تحریکِ ختمِ نبوّت
2011ء تا 2016ء
٩
ترتیب و تحقیق
شاہینِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفّظ ختمِ نبوّت
تحریک ختم نبوت
2011ء تا 2016ء
۹
ترتیب وتحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء)
(۹)
ترتیب و تحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء) (جلد نہم) ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا صفحات : ۷۱۶ قیمت : ۳۰۰ روپے اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۲۰ء مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۱ء کے حالات و واقعات ۲۹ چناب نگر کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی تیاری شروع ۳۰ متعصب اور تنگ نظر عیسائی پوپ بینی ڈکٹ کی قانون ناموس رسالت کے بارہ میں ہرزہ سرائی ۳۲ ناموس رسالت قانون کی حمایت میں تاریخی مارچ فقید المثال جلسہ عام ۳۴ تحفظ ناموس رسالت کیلئے ملک گیر ہڑتال نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں ۳۴ تحفظ ناموس رسالت پر پاکستانی قوم کی وحدت و یکجہتی سے یورپی پارلیمنٹ بوکھلاہٹ کا شکار ۳۵ قانون توہین رسالت کے سلسلہ میں خوش آئند پیش رفت ۳۷ تحریک ناموس رسالت.......تازہ صورتحال ۳۹ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس لاہور ۴۱ الحمدللہ! تحریک ناموس رسالت کی سو فیصد کامیاب ہوگئی ۴۵ حکومت پاکستان کی طرف سے ”تحفظ ناموس رسالت“ قانون سے متعلق تازہ فیصلہ کا مکمل ترجمہ ۵۰ توہین رسالت کے مرتکب مجرم پر قانونی عدالتی چارج ۵۴ چیچہ وطنی کی قادیانی عبادت گاہ سے اسلامی شعائر ہٹا دیئے گئے ۹۰ نئی آبادی بلدیہ ٹاؤن کراچی میں مرکز ختم نبوت کی افتتاحی تقریب ۹۰ قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف ملک گیر احتجاج ۹۳ قرآن پاک کی بے حرمتی کے شرمناک فعل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ۹۴ قادیانیوں کے مرکز سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا جائے: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۹۵ مولانا فضل الرحمٰن پر قاتلانہ حملوں کے خلاف احتجاج ۹۵ نئی قادیانی سازش عروج پر! ختم نبوت چناب نگر پر پابندی ۹۶ ختم نبوت کورس کے انعقاد کا لاہور ہائی کورٹ کا مستحسن فیصلہ ۱۰۱ ضلع لودھراں میں قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر ۱۰۳ قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا ۱۰۳ پاکستان کی سالمیت کے خلاف قادیانی سازش پکڑی گئی، چناب نگر میں منشیات واسلحہ فروشی ۱۰۳ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں آئینہ قادیانیت کو شامل کر لیا گیا ۱۰۵
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایس.ایچ.او کی مرزائیت نوازی اور ختم نبوت کی فتح ۱۰۵ جناب ممتاز احمد قادری کو سزائے موت ۱۰۵ اجلاس اسٹیئرنگ کمیٹی ...... تحریک ناموس رسالت ۱۲ /اکتوبر ۲۰۱۱ء ۸/ بجے رات منصورہ ۱۰۶ توہین رسالت و قرآن کیس کراچی ۱۰۸ دہلی کے بعد لندن میں بھی قادیانیوں کی قرآن نمائش پر پابندی لگ گئی ۱۰۸ ایبٹ آباد یوٹیلٹی سٹورز نے شیزان کی مصنوعات اٹھوادیں ۱۱۱ چناب نگر (ربوہ) میں قادیانی ریاست کا خاتمہ کیا جائے ۱۱۱ سانحہ کراچی ! جامع مسجد باب الرحمت اور دفتر ختم نبوت صحیح صورتحال ۱۱۱ گرامی قدر محترم جناب آئی جی سندھ پولیس ۱۱۵ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز پر حملے کے خلاف شدید احتجاج ۱۲۰ قائد جمعیتہ مولانا فضل الرحمن کی دفتر ختم نبوت کراچی آمد ۱۲۰ مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال کی کارکردگی ۱۲۲ منصور اعجاز قادیانی بیس سال سے سی آئی اے کا ایجنٹ ۱۲۳ ٹوبہ، گوہر شاہیوں کی ناپاک کوشش ناکام ۱۲۵ ختم نبوت ایکشن کمیٹی ٹیکسلا ۱۲۵ میانوالی بنگلہ کے قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۲۶ چناب نگر میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۲۷ تعلقہ ماتلی: بھیل برادری کے ۱۳ افراد کا قبول اسلام ۱۲۷ پوپ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرے ۱۲۷ ۲۶ عیسائی ممالک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر سزائے موت ۱۲۸ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ساہیوال ۱۲۹ ختم نبوت کانفرنس چیچنی ۱۲۹ جلسہ سیرت رحمۃ اللعالمین ۱۲۹ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ننکانہ ۱۲۹ جامع مسجد احمد نگر میں جلسہ سیرت النبی ﷺ ۱۳۰ بخاری مسجد چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس ۱۳۰
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت وسیرت النبی ﷺ کانفرنسیں ۱۳۰ سہ روزہ ختم نبوت کورس حلقہ شیر شاہ کراچی ۱۳۱ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوک اعظم ۱۳۱ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سرگودھا کی سرگرمیاں ۱۳۲ مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۱۳۲ تیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم ۱۳۳ سیرت النبی ﷺ کانفرنس حافظ آباد ۱۳۶ دنیا پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۳۶ تحفظ ختم نبوت سیمینار ۱۳۶ ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن ۱۳۷ سالانہ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۱۳۷ ختم نبوت کانفرنس بستی شیخ جلو ۱۳۸ ختم نبوت کانفرنس لسکانی والا ۱۳۸ ختم نبوت کانفرنس قلندر آباد ضلع مانسہرہ ۱۳۸ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ایبٹ آباد ۱۳۹ سہنہ گجرات میں ختم نبوت کانفرنس ۱۴۰ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جہلم کی کامیابی ۱۴۰ خطبہ استقبالیہ ...... تاریخی ختم نبوت کانفرنس میونسپل سٹیڈیم جہلم ۱۴۲ جلسہ ختم نبوت دریا خان مری سندھ ۱۴۵ جلسہ ختم نبوت پھل شہر ۱۴۵ جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۴۵ سہ روزہ رد قادیانیت کورس نواب شاہ ۱۴۶ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۱۴۶ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۱۴۶ ۳۰ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک ۱۴۷ تحفظ ختم نبوت خواتین اسلام کانفرنس سرگودھا ۱۴۷
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ میں رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۱۴۸ ختم نبوت کانفرنس مظفر گڑھ ۱۴۹ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا دورہ کراچی ۱۴۹ سالانہ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۱۵۰ ختم نبوت کانفرنس کرک ۱۵۱ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۱۵۱ تاجدار ختم نبوت کانفرنس سیدوالا ۱۵۲ سہ روزہ رد قادیانیت کورس حسن ابدال ۱۵۳ مبلغین ختم نبوت کا کراچی کی مضافاتی بستیوں کا دورہ ۱۵۳ ختم نبوت کانفرنس گگومنڈی ۱۵۴ ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن ۱۵۴ سہ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس ۱۵۵ ۲۶ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۱۵۵ دنیا پور میں ردقادیانیت کورس ۱۵۹ ختم نبوت کورس کوٹ ادو مظفر گڑھ ۱۶۰ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق تقریری مقابلہ ۱۶۰ ۱۸ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر...... تفصیلی کاروائی ۱۶۰ عظمت قرآن وتحفظ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۱۷۱ ختم نبوت کانفرنس سکرنڈ ۱۷۲ عظمت قرآن کانفرنس ۱۷۲ ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۷۲ ۳۷ ویں یوم ختم نبوت کے حوالے سے ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ۱۷۲ ٹاؤن شپ لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۵ مولانا شجاع آبادی کا دورہ کوہاٹ ۱۷۵ ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر ۱۷۶ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۷۶
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۱۷۷ ۳۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۷۹ سابق قادیانی جناب طاہر منصور خاں کا ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں خطاب ۱۸۳ لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس ۱۸۶ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۱۸۶ مرکزی مبلغین حضرات کے نوابشاہ کی مساجد میں بیانات ۱۸۸ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۲ء کے حالات و واقعات ۱۸۹ باغی رسول شیخ آصف کی گرفتاری ۱۹۰ کنری میں قادیانی کے ہاتھوں قادیانیوں کا قتل ۱۹۰ MUNSIF HYD P2 22-2-2012 ۱۹۱ وقف بورڈ آندھراپردیش انڈیا میں قادیانی غیرمسلم ۱۹۲ چناب نگر میں حکومتی بے بسی قتل کی وارداتیں ۱۹۲ گستاخ رسول کی قبر سے تختیاں اتار لی گئیں ۱۹۴ راجن پور میں قادیانیت ایک مرتبہ پھر ہار گئی ۱۹۵ بھکر میں قادیانیوں کی اشتعال انگیزی ۱۹۵ تونسہ شریف سے گستاخ رسول کی گرفتاری ۱۹۶ تونسہ شریف گستاخ رسول کے خلاف مقدمہ کی سماعت شروع ۱۹۶ پیرمحل میں ایک مرتبہ پھر قادیانی سازش ناکام ۱۹۷ بھکر میں قادیانیت کی تبلیغ پر قادیانی ملزم کی گرفتاری ۱۹۷ ٹالہی سندھ میں قادیانی عبادت گاہ بنانے کی سازش ناکام بنادی گئی ۱۹۷ امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف کراچی میں احتجاجی ریلی ۱۹۷ حیدر آباد میں توہین رسالت کا دلخراش واقعہ ۱۹۸ پیرمحل میں گوہر شاہیوں کی غنڈہ گردی ۲۰۰ ننگر پارکر میں قادیانیوں کی شرانگیزیاں ۲۰۰ قادیانیوں نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے قبریں توڑنے کا ڈرامہ رچایا: امت رپورٹ ۲۰۱ وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، قومی اسمبلی، پنجاب پولیس اور قادیانی ۲۰۲
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گستاخ رسول ڈاکٹر کی حمایت میں این جی اوز مافیا میدان میں آ گئی ۲۰۵
قادیانی لابی نے سازش کے تحت پاکستانی سفارتخانہ استعمال کیا ۲۰۶
سردار قیصر وسیم خان قیصرانی نے قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ۲۰۸
چنگا بنگیال میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۰۹
چھوکر خورد ضلع گجرات ۲۰۹
گیارہ قادیانیوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۲۱۰
انڈونیشیا میں ایک سو چونسٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۰
خوشاب شہر میں ایک قادیانی خاندان کے گھرانے کا قبول اسلام ۲۱۰
پیلو وینس میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۰
دنیا پور میں قادیانی کا قبول اسلام ۲۱۱
سرائے نورنگ اور پشاور میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۱
سرائے نورنگ میں چھتیس قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۱
گولارچی (سندھ) قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۲۱۲
رتوچھہ میں چار خاندانوں کا قبول اسلام ۲۱۲
تخت ہزارہ میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۲
روڈہ ضلع خوشاب میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۲
ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۲
امیر جماعت احمدیہ خوشاب کا قبول اسلام ۲۱۳
جہلم میں مزید سات افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۲۱۳
پیلو وینس میں سابق قادیانی خاندان کے سربراہ گل شیر اور ان کے بیٹے کا قبول اسلام ۲۱۴
تخت ہزارہ ضلع سرگودھا کے ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۲۱۴
تخت ہزارہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۲۱۶
قادیانیت سے توبہ ۲۱۶
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہ یار ۲۱۷
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ تھر پارکر ۲۱۷
رد قادیانیت کورس بہاول پور ۲۱۷
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس مروٹ و بہاول نگر ۲۱۷ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی خیبر پختونخواہ کے دورہ پر ۲۱۸ سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ ضلع لکی مروت ۲۱۸ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ ۲۱۹ لودھراں میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۲۰ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ بہاول نگر ۲۲۰ روداد تبلیغی پروگرام اوکاڑہ، قصور ۲۲۰ جامع مسجد محمدیہ چناب نگر میں سالانہ جلسہ سیرت النبی ﷺ ۲۲۱ مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں جلسہ سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ ۲۲۱ سرگودھا میں ماہانہ پروگرام ۲۲۲ خاتم النبیین کانفرنسز حلقہ منظور کالونی ۲۲۲ دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم، لیہ ۲۲۴ ختم نبوت کانفرنس میانوالی بنگلہ ضلع گوجرانوالہ ۲۲۵ رد قادیانیت کورس ڈسکہ، سیالکوٹ ۲۲۵ ختم نبوت کانفرنس موسیٰ والا ضلع گوجرانوالہ ۲۲۶ رد قادیانیت کورس اونچی کھرولیاں ضلع سیالکوٹ ۲۲۶ ۳۱ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۲۲۶ مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد کا دورہ سکھر ۲۲۷ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ ٹوبہ ۲۲۹ کسوانہ میں ختم نبوت کانفرنس ۲۲۹ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۲۲۹ دارالعلوم حسینیہ دادو ۲۲۹ علماء کنونشن حیدرآباد ۲۲۹ ہالانی میں جلسہ ختم نبوت ۲۳۰ گمبٹ میں جلسہ ختم نبوت ۲۳۰ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۲۳۰
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹیکسلا کی ڈائری ۲۳۰ ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن ۲۳۱ ختم نبوت کانفرنس بنوں ۲۳۱ ختم نبوت کانفرنس پیرووال ضلع خانیوال ۲۳۲ مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ خیبر پختونخوا ۲۳۲ اندرون سندھ ختم نبوت کانفرنسیں ۲۳۳ کوئٹہ کی ڈائری ۲۳۳ سہ روزہ تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کورس، کوئٹہ ۲۳۴ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۲۳۴ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۲۳۵ مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ کی کراچی میں تبلیغی واصلاحی مصروفیات ۲۳۵ ختم نبوت کانفرنس خانوزئی ۲۳۸ ختم نبوت کانفرنس ژوب ۲۳۹ ختم نبوت کانفرنس لورالائی ۲۳۹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۲۳۹ حیدرآباد میں رد قادیانیت کورس ۲۴۰ تین روزہ تربیتی ختم نبوت کورس کوٹ ادو ۲۴۱ گوجرانوالہ میں رد قادیانیت کورس ۲۴۱ ختم نبوت کانفرنس ملکوال ۲۴۱ ستائیسویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۴۱ رد قادیانیت کورس اشرف المدارس ۲۴۵ ۱۹ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی رپورٹ ۲۴۶ انیسویں سالانہ ختم نبوت کورس کے شرکاء ۲۴۷ کامونکی میں سہ روزہ ختم نبوت کورس ۲۵۳ جامعہ خالد بن ولید میں مولانا شجاع آبادی کا خطاب ۲۵۳ پروگرام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس اترا ۲۵۳
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پھالیہ میں خطابات ۲۵۵
شادی پورہ میں رد قادیانیت کورس ۲۵۵
ختم نبوت تربیتی کورس لاہور ۲۵۵
شورکوٹ میں رد قادیانیت کورس ۲۵۵
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں مولانا اللہ وسایا کے لیکچرز ۲۵۵
بہاولپور میں سالانہ درس قرآن ۲۵۵
گولڑہ شریف میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس ۲۵۶
مجلس کے مرکزی مبلغین کے سہ ماہی اجلاس میں اہم فیصلے ۲۵۶
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد کی کارروائی ۲۵۷
ہزارہ ڈویژن میں ختم نبوت کانفرنسیں ۲۶۰
صوبہ خیبر پختونخوا میں ختم نبوت کانفرنسوں کی بہاریں ۲۶۰
مردان، نوشہرہ، چارسدہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں بسلسلہ ۷؍ستمبر یوم ختم نبوت ۲۶۱
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۲۶۲
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۲۶۳
۱۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۶۳
ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن ۲۶۴
۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ...... لمحہ لمحہ کی رپورٹ ۲۶۴
ختم نبوت کانفرنس فاضل پور ۲۶۹
پانچ روزہ رد قادیانیت کورس کراچی ۲۶۹
ساہیوال میں مرکزی ناظم اعلیٰ مدظلہ کی دعوتی و تنظیمی مصروفیات ۲۷۲
سہ اجلاس مبلغین ۲۷۳
رد قادیانیت کورسسز ۲۷۴
مولانا شجاع آبادی کی سرگودھا میں تشریف آوری ۲۷۵
پیلو وینس اور خوشاب کا تین روزہ دورہ ۲۷۵
سہ روزہ ختم نبوت کورس پیرمحل ۲۷۵
سات روزہ ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۷۶
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ ۲۷۶ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۳ء کے حالات و واقعات ۲۷۷ لاہور میں قادیانیوں کے پریس پر چھاپہ توہین رسالت پر مبنی کتابیں برآمد کر لی گئیں ۲۷۸ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گوہر شاہیوں کے جلوس پر پابندی ۲۷۹ عاصمہ جہانگیر کے ممکنہ وزیر اعظم بننے پر علماء کا احتجاج ۲۸۰ جدید ذرائع ابلاغ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۲۸۰ لاہور میں قادیانیوں کا ایک اور تبلیغی مرکز پکڑا گیا ۲۸۱ اسلام جیت گیا... مرزائیت ہار گئی ۲۸۳ نگران حکومت میں قادیانیوں کی خفیہ سرگرمیاں بڑھ گئیں ۲۸۳ بنگلہ دیش توہین رسالت کے نئے قانون کے لئے لاکھوں افراد کا مظاہرہ: پولیس سے جھڑپیں ایک جاں بحق ۲۸۴ چناب نگر کے احمد یوسف قتل کیس ۲۸۴ دیباچہ ...... قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ ۲۸۶ قادیانی ایشو پر قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ ۳۰۱ توہین رسالت کا غلط الزام اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش ۳۰۳ توہین رسالت قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں: چیئرمین نظریاتی کونسل ۳۰۴ بلدیاتی امیدواروں کے لئے ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی ۳۰۵ مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کا اجلاس عام ۳۱۲ سانحہ راولپنڈی..... سوچی سمجھی سازش ۳۱۲ سپریم کونسل قائم کرنے کا اعلان ۳۱۴ قادیانیوں کی جانب سے ایک دھمکی ۳۱۶ بہاولپور چوک فوارہ کا نام ”ختم نبوت چوک“ ہائیکورٹ کا فیصلہ ۳۱۷ کراچی سے گوادر کے سفر کی روئیداد ۳۱۷ تونسہ میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام ۳۱۹ قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے جناب شمس الدین کا قبول اسلام ۳۲۰ شیخوپورہ کے قادیانی خاندان کے ۹؍ افراد کا قبول اسلام ۳۲۶ شیخوپورہ میں ایک قادیانی خاتون کا قبول اسلام ۳۲۶
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا نامور سابق قادیانی رانا عظمت اللہ مجاہد ایڈووکیٹ کا قبول اسلام ۳۲۷ خانیوال میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۳۳۲ تونسہ شریف میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۳۳۲ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہ یار ۳۳۲ رد قادیانیت کورس بہاول پور ۳۳۳ حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ پر پروگرامز ۳۳۳ لیہ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۳۷ ختم نبوت کورس بہاول نگر ۳۳۷ سہ ماہی اجلاس مبلغین ختم نبوت ۳۳۸ ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں ۳۳۸ اجتماعات ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان ۳۳۹ سہ روزہ ختم نبوت کورس لاہور ۳۴۰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۳۴۰ ختم نبوت کانفرنسوں کا مبارک سلسلہ ۳۴۰ ختم نبوت کانفرنس ملتان ۳۴۱ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۳۴۱ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۳۴۲ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۳۴۲ خانیوال میں ختم نبوت کانفرنس ۳۴۲ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ ٹوبہ ۳۴۳ ہری پور میں جماعتی سرگرمیاں اور کانفرنس ۳۴۳ ختم نبوت کانفرنس پیر جگی موڑ چک نمبر ۵۱۶ ۳۴۴ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو ۳۴۴ جامعہ مخزن العلوم خان پور میں ختم نبوت کی بہاریں ۳۴۴ ختم نبوت کانفرنس رحیم یارخان ۳۴۵ دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کنری ۳۴۶
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تربیتی نشست حب چوکی شہر ۳۴۶
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۳۴۶
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۳۴۷
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۳۴۷
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۳۴۸
۲۸ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۴۸
ختم نبوت کورس ٹوبہ ۳۵۷
حضرت ناظم اعلیٰ مدظلہ کا دورہ سندھ ۳۵۸
دو روزہ کورس مدرسہ عائشہ للبنات حیدرآباد ۳۵۹
سہ روزہ ختم نبوت کورس حیدرآباد ۳۵۹
۲۰ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۳۶۰
بیسواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۳۶۳
دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرائے صالح ہری پور ۳۶۸
ختم نبوت کورس صادق آباد میں پانچ ہزار افراد کی شرکت ۳۶۹
مبلغین ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس ۳۷۰
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۳۷۰
ختم نبوت کانفرنس لاہور ۳۷۱
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد بسلسلہ یوم ختم نبوت ۷ ستمبر ۳۷۱
ختم نبوت کانفرنس پشاور ۳۷۳
ختم نبوت کانفرنس بنوں ۳۷۳
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ ۳۷۳
مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کی سرگرمیاں ۳۷۴
مردان، چارسدہ، نوشہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں ۳۷۴
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۳۷۴
ختم نبوت کانفرنس پختد ۳۷۵
ختم نبوت کانفرنس ڈنگہ ۳۷۵
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کنونشن پھالیہ ۳۷۵ ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤالدین ۳۷۵ ختم نبوت انعام کھر لاہور ۳۷۵ ختم نبوت کانفرنس احمد پور سیال ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس پھلروان ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس قصور ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس بفا مانسہرہ ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس، میاں چنوں ۳۷۷ سالانہ عظمت انبیاء کانفرنس، شاہ لطیف ٹاؤن ۳۷۷ سالانہ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی ۳۷۸ ۳۲ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۸۰ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن ۳۸۲ ملکوال میں ختم نبوت کانفرنس ۳۸۵ شان قرآن کانفرنس رجانہ ۳۸۵ ختم نبوت کنونشن ائمہ وخطباء کرام تحصیل کوٹ ادو ۳۸۵ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا خیبر پختونخواہ کا دس روزہ تبلیغی دورہ ۳۸۵ ختم نبوت کانفرنس بنوں ۳۸۸ ختم نبوت کانفرنس شبقدر ۳۸۹ مولانا محمد اکرم طوفانی کا دس روزہ دورہ کراچی ۳۸۹ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۴ء کے حالات وواقعات ۳۹۱ امریکا کا اشتعال انگیز اقدام اور وفاقی وزیر کا جرأت مندانہ جواب ۳۹۲ پنجاب یونیورسٹی میں قادیانی ڈائریکٹر ۳۹۴ گوجرانوالہ فسادات قادیانیوں کو قانون کا پابند بنایا جائے ۳۹۵ گوجرانوالہ واقعے کے اصل محرکات ۳۹۷
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امریکہ کی قادیانیوں کی ناروا پشت پناہی
۳۹۹
مرزا ڈھیر کر دیا گیا
۴۰۱
ڈسکہ میں قادیانیوں کے منہ پر ایک اور طمانچہ
۴۰۱
گوجر خان میں ختم نبوت کی سرگرمیاں
۴۰۲
لاہور ہائیکورٹ سے آسیہ کی سزا برقرار
۴۰۳
چناب نگر میں قادیانی اور پولیس کیا کر رہی ہے؟
۴۰۳
قادیانی مربی نذیر کے قبول اسلام کی داستان اور مظالم کی ہوش ربا کہانی
۴۰۴
قادیانی رہنما اخلاقی گراوٹ کا شکار
۴۰۸
دفتر ختم نبوت بھکر کا افتتاح
۴۱۹
چناب نگر میں ختم نبوت فری ڈسپنسری کا قیام تعارف و خصوصیات
۴۱۹
فیصل آباد کے ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام
۴۱۹
شیخوپورہ میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
۴۲۰
قبول اسلام
۴۲۰
قادیانی رینجر اہلکار کا قبول اسلام
۴۲۰
بدین میں ۶ قادیانیوں کا قبول اسلام
۴۲۱
لیہ کے ایک خاندان کا قبول اسلام
۴۲۱
پیرمحل میں چھ افراد کا قبول اسلام
۴۲۱
لیہ میں جامع مسجد ختم نبوت کا سنگ بنیاد و ختم نبوت کانفرنس
۴۲۱
ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم
۴۲۱
کراچی کی تبلیغی رپورٹ
۴۲۲
ختم نبوت کانفرنس جام شورو
۴۲۳
سیرت النبی ﷺ پروگرام ضلع ڈی آئی خان
۴۲۳
چناب نگر میں جلسہ سیرت النبی ﷺ
۴۲۴
پانچ روزہ پروگرام کراچی
۴۲۵
علماء و مشائخ سیمینار لکی مروت
۴۲۶
تحفظ ختم نبوت کانفرنس میانوالی
۴۲۷
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورۂ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۲۷
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دروہ جھنگ ۴۲۷
مولانا شجاع آبادی کے شیخوپورہ میں دعوتی و اصلاحی خطاب ۴۲۸
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۴۲۸
مولانا شجاع آبادی کے ڈیرہ غازی خان میں تبلیغی پروگرام ۴۲۹
دارالقراء کوٹ ہیبت کے جلسہ سے خطاب ۴۲۹
مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی و تنظیمی اسفار ۴۲۹
سالانہ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس، جیکب آباد ۴۳۰
۳۳ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۴۳۰
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۴۳۰
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۴۳۱
ختم نبوت کانفرنس سناواں ۴۳۱
ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۴۳۱
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر ۴۳۲
ختم نبوت کانفرنس پیر جگی موڑ کوٹ ادو ۴۳۲
سہ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس گلشن حدید کراچی ۴۳۲
ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۴۳۲
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۴۳۲
چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن شپ لاہور ۴۳۳
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت ۴۳۳
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو ۴۳۳
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۴۳۴
عظیم الشان فقید المثال ختم نبوت کانفرنس لاہور ۴۳۵
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورہ سندھ ۴۳۷
ختم نبوت کانفرنس سکھر ۴۳۷
ختم نبوت سیمینار کھرڑہ ۴۳۸
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس، نواب شاہ ۴۳۸
ختم نبوت کانفرنس کنری ۴۳۸
کاروان ختم نبوت گوجر خان ۴۳۸
چناب نگر ومضافات میں سلسلہ دروس قرآنیہ ۴۳۹
سہ ماہی اجلاس مبلغین ۴۳۹
عالمی مجلس بنوں کے زیر اہتمام تربیتی پروگراموں کا انعقاد ۴۳۹
ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۴۴۰
ختم نبوت کانفرنس ژوب ۴۴۰
ختم نبوت کانفرنس لورالائی ۴۴۰
ختم نبوت کانفرنس خانوزئی ۴۴۱
سہ روزہ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۴۴۱
معراج مصطفیٰ کانفرنس باندھی ۴۴۱
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۴۴۱
تحفظ ختم نبوت سیمینار، بدین ۴۴۲
سالانہ ختم نبوت کانفرنس قصور ۴۴۲
عشق مصطفیٰ کانفرنس پتوکی ۴۴۲
۲۱ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی روئیداد ۴۴۳
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۴۴۵
تحفظ ختم نبوت کورسز ۴۵۱
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۴۵۲
مولانا شجاع آبادی کے تبلیغی و دعوتی اسفار ۴۵۷
ہری پور میں عشرۂ ختم نبوت ۴۵۸
عشرہ ختم نبوت ۴۵۹
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ ۴۶۰
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۴۶۰
ختم نبوت کانفرنس پشاور ۴۶۱
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوم تشکر ریلی ۴۶۱ ختم نبوت سیمینار چوک اعظم ۴۶۱ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۴۶۲ ختم نبوت کانفرنس چارسدہ ۴۶۲ ختم نبوت کانفرنس مردان ۴۶۲ ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ۴۶۲ ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۴۶۳ ختم نبوت کانفرنس پروآ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ۴۶۳ ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۴۶۳ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس کراچی ۴۶۴ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۶۵ ننکانہ میں انعام گھر کا انعقاد ۴۶۵ تینتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۴۶۶ ختم نبوت چوک کا افتتاح ۴۷۲ ختم نبوت کانفرنس ٹل ۴۷۳ ختم نبوت کانفرنس لکی مروت ۴۷۳ ختم نبوت کانفرنس بنوں ۴۷۳ چارسدہ میں سہ روزہ ختم نبوت کورس ۴۷۴ ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ کلاں ۴۷۴ خطبہ جمعتہ المبارک ۴۷۴ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۵ء کے حالات و واقعات ۴۷۵ فرانسیسی جریدہ اور گستاخانہ خاکے ۴۷۶ خاکوں پر فرانسیسی کمپنی کی تیل سپلائی روک دی ۴۷۷ حکومت پنجاب کے قائم کردہ متحدہ علماء بورڈ پنجاب کا فیصلہ ۴۷۸ گیمبیا میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ۴۷۹ گیمبیا میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مبارکباد ۴۸۱
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چار پاکستانی سفارت خانوں میں قادیانی افسران کی تعیناتی کا انکشاف ۴۸۲ کھلا خط ۴۸۲ انٹرنیٹ کے میدان میں ایک اور قدم ۴۸۳ قادیانی عبادت گاہ کے مینار ومحراب.......سیشن کورٹ کا تاریخی فیصلہ ۴۸۵ قادیانی ممنوعہ رسائل اور کتب کی اشاعت پر مقدمہ ۴۸۸ سیشن جج ساؤتھ کراچی کی عدالت سے قادیانی ماہنامہ ’انصار اللہ‘ کے ایڈیٹر و پبلشر کے وارنٹ گرفتاری ۴۸۸ قادیانی محاذ پر ایک اور شاندار کامیابی ۴۹۰ انڈونیشیا میں قادیانیوں کی عبادت گاہ سیل ۴۹۱ بخدمت جناب ڈائریکٹر صاحب ...... دعوہ اکیڈمی اسلام آباد ۴۹۲ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے مبارک اقدام ۴۹۴ ۱۴ اگست کی سرکاری تقریب قادیانی مرکز میں کیوں؟ ۵۰۱ پنجاب اسمبلی، خیبر پختونخواہ اسمبلی، قومی اسمبلی اور ختم نبوت کا مسئلہ ۵۰۳ قدیم مسجد کوٹلی ہتھیانے میں قادیانی ناکام ۵۰۷ مولانا اللہ وسایا کی روزنامہ ”اسلام“ سے خصوصی گفتگو ۵۰۹ مدرسہ ختم نبوت چناب نگر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ۵۱۳ سرائے نورنگ میں ختم نبوت چوک، ضلعی دفتر اور لائبریری کا افتتاح ۵۱۳ حافظ آباد میں قادیانی کا قبول اسلام ۵۱۴ لیہ میں قادیانی کا قبول اسلام ۵۱۴ رحمۃ اللعالمین کانفرنس چیچہ وطنی ۵۱۴ سالانہ ختم نبوت کانفرنس بلدیہ ٹاؤن ۵۱۴ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منظور کالونی کراچی ۵۱۶ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کراچی ۵۱۷ ختم نبوت کانفرنس اسکاؤٹ کالونی کراچی ۵۱۸ محراب پور میں ختم نبوت کانفرنس ۵۱۹ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس نارتھ کراچی ۵۱۹ عرفات مسجد خیر پور میرس میں ختم نبوت کانفرنس ۵۱۹
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنوعاقل میں ختم نبوت کانفرنس ۵۱۹ سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات ۵۱۹ چوتھی سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس پختدر ۵۲۰ سالانہ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۵۲۲ ختم نبوت کانفرنس لکی مروت ۵۲۲ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۵۲۳ سالانہ ختم نبوت کانفرنس نوابشاہ ۵۲۳ ختم نبوت کانفرنس ضلع کرک ۵۲۴ مولانا قاضی احسان کا دورہ کوہاٹ ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس شبقدر ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس قصور ۵۲۴ چنیوٹ میں تین روزہ کورس ۵۲۵ طالبات کے لئے دوروزہ ختم نبوت کورس قصور ۵۲۶ تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۵۲۶ کارروائی سہ ماہی اجلاس مبلغین ۵۲۷ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۵۲۸ تحفظ ختم نبوت سیمینار کوئٹہ ۵۲۸ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۵۲۹ سالانہ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۵۳۰ ختم نبوت کورس لاہور ۵۳۰ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گوادر ۵۳۱ ۳۴ واں تحفظ ختم نبوت کورس، چناب نگر کی اختتامی تقریب ۵۳۳ چونتیسواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۵۳۵ مولانا قاضی احسان احمد کا اندرون سندھ کا دورہ ۵۴۱ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ، دارالعلوم دیوبند ۵۴۲ تحفظ ختم نبوت پروگرام کراچی میٹرول ۵۴۸
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس شورکوٹ ۵۴۹ سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات ۵۴۹ ختم نبوت کورسز ۵۵۰ ۳۰؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۵۵۰ تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس وختم نبوت کانفرنس چمن ۵۵۰ ختم نبوت کانفرنس خانوزئی ۵۵۱ دروس ختم نبوت کوئٹہ ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس نارووال ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس پسرور ۵۵۲ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۵۵۲ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۵۵۲ تحفظ ختم نبوت سیمینار ۵۵۴ سندھ میں عشرہ ختم نبوت ۵۵۴ تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد آسٹریلیا لاہور ۵۵۵ چھ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی ۵۵۶ پانچویں سالانہ عظیم الشان دفاع ختم نبوت کانفرنس اورنگی ٹاؤن ۵۵۸ چونتیس ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹، ۳۰/اکتوبر ۲۰۱۵ء ۵۵۹ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اختتامی خطاب ۵۶۷ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ۵۷۳ حضرت ناظم اعلیٰ کا دورہ کنری ۵۷۴ ختم نبوت کورسز ۵۷۴ ختم نبوت کانفرنس پروآ ۵۷۵ ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۵۷۵ میاں چنوں میں چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۵۷۵ ختم نبوت کورس شہر سلطان ۵۷۶ ختم نبوت کنونشن ۵۷۶
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ختم نبوت کورس راولپنڈی ۵۷۶ میر پور آزادکشمیر اور جہلم کا تبلیغی دورہ ۵۷۷ سیرت النبی ﷺ پروگرام حیدر آباد ۵۷۸ ختم نبوت کانفرنس جہلم ۵۷۹ گوجرانوالہ ختم نبوت کانفرنسیں ۵۸۰ مولانا اللہ وسایا کا دورۂ کراچی ۵۸۰ ختم نبوت کورس رینالہ خورد ۵۸۰ ختم نبوت کورس اوکاڑہ ۵۸۰ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس ۵۸۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۶ء کے حالات و واقعات ۵۸۱ ممتاز قادری کی شہادت اور ہماری مروجہ دانش کا المیہ ۵۸۲ ممتاز قادری کی سزا میں دہرا معیار کیوں؟ ۵۸۳ عاشق رسول ﷺ جناب ممتاز قادری ۵۸۵ ردقادیانیت کی کتب پر کوئی پابندی نہیں ۵۸۹ قائدآباد میں چوک ختم نبوت کا افتتاح ۵۹۰ گھانا میں پاکستانی تبلیغی جماعت کو قادیانیوں نے گرفتار کرایا ۵۹۱ ضلع خوشاب میں ساٹھ سال بعد مسجد مسلمانوں کے حوالے ۵۹۲ قادیانی اڑتالیس آف شور کمپنیاں ۵۹۲ ختم نبوت چوک سرائے نورنگ کا نوٹیفیکیشن ۵۹۵ بدین میں قادیانی دہشت گردوں کے خلاف ایف آئی آر کا عکس ۵۹۷ قادیانیوں کی حمایت کرنے کا انجام، حمزہ علی عباسی برطرف ۵۹۸ قادیانی مذہب کی الجزائر میں کوئی جگہ نہیں ۶۰۵ ختم نبوت کیس کا فیصلہ آ گیا ۶۰۵ بدین میں قادیانی دہشت گرد گروہ کے ۲۴ کارندے گرفتار ۶۰۶ قادیانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک بے نقاب ۶۰۶ ختم نبوت چوک میانوالی روڈ تلہ گنگ ۶۰۸
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیمرا کا خلاف آئین وقانون نوٹس کیوں؟ ۶۰۸ منظور کالونی میں ختم نبوت چوک کا افتتاح ۶۱۰ بین المسالک صوبائی امن کانفرنس اور قادیانی مسئلہ ۶۱۱ تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کرنے کا فیصلہ قبول نہ کرنے کا اعلان ۶۱۳ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ کو قادیانی کے نام سے منسوب کرنا ۶۱۴ قادیانیوں کی دوکان سے مقامات مقدسہ کی تصویر محفوظ کرلی گئی ۶۱۵ سانحہ دوالمیال کی تفصیلی رپورٹ ۶۱۵ ایک ہی خاندان کے ۱۸؍ افراد کا قبول اسلام ۶۱۷ فیصل آباد میں اکیس قادیانی افراد کا قبول اسلام ۶۱۷ چار قادیانیوں کا قبول اسلام ۶۱۸ کراچی میں ختم نبوت کانفرنسیں ۶۱۸ سالانہ ختم نبوت کانفرنس منظور کالونی ۶۱۹ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسز کراچی ۶۲۰ کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلہ جات بسلسلہ تحفظ ختم نبوت ۷؍جنوری تا ۳؍ مارچ ۲۰۱۶ء ۶۲۰ کل کراچی تقریری مقابلہ ۶۲۶ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۶۲۷ ختم نبوت کانفرنس کراچی ۶۲۸ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس لیاقت آباد ۶۲۹ مولانا اللہ وسایا کا سیالکوٹ میں تبلیغی دورہ ۶۲۹ ختم نبوت کانفرنس کتوزئی شبقدر ۶۳۰ ختم نبوت کانفرنس قلعہ دیدار سنگھ ۶۳۰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا دورۂ بدین ۶۳۰ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۶۳۰ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ اسلام آباد ۶۳۱ یک روزہ رد قادیانیت کورس قصور ۶۳۱ ختم نبوت کانفرنس قصور ۶۳۱
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس کنری ۶۳۲ جامعہ فاروقیہ میں ختم نبوت کانفرنس ۶۳۲ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ چکوال ۶۳۲ فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس ۶۳۲ مولانا شجاع آبادی کا دورہ لکی مروت ۶۳۳ ختم نبوت کورس بنوں ۶۳۳ ختم نبوت کانفرنس صوابی ۶۳۳ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۶۳۳ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا سیالکوٹ کا تبلیغی سفر ۶۳۴ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۶۳۴ ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۶۳۴ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس چک نمبر ۱۰۵ پیر جگی موڑ ضلع لیہ ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۶۳۵ رحیم یار خان بار سے خطاب ۶۳۶ ختم نبوت کانفرنس خانپور ۶۳۶ سالانہ ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۶۳۶ فیصل آباد الفتح گراؤنڈ کی سالانہ کانفرنس ۶۳۷ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۶۳۷ ملک وال ختم نبوت کانفرنس ۶۳۷ ختم نبوت کانفرنس بنوں ۶۳۸ ختم نبوت کورس ڈیرہ اسماعیل خان ۶۳۸ ختم نبوت کانفرنس لکی مروت ۶۳۸ ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن ٹو پشاور ۶۳۹ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۶۳۹
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کانفرنس شبقدر ۶۳۹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۶۴۰ ختم نبوت سیمنار لطیف آباد حیدر آباد ۶۴۱ سالانہ ختم نبوت کانفرنس ، نواب شاہ ۶۴۱ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۶۴۱ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۶۴۲ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۶۴۲ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا لیہ میں خطاب ۶۴۲ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۶۴۲ پینتیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۶۴۶ چناب نگر میں دورۂ حدیث کا اجراء ۶۶۴ رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۶۶۶ ختم نبوت کورس شور کوٹ ۶۶۶ مولانا محمد اسحاق ساقی کا خطبہ جمعہ ۶۶۷ ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۶۷ سہ روزہ ختم نبوت کورس علی پور ۶۶۷ مولانا اللہ وسایا کا ایک روزہ دورہ گوجرانوالہ ۶۶۸ ختم نبوت کانفرنس کنری ۶۶۸ ۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۶۶۸ یوم تحفظ ختم نبوت پروگرامز کراچی ۶۶۹ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۶۷۰ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۶۷۱ ختم نبوت سیمینار کہروڑ پکا ۶۷۱ ختم نبوت کورس وجلسہ خوشاب ۶۷۱ فتح مبین کانفرنس ماموں کانجن ۶۷۱ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۷۲
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوم ختم نبوت گوجرہ
۶۷۲
یوم پاکستان و تحفظ ختم نبوت ٹنڈوالہ یار
۶۷۲
یوم ختم نبوت ریلیاں تجہ زئی و سرائے نورنگ
۶۷۲
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
۶۷۳
یوم ختم نبوت سیمینارز ملتان
۶۷۳
ختم نبوت کانفرنس راجن پور
۶۷۴
ختم نبوت کانفرنس غلام محمد آباد فیصل آباد
۶۷۴
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
۶۷۴
سیالکوٹ میں دروس ختم نبوت بسلسلہ عشرہ ختم نبوت
۶۷۴
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
۶۷۵
ختم نبوت کانفرنس کوٹ سلطان
۶۷۵
ختم نبوت کانفرنس پہاڑ پور
۶۷۵
ختم نبوت کانفرنس ضلع لکی مروت
۶۷۶
یوم ختم نبوت و دفاع پاکستان ریلیاں بنوں
۶۷۶
پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی
۶۷۷
دفتر مرکزیہ ملتان میں مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
۶۷۷
تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست و تقسیم انعامات
۶۷۸
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
۶۷۸
۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس پچند
۶۷۹
تحفظ رسالت و حسین ؓ زندہ باد کانفرنس کہروڑ پکا
۶۷۹
پینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ
۶۷۹
ختم نبوت کانفرنس بلوچستان
۶۹۶
ختم نبوت کانفرنس جیکب آباد
۶۹۷
ختم نبوت انعام گھر لاہور
۶۹۷
ختم نبوت کانفرنس قصور
۶۹۸
ختم نبوت کانفرنس طوطانو بونیر
۶۹۸
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس واسک لوئر دیر ۶۹۸ بنوں میں ختم نبوت کانفرنس ۶۹۸ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۶۹۸ بھلوال میں خطبہ جمعہ ۶۹۹ ختم نبوت کانفرنس راوی روڈ لاہور ۶۹۹ ۲۳ روزہ اجتماعات بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ ۶۹۹ ختم نبوت کانفرنس میانوالی ۶۹۹ ختم نبوت کانفرنس ہڈالی ۷۰۰ پپلاں وینس میں خطبہ جمعہ ۷۰۰ ختم نبوت کانفرنس لکی مروت ۷۰۰ جامع مسجد الصادق بہاولپور میں ختم نبوت کانفرنس ۷۰۰ سالانہ ختم نبوت کانفرنس منظور کالونی کراچی ۷۰۰ کلویا ٹوبہ میں ختم نبوت کانفرنس ۷۰۱ ختم نبوت کانفرنس چکوال ۷۰۱ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۷۰۱ ختم نبوت کانفرنس شاہ لطیف ٹاؤن کراچی ۷۰۲ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۷۰۳ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی ومجلس عاملہ کے اجلاسات ۷۰۴ (۱۱۳ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۴ (۱۱۴ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۶ (۱۱۵ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۷ (۱۱۶ واں) اجلاس مجلس عمومی ۷۰۹ (۱۱۷ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۹ (۱۱۸ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۱۰ (۱۱۹ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۱۱ (۱۲۰ واں) اجلاس مجلس عمومی ۷۱۳ (۱۲۱ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۱۴
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۱ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چناب نگر کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی تیاری شروع
سیف اللہ خالد بیورو چیف راولپنڈی ...... روزنامہ امت کی رپورٹ
چناب نگر (سابق ربوہ) کو قادیانی اسٹیٹ بنا کر اردگرد کے مسلمانوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ہر قادیانی کے لئے اسلحہ لائسنس جاری کروا لیا گیا ہے۔ قادیانی جماعت نے چناب نگر کے ڈھائی سوا ایکڑ سرکاری رقبے سمیت سات سوا ایکڑ شہری رقبے پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کی بڑی عبادت گاہیں قبضہ کی گئی زمین پر قائم ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے چناب نگر میں قادیانیوں کو دیئے گئے رقبے کی پیمائش کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پنجاب کے حساس ضلع جھنگ کے پڑوس میں نئے بننے والے ضلع چنیوٹ کی سب تحصیل چناب نگر پر قادیانیوں کا تسلط اہل علاقہ کے لئے مصائب کا سبب بن گیا ہے۔ لاہور میں قادیانی معبد پر دہشت گردی کے بعد چناب نگر میں قادیانی جماعت نے اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔ پہلے مرحلے میں شہر میں داخلے کے راستے بند کرنے کے بعد اب شہر کو چاروں طرف سے بند کر کے شہر کے اندر مختلف بلاکس کو ایک دوسرے سے الگ کر کے قلعہ بندیاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں چناب نگر کے ایک دورے میں انکشاف ہوا کہ شہر میں واقع دو سرکاری تعلیمی اداروں کا راستہ بھی قادیانی جماعت نے بند کر دیا ہے۔ گورنمنٹ نصرت گرلز ہائی سکول اور گورنمنٹ جامعہ گرلز کالج میں سے اوّل الذکر کی پرنسپل ایک قادیانی خاتون ہے۔ جب کہ کالج کی پرنسپل قادیانیت سے تائب ہونے والی مسلمان خاتون ہے۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے دارالضیافت روڈ پر قادیانی عبادت گاہ مبارک کے قریب واقع ہیں۔ قادیانی جماعت نے سڑک پر بیریئر لگا کر اور سیمنٹ کے بلاک رکھ کر ان دونوں اداروں کا راستہ بند کر دیا ہے۔ جس سے طالبات کو دو سے تین کلومیٹر کا چکر کاٹ کر مین روڈ سے کالج جانا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے گرلز کالج کی ایک استاد نے امت کو بتایا کہ معاملہ سیکورٹی کا نہیں بلکہ نومسلم کالج پرنسپل کو سزا دینے کا ہے۔ جس نے مرزائی جماعت کی حکم عدولی کرتے ہوئے کالج کے سالانہ فنکشن میں مرزائی خواتین کے بجائے مسلمان خواتین ڈی سی او اور ڈی پی او کی بیگمات کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا تھا۔ چونکہ چناب نگر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی تعلیمی ادارے میں مسلمان کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ اس لئے یہ کالج عتاب کا شکار ہے۔ شہر سے گزرتے ہوئے انتہائی خوف و ہراس کے ماحول کا احساس ہوتا ہے۔ ہر گلی محلے میں داخلی راستے پر مستقل نوعیت کے بیریئر لگائے جا رہے ہیں اور اس شدید جبر کے ماحول سے خود قادیانی بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ مرکزی بازار کے ایک قادیانی رہنما نے امت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر قادیانی جماعت نے جس طرح کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس نے پورے شہر کو پریشان کر دیا ہے۔ مشاہدے میں آیا کہ شہر میں مختلف وردیوں میں لوگ گشت کر رہے تھے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس شہر میں پولیس اور عدالت کی بجائے قادیانی جماعت کی چار سیکورٹی فورسز اور ان کی اپنی عدالت کا حکم چلتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چناب نگر میں قادیانی جماعت کی چار فورسز کے درمیان معاملات کو اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ: (۱) خدام الاحمدیہ فورس گلی محلے کی سطح پر پہرے داری سے لے کر چھوٹے موٹے تنازعات میں لوگوں کی پکڑ دھکڑ اور نچلی سطح پر انٹیلی جنس نظام کو منظم کرتی ہے۔ (۲) اس کے بعد حفاظت مرکز فورس ہے۔ جس کے پاس جدید ترین گاڑیاں، اسلحہ اور مواصلاتی نظام موجود ہے۔ یہ فورس شہر کے چہار اطراف ناکوں کے علاوہ شہر میں مسلح گشت کا بندوبست کرتی ہے اور اس کا بھی اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے۔ یہ فورس کسی بھی سڑک کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کھولنے اور بند کرنے کے فیصلے کی مجاز ہے اور اکثر بے سبب سڑکیں بند کرتی اور کھولتی رہتی ہے۔ اس کے گشت کرتے ہوئے دستے کسی بھی وقت کسی بھی شخص کی تلاشی لینے کا اختیار رکھتے ہیں۔ (۳) اس سے اوپر صدر عمومی فورس ہے۔ جس کو قادیانی جماعت کے صدر کا ذاتی دستہ خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فورس، خدام الاحمدیہ اور حفاظت مرکز فورس کے کنٹرول سے باہر رہتے ہوئے کسی بھی معاملے کو کنٹرول کرتی ہے۔ (۴) ان سب سے بالاتر امور عامہ فورس ہے۔ جو شہر کے مجموعی نظم و نسق اور سیکورٹی کی ذمہ دار ہے۔ اس کا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے اور یہ شہر کے ساتھ ارد گرد کی مسلمان آبادیوں میں بھی وارداتیں کرنے سے باز نہیں آتی۔ چناب نگر اور ارد گرد کے علاقوں میں کیا صورتحال ہے۔ اس کا اندازہ ڈی پی او چنیوٹ کے دفتر میں ہونے والی ایک میٹنگ میں قادیانی جماعت کے ناظم عمومی اور مرکزی ترجمان سلیم الدین کی گفتگو سے لگایا جاسکتا ہے۔ چناب نگر پولیس کے ایک ذمہ دار نے امت کو بتایا کہ ڈی پی او آفس میں ایک تنازع کے سلسلے میں میٹنگ میں سلیم الدین نے مسلمان فریق کو دھمکی دی اور کہا کہ ہمیں ایزی نہ لیں۔ ہم اب نہ صرف پوری طرح مسلح ہیں۔ بلکہ جارحانہ عزائم بھی رکھتے ہیں۔ ہمارے ساتھ معاملات ہماری شرائط پر ہوں گے۔ اگر ہمارے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو یاد رکھیں چناب نگر کا ہر قادیانی مسلح ہے اور یہ اسلحہ ہم نے گھروں میں سجانے کے لئے نہیں رکھا۔
ذرائع کے مطابق اس دھمکی آمیز گفتگو کے بعد پولیس حکام نے اپنے ذرائع سے ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ سلیم الدین کی بات غلط نہیں تھی۔ قادیانی جماعت نے قریباً ہر شہری کے نام پر اسلحہ حاصل کر رکھا ہے۔ ان میں بعض لائسنس ڈی سی او آفس کے ذریعے معمول کے طریقہ کار کے مطابق جب کہ زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ اور مختلف بیوروکریٹس وغیرہ کے کوٹے پر وفاقی وزارت داخلہ سے حاصل کئے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق قادیانی جماعت کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار اور ان کی چار سیکورٹی فورسز علاقے میں امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ہیں۔
دوسری طرف ریونیو حکام کے مطابق قادیانی جماعت نے چناب نگر کے تقریباً سات سو ایکڑ شہری رقبے پر جبرًا قبضہ کر رکھا ہے اور اس کی مرکزی عبادت گاہ اقصیٰ، دفتر صدر عمومی، عبادت گاہ مہدی، عبادت گاہ بلال اور بلال مارکیٹ پوری کی پوری ناجائز قبضہ کر کے بنائی گئی ہے۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق چناب نگر کا کل رقبہ 2068 ایکڑ تھا۔ جن میں سے دو سو ایکڑ رقبے پر واقع پہاڑ ختم ہوچکے ہیں اور اب یہ جگہ پلین ہوگئی ہے۔ یوں 2068 ایکڑ میں سے صرف 133 ایکڑ رقبہ ناقابل رہائش اور پہاڑ پر مشتمل ہے۔ قادیانی جماعت کو صرف 1036 ایکڑ رقبہ لیز پر دیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لیز بھی بہانہ ہے۔ وہ لیز تو بہت پہلے ختم ہوچکی ہے۔ اس 1036 ایکڑ میں سے 86 کنال رقبہ تھانہ کے لئے 33 ایکڑ اراضی مسلم کالونی کی خاطر اور 539 کنال جگہ کالج کے لئے منہا کرلی گئی۔ یوں قادیانیوں کے پاس جائز یا ناجائز 957 ایکڑ رہائشی جگہ باقی بچی۔ مگر برسرزمین صورتحال یہ ہے کہ قادیانی ہر خالی جگہ کو اپنی لیزڈ زمین قرار دے کر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں اور اس وقت دریائے چناب سے لے کر چونگی نمبر 3 تک چناب نگر کا پورا 2068 ایکڑ رقبہ ان کے قبضے میں ہے۔ اس میں سے صرف 133 ایکڑ مسلم کالونی، 50 ایکڑ کے قریب سرکاری جگہ، پہاڑ کاٹنے والے مزدوروں کے قبضے میں اور 333 ایکڑ پر پہاڑ ہیں۔ باقی ہر جگہ قادیانیوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔
قادیانیوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ہر خالی جگہ، یہاں تک کہ پہاڑ کٹنے سے خالی ہونے والی جگہ پر بھی ان کا مختار عام عبیداللہ پہنچ جاتا ہے اور اسے لیزڈ جگہ قرار دے کر کسی نہ کسی قادیانی کو الاٹ کر دی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک کارروائی میں دو ہفتے قبل مسلم کالونی کے مسلمانوں نے دارالعلوم شرقی محلہ میں پہاڑ کی جگہ قبضے کی کوشش ناکام بنا کر پولیس کو بلوا لیا اور مسلمانوں کے دباؤ پر پولیس کو مختار عام عبیداللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو بھی گرفتار کرنا پڑا۔ جو چند گھنٹے بعد رہا ہو گیا۔ چناب نگر میں ایک اور تشویش ناک امر منظوری اور نقشے کے بغیر بننے والی پر اسرار دیو ہیکل عمارتیں ہیں۔ جن کا مصرف اور حیثیت کسی کو معلوم نہیں اور ان کی تعمیر زور وشور سے جاری ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مقامی مسلمانوں نے کمشنر کو درخواست دی ہے کہ قادیانیوں کو ماضی میں دی گئی 1036 ایکڑ اراضی کی پیمائش کر کے اس کی حد مقرر کی جائے کہ وہ کہاں سے کہاں تک ہے۔ تاکہ ان کے ناجائز قبضے کی راہ روکی جاسکے۔ یہ امر شاید عمومی طور پر قارئین کے لئے دلچسپی کا حامل ہو گا کہ چناب نگر شہر میں کوئی گھر کوئی مکان کسی شخص کی ملکیت نہیں ہے۔ بلکہ مقامی قادیانی بھی اپنے گھروں کے مالک نہیں۔ ساری زمین کی مالک قادیانی جماعت ہے اور دفتر مختار عام کے ذریعے گھر اور دکانیں قادیانیوں کو عارضی بنیادوں پر دی جاتی ہیں۔
قادیانی جماعت کا مرکز اور دارالخلافہ میں امت کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ بہت سے مجبور لوگ ایسے ہیں جو محض گھر چھن جانے کے خوف سے قادیانیت چھوڑنے سے ڈرتے ہیں۔ اگر حکومت آج تمام رہائشی لوگوں کو مالکانہ حقوق عطاء کر دے تو لوگوں کی بہت بڑی تعداد اسلام قبول کر سکتی ہے اور ناجائز قابض قادیانیوں کے زیر قبضہ قریباً سات سوا یکڑ قیمتی اراضی فروخت کر کے کروڑوں روپے کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ علاقے کے سروے کے دوران لوگوں سے بات چیت میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ مقامی مسلمان قادیانی سیکورٹی فورسز اور دفتر مختار عام کے قبضہ گروپ سے تنگ ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر کوئی پیش بندی نہ کی تو اس کے خلاف علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو سکتا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۱ء ص ۳۶ تا ۳۸)
متعصب اور تنگ نظر عیسائی پوپ بینی ڈکٹ کی قانون ناموس رسالت کے بارہ میں ہرزہ سرائی
الحمد لله وسلام على عبادہ الذین اصطفیٰ
آج کی دنیا قرآنی ہدایات، اسلامی تعلیمات اور نبی آخر الزمان ﷺ کی حیات طیبہ سے پہلو تہی کی بناء پر فتنہ، فساد، ظلم و بربریت، قتل وغارت، بے غیرتی و بے حیائی اور بے دینی و بے راہ روی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ اخلاقی پستی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، دنیا کی محبت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے، ان حالات میں ایک مسلمان کی عزت و حرمت، توقیر و تعظیم اور رعب و دبدبہ غیروں کے دلوں سے جاتا رہتا ہے، جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
”عن ثوبان رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: یوشک الامم ان تداعی علیکم کما تداعی الاكلة الى قصعتها، فقال قائل: ومن قلة نحن یومئذ؟ قال: بل انتم یومئذ کثیر ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعن الله من صدور عدوکم المهابة منکم، ولیقذفن الله فی قلوبکم الوهن! فقال قائل: یارسول الله! وما الوهن؟ قال: حب الدنيا وكراهية الموت (سنن ابوداؤد ص ۵۹۰)“ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ وقت قریب آتا ہے جب کہ تمام کافر قومیں تمہارے مٹانے کے لئے ( مل کر سازشیں کریں گی اور ) ، ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے دستر خوان پر کھانا کھانے والے (لذیذ) کھانے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ کسی نے عرض کیا :یا رسول اللہ ! کیا ہماری قلت تعداد کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہو گا؟ فرمایا: نہیں! بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہو گے ، البتہ تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ناکارہ ہو گے، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رُعب اور دبدبہ نکال دیں گے اور تمہارے دلوں میں ”بزدلی“ ڈال دیں گے! کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! بزدلی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
مسلم عوام ہوں یا حکمران ، ہر ایک میں یہی ”وہن“ یعنی دنیا کی محبت اور موت سے ناپسندیدگی بہت زیادہ سرایت کر چکی ہے۔ یہی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وجہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر یہی سوچتا اور سمجھتا ہے کہ اسلام، مذہب اور شریعت کے دفاع میں اگر میں نے کوئی کوشش و کاوش کی تو اندیشہ ہے کہ کہیں میرے مفادات متاثر نہ ہو جائیں۔ چنانچہ اسی بنا پر وہ لوگ جن کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے اقتدار کی طاقت، قلم کی قوت عطا کی ہے یا اپنی آواز کو مؤثر طور پر لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع ان کے قبضہ اور کنٹرول میں ہیں، وہ لوگ اسلام کی صحیح صورت اور نقشہ پیش کرنے کی بجائے یہودیوں، عیسائیوں اور بے دین لوگوں کی ترجمانی کا فریضہ نبھا رہے ہیں، جس کی بنا پر کفار، یہ طمع اور توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم سے مفادات کے خواہاں اور آرزومند ، ہماری ہی وکالت اور ہمارے ہی مطالبات کو اپنی عوام پر مسلط کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ویٹی کن میں بیٹھا ہوا ایک متعصب اور تنگ نظر عیسائی بار بار یہ ہرزہ سرائی کرتا ہے کہ پاکستان ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرے، جیسا کہ درج ذیل خبر ہے:
”ویٹی کن سٹی (اے ایف پی /رائٹرز ) عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینی ڈکٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ناموس رسالت کا قانون ختم کرے اور آسیہ بی بی کو رہا کرے۔ ملک میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تا کہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے المناک قتل سے ظاہر ہوتا ہے اس سمت میں فوری پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ناموس رسالت قانون عیسائیوں جیسی مذہبی اقلیتوں کے خلاف ناانصافی اور تشدد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ۱۹۹ ممالک کے سفارت کاروں سے سالانہ خطاب کے دوران پوپ بینی ڈکٹ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان توہین رسالت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے ملک میں رائج ناموس رسالت ایکٹ کو منسوخ کرے، کیونکہ اس قانون کو عذر بنا کر اقلیتی عیسائی برادری کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تا کہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں اور توہین رسالت کے جرم میں سزا پانے والی آسیہ بی بی کو رہا کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے المناک قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سمت میں فوری پیش رفت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان، چین، مصر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے شہریوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی انسان کا پہلا حق ہے۔ انہوں نے رواں سال کو مذہبی آزادی کا سال قرار دیا۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۱/ جنوری ۲۰۱۱ء)
کسی آزاد ملک کے آئین اور قانون کے بارہ میں یہ مطالبہ کرنا کہ یہ قانون ختم کیا جائے، یہ اس ملک میں کھلی مداخلت، اس ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو تصادم پر ابھارنے کے علاوہ تمام تر سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے۔
اسی طرح پوپ بینی ڈکٹ کا گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو بڑا المیہ قرار دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ درحقیقت سلمان تاثیر انہیں قوتوں کی خوشنودی کے لئے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہہ کر اس کی تبدیلی و ترمیم کے لئے کوشاں تھے۔ جس کی پاداش میں انہیں اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔
پوپ بینی ڈکٹ کو پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کی سلامتی کے بارہ میں مگر مچھ کے آنسو بہانے کی قطعا ضرورت نہیں، اس لئے کہ وہ پاکستان میں محفوظ و مامون ہیں، ان کی جان، مال، عزت و آبرو کو آئینی طور پر تحفظ حاصل ہے۔
بہر حال مسلمان ہو یا عیسائی ، ہندو ہو یا قادیانی، کسی بھی مذہب و مسلک کا فرد ہو، جب تک پاکستان کی سلامتی ، آئین پاکستان اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرے گا، اسے ہر اعتبار سے تحفظ حاصل ہے اور رہے گا، لیکن اگر کوئی اس کی پابندی نہیں کرے گا، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اس کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ عیسائیت اور یہودیت اسلام کی دشمن ہے، وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی پامالی اور شعائر اسلام کی توہین و تنقیص کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے بلکہ حقائق و واقعات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام، قرآن، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی، ازل سے ان کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہوئی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ کبھی کوئی عیسائی اور یہودی اسلام اور مسلمانوں کی ترقی تو کجا، ان کا وجود برداشت کرنے کا روادار نہیں رہا، مگر افسوس کہ مسلم حکمران ہمیشہ اپنے دشمن کو پہچاننے میں ٹھوکر کھاتے آئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کو ذبح اور مسلم حکومتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۱ء ص ۵، ۶)
ناموس رسالت قانون کی حمایت میں تاریخی مارچ فقید المثال جلسہ عام
تیسرا مرحلہ ۹؍جنوری ۲۰۱۱ء بروز اتوار تبت سینٹر کراچی میں تاریخی مارچ اور فقید المثال جلسہ عام طے ہوا تھا۔ اس عظیم الشان جلسہ کے لئے تحریک ناموس رسالت کے رہنماؤں نے اپنے اپنے حلقوں میں زبردست محنت کی۔ باہمی مشاورت کے کئی اجلاس ہوئے۔ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف امور کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ شہر بھر میں اہم اہم مقامات پر اس تاریخی مارچ اور جلسہ کی تشہیر کے لئے خوبصورت بینرز لگائے گئے۔ جن میں مختلف نعرے درج تھے۔ اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلوں نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نمائش اور جماعت اسلامی کے دفتر ادارہ نور حق میں منعقدہ پریس کانفرنسوں کی بھر پور کوریج کی۔ ۸؍جنوری ۲۰۱۱ء کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں مقامی ہوٹل میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی مشترکہ پریس کانفرنس رکھی گئی جس میں اس فقید المثال جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور قانون ناموس رسالت کے سلسلہ میں اپنے ٹھوس مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔ ۹؍جنوری ۲۰۱۱ء کو عظیم الشان جلسہ عام میں شرکت کے لئے کراچی کے غیور مسلمانوں کے قافلے بعد دوپہر جلسہ گاہ کی جانب آنا شروع ہوگئے۔ لاکھوں عاشقان رسول ہاتھوں میں جھنڈے اٹھائے نعرے لگاتے ہوئے جوش و جذبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ عوام کا نظم و ضبط مثالی تھا۔ تبت سینٹر پہنچ کر یہ تاریخی مارچ عظیم الشان جلسہ میں تبدیل ہوگیا اور ہیڈ برج پر اسٹیج مختلف تنظیموں کے جھنڈوں اور خوبصورت بینرز سے مزین کیا گیا تھا۔ جہاں ملکی و غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔ رینجرز، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار اور افسران بڑی تعداد میں تعینات تھے۔ لاکھوں کے اس اجتماع سے مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، مولانا عبدالغفور حیدری، حافظ حسین احمد، مولانا یوسف قصوری، مولانا اللہ وسایا، قاری محمد حنیف جالندھری، علامہ جعفر سبحانی، حافظ عاکف سعید، امیر حمزہ، مولانا اسعد تھانوی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۱ء ص ۵۳)
تحفظ ناموس رسالت کیلئے ملک گیر ہڑتال نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں
تحفظ ناموس رسالت کے لئے ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی ریلیاں نکال کر مسلمانوں نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے مرکزی مبلغ مولانا تجمل حسین، سرپرست مولانا نعمت اللہ شیخ، امیر حکیم عبدالواحد بروہی، جنرل سیکریٹری عبدالسمیع شیخ، انجینئر جاوید احمد شیخ، مولوی جنید احمد، عبداللطیف شیخ، سکندر کھرل نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عاصمہ جہانگیر کے بیان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں کہ اس نے تحفظ ناموس رسالت تحریک کو دہشت گردی کہا ہے۔ اس نے سترہ کروڑ مسلمانوں کے دینی جذبات کو سخت مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ ۹؍جنوری کو کراچی میں جلسہ عام میں بھر پور شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۱ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ناموس رسالت پر پاکستانی قوم کی وحدت و یکجہتی سے یورپی پارلیمنٹ بوکھلاہٹ کا شکار
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى
اسلام اور امت مسلمہ کی اساس و بنیاد کسی رنگ، نسل، قوم، برادری، قبیلہ، علاقہ یا زبان پر نہیں بلکہ ایک نظریہ اور پیغام پر ہے۔ جس امت، قوم یا جماعت کی بنیاد کسی نظریہ پر ہوتی ہے، اسے اپنی بقاء کے لئے اس نظریہ کا تحفظ اس طرح کرنا پڑتا ہے جس طرح ایک جاندار اپنی جان کی اور ذی روح مخلوق اپنی روح کی حفاظت کرتی ہے، کیونکہ جب تک نظریہ قائم اور زندہ رہتا ہے، قوم باقی رہتی ہے اور جیسے ہی نظریہ کمزور پڑ جائے، قوم کی وحدت و یکجہتی ختم ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
اسلام کی اساس اور بنیاد کلمہ توحید ہے اور کلمہ توحید کا اقرار اور تصدیق کرنے والی قوم امت مسلمہ کہلاتی ہے۔ امت مسلمہ کی وحدت، یکجہتی، بقاء اور تحفظ کے لئے جس طرح اللہ کی وحدانیت، خالقیت، مالکیت اور رزاقیت پر ایمان فرض، لازم اور ضروری ہے، اسی طرح نبی آخر الزماں، خاتم الانبیاء، سید الاولین والآخرین فخر دو عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت اور آپ کی حرمت و عظمت پر ایمان، اس کا تحفظ اور دفاع بھی فرض، لازم اور ضروری ہے۔
امت مسلمہ نے اسلامی عقائد ونظریات کی حفاظت کے لئے جب بھی خواب غفلت سے بے داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا ذرا سا احساس کیا اور ان کی بجا آوری کے لئے پختہ عزم اور مصمم ارادہ کا اظہار کیا ہے تو اسلام دشمنوں، کفار کے آلہ کاروں اور ان کے لے پالک حکمرانوں پر کپکپی، قنوطیت، مایوسی اور بوکھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب سے پاکستانی قوم نے متحد اور متفق ہو کر ناموس رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کے خلاف اور اس کے تحفظ کا علم بلند کیا ہے، اس دن سے اعدائے دین، این جی اوز، سیکولر عناصر، مغربی اقوام، متعصب و تنگ نظر بینی ڈکٹ پوپ اور یورپی پارلیمنٹ کا چین وسکون غارت اور ان کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں اور کیسے کریں؟ کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے ان کے ناپاک عزائم، سازشی منصوبے اور ان کی تمام تر تدبیریں ضائع اور رائیگاں چلی گئیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے دو روزہ اجلاس میں ممتاز قادری کو ملنے والی عوامی حمایت، وکلا کی طرف سے ممتاز قادری پر گل پاشی پر اظہار افسوس اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو پاکستان کے نام نہاد معتدل حلقوں کی مالی معاونت کی ہدایت اسی بوکھلاہٹ اور مایوسی کا اظہار ہے، تفصیل کے لئے روزنامہ نوائے وقت کی خبر ملاحظہ ہو:
’’اسٹراسبرگ ( ثنا نیوز) یورپی پارلیمنٹ کی قراردادوں کی مزید تفصیلات کے مطابق ان میں کہا گیا ہے کہ توہین رسالت ایکٹ پر جامع نظر ثانی ضروری ہے۔ پاکستانی حکومت اپنے سیکورٹی اداروں کو شدت پسندوں سے پاک کرے، پاکستانی فوج، عدلیہ اور سیاسی طبقے کے بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی انتہاء پسندوں کی حمایت تشویشناک ہے۔ اسٹراسبرگ میں دو دن کی بحث کے بعد یورپی پارلیمنٹ نے دو الگ قراردادیں منظور کیں۔ ایک قرارداد کے ذریعے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی مذمت کی۔ یورپی یونین نے اپنی قرارداد میں پاکستان کو مذہبی آزادی اور رواداری کے ان تمام بین الاقوامی معاہدوں اور قراردادوں کی یاددہانی کرائی، جن کی وہ توثیق کر چکا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے اپنی قرارداد میں آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ایک قرارداد میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے ملزم کو ملنے والی حمایت، وکلاء کی طرف سے ان پر گل پاشی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو جائز قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سیکورٹی اداروں کو شدت پسندوں سے پاک کرے۔ یورپی پارلیمنٹ نے حکومت پاکستان کی طرف سے شدت پسندی کو روکنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔ یورپی پارلیمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج، عدلیہ اور سیاسی طبقے کے بعض حلقوں کی جانب سے مذہبی انتہاء پسندوں کی حمایت پر اسے گہری تشویش ہے۔ اس کے علاوہ یورپی پارلیمان نے مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو پاکستان کے ان معتدل حلقوں کی اصولی اور مالی معاونت جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جو ملک میں انسانی حقوق کے فروغ اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ آسیہ مسیح کا ذکر کرتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آسیہ مسیح اور ان کے خاندان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اپنی دوسری قرارداد میں یورپی پارلیمنٹ نے مصر، نائیجیریا، پاکستان، فلپائن، قبرص، ایران اور عراق میں عیسائیوں پر ہونے والے مبینہ حملوں کی مذمت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو یورپی یونین کی کمیٹی برائے خارجہ امور بھی، عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ان کی مذہبی آزادی کے احترام پر بحث کرے۔ یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ دنیا بھر میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں، یورپی یونین نظریں نہیں پھیرے گی۔ انہوں نے عراق اور مصر میں عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ عالمی برادری کو مذہب کے نام پر تفریق کے سامنے ڈٹنا پڑے گا اور انتہاء پسندی کا بہترین جواب، مذہب وعقائد کی آزادی کا عالمگیر معیار ہے۔ قرارداد میں بھارت میں مسلمان اور عیسائی اقلیتوں پر حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ زرداری اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے آسیہ کی سزا معاف کردیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت، ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۱ء)
یورپی یونین کی ان قراردادوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر، رکن قومی اسمبلی شیریں رحمٰن اور اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی جیسے لوگوں کا گروہ انہیں کے لئے کام کر رہا تھا، جس کے ردِعمل میں گورنر پنجاب کو اپنے ہی سرکاری محافظ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔
ان یورپی ممالک کی تلملاہٹ اور بوکھلاہٹ سے ہمارے اکابر کی یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ بیرونی ممالک جب بھی کوئی فنڈنگ کرتے ہیں اس کے پس منظر میں دوسرے مقاصد کے علاوہ مسلم دشمنی، اسلام دشمنی اور اسلامی تہذیب کا خاتمہ پنہاں ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں مصروفِ کار این جی اوز، لادین سیکولر عناصر اور نام نہاد معتدل روشن خیال اسکالروں کے روپ میں میڈیا پر نمودار ہو کر لیکچر دینے والے درحقیقت یہ سب اسی اسلام دشمنی اور مسلم دشمنی کی کڑیاں ہیں اور بیرونی آقاؤں کے ایجنٹ اور ان کے تنخواہ دار ہیں۔
ان حالات میں اب بھی اگر حکمرانوں نے تحریک ناموس رسالت کے قائدین کے مطالبات کو نہ مانا تو پاکستانی قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ حکومت اپنے بیرونی آقاؤں کی ہدایات اور اشاروں پر عمل کر رہی ہے اور انہیں پاکستانی قوم سے کوئی سروکار نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون دانوں، اساتذہ کرام، داعیانِ دین، اربابِ صحافت، ادیبوں، دانش وروں، عمالِ حکومت، علمائے کرام، طلباء وطالبات، اہلِ تجارت ومعیشت غرض ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر طرح کے افراد، ہر جگہ اور ہر سطح پر باہمی ربط و تعلق اور اپنی صفوں میں مزید اتحاد و اتفاق پیدا کریں۔ اسی طرح نظریہ پاکستان اور اپنے دینی عقائد ونظریات کی حفاظت کریں اور نبی آخرالزماں ﷺ کی حرمت وعظمت کا تحفظ اور دفاع کو اپنا مقصدِ اولین اور فرضِ اولین بنالیں تو ان شاء اللہ کفار کی تمام تر سازشیں اور ناپاک منصوبے پیوست خاک ہو جائیں گے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸تا۱۵؍ فروری ۲۰۱۱ء ص۵،۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قانون توہین رسالت کے سلسلہ میں خوش آئند پیش رفت
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی
قانون توہین رسالت میں کسی قسم کی ترمیم وتنسیخ یا اسے غیر مؤثر کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف پاکستان کی مذہبی وسیاسی جماعتیں، دینی تنظیمیں، عشق رسول سے سرشار اور غیرت وحمیت کی حامل عوام باہمی اتفاق واتحاد سے تحریک چلا رہی ہیں۔ تحریک ناموس رسالت کے مشترکہ پلیٹ فارم سے پُر امن احتجاجی ریلیاں، ملک گیر ہڑتال اور کراچی ولاہور میں لاکھوں نفوس پر مشتمل عظیم الشان احتجاجی جلسے منعقد کئے جا چکے ہیں۔ مسلمانانِ پاکستان نے اپنی اجتماعی آواز ملکی ایوانوں اور بیرونی دنیا تک پہنچا دی ہے کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے دنیا بھر کے مسلمان ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ امت مسلمہ اپنے نبی ﷺ کی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ قانون توہین رسالت کا ہر محاذ پر دفاع کیا جائے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ برف پگھلنے لگی ہے، حکومت نے عوام الناس کے پُر زور مطالبوں پر کان دھرنا شروع کر دیا ہے۔ وزیر قانون بابر اعوان نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ شیری رحمٰن کا بل مسترد کر دیا جائے اور ناموس رسالت قانون میں کوئی ترمیم نہ کی جائے۔ لیجئے خبر ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلام آباد (انصار عباسی) وزیر قانون بابر اعوان نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ نہ تو وہ ناموس رسالت کے قانون میں کوئی ردو بدل کریں اور نہ ہی آسیہ مسیح کی سزا معاف کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب ہونے والے شخص کے لئے موت کی سزا شرعی عدالت نے تجویز کی ہے اور وہ اسلام کی تعلیمات اور قرآن وسنت کے عین مطابق ہے۔ وزیر اعظم کو پیر کے روز بھیجے گئے ایک ریفرنس میں وزیر اعظم سے شیری رحمٰن کا وہ بل مسترد کرنے کا کہا ہے جس میں انہوں نے ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی چاہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ ناموس رسالت کا قانون معاشرے کے صرف ایک طبقے کو نشانہ بناتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے متعدد ممالک کی مثال بھی دی جہاں توہین رسالت کا قانون موجود ہے، انہوں نے زور دیتے ہوئے وزیر اعظم کو تجویز دی کہ توہین رسالت کے مجرم کو پی پی سی ۱۸۶۰ سیکشن ۲۹۵۔سی کے تحت موت کی سزا اسلامی تعلیمات اور قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور اس کو تبدیل کرنے یا ترمیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دی نیوز کو ریفرنس کی ملنے والی غیر دستخط شدہ نقل سے پتہ چلتا ہے کہ نہ صرف وزارت داخلہ نے آسیہ مسیح کے لئے معافی کا کیس آگے بڑھایا بلکہ ایک اور ریفرنس اقلیتوں کی وزارت کی جانب سے بھی دائر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی جائے۔ وزیر قانون کے ریفرنس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پس پردہ نہ صرف ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوششیں کی جا رہی تھیں بلکہ یہ کوشش بھی کی جا رہی تھی کہ آسیہ مسیح کی اپیل کی اعلیٰ عدلیہ میں سماعت سے قبل ہی اسے معافی دلوا دی جائے۔ وزیر اعظم کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے مطابق پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جہاں آئین ایسے معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے جہاں مسلمان انفرادی و اجتماعی طور پر اسلامی تعلیمات اور تقاضے جو کہ قرآن وسنت کے مطابق متعین کئے گئے ہیں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزار سکیں اور ساتھ ہی اقلیتوں اور مظلوم وغریب طبقے کو جائز اور قانونی مفادات کا تحفظ فراہم ہو۔ آسیہ مسیح کی معافی کے لئے وزارت داخلہ کی کوششوں کے حوالے سے وزیر قانون نے کہا کہ وزارت داخلہ اس سلسلے میں زیر التوا مقدمات کے قواعد کا احترام کیا جائے۔ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے کسی اقدام کی ضرورت نہیں، کیونکہ مسماۃ آسیہ نورین کرمنل پراسیجر کوڈ ۱۸۹۸ کے سیکشن ۴۱۰ کے تحت اپنے اعتراف جرم میں قانونی مدد کے لئے اپیل دائر کر چکی ہے۔ اقلیتوں کی وزارت کی جانب سے قانون میں ترمیم کے لئے زور دینے کے حوالے سے کہا ہے کہ جہاں تک اقلیتی برادری کی وزیر اعظم پاکستان کو بھیجی گئی درخواست جو کہ قانون وانصاف وپارلیمانی امور ڈویژن کو توہین رسالت کے قانون میں ترامیم پر فوری غور کے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھیجی گئی، اس میں کوئی جان نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ مختلف مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ چند پروپیگنڈے سے بھرے ذہن اور ایجنڈے لئے کچھ لوگ یہ غلط تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان میں موجود قانونی ضابطے انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے معیار کے نہیں ہیں اور ان کو دنیا بھر میں تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ تاثر مکمل بے بنیاد اور بے کار ہے۔ شیری رحمن کے بل کے حوالے سے وزیر قانون نے لکھا کہ ”پرائیویٹ ممبرز بل جو کہ حالیہ طور پر میڈیا میں ہے اور متعلقہ رکن نے اسے زبانی واپس بھی لے لیا ہے“ جس طرح ناموس رسالت کے قانون پر گزشتہ پیراگرافس میں مباحثہ کیا گیا ہے بالکل اسی طرح فیڈرل شریعت کورٹ بھی آرٹیکل ۲۰۳ (ڈی) کی ذیلی شق کے تحت اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کر چکی ہے کہ جو معاملہ زیر بحث ہے وہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ اس لئے متبادل سزا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ یہ فیصلہ آرٹیکل ۲۰۳ (ڈی) شق ۲ کی ذیلی شق (بی) کے تحت پہلے ہی مؤثر ہوچکا ہے، لہٰذا مذکورہ بالا جائزے کے تحت رکن قومی اسمبلی مسماۃ شہر بانو رحمن (شیری رحمن) کی جانب سے پیش کیا جانے والا فوجداری قانون (ناموس رسالت کا جائزہ) (ترمیمی) بل برائے ۲۰۱۰ء مسترد کئے جانے کے لائق ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ناموس رسالت کا قانون صرف پاکستان ہی میں ہے اور ایک مخصوص طبقے کو ہی نشانہ بناتا ہے ان کو جواب دیتے ہوئے وزیر قانون نے ان ممالک کے نام بتائے جہاں ناموس رسالت کا قانون موجود ہے جن میں افغانستان، آسٹریلیا، آسٹریا، بنگلہ دیش، برازیل، کینیڈا، ڈنمارک، مصر، فن لینڈ، جرمنی، یونان، بھارت، انڈونیشیا، ایران، آئرلینڈ، اسرائیل، اردن، کویت، ملائیشیا، مالٹا، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، نائیجیریا، سعودی عرب، سوڈان، متحدہ عرب امارات، یونائیٹڈ کنگ ڈم، یمن اور امریکا شامل ہیں۔ انہوں نے ان ممالک میں ناموس رسالت کے حوالے سے کئے گئے کیسوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کئے جانے والے پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جس میں ایک ایسا آئینی میکنزم موجود ہے جس میں عدالتی مقدمات اور اپیلوں کے ذریعے بچاؤ کا طریقہ موجود ہے، یہاں تک کہ ۱۹۸۶ء سے لے کر اب تک اطلاعات کے مطابق اس قانون کے تحت کوئی سزائے موت نہیں دی گئی ہے۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک میں رائج عدالتی نظام شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۸؍فروری ۲۰۱۱ء)
وزیر قانون کے اس ریفرنس کو منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قانون ناموس رسالت میں ترمیم کی تجویز اور توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ مسیح کو معاف کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سلسلہ کی خبر ملاحظہ ہو:
”اسلام آباد (رپورٹ: انصار عباسی) ایک زبردست پیش رفت کے طور پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کو اپنے وزیر قانون کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے ناموس رسالت قانون میں ترمیم کی تجویز اور وزارت داخلہ کی آسیہ مسیح کو معاف کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ پرنسپل سیکریٹری خوشنود لاشاری کے دستخط کے ساتھ وزیر اعظم سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ”وزیر اعظم کو وزیر برائے امور قانون، انصاف اور پارلیمانی معاملات کی پیش کردہ تجاویز کو منظور کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ وزارتوں کو قابل عمل تجاویز کے لئے ہدایت جاری کی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ان تجاویز کی نقول علیحدہ سے آپ (وزارتوں) کو بھجوائی جارہی ہیں“ اس نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر قانون بابر اعوان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وزیر اعظم نے ان کی تجاویز کی توثیق کر دی ہے اور انہوں نے نہ صرف ناموس رسالت قانون میں ترمیم کے متعلق تجاویز مسترد کر دی ہیں بلکہ وزارت داخلہ کی جانب سے آسیہ مسیح کی معافی کے لئے بھجوائی جانے والی سفارش بھی واپس بھجوادی گئی ہے۔ اب آسیہ مسیح کی اپیل فیصلہ سنائے جانے کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہے۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۹؍فروری ۲۰۱۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبارات میں ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ٹیلی فون کیا، جس میں ناموس رسالت قانون سمیت ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی کرائی کہ ناموس رسالت قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ٹھوس اور عملی اقدامات تک تحریک جاری رہے گی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو خلوص نیت سے ان اعلانات پر عملی اقدامات کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین ۔ ان ربک فعال لما یرید!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۸؍فروری ۲۰۱۱ء ص ۵، ۶)
تحریک ناموس رسالت ...... تازہ صورتحال
ننکانہ کے متصل گاؤں اٹانوالی کی رہائشی ایک مسیحی خاتون آسیہ کو سیشن کورٹ سے سزا ہوئی۔ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے اس سے شیخوپورہ جیل میں جا کر ملاقات کی۔ امریکہ نے اس خاتون کے خاندان کو امریکہ کی نیشنلٹی دینے کا اعلان کیا۔ ادھر ویٹی کن سٹی میں پوپ نے تحفظ ناموس رسالت قانون کو ختم کرنے اور آسیہ کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں ۲۹؍نومبر ۲۰۱۰ء کو کراچی جمعیت علماء پاکستان کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں ”تحریک ناموس رسالت“ کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا۔ جس کے کنوینئر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر قرار پائے۔ ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو راولپنڈی میں مرکزی جماعت اہل سنت، ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو لاہور جمعیت علماء اسلام (س) کے تحت آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں عظیم الشان آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ۲۴؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں یوم احتجاج ، ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی گئی۔ ۹؍جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں جلسہ عام کا اعلان کیا گیا۔
۲۴؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ پورے ملک میں جمعہ کے موقعہ پر اسلامیان وطن نے ملک کے کونہ کونہ میں احتجاج کیا۔ ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو پاکستان کی تاریخ کی مثالی ہڑتال ہوئی۔ قصبات و دیہات تک میں مسلمانوں نے شٹر ڈاؤن کر کے اس ہڑتال کو کامیاب بنایا۔ ۹؍جنوری ۲۰۱۱ء کے کراچی کے جلسہ عام کے لئے جناب شبیر ابوطالب، مولانا قاری محمد عثمان، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا سید حماد اللہ شاہ، جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی کے جناب محمد حسین محنتی، الدعوۃ، تحریک اسلامی، ملت اسلامیہ کے نمائندگان نے کراچی کے جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔ مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کراچی میں ڈیرے ڈال دیئے۔ کراچی کے در و دیوار بینروں سے سج گئے۔ اندازہ فرمائیے ایک لاکھ ہینڈ بل اور کئی سو بینر صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کر کے تقسیم کئے۔ چنانچہ ۹؍جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی کے چاروں اطراف سے وفود، قافلے، ریلیوں کی شکل میں رواں دواں جلسہ گاہ تبت سنٹر کراچی میں پہنچے تو تبت سنٹر سے مزار قائد تک انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔ چہار سو سر ہی سر نظر آتے تھے۔ جلسہ سے تمام جماعتوں کے قائدین نے خطاب فرمایا۔ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، جناب سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن، پیر عبدالخالق بھرچونڈی شریف اور دیگر قائدین کی قیادت میں اس عظیم الشان ریلی اور جلسہ عام نے کراچی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اختتامی بیان میں فرمایا کہ اگر حکومت پاکستان نے وائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی آقاؤں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کر دیں گے تو میں بھی روضہ رسول اللہ ﷺ پر عہد کر کے آیا ہوں کہ ہم اپنی جان نچھاور کر دیں گے۔ لیکن اس قانون کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ آپ کا بیان اس جلسہ عام کا حاصل بیان تھا۔ الحمد للہ! یوں تحریک کا ایک مرحلہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئندہ کا پروگرام: ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کی اے. پی. سی کے فیصلوں کے مطابق ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کے جلسہ عام میں اگلے پروگرام کا اعلان کرنا تھا۔ چنانچہ جمعیت علماء اسلام کل پاکستان نے تحریک ناموس رسالت میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ۸؍ جنوری ۲۰۱۱ء بعد از عشاء کراچی کے میرٹ ہوٹل کی اے۔ پی سی میں جمع کیا۔ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں رات کے بارہ بجے تک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو لاہور میں احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوگا۔ اس سے قبل ۲۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو تحریک ناموس رسالت میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس لاہور میں ہوگا۔ اس کی میزبانی جماعت اسلامی کرے گی۔ اس سے اگلے پروگرام کو طے کیا جائے گا اور اس کا اعلان ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۱ء کے جلسہ عام میں کیا جائے گا۔
