعا پیغمبر کرتے ہیں۔ اس پر کہا) ”واہ کیسے موذی پیغمبر ہیں کہ خدا سے دوسروں کو دوگنا دکھ دینے کی دعا مانگتے ہیں۔ ان سے ان کی طرفداری، خود غرضی اور ظلم کا ثبوت ملتا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٢٨)

(٧٩) (سورۂ یٰسین میں خدا کی صفت غالب پر) ”اگر پیغمبر محمد صاحب سب پر غالب ہوتے تو سب سے زیادہ عالم اور نیک چلن کیوں نہ ہوتے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب ١٤ فقرہ ١٣٠)

١٥

صفحہ ٩٨

(٨٠) ”خدا بھی ادھرم (بے انصافی) کرنے والا اور شیطان کا ساتھی ثابت ہوتا ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب١٤ فقرہ ١٣٣)

(٨١) ”یہ قرآن۔ خدا اور مسلمان غدر مچانے ۔ سب کو تکلیف دینے اور اپنا مطلب نکالنے والے ظالم ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب١٤ فقرہ ١٤٠)

(٨٢) ”دیکھئے مسلمانوں کے خدا کی کارسازی۔ دوسرے مذہب والوں سے لڑنے کے لئے پیغمبر اور مسلمانوں کو بھڑکاتا ہے۔ اسی واسطے مسلمان لوگ فساد کرنے میں کمر بستہ رہتے ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب١٤ فقرہ ١٤٤)

(٨٣) (آسمان کی طرف فرشتوں کے جانے کے ذکر پر) ”ایسی ایسی باتوں کو سوائے وحشی لوگوں کے دوسرا کون مانے گا۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب١٤ فقرہ ١٤٦)

(٨٤) (بہشت کے غلمان خادموں کے ذکر پر) ”کیا تعجب ہے کہ جو یہ سب سے بُرا فعل لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرنا ہے۔ اس کی بنیاد یہی قرآن کا قول ہو۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب١٤ فقرہ ١٥٠)

(٨٥) (تکویر شمس سورج سیاہ ہو جانے کے باب میں) ”یہ بڑی نادانی اور جنگلی پن کی بات ہے۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب١٤ فقرہ ١٥٢)

(٨٦) (آسمان پھٹ جانے پر) ”واہ جی قرآن کے مصنف فلاسفر آکاش آسمان کو کیونکر کوئی پھاڑ سکے گا۔ اور تاروں کو کیونکر جھاڑ سکے گا۔ اور دریا کیا لکڑی ہے ۔ جو چیر ڈالے گا اور قبریں کیا مردے ہیں جو زندہ کر سکے گا ۔ یہ سب باتیں لڑکوں کی باتوں کی مانند ہیں۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب١٤ فقرہ ١٥٣)

(٨٧) ”مصنف قرآن نے جغرافیہ وعلم ہیئت کچھ بھی نہیں پڑھا تھا کیا وہ خدا کے پاس سے ہے ۔ اگر یہ قرآن اس کا تصنیف شدہ ہے۔ تو خدا بھی علم و دلیل سے خارج لاعلم ہوگا۔“

(ستیارتھ پرکاش ۔ باب١٤ فقرہ ٢٥٤)

(٨٨) (مجرموں کو پیشانی سے پکڑے جانے کے ذکر میں) ”اس ذلیل چپڑاسیوں کے گھسیٹنے کے کام سے بھی خدا نہ بچا۔“

(ستیارتھ پرکاش۔ باب١٤ فقرہ ١٥٨)

(٨٩) ”یہ کتاب (قرآن) نہ خدا نہ عالم کی بنائی ہوئی نہ علم کی ہوسکتی ہے۔“ (خاتمہ باب١٤)

نمونہ شیریں کلامی شری دیانند سوامی ختم ہوا۔ ناظرین انہیں ملاحظہ فرما کر دوسرے حصہ پر چلیں۔

١٦

صفحہ ٩٩

مرزا غلام احمد قادیانی

کسی مصلح کی سخت کلامی کے متعلق

ہمارے پنجاب کے ضلع گورداسپور میں بٹالہ اسٹیشن سے گیارہ میل خام سڑک پر قصبہ قادیان ہے۔ اس قصبہ میں مرزا قادیانی ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بہت کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جن میں سے کئی ایک غیر مسلموں کے متعلق ہیں۔ اور بہت سی مسلمانوں سے۔ ان کتابوں میں اپنے اپنے مخاطبوں (مسلموں اور غیر مسلموں) کو جب تیز کلامی سے مخاطب کیا تو مخالفوں کی طرف سے ان پر اعتراض ہوا کہ آپ سخت کلامی کیوں کرتے ہیں۔ تو آپ نے بجائے رُک جانے کے اپنی سخت کلامی کی فلاسفی اور معقول حکمت اور فائدہ بتانے کو فرمایا۔ اور خوب مفصل فرمایا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہندوؤں کی ایک قوم ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف وتوصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح وثناء کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دِل اُن کے نہایت درجہ کے سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔ اُن کے روبرو سچائی کو اس کی پوری مرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے۔ اگر چہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے۔ مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک رو بحق کرنے کے لئے پہلا زینہ ہے جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اس مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتا۔ لیکن مواد کے ظہور کے

١٧

صفحہ ١٠٠

وقت ہر یک طور کی تدبیر ہو سکتی ہے۔ انبیاء نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا۔ تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہو جائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کر دیں اور اس راہ میں حرکت کریں۔ گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیں۔ گو وہ عدوانہ ہی تعلق کیوں نہ ہو اسی کی طرف اللہ جل شانہٗ اشارہ فرماتا ہے۔ ”فِی قُلوبِهِم مرضٌ فَزادهم الله مرضاً “ یقیناً سمجھنا چاہئے کہ دینِ اسلام کو سچے دل سے ایک وہی لوگ قبول کریں گے جو باعث سخت اور پُر زور جگانے والی تحریکوں کے کتبِ دینیہ کے ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔ ہندوؤں کا وہ پہلا طریق ہمیں بہت مایوس کرنے والا تھا۔ جو اپنے دلوں میں وہ لوگ اس طرز کو زیادہ پسند کے لائق سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے کوئی مذہبی بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔ اور ہاں میں ہاں ملا کر گزارہ کر لینا چاہئے لیکن اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہو کر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آ پڑے ہیں۔ اور اس صید (شکار) غریب کی طرح ہو گئے ہیں۔ جس کا ایک ہی ضرب سے کام تمام ہو سکتا ہے۔ ان کی آہوانہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ دشمن نہیں ہیں۔ وہ ہمارے شکار ہیں۔ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے۔ کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے۔ مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا۔ سو تم ان کے جوشوں سے گھبرا کر نومید مت ہو۔ کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آچکے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٩ تا ٣٣٠۔ خزائن ج ٣ ص ١١٦ تا ١١٩)

جناب مرزا قادیانی نے گو اپنا مافی الضمیر ظاہر کرنے میں زورِ بلاغت دکھایا۔ مگر خدا کی پاک کتاب (قرآن مجید) نے سخت کلامی سے منع کیا ہے حکیم اور مصلح لوگ بھی یہی کہہ گئے ہیں۔

بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سُنے
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سُنے

چونکہ مرزا قادیانی اپنی تلخ کلامی کو بڑی حکمت پر مبنی جانتے تھے اس لئے ناظرین ان کی تلخ کلامی کو خوش کلامی کی طرح سنیں۔ آپ فرماتے ہیں:

١٨

صفحہ ١٠١

عیسائیوں کے متعلق

بات یہ ہے کہ آپ (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اور اس دن سے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرامکار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔ اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر حرام کار اور حرام کی اولاد بنیں۔ آپ (یسوع مسیح) کا یہ کہنا کہ میرے پیرو زہر کھائیں گے۔ اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔ کیونکہ آج کل زہر کے ذریعے سے یورپ میں بہت خودکشی ہو رہی ہے۔ ہزارہا مرتے ہیں۔ ایک پادری خواہ کیسا ہی موٹا ہو۔ تین رتی اسٹرکنیا کھانے سے دو گھنٹے تک بآسانی مر سکتا ہے۔ یہ معجزہ کہاں گیا ایسا ہی آپ (یسوع مسیح) فرماتے ہیں کہ میرے پیرو پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ وہ اٹھ جائے گا۔ یہ کس قدر جھوٹ ہے۔ بھلا ایک پادری صرف بات سے ایک الٹی جوتی کو تو سیدھا کر کے دکھلائے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، ٧۔ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠‘ ٢٩١)

آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ آپ (یسوع مسیح) وہی حضرت ہیں جنہوں نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ ابھی یہ تمام لوگ زندہ ہوں گے تو میں پھر واپس آ جاؤں گا۔ حالانکہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ انیس نسلیں ان کے بعد بھی انیس صدیوں میں مر چکیں مگر آپ اب تک تشریف نہ لائے۔ خود تو وفات پاچکے۔ مگر اس جھوٹی پیشگوئی کا کلنک اب تک پادریوں کی پیشانی پر ہے۔ سو عیسائیوں کی یہ حماقت ہے کہ ایسی پیشگوئیوں پر ایمان

١؎ نوٹ:۔ اس جگہ مرزا صاحب نے یسوع نام لکھا ہے۔ مگر یسوع مسیح دراصل ایک ہی بزرگ ہیں۔ چنانچہ خود مرزا صاحب لکھتے ہیں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ اس لئے ہم نے اس جگہ دونوں نام یسوع مسیح لکھے ہیں۔ مؤلف

١٩

صفحہ ١٠٢

لاویں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، ٨۔ خزائن ج١١ حاشیہ ص٢٩١‘ ٢٩٢)

ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس (مسیح) پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔“

(دافع البلاء حاشیہ ص٤۔ خزائن ج١٨ حاشیہ ص٢٢٠)

علیہ السلام نے شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص٦٦۔ خزائن ج١٩ حاشیہ ص٧١)

صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

(اعجاز احمدی ص١٣۔ خزائن ج١٩ ص١٢١)

ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہو گی مگر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بہت سے اجتہادوں اور غلط پیشگوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری مشتبہ ہو گئی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص٢٥۔ خزائن ج١٩ ص١٣٥)

عملوں سے کاملین پرہیز کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص٣٠٥‘ ٣٠٩۔ خزائن ج٣ حاشیہ ص٢٥٥‘ ٢٥٨)

”اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا ست تا بنہد پا بمنبرم“

(ازالہ اوہام ص١٥٨۔ خزائن ج٣ ص١٨٠)

ثابت ہوتا ہے کہ مراد حضرت عیسیٰ رسول اللہ ہی ہیں نہ کوئی اور۔

٢٠

صفحہ ١٠٣

(ترجمہ: ”میں (مرزا) حسب بشارت آگیا ہوں عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر قدم رکھے۔“)

(٩)

”کربلائے ایست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم“

(نزول المسیح ص ٩٩۔ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (١٠٠) حسین میری جیب میں ہیں۔“)

(١٠)

”شَتَّانَ مَا بَیْنِیْ وَبَیْنَ حُسَیْنِکُمْ ، فَاِنِّیْ اُؤَیَّدُ کُلَّ اٰنٍ وَّاُنْصَرُ ، وَاَمَّا حُسَیْنٌ فَاذْکُرُوْا دَشْتَ کَرْبَلاَ ، اِلٰی ھٰذِہِ الْاَیَّامِ تَبْکُوْنَ فَانْظُرُوْا ، وَاِنِّیْ بِفَضْلِ اللّٰہِ فِیْ حِجْرِ خَالِقِیْ ، اُرَبّٰی وَاُعْصَمُ مِنْ لِئَامٍ تَنَمَّرُوْا ۔“

”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو اور میں خدا کے فضل سے اس کی کنار عاطفت میں ہوں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ لئے ان کے حملہ سے جو پلنگ صورت میں بچایا جاتا ہوں۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩۔ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

(١١) ”اے بدذات فرقہ مولویوں تم کب تک حق کو چھپاؤ گے، کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢١)

(١٢) (پیشگوئی متعلقہ موت پادری عبداللہ آتھم کے کذب پر) ”اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اگر محمد حسین بٹالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے۔ وہی میدان میں آوے۔ اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنے تقویٰ دکھلاویں۔ مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٥۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٠٩)

(١٣) ”چاہئے کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں (مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ کی موت۔ آسمانی منکوحہ محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا وغیرہ) پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے

٢١

صفحہ ١٠٤

ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

تو تو ہی ہے۔۔۔۔۔ دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا۔ حق سے لڑتا رہ۔ آخر اے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔ اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑتا ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٢۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨۔٧٩)

مخاطب کر کے) ’’اے بے ایمانوں! نیم عیسائیو! دجال کے ہمراہو! اسلام کے دشمنو! کیا پیشینگوئی کے دو پہلو نہیں تھے۔ تو پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرے پہلو رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے افعال اور اپنے اقوال سے آپ قوی نہیں کیا۔ کیا وہ نہیں ڈرتے رہے۔ کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا اقرار نہیں کیا۔ پھر اگر وہ ڈر انسانی تلوار سے تھا نہ آسمانی تلوار سے تو اس شبہ کو مٹانے کے لئے کیوں قسم نہیں کھاتے۔ پھر جبکہ اس طرف سے ہزار ہا روپیہ انعام کا وعدہ نقد کی طرح پا کر پھر بھی قسم سے انکار اور گریز ہے تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی‘ کیا تمہاری ایسی تیسی ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص ٥۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢ حاشیہ ص ٦٩۔٧٠)

گا۔ اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ (پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا صاحب کی پیشینگوئی غلط اور ) عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام میں نہیں لائے گا۔ اور بغیر اس کے کہ ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا‘ تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے۔ اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے۔ ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٣٠۔ خزائن ج ٩ ص ٣١۔٣٢)

٢٢

صفحہ ١٠٥

وَالْمَوَدَّةِ وَيَنْتَفِعُ مِنْ مَعَارِفِهَا وَيَقْبَلُنِي وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِي إِلَّا ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا الَّذِيْنَ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَقْبَلُونَ. “

”(ترجمہ) ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر بدکار رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧‘ ٥٤٨۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

حق میں لکھا۔ ”اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعادتمند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٥۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”مَاتَ ضَال هَائِماً“ یعنی نذیر حسین گمراہی اور پریشانی میں مر گیا۔“

(مواہب الرحمن ص ١٢٧۔ خزائن ج ١٩ ص ٣٣٨)

کے اندھو۔ نیم عیسائیو کیا تم نے نہیں سمجھا کہ کس کی فتح ہوئی۔“

(اشتہار انعامی ٤ ہزار ص ١٠۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٠٥)

ترس جن کے دلوں کو زنگ ۔ بخل ۔ تعصب نے سیاہ کر رکھا ہے ۔ ہمارے اشتہار کو یہودیوں کی طرح محرف ومبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنی بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں ۔ تا کہ دھوکا دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی تھی اس کا وقت گزر گیا۔ اور وہ غلط نکلی ۔ ہم اس کے جواب میں صرف ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کہنا کافی سمجھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کی اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمۂ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٢۔ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

٢٣

صفحہ ١٠٦

دخل رکھنے کا دم مارتے تھے۔“

(اشتہارات انعامی ٣ ہزار ص ١٠۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧)

......☆......

یہ بہت تھوڑا نمونہ ہے۔ مرزا قادیانی کے کلمات ملفوظہ کا۔ گو مرزا قادیانی نے اس قسم کی سخت کلامی کے جواز بلکہ استحسان کے لئے بہت زور قلم دکھایا ہے جو کتاب ہذا پر پہلے نقل ہو چکا ہے۔ لیکن حق چونکہ فطرت کی آواز ہے۔ اس لئے بقول

”حق برزبان جاری گردد“

جناب مرزا قادیانی نے خود ہی اس قسم کی سخت کلامی اور دل آزاری کی نسبت نہایت مستحسن رائے ظاہر فرمائی جو یہ ہے۔

”تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھاتی ہے۔ بس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بد تر چھری نہیں۔“

(خاتمہ چشمہ معرفت ص ١٥۔ خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦، ٣٨٧)

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ قول بمنزلہ اعتراف جرم کے ہے اس لئے ہم بھی اُن کے حق میں ایک سفارشی شعر پڑھتے ہیں:

بخش دے اس بُتِ سفاک کو اے داور حشر
خون خود مجھ میں نہ تھا خون کا دعویٰ جو کیا

حضرات ناظرین! یہ کتاب مناظرانہ رنگ میں نہیں ہے کہ مصنف اپنی قوۃ استدلالیہ سے نتیجہ پیدا کر کے آپ کے سامنے رکھے۔ بلکہ ایک تاریخی کتاب ہے۔ جس میں مصنف کا اتنا ہی فرض ہے کہ واقعات صحیحہ ناظرین کے سامنے رکھ کر نتیجہ ان کی رائے پر چھوڑ دے۔ سو مَیں (خاکسار مصنف) ان دونوں ریفارمروں (سوامی جی اور مرزا جی) کے ملفوظات پیش کر کے یہ سوال کہ ”ایسے تلخ گو ریفارمر ہو سکتے ہیں“ آپ کے سامنے رکھ کر جواب کا منتظر ہوں۔

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری مصنف کتاب ہٰذا اگست ١٩٢٧ء

٭٭٭٭٭

٢٢

PDF 107

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

محمد قادیانی

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ١٠٨

پہلے مجھے دیکھئے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم. نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین.

ناظرین کو اعتراف ہو گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے خاکسار کو خاص شغف ہے۔ اُسی شغف کا نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے متعلق میں نے متعدد کتب لکھی ہیں۔ جو ملک میں شائع ہو کر قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔

وجہ تصنیف ہٰذا: قادیانی جماعت مرزائیہ نے ١٧؍ جون ١٩٢٨ء کو ہندوستان کے مختلف مقامات میں جلسے کرائے ۔ جن میں آنحضرت ﷺ کی سیرت اور حالاتِ زندگی سنائے اور سنوائے۔ لاہوری جماعت مرزائیہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا طریقہ یہ بہت اچھا ہے اس لئے انہوں نے بھی اعلان کیا اور ربیع الاول ١٣٤٧ھ کی بارہ وفات (٢٩۔ اگست ١٩٢٨ء) کے روز ایسے جلسے کرنے کا اشتہار اخبارات میں دیا جو درج ذیل ہے۔

”چودہویں صد سالہ سالگرہ“

”یوم میلاد النبی ﷺ جو عام طور پر بارہ وفات کے نام سے مشہور ہے بعض مسلمان کچھ دلچسپی لیتے اور اپنے شہروں میں اس موقعہ پر جلسوں کا انتظام کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ جس طرح اور امور میں مسلمانوں میں جمود کی حالت ہے اس موقعہ پر بھی بیشتر شہروں میں بالکل خاموشی رہتی ہے۔ اور علماء اور نیا تعلیم یافتہ طبقہ دونوں اس کی اہمیت سے غافل ہیں۔ ایسے مبارک

٢

صفحہ ١٠٩

دن کو یوں ہی گزار دینا اس نعمت کی ناشکری ہے۔ جو رحمۃ اللعالمین کے وجود سے دنیا میں ظاہر ہوئی۔ آپ کے احسانات نسل انسانی پر اس قدر ہیں کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کو مسلم ہیں۔ دنیا میں کوئی مصلح ایسا نہیں ہوا جس نے تئیس سال کی قلیل مدت میں ایک عظیم الشان ملک کے ملک کو نہایت ہی ذلیل حالت سے اٹھا کر جسمانی، علمی اور اخلاقی فتوحات کے لحاظ سے بلند سے بلند مقام پر پہنچا دیا ہو۔ وہ قوم جس کی اصلاح یہودیوں اور عیسائیوں کی صدیوں کی کوشش کچھ نہ کرسکی حالانکہ اُن کی پشت پر حکومتیں اور سلطنتیں تھیں، ایک اکیلا انسان اٹھا اور ایک صدی کے چوتھائی عرصہ سے بھی کم میں اس ملک کی ایسی کایا پلٹ دی کہ دنیا ایسے انقلاب کا کوئی دوسرا نمونہ پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اور پھر نہ صرف یہ کہ اس ملک اور قوم کی اپنی حالت ہی تبدیل ہوئی بلکہ ان کے ذریعہ سے دوسری قوموں اور ملکوں میں اخلاق ۔ تہذیب اور علم کی مشعل روشن ہو کر دنیا کے تاریک سے تاریک کونے منور ہوئے۔ اور توحید الہی اور وحدت نسل انسانی کا غلغلہ دنیا میں بلند ہوا۔ آپ کی یہ کامیابی ایک ایسا زبردست اور بے نظیر واقعہ ہے کہ ”انسائیکلوپیڈیا بری ٹینکا“ میں آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ کامیاب مذہبی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ بہت سی بدیاں آپ کے وجود سے دنیا سے نابود ہوئیں۔ اور نسل انسانی کا قدم ترقی کی شاہراہ پر تیز رفتاری سے اٹھا۔“ الخ

(سکرٹری احمدیہ اشاعت اسلام ۔ لاہور)

اس اشتہار کو دیکھ کر میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ جو کمالات اس اشتہار میں آنحضرت ﷺ کے دکھائے گئے ہیں بالکل صحیح ہیں۔ اس لئے انہی کو معیار صداقت اور محک امتحان مرزا قادیانی بنا کر قادیانی دعوے کا فیصلہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ مرزائی دعاوی کی تحقیق کرنے کے لئے کئی ایک معیار ہیں۔

آج جو معیار ہم پیش کرتے ہیں وہ اچھوتا ہے۔ اس میں ہم صرف اس معیار پر گفتگو کریں گے کہ مرزا قادیانی چونکہ اپنے آپ کو بروز محمد (ﷺ) کہا کرتے تھے۔ اسی لئے وہ محمد ثانی بنتے اور اپنی اتباع کو اصحاب محمد اول (ﷺ) میں داخل کرتے تھے۔“

(ملاحظہ ہو خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨، ٢٥٩۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

لہٰذا دیکھنا ضروری ہے کہ محمد ثانی (قادیانی ۔ معاذ اللہ) کو محمد اول (ﷺ) کے کاموں

٣

صفحہ ١١٠

سے کہاں تک مشابہت ہے؟ اسی اصطلاح پر ہم نے اس رسالہ کا نام ”محمد قادیانی“ تجویز کیا ہے۔ اس میں ہم دکھائیں گے کہ محمد اول (علیہ السلام) نے کیا کام کئے اور اُن کے بروز محمد ثانی قادیانی نے کیا کئے۔ تاکہ اُن کاموں کی مطابقت یا عدم مطابقت سے مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا ثبوت ہو سکے۔

إِنْ أُرِيْدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ وَمَا تَوْفِيْقِيْ إِلَّا بِاللَّهِ

ابوالوفاء ثناء اللہ عفاہ اللہ امرتسر ۔ نومبر ١٩٢٨ء

...... ☆ ......

محمد قادیانی کا دعویٰ بروز

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نسبت لکھتے ہیں :

”فجعلنی اللہ آدم واعطانی کلما اعطا لابی البشر وجعلنی بروز الخاتم النبیین وسید المرسلین . (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٤۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

”خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابوالبشر آدم کو دی تھیں۔ اور مجھ کو خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بُروز بنایا۔“

اسی کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

” وانزل اللہ علیّ فیض ہذا الرسول (محمد) فاتمہ واکملہ وجذب الیّ لطفہ وجودہ حتی صار وجودی وجودہ فمن دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ سیدی خیر المرسلین وہذا ہو معنی وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ“

”خدا نے مجھ (مرزا) پر اس رسول کا فیض اُتارا اور اُس کو پورا اور مکمل کیا اور میری طرف اُس رسول کا لطف اور جود پھیرا یہاں تک کہ میرا وجود اُس کا وجود ہو گیا۔ پس اب جو کوئی میری جماعت (احمدیہ) میں داخل ہو گا وہ میرے سردار

٤

صفحہ ١١١

خیر المرسلین کے اصحاب میں داخل ہو جائے گا۔ یہی معنی ہیں ”و آخرین منھم“ کے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨‘٢٥٩۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

ان دونوں عبارتوں کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی محمد اول (آنحضرت ﷺ) کی پوری تصویر بلکہ ہو بہو محمد ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس مضمون کو ایک اور کتاب میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ لکھا ہے۔ جس کے الفاظ نقل کرنے سے پہلے ایک تمہیدی نوٹ کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ جمعہ میں ارشاد ہے:

”ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ.“

(الجمعه : ٢)

”یعنی اللہ پاک نے اپنا رسول (محمد ﷺ) اُن پڑھ عربوں میں بھیجا۔ اللہ کے احکام اُن کو سناتا ہے اور اپنی صحبت کے اثر سے اُن کو پاک کرتا ہے اور اُن کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں تھے۔“

اس کے بعد فرمایا:

”وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.“

(الجمعه ٣)

”ان عربوں کی سوا پچھلے لوگوں میں بھی یہی رسول (محمد ﷺ) بھیجا ہے جو ابھی (پیچھے آنے والے ہیں اور) ان موجودہ لوگوں سے وہ نہیں ملے۔ اور خدا بڑا غالب حکمت والا ہے۔“

مرزا قادیانی کہتے ہیں ان آیتوں میں جو آنحضرت ﷺ کی بابت فرمایا ہے کہ خدا نے آپ کو عربوں میں رسول کر کے بھیجا ہے‘ اُس سے مراد تو حضور کی ذات خاص ہے اور جو فرمایا کہ پچھلے لوگوں میں بھی حضور کو بھیجا اس سے میری ذات خاص (مرزا خود بدولت) مراد ہے۔ یعنی میں بصورت مرزا محمد ثانی ہوں۔ اب آپ کے الفاظ سنئے فرماتے ہیں:

”اس وقت جب منطوق آیت ”واخرین منھم لما یلحقوا بھم“ اور نیز حسب منطوق آیت ”قل یا ایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“ آنحضرت ﷺ کے دوسرے بعث (رسالت) کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اُردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی‘ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بزبان

٥

صفحہ ١١٢

حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے۔ کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافۃ الناس کے لئے آیا ہوں۔ اور اب یہ وقت ہے کہ آپ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں۔ اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔ تب آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بُروز کے طور پر آتا ہوں۔ مگر میں ملک ہند میں آؤں گا۔ کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل و نحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے۔ اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اُسی ملک میں اُس کو آنا چاہیے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جاوے۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت ”و آخرین منھم “ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بُروز غیر ممکن تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خُو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا۔ تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔“ (یعنی خود مرزا قادیانی)

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١۔ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢‘٢٦٣)

ایک مقام پر مرزا قادیانی نہایت لطیف پیرایہ میں اپنے آپ کو محل نزول روح محمدی ﷺ قرار دیتے ہیں۔

نوٹ: یہ تو ناظرین کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود اور مہدی معہود دونوں عہدوں کے مدعی تھے۔ اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ امام مہدی کا نام محمد ہوگا۔ اور مرزا صاحب کا پیدائشی نام غلام احمد تھا۔ اس لئے آپ متصوفانہ ادّعا میں فرماتے ہیں:

”واما الكلام الكلى فى هذا المقام فهو ان للانبياء الذين ارتحلوا الى حظيرة القدس تدليات الى الارض فى كل برهة من ازمنة يهيج الله تقاربها فيها فاذا جاء وقت التدلى صرف الله اعينهم الى الدنيا فيجدون فيها فسادا او ظلما ويرون الارض قد ملاءت شرا وزورا وشركا وكفرا فلما ظهر على احد منهم ان تلك الشرور والمفاسد من بغى امته فتضطر روحه اضطرارا شديدا و يدعو الله ان ينزله على الارض ليهيئ لهم من وعظه رشدا فيخلق له الله نائبا ليشابهه فى جوهره وينزل روحه بتنزيل انعكاسى على وجود ذالك النائب ويرث

٦

صفحہ ١١٣

النائب اسمه وعلمه فيعمل على وفق ارادته عملا فهذا هوالمراد من نزول ايليا في كتب الاولين ونزول عيسى عليه السلام وظهور نبينا محمد ﷺ فی المهدی خلقا وسيرتا.“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٣٩، ٤٤٠۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”یعنی قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو انبیاء اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں اُن کے لئے ہر زمانہ میں زمین کی طرف توجہات ہوتی ہیں جن میں خدا اُن کو زمین کے واقعات پر متنبہ کرتا ہے۔ جب اُن کی توجہ کا وقت آتا ہے تو خدا اُن کی آنکھیں دنیا کی طرف پھیرتا ہے تو وہ اُس میں فساد اور ظلم پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ زمین شرارت ۔ جھوٹ۔ شرک اور کفر سے بھر گئی ہے۔ جب اُن انبیاء میں سے کسی نبی پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شر اور فساد اُس کی امت کی بغاوت سے ہے تو اُس نبی کی روح پھڑکتی ہے اور اللہ سے دعا مانگتی ہے کہ مجھے زمین پر بھیجئے تا کہ میں اُن لوگوں کو وعظ ونصیحت کے ذریعہ ہدایت کروں۔ تو خدا تعالیٰ اُس نبی کا نائب پیدا کرتا ہے جو اُس نبی کے اصل جوہر میں اُس کے مشابہ ہوتا ہے اور اُس کی روح اُس نائب کے وجود پر عکسی طور سے اُترتی ہے۔ اور وہ نائب اُس نبی کا نام اور علم وراثت میں لیتا ہے۔ اور اُس کے ارادے کے موافق عمل کرتا ہے۔ پہلی کتابوں میں ایلیا نبی کے اُترنے سے یہی مراد ہے۔ اور عیسیٰ کے اُترنے سے بھی اور ہمارے نبی ﷺ کے ظہور کرنے سے امام مہدی میں جو خُلق اور سیرت میں اُن (محمد رسول اللہ ﷺ) جیسا ہوگا۔“

اس آخری اقتباس میں لطیف پیرایہ میں بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح مبارک مجھ میں نزولِ عکسی فرما چکی ہے۔ حضور کا نام محمد اور علم معرفت میں نے وراثت میں پایا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے حق میں یہ شعر لکھا ہے۔

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣۔ خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

.......☆.......

٧

صفحہ ١١٤

آنحضرت ﷺ کے کاموں میں سے

صرف ایک کام میں مقابلہ

آج ہم نے جس کام کے کرنے کو قلم اٹھایا ہے سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ندامت ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ کن دو ہستیوں کے کاموں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جن کی بابت یہ کہنا بالکل بجا ہے ؎

شیر قالیں دگرست شیر نیستان دگرست

تاہم چونکہ ہماری نیت حق و باطل میں تمیز کرنے کی ہے اس لئے اس بظاہر ناپسندیدہ فعل کے عنداللہ پسندیدہ ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ انما الاعمال بالنیات۔

آنحضرت ﷺ کی زندگی کے کل کاموں میں مقابلہ دکھانا تو بہت طویل کام ہے نیز ان کے ذکر میں ممکن ہے بعض امور پر مرزا قادیانی کے مریدوں کو بحث ہو اس لئے ہم ایک ایسا نمایاں کام پیش کرتے ہیں جس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔

تمہید کار: دنیا میں ہر ایک اپنا پرایا سب متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب کا ملک جہالت‘ ضلالت‘ فسق و فجور کے علاوہ سیاسی حیثیت سے بھی کوئی وقعت نہ رکھتا تھا۔ چنانچہ خواجہ حالی مرحوم نے ابیات مندرجہ ذیل میں عرب او راہل عرب کا نقشہ بتایا ہے۔

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا
زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا نہ کشورستاں تھا نہ کشور کشا تھا
تمدن کا اُس پر پڑا تھا نہ سایا
ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا
کہیں آگ پجتی تھی واں بے محابا کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا بتوں کا عمل سو بسو جا بجا تھا
کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی
طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی
قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا کسی کا ہُبل تھا کسی کا صفا تھا

٨

صفحہ ١١٥
یہ عُزّے پہ وہ نائلہ پر فدا تھا اسی طرح گھر گھر نیا اک خدا تھا
نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
چلن اُن کے جتنے تھے سب وحشیانہ ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا اُن کا زمانہ نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بیباک جیسے
نہ ٹلتے تھے ہرگز جو اڑ بیٹھتے تھے سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے
جو دو شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے تو صدہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے
بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا
تو اُس سے بھڑک اُٹھتا تھا ملک سارا
وہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی صدی جس میں آدھی انہوں نے گنوائی
قبیلوں کی کر دی تھی جس نے صفائی تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی
نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ
کرشمہ اک اُن کی جہالت کا تھا وہ
جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر تو خوف شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی جب تھی شوہر کے تیور کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اُسکو جا کر
وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی
جُوا اُن کی دن رات کی دل لگی تھی شراب اُن کی گھٹی میں گویا پڑی تھی
تعیش تھا غفلت تھی دیوانگی تھی غرض ہر طرح اُن کی حالت بُری تھی
بہت اس طرح اُن پہ گزری تھیں صدیاں
کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھیں بدیاں

مختصر یہ کہ عرب کا ملک ہر قسم کے تنزلات انسانیہ کا معدن بنا ہوا تھا۔ خدا سے ہٹ کر ہر ایک بُرائی اُن میں موجود تھی۔ بڑی بات یہ کہ سیاسی دنیا میں اُن کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ نے چند ایام کی محنت سے اُن کو مٹی سے سونا بنایا۔ شیطان سے فرشتہ۔ وحشی سے

٩

صفحہ ١١٦

متمدن ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ تختۂ ذلت سے اٹھا کر تختِ عزت پر بٹھا دیا۔ کون اس سے انکار کر سکتا ہے کہ آنحضورﷺ نے جب دنیا سے رحلت فرمائی تو عرب دین اور اخلاق کا مجسمہ نظر آتا تھا اور سیاسی حیثیت میں عرب کی حیثیت ایک بڑی معزز حکومت کی تھی۔ ہمارے اس دعوے کے دونوں جزؤں کو خواجہ حالی مرحوم نے کیا اچھا بتایا ہے۔ فرماتے ہیں ؎

جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت ادا کر چکی فرض اپنا رسالت
رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت
تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی
کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی
سب اسلام کے حکم بردار بندے سب اسلامیوں کے مددگار بندے
خدا اور نبی کے وفادار بندے یتیموں کے رانڈوں کے غمخوار بندے
وہ کفر و باطل سے بیزار سارے
نشے میں مئے حق کے سرشار سارے
جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے
سر احکامِ دیں پر جھکا دینے والے خدا کیلئے گھر لُٹا دینے والے
ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے
فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے

یہ تو ہے اُن کی مذہبی اور اخلاقی کیفیت کا نقشہ۔ اب دیکھئے اُن کی علمی اور سیاسی تصویر ؎

گھٹا اِک پہاڑوں سے بطحا کے اُٹھی پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی
کڑک اور دمک دور دور اُس کی پہنچی جو ٹیکس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی
رہے اُس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہو گئی ساری کھیتی خدا کی
کیا اُمّیوں نے جہاں میں اُجالا ہوا جس سے اسلام کا بول بالا
بتوں کو عرب اور عجم سے نکالا ہر اک ڈوبتی ناؤ کو جا سنبھالا
زمانے میں پھیلائی توحیدِ مطلق
لگی آنے گھر گھر سے آوازِ حق حق
ہوا غلغلہ نیکیوں کا بدوں میں پڑی کھلبلی کفر کی سرحدوں میں

١٠

صفحہ ١١٧
ہوئی آتش افسردہ آتشکدوں میں لگی خاک سی اُڑنے سب معبدوں میں
ہوا کعبہ آباد سب گھر اُجڑ کر
جمے ایک جا سارے دنگل بچھڑ کر
لئے علم و فن اُن سے نصرانیوں نے کیا کسب اخلاق روحانیوں نے
ادب اُن سے سیکھا صفاہانیوں نے کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے
ہر اک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا
کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا
ارسطو کے مردہ فنوں کو جلایا فلاطوں کو پھر زندہ کر کے دکھایا
ہر اک شہر و قریہ کو یوناں بنایا مزا علم و حکمت کا سب کو چکھایا
کیا برطرف پردہ چشم جہاں سے
جگایا زمانہ کو خواب گراں سے
ہر اک میکدہ سے بھرا جا کے ساغر ہر اک گھاٹ سے آئے سیراب ہوکر
گرے مثل پروانہ ہر روشنی پر گرہ میں لیا باندھ حکم پیمبر
کہ حکمت کو اِک گم شدہ لال سمجھو
جہاں پاؤ اپنا اُسے مال سمجھو
ہر اک علم و فن کے جویا ہوئے وہ ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ
فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ سیاحت میں مشہور دنیا ہوئے وہ
ہر اک ملک میں ان کی پھیلی عمارت
ہر اک قوم نے اُن سے سیکھی تجارت
کیا جا کے آباد ہر ملک ویراں مہیا کئے سب کی راحت کے ساماں
خطرناک تھے جو پہاڑ اور بیاباں اُنہیں کر دیا رشک صحن گلستاں
بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے
یہ سب پود اُنہٰی کی لگائی ہوئی ہے
یہ ہموار سڑکیں یہ راہیں مصفا دو طرفہ برابر درختوں کا سایا
نشاں جا بجا میل و فرسخ کے برپا سر راہ کنوئیں اور سرائیں مہیا
اُنہٰی کے ہیں سب نے یہ چربے اُتارے

١١

صفحہ ١١٨
اُسی قافلہ کے نشاں ہیں یہ سارے
سدا اُن کو مرغوب سیر و سفر تھا ہر اِک براعظم میں اُن کا گذر تھا
تمام اُن کا چھانا ہوا بحر و بر تھا جو لنکا میں ڈیرا تو بربر میں گھر تھا
وہ گنتے تھے یکساں وطن اور سفر کو
گھر اپنا سمجھتے تھے ہر دشت و دَر کو
جہاں کو ہے یاد اُن کی رفتار ابتک کہ نقش قدم ہیں نمودار اب تک
ہیں سیلون میں اُن کے آثار ابتک اُنہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک
ہمالہ کو ہیں واقعات اُن کے ازبر
نشاں اُن کے باقی ہیں جبرالٹر پر

مختصر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اصلاحات مذہبی اور اخلاقی کا کوئی منکر ہو تو ہو مگر اس امر سے کوئی منکر نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مخاطب قوم کو اپنی زندگی ہی میں تختۂ ذلت سے اٹھا کر تختِ عزت پر بٹھا دیا۔ گویا اس شعر کا مضمون سمجھا دیا:

دل کس ادا سے لیتے ہو بتلا دیا کہ یوں
آہن کو مقناطیس پہ دکھلا دیا کہ یوں

ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کامیابی کو کن لفظوں میں بیان کریں۔ کیونکہ نہ اس کا کوئی منکر ہے نہ اس کی کوئی مثال ہے۔ یہ ایک کھلی صداقت ہے۔ حضور علیہ السلام کے ہر کام سے حتیٰ کہ نبوت و رسالت بلکہ صداقت کلام سے بھی کوئی دشمن انکار کر سکتا ہے۔ مگر حضور ﷺ کے اس کام سے انکار نہیں کر سکتا کہ حضور ﷺ کو سیاسی حیثیت سے جو کامیابی ہوئی کسی نبی کو نہیں ہوئی۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ إِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ وَاجْعَلْنَا مِنْ اَتْبَاعِهِ. آمین

محمد قادیانی کے کارہائے نمایاں

مرزا غلام احمد (محمد قادیانی) نے اپنی بعثت کے مقاصد یوں لکھے ہیں:

١٢

صفحہ ١١٩

(چشمہ معرفت ص ٧٦۔ خزائن ج ٢٣ ص ٨٢)

مسلمان ہوں جو مسلمانوں کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا۔"

کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بالکل بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔" وغیرہ۔ (مقولہ مرزا در اخبار الحکم ج ٩ نمبر ٢٥۔ مورخہ ١٧ جولائی ١٩٠٥ء ص ١٠ کالم ٤)

یہ مقاصد کہاں تک پورے ہوئے۔ سر دست ہمیں اس سے بحث نہیں۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ "میں تمام دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہوں۔"

(حقیقۃ الوحی ص ١٥١۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٥)

اصلاح کہاں تک ہوئی؟ سب کو معلوم ہے کہ اور تو اور مسلمان بھی دن بدن فسق و فجور میں ترقی کر رہے ہیں۔ مگر ہمارا موضوع اس وقت خاص ہے جو بالکل نمایاں ہے۔ وہ یہ کہ چاہئے تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے انتقال کرنے سے پہلے دیکھ لیتے کہ مسلمان یا کم سے کم اُن کے اتباع مثل اَتباع محمد اول (ﷺ) تخت ذلت سے اٹھ کر تخت عزت پر متمکن ہو گئے۔ اُسی طرح اُن کی اپنی حکومت ہوتی۔ اُن کا سکہ رواں ہوتا۔ اُن کے نام کے خطبے پڑھے جاتے۔ غرض سیاسی حیثیت میں اُن کا وہی رتبہ ہوتا جو محمد اول (ﷺ) اور اُن کے اتباع کو بتائید الٰہی حاصل ہوا تھا۔ مگر آہ! ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس بارے میں بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی سیاسی حیثیت ساری عمر اخیر دم تک یہ رہی کہ آپ انگریزی حکومت کے ماتحت رہے۔ نہ صرف ماتحت رہے بلکہ اس کی غلامی اور خدمت گزاری کو اپنا مقصد وحید ظاہر کرتے رہے۔ چنانچہ اس خدمت گزاری کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

"میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے۔ اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں

١٣

صفحہ ١٢٠

ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص١٥۔ خزائن ج١٥ ص١٥٦‘١٥٥)

ناظرین! ہمیں اس وقت نہ تو مرزا قادیانی کے اس شاعرانہ مبالغہ پر سوال ہے کہ آپ نے انگریزی حکومت کی خدمت گزاری میں اتنی کتابیں کونسی لکھیں جن سے پچاس الماریاں بھریں۔ نہ اس خدمت کے حسن و قبح پر بحث ہے۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ آپ محمد ثانی ہو کر محمد اول (علیہ السلام) کے مشابہ بنتے تھے مگر آپ کا یہ کام آپ کے دعوے کی تکذیب کرتا ہے اور بس:

آپ ہی اپنے نامہ عدم وفا کو دیکھو
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

قرآن مجید میں مسلمانوں کو ارشاد ہے: ”اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ“ (نساء: ٥٩) ”اللہ کی تابعداری کرو۔ رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے حکومت والوں کی اطاعت کرو۔“

اس آیت میں جو لفظ اولی الامر آیا ہے اس کی بابت مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزی حکومت کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص٢٣۔ خزائن ج١٣ ص٤٩٣)

یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کی رعیت تھے اور رعیت ہونے پر قانع بلکہ خوش تھے۔ اور اپنے اتباع کو انگریزی رعیت رہنے کی تاکید کرتے تھے۔

اس کا نتیجہ ہے کہ جنگ عظیم میں جب ترکوں کی اسلامی حکومت بغداد سے اُٹھی اور انگریزی حکومت غالب آئی تو قادیانی اخبار میں مندرجہ ذیل نوٹ نکلا:

”میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات میں غور اور فکر کرنے کے عادی ہیں ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ اور بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے‘ اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی حاصل نہیں ہوئی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں آج ١٣٣٥ھ میں وہ ظاہر ہو کر ہمارے سامنے آگئیں۔ اس بات سے میرے غیر احمدی بھائی ناراض ہوں گے۔ لیکن اگر غور کریں تو اس میں ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود (مرزا) جب دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت دجلہ فرات خشک ہو چکے تھے۔ یعنی وہ حقیقی اسلام کا پانی جس نے آسمان سے اُتر کر ان ملکوں کو سیراب کیا تھا آسمان پر اُٹھایا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت ”

١٤

صفحہ ١٢١

وَإِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُوْنَ “ میں اشارہ فرمایا۔ اور حضرت اقدس اس کے متعلق ازالہ اوہام ص ٣٣٨ پر تحریر فرماتے ہیں:

”اور آیت ” وَإِنَّا عَلٰى ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُوْنَ “ جس کے بحساب جمل ١٢٧٤ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے۔ جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔ الغرض مدت کی پیشگوئیاں آج پوری ہورہی ہیں۔ ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ ان پر غور کریں۔ فشکر الله كل الشكر على ما امننا من كل خوف تحت ظل هذه الدولة البرطانية المباركة للضعفاء وكهف الله للفقراء والغربا. وسوط الله على كل عبد ذی الخيلا ...... اللهم فاجز ذالك الملك منا خير جزائک وانصره على اعدائه اعدائک وادخله من كل شر فى ذراک وارزقه من نعمائک واهل قبله وذراريه الى دینک دین الاسلام. “

(اخبار ”الفضل“ مورخہ ١٠/١٣ اپریل ١٩١٧ء ص ٣‘٤)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کی خدمات خادمانہ متعلقہ حکومت برطانیہ پڑھ کر اُن کا دعویٰ ایک بار پھر پڑھیں جس کے الفاظ یہ ہیں:

”جبکہ مجھ (مرزا) کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے اس وجہ سے کہ ہمارا آقا مخدوم (یعنی آنحضرتؐ) تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ (اصلاح دنیا) کے اُٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥١۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٥)

انصاف! اس عبارت اور اس جیسی متحدیانہ عبارات کو دیکھ کر انصاف کی ضرورت ہے۔ کیا مرزا قادیانی ان دعاویٰ کو ثابت کرگئے؟ انصاف ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔

ناظرین! کیا یہی وہ سیاسی غلبہ ہے جس کی بنا پر محمد قادیانی محمد اول (علیہ وعلیٰ اتباعہ السلام) سے مشابہت دکھاسکتے ہیں؟

کیا اس واقعہ میں کسی اپنے پرائے کو شک ہے؟ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ انتقال کے وقت شاہانہ حیثیت رکھتے تھے۔ اور مرزا قادیانی (محمد ثانی) غلامی کا طوق زیب گلو کئے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ اور حکومت برطانیہ کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:

میں وہ نہیں ہوں کہ تجھ بت سے دل مرا پھر جائے
پھروں میں تجھ سے تو مجھ سے مرا خدا پھر جائے

١٥

صفحہ ١٢٢

قادیانی دوستو! اتنے بڑے دعاوی کا مدعی یوں بے نیل مرام چلا جائے۔ تو اس کے حق میں یہ شعر صادق آئے گا یا نہیں؟:

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

......☆......

ضمیمہ کتاب ہذا

مرزا غلام احمد (محمد قادیانی) کے دعاوی

مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

یہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ جامع کمالات متفرقہ ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِه “ یعنی تمام نبیوں کو جو ہدایتیں ملی تھیں ان سب کا اقتداء کر۔ پس ظاہر ہے کہ جو شخص ان تمام متفرق ہدایتوں کو اپنے اندر جمع کرے گا اُس کا وجود ایک جامع وجود ہو جائے گا اور تمام نبیوں سے وہ افضل ہوگا۔ پس اس دعا کے سکھانے میں جو سورۃ فاتحہ میں (صراط الذین ۔ الخ) ہے۔ یہی راز ہے کہ تا کاملین امت جو نبی جامع الکمالات کے پیرو ہیں وہ بھی جامع الکمالات ہو جائیں۔ پس افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اس امت کو ایک مردہ امت خیال کرتے ہیں اور خدا تو جامع الکمالات ہونے کے لئے اُن کو دعا سکھاتا ہے مگر وہ محض مردہ رہنا چاہتے ہیں۔ اُن کے نزدیک یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میرے پر مسیح ابن مریم کی طرح وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ٦٦‘ ٦٧۔ خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١)

اس اجمال کی تفصیل مرزا صاحب نے یوں کی:

میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں‘ میں شیث ہوں‘ میں نوح ہوں‘ میں ابراہیم

١٦

صفحہ ١٢٣

ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٧٢۔ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ٧٦)

میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣۔ خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد (ﷺ) ہوں یعنی بروزی طور پر۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٤، ٨٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

١؂ کربلائے است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم
آدم نیز احمد مختار در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩۔ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣۔ خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)

قائم ہو جائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور اُن کا مصنوعی خدا (یسوع مسیح) نظر نہ آئے۔ دنیا

١؂ (ترجمہ) میں ہر آن کربلا میں سیر کرتا ہوں۔ سو امام حسین تو میری جیب میں ہیں۔ میں آدم ہوں حضرت احمد ہوں۔ تمام نیکیوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالیاں ہر نبی کو دی ہیں۔ اُن پیالیوں کا مجموعہ مجھے دیا ہے۔

٢؂ (ترجمہ) میں زمانہ کا مسیح ہوں میں موسیٰ کلیم اللہ ہوں۔ میں محمد ہوں میں احمد برگزیدہ ہوں۔

١٧

صفحہ ١٢٢

اُس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔“

(اخبار الحکم قادیان ج٩ نمبر ٢٥۔١٧ جولائی ١٩٠٥ء ص ١٠ کالم ٤)

ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں‘ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٢٩۔١٩ جولائی ١٩٠٦ء ص ٤۔ منقول از ”المہدی“ نمبر ١ ص ٤٣ از حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)

(مذہب ص ٢٥١)

نتیجہ : ....... یہ دعاوی مرزا قادیانی کے اصلی الفاظ میں پیش کر کے ہم اپنے ناظرین سے عموماً اور احمدی احباب سے خصوصاً سوال کرتے ہیں کہ کیا مسلمان ایسے متقی بن گئے؟ کیا ان میں صداقت‘ دیانت‘ پاکبازی اور راست گوئی وغیرہ صفات حسنہ سب پیدا ہوگئیں؟ کیا صلیب توڑی گئی؟ کیا عیسیٰ پرستی کا ستون گر گیا؟ کیا عیسائیوں کے معبود ”یسوع مسیح“ کو دنیا بھول گئی؟ کیا مشرق و مغرب دنیا میں اسلام پھیل گیا؟ کیا مرزا قادیانی مدعی ابھی مرے نہیں؟

.......... ان سوالوں کا جواب صرف ایک ہی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں کہ ”عیسیٰ پرستی اور صلیب پرستی دن بدن بڑھ رہی ہے۔“

ہمارا دعوی احمدیوں کو اگر غلط معلوم ہو تو وہ خود اپنا بیان سنیں۔ لاہوری احمدی جماعت کا آرگن اخبار ”پیغام صلح“ لکھتا ہے:

”آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ہندوستان میں عیسائیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ آج پچاس لاکھ کے قریب ہے۔“

(پیغام صلح۔ ٦؍ مارچ ١٩٢٨ء)

اور سنئے!

”١٩٢٧ء میں عیسائیوں نے ١٩ لاکھ ٨ ہزار نسخے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں بائبل کے شائع کیے ہیں۔“

(پیغام ١٣؍ مارچ ١٩٢٨ء)

اور مفصل سنئے اور دل لگا کر سنئے! آپ کو معلوم ہو گا کہ عیسیٰ پرستی کا ستون کہاں تک گرا

١٨

صفحہ ١٢٥

ہے یا بگڑا ہے۔ ”پیغام صلح“ بتاتا ہے:

مسیحی انجمنیں

”اس وقت دنیا میں مسیحیت کی اشاعت کے لئے جو بڑی بڑی انجمنیں سرگرمی اور مستعدی سے کام کر رہی ہیں ان کی تعداد سات سو ہے۔ اور یہ صرف اینگلیکن اور پراٹسٹنٹ سوسائٹیاں ہیں۔ رومن کیتھولک کلیسا کی جمعیتیں ان کے علاوہ ہیں۔ ١٩٢٣ء میں جن ممالک نے اول الذکر انجمنوں کو مالی امداد دی‘ ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔

امریکہ:۔ ٧٩ لاکھ ٣٦ ہزار ٨٤ پونڈ۔ کینیڈا:۔ ٧ لاکھ ٢٢ ہزار ٩٤ پونڈ۔ برطانی جماعتیں:۔ ٢٧ لاکھ ٦٩ ہزار ٣٥٣ پونڈ۔ ناروے۔ سویڈن۔ ہالینڈ وسوئٹزرلینڈ:۔ ٧ لاکھ ٨٠ ہزار ٩ سو ٢٠ پونڈ۔ جرمنی:۔ ٦ ہزار ٣ سو ٩٥ پونڈ۔ میزان:۔ ایک کروڑ ٤١ لاکھ ١٤ ہزار ٨ سو ٤٦ پونڈ۔

یہ اعداد صاف بتا رہے ہیں کہ مسیحی جماعتوں کی منظم تبلیغی کوشش ایک ایسا سٹیم رولر ہے جو ان کی ترقی اور کامیابی کا راستہ تیار کر رہا ہے۔“

(پیغام ٢٦؍ اکتوبر ١٩٢٨ء ص ١)

مرزائی دوستو! مذہب کا تعلق اُس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے مخفی حالات سے بھی واقف ہے۔ جس کے سامنے زبان کی باتیں کام نہ آئیں گی بلکہ دل کے صحیح خیالات کام آئیں گے۔

اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ

پس تم زبانی باتیں کرنے کی بجائے دل میں سوچو کہ محمد اول (ﷺ) نے جو واقعات اپنی زندگی میں ہونے کی خبریں دی تھیں وہ صاف صاف طور پر پورے ہوئے تو محمد (قادیانی) کے بتائے ہوئے پورے کیوں نہ ہوئے؟ حالانکہ مرزا صاحب (محمد قادیانی) کا دعویٰ ہے کہ:

”اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا ”محمد مفلح“۔“

(ملفوظات ج ٧ ص ٣٩٩۔ اخبار الحکم مورخہ ٣١؍ جولائی ١٩٠٥ء ص ٣ کالم ٢)

مفلح کے معنی نجات یابندہ اور نجات دہندہ ہیں۔ مرزا قادیانی کے اسماء میں محمد اور مفلح کا مرکب نام ہونا اسی غرض سے ہو سکتا ہے کہ آپ بھی محمد اول (ﷺ) کی طرح مسلم قوم کو یا کم سے

١٩

صفحہ ١٢٦

کہ احمدیہ امت کو غیر حکومت کی غلامی سے آزادی دلاتے۔ مگر آہ افسوس کچھ بھی نہ ہوا۔ جس پر ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اپنی قسمت پر روئیں یا مرزا صاحب کی ناکام تشریف بری پر افسوس کریں۔ اس نامرادی اور ناکامی کا گلہ ہم کن لفظوں میں کریں۔ اس وقت ہمارے دل کو سخت صدمہ ہے۔ اس صدمہ کی حالت میں ہمارے قلم سے یہی شعر نکلتا ہے:

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

اس ٹریکٹ کا خاص موضوع اور اختصار تطویل سے مانع ہے۔

ورنہ با تو ماجرا داشتیم
وما علينا الا البلاغ المبين

خادم دین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ عفا عنہ امرتسری

٭٭٭٭٭

٢٠

PDF 127

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

قادیانی حلف کی حقیقت

9

خدا کی قسم میں مرزا قادیانی کو الہامی دعوٰی میں سچا نہیں مانتا

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ١٢٨

قادیانی حلف کی حقیقت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم. نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم.

مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار ”اہلحدیث“ امرتسر مورخہ ٩؍ فروری ١٩٣٠ء میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ ”سیٹھ عبداللہ صاحب نے اپنی کتاب میں اپنے اشتہارات کا ذکر تو کیا ہے مگر میرے جوابات کا ذکر نہیں کیا اس لئے رسالہ قادیانی حلف کی حقیقت کی خوب اشاعت کریں۔ اگر ختم ہو گیا ہو تو اس کو دوبارہ طبع کرا کر تقسیم کریں تاکہ سیٹھ عبداللہ صاحب نے اپنی کتاب میں جو اخفائے حق سے کام لیا ہے اس کے مقابلہ میں اظہار حق ہو جائے۔“

اخبار ”اہلحدیث“ امرتسر مورخہ ٩؍ فروری ١٩٣٠ء میں اسی حلف کی نسبت جو مضمون شائع ہوا ہے وہ بغرض آگاہی پبلک ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

چوہدری فتح محمد سیال ایم۔ اے قادیانی

سیٹھ عبداللہ سکندر آبادی کا ذکر خیر

اول الذکر علم کی حیثیت سے مؤخر الذکر مالی انفاق کی وجہ سے قادیانی جماعت میں معزز ترین اشخاص میں سے ہیں۔ اس لئے ہم بھی ان کو اپنے مخاطبین میں داخل کرتے ہیں۔ آج ہم ان دونوں صاحبوں کی توجہ فرمانِ خداوندی کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ ارشاد ہے:

؎١ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئے گا۔ ؎٢ اس دن سچوں کو ان کا سچ فائدہ دے گا۔

٢

صفحہ ١٢٩

یہ ہر دو فرمان خداوندی متلاشی حق انسان کی ہدایت کے لئے کافی ہیں۔ کہنے کو تو ہر ایک فریق بلکہ ہر ایک شخص اپنے کو ان ارشادات کا پابند ظاہر کرتا ہے لیکن صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں اگر کافی ہوتا تو تیسرا ارشاد خداوندی ”وَعَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ١ ؂ “ قرآن مجید میں وارد نہ ہوتا۔ اس آخری آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مدعیانِ حق کا محض دعویٰ ہی کافی نہیں ہے۔ جب تک عمل اس کے مطابق نہ ہو۔ پس ہم اس ارشاد کے ماتحت ان دونوں صاحبوں کی حق پسندی اور حق گوئی کو جانچنا چاہتے ہیں۔

چوہدری فتح محمد صاحب قادیانی حکومت میں ایک بڑے عہدے (نظارت اعلیٰ) پر ممتاز ہیں۔ کیا بلحاظ علم وفضل اور کیا بلحاظ نظارت اعلیٰ کے ان کی نظر بہت وسیع ہونی چاہئے تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا اہم واقعہ ان کی نظر سے اوجھل رہا ہے۔ ہم یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ آیت ”وعلى ابصارهم غشاوة“ نے اپنا جلوہ دکھایا ہے یا مصرع ”بدوز طمع دیدہ ہوشمند“ نے اپنا اثر ڈالا ہے۔ بہر حال واقعات جو کچھ بھی ہیں ہم آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ آپ کا مضمون جو آپ نے قادیانی خلافت جوبلی کے جلسہ میں پڑھا تھا اور جو قادیانی اخباروں اور رسالوں میں بڑی عزت کے ساتھ درج ہوا ہے۔ اس کو اہلحدیث مورخہ ٨؍ دسمبر ١٩٣٩ء میں بروائت رسالہ ’ریویو آف ریلیجنز‘ نقل کر کے جواب دیا گیا تھا۔ اس جواب میں ایک فقرہ جس پر ساری گفتگو کا مدار تھا۔ آج اس کی مزید تشریح اس لئے کی جاتی ہے کہ چوہدری صاحب کا یہی مضمون ’الفضل‘ مورخہ ٢١؍جنوری میں ہماری نظر سے گذرا ہے۔ اس بحث کا مرکزی نقطہ اصل میں یہ ہے کہ مرزا صاحب کا اشتہار آخری فیصلہ جو میرے متعلق شائع ہوا ہے۔ کس غرض سے تھا اور اس کا مطلب کیا ہے۔ ان دونوں سوالوں کا جواب مرزا صاحب کے اپنے الفاظ میں صاف ملتا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

”اے اللہ! مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت ستایا ہے وہ میرے قلعے کو منہدم کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کو میری طرف آنے سے روکتا ہے۔ اس لئے میں تیری درگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں سچا فیصلہ فرما۔ اس فیصلے کی صورت یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس کو سچے کی زندگی میں فوت کر دے۔ ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين. (اشتہار : مرزا غلام احمد مسیح موعود۔

١٥؍اپریل ١٩٠٧ء)

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

اس آخری فیصلے کا نتیجہ نمایاں ہے۔ عیاں را چہ بیاں کہ مرزا صاحب کو انتقال کیے

١ ؂ سب مذاہب کا مقصود خدا رسی ہے۔ مگر ان میں سے بعض مذاہب ٹیڑھے ہیں۔

٣

صفحہ ١٣٠

ہوئے آج بتیس سال ہونے کو ہیں مگر ان کا مخاطب آج تک زندہ ہے جو یہ سطور لکھ رہا ہے۔ چونکہ یہ واقعہ بڑا اہم اور فیصلہ کن ہے۔ اس لئے جن لوگوں کے حق میں ارشاد خداوندی اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا. (اعراف: ١٤٦) وارد ہوا ہے ۔ وہ لوگ بماتحت ارشاد ”یبغونها عوجاً“ اس صاف و شفاف فیصلے کو مکدر کرنے کی کوشش میں شروع سے لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو صاحب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ایک مولوی محمد علی صاحب ایم ۔اے لاہوری ہیں۔ دوسرے چوہدری فتح صاحب سیال ایم ۔ اے قادیانی ۔ ان کے علاوہ جو صاحب بھی ہوں وہ دوسرے درجہ پر ہمارے مخاطب ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ”آیت اللہ“ میں اور چوہدری فتح محمد صاحب نے اپنی تقریر جلسہ سالانہ میں جو کچھ کہا ہے اس میں ایک امر پر دونوں متفق ہیں۔ وہ امر یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ١٨٩٦ء میں جو کتاب انجام آتھم لکھی تھی۔ اس میں چند علماء اور صوفیاء کو مباہلے کی دعوت دی تھی (اس کا انجام کیا ہوا یہ ایک الگ مضمون ہے) ان مدعوین میں میرا نام بھی تھا۔ ناظرین اس واقعہ کو ذہن نشین کر کے چوہدری صاحب کے الفاظ سنیں:

”مولوی ثناء اللہ صاحب کی لمبی عمر“

”آخر میں مَیں ایک اور بات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو ہر فتنہ میں فتح عطا فرمائی ہے۔ گویا ابتدا میں بھی وسط میں بھی اور آخر زمانہ میں بھی فتح عطا کی۔ آخر میں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح بخشی وہ یہ ہے کہ ١٨٩٧ء سے لے کر ١٩٠٧ء تک بارہا حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مگر وہ ہر بار اس سے بھاگتے اور پہلو تہی کرتے رہے اور قطعاً سامنے نہ آئے۔ مگر اب کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی وجہ سے وفات پائی ہے۔“

(الفضل قادیان ص ٥ ۔ ٢١؍ جنوری ١٩٣٠ء)

اہلحدیث :۔ یہی مضمون مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے۔ جس کا جواب مدلل بواقعات صحیحہ بار ہا شائع ہو چکا ہے۔ ان دونوں صاحبوں کا مطلب یہ ہے کہ آخری فیصلے کا مضمون دراصل مباہلے کی دعوت تھی جو مولوی ثناء اللہ کے نہ ماننے سے منعقد نہ ہوا۔

جواب:۔ جواب دینے سے پہلے ہم ایک عدالتی مثال پیش کرتے ہیں کہ کسی شخص (زید) نے

٤

صفحہ ١٣١

بذریعہ وکیل عمر پر ایک صد روپے کا دعویٰ دائر کیا اور وکیل صاحب نے رقم لینے کی رسید مورخہ یکم جنوری پیش کی۔ مگر فریق مدعا علیہ نے چپکے سے مدعی کی دستخطی رسید مورخہ یکم فروری پیش کر دی۔ جس میں یکم جنوری کے قرضہ کی وصولی کا اقرار مرقوم تھا۔ اس پر دعویٰ خارج ہو گیا۔ وکیل صاحب بدیں وجہ کہ مجھے حقیقت سے آگاہ نہ کیا۔ مدعی کو کوستے ہوئے کمرۂ عدالت سے باہر نکل آئے۔ ناظرین کرام! بعینہ یہی مثال ان دونوں وکیلوں کی ہے۔ ہم بھی مدعی کی رسید پیش کرتے ہیں۔ وہ قانونی وکیل تو شرمندہ ہو گیا تھا۔ دیکھیں کہ یہ مذہبی وکیل شرمندہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ اخبار ”الحکم“ قادیان مورخہ ٣١/ مارچ ١٩٠٧ء کے صفحہ ١٩ پر ایک مضمون ہے جس کے الفاظ مع سرخی یہ ہیں کہ:

”مباہلے کے واسطے مولوی ثناء اللہ امرتسری کا چیلنج منظور کیا گیا“

”حضرت اقدس (مرزا صاحب) نے پھر بھی اس (مولوی ثناء اللہ) پر رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جبکہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے۔ اس کتاب میں ہر قسم کے دلائل سلسلۂ حقہ کے ثبوت میں خلاصۃً بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب مولوی ثناء اللہ کو بھیج دی جائے گی تا کہ وہ اس کو اول سے آخر تک بغور پڑھ لے۔ اس کتاب کے ساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے شائع ہوگا۔ جس میں ہم یہ ظاہر کر دیں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔“

(الحکم ٣١/ مارچ ١٩٠٧ء)

فخریہ تصدیق:۔ مولوی اللہ دتہ جالندھری اس عبارت پر جس فخر کے ساتھ حاشیہ آرائی کرتا ہے۔ وہ بھی قابل ملاحظہ ہے۔ لکھتا ہے کہ:

”گویا حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) اس صید لاغر ١؎ (ثناء اللہ) کو چند روز کی مہلت دینا چاہتے تھے اور حقیقۃ الوحی کی طباعت کے بعد پر اسے ملتوی کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عبارت بالا سے ظاہر ہے۔“

(رسالہ تفہیمات ربانیہ ص ٢٣٨ بار دوم)

ناظرین اس پُر افتخار عبارت کو ذہن میں رکھ کر چوہدری فتح محمد صاحب کی حق پوشی کا اندازہ کیجئے۔

١؎ جانتے ہو شیخ سعدیؒ کیا کہتے ہیں :۔

اسپ لاغر میاں بکار آید
روز میدان نہ گاو پرواری

٥

صفحہ ١٣٢

مرزا صاحب کے راسخ مریدو! میں بماتحت آیت اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَفُرَادٰی خدائے علیم وخبیر کی جلالت کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ عبارت آپ لوگوں نے کبھی دیکھی ہے؟ اگر دیکھی ہے تو اس کا مطلب کیا سمجھا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پوچھتا ہوں کہ کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ ١٥؍مئی ١٩٠٧ء کو شائع ہوئی تھی اور دعائے آخری فیصلہ ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو ................. غور کرو کہ دعائے آخری فیصلہ کو مباہلہ کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ مباہلہ کتاب حقیقۃ الوحی کی اشاعت (ماہ مئی ١٩٠٧ء) کے بعد ہونا تھا۔ کیا قادیان میں ماہ اپریل ماہ مئی کے بعد آتا ہے۔ یہ ہے اس بحث کا مرکزی نقطہ۔ جسے قادیانی مناظر اس شریف قوم کی طرح چھپاتے رہتے ہیں جس نے دربار رسالت میں حکم رجم کو چھپایا تھا۔

احمدی دوستو!

قریب ہے یار! روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

خلاصۂ کلام :۔ چوہدری فتح محمد کا یہ کہنا کہ سلسلۂ مباہلہ ١٨٩٧ء سے ١٩٠٧ء تک جاری رہا اور آخری فیصلے والا اشتہار اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی بالکل غلط اور دفع الوقتی پر مبنی ہے بلکہ مرزا صاحب کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ اب ہم چوہدری صاحب سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو سچا کہیں یا مرزا صاحب کو؟ مرزا صاحب کو جھوٹا کہیں یا آپ کو؟ اس کا جواب دینا آپ کا کام ہے۔ (نوٹ) ہم نے قادیانی اور لاہوری اتباع مرزا کو بارہا تنبیہ کی ہے کہ وہ ’’اہلحدیث‘‘ کو جواب دیتے ہوئے ذرا سوچ لیا کریں کہ سامنے کون ہے۔ یاد رکھیں ان کے سامنے وہی ہے۔ جس کا قول ہے ؎

پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

سیٹھ عبداللہ الہ دین سکندر آبادی :۔ چوہدری فتح محمد کے بعد ہم سیٹھ صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ جنہوں نے ایک کتاب (بشارات رحمانیہ) لکھ کر یا لکھوا کر شائع کی ہے۔ جس کا ایک نسخہ ہمیں بھی بھیجا ہے (شکریہ) آپ مرزا صاحب کے پکے مرید ہیں۔ آپ نے اپنی حسن نیت اور اخلاص کا ذکر اس کتاب میں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے قادیانی مذہب کی خدمت کے لئے تین لاکھ روپیہ خرچ کیا ہے۔ کیا ہوگا۔ مگر کاہے کو؟ مرزا صاحب کا حلقہ مسیحیت وسیع کرنے کو سو اس کے متعلق آیت قرآنی سُن رکھیں۔ جو اس قسم کے اخراجات کے لئے بدیں الفاظ وارد ہے:

٦

صفحہ ١٣٣

فَسَيُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ (الانفال) ١؎

ہاں آپ نے بھی باتباع سنت مرزا اخفائے حق سے کام لیا ہے۔ ١٩٢٣ء کا واقعہ ہے کہ احباب دکن کی دعوت پر میں اور مولوی محمد صاحب دہلوی سکندرآباد (حیدرآباد دکن) پہنچے اور وہاں مجالس وعظ میں قادیانی تردید کے مضامین بیان ہوتے رہے۔ ہر درجے کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتے تھے۔ جس سے مرزائی کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ ایک تحریری مباحثہ بھی ہوا۔ جس کی روئیداد بصورت رسالہ مباحثہ دکن مطبوعہ مل سکتی ہے۔ اسی اثناء میں سیٹھ عبداللہ الدین نے ایک انعامی اشتہار دیا۔ جس میں مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اپنے عقائد اور مرزا صاحب کے کذب پر حلف اٹھاؤں۔ اگر اس حلف کے بعد میں ایک سال تک زندہ رہوں تو وہ مجھے دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔ میں نے اس کے جواب میں وہیں بذریعہ اشتہار ان کو اطلاع دی۔ اور اشتہار کا مسودہ ہزاروں کے مجمع میں پڑھ کر سنایا۔ جس کی صحت سب نے تسلیم کی۔ اس کا مضمون یہ تھا کہ:

میں سیٹھ عبداللہ الدین کا مطالبہ پورا کرنے کو تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ مجھے دس ہزار روپیہ دینے کی بجائے بمنظوری خلیفہ صاحب قادیان صرف یہ اقرار شائع کر دیں کہ میں اگر حلف کے بعد ایک سال تک زندہ رہا تو سیٹھ صاحب مع خلیفہ صاحب مرزا صاحب کو چھوڑ کر میرے ساتھ ہو جائیں گے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی کہ ایک سال کے اندر مر جانے کی صورت میں اگر میں جھوٹا سمجھا جاؤں تو کوئی وجہ نہیں کہ سال کے بعد زندہ رہنے کی حالت میں سچا نہ ٹھہروں۔

اس کے جواب میں زبانی پیغام آتے رہے کہ ہم حلف خوری کا صلہ دس ہزار روپیہ دیتے ہیں۔ میں جواباً کہتا رہا کہ میں دس ہزار پر لات مارتا ہوں صرف آپ کو چاہتا ہوں۔ غالباً اُس وقت میرے ذہن میں یہ عارفانہ شعر تھا۔

دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی
دیوانہ تو ہر دو جہاں را چہ کند

سیٹھ عبداللہ الدین نے اپنی کتاب میں اپنے اشتہارات کا ذکر تو کیا ہے مگر میرے جوابات کا ذکر نہیں کیا۔ یہ عادت اس شریف گروہ کی ہے جس کی بابت قرآن شریف کا ارشاد ہے۔ ’تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا‘ (الانعام: ٩١) حالانکہ یہ سارے اشتہارات مع میرے جوابات کے انجمن اہل حدیث سکندر آباد دکن کی طرف سے بصورت رسالہ شائع ہو چکے ہیں۔

١؎ منکرین حق اشاعت باطل میں خوب خرچ کریں گے۔ آخر کار یہ خرچ ان پر حسرت و افسوس کا موجب ہوگا اور وہ مغلوب ہو جائیں گے۔

٧

صفحہ ١٣٤

جس کا نام ہے ”قادیانی حلف کی حقیقت“۔

سیٹھ عبداللہ صاحب! میں آپ کو حضرت لقمان علیہ السلام کے وعظ کے الفاظ سناتا ہوں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمائے تھے:

یَا بُنَیَّ اِنَّهَا اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوَاتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ط اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ.

(لقمان: ١٦)

(اے بیٹے اگر رائی کے دانہ برابر کوئی چیز ہو جو کسی پتھر میں یا کہیں آسمان میں یا زمین میں چھپ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔

سیٹھ صاحب!

عجب مزا ہو کہ محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لئے

...... ☆ ......

قادیانی حلف کی حقیقت

بجواب

اشتہار عبداللہ دین صاحب ”صداقتِ احمدیت“

ایک اشتہار بنام صداقت احمدیت عبداللہ دین صاحب کی جانب سے شائع ہوا ہے جس میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب، فاتح قادیان کے حلف۔ مباہلہ وغیرہ پر دروغ بیانی سے کام لیا گیا ہے علاوہ اس کے اشتہار میں یہ مطالبات کئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق صحیح بخاری میں لفظ (من السماء) آسمان سے اترنے کا دکھاؤ تو ہزار روپیہ انعام پاؤ۔ دوم بحکم حدیث ہر صدی میں مجدد کا ہونا ضروری ہے اس صدی کا مجدد کون ہے بتاؤ؟

٨

صفحہ ١٣٥

یہ وہی پرانا اشتہار ہے جو قادیانی جماعت کی جانب سے شائع ہوا تھا اور جس کا جواب انجمن اہل حدیث سکندرآباد کی طرف سے ١٩٢٣ء میں دے دیا گیا مگر پھر بھی اسی کا اعادہ کیا ہے اب ہم بغرض آگاہی پبلک اصل واقعات کا اظہار کرتے ہیں جس سے بخوبی واقف ہو گا کہ قادیانی جماعت اپنے بیان اور اپنے وعدوں میں کہاں تک سچی ہے۔

قادیانی جماعت کی بددیانتی

انجمن اہل حدیث سکندر آباد دکن کی جانب سے جو اشتہار ”قادیانی مذہب کی حقیقت“ شائع ہوا ہے اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کی حدیث کا حوالہ (صحیح بخاری اور کتاب الاسماء بیہقی سے) درج ہے مگر عبداللہ الہ دین صاحب نے اپنے اشتہار میں صرف (صحیح بخاری) لکھ کر اپنی دیانت کا ثبوت اور مخلوق خدا کو دھوکہ دیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور حدیث من السماء کی بحث

صحیح بخاری میں ایک حدیث یوں آئی ہے ”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم“ یہ الفاظ صحیح بخاری (ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ ابن مریم) کے ہیں اسی حدیث کو امام بیہقیؒ نے کتاب الاسماء والصفات (ص ٣٠١) میں اپنی سند سے روایت کیا ہے ”كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم من السماء وامامكم منكم“ یعنی جب مسیح موعود آسمان سے اتریں گے اور تمہارے امام امیر المومنین تم میں سے ہوں گے اس وقت تم کیسے ہو گے اس روایت میں (من السماء) کا لفظ آیا ہے جس کسی نے روایت مذکورہ لکھ کر صحیح بخاری کا حوالہ دیا ہوگا اس کی مراد وہی ہوگی جو محدثین کی ہوتی ہے جہاں وہ کسی روایت کو مختلف کتابوں سے نقل کرتے ہیں تو کہا کرتے ہیں کہ اصلہ فی البخاری یعنی اس روایت کی اصل بخاری میں ہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ حرف بحرف بخاری میں ہے۔

ہم اس نزاع کی صورت آسان بتاتے ہیں مرزا صاحب قادیانی نے نزول مسیح کی روایت اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ (ص ٨٨، ٨٩۔ خزائن ج ٧ ص ٣١٢، ٣١٣) میں دو جگہ لکھی ہے اور اس میں لفظ من السماء نہیں لکھا لیکن اصل روایت اصل کتاب میں دیکھیں تو مطلع صاف ہوسکتا ہے وہ روایت یوں ہے ”قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ينزل اخي عيسى ابن مريم على جبل“ (کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٨، ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٦٦٧) یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر اتریں گے۔

٩

صفحہ ١٣٦

یہ روایت مختصر کنز العمال سے مرزا صاحب نے لی ہے مختصر کنز العمال مسند امام احمد کے حاشیہ پر مصر میں چھپی ہے اس کی چھٹی جلد صفحہ ٦٥ پر یہ حدیث موجود ہے جس میں لفظ من السماء موجود ہے۔ مگر مرزا صاحب کی دیانت اور امانت نے ان کو اجازت نہیں دی کہ حدیث کے سارے الفاظ نقل کرتے یہ کون نہیں جانتا کہ کسی بات کو دریافت کرنے یا کسی عقیدے کو دل میں جگہ دینے کے لئے صحیح بخاری کی روایت پر حصر نہیں ہوتا بلکہ جہاں کہیں سے بھی کوئی صحیح روایت ملے وہ روایت قابل قبول ہے۔ قادیانیوں کے حق میں اس روایت کی صحت اور قبولیت کا ثبوت یہی کافی ہے کہ مرزا صاحب نے اس کو معرض استدلال میں خود لیا ہے بس پھر مسئلہ نزول مسیح من السماء تو صاف ہو گیا۔ صحیح بخاری کا جو حوالہ لکھا گیا ہے وہ اسی نیت سے لکھا گیا ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا۔

مجدد کے لئے دس ہزار روپیہ کا کاغذی اعلان

بے شک ایک غیر صحیح حدیث میں ہر صدی میں مجددین پیدا ہونے کا ذکر ہے مگر مجدد کے معنی کیا ہیں اصل سنت نبویہ کو رواج دینے والا اور زمانہ کی بدعات جدیدہ کا مقابلہ کرنے والا۔ مجدد میں کوئی فوق العادت وصف نہیں ہوتا۔ صرف اصول اسلام اور سنت نبی علیہ السلام کی تائید اور ترویج ان کا کام ہوتا ہے یعنی وہ خادم سنت نبویہ صحیحہ ہوتا ہے اور بس۔ ؎١

ان معنی سے کیا عجب ہے کہ صوبہ بنگال میں مولانا ابوالکلام آزاد‘ صوبہ بہار میں مولانا محمد علی مونگیری اور صوبہ متحدہ میں علماء دیوبند بھی مجدد (خادم سنت) صوبہ پنجاب کے لئے بہت سے لوگ فرقہ جدیدہ بدعیہ قادیانیہ کے حق میں مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کو مجدد جانتے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی وغیرہ نے بہت دفعہ جلسوں میں اس امر کا اظہار بھی کیا ہے ۔ کہئے آپ کی کیا رائے ہے؟ ہاں یہ تو ہم نے مشاہیر کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق ملک سے ہے ابھی وہ مجددین (خادمان سنت) باقی ہیں جن کا تعلق خاص خاص مقامات (شہر ہوں یا قصبے یا دیہات) سے ہے کیونکہ بعض مجدد (خادم سنت نبویہ) ایسے بھی ہوں گے جن کا اثر ایک ہی گاؤں میں ہوگا۔ مجدد کے لفظ میں وحدت شخصی نہیں بلکہ وحدت نوعی ہے اس میں تعدد ہو سکتا ہے۔ غور سے پڑھو ” من يجدد لها دينها“ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان جیسے وسیع ملک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مجدد اس وقت بھی ہیں جو اپنی علمی خدا داد لیاقت کے مطابق توحید وسنت کی خدمت اور اشاعت کرتے ہیں (کسے باشد) ہاں آپ کا یہ خیال ہو گا کہ ان لوگوں نے دعویٰ مجددیت کا نہیں کیا یہ ایک بڑی غلطی ہے۔ جماعت احمدیہ کہ وہ احادیث کے الفاظ پر نظر نہیں کرتے بلکہ مرزا

؎١ دیکھئے مرزا صاحب نے سید احمد بریلوی کو مجدد لکھا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ )

١٠

صفحہ ١٣٧

صاحب قادیانی کے الفاظ کو حدیث کا جزو بنا لیتے ہیں اے صاحب! حدیث شریف میں دعویٰ کرنے کا ذکر نہیں آیا بلکہ خدمتِ اسلام کرنے کا ذکر آیا ہے۔ دعویٰ اگر شرط ہے تو سب سے پہلے جس بزرگ کو مجدد کہا گیا ہے یعنی خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کو ان کا دعویٰ دکھاؤ بعد ازاں دوسری صدی میں امام شافعیؒ کو کہا گیا ہے ان کا دعویٰ سناؤ اسی طرح اوروں کا دعویٰ دکھاؤ پھر ہم سے دعویٰ کا سوال کرو۔ سنو! مجدد کے لئے یہ اصول ہے جو شیخ مرحوم نے لکھا ہے۔

ہنر بنما اگر داری نہ جوہر
گل از خارست و ابراہیم از آذر

مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب کا جلسہ عام میں مرزا صاحب قادیانی کے کذب پر حلف اٹھانا اور عبداللہ الہ دین صاحب کے مجوزہ حلف نامہ پر دستخط کرنا:۔ ماہ جنوری ١٩٢٣ء میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان سکندرآباد دکن تشریف لائے تھے اور مرزائیوں کی تردید میں بمقام سکندرآباد وحیدرآباد دکن دھواں دھار تقریریں فرمانے لگے اُس وقت قادیانیوں نے اشتہار شائع کیا کہ قادیانی کذب پر مولانا صاحب حلف اٹھاویں۔ انجمن اہلحدیث سکندرآباد دکن کی درخواست پر مولانا صاحب نے مندرجہ ذیل جواب دیا امید ہے کہ ناظرین کرام بڑی توجہ سے پڑھیں گے۔

قادیانی کذب پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں

برادران دکن! آپ حضرات نے میری کئی تقریریں قادیانی مشن پر سنیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کا ہونا ان تقریروں کی پسندیدگی کی دلیل ہے۔ اس لئے آپ جان چکے ہوں گے کہ میں اپنی تقریر میں نہ کوئی بات اپنی طرف سے بناوٹ کی کہتا ہوں نہ کوئی کلمہ ہتک آمیز دل آزار بولتا ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ ان تقریروں کا اثر سامعین پر بہت اچھا ہوا۔ اس اثر سے رنجیدہ خاطر ہو کر جماعت احمدیہ حیدرآباد وسکندرآباد وغیرہ نے بتوسط سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ایک اشتہار دیا ہے جو آپ صاحبوں کی نظر سے گذرا ہوگا اس اشتہار کا مختصر مضمون یہ ہے کہ ”مولوی ثناء اللہ مرزا قادیانی کے کذب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ پر قسم کھائے مدت ایک سال میں اپنے لئے عذاب مانگے وغیرہ تو پانسو روپیہ ہم مولوی ثناء اللہ کو دیں گے۔“

برادران! اس سے پہلے سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا تھا

١١

صفحہ ١٣٨

مجھے وہ اشتہار امرتسر میں ملا تو میں نے فوراً اپنے اخبار اہلحدیث امرتسر میں لکھا کہ مبلغ دس ہزار انعامی رقم پہلے مہاراجہ کشن پرشاد صاحب کے پاس جمع کرادو اور جواب کے فیصلے کے لئے منصف مقرر کرو اس کے جواب میں سیٹھ صاحب کی طرف سے ہم کو کوئی جواب نہ ملا بلکہ ایک اور اشتہار زرد رنگ کا ملا جس میں بجائے ہماری پیش کردہ تجویز منظور کرنے کے نئے سرے سے پھر دس ہزار کا انعام لکھا گیا اس کا جواب بھی اہل حدیث میں دیا گیا جس کو انجمن اہلحدیث سکندر آباد نے بطور اشتہار حیدر آباد اور سکندرآباد وغیرہ میں شائع کیا۔ یہ تو ہے ان کی انعامی رقموں کی حقیقت کہ لدھیانہ کے واقعہ سے ڈر کر دس ہزار سے ایک دم پانچ سو پر آگئے خدا معلوم دیتے ہوئے کہاں تک نیچے اتر آئیں گے ۔ چونکہ روپیہ لے کر حلف اٹھانے میں ان لوگوں سے ایک خطرہ بھی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ کہہ دیں گے کہ مولوی صاحب نے روپیہ کی لالچ میں جھوٹی قسم کھائی ہے ۔ اس لئے میں بغیر روپیہ کے قسم کھانے کو تیار ہوں جس کی صورت یہ ہے:

برادران دکن! جن صاحبوں نے ١٦/ اسفندار ١٣٣٢ف ۔ ١٩/ جنوری ١٩٢٤ء مطابق ٣/ جمادی الثانی ١٣٤١ھ کو میری پہلی تقریر سکندر آباد میں سنی ہوگی ان کو یاد ہوگا کہ میں نے اس تقریر میں مرزا صاحب قادیانی کے کذب پر صاف لفظوں میں حلف اٹھائی تھی جو ایک بھلے آدمی ایماندار کی تسلیم کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔ مگر قادیانی جماعت نے اپنے اشتہار میں ایک اور قسم کھانے کی تحریک کی جس کی سزا کی مدت ایک سال تک رکھی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر ایک سال تک میں زندہ سلامت رہوں تو ان پر کیا اثر ہوگا اس لئے میں واضح الفاظ میں لکھتا ہوں کہ چونکہ حلف پر انہوں نے سال تک میری زندگی کی حد لگائی ہے جو قرآن وحدیث میں تو ثابت نہیں مگر ان کی مسلمہ ہے اس لئے میں سال کے بعد تک اگر زندہ رہا تو مکرر قطعی طور پر ثابت ہو جائے گا کہ میں تکذیب مرزا میں ان کے نزدیک بھی سچا ہوں پس اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اسی وقت قادیانی مذہب چھوڑ کر میری طرح تکذیب مرزا میں کمر بستہ ہو جائیں چونکہ میرا مقابلہ دراصل مرزا صاحب آنجہانی سے تھا ان کے بعد بحیثیت قائم مقام ان کے خلیفہ سے ہے اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ یہ شرط لگاؤں کہ خلیفہ قادیان معہ اپنی انجمن احمدیہ کے ممبروں کے اس مضمون کی دستخطی تحریر مجھے دیں کہ:

”مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مرزا صاحب قادیانی کی تکذیب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر قسم کھا کر سال تک قدرتی موت سے جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل نہ ہو بچ رہیں تو میں (میاں محمود خلیفہ ثانی قادیان) اور ممبران صدر انجمن

١٢

صفحہ ١٣٩

احمدیہ مرزا صاحب قادیانی کا مذہب چھوڑ کر جمہور مسلمانوں میں مل کر مرزا صاحب قادیانی کی تکذیب کیا کریں گے اور اپنے کل مبلغوں کو بھی یہی حکم دیں گے۔“

اس دستخطی تحریر میں اپنی پہلی قسموں (جو میں قادیان اور سکندر آباد وغیرہ میں کھا چکا ہوں اُن کے) علاوہ نئے سرے سے کذب مرزا اور حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بحولہ وقوّتہ قسم کھاؤں گا انشاء اللہ تعالیٰ مسلمان حیدر آباد بمقام مشیر آباد ٢٥ / جنوری ١٩٢٣ء کو جو جلسہ وعظ ہوا تھا اُس میں ہزارہا مسلمانوں کے مشورے سے یہ مضمون پاس ہو کر شائع کیا جاتا ہے ورنہ میں تو احمدیوں کی حرکات اور محرکات کے مقصودات کو بھی جانتا ہوں۔ مرزا صاحب قادیانی نے دعا کی تھی کہ ثناء اللہ اور مجھ میں سے جو جھوٹا ہے خداوند! اُس کو سچے کی زندگی میں موت دے چونکہ وہ بڑے میاں تھے اُن کی یہ دعاء قبول ہو گئی جس کا اثر دُور دُور تک پہنچا۔ باوجود اس الٰہی فیصلہ کے ان لوگوں کا نئے سرے سے مجھے حلف دینا اس غرض سے ہے کہ سابق کے الٰہی فیصلہ سے اسلامی پبلک کو غفلت ہو جائے جس سے ان کی شرمندگی اور ندامت میں کمی واقع ہو۔

من اندازِ قدت را می شناسم

اس لئے اشتہار میں مجھ سے جدید حلف چاہتے ہیں اور ایک سال تک عتاب کی دھمکی دیتے ہیں تو میں بھی حق رکھتا ہوں کہ ان کی رقم پانسو تو ان کو واپس کروں مگر یہ شرط لکھالوں کہ سال تک میری سلامتی کے بعد ان کا خلیفہ مع اپنی ساری جماعت قادیانی مذہب غلط جان کر بحکم ”کونوا مع الصادقین“ ...... میرے ساتھ اشاعت اسلام کریں گے۔

ناظرین کرام! بس اب حلف کا دلوانا جو قادیانیوں نے تجویز کیا ہے خود ان کی منظوری پر موقوف ہے ہم اپنے اقرار کو پورا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

فلیشہد الثقلان إنی صادق

نوٹ:۔ میری طرف سے یہی جواب ہوگا چاہے فریق ثانی ہزارہا بار بولیں میری طرف سے اس بارے میں یہ معقول شرط ہمیشہ پیش رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ جس کے انکار سے فریق ثانی کی حق پسندی اہل دکن پر بار بار روشن ہو جائے گی جیسی اہل پنجاب پر روشن ہے۔

اطلاع:۔ گو میرے ذریعہ سے خدا نے اسلامی عقائد کو قادیانی نبوت پر ہمیشہ غالب رکھا ہے تاہم دکن کے مسلمانوں میں قادیانی مذہب کی وجہ سے جو تفرقہ عظیم ہو رہا ہے میں اس کے رفع دفع کرنے کو ہر وقت تیار ہوں جس کی صورت یہی ہے کہ بتقرر منصف ایک باقاعدہ تحریری مباحثہ ہو مع فیصلہ مسلمہ منصف شائع کیا جائے تا کہ ہم مسلمانوں سے یہ تفرقہ دُور ہو۔ خدا کرے

٣

صفحہ ١٤٠

ایسا ہی ہو۔

ربنا افتح بیننا بالحق وانت خیر الفاتحین۔

خادم دین اللہ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری

مرقوم ٨؍ جمادی الثانی ١٣٤١ھ ۔ ٢٦؍ جنوری ١٩٢٣ء

عبداللہ الہ دین صاحب اپنے بھائیوں کو کہتے تھے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب صرف پبلک کو دھوکا دینے اور اپنی عزت قائم کرنے کے لئے بظاہر مرزا صاحب قادیانی کی تردید کرتے ہیں لیکن دل میں ان پر اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کو سچا مانتے ہیں اگر وہ مرزا صاحب کو دل سے جھوٹا مانتے ہیں تو مرزا صاحب کے کذب پر قسم کھائیں پھر دیکھئے سال کے اندر مر جائیں گے مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ وہ مرزا صاحب کے کذب پر ہرگز حلف نہ اٹھائیں گے عبداللہ الہ دین صاحب نے ایک معاہدہ باہمی کا مسودہ جو پہلے انہوں نے کر رکھا تھا ١٧؍ جنوری ١٩٢٣ء کو تینوں بھائیوں کے روبرو پیش کیا فریقین میں جو معاہدہ ہوا اس کا مضمون معہ نام فریقین درج ذیل ہے۔

فریق احمدی (مرزائی)۔ (١) عبداللہ الہ دین صاحب (٢) الہ دین ابراہیم صاحب (٣) جی ایم ابراہیم صاحب

فریق محمدی۔ (١) خانصاحب احمد الہ دین صاحب (٢) غلام حسین الہ دین صاحب (٣) قاسم علی الہ دین صاحب

معاہدہ منجانب احمدی فریق

ہیں اور نبی ہیں۔

صاحب (خلیفہ قادیان) ہیں ان کو مرزا صاحب کی صداقت کے بارہ میں منسلکہ حلف نامہ کے موافق قسم کے ساتھ دعاء کرنا چاہئے۔

صاحب کے دعوے جھوٹے سمجھے جائیں گے اور احمدیوں کی طرف سے عبداللہ الہ دین صاحب

١٤

صفحہ ١٤١

۔جی ایم ابراہیم صاحب اور الہ دین ابراہیم صاحب احمدیت سے توبہ کر کے غیر احمدی ہو جانے کے لئے قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

کے مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب بھی قبول کریں تو ایک سال تک نتیجہ کا انتظار کریں اگر مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان وفات پائیں اور مولوی ثناء اللہ صاحب حیات رہیں تو مرزا صاحب کو جھوٹا سمجھ کر تینوں احمدی صاحب جن کے نام اوپر درج ہوئے ہیں احمدیت سے توبہ کر کے غیر احمدی ہو جانے کے لئے خدا کی قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔ المرقوم ١٧؍ جنوری ١٩٢٣ء شرح دستخط عبداللہ دین شرح دستخط جی ایم ۔ ابراہیم شرح دستخط الہ دین ابراہیم

معاہدہ منجانب محمدی فریق

ہیں اور نہ نبی ہیں۔

کے ) جناب مولانا ثناء اللہ صاحب ہیں اور ان کو مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے کے بارہ میں منسلکہ حلف نامہ کے موافق قسم کے ساتھ دعا کرنا چاہئے۔

صاحب کے دعوے سچے سمجھے جائیں گے اور غیر احمدیوں کی طرف سے خان صاحب احمد الہ دین ۔ غلام حسین الہ دین اور قاسم علی الہ دین غیر احمدیت سے توبہ کر کے احمدی ہو جانے کے لئے قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

ان کے مخالف مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) بھی راضی ہو جائیں تو ایک سال تک نتیجہ کا انتظار کریں اگر مولوی ثناء اللہ صاحب وفات پائیں اور مرزا محمود احمد صاحب حیات رہیں تو مرزا صاحب کو سچے سمجھ کر ہم تینوں غیر احمدی بھائی جن کے نام اوپر درج ہوئے ہیں غیر احمدیت سے توبہ کر کے احمدی ہو جانے کے لئے خدا کی قسم کے ساتھ اقرار کرتے ہیں۔

اتنے عالموں کو مرزا محمود احمد صاحب کے مقابلہ میں کھڑا کر دیں گے اور ان کو قسم کھلائیں گے اور اگر

١٥

صفحہ ١٤٢

ہم تینوں بھائی کسی کو کھڑا نہ کر سکیں تو خدا کی قسم کے ساتھ احمدی ہو جانے کا اقرار کرتے ہیں۔ المرقوم ١٧/ جنوری ١٩٢٣ء شرح دستخط خاں صاحب احمد الہ دین شرح دستخط غلام حسین الہ دین شرح دستخط قاسم علی الہ دین عبداللہ الہ دین صاحب کا مجوزہ تحریری حلفنامہ جس پر خلیفہ قادیان نے دستخط کرنے سے گریز کیا:۔ عبداللہ الہ دین صاحب نے اپنے تحریری معاہدہ کے ساتھ حلفنامہ عبارت خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد صاحب کے لئے پیش کی تھی بجنسہ درج ذیل ہے آئندہ ناظرین کو معلوم ہو گا کہ ان کے خلیفہ قادیان نے اس عبارت کے موافق حلف نامہ لکھنے سے گریز کیا اور اپنے الفاظ میں دوسرے ہی قسم کا حلف نامہ لکھ دیا اور اس میں بھی مدت اور عذاب کے تعین (یعنی مجھ پر ایک سال کے اندر موت وارد کر) کو اڑا دیا یہ تعین ہی حلف نامہ کی جان تھی۔

حلف نامہ احمدی کی عبارت

بسم اللہ الرحمان الرحیم . نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! حلفیہ عبارت حسب ذیل ہے : میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی و دلائل کو بغور دیکھا اور سنا اور سمجھا اور اکثر تصانیف ان کی میں نے مطالعہ کیں اور عبداللہ الہ دین صاحب کا چیلنج انعامی دس ہزار روپیہ والا بھی بغور پڑھا میں نہایت وثوق اور کامل ایمان اور یقین سے یہ کہتا ہوں کہ مرزا صاحب کے تمام دعاوی و دلائل جو چودہویں صدی کے مجدد امام وقت مسیح موعود وامتی نبی ہونے کے ہیں وہ سب درست اور صحیح ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور وہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے نہیں گئے ہیں اور نہ اس جسم خاکی کے ساتھ وہ آسمان پر موجود ہیں اور نہ وہ آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے میرا پکا ایمان ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب ہی مسیح موعود اور مہدی مسعود و امتی نبی ہیں اور ان کے سب دعاوی و دلائل کتاب اللہ وصحیح احادیث کے ماتحت ہیں اگر میرے یہ عقائد خداوند تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے اور قرآن شریف وصحیح احادیث کے خلاف ہیں اور درحقیقت مرزا غلام احمد صاحب اپنے تمام دعوؤں میں خداوند تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں تو میں دُعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا جو تمام روئے زمین کا مالک واحد اور ہر چیز کے ظاہر و باطن کا تجھے علم ہے تمام قدرتیں تجھی کو حاصل ہیں تو قہار و غالب ومنتقم حقیقی ہے تو علیم و سمیع و بصیر ہے اگر میں اپنے اس

١٦

صفحہ ١٤٣

حلف نامہ میں محض ضد ۔ تعصب ۔ ہٹ دھرمی یا نا فہمی سے کام لے رہا ہوں مجھے ایک سال کے اندر موت دے تا کہ لوگوں پر صاف ظاہر ہو جائے کہ میں ناحق پر تھا اور حق وراستی کا مقابلہ کر رہا تھا جس کی پاداش میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا مجھے ملے ۔ آمین آمین آمین

حلف نامہ جس پر مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری نے دستخط کر دیئے :۔ مذکورہ بالا حلف نامہ کی عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تصدیق اور تسلیم کے متعلق جو الفاظ موجود ہیں بخلاف اس کے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے لئے خاں صاحب احمد الہ دین صاحب غلام محی الدین صاحب اور قاسم علی الہ دین کی جانب سے جو حلف نامہ کی عبارت پیش کی گئی تھی جس میں مرزا صاحب قادیانی کی تکذیب اور انکار کے متعلق الفاظ تھے بخطہ مولانا ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری نے مندرجہ ذیل حلف نامہ ٦ فروری ١٩٣٣ء کو لکھ دیا جو عبد اللہ الہ دین صاحب کے حوالہ کیا گیا تا کہ وہ اپنے خلیفہ قادیان مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے وہی حلف نامہ لکھوادیں۔

حلف نامہ تحریر کردہ مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلی علی رسوله الكريم ! میں ثناء اللہ ایڈیٹر اہلحدیث خدائے تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعاوی و دلائل کو بغور دیکھا اور سنا اور سمجھا اور اکثر تصانیف ان کی میں نے مطالعہ کیں اور عبداللہ الہ دین کا چیلنج انعامی دس ہزار روپیہ والا بھی بغور پڑھا مگر نہایت وثوق اور کامل ایمان و یقین سے یہ کہتا ہوں کہ مرزا صاحب کی تمام دعاوی و دلائل جو چودہویں صدی کے مجدد و امام وقت مسیح موعود و امتی نبی ہونے کے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور افترا و دھوکہ و فریب اور غلط تاویلات کی بنا پر ہیں برخلاف اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات نہیں پائے بلکہ وہ بجسد عنصری زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور ہنوز اس خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے اور وہی مسیح موعود ہیں اور مہدی علیہ السلام کا ابھی ظہور نہیں ہوا۔ جب ہو گا تو وہ امام مہدی حسب ضرورت تلوار اور جہاد سے کام لیں گے مرزا صاحب نہ مجدد وقت ہیں نہ مہدی ہیں نہ مسیح موعود ہیں نہ امتی نبی ہیں بلکہ ان غلط دعاوی کے سبب میں ان کو مفتری اور دجال سمجھتا ہوں اگر میرے یہ عقائد خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے اور قرآن اور صحیح احادیث کے خلاف ہیں اور مرزا غلام احمد صاحب اپنے تمام دعوؤں میں خدا تعالیٰ

١٧

صفحہ ١٤٤

کے نزدیک سچے ہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر ذوالجلال خدا جو تمام روئے زمین کا مالک واحد ہے اور ہر چیز کے ظاہر و باطن کا تجھے علم ہے تمام قدرتیں تجھی کو حاصل ہیں تو قہار و غالب منتقم حقیقی ہے تو علیم وقدیر و سمیع وبصیر ہے اگر میں اپنے اس حلف میں محض ضد و تعصب یا ہٹ دھرمی یا نا فہمی سے کام لے رہا ہوں تو تو مجھ پر ایک سال کے اندر موت وارد کر جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہوتا لوگوں پر صاف ظاہر ہو جائے کہ میں ناحق پر تھا اور حق و راستی کا مقابلہ کر رہا تھا جس کی پاداش میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا مجھے ملے ۔ آمین ۔ آمین ۔ آمین

سال ١؂ تمام ہو کر بھی میں زندہ رہا تو سچا سمجھا جاؤں گا خلیفہ قادیان اس کا اقرار کرے کہ بعد سال قادیانی مذہب سے تائب ہو کر بحکم خداوندی کونوا مع الصادقین میرے ساتھ قادیانی مذہب کی تردید کیا کریں ۔ مفصل یہ بات میں پبلک جلسہ میں اور اشتہار مورخہ ٦؍ فروری ١٩٢٣ء میں ظاہر کر چکا ہوں ۔ فقط شرح دستخط بقلم خود ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری

مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مذکورہ بالا تحریر کردہ حلف نامہ کے علاوہ دکن کے علمائے کرام نے بھی حسب منشاء محمدی فریق ٦؍ مارچ ١٩٢٣ء کو حلف نامہ لکھ دیا جو درج ذیل ہے۔

حلف نامہ تحریر کردہ علمائے کرام حیدر آباد دکن

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم !

ہم مقران خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا بالاتفاق اظہار کرتے ہیں کہ احادیث صحیحہ میں جس عیسیٰ ابن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام اور حضرت مہدی موعود کے آنے کا تذکرہ ہے اس کے لحاظ سے ہم حلفیہ لکھتے ہیں کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی نہیں ہے اس بارہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے جتنے دعوے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور افتراء دھوکا اور فریب اور غلط تاویلات کی بنا پر ہیں اور وہ مسیح موعود اور مہدی موعود اور چودہویں صدی کے مجدد اور امام وقت امتی نبی ہرگز ہرگز نہیں ہیں برخلاف اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات نہیں پائے بلکہ وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور ہنوز زندہ موجود ہیں اور وہی قبل قیامت آسمان سے اتریں گے اگر مرزا غلام احمد قادیانی در حقیقت اپنے تمام دعوؤں میں خدا تعالیٰ کے نزدیک سچے ہیں تو اے قادر ذوالجلال خدا جو تمام

١؂ یہ عبارت مولانا نے اپنی جانب سے بڑھائی ہے کیا اس کے مطابق خلیفہ صاحب اقرار کر سکتے ہیں؟ ہاں کر سکتے ہیں بشرطیکہ قادیانی مذہب سچا ہو۔

١٨

صفحہ ١٢٥

زمین و آسمان کا واحد مالک ہے اور ہر چیز کی ظاہر و باطن کا تجھے علم ہے اور تمام قدرتیں تجھ ہی کو حاصل ہیں تو ہی قہار و جبار اور غالب اور منتقم حقیقی ہے اور تو ہی علیم و خبیر اور سمیع و بصیر ہے پس ہم سب تجھ ہی سے دعا کرتے ہیں کہ ہم سب پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب اور ناحق مقابلہ کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی ایسی موت وارد کر کہ جس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو اور یہ کہ ہم میں سے کوئی ایک بھی باقی و محفوظ نہ رہے۔ تاکہ لوگوں پر صاف ظاہر ہو جائے کہ ہم ناحق پر تھے اور حق و راستی کا مقابلہ کر رہے تھے جس کی پاداش میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم سب کو یہ سزا ملی ہے اور اگر ہم میں سے کوئی ایک بھی باقی رہا تو ہم سب تیرے پاس سچے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ ثانی مرزا میاں محمود جو ہماری قسم کے مد مقابل ہیں جیسا کہ ہمارا دعویٰ ہے جھوٹے مفتری کافر دجال و خارج از اسلام ہیں۔ آمین ۔ آمین

عبداللہ الہ دین صاحب اور ان کے تینوں بھائی صاحبان کے مابین یہ معاہدہ ہوا ہے کہ اگر علمائے غیر احمدی میں سے چند علماء مندرجہ بالا حلف نامہ پر دستخط کر دیں گے تو اس کے مقابل مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان دوسرے حلف نامہ پر جس کا مسودہ علیحدہ ہے دستخط کر دیں گے اس حلف نامہ کا نتیجہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر غیر احمدی دستخط کنندہ کل علماء میعاد کے اندر فوت ہو جاویں گے تو عبداللہ الہ دین صاحب کے تینوں بھائی احمدی ہو جائیں گے اور اگر کل فوت نہ ہوں یا مرزا محمود احمد صاحب میعاد کے اندر فوت ہو جائیں تو عبداللہ الہ دین صاحب اور ان کے دونوں ماموں احمدیت سے توبہ کریں گے اور اگر دونوں فریق میں سے کوئی ایک بھی فوت نہ ہو یا فریق غیر احمدی میں سے کل فوت ہوں اور ایک بھی بچ رہے تب بھی عبداللہ الہ دین صاحب اور ان کے دونوں ماموں احمدیت سے تائب ہو جائیں گے۔

اس معاہدہ کی بنا پر ہم سب اس معاہدہ کے شرائط کے تحت اس حلف نامہ پر بخوشی دستخط کرتے ہیں لیکن اس حلف نامہ کے دستخط کا نفاذ اس تاریخ سے سمجھا جائے گا جس روز مرزا محمود احمد صاحب کا دستخط شدہ حلف نامہ غلام حسین الہ دین صاحب کے قبضہ میں آ جائے گا اور جس کی میعاد تاریخ ہٰذا سے زائد سے زائد ایک ماہ ہو گی۔ مرقوم ٦؍ مارچ ١٩٢٣ء

دستخط

مولوی عبدالحی واعظ حیدر آبادی، مولوی حکیم مقصود علی خان صاحب مہتمم شفاخانہ یونانی، مولوی خدا داد خان صاحب، مولوی مناظر احسن گیلانی پروفیسر جامعہ عثمانیہ، مولوی ابوالفدا نور محمد صاحب صدر مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی۔ مولوی تاج الدین شاہ قادری، مولوی سید عبدالرؤف دہلوی،

١٩

صفحہ ١٤٦

مولوی محمد عبدالغفور صاحب حیدر آبادی، مولوی محمد عبدالقدیر صاحب قادری صدیقی پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ شعبہ دینیات، مولوی محمد عبدالرحمن حیدر آبادی، مولوی محمد عمر حیدر آبادی، مولوی سید محمد بادشاہ الحسینی القادری واعظ مکہ مسجد حیدر آباد، مولوی سید حسین رائے بریلوی، مولوی سید ابراہیم مددگار پروفیسر جامعہ عثمانیہ، مولوی سید شاہ مصطفیٰ قادری، مولوی نظام الدین قادری، مولوی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن۔

عبداللہ الہ دین صاحب کا اپنے پیش کردہ خلیفہ قادیان سے دستخط حاصل

کرنے میں ناکامیابی

مذکورہ بالا حلف ناموں کے مقابل عبداللہ الہ دین صاحب احمدی سکندر آبادی نے قادیان پہنچ کر مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان سے جو حلف نامہ لکھوا کے اپنے محمدی بھائیوں کے پاس ١٨؍ اپریل ١٩٢٣ء کو پیش کیا اس کی نقل درج ذیل ہے۔ اس کے ملاحظہ سے ناظرین اندازہ فرمالیں گے کہ اس میں کس قدر کمزوری ہے اور لطف یہ کہ عبداللہ الہ دین صاحب احمدی اپنے اقرار و معاہدہ کے مطابق اپنی خود پیش کردہ عبارت میں خلیفہ قادیان کا حلف نامہ حاصل نہ کرسکے ان کو اور اُن کے خلیفہ قادیان کو کیا مجبوری پیش آئی کہ عبداللہ الہ دین صاحب کی ترتیب دی ہوئی عبارت حلف نامہ بالکل لاپتہ ہوگئی اس سے قادیانیوں کا فرار ثابت ہے۔

حلف نامہ تحریر کردہ خلیفۂ قادیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم . اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم . نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! خدا کے فضل وکرم کے ساتھ۔ھوالناصر خلیفۂ قادیان کا عبداللہ الہ دین کے مرتب شدہ حلفنامہ پر دستخط کرنے کے بجائے دوسرا حلفنامہ لکھنا جو معاہدہ کے خلاف ہے:۔ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ تمام مخلوق کا نیک اور بد اس کے اختیار میں ہے اور وہ جس کو چاہے ترقی دے اور جسے چاہے زندہ کرے اور جسے چاہے مارے مؤکد بہ عذاب قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی مسعود کہتا ہوں اور اس پر مجھے کامل یقین ہے میرے نزدیک وہ اپنے دعویٰ میں سچے اور راستباز تھے اور خدا تعالیٰ کی وحی کے مہبط تھے اور اس کے مامور اور مرسل تھے۔ اگر میں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں یا

٢٠

صفحہ ١٤٧

اخفاء سے کام لیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا غضب مجھ پر نازل ہو اور وہ کوئی عبرت ناک سزا مجھے دے اے خدا تو اپنے بندوں پر رحم فرما اور ان پر حق کھول دے اور سچائی کے قبول کرنے کے لئے ان کے دلوں کو فراخ کر دے۔ شرح دستخط خاکسار مرزا محمود احمد ۔ امام جماعت احمدیہ

ناظرین! انصاف فرمائیں کہ محمدی فریق نے معاہدہ کی پوری پابندی کی مگر احمدی فریق عبداللہ الدین صاحب کو اس میں کامیابی نہ ہوئی (اول) ایک تو حلفنامہ کی تبدیلی کر دی (دوم) اس میں سال کی مدت کا ذکر چھوڑ دیا (سوم) موت کا نام تک نہیں لیا۔ ہائے افسوس! موت دوسروں کے حق میں کیسی آسان چیز ہے مگر اپنے لئے کیسی خوفناک ہے کہ ذرا کوئی مخالف بولا تو اسے مباہلہ کا نوٹس دے دیا کہ آؤ مباہلہ کر لو یہ بھی دھمکی ساتھ ہی ساتھ سنادی کہ مباہلہ کے بعد سال تک ضرور مرو گے مگر جب اپنے پر وارد ہوئی تو موت کا نام تک نہیں لیا۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ”ولن یتمنوہ ابداً بما قدمت ایدیہم“ خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد صاحب نے اپنا مذکورہ بالا حلف نامہ جس خط کے ساتھ عبداللہ الدین صاحب سکندر آبادی کے حوالہ کیا اس خط کی نقل بجنسہ ذیل میں درج کی جاتی ہے جس سے ہمارے بیان کی تصدیق ہوگی کہ لفظ مباہلہ قادیانی امت کا تکیہ کلام ہے۔

مکرمی سیٹھ صاحب۔ السلام علیکم

یہ حلف لکھ کر میں بھیجتا ہوں حلف سے صرف اس امر کا پتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی شخص لوگوں کو دھوکا نہیں دیتا اور جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے اصل حقیقت کے انکشاف کے لئے مباہلہ ہوتا ہے پس آپ یہ میری حلف ان لوگوں کے سامنے رکھ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ اگر وہ پورا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر مباہلہ کریں اور اس کے لئے ہم یہاں سے بھی آدمی بھیج سکتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کو بھی اجازت دے سکتے ہیں جس طرح وہ چاہیں گے کر دیں گے اور اگر دہلی میں آکر مباہلہ کرنا چاہیں تو میں خود وہاں جاکر ان لوگوں سے بشرطیکہ وہ اس حیثیت کے ہوں کہ ان کی ہلاکت حیدرآباد پر عام اثر پیدا کرنے والی ہو اور وہ اہلحدیث اور حنفی سب جماعتوں میں سے ہوں مباہلہ کر سکتا ہوں۔ شرح دستخط خاکسار مرزا محمود احمد

ناظرین کرام! قادیانی امت کے داؤ پیچ کو سمجھنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ ان کے لئے فاتح قادیان مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری جیسا استاد چاہئے۔ خلیفہ قادیان کے تحریر کردہ حلف نامہ سے ناظرین پر واضح ہوگا کہ عبداللہ الدین صاحب نے اپنے معاہدہ کی پابندی نہیں کی جبکہ ان کے خلیفہ نے پیش کردہ عبارت میں حلف نامہ نہیں لکھا اور پھر الفاظ ”مجھ پر

٢١

صفحہ ١٤٨

ایک سال کے اندر موت وارد کر“ بھی حذف کر دیئے جس کی وجہ سے ان کا حلف نامہ بالکل مہمل اور نا قابل قبول ہو گیا تو حسب اقرار عبداللہ الدین، ابراہیم الدین اور جی ۔ ایم ابراہیم صاحبان کو چاہئے کہ قادیانی مذہب کو ترک کر دیں اور مرزائیت سے تائب ہو کر سچے محمدی بن جائیں۔ عبداللہ ، الدین صاحب وغیرہ احمدی عرصہ دراز تک اس بات پر زور دیتے رہے کہ حق و باطل کے انکشاف کے لئے فریقین مجوزہ عبارت میں حلف نامہ لکھ دیں جس میں ایک سال کے اندر موت وارد ہونے کا ذکر ہو۔ اس کے مطابق محمدی فریق نے تو ایسے حلف نامہ کی تکمیل کرا دی مگر مرزائی فریق کو اس میں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ خلیفہ قادیان نے اپنے حلف نامہ میں ایک سال کے اندر موت وار د ہونے کی عبارت لکھنے سے صاف گریز کیا جبکہ مرزائیوں نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو انہیں چاہئے تھا کہ احمدیت (مرزائیت) سے توبہ کرتے بخلاف اس کے مباہلہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر اب بھی عبداللہ الدین صاحب وغیرہ اپنے اقرار کے مطابق خلیفہ قادیان سے اپنی اپنی پیش کردہ عبارت میں حلف نامہ لکھوا دیں تو وہ سچے سمجھے جائیں گے ان کے قول و فعل پر اعتبار ہو سکے گا البتہ اس کے بعد علمائے حیدرآباد مباہلہ پر بھی آمادہ ہوں گے کیونکہ جب مرزائیوں نے حلف نامہ کے متعلق معاہدہ کی پابندی نہیں کی تو آئندہ کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ وہ مباہلہ کے شرائط پر قائم رہیں گے۔ تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ پہلو بدلا کرتے ہیں۔ آخر میں ہم یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ خلیفہ قادیان کے مندرجہ بالا خط کے مطابق نہ صرف حیدر آباد بلکہ دنیا بھر کے مشہور و معروف علماء بھی جمع ہو کر خلیفہ قادیان یا مرزائی علماء کے مقابلہ میں مباہلہ کر لیں اور مدت معینہ میں کوئی اثر ظاہر نہ ہو۔ یعنی کسی کی موت نہ آئے تو قادیانی امت اپنی خفت مٹانے کو فوراً یہ کہنے لگے گی کہ یہ لوگ دل میں ڈر گئے توبہ اور رجوع کیا اور خشیۃ اللہ کو اپنے دل میں داخل کیا اور در باطن مرزا صاحب پر ایمان لائے وغیرہ وغیرہ۔ جیسے کہ مرزا صاحب قادیانی آنجہانی نے اپنی منکوحہ آسمانی کے حقیقی شوہر مرزا سلطان محمد صاحب سلمہ اللہ اور پادر آتھم کے نسبت باتیں بنائی تھیں۔

کوئی بھی بات مسیحا تری پوری نہ ہوئی
یہی بس ہے تری پہچان رسول قدنی

قادیانی مباحثہ دکن

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ جنوری ١٩٣٣ء میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان سکندر آباد دکن

٢٢

صفحہ ١٤٩

تشریف لائے اور مرزائیوں کی تردید میں بمقام سکندرآباد و حیدرآباد دھواں دھار تقریریں فرمانے لگے۔ عبداللہ الدین صاحب نے قادیان سے مولوی شیخ عبدالرحمٰن صاحب کو بلایا۔ تمام مسلمانان حیدرآباد و سکندرآباد یہ چاہتے تھے کہ قادیانی مذہب کے متعلق فریقین کے علماء جلسہ عام میں مباحثہ کریں مگر سرکاری اجازت نہ ملنے سے لوگوں کی آرزو دل ہی دل میں رہ گئی۔ البتہ ٣١؍ جنوری ١٩٢٣ء کو علاؤ الدین بلڈنگ میں ایک مختصر سے جلسہ میں بصدارت جناب ہمایوں مرزا صاحب بیرسٹر صرف ایک روز مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب اور مولوی شیخ عبدالرحمٰن صاحب قادیانی میں تحریری مباحثہ ہوا جس میں شیر پنجاب مولانا ثناء اللہ صاحب نے مرزا صاحب کی اُس پیشگوئی کو جو انہوں نے محمدی بیگم منکوحہ آسمانی اور اس کے حقیقی شوہر مرزا سلطان محمد صاحب کے نسبت کی تھی غلط ثابت کر دکھایا اس پیشگوئی کے غلط ہونے سے مرزا صاحب کی نبوت بھی باطل ہوگئی۔ یہ مباحثہ انجمن ہٰذا کی جانب سے طبع ہوا ہے جو دفتر انجمن اہل حدیث سکندرآباد سے مفت مل سکتا ہے۔ اس مباحثہ میں جو علمائے کرام تشریف فرما تھے اور جنہوں نے اس کی نسبت جو رائے دی ہے وہ بجنسہ درج ذیل ہے۔

”بسم الله الرحمٰن الرحيم. الحمد لله والصلوٰة والسلام علیٰ عباده الذين اصطفیٰ۔

مباحثہ ہٰذا پر علماء کرام کی رائیں

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور شیخ عبدالرحمٰن صاحب احمدی میں جو مناظرہ بتاریخ ٣١؍ جنوری ١٩٢٣ء سکندرآباد میں ہوا۔ زمرۂ سامعین میں ہم لوگ بھی شریک تھے۔ دونوں فریق کی گفتگو سننے کے بعد ہم لوگ جس نتیجہ تک پہنچے ہیں وہ حسب ذیل ہے۔

بحث اس میں تھی کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنے الہامی دعویٰ میں سچے تھے یا نہیں؟ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا صاحب کی حسب ذیل عبارت پیش کی۔

”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣١)

اس کے بعد مرزا صاحب نے اپنا آخری فیصلہ ان لفظوں میں درج کیا ہے کہ:

”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی“

(ایضاً)

٢٣

صفحہ ١٥٠

مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے بعد یہ بیان دیا:

احمدی جماعت نے اُن کے اس بیان کو تسلیم کیا۔ اس لئے ہم لوگ نہایت آسانی کے ساتھ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ مرزا صاحب اپنے قول کے موافق جھوٹے ہیں اور یہی مولوی ثناء اللہ صاحب کا دعویٰ تھا۔ اگرچہ اس کے بعد احمدی مناظر نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بجائے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خود مرزا صاحب کے اقوال و یقینیات کی تردید میں مصروف تھے: مثلاً مرزا صاحب اپنی پیشگوئی کے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ:

”میری سچائی کے جانچنے کے لئے میری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے تمہید میں ان کے اس نظریہ کا ذکر بھی کر دیا تھا لیکن احمدی مناظر نے خدا جانے کیوں اس کی تردید کی ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

”پیشگوئی اصل چیز نہیں“

مرزا صاحب تو پیشگوئی کو سب سے بڑھ کر محک امتحان خیال کرتے تھے لیکن ان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پیشگوئی سے کھرے کھوٹے کا امتیاز مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:

”پیشگوئی کا ایسا پورا ہونا جس سے غیب کا پردہ اُٹھ جائے ناممکن ہے۔“

حتیٰ کہ سب سے بڑھ کر محک امتحان کو انہوں نے متشابہات میں داخل کر دیا۔ اسی طرح مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کو ”تقدیر مبرم“ قرار دیا تھا لیکن ان کے وکیل نے اسے مشروط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ قطع نظر اس سے کہ یہ خود مرزا صاحب کی تردید تھی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے جب شرائط کی تشریح پوچھی تو انہوں نے ایسی عبارتیں پیش کیں جن سے کسی اور شرط کا بالکل پتہ نہیں چلتا اور زبردستی وہ مرزا صاحب کی بعض عبارتوں سے شرط پیدا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبارت اس سے اباء کر رہی تھی آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر اسے ”تقدیر مبرم“ بھی مان لیا جائے تب بھی اس کا ٹلنا مشکل نہیں۔ ثبوت میں انہوں نے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ”تقدیر مبرم“ کی قسم ٹل سکتی ہے عبارت مانگی گئی تو انہوں نے دینے سے انکا ر کیا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہاں تک کہا کہ اگر یہ عبارت مجدد صاحب کے کلام میں نکل

٢٤

صفحہ ١٥١

آوے تو میں اپنے تمام دعوؤں سے باز آجاؤں گا۔ لیکن اس پر بھی ان کو انکار پر اصرار رہا۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ مجدد صاحب کے کلاموں میں ہم لوگوں کے نزدیک بھی ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔ من ادعی فعلیہ البیان.

علاوہ اس کے گفتگو سے بھی یہ بات غیر متعلق تھی۔ سوال تو یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت کے ساتھ مرزا صاحب کی صداقت وابستہ تھی جب وہ نہ مرا تو ان کی صداقت بھی قطعی ہوا ہوگئی۔ ہم لوگوں کو اس پر سخت حیرت ہوئی کہ جب سلطان محمد مرزا صاحب کی دھمکیوں سے اعراض کر کے ان کی منکوحہ آسمانی پر قابض رہا اور ان کے الہام کے مقابلہ میں اس نے استقلال کے ساتھ احمد بیگ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھا۔ تو پھر اس کے توبہ کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب خط دیکھا گیا تو اس میں سلطان محمد نے کچھ بھی نہیں لکھا تھا نہ اس نے مرزا صاحب کو ”نبی مانا ہے“ ”نہ مسیح نہ مہدی“ کچھ بھی نہیں بلکہ اس نے یہ جملہ لکھ کر کہ ”پہلے بھی جو خیال کرتا تھا وہی اب سمجھتا ہوں“ خط کے الفاظ میں ایک دوسرے معنی پیدا کر دیئے۔ مثلاً اس نے مرزا صاحب کو شریف النفس نیک وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔ اور کہتا ہے ان کو ہمیشہ یہی سمجھتا رہا ہوں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی سے نکاح کرنے کے وقت اور مرزا صاحب کی دھمکیوں کے بعد نکاح کو قائم رکھنے کے وقت کیا وہ مرزا صاحب کو اس معنی میں نیک سمجھتا تھا۔ جس معنی سے مرزائی سمجھتے ہیں؟ کس قدر عجیب ہے کہ ایک شخص کسی کو موت کی بددعا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد تیری بیوی سے میں نکاح کروں گا اور ایسے شخص کو نیک، شریف بھی خیال کرتا ہو۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ بیان کہ اس خط میں تعریضی چوٹیں ہیں بالکل صحیح ہے۔ اور ان الفاظ کے وہی معنی ہیں جو اس شعر میں ہیں۔

بڑے پاک باطن بڑے صاف دل
ریاض آپ کو کچھ ہم ہی جانتے ہیں

بہر حال اگر مرزا صاحب کی پیشگوئی کو مبرم نہیں بلکہ مشروط بھی مان لیا جائے یا مبرم کے ٹل جانے کو بھی بفرض محال تسلیم کر لیا جائے اور اخیر میں پھر اس خط کو بھی سلطان محمد کا صحیح سمجھ لیا جائے۔ اگرچہ اس کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا۔ پھر بھی توبہ کا ثبوت نہیں ملتا۔ اور ہر حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کا فیصلہ ”قضی الرجل علی نفسہ“ (مرزا صاحب اپنا فیصلہ خود کر کے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں) بالکل صحیح ہے۔ الہام کا دعویٰ خود مرزا صاحب نے کیا تھا۔ حجت انہی کی بات ہو سکتی ہے دوسروں کو اس میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

٢٥

صفحہ ١٥٢

دستخط حکیم مقصود علی خان ۔ دستخط محمد عبدالقدیر صدیقی پروفیسر جامعہ عثمانیہ۔ دستخط محمد عبدالواسع پروفیسر کلیہ جامعہ عثمانیہ ۔ دستخط عبدالحق پروفیسر جامعہ عثمانیہ ۔ مناظر احسن گیلانی پروفیسر کلیہ عثمانیہ ۔ ابوالفدا نور محمد مدرس مدرسہ دینیات سرکار عالی ۔ سید محمد بادشاہ قادری ۔ مولوی محمد بن ابراہیم دہلوی ۔ مولوی محمد امین پنجابی ۔ مولوی الہ داد خان ۔ مفتی عبداللطیف پروفیسر جامعہ عثمانیہ ۔ حکیم شیخ احمد ۔

......☆......

خدا کی قسم

میں مرزا صاحب قادیانی کو الہامی دعویٰ میں سچا نہیں مانتا

حسب تعلیم مرزا صاحب قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے کہ مرزا صاحب کی نبوت آنحضرت کی نبوت کا بروز ہے۔ بلکہ بشکل ثانی ہو بہو خود آنحضرت ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١ طبع اول ۔ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٣)

اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ نبوت قادیان کے خدوخال بعینہ وہی ہوتے جو نبوت محمدیہ کے تھے مگر یہ جماعت یورپین ڈپلومیسی (عیاری) کی کچھ ایسی خوگر ہوگئی ہے کہ کسی اصول پر نہیں ٹھہرتی۔ آج ہم ان کی ایک خاص کارستانی کو ذرہ کھول کر بیان کرنا چاہتے ہیں جسے یہ لوگ ١٩٢٣ء سے سیٹھ عبداللہ الہ دین سکندرآبادی کے نام سے شائع کر رہے ہیں۔ اس کی ابتدا اس زمانہ سے ہوئی ہے جب میں حیدرآباد دکن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے مجھ سے مرزا صاحب کے کذب پر حلف اٹھانے کا شدید تقاضا کیا۔ چنانچہ ان کے مطالبۂ حلف پر میں نے تحریری اور تقریری دونوں طرح سے حیدرآباد ہی میں دے دیا تھا۔ مگر قادیانی اور خاموشی؟

ع ضدّان مفترقان ایّ تفرقٍ

آج کل انہوں نے پھر اس سلسلہ کو جاری کر رکھا ہے اس لئے میں بھی آج ذرہ تفصیل سے اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں امید ہے کہ قادیانی اہل قلم اپنے علم و دیانت سے کام لے کر ہمارے مضمون کا جواب شرعی دلائل کی روشنی میں دیں گے۔ پس وہ غور سے سنیں:

سیدالانبیاء علیہم السلام نے اپنے کسی منکر رسالت کو حلف نہیں دیا۔ منکرین رسالت کے الفاظ سادہ

٢٦

صفحہ ١٥٣

الفاظ میں قرآن میں منقول ہیں جیسا کہ ارشاد ہے (١) ”وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا“ (الرعد:٤٣) منکر کہتے ہیں کہ تم رسول نہیں ہو۔ (٢) ”قَالُوْا مَآ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا“ (پ١٣ ع١٤) (منکروں نے پیغمبروں سے کہا کہ تم ہمارے جیسے آدمی ہو)

اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں جو منکرین کا انکار سادہ الفاظ میں بتا رہی ہیں۔ ایسے منکرین سے انبیاء اور ان کے اتباع نے کبھی قسم کا مطالبہ نہیں کیا۔

پھر تم کون؟ منکر نبوت سے مطالبہ حلف کرنے والے کوئی دلیل تو پیش کرو۔ تاہم بطور ارخائے عنان (احساناً) ہم نے مرزا صاحب کی تکذیب پر کئی بار حلف اٹھایا۔ سب سے پہلے قادیان میں بموقع جلسہ اسلامیہ ١٩٢١ء میں حلف اٹھایا۔ چنانچہ اخبار الفضل ٤؍اپریل ١٩٢١ء میں اس کا ذکر موجود ہے کہ:

”مولوی ثناء اللہ نے قسم کھا کر کہا کہ مرزا صاحب اپنے دعویٰ الہام میں جھوٹے ہیں“

اس کے بعد میں نے اخبار اہلحدیث ٢٨؍ اپریل ١٩٢٦ء میں ایک حلفیہ مضمون لکھا۔ جس کو بصورت اشتہار بھی شائع کیا گیا۔ جس کی سرخی یہی تھی جو آج کے مضمون کی ہے۔ چونکہ قادیانی جماعت اپنے اندر کا پول خوب جانتی ہے اس لئے وہ سمجھتی ہے کہ ہر ایک سچا مومن مرزا صاحب کے کذب پر حلف اٹھا لے گا اس لئے وہ اس کمزوری کو مضبوطی سے بدلنے کے لئے یہ پیچ لگاتی ہے کہ حلف کے ساتھ ایک سالہ مدت کی شرط بھی لگاؤ یعنی میں (حلف اٹھانے والا) یہ بھی کہوں کہ میں اگر جھوٹا ہوں تو ایک سال کے اندر مر جاؤں۔

سیٹھ عبداللہ الہدین سکندر آبادی نے مجھ سے اسی قسم کے حلف کا مطالبہ کیا تھا۔ چونکہ اس شرط کا ثبوت بھی شرع میں نہیں بلکہ یہ محض لغو اور دفع الوقتی ہے اسی لئے میں نے اس شرط کی تکمیل کے طور پر مزید یہ شرط لگائی کہ:

”میں تمہارے لفظوں میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں بشرطیکہ تم (عبداللہ) اور خلیفہ قادیان یہ لکھ دو کہ حلف اٹھانے کے ایک سال بعد اگر میں (ثناء اللہ) زندہ رہا تو تم دونوں مرزا صاحب قادیانی کو جھوٹا سمجھو گے“ اس شرط کو انہوں نے منظور نہیں کیا۔

ناظرین کرام! اس مہذب جماعت (حواریان مسیح) سے کوئی پوچھے کہ تمہیں کس آسمانی کتاب یا زمینی عدالت اعلیٰ (ہائیکورٹ) سے یہ اختیارات مل گئے ہیں کہ تم تو جو شرطیں چاہو لگاتے جاؤ مگر فریق ثانی کی کوئی بات بھی نہ سنو۔ چاہے وہ کتنی ہی معقول ہو۔

دیکھئے منکر رسالت کو حلف دینے کا ثبوت اگرچہ قرآن حدیث میں نہیں ملتا مگر تمہاری

٢٧

صفحہ ١٥٤

خاطر ہم نے اس کو بھی مان لیا بلکہ پورا کر دیا۔ اب جو تم لوگ ایک سال تک زندہ رہنے کی قید لگاتے ہو حالانکہ اس کا ثبوت بھی شرع میں نہیں ملتا۔ مگر تمہاری خاطر ہم اسے بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن ایک شرط کے ساتھ جو نہایت معقول اور مستحسن ہے وہ یہ ہے کہ اگر میری زندگی ایک سال سے تجاوز کر جائے تو تم لوگ اپنی جانب کو جھوٹا سمجھو گے۔ آؤ میں تم کو اس کے ثبوت میں صحیح حدیث سے ایک واقعہ سناؤں اگر راست گوئی اور راست پسندی کو تم لوگ اچھا سمجھتے ہو تو اس حدیث پر غور کرو۔ پس سنو اور دل کے کانوں سے پردہ اٹھا کر سنو اور اس دن کے خوف کو دل میں جگہ دے کر سنو جس کا نقشہ قرآن مجید ان الفاظ میں بتاتا ہے۔

"يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْئًا" (جس دن کوئی دوست دوست کے کام نہ آئے گا۔)

واقعہ مذکورہ سورۂ روم کی آیت اول میں ہے۔ توجہ سے پڑھو جس کے الفاظ یہ ہیں:

الٓمّ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ۔

(الروم : ١ تا ٤)

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ رومی مغلوب ہونے کے بعد بضع سالوں میں غالب آ جائیں گے۔ بضع کا لفظ نو تک بولا جاتا ہے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قریش نے کہا کہ بضع کی مدت کو متعین کر کے ہمارے ساتھ شرط لگاؤ۔ اگر اس مدت میں رومی غالب آگئے تو تو سچا ٹھہرے گا ورنہ شرط ہار کر جھوٹا قرار پائے گا۔

صدیق اکبرؓ نے اپنے فہم سے چھ سال کی مدت مقرر کر دی جب رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر سنی تو فرمایا کہ صدیق! تو جانتا ہے کہ تیری زبان میں لفظ بضع کا اطلاق نو (٩) تک ہوتا ہے پھر چھ سال کی مدت کیوں ٹھہرائی؟ چنانچہ نتیجہ یہی ہوا کہ رومی لوگ چھ سال کے عرصہ میں غالب نہ آئے۔ تب حضرت صدیقؓ نے اپنی شرط پوری کر دی یعنی جو کچھ دینا مقرر کیا تھا دے دیا۔

اس حدیث سے ہمارا استدلال یوں ہے کہ میعاد مقررہ گزرنے پر صدیق اکبرؓ نے اپنی ہار مان لی اور جو شرط لگائی تھی وہ پوری کر دی۔ گو آپ کے اس فعل سے قرآن مجید کی پیشگوئی پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔

قادیانی ممبرو! آؤ اپنے معاملے کو اس حدیث پر رکھو تم میری موت کے لئے ایک سال مدت کی قید لگاتے ہو میں اس میعاد کو منظور کرتا ہوں مگر اتنا کہتا ہوں کہ ایک سال گزرنے کے بعد اگر میں ا یک دن بھی زیادہ زندہ رہا تو تم لوگ بھی مرزا صاحب کے دعوے کا کذب تسلیم کر لینا ورنہ اس حدیث کا جواب دو جو عملاً موقوف ہے اور عذراً مرفوع ہے۔

٢٨

صفحہ ١٥٥

یاد رکھو! اہلحدیث تمہاری بھول بھلیوں میں نہیں پھنسے گا۔ اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اس میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں تمہارے طرز عمل کا کافی تجربہ ہے۔

چنانچہ اپریل ١٩١٢ء میں تم نے لدھیانہ میں ہمارے ساتھ انعامی مباحثہ کیا اور مسلمہ ثالثوں کے فیصلہ کے مطابق ہم نے تم سے انعام جیت لیا۔ مگر تم تو یہ کہہ کر پھر کھڑے ہو گئے کہ یہ کام منشی قاسم علی کا ذاتی فعل تھا جس کے متعلق اس نے خلیفہ صاحب سے اجازت حاصل نہیں کی تھی اس لئے یہ ساری جماعت پر حجت نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک اسی طرح اس حلف کے متعلق بھی تم یہی کہو گے کہ یہ فعل سیٹھ عبداللہ الدین کا ذاتی ہے ساری جماعت پر حجت کیونکر ہو سکتا ہے؟

ہماری دریادلی :۔ ملاحظہ ہو کہ سیٹھ عبداللہ الدین اس حلف پر ہم کو ساڑھے دس ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ دیتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ اگر ہم ان کے تجویز کردہ الفاظ میں حلف اٹھا لیں تو وہ پانسو روپیہ ہم کو اسی وقت اور سال بھر تک زندہ رہنے کی صورت میں مزید دس ہزار روپیہ انعام دیں گے مگر ہم اس دس ہزار بلکہ بیس ہزار پر بھی لات مارتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی حسب معمول درشت کلامی وسخت گوئی کے ماتحت یہی کہیں گے کہ علماء کا کیا ہے یہ لوگ تو پیسے کے مرید ہیں ان کو سچ اور جھوٹ سے کیا مطلب؟

اس لئے ہم محض اظہار حق کے لئے ان کے پیش کردہ الفاظ میں بھی حلف اٹھانے کو تیار ہیں بشرطیکہ سیٹھ عبداللہ الدین ہمیں لکھ دیں کہ حلف اٹھا کر مولوی ثناء اللہ ایک سال کے بعد زندہ رہے تو میں قادیانی مذہب چھوڑ دوں گا اور خلیفہ قادیانی بحیثیت خلیفہ کم سے کم اجازتی دستخط کردیں کہ میں سیٹھ صاحب کے اس معاہدے کی اجازت دیتا ہوں اور اس کو جائز رکھتا ہوں۔

قادیانی ممبرو! انصاف سے بتاؤ کہ کیا شرط کی ہر دو جانب (نفی اور اثبات) ایک ہی اثر پیدا کرتی ہیں یعنی حلف اٹھانے کی صورت میں ایک سال کے اندر مر جاؤں تو بھی جھوٹا ٹھہروں اور بحکم خدا ایک سال گزار کر زندہ رہوں تو بھی جھوٹا قرار دیا جاؤں۔

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

حاجی عبداللہ صاحب! مذہبی معاملے میں آخری تعلق خدا سے ہے جہاں بھول بھلیاں کام نہیں آتیں گی۔ سیدھی بات ہے کہ میں مرزا صاحب کی نبوت اور منصب مسیحیت کا مکذب ہوں اور اس تکذیب پر اپریل ١٩٢١ء سے حلف اٹھاتا چلا آیا ہوں اور آج اسی مضمون کی سرخی میں بھی میرا حلف

٢٩

صفحہ ١٥٦

موجود ہے ان سب شرارتوں کی وجہ سے میں بقول آپ کے مورد عتاب الہی ہوں مگر واقعہ یہ ہے کہ میں بفضلہ تعالٰی اب تک زندہ ہوں اور میرے مخاطب قادیانی نبی مرزا صاحب کو باوجود مقابلہ کے طور پر میری موت کی پیشگوئی کرنے کے دنیا سے کوچ کئے ہوئے اکتیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے پھر کیا آپ لوگوں کو کسی مزید حلف کی ضرورت باقی ہے اگر آپ جواب میں ہاں کہیں گے تو میری طرف سے یہی فرمان خداوندی سنا دینا کافی ہو گا:- اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ (یونس: ٩٦)

نہیں وہ قول کا پکا ہمیشہ جل دے دے کر
جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

(نوٹ) احباب اگر اس مضمون کو مفید سمجھیں تو اسے بکثرت شائع کر کے ثواب حاصل کریں۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔

خادم دین المتین ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

(منقول از اخبار اہلحدیث امرتسر ٢٩ مارچ ١٩٤٠ء ص ٥-٦)

٭٭٭٭٭

٣٠

PDF 157

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

یہ آپؐ کا ہی وصف خاص ہے ، سب سے آخر میں آئیں حضور

تعلیمات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ١٥٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً !

تعلیمات مرزا

پہلے مجھے دیکھئے

دیباچہ

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی آج پنجاب میں خصوصاً اور ہند میں عموماً بلکہ بیرون ہند بھی زبان زد عام و خاص ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ میں مہدی مسعود اور مسیح موعود ہوں‘ خدا سے ہمکلام ہوں‘ نبی ہوں‘ رسول ہوں۔ اس کے سوا انہوں نے کوئی شرعی حکم ایجاد نہیں کیا۔ بلکہ احکام شرعیہ سابقہ ہی پر عمل کرتے اور بتاتے رہے۔ ہاں! ساری عمر ان کی محض اپنی شخصیت منوانے میں گزری‘ یہی کہتے رہے کہ میری دعوت کا قبول کرنا ہر مسلمان بلکہ ہر انسان پر فرض ہے۔ چونکہ انہوں نے سب دنیا کو اپنی طرف بلایا اور ایمان لانے کی دعوت دی۔ لہذا سب لوگوں نے ان کے دعویٰ کو جانچنے پر توجہ کی بہت سی کتابیں لکھیں‘ مباحثات کئے‘ کسی صاحب نے حیات مسیح پر کتابیں لکھیں‘ کسی نے آثار قیامت پر۔ خاکسار نے جو کچھ لکھا اس کا بیشتر حصہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کے متعلق ہے۔ یہ رسالہ بھی اسی قسم سے ہے۔ اس رسالہ میں پانچ ابواب ہیں۔ جن میں پانچ مضمون درج ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں : (١)...... صفات مرزا (٢)...... اختلافات مرزا (٣)...... کذبات مرزا (٤)...... نشانات مرزا (٥)...... اخلاق مرزا۔

ناظرین سے استدعا ہے کہ رسالہ ہذا کو پڑھ کر اپنے بھٹکے ہوئے انسانی برادران (مرزائیوں) کو صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں۔ وہ ضد کریں تو ان کے حق میں دعائے خیر کریں کہ خدا ان کو غلطی سے نکالے۔

٢

صفحہ ١٥٩

نوٹ : مرزائی اخبار اور مرزائی لیڈر خاکسار کو اپنا بد ترین دشمن لکھا اور کہا کرتے ہیں۔ میں اس کے جواب میں کہا کرتا ہوں۔ میں دشمن نہیں بلکہ مرزا قادیانی اور امت مرزائیہ کا آخری مبلغ ہوں جو کلام مرزا کو ناواقفوں تک بے تنخواہ پہنچاتا ہوں۔

ناظرین اس رسالہ کو بغور پڑھ کر امید ہے میرے دعویٰ کی تصدیق کریں گے۔

”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم“ طباعت کے بعد اس رسالہ کا اثر عوام پر جتنا ہوا اتنا ہی اتباع مرزا کو صدمہ ہوا۔ اس لئے انہوں نے اس کا جواب لکھا۔ جس کا نام ہے۔ ”تجلیات رحمانیہ“ مصنف کا نام ہے۔ مولوی اللہ دتہ جالندھری مبلغ قادیان۔

طبع ثانی کتاب ہٰذا میں اس جواب کا جواب الجواب بھی دیا گیا ہے۔ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں۔

احباب کرام ! یہ رسالہ جملہ تصانیف متعلقہ مشن قادیان سے مفید تر ہے۔ آپ صاحبان بھی اس کو مفید پائیں تو اس کام میں حصہ لیں۔ جس کی صورت یہ ہے کہ آپ خود دیکھیں اور مرزا قادیانی کے مریدوں کو دکھائیں۔ ہمدردان اسلام سے بہت کچھ خیر کی امید ہے۔ والسلام !

ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسر / محرم ١٣٥١ھ / مئی ١٩٣٢ء

باب اول ...... صفات مرزا

(خطبہ الہامیہ ص ٧٠‘ خزائن ج ١٦ ص ٧٠)

(حقیقت الوحی ص ٨٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

(خطبہ الہامیہ ص ٣٢٠‘ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

٣

صفحہ ١٦٠

ہوں پھر میں نے آسمان بنایا اور زمین بنائی وغیرہ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٢ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٥٥ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١٩ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٤٥٢)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(خطبہ الہامیہ ص ٥٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)

نفسی ، “جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے نفس میں بولتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٧٦ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

باوجود ان دعاوی کے جن لوگوں نے مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ کئے ہیں۔ وہ قرآنی اصول کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں۔

”لوكان من عند غيرالله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً ، نساء ٨٢“ جو کلام غیر خدا سے ہو اس میں بہت اختلاف ہوتے ہیں۔

پس مندرجہ ذیل اقوال مرزا ملاحظہ ہوں :

٤

صفحہ ١٦١

دوسرا باب......اختلافات مرزا

اس باب کے جواب میں مجیب نے جو علمی جوہر دکھائے ہیں۔ وہ اہل علم کے سننے اور دیکھنے کے قابل ہیں۔ مجیب نے اصولی جواب دو طرح دیئے ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح قرآن میں نسخ ہے۔ اسی طرح اقوال مرزا میں بھی نسخ ہو سکتا ہے۔

(تجلیات رحمانیہ ص ٢٦‘ ٢٧)

فاضل مصنف کو غالباً دھوکہ لگا ہے۔ وہ جملہ خبریہ اور انشائیہ میں تمیز نہیں کر سکے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نسخ احکام یا مناہی میں ہوتا ہے جو جمل انشائیہ ہوتے ہیں۔ جمل خبریہ میں اختلاف ہو تو نسخ نہیں کہا جاتا بلکہ دو میں سے ایک کو جھوٹ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ کل ٹھیک بارہ بجے بارش ہوئی تھی۔ پھر کہے : ”کل بارہ بجے بارش نہیں ہوئی تھی۔“ یہ دو جملے خبریہ ہیں۔ یقیناً ان کے اختلاف کا جواب نسخ سے نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ یقیناً ماننا پڑے گا کہ دو کلاموں میں سے ایک جھوٹ ہے۔

ناظرین کرام! مجیب صاحب اللہ دتہ قادیانی یوں تو مولوی فاضل کا امتحان پاس کردہ ہیں مگر قادیانی قصر نبوت کی حفاظت کا کام بھی تو بہت مشکل ہے۔ اس لئے مجیب صاحب اگر جمل خبریہ اور انشائیہ میں تمیز کرنا بھول جائیں تو محل تعجب نہیں۔ اس لئے وہ مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے بزبان حال کہتے ہیں :

ساحری کرد دو چشم تو وگرنہ زیں پیش
بود ہشیارتر از تو دل دیوانہ ما

مجیب نے ایک جواب یہ بھی دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال میں اختلاف ہو تو ہو الہامات میں اختلاف نہیں۔

(ص ٦٥)

جواب الجواب ! ہم جانتے ہیں کہ ملہم کے ذاتی اقوال اور الہام الگ الگ ہوتے ہیں۔ ملہم کے ذاتی قول میں غلطی ممکن ہے۔ کیونکہ ملہم پر ہر وقت وحی الٰہی نازل

٥

صفحہ ١٦٢

نہیں ہوتی۔ مگر مرزا قادیانی ایسے ملہم ہیں کہ ہر وقت اور ہر لحظہ روح القدس ان کے ساتھ رہتا تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔

”اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے ............ اور انوار دائمی اور استعانت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا یہی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص ٩٣، ٩٤ خزائن ج ٥ حاشیہ ص ایضاً)

یہ تو ہوا مرزا قادیانی کا بربنائے تجربہ عام قانون۔ جس میں خود بھی داخل ہیں۔ اب ایک اور ثبوت سنئے۔ مرزا قادیانی تو اپنے پر روح القدس کو اس قدر مستولی اور حاوی جانتے ہیں کہ عبارتی غلطی بھی ان سے نہیں ہو سکتی۔ فرماتے ہیں:

”یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں (مرزا) خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“ جل جلالہ

(نزول المسیح ص ٥٦ خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

ناظرین کرام! ایسا ملہم جو ہر وقت بلا فصل دائم روح القدس کی حفاظت میں ہو۔ جس کی حفاظت خدا اتنی کرے کہ عبارت بھی اسے خود بتائے۔ اس کی نسبت اقوال اور الہام میں فرق کرنا اس ملہم کی ہتک کرنا نہیں تو کیا ہے؟۔ اسی لئے ہم نے اقوال مرزا کے اختلاف پر آیت قرآنی : ”لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً.“ لکھی جس پر مجیب نے غور نہیں کیا۔ کیونکہ دل پر بے جا محبت نے غلبہ کر رکھا ہے۔

”ھوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی

صفحہ ١٦٣

الدین کلہ ۔ ’’یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے ۔ اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے...... تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ (مسیح موعود کے دوبارہ آنے کا اعتراف)

(براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ ص ٤٩٨‘ ٤٩٩ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)

اس کے خلاف : ’’پس دنیا میں مسیح ابن مریم ہرگز نہیں آئے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٦١٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

حضرت مسیح علیہ السلام نہیں آئیں گے میں ہی مسیح موعود آگیا ہوں۔

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہد پا بمنبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

مجیب نے اس کا جواب دیا کہ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ اس کے بعد جو لکھا وہ تحقیقی لکھا۔

(ص ٤٧‘ ٤٨)

جواب الجواب ! مرزا قادیانی زمانہ تالیف براہین میں بھی مدعی مجددیت تھے۔ اسی تجدید میں انہوں نے براہین لکھی اور جناب مسیح کے متعلق جو کچھ لکھا وہ آیت مرقومہ سے استدلال کر کے لکھا نہ کہ رسمی اور شنیدی بلکہ تحقیقی اور تنقیدی علیٰ وجہ البصیرت لکھا۔ چنانچہ براہین کے اخیر میں لکھتے ہیں یہ کتاب خدا مجھ سے لکھاتا ہے۔ یہ بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں اس قدر خدا کی حفاظت میں ہوں کہ : ’’جب میں عربی یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص ٥٦ خزائن ج ١٨ ص ٤٣٢)

معلوم ہوا کہ براہین کی عبارت بھی اسی اندر کی تعلیم کا نتیجہ ہے نہ کہ رسمی عقیدہ۔

٧

صفحہ ١٦٤

مرزائی دوستو! کیا یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا محض ہوا کے لڈو ہیں؟۔

٢...... حضرت داؤد کا تخت بحال کرنے آیا ہوں . . . قول مسیح

”یسوع نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ میں داؤد کے تخت کو قائم کرنے آیا ہوں اور اس طرح پر یہود کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا کہ دیکھو میں تمہاری بادشاہی پھر دنیا میں قائم کرنے آیا ہوں اور رومی گورنمنٹ سے اب جلد تم آزاد ہونا چاہتے ہو مگر وہ بات نہ ہوئی اور یسوع صاحب نے نہایت درجہ ذلت دیکھی۔ منہ پر تھوکا گیا اور آپ کے اس حصہ جسم پر کوڑے لگائے گئے جہاں مجرموں کو لگائے جاتے ہیں۔ اور حوالات میں کیا گیا۔ پس یہود اور بہت سے لوگوں نے بخوبی سمجھ لیا کہ اس شخص کی پیشگوئی صاف جھوٹی نکلی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔“

(انجام آتھم ص ١٢‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اس کے خلاف: ”ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے خبر دی تھی کہ تو بادشاہ ہوگا۔ انہوں نے اس وحی الٰہی سے دنیا کی بادشاہی سمجھ لی اور اسی بناء پر حضرت عیسیٰ نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خرید لو مگر آخر معلوم ہوا کہ یہ حضرت عیسیٰ کی غلط فہمی تھی اور بادشاہت سے مراد آسمانی بادشاہت تھی نہ زمین کی بادشاہت۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٨٩‘ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٠)

نوٹ : پہلے بیان میں اس پیشگوئی کو یسوع کی بناوٹی بتا کر موجب ذلت بتائی۔ دوسرے میں خدا کی طرف سے بتا کر بتاویل پوری ہونے کی اطلاع دی۔ کیا خوب!

اس اختلاف کا جواب مجیب نے یہ دیا ہے کہ پہلا بیان عیسائیوں کے خیال پر ہے دوسرا بیان واقعیت پر۔ (ص ٤٩)

جواب الجواب! اس تاویل سے دونوں کلاموں کا مضمون کیا ہوا ؟۔ یہ کہ عیسائیوں کے جس خیال پر ہنسی اڑائی تھی خود اسی کو واقعی جان کر تسلیم کر لیا۔ تعجب نہیں

٨

صفحہ ١٦٥

عیسائی آپ کا جواب سن کر مرزا قادیانی کو یہ مصرعہ نذر کریں :

خود غلط بود آنچه تو پنداشتی

ممکن ہے اسی طرح مجیب بھی آئندہ کبھی اپنے عندیہ میں ہمارا بیان تسلیم کرلیں۔ (خدا وہ دن کرے۔)

٣...... حضرت مسیح کی سخت کلامی

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سے سخت گالیاں دیں اور برے برے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١ خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

قادیانیو ! سنتے ہو : ”حضرت عیسیٰ نور علیہ السلام۔“ اسلامی اصطلاح میں یہ لقب اس ذات کے ہیں جن کو روح اللہ ووجیهاً فی الدنیا والآخرۃ کہا گیا ہے۔ اسی کے حق میں مرزا قادیانی کی یہ گوہر افشانی ہے۔

مزید کے لئے ہمارا رسالہ : ”ہندوستان کے دو ریفارمر“ دیکھئے۔

اس کے خلاف : ”کبھی معالجہ کے طور پر سخت لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ لیکن اس استعمال کے وقت نہ ان کا دل جلتا ہے نہ طیش کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ نہ منہ پر جھاگ آتی ہے۔ ہاں ! کبھی بناوٹی غصہ رعب دکھلانے کے لئے ظاہر کر دیتے ہیں اور دل آرام وانبساط اور سرور میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اکثر سخت لفظ اپنے مخاطبین کے حق میں استعمال کئے ہیں۔ جیسا کہ سور‘ کتے‘ بے ایمان‘ بدکار وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ ! آپ اخلاق فاضلہ سے بے بہرہ تھے۔ کیونکہ وہ تو

٩

صفحہ ١٦٦

خود اخلاق سکھاتے اور نرمی کی تعلیم کرتے ہیں۔ بلکہ یہ لفظ جو اکثر آپ کے منہ پر جاری رہتے تھے۔ یہ غصہ کے جوش اور مجنونانہ طیش سے نہیں نکلتے تھے۔ بلکہ نہایت آرام اور ٹھنڈے دل سے اپنے محل پر یہ الفاظ چسپاں کئے جاتے تھے۔“

(ضرورۃ الامام ص ٧‘ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٧‘ ٤٧٨)

نوٹ : پہلے اقتباس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جس قول کی مذمت ہے دوسرے میں اسی کی تحسین ہے۔

مجیب نے یہاں بھی دورنگی دکھائی ہے۔ کہتے ہیں حضرت مسیح کے قول پر اعتراض عیسائی نقطہ نگاہ سے ہے اور تحسین اسلامی عقیدے سے ہے۔ کیا مجدد اور مسیح موعود کی یہی شان ہے کہ اپنا مضمون در بطن رکھے۔ حالانکہ حضرت مسیح کا نام بھی اسلامی اصطلاح میں لکھا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ اس معزز نام کے ساتھ برائی کو ملا کر ذکر کرنا مجیب کے جواب کو رد کرتا ہے۔ فافہم !

٤....... یسوع مسیح نیک کیوں نہ کہلایا بد چلن تھا

”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال و چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ٧٢‘ خزائن ج ١٠ حاشیہ ص ٢٩٦)

اس کے خلاف : ”جس کو عیسائیوں نے خدا بنا رکھا ہے۔ کسی نے اس کو کہا۔ اے نیک استاد۔ تو اس نے جواب دیا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ نیک کوئی نہیں مگر خدا۔ یہی تمام اولیاء کا شعار رہا ہے۔ سب نے استغفار کو اپنا شعار قرار دیا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٧٠‘ خزائن ج ٢١ ص ٣٧١)

ایضاً : ”حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے

١٠

صفحہ ١٦٧

تھے کہ انہوں نے یہ بھی روا نہ رکھا کہ کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔“

(مقدمہ براہین احمدیہ حاشیہ ص ١٠٤ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٩٤)

نوٹ : پہلے حوالہ میں یہ فقرہ موجب مذمت بتایا۔ دوسرے اور تیسرے میں وہی فقرہ باعث مدح قرار دیا۔

اس جگہ بھی مجیب نے عیسائیوں کی پناہ لی۔

چنانچہ لکھا ہے : ”اس فقرہ (منقولہ ست بچن) پر عیسائی نقطہ خیال سے اعتراض ہے۔ دوسرے میں اسلامی نقطہ نگاہ۔“ (ص ٥٦)

جواب الجواب ! کیا یہ جواب ہے یا تسلیم؟ ۔ کیا ایسا کرنے پر عیسائی پادری مرزا قادیانی کا مذاق نہ اڑائیں گے کہ بھلے آدمی جس کلام پر اعتراض کرتے ہو جب اپنی نظر سے دیکھتے ہو تو اسی کی احسن تاویل کرتے ہو۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمہارا اعتراض غیریت کی نظر سے ہے۔ جو امانت اور دیانت کے خلاف ہے۔

٥....... یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں

”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٩٣)

اس کے خلاف : ”اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے : ”اِنَّ مَثَلَ عیسیٰ عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ “ یعنی عیسیٰ کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے۔ کیونکہ خدا نے آدم کو مٹی سے بنایا پھر کہا کہ تو زندہ ہو جا۔ پس وہ زندہ ہو گیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٨ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧)

اس کا جواب بھی وہی دیا کہ جس یسوع کی طرف عیسائیوں نے بہت خرابیاں منسوب کر رکھی ہیں۔ اس کا ذکر قرآن میں نہیں اور عیسیٰ کا ذکر ہے۔

١١

صفحہ ١٦٨

”یسوع اور عیسیٰ دو ذاتیں نہیں۔ ذات ایک ہی ہے۔ مگر ذات کی دو حیثیتیں ہیں۔“ (ص ٧٥)

جواب الجواب! معلوم ہوتا ہے مجیب جواب نہیں دیتا۔ بلکہ فرض منصبی ادا کرتا ہے۔ کوئی پوچھے یہ کس نے کہا ہے کہ یسوع اور عیسیٰ دو ہیں یا ایک۔ ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ دونوں جگہ یسوع کا نام ہے۔ ایک جگہ کہا ہے کہ یسوع کا ذکر قرآن شریف میں نہیں۔ دوسری جگہ آیت قرآنی یسوع پر لگا کر قرآن شریف میں مذکور بتایا ہے۔ یاللعجب! یہ اختلاف کیوں؟۔

٦...... حضرت عیسیٰ علامت قیامت تھے

”جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”انه لعلم للساعة ۔ “ تحقیق وہ (عیسیٰ مسیح) قیامت کی علامت ہے۔ یہ نہیں کہا کہ آئندہ کو علامت ہو گا۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ (مسیح) علامت قیامت کسی ایسی وجہ سے ہے جو اس کو اس وقت حاصل تھی۔ نہ یہ کہ آئندہ کسی وقت حاصل ہو گی اور وہ وجہ جو حاصل تھی۔ وہ اس کا بے باپ پیدا ہونا تھا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ یہودیوں میں ایک فرقہ تھا صدوقی۔ وہ قیامت کا منکر تھا۔ خدا نے بعض انبیاء کی معرفت ان کو خبر دی تھی کہ ایک لڑکا بلا باپ ان کی قوم میں پیدا ہو گا۔ وہ ان کیلئے قیامت کے وجود کی علامت ہو گا۔ اسی طرف خدا نے اس آیت : ”وانه لعلم للساعة ۔ “ میں اشارہ کیا ہے۔“

(حمامة البشریٰ ص ٩٠‘ خزائن ج ٧ ص ٣١٦)

نوٹ : مطلب صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے باپ پیدائش علامت قیامت ہے۔

اس کے خلاف : ”پھر (یہ علماء) کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت ہے : ”وانه لعلم للساعة ۔ “ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرنا چاہئے

١٢

صفحہ ١٦٩

کہ نیم ملا خطرہ ایمان ............ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔ (اعجاز احمدی ص ٢١‘ خزائن ج ١٩ ص ١٢٩)

٧ ...... حضرت مسیح نے الوہیت کا دعویٰ کیا

"مسیح اس کا چال چلن کیا تھا؟۔ ایک کھاؤ پیو‘ شرابی‘ نہ زاہد‘ نہ عابد‘ نہ حق کا پرستار‘ خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣‘ ٢٤)

اس کے خلاف : ”انہوں (مسیح) نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں۔"

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٤‘ خزائن ج ٢٠ ص ٢٣٦)

مجیب نے یہاں بھی وہی کہا ہے جو پہلے کہہ آئے ہیں کہ پہلا قول علیٰ زعم النصاریٰ ہے۔ یعنی عیسائیوں کا قول ہے کہ مسیح نے خدائی دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی کا اپنا خیال نہیں۔ (ص ٦٠) حالانکہ مجیب نے بطور کلیہ کے یہ لکھا ہے :

"لفظ مسیح اس حیثیت کی نمائندگی کرتا ہے جو اسلام نے پیش کی ہے اور لفظ یسوع اس حیثیت کا مظہر ہے جو عیسائیت پیش کرتی ہے۔" (ص ٣٠)

پس اس تسلیم سے صاف معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی پہلے قول میں بھی اس مسیح کا

کہ مرزا نے جہاں جہاں برائی سے یاد کیا ہے وہ یسوع کو کیا ہے اور یسوع اسلامی نام نہیں۔ ذرا اس عبارت کو دیکھو اور اس کے ساتھ ایک اور حوالہ بھی ملا لو جس کے الفاظ یہ ہیں : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔" (کشتی نوح ص ٦٥ خزائن ج ١٩ حاشیہ ص ٧١)

اب بتاؤ کہ تمہارا ایمان ایسے قائل کے حق میں کیا فتویٰ دیتا ہے۔ ایمان سے کہنا : ”ایمان ہے تو سب کچھ“

١٣

صفحہ ١٧٠

ذکر کرتے ہیں جو اسلام کی نمائندگی کرنے والا ہے۔ اس لئے مجیب کا جواب مرزا قادیانی کی تصریح کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں۔

٨....... مسیح کی آمد کا وقت تیرہ سو سال بعد

”مثیل ابن مریم‘ ابن مریم سے بڑھ کر اور وہ مسیح موعود نہ صرف مدت کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔“

(کشتی نوح ص ١٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤)

اس کے خلاف : ”اس لحاظ کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو۔“

(شہادۃ القرآن ص ٦٩‘ خزائن ج ٦ ص ٣٦٥)

نوٹ : پہلے اقتباس میں چودھویں صدی میں لکھا۔ دوسرے میں چودہ سو سال کے بعد ۔ یعنی پندرھویں صدی لکھا۔ چودہویں صدی میں اور ”چودہ صدی کے بعد“ ان دو میں جو فرق نہ جانے وہ بعد میں مسیح موعود اور مہدی مسعود بن جائے۔

لطیفہ : مرزا قادیانی چونکہ چودھویں صدی ہجری کے شروع میں آئے تھے۔ حالانکہ ان کو پندرھویں صدی میں آنا چاہئے۔ اس لئے آپ جلدی تشریف لے گئے۔ اب حسب وعدہ پندرھویں میں مکرر تشریف لاویں گے۔ خدا خیر کرے۔

مجیب نے یہاں جو کچھ بھی مرزا قادیانی کی تائید میں لکھا ہے وہ تائید نہیں تردید ہے۔ تردید بھی ایسی کہ کوئی مخالف بھی نہ کرے۔ ناظرین! ہمارے دعویٰ کا ثبوت سنیں :

مجیب نے ہمارے پیش کردہ حوالہ نمبر اول کو یہودی تاریخ بتایا۔ اور حوالہ نمبر دو کو عیسائی تاریخ کہہ کر بتایا ہے کہ ”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے بکرات و مرات اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ (یہ بھی مجیب نے لکھا ہے کہ) ”چودہ سو برس بعد ظاہر“ ہونے کا

١٤

صفحہ ١٧١

مطلب یہ ہے کہ چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ کیونکہ حضرت (مرزا قادیانی) بھی مانتے تھے کہ حضرت مسیح چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے۔“ (ص ٦٢)

ناظرین! خصوصاً مرزائی دوست اس عبارت کو خوب یاد رکھیں کہ مجیب نے مرزا قادیانی کا عندیہ اور اعتقاد یہ ظاہر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تیرہویں صدی کے بعد چودہویں صدی کے اندر آئے تھے۔ اب اس کے خلاف سنئے۔ خلاف بھی ہمارا استنباطی نہیں بلکہ الہامی۔ جناب مرزا قادیانی اپنا الہامی فیصلہ خود فرماتے ہیں :

”مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ کھول دیا کہ حضرت مسیح ابن مریم بھی در حقیقت ایک ایمان کی تعلیم دینے والا تھا۔ جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد پیدا ہوا۔“

(فتح اسلام حاشیہ ص ١٤ خزائن ج ٣ حاشیہ ص ١٠)

مرزائی دوستو! ایمان سے بتاؤ! کوئی مرزائی تم میں ایسا ہے جو حضرت مرزا قادیانی کے الہام کے خلاف کوئی بات قبول کرے۔ ہمارا تو یقین ہے کہ تم لوگ ایسے مرزائی کو احمقی کہو گے احمدی نہیں کہو گے۔ پھر یہ کیا جواب ہے جو تمہارے لائق وکیل اللہ دتہ قادیانی نے دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامی فیصلہ کے خلاف ہے یا نہیں۔ ذرہ انصاف سے کہیو خدا لگتی۔ کیا یہی کتاب ہے جس کی تعریف تمہارے اخبار بے حد کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے ہی دوست ہیں جن کی بابت حضرت شیخ سعدیؒ نے گویا مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے کہا ہے :

ترا اژدہا گر بود یار غار
ازاں بہ کہ جاہل بود غمگسار

اور سنئے : مجیب نے بڑا زور لگا کر ہمارے پہلے حوالے کو محض یہودیوں کا خیال بتایا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود اس کو بھی خدائی الہام بتاتے ہیں۔ غور سے سنئے فرماتے ہیں :

١٥

صفحہ ١٧٢

”سلسلہ موسویہ کی آخری خلافت کے بارے میں تورات میں لکھا تھا کہ وہ سلسلہ مسیح موعود پر ختم ہو گا۔ یعنی اس مسیح پر جس کا یہودیوں کو وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سلسلہ کے آخر میں چودہ سو برس کی مدت کے سر پر آئے گا۔“

(ایام الصلح اردو ص ٥٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٨٤)

صاف اقرار ہے کہ یہودیوں کو خدا نے بتا دیا تھا کہ مسیح موعود (حضرت عیسیٰ مسیح) چودہویں صدی کے سر پر آئے گا۔ یہ مضمون اگرچہ یہودیوں کے حق میں الہامی تھا مگر مرزا قادیانی جیسے الہامی (مدعی الہام) شخص نے جب اس کی تصدیق کر دی تو ان کے حق میں بھی الہامی ہو گیا۔ حالانکہ اپنا الہام خود لکھ چکے ہیں کہ : ”حضرت مسیح بعد موسیٰ کے پندرہویں صدی میں آئے تھے۔“ اب تو امت قادیانیہ کو بھی ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی سچے ملہم نہ تھے۔ کیونکہ سچے الہاموں میں تعارض اور تخالف نہیں ہوتا۔

(ص ٢٣)

پس ہمارا نتیجہ ! صحیح رہا کہ مرزا قادیانی کو حضرت مسیح اول کی طرح پندرہویں صدی میں آنا چاہئے تھا اور وہ قبل از وقت چودہویں صدی کے اندر آگئے تھے۔ اسی لئے وہ جلدی چلے گئے۔ آئندہ پندرہویں میں تشریف لائیں گے تو جو لوگ زندہ ہوں گے۔ وہ مشرف بہ زیارت ہوں گے۔ سردست تو ہمارا قول یہی ہے کہ :

روئے گل سیر ندیدیم وبہار آخر شد

٩....... اذ ماضی کے لئے ہوتا ہے

”واذ قال الله یا عیسیٰ ابن مریم أنت قلت للناس............ الخ.“ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہوتا ہے اور اس کے اول اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)

الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔ تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور

١٦

صفحہ ١٧٣

قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ونفخ فی الصور فاذا ہم من الاجداث الی ربہم ینسلون ، “اور جیسا کہ فرماتا ہے: ”واذا قال اللہ یا عیسے ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ . قال اللہ ہذا یوم ینفع الصدقین صدقہم .“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، ص ٦ خزائن ج ٢١ ص ١٥٩)

نوٹ: مباحث مرزائیہ میں وفات مسیح کا مسئلہ بھی پیش آیا کرتا ہے اور مرزائی مناظر وفات مسیح پر عموماً یہی آیت پیش کیا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے فیصلہ کر دیا کہ یہ روز قیامت کی گفتگو ہے۔ پس اس آیت سے اس وقت وفات مسیح ثابت نہ ہوئی۔

مجیب اس جگہ بہت پریشان ہوا ہے۔ اسی لئے اس نے نہ مرزا قادیانی کا مطلب سمجھا نہ ہمارا اعتراض جانا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ : ”......انی..... “ از روئے قواعد نحویہ ماضی ہے اور قرآنی اسلوب سے روز قیامت مراد ہے۔“

ہمارا مقصد یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک ہی آیت : ”اذ قال اللہ“ کو گزشتہ زمانہ (ماضی) سے لگایا ہے اور دوسرے حوالہ میں روز قیامت (مستقبل) سے ملایا ہے۔ یہی اختلاف محل اعتراض ہے۔ کیا مجدد اور مہدی اور مسیح قرآن مجید اسی طرح سمجھا سمجھایا کرتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ خود ہی نہیں سمجھے۔

١٠...... ایک شریر میں یسوع کی روح تھی

”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥ ، خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٨٩)

یسوع کی روح مرزا قادیانی میں تھی

”مجھے یسوع مسیح کے رنگ پیدا کیا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔ اس لئے ضرور تھا کہ گم شدہ ریاست میں مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت

١٧

صفحہ ١٧٤

ہوتی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)

قادیانی دوستو! یسوع کی روح جس انسان میں ہو وہ شریر ہو جاتا ہے تو دوسرے قول کا قائل کون؟:

مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہے
آئینہ دیکھے گا ذرا دیکھ بھال کے

مجیب نے اس کے جواب میں لکھا ہے کہ : ”پہلی عبارت میں یسوع کی اس حیثیت کا ذکر ہے جو اسے پادریوں نے دے رکھی ہے۔ دوسری میں اس عبارت کا تذکرہ ہے جو اسے فی الواقع بلحاظ نبی اور رسول ہونے کے حاصل ہے۔ پہلی صورت قابل نفرت ہے۔ دوسری صورت قابل رشک ہے۔“ (ص ٦٦)

جواب الجواب! ہم تو جانتے تھے مرزا قادیانی ہی کے کلام میں اختلاف ہوتا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ ہمارے فاضل مخاطب مصنف بھی ان (مرزا قادیانی) سے اس وصف میں فیضیاب ہیں۔ ابھی چند صفحات پہلے لکھ چکے ہیں :

”مسیح اسلامی حیثیت کا نمائندہ ہے۔ اور یسوع عیسائیت کا مظہر ۔“ (ص ٢٠)

اس تقسیم سے صاف پایا جاتا ہے کہ یسوع نام بہمہ وجوہ (مرزا قادیانی کے نزدیک) شریر النفس آدمی ہے۔ پھر ایسے نام کو اپنے حق میں کہنا اعتراف حقیقت ہے یا کیا؟۔

١١...... مسیحی چڑیوں کا پرواز قرآن سے ثابت ہے

”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزے کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اس کے خلاف : ”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٧، خزائن ج ٣ حاشیہ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

١٨

صفحہ ١٧٥

مجیب نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جس پرواز کا انکار ہے وہ اصلی زندگی سے پرواز ہے اور جس کا اقرار ہے وہ غیر حقیقی اور عارضی ہے۔ (ص٧٦)

جواب الجواب ! اس جگہ ہم علم منطق کے قاعدہ تناقض کے موافق مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ دکھاتے ہیں۔ پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ثابت ہے : ”پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ثابت نہیں۔“ موضوع ایک، محمول ایک، نسبت ایک، وغیرہ ایک، جو اس کو بھی تناقض نہ کہے اس کا دماغ صحیح ہے یا ماؤف ناظرین خود فیصلہ کریں۔

١٢...... حضرت مسیح کی عمر ١٢٠ برس تھی

”حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس کی عمر تھی۔ لیکن تمام یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جبکہ حضرت ممدوح کی عمر تینتیس برس کی تھی۔ اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پا کر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی۔“

(راز حقیقت حاشیہ ص ٤٢ خزائن ج ١٤ حاشیہ ص ١٥٣، ١٥٤)

ایک سو پچیس برس تھی

”حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے اور جیسا کہ اس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے۔ آخر کشمیر میں گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدت عبادت کرتے رہے۔ اور سکھوں کے زمانے تک ان کی یادگار کا ایک کتبہ موجود تھا۔ آخر سری نگر میں ایک سو پچیس برس کی عمر میں وفات پائی۔“

(تبلیغ رسالت ج ہشتم ص ٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٩)

١٩

صفحہ ١٧٦

ایک سو ترپن سال عمر پائی

”تمام یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا۔ جبکہ حضرت عیسیٰ کی عمر صرف تینتیس برس کی تھی۔“

(راز حقیقت حاشیہ ص ٣، خزائن ج ١٤ حاشیہ ص ١٥٥)

ایضاً : ”اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ ابن مریم نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی اور پھر فوت ہو کر خدا سے جاملا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٩)

نوٹ : واقعہ صلیب تک ٣٣ اور بعد واقعہ صلیب ایک سو بیس جملہ ایک سو ترپن ہوئے۔ پس عمر مسیح ١٢٠، ٣٣، ١٥٣ سال ہوئی۔

اس کا جواب مصنف نے ایسا دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض مفوضہ خلافت ادا کرتا ہے۔ ورنہ دل میں شاید ایسا نہ ہو۔ کہتے ہیں :

”تذکرۃ الشہادتین میں یہ بتایا ہے کہ صلیب کے بعد بھی مسیح زندہ رہے۔ اس عبارت کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ حضرت مسیح نے ١٥٣ سال عمر پائی۔“ (ص ٦٩)

جواب الجواب ! ہم فقرہ مرزائیہ ناظرین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ پھر جو بات ان کے فہم عالی میں آئے مانیں۔ وہ فقرہ یہ ہے :

”احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ بن مریم نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٩)

حضرات ! اس عبارت میں : ”بعد“ کا لفظ : ”پائی“ کے متعلق ہے۔ یقیناً یہی ہے۔

پس عبارت ہذا کے معنی اس عبارت کی طرح ہیں :

”حکیم نور الدین (خلیفہ قادیان) نے بعد وفات مرزا قادیانی سات سال عمر پائی۔“

کیا اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حکیم صاحب کی عمر ساری سات سال تھی۔ اگر

٢٠

صفحہ ١٧٧

اس مثال میں یہ نہیں تو اس میں بھی نہیں۔ اس میں اگر سات سال بعد وفات کے مراد ہیں تو اس عبارت میں بھی ١٢٠ سال بعد واقعہ صلیب کے مراد ہے۔ جو پہلی عمر ٣٣ سال ملا کر ١٥٣ ہوتے ہیں : ”هذا ما ادعینا ، “ اس کے سوا تاویل کرنا اس مصرع کا مصداق ہے : ”ولن یصلح العطار ما افسدالدهر . “

١٣...... کتب سابقہ سب محرف ہیں

”جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٥٥‘ خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦)

اس کے خلاف : ”یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف و مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔“

(چشمہ معرفت حاشیہ ص ٧٥‘ خزائن ج ٢٣ حاشیہ ص ٨٣)

اس کے جواب میں بھی مجیب نے کمال دکھایا ہے۔ کہتے ہیں : ”تورات انجیل کے محرف ہونے کا بایں معنے انکار ہے کہ ان میں کوئی بھی صداقت نہیں۔ بایں معنی اقرار ہے کہ ان میں جھوٹ ملائے گئے تھے۔“ (ص ٧٣)

ہم حیران ہیں کہ : یہ لوگ اپنی جماعت کی آنکھوں میں کنکریاں دار مٹی کیوں ڈالتے ہیں۔ ایک غیر الہامی کی غلط بات کو سنوارنے کے لئے اتنا زور مارنا جو داناؤں کی نظر میں حالت اضطراری تک پہنچادے کہاں کی عقلمندی ہے۔ کیا کسی کتاب میں ایسی تحریف کبھی ہوئی بھی؟۔ جو مجیب کہتا ہے۔ مجیب نے اپنے دعویٰ پر مرزا قادیانی کی جو تحریر نقل کی ہے وہ خود مجیب کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس میں یہ فقرہ بھی ہے : ”سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک ردی کی طرح ہو چکی تھیں۔“ (کتاب چشمہ معرفت ص ٢٥٥‘ خزائن ج ٢٣‘ ص ٢٦٦‘ مندرجہ تجلیات رحمانیہ ص ٧١‘ ٧٢)

٢١

صفحہ ١٧٨

بتایئے جو مضمون یا کتاب ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے یا پھینکنے کے لائق ہو اس کو کسی سند میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب وہ ایسی ردی ہو چکیں تو اب ان کی بابت اتنی دور از کار تاویل کرنا جو مجیب نے کی ہے۔ کیا مفید ہو سکتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ مجیب مع اپنی پارٹی کے فرض منصبی (خدمت خلافت قادیان) ادا کرتے ہیں۔ تحقیق حق سے ان کو مطلب نہیں:

نظر اپنی اپنی پسند اپنی اپنی

١٤...... طاعون سے فرار کرنا منع ہے

”چونکہ شرعاً یہ امر ممنوع ہے کہ طاعون زدہ لوگ اپنے دیہات کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے ان تمام لوگوں کو جو طاعون زدہ علاقوں میں ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقوں سے قادیان یا دوسری جگہ جانے کا ہرگز قصد نہ کریں اور دوسروں کو بھی روکیں اور اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔“

(اشتہار لنگر خانہ کا انتظام حاشیہ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٧)

اس کے خلاف: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ وائسرائے اس تجویز کو پسند فرماتے ہیں کہ جب کسی گاؤں یا شہر کے کسی محلہ میں طاعون پیدا ہو تو یہ بہترین علاج ہے کہ اس گاؤں یا اس شہر کے محلہ کے لوگ جن کا محلہ طاعون سے آلودہ ہے فی الفور بلا توقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دیں۔ اور باہر جنگل کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے۔ رہائش اختیار کریں۔ سو میں دلی یقین سے جانتا ہوں کہ یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔ عذاب کی جگہ سے بھاگنا انسان کی عقلمندی میں داخل ہے۔ تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت۔“

(مندرجہ ریویو قادیان ج ٦ ش ٩ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٣٦٥)

٢٢

صفحہ ١٧٩

نوٹ : اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی حکم دیتے ہیں کہ مقام طاعون کو چھوڑ دو اور کسی محفوظ زمین پر جابسو۔ پہلی عبارت میں کہتے ہیں اپنے مقامات سے نہ ہلیں۔ دوسرے میں کہتے ہیں شہر چھوڑ دیں۔

مرزائی دوستو ! یہ حدیث دیکھنے کے ہم بھی مشتاق ہیں تلاش کر کے بتاؤ۔

اس مقام پر مجیب نے بغیر تحقیق حق کے محض اپنا فرض منصبی (خدمت خلافت) ادا کیا ہے۔ لہذا اس نے بوجہ محبت مرزا نہ ہماری منقولہ عبارتوں کو دیکھا ہے نہ مرزا قادیانی کے الفاظ پر غور کیا۔ اسی لئے ہم نے خلاف کی عبارت بہ نسبت سابق کے زیادہ درج کی ہے تاکہ سیاق و سباق نظر آجائے۔ مجیب کہتا ہے کہ طاعون زدہ علاقہ اور شہر میں فرق ہے۔ علاقہ سے مراد لیتا ہے مع حوالی شہر یا ”اراضی دہ“ کہتا ہے۔ جہاں منع ہے۔ اس سے مراد ہے کل علاقہ سے۔ یعنی آبادی مع اراضی سے مت نکلو۔ اور جہاں حکم ہے۔ اس سے مراد ہے خاص مقام طاعون ۔ یعنی آبادی۔ چنانچہ اس کی اپنی عبارت یہ ہے :

”پہلی عبارت میں ”طاعون زدہ علاقہ“ ہے اور دوسری میں ”اس شہر کو چھوڑ دیں“ ہے۔ نیز پہلی عبارت میں دوسرے علاقہ میں جانے کی ممانعت ہے۔ اور دوسری جگہ یہ نہیں کہا کہ دوسرے علاقے میں چلے جاؤ۔ بلکہ میدان اور کھلی فضا میں جو شہر کی دیواروں سے باہر ہو چلے جانے کا حکم ہے۔“ (ص ٤٧)

جواب الجواب ! ہم ناظرین کو زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتے۔ صرف اتنی توجہ دلاتے ہیں کہ پہلی عبارت جہاں ختم ہے۔ ان الفاظ پر نظر ڈالیں کہ : ”اپنے مقامات سے نہ ہلیں“ ان مقامات سے مراد یقیناً وہی جگہ ہے جن کو آبادی کہا جاتا ہے۔ جہاں وہ رہتے ہیں۔ دوسرا قول اس کے بر خلاف ہے جس کے الفاظ ہیں : ”بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں“ بتائیں اس کا کیا جواب ؟۔

٢٣

صفحہ ١٨٠

نوٹ : ہمارے اس سوال کا جواب مجیب نے نہیں دیا کہ یہ حدیث کہاں ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں طاعون پڑے تو اس شہر کو چھوڑ دو۔

قادیانی دوستو! تمہارے حدیث کا پتہ نہ دینے سے کیا ہمارا حق ہے کہ آئندہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو ”واضع حدیث“ (حدیثیں گھڑنے والا) کا لقب بھی دیا کریں۔ اس کا فیصلہ تمہارے ہاتھ ہے۔ حدیث مطلوبہ کا پتہ نہ دینے سے تمہاری طرف سے اجازت سمجھی جائے گی۔

ناظرین کرام! یہ چند اختلافات بطور نمونہ دکھائے ہیں۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان سراپا بے نظام ہوتا تھا۔ دریائے غازی (دریائے سندھ) خاں کی طرح جوش مارتا ہوا نہ بستی دیکھتا ہے نہ ویرانہ بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا دماغ ایسا ماؤف تھا کہ اس میں حفظ کی طاقت نہ رہی تھی۔ مزید شہادت کی ضرورت ہو تو ہمارا شائع کردہ رسالہ ”مراق مرزا“ ملاحظہ کریں۔

مجیب ہماری اس رائے پر بھی خفا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کے حق میں ماؤف الدماغ کیوں لکھا۔ افسوس ہے کہ یہاں بھی مجیب نے ہماری پوزیشن کو نہیں سمجھا۔ سنئے ہم مرزا قادیانی کے اقوال دکھا رہے ہیں اور انہی سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ نتیجہ بھی اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی جو ایسے کلاموں سے مرزا قادیانی نے نکالا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں :

”صاف ظاہر ہے کہ کسی سچیار (یہ لفظ قادیانی اردو میں آیا ہے۔ شاید الہام سے آیا ہو۔) اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہر گز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں! اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اُس کا کلام بے شک تناقض ہو جاتا ہے۔“

(کتاب ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)

ناظرین کرام! جس صورت میں ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے کلام میں

٢٤

صفحہ ١٨١

تناقض ہے۔ تناقض بھی ایسا کہ ان کی اتباع کی ساری کوشش سے بھی رفع نہ ہو سکا تو پھر ہماری رائے پر کیا ملال ؟۔ ہم نہ مرزا قادیانی کے کلام میں اختلاف پیدا کریں نہ ان کو (از خود) پاگل کہیں۔ بلکہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی ہے جو وہ خود فرما گئے۔ انہی معنے میں ہم کہا کرتے ہیں کہ ہم قادیانی مسیح کے مبلغ ہیں۔ مخالف نہیں۔ انما الاعمال بالنیات!

تیسرا باب ...... کذبات مرزا

”انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بآیات اللہ ، النحل ١٠٥“

ہمارے ہیرو (پنجابی مسیح) مرزا قادیانی کی اختلاف بیانی تو ناظرین نے سنی۔ اب ان کی غلط بیانیاں بھی ملاحظہ ہوں۔

کذب ١... پیغمبروں نے میرے دیکھنے کی خواہش کی

”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٢)

نوٹ : جن پیغمبروں نے مرزا قادیانی کی زیارت کا شوق ظاہر کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی سننے کے ہم بھی مشتاق ہیں۔

مجیب نے اس باب کے تین نمبروں (١‘ ٦‘ ٩) کا مشترک جواب دیا ہے مگر جواب میں باتباع مرزا کمال تدلیس سے کام لیا ہے۔ اس کے الفاظ اس کے دلی ضعف کا حال بتاتے ہیں۔ قرآن مجید سے شہادت دی ہے کہ بہت سے انبیاء کا ذکر ہم کو نہیں بتایا گیا۔

”اس سے ظاہر ہے کہ مولوی صاحب کا آج یہ مطالبہ کرنا کہ ان نبیوں کے اسماء گرامی بتاؤ۔ سراسر غلط مطالبہ ہے۔ ہاں! مطلق وعدہ اور عمومی ذکر موجود ہے۔ چنانچہ صحاح ستہ میں یہ حدیث متعدد مرتبہ آئی ہے کہ دجال کے ذکر پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا :

٢٥

صفحہ ١٨٢

”انی لا نذرکموہ مامن نبیا لاوقد انذر قومہ ولقد انذرہ نوح قومہ“۔ ”میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے۔

(مسلم ج ٢ ص ٣٩٩ ترمذی ج ٢ ص ٤٦ ابواب الفتن)

گویا سارے نبیوں نے بذریعہ وحی خبر پا کر اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے کہ اس کا فتنہ بہت بڑا ہے۔ اب یہ کس طرح ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دجال کی تو خبر دے مگر دجال کے قاتل (حضرت مسیح موعود) کی خبر نہ دے۔ پس لازماً ماننا پڑے گا کہ تمام نبیوں کو مسیح موعود کی بھی خبر دی گئی تھی۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے مسلم شریف کی مشہور حدیث (بروایت نواس بن سمعان) میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کا قاتل قرار دیا ہے۔ ......... ان احادیث سے ظاہر ہے کہ دجال کی آمد سے ہر نبی ڈراتا آیا ہے اور دجال کا قاتل مسیح موعود ہے۔ اور یہ تو واضح ہی ہے کہ دجال سے ڈرانے کے معنے یہی ہیں کہ اس کے مکر و دجل سے آگاہ کر کے اس سے بچنے کی ہدایت کرنا اور اس کے حشر کا بتانا منظور ہے۔ اور اس بیان کیلئے مسیح موعود کا ذکر ایک جزو لاینفک ہے۔ چنانچہ کتب سابقہ موجودہ میں بھی جہاں دجال کا ذکر ہے۔ وہاں پر مسیح موعود کا بھی ذکر ساتھ موجود ہے۔ پس ان احادیث سے اشارۃ النص ١؎ کے طور پر ثابت ہے کہ ہر نبی نے مسیح موعود کے متعلق وعدہ کیا تھا۔ اگر مولوی ثناء اللہ تمام نبیوں کا انذار عن الدجال نام بنام دکھائینگے تو ہم اسی جگہ سے نام بنام نبیوں کی طرف سے مسیح موعود کی بعثت کا وعدہ بھی دکھا دیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ! (ص ٨٣‘٨٤)

جواب الجواب! ہم اس موقع پر متردد ہیں کہ مجیب کو دھوکہ خور کہیں یا دھوکہ دہ نام رکھیں۔ مناسب ہے کہ اصل حقیقت کھول کر اس کا فیصلہ ناظرین اور خود مجیب

١؎ اشارۃ النص میں لفظی ترجمہ مقصود ہوتا ہے۔ یہاں یہ نہیں معلوم ہوتا۔ مجیب نے سنے سنائے حقیقت سے ناواقفی میں اشارۃ النص لکھ دیا۔ جیسے ان کے نبی (مرزا) نے سنے سنائے دلیل انی اور لمی لکھ گئے ہیں۔

(چشمہ معرفت ص ٥٦‘ خزائن ج ٢٣ ص ٦٤)

٢٦

صفحہ ١٨٣

پر چھوڑ دیں۔ سنئے! آنحضرت ﷺ کے منہ سے سابقہ انبیاء کی تعلیم دو طرح سے ذکر ہوتی تھی۔ ایک بطور دلیل۔ دوم بطور تعلیم اعتقاد۔ اعتقاد متفرع ہوتا ہے ایمان پر۔ ایسی صورت میں ان سابقہ انبیاء کا جاننا ضروری نہیں۔ بلکہ فرمان نبوت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کافی ہے۔ مثلاً ارشاد ہے : ”ولقد وصینا الذین اوتواالکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ ٠ النساء ١٣١“...... ”یعنی ہم (خدا) نے تم سے پہلوں کو اور تم کو بھی یہی ہدایت کی ہے کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو۔“

اس قسم کی تعلیم میں سابقہ انبیاء کا یا قوموں کا ذکر دراصل تعلیم اعتقاد ہے۔ مخالفوں کے سامنے بطور دلیل و برہان نہیں۔ اس لئے ایسے مواقع میں ان انبیاء کا جاننا کہ کون کون تھے ضروری نہیں۔ لیکن جہاں کسی نبی کا قول بطور دلیل نقل ہو وہاں ان کا جاننا ضروری ہے۔ جیسے حضرت مسیح کا قول نقل ہے :

”مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ٠ الصف ٦“

اب یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزا قادیانی نے سابقہ انبیاء کرام کا ذکر کس پیرائے میں کیا ہے۔ آیا بطور دلیل کیا ہے یا بطور تعلیم اعتقاد کہا ہے؟۔ اس کے لئے خود مرزا قادیانی کی عبارت کافی ہے۔ جو یہ ہے :

”میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے ماننے کے لئے ضروری تھے وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کر دیئے۔ اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔ پس اگر یہ کار و بار انسان کا ہوتا تو اس قدر دلائل اس میں کبھی جمع نہ ہو سکتے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢‘ خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مخالفوں کے سامنے بطور دلیل صداقت سابقہ انبیاء کرام کا ذکر کرتے ہیں نہ بطور تعلیم عقیدہ۔ اس لئے ضروری ہے کہ مخالفوں کو ان انبیاء کرام کا اور ان کے اس فعل کا علم ہو تاکہ وہ اس علم کے بعد مرزا قادیانی پر

٢٧

صفحہ ١٨٤

ایمان لائیں۔

بر خلاف اس کے مجیب نے جتنے حوالے نقل کئے ہیں۔ وہ سب بطور تعلیم اعتقاد ہیں۔ ان میں ایسا جاننا ضروری نہیں۔ کیونکہ وہ ایمان پر متفرع نہیں۔

ناظرین! جو ان دو میں فرق نہ کرے وہ دھوکہ خور یا دھوکہ دہ ہے۔ اس کا فیصلہ آپ ہی فرما دیجئے۔

کذب ٢... سو سال تک قیامت آئے گی

”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی۔ تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٥٢‘ خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

نوٹ: آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے سو برس تک قیامت بتانے والی حدیث کو ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ امت مرزائیہ اس حدیث کا پتہ دے۔ ورنہ مشہور حدیث: ”من کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ فی النار.“ سے خوف کریں۔

جو کوئی مجھ (رسول اللہ ﷺ) پر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔ (حدیث)

اس کے جواب میں مجیب نے تسلیم کیا ہے کہ: ”یہاں قیامت کبریٰ مراد نہیں۔ بلکہ قیامت صغریٰ یعنی موجودہ قرن (طبقہ) کی قیامت۔“ ص ٨٦)

جواب الجواب! اگر مرزا قادیانی ایسا لکھتے جو مجیب نے لکھا ہے تو ہم ان پر کذب کا الزام کیوں لگاتے۔ مگر انہوں نے تو یہ غضب کیا کہ یہ فقرہ لکھ مارا:

”سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

ہمیں تو یہ فکر ہوئی کہ منکرین اسلام مرزا قادیانی جیسے مسیح اور مہدی اور سلطان

٢٨

صفحہ ١٨٥

المتکلمین کا یہ بیان سن کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی تکذیب پر اس بیان کو ایک زبردست دلیل نہ بنالیں اور کھلے لفظوں میں کہتے پھریں۔

دیکھو جی پیغمبر اسلام کی پیشگوئی کیسی جھوٹی نکلی کہ بجائے سو دس کے آج ساڑھے تیرہ سو سال ہو گئے قیامت نہ آئی۔ پھر اس کے کذب میں کیا شبہ ؟۔ پھر ہم اس کے جواب میں کہتے پھرتے کہ : ”اصل بیان میں کذب نہیں۔ اس کے ناقل میں کذب ہے۔ فافہم !“

کذب ٣... ہذا خلیفۃ اللہ

”اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ : ”هذا خليفة الله المہدی ۔“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ : یہ حدیث بخاری میں نہیں۔ اتباع مرزا دکھائیں تو ہم مشکور ہوں گے۔

اس نمبر کے جواب میں بھی مجیب نے صاف صاف اقرار کیا ہے کہ : ”بخاری کے حوالہ کا ذکر صرف سبقت قلم ہے۔ اسے کذب قرار دینا ظلم ہے۔“ شاباش ! یوں چلا کرو۔

نوٹ : ہمارے پنجاب کے جٹ کسی شخص کی تکذیب کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیتے ہیں : ”تمہاری بات جھوٹی ہے“ یا ”تم جھوٹ بکتے ہو“ مگر لکھنوی نزاکت پسند اور لطافت گو کہا کرتے ہیں۔

”واللہ میں افسوس کرتا ہوں کہ میں جناب کے ارشاد سے متفق نہیں۔“ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے کہ آپ کی بات جھوٹ ہے۔ قادیانی مجیب نے قادیان کے نمک کا لحاظ رکھ کر کیا لطافت سے کہا ہے : ”بخاری کا نام سبقت قلم ہے“

٢٩

صفحہ ١٨٦

اللہ اکبر ! سبقت بھی دست مرزا کی نہیں، قلم مرزا کی۔ کسی عاشق نے کیا خوب کہا ہے:

مجھے قتل کر کے وہ بھولا سا قاتل
لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے
کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے
کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

نوٹ : اگر مرزا قادیانی آنجہانی سے سبقت قلم ہوئی ہے تو ان کے اتباع اسے درست کر دیں۔ مگر وہ بھی کیسے کریں ان کا تو اصول ہی یہ ہے :

ما مریداں روبسوئے کعبہ چوں آریم چوں
روبسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

کذب ٤... یخرج دجال

”نسائی نے ابو ہریرہؓ سے دجال کی صفت میں آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث لکھی ہے : ”يخرج اخرالزمان دجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضان السنتهم احلی من العسل وقلوبهم قلوب الذئاب يقول الله عزوجل ابی یغترون ام علی یجترون .“ یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال نکلے گا ......... الخ۔

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٧٣ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢١١)

نوٹ : یہ حدیث (دال) کے ساتھ (دجال کی صورت میں) حدیث شریف کی کسی کتاب میں نہیں البتہ (ر) کے ساتھ (رجال کی صورت میں) آئی ہے۔ اس نمبر میں مجیب نے جس کیفیت سے اپنی دیانت اور امانت کا جنازہ اٹھایا ہے قابل افسوس ہے۔ لکھا ہے :

٣٠

صفحہ ١٨٧

گویا (گویا نہیں یقیناً) صرف دجال اور رجال کے دال اور راء کا اختلاف ہے اور مولوی صاحب کا دعویٰ ہے کہ دال کے ساتھ دجال کی صورت میں یہ حدیث شریف کی کسی کتاب (کسی صحیح کتاب میں نہیں ۔) میں نہیں۔ اس لئے ہم کتاب کا حوالہ لکھ دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (کنز العمال جلد ٧ مطبوعہ دائرۃ المعارف نظامیہ حیدرآباد دکن) جلد سابع ص ٨ " يخرج فى آخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضأن........... الخ . ن‘ عن ابى هريرة “ قلمی نسخہ میں بھی دجال بالدال صاف طور پر لکھا ہوا ہے۔ مخدوم بیگ عفی عنہ مدرس مدرسہ نظامیہ۔“ (ص٩٢) (خدا کی شان ہے۔ چونکہ مجیب نے مرزا قادیانی کے کذب کو صدق ثابت کرنے کا تہیہ کیا۔ اس لئے خدا نے اس کو بھی کذب سے آلودہ کیا۔ یعنی ص ٨ پر یہ روایت نہیں بلکہ ص ٧٤ پر ہے۔ مؤلف)

جواب الجواب! ہم جانتے ہیں اور اعتراض کرنے سے پہلے ہی جانتے تھے کہ کنز العمال مطبوعہ حیدرآباد دکن میں یہ روایت ”دال“ کے ساتھ ہے۔ مگر یہ گمان ہم نہ کرتے تھے کہ کوئی قادیانی کذب کا اتنا حامی ہو گا جو اس دال کی حمایت بھی کرے گا۔ الی اللہ المشتکی!۔ سنئے! جس مطبوعہ کتاب سے آپ نے یہ روایت نقل کی ہے۔ اس کے چھاپنے والوں نے اس کتاب کے غلط ہونے کے حق میں خود اعتراف کیا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں :

"حيث ان النسخ المنقولة عنها كثرت فيها التصاحيف والاغلاط ولم نجد نسخة جمع الجوامع ولا الزيادات فلم نقدر على التصحيح التام واملاء البياضات التي تركت في الاصل فالمامول ممن قدر على ذلك ان يكملها ويصحها ولا يجعلنا هدفا للسهام الطعن هذا والسلام! جلد ٨ ص ٣٥٠“

بتائیے! جس کتاب کا ناشر (پبلشر) اس کی صحت کا ذمہ دار نہ بنتا ہو آپ ایسی کتاب کو سند میں کیونکر پیش کرتے ہیں؟۔ اور سنئے!

٣١

صفحہ ١٨٨

اسی کنزالعمال کا ملخص ”مسند احمد“ کے حاشیہ پر مصر میں چھپا ہے۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ مصر میں بہ نسبت ہندوستان کے تصحیح زیادہ ہوتی ہے۔ اس ملخص میں یہ حدیث درج ہے۔ اس میں رجال (بالراء) مرقوم ہے۔

(مسند احمد ج ٦ ص ١١)

علاوہ اس کے خود لفظ بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کی منقولہ عبارت غلط ہے۔ کیونکہ دجال (بالدال) صیغہ مفرد ہے اس کیلئے صیغہ جمع (یختلسون) نہیں آسکتا۔ اس بات کو ادنیٰ طالب علم بھی جانتے ہیں۔ لیکن خود غرضی کا برا ہو کہ وہ باخبر انسان کو بھی بے خبر کر دیتی ہے۔

کذب ٥ ... حضرت ابو ہریرہؓ

”تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) فہم قرآن میں ناقص تھا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٣٤‘ خزائن ج ٢١ ص ٤١٠)

نوٹ : تفسیر ثنائی سے مراد اگر وہ تفسیر ہے جو علم کے لحاظ سے ثنائی (مصنفہ خاکسار ابوالوفا ثناء اللہ) ہے تو صریح جھوٹ ہے اور اگر تفسیر ثنائی سے مراد وہ ہے جو مصنف کے لحاظ سے ثنائی ہے۔ یعنی مصنفہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم موسومہ تفسیر مظہری ہے تو بھی جھوٹ ہے۔ اس میں بھی یہ فقرہ ہرگز نہیں۔ قادیانی دکھائیں تو شکریہ لیں۔

اس کے جواب میں مجیب نے کمال باطل کوشی کی ہے۔ بہت سی ادھر ادھر کی کہتے ہوئے لکھا ہے کہ : ”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ابو ہریرہ کو ناقص فہم کہنے اور تفسیر ثنائی کی طرف نسبت کرنے سے الفاظ کا دعویٰ تو نہ کیا تھا۔ بلکہ ایسی عبارتوں میں مفہوم مراد ہوتا ہے۔ تفسیر مظہری (ثنائی) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی اس تاویل کو ان کی ایک خطا قرار دیا گیا ہے۔“ (ص ٩٤)

مطلب یہ ہے کہ چونکہ ایک جگہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم نے حضرت ابو ہریرہؓ کی تفسیر سے اختلاف کیا۔ لہذا مرزا قادیانی کو حق حاصل ہو گیا کہ ابو ہریرہؓ صحابی کو ناقص الفہم لکھ دیں۔ بہت خوب !

٣٢

صفحہ ١٨٩

مرزائی دوستو! ذرہ ہوش سے سننا:

مرزا قادیانی نے سورہ مریم کی آیات متعلقہ ولادت حضرت مسیح سے یہ سمجھا ہے کہ :”حضرت مسیح بے باپ پیدا ہوئے تھے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٨ خزائن ج ١٧ ص ٢٠٢) ان کے راسخ الاعتقاد مرید محمد علی لاہوری اور ڈاکٹر بشارت احمد وغیرہ کہتے ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ باپ سے تولد ہوئے تھے۔ اس پر ہمارا حق ہے کہ ہم یہ لکھ دیں کہ : ”محمد علی لاہوری کہتے ہیں مرزا قادیانی قرآن فہمی میں ناقص الفہم تھے؟۔“

مرزائیو!

آنچہ بخود نہ پسندی بدیگراں مپسند

کذب ٦... سارے نبیوں کی زبانی وعدہ

”ہاں! میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا۔ اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔“

(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ٥١)

نوٹ: سارے نبیوں کے وعدہ کو ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

کذب ٧ . ... میں خدا کی مانند ہوں

”اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔ کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے۔ جیسا کہ نبیوں سے کیا۔ اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے۔ بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے۔ اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانیئیل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے۔ وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت

٣٣

صفحہ ١٩٠

بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آ گیا ہے اور دانیل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔“

(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٥‘ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٤١٣)

اس کے جواب میں مجیب بڑا پریشان ہوا ہے جو کچھ کہا اس کا ملخص یہ ہے : ”حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں :”تخلقوا باخلاق الله“ اللہ تعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔ تو کیا اس آیت اور اس حدیث کا یہ منشاء ہے کہ خدا بن جاؤ۔ نہیں بلکہ علیٰ قدر مراتب مشابہت پیدا کرنا مراد ہے۔ اسی طرح دانیال کی پیشگوئی میں ہے۔ اس پر اعتراض کیسا ؟۔ (ص ١٠٠)

جواب الجواب ! تخلقوا والی حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ مخلوق پر رحیم ہے تم بھی حسب مقدور رحم کیا کرو۔ جس طرح خدا ستار العیوب ہے تم بھی حتی المقدور پردہ پوشی کیا کرو۔ یہ تو نہیں کہ تم خدا کی مانند بن جاؤ۔ اچھا اگر کوئی شخص کسی مرزائی عالم کو کہے تم بھی مرزا قادیانی کے اخلاق سیکھو۔ تو کیا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تم مرزا قادیانی کی طرح نبی‘ رسول‘ مہدی‘ مسیح‘ کرشن وغیرہ بن جاؤ؟۔ ہرگز نہیں پس ”تخلقوا“ کے معنے بھی یہ نہیں کہ خدا کی مانند بن جاؤ بلکہ یہ ہیں کہ خدا کی صفات میں سے حسب طاقت بشریہ بہرہ یاب ہو۔ نہ کہ خدائی کے مدعی بن بیٹھو۔

کذب ٨ ... میں خواب میں اللہ ہو گیا

”رأيتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو“ میں نے خواب میں دیکھا میں (مرزا قادیانی) اللہ ہوں میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٢‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اس نمبر کے جواب میں مجیب نے ایک حدیث پیش کی ہے جس میں ذکر ہے کہ مومن جب نوافل بہت پڑھتا ہے تو خدا اس کے کان‘ آنکھ ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ

٣٤

صفحہ ١٩١

مولانا اسماعیل شہید کا قول لکھا ہے کہ عشق الٰہی کے دریا میں تیرنے والا کبھی انا الحق کہہ اٹھتا ہے کبھی ”لیس فی جبتی سوی اللہ ۔“ کہتا ہے۔ اس سے نتیجہ نکالا ہے : ”یہ ایک فناء الفناء کا مقام ہے۔ جس سے خشک زاہدوں کو کوئی نسبت نہیں۔“

جواب الجواب! حدیث شریف کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ بندہ اپنے کانوں، آنکھوں اور ہاتھوں کو میرے کام میں لگا دیتا ہے۔ میری مرضی اس کی مرضی ہوتی ہے۔ اس سے یہ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود خدا بن جاتا ہے۔ مولانا شہید مرحوم نے بھی دراصل وہی کہا ہے جو حدیث کا مطلب ہے : ”لیس فی جبتی ۔“ سے مراد دل ہے۔ یہ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کوئی چیز نہیں۔ امنا وصدقنا!

اناالحق کہنے کی صحیح تشریح یہ ہے کہ دراصل حکایت من الواجب ہوتی ہے۔ یعنی: ”قال الله اناالحق لاغیری ۔“ بالکل صحیح ہے۔ ہم حیران ہیں کہ مرزا قادیانی منہاج نبوت پر آنے کے مدعی ہیں۔ لیکن وہ ایسے الفاظ موہم شرک بولتے ہیں۔ جو کسی نبی کے منہ سے کبھی نہ نکلے ہوں۔ لطف یہ ہے کہ اسی حوالے کے قریب ہی یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے اسی حالت میں خدائی میں آسمان اور زمین بنائے۔ اور میں نے کہا اب ہم آدم کا سلسلہ پیدا کریں گے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

کیا یہ فناء الفناء ہے یا ادعاء بقا ؟۔

کذب ٩... تمام نبیوں نے میرے آنے کی خبریں دیں

”میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے۔ وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کر دیئے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٢‘ خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

٣٥

صفحہ ١٩٢

کذب ١٠... خدا قادیان میں

”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“

(البشریٰ حصہ اول ص ٥٦‘ تذکرہ ص ٤٤٢ طبع ٣)

کذب ١١... خدا خود اتر آئے گا

”اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے : ”یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام ۔“ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

یہ آیت کون سے پارہ کی ہے؟۔

ناظرین کرام! یہ نمونہ ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کے کذبات تو بے حساب ہیں۔

باب دوم اور باب سوم کو خوب یاد رکھئے۔ کیونکہ ؟ :

مرے محبوب کے دو ہی پتے ہیں
کمر پتلی صراحی دار گردن

نمبر ١٠ کا جواب نہیں دیا۔ نمبر ١١ کی بات ادھر ادھر کی بتا کر مطلب کی بات اتنی کہی کہ : ”قادیان کو رحمت الٰہی اور انوار آسمانی کا مہبط بنایا گیا ہے۔ ایسا ہی نشانات کی کثرت نزول الرب کی ظاہری علامت ہے۔“ (ص ١٠٥)

مطلب یہ کہ ظاہر الفاظ مراد نہیں بلکہ تاویل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مجیب نے ہماری بات نہیں سمجھی۔ آپ پھر غور کریں۔ مرزا قادیانی کا قول ہے :

”گویا خدا زمین پر خود اترے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے : ”یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام........................ الخ،“ اس عبارت میں دو کذب ہیں :

٣٦

صفحہ ١٩٣

یعنی: ”يوم يأتی.“ یہ قرآن مجید میں نہیں ہیں۔

یعنی اس کو اپنے حق میں چسپاں کیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اس کا ذکر ہی نہیں کہ خدا بادلوں میں آئے گا۔ مختصر یہ ہے کہ آیت جھوٹی بنائی‘ ایک کذب۔ اس کو اپنے حق میں لگایا‘ دوسرا کذب۔

ندامت : مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کو صدق بنانے کے لئے مجیب نے بڑی جرات کی مگر اس جگہ اس سے یہ ہمت نہ ہوئی کہ ہماری مطلوبہ آیت قرآن مجید میں دکھا دیتے۔ حالانکہ ہم نے اسی صفحہ پر تقاضا کیا تھا۔ جو مجیب نے پڑھا اور (حقیقت الوحی ص ١٥٤‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨) سے عبارت نقل کی۔ مگر مکذوبہ آیت کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ باوجود اس کے کہتے ہیں : ”ہم جملہ اعتراضات سے فارغ ہو گئے۔“ (ص ١٠٥)

آپ نے جو جواب دیئے ۔ استاد غالب ان کی پہلے ہی تصدیق کر گئے ہیں :

غالب تمہیں کہو کہ ملا ہے جواب کیا
مانا کہ تم کہا کئے اور وہ سنا کئے

نوٹ : فاضل مجیب نے خوب لکھا ہے کہ :

”مصنف تعلیمات مرزا نے ساری عمر کی کدو کاوش کے باوجود جو تعداد (کذبات) درج کی وہ گیارہ ہے۔“ (ص ٨٠)

محدثین کے اصول پر کسی راوی کا حدیث میں ایک جھوٹ بھی ہمیشہ کے لئے باعث ذلت ہوتا ہے۔ آج کل کی عدالتوں میں بھی ایک ہی دفعہ کا جھوٹ باعث رسوائی ہے۔ مگر قادیانی عرف عام میں گیارہ کی تعداد بھی کم ہے۔ کیوں؟۔

پنجابی کہا کرتے ہیں : ”جاٹ کی پینتالیس پتیں ہوتی ہیں۔“

یعنی جاٹ کی پینتالیس عزتیں ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک دو کے جانے سے اس کا

٣٨

صفحہ ١٩٤

کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے، کیا

اطلاع : ناظرین ! یقین کیجئے یہ گیارہ کا عدد بطور مثال ہے۔ ان میں حصر نہیں۔

چوتھا باب...... نشانات مرزا

اس باب میں وہ امور ذکر ہوں گے جن کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار بنا کر ملک کی عام زبان (اردو) میں شائع کئے ہیں۔ ہم ان کو بلا تاویل و تحریف اصلی صورت میں پیش کرتے ہیں :

”ھوالذی ارسل رسوله بالھدےٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کله .“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)

اس نمبر کا جواب الگ نہیں دیا۔ کیونکہ اس میں جواب کی گنجائش نہیں۔ عبارت صاف ہے۔

”چونکہ حضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت الاقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک

٣٧

صفحہ ١٩٥

پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ پر ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔ اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو۔ جب تک وہ پیدا نہ ہولے۔ کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے۔ اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔ اور وہ ہے : ”ہوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔“ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٢‘ ٨٣‘ خزائن ج ٢٣ ص ٩١‘ ٩٠)

نوٹ : ناظرین! کیا ایسا ہو گیا کہ تمام اقوام دنیا اس مدعی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں ایک ہی قوم بن گئیں؟۔ فیصلہ با انصاف ناظرین کے ہاتھ ہے۔

اس کے جواب میں مجیب نے اتنا تو تسلیم کیا ہے کہ : ”مسیح موعود کے زمانہ میں وحدت مذہبی ہونی مقدر ہے۔“ (ص ١٠٧)

مگر : ”مسیح موعود (مرزا) کے زمانہ سے مراد تین سو سال ہے۔“ (ص ١١٠)

جس سے غرض مجیب بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی یہ ہے کہ موجودہ معترضین تین سو سال تک خاموش رہیں۔ بعد میں جو ہو گا دیکھے گا۔ ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ مخلوق خدا

٣٩

صفحہ ١٩٦

کو اتنا کم عقل کیوں جانتے ہیں۔ یا خود اتنی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہیں۔ کیا کوئی پرائمری کا لڑکا بھی اس عبارت کا مطلب یہ سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت سے مراد تین سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ (محولہ بالا)

ناظرین کرام! ہماری منقولہ عبارت کا آخری فقرہ ملاحظہ کریں۔ جو یہ ہے : ”یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

نوٹ : ناظرین! مزید توضیح کے لئے اسی باب کا نمبر ١٤ ملا کر پڑھیں تو مضمون بالکل واضح ہو جائے گا۔ انشاء اللہ !

٣ . . . مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے

”یاد رہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی خبر دی ہے جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا :”لیترکن القلاص فلا یسعی علیھا.“ یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہو جائے گی۔ پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہے۔ جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمناً آجاتا ہے۔ پس! حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی۔ جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریباً تمام کام جو اونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں۔ پس اس سے زیادہ صاف اور منکشف اور کیا پیشگوئی ہو گی۔ چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے :”واذا العشار عطلت.“ یعنی آخری زمانہ وہ ہے جبکہ اونٹنی بے کار ہو جائے گی۔ یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں۔ اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے۔ اس لئے یقیناً یہ

٤٠

صفحہ ١٩٧

استدلال کرنا چاہئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے۔ اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے پھر لوگ باوجود ان آیات بینات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں۔ ان پیشگوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ١٤، ١٣، خزائن ج ٦ ص ٣٠٨، ٣٠٩)

٤...اس کی تائید میں

”آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی ہے اور زمین نے بھی (میرے لئے گواہی دی) مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بے کار ہو گئے اور پیشگوئی آیت کریمہ : ”واذالعشار عطلت .“ پوری ہوئی اور پیشگوئی حدیث : ”ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا .“ نے اپنی پوری پوری چمک دکھلادی اور یہاں تک کہ عرب و عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے۔ یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

قادیانی دوستو ! کیا مکہ مدینہ کے درمیان مرزا قادیانی کی زندگی میں یا بعد ان کے آج تک ریل جاری ہوئی ؟۔ کیا راجپوتانہ ، بلوچستان ، مارواڑ ، سندھ ، عرب ، مصر اور سوڈان وغیرہ ممالک میں اونٹ بے کار ہو گئے ؟۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے۔

اس نمبر کا جواب مجیب نے دیا ہے کہ اونٹنیاں ترک ہونے کی بابت :

”احادیث میں کسی ملک کا نام نہیں آیا۔ عام پیشگوئی ہے۔ مسیح موعود (مرزا) نے بھی اس پیشگوئی کو مطلق ہی قرار دیا ہے کسی ملک سے مخصوص نہیں فرمایا...... لہٰذا مولوی (ثناء اللہ) صاحب کا مخصوص مقامات (مکہ ، مدینہ وغیرہ) کے متعلق استفسار در حقیقت پیشگوئی کی حقیقت اور حضرت مسیح موعود (مرزا) کی عبارات سے ناواقفیت کی بناء پر ہے۔“ (ص ١١١، ١١٢)

٤١

صفحہ ١٩٨

اس کے جواب میں : ہم مرزا قادیانی کی ایک طویل عبارت نقل کرتے ہیں جو فیصلہ کن ہے۔ ناظرین اسے بغور ملاحظہ کر کے اس فیصلہ پر بھی قادر ہو جائیں گے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات سے کون ناواقف ہے اور کون محرف۔ بہر حال وہ عبارت یہ ہے۔ مرزا قادیانی اپنے حق میں آسمانی نشان کسوف و خسوف بیان کر کے لکھتے ہیں :

”زمین کا نشان وہ ہے جس کی طرف یہ آیت کریمہ قرآن شریف کی یعنی : ”واذا العشار عطلت ، “ اشارہ کرتی ہے جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے : ”ویترک القلاص فلا یسعی علیها ، “ خسوف کسوف کا نشان تو کئی سال ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا۔ اور اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آ رہا ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور امید ہے کہ بہت جلد صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یک دفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے۔ اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جاوے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔ بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اٹھ جائے گی اور یہ پیشگوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو چشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل کا تیار ہو جانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھر جانا ہے۔ کیونکہ اسلام کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے ........... ذرا اس وقت کو سوچو کہ جب مکہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکہ کی طرف آئے گا۔ تو اس نئی طرز کے قافلہ میں عین اس حالت

٤٢

صفحہ ١٩٩

میں جس وقت کوئی اہل عرب یہ آیت پڑھے گا کہ : ”واذا العشار عطلت ، “ یعنی یاد کرو وہ زمانہ جبکہ اونٹنیاں بے کار کی جائیں گی اور ایک حاملہ اونٹنی کا بھی قدر نہ رہے گا جو اہل عرب کے نزدیک بڑی قیمتی تھی۔ اور یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا : ”ویترک القلاص فلا یسعی علیھا ، “ یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار کی جائیں گی اور ان پر کوئی سوار نہ ہو گا تو سننے والے اس پیشگوئی کو سن کر کس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہو گا۔ جس شخص کو عرب کی پرانی تاریخ سے کچھ واقفیت ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اونٹ اہل عرب کا بہت پرانا رفیق اور عربی زبان میں ہزار کے قریب اونٹ کا نام ہے۔ اور اونٹ سے اس قدر قدیم تعلقات اہل عرب کے پائے جاتے ہیں کہ میرے خیال میں بیس ہزار کے قریب عربی زبان میں ایسا شعر ہو گا جس میں اونٹ کا ذکر ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ کسی پیشگوئی میں اونٹوں کے ایسے انقلاب عظیم کا ذکر کرنا اور اس سے بڑھ کر اہل عرب کے دلوں پر اثر ڈالنے کے لئے اور پیشگوئی کی عظمت ان کی طبیعتوں میں بٹھانے کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔ اسی وجہ سے یہ عظیم الشان پیشگوئی قرآن شریف میں ذکر کی گئی ہے۔ جس سے ہر ایک مومن کو خوشی سے اچھلنا چاہئے کہ خدا نے قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت جو مسیح موعود اور یاجوج ماجوج اور دجال کا زمانہ ہے۔ یہ خبر دی ہے کہ اس زمانہ میں یہ رفیق قدیم عرب کا یعنی اونٹ جس پر وہ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے اور بلاد شام کی طرف تجارت کرتے تھے۔ ہمیشہ کے لئے ان سے الگ ہو جائے گا۔ سبحان اللہ! کس قدر روشن پیشگوئی ہے۔ یہاں تک کہ دل چاہتا ہے کہ خوشی سے نعرے ماریں۔ کیونکہ ہماری پیاری کتاب اللہ قرآن شریف کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ ایک ایسا نشان دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے کہ نہ توریت میں ویسی بزرگ اور کھلی کھلی پیشگوئی پائی جاتی ہے اور نہ انجیل میں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب میں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٤‘ خزائن ج ١٧ ص ١٩٦‘ ١٩٧)

قادیانی دوستو ! سنتے ہو ! تمہارے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے عرب کی

٤٣

صفحہ ٢٠٠

خصوصیت کس طرح فرمائی ہے۔ اور تمہارے قابل مصنف مجیب نے اس خصوصیت کو کیسے دکھایا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں :

من چہ گویم وطنبورہ من چہ گوئد

٥... مسیح موعود بعد دعویٰ چالیس سال زندہ رہے گا

”حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس تک دنیا میں رہے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١١)

٦... مرزا قادیانی نے کب دعویٰ کیا

لطیفہ : ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المائتین ہے۔ ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل کے نام کے اعداد کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (١٣٠٠) ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٥، ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)

نوٹ : بفحوائے عبارت ہذا ١٣٠٠ ہجری مرزا قادیانی کی بعثت کا زمانہ ہے۔ انتقال آپ کا ربیع الثانی ١٣٢٦ ہجری مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء میں ہوا۔ حساب لگا لیجئے۔ بعد دعویٰ ٢٦ سال رہے۔

ان دو نمبروں کے جواب میں مجیب بہت پریشان ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قلم اور دل میں سخت نزاع ہو رہی ہے۔ آخر قلم چونکہ ظاہری آلہ ہے۔ اس لئے ظاہری

٤٤

صفحہ ٢٠١

دباؤ سے متاثر ہو کر روانی میں مندرجہ ذیل عبارت لکھ گیا : ”حضرت مسیح موعود (مرزا) کو ١٢٩٠ھ سے قبل ہی سلسلہ الہامات شروع ہو چکا تھا۔ براہین احمدیہ کی اشاعت سے بھی قریباً چھ سات سال پیشتر کشوف رؤیا اور اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہورہا تھا اور ١٢٩٠ھ کے آنے پر حضور علیہ السلام (مرزا قادیانی) ماموریت کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے۔“ جیسا کہ حضور نے خود تحریر فرمایا ہے : ”یہ عجیب امر ہے اور اس میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٠)

”اس حساب سے سلسلہ الہام کی عمر چالیس سال ہوتی ہے اور اگر صرف ماموریت کے الہامات سے ہی ابتداء مانی جاوے تو بھی ٣٧ سال کے قریب بن جاتے ہیں اور عربی کے عام دستور کے مطابق کسروں کو حذف کر کے اسے اربعین (چالیس سال) کہنا بھی درست ہے۔ پس اگر براہین احمدیہ کے الہامات سے ہی دعویٰ کی ابتداء ہو تو بہر صورت چالیس برس بن جاتے ہیں اور اعتراض کرنا غلطی ہے۔“

(ص ١١٥)

جواب الجواب ! ہم نے ان لوگوں پر احسان کیا تھا کہ اصل مدت نہیں لکھی بلکہ زیادہ لکھی ہے۔ چونکہ یہ لوگ ناسپاس ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اصل بات لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ادعاء کے مطابق ان کی عمر کے تین حصے ہیں : (١)...... کشف اور رؤیا (٢)...... ماموریت الہیہ (٣)...... دعویٰ مسیحیت موعودہ

یہاں سوال دعویٰ مسیحیت موعودہ پر ہے۔ اسی کے متعلق حدیث مرقومہ آئی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں : ”مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس تک دنیا میں رہے گا۔“

اس امر کی تحقیق کرنی ہو تو مرزا قادیانی کی تصنیفات دیکھئے۔ براہین احمدیہ جو ١٢٩٧ھ میں چھپی اور ملک میں شائع ہوئی۔ اس میں تو مرزا قادیانی مسیح موعود حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مانتے ہیں۔

(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ ص ٤٩٩‘ خزائن ج ١ حاشیہ ٥٩٣)

٤٥

صفحہ ٢٠٢

اس کے بعد سب سے پہلی کتاب جس میں مسیح موعود کا دعویٰ آپ نے کیا ہے ”فتح اسلام“ ہے۔ جس کے سرورق پر ١٣٠٨ھ لکھا ہے۔ اس رسالہ کی اشاعت پر شور ہوا تو آپ نے اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے ”ازالہ اوہام“ طبع کرایا۔ جس پر ١٣٠٨ھ لکھا ہے۔

ان دو کتابوں سے پہلے کسی تحریر مرزا میں دعویٰ مسیحیت موعودہ نہیں ملتا۔ مرزا قادیانی کا انتقال ١٣٢٦ھ میں ہوا۔ اس تحقیق انیق سے مرزا آنجہانی بعد دعویٰ مسیحیت موعودہ صرف اٹھارہ سال دنیا میں رہے۔ حالانکہ آپ کو چالیس سال تک رہنا چاہئے تھا۔

قادیانی مجیب نے جو حوالے نقل کئے ہیں وہ کشف اور الہام کے متعلق ہیں۔ دعویٰ مسیحیت کے متعلق نہیں ہیں۔ دعویٰ مسیحیت موعودہ ١٣٠٨ھ میں کیا ہے۔ اس سے قبل نہیں۔ ہے تو دکھاؤ:

گر ز عشقت خبرے ہست بگو اے واعظ
ورنہ خاموش کہ ایں شور و فغاں چیزے نیست

٧... مسیح موعود کی وفات کا وقت ١٣٣٥ ہجری ہے

”پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت یہاں فرمایا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٠٠‘ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

٨... اس کی تشریح

”دانیال نبی بتلاتا ہے کہ اس نبی آخرالزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفیٰ ﷺ) جب بارہ سو نوے برس گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور تیرہ سو پینتیس (١٣٣٥) ہجری تک اپنا کام چلائے گا۔ یعنی چودھویں صدی سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا۔ اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی قرار دی گئی۔ اب بتلاؤ۔ کیا اس سے انکار کرنا ایمانداری ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٦‘ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٩٢)

٤٦

صفحہ ٢٠٣

نوٹ : مرزا قادیانی ١٣٢٦ ہجری مطابق ١٩٠٨ء میں انتقال کر گئے۔

قادیانی دوستو! چھبیس اور پینتیس میں نو سالوں کا فرق ہے۔ پھر اتنی جلدی کیا تھی کہ مرزا قادیانی تشریف لے گئے۔ تم لوگوں نے عرض نہ کیا ؟ :

آتے ہی کہتے ہو جانا جانا
ایسا جانا تھا تو جاناں تمہیں کیا تھا آنا

ان نمبروں کے جواب میں جو مجیب نے اپنا ضعف دکھایا قابل رحم ہے۔ اس کی ساری کوشش یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ظہور کو ذرہ اوپر کو کھینچ کر لے جائے۔ پھر ١٣٢٦ ہجری ہی ١٣٣٥ھ بن جائے گا۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں :

”دانیال کی پیشگوئی اور تحفہ گولڑویہ کے الفاظ میں اس مدت کی انتہا نبی آخر الزماں کے ظہور سے بتائی گئی ہے اور حضور علیہ السلام کا ظہور تاریخ ہجری سے تیرہ سال اور بعض کے نزدیک دس سال قبل ہوا تھا۔ اس لحاظ سے جب ١٣٢٦ ہجری تھا تو آنحضرت ﷺ کے ظہور پر ١٣٣٥ برس بہر حال گزر چکے تھے۔ اندریں صورت تحفہ گولڑویہ کی عبارت میں لفظ ”ہجری“ عام طریق کے مطابق لکھا گیا ہے۔ وبس۔ اس توجیہ کی صورت میں ابتداء اس کشف سے ہو گی جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے براہین احمدیہ کی تصنیف اور اسلام کے احیاء کے متعلق ١٨٨٤ء کے قریب دیکھا تھا۔“

(ص ١١٧‘ ١١٨)

جواب الجواب ! اس نمبر میں ہمیں اس سے مطلب نہیں کہ مرزا قادیانی کا ظہور کب ہوا۔ ہمارا مطلب تو اس عبارت کو غلط ثابت کرنا ہے جو انہوں نے مسیح موعود کے کام کرتے رہنے کا انتہائی وقت ١٣٣٥ ہجری لکھا ہے۔ ابتداء کی طرف چاہو جتنا کھینچ لو۔ انتہا اس کی ١٣٣٥ ہجری پر ہونی چاہئے۔ حالانکہ ١٣٢٦ھ پر ہوئی۔ (یہی جھوٹ ہے)

٤٧

صفحہ ٢٠٤

٩... مسیح موعود حج کرے گا

”آنحضرت ﷺ نے آنے والے (مسیح) کو ایک امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣١٢)

نوٹ : صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ مسیح موعود حج کرے گا۔ مرزا قادیانی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔

١٠... مسیح موعود کب حج کرے گا ؟

”ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا...........اور آخر دجالی کا ایک گروہ ایمان لا کر حج کرے گا۔“

(ایام الصلح ص ١٦٩ خزائن ج ١٤ ص ٤١٦، ٤١٧)

یعنی مسیح موعود (مرزا) دجال (قوم نصاریٰ) کو مسلمان کر کے ان کو ساتھ لے کر حج کریں گے۔

نوٹ : مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ حالانکہ مسیح موعود کا حج کرنا لازمی ہے۔ جیسا کہ ان کو خود مسلم ہے۔ ہم بغرض تفہیم ایک الزام کو دو نمبروں میں بیان کرتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی عبارات پر غور کرنے والے خوب غور کریں۔ مگر مجیب اپنے فرض (جواب دہی) کو جانتا ہے۔ حق کا پہچاننا اس کے فرائض میں نہیں ہے۔ اس لئے وہ بے تامل ہمارے اعتراضات کو محض باتوں میں ٹال دیتا ہے۔

چنانچہ لکھتا ہے :

”احادیث میں جہاں مسیح موعود کے طواف خانہ کعبہ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد اشاعت دین ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے بھی یہی مراد لی ہے۔“ (ص ١٢٠)

ناظرین ! للہ غور کریں احادیث رسول پاک ﷺ پر ہاتھ صاف کرنا ان کے

٤٨

صفحہ ٢٠٥

بزرگ نے ان کو سکھایا ہے۔ اس کا اثر ہے کہ اسی طرح اپنے بزرگ کے اقوال پر بھی ہاتھ صاف کرنے لگ گئے۔ کتنا ظلم ہے کہ ہم تو مرزا قادیانی کی تصریح دکھاتے ہیں کہ ایام الصلح میں مسیح موعود کا حج کرنا مانتے ہیں۔ ہاں! اس کا وقت وہ بتاتے ہیں جب عیسائی (دجال) مسلمان ہو کر مسیح کے ساتھ حج کو جائیں گے۔

بھلا اس فارسی عبارت کا ترجمہ کیا ہے :

”ما را وقتے حج راست و زیبا آید کہ دجال از کفر و دجل دست باز داشته ایماناً و اخلاصاً در گرد کعبہ گردد ۔“

(ایام الصلح حوالہ مذکور)

بتائیے دجال (قوم نصاریٰ) کے اسلام کے بعد مرزا قادیانی کو حج کرنا مناسب اور موزوں تھا۔ پھر اس (حج) سے اشاعت اسلام کیسے مراد ہوئی۔ اشاعت اسلام کرنے سے تو دجال مسلمان ہو گا اور اس کے مسلمان ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کا حج کرنا تھا۔ کیا یہ تقدم الشیء علی نفسہ ہے یا تقدم المتاخر علی المتقدم نہیں ہے۔

اصل جواب! قادیانی دوستوں سے یہ تو امید نہیں کہ وہ شکر گزار ہوں۔ تاہم بغیر امید شکریہ ہم اس سوال کا معقول جواب دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے :

دجال (قوم نصاریٰ) ایسی ضدی اور سڑی ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری کوشش پر بھی مسلمان نہ ہوئی تو کیا کرتے۔ آخر کار ان کو اسی ضد میں چھوڑ کر چلے گئے۔ (طنزاً)

ابھی آ کر کے بیٹھے تھے
ابھی دامن سنبھالا ہے

مجیب صاحب کی جرات دیکھئے۔ مرزا قادیانی کے حج نہ کرنے کا عذر کس خوبی سے کرتے ہیں :

”سیدنا مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر امن راہ نہ ہونے۔ صحت کی کمزوری کے باعث نیز زاد راہ بصورت نقد جمع نہ ہونے کی وجہ سے حج فرض نہ تھا۔ لہٰذا آپ کا حج نہ کرنا مورد اعتراض نہیں ۔“ (ص ١٢٢)

٤٩

صفحہ ٢٠٦

جواب الجواب ! ہم فاضل مخاطب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے جو عذر کیا اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو منظور تھا کہ مرزا قادیانی حج نہ کر کے عہدہ مسیحیت سے محروم رہیں۔

ناظرین! ہم جو بار بار لکھتے ہیں کہ مجیب جواب دینے میں اپنا فرض (نوکری) ادا کرتا ہے تحقیق حق سے اسے مطلب نہیں۔ تحقیق منظور ہوتی تو یہ سوچتا کہ جس صورت میں علم الہی میں مقدر ہے جس کا اظہار زبان رسالت ﷺ سے ہو چکا ہے کہ مسیح موعود حج کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کے احرام کی جگہ (فج الروحاء) بھی بتادی ہے۔ باوجود اس کے آج کل کے مدعی مسیحیت موعودہ اس سے محروم رہے۔ چاہے بیماری سے رہے یا بدامنی سے رہے۔ بہر حال محروم رہے۔ اس سے صاف ثابت ہوا کہ جس مسیح کے حق میں حج مقدر تھا مرزا قادیانی وہ مسیح نہیں۔ وہ ہوتے تو قدرت خداوندی موانع حج کو خود ہی اٹھادیتی اور مرزا قادیانی اسی معینہ جگہ سے احرام باندھ کر حج کرتے۔ پس ہمارا حق ہے ہم یہ کہیں کہ مجیب نے ہمارے دعویٰ کی تردید نہیں کی بلکہ تائید کی ہے۔ کیا خوب!

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا

قابل مجیب نے ایک فقرہ ایسا بھی لکھا ہے جو دراصل حدیث پر اعتراض ہے۔ لیکن در حقیقت وہ ان کے فہم کا قصور ہے۔ مجیب نے لکھا ہے کہ :

”فج الروحاء میقات نہیں۔ مسیح اس جگہ سے احرام کس طرح باندھے گا۔ اس لئے یہ ایک کشف ہے۔“

(ص ١٢٢)

جواب : ”خرابی ساری یہ ہے کہ یہ لوگ جس قدر مرزا قادیانی کی کتابوں پر محنت کرتے ہیں احادیث نبویہ پر اتنی محنت کریں اور کسی واقف فن استاد سے پڑھیں تو حدیث فہمی میں دھکے نہ کھائیں۔“

٥٠

صفحہ ٢٠٧

سنئے ! میقات جتنے ہیں یہ ان لوگوں کے لئے جو ان سے باہر کے لوگ ہیں اور جو اندر ہوں وہ جہاں ہوں وہیں سے احرام باندھ لیں۔ مثلاً اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ میقات ہے۔ تو کیا جو ذوالحلیفہ سے اندر مکہ کی جانب رہتے ہیں۔ وہ بھی ذوالحلیفہ جا کر احرام باندھ کر آئیں؟۔ نہیں بلکہ وہ جہاں ہوں وہیں احرام باندھ لیں۔ حدیث شریف کے الفاظ کا مقتضا یہ ہے کہ ایام حج میں حضرت مسیح موعود دورہ کرتے ہوئے فج الروحاء کے قریب ہوں گے۔ اس لئے وہیں سے احرام باندھ لیں گے۔ یہی شرعی حکم ہے۔ فاندفع ماتوھم! یوں تو ہر مخالف حدیث کو کشف بنالینا اور کشف بنا کر اپنے منشاء کے موافق تاویل کرلینا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مگر سمجھ دار ابھی دنیا میں موجود ہیں۔ الحمد للہ !

١١... آسمانی منکوحہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی

”نفس پیشگوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز (مرزا قادیانی) کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ : ”لا تبدیل لکلمات اللہ ۔“ یعنی میری بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔“

(اشتہار ١٦ اکتوبر مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٥ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)

نوٹ : جناب مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی کی بابت کہا تھا کہ میرا اس سے نکاح آسمان پر ہوچکا ہے۔ اسی کی بابت فرماتے ہیں کہ آسمانی منکوحہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔

(انجام آتھم ص ٢١٦ خزائن ج ١١ ص ٢١٦)

قادیانی دوستو ! کیا یہ نشان پورا ہوا۔ ہم تمہاری تحریفات اور تاویلات نہیں سنیں گے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں نکاح ٹل جانے سے خدا کا کلام باطل ہو جائے گا۔ خدا کے کلام کو باطل کہنا کفر ہے۔ تمہاری مرضی!

مجیب نے یہاں وہ کمال کیا ہے جو قادیانی جماعت کے زوال کا باعث ہوگا۔ انشاء

٥١

صفحہ ٢٠٨

اللہ لکھا ہے کہ یہ نکاح اس لئے نہ ہوا کہ سلطان محمد (ناکح منکوحہ آسمانی) نہ مرا۔ جب وہ مرا نہیں تو نکاح نہ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ مجیب کے اصلی الفاظ یہ ہیں :

”بے شک حضرت اقدس (مرزا) نے محمدی بیگم کا اپنے نکاح میں آنا ضروری بیان فرمایا ہے۔ اسے اٹل قرار دیا ہے مگر کس صورت میں؟۔ جبکہ سلطان محمد کی موت واقع ہو جائے۔ (دیکھو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء بار دوم کرامات الصادقین) اگر یہ صورت پیدا ہو جاتی اور نکاح نہ ہوتا تو بے شک خدا کا کلام باطل ٹھہرتا۔ مگر جب سلطان محمد کی موت ہی واقع نہ ہوئی تو یہ اعتراض کرنا خلاف دیانت ہے۔“ (ص ١٢٤)

مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری روک سلطان محمد نے ڈالی جو مرا نہیں۔ ہم اس مضحکہ خیز جواب پر کیا لکھیں۔ واللہ! جب ہم اس جماعت کو بحیثیت متکلمین دیکھتے ہیں تو ہماری حیرت کی حد نہیں رہتی۔ کیا متکلمین ایسی کچی باتیں کیا کرتے ہیں کہ سلطان محمد چونکہ مرا نہیں اس لئے خدائی حکم کو روک ہو گئی۔ سنئے! ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم ہر جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی ہی کو پیش کر سکتے ہیں۔ پس سنئے مرزا قادیانی نے اس قسم کے طفلانہ جوابات کو یوں رد کیا ہے : ”یرد بنت احمد الی بعد اهلاک المانعین“ (یعنی) خدا احمد بیگ کی لڑکی (آسمانی منکوحہ) کو بعد مار دینے مانعین کے میری طرف لائے گا۔

(انجام آتھم ص ٢١٦ خزائن ج ١١ ص ٢١٦)

یہ ہے تمہاری سب باتوں کا جواب کہ مانعین کا مار دینا بھی خدا نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اور مار کر آسمانی دلہن کو الہامی دولہا (مرزا قادیانی) کے پاس لانے کا وعدہ ہے۔

مرزائی دوستو! اللہ سے ڈر کر کہو ایسا ہوا کہ سب مانعین ہلاک ہو کر آسمانی منکوحہ مرزا قادیانی کے پاس آگئی ہو ؟۔ آہ! مرزا قادیانی آخری لمحہ زندگی میں یہ شعر پڑھتے ہوئے رخصت ہوئے :

پوچھے اگر وہ قاصد کہدیجئیو یہ صاف
سینے میں دم ہے آنکھ ہے در پر لگی ہوئی

٥٢

صفحہ ٢٠٩

١٢... آسمانی منکوحہ سے اولاد ہوگی

”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے : ” یتزوج ویولد لہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحبِ اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٣٧)

نوٹ: ایمان سے کہو۔ ایسا ہوا؟۔

بعض قادیانی مناظر کہا کرتے ہیں۔ نکاح تب ہو تا جب منکوحہ کا خاوند مرزا سلطان محمد ساکن پٹی (سلمہ اللہ) مرتا جب وہی مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا تو نکاح کیسے ہوتا۔ اس کا جواب بھی مرزا قادیانی کے کلام میں موجود ہے۔

١٣... مرزا سلطان محمد میرے سامنے ضرور مرے گا

”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد مرزا (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہو گی۔ اور میری موت آجائے گی۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ایضاً)

نوٹ : مرزا سلطان محمد (سلمہ) ابھی تک زندہ ہے۔ (١٩٤٨ میں فوت ہوا۔ فقیر اللہ وسایا)

نمبر ١٢‘ ١٣ کا جواب الجواب اسی میں آگیا۔ کیونکہ اس پیشگوئی کو پورا ہونے میں جو

٥٣

صفحہ ٢١٠

مانع تھے جن میں مرزا سلطان محمد بھی سخت مانع ہے۔ ان سب کو ہلاک کر کے مرزا قادیانی کا گوہر مقصود حاصل کرانے کا خدا نے وعدہ کیا ہوا ہے جو پورا ہونا ضروری تھا مگر نہ ہوا۔

نتیجہ کیا؟: خاب من افتری (مفتری نامراد رہتا ہے) سچ ہے:

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

١٤... میں تثلیث کی جگہ توحید پھیلاؤں گا ورنہ جھوٹا کہلاؤں گا

”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔ اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت و شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ والسلام! فقط: غلام احمد!“

(اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء ص ٤ منقول از ”الہدی“ نمبر ١ ص ٤٣ از حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)

١٥... اس کی تائید

”دمشق کا ذکر اس حدیث میں جو مسلم نے بیان کی ہے۔ اس غرض سے ہے کہ تین خدا بنانے کی تخم ریزی اول دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اس غرض سے ہے کہ تثلیث کے خیالات کو محو کر کے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔“

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ص ث مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٧‘ ٢٨٨)

١٦... تائید مزید

”(آنحضرت ﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ

٥٤

صفحہ ٢١١

سے عیسائی دین کا خاتمہ ہو گا اور فرمایا کہ وہ ان کی صلیب کو توڑے گا۔“

(شہادۃ القرآن ص ١١ خزائن ج ٦ ص ٣٠٧)

مرزائی دوستو! مسیح موعود آیا اور چلا بھی گیا۔ تثلیث اور عیسائیت بجائے فنا ہونے کے ترقی پر ترقی کر رہی ہے۔ کیا ہم اس پر یہ شعر مرزا قادیانی کی نذر نہ کریں :

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

نمبر ١٤‘ ١٥‘ ١٦ ان ضروری نمبروں کا جواب مجیب نے ایسا دیا کہ نہ دینے سے بدتر۔ گویا اقرار کیا کہ آج تک تو یہ کام ہوئے نہیں۔ آئندہ تین سو سال تک ہو جائیں گے :

”تا تریاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود“ چنانچہ مجیب کی اصلی عبارت یہ ہے :

”اس قسم کے جملہ اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ سنت الٰہی اسی طرح پر واقع ہوئی ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو روحانی غلبہ تو فی الفور دے دیتا ہے۔ ان کے دشمن دلائل وبراہین کی رو سے عاجز و تہی دست ہوجاتے ہیں۔ لیکن ظاہری غلبہ قدرے ٹھہرا دیا کرتا ہے............ .......سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کامیابی بھی اسی منہاج پر ہے۔ دلائل و معقولات کا وہ ذخیرہ آپ نے پیدا کیا ہے کہ غیر احمدی بھی دشمنان اسلام کے مقابلہ میں اس سے کام لیتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی احمدیت کو جو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل ہورہی ہے۔ یہ اس کی صداقت کا زبردست ثبوت ہے۔ عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹ چکا ہے اور تثلیث کا بت مسیحائے زماں کی ضرب کاری سے ریزہ ریزہ ہو رہا ہے اور عیسائی دنیا خود ان عقائد کو نفرت سے ترک کر رہی ہے اور احرار یورپ بھی تین کے خیالات کو چھوڑ کر توحید کی طرف آرہے ہیں۔ صلیب شکستہ ہو گئی۔ (شیخ چلی زندہ ہے) کیونکہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح مصلوب نہ ہوئے تھے۔ اور وہ دن دروازے پر کھڑے ہیں۔ جبکہ عیسائی مذہب دنیا سے پورے طور پر مٹ جائے گا۔ مبارک ہیں وہ جو وقت کو شناخت کریں اور مسیحائے وقت کی آواز پر لبیک کہیں۔“ (ص ١٣٠)

٥٥

صفحہ ٢١٢

جواب الجواب ! گو ہماری منقولہ عبارات میں یہ فقرات کافی ہیں۔

”میں اس میدان میں کھڑا ہوں کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔ وغیرہ۔“

یہ واحد متکلم کا صیغہ اور مضمون کی ادائیگی بزمانہ حال ناظرین کے لئے غور طلب ہے کہ کیا یہ عبارت زمانہ حال کے لئے ہے یا آئندہ کے لئے؟۔ باوجود اس کے ایک اور عبارت مرزا قادیانی کی ہم دکھاتے ہیں جو تمام عذرات باردہ کا مہلک جواب ہے۔ مرزا قادیانی اپنی مسیحیت کا زمانہ اور کام بتاتے ہیں ۔ :

”چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیا ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ اور اسی تکمیل کے لئے اسی امت میں ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٢، ٨٣ خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

ناظرین کرام! اس فیصلہ کن عبارت کو بغور دیکھیں کہ مرزا قادیانی اس میں اپنی خدمت خاصہ کا ذکر اپنی زندگی میں کیسے صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ وحدت اقوام مسیح موعود کے وقت میں ہو جائے گی۔ ملاحظہ ہو :

”یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔“

اگر یہ کام تین سو سال تک ہونا ہوتا تو اس کو مسیح موعود کے وقت میں ہونا نہ کہا جاتا۔ نیز حاضرین سامعین کو اس سے تسلی کیسے ہوتی۔ یقیناً اس کام کا تعلق حیات مرزا قادیانی

٥٦

صفحہ ٢١٣

سے ہے مگر واقعات نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کا یہ وعدہ معشوقانہ وعدے سے کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ جس کی بابت کہا گیا ہے :

نہیں وہ قول کا پورا ہمیشہ قول دے دے کر
جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

٧١... نوٹ از مرتب احتساب قادیانیت جلد ہذا

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے یہاں پر مرزا قادیانی کا اشتہار جو مولانا موصوف کے متعلق ”آخری فیصلہ“ کے نام سے مرزا نے شائع کیا تھا اس رسالہ میں نقل فرمایا۔ چونکہ وہ فاتح قادیان نامی رسالہ میں پہلے درج ہوچکا ہے۔ اس لئے تکرار کے باعث یہاں سے حذف کردیا گیا۔ البتہ اس پر مولانا نے جو تبصرہ کیا ہے وہ پیش خدمت ہے۔

(فقیر ! مرتب)

یہ مضمون جماعت مرزائیہ کے لئے موت وحیات کا سوال ہے۔ مضمون تثلیث عیسائیوں کے حق میں اتنا مشکل نہیں جتنا ”آخری فیصلہ“ امت مرزا کے حق میں مشکل ترین ہے۔ اس مضمون پر جماعت مرزائیہ کے بحث کرنے کی مثال بالکل یہ ہے جو مکھی شہد میں پھنس جائے جتنی وہ نکلنے میں کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں پھنستی ہے۔ چنانچہ مجیب نے بھی اس میں بڑی محنت سے کام کیا ہے۔ ساری محنت کا نچوڑ یہ ہے کہ یہ محض دعا نہیں بلکہ دعاء مباہلہ ہے۔ چونکہ مولوی ثناء اللہ کے انکار کرنے سے مباہلہ نہیں ہوا۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ کی حیات شرعی حجت نہیں۔ مجیب کے الفاظ یہ ہیں :

” میں ثابت کرچکا ہوں کہ حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء (مرزا قادیانی) کا اشتہار ١٥؍ اپریل دعاء مباہلہ تھا یکطرفہ دعا نہ تھی۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب مباہلہ سے انکار کر کے بچ گئے ہیں۔“ (ص ١٧٠)

اس کا مکمل اور جامع جواب یہ کافی ہے کہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں قادیان سے اس مضمون کا اعلان ہوچکا تھا کہ :

٥٧

صفحہ ٢١٤

”حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا) نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان کا ایک اشتہار دے دیا جس میں محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا گیا ہے۔ نہ کہ مباہلہ کیا ہے۔“

(اخبار بدر ٢٢ اگست ١٩٠٧ء ص ٨)

چونکہ دعاء مرزا کا اثر حق بجانب ہوا۔ یعنی جو فریق عند اللہ ناحق پر تھا وہی لقمہ موت ہوا، تو جماعت مرزائیہ نے یہ حجت نکالی کہ یہ اشتہار محض دعا نہ تھا بلکہ دعاء مباہلہ تھا۔ ایسی حجتوں کے حق میں کہا گیا ہے :

”مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد“

باب پنجم ...... اخلاق مرزا

حسن خلق ہر شخص خاص کر ہر ریفارمر (مصلح) کے لئے ضروری ہے۔ انبیاء کرام چونکہ دنیا کے سب لوگوں کے لئے رہنما اور نمونہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے اخلاق کریمہ بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ نبی اسلام رسول اکرم ﷺ کی شان والاشان کی بابت تو صاف ارشاد ہے :

”انک لعلی خلق عظیم ٠ القلم ٤“ اے رسول آپ خلق عظیم پر ہیں۔

ہماری تصنیف کے ہیرو (مرزا غلام احمد قادیانی) کا دعویٰ ہے کہ میں محمد ثانی ہوں۔ (معاذ اللہ) اس لئے لازم تھا کہ آپ کے اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہوتے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اس خصوص میں مرزا قادیانی کو بہت گرا ہوا پاتے ہیں۔ حسب روایت ہم خود کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی سے حقیقت کہلوا دیتے ہیں۔ ناظرین بغور سنیں :

حسن خلق کے معیار بتانے میں اخلاق نویسوں کا اختلاف ہے۔ مسلمان مومن بالقرآن کے نزدیک وہی معیار صحیح ہے جو قرآن مجید نے فرمایا ارشاد ہے : ”قل لعبادی یقولوا التی ہی احسن ان الشیطان ینزغ بینہم ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا ٠ بنی اسرائیل ٥٣“ یعنی میرے بندو! ایسی بات کہا کرو جو سب

٥٨

صفحہ ٢١٥

سے اچھی ہو۔ شیطان ہر وقت تم میں لڑائی کرانے پر آمادہ ہے۔ کیونکہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے۔ حسن خلق کی تعریف جو معلوم ہوتا ہے وہ ظاہر بلکہ اظہر ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ قائل اسلام اور بروزی نبوت محمدیہ کے مدعی تھے۔ ان کا حسن خلق اسی معیار پر پرکھنا چاہئے۔

نوٹ : ہر کہ و مہ جانتے ہیں کہ کسی انسان کا حلال زادہ یا حرامزادہ ہونا اس وقت سے ہوتا ہے جس وقت اس کے وجود کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں بشکل نطفہ رکھی جاتی ہے۔ وہ اگر باجازت شرعی ہے تو حلال زادہ ہے۔ بے اجازت ہے تو حرام زادہ۔ مگر مرزا قادیانی کا خلق یہ ہے کہ جو ان کو مانے وہ حلال زادہ جو نہ مانے وہ حرام زادہ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

سب مسلمان مجھے قبول کرتے اور میری دعوت کو مانتے ہیں مگر زانیہ عورتوں کی اولاد یعنی حرام زادے نہیں مانتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧‘ ٥٤٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نتیجہ : صاف ہے کہ نہ ماننے والوں کی مائیں زانیہ ہیں اور وہ زنا زادے ہیں۔

سوال : اس حسن خلق سے قطع نظر ہمیں ایک سوال سوجھتا ہے۔ اتباع مرزا قادیانی اس پر غور کریں گے۔ ایک شخص بہت عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کا مخالف رہا۔ اتنا عرصہ وہ حرامزادہ رہا مگر بم ”انقلاب“ وہ بجائے منکر کے معتقد ہو گیا۔ تو اب وہ حلال زادہ ہو جائے گا؟۔

عکس القضیہ : اس کے برعکس ایک شخص عرصہ تک معتقد رہا۔ آخر کار وہ تائب ہو کر منکر ہو گیا۔ جیسا ہوتا رہتا ہے تو اب وہ حلال زادہ سے منقلب ہو کر حرام زادہ ہو جائے گا؟۔ علمائے مرزائیہ ! بینوا توجروا !

مجیب نے اس موقعہ پر کمال ہوشیاری سے اخلاق مرزا قادیانی کی حمایت کی ہے۔ جائے ندامت کے الٹا لکھتے ہیں :

٥٩

صفحہ ٢١٦

”نبی اہل دنیا کے سامنے جج کی حیثیت میں پیش ہوتا ہے کہ تاریکی کے فرزندوں پر فرد جرم لگانے سے پہلے ان کے جرموں سے ان کو آگاہ کرے۔“ (ص ٣٣)

مطلب یہ کہ مرزا قادیانی چونکہ نبی تھے اس لئے ان کا حق تھا کہ اپنے منکروں کو سخت سے سخت الفاظ سے یاد کریں۔ جیسے جج فرد جرم لگاتے وقت سخت الفاظ بولتا ہے۔ ہم مانتے ہیں نبی ہو یا مصلح‘ افعال قبیحہ کو قبیح کہہ کر کرنیوالوں کو تنبیہ کرتا ہے۔ مثلاً کافر‘ فاسق‘ فاجر‘ اصحاب النار وغیرہ الفاظ ان کے حق میں کہتا ہے۔ مگر ایسی طرح کہ سننے میں نہ مکروہ ہوتے ہیں نہ کسی خاص شخص یا جماعت کے حق میں دل آزار۔ بر خلاف مرزا قادیانی کے۔ ان کے الفاظ سنتے ہی ہر شخص کا ضمیر جوش میں آکر انتقام کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ مثلاً: ”اے بدذات فرقہ مولویوں۔“

(انجام آتھم ص ٢١‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ناظرین! ایک طرف یہ مکروہ الفاظ رکھئے اور دوسری طرف وہ رکھئے جو مجیب نے تجلیات رحمانیہ کے ص ١٣٤ پر قرآن مجید کے مختلف مقامات سے نقل کئے ہیں۔ مثلاً قردۃ (بندر) خنازیر‘ سور‘ زنیم‘ ولدالزنا‘ نجس‘ ناپاک‘ شر البریہ‘ وغیرہ۔ (ص ١٣٤)

اس لئے ہم مثال کے طور پر وہی آیت سامنے رکھتے ہیں جس میں سخت سے سخت مکروہ الفاظ مجیب کو نظر آئے ہیں۔ ارشاد ہے: ”ولا تطع کل حلاف مہین ٠ هماز مشاء بنمیم ٠ مناع للخیر معتد اثیم ٠ عتل بعد ذلك زنیم ٠ القلم ١٠ تا ١٣“

خدا اپنے نبی کو اور نبی کی وساطت سے سب بندوں کو حکم دیتا ہے: ”تم مت کہا مانا کرو بڑے جھوٹے‘ نکتہ چین‘ چغل خور‘ مانع خیر‘ حد سے بڑھے ہوئے بد اعمال‘ متکبر اور نسل بدلنے والے کا۔“

بتائیے اس میں کیا تلخی ہے۔ یہ ہے اصل فرد جرم جو نبی بحیثیت جج لگایا کرتا ہے۔ یعنی ان فاعلوں کی صحبت سے منع کیا۔ لیکن دراصل ان افعال سے منع کرنا مقصود ہے و سنئے ! کسی محلہ میں چند لوگ بدکار بد معاش آوارہ گرد ہوں۔ وہاں کا نیک صالح بندہ اپنی اولاد کو

٦٠

صفحہ ٢١٧

یوں نصیحت کرے کہ : ”تم بد کاروں آوارہ گردوں کی صحبت سے پرہیز کیا کرو۔“ اس میں کیا خرابی اور کیا بد اخلاقی؟ بر خلاف اس کے اہل محلہ کو مخاطب کر کے یوں کہے : ”او بد ذاتو‘ شریرو‘ خبیثو‘ جیسے تم خود خبیث ہو‘ ویسے میری اولاد کو بنانا چاہتے ہو۔“

مرزا قادیانی کا قول ہے :

”اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ ظالم مولویو! تم پر افسوس ہے کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١‘ خزائن ج ١١ ص ایضا)

ناظرین کرام! یہ ہیں وہ شیریں الفاظ جن کو قادیانی خلافت کے تنخواہ دار جج کا فرد جرم قرار دیتے ہیں۔ ماشاء اللہ ! چشم بد دور !

لیکن معاف فرمائیے کیا ہم بھی ایک لفظ کی زیادتی کر کے یہی عبارت کہہ سکتے ہیں۔ جو یوں ہے :

”اے قادیانی بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق چھپاؤ گے..........الخ ۔ “

مرزائی دوستو! یقیناً یہ ترمیم تم کو بُری معلوم ہوگی پھر کیا یہ صحیح نہیں ہے۔

آنچہ بخود نہ پسندی بدیگران مپسند

جنہوں نے تمام گھر بار برادری چھوڑ کر اسلام قبول کر کے علم دین حاصل کیا اور تمام عمر توحید وسنت کے شوق اور اشاعت میں گزار دی۔ مگر مرزا قادیانی کے منکر تھے۔ مرزا قادیانی اسی مذکورہ اصول کے ماتحت ان کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں :

اذیتنی خبثاً فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یاابن بغاء

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥‘ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦)

٦١

صفحہ ٢١٨

”تونے مجھے تکلیف دی ہے اے زانیہ کے بیٹے (یعنی حرام زادے) اگر تو ذلت سے نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں ۔ “ (جل جلالہ)

اس خبیث لفظ (ذریۃ البغایا) نے امت مرزائیہ بہر دو صنف کو ایسا پریشان کر رکھا ہے کہ بہت ہی بہکی بہکی باتیں کہتے ہیں۔

میاں ! صاف بات ہے کہ دو مرزا قادیانی نے غصہ کی حالت میں لکھ دیا اب جانے دو۔ یہ کیا ہے کہ اس کی تصحیح کرنے بیٹھے ہو کہ ذریۃ البغایا سے مراد شریر لوگ ہیں۔ مرکب اضافی مراد نہیں۔ جیسے ابن السبیل کے معنے ہیں مسافر وغیرہ۔ (ص ٣٧)

ہاں جناب ! ہر لفظ اپنے معنے میں مستقل حقیقت رکھتا ہے۔ الا جس کو اہل زبان مجازی شکل میں استعمال کریں۔ ابن السبیل کے معنے مسافر کے اہل زبان مراد لیتے ہیں۔ مگر ”ذریۃ البغایا“ کے معنے سوائے ”حرام کاروں کی اولاد“ کے اور مراد نہیں لیتے۔ لیتے ہیں تو دکھاؤ۔

مرزائی دوستو! ہم تمہارے ضمیر سے ایک سوال کرتے ہیں۔ خدا سے ڈر کر صحیح جواب دینا۔ جس طرح تم لوگ منکرین مرزا کو بوجہ انکار ذریۃ البغایا بمعنے شریر بدکار کہتے ہیں وہ بھی تم کو بوجہ اقرار مرزا کے ایسا مانتے ہیں۔ تو کیا تم لوگ پسند کرو گے کہ تمہارے مخالف یوں کہیں :

”کل امرء لا یقبل دعوۃ المرزا الا ذریۃ البغایا ، “ یعنی ہر آدمی مرزا کی دعوت کو رد کرتا ہے۔ سوائے ذریۃ البغایا کے۔ (وہ قبول کرتے ہیں) “

اگر تم اس کو مکروہ سمجھتے ہو تو منکروں کو بھی مکروہ سمجھنے دو۔ ناحق جواب نویسی میں وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔

ہونے پر مخالفوں نے مشہور کیا تو مرزا قادیانی نے ان کے حق میں احسن خلق کا اظہار کیا۔ “

٦٢

صفحہ ٢١٩

”جو شخص اپنی شرارت سے بار بار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا قادیانی کی پیشگوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی) اور کچھ شرم و حیا کو کام میں نہیں لائے گا۔ اور بغیر اس کے کہ ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتحیاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے ............... ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“ (جل جلالہ)

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١، ٣٢)

حلال زادہ اور حرام زادہ بننے کا کیا ہی اچھا طریقہ ہے۔

مرزائی دوستو! کسی مخالف مرزا کا بھی یہ حق ہے کہ وہ یوں کہے مرزائیو حلال زادہ بننا ہے تو اس رسالہ کو غور سے پڑھو۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسا کہنے کا حق نہیں۔

اس نمبر میں مجیب نے کمال دلیری سے خلاف واقعہ جواب دیا ہے۔ پہلے تو یہ جھوٹ بلکہ افتراء علی الرسول کیا ہے کہ : ”آنحضرت ﷺ نے ولید نامی ایک شخص کو ولدالزنا قرار دیا ہے۔“

(ص ١٢١)

ہم اس کذب بلکہ افتراء کا جواب نہیں دے سکتے۔ ہاں! مطالبہ کرتے ہیں کہ الفاظ نبوی دکھاؤ جن میں ولید کو ولدالزنا قرار دیا ہو۔

دوسرے جواب میں اس سے بھی زیادہ دون کی لی ہے۔ لکھا ہے : ”سعد اللہ ہندوؤں کا لڑکا تھا۔ ان کو اتقیا اور صلحا تو نہیں کہا جاسکتا تھا۔ پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے جو کچھ فرمایا بالکل بجا فرمایا۔“

(ص ١٤٠)

ہائے جانب داری تیرا ستیاناس! کیا ہندو کے لڑکے کو ابن بغا (نسل بدکاراں) کہہ سکتے ہیں۔ اگر تم ہندوؤں کو نسل بدکاراں کہہ سکتے ہو تو ان کو تمہارے حق میں ایسا لکھنے سے کیا امر مانع ہے۔ پس اللہ سے ڈرو اور بے جا حمائت نہ کرو۔ میدان محشر میں یہ کچھ کام نہ آئے گا :

٦٣

صفحہ ٢٢٠
عجب مزا ہو کہ محشر میں ہم کریں شکوے
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لئے

فرماتے ہیں :

ان العدیٰ صاروا خنازیر الفلا
نسائہم من دونہن الاکلب

”میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“

(رسالہ نجم الہدیٰ ص ١٠‘ خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

آغا تلوار میان کن !

ہیں : ”اے بدذات فرقہ مولویاں۔ اے یہودی خصلت مولویو۔“

(انجام آتھم ص ٢١‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کے حسن خلق کا ظہور کسی مخالفت یا عداوت پر موقوف نہ تھا بلکہ جدھر نظر عنایت ہوتی اسی کو کوسنے لگ جاتے تھے۔ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی خاص شخص یا اشخاص سے ناراضگی کی وجہ سے بدگو ہیں مگر ایسا فرقہ یا شخص کوئی نہ ہو گا جو منصب رسول کے حق میں بدزبان ہو۔ ہاں ! مرزا قادیانی اس میں بھی یکتا ہیں۔ چنانچہ آپ کے جواہر ریزے یوں ہیں۔

پرستار‘ متکبر‘ خودبین‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣‘ ٢٤)

اور سنئے اور غور سے سنئے !

٦٤

صفحہ ٢٢١

تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔"

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٥ خزائن ج ١٩ ص ٧١)

ناظرین کرام! اس موقعہ پر ہم خاص اہل اسلام سے نہیں۔ بلکہ ہر انسان سے انسانیت کی اپیل کرتے ہیں کہ کیا یہ حسن اخلاق ہے کہ ایک شخص جس نے ہمیں کچھ کہا نہیں۔ نہ ہماری بدگوئی کا جواب دے سکتا ہے۔ اس کو ایسے لفظوں سے یاد کیا جائے :

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

غور سے سنئے !

(٨) "حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جناب مرزا قادیانی نے ہیجڑا بتایا ہے۔ کیا تمہیں خبر نہیں کی مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔ اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے ادھر ادھر نکل گئیں اور آخر نا گفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی ..... ! مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی مگر چونکہ طبعی تقاضا تھا۔ اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے۔ اب تم خود انصاف سے دیکھ لو کہ گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ بن جانا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کا روز روشن میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغاں کرنا اور بر سوں دیوثیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودہ طلاق پاس کرانا۔ یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔ کیا اس مقدس مطہر مزکی نبی امی ﷺ کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں۔ یہ نتیجہ ہے اور ممالک اسلامیہ میں یہ

٦٥

صفحہ ٢٢٢

تعفن اور زہریلی ہوا پھیلی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالفت فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

نوٹ : ناظرین ملاحظہ کریں کس جرات سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بیہودا اور ناکارہ کہا ہے۔ (الی اللہ المشتکی)

نمبر ٦‘ ٧‘ ٨ ان سب نمبروں کو مجیب نے یکجا کر کے گلے سے اتار دیا ہے۔ سب کے جواب میں ایک ہی لفظ کافی جانا ہے کہ : ”ہر سہ حوالجات عیسائیوں کے مسلمات اور ان کی کتب سے اخذ کردہ نتائج ہیں۔“ (ص ١٤٨)

ناظرین کرام ! اس بیچارگی کی مثال بھی کہیں ملے گی کہ مجیب خود تجلیات رحمانیہ کے ص ٣٠ پر کہہ آیا ہے کہ : ”یسوع اس حیثیت کا مظہر ہے جو عیسائیت پیش کرتی ہے اور مسیح اس حیثیت کی نمائندگی کرتا ہے جو اسلام نے پیش کی ہے۔“ (ص ٣٠)

ناظرین کرام ! پس دیکھ لیجئے کہ مرزا قادیانی نے مسیح کو مسیح کے نام سے یاد کیا ہے یا یسوع کے نام سے۔ ایک دفعہ اس کفریہ عبارت کو پھر پڑھ دیجئے یا سن لیجئے : ”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ‘ پیو‘ شرابی‘ نہ زاہد‘ نہ عابد........... الخ۔“ علاوہ اس کے ہم پوچھتے ہیں یہ کس عیسائی کا مسلمہ ہے کہ : مسیح کھاؤ‘ پیو‘ شرابی‘ کبابی‘ نہ زاہد نہ عابد تھا۔“

مسیحی ممبرو ! کیا قادیانی مجیب سچ کہتا ہے ؟ :

تمہیں تقصیر اس بت کی جو ہے میری خطا لگتی
ارے لوگو ! ذرہ انصاف سے کہیو خدا لگتی

حقیقت یہ ہے کہ ایک غلطی کو ثابت کرنے کے لئے آدمی بہت سی غلطیاں کر جاتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ مرزا قادیانی کی نجس طبیعت سے ایسے مکروہ اور ناشائستہ

٦٦

صفحہ ٢٢٣

الفاظ نکل گئے۔ اب یہ لوگ ان کی اصلاح کرنے بیٹھیں تو یہی جواب ملے گا :

"لن يصلح العطار ما افسد الدهر."

الحمدللہ! ہم جواب الجواب سے فارغ ہو گئے۔ فللہ الحمد!

ناظرین کرام! یہ نمونہ ہے مرزا قادیانی کے حسن اخلاق کا جو صاحب مفصل دیکھنا چاہیں۔ وہ ہمارا رسالہ ”ہندوستان کے دو ریفارمر“ ملاحظہ کریں۔ جس میں سوامی دیانند اور مرزا قادیانی کے اخلاق حسنہ مساوی دکھائے گئے ہیں۔

نوٹ : یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی کے مخالفوں نے بھی مرزا قادیانی کے حق میں سخت و سست الفاظ لکھے مگر ان کا ایسا لکھنا مرزا قادیانی کے لکھنے کو جائز نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ مصلح بن کر آئے تھے اور لوگوں کی یہ حیثیت نہیں۔ بیمار کی ریس طبیب کرے تو طبیب نہیں۔ علاوہ اس کے دنیا میں موجودہ لوگوں نے تو جو کہا وہ سنا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مرزا قادیانی کو کچھ نہیں کہا تھا۔ ان پر کیوں ایسے تیر پھینکے! کیا اس لئے کہ ان کو اپنا رقیب جانتے تھے؟۔

انصاف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی یا کسی اور صاحب کی ساری عمر کی نیکی ایک پلڑے میں اور حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے حق میں مرقومہ بدگوئی دوسرے پلڑے میں رکھی جائے گی تو یہ دوسرا پلڑا بحکم شریعت بہت جھکنے والا ثابت ہو گا۔

عذر بارد : حسن عقیدت بھی ایک چیز ہے۔ بعض اوقات حق و باطل میں امتیاز کرنے کا ملکہ چھین لیتی ہے۔ مرزا قادیانی کے معتقد کہا کرتے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب نے اس عیسیٰ مسیح کو برا نہیں کہا جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ بلکہ اس کو کہا ہے جس کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ اپنی الوہیت اور تثلیث کی تعلیم دے گئے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے جو حوالے نقل کئے ہیں۔ ان میں تین لفظ خاص قابل غور ہیں۔ عیسیٰ، مسیح اور علیہ السلام یہ تینوں اسلامی اصطلاح کے لفظ ہیں۔ انہی ناموں

٦٧

صفحہ ٢٢٤

سے برا کہا گیا۔ علاوہ اس کے قرآن مجید میں یہ بھی ایک اخلاقی سبق ہے :

”لا تسبواالذین یدعون من دون الله فیسبوالله عدواً بغیر علم . الانعام ١٠٨“ یعنی جن لوگوں کو غیر مسلم پکارتے ہیں تم مسلم لوگ ان کو برا نہ کہا کرو۔ ورنہ ضد اور جہالت سے وہ خدا کو برا کہیں گے۔“

فرض کر لیں کہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ مسیح مسلمہ اسلام رسول کو برا نہیں کہا بلکہ عیسائیوں کے مصنوعی معبود کو برا کہا ہے تو بھی بحکم آیت مرقومہ ناجائز فعل ہے۔

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کو مصلح سمجھ کر اخلاق میں ان کی ریس کرنے کا خیال نہ کریں۔ بلکہ قرآن مجید کے احکام کی تعمیل کریں اور اس بات کا خیال رکھیں جو استاد صاحب مرحوم نے کہا ہے :

بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے
ہے یہ گنبد کی صدا جیسا کہے ویسی سنے

التماس ! امید ہے ناظرین اس رسالہ کو خود دیکھ کر مرزا قادیانی کے اتباع کو ضرور دکھائیں گے اور ہر ایک حوالہ کا جواب ان سے طلب کریں گے۔ واللہ الموفق!

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری (ملقب بہ فاتح قادیان)

چورن کا اشتہار ... قابل ملاحظہ اخبار

چورن فروشوں کا دستور ہے کہ بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنے چورن کی بابت ایسا پر زور اعلان کرتے ہیں کہ ساری بیماریوں کی شفا اسی میں بتا دیتے ہیں۔ امت مرزائیہ کی بھی یہی عادت ہے۔ کوئی کیسی ہی زٹل تحریر جو ہمارے جواب میں نکلے۔ بس اس کی تعریف کرتے ہوئے چورن فروشوں کو مات کر دیں گے۔ اسی کتاب (تجلیات رحمانیہ) کی بابت جس کے جواب سے ہم فارغ ہوئے ہیں۔ خلیفہ قادیانی نے بھی بڑی تعریف کی (الفضل ٤ جنوری ١٩٣٢ء ص ٥) اس کے بعد دیگر چورن فروشوں نے تو کمال ہی کر دیا۔

٦٨

صفحہ ٢٢٥

چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں : ”مولوی اللہ دتہ قادیانی نے ایسے پختہ اور قوی دلائل دیئے ہیں جو مولوی ثناء اللہ کی پھکڑ بازیوں کو جو ان کی تمام تحریرات میں حضرت مسیح موعود کے بر خلاف ملتی ہیں۔ اس طرح تار عنکبوت کی طرح بکھیر کر رکھ دیا ہے جس کا جواب مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ سے اب تک نہ بنتا ہے نہ بنائے بنے گا۔ اگرچہ ان کے دوسرے مددگار روح الخبث اور کج رفتار بھی کیوں نہ مولوی صاحب کی پیٹھ ٹھونکیں : ”لوکان بعضنا لبعضہ ظہیراً ۔“ اور بارہ دلائل مولوی اللہ دتہ قادیانی کی طرف سے ایسے دیئے گئے ہیں جن کی طرف مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا۔ کیا یہ ان کی عاجزی کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر نہیں تو ذرہ ان کا نمبر وار جواب تو دے کر بتائیں ۔ دیدہ باید!

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

(فاروق ٢٨؍ مارچ ٣٢ء ص ٨)

جواب : ناظرین ! اس جوابی اشتہار کی صداقت کتاب اور جواب کتاب سے ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ہمارا تو عقیدہ ہے۔ قادیانی اور جواب ؟۔

ضدان مفترقان ای تفرق

(ابوالوفاء)

کیسا تصرف الٰہی دیکھئے

چونکہ غرض فاسد کے لئے آیت بے موقع لکھی ہے اس لئے تصرف الٰہی سے صحیح لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔ صحیح یوں ہے : ”ولو كان بعضهم لبعض ظهيراً ۔“ جو لکھا ہے آیت تو کجا عربی عبارت بھی صحیح نہیں۔ (مصنف)

٦٩

PDF 226

احتساب قادیانیت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ ’ احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ’ احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔

احتساب قادیانیت جلد چہارم

مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہو گی۔

مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ : ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ : ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح ، رسالہ قائد قادیان“ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ : ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب ، صدائے ایمان“ مولانا بدر عالم میرٹھیؒ : ختم نبوت ، حیات عیسیٰ ، آواز حق ، امام مہدی ، ، دجال ، نور ایمان ، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“

ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔

رابطہ کے لئے:

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 227

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

فیصلہ مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٢٢٨

فیصلہ مرزا ........... پہلے مجھے دیکھئے

دیباچہ

بسم الله الرحمن الرحيم. نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى آله واصحابه اجمعين. ”مرزا غلام احمد قادیانی ١٢٦١ھ میں پیدا ہوئے۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨۔ خزائن ج ١٥ص ٢٨٣)

اور ١٣٢٦ ہجری مطابق ١٩٠٨ء میں فوت ہوئے۔ جوانی میں آپ کچہری سیالکوٹ میں پندرہ روپے کے محرر مقرر ہوئے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣‘٤٤۔ روایت نمبر ٤٩) بعد ازاں آپ نے تصنیف پر توجہ کی تو اس حالت میں آپ الہام کے مدعی ہوئے۔ یہاں تک کہ ١٣٠٨ھ میں آپ نے اعلان کیا کہ احادیث شریفہ میں جس مسیح موعود اور مہدی کے آنے کی خبر آئی ہے وہ میں ہوں۔

چونکہ مسیح موعود کے حق میں نبی اور رسول کا لقب بھی آیا ہے تو آپ نے اپنے حق میں نبی کا لقب بھی اختیار کیا۔

آپ نے اپنی مسیحیت موعودہ ثابت کرنے کے لئے دو طریق اختیار کئے۔ ایک نقلی‘ دوسرا الہامی ۔نقلی سے مراد یہ ہے کہ آیات اور احادیث سے اس طرح استدلال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ فوت ہو چکے ہیں وہ دوبارہ دنیا میں نہ آئیں گے اس لئے جس مسیح موعود کے آنے کی خبر ہے وہ مثیل مسیح ہے جو میں ہوں ۔ اور جو مسیح موعود کے ظہور کا مقام دمشق آیا ہے اُس سے مراد قادیان ہے۔

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٦٦‘ ٦٧۔ خزائن ج ٣ حاشیہ ص ١٣٥‘ ١٣٦)

الہامی طریق سے یہ مراد ہے کہ آپ نے اپنے دعوے کے اثبات میں کئی ایک الہام شائع کیے جن میں آئندہ زمانہ کے متعلق خبریں تھیں جن کی بابت کہا کہ یہ خبریں مجھے خدا نے بتائی

صفحہ ٢٢٩

ہیں جن کا ظہور میری سچائی کا ثبوت ہے۔ (جو افسوس پوری نہ ہوئیں) اسی ضمن میں کئی ایک مسائل میں علماء اسلام سے اُنہوں نے اختلاف کیا۔ علماء اسلام نے ان کے جواب میں بکثرت کتابیں لکھیں۔ خاکسار نے بھی کئی ایک کتابیں ان کے جواب میں شائع کیں جن میں اُن کے دونوں طریقوں پر کافی بحث کی گئی۔ کتابوں کے علاوہ اپنے اخبار ”اہلحدیث“ میں سالہا سال تک اُن کا تعاقب کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُنہوں نے ایک اعلان شائع کیا جس کا نام ہے:

”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“

اس اشتہار میں اُنہوں نے خدا سے بڑی عاجزی اور الحاح سے دعا کی کہ ہم دونوں (مرزا اور ثناء اللہ) میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے۔ اس کے بعد وہ جلدی ایک سال ایک ماہ کے بعد اپنی دعا سے فوت ہو کر سارا فیصلہ کر گئے اس آسمانی فیصلہ پر بھی اُن کے اتباع سے مذاکرہ ہوتا رہا۔ آخر انہوں نے اعلان کیا کہ مولوی ثناء اللہ کا دعویٰ اعلان مذکور سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ بفیصلہ ثالث جیت جائیں تو ہم اُن کو مبلغ تین سو روپیہ انعام دیں گے۔

چنانچہ مباحثہ بمقام لدھیانہ ہوا جس کا انجام یہ ہوا کہ مبلغ تین سو روپیہ خاکسار نے اُن سے وصول کر لیا۔ وللہ الحمد۔

ہندوستانی تو مرزا قادیانی کے حالات اور مقالات سے خوب واقف ہیں مگر عرب اور دیگر بلاد اسلامیہ کے لوگ بوجہ نہ جاننے اُردو زبان کے اُن کے حالات اور جوابات سے واقف نہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ گر سمجھا تھا کہ بیرونِ ہند اُردو جاننے والے نہیں ہیں‘ اُنہوں نے اپنے متعلق عربی میں کتابیں شائع کیں جو عربی ممالک میں پہنچیں تو اُن ممالک کے علماء نے حالات دریافت کیے۔ موصوف کے مفصل حالات اور مباحثات تو بہت طول چاہتے ہیں اس لئے بحکم عربی مثل شائقین کے لئے اُن سب میں سے آخری فیصلہ کے متعلق یہ رسالہ اُردو اور عربی میں شائع کیا گیا۔ اللہ سے ڈرنے والے منصف مزاج محققین سے امید ہے کہ اس مختصر رسالہ کو بنظر غور و انصاف ملاحظہ فرمائیں گے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

خادم دین اللہ ابو الوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسر ۔ پنجاب ۔ جنوری ١٩٣١ء

٣

صفحہ ٢٣٠

دعاوی مرزا

(ازالہ اوہام ص١٥٦۔ خزائن ج٣ ص١٨٠)

ایک منم کہ حسب بشارات آمدم ۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم

(ازالہ اوہام ص١٥٨۔ خزائن ج٣ ص١٨٠)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص٢٠۔ خزائن ج١٨ ص٢٤٠)

خدا نے مرزاجی کو فرمایا:

(حقیقۃ الوحی ص٨٩۔ خزائن ج٢٢ ص٩٢)

مرزا صاحب فرماتے ہیں:

میرے پر کھل رہی ہیں۔ ہزارہا دعائیں اب تک قبول ہوچکی ہیں۔“

(تریاق القلوب ص٦۔ خزائن ج١٥ ص١٣٠)

(حقیقۃ الوحی ص٩٩۔ خزائن ج٢٢ ص١٠٢)

خدا نے مجھے کہا: ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون۔“

٤

صفحہ ٢٣١

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤۔ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤)

دوسرے کو میرے ساتھ ...... میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں جس کو دشمنی اور کینے کا دھواں چھپا نہیں سکتا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ٥٢۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

طاقت دی گئی ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ٥٦۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

پر ہوگا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ٧٠۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

ختم ہو گئی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ٧٠۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

خیر المرسلین (ﷺ) کے صحابہ میں داخل ہو گیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨، ٢٥٩۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ نے اپنے حق میں فرمایا ہے کہ قصر نبوت کی میں آخری اینٹ ہوں۔ مرزا قادیانی اپنے حق میں لکھتے ہیں:

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٨۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩۔ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

یہ دعاوی سب کے سب گو اعلیٰ مراتب کے ہیں لیکن ہیں تو انسانی درجہ کے۔ اب ہم مرزا قادیانی کا ایک مقولہ اور پیش کرتے ہیں جس سے ان کی شان انسانیت سے ارفع معلوم ہوتی فرمایا:

صفحہ ٢٣٢

ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤۔خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کے دعوے تو اور بھی ہیں۔ ہمیں ان حوالہ جات سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ مرزا قادیانی نے جو ہمارے ساتھ فیصلہ کے لئے دعا شائع کی تھی اُس کی قبولیت یقینی ہے کیونکہ مرزا قادیانی ایسے رفیع الشان ہونے کے مدعی تھے کہ آپ کی دعا بھی معمولی کسی مریض یا حاجت مند کے لئے نہیں بلکہ حق اور باطل، اہل حق اور اہل باطل میں فیصلہ کرانے کے لئے کافی تھی۔ اس کا قبول ہونا ضروری ہے۔ پس مذکورہ بالا حوالہ جات کو ملحوظ رکھ کر مرزا قادیانی کا دعائیہ اشتہار ملاحظہ کریں جو نیچے درج ہے:۔

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على رسوله الكريم . يستنبئونك أحق هو . قل اى وربي انه لحق . ”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السّلام علیٰ من اتّبع الہدیٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعوٰی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں ان تہمتوں اور اُن الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی ہی میں ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے تا کہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف

٦

صفحہ ٢٣٣

ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشین گوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے ۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔ میں ان کے ہاتھوں سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت 'لا تقف ما لیس لک بہ علم' پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت کذاب، مفسد ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اُٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین . آمین :

٧

صفحہ ٢٣٤

بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ الراقم عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ مطابق ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨۔٥٧٩)

...... ٭ ......

ناظرین! اس اشتہار کو مکرر ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے اس میں میرے ذمہ بھی کوئی کام رکھا ہے؟ نہیں۔ محض دعا کے ذریعہ خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔“ اس فقرہ کے بعد اخیر اشتہار میں آپ نے صاف لکھا ہے کہ: ”اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ پس اشتہار کی اندرونی شہادت سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس دعا کے متعلق میرا کام کچھ نہیں، نہ میرے اقرار قبولیت کے لئے شرط ہے نہ انکار باعث ردّ۔ بلکہ جو کچھ ہے وہ دعا مرزا قادیانی ہے اور بس۔ یہ تو ہے اشتہار کا نفس مضمون اب ہم بتاتے ہیں کہ اس دعا کے قبول ہونے کا کیا قرینہ ہے۔

پہلا قرینہ:۔ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”مجھے بار ہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں“

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٥ ص ٤۔ خزائن ج ١٥ ص ٥١٥)

نیز فرمایا۔ خدا کی طرف سے مجھے الہام ہوا: ”میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء (برادری) کے متعلق نہیں۔“

(تریاق القلوب ص ٣٨۔ خزائن ج ١٥ ص ٢١٠)

دوسرا قرینہ:۔ جو خاص اس دعا سے تعلق رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ہیں: ”ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اُس کی طرف ہوئی۔ اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔ ”اجیب دعوۃ الداع“ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔“ (کلام مرزا در بدر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء۔ ملفوظات ج ٩ ص ٤٦٨)

٨

صفحہ ٢٣٥

پس مرزا قادیانی کی اس دعا میں مرزا قادیانی کی شخصیت اور مرتبت کے علاوہ مرزا قادیانی کا الہام اجیب دعوۃ الداع ملایا جائے تو ذرہ بھر اس میں شک نہیں رہتا کہ مرزا قادیانی کی یہ دعا اللہ کے نزدیک مقبول تھی چنانچہ وہ اس دعا کے مطابق ربیع الاول ١٣٢٦ھ موافق ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مرض ہیضہ سے انتقال کر گئے۔

حضرت نوح علیہ السلام اور مرزا قادیان

گو بعد مذکورہ ثبوت (اقرار مرزا اور الہام مرزا وغیرہ) کے کسی چیز کی ضرورت نہیں تاہم بطور مثال ہم حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتے ہیں:

حضرات انبیاء کرام میں حضرت نوحؑ کو ہم نے اس لئے منتخب کیا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعوٰی ہے:

”براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے۔ ” وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ . “ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٨٦۔ خزائن ج٢١ ص١١٣)

ایک مقام پر لکھا ہے:

”مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے میں تیری دعا سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں ”رب انی مغلوب“

(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر٥ ص٤۔ خزائن ج١٥ ص٥١٥)

چونکہ مرزا قادیانی نے دعا کے موقع پر حضرت نوح علیہ السلام سے اپنی مشابہت بتائی ہے اس لئے ہم نے بھی عنوان بالا میں مرزا قادیانی کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کو لکھ کر ناظرین کرام خصوصاً پیروان مرزا قادیانی کو توجہ دلائی ہے۔ پس وہ سنیں:

حضرت نوح کی دعا کی طرف کچھ تو مرزا قادیانی نے منقولہ اقتباس میں اشارہ کیا ہے اور کچھ الفاظ ہم نقل کرتے ہیں۔ حضرت ممدوح کی دعا اور اس کا انجام قرآن مجید میں مذکور ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

٩

صفحہ ٢٣٦

”قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِيْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ اِلَّا خَسَارًا وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا وَقَدْ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا ضَلَالًا مِمَّا خَطِيْئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِرِيْنَ دَيَّارًا.

(نوح: ٢١ تا ٢٦)

”نوح نے (ہماری جناب) میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہا نہ مانا اور ان (نابکار لوگوں) کے کہنے پر چلے جن کو ان کے مال اور ان کی اولاد نے (فائدہ کی جگہ الٹا) اور نقصان ہی پہنچایا اور انہوں نے (میرے ساتھ) بڑے بڑے فریب کئے اور (ایک دوسرے کو) بہکایا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ودّ (بت) کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو اور (یہ لوگ ایسی ایسی باتیں سمجھا سمجھا کر) بہتیروں کو گمراہ کر چکے ہیں اور ایسا کر کہ ان ظالموں کی گمراہی روز بروز بڑھتی ہی چلی جائے (کہ آخر کار مستوجب عذاب ہوں چنانچہ) اپنی ہی شرارتوں کی وجہ سے غرق کر دیئے گئے (اور) پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور خدا کے سوا کوئی مددگار بھی ان کو بہم نہ پہنچے اور نوح نے (اُن کے حق میں یہ بھی بد) دعا کی کہ اے میرے پروردگار (ان) کافروں میں سے (کسی متنفس کو بھی زندہ) نہ چھوڑ (کہ) روئے زمین پر بستا بستا (نظر آئے)۔“

ان آیاتِ قرآنیہ میں مما خطیئتھم سے انصارا تک دعا کا نتیجہ ہے یعنی حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کی بے فرمانی سے رنجیدہ خاطر ہو کر ان کے حق میں بددعا کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غرق کئے گئے اور ان کی وہی حالت ہوئی جو مرزا قادیانی نے قرآن کی آیت میں بتائی ہے کہ خدا نے حضرت نوح کو فرمایا ”میں ان کو غرق کروں گا“۔

ناظرین ! اس دعا کو مرزا قادیانی کی دعا کے سامنے رکھ کر پڑھیں ۔ تو دونوں دعاؤں کا مضمون ایک ہی پائیں گے کہ اہل کفر واہل باطل کو ہلاک کر۔ نتیجہ بھی دونوں کا واحد ہوا کہ اہل باطل اہل حق کے سامنے ہلاک ہو گیا۔ فللہ عاقبۃ الامور. لہ الحمد ۔ خدا کی بڑی شان ہے جو زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔

١٠

صفحہ ٢٣٧

اعذار اتباع مرزا

معاملہ کتنا ہی صاف ہو مگر حجتی آدمی ہر بات میں حجت پیدا کر سکتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی زمانہ میں کیسی صفائی سے نشانات نمودار ہوتے تھے جن کو قرآن شریف میں بینات اور بصائر کے نام سے موسوم کیا گیا تاہم منکرین کا قول تھا کہ:

”یہ قدیم جادو ہے۔“

اسی طرح مرزا قادیانی کا معاملہ اُن کی دعا سے طے ہو گیا۔ تاہم اُن کے اتباع نے عذر تراشے اور مجھے مباحثے کا چیلنج دیا۔ میں نے آسمانی فیصلہ کو کافی جان کر چند روز خاموشی اختیار کی تو فتح یاب ہونے پر بعد فیصلہ ثالث تین صد روپیہ انعام کا وعدہ کیا جو میرے کہنے پر جناب مولوی محمد حسن صاحب مرحوم رئیس لدھیانہ (پنجاب) کے پاس امانت رکھوا دیئے گئے اور مباحثہ ١٥؍اپریل ١٩١٢ء بمقام لدھیانہ مقرر ہوا۔ روئیداد مباحثہ الگ رسالہ ”فاتح قادیاں“ کے نام سے مطبوع ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بفیصلہ مسلمہ ثالث غیر مسلم سردار بچن سنگھ جی پلیڈر کے فیصلہ سے میں مظفر و منصور ہوا اور سہ صد کے بیس پونڈ میں نے وصول کئے۔ لہ الحمد۔

اب تو آسمانی فیصلے کے ساتھ زمینی فیصلہ بھی متفق ہو گیا اس کا نتیجہ چاہئے تھا کہ یہ ہوتا کہ اتباع مرزا تائب ہو کر سنت نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کے متبع ہو کر سیدھے سادھے مسلمان ہو جاتے مگر مرزائی اور خوشی ؎ ضدان مفترقان ای تفرق

انہوں نے اس فیصلے کو بھی جھٹلایا اور اپنی طرف سے عذرات تک شائع کئے۔

عذر اول: یہ کیا گیا کہ یہ دعا محض دعا نہ تھی بلکہ دعا مباہلہ تھی یعنی مرزا قادیانی نے اس دعا کے ذریعہ مولوی ثناء اللہ کو دعوت دی تھی کہ تم بھی اسی طرح کہو تا کہ مباہلہ ہو کر فیصلہ ہو جائے کیونکہ مرزا قادیانی اور مولوی ثناء اللہ میں عرصہ سے مباہلہ کی بابت مکاتبت ہو رہی تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اُن کو کتاب ”انجام آتھم“ میں بشمول علماء کرام دعوت مباہلہ دی تھی۔

اس کے بعد اس کے متعلق چھیڑ چھاڑ ہوتی رہی جس کی آخری کڑی یہ اشتہار ”آخری فیصلہ“ ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری متبع مرزا کے الفاظ یہ ہیں:

”مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل قسم کھانے سے انکار کیا یہاں تک لکھ دیا کہ میں تمہاری قسم کا اعتبار نہیں کرتا تو پھر آپ نے اُس اشتہار میں جس کا عنوان ہے

١١

صفحہ ٢٣٨

”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بجائے قسم کھانے کے بالمقابل دعا کے ذریعہ فیصلہ کرنے کی طرف بلایا۔“

(آیۃ اللہ۔ مصنفہ مولوی محمد علی ص ١٦)

یہ بھی کہا گیا کہ مولوی ثناء اللہ نے خود بھی اس دعا کا نام مباہلہ رکھا تھا چنانچہ اُن کے رسالہ مرقع قادیانی میں اُن کے الفاظ یہ ہیں:

”ناظرین آگاہ ہوں گے کہ قادیانی کرشن نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔“

(مرقع قادیانی بابت جون ١٩٠٨ء ص ١٨)

پس یہ دعا جب محض دعا نہیں بلکہ دعاء مباہلہ ہے اور مولوی ثناء اللہ نے اس کے جواب میں نہ دعا کی نہ آمین کہی بلکہ اس سے انکار کر دیا اس لئے یہ مباہلہ منعقد نہ ہوا۔ پس یہ دعا سند اور حجت نہ ہوئی۔

اس کا جواب: یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ مباہلہ باب ”مفاعلہ“ جانبین سے ہوتا ہے یعنی دونوں فریق مقابلہ میں دعا کرتے ہیں مگر باب مفاعلہ کبھی ایک جانب سے بھی آجاتا ہے جیسے عربی میں مثال ہے عَاقَبْتُ اللِّصَّ میں نے چور کو سزادی۔ حالانکہ عاقبت مفاعلہ سے ہے۔

میں نے جہاں اس دعا کو مباہلہ لکھا ہے اس کی دو وجہیں ہیں ایک تو اُسی مقام میں مذکور ہے جسے اتباع مرزا نقل نہیں کرتے نہ لکھتے ہیں۔ ساری عبارت یوں ہے:

”مرزا قادیانی کو میرے حق میں دعا کئے ہوئے (جس کو وہ اور اُن کے دام افتادہ مباہلہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں) آج کامل ایک سال سے کچھ زیادہ گزر چکے ہیں۔“

(حوالہ ایضاً ص ١٩)

پس میرا اُس دعا کو ”مباہلہ“ لکھنا ایک تو مقابلۃً الزامی تھا۔ دوم ”مفاعلہ“ کے معنی ثانی یعنی جانب واحد کی دعا ہے جس کی مثال خود مرزا قادیانی کی کتب میں بکثرت ملتی ہے۔

مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری نے مرزا صاحب کے حق میں یہ دعا کی تھی:

”یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع البحار الانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا ویسا ہی دعا والتجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبۃ النصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیتِ فرقانی کا بنا۔ ”فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین

١٢

صفحہ ٢٣٩

انك على كل شىء قدير ، وبالاجابة جدير. آمین.“

(فتح رحمانی ص ٢٧٦)

یہ دعا محض ایک جانب سے ہے۔ دونوں جانب سے نہیں تاہم اس کو مرزا قادیانی ”مباہلہ“ کہتے ہیں۔ آپ کے یہ الفاظ ہیں:

”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے طور پر مجھ سے مباہلہ کیا اور اپنی کتاب میں دعا کی کہ جو کاذب ہے خدا اُس کو ہلاک کرے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٨۔ خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)

برادران ! جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے مقدمہ میں فریق مدعی کے گھر سے ایک شاہد گزرا تھا۔ جس پر مقدمہ بحق یوسف فیصلہ ہوا تھا‘ میرے مقدمہ میں بھی مرزا قادیانی کے گھر کا ایک معتبر گواہ اُس کا صاحبزادہ موجودہ خلیفہ قادیان میرا گواہ ہے۔ جنہوں نے میری عبارت میں مباہلہ بمعنی جانبین سمجھ کر میری سخت تردید کی ہے۔ چنانچہ اُن کے الفاظ یہ ہیں:

”حضرت اقدس (مرزا) کی وفات کے بعد ثناء اللہ نے ایک اشتہار دیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ مرزا بوجہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کے ہلاک ہوا اور میری زندگی ہی میں فوت ہو گیا ...... یہ شخص اپنی معمولی شوخی کے مطابق اس دعا کا نام مباہلہ رکھتا ہے جس کا انکار بھی کر چکا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس کے برخلاف مضمون لکھتا ہوا لکھتا ہے کہ مباہلہ اُس کو کہتے ہیں جو فریقین مباہلہ پر قسمیں کھائیں۔ پھر اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتا ہے قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔ قسم کو مباہلہ کہنا آپ (مرزا) جیسے ہی راست گوؤں کا کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اب ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ نے جب خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقابلہ پر قسمیں کھانے کا نام مباہلہ ہے اور اس کے سوا کسی اور بات کو مباہلہ قرار دینا راست گوئی کے خلاف ہے اور بالکل جھوٹ ہے تو اب اس کا اس دعا کو جو کہ حضرت صاحب (مرزا) نے شائع کی تھی مباہلہ قرار دینا افتراء نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دعا میں نہ تو حضرت صاحب نے قسم کھائی ہے نہ ثناء اللہ نے۔ پھر باوجود اس کے اس کو مباہلہ قرار دینا خود اسی فیصلہ کے مطابق اس کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو چاہئے کہ وہ اس کے مکر اور فریب میں نہ آئیں۔“

(محمود۔ در تشحیذ الاذہان جلد ٣ نمبر ٦‘٧۔ ص ٢٨٤)

ناظرین کرام ! اُس گھر کے شاہد کی شہادت سے صاف عیاں ہے کہ آخری فیصلہ محض دعا سے چاہا گیا تھا مباہلہ سے نہیں۔

شہادتِ مرزا: اب میں بیرونی شہادت سے فراغت حاصل کر کے خود مرزا قادیانی کا بیان پیش کرتا ہوں:

بیان اول: خود یہی اشتہار مرزا موجود ہے کیونکہ سارے اشتہار میں ایک لفظ بھی مباہلہ یا مباہلہ

صفحہ ٢٤٠

کے معنی کا نہیں بلکہ صاف لکھا ہے کہ "محض دعا سے فیصلہ چاہا گیا" یہ کافی سے زیادہ ثبوت ہے کہ یہ درخواست محض دعا تھی مباہلہ نہ تھا۔

دوسرا بیان : مرزا قادیانی کو میں نے ایک خط لکھا تھا جس کے جواب میں اُن کے مامور محرر ڈاک نے خط لکھا اور قادیانی اخبار بدر میں انہوں نے چھپوا بھی دیا جو یہ ہے:

(نقل خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب)

"آپ کا رجسٹری شدہ کارڈ مرسلہ ٣؍ جون ١٩٠٧ء حضرت مسیح موعود (مرزا) کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ٤؍ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار بدر کا حوالہ دے کر کتاب حقیقۃ الوحی کا ایک نسخہ مانگا ہے۔ اس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقۃ الوحی بھیجنے کا ارادہ اس وقت ظاہر کیا گیا تھا جبکہ آپ کو مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا تا کہ مباہلہ سے پہلے آپ کتاب پڑھ لیتے مگر چونکہ آپ نے اپنے واسطے تعین عذاب کی خواہش ظاہر کی اور بغیر اس کے مباہلہ سے انکار کر کے اپنے لئے فرار کی ایک راہ نکالی اس واسطے مشیت ایزدی سے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجۃ اللہ (مرزا) کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔ اس واسطے مباہلہ کے ساتھ جو اور شروط تھے وہ سب کے سب بوجہ نا قرار پانے مباہلہ کے منسوخ ہوئے لہٰذا آپ کی طرف کتاب بھیجنے کی ضرورت نہ رہی۔"

(خادم مسیح موعود۔ محمد صادق عفی عنہ قادیان ۔ ٥؍ مئی ١٩٠٧ء)

اس میں بھی صاف مذکور ہے کہ سلسلہ مباہلہ ختم ہو کر مرزا قادیانی نے خدا کے القا سے یہ دعا کی تھی۔ اس کو مباہلہ سے جوڑنا مرزا قادیانی کی اس تصریح کے خلاف ہے۔

تیسرا بیان مرزا : مرزا قادیانی کی زندگی میں اخبار بدر قادیاں میں ایک مضمون نکلا تھا جس میں یہ الفاظ درج تھے:

" حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا صاحب) نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے عنوان کا ایک اشتہار دے دیا جس میں محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا گیا ہے نہ کہ مباہلہ کیا گیا ہے۔" (اخبار بدر ٢٢؍ اگست ١٩٠٧ء ص ٨ کالم ١)

١٤

صفحہ ٢٤١

اصول حدیث کی شہادت: اصول حدیث میں یہ مسئلہ مصرح ہے کہ جو فعل یا قول حضرت رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوا ہو اور آنحضور ﷺ نے اُس پر خاموشی فرمائی ہو اُس کو بھی حدیث مرفوع تقریری (حدیث رسولؐ) نام رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں قادیانی اخبار میں ایک مضمون چھپے اور مرزا قادیانی اُس پر خاموش رہیں تو بحکم اصول مذکور یہ بیان بھی بیان مرزا کہا جائے گا۔

چوتھا بیان: مولوی احسن امروہوی جو مرزا قادیانی کے فرشتہ تھے فرماتے ہیں:

”سلمنا کہ حضرت اقدس نے محض دعا کے طور پر فیصلہ چاہا تھا لیکن اس خط میں صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ دعا کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں ہے۔ اس دعا کے وحی اور الہام نہ ہونے کا ابوالوفاء صاحب کو بھی اقرار ہے۔ آگے رہی صرف دعا بغیر وحی اور الہام کے۔ سو حضرت اقدس کا یہ دعا کرنا آپ کی صداقت کی بڑی پکی دلیل ہے۔ اگر آپ کو اپنے منجانب اللہ ہونے کا قطعی طور پر یقین کامل نہ ہوتا تو ایسے الفاظ سے دعا کیوں کرتے جو اس خط میں مذکور ہیں اور ایسی دعائیں تو حضرت سید المرسلین اور خاتم النبیین کی بھی قبول نہیں ہوئی ہیں۔ کما قال الله تعالى ”لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ“۔

(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٧ نمبر ٦‘ ٧۔ بابت جون و جولائی ١٩٠٨ء ص ٢٣٨)

میں کہتا ہوں: جس دعا کو رسول اللہ ﷺ نے موجب فیصلہ قرار دیا ہو اور خدا نے اُس کی قبولیت کا الہام کیا ہو وہ قبول نہ ہوئی ہو اُس کی مثال یا نظیر کوئی نہیں۔ سچے ہو تو دکھاؤ۔ مرزا قادیانی کا الہام قبولیت کا درجہ پا چکا جیسا کہ پہلے ہم عرض کر آئے۔

بہر حال وجوہ مذکورہ سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا آخری فیصلہ محض دعا کے ذریعہ تھا مباہلہ سے نہیں تھا۔ میں نے جو اُس کو مباہلہ لکھا تھا وہ الزاماً لکھا تھا۔ نیز اُس کے معنی یکطرفہ دعا کے تھے۔ جانبین سے مباہلہ کے نہ تھے۔ جیسا کہ مفصل ہم بتا چکے ہیں اور شہادتیں بھی پیش کر چکے ہیں۔ فالحمد للہ ۔

دوسرا عذر: یہ کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ نے یہ دعا سن کر منظور نہیں کی۔ بلکہ اپنے اخبار ”اہلحدیث“ ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء میں صاف لکھا کہ مجھے یہ صورت منظور نہیں نہ کوئی دانا اسے قبول کر سکتا ہے۔

اس کا جواب: مرزا قادیانی کے ایک مرید بلکہ (علیٰ قولہ) خلیفہ موعود مولوی عبداللہ تیماپوری (دکن) نے بہت اچھا منصفانہ جواب دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

١٥

صفحہ ٢٤٢

”جواب دیا جاتا ہے ثناء اللہ نے اس دعا کو منظور نہیں کیا۔ کیا مظلوم ؎١ کی دعا قبول ہونے کے لئے ظالم کی رضامندی شرط ہوا کرتی ہے۔“ (ہرگز نہیں)

(کتاب میزان حشر ۔ مصنفہ مولوی عبداللہ جیا پوری ص ١١)

میں کہتا ہوں : میں نے کسی نیت سے انکار کیا لیکن میرے انکار کا نتیجہ یہ کیوں ہوا کہ عزرائیل بجائے میرے مرزا قادیانی کے پاس چلا جائے بحالیکہ مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں صاف لکھا ہے:

”مولوی ثناء اللہ جو چاہیں لکھیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

تنبیہ : ناظرین کرام! ایک بات ابھی آپ کی توجہ میں لانی باقی ہے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اشتہار کی ابتدا اور انتہا ملاحظہ فرمائیں۔ شروع میں آیت لکھی ہے:

” یَسْتَنْبِئُوْنَکَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہٗ لَحَقٌّ “

یہ قرآن مجید کی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے ”اے محمد (رسول اللہ ﷺ ) آپ سے پوچھتے ہیں یہ قرآن سچ ہے آپ کہئے خدا کی قسم یہ سچ ہے۔“

اس آیت کو مرزا قادیانی نے یہاں محض اس لئے لکھا کہ یہ میری دعا خدا کی طرف سے حق اور فیصلہ کن ہے۔ آخر اشتہار کی دعا یہ ہے:

” رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ . “

یہ دعا شعیب علیہ السلام کی ہے جو مرزا قادیانی نے اہل حق اور اہل باطل میں فیصلہ ہونے کے لئے کی ہے جس کے جواب میں خدا نے الہام فرمایا تھا:

”اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ“ ( میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کروں گا)“

(ملفوظات ج ٩ ص ٢٦٨)

وہ ابھی منتظر ہیں.......