حکومت اور ناموس رسالت:
- ۱...... آسیہ کیس کے نتیجہ میں حکمران جماعت کی رکن شیریں رحمان نے بارہ قومی اسمبلی کے ممبران سے دستخط کرا کر قومی اسمبلی میں بل جمع
کرایا کہ اس قانون کو ختم یا تبدیل کیا جائے۔ تاحال وہ بل حکمران جماعت نے واپس لینے کا شیریں رحمان کو پابند نہیں کیا۔ البتہ کہا گیا کہ بل داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ بل ابھی زندہ ہے۔ قومی اسمبلی کی پراپرٹی ہے۔ جب حالات سازگار ہوں گے اس بل کو نکال کر پھر اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے گا۔ یہ فیصلہ حکومت کی بدنیتی کا مظہر ہے۔ اس بل کو داخل دفتر کی بجائے اسمبلی کے فلور میں پیش ہو کر خود پیش کرنے والا رکن اس بل کو واپس لینے کا اعلان کرے اور اس کا یہ اعلان اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنے۔ تاحال حکومت نے ایسا نہیں کیا۔
- ۲...... آسیہ کیس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی۔ جس
نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترامیم تجویز کرنی تھیں۔ تحریک ناموس رسالت کا مطالبہ تھا کہ اس کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اخبارات میں حکومت کا مبہم سا بیان شائع ہوا کہ کمیٹی کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ گویا اسے تاحال تحلیل نہیں کیا گیا۔ ان اقدامات سے لگتا ہے کہ حکومت نے ابھی تک جو جو اعلان کئے، وہ بے دلی سے کئے۔ خوش دلی کے ساتھ حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔ ان حالات میں ہمارا مطالبہ ہے کہ: (۱) شیریں رحمن کے بل کو قومی اسمبلی سے واپس لیا جائے۔ (۲) حکومت نے اس قانون میں ترمیم کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے۔ اسے تحلیل کیا جائے۔
جب تک حکومت واضح طور پر ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی۔ ہم سب کو اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔
- ☆...... وزیراعظم پاکستان کا یہ فرمانا کہ ہم نے اس قانون میں ترمیم کا فیصلہ نہیں کیا۔
- ☆...... وزیراعظم پاکستان کا یہ فرمانا کہ ہم اس قانون میں ترمیم نہیں کر رہے۔
یہ وہ دو اعلان ہیں جو یکے بعد دیگرے انہوں نے کہے۔ لیکن یہ دونوں مبہم ہیں۔ ان کا فرمانا کہ ہم نے ترمیم کا فیصلہ نہیں کیا۔ یعنی حکومتی حلقوں میں ترمیم کا مسئلہ زیر غور ہے۔ ابھی تک ہم نے ترمیم کا فیصلہ نہیں کیا یا ہم ترمیم نہیں کر رہے۔ گویا ابھی نہیں پھر؟ یہ دونوں مبہم اعلان قوم کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہیں۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ مندرجہ بالا مطالبات کو صدق دل کے ساتھ اپنے ایمان کا تقاضہ سمجھ کر تسلیم کرے۔ رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کی عزت و ناموس کا مسئلہ تمام مسلمانوں کا ، اپوزیشن وحکومت کا ،عوام وخواص کا، دینی وسیاسی سب جماعتوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس میں جتنی جلدی واضح فیصلہ کا اعلان ہوگا۔ حکومت کے لئے اتنا ہی مفید ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۱ء ص ۴، ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس لاہور
تحریک ناموس رسالت کے سلسلہ میں تیسرے مرحلہ پر ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ کے لئے مورخہ ۲۹ جنوری ۲۰۱۱ء کو منصورہ میں جماعت اسلامی کی میزبانی میں اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سید منور حسن نے کی۔
تلاوت: قاری وقار احمد چترالی، امام جامع مسجد منصورہ نے کی۔
نعت: قاری محمد زوار بہادر نے پیش کی۔
دعائے مغفرت: مولانا عبدالرحمن اشرفی، امریکی غنڈوں کے ہاتھوں اور ڈرون حملوں میں شہید ہونے والوں کے لئے مغفرت کی دعا کی گئی، نیز امیر جماعت نے قائدین کا خیرمقدم کیا اور بتلایا کہ کراچی، راولپنڈی، لاہور، اسلام آباد میں کانفرنسیں ہوئیں۔ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو مظاہرے اور ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں عظیم الشان ہڑتال ہوئی۔
سید منور حسن نے اجلاس کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ:
- ۱...... وزیراعظم، فلور آف دی ہاؤس پر اعلان کریں کہ ناموس رسالت قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
- ۲...... شیری رحمٰن بل واپس لیا جائے۔
- ۳...... پوپ اور یورپ کے قانون کے متعلق بیانات کا نوٹس لیا جائے۔
- ۴...... یورپی پارلیمنٹ قرارداد کی تردید کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مطالبات جب تک تسلیم نہیں ہوتے، ریلیوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ناموس رسالت کے قانون کو ایجنڈا بنانا چاہئے۔ تحریکوں کی کامیابی کا انحصار پُر امن رہنا چاہئے، لیکن تحریک پُر امن رہے، ہمارا ایجنڈا کوئی مخفی نہیں، غلبہ دین کا ایجنڈا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکابر علمائے کرام زعماء قوم، دنیا میں اس وقت جو کشمکش ہے۔ اس کے حقیقی عناصر کیا ہیں؟ ہم روزِ اول سے یہ رائے رکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکا اور اس کی قیادت کا ایجنڈا اسلامی تہذیب، تمدن اور اقدار کا خاتمہ ہے۔ اسلامی سوسائٹی اور اقدار کے لئے جو بنیادی وسائل اور عوامل ہیں، وہ ادارے ہیں جو اسلامی علوم کے حوالہ سے اسلامی طرزِ حیات بتلاتے ہیں، چونکہ اسلام علم اور تربیت دونوں کا نام ہے، اسلام انسان کو انسان بناتا ہے۔ اعتدال کی روش کا داعی اور علمبردار ہے۔ انہوں نے اس اسلوب کو انتہاء پسندی قرار دیا ہے۔ خواہشات کی اتباع کو روشن خیالی قرار دیا ہے۔ اقتدار پسند طبقہ کے لئے امریکا کی وفاداری کا مکمل اعتراف کرنا اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔ نیز آئین کی اسلامی دفعات ان کے لئے بوجھ ہیں، مسلسل ملکی سیاست اور پارلیمنٹ پر دباؤ ہے، جناب رسول اللہ ﷺ کی ناموس کی بے حرمتی کی جاتی ہے، بے حرمتی سے ہمارے پاس کچھ نہیں رہتا، سب سے زیادہ لابی، این جی اوز ہیں جو اس قانون کے خلاف احتجاج کرتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ عوام نے قومی سطح پر مثبت ردعمل کیا ہے۔ تحریری طور پر ہم نے مطالبات بھیجے، تمام سیاسی مذہبی جماعتیں ایک ہی اضطراب رکھتی ہیں اور وہ ناموس رسالت کی وجہ سے ہے۔ اس پر ہمیں خود اعتمادی آنی چاہئے، قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی یہ دھوکا ہے، کیونکہ پروسیجر میں تبدیلی سے قانون غیر موثر ہو جاتا ہے۔ بل اسمبلی کی ملکیت ہے۔ ابھی تک واپس نہیں لیا۔ کراچی کے جلسہ کے اگلے روز پوپ کا بیان آیا، یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد آئی، ملکی قیادت ان کی پیروکار ہے۔ لہٰذا ہم متحد ہوکر اس جدوجہد کو دوام دیں گے، ہم نے ناموس رسالت اور اس کے لوازمات کے حوالہ سے تحریک کو آگے بڑھایا ہے، عافیہ صدیقی کو ۸۶ سال سزا دی گئی جو جھوٹ پر مبنی کیس ہے۔ ابھی آسیہ کے متعلق عدالتی حیثیت موجود ہے۔ لاہور میں واقع
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہونے والا واقعہ کس نے کیا، بلیک واٹر کا ہے، مقتولین کو مجرم اور مجرم کو بے گناہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حساس معاملات پر پوری سنجیدگی کے ساتھ لائحہ عمل دینا ہے۔ اپنی فوج ، پارلیمنٹ ، معیشت بین الاقوامی دباؤ میں ہے، ہم نے غیر مسلح اور عوامی جدوجہد سے دباؤ سے نکالنا ہے۔ یہ تحریک پاکستان کی بقاء کی تحریک ہے۔
تحریک ناموس رسالت رابطہ کمیٹی کے کنوینر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ پانچویں آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس ہے، ہم نے چار مطالبات رکھے :
- ۱...... وزیر اعظم پارلیمنٹ میں ناموس رسالت میں ترمیم نہ کرنے کا اعلان کریں۔
- ۲...... اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کی سرکردگی میں بنائی گئی کمیٹی تحلیل کی جائے۔
- ۳...... آسیہ مسیح کیس سے متعلق عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کیا جائے۔
- ۴...... شیری رحمٰن بل اسمبلی سے واپس لیا جائے ، انہوں نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۲۴/دسمبر مظاہرے ۳۱/دسمبر ۲۰۱۰ء کی
ہڑتال ۹/جنوری ۲۰۱۱ء کا کراچی کا جلسہ ہوا۔ حکمران اپنے بیانات کے ذریعہ کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں، جب کہ ہم نے تحریری مطالبات بھی پیش کر دیئے ہیں، جن کا ”ہاں“ یا ”نہ“ میں جواب آنے تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔
تجویز: (۱) یہ جنگ پارلیمنٹ میں بھی شروع کی جائے ، تحریک التوا، بل وغیرہ پیش کئے جائیں۔ (۲) اگلے اقدام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں ریلیاں منعقد کی جائیں، پشاور میں ریلی کا اعلان کیا جائے۔ ممتاز قادری کے گھر میں ریلی کی صورت میں جانا چاہئے ، قانونی امداد کے لئے وکلا کی ٹیم تشکیل دی جائے۔ علماء بھی بھر پور تعاون کریں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اعلان کریں۔ (۳) ناموس رسالت کے ساتھ ساتھ نظام مصطفیٰ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ غلام مصطفیٰ کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں، اس تحریک نے سیاسی اختلافات کے باوجود دوریاں ختم کر دیں۔ ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی، کیونکہ قرآن ، سنت ، انبیاء کرام کی توہین ، کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ اس قانون کو ذاتی اغراض ومقاصد کے لئے بھی استعمال کرنا کفر سے کم گناہ نہیں۔ ناموس رسالت کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے۔ تحفظ ناموس رسالت نظریہ پاکستان ہے۔
تجویز: ہم اپنا مشن جاری رکھیں، کمیٹی بنا کر حکمرانوں سے ملاقات کی جائے۔ مذاکرات کرنے چاہئیں، نہ ماننے کی صورت میں اگلا قدم اٹھایا جائے۔
علامہ ساجد میر نے کہا کہ اتحاد و یکجہتی اور جہد مسلسل سے اگلا پروگرام ابھی طے کیا جائے۔ اگر ہمارے قدم پیچھے ہٹ گئے تو ہمیں بہت پسپائی کرنی پڑے گی، مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ پارلیمنٹ میں جدوجہد، عافیہ صدیقی کے حوالہ سے سلمان رشدی امریکا، گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی توہین کے خلاف آواز اٹھائی جائے، یورپ کو مقدس گائے نہ سمجھا جائے، بھرپور تعاقب کیا جائے۔ باعزت شکل یہ ہے کہ حکومت خود دعوت دے اور باضابطہ دعوت دی جائے تو ہمیں انکار نہ ہوگا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دینی قوتوں کے لئے آزمائش کا مرحلہ ہے، وحدت کو مضبوط کیا جائے، جدوجہد مسلسل جاری رہنی چاہئے ،موجودہ حکومت نے باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیا، کوشش یہ ہونی چاہئے، منفی پہلو سے گریز کرنا چاہئے ، حکومت سے رابطوں سے کوئی حرج نہیں ، مطالبات واضح طور پر تسلیم کریں، باہمی مشاورت سے اگلا اقدام اٹھانا چاہئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خواجہ سعد رفیق پاکستان مسلم لیگ (ن) ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ مجھے میاں صاحب نے بھیجا ہے، توہین رسالت کی سزا میں تخفیف کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کی کوئی پارلیمنٹ یا حکومت کو حق ہے نہ اختیار ہے، یہ قانون اور تحریک اندرون و بیرون ملک میں ہونے والی سازشوں کا دفاع ہے۔ البتہ قانون استعمال میں احتیاط ضروری ہے، قانون اس لئے وضع کیا گیا تا کہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں، اس قانون کے لئے پاکستان مسلم لیگ کے کارکن کل کی ریلی میں شرکت کریں گے، مغرب کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تعزیرات پاکستان اس کا راستہ روکتا ہے کہ غلط الزام لگانے والے کے لئے عمر قید یا سزائے موت۔ ایسا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کیا جائے۔
مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ”تحریک ناموس رسالت“ کا یہ پلیٹ فارم محض ایک نکاتی ایجنڈا پر معرض وجود میں آیا ہے، اس حوالہ سے ہی ہمیں جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہئے، اس میں کامیابی ہمارے بہت سارے دینی مقاصد میں معاون و ممد ہوگی، لیکن اس وقت اپنی تمام کاوش تحفظ ناموس رسالت کے لئے وقف رکھیں تو بہت بہتر ہوگا۔ اس عنوان پر کامیابی کے بعد دیگر امور کے لئے علیحدہ مشاورت اور طریق کار کو زیر بحث لایا جائے۔ اس وقت دیگر مسائل کو اس مسئلہ تحفظ ناموس رسالت کے ساتھ نتھی کرنا نہ صرف غلط مبحث کا باعث ہوگا بلکہ بہت سارے شکوک و شبہات بھی جنم لیں گے کہ اس مسئلہ کی آڑ میں دیگر فوائد حاصل کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے، اس سے عوام بھی مایوسی کا شکار ہوں گے۔ امید ہے کہ اس پلیٹ فارم کو اسی کام کے لئے ہی وقف رکھا جائے گا۔ وفد گورنمنٹ سے ملاقات کرے، مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن، صاحبزادہ ابوالخیر کو اختیار دے دیا جائے کہ وہ وفد کی تشکیل کریں۔ اس قانون کے غلط استعمال ہونے کی بات زیر بحث آئی ہے، اس قانون کے تحت پرچہ درج کرنے کے لئے قانون میں یہ طریق کار موجود ہے کہ تھانہ میں درخواست دی جائے جس کی انکوائری ایس پی رینک کا افسر کرے۔
پروفیسر حافظ محمد سعید...... الیکٹرونک میڈیا گورنر کے قتل کے بعد مختلف الاذہان لوگوں کو بٹھلا کر شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے کہ مذہبی طبقہ شدت پسند ہے جب کہ سیکولر طبقہ اعتدال پسند ہے۔ یہ بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے، الیکٹرونک میڈیا کے ذمہ داروں سے بھی ملاقاتیں کی جائیں۔ طبقات کی تقسیم سے ملک کو بچایا جائے۔
جناب اعجاز الحق....... اسلامی نظریاتی ملک میں بیٹھ کر عالم اسلام کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ میڈیا کو تحفظ ناموس رسالت کے عنوان پر ایک پمفلٹ بنا کر تقسیم کیا جائے، پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، انٹرنیٹ پر علماء کرام اور دین دار طبقے کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے، سوسائٹی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دین کا تحفظ علماء کرام کا فرض ہے، آج تک اس مسئلہ میں کسی کو سزا نہیں دی گئی (یعنی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا) اسلامی ملک میں اپنے حکمرانوں سے بھیک مانگی جارہی ہے۔ اسلام آباد کی طرف ایک لانگ مارچ کی کال دی جائے۔ ناموس رسالت کے لئے جان کی قربانی دینی پڑے تو یہ سودا سستا ہے۔
مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ...... ناموس رسالت کا تحفظ ہماری شاہ رگ ہے، جس پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس مسئلہ اور اس کے قانون پر مسلمان حساس ہیں، یہ تمام تر کامیابی کے لئے والہانہ وابستگی ضروری ہے:
- ۱...... ہماری جدوجہد ناموس رسالت کے لئے خالصتاً ہو۔
- ۲...... آئندہ بھی تحریک پُر امن رہے۔
- ۳...... قابل اطمینان اور فیصلہ کن اعلان کے بغیر تحریک کو ختم نہیں کرنا چاہئے، خط میڈیا کو جاری کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... مس یوز کس سیاق و سباق کے بغیر کی جارہی ہے؟ حدود اللہ میں ترمیم کی گئی تو اس وقت بھی یہی عذر پیش کیا گیا کہ اس کا استعمال
صحیح کرنا مقصود ہے۔
پوپ، یورپی یونین، باہر کی دنیا غلط پروپیگنڈا کر رہی ہے، پورے قانون کو کالا قانون کہا گیا، حالانکہ یہ اللہ و رسول کا بنایا ہوا قانون، آئین پاکستان کا غلط استعمال کیا گیا، تو کیا آئین پاکستان کو غلط نہیں کہا گیا تو کیا اس کو ختم کر دیا جائے؟
تجویز: وزیر اعظم نے کچھ وضاحتیں کی ہیں جو ناکافی ہیں، لہٰذا صدر مملکت اس قانون کی وضاحت کریں۔
پیر عبد الرحیم نقشبندی ...... یہ تجویز دی کہ آئندہ پروگرام اسلام آباد میں رکھا جائے، اگر سارے قائدین دھرنا دیں تو حکومت اعلان کرنے پر مجبور ہو جائے گی، مسلم لیگ ن کے ایم این اے ایاز امیر کی ناروا گفتگو آتی رہتی ہے، میاں نواز شریف اس کا نوٹس لیں۔
حافظ عاکف سعید امیر تنظیم اسلامی ...... اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق برقرار رکھیں، مسلمانوں کو لڑانے کی عالمی سازشیں ناکام ہو رہی ہیں، ہمارا سب سے بڑا جرم قرآن وسنت کا عدم نفاذ ہے، حدود کے خلاف بل بغاوت ہے ۔ حق و باطل کا یہ معرکہ آخری مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، اس کی کامیابی تک تحریک جاری رہے۔
خواجہ معین الدین کوریجہ ...... اس اتحاد کو مستقل حیثیت دی جائے ، اس سلسلہ میں کمیٹی تشکیل دی جائے جو مستقل بنیادوں پر ہو۔
مولانا عبدالرؤف فاروقی ...... اس قانون کی تبدیلی ابلیسی سازش ہے، ملک توڑنے کے لئے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ مطالبات پوپ، امریکا کی سوچی سمجھی اسکیم ہے۔ اس تحریک کو ایک نکاتی ایجنڈا پر محدود رکھا جائے۔ اس کے بعد دوسری اسلامی دفعات کے تحفظ کے لئے بھی کوشش کی جائیں، ہماری جماعت تحریک کے تمام مطالبات کی بھر پور تائید کرتی ہے۔
پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری ...... دشمن حضور ﷺ کے وجود کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ یہ قانون اور اس کے مطابق فیصلے یہ فیصلے عدالت نبوی کے ہیں، جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا، ختم نبوت کا فیصلہ فیصلہ خداوندی ہے۔ پارلیمنٹ میں مولانا فضل الرحمٰن بل پیش کریں۔
- ۱...... سیاسی رہنماؤں کی میٹنگ بلائی جائے، یہ ہمارے سب کے ایمان کا مسئلہ ہے۔
- ۲...... چاروں صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کرائی جائیں۔
- ۳...... بار ایسوسی ایشنز سے قراردادیں آنی چاہئیں۔
آغا مرتضیٰ پویا ...... ایک مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے جو اسلامائزیشن کی حفاظت کرے اور ہمیں ایک اسلامی انقلاب کی طرف بڑھنا چاہئے۔
مولانا فضل الرحیم ...... ایک وعدہ کر کے اٹھیں کہ ہم تقسیم نہ ہوں ، آپس میں نہ الجھیں ، میں تمام قائدین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ...... اصول قانونی ہے، آسیہ کو سزا عدالت نے دی، آپ ملک میں لاقانونیت کو ہوا دینا چاہتے ہیں، توہین رسالت ناقابل معافی جرم ہے، پوپ، ملکہ برطانیہ اکٹھے ہو چکے ہیں، ہمیں بھی اجماع امت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
اعجاز احمد چوہدری ...... تحریک انصاف نے حمایت کا اعلان کیا۔
حافظ عبد الغفار روپڑی نے تجویز دی کہ چار اہم ستون ہیں: علماء کرام، سیاست دان، میڈیا، حکمران یہ اتحاد کرلیں تو ملک کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا رشید احمد لدھیانوی نے تجویز دی کہ آئندہ پروگرام پشاور میں ہو۔ کل کے پروگرام میں خواجہ سعد رفیق پیغام پہنچائیں کہ میاں نواز شریف کل کے پروگرام میں پہنچیں۔
انتظامیہ سے امیر العظیم، حاجی احسان الحق نے بتایا کہ راستوں کا تعین ہوچکا ہے، لاہور کی انتظامیہ نے بہت تعاون کیا ان کا شکریہ ادا کیا۔ امیر العظیم: ایک بجے نماز ظہر، سوا ایک بجے روانگی، قائدین مال روڈ کے ذریعہ پنڈال کی طرف تشریف لائیں گے۔
سید منور حسن نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اعتماد میں لیں، یہ تحریک جاری رکھیں گے اور لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو سمجھا دیں گے، ایک نکاتی ایجنڈا ہے۔ ان حالات میں حکومت سے مذاکرات کا نہیں سوچنا چاہئے۔ سٹیئرنگ کمیٹی پہلے سے موجود ہے، جس کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ہیں۔ ۲۰/ فروری ۲۰۱۱ء کو پشاور ریلی، ۱۹/ فروری ۲۰۱۱ء کو کانفرنس اے۔ پی سی پشاور میں منعقد ہوگی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ممتاز قادری کیس میں قانونی معاونت کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس کے کیس کی پیروی کرے گی، چینلز کے ذمہ داران کے لئے وفود تشکیل دیں گے اور یہ ۲۰/ فروری ۲۰۱۱ء سے پہلے پہلے ہوجائے گا۔ پشاور ریلی میں لانگ مارچ کی ڈیڈ لائن دیں گے، آنے والے جمعات میں انہیں معاملات پر خطاب کیا جائے، مذہبی جنونیت کی اصطلاح کی تردید بھر پور انداز میں کی جائے، کل کے جلسہ میں کیا بات کرنی ہے، سیکولر اور لبرل کہلانے والے جنونی ہیں نہ کہ مذہبی لوگ۔
آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس صدر کی دعاء سے ہوا، مجلس کی نمائندگی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، مولانا اللہ وسایا، مفتی ظفر اقبال، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور راقم الحروف محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/ مارچ ۲۰۱۱ء ص ۷ تا ۱۰)
الحمدللہ! تحریک ناموس رسالت کی سو فیصد کامیاب ہوگئی
نومبر ۲۰۱۰ء کے آخری عشرے میں چک نمبر ۳/ اٹانوالی ضلع ننکانہ کی مسیحی خاتون کے خلاف سیشن جج شیخوپورہ کا فیصلہ آیا۔ ملک میں ایک بار پھر تحفظ ناموس رسالت کے خلاف مغربی این جی اوز، یہودی، مسیحی لابیاں، امریکہ اور ویٹی کن کے پوپ سمیت متحد ہوگئے۔ قانون کی منسوخی یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کہ جس سے قانون کی افادیت ختم ہوجائے۔ ان کا ایجنڈا تھا۔ قانون ختم کرنے کے لئے مخالف قوتیں آندھی کی طرح نمودار ہوگئیں۔ اس کے نتیجہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسلام آباد ڈریم لینڈ ہوٹل میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جس کے متعلق مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں:
۱۵/ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کا اس قدر بھر پور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ قومی سیاست اور دینی جدوجہد پر اس کے دیر پا اثرات محسوس کئے جائیں گے۔ تمام رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت سمیت دستور کی تمام اسلامی دفعات کے خلاف سیکولر حلقوں کی مہم دراصل پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو ختم کرنے اور اسے سیکولر ملک بنانے کی عالمی سازشوں کا حصہ ہے۔ اس لئے ان کوششوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی طرح ایک بار پوری قوم کو کل جماعتی دینی فورم پر متحد کرنا وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں طے پایا کہ ”تحریک ناموس رسالت ﷺ رابطہ کمیٹی“ کے نام سے متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دے کر تمام مکاتب فکر کو اس پر جمع کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) کے صدر جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر رابطہ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے اور یہ رابطہ کمیٹی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔
آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص، قومی خود مختاری، دستور کی اسلامی دفعات اور خاص طور پر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کے تحفظ کے لئے قومی سطح پر جدوجہد منظم کی جائے گی۔ جس کا آغاز ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں یوم احتجاج سے ہوگا۔ جب کہ ۳۱؍ دسمبر کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی اور ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں عظیم الشان عوامی اجتماع ہوگا جس سے تمام مکاتب فکر کے قائدین خطاب کریں گے اور تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ہم ایک عرصہ سے اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ عالمی استعمار کی یلغار سے نہ صرف پاکستان کی قومی خود مختاری اور ملکی سالمیت کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ بلکہ پاکستان کا اسلامی تشخص اور پاکستانی قوم کا اسلامی عقیدہ و ثقافت بھی اس کی زد میں ہے۔
جس کے لئے عالمی استعمار کے اہل کار ایک عرصہ سے ملک کے اندر سرگرم عمل ہیں۔ اس کا مقابلہ صرف دینی قوتیں کرسکتی ہیں اور اس کے لئے ان کا باہمی اتحاد اور مشترکہ فورم ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ ماہ کے دوران کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام، عالمی مجلس احرار اسلام، ملی مجلس شرعی، جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کے زیر اہتمام نصف درجن کے لگ بھگ مشترکہ اجتماعات منعقد ہوئے۔ جن سے قومی وحدت اور ملی یکجہتی کے رجحانات کو فروغ حاصل ہوا اور سب سے آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵؍ دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی مذکورہ آل پارٹیز کانفرنس نے ان تمام اجتماعات کے فیصلوں اور تجاویز کو عملی شکل دیتے ہوئے قومی سطح پر دینی جماعتوں کے مشترکہ محاذ کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے اور ملک کا ہر محب وطن شہری اس پر اطمینان کا اظہار کرے گا۔
اس حوالہ سے ہماری اصل تجویز تو یہ تھی کہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی طرز پر ”کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ کو بحال کیا جائے جو اپنا ایک مستقل ماضی اور تعارف رکھتی ہے اور ہم اس کے لئے مختلف کالموں میں گزارش کرتے آرہے ہیں۔ لیکن ”تحریک تحفظ ناموس رسالت رابطہ کمیٹی“ کے عنوان سے ایک نئے فورم کی تشکیل بھی بسا غنیمت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پیش رفت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ملک بھر کے دینی حلقوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات اور قومی صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ”تحریک تحفظ ناموس رسالت رابطہ کمیٹی“ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ تاکہ دین، ملک اور قوم کے خلاف استعماری قوتوں کی سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جاسکے۔
(اداریہ ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ جنوری ۲۰۱۱ء)
اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں اسلام آباد کی اے پی سی نے فیصلہ کیا کہ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو پورے ملک میں یوم احتجاج منائیں اور ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک گیر ہڑتال کی جائے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ اسلام کے ملک بھر کے ایڈیشنوں میں ۲۲، ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۰ء میں ذیل کا اشتہار شائع کیا:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حرمت رسولﷺ کا سورج کیونکر طلوع ہوا
اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ) تنظیمات مدارس عربیہ، ملک بھر کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں متفقہ فیصلہ کہ ہر مسلمان ”تحریک ناموس رسالت“ کے زیر اہتمام پروگراموں میں دیوانہ وار شرکت کر کے حکمرانوں پر واضح کر دے کہ ۲۹۵سی کے قانون پر درپردہ سازشوں کو کسی قیمت پر بھی قبول نہیں!۔ احتجاجی مظاہروں کو بھر پور طریقہ پر کامیاب بنانا ہر مسلمان کا فرض ہے
۳۱ دسمبر کو احتجاجی مظاہرے ہوں گے
اپیل کنندگان مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالحق، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، پروفیسر ساجد میر، سید منور حسن، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر، سید منور حسن، علامہ ساجد نقوی، اسلام آباد
عطیہ اشتہار: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ملک بھر کی تمام دینی وسیاسی جماعتوں نے اس کے لئے جدوجہد شروع کی۔ اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام رفقاء نے بھی بھر پور محنت کی۔ الحمدللہ! پورے ملک میں مثالی طور پر یوم احتجاج کامیاب ہوا۔ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں عدیم النظیر ہڑتال ہوئی۔ اس سے ملک کے اندر تحریک ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے فضاء بنی۔
۸؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ تمام مکاتب فکر، تمام مسالک کی تمام قابل الذکر جماعتیں مذہبی وسیاسی قیادت جمع ہوئی۔ ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں جلسہ عام تھا۔ پورے کراچی کے درودیوار گواہ ہیں کہ ہر جماعت نے اس جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کی۔ ایک لاکھ سے زائد ہینڈ بل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے تقسیم کئے۔ ستر ہزار روپے سے زائد کے بینرز اور فلیکس شہر بھر میں لگوائے گئے۔ ۹؍ جنوری کو جلسہ عام ہوا۔ کراچی کی تاریخ کا عظیم ترین جلسہ تھا۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔ کراچی کے جلسہ عام میں اعلان کیا گیا کہ ۲۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کی میزبانی میں اے پی سی اور ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو لاہور میں ریلی وجلسہ ہوگا۔
کراچی کی ریلی وکانفرنس کے بعد فقیر راقم، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد عرفان نے لاہور میں کیمپ لگالیا۔ ہر روز لاہور میں مختلف مقامات پر کئی کئی بیانات واجتماع ہوئے۔ قصور، شیخوپورہ، ننکانہ میں ضلعی کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں جمعہ کے اجتماعات رکھے گئے۔ گوجرانوالہ میں مولانا محمد عارف، سیالکوٹ میں مولانا فقیر اللہ اختر پوری جماعت کی قیادت میں سرگرم ہوگئے۔ سرگودھا ڈویژن میں مولانا محمد اکرم طوفانی نے بمع اپنی پوری جماعت کے دن رات اس کام کے لئے وقف کئے رکھے۔ راولپنڈی ڈویژن میں مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا زاہد وسیم، مولانا قاضی مشتاق الرحمن اور دیگر جماعتی احباب نے اپنے ایمان کا تقاضا سمجھ کر کوشش کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰؍ جنوری کی ریلی:
چنانچہ راولپنڈی سے ستر بسوں کا قافلہ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، سرگودھا سے تیس سے زائد بسوں کا قافلہ مولانا محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں لاہور کی ریلی میں شامل ہوا۔ یہ صرف دو شہروں کی رپورٹ ہے۔ اسی طرح صادق آباد سے اٹک تک مولانا رشید احمد لدھیانوی کنوینر تحریک ناموس رسالت پنجاب نے دن رات ایک کر دیئے۔ ہر ایک جماعت نے مقدور بھر محنت کی۔ ۲۹؍ جنوری کو جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں اے پی سی منعقد ہوئی۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۱۹؍ فروری ۲۰۱۱ء کو پشاور میں اے پی سی جمعیت علمائے اسلام کی میزبانی میں منعقد ہوگی۔ ۲۰؍ فروری کو جلسہ عام ہوگا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کی پوری قیادت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں متحرک ہو گئے۔ اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی نے پشاور جا کر تبلیغی جدوجہد شروع کر دی۔
ادھر ۳۰؍ جنوری کو لاہور میں جلسہ عام ہوا۔ لاہور کے درودیوار عشق رسالت مآب ﷺ کی فضاؤں سے گونجنے لگے۔ جلسہ عام کیا تھا۔ پورے پنجاب کی تمام دینی قیادت وسیاسی سیادت جمع ہو گئی۔ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، اہلحدیث، حنفی، ن لیگ، ق لیگ، تحریک انصاف، علماء مشائخ، شیوخ حدیث، سیاسی قائدین۔ غرض تمام امت ناموس رسالت کے جھنڈے تلے جمع ہو گئی۔ جلسہ عام ہوا اور مثالی طور پر کامیاب ہوا۔
پیدل مارچ:
اس تحریک میں اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے بہت سارے مناظر ایسے دیکھنے نصیب ہوئے جنہوں نے ماضی کی محبتوں کی داستانوں کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ ہڑپہ سے جناب حاجی محمد رمضان بگھیلا کی قیادت میں ایک قافلہ نے ہڑپہ سے لاہور تک کا پیدل مارچ کیا۔ تین راتیں سفر میں گزریں۔ انہوں نے اپنے آبلہ ہائے پائے سے حکومت پر واضح کر دیا کہ ناموس رسالت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی خندہ پیشانی سے دینے کے لئے امت تیار ہے۔
لاہور کے کامیاب پروگرام کے بعد جیسا کہ گزشتہ لولاک کے اداریہ میں عرض کیا تھا کہ ”برف پگھل رہی ہے“ چنانچہ قائد جمعیت، تحریک ناموس رسالت کے روح رواں مولانا فضل الرحمن صاحب صدر مملکت کی دعوت پر ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے مژدہ سنایا کہ وزارت قانون نے سمری بھیجی تھی۔ اسے وزیر اعظم نے منظور کر لیا ہے۔ چنانچہ صدر مملکت کے فون کرنے پر وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمن کو دعوت دی۔ آپ وہاں تشریف لے گئے۔ وزیر اعظم نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے منظور کردہ فائل آپ کے سپرد کی۔ یہ سمری ۸؍ فروری ۲۰۱۱ء کی منظور کردہ ہے۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے وہ سمری مولانا صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب کو بھجوائی۔ ڈاکٹر صاحب نے ۱۰؍ فروری ۲۰۱۱ء کو اسلام آباد میں تحریک ناموس رسالت کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا۔ جس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ نامور قانون دانوں نے بھی شرکت کی۔ وزارت قانون کی سمری کے ایک ایک حرف کو زیر غور لایا گیا۔ تمام حضرات کی متفقہ رائے ہوئی کہ سمری میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ:
- ۱...... آسیہ کیس عدالتی طریقہ کار کے مطابق چلے گا۔
- ۲...... شیریں رحمان کا بل واپس
- ۳...... قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کی ترمیم یا تنسیخ نہ ہوگی جہاں تک اقلیتی امور وزارت داخلہ کی رپورٹیں تھیں ان سب کو مسترد
کر دیا گیا۔
یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ اس پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۴۹ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چنانچہ ۱۰/ فروری ۲۰۱۱ء کے اجلاس میں طے ہوا کہ ۱۱/ فروری جمعہ کے دن بعد از عشاء منصورہ میں تحریک ناموس رسالت میں شامل تمام جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہو اور اس میں اس کمیٹی کی رائے کو پیش کر کے مرکزی قیادت تحریک کے جاری رکھنے یا کامیابی پر ختم کرنے کا اعلان کرے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق ۱۱/ فروری کو اجلاس ہوا۔ اس میں تحریک میں کامیابی پر پوری قوم کو مبارک باد دی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندگان نے اپنے امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی ہدایت کے مطابق اجلاس کے سامنے یہی رائے رکھی کہ کمیٹی برقرار رکھی جائے۔ تاکہ وہ اس سمری پر عمل درآمد سے باخبر رہے۔ البتہ تحریک کا کامیاب ہونے کے باعث اختتام کا اعلان کر دیا جائے۔ کم وبیش تمام جماعتوں کے نمائندگان کی یہی رائے تھی۔ چنانچہ اعلان کیا گیا کہ ۱۹/ فروری ۲۰۱۱ء کی اے پی سی اور ۲۰/ فروری کا جلسہ عام و ریلی پشاور عدم ضرورت کے باعث منسوخ کی جاتی ہیں۔ البتہ ۱۸/ فروری کے جمعہ کو یوم تشکر کے طور پر منایا جائے گا۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ذیل کا اشتہار روز نامہ اسلام میں شائع ہوا:
تمام مطالبات منظور ہونے پر مبارکباد
۱۸/ فروری بروز جمعہ یوم تشکر منایا جائے
”تحریک ناموس رسالت“ میں شامل تمام دینی و سیاسی جماعتوں، تمام اداروں، تمام طبقات، سب کو مبارک ہو کہ حکومت نے تحریک کی تمام شرائط مان کر:
- (۱)...... آسیہ کیس عدالتی طریقہ کے مطابق چلے گا۔ (۲)...... شرعیہ کورٹ میں قابل سماعت مانا گیا ہے۔
- (۳)...... ۲۹۵ سی میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔
اس حکومتی فیصلہ پر اسلامیان پاکستان کی مجاہدانہ جدوجہد اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبولیت پا چکی ہے۔ جس پر ہم اپنے قائدین کے شکرگزار ہیں جن کی قیادت و رہنمائی کے سلسلہ میں پوری اُمت کو جمع کر دیا اور اِس عظیم الشان کامیابی پر نیز قراردادِ ناموسِ رسالت پر اراکین اسمبلی کی متفقہ تائید پر ہم اُن سب کے احسان مند ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔ علماء کرام، آئمہ مساجد ۱۸/ فروری بروز جمعہ کو خطبہ جمعہ میں ناموس رسالت کی اہمیت و عظمت بیان کریں ان شاء اللہ! ہماری اس جدوجہد کو مالک دو جہاں اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے گا نوٹ: یہ اشتہار آج ہی مقامی پریس سے چھپوا کر تقسیم کریں خادم ختم نبوت: سید عطاء المہیمن بخاری امیر مرکزیہ ...... مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نائب امیر مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ ...... مولانا اللہ وسایا مرکزی ناظم ...... قاری شبیر احمد ناظم دفتر
قارئین کرام! ہر وہ شخص جس نے اخلاص کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیا۔ وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ بغیر کسی ابتلاء کے اللہ رب العزت نے سو فیصد کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ: کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بننے کے بعد یہ پہلی تحریک تھی جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آپ کی قیادت با سعادت میں بھر پور حصہ لیا۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ آپ نے ۱۵/ دسمبر کو اسلام آباد، ۸/ جنوری کو کراچی، ۲۹/ جنوری کو لاہور کی اے پی سی میں بذات خود تمام تر عوارضات کے باوجود شرکت فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے اسلام آباد و کراچی کے اجلاسوں میں شرکت فرمائی۔ ان اکابر کی سرپرستی میں اس کامیابی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اللہ رب العزت کے حضور جبین نیاز شکر بجالاتی ہے۔
خانقاہ سراجیہ:
قارئین کرام! ایک اور بھی سنئے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحلت کے بعد یہ پہلی تحریک تھی جس میں خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد صاحب اور آپ کے برادر گرامی صاحبزادہ سعید احمد صاحب نے اسلام آباد کی اے ۔ پی ۔سی میں شرکت کی۔ محترم صاحبزادہ سعید احمد صاحب نے لاہور کی ریلی کے لئے اپنے علاقہ میں بھر پور محنت کر کے اپنے والد گرامی حضرت قبلہ کی روح پر فتوح کو خوش کیا کہ خانقاہ سراجیہ کی بستی سے اپنے خرچہ پر دو بسوں کا قافلہ لے کر لاہور کے جلسہ میں شریک ہوئے۔
قارئین کرام! یقین فرمائیے کہ اس تحریک نے ایک بار پھر دینی ماحول کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔ اللہ رب العزت اس فضاء کو برقرار رکھنے کی توفیق دیں۔ آمین!
حکومت پاکستان کی طرف سے ”تحفظ ناموس رسالت“ قانون سے متعلق تازہ فیصلہ کا مکمل ترجمہ
نیشنل اسمبلی، وفاقی وزارت داخلہ، وفاقی وزارت خارجہ، وفاقی وزارت اقلیتی امور اور دیگر ملکی و غیر ملکی اداروں و شخصیات نے وزیر اعظم پاکستان کو اپنی اپنی طرف سے خطوط لکھے اور یاداشتیں بھجوائیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کو وہ تمام مواد بھجوا کر ان کی رائے مانگی۔ وفاقی وزارت قانون سے ان تمام امور پر تفصیل سے غور کرنے کے بعد ایک تفصیلی سمری تیار کر کے وزیر اعظم پاکستان کو بھجوائی۔ وزیر اعظم نے سمری پر دستخط کر کے اسے قانونی حیثیت دے دی۔ ذیل میں اس سمری کا مکمل ترجمہ پیش خدمت ہے۔ یہ ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر عتیق الرحمن فیصل نے کیا ہے۔ ادارہ!
ناموس رسالت قوانین کا مختلف حوالوں سے ایک مکمل جائزہ (انبیاء علیہم السلام کے متعلق قوانین کا جائزہ):
وزیر اعظم پاکستان، وزارت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو (ناموس رسالت قانون کے حق میں) بخوشی منظور کرتے ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ وزارتوں کو قابل عمل تجاویز کے متعلق ہدایت جاری کی جارہی ہیں۔ دستخط: خوشنود اختر لاشاری
پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان ۸/ فروری ۲۰۱۱ء
پاکستان میں قوانین رسالت کے متعلق سوالات کا تفصیلی جائزہ:
حال میں طرح طرح کے مختلف خطوط، مختلف افراد، تنظیموں اور غیر ملکیوں کی طرف سے محترم وزیر اعظم پاکستان کو لکھے گئے ((حوالہ 30)PM.SECRETARIAT U.O.NO.5 FS/2010)، (بتاریخ ۳۰/ دسمبر ۲۰۱۰ء آسیہ بی بی کیس) اور مختلف حوالہ جات جو کہ وزارت داخلہ کی طرف سے (بحوالہ لیٹر نمبر F.No.7/32/2010 Ptns dated 8/12/2010) وزارت عظمیٰ کو بھجوائے گئے۔ یہ سب خطوط سزا یافتہ آسیہ نورین کے متعلق لکھے گئے ہیں۔ جسے کہ ایک ماتحت ترین عدالت نے سزا سنائی۔ اب ایک اور ریفرنس قانون رسالت میں ترمیم کے حوالے سے اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
- ۲...... وزارت خارجہ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کو اسی اشو پر ایک ریفرنس (بتاریخ ۲۳/ نومبر ۲۰۱۰ء (DG(Americas-2010) ) بھجوایا گیا۔
- ۳...... شیری رحمن (MNA) کی طرف سے پیش کئے گئے ترمیمی بل قانون رسالت (2010 Amendment Law) کو
سیکرٹریٹ نیشنل اسمبلی نے وزارت عظمیٰ کو بحث اور تبصرے کے لئے بھجوایا۔ موصوفہ پینل کوڈ اور کریمنل لاء برائے قانون رسالت ۱۸۶۰ء (جو کہ پاکستانی قانون کا حصہ ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ ۱۸۹۸ء کے کوڈ آف کریمنل لاء میں ترمیم چاہتی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زیر دستخطی ( محترم وزیر اعظم صاحب) کو آگاہ کیا گیا کہ MNA شیری رحمن نے اس ارادے سے نوٹس دیا ہے کہ قانون رسالت کے بل میں ترمیم کر کے ترمیمی قانون رسالت متعارف کروایا جائے ۔ (2010 Amendment Law) یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ (شیری رحمن کی طرف سے) پیش کئے گئے بل کی موزونیت کے حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے (PLD 1991 فیڈرل شریعت کورٹ 10) کی روشنی میں وزارت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی مفصل رائے لی جائے۔
- ۴...... اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے اس معاملے کا جائزہ
قرآن وحدیث (ارشادات نبوی) اور پاکستان میں نافذ العمل قانون رسالت ( پینل کوڈ 1860-C-295) اور اسی طرح اس قانون کا دوسرے ملکوں میں نافذ العمل ہونے کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
- ۵...... پرائیویٹ ممبر بل (جو کہ شیری رحمن MNA کی طرف سے نیشنل اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے) پر حالیہ بحث کے حوالے سے جو کہ
قانون رسالت سے متعلق ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پہلی دفعہ اس سوال کا جواب فیڈرل شریعت کورٹ ( PLD 1991.FSC P-10 ) کے فیصلے کی مسلمہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے پہلے ہی اس کو بلند ترین حیثیت میں منظور کیا ہوا ہے اور اس کو اسی اسلامی تصریحات ( قرآن وحدیث کے مطابق ) لاگو کیا ہوا ہے۔
آج بھی یہ قانون اور فیصلہ اسی طرح رائج ہے۔ آئین پاکستان کے تحت یہ قانون پہلے ہی سے بالوضاحت موجود تھا کہ قانون کے کسی بھی حصے یا شق کے متعلق کوئی فورم تشکیل دیا جائے کہ آیا یہ اسلامی تصریحات سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ اختیارات فیڈرل شریعت کورٹ کو (203-D اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے قانون کے مطابق ) دیئے گئے ہیں اور اس آرٹیکل کا متن نیچے دیا گیا ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔
شریعت کورٹ کے آئینی حدود واختیارات:
’’شریعت کورٹ از خود نوٹس لے کر یا پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی یا صوبائی حکومت کی رٹ پر اس سوال کا جائزہ لے سکتی ہے اور فیصلہ دے سکتی ہے کہ آیا کہ وہ قرآن وسنت اور اسلامی تصریحات کے مطابق ہے یا نہیں۔‘‘
- ۶...... بلاشبہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو قوانین کی تشریح، ترمیم اور تنسیخ کے وسیع تر اختیارات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی
روایات اور ٹھوس آئینی روایات کے مطابق یہ قانون جو کہ پارلیمنٹ نے رائج کیا ہے اور کئی عشروں سے موجود رہا ہے اور عدلیہ کی انتہائی گہرے جائزے اور جانچ پڑتال میں رہا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی آئینی تجزیئے میں رہا ہے۔ رہا پیش کردہ ترمیمی بل جس کو زبانی طور پر متعلقہ ممبر نے واپس لے لیا ہے اور اس بل کی واپسی کے سلسلے میں ممبر نے کہیں بھی انکار نہیں کیا ہے۔ قانون رسالت جو کہ دیئے گئے پیراگرافس میں بحث کیا گیا ہے۔ جسے پہلے ہی وفاقی شرعی عدالت نے ( شق 2 آرٹیکل 203-D) میں جائزہ لیا ہے اور پہلے ہی اس کا فیصلہ کیا ہے کہ یہ قانون ( قانون رسالت ) عین اسلامی تصریحات کے مطابق ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ اس کی سزا اسلامی تصریحات ( احکامات ) کے عین مطابق ہے۔ اس لئے متذکرہ بالا قانون رسالت کا نظر ثانی شدہ سزا کا ترمیمی بل ۲۰۱۰ء جسے شیری رحمن نے اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اسے مسترد کیا جاتا ہے۔
- ۷...... قرآن پاک سے اس سلسلے میں چند آیات کا نیچے حوالہ دیا گیا ہے۔
آیت نمبر ۱: ’’اور بعض ان میں بدگوئی کرتے ہیں۔ نبی کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص سننے والا ہے تو کہہ سننے والا ہے تمہارے بھلے کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واسطے یقین رکھتا ہے اللہ پر، اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ان لوگوں کے واسطے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لئے عذاب ہے دردناک۔‘‘
(توبہ: ۶۱)
آیت نمبر ۲: ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے تیار کر رکھا ہے عذاب دردناک۔‘‘
(الاحزاب: ۵۷)
آیت نمبر ۳: ’’اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اونچا نہ کرو اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘
(الحجرات: ۲)
آیت نمبر ۴: ’’تم پیغمبر کی پکار کو آپس میں ایک دوسرے کی پکار کی طرح نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ پس ان لوگوں کو جو اس کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں ڈرنا چاہئے کہ ان کو کوئی آفت نہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب نازل ہو۔‘‘
(النور: ۶۳)
آیت نمبر ۵: ’’تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو اور اس کی پاکی بیان کرو صبح اور شام۔‘‘
(الفتح: ۹)
آیت نمبر ۶: ’’اے ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے ایسے وقت کہ اس کی تیاری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب کھانا کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں کے شوق میں وہاں مت ٹھہرو۔ بے شک یہ بات نبی ﷺ کو تکلیف دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں۔ لیکن اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ تم ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ بے شک یہ اللہ کے نزدیک بڑا گناہ ہے۔‘‘
(الاحزاب: ۵۳)
آیت نمبر ۷: ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔‘‘
(المجادلہ: ۲۰)
آیت نمبر ۸: ’’بے شک تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔‘‘
(الکوثر: ۳)
آیت نمبر ۹: ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا انہیں سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ یہ تو دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
(المائدہ: ۳۳)
آیت نمبر ۱۰: ’’اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے سرداروں سے جنگ کرو اس لئے کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، تاکہ وہ باز آ جائیں۔‘‘
(التوبہ: ۱۲)
(اب کچھ حوالہ جات احادیث سے درج ذیل ہیں)
حدیث نمبر ۱: ’’حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو۔ ابن شہاب نے کہا کہ اس دن آپ ﷺ محرم نہیں تھے۔ اللہ بہتر جاننے والا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری ج ۵ باب ۵۸۲ ص ۴۰۵، ۴۰۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حدیث نمبر۲: ”نبی کریم ﷺ نے فرمایا (جابر بن عبداللہ ؓ سے) کہ کعب بن اشرف (یہودی) کو مارنے کے لئے کون تیار ہے؟ محمد ؓ بن مسلمہ نے عرض کیا۔ ”کیا آپ ﷺ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے مار ڈالوں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے اجازت دی۔ (ہاں کہا) تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ میں جو چاہوں کہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اجازت عطاء فرمائی۔“ (صحیح بخاری ج ۳ باب ۱۵ ص ۱۰۸)
حدیث نمبر۳: ”حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے انصار میں سے کچھ لوگوں کو ابو رافع (یہودی) کے قتل کے لئے بھیجا اور عبداللہ ؓ بن عاتک کو ان کا امیر بنایا۔ ابو رافع نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ وہ حجاز کی سرزمین میں ایک قلعے میں رہتا تھا۔ جب سورج غروب ہونے لگا تو وہ اس کے قلعے تک پہنچے اور تب لوگ اپنا سامان اپنے گھروں میں (واپس) لاچکے تھے۔ تو عبداللہ ؓ بن عاتک نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ اور میں گیٹ کے دربان سے گیٹ میں داخل ہونے کے لئے کوئی حربہ کروں گا تو عبداللہ ؓ قلعے کی طرف روانہ ہوئے اور جب دروازے پر پہنچے تو انہوں نے اپنے آپ کو قصداً کپڑوں میں ڈھانپ لیا۔ تاکہ دربان انہیں (قضائے حاجت کرتے ہوئے) اندر آنے دے۔ لوگ اندر جاچکے تھے اور دربان نے عبداللہ ؓ کو (قلعے کے آدمیوں) میں سے سمجھتے ہوئے کہا۔ اے اللہ کے بندے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو اندر داخل ہو جاؤ۔ کیونکہ میں گیٹ بند کرنا چاہتا ہوں۔ عبداللہ ؓ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں قلعے میں داخل ہوگیا اور اپنے آپ کو چھپالیا۔ جب لوگ اندر داخل ہوگئے تو دربان نے دروازہ بند کرلیا اور چابیاں لکڑی کی ایک کھونٹی سے لٹکا دیں۔ میں اٹھا اور چابیاں لے کر میں نے دروازہ کھول دیا۔ کچھ لوگ رات کے وقت ابو رافع کے ساتھ خوشگپیاں کرنے کے لئے اس کے کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب اس کے ساتھی رات کی گفتگو کے بعد چلے گئے تو میں اس کی طرف بڑھا اور جب میں نے ایک دروازہ کھولا تو اسے اندر سے بند کردیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا۔ اگر ان لوگوں کو میری موجودگی کا پتہ چل جائے تو وہ مجھے اس کو قتل کرنے سے پہلے پکڑ لیں گے۔ تب میں اس تک پہنچ گیا اور اسے اپنے خاندان کے درمیان تاریک کمرے میں سوئے ہوئے پایا۔ لیکن میں اس کی صحیح جگہ کو نہ پاسکا۔ اس لئے میں نے اسے پکارا۔ ”اے ابورافع“ ابورافع نے کہا کون ہے؟ میں اس آواز کی سمت چل پڑا اور تلوار سے اس پر وار کیا۔ لیکن میں اندھیرے کے سبب اسے قتل نہ کرسکا کہ وہ زور سے چلایا اور میں مکان سے باہر آگیا اور چند لمحے باہر رک کر پھر دوبارہ اس کی طرف گیا۔ اے ابو رافع یہ کیسی آواز (شور) ہے؟ ابو رافع نے کہا۔ تمہاری ماں (غارت ہو) ۔ ایک آدمی میرے گھر میں داخل ہوا اور تلوار سے مجھ پر وار کیا۔ میں نے اسے دوبارہ تلوار ماری۔ لیکن اسے قتل نہ کرپایا۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنا دبایا کہ وہ اس کی کمر تک جا پہنچی۔ تب مجھے یقین ہوا کہ اب میں نے اسے مار ڈالا ہے۔ میں نے ایک ایک کر کے دروازے کھولے اور پھر میں سیڑھی تک پہنچ گیا۔ اور میں نے سمجھا کہ میں آخری سیڑھی تک پہنچ گیا ہوں۔ میں نے نیچے قدم رکھا تو گر پڑا اور چاندنی رات تھی میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنی ٹانگ کو پگڑی سے باندھ لیا اور لنگڑاتا ہوا چلا اور دروازے پر جا بیٹھا اور کہا کہ آج رات میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ جب تک یہ نہ جان لوں کہ وہ مرچکا ہے۔ اگلے دن صبح (مرغ کی اذان کے وقت) موت کا اعلان کرنے والا دیوار پر کھڑا ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ میں ابورافع جو کہ حجاز کا سوداگر ہے، کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ پھر میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا کہ اب یہاں سے نکل چلیں کیونکہ اللہ نے ابورافع کو قتل کردیا ہے۔ چنانچہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوا اور نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ کر پورا قصہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”اپنی ٹانگ پھیلاؤ۔“ میں نے اپنی ٹانگ پھیلا دی، آپ ﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ اس طرح ٹھیک ہوگئی جیسے اس میں کبھی کوئی درد تھا ہی نہیں۔“
(صحیح بخاری ج ۵ باب نمبر ۷۱ ص ۲۵۱، تا ۲۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حدیث نمبر ۴: ”حضرت عمیر رضی اللہ عنہ بن امیہ سے مصدقہ روایت ہے کہ اس کی مشرکہ بہن اسے تنگ کیا کرتی تھی۔ جب وہ حضور ﷺ سے ملتا تو وہ (ان کے سامنے) حضور ﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ آخر کار ایک دن اس (حضرت عمیر رضی اللہ عنہ) نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے بیٹے چلائے اور کہا ہم ان قاتلوں کو جانتے ہیں جنہوں نے ہماری ماں کو قتل کیا ہے اور ان لوگوں کے والدین مشرک (کافر) ہیں۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اس عورت کے بیٹے غلط آدمیوں کو قتل نہ کر دیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور تمام صورتحال عرض کی۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا، تم نے اپنی بہن کو کیوں قتل کر دیا ہے؟ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی وہ مجھے آپ کے متعلق تکلیف پہنچاتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو بلوایا اور قاتلوں کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے قاتلوں کے بارے میں کچھ اور لوگوں کے نام لئے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اطلاع دی اور اعلان کیا کہ اس (عورت) کا قتل ٹھیک ہوا ہے۔“
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج ۵ ص ۲۶۰)
(جیسا کہ یہ PLD 1991-FSC10 میں رپورٹ شدہ ہے)
حدیث نمبر ۵: ”حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مستند روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کو گالی دی تو پاک پیغمبر ﷺ نے فرمایا مجھے اس دشمن کے خلاف کون مدد دے گا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں۔ تب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس سے لڑے اور اسے مار ڈالا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے یہ نیکی عطاء فرمائی۔“
(PLD 1991 FSC10/25 میں رپورٹ کی گئی)
حدیث نمبر ۶: ”عبداللہ رضی اللہ عنہ بن محمد سے سفیان بن عیینہ سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے (ان تمام حوالوں سے) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا۔ کیونکہ پیغمبر ﷺ کو بہت ستایا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے دریافت کیا۔ اے اللہ کے پیغمبر ﷺ کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں اسے قتل کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور انہوں نے اسے مار ڈالا۔“
(صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲۱۵۸)
حدیث نمبر ۷: ”یہ بیان کیا گیا ہے۔ فتح مکہ کے بعد حضور ﷺ عام معافی کا اعلان کر چکے تو آپ ﷺ نے ابن خطل اور اس کی کنیزوں کو جو کہ نبی کریم ﷺ کے متعلق گستاخانہ شاعری کرتی تھیں۔ ان کے قتل کا حکم فرمایا۔
(الشفاء از قاضی عیاض ج ۲ ص ۵۸۴)
(PLD 1991 FSC10 میں رپورٹ کیا گیا ہے)
سیکشن ۲۹۵۔سی: پاکستان کے پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) اسی قانون سے متعلق ہے جو کہ زیر بحث ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ سیکشن ۲۹۵۔سی ۱۸۶۰ء پر اور کورٹ کے مجوزہ چارج پر بھی طائرانہ نظر ڈال لی جائے جو کہ درج ذیل ہیں۔
۲۹۵۔سی قانون کی تشریح گستاخانہ الفاظ کا استعمال (نبی کریم ﷺ یا انبیاء علیہم السلام کے متعلق):
”جو شخص الفاظ کے ذریعے جو بولے گئے یا تحریر کئے گئے یا ظاہری نقوش کے ذریعے یا کسی بہتان کے ذریعے یا طعن آمیزی کے ذریعے یا دشنام کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ ہو پاک پیغمبر ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جائے گی۔ یا عمر قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔“ توہین رسالت پر مندرجہ ذیل چارج کورٹ آف سیشن وغیرہ کی طرف سے (اس نیچے دی گئی شکل کے مطابق چارج لگایا جائے گا)
توہین رسالت کے مرتکب مجرم پر قانونی عدالتی چارج
”یہ کہ تم نے فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لکھ کر یا خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ کا یا ظاہری نقوش یا بہتان کا ذکر کیا جو کہ اس نے جان بوجھ کر اور بدنیتی کے ارادے سے پاک پیغمبر محمد ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کی ہے۔ ایسے نازیبا تاثرات (الفاظ) استعمال کئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس طرح تم اس جرم کے مرتکب ہوئے اور اس طرح پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ء کی شق ۲۹۵-سی کے مطابق سزا (سزائے موت اور عمر قید اور جرمانہ ) کے مستحق ہوئے۔‘‘
اور میری (جج) کی ہدایت پر اس الزام کی ٹرائل عدالت کے ذریعے کی گئی۔
متذکرہ بالا قرآنی آیات اور پاک پیغمبر ﷺ کی روایات سے عیاں ہے کہ قرآن وسنت اور پاکستان کے آئین کے مطابق ناموس رسالت کی بے حرمتی پر سزائے موت مقرر کی گئی ہے اور دستور پاکستان میں ایسے الفاظ کو استعمال کرنے سے جو کہ عملاً اور بدنیتی پر مبنی ہوں (اس خاص الزام میں) ایسے معاملے میں جو سزا رکھی گئی ہے۔ پاکستان کی اور کوئی بھی عدالت اس سے ہٹ کر کوئی اور سزا نہیں دے سکتی۔ یہ قانون کورٹ پر اس کے غلط استعمال پر دو ضمانتیں قدغن کے طور پر فراہم کرتا ہے۔ پہلی بات یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جج اس جرم کے تعین کے وقت بنظر غائر دیکھے اور دوسرا یہ کہ توہین رسالت کے جرم کے اصل ارتکاب کو دیکھے۔ جرم کے معاملے میں انصاف کی رو سے یہ دونوں اصول بین الاقوامی طور پر مسلمہ ہیں اور بین الاقوامی معیاروں کے مقاصد پر پورا اترتے ہیں۔
توہین رسالت کا جرم تقریباً تمام الہامی مذاہب میں قابل سزا جرم ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال ”یہودیت“ سے لی جاسکتی ہے۔ (تورات بک تین سے) (تورات: ۲۴:۱۶، Livities) میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ: ”وہ جو اہانت رسول کرتے ہیں۔ ان کو یقیناً سزائے موت دی جائے گی۔“
اس غلط پروپیگنڈے کو ختم کرنے کے لئے کہ توہین رسالت کا قانون صرف پاکستان ہی میں رائج ہے اور اس طریقے سے صرف ایک مخصوص طبقے کو ٹارگٹ کرنے کے لئے (یہ قانون) بنایا گیا ہے۔ (یہ تاثر بالکل غلط ہے) اس سلسلے میں ہم توہین رسالت کے قانون کو مختلف ممالک میں رائج قوانین کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔
(تقابلی جائزہ درج ذیل ہے)
افغانستان: افغانستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ توہین رسالت کے قانون کو شریعت کی روشنی میں قتل یا پھانسی کی سزا دیتی ہے۔
آسٹریلیا: قانون ناموس رسالت کے معاملے میں کچھ ریاستوں اور علاقوں میں جرم ہے اور کچھ میں نہیں ہے۔ ناموس رسالت کے سلسلے میں توہین رسالت کے مجرم کو آخری دفعہ ۱۹۱۹ء میں وکٹوریہ میں پھانسی دی گئی۔
آسٹریا: آسٹریا میں توہین رسالت کے سلسلہ میں دو شقیں موجود ہیں۔ (۱) ۱۸۸/مذہبی تعلیمات میں تبدیلی لانا۔ (۲) ۱۸۹/ مذہبی تعلیمات کو (ڈسٹرب) گڑبڑ پیدا کرنا۔
بنگلہ دیش: بنگلہ دیش قانون رسالت کی بے حرمتی کو قانوناً روکتا ہے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے بھی روکتا ہے اور گفتگو کی آزادی کے سلسلے میں دیگر قوانین اور پالیسیوں کو بھی روکتا ہے۔
برازیل: آرٹیکل ۲۰۸/پینل کوڈ کے مطابق عوامی طور پر ایسا کوئی بھی عمل جو مذہبی تعلیمات میں تبدیلی کا باعث بنے ایک قابل سزا جرم ہے۔ جس کی سزا ایک مہینے سے ایک سال تک ہوسکتی ہے۔ یا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔
کینیڈا: کینیڈا کے کریمنل کوڈ کے مطابق اہانت رسول ایک جرم ہے۔ لیکن کینیڈین حکومت ان شقوں کو چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈم کے حوالے سے دیکھتی ہے۔ ۱۹۳۵ء میں کینیڈا میں قانون رسالت کے مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔
ڈنمارک: ڈنمارک میں پینل کوڈ نمبر ۱۴۰/توہین رسالت کے متعلق ہے۔ لیکن ۱۹۳۸ء کے بعد جب کہ ایک نازی گروپ کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غیر مذہبی پروپیگنڈے کی بناء پر سزا دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد اس شق کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفرت پر مبنی تقاریر کے حوالے سے ۲۶۶ بی کے قانون کا آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے قانون کے خلاف ۲۰۰۴ء میں تجاویز دی گئیں۔ لیکن اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ناکام ہو گئیں۔
مصر: مصریوں کی اکثریت سنی العقیدہ ہے۔ اکثریت قانون رسالت کو مصر کی اقلیتوں خاص طور پر شیعہ، صوفی، عیسائیوں، بہائی اور دہریوں کو تنگ کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔
اردن: اردن کا قانون توہین رسالت سے روکتا ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے سے روکتا ہے یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی سے روکتا ہے۔ ان حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین سال تک کی سزا اور جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔
کویت: کویت ایک اسلامی ملک ہے۔ یہ اہانت رسول کو سنی اسلام کے مطابق قانون کے ذریعے روکتا ہے تا کہ شریعت کے ذریعے۔ اہانت رسول کے ملزم کویت میں عام طور پر شیعہ، تعلیمی اداروں اور صحافیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔
ملائشیا: ملائشیا مذہب کی توہین سے روکتا ہے اور مذہبی معاملات کی توہین کو تعلیم کے ذریعے سے روکتا ہے اور اس سلسلے میں الیکٹرانک میڈیا اور اخباری میڈیا پر قانونی پابندی عائد کرتا ہے۔ ملائشیا میں کچھ ریاستیں شرعی کورٹس کے ذریعے سے اسلام کی حفاظت کرتی ہیں۔ لیکن جہاں شریعت لاگو نہ ہوتی ہو وہاں ملائشین پینل کوڈ مجرموں کو سزائیں دیتا ہے۔
مالٹا: توہین رسالت کے خلاف قوانین کی بجائے حکومت مالٹا نے مذہب میں تبدیلی اور غیر اخلاقی جرائم کے خلاف قوانین بنائے ہیں۔ ۱۹۳۳ء کے قانون شق نمبر ۱۶۳ (کرمینل کوڈ) رومن کیتھولک مذہب کی خلاف ورزی سے روکتا ہے۔ یہ مالٹا کا مذہب ہے۔ مالٹا کے مذہب میں ردو بدل یا ترمیم کرنے والے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ایک سے چھ ماہ کی قید دی جاتی ہے۔ آرٹیکل نمبر ۱۶۴ کی رو سے مالٹا کی تہذیب میں کسی قسم کی تحریف یا ردو بدل کرنے والے کو ایک سے تین ماہ کی قید کی سزا دی جاتی ہے۔ آرٹیکل ۳۳۸ بی بی کے مطابق اگر کوئی شخص بیشک نشہ کی حالت میں کوئی ایسے غیر موزوں یا غلط الفاظ استعمال کرتا ہے یا غیر اخلاقی حرکات کرتا ہے تو وہ آرٹیکل نمبر ۳۴۲ کے مطابق بھی عوامی جذبات کو مجروح کرنے یا ناشائستگی پھیلانے پر سزا کا مستوجب ہوگا۔ ۳۳۸ بی بی میں اہانت رسالت کے مرتکب شخص کو گیارہ یورو اور ۶۵ سینٹ جرمانہ کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک قید کی سزا دی جائے گی۔ ۲۰۰۸ء میں ۶۲۱؍ افراد کے خلاف مالٹا میں توہین رسالت کے سلسلے میں کاروائی کی گئی۔
نیدرلینڈ: نیدرلینڈ کی ریاست میں توہین رسالت پر آرٹیکل نمبر ۱۴۷ کی رو سے تین مہینے کی جیل ہے یا ۳۸۰۰ یورو کا جرمانہ ہے۔
نیوزی لینڈ: نیوزی لینڈ میں سیکشن ۱۲۳ کرائمز ایکٹ ۱۹۶۱ء کے مطابق اگر کوئی شخص توہین رسالت پر مبنی کوئی مواد شائع کرتا ہے تو اس کو ایک سال کی سزا ہے۔ اس سلسلے میں The maari land کے پبلشر جان گلور کو ۱۹۲۲ء میں سزا دی گئی۔
نائیجیریا: نائیجیریا میں سیکشن ۲۰۴ کے مطابق توہین رسالت ایک جرم ہے اور شریعت کورٹس کو کچھ ریاستوں میں شریعت کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہے۔ آزاد خیالی کے عنصر کے سبب نائیجیریا میں کورٹس کی آئینی حیثیت کو اکثر غصب کیا گیا ہے۔
سعودی عرب: سعودی عرب کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔ ملک میں سنی اور وہابی فرقے موجود ہیں۔ ملک کے قوانین ایک خوبصورت آمیزہ ہیں۔ شریعت کے اور اعلیٰ مذہبی سکالرز کے فتویٰ کی روشنی میں فیصلے کئے جاتے ہیں جو مختلف سزاؤں کی شکل یا موت کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوڈان: سوڈان میں ریاستی مذہب سنی اسلام ہے۔ ملک کی تقریباً ۷۰ فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ باقی ایک بڑا گروپ جو تقریباً ۲۵ فیصد ہے انیمسٹ (Animist) مذہب پر مشتمل ہے۔ سیکشن ۱۲۵/ سوڈانی کریمنل ایکٹ کے مطابق مذہب کی تذلیل، نفرت یا توہین کی سختی سے ممانعت ہے اور اس سیکشن کے مطابق جرمانے اور مختلف سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ (جرمانہ زیادہ سے زیادہ ۴۰ لیشز ہے) نومبر ۲۰۰۷ء میں ایک سوڈانی ٹیڈی بیئر بلیس فیمی کیس (Sudanese taddy bear balesphemy case) بہت مشہور ہوا۔ دسمبر ۲۰۰۷ء میں یہ سیکشن دو مصری بک سیلرز کے خلاف استعمال ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔ ان دو بک سیلرز کو چھ ماہ کی سزا دی گئی۔
متحدہ عرب امارات: یو۔اے ای توہین رسالت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ وہ شریعت کے قوانین کے عین مطابق اور غیر مسلموں کے خلاف جج حضرات کی سماعت کے بعد مختلف سزائیں دی جاتی ہیں۔
برطانیہ: برطانیہ میں توہین رسالت کے قوانین صرف عیسائیت کے متعلق تھے۔ آخری توہین رسالت کا معاملہ ۲۰۰۷ء میں ایک گروپ کرسچین وائس کے خلاف ہوا۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک (Gay) کے طور پر سٹیج پر پیش کیا گیا۔ اس گروپ پر الزامات لگائے گئے۔ لیکن ویسٹ منسٹر کے مجسٹریٹ نے پھر ہائیکورٹ نے یہ الزامات یہ کہہ کر مسترد کر دیئے کہ سٹیج یا تھیٹر پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ آخری کامیاب کیس برطانیہ میں ۱۹۷۷ء میں ڈینس لیمن کے خلاف دائر ہوا جو گے نیوز کا ایڈیٹر تھا۔ اس کی ایک لکھی گئی نظم ( The love thaf dares to speak its name) جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق غلط کردار پیش کیا گیا۔ لیمن کو پانچ سو پونڈ کا جرمانہ کیا گیا اور نو ماہ کی قید ہوئی۔ اسی نظم نے ۲۰۰۲ء میں (Trafalyas squasc) سٹیج میں اسی طرح لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ لیکن کوئی آئینی کاروائی یا سزا نہیں ہوئی۔ ۹/دسمبر ۱۹۲۱ء آخری شخص برطانیہ میں جسے توہین رسالت پر سزا ہوئی۔ اس کا جان ولیم گوٹ تھا۔ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یروشلم (بیت المقدس) میں داخلے کے متعلق من گھڑت کہانی پیش کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ ایک سرکس کے مسخرے سے کیا تھا۔ اسے نو مہینے کی سخت قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ سکاٹ لینڈ میں توہین رسالت کا آخری کیس ۱۸۴۳ء میں ہوا۔ جب کہ ۱۶۹۷ء میں ایک سکاٹش باشندے تھامس ایکن ہڈ کو توہین رسالت پر پھانسی دے دی گئی۔ ۵/ مارچ ۲۰۰۸ء کو کریمنل جسٹس اور امیگریشن ایکٹ ۲۰۰۸ء میں توہین رسالت کی قانونی دفعات کے حوالے سے انگلینڈ اور ویلز میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور عام قانون توہین رسالت ختم کر دیا گیا۔ ۸/جولائی ۲۰۰۸ء کو شاہی منظوری سے یہ نیا تبدیل شدہ قانون لاگو ہو گیا۔
یمن: یمن میں بھی دوسری اسلامی ریاستوں کی طرح توہین رسالت پہ قوانین اور سزائیں موجود ہیں۔ مذہبی اقلیتوں، ذہین لوگوں، فنکاروں، رپورٹرز اور ہیومن رائٹس کی تنظیموں کو نقصان پہنچانے پر سزائیں ہیں۔ اگر کوئی شخص واقعتاً توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے تو یمن کی شرعی کورٹس اسے سزائے موت دیتی ہے۔
امریکہ: امریکہ کے ابتدائی ایام میں توہین رسالت پر موت کی سزا تھی۔ لیکن اس میں لچک یا تبدیلی کی گئی۔ مشی گن اوکلاہوما، ساؤتھ کیرولینا، میساچوسٹس اور پنسلوانیا میں ریاستوں کے توہین رسالت کے متعلق قوانین موجود ہیں۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں میں ابتدائی دنوں میں توہین رسالت سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ مثلاً باب ۲۷۲ میساچوسٹس میں عام قوانین میں ایک شق موجود ہے جو ۱۶۹۷ء کی ریاستی قوانین میں اسی سے متعلق ہے۔ سیکشن ۳۶/ جو کوئی بھی ارادتاً اللہ پاک کے مقدس نام کی بے حرمتی کرے گا۔ انکار کی صورت میں کوسنے کی صورت میں یا ملحدانہ انداز میں خدا کی عبادت کرے گا یا اس کی مخلوق کو برا بھلا کہے گا یا گورنمنٹ کو اور دنیا کو برا بھلا کہے گا یا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط الفاظ کہے گا یا توہین آمیز یا مضحکہ خیز انداز اختیار کرے گا تو اسے ایک سال یا تین سو ڈالر سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی اور اسے آئندہ کے لئے اچھے رویے کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ قانون کے سیکشن ۲۹۸ اے اور نمبر ۲۹۵ کے مطابق اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے مقابلے میں کسی اور عدالت سے بریت کے بعد وہ اعلیٰ عدالتوں میں سزا کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ کوئی بھی کیس جو کہ ۳۷۴ سیکشن کے تحت اور ۳۷۶ کے تحت اور کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کے تحت سزا کی توثیق کی جاسکتی ہے۔ یا کوئی اور سزا قانون کے تحت یا فرد جرم عائد کرسکتی ہے اور کسی بھی دفعہ کے ملزم کو جسے سیشن کورٹ نے سزادی ہو یا نئے ٹرائل کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ اسی مقدمے کی دوبارہ یا ترمیم شدہ قانون کے تحت بری بھی کیا جاسکتا ہے۔
پرائم منسٹر آف پاکستان:
اس موقع پر میں آپ کی توجہ اس معاملے کے ایک اور پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کچھ پروپیگنڈا سے بھرے ہوئے ذہن اور اسی طرح کے ایجنڈا سے بھرے ہوئے افراد ایک غلط تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان میں اس سلسلے کے جو قوانین ہیں وہ حقوق انسانی کے بین الاقوامی معیاروں پر پورا نہیں اترتے یا یہ قوانین عالمی سطح پر قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ تاثر کلی طور پر بے بنیاد اور بیمار ساختہ ہے۔ اس کی قریب ترین مثال یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ انڈیا میں ۱۹۷۳ء کے کریمنل کوڈ (ایکٹ ۲۔۱۹۷۴ء) کے باب نمبر xxviii میں اسی طرح کی شق کے مطابق توہین رسالت کے متعلق سیشن کورٹ کے ذریعہ اسی طرح کی سزا سنائی گئی۔ ۳۶۶ سزائے موت سیشن کی طرف سے ہائی کورٹ کی طرف بھجوانا۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں داخل کیا جائے گا اور سزا پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جائے گا جب تک ہائی کورٹ اس کی توثیق نہ کر دے۔ تقابلی مطالعہ کے فائدے کے حوالے سے ایک اسی طرح کی گنجائش جو پاکستان کے کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۳۷۴ میں موجود ہے میں اس کا ذکر کروں گا۔
شق ۳۷۴ سزائے موت کا سیشن کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ میں داخل کیا جانا۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں داخل کیا جائے گا اور سزا پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کیا جائے گا جب تک ہائی کورٹ اس سزا کی توثیق نہ کر دے۔ اس تقابلی مطالعے سے بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء اور انڈین کریمنل کوڈ ۱۹۷۳ء میں توہین رسالت کے سلسلے میں موجود قانون کے الفاظ تک یکساں ہیں۔ اس ثابت شدہ تجزیئے کے تناظر میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان میں حالیہ قوانین اس طرح کے مقدمات کے ٹرائل اور قانونی اطلاق کے سلسلے میں بین الاقوامی معیار اور ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ مجھے یہاں افسوس سے کہنا پڑے گا کہ پاکستان میں اس سلسلے میں موجودہ کریمنل کوڈ ۱۹۴۷ء کی آزادی کے بعد نہیں بنایا گیا۔ بلکہ اس سلسلے میں برطانوی عہد کا قانون ہی رائج رہا ہے۔ پاکستانی عوام دیگر اقوام کے اندر با وقار مقام بناسکتے ہیں اور بین الاقوامی کمیونٹی اور انسانیت میں اپنا پورا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس حکم کا سوسائٹی میں ادراک اس وقت تک نہیں حاصل ہو سکتا ہے جب تک اس کی باقاعدہ قانون سازی نہ ہو اور اداروں میں رائج نہ ہو۔ اس ریاست کا مذہب اسلام ہے۔ جہاں پہ قرآن وسنت قانون کے بڑے ماخذ مانے جاتے ہیں۔ اب سیکشن ۲۹۵ سی کی ٹھوس حیثیت کی بات ہوگی جو کہ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ء ایکٹ نمبر ۳۔۱۹۸۶ء میں لایا گیا (اسی قانون میں یہ شامل ہے) اس موقع پر پہلے سے وضاحت شدہ اور مکمل شکل میں قانون موجود ہے۔ جو کہ درج ذیل ہے:
۲۹۵-سی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ تبصرے یا آراء۔ جو کوئی بھی اپنے الفاظ کے ذریعے چاہے وہ بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہوں یا مرئی نقوش کے ذریعے یا بہتان کے ذریعے یا طعن آمیز کنایہ کے ذریعے یا غلط عکاسی کے ذریعے (غلط طریقے سے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گھیرا) بالواسطہ یا بلاواسطہ نبی کریم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اسے سزائے موت دی جائے گی یا عمر بھر کی قید اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ قانون کے اس ٹکڑے پر پارلیمنٹ، پارلیمانی فورم، فورسز کے اندر اور باہر بہت زیادہ بحث ہوئی اور ایک آئینی عدالت کے سامنے بھی بحث ہوچکی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے اس قانون کا قرآن وسنت کی روشنی میں بہت گہرا جائزہ لیا۔ بعنوان مقدمہ محمد اسماعیل قریشی پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور (PLD 1991 FSC P.10) اس نتیجہ پر پہنچے کہ توہین رسالت کے معاملے میں سزائے موت کے علاوہ کوئی بھی اور سزا اسلامی احکامات کے خلاف ہے۔ کچھ پیرے فیصلے میں سے نیچے پیش کئے جارہے ہیں۔ کافرہ آسیہ کے خلاف درج ذیل۔ پیرا نمبر ۳۳۔ الفاظ (شتم، سب اور ایذاء) نبی کریم ﷺ کی توہین کے لئے (معاذ اللہ) قرآن وسنت میں استعمال ہوتے ہیں۔ جن کا مطلب، ابتلا میں ہونا، نقصان پہنچانا، گرانا، اہانت کرنا، توہین کرنا، دشمنی کرنا، اشتعال دلانا، مجروح کرنا، مشکل یا مصیبت میں ڈالنا، بہتان طرازی کرنا، منصب سے گرانا، حقارت کرنا وغیرہ۔
(Arabic English Lexicon Book-1 Part-1 P.44)
لفظ شتم کا مطلب تذلیل کرنا، گالی دینا، انتقام لینا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا، ملامت کرنا، شہرت کو گرانا۔
(PLD 1991 FSC 10 P.26)
پیرا نمبر ۶۶ : عملاً تمام ماہرین قانون اور سکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انبیاء کا ناموس ایک مقدس ترین امر ہے اور کسی بھی نبی یا رسول کی شان میں گستاخانہ الفاظ کی سزا صرف موت ہے۔
پیرا نمبر ۶۷: اوپر کی گئی بحث کے تناظر میں یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ پاکستان پینل کوڈ سیکشن ۲۹۵سی میں جو عمر قید کی سزا ہے وہ اسلامی احکامات قرآن پاک اور سنت کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ الفاظ (عمر قید ) اس میں سے حذف کئے جاتے ہیں۔ (p.35 pld 1991 fsc page-10) (اس عظیم ترین فتح پر پوری امت مسلمہ کو مبارک باد)
پاکستان میں عدلیہ کے مروجہ روایات کے مطابق مضبوط آئینی قانون عدالتوں میں موجود ہے۔ اس واضح نظام کے تحت ہر وہ جرم جس پہ موت کی سزا ہے سیشن کورٹ کی طرف سے ٹرائل کیا جاتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۹۸ء اور قانون شہادت آرڈر ۱۹۸۴ء کی شقیں ایک شفاف ٹرائل کی ضمانت مہیا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء اٹھارویں ترمیم ایکٹ ۲۰۱۰ء کے مطابق قانونی طور پر ہر ملزم کے شفاف ٹرائل کو یقینی بناتی ہے اور اس کو پورے آئینی وعدالتی پراسس میں سے گزارا جائے گا۔ پاکستان میں اس قانون کے تحت ہر ملزم کو ایک قانونی ماہر کی خدمات مہیا کی جاتی ہیں اور اسے اپنے دفاع کا مکمل حق دیا جاتا ہے اور کسی بھی ملزم کو اپنے پسندیدہ وکیل کی خدمات لینے سے نہیں روکا جاتا اور یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۱۰ شق نمبر ۱ بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق ہے۔ ایک مرتبہ ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاکستان کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۳۷۴ کے تحت پھر یہ سزا منسوخ نہیں کی جاسکتی۔ ۳۷۴ شق ۔ جب سیشن کورٹ سزائے موت سناتی ہے تو کیس ہائی کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے اور سزا پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ جب تک ہائی کورٹ اس کی توثیق نہ کردے۔
۱۸: ایک ملزم جو کہ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے سزا یافتہ ہو وہ ہائی کورٹ میں کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۴۱۰ کے تحت اپیل کر سکتا ہے۔ بریت کی صورت میں صوبائی حکومت پبلک پراسکیوٹر کو ہدایت کر سکتی ہے کہ وہ کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء سیکشن ۴۱۷ کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کرے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲۰: پھر ایک اور حل ملزم یا سزا یافتہ کے لئے مہیا کیا گیا ہے کہ وہ سیکشن ۴۱۱ اے کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کے تحت اپیل کرے۔ مزید یہ کہ
ایک اور حل بھی مہیا کیا گیا ہے کہ ملزم اور سزا یافتہ شخص اور دکھی شخص کو پاکستان کی ایک اور اعلیٰ عدالت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء آرٹیکل ۱۸۵ شق نمبر ۲ کے تحت سپریم کورٹ میں سابقہ (سزائے موت) سزا کے متعلق سماعت کرانے کا حق ہوگا۔
۱۸۵:۲ ہائی کورٹ کی طرف سے سزائے موت کے آخری فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہوگا۔
- اے ...... اگر ہائی کورٹ کسی ملزم کی رہائی کی اپیل واپس کرتی ہے اور اسے سزائے موت دیتی ہے یا زندگی بھر کے لئے ملک
بدری یا عمر قید کی سزا دیتی ہے یا نظر ثانی پر سزا کو بڑھا دیتی ہے
- بی ...... اگر ہائی کورٹ نے خود ہی اپنی مرضی سے ماتحت عدالت سے کوئی مقدمہ لے لیا ہے اور اس طرح کے ٹرائل میں ملزم کو
سزا (یعنی سزائے موت) سناتی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
- سی ...... اگر ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ کی توہین پر کسی پر سزا مسلط کی ہے۔
- ۲۱۔ سپریم کورٹ کی فائنل ججمنٹ کے بعد بھی یا کسی اور کورٹ یا ٹربیونل کی ججمنٹ کے بعد بھی اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے صدر کو
آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے معافی دے دے۔ سزائے موت کو سزائے قید میں بدل دے یا سزا معاف کردے۔ معطل کردے یا تبدیل کردے۔ کوئی بھی سزا جو کسی بھی عدالت ، ٹربیونل یا کسی دوسری مجاز عدالت نے دی ہو صدر پاکستان کے ان اختیارات کی عدالتی جانچ پڑتال، عبدالمالک بنام سٹیٹ کے کیس میں PLD 2006 SC 365 میں کی گئی۔ اس کیس سے مجھے معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کو بطور ایمیکس کیوری مدد دینے کا شرف حاصل ہوا۔ (بسلسلہ پٹیشن اور اپیلوں کے) اس بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کی اور یہ بینچ جسٹس رانا بھگوان داس، مسٹر جسٹس فقیر محمد کھوکھر، مسٹر جسٹس محمد جاوید بٹر، مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی پر مشتمل تھا۔ فوری حوالہ کے لئے متعلقہ پیرا نیچے دیا گیا ہے۔
آرٹیکل نمبر ۴۵، ۴۸ (۲) اور ۴۰۲۔اے کریمنل پروسیجر کوڈ ۱۸۹۸ء، ۴۰۲۔بی، ۴۰۲۔سی ...... صدر پاکستان کے اختیارات آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵ کے تحت رعایت دیئے جانے کے متعلق۔ اس آرٹیکل کی ساخت اور گنجائش۔
صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بلا مداخلت کسی بھی جرم میں کسی کو بھی رعایت دے سکتے ہیں اور کوئی بھی ماتحت عدالت صدر کے اختیارات کو مسترد نہیں کرسکتی۔ صدر کے ایسے اختیارات آئین کے آرٹیکل ۲ اے کی رو سے متجاوز نہیں ہیں اور یہ صدر کے اختیارات سزا کو معاف کرنے، سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے، سزا کو ملتوی کرنے، گھٹانے یا معطل کرنے یا کسی بھی سزا کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ہیں اور یہ اختیارات ۴۰۲ سیکشن کے خلاف نہیں ہیں جو کہ پاکستان کے کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ء کا حصہ ہیں۔ اوپر کی گئی طویل بحث جو کہ توہین رسالت کے سلسلہ میں سزائے موت کے متعلق ہے اور جس کا ذکر پینل کوڈ ۱۸۶۰ء سیکشن ۲۹۵ سی میں ہے۔ یہ اسلامی احکامات جو کہ قرآن پاک اور نبی کریم ﷺ کی سنت میں بیان کئے گئے ہیں کے عین مطابق ہے اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت نہیں۔ اس لئے وہ تمام حوالہ جات جن کا ذکر پیرا گراف نمبر ۱ میں کیا گیا ہے، ان کا بے بنیاد ہونے اور غلط لئے جانے کی بنا پر قانون کے تحت منفی جواب دیا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء آرٹیکل ۹ کے تحت کوئی بھی شخص قانون کے دائروں کے اندر رہتے ہوئے زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا اور تمام شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہیں اور تمام کو آئین کے آرٹیکل ۲۵ شق ۱ کے تحت مساوی تحفظ حاصل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان پینل کوڈ ۱۸۶۰ء سیکشن ۲۹۵۔سی سیشن کورٹ میں ٹرائل کئے جاسکتے ہیں اور عام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وجوہات کی بناء پر اس کو کسی سپیشل کورٹ میں ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب کچھ ٹرائل کے عمل کو شفاف، کھلا، صاف اور معتبر بناتا ہے۔
۲۳...... ایک اور پہلو جو اس معاملے میں مختصر طور پر بتایا جارہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی ہے۔ ہمارے آئینی دائرہ کار میں مذہب اور مذہبی اداروں کی آزادی کی بنیادی حقوق کی بنیاد پر یہ وضاحت کر دی ہے جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۱۹۷۳ء کے آئین آرٹیکل نمبر ۲۰ پیراگراف A کے تحت کورٹس کے سامنے انصاف کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ضمانت دی جاتی ہے کہ ہر شہری کو اس کے مذہب کی پریکٹس، اس کی اشاعت اور اس کی وضاحت کی آزادی ہے اور پیراگراف B کے تحت ہر مذہبی گروہ ہر مذہبی لیبل اور ہر فرقے کو اپنے آپ کو قائم کرنے، برقرار رکھنے اور اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کا حق ہوگا۔ اس آرٹیکل میں یہ بھی واضح ہے جو کہ انصاف قانون اور آئین کے بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جس میں ہر فرقے کو اپنے مذہب کی پریکٹس، اشاعت اور اس کی وضاحت اور اسے آگے بڑھانے کی مکمل آزادی ہے اور ان کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کی مکمل آزادی ہے۔ مگر بیشک یہ سب کچھ قانون پبلک آرڈر اور اخلاقیات کے دائروں میں رہ کر کرنا ہے۔
۲۴...... پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ( مقدمات کے سلسلے میں ) اپیلوں، آئینی اور دیگر عملی حل کے متعلق ایک بھر پور آئینی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۸۶ء سے لے کر آج تک اس قانون کے تحت کوئی سزا نہیں دی گئی ۔ یہ حقیقت ایک واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ملک میں عدالتی کارروائیاں انتہائی مضبوطی کے ساتھ قانون پر عمل پیرا ہیں۔
۲۵...... وزارت داخلہ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملزمان کو پوری آئینی جدوجہد میں سے گزرنے دیں۔ کسی قسم کا عمل آسیہ نورین سے متعلق انتظامیہ سے مطلوب نہیں ہے۔ جیسا کہ آسیہ نورین پہلے ہی تمام قانونی امداد سیکشن ۴۱۰ کریمنل کوڈ ۱۸۹۸ کے تحت ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف لے چکی ہے۔
۲۶...... اس لئے اقلیتوں کی وزارت کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کو کی گئی درخواست جو کہ وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے توہین رسالت کے آئین کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت غور سے دیکھی ہے۔ اقلیتوں کی طرف سے دی گئی درخواست میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا۔
۲۷...... جب سے وزارت خارجہ نے وزارت داخلہ کی طرف سے بھیجے گئے مواد کو دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ مناسب لگتا ہے کہ حالیہ نظر ثانی شدہ فیصلے کی ایک نقل وزارت خارجہ کو بھیجی جائے۔ اس چیز کی بھی سفارش کی گئی ہے کہ وزیر اعظم تمام ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کو وزارت قانون انصاف و پارلیمانی امور کی رائے کے بغیر کسی قسم کے عوامی تبصروں سے آئین اور آئینی نتائج کے حوالے سے احتراز کریں۔ کیونکہ یہ گورنمنٹ آف پاکستان کے بزنس رولز ۱۹۷۳ء کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان وفاقی وزیر قانون انصاف اور پارلیمانی امور
ڈائری نمبر Dy No: 611/M/PSP/2011 مؤرخہ ۸ فروری ۲۰۱۱ء
پرائم منسٹر آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے نقل ارسال کی گئی ۔
- ۱...... سپیکر قومی اسمبلی پاکستان اسلام آباد
- ۲...... وزیر امور خارجہ، اسلام آباد
- ۳...... وزیر داخلہ، اسلام آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_01.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_02.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_03.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_04.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_05.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_06.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_07.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_08.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_09.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۷۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_10.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_1.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_12.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_13.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_14.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_15.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_16.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_17.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_18.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_19.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_20.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_21.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_22.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_23.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_24.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_25.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_26.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_27.jpg not found.
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Islamabad\scan0001_Page_28.jpg not found.
(ماہنامہ لولاک ملتان ۲۰۱۱ء ص ۹ تا ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
چیچہ وطنی کی قادیانی عبادت گاہ سے اسلامی شعائر ہٹا دیئے گئے
چیچہ وطنی: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر تھانہ غازی آباد کی پولیس انتظامیہ نے قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ، محراب اور دیگر اسلامی شعائر صاف کر دیئے ہیں ، جس سے مسلمانوں میں پائی جانے والی اشتعال انگیزی دور ہو گئی ۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عمل درآمد کروانے اور علاقائی امن برقرار رکھنے پر دینی و مذہبی اور سماجی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔مختلف حلقوں کی طرف سے تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۸۹۔ بی اور ۲۸۹۔ سی پر عمل درآمد کرانے پر پولیس انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں تھانہ غازی آباد کی حدود میں واقع گاؤں چک ۳۰/۱۱۔ ایل میں جنونی قادیانیوں نے غیر آئینی طور پر اپنی عبادت گاہ کا محراب بنالیا اور اس کے فرنٹ پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کی تختیاں نصب کر دی تھیں ، جس سے علاقہ بھر کے مسلمانوں اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ قبل اس کے کہ کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما ہو اور وہاں کے مسلمان قانون کو ہاتھ میں لے کر تصادم کی صورت پیدا کریں ۔ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں قاری زاہد اقبال، مولانا عبد الحکیم نعمانی، جمعیت علماء اسلام کے مفتی محمد عثمان نے قانونی چارہ جوئی کے لئے فوری طور پر تھانہ غازی آباد میں درخواست دائر کر دی ۔ مدعیان کی طرف سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قادیانیوں کے غیر آئینی اور اشتعال انگیز اقدام تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۸۔ بی، ۲۹۸۔ سی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ لہذا قادیانیوں کی عبادت گاہ سے محراب ، کلمہ طیبہ، قرآنی آیات اور دیگر اسلامی شعائر کو محفوظ کیا جائے ۔ فریقین کا موقف سننے کے بعد ایس ایچ او تھانہ غازی آباد نے افسران بالا کی مشاورت سے قادیانی عبادت گاہ سے اسلامی شعائر ہٹا دیئے ، جس سے علاقہ بھر کے مسلمانوں میں پایا جانے والا اشتعال دور ہو گیا ۔ مذکورہ تمام کارروائی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا محمد ارشاد، قاری محمد اصغر عثمانی، مولانا کفایت اللہ حنفی، جمعیت علماء اسلام تحصیل کے امیر مولانا پیر جی عزیز الرحمن رائے پوری ، رانا احمد نواز ، حافظ حبیب اللہ ، جامعہ محمدیہ کے مولانا عبدالباقی ، مولانا عبدالباری، مولانا عبد الہادی، ابوحنیفہ اکیڈمی کے ناظم اعلیٰ عبد العلیم حنفی، مجلس احرار اسلام کے محمد عابد مسعود ڈوگر سمیت شہر بھر کی تمام مذہبی قیادت پیش پیش رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۸ /فروری ۲۰۱۱ء ص ۱۱)
نئی آبادی بلدیہ ٹاؤن کراچی میں مرکز ختم نبوت کی افتتاحی تقریب
۲۶ /فروری ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب بمقام جامع مسجد عائشہ سیکٹر ۴۔ آئی نئی آبادی بلدیہ ٹاؤن کراچی میں مرکز ختم نبوت کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ، جس میں شہر بھر کے جید علمائے کرام شریک ہوئے ۔ جامعۃ الرشید کے مولانا قاری محمد شعیب کو تلاوت کلام مجید کے لئے دعوت دی گئی ، جنہوں نے سورۃ شمس کی تلاوت سے سامعین کے دلوں کو منور کیا ۔ کمسن خوش الحان نعت خواں حافظ نعمان الٰہی نے حمد و نعت سے سامعین کو محظوظ کیا۔
استاذ الحدیث ، امام و خطیب جامع مسجد حذیفہ ؓ مولانا سعید الرحمن نے اپنے دلنشیں انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نبی کریم ﷺ کی ذات مسلمانوں کے لئے عظیم سعادت ہے اسی طرح ختم نبوت کا تحفظ بھی مسلمانوں کے لئے بڑی سعادت ہے ۔ بلدیہ ٹاؤن میں مرکز ختم نبوت کا قیام اہل علاقہ پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے ، یہ اہل علاقہ کے لئے بڑی سعادت ہے ، اس پر اہل علاقہ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بلدیہ ٹاؤن کے امیر ، جامعہ حقانیہ کے مدیر، جامع مسجد بلال کے امام و خطیب مولانا مفتی فیض الحق مدظلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے انتہائی قیمتی نعمت ہے۔ قادیانی پیغمبر اسلام ﷺ، مسلمانوں اور پاکستان کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں، ان کی گستاخیوں اور مغلظات سے نبی کریم ﷺ محفوظ رہے نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، علمائے اسلام اور نہ ہی عامۃ المسلمین، اس لئے قادیانیت سے دشمنی اور ان کا تعاقب ہر مسلمان کی دینی اور ایمانی غیرت کا تقاضا ہے۔
حمد ونعت کے لئے مشہور نعت خواں مولانا حافظ محمد اشفاق کو دعوت دی۔ انہوں نے اپنے خوبصورت اور محبت بھرے انداز میں سامعین کے دلوں کو عشق و محبت نبوی سے سرشار کیا۔
نماز عشاء کے بعد باقاعدہ دوسری نشست کا آغاز ہوا، جامعہ منہاج الشرعیہ اورنگی ٹاؤن کے خوش آواز قاری سید نصیر حسین شاہ صاحب کو تلاوت کلام مجید کے لئے دعوت دی۔ انہوں نے آیات ختم نبوت کی قرأتوں میں تلاوت فرما کر مجمع سے داد تحسین وصول کی۔ نعت رسول مقبول مولانا حافظ محمد شعیب نے پیش کی۔
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے فرزند ارجمند، عالم باعمل مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ پورے عالم کے لئے رحمت بن کر آئے، حضور ﷺ نے انسانیت کو درندگی اور حیوانیت سے نکال کر کامیابی کے راستہ پر ڈال دیا۔ حضور ﷺ کی تعلیم کا یہ اثر تھا کہ ابوبکر، صدیق اکبر ؓ بن گیا، عمر بن خطاب تھا، فاروق اعظم ؓ بن گیا، عثمان تھا ذوالنورین بن گیا، علی تھا شیر خدا حیدر کرار ؓ بن گیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ مجاز، معروف روحانی پیشوا، مدیر جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی، بزرگ عالم دین مولانا محمد یحییٰ مدنی مدظلہ سے بیان کی درخواست کی گئی۔ حضرت نے انتہائی خیر خواہانہ، ناصحانہ اور شیریں بیان میں کہا کہ اصل چیز حضور ﷺ کی سیرت کو اپنانا ہے۔ حضور ﷺ کی سیرت زندگی میں صرف ادب سے نہیں بلکہ محبت سے آئے گی کیونکہ محبت، ادب پر غالب ہوتی ہے، جس طرح کوئی مال دار اپنی اولاد کے لئے وراثت میں مال چھوڑتا ہے، اسی طرح ہمارے نبی ﷺ نے اپنی اس امت کے لئے وراثت میں اعمال چھوڑے ہیں، حضور ﷺ کا ہر ایک عمل زمین و آسمان سے زیادہ وزنی اور قیمتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنایا تو اللہ تعالیٰ نے بدر میں باوجود بے سرو سامانی کے عالم میں ہونے کے فتح اور غلبہ نصیب فرمایا۔ مسلمان کی دعوت اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب وہ خود بھی پورے دین پر عمل کر رہا ہو، مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زندگی کو نمونہ بنایا ہے، ختم نبوت کا اصل تحفظ حضور ﷺ کی زندگی پر اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے، ہر بیان و جلسہ میں عمل کرنے کی نیت سے شرکت کرنا چاہئے، اگر انسان کسی ایک بیان پر بھی عمل کرے تو یہ اس کے لئے کافی ہو جائے گا۔ انسان تو انسان ہے حضور ﷺ کی محبت سے تو حیوان بھی سرشار تھے۔ حجۃ الوداع میں یوم نحر کو ہر اونٹ کا اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کرنا اسی محبت کا واضح ثبوت ہے، ہر انسان کی کامیابی بندوں کی بندگی سے نکل کر بندوں کے رب کی بندگی میں لگنے میں حضور ﷺ نے بتائی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے رہنما مولانا عبدالعزیز لاشاری کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا لاشاری نے اپنے بیان میں قادیانیت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے دعویٰ مسیحیت کے ثبوت میں اس الہام کو پیش کیا تھا:
”میرے مسیح ہونے کی علامت یہ ہے کہ میری وجہ سے غیر مسلم دنیا سے ختم ہوں گے ۔“
اللہ تعالیٰ نے مرزا کو رسوا کرنا تھا، اس لئے غیر مسلم دنیا سے کیا ختم ہوتے خود مرزا قادیانی کا قصبہ قادیان بھی سکھوں سے بھر گیا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج بھی وہاں سکھوں کی تعداد قادیانیوں سے زیادہ ہے۔ میں کراچی کے قادیانیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اس الہام کی رو سے ذرا اپنے گرو کو سچا ثابت کر دیں؟ ہمارا ایمان ہے کہ قادیانی اپنے گرو مرزا قادیانی کو تا قیامت کبھی بھی سچا ثابت نہیں کر سکتے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا مجاہد مختار نے اپنے بیان میں عقیدۂ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت چودہ سو سال سے آج تک مسلمانوں کا متفقہ اجماعی اور بنیادی عقیدہ رہا ہے۔ اس میں ذرہ بھر تاویل و ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں، اس میں تاویل و تحریف کرنے والا قطعی کافر ہے، اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ حضور ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے، اس لئے کوئی مسلمان حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ برداشت نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد ایک بار پھر حمد و نعت کے لئے حافظ محمد وجیہہ کو دعوت دی گئی، انہوں نے خوبصورت و مسحور کن اور دلکش انداز میں سامعین کو حمد و نعت سے محظوظ کیا۔
حمد و نعت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد مائک پر تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ میں اس پروگرام کے انعقاد پر آپ تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے آپ تمام حضرات کو مرکز ختم نبوت کے قیام پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ سے اس مرکز کی ذمہ داریوں کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے کی اور کام میں تعاون کی اپیل کرتا ہوں۔ دلی خواہش تھی کہ آج آپ حضرات کے سامنے اس مضمون کو بیان کروں کہ مرزائیت کہاں سے چلی تھی، کہاں کھڑی ہے؟ اور ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچ گئے؟ لیکن پروگرام کی طوالت کے پیش نظر اسے ملتوی کرتا ہوں زندگی باقی رہی تو پھر کبھی ان شاء اللہ۔
اس کے بعد قاضی احسان احمد نے انتہائی ادب و احترام سے شہید ختم نبوت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری کے جانشین، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ سے اختتامی کلمات اور دعاء کے لئے گزارش کی۔
مولانا مدظلہ نے اختتامی کلمات میں کہا کہ الحمد للہ! ہماری جماعت کو ہر دور میں اپنے اکابر کی سرپرستی حاصل رہی ہے، اکابر کی سرپرستی اور ارشادات کی روشنی میں ہماری جماعت نے ہر محاذ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر ہم نے مختلف مسالک کے باہمی اختلافات کو فراموش کر کے انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے، اور ہر میدان جیتا ہے۔ آج بھی جب ہر طرف سے ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی تھی، الحمد للہ! عوام کے تعاون سے آپ کی جماعت نے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم تک جن کے پاس ملاقات کا وقت نہیں تھا، خود ہمیں فون کرنے، گفتگو کرنے اور مسئلہ کا حل تلاش کرنے پر مجبور ہوئے۔ جو ناموس رسالت کے قانون کو مٹانا چاہ رہا تھا، اللہ نے اسے ایسے مٹایا کہ اس کے جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی نہیں مل رہا تھا۔ بلدیہ ٹاؤن میں نئے مرکز ختم نبوت کا قیام اپنے مشن میں کامیابی کی طرف پیش رفت کی نوید ہے۔ مولانا مدظلہ کی بابرکت دعا سے پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
پروگرام میں مذکورہ حضرات کے علاوہ درج ذیل حضرات نے شرکت کی: مفتی عبدالجبار (جنرل سیکریٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ میٹرو ول کراچی) ، مولانا عطاء اللہ (حیدر آباد) ، مولانا عبدالقیوم قاسمی (مدیر جامعہ معارف اسلامیہ سعید آباد کراچی)، مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن رحمانی (مدیر جامعہ عثمانیہ احیاء العلوم سعید آباد کراچی) ، مولانا علی سید (مدیر جامعہ عمر جامع مسجد مکہ سعید آباد کراچی)، مولانا ابو محمد عبدالمالک (استاذ الحدیث جامعہ دارالعلوم الصفہ سعید آباد کراچی)، بریلوی مکتب فکر کے رہنما قاری محمد ابراہیم سعیدی طاہری (امام و خطیب جامع مسجد مرتضیٰ نئی آبادی کراچی)، مولانا محمد نثار، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد حسین و دیگر اساتذہ کرام (جامعہ عمر سعید آباد کراچی)، مولانا قاری سید شاہ حیدری (امام و خطیب جامع مسجد عائشہ سعید آباد نمبر ۸ کراچی)، قاری محمد خالد (نائب امام جامع مسجد امیر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معاویہ سعید آباد کراچی)، مولانا مفتی مشتاق احمد شیرازی (استاد و ناظم مدرسہ امّ حبیبہ للبنات مجاہد کالونی مومن آباد کراچی)، مولانا عبید الرحمن (امام جامع مسجد عائشہ میٹرول کراچی)، مولانا کفایت اللہ (استاد معہد العربیہ جامعہ حقانیہ سعید آباد کراچی)، مولانا محمد اسحاق (امام و خطیب جامع مسجد دار ارقم سعید آباد کراچی)، مولانا محمد شمشاد (استاد جامعہ دارالعلوم الصفہ سعید آباد کراچی)، مولانا توصیف احمد (مبلغ ختم نبوت کراچی) اور مولانا مفتی محمد سلیمان (استاد جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی)، مولانا سائیں حفیظ الرحمن (مدرس جامعہ ندوۃ العلم سعید آباد کراچی)، مولانا فتح محمد (مدیر مدرسہ بدرالعلوم جامع مسجد فاروق اعظم)، مولانا سراج احمد (استاد جامعہ عثمان غنی سعید آباد کراچی)، مولانا عمر زاد (امام وخطیب جامع مسجد سبحانیہ سعید آباد کراچی)، مولانا عنایت اللہ شاہ۔
ان کے علاوہ اور بھی کئی سیاسی، مذہبی، سماجی با اثر شخصیات نے شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ تمام حضرات کی شرکت کو قبول فرما کر فلاح دارین اور نجات آخرت کا ذریعہ بنائیں۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے مرتے دم تک ہم سب کو مال و جان لگانے کی توفیق عطا فرمائے۔ پروگرام کے انعقاد و کا میابی کے لئے جس کسی نے بھی ظاہری و باطنی جو بھی کوشش کی ہے اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر مزید آگے بڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
پروگرام کی تیاری و کامیابی اور نظم و ضبط کے قیام میں بھائی محمد اسماعیل انجم، بھائی سیّد محمد شاہ، بھائی محمد یوسف، بھائی محمد یعقوب، چاچا عبدالکریم، بھائی محمد صابر، قاری الطاف، قاری محمد ایاز، قاری محمد عابد، بھائی ظہیر، بھائی شبیر، بھائی آفتاب، بھائی تمریز، حاجی گل بھائی اورنگزیب خان کے ای ایس سی والے، جناب محمد نواز تھانہ موچکو و دیگر حضرات نے بھر پور اور نمایاں کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت و کوشش کو قبول فرما کر دنیا و آخرت میں جزائے خیر عطا فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ /مارچ ۲۰۱۱ء ص ۲۱ تا ۲۳)
قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف ملک گیر احتجاج
اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، پشاور، فیصل آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے، جلسے، جلوس اور احتجاجی ریلیاں، امریکی پرچم اور ملعون پادری کے پتلے نذر آتش۔
اسلام آباد میں جے یو آئی کی اقوام متحدہ کے دفتر تک ریلی، اعظم سواتی نے مذمتی یادداشت پیش کی۔
پنجاب اسمبلی کے اقلیتی ارکان کی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے اجلاس میں شرکت، کے پی اسمبلی میں قرارداد مذمت منظور۔
اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، پشاور (نیوز رپورٹر + نمائندگان، نامہ نگاران) مذہبی جماعتوں کی کال پر پورے ملک میں ملعون امریکی پادری کی طرف سے قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف یومِ احتجاج منایا گیا، نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، جلسے اور جلوس نکالے گئے، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ملعون امریکی پادری کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی، جب کہ ملعون پادری کے پتلے اور امریکی پرچم نذرِ آتش کئے گئے، تحریک حرمتِ رسول نے جلد ملک بھر کی دینی وسیاسی جماعتوں کا سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی جب کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان نے امریکی پادری کی قرآن کی حرمت کے خلاف احتجاجاً بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی، ملعون امریکی پادری کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی اور دو پاکستانیوں کے قاتل جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف جماعت اسلامی، تحریک حرمتِ رسول، جمعیت علماء اسلام (ف)، مجلس تحفظ ختم نبوت، جماعۃ الدعوہ، جمعیت علماء اسلام (س)، تنظیم اسلامی، جمعیت اہلحدیث، جمعیت علماء پاکستان، جماعت اہلسنت، مجلس احرار و دیگر دینی جماعتوں کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور مظاہروں، ریلیوں، جلسوں اور حرمتِ قرآن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں سب سے بڑا مظاہرہ فیصل چوک مال روڈ پر تحریک حرمتِ رسول میں شامل جماعتوں کی طرف سے مشترکہ طور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر کیا تھا۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے ملعون امریکی پادری و امریکا کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی اور ملعون پادریوں کے پتلے جلائے گئے۔ شرکاء کی طرف سے امریکی ریمنڈ ڈیوس جیسے ملک میں موجود سینکڑوں بلیک واٹر کے درندوں کو فی الفور ملک سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لاہور اور دیگر شہروں میں بھی یوم احتجاج منایا گیا اور مظاہروں، ریلیوں، جلوسوں اور حرمت قرآن کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام (ف) نے ملعون پادری ٹیری جونز کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی اور لیبیا میں امریکا اور دیگر اتحادیوں کی غیر قانونی مداخلت کے خلاف مذمتی یادداشت اقوام متحدہ کے دفتر میں پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ملعون امریکی پادری کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لئے کردار ادا کرے۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر اعظم سواتی کی قیادت میں اقوام متحدہ کے دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں درجنوں افراد نے شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی پادری کے خلاف نعرے درج تھے، شرکاء نے مذمتی یادداشت اقوام متحدہ کے دفتر کے حکام کے حوالے کی۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اقلیتی ارکان اسمبلی نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی پادری کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر اقلیتی ارکان نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔ علاوہ ازیں اقلیتی ارکان نے قرآن کی بے حرمتی کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن کی اپیل پر کراچی، سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد، میر پور خاص، نواب شاہ، اور ٹنڈو آدم سمیت دیگر شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ فیصل آباد میں بھی یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر مختلف دینی و مذہبی جماعتوں سمیت عیسائی برادری نے بھی احتجاجی جلوس، مظاہروں اور جلوسوں میں شرکت کی اور ملعون پادری کے خلاف مقدمہ چلانے اور امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرانے کا مطالبہ کیا۔ مختلف مقامات پر ملعون پادری کے پتلے بھی جلائے گئے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں امریکی پادری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا، احتجاجی ریلیاں نکالی اور مظاہرے کئے گئے۔ جنوبی پنجاب کے شہروں ملتان، بہاولپور، وہاڑی، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، کوٹ سلطان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کے اجتماعات میں قراردادیں پاس کی گئیں اور قرآن پاک جلانے والے ملعون پادری کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلا کر اسے سزائے موت دینے کے مطالبات کئے گئے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت بنوری ٹاؤن مسجد سے نمائش چورنگی تک ریلی نکالی گئی، ریلی میں مسیحی برادری بھی شریک تھی۔ میمن مسجد کے باہر جمعیت علماء پاکستان اور سنی اتحاد کونسل نے بھی مظاہرہ کیا۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۱ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۳؍ اپریل ۲۰۱۱ء ص ۲۲، ۲۳)
قرآن پاک کی بے حرمتی کے شرمناک فعل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری
کراچی؍ لاہور (وقائع نگار) ملعون امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے (نعوذ باللہ) قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ شیخوپورہ، چکوال، خانقاہ ڈوگراں، اوکاڑا، وہاڑی، مظفر آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلوسوں، مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جن میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شریک ہو کر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ تحریک حرمت رسول کے رہنماؤں کی طرف سے مظاہروں اور حرمت قرآن کانفرنسوں سے خطابات کے دوران حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ محض بیان بازی سے کام نہ لیں اسلامی ملکوں کو ساتھ ملا کر مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے۔ کراچی کے وکلاء نے احتجاجی مظاہرے میں ٹیری جونز کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے دوران زبردست نعرے بازی کی گئی، کراچی بار کے نائب صدر عبد المجید یوسفی و دیگر نے سٹی کورٹ سے لائٹ ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی۔ اوکاڑا میں تحریک حرمت رسول کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زیر اہتمام پریس کلب کے باہر بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں جماعۃ الدعوہ، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیت اہلحدیث اور متحدہ جمعیت اہلحدیث کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرہ سے تحریک حرمت رسول اور جماعۃ الدعوہ پاکستان کے رہنما حافظ سیف اللہ منصور، جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا محی الدین کنگن پوری، حافظ بلال صدیقی، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے فاروق، جماعۃ الدعوہ کے رہنما مولانا محمد اقبال ودیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے واقعات روکنے کے لئے نیٹو کی سپلائی لائن فی الفور کاٹ دی جائے۔ مرکز دارالسلام چکوال میں حرمت قرآن کانفرنس سے جماعۃ الدعوہ چکوال کے امیر مولانا عبداللہ نثار، مولانا فاروق محسن، قاری مطیع الرحمٰن ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان غیرت مند ہیں قرآن کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ جماعۃ الدعوہ آزاد کشمیر کے امیر مولانا عبدالعزیز علوی نے مظفر آباد میں ملعون پادری کے خلاف نکالی گئی حرمت قرآن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا میں ذلیل ورسوا ہوگا۔ مختلف دینی جماعتوں کی طرف سے شیخوپورہ، خانقاہ ڈوگراں، وہاڑی، ملتان ودیگر شہروں میں بھی جلسوں، حرمت قرآن کانفرنسوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری اور حافظ حمد اللہ نے وزیرستان پر امریکی ڈرون حملوں اور قرآن کریم کی بے حرمتی کو انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی اس جارحیت پر اس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرے اور عملاً اپنے عوام سے اظہار ہمدردی کرے۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی، مؤرخہ ۲۷؍مارچ ۲۰۱۱ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶تا ۲۲؍اپریل ۲۲،۲۳)
قادیانیوں کے مرکز سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا جائے : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
قادیانیت سے تائب ہونے والے نومسلم طاہر منصور کے تاثرات وپریس کانفرنس
اسلام آباد (ثناء نیوز) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں کے مرکز سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر کے اپنی تحویل میں لے، وہاں کی غیر آئینی عدالتوں کے فیصلوں کو منسوخ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے جنرل سیکریٹری قاری عبدالوحید قاسمی اور دیگر علماء نے قادیانیت سے تائب ہونے والے نوجوان طاہر منصور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت سے متاثر ہو کر قادیانی نوجوان طاہر منصور نے مولانا محمد طیب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ طاہر منصور نے کہا کہ وہ خاندانی طور پر قادیانی تھا اور قادیانی جماعت کے مختلف عہدوں پر فائز رہا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، وہ استحکام پاکستان کے دشمن ہیں، چناب نگر (ربوہ) دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے، وہاں چھوٹے بڑے اسلحے کی چھاؤنی ہے۔ انہوں نے حکومت اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ میرے دو بچوں کو میرے حوالے کیا جائے۔ علماء کرام نے کہا کہ وزیر داخلہ اور ضلعی انتظامیہ طاہر منصور کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے بچوں کو ان کے حوالے کیا جائے، اگر طاہر منصور کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت، وزیر داخلہ، ضلعی انتظامیہ اور راولپنڈی اسلام آباد کی جماعت احمدیہ کے عہدیداروں خصوصاً خدام الاحمدیہ کے کارکنوں پر ہوگی۔ علماء کرام نے کہا کہ سوات کی طرح حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے چناب نگر (ربوہ) میں بھی آپریشن کرے۔ چیف جسٹس وہاں کی غیر آئینی عدالتوں کا از خود نوٹس لیں اور ان عدالتوں کو خلاف قانون قرار دیں۔
(روزنامہ امت کراچی، مؤرخہ ۶؍جون ۲۰۱۱ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸تا ۱۵؍جولائی ۲۰۱۱ء ص ۱۷)
مولانا فضل الرحمٰن پر قاتلانہ حملوں کے خلاف احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی ناظم نشر واشاعت مولانا عزیز الرحمٰن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ثانی، امیر ضلع مولانا محمد اشرف مجددی، نائب امیر مولانا قاری منیر احمد قادری، سیکرٹری جنرل مولانا قاری حافظ محمد یوسف عثمانی، ناظم اطلاعات سید احمد حسین زید، ناظم مالیات پروفیسر حافظ محمد انور، ناظم تبلیغ مولانا عبدالغفور آرائیں، مرکزی مبلغین مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد عارف شامی، حافظ محمد ثاقب، پروفیسر محمد اعظم نفیسی نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر، چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن ایم۔این۔اے کی ریلی پر خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ واردات حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ اور امریکی ایجنٹوں کی کارروائی ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے دینی حلقوں کی قوت اور حوصلہ کو پست نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ لادین عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے لئے دینی قیادت کو منظر سے ہٹانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ان کے خلاف جس قدر کارروائی کی جائے کم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سازش کو بے نقاب کیا جائے اور مرتکب عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ سٹوڈنٹس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں چوہدری عبدالرؤف گھمن، ظہیر احمد ہاشمی، نوید رفیق بٹ، حافظ محمد ناصر، سید حسان احسن زید اور فیصل بلال نے بھی دہشت گردی کی اس واردات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک دشمن اور دین مخالف عناصر کی کارروائی ہے اور امریکی سازش دکھائی دیتی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۵۵)
نئی قادیانی سازش عروج پر! چناب نگر پر پابندی
اس وقت ملک عزیز میں ایک بار پھر قادیانی سازشیں عروج پر ہیں۔ ہمارے حکمران باہم دگر دست بگریبان ہونے کے باعث دوست و دشمن کی پہچان سے تہی دست ہیں۔ ان حالات میں چہار سو اندھیرا نظر آتا ہے۔ کیا ہورہا ہے۔ پس پردہ کون ملک عزیز کی وحدت پر کلہاڑا چلا رہا ہے؟ اس طرف کسی کا دھیان نہیں۔ بھلا توجہ فرمائیے کہ:
- ۱...... گزشتہ سال قادیانی مراکز لاہور پر حملہ ہوا۔ کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسی دن اعلان کیا کہ اس سانحہ کے
ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ایک ملزم موقع پر صحیح و سالم گرفتار ہوا۔ اس سے باقی ملزمان کو تلاش کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔ لیکن آج تک حکومت وقادیانی خاموش ہیں۔ حکومتی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے۔ کہ سب کچھ ان کے علم میں ہے۔ لیکن وہ زبان پر نہیں لانا چاہتے۔ قادیانی کیوں خاموش ہیں؟ یہ ایک گہرے تدبر کا معاملہ ہے۔ حکومت میں چھپے قادیانی عناصر وقادیانی قیادت نے یہ ڈرامہ سٹیج کیا تا کہ باہر کی دنیا سے سیاسی پناہ کے نام پر ویزوں کا دھندا چلتا رہے۔ سال بھر اس واقعہ کی کمائی قادیانی قیادت نے کھائی۔ یہ سب ان کا کیا دھرا تھا۔
- ۲...... اب حال ہی میں دوسرا ڈرامہ کیا۔ ہمیں برطانیہ سے فون پر دوستوں نے اطلاع دی کہ کسی ویب سائٹ پر تین پوسٹر ایک ایک
ورقہ ہیں۔ اس میں قادیانیوں کے خلاف تشدد پر لوگوں کو ابھارا گیا ہے۔ عالمی مجلس نے ان اشتہارات کو دیکھا تو اگلے روز اخبارات کو بیان جاری کیا کہ یہ قادیانی ذہن کی تخلیق ہے۔ روزنامہ اسلام میں اشتہار شائع کیا کہ جان بوجھ کر قادیانی اس طرح کی مذموم حرکت سے ایک پر امن جدوجہد کی حامل جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ خود قادیانیوں نے برطانیہ میں گھر گھر اور سفارت خانوں میں ان اشتہاروں کو انٹرنیٹ سے نکال کر عمدہ کاغذ پر شائع کر کے تقسیم کیا۔ چناب نگر (قادیانی مرکز) میں بھی تمام حکومتی ایجنسیوں کو قادیانیوں نے یہ اشتہار فراہم کئے۔ ہم اس وقت سمجھ گئے کہ اس ڈرامہ سے قادیانی دہرا فائدہ حاصل کرنے کے درپے ہیں: (الف) ویزوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ (ب) اور یہ کہ ایک دینی جماعت جس نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کا سٹیج ملک کو مہیا کیا۔ قادیانی کفر کو آئینی جدوجہد سے چاروں شانے چت کیا۔ اس جماعت پر قدغن لگوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم نے وزیر اعظم پاکستان سے لے کر ہوم سیکرٹری پنجاب تک کو اپنے خدشات سے باخبر کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... دیکھا جائے تو یہ اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ایک گہری خطرناک کاروائی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ (Stablishment) کا وفاقی سیکرٹری
سہیل احمد کو لگایا گیا۔ جس کے تحت پورے ملک کے سیکرٹریز اور پوری بیوروکریسی ہے۔ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں۔ قادیانی لابی اور اس کے گماشتے نیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ ہماری بیوروکریسی لکیر کے فقیر کی طرح قادیانی لابی کی خوشنودی کے لئے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔
- ۴...... روزنامہ اسلام ۲۷؍ جون ۲۰۱۱ء کی خبر ہے۔ حکومت نے سابق آئی۔ جی سندھ، ڈی۔ جی۔ ایف۔ آئی۔ اے وسیم احمد کو محکمہ
داخلہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیکرٹری قادیانی ہو۔ محکمہ داخلہ کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری قادیانی ہو تو پھر اس ملک کے قادیانی نرغے میں ہونے میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے؟ وسیم احمد قادیانی کو سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی کرپشن و نااہلی کی وجہ سے ڈی۔ جی، ایف۔ آئی۔ اے کے عہدہ سے برطرف کیا گیا۔ رحمٰن ملک صاحب کو قادیانی گروہ نے کیا پڑیا سنگھائی ہے کہ وہ قادیانیت نوازی میں اتنے مست ہو گئے ہیں کہ سپریم کورٹ کے برطرف کردہ شخص کو وزارت داخلہ کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔ محض اس لئے اس کو نوازا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی ہے۔ ورنہ اس کے کرپشن و نااہلی کے تذکروں سے تو سپریم کورٹ تک گونج اٹھے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر کسی کار خیر کی توقع رکھنی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان امور کو ہم نے دیکھا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ کچھ ہونے والا ہے۔
- ۵...... وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ مورخہ ۲۸؍ جون ۲۰۱۱ء کو ڈی۔ پی۔ او چنیوٹ نے بلا کر زبانی کہہ دیا کہ تیسواں سالانہ ختم نبوت کورس
چناب نگر ان حالات میں منعقد نہ کیا جائے۔ غالباً ہوم آفس پنجاب نے ان کو چٹھی ارسال کی کہ ”ہمیں خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رد قادیانیت کورس منعقد ہو رہا ہے۔‘‘ عقلمند، شریف انسان سے کوئی پوچھے کہ: (الف) جو کورس تیس سال سے ہو رہا ہے۔ (ب) جس کے اشتہار چھپ کر پورے ملک میں متعدد دینی رسائل میں اشتہار و مضمون شائع ہوئے۔ مورخہ ۲۰؍ جون ۲۰۱۱ء کو روزنامہ اسلام کے تمام ایڈیشنوں میں مضمون شائع ہوا۔ وہ خفیہ ذرائع کی اطلاع کیسی؟ محض پابندی لگانے کے لئے عذر تراش کر اپنے مجرم ضمیر کی خلش کو چھپانے کے لئے ”خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا“ کا لفظ استعمال کیا گیا۔
- ۶...... پھر یہ کورس تیس سال سے خیر وخوبی سے ہو رہا ہے۔ خالصتہً اسلامی نقطۂ نظر سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو واضح کیا جاتا ہے۔
منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے شبہات کا قرآن وسنت کی روشنی میں رد کیا جاتا ہے۔ مطبوعہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ جو کام انتیس سال سے ہوا۔ کسی مکھی کے پر، مچھر کی ٹانگ، کا نقصان نہیں ہوا۔ اب اس کو بندش کے نشانہ پر رکھنا سراسر مندرجہ بالا قادیانی سازشوں کی ایک خطرناک یا اس کا ”فیصلہ کن“ مرحلہ ہے۔
- ۷...... ہم نے کورس کو محض علمی جدوجہد کے تسلسل کے دائرہ کار میں رکھنے کے لئے داخلہ فارم میں شرائط رکھی ہیں: (الف) طالب علم اپنا
یا اپنے والد کا شناختی کارڈ یا مدرسہ کا سرٹیفکیٹ ہمراہ لائے۔ (ب) غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ (ج) کسی طالب علم کو چناب نگر، دریا یا پہاڑوں پر جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ (د) کسی خلاف قانون جماعت کا لٹریچر و سٹیکر رکھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ ان تمام شرائط کے ساتھ داخلہ ہوگا۔ (ھ) مطبوعہ نصاب پڑھایا جائے گا۔ (و) اس کا امتحان ہوگا، امتحان پاس کرنے والوں کو سند ملے گی۔ ایک دینی جماعت کا ایک دینی ادارہ میں سالانہ ریفریشر کورس / علمی معلوماتی سالانہ سمر کیمپ ہوتا ہے۔ ملک عزیز کا دینی ادارہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر جو وفاق المدارس سے ملحق ہے۔ اس کی دیوقامت چار دیواری میں کورس ہوتا ہے اور اس سال بھی ہوگا۔ اس سے روکنا ہمارے خیال میں وہ خطرناک قادیانی کھیل ہے جو کھیلا جا رہا ہے۔ کیا ایسے ہو جائے گا؟ کہ امت ۱۹۷۴ء سے پہلے کی پوزیشن پر چلی جائے اور قادیانی پھر سے پر پرزے نکال کر اسلام کو کفر اور کفر (قادیانیت) کو اسلام ثابت کرنے لگ جائیں اور اس کے لئے وہ ہوم سیکرٹری کی چٹھی کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استعمال میں لائیں۔ ایسے ہو جائے گا؟ یہ پوری مسلمان قوم کے سوچنے کا مسئلہ ہے۔ پھر نہ کہنا، ہمیں خبر نہ ہوئی۔
نوٹ: اس مضمون پر مشتمل یاداشت قومی رہنماؤں کو بذریعہ ڈاک ارسال کی گئی۔ ان میں سے بعض حضرات کے جوابات کا نمونہ پیش خدمت ہے:
SENATE OF PAKISTAN Parliament House Islamabad
No.LOP/Sen/06-11 مورخہ : 11 جولائی 2011ء
SENATE OF PAKISTAN PAKISTAN SENATE Leader of the Opposition
برادرم محترم جناب اللہ وسایا صاحب، مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ آپ بمع احباب کے عافیت سے ہوں گے۔ آپ کا گرامی نامہ مجھے بروقت ملا لیکن مصروفیت کی وجہ سے آپ کو جواب جلدی نہیں دے سکا۔ آپ نے قادیانیوں کی سازشوں سے متعلق اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے اور بجا فرمایا ہے کہ قادیانی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے علاوہ اتحاد بین المسلمین کے دشمن بھی ہیں اور اپنے آقاؤں کے اشارے پر چلتے ہوئے ملک اور امت مسلمہ کے خلاف انتہائی گہری سازشوں میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں پر تمام مسلمانوں کو نظر رکھنا اسلامی فریضہ ہے۔
جہاں تک ڈی پی او چنیوٹ کا اقدام ہے اس حوالے سے میں نے چیف سیکرٹری پنجاب سے بات کی تھی تو ان کا جواب مثبت تھا۔ یقیناً قادیانی بکواس کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ اور متعلقہ آفیسروں کے کان بھرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں مایوسی کی کوئی بات نہیں۔
انشاء اللہ ہم سب مل کر پر امن جدوجہد کے ذریعے ان کی سازشوں کو بے نقاب بھی کریں گے اور ان کے عقائد ونظریات کے سدباب کیلئے اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیں گے۔
والسلام
مولانا عبدالغفور حیدری
محترم جناب اللہ وسایا صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ہیڈ آفس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ایل ایم کیو روڈ، ملتان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لیاقت بلوچ | سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
(سابق ممبر قومی اسمبلی)
حوالہ نمبر: 4212 تاریخ: 4.7.11
محترم مولانا اللہ وسایا صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ آپ کو خیر وعافیت سے رکھے۔ آمین
آپ کی تحریر "نئی قادیانی سازش عروج پر" موصول ہوئی۔ تحریر کے مندرجات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ قادیانیت کس طرح کن کن اہم مناصب پر فائز ہے اور گل کھلا رہی ہے۔
پاکستان اس وقت جن شدید مسائل اور بحرانوں کا شکار ہے۔ یہ قادیانی لابی اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پنجے مزید راسخ کر رہی ہے۔
یہ امر بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ آپ کے ہاں اس حوالہ سے کیا جانے والا سالانہ کورس بھی اب ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور اس کی بندش کے لیے وہ اقدامات کر رہے ہیں۔
کورس کے حوالہ سے تو آپ مقامی انتظامیہ سے رابطہ رکھ کر مسئلہ حل کر لیں۔ دیگر حوالوں سے اکٹھے مل بیٹھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین متین کی خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
والسلام خاکسار (لیاقت بلوچ)
منصورہ ملتان روڈ، لاہور پاکستان فون: 35432391-5 -24- 35419520 فیکس: 5432194 موبائل: 0300-8456292 رہائش: C-108 نیو مسلم ٹاؤن لاہور فون: 042-35857171-2 URL: http://www.jamaat.org E-mail: amir@ji.org.pk
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت اسلامی پاکستان
حوالہ نمبر: 4189 تاریخ: 2.7.11
محترم المقام حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ شکر گزار ہوں کہ آپ نے قادیانیوں کی نئی سازشوں سے آگاہ کرنے کے لئے تفصیلی تحریر ارسال فرمائی۔ بلا شبہ قادیانی اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود ان کے سرپرست پاکستان میں فتنہ و فساد اور اشتعال انگیزی پیدا کر کے اپنے مذموم مقاصد آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ امر انتہائی افسوسناک اور حکومت پنجاب کے لئے انتہائی شرمناک ہے کہ ان کی طرف سے محض قادیانیوں کی خوشنودی کے لئے گزشتہ تیس سالوں سے مدرسہ عربیہ چناب نگر میں جاری ختم نبوت کورس کو روکنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکمرانوں کو شاید ان معاملات پر امت مسلمہ کے احساسات و جذبات کا احساس نہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان انشاء اللہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اس معاملہ میں آپ کو ہر طرح کی تائید و حمایت اور بھر پور جد و جہد کا یقین دلاتی ہے اور آپ جب بھی کسی تعاون کے لئے فرمائیں گے ہمیں ہم رکاب پائیں گے۔
اللہ کریم ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین۔
والسلام خاکسار منور حسن (سید منور حسن) امیر جماعت اسلامی پاکستان
مرکزی دفتر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ۔ ملتان
منصورہ ملتان روڈ، لاہور پاکستان فون 35419520-24-35432391 فیکس 35432194 E-mail: amir@ji.org.pk - URL: http://www.jamaat.org
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۴۹ تا ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس کے انعقاد کا لاہور ہائی کورٹ کا مستحسن فیصلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
پنجاب ہوم آفس سے ڈی پی او چنیوٹ کے نام ایک رپورٹ آئی۔ جس میں درج تھا کہ:
الف...... ”خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ میں تیسواں سالانہ رد قادیانیت کورس ۹؍ جولائی سے ۲۹؍ جولائی ۲۰۱۱ء کو منعقد ہورہا ہے۔ کورس میں قادیانی مذہب کے خلاف لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسے کورسز کا انعقاد ذہن سازی اور قادیانیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
ب...... لہٰذا آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ موجودہ ملک میں پائی جانے والی دہشت گردی کے تناظر میں اس قسم کے کورسز کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ آپ اس سلسلہ میں تصدیق کریں اور اس کو روکنے کے لئے قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائیں۔“
۱...... اس عبارت کو بار بار پڑھیں۔ حکومتی دوائر میں چھپے قادیانی عناصر اور شاطر قادیانی دماغ کی عیاری ملاحظہ ہو جو کورس تیس سال سے ہورہا ہے، جس کے اس سال بھی ہر سال کی طرح اشتہار چھپ کر ملک بھر میں چسپاں ہوئے۔ ماہنامہ لولاک، ہفت روزہ ختم نبوت، روزنامہ اسلام میں اشتہار و داخلہ کے لئے شرائط پر مشتمل ہدایات شائع ہوئیں۔ اسے خفیہ ذرائع سے تعبیر کرنا یہ وہی ذہنیت ہے جو ۱۹۷۴ء کے پارلیمنٹ کے فیصلہ کو کالعدم و بے اثر کرنے کے لئے زخمی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے۔
۲...... اس رپورٹ میں یہ درج ہونا کہ: ”کورس میں قادیانی مذہب کے خلاف لیکچر دیئے جاتے ہیں۔“ قرآن وسنت، پاکستان کی پارلیمنٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ جات، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کے مطابق ختم نبوت کا منکر کافر ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)
مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعویٰ کے باعث انکار ختم نبوت لازم آیا۔ اب ختم نبوت کے منکرین کے خلاف کورس نہ پڑھایا جائے۔ یورپ، ایشیا، امریکا اور افریقہ کی یونیورسٹیوں میں تقابل ادیان کورس ہوتے ہیں۔ اس پر پی. ایچ. ڈی کی سندیں ملتی ہیں۔ اسلام اور قادیانیت کا تقابلی جائزہ ایک دینی مدرسہ میں ہو تو یہ پاکستان کی بیوروکریسی کی مصلحت کے خلاف۔ آخر اس کا کوئی جواز ہے؟
۳...... ”قادیانیوں کے خلاف ذہن سازی و کارروائیوں کا باعث بن سکتا ہے۔“ یہ بہت دور کی کوڑی لائی گئی ہے۔ جب سے قادیانیت نے انگریز کی کوکھ سے جنم لیا۔ اس دن سے آج تک جہاں کہیں کوئی واقعہ ہوا۔ اس کا اصل باعث قادیانیوں کی اپنی شرانگیزی ہے۔ ایک بار بھی مسلمانوں کی طرف سے ابتدا نہیں ہوئی۔ گزشتہ سال کا لاہور کا وقوعہ۔ وہ بھی قادیانی قیادت و ایجنسیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ موقع پر ایک ملزم کو گرفتار کرنا، پھر اس کیس کے باقی ملزمان کو ٹریس نہ کرنا۔ قادیانیوں کا اس پر چپ سادھ لینا۔ کیا یہ غمازی نہیں کر رہا کہ محض بیرون ملک قادیانیوں نے سیاسی پناہ کے لئے ویزے بڑھانے کی یہ سازش کی۔ قادیانیوں سمیت پوری حکومت اس پر متفق ہے کہ عالمی مجلس کا ان کارروائیوں سے نہ کوئی تعلق تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔ ایک پرامن جدوجہد پر کاربند تمام مسالک کے مشترکہ پلیٹ فارم کو مورد الزام ٹھہرانا نہ ملک کی خدمت ہے نہ حکومت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴....... ”ملک میں پائی جانے والی دہشت گردی کے تناظر میں اس قسم کے کورسز کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ روکنے کے لئے
قانونی و انتظامی کاروائی عمل میں لائیں“۔ اس رپورٹ کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ مسجد میں جوتی چوری کا اندیشہ ہو تو مسجد گرانے کا فیصلہ جس طرح احمقانہ اقدام ہوگا۔ اسی طرح یہ جملہ بھی عقلمندی کے ترازو میں تولنا مشکل ہے۔ ہاں! البتہ یہ خدشہ ضرور ہے کہ قادیانی، قادیانی نواز لابیاں اپنی رپورٹ کو سچا ثابت کرنے کے لئے کوئی ڈرامہ نہ کریں۔ لیکن اس پر نظر رکھنا اور اس کا انسداد کرنا پولیس و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں آج تک جس جس ساتھی نے کورس پڑھا۔ جس کو جو جو سند دی گئی۔ ہر ایک کا مکمل پتہ ولدیت، سند نمبر تک ہمارے پاس موجود ہیں۔ پورے ملک میں ہمارے مدرسہ کا ردقادیانیت کورس پڑھا ہوا ساتھی آج تک قانون شکنی میں ملوث نہیں پایا گیا۔ کیا ملک بھر کی کوئی یونیورسٹی ایک مسکین جماعت کے تیسرے درجہ کے مدرسہ کی اس کارکردگی کے چیلنج کو قبول کر سکتی ہے۔ یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے تخریب کاری میں ملوث ہوں تو یونیورسٹی بند نہیں کی جاتی۔ ہمارے مدرسہ کے کسی طالب علم پر کسی بڑے جرم کا الزام تو درکنار دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کا الزام بھی نہیں لگا۔ جس کا گواہ ہمارا تیس سالہ ریکارڈ ہے۔ پھر اس کورس کو بند کر دینا، دنیا میں انوکھے و نادر فیصلے کی کوئی مثال ہے؟
قارئین! اس رپورٹ کے ملتے ہی ڈی پی او صاحب نے مولانا غلام مصطفیٰ کو بلا کر کورس کی بندش کا حکم نامہ سنا دیا۔ جس سے سخت پریشانی ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سلسلہ میں اپنے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم سے صورتحال عرض کر کے آپ کی ہدایات کی روشنی میں تین اقدام کئے:
- ١....... اس پوری صورتحال پر مشتمل روزنامہ اسلام میں مضمون لکھا۔ جو ۳۰/جون ۲۰۱۱ء کو ملک بھر کے ایڈیشنوں میں شائع ہوا۔
- ٢....... مرکزی و صوبائی حکومت کے اعیان و انصار کو اس کی کاپی بھیجی گئی۔ راولپنڈی دارالعلوم زکریا کے مہتمم مولانا پیر عزیز الرحمٰن
ہزاروی نے پوری صورتحال جاکر مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ سے بیان فرمائی۔ خانقاہ سراجیہ کے صاحبزادہ ملک سعید احمد نے بھی صورتحال سے حضرت مولانا دامت برکاتہم کو مطلع کیا۔
- ٣....... یکم/جولائی ۲۰۱۱ء کو لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ ۴/جولائی ۲۰۱۱ء کی شام مولانا غلام مصطفیٰ کے پاس پولیس کے کارندے آئے اور کورس کا شیڈول معلوم کیا۔ اس سے مثبت اشارہ معلوم ہوا۔ آج ۵/جولائی ۲۰۱۱ء کو لاہور ہائیکورٹ کے جناب جسٹس محمد انوار الحق کے ہاں رٹ کی سماعت ہوئی۔ ملک عزیز کے ممتاز قانون دان جناب خواجہ ابرار مجال، نامور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، جناب چوہدری غلام مصطفیٰ پیش ہوئے۔ دلائل سننے کے بعد جسٹس محمد انوار الحق نے مرکزی و صوبائی ڈویژنل و ضلعی حکومت کے لئے آرڈر پاس کیا کہ کورس کے انعقاد میں کوئی ناروا پابندی و مداخلت نہ کی جائے۔ جو کورس ہوتا ہے ہونے دیا جائے۔
لیجئے! ایک بار پھر قادیانیت ہار گئی اور اسلام جیت گیا۔ فالحمد للہ! ہم بھی تلخی کو بھول جاتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بھی۔ ہم ایک ایک ساتھی کا مکمل ایڈریس و کوائف کے بغیر داخلہ نہ کریں گے۔ ضلعی حکومت کو تمام مطلوبہ معلومات مہیا کریں گے۔ ڈی پی او صاحب چنیوٹ بھی مکمل سیکورٹی مہیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کار خیر کی توفیق سے نوازیں۔ قادیانیوں کو ہدایت نصیب فرمائیں اور ملک عزیز پاکستان کی پردہ غیب سے حفاظت فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱/جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵، ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع لودھراں میں قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر
لودھراں کے قریب بستی جٹ والا میں قادیانیوں نے مسجد طرز کی اپنی عبادت گاہ بنانی شروع کی۔ خفیہ طریقے سے اس کا کام چھت تک پہنچ گیا۔ ۱۶؍رمضان المبارک ۱۶؍اگست ۲۰۱۱ء کو ختم نبوت کے کارکن مولانا غلام مرتضیٰ، مفتی عبدالصمد نے دفتر ختم نبوت بہاول پور اطلاع دی اور مجلس بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی جماعتی کارکنوں کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ ادھر پولیس راؤ جمشید کی سربراہی میں پہنچی تو مستری مزدور کام چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ۱۸؍رمضان المبارک کو اہل علاقہ کے لئے افطاری کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں نے ایمانی غیرت کا ثبوت دیا۔ خاص طور پر جناب پیر ظفر علی شاہ، صاحبزادہ پیر فضل الرحمان، منہاج القرآن کے نمائندے جناب نصر اللہ بابر نے شرکت فرما کر ختم نبوت کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ پیر ظفر علی شاہ نے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسحاق ساقی کے بیان سے قبل ضلع لودھراں کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مرزائے کو دو دن کے اندر نہ گرایا گیا تو پھر ہم خود گرائیں گے۔ الحمد للہ ۲۰؍رمضان المبارک ۲۰؍اگست ۲۰۱۱ء کو ٹھیک دو دن بعد ڈی پی او لودھراں نے کمیٹی والوں کو بھیجا اور مرزائیوں کے مرزائے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس کامیابی پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر یہ ادا کریں کم ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۲۸)
قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر ضلع وہاڑی کی انتظامیہ نے چک نمبر ۲۴۵ ای بی گگو منڈی میں قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ، قرآنی آیات اور شعائر اسلامی کو محفوظ کر لیا۔ جس سے علاقہ بھر کے مسلمانوں میں پایا جانے والا اشتعال دور ہو گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا عبد الحکیم نعمانی اور مولانا عبد الستار گورمانی نے تحریک میں شامل تمام دینی و سیاسی جماعتوں، علمائے کرام، صحافیوں اور تاجر نمائندوں کی اس کاوش کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے بروئے کار لائیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۲۸)
پاکستان کی سالمیت کے خلاف قادیانی سازش پکڑی گئی، چناب نگر میں منشیات واسلحہ فروشی
۱۹؍اگست ۲۰۱۱ء کو چناب نگر تھانہ میں مقدمہ نمبر ۳۶۶/رے ۱۰۳۳۱ درج ہوا۔ جس میں درج ہے کہ:
- نمبر ۱...... (الف) عزیز الرحمن ولد خلیل الرحمن قوم راجپوت قادیانی سکنہ چناب نگر۔ (ب) عطاء المجیب ولد عبدالرحیم قوم پٹھان قادیانی
سکنہ چناب نگر نے گروہ تشکیل دے رکھا ہے۔ جو منشیات واسلحہ فروشی کرتے ہیں۔
- نمبر ۲...... صوبہ سرحد سے منشیات واسلحہ لاتے ہیں۔
- نمبر ۳...... اسلحہ پر خود نمبر لگاتے ہیں۔
- نمبر ۴...... جعلی اسلحہ لائسنس تیار کر کے اس پر ڈی سی او اسلام آباد کی خود ساختہ اور جعلی مہر لگاتے ہیں۔
- نمبر ۵...... علاقہ میں کافی لوگوں کو جعلی لائسنس اور اسلحہ فروخت کر چکے ہیں۔
- نمبر ۶...... ملزمان کے پاس جعلی لائسنس نمبر لگانے والے آلات موجود ہیں۔
- نمبر ۷...... موقعہ پر چرس کے علاوہ پانچ عدد جعلی لائسنس مجریہ ڈی سی او اسلام آباد، اٹھارہ عدد آہنی مہریں، اسلحہ پر جعلی نمبر لگانے کی نو عدد
مہریں، پسٹل جن کے نمبر رگڑے ہوئے تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- نمبر ۸...... رائفل آٹھ ایم ایم بمع میگزین وگولیاں، رائفل ۲۲۴ بور، کلاشنکوف کی گولیاں، شناختی کارڈ کے فوٹو جن کے جعلی اسلحہ لائسنس بناتے تھے۔ وغیرہ کی پولیس چناب نگر نے برآمدگی ظاہر کی ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی جیسے جعلی نبی کی جعلی امت نے جعل سازی سے ناجائز اسلحہ منگوایا، جعلی لائسنس بنا کر ملک بھر کے قادیانیوں میں کہاں کہاں بھجوایا۔سیکورٹی کی نام نہادایجنسیاں بنا کر قادیانی سیکورٹی گارڈ مختلف کمپنیوں اور اداروں کو جعلی لائسنس ناجائز اسلحہ سمیت مہیا کئے۔ آج تک کتنا اسلحہ منگوایا گیا۔ کون کون سی جگہ سٹاک کیا گیا۔ کہاں کہاں مہیا کیا گیا۔ جن لوگوں کے پاس جعلی لائسنس و ناجائز اسلحہ ہے۔ ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جانا چاہئے تھا۔ لیکن ہماری اطلاع یہ ہے کہ بہت سارا اسلحہ پولیس نے ظاہر ہی نہیں کیا۔ نہ ہی اس گروہ کے دیگر ملزمان گرفتار ہوئے۔ نہ ہی جعلی لائسنس یافتہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ پوری قادیانی جماعت اپنے افراد کے اس گھناؤنے جرم کو چھپانے کے درپے ہے۔
آج تک ہم الزام عائد کرتے تھے کہ ہر لڑائی ، فتنہ و فساد اور دہشت گردی کے پیچھے قادیانی ہاتھ ہے۔ ہمارا وہ اعتراض صرف دشمنی کی بنیاد پر نہیں تھا۔ اس ایف آئی آر نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ الزام نہیں تھا۔ بلکہ ایک حقیقت ہے جس کو اب جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کیا پاکستان گورنمنٹ اور پنجاب حکومت اس کیس کے تمام مقتضیات پر عمل کرے گی یا یہ کہ مقامی پولیس اپنی جیبیں بھر کر ایک بار پھر قادیانی جماعت کو موقعہ دے دی گی کہ وہ ناجائز اسلحہ سے پورے ملک کے قادیانیوں کے گھروں کو بارود خانہ بنادیں۔ تاکہ قریہ قریہ قادیانی جرائم کی پرورش کرسکیں اور ملک کو دہکتے تندور کی طرح بھسم کر دیا جائے۔ خاکم بدہن۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اگر اس کیس کی بھر پور تفتیش کر کے پوری مجرم ٹیم کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا تو پھر اس ملک کا خدا حافظ ہے۔
کہاں ہیں وہ ایجنسیاں جو قادیانیوں کے کہنے پر ختم نبوت کورس چناب نگر کو رکوانے کے درپے ہو جاتی ہیں؟ کہاں ہیں وہ افسران جو مکھی پر مکھی مار کر حق وسچ ، جھوٹ وباطل کی تمیز کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر داخلہ اگر توجہ فرمائیں تو صرف ایک کیس کی صحیح تفتیش سے پورے ملک میں دہشت گردی کے سیلاب کا چشمہ تلاش کیا جاسکتا ہے اور اس کی روک تھام مؤثر انداز میں ہوسکتی ہے۔ کیا حکومت ہماری اس صدائے بے نوا کو اہمیت دے گی؟
ایف آئی آر کی نقل یہ ہے:
(1)
فارم نمبر 5:24
ابتدائی اطلاعی رپورٹ (زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری)
ابتدائی اطلاعی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ تھانہ
تھانہ چناب نگر ضلع چنیوٹ
نمبر 366 مورخہ 2011-8-29 وقت 103317
1 وقت وقوعہ مورخہ 2011-8-29 وقت 8-11 بجے دن 6 تھانہ سے روانگی کی تاریخ مورخہ 2011-8-29 وقت 30-8 بجے دن
2 نام و سکونت اطلاع دہندہ/ مستغیث محمد اسلم بٹ SHO تھانہ چناب نگر
3 مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) و مال اگر کوئی چھنا گیا ہو بجرم : 471/420/468-AO13/20/65 ت،پ (1) رائفل 8mm (2) رائفل 224/4 بورمعہ
4 جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے سمت محلہ دارالرحمت ، چناب نگر بمقام اقصی چوک نزد دفتر 17/
5 کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں کوئی تاخیر ہو تو - دریں کارروائی بدست -
ابتدائی رپورٹ (نیچے درج کرو)
مراسلہ ! بخدمت محرر تھانہ چناب نگر ، آج میں بمعہ محمد یعقوب ASI، محمد انوار HC/277، محمد بلال C/701، محمد نواز C/406،
محمد سعید C/46 ، محمد ارشد C/471 ، محمد نعیم C/29 ، محمد رمضان C/815، محمد بلال C/43، بسلسلہ گشت اقصی چوک موجود تھا کہ مخبر خاص نے
اطلاع دی کہ طاہر احمد ولد رفیق احمد ، طارق احمد ولد رفیق احمد ، شعیب احمد ولد عبدالغفار ، مظفر احمد ولد نور محمد ، محمد اشرف ولد محمد امین سکنائے دارالرحمت چناب نگر جو کہ
جعلی اسلحہ لائسنس بنانے کا دھندہ کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے جعلی لائسنسوں کی بنیاد پر ناجائز اسلحہ خرید کر اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔ اور آگے بھی فروخت کرتے ہیں ، اگر اب ریڈ
کیا جائے تو ملزمان ناجائز اسلحہ اور جعلی لائسنسوں سمیت گرفتار ہو سکتے ہیں ۔ جس پر میں نے ہمراہ ملازمان مذکورہ بالا کو لے کر مخبر کے بتائے ہوئے پتہ محلہ دارالرحمت
چناب نگر بمقام اقصی چوک نزد دفتر پر ریڈ کیا تو وہاں پر موجود پانچ اشخاص نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کی ۔ جن کو پولیس پارٹی نے قابو کر لیا جنہوں
نے دریافت پر اپنے نام بالترتیب 1۔ طاہر احمد ولد رفیق احمد 2۔ طارق احمد ولد رفیق احمد 3۔ شعیب احمد ولد عبدالغفار 4۔ مظفر احمد ولد نور محمد 5۔ محمد اشرف ولد
محمد امین سکنائے دارالرحمت چناب نگر بتلائے۔ جن کی باری باری تلاشی لی گئی تو طاہر احمد سے ایک رائفل 8mm بمعہ 10 عدد روند ، طارق احمد سے ایک رائفل 224/4
بور بمعہ 5 عدد روند ، شعیب احمد سے ایک کلاشنکوف بمعہ 15 عدد روند MADE IN CHINA BY NORINCO CAL لکھا ہوا ہے ، مظفر احمد سے ایک پسٹل 30 بور بمعہ 5 عدد روند ، محمد اشرف سے ایک پسٹل 9mm بمعہ 5 عدد روند برآمد
ہوئے ۔ جن کے بارے میں لائسنس طلب کیا گیا تو وہ کوئی لائسنس پیش نہ کر سکے ۔ بلکہ انہوں نے بتلایا کہ انہوں نے یہ اسلحہ جعلی لائسنسوں کی بنیاد پر حاصل کیا
ہے ۔ جس پر میں نے ان سے وہ جعلی لائسنس طلب کئے تو انہوں نے 16 عدد جعلی لائسنس اسلحہ نمبری 35442,35441,35440,35436,35433,
35432,35431, 35439,35438,35435 اور 6 عدد جعلی شناختی کارڈ ، 10 عدد فوٹو سٹیٹ کاپیاں شناختی کارڈز برآمد کرائے ۔ جو میں نے قبضہ
پولیس میں لے کر فرد قبضہ مرتب کر لی ہے ۔ ملزمان نے جعلی اسلحہ لائسنسوں کی بنیاد پر ناجائز اسلحہ حاصل کر کے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ لہذا ملزمان
کے خلاف مقدمہ درج رجسٹر کیا جائے ۔ میں مصروف تفتیش ہوں ۔ وقوعہ کی اطلاع بذریعہ مراسلہ ہذا ارسال ہے ۔ مقدمہ درج رجسٹر کر کے نقل FIR اور
دیگر کاغذات بدست کانسٹیبل محمد بلال C/701 ارسال کریں ۔
مورخہ 2011-8-29 وقت 11-8 بجے دن بمقام اقصی چوک نزد دفتر محلہ دارالرحمت چناب نگر ۔ محمد اسلم بٹ SHO تھانہ چناب نگر
کارروائی پولیس :
مراسلہ ہذا تھانہ پر موصول ہو کر مقدمہ ہذا درج رجسٹر کیا گیا ۔ نقل FIR و دیگر کاغذات بدست کانسٹیبل محمد بلال C/701 ارسال ہیں ۔
میں مصروف کار سرکار ہوں ۔ وقوعہ کی بابت دیگر افسران بالا کو بذریعہ وائرلیس اطلاع کر دی گئی ہے ۔
دستخط / محمد بلال MHC تھانہ چناب نگر
29-8-11
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص۲ تا ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں آئینہ قادیانیت کو شامل کر لیا گیا
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان میں شیخ الحدیث، یادگار اسلاف مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کی زیر صدارت وفاق المدارس کی تیرہ رکنی نصاب کمیٹی کا ۱۹، ۲۰ ستمبر ۲۰۱۱ء کو اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں بنین و بنات کے وفاق المدارس کے نصاب پر نظر ثانی کی گئی۔ دیگر فیصلوں کے علاوہ نصاب کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ”آئینہ قادیانیت‘ جو آج سے عرصہ پہلے وفاق المدارس کے حکم پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ترتیب دی تھی۔ اس کتاب کو وفاق کے درجہ سابعہ یعنی موقوف علیہ میں شامل کر لیا گیا اور التبیان فی علوم القرآن کے پرچہ کے ساتھ آئینہ قادیانیت سے بھی سوال وفاق کے سالانہ امتحان میں شامل ہوگا۔
۲۱ ستمبر کو وفاق المدارس کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وفاق کی نصاب کمیٹی کے فیصلہ کی متفقہ طور پر توثیق کر دی گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے کرم کا معاملہ کیا اس فیصلہ پر وفاق المدارس کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ بہت ہی شکریہ۔ واجرهم على الله تعالى ۔ آمين!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۳)
ایس ایچ او کی مرزائیت نوازی اور ختم نبوت کی فتح
خاں دا چک تحصیل کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مورخہ ۷ ستمبر کے حوالے سے ہر سال ختم نبوت کے بینرز لگائے جاتے ہیں۔ اس سال بھی یوم فتح ۱۹۷۴ء کی فتح ختم نبوت کے بینرز لگائے۔ تھانہ صدر کمالیہ کے ایس ایچ او بنام الیاس جٹ نے جا کر مرزائیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے بینرز اتار دیئے اور ختم نبوت کے رضا کار حافظ عدیل ارشد کو حراست میں لے لیا اور مسئلہ ختم نبوت کو سیاسی مسئلہ اور ایک فرقہ قرار دیتے ہوئے شہدائے ختم نبوت پر طعن و تشنیع کرنے لگا۔ اس صورتحال پر حافظ عدیل ارشد کو تو احباب نے چھڑوالیا۔ الیاس جٹ کی مرزائیت نوازی پر بڑا افسوس ہوا۔ جامعہ عربیہ نعمانیہ کمالیہ میں علماء کرام کو اکٹھا کر کے پریس کانفرنس کی گئی۔ جس میں علماء کرام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان پر طعن و تشنیع کرنے والا مرزائیت نوازی اور مسئلہ ختم نبوت کو ایک سیاسی اور فرقہ وارانہ لبادہ اوڑھا کر اہل اسلام کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ہم اس کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جمعہ کو کمالیہ کی مساجد میں مطالبات پیش کئے جائیں۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا جامعہ نعمانیہ میں، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا عبدالحکیم نعمانی نے خضریٰ مسجد اور الکریم میں مولانا محمد حبیب نے نیم والی مسجد میں بیانات کئے اور بھر پور احتجاج اور مطالبات پیش کئے۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا یہ مسئلہ آج کا نہیں ساڑھے چودہ سو سالہ اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کے لئے قربانیاں ہو چکی ہیں اور مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ الیاس جٹ کے کہنے سے آئین پاکستان اور شریعت کا مسئلہ بدلنے والا نہیں ہے۔ بعد جمعہ کے مولانا نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے اور فرمایا اس کی معافی یا تبدیلی تک ہمارا احتجاج باقی رہے گا۔ بالآخر دوسرے روز انتظامیہ جس میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او متعلقہ افراد نے جامعہ فاروقیہ میں علماء کرام سے معافی مانگ لی۔ ایک مرتبہ پھر کفر مرزائیت ہار گئی اور اسلام جیت گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۵۶)
جناب ممتاز احمد قادری کو سزائے موت
رسوائے زمانہ سلمان تاثیر سابق گورنر پنجاب کی تحفظ ناموس رسالت قانون کے خلاف ہرزہ گوئی اور اہانت رسول کی مرتکب مسیحی خاتون آسیہ سے جیل میں جا کر اظہار ہمدردی کے فعل بد پر مشتعل ہو کر جناب ممتاز احمد قادری نے مبینہ طور پر اسے ٹھکانے لگا دیا تھا۔ ممتاز قادری کو موقعہ پر گرفتار کر لیا گیا۔ اڈیالہ جیل میں خصوصی عدالت نے اس کے کیس کی سماعت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکم؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو خصوصی عدالت نمبر ۲ کے جج سید پرویز علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت دو لاکھ روپیہ جرمانہ، عدم ادائیگی جرمانہ پر چھ ماہ کی سزا مزید دی جائے۔
یہ فیصلہ سنتے ہی اسی روز راولپنڈی میں مظاہرے ہوئے۔ آج اس تحریر کے وقت مؤرخہ ۴؍ اکتوبر ہے۔ پورے ملک میں جگہ جگہ اس فیصلہ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ کسی شخص کے کسی عمل سے کسی کو قتل کرنے کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جناب جج صاحب نوٹ فرمائیں کہ آپ کے اس فیصلہ نے اس بات کا لائسنس مہیا کر دیا ہے کہ جو شخص جہاں چاہے قانون پاکستان کا مذاق اڑائے۔ اس کے خلاف کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اگر کسی نے انگلی اٹھائی تو عدالت اسے الٹا لٹکا دے گی۔
اگر یہی انصاف ہے تو پھر چپ بھلی ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو آج تک پیپلز پارٹی یعنی وفاقی حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔ جناب نواز شریف صاحب کے خلاف نااہلی کے فیصلہ کو ”ن لیگ“ نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ تو ان دو نظائر کے ہوتے مسلمانانِ پاکستان کو بھی اجازت دیں کہ وہ برملا اس فیصلہ سے متعلق اپنے نقطۂ نظر کو واضح کر سکیں۔
اگر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتول کے ورثاء کو راضی کرکے قومی خزانے سے دیت دے کر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا جا سکتا ہے تو سلمان تاثیر کے ورثاء کو راضی کرنے کا کام حکومت اپنے ذمہ لے کر دیت ادا کرکے ممتاز قادری کو رہا کیا جائے۔ یہ قرینِ قیاس نہیں کہ ایک امریکی کی رہائی کے لئے حکومت یہ کارنامے سرانجام دے اور ایک عاشقِ رسول کو لٹکا دیا جائے۔
تحریک ناموس رسالت کمیٹی کے سربراہ جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحبزادہ صاحب نے مؤرخہ ۵؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز بدھ لاہور میں تحریک ناموس رسالت میں شامل تمام جماعتوں کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ آج مؤرخہ ۴؍ اکتوبر کو پرچہ پریس بھجوایا جا رہا ہے۔ تفصیل اگلے شمارہ میں پیش خدمت ہوگی۔ تاہم قارئین و جماعتی رفقاء دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ جناب ممتاز قادری کو سلامتی نصیب فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۴، ۳)
اجلاس اسٹیئرنگ کمیٹی ...... تحریک ناموس رسالت ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء ۸؍ بجے رات منصورہ
شرکاء: صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر مجددی، لیاقت بلوچ، مولانا امیر حمزہ، مولانا عبدالمالک، مولانا امجد خان، قاری محمد یعقوب شیخ، ظہیر الدین بابر، مرزا محمد ایوب بیگ، مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، محمد حسین محنتی، حافظ ساجد انور۔
- محترم لیاقت بلوچ نے شرکاء اجلاس کو خوش آمدید کہا اور ممتاز حسین قادری کے کیس کے حوالہ سے شرکاء کو بریف کیا۔ تحریک
ناموس رسالت ﷺ کے کنوینیر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان کو حالات سے آگاہ کیا اور ہدایات دیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ممتاز حسین قادری کا مقدمہ جسٹس (ر) خواجہ محمد شریف اور جسٹس (ر) نذیر غازی لڑیں گے۔ ان کے ساتھ وکلاء کا اچھا پینل بن گیا ہے۔ وکلاء سے کوآرڈینیشن اور بھرپور تعاون کے لئے ہماری ضرورت ہے۔
- آئندہ کے اقدامات کے حوالہ سے حسب ذیل امور مجموعی ڈسکشن کے نتیجے میں طے کئے گئے۔
- ۱...... کیس کی سماعت کے دن عدالت کے باہر عوام کی بھرپور شرکت اور ممتاز قادری سے اظہار ہمدردی کا اہتمام تحریک ناموس
رسالت کی شامل جماعتیں کریں گی۔ اس کے لئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے افراد پر مشتمل درج ذیل کمیٹی بنائی گئی جو مزید مشاورت اور اقدامات کرے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت اسلامی: میاں محمد اسلم، سجاد عباسی ، زبیر خان ۔ :JUP حامد رضا بھٹی ۔ :JUI(S) مولانا عبدالخالق ہزاروی، مولانا رمضان علوی ۔ :JUI(F) مولانا عتیق الرحمان ، مولانا تاج محمد ، مولانا عبدالمجید ہزاروی ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت: مولانا محمد طیب فاروقی ، مولانا قاضی ہارون الرشید ، مولانا عبدالرؤف شیخ الحدیث ۔ جمعیت اتحاد العلماء: مولانا عبدالجلیل نقشبندی ۔ جماعۃ الدعوۃ: منظور جمال ، مولانا شفیق الرحمان ، راشد عباسی ۔ تنظیم اسلامی: راجہ اصغر جمعیت اہل حدیث: مولانا عبدالعزیز حنیف ۔
ہر پیشی کے موقع پر تمام جماعتیں اپنے اپنے پرچم کے ساتھ شرکت کریں گی اور وہیں اس موقعہ پر اجلاس بھی کیا جائے گا۔
- ......۲ عوام وخواص میں یہ احساس بیدار کیا جائے گا کہ سلمان تاثیر مجرم تھا اور اپنے قتل کا خود ذمہ دار تھا۔
- ......۳ اس مسئلہ کی علمی اور شرعی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لئے بڑے شہروں میں سیمینارز کا ایک بھر پور شیڈول ترتیب دیا گیا ۔ جس کے مطابق درج ذیل پروگرامات/ سیمینارز ترتیب دیئے جائیں گے۔
- ٭ ...... مؤرخہ ۱۷ اکتوبر کو ملتان میں مشترکہ پروگرام کیا جائے گا۔
- ٭ ...... ماہ نومبر میں کراچی اور لاہور میں سیمینارز ہوں گے۔
- ٭ ...... ماہ دسمبر میں اسلام آباد، پشاور ، کوئٹہ اور فیصل آباد میں سیمینارز کے پروگرامات ترتیب دیئے جائیں گے۔
- ......۴ مشترکہ فتویٰ اور لٹریچر کی فراہمی ۔
یہ طے پایا کہ مشترکہ فتویٰ کے لئے مولانا عبدالمالک اور مولانا مفتی محمد خان قادری مل کر تیاری کریں گے۔ اس فتویٰ کی اشاعت کے علاوہ تمام دینی جماعتیں اپنے رسائل وجرائد میں اس حوالہ سے خصوصی مضامین شائع کروائیں گے۔ تاکہ اس کے نتیجے میں آگاہی ہو اور ایک ماحول بنے۔
عمومی ڈسکشن میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ممکن ہے کہ اس مرتبہ عدلیہ اس کیس کو بہت طوالت دے دے۔ اس کے لئے ہمیں ذہناً تیار رہنا ہوگا اور ایک لمبے عرصے تک اس ایشو کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ہر جمعہ کو کہیں نہ کہیں اس حوالہ سے مظاہرے ہوتے رہنے چاہئیں۔ عدالت میں تاریخ کے موقع پر عدالت کے باہر عاشقان رسالت کی موجودگی کا ہدف تدریجاً بڑھاتے رہنا چاہئے۔ سیمینارز میں صائب الرائے افراد ، وکلاء ، تاجر اور میڈیا کے افراد کی شرکت کا اہتمام کیا جائے۔ تاکہ یہ افراد رائے عامہ ذہن سازی کرسکیں۔ ان سرگرمیوں کی میڈیا میں کوریج کے حوالہ سے ذمہ داران صحافی حضرات سے ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
والسلام! (حافظ ساجد انور)
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۱۷، ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین رسالت و قرآن کیس کراچی
کراچی (رپورٹ: دانش امتیاز) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) نے توہین رسالت، قرآن اور اہل بیت و دیگر الزامات میں ملوث ۳ مفرور ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ فاضل عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے ضامنتی کو بھی طلب کر لیا۔ ہفتے کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) شاہد حسین چانڈیو نے توہین رسالت، قرآن اور اہل بیت و دیگر الزامات میں ملوث ۳ مفرور ملزمان بشارت، محمد یونس اور حامد کرزئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ملزمان کو ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۱ء کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ فاضل عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے ضامن کو بھی طلب کر لیا۔ سماعت کے موقع پر مقدمے کے اہم و مرکزی ملزم شیخ سکندر اور اعجاز غریبی و دیگر بھی موجود تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر و ماہر قانون دان منظور احمد مئو راجپوت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت، قرآن اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کا کیس ۲۰۰۳ء سے زیر التواء کا شکار ہے اور ملزمان کی طرف سے سماعت پر تاخیری حربے استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ کیس کو نہیں چلایا جاسکے جب کہ ملزمان کی عدالت عالیہ ایک مرتبہ اور فاضل عدالت ۲ مرتبہ درخواست ضمانت مسترد کرچکی۔ مدعی مقدمہ سمیت گواہان ہر پیشی پر عدالت میں موجود ہوتے ہیں اور یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن کورٹس ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ملزمان نے سماعت کے دوران بھی دو مرتبہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور اگر ملزمان کے خلاف پہلے ہی کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی تو ملزمان دوبارہ یہ حرکت نہ کرتے جب کہ مقدمے میں ملوث شاہ نورانی اور شکور و دیگر کے استثناء کو ختم کر کے انہیں فاضل عدالت میں بلایا جائے تاکہ آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی جاسکے۔ اس موقع پر فاضل عدالت میں موجود ملزمان کے وکیل حسن جعفر رضوی نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر ملزمان عدالت میں موجود ہوں گے۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء، ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۲۲ نومبر ص ۱۵)
دہلی کے بعد لندن میں بھی قادیانیوں کی قرآن نمائش پر پابندی لگ گئی
مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے قادیانیوں (صحیح لفظ چھوٹی کاف سے ہے) نے ’’قرآن نمائش‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ بند کھیل دہلی میں کھیلنا چاہا اور اس کے لئے گذشتہ ماہ اکتوبر ۲۰۱۱ء میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک انتہائی مہنگے ’’اسپیکر ہال‘‘ کو ایک سکھ ممبر اسمبلی کے ذریعہ تین دن کے لئے بک بھی کرالیا لیکن ان کا یہ کھیل اس وقت بگڑ گیا جب کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر ہندوستان کے مسلمان اس سازش کے خلاف متحرک ہو گئے اور بالآخر حکومت کو Stop کا بورڈ لگا کر پروگرام ہال کو سیل کرنا پڑا۔
قادیانیوں نے اپنے جس گھناؤنے منصوبے کو ’’قرآن نمائش‘‘ کے نام سے انجام دینے کی سازش تیار کی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ دنیا بھر کے مسلمان کسی قیمت پر قادیانیوں کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں اس لئے خود کو مسلمان جتلانے کے لئے ہندوستان کی جمہوری حکومت میں انہیں ایک راستہ یہ نظر آیا کہ کچھ زرخرید حکومتی اہل کاروں کو اعتماد میں لے کر خود کو حکومت کی نظر میں نہ صرف یہ کہ مسلمان بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر خود کو مسلمانوں کا نمائندہ باور کرایا جائے
اور اس مقصد کی تکمیل میں ’’قرآن نمائش‘‘ (Quran Exhibition) کا عنوان کچھ زیادہ ہی مؤثر ثابت ہوگا۔ چنانچہ اسی غرض سے انھوں نے بے دریغ پیسہ بہایا اور ایسے ممبران پارلیمنٹ کو جو قادیانیوں کے حقائق سے پوری واقف نہ ہوں اپنے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پروگرام میں شریک کرنے کی غرض سے مذکورہ اسپیکر ہال بک کرالیا۔
قرآن نمائش اور اس کے پیغام کو عام کرنے اور دوسری قوموں تک پہنچانے کا عمل یقیناً ایک نیک اور مقدس عمل ہے اور مسلمان تو اس معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ اگر بدھسٹ ، ہندو، سکھ، پارسی غرض کوئی بھی دیگر مذہب کے لوگ قرآن پاک کا اسٹال لگانا چاہیں یا اس کو نمائش کے لئے ادب و احترام کے ساتھ پیش کرنا چاہیں تو ہندوستان کے مالدار مسلمانوں کو چھوڑئیے؛ کتنے ایسے غریب مسلمان آپ کو مل جائیں گے جو مفت میں اپنے پیسے سے قرآن مجید کے نسخے فراہم کردیں گے بلکہ اپنے وقت کی بھی قربانی دیں گے۔ دہلی کے بعض ناشرین ایسے بھی ہیں جنھوں نے ایک سو سے زائد مختلف سائزوں اور خوبصورت سے خوبصورت ڈیزائنوں میں اور قیمتی سے قیمتی اوراق میں قرآن مجید کی طباعت کو بطور دینی خدمات، سرانجام دیا ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر مسلم ناشر جو قرآن مجید پر ایمان نہ رکھتا ہو اور خود کو اس طرح کے پروگرام کے بہانے قرآن مقدس کا نمائندہ باور کرانے لگے تو ادنی درجے کا مسلمان بھی اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ کیوں کہ قرآن کی نمائش ایک علیحدہ عمل ہے اور خود کو قرآن کا نمائندہ باور کرانا ایک دوسرا عمل ہے ”قرآن مجید کی نمائش“ کا حق کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو حاصل ہے بشرطیکہ وہ قرآن مجید کے ادب و احترام کا جو حق ہے وہ ادا کرے۔ لیکن مسلمانوں یعنی قرآن مجید پر ایمان لانے والوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود کو قرآن مجید کا نمائندہ بتائیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جائے گا اور پھر قرآن مجید کی اور اس کے حقوق کی حفاظت نہ صرف یہ کہ مشکل ہو جائے گی بلکہ اسطرح قرآن مجید بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ جب کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کو قادیانیوں کی اس سازش کی اطلاع ہوئی تو بلا کسی تاخیر کے مجلس کے ذمہ داران نے اس کو بے نقاب کرنے کی مستقل تحریک چھیڑ دی اور دہلی جامع مسجد کے امام جناب مولانا احمد بخاری، سابق اقلیتی کمیشن کے چیر مین کمال احمد فاروقی وغیرہ نے تو اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنی گرفتاری بھی پیش کر دی کیوں کہ قادیانی جو مرزا غلام قادیانی کو مہدی، مسیح اور نبی مانتے ہیں ان کا ایمان قرآن مجید پر نہیں ہو سکتا ، اور نہ ہی اسلامی اصول کی روشنی میں وہ مسلمان کہلانے کے حق دار ہو سکتے ہیں، پھر انھیں ”قرآن نمائش“ کے عنوان سے قرآن مجید یا مسلمانوں کا نمائندہ کہلانے کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے !۔ ہاں اگر اس عمل میں قادیانی مخلص ہیں اور مرزا قادیانی کو بھی چھوڑنا نہیں چاہتے تو دیگر غیر مسلموں کی طرح پہلے وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کریں اور اپنے غیر مسلم ہونے کا اعلان کریں اور پھر قرآن نمائش کا پروگرام عمل میں لائیں تو وہ دیکھیں گے کہ ہر مسلمان اس عمل میں ان سے آگے ہوگا اور جامع مسجد کے کھلے میدان میں انھیں جگہ دی جائے گی۔ لیکن یادرکھئے قادیانی ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے اور ہرگز نہیں کریں گے کیوں کہ ان کے مذموم مقاصد کا اس نیک عمل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انھیں تو اسلام دشمن قوتوں کے سہارے خود کو قرآن مجید کا خادم اور نمائندہ جتلا کر قرآن مجید کو (نعوذ باللہ) بچوں کا کھیل تماشا بنانا ہے۔
اس نیک عمل میں روزنامہ صحافت دہلی کا رول بھی قابل تحسین رہا کہ اس نے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی آواز میں ایسی قوت پیدا کر دی جس نے حکومت کے کان کھول دیئے اور حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے قادیانیوں کے دکھاوے کے ”قرآن نمائش“ پر بروقت روک لگا کر پروگرام ہال کو سیل کر کے stop کا بورڈ لٹکا دیا۔ اس طرح خود کو مسلمان باور کرانے یا قرآن مجید کا نمائندہ جتلانے کی قادیانی منصوبہ بندی خاک میں مل گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خدائی قدرت کا ایک اور کرشمہ کہئے یا قرآن مجید کا زندہ معجزہ کہ اس معاملہ میں کادیانیوں کے سرپرست اعظم برٹش حکومت نے بھی لندن میں اپنی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور واضح لفظوں میں یہ پیغام دے دیا کہ کادیانی ایسی سازشیں نہ رچائیں جس سے خود حکومت مصیبت میں مبتلا ہو جائے۔
لندن سے موصولہ حالیہ خبروں کے مطابق، ہندوستان میں اپنی ناکامی دیکھ کر کادیانیوں نے ایک بار پھر سازش رچائی کہ اس منصوبہ کو اپنے آقاؤں کی گود لندن میں پہلے انجام دیا جائے تا کہ یہاں سے جب ”قرآن نمائش“ کے پروگرام کی خبریں نشر ہوں گی تو مسلمانوں کی نمائندگی کا لندنی سرٹیفکٹ ہندوستان اور دیگر جمہوری ممالک میں بھی کام آئے گا اور ہندوستانی حکومت، برطانوی سرٹیفکٹ سے مرعوب ہو کر کم از کم آئندہ کے لئے اجازت تو دے ہی دے گی۔ مگر خدائی انتظام دیکھئے کہ لندن کے ’ڈیوز بری‘ شہر میں ۳ دسمبر ۲۰۱۱ء میں جیسے ہی کادیانیوں نے ”قرآن نمائش“ کا اعلان کیا، مسلمان مشتعل ہو گئے اور وہاں بھی مسلمانوں کے احتجاج کو منصفانہ احتجاج سمجھتے ہوئے حکومت برطانیہ نے کادیانیوں کے پروگرام پر روک لگا دی اس طرح ”باوا اعظم“ کی گود میں بھی ان کی ساری منصوبہ بندی خاک میں مل گئی۔ کادیانیوں نے کافی واویلا مچایا مگر حکومت نے ایک نہ سنی اور کھلی آنکھوں سے لندن کے غیر مسلم اور مسلمان یہ نظارہ دیکھتے رہے کہ کادیانی، مرزا غالب کے ایک شعر پر تضمین کرتے اور اپنی ذلت ورسوائی کے ترانے گاتے ہوئے اپنے اصل ہیڈ کوارٹر حیفا (اسرائیل) میں شکایت لے کر پہنچ گئے کہ:
نکلنا ہند سے ذلت میں سنتے آئے تھے لیکن تیرے لندن سے بھی بے آبرو ہوکر کہ ہم نکلے
حکومتی سطح پر کادیانیوں کے نمائشی پروگرام کو مسترد کرنے اور حکومت کے کسی بھی اہل کار کے شریک نہ ہونے سے دانشوروں کا یہ تجزیہ ہے کہ برٹش حکومت نے کادیانیوں کو مسلمانوں کا یا قرآن کا نمائندہ ماننے سے انکار کر دیا اور انصاف کا جو تقاضا تھا اس کو پورا کیا ورنہ اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا اور ہندوستانی حکومت جس مصیبت سے بچ نکلی تھی، کادیانی اسی مصیبت میں برطانوی حکومت کو مبتلا کر دیتے اور عالمی سطح پر یہ اس کے لئے درد سری بن جاتا۔
لیکن اس موقع سے ہندوستانی حکومت کے ارباب حل وعقد کو اپنے اُس اہل کار کا نوٹس ضرور لینا چاہئے جس نے دہلی میں کادیانیوں کے پروگرام میں شرکت کر کے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جیسے باوقار سرکاری پوسٹ کو داغدار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گذشتہ دنوں بنگال کی ممتا حکومت کو اسی قسم کے مرض یعنی عثمان غنی کادیانی کو چیئرمین بنانے کی غلطی سے کسی طرح نجات ملی تھی، ان پیش آمدہ حالات کی خطرناکی واضح ہونے کے باوجود کسی سرکاری اہل کار کا کادیانیوں کی سازش میں شریک ہونا حکومت کی جمہوریت پر داغ لگانے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ مذہب کے نام پر کسی فتنہ کو ہوا دینا جمہوری حکومتوں کو زیب نہیں دیتا۔
کادیانیوں کو بڑھاوا دینے والے عناصر اور کادیانیوں کو بھی ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر ان میں کچھ حق وصداقت ہے تو مرزا غلام کادیانی کی کتابوں، اور الہام، وحی کے نام پر اس کے خود ساختہ منتروں کی نمائش کریں۔ انگلش اور ہندی زبان میں ”اسلامی قربانی“ نامی اس ٹریکٹ کا رسم اجرا کریں جس میں مرزا کو عورت اور خدا کو نعوذ باللہ قوت رجولیت کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔ انگلش میں اس منتر کا ترجمہ کر کے ہمارے وزیر اعظم کو پیش کریں جس میں مرزا کادیانی کے حیض آنے، پھر حاملہ ہونے اور پھر بچہ جننے جیسی کتھا کہانی لکھی گئی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ انگریزوں کی چاپلوسی میں مرزا قادیانی نے پچاس ہزار سے زائد جو کتابیں لکھی ہیں اُن کا ہندی وانگلش میں ترجمہ کرا کے ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کو پیش کریں ۔ کیا بات ہے کہ مرزائی جن کتابوں کے نمائندے ہیں ان کا (Exhibition) نہیں کرتے اور جس کے وہ حقدار نہیں اس کے لئے بے تحاشہ روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیں؟
(نوٹ ) یادرہے کہ ڈیوزبری برطانیہ اور دہلی کے بعد برطانیہ کے ایک ہڈرسفیلڈ میں بھی قادیانیوں نے قرآن نمائش منعقد کرنا چاہی ۔ وہاں کی دینی قیادت کے بھر پور احتجاج سے وہاں بھی قادیانیوں پر پابندی لگ گئی ۔ والحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۱ تا ۲۳)
ایبٹ آباد یوٹیلٹی سٹورز نے شیزان کی مصنوعات اٹھوادیں
ختم نبوت یوتھ فورس کے گزشتہ اجلاس میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو یہ وارننگ دی گئی تھی کہ وہ شیزان کی سرپرستی ترک کردیں اور سٹوروں پر سے شیزان کی تمام مصنوعات چار اگست تک اٹھالیں ورنہ اس کے خلاف تحریک چلائی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو یوٹیلٹی سٹورز کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس پر بدھ تین اگست کو ایبٹ آباد کے اکثر سٹوروں سے شیزان کی مصنوعات اٹھائی گئی اور ایک خصوصی کریک ڈاؤن میں ان پر ان کی فروخت بند کر دی گئی ہے ۔ شہریوں نے اس کامیابی پر ختم نبوت یوتھ فورس کو مبارکباد پیش کی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۵۶)
چناب نگر (ربوہ) میں قادیانی ریاست کا خاتمہ کیا جائے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چناب نگر سابقہ ربوہ میں قادیانی ریاست کا خاتمہ کیا جائے اور ناکہ بندی کو بند کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چناب نگر میں بھی حکومتی رٹ قائم کی جائے اور پاکستانی قوانین نافذ کئے جائیں ۔ غیر مسلم قادیانیوں کی اجارہ داری ختم کی جائے اور چناب نگر میں دوسرے شہروں کی طرح مسلمانوں کو آنے جانے کی آزادی دی جائے اور قادیانی ناکہ بندی ختم کی جائے ۔ قادیانی کمانڈوز کی جگہ پولیس تعینات کی جائے اور عملی طور پر چناب نگر کو کھلا شہر بنایا جائے اور حکومت پلاٹوں دکانوں کی خرید و فروخت پر خود رجسٹری فیس وصول نہیں کرے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۴۹)
سانحہ کراچی ! جامع مسجد باب الرحمت اور دفتر ختم نبوت صحیح صورتحال
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
پاکستان بننے کے بعد کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر سائرہ مینشن بالمقابل ریڈیو پاکستان ، ایم . اے جناح روڈ پر قائم ہوا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران کراچی میں مجلس کے مبلغ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر تھے ۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ، شیعہ مکتب فکر کے معروف رہنما اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل سید مظفر علی شمسی، معروف احرار رہنما مجاہد ملت ماسٹر تاج الدین انصاری اسی دفتر سے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں گرفتار ہوئے تھے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں کامیابی کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا مفتی احمد الرحمن تھے۔ وہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے مہتمم اور عالمی مجلس کے مرکزی نائب امیر بھی تھے۔ تب شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا ماہنامہ ’بینات‘ کراچی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی سر پرستی کے باعث قیام کراچی میں تھا۔
مفتی صاحب مرحوم، حضرت لدھیانوی مرحوم کی زیر ہدایت سائرہ مینشن سے جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش کراچی میں دفتر منتقل کیا گیا۔ بعد میں اس کی عظیم الشان تعمیر ہوئی۔ جو اس وقت اپنی خوبصورتی اور محل وقوع کی اہمیت کے پیش نظر ہر گزرنے والے مسلمان کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔
یکم محرم کا وقوعہ قتل و دھرنا و گھیراؤ:
یکم محرم ۱۴۳۳ھ بروز اتوار ۲۷ نومبر ۲۰۱۱ء کو کالعدم سپاہ صحابہ کے کار پردازان کراچی المعروف اہل سنت والجماعت نے یوم سیدنا فاروق اعظم ؓ کے سلسلہ میں پرانی نمائش چورنگی کے راستہ اپنی ریلی تبت سینٹر لے جانا تھی۔ ان کے بعض لوگ جامع مسجد باب الرحمت کے پارکنگ میں جمع ہوئے۔ ریلی میں یہاں سے شریک ہوئے۔ ان کے بعض حضرات کا باہر مسجد کے گراؤنڈ میں آنا اور وہاں سے ریلی کے جلوس میں شریک ہونا شیعہ حضرات نے بھی نوٹ کیا۔ اس لئے کہ نصف صدی کے لگ بھگ اسی چورنگی کے قریب نشتر پارک میں شیعہ حضرات کی مسجد، امام بارگاہ ہے۔ آغاز محرم سے وہاں ان کی اپنے عقیدہ کے مطابق بھر پور سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ پرانی نمائش کی چورنگی پر محرم کے دس دنوں میں شیعہ مسلک کی سرگرمیوں کا عروج ہوتا ہے۔ ربیع الاوّل کے بارہ دنوں میں سنی تحریک کے حضرات اس چورنگی کو اپنی سرگرمیوں کے لئے مختص کرتے ہیں۔ ویسے ہر سیاسی و مذہبی تہوار و پروگرام کے لئے یہ چورنگی مرکز کا کام دیتی ہے۔ جب سے اس چورنگی کی بغل میں مسجد باب الرحمت اور دفتر ختم نبوت کا قیام ہوا ہے۔ فرقہ واریت کے حوالہ سے کبھی یہاں کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوا۔
یکم محرم الحرام یوم فاروق اعظم ؓ کا جلوس اس چورنگی پر پہنچا تو راستہ میں پہلے سے شیعہ حضرات نے اپنی سبیلیں لگائی ہوئی تھیں۔ ان کے وہاں کیمپ بھی موجود تھے۔ چورنگی پر نعرہ بازی ہوئی۔ فریقین نے ایک دوسرے کو ترچھی نظروں سے دیکھا۔ لیکن اتنے میں ریلی آگے بڑھ گئی۔ سبیلوں و کیمپوں پر شیعہ حضرات کا موجود ہونا، ان کی سرگرمیوں کو نہ روکنا اور نہ ہی جلوس کا روٹ تبدیل کرنا، فریقین کو اجازت دے دینا لگتا ہے کہ نادیدہ قوتیں فریقین کے کندھوں کو تھپتھپارہی تھیں۔
تبت سینٹر جا کر اہل سنت والجماعت کا جلوس اختتام پذیر ہوا۔ قیادت و کارکن مختلف جہتوں سے چل دیئے۔ کچھ شرکاء کی واپسی اسی راستہ سے ہوئی۔ کسی سبیل پر شرکاء جلوس کے پسماندگان اور سبیل پر متعین شیعہ کارکنوں کی توتکار، منہ ماری کے دوران کسی نے فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجہ میں دو شیعہ کارکن موقع پر جان کی بازی ہار گئے۔ بھگدڑ واقع ہوئی۔ جلوس کے بعض پسماندگان نے مسجد باب الرحمت کا رخ کیا۔ خود تو آئے اور ہمارے لئے مفت کی آفت ہمراہ لائے۔ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھے بھی لے ڈوبیں گے“ کا مصداق۔ عصر کا وقت تھا۔ مسجد باب الرحمت میں حضرت لدھیانوی کے زمانہ سے اتوار کے روز عصر کے بعد مجلس ذکر ہوتی ہے۔ مولانا سعید احمد جلالپوری کے زمانہ سے بھی یہ معمول جاری رہا۔ آج کل مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ امیر عالمی مجلس کراچی، مجلس ذکر کے معمولات کو پورا کراتے ہیں۔ عصر کی نماز کھڑی تھی۔ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے منتظمین، مسجد کے نمازیوں اور مجلس ذکر کے شرکاء کو قطعاً علم نہ تھا کہ باہر کون آیا، کون گیا۔ پارکنگ میں کون آئے تھے، کون گئے تھے۔ اب باہر کیا ہوا ہے؟ نماز کے دوران شرکاء جلوس کے پسماندگان کا دگڑ دگڑ کرتے ہوئے مسجد میں آنا۔ اس سے دفتر کے ساتھیوں اور نمازیوں کو خیال ہوا کہ باہر کچھ ہوا ہے۔ کیا ہوا ہے؟ قطعاً علم نہ ہوسکا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلام پھیرتے ہی مسجد کے دروازے پیٹے گئے۔ معلوم ہوا کہ نماز کے دوران وضوخانہ کا جو دروازہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے وہ بھی کسی نے اندر سے بند کر دیا ہے۔ اسے کھولا گیا تو رینجرز کے اہلکار پندرہ بیس (یا کم وبیش) اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے آتے ہی دفتر کے ساتھیوں، نمازیوں اور ذاکرین کو علیحدہ ایک سائیڈ پر کر دیا اور آؤٹ سائیڈ سے آنے والے حضرات کو علیحدہ ایک سائیڈ پر بٹھا دیا۔ بعض موجود حضرات کا کہنا ہے۔ نو وارد یعنی جلوس کے پسماندگان میں سے بعض کو مارا گیا۔ تشدد ہوا، ہاتھ اور آنکھیں باندھی گئیں۔ ان سے اسلحہ برآمد کیا ۔ (جتنے منہ اتنی باتیں۔ صحیح صورتحال اللہ تعالیٰ جانتے ہیں) اتنے میں مسجد کے باہر شیعہ حضرات نے گھیراؤ کر لیا۔ سڑک والی دیوار توڑی گئی۔ مسجد کا گھیراؤ کیا گیا۔ پتھراؤ ہوا۔ شیشے ٹوٹے۔ دروازے، کھڑکیوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ نقصان پہنچایا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمارے قاتل اندر ہیں۔ ان کو ہمارے سپرد کرو۔ خدا نہ کرے اگر وہ اندر داخل ہوجاتے تو اتنا نقصان ہوتا کہ اس کے تصور سے بھی روح کانپتی ہے۔
آج ملتان دفتر ختم نبوت میں نماز کے دوران فقیر (اللہ وسایا) اتفاق سے موبائل بند کرنا بھول گیا۔ مغرب کی نماز میں موبائل سے کال آئی۔ فقیر نے کاٹ دی۔ دوسری، تیسری، فقیر کاٹتا رہا۔ بڑی بے چینی سے نماز پڑھی گئی۔ سلام پھیرتے ہی دیکھا تو مولانا محمد اعجاز کا فون تھا۔ مسجد کے ہال سے باہر صحن میں آیا تو ان سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے صورتحال بتائی۔ فقیر نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کو فون کیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جناب قاضی حسین احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی کو فون کر کے صورتحال بتائی۔ اب فون بند کیا تو جوابات ملنے شروع ہو گئے۔ مولانا ثانی نے بتایا کہ مولانا عبدالغفور حیدری سے بات ہو گئی ہے وہ ائیر پورٹ کراچی سے شہر آ رہے ہیں۔ ان کی آئی جی سندھ، ڈی آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی سندھ سے بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے صورتحال کو سنبھالنے کا عندیہ دیا ہے اور یہ کہ آئی جی صاحب دفتر ختم نبوت کراچی کے باہر پہنچ گئے ہیں۔
اتنے میں یکے بعد دیگرے مولانا فضل الرحمن کے تین فون آئے۔ آپ مسلسل ملتان، فقیر سے، خانقاہ شریف، کراچی بنوری ٹاؤن سب حضرات سے رابطہ میں رہے۔ سب سے پہلے آپ نے گورنر سندھ کو فون کیا۔ آپ کے فون کے چند منٹ بعد پولیس و رینجرز نے شیلنگ کر کے مظاہرین کو دوڑانا شروع کر دیا۔ جلوس کے پسماندگان کو علیحدہ گاڑیوں میں تھانہ روانہ کیا گیا۔ دفتر کے ساتھیوں، نمازیوں، مجلس ذکر کے شرکاء اور دفتر کے فیملی کوارٹرز میں رہائش پذیر اہل خانہ کو ایک ساتھ دوسری گاڑی میں روانہ کیا گیا۔
مولانا امداد اللہ مدرس جامعۃ العلوم الاسلامیہ، قاری محمد اقبال، سید حماد اللہ شاہ رہنمائے جمعیت علماء اسلام، مولانا قاضی احسان احمد، رانا محمد انور، محترم جناب منظور احمد میئو برابر صورتحال سے باخبر تھے۔ انتظامیہ سے رابطہ، باہر کے حضرات کو اطلاعات دیتے رہے۔ مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری کی بروقت کرم فرمائی و سرپرستی سے پیش آمدہ ناگہانی مصیبت سے بال بال اللہ رب العزت نے بچا لیا کہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ اتنے میں جناب قاضی حسین احمد کا فون آ گیا کہ جناب ساجد نقوی تو ملک سے باہر ہیں۔ البتہ جناب وزارت حسین نقوی سے بات ہو گئی ہے۔ وہ اس پر سخت رنجیدہ خاطر ہیں کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم تو مشترکہ ہے۔ اسے کیوں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اپنی کراچی کی قیادت سے بات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
محترم وزارت حسین نقوی بھکر کے ہیں۔ جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی نے بھی ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کراچی بات کر رہا ہوں۔ اطمینان رکھیں۔ دفتر ختم نبوت کی نگہداشت کے لئے دل و جان سے کوشاں ہوں۔ آٹھ بجے کے قریب دفتر کے ساتھی، نمازی و شرکاء مجلس ذکر کو دوسری سائیڈ سے تھانہ لے جایا گیا۔ دفتر کا ہال، دفتر کا کمرہ فیملی کوارٹرز کو تالے لگا کر ساتھی دفتر سے رخصت ہوئے۔ اس وقت دفتر میں رینجرز والے تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو آپ نے صوبہ سندھ کی قیادت سے بات کی کہ ناگہانی باہر سے آنے والے اور دفتر میں موجود، نمازی و ذاکرین دونوں کی پوزیشن جدا جدا ہے۔ جن جن حضرات پر آپ کو شبہ ہو ہم قطعاً ان کی سفارش نہیں کرتے۔ چاہے وہ ہمارے نمازی ساتھی یا دفتر کا عملہ بھی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر یہ بے گناہ ہیں تو اندھے کی لاٹھی مشکوک و بے گناہ سب کو برابر نہ رکھیں۔ اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ جن جن سول، یا رینجرز، پولیس یا صوبائی انتظامیہ کے آفیسران سے جس کی بات ہوئی۔ سب آفیسران نے یہ کہا کہ دفتر، اس کا عملہ، نمازی و ذاکرین بے قصور ہیں۔ ان کو ہم نے گرفتار نہیں کیا۔ صرف حفاظتی نقطۂ نظر سے حصار میں لیا ہے۔ قصہ کو تاہ کہ رات بارہ بجے تمام ہمارے ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔
لیکن یہ صدمہ کبھی نہ بھولے گا کہ ہمارے اہل خانہ، معصوم دودھ پینے والے بچوں، نمازیوں اور دفتر کے عملہ کو جب آزاد کیا جا رہا تھا تو باہر سے ایک صاحب (شرکاء جلوس) نے پولیس افسران سے واویلا کیا کہ یا تو دوسروں کو بھی رہا کرو۔ ورنہ ان کو بھی رہا نہ کرو۔ ان کے نزدیک گھر میں بیٹھے ہوئے غیر متعلقہ حضرات اور اس شور و شر سے جان بچا کر گھس آنے والے دونوں کو ایک ترازو میں تولنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان کا کیا شکوہ کرنا ہے:
اللہ تعالیٰ نے ہماری اس بلائے ناگہانی سے جان چھڑا دی۔ رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد کہیں جا کر سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم تو ایک ایک سیکنڈ تمام کارروائی کی سرپرستی فرما رہے تھے۔ امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم سے بھی مسلسل رابطہ رہا۔ آپ بھی برابر دعاؤں سے ہماری سرپرستی فرما رہے تھے۔
۲ محرم الحرام، ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۱ء:
جمعیت علماء اسلام کراچی کے رہنما مولانا قاری محمد عثمان، جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے مولانا امداد اللہ، مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا محمد اعجاز، مولانا قاضی احسان احمد، قاری محمد اقبال، راؤ منظور احمد ایڈووکیٹ، جناب رانا محمد انور، جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں جمع ہوئے۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کے صاحبزادہ مولانا محمد سعید اور دیگر حضرات بھی شریک مشاورت ہوئے۔ طے ہوا کہ:
- ۱...... انتظامیہ سے ملاقاتیں کر کے صحیح صورتحال سے انہیں باخبر کیا جائے۔
- ۲...... دفتر ختم نبوت پر رینجرز کا قبضہ ہے۔ وہاں پر جا کر اپنے دفتری معمولات کو شروع کیا جائے۔
- ۳...... گورنر، وزیر اعلیٰ، آئی جی، ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی، کمشنر، وزیر داخلہ، ہوم سیکرٹری اور دیگر حضرات سے ملاقات کا وقت
لیا جائے۔
- ۴...... کراچی کی شیعہ قیادت کو بھی صحیح صورتحال سے باخبر کیا جائے۔
- ۵...... چنانچہ ان متذکرہ حضرات سے ملاقات کے لئے محضر نامہ تیار کیا گیا۔
کمشنر صاحب سے اسی دن پہلے وقت ملاقات ہوگئی۔ کمشنر صاحب نے وفد کے مطالبات کو ہمدردی سے سنا اور تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کا وعدہ کیا۔ نیز انہوں نے کہا کہ ضلعی، ڈویژنل، و پراونشل ہر میٹنگ میں یہی دہرایا گیا کہ اس وقوعہ سے ذرہ برابر مجلس تحفظ ختم نبوت، مسجد اور نمازیوں کا قطعاً تعلق نہیں ہے۔ اندر داخل ہونے والے یا باہر گھیراؤ کرنے والے دوسرے لوگ تھے۔ مجلس کا اس میں قطعاً دخل نہیں۔ کمشنر صاحب نے فرمایا کہ شام کو آپ دفتر میں جائیں۔ دفتر کا تمام نظم سنبھال لیں۔ اس وقت مقتولین کا جنازہ اس چورنگی پر ہورہا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ سخت دباؤ ہے۔ اس سے ہم فارغ ہوں تو دفتر آپ کے سپرد ہوجائے گا۔ شام کو محترم قاری محمد اقبال، راؤ منظور احمد ایڈووکیٹ، جناب سید انوار الحسن شاہ دفتر گئے۔ تو رینجرز کا لشکر دفتر میں براجمان۔ دفتر کے تالے کاٹے ہوئے۔ فیملی کوارٹرز کے تالے کاٹے ہوئے۔ سیف ٹوٹے ہوئے۔ ہر گھر سے زیورات و نقدی، دفتر سے سیف توڑ کر جو طوفان نگہبانوں (رینجرز) نے قائم کیا ہوا تھا۔ الامان۔ غرض جو محافظ تھے انہوں نے جو حشر کیا وہ بہت ہی افسوسناک تھا۔ اب تازہ صورتحال، مطالبات اور نقصانات کی تفصیل مرتب کی گئی۔ ان میں سے آئی جی صاحب کو جو محضر نامہ پیش کیا گیا۔ اس میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔ اس کی نقل پیش خدمت ہے۔
گرامی قدر محترم جناب آئی جی سندھ پولیس
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
معروض آنکہ علماء کرام کا یہ نمائندہ وفد جو آج مؤرخہ ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۱ء بروز پیر آپ سے ملاقات کر رہا ہے۔ اس ملاقات کا پس منظر گزشتہ روز دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت متصل جامع مسجد باب الرحمت واقع پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ پر رونما ہونے والا دل سوز، رقت آمیز اور انتہائی درد ناک واقعہ ہے جس کی تفصیلات سے آنجناب بخوبی واقف ہو چکے ہیں، تاہم وفد کا آپ کی خدمت میں پیش ہونا ایک تو اس غرض سے ہے کہ ہم یعنی علماء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے سامنے اپنی پوزیشن اور جماعتی اصول اور ترتیب کو واضح کریں اور آنجناب کے توسط سے اپنے جائز حقوق اور مطالبات پورے کئے جانے کی بھر پور درخواست کریں۔
گزارش یہ ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملت اسلامیہ کا وہ نمائندہ اجتماعی، اتفاقی اور غیر متنازعہ پلیٹ فارم ہے جو ایک عرصہ سے امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت، عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ پورا کر رہا ہے، عرض یہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم کسی ایک مسلک یا گروہ کی ترجمانی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ اور اسلامیان پاکستان کی تحفظ ناموس رسالت سے متعلق رہنمائی کرتا ہے، جب سے فتنہ قادیانیت نے سر اٹھایا امت کے جید ترین اسکالر میدان میں آئے اور عوام کو آنحضرت ﷺ کی عزت کا کیس سمجھایا۔ اس کے لیے مولانا انور شاہ کشمیری ہوں یا مولانا ثناء اللہ امرتسری، شیعہ رہنما علی الحائری ہوں، یا مولانا احمد رضا خان بریلوی ہوں یا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ان تمام اکابرین نے ختم نبوت کے تحفظ کی صدا کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا۔
اس سے آگے چلیں ۱۹۵۳ء / ۱۹۷۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت میں بھی آپ کو تمام مکاتب فکر ایک جان نظر آئیں گے۔ سید اظہر حسن زیدی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، بریلوی مکتبہ فکر کے مولانا سید محمد احمد قادری، شیعہ مکتبہ فکر کے مظفر علی شمسی، علی غضنفر کراروی، مولانا عبداللہ روپڑی، مولانا علامہ احسان الہی ظہیر، مفتی جعفر حسین، سید محمد دہلوی اور مولانا شاہ احمد نورانی، آغا مرتضیٰ حسن پویا، پروفیسر غفور احمد، دیگر جماعتوں کے رہنماؤں پر نظر ڈالتے جائیں اور ان کی اسی پلیٹ فارم پر زیارت کرتے چلے جائیں، آج بھی جب کہ ہم اور آپ ۲۰۱۱ء سے گزر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن، سید منور حسن، مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد میر، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، علامہ محمد انس نورانی، علامہ ساجد علی نقوی، ہدایت حسن نجفی اور دیگر امت کے زعما اسی پلیٹ فارم پر جمع ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے نمائندہ پلیٹ فارم کو اس طرح نقصان پہنچایا گیا، واضح رہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کسی قسم کی ریلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
محمد اعجاز مصطفیٰ قاری محمد عثمان امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی امیر جمعیت علماء اسلام کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دفتر اور گھروں میں نقصانات کا تخمینہ
قاضی احسان احمد کے گھر سے :
- ۱...... گھر کی الماریاں اور دروازوں کو بری طرح توڑا گیا ۲...... گولڈن گھڑی ، پرفیوم وغیرہ ۔
- ۳...... طلائی زیورات وزن تقریباً، 11 تولہ سونا۔ ۴...... خشک میوہ جات جو ہاتھ لگ گیا۔
انور رانا کے گھر سے :
- ۱...... شہداء کے ورثا کے لیے امانتیں اور ہفت روزہ رسید بک کے ایک لاکھ اکہتر ہزار روپے ۔ (=/1,71000)
- ۲...... ایک عدد سیٹیزن گھڑی لیڈیز ، ایک عدد سیٹیزن گھڑی جینٹس ، ۳...... چاندی کی انگوٹھی ایک عدد۔
سید انوار الحسن کے :
- ۱...... 30 بور پستول لائسنس یافتہ ۔ ۲...... نقد رقم ، دولاکھ بیس ہزار روپے ( 2,20000)
- ۳...... موبائل فون نوکیا ڈبل سم C-2 اور کاغذات ۔
کمال شاہ کے :
- ۱...... تیس ہزار روپے کیش (30,000) ۲...... چھ جوڑے کپڑے ۔ ۳...... موبائل چارجر
مولانا اعجاز کے :
ایک عدد لیپ ٹاپ core i5
اللہ وارث کے :
- ۱...... زیورات (2 تولہ سونا) ۲...... نقدی پندرہ ہزار روپے ( 15000) ۳...... موبائل فون
مولانا توصیف احمد کے :
- ۱...... نیو ہینڈ بیگ ۲...... ایروسافٹ کے جوتے ۳...... شہد کی بوتل ۴...... موبائل چارجر
۳ محرم ۲۹ نومبر ۲۰۱۱ء :
آج مختلف افسران سے ملاقاتیں رہیں۔ دفتر کھل گیا۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے ایس ایس پی ، ڈی آئی جی ، رینجر آفیسران آئے۔ انہوں نے پورے دفتر کا جائزہ لیا۔ آج تمام رینجر پولیس دفتر سے باہر چلی گئیں ۔ مین گیٹ پر موبائل کھڑی کی گئیں یا چھت پر چند اہل کار موجود رہے۔ ایف آئی آر درج کرانے کے لئے افسران سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ وہ ایف آئی آر کا رجسٹر لے کر دفتر آئے۔ جب ہماری طرف سے اس نقصان کی تمام تر ذمہ داری رینجرز اور پولیس پر ڈالی گئی تو وہ منقار زیر پر ہوئے ۔ ایف آئی آر میں انہوں نے پوری پولیس مہارت سے کام لیا۔ اللہ رب العزت ترس فرمائیں ۔ آج کے روز طے ہوا کہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد جا کر اسلام آباد مولانا فضل الرحمان کو ملیں جو آپ نے تعاون فرمایا اس پر شکریہ ادا کریں۔ مزید پوری صورتحال سے آپ کو باخبر کیا جائے ۔ چنانچہ آج شام صاحبزادہ صاحب کی مولانا فضل الرحمان مدظلہ سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نے صوبائی حکومت سے مذاکرات کی تفصیلات سے محترم صاحبزادہ صاحب کو آگاہ فرمایا۔ نیز فرمایا کہ میں پہلی فرصت میں جا کر کراچی دفتر پریس کانفرنس کروں گا اور معاملہ کو آبرومندانہ طور پر حل کریں گے۔ آج رات گئے فقیر نے ملتان سے کراچی کا سفر کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴؍محرم ۳۰؍نومبر ۲۰۱۱ء:
آج صبح مولانا صاحبزادہ عزیز احمد بھی اسلام آباد سے کراچی تشریف لائے۔ محترم رانا محمد انور اور فقیر راقم نے آپ کو ائیر پورٹ سے لیا۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ گئے۔ مخدوم محترم مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا امداد اللہ، راؤ منظور احمد ایڈووکیٹ، قاری محمد اقبال، مولانا محمد سعید بھی تشریف لائے۔ ایف آئی آر میں پولیس کے دجل کا کیا حل ہو۔ ایس ایچ او، ڈی ایس پی صاحب بھی تشریف لائے۔ عصر تک مشاورت جاری رہی۔ آج طے ہوا کہ کل دفتر میں اپنے مسلک کے تمام اہم دینی مدارس کے نمائندگان کا اجلاس طلب کیا جائے۔ گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک اجلاس ہو۔ تین بجے پریس کانفرنس رکھی جائے۔ عصر کے بعد دفتر حاضری ہوئی۔ عشاء تک قیام رہا۔ شہر کی قیادت تشریف لاتی رہی۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ محترم صاحبزادہ عزیز احمد نے جامعہ اسلامیہ کلفٹن مفتی ابو ہریرہ کے ہاں اور فقیر نے جامع مسجد خاتم النبیین جامعہ یوسفیہ میں مولانا محمد طیب لدھیانوی کے ہاں جا کر قیام کرنا تھا۔ جو پہلے سے طے تھا۔ چنانچہ ایسے ہوا۔
۵؍محرم، یکم دسمبر ۲۰۱۱ء:
مولانا محمد طیب لدھیانوی، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کی سرپرستی میں فقیر دفتر حاضر ہوا تو مولانا قاری محمد عثمان، مولانا امداد اللہ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، رانا محمد انور، مولانا عبید اللہ خالد جامعہ فاروقیہ، مولانا محمد اعجاز، مولانا صاحبزادہ محمد سعید تشریف لاچکے تھے۔
معلوم ہوا کہ وزیر داخلہ سندھ نے ملاقات کے لئے ساڑھے گیارہ بجے دن بلایا ہے۔ چنانچہ متذکرہ حضرات ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔
مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی اور فقیر راقم علماء میٹنگ میں شریک ہوئے۔ ہر چند کہ گزشتہ روز عشاء کے قریب صرف فون پر اطلاع کی گئی تھی۔ کوئی دعوت و ایجنڈا نہ بھجوایا جاسکا۔ لیکن تمام اہم دینی مدارس کے نمائندگان اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس سے بہت ہی حوصلہ ہوا۔ طے ہوا کہ ۱۰؍محرم کے بعد بڑا، بھرپور تمام مکاتب فکر کا نمائندہ اجلاس بلایا جائے۔ اتنے میں وزیر داخلہ سے ملاقات کے لئے جانے والا وفد بھی تشریف لے آیا۔ انہوں نے بھی مثبت ملاقات کے نتائج سے باخبر کیا۔ ظہر کی نماز تک اجلاس جاری رہا۔
ظہر کے بعد رینجرز و پولیس کی ہائی کمان ملاقات کے لئے دفتر آئی۔ ان کا اصرار تھا کہ پریس کانفرنس ملتوی کی جائے۔ حالات میں تلخی ہے۔ امن کا تقاضا ہے۔ ہمارے حضرات نے ان پر واضح کیا کہ اطمینان رکھیں۔ پریس کانفرنس تو کسی قیمت پر ملتوی نہ ہوگی۔ ہم اعلان سے قبل تو بار بار سوچتے ہیں کہ یہ اعلان کریں یا نہ کریں۔ لیکن جب اعلان ہو جائے تو ملتوی کرنا وہ کوئی اور ہوگا۔ ہم سے اس کی توقع نہ رکھیں۔ پریس کانفرنس ہوئی۔ اس کا متن یہ ہے۔
پریس کانفرنس کا متن:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد، جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر قاری محمد عثمان، مولانا عبد الکریم عابد، مولانا اقبال اللہ، قاری محمد اقبال۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ ادا کرتے ہوئے دنیا بھر میں فتنہ قادیانیت کے خلاف برسر پیکار ہے۔ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کی تائید و حمایت سے نہ صرف ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو تمام مکاتب فکر کے زعماء نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا بلکہ آج تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام مکاتب فکر کی تائید سے اس عظیم مشن کی تکمیل کے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میدان عمل میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا فرقہ واریت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے ہر دور اور ہمیشہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے اسی جذبہ سے جدوجہد کی ہے، جس جذبہ سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک چلائی جارہی ہے۔
یکم محرم کو کراچی میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لئے باب رحمت مسجد پر شر پسندوں اور ملک دشمن عناصر نے حملہ کر کے نہ صرف مسجد کے تقدس کو پامال کیا بلکہ تمام دفتری عملہ اور اتوار کے روز کی حسب معمول مجلس ذکر کے درجنوں لوگوں دفتر میں موجود فیملی گھروں کو محصور کر رکھا جس سے بہت بڑے خون خرابے کا اندیشہ تھا کہ فوری طور پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے حالات پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے، جس کے بعد رات ۸ بجے سے پوری مسجد اور دفتر ختم نبوت کا کنٹرول رینجرز اور پولیس نے سنبھال کر ختم نبوت کے پورے دفتری عملہ کو بشمول فیملی خواتین اور بچوں کے درخشاں تھانہ لے جا کر بند کر دیا، بعد ازاں مذاکرات کے بعد چونکہ مجلس ختم نبوت کا ایسے کسی بھی واقعہ سے تعلق نہیں تھا پورے عملہ فیملی اور مجلس ذکر کے شرکاء کو رہا کر دیا گیا۔ لہٰذا آج اس سانحہ سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کے لئے کراچی کے اکابر علماء کرام کا ایک نمائندہ اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر صاحبزادہ عزیز احمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ ۲؍ دسمبر کو کراچی بھر میں سانحہ نمائش کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا۔ ائمہ مساجد اور خطباء نماز جمعہ کے اجتماعات میں مسجد باب الرحمت کے تقدس کی پامالی اور جلاؤ گھیراؤ کی مذمتی قراردادیں منظور کرائیں گے۔
اجلاس میں اس سانحہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام سے پُر امن رہنے کی اپیل کی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ نمائش کی عدالتی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ملک اور اسلام دشمن عناصر شہر کے امن کو تباہ کرنے کی ناپاک سازش نہ کر سکیں۔ اجلاس میں مسجد کے تقدس کو پامال کرنے، جلاؤ گھیراؤ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دفتر ختم نبوت میں کئے گئے نقصانات کا ازالہ کرتے ہوئے درج ذیل مطالبات کو فوری منظور کیا جائے۔ ورنہ تمام مکاتب فکر کا اجلاس طلب کر کے آئندہ کا لائحہ عمل ہماری مجبوری ہو گی۔
مطالبات:
- ۱...... اس سانحہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کر کے شرپسند عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
- ۲...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واقع پرانی نمائش کے احاطے کے ارد گرد مضبوط اونچی دیوار لگا کر دی جائے۔
- ۳...... بوقت سانحہ دفتر میں موجود عملہ اور محفل ذکر میں شریک احباب کے مالی نقصان کی فی الفور تلافی کی جائے۔
- ۴...... مستقل بنیادوں پر ہمہ وقتی مکمل سیکورٹی کا انتظام خصوصاً محرم اور ربیع الاول کی کسی بھی ریلی جلسہ یا جلوس کی صورت میں کیا جائے۔
- ۵...... دفتر ختم نبوت کے عملہ اور مجلس ذکر میں موجود افراد سے رینجرز نے موبائل فون لے لیے تھے وہ تمام واپس کروائے جائیں۔
- ۶...... دفتر کی پارکنگ میں موجود جن چار گاڑیوں اور ۴۲ موٹر سائیکلوں کو جلایا گیا، ان کا معاوضہ ادا کیا جائے۔
- ۷...... ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۱ء یکم محرم ۱۴۳۳ھ کو انتظامیہ نے عملہ کو دفتر ختم نبوت سے بے دخل کیا، اور مسجد سمیت پورے دفتر اور فیملی گھروں کو
اپنے کنٹرول میں لے لیا اور اس کے بعد دفتر ختم نبوت کے مرکزی ہال کے دروازے کا تالہ توڑا اور اندر کے دروازوں، گھروں کے دروازوں اور گھر میں موجود الماریاں اور بکسے وغیرہ توڑ کر ان میں سے نقدی، لیپ ٹاپ، قیمتی اشیاء، زیورات اٹھا لیے گئے، تمام نقصانات کا تدارک کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸....... ۲/ دسمبر جمعہ کو خطباء میں اس شرپسندی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے اور فرقہ واریت سے شہر کو بچانے کی اہمیت پر خطاب کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس سے کچھ وقت پہلے شیعہ قیادت کا فون آیا کہ ہم اس واقعہ پر اظہار ہمدردی کے لئے دفتر آنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سانحہ سے اظہار لاتعلقی کرتے ہیں۔ گھیراؤ کرنے والے شرپسند تھے۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ان حضرات کا اس ہمدردی پر شکریہ ادا کیا گیا۔
آج کے دن بعض اخبارات میں اہل سنت جماعت کی طرف سے اشتہار شائع ہوا کہ جینا ہوگا، مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا، دھرنا ہوگا۔ ۲/ دسمبر جمعہ کو اس پرانی نمائش چورنگی پر دھرنا کا اعلان تھا۔ پریس کانفرنس کے بعد جناب مولانا محمد رضوان، حافظ محمد عمران برادران تشریف لائے کہ ابھی شیعہ حضرات کے مقرر نے سٹیج پر اعلان کیا ہے۔ ہم نے خود سنا ہے کہ آدمی بھی ہمارے مرے ہیں۔ وہ قاتل ہیں۔ دھرنا بھی وہی دینا چاہتے ہیں۔ تو ہم تیار ہیں۔ اب دھمکیاں نہ دیں۔ کل پوری تیاری کر کے آئیں۔ ہم بھی وہاں ان کا انتظار کریں گے۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ اب وہ ضرور آئیں۔ یہ دونوں بھائی بہت پریشان کہ ادھر دھرنے کا اعلان ، ادھر تیار رہنے کا اعلان۔ کل کیا ہوگا۔ دفتر کی سیکورٹی کے لئے فکر کرنا چاہئے۔ فقیر نے مسکرا کر کہا کہ اطمینان رکھیں۔ کچھ نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ فقیر نے عرض کیا کہ رات کسی ایک آفیسر کا (اہل سنت کی قیادت کو) فون آئے گا۔ ادھر دھرنا ملتوی ہو جائے گا۔ نہ نو من تیل ہوگا۔ نہ رادھا ناچے گی۔ چنانچہ اگلے دن یہی ہوا کہ دھرنا ملتوی ہو گیا۔ جو عزیز محض دین کے حوالہ سے آئے اور گرفتار ہوئے ، بے قصور ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو رہائی نصیب فرمائے۔ جو قصور وار ہیں، حکومت کا فرض بنتا ہے کہ انہیں قانون کے سپرد کریں، کسی پر زیادتی نہ ہونی چاہئے۔
یکم /دسمبر شام تک جن حضرات کی وجہ سے ہم ابتلاء کی اس بھٹی سے گزرے ان کی طرف سے رسمی ہمدردی کے دو بول بھی نہیں سنے۔ جیتے رہو شیر دل بہادر ایسے کیا کرتے ہیں۔ ۲/ دسمبر کی صبح ایک دوست کا فون آیا۔ اس پر فقیر نے یہ شکوہ نوٹ کرایا۔ اس کے بعد کسی کا ہمارے کسی بزرگ کو فون آئے تو وہ بعد از مرگ واویلا والی بات ہوگی۔ وہ اور ہوں گے جن کو تم سے امید وفا ہوگی۔
فقیر ۲/محرم الحرام کو واپس آ گیا۔ صاحبزادہ صاحب بھی واپس تشریف لے گئے ۔ ۷/ محرم کو گورنر سندھ نے ملاقات کے لئے بلایا۔ رفقاء گئے۔ انہوں نے وعدے فرمائے ۔ کمشنر صاحب نقصانات کے تخمینہ کی تعیین کے لئے تشریف لائے ۔ آگے جو اللہ رب العزت کو منظور ہوگا۔ اس تحریر کے وقت آج ۸/ محرم الحرام ہے۔ ۹، ۱۰/محرم درمیان میں باقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ پورے ملک سمیت کراچی کو فرقہ واریت کی لعنت سے محفوظ فرمائیں۔
پیشگی دل میں جو خدشہ ہے عرض کئے دیتا ہوں کہ وفاقی وزیر داخلہ جناب رحمان ملک جہاں تخریب کاری ہو فوراً کالعدم لشکر جھنگوی یا کالعدم سپاہ صحابہ پر الزام دھر دیتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ کو انہوں نے غیر ملکی سازش قرار دیا ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ نادیدہ قوتوں نے اب پھر دونوں پہلوانوں کو میدان میں اترنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ خاکم بدہن۔ اللہ تعالیٰ فرقہ واریت کے عفریت سے ہمارے ملک کی حفاظت فرمائیں۔
لیجئے! یہاں تک ۹/ محرم کو پروف پڑھ چکا تھا تو جھنگ سے ایک افسوسناک اطلاع ملی۔ ایران کا امریکی ڈرون کو گرا دینا، برطانیہ و ایران کا ایک دوسرے کے سفیروں کو باہر نکال کرنا۔ سعودیہ کے حضرات کا مختلف لوگوں کو بلا کر میٹنگز کرنا وغیرہ۔ کڑیوں کو ملایا جائے۔ بلوچستان کی صورتحال کو سامنے رکھا جائے۔ پاکستان میں میموسکینڈل سے توجہ ہٹانے کے لئے نیا ایشو درکار ہے۔ غرض اندرون و بیرون کے حالات غمازی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک عزیز کو نئی آفت سے بچا دیں۔ وما ذالک علی الله بعزیز!
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قارئین کرام ! آپ کا ہمارا دین کا رشتہ ہے۔ ساری زندگی بزرگوں سے یہی پڑھا ہے کہ جسے حق سمجھا علی الاعلان علی رغم الانف الاعداء ! برملا کہا اور اب بھی عرض کرتا ہوں کہ گولی، اور گالی مسئلہ کا حل نہیں۔ ٹھنڈے دل سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ اسی میں ملک وملت کی خیر خواہی مضمر ہے۔ اوّل و آخر، دوست و دشمن، اپنے پرائے، سب سے یہی درخواست ہے۔ سمجھ آجائے تو شکریہ ! ناسمجھ آئے تو دیوار پر مار دی جائے۔ ہم رہیں نہ رہیں اللہ تعالیٰ ملک عزیز کی حفاظت فرمائیں۔ آمین ۔ بجاہ النبی الکریم!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۴ تا ۱۱، ماہنامہ بینات وغیرہ)
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز پر حملے کے خلاف شدید احتجاج
حیدرآباد ، میر پور خاص، سکھر، ٹنڈو آدم ( بیورو رپورٹس ، نامہ نگار ، پ ر ) باب الرحمت پر حملہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا سندھ بھر میں زبردست احتجاج ، قادیانی لابی ملوث ہے ، سازش بے نقاب کر کے اصل ملزمان گرفتار کئے جائیں ، مجلس تحفظ ختم نبوت ناموس رسالت کے مشن پر گامزن پرامن مسلکی اختلافات سے الگ جماعت ہے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر جامع مسجد باب الرحمت نمائش چورنگی پر حملے توڑ پھوڑ پر سندھ بھر میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے، اس سلسلے میں حیدرآباد، ٹنڈوآدم ، میر پور خاص ، ٹنڈوالہ یار ، کوٹری ، سجاول ، لاڑکانہ، نواب شاہ ، سانگھڑ ، گمبٹ ، سکھر، پنوعاقل سمیت سندھ بھر میں علامہ احمد میاں حمادی ، مولانا عبدالغفور قاسمی، سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا محمد علی صدیقی ، طاہر مکی، قاری محمد امجد مدنی ، مفتی امان بلوچ ، مولانا محمد راشد مدنی، مفتی عرفان ، مولانا راشد حبیب ، مولانا حفیظ الرحمٰن فیض ، مولانا عبدالغفور مینگل، عبدالسمیع شیخ ، ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، قاری رفیق اللہ، مولانا محفوظ الرحمٰن شمس ، شیخ القرآن قاری خلیل احمد ، قاری خلیل الرحمٰن ، مولانا حبیب اللہ اندھڑ، قاری حماد اللہ اندھڑ ، مولانا عبدالمجید ہالیجوی سمیت کئی علماء کرام نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قادیانیوں کی جانب سے خطرناک سازش ہے، مجلس تحفظ ختم نبوت کا مسلکی اختلافات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہم مسلکی شدت پسندی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ایسی پُرامن تنظیم کے دفتر پر حملہ قادیانی ہی کر سکتے ہیں کیونکہ مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ہمہ تن مصروف رہتی ہے، علماء کرام نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فقط متعلقہ علاقے کا دورہ کر کے مذمت کرنا کافی نہیں فوری طور پر اس واقعے کی تحقیقات کروا کر اصل سازش بے نقاب کر کے ملزمان گرفتار کئے جائیں، دریں اثنا علماء کرام نے تمام مسالک کے علماء کرام سے کہا ہے کہ وہ محرم میں بھائی چارگی اور دوسروں کے مسلک کا احترام برقرار رکھیں، مسلکی فسادات اور اختلافات سے نقصان امت مسلمہ اور فائدہ قادیانیوں سمیت امریکی لابی کو ہوگا، انہوں نے کہا کہ تمام صحابہ کرام ؓ جنہوں نے ایک پلک جھپکتے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی وہ ہمارے امام اور ان سے محبت ایمان کا حصہ ہے، صحابہ ؓ پر تبرا سے بھی اختلافات بڑھتے ہیں، اس پر بھی شیعہ علماء غور کریں اور اجتناب کریں۔
(روزنامہ ’’اسلام‘‘ کراچی ۳۰؍نومبر ۲۰۱۱ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۱۸)
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کی دفتر ختم نبوت کراچی آمد
پاکستان ایک بار پھر افواہوں ، اسکینڈلوں اور بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف ۲۶؍نومبر ۲۰۱۱ء کی شب نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فوج کی تین چیک پوسٹوں پر حملہ کر کے ایک میجر اور ایک کیپٹن سمیت ۲۸ فوجیوں کو شہید اور ۳۵ سے زائد جوانوں کو زخمی کر دیا۔ دوسری طرف پاکستان کے وجود کے ازلی دشمن قادیانیوں کے ایک مہرے اعجاز منصور نے اپنے پیشروؤں کی طرح خبث باطن کا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اظہار اور پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے میمو گیٹ اسکینڈل کھڑا کر کے پاکستان کو بدنام اور بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ تیسری طرف پاکستان دشمن لابیوں کی قدیم رَوِش کہ جب ملک پاکستان پر بیرونی بحران آئے تو اندرونی طور پر بھی اسے اضطراب اور انتشار میں مبتلا کر دو۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۶ نومبر ۲۰۱۱ء کی شب پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر بمباری کی گئی اور ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۱ء بمطابق یکم محرم الحرام ۱۴۳۳ھ اتوار کے دن بعد نماز عصر نمائش چورنگی پر رونما ہونے والے ایک سانحے کو (جس کی تفصیل آپ نے گزشتہ شمارے میں ملاحظہ فرمائی) آڑ بنا کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر اور جامع مسجد باب الرحمت پر یلغار کر دی گئی، تاکہ کراچی میں مذہبی تصادم کرا کر پاکستانیوں کو ایک بار پھر باہم دست و گریبان اور فرقہ وارانہ فسادات کی بھٹی میں جھونک دیا جائے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ جزائے خیر دے ہمارے اکابر کی نشانی اور جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کو کہ جن کے سیاسی تدبر اور دور اندیشی نے اس سازش کو بھانپ لیا اور بروقت اس کو روکنے کی تدابیر اختیار کیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ امیر محترم اور قائد جمعیت جب ۱۰؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو کراچی تشریف لائے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی دفتر میں بھی تشریف لائے اور ایک پُرہجوم پریس کانفرنس کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ اور قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میمو گیٹ اسکینڈل کے خالق قادیانی ہیں جو اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، یہ ایک لاوارث دستاویز ہے، ۹/۱۱ کے بعد مذہبی قوتوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کا مقصد پاکستان کو افغانستان بنانے کی سازش تھی جس کو مذہبی قیادت نے ناکام بنا دیا، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے قیام سے فعالیت تک فرقہ واریت میں کمی آئی اور کسی کی جرأت نہیں ہوئی کہ کوئی فرقہ واریت کو فروغ دے سکے، ہم جلد ایم ایم اے کو فعال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ الیکشن کے نتائج سے قبل کسی کو بڑی چھوٹی قوت قرار دینا قبل از وقت ہے ایسا کہنے والی قوتیں کوئی اور ہوتی ہیں۔ صدر پاکستان بیمار ہیں اور وہ ملک میں ضرور واپس آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مسجد باب الرحمت سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے امیر قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، محمد اسلم غوری، مولانا محمد غیاث، مولانا حماد اللہ شاہ، ڈاکٹر نصیر الدین سواتی، مولانا امداد اللہ، مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا اعظم جہانگیری، ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، قاضی احسان احمد، محمد انور رانا، قاضی فخر الحسن، شمس الرحمان اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر اور مسجد باب الرحمت میں چند روز پہلے پیش آنے والے واقعہ کی مذمت اور علماء سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں، ختم نبوت، امت مسلمہ کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے ہمیشہ امت کو ایک جگہ جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۱۹۵۱ء کی ۲۲ نکاتی قرارداد مقاصد آج بھی ملی اور جمہوری اثاثہ ہے۔ اس وقت جب کہ عالمی قوتیں مسلمانوں کو تعصبات میں لڑوا کر امت کو منتشر کروانا چاہتی ہیں اور ایسے واقعات سے ان سازشوں کو تقویت ملتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امت وحدت کا مظاہرہ کر کے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرے جو فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی محاذ پر کام کرنے والی دینی قوتیں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور فرقہ واریت کے خاتمے پر یقین رکھتی ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے کہا کہ دینی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایم ایم اے کو بحال اور فعال کرنے کی ضرورت ہے امید ہے کہ ہم جلد کامیاب ہونگے، متحدہ مجلس عمل اپنا دستور اور منشور رکھتی ہے جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کو بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کا جمہوری نظام مستحکم نہیں ہے اور اس کو مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو اس ضمن میں اہم اعلان متوقع تھا تاہم کچھ دن کی تاخیر ہو گئی ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی اب بھی پارلیمنٹ میں ایم ایم اے کی نشستوں پر فعال اور متحرک ہیں اور اسی پلیٹ فارم سے ہی حرکت میں رہیں گے۔ میمو گیٹ اسکینڈل کے خالق قادیانی ہیں جو اسلام اور پاکستان دشمن ہیں، یہ ایک لاوارث دستاویز ہے ہم حسین حقانی کو تو پہچان لیں گے لیکن منصور اعجاز کو کون پہچانے گا جو قادیانی پس منظر رکھنے والا شخص ہے اور قادیانی ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے دشمن رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کے نتائج سے قبل کسی کو بڑی چھوٹی قوت قرار دینا نہیں چاہئے یہ عوام پر چھوڑنا چاہئے اور اگر کوئی کسی قوت کو نمبر دے رہا ہے تو اس کو سمجھنا چاہئے۔ ایک اور سوال پر کہا کہ ہم کسی کے ساتھ دنیا میں دشمنی نہیں چاہتے لیکن دوستی بھی غلامی کی طرح نہیں چاہتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے اب تک آقا اور غلام کی حیثیت سے تعلقات رہے ہیں، اگرچہ حجم میں امریکا ہم سے بڑا ہے لیکن چین بھی تو بڑا ہے آخر ہم اس کو دوست اور امریکا کو آقا کیوں سمجھتے ہیں؟ دراصل یہ رویوں کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں روس شکست کھا رہا تھا تو کمیونسٹ کے خلاف تحریک چلی اور آج جب امریکہ افغانستان میں شکست کھا رہا ہے تو سرمایہ داری کے خلاف دنیا بھر میں تحریک چلائی جا رہی ہے اس لئے اب امت مسلمہ کو بھی سوچنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک اور سوال پر کہا کہ گزشتہ دس برس سے عالمی قوتوں نے دینی جماعتوں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کو بھی افغانستان بنانے کی سازش کی اور مختلف آپریشنز کئے، دہشتگرد اور انتہاء پسندی جیسے القابات سے مذہبی قوتوں کو نوازنے کے علاوہ ان پر پاکستان کی زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی جس کا اصل مقصد پاکستان کو بھی افغانستان بنانا تھا لیکن مذہبی قوتوں نے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کر کے اس سازش کو ناکام بنا دیا اس کا تمام سہرا مذہبی قیادت کو جاتا ہے۔ دراصل ۱۱/۹ کے بعد شروع ہونے والی جنگ تہذیبی ٹکراؤ تھا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں سیکولر ذہن رکھنے والی جمہوری قوتوں کی سوچ عالمی سامراج کی سازش کے نتیجہ میں مغربی سوچ کے قریب تر ہو جاتی ہے اور مذہبی قوتوں کی جمہوری سوچ کو انتہاء پسندی اور دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے یہی ہماری غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں علماء اور مذہبی جماعتوں کا ایک کردار ہے اس کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہم نے پارلیمان اور عوام میں رہ کر ہر سازش کا مقابلہ کیا۔ دنیا کو دو چار خودکش بمبار تو نظر آئے، لیکن انہیں وہ ہزاروں لوگ نظر نہیں آئے جنہیں خودکش بمبار بننے سے روک کر واپس لایا گیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان بیمار ہیں اور وہ ملک میں ضرور واپس آئیں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان کے دشمنوں اور ان کے ایجنٹوں کو ناکام و نامراد بنائے اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ص ۵، ۶)
مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال کی کارکردگی
محترمی ومکرمی جناب حضرت امیر صاحب حفظہ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ کرے آپ بخیر وعافیت ہوں
الحمدللہ! یہاں کے جملہ احباب بخیر ہیں اور شب و روز بعافیت گزر رہے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمی حسب استطاعت جاری ہے۔ گزشتہ دنوں ایک پروگرام جھورا ہاٹ میں کیا گیا۔ الحمدللہ! پورے علاقے کے لوگ شریک ہوئے۔ مولانا محمد حضرت، مولانا محی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الدین ، مولانا اختر حسین، محمد جبریل نے خطاب کیا۔ پندرہ دن قبل بھٹہ (اینٹ بننے کی جگہ ) ایک جلسہ منعقد کیا گیا، نیز مشرقی نیپال کے حساس علاقوں کے دورے کئے گئے اور مختلف مساجد میں دروس وخطابات کے اہتمام کئے گئے ، اسی طرح مغربی نیپال نارائنی انچل کے دورے کئے گئے ، بیرگنج سے تقریباً ۳۰ کلو میٹر شمال مغرب جنگل کے کنارے ایک گاؤں رنگپور میں مرزائی مبلغ سے بحث ومباحثہ کے بعد ان کی کتابیں اور اشتہارات ضبط کئے گئے ، اس دورہ کے درمیان معلوم ہوا کہ قصبہ پر سونی بھاٹا میں قادیانی اسکول میں کئی مسلمان بچے زیر تعلیم ہیں ۔ چنانچہ وہاں مقامی لوگوں کی ایک نشست بلا کر مرزائی تعلیم اور اس کی زہرناکی کو واضح کیا گیا، چنانچہ لوگوں نے اپنے بچوں کو مرزائی اسکول سے نکال لیا اور دوسرے اسکول میں داخل کرایا۔ اسی طرح بیرگنج مرلی جہاں قادیانی آفس ہے مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے متعدد دورے کئے انفرادی ملاقاتوں اور جمعہ کے خطبوں کے ذریعے علاقہ کے عوام و خواص کو عقیدہ ختم نبوت سمجھایا اور قادیانی فریب کاریوں کا پردہ چاک کیا، کچھ دنوں سے (مسلم ٹی وی) کے نام سے مرزائیوں نے نیپال میں بھی ٹیلی ویژن پروگرام نشر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ کام سرکار کی منظوری لئے بغیر ہورہا تھا، چنانچہ کاٹھمنڈو پہنچ کر وہاں کے دردمند وحساس احباب کو جوڑا گیا، آپس میں صلاح و مشورہ کے بعد طے پایا کہ وزیر مواصلات کو عرضداشت دی جائے، چنانچہ نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو کے ذمہ داران کی سرکردگی میں تمام مکاتب فکر کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد تشکیل پایا ۔ ۱۷؍ افراد پر مشتمل وفد نے وزیر مواصلات سے ملاقات کر کے وزیر موصوف کو خبردار کیا کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے طبقاتی کشمکش سر اٹھا رہی ہے، ایسے میں مرزائی (مسلم دشمن ) عناصر کو ( مسلم ٹی وی) کے نام سے ٹیلی ویژن پروگرام چلانے کی اجازت دینا ( جو سراسر اسلام کے مخالف ہے ) اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے، اس سے ملک میں فرقہ واریت پھیل سکتی ہے اور ملکی امن وامان کو سخت خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
وزیر موصوف نے وفد کے تحریری بیان کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ ٹی وی چینل پروگرام روک لگایا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ وزیر داخلہ سے مل کر ان کے سامنے بھی بات رکھی جائے گی۔ یہ مجلس کی کارکردگی کی اجمالی رپورٹ ہے جو محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے اور آپ حضرات کی دعاؤں سے انجام دیا جارہا ہے، دعاء فرماویں اللہ رب العزت اخلاص کے ساتھ تاحیات خدمت دین کی توفیق دے۔ والسلام !
خادم القوم محمد اسلام ندوی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۱۴)
منصور اعجاز قادیانی بیس سال سے سی آئی اے کا ایجنٹ
لاہور (اے پی اے) قادیانی عقیدے کے حامل اور پیدائشی طور پر امریکی شہری منصور اعجاز کا پورا نام منصور اعجاز ہے۔ وہ ۱۹۶۱ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام احمد اعجاز تھا۔ جس کا تعلق قادیانی جماعت احمدیہ سے تھا اور وہ مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کا کزن تھا۔ دادا قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے ابتدائی ۳۱۳؍ ساتھیوں میں شامل تھا۔ والد نیوکلیئر سائنسدان اور امریکہ کی مشہور ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا جس نے امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ نیویارک میں مقیم منصور اعجاز ایک ارب پتی امریکی بزنس مین ہے۔ اس نے تین بار شادی کی ۔ پانچ بچے ہیں۔ اس کا اپنا پرائیویٹ جیٹ ہوائی جہاز ہے جس پر وہ اکثر یورپ کے مختلف ممالک کے دورے پر رہتا ہے۔ اس کے سابق امریکی نائب صدر الگور، سینیٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۱۲۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جان کیری اور جنرل جیمز جونز سے قریبی مراسم ہیں۔ منصور اعجاز پچھلی دو دہائیوں سے امریکی سی آئی اے کے لئے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ سی آئی اے کا سابق ڈائریکٹر جیمز وولسی اس کا انتہائی قریبی رفیق کار ہے۔ منصور اعجاز بہت سالوں سے دنیا کے اہم چینلوں مثلاً سی این این، فاکس اور بی بی سی کے علاوہ کئی دوسرے یورپین ممالک کے پروگراموں میں تجزیہ نگار کی حیثیت سے شریک ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کالم اور مضامین باقاعدگی سے مشہور اخبارات اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ اپنے ٹی وی تبصروں اور اخباری مضامین میں اس کا خاص نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور آئی ایس آئی ہے۔ جن کے خلاف وہ پچھلے پندرہ سال سے لکھ رہا ہے۔ منصور اعجاز کے مبینہ طور پر یہودی میڈیا سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور فاکس نیوز پر اس کے ایک سو سے زائد پروگرام نشر ہو چکے ہیں۔ اگلے مہینے نومبر میں منصور اعجاز نے میڈیا میں ایک میمو جاری کیا جو بقول اس کے اسے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے لکھوایا تھا۔ اس میموگیٹ سکینڈل نے پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا اور ساڑھے تین سال سے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے عہدے پر فائز حسین حقانی کو اسلام آباد واپس آ کر استعفیٰ دینا پڑا۔ میمو گیٹ اسکینڈل کا حتمی ڈراپ سین جلد متوقع ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے اور یہودی میڈیا ، سی آئی اے اور تھنک ٹینکس کے لئے کام کرنے والے منصور اعجاز کا کھلایا ہوا گل کیا رنگ لاتا ہے۔ اس کی حالیہ مہم بھی کہیں اسی سلسلے کی کوئی کڑی تو نہیں؟
(روز نامہ خبریں ملتان ۴ /دسمبر ۲۰۱۱ء، ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۲ء ص ۵۵، ۵۶)
روزنامہ ”خبریں“ ملتان 4 دسمبر 2011ء
منصور اعجاز قادیانی‘ 20 سال سے سی آئی اے کا ایجنٹ
اپنا پرائیویٹ جیٹ طیارہ‘ سابق نائب امریکی صدر الگور‘ جان کیری‘ جنرل جیمز جونز سے قریبی تعلقات
والد سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن‘ دادا مرزا غلام احمد کے ابتدائی 313 ساتھیوں میں شامل تھا
لاہور (اے پی اے) قادیانی عقیدے کے حامل اور پیدائشی طور پر امریکی شہری منصور اعجاز کا پورا نام منصور منصور اعجاز ہے۔ وہ 1961 میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا نام مجدد احمد اعجاز تھا جس کا تعلق قادیانی جماعت احمدیہ سے تھا اور وہ مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کا کزن تھا۔ دادا قادیانی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد کے ابتدائی 313 ساتھیوں میں شامل تھا۔ والد نیوکلیئر سائنسدان اور امریکہ کی مشہور ورجینیا ٹیک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا۔ جس نے امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ نیویارک میں مقیم منصور اعجاز ایک ارب پتی امریکی بزنس مین ہے۔ اس نے تین بار شادی کی، پانچ بچے ہیں۔ اس کا اپنا پرائیویٹ جیٹ ہوائی جہاز ہے۔ جس پر وہ اکثر یورپ کے مختلف ممالک کے دورے پر رہتا ہے۔ اس کے سابق امریکی نائب صدر الگور، سینیٹر جان کیری اور جنرل جیمز جونز سے قریبی مراسم ہیں۔ منصور اعجاز پچھلی دو دہائیوں سے امریکی CIA کیلئے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ CIA کا سابق ڈائریکٹر جیمز وولسی اس کا انتہائی قریبی رفیق کار ہے۔ منصور اعجاز بہت سالوں سے دنیا کے اہم چینلوں مثلاً سی این این، فاکس اور بی بی سی کے علاوہ کئی دوسرے یورپین ممالک کے پروگراموں میں تجزیہ نگار کی حیثیت سے شریک ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کالم اور مضامین باقاعدگی سے مشہور اخبارات اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ اپنے ٹی وی تبصروں اور اخباری مضامین میں اس کا خاص نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور ISI ہے۔ جن کے خلاف وہ پچھلے 15 سال سے لکھ رہا ہے۔ منصور اعجاز کے مبینہ طور پر یہودی میڈیا سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور فاکس نیوز پر اس کے 100 سے زائد پروگرام نشر ہو چکے ہیں۔ اگلے مہینے نومبر میں منصور اعجاز نے میڈیا میں ایک میمو جاری کیا جو بقول اس کے اسے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے لکھوایا تھا۔ اس میمو گیٹ سکینڈل نے پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا اور ساڑھے تین سال سے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے عہدے پر فائز حسین حقانی کو اسلام آباد واپس آکر استعفیٰ دینا پڑا۔ میمو گیٹ سکینڈل کا حتمی ڈراپ سین جلد متوقع ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے اور یہودی میڈیا، CIA اور تھنک ٹینکس کیلئے کام کرنیوالے منصور اعجاز کا کھلایا ہوا گل کیا رنگ لاتا ہے۔ اس کی حالیہ مہم بھی کہیں اسی سلسلے کی کوئی کڑی تو نہیں؟
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹوبہ، گوہر شاہیوں کی ناپاک کوشش ناکام
مؤرخہ ۱۵، ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ضلع ٹوبہ کے مختلف مقامات پر دور جدید کا مسیلمہ کذاب فتنہ گوہر شاہی کے عنوان سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا محمد حبیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ٹوبہ کے بیانات طے ہوئے۔ ٹوبہ کے گوہر شاہیوں نے یہ پروگرام روکنے اور رکوانے کی سر توڑ کوشش کی۔ ڈی. پی. او ضلع ٹوبہ کے پاس پہنچے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مشکور ہے ڈی. پی. او ضلع ٹوبہ کی جس نے گوہر شاہیوں کی سن کر یک طرفہ کارروائی کی بجائے مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وممبر امن کمیٹی وخطیب بلال مسجد غلہ منڈی کو بلوالیا۔ مولانا نے بڑے دلائل ووضاحت کے ساتھ گوہر شاہیوں کا عقیدہ بتلایا اور اپنے مدبرانہ انداز میں فرمایا کہ ان کے عقائد وکفریات مجھ سے سننے کی بجائے آپ بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے علماء سے پوچھ لیں۔ اس کے بعد جو آپ فیصلہ فرمائیں گے قبول ہوگا۔ الحمد للہ! اللہ تبارک وتعالیٰ نے فتح عطاء فرمائی۔ ۱۵؍ دسمبر بروز جمعرات بعد نماز عشاء چک نمبر ۳۱۵ کالا پہاڑ میں قاری عبدالرشید، محترم ماسٹر صاحب، مولانا نوید کی محنت وکوشش اور بھائی شفیق کی معاونت سے ایک شاندار پروگرام ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور حمد ونعت کے بعد مولانا حبیب نے فتنہ گوہر شاہی کے کفریہ عقائد ونظریات گوہر شاہیوں کی کتب سے مدلل گفتگو کی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اسی موضوع پر مفصل اور ناصحانہ انداز میں خطاب فرمایا۔ ۱۶؍ دسمبر بروز جمعتہ المبارک صبح کا درس قادری مسجد محلہ اسلام پورہ میں مولانا مجیب الرحمٰن لدھیانوی اور چوہدری عبدالغفور کی کاوش سے مولانا شجاع آبادی نے درس قرآن دیا۔ عقیدۂ ختم نبوت اور رد مرزائیت پر اور مولانا حبیب احمد نے فیروزی مسجد اسلام پورہ میں درس دیا۔ مولانا سید مطیع الرحمٰن عباسی اور مولانا سید ریحان احمد عباسی کے ہاں مولانا شجاع آبادی نے ایک بجے تک مرکزی جامع مسجد تالاب بازار ٹوبہ میں خطاب فرمایا۔ بعد از بیان مولانا نے بلال مسجد اندرون غلہ منڈی میں صاحبزادہ مولانا سعد اللہ، عبید اللہ لدھیانوی کی دعوت پر تفصیلی اور مدلل خطاب فرمایا۔ اللہ کے فضل وکرم سے پھر ایک مرتبہ ٹوبہ کی مساجد سے فتنہ گوہر شاہی کی آواز نے گوہر شاہیوں کی نیندیں غارت کردیں اور مولانا حبیب احمد نے خطبہ جمعتہ المبارک چک نمبر ۲۹۵ گ. ب پیریا نوالا میں اور گزشتہ جمعہ چک نمبر ۱۴۸ گ. ب المعروف چوہلہ میں پڑھایا۔ مولانا شجاع آبادی کے تمام پروگرام بڑی شاندار کامیابی کے ساتھ پائے تکمیل تک پہنچے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
ختم نبوت ایکشن کمیٹی ٹیکسلا
چند علماء کرام کا وفد پیر طریقت سراج الواصلین مولانا عبدالغفور دامت برکاتہم کے ہاں آیا۔ انہوں نے خبر دی کہ ضلع راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا کے ایک دیہات نامی احاطہ میں ایک بدبخت ملعون شخص عابد کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر سنتے ہی میٹنگ طلب کی گئی۔ اسی میٹنگ میں رات گیارہ بجے، فیصلہ طے پایا کہ صبح گیارہ بجے شہر کے فلاں مقام پر تمام جماعتوں کو دعوت دے کر اجلاس طلب کیا جاوے۔ علی الصبح تمام دوستوں کو اطلاع کر دی گئی۔ جس کی بناء پر اجلاس بروقت بھر پور حاضری زیر صدارت مولانا عبدالغفور منعقد ہوا۔ جس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے حکیم محمد اسعد، محمد اقبال اعوان اور حکیم محمد سعید بمع اپنے رفقاء کے مولانا عمر فاروق بمع رفقاء کار، مسلک بریلوی کے محمد داؤد اور مکتب اہل حدیث کے مولانا محمد اکرم شاکر، جماعت اسلامی کے مولانا غلام سرور اور وکلاء کے نمائندہ محمد افضل جنجوعہ ایڈووکیٹ انجمن تاجران کے صدر شیخ ضیاء، پروانہ ختم نبوت یادگار اسلام مولانا محمد اسحاق، خطیب ٹیکسلا مولانا مفتی شبیر احمد، جناب حافظ محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رفیق و دیگر علماء کرام بااثر سیاسی تمام پارٹیوں کی شخصیات اس موقع پر موجود تھیں ۔ ان تمام کی میزبانی حاجی ظہیر الدین بابر نے کی ۔ ہر ایک نے اظہار خیال کیا ۔ آخر میں چند علماء کرام ، وکلاء اور سیاسی شخصیات پر مشتمل ایک ختم نبوت ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ جو اس مسئلہ کو عدالت میں لے جاوے ۔ اس کذاب کی قرار واقعی سزا تک جد و جہد کو جاری رکھے اور باقی ساتھی تحصیل بھر میں ختم نبوت کے عنوان پر کانفرنسوں ، د روس کا انعقاد کریں ۔ تاکہ عوام الناس کو آگاہ کیا جائے ۔ آخر میں صدر اجلاس مولانا عبد الغفور نے ایک گھنٹہ ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت کے عنوان پر تفصیلی خطاب فرمایا اور دعاء کے ساتھ اجلاس کا اختتام کیا ۔ اب اگلا مرحلہ تھا ایف ۔ آئی ۔ آر درج کروانا ۔ تو شام ۴ بجے سے ختم نبوت ایکشن کمیٹی کے اراکین تھانہ ٹیکسلا میں گئے ۔ رات ۱۰ بجے تک ڈی ۔ ایس ۔ پی سے مذاکرات چلتے رہے ۔ انتظامیہ کی کوشش تھی کہ مدعی نبوت کو مینٹل ثابت کیا جائے ۔ بالآخر عوامی اور علماء کرام کے شدید دباؤ کی وجہ سے رات ۱۱ بجے ایف ۔ آئی ۔ آر درج کی گئی ۔ ایک گھنٹے بعد ۱۲ اکتوبر کی رات ۱۳ اکتوبر میں شامل ہو گئی ۔ اب صبح چناب نگر کانفرنس کا افتتاح ہونا تھا ۔ ادھر ہم نے دفتر ختم نبوت ٹیکسلا میں پھر ایک اجلاس طلب کیا ۔ اس میں جمعہ کے لئے قراردادیں تحریر کی گئیں اور مزید انتظامیہ کو اس حساس مسئلہ پر توجہ دینے اور غیرت کا ثبوت دینے کے لئے (راقم) نے فون ڈی ۔ ایس ۔ پی کو ملایا تو حضرت نے اس سے تفصیلی بات کی اور ان کو باور کروایا کہ انتظامیہ ہوش کے ناخن لے ۔ مجرم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لئے قانون کے سپرد کرے ۔ چناب نگر کانفرنس میں مولانا محمد اکرم طوفانی نے حکمرانوں کو للکارا، ادھر ٹیکسلا میں بھی احتجاج ہوا ۔ الحمد للہ علی ذالک ! اللہ کرے اس مرد درویش طوفانی صاحب کی بات ان اونچا سننے والوں کی سمجھ میں آ جاوے ۔ ادھر ٹیکسلا عدالت میں پراسرار طور پر اس کذاب کو جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ رب کریم نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ جج کے سامنے ایس ۔ ایچ ۔ او نے کہا ۔ یہ دیوانہ ہے ۔ ہماری طرف سے جناب محمد افضل جنجوعہ کے ساتھ پندرہ وکلاء اور مدعی کیس جناب حافظ عبد الحکیم تھے ۔ جنجوعہ صاحب نے کہا جج صاحب ہمارے ایس ۔ ایچ ۔ او اور ڈی ۔ ایس ۔ پی دونوں دیوانے ہیں ان کا بھی معائنہ کروائیں ۔ اس پر جج نے اس کذاب غلام عابد کو جیل روانہ کر دیا ۔ الحمد للہ علی ذالک !