امت مرزائیہ اپنے کمالِ اعتقاد سے ابھی یہ بات دل میں بٹھائے ہوئے ہے کہ مولوی ثناء اللہ حسب دعا مرزا مرے گا۔ چنانچہ حکیم نورالدین خلیفہ اول قادیان کے زمانہ میں رسالہ ریویو قادیان میں حسرت بھرا مضمون نکلا تھا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں:

”ہم تو اس بات کو اب بھی مانتے ہیں کہ حضرت (مرزا) صاحب کی بددعا اس

؎١ مظلوم سے مراد آپ کی مرزا صاحب ہیں اور ظالم سے یہ خاکسار ہے۔ (مصنف)

١٦

صفحہ ٢٤٣

کے حق میں منظور ہوئی اور وہ اس کا نتیجہ بھی انشاء اللہ دیکھ لے گا۔“

(محمد علی حال امیر جماعت لاہور اڈیٹر ریویو نمبر ٧ جلد ٧ ص ٢٩٨ بابت جون جولائی ١٩٠٨ء)

اس حوالے سے بالوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ آخری فیصلہ والا اعلان محض دعا تھا۔ مباہلہ نہ تھا۔ اور وہ دعا ضرور قبول ہوئی۔ مگر نتیجہ وہی نکلا جو خدا کے علم میں تھا یعنی ....... ”کاذب صادق کی حیاۃ میں مر گیا“

باوجود اس کے اُمتِ مرزا کو ابھی انتظار ہے تو اس کا جواب وہی ہے جو قرآن مجید میں ارشاد ہے: ” يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ “ (توبہ: ٩٨) فالحمد لله رب العالمين:

سچ ہے :

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
قول کا پکا تھا پہلے مر گیا

......☆......

ناکامی مرزا

مرزا قادیانی نے دعوے تو بڑے لمبے چوڑے کئے مگر اپنا آنا جس کام کے لئے بتایا تھا اُس کام میں کامیاب نہ ہوئے۔ وہ کام کیا تھے بغیر تاویل وتحریف کے اُنہی کے الفاظ میں ہم بتاتے ہیں۔ مرزا صاحب نے صاف لفظوں میں بتایا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں تمام قومیں ایک اسلامی قوم ہو جائیں گی۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوام آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اس زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔

١٧

صفحہ ٢٤٤

زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اس امت میں سے ایک نائب مقرر کیا...... جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔ اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہو لے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب المبعوث کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے: ” هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ. “

(چشمہ معرفت ص ٨٢‘٨٣۔ خزائن ج ٢٣ ص ٩٠‘٩١)

اس عبارت میں گو بصیغہ غائب مضمون ادا کیا ہے لیکن مراد اس سے ذات خاص (مرزا قادیانی) ہے۔ اس مضمون کے بتانے کو خود آپ ہی کے الفاظ پیش ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

”میرے آنے کے دو مقصد ہیں مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے...... اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آوے۔ دنیا اس کو بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔“

(قول مرزا در الحکم ج ٩ نمبر ٢٥۔ ١٧ جولائی ١٩٠٥ء‘ ١٤ جمادی الاول ١٣٢٣ھ ص ١٠)

ان عبارتوں کے ملانے سے مضمون صاف ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے وقت دنیا میں اسلام ہی اسلام دین ہوگا باقی سب مٹ جائیں گے۔

ان حوالجات کی تکمیل کے لئے ایک حوالہ اور ناقابل دید و شنید ہے:

” هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ “ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا.......“

(براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ ص ٤٩٨‘٤٩٩۔ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)

ان حوالجات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت دنیا میں اسلام ہی اسلام دین ہوگا۔ دگر ہیچ۔ اسلام بھی زمانہ صحابہ کے اسلام کا مثیل اور اگر یہ نہ ہو تو اس کا نتیجہ بھی مرزا صاحب ہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے آپ فرماتے ہیں:

١٨

صفحہ ٢٤٥

”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(قول غلام احمد در بدر قادیان ج٢ نمبر ٤٩ ص٤۔١٩ جولائی ١٩٠٦ء۔

منقول از ”المہدی“ نمبر ١ ص ٤٣ از حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)

سوال قابل غور : کیا ایسا ہوا؟ اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ کفر پر اسلام غالب ہونے کے بجائے کفر اسلامی بلاد پر غالب آ رہا ہے نہ صرف بلادِ اسلامیہ پر بلکہ قلوب پر بھی کفر کا غلبہ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں میں فسق و فجور شرک اور کفر دین بن رہا ہے۔ بہت سے فرزندان اسلام داخل کفر ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں ذلت اور مسکنت ان پر غالب آ رہی ہے خدا کی پناہ۔ حالانکہ مرزا قادیانی مسیح موعود بن کر آئے اور آ کر چلے بھی گئے۔ ایسی حالت میں کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ واقعات صحیحہ کی بناء پر ہم تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں ۔

کوئی بھی کام مسیحا تیرا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ

......☆......

ضمیمہ

مرزا قادیانی نے اپنی علامات صدق میں ایک علامت ایسی بتائی ہے جس کے ساتھ کل دنیائے اسلام کو تعلق ہے۔ وہ مکہ۔ مدینہ (زاد اﷲ شرفہما) کے درمیان ریل کا جاری ہونا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں : ” آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بے کار ہو گئے۔

١٩٠

صفحہ ٢٤٦

اور پیشگوئی آیت کریمہ ”واذا العشار عطلت“ پوری ہوئی۔ اور پیشگوئی حدیث ”ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا“ نے اپنی پوری پوری چمک دکھلادی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل طیار ہو رہی ہے یہی اُس پیشگوئی کا ظہور ہے جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢۔ خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

ناظرین خصوصاً حضرات حجاج!

کیا آپ نے سنا یا سفر حجاز میں دیکھا کہ سفر حج میں اونٹ بیکار ہو گئے اور ریل وہاں جاری ہے؟ (ہرگز ہرگز نہیں) پس جس شخص نے کہا تھا کہ مکہ اور مدینہ میں ریل کا جاری ہونا میری صداقت کی علامت ہے جب وہ علامت نہ پائی گئی تو وہ کون ہوا؟ بحالیکہ وہ آج سے ٢٢ سال پہلے فوت ہو چکا اور ریل آج تک بھی نہیں پائی گئی۔ اور مدعی آیا اور چلا گیا۔ افسوس ......!!

الی اللہ المشتکی علی ما یقولون وھذا ۔ فآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین . وصلی اللہ علی رسولہ والہ واصحابہ اجمعین .

انا الخادم لدین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ من بلدہ امرتسر ١٣٤٩ھ

٢٠

PDF 247

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے حضور کی شان یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں

تفسیر نویسی

کا چیلنج اور فرار

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٢٤٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانی تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار

ادھر آ پیارے ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

پہلے ایک نظر ادھر بھی

”فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری“ کے مصنف نے مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی رد قادیانیت پر تصانیف کی فہرست میں ”قادیانی تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار“ کے متعلق تحریر کیا ہے کہ ”پہلے یہ مضمون کی صورت میں اہلحدیث امرتسر کی اشاعت ١٣؍فروری اور ٣؍اپریل ١٩٣١ء کے دو شماروں میں شائع ہوا۔ بعد میں رسالہ کی شکل میں ان مضامین کو شائع کر دیا گیا۔“ افسوس کہ ہمیں رسالہ تو میسر نہ آیا۔ البتہ محولہ دونوں شمارے دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے مل گئے۔ وہاں سے یہ مضمون لے کر شامل اشاعت کرنے پر رب کریم کے کرم کے سامنے سجدۂ شکر بجالاتے ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے نوازیں۔ آمین بحرمۃ النبی الامی الکریم۔

والسلام فقیر اللہ وسایا ١٤؍شوال ١٤٢٣ھ

…… ٭ ……

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب مرزا قادیانی متوفی کو یہ خاص ملکہ حاصل تھا کہ ایک جہت سے جب وہ عام رائے اپنے خلاف پاتے تو لوگوں کی توجہ دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کرتے۔ جن دنوں پیر صاحب گولڑہ نے مرزا صاحب کے برخلاف آواز اٹھائی تو مرزا صاحب

٢

صفحہ ٢٤٩

نے ١٩٠٠ء میں اُن کو اور اُن کے ساتھ مجھ خاکسار اور دیگر علماء کو بالمقابل تفسیر نویسی کا نوٹس دیا۔ جس کے چند جملے یہ تھے: ”ہم دونوں (مرزا صاحب اور پیر صاحب) قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک قرآنی سورہ لے کر عربی فصیح بلیغ میں اس کی ایسی تفسیر لکھیں جو قرآنی علوم اور حقائق اور معارف پر مشتمل ہو ...... فریقین کا اختیار ہوگا کہ اپنی تسلی کے لئے ایک دوسرے کی بخوبی تلاشی لے لیں تا کہ کوئی پوشیدہ کتاب ساتھ نہ ہو ...... ہرگز اختیار نہ ہوگا کہ کوئی فریق اپنے پاس کوئی کتاب رکھے یا کسی مددگار کو پاس بٹھائے (تالی)...... میں بہر حال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہوگا لاہور میں اپنے تئیں پہنچاؤں گا (مقدم)۔“

(اشتہار بعنوان ”پیر مہر علی شاہ صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری اپیل“ ٢٨؍ اگست ١٩٠٠ء۔

مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤٩‘ ٣٥٠)

اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ پیر صاحب گولڑہ، خاکسار اور دیگر علماء اسلام لاہور پہنچ گئے اور مرزا صاحب تشریف نہ لائے۔ شاہی مسجد میں جلسہ ہوا شوخ مزاجوں نے نظمیں پڑھیں۔ جن میں ایک شعر یہ بھی تھا:

بنایا آڑ کیوں ...... کا چرخہ
نکل! دیکھیں تری تفسیر دانی

پیرا نمبر ٢: یہ زمانہ گزرا۔ اس کے بعد میاں محمود خلف مرزا صاحب خلیفہ ثانی قادیان کا دور آیا تو آپ کے حاشیہ نشینوں نے حق الخدمت ادا کرنے کو قادیانی اخبار ”الفضل“ ١٦؍ جولائی ١٩٢٥ء میں علماء دیوبند کو بالمقابل تفسیر نویسی کا نوٹس دیا تو ہماری غیرت نے تقاضا کیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے قادیان کی توجہ اور طرف کیوں؟

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
او کشتۂ ستم تری غیرت کہاں گئی

اُس کے جواب میں ہم نے لکھا: ”ہم بالمقابل تفسیر نویسی کے لئے تیار ہیں“ (اہلحدیث ٢١؍ اگست ١٩٢٥ء)

الفضل اس کے جواب میں بولا کہ ہمارا خطاب دیوبندیوں کو ہے مولوی ثناء اللہ کیوں دخل دیتا ہے پہلے وہ دیوبندیوں سے وکالت نامہ حاصل کرے۔ اگر وہ مخاطب بنتا ہے تو قادیان میں آکر تفسیر لکھے۔“

(الفضل ج ١٣ نمبر ٢٩ ص ٥۔ ١٠؍ ستمبر ١٩٢٥ء)

٣

صفحہ ٢٥٠

اس کے جواب میں ہم نے اہلحدیث (٢٥؍ستمبر ١٩٢٥ء) میں لکھا کہ: ’’تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیو بندی ہیں ہمیں وکالت نامہ کی حاجت نہیں ۔‘‘

اس کے بعد اہلحدیث ١٣؍نومبر ١٩٢٥ء میں ہم نے فیصلہ کن جواب دیا جو یہ ہے: ’’سنو جی ! ہم زیادہ باتیں کرنا نہیں چاہتے اس لئے آخری اعلان کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں ، ناظرین ! پبلک کو حقیقت معلوم ہو گئی ہے اب اصل بات سنو۔

آپ بتراضی فریقین کوئی تاریخ مقرر کر کے بٹالہ (قادیان سے صرف گیارہ میل) کی جامع مسجد میں آ جائیں۔ جہاں آٹھ بجے صبح سے ١٢ بجے تک مجلس ہو گی۔ جس میں مَیں اور آپ (خلیفہ قادیان) تفسیر القرآن لکھیں گے۔ اس طرح سے کہ مجھ سے اور آپ سے قریب دس دس گز تک کوئی آدمی نہ بیٹھے گا۔ ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم (انڈی پنڈنٹ) ہوگا۔

آپ کو اختیار ہوگا ایک رکوع لیجئے دو لیجئے تین لیجئے۔ مریدوں کے حرج کا اندیشہ ہے تو ان کو منع کر دیجئے کہ وہ ہر گز آپ کو ایسے امتحان میں دیکھنے نہ آئیں۔ ہاں مَیں ہمدردانہ بات آپ کو سمجھا دوں کہ اس مقابلہ کے لئے آنے سے پہلے اپنے رکن اعظم مولوی سرور شاہ صاحب سے ضرور مشورہ کر لیں کیونکہ :

سنبھل کے رکھیو قدم دشت خار میں مجنوں
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

اس صاف جواب اور سیدھے جواب کے جواب الجواب میں ’’الفضل‘‘ نے پھر وہی رونا رویا کہ :

’’مولوی ثناء اللہ صاحب جو ہمارے پہلے چیلنج کے مخاطب نہ تھے اس بحث میں آن کودے ہم نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ دیو بندیوں سے قائم مقامی کی سند لیں جو ہمارے اصل مخاطب ہیں مگر افسوس کہ اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔‘‘

اصل بات کا جواب یوں دیا:

’’ہمارے ہاتھ میں صرف سادہ بے ترجمہ قرآن اور سادہ کاغذ اور آزاد قلم ہوگا۔‘‘

’’بے شک یہ طریق مقابلہ اُس وقت درست ہو سکتا تھا جب یہ دیکھنا ہوتا کہ زید عربی پڑھا ہوا ہے یا بکر ۔ لیکن ہر عقلمند انسان جو ہمارے پہلے مضامین پڑھ چکا ہے اور دیو بندیوں کے اشتہار کو دیکھ چکا ہے ، وہ سمجھ سکتا ہے کہ مقابلہ اس امر میں نہیں ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ

٤

صفحہ ٢٥١

اللہ تعالیٰ عربی جانتے ہیں یا نہیں یا غیر احمدی مولوی عربی جانتے ہیں یا نہیں۔ بلکہ فیصلہ اس امر کا کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر احمدی مولویوں پر ایسے علوم ظاہر کرتا ہے جو پہلی کتب میں نہیں۔ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اوپر اس نے ایسے علوم ظاہر کئے ہیں اور جن کے ذریعہ آپ کی جماعت میں بھی یہ طاقت ہے کہ قرآن کریم کے نئے علوم اور معارف ظاہر کر سکے۔ اس فیصلہ کے لئے بے ترجمہ قرآن کے کیا معنی؟ اور دوسری کسی کتاب کے نہ ہونے کا کیا مطلب؟“

(الفضل ٢٥ نومبر ١٩٢٥ء)

ناظرین! غور فرمائیں خلیفہ قادیان کے والد مرزا صاحب نے پیر صاحب گولڑہ کے سامنے کیسی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے عربی کی شرط لگائی اور بے یارومددگار تلاشی دے کر بے کتاب عربی میں تفسیر لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

مگر اُن کے جانشین جو اُن کے علوم کے وارث ہیں عربی دانی کو شرط نہیں مانتے۔ نہ قادیان چھوڑ کر کسی دوسرے مقام میں آتے ہیں۔ تو آخر کار یہ شعر پڑھ کر دوسرا پیراگراف بھی بند کیا گیا۔

تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

تیسرا پیراگراف:۔ عرصہ دراز اور مدت مدید کے بعد ٢٨؍مارچ ١٩٣٠ء کو پھر ایک آواز آئی۔ الفضل نے قصر خلافت کا اشارہ پا کر مندرجہ ذیل الفاظ لکھے:

”حضرت امام جماعت احمدیہ (میاں محمود) اپنے زمانہ کے سب سے بڑے پاکباز اور خدا تعالیٰ کے مقرب ثابت ہوئے ہیں۔ (بشہادت اخبار مباہلہ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضور کو قرآن مجید کا ایسا علم عطا کیا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ حضور بارہا اس بارے میں چیلنج دے چکے ہیں اور حال میں بھی ایک تقریر میں موجودہ زمانہ کے علماء کے ذکر میں فرمایا کہ میں نے کئی بار چیلنج دیا ہے کہ قرعہ ڈال کر قرآن مجید کا کوئی مقام نکال لو۔ اگر یہ نہیں تو جس مقام پر تم کو زیادہ عبور ہو بلکہ یہاں تک کہ تم ایک مقام پر جتنا عرصہ چاہو غور کر لو اور مجھے وہ نہ بتاؤ پھر میرے مقابلہ میں آکر تفسیر لکھو دنیا فوراً دیکھ لے گی کہ علوم کے دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر۔“

(الفضل ج ١٧ نمبر ٧٥ ص ٥۔ ٢٨؍مارچ ١٩٣٠ء)

پیر کہے اور مرید تائید نہ کریں ناممکن ہے۔ چنانچہ پیر صاحب کی تائید میں ایک مضمون الفضل (٢٣؍مئی ١٩٣٠ء) میں نکلا جس میں چند سوقیانہ الفاظ یہ تھے:

٥

صفحہ ٢٥٢

”یہ کام (تفسیر نویسی) آسان نہیں۔ ورنہ انور شاہ دیوبندی، مولوی ثناء اللہ، پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور دیگر کبار کیوں صم بکم کے مصداق بن رہے ہیں۔“

(الفضل ٢٣ مئی ١٩٣٠ء)

اسی دعوت ثانیہ کی تحریک پر مولوی نورالٰہی (نور) گھرجاکھی کے ایک مرزائی دوست سے اس بارے میں مکاتبت ہوئی جس پر مجھے توجہ دلائی گئی تو میں نے اُن کی چٹھی اہلحدیث ٢٣ مئی ١٩٣٠ء میں درج کر کے نیچے لکھا کہ:

”پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیوبندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا۔ جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیوبندی ہیں پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آ کر بالمقابل تفسیر لکھئے۔ جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر گئے۔ گذشتہ را صلوٰۃ اب سہی ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہو گا اور تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہو گا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں بس۔ (ابوالوفاء)“

اس کے بعد اہلحدیث ٦ / ٢٧ جون ١٩٣٠ء میں بھی اسی مضمون کی یاد دہانی کی گئی۔ اس پر الفضل (ج ١٨ نمبر ١٠ ص ٢۔ ٢٢ جولائی ١٩٣٠ء) میں ایک نوٹ نکلا جو یہ ہے:

”چند روز ہوئے مولوی ثناء اللہ نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے مقابلہ میں تفسیر نویسی پر آمادگی کا ذکر اپنے اخبار میں کیا تھا۔ اس سلسلہ میں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے شملہ سے اطلاع دی ہے کہ پچھلے مضامین کے حوالے نکلوائے جا رہے ہیں اور انشاء اللہ العزیز جلدی ہی مولوی صاحب کے مضمون کا جواب لکھا جائے گا۔“

اہلحدیث:۔ ”لکھا جائے گا“ کا فقرہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اب ہم قادیان پر چوتھی مرتبہ فتح مبین پائیں گے۔ انشاء اللہ۔

(١) مرزا صاحب نے مجھے قادیان پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی میں ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچا مرزا صاحب نہ نکلے۔ ایک فتح۔ (٢) مرزا صاحب متوفی نے آخری فیصلہ کا اشتہار دیا کہ مرزا اور مولوی ثناء اللہ میں جھوٹا پہلے مرے گا، وہ مر گئے۔ دوسری فتح۔ (٣) مرزا صاحب کے مریدوں نے اس مضمون پر انعامی مباحثہ کر کے تین سو روپیہ ہم کو جزیہ دیا۔ تیسری فتح۔ انہی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔)

مگر اس اعلان کے بعد ایسے خاموش ہوئے کہ ہمیں خیال گزرا کہ قادیانی وعدہ بھی

صفحہ ٢٥٣

معشوقانہ وعدہ سے کم نہیں۔

مریدان باصفا اگر چہ اپنی صفائی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں لیکن دفتروں میں یا شہروں اور دیہات میں فریق مخالف کی چھیڑ چھاڑ سے تنگ آ کر اپنی آہ و بکا قصر خلافت میں بھیجتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اس امر میں بھی ایسا ہی ہوا تو خلیفہ قادیان نے بڑی اہمیت سے سالانہ جلسہ قادیان میں ایک طویل تقریر کی جو بعد انتظار بسیار الفضل (٣١۔ جنوری ١٩٣١ء) میں چھپ کر آئی جو درج ذیل ہے:

”اس سال جب میں شملہ جانے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک مضمون شائع کیا ہے۔ روانگی کے وقت وہ مضمون مجھے ملا۔ شملہ میں چونکہ اور بہت کام تھا اس لئے میں اس مضمون کی طرف توجہ نہ کر سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں اصل بحث کو لیتا ہوں۔ ٧؍ مارچ ١٩٣٠ء کے ”الفضل“ میں میرا ایک مکالمہ ایک غیر احمدی مولوی سے جو بڑے سیاح تھے اور اُنہوں نے دنیا کے بڑے حصہ کا چکر لگایا تھا، شائع ہوا۔ آخر اُنہوں نے بیعت کر لی اور حیدرآباد میں جا کر فوت ہو گئے۔ اُنہوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے تھے جن کے میں نے جواب دیئے۔ اسی سلسلہ میں اُنہوں نے پوچھا کیا علماء اندھے ہیں جو ایسی واضح دلائل کو نہیں مانتے۔ اس کے جواب میں میں نے جو کچھ کہا وہ الفضل (٧؍ مارچ ١٩٣٠ء) میں ان الفاظ میں شائع ہوا ہے۔۔۔۔۔ الفضل میں اس مکالمہ کے شائع ہونے پر غالباً بعض لوگوں کی تحریک پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا: ”پہلے بھی خلیفہ قادیان نے دیوبندیوں کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ تعلیمی حیثیت سے ہم بھی دیوبندی ہیں پس ایک سادہ قرآن شریف لے کر بٹالہ کی جامع مسجد میں آ کر بالمقابل تفسیر لکھئے جس کے جواب میں آج تک ہاں نہ پہنچی۔ بلکہ انکار کر گئے۔ گذشتہ را صلوٰۃ، اب سہی۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں صرف یہ کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا اور تفسیر اور معارف کیلئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں۔ بس“ (اہلحدیث ٢٣ مئی ١٩٣٠ء) اس تحریر سے یہ امور ثابت ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تفسیر نویسی کے متعلق میرا وہ چیلنج منظور کر لیا تھا جو میں نے دیوبندیوں کو دیا تھا۔ دوم یہ کہ باوجود اُن کے قبول کر لینے کے میری طرف سے ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر دیا۔

پہلی بات کہ مولوی صاحب نے چیلنج منظور کر لیا تھا خود ان کی اپنی بات سے رد ہو جاتی ہے وہ چیلنج منظور نہیں کرتے بلکہ ایک نیا چیلنج دیتے ہیں۔ چنانچہ باوجود یہ لکھنے کے کہ ان کی طرف

٧

صفحہ ٢٥٤

سے کوئی شرط نہیں پھر شرطیں پیش کرتے ہیں۔ اجمالاً نکہ شرطیں پیش کرنے کا حق چیلنج دینے والے کا ہوتا ہے چیلنج منظور کرنے والے کا نہیں ہوتا۔ چیلنج منظور کرنے والا یہ تو کہہ سکتا ہے کہ جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ معقول نہیں غلط ہیں۔ مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کرتا ہوں ...... مولوی صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ان کو جواب نہ دیا گیا تھا اور ہماری طرف سے خاموشی رہی۔ یہ بھی درست نہیں۔ ان کو جواب دیا گیا تھا، چنانچہ ٢٧ را کتوبر ١٩٢٥ء کے ”الفضل“ میں میری منظوری سے ایک مضمون شائع کیا گیا ...... ٢۔ میرا اصل چیلنج جو اس وقت دیا تھا اور جو اب بھی قائم ہے ١٦ جولائی ١٩٢٥ء کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ غیر احمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی۔ پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا) علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھے ہیں اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے، پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے۔ اگر میں کم سے کم دگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں ...... یہ وہ چیلنج ہے جو دیوبندی مولوی کو دیا گیا تھا۔ جس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا کہ میں بھی دیوبند کا پڑھا ہوا ہوں، میں اسے منظور کرتا ہوں۔ لیکن کہتے ہیں سادہ قرآن اور کاغذ قلم دوات لے کر الگ الگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہوگا۔ میں کہتا ہوں ترجمہ یا بے ترجمہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں، معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل میں اتنی کمی آ گئی ہے ٣؎ کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے میرے متعدد مضامین اور کتابیں پڑھی ہوں گی۔ مخالفین پر میری تحریروں کا رعب بھی جانتے ہیں۔ ٤؎ مگر خیال کرتے ہیں کہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیا تو بس میں ان کے مقابلہ میں رہ جاؤں گا۔ گویا جو

١؎ ہم نے شرطوں کی نفی کی ہے شرط نہیں لگائی۔ ہم نے تو یہ کہا تھا کہ سادہ قرآن اور کاغذ قلم لے کر آ جاؤ۔ اس بیان کو شرط کہنا قادیانی دماغ والوں کا کام ہے۔ (اہلحدیث)

٢؎ آپ نے ہمارے انکار کہنے کا مطلب نہیں سمجھا۔ یا دانستہ مریدوں کو سمجھنے سے مانع ہوئے ہیں۔ آپ نے ٢٧؍ اکتوبر ١٩٢٥ء کو جو لکھا تھا اس کا جواب اہلحدیث ١٣؍ نومبر ١٩٢٥ء میں دیا گیا تھا جس کو الفضل ٢٥؍ نومبر ١٩٢٥ء میں نقل کر کے وہ لکھا جو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ جس کا شروع ”بے شک“ سے ہے اور خاتمہ ”کیا مطلب“ پر ہے۔ اُس عبارت سے ہر ایک دانا انکار بلکہ فراری سمجھے گا۔ پس آپ کا ٢٧؍ اکتوبر کا حوالہ دے کر انکار سے انکار کرنا غلط ہے۔

٣؎ بلکہ باپ کے مراق سے مراقی ہو گئے ہیں۔ (دیکھو رسالہ مراق مرزا ص ٦)

٤؎ ہم تو مانتے ہیں مگر پیغامی لاہوری نہیں مانتے۔

صفحہ ٢٥٥

کچھ میری طرف سے شائع ہوتا ہے وہ مولوی صاحب لکھ کر مجھے بھیج دیا کرتے ہیں اور میں اپنی طرف سے اسے شائع کر دیتا ہوں۔“ مولوی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے میری طرف سے یہ چیلنج نہیں کہ میں بڑا عالم ہوں۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے تو اس کے لئے ایسی بات پیش کر دینا جو اس کی ذاتی قابلیت کی نفی کرتی ہو۔ اس کے دعوے کو رد کر سکتی ہے۔ مگر جو یہ کہتا ہو کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی چیز پیش کرے جس میں خدائے تعالیٰ کی تائید شامل ہو ...... میں نے اُردو میں ترجمہ کرنے کا چیلنج نہیں دیا ....... اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تفسیروں وغیرہ کے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ زیرِ بحث یہ امر تھا کہ تفسیر لکھنے والے کی تفسیر میں کچھ ایسے معارف ہوں جو پہلی کتابوں میں نہ ہوں۔ مگر میں تفسیروں کا حافظ نہیں ہوں۔ پھر ان تفسیروں کو دیکھے بغیر یہ کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں بات ان میں آئی ہے یا نہیں آئی ...... اسی طرح قرآن کریم کی کلید کی بھی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں قرآن کریم کا حافظ ہوں۔ اس لئے قرآن کریم کی کلید کی ضرورت ہو گی۔ وہ مضمون جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہ دوسروں کو معلوم نہیں ہوتا مگر ساری آیت مجھے یاد نہیں ہوتی ....... مولوی صاحب نے یہ شرط لگائی ہے کہ تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہو گا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں۔ مگر یہ صاف بات ہے اور ایسا ہی ہونا ضروری ہے، ورنہ مثلاً قرآن کریم میں جو ذالک الکتاب آیا ہے۔ میں کتاب کے معنی کپڑا لکھوں تو ہر شخص سمجھے گا کہ یہ غلط ہے، پھر اس شرط کے پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ١؎ اگر علوم عربیہ کے خلاف کوئی بات ہوگی تو وہ تو فوراً رد ہو جائے گی ....... مولوی صاحب کی تحریر میں ایک اور بھی لطیفہ ہے۔ وہ ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ اور کوئی کتاب پاس نہ ہو جس سے مراد اُن کی تفاسیر ہیں۔ اور دوسری طرف یہ شرط لگاتے ہیں کہ صرف سادہ یعنی بے ترجمہ قرآن ہو۔ گویا ان کے نزدیک اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا۔ کیونکہ قرآن کریم عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا۔ لیکن ساتھ ہی ان کے خیال میں میرے پاس رازی کی تفسیر نہیں ہونی چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ میں اس کے مطالب نہ چرا لوں۔ ٢؎

مولوی صاحب کی اس بات سے ظاہر ہے کہ جب خدا کسی کی عقل مار دیتا ہے تو وہ عام بے وقوفوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ

١؎ جن کے بڑے میاں نے ”دمشق“ کے معنی ”قادیان“ کئے ہوں اُن سے کیا تعجب کہ کتاب کے معنی کپڑ۔۔۔۔۔ کر دیں۔

(اہلحدیث)

٢؎ پہلے بھی نہ، پھر بھی نہ ..... کیسی لطیف زبان ہے۔

(اہلحدیث)

٩)

صفحہ ٢٥٦

نہیں جانتا وہ رازی اور ابن حبان کے مطالب کو سمجھ لے گا اور ان کی تفاسیر سے مضمون چرائے گا۔ اگر مولوی صاحب کی عقل میں یہ بات آگئی ہے تو گو یہ انتہائی درجہ کی احمقانہ بات ہے۔ میں یہ شرط اپنے چیلنج میں اور بڑھا دیتا ہوں کہ کوئی اُردو کی کتاب نہ رکھنی ہوگی اور نہ ترجمہ والا قرآن ہو گا...... غرض اگر اُنہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا ہے تو آئیں معارف لکھیں۔ ان کا خرچ ہم دیں گے۔ اب میں چند کی شرط بھی نہیں رکھتا تمام کے تمام نکات ایسے ہوں گے جو کسی پہلی کتاب میں نہ ہوں گے۔ اور ان تفسیروں میں تو یقیناً نہ ہوں گے جو پاس رکھی جائیں گی وہ صرف اس لئے رکھی جائیں گی کہ تا معلوم ہو مفسرین نے کیا لکھا ہے تاہم ان کی لکھی ہوئی باتوں میں نہ پڑیں۔“

(الفضل ج ١٨ نمبر ٨٩ ص ٥ کالم ٣۔ ٣١؍ جنوری ١٩٣١ء)

اہلحدیث :۔ اس سارے مضمون کا خلاصہ دو فقرے ہیں۔ (١) یہ کہ میاں محمود صاحب تفسیر نویسی کے وقت عربی تفسیریں اور کلید قرآن ساتھ رکھیں گے۔ (٢) اور معارف جو بتاویں گے وہ اپنے باپ مرزا صاحب کی تحریرات سے بتاویں گے۔

پہلے فقرے کا جواب تو خود مرزا صاحب متوفی کی تحریر سے ملتا ہے جو بوقت تفسیر نویسی جامہ تلاشی دینے اور لینے کی شرط لگا چکے ہیں۔

دوسرا فقرہ آپ کی اصل لیاقت کا کافی اظہار کرتا ہے۔ ناظرین ایک مرتبہ پھر الفضل ج ١٧ نمبر ٧٥ ص ٥ ۔ ٢٨؍ مارچ ١٩٣٠ء کی عبارت ملاحظہ فرمائیں کس زور اور کیسی تعلی سے دون کی لیتے ہیں ۔

”اللہ تعالیٰ نے حضور (خلیفہ قادیان) کو قرآن کا ایسا علم عطا کیا ہے کہ کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔“

کیا وہ علم یہی ہے کہ جو باوا جی نے کہا بیٹا جی نے ”در نقل چہ عقل“ کہہ کر نقل کر دیا۔ ارے جناب آپ کے والد ماجد کے معارف کے نمونے تو ہم بھی رسالہ ”نکات مرزا“ میں دکھا چکے ہیں۔ بلکہ ان معارف کی وجہ سے ہم اس شعر پر ایمان بھی لا چکے ہیں؎

نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

کیسا افسوس کا مقام ہے کہ سالانہ جلسہ میں ہزاروں کے مجمع میں یہ تقریر کی پھر مہینہ بھر اُس تقریر کو مانجھ کر شائع کیا جس میں دنیا بھر کے علماء اسلام کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا گیا ہے۔ آخر بات نکلی تو یہ کہ:

٠١

صفحہ ٢٥٧

”میں معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے لکھے ہیں۔“

مرزا صاحب کے مریدو! ہم تم سے یہ نہیں کہتے کہ تم مرزا صاحب کو چھوڑ دو یہ تو تمہاری مرضی پر موقوف ہے من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر ۔ ہاں یہ کہنا تو ہمارا حق ہے اور ماننا تمہارا فرض ہے کہ ”خلیفہ قادیان کا دعویٰ قرآن دانی کا تھا۔ اس دعوے کا ثبوت اُن کی لیاقت سے ہونا چاہئے۔“

معارف رکھنا:۔ والد کی تفسیر کو اپنی لیاقت بتانا آریوں کے نیوگ کے مشابہ ہے۔

بعد اللتیا والتی:۔ مختصر یہ ہے کہ آپ سادہ قرآن لے کر میرے مقرر کردہ مقام بٹالہ میں یا اپنے والد کے مقرر کردہ مقام لاہور میں آکر کسی محفوظ مکان میں بالمقابل عربی میں تفسیر لکھیں، عربی میں نہ لکھ سکیں تو اُردو بھی منظور کرسکتا ہوں۔ کتاب کلید قرآن کی بھی اجازت دے دوں گا۔ بس اب زیادہ باتیں نہ کریں ایسا نہ ہو کہ مجھے یہ کہنے کا موقع ملے ؎

نہیں وہ قول کا پکا، ہمیشہ قول دے دے کر
جو اُس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا

آپ کا بہی خواہ

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

اخبار اہلحدیث امرتسر ١٣؍ فروری ١٩٣١ء ص ١٥ تا ١٨

...... ٭ ......

وہی تفسیر نویسی کا ولولہ

پھر دوبارہ عشق کا دل میں اثر پیدا ہوا

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اہلحدیث مورخہ ١٣؍ فروری ١٩٣١ء میں قادیانی خلیفہ کے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک بسیط مضمون لکھا گیا تھا۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

١٢

صفحہ ٢٥٨

”مرزا صاحب متوفی کی شروط پر تفسیر لکھی جائے یعنی کوئی کتاب ساتھ نہ ہو۔ تفسیر عربی میں ہو، تفسیر میں وہ معارف بیان ہوں جو پہلے کسی نے نہ لکھے ہوں۔ وغیرہ خلیفہ قادیان تو خاموش رہ سکتا مگر مریدین نہیں رہنے دیتے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ:

”(ہمارا محمود) دنیا کے اسیروں کا رستگار بنا۔ قوموں کا سردار کہلایا اور خاص و عام کا مرجع بن گیا۔ ہر ہاتھ جو ہمارے آقا فضل عمر ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خلاف اٹھا شل ہو گیا۔ ہر انسان جس نے آپ کو گرانا چاہا خود گر گیا۔ اور ہر وہ جس نے آپ کو ذلیل کرنا چاہا نہایت بُری طرح ذلیل و رسوا ہو کر رہا۔ جنہیں اپنے علم پر ناز تھا وہ آپ کے مقابل پر جاہل ثابت ہوئے جنہیں حسن تدابیر پر گھمنڈ تھا وہ آپ کے سامنے طفل مکتب ثابت ہوئے۔ خدا نے آپ کو ظاہری اور باطنی علوم سے پُر کیا۔ آپ کو مسیح پاک کا سچا جانشین ثابت کیا اور آپ کے ہاتھوں پر اسلام کی فتح کو مقدر کر دیا اور آج وہ دن ہے جبکہ وہ اولوالعزم محمود شوکت و ظفر کا جھنڈا لئے بصد عز و شان خلیفہ مانا جاتا ہے۔ خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ خلیفہ کا لقب کسی اور کو بھی ملے قدرت خداوندی نے سب کو نیچے گرا کر اسی کو جو برحق خلیفہ تھا دنیا میں رکھا۔“

(الفضل ١٤؍ مارچ ١٩٣١ء ص ٧)

اہلحدیث:۔ ہم اس کے جواب میں کیوں بولیں کیونکہ یہ سب اشارات لاہوری پارٹی کی طرف ہیں۔ چنانچہ آگے اس کا نام بھی آجاتا ہے۔ ہاں ہم اتنا ہی کہتے ہیں ؎

پیراں نمی پرند مریداں می پرانند

اس لئے مریدوں کی تحریک سے خلیفہ قادیانی متحرک ہوئے۔ مگر حرکت ایسی کی کہ اس سے سکون اچھا تھا۔ اخبار الفضل قادیان ٢١؍ مارچ میں ایک طویل مضمون نکلا ہے جس میں نہ ”ہاں“ کا پتہ چلتا ہے نہ ”ناں“ کا بلکہ اس شعر کا مصداق ہے ؎

مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

آپ کی تحریر کے الفاظ یہ ہیں: ”میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے زیادہ عربی جانتا ہوں۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ احمدیہ جماعت معارف قرآنیہ کے جاننے میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے فیض سے اور مطابق آیت لا یمسه الا المطھرون سب دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ کسی شخص کا کسی دوسرے سے کسی امر میں بڑھا ہوا ہونا تائید الٰہی کا ثبوت نہیں ہوتا بلکہ مؤید من اللہ ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ سب قوم یا سب دنیا سے بڑھا ہوا ہو۔ پس مولوی صاحب کا عربی تفسیر

١١

صفحہ ٢٥٩

لکھنے کا چیلنج مجھے دینا یا میرا انہیں دینا محض حماقت ہو گا جب تک کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہ ہو کہ وہ خدائے تعالیٰ کی تائید سے سب دنیا سے زیادہ فصیح عربی لکھ سکتا ہے اور مجھے یہ دعویٰ نہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں مولوی صاحب کو بھی باوجود لاف زنی کی عادت کے ایسا دعویٰ نہیں ہے۔ پس جس امر میں ہم میں سے کوئی اپنے مؤید من اللہ ہونے کا مدعی نہیں، اس میں مقابلہ سوائے پہلوانی کے اور کیا معنی رکھتا ہے اور مولوی صاحب گو اپنے آپ کو اپنی قومیت اور اپنے شہر کی نسبت سے پہلوان خیال کرتے ہوں، میں اپنے لئے خالی پہلوانی والے زور کو ہتک سمجھتا ہوں اور صرف ایسے ہی مقابلہ کے لئے تیار ہوں جس سے اسلام اور سلسلہ کی سچائی ثابت ہوتی ہو۔ لیکن اگر میرا خیال مولوی صاحب کی نسبت درست نہیں بلکہ انہیں عربی تصنیف یا بے نظیر ترجمہ کرنے کا دعویٰ ہے تو وہ یہ چیلنج شائع کر دیں کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مجھے عربی زبان میں ایسی فصاحت عطا ہوئی ہے جس کی نظیر اس زمانہ میں موجود نہیں۔ یا قرآن کریم کے اُردو ترجمہ کے لئے خاص کمال عطا ہوا ہے۔ پھر ان کی اس فرعونیت کے لئے خدائے تعالیٰ کے فضل سے ایک موسیٰ ضرور کھڑا ہو جائے گا اور شاید اس میں خدا تعالیٰ کوئی نیا نشان ہی دکھا دے۔“ خاکسار مرزا محمود احمد

اہلحدیث:۔ اس ساری لذیذ عبارت کا ملخص یہ ہے کہ خلیفہ صاحب عربی میں تفسیر لکھنا نہیں چاہتے۔ بہت خوب ہم بھی آپ کو عربی نویسی کے لئے مجبور نہیں کرتے۔ آپ اُردو میں لکھیں، مگر لکھیں گے کیا؟ وہی جو والد صاحب مکرم آیات قرآنیہ میں تحریف کر گئے ہیں آپ اُس تحریف کی تشریح کریں گے۔ چنانچہ الفضل مذکور میں ایڈیٹر کا نوٹ ہے جس کی خلیفہ نے تصدیق کی ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں:

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے معارف

سمجھ میں نہیں آتا اس قدر جہالت کے اظہار کی مولوی صاحب کو کیا ضرورت پیش آئی ان کے نزدیک وہ معارف قرآنیہ بیان کرنا جو حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے لکھے ہیں معمولی بات ہوگی لیکن جماعت احمدیہ خوب جانتی ہے اور خدا کے فضل سے تجربہ رکھتی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ان حقائق اور معارف کی جو تشریح و توضیح فرماتے ہیں وہ بجائے خود فہم قرآن کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ اور یہ جماعت احمدیہ میں روحانیت اور تعلق باللہ کے لحاظ سے آپ کے سب سے بلند مقام رکھنے کا ثبوت ہے۔ اگر یہ کوئی ایسی ہی آسان بات ہوتی تو غیر مبائعین کے امیر صاحب جنہیں ”حضرت مرزا صاحب کے علوم کا وارث“ ہونے کا

١٣

صفحہ ٢٦٠

دعویٰ بھی ہے، کیوں نہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مخالفین کو معارف قرآن میں مقابلہ کرنے کا چیلنج دیتے۔ کیا مولوی صاحب نے ان کی طرف سے کبھی چیلنج سنا ہے۔ ان کا چیلنج دینا تو الگ رہا حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود) خود ان کو چیلنج دے چکے ہیں۔ جسے آج تک منظور کرنے کی انہیں ہمت نہیں ہوئی۔ پس وہ معارف اور حقائق جن کا اشارہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی کتب میں پایا جاتا ہے انہیں تفصیل و تشریح کے ساتھ بیان کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کے سچے جانشین کی اصلی علامت ہے۔“

(الفضل ٢١؍مارچ ١٩٣١ء)

اہلحدیث:۔ اب بھی کسی کو خیال ہو کہ قادیان میں علم خاص کر علم مناظرہ ہے تو وہ اس اقتباس کو پڑھ کر اپنے خیال کی اصلاح کرے۔

ابے جناب! مرزا صاحب متوفی کے معارف کی تشریح کر کے اُن کا جانشین ثابت کرنے کا موقع وہ ہے جب آپ کا مقابلہ لاہوری مرزائیوں سے ہو۔ چنانچہ آپ نے اُن پر چوٹ بھی کی ہے ہمارے سامنے اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے تفسیر نویسی کرنا بالکل بے کار ہے۔ لیجئے ہم آپ کو اُن کا قائم مقام اور جانشین ہونے کا اعلان کئے دیتے ہیں۔ کیا ہم آپ کے سوا عبدالبہاء کو بہاءاللہ کا قائم مقام نہیں مانتے؟ ایسا ہی آپ کو مانتے ہیں۔

ناظرین کرام! غور سے پڑھئے اس مقابلہ کی انتہا یہ ہے کہ ”خلیفہ قادیان ہمارے سامنے معارف مرزائیہ کی تشریح فرمائیں گے اور ہم براہ راست قرآن سے معارف بتائیں گے۔ یعنی خلیفہ قادیان اپنی لیاقت سے معارف قرآنیہ نہیں بتائیں گے بلکہ (بماتحت اصول نیوگ) والد ماجد کے بتائے ہوئے کو مشروح بتائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کے والد ماجد کے معارف کو جب ہم تحریفات قرآنیہ نام رکھتے ہیں تو آپ کی تشریحات کا نام کیا رکھیں گے؟

ناظرین! ذرا ٹھہریئے ہم آپ کو معارف مرزا اور تشریح خلیفہ کی ایک مثال بتائیں۔ بڑے مرزا صاحب نے لیکچر سیالکوٹ میں لکھا ہے کہ ”دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اس کے بعد دنیا کا خاتمہ ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٦۔ خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٧)

لائق بیٹے صاحب اس کی تشریح کرتے ہیں جو قابل دید و شنید ہے:

”بعض نے غلطی سے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی تحریروں سے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ حالانکہ یہ تو ایک دَور کا اندازہ ہے جس طرح سات دنوں کا

١٤

صفحہ ٢٦١

ایک دور ہے۔ کیا آٹھویں دن قیامت آ جایا کرتی ہے؟ نہیں بلکہ ہر جمعہ کے بعد ساتھ ہی ہفتہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ تو ایک دور ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے جس قیامت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے وہ قیامت مراد نہیں جس کے بعد فنا آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے سات ہزار سال کا ذکر فرمایا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ تعجب نہیں کہ اور ملکوں کے آدم کوئی اور ہوں۔ ممکن ہے کہ افریقہ کے لوگ اس آدم کی نسل سے نہ ہوں جس کی نسل سے ہم ہیں۔ اسی طرح یورپ کے لوگ کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔ غرض جہاں آپ نے آدم کا ذکر کیا ہے وہاں اس آدم کا ذکر مراد ہے جس کی موجودہ نسل پائی جاتی ہے۔ پس آپ کا بصورتِ امکان مختلف آدموں کا تسلیم کرنا بتاتا ہے کہ جب آپ دنیا کی عمر سات ہزار سال بتاتے ہیں اور اس کے بعد قیامت بتاتے ہیں تو اس قیامت سے اور قیامت مراد ہے۔ اس سے مراد اس دنیا کی نسل کا ایک دور ہے جو ختم ہوگا اور آپ پہلے دور کے خاتمہ پر آئے۔

میرا اپنا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) اس دور کے خاتم اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں۔ کیونکہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا۔ اسی لئے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جری اللہ فی حلل الانبیا اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ آئندہ نبیوں کے حلوں میں آئے ہیں جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ حضرت آدم علیہ السلام تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) جو اس زمانہ کے آدم ہیں آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔‘‘

(ضمیمہ اخبار الفضل ١٤ فروری ١٩٢٨ء، ص ٤٩)

اہلحدیث:۔ کیسی مرزائی منطق ہے اور کیسی اچھی تشریح ہے۔ ناظرین سُن لیں اس تشریح سے ثابت ہے کہ مرزا صاحب متوفی اُس اینٹ کی طرح تھے جو دو دیواروں میں مشترک ہوتی ہے۔ یعنی یوں کونے کی اینٹ کی طرح پہلے دور کے خاتم بھی آپ اور دوسرے دور کے بابا آدم بھی آپ۔ (جل جلالہ) اب انبیاء کرام حضرات شیث، الیاس، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور سب سے اخیر محمد علیہ السلام مرزا صاحب متوفی کی اولاد سے پیدا ہوں گے۔ غالباً ابھی تو شیث کا زمانہ ہے۔ بقول مرزا صاحب چھیالیس صدیوں کے بعد اس دور کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوں گے۔ پھر ابھی سے اُن کو کلمہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں داخل کرنے کی ضرورت کیا۔ پس قادیانی امت کا پہلا فرض یہ ہے کہ اس کلمۂ اسلام کی ترمیم کرے اور اس ترمیم کرنے میں ڈرے نہیں بلکہ صاف کہہ دے۔

١٥

صفحہ ٢٦٢
نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

ہم ایسے معارف سننے کے لئے خلیفہ سے مقابلہ کریں تو دانایان ملک ہم کو یہ نہ کہیں گے کہ آپ نے ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“ کی مثال سچی کر دکھائی؟

پس اے احمدی دوستو! سن رکھو ”اہلحدیث“ اور علماء کی طرح تمہارا بے قدر نہیں ہے کہ تمہاری آواز کو (ہواء شتر) جان کر خاموش رہے بلکہ تمہارا دل سے قدر دان ہے۔ پس سیدھے ہو کر چلو اور بٹالہ۔ امرتسر یا لاہور میں آ جاؤ اور سادہ قرآن شریف لے کر ہمارے سامنے تفسیر القرآن لکھو۔ لو ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ حسب خواہش خود کلید قرآن و اُردو تفسیرات سابقہ بھی ساتھ رکھو مگر وقت محدود ہوگا۔

تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد

اہل حدیث امرتسر

٣؍ اپریل ١٩٣١ء

٭٭٭٭٭٭

١٦

PDF 263

خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِيْ

میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

علم کلام مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٢٦٤

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

انتم شهداء لله

رسالہ علم کلام مرزا پر علمائے کرام کی رائیں

کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا؟

حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب مفتی احناف امرتسر زاد مجدہ

”اما بعد! فانی طالعت هذه الرسالة المؤلفة للمولوى ثناء الله الامرتسرى فوجدتها قالعة منارة المتنبی من اصله واثبت ان علم کلام المرزا ليس الا مجموعة الاوهام وانه لايسمن ولايغنى من جوع لدى ذوالافهام فمن حسنه فقد وقع فى الورطة الظلماء وحسب السراب الماء فجزى الله مؤلف الرسالة خير الجزاء.“

”میں نے اس رسالہ کا مطالعہ کیا میں نے اس کو مرزا کے قلعہ کو گرانے والا پایا۔ مؤلف نے ثابت کیا ہے کہ مرزا کا علم کلام محض اوہام کا مجموعہ ہے اور وہ کچھ بھی کام نہیں دیتا جو اس کی تعریف کرے۔ وہ سخت اندھیرے میں گرتا ہے اور سراب کو پانی جانتا ہے۔ خدا مؤلف رسالہ کو اچھا بدلہ دے۔“

جناب مولانا احمد اللہ صاحب مدرس اول دارالحدیث رحمانیہ دہلی

اما بعد ! میں نے رسالہ ”علم کلام مرزا“ مؤلفہ جامع الفضائل والفواضل مکرم مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب بغور مطالعہ کیا۔ بحمد اللہ خوب رسالہ ہے۔ فرقہ مرزائیہ کے اصول کو بیخ وبن سے قلع قمع کر دیا ہے۔ آب زر سے یہ رسالہ لکھنے کے لائق ہے۔ اللہ سبحانہ مؤلف

٢

صفحہ ٢٦٥

موصوف کی سعی کو قبول فرمائے و ذخیرہ آخرت ہو۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء! مرزا قادیانی اور فرقہ قادیانیہ باعتبار عقائد واقرار مشابہ فرقہ آریہ وفلاسفہ کے ہیں شریعت الٰہی سے ان کو کچھ نسبت نہیں۔ مذہب اشاعرہ سے ان کو بہت ہی بعد ہے اور اثبات نبوت میں مشابہ عیسائیوں کے ہیں، بلکہ کفر میں ان سے زائد اور فرعون و نمرود کے ہم پلہ ہیں۔ اور اقراری تثلیثی ہیں۔ اثبات توحید و اثبات نبوت و اثبات کتب سماوی میں بالکلیہ فیل ہیں۔ دجل، کذب، خدع، مکر، تحریفیت ان کا اصل اصول ہے۔ سب وشتم میں اہل حق کے متعلق یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس فرقہ مدعی اسلام سے کنارہ رہنا چاہئے۔ آخرت کی بہبودی اسی میں ہے۔ والسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین!

(حررہ احمد اللہ غفر لہ مدرس مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی)

جناب مولانا مولوی ابوالسمح احمد دین صاحب سیالکوٹیؒ

مترجم انگریزی فیصلہ مرزا، فرقہ ناجیہ، سیرۃ محمدیہ و مصنف لائف آف دی پرافٹ (انگریزی)

اما بعد ! رسالہ ”علم کلام مرزا“ مصنفہ جناب مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری اول سے آخر تک بغور پڑھا۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے علم کلام کا واقعی فوٹو ہے۔ میری ذاتی قدیم رائے کا صحیح ترجمان اور بہترین رہنمائے اہل ایمان ہے۔ جناب مولانا ممدوح مدظلہ نے اس کتاب کی تصنیف سے اسلامی دنیا پر بڑا احسان کیا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ الہام کی طرح ان کے علم کلام کے ادّعا کو بھی طشت از بام کر دیا۔ مجموعہ بائبل میں ایک کتاب آستر کی ہے۔ کہنے کو تو وہ صحیفہ آسمانی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ ایک لڑکی کا قصہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کا نام پاک ایک بار بھی مذکور نہیں۔ یہی حال مرزا قادیانی آنجہانی کی تصانیف کا ہے کہ ان میں بڑے زور و شور سے صداقت اسلام اور حقیقت قرآن کے معارف و نکات کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لیکن دلیل و نکتہ کی تلاش کرو تو ندارد۔ مثلاً مرزا قادیان کی مایہ ناز کتاب کا نام تو ہے براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل صداقت اسلام و نبوت محمدیہ کے لکھنے کا ذکر

٣

صفحہ ٢٦٦

کر کے مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ لیکن جو کچھ اس میں لکھا وہ فضولیات و تعلیات کا طومار ہے۔ علم نظر و استدلال میں برہان ہی روح رواں ہے۔ مگر مرزا قادیان کا کلام بلا برہان ہے۔ لہذا مردہ و بے جان ہے۔ سب و شتم، سخن سازی و زبان درازی مرزا آنجہانی کے علم کلام کا مدار کار ہے اور خود ستائی و تعلی ان کا پسندیدہ شعار۔ معلوم نہیں مرزا آنجہانی کے کان میں انا خیر کی ہوا کون پھونک گیا۔ خدا محفوظ رکھے۔ آمین۔

جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب میر فاضل سیالکوٹی سحبان الہند

مصنف شہادت القرآن وغیرہ

مبسملا وحامدا ومصليا!

رسالہ ”علم کلام مرزا“ مؤلفہ جناب مولانا مولوی ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری فاتح قادیان پڑھا۔ جس میں جناب مولانا ممدوح نے مرزا قادیانی کو بحیثیت ایک مصنف کے پبلک کے سامنے پیش کیا ہے۔ رسالہ کیا ہے؟۔ چشم بد دور، ماشاء اللہ الشکور، اس سے دل میں سرور اور سینے میں نور پیدا ہوتا ہے۔ سطر سطر پر بے اختیار منہ سے مرحبا اور جزاک اللہ نکلتا ہے اور حضرت مولانا المکرم کے حق میں درازی عمر و عموم فیوض کی دعائیں عالم بالا سے ایک تار باندھ لیتی ہیں۔

حضرت مولانا ممدوح کی نظر مرزائی لٹریچر پر جیسی کچھ ہے۔ وہ محتاج بیان و تعریف نہیں۔ ہم اس جگہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مولانا صاحب نے جس پہلو سے مرزا قادیانی کو اس کتاب میں پیش کیا ہے وہ بالکل اچھوتا ہے اور پھر لطف یہ کہ جس پیرائے میں اسے نبھایا ہے۔ وہ نہایت دلچسپ اور خاص تعریف کے قابل ہے جس سے قدرت نے جناب مولانا موصوف کو خصوصیت سے بہرہ اندوز کیا ہے۔ مرزا قادیانی کی مایہ ناز کتاب ”براہین احمدیہ“ ہے جو بالخصوص نہایت تحدی و دعویٰ سے صداقت اسلام کی حمایت میں مخالفین اسلام کے مقابلہ میں لکھی گئی ہے۔ مولانا موصوف مدظلہ نے شروع سے آخر تک اس کا

٤

صفحہ ٢٦٧

تار و پود الگ الگ کر کے دکھا دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ اس کتاب کا نام براہین رکھنا بالکل ”برعکس نہند نام زنگی کافور“ کا معاملہ ہے اور کہ اس میں فضول طوالت و تکرار ہے جس میں بجائے اس کے کہ بموجب اقرار خود اسلام و قرآن کو من عنداللہ ثابت کیا جاتا‘ اپنے ہی ملہم ہونے کے دعاوی ہیں اور بس۔

خاکسار کی عمر کا بیشتر حصہ اپنی مذہبی کتب کے علاوہ کتب غیر مذاہب خصوصاً قادیانی لٹریچر کے مطالعہ میں گزرا ہے۔ اس لئے علی وجہ البصیرت‘ بلا تعصب و عناد بمشہادت خداوند تعالیٰ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی علوم عربیہ (شرعیہ و عقلیہ) کے ہر شعبہ میں ناقص تھے۔ کسی سے تو پورے ناواقف تھے اور کسی میں ادھورے تھے۔ جو شخص باور نہ کرے وہ علوم مدوّنہ کے کسی شعبے میں مرزا قادیانی کے کمال کا دعویٰ کرے۔ وہ اس میں ان کے اپنے کلام میں سے کچھ پیش کرے۔ خاکسار خدا کے فضل سے اس میں مرزا قادیانی کا ناقص العلم ہونا اسی فن کی تصریحات سے ثابت و مبرہن کر دے گا۔

اس امر کو حضرت مولانا صاحب فاتح قادیان نے ایسا صاف کر دکھایا ہے کہ رسالہ ”علم کلام مرزا“ کے مطالعہ کے بعد مرزا قادیانی کی کم بضاعتی کسی سمجھدار انصاف پسند سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ خدائے تعالےٰ حضرت مولانا کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور آپ کو اجر جزیل عطا کرے اور مسلمانوں کو اس سے نفع عظیم و جمیل بخشے۔ آمین!

(خاکسار ابو تمیم محمد ابراہیم میر سیالکوٹی)

جناب مکرم مولانا احمد علی صاحب ناظم انجمن خدام الدین لاہور

اما بعد! محترم المقام رئیس المناظرین الفاضل الاجل جامع المنقولات والمعقولات الملقب شیر پنجاب اعنی الحضرت مولانا ثناء اللہ مدظلہ کا وجود مسعود اس دور ابتلاء و افتتان میں مغتنمات میں سے ہے۔ اللہ تعالےٰ نے انہیں میدان جہاد باللسان میں ایک بہت بڑا رتبہ عطا فرمایا ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان بھر میں اس فن میں ان کی نظیر

٥

صفحہ ٢٦٨

کم ملے گی۔ اس فن میں وہ اس قدر ید طولیٰ رکھتے ہیں کہ مدعی نبوت (مرزا غلام احمد قادیانی) کے الہام و وحی کا مقابلہ بھی اپنی خداداد قابلیت سے ایسا کیا کہ فاتح قادیان کہلائے۔ اور اس فرقہ دائرہ اسلام سے باجماع امت مسلمہ خارج کے دعویٰ باطلہ کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب تصنیف فرمائی ہے جس کا نام "علم کلام مرزا" تجویز کیا ہے۔ جسے کئی مقامات سے میں نے بغور مطالعہ کیا ہے۔ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی قابلیت کو علم کلام کے اصول پر پرکھا ہے۔ اس میں مولانا ممدوح نے مرزا قادیانی کی قابلیت کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ یہ کتاب ایک ایسا منتر ہے جس کے پڑھنے کے بعد کوئی شخص اس متنبی قادیان کے سحر میں نہیں پھنس سکتا۔ اللہ تعالیٰ حضرت ممدوح کو اس خدمت اسلام کی جزائے خیر عطا فرمائے اور مسلمانوں کو اس کی برکت سے قادیانی کے دام تزویر سے بچائے۔ اور مولانا کو اس کے صلہ میں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

(العارض! احقر الانام احمد علی عفی عنہ)

جناب مولانا محمد ابو القاسم صاحب (سیف) بنارسی

الحمد للہ وکفی والصلوۃ علی اہلہا ۔ اما بعد! قرآن مجید نے جو صرف مذہبی کتاب ہی نہیں بلکہ علمی کتاب بھی ہے اور ہر علم کے اصول اس میں موجود ہیں۔ تعلیم امور دینیہ کے ساتھ ساتھ اصول مناظرہ و طریق کلام کی بھی تعلیم دی ہے۔ قیاس کے صناعات خمسہ میں سے برہان و خطابیات اور جدل کو بتفاوت مدارج قبول کیا ہے اور شعر و سفسطہ سے یکلخت گریز فرمایا ہے۔ چنانچہ سورہ نحل میں ارشاد ہے :

”ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن . النحل ١٢٥“ (یعنی بلا اپنے رب کے دین کی طرف محکم دلائل (برہان) سے اور موعظہ حسنہ (خطابیات) سے اور مجادلہ کر اچھے طریق سے۔)

یعنی اس میں مغالطہ اور سفسطہ نہ ہو اور وہم کی پیروی نہ ہو جس کو شعر کہتے

٦

صفحہ ٢٦٩

ہیں۔ جس کی نفی صراحۃً موجود ہے: ”وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ . یٰسٓ ٦٩“ حکم مجادلہ کے ساتھ قید احسن نے بتایا ہے کہ سفسطہ اور شعر مذموم ہیں خاص کر امور مذہبی میں۔

ایک اور جگہ فرمایا:

”ولا تجادلوا اہل الکتاب الا بالتی ہی احسن، عنکبوت ٤٦“

اس آیت میں بھی وہی تعلیم مذہبی مبلغوں اور متکلموں کو دی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ متکلمین کی بحث کو ہمیشہ سفسطہ اور کلام شعراء سے پاک و صاف ہونا چاہئے۔ اس کے برخلاف پنجابی متنبی (مرزا قادیانی) کی تصنیفات کا مطالعہ کیجئے تو برہان و خطابیات اور مجادلہ حسنہ کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ یعنی قرآن پاک کا جو طرز تکلم و تعلیم ہے اس کے یکسر خلاف۔ قرآن کے نزدیک جو مذموم و متروک ہے وہ قادیانی متکلم کے ہاں معمول و مقبول اور جو قرآن کا معمول و مقبول ہے۔ وہ وہاں متروک۔

اس چیز کو نہایت وضاحت سے حضرت الاستاذ الفاضل حجۃ المتکلمین صفوۃ المناظرین حضرت مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب و فاتح قادیان نے اپنی اس جدید التالیف کتاب ”علم کلام مرزا“ میں بیان فرمایا ہے اور خوب بیان فرمایا ہے۔ فللہ درہ وعلی اللہ اجرہ!

مولانا ممدوح کا زور بیان اور ہر فن میں ان کا کمال مسلم ہے۔ بیک وقت ہر مخالف کا فوری اور مسکت جواب دیتے ہیں۔ ایک طرف اہل بدعت بہر صنف کا الزامی و تحقیقی جواب لکھ رہے ہیں۔ تو دوسری طرف شیعہ و روافض کی تردید فرما رہے ہیں۔ ایک طرف مرزائی قادیانی ولاہوری کے خرافات کا ابطال فرماتے ہیں تو دوسری طرف اہل قرآن چکڑالوی وغیرہ نیچریوں کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ ایک طرف عیسائیوں کا دفعیہ فرما رہے ہیں تو دوسری طرف آریوں، بابیوں اور بہائیوں کا قلع قمع کر رہے ہیں۔ ایسے جامع شخص اسلام میں کم پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو عمر نوح عطا فرمائے اور ان کی ہمت واستقلال میں

ے

صفحہ ٢٧٠

کے ارادہ و عزم اور ان کے علم و فہم میں برکت اور ترقی دے اور ہمارے سروں پر آپ کا سایہ دیر تک قائم رکھے :

ایں دعا از من و از جملہ جہان آمین باد

عبدہ محمد ابو القاسم بنارسی

جناب مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند

الحمد لله وسلام على عباده الذین اصطفی ! مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف الالوان دعاوی کاذبہ پر علماء اسلام کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔ ان کی خانہ ساز نبوت، مجددیت، محدثیت، امامت وغیرہ کا پوری طرح پردہ فاش ہو چکا ہے۔ تاہم اس متنبی پنجاب کی چھپی ہوئی اور بہت ہی خفی روباہ بازیاں پردہ خفا میں رہ گئی تھیں۔ ان کو سامنے لاکر قوت سے کچلنے کے لئے شیر پنجاب ہی کی ضرورت تھی۔ خدا جزائے خیر دے مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری شیر پنجاب کو کہ انہوں نے جہاں بہت سے پہلوؤں سے متنبی پنجاب کو تا بدروازہ پہنچایا وہیں مرزا قادیانی کے انوکھے علم کلام پر بھی کافی کلام کر کے اس کی قلعی کھول دی اور رسالہ "علم کلام مرزا" تصنیف فرما کر واضح کر دیا کہ مرزائی اصطلاح میں علم کلام معقول استدلالات کے بجائے سب و شتم طعنہ زنی اور شاعرانہ طریق پر اظہار غیظ کا نام ہے۔ رسالہ جہاں جہاں سے بھی احقر نے پڑھا نہایت سلیس عام فہم اور اپنے موضوع پر حاوی ہے۔ امید ہے کہ انشاء اللہ ! رہروان جادہ تحقیق کے حق میں مشعل ہدایت اور حیرانگان کے لئے شفائے صدر ثابت ہوگا۔ والحمد لله اولا و آخرا!

جناب مولانا ابن شیر خدا مولوی مرتضیٰ حسن صاحب (دیوبندی)

باسمه تعالى حامدا ومصليا ومسلما !

"علم کلام مرزا" مصنفہ مولوی ابوالوفاء صاحب میرے خیال میں اپنے موضوع میں بالکل نیا ہے۔ اس رسالہ کی ضرورت تھی۔ اس کو مولوی صاحب نے پورا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ

٨

صفحہ ٢٧١

مصنف کو جزائے خیر عنایت فرمادے۔ طالب حق اگر اسے پڑھے گا تو انشاء اللہ اسے مفید ہوگا۔ بوجہ عجلت کے میں ابھی تک کل رسالہ نہیں دیکھا۔ مگر جن مقامات کو دیکھا بہت اچھا ہے۔ مسلمان اور طالبین حق اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین!

مولانا سید سلیمان صاحب ندوی مدیر رسالہ معارف اعظم گڑھ

مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب کا یہ رسالہ میں نے پڑھا موصوف کو مرزا قادیانی کی کتابوں اور رسالوں پر جو عبور حاصل ہے۔ وہ محتاج بیان نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جس کو مرزا صاحب کا علم کلام کہا جاتا ہے۔ اگر وہ موجود بھی ہو تو وہ سراسر لفاظی، ضلع جگت، خطابت اور محرف تاویلات پر مبنی ہے اور ان کے کلام کا بہترین نمونہ براہین احمدیہ ہے جس میں سینکڑوں صفحات کے بعد بھی یہ حال ہے کہ ”مدعا عنقاء ہے اپنے عالم تحریر کا“ مصنف سے شکایت ہے تو یہ کہ یہ اپنے موضوع پر بہت مختصر ہے۔ (سید سلیمان ندوی)

جناب مولانا غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہاولپور

میں نے رسالہ "علم کلام مرزا" کا تتمہ کا مطالعہ کیا۔ رسالہ ہذا اپنے باب میں بے نظیر ہے۔ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اہل حدیث امرتسر مصنف رسالہ ہذا کو فرقہ مرزائیہ کی تردید میں جو قوت خدا داد حاصل ہے۔ یہ رسالہ اس کا مظہر اتم ہے۔ اتباع مرزا کو مرزا قادیانی کی اس حیثیت (متکلم) پر بہت ناز ہے۔ مولانا ممدوح الصدر نے اس رسالہ میں اس حیثیت (متکلم) کی ایسی قلعی کھولی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی مبادیات علم کلام سے بھی ناواقف تھے۔ بالخصوص عالم کے قدم نوعی کا عقیدہ تو مرزا قادیانی کو بجا طور پر فرقہ آریہ میں داخل کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی سعی مقبول فرمائے اور رسالہ ہذا سے اپنی خلق کو نفع بخشے۔ فانه على ما يشاء قدير!

٩

صفحہ ٢٧٢

مولانا حکیم محمد عالم صاحب آسی

شیر پنجاب مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے رسالہ ”علم کلام مرزا“ میں خواص مرزا کے چند نمونے دکھائے ہیں۔ سب سے اول براہین احمدیہ کا حال لکھا ہے کہ کس طرح تین سو دلائل دینے کا وعدہ کیا اور کس طرح تیس سال تک بھی پورا نہ کیا۔ رسالہ ہٰذا میں مولانا نے کرشن قادیانی کے تمام حلقہ بگوشوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے۔ مسلمانوں کو مولوی صاحب موصوف کی اس جاں فشانی کی قدر کرنی چاہئے۔ ایک دفعہ یہ کتاب ضرور مطالعہ کر کے مستفید ہونا چاہئے۔

(مولانا محمد عالم آسی مصنف رسالہ ”کادیہ“ مدرس مدرسہ اسلامیہ امرتسر)

مولانا عبدالعزیز صاحب ساکن قلعہ میہاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ

رسالہ ”علم کلام مرزا“ مؤلفہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری میں نے اول سے آخر تک پڑھا۔ مولوی صاحب مذکور نے جو کچھ اس میں لکھا ہے نہایت صحیح ہے۔ واقعی مرزا صاحب آنجہانی علم کلام سے ناواقف تھے۔ بلکہ صرفی نحوی غلطیاں بھی آپ سے سرزد ہو جاتیں۔

مولوی عبدالرحیم فیروز پوری مبلغ اہل حدیث کانفرنس دہلی

میں نے رسالہ ”علم کلام مرزا“ مصنفہ حضرت مولانا المکرم ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب بغور دیکھا ہے۔ اپنے موضوع میں نہایت عمدہ چیز ہے۔ حضرت مولانا سردار اہل حدیث متعنا اللہ بطول حیاتہ نے مرزا قادیانی کے الہامات و پیشگوئیوں کے متعلق متعدد رسالجات تصنیف فرمائے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی کے الہامات کی خوب قلعی کھولی ہے۔ امت مرزائیہ ہمیشہ سے اس بات پر فخر کرتی رہی ہے کہ مرزا قادیانی فن تصنیف و علم مناظرہ میں ایک بے نظیر شخص تھے۔ خدا جزائے خیر دے حضرت مولانا صاحب ممدوح کو جنہوں نے رسالہ ہٰذا تصنیف فرما کر مرزائیوں کے اس دعویٰ کو بھی غلط ثابت کر دیا۔ پس اس رسالہ کے

١٠

صفحہ ٢٧٣

مطالعہ سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی جیسے الہامات میں فیل بہ نسبت ہو چکے ہیں۔ ویسے ہی فن تصنیف و تالیف میں ناکام رہے ہیں۔ خاکسار نے قبل ازیں اس موضوع پر کوئی رسالہ نہیں دیکھا۔ مرزائی مباحث سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس تحفہ بے بہا کو اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اس کی اشاعت میں سعی بلیغ فرمائیں۔

جناب مولوی محمد امین صاحب امرتسری مبلغ اسلام

رسالہ موسومہ بہ ”علم کلام مرزا“ جو مصنفہ فاتح قادیان سردار اہل حدیث حضرت مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب متع اللہ المسلمین بطول حیاتہ کا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے جملہ مذاہب باطلہ کی استیصال (تردید) اور مذہب حقہ (اسلام) کی تائید ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ مرزا قادیانی کی مایہ ناز خدمات اسلام اور علم مناظرہ (علم کلام) کا پول کھول کر ملک پر بڑا احسان کیا ہے اور بتا دیا ہے کہ مرزا قادیانی کوئی جامع مصنف نہ تھے۔ امام فن تو کجا! رسالہ مذکورہ کو جو کوئی بھی بنظر انصاف دیکھے گا وہ مرزا قادیانی کے حق میں وہی رائے رکھے گا جو میں نے ظاہر کی ہے۔ اس لئے رسالہ مذکورہ کا ہر خواندہ شخص کے گھر میں ہونا ضروری ہے: ” لله دره وعلی الله اجره .“ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کا سایہ ہم پر تادیر رکھے۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمیں باد

(رقمه محمد امین عفی عنہ امرتسری)

منشی محمد عبداللہ صاحب معمار مضمون نگار امرتسری

مرزا قادیانی نے جس قدر بلند بانگ سے متعدد دعاوی کرتے ہوئے اپنی صداقت کو مختلف دلائل، پیشگوئیوں، پس گوئیوں، نشانات، الہامات وغیرہ سے ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔ ان سب کی چھان بین، تنقید و تردید میں علمائے کرام بالخصوص اس مرد خدا فاتح قادیان شیر پنجاب حضرت مولانا ابوالوفاء محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری نے نمایاں حصہ لیا کہ ہر پہلو سے اس مت ضلالت کو اپنی خداداد علمیت کے تیروں سے چھلنی کر دیا۔ مگر ایک پہلو پر آج تک

١١

صفحہ ٢٧٤

توجہ نہ فرمائی تھی جو بزعم اتباع مرزا ایسا انوکھا تھا کہ سنین ماضیہ میں علمائے عظام میں سے کوئی بھی اس رتبہ کو نہ پہنچا۔ خدا کا شکر ہے کہ حضرت مولانا ممدوح نے مرزائیوں کے اس "باعث افتخار" وصف کی طرف توجہ فرمائی اور رسالہ زیر تقریظ "علم کلام مرزا" کے ذریعہ اس پر وہ گولہ باری کی کہ الامان والحفیظ۔ مرزا قادیانی کے مبلغ علم بحیثیت فن مناظرہ و موجد علم کلام و واضع اصول کلام کا خوب قلع قمع کیا۔ اور دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ سے مہر نیمروز کی طرح ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی اس پہلو میں بھی محض طبل بلند بانگ تھے۔

مرزا قادیانی کی تحریرات جس قدر اس رسالہ میں نقل ہوئی ہیں ان سے جتنا کچھ تعجب ہوتا ہے۔ خواجہ کمال الدین صاحب لاہوری کی تحریر اس سے بھی زیادہ باعث استعجاب ہے جو باوجود ایک راسخ مرزائی ہونے کے تحریرات مرشد خود سے ناواقف ہیں۔ دیکھئے اصول احمدیہ ص ٧٧ میں سے اصول نمبر ١٠ خواجہ صاحب نے "مجدد کامل" ص ١١٦ پر کس فخر سے لکھا ہے کہ :

"عیسائیت کے خلاف جو دسواں اصول مرزا صاحب نے ایجاد کیا۔ وہ نہ صرف اپنی نوعیت میں نیا ہے بلکہ اس نے اس مذہب (عیسائی) کا خاتمہ ہی کر دیا۔" وہ یہ ہے :

"مذہب کلیسوی کی کوئی تعلیم کا ایک امر بھی ایسا نہیں جو قدیمی کفار کے مذہب سے مسروقہ نہ ہو۔"

یوں تو خواجہ صاحب نے اس اصول کو بڑے طمطراق سے پیش کیا۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ مرزا قادیانی نے اس کے نیچے اسلام کے گرانے کو بم کا گولہ رکھا ہوا ہے۔ خواجہ صاحب بغور ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا صاحب رقمطراز ہیں۔

"ماسوا............ اس کے جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔"

(پیغام صلح ص ١٠‘ خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥)

خواجہ صاحب انصاف سے فرمائیں کہ آپ کے پیش کردہ اصول کی رو سے ان

١٢

صفحہ ٢٧٥

الفاظ مندرجہ ”پیغام صلح“ سے آپ کے پیرو مرشد نے جملہ مخالفین اسلام کے ہاتھ ایک تیز کلہاڑی دی ہے یا نہیں ؟۔

ناظرین کرام! یہ ایک مثال ہے مرزائی علم کلام کی اور اس جیسی بلکہ اس سے بڑھ چڑھ کر بیسیوں مثالیں اس رسالہ ”علم کلام مرزا“ میں موجود ہیں۔ لہٰذا میں تمام اسلامی انجمنوں اور اصحاب ثروت و امراء ملت کی خدمت میں بزور گزارش کروں گا کہ آپ اس رسالہ کو اپنوں بے گانوں میں مفت تقسیم فرمائیں۔

بالآخر اس تازہ احسان کو زیر نظر رکھ کر جو مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب نے جملہ اہل اسلام پر کیا ہے حضرت موصوف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عنی وعن سائر المسلمین الی یوم الدین والحمد للہ رب العلمین!

.......................................................................

نحمداللہ ونستعینہ ونصلی علی النبی وآلہ!

علم کلام مرزا

پہلے مجھے دیکھئے

جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو ہندوستانی پبلک جانتی ہے آپ کا دعویٰ مجموعہ کمالات کا ہے، عالم، محدث، مجدد، نبی، رسول، کرشن، مسیح موعود اور مہدی مسعود۔ ان کے علاوہ سلطان القلم، رئیس المتکلمین، شعر مندرجہ ذیل انہی کا ہے :

آدمم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اس لئے علمائے اسلام بلکہ غیر اسلام نے بھی آپ کی شخصیت پر ہر طرف سے نگاہ ڈالی۔ خاکسار نے بھی آپ کی شخصیت کو قرآن و حدیث سے جانچا۔ آپ کے الہامات اور

١٣

صفحہ ٢٧٦

کشوف سے بھی پرکھا۔ یہاں تک کہ آپ کے سوانح عمری کے متعلق کتاب ”تاریخ مرزا“ بھی لکھی۔ باوجود کافی ذخیرہ ہو جانے کے ایک حیثیت کا تقاضا رہ گیا۔ یعنی مرزا قادیانی کو بحیثیت مصنف اور متکلم کے دکھایا جائے۔ کیونکہ احمدی جماعت مرزا قادیانی کی شخصیت کو دنیا میں بحیثیت مصنف اور متکلم کے بھی ایسی حیثیت کا دکھاتی ہے جس سے ان کی مسیحیت موعودہ ثابت ہو۔ چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرزائی کا قول ہے :

خدا کا پہلوان مذہبی دنگل کے بیچ میں

”کسی شخص کو اس بات سے انکار ہو سکتا ہے کہ آج مذہبی تحریکوں کا اکھاڑہ جس نمایاں طریق پر ملک ہندوستان ہے وہ دنیا کا کوئی ملک نہیں۔ اور ہندوستان میں پنجاب کے صوبہ نے اس امر میں جس قدر حصہ لیا ہے اور کسی صوبہ نے نہیں لیا۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ یورپ اور امریکہ مذہب کو چھوڑ رہا ہے۔ افریقہ ابھی وحشت سے نہیں نکلا۔ ایشیا میں عرب۔ روم اور شام تک خاموش ہے تو اور کسی کا ذکر ہی کیا ہے۔ یہ واقعات ہیں جن کا انکار کرنا صداقت کا انکار کرنا ہے۔ پھر اسلام کا خادم اگر کوئی اس زمانہ میں پیدا ہو سکتا تھا اور وہ جری اللہ یعنی خدا کے پہلوان کی حیثیت سے اگر اس مذہبی دنگل میں کوئی پارٹ ادا کرنے کے لئے خدا کی مشیت کے نیچے مامور ہو سکتا تھا تو اس کا مولد و مسکن پنجاب ہونا چاہئے تھا۔ اور ایسا ہی ہوا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور پنجاب میں خدا کے پہلوان کو عین دنگل کے بیچ میں ثابت کرتا ہے۔“

(پیغام صلح ٧ جون ١٩٣٢ء ص ٥)

پس ہم بھی اُس کتاب میں مرزا قادیانی کو بحیثیت علم کلام کے جانچتے ہیں۔

نوٹ : مرزا قادیانی کے علم کلام کو ان کے اتباع تو بہت اونچا دکھاتے ہیں۔ مگر وہ خود اپنے ”علم کلام“ کو الہامی درجہ سے بہت کم جانتے تھے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ علم کلام درجہ الہام سے بہت کم رتبہ ہے۔ اس لئے کہ علم کلام انسانی فہم و ذکاء کا درجہ ہے جس میں ہر طرح غلطی کا امکان ہے اور الہام خدائی تعلیم ہے جس میں غلطی بالکل مرتفع۔ جس کی شان

١٤

صفحہ ٢٧٧

ہے ۔ ”علمناہ من لدنا علما ، “ اسی لئے مرزا قادیانی نے جون ١٨٩٣ء میں ڈپٹی آتھم عیسائی سے بڑا زور دار پندرہ روزہ مباحثہ کر کے آخر میں لکھا۔

"آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص حق پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آویگی ، بعض اندھے سوجھا کے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے .......... میں حیران تھا کہ اس بحث میں مجھے کیوں آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اسی نشان کیلئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے ، روسیاہ کیا جاوے ، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے ، مجھ کو پھانسی دیا جاوے ، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ، ضرور کرے گا ، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔"

(جنگ مقدس ص٢٠٩ ، ٢١٠ خزائن ج٦ ص ٢٩١ تا ٢٩٣)

اس اقتباس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی ملہم کا درجہ مناظر سے بلند تر ہے اور یہ کہ مرزا قادیانی خود بھی اپنے مناظرہ اور علم کلام کو چنداں بلند پایہ نہ

١٥

صفحہ ٢٧٨

جانتے تھے۔ بلکہ اس بڑے مباحثے کو بھی معمولی مباحثوں کی طرح جو معمولی مناظر کرتے پھرتے ہیں قرار دیتے تھے۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کا دعویٰ الہام جانچ لینے کے بعد کسی مزید کوشش کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن چونکہ ان کے اتباع مرزا قادیانی کی ہر ایک حیثیت کو ان کی مسیحیت موعودہ پر دلیل جانتے ہیں اور ان کی متکلمانہ حیثیت سے بھی ان کی مسیحیت منواتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہوئی کہ مرزا قادیانی کو بحیثیت ایک مصنف اور متکلم کے بھی دیکھا جائے کہ کس رتبے کے تھے۔

ہماری رائے کا خلاصہ

یہ ہے کہ مرزا موصوف بحیثیت فن تصنیف بہت معمولی مصنف تھے اور علم کلام میں تو آپ کو کوئی بڑا نمایاں حصہ نہ تھا۔ کیونکہ آپ ان اصحاب سے تھے جن کا قول ہے :

پائے استدلالیان چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

(براہین احمدیہ ص ٥٦٢ خزائن ج ١ ص ٦٧٢)

ہمارا یہ دعویٰ اتباع مرزا کو مکروہ معلوم ہو گا۔ مگر محض دعویٰ سن کر تردید پر کمر بستہ ہو جانا اور دلیل سے نہ سوال کرنا نہ دلیل پر غور کرنا بھی علم کلام میں نقصان علم کی علامت ہے۔ اتباع مرزا اگر ہمارے دعویٰ کو سن کر کتاب ہٰذا نہ دیکھیں گے تو وہ سمجھ رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا فرعونی فعل سے بھی گرا ہوا ہو گا۔ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دعویٰ رسالت سن کر دلیل طلب کی تھی : ”ان کنت جئت بایۃ فات بھا ، اعراف ١٠٦“ اس لئے ناظرین کتاب ہٰذا اتباع مرزا ہوں یا اعداء مرزا۔ سب کا فرض ہے کہ اس کتاب میں پیش کردہ واقعات پر نظر کریں۔ اپنی محبت یا عداوت کو دخل نہ دیں۔

التماس : علمائے اسلام بالخصوص علمائے کلام اور طلباء اس رسالہ میں مخاطب اول ہیں۔

(ابو الوفاء ثناء اللہ)

١٦

صفحہ ٢٧٩

تمہید

علم کلام : اس علم کا نام ہے جس میں عقائد اسلامیہ کی تصحیح اور خیالات کفریہ کی تردید دلائل عقلیہ کے ساتھ ۔ یعنی عقلی طریق سے کی جاتی ہے ۔ علم منطق اور فلسفہ وغیرہ علوم عقلیہ اس علم کے خادم ہیں ۔ علم کلام کے جاننے اور برتنے والے کو متکلم کہتے ہیں ۔ اور اس گروہ کا نام متکلمین ہے ۔ امام غزالیؒ اور رازیؒ ، شیخ ابن تیمیہؒ ، شاہ ولی اللہؒ وغیرہ اسی گروہ کے معزز ارکان ہیں ۔

علمائے منطق نے طریقہ کلام اور مواد کلام وغیرہ سب لکھا ہے ۔ ہم بغرض اختصار بہت مختصر سی کتاب سے نقل کرتے ہیں :

"القياس اما برهانى يتالف من اليقينيات، واما جدلى يتالف من المشهورات والمسلمات، واما خطابى يتالف من المقبولات والمظنونات، واما شعرى يتالف من المخيلات، واما سفسطى يتالف من الوهميات والمشبهات، "

(تہذیب المنطق)

"قیاس (١)...... یا برہانی ہوتا ہے جو یقینیات سے مرکب ہوتا ہے ۔ (٢)...... یا جدلی ہوتا ہے جو مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے ۔ (٣)...... یا خطابی ہوتا ہے جو مقبولات اور مظنونات سے مرکب ہوتا ہے ۔ (٤)...... یا شعری ہوتا ہے جو محض خیالی امور سے مرکب ہوتا ہے ۔ (٥)...... یا سفسطی ہوتا ہے جو محض وہمیات سے مرکب ہوتا ہے ۔"

ان میں سے ہر ایک کی مثال درج ذیل ہے ۔ مثلاً :

١٧

صفحہ ٢٨٠

حدیث کا ہے اور جو حکم حدیث کا ہے وہ صحیح ہے۔

یہ شعر ہے :

وہ نہ آئیں شب وعدہ تو تعجب کیا ہے
رات کو کس نے ہے خورشید درخشاں دیکھا

اہل منطق ان اقسام کو صناعات خمسہ کہتے ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ درجہ برہان کا ہے جو یقینی دلیل ہے باقی یقینی نہیں۔ شعری صنعت سے مراد نظم نہیں بلکہ محض شاعرانہ خیالات اور تلازمات مراد ہیں۔ شاعر ایک خیال ذہن میں باندھ لیتا ہے پھر اس کے تلازم لاتا ہے۔ مثلاً اردو شاعر نے اپنے معشوق کی کم گوئی کی وجہ سے اس کے منہ کو جزو لا یتجزئ مان لیا۔ یعنی وہ چیز جو کسی طرح تقسیم نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کا تلازم بتانے کو کہتا ہے :

تقسیم جزو لا یتجزئ کی ہوگئی
سوائے سخن جو ان کے دہن سے نکل گیا

ایسے شعر کو بہت موزوں کہتے ہیں۔ فن شعر میں شعر کی خوبی صداقت پر نہیں ہوتی بلکہ خیال اور خیال کے تلازم پر ہوتی ہے۔ اہل کلام جس مضمون کو غلط اور بے ثبوت کہنا چاہتے ہیں۔ اس کی نسبت کہا کرتے ہیں : "یہ شعری ہے"

ناظرین ! ان صناعات خمسہ کو یاد رکھیں اور ہماری معروضات کو غور سے سنیں۔ مرزا قادیانی نے ان مواد میں سے کس مادہ کو اختیار کیا ؟ ہمارا خیال ہے کہ جناب مرزا غلام احمد علوم عقلیہ کلامیہ سے بالکل اجنبی تھے۔ اس لئے ان سے ان کی پابندی نہ ہوسکی۔

مرزا قادیانی کی تصانیف کس صنعت سے ہیں۔ اس بات کا بتانا اس رسالہ کا موضوع ہے۔ ہاں مجمل طور پر اس تمہید میں یہ بتانا بھی مفید ہو گا کہ مرزا قادیانی نے اہل منطق کی ان صناعات خمسہ کے علاوہ ایک جدید صنعت بھی ایجاد کی تھی۔ جس کا نام "صنعت

١٨

صفحہ ٢٨١

دشنام" ہے۔ یعنی مخاطب یا اس کے واجب العزت بزرگوں کو ایسے سب و شتم بیباکانہ کرتے کہ وہ سن کر تاب گفتگو نہ لا سکتا اور اس کی خاموشی کو مرزا قادیانی اور اس کے اتباع اپنی فتح قرار دیتے۔ ہمارے اس دعوے کا ثبوت اخبار "الفضل" قادیان کے ایک طویل مضمون سے ملتا ہے جو خاص اسی غرض کیلئے لکھا گیا ہے۔ جس کا عنوان بھی اسی غرض کے اظہار کے لئے بہت موزوں ہے۔ وہ یہ ہے :

"حضرت مسیح موعود کے علم کلام کی شاندار فتح

حضرت عیسیٰ اور یسوع (مسیح) کی حقیقت"

"آج سے نصف صدی پیشتر جبکہ مسیحی مشنری سر زمین ہند پر پوری قوت سے حملہ آور ہورہے تھے۔ انہوں نے اسلام اور سید المعصومین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بر خلاف طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا۔ ترغیب و ترہیب کے تمام طریقے اور مکر و فریب کی سب اقسام استعمال کر رہے تھے۔ اسلام سے بد ظن کرنے کیلئے سید الانبیاء کو گالیاں دی جاتی تھیں۔ گندی کتابیں اور سب و شتم سے لبریز پمفلٹ شائع کئے جارہے تھے کہ غیرت خدا وندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے گلستان احمد کی نگہبانی اور آپ کی عزت کی حفاظت کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا) کو مبعوث فرمایا۔ آپ دشمنان اسلام کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور اپنی بعثت کا مقصد ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

جانم فدا شود برہ دین مصطفےٰ
اینست کام دل اگر آید میسرم

خدا کا یہ برگزیدہ (مرزا) اپنے اس بلند مقصد کو نہایت کامیابی سے پورا کر کے اپنے محبوب حقیقی کے پاس چلا گیا۔ اس کی تصانیف پر نظر کرنے سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ایک درد مند اور سوختہ دل لے کر آیا تھا۔ رسول کریم ﷺ پر دشمنوں کے پیہم تیروں اور نا قابل برداشت بد زبانیوں نے اس کے قلب کو پاش پاش کر دیا۔ وہ اپنے محبوب کیلئے غیور تھا

١٩

صفحہ ٢٨٢

اور اس کا سچا عاشق تھا۔ اس لئے اس کی بے چینی اور دل نگاری قیاس سے بالا تھی۔ لیکن اس کا سوز و گداز کارگر ثابت ہوا۔ اس کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ وہ اس دنیا سے تب گیا جب اپنے تمام دشمنوں پر اس بارہ میں بھی اتمام حجت کر چکا تھا۔....... آخری ایام میں نہایت پر شوکت کلام رعب و ہیبت سے لبریز الفاظ اور جلالی ١؎ شان میں فتح نصیب جرنیل کی طرح یہ کہتے ہوئے پاتے ہیں : "اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت ﷺ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔ یاد رکھو کہ وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربیؐ جس کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی۔ جس کی تکذیب میں بد قسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں ٢؎ اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔ وہی سچا اور سچوں کا سردار ہے۔ اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا۔ مگر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا۔ اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے غیبوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔" (حقیقت الوحی ص ٢٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦) نشان نمائی میں دعوت مقابلہ اور آسمانی تائیدات میں معجزانہ تحدی ایک فیصلہ کن امر تھا۔ اور نشانات سماویہ کی بارشیں اسلام کی زندگی اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات جاوید کا قطعی اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ اس میدان میں مخالفین اسلام آریوں اور عیسائیوں نے ٣؎ جو ذلت اور شکست اٹھائی وہ ایک ظاہر و باہر امر ہے۔ ان سطور میں مجھے اس سے بحث کرنا مطلوب نہیں۔ بلکہ میں یہ بتانا چاہتا

١؎ احمد اور جلالی؟۔ ٢؎ اتنی کتابیں آپ نے دیکھیں یا سنیں یا الہام ہوا؟۔ ٣؎ ٦ ستمبر کو؟ جس کی بابت مولوی سعد اللہ مرحوم نے لکھا تھا :

غضب تھی تجھ پہ ستم گر چھٹی ستمبر کی
نہ دیکھی تو نے نکل کر نہ چھٹی ستمبر کی

٢٠

صفحہ ٢٨٣

ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود (مرزا) نے دجالی فتنہ کو پاش پاش کرنے کے لئے جو علم کلام اختیار فرمایا وہ کس قدر کامیاب اور کتنا زود اثر ثابت ہوا۔ میری مراد حضور (مرزا) کے اس طریق خطاب سے ہے جو آپ نے پادریوں کے جواب میں یسوع مسیح کی حقیقت آشکارا کرنے کے لئے اختیار فرمایا۔ اور جس پر بعض مسلمان کہلانے والے بھی اپنی نا فہمی سے معترض ہوئے۔ اور اسے توہین مسیح قرار دینے لگے۔........... حضرت مسیح موعود (مرزا) نے پادریوں کے تمام حملوں کا فرداً فرداً جواب دینے کے بعد قرآن پاک کی روشنی میں اور سلف صالح کے طریق عمل کے مطابق بائیبل کی رو سے یسوع مسیح کی حقیقت اس طرح واضح طور پر پیش کی کہ پادریوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تند اور ہولناک سیلاب جو پادریوں کی بد زبانی کا امڈ چلا آرہا تھا۔ رک گیا اور یہی مقصود تھا۔"

(الفضل ٦ مارچ ١٩٣٢ء ص ٥، ٦)

مصنف: اس طویل مضمون کا مفہوم واضح ہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو بحیثیت صفات مزعومہ نصاریٰ کے بہت کچھ برا بھلا کہا۔ کیوں کہا؟۔ اس لئے کہ عیسائیوں نے ہمارے نبی ﷺ کو برا کہا تھا۔

نوٹ: ناظرین، خصوصاً علما کلام غور فرمائیں کہ یہ طریق کلام کہاں تک صحیح ہے؟ کہ برا کہیں عیسائی اور مرزا قادیانی اس کے جواب میں برا کہیں یسوع مسیح کو۔ شاید انہی معنی میں کہا گیا ہے:

محتسب خم شکست و من سر او
سن بالسن والجروح قصاص

ہم اس مضمون کا جواب نہیں دیتے بلکہ ناظرین کے سامنے وہ الفاظ رکھ دیتے ہیں جو مرزا قادیانی نے یسوع مسیح کے حق میں لکھے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں۔ (نقل کفر)

"آپ (یسوع) کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی

٢١

صفحہ ٢٨٤

خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت در میان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔"

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

نوٹ : اس اقتباس میں "یسوع" کے نام سے یاد کیا ہے۔ دوسرے میں اسلامی نام "مسیح" کے ساتھ کوسا ہے جو یہ ہے۔

"مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار۔ متکبر۔ خودبین۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔"

(مکتوبات احمدیہ جلد سوم ص ٢٣، ٢٤)

اسی طرح مخالف علماء اسلام کے حق میں بھی اظہار غیظ و غضب کیا۔ چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں :

"ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق دعوتى الا ذرية البغايا ."

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(ہر مسلمان مجھ کو محبت کی نظر سے دیکھتا اور مجھے قبول کرتا اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن زنا کار عورتوں کی اولاد نہیں مانتی۔)

اس کے ساتھ علماء اسلام کو مندرجہ ذیل الفاظ سے بھی یاد کیا ہے :

"اے بد ذات فرقہ مولویوں ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئیگا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔"

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢١)

نوٹ : مرزا صاحب کے اس قسم کے الفاظ کا مجموعہ دیکھنا ہو تو ہمارا رسالہ

٢٢

صفحہ ٢٨٥

”ہندوستان کے دو ریفارمر“ دیکھئے۔

شروع مقصد

مرزا صاحب کی زندگی کے دو حصے ہیں: (١)...... زمانہ براہین احمدیہ تک۔ (٢)...... زمانہ دعویٰ مسیحیت سے انجام تک۔ ان دو زمانوں میں مرزا قادیانی کا علم کلام بھی دو طرح پر ہے: (الف)...... خطاب بکفار متعلق اسلام۔ (ب)...... خطاب باہل اسلام وغیرہ متعلق دعویٰ مسیحیت خود۔ یعنی براہین احمدیہ کی چار جلدوں تک مرزا قادیانی کا خطاب کفار کی طرف تھا۔ براہین احمدیہ کے بعد اہل اسلام کی طرف ہوا۔ بلکہ یوں کہئے کہ سارا زور اپنی مسیحیت کے اثبات میں لگا دیا۔ اس لئے ہم بھی اپنی کتاب کے تین باب بناتے ہیں۔ اول! خطاب کفار۔ دوم! خطاب علماء اسلام۔ سوم! مرزا قادیانی کے قواعد مخصوصہ۔

اب رہی یہ بات کہ مرزا قادیانی کی کون کونسی کتاب کفار کے خطاب میں ہے اور کون کون سی علماء اسلام کے خطاب میں۔ سو اس کی تلاش سے ہم بے فکر ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے تصریح کے ساتھ ہم کو اس تلاش سے مستغنی کر دیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:

”ہندوؤں کے مقابل میں نے کتاب ”براہین احمدیہ“ اور ”سرمہ چشم آریہ ١۔“ اور ”آریہ دھرم ٢۔“ ایسی کتابیں تالیف کیں۔“

”عیسائیوں کی نسبت جو اتمام حجت کیا گیا وہ بھی دو قسم پر ہے۔ ایک کتابیں ہیں جو میں نے عیسائیوں کے خیالات کے رد میں تالیف کیں۔ جیسا کہ براہین احمدیہ۔ نورالحق اور کشف الغطاء وغیرہ۔ دوسرے وہ نشان ہیں جو عیسائیوں پر حجت پوری کرنے کے لئے میں نے دکھلائے ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ٤٧‘ ٤٨‘ خزائن ج ١٥ ص ٢٣٢‘ ٢٣٦)

ان دونوں اقتباسوں میں ”براہین احمدیہ“ مشترک کتاب ہے۔ گو یہ بات ناقابل

صفحہ ٢٨٦

تردید ہے کہ مرزا قادیانی کی ہر کتاب بلکہ ہر تحریر میں اپنا ذاتی حصہ ضرور ہوتا ہے۔ یعنی اپنے دعویٰ الہام مجددیت۔ مسیحیت وغیرہ کا ذکر لازمی ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ بھی اس قانون کلی سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ براہین بمقابلہ غیر مسلمین لکھی گئی ہے۔ جماعت مرزائیہ کو اس پر ضرورت سے زیادہ فخر ہے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب مرزائی لاہوری لکھتے ہیں :

”قرآن کریم کی صداقت پر دلائل کا مجموعہ ۔“

”سب سے پہلی کتاب جو آپ (مرزا) نے لکھی جو براہین احمدیہ کے نام سے مشہور ہے۔ جو صرف قرآن کریم کی صداقت پر دلائل کا مجموعہ ہے اور انہی دلائل کے ذریعہ سے ہر ایک مذہب پر اتمام حجت کیا ہے۔ چنانچہ اس کا پورا نام ہے : ”البراہین الاحمدیہ علیٰ حقیقة کتاب الله القرآن والنبوة المحمدیہ ۔“

(مقولہ محمد علی مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ٧ جون ١٩٣٢ء ص ٣ کالم ٣)

اس کتاب کا اشتہار جس کو اس کتاب کی جلد اول بنایا گیا دیکھنے سے دل پر عجیب اثر ہوتا ہے :

”میں (مرزا غلام احمد قادیانی) جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں۔ یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منکر ہیں اتماماً للحجة شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیقت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کی ہیں۔ اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھلاوے۔ یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے۔ یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبروار توڑ دے تو ان سے سب صورتوں

٢٤

صفحہ ٢٨٧

میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا۔ میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذر و حجتے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ قبض و دخل دے دوں گا۔"

(براہین احمدیہ ص ٢٧ تا ٢٨ خزائن ج ١ ص ٢٤ تا ٢٨)

اس عالی شان پروگرام والی کتاب پر علماء کرام اور پیروان اسلام کیوں فریفتہ نہ ہوتے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے علماء اور رؤساء کو جناب مصنف سے حسن ظن پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ کتاب مذکور کی تعریف میں یہ بھی فرمایا۔

"ہم (مرزا غلام احمد قادیانی) نے صدہا طرح کا ظہور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔ .............. اب ہر ایک مومن کیلئے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیقتاً قرآن شریف پر صادق آ گئیں اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا۔ وہ کتاب کیسی کچھ بندگان خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ و جلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔"

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ب، خزائن ج ١ ص ٦٦، ٦٧)

اس عبارت میں جن دلائل کا ذکر کیا ہے ان کی کیفیت اور نوعیت بھی اسی کتاب میں آپ نے خود لکھی ہے۔ فرماتے ہیں :

"دلائل سے کیا مراد ہے۔ پس بغرض تشریح اس فقرہ کے لکھا جاتا ہے جو دلائل اور براہین فرقان مجید کی کہ جن سے حقیقت اس کلام پاک کی اور صدق رسالت آنحضرت ﷺ کا ثابت ہوتا ہے دو قسم پر ہیں۔ اول وہ دلائل جو اس پاک کتاب اور آنحضرت کی صداقت پر اندرونی اور ذاتی شہادتیں ہیں۔ یعنی ایسے دلائل جو اسی مقدس کتاب کے

١۔ مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے اسی حسن ظن میں ریویو براہین احمدیہ لکھا تھا۔ هكذا قال لنا مولنا المرحوم !

٢٥

صفحہ ٢٨٨

کمالات ذاتیہ اور خود آنحضرت کی ہی خصال قدسیہ اور اخلاق مرضیہ اور صفات کاملہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ دوسری وہ دلائل جو بیرونی طور پر قرآن شریف اور آنحضرت کی سچائی پر شواہد قاطعہ ہیں۔ یعنی ایسے دلائل جو خارجی واقعات اور حادثات متواترہ مثبتہ سے لی گئی ہیں۔"

(ص ٣٣ تا ٣٨ براہین احمدیہ خزائن ج ١ ص ٣١ تا ٣٣)

اس عبارت کو ناظرین سمجھ کر ذہن نشین رکھیں۔ اس کا مفہوم صاف ہے کہ جو دلائل مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک قسم قرآن مجید کے اندر سے لئے گئے ہیں۔ دوسری قسم وہ دلائل ہیں جو خارجی واقعات سے لئے گئے ہیں۔ پھر ان دونوں قسموں کو دو قسموں پر منقسم کیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے :

"پھر ہر ایک ان دونوں قسموں کے دلائل سے دو قسم پر ہے۔ دلیل بسیط اور دلیل مرکب۔ دلیل بسیط وہ دلیل ہے جو اثبات حقیقت قرآن شریف اور صدق رسالت آنحضرت کے لئے کسی اور امر کے الحاق اور انضمام کی محتاج نہیں۔ اور دلیل مرکب وہ دلیل ہے جو اس کے تحقق دلالت کے لئے ایک ایسے مجموعہ کی ضرورت ہے کہ اگر من حیث الاجتماع اس پر نظر ڈالی جائے۔ یعنی نظر یکجائی سے اس کی تمام افراد کو دیکھا جائے تو وہ کل مجموعے ایک ایسی عالی حالت میں ہوں جو تحقق اس حالت کا تحقق حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت آنحضرت کو مستلزم ہو اور جب اجزاء اس کی الگ الگ دیکھی جائیں تو یہ مرتبہ برہانیت کا جیسا کہ اُن کو چاہئے حاصل نہ ہو۔"

(از براہین احمدیہ ص ٣٨، ٤٤ خزائن ج ١ ص ٣٣ تا ٣٦)

یہ عبارات پہلے بیان کی تشریح ہے۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ میں دونوں قسم کے دلائل درج کر دی گئی ہیں۔

(ناظرین اسے ذہن نشین رکھیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ مرزا صاحب نے اس کتاب میں صناعات خمسہ مذکورہ میں سے برہان سے کام لینے کا ارادہ کیا ہے۔)

انہی پر زور دلائل کی تمہید کیلئے ایک فصل تجویز کی جس کے الفاظ یہ ہیں :

٢٦

صفحہ ٢٨٩

پہلی فصل : ”ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور فضیلت

پر بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ١٣٩، خزائن ج ١ ص ١٤٣)

اس عنوان کے نیچے یہ عبارت لکھی ہے :

”قبل از تحریر براہین فصل ہذا کے چند ایسے امور کا بیان کرنا ضروری ہے جو دلائل آتیہ کے اکثر مطالب دریافت کرنے اور ان کیفیت اور ماہیت سمجھنے کیلئے قواعد کلیہ ہیں۔ چنانچہ ذیل میں وہ تمہیدیں لکھی جاتی ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ١٣٩، خزائن ج ١ ص ١٤٣)

یہ عبارت صاف مظہر ہے کہ اس فصل میں دلائل مذکور نہیں بلکہ تمہیدات مذکور ہیں۔ یہ فصل ص ٥١٢ (خزائن ج ١ ص ٦١١) پر ختم ہوئی ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے :

باب اول : ”ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور فضیلت پر

بیرونی شہادتیں ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٥١٢، خزائن ج ١ ص ٦١١)

اس عنوان کو دیکھ کر ناظرین ہمہ تن گوش اور بدل متوجہ ہوں گے کہ وہ دلائل قاہرہ سنیں اور دل کو مسرور کریں۔ مگر ان کی ساری امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کتاب ٥٦٢ صفحات پر ختم ہے۔ ان پچاس صفحات پر مرزا صاحب نے چند آیات قرآنیہ اور ان کا صرف ترجمہ لکھا ہے اور بس۔ وہ آیات یہ ہیں :

. ”تالله لقد ارسلنا الی امم من قبلك فزين لهم الشيطان اعمالهم، النحل ٦٣“

ان آیات کا ترجمہ کرنے کے بعد صرف اتنا بتایا کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے ملک کی حالت اس کی مقتضی تھی۔ اتنے پر کتاب کی چار جلدیں ختم ہو گئیں۔ ناظرین منتظر رہے کہ پانچویں جلد میں ہم ان دلائل قاہرہ سے مسرور اور محظوظ ہوں گے۔ مگر آہ ! ان کی چشم انتظار اس عاشق مہجور کی طرح ٢٣ سال تک نامراد رہی جس کا قول ہے :

٢٧

صفحہ ٢٩٠
نیند راتوں کی گئی دن کی گئیں آسائشیں
کیا سے کیا دکھلا رہا انتظار یار بھی

٢٣ سال کی مدت طویلہ کے بعد مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کی پانچویں جلد لکھی جس میں اپنا مافی الضمیر ان لفظوں میں ظاہر کیا :

”بحمد الله کہ آخر ایں کتابم
مکمل شد بفضل آنجنابم

اما بعد! واضح ہو کہ براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ ہے کہ جو اس دیباچہ کے بعد لکھا جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے ایسا اتفاق ہوا کہ چار حصے اس کتاب کے چھپ کر پھر تخمیناً تئیس برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا اور عجیب تر یہ کہ اسی (٨٠) کے قریب اس مدت میں میں نے کتابیں تالیف کیں جن میں سے بعض بڑے بڑے حجم کی تھیں۔ لیکن اس کتاب کی تکمیل کیلئے توجہ پیدا نہ ہوئی اور کئی مرتبہ دل میں یہ درد پیدا بھی ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانہ دراز گزر گیا مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے کہ خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کیلئے سخت الحاح ہوا اور اس مدت مدید اور اس قدر زمانہ التواء میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلود تھے۔ اور بوجہ امتداد مدت در حقیقت وہ دلوں میں پیدا ہو سکتے تھے مگر پھر بھی قضا و قدر کے مصالح نے مجھے یہ توفیق نہ دی کہ میں اس کتاب کو پورا کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قضا و قدر در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جس کے احاطہ سے باہر نکل جانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے بلکہ اس بات کے تصور سے دل درد مند ہو جاتا ہے کہ بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے۔ مگر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں انسان تقدیر الٰہی کے ماتحت ہے اگر خدا کا ارادہ انسان کے ارادہ کے مطابق نہ ہو تو انسان ہزار جد و جہد کرے اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا۔ لیکن جب خدا کے ارادہ کا وقت آجاتا ہے تو وہی امور جو بہت مشکل نظر

٢٨

صفحہ ٢٩١

آتے تھے نہایت آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔ اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے تمام کاموں میں حکمت اور مصلحت ہوتی ہے تو اس عظیم الشان دینی خدمت کی کتاب میں جس میں اسلام کے تمام مخالفوں کا رد مقصود تھا کیا حکمت تھی کہ وہ کتاب تخمیناً تئیس برس تک مکمل ہونے سے معرض التوا میں رہی۔ اس کا جواب خدا ہی بہتر جانتا ہے کوئی انسان اس کے تمام بھیدوں پر محیط نہیں ہو سکتا۔ مگر جہاں تک میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کہ جو شائع ہو چکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور ظہور میں نہ آجاتے تب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصہ کے دلائل مخفی اور مستور رہتے۔ اور ضرور تھا کہ براہین احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے جب تک کہ امتداد زمانہ سے وہ سربستہ امور کھل جائیں اور جو دلائل ان حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا الہام جابجا مستور ہے جو اس عاجز پر ہوا وہ اس بات کا محتاج تھا جو اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا محتاج تھا کہ جو پیشگوئیاں اس میں درج ہیں ان کی سچائی لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ پس اس لئے خدائے حکیم و علیم نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیشگوئیاں ظہور میں آگئیں۔ ............ پس اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دوم : پھر دوسری قسم فتح کی جو اسلام میں پائی جاتی ہے جس میں کوئی مذہب اس کا شریک نہیں اور جو اس کی سچائی پر کامل طور پر مہر لگاتی ہے اس کی زندہ برکات اور معجزات ہیں جن سے دوسرے مذاہب بکلی محروم ہیں۔ یہ ایسے کامل نشان ہیں کہ ان کے ذریعہ سے نہ صرف اسلام دوسرے مذاہب پر فتح پاتا ہے بلکہ اپنی کامل روشنی دکھلا کر دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یاد رہے کہ پہلی دلیل اسلام کی سچائی کی جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یعنی کامل تعلیم وہ در حقیقت اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ مذہب اسلام منجانب اللہ ہے ایک کھلی کھلی دلیل نہیں ہے کیونکہ ایک متعصب منکر جس کی نظر باریک بین نہیں ہے کہہ سکتا ہے ٢٩

صفحہ ٢٩٢

کہ ممکن ہے کہ ایک کامل تعلیم بھی ہو اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔ پس اگرچہ یہ دلیل ایک دانا طالب حق کو بہت سے شکوک سے مخلصی دیکر یقین کے نزدیک کر دیتی ہے۔ لیکن تاہم جب تک دوسری دلیل مذکورہ بالا اس کے ساتھ منضم اور پیوستہ نہ ہو کمال یقین کے مینار تک نہیں پہنچا سکتی۔ اور ان دونوں دلیلوں کے اجتماع سے سچے مذہب کی روشنی کمال تک پہنچ جاتی ہے اور اگرچہ سچا مذہب ہزار ہا آثار اور انوار اپنے اندر رکھتا ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں بغیر حاجت کسی اور دلیل کے طالب حق کے دل کو یقین کے پانی سے سیراب کر دیتی ہیں اور مکذبوں پر پورے طور پر اتمام حجت کرتی ہیں۔ اس لئے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقانیت اسلام کیلئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا۔ اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کیلئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ اگر میں کتاب براہین احمدیہ کے پورا کرنے میں جلدی کرتا تو ممکن نہ تھا کہ اس طریق سے اسلام کی حقانیت لوگوں پر ظاہر کر سکتا۔ کیونکہ براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو اسلام کی سچائی پر قوی دلیل ہیں۔ مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا تعالیٰ کے وہ موعودہ نشان کھلے کھلے طور پر دنیا پر ظاہر ہوتے، ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ معجزات اور نشانوں کا لکھنا انسان کے اختیار میں نہیں اور دراصل یہی ایک بڑا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے کہ اس میں برکات اور معجزات پائے جائیں کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے صرف کامل تعلیم کا ہونا سچے مذہب کے لئے پوری پوری اور کھلی کھلی علامت نہیں ہے جو تسلی کی انتہائی درجہ تک پہنچا سکے۔ سو میں انشاء اللہ تعالیٰ یہی دونوں قسم کے دلائل اس کتاب میں لکھ کر اس کتاب کو پورا کروں گا۔ اگرچہ براہین احمدیہ کے گزشتہ حصوں میں نشانوں کے ظہور کا وعدہ دیا گیا تھا مگر میرے اختیار میں نہ تھا کہ کوئی نشان اپنی طاقت سے ظاہر کر سکتا۔ اور کئی باتیں پہلے حصوں میں تھیں جن کی تشریح میری طاقت سے باہر تھی۔ لیکن ٣٠

صفحہ ٢٩٣

جب تیس برس کے بعد وہ وقت آگیا تو تمام سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے میسر آگئے اور موافق اس وعدہ کے جو براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں درج تھا۔ قرآن شریف کے معارف اور حقائق میرے پر کھولے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”الرحمٰن علم القرآن“ ایسا ہی بڑے بڑے نشان ظاہر کئے گئے۔ جو لوگ سچے دل سے خدا کے طالب ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ خدا کی معرفت خدا کے ذریعہ سے ہی میسر آسکتی ہے اور خدا کو خدا کے ساتھ ہی شناخت کر سکتے ہیں۔ اور خدا اپنی حجت آپ ہی پوری کر سکتا ہے انسان کے اختیار میں نہیں اور انسان کبھی کسی حیلہ سے گناہ سے بیزار ہو کر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ معرفت کاملہ حاصل نہ ہو۔ اور اس جگہ کوئی کفارہ مفید نہیں اور کوئی طریق ایسا نہیں جو گناہ سے پاک کر سکے۔ بجز اس کامل معرفت کے جو کامل محبت اور کامل خوف کو پیدا کرتی ہے اور کامل محبت اور کامل خوف یہی دونوں چیزیں ہیں جو گناہ سے روکتی ہیں۔ کیونکہ محبت اور خوف کی آگ جب بھڑکتی ہے تو گناہ کے خس و خاشاک کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور یہ پاک آگ اور گناہ کی گندی آگ دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔ غرض انسان نہ بدی سے رک سکتا ہے اور نہ محبت میں ترقی کر سکتا ہے جب تک کہ کامل معرفت اس کو نصیب نہ ہو۔ اور کامل معرفت نہیں ملتی جب تک کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے زندہ برکات اور معجزات نہ دئے جائیں۔ یہی ایک ایسا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے کہ جو تمام مخالفوں کا منہ بند کر دیتا ہے اور ایسا مذہب جو مذکورہ بالا دونوں قسم کے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی ایسا مذہب کہ تعلیم اس کی ہر ایک پہلو سے کامل ہے جس میں کوئی فروگزاشت نہیں اور نیز یہ کہ خدا نشانوں اور معجزات کے ذریعہ سے اس کی سچائی کی گواہی دیتا ہے۔ اس مذہب کو وہی شخص چھوڑتا ہے جو خدا تعالیٰ کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا۔ اور روز آخرت پر چند روزہ زندگی اور قوم کے جھوٹے تعلقات کو مقدم کر لیتا ہے۔ وہ خدا جو آج بھی ایسا ہی قادر ہے جیسا کہ آج سے دس ہزار برس پہلے قادر تھا۔ (دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال ہے۔ لیکچر سیالکوٹ ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٧) اس پر اسی صورت سے ایمان حاصل ہو سکتا ہے کہ اس کی تازہ

٣١

صفحہ ٢٩٤

برکات اور تازہ معجزات اور قدرت کے تازہ کاموں پر علم حاصل ہو۔ ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وہ خدا نہیں ہے جو پہلے تھا یا اس میں وہ طاقتیں اب موجود نہیں جو پہلے تھیں۔ اس لئے ان لوگوں کا ایمان کچھ بھی چیز نہیں جو خدا کے تازہ برکات اور تازہ معجزات کے دیکھنے سے محروم ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس کی طاقتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں۔ بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ کے چھاپنے میں تئیس برس تک التواء رہا۔ یہ التواء بے معنے اور فضول نہ تھا بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک پنجم حصہ دنیا میں شائع نہ ہو جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیشگوئیاں ہیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ کے پہلے حصے عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد یہی تھا کہ وہ موعودہ پیشگوئیاں ظہور میں آجائیں اور یہ خدا کا ایک خاص نشان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے اس وقت تک مجھے زندہ رکھا۔ یہاں تک کہ وہ نشان ظہور میں آگئے تب وہ وقت آگیا کہ پنجم حصہ لکھا جائے۔ اور اس حصہ پنجم کے وقت جو نصرت حق ظہور میں آئی ضرور تھا کہ بطور شکر گزاری کے اس کا ذکر کیا جاتا۔ سو اس امر کے اظہار کے لئے میں نے براہین احمدیہ کے پنجم حصہ کے لکھنے کے وقت جس کو در حقیقت اس کتاب کا نیا جنم کہنا چاہئے اس حصہ کا نام "نصرۃ الحق" بھی رکھ دیا تا وہ نام ہمیشہ کے لئے اس بات کا نشان ہو کہ باوجود صد ہا عوائق اور موانع کے محض خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اس حصہ کو خلعت وجود بخشا۔ چنانچہ اس حصہ کے چند اوائل ورق کے ہر ایک صفحہ کے سر پر نصرۃ الحق لکھا گیا مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ یہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں۔ بعد اس کے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔"

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧ تا ٩ خزائن ج ٢١ ص ٩)

مرزائی دوستو! کیا اچھا شاعرانہ تخیل ہے۔ پچاس اور پانچ ایک ہی ہیں۔ محض صفر کا

٣٢

صفحہ ٢٩٥

فرق ہے جسے اہل ہندسہ بھی بے حقیقت کہا کرتے ہیں۔ مگر ہم اپنے مرزائی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ تم نے کسی سے پچاس روپے لینے ہوں اور وہ پانچ دے کر مرزا قادیانی کا یہ قول پیش کرے کہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے جو حقیقت میں بے حقیقت ہے۔ تو کیا تم لوگ پانچ پر کفایت کر جاؤ گے؟۔ ایمان سے سچ کہنا۔ ایمان ہے تو سب کچھ۔

چونکہ مرزا قادیانی کی تصنیفات ہماری تحقیق میں صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری پر مبنی ہیں اس وجہ سے ناظرین کی تسلی کے لئے ہم بھی مرزا قادیانی کی وعدہ خلافی کا عذر شاعرانہ تخیل میں پیش کرتے ہیں۔

عرب کا مشہور منہ زور شاعر متنبی اپنی معشوقہ کے عدم ایفاء عہد پر معذرت کرتا ہے :

اذا غدرت حسناء اوفت بعهدها
ومن عهدها الا يدوم لها عهد

(معشوقہ جب بے وفائی کرے تو سمجھو کہ اس نے وعدہ پورا کر دیا۔ کیونکہ اس کے وعدہ میں داخل ہے کہ وہ وعدہ وفا نہ کرے گی۔)

اسی شاعرانہ تخیل میں ہم بھی مرزا قادیانی کا عذر قبول کرتے ہیں اور یہ ماننے کو تیار ہیں کہ پچاس اور پانچ میں کوئی فرق نہیں۔ دراصل پچاس کا عدد بھی پانچ ہے جیسے سو دراصل ایک ہے۔ فرق صرف صفر کا ہے جو بے حقیقت چیز ہے۔

مرزائی دوستو! ہم نے تمہارے مسیح موعود کا عذر تو قبول کر لیا بلکہ پبلک سے بھی منظور کروا دیا۔ مگر آخر یہ شاعرانہ تخیل کب تک کام آئیگا۔ خطرہ ہے کوئی منچلا شاعر تخیل میں آپ لوگوں کی معرفت مرزا قادیانی کو یہ شعر نہ پہنچاوے :

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

٣٣

صفحہ ٢٩٦

براہین جلد پنجم

ہم بتا آئے ہیں کہ براہین احمدیہ جلد چہارم کے ص ٥١٢ (خزائن ج ١ ص ٦١١) پر مرزا صاحب نے نہایت مسرت انگیز عنوان تجویز فرمایا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں :

باب اول : ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔"

لیکن اس جلد میں اس بیان کو شروع بھی نہ کیا۔ گو جلد پنجم کے لکھنے اور شائع کرنے میں ٢٣ سال کی مدت مدیدہ گزر گئی تاہم مصنف کو خیال ہونا چاہئے تھا کہ جس کتاب کی یہ جلد پنجم ہے اس کی چوتھی جلد میں جو مضمون چلا آرہا ہے۔ اسی کو پانچویں میں پورا کرنا چاہئے۔ حالانکہ جس اشتہار کے ذریعہ مسلمانوں کو روپیہ بھیجنے کی ترغیب دی ہے۔ اس میں یہ الفاظ بھی تھے۔

"پہلے یہ کتاب (براہین) صرف تیس پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جزو تک بڑھادی گئی۔ اور دس روپے عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپے دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے تین سو جزو تک پہنچ گئی ہے۔"

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٢، ٣٣)

اس اشتہار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ تین سو جزو تک تیار ہو چکی تھی۔ جن میں سے چار جلدوں میں ٣٥ جزو شائع ہوئے ہیں۔ باقی مسودہ بقدر ٢٦٥ جزو کو کیوں چھپا رکھا؟۔ یہاں تک کہ ٢٣ سالہ طویل مدت کے بعد پانچویں جلد شائع کی تو اس میں نہ اس وعدہ کا لحاظ رکھا نہ اس اعلان کے مطابق اس مسودہ کو شائع کیا۔ نہ یہ ظاہر کیا کہ وہ مسودہ آگ کی نذر ہو گیا۔ باوجود ایسے واقعات کے چونکہ ہم مرزا قادیانی کی تصنیفات کی نوعیت صنعت شعری جانتے ہیں۔ اس لئے بحکم مصرعہ :

٣٤

صفحہ ٢٩٧

”کلام اللیل یمحوہ النہار“ (رات کے وعدہ کو دن کا ظہور محو کر دیتا ہے۔) پانچویں جلد میں سابقہ حصص کے مضامین بلکہ ڈیڑھ سو جز مسودہ سب بھول گئے ایسے بھولے کہ نہ ان کی غرض و غایت یاد رہی نہ ان کا آخری مضمون نہ آخری سرخی۔ سب کچھ ایسے بھولے جیسے ایک شاعر کا معشوق بھولا۔ جس کا ذکر یوں ہے :

مجھے قتل کرکے وہ بھولا سا قاتل
لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے
کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے
کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

یوں معلوم ہوتا ہے کہ جلد پنجم شروع کرتے ہوئے چوتھی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا۔ اسی لئے چوتھی میں جس بات کو بطور اصول بزور بیان کیا پانچویں میں بزور اس کی تردید کی ہے۔ مثلاً پہلے لکھ چکے ہیں۔

"جبکہ تصفیہ ہر ایک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کے لئے عقل ہی معیار ہے تو اس سے لازم آیا کہ حقیقت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے۔"

(براہین احمدیہ حصص اربعہ ص ٨٨‘ خزائن ج ١ ص ٧٦)

جلد پنجم میں لکھتے ہیں : "ظاہر ہے کہ محض عقلی دلائل مذہب کی سچائی کے لئے کامل شہادت نہیں ہو سکتے ......... محض عقلی دلائل سے تو خدائے تعالیٰ کا وجود بھی یقینی طور پر ثابت نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ کسی مذہب کی سچائی اس سے ثابت ہو جائے۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٧، ٤٨‘ خزائن ج ٢١ ص ٦٠، ٦١)

١۔ اثر مراق۔

٣٥

صفحہ ٢٩٨

ناظرین! مرزا قادیانی کی تصنیفات کو ہم اہل منطق کی صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری بتاتے ہیں۔ اس لئے آپ کے اقرار کے بعد اس انکار کو بھی صنعت شعری میں جگہ مل سکتی ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے :

کیونکر مجھے باور ہو کہ ایفا ہی کرو گے
کیا وعدہ تمہیں کرکے مکرنا نہیں آتا

ہمارا بیان کیسا صاف ہے کہ براہین جلد پنجم میں مرزا قادیانی کو وہی مضمون شروع کرنا چاہئے تھا جس کی چوتھی جلد میں گویا بسم اللہ ہوئی تھی اور تین سو دلائل قاہرہ بالکل مرتب ہو چکے تھے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اعلان کر چکے تھے کہ

"ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو تین سو براہین محکم دلائل عقلیہ پر مشتمل تالیف کیا ہے۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٨)

مگر افسوس کہ اس مضمون کو جو مسودہ کی صورت میں بالکل تیار تھا، چھوا بھی نہیں۔ ہاں ایک عنوان ایسا مقرر کیا جس سے گمان ہو سکتا تھا کہ نفس اسلام سے اس کو تعلق ہوگا۔ یعنی سرخی یوں مقرر کی۔

"پہلا باب : معجزہ کی اصل اور ضرورت کے بیان میں۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٦، خزائن ج ٢١ ص ٥٩)

اس باب میں جتنی کچھ تقریر فرمائی وہ اصولی ہے۔ مثلاً معجزہ کو مذہب کے لئے امتیازی نشان قرار دیکر لکھا۔

"غرض بغیر امتیازی نشان کے نہ مذہب حق اور مذہب باطل میں کوئی کھلا کھلا تفرقہ ہو سکتا ہے اور نہ ایک راستباز اور مکار کے درمیان کوئی فرق بین ظاہر ہو سکتا ہے۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٨، ٤٩، خزائن ج ٢١ ص ٦٢)

باوجود قطع تعلق حصص سابقہ براہین احمدیہ کے ہم اسی پر کفایت کرتے۔ اگر اس اصول کو اسلام کی حقانیت کے لئے استعمال کیا جاتا۔ افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس

٣٠

صفحہ ٢٩٩

کو اپنی صداقت کے لئے تمہید بنایا اور دوسرے باب کو اپنے دعویٰ مسیحیت موعودہ کے اثبات میں پیش کیا۔ چنانچہ اس کا عنوان یہ ہے :

باب دوم : ان نشانوں کے بیان میں جو بذریعہ ان پیشگوئیوں کے ظاہر ہوئے جو آج سے پچیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھ کر شائع کی گئیں۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥١، خزائن ج ٢١ ص ٦٥)

پھر اس باب میں اپنی پیشگوئیاں لکھی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اتباع مرزا اپنے ہر کام کو اسلام کی خدمت بلکہ اپنے وجود کو اسلام ہی کا نشان بتایا کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے موضوع کے پابند ہیں۔ ہم نے کتاب ہذا میں "علم کلام مرزا" کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک میں ان دلائل کا ذکر ہے جو خالص اسلام کی صداقت پر مرزا قادیانی نے دئے یا دینے کا دعویٰ یا وعدہ کیا۔ دوسری قسم وہ دلائل ہیں جو اپنی نبوت اور مسیحیت موعودہ کے اثبات کے لئے پیش کئے ہیں۔ براہین احمدیہ جلد پنجم کو ہم دوسری قسم سے جانتے ہیں۔ جیسا کہ اس کی تصریحات اور عبارات سے صاف نمایاں ہے۔

مرزائی دوستو! واقعات کے جواب میں منہ چڑانا، برا منانا مفید نہیں تم ہمارے حوالجات کو اصل کتابوں میں دیکھو اور ہمارے سوال کا جواب دو :

سوال: کوئی مفسر سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کرے۔ پہلی جلد میں وہ پہلے نصف پارے تک پہنچے۔ اس کے بعد دوسری جلد میں اس کا فرض کیا ہے اسی سورۂ بقرہ کو پورا کرنا یا کوئی اور مضمون شروع کرنا ؟ :

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

براہین احمدیہ کی ظاہری کیفیت

مشہور ہے کہ براہین احمدیہ پانچ جلدوں میں منقسم ہے۔ پانچویں جلد تو بے شک

٣٧

صفحہ ٣٠٠

صورت اور سیرت میں الگ ہے۔ یعنی نہ اس کی تقطیع پہلی جلدوں سے ملتی ہے نہ مضمون۔ یہ ان سے الگ وہ اس سے جدا۔ اس کو ان سابقہ حصص کی نوع سے کہنا ایسا ہی غلط ہے جیسے گیہوں کو چاولوں کی قسم سے کہنا۔

مگر جو چار جلدیں ہم کو بتائی جاتی ہیں ان کی بھی عجیب حالت ہے کہ نہ پہلی کی ابتدا ملتی ہے نہ دوسری کا شروع ، نہ تیسری کی ابتدا نہ چوتھی کا شروع ۔ طبع اول میں تو یہ کچھ نہ تھا۔ اس کے بعد مریدوں نے اس بد صورتی کو دیکھ کر ١٩٠٦ء میں اس کی اصلاح پر توجہ کی۔ مگر یہ اصلاح بھی قابل اصلاح ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ اصلاح شدہ کتاب کی فہرست یوں لکھی ہے :

حصہ اول : ...... التماس ضروری از مؤلف ص ١٦ (خزائن ج ١ ص ٥)

حصہ دوم :...... التماس ضروری از مؤلف ص ٨٣ (خزائن ج ١ ص ٥٣)

حالانکہ حصہ اول جو ص ٨٢ پر ختم ہوا بڑے بڑے حرفوں میں کتاب براہین احمدیہ کا مبالغہ آمیز محض اشتہار ہے جیسے بازار میں چورن فروش چورن کی تعریف میں بڑی لمبی چوڑی تقریریں کیا کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ مریدوں نے یہ بدعت ایجاد کی کہ ص ٨٢ ص ٨٣ کے در میان میں چند اوراق مرزا صاحب کی سوانح عمری کے درج کردئے۔ حالانکہ کتاب کے درمیان میں ان کا لانا بالکل طرہ مخلل سا معلوم ہوتا ہے۔ سوانح عمری لانے کا شوق تھا تو کتاب کے شروع میں لگاتے۔ جس کا ترجمۃ المؤلف نام رکھتے۔ صفحہ ٨٤ (خزائن ج ١ ص ٧١ ) جسے حصہ دوم کا شروع بنایا گیا ہے۔ اس پر یہ عنوان لکھا ہے :

مقدمہ : اور اس میں کئی مقصد واجب الاظہار ہیں جو ذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں۔"

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا شروع یہاں سے ہے۔ ص ١٣٨ (خزائن ج ١ ص ١٣٢) پر لکھا ہے :

٣٨

صفحہ ٣٠١

تمت المقدمہ

مگر صفحات برابر جا رہے ہیں۔ لیکن مریدوں نے یہاں دوسری جلد ختم کر دی۔ اس کے آگے تیسری کا سر ورق لگا دیا۔ (خزائن ج ١ ص ١٣٣) جس کے شروع میں لکھا :

پہلی فصل : ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر

بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں۔"

(خزائن ج ١ ص ١٤٣)

یہ فصل چلتی چلتی جب ص ٢٧٨ (خزائن ج ١ ص ٣١٠) پر پہنچی تو مریدوں نے یہاں تیسری جلد ختم کر کے ص ٢٧٩ (خزائن ج ١ ص ٣١٣) پر چوتھی جلد کا سر ورق لگا دیا۔ حالانکہ نہ فصل ختم ہوئی نہ مضمون ختم ہوا۔ ناظرین کی ضیافت طبع کے لئے ص ٢٧٨، ص ٢٧٩ کی عبارت ہم لکھتے ہیں۔ جو یوں ہے :

"جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا۔

(ص ٢٧٨ خزائن ج ١ ص ٣١٠)

(ص ٢٧٩) یعنی اس کی ذات اور صفات اور افعال کا شرکت غیر سے پاک ہونا وغیرہ۔"

(ص ٢٧٩ خزائن ج ١ ص ٣٢٣)

خیال فرمائیے! ایسی بڑی نامور کتاب اور جلدوں کا خاتمہ اس طرح کہ کسی معمولی کتاب کی جلدیں بھی اس طرح ختم اور شروع نہیں ہوتیں۔ چہ خوش !