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۲ء ص ۵۲، ۵۳)
میانوالی بنگلہ کے قادیانیوں کا قبول اسلام
میانوالی بنگلہ کے رہائشی محمد وحید ناصر نے دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کے مہتمم مولانا محمد ایوب خان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور قادیانیت سے بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے ، آنجہانی مرزا قادیانی کو جھوٹا قرار دیا ۔ اس موقع پر دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں تقریب منعقد ہوئی ، جس میں میانوالی بنگلہ کے مسلمان احباب نے بھر پور شرکت کی مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا غلام مرتضی اور مولانا حافظ محمد اسحاق نے بھی خطاب فرمایا ۔ مولانا فقیر اللہ اختر کی دعاء پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔
محمد وحید ناصر کے اسلام لانے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد اس کے ماموں چوہدری سہیل احمد سندھو ، ان کی بیوی نور بصیرت ، ان کی بیٹی عائلہ نور نے بھی قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا، میانوالی بنگلہ میں علماء کرام نے حیات مسیح کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا، چوہدری سہیل احمد اور اس کی بیوی نے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتے ہوئے قادیانیت کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ دارالعلوم کے مہتمم مولانا محمد ایوب خان ، مولانا غلام مرتضی اور دیگر مسلمانوں کی موجودگی میں مولانا ایوب خان نے کلمہ پڑھایا اور ان کی استقامت کے لئے دعاء فرمائی ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد فقیر اللہ اختر ، ضلعی امیر پیر سید احمد گیلانی ، مولانا حافظ احمد مصدق قاسمی اور ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے یوتھ فورس کے مرکزی صدر سید محبوب احمد گیلانی کی محنت سے رسول پور بھلیاں سیالکوٹ کے ریاض احمد کے صاحبزادے شہزاد ریاض نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ شہزاد ریاض کے قبول اسلام کے سلسلہ میں مولانا بشیر احمد قاسمی اور قاری محمد شفیق ڈوگر کی مساعی قابل قدر ہے۔ یادرہے کہ ریاض احمد کے انتقال پر یہ اشکال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہے، اس کا جنازہ بھی ایک قادیانی مربی نے پڑھایا جس پر مولانا فقیر اللہ اختر ، حافظ احمد مصدق قاسمی اور سید محبوب احمد گیلانی نے پولیس کو درخواست دی پولیس نے انکوائری کے بعد اور اہل علاقہ کی گواہی پر فیصلہ ہوا کہ ریاض احمد کا بیٹا شہزاد ریاض قادیانی ہے، اسی نے مربی کو بلوا کر جنازہ پڑھوایا تھا۔ تھانہ تحصیل بازار سیالکوٹ میں علاقہ کے ڈی ایس پی کی موجودگی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ فقیر اللہ اختر کے ہاتھ پر شہزاد ریاض نے اہل علاقہ اور ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں کی موجودگی میں اسلام قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے استقامت نصیب فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ / جون ۲۰۱۱ء ص ۲۰)
چناب نگر میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام
۲۸ / رجب المرجب ۱۴۳۲ھ بروز جمعتہ المبارک خطبہ اور نماز سے پہلے ایک نوجوان ندیم احمد ولد گلزار احمد نے اپنے شوق اور دلی جذبہ سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی کی جامع مسجد ختم نبوت میں مولانا غلام رسول دین پوری کے ہاتھ پر سینکڑوں کے اجتماع کے سامنے اسلام قبول کیا۔ جب کہ تین چار دن بعد ۲ / شعبان المعظم بمطابق ۵/ جولائی بعد از نماز عشاء مذکورہ نوجوان اپنے والد گلزار احمد کو بھی جامع مسجد ختم نبوت میں لے آیا اور اسے مولانا غلام مصطفیٰ کے دست پر مسلمان کرا کر حلقۂ اسلام میں داخل کرایا۔ گلزار احمد عرصہ ۵۰ سال سے قادیانیت پر رہا اور چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے قادیانیوں کے لنگر خانہ کا سالہا سال سے خادم رہا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے باپ ، بیٹے کو یہ سعادت نصیب فرمائی کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال و کذاب کی خود ساختہ جھوٹی نبوت پر چار حرف بھیج کر حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۵۶)
تعلقہ ماتلی: بھیل برادری کے ۳۷ افراد کا قبول اسلام
تعلقہ ماتلی کے مختلف علاقوں میں آباد ہندو بھیل برادری کے افراد نے گزشتہ روز مدرسہ بیت السلام نیومسلم شیخ کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق امیر مولانا خواجہ خان محمد کے فرزند ارجمند اور جانشین مولانا خواجہ خلیل احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ قاری عبدالرشید رحیمی نے نومسلموں کو کلمہ پڑھایا۔ اس موقع پر جن ہندو افراد نے اسلام قبول کیا ان میں جیوگا اسلامی نام عبداللہ ، سوڈی کا سکینہ، اعجاز کا محمد اعجاز ، الیاس کا محمد الیاس ، ملوک کا محمد یعقوب ، گل شیر کا علی شیر ، حسنہ کا حسینہ، مکھری کا حنیفہ ، حکیمہ کا وحیدہ، حاجی کا خان محمد ، حوا کا حوا بی بی ، سانوں کا سلمان ، رانو کا جان محمد ، سارنگ کا محمد سلیم ، عارب کا ارباب ، گڈی کا مریم بی بی ، گل کا گل محمد ، رانی کا رانی بی بی ، گلاب کا محمد صدیق اور دیگر نو مسلم افراد کا ہندو سے بدل کر اسلامی نام رکھا گیا۔
(روزنامہ اسلام کراچی، مؤرخہ ۱۴/ دسمبر ۲۰۱۱ء)
پوپ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کرے
دو روزہ رد قادیانیت کورس میں مولانا اللہ وسایا کا خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ علوم شرعیہ ساہیوال میں ۱۲، ۱۳/ جنوری ۲۰۱۱ء کو بوقت ظہر تا عصر دو روزہ رد قادیانیت کورس کا انعقاد ہوا۔ کورس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا طارق مسعود، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مفتی محمد عثمان نے خطاب کیا۔ کورس میں جامعہ علوم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریعہ کے اساتذہ کرام، طلباء اور بیرونی حضرات نے بھر پور شرکت کی۔ مولانا محمد طاہر رشیدی کے علاوہ متحدہ اہل حدیث کے راہنما مولانا سیّد ضیاء اللہ شاہ بخاری، قاری ابو بکر صدیق، مولانا محمد اسلم ہراج ، مولانا عبدالفتاح ، قاری محمد نافع مسعود نے خصوصی شرکت کی۔
کورس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آسمانوں سے نزول فرمائیں گے اور وہ اپنی شریعت وملت کو رائج کرنے کی بجائے شریعت محمدیہ کے پھیلاؤ اور نفاذ پر عمل پیرا ہوں گے اور نزول کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام، قرآن، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہودیوں کے مقابلہ میں وکیل صفائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جب کہ موجودہ عیسائی، قادیانی ایماء پر حکومت سے توہین رسالت کا سرکاری اجازت نامہ لینا چاہتے ہیں۔ ناموس رسالت ایکٹ کے غلط استعمال کا واویلا کرنے والی لابیاں دراصل اس کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہیں۔ حرمت رسول اور عقیدہ ختم نبوت کے لئے جب قانون خاموش ہو جائے گا تو پھر غازی علم دین شہید کے کردار کو اجاگر کرنے والے پیدا ہوں گے۔ ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہنا اور جوتے کی نوک پر رکھنا، آسیہ ملعونہ کے خلاف عدالتی فیصلے کو بلڈوز کرنا اور علماء کرام کو جاہل کہنا کفر پروری اور انتہاء پسندی ہے۔ مذہبی آزادی اور آزادی رائے کی آڑ میں پاپائے روم نے جنس پرستی کو جائز قرار دیا۔ پوپ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور حکومت پاکستان قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے متعلق پوپ کے بیان پر عالمی سطح پر شدید احتجاج کرے۔ انہوں نے کہا کہ استعماری وکلیسائی قوتیں پاکستانی حکمرانوں کو ناموس رسالت ایکٹ کو ختم کرنے کی ڈکٹیشن دے رہی ہیں۔ حالانکہ ملک وملت اور اقلیتوں کے مفاد کا تقاضا ہے کہ مذکورہ قانون کو برقرار رکھا جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا مسئلہ سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ ہماری نجات وشفاعت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر نبوت کی تکمیل کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے کلمہ طیبہ، نماز ، ذبیحہ، حج اور صوم وصلوٰۃ کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس کے خلاف جنگ یمامہ برپا کی جس میں بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا اور مسیلمہ کذاب کے ارتدادی فتنہ کو اس کے انجام بد تک پہنچایا۔
قادیانی گروہ آیت خاتم النبیین اور آیات ختم نبوت میں تحریف وترمیم کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے کذبات مرزا اور کفریات مرزا قادیانی پر بھی خصوصی لیکچر دیا۔ کورس کے آخر میں شرکائے کورس کے لئے عالمی مجلس کا مطبوعہ لٹریچر مفت تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۵تا ۲۱؍فروری ۲۰۱۱ء ص ۲۶)
۲۶ عیسائی ممالک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر سزائے موت
ساہیوال (نمائندہ خصوصی) قانون تحفظ ناموس رسالت میں مجوزہ ترمیم کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ محمدیہ چک ۸۵/ ۶۔ آر میں مقامی امیر مولانا کلیم اللہ رشیدی کی صدارت میں ۱۳؍جنوری ۲۰۱۱ء کو بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد عثمان المالکی نے حاصل کی، جب کہ نعتیہ کلام مولانا محمد شاہد عمران عارفی نے پیش کیا۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، قاری عبدالجبار، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد اسماعیل رشیدی اور محمد اسلم بھٹی سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے شرکت وخطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت ایکٹ کے ’’مس یوز‘‘ ہونے کے عذر لنگ کا سہارا لے کر قانون توہین رسالت کی اصل روح کو ختم کرنے کی گھناؤنی سازشیں بام عروج کو پہنچ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لبرل اور سیکولر جماعتی ارکان قانون تحفظ ناموس رسالت کو بازیچہ اطفال نہ بنائیں۔ مقررین نے کہا کہ توہین رسالت قانون کے غلط استعمال کا جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے بتائیں کہ کیا ملک میں باقی تمام قوانین کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ ناموس رسالت ایکٹ اقلیتوں کی سلامتی کے لئے ہے اور پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر اقلیتوں کو مراعات اور مکمل آزادی حاصل ہے۔ بعض مفاد پرست اقلیتی عناصر اپنے غیر محفوظ ہونے کا تاثر دے کر مغربی خیراتی اور مالیاتی اداروں سے خطیر سرمایہ بٹور رہے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس، ساہیوال
ساہیوال (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد الحبیب طارق بن زیاد کالونی میں ایک عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت معروف سماجی شخصیت شیخ عبدالحفیظ گوریکے نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا قاری عبدالغفار قاسم نے سرانجام دیئے۔ تلاوت قاری محمد عثمان المالکی نے کی، جب کہ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، قاری عبدالجبار، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد شاہد عمران عارفی اور مولانا عبدالستار نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں سے زیادہ عزیز ہے۔ قانون تحفظ ناموس رسالت میں ترمیم وتنسیخ کرنے والی لابیوں کے پاس اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے جاندار اور ٹھوس شواہد نہیں۔ محض وہ مغربی آقاؤں کے آموختہ کو بار بار دہرا رہے ہیں۔ امت مسلمہ ناموس رسالت پر سمجھوتہ اور کمپرومائز کی دعوت دینے والوں کا محاسبہ ومحاکمہ جاری رکھے گی۔ ناموس رسالت ایکٹ کو متنازع بنانے والے بدنصیب، بدنیت اور استعماری قوتوں کے گماشتے ہیں۔ اسلامی قوانین کا مذاق اڑانے والے فرعون اور نمرود کے انجام بد کو بھی یاد رکھیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۱ء ص ۲۵، ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس چنیچی
۵؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر تا عصر جامع مسجد ڈھیری والی چنیچی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس زیر سر پرستی جانشین مرشد عالم صاحبزادہ پیر عبدالرحیم نقشبندی، سجادہ نشین خانقاہ حبیبیہ نقشبندیہ چکوال زیر صدارت مولانا عبدالحمید خطیب مرکزی جامع مسجد چنیچی منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک قاری نور محمد تلہ گنگ، نعت محمد امین برادران چوکیرہ سرگودھا نے پیش کی۔ جب کہ قاری سعید احمد مہتمم جامعہ علویہ حیدریہ تلہ گنگ، علامہ ممتاز احمد کلیار جڑانوالہ نے فتنہ قادیانیت پر مدلل گفتگو فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض میزبان محفل پروانہ ختم نبوت مولانا محمد جاوید توحیدی خطیب جامع مسجد ڈھیری والی چنیچی نے ادا کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۴۵)
جلسہ سیرت رحمۃ اللعالمین
۱۱؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعۃ المبارک جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ایک عظیم الشان جلسہ بعنوان ’’سیرت رحمۃ اللعالمین‘‘ رکھا گیا۔ جس کی صدارت مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی اور بیان مولانا ممتاز احمد کلیار نے فرمایا۔ ضلع چنیوٹ کے مسلمانوں نے بھرپور شرکت کی۔ نظمیں اور بیانات ختم نبوت کے مبارک موضوع پر ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۲)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ننکانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ فروری ۲۰۱۱ء کو جامع مسجد اشرفیہ المعروف اونچی مسجد غلہ منڈی ننکانہ میں تحفظ ناموس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ کانفرنس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبدالنعیم کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کے جملہ امور کی نگرانی چوہدری نصیب الہی گجر، مولانا محمد یحییٰ، قاری محمد اقبال، قاری محمد ارشد نے کی۔ جب کہ کانفرنس میں مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے رہنماؤں مہر محمد اسلم ناصر، چوہدری عبدالحمید رحمانی، مہر محمد شوکت سمیت تمام عہدیداران نے خصوصی شفقت کرتے ہوئے کانفرنس کے آخر تک موجود رہے۔ کانفرنس کی اختتامی دعا پیر رضوان نفیس نے کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۵۲)
جامع مسجد احمد نگر میں جلسہ سیرت النبی ﷺ
۱۴؍ فروری ۲۰۱۱ء کو جامع مسجد مسلم ختم نبوت واقع احمد نگر میں ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ کے موضوع پر ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں مولانا غلام مصطفیٰ، قاری محمد یامین گوہر، مولانا غلام رسول دین پوری نے بیانات کئے۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے مسجد کی واگزاری کی مفصل روداد بیان کی۔ جب کہ قاری محمد یامین گوہر اور مولانا غلام رسول دین پوری نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر بیانات کئے۔ الحمدللہ! سامعین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ اختتام پروگرام پر ماحضر بھی پیش کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۱ء ص ۵۷)
بخاری مسجد چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس
۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۳۲ھ کو بخاری مسجد چناب نگر میں ایک عظیم الشان ’’ولادت باسعادت حضور خاتم النبیین ﷺ‘‘ کے عنوان سے جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ، جناب قاری محمد یامین گوہر اور دیگر علماء کرام نے شرکت فرمائی اور بیانات کئے۔ عقیدہ ختم نبوت حضور ﷺ کی ولادت باسعادت اور سیرت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کو دعوت اسلام دی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۷)
ختم نبوت و سیرت النبی ﷺ کانفرنسیں
۱۷؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعرات، مصطفیٰ آباد کالونی، فیصل آباد میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے شرکت فرمائی اور مسئلہ ختم نبوت پر پراثر بیانات فرمائے اور فتنہ قادیانیت سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔
۱۸؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعتہ المبارک جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں حسب معمول ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ کے موضوع پر عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بیان فرمائے۔ خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ حضرت نے عقیدہ ختم نبوت پر بیان فرمایا۔ قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ الحمدللہ! مسلمانوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ اسٹیشن کے سامنے تک مجمع نظر آ رہا تھا۔ ان شاء اللہ! ایک وقت آئے گا کہ تلاش کرنے پر بھی قادیانی نظر نہیں آئیں گے۔
پورے ملک کی طرح چناب نگر اور ضلع چنیوٹ کے طول و عرض میں تحریک تحفظ ناموس رسالت کی اپیل پر احتجاجی مظاہرے، ہڑتال اور ریلیاں منعقد ہوئیں۔ جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام، دینی و سیاسی کارکنوں نے بھر پور شرکت کر کے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا۔ مولانا غلام مصطفیٰ کی دعوت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سب ہیڈ کوارٹر تحریک کا مرکز رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ روزہ ختم نبوت کورس، حلقہ شیر شاہ کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ شیر شاہ کے زیر اہتمام سہ روزہ ختم نبوت تربیتی کورس جامع مسجد شافعی میں منعقد کیا گیا۔ یہ کورس ۱۸ تا ۲۰؍ فروری ۲۰۱۱ء تک جاری رہا۔ ۱۸؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا توصیف احمد نے کہا کہ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا، اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، اگر کسی نئے نبی نے آنا ہوتا تو حضرت صدیق اکبرؓ نبوت کے سب سے زیادہ مستحق تھے، کیونکہ وہ افضل البشر بعد الانبیاء ہیں، اگر نبوت جاری ہوتی تو حضرت عمرؓ اس کے زیادہ مستحق تھے، کیونکہ ان کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب“، اگر یہ نبی نہیں ہو سکتے تو پھر چودہ صدیاں بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ اپنی شریعت کی تبلیغ نہیں کریں گے بلکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی تبلیغ کریں گے اسی دین و شریعت کی طرف لوگوں کو متوجہ کریں گے اور آپ ﷺ کے امتی کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لائیں گے۔
۱۹؍ فروری بروز ہفتہ کو اس کورس کی دوسری نشست منعقد ہوئی جس میں جامع مسجد شافعی شیر شاہ کے امام و خطیب مولانا مفتی عبدالرحمٰن مدظلہ نے حجیت حدیث کے موضوع پر بیان فرمایا۔ کورس کے درمیان اس موضوع کو رکھنے کا مقصد عوام الناس کو فتنہ انکار حدیث سے آگاہ کرنا اور لوگوں کے دلوں میں حدیث کی اہمیت بٹھانا تھا، مولانا محترم نے اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی جس سے لوگوں کو الحمد للہ بہت نفع ہوا۔
۲۰؍ فروری بروز اتوار بعد نماز عشاء تیسری نشست منعقد ہوئی جس میں پہلا بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا مجاہد مختار کا ہوا جنہوں نے آیات خاتم النبیین کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کو واضح فرمایا۔ اس کورس کا آخری درس مرکزی مبلغ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنے دجل و فریب کے ذریعے اسلام کی حسین و جمیل عمارت میں نقب زنی کرنا چاہتے ہیں اور قادیانیت وہ فتنہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرتا ہے، اللہ رب العزت اپنے گستاخ کو اور شریعت مطہرہ کے دیگر شعائر کی توہین کرنے والے کو توبہ کی توفیق دیتے ہیں لیکن اللہ رب العزت اپنے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں اتنے غیور ہیں کہ آپ ﷺ کے گستاخ کو عموماً توبہ کی توفیق عنایت نہیں فرماتے اور قادیانی ٹولہ روئے زمین پر آپ ﷺ کے گستاخوں کا سب سے خطرناک ٹولہ ہے جس کے خلاف کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
آخر میں تقریباً ۷۱ افراد نے تحفظ ختم نبوت کے لئے کام کرنے کا عزم مصمم کیا۔ اللہ رب العزت ان حضرات کو اپنے پیارے حبیب ﷺ کی ختم نبوت کی محنت کے لئے قبول فرمائے۔ استاد محترم مفتی عبدالرحمٰن، مولانا عبدالعزیز، مولانا محمد یونس، بھائی محمد عرفان، محمد عدنان اور دیگر ساتھیوں کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۱ء ص ۲۷)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوک اعظم
جامعہ اسلامیہ ہائی سکول نزد جامع مسجد توحیدیہ چوک اعظم ۲۴؍ فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعتہ المبارک میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوئی۔ جس میں تلاوت قرآن پاک قاری محمد افضل و قاری محمد ابوبکر مدنی نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا عبدالرؤف نفیسی نے سرانجام دیئے۔ صدارت چوک اعظم جماعت کے سرپرست ڈاکٹر احمد خان نیازی نے کی۔ مہمان خصوصی مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۱۳۲ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد حسین، ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ تھے۔ کانفرنس کی نگرانی چوک اعظم یونٹ کے امیر مولانا مفتی محمد یسین ربانی نے کی۔ کانفرنس سے اہل حدیث مکتبہ فکر کے مولانا محمد اکرم شہزاد، جماعت اسلامی کے مولانا احسان اللہ حسن، اتحاد اہل سنت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا عبدالرؤف چشتی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ ان حضرات نے کہا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ مغربی این۔جی۔اوز، اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے افراد دل کے کانوں کی کھڑکیاں کھول کر سن لیں کہ تحفظ ناموس رسالت کا مسئلہ ہماری موت وحیات کا مسئلہ ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۴)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سرگودھا کی سرگرمیاں
سرگودھا میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ و ختم نبوت کے عظیم اجتماعات اور آخر میں ۲؍ مارچ ۲۰۱۱ء بروز بدھ کو عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس ربیع الاوّل کے مبارک مہینے میں ختم نبوت کے پیغام کو گلی ومحلہ میں پہنچانے کے لئے تقریباً ساٹھ کے قریب پروگرام منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ مستورات کے لئے درس کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ یہ تمام پروگرام مولانا محمد اکرم طوفانی کی زیر نگرانی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے سرپرست استاذ الحدیث مولانا نور محمد کی زیر نگرانی انعقاد پذیر ہوئے۔ ان تمام پروگراموں میں امیر محترم مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا رضوان، مولانا عبدالرحیم، مولانا حیدر علی، مولانا ثناء اللہ ایوبی، محترم قاری رحمت اللہ، مولانا مفتی جہانگیر اور بہت سے علماء کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مساجد کے علاوہ گلیوں اور گھر گھر میں جا کر ختم نبوت کا پیغام پہنچا کر اکابرین کی یاد کو تازہ کر دیا۔ اللہ کے فضل وکرم سے مضافات میں بھی بہت احسن انداز میں ختم نبوت کے پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں اور کئی ایک یونٹوں میں ہفتہ وار اور کچھ ماہانہ پروگرام تسلسل کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔ سرگودھا میں عالمی مجلس کا ترجمان ماہنامہ لولاک ۱۸۰۰ اور ہفت روزہ ختم نبوت ۷۰ رسالے تقسیم ہورہے ہیں۔ ان شاء اللہ ! ارادہ ہے ہم اس تعداد کو بڑھا کر ۱۰۰۰۰ تک پہنچائیں گے۔ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد فرماتے تھے کہ جیسے سرگودھا میں ختم نبوت کا کام ہورہا ہے۔ پوری دنیا میں شروع ہو جائے۔ اے کاش گنبد خضریٰ والے آقا مدنی ﷺ حشر والے دن کہہ دیں۔ سرگودھا والوں نے میری عزت و ناموس کے لئے کام کیا ہے۔ اس کی وجہ سے پل صراط کا راستہ آسان ہو جائے۔ جام کوثر مل جائے۔ میزان عمل پر آقا ﷺ کے اٹھے ہوئے ہاتھ نظر آ جائیں اور حضور ﷺ خود جنت میں داخل کروا رہے ہوں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۳،۵۴)
مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۴، ۵ مارچ ۲۰۱۱ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا نے کی۔ ملک بھر سے آنے والے تمام مبلغین نے شرکت کی۔ اجلاس میں تحریک تحفظ ناموس رسالت کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا اور تحریک میں شامل تمام دینی وسیاسی جماعتوں کے قائدین، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کا شکریہ ادا کیا گیا کہ جن کی شبانہ روز محنتوں سے اللہ پاک نے کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ وادی نیلم آزاد کشمیر میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد کشمیر گورنمنٹ سے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے اور انہیں آئین و قانون کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیا اور مولانا مفتی خالد میر کو ہدایت کی گئی کہ وہ وادی نیلم کا فی الفور دورہ کر کے مقامی علمائے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرام کے تعاون سے انسدادی کوشش فرمائیں۔ مجلس کے جن علاقوں میں مستقل دفاتر ہیں۔ ان دفاتر میں بالخصوص فیصل آباد، بہاول پور، راولپنڈی، کنری، ٹالہی (سندھ) میں ہر ماہ درس کو مستقل کیا جائے۔ لٹریچر المہدی و المسیح، شناخت، گالیاں کون دیتا ہے مسلمان یا قادیانی، قادیانی جنازہ اور قادیانی ذبیحہ فوری طور پر چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز سندھی زبان میں علامہ احمد میاں حمادی سے مشاورت و رہنمائی کے بعد اشاعت کا فیصلہ کیا گیا۔ تین قسم کے اسٹیکرز چھاپنے کے لئے مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی کو ہدایت کی گئی۔ ممتاز قادری کیس پر غور خوض کیا گیا۔ نیز اسلام آباد راولپنڈی جماعت کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر پیشی پر اپنے وکلاء کو شرکت کا پابند کریں۔ نیز قاری عبد الوحید قاسمی اسلام آباد، مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا عبد الرؤف، قاضی مشتاق احمد پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو وکلاء اور موصوف کے اہل خانہ سے رابطہ رکھے گی۔ جہلم، رحیم یار خان، حیدر آباد میں بین الاضلاعی کانفرنسیں منعقد کرنے اور بہاول پور، خانیوال، دنیا پور، صوابی، بنوں، نوشہرہ، نوابشاہ، پنوعاقل، ٹنڈوآدم، میرپور ماتھیلو، سانگھڑ، راجن پور، فاضل پور سمیت کئی ایک مقامات پر ضلعی اور مقامی کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ احتساب قادیانیت جلد انیس اگلی سہ ماہی کے لئے مطالعہ اور تلخیص کے لئے منتخب کی گئی۔ مبلغین کا آئندہ اجلاس یکم اور دو رجب المرجب کو منعقد ہوگا۔ مجلس کے مبلغین نے ملتان کی دو درجن سے زائد مساجد میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ جامعہ مفتاح العلوم حیدرآباد کے شیخ الحدیث مولانا شمس الدین کی وفات، مولانا محمد احمد مدنی اور ان کے بیٹے مولانا ابوبکر کی المناک شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ نیز ان کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ مولانا محمد احمد مدنی اور ان کے ساتھیوں کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۲، ۵۳)
تیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ کو تیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس شاہ عبداللطیف ہائی اسکول گراؤنڈ ٹنڈوآدم میں بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد، تحریک ناموس رسالت کے رہنما مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، سابق سینیٹر حافظ حسین احمد، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی اور ملک بھر سے جید علمائے کرام، کارکنانِ ختم نبوت اور عاشقانِ مصطفیٰ شریک ہوئے، تلاوت کلام پاک اور حمد ونعت شریف کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
امیر مرکزیہ شیخ الحدیث، مخدوم العلماء، مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحفظ ختم نبوت کی خاطر سردھڑ کی بازی لگا دیں گے، ماضی میں بھی ہم نے قربانیاں دیں اور اب بھی تیار ہیں امریکا اور مغربی ممالک مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں، توہین آمیز خاکوں میں بھی امریکا اور مغرب نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے، انہوں نے امریکی کانگریس کی جانب سے توہین رسالت آئین میں تبدیلی کا دباؤ بڑھانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانگریس ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے، انہوں نے تحریک تحفظ ناموس رسالت کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر سے کہا کہ وہ فوری طور پر کمیٹی اجلاس بلوا کر ردعمل کا اظہار کریں انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی بحال رہے گی اور تمام جماعتوں کے نمائندگان صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی سرکردگی میں حالات پر نظر رکھیں گے، اگر حکمرانوں نے امریکی دباؤ میں آکر قانون میں ترمیم یا اسے غیرمؤثر کرنے کی کوشش کی تو ماضی کی ریلیوں سے بڑی ریلی اب اسلام آباد میں نکالیں گے، امیر مرکزیہ نے کانفرنس کی کامیابی پر علامہ احمد میاں حمادی اور رفقائے کار اہلیان شہر کا شکریہ ادا کرتے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی تحفظ ناموس رسالت کے مسئلے پر اہلیان شہر زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں امریکی مداخلت پر بہت جلد تحریک تحفظ ناموس رسالت کا اجلاس بلوا کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ مسلمان حرمت رسول پر مر مٹنے کو تیار ہیں، حکومت اس مسئلے پر غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی دباؤ کو مسترد کر دے، بصورت دیگر مسلمان راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ مرکزی نائب امیر ختم نبوت ابن خواجہ خان محمد صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی قادیانیوں سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں، ہم آج بھی قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر محمد عربی ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائیں تو ہمارے بھائی ہیں، لیکن اگر وہ آخری نبی ﷺ کی ختم نبوت کے انکار پر اصرار کریں گے تو ہم ان کا تعاقب جاری رکھیں گے، انہوں نے قادیانیوں سے کہا کہ ہماری آئین کی پاسداری کو کمزوری نہ سمجھیں اور قادیانی آئین کے دائرے میں ہی رہ کر اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
کانفرنس کے نگران علامہ احمد میاں حمادی نے کہا کہ ایف آئی اے جیسا اہم ادارہ اور اس کا ڈائریکٹر جنرل وسیم احمد سکہ بند قادیانی ہے اس کو ایف آئی اے کا سربراہ بنایا جانا افسوس ناک عمل ہے، اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت کی جانب سے یہ جواب ملا کہ اس کا ڈائریکٹر رہنا ضروری ہے، سمجھ سے بالاتر اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا مذاق ہے، پی پی کو کم از کم اس قسم کی حکمت عملی اور اشتعال انگیزی سے گریز کرنی چاہئے، پی پی پی کے قائد بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا حکومت کے اس جواب پر تو بھٹو کی روح بھی تڑپ اٹھی ہوگی۔ پاکستان میں امریکی مداخلت ہر طرح سے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کا سب سے بڑا ثبوت ریمنڈ ڈیوس ہے اسے فی الفور پھانسی دینا قوم کے دل کی آواز ہے۔
مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور صاحبزادہ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے فرقہ واریت پھیلانے والے امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازشوں میں لگے ہوئے ہیں، قوم کبھی بھی فرقہ واریت پھیلانے والوں کو معاف نہ کرے گی، امت مسلمہ اپنے اتحاد کے ذریعے ہی ہر مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ قادیانی کمپنی شیزان کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، کیونکہ قادیانی کمپنیاں مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے مالی امداد مہیا کرتی ہیں۔
سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا کہ شہباز بھٹی قتل کو سلمان تاثیر کیس کے ساتھ نہ ملایا جائے، سلمان کھلم کھلا توہین رسالت کا مرتکب ہو چکا تھا، جب کہ بھٹی نے اقلیتی وزیر ہونے کے باوجود اس مسئلہ پر اتنی زبان درازی نہ کی جتنی مسلمان کہلوانے والے گورنر نے کی، انہوں نے وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک سے کہا کہ وہ سورۂ اخلاص غلط پڑھنے کا غصہ مدارس پر نہ اتاریں بلکہ وہ آ جائیں تو ہم انہیں اس سے بھی چھوٹی سورت یاد کروا دیں گے، دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں پاکستان کی دینی سرحدات کے محافظ ہیں، وزیر داخلہ الزام تراشی کے بجائے حقائق کو مدنظر رکھیں، علماء خود دہشت گردی کا شکار ہیں، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید سے لے کر مفتی سعید احمد جلالپوری شہید تک کون سا ایسا عالم ہے جو محفوظ ہو، علماء خود تو محفوظ نہیں وہ دہشت گردی کروا رہے ہیں؟ میں وزیر داخلہ کو اچھی طرح جانتا ہوں، دو منٹ میں بیان بدل دیتے ہیں، یہ ان کا ہی بیان تھا کہ ”کوئی میرے سامنے توہین رسالت کرے تو میں اسے قتل کر دوں گا‘‘، اب قوم فیصلہ کرے کہ سلمان تاثیر کو قتل کرنے والا مجرم ہے؟ دینی مدارس پر زبان درازی اور الزام تراشی بند کی جائے، انہوں نے کہا کہ ہم قادیانیوں کو آئین میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں جب کہ وہ آئین کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت روز روشن کی طرح عیاں ہے، امام اعظم ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ ”جو شخص جھوٹے مدعی نبوت سے فقط اس کی نبوت کی دلیل پوچھے تو پوچھنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے ۔“ قادیانی کسی نرمی کے مستحق نہیں، مسلمان اس مسئلہ پر غیرت کا مظاہرہ کریں، قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں، قادیانیوں سے لین دین نہ کریں جو مسلمان قادیانیوں کی حمایت کرے یا ان سے لین دین رکھے وہ ہم میں سے نہیں ہے، قادیانیوں سے ہمدردی رکھنے والا یا کوئی سیاسی لیڈر جو ان کی حمایت کرے جیسے ماضی قریب میں کی گئی وہ مسلمان نہیں، میں اسے اسلام سے خارج قرار دیتا ہوں، عوام کسی عالم کو قادیانیوں کے حامیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں اس کے اپنے مفادات اور مجبوریاں بھی ہوسکتی ہیں اگرچہ ایسا نہیں کرنا چاہئے قادیانی اور انکے حامیوں کیساتھ مفادات کی خاطر بھی نرم رویہ رکھنا قریب الکفر ہے لیکن کسی عالم دین کے کسی قادیانی حامی پارٹی سے تعلقات کی وجہ سے فتویٰ نہیں بدلتا، میں کسی ایسے عالم کو عالم ہی نہیں کہتا کہ وہ اسلام کا ٹھیکیدار کہلوا کر قادیانیوں کے حامیوں کی غلامی کرے، مولانا قاسمی نے کہا کہ قیامت میں دو کیمپ लगे ہوں گے ایک محمد عربی ﷺ اور ان کے حامی اور ان کے غلاموں کا اور دوسرا کیمپ قادیانیوں اور ان کے حامیوں کا ہوگا، بس اب ہر مسلمان کو سوچ لینا چاہئے کہ وہ کس کے پاس جانا چاہتا ہے۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ ، صاحبزادہ حافظ محمد سعید لدھیانوی، مولانا اسامہ رضوان، محمد طاہر مکی، مولانا محمد راشد مدنی، مفتی حفیظ الرحمان، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی اور دیگر علمائے کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍اپریل ۲۰۱۱ء ص۲۵ تا ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں:
- ☆ ...... کانفرنس کی صدارت حضرت الامیر اور نائب امیر مرکزیہ نے فرمائی، حضرت الامیر کی دعاء سے ہی کانفرنس کا آغاز ہوا، نگرانی
صوبائی امیر اور داعی کانفرنس علامہ احمد میاں حمادی کر رہے تھے، حضرت الامیر نے نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد کو اسٹیج پر کھڑا کر کے عوام سے ان کا تعارف کروایا اور ان کی خدمات پر انہیں دادِ تحسین دی۔
- ☆ ...... مرکزی رہنماؤں کا ٹنڈوآدم پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔
- ☆ ...... امیر مرکزیہ عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد کی کانفرنس میں تشریف آوری سے کانفرنس کی رونق
دوبالا ہوگئی۔
- ☆ ...... میڈیا کوریج کے لئے جدا گیلری کا انتظام کیا گیا۔
- ☆ ...... مولانا محمد راشد مدنی اسٹیج سیکرٹری اور قراردادیں پیش کرنے کے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیتے رہے۔
- ☆ ...... کانفرنس گزشتہ سالوں کی نسبت بھرپور خوشگوار اور مکمل پرامن رہی۔
- ☆ ...... کانفرنس میں کراچی کے دینی مدارس کے علاوہ اندرون سندھ سکھر، پنوعاقل، کنری، مٹھی، بدین، میرپور خاص، گھوٹکی، محراب پور،
شہدادپور، وغیرہ سے طلباء قافلوں کی صورت میں شرکت کے لئے آئے جب کہ نعت شریف کراچی مدرسہ کے طالب علم ابوبکر شاہ نے خوبصورت انداز میں پیش کی۔
- ☆ ...... کراچی سے صاحبزادہ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی اپنے رفقاء کے ہمراہ تشریف لائے جب کہ مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز
مصطفیٰ کی قیادت میں دفتر ختم نبوت کے ناظم رانا محمد انور، قانونی مشیر ختم نبوت منظور احمد میؤ راجپوت ایڈووکیٹ، سید انوار الحسن، حافظ محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سعید لدھیانوی، محمد عمار، محمد خبیب نفیس، حیدرآباد سے مولانا محمد نذر، کوٹری سے مولانا عبدالمجید، حاجی زمان خان، نوابشاہ سے مولانا محمد امجد مدنی، شہداد پور دارالعلوم حسینیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم، قاری عبدالرشید، جھول سے مولانا غلام مصطفےٰ، پنوعاقل سے مولانا ایم حبیب اللہ، فقیر محمد انڈھڑ، حافظ شہاب الدین، مفتی نافع مصطفےٰ، حافظ عبدالغفار شیخ، نے اپنے جماعتی رفقاء اور عہدیداروں سمیت کانفرنس میں شرکت کی جب کہ ٹنڈوآدم کی جمعیت علماء اسلام کے مولانا عثمان سموں، قاری محمد عباس، جامعہ مدینۃ العلوم کے شیخ الحدیث مفتی عبدالحئی بروہی، مفتی محمد امان اللہ بلوچ، حافظ عبدالمالک انصاری، قاسم العلوم کے حاجی محمد ہاشم، مولانا دوست محمد فاروقی، جامعہ محمدیہ کے مفتی محمد یعقوب مگسی، سانگھڑ کے چانڈیو قبیلے کے راہنماء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷/ اپریل ۲۰۱۱ء ص ۲۵ تا ۲۷)
سیرت النبی ﷺ کانفرنس حافظ آباد
۱۵/ مارچ ۲۰۱۱ء کو حافظ آباد میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حافظ حسین احمد، سید محمد اسماعیل شاہ کاظمی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور حافظ عبدالوہاب جالندھری نے خطاب کیا۔ اس کی سرپرستی مولانا محمد الطاف نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۵۵)
دنیا پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دنیا پور میں مورخہ ۲۴/ مارچ ۲۰۱۱ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شہر اور مضافات سے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مفتی محمد ظفر اقبال، جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایم۔ پی۔ اے مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، جماعت اسلامی کے سید وسیم اختر سمیت دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں نے خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک جاری رہے گی اور کسی بدباطن کو ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیا جائے گا۔ مجلس کے مقامی یونٹ کے راہنماؤں اور مولانا مفتی محمد ظفر اقبال کی شبانہ روز محنت سے کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ضلع بھر سے علماء کرام نے مولانا محمد میاں، مولانا اللہ بخش، مولانا شیخ حبیب احمد، قاری محمد مرتضیٰ کی قیادت میں شرکت کی اور کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/ مئی ۲۰۱۱ء ص ۲۴)
تحفظ ختم نبوت سیمینار
کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام امیر مرکزیہ، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں ۲۷/ مارچ ۲۰۱۱ء بروز اتوار صبح ۱۱ بجے گل بہار لان، بہادر آباد میں عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوت سیمینار“ منعقد کیا گیا، جس کی صدارت جامعہ معہد الخلیل کے مہتمم مولانا محمد یحییٰ مدنی دامت برکاتہم نے کی، جب کہ مہمان خصوصی مفسر قرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری مدظلہ تھے۔ مختلف بینرز، پوسٹرز اور دعوتی خطوط کے ذریعے اس کی تشہیر کی گئی تھی۔ ختم نبوت کے موضوع سے محبت اور لگاؤ کی برکت سے علماء کرام، طلباء، تاجر حضرات، وکلاء، کالجز و یونیورسٹیز کے اساتذہ و طلباء، کارکنان ختم نبوت اور دیگر معزز شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ خواتین کے لئے باپردہ انتظام کیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت کلام پاک صاحبزادہ حافظ محمد بن قاضی احسان نے کی۔ امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے اپنے مختصر خطاب میں فرمایا کہ اللہ رب العزت نے انسان کو دو چیزوں کا مرکب بنایا ہے، جسم اور روح جسم کا تعلق زمین سے تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ضروریات کے لئے ارضی چیزیں مہیا کیں۔ روح کی نسبت اپنی طرف کی ”ونفخت فیه من روحی“ روح کی تربیت کے انتظام و انصرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ شروع کیا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے دور میں کسی نے جھوٹا دعویٰ نبوت نہیں کیا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ نہیں باور کرایا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوئے لیکن امت مسلمہ نے کسی جھوٹے مدعی نبوت کو قبول نہیں کیا، اس لئے آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت قیامت تک کے لئے ہے۔ آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت کذاب و دجال ہے۔
مفسر قرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری مدظلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء کا اعزاز بخشا، یہ شرف اور خصوصیت صرف محمد عربی ﷺ کو عنایت فرمائی گئی۔ مسیلمہ کذاب نے تاج ختم نبوت پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش کی۔ حضرت حبیب بن زید ؓ نے اپنے جسم کے ٹکڑے کروائے لیکن مسیلمہ کذاب کی نبوت کا اقرار نہیں کیا۔ امت مسلمہ آج بھی پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے سامعین کے سامنے ختم نبوت سیمینار کی غرض وغایت اور عقیدہ ختم نبوت کی فضیلت واہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت جیسے فتنہ کے سدباب کے لئے ہم سب کو حتی المقدور کوشش و جدوجہد کرنا ہوگی۔ قادیانیوں کی فتنہ انگیزیوں اور شرپسندانہ سرگرمیوں سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم خود بھی بچیں اور اپنی نوجوان اولاد کو بھی ان کے مکر و فریب سے بچائیں۔ مولانا محمد یحییٰ مدنی دامت برکاتہم کی دعاء کے ساتھ یہ عظیم الشان سیمینار اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ کراچی ۱۵ تا ۲۱ / اپریل ۲۰۱۱ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن
ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد نور کروڑ لعل عیسن میں مؤرخہ ۲۸ / مارچ ۲۰۱۱ء کو منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد حسین اور تحصیل کے امیر جناب میاں محمد اکبر نے کی۔ جب کہ نقابت کے فرائض مولانا محمد فاروق نے سرانجام دیئے۔ جلسہ سے مولانا قاری عبدالشکور، مولانا عبدالستار، مولانا عبدالمجید قاسمی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرؤف چشتی آف اوکاڑہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا حکومت گستاخوں کی سرپرستی کرنے کی بجائے اپنے ایمان کی فکر پیدا کریں۔ اپنے قول اور فعل سے اسوہ رسول کا نمونہ دکھا کر مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۴)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس لیہ
سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد کرنال لیہ شہر میں مؤرخہ ۲۸ / مارچ ۲۰۱۱ء بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ جس میں مہمان خصوصی جانشین خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ تھے۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ وسایا، مجلس احرار اسلام کے رہنما مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری، عوامی خطیب مولانا عبدالرؤف چشتی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی نگرانی ضلعی ناظم مولانا قاری عبدالشکور، ماسٹر محمد شفیق نے کی۔ صدارت ضلعی امیر مولانا محمد حسین نے کی۔ مقررین نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کا مقصد صرف اور صرف اسلام اور اس کے عادلانہ نظام کے نفاذ میں مضمر ہے۔ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس بستی شیخ جلو
ختم نبوت کانفرنس بستی شیخ جلو (لیہ) میں بڑی شان و شوکت سے مارچ میں منعقد ہوئی۔ جس میں تلاوت کی سعادت قاری محمد اویس نے حاصل کی اور نعت مبارک مولانا محمد خزیمہ اور طاہر بلال چشتی نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالستار، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرؤف چشتی نے خطاب فرمایا۔ ان حضرات نے اپنے خطاب میں سیرت نبی ﷺ پر مفصل بیان فرمائے۔ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ گیا سے گیا مسلمان بھی نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس پر مٹنے کو تیار ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ملک میں امن برقرار رکھنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عمل کو یقینی بنائیں۔ کانفرنس کی صدارت ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ مولانا محمد حسین نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۳۱)
ختم نبوت کانفرنس لسکانی والا
مارچ میں مدرسہ حسین ابن علی لسکانی والا کروڑ لعل عیسن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں تلاوت کلام پاک قاری غلام عباس نے کی اور نظم محمد عرفان تونسوی اور عبدالشکور ربانی برادران نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا ثناء اللہ نقشبندی، مولانا عبدالستار، مولانا عبدالمجید قاسمی، مولانا عبدالرؤف چشتی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ ان حضرات نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت پر بیان فرمایا۔ ان حضرات نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت پورے اسلام کی اساس اور بنیاد ہے۔ اس عقیدہ کے بغیر دین اسلام کی عمارت ناقص اور کمزور ہوگی۔ لہٰذا ہم سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۱ء ص ۳۱)
ختم نبوت کانفرنس قلندر آباد ضلع مانسہرہ
تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس علاقہ قلندر آباد کے زیراہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے سلسلے میں یکم اپریل ۲۰۱۱ء بروز جمعتہ المبارک مرکزی جامع مسجد قلندر آباد میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جو زیر صدارت مولانا محمد ہارون خطیب جامع مسجد ہذا تھی۔ کانفرنس کا با قاعدہ آغاز قاری سعید الرحمٰن نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ بعد میں مختصر بیان مولانا ضیاء الرحمٰن نے کیا۔ جو کہ قلندر آباد یوتھ فورس کے سرپرست بھی ہیں۔ بعد میں جنرل سیکرٹری یوتھ فورس قاری بشارت نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔ مولانا ہارون نے مولانا اللہ وسایا کی آمد کے سلسلے میں خیر مقدمی کلمات کہتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم نے جب ممبر پر تشریف لائے تو لوگ عقیدت سے کھڑے ہوگئے۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے بیان میں تحریک ناموس رسالت ﷺ کے آغاز سے انتہاء تک کے حالات شرکاء کانفرنس کے سامنے تفصیل سے بیان کئے اور تحریک کی کامیابی پر عوام سے اظہار تشکر فرمایا۔ بعد میں عیسائی مذہب کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اگر دیکھا جائے تو پوری دنیا میں احسان فراموش کوئی قوم ہے تو وہ عیسائی ہیں۔ کیونکہ اسلام،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن اور خود حضور ﷺ کی ذات اقدس، عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں ان کی والدہ ماجدہ پر یہودیت کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر صفائی کے وکیل ہیں۔ جب کہ عیسائی بجائے اس پر مسلمانوں کے احسان مند ہوتے ۔ الٹا یہودیت کے آلہ کار بن کر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس پر ہماری حکومتیں بجائے سدباب کے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر ان گستاخوں کو بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔ جس پر وہ مزید شہہ پاتے ہوئے آسان راستے سے ویزوں کے حصول کے لئے اور زیادہ حد سے نکلتے جارہے ہیں۔ ستم یہ کہ اوپر سے قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کی بھی باتیں چل نکلیں اور بالآخر مجلس تحفظ ختم نبوت کو میدان میں اترنا پڑا اور الحمد للہ ! کامیابی حاصل کی۔ (۱) نماز جمعتہ المبارک کے بعد مولانا اللہ وسایا کے دست مبارک سے قلندر آباد کے مرکزی چوک کا تحفظ ختم نبوت چوک کے نام سے باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ (۲) اور ختم نبوت یوتھ فورس بحالی یونٹ کے دفتر کا بھی افتتاح کیا گیا۔ اس پورے پروگرام میں تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس علاقہ قلندر آباد نے صدر یوتھ فورس محمد اعظم کی قیادت میں زبردست انتظامات کر رکھے تھے۔ جس میں خدمت سیکورٹی اور استقبالیہ شامل تھے۔ مولانا کی آمد اور چوک کے افتتاح کے موقع پر پھولوں کے ہار اور گلاب کی پتیاں نچھاور کر کے مولانا اللہ وسایا سے عقیدت کا اظہار دیکھنے کے لائق تھا۔ بہترین ساؤنڈ سسٹم کی بدولت عیسائی مشنری ہسپتال اور عیسائی رہائشی کالونیوں تک مولانا کی تقریر کا ایک ایک لفظ پہنچتا رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۵۳، ۵۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ایبٹ آباد
ناموس رسالت کی تحریک کی کامیابی پوری پاکستانی قوم کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ تمام مکاتب فکر کے اتحاد نے حکومت کو مطالبات منظور کرنے پر مجبور کر دیا۔ عیسائی دنیا پر قرآن پاک کا احسان ہے کہ قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے وکیل صفائی کا کردار ادا کیا۔ اس پر شکر گزار ہونے کی بجائے قرآن پاک جلایا جارہا ہے اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے ایبٹ آباد میں عظیم الشان آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس مورخہ ۴؍ اپریل ۲۰۱۱ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا پیر قاضی ارشد الحسینی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد ساجد اعوان نے سرانجام دیئے۔ محمد خورشید اور جنید مصطفیٰ نے نعتیں پیش کیں۔ معزز مہمانوں کا شکریہ ڈسٹرکٹ خطیب مولانا عبدالواجد نے ادا کیا۔ مقررین میں تاجر رہنما نصیر خان جدون، مظہر خان، تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے صدر وقار خان جدون، جماعت اسلامی کے عبدالرزاق عباسی، جمعیت اہل حدیث کے مولانا سرفراز خان فاروقی، مولانا ہارون الرشید شامی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مفتی وقار الحق عثمانی، جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد صدیق شریفی، مولانا شکیل اختر جدون، سینیٹر مولانا سید ہدایت اللہ شاہ، شباب اسلامی کے مفتی نذیر قریشی، وفاق المدارس کے مولانا سردار حبیب الرحمٰن، سنی علماء کونسل کے مفتی عبدالبصیر رازی، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا نذیر القادری اور سجادہ نشین طورو شریف پیر سید محمد کمال شاہ کاظمی شامل تھے۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کے مسلمانوں نے زبردست تحریک چلا کر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اب آسیہ مسیح کیس میں امریکہ، یورپی یونین، پوپ سمیت پاکستانی حکومت کے عزائم تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سربراہان، مدارس عربیہ کی تمام تنظیمات کے اتحاد نے ناکام بنا دیئے۔ عیسائی پادری کی طرف سے قرآن جلانا مسلم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمرانوں کی بے ضمیری کا نتیجہ ہے۔ کانفرنس کا اختتام خطیب ہزارہ مولانا شفیق الرحمٰن کی اختتامی دعاء پر ہوا۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین، مشائخ عظام، خطباء، سیاسی قائدین اور وکلاء نمائندوں نے شرکت کی۔ جب کہ ضلع بھر کے طول وعرض سے بے شمار عاشقانِ رسول اللہ ﷺ کانفرنس میں شریک ہوئے۔
قراردادیں:
- ۱...... تحفظ ناموس رسالت کے قانون 295/C میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تنسیخ نہ کرنے کی حکومتی یقین دہانی پر ہم حکومت پاکستان کا
شکریہ ادا کرتے ہیں۔
- ۲...... مساجد، مدارس، مزارات اور علماء کرام پر ہونے والے خودکش حملوں کو ہم اسلام اور ملک دشمنی سمجھتے ہیں۔ انٹیلی جینس ایجنسیز اس
سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور بلیک واٹر جیسی دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کا سدباب کیا جائے۔
- ۳...... ڈرون حملے ملکی سلامتی اور وقار کے لئے زہر قاتل ہیں۔ امن وامان اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان انہی ڈرون حملوں کا
نتیجہ ہے۔ حکومت اور افواج پاکستان مشترکہ حکمت عملی کے تحت انہیں بند کروانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۵۲، ۵۳)
سہنہ گجرات میں ختم نبوت کانفرنس
کھاریاں کینٹ کے قریب بخاری مسجد قائم ہے، جسے قلندر احرار مولانا محمد شریف احرار نے تعمیر کرایا۔ مولانا محمد شریف سراپا احرار تھے اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے عشق میں فناء اور قادیانیت کے لئے ننگی تلوار تھے۔ عسر و یسر میں ختم نبوت کا علم تھامے رکھے۔ آپ کی مجاہدانہ تبلیغ سے دسیوں قادیانی حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھ عرصہ کراچی میں مجلس کے مبلغ رہے۔ دنیا پور لودھراں میں بھی قادیانیوں کا ناطقہ بند رکھا۔ بندہ گجرات کے مضافاتی علاقوں کے تبلیغی دورہ پر تھا کہ مولانا محمد قاسم سیوطی اور صو بیدار اللہ رکھا کی معیت میں بخاری مسجد میں حاضری دی۔ مولانا احرار کے نواسے مولانا محمد اسعد اور مولانا قمر الزمان نے خوش آمدید کہا اور کانفرنس کا مطالبہ کیا تو ۱۴؍اپریل ۲۰۱۱ء بعد نماز عشاء بخاری مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا احرار کے بھائی نے کی۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ مبلغین نے سامعین سے عہد لیا کہ وہ مولانا محمد شریف احرار کے مشن کو جاری وساری رکھیں گے۔ نیز مولانا محمد اسعد کو بھی یقین دلایا کہ مجلس ان کی سرپرستی جاری رکھے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ مئی ۲۰۱۱ء ص۲۴)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جہلم کی کامیابی
جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے جواں سال مہتمم، زیرک عالم دین مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق، تحریک خدام اہل سنت کے سربراہ ہمراہ قاضی ظہور الحسین اظہر، جہلم کی تمام دیوبندی قیادت جو ہمارے مخدوم مولانا عبداللطیف جہلمی، مولانا قاری محمد عمر خطیب کی تربیت یافتہ ہے۔ ان سب حضرات نے مل جل کر ایک کارخیر کا بیڑہ اٹھایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل خطیب ومرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی، جہلم وکشمیر کے مبلغ مولانا مفتی خالد میر، منڈی بہاؤالدین وگجرات کے مبلغ مولانا محمد قاسم، سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر، راولپنڈی کے مبلغ مولانا زاہد وسیم نے اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے شب وروز محنت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے سرپرست پیر طریقت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی، راولپنڈی مجلس کے امیر مولانا قاضی مشتاق احمد، راولپنڈی مجلس کے رہنما مولانا قاضی ہارون الرشید، دارالعلوم فاروقیہ راولپنڈی کے مہتمم اور وفاق المدارس کے مرکزی ناظم مولانا قاضی عبدالرشید، جامعہ مدنیہ اٹک کے مہتمم مولانا قاضی راشد الحسینی ایسی بے دار مغز قیادت نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اللہ رب العزت بہت ہی جزائے خیر سے سرفراز فرمائیں خطیب اہل سنت مولانا عبدالحق خان بشیر، خطیب ومہتمم جامعہ مسجد حیات النبی گجرات وامیر پاکستان شریعت کونسل پنجاب کو، کہ انہوں نے اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے گجرات سے جہلم کے کئی سفر کئے۔ تمام امور کی مکمل سرپرستی و نگرانی فرمائی۔ مغرب سے فجر تک کانفرنس کو ایک کامیاب کنٹرولر کی طرح خوبصورت و ماہر سٹیج سیکرٹری کے طور پر چلایا۔
۶؍ اپریل ۲۰۱۱ء مغرب کے بعد سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ساڑھے تین بجے رات جا کر کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ اٹک سے گوجرانوالہ، کشمیر سے منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ سے تلہ گنگ تک قافلے سڑکوں پر رواں دواں ہوئے تو وہ منظر ایسا دلکش تھا کہ جس نے دیکھا جھوم اٹھا۔ رب کریم کی رحمت کے فرشتوں نے بھی آسمانوں سے جھانک کر دیکھا ہو گا تو حضور سرور کائنات ﷺ کی امت کے لئے دعا گو ہو گئے ہوں گے۔ اٹک، راولپنڈی سے جو قافلہ مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی اور دیگر حضرات کی قیادت میں روانہ ہوا۔ گردونواح سے جو قافلے اس کارواں میں شریک ہوتے گئے۔ یہ کارواں جہلم پہنچتے پہنچتے کئی صد گاڑیوں پر مشتمل ہونے کے باعث قابل رشک ہو گیا۔ اسی طرح چکوال سے مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر کی قیادت میں جو قافلہ روانہ ہوا وہ خدام اہل سنت کی روایات کا بھر پور امین قافلہ تھا۔ ایسے دلفریب نظاروں سے عرصہ بعد آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس عظیم کانفرنس کے انعقاد پر اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرتی ہے۔ جس نے محض اپنے فضل وکرم سے اس کانفرنس کو پر امن انداز میں کامیاب فرمایا۔ ذیل میں مقررین کے اسماء گرامی پیش خدمت ہیں۔
بعد از مغرب اجلاس اوّل:
تلاوت: قاری حبیب احمد جہلمی۔ نعت: مطیع الرحمٰن ہاشمی۔ سٹیج سیکرٹری: خطیب اہل سنت مولانا عبدالحق خان بشیر۔ صدارت: اللہ وسایا۔ خطاب: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی۔
دوسرا اجلاس بعد از عشاء:
صدارت: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد۔ تلاوت: قاری عبید اللہ۔ نعت: مولانا محمد قاسم گجر۔ خطاب: مولانا عبداللہ انور، تلہ گنگ، حکیم مختار احمد الحسینی، جہلم، مولانا سعید یوسف، آزاد کشمیر، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، لاہور، مولانا قاضی ارشد الحسینی اٹک، اللہ وسایا ملتان، مولانا ریاض خان سواتی گوجرانوالہ، مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی، امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطبہ استقبالیہ: مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق جہلم۔ خطاب: مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ملتان۔ قراردادیں: مولانا عبدالحق خان بشیر اسٹیج سیکرٹری۔ خطاب: مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ساہیوال، مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر چکوال، مولانا محمد عالم طارق چیچہ وطنی، مولانا مفتی کفایت اللہ مانسہرہ۔ اختتامی خطاب: مولانا محمد الیاس گھمن سرگودھا۔ کلمات تشکر: مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق جہلم۔ اختتامی کلمات: مولانا عبدالحق خان بشیر گجرات۔ اختتامی دعاء: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ۔
نعرہ تکبیر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، خلافت راشدہ حق چار یار، اسلام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کے نعروں کی گونج میں بخیر وخوبی ساڑھے تین، پونے چار بجے فارغ ہوئے۔ مہمانوں سے الوداع کے بعد جب جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام پہنچے تو مؤذن نے کہا: اللہ اکبر! واقعی اللہ سب سے بڑا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص ۴، ۵)
خطبہ استقبالیہ ...... تاریخی ختم نبوت کانفرنس میونسپل سٹیڈیم جہلم
منعقدہ مورخہ ۶؍ اپریل ۲۰۱۱ء ...... مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق، صدر استقبالیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!
معزز مہمانان ذی وقار، علماء کرام ومشائخ عظام، مختلف دینی جماعتوں کے سربراہان و نمائندگان اور مختلف اضلاع سے تشریف لانے والے سامعین ذی قدر و ذی احترام ......السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم کے تعاون سے منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میونسپل سٹیڈیم جہلم میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم سب جمع ہیں۔ آیئے سب سے پہلے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام حضرات کی شرکت کو اللہ تعالیٰ شرف قبولیت سے نوازیں اور ذریعۂ نجات وشفاعت بنائیں۔ اللہ کرے کہ یہ تاریخی ختم نبوت کانفرنس ملک عزیز کی وحدت وسالمیت، اتحاد بین المسلمین اور عقیدہ ختم نبوت کی فکری اساس کو مضبوط کرنے کا باعث ثابت ہو۔ آمین!
حضرات گرامی قدر ......! عقیدہ ختم نبوت! دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تبلیغ وجہاد جیسے فرض اعمال کے لئے عقیدہ ختم نبوت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو بدن کے لئے روح کو۔ جس طرح بدن روح کے بغیر مردہ ہے۔ اسی طرح ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان کے بغیر، تمام اعمال، سعی لاحاصل ہیں۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قدر و قیمت اللہ کے ہاں نہیں ہے۔ اسی مسلمہ اہمیت کی وجہ سے یہ عظیم و مبارک عقیدہ دین اسلام کی روح کہلاتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات ذی وقار.....! ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ”النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم“ رحمت دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ: ”لایؤمن احدکم حتیٰ اکون احب الیه من والده وولده والناس اجمعین“ ان بین احکامات کی روشنی میں ہر شخص اپنے آپ کو آسانی کے ساتھ پرکھ سکتا ہے کہ اس میں کتنا ایمان ہے؟ آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس سے کتنی محبت ہے؟ آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی فکر اور احساس ہے یا نہیں؟ اگر اس کے دل میں توحید باری تعالیٰ، ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، ایمان بالرسل، قیامت، ایمان بالقدر ہے اور آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا احساس نہیں تو پھر اس شخص کو یقین کر لینا چاہئے کہ میرا دل ایمان سے خالی ہے۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ منہ!
حضرات گرامی قدر.....! دنیا جانتی ہے کہ قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ بقول خود انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اس کا خمیر انگریز کی کاسہ لیسی سے اٹھایا گیا ہے۔ قادیانیت کا وجود اسلام کی نفی ہے۔ قادیانیت امت مسلمہ کے تشخص کو برباد کرنے کی انگریزی سازش ہے۔ قادیانیت کا وجود امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی اغیار کی مکروہ چال ہے۔ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں۔ قادیانی سربراہ مرزا محمود آنجہانی نے تقسیم ہندوستان سے قبل کہا تھا کہ ہم کوشش کریں گے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو۔ اگر یہ تقسیم ہو گئی تو عارضی ہوگی۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہندو مسلم قومیں پھر اکٹھی ہو جائیں اور اکھنڈ بھارت بن جائے۔ قادیانیوں کے نام نہاد نبی کا مدفن بھارت میں ہے۔ وہ اس کے حصول اور اکھنڈ بھارت کے لئے بے قرار ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ کی لاش کو امانتاً دفن کیا ہوا ہے۔ قادیانیوں نے تقسیم کے وقت مسلم لیگ سے علیحدہ اپنا موقف ریڈ کلف کے سامنے پیش کر کے کشمیر کے لئے واحد زمینی راستہ ہندوستان کو مہیا کیا۔ قادیانی پاکستان سے قادیان کی حفاظت کے نام پر درویشان قادیان کے بھیس میں پاکستان سے ویزے لے کر گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت قادیان جاتے ہیں اور وہاں بھارت کے تربیتی کیمپوں سے ٹریننگ لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ حکومتی اہلکاروں کے علم میں ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں تمام تر تخریبی کاروائیوں کے ڈانڈے قادیانیت سے ملتے ہیں۔ جس کی واضح مثال، رسول پور تارڑ نزد پنڈی بھٹیاں میں قادیانی کے گھر سے اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ کا برآمد ہونا اور اس کا اعتراف کرنا کہ قادیان کے تربیتی کیمپ میں اس نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ہے۔ خود چناب نگر میں قادیانی جماعت نے دارالقضاء کے نام پر اپنا علیحدہ عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اس کے اپنے علیحدہ اسٹامپ پیپرز ہیں۔ علیحدہ سمن حاضری و وارنٹ ہیں۔ علیحدہ جج ہیں۔ جسمانی اور جرمانہ کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ حکومت پاکستان اگر حکومتی رٹ قائم کرنے کے دعویٰ میں مخلص ہے تو اس کی انکوائری کرائے اور قادیانیوں کی غیر قانونی کارروائیوں پر قدغن لگائے۔ امید ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی ان غیر قانونی کارروائیوں کا نوٹس لیں گے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں سے علیحدہ اپنا نبی، صحابہ، خلفاء، ام المومنین، اہل بیت کے شعائر بنا رکھے ہیں۔ خود کو مسلمان کہہ کر وہ آئین پاکستان سے کھلی بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ان کی خلاف آئین کارروائیوں کو روکنا اور انہیں آئین پاکستان کا پابند بنانا حکومت کے ذمہ ہے۔
حضرات محترم! جہلم وہ شہر ہے جہاں قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی عدالتوں کے چکر کاٹتے اور کچہریوں کی خاک پھانکتے رہے۔ تب جہلم کے ایک مرد مجاہد، نامور عالم دین مولانا کرم الدین دبیر سکنہ بھیں نے اسے ناکوں چنے چبوائے۔ تب سے آج تک اس سرزمین پر قادیانیت کا تعاقب جاری ہے۔ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے بانی مولانا عبداللطیف جہلمی، آپ کے صاحبزادہ و جانشین مولانا قاری حبیب احمد، حضرت دبیر کے جانشین مولانا قاضی مظہر حسین بانی تحریک خدام اہل سنت نے اپنے اپنے ادوار میں قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فتنہ کو ٹکنے نہ دیا۔ آج بھی اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ان حضرات کے جانشین، متوسلین، ومعتقدین، علیٰ رؤس الاشہاد اس امر کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے آخری سانس تک قادیانی فتنہ کا تعاقب جاری رکھیں گے۔
حضرات ذی وقار! جہلم ہمیشہ تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت! ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ، ۲۰۱۱ء کی تحریک حرمت رسول میں جہلم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ امید ہے کہ یہ عظیم الشان تاریخی ختم نبوت کانفرنس بھی ختم نبوت کے تحفظ کی پر امن اور آئینی جدوجہد میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔
حضرات گرامی! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے دو اہم امور اس کانفرنس کے ذریعہ آپ کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ آپ ان اہم امور کو کانفرنس کا اعلامیہ سمجھیں گے۔
امر اوّل: اس عظیم الشان تاریخی ختم نبوت کانفرنس میونسپل سٹیڈیم جہلم کا یہ اجتماع تمام مکاتب فکر کے علماء سے ضروری درخواست کرتا ہے کہ ہر مہینہ میں جمعہ کا ایک خطبہ عقیدہ ختم نبوت کے بیان کے لئے مختص کریں۔ تاکہ ملک بھر کے عوام و خواص کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے کفریہ عقائد سے باخبر کیا جاسکے۔
امر دوم: یہ اجلاس اسلامیانِ وطن سے عموماً اور شرکائے کانفرنس کے لئے خصوصاً لازم قرار دیتا ہے کہ جس طرح ہر قادیانی اپنے جھوٹے مدعی نبوت کے ملعونہ عقائد کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اس طرح ہمارا بدرجہ اتم یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے سچے نبی ﷺ کے سچے امتی ہونے کے ناتے، سچ کے اظہار اور قادیانیوں کے مکروہ عزائم کی تردید کے لئے میدانِ عمل میں نئے ولولہ سے اتریں۔ اس کا طریق کار یہ ہے کہ خود بھی قادیانیت سے بچیں اور کم از کم ہر مسلمان ہر روز ایک شخص کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے باخبر کرے اور عہد لے کہ وہ قادیانیوں سے ہر قسم کا اجتناب برتے گا اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں لوگوں کو قادیانیت سے بچائے گا۔ اس عمل کو پر امن اور تبلیغی انداز میں اتنا عام کر دیں کہ چہار سو عقیدہ ختم نبوت کے سدا بہار پھولوں کی مہک اور خوشبو پھیل جائے۔
حضرات گرامی! قادیانی فتنہ کے مقابلہ میں اللہ رب العزت نے امت کو بیش بہا کامیابیوں سے نوازا۔
- ۱...... ۱۹۷۴ء میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔
- ۲...... ۱۹۸۴ء میں قادیانیت کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔
- ۳...... سپریم کورٹ، ہائیکورٹ نے متعدد بار قادیانیوں کے خلاف فیصلے صادر کئے۔
- ۴...... ووٹر لسٹیں آج بھی قادیانیوں کی مسلمانوں سے علیحدہ تیار ہوتی ہیں۔
- ۵...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال ہوا۔
- ۶...... گوہر شاہی جھوٹے مدعی نبوت کو عدالت سے سزا ہوئی۔
- ۷...... یوسف کذاب جھوٹے مدعی نبوت کو عدالت سے سزا ہوئی۔
- ۸...... حال ہی میں ۸؍فروری ۲۰۱۱ء کو تحریک ناموس رسالت کے تمام مطالبات تسلیم ہوئے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا۔
امت مسلمہ نے ان شاتمان وغداران رسالت کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھا تو اللہ تعالیٰ اسے بیش از بیش کامیابیوں سے نوازیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات گرامی! اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے تمام دینی جماعتوں، مدارس، جہلم، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع کے علماء وعوام وخواص نے جس اخلاص ومحبت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم کی سرپرستی فرمائی۔ میں ان سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کا یہ مخلصانہ تعاون ہمیں ہمیشہ حاصل رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین! تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد!
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۱ء ص۱۹، ۲۱)
جلسہ ختم نبوت دریا خان مری سندھ
۷؍اپریل ۲۰۱۱ء بعد نماز مغرب جامع مسجد دریا خان مری میں جلسہ ختم نبوت کے عنوان سے پروگرام منعقد کیا گیا۔ جلسہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نوشہرو فیروز کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے بیان کیا۔ بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خصوصی خطاب فرمایا۔ جب کہ جلسہ کی صدارت قاری محمد حسین نے کی۔ جلسہ کے لئے حافظ نیاز احمد اور ان کے ساتھیوں نے بہت محنت کی اللہ تعالیٰ سب ساتھیوں کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے جامع مسجد سوسائٹی نواب شاہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۳)
جلسہ ختم نبوت پھل شہر
مؤرخہ ۷؍اپریل ۲۰۱۱ء بروز جمعرات جامعہ عربیہ مخزن العلوم کی جامع مسجد میں جلسہ ختم نبوت منعقد کیا گیا۔ جلسہ کا آغاز بعد نماز ظہر تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ حاکم علی بھرٹ نے نظمیں پڑھیں۔ آخر میں مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کا عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت پر تفصیلی بیان ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا اشفاق الرحمان نے انجام دیئے۔ جامعہ عربیہ مخزن العلوم کے ناظم اعلیٰ مولانا جاوید الرحمن پھل اور حافظ عبدالسلام پھل سمیت پھل شہر کے تمام علماء کرام اور دیگر ساتھیوں نے بھرپور شرکت کی۔ جب کہ جلسہ کی صدارت مولانا محمد حسین نے کی۔ جلسہ کے آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر حاضرین میں تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۳)
جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍اپریل ۲۰۱۱ء بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا عبدالرحیم مدظلہ نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی راہنما مفتی کفایت اللہ ایم۔پی۔اے، خطیب چناب نگر مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا بشیر، مولانا غلام حسین، مولانا ظہور احمد سالک، مولانا عبدالرحیم شیخ الحدیث جامعہ محمودیہ سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍مئی ۲۰۱۱ء ص ۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ روزہ رد قادیانیت کورس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یکم، ۲، ۳ / مئی ۲۰۱۱ء کو نواب شاہ جامع مسجد کبیر میں رد قادیانیت کورس منعقد کیا گیا۔ کورس کا دورانیہ مغرب تا عشاء اور بعد نماز عشاء ایک گھنٹہ مقرر کیا گیا اور آخر میں روزانہ سوال و جواب کی نشست مقرر کی گئی۔ جس میں حاضرین قادیانیت کے متعلق مختلف سوالات کرتے رہے اور حضرات مناظرین نے تسلی بخش جوابات دیئے۔ کورس کا آغاز کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت قاری عطاء الرحمان مدنی نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے ابتدائی بیان کیا۔ پہلے دن مولانا مفتی حفیظ الرحمان تشریف لائے اور ”کذبات مرزا“ پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ دوسرے دن مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ”اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی“ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور حوالہ جات نوٹ کروائے اور تیسرے دن مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت کو قرآن، حدیث، اجماع امت اور قیاس سے بیان فرمایا۔ اس کورس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تین سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے کورس کے شرکاء کو کاغذ قلم فراہم کئے گئے اور شرکاء کے لئے تینوں دن قیام و طعام کا بھی بندوبست کیا گیا اور کورس کے اختتام پر شرکاء میں جماعت کے لٹریچر، اسٹیکر وغیرہ کے پیکٹ اور کیلنڈر تقسیم کئے گئے۔ ان شاء اللہ اس کورس کے دور رس نتائج ظاہر ہوں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
مؤرخہ ۳ / مئی ۲۰۱۱ء بعد نماز عشاء جامع مسجد کبیر ریلوے اسٹیشن نواب شاہ میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت قاری عطاء الرحمن مدنی نے کی۔ مشہور نعت خواں حافظ اشفاق احمد کراچی نے نظمیں پڑھیں ۔ افتتاحی بیان مولانا راشد مدنی ٹنڈوآدم کا ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا کے خصوصی خطابات ہوئے اور مولانا تجمل حسین نے قرارداد پیش کی۔ آخر میں مولانا احمد میاں حمادی نے خطاب فرمایا اور دعاء کرائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاری محمد امجد مدنی نے انجام دیئے۔ کانفرنس کی صدارت قاری محمد ارشد مدنی نے کی۔ اس کانفرنس میں مولانا مفتی محمد یونس، مولانا محمد انیس، مولانا سراج الدین، مولانا ارشاد، مولانا عبدالستار بھٹی، مولانا عبدالرشید، مولانا یسین، قاری تصور، قاری علی اصغر، قاری عبداللہ فیض سمیت تمام مقامی علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مؤرخہ ۴/ مئی ۲۰۱۱ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد محراب پور میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تلاوت قاری فتح محمد نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے مبلغ مولانا تجمل حسین، مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاضی احسان احمد کا مخصوص انداز میں ولولہ انگیز خطاب ہوا۔ آخر میں جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری قاری کامران احمد کا بیان ہوا۔ کانفرنس کی صدارت قاری اسلام الدین نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالغفار نے انجام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیئے۔ کانفرنس زیرنگرانی مولانا عبد الصمد ہوئی۔ ان کے علاوہ مولانا محمد ابراہیم، قاری عبد المنان، مولوی خالد، مولانا شاکر، مفتی شاہد، مولانا محمد احمد، مولانا عبد الشکور، قاری عبد الرحمان، قاری محمد اشرف، حافظ تاج محمد، حافظ محمد اسلم سمیت مقامی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر حاضرین میں جماعت کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۲)
۳۰ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے زیر اہتمام تیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۱۱؍ مئی ۲۰۱۱ء، بروز: بدھ، بعد از نماز مغرب، بمقام: فاروق اعظم، مرکز ختم نبوت اٹک میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت قاضی محمد ارشد الحسینی مدظلہ نے کی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع اٹک کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔
اس موقع پر مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی کے طور پر مدعو تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ مسلمان آقائے نامدار ﷺ کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
مولانا نے اپنے بیان میں عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تبلیغ و جہاد جیسے فرض اعمال کے لئے عقیدۂ ختم نبوت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو بدن کے لئے روح کو، جس طرح بدن روح کے بغیر مردہ ہے، اسی طرح ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان کے بغیر تمام اعمال، سعی لاحاصل ہیں، اسی عقیدہ کو دین اسلام کی روح کہتے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے تمام علمائے کرام سے اپیل کی کہ آپ مہینے میں کم از کم ایک جمعہ ختم نبوت کے لئے وقف فرمائیں۔
محترم قاضی محمد ارشد الحسینی نے خطاب کے آخر میں دعاء فرمائی اور تمام حاضرین محفل سے گزارش کی کہ عقیدۂ ختم نبوت کی معلومات حاصل کرنے کے لئے ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ اور ماہنامہ ’’لولاک‘‘ کا ضرور مطالعہ فرمایا کریں۔
نقیب محفل مولانا مفتی مسعود احمد خطیب مرکزی جامع مسجد اٹک تھے دیگر علماء کرام میں مولانا عبید اللہ، محمد اسعد الحسینی، مولانا محمد طارق، مولانا ظفر اقبال، معززین شہر اور عوام الناس کی کثیر تعداد تھی۔
کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں سب سے بڑا کردار امیر ختم نبوت ضلع اٹک قاضی محمد ثاقب الحسینی نے ادا کیا۔ حضرت امیر صاحب نے شب روز محنت کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کانفرنس کامیاب اور کامران رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۱ء ص ۱۲)
تحفظ ختم نبوت خواتین اسلام کانفرنس سرگودھا
۱۲؍ مئی ۲۰۱۱ء رضا کاران ختم نبوت دھوپ گرمی برداشت کر کے ایک ایک دکان پر جا کر شیزان کے بائیکاٹ پر لوگوں کو آمادہ کر رہے ہیں۔ جس میں محض اللہ کے فضل و کرم اور حضور ﷺ کے نام کی برکت سے بہت کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ اس گشت کی سپہ سالاری کا کام محمد حسیب بڑے احسن انداز میں نبھا رہے ہیں اور ایک ٹیم برائے مضافات جس کے امیر محمد جاوید علی اور ان کے ساتھ کچھ رضا کار ہر جمعہ
کو اپنا مال اپنی جان کے تحت مرزائیوں سے متاثرہ دیہاتوں میں جا کر جمعتہ المبارک کے خطبہ میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور رد مرزائیت کے عنوان پر پڑھاتے ہیں۔ جس کی بدولت دیہاتوں میں بھی مرزائیوں سے بائیکاٹ کی بہت اچھی فضاء بن رہی ہے۔ ہر انگریزی مہینے کے پہلے جمعہ کو دفتر ختم نبوت میں ماہانہ پروگرام بہت کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس ماہ کے اجلاس سے مولانا اللہ وسایا کی آمد پر رضا کاران ختم نبوت خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس مہینے میں اللہ کی رحمت اور مولانا محمد اکرم طوفانی کی شبانہ روز محنتوں سے سرگودھا میں ’’مجلس دختران تحفظ ختم نبوت‘‘ وجود میں لائی گئی۔ کیونکہ حال ہی میں سرگودھا یونیورسٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں قادیانی لڑکیاں داخل ہوئیں۔ جس کی وجہ سے مولانا طوفانی صاحب اکثر پریشان رہتے تھے۔ ’’مجلس دختران تحفظ ختم نبوت‘‘ کی یونٹ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے زیر اہتمام ۱۲؍مئی ۲۰۱۱ء کو اکرام کالونی میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت خواتین اسلام کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد ابراہیم، مولانا نور محمد ہزاروی اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے وجد آفریں بیان کرتے ہوئے کہا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ تمام نبی عورت کے بطن سے ہی دنیا میں آئے ہیں۔ لہٰذا آج حرمت مصطفیٰ ﷺ کے لئے گلی گلی میں صدا لگاؤ کہ ختم نبوت کے منکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پروگرام میں ہدیہ نعت کی سعادت محمد افضل نے حاصل کی۔ خواتین نے اختتام پر اس بات کا اظہار کیا۔ عنقریب ہم بھی اپنے علاقوں میں ختم نبوت کے حوالے سے پروگرام کروائیں گی۔ اسی طرح یونٹ سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا میں ہر اتوار کو بعد نماز عصر با قاعدگی کے ساتھ پروگرام ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امیر محترم مولانا نور محمد ہزاروی درس وتدریس کے علاوہ آئے روز مختلف مقامات پر درس قرآن یا جلسہ عام میں مصروف رہتے ہیں۔ معاون مبلغ محمد فیصل ندیم مدنی نے تقریباً ۲۵ مقامات مساجد، یونٹوں میں بیان کیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی کے پاس پروگراموں کے علاوہ اگر کوئی شخص بھی دفتر میں آ گیا تو گھنٹہ گھنٹہ اس کو آقا مدنی ﷺ کا مقام سمجھانے میں لگا دیتے ہیں۔ روٹی کا پہلا نوالہ ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کھانا بھی یاد نہیں رہتا۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے یا اللہ ! مولانا طوفانی کا سایہ تادم آخر صحت وعافیت کے ساتھ ہمارے سروں پہ سلامت رکھ۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص۵۲،۵۳)
گوجرانوالہ میں رد قادیانیت وعیسائیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے زیر اہتمام چھ روزہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ نے تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ مؤرخہ ۱۴؍مئی ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد عثمانیہ گرجاکھ میں کورس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور افتتاحی تقریب میں شہر کے علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ تقریب سے مولانا سیف الرحمن قاسم نے کورس کے اغراض ومقاصد کے حوالے سے اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمایا۔ کورس روزانہ بعد نماز مغرب تا عشاء مقرر کیا گیا۔ تقریباً دو سو کے قریب طلباء اور ایک سو کے قریب طالبات نے باقاعدہ شرکت کی۔ طالبات کے لئے پردے کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مسجد عثمانیہ کے خطیب مولانا شوکت نصیر اور جماعتی یونٹ کے احباب مولانا قاری محمد عارف، مفتی محمد زاہد، قاری محمد عمران طارق، حافظ محمد خالد صفدر ودیگر نے ایک مہینہ پہلے کورس کی بھر پور تشہیر کی۔ روزانہ تین گھنٹے کورس کا دورانیہ مقرر کیا گیا۔ چھ روزہ کورس کی اختتامی تقریب مؤرخہ ۱۹؍مئی ۲۰۱۱ء بروز جمعرات بعد نماز منعقد ہوئی۔ جس میں شہر کے علماء کرام کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد مشرقی، مولانا شوکت نصیر خطیب عثمانیہ مسجد گرجاکھ، مفتی محمد زاہد، مولانا محمد عارف شامی، محترم بابر رضوان باجوہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مفصل خطاب فرمایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے رہنماؤں مولانا محمد اشرف
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجددی، حافظ محمد یوسف عثمانی، قاری عبدالغفور آرائیں، مولانا قاری منیر احمد قادری، سید احمد حسین زید، پروفیسر حافظ محمد انور، حافظ الیاس قادری نے شرکت کی۔ آخر میں تمام شرکاء کورس کو جماعت کی طرف سے سند اعزاز اور انعامات پیش کئے گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس مظفر گڑھ
مؤرخہ ۱۶؍مئی ۲۰۱۱ء بروز پیر بعد نماز عشاء بمقام واٹر پلانٹ چوک مظفر گڑھ بسلسلہ تحفظ ختم نبوت وحمد ونعت کانفرنس منعقد ہوئی، جو کہ زیر اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ونوجوانان احناف مظفر گڑھ تھی۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مظفر گڑھ کے مبلغ قاضی عبدالخالق نے سر انجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد زبیر وقاری محمد ریاض نے کی۔ قاری محمد آصف رشیدی آف گوجرانوالہ، جناب شہید الاسلام آف کراچی، نونہال بچی آمنہ اظہر، سید عزیز الرحمن شاہ نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا اور مولانا نصرالاسلام شیرازی، ایم۔این۔اے جمشید خان دستی، مولانا محمد اسامہ رضوان، قاضی عبدالخالق اور مولانا مفتی ابوبکر نے اپنے مفصل بیانات سے لوگوں کے دلوں کو گرمایا۔ اس کے علاوہ قاری محمد طیب قاسمی جتوئی، محمد انس بن مالک علی پور، قاری محمد احمد علی مدنی، مولانا محمد اسماعیل عاصم، محترم محمد ارشد اور ضلع مظفر گڑھ کی دینی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے انتظامات کو محمد نوید، محمد اظہر اور محمد خالد نے بڑے اچھے انداز میں کنٹرول کیا ہوا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مظفر گڑھ کے مبلغ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ضلع مظفر گڑھ میں تین افراد نے حضور ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔ جن پر ۲۹۵۔سی درج ہو چکا ہے اور تینوں گستاخ اس وقت گرفتار ہیں۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ موجودہ قانون توہین رسالت کے مطابق ان مجرموں کو سزا دی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۰)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا دورہ کراچی
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ مختصر وقت کے لئے کراچی کے دورۂ پر تشریف لائے، اس سنہری موقع سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے دوست واحباب نے ختم نبوت کے مختلف مراکز میں حضرت ناظم اعلیٰ مدظلہ کے پروگرام ترتیب دیئے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۴؍مئی ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد رفاہ عام سوسائٹی ملیر میں مولانا دامت برکاتہم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
گزشتہ چودہ صدیوں میں جتنے علماء کرام گزرے ہیں، ان کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پیدائش کسی اور جگہ کی ہے اور وفات کسی اور جگہ کی ہے۔ ہمارے مولانا سیّد محمد یوسف بنوری کو لیجئے: افغانستان میں پیدا ہوئے، پشاور میں تعلیم پائی۔ ڈابھیل میں بھی علم حاصل کیا پھر ٹنڈو الہ یار میں پڑھاتے رہے اور کراچی آکر جامعہ علوم اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور یہیں رحلت فرمائی۔
کوئی تاجر، دنیا دار، افسر اپنا گھر نہیں چھوڑتا، مگر علمائے امت کے مقدر میں اللہ رب العزت نے یہ لکھا ہے، پڑھیں گے کہیں اور فیض کہیں پھیلائیں گے اور آخری وقت کہیں اور ہوں گے۔ اسی طرح یہ علماء حق دین اسلام اور ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵؍مئی بروز اتوار صبح ۱۱بجے دفتر ختم نبوت پرانی نمائش میں ایک تربیتی نشست منعقد کی گئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ ارقم و حافظ محمد نے حاصل کی، بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے طلباء پر زور دیا کہ اپنے اکابرین پر اعتماد کیا جائے اور اپنے اکابرین کے ہوتے ہوئے دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘ اس کا فائدہ: ’’المرء مع من احب‘‘ ہے، دنیا میں اکابرین کی معیت اختیار کریں گے تو آخرت میں بھی ان شاء اللہ اکابرین کی معیت حاصل ہوگی۔
اس کے بعد حضرت ناظم اعلیٰ مدظلہ نے خطاب فرمایا۔ حضرت مدظلہ نے اہل حق اور اکابر علمائے امت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے لے کر آج تک حق والوں پر تکلیف آتی رہی۔
شمیم مسجد دہلی کالونی میں بعد نماز عشاء ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ کو دل سے تسلیم کرنا ایمان کا حصہ ہے۔ آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ کے مقابلے میں عقل کو ایک طرف کر دیں اور دل کو حاضر کر دیں اور آپ ﷺ کی سنت پر عمل کریں اور سنت رسول کا استہزاء نہ کیا جائے، جو آدمی سنت رسول کا مذاق اڑائے، ہنسی مزاح کرے، تو تمام علماء کے نزدیک اس کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ ایمانیات پر عمل کرے، اللہ رب العزت کو ایک مانے اور اس طرح مانے جس طرح آپ ﷺ نے مانا ہے، موحد ہونا اللہ رب العزت کی طرف سے خاص انعام ہے اور انبیاء کرام کو اس ترتیب کے مطابق مانو جو اللہ رب العزت نے رکھی ہے، حضرت آدم علیہ السلام کو اوّل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ﷺ سے پہلے مانو، آپ ﷺ کو آخری نبی مانو اگر آپ ﷺ کو آخری نبی نہ مانا تو ترتیب خداوندی کو غلط ٹھہرانا ہے۔
۱۶؍مئی بروز پیر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے خلیفہ مجاز مولانا یحییٰ مدنی مدظلہ کی طرف سے ناشتے کی دعوت پر جامعہ معہد الخلیل تشریف لے گئے۔ ناشتے کے بعد طلباء سے خصوصی بیان کیا۔ حضرت مدظلہ نے فرمایا کہ علم کی ترقی کے لئے ذرائع علم کا ادب و احترام ضروری ہے۔ اسباب علم کے آداب کو جتنا ملحوظ رکھا جائے گا، اتنا ہی علم میں نور پیدا ہوگا، اپنے اساتذہ کرام، کتابیں، حتی کہ تپائی، درس گاہ، چوکیدار، باورچی، خاکروب غرض کسی کی بے ادبی کی تو علم نافع حاصل نہیں ہوگا۔ حضرت مدظلہ نے طلبا کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ اختیار کیا جائے، اس سے کسبی علوم کے علاوہ وہبی علم بھی حاصل ہوگا اور اللہ رب العزت تقویٰ کی برکت سے علم باطنی اور ظاہری دونوں سے آراستہ کریں گے۔
ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے اپنے دست مبارک سے جامعہ میں ۹۰ فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلباء کرام کو انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر مولانا یحییٰ مدنی مدظلہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی اور ملتان کے دفاتر کے لئے اپنی مطبوعات کے قیمتی سیٹ پیش کئے۔ اللہ جل شانہ ہمارے ان اکابر کو صحت وعافیت کے ساتھ دیر تک سلامت رکھے تاکہ ہم ان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوسکیں۔ آمین۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۱۱ء ص۱۹، ۲۰)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹؍مئی ۲۰۱۱ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء پھول باغ گمبٹ میں نویں سالانہ عظیم الشان ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے امیر حکیم عبدالواحد بروہی نے کی، جب کہ مولانا محمد رمضان جوائنٹ سیکریٹری جے یو آئی صوبہ سندھ نگران تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شیخ الحدیث مولانا نعمت اللہ شیخ نے انجام دیئے۔
تلاوت کی سعادت قاری امیر علی رند نے حاصل کی۔ حاکم علی بھرٹ اور حافظ دلدار احمد نے نظمیں پڑھیں، ابتدائی بیان مولانا تجمل حسین نے کیا، پھر مولانا عبداللہ عباسی جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے اسلام ضلع خیر پور نے بیان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ ان کے بعد مولانا اللہ وسایا کا تفصیلی خطاب ہوا، مولانا میر محمد میرک امیر جمعیت علماء اسلام ضلع خیر پور کا بیان ہوا، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے رہنما علامہ احمد میاں حمادی کا بیان ہوا۔ آخر میں سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ نے اپنے خیالات سے سامعین کو مستفید کیا۔
کانفرنس میں مختلف حلقوں سے علماء کرام، مولانا مفتی عبدالقادر کولاب جیل، مولانا حزب اللہ ٹھیڑی، مولانا قاضی حبیب اللہ ٹھیڑی، مولانا حکیم اللہ ڈرب مہر شاہ، مولانا مفتی محمد ادریس کنڈیارو، مولانا عبدالعلیم کنڈیارو، مولانا محمد ایوب کنڈیارو، مولانا عبدالقیوم جوگی ہالانی، مفتی محمد عابد ہالانی، مولانا عبدالغفار محراب پور، مولانا اشفاق الرحمن پھل شہر، مولانا آصف محمود پھل کھڑڑاہ، مولانا حماد اللہ کمب، مولانا نور محمد میمن رانی پور اور مولانا سیّد احمد شاہ رپڑی سمیت کثیر تعداد میں علماء کرام قافلوں سمیت شریک ہوئے۔
مولانا عبدالصمد، مولانا عبدالغنی، مولانا ہدایت اللہ، قاری امیر احمد، قاری ظہور احمد، قاری محمد انور، مولانا الطاف، حافظ جنید احمد، عبدالسمیع شیخ، جاوید احمد شیخ سمیت مقامی حضرات نے کانفرنس میں بھر پور شرکت کی اور انتظامات سنبھالے۔ اللہ تعالیٰ تمام ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ رات گئے تک یہ عظیم الشان کانفرنس جاری رہی جب کہ کانفرنس کے اختتام پر حاضرین میں مجلس کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۱۱ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس کرک
۲۲؍ مئی ۲۰۱۱ء بروز اتوار کرک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مجلس کے ضلعی امیر مولانا محمود الرحمن نے کی۔ جب کہ سرپرستی صاحبزادہ نجیب احمد نے فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی تھے۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے ایک ہفتہ قبل مجلس کے مبلغ مولانا عابد کمال نے ضلع کرک کے تمام مدارس کا دورہ کیا۔ مختلف سکولز میں پروگرام کئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری غلام فرید کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد رؤف برادران اور جاوید انور نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ پہلا بیان مولانا سعید احمد کا ہوا۔ اس کے بعد قاری سیف الدین نے ترانہ پیش کیا۔ ترانے کے بعد مولانا عابد کمال نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تیسرا بیان سابق قادیانی جناب عرفان محمود برق کا ہوا جس میں انہوں نے قادیانیت کے بخئے ادھیڑے۔ آخری بیان مہمان خصوصی مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کا ہوا۔ جس میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کیا۔ پروگرام کا اختتام مولانا خواجہ خان محمد کے فرزند ارجمند صاحبزادہ نجیب احمد کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۱۷)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس مؤرخہ ۴ ، ۵؍ جون ۲۰۱۱ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں ہوا۔ جس کی صدارت مولانا اللہ وسایا نے کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں آل پاکستان چناب نگر ختم نبوت کورس کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اور طے ہوا کہ کورس میں حسب سابق ملک بھر سے جید علمائے کرام شریک ہو کر عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات مسیح علیہ السلام، قرآن، احادیث نبویہ اور اجماع امت جیسے اہم عنوانات پر خطاب کریں گے۔ حالات کے پیش نظر تمام شرکاء اپنے شناختی کارڈ اصل نقل ہمراہ لائیں یا مدرسہ کے منتظمین سے تصدیقی سرٹیفکیٹ، تمام شرکاء کورس کو اصول وضوابط کی پابندی کرنا لازمی ہوگا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ کورس کا آغاز ۹؍ جولائی کو صبح ۸ بجے ہوگا اور تین دن تک داخلہ جاری رہے گا۔ تین روز کے بعد آنے والوں سے معذرت۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ کورس کے دوران چناب نگر کے مضافاتی اضلاع میں سمر کیمپ منعقد کئے جائیں گے۔ مبلغین ومناظرین ختم نبوت سمر کیمپ کے شرکاء سے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کے غلیظ عقائد پر لیکچر دیں گے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ رمضان المبارک سے پہلے پہلے ملک بھر میں منعقد ہونے والے سمر کیمپوں میں مجلس کے مبلغین انتظامیہ سے رابطے کر کے لیکچرز کی سبیل نکالیں۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۱۳، ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو چناب نگر میں نہایت تزک واحتشام سے منعقد ہوگی۔ مولانا اللہ وسایا کی سرکردگی میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں سے ابھی سے رابطے قائم کر کے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے گی۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ بہاولنگر اور دوسرے علاقوں میں کانفرنسیں رمضان المبارک کے بعد منعقد کی جائیں گی۔ تاکہ وہ مرکزی کانفرنس کے لئے معاون ثابت ہوں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عصری تعلیمی اداروں میں مجلس کے رہنماؤں کے لیکچرز کا انتظام کیا جائے۔ تاکہ نسل نو کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
آئندہ سہ ماہی کے لئے ’’ائمہ تلبیس‘‘ کے مطالعہ وتلخیص کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ میٹنگ ۸، ۹؍ شوال المکرم کو ہوگی۔ احباب ۷؍ شوال المکرم شام کو تشریف لائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۱ء ص ۵۶)
تاجدار ختم نبوت کانفرنس سیدوالا
مولانا اللہ وسایا مدظلہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ ۸؍ رجب المرجب مطابق ۲۱؍ جون ۲۰۱۱ء بعد از نماز عصر ملتان سے براستہ فیصل آباد سید والا تشریف لائے۔ جڑانوالہ روڈ پر حافظ مشتاق احمد انبالوی، مقامی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قاری محمد رمضان حیدری، رانا محمد عدنان فیصل اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا استقبال کیا۔ مولانا حیات، حافظ مشتاق احمد کو اپنے ہمراہ لے کر سید والا سے ۸، ۹ کلومیٹر دور چک نمبر ۶۳/۵ انٹھی والا تشریف لے گئے، جہاں پر مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب، مجاہد ختم نبوت حاجی عبدالحمید رحمانی، رانا محمد اکرم، مہر شوکت علی آف ننکانہ کے علاوہ رانا رفیق الرحمٰن، رانا ابرار احمد، رانا محمد اسلم، رانا محمد شفیق، رانا ذوالقرنین، رانا سیف الرحمٰن، رانا عمران کاشف، رانا محمد حسین، رانا ظہیر عباس، مولانا محمد اسلام عابد اور دیگر اہل گاؤں نے مولانا صاحب کا استقبال کیا۔ گاؤں کی مسجد میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے قادیانیوں کی قانونی حیثیت پر بیان شروع کر دیا اور پاکستان کی تمام عدالتوں کی طرف سے قادیانیت کے کفریہ عقائد کے خلاف فیصلوں پر مدلل تقریر کی۔ نماز مغرب سے دس منٹ پیشتر حاجی عبدالحمید رحمانی نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا۔ نماز مغرب کے فوراً بعد مولانا اللہ وسایا نے ختم نبوت کے موضوع پر مختصر مگر جامع بیان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے حوالہ جات سے مرزائیت کی دھجیاں اڑائیں۔ ایک گھنٹہ بعد حضرت جی کی دعاء پر اس نشست کا اختتام ہوا اور سید والا کے لئے روانگی ہوئی۔
نماز عشاء کے قریب یہ قافلہ مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں مدرسہ جامعہ فاروقیہ تعلیم القرآن سید والا پہنچا، جہاں پر مولانا حاجی حبیب الرسول، قاری محمد حبیب عثمان نعمانی، چوہدری حاجی مختار احمد نمبردار، میاں محمد حنیف، حافظ محمد صدیق آف چک نمبر ۱۲۶ چوہدری خادم حسین مقامی صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ڈاکٹر حاجی خالد محمود، میاں محمد افضل ملتانی، رانا محمد سلیم اختر، ملک حاجی اللہ یار، ملک محمد طفیل، شیخ لیاقت علی، ماسٹر حاجی افتخار الحسینی، مولانا افتخار احمد علوی، رائے حاجی مقبول حسین، رائے حق نواز، حافظ ابو بکر قاسمی، مہر ملک محمد رفیق، ماسٹر حاجی محمد دین، ماسٹر رانا محمد رمضان فوجی، رانا محمد اقبال، رانا لیاقت علی، رانا عتیق الرحمن، رانا حفیظ الرحمن، رانا عبد المنان، رانا ایوب الرحمن، رانا اخلاق الرحمن، ماسٹر رانا عبد المجید، رانا محسن سلطانی، رانا ظاہر اقبال، رانا جمشید افتخار اور دیگر ممبران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علاقہ سید والا نے حضرت کا استقبال کیا، نماز عشاء کے فوراً بعد تاجدار ختم نبوت کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ تلاوت قاری محمد رمضان حیدری نے کی۔ نعت شریف محمد عامر مظاہر آف جڑانوالہ نے پیش کی۔ اس کانفرنس کی صدارت جرنیل ختم نبوت جناب حاجی عبدالمجید رحمانی نے کی، جب کہ جناب مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ ننکانہ بھی اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ قریباً آدھ گھنٹہ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مسئلہ ختم نبوت بیان کیا۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے ایمان افروز خطاب شروع کیا ایک گھنٹہ مدلل بیان کے بعد مولانا نے تقریر ختم کی تو حافظ مشتاق احمد ناظم مدرسہ نے رانا غلام محمد مرحوم سابق امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سید والا ، ڈاکٹر عبدالباسط مرحوم بن ڈاکٹر حاجی عبد الحفیظ کے بارے میں چند تعزیتی کلمات کہے اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں گیارہ بجے رات مولانا خلیفہ حاجی حبیب الرسل خطیب جامع مسجد حنفیہ المعروف لال مسجد کی دعاء کے ساتھ یہ جلسہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ اگست ۲۰۱۱ء ص ۲۵)
سہ روزہ رد قادیانیت کورس حسن ابدال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد محلہ اندرون حسن ابدال میں مورخہ ۲۱ تا ۲۳/ جون ۲۰۱۱ء کو رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا انتظام نوجوان عالم دین شبیر احمد ، قاری اکرام اللہ مجددی، مولانا محمد نوید نے کیا۔
۲۱/ جون ۲۰۱۱ء عصر سے عشاء تک مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور مرزا قادیانی کے دجل و فریب کے خلاف مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ ۲۲/ جون ۲۰۱۱ء عصر سے مغرب تک صوبہ خیبر پختونخواہ کے مبلغ مولانا محمد عابد کمال نے عقیدہ ختم نبوت کے متعلق قرآن وحدیث سے دلائل دیئے۔ جب کہ مغرب سے عشاء تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اجرائے نبوت سے متعلق قادیانیوں کے شکوک و شبہات کے جوابات پیش کئے۔ ۲۳/ جون ۲۰۱۱ء عصر سے مغرب تک آخری نشست سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے عنوان پر بیان کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۱ء ص ۳۹)
مبلغین ختم نبوت کا کراچی کی مضافاتی بستیوں کا دورہ
۲۳/ جون ۲۰۱۱ء بعد از نماز ظہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد ، مبلغ مولانا توصیف احمد اور ضلع
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غربی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے کراچی کے انتہائی غربی جانب مضافات کے علاقے UC-8 اللہ بنو، مبارک ولیج روڈ کا دورہ کیا اور مقامی رہبر بھائی عبدالمالک (اللہ بخش گوٹھ اللہ بنو) نے خوب دلچسپی کے ساتھ اس سفر کو تکمیل تک پہنچایا۔ سب سے پہلے سہ پہر کے وقت مرکزی مسجد (حسینی گوٹھ) اللہ بنو، میں اللہ بخش گوٹھ اور حسینی گوٹھ کے احباب سے مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے نہایت ہی مؤثر خطاب کیا اور شرکاء کو قادیانی فتنہ کی سنگینیوں سے آگاہ کیا۔ بعد از نماز عصر مولانا قاضی احسان احمد نے دریا خان گوٹھ میں حفاظت ایمان اور ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی بیان کیا، جس سے وہاں کے دیہی لوگ عقیدۂ ختم نبوت سے خوب واقف ہوئے۔ واپسی پر بعد از نماز مغرب لشکری گوٹھ جامع مسجد سیف (المقعدی) میں مولانا توصیف احمد نے مختصراً عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور نمازیوں کو قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ترغیب دلائی۔ سامعین نے بیان بڑی دلجمعی سے سنا اور قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا عہد کیا۔ پروگرام مولانا اورنگزیب امام و خطیب جامع مسجد قوۃ الاسلام کی نگرانی میں ہوا۔ رب کریم جملہ رفقاء کے تعاون کو تحفظ ختم نبوت کے مشن کی سربلندی کے لئے قبول فرمائے۔ مندرجہ ذیل گوٹھوں میں ختم نبوت کی آواز پہنچائی گئی: دیہہ اللہ بنو کے گوٹھ، حاجی محمد یعقوب گوٹھ، الوانی گوٹھ، حسینی گوٹھ، اللہ بخش گوٹھ، موسیٰ گوٹھ، جلکانی گوٹھ، سومار گوٹھ، دیہہ من کے گوٹھ، دریا خان گوٹھ، موسیٰ گوٹھ، فیضو گوٹھ، جمعہ گوٹھ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ جولائی ۲۰۱۱ء ص ۱۵ تا ۱۸)
ختم نبوت کانفرنس گگو منڈی
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹؍ جون ۲۰۱۱ء کو بعد نماز عشاء گگو منڈی شہر کے مین بازار میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مدرسہ اشرف العلوم کے مہتمم مولانا قاری جان محمد نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے جامعہ خالد بن ولید ٹھینگی کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم، جامعہ حنفیہ بورے والا کے مولانا قاری محمد طیب حنفی، جماعت اہل سنت کے علامہ مولانا شفیق احمد چشتی، مولانا مفتی حبیب الرحمٰن، مولانا احمد دین صدیقی، مولانا ظفر اللہ فریدی، جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمد عثمان، مفتی محمد ارشد، مولانا عبدالنعیم نعمانی، مولانا عبدالخالق وٹو، اہلحدیث مکتبہ فکر کے مولانا احمد علی سیف، حافظ محمد ادریس ضیاء، مولانا محمد ابوبکر، عالمی مجلس ساہیوال وہاڑی کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالستار گورمانی، حافظ شبیر احمد وہاڑی، انجمن تاجران گگو منڈی کے حافظ محمد جاوید اقبال، مرزا محمد سلیم، مجلس احرار اسلام کے عبداللطیف خالد چیمہ، مولانا شوکت محمود، قاری محمد اکرام جاوید، مولانا عبداللطیف اور مولانا محمد اشرف نے شرکت و خطاب کیا۔ مقررین نے قادیانی سرگرمیوں پر انتظامیہ کی چشم پوشی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور خلاف اسلام قادیانی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جولائی میں جامع مسجد حافظ حسام الدین ریلوے گراؤنڈ ماموں کانجن میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے۔ جب کہ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا حبیب احمد، مولانا عبدالرشید، مولانا عبدالحکیم نعمانی، متحدہ جمعیت اہلحدیث کے مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، جمعیت علماء اسلام کے مولانا علیم الدین شاکر، مرکز سراجیہ لاہور کے صاحبزادہ رشید احمد سمیت دینی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۳۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام حلقہ اسٹیل ٹاؤن میں تین روزہ تربیتی نشست مؤرخہ یکم تا ۳/جولائی ۲۰۱۱ء جامع مسجد مصطفیٰ میں مولانا صادق شاہ مدظلہ کی زیر نگرانی منعقد کی گئی، جس میں اہل علاقہ نے بھر پور شرکت کی۔ کورس میں شریک افراد کی تعداد ۸۰ سے زائد تھی، کورس کا وقت چونکہ مختصر تھا یعنی مغرب تا عشاء، اس کا لحاظ رکھتے ہوئے تین موضوعات کا انتخاب کیا گیا۔ پہلے دن مولانا توصیف احمد مبلغ ختم نبوت نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر سیر حاصل گفتگو کی۔ دوسرے دن بروز ہفتہ مبلغ مولانا عبدالحیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ذاتی زندگی پر تفصیلی گفتگو کی اور حوالہ جات کے ساتھ اس کا پوسٹ مارٹم کیا۔ تیسرے دن بروز اتوار مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ مبلغ ختم نبوت نے عقیدہ ختم نبوت سے سامعین کو آگاہ کیا، بعد نماز عشاء مولانا قاضی احسان احمد مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس مشن سے وابستگی کا نوجوانوں سے عہد لیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ یہ تقریب مولانا مفتی صادق شاہ مدظلہ کی دعاء ہی سے اختتام پذیر ہوئی۔ مولانا اکرم شاہ شیرازی، مولانا عبدالباسط، مولانا جنید اور مولانا حفیظ الرحمن نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ ! ہم علاقہ میں مزید اس طرح کے کورس منعقد کرا کر آگاہی کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷/اگست ۲۰۱۱ء ص ۲۵)
۲۶ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ۳/جولائی ۲۰۱۱ء بروز اتوار کو برطانیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے زیر اہتمام ۲۶ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سینٹرل مسجد برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ برطانیہ کے مختلف شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں اہل اسلام جوق در جوق اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت اور عقیدۂ ختم نبوت سے اپنی دلی وابستگی کے اظہار کے لئے تشریف لائے۔ یہ کانفرنس یورپ میں مسلمانوں کا سب سے دوسرا بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ جس کی تیاری کے لئے پاکستان سے علمائے کرام کا وفد برطانیہ جاتا ہے اور مختلف شہروں کی مساجد اور اسلامک سینٹرز میں مختصر پروگرام رکھے جاتے ہیں اور عاشقانِ مصطفیٰ کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس کانفرنس کی دو نشستیں ہوتی ہیں۔
پہلی نشست کا آغاز قاری آصف ادریس کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حافظ ابوبکر حیدری اور دیگر نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ اور کانفرنس کے کنوینر صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام دشمن قوتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے ہر دور میں نت نئے ہتھکنڈے اور نئے نئے حربے استعمال کئے، لیکن اسلام ایک زندہ مذہب ہے جو قیامت تک باقی رہنے کے لئے ہے، اپنی سازشوں سے نہ کوئی اسلام کو نقصان پہنچا سکا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہر دور میں نت نئے فتنے پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، لیکن امت مسلمہ نے ہمیشہ ان فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، امت مسلمہ میں پیدا ہونے والا سب سے پہلا فتنہ انکار ختم نبوت کا فتنہ ہے، حضور اکرم ﷺ کے زمانہ سے امت اس فتنہ کا مقابلہ کرتی چلی آئی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں اس فتنہ کے خلاف جہاد کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت ایمان کا حصہ ہے۔ قادیانیت اسلام کے خلاف ایک بغاوت کا نام ہے، اس فتنہ سے امت مسلمہ کے ہر فرد کو آگاہ کرنا چاہئے۔ قادیانیت مسلمانوں کے خلاف سازش کا نام ہے اور ہم ہر میدان میں اس سازش کو ناکام بنادیں گے اور ہر جگہ اس فتنہ کا مقابلہ کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ آخری دین ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ ﷺ کو عطا کیا۔ یہ دین اسلام آخری پسندیدہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو صرف دین ہی نہیں دیا بلکہ اسے کامل ومکمل کر کے اپنی نعمت تمام کر دی۔ مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے مزید کہا کہ حضور اکرم ﷺ سے محبت ایمان کی علامت ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہر کارکن امت مسلمہ کا ہر فرد حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان قوم ایک امن پسند قوم ہے، اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، آج پروپیگنڈا کے تحت خصوصاً مسلمانوں، مذہبی قوتوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ علمائے کرام نے مدارس و مساجد کے منبر و محراب سے ہمیشہ امن کا درس دیا ہے، مدارس و مساجد کسی جنگل، ویرانے یا ممنوعہ علاقوں میں قائم نہیں ہیں بلکہ وہ شہروں اور آبادیوں کے درمیان قائم ہیں اور وہاں کوئی نوگوایریا نہیں ہے، ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، ہر شخص کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتا ہے کہ وہاں کیا تعلیم دی جاتی ہے اور یہاں نونہالوں کو کیا سکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے علماء و مدارس و مساجد اور مذہبی قوتوں پر دہشت گردی کے الزامات کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مدیر عظیم مذہبی اسکالر مولانا حافظ فضل رحیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی ہر جگہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، ان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ مرزائیت سے توبہ کر کے مرزا غلام احمد قادیانی سے برأت کا اظہار کریں اور ختم المرسلین مولائے کل آنحضرت ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائیں یا پھر پوری امت مسلمہ کے فیصلہ اور آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کریں اور اسلام کا نام استعمال کرنا چھوڑ دیں، انہوں نے کہا کہ قادیانی اور مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور یہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے عقیدہ ختم نبوت کو نہ ماننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس لئے ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے انگلینڈ اور یورپ کے مسلمانوں کو خصوصیت سے توجہ دلائی کہ وہ اپنی نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کریں، ان کی دینی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں ان کے عقائد درست کریں اور حضور اکرم ﷺ کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں۔
اقرأ روضۃ الاطفال کے نائب مدیر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مفتی خالد محمود نے کہا کہ ختم نبوت دین کا بنیادی عقیدہ ہے، اس عقیدہ پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عقیدہ کی وجہ سے اس امت کا اپنا تحفظ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت انسانیت پر ایک احسان عظیم ہے، اس عقیدہ نے بتایا کہ بنی نوع اپنی بلوغ اور کمال کو پہنچ گئی ہے اس میں خدا کے آخری پیغام کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی کی روح پیدا ہوچکی ہے، اسے اب بار بار نئی نبوت کے لئے آسمان کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، قادیانیت اسلام کے خلاف سازش اور نبوت محمدی کے خلاف بغاوت ہے، اس نے ختم نبوت کا انکار کر کے دین اسلام کے اس سرحدی خط کو منقطع کیا ہے جو اس امت کو دوسری امتوں سے ممتاز کرتا ہے۔
مولانا امداد اللہ قاسمی نے کہا کہ قادیانی روز اول سے دجل و فریب سے کام لے کر اپنی جھوٹی نبوت کا کھوٹا سکہ چلانے میں مصروف ہیں، لیکن وہ ہر جگہ ناکام ہو رہے ہیں، جھوٹی تاویلیں کر کے وہ تھک چکے ہیں اور وہ تاویلیں اور دجل و فریب کی دلدل میں پھنستے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چلے جارہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ حقیقت کا سامنا کریں اور دجل وفریب کے جال کو توڑ کر باہر نکلیں اور عقل سلیم استعمال کرتے ہوئے سچے دل سے دین اسلام سینے سے لگائیں آخر کب تک وہ اس سراب کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔ انہوں نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات ایک جھوٹے نبی کو چھوڑ کر سچے نبی کے دامن سے وابستہ ہو جاؤ۔ اگر آپ ختم نبوت کو مانتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مان لیتے ہو اور مرزا غلام احمد قادیانی سے برأت کا اظہار کرتے ہو تو تم ہمارے بھائی ہو ہم تمہیں سینے سے لگانے کے لئے تیار ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یوکے مبلغ مفتی محمود الحسن نے کہا کہ قادیانیوں کے دو ہی مسئلے ہیں: ختم نبوت سے انکار، دوسرے نزول عیسیٰ علیہ السلام سے انکار حالانکہ یہ دونوں عقیدے قرآن وحدیث سے ثابت ہیں، ان کا انکار کرنا قرآن وحدیث کا انکار ہے، شروع میں خود مرزا غلام احمد قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتا رہا ہے، آخر میں ختم نبوت کا انکار کر کے خود نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا، اسی طرح ستائیس سال تک مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، آسمانوں پر زندہ ہیں لیکن ستائیس سال کے بعد اس نے کہنا شروع کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوگیا اور وہ خود مسیح موعود بن بیٹھا جس آدمی کے دعوؤں میں تضاد ہو اس کی بات کا کیا اعتبار ہے۔
مذہبی اسکالر مفتی محمد سہیل نے کہا کہ امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے عزت وشرف عطاء کیا اور یہ صدقہ ہے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اور آپ کے منصب نبوت پر ڈاکا ڈالا اور کہا کہ وہ بعینہ محمد رسول اللہ ہے اور یہ اس کا دوسرا جنم ہے، اس نے اپنے آپ کو حضور اکرم ﷺ سے کامل جتایا، آپ ﷺ کو پہلی رات کے اور اپنے آپ کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دی، مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔
ختم نبوت اسلامک سینٹر کے امام حافظ محمد اقبال نے کہا کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اسلام کی تعلیمات ابدی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر مخالف پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا اور ہر طرح کی مخالفت کے باوجود اپنی عالمگیریت وابدیت ثابت کی ہے۔
خطیب پنجاب مولانا رفیق جامی نے کہا کہ آج مسلمانوں کو اور اسلام کو دبانے اور ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ اتنا ہی ابھرتا ہے جتنا اس کو دبایا جاتا ہے۔ اسلام کو کبھی مٹایا اور دبایا نہیں جاسکتا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت انگلینڈ اور یورپ کے امیر مولانا حافظ محمد مکین نے کہا کہ قادیانی فتنہ قادیان میں پیدا ہوا، پاکستان میں پروان چڑھا اور اب اس نے یورپ میں پناہ حاصل کی ہے، ہمارے اکابر نے اس فتنہ کا بھر پور مقابلہ کیا ہے اور ہم بھی اس فتنہ کا مقابلہ کرتے رہیں گے اور آقائے نامدار ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کانفرنس سے مولانا اسلام علی شاہ، مولانا عبد الرشید ربانی، قاری فیض اللہ چترالی، حافظ محمد ایوب، منظور احمد میو راجپوت، مولانا خلیل احمد ودیگر علماء نے خطاب کیا۔ اجلاس کی پہلی نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے کی۔
دوسری نشست:
اسلام پُر امن معاشرے کا خواہاں ہے۔ بدامنی اور دہشت گردی کو انسانی فلاح وسکون کے لئے زہر قاتل قرار دیتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں۔ قادیانیت اسلام کے متوازی الگ دین ومذہب ہے۔ لہٰذا منکرین ختم نبوت کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ، اعلیٰ عدالتوں کے علاوہ کشمیر اسمبلی، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ، جنوبی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افریقہ (کیپ ٹاؤن) کی غیر مسلم عدالت نے بھی قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف ممالک کے ممتاز علمائے کرام نے ۳؍ جولائی کو برمنگھم کی سینٹرل مسجد میں منعقدہ ۲۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ قرآن آخری آسمانی کتاب اور امت محمدیہ آخری امت ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر سال برطانیہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے اور اس میں تمام مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دیتی ہے۔ یہ جماعت درحقیقت اسلامی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ جب کبھی کسی نے اسلامی سرحدوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، اس جماعت نے پوری امت کو آواز دی اور اسے بیدار کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امن و سلامتی کو بہت بڑی نعمت اور احسان قرار دیا ہے۔ اسلام پُر امن معاشرے کا خواہاں ہے جس معاشرے میں جان و مال، عزت و آبرو کو خطرات درپیش ہوں ایسا انسانی معاشرہ عدم تحفظ کی بناء پر ترقی نہیں کر سکتا۔ اسلام بدامنی اور دہشت گردی کو انسانی فلاح و سکون کے لئے زہر قاتل قرار دیتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ قادیانیت انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں سے اپنی راہیں الگ کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منکرین ختم نبوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ قادیانیت ایک الگ مذہب اور اسلام کے متوازی دین ہے۔
ہندوستان کے ممتاز عالم، مفسر قرآن مولانا انیس احمد بلگرامی نے کہا کہ آج کا دور بڑا پُرفتن دور ہے۔ اسلامی معاشرے پر مغربی تہذیب و تمدن کی یلغار ہے۔ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے متنفر کرنے کے لئے ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔ مذہب اسلام کے مسلمہ اصولوں اور بنیادی عقائد کی من مانی تشریح کر کے نوجوان نسل کو تذبذب کا شکار کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں تمام مسلمان عموماً اور یورپ و انگلینڈ کے مسلمان خصوصاً اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ اسلام کے سنہری اصولوں سے انہیں روشناس کرائیں اور پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی عقیدت و محبت ان کے قلوب میں راسخ کریں تاکہ دنیا اور آخرت کی ذلت و رسوائی سے بچ جائیں۔
مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا کہ مغربی ممالک میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات اور امن پسندانہ تعلیمات کی بدولت اسلام قبول کرنے کا رجحان بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، جس سے اہل یورپ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح قادیانی بھی اپنے خلاف ناانصافیوں کا جھوٹا پروپیگنڈا کر کے یورپی حکومتوں کو مسلم ممالک سے بدظن کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام برطانیہ کے سرپرست اعلیٰ مولانا عبدالرشید ربانی نے اس عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مرزائی اور قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔ سب سے پہلے کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے منکرین ختم نبوت کو متفقہ طور پر غیر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلم اقلیت قرار دیا ۔ پاکستانی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کو کافر قرار دیا ۔ اپریل ۱۹۷۴ء میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد پاس کر کے دنیا بھر کے علمائے اسلام نے قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد کیا ۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقہ ( کیپ ٹاؤن ) کی عدالت کے غیر مسلم ججز نے بھی اپنے فیصلہ میں لکھا کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر کے صاحبزادہ مولانا عبدالحق بشیر نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کا حکم دیا، حالانکہ مسیلمہ اور اس کے ماننے والے اہل قبلہ ، کلمہ گو ، قرآن پڑھنے والے ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ادا کرتے تھے ۔ تمام اعمال مسلمانوں جیسے تھے ، مسیلمہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا بھی اقرار کرتا تھا ۔ اس کے باوجود اس کے خلاف لشکر کشی کی گئی اور بارہ سو صحابہ کرام ؓ اور تابعین ؒ نے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔
بلجیم کے مولانا عبدالحمید نے کہا کہ نجات آخرت کا انحصار آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ہے ۔ ہم مرزائیوں اور قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں کہ آئیے محمد عربی ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائیے ۔ مثیل مسیح ، ظلی و بروزی کے چکر سے آزاد ہو کر آنحضرت ﷺ کی اتباع کیجئے اور دنیا و آخرت کی فلاح پائیے ۔
بریڈفورڈ کے مولانا ابراہیم نے کہا کہ میں اس کانفرنس کے شرکاء سے اپیل کروں گا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھر پور تعاون کیجئے ۔ ان کے پروگراموں میں دوست و احباب کے ساتھ شریک ہوں ۔ اس عقیدہ سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیں ۔ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔
برمنگھم ختم نبوت کانفرنس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے ، جس میں برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ بلجیم ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سمیت ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے علمائے کرام بھی کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں ۔ اس کانفرنس کی دوسری نشست کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کی ۔ تلاوت قاری آصف ادریس نے جب کہ سید عزیز الرحمن شاہ ، طاہر بلال چشتی اور حافظ ابوبکر حیدری نے نعت رسول مقبول پیش کی ۔ صاحبزادہ سعید احمد ، مولانا محمد ایوب سورتی ، قاری زاہد حسین ، قاری تصور الحق ، حافظ ممتاز الحق ، مفتی محمد طارق ، نعمان مصطفیٰ ، محمد رضوان ، مولانا اسلم زاہد ، حافظ انور ، حافظ اسامہ اور چوہدری افضل و دیگر نے شرکت کی ۔ یہ کانفرنس صاحب صدر کی پُر سوز دعاء پر اختتام پذیر ہوئی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۳۱ / جولائی ۲۰۱۱ء ص ۱۵ تا ۱۸)
دنیا پور میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مورخہ ۵ تا ۷ / جولائی ۲۰۱۱ء کو سہ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا ۔ کورس کی ہر روز دو دو نشستیں منعقد ہوئیں ۔ صبح ۸ تا ۱۲ بجے مدرسہ انوار الہدیٰ ملتان روڈ میں خواتین کے لئے نشست رکھی گئی ۔ جس میں شہر اور مضافات سے ایک سو سے زائد خواتین نے شرکت کی ۔ جب کہ مغرب سے عشاء تک مکی مسجد میں مردوں کے لئے نیز مکی مسجد سے متصل خواتین کے لئے بھی علیحدہ انتظام کیا گیا ۔ ۵ ، ۶ / جولائی کو مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے لیکچر دیئے ۔ جب کہ ۷ / جولائی کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیان کیا ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۱۶۰ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نیز ۸/ جولائی جمعتہ المبارک کے بعد آخری تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں مدرسہ ابوبکر صدیقؓ کے چار حفاظ کو اسناد دی گئیں اور ان کی دستار بندی بھی ہوئی۔ آخری نشست کے مہمان خصوصی مولانا شجاع آبادی تھے۔ کورس کا انتظام حاجی سیف اللہ فاروق، محمد طیب عثمان، قاری محمد اکرم، مولانا عبدالرؤف، جناب محمد ندیم اور دوسرے رفقاء نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کورس کوٹ ادو مظفر گڑھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵ تا ۷/ جولائی ۲۰۱۱ء بروز منگل، بدھ، جمعرات جامع مسجد فاروق اعظم نزد ریلوے چوک پرانی غلہ منڈی کوٹ ادو میں ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ مولانا قاضی عبدالخالق نے کورس کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔ مولانا منیر احمد نعمانی علی پوری نے مفصل بیان فرمایا اور دعاء فرمائی۔ دوسرے روز مولانا محمد ادریس مدرس مدرسہ جامعہ مظاہر العلوم کوٹ ادو نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر لیکچر دیا۔ تیسرے روز مولانا قاضی عبدالخالق اور مولانا محمد ادریس، مولانا غلام حسین مرکزی مبلغ جھنگ نے مفصل خطاب فرمایا اور دعاء فرمائی۔ آخر میں شرکاء کورس میں ایک سیٹ لٹریچر کا اور سٹیکر وغیرہ تقسیم کئے گئے۔ شرکاء کورس کی تعداد تقریباً ۲۰۰ تھی۔ آخر میں ایک صاحب نے تمام شرکاء کے لئے آموں کی دعوت کا اہتمام کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص۳۵)
عقیدہ ختم نبوت سے متعلق تقریری مقابلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے ذیلی مرکز جامع مسجد اقصیٰ شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک عظیم الشان تقریری مقابلہ ۹/ جولائی ۲۰۱۱ء کو منعقد ہوا۔ اس تقریب میں درجن سے زائد مقررین نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت اور قادیانی عقائد پر بہت اچھے بیانات کئے۔ مقابلہ میں شرکت کرنے والے طلباء بہت ہی کم عمر بچے تھے، مگر خوب تیاری کر کے حصہ لیا۔ اول پوزیشن حافظ محمد عمر نے حاصل کی جو متعلم مدرسہ دارالعلوم قاسمیہ بھینس کالونی سے ہے، دوم حافظ عبد الماجد متعلم مدرسہ احمد المدارس برکات مدینہ کالونی نے حاصل کی جب کہ سوم عبدالرؤف فاروقی نے حاصل کی، جن کا تعلق مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیر سے ہے۔ پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے ہر مقرر کو ایک کتابچہ بھی فراہم کیا گیا۔ پروگرام کی سرپرستی مولانا عبدالرزاق ہزاروی نے کی جب کہ صدارت مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ منصفین مولانا عبد الباسط اور مولانا عبد الماجد تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مبلغ مجلس مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے سرانجام دیئے۔ تقریباً دو گھنٹے تک یہ پروگرام جاری رہا۔ اہل علاقہ اور مقامی علماء کرام نے خوب سراہا۔ آخر میں مولانا عبد الماجد کی دعاء پر یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/ اگست ۲۰۱۱ء ص۲۶)
۱۸واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ...... تفصیلی کاروائی
اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے حسب سابق ۶/ شعبان المعظم ۱۴۳۲ھ مطابق ۹/ جولائی ۲۰۱۱ء بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دارالمبلغین کے تحت سالانہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا آغاز مولانا سیف اللہ خالد ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کی دعاء سے ہوا۔ فقیر راقم نے شرکاء سے چند ضروری گزارشات کیں۔ جن پر کورس کے دوران عمل پیرا ہونا ضروری تھا۔ پہلا سبق مولانا غلام رسول دین پوری نے پڑھایا اور یوں حسب روایت بروقت کورس کا آغاز ہو گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موانع اور اللہ تعالیٰ کی مدد:
گزشتہ سال قادیانیوں نے سازش سے جھوٹی درخواستیں بھیج کر کورس کو بند کرانے کی پیش بندی کی۔ لیکن اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ قادیانیوں کی تمام تر کافرانہ سازشوں، یہودیانہ خصلتوں کے باوجود کورس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا اور قادیانیوں کی تمام جھوٹی درخواستوں کی نحوست کو اللہ رب العزت نے قادیانیت کے منہ پر مار دیا۔
امسال قادیانیوں نے کورس کے آغاز سے قبل اپنی زیر زمین سازشوں کا آغاز کیا۔ حکومت کو درخواستیں دیں کہ چناب نگر میں یہ کورس نہ ہونا چاہئے۔ گویا ربوہ (چناب نگر) کو کھلا شہر قرار دلوانے کا جو فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے زمانہ میں ہوا تھا۔ قادیانی اسے کالعدم قرار دلوانے کے درپے ہوئے۔ حکومتی ایجنسیوں کے بعض اہل کاروں کی خوب آؤ بھگت کر کے کورس بند کرانے کے لئے رپورٹیں بھجوائیں۔ ایجنسیوں کے اہل کاروں نے اندھا دھند مکھی پر مکھی مارتے ہوئے خالصتاً قادیانی مفاد میں رپورٹ دی کہ ملکی حالات چناب نگر میں کورس کرانے کے متحمل نہیں۔ اس رپورٹ پر ہوم آفس سے ڈی۔سی۔او چنیوٹ کو حکم آیا کہ کورس نہیں ہونا چاہئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس کورس کے ذمہ داران نے حالات سے اندازہ لگایا کہ امسال قادیانیوں نے جو سازش چلی ہے۔ اس مختصر وقت میں حکومتی اہل کاروں اور ذمہ داران کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا۔ جب کہ کورس میں چند دن باقی تھے۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی اجازت ودعاء سے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد رضوان رٹ کی تیاری کے لئے باہمی رابطہ میں رہے۔ جناب خواجہ ابرار مجال بیرسٹر نے اپیل تیار کی۔ جناب چوہدری غلام مصطفےٰ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ آپ کے ہمراہ رہے۔ دیگر وکلاء وقانون دان حضرات نے بھر پور دلچسپی کا اظہار کیا۔ جناب خواجہ صاحب نے رٹ ایسے مضبوط پیرایہ میں تیار کی کہ اگلے دن سماعت کے پہلے مرحلہ میں ہائیکورٹ کے جسٹس جناب محمد انوار الحق نے کورس کے جاری رہنے کا آرڈر جاری کر دیا اور حکومت کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی کوئی ہراسمنٹ نہ کرے۔ اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ بیس یوم شب و روز کورس بڑی آب وتاب، جاہ وجلال، شان وشوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ شرکاء کورس کو پابند کیا کہ قادیانی زخمی سانپ کی طرح منہ میں چھپکلی لئے بڑی مشکل سے اپنا وقت گزار رہے ہیں۔ قادیانی اور ایجنسیوں کے وہ اہل کار جنہوں نے اس کورس کو ختم کرانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ کورس کے شرکاء بیدار مغزی سے کورس میں شریک رہیں اور چاروں سمت نظر رکھیں کہ کوئی نادیدہ قوت ہماری اس پرامن جدوجہد کو سبوتاژ نہ کر سکے۔
الحمدللہ! ایسے ہوا کہ پورے کورس کے دوران جن پولیس اہل کاروں، انتظامیہ اور ایجنسیوں کے ذمہ داران نے ڈیوٹی دی یا دورے کئے۔ سب نے اس پرامن خالص علمی ریفریشر کورس کے کامیاب انعقاد پر مجلس کے رہنماؤں کو مبارک باد دی۔
ایجنسی کا وہ شخص جس نے رپورٹ لکھی کہ کورس نہیں ہونا چاہئے اور قادیانی درخواستوں کا اتنا حکومت کو نقصان ضرور ہوا کہ ۲۹؍ سال کا ریکارڈ گواہ ہے کہ صرف دو پولیس والوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ اس سال انتظامیہ نے ڈیڑھ صد نفری مقرر کی۔ تمام تر پریشانی پر خود ضلعی انتظامیہ اس ایجنسی کے آدمی کو کوستی رہی کہ تمہاری اس قادیانیت نوازی اور جھوٹی، من گھڑت، خود ساختہ، فرضی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت کو اتنا اہتمام کرنا پڑا۔ بہرحال اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ کیا کہ کورس ہوا اور بخیر و خوبی ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورس کے اساتذہ کرام:
امسال کورس پڑھانے کے لئے مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد رضوان، حاجی اشتیاق احمد، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد احمد مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا غلام مرتضیٰ اور دیگر نے شرکت فرمائی۔
خدام اہل سنت پاکستان کے سربراہ مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر، عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، جامعہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ الحدیث مولانا سیف الرحمٰن، اتحاد اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد الیاس گھمن، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن نے بطور خاص کورس میں شرکت سے سرفراز فرمایا اور ان حضرات کے خصوصی بیانات سے کورس کے شرکاء نے بھر پور استفادہ کیا۔
انتظامات کا جائزہ:
حسب سابق کورس کے داخلہ کی نگرانی مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا محمد احمد نے کی۔ رجسٹریشن کی تکمیل کا کام مولانا غلام رسول دین پوری نے سرانجام دیا۔ کورس کے شرکاء کی رہائش اور مکتبہ کے کام کی نگرانی مولانا عبدالرشید سیال نے کی۔ مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد حبیب نے کھانے کے نظم کی سرپرستی کی۔ قاری عبید الرحمن، قاری محمد رمضان، مولانا محمد شاہد، قاری محمد سلمان، قاری ارشاد احمد نے مہمانوں کی مہمان داری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔
۶؍ شعبان کو کورس شروع ہوا۔ ۲۶؍ شعبان جمعہ کے روز صبح آٹھ بجے کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ کورس کے منتظم خاص مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد نے سٹیج کے نظم کو سنبھالا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد زیب آستانہ خانقاہ سراجیہ کندیاں کورس کے درمیان میں ایک روز تشریف لائے اور کورس کی اختتامی تقریب میں بھی بطور خاص تشریف لائے۔ امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے کورس کے شرکاء اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر احسان فرمایا۔ جمعرات بعد از نماز عشاء سے اگلے روز کورس کے اختتام تک آپ نے قیام فرمایا۔
حضرت امیر مرکزیہ کا خطاب:
جمعہ کے روز اختتامی تقریب میں نظم وتلاوت کے بعد صرف شیخ الحدیث استاذ العلماء حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر مرکزیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بیان ہوا۔ آپ نے بڑی شرح وبسط سے کورس کی غرض وغایت، افادیت واہمیت سے شرکاء کورس کو باخبر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ عقائد کی تصحیح نجات کے لئے ضروری ہے۔ اعمال صالحہ کی قبولیت کا مدار عقائد کی تصحیح پر مبنی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام انبیاء، اولیاء، قرآن مجید کے حفاظ، نیک وزاہد لوگ اپنے اپنے پہچاننے والوں کی اللہ رب العزت کے حضور بخشش کی درخواست کریں گے۔ ان کی طلب پر بہت سارے ایسے لوگ جو جہنم میں جل رہے ہوں گے۔ انہیں جہنم سے خلاصی ملے گی اور وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ حتیٰ کہ اہل جنت بھی اپنے جاننے والوں کی سفارش کریں گے۔ حتیٰ کہ ایک جنتی گزرتے ہوئے کو جہنمی پکار کر کہے گا۔ میاں تم مجھے نہیں پہچانتے، میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی دیا تھا۔ یاد آنے پر یہ جنتی اس جہنمی کو اللہ تعالیٰ سے درخواست کر کے جنت لے جائے گا۔ سب کی سفارش کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ایسے لوگ جن کے ایمان اتنے مخفی ہوں گے کہ ان کے ایمان پر کوئی مطلع نہ ہو گا۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی معمولی رمق کے باعث جہنم سے نکال کر جنت میں بھیجیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کفر و اسلام کا مسئلہ اتنا دقیق مسئلہ ہے کہ اس پر بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کورس میں آپ کو یہی پڑھایا جاتا ہے کہ قادیانیت کا کفر اتنا کھلا کفر ہے کہ نصف النہار کی مانند واضح ہے۔ اس میں تشکیک پیدا کرنا ، ان کے کفر کو ہلکا کرنا بجائے خود نقصان کا باعث ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمام جماعتیں ، تمام ادارے جو بھی اپنی اپنی جگہ دین کا کام کر رہے ہیں۔ سب جسد واحد کی طرح ہیں۔ ایک دوسرے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کے کام کی تحسین کرنی چاہئے۔ لیکن ناک کو کبھی آنکھ کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ نقصان ہوگا۔ غرض آپ نے شرح وبسط سے کورس کے شرکاء کو کام کرنے کے لئے بھر پور جدوجہد کی طرف متوجہ فرمایا۔ آپ نے بہت تفصیل سے اظہار خیال فرمایا۔
آپ کی ایمان پرور ، حقائق افروز گفتگو کے بعد شرکاء کورس جو فارغ التحصیل علماء کرام تھے ۔ انہوں نے آپ سے اجازت حدیث طلب کی۔ آپ نے کمال شفقت سے انہیں سند حدیث کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔ فالحمد للہ تعالیٰ ! حضرت امیر مرکزیہ کے ایمان افروز بیان کے بعد شرکاء کورس کو اسناد دی گئی۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد ، مولانا سیف اللہ خالد ، قاری عبدالرحمن ضیاء ، قاری عبدالحمید ، قاری یامین گوہر ، مولانا سروری ، مولانا قاری گلزار احمد ، صاحبزادہ مبشر محمود اور جناب رضوان نفیس و دیگر حضرات سے اپنے مبارک ہاتھوں سے مجلس کی کتابوں کا سیٹ واسناد دیں۔
تقریری مقابلہ :
کورس کے پہلے دن سے آخر تک تعلیم کے ساتھ ساتھ شرکاء کورس کو تقریر اور مناظرہ کی تربیت اور عملی مشق کرائی جاتی ہے۔ دس دس ساتھیوں پر مشتمل گروپ بنائے جاتے ہیں۔
امسال ۴۳۳ شرکاء کورس تھے۔ جن کے ترتالیس گروپ بنائے گئے ۔ ہر گروپ سے نمایاں نمبر لینے والے ایک ایک ساتھی کو لے کر تقریری مقابلہ کرایا گیا۔ تقریری مقابلہ میں منصفی کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد قاسم ، مولانا محمد عارف ، مولانا غلام مرتضیٰ نے انجام دیئے۔ اسی طرح کورس میں قادیانی شبہات کے تینوں حصے پڑھائے گئے ۔ ہر جمعرات کو ایک ایک حصہ کا امتحان ہوا۔ کل تین پیپر ہوئے۔ اربعین فی ختم نبوت اور خطبہ جمعہ کا تقریری امتحان ہوا۔
کورس کے تحریری امتحانات میں اوّل پوزیشن رول نمبر ۲۵۲ محمد عمر فاروق نے حاصل کی۔ رول نمبر ۲۲۲، محمد عمر منڈی بہاؤ الدین نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور رول نمبر ۲۵۸ محمد الیاس گلگت نے تحریری امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اسی طرح تقریری مقابلے میں رول نمبر ۲۳۵ محمد شاہین اختر قصور نے اوّل پوزیشن حاصل کی۔ دوسری پوزیشن بہاولپور کے محمد طیب ظفر رول نمبر ۲۷۲ نے حاصل کی اور رول نمبر ۷۵ محمد ضیاء الحق جن کا تعلق ڈسٹرکٹ چکوال سے ہے نے تقریری امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اسمائے گرامی شرکاء کورس:
نمبر شمار نام وولدیت ضلع نمبر شمار نام وولدیت ضلع 1 عاقب جاوید بن محمد طفیل جاوید لودھراں 2 محمد مبشر نذیر بن محمد نذیر چنیوٹ 3 انس رضوان بن قاری شبیر احمد عثمانی چنیوٹ 4 عبدالمنان بن محمد بخش رحیم یار خان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 5 محمد شاہد اقبال بن محمد اقبال چنیوٹ 6 محمد عامر شہزاد بن غلام حیدر چنیوٹ 7 محمد عمران کبیر بن محمد کبیر چنیوٹ 8 سہیل احمد بن محمد ناصر چنیوٹ 9 حبیب اللہ بن عامیل خان ٹانک 10 رحمت اللہ بن حاجی گل محمد لورالائی 11 محمد عمران بن عبدالرشید سیالکوٹ 12 شفقت اعجاز بن محمد اعجاز خوشاب 13 طاہر ریاض بن ریاض حسین خانیوال 14 وارث الانبیاء بن مولوی عبدالمنان مردان 15 امیر حمزہ بن معراج الدین مالاکنڈ 16 محمد عابد بن محمد جہانگیر آزاد کشمیر 17 ساجد محمود بن مشتاق احمد خانیوال 18 ابرار احمد بن ثناء اللہ اعوان مظفرآباد 19 محمد عباس ایوبی بن محمد ایوب مظفرآباد 20 یوسف خان بن منور خان دیر 21 نوید شاہد بن ڈاکٹر فضل الہی اٹک 22 ہشتمند خان بن مشال محمد مالاکنڈ 23 آصف اللہ بن رحمت اللہ ہری پور 24 عبدالقادر بن محمد امیر خان باغ 25 سمیع اللہ بن نقیب احمد مالاکنڈ ایجنسی 26 جواد حسین بن محمد حسین ہٹیاں بالا 27 محمد سلیم بن غلام شبیر ڈی آئی خان 28 محمد منشاء بن محمد اقبال سرگودھا 29 محمودالرحمن بن خطاب گل کرک 30 طارق محمود بن جمیل محمود سرگودھا 31 عبدالصمد بن جناب گل ہنگو 32 بلال حمید بن حمید اللہ خان مردان 33 محمد عطاء الحسن بن کرم الہی بہاول پور 34 بشیر احمد لون بن عبدالغنی لون مظفرآباد 35 محمد محسن بن عبدالمجید آزاد کشمیر 36 ابوبکر صدیق بن عبدالشکور رحیم یار خان 37 محمد طیب بن مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پور 38 محمد عمران بن مقبول احمد بہاول پور 39 محمد مصعب عمر بن خواجہ عمر ناصر بہاول پور 40 حافظ محمد علی بن مولانا عبدالشکور بہاول پور 41 محمد ارشد بن ملک واحد بخش بہاول پور 42 محمد حسن بن عبدالخالق بہاول پور 43 محمد ابوبکر صدیق بن محمد اکرم دلشاد بہاول پور 44 محمد ابرار قمر بن محمد قمر منیر لاہور 45 سمیع اللہ بن محمد اسماعیل جہلم 46 محمد اکرم بن عبدالقادر بہاول پور 47 محمد شاہد بن عاشق محمد بہاول پور 48 عبدالصمد بن قاری عبدالرزاق سکھر 49 کلیم اللہ بن عنایت اللہ سکھر 50 عبدالحئی بن مولانا عبدالطیف سکھر 51 عمران احمد پھل بن محمد عرس نواب شاہ 52 محمد اسلم گل بن خیر محمد گل نوشہرو فیروز 53 عبدالجبار مچھل بن شمس الدین مچھل نوشہرو فیروز 54 عبدالرزاق نہڑی بن محمد موچار نہڑی عمر کوٹ 55 سلیم اللہ گل بن خیر محمد گل نوشہرو فیروز 56 حسین احمد بن جندو ڈا رحیم یار خان 57 محمد عباس جمالی بن عالم خان جمالی مٹیاری 58 محمد عامر گل بن عبدالغفور خیر پور 59 محمد آصف بن محمد یعقوب چانڈیہ نوشہرو فیروز 60 خلیل اللہ بن عالم خان نوشہرو فیروز
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 61 شبیر حسین بن لعل خان خوشاب 62 عبدالواحد بن محمد الیاس چنیوٹ 63 محمد عثمان بن غلام مصطفیٰ خانیوال 64 نوید احمد بن پشم گل ٹوبہ ٹیک سنگھ 65 محمد ندیم بن محمد عاشق ٹوبہ ٹیک سنگھ 66 محمد اسرار بن محمد دین بھاولنگر 67 دین محمد بن محمد یوسف کشمور 68 عبدالقیوم بن عبدالوہاب نصیر آباد 69 محمد خان نہڑی بن عبدالکریم نہڑی عمر کوٹ 70 عبدالمالک مورجو بن عبدالغنی مورجو نوشہرو فیروز 71 عبدالطیف بن غلام ربانی مظفر آباد 72 محمد عتیق الرحمن بن محمد رفیق شیخوپورہ 73 محمد صفدر بن فضل کریم مظفر گڑھ 74 محمد شاکر بن حافظ ربنواز مظفر گڑھ 75 محمد ضیاء الحق بن محمد ظہور الحق چکوال 76 شفیق الرحمن بن حافظ محمد بخش لودھراں 77 محمد ارشد بن محمد صدیق ملتان 78 محمد یوسف نواز بن محمد ربنواز رحیم یار خان 79 حافظ حماد فاروق بن مولانا عمر فاروق راولپنڈی 80 محمد کامران بن انعام اللہ کلاچی 81 محمد ہارون بن رحمت اللہ ڈی آئی خان 82 صابر شاہ بن سید نجم الوہاب صوابی 83 تنویر احمد بن غلام محمد بہاول نگر 84 حاکم خان بن محمد نواز خان میانوالی 85 محمد احمد بن عبدالحکیم بہاول نگر 86 محمد رضوان بن محمد رمضان ڈی آئی خان 87 عاطف ادریس بن محمد ادریس سیالکوٹ 88 فیاض احمد عثمانی بن قاری غلام مرتضیٰ سیالکوٹ 89 محمد سفیان بن محمد یاسین سیالکوٹ 90 قمر فیاض احمد بن فیاض احمد سیالکوٹ 91 محمد سعید بن عظیم بخش مظفر گڑھ 92 محمد اقبال بن مرید حسین ڈی آئی خان 93 محمد احسان اللہ بن خان محمد میانوالی 94 محمد اظہر بن امام بخش ڈی آئی خان 95 محمد صدیق بن سید گل خان بھکر 96 محمد اعظم بن عبدالغفور قصور 97 محمد بلال معاویہ بن قاری عزیز الرحمن بھکر 98 محمد زبیر بن عبدالرزاق ساہیوال 99 احمد سعید بن محمد سرور عابد ساہیوال 100 شہباز اختر بن محمد اسحاق ساہیوال 101 کفایت شاہ بن زمان خان نوشہرہ 102 محمد عارف بن دین محمد قصور 103 محمد خالد بن خادم حسین خانیوال 104 محمد جاوید بن عبدالغفور ملتان 105 محمد عمران بن اصغر علی فیصل آباد 106 عمران خالد بن خالد محمود بھکر 107 اسد شفیق بن محمد شفیق جھنگ 108 سجاد علی حیدر بن میاں محمد خوشاب 109 عبدالغفار بن محمد اکرم اٹک 110 عبدالمالک بن مولوی دوست محمد کوہلو 111 شکیل احمد بن محمد شفیع قصور 112 منصور احمد بن رمضان نوشہرہ 113 شفیع اللہ بن نور ولی نوشہرہ 114 محمد عثمان بن ہمت خان نوشہرہ 115 نعیم الحق بن ثناء الدین نوشہرہ 116 جنید انجم بن گل بہادر نوشہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
117 معروف ہاشم رشید بن عبدالرشید ٹوبہ ٹیک سنگھ 118 غفران حیدر بن رفاقت حسین اوکاڑہ 119 عمر فاروق بن محمد اقبال فیصل آباد 120 عبدالباسط بن خالد حسن بہاولنگر 121 بدر جلیل بن جلیل الرحمٰن بہاولنگر 122 محمد عمر بن محمد اعظم بہاولنگر 123 حافظ عبدالرحمٰن بن حافظ باغ علی بہاولنگر 124 برکت علی عابد بن اصغر علی خالد چنیوٹ 125 محمد عامر جمیل بن محمد جمیل ننکانہ 126 سیف الرحمٰن بن عبدالرحمٰن بندکورائی 127 عبدالمجید بن عطاء الحسن فیصل آباد 128 محمد طلحہ احسن بن محمد احسن فیصل آباد 129 محمد عبداللہ بن جمعہ خان اپر دیر 130 محمد نعیم اللہ بن امیر محمد بھکر 131 ذیشان ریاض بن ریاض الحق ٹوبہ ٹیک سنگھ 132 محمد طیب بن جواز الحق ٹوبہ ٹیک سنگھ 133 محمد شفیق ندیم بن محمد رفیق ندیم خانیوال 134 علی حسنین بن صوفی حقنواز جھنگ 135 جمیل احمد تنولی بن بنارس خان ایبٹ آباد 136 سہیل عباس بن محمد سعید اختر حافظ آباد 137 بابر شہزاد بن عبدالطیف فیصل آباد 138 فدا حسین بن حبیب اللہ گلگت 139 محمد زبیر بن علاؤ الدین شیخوپورہ 140 فضل ربی حقانی بن ہاشم خان کرم ایجنسی 141 راشد امین حقانی بن زرستان نوشہرہ 142 احمد مصطفیٰ بن عبدالوہاب صوابی 143 محمد صلاح الدین بن محمد امین خانیوال 144 سجاد معاویہ بن عتیق الرحمٰن مانسہرہ 145 ملک محسن شہزاد بن طالب حسین جھنگ 146 مزمل حسین بن محمد علی جھنگ 147 محمد ابوبکر صدیق بن قاری غلام حسین جھنگ 148 محمد عابد بن محمد اقبال رحیم یار خان 149 غلام عباس بن محمد ابراہیم مظفر گڑھ 150 محمد طارق بن حافظ محمد یار رحیم یار خان 151 وقاص نصیر بن نصیر احمد رحیم یار خان 152 عبد الماجد بن محمد یونس بہاول نگر 153 محمد الیاس خان بن محمد اللہ ہنگو 154 محمد ارشد بن محمد اسلم لیہ 155 عبدالرحمٰن عابد بن قابل شاہ اٹک 156 محمد شاہد عقیل بن عبدالمجید ساہیوال 157 محمد بابر خان بن محمد یونس مانسہرہ 158 اسد اللہ خان بن شیر عباس خان بنوں 159 محمد زاہد بن محمد شفیق رحیم یار خان 160 محمد ذیشان بن یار محمد میانوالی 161 اطہر محمود بن اکرام علی ننکانہ 162 راحت محمود بن محمد اسلم ننکانہ 163 کلیم اللہ بن قاری شبیر احمد عثمانی فیصل آباد 164 اسد اللہ غالب بن حاجی فیض رسول فیصل آباد 165 عدنان رشید بن محمد رشید بہاولنگر 166 شہزاد محمود بن محمد ذوالفقار فیصل آباد 167 محمد بلال بن غلام ربانی راولپنڈی 168 محمد اجمل رحمانی بن محمد بوٹا رحمانی فیصل آباد 169 احسان معاویہ بن محمد علی لاہور 170 محمد فیاض بن عبدالحلیم لودھراں 171 حسنین معاویہ بن محمد منظور احمد منڈی بہاؤالدین 172 محمد ریاض بن محمد ایوب قصور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
173 محمد افضال بن شمس الزمان قصور 174 یاسر شہزاد بن ناصر علی فیصل آباد 175 محمد حماد علی بن عبد المجید فیصل آباد 176 خرم وقاص بن محمد یار فگار فیصل آباد 177 جمیل احمد بن مولانا شکیل احمد لاہور 178 محمد عبدالمنان بن محمد اشرف علی منڈی 179 محمد جمیل بن اللہ وسایا راجن پور 180 محمد اظہر بن حاجی عبدالغفار ڈی جی خان 181 عبدالاحد اویس بن محمد ظفر اقبال راجن پور 182 قادر بخش بن حاجی نور محمد لاہور 183 رانا ظہیر حسن بن رانا مہدی حسن چنیوٹ 184 محمد شعیب انجم بن محمد رمضان انجم قصور 185 انعام الحسن بن احمد حسن قصور 186 سعید الرحمن خان بن عطاء اللہ خان کوہاٹ 187 جلال حبیب بن عبدالرشید کوہاٹ 188 محمد اقبال بن رحیم خان دیر 189 فیضان الحق بن طالب الحق عباسی لاہور 190 عبدالعزیز حیات بن حیات اللہ مانسہرہ 191 محمد عمران بن قاری عبدالرزاق مظفر گڑھ 192 محمد فہیم بن محمد ابراہیم ڈی آئی خان 193 اللہ دتہ بن احمد علی خانیوال 194 محمد عمران بن خان محمد مظفر گڑھ 195 محمد نعمان بن اسلام الدین سرگودھا 196 محمد اویس احمد بن شکیل احمد شہزاد راولپنڈی 197 محمد یامین بن محمد اسرائیل مانسہرہ 198 ہارون رشید بن فقیر خان پشاور 199 محمد سعید بن فدا حسین مانسہرہ 200 محمد طاہر بن محمد عارفین مانسہرہ 201 محمد ایوب بن حسین بخش مٹیاری 202 محمد خالد عابد بن مولانا یار محمد عابد بہاول پور 203 محمد عزیز اللہ بن غلام محمد بہاول پور 204 محمد اصغر علی بن اللہ داد بہاول پور 205 محمد اکرم بن محمد مدنی خان بہاول پور 206 محمد اکمل بن محمد مدنی خان بہاول پور 207 محمد سجاد بن محمد یار بہاول پور 208 عبدالماجد بن حبیب احمد بہاول پور 209 محمد عمر فاروق بن رحیم بخش وہاڑی 210 محمد سہیل بن محمد اشتیاق بہاول پور 211 محمد یوسف معاویہ بن عبدالعزیز بہاول پور 212 عبدالمجید بن اللہ وسایا بہاول پور 213 محمد اختر بن حاجی محمد بخش مظفر گڑھ 214 عبدالصمد بن محمد طیب اطہر فیصل آباد 215 اسد اللہ زاہد بن سبحان زاہد اسلام آباد 216 محمد یاسر قاسمی بن عبدالوحید قاسمی اسلام آباد 217 حافظ عبدالعزیز بن ملک فردوس پشاور 218 محمد یونس چیمہ بن محمد اسلم چیمہ بہاول پور 219 محمد جاوید بن غلام اکبر بہاول پور 220 محمد امتیاز حسین بن عبدالغفور بہاول پور 221 عبدالرشید بن عبدالعزیز بہاول پور 222 محمد عمر بن ملک خوشی محمد منڈی 223 محمد عمر فاروق بن محمد اسلم اوکاڑہ 224 شاہد اقبال بن سردار علی اوکاڑہ 225 محمد یار قمر بن محمد مشتاق اوکاڑہ 226 اعجاز حسین بن قادر بخش اوکاڑہ 227 محمد عاصم بن محمد قاسم بہاول پور 228 محمد نوید جاوید بن جاوید اقبال بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
229 محمد آصف بن سکندر علی چنیوٹ 230 محمد سلیمان بن حافظ عبد المالک مظفر گڑھ 231 وقاص انوار اقبال بن انوار اقبال لاہور 232 محمد عارف بن عبد الکریم راجن پور 233 محمد ریاض بن محمد یسین فیصل آباد 234 محمد کامران بن عاشق حسین راولپنڈی 235 شاہین اختر بن محمد اختر قصور 236 محمد سلیم بن محمد یسین بہاول نگر 237 عبد الرحمن بن محمد یامین جھنگ 238 محمد اعظم بن اللہ دتہ فیصل آباد 239 محمد آصف ندیم بن عبد الغفار جھنگ 240 محمد نواز بن نور احمد فیصل آباد 241 محمد صابر بن عبد المجید قصور 242 محمد عثمان زاہد بن صادق علی ننکانہ 243 محمد جاوید بن محمد اصغر ننکانہ 244 محمد ابوبکر بن صادق علی ننکانہ 245 محمد قاسم بن احمد دین شیخوپورہ 246 محمد کامران بن مشال خان نوشہرہ 247 خالق محمود بن منیر احمد رحیم یار خان 248 عبد الصمد بن صلاح الدین فیصل آباد 249 محمد متین بن محمد سعید کراچی 250 محمد رضوان بن قاری فیض الرحمن کراچی 251 محمد لئیق الرحمن بن محمد یعقوب گوجرانوالہ 252 محمد عمر فاروق بن عبید اللہ اٹک 253 محمد امجد اسلام بن اسلام الدین کراچی 254 محمد مصطفیٰ نذیر بن حاجی نذیر احمد کراچی 255 وقاص جہانگیری بن عطائی خان کراچی 256 محمد خادم بن مولانا غلام فرید کراچی 257 ہارون رشید بن محمد مسکین کراچی 258 محمد الیاس بن میرزا خان گلگت 259 محمد عمر فاروق بن غلام یسین کراچی 260 نور احمد بن محمد اسماعیل کراچی 261 سعد احمد بن حیدر عثمانی کراچی 262 محمد اختر علی بن شرف خان چکوال 263 زین العابدین بن حیات خان کراچی 264 گلزار احمد بن جہانزیب کراچی 265 محمد فرقان بن عبد الرشید کراچی 266 محمد یعقوب بن محمد حنیف کراچی 267 مزمل شبیر بن محمد شبیر کراچی 268 محمد انور بن غلام محمد رحیم یار خان 269 طالب حسین بن رحمت اللہ خیر پور میرس 270 غلام مصطفیٰ بن حاجی سرور خیر پور میرس 271 امداد اللہ بن محمود خان خیر پور میرس 272 محمد طیب ظفر بن ڈاکٹر محمد ظفر بہاول پور 273 محمد شفیق عثمانی بن شبیر احمد بہاول پور 274 محمد ساجد بن واثق حسین بہاول پور 275 محمد یونس خان بن محمد بخش خان بہاول پور 276 محمد سلمان بن نذیر احمد رحیم یار خان 277 محمد اصغر بن محمد صادق بہاول پور 278 محمد مکی بن مولانا اللہ یار وہاڑی 279 محمد نعیم بن محمد عطاء اللہ بہاول پور 280 عبد المالک بن محمد نواز خان بہاول پور 281 محمد احمد بن محمد بلال خان بہاول پور 282 محمد معظم بن محمد حنیف وہاڑی 283 صدیق عثمان بن مولانا عبد الستار بہاول پور 284 ظہیر احمد بن غلام حسین گھوٹکی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
285 عبدالحمید بن محمد حسن گھوٹکی 286 محمد ادریس بن محمد ہاشم سکھر 287 محمد ارشاد گوندل بن یونس علی حافظ آباد 288 عابد محمود بن اسلام دین شیخوپورہ 289 محمد آصف بن عبدالرحیم مظفر گڑھ 290 امداد اللہ بن محمد راشد سکھر 291 محمد عمیر خالد بن محمد خالد محمود گوجرانوالہ 292 ممتاز احمد بن منظور حسین فیصل آباد 293 وسیم احمد بن عبداللطیف ٹوبہ ٹیک سنگھ 294 شیراز شوکت بن شوکت علی گجرات 295 نور سلطان بن محمد افضال گجرات 296 محسن یعقوب بن محمد یعقوب گجرات 297 عثمان ضیاء بن ضیاء اللہ گجرات 298 نصر اللہ ارشد بن ارشد علی گجرات 299 محمد علی بن محمد اخلاق کوٹلی 300 اسد الرحمن بن اعجاز الکریم گجرات 301 عباس احمد بن عبدالمجید گجرات 302 محمد مبین ضیاء بن محمد امین ضیاء لاہور 303 عبدالرحمن ساجد بن نور احمد فیصل آباد 304 اسد علی بن ارشاد احمد فیصل آباد 305 محمد وقاص انجم بن محمد ظہور احمد فیصل آباد 306 محمد عبد الماجد بن محمد قدیر لودھراں 307 عبدالرحمن بن محمد خالد فیصل آباد 308 محمد ناصر بن محمد نواز بہاول پور 309 محمد رضوان بن عبدالستار بہاول پور 310 محمد طاہر بن عبدالرزاق بہاول پور 311 غلام مصطفیٰ بن محمد رمضان ڈی جی خان 312 محمد عمیر بن عبدالواحد لودھراں 313 محمد طیب بن اللہ بخش بہاول پور 314 محمد منیب الرحمن بن ملک محمد اکرم بہاول پور 315 محمد ابوبکر بن غلام قادر بہاول پور 316 محمد مغیرہ ظفر بن محمد ظفر بہاول پور 317 محمد شمس الرحمن بن محمد طیب بہاول پور 318 رضوان افتخار بن افتخار اللہ خان راولپنڈی 319 زاہد محمود بن عبدالغفور سیالکوٹ 320 فرمان علی بن گلزار احمد سیالکوٹ 321 حامد اللہ بن پائندہ خان نوشہرہ 322 محمد ارشاد بن شیر افسر خان صوابی 323 حضرت بلال بن محترم گل چارسدہ 324 محمد شاہ بن امان اللہ اپر دیر 325 محمد یوسف بن امام بخش ڈی جی خان 326 عابد شہزاد بن محمد اشرف بھکر 327 محمد ندیم بن محمد دین کراچی 328 غلام مصطفیٰ بن سعد اللہ چنیوٹ 329 محمد جاوید بن محمد اعظم مظفر گڑھ 330 سلطان احمد بن عبدالقادر وہاڑی 331 عبدالخالق بن نذیر احمد وہاڑی 332 معز احمد بن فیض محمد چارسدہ 333 محمد ارشد بن محمد حبیب چارسدہ 334 محمد اسماعیل بن محمد رمضان خوشاب 335 محمد احسان الحق بن محمد اسلم گوجرانوالہ 336 محمد رمضان بن عنایت اللہ میانوالی 337 محبت خان بن وکیل خان پشاور 338 محمد خورشید بن اصغر علی چنیوٹ 339 محمد فاروق بن شوکت علی جھنگ 340 عبدالقدوس بن احمد خان سرگودھا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
341 مولوی بشیر خان بن فیروز دین آزاد کشمیر 342 محمد عثمان ربانی بن محمد ربانی کراچی 343 ارشد محمود بن فرزند علی گوجرانوالہ 344 نوید احمد بن عبدالحمید گجرات 345 طلحہ عثمان بن محمد رمضان نارووال 346 عبید اللہ بن محمد ہاشم نارووال 347 شہباز شریف بن محمد ظریف میانوالی 348 محمد شاہد بن نذیر احمد قصور 349 محمد عمر فاروق بن محمد عطاء اللہ مظفر گڑھ 350 نذیر احمد بن ملک اللہ وسایا مظفر گڑھ 351 محمد افضل گجر بن چوہدری عالمگیر مظفر گڑھ 352 عبدالوحید بن عبدالحمید نقشبندی مظفر گڑھ 353 عبدالشکور بن حاجی الہی بخش مظفر گڑھ 354 محمد عامر نواز بن ربنواز مظفر گڑھ 355 شاہد محمود بن محمد خالد محمود مظفر گڑھ 356 محمد آصف بن محمد اسلم مظفر گڑھ 357 محمد ممتاز بن حاجی عبدالغفور مظفر گڑھ 358 محمد جہانگیر بن محمد صادق مظفر گڑھ 359 محمد آصف بن محمد نذیر احمد رحیم یار خان 360 حفیظ الرحمٰن بن محمد صدیق مظفر گڑھ 361 محمد فیصل اقبال بن محمد اقبال مظفر گڑھ 362 محمد عمران بن قاری عبدالرشید مظفر گڑھ 363 محمد خلیل معاویہ بن منیر احمد مظفر گڑھ 364 عبدالکریم اشرفی بن مولوی اشرف دین رحیم یار خان 365 محمد سجاد بن غلام قادر بہاول پور 366 محمد صفدر بن حاجی محمد نواز لودھراں 367 عبدالحسیب بن ارشد محمود سیالکوٹ 368 اسرار احمد بن سلطان احمد دیر 369 احمد علی بن طالب حسین ساہیوال 370 سعید الرحمٰن بن قاری عبدالرحمٰن ضیاء جھنگ 371 عبید اللہ معاویہ بن محمد احمد ملتان 372 محمد قاسم بن محمد اعظم ملتان 373 شبیر احمد بن احمد خان منڈی بہاؤالدین 374 عبدالرب بن محمد فاضل اٹک 375 ارشاد احمد بن عبدالغنی گھوٹکی 376 محمد عثمان بن محمد فیاض رحیم یار خان 377 مجیب الرحمٰن بن حفیظ الرحمٰن وہاڑی 378 ضیاء اللہ بن حبیب اللہ کراچی 379 محمد یاسر مجید بن مجید اختر بہاول پور 380 محمد امین بن محمد اقبال چنیوٹ 381 محمد بلال مکی بن حافظ بشیر احمد ملتان 382 محمد سعد اللہ بن قاری حماد اللہ رحیم یار خان 383 محمد کاشف بن کریم بخش رحیم یار خان 384 محمد ناصر محمود بن مقبول احمد بہاول نگر 385 قادر بخش بن قاری شمس الدین رحیم یار خان 386 سیف اللہ بن محمد منیر فیصل آباد 387 محمد سرفراز بن محمد سرور قصور 388 عبدالستار بن محمد احمد مظفر گڑھ 389 محمد فاروق بن غلام مرتضیٰ مظفر گڑھ 390 محمد ارشد بن غلام فرید سرگودھا 391 محمد ہارون بن عبداللطیف فیصل آباد 392 عبدالواجد بن الہندو گھوٹکی 393 عبدالجبار بن محمد قاسم گھوٹکی 394 عبدالمجید بن عبدالرحمٰن بہاول پور 395 محمد محسن عزیز بن عزیز الرحمٰن خانیوال 396 حافظ محمد شاہد بن محمد سرور گوجرانوالہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
397 محمد اکرم الحق بن باقر حسین خانیوال 398 محمد عبدالرحمن بن قاری فیض محمد رحیم یار خان 399 محمد ذیشان بن اشتیاق احمد نارووال 400 افتخار حسین بن اللہ یار فیصل آباد 401 اورنگزیب بن دوست محمد ہری پور 402 توصیف اقبال بن عبدالستار کراچی 403 محمد نوید شاہ بن محمد روز دار شاہ شیخوپورہ 404 ابوسفیان بن عبدالخالق گوجرانوالہ 405 یاسر منیر بن امیر باز چکوال 406 محمد خبیب احمد بن محمد رمضان صدیقی چکوال 407 محمد اقبال بن سراج دین حافظ آباد 408 عبدالسمیع بن قاری عبدالحی مظفر گڑھ 409 عمران سمیر بن سمیر خان قصور 410 محمد آصف اقبال بن محمد اقبال گوجرانوالہ 411 وقاص احمد جان بن محمد جان اٹک 412 محمد سرفراز بن چوہدری شمشاد علی رحیم یار خان 413 محمد عارف بن حفیظ اللہ قریشی ڈی جی خان 414 محمد نور بن محمد ظاہر شاہ راولپنڈی 415 محمد عامر بن محمد اسلام الدین مظفر گڑھ 416 محمد رضوان بن نریا رام بہاول پور 417 وقار احمد بن منیر احمد اختر بہاول پور 418 محمد لقمان بن حاجی انوار الحق بہاول پور 419 محمد مدثر عزیز بن عزیز قمر وہاڑی 420 فرخ شہزاد بن دین محمد عمر کوٹ 421 محمد سلیم بن محمد علی خانیوال 422 محمد فاروق بن محمد ادریس گوجرانوالہ 423 محمد طیب بن حافظ محمد ابوبکر سیالکوٹ 424 محمد ابوبکر بن حافظ عبداللطیف گوجرانوالہ 425 محمد متین ضیاء بن محمد امین ضیاء لاہور 426 محمد عاصم علی شاہ بن سید زین العابدین ایبٹ آباد 427 محمد جان عالم بن محمد کمال پشاور 428 محمد صادق بن محمد عمر پشاور 429 محمد معاذ بن میاں ریاض احمد رحیم یار خان 430 محمد عثمان بن مرزا محمد اختر رحیم یار خان 431 جہانگیر اسحاق بن محمد اسحاق کوٹلی 432 محمد اشفاق ولد اقبال مسیح شیخوپورہ 433 محمد امجد بن خلیل احمد قصور
نوٹ: رول نمبر ۵، ۶، ۳۹، ۴۰، ۵۶، ۶۲، ۷۶، ۱۳۱، ۱۹۰، ۱۹۳، ۱۹۷، ۱۹۹، ۲۰۰، ۲۲۳، ۲۲۴، ۲۲۵، ۲۲۶، ۲۲۹، ۲۷۱، ۳۲۰، ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۹۸، ۳۹۹، ۴۱۰، ۴۱۱، ۴۱۵، ۴۲۸ کے حامل حضرات امتحان میں شریک نہ ہوئے۔
عظمت قرآن وتحفظ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
مؤرخہ ۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء بروز اتوار جامع مسجد کبیر ریلوے اسٹیشن نواب شاہ میں عظمت قرآن وتحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز عشاء سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک قاری عطاء الرحمن مدنی اور قاری طیب نے کی۔ حافظ نعیم شاکر نے نعتیں پڑھیں۔ پھر مولانا سعید احمد گھوٹکی والوں کا بیان ہوا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا گل حسن گبول گھوٹکی والوں کا بیان ہوا۔ آخر میں مولانا عبدالغفور حقانی نے خطاب کیا اور دعا کرائی۔ یہ کانفرنس مولانا عبدالسلام کی زیر صدارت ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاری محمد امجد نے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کانفرنس میں مولانا قاری محمد ارشد مدنی کے ایصال ثواب کے لئے خصوصی دعاء کرائی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۱۱)
ختم نبوت کانفرنس سکرنڈ
مؤرخہ ۱۸؍ جولائی ۲۰۱۱ء بروز پیر جامع مسجد مدینہ میں جمعیت علماء اسلام سکرنڈ کے تعاون سے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی احمد خان نے کی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز صبح نو بجے تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ مولانا علی احمد چنہ نے نعت پڑھی۔ مولانا مفتی زین العابدین، مولانا نظام الدین جوکپو، مولانا تجمل حسین، آخر میں مہمان خاص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کا خطاب ہوا اور کانفرنس کا اختتام مفتی احمد خان کی دعاء پر ہوا۔ اس کانفرنس میں مولانا مسرور احمد، مولانا مفتی سلیم اللہ، حافظ عبدالخالق خاصخیلی، مولانا علی نواز پرھیار، مولانا عبدالغفار سمیت دیگر تمام مقامی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۱۱)
عظمت قرآن کانفرنس
مغرب سے رات گئے تک مدرسہ اشرفیہ تعلیم القرآن محلہ اندرون حسن ابدال کے زیر اہتمام عظمت قرآن کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے مہتمم قاری محمد یاسین مدظلہ نے کی۔ کانفرنس سے دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت مدنی کے شاگرد رشید مولانا مطیع الانوار ضرب مؤمن کے کالم نویس قاری منصور احمد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۱ء ص ۳۹)
ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام دوسرا سالانہ ختم نبوت کورس کا انعقاد ہوا۔ کورس ٹوبہ شہر ومضافات کے مختلف مقامات پر منعقد ہوئے۔ تمام مقامات پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین میں سے مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبدالحکیم نعمانی چیچہ وطنی، مقامی علماء کرام میں سے مولانا عطاء اللہ شاکر پیریا نوالے، مولانا سعد اللہ سعدی، مولانا مجیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا نصر اللہ انور نے شرکت کی۔ حضرات نے کورس میں شرکاء کو اپنے اپنے بیانات سے مستفید فرمایا۔ ایک مرتبہ پھر ٹوبہ شہر ومضافات ختم نبوت کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ ان تمام پروگراموں میں سرپرستی محترم قاضی فیض احمد، صدارت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی امیر مجلس ٹوبہ ٹیک سنگھ، قیادت مولانا سید مطیع الرحمٰن عباسی نے کی۔ جب کہ کورس کی ذمہ داری قاضی امتیاز احمد، شیخ زاہد، لالہ عثمان بٹ کی تھی اور نگران ومعاون خاص مولانا محمد حبیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۱ء ص ۵۵)
۷۳ویں یوم ختم نبوت کے حوالے سے ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد
۷؍ستمبر ۲۰۱۱ء یوم ختم نبوت کے حوالے سے ملک بھر میں اجتماعات ہوئے۔ جس میں ۷؍ستمبر ۲۰۱۱ء کا مرکزی پروگرام صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور، مردان عید گاہ، مرکزی جامع مسجد کینٹ نوشہرہ میں بھی حسب سابق امسال ۷۳واں یوم ختم نبوت انتہائی مذہبی ولولے سے منایا گیا۔ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے مجاہدین اور شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کانفرنس کو براہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راست انٹرنیٹ پر براڈ کاسٹ کیا جا رہا تھا۔ پشاور میں سیکیورٹی کے خدشہ اور انتظامیہ کی درخواست پر کانفرنس ختم نبوت چوک قصہ خوانی کی بجائے مسجد قاسم علی خان میں منعقد کی گئی۔ مسجد اپنی کشادگی کے باوجود تنگ دامانی کا منظر پیش کر رہی تھی جس کی وجہ سے مسجد کے باہر سڑکیں بھی شرکاء سے اٹ گئیں جن کو بڑی سکرین کے ذریعے مسجد کے باہر قصہ خوانی بازار میں جلسے کی کاروائی دکھائی جا رہی تھی۔ پشاور اور مردان ختم نبوت کانفرنس خواجہ خواجگان مولانا خان محمد کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالغفور قریشی دامت برکاتہم کے زیر صدارت شروع ہوئی۔ جب کہ پبی کانفرنس کی صدارت مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔ مولانا اللہ وسایا تمام کانفرنسوں کے مہمان خصوصی تھے۔
پشاور میں کانفرنس کا آغاز قاری محمد عاصم سمیع کی تلاوت سے ہوا۔ جنہوں نے ختم نبوت کے حوالے سے آیت تلاوت فرما کر غلامان محمد عربی ﷺ کے دلوں کو گرمایا۔ ہدیہ نعت اور ترانہ ختم نبوت مولانا احسان قدیر اور طاہر رشید نے پیش کر کے مجمع لوٹ لیا۔ پروفیسر مولانا خیر البشر نے اپنے دلآویز خطاب میں مجاہدین ختم نبوت اور شہداء کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کی تمام دینی اور مذہبی جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سٹیج سے ۱۹۷۴ء میں یک جہتی کا اظہار کیا تو ۹۰ سالہ قربانیاں رنگ لائیں۔ علماء کرام سیاسی زعماء اور اہل وطن نے جیلیں بھر کر غلامی خاتم النبیین ﷺ کا ثبوت دیا اور بالآخر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی پاکستان نے متفقہ طور پر مرزا غلام قادیانی اور اس کی ذریت کے ناسور کو ملت اسلامیہ کے جسد اطہر سے کاٹ کر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لئے یہ اعزاز ہے کہ اس تحریک کی قیادت خیبر تا کراچی اور قومی اسمبلی کے اندر اہل خیبر پختونخواہ کے علماء کرام نے فرمائی۔
کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت کا کام خاتم النبیین ﷺ کی سنت ہے اور اس کام میں لگ جانا ایسا ہے جیسے صدیقی لشکر میں شامل ہو جانا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ ہے جس کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے اس عقیدے کے لئے ۱۰۰؍ آیتیں نازل فرما کر بیان فرمائی ہے۔ جب کہ آقائے مدنی ﷺ نے اپنے وصف ذاتی مقام ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ۲۱۰؍ احادیث مبارکہ ارشاد فرمائی ہیں۔ مزید یہ کہ امت کا پہلا اجماع جو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا ختم نبوت کے مسئلہ پر دور صدیقی میں ہوا۔ جب کہ مسیلمہ کذاب کے خلاف مسلح جہاد کیا گیا اور اسے کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے صدیقی سنت پر عمل کرتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کو جہنم واصل کیا۔ برصغیر میں انگریز سامراج نے مسلمانوں میں تشتت اور افتراق کا بیج اپنے غلام مرزا غلام قادیانی کے ذریعے بویا جس نے انگریز سرکار کی اطاعت اور جہاد کی منسوخی کا چرچہ چلایا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے ہمیشہ ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے درست فرمایا تھا کہ قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان لوگوں کی سر پرستی اہل یورپ اسلام دشمنی کے لئے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتم المرسلین ﷺ کے پروانے ان کی عیاریوں سے خود کو باخبر رکھیں اور اپنی اولاد کو عقیدہ ختم نبوت سے آگاہ رکھ کر قادیانیوں کے دجل وفریب سے بچائیں۔
قاری سمیع اللہ جان فاروقی نے فرمایا کہ ان کانفرنسوں کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ جو نئی نسل ۹۰ کی دہائی کے بعد میں پیدا ہوئی ہے اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں سے آگاہ رہیں۔ اسی مقصد کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر سایہ تحفظ ختم نبوت کا کام کر کے حضور ﷺ کی شفاعت کے حقدار بننے کی کوشش فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے فرمایا کہ اگر قادیانی چاند پر بھی چلے گئے تو وہاں بھی ان کا پیچھا کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو ملکی آئین کا پابند بنایا جائے اور امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء پر عمل درآمد کرایا جائے۔ پشاور کانفرنس میں قراردادیں مولانا شفیق الرحمن نے پیش کیں۔
پشاور کانفرنس کے شرکاء میں مولانا عبدالغفور قریشی، صاحبزادہ مولانا قاری محمد زکریا، مولانا اللہ وسایا، مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق نور، پروفیسر مولانا خیر البشر، پروفیسر مولانا اشفاق، مولانا میاں گل طوفان، مولانا لعل بادشاہ، قاری محمد حسین، مفتی عبدالشکور، مفتی واجد علی، مولانا عبد الکریم، قاری محمد عاصم، مولانا شفیق الرحمن، حکیم تاج محمد، مولانا بخت زادہ، مولانا سعید احمد، قاری شہادت عمر، مولانا محمود الحسن، مولانا قاری سیف اللہ، مولانا عابد کمال اور مجلس پشاور کے ٹاؤن ناظمین نائب ناظمین اور ضلع بھر کی دینی قیادت وعوام نے بھر پور شرکت فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس مردان: مردان ختم نبوت کانفرنس جو کہ جامع مسجد کسٹی میں منعقد ہونی تھی۔ شرکاء کی کثرت کی وجہ سے اس کو عید گاہ شمسی روڈ میں منعقد کیا گیا۔ مردان کانفرنس میں قادیانی مصنوعات اور قادیانیوں سے مکمل سوشل بائیکاٹ کا عہد لیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت شیخ مولانا عبدالغفور قریشی نے فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ مردان کانفرنس کثیر تعداد میں علماء کی شرکت کی وجہ سے بہت با رونق اور تاریخی اعتبار سے نہایت کامیاب رہی۔ کانفرنس سے مقامی بزرگ علماء کے بیانات کے علاوہ مولانا الیاس گھمن، مولانا اللہ وسایا اور مجلس صوبہ خیبر پختونخواہ کے امیر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کا تاریخی خطاب ہوا۔
کانفرنس میں تلاوت کلام پاک اور نعت مقبول سے شرکاء کے دلوں کو گرمایا گیا۔ جب کہ کانفرنس کا اختتام شیخ مولانا عبدالغفور قریشی کی پر سوز اور رقت انگیز دعاء سے ہوا۔ مردان کانفرنس کے شرکاء میں شیخ مولانا عبدالغفور قریشی، صاحبزادہ مولانا قاری محمد زکریا، مولانا اللہ وسایا، مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا الیاس گھمن، مفتی رشید، مفتی خالد، حافظ فضل خالق، مولانا سعید اللہ، مولانا قاضی عمر خطاب، قاری اکرام الحق، مفتی اعظم افریقہ رضاء الحق، مولانا غلام ربانی المعروف محب بابا جی، شیخ الحدیث مولانا اسرائیل، مولانا اعزاز الحق، سابقہ ایم این اے مولانا شجاع الملک، مولانا اسرار الحق حقانی، مولانا قاری عبدالغفور، مولانا ندیم، مولانا فضل علیم، مولانا مفتی سجاد الحجابی، مولانا فیضان الحق صوابی، مولانا عابد کمال اور ضلع بھر کی دینی قیادت نے شرکت فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس پبی: پبی ضلع نوشہرہ میں پہلی مرتبہ مسجد خان خیل میں یوم ختم نبوت کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں مقامی علماء اور کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت فرمائی۔ پبی کانفرنس کی صدارت مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ مولانا کے خصوصی بیان کے بعد اختتامی بیان اور دعاء مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔ کانفرنس میں مولانا محمد زاہد جامع مسجد خان خیل، مولانا قاری محمد اسلم، مفتی حاکم علی، مفتی فضل غنی، مولانا عابد کمال اور ضلع بھر کی دینی قیادت نے شرکت فرمائی۔ مولانا عبدالغفور قریشی پشاور میں رات گزار کر صبح مردان کانفرنس میں شرکت کے بعد ٹیکسلا روانہ ہو گئے، جس کے بعد انہوں نے کرک ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کرنی تھی۔ جب کہ مولانا اللہ وسایا پبی سے مانسہرہ کے ساتھیوں عبدالرؤف روفی اور یاسر کے ہمراہ چھچھ اور کالا ڈھاکہ تعزیتی دورے پر روانہ ہو گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۵۲ تا ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹاؤن شپ لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
ستمبر ۲۰۱۱ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹاؤن شپ کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس آرائیں چوک ٹاؤن شپ میں تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد عالم طارق، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا عبدالنعیم، مرکز ختم نبوت عائشہ مسجد لاہور کے خطیب مولانا محبوب الحسن، جامع مسجد ختم نبوت گوجرانوالہ کے خطیب مولانا عمر حیات لاہور، مرکز ختم نبوت کے امام و مدرس قاری محمد صدیق توحیدی سمیت متعدد علماء کرام نے شرکت کی۔ نعت ونظم سید سلمان گیلانی، ناصر محمود میلسوی نے پیش کی۔ کانفرنس کی صدارت سید نفیس الحسینی شاہ کے خادم خاص پیر رضوان نفیس نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ قادیانیت اسلام سے متصادم گروہ ہے۔ قادیانی گروہ کا چیف گرو اور اس کی ذریت یہ انگریز کے نمک خوار ہیں اور خود مرزا بے ایمان نے انگریز کے کہنے پر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا۔ قادیانی انگریز کے گماشتے اور ٹاؤٹ ہیں۔ قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان لوٹنے کی ناپاک جسارت کر رہے ہیں۔ جب تک دنیا میں ایک بھی قادیانی ہے ہماری ان کے خلاف پرامن آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ علماء کرام نے کہا کہ قادیانیوں کو پاکستان کی تمام عدالتوں اور پارلیمنٹ نے کافر قرار دیا ہے۔ علماء کرام نے اہل اقتدار سے پرزور مطالبہ کیا کہ عدالتوں کے فیصلہ جات اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی روشنی میں قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے۔ مقررین نے افسران، عوام اور زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات سے گزارش کی کہ زر، زن اور ذاتی مفادات کی خاطر ختم نبوت کے عظیم مشن سے غداری نہ کریں۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات یونٹ ٹاؤن شپ کے عہدیداران، کارکنان، بھائی محمد آصف، مولانا محمد کاشف، مفتی مبشر، قاری عبدالستار ابراہیمی نے کئے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں متعدد کارنر میٹنگز، تربیتی نشستیں رکھی گئیں۔ کارکنان ختم نبوت ٹاؤن شپ نے کانفرنس کو کامیاب بنانے میں رات دن بھر پور محنت اور جدوجہد کی۔ الحمدللہ! کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان نوجوان کارکنوں کی محنت کو قبول فرمائے اور زیادہ سے زیادہ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۸)
مولانا شجاع آبادی کا دورہ کوہاٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۶؍ ستمبر ۲۰۱۱ء کو کوہاٹ شہر میں تشریف لائے۔ جہاں آپ نے جامع مسجد محلہ میاں بادشاہ میں عشاء کی نماز کے بعد ”عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد“ کے عنوان پر ایک گھنٹہ بیان کیا، جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
۱۷؍ ستمبر ۲۰۱۱ء کو مدرسہ انوار الصحابہ رضی اللہ عنہم جنگل خیل میں اسباق کی افتتاحی تقریب بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔ جس میں مجلس خیبر پختونخواہ کے مبلغ مولانا محمد عابد کمال نے پشتو زبان میں بیان کیا، جب کہ آصف ترابی نے نعت پیش کی۔ بعدازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے فضیلت علم، مدارس کی اہمیت وضرورت اور عقیدہ ختم نبوت پر خطاب کیا۔ مولانا محمد عاصم شنواری ناظم تبلیغ کوہاٹ نے مہمان مکرم کا شکریہ ادا کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ۱۷۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷/ستمبر بعد نماز عشا جامع مسجد سبیل ہنگو روڈ محمد زئی میں مولانا شجاع آبادی نے درس قرآن دیا۔ جس میں نمازیوں کی کثیر تعداد کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل مہتمم مدرسہ سیدنا امیر معاویہ محمد زئی، قاری محمد عبداللہ نے خصوصی شرکت کی۔ تمام پروگراموں کا انتظام حاجی محمد علی نے کیا۔ مولانا شجاع آبادی نے جمعیت طلباء اسلام کے سابق رہنما حاجی جاوید پراچہ سے بھی ملاقات کی جب کہ رہائش حاجی محمد شعیب کے گھر محلہ میاں بادشاہ میں رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ / اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ۲۱)
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد مہاجر کالونی میں مؤرخہ ۱۶/ستمبر ۲۰۱۱ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی اور شیخ الحدیث مولانا جلیل احمد اخون کی خصوصی دعاء سے انعقاد پذیر ہوئی۔ جس کی صدارت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد کے جانشین مولانا خواجہ خلیل احمد کندیاں شریف نے کی۔
تمام مکاتب فکر کے علماء نے خطاب کیا۔ تلاوت کلام جناب قاری عبدالحمید صدیقی نے کی۔ ہدیہ نعت جناب حافظ محمد شریف مچن آبادی ، حافظ محمد یحییٰ حافظ آبادی، قاری سیف اللہ خالد بہاولنگری نے پیش کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین ختم نبوت سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ حکومت وقت قادیانیوں کو آئین کا پابند بنائے۔ مولانا نے کہا کہ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر پر پابندی لگوانے کے لئے قادیانیوں نے سازش کی، ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ کورس ہوگا۔ حکومت کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ شرکاء کانفرنس نے وعدہ کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سب کچھ قربان کردیں گے۔ مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاولپور، مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ساہیوال، مولانا عزیز الرحمن، مولانا بشیر احمد شاد چشتیاں، مولانا حافظ مسعود قاسم قاسمی فقیر والی، مولانا قاری اکرام اللہ عارفی نے خطاب کیا۔
کانفرنس میں آخری خطاب مولانا سید محمد اسماعیل شاہ کاظمی کا ہوا۔ مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم رحمانی نے قرارداد پیش کی کہ ضلعی انتظامیہ فورٹ عباس چک نمبر ۲۴۱۔ ایچ۔ایل میں قادیانی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔ قادیانی تبلیغ پر پابندی نہ لگائی گئی تو ہم ہائی کورٹ میں جائیں گے۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے بہاولنگر کی ہر دلعزیز شخصیت جناب حاجی عبدالرحمٰن قریشی، مولانا قاری محمد اکرام اللہ عارفی نے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم رحمانی کے ساتھ مل کر رات دن ایک کر دئیے۔ کانفرنس مثالی طور پر کامیاب ہوئی۔ مولانا سعید احمد جنرل سیکرٹری ختم نبوت بہاولنگر انتظامی امور کے نگران تھے۔ حاجی عبدالرحمٰن قریشی نے کانفرنس سے قبل معزز مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ جس میں دیوبندی ، بریلوی، اہل حدیث مکاتب کی نمائندہ قیادت نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۳۱)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد میں مؤرخہ ۱۲/اکتوبر ۲۰۱۱ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد ارشاد نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی پیر طریقت، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا سید جاوید حسین شاہ دامت برکاتہم فیصل آباد تھے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عالم طارق، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری محمد عثمان مالکی نے حاصل کی۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مفتی محمد عثمان نے سرانجام دیئے۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری زاہد اقبال، قاری محمد اصغر، عبدالعلیم مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علماء کرام نے کہا کہ غازی ممتاز قادری کیس کی اپیل ہائی کورٹ میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے دیت دے سکتی ہیں۔ تو ممتاز قادری کی طرف سے کیوں نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے امریکی دھمکیوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مادر وطن کی ایک ایک انچ زمین کے دفاع کے لئے پوری قوم فوج کے ساتھ ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۱ء ص ۴۹)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۶/ اکتوبر ۲۰۱۱ء بعد از مغرب تا اذانہائے فجر عید گاہ گراؤنڈ میں حسب سابق آب و تاب سے منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی تیاری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی کی زیر سر پرستی، عالمی مجلس کے کارکنوں، شبان ختم نبوت کے رفقاء نے تین ماہ قبل شروع کر دی تھی۔ شہر کو مختلف اشتہاروں، بینروں اور فلیکس بورڈوں سے سراپا استقبال بنا دیا گیا تھا۔ عالمی مجلس سرگودھا کے امیر محترم استاذ العلماء مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد رضوان، مولانا مفتی محمد طاہر مسعود اور دیگر علمائے کرام کی قیادت میں شہر و ضلع بھر میں ختم نبوت کانفرنس سرگودھا کی دعوتی مہم کے سلسلہ میں ختم نبوت کے دعوتی پروگرام منعقد ہوئے۔ جگہ جگہ اعلانات ہوئے۔ جمعہ پر ضلع بھر کے خطیب حضرات نے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے عوام سے بھرپور اپیلیں کیں۔ میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا تک کے اضلاع سے قافلے تیار ہوئے۔ جونہی ۶/ اکتوبر ہوئی۔ ان اضلاع سے قافلوں کا رخ سرگودھا کی جانب تھا۔
کانفرنس سے دو تین روز قبل انتظامیہ نے ناروا طور پر پابندی عائد کر دی اور کانفرنس کے سرپرست و منتظم اعلیٰ مولانا محمد اکرم طوفانی کو بلا کر پابند کر دیا کہ مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد عالم طارق، مولانا سید عبداللہ مظہر اور اللہ وسایا کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ایک ایک ماہ کے لئے ان سب حضرات کا سرگودھا میں داخلہ بند کر دیا گیا۔ مولانا رضوان کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ غرض کسی ناعاقبت اندیش رپورٹر کی رپورٹ پر اندھے کی لاٹھ ناروا پابندی کے باوجود منتظمین نے ہر حال میں کانفرنس کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ اللہ رب العزت کے کرم کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے۔ اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے۔ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا تمام تر ناروا ظالمانہ پابندی، ضلعی انتظامیہ کی قادیانیت نوازی کے باوجود ۶/ اکتوبر کی مغرب تک عظیم الشان سٹیج، خوبصورت پنڈال، چاروں طرف کارکنوں کی رضا کارانہ ڈیوٹیاں، اس آب و تاب شان وشوکت کے مظاہرے پیش کرنے لگیں کہ ختم نبوت کے پروانوں کے قلوب اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لائے۔ قادیانی وقادیانی نواز حلقہ نے اس منظر کو دیکھا تو ان کے دلوں کی طرح ان چہروں پر بھی مایوسی کی سیاہی نے قبضہ جما لیا۔
مغرب کے بعد خانقاہ عالیہ قادریہ رشیدیہ کے چشم و چراغ مولانا میاں محمد اجمل قادری صاحب دامت برکاتہم نے مجلس ذکر سے کانفرنس کے ماحول کو یاد الٰہی کا گہوارہ بنا دیا۔ عشاء کی جونہی نمازیں ختم ہوئیں چاروں طرف سے قطار اندر قطار یدخلون فی دین اللہ افواجا کا منظر نظر آنے لگا۔ وفود در وفود، قافلے در قافلے، کارواں در کارواں، اس شان سے پنڈال میں آناً فاناً جمع ہونے شروع ہوئے کہ لاکھوں انسانوں کو اپنی وسعت میں سمیٹنے والا گراؤنڈ بھی تنگی دامان کا شکوہ کرنے لگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت ونظم کے بعد استاذ العلماء مولانا نور محمد صاحب ہزروی نے کانفرنس کے نظم کو سنبھالا اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ راقم اللہ وسایا کو مولانا محمد اکرم طوفانی نے پابند کردیا تھا کہ آپ کانفرنس میں شریک نہ ہوں۔ مولانا عبداللہ شاہ مظہر، مولانا محمد عالم طارق، مولانا محمد الیاس گھمن صاحب کو اطلاع نہ ہوسکی۔ نہ ہی حکومتی احکام ان تک پہنچے۔ چنانچہ وہ حضرات کانفرنس میں شریک ہوگئے۔ ادھر مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے ان پابندیوں کے باعث احتیاطی تدابیر کیں کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد عارف شامی مبلغین حضرات کو فوری طور پر سرگودھا طلب کرلیا۔ عشاء کے بعد بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔
سرپرست ....... مولانا عبدالغفور صاحب ٹیکسلا صدر اجلاس....... مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں مہمان خصوصی....... مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خطاب....... مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد علی صدیقی بدین سندھ، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، پیر طریقت مولانا محمد اجمل قادری، یادگار اسلاف مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، جناب عبدالرزاق ڈھلوں ایم پی اے، مولانا مفتی کفایت اللہ ایم پی اے، مولانا سید عبداللہ شاہ مظہر کراچی، فخر السادات مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ساہیوال، مولانا محمد عالم طارق وکیل صحابہ، مولانا محمد الیاس گھمن خطیب اسلام
کانفرنس عشاء کے بعد سے فجر کی اذانوں تک جاری رہی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالغفور آف ٹیکسلا کی دعا پر بخیر و خوبی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
کانفرنس میں ایک مقرر کے ساتھ آنے والے برخود غلط، عجلت پسند، خیر و برکت، سوچ و فہم سے عاری بعض شہرت کے بھوکے، کارکنوں کے باعث ایک آدھ غیر مناسب امر بھی وقوع پذیر ہوا۔ جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کا ہم سب کو افسوس ہوا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کی ناروا پابندی کے باعث اسٹیج پر ذمہ دار ساتھی موجود نہ تھے۔ جس سے ان نادان دوستوں سے غیر مناسب امر وقوع پذیر ہوا۔ تاہم اتنی بڑی کانفرنس کا خیر و خوبی کے ساتھ ہو جانا محض انعام الہی ہے۔ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ختم نبوت زندہ باد، مولانا محمد اکرم طوفانی پائندہ باد۔
مقررین نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، قادیانیوں کی ملک وملت کے خلاف سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والی تخریب کاریوں اور دہشت گردی کی پشت پر قادیانی سازش کارفرما ہے۔ چناب نگر کو مسلمانوں کے لئے نوگوایریا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قادیانی مسلح جماعت کے خدام الاحمدیہ کے نوجوان بیرل لگا کر مسلمانوں کو شہر میں داخل ہونے کے لئے تلاشیوں سے گزارتے ہیں۔ چناب نگر سب تحصیل تھی۔ اس کی حیثیت ختم کرکے قادیانیوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔ چناب نگر میں حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ قادیانیوں کے اپنے سول کورٹ، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ہیں اور آخری عدالت ہیڈ آف دی جماعت مرزا مسرور احمد کی ہے۔ مقررین نے چناب نگر کی حیثیت بحال کرنے اور قادیانیوں کی عدالتوں اوقاف کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۴۵ تا ۴۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی بزرگ رہنما، ولی کامل مولانا مفتی محمد حسن زید مجدہم ۱۲؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کی عشاء کے قریب تشریف لائے۔ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات صبح کی نماز کے بعد آپ نے درس قرآن مجید سے کانفرنس کے پروگرام کا آغاز فرمایا۔ اشراق تک آپ کا درس جاری رہا۔ محترم مولانا قاری محمد ابوبکر اور ان کے رفقاء نے درس کے بعد مہمانان، وفود، و قافلوں کے شرکاء کو کھانے کے پنڈال میں ناشتہ کرایا۔ اللہ رب العزت مولانا قاری محمد ابراہیم کو بہت ہی صحت و رحمت سے سرفراز فرمائیں کہ تیس سال سے وہ کھانا کھلانے کے شعبہ کو احسن انداز میں چلا رہے ہیں۔ اس بار ان کی صحت متحمل نہ تھی۔ تیس سال سے ان کی قیادت میں نظم کی تربیت حاصل کرنے والے آپ کے صاحبزادہ مولانا قاری محمد ابوبکر، قاری محمد اشفاق نے خوب سے خوب تر انداز میں کام کو سرانجام دیا۔
مولانا فقیر اللہ اختر ان کے رفقاء خصوصی مہمانوں کے نظم کو سنبھالتے ہیں۔ اس دفعہ مدرسہ اور نئی رہائش گاہوں میں مہمانان خصوصی کی رہائش تقسیم ہوگئی تو جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے ناظم مولانا مفتی محمد ظفر اقبال دامت برکاتہم جامعہ کے طلباء کی بھاری بھرکم ٹیم اور اپنے برادر قاری محمد زاہد اقبال کے ہمراہ تشریف لائے اور پہلے سے طے شدہ فیصلہ کے مطابق مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی کے اساتذہ جو مفتی ظفر اقبال کے شاگردان عزیز ہیں، حضرت مفتی صاحب نے ان کے ہمراہ نئی رہائش گاہوں کے مہمانان خصوصی کی ضیافت کا نظم قابل رشک طور پر سنبھالا۔ فالحمدللہ !