ہم نے براہین احمدیہ کی اس بے معنے تقسیم کو دیکھ کر بہت کوشش کی کہ اس کو صحیح صورت میں سمجھیں۔ افسوس کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ آخر بے ساختہ منہ سے نکلا :

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

مرزائی دوستو! یاد رکھو تمہاری کوشش سے براہین سنور نہیں سکتی ہے۔ کیوں ؟

٣٩

صفحہ ٣٠٢

"لن يصلح العطار ما افسدالدهر٠"

نوٹ : مرزا قادیانی کے کلام منقولہ (صفحات گزشتہ) از تریاق القلوب ص ٤٩ (خزائن ج ١٥ ص ٢٣٦) میں جو عیسائیوں کو نشان دکھانے کا ذکر ہے۔ اس پر یہاں ہم بحث نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ نشانات علم کلام میں داخل نہیں، بلکہ کمالات باطنیہ میں ہیں۔ اور کمالات باطنیہ مرزائیہ کا مفصل ذکر ہم اپنی کتاب "الہامات مرزا" وغیرہ میں کر چکے ہیں۔ ناظرین وہاں پر ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کی تصنیف بحیثیت حوالجات

متکلم اور مصنف خواہ کسی مذہب اور کسی اصول کا ہو اس کا فرض ہے کہ روایت میں غلط گو نہ ہو۔ یعنی جو حوالہ دے وہ صحیح ہو۔ اس کے مستخرجہ نتیجہ میں کسی کو اختلاف ہو تو ہو، اس کے بتائے ہوئے حوالہ میں کسی کو کلام نہ ہو۔ ہمارے ملک کے نامور مصنف سر سید احمد خان مرحوم سے ہم کو بہت اختلاف ہے۔ مگر ہم ان کی نسبت یہ گمان نہیں کر سکتے کہ جو حوالہ وہ نقل کریں وہ غلط ہو گا۔ بر خلاف اس کے مرزا قادیانی کے بیان کردہ حوالہ پر ہم کو اعتماد نہیں۔ کیوں ؟۔ اس کی وجوہات ذیل میں درج ہیں۔

قصوری مرحوم تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کے رد میں ایک کتاب "فتح رحمانی" لکھی۔ اس میں مرزا قادیانی کے حق میں یوں دعا کی :

”اللهم يا ذا الجلال والاكرام يا مالك الملك ٠“ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحار الانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا۔ ویسا ہی دعا و التجا اس فقیر قصوری کان الله له کی ہے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتے الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبہ نصوح کی توفیق رفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا : ” فقطع

٤٠

صفحہ ٣٠٣

دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العالمين انك على كل شئ قدير وبالاجابة جدير ، آمین"

(فتح رحمانی ص ٢٦‘ ٢٧ مؤلفہ مولوی غلام دستگیر)

ناظرین! اس دعا کے الفاظ کو بغور دیکھیں کہ ان میں کسی طرح یہ مفہوم ہوتا ہے ؟ کہ مرزا قادیانی اور مولوی صاحب میں سے جو جھوٹا ہو گا وہ پہلے مرے گا۔ بلکہ محض ایک مخلصانہ دعا ہے کہ مرزا قادیانی کے ساتھ دو میں سے ایک برتاؤ جو تجھے پسند ہو کر : (١)...... توبہ کی توفیق دے۔ (٢)...... یا موت وارد کر۔

دوسرے ایک بزرگ مولوی اسمعیل مرحوم علی گڑھی تھے۔ انہوں نے بھی مرزا صاحب کے رد میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے۔ "اعلاء الحق الصریح بتكذيب مثیل المسیح" انہوں نے تو اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی یا اپنی موت کا ذکر تک نہیں کیا۔ باوجود اس کے مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں متعدد جگہ یہ مضمون لکھا ہے۔

"مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ٩‘ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)

کس ادّعا اور کس تحدّی سے ان مخالف علماء کے اقوال کو بطور دلیل کے پیش کیا ہے اور کس خوبی سے ان کے کلام سے اپنے دعوٰی مسیحیت کو ثابت کیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کی کچھ نہیں۔ مولوی غلام دستگیر کی دعا کا یہ مطلب نہیں، اور مولوی اسماعیل نے دعا کی ہی نہیں۔ غرض دونوں پر افتراء ہے۔ حالانکہ بطور دلیل کے لائے ہیں :

فن کو غیروں سے مخصوص نہ رکھتے تھے بلکہ حسب موقع اپنے کلام میں بھی تحریف کردیتے۔

٤١

صفحہ ٣٠٤

ناظرین! کتاب ”جنگ مقدس“ کی عبارت کتاب ہٰذا پر دیکھ چکے ہیں۔ ایک نظر پھر دیکھ جائیں۔ اس میں ایک فقرہ یہ بھی ملے گا :

”جو فریق عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے .............. وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠‘ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

اس عبارت میں گو نام لے کر ڈپٹی آتھم عیسائی کی تعیین نہیں کی لیکن اوصاف ایسے بتائے ہیں جن سے تعیین ہو جائے۔ یعنی ”عاجز انسان کو خدا بناتا ہے“۔ یہ کام آتھم ہی کا تھا کہ وہ حضرت مسیح کی الوہیت کا قائل تھا۔ چنانچہ اسی مسئلہ پر اس نے مرزا قادیانی سے مباحثہ کیا تھا۔ مرزا قادیانی عاجز انسان کو خدا بنانے والے نہ تھے۔ پس مطلب اس عبارت کا صاف ہے کہ ڈپٹی آتھم مناظر عیسائی پندرہ ماہ میں مر جائیگا۔ اس میں نہ کوئی ابہام ہے نہ اجمال۔ ہمارے اس دعوے کی تصدیق مرزا قادیانی نے خود کی ہوئی ہے۔ چنانچہ آپ صاف لکھتے ہیں :

”ناظرین! کو معلوم ہو گا کہ موت کی پیشگوئی اس (آتھم) کے حق میں کی گئی تھی اور اس پیشگوئی کی پندرہ مہینے میعاد تھی۔“

(حاشیہ تریاق القلوب ص ٥٤‘ خزائن ج ١٥ ص ٢٣٩)

باوجود اس تعیین کر دینے کے ڈپٹی آتھم میعاد پندرہ ماہ گزار کر بجائے ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کے ٢ جولائی ١٨٩٦ء (انجام آتھم ص ١‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً) کو (٢١ ماہ بعد) مرا تو مرزا قادیانی نے اس کے دو جواب دیئے۔

پہلے جواب میں اپنی ہی عبارت کو مکمل محرف کیا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں : ”پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔“

(کشتی نوح ص ٦‘ خزائن ج ١٩ ص ٦)

ناظرین! اس عبارت کو پہلی عبارت کے ساتھ ملا کر ملاحظہ کریں تو آسمان زمین

٤٢

صفحہ ٣٠٥

جتنا فرق پائیں گے۔ پہلی عبارت جو روئداد مناظرہ سے منقول ہے یوں ہے :

"عاجز انسان کو خدا بنانے والا پندرہ ماہ کے عرصہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا۔"

یہ عبارت اپنے مفہوم میں یہانتک وسیع ہے کہ بالفرض مرزا قادیانی اس سے پہلے مر جاتے مگر آتھم پندرہ ماہ کے اندر اندر مرتا تو بھی وہ عبارت صحیح ہوتی کوئی عقلمند عبارت فہم اس پر اعتراض نہ کرتا۔ کیونکہ اس میں فریقین کے درمیان تقدم و تاخر کی نسبت نہیں۔

اس صاف عبارت میں مرزا قادیانی نے فریقین کے تقدم و تاخر کی نسبت پیدا کر کے عبارت کو اصل صورت سے محرف کر کے اپنی پیشگوئی کو تو صحیح کر دیا ہو گا۔ مگر ساتھ ہی اس کے بحیثیت فن روایت اور فن تصنیف آپ قابل اعتماد نہ رہے۔

دوسرا جواب : آپ نے اس سے بھی عجیب دیا۔ اس میں بھی میعاد پندرہ ماہ تسلیم کی۔ مگر اس کی توجیہ یوں کی :

"اگر کسی کی نسبت یہ پیشگوئی ہو کہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائیگا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیس مہینے میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر کرنی چاہئے۔"

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ١٩٣)

اصحاب فہم للہ غور کریں کہ اس عبارت کا مطلب کیا ہے۔ ہم تو یہ سمجھے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اصل عبارت مجبور کرتی ہے کہ میعاد پندرہ ماہ کا اعتراف کریں جو رو رو کر ان کے قلم سے نکلتا ہے لیکن اس کی توجیہ کرنے میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔ جس سے اصل عبارت میں تحریف ہو جاتی ہے۔

نوٹ : اس موقعہ پر ہمیں نفس پیشگوئی کے صدق کذب سے بحث نہیں، اس کا محل رسالہ "الہامات مرزا" ہے۔ یہاں ہمیں یہ دکھانا منظور ہے کہ مرزا قادیانی بحیثیت فن تصنیف معتبر مصنف نہ تھے۔ کیونکہ وہ حوالہجات منقولہ میں سخت تحریف کرتے تھے جو مصنف

٤٣

صفحہ ٣٠٦

کو درجہ اعتبار سے گرانے کے لئے کافی سے زیادہ عیب ہے۔

محفوظ نہ تھا؟ ایک ہی واقعہ کو آپ متضاد الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ لطف یہ کہ وہ واقعہ بھی خود ان کے متعلق ہوتا۔ مثلاً :

ڈپٹی آتھم کے متعلق آپ نے (بقول خود) سات اشتہار دئے۔ آخری اشتہار ٣٠۔ دسمبر ١٨٩٥ء کو دیا تھا (انجام آتھم ص ٣١‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً) اس پر لکھتے ہیں۔ "وہ (آتھم) ہمارے آخری اشتہار سے جو اتمام حجت کی طرح تھا سات ماہ کے اندر فوت ہو گیا۔"

(سراج منیر ص ٦‘ خزائن ج ١٢ ص ٨)

اسی واقعہ کو دوسری جگہ یوں لکھتے ہیں۔ "آتھم میرے آخری اشتہار سے پندرہ مہینے کے اندر مر گیا۔ (حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٠٧‘ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ٢١٦) طرفہ یہ کہ آپ نے جس اشتہار کو ساتواں اشتہار کہا ہے جس کی بابت آپ نے لکھا ہے۔ "یکے بعد دیگرے ہم نے سات اشتہار دئے ہمارے آخری اشتہار کی تاریخ ٣٠ دسمبر ١٨٩٥ء ہے۔" (انجام آتھم ص ٣‘ خزائن ج ١١ ص ٣ ملخص) اسی کے شروع میں لکھتے ہیں۔ "یہ بات ناظرین کو معلوم ہے کہ ہم اس وقت تک پانچ اشتہار اس بارے میں نکال چکے ہیں۔" (مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ٤ ص ٢٦‘ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٠١) اس سے معلوم ہوا کہ اشتہار مذکور چھٹا نمبر ہے نہ کہ ساتواں ؟۔

طرفہ پر طرہ : یہ کہ اسی واقعہ کو یوں بھی لکھتے ہیں کہ :

"خدا نے بھی اس (آتھم) سے نرمی کی اور اس کے رجوع کی وجہ سے دو برس سے بھی کچھ زیادہ اور مہلت اس کو دیدی۔"

(تریاق القلوب ص ١٠١‘ خزائن ج ١٥ ص ٣٦٦)

پھر حقیقت الوحی میں اس مدت کو قلیل بنانے کو لکھا ہے :

"چند ماہ کے بعد فوت ہو گیا۔"

(حقیقت الوحی ص ١٨٦‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤)

٤٤

صفحہ ٣٠٧

ناظرین کرام! غور فرمائیں اصل میعاد پندرہ ماہ اور مہلت ٢١ ماہ جس کو مرزا صاحب خود ہی دو برس سے زیادہ قرار دیں۔ کیا یہ سودا اصل سے زیادہ نہیں؟۔

مرزائی دوستو! بتاؤ تمہارے نزدیک تلوّن مزاجی اور اختلاف بیانی کسی مصنف کو قابل مصنف بناتی ہے یا قابلیت سے گراتی ہے؟۔

(آتھم کے متعلق تفصیل ہمارے رسالہ "الہامات مرزا" میں دیکھو۔)

مصنف کی عبارت یا خود اپنی عبارت کو تحریف کرنے پر کفایت نہ کرتے تھے بلکہ پیغمبر خدا ﷺ کے حق میں بھی حدیث بنالیتے تھے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

"اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ : ”ھذا خلیفۃ اللّٰہ المھدی.“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللّٰہ ہے۔"

(شحنۃ الحق ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

حالانکہ یہ حدیث صحیح بخاری میں نہیں ہے۔ جو دکھائے انعام پائے۔

نوٹ : ہم اس موقع پر بحیثیت فن اسماء الرجال مرزا قادیانی کو واضع حدیث (جھوٹی حدیثیں بنانے والا) نہیں لکھنا چاہتے۔ کیونکہ ایسا لکھنا ہمارے موضوع کتاب سے خارج ہے۔ ہماری غرض اس جگہ مرزا قادیانی کو فن تصنیف میں جانچنا ہے کہ معتبر اور حوالجات میں معتمد تھے یا نہیں۔ اس کا جواب ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔

نوٹ : مرزا قادیانی کی تصنیفات میں اس قسم کی مثالیں بکثرت ہیں۔ مگر ہم بغرض اختصار چند مثالوں پر کفایت کرتے ہیں۔ واللہ اعلم !

٤٥

صفحہ ٣٠٨

مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی ہے؟

"علم کلام کے بڑے امام شیخ ابوالحسن اشعری ہوئے ہیں جو ٢٧٠ھ میں بمقام بصرہ پیدا ہوئے اور ٣٣٠ھ میں بعمر ٦٠ سال بغداد میں فوت ہوئے رحمہ اللہ۔ انہوں نے اپنے علم کے زور سے فلاسفروں اور معتزلوں کا مقابلہ کیا۔ آج کتب عقائد کی درسی کتابوں میں انہی کے عقائد لکھے جاتے ہیں۔ امام غزالی، امام رازی وغیرہ رحمہم اللہ انہی کے اصول پر تھے۔ ان کے اتباع کو اشاعرہ کہتے ہیں۔"

ہماری تحقیق تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا علم کلام کسی سابق معتبر مذہب پر مبنی نہیں بلکہ محض اپنا ایجاد ہے۔ مگر ہم نے بعض اتباع مرزا کی تحریرات میں دیکھا ہے کہ مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی لاہوری بھی لکھتے ہیں :

"آپ (مرزا صاحب) نے جس طریق پر اپنے علم کلام کی بنیاد رکھی وہ اشاعرہ کا طریق تھا اور سچ تو یہ ہے کہ بنیاد تو اشاعرہ پر رکھی۔ لیکن ایسی اعلیٰ اور انوکھی طرز میں اپنے علم کلام کو اٹھایا کہ اس کے آگے زمانہ حال کے فلسفہ اور سائنس کو سر تسلیم خم کرنا پڑا۔"

(اخبار پیغام صلح ٧ جون ١٩٣٢ء ص ٦ کالم ٣)

اس لئے ہم اس بات کی بھی پڑتال کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو مسائل کلامیہ لکھے ہیں ان کا نشان اشاعرہ کے عقائد میں ملتا ہے ؟۔

سب سے اول ربط حادث بالمحدث کا مسئلہ ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ مخلوقات کو کیا تعلق ہے؟۔ اشاعرہ کا مذہب یہ ہے :

"والعالم ای ماسوی اللہ تعالیٰ من الموجودات بجمیع اجزائہ من السموات ومافیہا والارض وما علیہا محدث ای مخرج من العدم الی الوجود بمعنی انہ کان معدوما فوجد خلافا للفلاسفۃ حیث ذہبو الی

٤٦

صفحہ ٣٠٩

قدم السموات بموادها وصورها و اشكالها وقدم العناصر بموادها وصورها لكن بالنوع بمعنى انها لم تخل قط عن صورة نعم اطلقوا القول بحدوث ماسوی الله تعالىٰ لكن بمعنى الاحتياج الى الغير لا بمعنى سبق العدم علیہ (شرح عقائد نسفی)

"اللہ کے سوا جو جو موجودات ہیں مع اپنی اجزا کے آسمانوں سے زمین تک مع ان چیزوں کے جو ان میں ہیں عدم سے وجود میں لائے گئے ہیں۔ یہ عقیدہ فلاسفروں کے خلاف ہے۔ کیونکہ وہ آسمان کے مواد صور اور اشکال کے قدیم ہونے کی طرف گئے ہیں۔ لیکن بالنوع یعنی قدیم بالنوع کے قائل ہیں۔ مطلب انکا یہ ہے کہ یہ آسمان کسی نہ کسی صورت سے مصور ہے۔ یعنی کوئی وقت ایسا نہیں آیا کہ آسمان پر کوئی نہ کوئی صورت وارد نہ ہو۔ فلاسفہ بھی ماسوی اللہ پر حادث کا لفظ بولتے ہیں۔ لیکن وہ حدوث بمعنے احتیاج بولتے ہیں وجود بعد عدم ان کی مراد نہیں۔"

اس عبارت میں دونوں مذاہب کا بیان مصرح ہے اشاعرہ کا بھی اور فلاسفہ کا بھی۔ اشاعرہ تو اللہ کے سوا ہر چیز کو حادث کہتے ہیں۔ فلاسفہ آسمانوں کو قدیم بالنوع کہتے ہیں۔ اب سنئے مرزا قادیانی قدیم بالنوع کے قائل ہیں۔

مرزائی علم کلام کا مسئلہ اول

یہ مسئلہ علم کلام میں سب سے اہم اور مقدم ہے۔ مرزا قادیانی کا علم کلام اس میں قابل غور ہے۔ مرزا قادیانی کے کلام میں دو لفظ آئے ہیں جن کو عام فہم کرنے کیلئے تھوڑی سی تشریح کی ضرورت ہے۔

قدیم! اس کو کہتے ہیں جو بے ابتدا (ازل سے) ہو۔ جیسے خدا۔ قدیم دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ایک ہی چیز بے ابتدا چلی آتی ہو۔ جیسے خدا کی ذات۔ اس کو قدیم بالذات کہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک ہی چیز ایسی (بے ابتدا) نہ ہو مگر اس کا سلسلہ بے ابتدا ہو۔ جیسے

٤٧

صفحہ ٣١٠

آریوں کے نزدیک سلسلۂ کائنات قدیم بالنوع ہے۔ یعنی گو دنیا کی ہر مرکب چیز مخلوق اور حادث ہے۔ لیکن سلسلہ قدیم ہے۔ یہ آریوں کا مذہب ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی آریوں کا مذہب پسند کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

"چونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کبھی معطل نہیں رہتیں اس لئے خدا تعالیٰ کی مخلوق میں قدامت نوعی پائی جاتی ہے۔ یعنی مخلوق کی انواع میں سے کوئی نہ کوئی نوع قدیم سے موجود چلی آئی ہے۔ مگر شخصی قدامت باطل ہے۔"

(چشمہ معرفت ص ٢٦٨ خزائن ج ٢٣ ص ٢٨١)

یعنی خالق کے ساتھ مخلوق کا بھی کوئی نہ کوئی سلسلہ برابر چلا آیا ہے۔

ناظرین! غور فرمائیں فلاسفہ یونان نے تو صرف آسمان کو قدیم بالنوع کہا تھا۔ مرزا قادیانی نے عام کر کے دوسری مخلوق کو بھی قدیم بالنوع قرار دیا۔ اب بتائیے مرزا قادیانی کا علم کلام اصول اشاعرہ پر مبنی ہے یا فلاسفہ ملاحدہ کے خیال پر ؟۔

نوٹ : مرزا قادیانی نے اسلام میں عقیدہ جدیدہ پیدا کر کے سب سے زیادہ اپنے جانشین بیٹے میاں محمود احمد خلیفہ حال قادیان کو پریشان کیا ہے۔ ناظرین انکی پریشانی ان کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔

خلیفہ قادیان میاں محمود گمراہ لوگوں کی قسمیں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ہم نے خلیفہ صاحب کی عبارت کو آسان کرنے کے لئے فقرات میں تقسیم کر کے نمبر لگادئے ہیں۔

ناظرین بغور پڑھیں : ” ھوذا . “

زمانے تک محدود کرتے تھے۔ ان کو آپ (مرزا صاحب) نے خدا تعالیٰ کی صفت قیوم سے جواب دیا۔ فرمایا خدا تعالیٰ کی صفات چاہتی ہیں کہ ان میں تعطل (بے عملی) نہ ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ جاری رہیں۔ قیوم کے معنے قائم رکھنے والا اور یہ صفت تمام صفات پر حاوی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اسی بات پر خاص زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں تعطل نہیں

٢٨

صفحہ ٣١١

ہو سکتا۔ آپ نے جو اصل پیش کیا اور جو تھیوری بیان کی وہ باقی دنیا سے مختلف ہے۔ (اس فقرے میں صفات خداوندی کے تعطل (بے عمل رہنے) سے انکار کیا ہے۔ بہت خوب۔)

(٢).............. بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فلاں وقت سے دنیا کو پیدا کیا۔ گویا اس سے قبل خدا بیکار تھا۔ اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔ گویا وہ خدا کی طرح ازلی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا دونوں باتیں غلط ہیں۔ یہ ماننا کہ کسی وقت خدا کی صفات میں تعطل تھا۔ خدا تعالیٰ کی صفت قیوم کے خلاف ہے، اسی طرح یہ کہنا کہ جب سے خدا تعالیٰ ہے تب ہی سے دنیا چلی آئی ہے۔ خدا کی صفات کے خلاف ١- ہے۔

(٣).............. شاید بعض لوگ کہیں کہ دونوں باتیں کس طرح غلط ہو سکتی ہیں۔ دونوں میں سے ایک نہ ایک تو صحیح ہونی چاہئے۔ لیکن یہ ان کا خیال مادیات پر قیاس کرنے کے سبب سے ہوگا۔ اصل میں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو عقل انسانی سے بالا ہوتی ہیں اور عقل ان کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی۔ دنیا کا پیدا ہونا چونکہ انسانوں‘ جمادات بلکہ ذرات کی پیدائش سے بھی پہلے کا واقعہ ہے۔ (یہ کس کا مذہب ہے؟۔) اس لئے انسانی عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی۔ جو دو عقیدے لوگوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان پر غور کر کے دیکھ لو کہ دونوں بالبداہت غلط نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جب سے خدا ہے اسی وقت سے دنیا کا سلسلہ ہے تو پھر اسے دنیا کو بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ماننا ٢- پڑے گا۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ

١- جو چیز معطل نہ ہو وہ بر سر عمل ہو گی۔ یعنی غیر معطل اور عامل ہونا ایک ہی معنے ہیں۔ اس فقرے میں خدائی صفات مثل سابق غیر معطل کہہ کر دنیا کی قدامت اور ازلیت سے انکار کرنا متکلم کی شان کے خلاف ہے۔ ٢- آپ نے اور آپ کے والد نے صفات الٰہیہ کو غیر معطل کہا ہے۔ ملاحظہ ہو فقرہ اول تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے جس سے آپ یہاں منکر ہورہے ہیں: ”هل هذا الا تهافت قبیح وتناقض صریح“

٤٩

صفحہ ٣١٢

پیدائش کا سلسلہ کروڑوں یا اربوں سالوں میں محدود ہے تو پھر اسے یہ بھی ماننا پڑیگا کہ خدا تعالےٰ ازل سے نکما تھا۔ صرف چند کروڑ یا چند ارب سال سے وہ خالق بنا اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ پس صحیح یہی ہے کہ اس امر کی پوری حقیقت کو انسان پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتا۔ (پھر آپ اور آپ کے والد کیا بیان کرنے بیٹھے؟ (مؤلف)

بھی اسی طرح محیر العقول ہے جس طرح کہ زمانہ اور جگہ کا مسئلہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کو محدود یا غیر محدود ماننا دونوں ہی عقل کے خلاف نظر آتے ہیں۔ (جنہوں نے علم کلام اساتذہ سے پڑھا ہو۔ ان کے نزدیک خلافِ عقل نہیں ۔)

نہ خدا تعالےٰ کی صفت خالقیت کبھی معطل ہوئی اور نہ دنیا خدا کے ساتھ چلی آرہی ہے اور صداقت ان دونوں امور کے درمیان ہے اور اس کی تشریح آپ نے یہ فرمائی ہے کہ مخلوق کو قدامت نوعی حاصل ہے گو قدامت ذاتی کسی شئے کو حاصل نہیں۔ کوئی ذرہ، کوئی روح، کوئی چیز ماسوی اللہ ایسی نہیں کہ جسے قدامت ذاتی حاصل ہو۔ لیکن یہ سچ ہے کہ خدا تعالےٰ ہمیشہ سے اپنی صفت خلق کو ظاہر کرتا چلا آیا ١۔ ہے۔

اسلامی عقیدہ ایک طرف۔ اس لئے بزبان حال کہہ رہے ہیں: ”دل بکہ کند اقتداء قبلہ یکے امام دو“ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دنیا کے لفظ سے دھوکہ لگتا ہے۔ پس غور سے سنیں جبکہ بقول آپ کے والد صاحب کے خدا کی صفت خالقیت کبھی معطل (بے عمل) نہیں رہی تو جو کچھ بھی اس کے عمل کا معمول ہوگا وہ بحیثیت نوع اگر محدود الوقت ہے تو خدا کی صفت خالقیت اس سے پہلے معطل ماننی پڑے گی۔ جو آپ کو اور آپ کے والد کو منظور نہیں۔ پس مخلوق کا بصورت نوعی قدیم (ازل سے) ہونا آپ دونوں کو ماننا پڑے گا۔ آپ کا عندیہ بھی یہی ہے۔ لیکن اسلامی عقیدہ کی شنید اس کے اظہار سے مانع ہے مگر مولوی عبدالحق کو مانع نہیں ہوئی جن کا قول آگے آتا ہے۔

٥٠

صفحہ ٣١٣

(٦)……… لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے قدامت نوعی کا بھی وہ مفہوم نہیں لیا جو دوسرے لوگ لیتے ہیں۔ جو یہ ہے کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے۔ یہ ایک بیہودہ عقیدہ ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس کے قائل نہیں۔

(٧)…… یہ کہنا کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے۔ اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔ جو دونوں باطل ہیں۔ ایک تو یہ کہ خدا بھی ایک عرصہ سے ہے اور مخلوق بھی۔ کیونکہ جب کا لفظ وقت کی طرف خواہ وہ کتنا ہی لمبا ہو اشارہ کرتا ہے۔ اور ایسا عقیدہ بالکل باطل۔ دوسرے معنے اس جملہ کے یہ بنتے ہیں کہ مخلوق انہی معنوں میں ازلی ہے۔ کہ جن معنوں میں خدا ہے اور یہ معنے بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں اور عقل کے بھی۔ خالق اور مخلوق ایک ہی معنوں میں ازلی نہیں ١؎ ہو سکتے۔ ضروری ہے کہ خالق کو تقدم حاصل ہو اور مخلوق کو تاخر۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے یہ کبھی نہیں لکھا کہ مخلوق بھی ازلی ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ مخلوق کو قدامت نوعی حاصل ہے اور قدامت اور ازلیت میں فرق ہے۔ غرض حضرت مسیح موعود (مرزا) کے نزدیک مخلوق کو قدامت نوعی تو حاصل، مگر ازلیت نہیں ٢؎ ۔ خالق مخلوق پر بہر حال مقدم ہے اور دور وحدت دور خلق سے پہلے ہے۔ اس میں

١؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایک عقیدہ ہے جس کے حل کرنے میں باپ بیٹا حیران ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے عقدے بغیر علم کلام باقاعدہ حاصل کرنے کے حل نہیں کر سکتے۔ ہاں صاحب ! جو لوگ ازلیت نوعی کے قائل ہیں وہ بھی خالق و مخلوق میں ایک طرح کی ازلیت نہیں کہتے بلکہ بالذات اور بالغیر سے دونوں میں فرق کرتے ہیں۔ یعنی خدا کو ازلی اور قدیم بالذات کہتے ہیں اور معلول کو ازلی اور قدیم بالغیر نام رکھتے ہیں۔ دونوں میں تقدم و تاخیر نہیں کہتے مگر رتبہ علت کو مقدم مانتے ہیں اور معلول کو موخر۔ فافہم ! ٢؎ جس طرح آپ قدامت اور ازلیت میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٥١

صفحہ ٣١٤

کوئی شبہ نہیں کہ خالق اور مخلوق کے اس تعلق کو سمجھنا کہ خالق کو ازلیت بھی اور دور وحدت کو تقدم بھی حاصل ہو۔ اور مخلوق کو قدامت نوعی بھی حاصل ہو۔ انسانی عقل کے لئے مشکل ہے۔ لیکن صفات الٰہیہ پر غور کرنے سے یہی ایک عقیدہ ہے جو شان الٰہی کے مطابق نظر آتا ہے۔

(مسیح موعود کے کارنامے مؤلفہ میاں محمود احمد ص ٣٩‘ ٤٠)

خلیفہ ولد مرزا قادیانی کے بیان کے بعد خلیفہ صاحب کے ماموں مولوی میر اسحق صاحب نے مزید توضیح سے کام لیا ہے۔ چنانچہ صاف صاف لکھا ہے :

"جاننا چاہئے کہ چونکہ بعض ناواقف مناظر جو اسلام کی تعلیم سے کماحقہ واقفیت نہیں رکھتے سلسلہ کائنات کی ابتدا مانتے ہیں اور خدا کی صفت خلق کا ایک خاص وقت سے کام شروع کرنا تسلیم کرتے ہیں۔ اس لئے............ میں صاف لفظوں میں بانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ عقیدہ نہایت غلط اور سخت فاحش غلط ہے اور قرآن مجید کے بالکل مخالف ہے۔ قرآن مجید صاف لفظوں میں فرماتا ہے :"كل يوم هو في شان" یعنی خدا کے خلق کرنے کوئی ابتداء نہیں بلکہ جب سے خدا ہے اور وہ ہمیشہ سے ہے تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس وقت تک وہ مخلوق پیدا کرتا چلا

(حاشیہ گزشتہ صفحہ) فرق جانتے ہیں عرصہ ہوا ایک بزرگ بادنجان اور بورانی میں بہت فرق جانتے تھے۔ اسی کی تحقیق میں ان کی سو سال کی عمر ختم ہوگئی۔ سو سال بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ دونوں بینگن کے نام ہیں تو انہوں نے صاف اقرار کیا :

پس از صد سال ایں معنی محقق شد خاقانی
کہ بورانی ست بادنجان وبادنجان بورانی

آپ اس تحقیق میں لگے رہیں گے تو آپ کی ذہانت سے امید ہے آپ کو جلدی معلوم ہو جائے گا کہ قدیم اور ازلی ایک ہی چیز ہے۔ ہاں ! اگر قدیم دو قسم بالذات اور بالغیر ہے تو ازلی بھی دو قسم بالذات اور بالغیر ہے۔

٥٢

صفحہ ٣١٥

جاوے گا۔ نہ خدا کے خلق کرنے کی ابتدا ہے نہ انتہاء نہ کوئی پہلی مخلوق گزری ہے نہ کوئی آخری مخلوق پیدا ہو گی بلکہ ہر مخلوق سے پہلے مخلوق ہے اور ہر مخلوق کے بعد مخلوق ہو گی۔ اور یہ سلسلہ پرواہ سے انادی ہے۔........... جس طرح آریہ ہر سرشٹی (دنیا) کو حادث مگر سرشٹیوں کے سلسلہ کو غیر حادث قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید مخلوق کے ہر فرد کو حادث مگر سلسلہ مخلوقات کو قدیم قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید کی رو سے کوئی مخلوق نہیں جو کہہ سکے کہ میں ہمیشہ سے ہوں اور کوئی مصنوع نہیں جو یہ دعویٰ کرے کہ میں قدیم سے ہوں۔ مگر سلسلہ مخلوقات و مصنوعات بے شک قدیم سے ہے۔"

(حدوث روح مادہ ص ٢٤٤‘ ٢٤٥)

ان دو شہادتوں سے ثابت ہے کہ قدامت نوعی کو مرزا قادیانی کی طرف نسبت کرنا ہمارا افتراء نہیں بلکہ مرزا قادیانی اور ان کے اکابر اتباع نے یہی سمجھا ہے۔

ناظرین! سلسلۂ کائنات کو قدیم بالنوع کہنا بعینہ آریوں کا عقیدہ ہے جیسا کہ مولوی اسحق صاحب کو مسلم ہے۔

(ملاحظہ ہو ستیارتھ پرکاش اردو طبع اول ص ٢٤٤، ٢٤٥)

مرزائی دوستو! مرزا قادیانی کا اہل اسلام سے فصال اور آریوں سے وصال مقام افسوس ہے۔ ہم اس افسوس میں دل کو تسلی دینے کے لئے یہ شعر پڑھ لیتے ہیں۔

ہمارا ہوتا تو رہتا ہمارے سینہ میں
یہ دل بنا ہے کسی چشم فتنہ زا کے لئے

نوٹ: ہماری غرض اس کتاب میں مرزا قادیانی کا علم کلام بتانا ہے۔ اس عقیدہ کا رد کرنا مقصود نہیں۔ جس کو رد دیکھنا منظور ہو وہ ہمارا رسالہ "اصول آریہ" ملاحظہ کرے۔

پاک تثلیث مرزا

(مسئلہ دوم)

نصاریٰ کا مذہب بابت تثلیث مشہور ہے کہ وہ خدا کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔

٥٣

صفحہ ٣١٦

ایک میں تین اور تین میں ایک۔ یعنی توحید میں تثلیث اور تثلیث میں توحید۔ سب مسلمانوں کا مع اشعریہ کے یہ اعتقاد ہے کہ تثلیث فی التوحید اور توحید فی التثلیث غلط ہے۔ مرزا قادیانی اس کی تشریح فرماتے ہیں :

"اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شئے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دلسوزی اور غمخواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے۔ ان تمام سر سبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو در حقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کے چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو بارادہ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے اسی وجہ سے اس محبت کی بھری روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے۔ اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر

٥٤

صفحہ ٣١٧

سمجھ لیا ہے۔ اور ذرہ امکان کو جو ” هالكة الذات باطلة الحقيقة“ ہے۔ حضرت اللہ تعالیٰ واجب الوجود کے ساتھ ہم پلہ ٹھہرا دیا ہے۔"

(توضیح مرام ص ٢١‘٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦١‘ ٦٢)

ناظرین! کیسی خوبی سے پاک تثلیث کی تشریح کی ہے۔ چونکہ خود بدولت حضرت مسیح کے مثیل بنتے تھے اس لئے خدا کا بیٹا ہونے کے وصف میں اپنے تئیں اس میں شریک کرنے کو لکھتے ہیں :

” مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالیشان ہے کہ گزشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہٰذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے اور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔“

(توضیح مرام ص ٢٧ خزائن ج ٣ ص ٦٢)

اس اقتباس میں جو یہ لکھا ہے کہ گزشتہ نبیوں نے بطور استعارہ خدا کا آنا قرار دیا ہے وہ بھی خود بدولت مرزا قادیانی ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

” میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے : ”ا۔ یوم یأتی ربك فی ظلل من الغمام“ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٢ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

مرزائی دوستو! کیا یہ مسائل اشاعرہ کے مذہب میں ملتے ہیں؟ ذرہ سوچ کر دیانت‘ امانت اور خوف خدا سے جواب دینا۔

تیسرا مسئلہ : انبیاء کرام علیہم السلام کی تشریف آوری کی غرض و غایت خالص توحید کی تعلیم دینا ہے جو بنیاد ہے اسلام کی۔ اسی لئے قرآن مجید میں بار بار حضرت محمد

ا۔ یہ آیت قرآن میں نہیں۔ ٥٥

صفحہ ٣١٨

رسول اللہ ﷺ کی شخصیت خاصہ کو بھی سامنے رکھ کر جملہ اختیارات الوہیت مسلوب کر کے محض بشریت دکھائی گئی۔ چنانچہ ارشاد ہے :

"قل انما انا بشر مثلكم يوحى الیٰ انما الهكم اله واحد ٠ كهف ١١٠"

اے پیغمبر کہہ دو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں بشر ہوں میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہے۔"

مگر مرزا قادیانی کے علم کلام میں خدائے احد اور حضرت احمد میں فرق نہیں بلکہ دراصل دونوں ایک ہیں۔ چنانچہ آپ کا شعر ہے :

شان احمد را کہ داند جز خداوند کریم
آنچناں از خود جدا شد کز میاں افتاد میم

(توضیح المرام ص ٢٣ خزائن ج ٣ ص ٦٢)

(ترجمہ) "حضرت احمد کی شان خدا کے سوا کون جانتا ہے۔ وہ ایسے ہیں کہ اپنی ذات سے جدا ہوئے ہیں۔ در میان میں میم آگئی ہے۔"

یعنی احمد دراصل احد ہے۔ احد سے جدا ہوا تو در میان میں میم آگئی۔ مرزا قادیانی نے ان دو شعروں سے یہ عقیدہ اخذ کیا ہے جو پنجاب کے جاہل فقیروں کا قول ہے۔

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا وہ مدینے میں مصطفےٰ ہو کر

ناظرین ! اس مشرکانہ تعلیم پر کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو توحید سکھائی ہے پہلے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔

٥٦

صفحہ ٣١٩

چوتھا مسئلہ : خود اپنے حق میں الہام بتایا : "انما امرک اذا اردت شیئاً ان تقول له کن فیکون . " (حقیقت الوحی ص ١٠٥‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)"یعنی اے مرزا تیرا اختیار ہے۔ جب کسی چیز کا تو ارادہ کرے تو اسے اتنا کہہ دے کہ موجود ہو جا۔ پس وہ ہو جائے گی۔"

اس الہام کی گویا تشریح دوسرے مقام پر یوں کی ہے :

"اعطیت صفة الافناء والاحیاء من الرب الفعال . "

(خطبہ الہامیہ ص ٥٥‘ ٥٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

یعنی : "مجھ (مرزا) کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھے ملی ہے ۔" (یہ ترجمہ مرزا قادیانی کا خود کیا ہوا ہے۔)

مرزائی دوستو! کیا یہ مسائل بھی مذہب اشعری پر مبنی ہیں ؟ یا بقول ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی اس طرز کلام میں داخل ہیں جس کے سامنے زمانہ حال کے فلسفہ اور سائنس نے سر جھکایا ہوا ہے۔ (جل جلالہ)

ایسے متکلم اور ایسے علم کلام کو پڑھکر بے ساختہ زبان قلم سے نکلتا ہے :

مت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

دوسرا باب

مرزا قادیانی کا علم کلام متعلق اپنے دعویٰ مسیحیت و مہدیت

انصاف اور حق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر کو اگر سو سال فرض کریں تو اس سو سال میں سے ایک سال بھی آپ کا خالص اسلام کی خدمت میں شاید ہی خرچ ہوا ہو۔ جس کتاب میں دیکھو اپنا حصہ داخل ہے "براہین احمدیہ" جس کو خالص اسلام کی تائید کا لقب دیا جاتا ہے۔ ناظرین اسے بھی بغور دیکھیں گے تو اکثریت اس کی ذات خاص کے لئے پائینگے۔ بلکہ

٥٧

صفحہ ٣٢٠

مزید غور کریں گے تو اپنے آئندہ دعویٰ مسیحیت کے لئے اسی کو تمہید پائینگے۔ حواشی تو قریباً سب کے سب الہامات اور عبارات مرزائیہ سے لبریز ہیں۔ لیکن بعد اس کے ١٣٠٨ھ مطابق ١٨٩١ء میں جب آپ نے کھلے لفظوں میں اپنی مسیحیت کا اعلان کیا تو ہمہ تن اس طرف متوجہ ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی کتاب خالص اسلام کی تائید میں نہیں لکھی۔

مقام حیرت ہے : کہ کتاب ”تریاق القلوب“ کی منقولہ عبارت گزشتہ صفحات میں رسالہ ”کشف الغطاء“ کو بھی اسلام کی تائید اور کفار کی تردید میں لکھا ہے۔ جس میں اپنی مسیحیت اور انگریزی اطاعت کے سوا کچھ ذکر ہی نہیں۔ چنانچہ اس کے سرورق کی عبارت ہم دکھاتے ہیں :

”اے قادر خدا اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین!

کشف الغطاء یعنی

ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے حضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدایتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا رّد جو اس فرقہ کی نسبت غلط خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔

اور یہ مؤلف

”تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرِ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر خدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے باادب گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔“

(سرورق کشف الغطاء خزائن ج ١٤ ص ١٧٧)

یہ عبارت رسالہ کا مضمون بتانے کو کافی سے زیادہ رہنما ہے۔ تاہم مزید روشنی کیلئے

٥٨

صفحہ ٣٢١

ہم اس کے دوسرے صفحے سے کچھ عبارت نقل کرتے ہیں جس سے مصنف کی غرض و غایت معلوم ہو جائے گی۔ لکھا ہے :

"میں تاج عزت عالیجناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اول سے آخر تک پڑھیں۔"

(کشف الغطاء ص ٢ خزائن ج ١٤ ص ١٧٩)

یہ عبارت مع عبارت سرورق بآواز بلند پکار رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو حکام کی ترچھی نظر سے کوئی بڑا سیاسی خطرہ تھا جس کے دفعیہ کے لئے یہ رسالہ لکھا۔ چنانچہ اصل مضمون اس سے بھی واضح تر ہے۔ فرماتے ہیں :

"چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں۔ جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہذا قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کر لیں۔

(کشف الغطاء ص ٢ خزائن ج ١٤ ص ١٧٩)

ناظرین! ہم یہ نہیں کہتے کہ انگریزی گورنمنٹ کی خوشامد اور منتیں نہ کریں۔ سو دفعہ کریں، سو کم ہو تو ہزار دفعہ کریں۔ ہم تو اس سے بھی منع نہیں کرتے کہ کلمہ شریف اس طرح پڑھا کریں۔

لا الہ الا اللہ
جارج خلیفۃ اللہ

ہاں! اتنا کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ کسی خطرے کو اپنے سے دفع کریں اور نام اسلامی خدمت اور جواب کفار کا رکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں :

٥٩

صفحہ ٣٢٢
حافظا مے خورد رندی کن وخوش باش دلے
دام تزویر مکن چوں دگراں قرآں را

تتمہ کلام : کے طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے انگریزوں اور انگریزی حکومت کی نسبت عجیب متضاد خیالات شائع کئے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

"ان یا جوج وما جوج ہم النصاریٰ من الروس والاقوام البرطانیہ (حمامۃ البشریٰ حاشیہ ص ٢٨‘ خزائن ج ٧ حاشیہ ص ٢٠٩‘٢١٠) "یعنی روسی اور انگریز قومیں یاجوج وماجوج ہیں۔"

یہاں تو انگریزوں اور روسیوں کو یاجوج ماجوج قرار دیا جو اسلامی اصطلاح میں بڑے شدید الکفر بھاری مفسدین کا نام ہے۔ مگر دوسرے ایک مقام میں یوں لکھا۔

"میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں۔ اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔"

(رسالہ ضرورۃ الامام ص ٢٣‘ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٣)

یعنی قرآن مجید میں جو (اولی الامر منکم) اپنے میں سے حکومت والوں کے حکم کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ انگریز اس آیت کے ماتحت ہمارے "اولی الامر۔ " یعنی ہم میں سے صاحب حکومت ہیں۔

منطقی شکل کا نتیجہ منطقیہ

ان دونوں عبارتوں کو منطقی قاعدہ سے ملائیں تو صورت یوں ہوگی :

الامر ہیں۔

نتیجہ یہ نکلا : "احمدی یاجوج ماجوج ہیں۔"

٦٠

صفحہ ٣٢٣

اس نتیجہ پر علماء اسلام کے منہ سے یہ شعر بہت موزوں ہو گا :

میرے پہلو سے گیا پالا ستمگر سے پڑا
مل گئی اے دل ! تجھے کفران نعمت کی سزا

غرض :رسالہ "کشف الغطاء" گورنمنٹ انگریزی کی خوشامد اور اپنی مسیحیت کے دعویٰ سے لبریز ہے۔ انگریزی خوشامد کے بعد اپنی نسبت جو لکھتے ہیں۔ اس کا نمونہ درج ذیل ہے :

" مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے معنے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے۔ تا امن اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں۔ میں نے اس نام کے معنے یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں کئے بلکہ آج سے انیس برس پہلے اپنی کتاب "براہین احمدیہ" میں بھی یہی معنے کئے ہیں۔ ممکن ہے کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں گے یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں۔ کیونکہ یہ باتیں دنیا کی سمجھ سے بڑھ کر ہیں اور دنیا ان کو شناخت نہیں کر سکتی۔ خاص کر قدیم فرقوں کے مسلمان جن کے ایسی پیشگوئیوں کی نسبت خطرناک اصول ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے (قابل) لائق ہے کہ مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہ اور حسین کی اولاد سے ہو گا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کریگا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں اور ایسے خیالات کے ماننے والے سخت غلطی پر ہیں۔ ایسے مہدی کا وجود ایک فرضی وجود ہے۔ جو نادانی اور دھوکہ سے مسلمانوں کے دلوں میں جما ہوا ہے اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں۔ اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں۔ غالباً عباسیوں کی سلطنت کے وقت میں بنائی گئی ہیں اور صحیح اور راست صرف اس قدر ہے کہ ایک

٦١

صفحہ ٣٢٤

شخص عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر آنے والا بیان کیا گیا ہے کہ جو نہ لڑے گا اور نہ خون کرے گا۔ اور غربت اور مسکینی اور حلم اور براہین شافیہ سے دلوں کو حق کی طرف پھیرے گا۔ سو خدا نے کھلے کھلے کلام اور نشانوں کے ساتھ مجھے خبر دی ہے کہ وہ شخص تو ہی ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے آسمانی نشان نازل کئے ہیں اور غیب کے بھید اور آنے والی باتیں میرے پر ظاہر فرمائے ہیں اور وہ معارف مجھ کو عطا کئے ہیں کہ دنیا ان کو نہیں جانتی۔ اور یہ میرا عقیدہ کہ کوئی خونی مہدی دنیا میں آنے والا نہیں تمام مسلمانوں سے الگ ١؎ عقیدہ ہے۔"

(کشف الغطاء ص ١٢‘ خزائن ج ١٤ ص ١٩٢‘ ١٩٣)

اس تمہید کے بعد ہم اس باب کا اصل مضمون شروع کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس باب میں تو کمال ہی کر دیا۔ ہم حیران ہیں کہ اس باب میں آپ کے علم کلام کو صناعات خمسہ میں سے کس میں داخل کریں۔ کسی قسم کی کوئی دلیل، کوئی جدل، کوئی مغالطہ، کوئی مضمون شعری یا غیر شعری اس باب میں آپ نے نہیں چھوڑا۔ شروع میں آپ کے دعوے اور ثبوت کا ملخص یوں ہے۔

دعویٰ : "میں مسیح موعود ہوں۔"

ثبوت : (مقدمہ اولیٰ) حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔ (مقدمہ ثانیہ) مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتے۔ (مقدمہ ثالثہ) پیشگوئیوں میں اکثر استعارات ہوتے ہیں۔

(ملخص از کتاب ازالہ اوہام ص ٥٦٥‘ ٥٧٣‘ خزائن ج ٣ ص ٣٩٩ تا ٤٠١)

١؎ آپ کی سب سے علیحدگی پر ایک شعر موزوں ہے :

ٹھاکر دوارے ٹھگ بسیں جتی چور مسیت
سب سے کنارے سادھو بسیں الٹی جنکی ریت

٦٢

صفحہ ٣٢٥

ان سارے مقدمات کو سائل صحیح بھی مان لے تو بھی دعویٰ آپ کا ہنوز ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مقدمہ رابعہ آپ نے یہ لگایا کہ مجھے الہام ہوا ہے :

” جعلناك المسيح ابن مريم .“ ”ہم (خدا) نے تجھ (مرزا) کو مسیح ابن مریم بنایا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

چونکہ سارا مدار اس چوتھے مقدمہ پر ہے اس لئے آپ نے اس کو کسی قدر مدلل بھی لکھا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

"اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان : ” جعلناك المسيح ابن مريم .“ نے اس کو در حقیقت وہی بنا دیا ہے : ” وكان الله علىٰ کل شی قديرا .“ اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اس کی طرف یہ اشارہ ہے : ”ومبشرا برسول يأتى من بعدى اسمه احمد“ مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ کیونکہ آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی مجرد احمد (مرزا قادیانی) جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔"

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

اس اقتباس میں مبارک نام محمد کو جامع صفات جلال و جمال بتایا ہے۔ اور اسم احمد کو فقط موصوف بجمال کہا ہے۔ جس کو منطقی اصطلاح میں تصور مع الحکم اور تصور ساذج سے مثال دے سکتے ہیں۔ یہ بات تو ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ تصور ساذج اور تصور مع الحکم باہمی قسیمین (متضاد) مفہوم ہیں۔ اس بیان کو ناظرین ذہن میں رکھیں اور مرزا قادیانی نے جو اس قول کی تشریح دوسری کتاب میں کی ہے وہ بغور پڑھیں۔ آپ فرماتے ہیں۔

"آنحضرت ﷺ کے بعث اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ

٦٣

صفحہ ٣٢٦

: ”و آخرین منهم لما يلحقوا بهم .“ میں اشارہ ہے وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے جیسا کہ آیت : ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد .“ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مہدی موعود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہو گا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائیگا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔ اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا۔ حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیشگوئی کا زیر و زبر ہو جاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مومن کیلئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں : (١).......... ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے۔ جس کی نسبت حوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے : ” محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم .“ (٢).......... دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت حوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے : ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد .“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٦ خزائن ج ١٧ ص ٢٥٣‘ ٢٥٤)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے باسم احمد میں اپنی شرکت بتائی ہے اور علماء پر اظہار خفگی فرمایا ہے کہ انہوں نے ہمارا مطلب نہیں سمجھا۔ حالانکہ علماء کی وجہ خفگی آپ نے نہیں سمجھی۔ علماء نے سمجھا کہ بقول آپ کے اسم احمد مجرد ہے تو بمنزلہ تصور ساذج یا بشرط لا کے درجہ میں ہے اور اسم محمد بمنزلہ تصور مع الحکم کے درجے میں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ تصور مع الحکم اور تصور ساذج دونوں ایک مادے میں جمع نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ رسول خدا ﷺ نے اپنا

٦٤

صفحہ ٣٢٧

نام احمد بھی بتایا۔ پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آنحضرت میں دونوں مراتب بشرط شی اور بشرط لاشئ جمع ہو جائیں : ”هل هذا الا تهافت قبيح وتناقض صريح“

اصل مدعا : مسیحیت موعودہ ہے۔ یہ چار جملے اس کے اثبات کی دلیل کے مقدمات ہیں۔ مرزا قادیانی نے خود اپنے دعوے مسیحیت کو صاف لفظوں میں لکھ کر کہا ہے کہ بس یہی ایک امر موجب انکار علماء ہوا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”وكنت اظن بعد هذه التسمية ان المسيح الموعود خارج وماكنت اظن انه انا حتى ظهر السر المخفى الذى اخفاه الله على كثير من عباده ابتلاء من عنده وسمانى ربى عيسى بن مريم فى الهام من عنده وقال يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامه . انا جعلناك عيسى بن مريم وانت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق وانت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى وانك اليوم لدينا مكين امين . فهذا هو الدعوى الذى يجادلنى قومى فيه ويحسبوننى من المرتدين“

(حمامة البشریٰ ص ٨‘ خزائن ج ٧ ص ١٨٣‘ ١٨٤)

ترجمہ : ”میں سمجھتا رہا کہ اس نام (مسیح) رکھنے کے بعد بھی مسیح موعود ضروری آئیگا۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ میں ہی ہوں۔ یہاں تک کہ خدا کا بھید جو بہتوں پر مخفی رہا تھا مجھ پر ظاہر ہوا کہ میرے رب نے میرا نام عیسیٰ بن مریم اپنے ایک الہام میں رکھا۔ فرمایا ہم نے تجھے مسیح بن مریم کیا اور تو میرے نزدیک ایسے درجے میں ہے جس کو مخلوق نہیں جانتی۔ اور تو میرے نزدیک میری توحید اور تفرید کے درجے میں ہے۔ پس یہی میرا دعویٰ ہے جس میں میری قوم مجھ سے جھگڑتی ہے اور مجھے مرتد سمجھتی ہے۔“

پس اہل علم نظّار پر مخفی نہیں کہ جس مدعا کے اثبات کیلئے چار مقدمات ہوں

٦٥

صفحہ ٣٢٨

سائل کو حق حاصل ہے کہ ان میں ہر ایک مقدمہ پر یا جس پر چاہے نقض یا منع وغیرہ کرے (کتاب رشیدیہ ملاحظہ ہو) اس میں مدعی کا حق نہیں کہ سائل کو مجبور یا تلقین کرے کہ میری دلیل کے فلاں مقدمہ پر بحث کر۔ (رشیدیہ) جب یہ حق نہیں کہ دلیل کے مقدمہ پر بحث کرنے کی درخواست کرے تو یہاں کہاں حق ہوسکتا ہے کہ کسی ایک مقدمہ کو اصل بحث بنا کر سارا مدار اسی پر رکھے۔ مرزا قادیانی نے اور ان کے بعد ان کے اتباع نے علم کلام کے قواعد کو بالکل بالائے طاق رکھ کر صرف وفات مسیح کو بحث قرار دیدیا۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

"مسیح موعود کا دعویٰ اسی حالت میں گراں اور قابل احتیاط ہوتا کہ جبکہ اس دعوے کے ساتھ نعوذ باللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔ اب جبکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں صرف مابہ النزاع حیات مسیح اور وفات مسیح ہے۔ اور مسیح موعود کا دعویٰ اس مسئلہ کی درحقیقت ایک فرع ہے اور اس دعویٰ سے مراد کوئی عملی انقلاب نہیں اور نہ اسلامی اعتقادات پر اس کا کچھ مخالفانہ اثر ہے۔ تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کے لئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا قادیانی نے تو جو کچھ کیا ان کا اختیار ہے۔ مگر ہم تو علم مناظرہ کے خلاف نہ کریں گے اسلئے ہم آپ کی دلیل پر مناظرانہ نظر کرتے ہیں۔

(اول) سائل کا حق ہے کہ آپ کے چاروں مقدمات پر منع وارد کرے۔ یعنی یہ کہے کہ میں نہیں مانتا کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ مردے زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آسکتے۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ پیشگوئیوں میں اکثر استعارات ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے میں نہیں مانتا کہ آپ ملہم اور خدا کے مخاطب ہیں۔

(دوسرا شخص) یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے آپ کی دلیل کے پہلے مقدمہ پر بحث نہیں (مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وفات مسیح کا قائل ہے یا ہو گیا نہ آپ اسے مجبور کر سکتے

٦٦

صفحہ ٣٢٩

ہیں کہ وفات تسلیم کرے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اس مقدمہ پر بحث کرنے سے اعراض کرتا ہے جو ازروئے علم مناظرہ اس کا حق ہے) بلکہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ دوسرے مقدمہ کو بھی میں زیر بحث نہیں لاتا۔ مگر تیسرا خاص کر چوتھا مقدمہ مجھے مسلم نہیں۔ ان کو مبرہن کیجئے۔

(تیسرا سائل) کہہ سکتا ہے کہ میں آپ کی دلیل کے مقدمات ثلاثہ پر کوئی نظر نہیں کرتا میں تو چوتھے مقدمہ کو مدار کار جان کر آپ کی الہامی حیثیت پر بحث کرتا ہوں۔ کیونکہ اگر آپ ملہم اور مخاطب الٰہی ثابت ہو جائیں تو پہلے تینوں مقدمات بلکہ آپ کے جملہ کلمات قابل قبول ہوں گے :

ہر کہ شک آرد کافر گردد

ناظرین کرام! کیا آپ لوگوں نے کبھی دیکھا کہ اتباع مرزا علم کلام کے اس مناظرانہ طریق سے کلام کرتے ہیں؟ نہیں، بلکہ سوال ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مسیحیت کا ثبوت دو۔ جواب ملتا ہے حضرت مسیح کی وفات پر بحث کر لو۔ کیسا بے اصولا پن ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس بے اصولے پن کا نام رکھتے ہیں اصولی بحث :

برعکس نہند نام زنگی کافور

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ خود مرزا قادیانی نے ان کو سکھایا ہے پھر یہ کیوں نہ ایسا کریں۔ بقول :

ما مریدان رو بسوئے کعبہ چوں آریم چوں
رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما

نوٹ : ناظرین نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کے اثبات دعویٰ میں مقدمہ رابعہ کو بہت کچھ دخل ہے۔ بلکہ بغور دیکھیں تو مدار کل وہی ہے۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے خود بھی مقدمہ رابعہ کو بہت اہم سمجھا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ : "ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٦٧

صفحہ ٣٣٠

معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعوے مسیحیت ان چار مقدمات پر موقوف ہے۔ خاص کر مقدمہ رابعہ پر بہت کچھ مدار ہے۔ فافہم فانہ مفید!

ایک آسان طرح سے فیصلہ

ہم ایک آسان طریق سے بھی مرزا قادیانی کی دلیل پر نظر کرتے ہیں :

علم معانی بیان کا قانون ہے کہ جب تک حقیقت ممکنہ ہو مجاز کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔ جس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص کہے "میں نے شیر دیکھا۔" شیر کا دیکھنا حقیقت ممکنہ ہے۔ اس لئے اس کی تاویل نہ ہو گی بلکہ حقیقت ہی مراد لی جائے گی۔ اور اگر یہ کہے کہ "میں نے شیر تلوار چلاتے دیکھا" تو یہاں حقیقت مراد نہ ہو گی کیونکہ درندہ شیر تلوار نہیں چلایا کرتا۔ اس لئے یہاں شیر سے مراد بہادر آدمی ہوگا۔

اسی قانون کی تائید میں حکیم نور الدین خلیفہ اول قادیان کی شہادت بھی موجود ہے۔

نوٹ : حکیم نور الدین صاحب کی یہ تحریر مصدقہ مرزا قادیانی بھی ہے۔ کیونکہ ان کی کتاب ازالہ اوہام کے ساتھ بطور ضمیمہ مطبوع ہے۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں :

"ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے ، استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الہی کلمات کو لا سکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔"

(خط ملحقہ ازالہ اوہام ص ٨ ، ٩ خزائن ج ٣ ص ٦٣١)

یعنی الفاظ کی حقیقت کا خیال ہمیشہ رہنا چاہئے تاوقتیکہ حقیقت ممکنہ ہے مجاز کی طرف رجوع نہیں ہونا چاہئے۔ اس قانون اور اس کی تائید کے بعد مرزا صاحب کا اعتراف قابل غور ہے۔

٦٨

صفحہ ٣٣١

"ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔"

(ازالہ اوہام ص ٢٠٠‘ خزائن ج ٣ ص ١٩١)

اسی تسلیم کی تائید فرماتے ہیں :

"اس بات سے اس وقت انکار نہیں ہوا اور نہ اب انکار ہے کہ شاید پیشگوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔"

(ازالہ اوہام ص ٢٦١‘ خزائن ج ٣ ص ٢٣١)

کیا فرماتے ہیں علماء نظار کہ جب حقیقت ممکنہ ہے۔ یعنی مسیح موعود کا ظاہری نشانوں کے ساتھ آنا ممکن ہے تو پھر مجاز کی طرف رجوع کر کے مرزا قادیانی کو مجازی نشانات کے ساتھ مسیح موعود کیوں مانیں ؟۔ پس حسب قاعدہ علم معانی سائل کہہ سکتا ہے کہ ہم آپ کے مقدمات اربعہ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ سب مجاز کی طرف لے جارہے ہیں۔ جس کی طرف جانا جائز نہیں۔ کیونکہ پیشگوئی کے الفاظ کی حقیقت ممکن ہے۔ فلا یجوز المصیر الی المجاز!

ایک اور طرح سے نظر

مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعودہ کی نسبت ایک فقرہ ایسا لکھ دیا ہے کہ کل نزاعات کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہم اس کے متعلق مرزا قادیانی کا جتنا شکریہ ادا کریں بجا ہے۔ مگر قبل نقل کرنے اس فقرے کے‘ مرزا قادیانی کی مایہ ناز کتاب براہین احمدیہ سے ایک دو سطریں ہم نقل کرتے ہیں۔

آپ لکھتے ہیں :

"اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی

٦٩

صفحہ ٣٣٢

فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٤٩ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣‘ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اظہار کیا ہے کہ میں اپنے کمالات روحانیہ میں حضرت مسیح کے مشابہ ہوں یہ اس زمانہ کا دعویٰ ہے جب مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو مسیح موعود جانتے تھے اور اپنے کو ان کا مشابہ یا مثیل۔ اب سنئے مندرجہ ذیل عبارت جو فیصلہ کن ہے۔ آپ فرماتے ہیں :

”اے برادران دین و علماء شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعوے کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے۔ یہ کوئی نیا دعوے نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالٰے سے الہام پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠‘ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

ناظرین ! ازالہ اوہام مرزا قادیانی کی تصنیف اس زمانہ کی ہے جس زمانہ میں آپ نے مسیحیت موعودہ کا دعوے کیا تھا۔ اس وقت بھی لکھتے ہیں کہ :

”میں مسیح موعود کا مثیل ہوں۔ مگر کم عقل لوگ مجھ کو اصل مسیح موعود سمجھنے لگ گئے۔“

قادیانی ممبرو! مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان کر کم عقل کیوں بنتے ہو۔ مانا کہ عشق میں آدمی کم عقل کیا بے عقل بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن آخر عقل تو ایک قابل قدر چیز ہے۔ کیا تم نے سنا نہیں :

چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

٧٠

صفحہ ٣٣٣

باب سوم

مخصوص قادیانی علم کلام

کتاب ہذا میں ہم تیسرے باب کا ذکر کر آئے ہیں۔ اس باب میں ہم خواجہ کمال الدین لاہوری مرزائی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ”احمدی علم کلام“ کے نام سے ایک خاص عنوان مقرر کیا ہے۔ اس لئے ہم اسی کو سامنے رکھ کر ان مرزائی اصول کلام کی تحقیق کرتے ہیں جو بقول خواجہ صاحب مرزا قادیانی کی ایجاد ہیں۔

خواجہ صاحب نے اس اصول سے پہلے ایک عام اصول میں مرزا قادیانی اور سرسید احمد خان میں فرق بتایا ہے۔ آپ کے یہ الفاظ ہیں :

”حضرت مرزا صاحب نے سرسید کے بالعکس راستہ اختیار کیا۔ آپ نے قرآن کریم کو تاویل سے بچایا۔ آپ نے ہر جگہ قرآن کریم کے لفظی معنی لئے۔ پھر اس کے برخلاف جن غلط نظریات کو فلسفہ جدید نے پیش کیا۔ اسے عقلی طور پر توڑ کر قرآنی حقائق کا تفوق ان پر ظاہر کیا۔“

(مجدد کامل ص ١٠٩)

ہم بہت مشکور اور مسرور ہوتے اگر واقعہ بھی ایسا ہوتا۔ مگر نہایت افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی سرسید کی طرح الفاظ کی پابندی سے نکل جاتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہم پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیت ہے :

”کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ۔ آل عمران ١١٠“

”تم مسلمان اچھی جماعت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے پیدا کئے گئے ہو“

اس آیت میں ”الناس“ کا لفظ قابل غور ہے۔ مرزا قادیانی کو ضرورت تھی کہ اپنا دعویٰ مسیحیت قرآن سے ثابت کریں۔ اور مسیح موعود کے زمانہ میں دجال کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے آپ نے اس آیت کی تفسیر ایسی خوبی سے فرمائی کہ قابل دید و شنید ہے۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

٧١

صفحہ ٣٣٤

”منجملہ ان دلائل کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ قرآن شریف کی یہ آیت ہے : ”کنتم خیر امة اخرجت للناس“ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم بہترین امت ہو جو اس لئے نکالے گئے ہو کہ تا تم تمام دجالوں اور دجال معہود کا فتنہ فرو کر کے اور ان کے شر کو دفع کر کے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاؤ۔ واضح رہے کہ قرآن شریف میں ”الناس“ کا لفظ بمعنے دجال معہود کے بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کے ایک اور مقام میں ”الناس“ کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور یہ وہ : ” خلق السموت والارض اکبر من خلق الناس . “ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں۔ دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں................ بہر حال آیت خیر امت کا لفظ الناس کے ساتھ مقابلہ ہو کر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ الناس سے مراد دجال ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١‘٢٢ خزائن ج ١٧ ص ١٢١‘١٢٠)

خواجہ صاحب! کیا ”الناس“ کا اصل ترجمہ ”دجال“ ہے؟۔ اگر ہے تو پھر اس آیت کے کیا معنے ہوں گے : ”اذا قیل لہم آمنوا کما آمن الناس، بقرہ ١٣“ (ایمان لاؤ جیسے الناس ایمان لائے ہیں۔) بقول مرزا غلام احمد قادیانی معنے ہوئے کہ اے لوگو! تم بھی دجال کی طرح ایمان لاؤ۔ (جل جلالہ)

کونوا قردة خاسئین . “ میں بندر سے مراد بد اخلاق انسان ہے نہ کہ مشہور حیوان۔ مرزا قادیانی بھی ایسا ہی لکھتے ہیں :

”اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں موجود ہے۔ جب تک وہ تزکیہ نفس کر کے اپنے سلوک کو تمام نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل سے نکال نہ دیوے تب تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے یا

٧٢

صفحہ ٣٣٥

گدھے سے یا کتے سے یا کسی اور جانور سے اور اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک جون بدل کر دوسری جون میں آتا رہتا ہے۔ ایک جون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے۔ اسی طرح اس زندگی میں ہزاروں موتیں اس پر آتی ہیں اور اور ہزارہا جونیں اختیار کرتا ہے اور آخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر انسان کی جون اس کو ملتی ہے۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہو گئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سوروں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہو گئے تھے۔“

(ست بچن ص ٨٢‘ ٨٣ خزائن ج ١٠ ص ٢٠٦‘ ٢٠٧)

خواجہ صاحب بتلادیں کہ ”قردۃ“ کے اصل معنے مرزا قادیانی نے بحال رکھے یا سرسید کی طرح چھوڑ دئے؟۔

: ”مسیح موعود دمشق میں نازل ہوں گے۔“

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذکر الدجال)

مرزا قادیانی چونکہ مسیح موعود بنے اور نازل ہوئے قادیان میں۔ تو آپ نے ”دمشق“ کے معنے میں تصرف کیا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ ہیں :

”واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ ................ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمادیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں ”دمشق“ سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧١‘ ٧٦ خزائن ج ٣ ص ١٣٥‘ ١٣٨)

ناظرین کرام ! اگر ہم چاہیں تو مرزا قادیانی کی تحریرات سے ایسی مثالیں سینکڑوں تک گنادیں۔ مگر اس جگہ ان تینوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں نصاب شہادت سے بھی ایک

٧٣

صفحہ ٣٣٦

زیادہ ہے۔ مزید کے لئے ناظرین کو اپنے رسالہ ”نکات مرزا“ کا حوالہ دیتے ہیں۔ (جو احتساب کی اس جلد میں شامل ہے)

یہ تو ایک تمہیدی نوٹ ہے۔ خواجہ صاحب نے ”قادیانی علم کلام“ کا پہلا اصول یہ بتایا ہے۔

”سب سے اول ١٨٩٣ء میں جناب مرزا صاحب نے ایک نہایت زبردست ہی نہیں بلکہ اچھوتا اصول قائم کیا۔ اس وقت آپ امرتسر میں عیسائی قوم کے ساتھ سرگرم مباحثہ تھے۔ آپ نے مباحثہ کے شروع میں فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب اگر کسی امر کی تعلیم کرے تو اس کے دلائل بھی خود دے۔ یعنی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں خود ہی دلائل دے۔ مثلاً اگر خدا کی ہستی منوائے تو پھر اس کی ہستی کے دلائل بھی دے۔“

(مجدد کامل ص ١١٠)

جواب : بے شک مرزا قادیانی نے مباحثہ امرتسر میں ایسا کہا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ قرآن مجید میں یہ مزیت ہے۔ چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اس دعوے کا ثبوت بھی قرآن مجید سے دیتے کیونکہ یہ بھی تو ایک دعویٰ ہے۔ اس کا ثبوت دینا بھی قائل کے ذمہ ہے۔ یعنی قائل یہ بتائے کہ قرآن نے اپنے ایسا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہم مسلمان بحکم :

پیراں نمی پرند و مریداں ہمے پرانند

قرآن مجید کے سر تھوپیں :

مرزا قادیانی نے اپنی تصنیفات میں اس دعویٰ کا ثبوت قرآن شریف میں سے نہیں دیا۔ آج ہم مرزا قادیانی کی کمی پورا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے :

”شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس وبینات من الھدی والفرقان ، بقرہ ١٨٥“

”یعنی رمضان کے مہینے میں قرآن کا نزول شروع ہوا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت (احکام) اور ہدایت کے لئے دلائل ہیں اور فیصلہ۔“

اس آیت میں قرآن مجید کو ہدایت اور ہدایت کے دلائل فرمایا ہے۔ یعنی جن باتوں

٧٤

صفحہ ٣٣٧

کی قرآن ہدایت کرتا ہے ان پر دلائل بینات بھی دیتا ہے۔ پس یہ ہے وہ حیثیت جو قرآن شریف نے خود اپنی بتائی ہے۔

اتباع مرزا کہتے ہیں کہ گو قرآن مجید میں یہ ہے۔ لیکن اس کے اظہار کرنے کا فخر مرزا قادیانی کو ہے۔ کیونکہ ان سے پہلے کسی نے یہ کمال نہیں دکھایا۔ بس اب اتنی سی بات قابل جواب رہ گئی۔ ہم اس کا جواب بہت آسانی سے دیتے ہیں۔ جس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہ ہو۔ عرصہ ہوا اخبار اہلحدیث میں بھی ہم شائع کر چکے ہیں۔ آج بھی بتائے دیتے ہیں۔

کئی صدیاں گزر گئیں کہ علامہ ابن رشد نے اس اصول پر تنبیہ کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہے :

”يظهر من غير آية من كتاب الله انه دعا الناس فيها الى التصديق بوجود البارى بادلة عقلية منصوص عليها مثل قوله تبارك وتعالى يا ايها الناس اعبدوا ربكم الذى خلقكم والذين من قبلكم الآيه ومثل قوله تعالى افى الله شك فاطر السموات والارض من الايات .

(فلسفه ابن رشد مطبوعه مصر ص ٢٥)“

”یعنی قرآن مجید کی کئی ایک آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن نے لوگوں کو خدا کے ماننے کی طرف بلایا عقلی دلائل منصوصہ کے ساتھ۔ جیسے فرمایا اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ اور فرمایا کیا اللہ کی شان میں تم کو شک ہے جو آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے وغیرہ بہت سی آیات ہیں۔“

تشریح : پہلی آیت میں حکم عبادت کا دیا تو اس کی دلیل دی ”جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا“ دوسری آیت میں خدا کی شان میں شک کو ناجائز قرار دیا تو اس کی دلیل دی کہ ”وہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے۔“

ناظرین ! اسی مختصر تنبیہ سے مرزا قادیانی نے وہ اصول اخذ کیا جو مباحثہ امرتسر میں

٧٥

صفحہ ٣٣٨

پیش کیا ۔ مگر چونکہ دل میں تھا کہ کہ میں اس اصول کا موجد بنوں اس لئے غلطی کھا گئے جس کی تفصیل معروض ہے۔

نقض اجمالی : علم مناظرہ نقض اجمالی اس کو کہتے ہیں جس میں سائل ثابت کر دے کہ مدعی کی دلیل سے بعض جگہ خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی پر نقض اجمالی وارد ہوتا ہے‘ علامہ ابن رشد پر نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے عام قانون بنایا ہے جس کو خواجہ صاحب نے یوں بتایا ہے :

”خدا کی کتاب اگر کسی امر کی تعلیم دے تو اس کے دلائل بھی خود دے۔“

یہ ایک عام قانون کی صورت میں ہے۔ اس لئے اس پر نقض ہوگا کہ تورات۔ انجیل۔ زبور۔ بلکہ آپ کی مسلمہ الہامی کتاب وید میں یہ وصف نہیں۔ تو آپ ان کتابوں کو کتاب اللہ کیوں مانتے ہیں؟۔ لیکن علامہ ابن رشد نے عام قانون کی شکل میں دعویٰ نہیں کیا بلکہ قرآن کی مزیت اور خصوصیت بیان کی ہے۔ اس لئے اس پر نقض وارد نہیں ہو سکتا۔ فافہم! پس اتباع مرزا کا اس پر فخر کرنا قصور نظر اور پیر پرستی ہے۔ واقعہ نہیں۔ العلم عنداللہ!

دوسرا اصول : خواجہ صاحب نے مرزا قادیانی کے دوسرے اصول کی بابت لکھا ہے کہ :

”مرزا قادیانی نے دوسرا اصول یہ باندھا کہ خدا کی کتاب وہی ہو سکتی ہے جس میں ہر ضرورت انسانی کا علاج ہو وہ سب فطری تقاضات کو سامنے رکھے اور انہیں پورا کرے۔

تیسرا اصول : ایک اور اصول مرزا صاحب نے یہ باندھا کہ مذہب اگر تربیت انسانی کے لئے آتا ہے تو اس کتاب میں کل انسانی جذبات کی تربیت وتعدیل کا سامان ہو۔

چوتھا اصول : آپ نے فرمایا کہ مذہب الہیہ انہی جذبات کو اخلاق اور پھر

٧٦

صفحہ ٣٣٩

روحانیات میں مشکل کرنے کا نام ہے محض رسمیات کے مجموعہ کا نام مذہب نہیں۔

ہم حیران ہیں کہ اتباع مرزا باوجود علم و عقل کے کیوں ایسی معمولی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ امور جن کو خواجہ صاحب اصول ساختہ مرزا کی شکل میں بتاتے ہیں قرآن مجید کے کھلے الفاظ اور واضح صورت میں ملتے ہیں :

”تفصيلاً لكل شئى . مفصلاً مبين . فصلناه على علم كتاب مبين .“

وغیرہ الفاظ مرات کرات قرآن مجید کے حق میں قرآن موجود ہیں۔ اور واضح ترین لفظوں میں ہیں تو ان کو ایجاد مرزا کہنا کیا انصاف ہے ؟۔ ان الفاظ قرآنیہ کے ماتحت اکابر مفسرین نے یہی معنے مراد لئے جو خواجہ صاحب کہتے ہیں۔ امام رازی‘ غزالی‘ ابن حزم‘ ابن تیمیہ‘ ابن رشد‘ شاہ ولی اللہ وغیرہ ۔ رحم اللہ علیہم سب نے ان آیات کی تفسیر میں یہی لکھا ہے :

”روحانیات میں مشکل کرنے“ کے اظہار کے لئے ایک ہی آیت قرآنی کافی ہے جو یہ ہے :

” هو الذى بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين . (الجمعہ ٢)“

”یعنی خدا نے عرب کے بے علموں میں رسول بھیجا ہے وہ ان کو اللہ کے احکام سناتا ہے اور اس تعلیم کے ساتھ ان کو پاک کرتا ہے کتاب اور معرفت الٰہیہ ان کو سکھاتا ہے اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں تھے۔“

خواجہ صاحب ! یہ ہے وہ سب کچھ جس کو آپ نے مرزا قادیانی کا طرہ امتیاز بتایا ہے۔ ہاں سنئے ! مرزا قادیانی اور آپ نے ان نمبروں کو اصولی شکل میں بتا کر اپنی اور باقی اتباع مرزا کی گردن پر بڑا بھاری بوجھ اٹھایا ہے۔ خدا خیر کرے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ آپ لوگ اس

٧٧

صفحہ ٣٤٠

بوجھ کی سختی سے دب جائینگے اور سر نہ اٹھا سکیں گے۔ غور فرمائیے۔ مرزا قادیانی ویدوں کی بابت فرماتے ہیں۔ اور اس مضمون کو آپ ہی نے شائع کیا تھا۔ یعنی کتاب ”پیغام صلح“ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

”ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں......... خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسانوں کا افتراء نہیں......... ہم خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں۔“

(کتاب پیغام صلح ص ٢٣، ٢٥ خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٢، ٤٥٣)

جب وید بھی خدا کا کلام اور الہام ہے اور سب لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا تھا تو اس اصول مرزا کے ماتحت اس میں بھی وہ سب اوصاف ہونے چاہئیں جو آپ نے الہامی کتاب کے لئے اصول مذکورہ میں بیان کئے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی ویدوں کے حق میں جو رائے رکھتے ہیں وہ یہ ہے۔ خواجہ صاحب اور اتباع مرزا غور سے سنیں۔ فرماتے ہیں :

”وید نے انسان کی حالت پر رحم کر کے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا۔ بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گناہ کے لئے بھی ایک لمبا اور نا پیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٤٣، خزائن ج ٢٣ ص ٥١)

ناظرین ! ہم نے نہیں۔ آپ نے کوئی ایسا قابل مصنف اور لائق متکلم دیکھا جو ایک طرف تو ایک نہیں کئی ایک اصول مقرر کرے۔ دوسری طرف خود ہی ان کے خلاف کرے؟۔ اگر نہیں دیکھا تو مرزا صاحب کو دیکھ لیں :

مرے معشوق کے دو ہی پتے ہیں
کمر پتلی صراحی دار گردن

خواجہ صاحب ! فرمائیے آریہ ان دونوں حوالوں کو لے کر آپ کے اور آپ کی کل جماعت لاہوریہ اور قادیانیہ کے سامنے آپ کے سلطان القلم رئیس المتکلمین کے یہ دو حوالے لیکر کھڑے ہو جائیں اور ان میں تطبیق کرنے کا سوال کریں، تو آپ مع اپنی جماعت کے

٧٨

صفحہ ٣٤١

جواب دے سکتے ہیں؟۔ پہلے مجھے بتا دیجئے تاکہ میں بھی آپ کی تائید کر سکوں۔ آہ:

بروز حشر گر پرسند خسرو را چرا کشتی
چہ خواہی گفت قربانت شوم تا من ہماں گویم

دعا: خدا کرے آریہ نہ سن پائیں۔

ناظرین! یہ ہیں ہمارے سلطان القلم کے اصول کلامیہ جن پر آج اتباع مرزا کو ناز ہے۔ غالباً انہیں معلوم نہیں کہ علم کلام کیا ہے اور علماء متکلمین کون تھے۔ اس لئے :

ناز ہے گل کو نزاکت پر چمن میں اے ذوق
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

البتہ قرآن شریف نے جس پیرائے میں یہ دعویٰ کئے ہیں ان پر نقض اجمالی وارد نہیں ہو سکتا۔ جو مرزا قادیانی کی اصولی شکل پر ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے بطور خصوصیت اور مزیت کے یہ دعویٰ کئے ہیں نہ بطور اصول کے۔ یعنی یہ کہا ہے کہ مجھ میں یہ امور پائے جاتے ہیں۔ یہ نہیں کہا کہ ہر الہامی کتاب میں یہ امور ہونے چاہئیں۔

اس کی مثال: علماء کی جماعت ایک جگہ جمع ہے جن میں بعض کا بیان ہے کہ ہم نے قرآن اور صحاح ستہ پڑھا ہے۔ ایک ان میں سے کہتا ہے کہ "میں نے صرف ’نحو‘ اصول معقول، فلسفہ، معانی بیان، ادب اور قرآن، حدیث، تفسیر سب پڑھی ہیں۔"

اس پچھلے صاحب کا بیان اصولی نہیں بلکہ خصوصی ہے۔ یعنی یہ نہیں کہ ہر عالم کے لئے اتنے علوم کی ضرورت ہے۔ ایسا کہنے سے وہ عالم جنہوں نے اصول معقول فلسفہ وغیرہ علوم نہیں پڑھے عالم کی صف سے نکل نہیں جائیں گے۔ ہاں اپنی مزیت بیان کرنے سے وہ عالم کی کی صفت سے نکلیں گے نہیں بلکہ اس کی مزیت ثابت ہو گی۔ مرزا قادیانی اور ان کے بعد خواجہ صاحب نے چونکہ اس بیان کو اصول کی صورت میں بیان کیا ہے۔ اس لئے ان پر نقض وارد ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے چونکہ مزیت اور خصوصیت کی صورت میں دعویٰ

٧٩

صفحہ ٣٤٢

کیا ہے۔ اس لئے اس پر وارد نہیں ہو سکتا۔ لہ الحمد !

(٥)........... ان اصول (٣، ٤) کی تشریح میں حضرت مرزا (قادیانی) نے نبی کامل کے لئے یہ شرط لگا دی کہ اس کی زندگی میں اس قسم کے مواقع پیدا ہو جائیں کہ جن کے ماتحت یہ سارے اخلاق ظاہر ہوں والا اخلاق منفیہ کچھ چیز نہیں یعنی اس قسم کا وعظ کرنا کہ فلاں فلاں چیز کرو یا نہ کرو واعظ کے اخلاق منفیہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ لیکن حقیقی خلق یہ ہے کہ وہ اس سے ظہور بھی پائیں۔ مثلاً کسی انسان کے ارد گرد امور ناجائز کی تحریکات ہوں، اس میں بدی کرنے کی طاقت بھی ہو۔ وہ اس فعل بد کو دوسروں کی نگاہ سے چھپا بھی سکے۔ اس پر وہ بدی نہ کرے تو وہ باخلق سمجھا جائیگا۔ جیسے کہ حضرت یوسف نے ایک مصری عورت کے مقابل اپنی عصمت کو قائم رکھا۔ ایسا ہی مصیبت کے وقت غالب دشمن کے مقابل اسے زبانی معاف کر دینا کوئی خوبی نہیں۔ غصہ حقیقی اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان کو اذیت پہنچے وہ اس اذیت پر صبر کرے پھر اس پر وہ وقت بھی آجائے کہ جب اس کے دشمن اس کے قدموں میں ہوں، اس میں انتقام کی طاقت بھی ہو لیکن وہ معاف کر دے۔ اس قسم کے خلق عظیم کا مظہر صرف خاتم النبیین ﷺ ہی ہیں۔

(مجدد کامل ص ١١٣، ١١٤)

جواب : ہم حیران ہیں کہ خواجہ صاحب اور دیگر اتباع مرزا پر محبت مرزا کتنی غالب ہے کہ خواجہ صاحب جیسے ہوشیار وکیل اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ یہ نمبر جس صورت میں (بقول خواجہ) نمبر ٣، ٤ کی تشریح ہی ہے تو اس پر نمبر ٥ لگا کر اس کو مستقل کیوں بنایا۔ یا خواہ مخواہ امتحان کی طرح نمبر زیادہ لینے کا شوق ہے ؟۔ خیر اس فروگزاشت سے بھی ہم درگزر کر کے اصل غلطی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ امر ہر اہل علم متکلم پر واضح ہے کہ مناظر متکلم جب کبھی کوئی اصول قائم کرتا ہے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ ہر طرف سے اسے محفوظ کرے کسی طرح اس پر نقض اجمالی یا تفصیلی یا معارضہ وارد نہ ہو۔ ہم نہایت حیرت سے دیکھتے ہیں کہ علم کلام کا یہ ابتدائی اصول نہ تو

٨٠

صفحہ ٣٤٣

مرزا قادیانی نے کبھی ملحوظ رکھا نہ خواجہ صاحب نے اس کی پرواہ کی۔ مثلاً یہی نمبر ٥ کا اصول (اگر اس کو مستقل اصول کہہ سکیں) ایسا منقوض ہے کہ کوئی بھی نہ ہو گا۔

مرزائی علم کلام کے جواب میں ہم قرآن و حدیث کو پیش کرنے کی ضرورت جانتے تو آج وہ حدیث پیش کرتے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "میں نے بعض انبیا ایسے بھی دیکھے ہیں جنکے ساتھ ایک ہی امتی تھا۔"

بقول مرزا قادیانی اس اصول کے ماتحت ایسے نبی سچے نہ ہوئے لیکن ہم اتباع مرزا کو اس خاردار جنگل میں لیجانا نہیں چاہتے ، بلکہ صاف اور سیدھا راستہ قادیان کا دکھاتے ہیں۔ پس وہ غور سے سنیں مرزا قادیانی عمل الترب (مسمریزم) کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی و دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے وہ اپنی ان روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔"

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

ناظرین کرام! للہ غور کریں کہ اگر یہ اصول معیار صداقت ہے تو بقول مرزا قادیانی حضرت عیسےٰ روح اللہ کلمتہ اللہ صادق نبی ہوئے یا کیا؟۔

حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور اتباع مرزا ہمیں معاف رکھیں ان کو اصول اور مزیت میں فرق معلوم نہیں۔ اس کی مثال ہم پہلے نمبر (دوم) میں دے آئے ہیں۔ یہاں بھی خواجہ صاحب کی شان کے لائق سناتے ہیں۔

وکیل کی تعریف یہ ہے جو قانون کے امتحان میں پاس ہوا ہو۔ مزیت یہ ہے کہ وہ

٨١

صفحہ ٣٤٤

قانون کے علاوہ دیگر علوم مذہبی یا لٹریری فنون سے بھی واقف ہو۔ پس اس تمثیل کے ماتحت ہم مانتے ہیں کہ جو کامیابی پیغمبر اسلام علیہ السلام کو ہوئی وہ کسی کو نہیں ہوئی۔ لیکن اس کو اصول صداقت یا اصول کلام کہنا جائز نہیں۔ مزیت بے شک ہے۔ ورنہ اس پر سخت نقض وارد ہوگا۔

حیوانی جذبات تعدیل میں آکر جب انسان کے نفس کو حالت مطمئنہ تک پہنچا دیتے ہیں تو اس حالت میں انسان کے اندر وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا نام روح ہے۔ روح کی پیدائش اخلاق فاضلہ سے ہوتی ہے جو بذات خود جذبات حیوانیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور جذبات کی پیدائش جسم سے ہوتی ہے۔ گویا روح جسم کا ایک بالغ بچہ ہے۔ روح اور جسم کی بحث قدیم الایام سے اسلامی علم کلام میں چلی آتی ہے۔ لیکن قرآن کی تعلیم جیسا کہ سورۃ المؤمنون سے پایا جاتا ہے یہی ہے۔ مرزا صاحب نے ان امور کو ضیافت طبع کے طور پر نہیں لکھا۔ بلکہ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس سے ایک طرف عیسائیت اور دوسری طرف تناسخ اور قدامت مادہ وغیرہ کی بنیاد تک ہل جاتی ہے۔ میں نے مفصل طور پر اپنی انگریزی تصنیفات میں یہ بحثیں کی ہیں۔“

(مجدد کامل ص ١١٣)

جواب : ہمیں اس اصول کی صحت یا غلطی سے سروکار نہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی خصوصیات کی نفی کریں۔ پس سنئے! یہ خیال کہ روح جسم کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔ احادیث صحیحہ کے خلاف ہونے کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایجاد کردہ عقیدہ نہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے مرزائی دوستوں کی خاطر ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو پیچدار راستوں سے نہیں لیجایا کرتے۔ بلکہ سیدھے راستے سے منزل (قادیان) پر پہنچا دیتے ہیں۔ یعنی حوالہ جات مرزائی لٹریچر ہی سے دیتے ہیں۔ پس خواجہ صاحب غور سے سنیں، لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی اپنی اردو تفسیر میں لکھتے ہیں :

٨٢

صفحہ ٣٤٥

"روح جسم کے ساتھ پیدا ہوتی ہے اور یہی مذہب اہل تحقیق کا ہے۔ جیسا کہ امام غزالی نے بھی لکھا ہے۔"

(بیان القرآن ص ١١٤٣)

قادیانی دوستو ! فرمان خداوندی : "شہد شاہد من اھلھا ، یوسف ٢٦" کے ماتحت بتاؤ اس عقیدے کو ایجاد مرزا کہہ سکتے ہو ؟ جس حال میں کہ صدیوں پیشتر امام غزالی بھی اسے نقل کرچکے ہیں ۔ خواجہ صاحب ! آپ جانتے ہیں دوسروں کے کام کو اپنی طرف لگا کر فخر کرنے والوں کے حق میں "کلام پاک" میں کیا ارشاد ہے :

"یحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا فلا تحسبنھم بمفازۃ من العذاب ، آل عمران ١٨٨" (جو لوگ بے کئے کاموں پر تعریف چاہتے ہیں وہ عذاب سے نہ چھوٹیں گے ۔)

بنایا کہ :

"انسان ایک پاک اور بالقوے مکمل فطرت لیکر آیا ہے۔ اس فطرت کی تربیت کے لئے مذہب اختیار کرتا ہے۔ یہ فطرت ناقص نہیں ہوتی۔ اس فلسفہ کی بنیاد تو آنحضرت ﷺ کی مشہور حدیث ہے لیکن یہ وہ فلسفہ ہے کہ جو مسئلہ گناہ ارثی کو باطل ٹھہرا کر عیسائیت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتا ہے۔ اسی طرح اس فلسفہ سے تناسخ کے عقیدے میں بھی تزلزل پیدا ہو جاتا ہے۔ جب ہر انسان فطرت سلیمہ لیکر دنیا میں آتا ہے تو سابق جنم کے تاثرات کہاں گئے۔ حضرت کے خدام نے فلسفہ کو بھی مفصل لکھا اور عیسائیت کے خلاف تو یہ ایک ایسا حربہ مغرب میں استعمال ہوا کہ اس کی ضرب نے کلیسیت کو چکنا چور کر دیا۔ قربان جاؤں حضرت خاتم النبیین کے کہ کس طرح وہ عام فہم الفاظ اور ساتھ ہی سریع الفہم طریق پر ایک اصول تعلیم کرتا ہے جو مذاہب باطلہ کے مضبوط قلعوں کو توڑ دیتا ہے۔" (مجدد کامل ص ١١٤)

جواب : ہم اپنے اعتقاد میں تو یہ عقیدہ صحیح جانتے ہیں مگر افسوس ہے کہ مرزا

٨٣

صفحہ ٣٤٦

قادیانی نے اس کے خلاف لکھا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

"اول خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست و برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے۔ اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنیٰ درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلاوے۔ پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تا وہ اعتدال پا کر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں۔"

(اصول اسلام کی فلاسفی ص ١٠‘ خزائن ج ١٠ ص ٣٢٤)

اس اقتباس میں مرزا قادیانی نے نیچرل (فطری) طور پر انسان میں اخلاق رذیلہ کا وجود تسلیم کیا ہے۔ پھر فطری طور پر انسان بھلا پاک کیسے ہوا؟ اور سنئے فرماتے ہیں :

"انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف تو ایک زہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدائے تعالیٰ کی محبت ہے۔"

(چشمہ مسیحی ص ٤٦‘ خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٠)

اس اقتباس میں بھی بدی کا تخم انسان میں فطری طور پر تسلیم کر کے مروجہ عیسائی مذہب کو قوت دی ہے۔ جو انسان کو موروثی گناہگار کہتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے سچ کہا ہے :

"قربان جاؤں خاتم النبیین کے کس طرح وہ عام فہم الفاظ میں اصول تعلیم کرتا ہے۔"

ساتھ ہی ہم مرزا قادیانی کی ہوشیاری کی بھی داد دیتے ہیں کہ کس طرح خاتم النبیین کے تعلیم کردہ اصول اپنے اتباع کو بھلاتے ہیں کہ وہ باوجود عقلمند ہونے کے یہ کہتے رہ جاتے ہیں :

ساحری کرد دو چشم تو وگرنہ زیں پیش
بود ہشیار تر از تو دل دیوانہ ما

٨٤

صفحہ ٣٤٧

کو دلیل کی شکل میں مغرب میں استعمال کیا۔ قرآن نے اس امر کو بہت ہی واضح طور پر لکھا ہے۔ لیکن مسلم طبائع اس سے کچھ ایسی اجنبی ہوگئیں کہ جب حضرت مرزا صاحب نے اس بات کو پیغام صلح میں لکھا تو اس پر سخت مخالفت ہوئی۔ وہ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم خدا کے ہادی یا رسول کی بعثت سے محروم نہیں رہی ہر ایک قوم کو مذہب حقہ خدا کی طرف سے ملا۔ لیکن بعد میں انسانوں نے اختلاف پیدا کر لیا اور مذہب حقہ میں آمیزش کر دی۔ اس اصول کو حضرت (مرزا صاحب) نے اپنی وفات سے چند دن پہلے بیان کیا۔"

(مجدد کامل ص ١١٥)

جواب : قرآن مجید کے کھلے الفاظ میں ارشاد ہے :

"ولکل قوم هاد ٠رعد ٧" "ہر قوم کے لئے ہادی ہوئے ہیں۔" "وان من امة الا خلا فیہا نذیر ٠فاطر ٢٤" "ہر قوم میں ڈرانے والے گزرے ہیں۔"

ہم حیران ہیں کہ اس عقیدے کو قرآنی اصول جانیں یا مخصوص مرزائی قرار دیں۔ خواجہ صاحب کس دلیری سے سچ فرماتے ہیں کہ "قرآن کا تعلیم کردہ ہے" جناب! قرآن کے تعلیم کردہ عقائد کو مرزائی علم کلام میں درج کرنا ہے تو مندرجہ ذیل امور بھی مرزائی علم کلام میں درج فرما لیجئے۔

توحید مانو، رسالت پر ایمان لاؤ، نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، وغیرہ۔

تعجب ہے : خواجہ صاحب مرزائیت کے ذمہ دار وکیل اور مرزائی لٹریچر کے

ماہر لکھتے ہیں :

"حضرت (مرزا صاحب) نے وفات سے چند دن پہلے بیان کیا۔" حالانکہ یہ مضمون مرزا قادیانی نے تحفہ قیصریہ کے ص ٥،٤ پر لکھا ہے جو ١٥ جنوری ١٩٠٤ء کو شائع ہوا تھا یعنی مرزا قادیانی کی وفات سے سوا چار سال پہلے۔ کیا سوا چار سال چند دن ہوتے ہیں؟۔ علاوہ اس کے ایک ایسے صحیح معقول اصول کو جو قرآن مجید کا تعلیم

٨٥

صفحہ ٣٤٨

کمزور ہے۔ مرزا قادیانی کو ظاہر کرنے میں تامل کیوں رہا۔ (اپنی مسیحیت کی اشاعت سے فرصت نہ ہو گی ۔)

(٩)............ ”مرزا صاحب نے ایک موٹا گر یہ بتلایا کہ تم ہر ایک مذہب کے اصول کو علیٰ وجہ التجربہ دیکھو بلکہ اس کی تنقیح و تجزیہ کرو۔ اس اصول کے اثر کو روزانہ اعمال پر دیکھو۔ پھر اگر دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا ہے۔ اگر کوئی اصول عملاً مفید ثابت ہو تو وہ قابل قبول ہے والا وہ ماننے کے قابل نہیں۔ مثلاً مسئلہ تناسخ کے رو سے ہمارا ہر ایک عمل کسی گزشتہ عمل کے ماتحت ہوتا ہے۔ گویا جو بھی ہم کرتے ہیں وہ مشین کی طرح کرتے ہیں۔ ہم اس پر مجبور ہیں جو ہم سے ہوتا ہے۔ وہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم کوئی نئی نیکی نہ کر سکیں اور نہ بدی سے بچ سکتے ہیں۔ نہ کوئی نئی ترقی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ پچھلے جنم کے آثار و اغلال ہیں۔ مسئلہ کفارہ اسی طرح ہر خوبی و ترقی کو روکتا ہے۔ مثلاً بیماریاں اگر کسی گزشتہ جنم کی بد عملی کا نتیجہ ہیں تو وہ اس بدی کے تناسب پر ہو کر رہیں گے پھر کیوں علاج کیا جائے۔ کیوں علم طب کو فروغ دیا جائے۔ تناسخ کے ماننے پر اس قسم کا جمود ایک ضرورت منطقیہ ہے۔ اسی طرح جب کفارہ پر ہی منحصر ہے تو کسی حسن اعمال کی کیا ضرورت ہے۔ الغرض اس نویں اصول کے ماتحت ہمیں اسی عقیدہ کو تسلیم کرنا چاہئے جو عمل میں آکر مفید ثابت ہو سکے۔"

(مجدد کامل ص ١١٥، ١١٦)

یہ اصول مرزا قادیانی کی کتب میں ہم کو نہیں ملا۔ باوجود اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ترک لحم کی وجہ سے اپنے اندر بہت اچھا اثر پاتا ہے۔ ایک برہمو اور بہائی اپنے عقیدے میں (کہ سارے مذاہب حق ہیں) بہت تسکین پاتا ہے۔

لطیفہ : مجھے ایک دفعہ لاہور کی دیو سماج (دہریہ پارٹی) کا ایک ممبر ریل گاڑی میں ملا باتوں باتوں میں اس نے کہا میں جب سے دیو سماجی ہوا ہوں میرا من بڑے آرام اور تسکین

٨٦

صفحہ ٣٤٩

میں ہے۔ میں کسی برائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اثر کا تعلق عقیدت سے ہے۔ مزید توضیح کے لئے ہم خواجہ صاحب کو قادیانی جماعت سے مثال پیش کرتے ہیں جو مرزا قادیانی کو نبی، رسول وغیرہ سب کچھ مانتے ہیں۔ لیکن بعض ان میں ایسے ہیں کہ ان کی زندگی بھلی معلوم نہیں ہوتی ہے۔ تو کیا ان کے حق میں بھی یہ اصول کام دے گا ؟۔

معلوم نہیں خواجہ صاحب نے مسئلہ تناسخ کو اس ضمن میں کیوں ذکر کیا اور کیونکر اس سے اس کا ابطال سمجھا۔ حالیہ آریہ دھرم میں تناسخ کی حقیقت وہی ہے جو پنڈت لیکھرام آریہ نے لکھی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں :

"مسئلہ آواگون (تناسخ) کے رو سے دو قسم کے جسم مانے گئے ہیں۔ ایک کرم جونی۔ دوسری بھوگ جونی۔ کرم جونی میں کام کئے جاتے ہیں۔ بھوگ جونی میں کرموں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ جس جسم میں سمجھنے کی طاقت اور نیک و بد کرنے کی تمیز دی گئی ہے وہ کرم جونی، اور جس جسم میں نہیں دی گئی وہ بھوگ جونی ہے۔ اس لحاظ سے انسان کرم جونی اور باقی بھوگ جونی ہیں۔"

(کلیات آریہ مسافر حصہ اول ص ٨٠ بحث ثبوت تناسخ)

دیکھئے : تناسخ والے انسانی جسم کی بابت کیا رائے دیتے ہیں۔ یعنی اس قیدی کی طرح جو ہر قسم کی سزا بھگت کر گھر میں آتا ہے۔ یہاں انسانی قالب میں وہ افعال کرنے میں فاعل مختار ہے۔

(١٠) .......... خواجہ صاحب لکھتے ہیں :

"عیسائیت کے خلاف جو یہ دسواں اصول پیدا ہوا وہ نہ صرف اپنی نوعیت میں نیا ہی تھا بلکہ اس نے اس مذہب کا ہی خاتمہ کر دیا۔ یہ بیان کیا گیا کہ مذہب کلیسوی کی کوئی تعلیم، کوئی عقیدہ، کوئی روایت، کوئی رسم، عبادت، حتیٰ کہ مصطلحات کلیسا تک بھی، ان سب میں ایک امر بھی ایسا نہیں جو قدیمی کفار کے مذاہب سے مسروقہ نہ ہو۔"

(مجدد کامل ص ١١٦)

٨٧

صفحہ ٣٥٠

جواب : اس حوالہ کا پتہ بھی مرزا قادیانی کی تحریرات میں نہیں ملا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس کو اصول کلامیہ میں داخل بھی نہیں کر سکتے۔ بھلا اس کے جواب میں مخالف اگر یہ کہیں کہ اسلام کی ہر بات کا پہلی قوموں میں کہیں نہ کہیں پتہ ملتا ہے۔ حتے کہ مصطلحات کا بھی مثلاً صلوٰۃ' صوم' حج' زکوٰۃ' یہ سب الفاظ عربیہ نزول قرآن اور آمدن اسلام سے پہلے تھے۔ اتباع مرزا کو اس کے جواب کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

ان اصول عشرہ کے بعد خواجہ صاحب نے ایک جامع جال بنایا ہے جس کی بابت یہ الفاظ ہیں :

"میں نے علم کلام بالا میں ایک خاص امر کا ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ بالواسطہ اسے مذہب سے تعلق نہ تھا۔ لیکن بالفاظ مرزا صاحب یہ وہ جال ہے جس میں چھوٹی بڑی سب مچھلیاں آ جاتی ہیں۔ آپ نے دعویٰ کیا کہ عربی زبان سے کل زبانیں نکلی ہوئی ہیں۔"

(مجدد کامل ص ١١٦)

ہم جواب : کیا دیں جبکہ خواجہ صاحب خود ہی لکھتے ہیں کہ : "میں نے اس مضمون پر توجہ کی تو جماعت قادیانی نے قابل مضحکہ باتیں اختیار کیں" (ص ١١٧) ہم افسوس کرتے ہیں کہ نہ مرزا قادیانی اس دعوے کو ثابت کر سکے نہ خواجہ صاحب کو جماعت مرزائیہ نے کرنے دیا۔ بلکہ مضحکہ اڑا دیا۔ سچ ہے :

اہل جوہر کی وطن میں گر فلک کرتا قدر
لعل کیوں اس رنگ میں آتے بدخشاں چھوڑ کر

تتمہ : خواجہ صاحب نے جو اصول علم کلام بتائے ان کی حقیقت تو ناظرین سمجھ چکے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے اصول بتاتے ہیں۔

علم مناظرہ میں ترتیب کلام یوں لکھی ہے :

"مدعی اپنا دعویٰ بیان کر کے اس پر دلیل لائے۔ پھر سائل اس پر تین طریقوں

٨٨

صفحہ ٣٥١

میں سے ایک طرح سے سوال کرے۔ وغیرہ۔"

(رشیدیہ ص ٢٦)

یہ ہے وہ اصول مناظرہ جو ہر ایک قوم ہر ایک حکومت کے قانون میں مروج اور مسلم ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اُسکے خلاف جو اصول مناظرہ قائم کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سائل پہلے تقریر کرے۔ چنانچہ مرزا قادیانی سوامی دیانند کو دعوت مناظرہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

"اول تقریر کرنے کا حق ہمارا ہو گا کیونکہ ہم معترض ہیں۔"

(اشتہار ١٠ جون ١٨٧٨ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ٧ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٧)

محمدی مناظرین: مطلع رہیں کہ جہاں کہیں مرزائی مناظروں سے گفتگو ہو اس اصول مرزا کے ماتحت پہلے تقریر کرنے کا حق مانگا کریں۔ کیونکہ آپ معترض ہوں گے اور وہ مجیب۔ وہ اسے منظور نہ کریں تو ان سے لکھوا لیا کریں کہ یہ اصول غلط ہے۔

ترک جہاد اور اطاعت انگریز

دوسرا اصول خاصہ جس کو مرزا قادیانی نے خود اصول سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا اظہار بالکل مرزا قادیانی ہی کے الفاظ میں موزوں ہے۔ جو یہ ہے :

"خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اسی مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کیلئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں۔ اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے

٨٩

صفحہ ٣٥٢

بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر وباطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔"

(تحفہ قیصریہ ص ١١، ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٣، ٢٦٤)

ہم اس غلامانہ خوشامد کو علم کلام میں دکھاتے ہوئے شرماتے ہیں۔ مگر کیا کریں مرزا قادیانی ہاں سلطان المتکلمین نے خود اس کو اصول بتایا ہے۔ لہذا ہم بھی ایسا ہی کہتے ہیں اور اس اصول کو مکمل دکھانے کے لئے مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت سامنے لاتے ہیں۔ جو یہ ہے :

"میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔"

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

ناظرین کرام! "عمر کا اکثر حصہ" اور "پچاس الماریاں" یہ دو لفظ آپ کے قابل غور ہیں۔ اتباع مرزا کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے قریب اسی (٨٠) کے کتابیں لکھیں ہیں۔

(اخبار پیغام صلح لاہور ٧ اگست ١٩٣٢ء ص ٢)

بہت خوب ! اسی کتابوں اور ان کے جملہ اشتہارات کو یکجا کر کے دیکھیں کہ ایک الماری بھی بھرتی ہے ؟۔

٩٠

صفحہ ٣٥٣

چیلنج : مرزائی دوستو! آؤ اسی سے اپنے "احمد مسیح" کی صداقت کا اندازہ کر لو کہ ان کی جملہ تحریرات شائع شدہ سے کتنی الماریاں بھرتی ہیں؟۔ پھر ان میں اسلام کی خدمت میں کتنی ۔ اور اپنی مسیحیت کے اثبات میں کتنی؟ پھر گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کی تعلیم میں کتنی ہوتی ہیں؟۔ اس کے بعد فیصلہ آسان ہو گا کہ تمہارا ہیرو بحیثیت مصنف صادق القول متکلم ہے یا مبالغہ گو شاعر ؟۔ حضرات! ہمارا شروع سے دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات صناعات خمسہ میں سے صنعت شعری پر مبنی ہیں۔ جس کا ثبوت ہم دیتے آئے ہیں۔ بطور مقطع غزل اخیر میں ان پچاس الماریوں کے مبالغہ کو بھی ہم شاعرانہ تخیل میں صحیح پاتے ہیں۔ جس کی مثال میں استاد داغ کا قول پیش کرنا کافی ہے :

پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

جیسے استاد داغ نے آسمان جلا دیئے ویسے ہی مرزا قادیانی نے پچاس الماریاں بھر دیں ؟۔ (جل جلالہ)

مرزا قادیانی کی تصانیف پر ایک معزز شہادت

سرسید احمد خان مرحوم اپنے زمانہ کے نامور مصنف تھے، مرزا صاحب کی تصنیفات کے حق میں فرماتے تھے :

" تصانیف مرزا صاحب قادیانی ایک ذرہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔"

(مقولہ سرسید مندرجہ در آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٠ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

معذرت : قادیانی دوستوں! کو ہماری تحریر سے ملال پیدا ہو تو حوالجات منقولہ اصل کتب میں دیکھیں جب دیکھیں گے تو ان کا ملال دور ہو جائے گا۔ کیونکہ ہم نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا بلکہ : آنچه استاد ازل گفت ہماں میگوئم !

آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين!

٩١

PDF 354

خوشخبری

ایک تحریک... وقت کا تقاضہ

بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کے مجموعہ رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کے نام سے اس وقت تک سات جلدیں شائع کی ہیں۔

(یہ نو جلدیں شائع ہوچکی ہیں) اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو جلد دہم‘ میں مرزا قادیانی کے نام نہاد قصیدہ اعجازیہ کے جوابات میں امت کے جن فاضل علماء نے عربی قصائد تحریر کئے وہ شامل اشاعت ہوں گے۔ اس سے آگے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔

طالب دعا! عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی دفتر ملتان

PDF 355

اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ صلی اللہ علیہ وسلم لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

عجائبات مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری

صفحہ ٣٥٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

علماء کرام کی آراء زرین

بررسالہ

عجائبات مرزا

مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹی

رسالہ ”عجائبات مرزا“ جناب مولانا ثناء اللہ صاحب فاتح قادیان نے تقریظ کے لئے ارسال فرمایا۔ مولانا ممدوح کی ذات گرامی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ملک ہندوستان میں بے مثل جامع عالم و مناظر ہیں۔ بالخصوص قادیانی لٹریچر میں آپ کو بے نظیر قابلیت حاصل ہے۔ مولانا ممدوح نے اس کتاب کا نام ”عجائبات مرزا“ رکھنے میں عجب کمال دکھایا جو واقعی اسم بامسمی ہے۔ مرزا قادیانی کی جو تحریریں اس کتاب میں زیر بحث لائی گئی ہیں وہ محض پریشان خیال اور خیالی تک بندیاں ہیں۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی اپنا وقت ان تک بندیوں میں کیوں خرچ کرتے تھے۔ والسلام خیر ختام!

جناب مولانا غلام محمد گھوٹوی شیخ الجامعہ عباسیہ بہاولپور

مولانا ثناء اللہ صاحب کا فضلاء ہند میں جو درجہ ہے وہ مزید تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ماشاء اللہ تعالیٰ بہت بڑے اسلامی مناظر ہیں۔ تمام فرق کفار کے مذاہب پر آپ کو سیر حاصل عبور حاصل ہے۔ بالخصوص قادیانی اور اس کے اذناب کے دھوکہ دہ بیانات واستدلالات کی قلعی کھولنے میں آپ کو یکتائی کا درجہ ملا ہے۔ آپ نے ”علم کلام مرزا“ میں اور اس کے بعد ”عجائبات مرزا“ میں جو در حقیقت پہلی کتاب کا بہ تبدیل نام دوسرا حصہ ہے۔

٢

صفحہ ٣٥٧

مرزا قادیانی کے دلائل کا بہترین جواب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت دے اور آپ کے ان حسنات میں مزید اضافہ کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے ان ہر دو کتب کو پڑھا ہے یہ دونوں کتابیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں یاد کر لیں۔ (احقر الانام غلام محمد)

جناب مولانا احمد اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ رحمانیہ دہلی

نحمد الله ونستعينه ونصلى على رسوله ،امابعد! رسالہ ”عجائبات مرزا“ مؤلفہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب رئیس المناظرین میں نے مطالعہ کیا۔ خوب ہی مکائد و ہفوات متضادہ مرزا غلام احمد اور ان کے پسر محمود احمد کو واضح فرمایا۔ اللہ سبحانہ مولانا موصوف کی سعی کو مشکور فرمائے۔ یہ اکاذیب و اساطیر باطلہ مرزا غلام احمد ہیں یا ماخولیا مسلوب العقل کے مزخرفات کا تودہ ہے۔ تعجب یہ ہے کہ پھر بھی مرسل من جانب اللہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اف لہ اور ان کے اتباع ایمان فروشی پر فریفتہ ہیں۔ خلق کے سامنے مکر و فریب کا جال ڈال رکھا ہے۔ جس کا نتیجہ :”يوم القيامة“ خسران و عذاب دائمی ہے۔ (حررہ احمد اللہ غفر لہ مدرس مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی مورخہ ٢٤ رمضان المبارک ١٣٥١ھ)

مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند

الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى، اما بعد! رسالہ ”عجائبات مرزا“ جس کو شیر پنجاب مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری کی تصنیف ہونے کا شرف حاصل ہے۔ احقر کی نظر سے گزرا۔ یہ رسالہ متنبئ قادیاں کے تہافت و تلبیس بیانی اور مصنف محترم کی صداقت معانی اور موشگافی کا آئینہ ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کو قرون وسنین کے بہت سے پیچیدہ حسابات لگا کر جوڑا تھا۔ لیکن ماشاء اللہ مصنف ممدوح کی ایک ہی ضرب نے دلیل کی ساری جمع تفریق باطل کر دی۔ گو مرزا قادیانی کے خلف مرزا محمود نے اس بہی کھاتہ کی جمعبندی کی تصحیح کرتے ہوئے ان فرضی حسابات کو بر قرار رکھنے کی سعی کی ہے۔ مگر مصنف کے نکتہ رس قلم نے اس سارے سیاہے پر سیاہی پھیر دی اور حاصل حساب کچھ بھی باقی نہ

٣

صفحہ ٣٥٨

چھوڑا : ”جزاہ اللہ عنا و عن جميع المسلمین خیر الجزاء .“ رسالہ ہر اعتبار سے نافع اور قابل استفادہ ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ! (احقر محمد طیب غفر لہ مہتمم دارالعلوم دیوبند ٢٢ رمضان المبارک ١٣٥١ھ)

مولانا محمد عالم مؤلف ”مکاویہ“ مدرس اسلامیہ سکول امرتسر

مرزا قادیانی کو ماؤف الدماغ نہ سمجھنا خود ماؤف الدماغی کا اعتراف ہو گا جس کے ثبوت بہم پہنچانے کو حضرت مولانا شیر پنجاب کی اس تازہ تصنیف کے ہر دو حصوں (”علم کلام مرزا“ و ”عجائبات مرزا“) کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ اس لئے ناظرین کا فرض ہے کہ مولانا کی ایسی تصانیف کو مطالعہ کر کے لطف اندوز ہوا کریں : ” والله الموفق “ (رقیمہ بندہ آسی مؤلف مکاویہ عفا عنہ )

مولانا غلام مصطفیٰ صاحب مفتی احناف امرتسر

الحمدلله وحده والصلوٰة والسلام علىٰ من لانبی بعده ! ”مرزا قادیانی کو اپنے زور کلام پر بڑا ناز تھا۔ اس کا اذناب بھی اس کو ”سلطان القلم“ اور جدید علم کلام کا بانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت مرزا کا کلام چند اوہام واختلافات کا مجموعہ ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے رسالہ ”علم کلام مرزا“ لکھ کر ایک اچھا کام کیا ہے۔ میں نے اس کا حصہ دوم (عجائبات مرزا) کے چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کیا۔ اس باب میں اس کو مفید پایا۔ حق تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو قادیانی مزخرفات سے محفوظ رکھے : ” بحرمة النبی الكريم عليه الصلوٰة والتسلیم“ وانا احقر الوریٰ غلام مصطفیٰ الحنفى القاسمى الامرتسری عفا الله عنه (٢٩ رمضان المبارک ١٣٥١ھ)

مولانا احمد علی صاحب شیرانوالہ دروازہ لاہور

”عجائبات مرزا“ مرتبہ امام المناظرین فخر المتکلمین عمدة المحققین حضرت مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ صاحب مدظلہ امرتسری کو میں نے اول سے آخر تک غور سے

٤

صفحہ ٣٥٩

پڑھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے عمر دنیا کی تحقیق میں جو انوکھا ثبوت اپنی نبوت کا پیش کیا تھا۔ مولانا ممدوح نے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی عبارات ہی سے تضاد ثابت کر کے اس تحقیق کی تکذیب اور انہی کے منہ سے ان کی نبوت مخترعہ کی تردید کر کے دکھائی ہے۔ چونکہ مرزا بشیر الدین محمود بھی اس استدلال میں اپنے والد صاحب کے ہمنوا ہیں۔ علاوہ اس کے خلیفہ صاحب نے اپنے والد (مرزا) کو دور جدید کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا نے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ بشیر الدین محمود کے استدلال کی بناء پر مرزا قادیانی کی عمر ایک ہزار اکتیس سال ہوتی ہے۔ وذلك صريح البطلان! یہ فضل مولانا المکرم ہی کے حصہ میں ازل سے آیا ہے کہ ان کے قلم گوہر رقم کے نکات دور حاضر کے دجال کے دجل کیلئے عصاء موسیٰ کا کام دیتے ہیں۔ دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس خدمت عظمیٰ کو قبول فرمائے اور مولانا ممدوح کو مدت مدید تک دین مبین کے احیاء کیلئے سلامت رکھے۔ آمین! (احقر الانام، احمد علی عفی عنہ امیر انجمن خدام الدین)

مولانا ابو القاسم صاحب سیف بنارسی

”میں نے رسالہ ”عجائبات مرزا“ مصنف مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ پڑھا۔ قادیانی متنبی کی نسبت آپ کی مفید و پر از معلومات تصنیفات پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا کی باتیں محض مجنوں کی بڑ ہیں جو مسیح موعود کو کبھی دنیا کے چھٹے ہزار میں کہتا ہے اور کبھی ساتویں ہزار میں۔ حالانکہ دنیا کی عمر کی کوئی روایت یا اثر عند المحدثین صحیح اور معتبر نہیں۔ اسی طرح عیسوی مذہب کو چوتھے ہزار میں پیدا ہونا بالکل نئی تاریخ یا یکسر غلط اور لغو ہے۔ آخر میں خلیفہ محمود کی جو تحریر منقول ہے۔ وہ اس مثل کی مصداق ہے : ”بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ!“ باری تعالیٰ مصنف کے علم و فضل میں برکت دے کہ آپ کے ذریعہ سے ہم لوگ زمانہ حال کے دجاجلہ کے دجل و فریب سے واقف ہو جاتے ہیں۔ آپ کی محنت واقعی قابل داد ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاء عنایت فرمائے۔“ (محمد ابو القاسم البنارسی)

٥

صفحہ ٣٦٠

انكم لفي قول مختلف . يوفك عنه من افك!

عجائبات مرزا

پہلے مجھے دیکھئے

خدا کی شان ہے میں جب کبھی کوئی کتاب مرزا قادیانی متوفی کے خیالات کی تردید میں شائع کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ قادیانی مباحث پر اب کسی اور کتاب کی ضرورت نہ ہو گی۔ مگر چند روز بعد ایک نیا مضمون دیکھتا ہوں تو جی میں آتا ہے کہ جو لطف میں نے اس سے پایا ہے پبلک کو بھی اس میں شریک کروں۔ چند روز کا واقعہ ہے کہ میں نے رسالہ ”علم کلام مرزا“ شائع کیا جس میں مرزا قادیانی کو بحیثیت مصنف اور متکلم کے پبلک میں پیش کیا وہ رسالہ اکابر علماء کو بہت پسند آیا۔ چنانچہ علماء کرام نے اس پر پرزور رائیں لکھیں ایک عنایت فرمانے تو اس کی تحسین میں یہاں تک لکھا کہ اس موضوع میں کچھ مزید بھی چاہئے۔ انہی کے اشارے سے میرے دل میں ایک باب کا اضافہ ہوا جو آج ہدیہ ناظرین ہے۔ اس لحاظ سے اس رسالہ کو ”علم کلام مرزا“ کا دوسرا حصہ سمجھنا چاہئے۔ اس میں مرزا قادیانی کی صرف ایک دلیل پر بحث کی گئی ہے۔ جس کی بابت ان کا دعویٰ ہے کہ : ”وہ میرے مسیح موعود ہونے پر کھلی دلالت کرتی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢)

چونکہ مرزا نے اس بحث کو بطور مستدل کے پیش کیا ہے۔ اس لئے ”علم کلام مرزا“ میں اس کو جگہ مل سکتی ہے۔ اگر وہ اس کو خالص الہامی صورت میں رکھتے تو ہم بھی اس کو ”علم کلام“ میں نہ لاتے۔ بلکہ الہامات مرزا میں رکھتے۔

مزید لطف : کیلئے اسی باب کا ایک ضمیمہ لگایا گیا ہے۔ جس میں میاں محمود احمد خلف مرزا قادیانی متوفی کے جواہر ریزے دکھائے گئے ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ”الولد سر لابیہ“ بالکل صحیح ہے۔

ابو الوفاء ثناء اللہ مصنف امرتسری / شوال ١٣٥١ھ فروری ١٩٣٣ء

٦

صفحہ ٣٦١

بسم اللہ الرحمن الرحیم !

عجائبات مرزا

دلچسپ قابل دید و شنید

مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعودہ پر مختلف قسم کی کئی ایک دلیلیں پیش کی ہیں۔ عقلی بھی اور نقلی بھی۔ آج جس دلیل پر ہم بحث کرنے کو ہیں یہ بڑی زبر دست عقلی اور نقلی دلائل سے مرکب دلیل ہے۔ اس دلیل کا خلاصہ سنتے ہی سامع کو اس کی نسبت اعتماد ہو سکتا ہے۔ خلاصہ اس کا ہمارے الفاظ میں یہ ہے :

”قرآن اور احادیث اور جملہ انبیاء علیہم السلام کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے قیامت تک دنیا کی عمر سات ہزار سال (حساب قمری) ہے۔ کل انبیاء نے بتایا ہوا ہے کہ مسیح موعود دنیا کے چھٹے ہزار میں مامور اور مبعوث ہو کر اہل دنیا کو ضلالت اور بربادی سے بچائے گا۔ چنانچہ میں (مرزا) اسی چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔“

(عربی رسالہ مالفرق بین آدم والمسیح الموعود خطبہ الہامیہ ص ٣١٠، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

مبنی گفتگو حضرت آدم علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ہے جبکہ وہ تاریخی زمانہ سے پہلے کا واقعہ ہے تو اس کا علم کیسے ہو ؟۔ سو مرزا قادیانی کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس سے ہمیں سبکدوش فرمایا۔ چنانچہ لکھا ہے :”آنحضرت ﷺ حضرت آدم علیہ السلام سے قمری حساب ١؎ کے رو سے چار ہزار سات سو انتالیس برس بعد میں مبعوث ہوئے ہیں۔“

(کتاب تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٩٢، خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٤٧)

١؎ یادرہے خدا نے حساب قمری رکھا ہے۔

(تتمہ کتاب حقیقت الوحی ص ٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٧)

٧

صفحہ ٣٦٢

پس اب سارے حساب میں آسانی ہو گئی۔ تیرہ سال اقامت مکہ کے ملائیں تو سنہ اول ہجری کو انسانی دنیا کی عمر چار ہزار سات سو باون سال ہوئے۔ ان میں دو سو اڑتالیس ملانے سے پورے پانچ ہزار ہو جائیں گے۔ یعنی ٤٧٥٢ کو دنیا کی عمر پورے پانچ ہزار سال ہو گئی تھی۔ اس کے بعد چھٹا ہزار چلا جو ١٣٢٨ھ کو ختم ہوا۔ اب ہم مرزا قادیانی کا کلام یکے بعد دیگرے ناظرین کے سامنے اصل الفاظ میں پیش کئے دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے اس خصوص میں اپنے متعلق دو دعوے کئے ہیں۔ ایک! یہ کہ میں چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔ دوم! میری بعثت دراصل آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ اس بیان میں آپ کی تحریر بہت لطیف ہے۔ ناظرین بغور سنیں۔ فرماتے ہیں :

”آنحضرت ﷺ کے بعث اول کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کیلئے تھا۔ مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ :”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم ۔ “ میں اشارہ ہے۔ وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی ہے۔ جیسا کہ آیت : ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ۔ “ اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہوگا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے۔ اس مجازی احمد کے پیرائے میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی۔ یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں اور اس پر نادان مولویوں نے جیسا کہ ان کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا۔ حالانکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ اس پیشگوئی کا زیر و زبر ہو جاتا ہے۔ بلکہ قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے۔ لہذا جیسا کہ مومن کیلئے دوسرے احکام الہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں : (١)...... ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ

٨

صفحہ ٣٦٣

آیت ہے : ” محمد رسول الله والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم .“ (٢)......دوسر ابعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت حوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے : ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد .“ . (تحفہ گولڑویہ تقطیع کلاں ص ٩٦ خزائن ج ١٧ ص ٢٥٤‘٢٥٣)

ناظرین کی تفہیم کیلئے تھوڑی سی تشریح کئے دیتے ہیں۔ قرآن شریف کی سورہ جمعہ میں یوں ارشاد ہے :

”ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ . وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین . وآخرین منھم لما یلحقوا بھم . وھو العزیز الحکیم . سورہ جمعہ ٢“

ترجمہ : ”خدا نے عرب کے ان پڑھوں میں رسول بھیجا جو خدا کے احکام ان کو سناتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ تحقیق وہ اس سے پہلے گمراہ تھے اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ ان میں بھی یہی رسول بھیجا ہے۔“

مرزا قادیانی کہتے ہیں : اس آیت میں آنحضرت کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق الامیین یعنی عربوں سے ہے۔ دوسری بعثت وہ جس کا تعلق عجم یعنی ہندوستان وغیرہ سے ہے۔ یہ بعثت : ”وآخرین منھم . “ سے نکلتی ہے۔ مطلب آیت کا یہ بتاتے ہیں کہ خدا نے آنحضرت کو پہلی بعثت کے وقت عربوں میں مبعوث کیا۔ دوسری میں سب دنیا خصوصاً ہندوستان میں کیا۔ اس دوسری بعثت میں خود تشریف نہیں لائے بلکہ (مرزا کی) شکل میں آپ کی بعثت ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ میں یہ تشریح پڑھئے۔

فرماتے ہیں :

”اس وقت حسب منطوق آیت : ” وآخرین منھم لما یلحقوا بھم . “اور نیز حسب منطوق آیت : ” قل یاایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا .“ آنحضرت ﷺ کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار

٩

صفحہ ٣٦٤

اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے۔ کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ تمام کافہ ناس کے لئے آیا ہوں۔ اور اب یہ وہ وقت ہے کہ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں۔ قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں۔ اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔ تب آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر میں ملک ہند میں آؤنگا۔ کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل و نحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے۔ اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہئے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے اور چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت : ”وآخرین منہم ،“ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا کہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔ لیکن یہ امر کہ یہ دوسرا بعث کس زمانہ میں چاہئے تھا۔ اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ کے کاموں میں تناسب واقع ہے اور : ”وضع شیئی فی محلہ ،“ اس کی عادت ہے جیسا کہ اس حکیم کے مفہوم کا مقتضا ہونا چاہئے اور نیز وہ بوجہ واحد ہونے کے وحدت کو پسند کرتا ہے۔ اس لئے اس نے یہی چاہا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآن خلقت آدم کی طرح چھٹے دن کی گئی۔ یعنی بروز جمعہ ١؂۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں) ایسا ہی تکمیل اشاعت کا زمانہ بھی وہی ہو جو چھٹے دن سے مشابہ ہو لہٰذا۔ اس نے اسی بعث دوم کے لئے ہزار ششم کو پسند فرمایا اور وسائل اشاعت بھی اسی ہزار ششم میں

١٠

صفحہ ٣٦٥

وسیع کئے گئے اور ہر ایک اشاعت کی راہ کھولی گئی۔ ہر ایک ملک کی طرف سفر آسان کئے گئے جابجا مطبع جاری ہو گئے۔ ڈاک خانہ جات کا احسن انتظام ہو گیا اکثر لوگ ایک دوسرے کی زبان سے بھی واقف ہو گئے اور یہ امور ہزار پنجم میں ہر گز نہ تھے۔ بلکہ اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گذشتہ عمر کے دن ہیں۔ ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا ہوا تھا اور جو کچھ ان میں سے موجود تھا وہ ناتمام اور کم قدر اور شاذو نادر کے حکم میں تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ کلاں ص ١٠١ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٢ تا ٢٦٣)

ناظرین کرام ! آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں جو چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں۔ یہ میری بعثت در حقیقت آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ ہے۔ اسی لئے اس بعثت مرزائیہ سے انکار کرنے والے کو مرزا قادیانی قرآن شریف کا منکر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٧١ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی خود بعثت محمدیہ ”علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ“ مبعوث ہوئے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے اتباع بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درجہ پر فائز ہوں۔ چنانچہ آپ نے اس کی تصریح فرما دی ہے کہ :

١۔ جمعہ کو دنیا کا چھٹا روز کہنا عیسائی معمول ہے جو اتوار سے ہفتہ شروع کرتے ہیں۔ شرع اسلام میں جمعہ ساتواں دن ہے۔ کیونکہ شرعی ہفتہ سنیچر سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ عربی میں سنیچر کو یوم السبت کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی عیسائیوں کے لئے عیسیٰ بن کر آئے مگر اصطلاحات میں ان کے موافق ہو گئے۔

١١

صفحہ ١٢

”جو میری جماعت میں داخل ہوا وہ درحقیقت خیر المرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنے : ”آخرین منھم “ کے لفظ کے ہیں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨‘ ٢٥٩‘ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

لطیفہ : صحابہ کے بعد فضیلت میں دوسرا درجہ تابعین کا ہے۔ جنہوں نے صحابہ کرام کو دیکھا پس جن لوگوں نے مرزا قادیانی کو نہیں دیکھا وہ ان کے اتباع کو دیکھ کر تابعین بن سکتے ہیں۔ (مگر ایمان شرط ہے) :

شیر قالیں دگر است شیر نیستان دگر است

ناظرین : مرزا قادیانی نے چھٹے ہزار میں مبعوث ہونا پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”پھر (خدا نے) ارادہ فرمایا کہ پوشیدگیوں کو پورے طور پر ایک ہی شخص میں ظاہر کرے جو ان خصلتوں کا مظہر ہو۔ پس آدم کی روحانیت نے جامع کامل تجلی کے ساتھ جمعہ کے دن آخری ساعت میں تجلی فرمائی۔ یعنی اس دن جو چھ کا چھٹا ہے۔ اسی طرح ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہائی نہ تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کیلئے اور اپنے نور کے غلبہ کیلئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں وہی مظہر ہوں۔ پس ایمان لاؤ اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ : ” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی “ آخر آیت تک۔ پس یہ اظہار کا وقت اور روحانیت کے ظہور کے کمال کا وقت ہے۔ اے مسلمانوں کی جماعت اور اسی لئے آثار میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ چھٹے ہزار میں

صفحہ ٣٦٧

مبعوث ہوئے۔ حالانکہ آنجناب کی بعثت قطعاً اور یقیناً پانچویں ہزار میں تھی۔ پس شک نہیں کہ یہ اشارہ ہے تجلی تام کے وقت کی طرف اور استیفاء مرام کی طرف اور روحانیت کے ظہور کے کمال کی طرف اور جہاں میں محمدی فیوض کے موج مارنے کے دنوں کی طرف اور یہ چھٹے ہزار کا آخر ہے جو زمانہ کہ مسیح موعود کے اترنے کیلئے مقرر ہے جیسا کہ انبیاء کی کتابوں سے سمجھا جاتا ہے اور یہ زمانہ یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔ جیسا کہ آیت : ”وآخرین منھم .“ اور پاک تحریروں کی دوسری آیتوں سے مفہوم ہوتا ہے۔ پس اگر تو عقلمند ہے تو فکر کر اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے اور یہ قرآن سے ثابت ہے اس میں انکار کی گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنے سے سر نہیں پھیرتا کیا : ”وآخرین منھم .“ کی آیت میں فکر نہیں کرتے اور کس طرح ”منھم .“ کے لفظ کا مفہوم متحقق ہو۔ اگر رسول کریم ”آخرین“ میں موجود نہ ہوں جیسا کہ پہلوں میں موجود تھے۔ پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کی تسلیم سے چارہ نہیں اور منکروں کیلئے بھاگنے کا راستہ بند ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٥ تا ٢٧١ خزائن ج ٢١ ص ایضاً)

اسی کی مزید تشریح بھی سنئے ۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

”ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ تکمیل ہدایت کا دن چھٹا دن تھا۔ یعنی جمعہ اس لئے رعایت تناسب کے لحاظ سے تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا دن ہی مقرر کیا گیا۔ یعنی آخر الف ششم جو خدا کے نزدیک دنیا کا چھٹا دن ہے۔ جیسا کہ اس وعدہ کی طرف آیت : ”لیظھرہ علی الدین کلہ .“ اشارہ فرما رہی ہے اور اس چھٹے دن میں آنحضرت ﷺ کے خواص و رنگ پر ایک شخص جو مظہر تجلیات احمدیہ اور محمدیہ تھا مبعوث فرمایا گیا تا تکمیل اشاعت ہدایت قرآنی اس مظہر تام کے ذریعہ سے ہو جائے۔ غرض خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے اس بات کا التزام فرمایا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی چھٹے دن ہوئی تھی۔ ایسا ہی تکمیل اشاعت ہدایت قرآنی کیلئے الف ششم مقرر کیا گیا جو موجب نص قرآنی چھٹے دن کے حکم میں

١٣

صفحہ ٣٦٨

ہے اور جیسا کہ تکمیل ہدایت قرآنی کا چھٹا دن جمعہ تھا ایسا ہی ہزار ششم میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمعہ کا مفہوم مخفی ہے۔ یعنی جیسا کہ جمعہ کا دوسرا حصہ تمام مسلمانوں کو ایک مسجد میں جمع کرتا ہے اور متفرق ائمہ کو معطل کر کے ایک ہی امام کا تابع کر دیتا ہے اور تفرقہ کو درمیان سے اٹھا کر اجتماعی صورت مسلمانوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ یہی خاصیت الف ششم کے آخری حصہ میں ہے۔ یعنی وہ بھی اجتماع کو چاہتا ہے۔ اسی لئے لکھا ہے کہ اس وقت اسم ہادی کا پرتو ایسے زور میں ہو گا کہ بہت دور افتادہ دلوں کو بھی خدا کی طرف کھینچ لائے گا اور اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے : ” ونفخ فی الصور فجمعنا ھم جمعا “ پس یہ جمع کا لفظ اسی روحانی جمعہ کی طرف اشارہ ہے۔ غرض آنحضرت ﷺ کیلئے دو بعث مقدر تھے۔ ایک بعث تکمیل ہدایت کیلئے۔ دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کیلئے۔ اور یہ دونوں قسم کی تکمیل روز ششم سے وابستہ تھی تا خاتم الانبیاء کی مشابہت خاتم المخلوقات سے اتم اور اکمل طور پر ہو جائے اور تا دائرہ خلقت اپنے استدارات کاملہ کو پہنچ جائے۔ سو ایک تو وہ روز ششم تھا جس میں آیت : ” الیوم اکملت لکم دینکم “ نازل ہوئی۔ اور دوسرے وہ روز ششم ہے جس کی نسبت آیت : ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ میں وعدہ تھا۔ یعنی آخری حصہ ہزار ششم اور اسلام میں جو روز ششم کو عید کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی جمعہ کو یہ بھی درحقیقت اسی کی طرف اشارہ ہے کہ روز ششم تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کا دن ہے۔ اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپؐ کی شریعت تمام دنیا کیلئے عام تھی اور آپؐ کی نسبت فرمایا گیا تھا : ” ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین “ اور نیز آپؐ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا : ” قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “ سو اگرچہ آنحضرت ﷺ کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئی۔ لیکن مضمون آیت : ” قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “ صرف آنحضرت ﷺ کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا۔ کیونکہ

١٤

صفحہ ٣٦٩

کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ١٢٧٥ ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں۔ عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہرگز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے۔ لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا : ”ومن بلغ“ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی ان تک نہیں پہنچی۔ ایسا ہی آیت : ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم“ اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منھم کا لفظ ہے۔ وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کیلئے موزوں ہے مبعوث ہو گا جو آنحضرت ﷺ کے رنگ میں ہو گا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٩‘ ١٠٠ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٠‘ ٢٦١)

ناظرین ! ہم آپ کا وقت زیادہ لینا نہیں چاہتے ورنہ مرزا قادیانی نے کئی ایک کتابوں میں اس مضمون کو بار بار لکھا ہے کہ میں چھٹے ہزار میں مسیح موعود بن کر مبعوث

١٦

صفحہ ٣٧٠

ہوا ہوں۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود مکرر سہ کرر چھ ہزار رٹنے کے چھٹا ہزار ایسا بھول گئے کہ ہمیں یہ کہنے کا موقعہ ملا :

کیا وعدہ تمہیں کر کے مکرنا نہیں آتا

ناظرین! ہمارے پیش کردہ حوالجات بغور پڑھیں۔ مسیحیت کے دعویٰ کے متعلق سب سے پہلی کتاب مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام لکھی ہے۔ اس میں فرماتے ہیں :

لطیفہ! ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو : ”الآیات بعد المأتین“ ہے ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ”غلام احمد قادیانی“ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٥‘ خزائن ج ٣ ص ١٩٠‘ ١٨٩)

اسی کی تائید میں ایک حوالہ اور پیش ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں :

”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدائے تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعے سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔ اور یہ اس طرف اشارہ تھا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پھر اسی زمانہ میں خدا نے میرا نام عیسیٰ بھی رکھا۔“

(تریاق القلوب ص ٢٨‘ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

ناظرین! ورق الٹ کر اس رسالہ پر ملاحظہ فرمائیں جہاں ہم نے ثابت کیا ہے

١٥

صفحہ ٣٧١

کہ حسب تصریح مرزا قادیانی انسانی دنیا کا چھٹا ہزار ١٢٢٨ہجری میں ختم ہو چکا۔ مگر مرزا قادیانی چودہویں صدی کے شروع میں مامور اور مبعوث ہوئے تو چھٹے ہزار میں کہاں ہوئے بلکہ ساتویں ہزار میں سے باون سال گزار کر مبعوث ہوئے۔

مرزائی دوستو! اپنا اعتقادی حصہ الگ کر کے اپنے رئیس المتکلمین کے علم کلام کو بحیثیت متکلم جانچو گے تو ہمارا قول صحیح پاؤ گے :

ہم شیخ کی سنتے تھے مریدوں سے بزرگی
جاکر کے جو دیکھا تو عمامہ کے سوا ہیچ

حضرات! اور سنئے۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں :

”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار برس میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٩٥‘ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٥٢)

غور فرمائیے کہ چھٹے ہزار میں سے کل گیارہ سال رہتے تھے تو ساتواں ہزار شروع ہونے تک مرزا قادیانی کی عمر کل گیارہ سال کی ہو گی۔ حالانکہ آپ فرما چکے ہیں کہ میں چالیس سال کی عمر میں مامور اور مبعوث ہوا۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ انتیس سال ساتویں ہزار میں سے لے کر آپ مبعوث ہوئے۔

اس پر طرفہ یہ ہے کہ آپ تحفہ گولڑویہ مطبوعہ ١٩٠٢ء مطابق ١٣٢٠ھ میں فرماتے ہیں :

”ہمارا یہ زمانہ (١٣٢٠ھ) حضرت آدم علیہ السلام سے ہزار ششم پر واقع ہے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے یہ چھٹا ہزار جاتا ہے۔ (جل جلالہ)“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١ خزائن ج ١٧ ص ٢٤٥)

غور فرمائیے چھٹا ہزار ١٢٢٨ہجری میں ختم ہو گیا۔ تاہم ١٣٢٠ھ میں یعنی ٥٢+٢٠=٧٢ سال تک بھی وہی چھٹا ہزار جاری ہے۔ ابھی آگے بھی۔

١٧

صفحہ ٣٧٢

اس طرفہ پر طرہ یہ ہے کہ ١٩٠٦ء مطابق ١٣٢٤ھ کو مرزا قادیانی ایک عبارت تحریر فرماتے ہیں :

”اب چھٹا ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر ہے۔ جس میں خدا کے سلسلہ کو فتح ہو گئی اور روشنی اور تاریکی میں یہ آخری جنگ ہے۔“

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب‘ خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦‘ مورخہ یکم مارچ ١٩٠٦ء مطابق محرم ١٣٢٤ ہجری)

مطلب یہ ہے۔ ١٣٢٤ھ تک دنیا کی عمر کا چھٹا ہزار ختم نہیں ہوا۔ اور سنئے ! فرماتے ہیں :

”ضرور ہے کہ مہدی اور مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظاہر ہو۔ کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ کلاں ص ٩٥‘ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٢٥٠)

ناظرین ! مندرجہ ذیل اقتباسات پر غور فرمائیں :

نتیجہ : چونکہ چودہویں صدی ہزار ششم میں ہے۔ مرزا قادیانی اسی صدی میں فوت ہوئے اور گیارہ سال رہتے ہوئے پیدا ہوئے تھے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر گیارہ سال بھی پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ بوقت انتقال مرزا ہزار ششم ابھی باقی تھا۔

حضرات ! کتنا کمال ہے کہ اتنی تھوڑی سی عمر میں آپ نے علوم پڑھے۔ سیالکوٹ میں محرری کی۔ مختار عدالت کا امتحان دیا۔ مجدد بنے۔ مہدی بنے۔ مسیح بنے۔ کرشن بنے۔ غرض سب کچھ بنے۔ لیکن ہزار ششم کے گیارہ سال ختم نہ ہوئے۔ کیا یہ کرامت نہیں :

١٨

صفحہ ٣٧٣
این کرامت ولی ماچہ عجب
گربه شاشید گفت باران شد

ناظرین کرام! ہمارا گمان بلکہ یقین ہے کہ آپ لوگ مرزا قادیانی کے کلام با نظام سے اکتائے نہ ہوں گے۔ بلکہ ہماری طرح مسرور و محظوظ ہوتے ہوں گے۔ ہاں! طوالت سے ملال ہونے پر استاد غالب کا یہ شعر پڑھتے ہیں :

ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی
عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کیلئے

اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود بار بار رٹنے کے چھٹا ہزار بھول گئے۔ ایسے بھولے کہ مطلق یاد نہ رہا فرماتے ہیں : ”تمام نبیوں کی متفق علیہ تعلیم ہے کہ مسیح موعود ہزار ہفتم کے سر پر آئے گا۔ (جلّ جلالہ وعمّ نوالہ)“

(لیکچر سیالکوٹ مطبوعہ ١٩٠٤ء ص ٨ خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٩)

اس تشتت بال اور تہافت مقال پر بھی قادیان کے سلطان القلم فرماتے ہیں : ”القصہ میری سچائی پر یہ ایک دلیل ہے کہ میں نبیوں کے مقرر کردہ ہزار (ششم یا ہفتم یا کوئی اور ؟) میں ظاہر ہوا ہوں اور اگر اور کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تو یہی ایک دلیل روشن تھی جو طالب حق کیلئے کافی تھی۔ کیونکہ اگر اس کو رد کر دیا جائے تو خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں باطل ہوتی ہیں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٨ خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٩)

اب ہم مرزا قادیانی کی ایک فیصلہ کن عبارت پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ناظرین کو شالا مار باغ کے دوسرے قطعہ کی سیر کرائیں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں : ”تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک تمام دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے اور ہدایت اور گمراہی کیلئے ہزار ہزار سال کے دور مقرر کئے ہیں۔ یعنی ایک وہ دور ہے جس میں ہدایت کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ دور ہے جس میں ضلالت اور گمراہی کا غلبہ ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے

١٩

صفحہ ٣٧٤

بیان کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں یہ دونوں دور ہزار ہزار برس پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ اول دور ہدایت کے غلبہ کا تھا۔ اس میں بت پرستی کا نام و نشان نہ تھا۔ جب یہ ہزار سال ختم ہوا تب دوسرے دور میں جو ہزار سال کا تھا۔ طرح طرح کی بت پرستیاں دنیا میں شروع ہو گئیں اور شرک کا بازار گرم ہو گیا اور ہر ایک ملک میں بت پرستی نے جگہ لے لی۔ پھر تیسرا دور جو ہزار سال کا تھا۔ اس میں توحید کی بنیاد ڈالی گئی اور جس قدر خدا نے چاہا دنیا میں توحید پھیل گئی۔ پھر ہزار چہارم کے دور میں ضلالت نمودار ہوئی اور اسی ہزار چہارم میں سخت درجہ پر بنی اسرائیل بگڑ گئے اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہو گیا اور اس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا۔ پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو ہدایت کا دور تھا یہ وہ ہزار ہے جس میں ہمارے نبی ﷺ مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر توحید کو دوبارہ دنیا میں قائم کیا۔ پس آپ کے منجانب اللہ ہونے پر یہی ایک زبردست دلیل ہے کہ آپ کا ظہور اس ہزار کے اندر ہوا جو روز ازل سے ہدایت کیلئے مقرر تھا اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں سے یہی نکلتا اور اسی دلیل سے میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس تقسیم کی رو سے ہزار ششم ضلالت کا ہزار ہے اور وہ ہزار ہجرت کی تیسری صدی کے بعد شروع ہوتا ہے اور چودہویں صدی کے سر تک ختم ہوتا ہے اس ہزار ششم کے لوگوں کا نام آنحضرت نے فج اعوج رکھا ہے اور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے۔"

(لیکچر سیالکوٹ ص ٦‘ ٧‘ خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٧‘ ٢٠٨)

ناظرین! اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تین دعوے کئے ہیں: (١)...... عیسائی مذہب چوتھے ہزار میں پیدا ہوا اور اسی ہزار میں فنا ہو گیا۔ (٢)...... دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ ہزار ششم گمراہی کا ہے۔ (٣)....... تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ ساتواں ہزار زمانہ مسیح موعود کا ہے۔

٢٠

صفحہ ٣٧٥

دعویٰ اول: کی بابت تو ہم تفصیل سے کہنا چاہتے ہیں۔ پس ناظرین غور سے سنیں:

مرزا قادیانی کا کتنا دعویٰ اور کتنی جرات ہے لکھتے ہیں کہ عیسائی مذہب چوتھے ہزار میں تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہو گیا۔ مرزا قادیانی کے جواب میں ہمیں کبھی منطقی فلسفی دلیل یا قرآن وحدیث سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اپنا قول ہی ان کی تردید یا بالفاظ دیگر تکذیب کیلئے کافی ہوتا ہے۔

ناظرین غور فرمائیں: دنیا کی عمر کے ٤٧٣٩ میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش اپریل ٥٧١ء کو ہوئی۔ قمری حساب سے تخمینا سولہ سال اور بڑھا لیجئے تو ولادت نبویہ سے پانسو ستاسی سال پہلے حضرت مسیح کا زمانہ بالفاظ دیگر دین عیسوی کا زمانہ شروع ہوتا ہے اور یہ پانسو ستاسی سال دنیا کی عمر ٤٧٣٩ سے تفریق کریں تو پیدائش مسیح تک باقی ٤١٥٢ سال دنیا کی عمر رہتی ہے۔ جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ دین عیسوی کی ابتدا ہی پانچویں ہزار میں ہوئی۔

اور طرح سے: ہم چونکہ مرزا قادیانی کے قائل اور مخاطب ہیں۔ اس لئے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم مولانا شبلی وغیرہ کے مرہون منت ہوں۔ جبکہ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں:

”افضل البشر (محمد رسول اللہ ﷺ) مسیح سے چھ سو برس پیچھے آیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کی خاطر سے ہم حضرت مسیح کی ایک سو تیس عمر بھی ملالیں تو سارا زمانہ سات سو تیس سال ہوتا ہے۔ ٤٧٣٩ میں سے سات سو تیس تفریق کرنے سے ٤٠١٩ سال بچے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش دنیا کی عمر کے حساب سے بحساب مرزا قادیانی ٤٠١٩ میں ہوئی۔ یعنی پانچویں ہزار میں مگر مرزا قادیانی دین عیسوی کو چوتھے ہزار

٢١

صفحہ ٣٧٦

میں پیدا کر کے فنا بھی کر چکے ہیں۔

عیسائی ممبرو : کہاں ہو؟ کیا کہتے ہو؟ اب بھی قادیانی معجزہ پر ایمان لاؤ گے یا نہیں؟ کہ تمہیں پیدا ہونے سے پہلے ہی مرزا قادیانی نے مار دیا۔ یہی معنی ہیں۔

چلی ہے تیغ بل کرتی ہوئی زخم آئے ہیں ترچھے
نہ بول اٹھے کوئی یا رب کہ بانکا اس کا قاتل ہے

دوسرا دعویٰ : آپ کا عبارت منقولہ از چشمہ مسیحی کے خلاف ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے ١٩٠٨ء میں انتقال کیا ہے اور عبارت مرقومہ ١٩٠٦ء کی ہے جس میں ہزار ششم کو جاری مانا ہے۔ تو کہنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا سارا زمانہ ضلالت کا تھا۔ گمراہی میں پیدا ہوئے گمراہی میں چلے گئے۔

تیسرا دعویٰ : تو ساری پہلی عبارتوں کے خلاف ہے جن میں ہزار ششم میں بعثت بتائی ہے۔

مختصر یہ ہے کہ : مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت موعود پر بڑی زبردست دلیل یہ پیش کی ہے کہ ہم دنیا کی عمر سے ہزار ششم میں مبعوث ہوئے۔ حالانکہ ہزار ششم انہی کے حساب سے ١٢٢٨ھ کا ختم ہو چکا ہے۔ آپ اس سے بہت بعد مدعی مسیحیت موعودہ ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے پہلے بیان کو بھول کر ساتویں ہزار میں تشریف لے آئے۔ پھر اس پر بھی قائم نہ رہے۔ یہاں تک کہ ١٩٠٦ء مطابق ١٣٢٤ھ کو ہزار ششم کو لا موجود کیا۔

ناظرین ! یہ وہ زبردست دلائل ہیں جن کے حق میں مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں :

"یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل

٢٢

صفحہ ٣٧٧

میں غور کرے گا تو اس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢‘ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤)

ہاں ہاں یہی ثبوت ہیں جن کی بناء پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں :

”کوئی انسان نرا بے حیاء ہو تو اس کے لئے اس سے چارہ نہیں کہ میرے دعوے کو اسی طرح مان لے جیسا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کو مانا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨‘ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

ہم نے مرزا قادیانی کی زبردست دلیل کے بیانات کو بڑی محنت سے یکجا کر کے ناظرین کے سامنے رکھ دیا۔ اب یہ ان کا کام ہے کہ (بقول مرزا) بے حیا بنیں یا بقول خدا : ”من يكفر بالطاغوت“ کامل الایمان۔

ہم سے پوچھیں تو ہم مرزا قادیانی کے دعوے اور ان کے دلائل پر یہ شعر بہت موزوں پاتے ہیں۔ آہ!

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

قادیانی دوستو! فلاسفہ اور متکلمین میں جن امور میں اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک امر حدوث کائنات ہے۔ متکلمین کل ماسوی اللہ کو اور اس کے سلسلہ کو حادث بالزمان مانتے ہیں‘ فلاسفہ یونان چند امور کو قدیم بالزمان کہتے ہیں۔ لیکن کیا مجال کہ کوئی متکلم بحث کرتے ہوئے اپنے اصول کو بھول جائے۔ ہرگز نہیں‘ بلکہ خواب میں بھی وہ اپنے اصول کو نہیں بھولے گا۔ مگر آپ کا متکلم ہاں رئیس المتکلمین ہاں ہاں سلطان القلم کی یہ کیا حالت ہے کہ اپنی دلیل اور اپنے بیان کو یوں بھول جاتا ہے۔ جس طرح ایک شاعر نے اپنے معشوق کی شکایت کی ہے :

مجھے قتل کر کے وہ بھولا سا قاتل
لگا کہنے کس کا یہ تازہ لہو ہے

٢٣

صفحہ ٣٧٨
کسی نے کہا جس کا وہ سر پڑا ہے
کہا بھول جانے کی کیا میری خو ہے

خدائی فیصلہ : آؤ ہم تمہیں ایسے اختلافات میں خدائی فیصلہ سنائیں قرآن مجید میں ارشاد ہے :

” لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا ۔ نساء ٨٢ “

(یعنی اگر قرآن کسی غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے ۔)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ خدا کے کلام اور خدا کے انبیاء علیہ السلام کے الہامی کلام میں اختلاف نہیں ہوتا ۔ پس جس کلام میں اختلاف ہو وہ الہامی یا خدا کی طرف سے نہیں اور جو کلام خدا کی طرف سے نہیں مگر متکلم اس کا اس کو خدا کی طرف سے کہتا ہے تو ایسا کہنے والا بڑا ظالم اور مفتری ہے۔ سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون !

قادیانی ممبرو !

قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا

ضمیمہ عجائبات مرزا

الولد سر لابیہ

میاں محمود احمد خلف مرزا غلام احمد قادیانی

خلیفہ قادیان کا علم کلام

مرزا قادیانی متوفی کے صاحبزادے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان عِلم و عرفان میں (بقول حاشیہ نشینان) اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ بڑے میاں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ آپ کی علمی ترقی کا ذکر حاشیہ نشینان دربار خلافت یوں اظہار کرتے ہیں :

٢٤

صفحہ ٣٧٩

"حضرت امام جماعت احمدیہ (میاں محمود) اپنے زمانہ کے سب سے بڑے پاکباز اور خدائے تعالیٰ کے مقرب ثابت ہوئے ١؎ ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے حضور کو قرآن مجید کا ایسا علم عطا کیا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ٢؎۔"

(اخبار الفضل قادیان ٢٨ / ٧ مارچ ١٩٣٠ء)

اس علمی کمال کے اظہار کے بعد آپ کے روحانی کمالات کا ذکر اس سے بھی عجیب تر ہے۔ آپ ایک دفعہ شملہ سے واپس آ رہے تھے، چھاؤنی انبالہ پر ہردوار پسنجر پر سوار ہونا تھا۔ ہردوار پسنجر دریائے گنگا کے پل پر سے گزر کر آتا ہے۔ چند منٹ لیٹ ہو کر آیا جو معمولی بات ہے۔ حاشیہ نشینوں نے گاڑی کے لیٹ پہنچنے کو ایسی خوبی سے بیان کیا جو پڑھنے اور سننے والوں کیلئے اچھا خاصہ منٹوں تک ہنسی کا موقعہ بن جائے گا۔ لکھا ہے :

"چونکہ آج ہردوار پسنجر پر مملکت روحانیہ کا سلطان (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) سوار ہونے والا تھا۔ اس لئے گاڑی کو ضرورت محسوس ہوئی کہ گنگا میں اشنان کر کے آئے۔ اس لئے وہ چند منٹ دیر کا عذر ٣؎ کرتی ہوئی پہنچی۔"

(الفضل ١٤ اکتوبر ١٩١٧ء ص ٢)

دہلی کے شاعر استاد داغ مرحوم نے بھی ریل گاڑی کا مذاق اڑایا ہے۔ مگر وہ شاعرانہ تخیل میں صحیح ہے۔ کیا خوب مذاق ہے :

منزل یار دور اتنی ہے
ریل بھی جاتے چیخ اٹھتی ہے

لیکن قادیانی دربار اس سے بڑھ گیا۔ اس کے درباریوں نے ریل کو گنگا میں اشنان کرنے کیلئے اتارا پھر چڑھایا بھی۔ لطف یا کرامت یہ کہ کوئی مسافر (پسنجر) نہ گنگا میں ڈوبا نہ اس کے کپڑے بھیگے۔ اسی کو کہتے ہیں :

٢٥

صفحہ ٣٨٠
این کرامت ولی ماچہ عجب
گربہ شاشید گفت باران شد

ہم کون جو خلیفہ قادیان کی اس کرامت کا انکار کریں۔ کریں تو لاہوری پارٹی کے سرگروہ کریں جن کو ان سے رقابت ہے۔ ہم تو واقعات سامنے رکھا کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ قادیان کی ایک تحریر متعلقہ عمر دنیا پیش کرتے ہیں۔ خلیفہ قادیان فرماتے ہیں :

”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ جمعہ کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ بعض نے غلطی سے حضرت مسیح موعود کی تحریروں سے یہ سمجھ لیا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ حالانکہ یہ تو ایک دور کا اندازہ ہے جس طرح سات دنوں کا ایک دور ہے۔ کیا آٹھویں دن قیامت آجایا کرتی ہے۔ نہیں بلکہ ہر جمعہ کے بعد ساتھ ہی ہفتہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ تو ایک دور ہے حضرت مسیح موعود (مرزا) نے جس قیامت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس سے وہ قیامت مراد نہیں جس کے بعد فنا آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں حضرت مسیح (مرزا) نے سات ہزار سال کا ذکر فرمایا وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ تعجب نہیں کہ اور ملکوں کے آدم کوئی اور ہوں۔ ممکن ہے کہ افریقہ کے لوگ اس آدم کی نسل سے نہ ہوں جس کی نسل سے ہم ہیں۔ اسی طرح یورپ کے لوگ کسی اور آدم کی اولاد ہوں۔ غرض جہاں آپ نے آدم کا ذکر کیا ہے وہاں اس آدم کا ذکر مراد ہے جس کی موجود نسل پائی جاتی ہے۔ پس آپ کا بصورت امکان مختلف آدموں کا تسلیم کرنا بتاتا ہے کہ جب آپ دنیا کی عمر سات ہزار سال بتاتے ہیں اور اس کے بعد قیامت بتاتے ہیں تو اس قیامت سے مراد اس دنیا کی نسل کا ایک دور ہے جو ختم ہو گا اور آپ پہلے دور کے خاتمہ پر آئے۔ میرا اپنا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) اس دور کے خاتم ہیں اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی ہیں۔ کیونکہ پہلا دور سات ہزار سال کا آپ پر ختم ہوا اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا۔ اسی لئے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”جری الله فی حلل الانبیاء“ اس کے یہی معنے ہیں کہ آپ آئندہ نبیوں کے حلّوں میں آئے ہیں جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ

٢٦

صفحہ ٣٨١

حضرت آدم علیہ السلام تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزا) جو اس زمانہ کے آدم ہیں آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔“

(ضمیمہ الفضل ١٤؍ فروری ١٩٢٨ء مقولہ میاں محمود خلیفہ قادیان)

قادیانی ممبر و : سنتے ہو ! خلیفہ صاحب نے اس کلام میں دو دعوے کئے ہیں :

سال ہفتہ کی طرح ایک دور ہے۔

ہو گیا۔ اس لئے دوسرے دور کے پہلا آدم بھی مرزا قادیانی ہیں۔

ہمیں کیا ضرورت ہم انکار کریں۔ ہم تو مرزا قادیانی کو مانتے ہیں اور انہی کو جانتے ہیں۔ ناظرین ! خلیفہ صاحب کے مرقومہ کلام کے نمبر دوم سے صحیح اور صاف دو نتیجے نکلتے ہیں۔ پس آپ غور سے سنیں :

ہوئے اور بقول خلیفہ صاحب ساتویں ہزار پورا پا کر آٹھویں ہزار کے پہلا آدم بھی آپ بنے۔ بفرض آسانی ہم فرض کر لیتے ہیں کہ آٹھویں ہزار میں سے بیس سال پائے ہوں گے۔ پس گیارہ چھٹے ہزار کے اور بیس سال آٹھویں ہزار میں سے مل کر اکتیس اور ایک ہزار ہفتم کامل مجموعہ ایک ہزار اکتیس سال مرزا قادیانی نے عمر پائی۔ (جل جلالہ)

ناظرین کرام ! اس قسم کی الہامی تقریریں سن کر کوئی باور کر سکتا ہے کہ :

”ملا دو پیازہ کی یا ختم ہے ؟۔“

قادیانی مرزا متوفی جب دور جدید کے آدم ہیں تو اس میں کیا شک ہے کہ میاں محمود خلیفہ قادیان حضرت شیث کے درجہ پر ہوں گے جو اول اولاد تھے حضرت آدم علیہ السلام کی ان

٢٧

صفحہ ٣٨٢

کے بعد نسل مرزا میں سے مثل سابق انبیاء کرام (حضرت نوح ، صالح ، ہود ، ابراہیم ، اسماعیل ، اسحق ، یعقوب ، موسیٰ ، ہارون ، داؤد ، سلیمان ، زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ ، محمد ) حسب ترتیب اپنے اپنے اوقات میں پیدا ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ گذشتہ آدم کے بیٹے حضرت شیث کے زمانہ میں کلمہ : ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ پڑھا جاتا تھا؟ ۔ ہرگز نہیں ۔ بلکہ ہر زمانہ میں یہی دستور رہا کہ ان کی اور ان سے پہلے انبیاء کی تصدیق ہوتی تھی۔ آئندہ پیدا ہونے والوں کی نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں : ”لا الہ الا الله موسیٰ رسول الله ۔“ پڑھنے کا حکم تھا ”محمد رسول الله“ ان کے کلمہ میں جزء نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قادیان میں بزمانہ شیث (میاں محمود) وہ کلمہ پڑھا جائے جس کا نبی (بقول خلیفہ) آئندہ نسل مرزا سے پیدا ہو گا۔

پس مناسب بلکہ انصاف ہے کہ قادیانی افراد و داعیان آج کل کلمہ اسلام : ”لا الہ الا الله ۔“ کے ساتھ : ”محمد رسول الله ۔“ ملانا چھوڑ دیں۔ جیسا کہ سابق شیث کے زمانہ میں تھا۔ مرزائی دوستو!

مٹا نہ رہنے دے جھگڑے کو یار تو باقی
رکے ہے ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی

لطیفہ : کہتے ہیں کسی مولوی صاحب نے ایک مراسی کو ایک دستار عنایت کی۔ دستار شریف بہت پرانی بلکہ بوسیدہ تھی۔ میراسی نے لحاظ میں کچھ نہ کہا۔ قبول کرلی۔ مگر طبعی ظرافت کہاں خاموش ہو۔ صبح سویرے سر پر رکھے ہوئے حاضر مجلس ہوتے ہوئے زور زور سے سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پڑھتا ہوا آیا۔ مولوی صاحب نے اس کا عمل خلاف معمول دیکھ کر پوچھا۔ میر صاحب! کیا بات ہے۔ آج تسبیحات بہت پڑھی جاتی ہیں۔ آداب بجالا کر بولا!

حضور ! کیا عرض کروں یہ دستار شریف ساری رات کلمہ شریف لا الہ الا الله پڑھتی رہی میں سنتا رہا۔ منتظر رہا کہ کلمہ شریف کا دوسرا جزء محمد رسول اللہ بھی ملاتی ہے۔ اس نے نہ ملایا۔ آخر میں نے کہا! اری کلمہ پورا کرنے کو محمد رسول اللہ بھی ملا۔ اس نے ایسا

٢٨

صفحہ ٣٨٣

جواب دیا کہ میں لاجواب ہو گیا۔ اس نے کہا میں تو محمد رسول اللہ سے پہلے کی ہوں۔ اس لئے میرے کلمہ میں ان کا دخل نہیں۔“

میرا اس مذکور کا مقصد تھا کہ یہ دستار بہت پرانی اور بیکار ہے۔ ہمارے خیال میں اس دستار شریف نے جو اصل الاصول سمجھا۔ وہ قادیانیوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اس دور جدید میں جو نبی ابھی پیدا نہیں ہوا اس کا کلمہ کیوں پڑھتے ہیں۔ جو جو پیدا ہوتا جائے گا اس کو داخل کرتے جائیں۔ سر دست کلمہ محمدیہ سے الگ ہو جائیں۔ جس سے ان کا اصول بھی صحیح رہے اور امت مسلمہ کے گلے شکایات بھی دور ہو جائیں۔

فریب خوردہ انسانو !

نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ستم کیشی کو
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

ناظرین! ان نتائج سے فارغ ہو کر ہم اصل مضمون پر توجہ کرتے ہیں۔ آپ بھی توجہ فرمائیے۔ خلیفہ قادیانی کا پہلا دعویٰ بھی اپنے والد مرزا قادیانی متوفی کے خلاف ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے دنیا کی ساری عمر سات ہزار سال لکھی ہے۔ اس کے بعد تہلکہ قیامت بتائی ہے۔ مرزا قادیانی کا قول غور سے سنئے۔ فرماتے ہیں :

”سورۃ والعصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہشتم ہے جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفقہ علیہ کلمہ سے انکار کریں۔ پھر جبکہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کی رو سے یہ آخری زمانہ ہے پھر آخری ہزار ہونے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کی رو سے یہ آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٢١٠)

٢٩

صفحہ ٣٨٤

مرزائی دوستو : اتنے سے تسلی نہ ہو اور خلیفہ کی حمایت میں تم کو تاویل کی سوجھے تو اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کا دوسرا قول پڑھئے جو یہ ہے :

”یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آثار قیامت جو قرآن شریف اور حدیث صحیح میں کہے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ان کے ذریعے سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔ کتابیں بہت شائع ہوں گی۔ جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہو گئیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعہ سے تجارت شروع ہو گئی۔ سو ہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خدا نے آیت : ” اقتربت الساعة “ اور دوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبر دے رکھی ہے۔ سو شریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے۔ بلکہ تمام نبی آخری زمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٩ خزائن ج ٢٠ ص ٢١٠)

الانصاف خیر الاوصاف : کا مقولہ قادیانی ممبروں کو بھی مسلم ہے تو وہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کس قیامت کا ذکر کر رہے ہیں؟۔ ہاں! اسی قیامت کا جس کی بابت ارشاد ہے : ” لا يجليها لوقتها الاهو ، اعراف ١٨٧“ (اس قیامت کو خدا ہی ظاہر کرے گا)۔ ہاں ! اس قیامت کا ذکر کرتے ہیں جس کی بابت ارشاد ہے : ” قل انما علمها عند الله ، اعراف ١٨٧“ (اس کا علم اللہ کے پاس ہے)۔

پس مرزا قادیانی کے نزدیک سات ہزار سال کے بعد یقیناً قیامت ہے جس کو فنا کہتے ہیں۔ اسی واسطے ہم کہا کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو احادیث مرزا میں ہمارا مقابلہ کر سکے جس کا ثبوت ہم بارہا دے چکے ہیں۔ اس لئے مرزا متوفی

٣٠

صفحہ ٣٨٥

کو ہم مخاطب کر کے کہا کرتے ہیں :

مجھ سا مشتاق جہاں میں کوئی پاؤ گے نہیں
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

ایک اور پہلو سے : اب ہم ایک اور طرح سے بتاتے ہیں کہ خلیفہ قادیان باوجود جوان ہونے کے ایسے ضعیف الحافظہ ہیں کہ نہ باپ کی یاد رکھیں نہ اپنی۔ یہ ہمارا بہت وزن دار دعویٰ ہے کہ ہم کہتے ہیں خلیفہ قادیان باپ کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی نسیان میں ان سے بڑھ گئے ہیں۔ بڑے میاں نے دنیا کی عمر سات ہزار برس لکھی۔ چھوٹے میاں نے سات ہزار تسلیم کی۔ مگر چند روز کی ایک عبارت بھی ملاحظہ ہو جس میں سات کی بجائے چھ ہزار رہ جاتے ہیں :

”ایک صاحب نے (خلیفہ قادیان کی خدمت میں) عرض کیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا کی عمر صرف چھ ہزار برس ہے۔ کیا یہ درست ہے؟۔ (خلیفہ نے) فرمایا یہ عمر تو صرف موجودہ دور کی بیان کی جاتی ہے۔ ساری دنیا کی عمر تو نہیں۔ اس وقت تک ہزاروں آدم گزر چکے۔“

(قول محمود در الفضل ١٦ جون ١٩٣١ء ص ٥)

ناظرین ! سائل نے دنیا کی عمر چھ ہزار سال پیش کر کے سوال کیا خلیفہ صاحب نے چھ ہزار تسلیم کر کے موجودہ دور کی مدت بتائی جس کو پہلے حوالے میں سات ہزار کہہ چکے ہیں۔ کیا سچ ہے :

کیونکر مجھے باور ہو کہ ایفا ہی کریں گے
کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا ؟

ناظرین ! ہم سے جہاں تک ہو سکا ہم نے اس باب میں معلومات فراہم کرنے میں بڑی محنت سے کام لیا۔ اب اس کو قبول کرنا آپ کا فرض ہے۔ واللہ الموفق !

٣١

PDF 386

سالانہ رد قادیانیت کورس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت و عیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام و مناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء، خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔......... رہائش، خوراک، کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔

رابطہ کے لئے

(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری

ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 387

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ناقابل مصنف مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٣٨٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

له الحمد ، نحمده ونصلى على النبى واهله!

نا قابل مصنف

پہلے مجھے دیکھئے

مرزا قادیانی سب سے پہلے بحیثیت مصنف نمودار ہوئے تھے۔ پھر مجدد بنے پھر ترقی کر کے مسیح موعود بنے۔ ان سب ترقیوں کے ساتھ ساتھ فن تصنیف میں بھی ترقی کرتے گئے۔ یہاں تک کہ آپ کو الہام کے ذریعہ سلطان القلم کا لقب ملا۔ (ریویو قادیان بابت اگست ١٩٢٢ء) آپ کی مجددیت اور مسیحیت کی تنقید پر علماء کرام نے بکثرت کتابیں لکھیں۔ ہماری طرف سے بھی کئی ایک کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ البتہ مرزا قادیانی کے فن تصنیف پر کسی مصنف نے توجہ نہ کی تھی۔ حالانکہ یہ مضمون ضروری تھا۔ اس کے متعلق میں نے دو رسالے شائع کئے۔ ایک ”علم کلام مرزا“ دوسرا ”عجائبات مرزا“۔ مرزا قادیانی کے اتباع کو جواب دینے کی جرات نہ ہوئی۔ ہاں! اس کا اثر ان کے دلوں پر یہ ہوا کہ مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری جو قادیانی مباحثات میں آج کل پیش پیش رہتے ہیں۔ رسالہ ”علم کلام مرزا“ ہاتھ میں لے کر قادیان کے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ١٩٢٤ء میں یوں گویا ہوئے کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو متکلمین کی اصطلاحات پر پرکھنا غلطی ہے۔ آپ نے اس کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ بلکہ آپ کو انبیاء کے طریق پر پرکھنا چاہئے۔١۔“

(الفضل قادیان دسمبر ١٩٢٤ء)

١۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو انبیاء کرام کے طریق پر شناخت کروانے سے انکار کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو مکتوبات جلد پنجم نمبر چہارم ص ٣١، اس کے باوجود ہم نے مرزا قادیانی کو انبیاء کے طریق پر بھی خوب پرکھا ہے۔ رسالہ الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ ہو۔

٢

صفحہ ٣٨٩

حالانکہ یہی مولوی صاحب ہیں جو رسالہ مذکورہ شائع ہونے سے پہلے بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھا کرتے تھے۔ جن کے عنوانات کا نمونہ یہ ہے : ”مسیح موعود (مرزا) کے علم کلام کی شاندار فتح۔“

(مفصل در علم کلام مرزا)

مرزا قادیانی کو انبیاء کے طریق پر ہم نے جانچا اور خوب جانچا۔ مگر اتباع مرزا‘ مرزا قادیانی کی تصنیفات کو معجزانہ تصانیف کہہ کر ان کے دعاوی کی صحت پر بطور برہان پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے اس حیثیت سے بھی ان کو جانچنا ضروری ہوا۔

اظہار واقعہ : ہم نے بغرض تحقیق اخبار ”اہل حدیث“ میں چیلنج دیا تھا کہ مرزا قادیانی قابل مصنف نہ تھے۔ مرزا قادیانی کے مرید چاہیں تو اس موضوع پر ہم سے مباحثہ کر لیں۔ مباحثہ اسی طریق سے ہو گا جس طریق سے مرزا قادیانی اور ڈپٹی آتھم عیسائی کے درمیان بمقام امر تسر مئی ١٨٩٣ء میں ہوا تھا۔ قادیانی رسالہ ”ریویو“ مباحثہ پر کچھ آمادہ ہوا۔ مگر بعد میں طریق مذکور پر بحث سے انکار کر کے میدان چھوڑ گیا۔ اس کی وجہ دراصل بقول شاعر یہ تھی کہ :

نام میرا سن کے مجنوں کو جمائی آگئی
بید مجنوں دیکھ کر انگڑائیاں لینے لگا

اس چیلنج اور جواب الجواب کا ذکر اخبار ”اہل حدیث“ مورخہ (٢٧ فروری‘ ٣٠ اپریل‘ ٢٩ مئی‘ ٢٤ جولائی‘ ٢٨ اگست‘ ٣٠ اکتوبر‘ ٣٠ نومبر‘ ٨ دسمبر ٢٤ء) نیز اہل حدیث ١٢ جنوری ٢٤ء میں اور رسالہ ”ریویو“ قادیان (بابت اپریل‘ مئی‘ جون‘ جولائی‘ اکتوبر‘ دسمبر ) ٢٤ء نیز ریویو جنوری ٢٤ء میں ملتا ہے۔

اطلاع : رسالہ علم کلام مرزا اور عجائبات مرزا میں مرزا قادیانی کی تصانیف پر بالائی نظر کی گئی ہے۔ اس رسالہ میں ان کے استدلالات پر محققانہ طرز سے تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے جو بہت ضروری ہے۔

٣

صفحہ ٣٩٠

ناظرین : سے عموماً اور اتباع مرزا سے خصوصاً درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کو دیکھنے سے پہلے مرزا قادیانی کی عداوت یا محبت سے الگ ہو کر محض متکلمانہ حیثیت سے مطالعہ کریں۔ اگر میرے کسی تعاقب میں غلطی پائیں تو از راہ کرم مجھے مطلع فرمائیں۔ میں شکریہ کے ساتھ قبول کروں گا :

برکریماں کارہا دشوار نیست

خاکسار ابوالوفا ثناء اللہ عفا اللہ عنہ امرتسری جمادی الاخریٰ ٦٢ھ مطابق جون ٢٣ء

مرزا قادیانی کے مستدلات پر تنقید

دیباچہ کتاب ہذا میں لکھا گیا ہے کہ اس سلسلہ کے دو حصے پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا حصہ ”علم کلام مرزا“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ دوسرا حصہ عجائبات مرزا‘ یہ اس کا تیسرا حصہ ہے۔ ناظرین ان تینوں حصوں میں نمایاں فرق پائیں گے۔

نوٹ : مرزا قادیانی کی تصنیفات میں چند کتابیں ایسی ہیں جو متکلمانہ طریق پر خاص مخالفین اسلام کے خطاب میں لکھی گئی ہیں۔ ان کے نام ہی ان کا مضمون بتاتے ہیں۔ مثلاً : ”براہین احمدیہ‘ آئینہ کمالات اسلام‘ چشمہ معرفت“ وغیرہ۔

میں نے بھی اس کتاب میں انہی کتابوں پر نظر رکھی ہے۔ آپ کی باقی تصنیفات جو آپ کے دعویٰ مسیحیت وغیرہ کے متعلق ہیں۔ ان کا حال انہی کتب ثلاثہ سے معلوم ہو سکتا ہے۔ بحکم : ”قیاس کن زگلستان من بہار مرا“ باوجود اس کے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو دیگر کتب پر بھی تبصرہ کیا جائے گا۔ انشاء اللہ !

مکرر گزارش یہ رسالہ علم کلام کی حیثیت سے لکھا گیا ہے۔ یعنی علم منطق اور علم

٤

صفحہ ٣٩١

مناظرہ کے قواعد سے تصنیفات مرزا کو جانچا گیا ہے۔ اس رسالے کا اصل مقصد یہی ہے۔ مذہبی رنگ میں نکتہ چینی مقصود نہیں ہے۔ پس! عام ناظرین کو عموماً اور اتباع مرزا قادیانی کو خصوصاً چاہئے کہ وہ بھی اس رسالہ کو اسی حیثیت سے مطالعہ کریں۔ ہماری تحقیق میں مرزا قادیانی کی تصنیفات براہین سے لے کر آخیر تک سب کی سب علوم معقولہ کے خلاف ہیں۔

توہم اول : اگر کسی صاحب کو یہ وہم گزرے کہ تصنیفات مرزا خصوصاً براہین احمدیہ اگر واقعی معقولیت سے گری ہوئی ہیں تو اس زمانہ کے علماء نے ان کی تعریف کیوں کی تھی؟۔ اس وہم کا دفعیہ یوں ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کتاب کے فوائد ایسے کچھ دلفریب بتائے تھے جن کو سن کر ہر ایک ہمدرد اسلام گرویدہ ہو سکتا تھا۔ جس کی مثال آج کل کی اشتہاری دوائیں ہیں کہ ایک ہی دوا کے ایسے فوائد بتائے جاتے ہیں کہ ضرورت مند کو گمان ہو جاتا ہے کہ یہ دوا واقعی ہر ایک مرض کے لئے مفید ثابت ہو گی۔

ہم ناظرین کی اطلاع کے لئے وہ فوائد نقل کرتے ہیں۔ ناظرین ان فوائد کو دیکھ کر اپنے اندر جو اثر پائیں گے۔ اس سے اندازہ لگا سکیں گے کہ اس زمانہ کے نیک مسلمانوں پر اس تحریر کا کیا اچھا اثر ہوا ہو گا۔ وہ فوائد بالفاظ مرزا قادیانی یہ ہیں۔

”بالا خر بعد تحریر تمام مراتب ضروریہ کے اس بات کا واضح کرنا بھی اسی مقدمہ میں قرین مصلحت ہے کہ کن کن قسموں کے فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے تا وہ لوگ جو حقانی صداقتوں کے جان لینے پر جان دیتے ہیں اپنے روحانی محبوب کی خوشخبری پاویں اور تا ان پر جو راستی کے بھوکے اور پیاسے ہیں اپنی دلی مراد کا راستہ ظاہر ہو جاوے۔ سو وہ فوائد چھ قسم کے

ہیں۔ جو بہ تفصیل ذیل ہیں : اول : اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہو جاوے

٥

صفحہ ٣٩٢

گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسروں کو وعظ و نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاد اور ایک طیار رہبر بن جائیں گے۔

دوسرا : یہ فائدہ کہ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے کہ جن کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالب حق پر ظاہر ہوگی۔ بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔ تیسرا : یہ فائدہ کہ جتنے ہمارے مخالف ہیں یہودی، عیسائی، مجوسی، آریہ، برہمویہ، بت پرست، دہریہ، طبعیہ باطنیہ، لامذہب کے شبہات اور وساوس کا اس میں جواب ہے اور جواب بھی ایسا جواب کہ دروغ گو کو اس کے گھر تک پہنچایا گیا ہے۔ اور پھر رفع اعتراض پر کفائت نہیں کی گئی۔ بلکہ یہ ثابت کر کے دکھلایا گیا ہے کہ جس امر کو مخالف ناقص الفہم نے جائے اعتراض سمجھا ہے۔ وہ حقیقت میں ایک ایسا امر ہے کہ جس سے تعلیم قرآنی کی دوسری کتابوں پر فضیلت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے نہ کہ جائے اعتراض اور پھر وہ فضیلت بھی ایسے دلائل واضح سے ثابت کی گئی ہے کہ جس سے معترض خود معترض الیہ ٹھہر گیا ہے۔ چوتھا : یہ فائدہ جو اس میں بمقابلہ اصول اسلام کے مخالفین کے اصول پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق سے عقلی طور پر بحث کی گئی ہے اور تمام وہ اصول اور عقائد ان کے جو صداقت سے خارج ہیں۔ بمقابلہ اصول حقہ قرآنی کے ان کی حقیقت باطلہ کو دکھلایا گیا ہے۔ کیونکہ قدر ہر یک جوہر بیش قیمت کا مقابلہ سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ پانچواں : اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جاویں گے اور حکمت اور معرفت اس کتاب مقدس کی کہ جس کے نورِ روح افروز سے اسلام کی روشنی بھی سب پر منکشف ہو جائے گی۔ کیونکہ تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں وہ سب آیات بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں اور ہر ایک دلیل عقلی وہی پیش کی گئی ہے جو

٦

صفحہ ٣٩٣

خدا نے اپنے کلام میں آپ پیش کی ہے اور اسی التزام کے باعث سے تقریباً بارہ سیپارہ (نقل مطابق اصل) قرآن شریف کے اس کتاب میں اندراج پائے ہیں۔ پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے کہ جس کے مطالعہ سے ہر ایک صادق پر اپنے مولیٰ کریم کی بے مثل و مانند کتاب کا عالی مرتبہ مثل آفتاب عالمتاب کے روشن ہوگا۔

چھٹا : یہ فائدہ ہے جو اس کتاب کے مباحث کو نہایت متانت اور عمدگی سے قوانین استدلال کے مذاق پر مگر بہت آسان طور پر کمال خوبی اور موزونیت اور لطافت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جو ترقی علوم اور پختگی فکر اور نظر کا ایک اعلیٰ ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ دلائل صحیح کے توغل اور استعمال سے قوت ذہنی بڑھتی ہے اور ادراک اور امور دقیقہ میں طاقت مدرکہ تیز ہو جاتی ہے اور باعث ورزش براہین حقہ کے عقل سچائی پر ثبات اور قیام پکڑتی ہے اور ہر ایک امر متنازعہ کی اصلیت اور حقیقت دریافت کرنے کے لئے ایک ایسی کامل استعداد اور بزرگ ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جو کہ تکمیل قوائے نظریہ کا موجب اور نفس ناطقہ انسان کے لئے ایک منزل اقصی کا کمال ہے کہ جس پر تمام سعادت اور شرف نفس کا موقوف ہے۔

(براہین احمدیہ ص ١٣٥‘ ١٣٨ خزائن ج ١ ص ١٢٨ تا ١٣١)

منقد : ناظرین یہ ہیں وہ فوائد جو ایک مومن مسلمان کو اس کتاب کی طرف مائل کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہیں۔ اسی لئے اس زمانہ کے مسلمانوں نے عموماً اور بعض علماء نے خصوصاً اس کتاب کی تعریف کی اور اس کی اشاعت میں مرزا قادیانی کی مدد کی۔ لیکن غور طلب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فوائد حاصل ہوئے بھی ؟۔ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ جبکہ موعودہ کتاب ہی وجود میں نہیں آئی تو اس کے فوائد کیسے حاصل ہو سکتے؟۔ رہی یہ بات کہ کتاب کیسے وجود میں نہیں آئی۔ حالانکہ براہین احمدیہ کے نام سے یہ کتاب فروخت ہو رہی ہے۔ اس کا جواب ہم اپنے رسالہ ”علم کلام مرزا“ میں مفصل دے چکے ہیں۔ یہاں بالاجمال

٧

صفحہ ٣٩٤

عرض کرتے ہیں کہ ان تین سو براہین حقہ میں سے ایک برہان بھی شائع نہیں ہوئی۔ جس پر یہ کہتا بالکل بجا ہے :

ہزار وعدوں میں گر ایک ہی وفا کرتے
قسم خدا کی نہ ہم ان کو بے وفا کہتے

توہم دوم : دوسرا وہم یہ کیا جاتا ہے کہ مخالفوں نے اس کا جواب دے کر دس ہزار روپیہ انعام کیوں وصول نہیں کیا۔ جس کا اشتہار مرزا قادیانی نے دے رکھا تھا۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ جس حالت میں دلائل ظہور پذیر ہی نہیں ہوئے تو جواب کس چیز کا ہوتا ؟۔ آج تک مخالفوں کی طرف سے یہ معقول مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ دلائل پیش کرو تو ہم غور کریں گے.......... پس ہم اس کتاب کے مصنف کو ان مواعید کی وجہ سے عرب کی محبوبہ سعاد کی مثل پاتے ہیں۔ جس کے عاشق صادق نے کہا ہے :

كانت مواعيد عرقوب لها مثلاً
مامواعيدها الا الا باطيل

اظہار واقعہ : پنڈت لیکھ رام آریہ نے اس کتاب کے جواب میں جو (تکذیب براہین) لکھی تھی ہم اس کو بھی بحیثیت منصف پنڈت صاحب کی جلد بازی پر مبنی سمجھتے ہیں۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ مرزا قادیانی سے ان کی تین سو دلائل والی کتاب کا تقاضا کرتے۔ اور جب تک مرزا قادیانی اپنی موعودہ کتاب شائع نہ کرتے۔ یہ شعر پڑھتے رہتے :

مفت اٹھنے کے نہیں در سے تیرے یار کبھی
ایک مطلب کے لئے باندھ کے اڑ بیٹھ گئے

١....... اصل کتاب کی براہین پر تنقید

براہین احمدیہ مضامین کے لحاظ سے اصل میں دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک اصل کتاب ہے۔ دوسرے حواشی۔ ان دونوں حصوں میں جو کچھ حشووزوائد اور طول پر طول اور

٨

صفحہ ٣٩٥

تکرار بے شمار ملتا ہے۔ اسے ہم زیر بحث نہیں لاتے۔ ناظرین اسے خود دیکھ سکتے ہیں۔ اس جگہ ہم اصل مقصود کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے ہماری مراد مرزا قادیانی کی طرزِ تصنیف پر بحث کرنا ہے۔ جس سے کسی مصنف کی قابلیت یا عدم قابلیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اصل کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ لکھا جس میں چند مقاصد ہیں۔ علماء کی اصطلاح میں مقدمہ کتاب کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو مضمون کے لحاظ سے اصل کتاب سے جدا ہوتا ہے مگر اس میں کچھ مبادی ذکر کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ علم نحو اور علم منطق میں مقدمہ کو یوں بیان کیا جاتا ہے :

"المقدمة فی المبادی التی یجب تقدیمہا علی المقاصد (ہدایت النحو وغیرہ) " علم نحو میں مبادی کی مثال کلمہ کلام مفرد اور مرکب وغیرہ کی تعریفات ہیں اور علم منطق میں دلالت کی تقسیم مطابقی تضمنی التزامی وغیرہ مبادی کی مثالیں ہیں۔ علم اقلیدس میں خط‘ نقطہ وغیرہ کی تعریف اور چند علوم متعارفہ بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مقاصد شروع ہوتے ہیں۔ کیونکہ مبادی مقاصد نہیں ہوتے اور مقاصد مبادی نہیں ہوتے۔ ان دونوں میں امتیاز ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے مقدمہ میں مقاصد لکھے ہیں۔ (براہین احمدیہ ص ٨٣‘ خزائن ج ١ ص ٧١) جو اہل علم کی اصطلاح کے بالکل خلاف ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جو کچھ لکھا ہے وہ مقاصد نہیں ہیں۔ گویا آپ نے دو غلطیاں کی ہیں۔ ایک تو مضمون مقدمہ کو مقاصد کہا ہے۔ دوسرے جو کچھ اُس میں بیان کیا ہے وہ مقاصد نہیں ہیں۔ ہماری گفتگو اہل علم کی اصطلاح پر مبنی ہے۔ مرزا قادیانی یا ان کے مرید اگر اہل علم کی اصطلاحات کے پابند نہیں ہیں تو ہم بھی ان کی طرف سے یہ شعر پڑھ کر اس اعتراض کو ختم کردیں گے :

نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرز جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

٢...... تمہیدات

مقدمہ ختم کرنے کے بعد آپ نے آٹھ تمہیدات لکھی ہیں جو پانسو گیارہ صفحات

٩

صفحہ ٣٩٦

میں ختم ہوئی ہیں۔ ان تمہیدات کو مضمون کے لحاظ سے مبادی کہہ کر مقدمہ میں درج کرتے تو بجا ہوتا مگر موصوف نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان کو مقدمہ سے بالکل الگ کر دیا اور ان کی جگہ مقاصد کو دیدی۔ درس قرآن میں اس کی مثال یہ ہے کہ قاعدہ بغدادی میں پارہ عم کو داخل کر دیا اور پارہ عم کو قاعدہ بغدادی کے حروف (الف، ب، ج، د، وغیرہ) کی جگہ دیدی۔ ادنیٰ طالب علم بھی اس طرز عمل کو اس مصرع کا مصداق سمجھے گا۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

تمہیدات میں کیا مذکور ہے؟ ہم بالاختصار بتاتے ہیں۔

تمہید اول : قرآن مجید آنے سے پہلے زمانے کے حالات ایسے خراب تھے جو کتاب اللہ کے نزول کے مقتضی تھے۔

تمہید دوم : وہ براہین جو قرآن شریف کی حقانیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔ چار قسم پر ہیں۔ ایک وہ امور جو محتاج الاصلاح سے ماخوذ ہیں۔ دوسرے وہ امور جو محتاج التکمیل سے ماخوذ ہیں۔ تیسرے وہ جو امور قدریہ سے ماخوذ ہیں۔ چوتھے وہ جو امور غیبیہ سے ماخوذ ہیں۔

(براہین ص ١٣٩ خزائن ج ١ ص ١٤٣)

تمہید سوم : جو چیز محض قدرت کاملہ خدا سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظاً اور معناً اس کی طرف سے صادر ہو۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔

(براہین ص ١٤٦ خزائن ج ١ ص ١٤٩)

تمہید چہارم : خداوند تعالیٰ کی تمام مصنوعات سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ جو عجائب و غرائب اس نے اپنی مصنوعات میں رکھے ہیں ایک تو عام فہم ہیں۔ دوسرے وہ امور ہیں جن میں دقت نظر درکار ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٣٨١، ٣٨٢ خزائن ج ١ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

١٠

صفحہ ٣٩٧

تمہید پنجم : جس معجزہ کو عقل شناخت کر کے اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے وہ ان معجزات سے ہزار ہا درجہ افضل ہوتا ہے جو صرف بطور کتھا یا قصہ کے مد منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨‘ ٤٢٩ خزائن ج ١ ص ٥١١‘ ٥١٢)

تمہید ششم : جس طرح محجوب الحقیقت معجزات‘ عقلی معجزات سے برابری نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی پیشگوئیاں اور اخبار ازمنہ گزشتہ نجومیوں اور رمالوں اور کاہنوں اور مؤرخوں کے طریقہ بیان سے مشابہ ہیں۔ ان پیشگوئیوں اور اخبار غیبیہ سے مساوی نہیں ہو سکتیں کہ جو محض اخبار نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ قدرت الوہیت بھی شامل ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٦٧ خزائن ج ١ ص ٥٥٨)

تمہید ہفتم : قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الٰہیات کے اور براہین قاطعہ اصول حقہ کے مع دیگر اسرار اور معارف کے مندرج ہیں۔ اگرچہ وہ تمام فی حد ذاتہما ایسے ہیں کہ قویٰ بشریہ ان کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ پہلے زمانوں میں نظر استقرائی ڈالنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف ان علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گزرا۔ (مخالف کے حق میں یہ تمہید خود متنازعہ ہے۔ مسلم نہیں ہے۔ منقد) لیکن اس جگہ عجیب در عجیب بات ہے۔ یعنی یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے امی کو عطا کئے گئے جو لکھنے پڑھنے سے نا آشنا محض تھا۔

(براہین ص ٤٧٠‘ ٤٧١ خزائن ج ١ ص ٥٦١‘ ٥٦٢)

تمہید ہشتم : جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے وہ حقیقت میں اس نبی متبوع کا معجزہ ہوتا ہے جس کی وہ امت ہے اور یہ بدیہی اور ظاہر ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

١١

صفحہ ٣٩٨

منقد :ان تمہیدات ثمانیہ کو مقدمہ میں درج کر کے مبادی بنا دیا جاتا تو کچھ صحت ہو جاتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ خیر جو کچھ کیا ہے وہ ناظرین کے سامنے ہے۔ ان تمہیدات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کتاب براہین احمدیہ نے جو تین سو دلائل بقول خود اس کتاب میں جمع کی ہیں۔ ان سے یہ امور مشمولہ تمہیدات ثابت ہوتے ہیں۔ مگر حیرت کا مقام ہے کہ ان تمہیدات کو اتنا طول دیا ہے کہ اصل مضمون کے لئے جگہ نہیں رہی۔ یعنی اصل کتاب کے ص ١٣٩ سے ٥١٢ خزائن ج ١ ص ١٤٣ سے ٦١٠ تک ان تمہیدات کو جگہ دی گئی ہے اور ص ٥١٢ خزائن ج ١ ص ٦١١ پر جب اصل مضمون شروع کیا تو محض چند آیات کسی قدر تشریح کے ساتھ درج کر کے کتاب کو ص ٥٦٢ خزائن ج ١ ص ٦٧٢ پر ختم کر دیا۔ اور ایسا بے موقع ختم کیا کہ دیکھنے والے کے منہ سے بے ساختہ یہ مصرع نکلتا ہے :

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردی

لطف یہ ہے کہ ٢٣ سال تک انتظار کرانے کے بعد ایک اور کتاب شائع کی۔ بظاہر تو اس کا نام براہین حصہ پنجم رکھا۔ مگر حقیقتاً اس کو اصل کتاب سے نہ صوری تعلق نہ معنوی۔ حالانکہ ص ٩٣ ص ٩٩ اور ص ١٣٦ خزائن ج ١ ص ٦٢ ، ١٢٦ ، ١٢٩ وغیرہ پر مکرر سہ کر لکھ چکے تھے کہ براہین کا مسودہ جس میں تین سو دلائل ہیں تیار ہو چکا ہے۔ پھر معلوم نہیں کہ وہ کہاں گیا۔ نہ اپنے وعدے کی وفا کی نہ قیمت پیشگی ادا کرنے والوں کے تقاضا کی پروا کی۔ جس پر پیشگی قیمت ادا کرنے والوں کی زبان پر یہ شعر آنے لگا :

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا

٣ ....طریق استدلال

مرزا قادیانی نے اس کتاب کے مقدمہ میں اپنا طریق استدلال بھی بتایا ہے کہ جو قابل دید و شنید ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی دلیل تمام نہیں ہو سکتی۔ جب تک فریق

١٢

صفحہ ٣٩٩

مخالف کا نام ذکر نہ کیا جائے۔ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں :

”کامل تحقیقات اور باستيفا بیان کرنا جمیع اصول حقہ اور ادلہ کاملہ کا اسی پر موقوف ہے کہ ان سب ارباب مذاہب کا جو بر خلاف اصول حقہ کے رائے اور اختلاف رکھتے ہیں۔ غلطی پر ہونا دکھلایا جائے۔ پس اس جہت سے ان کا ذکر کرنا اور ان کے شکوک کو رفع دفع کرنا ضروری اور واجب ہوا اور خود ظاہر ہے کہ کوئی ثبوت بغیر دفع کرنے عذرات فریق ثانی کے کماحقہ اپنی صداقت کو نہیں پہنچتا۔ مثلاً جب ہم اثبات وجود صانع عالم کی بحث لکھیں تو تکمیل اس بحث کی اس بات پر موقوف ہو گی کہ دہریہ یعنی منکرین وجود خالق کائنات کے ظنون فاسدہ کو دور کیا جائے۔“

(براہین احمدیہ ص ٨٣ خزائن ج ١ ص ٧١)

منقد : مرزا قادیانی کا یہ بیان عقلی اور نقلی دونوں طریق کے خلاف ہے۔ علماء منطق کے نزدیک بہترین دلیل برہان ہے جو یقینی مقدمات سے مرکب ہوتا ہے جس کی مثال یہ قیاس ہے : ”العالم مرکب وكل مرکب حادث نتيجه العالم حادث .“ اس دلیل کا نتیجہ بالکل صحیح ہے۔ حالانکہ اس میں کسی منکر کا ذکر نہیں ہے۔ برہان میں ضرورت نہیں ہوتی کہ کسی مخالف یا منکر کا ذکر کیا جائے۔ شائد آپ کو یاد نہیں رہا کہ آپ کی کتاب کا نام براہین ہے جو برہان کی جمع ہے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ دلیل میں مخالف کا ذکر ضروری ہوتا ہے۔ علم مناظرہ اور علم میزان کے صریح خلاف ہے۔ ہاں! ہم مانتے ہیں کہ جدلیات میں مخالف کا ذکر ضروری ہوتا ہے مگر براہین اس پر موقوف نہیں ہوتیں۔ مرزا قادیانی کا ایسا کہنا نقلی دلیل (قرآن مجید) کے بھی خلاف ہے۔

قرآن شریف نے دہریوں کے رد میں بہت سے دلائل دیئے ہیں جو حقیقت براہین قطعیہ ہیں۔ مگر ان میں دہریوں کا نام تک نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اس جگہ دو آیتیں درج کرتے ہیں۔ جو یہ ہیں :

” هوالذی جعل الشمس ضياء والقمر نوراً وقدره منازل لتعلموا

١٣

صفحہ ٤٠٠

عدد السنين والحساب ما خلق الله ذالك الا بالحق يفصل الايات لقوم يعلمون‘ ان فى اختلاف الليل والنهار وما خلق الله فى السموات والارض لايات لقوم يتقون ٠ پ ١١ ع ٦‘‘ (مختصر ترجمہ : چاند سورج کی پیدائش اور رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور دوسری مخلوق میں غور کرنے والوں کے لئے بہت سے دلائل ہیں۔) پس! ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ اصول علم کلام عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔

٤...... عقل اور الہام

مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے متن اور حواشی میں ان دونوں لفظوں (عقل اور الہام) پر بڑی بحث کی ہے۔ ہم نے بھی اس بحث کو بڑے غور سے مطالعہ کیا اور جس قدر غور کیا مرزا قادیانی کے قلم کو خبط العشوا (کج رفتار) پایا۔ عرب میں جو اونٹنی کج رفتار سے چلا کرتی ہے اس کی رفتار کو خبط العشوا کہتے ہیں۔ چنانچہ معلقہ کا شعر ہے :

رأيت المنايا خبط عشواء من تصب
تمته ومن تخط يعمره فيهرم

(شاعر کہتا ہے کہ میں موت کو کج رفتار اونٹنی کی طرح دیکھتا ہوں جو کبھی کسی پر جا پڑتی ہے اور کبھی کسی پر۔) میں نے مرزا قادیانی کی تصنیفات میں ان کے قلم کو ایسی ہی اونٹنی جیسا پایا ہے جو اپنی چال میں بے قابو رہتی ہے۔ مرزا قادیانی کا قلم بھی لکھتے ہوئے بے قابو ہو جاتا ہے۔ اس حال میں ان کو اجتماع ضدین یا ارتفاع نقیضین کی بھی تمیز نہیں رہتی۔ اس عنوان کے ماتحت ہم اپنے اس دعویٰ کا ثبوت دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک اصول وضع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

’’اگر کوئی کتاب مدعی الہام کی کسی ایسے امر کی تعلیم کرے جس کے امتناع پر کھلی کھلی دلائل عقلیہ قائم ہوتی ہیں تو وہ امر ہرگز درست نہیں ٹھہر سکتا۔ بلکہ وہ کتاب ہی باطل یا

١٤

صفحہ ٤٠١

محرف یا مبدل المعنی کہلائے گی کہ جس میں کوئی ایسا خلاف عقل امر لکھا گیا۔ پس جبکہ تصفیہ ہر ایک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کے لئے عقل ہی معیار ہے تو اس سے لازم آیا کہ حقیقت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے۔“

(براہین احمدیہ ص ٨٨‘ خزائن ج ١ ص ٧٦)

ناظرین کے ذہن میں اس اقتباس کا مضمون آگیا ہو گا کہ بقول مرزا عقل کو الہام پر ترجیح ہے۔ بالفاظ دیگر الہامی تعلیم کو جانچنے کے لئے عقل ہی معیار ہے۔ اس کا خلاف بھی ملاحظہ کیجئے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :

”اب ہم کہتے ہیں کہ وجود قدیم حضرت باری میں تب ہی دہریہ کو ایک قیاس پرست کے ساتھ نزاع کرنے کی گنجائش ہے کہ مخلوقات پر نظر کرنے سے واقعی شہادت صانع عالم پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت ایک صانع عالم موجود ہے بلکہ صرف اس قدر ظاہر ہوتا ہے کہ ہونا چاہئے اور اسی وجہ سے امر معرفت صانع عالم کا صرف قیاسی طور سے دہریہ پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔.......... پس جس کے نزدیک معرفت الٰہی صرف مخلوقات کے ملاحظہ تک ہی ختم ہے اس کے پاس اس اقرار کرنے کا کوئی سامان موجود نہیں کہ خدا فی الواقعہ موجود ہے بلکہ اس کے علم کا اندازہ صرف اس قدر ہے کہ ہونا چاہئے اور وہ بھی تب کہ جب دہریہ مذہب کی طرف نہ جھک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حکماء متقدمین میں سے محض قیاسی دلائل کے پابند رہے۔ انہوں نے بڑی بڑی غلطیاں کیں اور صدہا طرح کا اختلاف ڈال کر بغیر تصفیہ کرنے کے گزر گئے اور خاتمہ ان کا ایسی بے آرامی میں ہوا کہ ہزار ہا شکوک اور ظنوں میں پڑ کر اکثر ان میں سے دہریے اور طبعی ملحد ہو کر مرے اور فلسفہ کے کاغذوں کی کشتی ان کو کنارہ تک نہ پہنچا سکی۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ١١ ص ١٥٠ تا ١٥١‘ خزائن ج ١ ص ١٥٥‘ ١٥٦)

منقد : ناظرین کرام! اس عبارت کو بغور پڑھیں گے تو نتیجہ صاف پائیں گے کہ مرزا قادیانی نے عقل کو بہت کم درجہ میں رکھ کر اتنا گھٹایا ہے کہ وہ خدا کی ہستی کا ثبوت

١٥

صفحہ ٤٠٢

دینے سے بھی قاصر ہے۔ حالانکہ پہلے اس عقل کو معیار بتا چکے ہیں اور یہ بات ہر اہل علم پر واضح ہے کہ معیار کا رتبہ ذی معیار (مثبت) سے اعلیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ مثبت کا حسن و قبح معیار ہی سے پرکھا جاتا ہے۔ اہل منطق نے منطقی قوانین کو استدلال کا معیار بتایا ہے۔ کیونکہ منطق کی تعریف یہ ہے :

”آلة قانونية تعصم مراعتها الذهن عن الخطاء فى الفكر.“

(تہذیب منطق) (یعنی علم منطق ایک ایسا علم ہے کہ اس کا لحاظ رکھنے سے انسان کے استدلال اور فکر میں غلطی نہیں ہوتی۔) اس کے خلاف اگر کوئی کہے کہ علم منطق کے قواعد سے استدلال صحیح حاصل نہیں ہو سکتا۔ تو یہ علم منطق کی صریح توہین ہے۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ کلام الہام خداوندی کے بھی خلاف ہے۔ حالانکہ آپ الہام ہی کی تائید میں لکھ رہے ہیں۔ اس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید نے جن امور کا یقین دلایا ہے۔ ان سب کے لئے کلمہ طیبہ بطور عنوان مقرر کیا ہے جس کے دو جز ہیں۔ پہلا جز لا اله الا الله! ہے۔ دوسرا جز محمد رسول الله! پہلے جز کے اثبات کے لئے ارشاد ہے : ”وهو الذى مد الارض وجعل فيها رواسى وانهارا ومن كل الثمرات جعل فيها زوجين اثنين يغشى اليل النهار ان فى ذالك لايات لقوم يتفكرون ٠ الرعد ٣“ (زمین کے پھیلانے پہاڑوں کے نصب کرنے دریاؤں کے جاری کرنے اور مختلف قسم کے پھلوں کے پیدا کرنے میں فکر کرنے والوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔) دوسرے جز کے اثبات کے لئے ارشاد ہے : ”قل انما اعظكم بواحدة ان تقوموا لله مثنى وفرادى ثم تتفكروا ما بصاحبكم من جنة ٠ ان هوالا نذير لكم بين يدى عذاب شديد ٠ پ ٢٢ ع ١٢“ (اے منکرو! تم اکیلے اکیلے یا دو دو مل کر غور کرو کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر) کو جنوں نہیں ہے بلکہ وہ سخت عذاب سے ڈراتے ہیں۔) ان دونوں آیتوں میں فکر کرنے والوں کو خاص توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے فکر سے مسئلہ الوہیت اور رسالت کو سمجھیں۔ فکر اگر غیر مفید فعل ہوتا۔ یعنی اس سے یقین کا درجہ حاصل نہ ہو سکتا تو کلام اللہ میں اس کو

١٦

صفحہ ٤٠٣

علم کا ذریعہ نہ بتایا جاتا۔ فکر کے معنی اہل منطق کے نزدیک یہ ہیں : ”ترتیب امور معلومة لاثبات المطلوب۔“

پس! معلوم ہوا کہ خود الہامی کتاب نے فکر کو ذریعہ ایمان بتایا ہے۔ یعنی فکر ہی سے کلمہ اسلام کے دو جز ثابت ہو سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے جس امر (الہام) کی حمایت میں فکر اور قیاس کی تذلیل کی تھی اسی نے ان دونوں کو قوت دے کر تائید فرمادی۔ اب مرزا قادیانی عالم برزخ میں یہ شعر پڑھتے ہوں گے :

ہم نے چاہا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد
حیف ہے وہ بھی تیرا چاہنے والا نکلا

ایک اور طرح سے

مرزا قادیانی کا مافی الضمیر یہ ہے کہ فکر و قیاس بغیر تائید الہام کے یقین کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ آپ کا یہ دعویٰ بھی بہت کمزور بلکہ منقوض ہے۔ آپ نے خیال نہیں فرمایا کہ الہام کے مخاطب دو قسم کے اشخاص ہوتے ہیں۔ ایک خود صاحب الہام۔ یعنی جس پر الہام نازل ہوتا ہے۔ دوسرے اس کے سننے والے۔ ملہم (صاحب الہام) کے حق میں تو آپ ایسا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن سننے والے تو اپنی عقل و فکر ہی سے کام لے کر یقین کا درجہ پائیں گے۔ ان کے فکر کی ترتیب یوں ہو گی کہ یہ ملہم ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ اس لئے اس نے الہام کا نام لے کر خدا پر افتراء نہیں کیا۔ چنانچہ شاہ نجاشی حضرت صدیق اکبرؓ اور عبداللہ بن سلامؓ سے اسی قسم کا فکر منقول ہے۔ قرآن مجید کی آیت کریمہ : ”ثم تتفکروا ۔“ میں (جو اوپر مذکور ہوئی) اسی غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ لطف یہ ہے کہ خود اپنی کتاب (براہین احمدیہ کے ص ٢١٢‘ ٢١٥ خزائن ج ١ ص ٢٢٧‘ ٢٢٨) پر دلیل انی کو برہان قرار دیا ہے۔ دلیل انی اس کو کہتے ہیں کہ اثر کے وجود سے مؤثر کا علم ہو۔ جیسے روشن دان سے دھوپ دیکھ کر سورج کا علم حاصل کیا جائے۔ یہ دلیل یقینات کی قسم سے ہے۔ خود مرزا قادیانی نے چشمہ معرفت ص ٥٦

١٧

صفحہ ٤٠٤

خزائن ج ٢٣ ص ٦٢ پر اس دلیل کا ذکر کیا ہے۔

٥...... الہامی کتاب اپنی دلیل خود بیان کرے

اس عنوان کا مطلب یہ ہے کہ بقول مرزا قادیانی الہامی کتاب وہی ہوتی ہے جو خود ہی اپنا دعویٰ بیان کرے اور خود ہی دلائل دے۔ مرزا قادیانی نے اس اصول کو اپنی مختلف تصانیف میں بڑی رنگ آمیزی سے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اتباع مرزا قادیانی کے علم کلام کا یہ طرہ امتیاز بتاتے ہیں۔ ہم کئی مرتبہ بتا چکے ہیں کہ اس اصول کے موجد علامہ ابن رشد اندلسیؒ ہیں۔ ان کی کتاب فلسفہ ابن رشد میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ خیر ہمیں اس سے مطلب نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد مرزا قادیانی کے استدلال پر گفتگو کرنا ہے۔ علم کلام میں دلیل کے واسطے تقریب تام کا ہونا ضروری ہے اور تقریب تام کے معنی یہ ہیں کہ دلیل کے تمام مقدمات صحیح ہونے کے علاوہ دلیل اپنے تمام افراد کو جامع ہو اور غیر افراد کو مانع ہو۔ اگر جامع نہ ہو تو ایسی دلیل پر جو اعتراض وارد ہو اس کو نقض اجمالی کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی اس دلیل پر نقض اجمالی صاف وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ سابقہ الہامی کتب کو مانتے ہیں۔ حالانکہ ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا۔ یہ بات مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ آپ کتب سابقہ کو ناقص کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو براہین کا حاشیہ نمبر ٩ ص ١٠٩، ١١٠ خزائن ج ١ حاشیہ نمبر ٩ ص ١٠٠، ١٠١) اس لئے آپ قرآن مجید ہی کو اس وصف سے موصوف مانتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن مجید کی فضیلت یا خصوصیت میں بیان کرتے تو اچھا ہوتا۔ یعنی یوں لکھتے کہ قرآن مجید میں یہ فضیلت یا خصوصیت ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کی دلیل بھی بیان کرتا ہے اور دوسری الہامی کتب اس وصف سے خالی ہیں تو ایسا کہنے سے نقض اجمالی وارد نہ ہوتا۔ لیکن سلطان القلم کو کون سمجھاتا:

٦...... کلام الٰہی کا بے مثل ہونا ضروری ہے

مرزا قادیانی نے اس بات پر زور دیا ہے یا یوں کہئے کہ بطور دلیل پیش کیا ہے کہ

١٨

صفحہ ٤٠٥

الہامی کتاب کا بے مثل ہونا بھی ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو الہامی کتاب بے مثل نہ ہو یا بے مثل ہونے کی مدعی نہ ہو ۔ وہ حقیقتاً الہامی کتاب نہیں ہے۔ یعنی بے مثل ہونا اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ یہ دلیل بھی منقوض ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے سوا کوئی الہامی کتاب بے مثل ہونے کی مدعی نہیں ہے۔ پھر وہ الہامی کتاب کیسے ہو سکتی ہے؟۔ اس نقض اجمالی کا جواب مرزا غلام احمد قادیانی نے کیوں نہیں دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقض ان کے خیال میں بھی نہیں آیا۔

٧...... نجات کے لئے یقین چاہئے

اس کی تشریح مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں: ”یقینی طور پر نجات کی امید یقین کامل پر اس لئے موقوف ہے کہ مدار نجات کا اس بات پر ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کریم کی جانب کو تمام دنیا اور اس کے عیش و عشرت اور اس کے مال و متاع اور اس کے تمام تعلقات پر یہاں تک کہ اپنے نفس پر بھی مقدم سمجھے اور کوئی محبت خدا کی محبت پر غالب ہونے نہ پائے۔“

(براہین احمدیہ بقیہ حاشیہ نمبر ١١ ص ١٤٩ خزائن ج ١ حاشیہ ص ١٥٣)

منقد: یہ دعویٰ اگر صاحب الہام کے لئے مخصوص ہے تو اعتراض نہیں۔ اگر آپ کی مراد عام ہے کہ صاحب الہام ہو یا غیر ہو تو منقوض ہے۔ کیونکہ تمام امت کو یہ درجہ حاصل نہیں ہے۔ اسی لئے قرآن مجید کی نص صریح میں ارشاد ہے: ”یظنون انہم ملاقو ربہم، پ ١ ع ٥“ (خدا سے ملنے کا ظن غالب رکھتے ہیں۔) ظن راجح خیال کا نام ہے جس کا درجہ یقین سے کم ہوتا ہے۔ اس پر بھی قرآن مجید نے نجات متفرع کی ہے۔

٨...... ایک سوال اور اس کا جواب

مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ ص ١٤١ تا ١٤٣ خزائن ج ١ ص ١٤٥ تا ١٤٧ پر چند تمثیلیں لکھی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ واقعات اور مسائل دقیقہ فلسفیہ اور الہامیہ کو

١٩

صفحہ ٤٠٦

نہ جاننے والا‘ جاننے والے کی طرح بیان کر دے تو ماننا پڑے گا کہ ایسے شخص کو امور غیبیہ پر اطلاع ملتی ہے۔ اس سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے باوجود ناخواندہ ہونے کے مسائل دقیقہ الہامیہ بتائے۔ جس سے معلوم ہوا آپ ﷺ پر خدا کی طرف سے الہام ہوتا تھا۔ اس مقام پر آپ نے ایک معترض کا سوال نقل کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں :

’’شاید کوئی معترض اس تمہید پر یہ اعتراض کرے کہ ان سہل اور آسان منقولات کا بیان کرنا جو مذہبی کتابوں میں مدوّن اور مرقوم ہیں۔ بذریعہ سماعت بھی ممکن ہے۔ جس میں لکھا پڑھا ہونا کچھ ضروری نہیں۔ کیونکہ ناخواندہ آدمی کسی واقعہ کو کسی خواندہ آدمی سے سن کر بیان کر سکتا ہے۔ یہ کچھ مسائل دقیقہ علمیہ نہیں ہیں جن کا جاننا بغیر تعلّم باقاعدہ کے محال ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ١٤٤ خزائن ج ١ ص ١٤٧)

منقد : یہ اعتراض ایک ایسے شخص کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے جو قرآن مجید کے سوا کسی اور الہامی کتاب کو مانتا ہو اور ایسے شخص کی طرف سے بھی جو خدا کو تو مانتا ہو۔ مگر کسی کتاب کو الہامی نہ مانتا ہو۔ اسی طرح ایسے شخص کی طرف سے بھی وارد ہو سکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ کسی الہامی کتاب کو۔ یعنی دہریہ۔ یہ ہے اعتراض کی وسعت۔

اب مرزا قادیانی کا جواب سنئے ! آپ نے جواب دیتے ہوئے معترض کو ایک خاص قسم میں محدود کر دیا ہے۔ اس لئے جواب ناقص ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں :

’’ایسے معترض سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تمہاری کتابوں میں کوئی ایسی باریک صداقتیں بھی ہیں یا نہیں جن کو بجز اعلیٰ درجہ کے عالم اور اجل فاضل کے ہر ایک شخص کا کام نہیں کہ دریافت کر سکے ۔بلکہ انہیں لوگوں کے ذہن ان کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ جنہوں نے زمانہ دراز تک ان کتابوں کے مطالعہ میں خون جگر کھایا ہے اور مکاتب علمیہ میں کامل استادوں سے پڑھنا سیکھا ہے۔ پس اگر اس سوال کا یہ جواب دیں کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی دقیق صداقتیں ہماری کتابوں میں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں تمام موٹی اور سرسری اور بے مغز

٢٠

صفحہ ٤٠٧

باتیں بھری ہوئی ہیں۔ جن کو عوام الناس بھی ادنیٰ التفات سے معلوم کر سکتے ہیں اور جن پر ایک کم فہم لڑکا بھی سرسری نظر مار کر ان کی تہ تک پہنچ سکتا ہے اور جن کا جاننا کچھ فضیلت علمیہ میں داخل نہیں۔ بلکہ غائت کار مثل ان کتابوں کے ہیں۔ ان میں قصے کہانیاں لکھی جاتی ہیں یا جو محض اطفال اور عوام کے مطالعہ کے لئے بنائے جاتے ہیں تو افسوس ایسی گئی گزری کتابوں پر ............ لیکن اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں باریک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجہ کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر و تفکر کرتے کرتے فرسودہ ہو گئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔ کیونکہ اگر ایک امی اور نا خواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو ان کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو باقرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کر سکتے صرف خواص کا کام ہے۔ تو بلاشبہ بیان اس امی کا ثبوت اس بات کا کہ وہ امی ہے امور غیبیہ میں داخل ہوگا اور یہی تمثیل سیوم کا مطلب ہے۔"

(براہین احمدیہ ص ١٤٣ تا ١٤٥، خزائن ج ١ ص ١٤٧ تا ١٤٩)

منقد : ناظرین خود ملاحظہ فرمائیں کہ ہمارے اس دعویٰ میں کہ مرزا قادیانی نے معترض کے وسیع اعتراض کو تنگ کر کے جواب دیا ہے۔ کچھ شک ہے ؟۔ سردست ہم اس پر بحث نہیں کرتے کہ یہ جواب صحیح ہے یا غلط ؟۔ مگر اس میں شک نہیں کہ جواب کو محدود کر دیا ہے اور ان اشخاص سے مخصوص کر دیا ہے جو کسی کتاب کو الہامی مانتے ہوں۔ یہ امر قابل مصنف کی شان سے بعید ہے۔

مرزا قادیانی کے مریدو !

ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ ہماری تنقید کو مرزا قادیانی کی عقیدت مندی سے الگ ہو کر دیکھنا۔ اگر اسی عقیدت مندی میں مبتلا ہو کر دیکھو تو نتیجہ کچھ نہ نکلے گا اور تمہارا طرز عمل اس

٢١

صفحہ ٤٠٨

شعر کا مصداق ہوگا :

مجھے تو ہے منظور مجنوں کو لیلیٰ
نظر اپنی اپنی پسند اپنی اپنی

٩......مرزا قادیانی کا حسن کلام

جملہ معترضہ : یہاں پہنچ کر ہماری نظر مرزا قادیانی کی اس عبارت پر پڑی جو مرزا قادیانی کے حسن کلام کا نمونہ ہے۔ آپ کلام الہی کی فصاحت وبلاغت وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے منکروں کو ایسی شیریں کلامی سے مخاطب کرتے ہیں جو اپنے اندر خاص کیفیت رکھتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ براہین احمدیہ اس زمانہ کی تصنیف ہے۔ جبکہ عوام اہل اسلام کی طرف سے مرزا قادیانی کی مخالفت نہیں ہوئی تھی۔ علماء اسلام کے خلاف آپ نے ابھی کوئی لفظ نہیں لکھا تھا اور غیر مسلموں کے بر خلاف بھی اس وقت تک کوئی قابل ذکر تصنیف شائع نہ ہوئی تھی۔ اس کے باوجود آپ کی طبیعت کی تیزی ملاحظہ ہو کہ غیر مسلموں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :

”غافلو اور عقل کے اندھو! کیا تمہارے نزدیک خدا کے کلام کی فصاحت بلاغت مکھی کے پروں اور پاؤں سے بھی درجہ میں کم تر اور خوبی میں فروتر ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٧٥‘ خزائن ج ١ ص ١٩٠‘١٩١)

اس کے بعد جب آپ نے علماء سے مخاطب شروع کی تو آپ کی طبیعت میں سختی اور کلام میں تیزی بہت بڑھ گئی۔ جس کا نمونہ یہ فقرہ ہے :

”او بدذات فرقہ مولویوں ! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو پلایا۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢١)

اس پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا :

٢٢

صفحہ ٤٠٩
لگے ہو منہ چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب!
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

١٠...... خاتمہ کتاب براہین احمدیہ

ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مطبوعہ براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل حقیقت قرآن اور صداقت نبوت محمدیہ پر دیئے گئے ہیں۔ ہم مکمل طور پر تصنیف کر چکے ہیں۔ ص ٩٣‘ ص ٩٩‘ ص ١٣٦‘ خزائن ج ١ ص ٦٢‘ ٢٩٧ وغیرہ ملاحظہ ہوں۔

اب حقیقت واقعہ سنئے! آپ کتاب ہذا کے ص ٥١٢ خزائن ج ١ ص ٦١١ پر لکھتے ہیں

باب اول : ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقانیت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔ اس کے بعد چند آیات مع ترجمہ لکھ کر ص ٥٦٢ خزائن ج ١ ص ٢٧٦ پر کتاب کا خاتمہ ایسے ناپسندیدہ طریق پر کیا ہے جس پر کوئی قابل مصنف تو کیا معمولی مصنف بھی نہیں کر سکتا۔ مثلاً آپ لکھتے ہیں کہ : ”جیسے سوئی بغیر دھاگہ کے نکمی اور ناکارہ ہے اور کوئی کام سینے کا اس سے انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح عقل فلسفہ بغیر تائید خدا کی کلام کے متزلزل اور غیر مستحکم اور بے ثبات اور بے بنیاد ہے :

پائے استدلالیاں چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

منقد : ناظرین غور کریں کہ آپ نے اپنی تصنیف کی کشتی کس طرح منجدھار میں چھوڑی ہے۔ جس پر یہ کہنا بجا ہے :

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردۂ
بازمے گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

٢٣

صفحہ ٤١٠

حسب دستور یہ بھی نہیں لکھا کہ باقی مضمون آئندہ جلدوں میں شائع ہوگا۔ یہاں تک کہ اخیر میں ”باقی دارد“ بھی نہیں لکھا۔ اس کے تئیس سال کے بعد براہین کی پانچویں جلد شائع کی۔ اس کو صرف اپنی مسیحائی کے ذکر سے پر کر دیا۔ چوتھی جلد کی انتہا کا کوئی ربط پانچویں جلد کی ابتدا کے ساتھ نہیں دکھایا۔ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ ”علم کلام مرزا“ میں مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک بے نظیر کتاب (براہین احمدیہ ) شائع کر کے اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے جس پر بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلتا ہے:

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز! آپ کسی کے خدا تو نہیں

ناظرین! ہم نے بطور اختصار چند نمونے پیش کئے ہیں۔ ورنہ قد بقی خبایا فی الزوایا، (ابھی بہت سی باریک باتیں مخفی رہ گئیں ۔) مرزاجی کے مریدو!

کبھی فرصت میں سن لینا
بڑی ہے داستاں میری

خلیفہ قادیان اور امیر جماعت لاہور سے درخواست

آپ دونوں صاحب گو چند مسائل میں باہم مختلف ہیں۔ اسی لئے آئے دن ایک دوسرے کو مباحثہ کا چیلنج دیتے رہتے ہیں۔ مگر اس امر پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی کی تصنیفات خواص اور عوام کو مفید ہیں۔ اسی لئے قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتیں مرزا قادیانی کی کتب کو مکرر سہ کرر چھپوا کر شائع کر رہی ہیں۔ آپ لوگوں کے اس فعل پر ہماری درخواست متفرع ہے کہ وہ براہین احمدیہ جس کا مسودہ مرزا قادیانی تیار کر چکے تھے اور جس کا ذکر مرزا قادیانی نے اس کتاب کے ص ٩٣ خزائن ج ١ ص ٨٣ وغیرہ پر کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں جس کی عدم اشاعت کا اعتراف اور آئندہ اشاعت کا مژدہ مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات اسلام کے ص ٣٠٦ پر دیا ہوا ہے سب کام چھوڑ کر سب سے پہلے اس کتاب کے مسودہ کو شائع کر دیں۔

٢٤

صفحہ ٤١١

تاکہ اسلام کی خدمت مکمل ہو جائے۔ جس کے لئے مرزا قادیانی مبعوث ہوئے تھے اور آپ نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اعلان کیا تھا کہ : ”اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔“

(اشتہار عرض ضروری ملحقہ براہین احمدیہ ص ٢ خزائن ج ١ ص ٦٩)

اگر آپ لوگوں نے یہ اسلامی خدمت انجام نہ دی اور ہمارا ایقان ہے کہ نہیں دیں گے تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان متعلقہ تکمیل مسودہ کتاب حقیقت نہیں بلکہ شاعرانہ تخیل تھا۔ جس کی مثال عرب کے مشہور شاعر متنبی کے کلام میں ملتی ہے جو کہتا ہے کہ :

انا صخرة الوادی اذا ما زوحمت
واذا نطقت فاننی الجوزا

تنقید آئینہ کمالات اسلام

اس کتاب کا نام اپنا مضمون بتانے کو کافی ہے کہ یہ کتاب اس غرض سے لکھی گئی ہے کہ اس میں اسلام کے کمالات بتائے جائیں۔ اس لئے ہم نے اس کو بڑے غور و فکر سے پڑھا۔ مگر افسوس ہے کہ ہمیں اس میں متکلمانہ طریق استدلال کی حیثیت سے کوئی کمال نظر نہیں آیا۔ ہاں اسلامی کمالات پیش کرنے کی بجائے آپ نے اپنے کمالات کا اظہار کیا ہے۔ بالفاظ دیگر اپنی مسیحیت موعودہ کا ڈھنڈورہ پیٹا ہے اور اسی کو اسلامی کمالات کا نمونہ قرار دیا ہے جو بالاختصار درج ذیل ہے :

١... صداقت اسلام پر دلیل

”وہ خدا جس کے وجود پر ایمان ہے اس کی ہستی اور قدرت کے کچھ آثار بھی ظاہر ہوں ۔ پہلے زمانہ کے نشان دوسرے زمانہ کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ خبر

٢٥

صفحہ ٤١٢

معائنہ کی مانند نہیں ہو سکتی اور امتداد زمانہ سے خبریں ایک قصہ کے رنگ میں ہو جاتی ہیں۔ ہر ایک نئی صدی جو آتی ہے تو گویا ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے۔ اس لئے اسلام کا خدا جو سچا خدا ہے۔ ہر ایک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہر ایک صدی کے سر پر اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دور پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کر دیتا ہے جس کے آئینہ فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رو سے ملزم کرتا ہے۔ سچائی کی رو سے اس طرح کہ وہ سچے نبی پر ایمان نہ لائے ہوں وہ دکھلاتا ہے کہ وہ بھی سچا تھا اور اس کی سچائی پر آسمانی نشان یہ ہیں اور حقیقت نمائی کی رو سے اسی طرح کہ اس نبی متبوع کے تمام مغلقات دین کا حل کر کے دکھلا دیتا ہے اور تمام شبہات اور اعتراضات کا استیصال کر دیتا ہے اور پردہ دری کے رو سے اس طرح کہ وہ مخالفوں کے تمام پردے پھاڑ دیتا ہے اور دنیا کو دکھلا دیتا ہے کہ وہ کیسے بے وقوف اور معارف دین کو نہ سمجھنے والے اور غفلت اور جہالت اور تاریکی میں گرنے والے اور جناب الٰہی سے دور و مہجور ہیں۔ اس کمال کا آدمی ہمیشہ مکالمہ الٰہیہ کا خلعت پا کر آتا ہے اور ذکی اور مبارک اور مستجاب الدعوات ہوتا ہے اور نہایت صفائی سے ان باتوں کو ثابت کر کے دکھلا دیتا ہے کہ خدا ہے اور وہ قادر اور بصیر اور سمیع اور علیم اور مدبر بالارادہ ہے اور در حقیقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اہل اللہ سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ پس صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ آپ ہی معرفت الٰہیہ سے مالا مال ہے۔ بلکہ اس کے زمانہ میں دنیا کا ایمان عام طور پر دوسرا رنگ پکڑ لیتا ہے اور وہ تمام خوارق جن سے دنیا کے لوگ منکر تھے اور ان پر ہنستے تھے اور ان کو خلاف فلسفہ اور نیچر سمجھتے تھے یا اگر بہت نرمی کرتے تھے تو بطور ایک قصہ اور کہانی کے ان کو مانتے تھے۔ اب اس کے آنے سے اور اس کے عجائبات ظاہر ہونے سے نہ صرف قبول ہی کرتے ہیں بلکہ اپنی پہلی حالت پر روتے اور تأسف کرتے ہیں کہ وہ کیسی نادانی تھی جس کو ہم عقلمندی سمجھتے تھے اور وہ کیسی بے وقوفی تھی جس کو ہم علم اور حکمت اور قانون قدرت

٢٦

صفحہ ٤١٣

خیال کرتے تھے۔ غرض وہ خلق اللہ پر ایک شعلہ کی طرح گرتا ہے اور سب کو کم و بیش حسب استعدادات مختلفہ اپنے رنگ میں لے آتا ہے۔ اگرچہ وہ اوائل میں آزمایا جاتا اور تکالیف میں ڈالا جاتا ہے اور لوگ طرح طرح کے دکھ اس کو دیتے طرح طرح کی باتیں اس کے حق میں کہتے ہیں اور انواع اقسام کے طریقوں سے اس کو ستاتے اور اس کی ذلت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن چونکہ وہ برہان حق اپنے ساتھ رکھتا ہے اس لئے آخر ان سب پر غالب آتا ہے اور اس کی سچائی کی کرنیں بڑے زور سے دنیا میں پھیلتی ہیں اور جب خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ زمین اس کی صداقت پر گواہی نہیں دیتی۔ تب آسمان والوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ گواہی دیں۔ سو اس کے لئے ایک روشن گواہی خوارق کے رنگ میں دعاؤں کے قبول ہونے کے رنگ میں اور حقائق و معارف کے رنگ میں آسمان سے اترتی ہے اور وہ گواہی بہروں اور گونگوں اور اندھوں تک پہنچتی ہے اور بہتیرے ہیں جو اس وقت حق اور سچائی کی طرف کھینچے جاتے ہیں مگر مبارک وہ جو پہلے سے قبول کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کو بوجہ نیک ظن اور قوت ایمان کے صدیقوں کی شان کا ایک حصہ ملتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پاکر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

(آئینہ کمالات ص ٢٤٦ تا ٢٥١ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

منقد : ناظرین کرام! اس سارے اقتباس کا مفہوم استدلال کی شکل میں اتنا ہے کہ اسلام اس لئے سچا مذہب ہے کہ اس میں باکمال انسان پیدا ہوتے آئے ہیں۔ اس زمانہ میں ان کی مثال میں ہوں۔

٢٧

صفحہ ٤١٤

مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی تنقید ہم اپنے متعدد رسائل الہامات مرزا وغیرہ میں کر چکے ہیں۔ یہاں ضرورت نہ تھی مگر چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت کو اسلام کی صداقت پر بشکل استدلال پیش کیا ہے۔ اس لئے اس پر بحث کرنا اس کتاب کے موضوع میں آ سکتا ہے۔ مذکور بالا دعویٰ کا معیار بھی آپ نے اسی کتاب میں بتایا ہوا ہے۔ آپ فرماتے ہیں :

”بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان (معیار) نہیں ہو سکتا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨‘ خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)

منقد : ہم ایک پیشگوئی بطور مثال اسی کتاب سے پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی تھی کہ محمدی بیگم بنت احمد بیگ ہوشیار پوری میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ اس کو آپ نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ چنانچہ آپ کسی سائل کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :

”(یہ پیشگوئی) میرے صدق اور کذب کی شناخت کے لئے ایک کافی شہادت ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کذاب اور مفتری کی مدد کرے۔ لیکن ساتھ اس کے میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے متعلق دو پیشگوئی اور ہیں جن کو میں اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء میں شائع کر چکا ہوں۔ جن کا مضمون یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس عورت کو بیوہ کر کے میری طرف رد کرے گا۔ اب انصاف سے دیکھیں کہ نہ کوئی انسان اپنی حیات پر اعتماد کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی نسبت دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا یا فلاں وقت تک مر جائے گا۔ مگر میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول ...... نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم..... نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم..... پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم..... اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم .... اس وقت

٢٨

صفحہ ٤١٥

تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم...... پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٤ و ٣٢٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

منقد : گو یہ عبارت مرزا قادیانی کا مافی الضمیر بتانے کے لئے کافی ہے۔ تاہم مزید توضیح کے لئے ہم ایک اور کتاب کی عبارت بھی پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں بھی اس پیشگوئی کا ذکر کر کے مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفاً کے دربار میں گویا اس کی رجسٹری کرادی ہے۔ چنانچہ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں : ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے بھی ایک پیشگوئی فرمائی کہ : ” یتزوج ویولد لہ . “ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٣٧)

منقد : اس موقع پر ہم بصد مسرت اظہار کرتے ہیں کہ مسمات محترمہ اور اس کا خاوند ماہ اپریل ١٩٤٤ء تک بحکم خدا دونوں زندہ ہیں۔ نہ مسمات مذکورہ کا خاوند فوت ہوا اور نہ خود بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو عدم آباد تشریف لے گئے۔ جس پر آج ٣٥ سال گزر گئے ہیں۔ اس موقع پر یہ کہنا ہمارا حق ہے کہ مرزا قادیانی نے جس دلیل کو اپنی صداقت پر پیش کیا ہے اسی کو ہم بطور معارضہ ان کی تکذیب پر پیش کر سکتے ہیں۔ کیونکہ عدم تزوج بزبان رسالت مرزا قادیانی کی پوری تکذیب

٢٩

صفحہ ٤١٦

ہے سچ ہے :

حباب بحر کو دیکھو یہ کیسا سر اٹھاتا ہے
تکبر وہ بری شے ہے کہ فورا ٹوٹ جاتا ہے

پس باصطلاح علم کلام‘ مرزا قادیانی کے استدلال میں تقریب تام نہ پائی گئی جو نا قابل مصنف ہونے کا ثبوت ہے۔

٢... نشان طلب کرنا فاسقوں کا کام ہے

مرزا قادیانی نے باریک نظر سے ایک خاص نکتہ پیدا کیا ہے۔ جسے انہوں نے اپنے خیال میں اسلام کی بڑی خدمت سمجھا ہے۔ آپ نے اس بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی نبی سے نشان مانگنا بدکار لوگوں کا کام ہے اور نشان دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں ہے۔ اس بارے میں آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”ایمان اسی بات کا نام ہے جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کیا جائے۔ یعنی اس قدر دیکھ لیا جائے کہ مثلاً صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں اور قرائن موجودہ ایک شخص کے صادق ہونے پر بہ نسبت اس کے کاذب ہونے کے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ تو ایمان کی حد ہے۔ لیکن اگر اس حد سے بڑھ کر کوئی شخص نشان طلب کرتا ہے تو وہ عنداللہ فاسق ہے اور اسی کے بارے میں اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کو ایمان نفع نہیں دے گا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٤‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

منقد : اس بیان میں آپ کی کچھ ذاتی غرض بھی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی نبوت ورسالت کے مدعی تھی۔ اس لئے لوگ مرزا قادیانی سے بھی نشان مانگتے تھے۔ جس کا پورا کرنا ان کے لئے مشکل تھا۔ اس لئے آپ نے اس تدبیر سے ان کو روک دیا۔ یہ مضمون آپ نے خود انجیل متی سے اخذ کیا ہے۔ جس میں یہ فقرہ مسیح کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ

٣٠

صفحہ ٤١٧

:”آج کل کے حرامکار نشان مانگتے ہیں۔“

(انجیل متی باب ٣٩ فقرہ ١٢)

حالانکہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ مسیح کے حواریوں نے مائدہ کا نشان مانگا تھا اور ساحران فرعون، موسوی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے جو خدا کے ہاں مقبول ہوا۔ ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کا علم کلام جو نہ منقول سے ماخوذ ہے۔ نہ معقول کے مطابق ہے :

نہ عارض نہ زلف دوتا دیکھتے ہیں
خدا جانے وہ ان میں کیا دیکھتے ہیں

٣... دعویٰ مجددیت پر دلیل

آپ نے اس کتاب میں صرف اپنی مجددیت پر دلائل دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل یہ وہی ہے کہ میں حدیث شریف کی رو سے چودھویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔ اس لئے میں مجدد ہوں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :

”اول وہ پیشگوئی رسول اللہ ﷺ کے جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو پھر تازہ کر دے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا۔ اس پیشگوئی کے رو سے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودھویں صدی پر ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجودہ خرابیوں کی اصلاح کے لئے پیش قدمی دکھلاتا۔ سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔ اس سے پہلے صدہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہو گا اور احادیث صحیح نبویہ پکار پکار کہتی تھیں کہ تیرہویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔ پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ناظرین! یہ دلیل غلط ہے۔ کیونکہ آپ کی کتاب براہین احمدیہ ١٢٩٧ھ میں طبع ہوئی تھی۔ اثنا تصنیف میں آپ نے اس کتاب کا جو اشتہار دیا تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ :

٣١

صفحہ ٤١٨

”مصنف کو اس بات کا علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات کے مشابہ ہیں۔“

(تبلیغ رسالت جلد اول ص ١٥‘ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)

منقد : اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی چودھویں صدی کے مجدد نہیں ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ مجدد ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ مجدد صادق ہر صدی کے شروع میں آتا ہے اور جو شخص صدی کے اخیر میں مجددیت کا دعویٰ کرے اس کی تردید کے لئے خود اس کا دعویٰ ہی کافی ہے۔ اپنے دعویٰ مجددیت کے ثبوت میں لکھتے ہیں کہ :

”اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا اور ان کے فلسفہ کی جو مخالف قرآن ہے دلائل قویہ کے ساتھ توڑنا اور ان پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کے لئے جو بغیر تائید الٰہی دور نہیں ہو سکتی۔ عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں۔ جن کے دور کرنے کے لئے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے اور جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا۔ حضرت مسیح کی روح ان افتراؤں کی وجہ سے جو ان پر اس زمانہ میں کئے گئے اپنے مثالی نزول کے لئے شدت جوش میں تھی۔ سو خدا تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤١‘ خزائن ج ٥ ص ٣٤١)

اس دعویٰ کی تائید میں آپ کی ایک ڈائری بھی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ مسیحی مذہب کو ملیا میٹ کر دینا میرا فرض ہے۔ چنانچہ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں :

”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت و شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت

٣٢

صفحہ ٤١٩

غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(اخبار بدر قادیان ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)

منقد : واقعات سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں ہو سکتی۔ واقعہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں مرزا قادیانی نے عیسائیوں کا شمار پانچ لاکھ لکھا ہے۔

(اشتہار عرض ضروری ص ٥ ملحقہ براہین احمدیہ ص ٢ خزائن ج ١ ص ٦٩)

آج یہ شمار کہاں تک پہنچا ہے؟۔ اس بارے میں عیسائی رسالہ ”المائدہ“ ملاحظہ ہو۔ جس میں لکھا ہے کہ : ”جدید مردم شماری ١٩٢١ء کی رو سے ہماری تعداد ایک کروڑ ہے۔“

(المائدہ لاہور بابت اگست ١٩٢٢ء ص ٢)

پس! نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ اور دلیل میں تقریب تام نہیں ہے۔ جو ایک لائق متکلم کی شان سے بعید ہے۔ اگر اتباع مرزا صاحب میں کوئی صاحب یوں کہیں کہ ہمارے حضرت صاحب نے عیسائی مذہب کا ستون یوں توڑا ہے کہ مسیح کو مردہ ثابت کر دیا ہے تو ہم کہیں گے کہ مسیح کی ہلاکت تو انجیل میں ہی لکھا ہے کہ اس نے چلا کر جان دی (انجیل متی اخیر)۔ پس مرزا قادیانی نے اگر قرآنی دلائل سے مسیح کی وفات ثابت کی ہے تو آپ سے پہلے سرسید احمد علیگڑھی بھی کر چکے ہیں اس لئے بحکم الفضل للمتقدم یہ فضیلت سرسید کو حاصل ہے اور بقول مرزا قادیانی مجدد ہونے کے بھی وہی حقدار ہیں مگر وہ بھی چونکہ شروع صدی میں نہیں آئے۔ اس لئے ان کے اتباع بھی اگر دعویٰ کریں تو غلط ہے۔

٤... مسلمان کسی غیر مسلم سے میرا مقابلہ کرائیں

مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر یہ دلیل بھی پیش کی ہے : ”یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شک رکھتے ہیں۔ کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٣٣

صفحہ ٤٢٠

اس بیان کو مرزا قادیانی نے بطور دلیل پیش کیا ہے۔ اس لئے اس پر نظر کرنا ہمارا حق ہے۔

غیرت خداوندی : مرزا قادیانی کی کتاب آئینہ کمالات اسلام فروری ١٨٩٣ء میں چھپی میں ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے بڑی تعلیٰ سے اپنے آپ کو مناظرانہ رنگ میں پیش کر کے مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ میرا مباحثہ کسی پادری سے کیوں نہیں کراتے۔ خدا کی غیرت دیکھئے کہ جو نہی یہ کتاب شائع ہوئی۔ ایک معمولی شخص (محمد بخش پانڈہ) کے ذریعہ سے عیسائیوں کے ساتھ مباحثہ کی تحریک اٹھی۔ شدہ شدہ اسی سال مئی ١٨٩٣ء میں مقام امرتسر عیسائیوں سے مرزا قادیانی کا مباحثہ ٹھن گیا۔ جو پندرہ روز تک جاری رہا۔ جس کے اخیر میں اپنا کمال ظاہر کرنے کو آپ یوں گویا ہوئے کہ :

”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢١١‘ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢‘ ٢٩٣)

منقد : اس بیان کی تنقید کرنے کی ضرورت نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ کا مد مقابل مسیحی مناظر ڈپٹی آتھم عیسائی جس کی بابت آپ نے ٥ جون ١٨٩٣ء کو پیشگوئی کی تھی کہ وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ جس کی انتہائی تاریخ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تھی۔ وہ پندرہ ماہ کی مقررہ مدت گزار کر بلکہ ٢٢ ماہ ٢٢ دن مزید زندہ رہ کر ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو

٣٤

صفحہ ٤٢١

فوت ہوا۔

(کتاب انجام آتھم ص ١ خزائن ج ١١ ص ١)

ناظرین! یہ ہے مرزا قادیانی کا متکلمانہ استدلال اور روحانی طاقت کا نمونہ۔ باقی کو بھی اسی پر قیاس کر لیجئے : ”قیاس کن ز گلستان من بہار مرا“

نوٹ : اس مضمون کو ہم مرزا قادیانی کے ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں کہ : ”مدعی کاذب کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

سچ ہے :

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کناں کا

تنقید بر چشمہ معرفت

اس کتاب پر ہم نے خاص طور پر نظر ڈالی۔ کیونکہ یہ آریوں کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ متکلمانہ طرز پر استدلال کا ثبوت اس میں بہت کم ملتا ہے۔ جو کچھ ملتا ہے نفی کے قریب ہے۔ ساری کتاب میں دعویٰ پر دعویٰ اور بیان پر بیان پایا جاتا ہے۔ استدلال کی شکل نہیں ہے۔ ایسی کتاب مریدوں کے حق میں تو مفید ہو سکتی ہے مگر مخالف اس کو جوئے نیر زد (بے فائدہ چیز) کا مصداق سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے۔ اس کتاب کے شروع میں آپ نے ایک اشتہار لکھا ہے۔ جس میں دعویٰ کیا ہے کہ میں نے دلائل قرآن حدیث اور مباہلوں سے اپنی مسیحیت ثابت کر دی۔ اس مقام پر آپ نے چند اشخاص کا نام بھی لیا ہے جن کے ساتھ مرزا قادیانی نے بزعم خویش مباہلہ کیا تھا۔ اور وہ آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔ آپ کے اصل الفاظ یہ ہیں :

”پہلے جس نے صاف صاف ادلّہ کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعویٰ کو ثابت کیا مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے منہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے ان سے بھی کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور پھر ان میں سے کئی لوگ

٣٥

صفحہ ٤٢٢

مباہلہ کے لئے اٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کر کے پیشگوئی کی کہ فلاں سال یا کچھ مدت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلاک ہو جائے گا۔ مگر آخر کار وہ میری زندگی میں ہی خود ہلاک ہو گئے ................ کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بد دعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی؟۔ کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعویٰ سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا۔ کہاں ہے فقیر مرزا جو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا۔ جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ عرش پر سے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ شخص مفتری ہے۔ آئندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ کہاں ہے سعد اللہ لدھیانوی جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔ آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ کہاں ہے مولوی محی الدین لکھوکے والا جس نے مجھے فرعون قرار دے کر اپنی زندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے۔ آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دنیا سے گزر گیا۔ کہاں ہے بابو الٰہی بخش صاحب مولف عصائے موسیٰ اکونٹنٹ لاہور؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔ اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں۔ آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسیٰ پر جھوٹ اور افتراء کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔“

(اشتہار چشمہ معرفت، خزائن ج ٢٣ ص ٣٧٢)

منقد : ان اصحاب میں سے کسی کے ساتھ آپ کا حقیقی مباہلہ نہیں ہوا۔ کیونکہ حقیقی مباہلہ کی تعریف جو ہمارے اور مرزا قادیانی کے درمیان مسلم ہے۔ وہ یہ ہے کہ : ”فریقین بالمقابل دعا کریں۔“

(اربعین نمبر ٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٦، ٣٧٧)

٣٦

صفحہ ٤٢٣

مذکورہ اصحاب میں سے کسی کے ساتھ ان معنی کی رو سے مرزا قادیانی کا مباہلہ نہیں ہوا۔ ہاں! جس بزرگ سے ہوا۔ آپ نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ وہ ہیں صوفی عبدالحق غزنوی مرحوم جن سے مباہلہ کرنے کو آپ استخارہ کر کے امرتسر آئے اور عید گاہ بیرون دروازہ رام باغ میں مئی ١٨٩٣ء میں آپ نے بالمقابل مباہلہ کیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ آپ پہلے مر گئے تھے اور صوفی صاحب بہت عرصہ بعد فوت ہوئے۔ (جس کے بہت سے گواہ موجود ہیں) اس لئے آپ کی یہ دلیل ناقص بلکہ انقص ہے۔ باقی رہا قرآن اور حدیث سے ثبوت اس کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ قرآن مجید سے تو کیا ہی ثبوت ہو گا وہ تو سارا ہی آپ کی تکذیب سے پر ہے۔ ایک حدیث بھی سن لیجئے۔ مسیح موعود کے حق میں آنحضرت ﷺ نے قسمیہ فرمایا ہے کہ وہ مقام: ”فج الروحاء“ سے حج اور عمرے کا احرام باندھیں گے۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

”عن ابی ھریرۃ قال والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحا حاجا او معتمراً ٠ صحیح مسلم جلد اول ص ٤٠٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن“ اس حدیث کے ماتحت آپ نے نہ حج کیا، نہ عمرہ کیا، اور نہ احرام باندھا۔ ساری عمر یہی کہتے رہے کہ میرے لئے راستے کا امن نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے مسیح موعود ہوتے تو آپ کے لئے امن ہو جاتا۔ تاکہ آنحضرتؐ کی قسمیہ پیشگوئی سچی ثابت ہوتی۔ پس! بقول آپ کے جبکہ آپ کے حق میں امن نہیں تھا تو معلوم ہوا کہ اس حدیث کی روشنی میں آپ سچے مسیح موعود نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ کا یہ بیان آپ کے دعویٰ کے مبطل ہے۔

٢... تردید تناسخ

آریوں کے عقیدہ تناسخ کی تردید جو کہ ابطال وید کرتے ہوئے آپ نے یہ بڑی دلیل پیش کی ہے کہ کسی آریہ کی موجودہ بیوی پچھلے جون (جنم) میں شاید اس کی ماں، بہن

٣٧

صفحہ ٤٢٤

ہو۔ چنانچہ آپ کے شستہ الفاظ یہ ہیں :

”تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا۔ کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پرمیشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہو کہ دوبارہ آنے والی روح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پرمیشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھا کر حرامکاری میں پڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ جس مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مر چکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے شاید وہ اس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حرامکاری پھیلنے کی پرمیشر کو کچھ پروا نہیں۔ بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ ناپاکی دنیا میں پھیلے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢ خزائن ج ٢٣ ص ٤٢)

منقد : مرزا قادیانی نے اس اعتراض میں علم منطق کا خلاف کیا ہے۔ علم منطق کا قانون بتانے سے پہلے یہ بتانا مفید ہوگا کہ ہر قوم میں نکاح کا رشتہ موت یا طلاق تک رہتا ہے۔ باصطلاح منطق اس کو قضیہ مشروطہ عامہ کہنا چاہئے۔ اس قضیہ میں وصف اٹھ جانے سے حکم بدل جاتا ہے۔ اہل منطق اس قضیہ کی مثال یوں دیا کرتے ہیں :

”الکاتب متحرک الاصابع مادام کاتباً ۔“(کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہے۔) جب کتابت کا فعل ختم ہو جائے تو حرکت ضروری نہیں ہے۔ اسلامی شریعت میں اس کی واضح مثال ملتی ہے کہ منکوحہ عورت کو اپنے خاوند سے پردہ نہیں ہے۔ لیکن طلاق ہو جانے کے بعد جب نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو پردہ بھی لازم ہو جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق آریہ کہہ سکتے ہیں کہ والدین اور اولاد وغیرہ کا تعلق موت تک ہے۔ اس کے بعد نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر قضیہ مشروطہ عامہ ہے جس طرح اسلام میں نکاح کا تعلق موت یا طلاق تک ہے۔ پس! آپ کا سارا استدلال تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہے۔

٣٨

صفحہ ٤٢٥

٣۔ وید پر شرک پھیلانے کا الزام

آپ نے بڑے حوصلہ سے وید پر یہ الزام لگایا ہے کہ یہ شرک کی تعلیم دیتا ہے۔ آپ اس دعویٰ پر کوئی وید منتر لکھ دیتے تو ہم اسے دیکھتے کہ وہ آپ کے دعویٰ کا ثبوت ہے یا نہیں۔ لیکن جو دلیل آپ نے پیش کی ہے وہ ایسی خام ہے کہ اس کا نام مضحکۃ الصبیان (بچوں کا کھلونا) رکھا جائے تو بالکل موزوں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ نے وید نہ سنسکرت میں پڑھے نہ ہندی میں۔ بلکہ شاید اردو میں بھی نہیں دیکھے۔ محض سنی سنائی باتوں سے کام لیتے رہے۔ اس لئے اس بارے میں آپ کے اقوال بھی مختلف ہیں۔ چنانچہ اسی کتاب میں وید کی تعلیم کے متعلق آپ لکھتے ہیں کہ :

کیوں پیدا ہو جاتے۔ ہردوار وغیرہ مقامات کے بڑے بڑے میلوں پر جاکر دیکھنا چاہئے کہ کس صدق اور کس ارادت سے کئی لاکھ ہندو گنگا کی پوجا کرتے ہیں اور گنگا کے لاکھوں برہمنوں کا ان کے چندوں پر گزارہ ہے اور گنگا سے انواع اقسام کی مرادیں مانگی جاتی ہیں اور یہ سب لوگ وید کے پیرو کہلاتے ہیں۔ اگر وہ وید کے ماننے والے نہ ہوتے تو ہندو مذہب میں شمار نہ کئے جاتے۔ اب بھی ایک بڑا حصہ ہندوؤں کا گنگا کو پرمیشر کر کے مانتا ہے۔ یہاں تک کہ رسم ہے کہ پہلا بچہ اپنا گنگا مائی کی نذر کیا جاتا تھا۔ جس کو ”جل پروا“ کہتے ہیں۔ اس طرح پر نہایت بے رحمی سے گنگا میں ڈال کر اس کو ہلاک کر دیتے تھے مگر گورنمنٹ انگریزی نے اپنے خاص حکم سے اس بدرسم کو دور کر دیا اور لاکھوں جانوں کو ہلاکت سے بچایا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٧ خزائن ج ٢٣ ص ٣٥)

منقد : ناظرین! اس اقتباس کا مطلب صاف ہے کہ مرزا قادیانی ہندوؤں کی گمراہی (گنگا پرستی وغیرہ) کا باعث وید کی تعلیم کو قرار دیتے ہیں اور اب اس کی تردید سنئے۔ آپ فرماتے ہیں : .............................

٣٩٠

صفحہ ٤٢٦

(٢).......... ”ہم یہ نہیں کہتے کہ درحقیقت یہی ویدوں کی تعلیم ہے۔ بلکہ ہر ایک جگہ جو ہم اس رسالہ میں ایسا کریں گے تو اس سے مراد یہی ہے کہ غلطی سے یہی تعلیم ویدوں کی سمجھی گئی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس پر حاشیے چڑھائے گئے۔ یہاں تک کہ مخلوق پرستی اصل مذہب آریہ ورت کا قرار دیا گیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٧٧ خزائن ج ٢٣ ص ٢٨٥)

منقد : اس میں ویدک کی تعلیم کو شرک سے خالی ٹھہرا کر ویدوں کی بریت ظاہر کی گئی ہے۔ اب تیسرا اقتباس اس کے خلاف ملاحظہ ہو۔

(٣).......... ”یہ فتنہ جو آریوں میں مخلوق پرستی کا پیدا ہوا اور اصل تمام الزام اس کا وید کی تعلیم پر ہے۔ کیونکہ جب رگ وید اور دوسرے ویدوں میں صریح اور کھلے طور پر آتش پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی وغیرہ مخلوق پرستیوں کا ذکر ہے تو پھر جن لوگوں نے یہی تعلیم وید کی سمجھ لی۔ ان کا کیا قصور ہے ؟۔ اگر ویدوں میں صرف اور صریح لفظوں میں مخلوق پرستی کی ممانعت ہوتی تو ویدوں کے ماننے والے اور پڑھنے پڑھانے والے پنڈت کیوں مخلوق پرستی میں گرفتار ہو جاتے اور کیوں بڑے بڑے پنڈت جن کو وید کنٹھ تھے۔ اس بلا میں پھنس جاتے اور کیوں ہندو لوگ بت شکن بادشاہوں کے جانی دشمن بن جاتے اور کیوں وہ لڑائیاں ہوتیں جو سلطان محمود غزنوی کے مقابل سومنات کے بت کی حمایت کے لئے ہندو راجاؤں نے کیں اور باہمی لڑائیوں میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ یہ تمام گمراہ فرقے اور بت پرستی کے حامی درحقیقت وید سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٧‘ ٢٨٨ خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٥‘ ٢٩٦)

ناظرین! یہ عبارت اپنا مضمون بتانے میں صاف ہے کہ ہندوؤں کی مخلوق پرستی ویدوں کے سر تھوپی گئی ہے۔ اب اس کی بھی تردید سنئے۔ آپ پیغام صلح میں لکھتے ہیں کہ :

(٤).......... ”ہم خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور جو کچھ اس کی تعلیم میں غلطیاں ہیں۔ وہ وید کے بھاشا کاروں (شارحین) کی غلطیاں سمجھتے ہیں۔“

(کتاب پیغام صلح ص ٢٥ خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤)

٤٠

صفحہ ٤٢٧

(٥)............ اس کے خلاف بھی سنئے! ”وید نے انسان کی حالت پر رحم کر کے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا۔ بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے۔ اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گناہ کے لئے ایک لمبا اور نا پیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٤‘ خزائن ج ٢٣ ص ٥١)

منقد : ناظرین کرام! ایسا شخص بھی علم کلام کی رو سے قابل مصنف کہلا سکتا ہے جس کے اقوال اتنے مختلف ہوں جتنے کہ مرزا قادیانی کے آپ نے ملاحظہ کئے ہیں۔ اس کے باوجود (بقول اس مدعی بے ثباتی) آپ سلطان القلم اور رئیس المتکلمین بھی ہیں۔ سچ ہے

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

٤... وید اور خدا کی ہستی

مندرجہ ذیل اقتباس میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ویدوں سے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں ملتا۔ کیونکہ خدا روح اور مادے کا خالق نہیں ہے۔ اس بارے میں آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”افسوس وید نے ایک ایسا حلیہ پرمیشر کا دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب اور غضب اور کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ نہ قدرت کامل‘ نہ رحم‘ نہ اخلاق‘ نہ اپنے وجود کا پتہ دے سکا کہ میں موجود ہوں۔ کیونکہ اس کے وجود کا پتہ یا تو اس کی خالقیت سے ملتا تا مصنوع کو دیکھ کر صانع کو شناخت کیا جاتا مگر بموجب تعلیم وید کے وہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کنندہ نہیں ۔ اور یا اس کے وجود کا پتہ اس کے تازہ نشانوں اور معجزات سے ملتا۔

١؎ الفضل مورخہ ٨ جون ١٩٢٣ء میں ملک فضل حسین کے نام سے ایک مضمون نکلا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ویدوں میں کہیں نہیں ملتا کہ روح مادہ قدیم ہے اس قادیانی مضمون نگار نے قادیانی ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کی تردید کر دی۔ (افسوس!)

٤١

صفحہ ٤٢٨

سو وہ نشانوں کے دکھلانے پر قادر نہیں۔ پس در حقیقت آریوں کا ایسے پرمیشر پر احسان ہے کہ باوجود یہ کہ اس نے کوئی ثبوت اپنی ہستی کا نہیں دیا۔ پھر بھی اس کو مانتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٥١‘ خزائن ج ٢٣ ص ٥٩)

منقد: مرزا قادیانی کا یہ بیان بھی علم منطق کے خلاف ہے۔ اگرچہ آریہ لوگ روح اور مادہ کو قدیم مانتے ہیں۔ مگر ان سے مرکب چیز کو قدیم نہیں کہتے۔ مادہ کے اجزاء باہم ترکیب پا کر عناصر اربعہ بنتے ہیں۔ مادہ اور ارواح کی ترکیب سے کل حیوانات (انسان وغیرہ) بنتے ہیں۔ اہل منطق کا مشہور قیاس ہے کہ :

”العالم مرکب وکل مرکب حادث فاالعالم حادث فلہ محدث .“

پس! جب عالم مرکب ہے اور ہر مرکب حادث ہے تو بقول اہل منطق اس کے لئے محدث (پیدا کنندہ) کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے ویدوں یا آریوں کے روح مادہ کو قدیم کہنے سے خدا کی ہستی کا انکار لازم نہیں آتا۔ کیونکہ از روئے مقولہ معقولہ........... مرکبات کو ترکیب دینے والا یا وجود میں لانے والا کوئی ہونا چاہئے۔ پس وہی خدا ہے۔ ایسی حالت میں وید پر یہ الزام لگانا کہ اس نے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیا۔ بالکل غلط ہے اور علم منطق سے ناواقفی کی دلیل ہے۔

٥... مرزا قادیانی کے کمال علمی کی مثال

منطقی اصطلاح میں دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ اِنّی اور لِمّی۔ دلیل اِنّی اس کو کہتے ہیں جس میں معلول سے ذات کا علم حاصل ہو۔ جیسے مخلوق سے خالق کا علم حاصل ہوتا ہے اور حرارت بدن سے بخار کا علم۔ اور دلیل لِمّی اس کو کہتے ہیں جس میں علّت سے معلول کا علم حاصل ہو۔ جیسے روشن دان میں سورج دیکھنے سے دھوپ کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کا علم کلام ملاحظہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں :

”اب جاننا چاہئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک لِمّی اور لِمّی دلیل اس کو

٤٢

صفحہ ٤٢٩

کہتے ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگالیں ۔ جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگالیا اور دوسری دلیل کی قسم انی ہے اور انی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں ۔ جیسا کہ ہم ایک شخص کو شدید تپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں ایک تیز صفرا موجود ہے ۔ جس سے تپ چڑھ گیا ۔“

(چشمہ معرفت ص ٥٥، ٥٦ خزائن ج ٢٣ ص ٦٣، ٦٤)

منقد : اس اقتباس پر ہم کئی وجوہ سے نظر کرتے ہیں :

دونوں تعریفوں میں مرزا قادیانی نے مدلول کا لفظ بولا ہے ۔ جس سے دونوں تعریفیں غلط ہو گئی ہیں ۔ کیونکہ مدلول اس کو کہتے ہیں جس کو ثابت کیا جائے اور دلیل اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ثابت کیا جائے ۔ دلیل انی اور لمی ہیں دونوں چیزیں مدلول بھی ہوتی ہیں اور دلیل بھی ۔ مثلاً آپ کا یہ کہنا کہ دلیل لمی اس کو کہتے ہیں کہ : ”دلیل سے مدلول کا پتہ لگائیں“ یہ تعریف دلیل انی پر بھی صادق آتی ہے ۔ کیونکہ اس میں بھی دلیل ہی سے علم حاصل کیا جاتا ہے ۔ مثلاً مخلوق سے خالق کا علم حاصل کرنے میں مخلوق دلیل ہے اور خالق مدلول ہے ۔ اسی لئے دنیائے جہاں کو عالم کہا جاتا ہے جو اسم آلہ کا صیغہ ہے ۔ (فصول اکبری وغیرہ) اس کے معنی ہیں : ”مایعلم بہ الصانع“ اس لئے دلیل لمی کی تعریف منقوض ہے ۔ اسی طرح دلیل انی کی تعریف بھی غلط ہے۔ بقول مرزا قادیانی دلیل انی اس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے دلیل کی طرف انتقال کریں ۔ یہ تعریف فی نفسہ غلط ہے ۔ ہم بتا آئے ہیں کہ مدلول اس کو کہتے ہیں جس کو ثابت کیا جائے ۔ چاہے وہ علت ہو یا معلول۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی جو علمی اصطلاحات نہ جاننے کی وجہ سے غلطی کھاگئے ہیں۔ اسی لئے وہ مدلول اور معلول کو مترادف سمجھتے ہیں۔ دلیل اور علت کو ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے ۔ دلیل لمی میں دلیل علت ہوتی ہے اور مدلول معلول ہوتا ہے اور دلیل انی میں اس کے برعکس دلیل معلول ہوتی ہے اور مدلول علت ہوتا ہے ۔ جیسے حدوث عالم میں عالم دلیل ہے اور خالق مدلول ہے ۔ مرزا قادیانی چونکہ علوم عقلیہ سے ناواقف تھے ۔ جس

٤٣

صفحہ ٤٣٠

کا ثبوت اس مثال کے علاوہ مرزا قادیانی کا وہ قول ہے جو کتاب سرمہ چشم آریہ میں آپ نے بڑے زور سے لکھا ہے کہ : ”قضیہ دائمہ مطلقہ قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اخص ہوتا ہے۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٩٩‘ خزائن ج ٢ ص ١٢٧)

اسی لئے آپ دلیل لمی اور انی کی تعریفیں غلط کر گئے۔ اس پر بھی آپ کو دعویٰ ہے کہ میں سلطان القلم ہوں۔ سچ ہے

مت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

اس مقام کا دوسرا اقتباس یہ ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

”اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔ سو پہلے ہم لمی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور روحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے۔ پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ خداوند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگا دی ہیں۔ ان کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں۔ چنانچہ انسان کا جسم باعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان باعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے کنوئیں اور چشمے اور نہریں پیدا کر دی ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دوسری اقسام کی روشنی پیدا کر دی ہے اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ اس نے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سن سکے‘ ہوا کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کر دی ہے۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا۔ سو خدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کر دیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں۔ ان کے لئے تمام سامان بھی مہیا کر دیا ہے۔ پس اب سوچنا چاہئے کہ جبکہ انسانی جسم کو باوجود اس کے

٤٤

صفحہ ٤٣١

فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے تو انسان کی روح کو جو دائمی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دیئے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٥٦ خزائن ج ٢٣ ص ٦٢)

منقد : اہل علم حضرات غور فرمائیں۔ اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے جسمانی ضروریات کا انتظام کیا ہے۔ اسی طرح روحانی ضرورتوں کا بندوبست بھی کیا ہے۔ پس یہ تمثیل ہے۔ دلیل لمی نہیں ہے۔ ورنہ کوئی صاحب ہمیں بتائیں کہ اس میں علت کیا ہے اور معلول کیا؟۔ کچھ بھی نہیں بلکہ تمثیل ہے اور تمثیل کو دلیل لمی یا انی کہنا انہی لوگوں کا کام ہے جو کہتے ہیں کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔

تنبیہ : مرزا قادیانی میں ایک کمال تھا جس کا ہمیں بھی اعتراف ہے کہ وہ طول کلامی میں اتنے بڑھ جاتے تھے کہ ناواقف ، سامع کو ان کے اصل مدعا اور حشو و زوائد میں تمیز نہیں رہتی تھی بلکہ بعض دفعہ وہ خود بھی اصل مقصود بھول جاتے تھے۔ مثلاً آپ نے مذکورہ اقتباس کے شروع میں لکھا ہے کہ :

”اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں (انی اور لمی) پیش کریں گے۔ پہلے ہم دلیل لمی ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں۔“ (ایضاً)

آپ کو چاہئے تھا کہ آپ دلیل لمی کے بعد دلیل انی سے بھی کام لیتے۔ مگر افسوس ہے کہ ہمیں ص ٥٦ سے ٨٧ تک دلیل انی کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ ہاں! تحریر میں طوالت کی وجہ سے دلفریبی ضرور ہے۔ جس کی تمنا استاد غالب نے بھی کی ہے جو کہتے ہیں :

ملے تو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی
عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کے لئے

درخواست : مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے کوئی صاحب ہمیں مرزا

٢٥

صفحہ ٤٣٢

قادیانی کی پیش کردہ دلیل انی کا پتہ بتائیں تو ہم ان کے بہت مشکور ہوں گے۔

٦... مرزا قادیانی کی غلط گوئی بلکہ فحش گوئی

ہم نہایت افسوس سے اظہار کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے علم کلام میں ایک خاص وصف تھا کہ وہ غلط گوئی کے علاوہ فحش گوئی سے بھی اپنے مخاطب کو ساکت کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ آپ کی یہ عادت مخالفین اسلام کے علاوہ علماء اسلام کے حق میں بھی برابر نظر آتی ہے۔ ہمیں اپنے موضوع سے نکل جانے کا اندیشہ ہے ورنہ ہم بہت سی مثالیں پیش کر سکتے تھے۔ تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ ”ہندوستان کے دو ریفارمر“ ملاحظہ ہو۔ جس میں مرزا قادیانی اور سوامی دیانند بانی آریہ سماج کی خوش کلامیوں کا نمونہ دکھایا گیا ہے۔ سردست ہم اسی کتاب (چشمہ معرفت) سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں :

”جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پرمیشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر آریوں کا پرمیشر کشلیا کا بیٹا ہے اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پرمیشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ ان تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے۔ یعنی یہ کہ پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ (سمجھنے والے سمجھ لیں)“

(چشمہ معرفت ص ١٠٦ خزائن ج ٢٣ ص ١١٣)

منقد : اس اقتباس میں مرزا قادیانی نے کئی ایک دعاوی غلط کئے ہیں اور فحش نویسی سے کام لیا ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو :

”پہلی غلطی تو یہ کی ہے کہ اس کتاب میں آپ کا خطاب آریوں سے ہے اور ذکر ہندوؤں کا لے بیٹھے اور ہندوستان کا ہر ایک چھوٹا بڑا جانتا ہے کہ اس بارے میں آریوں اور ہندوؤں کا سخت اختلاف ہے۔ کوئی آریہ کوشلیا کے بیٹے کو پرمیشور نہیں مانتا اور نہ عناصر کو خدا جانتا ہے۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہندو بھی اس بات کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ عناصر مرکب

٤٦

صفحہ ٤٣٣

ہیں اور ہر مرکب حادث ہوتا ہے۔ البتہ ہندو لوگ اوتار کا عقیدہ بیشک رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں اوتار کی تشریح یہ ہے کہ کسی انسان کے ساتھ پرمیشور کا خاص تعلق ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انسان پرمیشور کا مظہر اتم بن جاتا ہے۔ باالفاظ دیگر اس بارے میں مرزا قادیانی بھی ہندوؤں کے ہم عقیدہ ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

”رأيتنی فی المنام عین اللہ فتیقنت اننی ھو .“(میں نے خواب میں اپنے آپ کو خدا دیکھا۔ پس میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔)

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ناف سے دس انگل نیچے والی چیز کو پرمیشور کوئی بھی نہیں کہتا۔ اللہ رے دعویٰ مسیحیت اور یہ فحش گوئی!

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

٧... مرزا قادیانی کے حوالوں کی کیفیت اور گرفت کی کمزوری

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ آپ حوالہ دیتے ہوئے احتیاط نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی آیات بھی غلط لکھ دیتے ١؎ تھے۔ ناظرین مندرجہ ذیل اقتباس بغور پڑھیں گے تو سلطان القلم کا زور قلم ملاحظہ کریں گے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :

”جب ہم نے وید کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ در حقیقت وید کے پرمیشر نے کئی جگہ وید میں جھوٹ بولا ہے۔ چنانچہ وید کا یہ صریح جھوٹ ہے جو پنڈت دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں وید کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب روح بدن سے نکلتی ہے تو وہ اکاش میں پہنچ کر پھر رات کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اس گھاس کو کوئی کھا لیتا ہے

١۔ مثال کے طور پر یہ آیت ہے : ”یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام.“ حقیقت الوحی ص ١٥٢‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨ استدلال بھی انہی الفاظ سے کیا ہے۔

٤٧

صفحہ ٤٣٤

تو وہ روح نطفہ کی شکل میں ہو کر عورت کے اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بتاؤ کہ اس سے زیادہ کونسا جھوٹ ہو گا کہ روح کو ایک جسمانی چیز بنا دیا۔“

(چشمہ معرفت ص ١١٤ خزائن ج ٢٣ ص ٢٢)

منقد : مرزا صاحب نے یہ مضمون اس کتاب میں متعدد جگہ لکھا ہے۔

(ملاحظہ ہو ص ١٢٢‘ ١٢٨‘ ١٢٩ خزائن ج ٢٣ ص ١٣٠‘ ١٣٦‘ ١٤٧)

اس اقتباس میں وید کے پرمیشور پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ جھوٹ کے مرتکب خود ہوئے ہیں۔ اس کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ ہے۔

مرزا قادیانی نے ١٨٨٦ء میں ہوشیار پور پنجاب میں ماسٹر مرلی دھر آریہ سے مباحثہ کیا تھا۔ جس میں وہ حوالہ پیش کیا تھا (جس کی تفصیل آگے آتی ہے) جب یہ مباحثہ مطبوع ہو کر شائع ہوا تو پنڈت لیکھ رام آریہ مصنف نے اپنی کتاب ”نسخہ خبط احمدیہ“ پر بڑی سختی سے اس حوالے کا مطالبہ کیا۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”ہم مرزا صاحب کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اس کا ثبوت دیں کہ یہ ستیارتھ پرکاش میں کہاں ہے کہ روح اوس کی طرح زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے۔“

(نسخہ خبط احمدیہ ص ٢٦٣)

شکایت بجا ہے : یہاں پہنچ کر ہم پنڈت لیکھ رام کی شکایت کرنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کے مزاج شناس ہونے کے باوجود مرزا قادیانی کے اس فعل کو قرآن مجید کی تعلیم کا اثر بتایا ہے۔ چنانچہ پنڈت جی کے دلآزار الفاظ یہ ہیں :

”ناظرین خود ہی انصاف کریں کہ قرآنی تعلیم کی برکت سے حضرت (مرزا قادیانی) نے کس قدر چالاکی کی اور کیا ہی الہامی تائید سے اصل عبارت کو راستی سے صحیح صحیح نقل کیا ہے۔

(نسخہ خبط احمدیہ ص ٢٦٣)

منقد : پنڈت لیکھ رام کی اس تحریر کو جس میں مرزا قادیانی کا فعل قرآن مجید

٤٨

صفحہ ٤٣٥

کی ہدایت کے ماتحت بتلایا گیا ہے۔ ہر ایک آریہ (بشرطیکہ اپنے چوتھے اصول کو ملحوظ رکھے) ناپسند کرے گا۔ ناظرین! مرزا قادیانی نے اس مباحثے کا ذکر اسی کتاب (چشمہ معرفت) میں یوں کیا ہے :

”مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بمقام ہوشیار پور مجھے ایک آریہ مرلی دھر نام سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور میں نے اس کے آگے یہی بات پیش کی کہ دیانند کا یہ قول کہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور اس کو کوئی شخص کھا لیتا ہے تو روح اس ساگ کے ساتھ ہی اندر چلی جاتی ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سراسر باطل قول ہے اور اس سے روح کا دو ملگجا ہونا لازم آتا ہے اور اس تقریر میں میں نے ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دیا جو دیانند کی ایک کتاب ہے۔ تب مرلی دھر نے ستیارتھ پرکاش پیش کی کہ کہاں اس میں ایسا لکھا ہے۔ تب میرے دل میں خیال گزرا کہ ضرور اس شخص نے کوئی چالاکی کی ہے جو یہ کتاب پیش کرتا ہے۔ میں نے وعدہ کیا کہ چونکہ میں ناگری نہیں پڑھ سکتا۔ اس لئے بعد میں تلاش کر کے وہ موقعہ اپنی کتاب میں لکھ دوں گا۔ پھر میں قادیان آیا اور ایک برہمو صاحب کو جو نیک طبع اور بے تعصب تھے اور ان کا نام نوبین چندر تھا میں نے ان کی طرف ایک خط لکھا کہ کیا آپ مجھے بتلا سکتے ہیں کہ ایسا مضمون ستیارتھ پرکاش کے کس موقعہ پر ہے۔ ان کا جواب آیا کہ یہ مضمون ستیارتھ پرکاش میں موجود ہے۔ مگر یہ آریہ لوگ بڑے چالاک اور افتراء پرداز ہیں۔ انہوں نے پہلی کتاب جس میں یہ مضمون تھا تلف کر دی ہے۔ اور نئی کتاب چھپوائی ہے۔ اور اس میں سے یہ مضمون نکال دیا ہے اور لکھا کہ وہ پہلی کتاب میرے پاس موجود ہے مگر اب میں لاہور سے جانے والا ہوں اور میں نے تمام کتابیں وطن کی طرف بھیج دی ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بیس دن کے اندر ستیارتھ پرکاش کے اس مقام کی نقل کر کے بھیج دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اس مقام کی نقل بھیج دی اور میں نے اس کو اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ میں درج کر دیا۔“ (چشمہ معرفت ص ١١٨، ١١٩، خزائن ج ٢٣ ص ١٢٦، ١٢٧)

٤٩

صفحہ ٤٣٦

منقد : مرزا قادیانی نے اپنے حسب وعدہ سرمہ چشم آریہ میں (طبع اول کے بعد ) اس کا حوالہ یوں نقل کیا ہے۔

" اب ہم ستیار تھ پرکاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس کے لکھنے کا ماسٹر مرلی دھر کو وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ ستیار تھ پرکاش ١٨٧٥ء آٹھواں سمولاس ص ٢١٣ ، سوال : جنم اور موت وغیرہ کس طرح سے ہوتے ہیں ؟ ۔ جواب : لنگ شریر ۔ یعنی جسم دقیق (روح) اور ستھول شریر جسم کثیف باہم مل کر جب ظاہر ہوتے ہیں تب اس کا نام جنم ۔ یعنی پیدائش ہوتا ہے اور دونوں کی علیحدگی سے غائب ہو جانے کو موت کہتے ہیں۔ سو اس طرح سے ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کے نتائج سے گردش کرتی اور اپنے افعال کی تاثیر سے گھومتے ہوئے پانی، کسی اناج یا ہوا میں ملتی ہے۔ پھر جب وہ پانی یا کسی بوٹے وغیرہ کے ساتھ مل جاتی ہے تو جیسے جس کے افعال کا اثر یعنی جتنا جس کو سکھ یا دکھ ہونا ضروری ہے خدا کے حکم کے موافق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کے شکم مادر میں داخل ہوتی ہے۔ پھر جب حیوان یا انسان میں وہ غذا کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جسم کے حصہ کی کشش سے اس کا جسم بنتا ہے۔ اس طریقہ سے جو پرمیشر نے مقرر کر رکھا ہے۔ روح نکلنے کے بعد آفتاب کی کرنوں کے ساتھ اوپر کو کھینچی جاتی ہے اور پھر چاند کے نور کے ساتھ (اوس کی طرح) زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے پھر بموجب طریقہ مذکورہ بالا جسم اختیار کرتی ہے۔ "

(حاشیہ سرمہ چشم آریہ ص ٢٧٣، ٢٧٤، خزائن ج ٢ ص ١٢١، ١٢٢)

منقد : ہر چند مرزا صاحب نے کسی برہمو دوست سے امداد لے کر حوالہ بتانے میں سبکدوشی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے خیال میں سبکدوشی حاصل نہیں ہوئی بلکہ مزید ذمہ داری بڑھ گئی۔ مرزا قادیانی کے پاس تو ستیار تھ پرکاش ١٨٧٥ء کی تھی ہی نہیں اور نہ وہ ہندی پڑھ سکتے تھے۔ جس کا ان کو اعتراف ہے۔ ہاں ہم خدا کے فضل سے

٥٠

صفحہ ٤٣٧

ہندی پڑھ سکتے ہیں اور ہندی کی اصل کتاب ستیارتھ پرکاش ١٨٧٥ء ہمارے پاس ہے۔ اس لئے ہم اس کی ہندی عبارت مع اردو ترجمہ ناظرین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

लिंग शरीर और स्थूल शरीर का संयोग से प्रकट का जो होना उस का नाम जन्म है, और लिंग शरीर तथा स्थूल शरीर का वियोग होने से अदर्शनता को प्राप्त उसका नाम मरण है सो इस प्रकार से होता है कि जीव अपने कर्मों की संस्कारों से घूमता हुआ जल वा कोई ओषधि में अथवा वायु में मिलता है फिर जैसा जिसके कर्मों का संस्कार अर्थात सुख वा दुःख जितना जिसको होना प्राप्य है परमेश्वर की आज्ञा के अनुकूल वैसे ही अन्न में वैसे ही शरीर में मिलके गर्भ में प्रविष्ट होता है ........... स्थूल शरीर से लिंग शरीर निकल के बाहर की वायु में लोकों में मिलता है, फिर वायु के साथ जहां तहां घूमता है कभी सूर्य की किरणों के साथ ऊंचे और चन्द्र की किरणों के साथ नीचे आ जाता है, अथवा वायु के साथ नीचे ऊपर इसी मण्डल में रहता है॥

اردو ترجمہ: روح اور جسم کی ملاوٹ سے ظاہر ہونا۔ اس کا نام پیدائش ہے اور روح و جسم کا علیحدہ ہو کر غائب ہو جانا اس کا نام موت ہے۔ جو اس طرح ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کی وجہ سے گھومتی ہوئی پانی یا کسی جڑی بوٹی یا ہوا میں ملتی ہے۔ پھر جیسا جس کے افعال کا اثر۔ یعنی سکھ دکھ جتنا جس کو ہونا ضروری ہے پرمیشور کے حکم کے مطابق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کر شکم میں داخل ہو جاتی ہے .................. روح جسم سے نکل کر باہر کی ہوا میں مل جاتی ہے۔ پھر ہوا کے ساتھ ادھر ادھر گھومتی ہے۔ کبھی سورج کی کرنوں کے ساتھ اونچے اور چاند کی کرنوں کے ساتھ نیچے آجاتی ہے۔ یعنی ہوا کے ساتھ اوپر نیچے اور

٥١

صفحہ ٤٣٨

درمیان میں رہتی ہے۔“

(ترجمہ ہندی ستیارتھ پرکاش مطبوعہ ١٨٧٥ء)

منقد : ناظرین میں سے جو صاحب ہندی پڑھے ہوئے ہوں۔ وہ خود دیکھ لیں۔ جو نہیں پڑھے ہوئے وہ ہندی دانوں سے اردو ترجمہ کی تصدیق کرا کر ہمیں بتائیں کہ مرزا قادیانی نے جو دعویٰ کیا تھا کہ روح اوس کی طرح کسی بوٹی پر گرتی ہے (جس کا مطالبہ پنڈت لیکھ رام نے کیا تھا) مرزا قادیانی اس سے سبکدوش ہو گئے؟۔ ہرگز نہیں ہوئے۔ (حاشا وکلا)

پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے اس حوالہ میں غلطی ہی نہیں کی بلکہ بہت ہی جرات اور دیدہ دلیری سے کام لیا ہے جو ایک قابل مصنف کی شان سے بہت بعید ہے۔

مرزا قادیانی نے یہ الزام آریوں پر کئی جگہ لگایا ہے۔ جس کی مثال تاریخ تصنیف میں نہیں ملتی۔ مرزاجی کے مریدو!

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
پر تیرے عہد سے پہلے تو یہ دستور نہ تھا

اس کے علاوہ : مرزا قادیانی کی جرات ملاحظہ ہو کہ سوامی دیانند کی تحریر کی غلطی کی وجہ سے ویدوں کو اور ویدوں کے پرمیشر کو جھوٹا کہا۔ (قرآن مجید نے ایسے فعل کو نہایت مذموم قرار دے کر ارشاد فرمایا ہے : ” انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایات اللہ، پ ١٤ رکوع ١٤ “ یعنی جھوٹ افتراء کرنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے۔) بلکہ اس کتاب میں بہت کچھ تحقیر آمیز الفاظ میں ویدوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں :

روح بدن سے نکل کر پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور دو ٹکڑے ہو کر مرد اور عورت کے اندر چلی جاتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٣٠، ١٣١ خزائن ج ٢٣ ص ١٣٨، ١٣٩)

٥٢

صفحہ ٤٣٩

(٢)........... ”غرض اس وجہ سے مضمون پڑھنے والے (آریہ) نے اس نشانی کا ذکر نہیں کیا کہ یہ وید کا بیان ایک غلط بیان ہے۔ غالباً اس کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ اس نشانی کے پیش کرنے سے وید کا تمام تار و پود جھوٹ کا مجموعہ ثابت ہو گا اور نہ صرف جھوٹ بلکہ اس کی جہالت اور ناواقفیت بھی ثابت ہو گی کہ ایسا خدا کے قانون قدرت سے بے خبر ہے کہ روح کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر نازل کرتا ہے۔ حالانکہ گھاس پات کے مادہ کے اندر خود کیڑے موجود ہیں۔ ان پر یہ کونسی شبنم پڑی تھی۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ زمین کے سب نباتات جمادات حیوانات کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں اور زمینی مادہ کے سب کچھ اندر ہے اوپر سے کچھ نہیں آتا۔“

(چشمہ معرفت ص ١٣٢‘ خزائن ج ٢٣ ص ١٤٠)

(٣)........... ”کیا وید کے رشیوں کے معدہ اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں کیڑے نہیں تھے۔ اور مرد اور عورت کی منی بھی کیڑوں سے خالی نہیں۔ اور زمین پر یا زمین کے نیچے کونسا ایسا مادہ ہے جو کیڑوں سے خالی ہے۔ آریوں کو خیال کرنا چاہئے۔ تاکہ کب اور کس راہ سے ان پر شبنمی روح پڑ گئی۔ آخر جھوٹ کی کوئی حد ہے۔ لیکن وید تو جھوٹ بولنے میں حد سے بڑھ گیا اور اس نے خدا کے بدیہی اور محسوس و مشہور اور قدیم قانون قدرت کو ایسا ہاتھ سے پھینک دیا جیسا کہ کوئی ایک کاغذ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٣٢‘ خزائن ج ٢٣ ص ١٤٠)

منقد : ناظرین کرام! جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر نے اپنی کتاب ”میری جدوجہد“ میں لکھا ہے کہ جھوٹ کو باور کرانے کا طریق یہی ہے کہ بار بار اس کا ذکر کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ آخر کار‘ باور کر لیں گے۔ ہم نے سمجھا تھا کہ اس تجویز کا موجد ہٹلر ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تصنیفات دیکھ کر ہماری رائے بدل گئی۔ اب ہم اس رائے پر مضبوطی سے قائم ہو گئے ہیں کہ اس تجویز کا اول مرتکب عامل مرزا قادیانی ہی ہیں جو جھوٹ کو باور کرانے کے لئے اس کو بار بار دہرایا کرتے تھے۔ یہ تو ایک ہی مثال ہے۔ ہم نے آپ کی تصنیفات میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں جن کے ذکر کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ

٥٣

صفحہ ٤٤٠

آپ نے سوامی دیانند کی کتاب ”ستیار تھ“ کا حوالہ دیا ہے جو بجائے خود غلط ہے۔ پھر اس غلطی کو ویدوں کے سر تھوپ دیا ہے۔ حالانکہ سوامی دیانند نے اگر ایسا کہا ہے تو ویدوں کے حوالہ سے نہیں کہا۔ پھر خواہ مخواہ ویدوں کی تحقیر کرنا اور مذاق اڑانا کسی قابل مصنف کا کام نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی!

ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا

٨... عقیدہ قدامت نوعی

آریوں کا عقیدہ ہے کہ روح اور مادہ قدیم ہے۔ مرزا قادیانی نے اس عقیدہ کا تو خوب مذاق اڑایا ہے۔ مگر خود اپنا عقیدہ جو بتایا ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ پر مذاق ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ مخلوق کے افراد تو یقیناً حادث ہیں۔ خواہ وہ کسی نوع کے ہوں مگر سلسلہ نوع قدیم ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

”خدا کی صفات خالقیت رازقیت وغیرہ سب قدیم ہیں۔ حادث نہیں ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات کریمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص١٦٠ خزائن ج٢٣ص١٦٨)

ایضاً : اس مضمون کی تکمیل مرزا نے اسی کتاب میں دوسری جگہ یوں کی ہے :

”خدا کی صفت افنا اور اہلاک بھی ہمیشہ اپنا کام کرتی چلی آتی ہے۔ وہ کبھی معطل نہیں ہوتی۔“

(چشمہ معرفت ص٢٦٨ خزائن ج٢٣ ص٢٨١)

ناظرین ! اس مجمل کی تفصیل قادیان کے ممتاز عالم مولوی میر محمد اسحاق صاحب جو موجودہ خلیفہ قادیان کے ماموں ہیں۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کے ماتحت یوں کرتے ہیں :

٥٤

صفحہ ٤٤١

”جب سے خدا ہے تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ اور جب تک وہ رہے گا اور ہمیشہ رہے گا۔ اس وقت تک وہ مخلوق کو پیدا کرتا چلا جائے گا۔ نہ خدا کے پیدا کرنے کی ابتداء ہے۔ نہ انتہاء۔“

(کتاب حدوث روح مادہ ص ٢٤٤)

منقد : مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا اقتباس میں کئی ایک غلطیاں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :

اول : کسی موصوف کی صفات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک اضطراری دوسری اختیاری۔ اضطراری صفت وہ ہوتی ہے جسے موصوف روک نہ سکے۔ جیسے سورج کی صفت روشنی اور آگ کی صفت حرارت وغیرہ۔ اختیاری صفت وہ ہوتی ہے جسے موصوف اپنے حسب منشاء جاری کر سکتا ہے۔ یا روک سکتا ہے۔ جیسے کاتب کا لکھنا یا متکلم کا بولنا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کس قسم کی ہیں۔ اضطراری ہیں یا اختیاری؟۔ اسلامی شریعت کے علاوہ عقلِ سلیم بھی شہادت دیتی ہے کہ خدا کی صفات اضطراری نہیں ہیں بلکہ اختیاری ہیں۔ خود مرزا صاحب خدا کو ”مدبر بالارادہ مانتے ہیں۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٤٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

سب سے بڑا ثبوت جو ہر ایک سمجھ سکتا ہے۔ یہ ہے کہ بظاہر خدا تعالیٰ کی بعض صفات میں تضاد بلکہ تناقض ہے۔ مثلاً احیاء (زندہ رکھنا) اور اہلاک (مار ڈالنا) اگر یہ دونوں صفتیں باوجود قدامت اضطراری ہوتیں تو مخلوقات کی کیا حالت ہوتی؟۔ اگر احیا کا اثر ہوتا تو سب چیزیں موجود ہو جاتیں۔ اگر افناء کا اثر ہوتا تو کوئی چیز وجود پذیر نہ ہوتی۔ (معلوم ہوا کہ ذات باری کی یہ صفات اختیاری ہیں۔)

دوسری غلطی : علم منطق کا اصول ہے کہ کلی طبعی کا وجود خارجی اس کے افراد میں ہوتا ہے : ”والحق ان وجود الطبعی، بمعنی وجود اشخاصہ“ (تہذیب منطق) پس نوع بحیثیت نوع ایک کلی طبعی ہے۔ اس کا خارجی وجود کسی فرد کے

٥٥

صفحہ ٤٤٢

ضمن میں ہو گا۔ وہ فرد چونکہ مرکب ہو گا۔ اس لئے بحکم : ”کل مرکب حادث ۔“ وہ حادث ہو گا پھر قدامت نوعی کا وجود کیسے محقق ہو گا۔

تیسری غلطی : مرزا قادیانی مادہ کو حادث مانتے ہیں اور مادہ اولیٰ سے عناصر بنتے ہیں اور عناصر کی ترکیب سے موالید ثلاثہ بنتے ہیں جس نوع کا مادہ حادث ہے۔ وہ نوع قدیم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔

چوتھی غلطی : مرزا قادیانی کا مسلمہ ہے کہ مادہ ہر حالت میں حادث ہے اور آریوں کا عقیدہ ہے کہ مادہ حالت اولیٰ میں قدیم ہے مگر بصورت عناصر مرکب ہونے کی وجہ سے حادث ہے۔ اس لئے پرمیشور (خدا) کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی آریوں کو الزام دیتے ہیں کہ تمہارے عقیدہ (قدامت مادہ وغیرہ) کی رو سے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں ملتا۔ آریہ ان کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہمارے عقیدہ قدامت مادہ کی وجہ سے خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں ملتا تو تمہارے عقیدہ قدامت نوعی سے بھی نہیں مل سکتا۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق مرکب کی ترکیب اگر خالق کے وجود کی مثبت نہیں ہے تو آپ کے عقیدہ کی رو سے کیسے مثبت ہو گی ؟۔

مرزا قادیانی کا کمال : موصوف کی تصنیفات میں ہم نے یہ کمال دیکھا ہے کہ وہ اپنی بہت سی باتوں کی تردید خود ہی کر جاتے ہیں۔ ان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی جو در اصل تصرف قدرت ہے۔ چنانچہ اسی مسئلہ کے متعلق آپ فرماتے ہیں :

”ابتداء میں خدا کی صفت وحدت کا دور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دور قدیم اور غیر متناہی ہے۔ صفت وحدت کے وجود کو دوسری صفات پر تقدم زمانی (حاصل) ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٦٣‘ خزائن ج ٢٣ ص ٢٧٥)

نتیجہ : اہل قلم غور فرمائیں کہ جس صورت میں مرزا صاحب کو مسلم ہے کہ

٥٦

صفحہ ٤٤٣

وحدت الہی کو دوسری صفات پر تقدم زمانی حاصل ہے تو مخلوقات کے لئے قدامت نوعی کہاں رہی؟۔ سچ ہے :

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

٩... خدا کہاں سے پیدا ہوا

مرزا قادیانی نے آریوں سے یہ عجیب سوال کیا ہے کہ خدا کہاں سے پیدا ہوا؟۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :

"آریوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خدا کی بے انتہا قدرتوں اور بے انتہا اسرار کو اپنے نہایت محدود علم کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور جو باتیں انسان کے لئے غیر ممکن ہیں۔ وہ خدا کے نزدیک بھی غیر ممکن ٹھہراتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کا اعتراض ہے کہ روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں اور مادہ کہاں سے پیدا ہوا۔ تعجب کہ وہ پہلے کیوں اس سوال کو حل نہیں کرتے کہ خدا کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا؟۔ جبکہ اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا کی قدرتیں ناپیدا کنار ہیں اور اس کے اسرار انوار ہیں اور ہمارے مشاہدات اس کے گواہ ہیں تو پھر یہ بیہودہ منطق خدا تعالیٰ کی قدرت کی نسبت کیوں استعمال کی جاتی ہے؟۔"

(چشمہ معرفت ص ١٦١ خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

منقد : یہ سوال سن کر ہماری حیرت کی حد نہیں رہی کہ ہم مرزا قادیانی کی نسبت کیا رائے قائم کریں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اگر زندہ ہوتے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہو کر با ادب پوچھتے کہ جناب! آپ کا یہ سوال آریوں پر اس صورت میں وارد ہو سکتا تھا۔ جبکہ روح مادہ اور خدا کی حقیقت فریقین میں یکساں مسلم ہوتی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ آپ روح مادہ کو مخلوق و حادث مانتے ہیں اور آریہ ان کو غیر مخلوق اور قدیم کہتے ہیں مگر خدا کی ذات کو دونوں فریق قدیم مانتے ہیں۔ اس لئے آریہ آپ کے عقیدہ حدوث روح ومادہ کی بنا پر

٥٧

صفحہ ٤٤٤

آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے ان چیزوں کو کس چیز سے پیدا کیا۔ آپ اس کا جواب کسی اور طریق سے دیتے تو اچھا ہوتا۔ لیکن یہ کیا غضب کیا کہ الٹا ان پر سوال کر دیا کہ خدا کہاں سے پیدا ہوا؟۔ کیا آریہ لوگ خدا کو مخلوق مانتے ہیں؟۔ ہر گز نہیں۔ پھر ان پر یہ سوال کیوں وارد کیا گیا؟۔

لطیفہ : ایک مولوی صاحب نے کسی دیہاتی بے نماز کو نماز کا وعظ فرمایا۔ دیہاتی نے کہا کہ مولوی صاحب پہلے یہ سوال تو حل کر دیجئے کہ آپ نے اپنے بیٹے کی شادی میں جو دعوت کی تھی تو کھانے میں نمک زیادہ کیوں ڈالا تھا۔ مولوی صاحب نے بڑے تعجب سے کہا کہ میری نصیحت سے اس بات کا کیا تعلق؟۔ دیہاتی نے جواب دیا کہ تعلق ہو یا نہ ہو یونہی بات سے بات نکل آتی ہے۔

١٠... مرزا قادیانی کی معقولیت یا نسیان؟

آپ نے اس کتاب میں ایک عجیب اصول لکھا ہے کہ :

”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو سمجھ بھی نہ سکے۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩‘ خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

منقد : اس کے برعکس آپ براہین احمدیہ میں اپنا انگریزی الہام آئی لویو! آئی شل گو یو لارج پارٹی آف اسلام I Love you! I shall give you larege party of Islam درج کر کے لکھ چکے ہیں کہ میں اس کا ترجمہ نہیں جانتا۔ اصل الفاظ یہ ہیں : ”چونکہ اس وقت کوئی انگریزی خوان نہیں ہے اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنی کے لکھا گیا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ خزائن ج ١ ص ٦٦٢)

ناظرین! اگر الہام کے وقت کوئی انگریزی دان نہیں تھا تو کاپی لکھتے وقت مل جاتا یا کتاب کی طباعت کے وقت مل سکتا تھا۔ یہ کتاب امرتسر میں چھپی ہے۔ جہاں اس زمانہ میں

٥٨

صفحہ ٤٤٥

بھی سینکڑوں انگریزی دان موجود تھے۔ جانے دیجئے کہ انگریزی دان موجود تھے یا نہیں۔ بہر حال الہام کے مخاطب (مرزا قادیانی) انگریزی دان نہیں تھے۔ تاہم الہام ان کو انگریزی میں ہوا۔ بقول مرزا اس کے ایک وجہ تو الہام کی بیہودگی ہے۔ دوسری وجہ بقول شاعر!

شوخئ من ترکی و من ترکی نمے دانم

١١... پنڈت لیکھ رام کی موت سے وید کی تکذیب

مرزا قادیانی اور ان کے حواری لیکھ رام کے قتل کے واقعہ کو بہت بڑا معجزہ بتایا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس واقعہ کو ویدوں کی تکذیب پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس رسالہ میں ہماری غرض مرزا کے استدلالات پر بحث کرنا ہے۔ ان کے عقائد اور الہامات سے تعرض کرنا نہیں ہے۔ چونکہ مرزا نے اس واقعہ (قتل لیکھ رام) کو تکذیب وید پر بطور دلیل کے پیش کیا ہے۔ اس لئے اس پر بحث کرنا اس رسالہ کے موضوع میں آسکتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں نے لیکھ رام کے قتل ہونے کا الہام شائع کیا تھا۔ بلکہ تاریخ بھی بتادی تھی۔ اس کے متعلق آپ لکھتے ہیں کہ :

"کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الٰہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے۔ پس جبکہ لیکھ رام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریابرد ہو گیا۔ اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔"

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

منقد : اس اقتباس کو ہم اپنے لفظوں میں دلیل کی شکل میں پیش کریں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ بقول آریہ قضیہ سالبہ کلیہ کے طور پر ویدوں کے بعد الہام کا نزول بند ہے۔ مجھ مرزا کو پنڈت لیکھ رام کے قتل کے متعلق جو الہام ہوا تھا وہ سچا ہو گیا۔ لہذا میرا یہ الہام

٥٩

صفحہ ٤٤٦

بصورت موجبہ جزئیہ کے ویدوں کے سالبہ کلیہ کی نقیض بن کر ابطال وید کا موجب ہو۔

ناظرین! یہ ہے ہمارے لفظوں میں مرزا قادیانی کے استدلال کی منطقیانہ تقریر۔ اب اس کا جواب سنئے!

لیکھ رام کے متعلق مرزا قادیانی نے جو پیشگوئی کی تھی۔ وہ اس کے قتل یا موت کی نہ تھی بلکہ خارق عادت عذاب کی تھی۔ ہمارے اس دعوٰی کا ثبوت اس معاہدہ سے ہو سکتا ہے جو پنڈت لیکھ رام اور مرزا قادیانی کے درمیان پیشگوئی کے خاتمہ کے متعلق ہوا تھا۔ جسے خود مرزا قادیانی نے بھی شائع کیا تھا۔ آپ کے الفاظ میں معاہدہ مذکور کی عبارت یہ ہے :

”وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم (مرزا) اور لیکھ رام کے مابین تحریر پایا تھا اس معاہدے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی پیشگوئی لیکھ رام کو سنائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو مذہب کی سچائی کی دلیل ہوگی اور فریق پیشگوئی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ آریہ مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھ رام کو دے دے۔ اور اگر پیشگوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی ١؎ کی یہ دلیل ہوگی اور پنڈت لیکھ رام پر یہ واجب ہوگا کہ اسلام قبول کرے۔ پھر اس کے بعد وہ پیشگوئی بتلائی گئی جس کی رو سے ٦ مارچ ١٨٩٧ء کو لیکھ رام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔“

(استفتاء ص ٩‘ خزائن ج ١٢ ص ١١٧)

ناظرین کرام! یہ معاہدہ صاف بتارہا ہے کہ مرزا قادیانی کی الہامی پیشگوئی کا وقوع ایسے طریق پر ہونا چاہئے تھا کہ پنڈت لیکھ رام اسلام قبول کر سکتا۔ یعنی زندہ رہتا۔ پس اس کا مر جانا یا مارا جانا پیشگوئی کی تصدیق نہیں بلکہ تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ رہا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا استدلال اور ہماری طرف سے اس کا ابطال۔ اس پیشگوئی کی تفصیل ہمارے رسالہ ”لیکھ رام اور مرزا“ میں ملاحظہ ہو۔

١؎ کیسی غلط شرط ہے۔ مرزا قادیانی کی یا کسی اور ملہم کی پیشگوئی غلط ہونے سے یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے کہ پیشگوئی کرنے والا جھوٹا ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت کرنا یا اسے تسلیم کرنا کہ ہندو مذہب سچا ہے کسی قابل مصنف کا کام نہیں۔ مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو!