کانفرنس کا پہلا اجلاس:
مؤرخہ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء صبح ۹ بجے مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا ضیاء الدین آزاد کانفرنس کے پہلے اجلاس کی کاروائی کے آغاز کے لئے ساعی ہوگئے۔
اجلاس اوّل:
صدارت ...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔ تلاوت ...... مولانا قاری محمد یوسف۔ آغاز ...... مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی مبارک دعاء سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ افتتاحی کلمات ....... مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم۔ نعت ...... حافظ محمد شریف منچن آبادی، حافظ محمد عثمان۔ مہمان خصوصی ...... یادگار اسلاف مولانا محمد عبداللہ بھکر، سرپرست جمعیت علماء اسلام پاکستان۔ خطاب ...... جناب حافظ عبدالوہاب جالندھری حافظ آباد، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا عبدالنعیم لاہور، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ، مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال، مولانا قاری محمد امجد مدنی نواب شاہ۔ اسٹیج سیکرٹری ...... مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا ضیاء الدین آزاد۔ اختتامی دعاء ...... مولانا محمد عبداللہ مدظلہ بھکر۔
اس کے بعد کھانا و نماز ظہر کے لئے وقفہ ہوا۔ ظہر کی نماز کی امامت قاری عبدالرحمن نے کرائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا اجلاس:
مؤرخہ ۱۳/ اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات ظہر کی نماز کے بعد منعقد ہوا۔ صدارت ...... مولانا مفتی محمد ظفر اقبال جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا۔ تلاوت ...... جناب قاری محمد مسعود خان ربانی فاروق آباد۔ نعت ...... جناب اسامہ اجمل جامعہ قاسمیہ شاہدرہ لاہور۔ افتتاحی خطاب ...... یادگار اسلاف مولانا محمد عبداللہ بھکر۔ مہمان خصوصی ...... مولانا سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد۔ خطاب ...... مولانا عبدالستار لیہ، استاذ العلماء مولانا محمد ارشاد چیچہ وطنی، خطیب اسلام مولانا قاری خلیل احمد بندھانی۔ نعت ...... جناب ابوبکر گوجرانوالہ۔ خطاب ...... یادگار اسلاف مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر امیر تحریک خدام اہل سنت پاکستان، استاذ العلماء مولانا فضل الرحیم نائب جامعہ اشرفیہ لاہور۔ مہمانان گرامی ...... مولانا شہاب الدین موسیٰ زئی شریف، مولانا محب اللہ لورالائی۔ خطاب ...... مولانا عطاء الرحمن ایم این اے مرکزی رہنماء جمعیت علماء اسلام پاکستان۔ اختتامی دعاء ...... صاحبزادہ مولانا غلام اللہ ہالیجی شریف۔
اجلاس سوم:
مؤرخہ ۱۳/ اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات بعد از عصر ہر سال سوال و جواب کی نشست ہوتی ہے۔ امسال مقرر مہمانان گرامی کی کثرت کے باعث عصر کے بعد مولانا محمد ممتاز کلیار کا بیان ہوا۔ اس اجلاس کا اختتامی خطاب پیر طریقت مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم نے فرمایا جو مغرب کی اذانوں پر اختتام پذیر ہوا۔ آپ نے ازراہ شفقت منتظمین کی درخواست پر مغرب کی نماز کی امامت بھی فرمائی۔
اجلاس چہارم:
مؤرخہ ۱۳/ اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات بعد از مغرب کانفرنس کے چوتھے اجلاس کا آغاز ہوا۔ خطاب ...... مولانا عبدالرؤف چشتی، مولانا قاضی ارشد الحسینی دامت برکاتہم۔ حضرت قاضی صاحب نے ایمان پرور جہاد آفریں خطاب کے بعد عشاء کی نماز تک مجلس ذکر بھی کرائی۔ ذکر کے دوران گردونواح میں ذکر الٰہی سے ایسا سماں قائم ہوا کہ درودیوار ذکر الٰہی سے درخشاں ہوگئے۔ فالحمدللہ!
اجلاس پنجم:
مؤرخہ ۱۳/ اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعرات عشاء کی نماز کے بعد کانفرنس کے پانچویں اجلاس کا آغاز ہوا۔ صدارت ...... یادگار اسلاف پیر طریقت مولانا محمد یحییٰ مدنی خلیفہ مجاز برکۃ العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی۔ تلاوت ...... جناب قاری سید محمد شاہ۔ نعت ...... جناب نیاز الرحمن فیصل آباد۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطاب....... مولانا محمد ایوب خان ڈسکوی مہتمم جامعہ مدنیہ ڈسکہ، جناب حافظ محمد عاقب جاوید دنیا پور طالب علم رہنما، مولانا سعود افضل سکھر شیخ الحدیث جامعہ حمادیہ۔
مکالمہ....... (جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ کے دو طلباء نے رد قادیانیت پر شاندار مکالمہ پیش کیا)
خطاب....... پیر طریقت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی راولپنڈی، استاذ الحدیث مولانا محمد یوسف خان جامعہ اشرفیہ لاہور۔
مہمانان خصوصی....... مولانا صاحبزادہ خلیل احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف، میاں محمد رضوان نفیس لاہور، سردار میر عالم خان لغاری مدینہ طیبہ (سعودی عرب)، مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا قاضی ارشد الحسینی، مولانا نور الحق نور، مولانا محمد عبد اللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان، مولانا مفتی خالد محمود اقراء روضۃ الاطفال۔
خطاب....... مولانا عبد الحق خان بشیر گجرات۔
نعت....... جناب حافظ محمد شریف منچن آباد، فیصل بلال گوجرانوالہ۔
خطاب....... مولانا میاں محمد اجمل قادری سجادہ نشین خانقاہ قادریہ شیرانوالہ، مولانا پیر عبد الشکور نقشبندی چکوال، مولانا صاحبزادہ عبد الخبیر آزاد خطیب شاہی مسجد لاہور، مولانا محمد ظفر قاسم مہتمم جامعہ خالد بن ولید وہاڑی، پیر طریقت خواجہ عبد الماجد صدیقی خانیوال، مولانا صاحبزادہ قاری ابو بکر صدیق مہتمم جامعہ حنفیہ جہلم، مولانا زاہد الراشدی شیخ الحدیث گوجرانوالہ، مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صدر مرکزیہ جمعیت علماء پاکستان، مولانا صاحبزادہ محمد امجد خان مرکزی رہنماء جمعیت علماء اسلام پاکستان۔
نعت....... جناب طاہر بلال چشتی جھنگ۔
خطاب....... مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری مرکزی رہنماء جمعیت اہل حدیث، قاری شیخ محمد یعقوب لاہور، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا۔
نعت....... جناب امین برادران۔
خطاب....... مولانا مفتی کفایت اللہ مرکزی رہنماء جمعیت علماء اسلام پاکستان۔
اسٹیج سیکرٹری....... مولانا قاضی احسان احمد۔
رات ۳ بجے جا کر اجلاس کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔
درس قرآن مجید:
مؤرخہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعہ صبح کی نماز کی امامت مولانا قاری زرین احمد راولپنڈی۔
درس قرآن مجید....... یادگار اسلاف، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا میر محمد شیخ الحدیث جامعہ حمادیہ خیر پور وشیخ الحدیث جامعہ دارالہدیٰ ٹھیڑی۔ آپ کا درس اشراق تک جاری رہا۔ رات گئے تاخیر سے اجلاس ختم ہونے کے باوجود پورا پنڈال آپ کے درس قرآن کے دوران میں بھرا ہوا تھا۔
چھٹا اجلاس:
مؤرخہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۱ء بروز جمعتہ المبارک صبح ۹؍ بجے کانفرنس کے چھٹے اجلاس کا آغاز ہوا۔
صدارت....... پیر طریقت پیر عبد الحفیظ رائے پوری چک نمبر ۱۱ چیچہ وطنی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت ...... جناب صاحبزادہ قاری نصیر احمد چنیوٹ ۔ نعت ...... جناب قاری زین العابدین ، جناب قاری ابوبکر ، جناب اسامہ اجمل ۔ خطاب ...... مولانا عبدالرشید سیال فیصل آباد، جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر ، مولانا عبدالوحید قاسمی اسلام آباد، مولانا غلام حسین ، مولانا ذکاء اللہ جھنگ ، جناب محمد شرجیل سرگودھا، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم ۔ تلاوت ...... مولانا قاری عطاء الرحمن عابد گوجرانوالہ ۔ خطاب ...... خطیب سندھ مولانا عبدالحمید لنڈ ، جناب طاہر منصور خان اسلام آباد، مولانا محمد یحییٰ مدنی کراچی ۔
دستار بندی :
مولانا محمد یحییٰ مدنی دامت برکاتہم کے بیان کے بعد مولانا صاحبزادہ خلیل احمد ، مولانا محمد یحییٰ مدنی ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا مفتی محمد حسن لاہور ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سے اس سال حفظ مکمل کرنے والے ۲۲ حفاظ کرام کی دستار بندی کرائی۔ فالحمد للہ! یادرہے کہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر مسلم کالونی میں حفظ و ناظرہ، گردان، بنین و بنات کے علاوہ درجہ کتب میں اعدادیہ سے درجہ خامسہ تک بنین کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام کے علاوہ عصری تعلیم میٹرک تک دی جاتی ہے۔ حفظ وگردان اور درجہ کتب بنین اور بنات کے درجہ سمیت چار صد سے زائد طلباء و طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔
خطاب جمعۃ المبارک:
نماز جمعۃ المبارک سے قبل خطاب مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا۔ خطبہ و امامت جمعہ کے فرائض بھی آپ نے سرانجام دیئے ۔ کانفرنس کا مکمل پنڈال بھر گیا۔ پنڈال سے باہر شرقی دیوار متصل سکول کے گراؤنڈ میں صفوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے باوجود رش اتنا زیادہ تھا کہ جامع مسجد میں دوسرا جمعہ کا اہتمام کرنا پڑا۔
ساتواں اختتامی اجلاس:
مورخہ ۱۴/ اکتوبر ۲۰۱۱ء جمعہ کی نماز کے بعد کانفرنس کا اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔
صدارت ...... مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ مہمان خصوصی ...... پیر طریقت مولانا عبدالغفور ٹیکسلا ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، پیر طریقت مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی ملتان ۔ تلاوت ...... ملک عزیز کے نامور قاری بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری احسان اللہ فاروقی ۔ خطاب ...... جناب حافظ عاکف سعید امیر تنظیم اسلامی پاکستان، شیخ الحدیث مولانا محمد نواز بانی جامعہ قادریہ ملتان ۔ پیغام ...... شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی طرف سے شرکائے کانفرنس کے نام پیغام آپ کی طرف سے مولانا مفتی محمد ظفر اقبال نے پڑھ کر سنایا۔ قراردادیں ....... مولانا محمد انس نے صدر اجلاس مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کے حکم سے آپ کی طرف سے گھن گرج سے منظور کرائیں۔ خطاب ...... مولانا مفتی محمد طیب شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ فیصل آباد، مولانا محمد عالم طارق ۔ اختتامی خطاب ...... خطیب اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مرکزی ناظم عمومی اتحاد اہل سنت پاکستان ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوٹ: پروگرام کے مطابق خطیب دلپذیر مولانا عبدالحمید وٹو کا بیان خطیب اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مدظلہ سے پہلے طے تھا مگر مولانا وٹو صاحب کو تشریف لانے میں تاخیر ہوگئی۔ عصر کی اذانوں تک مولانا گھمن صاحب کا بیان جاری رہا۔ تاخیر کے باوجود مولانا عبدالحمید وٹو نے آخر میں خطاب کیا۔
صدر اجلاس ....... مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کے حکم پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی بزرگ مولانا مفتی محمد حسن نے اختتامی دعاء فرمائی۔
عجیب اتفاق:
- ١...... کانفرنس کا آغاز بھی مولانا مفتی محمد حسن کے درس قرآن سے ہوا اور اختتام بھی آپ کی دعا سے ہوا۔
- ٢...... درس قرآن کے لئے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے آپ سے استدعا کی اور دعاء کے لئے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے آپ سے حکم فرمایا۔ دونوں حضرات کے نام میں لفظ عزیز مشترک ہے۔ شکریہ تمام شرکاء کا جن کی تشریف آوری ومحنت سے کانفرنس کو اللہ تعالیٰ نے چار چاند لگا دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۳۴ تا ۴۰)
سابق قادیانی جناب طاہر منصور خاں کا ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں خطاب
جناب طاہر منصور خان اسلام آباد کے رہائشی ہیں۔ پیدائشی قادیانی تھے۔ حق تعالیٰ نے ایمان واسلام کی سعادت سے سرفراز فرمایا۔ قادیانیت پر چار حرف بھیج کر مسلمان ہو گئے۔ اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی انہیں ۱۳، ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر پر دعوت دے کر ہمراہ لائے۔ آپ کا کانفرنس میں بیان ہوا۔ یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کے علاوہ قادیانیت کے اندرون کے ناگفتہ حقائق کو طشت از بام کیا ہے۔ اس دفعہ اس بیان کو لولاک میں شائع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، نحمده ونصلى على رسوله الكريم. اما بعد!
میں کوئی مقرر تو نہیں ہوں۔ لیکن سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتا ہوں تمام بزرگان کا کہ جنہوں نے مجھے موقع دیا کہ اس پرنور مجلس میں شریک ہوں اور کوشش کروں گا کہ تمام جید بزرگان کے سامنے کچھ عرض کر سکوں اور کچھ بتا سکوں۔ میرا نام طاہر منصور خان ہے اور میں پیدائشی قادیانی تھا اور ایک کٹر قادیانی گھرانے سے میرا تعلق تھا۔ والد، والدہ دونوں کی طرف سے نسلاً قادیانی تھا۔ میری فیلڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔ اسلام آباد میں ہوتا ہوں۔ میں کئی اہم عہدوں پر قادیانی جماعت میں فائز رہا ہوں اور کام کرتا رہا ہوں۔ جس میں خدام الاحمدیہ کے عہدے ہیں، امور عامہ کے ہیں، تبلیغ کے ہیں، تربیت کے ہیں اور اس میں جو ایسوسی ایشن آف کمپیوٹر پروفیشنلز کا بھی میں ہیڈ رہا ہوں۔ اس کے علاوہ خاص بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں قادیانی جماعت کا میں حج کے موقع پر امام تھا اور وہاں پر جتنی بھی چھپ کر انڈر گراؤنڈ ایکٹیویٹیز کی جاتی ہیں۔ اس کو میں ہیڈ کرتا رہا تھا اور وہاں سے پہلی مرتبہ نبی پاک ﷺ کے روضہ مبارک پر حاضر ہوا۔ وہاں سے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گا تو میں کیا جواب دوں گا کہ میں کس امت کا ماننے والا ہوں؟ اور وہاں سے یہ بیج میرے ذہن میں یہ بویا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کا نور میرے دل میں ڈالا کہ یہ قادیانیت دجل ہے، کفر ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ بارہ سال پرانی بات ہے۔ اس کے بعد میں نے تحقیق شروع کی اور کافی بہت سی چیزیں میرے سامنے آتی گئیں اور کھل کر نظر آتی گئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا خاص طور پر اس وقت میرے سامنے یہ دجل اور فریب صحیح طرح سے کھلا کہ جب میرا عقد ایک قادیانی گھرانے میں چناب نگر میں ہوا اور میں نے اپنی آنکھوں سے ان کے جو اکابرین ہیں یہاں چناب نگر میں ان کو دیکھا اور بہت قریب سے ان کو جانا، تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ صرف اور صرف ایک فیملی بزنس ہے اور یہ عیاش اور مکار اور دشمن ملک اور دشمن اسلام لوگوں کا ٹولہ ہے اور اس کہنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے اور میں سو فیصد یقین کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کہ یہاں چناب نگر میں اسٹیٹ ود ان اسٹیٹ بنی ہوئی ہے۔ جہاں پہ پاکستان کا قانون نہیں چلتا۔ ان کی اپنی سیکورٹی ہے اور وہ کسی قانون کو نہیں مانتے۔ اپنی عدالتیں ہیں اور بہت سے ایسے قادیانی ہیں جو کہ یہاں پر بھی اور دنیا بھر میں اس وقت بہت پسے ہوئے ہیں اور دبے ہوئے ہیں۔ وہ عدالتوں میں نہیں جاسکتے۔ کورٹ میں نہیں جاسکتے۔ انہیں جانے کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی آواز بھی اٹھاتا ہے تو اس کو یا تو دبا دیا جاتا ہے یا اس کے خاندان میں اس کے گھر کے اندر اس کے والدین کو یا بچوں کو ہر کسی کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے کہ اس طرح سے سوشلی جکڑ لیا جاتا ہے کہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکے اور حتیٰ کہ اب چناب نگر میں جیسے کہ پچھلے چند ماہ میں دیکھا ہوگا کہ دو ٹارگٹ کلنگز بھی ہو چکی ہیں اور جو کوئی ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے وہ اس کو دبانے کی یہاں تک کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس کو ختم بھی کر دیتے ہیں۔ جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے۔ میری والدہ نے بھی الحمدللہ! ۲۷؍رمضان المبارک اس سال اسلام قبول کرلیا ہے اور ۶۵ سال کی عمر میں اور مجھے یہ پیغام دیا گیا۔ میرے اپنے سگے بھائی کی طرف سے جو کہ اس ’’اس کو انگریزی میں کلٹ کہتے ہیں‘‘ اور یہ پیغام دیا گیا کہ آپ قادیانی خلیفہ مرزا مسرور سے معافی مانگیں اور آپ کہیں کہ میرا مسلمانوں سے، ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹی یسرا طاہر اور ساڑھے پانچ سال کا بیٹا یاسر ہے جو کہ پچھلے ۹ ماہ سے چناب نگر میں موجود ہیں اور وہ قید ہیں اور مجھے نہ ان سے ملنے دیا گیا ہے اور نہ میری ان سے بات کرائی گئی ہے اور بالکل واضح ہے کہ مجھے یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ تم چونکہ مسلمان ہو گئے ہو۔ اس لئے تم دہشت گرد ہو اور مولویوں کے ساتھ مل گئے ہو۔ اس لئے یہ بچے اب جماعت کے ہیں اور ان کو ہم اپنا مربی اور واقف بنائیں گے اور یہ اب مسلمان نہیں بنیں گے۔ ہم ان کو مسلمان نہیں بننے دیں گے۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ چناب نگر میں پاکستان کا قانون نہیں چلتا ہے۔
مجھے یہ پیغام دیئے گئے کہ آپ مرزا مسرور سے معافی مانگیں۔ شاید اس کے دل میں کوئی رحم آ جائے اور وہ آپ کے بچوں سے آپ کی ملاقات کروا دے۔ آپ ان کی سوچ کا اس سے اندازہ لگائیں۔ لیکن الحمدللہ! جس دن سے میں مسلمان ہوا ہوں۔ اس دن سے آج تک ہر آنے والا دن میرے ایمان میں ترقی کا باعث بنا ہے اور میں اس بات پر انتہائی خوش ہوں کہ صرف پاکستان کے چار، پانچ لاکھ قادیانی جن کو اپنی طاقت پر گھمنڈ ہے۔ (ان کو میں نے چھوڑا ہے مگر ) اس وقت ایک مسلم امہ کا ایک حصہ ہوں۔ جس کے سامنے قادیانیت کفر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہی ماحول میں نے دیکھا ہے جو کہ انصار اور مہاجرین کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا تھا کہ تمام مسلمانوں کے دل اور گھر کے دروازے میرے لئے کھلے ہیں تو اس سے بڑی اور کیا سعادت ہو گی کہ اسلام میں آنا تو میں نے تمام قادیانیوں کو اور جو بھی مرزا غلام احمد کے ماننے والے ہیں خواہ وہ لاہوری کہتے ہیں اپنے آپ کو یا احمدی کہتے ہیں۔ ان کو اسلام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق اور ان کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو آپ کو بتایا گیا ہے کہ مسلمان ٹیرارسٹ ہیں نعوذ باللہ! اس قسم کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے ایک مثال موجود ہوں۔ ’’آئی ایم اے ہائیلی کوالیفائیڈ پرسن‘‘ (I am a highly qualified person.) اور اس سوسائٹی میں موجود ہوں اور میرے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے دوست ہیں۔ اس وقت جو نظام جماعت ہے۔ قادیانی یا قادیانیوں کا یا جماعت احمدیہ وہ اس کو کہتے ہیں وہ نظام ختم ہو چکا ہوا ہے۔ وہ ٹوٹ چکا ہے۔ درہم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
برہم ہوچکا ہے۔ جرمنی میں، یورپ میں، جو نوجوان ہیں وہ فرسٹریٹڈ ہیں اور وہ جماعت چھوڑ رہے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ الحمدللہ! مسلمانوں سے مل رہے ہیں تو میرا آپ سب کو یہ پیغام ہے کہ آپ بھی قادیانیوں کو تبلیغ کریں اور ان کو دعوت حق پہنچائیں۔ خواہ یونیورسٹیوں میں ہوں، سکولوں میں ہوں، کالج میں ہوں۔ اپنا جو ہم نے فرض ادا کرنا ہے وہ ہم ضرور کریں اور نیک نیتی کے ساتھ اپنے دل میں پیار محبت کا جذبہ لئے ہوئے کہ یہ اندھیرے اور تاریکیوں میں ہیں۔ جو اس وقت نوجوان ہیں قادیانیوں کے ان کو کچھ پتہ نہیں کہ ان کا کیا مذہب ہے۔ وہ دہریت کی طرف جارہے ہیں۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں انہوں نے اسلحہ پکڑا دیا ہے اور چناب نگر میں یہ آپ کو سب کو پتہ ہے کہ سدومیت اور شہوت کا راج ہے۔ سو ہمیں کوشش کرنی ہے کہ ہمیں ان کو بچانا ہے اور اسلام کی طرف لے کر آنا ہے تو یہی میرا پیغام ہے اور سب کو کہ مجھے بھی اور میری والدہ کو بھی دعاؤں میں یاد رکھئے اور اسلام کا پیغام جہاں تک ہوسکتا ہے وہ ہم ضرور پہنچائیں اور جو بھی ہمارے تئیں ہوسکتا ہے ہم اپنے ملک کو بچانے کے لئے اور اسلام کو بچانے کے لئے وہ ہم ضرور کریں۔ جہاں تک چناب نگر کا تعلق ہے۔ تو یہ بات سب کو ہی پتہ ہے میں دوبارہ یہ بات کہوں گا کہ وہ اسٹیٹ ود ان اسٹیٹ ہے۔ ان کی اپنی عدالتیں ہیں۔ اپنے قانون ہیں۔
ہر طرح کا آپ اس کو ٹیرارسٹ کہہ لیں جو بندہ کوئی جرم کر کے آتا ہے وہ چناب نگر اس کی پناہ گاہ ہے۔ کسی کو نہیں پتہ وہاں پر کون رہتا ہے۔ قصر خلافت میں کون رہتا ہے۔ دارالضیافت میں کون رہتا ہے۔ کون لوگ وہاں آتے جاتے ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں کے ہیں۔ دشمن ممالک کے لوگ ہیں۔ لیکن یہ ہمارے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور یہ ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی طرح میں چونکہ سعودی عرب میں رہا ہوں۔ میں نے یہی بتایا ہے کہ وہاں پر بھی ہر شہر میں ہر جگہ پر قادیانیوں کے مراکز اور نیٹ ورک قائم ہیں۔ صرف اور صرف دینی غیرت چاہئے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے اندر دینی غیرت پیدا ہوجائے گی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ میں، ہمارے افسران میں، اور تو ان شاء اللہ یہ کوئی بھی دیر نہیں ہے اور ان شاء اللہ کچھ سالوں میں آپ دیکھیں گے کہ یہ ان کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ ابھی ان کے نوجوان آہستہ آہستہ یا تو وہ دہریت کی طرف جارہے ہیں۔ ہمیں کوشش یہ کرنی ہے کہ ان کو دین اسلام اور حق کی طرف لائیں۔ تا کہ ہم انہیں جہنم کے عذاب سے بچاسکیں۔ دوبارہ میں آپ سب سے دعاء کی درخواست کروں گا کہ آپ مجھے بھی اور میرے بچوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ میں کچھ احباب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہاں پر میرے دوست فہیم صاحب تشریف رکھتے ہیں۔ جن کا بہت کردار ہے میرے اس اسلام کی قبولیت میں۔ اس کے علاوہ محترم متین خالد صاحب ہیں جن کی ایک کتاب ہے ”ثبوت حاضر ہیں“ اس کتاب نے بھی مجھے اس فیصلہ کرنے کی طرف آمادہ کیا۔ کیونکہ وہی تمام کتابیں اور وہی لٹریچر ہمارے گھروں میں موجود تھا۔ مگر ہم نے کبھی اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ کیونکہ ہمیں سلیکٹو سٹڈی کروائی جاتی تھی تو اس سے بھی میں اس طرف مائل ہوا۔ اس کے علاوہ کینیڈا میں ایک احمد کریم شیخ صاحب ہیں وہ بھی مسلمان ہوئے۔ کافی عرصہ ہو گیا ان کی بھی تقاریر اور لیکچرز اور جہاں تک مجلس ختم نبوت کا تعلق ہے میں یہ بتادوں کہ ہم کہیں پر بھی ختم نبوت کا جب میں کفر میں تھا۔ کفر کی زندگی میں تھا۔ لفظ لکھا ہوا دیکھتے تھے تو ہم اس جگہ سے نہیں گزرتے تھے۔ میں کبھی مسجد کے قریب نہیں گزرا تھا۔ کیونکہ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ مسجد میں ٹیرارسٹ ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے جی اور لیکن الحمدللہ! میں نے اپنی اسلام کی قبولیت سے پہلے مساجد میں جا کر چھپ کے دیکھنا شروع کیا اور مجھے ہر جگہ پہ قادیانیت کا دجل اور جھوٹ واضح ہوگیا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ کیونکہ مساجد خدا کی عبادت کرنے والے خوبصورت پیارے مسلمانوں سے بھری ہوئی ہیں اور تمام مسلمان پرامن ہیں اور اس طرح مجلس تحفظ ختم نبوت کی میں اگر بات کروں تو یہاں پر بھی اور باہر سے بھی احباب سے میرا رابطہ ہے۔ سارے الحمدللہ! پرامن پیار کرنے والے اور محبت کرنے والے لوگ ہیں اور جو میں نے ماحول پایا ہے۔ اسلام میں آ کر وہ ماحول مجھے پہلے بالکل میسر نہیں تھا تو میرے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استقامت دے اور مجھے میری وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو اور نوجوانوں کو قادیانیت سے اسلام کے نور کی طرف لانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ٹھیک ہے جی! جزاک اللہ احسن الجزاء!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۴۱ تا ۴۴)
لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس
مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام لورالائی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد مبلغ کراچی اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی تھے۔ کانفرنس عصر سے لے کر عشاء تک جاری وساری رہی۔ کانفرنس کی صدارت امیر ختم نبوت لورالائی مولانا ممتاز احمد نے کی۔ (خطیب مرکزی جامع مسجد لورالائی) کانفرنس میں مولانا قاضی احسان احمد نے تفصیلی خطاب کیا اور جھوٹے مدعیان نبوت کا پوسٹ مارٹم کیا اور حضور علیہ السلام کی عظمت و شان بیان کی اور لوگوں کو تحفظ ختم نبوت کی ترغیب دی۔ مولانا مفتی راشد مدنی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کی اور سامعین کو بزرگوں کے واقعات سنا کر تحفظ ختم نبوت کے کام کرنے کی ترغیب دی مولانا محمد یونس نے کہا اس وقت ہر طرف سے فتنے ہی فتنے منظر پر آ رہے ہیں اور ان سب فتنوں میں قادیانیت کا فتنہ سب سے زیادہ خطرناک اور زہریلا ہے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا ممتاز احمد امیر لورالائی، محترم حاجی خواجہ محمد اشرف، مولانا محمد عمر اور بھائی عبید اللہ نے دن رات ایک کر کے محنت کی۔ آخر میں امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان مولانا عبد الواحد کا پشتو زبان میں خطاب ہوا اور حضرت امیر صاحب کی دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۱ء ص ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت و دفاع پاکستان کانفرنس مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں مؤرخہ ۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو ہوئی، جس کی صدارت ولی کامل سجادہ نشین درگاہ ہالیجی شریف مولانا عبد الصمد دامت برکاتہم نے کی۔ مہمانانِ خصوصی مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، صاحبزادہ مولانا عبد المجیب پیر سرہندی، مولانا اللہ وسایا، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری تشریف لائے، جب کہ ان حضرات کے علاوہ مولانا نعیم اللہ کوٹ سبزل والے، مولانا میر محمد میرک، مولانا قاری کامران احمد حیدر آباد بھی شریک ہوئے۔
کانفرنس کی پہلی نشست کا بعد نماز مغرب تلاوت کلام پاک سے آغاز ہوا، تلاوت حافظ عمر شکیل اور نعت عبد السمیع نے پیش کی، بعد ازاں مبلغ ختم نبوت گمبٹ مولانا تجمل حسین، مولوی محمد معروف شریک دورۂ حدیث جامعہ اشرفیہ اور حافظ عبد القیوم نے بیانات کئے مقررین نے عقیدۂ ختم نبوت کے حوالہ سے گفتگو کی۔
نماز عشاء کے وقفہ کے بعد دوسری نشست کا آغاز قاری محمد عاصم کی تلاوت سے ہوا، نعت حاجی امداد اللہ پھلپھوٹو نے پڑھی۔
مولانا محمد علی صدیقی (مبلغ میر پور خاص) نے اپنے بیان میں کہا کہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے کی اطلاع گنبد خضرا میں نبی کریم ﷺ کو ہوتی ہے اور آپ ﷺ اس سے خوش ہوتے ہیں۔
مولانا نعیم اللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام میں سے خلیل، کلیم اور روح اللہ تو بنایا لیکن تاج ختم نبوت صرف آپ ﷺ پر سجایا۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام جن سے انسانیت اور نبوت کا آغاز ہوا، ان کے شانوں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درمیان لکھا تھا ’’محمد رسول اللہ خاتم النبیین‘‘ اور آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں تو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان ختم نبوت کی مہر موجود تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے دور میں ختم نبوت کی حفاظت کے لئے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے مقابلہ کیا ۷۰۰ حفاظ شہید ہوئے اور مسیلمہ کو قتل کیا گیا اور اس کے ساتھیوں میں سے جو چھپ گئے تھے، انہیں بھی ڈھونڈ کر قتل کیا۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جہاد کیا، یہ اس وقت اللہ کے مقبول بندے تھے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ مسیلمہ سے کروڑ ہا درجہ بدتر آدمی مرزا قادیانی ہے جو اپنے آپ کو (معاذ اللہ) حضرت محمد ﷺ سے بہتر کہتا ہے۔
مولانا عبد الصمد ہالیجوی مدظلہ نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت ایمان کی روح ہے، جو شخص تمام نبیوں کو مانے اور خاتم النبیین کو نہ مانے وہ انسان ہی نہیں۔ تحفظ ختم نبوت عقیدہ کا مسئلہ ہے، اس لئے ہم اس کو علی الاعلان بیان کرتے ہیں۔ ختم نبوت کے عقیدے پر گولی بھی لگے تو قبول ہے۔ اس کے لئے پھانسی آئے تو قبول ہے، آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ضرورت پڑی تو میں پھانسی کے پھندے کو بھی چوموں گا۔ میرا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے اور عقیدے کے لحاظ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہوں، ختم نبوت کی جماعت حضرت شیخ الہند کی جماعت ہے۔ اس جماعت میں حضرت مدنی بھی شریک تھے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین جو کہیں گے ہم اس پر لبیک کہیں گے، ہر دور میں جھوٹے مدعی نبوت پیدا کئے گئے، یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ ان کی پشت پر رہے۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو انگریزوں نے منتخب کیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک چلی، مسلمانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پھر ۱۹۷۴ء میں تحریک چلی، ہمارے اکابر نے اسمبلی سے باہر اور اسمبلی کے اندر تحریک چلائی اور قادیانی سربراہ کو بلا کر اس پر جرح کی گئی اور انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی نے کافر اقلیت قرار دیا۔ یہ سب ہمارے اکابر دیوبند کی کاوش ہے، اکابر دیوبند کی وجہ سے پاکستان کا آئین اسلامی ہے، اگر یہ اکابر نہ ہوتے تو اس ملک کا آئین اسلامی نہ ہوتا۔ آج یہ لوگ اس آئین کو بدلنا چاہتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو سزائے موت ہونی چاہئے، کیونکہ ہم تمام انبیاء کرام کو ماننے والے ہیں۔ سلمان تاثیر نے قانون کی خلاف ورزی کی تو اس کو ممتاز قادری نے قتل کر دیا، اس کو کسی نے قتل کرنے کے لئے نہیں کہا تھا، لیکن عشق رسول میں آ کر اس نے خود فیصلہ کیا، تمام مسلمانوں میں ختم نبوت کے حوالہ سے دو رائے نہیں ہیں، یہی نقطۂ اتحاد ہے۔
مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے کہا کہ قرآن مجید کا محفوظ ہونا صدقہ ہے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا، تبلیغی جماعت کا ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ تبلیغ کا کام حضور ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے ہمیں ملا ہے۔ ختم نبوت کا انکار آپ ﷺ کی نبوت، شریعت اور آپ ﷺ کی اس امت کا انکار ہے۔ نماز، روزہ، تبلیغ، جہاد وغیرہ تمام فرائض کا تعلق حضور اکرم ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے اور ختم نبوت کا تعلق حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ ہے، جس طرح انسان کے تمام اعضاء پر جان مقدم ہوتی ہے، اسی طرح تمام اعمال پر عقیدہ ختم نبوت مقدم ہے۔ مولانا موصوف نے مرزا قادیانی کی مغلظات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس بدبخت نے قرآن، صحابہ، امہات المومنین اور نبی کریم ﷺ کی توہین کی ہے، لہٰذا ختم نبوت کا نعرہ قرآن، صحابہ ؓ، ازواج مطہرات ؓ اور اسلام کی حفاظت کا نعرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم قانون توہین رسالت ختم نہیں ہونے دیں گے۔ ممتاز قادری کی ایک ٹھاہ نے شیری رحمن اور رحمن ملک جیسوں کے قبلے درست کر دیئے، اگر ریمنڈ ڈیوس کو چار قتل کرنے کے باوجود حکومت رہا کر سکتی ہے تو ممتاز قادری کو بھی اسی طرح رہا کرے۔ جو شخص کسی قادیانی سے دوستی رکھتا ہے وہ قیامت کے روز محمد عربی ﷺ کی زیارت نہیں کرے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحبزادہ مولانا عبدالحبیب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ختم نبوت پر مضبوط ایمانی جذبہ عطاء فرمائیں اور اس کا عملی زندگی میں بھی مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر سے مختلف انداز اور مقام پر گفتگو فرمائی، لیکن خاتم النبیین ﷺ کو عرش پر بلا کر گفتگو فرمائی، جس سے بلند کوئی مقام نہیں، تمام مسلمانوں کو قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ افسوس ہے کہ مسلمان جانتے ہیں پھر بھی قادیانیوں سے دوستی رکھتے ہیں۔
قاری کامران احمد نے کہا کہ ایک یہودیہ جو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی اس کو ایک نابینا صحابی ؓ نے قتل کیا۔ تحفظ ختم نبوت اور دفاع پاکستان کے لئے علماء دیوبند نے ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں پہلا پرچم مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے لہرایا۔ اس ملک کے اندر اگر کوئی قانون چلے گا تو وہ اسلامی قانون چلے گا۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا کہ اگر ممتاز قادری کو کچھ ہوا تو ہر گھر سے ممتاز قادری پیدا ہوگا۔ اس ملک میں جو بھی توہین رسالت کرے گا، اس کا انجام وہی ہوگا جو سلمان تاثیر کا ہوا۔ منکرین ختم نبوت کا علاج سیّدنا صدیق اکبر ؓ نے کیا، ختم نبوت کا پرچم لہرایا ہم بھی یہ پرچم لہرائیں گے، کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالے۔ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ تم دین کے ٹھیکیدار ہو؟ سنو! ہم دین کے چوکیدار ہیں۔
مولانا قاری خلیل احمد بندھانی جن کی زیر نگرانی یہ کانفرنس منعقد ہوئی، انہوں نے قراردادیں پیش کیں اور کانفرنس کے کامیاب کرنے میں انہوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ اسٹیج پر مولانا بشیر احمد، مفتی محمد شفیع، مولانا محمد صالح انڈھڑ، مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا پروفیسر عطاء محمد، مولانا قمر الدین ملانہ اور شہر کے دیگر علماء کرام اور معززین موجود تھے۔ مولانا محمد حسین ناصر (مبلغ سکھر) اپنی ٹیم حافظ امیر معاویہ، حافظ عبدالحئی، محمد مبشر، محمد بلال اور دیگر ساتھیوں سمیت مہمانوں کے انتظامات میں مصروف رہے جب کہ اسٹیج اور جلسہ گاہ کو سیکورٹی کے حوالہ سے جامعہ اشرفیہ سکھر کے طلبا نے احسن انداز سے سنبھالا، جن کی سرپرستی مولانا عبدالمالک مدرس جامعہ اشرفیہ نے کی۔ کانفرنس سے آخری خطاب ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کیا، اس طرح رات ڈھائی بجے ڈاکٹر صاحب نے بیان کے بعد اختتامی دعاء فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۴ تا ۳۰ نومبر ۲۰۱۱ء ص ۲۴، ۲۵)
مرکزی مبلغین حضرات کے نوابشاہ کی مساجد میں بیانات
۲۷؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو بعد نماز عشاء جامع مسجد سوسائٹی میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے درس قرآن دیا۔ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء بعد نماز فجر جامع مسجد باب رحمت منوں آباد میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے بیان کیا۔ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامعہ باب البرہان منوں آباد میں طلباء اور علماء کو بیان کیا۔ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے جامعہ دارالعلوم نواب شاہ کے طلباء اور علماء سے ایک گھنٹہ بیان کیا۔ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو بعد نماز عشاء جامع مکی مسجد مریم روڈ لائن پار نواب شاہ میں مولانا قاضی احسان احمد کا تفصیلی بیان ہوا۔ ۲۹؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو بعد نماز فجر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے درس دیا۔ ۲۹؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو صبح نو بجے سے دس بجے تک جامعہ عزیزیہ حسینیہ دوڑ کے علماء اور طلباء سے مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے بیان فرمایا۔ ۳۰؍ دسمبر ۲۰۱۱ء کو بعد نماز فجر جامع مسجد کبیر میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے درس دیا۔ جمعہ کے بیانات میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مکی مسجد لائن پار نواب شاہ میں خطبہ جمعہ کا خطاب کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے جامع مسجد باب الریان غلام رسول شاہ کالونی نواب شاہ میں جمعہ کا خطاب کیا اور مولانا تجمل حسین نے کبیر مسجد نواب شاہ میں جمعہ کا بیان کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۲ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
باغی رسول شیخ آصف کی گرفتاری
۷ / جنوری ۲۰۱۲ء شام کے ساڑھے چھ بجے کہروڑ پکا سے باغی رسول شیخ آصف کو گرفتار کیا گیا ، جس پر ۲۹۵-سی کے تحت امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کی سر پرستی اور مفتی محمد ظفر اقبال کی زیر نگرانی مقدمہ درج ہوا۔ ۸ / جنوری کو مبلغ ختم نبوت بہاولپور مولانا محمد اسحاق ساقی اور شیخ آصف کے ساتھ پولیس کی موجودگی میں ایک ویڈیو بنی تا کہ شیخ آصف اپنے بیان سے پھر نہ جائے ، شیخ آصف جب مولانا کے ساتھ بیٹھا تو کہنے لگا کہ : ” میری اصلاح کر دو یا میں آپ کی اصلاح کر دوں ؟“ مولانا نے کہا : بہت اچھا ! شیخ آصف نے کہا کہ اللہ نے میرے دل پر مہر نبوت لگا دی ہے ، مولانا محمد اسحاق ساقی نے کہا کہ مہر نبوت دکھائیں تو وہ کہنے لگا کہ دل کی مہر کوئی دکھا سکتا ہے؟ اور کہنے لگا کہ اللہ رب العزت نے مجھے بیت المقدس میں نماز پڑھانے کا اعزاز بخشا اور کہروڑ پکا کے کمہار سراج نے میرے پیچھے نماز پڑھی ، پھر اللہ رب العزت نے مجھے جنت دکھائی ، مولانا نے پوچھا کہ کیا جہنم بھی دیکھی تھی ؟ شیخ آصف نے کہا : ہاں ! جہنم بھی دیکھی تھی ، مولانا نے کہا کہ جب جہنم دیکھی تھی تو اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ جہنم میں رہ جاتا اور باپ بیٹا دونوں مزے کرتے ، پھر شیخ کہنے لگا کہ سورۃ صٰفّت امت کی راہنمائی کے لئے میرے اوپر اللہ رب العزت نے نازل کی تو مولانا نے کہا کہ اس سورت کی کوئی آیت یا اس کا ترجمہ یا اس کا شانِ نزول تو بتا، لیکن اس کو کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ہر فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹ / فروری ۲۰۱۲ء ص ۲۱)
کنری میں قادیانی کے ہاتھوں قادیانیوں کا قتل
۱۱/ فروری ۲۰۱۲ء کو شام آٹھ بجے قادیانی عبادت گاہ کنری سندھ کے مین گیٹ کے سامنے قادیانی ادریس شاہ بن احمد شاہ نے (جو قادیانی عبادت گاہ کا چوکیدار ہے ) فائرنگ کر کے دو قادیانی سعود احمد ولد محمود احمد قادیانی اور فخر الدین فخری ولد محمد رفیق قادیانی کو موقع پر ڈھیر کر دیا۔ دونوں قادیانی موقع پر فی النار والسقر ہو کر مردار ہوئے ۔ تیسرا قادیانی رفیق نامی فائرنگ میں شدید زخمی ہو کر ہسپتال جا پہنچا۔ فائرنگ کی آواز سن کر گردونواح کے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ قادیانی اس کیس کو مذہبی کیس بنا کر مسلمانوں کو ملوث کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عوام کے اکٹھا ہو جانے اور ملزم کے موقعہ پر معلوم ہو جانے پر قادیانی منصوبہ ناکام ہو گیا۔
اس سے کچھ عرصہ قبل قادیانی جماعت کنری کے گرو گھنٹال شیخ سمیع قادیانی کے گھر کی چھت سے چڑھ کر گھر میں قادیانی نصیر داخل ہوا۔ اس نے شیخ سمیع قادیانی کو بندوق کے بٹ بھی مارے اور پھر چھت سے چھلانگ لگا کر قریبی گڑھے میں چھپ گیا۔ واویلا ہونے پر محلہ کے مسلمان بھی جمع ہو گئے ۔ انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ ایس . ایچ . او، پولیس کے ہمراہ موقعہ پر آگئے اور گڑھے سے ملزم کو پکڑ کر حوالہ جیل کیا۔ ملزم ابھی تک جیل میں ہے۔ شیخ سمیع بھی قادیانی اور ملزم نصیر بھی قادیانی ۔ ان دونوں واقعات سے لگتا ہے کہ قادیانیوں کے گھروں میں جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے ۔ آپس میں شدید اختلافات کا شکار ہو کر خود ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہیں ۔ بعض مردار ہو رہے ہیں ۔ بعض ہسپتالوں کو سدھار رہے ہیں اور بعض جیلوں کو آباد کر رہے ہیں۔ ان کے یہ باہمی اختلافات ہی ان شاء اللہ العزیز ! ان کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہے ہیں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ۱۹۱ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنری کی قادیانی پارٹی سخت شرمسار ہے۔ ندامت کے عرق میں غرق ہے۔ ان کے چہرے مرزا قادیانی کے قلب کی طرح سیاہی چوس بن گئے ہیں۔ اللہ رب العزت کی دھرتی ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ ایک گستاخ رسول، مردود زماں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی ملعون کی پیروی نے ان کو نہ دین کا چھوڑا ہے نہ دنیا کا۔
لیکن ان کی شقاوت قلبی دیکھئے کہ منہ گٹر میں ہے اور پاؤں آسمان کی جانب کرنے سے اب بھی باز نہیں آ رہے۔ ادریس قادیانی کی فائرنگ سے دو قادیانی موقعہ پر مردود ہوئے۔ ایک زخمی ہوا۔ وہ تو مسلمانوں کے موقعہ پر جمع ہونے سے ڈرامہ نہ کر سکے۔ ورنہ وہ اسے پہلے نہ معلوم قتل قرار دے کر مذہبی کیس بنانا چاہتے تھے۔
قادیانیوں کے پاس جدید اسلحہ ہے۔ اس کے باوجود ملزم نصیر قادیانی جس نے شیخ سمیع قادیانی پر حملہ کیا۔ اس کو قادیانیوں کا نہ پکڑنا۔ اس کا تعاقب نہ کرنا۔ اس ملزم کا سمیع شیخ قادیانی کو صرف بٹ مارنا اور نقصان نہ دینا۔ ملزم کو فرار کا موقع دینا۔ یہ سب امور و قرائن بتاتے ہیں کہ وہ اس کو بھی مذہبی رنگ دینا چاہتے تھے۔ یہ ڈرامہ خود انہوں نے تیار کیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ موقع پر ہمسایوں نے ملزم کا گھیرا تنگ کر دیا۔ پولیس آ گئی اور ملزم پکڑا گیا۔ ورنہ اگر وہ بھاگ جاتا تو قادیانی ڈرامہ مکمل ہو کر مسلمانوں پر ملبہ ڈال دیا جاتا۔ لیکن اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ ملزم کے موقعہ پر پکڑے جانے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا اور قادیانی جماعت کے چہروں پر کالک کا ایک اور کوٹ ہو کر دنیا کے سامنے روسیاہ ہو گئے۔ اسی طرح کنری میں مختلف سڑکوں پر اللہ و رسول کا نام لکھا گیا۔ ایک بار تو قادیانی عبادت گاہ کی سڑک پر یہ لکھا ہوا پایا گیا۔ شہر میں ہندو آبادی بھی ہے۔ قادیانی خود سڑکوں پر اللہ رب العزت، رحمت عالم ﷺ کے اسماء گرامی لکھ کر اس کو ہندوؤں کے کھاتہ میں ڈال کر یہاں ہندو مسلم فساد کرانے کی دو بار ناکام کوشش کر چکے ہیں۔ غرض قادیانی سازش عروج پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے کئے کی سزا میں ماخوذ فرمائیں۔ تا کہ ملک ان کے شر سے بچا رہے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۴۳)
MUNSIF HYD P2 22-2-2012
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کروڑوں مسلمانوں کی آواز ۔
مظاہر علوم سہارنپور کا صدر نشین وقف بورڈ مولانا خسرو پاشاہ کے نام ستائشی مکتوب ۔
وقف بورڈ آندھرا پردیش انڈیا کا شاندار فیصلہ۔
حیدرآباد ۲۱؍ فروری ۲۰۱۲ء (پریس نوٹ) سیکرٹری جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور یوپی نے ایک خط مولانا خسرو پاشا صدر نشین وقف بورڈ آندھرا پردیش کو روانہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں قادیانیوں کو صاف طور پر غیر مسلم قرار دے کر ان کو اوقاف کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ نہ صرف یہ کہ اعتدال پسندانہ مؤقف کا اظہار ہے۔ بلکہ حقیقت پسندانہ اور دانشمندانہ نظریہ کا اعلان بھی ہے۔
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا یہ فیصلہ جہاں مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کی آواز ہے۔ وہیں خائب و خاسر فتنہ و شر پسند جماعت قادیانیت کے منہ پر زور دار طمانچہ بھی ہے۔ بہاولپور کی عدالت نے ۱۹۲۶ء سے ۱۹۳۵ء تک مکمل نو سال تفصیلی بحث و تمحیص اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک خوش آئند قدم اٹھایا تھا۔ جو دوسروں کے لئے نظیر کا باعث بنا اور اس مقدمہ کے دوران مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے حکم سے مولانا عبداللطیف صاحب ( ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور ) بہاولپور میں مقیم رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے تیسرے سربراہ مرزا ناصر کو صفائی کا پورا موقع دینے اور سننے کے بعد غیر مسلم ہونے کا آرڈر جاری کیا تھا۔
ایک دوسرے موقع پر ایک سو چار ملکوں کی نمائندہ تنظیم ”رابطہ عالم اسلامی“ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔ ان فیصلوں کو صادر ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ اب وقف بورڈ آندھرا پردیش کے تازہ ترین فیصلے نے بلاشبہ دوسرے سرکاری اداروں کے لئے خصوصاً مرکزی وقف بورڈ کیلئے ایک نظیر قائم کر دی ہے۔ روانہ کردہ مکتوب میں مولانا محمد شاہد سیکرٹری مظاہر العلوم سہارنپور نے مزید کہا کہ میں عالم اسلام کے ایک عظیم ادارہ جامعہ مظاہر العلوم کے سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے اپنا دینی وملی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنی جانب سے اور جامعہ کی جانب سے آندھرا پردیش وقف بورڈ خصوصاً آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ آپ حضرات کو اس سعی جمیل کا بہترین بدلہ دونوں جہاں میں مرحمت فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۴۱)
وقف بورڈ آندھرا پردیش انڈیا میں قادیانی غیر مسلم
قارئین کے لئے یہ خبر خوشی کا باعث ہوگی کہ وقف بورڈ آندھرا پردیش انڈیا کے صدر مولانا خسرو پاشاہ نے اپنے فیصلہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر مسلم وقف بورڈ کے دروازے قادیانیوں پر بند کر دیئے ہیں۔ انڈیا جیسے سیکولر ملک کے ایک نیم سرکاری ادارہ کا یہ فیصلہ، قادیانیوں کی مزید ذلت کا باعث بنے گا اور اہل اسلام انڈیا کے اس سے حوصلے بلند ہوں گے۔ قادیانیت مزید رسوائی کی وادی میں گر گئی اور حق کو فتح نصیب ہوئی۔ فالحمدللہ تعالیٰ!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۴۳، ۴۴)
چناب نگر میں حکومتی بے بسی، قتل کی وارداتیں
۱۵؍ مارچ ۲۰۱۱ء کو چناب نگر میں ایک صحافی رانا ابرار حسین کے قتل کے بعد اب تک مزید دو افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ صحافی کے قتل کی سازش بے نقاب ہوتے دیکھ کر قادیانی جماعت کے باغی گروپ کے سربراہ چوہدری احمد یوسف کو قتل کر دیا گیا اور پھر احمد یوسف کے قتل کی سازش طشت از بام ہوتی دیکھ کر قادیانی جماعت کا حاضر خدمت عہدیدار ماسٹر عبدالقدوس قتل کر دیا گیا۔ یوں ایک سال کی مدت میں تین افراد قادیانی جماعت کی دہشت گردی کی نذر ہو گئے۔ مارچ ۲۰۱۱ء میں صحافی کے قتل کے اگلے دن ڈی پی او چنیوٹ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ: ”یہ قتل مکمل طور پر ذاتی رنجش کی بنیاد پر ہوا ہے اور ابھی تک کے واقعات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے، لیکن ہم اس کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کریں گے تاکہ کسی کو کوئی اعتراض نہ رہے۔“ دوسری طرف چنیوٹ پریس کلب کے ذمہ داران اور علاقہ کے علماء کرام کا موقف اس سے مختلف تھا، ان کے بقول یہ قتل قادیانی جماعت کی سازش کا نتیجہ تھا کیونکہ مقتول قادیانی جماعت کی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار رپورٹنگ کر چکے تھے اور انہوں نے قادیانی جماعت کی بہت سی اندرونی کہانیوں کو اخبارات کی زینت بنایا، جس کی وجہ سے قادیانی جماعت کی طرف سے مقتول کو متعدد بار قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں، ان حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پلانڈ قتل ہے جو کسی عام آدمی کا ذاتی فعل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس میں کسی گروہ یا جماعت کا ملوث ہونا ضروری ہے۔
وقت نے ثابت کیا کہ چنیوٹ پریس کلب کے عہدیداران اور علمائے کرام کا موقف درست تھا۔ صحافی کے قتل کے بعد سرکاری گاڑی میں سوار پولیس افسران اور پریس کلب چنیوٹ کے صدر قادیانی جماعت کی چیک پوسٹوں کو عبور کر کے بڑی مشکل سے جائے وقوع پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چناب نگر کا سیکورٹی کا نظام کتنا فعال اور فول پروف بنایا گیا ہے۔ ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پولیس افسر اور پریس کلب کے صدر بھی بآسانی چناب نگر میں داخل ہونے سے قاصر ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس شہر میں پولیس افسران آسانی کے ساتھ داخل ہونے سے قاصر ہیں ، وہاں کا کوئی رہائشی اپنے پاس بغیر لائسنس کا اسلحہ کیسے رکھ سکتا ہے کہ جس سے وہ کسی کو قتل کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہو؟ یہ بات ایف آئی آر کو مشکوک بنا دینے کے لئے کافی ہے کہ مبینہ ملزم جسے ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ذاتی رنجش کی بناء پر صحافی کو قتل کر دیا وہ بھی قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو لازمی طور پر اس کے پاس موجود بغیر لائسنس اسلحہ اس کی جماعت کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے یا پھر اس کی جماعت کے نوٹس میں ہے کہ مذکورہ شخص ایک بغیر لائسنس پسٹل کا مالک ہے، اگر یہ دونوں باتیں یا ان میں سے ایک بھی درست ہے تو پھر پریس کلب و علمائے کرام کے موقف کو تقویت ملتی ہے کہ یہ قتل ایک گہری اور سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ قادیانی جماعت کی طرف سے مذکورہ ملزم کو قتل پر مامور کیا گیا تھا یا کم از کم قادیانی جماعت کے ذمہ داران اس قتل کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس سازش سے آگاہ تھے۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحافی کا قتل واقعتاً قادیانی جماعت کے ذمہ داران کی سازش مجرمانہ کا نتیجہ ہے اور یہی بات علماء کرام و پریس کلب چنیوٹ کے ذمہ داران کی طرف سے کہی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں کوئی شخص اپنے گھر میں کوئی مہمان نہیں ٹھہرا سکتا، وہاں کوئی اپنے پاس ناجائز اسلحہ ”جماعت“ کی اجازت وعلم کے بغیر کیسے رکھ سکتا ہے؟ مقتول صحافی کا قادیانی جماعت کے باغی گروپ کے چوہدری احمد یوسف سے گہرا تعلق تھا اور احمد یوسف، مقتول کو قادیانی جماعت کی اندرونی کہانیوں سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔ صحافی کے قتل کے بعد احمد یوسف نے اس قتل کا کھوج لگایا اور اس نے یہ معلوم کر لیا کہ صحافی کے قتل میں قادیانی جماعت کے ذمہ دار براہ راست ملوث ہیں۔ اس کے بعد احمد یوسف کو بھی قتل کی دھمکیاں دی گئیں جس کا اظہار اس نے ۲۷؍ستمبر ۲۰۱۱ء کو اعلیٰ حکام کو لکھے گئے ایک خط میں بھی کیا۔ اس نے قبل از وقت اعلیٰ حکام سے استدعا کی کہ قادیانی جماعت اس کے قتل کے درپے ہے اور اگر وہ قتل کر دیا گیا تو اس کی ذمہ داری فلاں فلاں پر ہوگی مگر کسی نے اس کے خط پر توجہ دینا ضروری نہ سمجھا۔ بالآخر ۴ اور ۵؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کی درمیانی شب چوہدری احمد یوسف کو نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ حسب روایت اس قتل کو بھی دبانے کی کوشش کی گئی مگر مقتول کی بیٹی اور بیٹے نے ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کا تہیہ کرتے ہوئے اپنے والد کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حکام بالا کو درخواستیں دے دے کر اس قتل کی تفتیش پر مجبور کیا اور اس مقدمہ میں قادیانی جماعت کے ایک عہدیدار ماسٹر عبدالقدوس کو گرفتار کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے چند دن ماسٹر عبدالقدوس سے تفتیش کی جس کی روشنی میں پولیس کچھ حقائق جاننے میں کامیاب ہوئی۔ قادیانی جماعت نے ماسٹر عبدالقدوس کی بیماری کا بہانہ بنا کر اسے پولیس حراست سے چھڑا لیا اور اپنے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کروا دیا مگر دوسرے دن ہی اس کی موت کا اعلان کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا اور الزام پولیس پر لگا دیا۔
ذرائع کے مطابق ماسٹر عبدالقدوس سے ہونے والی تفتیش سے ثابت ہوتا ہے کہ احمد یوسف کے قتل میں قادیانی جماعت کے ذمہ داران ملوث ہیں۔ بہر حال اس راز سے مکمل طور پر آگاہ ماسٹر عبدالقدوس کو راستے سے ہٹا کر قادیانی جماعت کے ذمہ داران کافی حد تک مطمئن ہو گئے ہیں، مگر چوہدری احمد یوسف کے لواحقین چین سے بیٹھنے والے نہیں۔ انہوں نے ڈی پی او چنیوٹ کو اپنے باپ کے قتل کی آزادانہ تفتیش کی درخواست کی جس پر دو مرتبہ ڈی پی او چنیوٹ کے آفس میں فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر تفتیش کی گئی۔ مقتول پارٹی کے بقول یہ تفتیش غیر جانبدارانہ نہیں ہو رہی، بلکہ قادیانی جماعت کے ذمہ داران کو تحفظ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اس پر انہوں نے تفتیش تبدیل کرنے کی استدعا کی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دلچسپ امر یہ ہے کہ دومرتبہ ہونے والی تفتیش کے دوران قادیانی جماعت کے ذمہ داران اپنی بے گناہی ثابت کرنے سے قاصر رہے مگر دوسری طرف ڈی پی او چنیوٹ ملزمان کو گرفتار کرنے سے بھی عاجز نظر آتے ہیں، بلکہ وہ ملزمان کو مکمل پروٹوکول کے ساتھ ڈی پی او آفس میں بٹھاتے ہیں جب کہ مدعی مقدمہ سے عام سائلین کی طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ۲۶؍ مئی ۲۰۱۲ء کی تفتیش کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ اس مقدمہ کی تفتیش کرائم برانچ فیصل آباد کے سپرد کر دی گئی ہے جب کہ مقدمہ میں ملوث ملزمان میں سے دو اہم افراد ملک سے بھاگنے کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قتل جیسے سنگین مقدمہ میں مطلوب ملزمان ملک سے کس طرح بھاگ جانے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ لیکن اگر مذکورہ اہم ملزمان جو کہ دراصل تین افراد کے قتل میں ملوث ہیں، فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تو مقتولین کے ورثاء کی انصاف کے حصول کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
بہر حال اگر احمد یوسف کے قتل کی میرٹ پر تفتیش کر لی جائے تو اس سے مزید دو قتل کے واقعات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ڈی پی او چنیوٹ کی حد تک تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ پولیس قادیانی جماعت کے ذمہ داران کو بچانے کی کوشش میں ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کرائم برانچ فیصل آباد اس کیس کے متعلق کیا رویہ اپناتی ہے۔ کیا پولیس اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنا سکے گی، یہ تو وقت اور تفتیش خود بتائے گی۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے مقتول احمد یوسف کی بیٹی نجمہ محمود کی کراچی کی رہائش گاہ کے قریب قادیانی جماعت نے ایک مکان کرائے پر لے کر نجمہ محمود کی نگرانی اور ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جب کہ قادیانی جماعت اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے کہ مرزا مسرور کے بعد چناب نگر کی ٹاپ کی قادیانی قیادت اس کیس کو قادیانی حکمت عملی کے تحت کس حد تک کامیابی سے ہمکنار کر سکے گی؟ اس سوال کا جواب بہت جلد سامنے آ جائے گا اور عین ممکن ہے بعض ذمہ داران کی تنزلی کا حکم لندن قادیانی ہیڈ کوارٹر سے چناب نگر موصول ہو جائے۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۴؍ جون ۲۰۱۲ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۱۲ء ص ۱۷، ۱۸)
گستاخ رسول کی قبر سے تختیاں اتار لی گئیں
گستاخ رسول بشیر کذاب کی قبر سے روضہ رسول ﷺ ، کلمہ طیبہ اور چاروں قل کی تختیاں اتار لی گئیں۔ چند سال قبل بہاولنگر میں چوہدری بشیر احمد نامی گستاخ رسول نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مبلغ ختم نبوت بہاولنگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے کیس کیا۔ دو سال کے عرصہ کے بعد بہاولنگر عدالت نے ۲؍ لاکھ روپے جرمانہ اور سزائے موت سنائی۔ جھوٹے مدعی نبوت کو بہاولپور جیل بھیج دیا گیا۔ جہاں وہ طبعی موت سے جہنم رسید ہوا۔ بہاولنگر کے مبلغ نے تحریک چلائی کہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے تو انہوں نے قبرستان کی حدود سے باہر اپنے رقبہ میں اس کی قبر بنائی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے اس کے متعلقین نے روضہ رسول ﷺ ، کلمہ طیبہ، چاروں قل شریف کی تختیاں قبر پر لگا دیں۔ جس سے پورے شہر میں اشتعال پھیل گیا۔ لوگ ختم نبوت دفتر آنے لگے۔ مبلغ نے سکیورٹی برانچ میں انٹیلی جنس کے نمائندوں کو فون کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ تختیاں اتر جائیں گی۔ مگر کافی دن گزر گئے۔ تختیاں نہ اتریں۔ تو مبلغ نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے انٹیلی جنس والوں کو کہا کہ تم بدامنی پھیلانا چاہتے ہو تو ہمارے سینے گولیاں کھانے کے لئے تیار ہیں۔ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں۔ مگر روضہ رسول ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ مبلغ ختم نبوت نے پلے کارڈ لکھوائے اور پورے شہر میں لگا دیئے جس سے انتظامیہ پریشان ہوئی۔ گستاخ کا مقدمہ نمبر پوچھا۔ مبلغ نے بتایا۔ انتظامیہ نے تختیاں اتار کر فون کیا کہ تختیاں اتر گئی ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راجن پور میں قادیانیت ایک مرتبہ پھر ہار گئی
۲؍ جون ۲۰۱۲ء راجن پور کے علاقے فاضل پور کی نواحی بستی المعروف مکوڑے والی میں ایک مرزائی نیاز احمد نامی ۳۱؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز جمعرات کو مرا تو قادیانیوں نے اس کا جنازہ پڑھنے کے بعد اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ ۲؍ جون ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ کو وہاں کا ایک آدمی مولانا قاری حماد اللہ حیدری کے پاس آیا اور اس نے سارا واقعہ سنایا تو مولانا نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع راجن پور کے امیر مولانا حافظ علی محمد صدیقی سے رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ مولانا نے علاقہ کے علماء مولانا مفتی ارشاد احمد حقانی، قاری عبدالجبار، مولانا الٰہی بخش ساقی، مولانا محمد عثمان، قاری محمد صادق لشاری، جلیل الرحمٰن صدیقی، مولانا عبدالمنان چشتی سمیت وفد کی صورت میں ڈی سی او سے ملے اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ ڈی سی او صاحب نے حالات کو بھانپتے ہوئے فوراً تھانہ صدر فاضل پور کو آرڈر جاری کیا کہ مجھے عصر کی نماز سے پہلے مسلمانوں کا قبرستان اس مردود سے خالی ملنا چاہئے اور اسی وقت مرزائیوں کے صدر سے رابطہ کیا اور اس سے بھی کہا کہ تم کافر ہو۔ تم نے مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کیوں کیا۔ اسے فوراً نکال لو۔ ورنہ حالات کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔ اس طرح اس مردود کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر مرزائیوں کے مرگھٹ ٹھیڑی میں ڈال دیا گیا۔ جو لوگ اس مرزائی کے جنازہ میں اس کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے تھے۔ ان کا تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی مدرسہ انوار القرآن فاضل پور میں مولانا قاری حماد اللہ حیدری نے کرا دیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۱۳)
بھکر میں قادیانیوں کی اشتعال انگیزی
بھکر: (ڈاکٹر دین محمد فریدی) ڈھانڈلہ گلی ریلوے اسٹیشن بھکر کے مشرقی جانب قادیانیوں کا تقریباً چھ کنال میں مرکز سالہا سال سے ہے۔ یہاں قادیانی مرکز کے سامنے اہم سیاسی ڈھانڈلہ خاندان کا گھر ہے، اسی وجہ سے یہ گلی ڈھانڈلہ گلی کے نام سے مشہور ہے۔ اس خاندان کے مشہور بزرگ جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ جب ۱۹۷۴ء میں ایم این اے تھے تو وہ دینی غیرت اور عقیدہ ختم نبوت سے سرشار تھے، یہی وجہ ہے جب قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تو غلام حسن خان ڈھانڈلہ مرحوم اس قرارداد کے تائید کنندگان میں سے تھے۔
ماہ اپریل ۲۰۱۲ء کے اوائل میں قادیانیوں نے اپنے مرکز کے سامنے کی دیوار گرا کر دوبارہ تعمیر شروع کی، میرا گزر ہوا، میں نے وہاں کے ذمہ دار سے کہا کہ دیوار جیسے پہلے تھی ویسے ہی ہو، اضافہ نہ ہونے دینا۔ ۳؍ مئی ۲۰۱۲ء کو میرے موبائل پر فون آیا کہ ڈھانڈلہ گلی سے بات کر رہا ہوں قادیانیوں نے دیوار تعمیر کر کے اوپر پختہ مورچے بنالئے ہیں۔ یکے بعد دیگرے تین چار افراد نے رابطہ کیا میں نے رانا محمد یعقوب کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا، پھر جناب سید ظفر حسین برنی، قاری سید حسین احمد الحسینی، قاری عمران کو بھیجا سب نے اطلاع دی کہ بات صحیح ہے۔ ۸؍ مئی ۲۰۱۲ء کو جماعتی ساتھیوں کا اجلاس بلایا۔ ڈی سی او بھکر سے ملاقات کا وقت مانگا، ۱۵؍ مئی ۲۰۱۲ء کو ملاقات ہوئی، میرے ساتھ مولانا محمد علی صدیقی، رانا محمد یعقوب، قاری سید حسین احمد الحسینی، قاری محمد عمران، مولانا شکیل احمد، مولانا محمود الحسن اور دوسرے احباب تھے، ہم نے تمام صورتحال سامنے رکھی۔ ڈی سی او نے کارروائی کا وعدہ کیا مگر ساتھ ہی ڈی پی او بھکر سے ملاقات کا کہا، ہمارا وفد ڈی پی او بھکر رائے اعجاز احمد کی خدمت میں حاضر ہوا، تمام صورتحال بیان کی۔ رائے اعجاز احمد کھرل بہت زیرک آفیسر ہیں۔ صورتحال سمجھ گئے۔ انسپکٹر تھانہ سٹی بھکر کی ڈیوٹی لگائی الحمدللہ ثم الحمدللہ! گفت وشنید کے ذریعے انتظامیہ نے اس حساس معاملہ کو اہمیت دی۔ ۲۱؍ مئی ۲۰۱۲ء صبح گلی والوں نے دیکھا کہ قادیانی مورچے خود گرا رہے ہیں۔ فوراً ہی مبارکباد کے فون آگئے اور اشتعال کی کیفیت ختم ہو گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ جولائی ۲۰۱۲ء ص ۲۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تونسہ شریف سے گستاخ رسول کی گرفتاری
تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان کے معروف قصبہ کوٹ قیصرانی میں قبرستان کے جھاڑوکش عبدالغفور قیصرانی نامی ازلی بدبخت نے سرعام ختم نبوت اور خاتم المرسلین ﷺ کی گستاخی کی اور انتہائی نازیبا الفاظ کے ساتھ توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ اس واقعہ کے خلاف کوٹ قیصرانی میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی جلسہ ہوا۔ اس سے پہلے مولانا امان اللہ اختر کی مدعیت میں ملعون گستاخ کے خلاف توہین رسالت ایکٹ کے تحت ۲۹۵سی کا مقدمہ درج ہوا اور ملعون کو سنٹرل جیل ڈیرہ غازیخان بھیج دیا گیا۔ اجلاس میں مقدمہ کی پیروی کرنے اور ڈی پی او سے ملاقات کر کے مقدمہ کا چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ ہوا اس سلسلہ میں نمائندہ وفد نے ڈی پی او ڈیرہ غازیخان سے ملاقات کی اور اپنے جذبات واحساسات سے آگاہ کیا۔ ڈی پی او صاحب نے فوری طور پر مقامی ایس ایچ او کو چالان مکمل کرنے کی ہدایت کی وفد میں مولانا قاری جمال عبدالناصر، مولانا عبدالرحمن غفاری، مولانا غلام اکبر ثاقب، مولانا امان اللہ اختر، مولانا کامل مسعود، مولانا محمد اسحاق ساجد، قاری محمد اسماعیل کھلول، مولانا عبدالعزیز احسن، حمید اللہ چنگوانی، حکیم عبدالرحمن جعفر شامل تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازیخان کے مبلغ مولانا محمد اقبال نے اپنے اخباری بیان میں تمام دینی قیادت سے اپیل کی ہے کہ اس گستاخ رسول قیصرانی کو کیفرکردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
تونسہ شریف گستاخ رسول کے خلاف مقدمہ کی سماعت شروع
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تونسہ شریف کے امیر مولانا عبدالعزیز لاشاری نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گستاخ رسول عبدالغفور قیصرانی کے خلاف مقدمے کی سماعت ایڈیشنل جج حاجی محمد اسلم تونسہ شریف کی عدالت میں شروع ہوگئی ہے۔ تونسہ شریف کوٹ قیصرانی میں ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۲ء کو گستاخ رسول عبدالغفور قیصرانی نے رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ ادا کئے تھے۔ کوٹ قیصرانی کے مسلمانوں نے تھانہ ریٹرہ میں ۲۹۵سی کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔ چنانچہ پولیس نے پرچہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم اس وقت ڈسٹرک جیل ڈیرہ غازی خان میں قید ہے۔ پولیس کی تمام تفتیش کے بعد اب مقدمہ کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ اس مقدمہ کی تمام سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کر رہی ہے۔ ۱۸؍ جون کی پیشی پر تحصیل تونسہ کی تمام مذہبی جماعتوں کی دینی قیادت نے شرکت کی۔ اس مقدمے کو ڈیل کرنے کے لئے ختم نبوت ناموس رسالت وکلاء فورم بنایا گیا۔ اس فورم میں سینئر وکیل محمد اقبال خان قیصرانی، سید رضا حسین رضوی ایڈووکیٹ، عبدالرشید قیصرانی ایڈووکیٹ، حق نواز خان قیصرانی ایڈووکیٹ، اشتیاق احمد خان لاشاری ایڈووکیٹ نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ مولانا محمد اقبال مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس گستاخ رسول کی حمایت میں نہ آئے۔ چونکہ یہ حضور ﷺ کی عظمت کا مسئلہ ہے۔ اس گستاخ رسول کو اپنے جرم کی سزا ملنی چاہئے۔ مولانا محمد اقبال نے مرکزی جماعت ختم نبوت کی طرف سے پیشی پر حاضری دی اور یقین دلایا ہے کہ اس مقدمہ کی پیروی ہماری جماعت کرے گی۔ اس سے پہلے تمام مذہبی جماعتوں نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا امان اللہ، مولانا حبیب الرحمن عثمانی، مولانا غلام فرید قیصرانی، حاجی یار محمد، مولانا عبدالعزیز قطبی، ظہور احمد فاتح، پروفیسر عطاء محمد جعفری، مولانا عبدالرحیم، مولانا عبدالغفور گورمانی۔ اس کمیٹی کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کرے گی۔ مجلس ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان کے امیر عبدالرحمن غفاری، مولانا غلام اکبر ثاقب جنرل سیکریٹری، مولانا محمد اسحق ساجد، مولانا عبدالقدوس چشتی، مولانا عبدالعزیز احسن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تحصیل تونسہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریف کی دینی قیادت کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ پولیس کی تمام تفتیش مولانا جمال عبدالناصر کی کاوش سے ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۵)
پیرمحل میں ایک مرتبہ پھر قادیانی سازش ناکام
بستی اوڈاں پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ اڑھائی سال سے ایک جگہ جہاں قادیانی مردہ دفن کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پیرمحل کے علماء کرام خصوصاً مفتی عابد فرید اور مفتی محمد شیراز کی محنت سے بستی والوں نے ساتھ مل کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی کو آگاہ کیا۔ رٹ دائر کی گئی اور عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ جب تک عدالت حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔ اس وقت تک مرزائی اپنا مردہ دفن نہیں کر سکتے اور مرزائیوں کے لئے حکومت نے متبادل جگہ دی۔ اس کے باوجود اب اس جگہ کا سروے ہونا تھا تو فراڈی جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے پیروکاروں نے فراڈ کرتے ہوئے ایک قبر نما ڈھیری بنادی۔ تا کہ پتہ چلے ہمارا قبرستان آباد ہے۔ اس سازش سے بستی والوں نے مفتی محمد عابد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مبلغ مولانا محمد خبیب کو فوراً اطلاع دی۔ جمعہ کے دن مغرب کے بعد بستی کے ڈیرہ پر مشاورتی اجلاس ہوا۔ مفتی عابد فرید اور مولانا محمد خبیب نے مشاورت سے اس کا حل نکالا۔ ہفتہ صبح دس بجے تھانہ صدر کے ایس ایچ او سے وقت طے کر کے ملاقات کی۔ ایس ایچ او اور انتظامیہ نے بھر پور معاونت کی۔ اس قبر نما ڈھیری کو برابر سطح پر کر دیا۔ الحمد للہ ایک مرتبہ پھر قادیانی سازش ناکام بنادی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۵۷)
بھکر میں قادیانیت کی تبلیغ پر قادیانی ملزم کی گرفتاری
بھکر کی تحصیل منکیرہ کے چک نمبر ۷۰ / ایم ایل میں کچھ قادیانی گھرانے آباد ہیں۔ جنہوں نے قادیانیت کی تبلیغ کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ ۲۷ / جون ۲۰۱۲ء کو ایک قادیانی منصور احمد نے مسلمان نوجوانوں کے سامنے قرآن پاک کی مختلف آیات کا غلط ترجمہ کر کے وفات مسیح علیہ السلام پر استدلال کیا۔ اس پر مسلمانوں میں اشتعال کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ ڈاکٹر دین محمد فریدی نے ڈی پی او بھکر کو تمام صورتحال سے بذریعہ درخواست آگاہ کیا۔ ۵ / جولائی کو دفعہ ۲۹۸ سی کے تحت منکیرہ تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ نامزد قادیانی ملزم گرفتار ہوا۔ ۶ / جولائی کو سول جج منکیرہ کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ بعد سماعت قادیانی ملزم منصور احمد کو جوڈیشل حوالات میانوالی بھیج دیا گیا۔
ٹالہی سندھ میں قادیانی عبادت گاہ بنانے کی سازش ناکام بنادی گئی
ٹالہی کے نزدیک بیس واٹر شکیل قادیانی اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کر رہا تھا۔ مبلغ ختم نبوت مولانا مختار احمد اور حافظ منیر احمد وہاں پہنچے اور ان کی تعمیر کا کام رکوا دیا گیا۔ ختم نبوت کنری کے صدر ریاض احمد اور محمد ناصر نے ڈی ایس پی صاحب کو مطلع کیا۔ مولانا مختار احمد اور حافظ منیر نے ایس ایچ او نبی سر کو شکیل قادیانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی اور ان سے کہا کہ امن وامان قائم رکھتے ہوئے اس معاملے کا نوٹس لیں اور قانونی طریقے سے ان کی اس مختصر عبادت گاہ کو گرایا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۷)
امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف کراچی میں احتجاجی ریلی
بدبخت امریکیوں نے آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ فلم ریلیز کر کے تعصب اور عداوت کی انتہاء کر دی ہے۔ مسلم دنیا سراپا احتجاج ہے۔ احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں اپنے اپنے طور پر احتجاج
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر رہی ہیں۔ ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز جمعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بھی عظیم الشان ریلی اور احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت وعقیدت کے جذبات سے سرشار عاشقان رسول ریلی میں شرکت کے لئے جوق در جوق چلے آرہے ہیں۔ اس لئے کہ شفاعت محمدی ہر مسلمان کے دل کی آرزو ہے۔
یہ ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۲ء جمعہ کا دن ہے۔ ہر مسجد کے منبر ومحراب سے صدائے تحفظ ختم نبوت بلند ہورہی ہے۔ درودیوار تحفظ ناموس رسالت کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ ہر مسلمان آنحضرت ﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے بے تاب ہورہا ہے۔ نماز سے فارغ ہوئے، مسجدوں کے باہر عاشقان مصطفیٰ ﷺ کا ایک جم غفیر عشاق کی فہرست میں نام لکھوانے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ قافلے روانہ ہوئے۔ جامعہ علوم اسلامیہ سید محمد یوسف بنوری ٹاؤن سے ایک عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت ریلی اور احتجاجی مارچ کا اعلان سنتے ہی سب کے سب رضا کاران ختم نبوت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بینروں تلے جمع ہونے لگے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر جناب قاری محمد عثمان کی قیادت میں ریلی کا آغاز ہوا۔ ریلی خراماں خراماں نمائش چورنگی پہنچی۔ جہاں پہلے سے موجود عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جمعیت علماء اسلام کے کارکن منتظر تھے۔ قیادت کی آمد پر ریلی میں مزید چار چاند لگ گئے۔ فضاء نعروں سے گونج رہی تھی۔ ریلی نمائش چورنگی سے اپنے قافلوں کو لیتے ہوئے تبت سینٹر کی طرف بڑھی۔ ٹرک پر سوار علماء کرام شرکاء ریلی سے مختلف اوقات میں خطاب کرتے رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام نکلنے والی ریلی کا اختتام ٹاور پر ہوا۔ اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ دہلی کالونی، منظور کالونی، پاکستان چوک اور دیگر علاقوں سے آنے والی ریلیوں اور جے ٹی آئی کے زیر اہتمام نکلنے والی ریلی کا اختتام پریس کلب پر ہوا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ہمارا ایمانی مسئلہ ہے۔ یہ ہماری غیرت وحمیت کا مسئلہ ہے۔ ہم اس کے تحفظ کے لئے اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھیں گے۔ ہم حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہمارے جذبات امریکی ایوانوں تک پہنچائیں اور بھرپور احتجاج کریں مسلم ممالک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور امریکا پر دباؤ ڈالیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کے مرتکب کے خلاف قانون بنائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۵، ۵۶)
حیدرآباد میں توہین رسالت کا دلخراش واقعہ
حیدرآباد میں بھی ۱۶؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار غلامان حضرت محمد ﷺ ، توہین رسالت ﷺ کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے تھے۔ حیدرآباد شہر اور بازار مکمل بند تھا۔ اس دوران نصراللہ نامی شخص آیا اور اس نے استفسار کیا کہ مارکیٹ کیوں بند کی ہے۔ مسؤلین نے جواب دیا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی ہوئی ہے۔ اس لئے ہم نے دکانیں بند کی ہیں۔ تو نصراللہ نے جواباً سخت دلخراش، خطرناک کلمات پیغمبر اسلام ﷺ اور امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے متعلق کہے۔ جس پر موقع پر موجود نجیب اللہ نامی شخص نے نصراللہ کے منہ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ توبہ کرو۔ تم نے یہ کلمات کہہ کر بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ بعد ازاں مقامی علماء کرام اس بات کی تحقیق کے لئے نصراللہ کو ملنے کے لئے آئے۔ جس پر نصراللہ کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ مقامی نوجوان محمد افضل کے سر پر گولی لگی۔ نصراللہ نے اس کے بعد معصوم بننے کے لئے (باوجود اس کے کہ توہین رسالت بھی کی اور ساتھی کو زخمی بھی کیا) پولیس کو اپنے گھر بلا کر ایف آئی آر درج کرائی۔
۱۷؍ ستمبر صبح ہٹری تھانہ میں اس کے خلاف C-295 کے تحت امیر جمعیت علماء اسلام مولانا تاج محمد نے شہر کے دیگر علماء کرام کے ساتھ مل کر ایف آئی آر درج کرائی۔ اس مسئلے کے تمام پہلو پر غور وفکر کرنے اور اس کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ۱۷؍ ستمبر بعد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عشاء دفتر ختم نبوت اور ۲۳ ستمبر کو مفتاح العلوم میں شہر کے تمام علماء کرام کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاق المدارس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، اہلسنت والجماعت کے حضرات اور عظیم دینی درسگاہیں مفتاح العلوم، مظاہر العلوم، ریاض العلوم و دیگر دینی مدارس کے مفتیان کرام شریک ہوئے۔ اجلاس میں مدعی کچکول خان ولد خان داد اور گواہوں نجیب اللہ خان، حکیم سعید، فیروز خان، اکرام اللہ، معاذ اللہ خان، ہاشم صاحب، سعید خان، خاتم اللہ، روحان خان کے بیانات سنے گئے۔
نصراللہ خان نے اپنی حمایت میں اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے تین مزدوروں کو بھی استعمال کیا کہ میرے حق میں یہ گواہی دیں کہ میں نے یہ کلمات نہیں ادا کیے۔ مگر ان مزدوروں نے مفتاح العلوم میں مفتیان کرام کے سامنے اجلاس میں گواہی دی کہ ہمیں بہلا پھسلا کر لایا گیا۔ اصل حقیقت سے ہم واقف نہیں ہیں اور ہم تو عین واقعہ کے وقت موجود ہی نہیں تھے۔ اسی طرح نصراللہ خان اپنی حمایت میں دو اور نوجوانوں انگڑ خان پٹھان اور فدائے نظر پٹھان کو بھی اپنے حق میں بطور گواہی کے پیش کیا۔ مگر یہ دونوں نوجوان بھی نصر اللہ کے خلاف جج ملک حسان جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر ۶ کی عدالت میں ۱۶۴ کے تحت بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ اسی طرح نصر اللہ کی طرف سے یہ واویلا بھی کیا گیا کہ میرا ان سے کاروباری تنازع تھا۔ جس پر مجھے انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر یہ بھی ایک کھلا جھوٹ تھا۔ کیونکہ ان کے مابین جو تنازع تھا وہ واقعہ سے ایک ماہ چند یوم قبل جرگہ نے پختون روایات کے مطابق فیصلہ کیا تھا کہ نصر اللہ بطور جرمانہ کے نجیب اللہ کو ۵۰ ہزار اور دو بکرے ادا کرے گا۔ مگر نجیب اللہ نے یہ کہہ کر کہ نصر اللہ میرا پرانا جگری دوست تھا۔ اس سے رقم اور بکرے لوں۔ اس کو معاف کیا اور گلے لگایا۔ اس واقعہ کی گواہی حاجی عصمت اللہ صاحب اور ان کے رفقاء نے مفتاح العلوم میں دی۔ اسی طرح نجیب اللہ نے بھی بارہا یہ بات کی کہ علماء کرام کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔ ہمارے تنازعات کے حوالے سے تحقیق کی جائے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی چپقلش ثابت ہو جائے تو میرا منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمایا جائے۔
تمام علماء کرام نے فیصلہ کیا کہ گستاخ رسول کو گرفتار کیا جائے اور اس پر توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ چلایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ نصراللہ خان ۲۸ ستمبر کو سیشن کورٹ میں اپنی ضمانت کے لئے آیا۔ ضمانت مسترد ہوئی اور سیشن کورٹ کے احاطے سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۶ ستمبر تا ۳ نومبر ڈیڑھ ماہ کی جدوجہد کے بعد چالان پیش ہوا۔ اس عرصے میں کافی نشیب وفراز آئے۔ گستاخ رسول کو راہ فرار دینے کی کوشش کی گئی۔ مگر جناب فاروق آزاد کی مسلسل شب وروز کی محنت اور تمام دینی ومذہبی جماعتوں اور مدارس کے حضرات کی دعاؤں کے طفیل اللہ پاک نے مدد فرمائی۔ ہمارے رفقاء ان کی تمام چالوں کے سامنے سدسکندری بن گئے۔ اب کیس دہشت گردی کورٹ میں چلے گا۔ اللہ رب العزت کامیابی نصیب فرمائیں۔
امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب کی خدمت میں کیس کی رپورٹ پیش کی اور دعاؤں کی درخواست کی۔ حضرت نے کیس کی کامیابی کے لئے دعاؤں سے نوازا۔
اس کیس میں وفاق المدارس، جمعیت علماء اسلام، اہل سنت والجماعت، دینی مدارس، مفتاح العلوم، مظاہر العلوم، ریاض العلوم کے حضرات شہر بھر خصوصاً ہالہ ناکہ کے علماء کرام گواہان سب کی محنت وجدوجہد قابل تحسین ہے۔ سب حضرات کیس کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۳ء ص ۵۱، ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیر محل میں گوہر شاہیوں کی غنڈی گردی
ٹوبہ ٹیک سنگھ .... پیر محل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر یعنی دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کی گستاخانہ فلم کے خلاف اجتماعی ریلی و احتجاج سے ایک دن قبل گوہر شاہیوں نے ’’انجمن سرفروشانِ اسلام‘‘ کے نام پر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی نکالنے کی کوشش کی۔ ضلعی انتظامیہ اور تمام علماء کرام جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرپرست مولانا مفتی شیراز، جنرل سیکریٹری مفتی محمد عابد فرید، مولانا قاری عتیق الرحمٰن، مولانا عبدالحنان صدیقی، مولانا دلشاد و دیگر کے منع کرنے کے باوجود باز نہ آئے اور بزور طاقت ریلی نکالی۔ چنانچہ مزاحمت کرنے پر گوہر شاہیوں نے پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد پر آزادانہ لاٹھی اور ڈنڈوں کا استعمال کیا اور مفتی محمد عابد فرید صاحب اور بھائی دلشاد صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں مفتی صاحب کو سر میں شدید چوٹ لگی کہ ۵۰ کے قریب ٹانکے لگے اور بھائی دلشاد کے بھی ۳۰ کے قریب ٹانکے لگے۔ اس غنڈہ گردی کے ردعمل میں پورے پیر محل کی ساری جماعتیں اکٹھی ہوئیں۔ شدید احتجاج ہوا اور ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے حالات کے پیش نظر سارے گوہر شاہی گرفتار کئے۔ بائیس گوہر شاہیوں کے خلاف ایف آئی آر کٹی، انتظامیہ اور قانون کے حوالے کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے کہا کہ ہم ضلعی انتظامیہ خصوصاً محمد الیاس جٹ ایس ایچ او تھانہ پیر محل کے ممنون اور شکر گزار ہیں، جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے حالات پر قابو پایا۔ معلوم ہوا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے سارے گوہر شاہی کوئی فیصل آباد کا، کوئی جھنگ کا، کوئی شورکوٹ کا اور کوئی پیر محل کا ٹوبہ کے حالات خراب کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ / اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۷)
ننگر پارکر میں قادیانیوں کی شر انگیزیاں
یہ علاقہ محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کے جنوب مغرب میں انڈیا کی سرحد کے قریب پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ سیرو سیاحت کے اعتبار سے خوبصورت علاقہ ہے۔ اس امن پسند علاقے میں قادیانیوں نے اپنی ارتدادی سرگرمیوں کے لئے اپنے مراکز قائم کئے ہوئے ہیں۔ بظاہر طاہر ہسپتال، گریس کمپیوٹر اسکول، ڈسپنسریاں اور رفاہی ادارے بنائے ہیں۔ مگر ان اداروں کی آڑ میں سادہ لوح لوگوں میں قادیانیت کا زہر پھیلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ختم نبوت کے مجاہدوں نے چناب نگر سے ننگر پارکر تک ان کا تعاقب کیا ہے۔ ہر جگہ ان کو ذلیل و رسوا اور شکست دی ہے۔ کچھ عرصے پہلے ننگر پارکر میں اس فتنے نے سر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، قاری احمد علی درس، قاری اللہ ورایو نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس طرح فتنہ دب گیا۔ اب ۲۱ / ستمبر کو پورے پاکستان میں امریکا کے خلاف یومِ عشق مصطفیٰؐ منایا گیا۔ باقی شہروں کی طرح ننگر پارکر میں بھی بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ننگر پارکر کے پہاڑ ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے نعروں سے گونج رہے تھے اور قادیانی دانت پیس رہے تھے۔ اس ریلی میں جمعیت علماء اسلام ضلع تھر پارکر کے امیر قاری احمد علی درس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ناموس رسالت کے لئے اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جان قربان کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ اسلام کوٹ کی ایک ریلی میں ایک ہندو ڈاکٹر شنکر لال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ہندو برادری، مسلمانوں کے نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں، ہم مسلمانوں کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں کہ امریکا نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ پُر امن ریلی کے اختتام پر قاری اللہ ورایو نے دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے قبریں توڑنے کا ڈرامہ رچایا: امت رپورٹ
لاہور میں قادیانی قبرستان سے شعائر اسلامی ختم کرانے کا عدالتی حکم حاصل کیا گیا تھا۔
پولیس قبروں پر کلمہ طیبہ اور آیات لکھنے کا مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی۔
دباؤ ڈالنے پر ڈی ایس پی نے کارروائی کا وعدہ کیا۔ ۲۴ گھنٹے بعد کتبے اکھاڑنے کا دعویٰ سامنے آگیا۔ پنجاب پولیس کے بعض افسران قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں: ذرائع!