٦٠

صفحہ ٤٤٧

١٢... نیستی سے ہستی کا ثبوت

فلاسفہ یونان اور براہم ہند پیدائش دنیا کے سلسلہ میں قدامت مادہ کے قائل رہے ہیں۔ یعنی وہ نیستی سے ہستی نہیں مانتے۔ موجودہ آریہ لوگ بھی انہی کے ہم خیال ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی ان سب کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

”جب سے خدا نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ خدا کی قدرتیں عجیب در عجیب اور عمیق در عمیق اور وراء الوراء اور لا یدرک ہیں۔ تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکے کافر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہریہ خیال کرتا ہوں۔ میرا خود ذاتی مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ ان کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کا ہم رکھ نہیں سکتے...... اس کی قدرت کا یہ راز ہے کہ وہ نیست سے ہست کرتا ہے۔ جیسا کہ اس بات پر ہزار ہا نمونے ہماری نظر کے سامنے ہیں۔ بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پھل جیسے جیسے پکتے جاتے ہیں وہ پردار کیڑوں کی طرح بنتے جاتے ہیں اور بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اس کی نظیریں ہزار ہا ہیں نہ صرف ایک دو۔ پس اس جگہ بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ نیستی سے ہستی ہے اور یہ ایک ایسا راز قدرت ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٦٩‘ خزائن ج ٢٣ ص ٢٨٢‘ ٢٨١)

منتقد : ہم حیران ہیں کہ اس کو مخالف کے دعوٰی کی تردید کہیں یا تسلیم۔ مرزا قادیانی کے مریدوں کو اس پر خاص توجہ کرنی چاہئے۔ بحیثیت مرید جس کا اصول ہو کہ :

پیر من خس است
اعتقاد من بس است

بلکہ ایک محقق متکلم کی طرح سوچنا چاہئے۔ مرزا قادیانی نے جو مثالیں پیش کی ہیں ان میں نیستی سے ہستی کا ثبوت ملتا ہے یا ہستی سے ہستی کا؟۔ پھلوں وغیرہ میں کیڑے پیدا ہونا

٦١

صفحہ ٤٤٨

تو مادے کا ثبوت دے رہا ہے۔ آریہ کہہ سکتے ہیں کہ پھل وغیرہ تو بجائے خود کیڑوں کی پیدائش کے لئے مادہ کا حکم رکھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں مرزا قادیانی بدن کی جوؤں اور چارپائی کے کھٹملوں کی مثالیں پیش کرتے تو مذکورہ بالا مثال سے اچھا ہوتا۔ گویہ بھی اس شعر کا مصداق ہوتا :

ایں کرامت ولی ماچہ عجب
گربہ شاشید و گفت باران شد

لطیفہ : مذکورہ بالا اقتباس میں مرزا قادیانی فلاسفروں پر بہت خفا نظر آتے ہیں۔ چنانچہ آپ ان کا نام پکے کافر رکھتے ہیں۔ لیکن آگے چل کر آریوں کے اعتراض متعلقہ شیطان کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسان کے دل میں دو قسم کے القا ہوتے ہیں۔ ایک نیک۔ دوسرا بد۔ نیک القا کی تحریک فرشتہ کی طرف سے ہوتی ہے اور بد القا کی تحریک شیطان کی طرف سے۔ پھر اپنی دلیل کی تائید یا پشتیبانی انہی پکے کافروں کے قول سے کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں: ”قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے کہ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔ بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں نیکی کا القا اور بدی کا القاء۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٠‘ ٢٨١ خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٣)

منقد : مجھے خیال آتا ہے کہ یہ پکے کافر (فلاسفر) مرزا قادیانی کا یہ اقتباس دیکھ کر بڑے ترنم سے یہ شعر پڑھیں گے :

وفا کے واسطے میری تلاش ہوتی ہے
کوئی زمانہ میں جب دوسرا نہیں ملتا

١٣... اہل زمانہ کی حالت سے استدلال

مرزا قادیانی نے اس استدلال میں بہت طوالت سے کام لیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عوام کی گمراہی کے علاوہ علماء اسلام اور امراء اسلام کی بد اعمالیاں میرے مبعوث

٦٢

صفحہ ٤٤٩

ہونے کے اسباب ہیں۔ میری پیشگوئیاں اور دعائیں اور مخالفین کے ساتھ میرے مباہلے میری صداقت کے نشانات ہیں۔ چنانچہ آپ کی طویل عبارت کو ہم بالاختصار چند نمبروں میں پیش کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

گئی ہیں۔ ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض پیر پرستی میں اس قدر حد سے بڑھ گئے ہیں جو اپنے پیروں کو معبود قرار دیدیتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٦)

بد عملی حد سے بڑھ گئی ہے اور وہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ اپنی طرف بلاتے ہیں اور اکثر ان میں بڑے چالاک اور دین فروش ہوتے ہیں۔“

(حوالہ مذکور)

کہلاتے ہیں۔ مگر ان پاک علوم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ وہ روحانیت اور اخلاص اور صدق وفا سے کچھ بھی ان کو خبر نہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٦)

خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر او تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٧)

پھیل گئے ہیں۔ ان کا تو شمار کرنا مشکل ہے۔ اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر مسلمانوں میں ایک آدمی بھی مرتد ہو جاتا تھا تو گویا قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب اس ملک میں مرتد مسلمان جو عیسائی ہو گئے جنہوں نے اور مذہب اختیار کر لیا ہے۔ وہ دو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی ادنی اور اعلیٰ ذاتوں میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جس میں سے ایک گروہ عیسائی نہ ہو گیا ہو۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٢ خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٧)

٦٣

صفحہ ٤٥٠

(٦)...........اس زمانہ میں جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے خدا نے مجھے اصلاح کرنے کے لئے مامور کر کے بھیجا اور میرے ہاتھ پر نشان دکھلائے...........جو معجزات مجھے دیئے گئے ۔ بعض ان میں سے وہ پیشگوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کر سکے اور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہو کر ان سے اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئے ۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٤ خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٨)

منقد : ”اس تقریر کو بطریق استدلال یوں سمجھنا چاہئے کہ چونکہ اس زمانہ میں بے شمار مفاسد پیدا ہو گئے تھے جو اس امر کے متقاضی تھے کہ کوئی مصلح آئے جو ان خرابیوں کی اصلاح کرے ۔ اس بنا پر خدا نے مجھے مصلح اعظم بنا کر بھیجا ہے............. میرے دعویٰ کی صداقت پر میری پیشگوئیاں میری دعائیں اور میرے وہ مباہلے گواہ ہیں جن کے اثر سے میرے دشمن ہلاک ہو گئے ۔“

ناظرین ! مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر اپنی پیشگوئیوں سے جو استدلال کیا ہے ۔ وہ صحیح نہیں ہے ۔ آپ کی پیشگوئیوں میں سے تین اہم پیشگوئیاں اس ملک کی تین بڑی قوموں سے متعلق تھیں ۔ پہلی پیشگوئی کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔ دوسری پیشگوئی عیسائیوں کے متعلق تھی یہ بھی غلط ثابت ہوئی ۔ تیسری پیشگوئی ہندوؤں کے متعلق تھی ۔ ان سب کا تذکرہ اس رسالہ میں ہو چکا ہے ۔ ان کے علاوہ مرزا قادیانی کی کچھ اور پیشگوئیاں بھی ہیں ۔ ان سب کا ذکر ہماری کتاب الہامات مرزا وغیرہ میں ملتا ہے ۔ جس میں آپ کی تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کیا گیا ہے ۔ مباہلہ والی دلیل بھی غلط ہے ۔ کیونکہ مباہلے کی صحیح تعریف جو فریقین میں مسلم ہے بالفاظ مرزا قادیانی یہ ہے : ”مباہلہ کے معنی لعنت اور نیز شرعی اصطلاح کی رو سے یہ ہیں کہ دونوں فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں ۔“

(اربعین نمبر ٢ حاشیہ ص ٢٦ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٣٧٧)

اس تعریف کے ماتحت مرزا قادیانی کا مباہلہ صرف ایک ہی شخص ( صوفی عبدالحق

٢٤

صفحہ ٤٥١

غزنوی) کے ساتھ بمقام امرتسر ماہ مئی ١٨٩٣ء میں ہوا تھا۔ جس کے نتیجہ میں مرزا قادیانی صوفی صاحب سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ البتہ مسئلہ دعا خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ مگر افسوس ہے کہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کی دعا کی قبولیت سے منکر ہو جاتی ہے۔ سنئے! آپ کی اہم اور مشہور دعا ہم پیش کرتے ہیں جس کی قبولیت کے متعلق بقول مرزا قادیانی ان کو خدا کی طرف سے الہام بھی ہوا تھا۔ اس کی سرخی مرزا قادیانی کی قلم سے یوں مرقوم ہے:

مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ

اس سرخی کے نیچے قرآن مجید کی ایک آیت لکھی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: ”یستنبؤنک احق ھو قل ای وربی انه الحق۔“ اس آیت سے آپ کا مقصود یہ بتانا ہے کہ میں نے مولوی ثناء اللہ کے حق میں جو دعا کی ہے۔ وہ بحکم خدا ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ اس دعا کا خلاصہ یہ ہے: ”مولوی ثناء اللہ صاحب! تم نے مجھے دکھ دیا دور دراز ملکوں میں مجھے بدنام کیا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ پس میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر مطلق خدا! ہم دونوں میں سچا فیصلہ فرما۔ تیری نظر میں جو جھوٹا ہے۔ اس پر سچے کی زندگی میں موت وارد کر۔“ مرزا غلام احمد مسیح موعود ١٥ اپریل ١٩٠٧ء (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨‘٥٧٩)

اس دعا کے بعد کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوا:

”أجيب دعوۃ الداع،“ (اخبار بدر قادیان ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء‘ ملفوظات ج ٩ ص ٢٦٨)

پس مرزا قادیانی کی یہی ایک دعا ہے جس کی بابت ہمارا عقیدہ ہے کہ ضرور قبول ہوئی۔ مگر جماعت قادیانی اس کی قبولیت سے انکاری ہے۔

المختصر ساری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود تھے نہ مجدد زماں‘ نہ صاحب الہام۔ یہاں تک کہ قابل مصنف بھی نہ تھے۔ باوجود اس کے ان کے اتباع محض اپنی قلبی شہادت سے ان کو مسیح موعود‘ مجدد اور تصنیف میں سلطان القلم سمجھتے ہیں۔

ابو الوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری

٦٥

PDF 452

ضروری اعلان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے

ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 453

خاتم النبیین لا نبی بعدی

مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

بہاء اللہ اور مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٤٥٤

بہاء اللہ اور مرزا

پہلے مجھے دیکھئے

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔

مرزا قادیانی مدعی مہدویت اور مسیحیت کے متعلق ہم نے بتائیدہ تعالیٰ بہت سی کتابیں لکھیں۔ جن کے بعد ہم خود سمجھتے ہیں کہ کسی جدید کتاب کی ضرورت نہیں۔ تاہم آج ہم نے اس مضمون پر قلم اٹھایا ہے۔ کیوں.......؟

اس لئے کہ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی کے دعوے کی کاپی (نقل) ہے مگر اس کو مستقل کتاب کی صورت میں ثابت نہیں کیا۔ صرف ایک مختصر سا نوٹ اخبار ’اہلحدیث‘ مورخہ ١٦؍مئی ١٩٢٤ء میں لکھا تھا۔ جس کی سرخی تھی ”مامورین کی چار یاری“۔ اس میں بتایا تھا کہ مرزا قادیانی دراصل شیخ بہاء اللہ کے پیرو تھے۔ اس رسالہ میں ذرہ وضاحت سے لکھتے ہیں۔

نوٹ: مرزا قادیانی کی تردید کے مضامین آج کل بکثرت شائع ہوتے ہیں۔ لیکن اس کتاب کا مضمون اچھوتا ہے آج تک کسی مصنف نے ان دو مدعیان کا وحدتی نقطہ نہیں بتایا۔ امید ہے ناظرین بھی اس مضمون کو اچھوتا پائیں گے۔ اور اپنے پڑوس میں اس کو پہنچا کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

خادم دین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر پنجاب ربیع الاول ١٣٥٢ھ ۔ جولائی ١٩٣٣ء

٢

صفحہ ٤٥٥

تَمْهِيدُ

ناظرین کو آگاہ کرنے کے لئے شیخ بہاء اللہ ایرانی اور مرزا قادیانی کی مختصر سوانح عمری بتانا مفید ہوگا۔

شیخ بہاء اللہ کا اصلی نام مرزا حسین علی ہے۔ ملک ایران میں ضلع طہران کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ سے پہلے سید علی محمد باب نے دعویٰ مہدی ہونے کا کیا تھا۔ پہلے دونوں شیعہ مذہب تھے۔ بعد دعویٰ بابی دین جدید ہو گئے۔ باب ١٨٣٩ء میں فوت ہوا۔ اس کے بعد ان کے اتباع کی حالت پریشان رہی۔ حکومت ایران سخت مخالف تھی۔ بہائی سوانح نگار لکھتا ہے:

”١٨٥٢ء سے انتظام پورے طور پر حضرت بہاء اللہ نے کرنا شروع کیا۔ اپنی جماعت پریشان یا تو شروع سے مفلس و نادار یا تمام مال و متاع لوٹ لیا گیا۔ اکثر خوف زدہ۔ یا آگ سے یا دودھ سے جلے ہوئے۔ زیادہ تر کم علم۔ جوشیلے عالم اور مولوی خلاف۔ دولت و سلطنت خلاف۔ عام خلق میں بدنام۔ مطعون اور نجس مشہور۔ اپنے ملک اور وطن سے دور۔ کریں تو کیا کریں۔ بارہ سال صبر و استقلال سے کام کیا کہ پھر مصیبت ٹوٹی۔ نظر بندی میں سختی ہوئی۔ بالآخر جیل خانہ (بمقام عکہ زیر حکومت ترکیہ) میں ڈال دیئے گئے اور چوبیس سال تک قید رہے۔ ١٨٩٢ء میں پچھتر سال کی عمر میں (بہاء اللہ نے) انتقال کیا۔“

کچھ شک نہیں کہ آزادی کے زمانہ میں شیخ بہاء اللہ کو حکومت اور پبلک کی طرف سے سخت سے سخت تکالیف آئیں جن کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ آزاد رہنے سے مقید رہنا اُن کے حق میں اچھا تھا۔

غرض چالیس سال تبلیغ رسالت خود کر کے دنیا چھوڑ گئے۔ ان کے بعد ان کا بیٹا عبد البہاء آفندی جانشین ہوا۔ جس کی آخری شبیہ سرسید احمد خان مرحوم علی گڑھی کے مشابہ ہے۔ اس کے بعد بھی انتظام باقاعدہ چل رہا ہے۔

نوٹ:۔ آج بھی بہائیوں کی جماعت کافی ہے۔ جو امریکہ۔ یورپ۔ ایران اور ہندوستان کے

٣

صفحہ ٤٥٦

مختلف مقامات میں پھیلی ہوئی ہے۔

سوانح عمری مرزا قادیانی

مرزا قادیانی اپنی تحریر کے مطابق ١٢٦١ھ میں پیدا ہوئے۔ ١؎ تھوڑی سی فارسی اور تھوڑی سی عربی کی صرف نحو پڑھی۔ ٢؎ جوانی میں بمقام سیالکوٹ پندرہ روپے ماہوار پر محرر ہوئے۔ اسی اثناء میں قانونی مختاری کا امتحان دیا۔ اس میں فیل ہوئے۔ پھر تصنیف و تالیف پر متوجہ ہوئے۔ اسی اثناء میں الہامات کا اعلان کیا۔ یہاں تک کہ ١٣٠٨ھ میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ٣؎ کیا۔ مگر نبوت سے منکر تھے۔ دن بدن ترقی کرتے کرتے ١٩٠١ء میں بذریعہ ایک اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ اپنی نبوت کی تشریح فرمائی کہ براہ راست نہیں ہے بلکہ بہ برکت اتباع نبوت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ) مجھے نبوت ملی ہے۔ اس کے بعد ١٣٢٦ھ مطابق مئی ١٩٠٨ء میں ہیضہ ٤؎ سے انتقال کر گئے۔

مفصل سوانح مرزا ہماری کتاب ’’تاریخ مرزا‘‘ (بشمول احتساب جلد ہذا) میں ملاحظہ ہوں۔

......☆......

باب اول...... دعویٰ رسالت

شیخ بہاء اللہ نے رسالت مستقلہ کا دعویٰ کیا تھا۔ جس کا ثبوت اُن کی تحریرات سے مختلف الفاظ میں ملتا ہے۔ صاف الفاظ میں بلفظ ’’رسول‘‘ بہاء اللہ نے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے مخاطب کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

(کتاب اقدس ص ٥٣)

(اے رسول (بہاء اللہ) اللہ تم کو یاد کرتا ہے۔)

١؎ تریاق القلوب کلاں ص ٦٨۔ ٢؎ آئینہ کمالات مصنفہ مرزا صاحب ص ٥٤٥۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً) ٣؎ فتح الاسلام ص ١١٠ مصنفہ مرزا۔ خزائن ج ٣ ص ٨۔ ٤؎ خطبات نوریہ حصہ دوم ص ٢٦٥۔٢٦٨۔ حیات ناصر ص ١٤

٤

صفحہ ٢٥٧

کتاب میں نہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کو بصیغہ امر مخاطب کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کلام کا متکلم کوئی اور ہے اور آنحضرت ﷺ بحیثیت رسالت اس کے مخاطب ہیں۔ جیسے ” قل“ ۔ شیخ بہاء اللہ بھی اپنی کتاب میں اللہ کی طرف سے بصیغہ ”قل“ مخاطب ہوتا ہے۔ منجملہ ان مقامات کے بطور مثال چند مقام یہ ہیں۔

قل یا ملاء الامکان تاالله قد فتح باب السماء .

(کتاب اقدس ص ٥٦)

قل هذا یوم بشر به محمد رسول الله

(کتاب اقدس ص ٥٧)

قل یا معشر العلماء لم اعرضتم

(کتاب اقدس ص ٥٩)

”اے علی اکبر لوگوں کو اپنے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کر۔ کہہ کہ اے بندو! اگر تم میں انصاف ہے تو اس امر کی تصدیق کرو۔“

(تجلیات اُردو۔ ص ٤)

”بہاء اللہ کی رسالت مثل حضرات موسیٰ، عیسیٰ، محمد علیہم السلام مستقلہ تھی۔“

(مفاوضہ عبدالبہاء۔ ص ١٥٠)

نوٹ:۔ اس مقام کی اصلی عبارت باب دوم کتاب ہٰذا میں درج ہوگی۔

...... ☆ ......

دعویٰ رسالت مرزا قادیانی

اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بہاء اللہ کی مشکلات محسوس کر کے دعویٰ رسالت میں ان سے آسان راستہ اختیار کیا وہ یہ ہے:

”میں (مرزا) مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔ اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔“

(اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٦،٧۔ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠،٢١١)

٥

صفحہ ٤٥٨

مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ میں (مرزا) رسالت محمدیہ کے اتباع سے رسول بنا ہوں۔ اس پر یہ سوال مقدر ہوا کہ اتباع رسالت محمدیہ میں تو پہلے لوگ زیادہ مضبوط اور راسخ تھے پھر وہ رسول اور نبی کیوں نہ ہوئے؟ اس کا جواب مرزا قادیانی نے دیا ہے:

”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦‘ ٤٠٧)

ایک مقام پر اپنی نبوت و رسالت کی توضیح کرتے ہیں:

”ہمارا (مرزا کا) دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو۔ اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧۔ اخبار ”بدر“۔ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)

ناظرین کی آسانی کے لئے ہم ایک مثال دیتے ہیں:

حضرت موسیٰ علیہ السلام اولوالعزم رسول تھے۔ جب ان کو خلعتِ رسالت سے سرفراز کیا گیا تو آپ نے دعا کی کہ خداوند! میرا بھائی مجھ سے زیادہ فصیح ہے اس کو بھی رسول بنائیے تاکہ ہم مل کر کام کریں۔ خدا کی طرف سے جواب ملا:

”لَقَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یَا مُوْسٰی“

(طہ : ٣٦)

”اے موسیٰ تمہارا سوال تم کو دیا گیا۔“

اس مثال میں حضرت موسیٰ مستقل رسول ہیں اور حضرت ہارون ان کے طفیل رسول ہیں۔ مگر نتیجہ دونوں کا ایک ہے۔ جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کفر ہے‘ حضرت ہارون کا انکار بھی کفر ہے۔

ٹھیک اسی طرح شیخ بہاء اللہ کا دعویٰ مثل موسیٰ علیہ السلام مستقل رسول ہونے کا ہے۔ اور مرزا قادیانی کا مثل ہارون علیہ السلام طفیلی ہونے کا ہے۔ مگر مرتبہۂ نبوت میں برابر ہیں۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:

”میرا منکر مسلمان نہیں“

(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣‘ ١٦٤ حاشیہ ۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧‘ ١٦٨)

٦

صفحہ ٤٥٩

ان دونوں دعوؤں میں فرق

کچھ شک نہیں کہ بہاء اللہ کا دعویٰ رسالت مستقلہ کا تھا جس میں صاحب رسالت بحکم کذا احکام شرعیہ بغیر اتباع شریعت سابقہ کے پہنچاتا ہے۔ مرزا قادیانی رسالت مستقلہ کے نہیں بلکہ (ابتداءً) رسالت تبعیہ کے مدعی تھے۔ کیونکہ آپ نے دیکھا تھا کہ شیخ بہاء اللہ کو دعویٰ مستقلہ میں بہت تکلفات اور سخت تکالیف پیش آئیں اس لئے آپ نے بغرض آسانی یہ درجہ ایجاد کر کے اپنے لئے اختیار کیا۔

……☆……

شیخ بہاء اللہ کل انبیاء کرام کا موعود تھا

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ میری بابت کل انبیائے سابقین علیہم السلام نے پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں۔ مرزا موصوف اس دعویٰ میں بھی شیخ ایرانی کے پس رو ہیں۔ شیخ ایرانی لکھتے ہیں:

” قل یا ملاء الفرقان قد اتی الموعود الذی وعدتم بہ فی الکتاب اتقوا اللہ ولا تتبعوا کل مشرک اثیم . “

(الواح مبارکہ عربیہ:

ص ٢٣٥)

(ترجمہ) ”اے جماعت قرآن والوں کی وہ موعود تمہارے پاس آ گیا جس کا تم کو کتاب سماوی میں وعدہ دیا گیا تھا۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور کسی مشرک بدکار کا کہا نہ مانو“

مرزا قادیانی اسی تتبع میں لکھتے ہیں:

” میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا۔ اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشان ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔“

(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ۔ ص ٥١)

ناظرین کرام ! دونوں صاحبوں کو الفاظ سے قطع نظر کر کے اصل مضمون میں متحد پائیں گے کہ یہ دونوں صاحب مدعی ہیں کہ انبیاء سابقین علیہم السلام نے ہماری بابت وعدہ دیا ہوا ہے۔ ( کیا اچھا ہو کہ ان دونوں صاحبوں کے اتباع ہم کو انبیاء سابقین کے وعدے دکھائیں تاکہ ہم بھی ان سے مستفید ہوں)

٧

صفحہ ٤٦٠

شیخ بہاء اللہ سب سے اعلیٰ اور افضل تھے

مرزا قادیانی نے از ہمہ اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ بھی دراصل بہاء اللہ سے حاصل کیا ہے۔ شیخ بہاء اللہ لکھتے ہیں:

”هذا یوم لو ادرکه محمد رسول الله لقال قد عرفناک یا مقصود المرسلین ولو ادرکه الخلیل لیضع وجهه علی التراب خاضعاً لله ربک ویقول قد اطمائن قلبی یا اله من فی ملکوت السموات والارضین.“

(الواح مبارکہ عربیہ مصنفہ بہاء اللہ : ص ٩٣)

(ترجمہ) ”یہ میرا وقت وہ زمانہ ہے اگر محمد رسول اللہ اسے پاتے تو (مجھے مخاطب کر کے) کہتے اے مقصود المرسلین ہم نے تجھے پہچان لیا۔ اور اگر ابراہیم خلیل اللہ اسے پاتے تو اللہ کے سامنے عاجزی سے مٹی پر منہ رکھ کر کہتے کہ اے آسمان اور زمینوں کے معبود (اس بہاء اللہ کو دیکھ کر) میرا دل مطمئن ہو گیا۔“

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے

”آسمان سے بہت سے تخت اترے پر (اے مرزا) تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٩۔ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)

مضمون بالکل واضح ہے کہ مقربان میں سے تو (اے مرزا) سب سے اونچا ہے اسی دعوے کی مزید تشریح ایک اور مقام میں ملتی ہے جہاں لکھتے ہیں:

” ان قدمی هذه علی منارة ختم علیها کل رفعة.“

(خطبہ الہامیہ ص ٧٠۔ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

”یعنی میرا (مرزا قادیانی کا) قدم اس منارہ پر ہے جس پر ہر قسم کی بلندیاں ختم ہیں (یعنی سب میرے نیچے ہیں)۔“

ناظرین! ان دونوں صاحبوں کے اختلاف الفاظ کو نظر انداز کر کے دیکھیں کہ قادیانی نبی، ایرانی رسول سے مضمون کیسے اخذ کرتا ہے۔

٨

صفحہ ٤٦١

دعویٰ ربوبیت یا عکس ربوبیت اور لیلۃ القدر کی حقیقت

مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے آنے سے مراد میں ہوں۔ یہ دعویٰ بھی قادیانی نے مرزا ایرانی سے اخذ کیا ہے۔ ایرانی صاحب نے اس کے متعلق بالتصریح لکھا ہے۔ ان کی فارسی عبارت کا ترجمہ بہائیوں نے خود شائع کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

”جو کوئی ان روشنی دینے والے ومقدس انوار اور روشن و چمکتے ہوئے آفتابوں سے فائز و موفق ہو جاتا ہے وہ گویا دیدار خدا حاصل کر لیتا ہے اور مدینہ حیات ابدی میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ دیدار قیامت کے سوا اور کسی وقت حاصل نہیں ہو سکتا۔ یعنی اُس وقت جبکہ نفس اللہ اپنے مظہر کلی میں قیام کرتا ہے اور یہی اُس قیامت کے معنی ہیں۔ جس کا ذکر سب کتابوں میں آیا ہے۔ اور جس دن کی سب نے بشارت دی ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ کیا اس دن سے زیادہ کوئی دن بڑا برتر یا بزرگ خیال میں آ سکتا ہے کہ انسان ایسے دن کو ہاتھ سے گنواتا ہے اور اپنے آپ کو اُس کے فیوض سے جو حضوری رحمٰن سے ابر نیسان کی طرح جاری ہیں محروم رکھتا ہے۔ اب جبکہ اس پوری پوری دلیل سے ثابت ہو گیا کہ کوئی دن اس دن سے بڑا اور کوئی امر اس امر سے برتر نہیں اور باوجود ان تمام محکم و پکی دلیلوں کے جن سے کوئی عقلمند گریز نہیں کر سکتا اور کوئی عارف منکر نہیں ہو سکتا۔ انسان کیوں اٹل وہم و گمان کے پیچھے لگ کر خود کو اس فضل اکبر سے مایوس کرتا ہے۔ کیا اس مشہور روایت کو نہیں سنا کہ فرمایا ہے ”اذا قام القائم قامت القیامۃ“ اسی لئے ائمہ ہدیٰ اور اُن نامٹنے والے انوار نے اس آیت کی تفسیر ”ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام“ جسے قیامت میں واقع ہونے والے یقینی امور میں سے شمار کرتے ہیں حضرت قائم (بہاء اللہ) اُس کے ظہور سے کی ہے۔ پس اے برادر قیامت کے معنوں کو سمجھ اور ان مردود لوگوں (مسلمانوں) کی باتوں سے کانوں کو پاک کر۔ اگر ذرا عوالم انقطاع میں قدم رکھے تو پکار اٹھے کہ اس دن سے بڑا دن اور اس قیامت سے بڑی قیامت کوئی نہیں۔ آج کے دن ایک عمل ہزار ہا سال (مراد لیلۃ القدر) کے اعمال کے برابر ہے بلکہ اس تحدید سے خدا کی پناہ اس دن کا عمل جزائے محدود سے مقدس ہے۔ مگر یہ بیہودہ لوگ (مسلمان) قیامت و دیدار خدا کے معنی نہ سمجھنے کے باعث اس کے فیض سے بالکل پس پردہ ہورہے ہیں۔“

(ایقان ص ١٨٣ تا ١٨٥)

ناظرین! اس اقتباس میں شیخ بہاء اللہ نے چار دعوے کیے ہیں۔

٩

صفحہ ٤٦٢

دوسری ایک کتاب میں بھی اپنے وجود کو لقاء اللہ قرار دے کر لکھتے ہیں:

”تمام کتب الٰہی میں وعدہ لقاء صریحاً تھا اور ہے۔ اور اس لقاء سے مقصود حقِ جل جلالہ کے مشرقی آیات اور مطلع بینات اور مظہر اسماء حسنیٰ اور مصدر صفات علیا کی لقاء ہے۔ حق بذات خود و بنفس خود غیبِ منیع لا یدرک ہے۔ پس لقاء سے مراد اُس نفس کی لقاء ہے جو بندوں کے درمیان خدا کا قائم مقام (بہاء اللہ) ہے اور اس کی بھی نظیر و مثال نہیں ہے۔“

(لوح ابن ذئب: ص ٨٦١)

نوٹ:۔ خاتم النبیین پر بحث آئندہ دوسرے باب میں آئے گی۔

مرزا قادیانی نے بھی کئی جگہ اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک مقام کے الفاظ یہ ہیں:

”میرے (مرزا کے) وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا ١؎ آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اُتر آئے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ”یوم یأتی ربک فی ظلل من الغمام“ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٢۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

ناظرین! بغور ملاحظہ کریں کہ مضمون دونوں صاحبوں کا ایک بلکہ دلیل میں آیت بھی ایک۔ فرق یہ ہے کہ ایرانی نے آیت صحیح لکھی مگر قادیانی نے غلط لکھی۔

نوٹ:۔ قادیانی غلط نویسی کی یہی ایک مثال نہیں کئی ایک ہیں۔ جن کے ذکر کا یہاں موقع نہیں۔

لیلۃ القدر:۔ کی بابت بھی مرزا قادیانی کے الفاظ درج ذیل ہیں۔ فرماتے ہیں:

”بھائیو! یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اُترے۔ میں اسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے۔ بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اس کا کلام اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اُترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا

١؎ اردو کے ہم ذمہ دار نہیں۔ (مصنف)

١٠

صفحہ ٤٦٣

چیز ہے؟ لیلۃ القدر اس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر رکھا گیا ہے مگر در حقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اس کے روحانی قائمقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گزر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔ تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی ایک مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر تیار ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہ ”لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ“ یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسی ٨٠ برس کے بوڑھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پالیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینہ سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اس لیلۃ القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں۔ نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کے اُٹھانے میں مشغول رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ظلمتِ غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔“

(فتح اسلام ص ٥٤‘٥٥۔ خزائن ج ٣ ص ٣٢‘٣٣)

دونوں صاحبوں کا مضمون دراصل ایک ہی ہے‘ الفاظ مختلف ہوں تو مضائقہ نہیں۔

مزید ترقی: مرزا قادیانی نے مزید ترقی کی ہے کہ آیت ”وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ“ بھی اپنے حق میں لگائی ہے۔ اس مضمون کی ایک تحریر کسی دوسرے شخص کی طرف سے اپنے حق میں بطور تصدیق نقل کی ہے جو یہ ہے:

”یوم الموعود یہی زمانہ ہے اور مشہود سے مراد حضرت امام الزمان مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں۔ اور شاہد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جناب ممدوح کی صداقت پر گواہی دیں گے۔“

(اعلان حق ص ٨ ملحقہ حقیقۃ الوحی۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤١٩ حاشیہ)

ناظرین غور فرمائیں یہ دونوں صاحبان متوازی خطوط کی طرح کہاں تک مساوی چل رہے ہیں۔ اور کیا کیا رنگ دکھا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں:

١١

صفحہ ٤٦٤
جذبۂ عشق بحد یست میان من و تو
کہ رقیب آمد و شناخت نشانِ من و تو

......☆......

دعویٰ جامعیت انبیاء کرام

مرزا قادیانی نے کئی جگہ دعویٰ کیا ہے کہ میں انبیاء کرام کا جامع ہوں۔ یہ مضمون بھی دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی سے لیا ہے۔ ایرانی صاحب نے ایک نظریہ بتایا ہے کہ جملہ انبیاء کرام دراصل ایک ہیں۔ آدمؑ ، نوحؑ ، الیٰ محمد علیہم السلام دراصل ایک ہی شخص ہے۔ اس لئے سب سے اخیر جو آئے وہ اپنے پہلوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ”وَمَا اَمْرُنَا اِلَّا وَاحِدَةٌ“ پس جب امر واحد ہے تو امر کے ظاہر کرنے والے بھی واحد ہی ہوں گے۔ ایسی ہی دین کے اماموں ویقین کے چراغوں نے فرمایا ہے۔ ”اَوَّلُنَا مُحَمَّد وَ اَخِرنَا مُحَمَّد وَ اَوسَطنَا مُحَمَّد.“ مختصراً۔ یہ تو آنجناب کو معلوم ہو گیا کہ کل نبی امر اللہ کی ہیاکل ہیں جو مختلف لباسوں میں ظاہر ہوئی تھیں۔ اور اگر آپ گہری نگاہ سے دیکھیں تو سب کو ایک ہی باغ میں بیٹھے‘ ایک ہی ہوا میں اڑتے‘ ایک ہی فرش پر جلوہ نما اور ایک حکم کے حکم دینے والے پائیں ۔ یہ ہے اُن جواہر وجود اور غیر محدود ان گنت آفتابوں کی یگانگت۔ پس اگر ان تقدیس کے مظاہر میں سے ایک فرمائے کہ میں کل نبیوں کی رجعت ہوں تو درست ہے اور اسی طرح ہر پچھلے ظہور کے لئے پہلے ظہور کی رجعت ثابت ہے۔ پس جب نبیوں کی رجعت آیتوں اور روایتوں سے ثابت ہو گئی تو اُن کے اولیاء کی رجعت بھی ثابت ومحقق ہے۔ اور یہ رجعت ایسی ظاہر ہے کہ دلیل وبرہان کی محتاج نہیں ۔“

(ایقان : ص ١٩٧)

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ہر پچھلے نبی میں پہلے نبی کی صفات رجوع کر آتی ہیں کیونکہ امر یعنی ہدایت ایک ہی ہے۔ پس پچھلا نبی پہلے نبی کی صفات کا جامع ہوتا ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ ہے کہ میں سب نبیوں کا موعود اور جامع ہوں۔

اب سنئے مرزا قادیانی کا دعویٰ۔ صاف فرماتے ہیں:

میں کبھی آدمؑ ، کبھی موسیٰؑ ، کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں‘ نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣۔ خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)

١٢

صفحہ ٤٦٥

فارسی میں فرماتے ہیں:

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣۔ خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

یہ بھی فرماتے ہیں:

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩۔ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ناظرین کرام! غور فرمائیے کہ ایرانی نے جو لکھا وہی مرزا قادیانی نے اپنے حق میں لیا یا کچھ کمی کی؟

......☆......

جہاد کا حکم منسوخ

مرزا قادیانی نے منسوخیٔ جہاد کا اعلان کیا ہوا ہے۔ یہ بھی دراصل شیخ بہاء اللہ ایرانی سے اخذ کیا ہے۔ جس کے متعلق بہاء اللہ ایرانی کے الفاظ یہ ہیں:

’’ پہلی بشارت جو اس ظہور اعظم (بہاء اللہ کے وجود) میں ام الکتاب سے جملہ اہل عالم کو عنایت ہوئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی اس کتاب سے جس کے ساتھ آسمان اور زمین والوں پر فضل کا دروازہ کھولا ہے جہاد کے حکم کو مٹانا ہے۔‘‘

(بشارات۔ ص ١)

اس مضمون کو مرزا قادیانی نے بڑی اہمیت سے نظم میں شائع کیا ہے جس کے چند ابیات یہ ہیں:

دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

١٤

صفحہ ٤٦٦
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سید کونینؐ مصطفیٰ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بیخوف بے گزند
یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا
یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے
القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشان کر دے گا ختم آ کے وہ دین کی لڑائیاں

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦‘٢٧۔ خزائن ج ١٧ ص ٧٧‘٧٨)

ناظرین کرام! ان دونوں صاحبان کا فتویٰ ملاحظہ کر کے فیصلہ دیں کہ قادیانی‘ ایرانی کے مقتدی ہیں یا ایرانی قادیانی کے؟ ہم سے پوچھیں ہم تو یہی کہیں گے کہ یہ دونوں متوازی خطوط کی طرح جا رہے ہیں۔ ہاں زمانہ کے لحاظ سے کہا جائے گا: اَلْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّمِ

ہم دونوں صاحبوں کی کتابوں کا بڑی محنت سے مطالعہ کر کے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرزا قادیانی شیخ بہاء اللہ ایرانی کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں:

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی
تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

ہم نے اختصار کی نیت سے قادیانی دوستوں کی خاطر چند اصولی امور میں دونوں صاحبوں کا اتحاد اور توافق بتایا ہے۔ ورنہ مضمون طویل ہے۔ قادیانی دوستو!

اندکی با تو بگفتم و بدل ترسیدم
کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار ست

......☆......

١٤

صفحہ ٤٦٧

باب دوم ...... دعویٰ رسالت بہائیہ پر بحث

ہمارا دعویٰ ہے کہ شیخ بہاء اللہ نے دعویٰ رسالت کیا۔ اس دعوے میں ہماری حیثیت بالکل وہی ہے جو یہود و نصاریٰ کے درمیان اسلام کی ہے۔ یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو برا کہتے ہیں، مسیحی ان کی شان میں غلو کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں صحیح تعلیم دیتا ہے۔

ٹھیک اسی طرح شیخ بہاء اللہ کے حق میں مرزائیہ امت کہتی ہے کہ اُنہوں نے الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ بہائی گروہ کہتا ہے وہ خدائی کے مدعی نہ تھے۔ ہاں مدعیِ نبوت بھی نہ تھے بلکہ نبوت و رسالت سے بلند رتبہ کے تھے۔ جس کا نام ان کی اصطلاح میں نباء عظیم اور لقاء ربانی ہے۔

ان دو فرقوں (قادیانیوں اور بہائیوں) کے ایسا کہنے سے ان کی اغراض مختلفہ وابستہ ہیں۔

بہائی غرض :۔ قرآن شریف میں جو آیت خاتم النبیین آئی ہے وہ اپنے زورِ بیان سے ہر ایک اپنے پرائے کو دعویٰ نبوت کرنے یا سننے سے روکتی ہے۔ شیخ بہاء اللہ تو دعویٰ نبوت کر کے گزر گئے لیکن اتباع پر اس آیت کا اثر گراں تھا۔ اس لئے اُنہوں نے خود یا باشارہ شیخ ایک تاویل سوچی کہ آیت بھی بحال رہے اور شیخ موصوف کا دعویٰ بھی زد سے محفوظ رہے۔ اُنہوں نے یہ کہا کہ سلسلۂ انبیاء تو بے شک ختم ہے جس کے آنحضرت ﷺ خاتم ہیں۔ مگر شیخ بہاء اللہ اس سلسلہ کی کڑی نہیں بلکہ سلسلۂ انبیاء کے مقصود ہیں۔ یعنی انبیاء کرام اسی لئے دنیا میں تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو بتائیں کہ سلسلۂ نبوت ختم ہو کر مقصودِ سلسلہ (بہاء اللہ) پیدا ہوگا۔ اس کی مثال ہمارے لفظوں میں یہ ہے کہ مکان کی سیڑھی کے درجے ختم ہو کر مکان کی چھت آتی ہے۔ چھت سیڑھی نہیں بلکہ سیڑھی سے مقصود ہے۔ اسی طرح سلسلۂ نبوت سے اصل مقصود بہاء اللہ تھا۔ چونکہ مقصود کا درجہ مبادی سے افضل ہوتا ہے اس لئے انبیاء کرام کے درجوں سے (علیٰ زعمھم) بہاء اللہ کا درجہ اعلیٰ ہے۔ اس خیالی تقریر سے اُنہوں نے باب نبوت بند بھی رکھا اور بہاء اللہ کو بلند درجہ بھی بنا لیا۔

ناظرین! اب اُن کی تقریر اُنہی کے الفاظ میں پڑھئے جو آگے نقل ہے۔ اڈیٹر صاحب ”کوکب ہند“ دہلی (بہائی مذہب کا رسالہ) لکھتا ہے:

”رُسُل فرستاد و کتب نازل فرمود تا کہ بصراط مستقیم فائز شوند و از برائے عرفانِ نباء عظیم در یوم قیام مستعد گردند له الحمد والمنة وله الفضل والعطاء . والصلوة والسلام علی سید العالم ومربی الامم (محمد) الذی به انتهت الرسالة والنبوة وعلی آله

١٥

صفحہ ٤٦٨

واصحابہ دائماً ابداً سرمداً “ (کتاب فردوس مصنفہ بہاء اللہ ص٢٩٢‘٢٩٣) نبوت ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی خبر دینے کے ہیں۔ نبی کے معنی ہوئے خبر دہندہ۔ اصطلاح شریعت میں وحی الٰہی پا کر خدائی خبریں دینے والے کو ہی نبی کہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وحی یا خبر کا انتہائی مقصد کیا ہے؟ خدا اپنے کلام معجز نظام میں فرماتا ہے: رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ۔ خدا رفیع الدرجات اور صاحب عرش ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ بندے یوم التلاق (یعنی خدا کی ملاقات کے دن) سے ڈرائیں۔ اس آیہ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم امکان میں خدا نے اپنے جتنے بندوں پر وحی نازل فرمائی سب وحیوں کا مدعائے منتہا انذار یوم التلاق یعنی خدا کی ملاقات کے دن سے ڈرانا تھا۔ یہ ہے علت غائی دورِ نبوت کی۔ اور اسی مرکز کے گرد جملہ کتب مقدسہ طواف کر رہی ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی مقدس کتاب میں لکھا ہے: فاستعدّ للقاء الھک یا اسرائیل (عاموس ٤: ١٢) (اے بنی اسرائیل تو اپنے اللہ کی ملاقات کے لئے تیار ہو جا) اس بیان کی قرآن کریم بدیں الفاظ تصدیق فرماتا ہے:

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْ اَحْسَنَ وَتَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّہُمْ بِلِقَآءِ رَبِّہِمْ یُؤْمِنُوْنَ۔

(الانعام: ١٥٤)

”پھر ہم نے موسیٰ کو مکمل کتاب دی جو جملہ خوبیوں پر مشتمل تھی اور ہر شئے کی اس میں تفصیل تھی اور ہدایت و رحمت تھی کہ وہ اپنی رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔“

عہد عتیق میں فاستعد للقاء الھک کے الفاظ ہیں اور قرآن کریم میں بطور تصدیق وتائید لعلھم بلقاء ربھم یومنون وارد ہے۔ مدعا اور مقصود وہی ہے جو آیہ مبارکہ لینذر یوم التلاق میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ تمام وحیاں اسی غرض سے نازل ہوئیں کہ لوگ خدا کی ملاقات کے دن کے لئے تیار ہو جائیں۔ انجیل کے تو نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ آسمانی بادشاہت کے آنے کی بشارت ہے۔ اور اس میں خداوند کے آنے کے مضمون کو بکثرت بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے۔ ”توبہ کرو اور رجوع لاؤ تا کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں۔“ انہی دنوں کی تیاری اور آمد آمد کا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کیا ہے جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔ (اعمالِ رسل باب ٣) پھر قرآن مجید میں فرمایا: یدبر الامر یفصل الایات لعلکم بلقاء ربکم توقنون۔ (٢:١٣: الرعد: ع١ پ ١٣) ”تدبیر کرتا ہے اس امر کی اور آیات کی تفصیل کرتا ہے تا کہ تم اپنے رب کی

١٦

صفحہ ٤٦٩

ملاقات پر یقین کرو۔“ یعنی شریعت قرآن کو اللہ تعالیٰ پھیلاتا اور استوار و محکم کرتا ہے اور اس کی آیات کی تفصیل کرتا ہے کہ تم خدا کی ملاقات پر یقین کرلو۔ اس نبأ عظیم کی نبوت سیدنا خاتم النبیین پر اس لئے ختم ہو گئی کہ بذات خود ظہور نبأ عظیم کا وقت آ پہنچا۔ انبیاء جس قدر نبوتیں کرتے تھے ان سب کی بنیاد یا نبأ عظیم لقاء ربانی ہی تھی۔ چنانچہ سب انبیاء یکے بعد دیگرے اپنی اپنی امتوں کو لقائے ربانی کی خبریں دیتے رہے۔ یہ لقائے ربانی خدا کے مظہر ظہور کی لقاء ہے۔ کیونکہ خدائے غیب تو بذاتہ لایدرک ہے۔ لقائے ربانی کا وقت جو کتب مقدسہ میں بتایا گیا ہے وہ چونکہ نبوت محمد رسول اللہ کے بعد ہے۔ اس لئے نبوت یعنی اخبارات و بشارات کا دَور جمال احمدی علیہ التحیۃ والثناء پر ختم ہوا۔ اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ تا کہ سب لوگ جان لیں کہ اخبارات و بشارات کا وقت اختتام کو پہنچ گیا اور اب کسی نبی کے لئے نبوت کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ بلکہ دورِ نبوت میں جس کی نبوت کی جا رہی تھی یا یوں کہو کہ جس غرض کے لئے دورِ نبوت کا آغاز ہوا تھا وہی غرض اب آشکار ہو گئی۔ یعنی اب وہ موعود جلوہ گر ہو گا جس کے اہل تورات یہوداہ اور رب الافواج کے نام سے منتظر تھے۔ وہ موعود جسے مسیحی روح الحق۔ خداوند اور آسمانی باپ یا مسیح کی آمدِ ثانی کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ موعود جس کے ظہور کو فرقان مجید نے آمد خدا‘ آمد رب‘ ظہور رحمٰن قرار دے کر اپنی امت کو اس کا منتظر بنایا تھا۔ اب وہ ظہور فرما ہو گا۔ اور جملہ کتب مقدسہ کی روح ازسر نو تازہ ہو جائے گی۔ کیونکہ تمام کتابیں اسی ظہورِ اعظم و نبأِ عظیم کا طواف کر رہی تھیں۔ زمانہِ نبوت و بشارت ختم ہوا۔ جادۂ مقصود کا وقت آ گیا۔ ھذا یوم فیہ ظہر النباء العظیم الذی بشر بہ الله والنبیون والمرسلون.“ (مجموعہ الواح مبارکہ ص ٢٠٣۔ مصنفہ بہاء اللہ ایرانی) یہ وہ دن ہے جس میں اس نباء عظیم کا ظہور ہوا جس کی بشارت خدا نے اور تمام انبیاء و مرسلین نے دی تھی۔“

(کوکب ہند۔ مارچ ١٩٣٢ء ص ٦‘ ٧)

مصنف:۔ یہ ہے بہائیوں کی تاویل اور یہ ہے اُن کا عقیدہ۔ اس بیان سے صاف پایا جاتا ہے کہ آیت خاتم النبیین کا پرزور بیان بہائیوں کو بھی سرتابی کا موقع نہیں دیتا۔ اس لئے اُنہوں نے نبوت سے اوپر خدا کے نیچے ایک درجہ غیر معلوم تجویز کیا جو قابل لحاظ ہے۔

ان کے مقابل جماعت قادیانیہ نے دعویٰ کیا کہ بہاء اللہ دراصل مدعی الوہیت تھا۔

قادیانیوں کی اس دعوے سے غرض:۔ مرزا قادیانی نے خود اور قادیانی جماعت نے بعد ازاں مرزا قادیانی کی نبوت کے اثبات میں یہ دلیل پیش کی کہ کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے ٢٣ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مرزا قادیانی بعد دعویٰ ٢٣ سال تک زندہ رہے۔ ثابت ہوا کہ آپ

١٧

صفحہ ٤٧٠

بچے تھے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ شیخ بہاء اللہ دعوٰی نبوت کے بعد چالیس سال زندہ رہا۔ حالانکہ وہ تمہارے نزدیک بھی دعوٰی نبوت میں جھوٹا ہے۔ اس کے جواب میں قادیانیوں نے عذر پیدا کیا کہ بہاء اللہ نے دعوٰی نبوت نہیں کیا بلکہ دعوٰی الوہیت کیا ہے۔ قادیانی جماعت کی طرف سے ایک رسالہ مستقل اس مضمون کا نکلا۔ خلیفہ قادیان کا قول ہے:

”بہاء اللہ مدعی الوہیت تھا وہ اپنے کلام کو ہی خدا کا کلام قرار دیتا تھا۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ٥۔ مئی ١٩٢٤ء، ص ٣١)

یہ بھی کہتے ہیں کہ دعوٰی الوہیت کرنے والا مارا نہیں جاتا۔ اس لئے بہاء اللہ مارا نہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں دعوے انہی اغراض پر مبنی ہیں جو ہم نے ذکر کیں۔ ہم چونکہ بے غرض ہیں اس لئے خدا لگتی اصل اصل بات پیش کرتے ہیں۔

ہم نے ایک دفعہ شیخ بہاء اللہ کو مدعی نبوۃ لکھا تھا تو بہائی رسالہ ”کوکب ہند“ نے ہم کو اصلاحات بہائیہ سے ناواقف کہہ کر واقفیت حاصل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ (کوکب بابت جنوری ١٩٣١ء، ص ١٥) ہمارے ساتھ ہی اُن لوگوں کو بھی ڈانٹا تھا جو بہاء اللہ کو مدعی الوہیت کہتے ہیں۔ جیسے اہل قادیان۔ چنانچہ لکھا ہے:

”بعض لوگ جو اس دَور جدید کی نئی اصطلاحات پر غور نہیں کرتے وہ حقیقت کے سمجھنے سے بے بہرہ نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اہل قادیان نے بھی بہائی اصطلاحات کو نہیں سمجھا اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بہائی حضرت بہاء اللہ کو خدا سمجھتے ہیں۔ اس غلط بیانی کی مفصل و مدلل تردید بارہا کوکب میں کی جا چکی ہے۔ بلکہ خود حضرت بہاء اللہ نے اس نافہمی کی صاف صاف تردید فرمادی تھی۔ جیسا کہ کتاب مقدس لوح ابنِ ذئب میں مفصل بیان ہے۔ کتاب مقدس تجلیات میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ ہم پر دعوے الوہیت کا الزام لگاتے ہیں وہ ظالم اور اوہام پرست ہیں۔ مگر اہل قادیان پھر وہی الزام لگانے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف جناب مدیر اہلحدیث حضرت بہاء اللہ کی طرف دعوٰی الوہیت تو منسوب نہیں کرتے مگر اپنے قدیم دائرۂ خیال میں مقید ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ حضرت بہاء اللہ نے نبوت و رسالت کا دعوٰی کیا ہے۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ اور نہایت تفصیل و توضیح سے اس خیال کی غلطی کوکب ہند میں دکھائی جا چکی ہے۔ لیکن افسوس کہ جیسے اہل قادیان حضرت بہاء اللہ کی طرف دعوٰی الوہیت منسوب کرنے میں ضد سے کام لے رہے ہیں اسی طرح مولانا ثناء اللہ صاحب حضرت بہاء اللہ کی طرف دعوٰی نبوت و رسالت منسوب کرنے پر اصرار بے جا کر رہے ہیں۔“

(کوکب ہند بابت مارچ ١٩٣١ء ص ٩)

١٨

صفحہ ٤٧١

ناظرین! ہم بھی اس تصنیف میں قادیانیوں کی طرح کوئی ذاتی غرض پنہاں رکھتے تو ایڈیٹر صاحب کوکب کی تحریر کو بہانہ بنا کر شیخ بہاء اللہ کی نسبت وہی دعویٰ منسوب کرتے جو قادیانی کرتے ہیں کہ وہ مدعی الوہیت تھا۔ مگر ہم تو اپنا نصب العین خدا کی رضا کو جانتے ہیں۔ اس لئے ایماناً واحتساباً کہتے ہیں کہ شیخ بہاء اللہ الوہیت کا مدعی نہ تھا بلکہ رسالت مستقلہ کا مدعی تھا۔ ہمارے اس دعوے پر بہت سے صریح غیر مؤوّلہ دلائل ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے:

”میں نے اپنے آپ کو خود ظاہر نہیں کیا بلکہ خدا نے جیسا چاہا مجھے ظاہر فرما دیا‘ یہ بات میری طرف سے نہیں بلکہ اُسی غالب باخبر کی طرف سے ہے اُسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں دنیا میں اُس کے نام کی منادی کروں ...... اے میرے معبود میں نے تیرے ارادے کے لئے اپنا ارادہ اور تیری مشیت کے ظہور کے لئے اپنا منشاء ترک کر دیا۔ تیری عزت کی قسم میں اپنے نفس اور اس کی بقا کو نہیں چاہتا مگر اس لئے کہ تیرے امر کی خدمت پر قیام کروں۔ میں تیرا بندہ اور تیرے بندوں کا فرزند ہوں۔“

(لوح ابن ذئب۔ مصنفہ بہاء اللہ۔ ص ٩۔٢٦۔٢٧)

اس کے علاوہ شیخ بہاء اللہ نے ایک دوسری کتاب میں لکھا ہے:

”تالله قد كنت راقداً هزتنی نفخات الوحی و كنت صامتا انطقنی ربک المقتدر القدیر. “

(الواح مبارکہ مصنفہ بہاء اللہ : ص ٢٣٤)

(ترجمہ) ”واللہ میں (بہاء اللہ ) سورہا تھا وحی کی پھونکوں نے مجھے ہلایا میں بالکل خاموش تھا۔ رب قدیر نے مجھے بلوایا۔“

یہ عبارت دعویٰ الوہیت کی نفی اور دعویٰ رسالت کا اظہار کرنے میں کافی ہے۔ ان دو مدعیانہ بیانوں کے علاوہ شیخ بہاء اللہ اور خلیفۂ اول جو جماعت بہائیہ میں بہت بڑی شخصیت کا مالک ہے۔ یعنی عبدالبہاء عباس آفندی لکھتا ہے:

”کلیہ انبیاء بر دو قسم اند۔ قسمے نبی بالاستقلالند و متبوع و قسمے دیگر غیر مستقل و تابع۔ انبیاء مستقلہ اصحاب شریعتند و مؤسس دور جدید کہ از ظہور آناں عالم خلعت جدید پوشد و تاسیس دین جدید شود۔ و کتاب جدید نازل گردد و بدون واسطہ اقتباس فیض از حقیقت الوہیت نمایند۔ نور انیت شاں نورانیت ذاتیہ است مانند آفتاب کہ بذاتہ لذاتہ روشن است و روشنائی از لوازم ذاتیۂ آن مقتبس از کوکبے دیگر نیست۔ ایں مطالع صبح احدیت منبع فیض اند و آئینہ ذات حقیقت و قسمے دیگر از انبیاء تابعند و مروج زیرا فرع اند نہ مستقل اقتباس فیض از انبیاء مستقلہ نمایند و استفاده نور ہدایت از

١٩

صفحہ ٤٧٢

نبوت کلیہ کنند مانند ماہ کہ بذاتہ لذاتہ روشن و ساطع نہ ولی اقتباس انوار از آفتاب نماید۔ آں مظاہر نبوت کلیہ کہ بالاستقلال اشراق نمودہ اند مانند حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ حضرت مسیح و حضرت محمد و حضرت اعلیٰ و جمال مبارک۔“

(مفاوضات عبدالبہاء ص ١١٤)

(ترجمہ) ”یعنی کل انبیاء دو قسم پر ہیں۔ ایک قسم مستقل نبی ہیں۔ دوسرے غیر مستقل تابع ۔ انبیاء مستقلہ صاحب شریعت ہیں جو نئی شریعت لاتے ہیں اور بغیر ذریعہ کسی دوسرے کے خدا سے فیض پاتے ہیں۔ ان کا نور آفتاب کی طرح بذاتہ روشن ہوتا ہے۔ دوسری قسم تابع ہوتے ہیں جو شریعت سابقہ کے رواج دینے والے ہوتے ہیں۔ مستقل انبیاء حضرت ابراہیم ۔ حضرت موسیٰ ۔ حضرت مسیح اور حضرت محمد (علیہم السلام) اور حضرت بہاء اللہ ہیں۔“

ایک اور شہادت : ایک اور شہادت پیش کر کے اس حصہ مضمون کو ختم کرتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحب ”کوکب ہند“ نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو ماہر کتب بہائیہ لکھ کر ہم کو ناواقف بتایا ہے۔ ا س لئے ہم اپنے نقصان علم کا اعتراف کر کے خود ایڈیٹر موصوف ہی کا کلام پیش کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

”حضرت بہاء اللہ نے صاحب شریعت جدیدہ اور صاحب کتاب جدید ہونے کا دعویٰ کیا ۔“

(کوکب بابت فروری ١٩٣٣ء ص٩)

ناظرین! اصطلاحات بہائیہ سے ہم واقف ہیں یا ایڈیٹر صاحب اس کا فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔ ہم صرف اتنا کہتے ہیں:

انہوں نے خوبرو شکلیں کبھی دیکھی نہیں شاید
وہ جب آئینہ دیکھیں گے تو ہم اُن کو بتا دیں گے

ہاں ہم مانتے ہیں کہ بہاء اللہ کی بعض عبارتوں سے لزوم دعویٰ الوہیت ہوتا ہے۔ لیکن کسی عبارت سے کسی مفہوم کا لزوم ہونا اُس وقت قابل توجہ ہوتا ہے جب وہ متکلم کی تصریحات کے خلاف نہ ہو۔ شیخ بہاء اللہ دعویٰ الوہیت کو صاف لفظوں میں ردّ کرتا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے:

”بعض کہتے ہیں کہ یہ شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور بعض کا یہ قول ہے کہ اس نے خدا پر بہتان باندھا ہے۔ سو اُن کی ہلاکت ہے۔ اور وہ خدا کی رحمت سے دور ہیں۔“

(ترجمہ تجلیات مصنفہ بہاء اللہ ص٢)

اس عبارت میں دعویٰ الوہیت کو صاف لفظوں میں بہتان قرار دیا ہے۔

ناظرین ! غور فرمائیں ہم نے اپنا دعویٰ باوجود دو گروہوں کی مخالفت کے ایسا ثابت کیا جیسا

٢٠

صفحہ ٤٧٣

چودہویں رات میں چمکتا قمر۔

ایک آسان طریق سے : فاضل ایڈیٹر کوکب بہائیہ نے ہم کو مشورہ دیا ہے کہ پہلے اصطلاحات بہائیہ معلوم کریں پھر لکھیں۔ اس لئے بعد غور و فکر ہم انہی کے کلام سے نبوت بہاء اللہ دکھاتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

(صغریٰ) ”یہ سچ ہے کہ حضرت بہاء اللہ کا دعویٰ تھا کہ میں مامور ہوں۔ مسیح موعود ہوں اور الہام وحی کا مورد ہوں۔“

(کوکب مارچ ١٩٣١ء۔ ص٩)

(کبریٰ) ”اصطلاح شریعت میں وحی الہی پا کر خدائی خبریں دینے والے کو ہی ؎١ نبی کہتے ہیں۔“

(کوکب مارچ ١٩٣٢ء۔ص٦)

ترتیب قیاس : بہاء اللہ نے وحی پائی۔ جو وحی پائے وہی نبی ہے۔

نتیجہ : اہل علم کے سامنے ہے۔ سچ ہے:

نالہ کرنے سے میرا یار خفا ہوتا ہے

اب تو ایڈیٹر صاحب کوکب ہم کو بہائی لٹریچر اور اصطلاحات بہائیہ سے واقف مان جائیں گے۔ کیوں ؟

نازک کلامیاں مری توڑیں عدوّ کا دل
میں وہ بلا ہوں شیشے سے پتھر کو توڑ دوں

ان دونوں نبیوں کی نبوت کا ثبوت

ہم نے ان دونوں کی کتابوں میں یہ عجیب بات پائی ہے کہ یہ دونوں صاحب دعوے میں متفق ہونے کے ساتھ ہی دلیل میں بھی متفق ہوتے ہیں۔ ان کی پیچیدہ باتوں کو ہم ذکر نہیں کرتے۔ صرف دلیلیں ان کی بیان کرتے ہیں۔ جو انہوں نے خود یا اُن کی تعلیم سے ان کے اتباع نے بیان کی ہیں۔ اور وہ دراصل ہیں بھی قابل غور اور لائق قدر۔

پہلی دلیل : (جو دراصل دلیل اتنی ہے) یہ ہے کہ بہاء اللہ کی تشریف آوری سے دنیا میں تمام مذاہب مٹ کر ایک ہی ملت حقہ ہو جائے گی۔ تمام دنیا میں بددینی مٹ کر دینداری‘ امانت‘ صلاحیت‘ ہر قسم کی نیکی اختیار کر کے لوگ نیک ہو جائیں گے۔ نفاق و شقاق کی بجائے محبت و اتفاق پیدا ہوگا۔ وغیرہ۔

؎ ١۔ یہ ”ہی“ بھی خوب ہے۔ (مصنف)

٢١

صفحہ ٤٧٤

ہم اس دلیل کی دل سے قدر اور خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس کے متعلق عبدالبہاء عباس آفندی ولد شیخ بہاء اللہ کے الفاظ قابل دید و شنید ہیں:

"جمیع ملل عالم منتظر دو ظہور ہستند کہ ایں دو ظہور باید باہم باشد و کل موعود بآ نند۔ یہود در تورات موعود برب الجنود و مسیح ہستند ۔ و در انجیل موعود برجوع مسیح و ایلیا ہستند و در شریعت محمدی موعود بمہدی و مسیح ہستند ۔ و ہم چنیں زردشتیاں وغیرہ ۔ اگر تفصیل دہیم بطول انجامد۔ مقصد انیست کہ کل موعود بدو ظہورند کہ پے در پے واقع شود و اخبار نمودند کہ در ایں دو ظہور جہان جہان دیگر شود۔ و عالم وجود تجدید گردد۔ و امکان خلعت جدید پوشد و عدل و حقانیت جہاں را احاطہ کند۔ و عداوت و بغضاء زائل شود۔ و آنچہ کہ سبب جدائی میانۂ قبائل و طوائف و ملل است از میان رود۔ و آنچہ کہ سبب اتحاد و اتفاق یگانگی است بمیان آید۔ غافلان بیدار شوند۔ کور ہا بینا گردند ۔ کر ہا شنوا شوند۔ گنگہا گویا گردند۔ مریضہا شفا یابند۔ مرد ہا زندہ شوند۔ جنگ مبدل بصلح شود۔ عداوت منقلب بمحبت گردد۔ اسباب نزاع و جدال بکلی از میاں برخیزد و از برائے بشر سعادت حقیقی حاصل شود۔ ملک آئینہ ملکوت شود۔ ناسوت سریر لاہوت گردد۔ کل ملل ملت واحدہ شود۔ و کل مذاہب مذہب واحد گردد۔ جمیع بشر یک خاندان بشود و یک دودمان گردد۔ و جمیع قطعات عالم حکم یک قطعہ یابد و اوہامات جنسیہ وطنیہ و شخصیہ و لسانیہ و سیاسیہ جمیع محو و فانی شود۔ کل در ظل رب الجنود بحیات ابدیہ فائز گردند"

(مفاوضات عبدالبہاء ص ٢٩، ٣٠)

"(ترجمہ) تمام اہل دنیا دو ظہوروں کے منتظر ہیں۔ یہ دو ظہور کل ادیان کے موعود ہیں۔ یہود کو تو رات میں رب الجنود اور مسیح کا وعدہ تھا۔ اور انجیل میں مسیح اور ایلیا کے آنے کا۔ شریعت محمدیہ میں مہدی اور مسیح کا وعدہ ہے۔ اسی طرح زردشتیوں وغیرہ کو بھی وعدہ ہے۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو طول ہوگا۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ دو ظہور موعود پے در پے ہوں گے اور انبیاء نے بتایا ہے کہ ان دو موعودوں کے زمانہ میں دنیا برنگ دیگر ہو جائے گی۔ عدل اور سچائی اہل دنیا کو گھیر لے گی۔ عداوت اور کینہ اور بُری عادتیں دور ہو جائیں گی اور جو امور قبائل اور قوموں میں باعث نفاق و شقاق ہیں سب دور ہو جائیں گے اور مکمل اتحاد اور اتفاق پیدا ہو جائے گا۔ غافل بیدار ہوں گے۔ گونگے بولیں گے۔ بیمار اچھے ہو جائیں گے۔ مردے زندہ ہوں گے جنگ مبدل بصلح ہوگی۔ عداوت محبت سے بدل جائے گی۔ اسباب نزاع و جدال سب دور ہو جائیں گے۔ اور انسانوں کے لئے ہر قسم کی نیکی حاصل ہوگی۔ انسانی ملک فرشتوں کے ملک جیسا ہو جائے گا۔ کل مذاہب مٹ کر ایک دین ہو جائے گا۔ کل انسان ایک خاندان کی طرح ہوں گے۔ دنیا کے تمام

٢٢

صفحہ ٤٧٥

علاقے ایک علاقہ کی طرح ہو جائیں گے۔ جنسی وطنی شخصی لسانی اور سیاسی امتیاز سب دور ہو جائیں گے۔ رب الجنود (موعود) کے سایہ میں حیات ابدیہ پائیں گے۔“

ناظرین! اس بیان کو محفوظ رکھیں اور مدعی ثانی مرزا قادیانی کا بیان بھی سنیں جو اسی مقصد کے لئے ہے۔ مرزا قادیانی نے زمانہ تصنیف براہین احمدیہ میں مسیح موعود کے زمانہ کی برکات کا ذکر یوں کیا:

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ

كُلِّهِ. یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩۔ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)

اس کے بعد جب اس عہدہ (مسیح موعود) کا چارج خود لیا تو اس رائے میں ترمیم نہیں کی بلکہ مزید توضیح فرمائی۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے۔ اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا ١؎ نہ ہولے۔ کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب المبعوث کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے۔ اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔”ھوالذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله.“ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے۔ اور چونکہ وہ

١؎ یہ لفظ یاد رہے۔ (مصنف)

٢٣

صفحہ ٤٧٦

عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت ظہور میں آئے گا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص ٨٢، ٨٣۔ خزائن ج ٢٣ ص ٩١،٩٠)

اس مضمون کی مزید تاکید کرنے کو ایک اعلان مرزا قادیانی نے شائع کیا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

”میرا کام جس کے لئے اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ بس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود ومہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا لے تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘ والسلام۔ غلام احمد‘‘

(البدر ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٣ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء۔ منقول از ”المہدی“ نمبر ١ ص ٢٣ از حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)

حضرات ! بامعان نظر دیکھئے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ سے ١٩٠٦ء (وفات سے دو سال قبل) تک مرزا قادیانی بھی ایک ہی بات کہتے گئے یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں کل ادیان مٹ کر ایک دین اسلام ہو جائے گا۔

ناظرین کرام ! دونوں صاحبوں کی عبارتیں اپنا مدعا بتانے میں صاف ہیں کسی شرح یا تفسیر کی محتاج نہیں۔ مشرح ہونے کے علاوہ مسرت انگیز بھی ہیں۔ کیونکہ اس میں ساری دنیا سے مختلف مذاہب باطلہ کے مٹنے اور ملت حقہ اسلامیہ اور تہذیب اخلاق اور ترقی روحانی ہونے کی خوشخبری ہے۔

لیکن سوال یہ ہے : کیا ایسا ہوا بھی؟ آہ ! اس کا جواب بہت دل شکن اور رنجدہ ہے اور لطف یہ

لے یہ لفظ سب کی تشریح کر رہا ہے کہ سب کچھ مرزا قادیانی کی زندگی سے وابستہ ہے جو لوگ پہلو بچانے کو مسیح موعود کا زمانہ تین سو سال تک کہتے ہیں وہ اپنے ناظرین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی خود ایسا کہتے ہیں تو اپنے کلام میں تناقض پیدا کر کے آیت کریمہ ”لو كان من عندالله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا“ (نساء:٨٢) کے تحت خود آتے ہیں جو ہمارا عین مقصود ہے۔‘‘ (مصنف)

٢٢

صفحہ ٤٧٧

کہ ایک اور صرف ایک ہی ہے جس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں کہ یہ صورت دنیا میں آج تک نہیں ہوئی بلکہ اس کی نقیض ترقی پر ہے۔ کفر ۔ شرک ۔ فسق ۔ فجور ۔ شراب خوری ۔ زنا کاری دیگر بداعمالیاں دنیا میں آج جس کثرت سے ہیں ان مدعیان سے پہلے نہ تھیں ۔ آج دنیا میں افعال قبیحہ جس معراج ترقی پر ہیں اُن کو اس شعر میں بتانا کوئی مبالغہ نہیں ۔

حرص و عداوت و حسد و کینہ و ریا
ایں جملہ شد حلال محبت حرام شد

اس مشاہدہ کے خلاف دعوے کرنا بداہت کا انکار کرنا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ آج دنیا میں ظلم اور ظلمات کی اتنی ترقی ہے کہ یہ مقتضی ہے کہ کوئی مرد مصلح آئے جو اس حالت میں انقلاب پیدا کرے نہ یہ کہ ایسا مصلح پیدا ہو کر اس خرابی کو بدستور چھوڑ کر چلتا بنے ۔ اور ہم اس کو مصلح اعظم مان کر دل میں خوش ہوا کریں ۔ جیسے کوئی پیاسا پانی کے لفظ کو رٹا کرے اور سمجھے کہ میری پیاس بجھ جائے گی ۔

؎ ایں خیال است و محال است و جنوں

ہمارے نزدیک یہی ایک (اٹل) دلیل ہے جو ان دونوں صاحبوں کے دعویٰ کے ابطال کرنے کو کافی ہے۔ حضرت مسیح کا قول ”درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“ ہمارے دعوے کی تائید کرتا ہے۔

سچے مدعی ﷺ کی علامت سچی کتاب میں اتنی آئی ہے :

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔

(النصر : ١ تا ٣)

”اے محمد رسول اللہ (ﷺ) جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی اور تم دیکھو گے کہ لوگ جوق در جوق دین الٰہی میں داخل ہورہے ہیں تو پس تم (سفر آخرت کے لئے تیار ہو کر) خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہو جانا اور خدا سے بخشش مانگنا۔ بے شک اللہ جھکنے والوں پر متوجہ ہونے والا ہے۔“

یہ ایک ایسی علامت ہے کہ دنیا کا کوئی واقف ناواقف اس کی تکذیب نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے انتقال ایسے وقت میں فرمایا کہ آپ کے اردگرد کی قومیں جوق در جوق داخل اسلام ہو گئیں جس کو مولانا حالی مرحوم نے یوں دکھایا ہے :

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

٢٥

صفحہ ٤٧٨
نئی اک لگن سب کے دل میں لگا دی اک آواز سے سوتی بستی جگا دی
پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے
کہ گونج اُٹھے دشت و جبل نامِ حق سے

برخلاف اس کے یہ دونوں مدعیان تشریف لائے اور اُنہوں نے اپنی اپنی سچائی کا دنیا کو جو نشان بتایا وہ مذکور ہوا۔ لیکن ہوا کیا؟ وہی جو کسی شاعر نے کہا ہے ؎

جو آرزو ہے اُس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو

دوسری دلیل......پہلی کی تفصیل اور تحلیل

شیخ بہاء اللہ کے خلیفۂ اول عبدالبہاء آفندی نے یہ بیان کی ہے۔ دلیل اوّل کے بعد اس کی تفصیل جو کی ہے۔ وہ تفصیل گویا خود دلیل ہے جو دلیل اوّل سے زیادہ لطیف ہے۔

آپ کی اس دلیل یا تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت دانیال نے دو خبریں دی ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے حق میں۔ دوسری شیخ بہاء اللہ کے حق میں۔ حضرت مسیح کے حق میں جو پیشگوئی ہے اس کی میعاد ٤٩٠ سال ہے۔ اور جو شیخ بہاء اللہ کے حق میں ہے اس کی میعاد ٹھیک دو ہزار تین سو سال (٢٣٠٠) ہوتے ہیں۔ جو شیخ بہاء اللہ کی پیدائش کا زمانہ ہے۔ یہ خلاصہ ہمارے لفظوں میں ہے۔ اب آفندی صاحب کے اپنے الفاظ سنئے جو ایرانی معشوق کی پیچ در پیچ زلف سے کم نہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

”حال باید استدلال از کتب مقدسہ بر وقوع ایں دو ظہور نمود۔ واستنباط از اقوال انبیاء کرد۔ زیرا حال ما میخواہیم کہ استدلالات از کتب مقدسہ نمائیم۔ ادلّہ معقولہ در اثبات ایں دو ظہور چند روز پیش در سر سفرہ اقامہ گشت۔ خلاصہ در کتاب دانیال از تجدید عمارت بیت المقدس تا یوم شہادت حضرت مسیح را ہفتاد ہفتہ معین کردہ کہ بشہادت حضرت مسیح قربانی منتہی شود و ذبح خراب گردد۔ ایں خبر از ظہور حضرت مسیح است و بدایت تاریخ ایں ہفتاد ہفتہ تجدید و تعمیر بیت المقدس است۔ و درایں خصوص چہار فرمان از سہ بادشاہ بتعمیر بیت المقدس صادر شدہ۔ اول از کورش است کہ در ٥٣٦ قبل از میلاد (مسیح) صادر شد۔ وایں در کتاب عزراء در فصل اول مذکور است۔ فرمان ثانی بتجدید بنائے بیت المقدس از داریوس فارس است کہ در تاریخ ٥١٩ قبل از میلاد صادر شد۔ وایں در فصل ششم عزراء مذکور است۔ فرمان ثالث از ارتخشستا سنہ سابع از حکومتش در تاریخ ٤٥٧

٢٦

صفحہ ٤٧٩

قبل از میلاد صادر شدہ۔ وایں در فصل ہفتم عزراء مذکور است۔ فرمان رابع از ارتخشستا در سنہ ٤٤٤ قبل از میلاد صادر۔ ایں در فصل دوم نحمیاست۔ اما مقصد حضرت دانیال اثر ثالث است کہ ٤٥٧ قبل از میلاد بود۔ ہفتاد ہفتہ۔ ٤٩٠ روز مے شود۔ ہر روزے بتصریح کتاب مقدس یک سال است۔ در تورات میفر ماید یوم رب یک سال است۔ پس ٤٩٠ روز ٤٩٠ سال شد۔ فرمان ثالث کہ از ارتخشستا ست ٤٥٧ سال قبل از تولد مسیح بود۔ وحضرت مسیح وقت شہادت وصعود سی وسہ سال داشتند۔ سی وسہ را چوں بر پنجاہ وہفت ضم کنی ٤٩٠ مے شود کہ دانیال از ظہور حضرت مسیح خبر دادہ۔“

(مفاوضات عبدالبہاء ص ٤١،٤٠)

(ترجمہ) ”اب کتب مقدسہ سے دو ظہوروں پر ہم دلائل لاتے ہیں۔ دلائل عقلیہ پہلے شائع ہو چکے ہیں۔ دانیال کی کتاب میں بیت المقدس کی تجدید عمارت سے حضرت مسیح کے یوم شہادت تک ستر ہفتے مقرر ہیں۔ شروع ان ستر ہفتوں کا تجدید تعمیر بیت المقدس سے ہے۔ اس خالص امر میں چار فرمان تین بادشاہوں کے وارد ہیں۔ پہلا حکم کورش سے ہے جو ٥٣٦ قبل مسیح صادر ہوا تھا۔ اور یہ کتاب عزراء کی پہلی فصل میں مذکور ہے۔ دوسرا فرمان داریوس فارس سے ہے جو ٥١٩ قبل مسیح میں صادر ہوا۔ یہ حکم فصل ششم عزراء میں مذکور ہے تیسرا فرمان ارتخشستا سے ہے جو ٤٥٧ قبل مسیح صادر ہوا تھا۔ یہ ساتویں فصل عزراء میں درج ہے۔ چوتھا فرمان ارتخشستا سے ٤٤٤ قبل مسیح میں صادر ہوا تھا۔ یہ فصل دوم نحمیا میں ہے۔ ان چار فرمانوں میں سے حضرت دانیال کا مقصود تیسرا فرمان ہے جو ٤٥٧ قبل مسیح میں صادر ہوا تھا۔ ستر ہفتے ٤٩٠ دن ہوتے ہیں۔ ہر روز حسب تصریح تورات ایک سال ہے۔ پس ٤٩٠ روز ٤٩٠ سال ہوئے۔ فرمان ثالث جو ارتخشستا سے جاری ہوا ہے ٤٩٠ سال قبل تولد مسیح میں ہوا تھا اور حضرت مسیح کا دنیا سے آسمان پر صعود ٣٣ سال کی عمر میں ہوا تھا جب ان ٣٣ کو ٤٥٧ سے ملائیں تو ٤٩٠ ہوتے ہیں۔ جو دانیال نے حضرت مسیح کے ظہور کا وقت بتایا ہے۔“

مصنف:۔ اس کے بعد عبدالبہاء آفندی نے اپنے مقصد خاص پر توجہ کی ہے۔ یعنی شیخ بہاء اللہ کی صداقت کی دلیل بتانے لگے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

”حال با ثبات ظہور حضرت بہاء اللہ وحضرت اعلیٰ پردازیم و تا بحال ادلہ عقلی ذکر کردیم حال باید ادلہ نقلی ذکر کنیم۔ در آیہ سیزدہم فصل ہشتم از کتاب دانیال مے فرماید مقدسے متکلمی را شنیدم و ہم مقدس دیگرے را کہ از آں متکلم مے پرسید کہ رویائے قربانی دائمی وعصیاں خراب کنندہ تا بکے میرسد و مقام مقدس ولشکر پائمالی تسلیم کردہ خواہد شد۔ و بمن گفت کہ تا بدو ہزار و سہ صد شبانہ روز

٢٧

صفحہ ٤٨٠

آنگاہ مقام مقدس مصفیٰ خواهد گردید تا آنکہ میفرماید ایں رؤیا نسبت بزمان آخر دارد۔ یعنی ایں فلاکت وایں خرابیت وایں حقارت تا کے مے کشد ۔ یعنی سنہ ظہور کے است۔ پس گفت تا دو ہزار و سہ صد شبانہ روز آنگاہ مقام مقدس مصفیٰ خواهد شد۔ خلاصہ مقصد ایں جاست کہ دو ہزار وسہ صد سال تعین میکند۔ وبنص تورات ہر روزے یکسال است پس از تاریخ صدور فرمان ارتخشتا بہ تجدید بنائے بیت المقدس تا یوم ولادت حضرت مسیح ٤٥٦ سال است واز یوم ولادت حضرت مسیح تا یوم ظہور حضرت اعلیٰ ١٨٤٤ سنہ است۔ وچوں ٤٥٦ سال را ضم برایں کنی دو ہزاروسہ صد سال مے شود۔ یعنی تعبیر رؤیائے دانیال در سنہ ١٨٤٤ میلادی واقع شد۔ وآں سنہ ظہور حضرت اعلیٰ بود بنص خود دانیال۔ ملاحظہ نمائید کہ بچہ صراحت سنہ ظہور را معین مے فرمائید۔“

(مفاوضات عبدالبہاء ص ٤١ تا ٤٣)

(ترجمہ) ” اب ہم حضرت بہاء اللہ کے ظہور کے ثبوت میں نقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ کتاب دانیال کی فصل ہشتم کی تیرہویں آیت میں دانیال فرماتے ہیں۔ میں نے کسی مقدس بولنے والے سے سنا کہ دائمی قربانی اور خراب کرنے والے کی بے فرمانی کب تک پہنچے گی۔ مجھے اس نے کہا دو ہزار تین سو دنوں تک۔ وہ مقدس صاف ہو جائے گا۔ تورات کی تصریح سے ثابت ہے کہ ایک روز ایک سال ہوتا ہے پس تاریخ صدور فرمان ارتخشتا برائے تجدید عمارت بیت المقدس سے یوم ولادت مسیح تک ٤٥٦ سال ہوتے ہیں۔ اور یوم ولادت مسیح سے ظہور بہاء اللہ تک ١٨٤٤ سنہ ہے۔ جب ٤٥٦ سال کو دو ہزار تین سو سالوں میں ملائیں تو تعبیر خواب دانیال ١٨٤٤ میں پوری ہوئی اور وہ سنہ شیخ بہاء اللہ کے ظہور کا ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح صراحت سے ظہور کے سنہ کو معین فرماتا ہے۔“

ناظرین کرام! دانیال کی عبارتیں دانیال ہی سمجھا ہو گا اس وقت ان کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ لیکن ہمیں اس سے چنداں سروکار نہیں۔ ہم تو بہائیوں کے وکیل ( شیخ عبدالبہاء عباس آفندی) کے بیان پر توجہ رکھتے ہیں۔ آفندی صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں دانیال کے بتائے ہوئے ٤٩٠ سال اس طرح پورے کئے کہ ان کی دنیاوی زندگی کے تینتیس ٣٣ سال صعود تک ملا لئے۔ بہت اچھا کیا۔ لیکن جب شیخ بہاء اللہ پر اس کو چسپاں کیا تو ان کی مدت کو تولد تک ختم کر دیا۔ اور ان کی زندگی کے پچھتر سال چھوڑ گئے ۔ حالانکہ دونوں کے حق میں لفظ ( ظہور ) ایک ہی ہے۔ غور کیجئے کس دلیری سے لکھا کہ:

”از یوم ولادت حضرت مسیح تا یوم ظہور حضرت اعلیٰ (بہاء اللہ )“

پس چاہئے تھا کہ دانیال کی پہلی پیشگوئی متعلقہ مسیح ٤٩٠ والی جس طریق سے پوری کی

٢٨

صفحہ ٤٨١

تھی دوسری (متعلقہ بہاء اللہ ) بھی اسی طریق سے پوری کرتے۔ یہ نہ کرتے کہ حضرت مسیح کی متعلقہ پیشگوئی میں تو ان کی دنیاوی زندگی کے ایام بھی داخل کر لیتے اور بہاء اللہ والی میں یوم ولادت مراد لیتے اور ان کی عمر کے پچھتر سال چھوڑ دیتے۔ تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ۔

پس انصاف یہ ہے کہ چونکہ آپ نے پہلے بیان میں مسیح کی دنیاوی عمر ٣٣ سال کو داخل کیا ہے، تو دوسرے بیان میں بھی شیخ بہاء اللہ کی عمر کے پچھتر سال داخل کر کے بجائے دو ہزار تین سو کے دو ہزار تین سو پچھتر سال کہئے۔ جس سے دانیال کی پیشگوئی پوری طرح غلط ہو۔ اور اگر بہاء اللہ کے حق میں ان کی زندگی کے ایام نہیں ملاتے تو حضرت مسیح کے ایام بھی نہ ملائیے۔ جس سے دانیال کی پہلی پیشگوئی اچھی طرح غلط ثابت ہو کر دوسری کو بھی اعتبار سے گرا دے۔

علاوہ اس کے آپ نے کمال کیا کہ ص ٣١ ( مفاوضات ) پر حضرت مسیح کے بیان میں قبل از میلاد مسیح چار سو ستاون ٤٥٧ سال لکھے ہیں۔ ص ٣٢ پر ٤٥٦ بتائے ہیں۔ کیا یہ سہو و نسیان ہے یا مقدس غلط بیانی۔

معذرت:۔ ایک سال کی بھول چوک پر ہم گرفت نہ کرتے۔ لیکن چونکہ آفندی صاحب نے لکھا ہے:

”ملاحظہ نمائید کہ بچہ صراحت سنہ ظہور را معین مے فرماید“

اس لئے ہم ایک سال کی کمی بیشی کیا ایک روز کی بھی نہ چھوڑیں گے تا کہ صراحۃً بیان معلوم ہو جائے۔

صاف حساب: یہ ہے کہ بقول آپ کے ارتخشستا کے فرمان سے چار سو ستاون ٤٥٧ سال بعد حضرت مسیح پیدا ہوئے۔ ١٨٤٧ء میں بہاء اللہ پیدا ہوئے تو جملہ سنین بائیس سو چوہتر (٢٢٧٤) ہوئے۔ اور اگر حضرت مسیح کی دنیاوی زندگی کے ٣٣ سال ملائیں تو بہاء اللہ کے پچھتر سال ملا کر دو ہزار تین سو انچاس (٢٣٤٩) سال ہوتے ہیں۔ غرض دونوں طرح سے دانیال کی پیشگوئی غلط ہے یا مسیح اور بہاء اللہ دونوں اس کے مصداق نہیں۔ بہر حال یہ اونٹ سیدھا نہیں بیٹھ سکتا۔

بنے کیونکر کہ ہے سب کار اُلٹا
ہم اُلٹے بات اُلٹی یار اُلٹا

حضرات! یہ تو ہوئی ایرانی مسیح کے متعلق پیشگوئی۔ اب سنئے قادیانی مسیح خود کیا فرماتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ ایرانی صاحب کا بیان عجیب ہے تو قادیانی حضرت کا عجیب تر۔ ناظرین ذرا دل لگا کر غور سے سنیں کیونکہ یہ الہامیوں کی باتیں ہیں۔

٢٩

صفحہ ٤٨٢

مرزا قادیانی نے دانیال کی پیشگوئی اپنے حق میں لی ہے

ہمارے پنجابی مسیح مرزا قادیانی ایرانی مسیح کے ایسے کچھ جائز وارث ہیں کہ ان کی ہر چیز پر بلاخوف قبضہ کرتے ہیں۔ چنانچہ دانیال کی پیش گوئی کے متعلق آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھا ہے جس میں خدا نے مجھے فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے۔ لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے۔ اور شریروں میں سے کوئی نہیں سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دوسو نوے (١٢٩٠) دن ہوں گے۔ ١؂ مبارک ہے وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس (١٣٣٥) روز تک آتا ہے۔ اس پیشگوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے۔ جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ سو دانیال نبی نے اس کا یہ نشان دیا ہے کہ اس وقت سے جو یہود اپنی رسم قربانی سوختنی کو چھوڑ دیں گے اور بد چلنیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ایک ہزار دوسو نوے (١٢٩٠) سال ہوں گے جب مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ سو اس عاجز کے ظہور کا یہی وقت تھا۔ کیونکہ میری کتاب ”براہین احمدیہ“ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے (١٢٩٠) ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پا چکا تھا۔ پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے تالیف ہو کر شائع کی گئی۔ جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پر یہ شعر لکھا ہوا ہے:

از بس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ
تاریخ بھی یاغفور نکلی٢؂ وہ واہ

١؂ دن سے مراد دانیال کی کتاب میں سال ہے اور اس جگہ وہ نبی ہجری سال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسلامی فتح اور غلبہ کا پہلا سال ہے۔ (حاشیہ از مرزا)

٢؂ خدا ہمارے پنجابی شاعر اقبال اور ظفر وغیرہ کو جزاء خیر دے جنہوں نے پنجاب کی لاج رکھ لی۔ ورنہ مرزا قادیانی نے ایسے شعر لکھ کر اہل دہلی کا الزام صحیح کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی جو کہا کرتے ہیں۔

ایک ہیں پنجابی دوسرے بے علم شعر گوئی میں دکھا دیتے ہیں جوہر اپنا

٣٠

صفحہ ٤٨٣

سو دانیال نبی کی کتاب میں جو ظہور مسیح موعود کے لئے بارہ سو نوے (١٢٩٠) برس لکھے ہیں اس کتاب براہین احمدیہ میں جس میں میری طرف سے مامور اور منجانب اللہ ہونے کا اعلان ہے‘ صرف سات برس اس تاریخ سے زیادہ ہیں جس کی نسبت میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ مکالمات الٰہیہ کا سلسلہ ان سات برس سے پہلے کا ہے۔ یعنی بارہ سونوے (١٢٩٠) کا۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس (١٣٣٥) برس لکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت فرمایا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٩٩، ٢٠٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٧، ٢٠٨)

مصنف:۔ اس عبارت میں مرزا قادیانی نے دانیال کی عبارت سے دو مطلب نکالے ہیں جو دونوں اپنے پر منطبق کئے ہیں۔

پھر اس کی تائید کرنے کو اپنی عمر کے متعلق اپنا الہام بھی لکھا ہے کہ میں اپنے الہام کے مطابق بھی ١٣٣٥ ہجری تک زندہ رہوں گا۔ ١؎

اس عبارت کی مزید تشریح اور تائید ہم مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت سے کرتے ہیں۔ آپ کتاب تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں: ”دانیال نبی نے بتلایا ہے کہ اس نبی آخر الزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفیٰ ﷺ ہے) جب بارہ سونوے (١٢٩٠) برس گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہو گا اور تیرہ سو پینتیس (١٣٣٥) ہجری تک اپنا کام چلائے گا یعنی چودہویں صدی میں سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا۔ اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودہویں صدی قرار دی گئی ہے۔ اب بتلاؤ کیا اس سے انکار کرنا ایمانداری ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١١٧۔ خزائن ج ١٧ حاشیہ ص ٢٩٢)

مرزائی دوستو! اس پیشگوئی میں کس وضاحت سے مسیح موعود کا سنہ وفات ١٣٣٥ھ قرار دیا ہے۔ پھر جو ١٣٢٦ھ میں مرجائے اسے مسیح موعود ماننا:

١؎ مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ میری عمر کم سے کم ٧٥ سال ہو گی۔ (براہین احمدیہ ضمیمہ حصہ پنجم ص ٩٧۔ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)۔ یہ بھی آپ کا اقرار ہے کہ میری پیدائش ١٢٦١ھ میں ہوئی (تریاق القلوب کلاں ص ٦٨۔ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) اس حساب سے آپ کی عمر ٧٥ سال ٹھیک ١٣٣٥ھ میں پوری ہونی تھی۔ مگر آپ ٩ سال پہلے ١٣٢٦ھ میں تشریف لے گئے (وہاں کچھ ضرورت ہو گی)۔ (مصنف)

٣١

صفحہ ٤٨٤

کہو جی کون دھرم ہے؟ ……☆……

مرزا قادیانی کا مزید کمال

ہمارے پنجابی مسیح نے دانیال کی پیشگوئی کے متعلق ایک خاص کمال کیا۔ جس میں یہود محرفین تورات کو بھی شرمندہ ہونا پڑا۔ مرزا قادیانی نے کتاب تحفہ گولڑویہ میں دانیال کی کتاب کا باب بھی بتایا ہے۔ اور عبارت عبرانی اور اس کا ترجمہ خود ساختہ اُردو بھی نقل کیا ہے۔ ہم اس مرزائی ترجمہ کو مع ترجمہ مسلمہ نصاریٰ بائیبل سے بالمقابل نقل کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین اندازہ لگا سکیں کہ چراغ بکف داشتہ کون جا رہا ہے۔

مرزائی ترجمہ (دانیال باب ١٢)

”اور اس وقت ہوگا مبعوث وہ جو خدا کی مانند ہے حاکم اعلیٰ وہ مبعوث ہوگا تیری قوم کی حمایت میں اور ہوگا زمانہ دشمنوں کا۔ ایسا زمانہ کہ نہ ہوا ہوگا امت کے ابتدا سے لے کر اس وقت تک۔ اور اس وقت ایسا ہوگا کہ نجات پائے گا تیری قوم میں سے ہر ایک کہ پایا جائے گا لکھا ہوا کتاب میں۔ اور بہت جو ست پڑے ہیں زمین کے اندر جاگ اٹھیں گے یہ ہمیشہ کی زندگی کے واسطے اور یہ انکار اور ابدی لعنت کے واسطے اور اہل دانش چمکیں گے مانند چمک آسمان کی۔ اور صادقوں سے بہت ہوں گے مانند ستاروں کے ہمیشہ اور ہمیشہ اور تو اے دانیال پوشیدہ رکھ ان باتوں کو اور سر بمہر رکھ اس کتاب کو وقت آخر تک جبکہ لوگ زمین پر یشططو ہوں گے اور اِدھر اُدھر دوڑیں گے اور سیر کریں گے اور ملیں گے اور علم بہت بڑھ جائے گا۔ اور نظر کی میں دانیال نے اور دیکھے دو اور کھڑے ہوں گے ایک اس طرف دریا کے اور دوسرا اُس طرف دریا کے۔ اور کہا اس آدمی کو جس کا لباس لمبے تاگوں کا تھا جو کہ اوپر دریا کے پانی کے تھا۔ کب ہوگا انجام مصائب کا اور میں نے سنا اس آدمی کو جو لمبے تاگوں والا لباس پہنے تھا جو کہ اوپر پانیوں دریا کے تھا۔ اور اس نے بلند کیا اپنا دایاں اور بایاں آسمان کی طرف اور قسم کھائی ابدی زندہ خدا کی کہ اس زمانہ کی مدت ہے دو زمانے ہیں اور ایک زمانہ کا حصہ اور یہ پورا ہوگا۔ اور مقدس جماعت میں تفرقہ پڑے گا اور ان کا زور ٹوٹ جائے گا۔ اور یہ سب باتیں پوری ہوں گی۔ اور میں نے سنا پر نہ جانا اور میں نے کہا اے خداوند کیا ہے انجام ان سب باتوں کا اور کہا چلا جا دانیال کیونکہ پوشیدہ رہیں گی اور سر بمہر رہیں گی یہ باتیں وقت آخر تک بہتوں کو اجلا کیا جائے گا اور بہتوں کو سفید کیا جائے گا اور بہتوں کو آزمائش

٣٢

صفحہ ٤٨٥

میں ڈالا جائے گا اور شریر شرارت سے شور وغوغا مچائیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا۔ پر اہلِ دانش سمجھ لیں گے اور اس وقت سے جبکہ دائمی قربانی موقوف ہوگی اور بتوں کو تباہ کیا جائے گا۔ اس وقت تک بارہ سو نوے دن ہوں گے۔ مبارک ہے جو انتظار کرے گا اور اپنا کام محنت سے کرے گا تیرہ سو پینتیس روز تک۔ اور تو چلا جا آخر تک اے دانیال۔ اور آرام کر اور اپنے حصہ پر اخیر پر کھڑا ہوگا خاموش ہو جاؤ میرے آگے اے جزیرو امت از سر نو سر سبز ہوگی اور قوت پکڑے گی وے قریب پہنچیں گے پھر سب ایک بات پر متفق ہوں گے ہم قطعی (فیصلہ) کے قریب آئیں گے۔ کس نے مبعوث کیا مشرق کی طرف سے صادق ١؎ کو اسے اپنے حضور میں بلایا دھر دیا اس کے منہ کے آگے قوموں کو اور بادشاہوں پر اسے حاکم کیا اس نے کر دیا خاک کی مانند اس کی تلوار کو مانند بھوسے اڑتے ہوئے کی اس کی کمان کو۔ اس نے تعاقب کیا اور گزر گیا سلامت ایسی راہ سے جس پر کہ وہ اپنے پاؤں پر نہیں چلا۔ کسی نے یہ کام کیا اور اسے انجام دیا وہ جس نے ساری پشتوں کو ابتدا سے پڑھ سنایا۔ میں وہی پہلا خدا ہوں اور آخرین کے ساتھ ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤١ تا ١٤٧ خزائن ج ١٧ ص ٢٨٨ تا ٢٩٤)

بائبلی ترجمہ

”اور اس وقت میکائیل وہ بڑا سردار جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گا اور ایسی تکلیف کا وقت ہوگا جو امت کی ابتدا سے لے کے اُس وقت تک کبھی نہ ہوا تھا۔ اور اُس وقت تک تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پاوے گا اور اُن میں سے بہتیرے جو زمین پر خاک میں سو رہے ہیں جاگ اُٹھیں گے بعضے حیاتِ ابدی کے لئے اور بعضے رسوائی اور ذلتِ ابدی کے لئے۔ پر اہلِ دانش فلک کی چمک کے مانند چمکیں گے۔ اور وے جن کی کوشش سے بہتیرے صادق ہو گئے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک۔ لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخر کے وقت تک مہر کر رکھ۔ بہتیرے سراسر ملاحظہ کریں گے اور دانش زیادہ ہوگی۔ اور میں دانی ایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ دو اور کھڑے تھے ایک دریا کے کنارے کی اس طرف دوسرا دریا کے کنارے کی اُس طرف۔ اور ایک نے اُس شخص سے جو کتان

١؎ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود جو آخری زمانہ میں پیدا ہوگا وہ مشرق میں یعنی ملک ہند میں ظاہر ہوگا۔ اگرچہ اس آیت میں تصریح نہیں کہ آیا پنجاب میں مبعوث ہوگا یا ہندوستان میں۔ مگر دوسرے مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پنجاب میں ہی مبعوث ہوگا۔ (مرزا)

٤٣٤

صفحہ ٤٨٦

کا لباس پہنے تھا اور دریا کے پانیوں پر تھا پوچھا کہ یہ عجائب چیزیں کتنی مدت کے بعد انجام تک پہنچیں گی۔ اور میں نے سُنا کہ اُس شخص نے جو کتانی پوشاک پہنے تھا جو دریا کے پانیوں پر تھا اپنا داہنا اور بایاں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر اُس کی جو ہمیشہ جیتا ہے قسم کھائی اور کہا کہ ایک مدت اور مدتوں اور آدھی مدت تک رہیں گی۔ اور جب وہ پورا کر چکے گا اور مقدس لوگوں کا زور کھو دے گا یہ سب چیزیں پوری ہوں گی۔ اور میں نے تو سنا پر نہیں سمجھا۔ تب میں نے کہا اے میرے خداوند ان چیزوں کا انجام کیا ہوگا۔ اُس نے کہا اے دانی ایل تو اپنی راہ چلا جا کہ یہ باتیں آخر کے وقت تک بند و سر بمہر رہیں گی اور بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے۔ لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے۔ اور ایک ہزار تین سو پینتیس (١٣٣٥) روز تک آتا ہے۔ پر تو اپنی راہ چلا جا جب تک کہ وقت اخیر آوے کہ تو چین کرے گا اور اپنی میراث پر اخیر کے دنوں میں اُٹھ کھڑا ہوگا۔“

(بائبل دانیال نبی کی کتاب۔ باب ١٢)

ناظرین کرام! ہم نے نقل عبارت میں بخل نہیں کیا تو آپ پڑھنے میں کیوں دل تنگ ہوں گے۔ پڑھئے اور ضرور پڑھئے۔ پھر بتائیے کہ دانیال کے بارہویں باب کا مرزائی ترجمہ بائبل کے ترجمہ سے کچھ بھی تعلق رکھتا ہے؟ مرزا قادیانی کی ایسی صنعت کاری کے حق میں کہا گیا ہے:

نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

قادیانی ۔ بہائی دوستو! یہ چند سر دفتر دلیلیں تمہاری ہم نے دکھائی ہیں۔ باقی اگر کچھ ہے تو:

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

......☆......

دونوں مدعیان کی تیسری دلیل

مرزا قادیانی اپنی صداقت پر باوجود مخالفت کے اپنی کامیابی کو دلیل لایا کرتے تھے۔ یہ دلیل بھی دراصل بہائی لٹریچر سے ماخوذ ہے۔

٣٤

صفحہ ٤٨٧

عبد البہاء آفندی شیخ بہاء اللہ کی صداقت پر عقلی دلیل لائے ہیں۔ اور اس کو بہترین و لاجواب دلیل کہتے ہیں۔ آپ کے الفاظ مع ترجمہ درج ذیل ہیں:

”یک برہان عقلی دیگر گویم واہل انصاف را ہمیں برہان کفایت است کہ ہیچ کس نہ تواند انکار کند۔ وآں اینست کہ ایں شخص جلیل در سجن اعظم امرش را بلند کرد۔ ونورش باہر شد۔ وصیتش جہانگیر گشت۔ وآوازۂ بزرگوار یش بشرق وغرب رسید۔ والی یومنا ہٰذا چنیں امرے در عالم وجود واقع نہ شدہ اگر انصاف باشد والا بعضے از نفوس ہستند کہ اگر جمیع براہین عالم را بشنوند انصاف نہ دہند۔ مثلاً بکمال قوت ودول وملل مقاومت او را نتوانستند بکنند بلکہ فرداً وحیداً مظلوماً آنچہ خواست مجری داشت من معجزات جمال مبارک را ذکر نکنم شاید سامع گوید ایں روایت است ومحتمل الصدق والکذب۔“

(مفاوضات عبدالبہاء۔ ص ٢٨٦)

(ترجمہ) ”یعنی (بہاء اللہ کی صداقت پر) ایک عقلی دلیل ہم سناتے ہیں اہل انصاف کے لئے یہی دلیل کافی ہے۔ کیونکہ اس دلیل کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وہ دلیل یہ ہے کہ اسی بزرگ شخص (بہاء اللہ) نے قید خانہ میں اپنے دعوے کا اعلان کیا اور نور اس کا چمکا۔ اور آواز اس کی جہانگیر ہوئی اور اس کی بزرگی کا شہرہ شرق وغرب میں پہنچا۔ اور شروع دنیا سے آج تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ اگر انصاف ہو (تو غور کریں) ورنہ بعض لوگ عالم کی دلیل سنتے ہیں مگر انصاف نہیں کرتے۔ تمام حکومتیں اور تمام مذاہب اس (بہاء اللہ) کا مقابلہ نہ کر سکے۔ بلکہ اس نے جیل میں مظلومی کی حالت میں اکیلے ہی جو چاہا جاری کیا۔ شیخ بہاء اللہ کے معجزات ذکر کروں تو سننے والا کہے گا کہ یہ ایک روایت ہے جس میں صدق و کذب کا احتمال ہے۔“

(ص ٢٨٧)

نقض اجمالی: آفندی صاحب نے اس دلیل کی بڑی تعریف کی ہے حالانکہ یہ دلیل ایسی ہے کہ ان کا رقیب (قادیانی مسیح) بھی یہی پیش کرتا ہے۔ پھر کیوں نہ اس کو بھی صادق سمجھا جائے۔ غور سے سنیں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”براہین احمدیہ میں یہ پیشگوئی ہے۔ ”يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِؤُا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِهَ الْکَافِرُوْنَ“ یعنی مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ نور خدا کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر خدا اپنے نور کو پورا کرے گا اگر چہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔ یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے جبکہ کوئی مخالف نہ تھا بلکہ کوئی میرے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ پھر بعد اس کے حسب بیان پیشگوئی دنیا میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوئی اور ہزاروں نے مجھے قبول کیا۔ تب اس قدر مخالفت ہوئی کہ مکہ معظمہ سے اہل مکہ کے پاس خلاف واقعہ باتیں بیان کر کے میرے لئے

٣٥

صفحہ ٤٨٨

کفر کے فتوے منگوائے گئے ۔ اور میری تکفیر کا دنیا میں ایک شور ڈالا گیا ۔ قتل کے فتوے دیئے گئے حکام کو اکسایا گیا ۔ عام لوگوں کو مجھ سے اور میری جماعت سے بیزار کیا گیا ۔ غرض ہر ایک طرح سے نابود کرنے کے لئے کوشش کی گئی ۔ مگر خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق یہ تمام مولوی اور ان کے ہم جنس اپنی کوششوں میں نامراد اور ناکام رہے ۔ افسوس کس قدر مخالف اندھے ہیں ان پیشگوئیوں کی عظمت کو نہیں دیکھتے کہ کس زمانہ کی ہیں اور کس شوکت اور قدرت کے ساتھ پوری ہوئیں ۔ کیا بجز خدا تعالیٰ کے کسی اور کا کام ہے ۔ اگر ہے تو اس کی نظیر پیش کرو ۔ نہیں سوچتے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نامراد نہ رہتے ۔ کس نے ان کو نامراد رکھا؟ اُسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٢٣٠ ۔ خزائن ج ٢٢ ص ٢٤١‘٢٤٢)

أتباع مرزا اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے باوجود مخالفت کے جماعت بنائی ۔ ہم حیران ہیں کہ ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک یہی دلیل پیش کرتا ہے ۔ اور پھر ہر ایک دوسرے کی تکذیب بھی کرتا ہے ۔ مثلاً بہائی جب یہ دلیل پیش کرتے ہیں تو قادیانی اس کو مان کر دعوے بہاء اللہ سے منکر رہتے ہیں ۔ اور قادیانی جب پیش کرتے ہیں تو بہائی ان کا منہ چڑاتے ہیں ۔

معلوم ہوا کہ یہ دلیل ایسی ہے کہ دونوں فریقوں کو خود مسلم نہیں ۔

ہمارا جواب سنئے ! ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ چند لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لینا صداقت کی علامت ہے ۔ ہندوستان کے مسلموں اور غیر مسلموں میں اس کے خلاف بہت مثالیں ملتی ہیں ۔ مثلاً :

شاہی زمانے سیواجی مرہٹہ کی مخالفت بلکہ دار و گیر حکومت کی طرف سے کتنی ہوئی ۔ کئی دفعہ گرفتار بھی ہوا ۔ تاہم وہ اپنے ارادہ میں کامیاب ہوا ۔

دوسرے درجے پر سوامی دیانند بانی آریہ سماج ہیں ۔ ہندو قوم نے ان کی سخت ترین مخالفت کی لیکن سوامی جی نے ایک بڑی جماعت اپنے پیچھے لگا کر آریہ سماج قائم کر لی جو ہر طرح ان دونوں (بہائیوں اور مرزائیوں) سے طاقتور ہے ۔

آگرہ میں رادھا سوامی نے باوجود مخالفت شدیدہ ہنود کے بڑی جماعت اپنے ساتھ ملا لی ۔ جو تجارت ۔ صنعت و حرفت کے علاوہ تبلیغی کام بھی کافی کرتے ہیں ۔

لاہور میں دیو سماجی (دہریہ) ہیں جن کے گرو نے خدا کی غلامی سے آزاد ہونے کا پیغام لوگوں کو سنایا ۔ مخالفت شدید ہوئی ۔ تاہم اُن کے ماننے والی ایک بڑی جماعت ہو گئی ۔

٣٦

صفحہ ٤٨٩

سب سے بڑی مثال : سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے آج گاندھی جی کی ہے۔ جو باوجود مصائب شدیدہ عدیدہ کے اپنے ارادے پر مضبوط ہیں۔ اور ان کے اتباع بھی بکثرت نہ صرف موجود ہیں بلکہ مصائب جھیلتے ہیں۔

یہ تو بالاختصار غیر مسلموں کی مثالیں ہیں۔ اب سنئے مسلموں کی:

سید محمد جونپوری : جس نے شاہی زمانہ میں مہدویت کا دعویٰ کیا باجود مصائب شدیدہ کے آج (چار سو سال) تک بھی ان کے نام لیواؤں کی بہت بڑی جماعت دکن میں ملتی ہے جو بظاہر پابند شریعت ہیں۔

کتب تاریخ میں تلاش کی جائے تو ایسی مثالیں بکثرت ملتی ہیں کہ مدعیان نے اپنی ان تھک محنتوں سے بڑی بڑی جماعتیں اپنے ساتھ کر لیں۔ ہاں ہم مانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو جماعت تیار کی تھی وہ ضرور صداقت کی دلیل تھی۔ کیونکہ اس جماعت کی وجہ سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو بتائی گئی تھی۔ غور سے سنئے :

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا.

(سورۃ النصر)

(یعنی جب اللہ کی مدد اور نصرت آئے گی اور تو (اے رسول) دیکھے گا کہ لوگ دین الٰہی میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو تو اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہو جائیو۔)

اس سورۃ جامعہ میں پیشگوئی مرکب ہے دو اجزاء سے

پس رسول عربی ﷺ کے صدق کی دلیل یہ ہے کہ آپ کو باوجود مخالفت کے مؤمنوں کی جماعت مع کامیابی کے ملی۔ یعنی جو فرمایا تھا کہ ہماری مدد ہوگی ہم فاتح اور منصور ہوں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ ویسے ہی ہوئے۔ یہ نہیں کہ:

”بتایا تھا ہمارے آنے سے مسلمان متقی بن جائیں گے اور تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔“ (جیسا کہ ایرانی مسیح وقادیانی کہتے ہیں)

مگر جو ہوا اس کی تصویر یہ ہے جو مولانا حالی مرحوم نے کھینچی ہے:

پوچھا جو کل انجام ترقئ بشر
یاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کر

٣٧٤

صفحہ ٤٩٠
باقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیب
ہو جائیں گے صیقل جلا کے سب عیب ہنر

ان دونوں صاحبوں کا ادعا ہم پہلے بتا آئے ہیں یہاں ایک حوالہ مرزا قادیانی کا مزید بتاتے ہیں جو فیصلہ کن ہے۔ ہمارے پنجابی مسیح اپنی تشریف آوری کے مقاصد بتاتے ہیں:

”میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ (١) مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ چاہتا ہے (٢) اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔“

(مقولہ مرزا در اخبار الحکم ج ٩ نمبر ٢٥۔ ٢٧ / جولائی ١٩٠٥ء ص ١٠)

ناظرین کرام! یہ پیشگوئی ہے یا خواب پریشان جو دیکھنے والے اور سننے والے دونوں کو حیران کر رہا ہے۔ اور وہ دنیا میں مسلمانوں کی بے دینی بد مذہبی اور بد اخلاقی اور مسیحی لوگوں کی کثرت اور عیسیٰ مسیح کی عبادت روز افزوں زیادہ دیکھ کر بے ساختہ کہتا ہے ۔

ایں چہ مے بینم بہ بیداریست یا رب یا بخواب

قادیانی دوستو! تمہیں اس خدائے واحد کی قسم ہے جو تمام دنیا کا خالق و مالک ہے جس کی جلالت کی حکومت ذرہ ذرہ پر ہے جو ہر صحیح اور غلط خیال اور قبیح اور حسن افعال کی سزا و جزا دینے پر قادر ہے۔ اس خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتاؤ کہ مرزا قادیانی کے آنے سے یہ دونوں مقصد پورے ہو گئے ہیں؟ اگر جواب نہ دو گے تو میدان حشر میں بھی یہی سوال تمہیں پیش آئے گا۔ پھر کیا ہوگا؟ وہی جو اس شعر میں مذکور ہے:

عجب مزا ہو کہ محشر میں ہم کریں شکوے
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کیلئے

تاویل اور اس کا جواب

سچ تو یہ ہے کہ قادیان سے جو بھی تاویل آئے ہمیں تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب مقام نزول مسیح موعود ”دمشق“ سے مراد ”قادیان“ کہہ سکتے ہیں تو باقی امور میں کیا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ زمین کو آسمان کہیں یا آسمان کو زمین سب جائز ہے۔ ہاں ناظرین کی اطلاع کے لئے ہم ان عبارات صریحہ کی تاویلات بتاتے ہیں۔

٣٨٠

صفحہ ٤٩١

مرزا صاحب کے اس کلام کا مطلب قادیان سے یہ بتایا گیا ہے کہ سارے مسلمان مراد نہیں بلکہ اپنے مرید مراد ہیں۔ چنانچہ قادیانی اخبار ”الفضل“ کے الفاظ یہ ہیں:۔

پہلا جواب: اس اعتراض کا پہلا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ تو نہیں لکھا کہ میں ان مسلمانوں کو اعلیٰ درجہ کا متقی بنانے آیا ہوں جو میری پیروی نہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح جسمانی طبیب اس شخص کے مرض کو دور کر سکتے ہیں جو ان کے پاس آئے، ان کی تشخیص کے مطابق نسخہ استعمال کرے اور پرہیز کرے۔ اسی طرح خدا کے انبیاء بھی جو روحانی طبیب ہوتے ہیں، اس شخص کی بیماری کو دور کر سکتے ہیں جو ان کے پاس علاج کرانے آئے اور ان کی ہدایات پر چلے۔ اور حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ان لوگوں کو جنہوں نے آپ کی غلامی اختیار کی اتقاء کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچایا جس پر پہنچنے والوں کے لئے قرآن مجید میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ ان پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں۔ جیسے فرمایا۔ ”ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکۃ“

(الفضل قادیان ۔ ٢٣؍ جولائی ١٩٣٣ء۔ ص٧)

جواب الجواب (١): اس طرح تو ہر پیر خواہ مشرک ہو یا بدعتی کہہ سکتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ کیونکہ جن لوگوں نے میرے ساتھ بیعت کی ہے وہ کامل مومن ہیں۔ میرے مسیح موعود ہونے کی یہی علامت اور یہی دلیل ہے اس کا جواب کیا؟

دوسرا جواب: دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ یہ امر مسلمہ فریقین ہے کہ دنیا میں انبیاء کی آمد کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اہل دنیا کا خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرائیں۔ مگر باوجود اس کے امر واقعہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مقابلہ میں وہ بمشکل معدودے چند لوگوں کا خدا سے تعلق پیدا کرا سکتے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم ان کو ناکام نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اگر مولوی ثناء اللہ صاحب کے اعتراض کو درست تسلیم کیا جائے تو ان سب کو ناکام ماننا پڑتا ہے خصوصاً حضرت مسیح علیہ السلام کو جن کے متعلق مولوی صاحب خود اپنی کتاب ”جوابات نصاریٰ“ ص ٥٤ پر لکھتے ہیں:۔

”حضرت مسیح اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمات الٰہیہ کا مقابلہ کر کے فیصلہ کرلو کہ دنیا میں مفوضہ خدمات میں کامیاب کون ہوا اور ناکام کون؟ یاد نہ ہو تو سنئے حضرت مسیح دنیا سے گئے تو صرف بارہ یا سولہ آدمی آپ کے فیض سے مستفیض تھے جن میں سے بھی بعض کمزور اور ضعیف الخیال۔ حضرت مسیح کی خدمات بمقابلہ خدمات محمدیہ ایسی ہیں کہ ان کو ناتمام اور نامکمل کہنا بھی ان کی عزت افزائی ہے۔ اگر حضرت مسیح ناصری باوجود اس ناکامی کے مولوی صاحب کے نزدیک خدائے تعالیٰ کے سچے نبی تھے۔ تو پھر ان کے خیال کے مطابق حضرت مسیح

٣٩

صفحہ ٤٩٢

موعود علیہ السلام کی ناکامی قابل اعتراض کیوں ہے؟“

(الفضل مذکور)

جواب الجواب (٢): حضرت عیسیٰ مسیح نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا جو مرزا قادیانی نے کیا ہے۔ ہمارا اعتراض عدم تکمیل تبلیغ پر نہیں۔ بلکہ حسب وعدہ عدم تبلیغ پر ہے۔ جس کو مجیب نے یا تو سمجھا نہیں یا دفع الوقتی کی ہے۔ ہمارے اعتراض کا مبنی مشہور مقولہ ہے۔ ”يُؤخذ المرء باقراره“

تیسرا جواب: تیسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غرض بعثت یہ قرار دی گئی ہے کہ آپ تمام ادیان باطلہ پر دین الٰہی کو غالب کریں۔ چنانچہ فرمایا: ”هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ“ اب مولوی صاحب ہی بتلائیں کہ کیا آپ کے اس اصل کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام ادیان باطلہ پر دین الٰہی کو غالب کر دیا۔ کیا بت پرست دنیا سے نابود ہو گئے یا دیگر مذاہب باطلہ مثلاً یہودیت عیسائیت وغیرہ ناپید ہو گئے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی کا کام دنیا کے سامنے صداقت اور خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے ذرائع بیان کرنا ہوتا ہے۔ اور جو لوگ ان کے بیان کردہ صداقت اور تقویٰ کے اصول پر چلتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور جو نہیں چلتے وہ گمراہی میں رہتے ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے اصول رکھ دیئے۔ جنہوں نے ان کو اختیار کیا وہ متقی بن گئے اور جنہوں نے انکار کیا وہ گمراہ۔“

(الفضل ٢٤؍ جولائی ١٩٣٣ء، ص ٧)

جواب الجواب (٣): قادیانی مجیب کو قادیانی لٹریچر پر عبور ہوتا تو یہ جواب نہ دیتا۔ اس آیت کے متعلق ہم مرزا کا قول پہلے نقل کر آئے ہیں۔ اس آیت کے ماتحت تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرنا مرزا صاحب نے اپنے حصہ میں لیا ہوا ہے۔ بلکہ اس مضمون کو ایسے پیرائے میں لکھا ہے جس سے معلوم ہو کہ اس آیت کی زندہ تفسیر مرزا قادیانی ہی ہیں۔ پھر اگر یہ تکمیل نہیں ہوئی تو اس کا الزام بھی مرزا قادیانی پر ہے کسی اور پر نہیں۔

نوٹ:۔ یہاں بھی اصل اعتراض مرزا قادیانی کے اپنے قول پر ہے۔ آیت یا حدیث کے صحیح معنے پر نہیں۔ کیونکہ آیت کے صحیح معنے تو یہ ہیں کہ خدا اسلام کو باقی کل ادیان پر غلبہ دے گا نہ کہ ”اہلِ ادیان“ پر۔ ان دو مفہوموں میں فرق سمجھنے کو ایک ہی مثال کافی ہے کہ:

”آج ہم مسلمانوں پر انگریز غالب ہیں مگر اسلام پر غالب نہیں بلکہ اسلام ان کے دین (مسیحیت) پر غالب ہے۔ کیا مجال کہ بمقابلہ اسلامی توحید کے تثلیث نصاریٰ ٹھہر سکے۔“

بس اصل معنی یہی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس آیت کے جو معنے کئے ہیں کہ میری

٤٠

صفحہ ٤٩٣

(مسیح موعود کی) وجہ سے اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ چونکہ نہیں پھیلا بس اس کا الزام مرزا قادیانی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وعدہ خلافی کا جواب مرزا اور اتباع مرزا سے کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ الاّ اسی صورت میں جو عرب کے منہ زور شاعر متنبی نے اپنی محبوبہ کی وعدہ خلافی کا دیا ہے۔

اذا غدرت حسناء اوفت بعهدها
ومن عهدها الا يدوم لها عهد

جس کا مضمون اُردو شاعر نے یوں ادا کیا ہے:

وہ نہ آئیں شبِ وعدہ تو تعجب کیا ہے
رات کو کس نے یہ خورشید درخشاں دیکھا

مختصر یہ ہے کہ مرزا قادیانی جن مقاصد عالیہ کو لے کر آئے تھے اُن میں بالکل ناکام رہے اور ناکام ہی واپس گئے۔ بالکل سچ ہے:

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

......☆......

تیسرا باب...... شیخ بہاء اللہ کی تعلیمات مخصوصہ

اس سے پہلے دو بابوں میں دونوں مدعی شریک تھے۔ اس باب میں صرف بہاء اللہ کا ذکر ہوگا۔

چونکہ شیخ بہاء اللہ مدعی نبوت مستقلہ یعنی شارع شریعت تھے اس لئے ضروری تھا کہ وہ احکام شرعیہ مستقلہ بیان کرتے۔ اور اس بیان کرنے میں سابقہ شرائع بالخصوص قرآن مجید کے ماتحت نہیں بلکہ نبوت مستقلہ کے ماتحت اپنی شریعت کے احکام بیان کرتے ہیں۔

ضرورت ہے: چونکہ احکام شرعیہ کا ذکر کیا جائے گا۔ لہٰذا ان احکام سے پہلے ایسے شارع کی حیثیت اور تشریف آوری کا مقصد بیان کرنا ضروری ہے تا کہ ناظرین اس حیثیت سے ان احکام کا اندازہ لگا سکیں۔

گو ہم گذشتہ صفحات پر بہاء اللہ کی حیثیت موعودہ کا ذکر کر چکے ہیں تاہم احکام سے پہلے حاکم کی حیثیت کا ذکر ہونا مفید ہے۔

بہائی گروہ میں فضیلت مآب ابوالفضل محمد بن محمد رضا الجرفادقانی مصنف ’’الفرائد‘‘

٤١

صفحہ ٤٩٤

بڑی شخصیت کے عالم ہیں۔ میدان علم کے واقف متکلم خوش کلام آپ اپنی کتاب ’الفرائد‘ میں شیخ بہاء اللہ کی حیثیت بتانے کو لکھتے ہیں۔ اصل فارسی اور ترجمہ اُردو ملاحظہ ہو:

”اعلم ايها المناظر الجليل ايدك الله بروح منه“ کہ اہل بہاء عقیدت این است کہ جمیع صحف الہیہ و کتب سماویہ کہ در عالم موجود است بر ایں بشارات عظیمہ ناطق و متفق است که در آخر الزمان بسبب طلوع دو نیر اعظم در سماء امر اللہ عالم رتبہ بلوغ یابد و دورۂ اوہام و خرافات طے شود وظلمت اختلافات دینیہ و مذہبیہ از عالم زائل گردد و جہان بر کلمہ واحدہ و دین واحد استقرار یابد ضغائن کامنہ در صدور محوشود و عداوت و بیگانگی اسم محبت و اخوت تبدیل یابد جنگ و جدال بروند بل آلات حرب بادوات کسب مبدل گردد۔ حقائق مودعہ در کتب ظہور یابد و مقاصد اصلیہ مستورہ در بطون آیات مکشوف گردد معارف و علوم تقدم پذیرد و انوار تمدن حقیقیہ کہ بلسان انبیاء بدیانت معبر است جمیع اقطار را منور فرماید نسیم رحمت بوزد و غمام عدل سایہ گسترد و امطار فضل ببارد و غبار ظلم و قتام ستم در جمیع اقطار عالم فرو نشیند و خلاصة القول سموات ادیان مختلفہ منطوی گردد و جہان آرائشی نوگیرد و عظام رمیمہ دین نشأۃ جدیدہ وحیات بدیعہ پذیرد معنی وتـــری الارض غیر الارض آشکار شود و حقیقت واشرقت الارض بنور ربها هویدا گردد وتفسیر والامر يومئذ لله ظاهر آيد ـ وصیحۂ اقترب للناس حسابهم وهم فى غفلة معرضون جهان را فرا گرفت۔ وحدیث شریف انا على نسم الساعة قلوب طلاب هدایت را بقرب ورود ساعت وانقضائے دور ارباب ظلم و شرارت مطمئن و مستبشر ساخت و کتب و الواح از بشارات و علامات یوم اللہ مملو و مدون گشت و دلہا بریں امید بہزار و دویست و شصت سال مے ارمید تا آنکہ آں نجم درّی الہی از افق فارس بتابید و شعلہ نورانیه نار حقیقیہ از شیراز برافروخت و علامت صبح صادق آشکارا گشت و صیحہ ظہور قائم موعود از جمیع بلاد ارتفاع یافت و ندائے جانفزائے بشری بشری صبح الهدى تنفس آفاق را احاطہ نمود ..... و بالجملہ پس از شہادت آنحضرت و در دو میعاد منصوص یوم اللہ و یوم الملکوت فرا رسید و آفتاب حقیقت طالع و نیر عظمت مشرق گشت و جمال اقدس ابہی جل اسمہ الاعز الاعلیٰ بر امر اللہ قیام فرمود۔ و موعود جمیع انبیاء و مرسلین و بشارات اولیا و مقربین بقیام مقدسش تحقق پذیرفت ..... وصیحہ قد ظهر الموعود وتم الوعد مسموع صغیر وکبیر وجلیل و حقیر گشت زلال حقائق از قلم مبارکش جریان یافت و انہار معارف از بیان مقدسش منہمر گشت مائده سماویہ کہ جمیع ملل برآں جمع توانند گشت بگسترد و شریعت مقدسہ کہ اصلاح عالم و تمدین امم جز بدان معقول و متصور نیست تشریع فرمود کتاب مستطاب اقدس کہ تریاق اکبر است برائے دفع امراض عالم و

٤٢

صفحہ ٤٩٥

مغناطیس اعظم است برائے جذب قلوب امم از قلم اعلیٰ نازل شد و شاہراہ مقدس کہ موعود انبیا است ظاہر گشت ۔“

(الفرائد:ص١٣٨)

(ترجمہ) ”ناظرین! اہل بہاء کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام کتب الہیہ یہ خوشخبری دینے میں متفق ہیں کہ اخیر زمانے میں دو نیر طلوع کریں گے۔ دورۂ اوہام اور خیالات خام سب ختم ہو جائیں گے۔ دینی اور مذہبی اختلافات کا اندھیرا دنیا سے دور ہو جائے گا۔ اور جہاں ایک بات پر اور ایک دین پر سب لوگ پختہ ہو جائیں گے اور سینوں میں جو مخفی کینے ہوں گے سب دور ہو جائیں گے۔ قوموں کی عداوت اور بیگانگی محبت اور برادری سے مبدل ہو جائے گی۔ جنگ وجدل بند ہو جائیں گے بلکہ آلات جنگ آلات کسب سے بدل جائیں گے۔ کتابوں میں جو حقائق مخفی ہیں وہ ظاہر ہو جائیں گی۔ مقاصد اصلیہ جو آیات میں مخفی ہیں سب ظاہر ہو جائیں گے۔ معارف اور علوم کھل جائیں گے۔ اور انبیاء کی تعلیم میں جس دیانت کا ذکر ہے وہ تمام دنیا کو روشن کر دے گی۔ رحمت کی ہوا چلے گی اور عدل کے بادل سایہ ڈالیں گے اور فضل کے بادل برسیں گے۔ ظلمت اور ظلم کا غبار تمام عالم میں بیٹھ جائے گا۔ حاصل کلام ادیان مختلفہ کے آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے۔ جہان نئی زینت پائے گا۔ دین کی گلی ہوئی ہڈیاں نئی خلقت اور حیات عجیبہ پائیں گی اور آیت (تبدل الارض غیر الارض ١) کے معنی ظاہر ہوں گے۔ اور آیت (اشرقت الارض بنور ربھا ٢) کی حقیقت واضح ہوگی اور آیت (والامر یومئذ لله ٣) کی تفسیر ظاہر ہو جائے گی۔......(**) اور آیت (اقترب للناس حسابھم ٤) کی آواز نے جہان پر اثر ڈالا اور حدیث انا الخ نے طالبان ہدایت کو قرب قیامت اور ظلم وشرارت کے زور کا خاتمہ ہونے سے مطمئن اور مسرور کیا او ر کتب الواح بشارات اور علامات یوم اللہ بھر گئیں۔ اور لوگوں کے دل اس امید پر بارہ سو ساٹھ تک تسلی پاتے رہے یہاں تک کہ چمکتا ستارہ خداوندی نے فارس کے افق سے تائید الہی اور شعلہ نورانیہ کے ساتھ تاریک حقیقت کو روشن کیا اور علامت صبح صادق ظاہر ہوئی اور قائم موعود کے ظہور کی آواز تمام شہروں سے اُٹھی اور جان افزا مژدہ بخش آواز نے تمام اطراف کو گھیر لیا۔

”موعود ٥ ظاہر ہو گیا“ اور ”وعدہ پورا ہو گیا“ کی آواز چھوٹے بڑے معزز غیر معزز

١ تو دیکھے گا اس زمین کے بدلے میں دوسری زمین۔ ٢ زمین اللہ کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی۔ ٣ اختیار اُس روز سارا اللہ کو ہوگا۔ ٤ لوگوں کا حساب نزدیک آ گیا اور وہ غفلت میں منہ پھیر رہے ہیں۔ (**) یہاں تک تو عام خوشخبری کا بیان ہے اس کے آگے خاص بہاء اللہ کی تشریف آوری کا ذکر ہے۔ ٥ پہلے ستارہ کی تعیین صاف نہیں کی دوسرا ستارہ شیخ بہاء اللہ کو قرار دے کر مصنف لکھتا ہے۔

٤٣

صفحہ ٤٩٦

سب نے سنی۔ اُس (موعود بہاء اللہ ) کے مبارک قلم سے صاف حقائق رواں ہوئیں اور اس کے مقدس بیان کے معارف کی نہریں جاری ہوئیں اور اس (بہاء اللہ ) نے ایک ایسا آسمانی دستر خوان بچھایا جس پر تمام دین والے جمع ہو سکیں۔ اور ایسی پاک شریعت جاری کی کہ عالم کی اصلاح اور قوموں کی وحدت دینی بغیر اس شریعت کے معقول اور ممکن نہیں۔ (بہاء اللہ کی ) ”کتاب اقدس“ جو تمام جہان کی بیماریاں دور کرنے میں تریاق اکبر ہے اور قوموں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے مقناطیس اعظم ہے۔ اور جس مقدس شاہراہ کا سب انبیاء کرام نے وعدہ دیا تھا وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ظاہر ہو گیا ۔“

ناظرین کرام! اتنی بڑی شخصیت کا دعویدار سلسلہ انبیاء میں کوئی نہیں ہوا۔ ہوتا کیسے جبکہ یہ کسی نبی نے کہا ہی نہیں کہ میں اپنے سے پہلے نبیوں کا مقصود ہوں۔ ان میں سے ہر ایک یہی کہتا رہا کہ میں پہلے نبیوں کی روش پر ہوں۔ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ نص قطعی ہے۔

خیر ہم اس بحث کو چھوڑتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کرام نے کیا دعویٰ کیا اور شیخ بہاء اللہ نے ان کے مخالف کیا یا موافق ۔ بلکہ ہم یہاں دو باتوں کو سامنے رکھتے ہیں ۔

...... ☆ ......

تعلیمات بہائیہ

عقائد بہائیہ لے

اصل الفاظ

هذه الشمس المشرقة الابهی الی متی اعتكفتم علی اصنام اهوائكم دعوا الاوهام وتوجهوا الی الله (ص ١٣) **

لے یہ تقسیم اور انتخاب ہماری محنت کا نتیجہ ہے۔ شیخ بہاء اللہ نے سب مخلوط لکھا ہے۔ ** یہ صفحات ”کتاب اقدس“ کے ہیں۔ (مصنف)

٤٤

صفحہ ٤٩٧

اے علماء کی جماعت کیا تم میرے اعلیٰ قلم کی آواز نہیں سنتے ہو کیا تم اس چمکتے روشن سورج کو نہیں دیکھتے ہو۔ تم لوگ کب تک اپنی خواہش کے بتوں پر جمے رہو گے۔ اوہام کو چھوڑو اور اللہ کی طرف متوجہ ہو۔

(٢) یا معشر العلماء هل یقدر احد منکم ان یسبقنی فی میدان المکاشفۃ والعرفان او یحول فی میدان الحکمۃ والتبیان (ص ٢٩)

اے جماعت علماء تم میں سے کوئی طاقت رکھتا ہے کہ میدان مکاشفہ اور عرفان میں مجھ سے آگے بڑھ سکے یا میدان حکمت اور بیان میں پھر سکے۔

(٣) ان عدۃ الشہور تسعۃ عشر شہرا فی کتاب اللہ. (ص ٣٤)

مہینوں کا شمار اللہ کی کتاب میں انیس مہینے ہے۔ ٢؎

٢؎ ہر مہینہ انیس روز کا ہے۔ ان مہینوں کے نام یہ ہیں:

نمبر شمار بہائی مہینوں کے نام تاریخ انگریزی نمبر شمار بہائی مہینوں کے نام تاریخ انگریزی ١ بہاء ٢١۔ مارچ ١١ مشیت ٢٧۔ ستمبر ٢ جلال ٩۔ اپریل ١٢ علم ١٦۔ اکتوبر ٣ جمال ٢٨۔ اپریل ١٣ قدرۃ ٤۔ نومبر ٤ عظمۃ ١٧۔ مئی ١٤ قول ٢٣۔ نومبر ٥ نور ٥۔ جون ١٥ مسائل ١٢۔ دسمبر ٦ رحمۃ ٢٤۔ جون ١٦ شرف ٣١۔ دسمبر ٧ کلمات ١٣۔ جولائی ١٧ سلطان ١٩۔ جنوری ٨ اسماء یکم اگست ١٨ ملک ٧۔ فروری ٩ کمال ٢٠۔ اگست ایام اعطا ٢٦۔ فروری سے یکم مارچ تک ١٠ عزت ٨۔ ستمبر ١٩ علاء ٢۔ مارچ

(رسالہ کوکب ہند۔ دہلی بابت جنوری ١٩٣٣ء ص ١٠)

سوال یہ ہے کہ موسمی مہینوں کی تقسیم موسم کی بنا پر ہے۔ مثلاً ساون بھادوں وغیرہ۔ اور قمری مہینوں کی تقسیم قدرتی نشان (رویت ہلال) پر ہے۔ یہ بہائی تقسیم انیس مہینوں کی (ہر مہینہ انیس روز کا) کس بنا پر ہے؟ کیا ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو آسمان پر کوئی نشان نظر آتا ہے؟ یا موسم کی تبدیلی ہوتی ہے؟ اگر کچھ نہیں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ نہیں۔ تو پھر یہ ایجاد کیا اس شعر کی مصداق ہے؟

نہ پیرویٔ قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

مصنف

٤٥

صفحہ ٤٩٨

(٤) يا مهدى ان الکتاب على هيئة اسمى الاعظم ينطق بين العالم انه لا اله الا انا العزيز الوهاب . (ص ٥١) اے مہدی کتاب تیرے اسم اعظم کی صورت پر دنیا میں اظہار کرتی ہے کہ میں غالب وہاب ہی معبود ہوں۔

(٥) طوبى لک يا هدى مما اقبلت الى الله مالک العرش والثرى قل يا ملاء الامکان تالله قد فتح باب السماء واتى مالک الاسماء على ظل السحاب قل لک الحمد يا منزل الآيات. (ص ٥٦) اے ہادی تجھے خوشخبری ہو اس وجہ سے کہ تو اللہ کی طرف متوجہ ہوا جو عرش اور تحت الثریٰ کا مالک ہے۔ آسمان کا دروازہ کھولا گیا اور آسمان کا مالک بادل کے سائے میں آیا۔ تو کہہ اے آیات اُتارنے والے تیری تعریف ہے۔

(٦) قل هذا يوم بشر به محمد رسول الله. من قبل ومن قبله الانجيل والزبور. (ص ٥٧) کہہ یہ زمانہ وہ ہے محمد رسول اللہ (ﷺ) نے پہلے جس کی خوشخبری دی تھی۔ اور اس سے پہلے انجیل اور زبور نے۔ ٣؎

(٧) تمسکوا بالکتاب الاقدس الذى انزله الرحمن من جبروته الاقدس. (ص ٦٢) اس کتاب اقدس کو مضبوط پکڑ خدائے رحمٰن نے اپنے جبروت اقدس سے اسے اُتارا ہے۔

(٨) هذا کتاب انزله الوهاب اذ اتى على السحاب (ص ٦٧) یہ کتاب اللہ وہاب نے اس وقت اُتاری جب وہ بادل پر آیا تھا۔

(٩) يا عيسى افرح بما يذکرک مالك العرش والثرى لعمر الله هذا مقام لا يعادله شىء فى الارض. (ص ٧١) اے عیسیٰ بسبب اس کے خوش ہو جو مالک العرش والثرىٰ تجھے یاد کرتا ہے۔ قسم بخدا یہ مقام ایسا عالی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اس کے برابر نہیں ہو سکتی۔

٣؎ یہی دعویٰ مرزا قادیانی کا ہے کہ میری بابت سابقہ کتب میں پیشگوئی ہے۔ دونوں صاحبوں کے اَتباع ایسی پیشگوئی ہمیں دکھائیں تو ہم مشکور ہوں گے۔ (مصنف)

٤٦

صفحہ ٤٩٩

ملاء انجیل قد فتح باب السماء واتى من صعید البهآ وانه ینادی فى البر والبحر ویبشر الکل بهذا الظهور الذى به نطق لسان العظمة قد اتى الوعد وهذا یوم الوعد وهذا هو الموعود. (ص ٧٤)

تو کہہ اے قرآن والو! خدائے رحمٰن تمہارے پاس قابلِ تعریف غلبہ لایا ہے۔ اے انجیل والو! آسمان کا دروازہ کھل گیا ہے اور آ گیا جو اس کی طرف چڑھا تھا اور وہ بلاتا ہے خشکی اور تری میں اور سب کو اس ظہور کی خوشخبری دیتا ہے جس کو خدائی زبان نے ظاہر کیا ہے۔ وعدہ آ گیا اور یہ یوم الوعد ہے اور یہی موعود ہے۔

المقربون والمشرکون فى خسران مبین هذا یوم ینادی الله بلسان العظمة یدع الکل الى صراطه المستقیم قل تالله قد ظهر ما هو المستور فى کتب الله رب العالمین. (ص: ٧٥)

تو کہہ یہ دن ہے جس میں ہر ایک باحکمت کام ظاہر ہوا ہے۔ اور یہ دن ہے کہ اس میں مقربانِ خدا فائدہ اُٹھائیں گے اور مشرک لوگ واضح نقصان پائیں گے۔ یہ دن ہے کہ خدا اپنی عظمت کی زبان کے ساتھ اس کی منادی کرتا ہے سب کو سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے تو کہہ اللہ کی قسم ہے جو اللہ رب العالمین کی کتابوں میں موعود لکھا تھا وہ ظاہر ہو گیا۔

القدس وفى الفرقان بالنبأ العظیم. (ص ٧٦)

بے شک یہ وہی ہے جس کا نام تورات یہوہ ہے اور انجیل میں روح القدس اور قرآن مجید میں (نبأ عظیم) بڑی خبر رکھا گیا ہے۔

بالاسم الذى به تزلزلت الارض. (ص ٨٦)

تو کہہ اے موجوداتِ غائبہ اور حاضرہ کے معبود میں تیرے اس نام کے ساتھ سوال

یہ تورات میں یہوہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور انجیل میں روح القدس بقول عیسائیاں تثلیث کا ایک اقنوم (حصہ) ہے اور قرآن مجید میں نبأ عظیم روز قیامت ہے۔ (مصنف)

٤٧

صفحہ ٥٠٠

کرتا ہوں جس کے ساتھ زمین بھی ہل جاتی ہے۔

(١٤) تالله انى انا الصراط المستقيم وانا الميزان الذى به يوزن كل صغير وكبير . (ص ١٠٠)

قسم ہے خدا کی میں سیدھا رستہ ہوں اور میں وہ ترازو ہوں جس کے ساتھ چھوٹے بڑے اعمال تولے جائیں گے۔

(١٥) قل الهى تعلم ما عندى ولا اعلم ما عندك اشهد ان زمام العلم فى يمينك . (ص ١٠٧)

تو کہہ اے میرے معبود جو میرے پاس ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے پاس ہے میں نہیں جانتا علم کی باگ بے شک تیرے ہاتھ میں ہے۔

(١٦) والذى اعرض عن الامر انه من اصحاب السعير . (ص ١٠٨)

جو اس دین (بہائی) سے منہ پھیرے بے شک وہ جہنمی ہے۔

(١٧) هذا يوم فيه ظهر الكنز المخزون ومرت الجبال كمر السحاب . (ص ١١٤)

یہ دن ہے جس میں مخفی خزانہ ظاہر ہوا اور پہاڑ مثل بادلوں کے چلے۔ ٥

(١٨) انى انا السماء التى صعد اليها ابن مريم . (ص ١٥٧)

میں ہی وہ آسمان ہوں جس کی طرف مسیح ابن مریم چڑھا تھا۔ ٦

(١٩) يا ايها الجاهل اعلم ان العالم من اعترف بظهورى وشرب من

٥ قرآن شریف میں ایک آیت ہے:

تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (النحل : ٨٨)

”قیامت کے پہلے حصہ میں تم پہاڑوں کو دیکھ کر سمجھو گے کہ ایک جا جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چلتے ہوں گے۔“

چونکہ شیخ بہاء اللہ اپنے آپ کو قیامت کہتا تھا اس لئے قیامت کی علامت اپنے پر چسپاں کر لی۔

٦ نمبر ١٠ میں اپنے آپ کو آسمان پر چڑھنے والا بتایا۔ اور اس نمبر ١٨ میں خود کو آسمان قرار دیا۔ اسی طرح مرزا صاحب قادیانی نے ایک جگہ لکھا میں مریم بنا پھر میں حاملہ ہوا پھر مسیح موعود بنا۔ (کشتی نوح )۔

کیا خوب! ”خود کوزہ خود کوزہ گر و خود گل کوزہ“

بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر

٤٨

صفحہ ٥٠١

بحر علمی وطار فی ھواء * حبی ونبذ ما سوائی واخذ ما نزل من ملکوت بیانی البدیع ۔ (ص ٢٠٢) اے جاہل انسان تو جان لے کہ جو میرے ظہور کا اعتراف کرے اور میرے علمی سمندر سے پئے اور میری محبت کی ہوا میں اُڑے اور میرے سوا سب کو چھوڑ دے اور جو مجھ پر بدیع بیان نازل ہوا ہے اس کو قبول کرے بس وہی عالم ہے۔

المقتدر القدیر ۔ (ص ٢٥٣) اسی طرح سکھاتا ہے تجھ کو وہ خدا جس نے آدم کو سب نام سکھائے تیرا رب بڑی قدرت والا قدیر ہے۔

اعمال متعلقہ عبادت

نماز کے لئے وضو کیا کرو اللہ واحد مختار کی طرف سے۔ ؎١

ولوا وجوھکم شطری الاقدس المقام المقدس الذی جعلہ الله مطاف الملاء الاعلیٰ ۔ (ص ٣) اللہ نے تم پر نو (٩) رکعت نماز فرض کی ہے جب تم نماز پڑھنی چاہو منہ اپنا میرے

بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ

ناظرین کرام! ”کتاب اقدس“ کو زمانہ حال کے حسب حال بہترین تعلیم کہہ کر قرآن مجید کی ناسخ کہا جاتا ہے۔ کیا ان عقائد کے لحاظ سے اُس میں ایسی کوئی مزید خوبی ہے جو ناسخ قرآن ہو سکے۔ حالانکہ خدا کی ذات اور صفات کے متعلق قرآن شریف نے جس تفصیل سے تعلیم دی ہے اس کو ملحوظ رکھ کر ”کتاب اقدس“ کو سامنے لانا بالکل اس مثال کے مشابہ ہے : ”شیر قالیں دگر است شیر نیستان دگر است“

لطف یہ ہے کہ ان لوگوں کا عام اعلان ہے : ”اصول شریعت الٰہی ایک ہی ہیں وہ بدل نہیں سکتے“ (کوکب ہند بابت اگست ١٩٣١ء ص ٣٥) (مصنف)

(*) ”ھواء“ بمعنی ریح ۔ عربی نہیں۔ (مصنف)

؎١ وضو کی تفصیل نہیں بتائی کون کون سا عضو دھونا چاہئے۔ اور کس کس فعل سے وضو ٹوٹ کر جدید کرنا فرض ہے؟ (مصنف)

٤٩

صفحہ ٥٠٢

مقام کی طرف پھیرا کرو جس کو خدا نے ملاء اعلیٰ (فرشتوں) کے طواف کی جگہ بنایا ہے۔ ؂٢

یجد الماء یذکر خمس مرات بسم الله الاظھر الاطھر. (ص ٤) خدا نے تم پر نماز اور روزہ شروع بلوغ سے فرض کیا ہے جو کوئی پانی نہ پائے وہ پانچ مرتبہ بسم اللہ الاظہر الاطہر پڑھ لیا کرے۔ ؂٣

ہم نے تم سے نشانات کی نماز معاف کر دی جب وہ نشانات (مثل کسوف خسوف وغیرہ) ظاہر ہوں تو اللہ تعالیٰ کو بزرگی کے ساتھ یاد کیا کرو۔ ؂٤

فی صلوۃ المیت. (ص ٥) نماز اکیلے اکیلے پڑھنی تم پر فرض کی گئی ہے۔ جماعت کا حکم اٹھا دیا گیا مگر میت کی نماز (جنازہ ؂٥) میں جماعت ہے۔

؂٢ نہ تو رکعات کی تقسیم کی نہ تعداد صلوٰۃ بتائی نہ اوقات بتائے (نقص بیان) اپنی طرف منہ پھیرنے کا حکم دیا۔ پھر آپ ہی اس کو مقدس اور فرشتوں کا جائے طواف قرار دینا کتنا خلاف شان انبیائے کرام علیہم السلام ہے۔ (مصنف)

؂٣ یہ نہیں بتایا کہ یہ ذکر صرف وضو کے قائم مقام ہے یا وضو اور نماز دونوں کے (نقص بیان)۔ (مصنف)

؂٤ معافی بعد فرض یا وجوب کے ہوتی ہے حالانکہ اسلام میں کسوف خسوف کی نماز نہ فرض ہے نہ واجب پھر معافی کیا ہوئی۔ اگر سنت کی معافی ہے تو عفونا کی بجائے حرمنا یا کرھنا ہونا چاہئے تھا۔ (مصنف)

؂٥ اسلام میں نماز باجماعت مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ نیک و بد شریک ہو کر خدا کی عبادت کریں اور بصیغۂ جمع ”اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ“ (ہم سب تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں) حضور خدا میں عرض کریں۔ اگر ان میں کوئی ایک بھی قبولیت کے لائق ہو تو باقی کے لئے بھی بحکم

”رشتہ واپس نہ دہد ہر کہ گوہر مے گیرد“

قبولیت کی امید ہے۔ اس حکمت کے علاوہ نماز باجماعت متمدن زندگی گزارنے کی تعلیم دیتی ہے جو آج متمدن ممالک کا معراج کمال ہے ایسے باحکمت اور مفید ترین حکم کو اٹھا کر اکیلے اکیلے نماز پڑھنے کو ناسخ اور مفید کہنا اس شعر کا مصداق ہے: (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٥٠

صفحہ ٥٠٣

ان یتوضان ویسبحن خمسا وتسعین مرة من زوال الی زوال.

(ص٥)

عورتیں جب خون (حیض) دیکھیں تو ان کو روزہ اور نماز معاف ہے اور وضو کر کے (آٹھ پہروں میں) زوال سے زوال تک پچانوے مرتبہ تسبیحیں پڑھا کریں۔ ٦

(٧) یا قلم الاعلی قل یا ملاء الانشاء قد کتبنا علیکم الصیام ایاما معدودات وجعلنا النیروز عیدا لکم.

(ص ٦)

اے قلم اعلیٰ کہہ اے گروہ انشاء تحقیق ہم نے تم پر چند دنوں کے روزے فرض کئے ہیں اور نوروز (ایرانی سال کا اول دن) تمہارے لئے عید مقرر کیا ہے۔ ے

(٨) کفوا انفسکم عن الاکل والشرب من الطلوع الی الافول. (روزے میں) کھانے پینے سے اپنے آپ کو طلوع سے غروب تک بند رکھو۔ ٨

(٩) قد حکم الله لمن استطاع حج البیت دون النساء .

(ص ١٠)

جو کوئی طاقت رکھے خدا نے اس پر حج البیت فرض کیا ہے۔ عورتوں پر نہیں۔ ٩

(١٠) والذی تملک مائة مثقال من الذھب فلتسعہ عشر مثقال لله.

(ص٢٧)

بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق
اُس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

٦ اسلام میں حائضہ کو نماز معاف ہے اور روزہ ملتوی۔ شیخ بہاء اللہ نے دونوں معاف کر دیئے۔ آٹھ پہروں میں پچانوے دفعہ تسبیحیں پڑھنے کا حکم دیا مگر تفصیل نہیں بتائی۔ ایک دفعہ ساری پڑھ لے یا متفرق طور پر پڑھے۔ (مصنف)

ے ایام معدودات کا شمار اور تعیین نہیں کی۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ ایام نوروز کے قریب متصل ہوں گے یا منفصل۔ (مصنف)

٨ افول کا فاعل یقیناً شمس ہے مگر طلوع ذووجہین ہے اس کا فاعل اگر سورج ہو سکتا ہے تو صبح بھی ہو سکتی ہے۔ پہلی وجہ سے یہ معنے ہوں گے کہ سورج چڑھنے سے سورج کے ڈوبنے تک کھانے پینے سے بند رہو۔ دوسری وجہ سے یہ معنے ہوں گے کہ طلوع فجر سے۔ ان دونوں طلوعوں میں ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ بہر حال مقام تفصیل میں ابہام رکھنا نقص بیان ہے۔ قرآن مجید میں من الفجر آیا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ (مصنف)

٩ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔

٥١

صفحہ ٥٠٤

جو کوئی سو مثقال سونے کا مالک ہو اس پر ہر اُنیس مثقال پر ایک مثقال اللہ کے نام پر دینا فرض ہے۔ ١٠

اعمال* مدنیہ

اقنع بواحدة من الاماء استراحت نفسه ونفسها ومن اتخذ بكرًا بخدمة لا باس عليه. (ص ١٨) خدا نے تم پر نکاح کرنا فرض کیا ہے۔ خبردار دو سے زیادہ نہ کرنا۔ جو ایک لونڈی پر قناعت کرے اُس شخص کا اور اس لونڈی کا (دونوں کا) نفس آرام پائے گا۔ اور جو کوئی خدمت کے لئے کنواری رکھ لے اسے حرج نہیں۔ ١؎

مکان بہاء اللہ۔ دیکھو نمبر ٢ باب ہذا ) یا وہ البیت ہے جو قرآنی اصطلاح (لله على الناس حج البيت) میں البیــــت کہا گیا۔ بہر حال نقص بیان ہے۔ عورتوں سے حج معاف کرنا بھی قابل غور ہے۔ جس صورت میں آج عورتیں حق ووٹ میں مساوات مانگتی ہیں اور لے بھی رہی ہیں، اسلام نے بھی ان کو ہر کام میں مردوں کے ساتھ شریک رکھا ہے۔ ١٢ (مصنف)

بہت زیادہ ناقابلِ عمل ہے۔ قرآن شریف میں ناسخ کی علامت بتائی ہے ”فات بخير منها او مثلها“۔ (منسوخ سے اچھا یا کم سے کم مثل ) مگر یہاں ناسخ بحیثیت عمل کے بہت مشکل ہے۔ پھر وہ یونیورسل (تمام دنیا کے لئے قابلِ عمل ) کیونکر ہوا۔ لہٰذا الحمد۔

ناظرین کرام! یہ احکام متعلقہ عبادت ہیں۔ قرآن شریف کی نسبت ان میں کیا خوبی ہے؟ اس کا فیصلہ ہم اہلِ علم و اہل انصاف پر چھوڑتے ہیں۔ (مصنف)

٥٢

صفحہ ٥٠٥

على عدد المقت . وللازواج من كتاب الهاء على عدد التاء والفاء. وللآباء من كتاب الواء على عدد التاء والكاف وللامهات من كتاب الواو على عدد السميع. وللاخوان من كتاب الهاء عدد السين. وللاخوات من كتاب الدال عدد الراء والميم. وللمسلمين من كتاب الجيم عدد القاف والفاء. قد سمعنا ضجيج الذريات فی الاصلاب اذ ما نقصت مالهم ونقضًا عن الاخری. من مات ولم يكن له ورثة ترجع الی بيت العدل. يصرفوا امناء الرحمن فی الايتام والارامل وما ينتفعوا به جميع الناس والذی له ذرية ما لم يكن دونها عما حدد فی الكتاب يرجع الثلثان مما تركه الی الذرية والثلث الی بيت العدل والذی لم يكن له من يرثه وكان له ذو القربی من ابناء الاخ والاخت وبناتهما فلهم الثلثان والا للاعمام والاخوال

لے یہ حکم صریح قرآن کی مخالفت ہے۔ قرآن شریف نے تعدد ازدواج کی اجازت اس شرط سے دی ہے کہ مرد کو طاقت ہو اور انصاف بھی کرے۔ ایک بیوی یا ایک لونڈی پر کفایت کرنے کا ارشاد قرآن شریف میں بھی ہے۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (النساء:٣) ہاں نکاح کو فرض کہنا اور اس کو تفصیل اور ضرورت اور وسعت سے مقید نہ کرنا بھی خلاف حکمت ہے۔ قرآن مجید نے ان سب باتوں کو ملحوظ رکھا ہے۔ ارشاد ہے: ”وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ“ (النور:٣٣) (جو لوگ نکاح کا سامان نہیں پاتے (از قسم مالی اور جسمانی طاقت) وہ بچے رہیں۔ جب تک خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کرے) اس آیت نے صاف رہنمائی کی ہے کہ مرد کو اس وقت نکاح کرنا چاہئے جب وہ طاقتور ہو اور اخراجات کا متحمل بھی ہو۔ بغیر طاقت اور بغیر ثروت کے نکاح کرنے سے وہی نقشہ ہوگا جو شیخ سعدی مرحوم نے بتایا ہے ؎

تہی پائے رفتن بہ از کفش تنگ
بلائے سفر بہ کہ در خانہ جنگ

پس بغیر ان قیود ضروریہ کے حکم دینا کہ نکاح کرنا تم پر فرض ہے خلاف شان مصلحین ہے۔ ہاں کنواری لڑکی کو خدمت کے لئے رکھنے کی اجازت بھی معنے خیز ہے جس پر یہ شعر یاد آیا ؎

خلوت ہو اور رقیب نہ ہو یار سامنے
زاہد! تجھے قسم ہے جو تو ہو تو کیا کرے

٥٣

صفحہ ٥٠٦

والعمات والخالات ان الذى مات فى ايام ولده وله ذرية اليك يرثون بالابهم فى كتاب الله كل ذالك بعد اداء الحقوق والابون. (ص ٧‘٨‘٩)

”ہم نے کتاب مواریث لکھی جو تمہاری اولاد کی قسمت میں ہے۔ کتاب الطاء اور عدد مقت (غصے) کے اور بیویوں کے لئے کتاب الہاء میں اوپر عدد تا اور فا کے۔ اور باپوں کے لئے کتاب الراء سے اوپر عدد تا اور کاف کے۔ اور ماؤں کے لئے کتاب الواو سے اوپر عدد سین کے۔ اور بھائیوں کیلئے کتاب الہاء اوپر عدد سین کے۔ اور بہنوں کیلئے کتاب الدال سے عدد راء اور میم کے برابر۔ اور مسلمانوں کے لئے کتاب الجیم سے عدد قاف اور فاء کے۔ ہم نے بچوں کی چیخ اصلاب میں سنی (اذ ما نقصت مالهم ونقضا عن الاخر **) جو کوئی مرے اور اس کے وارث نہ ہوں ان کا ترکہ بیت العدل کی طرف جائے گا۔ تاکہ حکام اس کو یتیموں‘ بیوگان اور رفاہ عام میں خرچ کریں اور *** جس کی اولاد ہو اور دوسرے وارث نہ ہوں جن کے حقوق کتاب اللہ میں مذکور ہیں تو دو ثلث ترکہ ذریت کو دیا جائے گا اور ایک ثلث بیت العدل میں پہنچا دیا جائے۔ جس شخص کے وارث نہ ہوں اور اس کے قرابتی بھتیجے‘ بھتیجیاں‘ بھانجے‘ بھانجیاں ہوں‘ تو ان کو ترکہ میں سے دو ثلث ہوں گے۔ ورنہ چچاؤں‘ ماموؤں اور خالاؤں کا ہوگا۔ اور جو شخص اپنے بچے کے ایام میں مر جائے اور اس کی اولاد ہو۔ وہ وارث ہوں گے اپنے باپ کے کل مال کے۔ یہ احکام بعد ادائے حقوق اور فرض کے ہیں۔ ١؎

(٣) من احرق بيتًا متعمدًا فاحرقوه ومن قتل نفسًا فاقتلوه. (ص ١٨)

(**) اس کا ترجمہ ہم نہیں کر سکتے۔ (***) یہ زیر خط ترجمہ بہائی رسالہ ”کوکب ہند“ کے اڈیٹر صاحب کا کیا ہوا ہے۔ ١؎ اس تقسیم کو شیخ بہاء اللہ یا ان کے خاص لوگ ہی سمجھے ہوں گے اس تقسیم میں جو اغلاق ہیں وہ اہل علم سے مخفی نہیں۔ ناظرین کرام اس عبارت کے ساتھ قرآن مجید کا ارشاد سامنے رکھ لیں جو چوتھے پارہ کے تیرہویں رکوع سے شروع ہوتا ہے۔ جس کا شروع یوں ہے ”یوصیکم اللہ فی اولادکم الآیۃ“ دونوں کو سامنے رکھ کر دیکھیں گے تو بے ساختہ منہ سے نکل جائے گا۔

بس تنگ نہ کر ناصح ناداں مجھے اتنا
یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی

٨٤

صفحہ ٥٠٧

جو کوئی دانستہ گھر جلائے تو اس کو جلا دو۔ اور جو کسی جان کو قتل کرے اس کو قتل کر دو۔ ٣؎

(٤) كتب الله لكل عبدا اراد الخروج من وطنه ان يجعل ميقاتا لصاحبته فى اية مدة اراد ان اتى والا اعتذر بعذر حقيقى فله ان يخبر قرينه ويكون فى غاية الجهد للرجوع اليها وان فات الامر ان فلها تسعة اشهر معدودات وبعد اكمالها لا باس عليها فى اختيار الزوج. (ص ١٩‘ ٢٠)

ہر بندہ جو اپنے وطن سے سفر کو نکلے خدا نے اس پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنی واپسی کی مدت مقرر کرے کہ کب آئے گا۔ اور اگر سفر میں واقعی معذور ہو کر مجبور ہو جائے تو اپنی بیوی کو اطلاع دے اور واپسی کی کوشش کرے۔ اگر کچھ نہ کرے نہ وقت مقرر کر کے جائے اور نہ اطلاع دے تو اس کی بیوی کو اختیار ہے کہ نو مہینے انتظار کر کے خاوند ثانی سے نکاح کر لے۔ ٤؎

(٥) قد حكم الله دفن الاموات فى البلور والاحجار المخضعه والاخشاب الصلبة اللطيفة ووضع الخواتم المنقوشة فى اصابعهم انه لهو المقدر العليم . (ص ٣٤)

خداوند تعالیٰ نے مردوں کو بلور اور سخت پتھروں اور مضبوط نرم لکڑیوں میں دفن کرنے کا حکم دیا ہے اور منقوش انگوٹھیاں جو اُنگلیوں میں ہوتی ہیں ان کو مردوں سے اُتار لینے کا حکم دیا ہے۔ تحقیق وہ خدا مقدر علیم ہے۔ ٥؎

(٦) قد كتب على السارق النفى والحبس وفى الثالث فاجعلوا فى جبينه علامة يعرف بها لئلا تقبله مدن الله و دياره. (ص ١٤)

خدا نے چور کے حق میں جلا وطنی اور قید لکھی ہے اور تیسری مرتبہ (چوری کرے تو)

٣؎ گھر جلانے کی سزا میں انسان کو جلانا نہ صرف انبیاء کرام کی تعلیم کے خلاف ہے بلکہ آج تمام دول کے قوانین کے بھی مخالف ہے۔ کسی جان کے قتل کی سزا بھی تفصیل چاہتی ہے جو ہم نے نمبر ٧ میں بیان کی ہے۔ (مصنف ۔

٤؎ یہ ایک اخلاقی تمدنی حکم ہے۔ قرآن شریف نے اس مضمون کو اس سے اچھے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ ارشاد ہے۔ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (پ٤ ع١٤) (عورتوں سے اچھی طرح برتاؤ کیا کرو)۔ نیز فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِىْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرہ:٢٢٨) (عورتوں کے خاوندوں پر اتنے حقوق ہیں جتنے خاوندوں کے ان پر ہیں)۔

٥؎ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔

٥٥

صفحہ ٥٠٨

اس کے ماتھے پر نشان لگاؤ جس کے ساتھ وہ پہچانا جائے تاکہ اس کو شہر اور دیار میں نہ رہنے دیں۔ ٦؎

ہم نے ہر دیت (خوں بہا) کا ثلث حکومت کے خزانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ ٧؎

من الذهب . (ص ٤٩) جو کسی جان کو بھول کر مارے تو سو (١٠٠) مثقال وزن سونا مقتول کے ورثا کو دے۔ ٨؎

......☆......

٥؎ قبر فنا کی جگہ ہے اس میں اتنی پختگی کا خیال کرنا کہ مردہ بلوری وغیرہ صندوق میں دفن کیا جائے محض نمائش اور فضول کام ہے۔ عارفان خدا نے تو دنیا کی ساری زندگی کو بھی ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔

حال دنیا را پرسیدم من از فرزانہ
گفت آں خواب است یا بادست یا افسانہ

مگر شیخ بہاء اللہ (شاید یورپ کی تقلید سے) بلور کے صندوق میں دفنانے کا حکم دیتے ہیں جو تمام سلسلۂ رسالت ونبوت کے خلاف ہے۔ (مصنف)

٦؎ یہ عجیب ترتیب ہے پہلی دفعہ (نفی) جلاوطنی کے بعد قید کیسے ہوگی۔ جس کو جلاوطن کیا گیا اس کو قید کیسے کریں گے۔ پھر تیسری مرتبہ اس پر کب آئے گی کہ اس کے ماتھے پر نشان لگائیں۔ معلوم ہوتا ہے شیخ بہاء اللہ کے دل میں یوں مضمون آیا کہ ”پہلی دفعہ کچھ مدت قید کرو۔ دوسری مرتبہ نشان لگا کر نکال دو“ مگر یہ کیا فلسفہ ہے کہ نشان اس لئے لگاؤ کہ دوسرے شہروں اور ملکوں والے اس چور کو اپنے ہاں رہنے نہ دیں۔ زمین پر جب اس کو جگہ نہ ملی تو کہاں رہے گا۔ اس سے بہتر تھا کہ اُسے قتل کر دینے کا حکم دیتے۔

مٹا نہ رہنے دے جھگڑے کو یار تو باقی
رُکے ہے ہاتھ ابھی ہے رگ گلو باقی

٧؎ خون ناحق ہونے سے نقصان تو ہوا وارثان مقتول کا۔ دیت ان کے نقصان کا عوض ہے حکومت کو اس میں سے ثلث کیوں دیا جائے سوائے اس کے کہ حکومت ایران کو خوش کرنے کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے۔

٨؎ حاشیہ اگلے صفحہ پر ......

٥٦

صفحہ ٥٠٩

احکام شخصیہ

(ص ١٤)

اپنے سر نہ منڈاؤ خدا نے بالوں کے ساتھ سروں کو مزین کیا ہے۔ ١؎

ان تغمس اياديكم فى الصحاف والصحان.

(ص ١٤)

جو شخص سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا چاہے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہاں تھالیوں اور کٹوروں میں ہاتھ نہ ڈبویا کرو۔ ٢؎

(ص ١٧)

٨؎ قرآن شریف میں جو اس صورت کی تفصیل ہے وہ اس میں نہیں۔ مقتول مومن ہو یا کافر۔ کافر معاہد ہو یا محارب۔ حربی قوم سے ہو مگر خود مومن ہو۔ ان سب صورتوں کو قرآن مجید نے مفصل بیان کیا ہے۔ مقتول مومن اسلامی ملک کا رہنے والا ہو یا کفرستان کا۔ یا کافر متعاہد قوم میں کا ہو۔ تو ان سب صورتوں میں دیت ورثاء کو دی جائے گی اور ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اور اگر حربی کافر ہے تو بوجہ حربی ہونے کے کچھ نہیں۔

(پ٥ ع١٠)

ناظرین! قرآن شریف میں یہ تفصیل اور قرآن کو منسوخ کرنے والی کتاب میں وہ اجمال۔ دونوں میں بہتر کون؟ ناسخ کے لئے بہتر ہونا ضروری ہے۔ قرآن! ؎

کیا جانے تجھ میں کیا ہے کہ ٹوٹے ہے تجھ پہ جی
یوں اور کیا جہان میں کوئی حسیں نہیں

١؎ سر کے بال منڈانے سے منع کیا مگر داڑھی کے منڈانے سے منع نہ کیا۔ حالانکہ زینت کے لحاظ سے دونوں جگہوں کے بال برابر ہیں بلکہ داڑھی کے بالوں میں ایک مزیت ہے کہ مرد کے لئے بلوغت اور مردانگی کی علامت ہے۔ سوسائٹی میں داخلہ کا سرٹیفکیٹ ہے۔ کیا یہ نقص بیان ہے یا یورپین فیشن کی تائید؟ اللہ اعلم

(مصنف)

٢؎ چاندی سونے کے برتنوں کو استعمال کرنا اور ہاتھ نہ ڈبونا فاعل کی طاقت سے اور ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کوئی بہائی صاحب سمجھے ہوں تو ہمیں سمجھائیں۔

(مصنف)

٥٧

صفحہ ٥١٠

خدا نے ہر مہینے میں تم پر ضیافت فرض کی ہے چاہے پانی سے ہو۔ ٣

لكم . (ص ١٧)

جب تم شکاری جانوروں کو شکار کی طرف بھیجو تو اللہ کا نام خوب یاد کیا کرو۔ پھر جو تمہارے لئے بچالیں وہ تم کو حلال ہے۔ ٤

هياكلكم فى كل الاسبوع ولتنظيف ابدانكم ادخلوا ماء بكرا والمستعمل منه لا يجوز الدخول فيه. (ص ٣٠)

اللہ نے تم پر حکم کیا ہے کہ ناخن کٹواؤ اور محیط پانی میں اپنے جسموں کو ہر ہفتے داخل کرو۔ اور اپنے بدنوں کو پاک صاف کیا کرو نئے پانی میں داخل ہوا کرو مستعمل میں داخل ہونا تم کو حلال نہیں۔ ٥

مرة واحدة. (ص ١٤)

اپنے پیروں کو گرمی سردی ہر تین یوم میں ایک ایک مرتبہ دھویا کرو۔ ٦

افیون کا پینا تم پر حرام کیا گیا ہے۔ ٧

٣ ہر مہینے میں احباب کی دعوت کرنا اُس تعلیم کا مقابلہ کیا کر سکتا ہے جو قرآن مجید میں ارشاد ہے: تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ: ٢) (نیک کاموں پر ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرو)

٤ قرآن شریف کی یہی تعلیم ہے۔

٥ ناخن کٹوانا طبعی امر ہے اس سے کون انکار کرے۔ مگر غسل کے لئے پانی محیط ہونا ضروری ہے تو غسل خانہ میں بدن پر پانی ڈال کر غسل کرنا کافی نہ ہوگا۔ نئے پانی کی ضرورت ہے تو تالاب میں (چاہے امرتسر کا سنتوک سر ہو یا بھوپال کا تالاب ہو) نہانے سے اس حکم کی تعمیل نہ ہوسکے گی۔ کیا یہ حکم با حکمت ہے؟

٦ قرآن مجید میں ہر روز پانچ دفعہ بصورت وضو چہروں کو دھونے کا حکم ہے۔ ہاں اگر ملک سرد یا موسم سرد ہو تو موزے پہن کر آٹھ پہروں میں ایک دفعہ دھونا ضروری ہے۔ کیا بلحاظ نفاست قرآنی تعلیم افضل ہے یا بہائی؟

٧ افیون مخدر ہے منشی نہیں تاہم اس کی تحریم پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ مگر شراب وغیرہ منشیات و مضرات کو ذکر نہ کرنا نقص بیان ہے۔ ١٢ (مصنف)

٥٨

صفحہ ٥١١

یاد دہانی

ہم نے اس باب میں بہائی تعلیم کا نمونہ دکھایا ہے۔ مگر اس نمونہ میں ان کے عربی کلام میں عربیت کی اغلاط نہیں بتائیں۔ کیونکہ ان کی طرف سے ان سب اعتراضات کا جواب ایک ہی ہے کہ: ”جمال مبارک**(بہاء اللہ) لسان عرب نخواندند۔“

(مفاوضات عبدالبہاء ص ٢٦)

اس لئے ہم نے اس پہلو سے چشم پوشی کی۔ مگر ناظرین کو اس عبارت کی طرف ایک دفعہ پھر توجہ دلاتے ہیں جس کو ہم مع ترجمہ نقل کر چکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”دور بہائی میں زمین نورانیت سے بھر جائے گی“

سوال:۔ انسان منہ سے باتیں تو بہت بنا سکتا ہے۔ مگر ہم منہ کا جواب نہیں پوچھتے بلکہ دل سے نکلا ہوا جواب پوچھتے ہیں۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے: ”کیا دور بہائی میں زمین نورانیت سے بھر گئی؟“ اللہ اکبر! اس کا جواب یہی اور صرف یہی ایک ہوگا کہ نورانیت کی بجائے ظلم اور ظلمات سے بھر پور ہے۔ ایسی بھر پور ہے کہ مولانا حالی مرحوم کی رباعی کی صداقت میں کلام نہیں۔ جو یہ ہے ؎

پوچھا جو کل انجام ترقی بشر
یاروں سے کہا پیر مغاں نے ہنس کر
باقی نہ رہے گا کوئی انسان میں عیب
ہو جائیں گے دھل دھلا کے سب عیب ہنر

اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کا قول بھی صحیح ہے۔ ”درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“

یہی ایک صورت بہائی اور قادیانی دعوے کی چھان بین کے لئے کافی ہے۔ خیر الکلام ما قل و دل ؎

مختصر بات ہو مضمون مطول ہووے

بہائی اور قادیانی دوستو!

کبھی فرصت میں سُن لینا بڑی ہے داستاں میری

خادم دین اللہ ابوالوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ

نوٹ:۔ بہائی تعلیم میں وضو میں پیر دھونے کا حکم معلوم نہیں ہوا۔ (مصنف) (**) شیخ بہاء اللہ نے عربی زبان نہیں پڑھی تھی۔

٥٩

صفحہ ٥١٢

حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات

مطابق اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو مرزا قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے؟۔

قادیانی بھی زندہ نہ بچے۔ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مار دیں۔

اس کا انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔

PDF 513

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں

اباطیل مرزا

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٥١٤

اباطیل مرزا

آہ! نادر شاہ کہاں گیا؟

(از ”اہلحدیث“ ٢٣؍فروری ١٩٣٤ء)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد۔

اس عنوان سے ایک مہمل سا الہام مرزا قادیانی کا شائع ہوا تھا جس کو امیر نادر خان مرحوم کی شہادت کے موقع پر نکال کر مرزا قادیانی کی صداقت کا ثبوت دیا گیا۔ امت مرزائیہ کے دونوں اخباروں نے اس پر خوب خوب حاشیے چڑھائے۔ ”اہلحدیث“ آج تک خاموش رہا دوسرے ضروری مضامین پر توجہ رہی۔ نیز اس پیشگوئی کو ہم نے ایسا مہمل سمجھا کہ کوئی عقلمند اس پر توجہ ہی نہ کرے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی ایسی بلکہ اس سے بھی واضح تر پیشگوئیوں کی ہنسی اڑائی ہوئی ہے۔ حضرت مسیح نے فرمایا تھا زلزلے آئیں گے۔ اس پر لکھتے ہیں یہ بھی کوئی پیشگوئی ہے کہ زلزلے آئیں گے کیا دنیا میں زلزلے آیا نہیں کرتے“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٨٨)

حالانکہ حضرت مسیح کے کلام میں فقرہ تامہ مفیدہ بھی ہے اور مرزا قادیانی کے الہام میں فقرہ مفیدہ بھی نہیں۔ باوجود اس کے قادیانی پریس نے اپنی عادت کے مطابق اس کو بہت پھیلایا۔ یہاں تک کہ خلیفہ قادیان نے نادر شاہ والے الہام پر بڑا بسیط مضمون لکھا جس کو ٹریکٹ کی صورت میں بھی شائع کیا گیا اور قادیانی ”الفضل“ (١٥؍فروری ١٩٣٤ء) میں ہماری خاموشی کو صداقت پر مہر سمجھا۔ اس لئے آج ہمیں اس پر توجہ کرنی پڑی۔

خلیفہ قادیان نے اس الہام کو پہلے بچہ سقہ کے واقعہ پر لگایا۔ پھر نادر خان مرحوم کے انتقال پر چسپاں کیا۔ یہ تو کیا جو کیا غضب تو یہ کیا کہ بچہ سقہ ڈاکو اور اس کے تین سو ساتھیوں کو محض امان اللہ خان امیر کابل کی عداوت میں اصحاب بدر کی مانند قرار دیا۔ چنانچہ لکھا ہے:

”کابل میں بدر کی جنگ کا نظارہ:۔ خدا نے مسیح موعود (مرزا) کو اطلاع دے رکھی تھی اس کے مطابق بچہ سقہ کو ایک جماعت کے ساتھ جو تعداد میں اصحاب بدر کے مطابق تھی یعنی کل تین سو سپاہی تھے امان اللہ خان کے مقابلے کے لئے کھڑا کر

٢

صفحہ ٥١٥

دیا اور پھر دوبارہ بدر کی جنگ کا نظارہ دنیا نے دیکھا۔ یعنی تین سو ناتجربہ کار اور بے سامان سپاہیوں نے ایک حکومت کا جو قلعوں میں محفوظ تھی تختہ الٹ دیا۔‘‘

(رسالہ ’ایک تازہ نشان کا ظہور‘ ص ٢٨)

مسلمانوں کے لئے کس قدر دل شکن تحریر ہے آہ! کس قدر خود غرضی پر مبنی اور جاہلانہ تقریر ہے کہ ڈاکوؤں اور سفاکوں کی ٹولی کو اصحاب بدر (رضی اللہ عنہم وارضاہم) سے تشبیہ دی جائے اور ان کے ظالمانہ غلبہ کو فتح نبویہ کے ساتھ مشابہت دی جائے۔ لطف یہ ہے کہ یہ نہ سوچا کہ ان اصحاب بدر کو جس (نادر خان) نے قتل کر کے فنا کیا وہ کون ہوا۔ مومن یا کافر؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی امت کو مسلمانوں کے خیر و شر سے کوئی واسطہ ہی نہیں بلکہ محض اپنے فتح کی خیر منانے سے مطلب ہے۔ اسی لئے بغداد کے سقوط پر جس وقت دنیا کے کل مسلمان رو رہے تھے ان کے دل میں سخت رنج ہو رہا تھا۔ قادیان سے بڑی مسرت کا مضمون نکلا تھا جس میں انگریزی فتح پر اظہار مسرت کرنے کے علاوہ ترکوں کو بندر اور سؤر قرار دیا تھا۔

(الفضل۔ ١٠؍ اکتوبر ١٩١٧ء)

اس سے آگے مطلب کو دیکھئے کہ اسی الہام (نادر شاہ) کو پہلے اس موقع پر لگایا گیا تھا۔ جب بچہ سقہ کو فنا کر کے نادر خان مرحوم نے کابل پر تصرف کیا تھا۔ چنانچہ خلیفہ صاحب لکھتے ہیں: ”آہ! نادر شاہ: اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس پہلے واقعہ (بچہ سقہ) کے بعد نادر شاہ بادشاہ افغانستان کا ہوگا۔“

(ایضاً ص ١٠)

بہت اچھا۔ معلوم ہوا کہ بچہ سقہ کے زمانے میں افغانستان کی حکومت کے لئے اہل کابل پکار رہے تھے۔ ”آہ! نادر شاہ کہاں گیا“؟۔ یعنی وہ آئے اور بادشاہ بن کر حکومت کرے۔ چنانچہ نادر خان بادشاہ ہو گئے۔ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ مگر اتنے پر کفایت کرتے تو ”مرزائی“ کیسے کہلاتے اور نادر خان مرحوم کی شہادت کے موقع پر کیونکر بولتے؟ اس لئے انہوں نے بچہ سقہ پر چسپاں کرنے کے علاوہ مذکورہ الہام وسیع کر کے آگے بڑھایا۔ حتیٰ کہ اسے شہادت نادر خان تک پہنچا کر لکھا کہ: ”بادشاہ بننے کے بعد ایک آفت ناگہانی کے ذریعہ سے اس کی موت واقع ہو گئی ہے حتیٰ کہ سب ملک** چلا اٹھا کہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا“

(ایضاً ص ١١)

ایک اُردو شاعر نے اپنے معشوق کو مشورہ دیا تھا کہ تم وصل سے انکار نہ کیا کرو بلکہ یوں کیا کرو:

(**) کابل کا ملک مراد ہے یہ لفظ یاد رہے۔ منہ

٣

صفحہ ٥١٦
مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

یہی مشورہ مرزا قادیانی کے الہام کنندہ نے ان کو دیا ہوا ہے کہ جو بات کرو ایسی کیا کرو کہ حسب موقع اس کے کئی معانی نکالے جاسکیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام (آہ! نادر شاہ) اسی مشورے کے ماتحت ہر ایک پہلو پر چسپاں کیا جاتا ہے۔

ناظرین کرام! آپ مرزا قادیانی کے اس گول مول الہام سے متعجب نہ ہوں۔ ان کی مشین میں اسی قسم کے الہام بہت ڈھلا کرتے تھے۔ اس کی مثال بلکہ اسہال میں اس سے بھی عجیب تر الہام ”غزنوی“ ہے۔

(تذکرہ ص ١٥١ طبع ٣۔ بدر ج ٦ نمبر ١٦۔ ١٨؍اپریل ١٩٠٧ء)

کیسا فصیح اور کیسا بلیغ اور کیسا بامعنی الہام ہے ”غزنوی“ مبتدا خبر ”مر گیا“ صحیح ہے۔ ”غزنوی“ مبتدا خبر ”پیدا ہوا“ صحیح۔ ”غزنوی“ مبتدا خبر ”بنگال میں وزیر ہوا“ بالکل صحیح۔ ”غزنوی“ مبتدا خبر ”ہندوستان میں حملہ کرنے آیا تھا“۔ کتب تاریخ گواہ ہیں۔ غزنوی مبتدا امرتسر میں ایک خاندان ہے بالکل ٹھیک ہے۔ یہاں تک کہ غزنوی کی خبر ”پر مقدمہ ہو گا“ بھی درست ہے۔ چنانچہ مولوی اسماعیل غزنوی پر بمبئی میں مقدمہ چل رہا ہے جس کی پیشی ٣٠ مارچ کو تھی۔ غرض دنیا میں جتنے واقعات ایسے ہوں جن کو کسی غزنوی سے تعلق ہو ان سب پر یہ الہام چسپاں کر دیا جائے گا۔

ایک لطیف تردید: ہمارے لڑکپن کا واقعہ ہے۔ پنجاب میں ایک مکار واعظ پھرا کرتا تھا۔ اس کو بغدادی مولوی کہتے تھے۔ وعظ میں کہا کرتا تھا۔ لفظ وہابی اصل میں ”واہ بی“ ہے۔ اس کا قصہ یوں بیان کرتا کہ عبدالوہاب نجدی کی لڑکی کو ناجائز حمل ہو گیا تھا۔ محلے کی عورتوں نے اس کو دیکھ کر کہا واہ بی! واہ بی! یہ لوگ اس کی اولاد ہیں۔ جہلاء تو خوب ہنستے مگر ہم ان سے پوچھا کرتے کہ مولوی صاحب نجد میں اُردو زبان ہے یا عربی؟ اگر یقیناً عربی ہے تو پھر نجد کی عورتوں نے ”واہ بی!“ کیونکر کہا؟ معلوم ہوا کہ یہ آپ کا من گھڑت افتراء ہے۔ ٹھیک اسی طرح نادر شاہ کی بے وقت شہادت پر سب سے پہلے دردناک آواز اہل کابل کی زبان سے نکلی ہوگی۔ ان کی زبان یقیناً فارسی ہے اور مرزا قادیانی کا الہام (آہ! نادر شاہ کہاں گیا؟“) اُردو فقرہ ہے جو اہل کابل کا نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کو فارسی میں بھی الہام ہوئے اور ہو سکتے تھے۔ پس اگر نادر خان (شاہ کابل) اس الہام سے مراد ہوتے تو الہام کے اصل الفاظ فارسی ہوتے تاکہ اہل کابل ** کی دردناک

(**) خلیفہ صاحب نے خود لکھا ہے کہ سب ملک چلا اٹھا۔ دیکھو نوٹ سابق۔

٤

صفحہ ٥١٧

آواز کی پوری ترجمانی کر سکتے۔ ہم حیران ہیں کہ سب سے پہلے تکلیف تو پہنچے اہل کابل کو مرزا قادیانی کا الہام کنندہ اس کی حکایت کرے اور زبان فارسی بھی جانتا ہو لیکن الہام کرے اردو میں؟ چہ خوش! یا یہ بات ہے۔

شوخ من ترکی و من ترکی نمی دانم

اس سے صاف ثابت ہے کہ اس الہام کو شاہ کابل کی وفات سے کوئی تعلق نہیں۔

اصول مرزا:۔ قادیانی ممبرو! تم خلیفہ کا منہ دیکھتے ہو یہ تمہاری غلطی ہے ہم بڑے میاں مرزا متوفی کو ماننے والے ہیں۔ پس سنو! مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”پیشگوئی سے صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے لئے بطور دلیل کے کام آسکے لیکن جب ایک پیشگوئی خود دلیل کی محتاج ہے تو کس کام کی ......؟ پیشگوئی میں تو وہ امور پیش کرنے چاہئیں جن کو کھلے کھلے طور پر دنیا دیکھ سکے اور پہچان سکے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢١‘ ١٢٢۔ خزائن ج ١٧ ص ٣٠١)

سچ بتاؤ! ”آہ نادر شاہ“ والی پیشگوئی اس معیار پر پوری اتر سکتی ہے؟ یاد رکھو جب تک ”اہلحدیث“ کے ہاتھ میں قلم ہے۔ انشاء اللہ تم دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔

مختصر یہ کہ مرزا قادیانی نے جو الفاظ یسوع مسیح کی مجمل پیشگوئیوں کے حق میں لکھے ہیں وہ قابل غور ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

”اُس درماندہ (یسوع مسیح) انسان کی پیشگوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی۔ پس اُن دنوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آیا کرتے، کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٨٨)

ہمارا حق ہے ...... کہ ہم اسی عبارت کو ہو بہو مرزا قادیانی پر چسپاں کر کے یوں کہیں:

”اس درماندہ انسان (ذیابیطس اور ہسٹریا اور مراق کے دماغی بیمار مرزا) کی پیشگوئیاں کیا تھیں یہی کہ ”غزنوی“ اور ”آہ نادر شاہ کہاں گیا“ پس ان دنوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی پیشگوئیاں اس کی صداقت کی دلیل بنائیں اور بقول خود سچے کے سامنے جھوٹا ہو کر مرنے والے کو نبی بنالیا۔“

٥

صفحہ ٥١٨

حلف مؤکد بعذاب کا تقاضا

بے حیائی تیرا آسرا

(از ”اہلحدیث“ ١٨؍مئی ١٩٣٤ء)

ہمارے مخاطب قادیانی دوست ایسے کچھ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ ٹلتے ہی نہیں بڑے میاں اپنے اعلان کے موافق (کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا) انتقال کر گئے۔ جسے آج ربع صدی (٢٥ سال) گزر چکی ہے۔ اس کے بعد یہ لوگ مباحثہ میں مغلوب ہوئے۔ تین صد جرمانہ دیا تاہم آج بھی اکڑ کر بڑے زور سے اعلان کر رہے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ مؤکد بعذاب حلف اٹھائے تو دس ہزار بلکہ اکیس ہزار انعام لے۔ اس کے جواب میں کہا گیا بندۂ خدا جدید شریعت نہ بناؤ۔ بلکہ شریعت محمدیہ میں دکھاؤ کہ منکر (کافر) پر حلف آتی ہے؟ اور حلف بھی مؤکد بعذاب۔ بھلا ان باتوں کا جواب کیا دیں گے۔ پھر بھی ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارا مطالبہ ثابت کر دیں تو ہم ان کو مبلغ ایک سو روپیہ نقد انعام دیں گے جو مسلمہ منصف کے فیصلے کے بعد ان کے حوالے کیا جائے گا۔

آج جس مضمون پر ہم یہ نوٹ لکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم تقاضا کرتے ہیں کہ ہم تمہاری مطلوبہ حلف اٹھانے کو تیار ہیں بشرطیکہ تم خلیفہ قادیان سے اعلان کرا دو کہ بعد حلف مولوی ثناء اللہ اگر ایک سال تک زندہ رہا تو دوسرے سال کے پہلے ہی روز مَیں (محمود احمد) اپنے والد کو دعویٰ مسیحیت میں جھوٹا جانوں گا۔ اس کے جواب میں ایک نئی پیچ نکالی گئی ہے جس سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ میرے مقابلے سے واقعی اتنا دوڑتے ہیں جتنا شیر کے مقابلے سے نہتا انسان بلکہ گیدڑ دوڑتا ہے۔ ناظرین بغور پڑھیں کہ جواب کیا دیتے ہیں اور کس عقل و فہم سے دیتے ہیں کہ:

”تم مولوی ثناء اللہ! کم سے کم ٦٦ ہزار اہل حدیثوں کے دستخط کرا کر ہم کو بھیج دیں کہ مولوی ثناء اللہ اگر ایک سال کے اندر مر گئے تو ہم سارے ٦٦ ہزار اہل حدیث احمدی ہو جائیں گے۔“

(الفضل یکم مئی ١٩٣٤ء ص ٨ کالم ٣)

مگر ان عقلمندوں نے یہ نہ سمجھا کہ ہم کن دو میں دخل دیتے ہیں اور کس سے ٦٦ ہزار کا

١؎ ٦٦ ہزار کی تعداد اس لئے کہ بقول خود مرزائی ٦٦ ہزار ہیں۔

٦

صفحہ ٥١٩

مطالبہ کرتے ہیں۔ اوعقلمندو! سنو! میں وہ شخص ہوں جس (اکیلے) کو تمہارا نبی مخاطب کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ”آخری فیصلہ“ کی پیشگوئی میں خاص اپنی اور صرف میری شخصیت کی موت کو مدار فیصلہ قرار دیا تھا کسی ایک بھی متنفس (اہل حدیث یا اہل اسلام) کا میرے ساتھ ضمیمہ نہیں لگایا۔ بس میں تو وہی ہوں اور میری حیثیت اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی کہ بحکم (ان ابراہیم کان امۃ) میں وہی موجود ہوں جو پہلے تھا۔ دوسری طرف اس وقت وہ شخصیت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ اس لئے بطور نیابت ان کے گدی نشین کو میں مخاطب کر کے وہی نسبت تسلیم کرتا ہوں جو پہلے ہم دونوں (مرزا اور ثناء اللہ) میں تھی۔ اس کی یہ مثال بالکل صحیح ہے کہ ایڈورڈ بادشاہ انگلستان و ہندوستان دوسرے بادشاہوں کے مخاطب ہوتے تھے اب ان کے انتقال کے بعد بعینہ بلا کسی مزید شرط کے موجودہ بادشاہ حضور جارج پنجم ان کے قائم مقام ہیں نہ کسی بادشاہ کی طرف سے کوئی مزید شرط ہوئی نہ ان کی طرف سے ہوئی بلکہ محض قائم مقامی کافی سمجھی گئی۔ ٹھیک اسی طرح بفضلہ تعالیٰ میری طرف سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس لئے میں تو اب بھی وہی ہوں جو پہلے تھا۔ چونکہ قادیانی پارٹی میں میرا اصل مخاطب نہیں رہا اس لئے ان کا قائم مقام بغیر کسی شرط کی کمی بیشی کے میرا مخاطب سمجھا جائے گا۔ جو کوئی مزید شرط لگاتا ہے وہ ان دو باتوں میں سے ایک کا اعلان کرے تو جواب لے۔

لئے کافی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی تلافی کے لئے ٦٦ ہزار اشخاص کے دستخطوں کا اقرار نامہ ہونا چاہئے۔

اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی بھی منظور نہیں تو پھر ایسی پیچ لگانے کا سبب سوائے بزدلی اور خوف قلبی کے کیا ہو سکتا ہے؟ سچ ہے۔

خود سوئے ماندید و حیلہ را بہانہ ساخت

پس قادیانی ممبرو! اپنے خلیفہ سے ہمارے مطالبہ کا اعلان کھلے کھلے الفاظ میں کراؤ اور میدان عیدگاہ امرتسر میں آکر کافر (منکر) پر حلف کا ثبوت پیش کرو اور ساتھ ہی ہم سے حلف لے لو۔ دیکھو جلدی کرو ایسا نہ ہو کہ لوگ کہنے لگ جائیں ؎

مرزا نداشت تاب جدال ابو الوفاء
کنجے گرفت و ترس خدارا بہانہ ساخت

٧

صفحہ ٥٢٠

زلزلہ بہار موعودہ قادیانی نہیں

(از ’اہلحدیث‘ ٢٥ مئی ١٩٣٤ء)

ہمارے ناظرین خوب جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی آفت آئے یا کوئی بھی مصیبت انسانوں پر نازل ہو قادیانی پریس فوراً اس کو اپنی صداقت کی دلیل بنالیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہماری تحقیق یہ ہے کہ ہم ہر ایک واقعہ میں ان کی تکذیب پاتے ہیں۔ جیسا کسی عارف خدا کا قول ہے:

وَفِی کُلِ شَیءٍ لَّہُ اٰیَۃٌ
تَدُلُّ عَلٰی اَنَّہُ کَاذِبُ

یعنی ہمیں ہر چیز میں دلیل ملتی ہے کہ مدعی مسیحیت جھوٹا ہے۔

زلزلہ بہار نے بوجہ ہیبت اور خوفناک تباہی کے دنیا کی نظریں اپنی طرف پھیر لیں۔ امت مرزائیہ کی نظر بھی پھیر لی۔ مگر دونوں نظروں میں فرق ہے جیسے بحکم الٰہی کہیں کوئی مکان گر پڑے تو ہمدردانِ انسانیت بطور ہمدردی بھاگے جاتے ہیں مگر لٹیرے سامان جمع کرنے کی خاطر دوڑے جاتے ہیں۔ زلزلہ بہار کے متعلق ”اہلحدیث“ ١٢ اور ١٦ مارچ ١٩٣٤ء رواں میں مفصل لکھا گیا تھا۔ جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ زلزلہ بہار مرزا قادیانی کی تکذیب کے لئے کافی ہے۔ مگر مرزائی اور خاموشی؟ اجتماع ضدین کی طرح ناممکن ہے۔ چنانچہ ٢٩ اپریل سنہ رواں کے الفضل میں ہمارے مضمون کا جواب نکلا ہے۔ جواب کیا ہے گویا جواب الجواب ہے۔ ہم نے زلزلہ کے متعلق تین امور لکھے تھے:

١٥ جنوری کو آیا جبکہ سخت سردی کا زمانہ ہوتا ہے۔

اڑھائی بجے آیا۔

٨

صفحہ ٥٢١

یہ تینوں امور ایسے صاف اور صریح ہیں کہ نہ قیاس سے تعلق رکھتے ہیں نہ استنباط سے بلکہ مرزا قادیانی کی عبارات سے صاف صاف مفہوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ عبارات ہم محولہ بالا پرچوں میں نقل کر چکے ہیں۔ آج ہم مجیب کے مضمون کی روح اخذ کر کے جواب دیتے ہیں۔ ناظرین عموماً اور افراد امت مرزائیہ خصوصاً غور سے پڑھیں اور سنیں ۔ مگر جواب پیش کرنے سے پہلے اتنا کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے اعتقاد میں ایک ایسا دن آنے والا ہے جس کی شان میں وارد ہے:

يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ .

(الطارق :

١٠،٩)

اس روز سب بھید کھل جائیں گے پھر نہ کسی میں مدافعت کی قوت ہو گی نہ کوئی کسی کا مددگار ہوگا۔

پس ہر ایک ناظر اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمارا مضمون پڑھے۔ مجیب کے مضمون کی روح اتنی ہی ہے کہ:

’’مرزا قادیانی نے اپنی زندگی میں زلزلہ کے آنے کی خبر دی تھی مگر بعد ازاں دعا کی تھی کہ: ’’رب اخر وقت ھٰذا‘‘۔ اے خدا یہ زلزلہ کچھ پیچھے ڈال دے۔ پس بتاریخ ٢٨؍ مارچ ١٩٠٦ء آپ کو الہام ہوا ’’اخرہ اللہ الی وقت مسمّیٰ‘‘ یعنی اللہ نے اس میں تاخیر ڈال دی ہے وقت مقررہ تک‘‘ (الفضل ٢٩؍ اپریل ١٩٣٤ء ص ٥۔٦)

مجیب اس دعا اور جواب سے نتیجہ نکالتا ہے کہ زلزلہ بہار ہے تو وہی موعودہ زلزلہ جو مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا چاہئے تھا لیکن حسب دعا اور حسب قبولیت دعاء حیات مرزا سے پیچھے ڈالا گیا۔ بہت خوب!

اب ہمارا فرض ہے کہ حسب عادت خود مرزا قادیانی ہی کی تحریرات سے دکھائیں کہ زلزلہ بہار موعودہ زلزلہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا جواب پڑھ کر ناظرین دو باتوں کا فیصلہ بآسانی کر لیں گے۔

مظاہرہ کرتی ہے۔

پس سنئے ! مرزا قادیانی نے جس زلزلہ کے مؤخر ہونے کا اعلان کیا تھا اس کے متعلق

٩

صفحہ ٥٢٢

کچھ اور بھی کہا تھا یعنی اس زلزلہ کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کے بطن سے ایک لڑکا بشیر الدولہ پیدا ہوگا۔ یہ ضروری شرط ہے جب تک یہ لڑکا پیدا نہ ہو زلزلہ مؤخرہ نہ آئے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ محمدی بیگم مذکورہ کے بطن سے ایک لڑکی کے سوا کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا بلکہ وہ عرصہ کئی سال سے فوت ہو چکی ہے۔ ہمارے اس بیان کا ثبوت مرزا قادیانی کے الفاظ میں سنئے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”پہلے یہ وحی الہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہور کے لئے ایک نشان ہو گا اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا اسی طرح اس کا نام عالم کباب ہو گا کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کے لئے اور نام بھی ہوں گے مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے رب اخر وقت ھذا. اخره الله الی وقت مسمی ۔ یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں ١٧؍ جولائی ١٩٠٦ء کو بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے اور نیز وحی الہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلے سے رُکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو یادرہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی بہ نسبت تسلی دے دی کہ اس میں بموجب وعدہ اخره الله الی وقت مسمی ابھی تاخیر ہے اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آ گیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا اور اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر معین ہوگئی۔ منہ“

(حقیقۃ الوحی ص١٠٠ حاشیہ۔ خزائن ج٢٢ حاشیہ ص١٠٣)

ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ تحقیق اس کا نام ہے یا اس کا جو مرزائی مجیب کرتے ہیں کہ کلام مرزا بقول شخصے آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ کتر بیونت کر کے خراب کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی نہیں سوچتے کہ

١٠

صفحہ ٥٢٣

سامنے کون ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مرزا قادیانی عالم ارواح میں کسی کو ملیں تو یہی شکایت کرتے سنے جائیں گے کہ:

”ہائے میری امت نے مجھے بدنام کیا“

پس زلزلہ مؤخرہ بوجہ نہ پائے جانے شرط کے بالکل غتربود ہو گیا۔ کیونکہ محمدی بیگم زوجہ پیر منظور محمد کے ہاں لڑکا پیدا نہ ہوا یہاں تک کہ وہ خود دنیا سے کوچ کرگئی۔ قادیانی دوستو! کوئی ہے جو ہمارے پیش کردہ واقعات کی واقعات سے (نہ صرف زبان سے) تردید کر سکے۔ یاد رکھو۔

انا صخرة الوادى اذا ما زوحمت
واذا نطقت فاننى الجوزاء

......☆......

محمدی بیگم کا آسمانی نکاح صحیح ہے اور اعتراض غلط

(از ”اہلحدیث“ ٢٥؍ مئی ١٩٣٢ء)

سچ تو یہ ہے کہ آسمانی نکاح والی پیشگوئی نے جماعت قادیانی کی کمر توڑ رکھی ہے جہاں مقابلہ ہوا مخالفوں نے آسمانی نکاح پیش کر دیا۔ آج ہم امت مرزائیہ کی مشکل حل کیے دیتے ہیں گو ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ شکر گزار نہ ہوں گے لیکن ہمیں ان سے شکر گزاری کی تمنا نہیں بلکہ محض فرض کی ادائیگی مقصود ہے۔ مسئلہ شرعی تو یہ ہے کہ جس واقعہ کی دو معتبر گواہ شہادت دیں وہ صحیح سمجھا جائے۔ آج ہم اس قانون کی رو سے دو معتبر گواہ پیش کرتے ہیں جو جماعت قادیانی میں چوٹی کے بزرگ ہیں۔

پہلے بزرگ سے مراد ہماری لاہوری جماعت کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ہیں جو اس جماعت میں مصنف ہیں۔ قرآن مجید کے مدرس ہیں، پینشن یافتہ اسسٹنٹ سرجن ہیں۔ علاوہ بریں آپ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کے خسر ہونے کی وجہ سے بقول ”فاروق“ نانائے پیغامیہ ہیں۔ غرض آپ بہت سی عزتوں کے مالک ہیں۔ آپ کی شہادت کا

١١

صفحہ ٥٢٤

مضمون یہ ہے کہ محمدی بیگم سے مراد کوئی خاص عورت نہیں بلکہ مراد اقوام یورپ ہیں۔ مرزا قادیانی کا ان سے نکاح ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان کو مسلمان کر کے ان کی اولاد کو خادمانِ اسلام بنایا جائے گا۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

”سو ظاہر ہے کہ وہ آسمانی نکاح کسی شخصیت کے ساتھ نہ تھا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ تھا جو محمدی بیگم کے نام کے اندر مضمر تھی اور مامور من اللہ کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کا نکاح آسمان پر اگر کسی سے ہو گا تو وہ نکاح روحانی ہوگا اور کسی امت یا قوم سے ہوگا ایک معمولی عورت سے نہیں ہو سکتا۔ صحیح تعبیر کی طرف اس وقت ذہن منتقل نہ ہوا تو نہ سہی آج واقعات حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں ہم ہر روز اسی دولہا کی برأت کو یورپ اور امریکہ میں چڑھتے دیکھتے ہیں۔ ایسی اعلیٰ شان کی محمدی بیگم کا تزوج جس خوش قسمت کے ساتھ ہو اس سے مطالبہ کرنا کہ فلاں عورت سے نکاح کیوں نہ ہوا (حالانکہ وہ مشروط بہ شرائط تھا) ویسا ہی ہے جیسے کسی کو کوئی سلطنت مل جائے اور لوگ اس سے مطالبہ کریں کہ تم نے تو کہا تھا کہ ہمیں ایک گھوڑا ملے گا وہ تو نہ ملا حالانکہ اس بڑے انعام کے سامنے ادنیٰ انعامات کوئی حقیقت نہیں رکھتے بلکہ اسی کے ضمن میں آجاتے ہیں۔ پس محمدی بیگم سے مراد وہی حقیقت ہے جو اس نام میں مضمر ہے اور یہ آسمانی نکاح ازل سے مقدر تھا جس کا اشارہ قرآن کریم میں تھا جس کی پیشگوئی حدیث میں تھی اور جس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) فرماتے ہیں:

چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی دادہ اند
مصلحت را ابن مریم نام من نہادہ اند

اور یہی وہ محمدی بیگم ہے جس سے یتزوج و یولد لہ کے ماتحت معلوم ہوتا ہے کہ عالم کباب نے پیدا ہونا ہے یعنی مسیحی قوموں میں سے جو لوگ مسلمان ہوں گے ان میں فیضانِ محمدی اور تعلق روحانی مسیح موعود (مرزا) سے کسی عظیم الشان انسان کو پیدا کرے گا۔“

(پیغام صلح ٢ جون ١٩٢٤ء)

گو یہ ایک ہی شہادت ایسی ہے کہ نہ صرف کافی بلکہ اکفی ہے تاہم دوسری شہادت بھی ہم پیش کیے دیتے ہیں کیونکہ درجے اور فضیلت میں یہ پہلی گواہی سے بڑی ہے۔ اس لئے کہ یہ شاہد صاحب وحی نبی اور رسول ہیں۔ ان صاحب سے ہماری مراد مولوی فضل خان ساکن چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی (پنجاب) ہیں۔ آپ مدعی ہیں کہ میں صاحبِ وحی نبی ہوں آپ کا بیان ہے کہ:

”محمدی بیگم کا نکاح حضرت مسیح موعود (مرزا) سے مورخہ یکم جون ١٩٣٣ء کو بہشت میں میرے روبرو ہو چکا۔“

(مقولہ مولوی فضل خان مرید مرزا جدید نبی از

١٢

صفحہ ٥٢٥

مقام چنگا بنگیال ضلع راولپنڈی ۔ ماخوذ از رسالہ ”میرے جنون کی داستان“ ۔ مؤلفہ شیخ غلام محمد احمدی لاہوری (مدعی الہام)

ناظرین کرام! ہم جانتے ہیں کہ علماء اور فقہاء کو اس نکاح پر بہت اعتراض سوجھیں گے ان سب کا جواب ایک ہی ہے وہ یہ کہ یہ سب تمہاری اصطلاحات ہیں ۔ امت مرزا ان بدعی اصطلاحات کی قائل نہیں کیونکہ وہاں کی زندگی اور موت اور ہی ہے جس کا اس شعر میں ذکر ہے۔

بیا در بزم رنداں تا بہ بینی عالم دیگر
بہشت دیگر و ابلیس دیگر آدم دیگر

پس ہم ان دونوں شہادتوں پر پورا وثوق رکھتے ہیں بلکہ اس بات پر بھی یقین لاتے ہیں کہ ”ملا دو پیادے کی نسل دنیا میں ابھی باقی ہے ۔“

.......☆.......

مرزا قادیانی فیل

(از اخبار ”اہلحدیث“ ١١؍ مئی ١٩٣٤ء)

ہم سنتے ہیں کہ مرزا قادیانی باوجود کثرت مخالفت کے بڑے کامیاب ہو کر دنیا سے گئے تو ہمیں سخت تعجب ہوتا ہے ۔ قادیانی لوگ مرزا کی کامیابی کا اظہار کرنے کے لئے بہت سے ہوائی قلعے بنایا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی سچ ان کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے ۔ چنانچہ میاں محمود خلیفہ قادیانی نے اپنی لائل پوری تقریر میں ایک بات بالکل سچ کہی ہے جو ہمارے مضمون کی بنیاد ہے۔ پس ناظرین اسے بغور پڑھیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے پہلے مرزا قادیانی کے آنے کا مقصد خود ان کی زبانی سنیں اور غور سے سنیں ۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں مسلمانوں کے لئے یہ کہ

مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ۔“

١٣

صفحہ ٥٢٦

دنیا اس کو بھول جائے اور خدائے واحد کی عبادت ہو۔“

(الحکم ج ٩ نمبر ٢٥ ص ١٠۔ ١٧ جولائی ١٩٠٥ء)

نمبر دوم کا جواب تو عیسائی اخبارات نور افشاں۔ المائدہ۔ النجاۃ وغیرہ دیں گے کہ مسیح کی الوہیت دنیا سے اٹھ گئی یا ہنوز باقی ہے۔ بظاہر تو ترقی پذیر ہے۔ مگر ہماری غرض پہلے نمبر سے ہے۔ پس ناظرین نمبر اول کو پھر ایک دفعہ غور سے پڑھ کر ذہن نشین کرلیں اور مندرجہ ذیل بیان میاں محمود احمد کا پڑھیں جو انہوں نے لائلپور کے جلسہ میں فرمایا:

”اپنے نفس کو ٹٹولو کیا آج کے مسلمان وہی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے۔ بحث اور ہار جیت کے خیال کو دل سے نکال کر ہر شخص اپنے گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھے اور مخلے بالطبع ہو کر غور کرے کیا میں وہی مسلمان ہوں جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے اور پھر دیانتداری کے ساتھ اس کا نفس جو جواب دے وہ آ کر مجھے بتائے۔ پھر اپنے محلے والوں، اپنے ضلع اور صوبہ والوں کے متعلق یہی سوال کرے کہ کیا یہ وہی مسلمان ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنانا چاہتے تھے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ سو میں سے سو کو یہی جواب ملے گا کہ ہر گز نہیں۔ اور جب یہ حالت ہے تو مسلمان غیر مسلموں میں تبلیغ کیسے کر سکتے ہیں۔ آج ہی اس کا تجربہ کرلو۔ غیر مسلموں کے پاس جا کر تبلیغ کرو۔ ان میں سے ہر ایک یہی جواب دے گا کہ اگر یہی مسلمان ہیں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا تو ہم ان سے دور ہی اچھے ہیں۔“

(الفضل ص ٧۔ ٢٤ اپریل ١٩٣٤ء)

ناظرین کرام! میاں محمود قادیانی کے اس بیان میں ذرہ بھی غلطی نہیں۔ بیشک آج کل کے مسلمان ایسے ہی ہیں کہ ان کے اسلام پر کفر فخر کر سکتا ہے نہ ان کے عقائد ٹھیک نہ ان کے اعمال درست نہ ان کے معاملات صحیح نہ ان کے اخلاق معقول۔ مساجد ان سے خالی۔ قمار خانے اور جیل خانے ان سے بھرپور۔ کہاں تک مسلمانوں کی حالت کا نقشہ بتایا جائے۔ بہت بری حالت ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ میاں محمود صاحب نے یہ فقرات بالکل سچ کہے ہیں۔ پس ......

احمدی ممبرو! ذرہ سوچو۔ میدان حشر پر ایمان ہے تو اسے یاد کر کے غور کرو کہ مسلمان ہاں وہ مسلمان جن کا ذکر خلیفہ قادیان نے بہت مختصر لفظوں میں کیا ہے وہی ہیں جو خدا کے نزدیک مسلمان ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے سوال کا جواب دینا۔ کیا مرزا قادیانی اپنے مقاصد میں پاس ہوئے یا فیل؟

بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

١٤

PDF 527

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مکالمہ احمدیہ

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٥٢٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکالمہ احمدیہ

وجہ تالیف

الحمد لوليه والصلوۃ علی اھلھا

ناظرین کرام! اس رسالہ میں جماعت احمدیہ (مرزائیہ) کی دونوں (قادیانی اور لاہوری) جماعتوں کے باہمی مقالات درج کئے ہیں۔ اس سے ہمارا مقصود کیا ہے؟ وہ سنئے!

مرزا صاحب قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں مسلمانوں کو اعلیٰ درجے کا مسلمان بنانے آیا ہوں...... اعتراض ہوا کہ ساری دنیا کے مسلمان بدستور بداعمال اور بداخلاق ہیں۔ جواب ملتا تھا کہ جنہوں نے مرزا صاحب کو مانا ہے وہ پکے متقی مسلمان ہیں دوسرے لوگ بے نصیب ۔ بہت خوب! پس سنئے!

ہے تاکہ فریقین کا اور ان کے ساتھ ہمارا مقصود بھی حاصل ہو سکے۔

ہم ان کی وہی گفتگو پبلک میں پہنچاتے ہیں جو ان کے باہمی ایک مناظرہ (نبوت مرزا) کے متعلق ہے۔

پڑھیں اور حالات پر مطلع ہوں مگر ان اخباروں میں شائع ہونے سے وہ غرض مکمل حاصل نہیں ہوئی۔

(اوّل) اس لئے کہ ان کی اشاعت خاص حلقہ میں محدود ہے۔ (دوم) اس لئے کہ اخباروں کی زندگی دراز نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہم نے ان فریقین کی تکمیل غرض کے لئے یہ سلسلہ جاری کیا ہے۔

امید ہے کہ احمدیت کے دونوں صنف بلکہ جملہ اصناف اس کام میں ہمارے شکرگزار ہوں گے۔ ناظرین ان کے اندرونی حالات سے بخوبی مطلع ہو کر مرتب کے لئے دعا کریں گے۔

ابوالوفا ثناء اللہ

جمادی الاول ١٣٥٨ھ۔ جون ١٩٣٩ء

٢

صفحہ ٥٢٩

مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر

مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی سچی گواہی

اہل پیغام کو تحریری اور تقریری مناظرہ کے لئے کھلا چیلنج (الفضل ۔ قادیان)

جماعت احمدیہ اور غیر مبائعین کے درمیان سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے متعلق اختلاف ہے۔ اس مسئلہ کے حل ہو جانے سے دیگر اختلافی مسائل مثلاً خلافت اور کفر و اسلام کا بآسانی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مارچ ١٩١٤ء یعنی حضرت محمود کے خلیفۃ المسیح الثانی منتخب ہونے تک غیر مبائعین بھی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ١؎ کی نبوت کے بارہ میں وہی عقیدہ رکھتے تھے یا کم از کم ظاہر کرتے تھے جو ہمارا عقیدہ ہے ساری جماعت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنحضرت ﷺ کے طفیل غیر تشریعی نبی ہونے کی قائل تھی اور آج بھی ہمارا یہی عقیدہ ہے۔ جناب مولوی محمد علی صاحب پریذیڈنٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری۔ مرزائی) نے اپنی سابقہ تحریروں میں صاف طور پر لکھا ہے:

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٤ ص ٦٤ و ج ٦ ص ٢٧٤)

(ریویو ج ٦ ص ٢٧٦)

(ریویو ج ٦ ص ٩٦)

علاوہ ازیں مولوی محمد علی صاحب اور جملہ وابستگان اخبار "پیغام صلح" نے دو مرتبہ حسب ذیل حلفیہ بیان شائع کیا۔

ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی موعود (مرزا قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔ اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔"

(پیغام صلح، ٧؍ستمبر ١٩١٣ء)

١؎ اتباع مرزا کی اصطلاح میں مسیح موعود سے مراد مرزا صاحب ہیں۔ یہ اصطلاح یاد رہے۔ (مؤلف)

٣

صفحہ ٥٣٠

دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے۔ اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر ایمان لائے بغیر نہیں ہو سکتی۔“

(پیغام صلح ، ١٦؍اکتوبر ١٩١٣ء)

حضرات! اُن واضح بیانات کے بعد آج غیر مبائعین کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت سے قطعی انکار کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ بے شک پہلے ہم نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی تسلیم کیا اور اس کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب ہم اس سے کسی خاص مصلحت کے ماتحت رجوع کرتے ہیں۔ تو شاید ہم ان سے زیادہ تعرض نہ کرتے۔ کیونکہ ہر نبی کی وفات کے بعد ایک گروہ ”لم یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتھم“ (بخاری کتاب التفسیر) کا مصداق بنتا رہا ہے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ اہل پیغام اپنی رجعت قہقری کا اعتراف کرنے کی بجائے مخلوق خدا کو مغالطہ دینے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اہل قادیان نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی طرف دعویٰ نبوت از خود منسوب کر دیا ہے۔ کیونکہ بقول ان کے جماعت احمدیہ ١٩١٤ء تک یعنی ان کے قادیان چھوڑ کر لاہور جانے تک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کی منکر تھی۔

ہماری طرف سے اس اختلاف کے بائیس سالہ عرصہ میں ”اہل پیغام“ پر متعدد طریقوں سے اتمام حجت ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی سعید روحوں نے حق کی طرف رجوع کیا ہے۔ ”اہل پیغام“ میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ (١) وہ جنہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے لخت جگر اور الٰہی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہونے والے حضرت محمود (مرزا محمود) سے بلاوجہ عداوت ہے اور وہ اس بغض میں انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے کلام کے لئے کوئی عظمت نہیں۔ جوں جوں سلسلہ احمدیہ کو ترقی حاصل ہو رہی ہے۔ ان کا مرض اور لاعلاج ہو رہا ہے۔ (٢) وہ لوگ ہیں جو اپنی غلط فہمی یا کسی کے قولی یا فعلی مغالطہ دینے کے باعث دیانتدارانہ طور پر ان میں شامل ہیں۔ انہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور جماعت سے ایک حد تک اخلاص ہے اگر انہیں اپنی غلطی کا علم ہو جائے تو وہ سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔

میں ان سطور میں اسی دوسری قسم کے لوگوں سے خطاب کر رہا ہوں۔ ان غلطی خوردہ

٤

صفحہ ٥٣١

بھائیوں سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ اس مضمون کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔ بھائیو! سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وصال ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو ہوا۔ اس وقت تک جماعت میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ سب نے صدیق ثانی حضرت مولانا نورالدین کو حضور علیہ السلام کا پہلا خلیفہ تسلیم کیا۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ ان دنوں بہشتی مقبرہ کے افسر جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی تھے۔ جن کے متعلق غیر مبائعین کو بہت فخر رہا ہے۔ اور جن کا قول ان کی نظر میں زبردست حجت ہے۔ مولوی محمد احسن امروہی نے رجسٹر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے نام کے سامنے کیفیت کے خانہ میں اپنے قلم سے مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے:

’’حضور مسیح موعود اور مہدی معہود جو مصداق یحدثهم بدرجاتهم فی الجنة کے تھے اور یہ مقبرہ بہشتی حضرت اقدس کو بموجب حدیث لم یقبض نبی قط حتی یری الله مقعده فی الجنة یعنی کبھی کوئی نبی قبض روح نہیں کیا گیا یہاں تک کہ اس کی زندگی میں مقبرہ بہشتی اپنا وہ دیکھ لیتا ہے۔ لہٰذا اور دو نیم سال قبل وفات یہ مقبرہ حضور علیہ السلام نے حالت کشف اور الہام میں دیکھ لیا تھا لہٰذا اگر چہ وفات آپ کی لاہور میں ہوئی لیکن بحکم حدیث موت غربه شهاده کے اسی مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔‘‘ فقط محررہ ۔ ٢٧؍ مئی ١٩٠٨ء

عزیز بھائیو! اس عبارت کو بار بار پڑھو۔ یہ تمام نزاع کے لئے ایک فیصلہ کن تحریر ہے۔ دیکھئے مولوی صاحب موصوف نے کس صفائی سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی قرار دیا ہے۔ اور سنت انبیاء کے مطابق آپ کو بہشتی مقبرہ کا دکھایا جانا ضروری بتایا ہے۔ اس تحریر سے بہشتی مقبرہ کی مقدس حیثیت بھی ظاہر ہے۔

یہ وہ عقیدہ ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق جماعت احمدیہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ آج کونسی جماعت ہے جو اسی طریق اور اسی عقیدہ پر قائم ہے جو جماعت احمدیہ کا عقیدہ تھا؟ اور کونسا گروہ ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پھر گیا اور اپنے عمل وعقیدہ میں جماعت احمدیہ کے مخالف چل رہا ہے...... ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو اس تحریر کے متعلق کسی قسم کا شک ہو تو وہ ہر وقت رجسٹر ملاحظہ کر کے اپنا اطمینان کر سکتے ہیں۔ کیا ہم امید رکھیں کہ مولوی صاحب اور ان کے ساتھی تعصب اور بڑائی کے خیال سے علیحدہ ہو کر محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس تحریر پر غور فرمائیں گے اور اپنے غلط رویہ سے توبہ کریں گے۔

بعض غیر مبائع اپنی تقریر و تحریر میں یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت

٥

صفحہ ٥٣٢

احمدیہ ان سے مناظرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ کیونکہ ہر دفعہ انہوں نے ہی مناظرہ سے فرار کی راہ اختیار کی ہے۔ لیکن ان کی اس غلط بیانی کے ازالہ کے لئے ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کر لیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے۔

بالآخر ہم پھر اپنے غلطی خوردہ بھائیوں کو جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی فیصلہ کن تحریر کی طرف متوجہ کرتے اور ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کب تک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی شان کو کم کرنے میں کوشش کرتے رہیں گے؟

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ لوگ بھی دیگر اہل زمین کی طرح یا نبی الله كنت لا اعرفک (حقیقۃ الوحی ص١٠٠) کا اقرار کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی عذر باقی نہیں۔ خدارا موت کو یاد کریں اور سچائی کو قبول کرنے میں پس و پیش سے کام نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق بخشے۔ آمین۔ خاکسار مہتمم نشر واشاعت نظارت دعوۃ وتبلیغ قادیان

(الفضل۔قادیان ١٥؍ستمبر ١٩٣٦ء)

قادیانی چیلنج منظور

خلیفہ صاحب مرد میدان بنیں (پیغام صلح۔لاہور)

”مہتمم نشر واشاعت نظارت دعوت و تبلیغ قادیان کی طرف سے ایک مضمون اور ایک ٹریکٹ شائع ہوا ہے۔ جس کا عنوان ”اہل پیغام کو تحریری اور تقریری مناظرہ کیلئے کھلا چیلنج“ رکھا گیا ہے۔ اور آخر پر کس ڈھٹائی سے جھوٹ بولا ہے کہ کہ بعض غیر مبایع اپنی تقریر و تحریر میں یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ (یعنی قادیانیہ) ان سے مناظرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔ پھر نہایت دیدہ دلیری سے لکھا ہے کہ:

”اُن کی اس غلط بیانی کے ازالہ کے لئے ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کر لیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے چیلنج کو منظور کرے۔“

(الفضل ١٥؍ستمبر ١٩٣٦ء)

٦

صفحہ ٥٣٣

چونکہ قادیانی جماعت اپنے آپ کو ایک منظم جماعت خیال کرتی ہے اور ہر مذہبی اور سیاسی تحریک کا منبع اپنے خلیفہ کو سمجھتی ہے اس لئے ہمارا یقین ہے کہ یہ چیلنج بھی خلیفہ کے ارشاد کے ماتحت دیا گیا ہو گا۔ قادیان کے ناظر دعوت و تبلیغ اور خود خلیفہ صاحب کو معلوم ہے کہ ١٩٣٥ء کے شروع میں ہماری جماعت نے قادیان کے سرکردہ لوگوں سے اپیل کی تھی کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو اختلاف ہے اس پر دونوں فریق کے امیر باہم بحث کرالیں اور یہ دیکھنے کے لئے کہ اس بحث میں کس فریق کے دلائل زیادہ وزنی ہیں۔ یہ تجویز کی تھی کہ بارہ آدمی بطور ثالث منتخب کر لئے جائیں۔ چار چار دونوں جماعتوں میں سے جنہیں ایک دوسرا فریق منتخب کرلے اور چار غیر از جماعت لوگوں میں سے جن میں سے دو ایک فریق اور دو دوسرا فریق منتخب کرلے۔ اور اگر ان بارہ آدمیوں کی کثرت رائے ایک طرف ہو جائے تو بحث کے ساتھ ان کا فیصلہ بھی شائع کر دیا جائے۔ ورنہ خالی مباحثہ شائع کر دیا جائے۔

لیکن اس تجویز کا حشر جو قادیانیوں کی طرف سے ہوا وہ اخباری دنیا سے پوشیدہ نہیں۔ بہر حال تب نہ سہی اب ہی سہی۔ ناظر صاحب اپنے خلیفہ صاحب کو اس مباحثہ کے لئے تیار کریں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں۔ چونکہ اس وقت بانیٔ اختلاف یعنی حضرت مولانا صاحب اور خلیفہ صاحب خود زندہ موجود ہیں اور ہر دو ان مسائل پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس لئے وہی باہمی مباحثہ کر کے اس اختلاف کو مٹا سکتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کی طرف سے مباحثہ کی منظوری کا اعلان فوراً شائع ہونا چاہئے تاکہ باقی امور جلد طے ہوسکیں۔‘‘

(آنریری جائنٹ سیکرٹری۔ پیغام صلح لاہور ١٩؍ستمبر ١٩٣٦ء)

اہل پیغام کو تحریری و تقریری مناظرہ کا چیلنج

پرانی ’’ہوشیاری‘‘ کے مقابلہ میں ہمارا واضح جواب (الفضل قادیان)

’’ناظرین کو یاد ہو گا کہ الفضل (١٥؍ستمبر) میں مضمون زیر عنوان ’’مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر‘‘ میں جہاں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی ایک نہایت واضح تحریر کا عکس پیش کیا تھا۔ وہاں بعض مغالطہ دینے والے اہل پیغام کے اس مغالطہ کا بھی ازالہ کیا تھا کہ جماعت احمدیہ ان سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں بحث کرنے سے پہلوتہی کرتی ہے۔ بالآخر ہم نے لکھا:

٧

صفحہ ٥٣٤

”ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کر لیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے؟“

توقع تھی کہ کم از کم اب کی مرتبہ ہی اہل پیغام سیدھے راستہ سے مناظرہ کے لئے میدان میں آئیں گے۔ مگر افسوس کہ یہ امید پوری نہ ہوئی۔ پھر وہی ”بارہ آدمی بطور ثالث منتخب کر لئے جائیں“ کی پرانی رام کہانی شروع کر دی گئی ہے۔ گویا نہ بارہ آدمیوں کا انتخاب ہو اور نہ وہ مناظرہ کریں۔ پھر مزید برآں یہ کہ دوسری طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ (مرزا محمود) ہی بنفس نفیس مناظر ہوں۔ اس صورت حالات میں اہل پیغام کے ”جوائنٹ سیکرٹری“ کا اپنے مقالہ کا عنوان ”قادیانی چیلنج منظور“ رکھنا کہاں تک انصاف پروری کہلا سکتا ہے؟ اہل پیغام بتائیں کہ کیا حق پروری اسی کا نام ہے؟

ہمارا چیلنج ہے کہ ہم سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر تحریری اور تقریری مناظرہ کر لو۔ فریقین کے پرچے چھپ جائیں گے۔ مگر آپ ہیں کہ بارہ آدمیوں کا انتخاب ورد زبان بنا رہے ہیں۔ حالانکہ خود ہی لکھتے ہیں کہ:

”اگر ان بارہ آدمیوں کی کثرت رائے ایک طرف ہو جائے تو بحث کے ساتھ ان کا فیصلہ بھی شائع کر دیا جائے ورنہ خالی مباحثہ شائع کر دیا جائے۔“

جبکہ پھر بھی اغلب ہے کہ خالی مباحثہ ہی شائع کرنا پڑے تو اس انتخابی قضیہ نامرضیہ کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا کبھی مذاہب کا فیصلہ کثرت رائے سے بھی ہوا کرتا ہے؟ آپ کی تجویز کے مطابق چار احمدی، چار غیر مبائع اور چار غیر احمدی ہوں گے تو گویا درحقیقت آپ غیر احمدیوں کے ہی فیصلہ پر انحصار رکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی یہ تجویز نہایت ناموزوں اور دینی بحث کی روح کے صریح منافی ہے۔ ہم ہرگز کسی ایسی تجویز کو ماننے کیلئے تیار نہیں جس سے عقائد کو بازیچۂ اطفال بنا دیا جائے اور دینی معاملات کو فتح و شکست کے اعلان کا ذریعہ سمجھا جائے۔

ہاں دوسری بات کے متعلق ہماری طرف سے یہ واضح ترین اعلان ہے کہ محض اس بنا پر چونکہ مولوی محمد علی لاہوری صاحب ایک انجمن کے پریذیڈنٹ ہیں ان کا حق ہے کہ وہ بجز حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کسی سے بحث نہ کریں۔ آپ کی تجویز سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ کیونکہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ (مرزا محمود) کی جو پوزیشن ہے اور جس طرح لاکھوں انسان آپ کی اطاعت کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی مولوی

٨

صفحہ ٥٣٥

صاحب کو حاصل نہیں۔ اگر ہم مولوی صاحب کی زیادہ سے زیادہ عزت افزائی کریں تو انہیں صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ناظر صاحب اعلیٰ کی مانند سمجھا جاسکتا ہے۔ پس اس شرط کے لئے آپ نے جو بنیاد قائم کی ہے وہ محض غلط ہے۔ عجیب بات ہے کہ غیر مبائعین کے سیکرٹری نے جمعیتہ العلماء دہلی کے صدر مولوی کفایت اللہ صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی لاہوری صاحب کے آمادۂ بحث ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بلکہ صدر کیا جمعیتہ العلماء کے ہر ایسے نمائندہ سے بحث کے لئے آپ تیار ہیں جس کی فتح اور شکست جمعیتہ العلماء کی فتح اور شکست ہوگی۔

(ٹریکٹ ٢١ مئی ١٩٣٥ء)

لیکن جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں غیر مبائعین کے پریذیڈنٹ صاحب کو اپنی شان کا خاص خیال آجاتا ہے۔ آخر یہ دو پیمانے کیوں؟ کیا جن کے پاس مضبوط دلائل ہوا کرتے ہیں وہ آپ کی طرح ہی دورنگی چال چلتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب آخر وہی تو ہیں جنہوں نے آیت قرآنی ومن النخل من طلعها قنوان دانيه میں ”قنوان“ کو ”تثنیہ اور جمع“ لکھا ہے۔

(بیان القرآن ص ٧٠٠)

بہر حال مولوی محمد علی صاحب کے کسی ”جوائنٹ سیکرٹری“ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس بات پر ضد کرے کہ مولوی صاحب کے مقابلہ پر حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) ہی مناظر ہوں۔

میں اہل پیغام کے اس رویہ کی کجی کے ذکر کے بعد پوری ذمہ داری کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ بایں ہمہ اگر اہل پیغام مناظرہ کے لئے آمادہ ہوں اور منصفانہ شرائط منظور کرلیں تو انشاء اللہ یہ ایک فیصلہ کن مناظرہ ہوگا۔ خواہ اس میں مناظرہ کرنے والے خود سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) ہوں۔ یا آپ کا کوئی نمائندہ جیسا کہ دوسری طرف سے خواہ مولوی محمد علی صاحب خود مناظر ہوں یا ان کا کوئی نمائندہ۔ ہماری طرف سے شرائط حسب ذیل ہیں:

مقررہ کے اندر مناسب تشریح کرسکیں گے۔

ہوگی۔

مبائعین کا مناظر معترض ہوگا۔

صفحہ ٥٣٦

کا ہوگا۔

بیس منٹ مقرر ہوں گے۔

آج ہم ایک مرتبہ پھر تفصیلی چیلنج دے کر غیر مبائعین کے چھوٹوں اور بڑوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس چیلنج کو منظور کر کے اپنی انصاف پسندی کا ثبوت دیں اور نبوت سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایک فیصلہ کن مناظرہ کرلیں۔

’’جوائنٹ سیکرٹری‘‘ صاحب کا فرض ہے کہ جناب پریذیڈنٹ صاحب انجمن اشاعت اسلام سے مشورہ کے بعد جواب اثبات میں شائع کریں۔ تا جگہ اور تاریخ وغیرہ کا جلد فیصلہ کیا جا سکے۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ۔

خاکسار ابوالعطا جالندھری۔ مہتمم نشر و اشاعت نظارت دعوت و تبلیغ قادیان

(الفضل۔ قادیان ١٤؍ اکتوبر ١٩٣٦ء)

امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کیلئے دعوت

(پیغام صلح۔ لاہور)

قادیانی جماعت کو فیصلہ کن بحث کے لئے ہماری گذشتہ دعوت

احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سرکردہ احباب نے قریباً ڈیڑھ سال ہوا، قادیانی اصحاب کو مسئلہ تکفیر اور نبوت پر ایک فیصلہ کن بحث کیلئے دعوت دی تھی۔ جس میں ہر دو فریق کے امیر بحث کرنے والے ہوں اور اس کے اثر کا اندازہ کرنے کے لئے یہ طریق پیش کیا تھا کہ جماعت لاہور جماعت قادیان کے متعدد افراد کو اور جماعت قادیان جماعت لاہور کے اسی قدر افراد کو اس بحث پر اظہار رائے کے لئے چن لے مگر اس کا جواب قادیان سے ایسے رنگ میں دیا گیا جو ایک مذہبی جماعت کی شان سے بہت بعید تھا۔

بحث کا موجودہ طرز نقصان رساں ہے

بایں ہمہ بحث کا سلسلہ دونوں جماعتوں کے افراد کی طرف سے برابر دونوں فریق کے

١٠

صفحہ ٥٣٧

اخباروں اور ٹریکٹوں میں چل رہا ہے جس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں سوائے اس کے کہ قوم کی وہ قوت جو بہتر کاموں پر لگ سکتی ہے ایک لاحاصل بحث پر خرچ ہو رہی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ نقصان ہے کہ اہم دینی مسائل جن کو بڑے بڑے علماء بھی مشکل سے سمجھ سکتے ہیں بازیچہ اطفال بنے ہوئے ہیں اور ہر کس و ناکس یہ سمجھتا ہے کہ اسی کو مسئلہ نبوت کے حل کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

اخبار ”الفضل“ کا تازہ مضمون

آج مدت کے بعد ”الفضل“ کا ایک پرچہ (١٢ نومبر) میری نظر سے گزرا۔ تو اس میں ایک عنوان تھا ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلاف مولوی محمد علی صاحب کے قیاسات“ جس میں میری اس اصولی بحث کو جو میں نے کتاب ”النبوۃ فی الاسلام“ میں اس امر کے متعلق کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت جبرئیل کا وحی لانا ممتنع ہے ”مسیح موعود کے خلاف“ قرار دے کر یہ کہا گیا ہے کہ مجھے ”مخالفت حق میں نہ قرآن کی پروا ہے نہ نصوص صریحہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اور نہ حدیث شریف کی۔“

قادیانی نتیجہ خیز بحث کی طرف نہیں آتے

افسوس ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کی زد مجھ پر نہیں بلکہ خود اس شخص پر پڑتی ہے جسے زبانی دعویٰ سے تو یہ لوگ نبی بتاتے ہیں۔ لیکن آپ کی عزت ان کے دلوں میں یہ ہے کہ آپ کے کھلے ارشادات کو پس پشت پھینکا ہوا ہے۔ ساری بحث نبوت تو دو جملوں میں طے ہو جاتی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود نے دوسرے مسلمانوں کا جنازہ جائز قرار دیا ہے تو آپ کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہیں اور اگر آپ کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں تو یقیناً آپ کا دعویٰ نبوت کا نہیں۔ اس مختصر بحث کو اتنا طول دیا گیا ہے کہ ہزاروں صفحات لکھے جا چکے۔ مگر نتیجہ آج تک کچھ نہ نکلا۔ اور نتیجہ خیز بحث کی طرف آج تک باوجود بار بار کے مطالبوں کے قادیانی جماعت ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں۔ ایسا نبی بنانے سے کیا فائدہ جس کی بات کی ہی پرواہ نہ کی جائے۔ اور اگر آپ کے ارشادات قابل تعمیل ہیں تو نبوت کا مسئلہ حل شدہ ہے۔

قادیانی اصحاب کو تحریرات حضرت مسیح موعود کی ذرا پروا نہیں

جو کچھ قادیانی جماعت کی طرف سے ہو رہا ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے الفضل کے محولہ

١١

صفحہ ٥٣٨

مضمون کو لے لیا جائے۔ حضرت جبرئیل کا آنحضرت ﷺ کے بعد تا قیامت وحی نبوت لانے سے منع کیا جانا میرا قیاس نہیں جیسا کہ مضمون نویس کا خیال ہے بلکہ حضرت مسیح موعود نے خود بار بار یہی لکھا ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے لکھا ہے قادیانی احباب کو حضرت مسیح موعود کی تحریروں کی ذرا بھر پروا نہیں اور وہ ان پر استہزاء تک کر جاتے ہیں اور پروا نہیں کرتے۔

معترض کے اعتراضات کی حقیقت

معترض نے جو کچھ میرے متعلق لکھا ہے وہ النبوت فی الاسلام کی تحریر کو نقل کر کے لکھا ہے۔ حالانکہ النبوت فی الاسلام کے ص ٤٠ پر اس موٹے عنوان کے نیچے ”مسیح موعود کی شہادت کہ نبی بغیر نزول جبرئیل نہیں ہو سکتا اور امتی پر نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی نہیں ہو سکتا“ حضرت مسیح موعود کی ایک یا دو نہیں دس تحریریں نقل کی گئی ہیں۔ اخبار سب کا متحمل نہیں ایک یا دو حوالے کافی ہیں۔

میری تحریر :۔ ”مولوی صاحب اپنی تصنیف ”النبوت فی الاسلام“ ایڈیشن دوم ص ١٧ پر تحریر فرماتے ہیں۔ ”نبی اور غیر نبی کی وحی میں یہ فرق ہے کہ غیر نبی پر وحی جبرئیل علیہ السلام لے کر نہیں آتے ....... یہی حد فاصل ہے جو نبی اور غیر نبی کی وحی میں امتیاز قائم کرتی ہے۔“

حضرت مسیح موعود کی شہادت :۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٧٧)

”رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦١٤)

افسوسناک ریمارک :۔ اس میری تحریر پر ذیل کے ریمارکس کیے گئے ہیں: ”یہ عبارت دراصل ایک معمہ ہے جو نہ خود مولوی صاحب سے حل ہوا اور نہ کسی اور سے حل ہو گا۔ کیونکہ مولوی صاحب کی یہ تحریر ایسی ہی حق سے دور ہے جیسی عقل کوے سے ۔“ مولوی صاحب کو مخالفت حق میں نہ قرآن کی پروا ہے نہ نصوص صریحہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اور نہ حدیث شریف کی ۔ العیاذ باللہ۔“

١٢

صفحہ ٥٣٩

معترض کی حضرت مسیح موعود پر زد

لیکن اگر میرے لفظ وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود کے ہیں تو معترض خود سوچ لے کہ یہ زد کہاں پڑی ہے۔ عیسائیوں نے غلو کیا تو مجوزہ خدا کو نعوذ باللہ ملعون انسان بنایا۔ ہمارے قادیانی دوستوں کا غلو انہیں اسی پہلی قوم کے نقش قدم پر لے جارہا ہے۔

جناب خلیفہ قادیان فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں

جناب خلیفہ قادیان اگر چاہیں تو حضرت مسیح موعود کی اس تذلیل کو جو ان کے غالی مریدوں کے ہاتھوں سے ہو رہی ہے دُور کر سکتے ہیں۔ میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے چھوڑتا ہوں۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ خود اپنی ذمہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔ اگر وہ اپنی زمینوں کے دیکھنے کے لئے سال میں ایک دو سفر سندھ کے کر سکتے ہیں تو ایک عظیم الشان دینی مسئلہ کے تصفیہ کے لئے کیوں دو قدم نہیں اٹھا سکتے۔ اور اگر حضرت مسیح موعود مباحثات کے لئے نکلتے رہے ہیں تو ان کے ایک خلیفہ کی شان کیوں اس سے بلند تر ہے؟ بات تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی کھلی تحریروں کے خلاف وہ نبوت بنا رہے ہیں۔ اور بحث کی طرف اس لئے رخ نہیں کرتے کہ ان باتوں کا جواب ان کے پاس کوئی نہیں۔ اگر ہے تو وہ ایک جنازے کے مسئلے کو ہی صاف کر دیں۔ اس کو صاف کرنے کا وعدہ انہوں نے دسمبر ١٩١٥ء میں کیا تھا۔ (دیکھو انوار خلافت ص٩٣) مگر آج اکیس سال گزرنے کے بعد بھی اس پر ایک دفعہ قلم نہ اٹھایا۔“

محمد علی (پیغام صلح ١٩ نومبر ١٩٣٦ء)

مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور

حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کی طرف سے خود بحث کرنے کا اعلان

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مباحثہ (الفضل قادیان)

مولوی محمد علی لاہوری صاحب اور ان کے رفقاء کو ”خدا کے رسول کے تخت گاہ“ سے علیحدہ ہوئے بائیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس دوران میں انہوں نے ہر رنگ میں سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بلند شان یعنی منصب نبوت کو چھپانے کے لئے جدوجہد کی۔

١٣

صفحہ ٥٤٠

جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کے اس طلسم کو باطل کرنے کے لئے دلائل و براہین کا بہت بڑا انبار جمع ہو گیا ہے۔ اور اہل دانش و بینش کی نظر میں ان لوگوں کی دورنگی اور غلط رویہ بالکل واضح ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں جبکہ احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف یورش شروع کر رکھی تھی ہمارے غیر مبائع دوستوں کو یہ دور کی سوجھی کہ انہوں نے احرار کی گونہ تائید کے لئے ایک طرف تو جماعت احمدیہ کو نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) وغیرہ مسائل پر بحث کا چیلنج دے دیا اور دوسری طرف اس بحث میں فیصلہ کا انحصار لے دے کر چار غیر احمدی منصفوں پر رکھا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے نفس چیلنج کو قبول کر کے طریق فیصلہ کی لغویت کو واضح کیا گیا۔ کیونکہ اس طریق فیصلہ میں سراسر نقصانات ہیں اور نفع کوئی بھی نہیں۔ آخر ان کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ”الفضل ١٥؍ستمبر ١٩٣٦ء“ میں ایک مضمون ”مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اور فیصلہ کن تحریر“ کے عنوان سے لکھا۔ جس میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کی ایک دستخطی تحریر کا عکس شائع کیا جو انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی وفات کے بعد معاً بہشتی مقبرہ کے رجسٹر میں اپنے قلم سے درج کیا۔ اور جو حضور (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کے متفق علیہا عقیدہ پر صریح دلالت کرتی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب اس تحریر کی اصلیت کو خاموشی سے تسلیم کر چکے ہیں اور اگر انہیں شک ہو تو وہ ہر وقت اس تحریر کو ملاحظہ کر کے اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔ ہاں میں نے مندرجہ بالا مضمون کے آخر میں اہل پیغام کو بایں الفاظ چیلنج کیا تھا:

”ہم پھر ایک مرتبہ بآوازِ بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور اُن کے ساتھیوں میں جرأت ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کر لیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے۔“

اس چیلنج پر اہل پیغام کے جائنٹ سیکرٹری صاحب نے اپنے ساتھیوں کی تسلی کے لئے ”قادیانی چیلنج منظور“ کے عنوان سے ایک نوٹ شائع کیا۔ جس میں وہی غیر احمدی ثالثوں کی پرانی شرط کا اعادہ کیا۔ اور کہا کہ مولوی محمد علی صاحب صرف حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان سے ہی مناظرہ کریں گے۔ میں نے ان کی اس منظوری کی حقیقت اور ان شروط کی تغلیط دلائل کی رو سے ”الفضل ١٤؍ اکتوبر ١٩٣٦ء“ میں مفصل شائع کرا دی۔ میرے اس جواب پر ”جائنٹ سیکرٹری صاحب“ تو آج تک خاموش ہیں۔ البتہ ١٩؍نومبر ١٩٣٦ء کے ”پیغام صلح“ میں مولوی محمد علی لاہوری صاحب کے قلم سے ایک مضمون ”امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت“ شائع ہوا ہے۔ چونکہ میں نے لکھا تھا:

١٤

صفحہ ٥٤١

”جوائنٹ سیکرٹری صاحب کا فرض ہے کہ جناب پریذیڈنٹ صاحب انجمن اشاعت اسلام سے مشورہ کے بعد جواب اثبات میں شائع کریں تا جگہ اور تاریخ وغیرہ کا جلد فیصلہ کیا جا سکے۔“

(الفضل ۔ ١٤؍ اکتوبر ١٩٣٦ء)

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس مشورہ کا ہی نتیجہ ہے کہ خود مولوی صاحب نے مضمون لکھا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے ہمارے ١٥؍ ستمبر ١٩٣٦ء والے چیلنج کو ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سرکردہ احباب“ کی ڈیڑھ سالہ دعوت بحث سے بلاوجہ ملا کر فرمایا ہے:

”یہ بحث کا سلسلہ دونوں جماعتوں کے افراد کی طرف سے برابر دونوں فریق کے اخباروں اور ٹریکٹوں میں چل رہا ہے۔ جس کا کوئی نتیجہ نہیں۔“

حالانکہ ہمارے ١٥؍ ستمبر والے چیلنج پر ١٤؍ اکتوبر کے بعد سے ”سرکردہ احباب“ کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔ وہ ہمارے چیلنج کو منظور کر کے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے عقیدہ پر بحث کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکے۔ ہاں اگر مولوی صاحب ”پیغام صلح“ کے مضامین اور انجمن اشاعت اسلام کے ٹریکٹس دربارہ نفی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو ”بے نتیجہ“ سمجھتے ہیں۔ تو ہم ان کی تصدیق کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان کو روک کیوں نہیں دیتے۔ بہرحال مولوی صاحب کا یہ ارشاد اگر تو چیلنج مناظرہ کے متعلق ہے تو خلاف واقعہ ہے۔ اور اگر مضامین کے متعلق ہے تو اپنے ماتحتوں کو ان ”بے نتیجہ“ حرکات سے روکنا آپ کا اولیں فرض ہے اور اس صورت میں ہمارے جوابی مضامین خود بخود رُک جائیں گے۔ ہم نے اہل پیغام کی ٹالٹوں والی انوکھی تجویز کے متعلق صاف لکھا تھا:

”آپ کی تجویز کے مطابق چار احمدی، چار غیر مبائع، اور چار غیر احمدی ہوں گے۔ تو گویا درحقیقت آپ غیر احمدیوں کے ہی فیصلہ پر انحصار رکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی یہ تجویز نہایت ناموزوں اور دینی بحث کی رُوح کے صریح منافی ہے۔“

اور ایسا ہی ہم نے جوائنٹ سیکرٹری صاحب کی ضد (کہ مولوی محمد علی صاحب صرف حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) سے ہی بحث کریں گے اور کسی احمدی عالم سے بحث کے لئے تیار نہ ہوں گے۔) کا بھی ایسا جواب دیا تھا، جس پر انہیں لاجواب ہونا پڑا۔

اب مولوی محمد علی صاحب ہمارے بیان کی معقولیت کے پیش نظر تحریر فرماتے ہیں:

”میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے چھوڑتا ہوں۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ

١٥

صفحہ ٥٤٢

سیدنا حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) بنصرہ العزیز خود اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔"

(پیغام صلح ١٩؍ نومبر ١٩٣٦ء)

یقیناً مولوی صاحب کی یہ خواہش بہت مبارک ہے اور اگر وہ اس بات پر قائم رہیں تو دنیا دیکھے گی کہ خدا کے برگزیدہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں اہل پیغام کے پاس محض سراب ہے۔ میں مولوی صاحب کو اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے آپ کے مضمون کا ذکر سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے حضور کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: ”میری طرف سے اعلان کر دیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ انشاء اللہ۔“

پس میں یہ اعلان کرتا ہوا مولوی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اخبارات میں تصفیہ شروط کا سلسلہ جاری کرنے کی بجائے اپنی طرف سے بہت جلد دو نمائندے مقرر فرمادیں۔ ایسا ہی حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) دو نمائندے مقرر فرمادیں گے۔ اور وہ مل کر مساوی شروط تاریخ اور جگہ وغیرہ امور کا فیصلہ کرکے اخبارات میں شائع کردیں۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ یہ بحث ہوجائے۔

مضمون بحث طے شدہ اور مسلمہ فریقین ہے۔ یعنی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)۔ اس مضمون میں مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفر و اسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔ مگر خدارا اس قسم کی غلط بیانی نہ کریں۔ جیسا کہ انہوں نے ”انوارِ خلافت ص٩٣“ کے متعلق کی ہے۔ گویا کہ غیر احمدیوں کے جنازہ کا مسئلہ ابھی تک حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) نے صاف نہیں کیا۔ حالانکہ اس جگہ تو یہ مسئلہ نہایت وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ وہاں پر صرف احباب جماعت کے لئے سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے اپنے عمل اور کھلے فتاویٰ کے بالمقابل بعض لوگوں کو بعض خاص صورتوں میں اجازت دینے سے پیدا شدہ بظاہر تعارض کی تطبیق کے ذکر کرنے کا وعدہ ہے۔ نہ کہ اصل مسئلہ کو صاف نہیں کیا گیا۔ بہر حال اگر ہمہ قسم دلائل سے ہی مولوی صاحب نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ابطال کرنا چاہتے ہیں تو ان کو بحث کے دوران میں پیش کر سکتے ہیں۔ موضوع بحث نبوت سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہی ہوگا۔

مولوی صاحب! آپ پر سیدنا حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کا سفر سندھ کیوں

١٦

صفحہ ٥٤٣

بوجھل بن رہا ہے۔ کیا ہم کبھی آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ تقریباً چھ ماہ ڈلہوزی کی کوٹھی میں تشریف رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمارے نزدیک حضرت امیر المؤمنین (مرزا محمود) کا کسی سے دینی بحث کرنا آپ کی کسر شان نہیں۔ لیکن اگر ہر شخص یہی ضد کرنا شروع کر دے کہ میں تو ان کے بغیر کسی سے بحث نہ کروں گا۔ تو یقیناً یہ طریق خلاف عقل اور ہمارے نظام میں حارج ہے۔ اس لئے اسے منظور نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ کی طرف سے اس ضد کو چھوڑ دیا گیا ہے اس لئے حضور نے نہایت خوشی سے خود بحث کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔ جیسا کہ ١٩١٥ء میں بھی حضور نے آپ سے خود بحث کرنے کا اعلان فرمایا اور لاہور میں کافی دیر تک انتظار کرتے رہے۔ مگر اس وقت بات آپ کی طرف سے رہ گئی تھی۔ ہاں یہ الزام آپ پر آتا ہے کیونکہ آپ کے ساتھی آپ کو جو ”قنوان“ کو ”تثنیہ اور جمع“ قرار دینے والے ہیں (بیان القرآن ص٧٠٠) اتنا اونچا کرتے ہیں کہ کسی احمدی عالم کے ساتھ آپ کا بحث کرنا جائز ہی نہیں سمجھتے۔ بالآخر میں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے تمام ایسے ساتھیوں سے جن کے دلوں میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی عزت ہے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ اب اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ اور لا طائل اور لایعنی باتوں میں وقت نہ گنوائیں بہت جلد امور ضروریہ کے تصفیہ کے لئے تیار ہو جائیں۔ تاکہ تاریخ بحث کا جلد اعلان کر دیا جائے۔ اور حق اپنی پوری شان میں ظاہر ہو۔ اے خدا تو ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر چلا۔ آمین۔“

خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ١١؍ دسمبر ١٩٣٦ء)

مکتوب مفتوح بخدمت جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب

(پیغام صلح۔ لاہور)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مکرمی جناب میاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

میں نہایت دردِ دل سے آپ کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ مسئلہ تکفیر مسلمین اور مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے بارے میں جو اختلاف جماعت لاہور اور جماعت قادیان میں بائیس سال سے چلا آ رہا ہے اور جس پر اخبارات‘ ٹریکٹوں‘ اشتہاروں‘ رسالوں‘ کتابوں میں بحثوں کی کوئی انتہا نہیں رہی۔

موجودہ طریق بحث یکطرفہ ہے:۔ اس سے جماعت کو اور دوسرے لوگوں کو اب تک کوئی فائدہ اس لئے نہیں پہنچا کہ یہ سب بحث یکطرفہ ہے۔ دونوں جماعتوں کی تو بالخصوص یہ حالت ہے

١٧

صفحہ ٥٤٤

کہ ان کے سامنے ہر وقت سوال کا ایک پہلو آتا ہے اور دوسرے فریق کے دلائل سننے کا ان کو موقع نہیں ملتا۔ اور عام طور پر مسلمان پبلک کی بھی یہی حالت ہے کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی فریق کے بیان کو دیکھ سکتے ہیں۔ اور اس لئے جب وہ ایک فریق کے بیان کو پڑھتے ہیں تو وہ اس سے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔ اس لئے کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے پاس اس کا کچھ معقول جواب ہوگا۔

فیصلہ کے لئے جماعت لاہور کے عمائد کی تجویز

اس مشکل کو حل کرنے کے لئے قریباً دو سال کا عرصہ ہوا جماعت لاہور کے عمائد نے ایک تجویز جماعت قادیان کے عمائد کے سامنے پیش کی تھی کہ دونوں فریق کے امیر باہم ایک مباحثہ کریں۔ جس میں چند آدمی جماعت قادیان کے جماعت لاہور اور اسی قدر آدمی جماعت لاہور کے جماعت قادیان منتخب کرے اور مباحثہ کے آخر پر یہ سب آدمی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ممکن ہے ایک شخص کے دلائل سے دوسری جماعت کے بعض آدمی متاثر ہو جائیں تو فیصلہ کی ایک راہ نکل آئے مگر ان کی اس تجویز کو قبول نہ کیا گیا۔

دوسری تجویز:۔ یہ خیال کر کے کہ شاید اس طرح فتح وشکست کا خیال حائل ہو جاتا ہو۔ ایک ماہ کے قریب ہوا میں نے خود اس شرط کو ترک کر کے یہ درخواست کی تھی کہ ویسے ہی میں اور آپ ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں اور پھر وہ تحریریں ایک جگہ شائع ہو جائیں تا کہ دونوں جماعتیں فریقین کے دلائل کا موازنہ کر سکیں اور مسلمان پبلک کے لئے بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی راہ نکل آئے۔ اس کا بھی کوئی جواب اب تک نہیں ملا۔

تیسری تجویز:۔ یہ خیال کر کے کہ شاید آپ ایک جگہ جمع ہونے کی تکلیف کو برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔ میں اب ایک تیسری تجویز آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں آپ کو یہ تکلیف بھی نہ ہو اور مقصد بھی حاصل ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ تحریری بحث دونوں اخبارات میں ہوتی رہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ تعداد صفحات یا الفاظ معین کر دی جائے اور پرچوں کی تعداد بھی معین ہو جائے۔

اوّل مسئلہ تکفیر لے لیا جائے:۔ آپ اپنا پرچہ لکھ کر میرے پاس بھیج دیں اس کے پہنچنے کی تاریخ سے سات دن کے اندر اندر میں اس کا اسی قدر لمبا جواب لکھ کر آپ کے پاس بھیج دوں اور یہ دونوں پرچے ایک ہی وقت میں دونوں اخباروں میں نکل جائیں یعنی ”الفضل“ اور ”پیغام صلح“ میں۔ پھر میرے پرچے کا جواب لکھ کر اسی طرح آپ سات دن کے اندر اندر میرے پاس بھیج

١٨

صفحہ ٥٤٥

دیں اور میں اس کا جواب سات دن کے اندر اندر لکھ کر آپ کے پاس بھیج دوں اور پھر یہ دونوں پرچے دونوں اخبارات میں ایک ہی وقت میں چھپ جائیں۔ کل پرچوں کی تعداد اس مسئلہ میں چھ چھ ہو۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت کو لے لیا جائے اور اس کے متعلق میں اپنا پرچہ آپ کے پاس بھیج دوں اور آپ اس کا جواب اسی وقت معینہ کے اندر اندر میرے پاس بھیج دیں اور جس طرح پہلے مسئلہ میں چھ چھ پرچے ہوں اسی طرح اس میں بھی چھ چھ پرچے ہوں۔

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے اس طرح تھوڑی سی تکلیف اٹھا لینے سے مخلوق خدا کا بہت بھلا ہوگا۔ اور شاید آئندہ یہ چھوٹی چھوٹی بحثیں جن سے آئے دن اخباروں کے اوراق بھرے رہتے ہیں بند ہو جائیں اور ان کی بجائے خدمت اسلام کا کوئی اور زیادہ مفید کام ہو جائے اور مسلمان بھی ان تحریروں کی بنا پر کم سے کم یہ فیصلہ تو کر سکیں کہ حضرت مسیح موعود کا اصل مذہب کیا تھا۔ اور غلط فہمیاں دور ہو کر اگر خدا کو منظور ہو تو سلسلہ کے لئے دلوں میں محبت پیدا ہو جائے اور اشاعت و تبلیغ اسلام کا وہ کام جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود نے رکھی تھی پھر قوت پکڑے۔“

خاکسار محمد علی ۔ (پیغام صلح لاہور ١١؍ دسمبر ١٩٣٦ء)

......☆......

قادیانی جماعت کو فیصلہ کن مباحثہ کی دعوت

(پیغام صلح ۔ لاہور)

ذہنی غلامی، پیر پرستی نے بھی پیدا کی ہے۔ ایک پیر جو کہہ دیتا ہے مرید اسے آنکھیں بند کر کے قبول کر لیتے ہیں اور کبھی اس کی اچھائی برائی پر غور نہیں کرتے۔ اس کی بھی ایک مثال سن لیجئے۔ تقریباً دو سال کا عرصہ ہوا۔ ہماری جماعت کے اکابر نے قادیانی جماعت کے اکابر کو دعوت دی کہ مسئلہ تکفیر المسلمین اور مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود کے متعلق جو اختلافات عرصہ سے دونوں جماعتوں میں چلا آ رہا ہے اس کا فیصلہ کرنے کے لئے دونوں جماعتوں کے امیر باہم ایک مباحثہ کر لیں۔ جماعت قادیان جماعت لاہور میں سے چند آدمی منتخب کر لے اور اسی طرح جماعت لاہور قادیانی جماعت میں سے۔ ان کے علاوہ مساوی تعداد میں کچھ آدمی غیر از جماعت سے منتخب کر لئے جائیں۔ مباحثہ کے آخر پر سب منتخب آدمی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اس طرح امید ہے کہ فیصلہ کی کوئی راہ نکل آئے گی۔

١٩

صفحہ ٥٤٦

قادیانی جماعت کی طویل خاموشی کے بعد ”الفضل“ کا اعتراض

اس تجویز کے متعلق تقریباً ڈیڑھ سال تک خاموشی رہی۔ حال ہی میں مولانا محمد احسن صاحب مرحوم کی ایک تحریر بہشتی مقبرہ کے رجسٹر میں سے نکل آئی۔ اس پر قادیانی جماعت نے شور مچانا شروع کر دیا اور ١٤؍ اکتوبر کے ”الفضل“ میں ایک مضمون شائع ہوا جو افسوس اس وقت جبکہ یہ شائع ہوا میری نظر سے نہ گذرا۔ اب گیارہ دسمبر کے ”الفضل“ کے مطالعہ کے بعد آج صبح مجھے اس کا علم ہوا۔ اور گیارہ دسمبر کے پیغام صلح میں جناب میاں صاحب کے نام میرا جو مکتوب مفتوح شائع ہوا ہے وہ بھی میں نے ”الفضل“ کے ان دونوں پرچوں کو دیکھنے سے قبل ٢١؍ رمضان کو لکھا تھا۔ ١٤؍ اکتوبر کے ”الفضل“ میں ثالثوں کے طریق انتخاب پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ چار چار ثالث دونوں جماعتوں کے ہوں تو عملاً فیصلہ چار غیر از جماعت لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ لہٰذا یہ تجویز ناموزوں اور دینی بحث کی روح کے صریح منافی ہے۔ ١١؍ دسمبر کے الفضل میں بھی انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے۔

ہم غیر از جماعت ثالثوں کی تجویز کو چھوڑتے ہیں

گو میں اس سے قبل اس خیال سے کہ کسی طرح مباحثہ ہو جائے۔ ثالثوں والی تجویز کو چھوڑ چکا ہوں لیکن اگر اعتراض یہی ہے تو پھر میں کہتا ہوں کہ ہم چار غیر از جماعت ثالثوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

جناب میاں صاحب کا اعلان:- ١١؍ دسمبر کے ”الفضل“ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جناب میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ:

”میری طرف سے اعلان کر دیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کر لیں۔ بحث میں خود کروں گا، انشاء اللہ۔“

اول مسئلہ تکفیر پر بحث ہونی چاہئے:- اس اعلان سے مرید بے شک خوش ہو جائیں گے کہ خلیفہ صاحب مسئلہ نبوت پر بحث کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ لیکن افسوس میاں صاحب نے تکفیر کے مسئلہ کو چھوڑ دیا جو کہ اصل چیز ہے۔ میں تو لمبی چوڑی شرائط کا قائل نہیں ہوں نہ ان کی ضرورت سمجھتا ہوں پہلے بھی میں نے یہی کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ اول بحث مسئلہ تکفیر المسلمین پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ دونوں جماعتوں کا اختلاف اسی مسئلہ پر شروع ہوا تھا۔

٢٠

صفحہ ٥٤٧

مسئلہ تکفیر اختلاف کی اصل ہے نبوت اس کی فرع

تکفیر اختلاف کی اصل ہے اور مسئلہ نبوت اس کی فرع۔ ١٩١٢ء میں خواجہ صاحب مرحوم نے اعلان کیا کہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں اور تمام مسلمانوں کے درمیان اصولی رنگ میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے مقابل جناب میاں صاحب نے کہا کہ تمام ماموروں کا ماننا ضروری ہے جو بھی کسی مامور کو نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یادرہے کہ میاں صاحب نے یہ بات تمام ماموروں کے متعلق کہی۔ ”نبیوں“ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ خیر اس بات سے جھگڑا شروع ہوا۔ قادیانی جماعت کو تکفیر کی حمایت کے لئے نبوت بنانی پڑی۔

ہمارا قادیانی جماعت سے اختلاف کن امور میں ہے؟

ہمارا اور قادیانی جماعت کا اختلاف کن باتوں پر ہے؟ میاں صاحب کہتے ہیں کہ:

انہوں نے آپ کا نام بھی نہ سنا ہو۔

ہم ان تینوں باتوں کو نہیں مانتے۔

قادیانی تکفیر پر مباحثہ سے کیوں اجتناب کرتے ہیں؟

ان باتوں کو سامنے رکھ کر ہر کوئی دیکھ اور سمجھ سکتا ہے کہ اختلاف کی اصل جڑ تکفیر ہے۔ آخر بات کیا ہے۔ قادیانی تکفیر کے مسئلہ پر تبادلہ خیالات سے کیوں ڈرتے ہیں؟ میں تو اس مسجد کے اندر اس مقام پر کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہوں کہ اگر قادیان والے کہہ دیں کہ ہم مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑتے ہیں، تمام کلمہ گو مسلمان ہیں تو میں مسئلہ نبوت پر بحث کو آج چھوڑتا ہوں۔

مجازی رنگ میں نبوت :۔ نبوت کو مجازی رنگ میں تو ہم بھی مانتے اور تمام اولیاء اللہ مانتے چلے آئے ہیں۔ خود حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ سميت نبيا من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقة یعنی خدا کی طرف سے میرا نام نبی مجاز کے طور پر رکھا گیا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر یعنی محض اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی سے جو مجازی یا لغوی معنے میں نبوت ہے ہمیں انکار نہیں مگر یہ شرعی اصطلاح میں نبوت نہیں۔ ہم تو اس نبوت کی مخالفت کرتے ہیں جس کے

٢١

صفحہ ٥٤٨

انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ خود حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا دراصل دیگر مسلمانوں کے ساتھ بھی قادیانیوں کا یہی اصولی اختلاف ہے اور احمدیت کی مخالفت بھی اسی مسئلہ تکفیر کی وجہ سے زیادہ تر ہے۔

شرائط کیا ہوں؟ باقی رہیں شرائط۔ سو پرچوں اور وقت کے لحاظ سے فریقین کو مساوات حاصل ہو۔ مسئلہ تکفیر کو اول لیا جائے اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔ مسئلہ تکفیر پر اگر اختلاف ہے تو اس سے گریز کا کیا مطلب؟ یا یہ کہہ دیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔“

(پیغام صلح لاہور ١٥؍دسمبر ١٩٣٦ء)

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مباحثہ کا چیلنج

مولوی محمد علی صاحب لاہوری بحث سے گریز کر رہے ہیں

غیر مبایعین سے درخواست کہ مولوی صاحب کو مناظرہ پر آمادہ کریں

(الفضل قادیان)

”میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ ان سے شرطیں طے کریں۔ سو معقول شرائط جن میں کوئی لغویت اور کھیل کا پہلو نہ ہو، جب بھی طے ہو جائیں تو مجھے مولوی صاحب سے مباحثہ کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ الا ان یشاء اللہ۔ مباحثہ کی غرض اگر ایک جماعت تک حق کی آواز کا پہنچانا ہو تو اس میں مجھے عذر ہی کیا ہو سکتا ہے۔ عذر تو اسی صورت میں ہوتا ہے جب مباحثہ کو کھیل یا فساد کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔“ والسلام۔ خاکسار مرزا محمود احمد

توقع تھی کہ ہمارے مضمون ”مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور“ مندرجہ اخبار ”الفضل۔ ١١؍نومبر“ کے بعد مولوی صاحب کوئی ایسی حیل وحجت نہ کریں گے جس سے ”فیصلہ کن مناظرہ“ کے وقوع میں التوا یا تعویق پیدا ہو۔ بات صاف تھی۔ ہم نے چیلنج کیا اور لکھا تھا:

”ہم پھر ایک مرتبہ بآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں میں جرات ہے تو آئیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارہ میں تحریری اور تقریری مناظرہ کرلیں۔ کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو منظور کرے؟“

(الفضل ١٥؍ستمبر ١٩٣٦ء)

اس کے متعلق جائنٹ سیکرٹری غیر مبایعین نے ”قادیانی چیلنج منظور“ کے عنوان کے ماتحت ایک نوٹ شائع کیا (پیغام صلح۔ ١٩؍ستمبر) اور صرف دو باتوں یعنی بارہ ثالثوں والی شرط اور

٢٢

صفحہ ٥٤٩

یہ کہ غیر مبایعین کی طرف سے بحث کرنے والے جناب مولوی محمد علی صاحب ہوں گے۔ اور جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کو پیش کیا اور لکھا: ”اپنے خلیفہ صاحب کو اس مباحثہ کے لئے تیار کریں۔ حضرت مولانا محمد علی صاحب ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں۔“ گویا موضوع بحث نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو تسلیم کر لیا۔

جوائنٹ سیکرٹری صاحب کے جواب میں مَیں نے ”الفضل۔ ١٤؍ اکتوبر ١٩٣٦ء“ میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ بہر حال مناظرہ فیصلہ کن ہوگا۔ خواہ فریقین کی طرف سے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) اور جناب مولوی محمد علی صاحب مناظر ہوں۔ یا ان کے نمائندے۔ ثالثوں والی شرط کی تغلیط کی تھی۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب نے اپنے قلم سے ”پیغام صلح۔ ١٩؍ نومبر ١٩٣٦ء“ میں امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ جس میں ثالثوں کی شرط کو چھوڑتے ہوئے فرمایا: ”صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ خود اپنی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اٹھائیں۔“

نفس موضوع کے متعلق جناب مولوی محمد علی صاحب نے اسی مقالہ میں لکھا:

”ساری بحث نبوت تو دو جملوں میں طے ہو جاتی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود نے دوسرے مسلمانوں کا جنازہ جائز قرار دیا ہے۔ تو آپ کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ اور اگر آپ کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں تو یقیناً آپ کا دعویٰ نبوت کا نہیں ...... اور اگر آپ کے ارشادات قابل تعمیل ہیں تو نبوت کا مسئلہ حل شدہ ہے۔“ (١٩؍ نومبر)

گویا موضوع مناظرہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہوگا۔ جسے حل کرنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب مسئلہ کفر و اسلام یا جنازہ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔

خاکسار نے مولوی محمد علی صاحب کے ١٩؍ نومبر والے مضمون کا ذکر حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کی خدمت میں کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا:

”میری طرف سے اعلان کر دیں کہ مَیں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کر لیں۔ بحث مَیں خود کروں گا۔ انشاء اللہ“

چنانچہ مَیں نے ”الفضل۔ ١١؍ دسمبر“ میں ”مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج مناظرہ منظور“ کے ماتحت یہ اعلان کر دیا اور ساتھ ہی لکھ دیا۔

٢٣

صفحہ ٥٥٠

”مضمون بحث طے شدہ اور مسلمہ فریقین ہے۔ یعنی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)۔ اس مضمون میں مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفر واسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔“

ان تحریرات کو پڑھ کر ہر عقلمند یقین کرے گا کہ اب صرف جگہ اور وقت اور طریق مناظرہ ایسی معمولی باتوں کا تصفیہ ہی باقی ہے جو بآسانی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اسی لئے میں نے مولوی صاحب سے درخواست کی تھی کہ بہت جلد اپنی طرف سے دو نمائندے مقرر فرمائیں۔ جو حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح (مرزا محمود) کے تجویز فرمودہ دو نمائندوں سے مل کر فوراً ان امور کا تصفیہ کر لیں اور تاریخ مناظرہ کا اعلان کر دیں۔

قارئین کرام! آپ یقیناً حیران رہ جائیں گے جب آپ کو معلوم ہو گا کہ سیدنا حضرت امیر المؤمنین (مرزا محمود) کے مندرجہ بالا اعلان سے جناب مولوی محمد علی صاحب کی تمام تعلیوں پر بجلی گر پڑی اور ان کی ساری شیخیاں کرکری ہوگئیں اور انہوں نے جو وطیرہ اختیار کیا ہے وہ سچ مچ ان کے شایان نہ تھا۔ میرے نزدیک دنیا کا کوئی معقول پسند انسان مولوی صاحب کے تازہ جواب کو بنظر استحسان نہیں دیکھ سکتا۔ بجائے معقولیت سے بحث کرنے کے آپ نے رجعت قہقہری اختیار کر لی ہے۔ ثالثوں کی شرط کے متعلق جناب کا تازہ ارشاد ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: ”میں خوشی سے بارہ کی بجائے آٹھ ہی آدمی تجویز کرتا ہوں اور چار غیر از جماعت آدمیوں کو ترک کر دیتا ہوں۔“ (پیغام صلح ۔ ١٥؍دسمبر) اور اس تجویز کا فائدہ بحث سے گریز کرنے کی بجائے یوں بیان فرمایا ہے: ”اس سے کم سے کم یہ معلوم ہو جائے گا کہ آیا کسی فریق کے دلائل اس قدر کمزور تو نہیں کہ خود ان کی اپنی جماعت کا کوئی فرد بھی ان سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تجویز مباحثہ کے ساتھ نہایت ضروری ہے۔“ افسوس کہ مولوی صاحب ایم۔ اے ہو کر اور ایک گروہ کے ”امیر“ کہلا کر ایسی کچی بات کہنے سے نہیں جھجکتے اور انہیں ذرا خیال نہیں آیا کہ جس تجویز کے متعلق وہ خود لکھ چکے ہیں: ”میں اس شرط کو بھی جس کا ذکر ابتداء میں کیا ہے چھوڑتا ہوں ۔“ (پیغام صلح۔ ١٩؍نومبر) ہاں جس تجویز کے متعلق وہ خود اپنے قلم سے تحریر کر چکے ہیں۔ ”یہ خیال کر کے کہ شاید اس طرح فتح وشکست کا خیال حائل ہو جاتا ہو ایک ماہ کے قریب ہوا میں نے خود اس شرط کو ترک کر کے یہ درخواست کی تھی کہ ویسے ہی میں اور آپ ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں اور پھر وہ تحریریں ایک جگہ شائع ہو جائیں تا کہ دونوں جماعتیں فریقین کے دلائل کا موازنہ کر سکیں اور مسلمان پبلک کے لئے بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی

٢٤

صفحہ ٥٥١

راہ نکل آئے۔‘‘

(پیغام صلح۔ ١١؍دسمبر)

آج حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کے اعلان کے بعد پھر اسی تجویز کو پہلے سے بھی بھونڈی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اگر مولوی صاحب اپنی مصلحت کے ماتحت اتنی موٹی بات بھی نہ سمجھنا چاہیں تو کیا دیگر تمام غیر مبائع دوستوں کے متعلق بھی ہمیں یہی خیال کر لینا چاہئے۔ بھائیو! خدارا انصاف سے کام لو۔

مولوی صاحب! اگر یہ تجویز اس لحاظ سے مباحثہ کے ساتھ نہایت ضروری تھی تو اس کے ترک کرنے کا آپ نے کیوں اعلان فرمایا اور اسے ’’فتح و شکست کے خیال‘‘ کا موجب کیوں قرار دیا اور اگر الفضل ١١؍دسمبر کے مضمون سے پیشتر آپ اس کے ترک کا اعلان کر چکے ہیں تو اب اس کی آڑ لینا کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ میں آپ کو ناصحانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ اب اس پر ضد نہ کریں ورنہ آپ کی معقولیت کے متعلق جن لوگوں کو خیال ہے ان کا خیال بھی بدل جائے گا۔ خدارا سوچیں اگر حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کے لاکھوں اتباع میں سے کسی کو آپ کے عقائد پر اطمینان نہیں تو وہ حضور (مرزا محمود) کی بیعت سے علیحدہ ہو کر کیوں آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو جاتا۔ اور اگر آپ محض کسی خاص منافق کو ہی جو اندر سے آپ کے ساتھ ساز باز رکھتا ہے۔ جیسا کہ مولوی عمر الدین صاحب کے مضمون مندرجہ پیغام صلح مورخہ ٧؍دسمبر ص ٥ کالم اوّل سے ظاہر ہے۔ ہماری جماعت میں سے ثالث منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ تو یہ امر نہ صرف آپ کی دیانتداری کے خلاف ہونا چاہئے بلکہ اس کا ہم پر ذرہ بھر اثر نہیں ہو سکتا۔ جو نادان بائیس سال یا کم و بیش تک ایک عقیدہ کی صحت کو نہ جان سکا۔ یا وہ خبیث جو اتنا لمبا عرصہ منافقت سے کام لیتا رہا اس کو ثالثی کے لئے منتخب کرنا صرف مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ ہم از روئے انصاف اس طریق کو نہ اپنے لئے اور نہ ان کے لئے پسند کرتے ہیں۔

ہم نہایت واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں کہ مولوی صاحب کی اب یہ تازہ ضروری تجویز غیر احمدیوں کو ثالث بنانے سے بھی بدتر ہے۔ اور یقیناً یہ مولوی صاحب کی طرف سے گریز کی راہ ہے۔ اگر ان کو جرأت ہے تو اس تحریری اور تقریری مباحثہ کے لئے قدم اٹھائیں۔ تحریریں چھپ کر ہر شخص کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گی۔ اور ہر شخص بآسانی فیصلہ کر سکے گا۔ اس وقت متروکہ شرط کو ضروری قرار دینا محض ایک مغالطہ دہی کی کوشش ہے۔ جس کا شکار شاید دنیا بھر کا کوئی عقلمند نہ ہو سکے۔ کیا ہم ان لوگوں سے جو غیر مبائعین میں سے انصاف کا دعویٰ کیا کرتے ہیں اپیل کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے جناب پریذیڈنٹ صاحب کو اس قسم کے تنکوں کا سہارا لینے کی بجائے

٢٥

صفحہ ٥٥٢

میدان بحث میں آنے پر آمادہ کریں۔

حضرات! آپ پڑھ چکے ہیں کہ مضمون مناظرہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) مسلمہ فریقین ہے۔ ہم اس کے ثابت کرنے کے مدعی ہوں گے۔ اور غیر مبائعین اس کے منکر ہوں گے۔ اور انہیں حق ہوگا کہ جس دلیل کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے خلاف استعمال کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ چاہیں تو کفر و اسلام کو پیش کریں۔ چاہیں تو جنازہ کا مسئلہ لے لیں۔ حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) اپنے دلائل قاطعہ کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کے ہر اعتراض، ہر حجت اور ہر دلیل کا پورا پورا ابطال فرمائیں گے۔ لیکن آپ کی حیرت کی حد نہ رہے گی جب آپ کو معلوم ہوگا کہ اب مولوی محمد علی صاحب نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کرنے سے ہی پہلوتہی کر رہے ہیں اور حیلوں بہانوں سے اس اصول بحث کو ٹالنا چاہتے ہیں۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

(١) ”افسوس میاں صاحب نے تکفیر کے مسئلہ کو چھوڑ دیا جو کہ اصل چیز ہے۔“

(٢) ”تکفیر اختلاف کی اصل ہے اور مسئلہ نبوت اس کی فرع۔“ (٣) ”اوّل تو بحث تکفیر المسلمین پر ہونی چاہئے۔ مسئلہ تکفیر کو اول لیا جائے اور مسئلہ نبوت کو اس کے بعد۔“ (٤) ”ان کے نزدیک وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ تو پھر یہی تو اصل مابہ النزاع ہے۔ اس کو ترک کرنے کا کیا مطلب؟ (٥) ”جب تک جناب میاں صاحب اپنے قلم سے صاف اس بات کا اعلان نہ کریں کہ وہ ان دو سوالوں پر جو یہاں لکھے ہیں بحث کرنے کو تیار ہیں اس وقت تک کوئی شرائط کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔“

(پیغام صلح۔ ١٥؍ دسمبر ١٩٣٦ء)

ناظرین کرام! جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے ان پانچ فقرات کا مطلب نہایت واضح ہے۔

(الف) آپ مجوزہ صورت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے ساتھ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق فیصلہ کن بحث کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں۔ اور نہ ہی اس کے لئے شرائط طے کرنے پر رضامند۔ اس کے متعلق ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں مولوی صاحب کو مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں ان کے ساتھیوں میں سے کوئی جرأت کر کے ان سے یہ کہہ دے تو بہتر ہو گا کہ فرض کرو ”قادیانی“ بقول آپ کے ”تکفیر المسلمین“ پر بحث کرنے سے جی چراتے ہیں تو آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔ چلو اگر دو مضامین پر

٢٦

صفحہ ٥٥٣

مباحثہ نہیں ہوتا تو ایک ہی سہی۔ اگر آپ نے اب مناظرہ نہ کیا تو قادیانی ہمیشہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کا چیلنج دے کر ہمارا ناطقہ بند کر دیا کریں گے۔ کیا کوئی غیر مبائع بھائی مولوی صاحب کو یہ معمولی سی بات سمجھا سکیں گے؟

کیونکہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو کیا دنیا کا کوئی دانا انسان کہہ سکتا ہے کہ مسئلہ تکفیر کو پہلے لیا جائے۔ کیونکہ معقول طریق یہی ہے کہ پہلے اصل کی تحقیق ہوتی ہے بعد ازاں فرع کی۔ اگر ہم منکرین حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ تو یہ عقیدہ تو حضور (مرزا قادیانی) کی نبوت پر متفرع ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت ثابت ہو جائے تو اس سے ثابت شدہ تمام نتائج کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ پس بہر حال مولوی صاحب کا ”پہلے اور بعد“ کا مطالبہ سراسر غلط اور ناواجب ہے۔ کیا مولوی صاحب اپنے اس مطالبہ کی غیر معقولیت پر نظر ثانی فرمائیں گے؟

بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ تکفیر کس کی تھی اور کیوں؟ یہ سراسر غلط ہے کہ تکفیر اختلاف کی اصل ہے۔ بلکہ جیسا کہ تاریخ سلسلہ جاننے والوں کو معلوم ہے مولوی محمد علی صاحب کے مرکز سلسلہ سے منقطع ہونے کا باعث یہ مسائل نہیں۔ بلکہ خلافت اور انجمن وغیرہ مسائل ہیں۔ اگر مولوی صاحب کو جرأت ہے تو خاکسار انہیں اس بارہ میں بھی چیلنج کرتا ہے کہ وہ ”اسباب اختلاف“ پر خود یا اپنے کسی نمائندہ کے ذریعہ مجھ سے تحریری و تقریری بحث کرلیں۔ کیا اختلاف کے اصل وجوہ کو چھپانے والے اس پر جرأت کر سکتے ہیں؟

امیر المومنین (مرزا محمود) نے تکفیر کے مسئلہ پر بحث کو چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ہم ”الفضل ١١؍دسمبر“ میں صاف طور پر لکھ چکے ہیں کہ ”مولوی محمد علی صاحب چاہے غیر احمدیوں کے جنازہ کو دلیل بنائیں یا ان کے کفر و اسلام کو۔ یہ ان کا حق ہوگا۔“ پس ہم اس مسئلہ کو چھوڑ نہیں رہے۔ بلکہ جیسا کہ آپ نے پیغام صلح (١٩؍نومبر) میں اسے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلاف بطور ایک دلیل پیش کیا ہے۔ ہم بھی آپ کو

٢٧

صفحہ ٥٥٤

پورا حق دیتے ہیں کہ اس دلیل کو پورے زور کے ساتھ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مسئلہ میں پیش کر لیں۔ بایں ہمہ آپ کا محض اتہام کی راہ سے بعض نادان غیر احمدیوں کو خوش کرنے کی کوشش کرنا آپ کے لئے مناسب نہ تھا۔ اگر آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نفی کر سکیں تو یقیناً کفر و اسلام کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے پس آپ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں۔

آج بائیس سال کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث سے بچنے کے لئے جو ذریعہ اختیار فرمایا ہے وہ محض مغالطہ اور سراسر باطل ذریعہ ہے آپ مسئلہ تکفیر کو ”اصل“ اور مسئلہ نبوت کو اس کی ”فرع“ قرار دیتے ہیں۔ آپ مسئلہ تکفیر کو ”اصل چیز“ قرار دیتے ہیں۔ آپ اسے ”اصل مابہ النزاع“ بتلاتے ہیں۔ اور یہ تمام کاروائی اس لئے کی جا رہی ہے کہ یہ عقیدہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث نہ کرنی پڑے۔ حالانکہ قبل ازیں خود مولوی محمد علی صاحب اپنے قلم سے تحریر فرما چکے ہیں۔

ہمارے احباب محض اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مد نظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیں تو اس کی راہ نہایت آسان ہے۔“

(ٹریکٹ نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق مشتہرہ ٣؍ فروری ١٩١٥ء ص ١٦)

کو ہمیشہ اور ہر مرتبہ ابتدائے دعویٰ سے لے کر وفات تک قسم اول یعنی نبی کی نبوت میں نہیں رکھا بلکہ قسم دوم یعنی محدث کی نبوت میں رکھا ہے۔ اور کوئی خصوصیت نبی کی نبوت والی اپنے لئے نہیں بتائی۔ اتنی بات کو اگر سمجھ لو تو مسئلہ کفر و اسلام خود حل ہو جاتا ہے۔“

(ٹریکٹ مذکورہ ص ١٧)

(النبوۃ فی الاسلام دیباچہ ص ١)

ہوں۔ اور جب تک میں نے یہ نہیں سمجھ لیا کہ میاں صاحب کی اس غلطی سے جو وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت کے بارے میں کر رہے ہیں۔ سلسلہ کو ایک ہلاکت کا سامنا ہے اس وقت تک ان کے خلاف قلم نہیں اٹھایا۔“

(ٹریکٹ ٣؍ فروری ١٩١٥ء ص ٢)

٢٨

صفحہ ٥٥٥

تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے ، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔“

(ٹریکٹ ٣؍ فروری ١٩١٥ء ص ١)

معزز قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب کے تازہ ارشادات اور پہلے بیانات میں صریح تناقض ہے۔ یہ کیوں؟ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ غیر مبائعین اس گتھی کو سلجھاتے رہیں۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ مولوی صاحب کسی طرح نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر بحث کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

بالآخر میں پھر کھلے طور پر اعلان کرتا ہوں کہ سیدنا حضرت امیر المؤمنین (مرزا محمود) نے مجھے فرمایا ہے:

”میری طرف سے اعلان کر دیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کر لیں۔ بحث میں خود کروں گا۔ انشاء اللہ“

اس اعلان کے بارے میں مولوی صاحب نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کی دستخطی تحریر کی بھی خواہش کی تھی۔ سو میں نے اس مضمون کے ابتدا میں حضور کی اپنی دستخطی تحریر بھی پیش کر دی ہے۔ تاکہ مولوی صاحب کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مضمون پر اگر مولوی محمد علی صاحب تیار ہوں تو انہیں میدان میں نکلنا چاہئے اور اپنے تمام مزعومہ دلائل کو بحث میں پیش کرنا چاہئے۔ کیونکہ اسی مسئلہ پر سارے اختلاف عقائد کی بنیاد ہے اور اس کے حل ہو جانے سے دیگر مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ اگر جناب مولوی صاحب کو یہ بات منظور ہو تو نمائندوں کا تعین فرمائیں تاکہ باقی معمولی شرائط کا جلد تصفیہ ہو سکے۔ لیکن اگر ان کو اس کی جرأت نہیں تو صاف اعلان کر کے مخلوق کی ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ میں جناب مولوی صاحب اور جملہ غیر مبائع بھائیوں سے مولوی صاحب ہی کے الفاظ میں درخواست کرتا ہوں کہ:

”میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ، سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو۔ اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔“

خاکسار ابو العطاء جالندھری ۔ ١٨؍ دسمبر ۔ (الفضل قادیان ٢٠؍ دسمبر ١٩٣٦ء)

٢٩

صفحہ ٥٥٦

فیصلہ کن مباحثہ کی دعوت کا قادیانی جواب

مسئلہ تکفیر پر بحث سے جناب خلیفہ قادیان کا افسوسناک گریز (پیغام صلح۔ لاہور)

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ ١٩٣٤ء کی ابتدا میں ہماری جماعت کے اکابر نے قادیانی حضرات کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تکفیر المسلمین اور نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مسائل پر جو ہم میں سب سے بڑی وجہ اختلاف ہیں۔ دونوں جماعتوں کے امیر ایک فیصلہ کن تحریری مباحثہ کر لیں۔ فریقین کے دلائل و خیالات بیک وقت یکجا شائع ہوں۔ اور بارہ ثالث اس طریق پر مقرر کئے جائیں کہ ہم قادیانی حضرات میں سے چار ثالثوں کو منتخب کر لیں۔ اسی طرح وہ ہماری جماعت میں سے چار اور دو دو ثالث فریقین غیر از جماعت لوگوں میں سے منتخب کر لیں۔ بحث کے اختتام پر یہ ثالث اپنا فیصلہ دے دیں۔ تجویز بالکل سیدھی سادھی اور نہایت معقول تھی لیکن افسوس جناب خلیفہ قادیان اور ان کے سرکردہ مصاحبین نے اس دوستانہ و مخلصانہ دعوت کا کوئی جواب نہ دیا۔ ہماری بار بار کی یاد دہانیاں بھی اس مہر سکوت کو نہ توڑ سکیں۔ لگا تار تقریباً پونے دو سال گزر گئے۔ مگر کئی بار یاد دہانی کے باوجود بھی نہ خلیفہ صاحب نے کچھ کہا نہ کسی مرید نے کہ ہم فلاں مسئلے پر بحث کرتے ہیں فلاں پر نہیں۔ یا فلاں شرط میں یہ نقص ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔“

(پیغام صلح لاہور ٢١/ دسمبر ١٩٣٦ء)

جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قادیانی سے ایک دردمندانہ درخواست

(پیغام صلح۔ لاہور)

مکرم معظم جناب میاں صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزشتہ ایک ماہ کے اندر میں نے دو دفعہ آپ کو ان دو مسائل پر بحث کے لئے مخاطب کیا جن پر ہم دو فریق کے اندر چوتھائی صدی سے اختلاف چلا آتا ہے۔ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں مجھے مباحثات کا شوق نہیں۔ بلکہ اپنی جماعت کو بھی زیادہ مباحثات میں پڑنے سے روکتا ہوں۔ مجھے جس بات نے آپ کو خطاب کرنے پر آمادہ کیا وہ صرف اسی قدر ہے کہ اس وقت جو کچھ ہم دونوں فریق کی طاقت باہمی مباحثات پر ضائع ہو رہی ہے وہ کسی بہتر مصرف پر لگے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ نے اس کی طرف اس قدر توجہ فرمائی کہ دو اختلافی مسائل سے ایک

٣٠

صفحہ ٥٥٧

مسئلہ پر بحث کی آمادگی ظاہر کی۔ لیکن اس بات کا افسوس ہے کہ آپ کی طرف سے جو مولوی صاحب لکھ رہے ہیں انہوں نے اسے ابھی سے فتح و شکست کا سوال بنالیا ہے۔ حالانکہ اصل غرض یہ ہے کہ اختلافی مسائل پر آپ کے دلائل میری جماعت کے سامنے آجائیں اور میرے دلائل آپ کی جماعت کے سامنے آجائیں۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ اختلافی مسائل میں سے ایک پر تو آپ بحث کی آمادگی ظاہر فرماتے ہیں دوسرے سے کیوں انکار کرتے ہیں۔ تمام احمدی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ عقائد کے لحاظ سے جماعت قادیانی اور جماعت لاہور میں یا آپ میں یا مجھ میں دو باتوں پر اختلاف موجود ہے۔

دعوے کو نہیں مانتے انہیں بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تمام کلمہ گو جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے گو انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

اپنی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنے کو اپنے اوپر افتراء قرار دیا۔ ہاں مجاز کے طور پر یا لغوی معنے کے لحاظ سے اپنے لئے لفظ نبی استعمال کیا۔ آپ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو مدعی نبوت مانتے ہیں؟

اب آپ اس دوسرے مبحث کو قبول کر کے اس پر بحث کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن مبحث اول پر بحث کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

(پیغام صلح لاہور۔ ٢٣؍دسمبر ١٩٣٦ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب لاہوری سے خدا کے نام پر اپیل

(الفضل۔ قادیان)

جناب مولوی صاحب! آپ کا ٹریکٹ ”ایک دردمندانہ درخواست“ اور ”پیغام صلح“ ٢١؍دسمبر کا مقالہ افتتاحیہ اس وقت میرے زیر نظر ہے۔ جماعت احمدیہ کے لئے نہایت خوشی کا مقام ہوتا اگر آپ از روئے دیانت و انصاف مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر سیدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) کے ساتھ تحریری تقریری یا ہر دو قسم مناظرہ کے لئے مستعد ہو جاتے اور اس طرح بقول آپ کے ”مسئلہ کفر و اسلام خود حل ہو جاتا۔“ لیکن افسوس کہ آپ نے اس پر کسی رنگ میں آمادگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ جناب اور ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کے

٣١

صفحہ ٥٥٨

غلط بیانات کی مفصل تردید بذریعہ اخبار الفضل کرنے سے پیشتر میں پھر ایک مرتبہ آپ سے اس خدا کے نام پر عاجزانہ درخواست کرتا ہوں۔ جس کے سامنے ہم سب کو مرنے کے بعد حاضر ہونا ہے کہ آپ اپنے مندرجہ ذیل الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت امام جماعت احمدیہ کے ساتھ اس بارہ میں جلد فیصلہ کن مناظرہ کر لیں۔ آپ کو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مکفرین و مکذبین کو مسلمان کہنے کا زیادہ فکر ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ خدا کے مقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی شان کو اصل رنگ میں ظاہر کیا جائے۔"

(الفضل قادیان ٢٩ نومبر ١٩٣٦ء)

جناب خلیفہ صاحب قادیان سے خدا کے نام پر اپیل

(پیغام صلح۔ لاہور)

فیصلہ کن مباحثہ کے متعلق ہمارے اور قادیانی حضرات کے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے قارئین کرام اس کے متعلق تمام واقعات سے پوری طرح باخبر ہیں۔ شروع ١٩٣٥ء میں ہماری جماعت کے سرکردہ اصحاب نے نہایت خلوص سے قادیانی اکابر کو دعوت دی کہ مسئلہ تکفیر اور مسئلہ نبوت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق جو ہم میں وجہ اختلاف ہیں دونوں جماعتوں کے امیروں کے درمیان تحریری مباحثہ ہو جائے اور اس کے لئے ہم نے نہایت معقول اور مساوی شرائط پیش کیں۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ تک قادیانی حضرات خاموش رہے۔ گذشتہ ستمبر میں انہوں نے مولوی محمد احسن صاحب کی ایک تحریر کا سہارا لے کر کچھ حرکت کی اور مولوی اللہ دتہ صاحب قصر خلافت سے سند سفارت حاصل کر کے ”الفضل“ کے صفحات پر قادیانی تیوروں کے ساتھ نمودار ہوئے آخر بہت ردّ و قدح کے بعد جناب خلیفہ صاحب نے مجبوراً مسئلہ نبوت پر بحث کے لئے آمادگی ظاہر فرمائی۔ لیکن مسئلہ تکفیر کے متعلق بدستور سکوت طاری رہا۔ اس پر ہم نے بھی ”پیغام صلح“ ٢١؍ دسمبر ١٩٣٩ء میں چند معروضات پیش کیں اور حضرت امیر (محمد علی) نے جناب خلیفہ صاحب کو مخاطب کر کے لکھا کہ:

”عقائد کے لحاظ سے جماعت قادیانی اور جماعت لاہور میں یا آپ میں اور مجھ میں دو باتوں پر اختلاف موجود ہے۔

قادیانی) کے دعوے کو نہیں مانتے انہیں بھی مسلمان سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک تمام کلمہ گو جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے گو انہوں نے

٣٢

صفحہ ٥٥٩

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہ سنا ہو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

اپنی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنے کو اپنے اوپر افتراء قرار دیا۔ ہاں مجاز کے طور پر یا لغوی معنی کے لحاظ سے اپنے لئے لفظ نبی استعمال کیا۔ آپ حضرت مسیح موعود کو مدعی نبوت مانتے ہیں۔“

(پیغام صلح لاہور ٤۔ جنوری ١٩٣٧ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب سے فیصلہ کن مناظرہ کب اور کس طرح ہوگا؟

(الفضل قادیان)

جناب مولوی محمد علی صاحب کا خطاب جماعت احمدیہ سے

”میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلاف بھی ہے۔ جس قدر مسائل اختلافی ہم ہر دو فریق میں ہیں وہ اسی اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں۔“

(ٹریکٹ ”نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق ص١)

سیدنا حضرت امیر المؤمنین امام جماعت احمدیہ کا اعلان

”میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔ آپ اُن سے شرطیں طے کریں۔ سو معقول شرائط جن میں کوئی لغویت اور کھیل کا پہلو نہ ہو جب بھی طے ہو جائیں تو مجھے مولوی صاحب سے مباحثہ کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ الا ان یشاء اللہ۔ مباحثہ کی غرض اگر ایک جماعت تک حق کی آواز کا پہنچانا ہو تو اس میں مجھے عذر ہی کیا ہو سکتا ہے۔

(الفضل ۔ ٢٠؍دسمبر ١٩٣٦ء ‘ ١٧؍جنوری ١٩٣٧ء)

کیا اہلِ پیغام شرافت اور معقولیت سے شرائط طے نہ کریں گے؟

(الفضل قادیان)

سیدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح (مرزا محمود) نے خاکسار کو ارشاد فرمایا تھا کہ

صفحہ ٥٦٠

”جناب مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مباحثہ تو میں خود کروں گا، انشاء اللہ۔ آپ ان سے شرطیں طے کریں۔“ گویا حضور نے معقول اور مساوی شروط کے تصفیہ کے لئے خاکسار کو مقرر فرمایا۔ مگر جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس مرحلہ کو مختصر کرنے کی بجائے طویل تر بنا دیا ہے۔ اور مجبوراً ہمیں بھی مضمون لکھنے پڑے۔ لیکن اشتہار ”جناب مولوی محمد علی صاحب سے خدا کے نام پر اپیل“ نہایت مختصر اور فیصلہ کن تھا۔ اسے پڑھ کر جناب ایڈیٹر صاحب پیغام نے ایک سلسلہ دشنام مرتب فرمانے کے بعد لکھا ہے:

”مولوی اللہ دتہ صاحب کی حرکت نہایت معاندانہ اور تکلیف دہ ہے۔ لیکن ہم انہیں ایک حد تک معذور سمجھتے ہیں۔ جناب خلیفہ صاحب نے ایک ایسی خدمت ان کے سپرد فرمائی ہے جسے شرافت و معقولیت اور دیانت و صداقت کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا۔“ (٤۔ جنوری)

تا حال میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اہل پیغام سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ کے لئے مساوی اور معقول شرائط کا تصفیہ شرافت و معقولیت اور دیانت و صداقت کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتا؟ بے شک جناب مولوی محمد علی صاحب کا تکفیر کو پہلے مستقل موضوع بنانا معقولیت سے بالکل عاری ہے۔ جس کی گواہی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی دی ہے۔ لیکن ہم ہنوز مایوس نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں مولوی صاحب اس ضد کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہاں اگر ”پیغام صلح“ کے نزدیک انہوں نے شرائط کے شرافت و معقولیت سے طے نہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ان الفاظ سے مترشح ہوتا ہے۔ تو یہ ایک افسوسناک امر ہوگا۔ بہر حال آئندہ اس بیان کی حقیقت کھل جائے گی۔“ خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ٢٩؍ جنوری ١٩٣٧ء)

فیصلہ کن مباحثہ سے جناب خلیفہ قادیان کا افسوسناک گریز

(پیغام صلح۔ لاہور)

جناب خلیفہ صاحب کی بے محل و تعجب انگیز خاموشی

افسوس جناب خلیفہ قادیان ہماری جماعت کی مخلصانہ دعوت کے جواب میں بدستور فیصلہ کن مباحثہ سے گریز فرما رہے ہیں اور مولوی اللہ دتہ صاحب صرف اپنی طویل نویسی کی عادت کو پورا کر رہے ہیں۔ جناب خلیفہ صاحب بہت کچھ لکھ سکتے یا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن دو لفظ اس کے متعلق لکھنا یا بولنا پسند نہیں کرتے کہ آیا وہ ساٹھ کروڑ مسلمانوں کی تکفیر کے متعلق کوئی دلیل پیش

صفحہ ٥٦١

کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ جب وہ مسئلہ نبوت پر بحث کی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ تو اس دوسرے مسئلے پر جس سے انہوں نے اتحاد اسلام کی بنیادوں کو پاش پاش کیا ہے خود کیوں دو لفظ نہیں لکھ دیتے۔ اگر ان کی خود لکھنے میں کسر شان ہے تو کسی خطبہ میں ہی بیان کر دیں کہ ہم ساٹھ کروڑ مسلمانوں کی تکفیر کرنے کے بعد اب اس کی تائید میں کوئی دلیل دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ ایک مسلمان کو بھی کافر کہا جائے تو کفر الٹ کر کہنے والے پر پڑتا ہے۔ اور جناب خلیفہ صاحب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کو ایک جنبش قلم سے کافر بنا دیں۔ اور پھر اختلافی مسائل پر بحث کا ذکر آئے تو یہ مسئلہ ان کے نزدیک اس قابل ہی نہیں کہ اس کی تائید یا تردید میں کوئی دلیل دینے کی ضرورت ہو۔‘‘ الخ

(پیغام صلح ۔ ٣؍فروری ١٩٣٧ء)

زیر تجویز مناظرہ کے متعلق ایک مفید تجویز

(الفضل۔ قادیان)

احباب کو معلوم ہے کہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی (مرزا محمود) نے بنفس نفیس جناب مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔ مگر مولوی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اس مسئلہ پر بحث میں رخنہ اندازی ہو رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں ہمارے دوست مولوی سمیع الدین صاحب احمد نے جترود سے حضرت امیر المومنین (مرزا محمود) کی خدمت میں لکھا ہے:

’’مولوی محمد علی صاحب آف لاہور نے مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ گو وہ ایسے مرد میدان تو معلوم نہیں ہوتے کہ وہ اس مناظرہ کے لئے تیار ہوں اور حضور سے مقابلہ کی جرأت کر سکیں صرف نمائشی چیلنج معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اگر وہ آمادہ ہو جائیں تو گو اس کے شرائط حضور اور حضور کے نمائندہ مجھ سے ہزار درجہ بہتر سمجھ سکتے اور تجویز کر سکتے ہیں۔ مگر جو ایک بات میری رائے میں ہے وہ پیش کرتا ہوں۔ مقام مناظرہ اگر لاہور مولوی صاحب پسند کریں تو احمدیہ جماعت کے قیام و طعام اور حفظ و امن کے وہ ذمہ دار ہوں۔ اور جس قدر افراد بھی شمولیت کے لئے ہماری جماعت میں سے بیرونجات سے جائیں وہ سب کے ٹھہرنے اور کھانے کا انتظام کریں۔ کیونکہ وہ ان کا مرکز ہے۔ لیکن اگر وہ معہ اپنے رفقاء قادیان آنا اور قادیان میں مناظرہ منظور کریں۔ تو ان کی رہائش و خوراک اور حفظ امن کی ذمہ داری ہماری جماعت پر ہو۔ اس طرح بھی ان کے بلند بانگ دعاوی دربارہ جماعت اور چندوں کی ترقی کا پول کھل جائے گا۔ اور ان کی ہمت کا امتحان ہو گا۔ خدا کرے

صفحہ ٥٦٢

وہ اس امتحان کے لئے آمادہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمارے شامل حال ہو۔ صداقت احمدیت کا نور دنیا میں پھیلے۔ آمین‘‘

بلاشبہ جناب مولوی مسیح الدین صاحب کی یہ تجویز بہت مناسب ہے۔ کیا جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے اس پر بھی غور فرمائیں گے؟ خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان ١٠؍فروری ١٩٣٩ء)

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ

(الفضل قادیان ۔ ٢٨؍فروری ١٩٣٧ء)

مقام خوشی ہے کہ اہلِ پیغام کی طرف سے ثالثوں کی فرسودہ تجویز کو واپس لے لیا گیا ہے۔ چنانچہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ کی اشاعت ١٧؍جنوری ١٩٣٧ء میں شائع شدہ مفصل مضمون دربارہ مناظرہ کا جو جواب جناب ایڈیٹر صاحب ’’پیغام صلح‘‘ نے لکھا ہے۔ اس میں مولوی محمد علی صاحب کی اس تجویز پر ہمارے معقول اعتراضات کے جواب میں کامل سکوت اختیار کیا گیا ہے بلکہ بظاہر اب تو یہ امکان بھی باقی نہیں کہ جس طرح جناب مولوی صاحب نے ایک مرتبہ اس تجویز کو واپس لے کر دوبارہ اسی کی آڑ لینی شروع کر دی تھی۔ پھر کبھی اس نامعقول مطالبہ کو پیش کر دیا جائے گا۔ کیونکہ ایڈیٹر صاحب ’’پیغام‘‘ نے صاف لکھ دیا ہے:

’’کوئی ایسا جج نہیں جو مسئلہ نبوت پر بحث سُن کر فیصلہ دے دے اور لوگ اس کے فیصلہ کو تسلیم کر لیں۔ سننے والوں کو خود فریقین کے دلائل کا موازنہ کر کے رائے قائم کرنی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ان میں راستی پر کون ہے اور غلطی پر کون ہے۔

(الفضل قادیان ٣؍فروری ۔ ٢٣؍فروری ١٩٣٧ء)

جناب خلیفہ قادیان سے مباحثہ کے متعلق فیصلہ کن گذارش

(پیغام صلح۔ لاہور)

مولوی اللہ دتہ صاحب نے فیصلہ کن بحث کے متعلق مضمون شائع کیا ہے۔ جس کی ابتداء ہی ثالثوں والی شرط سے ہوئی ہے۔ قادیانی دوست ثالثوں والی شرط سے اس قدر گھبراتے ہیں کہ جونہی اس کا ذکر آیا۔ بس ہوش و خرد کے طوطے اُڑ گئے۔ گذشتہ مضمون میں ’’پیغام صلح‘‘ نے ثالثوں والی شرط کا ذکر نہ کیا۔ کیونکہ یہ بات پہلے متعدد بار دہرائی جا چکی تھی۔ مگر اس کی عدم

صفحہ ٥٦٣

موجودگی سے مولوی صاحب کی جان میں جان آئی۔ کہ ”دیکھو ہم تو پہلے ہی کہتے تھے یہ شرط بے معنی ہے۔“ مگر ان کو یہ خیال رہے کہ ہماری یہ شرط بدستور قائم ہے۔ مولوی صاحب کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ پیغام صلح نے اگر یہ لکھا کہ ایسا کوئی جج نہیں ہو سکتا کہ جس کے فیصلہ کو فریقین تسلیم کرلیں گے تو اس سے یہ کس طرح واضح ہوا کہ ہم نے ثالثوں کی شرط کو چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں لکھا کہ ثالثوں کے فیصلہ کو فریقین تسلیم کرلیں۔ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور کسی ثالث کے فیصلے سے کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتا۔ ہم ثالثوں کی شرط پر سختی سے قائم ہیں اور اس کی غرض صرف یہ ہے کہ واضح ہو جائے کہ کونسا فریق اس قدر زبردست دلائل رکھتا ہے کہ دوسرے فریق کے احباب کو بھی غلطی سے نکال کر اپنا ہم خیال بنا لیتا ہے۔ یعنی اگر چار دوست قادیان کے ہوں گے اور ان میں سے دوران بحث میں ایک یا دو ہمارے دلائل سے قائل ہو کر ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے تو ہر دو جماعتوں کے افراد اور دیگر مسلمانوں کو حق وصداقت کے پرکھنے اور دلائل کا اندازہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اور مقابلتاً بہت زیادہ لوگ حقیقتِ عقائد سے باخبر ہو جائیں گے۔

مولوی اللہ دتہ صاحب نے مناظرانہ پیش بندی کے طور پر کہا ہے کہ احمدی اب پھر ثالثوں والی شرط پر اصرار کریں گے۔ مگر مولوی صاحب ہم نے اسے چھوڑا ہی کب ہے۔ یہ تو آپ کی ”حسن ظنی“ ہے جو ایسا سمجھ رہے ہیں۔ مگر آپ ثالثوں والی تجویز سے گھبراتے کیوں ہیں اس لئے کہ میاں صاحب کو اپنے مریدوں کی ضعیف الاعتقادی کا یقین ہے۔ آپ کا اعتراض تو ایک ہی تھا کہ ہم کسی منافق کو جو آپ کی جماعت میں ہے ثالث تجویز کریں گے۔ اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں کہ جس کے متعلق یہ کہہ دیا جائے کہ وہ منافق ہے ہم اسے چھوڑ دیں گے اور اس کا نام بھی شائع نہیں کریں گے اور اگر اس بات کا ڈر ہے کہ اگر فیصلہ آپ کے خلاف ہو گیا تو اکثر لوگ ساتھ چھوڑ جائیں گے تو حق کی خاطر آخر مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہاں تو آپ پھر سن لیجئے کہ ثالثوں کی شرط قائم ہے۔“

(پیغام صلح لاہور ٣؍ مارچ ١٩٣٧ء)

فیصلہ کن مناظرہ سے جماعت قادیان کا گریز

(پیغام صلح۔ لاہور)

سیدنا حضرت امیر (محمد علی لاہوری) کے فیصلہ کن مناظرہ کے چیلنج کے جواب میں جناب خلیفہ صاحب قادیان کے وکیل مولوی اللہ دتہ صاحب جالندھری کا مسیح موعود کے دعویٰ

صفحہ ٥٦٤

نبوت پر بحث کے لئے اصرار اور مسئلہ تکفیر پر تبادلۂ خیالات سے بضد انکار فی الواقعہ تعجب انگیز ہے۔ اگر یہ کمزوری جناب خلیفہ صاحب سے رونما ہوتی تو ہماری جماعت انہیں ایک حد تک معذور سمجھتی۔ کیونکہ ہم جناب موصوف کے افلاس دلائل اور کمی علم کو جانتے ہیں اور اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ یہ ہر دو مسائل میاں صاحب کے ہی اختراع کردہ ہیں اور سیدنا حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں ان کی کوئی سند نہیں۔ لیکن ایک مرید کا اپنی طرف سے وکالت کر کے اپنے پیر کو کسی مسئلہ پر بحث کرنے سے بچانے کی کوشش کرنا معاملہ کو سخت مشکوک اور مشتبہ بنا دیتا ہے۔

قادیانی مریدوں کا ”واجب الاطاعت“ پیر سے انحراف

ہر ایک مرید کی یہ ایک فطرتی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے پیر سے ہر مسئلہ کے متعلق زیادہ سے زیادہ روشنی حاصل کرے اور اس امر میں کوشش وسعی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے مگر یہاں یہ عجیب معاملہ نظر آتا ہے کہ ایک مرید اپنے پیر کو ایک معرکۃ الآراء مسئلہ پر بحث کرنے سے بچانے کے لئے صفحے کے صفحے سیاہ کرتا ہے۔ اور جماعت قادیان خاموش ہے۔ مریدوں کو تو یہ چاہئے تھا کہ اپنے ہر امر میں واجب الاطاعت امام کو جو انہیں ظلمات سے نور کی طرف لے جانے کا مدعی ہے مجبور کرتے کہ وہ صرف ان دو مسائل کی بحث پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ اسمہ احمد کی پیشگوئی پر بھی جس کے متعلق اس نے دنیا جہاں کے علماء فضلاء کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے بحث پر اصرار کرے۔ مسیح موعود کی تبدیلی عقیدہ اور غیر احمدیوں کے نماز جنازہ کے عدم جواز کو بھی الگ موضوع بنائے۔ تاکہ ان کے اپنے دل بھی نور ایمان سے بھر پور ہو جائیں اور ”پیغامیوں“ کی غلط فہمیوں اور شکوک کا بھی ازالہ ہو جائے۔ یا کم از کم ان پر اتمام حجت ہی ہو جائے۔ اگر قادیانیوں کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی نور ایمان ہے اور وہ ان ہر دو مسائل میں اپنے تئیں علیٰ وجہ البصیرت راستی پر سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے ان عقائد خصوصی کی تبلیغ کے موقع کو ایک نعمت خداداد سمجھنا چاہئے اور اس نادر اور عظیم الشان موقع کو بے کار باتوں میں پڑ کر اپنے ہاتھ سے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

تلخ پیالہ کو ٹالنے کی کوشش:۔ ہم نے اکثر قادیانی دوستوں کو اس امر پر تأسف کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے قرآن کریم پر تھوڑے اعتراض کئے۔ کاش وہ اور زیادہ اعتراض کرتا تو قرآن اور زیادہ ظاہر ہوتا۔ اور حضرت مسیح موعود کی زبان مبارک سے قرآن کریم کے اور زیادہ معارف سننے اور اپنے نور ایمان کو اور زیادہ تازہ کرنے کی سعادت ملتی۔ بلکہ بعض

صفحہ ٥٦٥

قادیانی دوست تو یہاں تک مبالغہ کیا کرتے ہیں کہ کاش عبداللہ آتھم قرآن کریم کی ایک ایک آیت پر اعتراض کرتا تو اس طرح آج ہمارے ہاتھوں میں حضرت مسیح موعود کی اپنی لکھی ہوئی تفسیر ہوتی۔ مگر آج یہ الٹی گنگا بہتی نظر آتی ہے کہ ایک شخص جو اپنے علم وفضل کے لئے بین الاقوامی شہرت کا مالک ہے۔ میاں صاحب کو صرف دو مسئلوں کی دعوت دیتا ہے اور مدعی اسلام کے واحد ٹھیکیدار ہر امر میں واجب الاطاعت امام کو اس تلخ پیالہ کو پینے سے بچانے کے لئے ہر قسم کے مکر و فریب اور دجل سے کام لے رہے ہیں۔ تا کہ اس کی پردہ دری نہ ہو۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

(پیغام صلح لاہور۔ ١١؍ مارچ ١٩٣٧ء)

مولوی محمد علی صاحب مناظرہ سے گریز کر رہے ہیں

(الفضل ۔ قادیان)

ہمارے مضامین کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب فیصلہ کن مناظرہ سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ کھلی تحریروں کے باوجود کبھی ثالثوں کی آڑ لی جاتی ہے کبھی کفر و اسلام کو بچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم ایک گذشتہ مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ کفر و اسلام کے متعلق بحث کرنے کا حق صرف غیر احمدیوں کو ہے۔ اہل پیغام اس کا بار بار ذکر کر کے محض اپنی کمزوری کو چھپانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت نہایت واضح ہے۔ چنانچہ ہمیں مولوی حافظ گوہر دین صاحب مبلغ اہل حدیث کی حسب ذیل چٹھی حال میں موصول ہوئی ہے:

”جب سے اخبار الفضل اور پیغام صلح میں قادیانی اور لاہوری احمدیوں کے فیصلہ کن مناظرہ کرنے کا سلسلہ جاری ہوا ہے، اس وقت سے ہم نے فریقین کے شائع شدہ بیانات کا مطالعہ کیا۔ آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری اس مناظرہ سے گریز کر رہے ہیں۔ کیونکہ مولوی صاحب نے اپنی سابقہ تحریروں میں صاف لکھا ہے کہ ہمارے درمیان جو اختلاف مسائل ہے اس کی اصل جڑ مسئلہ نبوت ہے۔ اس لئے ہم مولوی صاحب سے ان کی اپنی تحریروں کی بنا پر غیر جانبدارانہ جہت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا رویہ ان کی کمزوری عقائد کا پبلک پر پورا پورا اثر ڈال رہا ہے۔ مولوی صاحب کو چاہئے کہ مسئلہ نبوت پر قادیانیوں سے مناظرہ کر کے اپنے حق پر ہونے کا ثبوت دیں۔ دراصل کفر و اسلام کا مسئلہ ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔ قادیانی نہ لاہوریوں کو کافر سمجھتے ہیں اور نہ لاہوری قادیانیوں کو کافر۔ اس لئے اس بحث میں پڑنا محض تضیع اوقات ہے۔ اس معاملہ میں ہم جانیں اور قادیانی۔

صفحہ ٥٦٦

بہر حال اس مناظرہ کو پبلک اشتیاق کی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ امید ہے کہ مولوی محمد علی صاحب جلد از جلد تصفیۂ شرائط کر کے مسئلہ نبوت پر فیصلہ کن مناظرہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔ دیدہ باید۔ خادم حافظ گوہر دین مبلغ اہل حدیث مرکز ضلع گورداسپور

در حقیقت تمام عقل و سمجھ رکھنے والے اس بارہ میں وہی کہیں گے جو حافظ صاحب نے کہا ہے۔ کیا ہم امید رکھیں کہ ہمارے غیر مبائع دوست اب بھی جناب مولوی محمد علی صاحب کو آمادہ کر سکیں گے کہ وہ اپنی تحریر کے مطابق نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق سیدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے فیصلہ کن مناظرہ کریں۔

خاکسار ابو العطاء جالندھری۔ (الفضل قادیان ١٦؍ مارچ ١٩٣٧ء)

حق کا جادو سر چڑھ بولے (پیغام صلح۔ لاہور)

سیدنا حضرت محمد علی صاحب (لاہوری) نے ١٩؍نومبر ١٩٣٦ء کے پیغام صلح میں ’امیر جماعت قادیان کو فیصلہ کن بحث کے لئے دعوت‘ کے عنوان سے ایک مختصر سا نوٹ شائع کروایا....... جس کے جواب میں جناب خلیفہ صاحب کی طرف سے قریباً ایک ماہ تک کوئی جواب شائع نہ ہوا۔ اس کے بعد حضرت ممدوح نے ١١؍دسمبر ١٩٣٦ء کے ”پیغام صلح“ میں مکتوب مفتوح بخدمت جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب“ لکھا۔ جس میں جناب خلیفہ صاحب قادیان کو مسئلہ تکفیر مسلمین اور نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن بحث کرنے کے لئے دوبارہ یاد دہانی کرائی۔ یہ مکتوب اخبار میں چھپ چکا تھا۔ جب ١١؍دسمبر ١٩٣٦ء کے الفضل میں مولوی اللہ دتہ صاحب کا ایک مضمون بطور مقالہ افتتاحیہ شائع ہوا۔ اس میں مضمون نگار نے لکھا کہ جناب خلیفہ صاحب نے ان سے ارشاد فرمایا ہے:

”میری طرف سے اعلان کر دیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق بحث کروں گا۔ انہیں چاہئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کر لیں۔ بحث میں خود کروں گا۔“

اس پر حضرت امیر (محمد علی لاہوری) نے ١٥؍دسمبر ١٩٣٦ء کے پیغام صلح میں تکفیر اور نبوت کے مسائل پر فیصلہ کن بحث کے عنوان کے ماتحت لکھا:

”الفضل میں جو اعلان ہوا ہے اس میں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر بحث کا ذکر ہے اور مسئلہ تکفیر کا ذکر کوئی نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سہوًا رہ گیا ہو۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ جناب میاں صاحب

صفحہ ٥٦٧

مسئلہ تکفیر مسلمین پر بحث کرنے سے عمداً گریز فرما رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ دونوں فریق کا اختلاف پہلے اس مسئلہ تکفیر پر ہی ہوا اور مسئلہ نبوت کی بحث بعد میں شروع ہوئی۔ مسئلہ تکفیر مسلمین حضرت مولانا نور الدین (قادیانی) کی زندگی میں ہی دو گروہوں کا مبحث بن گیا تھا۔ اس کی وجہ سے ہم نے قادیان چھوڑا۔ اور ہم تو آج بھی یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر جناب میاں صاحب مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑ دیں اور سب کلمہ گوؤں کو بروئے قرآن وحدیث و بروئے تحریرات حضرت مسیح موعود نہ اپنی ایجاد کردہ سیاسی تعریف کی رو سے مسلمان ہونا تسلیم کرلیں تو ہم مسئلہ نبوت پر ان کے ساتھ بحث کو آئندہ ترک کردیں گے۔ لیکن ان کے نزدیک وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو پھر یہی تو اصل مابہ النزاع ہے۔ اس کو ترک کرنے کا کیا مطلب؟ ہماری بحث ان باتوں پر ہوگی:

انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

جب تک جناب میاں صاحب (مرزا محمود) اپنے قلم سے اس بات کا اعلان نہ کریں کہ وہ ان دو سوالوں پر جو یہاں لکھے ہیں بحث کرنے کو تیار ہیں اس وقت تک کوئی شرائط طے کرنے سے فائدہ نہیں۔‘‘

(پیغام صلح لاہور۔ ٢١؍جون ١٩٢٧ء)

فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کا گریز

(الفضل قادیان۔ ایضاً ١٦، ٢٣؍دسمبر ١٩٣٧ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین نے تحریر فرمایا تھا:

ہمارے احباب محض اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مدنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیں تو اس کی راہ نہایت آسان ہے۔‘‘

تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ ہمارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔‘‘

(ٹریکٹ نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق)

صفحہ ٥٦٨

یہ واضح، صاف اور کھلی تحریرات لکھنے کے بعد آج اگر مولوی محمد علی صاحب خود ہی فیصلہ کی اس ”نہایت آسان راہ“ کو چھوڑ دیں۔ دوسرے معاملات کو ملتوی رکھنے کی بجائے انہیں مقدم کرنا چاہیں اور ”سب سے پہلے اس ایک بات کے فیصلہ کرنے“ پر رضامند نہ ہوں تو فرمائیے کیا اس کا بدیہی نتیجہ یہ نہیں کہ جناب مولوی محمد علی صاحب اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مد نظر رکھ کر بات نہیں کر رہے ۔“ الخ

(الفضل قادیان ١٢؍ دسمبر ١٩٣٧ء)

قادیانیوں پر آخری اتمام حجت (پیغام صلح ۔ لاہور)

الفضل مجریہ ١٤۔١٦۔٢٣ دسمبر ١٩٣٧ء میں مولوی اللہ دتہ صاحب نے بڑے زور شور سے شائع کرایا ہے کہ گویا فیصلہ کن مناظرہ سے حضرت مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور گریز کر گئے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ میں نے ان مضامین کا جو ”الفضل“ میں نکلے تھے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت امیر کی خدمت میں ذکر کر کے جواب کے لئے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میاں صاحب خود کچھ لکھتے تو میں جواب دیتا۔ مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کا کیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے رہیں۔ میں نے عرض کی کہ ان مضامین میں مولوی اللہ دتہ صاحب اپنے آپ کو میاں صاحب کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ حضرت امیر نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کی خواہ مخواہ کی بات ہے۔ میاں صاحب نے کہیں انہیں اپنا مختار عام نہیں بنایا۔ تاہم آپ ان مضامین کا جواب لکھیں۔ میں نے عرض کی کہ بہت اچھا۔ میں جواب لکھ کر بھیج دوں گا۔ سو آج میں ان مضامین کا مختصر جواب لکھتا ہوں:

مبحث کیا ہونا چاہئے؟ ہمارے اور قادیانی حضرات کے درمیان جو سب سے بڑا اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دعویٰ کے انکار کرنے والے اہل قبلہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیتے اور جناب میاں صاحب تمام اہل قبلہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے اس موضوع پر بحث ہونی چاہئے مگر قادیانی جماعت کہہ رہی ہے کہ اس موضوع پر مستقل بحث کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کفر نتیجہ ہے اور اس کی علت حضرت مرزا صاحب کی نبوت ہے پس بحث اصل پر ہونی چاہئے نہ کہ فرع پر۔ خلاصہ کلام یہ کہ ہم مسئلہ کفر و اسلام کو اہم اور مقدم کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک یہی سب سے بڑا سوال ہے اور قادیانی جماعت چاہتی ہے کہ بحث نبوت مسیح موعود پر ہو اور ضمناً مسئلہ کفر و اسلام پر بھی بحث ہو جائے ۔“ الخ

(پیغام صلح لاہور ۔ ٢٦؍ جنوری ١٩٣٨ء)

صفحہ ٥٦٩

نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ

(الفضل۔ قادیان)

بے جا عذر:۔ الفضل ١٤، ١٦، ٢٣؍دسمبر ١٩٣٧ء میں خاکسار نے ”فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کا صریح گریز“ کے عنوان سے تین مقالات لکھے تھے۔ جن کے جواب سے مولوی صاحب موصوف نے کلیۃً خاموشی اختیار فرمائی۔ مولوی عمر الدین صاحب لکھتے ہیں:

”میں نے ان مضامین کا جو ’الفضل‘ میں نکلے تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت امیر کی خدمت میں ذکر کر کے جواب کے لئے عرض کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میاں صاحب خود کچھ لکھتے تو میں جواب دیتا۔ مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کا کیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے رہیں۔“

(پیغام صلح ٢٦؍جنوری ١٩٣٨ء)

افسوس کہ جناب مولوی محمد علی صاحب کو یہ عذر دسمبر ١٩٣٧ء میں سوجھا۔ جبکہ ان کے گریز کو واضح کر دیا گیا تھا۔ ورنہ قبل ازیں وہ خاکسار کے مضامین کے متعلق لکھتے رہے ہیں۔ بلکہ خطبات جمعہ میں ارشاد فرماتے رہے ہیں۔ اب یہ بے اعتنائی بے معنی ہے۔ جناب مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیدنا حضرت امیر المؤمنین (مرزا محمود) اخبار الفضل میں شائع فرما چکے ہیں کہ:

”میں تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں آپ ان سے شرطیں طے کریں۔“

(٢٠؍دسمبر ١٩٣٦ء)

پس میں جو جناب مولوی محمد علی صاحب کی خدمت میں بعض معروضات پیش کرتا رہا ہوں۔ وہ یونہی نہیں بلکہ اس تحریر کی بنا پر تھیں۔ اور الحمد للہ مجھے مولوی محمد علی صاحب کی طرح کبھی ضرورت پیش نہیں آئی کہ ایک بات مان کر پھر اس کا انکار کر دوں۔ یا ایک شرط کو غیر معقول قرار دے کر چھوڑنے کے بعد پھر اس پر اصرار کروں۔ بہرحال مولوی صاحب کا یہ کہنا درست نہیں کہ ”مولوی اللہ دتہ صاحب کی تحریروں کا کیا ہے وہ جو چاہیں لکھتے رہیں۔“

اختلاف کی اصل جڑ کیا ہے؟ مولوی عمر الدین صاحب نے لکھا ہے:

نزدیک یہی سب سے بڑا سوال ہے اور قادیانی جماعت چاہتی ہے کہ بحث نبوت مسیح موعود پر ہو اور ضمناً مسئلہ کفر و اسلام پر بھی بحث ہو جائے۔“

صفحہ ٥٧٠

وہ صفائی سے باہر نکل آئے۔“

گویا مولوی عمر الدین صاحب کے نزدیک اب جماعت احمدیہ اور لاہوری فریق میں صرف مسئلہ کفر و اسلام پر بحث ہونی چاہئے۔ کیونکہ دراصل یہی مسئلہ اہم اور مقدم ہے۔ اس سے آگے چل کر مولوی صاحب لکھتے ہیں:

”دیکھو ہم میں اور تم میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نبوت پر اتفاق ہے۔ کیونکہ باوجود غلو کے آخر تم بھی مانتے ہو کہ حضرت مسیح موعود ظلی، بروزی یا مجازی نبی ہیں اور یہ ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مجازاً نبی ہیں۔ ظلی نبی ہیں، بروزی نبی ہیں، امتی نبی ہیں۔ گو وہ حقیقی نبی نہیں ہیں۔ پس نبوت مسیح موعود پر بحث کی کیا ضرورت ہے؟“

جب انسان ٹھوکر کھاتا ہے تو کہاں سے کہاں جا گرتا ہے۔ مولوی عمر الدین صاحب مسئلہ نبوت پر فیصلہ کن بحث سے مولوی محمد علی صاحب کو بچانے کے لئے کتنے رکیک استدلال کر رہے ہیں۔ مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ”ہم میں اور تم میں مسیح موعود کی نبوت پر اتفاق ہے۔“ بالکل غلط ہے۔ اور اسی بنا پر مسئلہ نبوت پر بحث کی عدم ضرورت ثابت کرنا بناء الفاسد علی الفاسد ہے۔ مولوی عمر الدین صاحب شخصی طور پر جماعت احمدیہ اور اہل پیغام کے درمیان برزخی حالت میں ہیں۔ ورنہ مولوی محمد علی صاحب کا یہ نظریہ نہیں۔ مولوی محمد علی صاحب نے تو لکھا ہے:

”میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلاف بھی ہے۔ جس قدر مسائل اختلافی ہم ہر دو فریق میں ہیں وہ اسی اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں۔“

(ٹریکٹ ”نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق“ ص١)

پس مولوی عمر الدین صاحب کی بنیاد بھی غلط اور اس سے استدلال بھی باطل ہے۔“

(الفضل قادیان ۔ ٤؍ مارچ ١٩٣٨ء)

جناب مولوی محمد علی صاحب اور فیصلہ کن مناظرہ (الفضل قادیان)

”بعض دوستوں کا خیال ہے کہ فیصلہ کن مناظرہ کے سلسلہ میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کے

صفحہ ٥٧١

صریح فرار کے متعلق پوری وضاحت ہو چکی ہے۔ اس لئے اس معاملہ کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ میں احباب کی رائے کے پہلے حصہ سے بکلی اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن افسوس ہے کہ جب تک مولوی محمد علی صاحب اپنی مندرجہ ذیل تحریر پر خط تنسیخ نہیں کھینچ دیتے۔ اس معاملہ کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔

مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں:

”میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کر لو اور جب تک وہ فیصلہ نہ ہو جائے، دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی قسم نبوت کا مسئلہ ہے۔“

پس ہم دوسرے معاملات کو ملتوی کر سکتے ہیں مگر نبوت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر فیصلہ کن مناظرہ کرنا ہمارا اور مولوی صاحب کا اولین فرض ہے......

”پیغام صلح“ ٢٦؍جنوری ١٩٣٨ء میں مولوی عمر الدین صاحب نے لکھا تھا کہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر انہوں نے جناب مولوی محمد علی صاحب سے میرے مضامین کے جواب کے لئے درخواست کی تو جناب نے عجیب انداز سے بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے مولوی عمر الدین صاحب سے کہا ”آپ ان مضامین کا جواب لکھیں“ گویا آج تک تو جناب مولوی صاحب کے خطبات ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح“ کے شرر بار مقالات یونہی تھے۔ اب مولوی عمر الدین صاحب جواب لکھیں گے۔ بہت اچھا، ہمیں معقول جواب چاہئے۔ مولوی عمر الدین صاحب لکھیں یا کوئی اور۔ جناب مولوی محمد علی صاحب کے واضح الفاظ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر مناظرہ کے لئے تحدی کے بارے میں درج ہو چکے ہیں۔ اور ہم ان کی بنا پر اسی موضوع پر فیصلہ کن مناظرہ کے لئے بلا رہے ہیں۔ مولوی عمر الدین صاحب اس پر نہایت سادگی سے فرماتے ہیں:

”قادیانیوں کو صرف نبوت پر بحث کے لئے غالباً اس لئے ضد ہے کہ اس میں متشابہ عبارتوں سے وہ دھوکہ دہی دے سکتے ہیں جن سے وہ خود بھی فریب خوردہ ہی ہیں۔“

نہیں صاحب! ہمیں اس لئے ضد نہیں کہ ہم کسی کو متشابہ عبارتوں سے دھوکہ دیں آپ جانیں اور آپ کا کام۔ ہم تو معقولیت کی وجہ سے اس پر مصر ہیں۔ ہاں مولوی محمد علی صاحب کی قسمیہ دعوت کی بنا پر مصر ہیں۔ اور اس اصرار کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ سوائے اس کے کہ جناب مولوی محمد علی صاحب فرما دیں کہ میں اس تحریر کو غلط سمجھتا ہوں۔ اور میں اس دعوت کو واپس لیتا ہوں۔ جب تک اصل داعی اور اس کے الفاظ موجود ہیں۔ اس کا اقرار موجود ہے۔ ایسے چست گواہوں کے ہمیں ”دھوکہ“ وغیرہ کے شریفانہ الفاظ سے خطاب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یقین

صفحہ ٥٧٢

۔ فرمائیے کہ ان گالیوں کے باعث ہم اپنے معقول مسلک سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہ ہوں گے۔

۔ اگر یہ درست ہے کہ مولوی عمر الدین صاحب کو مولوی محمد علی صاحب نے جواب کے لئے مقرر فرمایا ہے تو فیصلہ کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ مولوی عمر الدین صاحب کی حسب ذیل دو تحریریں میرے پاس موجود ہیں:

پہلی تحریر:۔ ”میرا یقین ہے کہ اگر جناب میاں صاحب نے حسب تجویز مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور مناظرہ مسئلہ کفر و اسلام پر منظور نہ کیا اور صرف نبوت پر ہی بحث کے لئے تیار ہوئے تو مولانا محمد علی صاحب اس حال میں مسئلہ نبوت پر ہی بحث کے لئے تیار ہو جائیں گے۔“

(١٠؍ جنوری ١٩٣٧ء)

دوسری تحریر:۔ ”آپ (خاکسار) کفر و اسلام پر بحث سے انکار نہیں کرتے بلکہ ضمناً اس بحث کی پوری گنجائش دیتے ہیں۔ پس اب معاملہ صرف اس قدر رہ گیا کہ ہم مستقل بحث مسئلہ کفر و اسلام کو قرار دیتے ہیں۔ آپ اسے ضمنی بحث رکھتے ہیں۔ فرق تو کچھ نہیں رہا۔ اگر میں خود مناظر ہوتا تو کہہ دیتا کہ چلئے یونہی سہی۔ مگر مولانا محمد علی صاحب بہت محتاط انسان ہیں۔“

(٢٥؍ دسمبر ١٩٣٧ء)

جنوری ١٩٣٧ء میں مولوی عمر الدین صاحب نے ایک ”یقین“ کا اظہار کیا۔ شائد انہیں جناب مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حسن ظن ہوگا۔ لیکن آخر دسمبر ١٩٣٧ء میں سال بھر کے ہمارے مضامین کے بعد فیصلہ کیا کہ جماعت احمدیہ قادیان کسی موضوع پر مناظرہ سے گریز نہیں کرتی۔ بلکہ ہر موضوع پر بحث کی پوری گنجائش دیتی ہے اور درحقیقت مولوی محمد علی صاحب کے مطالبہ کفر و اسلام کو بھی پورا کر دیا گیا ہے۔ کوئی فرق نہیں رہا۔ اب جو مناظرہ نہیں ہو رہا تو اس کا باعث صرف اور صرف یہ ہے کہ ”مولانا محمد علی صاحب بہت محتاط انسان“ واقع ہوئے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسے ’محتاط انسان‘ کو چیلنج مناظرہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟ غرض مولوی محمد علی صاحب اپنی تحریر کی رو سے بھی مجبور ہیں کہ نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے موضوع پر فیصلہ کن مناظرہ کریں اور اپنے وکیل عمر الدین صاحب (اگرچہ سچ مچ مولوی صاحب نے ان کو وکیل بنایا ہے) کی تحریر کی طرف سے بھی مجبور ہیں کہ ہماری پیش کردہ معقول ترتیب کو قبول کر کے مناظرہ کریں۔ اگر اب بھی جناب مولوی صاحب کا ”محتاط انسان“ ہونا آڑے آئے تو کیا مولوی عمر الدین صاحب بتائیں گے کہ ہم ان کے طرز عمل کا نام کیا رکھیں؟“

خاکسار ابوالعطاء جالندھری

(الفضل قادیان۔ ٣؍ جون ١٩٣٨ء)

صفحہ ٥٧٣

ناظرین! آپ جانتے ہیں کہ احمدی گروہ اپنا شغل علم کلام بتایا کرتا ہے۔ علم کلام میں شغل رکھنے والوں کو متکلمین کہا جاتا تھا۔ اور اب بھی کہا جاتا ہے۔ متکلمین بڑے دور رس ہوتے ہیں وہ مرکزی نقطہ پر فوراً پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن احمدیہ متکلمین کی روش دگرگوں ہے کہ اتنی طویل مدت میں مبحث (مضمون قابل بحث) طے نہیں ہوا۔ ہم اس امر میں فریقین کے مسلمہ حَکم (ثالث) نہیں ہیں۔ تاہم اپنی رائے کے تو مالک ہیں۔ اس لئے ہم نے ١٥؍جنوری ١٩٣٧ء کے ”اہلحدیث“ میں مولوی محمد علی صاحب لاہوری کو مشورہ دیا تھا کہ آپ ”نبوت مرزا“ پر بحث کرنا منظور کر لیں۔ تکفیر کا ذکر اسی ضمن میں لا سکتے ہیں۔ خاتمہ پر ایک شعر لکھا تھا:

امیر جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے
پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری

٭٭٭٭٭

صفحہ ٥٧٤

7 ستمبر 1974ء

سو سالہ جدوجہد کا نتیجہ

مسلمانوں کیلئے انتہائی خوشی کا دن

پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں

کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا

PDF 575

انا خاتم النبيين لا نبى بعدى

بطش قدیر

(بر قادیانی تفسیر)

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٥٧٦

بطش قدیر بر قادیانی تفسیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی النبی و آلہ واصحابہ اجمعین

پہلے مجھے دیکھئے

قرآن مجید جب سے نازل ہوا ہے اس کی تفسیریں مختلف رنگوں میں لکھی گئیں۔ مگر آج کل ہندوستان میں تفسیر نویسی کا شغل اتنی ترقی کر گیا ہے کہ ہر کہ ومہ ادھر اُدھر کے تراجم جمع کر کے تفسیر قرآن لکھنا شروع کر دیتا ہے جس میں وہ قرآن شریف کی تفسیر نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کو اپنے خیالات کے ماتحت کرتا ہے۔ ایسی تفاسیر اور تراجم کی اصلاح کے لئے ہم نے حسب طاقت ایک کتاب لکھنی شروع کی ہے جس کا نام تفسیر بالرائے رکھا ہے۔ اس کی ایک جلد شائع ہو چکی ہے۔ جس میں خادم نے آج کل کی جدید تفاسیر اور تراجم میں سے غلط تفسیر یا ترجمہ کی مثالیں دکھا کر اصلاح پیش کی ہے۔ جس کی دوسری جلد بھی انشاء اللہ عنقریب شائع ہوگی۔ (افسوس کہ شائع نہ ہو سکی)

اسی اثناء میں قادیان کے خلیفہ مرزا محمود احمد کی طرف سے چند سورتوں (سورہ یونس سے کہف تک) کی تفسیر کی ایک جلد شائع کی گئی ہے۔ جس کا محل ذکر ”تفسیر بالرائے“ کی جلد ثانی میں ہوگا۔ مگر اس تفسیر میں ایسی اغلاط ہیں کہ ان کو دیکھ کر میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ تفسیر بالرائے کی جلد ثانی طبع ہونے سے پہلے ہی میں اس دار فانی کو چھوڑ گیا تو خدا کے ہاں مجھ سے سوال ہوگا کہ یہ ضروری کام تم نے کیوں نہ کیا؟ کیونکہ اس تفسیر میں اغلوطات اور تحریفات اس حد تک بھری ہیں۔ جن کو ملحوظ رکھ کر بے ساختہ یہ شعر زبان پر آجاتا ہے ؎

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دُور نہ تھا
پر تیرے عہد سے پہلے تو یہ دستور نہ تھا

٢

صفحہ ٥٧٧

یہ تفسیر یوں تو ظاہر میں خلیفہ قادیان کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ مگر ہمیں پختہ خبر ملی ہے کہ اس میں قادیانی علماء بالخصوص اسماعیل متوفی قادیانی کا ہاتھ زیادہ رہا ہے۔ کیونکہ خلیفہ قادیان کا اپنا اعتراف ہے کہ ”قرآن عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا۔“

(الفضل ج ١٨ نمبر ٨٩ ص ٥۔ ٣١ جنوری ١٩٣١ء)

یہ بھی آپ کو اعتراف ہے کہ ”قرآن کی تفسیر اور ترجمہ کرنے میں عربیت کی ضرورت ہے۔“

(مقولہ محمود در الفضل ج ٢٥ نمبر ١٩٨ ص ٢ مورخہ ٢٦ اگست ١٩٣٧ء)

قادیانی تفسیر کو دیکھ کر مؤلف اور اس کے اعوان وانصار کی نسبت صحیح رائے قائم ہو سکتی ہے۔ اس لئے میرے دل میں ڈالا گیا کہ تفسیر بالرائے کی جلد ثانی کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ بطور نمونہ چند اغلاط کا ایک رسالہ لکھا جائے۔ اس لئے میں نے متوکلاً علی اللہ قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کر دیا۔ رسالہ ہذا میں بطور نمونہ دس آیات کی غلطیاں درج ہوئی ہیں ...... باقی حسب ضرورت تفسیر بالرائے جلد ثانی میں ہوں گی۔ انشاء اللہ!

خلیفہ قادیان نے اس تفسیر کا نام امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کبیر کے نام پر ”تفسیر کبیر“ رکھا ہے۔ جو مثل مشہور ”شیر قالین دگر است شیر نیستان دگر“ کا مصداق ہے۔ اس لئے میرے دل میں ڈالا گیا کہ میں اپنے تعاقبات کا نام ”بطش قدیر بر قادیانی تفسیر کبیر“ رکھوں۔ چنانچہ اسی نام سے یہ رسالہ موسوم کیا جاتا ہے۔

اطلاع:۔ ١٩٣١ء میں خلیفہ قادیان کی طرف سے علماء اسلام کو مخاطب کر کے تفسیر نویسی کا چیلنج دیا گیا۔ میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے ١٣؍ فروری ١٩٣١ء کے ”اہلحدیث“ میں ایک بسیط مضمون لکھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

”مرزا صاحب متوفی کی شروط پر تفسیر لکھی جائے۔ یعنی معریٰ قرآن مجید کے سوا کوئی کتاب ساتھ نہ ہو۔ اور تفسیر عربی زبان میں ہو۔“

اس کے جواب میں خلیفہ قادیان نے جو کہا اس کا ملخص یہ ہے کہ:

”میں وہ معارف بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھے ہیں۔“

(الفضل ج ١٨ نمبر ٨٩ ص ٤۔ مورخہ ٣١ جنوری ١٩٣١ء)

اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ:

”میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں مولوی ثناء اللہ سے زیادہ عربی جانتا ہوں۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ احمدیہ جماعت معارف قرآنیہ جاننے میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب)

/ ٣

صفحہ ٥٧٨

کے فیض سے سب دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی ہے۔“

(الفضل ٢٤ مارچ ١٩٣١ء)

اس کا مطلب یہی تھا کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھوں گا بلکہ مرزا صاحب کی تفسیر نقل کردوں گا۔ جب گفتگو یہاں تک پہنچ گئی تو ہم سمجھ گئے کہ خلیفہ قادیان اپنے علم کے اعتماد پر چیلنج نہیں کرتے۔ بلکہ صرف اپنے باپ کی تحریرات پیش کرنے کا ذمہ لیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے یہ کہہ کر معاملہ ختم کردیا :

ہنر بنما اگر داری نہ جوہر
گل از خار است ابراہیم از آذر

(نوٹ) اس گفتگو کے متعلق ساری تحریرات ایک رسالے کی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔ جس کا نام ہے ”خلیفہ قادیان کی طرف سے تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار“۔ یہ رسالہ دفتر ہذا سے مل سکتا ہے۔

١٩٣١ء میں خلیفہ قادیان نے جو کچھ کہا تھا ناظرین نے ملاحظہ فرمالیا۔ مگر آج کل آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ:

”میں قرآنی علوم کا ایسا ماہر ہوں کہ ہر مخالف کو ساکت کرسکتا ہوں۔“

(تفسیر کبیر ص ٥١٦)

پس ان کے اس دعوے کی تنقید کے لئے یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔ خدا قبول کرے۔

قادیانی ممبرو! ”اور“ علماء اسلام تو آپ لوگوں کو قریباً چھوڑ بیٹھے ہیں مگر میرا تعلق تمہارے ساتھ خاص ہے۔ جو مرزا قادیانی کے اعلان آخری فیصلہ مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء سے چلا آ رہا ہے اس لئے تمہارے حق میں میرا یہ کہنا بالکل صحیح ہے:

مجھ سا مشتاق جہاں میں کوئی پاؤ گے نہیں
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رُخِ زیبا لے کر

اخیر میں خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے۔

اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَتَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

خادم دین اللہ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری شعبان ١٣٦٠ھ مطابق ستمبر ١٩٤١ء

صفحہ ٥٧٩

اصل مقصود

خلیفہ قادیان نے اپنی تفسیر کبیر کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ:

(ص١)

سمجھائے ہیں۔“

(ص١-٢)

جواب:۔ پس ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس تفسیر پر دو طرح سے نظر کریں۔ ایک تو تفسیر کو تفسیر کی حیثیت سے دیکھیں۔ دوسرے بحیثیت الہام کے پرکھیں۔ جس کی طرف خلیفہ قادیان نے اشارہ کیا ہے۔ جیسے ہم ان کے والد ماجد کے کلام کو دیکھا کرتے ہیں۔

ان ربکم اللہ الذی خلق ...... ثم استوی علی العرش

(سورہ یونس : ٣)

عرش اور استویٰ علی العرش کے متعلق کتابوں میں متقدمین مفسرین کے دو مسلک ملتے ہیں۔ ایک تفویض الی اللہ ۔ جو جمہور محدثین کا مسلک ہے یعنی اس کا صحیح علم خدا کو ہے دوسرا مسلک متکلمین کا ہے۔ جو عرش اور کرسی سے مراد حکومت الٰہیہ بتاتے ہیں اور استویٰ علی العرش کے معنی تنفیذ احکام کے کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب قدس سرہٗ نے اپنے فارسی ترجمہ قرآن میں وسع کرسیہ السمٰوات والارض کا ترجمہ یوں کیا ہے: ”فرا گرفتہ است پادشاہی اُو آسمانہا وزمیں را“ یعنی اس کی بادشاہی آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔

مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ ”میں حکم عدل ہوں۔ اس لئے میں دینی امور کے متعلق جو کچھ کہوں وہی صحیح ہوگا۔“

(اعجاز احمدی ص٢٩۔ خزائن ج١٩ ص١٣٨،١٣٩ملخص)

اسی لئے آپ نے عرش کے معنی میں خوب جدت سے کام لیا ہے۔ خلیفہ قادیان نے اپنی تفسیر میں انہی کا اتباع کیا ہے۔ چنانچہ ان کا قول ہے کہ ”میرا کمال یہی ہے کہ میں اپنے باپ (مرزا قادیانی) کی بتائی ہوئی تفسیر پیش کروں۔“

(الفضل ٣١ جنوری ١٩٣١ء ج١٨ نمبر٨٩ ص٤)

٥

صفحہ ٥٨٠

عرش کے متعلق مرزا قادیانی کے اصل الفاظ پیش کرنے سے پہلے ہم اپنے الفاظ میں تفصیل بتاتے ہیں تا کہ مضمون ناظرین کے ذہن نشین ہو جائے۔ آپ نے خدائی صفات کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک قسم صفات تشبیہیہ ۔ دوسری قسم صفات تنزیہیہ ۔ تشبیہیہ سے مراد وہ صفات بتائی ہیں جن کا تعلق عام مخلوقات سے ہے۔ اس کی مثال میں انہوں نے رب رحمٰن رحیم اور مالک یوم الدین ۔ چار صفات کو پیش کیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسری صفات کا نام تنزیہیہ رکھ کر بتایا ہے کہ عرش سے مراد یہی صفات ہیں۔ اب ناظرین مرزا قادیانی کے اصل الفاظ سنیں ۔ آپ استویٰ علی العرش کے معنی بتاتے ہیں:

”اس (قرآن) نے خدا تعالیٰ کے ایسے طور سے صفات بیان کئے ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ شرک کی آلائش سے بکلی پاک رہتی ہے۔ کیونکہ اول اُس نے خدا تعالیٰ کے وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر وہ انسان سے قریب ہے اور کیونکر اس کے اخلاق سے انسان حصہ لیتا ہے۔ ان صفات کا نام تو تشبیہی صفات ہے پھر چونکہ تشبیہی صفات سے یہ اندیشہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محدود خیال نہ کیا جائے یا مخلوق چیزوں سے مشابہ خیال نہ کیا جائے اس لئے ان اوہام کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی ایک دوسری صفت بیان کردی۔ یعنی عرش پر قرار پکڑنے کی صفت ۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا سب مصنوعات سے برتر واعلیٰ مقام پر ہے۔ کوئی چیز اس کی شبیہ اور شریک نہیں۔ اور اس طرح پر خدا کی توحید کامل طور پر ثابت ہو گئی ۔“

(چشمہ معرفت ص ١١٣۔ خزائن ج ٢٣ ص ١٢١)

منتقد :۔ یہ تو ہے بڑے میاں کا کلام ...... اب ان کے صاحبزادے کا ارشاد سنئے ! جو ہمارے مخاطب اور قادیانی تفسیر کے مؤلف ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

”مسیح موعود (مرزا صاحب) نے چشمہ معرفت میں عرش کی حقیقت پر ایک لطیف بحث کی ہے۔ اور بتایا ہے کہ عرش درحقیقت صفات تنزیہیہ کا نام ہے جو ازلی اور غیر مبدّل ہیں ان کا ظہور صفات تشبیہیہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اور وہ حامل عرش کہلاتی ہیں ۔ جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے ”وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ“ قیامت کے دن تیرے رب کا عرش آٹھ (امور) اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے ۔ یعنی آٹھ صفات کے ذریعہ سے اُن کا ظہور ہو رہا ہوگا ۔ جیسا کہ اس وقت چار صفات سے ہوتا ہے۔ یعنی رب العالمین ۔ رحمٰن ۔ رحیم ۔ اور مالک یوم الدین کے ذریعہ سے ۔ چونکہ صفات الٰہیہ کا ظہور فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں هُمْ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے جس طرح بادشاہ اپنی جلالت شان کا اظہار عرش پر بیٹھ کر کرتے

٦

صفحہ ٥٨١

ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اصل عظمت ذوالعرش ہونے میں ہے۔ یعنی صفات تنزیہیہ کے ذریعہ سے۔ جن میں کوئی مخلوق اس سے ایک ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں رکھتی۔

(قادیانی تفسیر کبیر جلد ٣ ص ٢٣)

آگے چل کر آپ ص ٢٤ پر لکھتے ہیں :

”پس صفات تشبیہیہ صفات تنزیہیہ کی حامل ہیں اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ کے سب خوبیوں کے جامع ہونے کا علم ہمیں صرف ان صفات کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ جیسے اس کا رب ہونا، رحمان ہونا، رحیم ہونا، مالک یوم الدین ہونا، یہ سب صفات تشبیہیہ ہیں کہ انسانی اخلاق بھی ان کے ہم شکل پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ صفات مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ان کے جلوے عارضی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ صفات نہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے کامل الصفات ہونے کا کسی قسم کا ادراک بھی خواہ کتنا ہی ادنیٰ ہو ہمیں حاصل نہ ہو سکتا۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ۔ ص ٢٤)

منقد :۔ باپ بیٹا دونوں اس امر پر متفق پائے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی وہ صفات جن کا نام وہ تشبیہیہ رکھتے ہیں ان کی شناخت کے لئے دو نشان ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ صفات تنزیہیہ کے لئے ذریعہ علم کا کام دیتی ہیں۔ ہمارے خیال میں مرزا صاحب نے یہ اصطلاح صوفیاء کرام کے الفاظ لاہوت ناسوت سے اخذ کی ہے۔ صوفیاء کرام کا مطلب یہ ہے کہ مقام وراء الوراء زبان اور قلم سے بیان نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب نے اخذ تو کیا مگر ایسا کرنے میں آپ پھسل گئے ۔ اب ناظرین باپ بیٹے دونوں کے کلام پر ہماری معروضات سنیں :

وغیرہ کو ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے ان تینوں صفات کو یکجا بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ”هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۔“ (الحشر : ٢٤) قرآن مجید نے جہاں جہاں دہریوں اور مشرکوں کو توحید کا سبق دیا ہے انہی صفات خالقیت وغیرہ کو پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہوں مندرجہ ذیل آیات :

من السماء والارض . لا اله الا هو ، فانی تؤفکون .

(فاطر : ٣)

اے لوگو ! تم پر خدا تعالیٰ کی جو نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا بھی ہے جو تم کو اوپر سے اور نیچے سے روزی دیتا ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کدھر بہکے چلے جاتے ہو۔

٧

صفحہ ٥٨٢

(النحل: ١٧)

کیا جو پیدا کرتا ہے وہ اس کی مانند ہوسکتا ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتا پھر کیا تم نصیحت نہیں پاتے۔

كل شىء وهو الواحد القهار.

(الرعد: ١٦)

کیا مشرکوں نے خدا کے لئے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے خدا کی سی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان پر مخلوق کی شناخت مشتبہ ہوگئی ہو۔ تم کہہ دو کہ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا اور زبردست ہے۔

الحكيم.

(آل عمران: ٦)

خدا وہی ہے جو رحم مادر میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بنا دیتا ہے۔ اس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی معبود نہیں۔

ان آیات کا سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ صفت خالقیت وغیرہ کو خدا کی معرفت کرانے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ اتنی بڑی اہم صفت کو مذکورہ بالا صفات میں جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں داخل نہ کرنا گویا اصل کو چھوڑ کر فرع پر توجہ کرنے کا مصداق ہے۔ جس کی شکایت مولانا جامی مرحوم نے صوفیانہ رنگ میں یوں کی ہے:

رفتم بتماشائے گل آں شمع طراز
چوں دید میان گلشنم گفت بناز
من اصل و گلہائے چمن فرع من اند
از اصل چرا بفرع مے مانی باز

ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم نے غالباً انہی آیات پر نظر کر کے بہت خوب کہا ہے:

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے

نہیں ہوا۔ پھر اس کا ذکر مخلوق سے متعلق صفات تشبیہیہ میں کیوں کیا گیا؟ اگر کہا جائے کہ گو ابھی تک تعلق ظاہر نہیں ہوا۔ مگر آخر کسی روز ہو ہی جائے گا۔ تو ہم کہیں گے کہ اس روز تو غفار ستار

٨

صفحہ ٥٨٣

ذوالانتقام اور شدید العقاب وغیرہ صفات کا تعلق بھی پوری طاقت سے ظاہر ہو گا جو کسی حد تک آج کل بھی ظاہر ہے۔ پھر ان کو بھی صفات تشبیہیہ سے کیوں خارج کیا گیا۔

کے عرش یعنی صفات تنزیہیہ کو اٹھائیں گی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا چار صفات کے علاوہ باقی چار صفات کون سی ہوں گی؟ باپ بیٹا دونوں صاحبوں نے صفات تشبیہیہ کے حاملات عرش ہونے سے مراد ان کا ذریعہ علم ہونا بتایا ہے۔ قیامت کے روز یہ صفات ذریعہ علم کیونکر ہوں گی۔ وہاں تو سب علوم بدیہی ہوں گے۔ آیات مندرجہ ذیل ملاحظہ ہوں:

(١) واشرقت الارض بنور ربہا (الزمر:٦٩)
(زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی)
(٢) فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید۔ (ق:٢٢)
(اب ہم نے تیرا پردہ ہٹا دیا ہے پس آج تیری نظر بہت تیز ہے)
(٣) وجوہ یومئذ ناضرة الی ربہا ناظرة۔ (القیامة:٢٢‘٢٣)
(کچھ چہرے اس روز چمکتے ہوں گے جو اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے)

اور ان کی حقیقت سے انسان کو آگاہ کرتی ہیں۔ یہ صفات کس طرح مقام تنزیہیہ سے آگاہی بخشتی ہیں؟ اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔

یعنی موجودہ چیزوں کو فنا کر دینے والی صفت۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے الفاظ یہ ہیں: ”خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے۔ پھر دوسری مرتبہ اپنی تنزہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے ان سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے۔“

(چشمہ معرفت ص١١١۔ خزائن ج٢٣ ص١١٩)

مرزا قادیانی کی اس تصریح پر ہمیں ایک بڑا خدشہ پیدا ہوا ہے جس کا رفع کرنا مؤلف تفسیر اور ان کے اتباع کا فرض اولین ہے۔ وہ خدشہ یہ ہے کہ بقول مرزا صاحب خدا کی صفت اماتت وافنا تنزہ کا مرتبہ ہے۔ حالانکہ یہ صفت مخلوقات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے صفات تشبیہیہ میں داخل ہونی چاہئے۔ پھر اس صفت کو اگر مقام تنزہ کہا جائے تو مرزا صاحب کے اس قول کے کیا معنی ہوں گے کہ خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کے تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی۔

٩

صفحہ ٥٨٤

سوال یہ ہوتا ہے کہ ممیت ومفنی کی صفت کا ظہور تو ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وراء الوراء مقام نا قابل فہم جگہ کا نام ہے۔ جس کی طرف مولانا روم نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:

اے بیروں از وہم قال و قیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من

پھر صفات تشبیہیہ حصول علم کا ذریعہ کس طرح ہوسکتی ہیں۔

(٦) باپ بیٹے کی تصریحات کے مطابق صفات تشبیہیہ حامل ہیں اور صفات تنزیہیہ یعنی عرش محمول اور قیامت کے روز حاملین عرش کی تعداد آٹھ ہوگی۔ یہ آٹھ صفات مرتبہ تنزہ کو اُٹھائیں گی۔ جس کو مرزا صاحب نے ممیت ومفنی کی صفت سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ قیامت کے روز اماتت اور افنا نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے لَا یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا (فاطر:٣٦) پھر ان آٹھ صفات کا مجموعہ کونسی صفت تنزیہیہ کو اُٹھائے گا؟

(٧) مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ غرض عرش پر قرار پکڑنا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے (حوالہ مذکور ) اس فقرہ کے کیا معنی ہوئے؟ کیا یہ مطلب ہے کہ خدا نے اماتت کی صفت پر قرار پکڑا۔ جو بقول مرزا صاحب تنزہ کا مرتبہ ہے۔ پس آیت کی تقدیر عبارت یوں ہوگی۔ ”اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ نَفَذَ حُکْمُ الْمَوْتِ عَلَی الْمَخْلُوْقَاتِ۔“ واقعہ کے لحاظ سے تو یہ ٹھیک ہے کہ خدا نے مخلوقات کو پیدا کر کے ان کی اجلیں مقرر کردیں۔ مگر اس کو مقام تنزہ سے جو وراء الوراء ہے کیا تعلق ہے؟

(٨) مؤلف تفسیر نے کان عرشہ علی الماء کی تفسیر میں لکھا ہے:

”قرآن کریم نے متواتر بتایا ہے کہ حیاۃ کی پیدائش ’ماء‘ سے ہے۔ پس کـــــان عرشہ علی الماء میں اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا ظہور حیاۃ کے ذریعہ سے ہوا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ عرش یعنی صفات کاملہ کا ظہور انسان ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو حیاۃ کی آخری کڑی ہے۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٤٩)

منقد:۔ اس اقتباس میں مؤلف نے عرش سے مراد صفات کاملہ بتا کر ان کا ظہور حیات کے ذریعہ سے بتایا ہے۔ اس پر سوال یہ ہے کہ حیات اثر ہے صفت محی کا جس کو قرآن مجید نے یُحْیٖ وَیُمِیْتُ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ پس آپ کا ما فی الضمیر یہ ہوا کہ محی کی صفت سے عرش یعنی مقام تنزہ کا ظہور ہوتا ہے۔ حالانکہ پہلے آپ صرف صفات تشبیہیہ کو ذریعہ علم بتا آئے ہیں۔ جن سے مراد رب، رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین وغیرہ ہیں اور یہاں صفت محی کو عرش (صفات

١٠

صفحہ ٥٨٥

تنزیہیہ ) کا ذریعہ ظہور بتاتے ہیں۔ هل هذا الا تهافت قبيح ۔ مختصر یہ ہے کہ بقول باپ بیٹا صفات تشبیہیہ حامل ہیں اور صفات تنزیہیہ بنام عرش محمول ہیں اور روز حشر صفات تشبیہیہ آٹھ کی تعداد میں صفات تنزیہیہ کو اٹھائیں گی۔ یہ ہے قادیانی علم کلام۔ جس پر اس قدر ناز کیا جاتا ہے۔ سچ ہے:

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

تحتهم الانهار فى جنت النعيم.

اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے:

”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کئے انہیں اُن کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے (کامیابی کے راستہ کی طرف) ہدایت دے گا (اور) آسائش والی جنتوں میں انہی کے (تصرف کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٣)

تفسیر اس کی یوں کرتے ہیں:

”تحت کا لفظ فوق کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اس کے معنی نیچے کے ہوتے ہیں اور اسفل کا لفظ بھی نیچے کے معنوں میں آتا ہے۔ مگر ان دونوں میں ایک فرق ہے اسفل اس کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا نچلا حصہ ہو۔ مگر تحت اسی چیز کے نچلے حصہ کو نہیں کہتے بلکہ اس جہت کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کے نیچے کی ہو۔ ہاں کبھی کبھی اسفل کا لفظ تحت کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ نیز یہ لفظ رذیل اور ماتحت لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔ لا تقوم الساعة حتى يظهر التحوت یعنی قیامت نہیں آئے گی جب تک غرباء اور مزدور لوگ غالب آ کر حکومتوں پر قابض نہ ہو جائیں۔ قرب قیامت کا زمانہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا زمانہ ہے پس اس حدیث میں بالشویک حکومت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مسیح موعود کے کامل ظہور کا زمانہ نہ آئے گا جب تک کہ محنتی لوگ سرمایہ داروں پر اور مزدور لوگ حکومتوں پر غالب نہ ہو جائیں گے یعنی وہ بادشاہ نہ بن جائیں گے۔ اور سرمایہ دار ان کے ماتحت نہ ہو جائیں گے۔ ان معنوں کی رو سے من تحتهم الانهار کے یہ معنی ہوئے کہ ان کے قبضہ میں نہریں ہوں گی اور وہ ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔ کیونکہ عمل ان کے اپنے تھے۔ جس طرح اس دنیا میں افسران انہار

١١

صفحہ ٥٨٦

زمینداروں کو لوٹتے ہیں۔ یا انہیں سرکاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں وہاں ایسا نہ ہو گا بلکہ نہریں ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٣)

منقد :۔ اس اقتباس میں مؤلف نے کئی غلطیاں کی ہیں۔

پہلی غلطی :۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ اسفل اور تحت میں جو فرق بتایا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ جیسے تحت کا مفہوم ذو اضافت ہے ایسے ہی اسفل بھی ذو اضافت ہے۔ ١؎

دوسری غلطی :۔ اس عبارت میں ہے کہ ”اسفل کا لفظ تحت کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ نیز یہ لفظ رذیل اور ماتحت لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے لا تقوم الساعة حتى يظهر التحوت الخ۔ نیز یہ لفظ کا اشارہ لفظ اسفل کی طرف ہے۔ یعنی مؤلف تفسیر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسفل رذیل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس کی تمثیل میں ایک حدیث کو پیش کرتا ہے۔ جس میں الفاظ (يظهر التحوت) وغیرہ ہیں۔ یہ تمثیل ممثل لہ (اسفل) کے مطابق نہیں ہے۔ اگر اس کے مطابق ہوتی تو حتی يظهر التسفل ہوتا۔ جس کے معنی اسفل یعنی رذیل کے ہو سکتے مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ اس لئے اس نقص عبارت کے ذمہ دار مؤلف اور اس کے مشیر ہوں گے۔

تیسری غلطی :۔ یہ لفظ التحوت معلوم نہیں کیا چیز ہے۔ غالباً مؤلف نے تحت کا مصدر بروزن تَفَعُّل مثل تفوق تحوت بنایا ہے۔ اگر یہی مراد ہے تو یہ لفظ غلط ہے۔ کیونکہ باب تفعل کی ت اصلی نہیں ہے۔ تین حروف ف ع ل اصلی ہوتے ہیں۔ اور یہاں تحوت میں لفظ واؤ جو ”ع“ کے مقابل ہے اصلی معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ اصل مادہ اس کا تحت ہے۔ جس میں واؤ نہیں ہے۔ اور ”ت“ اصلی ہے۔ لہٰذا یہ مصدری شکل غلط ہے اور اگر تحوت بروزن فُعُول ہے یعنی تحت کی جمع تُحُوت بنائی گئی ہے تو اس لفظ کا استعمال دکھانا چاہئے۔

چوتھی غلطی :۔ یہ حدیث کس کتاب میں ہے۔ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا اور نہ سند بتائی ہے۔ لہٰذا اس کا ثبوت بطور قرضہ مؤلف کے ذمے ہے۔

١؎ ذو اضافت اس لفظ کو کہتے ہیں جس کے ترجمے میں دو چیزیں مفہوم ہوں۔ مثلاً أب، ابن وغیرہ۔ أب کے معنی ہیں من له الابن (جس کا بیٹا یا بیٹی ہو) ابن کے معنی ہیں من له الاب (جس کا باپ ہو)۔ اسی طرح تحت جو فوق کے نیچے ہو۔ اسفل جو کسی اعلیٰ کے نیچے ہو۔ قرآن مجید میں ہے: ثم رددناه اسفل سافلین (التین: ٥) نیز ان المنافقین فی الدرک الاسفل (النساء: ١٤٥) وغیرہ آیات۔

١٢

صفحہ ٥٨٧

پانچویں غلطی :۔ پانچویں غلطی یہ ہے کہ اس حدیث اور آیت کو بولشویک تحریک سے متعلق کیا گیا ہے حالانکہ نہ حدیث میں اس کا اشارہ ہے نہ آیت میں۔

چھٹی غلطی :۔ تحوت تحت کی جمع ہو یا مصدر ہو۔ بہر حال اس کے معنی نچلی حالت کے ہیں۔ ان الفاظ عربیہ کے یہ معنی ہوں گے کہ قیامت نہیں ظاہر ہوگی جب تک کہ دنیا میں عام غربت اور مسکنت نہ پھیل جائے۔ کیونکہ یظھر کا مصدر ظہور ہے۔ جو بشکل ماضی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ہے ظھر الفساد فی البر والبحر محض ظہور سے غلبہ معلوم نہیں ہوتا۔ ظہور کے معنی غلبے کے اس وقت ہوتے ہیں جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ ہو۔

پس ان معنی سے یہ الفاظ جن کو آپ نے حدیث بتایا ہے۔ آپ کے دعوے کے مخالف ہیں۔ کیونکہ مطلب ان الفاظ کا یہ ہوگا کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت غربت اور مسکنت ہے نہ کہ غریبوں اور مزدوروں کی حکومت۔

ساتویں غلطی :۔ من تحتھم کے الفاظ سے جنت کو اہل جنت کی ملکیت بتانا بھی غلط ہے۔ کیونکہ تحت کا لفظ جہاں اس آیت میں اہل جنت کی طرف مضاف ہے۔ وہاں دوسری آیت جس میں تحتھا آیا ہے یہ لفظ جنت کی طرف مضاف ہے۔ اور خود مؤلف نے جو ترجمہ کیا ہے وہ اس دعوے کے خلاف کیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں ”انہی کے تصرف کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی“۔

یہ لفظ تصرف اپنا معنی بتانے میں صاف ہے۔ اس کے معنی استعمال کے ہیں۔ جیسا کہ کرایہ دار مکان میں تصرف کرتا ہے مگر مالک نہیں ہوتا۔

آٹھویں غلطی :۔ قریب قیامت کے مرزا صاحب کا مسیح موعود ہو کر آنا۔ یہ الگ بحث ہے جس کے متعلق ہماری بہت سی تصنیفات شائع شدہ ہیں۔ جن میں سے یہاں ایک ہی فقرہ کافی ہے کہ:

”مرزا صاحب نے بحیثیت مدعی مسیحیت موعودہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو اعلان کیا تھا کہ مولوی ثناء اللہ مجھ سے پہلے نہ مرے تو میں جھوٹا“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩) مؤلف قادیانی تفسیر نے اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان (بابت ماہ جون جولائی ١٩٠٧ء) میں اس کو پیشگوئی لکھا ہے بڑے مرزا صاحب کو انتقال کئے ہوئے آج تئیس سال ہوگئے اور ان کا مد مقابل آج یہ سطور لکھ رہا ہے۔ سچ ہے:

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

١٣

صفحہ ٥٨٨

ان فی ذالک لعبرة لاولی الابصار

کذالک نجزی القوم المجرمین.

(یونس: ١٣)

اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ:

’’یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ قرن پر آئے۔ یعنی ایک پوری امت پر نازل ہو نہ کہ بعض حصہ قوم پر۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤١)

اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر نازل ہوتا ہے تو اس کے نام ونشان تک کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

(ایضاً ج٣ ص ٢٥٠)

منقد :۔ مؤلف کے یہ فقرات بتا رہے ہیں کہ بڑے مرزا صاحب کا دعویٰ غلط تھا جو طاعون کو اپنے منکروں کے لئے عذاب قرار دیتے دیتے دنیا سے چل بسے۔ کیونکہ طاعون کل قوم پر نہیں آیا بلکہ اقل قلیل پر آیا۔ جو بقول مؤلف تفسیر ہذا عذاب سے موسوم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہم اس بارے میں مؤلف کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ کی کافی تکذیب کر دی۔ سچ ہے:

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

اماما ورحمة اولئک یؤمنون بہ.

(ھود : ١٧)

اس آیت کا ترجمہ مؤلف تفسیر نے یوں کیا ہے:

’’پس کیا جو(شخص)اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم)ہے اور(اس کی صداقت کا)ایک گواہ اس(یعنی خداوند تعالیٰ)کی طرف سے(آکر)اس کی پیروی کرے گا اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی جو(لوگوں کے لئے)امام اور رحمت تھی(ایک جھوٹے مدعی جیسا ہو سکتا ہے؟)وہ(یعنی موسیٰ کے سچے پیرو)اس پر(بھی ضرور)ایمان لاتے ہیں۔‘‘

(ایضاً ج٣ ص ١٦٤)

منقد :۔ اس آیت میں جو شاہد کا لفظ ہے مؤلف نے اس پر برائے پدر خود قبضہ کیا ہے چنانچہ آپ کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں کہ:

’’جاننا چاہئے کہ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود مرزا صاحب کا ہی ذکر ہے۔ جن کا نزول خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی رنگ میں ہونا تھا جیسے پہلے بینہ کا نزول ہوا تھا اور جن

١٤

صفحہ ٥٨٩

کی آمد کی غرض یہ تھی کہ وہ اسلام کی صداقت کی شہادت تازہ نشانوں سے دیں جبکہ اسلام کی صداقت اور اس کی قوت قدسیہ کے خلاف بہت سے امور جمع ہونے والے تھے۔“

(ایضاً ج ٣ ص ١٦٧)

منتقد :۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کے معنی کیا ہوئے؟ یہی ہوئے نا کہ ...... ”بھلا جو شخص خدا کی ہدایت پر ہو اور اس کے پیچھے مرزا صاحب قادیانی بھی آ رہے ہوں اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام و رحمت ہو وہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔“

یہ تفسیر کئی وجوہ سے غلط ہے:

لغت ترجمہ اور تفسیر کے لئے سب سے مقدم ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے قرآناً عربیاً اتارا ہے۔ پس بجائے اپنے پاس سے معنی نکالنے کے عربی لغت کو دیکھنا چاہئے۔

(مقولہ خلیفہ قادیان در الفضل ج ٢٥ نمبر ١٩٨ ص ٢۔ ٢٦؍اگست ١٩٣٧ء)

پس اس متفقہ معیار کے ماتحت ہم اس آیت کی ترکیب کرتے ہیں:

مَن موصولہ مع اپنے صلہ کے مبتدا واؤ حرف عطف یتلوہ فعل معطوف اوپر کان کے ہ ضمیر منصوب راجع بجانب من (مبتدا منہ) ۔ ضمیر مجرور بھی راجع بجانب من کتاب موسیٰ معطوف اوپر شاہد کے اماما ورحمۃ دونوں لفظ منصوب علی الحال ۔ اولئک (اسم اشارہ بجانب مَن) مبتدا ثانی ۔ یومنون جملہ فعلیہ خبر مبتدا ثانی کی۔ مبتدا ثانی باخبر خود جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا اول (مَن) کی۔ مَن مبتدا اول باخبر خود جملہ اسمیہ ہوا۔ شاہد سے مراد اس شخص کا ضمیر صافی یا قلب سلیم ہے۔

اس ترکیب کے ماتحت آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ:

جو لوگ خدا کی ہدایت پر ہوں اور ان کا اپنا قلب سلیم بھی ان کی رہنمائی کرنے میں ہدایت الٰہیہ کا مؤید ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو اپنے وقت میں امام اور رحمت تھی اس بینہ کی تائید کرتی ہو۔ یہی لوگ اپنے رب پر ایمان رکھتے ہیں۔“

ہم نے آیت موصوفہ کا جو ترجمہ کیا ہے لغت عرب اور ترکیب نحوی کے عین مطابق ہے۔ خلیفہ قادیان نے جو ترجمہ کیا ہے وہ لغت عرب اور علم نحو کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ آپ کے ترجمہ سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یتلوہ کا عطف کس پر ہے۔ اور کتاب موسیٰ کا ترجمہ بھی ایسا بے ڈھنگا کیا ہے کہ ترکیب نحوی ہرگز اس کی متحمل نہیں ہے۔ کوئی عالم یا طالب علم ہم کو بتائے کہ یہ جملہ

١٥

صفحہ ٥٩٠

کہ ”اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی“ کس پر معطوف ہے۔ نیز یہ دوسرا جملہ کہ جو لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی ۔“ ترکیب میں کیا واقع ہوا ہے اور ومن قبلہ میں جو عطف کا واؤ ہے اس کا معطوف علیہ کیا ہے؟

کیونکہ یہ فعل اس شخص کا نہیں ہے جو بینہ پر قائم ہے نہ اس کے فعل کا حصہ ہے۔ بلکہ یہ فعل زیادہ سے زیادہ ایک امر واقعہ کا اظہار ہے۔ جیسے آج کوئی کہے کہ بھلا جو شخص نماز روزہ کرتا ہے اور اس کے بعد امام مہدی آئے گا تو وہ اس بدعمل جیسا ہے کون نہیں جانتا کہ امام مہدی کے آنے کا فقرہ نماز روزہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہاں متکلم کی طرف سے اظہار شوق ضرور ہے۔

کے الفاظ یہ ہیں : ” وہ یعنی موسیٰ کے سچے پیرو بھی اس پر ضرور ایمان لاتے ہیں ۔“ اس لئے غلط ہے کہ اولئک جو اسم اشارہ ہے اس کا مشار الیہ من کان تو مذکور ہے لیکن پیروان موسیٰ یا اتباع موسیٰ مذکور نہیں ہے۔ پھر کیوں اس طرف اشارہ سمجھا جائے۔ اور خلیفہ قادیان کے اس مقولہ کو کہ ” بجائے اپنے پاس سے معنی نکالنے کے عربی لغت مقدم ہے“ کیوں پاؤں تلے روندا جائے۔

حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی و غیرہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یقیناً علیٰ بینہ تھے۔ مگر کیا یتلوہ شاہد سے بھی ان کو حصہ ملا تھا؟ یا ان کو آپ کے شاہد (مرزا صاحب) کا بھی علم تھا۔ اگر نہیں تھا تو ان کے حق میں یہ جملہ بے کار ٹھہرا۔

مرزا صاحب کے مریدو! راستی سے کہنا ان بزرگوں کو آپ کے شاہد (مرزا) کا تصور یا خیال بھی تھا؟ اگر نہیں تھا اور یقیناً نہیں تھا تو وہ لوگ یؤمنون کی تعریف سے خالی بلکہ علیٰ بینہ پر ہونے سے بھی بے بہرہ رہے ہوں گے۔ بتاؤ صحابہ کرام کی یہ توہین نہیں تو کیا ہے؟

ناظرین کرام! قرآن مجید میں کس قدر بے جا تصرف اور ظالمانہ تحریف ہے جو قادیانی خلیفہ اور ان کے مشیر کلام الٰہی میں روا رکھتے ہیں؟

رحم ربک ولذالک خلقهم.

(هود. ١١٨‘ ١١٩)

اس آیت میں قابل غور بات یہ ہے کہ حرف استثناء الا کے بعد جو مستثنیٰ ہے بقاعدہ علم نحو

١٦

صفحہ ٥٩١

وہ مستثنیٰ منہ میں سے بوصف خاص ممتاز ہونا چاہئے۔ اس نحوی قاعدے کو یاد رکھ کر خلیفہ قادیان کا ترجمہ سنئے۔ لکھتے ہیں کہ:

’’اور اگر تیرا رب اپنی (ہی) مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بناتا اور (کیونکہ اس نے ایسا نہیں کیا) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا اور اس (رحم کا مورد بنانے کے) لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔‘‘

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٠)

منقد :۔ اس ترجمے میں جو سوائے کا لفظ ہے وہ استثناء کا مفہوم ہے۔ اس کے اگلے الفاظ (وہ جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے) مستثنیٰ کا مصداق ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے مگر ترجمہ میں اس سے اگلے الفاظ (اور اس رحم کا مورد بنانے کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے) اپنی تشریح کے ساتھ جو خلیفہ قادیان نے خود کی ہے محل نظر ہیں۔ پس ناظرین وہ تشریح سنیں آپ لکھتے ہیں:

”ولذالک خلقھم سے مراد یہی ہے کہ انسان کو رحم کے لئے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ اختلاف کے لئے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ . اور اس طرح فرماتا ہے ”رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ.“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٠)

منقد :۔ یہ تشریح بتا رہی ہے کہ ولذالک خلقھم عام انسانوں کے لئے ہے۔ اور جب عام ہے تو مستثنیٰ منہ سے اس کا تعلق ہوگا۔ جب اس کا تعلق مستثنیٰ منہ سے ہوا تو پھر استثناء مع مستثنیٰ منہ کے غلط بلکہ مستثنیٰ منہ کی تردید بلکہ بوجہ اجتماع ضدین کے باطل ہو جائے گا۔ کیونکہ تقدیر کلام یوں ہو گی۔ خلق اللہ الناس للرحمۃ الا من رحم ربک۔

کیا ہی اچھا استثناء اور کیا ہی اچھا مستثنیٰ منہ ہے جو جاء زیدٌ الا زیدٌ سے بھی اقبح صورت ہے۔ اور اجتماع ضدین اس لئے ہوگا کہ من رحم بمنطوقۃ بتا رہا ہے کہ مستثنیٰ محل رحم ہے اور استثناء بتا رہا ہے کہ پہلے مستثنیٰ منھم جو مخلوق للرحمۃ ہیں ان سے خارج ہیں۔ یعنی غیر مرحوم ہیں۔ ھل ھذا الا تہافت قبیح و تناقض صریح۔

قادیان کے علماء کے علم کی تعریف تو بہت کی جاتی ہے اور ہم کو پختہ خبر ملی ہے کہ وہ اس تفسیر کی تالیف میں خلیفہ صاحب کے شریک یا مشیر بھی رہے ہیں۔ مگر جہاں کوئی علمی مقام آجاتا ہے معلوم نہیں خلیفہ قادیان خود لغزش میں رہنا چاہتے ہیں یا وہ ان کو لغزش میں چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کا فیصلہ وہ خود کریں۔ خلیفہ قادیان تو معذور ہیں کیونکہ وہ تو علوم عربیہ سے بے بہرہ

١٧

صفحہ ٥٩٢

ہیں ۔ (الفضل ٣١۔ جنوری ١٩٣١ء)۔ افسوس تو ان کے مشیروں پر ہے جو ان کی رہنمائی غلط کرتے ہیں یا ان کو اپنی غلطی پر قائم رہنے دیتے ہیں۔ تا کہ ان کی قابلیت لوگوں پر واضح ہو جائے۔ اس کی تفصیل ہم آئندہ بھی کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ

(ابراهیم : ٢٢)

اس آیت کی تفسیر میں خلیفہ قادیان نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے۔ بلکہ ایک معنی سے شیطان کی حمایت ہے۔ ناظرین اسے پڑھیں گے تو اس امر میں ہم سے متفق الرائے ہو جائیں گے کہ قادیانیوں کا اصول کلام یہ ہے:

نہ پیروی قیس نہ فرہاد کریں گے
ہم طرزِ جنوں اور ہی ایجاد کریں گے

پس ناظرین خلیفہ قادیان کا نتیجہ توجہ سے سنیں۔ آپ فرماتے ہیں:

”انی کفرت بما اشر کتمون من قبل“ یہ لطیفہ ہے کہ شیطان توحید کا دعویدار ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک بناتے تھے اور میں منکر تھا اور یہ ہے بھی درست ۔ وہ شیطان جو انسانی کمزوریوں کو ظاہر کرنے پر موکل ہے وہ تو اپنا فرض ادا کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کا جلال اس کے سامنے ہے۔ وہ شرک کس طرح کر سکتا ہے۔ شرک تو تب پیدا ہوتا ہے جب انسان شیطانی تحریک کو اپنے اندر لے کر اُسے نافرمانی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ سنکھیا جب تک انسان کے پیٹ میں نہیں جاتا ایک قیمتی دوا ہے۔ جب انسان اس کا غلط استعمال کرتا ہے تو وہ زہر قاتل بن جاتا ہے۔ یہی مثال شیطان کی ہے۔ انسان کے اندر داخل ہونے سے پہلے وہ ایک امتحان کا سوال ہے اور کچھ بھی نہیں۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر شیطان دوزخ میں کیوں جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کی نسبت آتا ہے خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ مجھے تو نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) آگ سے پیدا کیا ہے۔ پس جو چیز آگ سے پیدا ہے آگ میں جانا اُس کے لئے عذاب تو نہیں۔ ایک انگارہ کو اگر چولہے میں ڈال دو تو اُسے کیا عذاب ہے۔ صوفیاء کا عام طور پر اسی طرف رجحان ہے کہ شیطان کے اضلال تو عذاب پائیں گے لیکن خود شیطان نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک امتحان لینے والی طاقت ہے اور فرض ادا کر رہی ہے۔“

(ایضاً ج ٣ ص ٢٦٣)

منتقد :- ناظرین کرام! کیا ہی لطیف تفسیر اور عجیب نتیجہ ہے جو دراصل شیطانی حمایت ہے۔ اس بیان میں خلیفہ قادیان نے بہت سی آیات صریحہ کے خلاف کہا ہے۔ آپ کو شیطان کے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی عجیب دلیل سوجھی ہے کہ جو چیز آگ سے پیدا ہو اُسے آگ سے عذاب

١٨

صفحہ ٥٩٣

نہیں ہوتا۔ کیوں جناب! جملہ انسانوں کی پیدائش کو خدا نے من تراب مٹی سے بتایا ہے۔ اگر کسی انسان پر مٹی کے مکان کی چھت یا دیوار گر پڑے تو کیا اس کے گرنے سے نیچے دبے ہوئے انسان کو تکلیف نہ ہوگی؟ مزید اطمینان کے لئے کوئٹہ اور بہار کے زلزلہ زدوں سے پوچھ لیجئے۔ علاوہ اس کے انی کفرت بما اشر کتمون من قبل کے معنی بھی آپ نے نہیں سمجھے۔ اگر آپ علم صرف کی کتاب فصول اکبری میں خواص ابواب پڑھ لیتے تو ایسا نہ کہتے۔ اشر کتمون کے معنی ”مجھے شریک بنایا“ نہیں ہیں۔ کیونکہ شیطان کو خدا کا شریک کوئی نہیں بناتا۔ ہندوستان کے بت پرست لوگ بلکہ چین اور جاپان میں بدھ مذہب کے پیرو بھی شیطان کے وجود کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے منکر ہیں۔ حالانکہ بت پرستی کرتے ہیں۔ پس آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ شیطان کہے گا کہ تم نے میری وجہ سے جو شرک وکفر کیا تھا، میں اس سے منکر ہوں۔“ ان معنی کی تائید وہ آیت کرتی ہے جس میں شیطان کے جواب میں ارشاد ہے:

شارکہم فی الاموال والاولاد.

(بنی اسرائیل : ٦٤)

”اے شیطان! تو ان لوگوں سے مال اور اولاد میں شرک کروا۔

یہی معنی ہیں اس ارشاد خداوندی کے:

الشیطان سول لہم واملی لہم .

(محمد : ٢٥)

”شیطان بے ایمان لوگوں کو اُن کے کام اچھے کر دکھاتا ہے اور ان کے دلوں میں ڈھیل ڈالتا ہے۔“

شیطان کا جہنم میں جانا بھی نصوص قرآنیہ میں مذکور ہے۔ شیطان کی سرکشی کے جواب میں ارشاد ہوا تھا:

لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین

(الاعراف : ١٨)

”میں تجھ (شیطان) اور تیرے تابعداروں سے جہنم کو بھر دوں گا۔“

شیطان کے داخلہ جہنم کے لئے اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہونا چاہئے۔ خلیفہ قادیان کو شیطان کی حمایت یہاں تک منظور ہے کہ وہ شیطان کے داخلہ جہنم کی صریح آیت کی تحریف کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں کہ:

”جب شیطان نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تو خدا نے فرمایا کہ لمن تبعک منہم لاملئن جہنم منکم اجمعین ۔ کہ ”تو بے شک انسانوں کو ورغلا مگر یہ یاد رکھ کہ میں انسانوں میں سے جو تیرے تابع ہوں گے اُن سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ص ٢٧٠)

١٩

صفحہ ٥٩٤

منقد :۔ اس آیت میں تحریف یہ کی ہے کہ منکم جو جمع مخاطب کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ صیغہ جمع غائب سے کیا ہے۔

قادیان کے اہل علم اور مدرسہ احمدیہ کے طالب علم خدارا انصاف سے بتائیں کہ خلیفہ قادیان کا ترجمہ اگر مقصود خدا ہوتا تو منہم کی بجائے منکم کا صیغہ مخاطب کیسے صحیح ہو سکتا؟

اللہ اکبر! کس قدر شیطانی حمایت ہے۔ اس موقع پر اگر خلیفہ قادیان کے حق میں کوئی مومن بالقرآن یہ شعر پڑھے تو بے جا نہ ہوگا کہ:

میرے پہلو سے گیا پالا ستمگر سے پڑا
مل گئی اے دل تجھے کفران نعمت کی سزا

تصرف قدرت: خدا تعالیٰ اپنے کلام کی حفاظت خود کرتا ہے۔ اس لئے محرفین کی تحریف انہی کے قلم سے ظاہر کرا دیا کرتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت پڑھئے جو شیطان کے داخلۂ جہنم کے متعلق ہے۔

قال اذہب فمن تبعک منہم فان جہنم جزاء کم جزاء موفورا۔ (بنی اسرائیل: ٦٣)

اس میں بھی دو ضمیریں ”ہم“ اور ”کم“ ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ خلیفہ صاحب قادیان نے صحیح کیا ہے جو ان کے اس عقیدے کے خلاف ہے، لکھا ہے:

”اللہ تعالیٰ نے فرمایا چل (دور ہو) کیونکہ تیری اور ان میں سے جو تیری پیروی کریں تو جہنم یقیناً تمہاری اور (ان کی) سب کی جزا ہے یہ پورا پورا بدلہ ہے۔“

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٥٩)

ناظرین! یہ ترجمہ خلیفہ قادیان پر حجت الٰہی ہے۔ اس میں دو طرح سے شیطان کے داخلہ جہنم کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ایک تیری کے لفظ سے ، دوسرا تمہاری سب کی کے الفاظ سے۔

قادیانی ممبرو! ایک دن آنے والا ہے اور یقیناً آنے والا ہے کہ تمہارے خلیفہ صاحب کو اور تم کو مخاطب کر کے یہ ترجمہ دکھا کر کہا جائے گا۔ اقرأ کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ (بنی اسرائیل: ١٤)

مجھے تمہارے حال پر رحم آتا ہے کہ میں اس وقت کیا جواب دوں گا۔ امیر خسرو کی طرح میں بھی تم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جواب مجھے بھی بتا دو۔ شاید میں بھی تمہاری تائید کر کے تمہیں چھڑانے کی سفارش کروں۔ امیر خسرو اپنے سفاک معشوق کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:

بروز حشر گر پرسند خسرو را چرا کشتی
چہ خواہی گفت قربانت شوم تا من ہماں گویم

٢٠

صفحہ ٥٩٥

رہا یہ عذر کہ شیطان اس لئے جہنم میں نہیں جائے گا کہ وہ امتحان لینے والی طاقت ہے۔ اس سے خلیفہ قادیان کی غرض یہی ہے کہ مدعیان نبوت کاذبہ کو بھی دوزخ سے بچایا جائے۔ کیونکہ وہ بھی اسی اصول کے ماتحت بندوں کے امتحان لینے کی طاقتیں ہیں۔ ربنا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمین۔ احمدی ممبرو! تمہارے نبی ، رسول، مجدد، کرشن قادیانی آنجہانی نے تو شیطان کو اتنا بُرا ظاہر کیا ہے کہ مسیح موعود یعنی اپنے ہاتھ سے اس کا قتل ہونا مقدر لکھا ہے۔ (منظور الٰہی ج ٢ ص ٣٦٧) جو ابھی تک قتل نہیں ہوا۔ اگر قتل ہو جاتا تو یورپ اور ایشیا میں جنگ کی آگ نہ بھڑکتی۔ اور غالباً یہ غلط تفسیر بھی نہ لکھی جاتی۔ تم اس کو بڑی حد تک معذور سمجھتے ہوئے جہنم سے محفوظ رکھنا چاہتے ہو۔ یہ خیال ایسا ہے کہ آج سے پہلے شیطان کے کسی حامی نے ظاہر نہیں کیا:

ہوا تھا کبھی سر قلم قاصدوں کا
یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا

افعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین۔ فلما اسلما وتلہ للجبین ونادینہ ان یا ابراہیم قد صدقت الرؤیا انا کذالک نجزی المحسنین۔

(الصافات، آیات: ١٠٢ تا ١٠٥)

اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُس خواب کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے ہونہار بیٹے اسماعیل کے سامنے بیان کیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ اُس نے کہا ابا جان! آپ کو جس کام کا حکم ہوتا ہے اُسے کر گزریئے میں (ذبح ہونے پر) صبر کروں گا۔ جب دونوں باپ بیٹا فرمانِ خداوندی کے تابع ہو گئے اور باپ اپنے بیٹے کو الٹا لٹا کر ذبح کرنے لگا تو ہم نے (اُن پر نظر عنایت کی اور) کہا اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچا کر دیا۔ (اس کے بدلے میں ہم نے اس کو ایک بڑا ذبیح دیا) اور اسی طرح ہم نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔

اس آیت میں حضرت ابراہیم کے خواب دیکھنے اور ہو بہو اس پر عمل کرنے کا ذکر ہے بڑی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے اس فعل کی تصدیق فرمائی گئی۔ جیسا کہ جملہ صدقت الرؤیا (تو نے اپنا خواب سچا کر دیا) سے مفہوم ہوتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ ہی مضمون بتانے کے لئے کافی ہے۔ مگر خلیفہ قادیان بڑی جرأت اور دلیری سے لکھتے ہیں کہ:

”میرے نزدیک حضرت ابراہیم نے جو یہ خواب میں دیکھا تھا کہ وہ حضرت اسماعیل

٢١

صفحہ ٥٩٦

کو ذبح کر رہے ہیں اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ انہیں ایک دن ایک غیر ذی زرع وادی میں چھوڑ جائیں گے۔ ایسی جگہ پر چھوڑنا ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح ہی کرنا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ نے زمانہ کے رواج کے مطابق اس کی تعبیر غلط سمجھی تھی۔ کیونکہ اس زمانہ میں لوگ انسانوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے یہی سمجھا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ حضرت اسماعیل کو ذبح کر دیا جائے۔ لیکن دراصل اس کی تعبیر یہی تھی کہ وہ ان کو ایک غیر ذی زرع وادی میں چھوڑیں گے۔ ١؎

(قادیانی تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٨٦)

منقد :۔ اللہ اللہ! کس قدر دلیری اور جرأت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تعبیر کو جس کی خدا نے تصدیق فرمائی ہے‘ غلط کہا جاتا ہے۔ اے آسمان! تو کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا۔ اے زمین! تو کیوں نہیں پھٹ جاتی۔ پہاڑو! تم کیوں نہیں گر پڑتے۔ قادیان میں انبیاء کرام کی سخت توہین ہو رہی ہے۔ ان کے فہم اور خدائی تصدیق کو غلط قرار دیا جا رہا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ:

”ہم نے قرآن کی جو تفسیر لکھی ہے وہ خدا کے سمجھانے سے لکھی ہے۔“ (ص ١)

یہاں پہنچ کر میرا دل بیٹھا جا رہا ہے اور بدن کانپ رہا ہے، زبان لڑکھڑا رہی ہے کہ الٰہی یہ کیا ماجرا ہے کہ تیرا نام لے کر تیری کتاب کی تفسیر کی جاتی ہے۔ جس میں انبیاء کرام کی تغلیط اور تیری تصدیق کی تکذیب کی جاتی ہے۔ اچھا تو جان اور تیرا حلم جانے ہمیں تو تیرا ارشاد ہے۔ ذَرْنِی وَ الْمُكَذِّبِيْنَ اُولِى النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيْلًا (المزمل: ١١)

قادیانی ممبرو! یاد رکھو:

تو مشو مغرور بر حلمِ خدا
دیر گیرد سخت گیرد مر ترا

نوٹ :۔ تفسیر ہٰذا کے ج ٤ ص ٧٢ تا ٨٣ تک جنات اور مکالمہ آدم و ابلیس کی تاویلات وہی کی گئی ہیں جو سرسید احمد خان مرحوم علی گڑھی نے اپنی تفسیر میں کی ہوئی ہیں۔ یہ سب انہی کی کاسہ لیسی ہے۔٢؎

١؎ مولوی احمد دین صاحب امرتسری بھی خلیفہ قادیان کی غلط روش پر چلے ہیں۔ (تفسیر بیان للناس منزل ششم ص ٣٢) تشابہت قلوبہم (منقد)

٢؎ خلیفہ قادیان پر کیا موقوف ہے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب لاہوری جو جماعت مرزائیہ کے رکن رکین ہیں بلکہ اُن کے امیر محمد علی صاحب بھی اس قسم کے مسائل میں سرسید احمد خان علی گڑھی کی پیروی کرتے ہیں۔ لیس ہذا باوّل قارورۃ کسرت فی الاسلام ۔ ممکن ہے کہ ہم ان کے تعاقبات میں بھی بتوفیقہ تعالیٰ کوئی رسالہ لکھیں یا رسالہ تفسیر بالرائے میں ان کو بھی داخل کریں۔

٢٢

صفحہ ٥٩٧

(جن کے جوابات سے ہم تفسیر ثنائی میں فارغ ہو چکے ہیں اور ”تفسیر بالرائے“ کی جلد ثانی میں بھی فی الجملہ ذکر کریں گے ۔ ) اس کے باوجود یہ دعویٰ بھی ہے کہ:

”میں اللہ کے فضل سے ہر معترض کو ساکت کر سکتا ہوں ۔“ (مقولہ محمود، تفسیر ص ٥١٦)

الوقت المعلوم. (حجر: ٣٦ تا ٣٨)

اس آیت کی تفسیر میں خلیفہ قادیان نے عجیب بھول بھلیاں دکھائی ہیں ۔ یہاں تک کہ اپنے ترجمے کے خلاف بھی کہہ گئے ہیں ۔ اس آیت میں جو یبعثون کا لفظ ہے جس کا مادہ بعث ہے ۔ اس کے معنی قادیانی مؤلف نے کئے ہیں انسان کا نیکوکار ہو جانا ۔ مطلب یہ بتایا ہے کہ انسان کے نیک بننے تک مجھ کو (شیطان کو) مہلت ملے ۔ ناظرین حیران ہوں گے کہ اس فقرے کا مطلب کیا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم خود بھی حیران ہیں کہ یہ طفلانہ کلام کیا معنی رکھتا ہے ۔ اس لئے ہم مؤلف ہی کے الفاظ پیش کر دیتے ہیں کہ:

”اُس (شیطان) نے کہا اے میرے رب پھر تو مجھے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے ۔ فرمایا تو مہلت پانے والوں میں سے ہے ، معین وقت کے آنے کے

دن تک ۔“ (قادیانی تفسیر کبیر ج ٤ ص ٧٧)

منقد :۔ ناظرین اس ترجمے میں الفاظ ”دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک“ کو یاد رکھیں اور خلیفہ صاحب کی تفسیر سنیں ۔

”اس امر کا ثبوت کہ یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے نہ کہ حشر اجساد یہ ہے کہ اس جگہ موت تک نہیں فرمایا بلکہ یوم البعث تک فرمایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ حقیقی یوم البعث تک موقعہ ملنے کے کوئی معنے ہی نہیں ۔ کیونکہ مرنے کے بعد تو عالم امتحان ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ تو کسی مذہب کا بھی عقیدہ نہیں کہ مرنے کے بعد بھی شیطان اور ملائکہ لوگوں کو نیکی کی طرف لاتے یا بدی کی تحریک کرتے ہیں ۔ پس اگر یوم بعث سے یہاں حشر اجساد مراد لیا جائے تو یہ آیت قرآنی تعلیم اور عقل سلیم کے مخالف ہو جاتی ہے ۔ پس ہر عقلمند یہ ماننے پر مجبور ہو گا کہ یہاں یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے اور مطلب یہ ہے کہ اسی وقت تک شیطان یا شیطانی لوگ کسی کو گمراہی کا سبق دے سکتے ہیں جب تک اس کا روحانی بعث نہ ہو یا دوسرے لفظوں میں نفس مطمئنہ نہ ملا ہو ۔ جب نفس مطمئنہ مل جائے تو پھر شیطان اور اس کی ذریت اس بندے سے مایوس ہو جاتی ہے اور ورغلانے کے

طریقہ کو چھوڑ کر اسے جسمانی دُکھ دینا شروع کر دیتی ہے ۔“ (ایضاً ج ٤ ص ٧٧، ٧٨)

٢٣

صفحہ ٥٩٨

منقد :۔ ناظرین کرام! خلیفہ قادیان کی ان ہفوات سے پریشان نہ ہوں۔ آخر آپ اُسی باپ کے بیٹے ہیں جنہوں نے دمشق کے معنی قادیان کرنے میں اپنا سارا زور قلم خرچ کر دیا تھا۔ بلکہ جن کی ساری عمر اس قسم کی تاویلات اور تحریفات میں گزری۔ جس کے نمونے ہم نے اپنی کتاب ’’نکات مرزا‘‘ میں دکھائے ہوئے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے کہ ترجمے کے نیچے ’’دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک‘‘ لکھا ہے جس سے مراد یقیناً یوم حشر ہے اور تفسیر میں اس کی تردید کرتے ہیں۔ ناظرین ان کو ان کا اپنا ترجمہ یاد دلائیں تو شاید آپ اپنے سہو ونسیان کا عذر کر جائیں۔ جیسے استاد غالب نے اپنے معشوق کی طرف سے کیا تھا:

تم ان کے وعدے کا ذکر ان سے کیوں کرو غالب
یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں

ہم اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ناظرین سنیں اور قادیانی اَتباع انصاف کریں۔ قرآنی الفاظ یہ ہیں:

قال لئن اخرتن الی یوم القیامۃ لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا.

(بنی اسرائیل : ٦٢)

اس میں لفظ یوم القیامۃ موجود ہے۔ جو یوم یبعثون کی جگہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ قادیانی مؤلف میرے کلام میں تصرف بے جا کریں گے۔ اس لئے عالم الغیب خدا نے اس لفظ کی بجائے دوسرا واضح لفظ رکھ دیا۔ اب اس آیت کا ترجمہ سنئے جو خود خلیفہ قادیان نے کیا ہوا ہے۔

’’اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو مجھے تیری ہی ذات کی قسم ہے میں اس کی تمام اولاد کو قابو میں کرلوں گا سوائے تھوڑے سے لوگوں کے۔‘‘

(ایضاً ج ٣ ص ٣٥٩)

دیکھئے قرآن مجید کے الفاظ کیسے صاف ہیں اور خلیفہ کا ترجمہ بھی بالکل صاف ہے۔ اس لئے ہم اس کو تصرف قدرت سمجھتے ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے علم اور قدرت سے کبھی کبھی ظاہر فرما دیا کرتا ہے۔

ناظرین کرام! تصرف قدرت تو آپ نے ملاحظہ کر لیا۔ مگر خلیفہ قادیان بھی کوئی کچی گولیاں کھیلے ہوئے نہیں ہیں جن کو کہہ کر مکرنا نہ آتا ہو۔ کیونکہ وہ اس بزرگ باپ کے بیٹے ہیں جو ہمیشہ اپنی متحدیانہ پیشگوئیوں کے معنی بتا کر بموقع عدم وقوع اس سے انکار کر دیا کرتے تھے۔ (تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ ہو) اس لئے خلیفہ قادیان بھی اگر اپنے والد بزرگوار کی طرح کہہ کر پھر گئے ہوں تو تعجب نہیں۔

٢٤

صفحہ ٥٩٩

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قیامت کا لفظ اسلامی اصطلاح میں ایک خاص دن کے لئے مقرر ہے۔ کیونکہ اس کو قرآن مجید میں بکثرت یوم الفصل فرمایا گیا ہے ملاحظہ ہوں آیات ذیل:

(الجاثيه : ١٧)

(السجدة : ٢٥)

مؤلف تفسیر نے ان سب آیات سے اور اصطلاح اسلامیہ سے چشم پوشی کر کے قیامت کے معنی کو اسی طرح بگاڑا ہے جس طرح ان کے والد نے دمشق اور دجال کے معنی بگاڑے تھے۔

ہاں آپ کے الفاظ قابل دید و شنید ہیں جو درج ذیل ہیں:

”قیامت سے مراد مومنوں کی ترقی کا وقت ہے۔ کیونکہ اس وقت کافروں کی قیامت بذریعہ تباہی کے اور مومنوں کی قیامت بذریعہ کامیابی کے آ جاتی ہے۔“

(ایضاً ج ٣ ص ٣٦٠)

منقد :۔ کیا ہی معقول تقریر ہے کہ مومنوں کی ترقی میں دونوں قیامتیں آ جاتی ہیں۔ کیا ہم اتباع قادیان سے پوچھ سکتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مسلمان ترقی کی معراج پر پہنچ گئے تھے یا نہیں؟ یقیناً پہنچ گئے تھے جس کا اعتراف قادیانی اتباع کو بھی ہے۔ تو پھر ان حضرات کی قیامت قائم ہو گئی تھی؟ اگر ہو گئی تھی تو پھر یوم الفصل بھی اسی زمانے میں قائم ہو چکا ہوگا...... اگر ہو چکا تھا تو یوم الفصل کا نتیجہ جو قرآن مجید نے بتایا ہے فريق فی الجنة وفريق فی السعير ۔ (الشوریٰ : ٧) بھی واقع ہو گیا ہوگا۔

ناظرین ! یہ ہیں ان لوگوں کے معارف قرآن جن پر یہ لوگ ناز کیا کرتے ہیں۔ جن کی بنا پر آیت کریمہ لا يمسه الا المطهرون کے غلط معنی کر کے اپنے آپ کو مطہر بتایا کرتے ہیں:

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں

ناظرین کرام! اس سے زیادہ واضح لفظ ہم کیا پیش کریں۔ جو بھی لفظ پیش کریں اس کو توڑ مروڑ کر دوسرے معنی میں لے جانا ان لوگوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

عرصۂ دراز سے ہمارا دعویٰ ہے کہ قادیانی جماعت کے بانی مرزا قادیانی شیخ بہاء اللہ ایرانی سے مستفیض تھے اور اس کا ناقابل تردید ثبوت ہم اپنے رسالہ ”بہاء اللہ اور مرزا“ میں دے چکے ہیں۔ قیامت کے یہ معنی (جو مؤلف نے بتائے ہیں) بہائیوں سے ماخوذ ہیں۔ بہائیوں کے رسالہ ”پیامبر“ دہلی ٤٠-١٩٤١ء میں قیامت کا مضمون بکثرت نکلتا رہا ہے۔ جس کے جواب میں

٢٥

صفحہ ٦٠٠

اخبار ”اہلحدیث“ برابر بولتا رہا مگر قادیانی پریس خاموش رہا۔ ہم حیران تھے کہ ایسے ضروری مسئلے پر قادیانی پریس کیوں خاموش ہے۔ آخر قادیانی تفسیر دیکھنے سے ہمارا تعجب دور ہو گیا کہ یہ خاموشی دراصل اس تعلق کی وجہ سے ہے جو مفیض اور مستفیض میں ہوتا ہے۔ جس پر افسوس کرتے ہوئے بے ساختہ ہمارے قلم سے یہ شعر نکل گیا:

میرے پہلو سے گیا پالا ستم گر سے پڑا
مل گئی اے دل تجھے کفرانِ نعمت کی سزا

مؤلف تفسیر نے یہ بات بھی عجیب کہی ہے کہ:

”اس وقت تک شیطان یا شیطانی لوگ کسی کو گمراہی کا سبق دے سکتے ہیں جب تک اس کا روحانی بعث نہ ہو۔“

(ایضاً ج ٤ ص ٧٨)

اس کی تردید میں قرآنی نص کافی ہے۔ جس کے الفاظ مبارکہ یہ ہیں:

ان الذين اتقوا اذا مسهم طائف من الشيطن تذكروا فاذا هم مبصرون

(الأعراف: ٢٠١)

یہ آیت بتا رہی ہے کہ متقیوں پر بھی کبھی کبھی شیطان کا اثر ہو جاتا ہے۔ شاید قادیان میں ایسے متقی ہوں گے جو سب کچھ ہضم کر کے بھی روزہ دار کہلائیں۔ یاللعجب وضيعۃ الادب مختصر یہ ہے کہ قیامت کا اعتقاد اسلام کے اُن عقائد میں سے ہے جو مدارِ ایمان ہیں۔ مگر قادیانی خلیفہ اور ان کے اتباع نے اس پر بھی ہاتھ صاف کر دیا۔ سچ ہے:

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہیں مرغِ قبلہ نما آشیانے میں

من امرنا رشدا

(کهف: ١٠)

سورۂ کہف میں اصحاب کہف کا ذکر مفصل ملتا ہے۔ ان کی تعداد صریح لفظوں میں تو نہیں بتائی گئی البتہ معلوم ہو سکتی ہے کہ وہ سات اشخاص تھے۔ سورہ کہف میں ان کے لئے دو جگہ ”فتیہ“ کا لفظ آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں ”چند نوجوان۔“ چنانچہ مؤلف قادیانی تفسیر نے آیت مرقومہ بالا کا ترجمہ جس میں یہ لفظ آیا ہے یوں کیا ہے:

”جب وہ چند نوجوان وسیع غار میں پناہ گزیں ہوئے اور (دعا کرتے ہوئے) انہوں نے کہا (کہ) اے ہمارے رب ہمیں اپنے حضور سے (خاص) رحمت عطا کر اور ہمارے (اس)

٢٦

صفحہ ٦٠١

معاملہ میں درست روی کا سامان مہیا کر۔“

(ایضاً ج ٤ ص ٤١٧)

اسی سورہ کی ایک اور آیت میں بھی فتیۃ کا لفظ آیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:

انہم فتیۃ امنوا بربہم وزدنہم ہدی.

(کہف : ١٣)

اس کا ترجمہ آپ نے یوں کیا ہے:

”وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر حقیقی ایمان لائے تھے اور انہیں ہم نے ہدایت میں (اور بھی) بڑھایا تھا۔

(ایضاً ج ٤ ص ٤٢٧)

منقد :۔ ان دونوں آیتوں کا ترجمہ صحیح ہے۔ لیکن قادیانی مؤلف نے تفسیر میں اپنے جوہر خوب دکھائے ہیں، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

”لوگ اصحاب کہف کے واقعہ کو کسی ایک جماعت کا واقعہ سمجھتے تھے لیکن یہ واقعہ در حقیقت ایک جماعت پر یا ایک زمانے میں نہیں گزرا بلکہ کئی جماعتوں سے مختلف زمانوں میں گزرا ہے۔“

(ایضاً ج ٤ ص ٤٢٤)

ناظرین کرام! قرآن مجید کی نص صریح میں اصحاب کہف کو فتیۃ اور الفتیۃ کہا گیا ہے۔ جس کا صحیح ترجمہ خود مؤلف تفسیر نے چند نوجوانوں کے لفظ سے کیا ہے مگر خلیفہ قادیان نے باوجود صحیح ترجمہ کرنے کے اپنے جوہر دکھانے کو انہی چند جوانوں کو مختلف زمانوں میں کئی ایک جماعتیں قرار دیا ہے۔ جو قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ہے۔ اس موقع پر ہم آپ ہی کے الفاظ میں افسوس ظاہر کریں تو بجا ہوگا۔ آپ لکھتے ہیں:

”کیا لطیفہ ہے بلکہ رونے کا مقام ہے کہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اصحاب کہف کوئی عجوبہ چیز نہ تھے بلکہ اور آیتوں کی طرح یہ بھی ایک آیت ہی تھے مگر ہمارے مسلمان اس کو ایک عجوبہ بنا رہے ہیں۔“

(ایضاً ج ٤ ص ٤١٧)

ہم بھی انہی الفاظ میں مؤلف تفسیر اور ان کے اعوان و انصار پر افسوس کرنے کو کہتے ہیں کہ ”رونے کا مقام ہے کہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اصحاب کہف چند نوجوان تھے مگر قادیانی مفسر ان کو کئی مختلف جماعتیں بتا رہا ہے۔ الی اللہ المشتکی۔ قادیانی ممبرو! ؎

بہت مشکل پڑے گی برابر کی چوٹ ہے
آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کر

نہیں کہ ذوالقرنین کی تعیین اور تحقیق میں مفسرین متقدمین کے اقوال مختلف ہیں اور آج کل بھی نئی

٢٧

صفحہ ٦٠٢

تحقیقات شائع ہورہی ہیں۔ اس لئے ہمیں اس سے کچھ زیادہ تعرض نہیں ہے اگر ضرورت پڑی تو تفسیر بالرائے میں اس کا ذکر کر دیا جائے گا۔ یہاں صرف ایک بات کا اظہار مقصود ہے جس کو مؤلف تفسیر نے اپنے والد (مرزا قادیانی) کی تقلید میں ذکر کیا ہے۔ بڑے میاں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کی جلد پنجم میں لکھا ہے کہ ”خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا ہے۔“

(براہین ص٩٠۔ خزائن ج٢١ ص١١٨)

مؤلف قادیانی تفسیر نے اپنے والد کی تقلید میں سونے پر سہاگہ کا کام دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں: ”ذوالقرنین کا ذکر اس جگہ اس لئے کیا گیا ہے تا اس خبر کو بطور پیشگوئی بیان کر کے ایک دوسرے ذوالقرنین کی خبر دی جاسکے جو فارسی الاصل ہوگا اور یاجوج ماجوج کا مقابلہ کر کے اس کے زور کو توڑے گا اور اس طرح پہلے ذوالقرنین پر سے الزام کو دور کرے گا۔“

(ایضاً ج٤ ص٤٩٤)

منقد :۔ اس اقتباس میں بتایا ہے کہ ذوالقرنین ثانی (مرزا قادیانی) یاجوج ماجوج کا زور توڑے گا۔ اس امر کی تحقیق کے لئے پہلے ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزا صاحب کے نزدیک یاجوج ماجوج کون ہیں؟ مرزا صاحب کا قول ہے کہ:

ان ياجوج وماجوج هم النصارى من الروس والاقوام البرطانيه ...... اما قولنا ان ياجوج وماجوج من النصارى لا قوم آخرون فثابت بنصوص القرآنیہ.“

(حمامة البشریٰ ص٢٨ ٢٩۔ خزائن ج٧ حاشیہ ص٢٠٩ تا ٢١١)

(یعنی بقول مرزا صاحب) نصوص قرآنیہ سے ثابت ہے کہ نصاریٰ روس اور انگریز وغیرہ یاجوج ماجوج ہیں۔ مرزا صاحب (ذوالقرنین) نے ان اقوام (یاجوج ماجوج) کا زور کیسے توڑا۔ مفصل بتانے کی ضرورت نہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ بڑے میاں انگریزی حکومت کی حفاظت کے لئے بقول خود تعویذ تھے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

”میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان (انگریزوں) کو دکھ پہنچاوے (اس حال میں کہ) تو ان میں ہو۔ پس اس (انگریزی) گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں۔“

(نور الحق حصہ اول ص٣٣۔ خزائن ج٨ ص٤٥)

اس کے علاوہ موجودہ خلیفہ قادیان مؤلف تفسیر نے بارہا اس امر کا اظہار کیا کہ: ”حکومت وقت (برطانیہ) کی اطاعت جماعت احمدیہ کا مذہبی اصول ہے۔“

(الفضل قادیان ٢٢۔ جون ١٩٣٩ء)

٢٨

صفحہ ٦٠٣

یہ تو ہوا باپ بیٹے یا ذوالقرنین اور خلیفہ قادیان کا یاجوج ماجوج کے متعلق عقیدہ اور عمل۔ حال ہی میں خلیفہ صاحب کی غیر حاضری میں ان کے مرید مولوی شیر علی نے قادیان میں جمعے کا خطبہ دیا ہے جس میں جرمنی کے بڑے حملے سے انگلستان کے محفوظ رہنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ”یہ حفاظت بھی دراصل حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی دعاؤں کی برکت سے ہے۔“

(الفضل ٢٤ اگست ١٩٤١ء ص ٣)

منقد :- انگریز یاجوج ماجوج کیسی خوش قسمت قوم ہے کہ خود مرزا قادیانی اور ان کا خلیفہ بلکہ خلیفے کے جانشین تک سب کے سب ان کی فتح و نصرت کے لئے دعا گو ہیں اور ان کی عزت و آبرو کے محافظ ہیں۔

ناظرین! یہ ہے یاجوج ماجوج اور ذوالقرنین کا باہمی تعلق۔ اگر ان لوگوں کا ایسا تعلق کسی اسلامی حکومت کے ساتھ ہوتا تو اسکے وارے نیارے ہو جاتے۔ آج اسلامی سلطنتیں اور مسلم قوم قادیانی ذوالقرنین کو مخاطب کر کے کہہ رہی ہیں:

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے ابر کرم مہر وفا کچھ تو ادھر بھی

روسی حکومت :- حمامۃ البشریٰ کی عبارت مرقومہ میں روس کا ذکر بھی ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ یاجوج ہے یا ماجوج۔ بہرحال ان دو میں سے ایک ضرور ہے۔ سو اس کی طاقت اور قوت کو بھی مرزا صاحب (ذوالقرنین) نے خوب توڑا ہے۔ اور ایسا توڑا ہے کہ وہ آج (اگست ١٩٤١ء) تک بقول مولوی شیر علی صاحب جرمنی جیسی شہ زور حکومت (جو یورپ کے اکثر ملکوں کو فتح کر چکی ہے) کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا ہے۔

واقعی ایسے ذوالقرنین کی شہ زوری قابل داد ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ:

کوئی بھی کام مسیحا ترا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے ترا آنا جانا

اطلاع :- ہم نے اختصار کے ساتھ یہ دس مقام بطور نمونہ شائع کیے ہیں۔ باقی مقامات کی تنقید ”تفسیر بالرائے“ کی جلد ثانی میں کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ستمبر ١٩٤١ء

٢٩

PDF 604

خوشخبری

ایک تحریک ... وقت کا تقاضہ

بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کے مجموعہ رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کے نام سے اس وقت تک سات جلدیں شائع کی ہیں۔

" حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ " حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ " ... حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ

" ........ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ

(یہ نو جلدیں شائع ہوچکی ہیں) اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو جلد دہم میں مرزا قادیانی کے نام نہاد قصیدہ اعجازیہ کے جوابات میں امت کے جن فاضل علماء نے عربی قصائد تحریر کئے وہ شامل اشاعت ہوں گے۔ اس سے آگے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔

طالب دعا! عزیز الرحمن جالندھری مرکزی دفتر ملتان

PDF 605

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

محمود مصلح موعود

فاتح قادیان

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٦٠٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مصلح موعود

پہلے مجھے دیکھئے

مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو اپنی صداقت پر اپنی پیشگوئیوں کو دلیل ٹھہرایا۔ کتاب شہادت القرآن میں لکھا کہ میری تین پیشگوئیاں اس وقت شائع شدہ ہیں جو تین قوموں کے متعلق ہیں۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم مناظر از جانب مسیحیاں کی موت کے متعلق پیشگوئی عیسائی قوم کے متعلق ہے۔ مسماۃ محمدی بیگم ساکنہ پٹی کے نکاح کی پیشگوئی مسلمان قوم کے متعلق ہے۔ پنڈت لیکھرام آریہ کی موت کی پیشگوئی ہندو قوم کے متعلق ہے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں یکے بعد دیگر غلط ثابت ہوئیں۔ ان سب پر طویل بحث ہمارے رسالہ ’الہامات مرزا‘ میں ملاحظہ ہو۔ بالخصوص لیکھرام والی پیشگوئی کے متعلق ہمارا رسالہ ’لیکھرام اور مرزا‘ قابل دید ہے۔ ان تینوں پیشگوئیوں کے بعد کئی ایک پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں مگر مرزا قادیانی اور اتباع مرزا ان کے جواب میں کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ آخر خدا کی حکمت نے مرزا صاحب سے وہ اعلان شائع کروا دیا جس کا عنوان ہے ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ جو میری تکذیب اور تردید کرتا ہے۔ ہم دونوں میں سے جو خدا کے نزدیک جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔ اس اشتہار پر تاریخ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء مرقوم ہے۔ خدا کی شان اس کے بعد ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا صاحب فوت ہو کر اس اشتہار کی تصدیق کر گئے۔ باوجود اس بین فیصلہ کے اتباع مرزا نے اپنی ضد کو نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ اس مضمون پر مجھے مناظرہ کا چیلنج دیا اور درصورت میری فتحیابی کے تین سو روپیہ انعام رکھا۔ دو منصف فریقین کے اور درصورت اختلاف ایک ان کا سرپنچ غیر مسلم مقرر ہوا۔ مباحثہ اپریل ١٩١٢ء میں بمقام لدھیانہ قرار پایا۔ دو منصفوں میں اختلاف رائے کی وجہ سے سرپنچ کے فیصلہ سے تین سو روپیہ میں نے حاصل کیا۔ اس مباحثے اور فیصلے کی روئیداد بصورت رسالہ موسوم بہ ”فاتح قادیان“ مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آخری فیصلے پر

٢

صفحہ ٦٠٧

مفصل بحث ایک اور رسالے میں بھی شائع ہوئی ہے۔ جس کا نام ہے ”فیصلہ مرزا“۔ یہ رسالہ عربی و اُردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس پر بھی اتباع مرزا نے سکوت نہ کیا بلکہ کچھ نہ کچھ کہتے گئے۔ اس لئے خدائی غیرت نے خاص طریق سے اُن پر حجت قائم کرنے کو خلیفہ قادیان ہی کو ذریعہ بنایا۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ میری اولاد میں سے ایک لڑکا مصلح موعود ہوگا جو ایسے ایسے کام کرے گا۔ ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ہم اس پر بحث کرتے۔ جب ہم اصل کو نہیں مانتے تو فرع کو کیسے مانیں؟ خدا کی حکمت نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اس میں دخل دیں۔ میاں محمود خلیفہ قادیان کو خیال ہوا کہ اس پیشگوئی کے ماتحت مصلح موعود میں ہوں۔ اس دعوے کو انہوں نے اتنا اہم سمجھا کہ سب سے پہلے ہوشیار پور میں بتاریخ ٢٠؍فروری ١٩٤٤ء کو جلسہ کیا۔ جس میں دور دراز سے مریدوں کو بلا کر یہ مژدہ سنایا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ حضرت صاحب کی پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود میں ہوں۔ پھر اسی غرض کے لیے لاہور میں بتاریخ ١٢؍مارچ ١٩٤٤ء جلسہ کیا گیا۔ پھر جو مزید شوق غالب ہوا تو بتاریخ ١٦؍اپریل ١٩٤٤ء دہلی میں جلسہ رچایا۔ ہم سنتے تھے کہ امرتسر میں بھی اس قسم کا جلسہ ہوگا۔ مگر دہلی میں کچھ ایسے ناموافق واقعات پیش آئے کہ خلیفہ جی کو امرتسر وغیرہ بلاد میں جلسہ کرنیکا حوصلہ نہ ہوا۔ اُدھر لاہوری پارٹی نے سر اٹھایا اور دھیمے دھیمے خلیفہ قادیان کے اس دعویٰ کی مخالفت شروع کی۔ ادھر ہم نے بھی اس پیشگوئی پر اعتراضات شروع کئے۔ مگر ہماری اور لاہوری پارٹی مرزائیہ کی بحث کی نوعیت الگ الگ ہے۔ وہ تو صرف اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ میاں محمود مصلح موعود نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ سرے سے بڑے میاں کی پیشگوئی غلط ہے۔ اس مضمون کو ہم نے اخبار اہلحدیث ١١؍فروری ١٩٤٤ء سے لے کر ٢٥؍اگست ١٩٤٤ء میں بارہا لکھا۔ جس میں تقاضا کرتے رہے کہ مصلح موعود کا پتہ بتائیے مگر نہ قادیانیوں نے پتہ بتایا اور نہ لاہوریوں نے۔ پھر بھی ہم خاموش ہو جاتے اور کہتے کہ ان دونوں جماعتوں کا آپس کا جھگڑا ہے۔ ع

محتسب را درون خانہ چہ کار

مگر میاں محمود خلیفہ قادیان نے اس پیشگوئی کو غیر احمدیوں یعنی عام مسلمانوں کے متعلق قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں:

”جہاں تک اس کے نام مصلح موعود کا تعلق ہے وہ غیر احمدیوں کے لئے ہے“

(الفضل ٥ جولائی ١٩٤٤ء ص٣)

٣

صفحہ ٦٠٨

اسی لئے ہم نے توجہ کی ہے کہ ہم اس پر تنقید کریں۔ چنانچہ آج اسی نیت سے ہم نے قلم اٹھایا ہے۔ ہمارے خیال میں قادیانی قلعہ کو مسمار کرنے کے لئے دو مضمون کافی ہیں۔ ایک آخری فیصلہ ۔ دوسرا مصلح موعود کی پیشگوئی ۔ آخری فیصلہ کے متعلق ہماری طرف سے کافی اشاعت ہو چکی ہے اور ہوتی رہے گی انشاء اللہ ۔

چونکہ مصلح موعود کی پیشگوئی کو عام مسلمانوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس تعلق کو اچھی طرح نباہنے کے لئے مفصل حالات مع حوالہ جات لکھتے ہیں :

غالب ! ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کئے ہوئے

افوض امری الی اللہ ۔ ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ملقب بہ فاتح قادیان

......☆......

مصلح موعود

جناب مرزا قادیانی نے بہت سی پیشگوئیاں کی ہیں جو سب کی سب اپنے وقت پر غلط ثابت ہوئیں ۔ جس پر ایک محقق کو یہ کہنے کا موقع ہے ۔

ہزار وعدوں میں گر ایک ہی وفا کرتے
قسم خدا کی نہ ہم تم کو بے وفا کہتے

اس کی تفصیل مع ثبوت ہمارے رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ وغیرہ میں ملاحظہ ہو ۔ انہی پیشگوئیوں میں ایک پیشگوئی مصلح موعود کی بھی ہے جو اپنے چوتھے فرزند کے متعلق کی ہوئی ہے جو سراسر غلط ثابت ہوئی ہے ۔ مگر ان کے بیٹے میاں محمود خلیفہ قادیان نے لاوارث مال کی طرح اس کو اپنے حق میں لے کر مشہور کیا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے متعلق ہے۔ اس لئے اس میں ایک اور پیچیدگی پیدا ہو گئی ۔ اس کی تفصیل بتانے کے لئے ہم یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ سب سے پہلے وہ حوالہ نقل کرتے ہیں جو سب کے پیچھے کا لکھا ہوا ہے ۔ مگر چونکہ اس میں پہلے حوالہ جات کا ذکر ملتا ہے

٤

صفحہ ٦٠٩

اس لئے ان کو اس کے بعد ایک ایک کر کے دکھائیں گے۔ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ: ” میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیشگوئی اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں کی گئی اور پھر انجام آتھم کے صفحہ ١٨٣ میں بتاریخ ١٤؍ستمبر ١٨٩٦ء یہ پیشگوئی کی گئی اور رسالہ انجام آتھم بماہ ستمبر ١٨٩٦ء بخوبی ملک میں شائع ہو گیا اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ٥٨ میں اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ عبدالحق غزنوی جو امرتسر میں مولوی عبدالجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے، نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا بیٹا پیدا نہ ہولے اور اس صفحہ ٥٨ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عبدالحق غزنوی ہماری مخالفت میں حق پر ہے اور جناب الٰہی میں قبولیت رکھتا ہے تو اس پیشگوئی کو دعا کر کے ٹال دے۔ اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ١٥ میں کی گئی۔ سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے اور عبدالحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیشگوئی کو ١٤؍جون ١٨٩٩ء میں جو بمطابق ٤؍صفر ١٣١٧ھ تھی بروز چارشنبہ پورا کر دیا یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اصل غرض اس رسالہ کی تالیف سے یہی ہے کہ تا وہ عظیم الشان پیشگوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا اس کی ملک میں اشاعت کی جائے کیونکہ یہ انسان کو جرأت نہیں ہو سکتی کہ یہ منصوبے سوچے کہ اول تو مشترک طور پر چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرے جیسا کہ اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں کی گئی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑکے پیدا ہوتے جائیں۔ یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیشگوئیوں میں قرار دیا تھا وہ پورا ہو جائے۔ حالانکہ یہ پیشگوئی اس کی طرف سے ہو کہ جو محض افتراء سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا مامور قرار دیتا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ مفتری کی ایسی مسلسل طور پر ١؎ مدد کرتا جائے کہ ١٨٨٦ء سے لغایت ١٨٩٩ء چودہ سال تک برابر وہ مدد جاری رہے۔ کیا کبھی مفتری کی تائید خدا نے ایسی کی یا صفحہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر بھی ہے۔۔۔۔۔؟ سو صاحبو وہ دن آ گیا اور وہ چوتھا لڑکا جس کا ان کتابوں میں چار مرتبہ وعدہ دیا گیا تھا صفر ١٣١٧ھ کی چوتھی تاریخ میں بروز چارشنبہ پیدا ہو گیا۔“ (تریاق القلوب ص ٤٣۔ خزائن ج ١٥ ص ٢٢١ تا ٢٢٣)

١؎ مرزا صاحب کی اس جرأت کو ملاحظہ کیجئے اور خدائی حکمت کو بھی دیکھئے کہ اسی لڑکے کو جس کا نام مصلح موعود رکھا گیا ہے نابالغی ہی میں خدا نے اٹھا لیا۔ جس پر یہ شعر صادق آیا ۔

تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد

٥

صفحہ ٦١٠

منتقد :۔ اس عبارت میں مرزا صاحب نے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء والے اشتہار کا نام لیا ہے اور اس اشتہار میں جو پیشگوئی درج ہے اس میں اپنے چوتھے بیٹے مبارک احمد کا نام لیا ہے اس لئے ہم پہلے اس پیشگوئی کے الفاظ نقل کرتے ہیں:

”سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت نسل ہوگا خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔ اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا۔ اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا ۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٥٩‘ ٦٠۔ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)

منتقد :۔ ناظرین کرام! اس حوالہ میں پسر موعود کے متعلق جو اوصاف لکھے ہیں اُن کو ملحوظ رکھئے اور ایک واقعہ دلفگار سنئے کہ مرزا صاحب نے اپنی الہامی فراست سے اس لڑکے کا ان اوصاف سے موصوف ہونا ایسا یقین کر لیا کہ چھ سات سال کی عمر میں اس کا نکاح بھی کر دیا جونہی نکاح ہوا بالہام الٰہی یا کسی مخالف کے بتانے سے حضرت عزرائیل کو خبر ہو گئی وہ فوراً آ پہنچے۔ ادھر مسیح قادیان اپنے الہام کو پورا کرنے کے لئے دست بدعاء تھے اُدھر عزرائیل لڑکے کو لے جانے کے لئے مُصِر تھے۔ اس وقت کا نقشہ کسی شاعر نے کیا ہی اچھے الفاظ میں دکھایا ہے۔ ؎

ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جاں لے کے ٹلوں
سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے

آخر عزرائیل غالب آیا اور بفرمان خداوندی اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذٍ نِ الْمَسَاقُ مصلح موعود کو بعزت و احترام ١٩٠٧ء میں بعمر آٹھ سال اٹھا کر لے گیا۔

(اشتہار تبصرہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد دہم ص ١٢٦۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٥)

مصلح موعود کی پیشگوئی تو یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جس پسر موعود کی بابت بڑے بڑے دعوے کئے تھے نور اللہ ہوگا‘ اسیروں کو رہائی دلائے گا‘ گویا خدا آسمان سے اتر آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ وہ مرزا صاحب اور اَتباع مرزا کو نابالغی ہی میں داغ مفارقت دے گیا۔ مگر مریدانِ باصفا کو

٦

صفحہ ٦١١

شاباش ہے کہ ان کے شیشۂ اعتقاد پر کسی قسم کا میل نہیں آیا اور وہ یہی کہتے رہے:

پیر ما خس است و اعتقاد ما بس است

ایسے مریدوں کے حق میں کسی شاعر نے کیا ٹھیک کہا ہے:

پھرے زمانہ پھرے آسماں ہوا پھر جا
بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا

بجائے اس کے کہ اتباع مرزا اس پیشگوئی کو غلط کہہ کر مرزا صاحب سے ہمیشہ کے لئے تعلق قطع کر لیتے انہوں نے اس طرفہ پر اور طرہ لگایا کہ مرزا صاحب کے پسر اول میاں محمود احمد کو مصلح موعود مان لیا۔ حالانکہ مرزا صاحب (صاحب الہام) اس کے مصلح موعود ہونے کی نفی کر چکے ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤‘ ١٥۔ خزائن ج ١١ ص ٢٩٩)

تفصیل اس کی یہ ہے کہ میاں محمود خلیفہ قادیان نے دعویٰ کیا کہ وہ مصلح موعود میں ہوں اس دعوے کو عجیب طریقے سے شہرت دی۔ لہٰذا ہم نے اخبار ”اہلحدیث“ میں تعاقب کرنے کو کئی بار مضمون لکھا۔ سوال پر سوال کئے کہ آپ کی بابت تو مرزا صاحب نے مصلح موعود ہونے کی نفی کی ہوئی تھی آپ کیسے مصلح موعود بنتے ہیں۔ جس عبارت میں نفی کی ہے وہ یہ ہے اور اس کتاب کا مرزا صاحب نے تریاق القلوب میں حوالہ بھی دیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

”پھر ایک اور الہام ہے جو فروری ١٨٩٦ء میں شائع ہوا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اُس وقت ان تین لڑکوں کا جو اب موجود ہیں (محمود۔ بشیر۔ شریف) نام و نشان نہ تھا۔ اور اس الہام کے معنی یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر ایک اور ہوگا جو تین کو چار کر دے گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤‘ ١٥۔ خزائن ج ١١ ص ٢٩٨‘ ٢٩٩)

ناظرین کرام! یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ میاں محمود مصلح موعود کا مصداق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ پہلا لڑکا اور مصلح موعود چوتھا لڑکا تھا۔ جو ان تینوں کے بعد پیدا ہونے والا تھا۔ چنانچہ اس لڑکے کی بابت مرزا صاحب نے کتاب انجام آتھم میں یہ الفاظ لکھے ہیں:

فتحرک فی صلبی روح الرابع۔ بعالم المکاشفة فنادی اخوانه وقال بینی وبینکم میعاد یوم من الحضرة فاظن انه اشارة الی السنة الکامله۔

”وہ پسر موعود (ماں کے رحم میں آنے سے پہلے) میری صلب میں متحرک ہوا اور

٧

صفحہ ٦١٢

اپنے بھائیوں کو مخاطب کر کے اس نے کہا میرے تمہارے درمیان ایک دن کا فاصلہ ہے یعنی ایک سال کا میں جلد آ جاؤں گا۔“

(انجام آتھم ص ١٨٣۔ خزائن ج ١١ ص ١٨٣)

یہی موعود لڑکا بقول مرزا صاحب دو دفعہ ماں کے پیٹ میں بھی بولا۔ اور بھائیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کا فاصلہ ہے۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس ١؎ تھے۔

(تریاق القلوب ص ٤١۔ خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)

حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یکم جنوری ١٨٩٧ء میں لڑکا بولا ایک روز کی میعاد ہے اور پیدا ہوا ١٨٩٩ء میں۔ (حوالہ ایضاً)

ناظرین! اس جنین کی صداقت کلامی بھی قابل غور ہے۔ سچ ہے ابن الفقیه نصف الفقیه ناظرین! خدا تعالیٰ جو خیر الماکرین ہے۔ مرزا صاحب کے ساتھ اس کے پُر اسرار تعلقات کچھ ایسے ہیں جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ مرزا صاحب کی تکذیب کرانے کو خدا تعالیٰ ان کے دل میں ایسی باتیں ڈال دیتا ہے وہ تو ان کا الہام رکھتے ہیں مگر دراصل ان کی بدنامی کا باعث ہوتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سب کچھ اس آیت کے ماتحت ہوتا ہے۔ ولا یحیق المکر السيئ الا باهله.

دیکھئے مرزا صاحب پسر موعود کی ولادت کے متعلق کتنی تعلی دکھاتے ہیں۔ صوفی عبدالحق غزنوی کو (جنہوں نے مئی ١٨٩٣ء میں امرتسر میں مرزا صاحب کے ساتھ مباحثہ کیا تھا) متنبہ کرنے کو لکھتے ہیں کہ ”صوفی عبدالحق غزنوی نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا لڑکا نہ ہولے“ اور یہاں تک لکھا کہ اس رسالہ کی تالیف کی وجہ ہی یہی ہے کہ وہ عظیم الشان پیشگوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا کی طرف سے ہو چکا تھا ملک میں اشاعت کی جاوے اور عبدالحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیشگوئی کو ١٤؍ جون ١٨٩٩ء کو پورا کر دیا۔

ناظرین! یہ وہی مبارک احمد ہے جس کی بابت ہم لکھ چکے ہیں کہ نابالغی میں فوت ہو کر ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا تھا۔ جس پر مرزا صاحب کے حق میں یہ شعر صادق آیا ؎

حباب بحر کو دیکھو یہ کیسا سر اٹھاتا ہے
تکبر وہ بُری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے

مختصر یہ ہے کہ اس پیشگوئی کی ابتدا ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء سے ہوتی ہے۔ اس کے الفاظ صفحات گذشتہ رسالہ ہٰذا پر ایک دفعہ پھر ملاحظہ کر کے ذہن میں رکھیں۔ اور ضمیمہ انجام آتھم ص ١٤ کو

١؎ رسالہ انجام آتھم ص ١٨٣۔ خزائن ج ١١ ص ١٨٣ پر ایک دن سے مراد ایک سال بتا چکے ہیں۔ (منقد)

٨

صفحہ ٦١٣

بھی ساتھ ملائیں اور مبارک احمد کے متعلق بھی مرزا صاحب کے الفاظ سامنے رکھیں۔ اور مبارک احمد کا نابالغی میں مرجانا بھی ملحوظ رکھیں تو اس نتیجے پر صاف پہنچیں گے کہ یہ پیشگوئی سرے سے غلط ہوئی ہے۔ نہ ان اوصاف کا موصوف کوئی لڑکا مرزا صاحب کے ہاں پیدا ہوا نہ زندہ رہا۔ اس لئے وہ بصد حسرت و افسوس یہ شعر پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ؎

جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو

ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری اگست ١٩٤٤ء۔ رمضان شریف ١٣٦٣ھ

٭٭٭٭٭

٩

صفحہ ٦١٤

بسم الله الرحمن الرحیم !

تحفہ احمدیہ

نحمده ونصلی علیٰ رسوله خاتم النبیین ، اما بعد !

اہل حدیث مکتب فکر کے ممتاز رہنما حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے سوانح نگار حضرت مولانا عبد المجید سوہدرویؒ و حضرت مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری نے آپ کی رد قادیانیت تصانیف کے ضمن میں ایک رسالہ تحفہ احمدیہ کا ذکر کیا ہے۔ مولانا عبد المجیدؒ نے تحفہ مرزائیہ کا بھی علیحدہ تذکرہ کیا ہے۔ دونوں ایک ہیں یا علیحدہ علیحدہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ اس کے حصول کے لئے ذیل کی لائبریریوں میں تلاش کیا۔ پیر جھنڈا لائبریری، پیر بدیع الدین شاہ لائبریری، مولانا عطاء اللہ حنیف کی لائبریری شیش محل لاہور، مبارک مسجد لائبریری ریلوے روڈ لاہور، بیت الحکمة مولانا پروفیسر عبدالجبار شاکر لائبریری حبیب پارک منصورہ لاہور، مولانا اسحاق بھٹی مدظلہ لائبریری، مولانا مختار عالم ملحق مکتبہ سلفیہ شیش محل، مولانا عبد الرحمٰن مدنی لائبریری، مولانا محمد داؤد ارشد نارنگ منڈی، مولانا امرتسری مرحوم کے پڑپوتے عرفان اللہ ثنائی، مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی لائبریری، پنجاب یونیورسٹی لائبریری، اورینٹل کالج لاہور لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری، عجائب گھر لائبریری، مدرسہ نعمانیہ لاہور لائبریری، جناب ضیاء اللہ کھوکھر گوجرانوالہ کی لائبریری، مولانا محمد ابراہیم واسو منڈی بہاؤ الدین لائبریری، بخاری لائبریری مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر اور دیگر بہت سی لائبریریوں سے اس رسالہ کو تلاش کیا مگر دستیاب نہ ہوا۔

ورق سے تلاش کیا۔ صرف ایک جگہ اس کا اشتہار ملا اور لطف یہ کہ جو اشتہار و اعلان کی عبارت ہے وہی سوانح نگار حضرات نے اس رسالہ کے تعارف کے لئے نقل کر دی۔ جس کا معنی یہ ہے کہ رسالہ کا تعارف انہوں نے بھی رسالہ اہل حدیث سے لیا اصل مطبوعہ رسالہ سوانح نگار کو بھی میسر نہیں آیا۔ (٢)...... اخبار اہل حدیث امرتسر کی جن جلدوں تک ہماری رسائی ہوئی مولانا مرحوم کے ان رسائل رد قادیانیت کی سینکڑوں بار فہرست شائع ہوئی مگر کہیں تحفہ احمدیہ کا ذکر تک نہیں۔

صفحہ ٦١٥

مرحوم کا ہے۔ (٤)...... اس کے شائع ہونے کا اشتہار ہے۔ وہ شائع بھی ہوا یا نہیں۔ (٥)...... اس رسالہ کا جو تعارف لکھا گیا وہ تحریر مولانا مرحوم کے دو رسائل عقائد مرزا اور نکاح مرزا پر صادق آتی ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے ان رسائل کو علیحدہ علیحدہ شائع کیا ہو پھر ایک رسالہ میں دونوں کو یکجا تحفہ احمدیہ کے نام سے شائع کرنا چاہتے ہوں۔ (یا شائع کیا ہو) یہ تمام احتمالات رسالہ کے نہ ملنے پر پیدا ہوئے۔ اب تلاش بسیار کے بعد اس کی عدم دستیابی پر خود تذبذب کا شکار ہو گیا ہوں کہ کہیں اگر یہ رسالہ شائع ہوتا تو جیسے مولانا امرتسریؒ کی عادت تھی کہ وہ اپنے رسائل کو پہلے مضامین کی شکل میں شائع کر دیتے تھے کسی رسالہ میں اس کی کوئی قسط تو ملتی؟۔ وہ بھی نہیں ملی۔ الحمد للہ احتساب قادیانیت کی گزشتہ سات جلدوں تک کسی بھی بزرگ کا کوئی رسالہ جس کی نشاندہی ہوئی اور وہ ہمیں نہ ملا ہو اس کی مثال نہیں۔ یہ پہلی شکست و ہزیمت ہے جس کا اس جلد میں سامنا کرنا پڑا۔ غالب خیال یہی ہے کہ اس نام کا رسالہ ہوتا تو کہیں سے میسر آجاتا مگر نہیں مل سکا۔ اس پریشانی میں قارئین سے استدعا ہے کہ ہمارے عجز و اعتراف ناکامی کے گواہ رہیں۔ کہیں کسی دوست کو میسر آجائے تو فوٹو مہیا کر کے عنداللہ ماجور ہوں۔ مل جانے کی صورت میں اسے کسی دوسری جلد میں شائع کر کے اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کریں گے۔ وما ذالك علی اللہ بعزیز! تاہم ١٣ جنوری ١٩٣٣ء کے اخبار اہل حدیث امرتسر میں ایک صفحہ کا اشتہار اسی عنوان کا ملا۔ سو وہ پیش خدمت ہے۔ چلو سب کچھ نہ ہونے سے کچھ ہو جانا بہتر ہے۔ فقیر اللہ وسایا / ٧ ذی الحجہ ١٤٢٤ھ

تحفہ احمدیہ !

(یہ مطبوعہ اشتہار بتقریب سالانہ جلسہ قادیان لاہور کے مرزائی جلسوں میں ہزارہا کی تعداد میں تقسیم کیا گیا)

احمدیہ جماعت کے سوچنے کے لئے ایک ضروری بات

اعیان احمدیہ ! ہم جانتے ہیں کہ آپ لوگ جو مرزا صاحب کو مسیح موعود مانتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ کسی دنیاوی بادشاہ کا حکم ہے بلکہ اس لئے ان کو مسیح موعود مانتے ہیں کہ (بخیال آپ کے) رسول ﷺ نے جس مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی فرمائی تھی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مصداق ہیں۔ چونکہ آپ محض رسول اللہ ﷺ کے حکم سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانتے ہیں۔

صفحہ ٦١٦

اس لئے ہم آپ لوگوں کو ایک مختصر سی بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ امید ہے اس بات پر دل سے غور فرمائیں گے : صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے : ”عن النبی ﷺ قال والذی نفسی بیدہ لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً او ليثنينهما. ص ٤٠٨ ج ١“ یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسیح موعود مقام فج الروحاء (مکہ مدینہ کے درمیان) سے حج اور عمرہ کا احرام باندھ کر دونوں فعل ادا کریں گے۔

یہ حدیث صاف اور صریح طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کی بڑی بھاری نشانی حج کرنا ہے۔ حج بھی اس تفصیل سے کہ فج الروحاء سے احرام باندھیں گے۔ مقام مسرت ہے کہ اس حدیث کو مرزا قادیانی نے رد نہیں کیا بلکہ اپنے حق میں لیا ہے۔ لکھ کر فرمایا ہے کہ ہم حج ضرور کریں گے۔ کب کریں گے؟۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جب ہم دجال کو مسلمان کر کے فارغ ہوں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ یہ ہیں : ”ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجال (پادری لوگ) بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہو گا۔“ (ایام الصلح اردو ص ١٦٧ خزائن ج ١٤ ص ٤١٦)

اس بیان میں مرزا قادیانی نے اس حدیث کے ماتحت تسلیم کیا ہے کہ مسیح موعود کو حج کرنا ضروری ہے۔ مگر بوجہ عدم فرصت فراغت تک اس کو ملتوی رکھا ہے۔ پس حدیث نبوی اور کلام مرزا قادیانی سے بالا تفاق ثابت ہوا کہ حسب فرمودہ رسالت مآب ﷺ ضروری ہے کہ مسیح موعود حج ضرور کرے گا۔ اس کے حج میں کوئی چیز روک نہ ہو گی۔ دجال مسلمان ہو یا نہ ہو حج ضرور ہو گا۔

احمدی دوستو! للہ غور کرو کہ اتنی بڑی واضح نشانی جس کو رسول پاک ﷺ نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ یعنی آپ (مرزا قادیانی) نے فج الروحاء کے مقام سے احرام باندھ کر حج نہیں کیا۔ بلکہ کیا ہی نہیں۔ یہاں تک کہ انتقال کر گئے۔ پھر وہ مسیح موعود کیسے ہوئے؟۔ ہم جانتے ہیں کہ احمدی ارکان آپ کو اس حدیث کی تاویل بہت کچھ سکھائیں گے۔ لیکن ہم اس تاویل کے جواب میں آپ کو مرزا قادیانی کے کلام پر توجہ دلاتے ہیں جو اوپر نقل ہوا۔

پس دوستو! میدان محشر کو یاد کر کے ہمارے معروضہ کو پڑھو اور حق و باطل میں تمیز کرو:

بررسولاں بلاغ باشد وبس

مشتہر: سیکرٹری شعبہ اشاعت دفتر اخبار اہل حدیث پنجاب امرتسر