قانونی کارروائی سے بچنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی خاطر قادیانیوں نے لاہور میں قبروں کے کتبے توڑنے کا ڈرامہ رچایا۔ عدالتی حکم کے باوجود قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں متأمل ایس ایچ او نے قادیانیوں کی شکایت پر فوراً پرچہ درج کرلیا۔ پنجاب پولیس قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جب کہ تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ جرم قرار دے دی گئی ہے۔ لاہور سے امت کو دستیاب شواہد کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں قادیانی قبرستان میں قبروں کے کتبے توڑنے کا مقدمہ دراصل ختم نبوت لائرز فورم کی قانونی چارہ جوئی سے بچنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش کے سوا کچھ نہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں قادیانیوں کے اس قبرستان میں آئین پاکستان کے امتناع قادیانیت ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شعائر اسلامی کا استعمال کیا گیا تھا، جس سے عام مسلمانوں کی جانب سے غلطی سے اسے مسلمانوں کا قبرستان کہنے کا احتمال پیدا ہورہا تھا۔ اس پر ختم نبوت لائرز فورم کے رہنما رانا طفیل رضا ایڈووکیٹ نے جولائی ۲۰۱۲ء میں پولیس کو درخواست دی مگر پولیس حکام اس معاملے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ جس پر انہوں نے دفعہ ۲۲۔اے کے تحت مقدمہ کے اندراج کے لئے سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی اور وہاں سے اندراج مقدمہ کا حکم حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ماڈل کالونی کے ایس پی اور ڈی ایس پی نے اس عدالتی حکم کے باوجود قبروں کے کتبوں پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات لکھنے کا مقدمہ درج کرنے کے بجائے قادیانیوں کے ایماء پر کارروائی کرتے ہوئے لاہور میں تبلیغی واصلاحی مرکز سراجیہ کے سربراہ صاحبزادہ رشید احمد اور ان کے کارکنوں پر نہ صرف قادیانیوں کے خلاف لٹریچر تقسیم کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا۔ قادیانیوں کے خلاف مقدمہ کے مدعی رانا محمد طفیل رضا ایڈووکیٹ نے امت کو بتایا کہ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف سی۔۲۹۸ کے تحت پرچہ درج کرانے کی کارروائی شروع کررکھی تھی، پولیس نے جولائی میں دی گئی درخواست پر کارروائی نہ کی تو اگست میں وہ ماتحت عدالت میں چلے گئے، جہاں سے حکم حاصل کرلینے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تساہل سے کام لیا اور قادیانیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، تاہم اس حوالے سے دباؤ جاری رہا۔ مگر کوئی نتیجہ برآمد ہونے کے بجائے ۸؍ نومبر کو ایک کارکن امجد کو اور ۱۲؍ نومبر کو مرکز یہ سراجیہ کے سربراہ صاحبزادہ رشید احمد کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس حوالے سے لاہور پولیس میں ایس. پی رینک کے ایک افسر نے امت کو بتایا کہ پنجاب پولیس میں ڈی. آئی. جی سے اوپر کے افسران موجود ہیں اور وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ صاحبزادہ رشید احمد کو قادیانی قبرستان اور قادیانی عبادت گاہوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے روکنے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ پولیس افسران تمام پولیس کارروائی میں قادیانی لٹریچر کو فرقہ ورانہ لٹریچر قرار دے کر قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنے کے ساتھ پولیس ریکارڈ میں ایک بات کو روایت بنانے پر کام کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کے خلاف کوئی بھی لٹریچر قابل دست اندازی پولیس قرار دے دیا جائے۔ ایک اعلیٰ سطح کے پولیس ذریعے نے بتایا کہ لاہور میں صاحبزادہ رشید احمد کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتاری بلاشبہ قانونی چارہ جوئی روکنے کی کوشش تھی مگر اس سے پہلے ہڑپہ ضلع ساہیوال میں انہی افسران کے حکم پر قادیانیت کے خلاف لٹریچر تقسیم کرنے پر مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور کندیاں میں بھی ایسی ہی کارروائی جاری ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صاحبزادہ رشید احمد کے خلاف ساہیوال میں جس کلینڈر کی بناء پر مقدمہ درج کیا گیا ہے، اس میں صرف قادیانیوں کے خلاف آئینی شقوں کے حوالے درج ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس کی نظر میں قادیانیوں کے خلاف آئینی دفعات بھی قابل دست اندازی پولیس ہیں۔
لاہور سے دستیاب اطلاعات کے مطابق صاحبزادہ رشید احمد کی عدالتی حکم پر رہائی کے بعد بھی جب پولیس پر وکلاء فورم کا دباؤ جاری رہا تو ڈی ایس پی نے مدعیان سے وعدہ کیا کہ محرم کے بعد وہ قادیانی قبرستان سے شعائر اسلامی ختم کرا دیں گے، تاہم مقدمہ پھر بھی درج نہیں کیا گیا۔ جب کہ جس روز کتبے اکھاڑنے کا پرچہ درج کرا دیا گیا (تین روز قبل) ڈی ایس پی نے مدعیان کو اطلاع دی تھی کہ ۲۴ گھنٹے میں مسئلہ حل ہو جائے گا اور ۲۴ گھنٹے بعد کتبے اکھاڑنے کا دعویٰ سامنے آگیا۔ مقامی تھانے میں ایک باخبر پولیس ذمہ دار نے اعلیٰ افسران کے عتاب کے ڈر سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے خود موقع واردات کا معائنہ کیا ہے وہاں ایسی کوئی واردات ہوئی ہی نہیں اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ کم از کم پانچ مسلح سیکورٹی گارڈ اس قبرستان میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان کی موجودگی میں باہر سے آ کر کوئی کس طرح یہ کارروائی کر سکتا ہے۔ معاملہ صرف اتنا ہے کہ قادیانیوں کو اعلیٰ پولیس افسروں کا تعاون حاصل ہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر پرچہ درج کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ جس میں ۱۵ نامعلوم افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف مقدمے کے مدعی رانا طفیل ایڈووکیٹ نے امت کو بتایا کہ قادیانیوں نے مصری شاہ میں اپنی عبادت گاہ کو بھی مسجد کے مشابہ بنا رکھا تھا جس پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے اس پر سے کلمہ اور دیگر اسلامی شعائر کو محفوظ کرا دیا گیا۔ اسی طرح لاہور میں ان کی ایک بڑی عبادت گاہ گڑھی شاہو میں موجود ہے، جہاں یہ لوگوں کو ورغلا کر لاتے ہیں اور انہیں مسجد کا جھانسہ دے کر تبلیغ کی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں نامزد کیا گیا ہے کہ قادیانی خاتون مائرہ ، سادہ لوح مسلمان خواتین کو ورغلا کر لے جاتی ہے اور اس عبادت گاہ کو مسجد کہا جاتا ہے۔ جس پر عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی مسجد سے شباہت کو ختم کروائے جس پر عمل کرتے ہوئے کلمہ اور دیگر آیات ہٹا دی گئی ہیں۔
اب پولیس منبر اور محراب ہٹانے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے چونکہ ایک طرف قبرستان دوسری طرف مصری شاہ اور گڑھی شاہو کی عبادت گاہوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے جان چھڑانے اور مدعیوں کو ملزم بنانے کی خاطر کتبے توڑنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے جس کے خلاف لاہور میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، مجلس احرار اور ختم نبوت رابطہ کمیٹی نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قادیانیت نواز اور قادیانی پولیس افسروں کی کارروائیوں کا نوٹس لیں ورنہ حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
(روزنامہ امت کراچی، ۶ دسمبر ۲۰۱۲ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱، ۱۲)
وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، قومی اسمبلی، پنجاب پولیس اور قادیانی
۱۰؍ دسمبر ۲۰۱۲ء روزنامہ جنگ کے ص ۳ پر جناب انصار عباسی کا مضمون شائع ہوا ہے۔ جس میں صراحت سے درج ہے کہ:
- ۱...... ایک اہم مغربی ملک میں قادیانیوں کے کنونشن کے لئے پاکستان کے سفارت خانے نے پاکستانیوں کو ای میل کئے کہ وہ قادیانیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے کنونشن میں شرکت کریں۔
- ۲...... اس سفارت خانے نے قادیانی کنونشن میں شرکت کے لئے جو دعوت نامے بھیجے اس میں قادیانیوں کو ”احمدیہ مسلم جماعت“ لکھا۔
- ۳...... اسی طرح چند دن ہوئے کہ لاہور تھانہ غالب مارکیٹ میں صاحبزادہ رشید احمد صاحب پر ایک مقدمہ درج کیا گیا۔ جو سو فیصد نہیں بلکہ کروڑ فیصد غلط تھا۔ ان پر الزام لگایا کہ وہ چوک میں لٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔ پولیس والے کو مدعی و گواہ بنایا گیا۔ پھر لٹریچر وہ پیش کیا جو قادیانی عقائد کے رد میں تھا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب روحانی خزائن کے نام سے ۲۳ جلدوں میں چناب نگر سے قادیانی جماعت دھڑا دھڑ چھاپ رہی ہے۔ جو سراسر اسلام کے خلاف، خدا تعالیٰ، رسول مقبول ﷺ، صحابہ کرام ؓ واہل بیت ؓ، اولیائے امت اور امت مسلمہ کی اہانت اور گالیوں پر مشتمل ہیں۔ ان پر پابندی تو درکنار، الٹا جو قادیانیوں کے عقائد پر رسائل چھپیں ان پر کیس اور دفعہ ۱۱ ڈبلیو انسداد دہشت گردی کی لگائی گئی۔ گویا ختم نبوت کے لٹریچر پر پولیس اور وزارت داخلہ دہشت گردی کی دفعات لگا کر قادیانی عقائد کا تحفظ کرنا چاہتی ہے۔
اس سے قبل بھی ٹاؤن شپ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر یہی دفعہ لگائی گئی۔ لگتا ہے کہ وزارت داخلہ یا پنجاب پولیس میں کوئی شہ دماغ ایسا ہے جس نے قادیانیت کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایف، آئی، اے کا ڈائریکٹر سکہ بند قادیانی لگایا گیا ہے۔ یہ سب وزارت داخلہ کے کرم کے معاملے ہیں۔
ان امور کو سامنے رکھا جائے تو لگتا ہے کہ وزارت داخلہ و خارجہ دونوں نے قادیانیت نوازی پر کمر باندھ لی ہے۔
چوہدری سر ظفر اللہ قادیانی جب پاکستان کا وزیر خارجہ بنا تھا تو اس نے پاکستان کے دنیا بھر کے سفارتخانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کا اڈہ بنا دیا تھا۔ جس پر بیرونی دنیا میں یہ تاثر ابھرنے لگا تھا کہ شاید پاکستان قادیانی ریاست ہے۔ تب ظفر اللہ قادیانی آنجہانی کی اس حرکت کے ردعمل میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت چلی۔ جس کے نتیجہ میں امت کی بے پناہ قربانی کے بعد قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھ دیا گیا۔
صاحبزادہ رشید احمد پر ناجائز مقدمہ سے اندازہ ہوا کہ جناب عبدالرحمن ملک وفاقی وزیر داخلہ پاکستان کے وجود میں (خدا نہ کرے، معاذ اللہ) ظفر اللہ قادیانی کی روح حلول کر آئی ہے۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے جہاں بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ وہاں عقل دشمنی کی بھی انتہاء۔
جس ملک کی نیشنل اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اس وقت جب کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا جو جماعت حکمران تھی، آج بھی وہی جماعت حکمران ہے۔ ان کے عہد اقتدار میں قادیانیوں کے کنونشن میں پاکستانیوں کو شرکت کے دعوت نامے پاکستان کا سفارت خانہ ارسال کرتا ہے۔ کیا یہ سفارت خانہ پاکستان کا ہے یا قادیانی جماعت کا؟ جو آفیسر پاکستان کے خزانہ سے آب و دانہ کھا کر قادیانیت کے نقارچی کا کردار کرتا ہے۔ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تم کیا کر رہے ہو؟
پاکستان کے قانون، قومی اسمبلی، سینٹ آف پاکستان، سپریم کورٹ آف پاکستان کے وہ فیصلے جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا گیا۔ جو شخص ان کو سبوتاژ کرتا ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ اس کی ہم کیا تاویل کریں؟ کیا سمجھیں کہ وزارت خارجہ قادیانیوں کی آماجگاہ بن گئی ہے یا یہ کہ وہ پاکستان میں ایک طے شدہ مسئلہ کو پھر متنازعہ بنانا چاہتی ہے؟ اگر ایسے ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ انہیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مسئلہ ختم نبوت کو متنازعہ بنانے والوں کا یہ جرم قبروں میں بھی انہیں سکون سے نہیں رہنے دے گا۔ بقول آغا شورش کاشمیری جن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لوگوں نے رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ کو نظر انداز کیا۔ وہ خود ”قصہ پارینہ“ بن گئے۔ عمر بھر وہ روح کے سرطان میں مبتلا رہے۔ ان کے اس جرم نے ان کا سکون برباد کر دیا۔ جو افسران اس طرح کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ سخت غلط فہمی میں مبتلاء ہیں۔ لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو بدنام کرنے اور اسے مزید گھمبیر مسائل میں مبتلاء کرنے کے لئے وہ ملک دشمن طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کا قانون کہتا ہے قادیانی غیر مسلم ہیں۔ سفارت خانہ اپنے دعوت نامہ میں انہیں ”احمدیہ مسلم جماعت“ لکھتا ہے۔ یہ جنون کی انتہاء ہے یا عقل دشمنی؟ یہ اہلکار قادیانیت نوازی میں اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ اسے پاکستان کے قانون کو پامال کرنے میں بھی کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ اس کا یہ اقدام کسی خطرناک اور گھناؤنی سازش کی غمازی کرتا ہے۔ مان لیا کہ جناب عبدالرحمن ملک صاحب کے جناب الطاف حسین سے بہت گہرے مراسم ہیں۔ لیکن کیا قادیانیت نوازی میں یہ ایک دوسرے کے حلیف بھی بن گئے ہیں؟ عبدالرحمن ملک کا وفاقی وزیر داخلہ بننا پاکستان کے وقار کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے اور لاہور پولیس کے اس متعلقہ اہلکار کا قادیانیوں کی سپورٹ کرنا ایک انتہائی مذموم حرکت ہے۔
سفارت خانہ کے جس شخص نے قادیانیوں کو مسلمان کہا اس پر ۲۹۸-سی کے تحت پرچہ درج کیا جائے۔ اسے ملازمت سے بیک بینی و دو گوش برطرف کیا جائے اور اسے قانون کے سپرد کیا جائے۔ کیا وفاقی سیکرٹری خارجہ اپنی ذمہ داری پوری فرمائیں گے۔ امید ہے کہ اس پر ضابطہ کی کارروائی سے ممنون فرمایا جائے گا۔
وزارت خارجہ کا قلمدان محترمہ حنا ربانی صاحبہ کے پاس ہے۔ وہ خاتون ہونے کے ناطہ سے بہت ہی قابل احترام ہیں۔ لیکن ان کے زیر سایہ بیرون ملک کیا کیا گل کھلائے جارہے ہیں۔ اس پر توجہ فرمائی جائے۔ قادیانیت نوازی قطعا نا قابل برداشت ہے۔ ہم وفاقی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سے درخواست کرتے ہیں کہ لاہور کے جس اہلکار نے پرچہ درج کر کے قادیانیت نوازی کا ثبوت دیا۔ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ کیا وفاقی سیکرٹری داخلہ اس پر توجہ فرمائیں گے۔
اس صورتحال کے معلوم ہوتے ہی مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا محمد طیب اور دوسرے اسلام آباد کے حضرات علماء کرام نے ۱۰/ دسمبر ۲۰۱۲ء کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب، مولانا عطاء الرحمن صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب حیدری دامت برکاتہم سے ملاقات کی۔ ۱۱/ دسمبر ۲۰۱۲ء کی شام کو ہی قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے والا تھا۔ چنانچہ قومی اسمبلی میں سفارت خانہ کی قادیانیت نوازی پر مولانا عطاء الرحمن صاحب نے آواز بلند کی۔ روزنامہ اسلام ۱۲/ دسمبر ۲۰۱۲ء کی خبر ملاحظہ ہو۔
قومی اسمبلی قادیانیوں کو مسلم قرار دینے پر پاکستانی سفارتخانے سے باز پرس کا مطالبہ :
۱۱/ دسمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پیش کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ:
”وزارت خارجہ سیکولر بن چکی ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکا میں گستاخانہ فلم کے خلاف ہمارے سفارتخانے نے اسلام کے بارے میں اصل حقائق واضح کرنے کے نام پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں قادیانیوں کو مسلم قرار دیا گیا جو آئین کے مطابق غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ کینیڈا میں قائم پاکستانی سفارتخانے سے باز پرس کی جائے کہ قادیانیوں کو مسلم قرار دینے کی کوشش کیوں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملہ پر توجہ نہ دی گئی تو ہم اس معاملے کو عوام میں اٹھائیں گے۔ اس پر سید نوید قمر نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ قادیانی یا احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ تمام حکومتی ادارے آئین کے پابند ہیں۔ ہم تحقیق کریں گے اصل حقائق کیا ہیں؟ حکومت اس معاملہ میں بہت واضح مؤقف رکھتی ہے۔“
(روزنامہ اسلام ملتان ۱۲/ دسمبر ۲۰۱۲ء ، ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۳ء ص ۳ تا ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ۲۰۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گستاخ رسول ڈاکٹر کی حمایت میں این جی اوز مافیا میدان میں آگئی
رمشا مسیح کیس میں متحرک امریکی سفارت خانے کا اہلکار بھی حمایت کر رہا ہے، مقدمہ کو خاندانی تنازعہ قرار دینے کی کوششیں
شروع، ڈی ایس پی اشرف شاہ مقدمے کے اندراج میں ٹال مٹول کرتا رہا، دینی حلقوں کے شدید احتجاج پر ایف آئی آر درج ہوئی، امریکا
پلٹ ڈاکٹر افتخار شیخ کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا
توہین رسالت کے ملزم امریکا پلٹ ڈاکٹر افتخار شیخ کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ مگر پولیس افسران ابھی تک ملزم کو تحفظ دینے اور سہولت فراہم کرنے پر بضد ہیں، جب کہ گستاخ رسول ڈاکٹر افتخار کی حمایت میں بعض این جی اوز بھی میدان میں آ گئی ہیں۔ مقدمہ کو خاندانی تنازع کی شکل دینے کے لئے بعض میڈیا پرسنز بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر افتخار شیخ جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امریکی ادارے "SUNY" سے نہ صرف پی ایچ ڈی ہے، بلکہ وہاں سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ بھی ہے اور امریکا کی ایسوسی ایشن آف ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کا صدر ہے۔ اس کے سگے بڑے بھائی شیخ عبدالرشاد اور اس کے بیٹے شیخ عثمان الرشاد نے دسمبر کے پہلے ہفتے میں علماء سے رابطہ کیا اور بتایا کہ شیخ عبدالرشاد کے بھائی ڈاکٹر شیخ افتخار نے ۷ کے قریب کتب تحریر کی ہیں، جن میں بعض کتب میں اس نے توہین آمیز عقائد کا اظہار بھی کیا ہے اور وہ نماز کی فرضیت، حدیث، یہاں تک کہ (نعوذ باللہ) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے معصوم ہونے کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ لہٰذا اس کے بارے میں رائے دی جائے، اس پر علماء نے پولیس سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا، جس پر شیخ عبدالرشاد کے صاحبزادے اور ملزم کے بھتیجے شیخ عثمان نے ۲۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو اسلام آباد کے تھانے آئی-۹ (انڈسٹریل ایریا) میں مقدمے کے اندراج کے لئے درخواست دائر کی، مگر پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا، جس پر شیخ عثمان نے علماء مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے علاوہ آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا، جنہوں نے اسی دن ۲۴ دسمبر کو اندراج مقدمہ کا حکم دے دیا، مگر اس کے باوجود متعلقہ تھانہ ڈی ایس پی اشرف شاہ مقدمے میں رکاوٹ بنا رہا۔
اطلاعات کے مطابق چار روز قبل شیخ عثمان نے ڈی ایس پی کے رویئے سے مایوس ہو کر علماء سے رابطہ کیا، جس پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عبدالوحید قاسمی کی قیادت میں ڈی ایس پی کے پاس گئے، جس نے انہیں ظہر سے لے کر رات گیارہ بجے تک بٹھائے رکھا اور کہا کہ یاد رکھو میرا نام اشرف شاہ ہے، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ مولانا عبدالوحید قاسمی کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ مرتبہ دہرایا کہ میرا نام اشرف شاہ ہے، یاد کر لو جس پر علماء نے اسے کہا کہ ہم تمہارا نام یاد کرنے نہیں پرچہ درج کروانے آئے ہیں۔ کافی بحث کے بعد اس نے انہیں اگلے روز آنے کے لئے کہہ دیا۔ اگلے روز پھر یہی تماشا کیا گیا کہ علماء کو ظہر کے وقت بلوا کر رات کے گیارہ بجے ملاقات کی اور کہا کہ اصل کتب اگر ابھی لے آؤ تو ابھی مقدمہ درج کر لیتا ہوں۔ علماء نے اصل کتب کسی جگہ محفوظ کر رکھی تھیں، کیونکہ ملزم نے اپنے بھتیجے کے خلاف اسی تھانے میں مقدمہ درج کرا دیا تھا کہ وہ اس کے گھر سے کتابیں چرا کر لے گیا ہے اور خطرہ تھا کہ پولیس یہ کتابیں ہی غائب نہ کر دے، جس پر کتابوں کا ایک ایک نسخہ محفوظ جگہ رکھا گیا تھا، جو وعدے کے مطابق اگلے روز ڈی ایس پی کو پیش کر دیا گیا اور ڈی ایس پی کی موجودگی میں تین وکلاء فضل الرحمٰن نیازی، احمد فواد بھٹی اور قاسم نواز نے متنازعہ عبارات والے صفحات کو اسکین کیا اور کتاب کے اصل صفحات پر دستخط کر کے کتب حوالے کر دیں۔ اس پر اشرف شاہ نے کہا کہ کل پرچہ درج ہو جائے گا۔ مگر اگلے روز ہفتے کو بھی پرچہ درج کرنے کے بجائے نہ صرف وہ ٹال مٹول کرتا رہا بلکہ کتب دینے سے بھی انکار کر دیا، جس پر علماء نے رات بارہ بجے تھانے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے باہر دھرنا دینا شروع کر دیا اور طلباء کو بلوایا گیا۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے کتب حوالے کی گئیں تو علماء یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بعض قابل اعتراض عبارت والے صفحات کتابوں میں سے پھاڑ کر الگ کر دیئے گئے تھے۔ جس پر تلخی بھی ہوئی اور صفحات دوبارہ اپنی جگہ چسپاں کر کے پولیس کے دستخط کر دیئے گئے۔
مولانا عبدالوحید قاسمی نے امت کو بتایا کہ علماء اور مدعی حضرات پولیس کے رویے سے عاجز آ چکے تھے، لہٰذا اتوار کے روز دوپہر دو بجے بعد نماز ظہر اسلام آباد کے نائنتھ ایونیو کو بلاک کر دیا، جس پر پولیس نے ڈاکٹر افتخار کو گرفتار کر لیا، مگر پرچہ درج کرنے کے بجائے جھوٹی تسلیوں پر جلوس منتشر کرانے کی کوشش کی گئی، جس پر علماء نے مطالبہ کیا کہ جب تک پولیس ایف آئی آر درج کر کے اسے چوک میں نہیں لائے گی، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ اس پر عشاء کے وقت جا کر ایف آئی آر درج کر کے کاپی حوالے کی گئی، تاہم علماء نے جب ملزم کو دیکھنے پر اصرار کیا تو پولیس نے اسے ایس پی آفس کے ایک کمرے میں اطمینان سے بٹھا رکھا تھا۔
تاہم گزشتہ روز پیر کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کا ریمانڈ تو حاصل کر لیا ہے، مگر مدعی اور علماء کو اب بھی اس امر کا یقین نہیں کہ ملزم کی حمایت میں آخری حد تک جا کر دھمکیاں دینے والے ڈی ایس پی اشرف شاہ کی موجودگی میں تفتیش کا عمل منصفانہ ہو سکے گا۔
دوسری جانب گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے وقت میڈیا کے ایک مخصوص طبقے نے یہ سوال بھی اٹھانے کی کوشش کی کہ ملزم اور مدعی کے درمیان خاندانی تنازع ہے، جس پر مدعی مقدمہ شیخ عثمان نے واضح کیا کہ ان کے اور ان کے چچا کے درمیان کوئی کاروباری تنازعہ نہیں ہے اور ویسے بھی ثبوت کتابوں میں شائع شدہ موجود ہیں۔ ایسے میں کسی سازش کا کیا احتمال رہ جاتا ہے، تاہم ماضی میں توہین رسالت کے ملزموں کی حمایت میں متحرک کردار ادا کرنے والی بعض این جی اوز اور مخصوص مولوی بھی گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں متحرک دکھائی دیئے، جہاں امریکی سفارت خانے کا ایک اہلکار جو رمشا مسیح کیس میں بھی متحرک تھا، پایا گیا۔
خطرہ ہے کہ اس کیس کو بھی این جی اوز کی کمائی کا ذریعہ بنا دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایک اعلیٰ پولیس افسر نے امت کو بتایا کہ پولیس کو الزام دینا درست نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے واضح احکام موجود ہیں کہ توہین رسالت کا کوئی کیس درج نہ کیا جائے اور اگر مقدمہ درج کرنا مجبوری ہو تو چالان تک نوبت نہیں آنی چاہئے۔
دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات کے حوالے سے پولیس فورسز کے تین اعلیٰ افسران جو ریاست کے بجائے قادیانی خلیفہ سے وفاداری کا علی الاعلان اظہار کرتے ہیں، وہ بھی متحرک ہیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔
(روزنامہ امت کراچی، مؤرخہ ۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۲ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۳ء ص ۲۵، ۲۶)
قادیانی لابی نے سازش کے تحت پاکستانی سفارتخانہ استعمال کیا
کینیڈا میں گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف پروگرام میں قادیانیت کے فروغ کے لئے لٹریچر تقسیم کیا گیا، مسلمانوں کو حضور اکرم ﷺ کی فضیلت بیان کرنے کا دھوکا دے کر دعوت دی گئی: مولانا عطاء الرحمن!
پاکستان کے باخبر مذہبی اور دینی حلقوں میں اس خبر نے شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ کینیڈا میں پاکستان کا سفارت خانہ قادیانیوں کے مقاصد اور قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال ہو رہا ہے دینی حلقے وزارت خارجہ کی اس وضاحت پر ابھی انگشت بدنداں تھے جس میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سیکولر امیج
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی ترجمانی کرتی ہے۔ اب قادیانی لابی کی جانب سے سازش کے تحت کینیڈا کے پاکستانی سفارت خانے میں خود کو مسلمان ظاہر کر کے ایک تقریب کے انعقاد کی اطلاعات سامنے آگئیں۔ کینیڈا میں پاکستان کے سفارت خانے نے مبینہ طور پر اسلام دشمن امریکی فلم کے تناظر میں نبی آخر الزماں ﷺ کی زندگی کے بارے میں ’’اصل حقائق‘‘ بیان کرنے کے لئے قادیانیوں کی مدد حاصل کی اور اس پروگرام میں شرکت کے لئے سفارت خانے سے مسلمانوں کو ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے دعوت دی گئی۔ سفارت خانے کی جانب سے دعوت ملنے پر مسلمان خاص طور پر پاکستانی مسلمان دھوکے میں آگئے اور ان کی ایک بڑی تعداد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ ۲۰؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو ہونے والے اس پروگرام کا اصل مقصد قادیانیت کی تبلیغ اور سادہ لوح مسلمانوں کو نبی آخر الزماں ﷺ کی نسبت سے دعوت دے کر دراصل اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار قادیانی جن کو ایک طویل اور ایمان افروز جدوجہد کے بعد حکومت پاکستان نے کئی دہائی قبل متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اور ان پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ وہ مسلمانوں کے شعائر میں سے کوئی بھی شناخت استعمال نہیں کر سکتے اور نہ اپنے آپ کو مسلمان کہلوا سکتے ہیں۔ کینیڈا کے پاکستانی سفارت خانے کے دعوت نامے میں انہیں ’’احمدیہ مسلم جماعت‘‘ کے رکن تحریر کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سفارت خانے کی معاونت سے ہونے والے اس کنونشن میں اس وقت گڑبڑ ہو گئی جب کچھ لوگ اس پروگرام کے پس پردہ مقاصد کی تہہ تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس پر احتجاج بھی کیا۔ لیکن یہ کنونشن جن میں اکثریت قادیانی غیر مسلموں کی تھی، مسلمانوں کے احتجاج کے سبب کچھ تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ نبی آخر الزماں ﷺ کی شانِ اقدس کے نام پر دیئے گئے دعوت ناموں کی وساطت سے منعقد کئے گئے پروگرام کے آخر میں قادیانی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا عطاء الرحمن جنہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی یہ واقعہ اٹھایا اور اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے امت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایوان میں وعدہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرائے گی اور ایوان کو اس سے آگاہ کرے گی، اس لئے ہم چند دن ان تحقیقات کا انتظار کریں گے اور اگر واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی اور حقائق سے آگاہ نہ کیا گیا تو ہم انتہائی قدم اٹھائیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ہم یہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارا سفارت خانہ قادیانیت کی تبلیغ اور فروغ کے لئے استعمال ہو اور اس سے بھی بڑھ کر انتہائی قابلِ مذمت اقدام یہ ہوا کہ مسلمانوں کو حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس کے حوالے سے اور ان کی فضیلت بیان کرنے کا دھوکا دے کر دعوت دی گئی۔ رکن قومی اسمبلی مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ہم یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ ایسا نادانستگی میں ہوا ہو گا، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مغرب کے پروردہ کچھ عناصر ہماری بیوروکریسی میں موجود ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جو اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد نے بھی اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے، مجلس کے مرکزی رہنما مولانا محمد طیب نے امت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی لابی نے ایک سازش کے ذریعے کینیڈا میں پاکستان کے سفارت خانے کو استعمال کیا، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اگر حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف فوری طور پر مؤثر کارروائی نہ کی تو مجلس تحفظ ختم نبوت بھر پور احتجاج کرے گی۔
(روزنامہ امت کراچی، مورخہ ۱۳؍ دسمبر ۲۰۱۲ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۳ء ص۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سردار قیصر وسیم خان قیصرانی نے قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا
سردار قیصر وسیم خان قیصرانی تحصیل تونسہ شریف کی قوم قیصرانی بلوچ کی چیف فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس گھرانے کا ایک صدی سے پہلے ہی قادیانی گروہ سے تعلق چلا آ رہا ہے۔ اس گھرانے کی ہمارے علاقے میں ایک لمبی داستان ہے۔ مختصر یہ ہے کہ سردار قیصر وسیم خان قیصرانی انتیس جنوری ۲۰۱۲ء کو شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سامنے مسلمان ہونے والے مشہور بیرسٹر سردار امام بخش قیصرانی کے چچا زاد بھائی ہیں۔ موجودہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار شیر علی گورچانی کے کزن ہیں۔ حلقہ ۲۴۰ میں کامیاب ہونے والی مسلم لیگی ایم پی اے محترمہ شمعونہ عنبرین قیصرانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ سردار قیصر وسیم خان قیصرانی عرصہ تین سال سے ہی عالمی مجلس ختم نبوت کے ذمہ داران اور مقامی علماء کرام سے رابطے میں چلے آ رہے ہیں۔ ۱۲؍ستمبر ۲۰۱۱ء کو ملتان کے مرکزی دفتر ختم نبوت میں مولانا اللہ وسایا سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مولانا اللہ وسایا نے سردار صاحب کو اڑھائی گھنٹے قادیانیت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس بریفنگ کی مکمل آڈیو تیار کی گئی جس کی تمام کارروائی ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۲ء تا مئی ۲۰۱۲ء تک چار قسطوں میں چھپ چکی ہے بلکہ اب یہ مولانا اللہ وسایا کی مشہور کتاب ”قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے“ ص۲۷۵ تا ۲۹۶ پر شائع ہوچکی ہے۔ اسی عرصہ میں سردار صاحب، مولانا عبدالعزیز لاشاری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تونسہ شریف سے ملتے رہے۔ خود مولانا عبدالعزیز لاشاری بھی سردار صاحب سے رابطے میں رہے۔ علماء اولیاء سردار قیصر وسیم خان قیصرانی کی ہدایت کے لئے دعائیں کرتے رہے۔
سردار صاحب نے اسی سال عید قربانی کے موقع پر اظہار کیا کہ اب میں مسلمان ہونے کا اعلان کرنا چاہتا ہوں مگر طے ہوا کہ مولانا امان اللہ کوٹ قیصرانی والے حج پر گئے ہوئے ہیں۔ ان کی واپسی پر ہی شیڈول تیار کیا جائے گا۔ سردار قیصر وسیم خان قیصرانی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زمین دار پیشہ آدمی ہیں۔ اپنی قوم اور علاقہ میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ ان کے دل میں قادیانیت کے بارے میں زمانہ طالب علمی سے ہی شبہات موجود تھے۔ اللہ پاک نے انہیں رشتہ داری کے حوالے سے گورچانی خاندان سے جوڑا۔ گورچانی خاندان سیاست شرافت کے لحاظ سے اپنے علاقہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ان سے رشتہ کے تعلق نے قادیانیت سے نفرت کا مادہ پیدا کر دیا۔
۱۲؍ستمبر ۲۰۱۱ء کو مولانا اللہ وسایا کی بریفنگ نے سردار صاحب کے دل میں جتنے شبہات تھے ان کے متعلق سمجھا دیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے سردار صاحب کو ردّ قادیانیت کے بارے میں کافی کتابیں دی گئیں تا کہ ان کے دل میں مکمل قادیانیت سے نفرت پیدا ہو جائے۔ اس محنت اور تبلیغ کا یہ رزلٹ آیا کہ آج مورخہ ۲۰۱۳۔۱۱۔۲۹ جمعۃ المبارک کا دن سردار صاحب کے لئے مبارک بن کر آیا کہ انہوں نے قادیانیت چھوڑ کر مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔
مرکزی عید گاہ رتیڑہ میں مولانا عبدالرحمٰن غفاری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازیخان، مولانا عبدالعزیز لاشاری، تونسہ مولانا محمد اقبال مبلغ ختم نبوت، مولانا قاری جمال عبدالناصر صاحب، مولانا امان اللہ صاحب، مولانا عبدالغفور گرمانی، قاری محمد رمضان رتیڑہ، قاری محمد اسلم، قاری عنایت اللہ ملکانی، قاری کامل مسعود صاحب، مولانا ابوبکر تونسوی، مولانا غلام اکبر ثاقب، مفتی عبدالرحمٰن خالد، مولانا عبدالطیف بلوچ، مولانا غلام مصطفیٰ اشعری، قاری اللہ وسایا شادن لنڈ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کی پوری قیادت شامل تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان سردار قیصر وسیم خان قیصرانی کا قادیانیت چھوڑ کر مسلمان ہونے پر خیر مقدم کرتی ہے۔ دعاء ہے اللہ پاک سردار صاحب کو عقیدہ ختم نبوت پر قائم اور حضور پاک ﷺ کی غلامی میں رکھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیان حلفی:
منکہ مسمی قیصر وسیم خان قیصرانی ولد سردار وسیم خان قیصرانی سکنہ کوٹ قیصرانی تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازیخان شناختی کارڈ نمبر 32103-8288197-5 خداوند قدوس کو حاضر و ناظر مانتے ہوئے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ سکنہ قادیان ضلع گورداسپور انڈیا کو دعویٰ نبوت میں دجال و کذاب ، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔ نیز مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا مذہبی مصلح ماننے والے قادیانی اور لاہوری گروپوں جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔ نیز میرا مسلمانوں کی طرح عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ۔ حضور پاک ﷺ کی حدیث کے مطابق قرب قیامت نازل ہوں گے ۔ آئندہ میرا ان قادیانیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا ۔ اللہ پاک مجھے دین اسلام اور عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر استقامت عطاء فرمائے ۔ دستخط : سردار قیصر وسیم خان قیصرانی !
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۲ء ص ۵۶، ۵۵)
چنگا بنگیال میں قادیانیوں کا قبول اسلام
جہلم سے پنڈی جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر ایک قصبہ گجر خان آتا ہے ۔ اس سے شمال کی جانب ایک گاؤں چنگا بنگیال نام کا ہے ۔ یہاں کا ایک شخص فضل احمد ، مرزا قادیانی کے ہاتھ پر قادیانی ہوا ۔ مرزا محمود کے زمانہ میں یہ فضل احمد اخبار الفضل قادیان کا ایڈیٹر بھی رہا ۔ چنگا بنگیال کی آبادی میں چند ڈھوک ہیں ۔ ان میں پچیس گھرانے قادیانیوں کے تھے ۔ ۸؍ جنوری ۲۰۰۴ء میں فقیر کا ایک قادیانی مربی سعید سے یہاں مناظرہ ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کا معاملہ فرمایا ۔ گاہے بگاہے بہت سے گھرانے مسلمان ہوئے ۔ اس مناظرہ کے لئے فقیر (مولانا اللہ وسایا) کو جناب محمد آصف پروفیسر لے گئے ۔ ان کا خاندان بھی قادیانی تھا ۔ کئی گھرانے مسلمان ہوئے ۔ اب ایک شخص محمود قادیانی تھا بیمار ہوا ، اپنے چار صاحبزادوں کو بلایا اور کہا کہ بیٹا تم بھی قادیانی ہو ۔ میں بھی بظاہر قادیانی تھا ۔ اب میری موت کا وقت قریب ہے ۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں ۔ کوئی قادیانی میرے جنازہ میں آپ لوگوں سمیت شریک نہ ہو ۔ مرنے کے بعد مجھے مسلمانوں کے سپرد کر دینا ۔ وہ مجھے غسل دیں ۔ جنازہ پڑھیں اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں ۔ میں عرصہ سے قادیانیت پر لعنت بھیج چکا ۔ یہ معاملہ میرے اور میرے رب کے درمیان راز تھا ۔ آج اعلان ضروری سمجھا ۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ محمود صاحب کے تمام بیٹوں نے اسی وقت باپ کے سامنے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ سب ختم نبوت کی بہاریں ہیں ۔ اگر یہاں پچیس گھرانے قادیانی تھے ۔ تو اب صرف چند گھرانے قادیانی رہ گئے ہوں گے ۔ باقی سب مسلمان ہو گئے ۔ فالحمد لله !
چھوکر خورد ضلع گجرات
چھوکر خورد ضلع گجرات میں ایک شخص قادیانی ہوا تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام فضل الٰہی تھا ۔ اس کا بیٹا غلام عباس اور وہ اس کی تمام اولاد مسلمان ہوگئی ۔ اوّلاً جو شخص قادیانی ہوا اس کے پوتے اب دینی مدارس چھوکر خورد اور جامعہ حسینیہ نگودر ضلع جہلم میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو عالم باعمل بنائیں ۔ اس چھوکر خورد میں ایک اور شخص فیض رسول نمبردار قادیانی ہوا ۔ اس کا بیٹا غلام رسول نمبردار قادیانی تھا ۔ (مولانا اللہ وسایا کا اس سے ۴؍ فروری ۱۹۹۸ء کو مناظرہ ہوا) یہ چار بھائی دو بہنیں ان کے داماد سب قادیانی تھے ۔ آہستہ آہستہ کر کے تمام قادیانی چھوکر خورد چھوڑ گئے ۔ ان کی زمین و مکان موجود ، لیکن قادیانی قادیانیت سمیت اس گاؤں سے غائب ۔ گویا پورا گاؤں قادیانیت کی نحوست سے صاف ہو گیا ۔ کچھ مسلمان ہو گئے ۔ کچھ گاؤں چھوڑ گئے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیارہ قادیانیوں نے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا
جہلم کے مضافات میں واقع محمود آباد نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں پر مشتمل گیارہ افراد نے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ قادیانیت سے تائب ہونے والے ان افراد میں سے مرد حضرات نے مسجد گنبد والی میں مولانا مفتی محمد شریف صاحب کے ہاتھ پر کلمہ پڑھا۔ جب کہ خواتین کو حضرت مفتی صاحب نے قاری محمد عمر فاروق صاحب کے ہمراہ ان کے گھر جاکر کلمہ پڑھایا اور دعاء فرمائی کہ رب تعالیٰ آپ کا قبول اسلام مبارک فرمائے اور آپ کو اس پر استقامت عطاء فرمائے۔ جہلم کے قریب محمود آباد ہے۔ خالصتاً قادیانی آبادی۔ عرصہ ہوا ایک پروفیسر منور احمد ان کے بھائی جو قادیانی جماعت کے مربی تھے مسلمان ہوئے۔ انہوں نے جامعہ حنفیہ جہلم کو مسجد کے لئے جگہ دی۔ جامعہ کے مہتمم مولانا قاری حبیب احمد صاحب مرحوم نے وہاں مسجد و مدرسہ قائم کیا۔ یہ مرکز جہاں دینی تعلیم کی ترویج کا باعث ہے وہاں قادیانیوں کے لئے آیۃً من آیات اللہ ہے۔
انڈونیشیا میں ایک سو چونسٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام
انڈونیشیا میں ایک سو چونسٹھ قادیانیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور کے ہیڈ آفس کے ایک اعلامیہ کے مطابق انڈونیشیا کے شہر ”سرولینگن“ "SAROLANGUN" کے تمام قادیانیوں نے قادیانیت کو ترک کرکے اسلام قبول کرلیا ہے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لانے کا اعلان اور قادیانی تعلیمات کو ترک کرنے کا برملا اظہار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ قادیانیوں کے قبول اسلام کے پس منظر میں انڈونیشیا کی علماء کونسل اور تحفظ ختم نبوت کی عظیم جدوجہد کارفرما رہی ہے۔ الحمد للہ ! تحفظ ختم نبوت کی صدا سے پوری دنیا میں قادیانیوں کا کفر و ارتداد عیاں ہو رہا ہے اور اسلام کی حقانیت کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔
خوشاب شہر میں ایک قادیانی خاندان کے گھرانے کا قبول اسلام
عبدالمجید ولد عبدالحکیم قوم رانا ماچھی سکنہ محلہ حکیمانوالہ چوک خوشاب اور اس کی بیٹی مسماۃ زیب النساء مع اپنے تین بیٹوں کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع خوشاب کے سرپرست مولانا قاری سعید احمد اسد کے ہاتھوں پر بروز جمعۃ المبارک ۱۹؍اگست ۲۰۱۱ء کو اسلام قبول کرلیا۔
پیلو وینس میں قادیانیوں کا قبول اسلام
ضلع خوشاب کی تحصیل نور پور تھل کے گاؤں پیلو وینس میں ایک عرصہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی میں محنت شروع ہے۔ قادیانیوں کے پاس جاکر ان کے آنجہانی نبی مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے کفر سے آگاہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک الحمد للہ مندرجہ ذیل حضرات قادیانیت سے تائب ہو کر ختم نبوت پر مکمل طور پر ایمان لا چکے ہیں۔ جن خوش نصیبوں نے مرزائیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا۔ ان کے نام یہ ہے: (۱) علی کھبہ سابق صدر جماعت احمدیہ پیلو وینس ۔ (۲) محترم پٹواری لیاقت علی کھبہ ، سابق سیکرٹری مال جماعت احمدیہ پیلو وینس ۔ (۳) طارق اقبال کھبہ ، رکن جماعت ۔ (۴) نور حیات کھبہ ۔ (۵) محترم غضنفر علی کھبہ کی زوجہ محترمہ۔ (۶) اقبال کھبہ ، رکن جماعت ۔ (۷) ریاست علی کھبہ کی صاحبزادی ۔ چھوٹے بچے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی طرح ۷؍فروری ۲۰۱۲ء کو ظفر علی اور طارق علی نامی اشخاص نے قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا اور کلمۂ حق کے ساتھ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ الحمد للہ !
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دنیا پور میں قادیانی کا قبول اسلام
جامعہ سیدنا علی المرتضیٰ اسلام پور میں علمائے کرام اور صحافیوں اور معززین علاقہ کی موجودگی میں محمد جعفر وٹو نامی ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا۔ محمد جعفر کا کہنا ہے کہ میرا جو وقت کفر میں گزرا ہے میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ حضرات میرے لئے استقامت کی دعاء کریں اور میں قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتا ہوں اور میں مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتا ہوں۔ سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی ورسول مانتا ہوں۔
سرائے نورنگ اور پشاور میں قادیانیوں کا قبول اسلام
خوست افغانستان کا ایک باسی عبداللطیف حج کے لئے گھر سے چلا۔ بد نصیبی کہ بجائے حج پر جانے کے قادیان چلا گیا۔ مرزا قادیانی کے ہاتھوں قادیانیت کا طوق پہن کر افغانستان گیا۔ وہاں جا کر مرزا قادیانی کی تعلیمات کے مطابق انگریز کی حمایت اور جہاد مخالفت کا دھندہ شروع کر دیا۔ حکومت کو پتہ چلا تو علماء کے پاس کیس آیا۔ چنانچہ خان حبیب اللہ صاحب والیٔ افغانستان کے عہد حکومت میں ۱۴؍جولائی ۱۹۰۳ء میں عبداللطیف قادیانی کو سنگسار کیا گیا۔ اس کا خاندان افغانستان سے پشاور آگیا اور پھر سرائے نورنگ میں آکر آباد ہوا۔ یہ خاندان اب مستقل قبیلہ بن گیا۔ جن کا تعلق قادیانیت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ اب یہ قبیلہ اسلام قبول کر رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں : (۱) جناب نصیر احمد ، (۲) جناب مبشر، (۳) جناب ابرار، (۴) جناب عامر، (۵) جناب ضیاء الحسن، (۶) جناب روح الدین، (۷) جناب یحییٰ، ساکنان سرائے نورنگ نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ مقامی علمائے کرام کی محنت وجدوجہد جاری ہے۔ توقع ہے کہ بہت خوشخبریاں ملیں گی۔ آج ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۲ء رات گئے جامع مسجد پایان یونیورسٹی روڈ پشاور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد کے سربراہ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے خطاب کے دوران ایک قادیانی خاندان نے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ اس سے قبل بھی پشاور اور اس کے گردونواح میں کئی قادیانی گھرانے اسلام قبول کرچکے ہیں۔ حیات آباد پشاور میں شیریں محل سویٹ ہاؤس وبیکری ہے جس کا مالک شیر افضل ولد عبدالمجید اور اس کے بیٹے مصطفیٰ وعبداللہ قادیانی تھے۔ جب کہ اس کے دو بیٹے بلال وعبدالعزیز خود کو مسلمان کہتے تھے۔ یوں اس قادیانی گھرانہ کے پانچ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔
سرائے نورنگ میں چھتیس قادیانیوں کا قبول اسلام
۲۸؍ اپریل ۲۰۱۲ء کو مولانا محمد اکرم طوفانی سرائے نورنگ تشریف لائے۔ شہر کی جامع مسجد پنج پیر میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ جس میں علماء، طلباء اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس کے بعد طوفانی صاحب نومسلم بھائیوں کی ملاقات کے لئے ان کے گاؤں تشریف لے گئے۔ نومسلم بھائیوں نے مہمان مکرم کی خوب خاطر تواضع کی اور نورانی اور خوشگوار ماحول میں نومسلم بھائیوں کے ساتھ وقت گزارا۔ قادیانیت پر لعنت بھیج کر رحمت عالم ﷺ کی دامن رحمت میں آنے والے نومسلم بہن بھائیوں کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: (۱) صاحبزادہ نصیر احمد (سربراہ خاندان) ، (۲) زوجہ نصیر احمد، (۳) صاحبزادہ فہد نصیر، (۴) صاحبزادہ ولید احمد، (۵) صاحبزادہ اسد، (۶) صاحبزادہ معید، (۷) دختر صاحبزادہ نصیر احمد، (۸) دختر صاحبزادہ نصیر احمد، (۹) صاحبزادہ ضیاء الحسن (سربراہ خاندان)، (۱۰) زوجہ صاحبزادہ ضیاء الحسن، (۱۱) والدہ صاحبزادہ ضیاء الحسن، (۱۲) صاحبزادہ مبشر احمد (سربراہ خاندان)، (۱۳) زوجہ مبشر احمد، (۱۴) صاحبزادہ اسامہ احمد، (۱۵) دختر مبشر احمد، (۱۶) دختر مبشر احمد، (۱۷) دختر مبشر احمد، (۱۸) دختر مبشر احمد، (۱۹) دختر مبشر احمد، (۲۰) صاحبزادہ عامر (سربراہ خاندان)، (۲۱) زوجہ صاحبزادہ عامر، (۲۲) دختر صاحبزادہ عامر، (۲۳) دختر صاحبزادہ عامر،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
(۲۴) صاحبزادہ روح الامین (سربراہ خاندان)، (۲۵) زوجہ روح الامین، (۲۶) صاحبزادہ محمد احمد، (۲۷) دختر روح الامین، (۲۸) صاحبزادہ محمد یحییٰ (سربراہ خاندان)، (۲۹) زوجہ صاحبزادہ محمد یحییٰ، (۳۰) دختر صاحبزادہ محمد یحییٰ، (۳۱) صاحبزادہ ابرار احمد (سربراہ خاندان)، (۳۲) زوجہ صاحبزادہ ابرار احمد، (۳۳) صاحبزادہ ابوبکر احمد، (۳۴) صاحبزادہ معاذ احمد، (۳۵) دختر صاحبزادہ ابرار، (۳۶) صاحبزادہ منور احمد (سربراہ خاندان)
گولارچی (سندھ) قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی کے رفقاء کرام کی محنت سے محمد اصغر ارائیں نے اپنے گھر کے ۱۹ افراد سمیت اسلام قبول کر لیا۔ محمد اصغر کے والدین قادیانی نے بدقسمتی سے قادیانیت قبول کر لی تھی، محمد اصغر اور اس کے خاندان نے قبول اسلام گولارچی جماعت کے امیر حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی مولانا محمد علی صدیقی مولوی مسرت کے ہاتھوں پر کیا۔
رتوچھہ میں چار خاندانوں کا قبول اسلام
رتوچھہ ضلع چکوال کی تحصیل چوآسیدن شاہ کا ایک مشہور گاؤں ہے جو کھیوڑہ روڈ پر واقع ہے۔ اس گاؤں میں تقریباً ۶۰ قادیانی گھر تھے۔ جن کا تعلق اعوان اور بھٹی برادری سے ہے۔ یہاں قادیانیوں کا ایک ارتدادی مرکز ہے۔ رتوچھہ میں یکم ربیع الاوّل کو ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ قادیانیوں نے اس پروگرام کو رکوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر ناکام رہے اور کانفرنس اپنی بھر پور شان وشوکت سے منعقد ہوئی۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر قرآن وحدیث سے مدلل اور اپنے تجربات کی روشنی میں پرمغز گفتگو کی۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان قادیانیوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق نصیب فرمائی، تائب ہونے والوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں: (۱) شوکت علی بھٹی۔ (۲) زوجہ شوکت اقبال۔ (۳) نعمان شوکت۔ (۴) شوکت اقبال کی تین بیٹیاں۔ (۵) ملک سرفراز احمد۔ (۶) زوجہ ملک سرفراز۔ (۷) بیٹی ملک سرفراز۔ (۸) ملک محمد نعمان دانش۔ (۹) زوجہ نعمان دانش۔ (۱۰) خالد محمود بھٹی۔ (۱۱) زوجہ خالد محمود بھٹی اور ان کی ایک چھوٹی بیٹی شامل ہیں۔ الحمد للہ !
تخت ہزارہ میں قادیانیوں کا قبول اسلام
تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں سات افراد پر مشتمل شوکت صاحب کی فیملی نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔
روڈہ ضلع خوشاب میں قادیانیوں کا قبول اسلام
۲۰؍ستمبر ۲۰۱۲ء کو روڈہ ضلع خوشاب جامعہ رحیمیہ کے صدر حافظ دلاور حسین کے ہاتھ پر شفقت حسین، محسن خان ولد شیر محمد ورک نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔
ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں قادیانیوں کا قبول اسلام
۲۰؍ستمبر ۲۰۱۲ء جامعہ مدنیہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے مہتمم مولانا ایوب خاں ثاقب کے ہاتھ پر قریبی گاؤں میانوالی بنگلہ کے آٹھ افراد اصغر علی ولد عنایت اللہ اپنے بیٹوں محمد عدیل، محمد عقیل، محمد نبیل اور اپنی بیوی اور تین بیٹیوں سمیت اسلام قبول کر لیا ہے۔
ان واقعات سے میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ قادیانیت ختم ہو گئی۔ تاہم اتنا تو کہے بغیر چارہ نہیں کہ قادیانیت اپنے خاتمہ کی طرف بڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہی ہے۔ قارئین! شاید کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کہیں نہ کہیں سے خوش کن خبر نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ اس محاذ کے تمام رفقاء کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۲۵، ۳۰)
امیر جماعت احمدیہ خوشاب کا قبول اسلام
۱۰ فروری ۲۰۱۲ء بروز جمعۃ المبارک کو ایک قادیانی (جماعت احمدیہ کے امیر) کے ڈیرہ پر سابق قادیانی اسکالر عرفان محمود برق اور مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اسلم، بھائی عبدالرزاق اور ریاست علی نمبردار کی گفتگو دو قادیانی مربیوں سے ہوئی، اس مجلس میں قادیانی بھی تھے اور مسلمان نوجوان بھی۔ مجلس میں ہونے والی گفتگو کے منصف بھی امیر جماعت احمدیہ کے بھائی لیاقت علی پٹواری تھے۔ گفتگو کی نشست رات تین بجے تک چلتی رہی۔ قادیانی مربی سوالات کا تشفی بخش جواب دینے سے عاجز رہے۔ مجلس برخاست ہونے سے پہلے منصف نے اعلان کیا کہ قادیانی مربی بالکل قادیانی عوام کو مطمئن نہیں کرسکے، لیکن میں نے تمام حوالہ جات کو نوٹ کرلیا ہے تحقیق کے بعد اگر حقانیت نے میرے دل میں گھر کرلیا تو میں پکا سچا مسلمان بنوں گا۔ اسی اثناء میں ظہر علی امیر جماعت احمدیہ نے دبے لفظوں میں کہا کہ میں نے صدق دل سے کلمہ پڑھ لیا ہے اور مسلمان ہوگیا ہوں۔ اس سے تمام مسلمان ساتھیوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اگلا سارا دن ایک دوسرے کو فون پر اور بالمشافہ بھی مبارک دیتے رہے، انہی دنوں میں والی بال کے کھلاڑیوں نے سابق قادیانی جناب ظہر علی کو اپنے ایک میچ کے لئے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا۔ جب ظہر علی میدان میں پہنچے تو کھلاڑیوں نے پُر جوش انداز میں ان کا استقبال کیا۔ فی الحقیقت یہ ثمرہ تھا اس محنت کا جو بھائی عبدالرزاق تنہاء ہونے کے باوجود اپنے علاقے میں شبانہ روز محنت کرتے رہے، کیونکہ انہوں نے ایک جمعہ کو مولانا عبداللہ احمد کو دعوت دی کہ حیات عیسیٰؑ پر گفتگو کریں، حضرت نے بہت ہی مدلل انداز میں حیات عیسیٰؑ کو بیان کیا، دوسرے جمعہ پر نزول عیسیٰؑ پر گفتگو ہوئی۔ تیسرے جمعہ پر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مہدی علیہ الرضوان اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے حالات تفصیلاً دلائل کے ساتھ بیان کئے، اگلے جمعہ کو عظیم اسکالر عرفان محمود برق نے قادیانیت پر بہت پُر مغز گفتگو کی۔ مسلسل اس ہونے والی محنت نے امیر جماعت احمدیہ کو سوچنے اور حقائق کی طرف لوٹنے پر مجبور کر دیا۔
۱۷ فروری ۲۰۱۲ء کو امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب مولانا اظہار الحسن نے بھی پیلو وینس کی جامع مسجد میں وعظ فرمایا، اس موقع پر ظہر علی نے مسجد میں باضابطہ مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ مولانا اظہار الحسن نے کلمہ شہادت پڑھایا اور اس کے سابقہ نام کو برقرار رکھا اس دورانئے میں ایک قادیانی طارق علی بھی مسلمان ہوا اور ایک عیسائی نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نو مسلم حضرات کو اسلام پر استقامت نصیب فرمائے، ہم سب کو آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع نصیب فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۴)
جہلم میں مزید سات افراد نے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا
گزشتہ دنوں جہلم کے نواحی گاؤں محمود آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے مزید سات افراد نے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ جب کہ چند ماہ قبل بھی اسی گاؤں کے گیارہ افراد بھی قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کیا تھا اور اس عظیم مقصد کے لئے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم میں ایک پُر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مقامی علمائے کرام طلباء اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جامعہ ہذا کے رئیس دارالافتاء مولانا مفتی محمد شریف عابد نے عوام کے اس جم غفیر میں ان نو مسلموں کو کلمہ پڑھایا اور دائرہ اسلام میں داخل کیا جس پر تقریب کے شرکاء نے فلک شگاف نعروں کی گونج میں اپنے ان نو مسلم بھائیوں کا دین اسلام میں شمولیت پر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر مہتمم جامعہ مولانا قاری محمد ابو بکر صدیق نے اپنے خطاب میں اسلام قبول کرنے والے نومسلم بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں ہر طرح سے اپنی حمایت کا یقین دلایا اور عوام نے بھی جذباتی نعروں کے ساتھ ان کے مؤقف کی تائید کی۔ مولانا نے اس موقع پر محمود آباد کی مقامی مسجد کے پیش امام مولانا طارق محمود ، علاقہ کی معروف سیاسی شخصیت چوہدری بابر اور جناب محمد حفیظ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ جن کی کوشش اور محنت سے رب تعالیٰ نے ان نومسلموں کو حق کی راہ دکھائی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس عنوان پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مجلس کے قائدین اور مبلغین کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی جو کہ اس تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نومسلموں کو مبارکباد پیش کی۔ اس خاندان کی خواتین کو دوسرے دن علی الصبح مولانا حافظ حسین احمد مدنی اور مولانا طارق محمود نے ان کے گھر میں جا کر کلمہ پڑھایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۲۴)
پیلووینس میں سابق قادیانی خاندان کے سربراہ گل شیر اور ان کے بیٹے کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرگرم رکن بھائی عبد الرزاق ، جناب ریاست علی نمبردار اور مجلس کے ضلعی مبلغ مولانا محمد اسلم کی محنتوں کو اللہ رب العزت نے بار آور کیا۔ سوا ماہ قبل صدق دل سے کلمہ طیبہ پڑھنے والے پیلووینس مرزائی جماعت کے امیر اور خزانچی جناب لیاقت علی پٹواری کے ۸۰ سالہ والد جناب گل شیر نے بھی ۱۴؍مئی ۲۰۱۲ء کو رات بارہ بجے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ الحمد للہ! صبح کے وقت یہ خبر مرزائیوں پر شدید گراں گزری اور قادیانیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پیلووینس کے ذمہ داران اور مبلغ مجلس نے دن رات گل شیر صاحب سے طویل نشستیں کیں، ان کے تمام اشکالات کا تسلی بخش جواب دیا رحمت حق جوش میں آئی اور انہیں مرزا قادیانی اور اس کے عقائد پر لعنت بھیج کر محمد عربی ﷺ کے دامن شفقت میں آنا نصیب ہوا۔ مقامی مسلمانوں نے اس پر پُر جوش خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور نومسلم بزرگ کے لئے استقامت کی دعائیں کیں۔ ابھی تمام مرزائی بے چینی اور قیامت صغریٰ کی کیفیت سے دوچار تھے کہ اگلے روز ۱۵؍مئی ۲۰۱۲ء بروز منگل شام ۶ بجے کے قریب اس کے بیٹے باقر علی ( جو کہ ایک پڑھا لکھا اور باصلاحیت نوجوان ہے نے ذاتی طور پر خود دلچسپی لے کر قادیانی حوالہ جات لکھے اور خود ان کو مطلوبہ مقام سے دیکھا اور سیاق و سباق کے حوالہ سے سمجھا) ۲۷؍سالہ نوجوان نے قبول اسلام کا اعلان کیا ہے، مسلمانوں کے لئے یہ تمام خبریں حوصلہ افزاء ہیں۔ تمام قارئین سے اپیل ہے کہ ان تمام نومسلموں کے لئے استقامت کی دعاء فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ بالایمان فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۱۲ء ص ۱۸)
تخت ہزارہ ضلع سرگودھا کے ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
ضلع سرگودھا میں ایک دوست ہیں، جناب عبد القیوم عاصم ، انہیں عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں حق تعالیٰ نے دل دردمند دیا ہے۔ وہ اس کے لئے شب و روز فکرمند رہتے ہیں۔ قادیانی اعتراضات کے جوابات کے سلسلہ میں فون پر کبھی کبھار وہ بات کرتے ہیں۔ آج ۱۳؍ستمبر ۲۰۱۲ء کو انہوں نے فون پر مبارک باد دی کہ تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں ایک قادیانی خاندان مسلمان ہو گیا ہے۔ میں نے ان سے عرض کی کہ میں چناب نگر ہوں۔ آپ یہاں آجائیں تو زبانی تفصیلی حالات معلوم ہو جائیں گے۔ میرا خیال تھا کہ وہ سرگودھا سے تشریف لائیں گے، قریب ہے مگر انہیں بہت دور سے تشریف لانا پڑا۔ آنے جانے پر ان کے پانچ گھنٹے صرف ہوئے۔ لیکن ان کی شفقت کہ وہ تشریف لائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے بتایا کہ تخت ہزارہ میں ایک آرائیں فیملی ہے جو قادیانی تھی۔ اس فیملی کے سربراہ شوکت احمد ہیں۔ ان کے والد صاحب کا نام احمد تھا۔ شوکت صاحب کے دو بیٹے ہیں۔ عمران اور اکرام ان کی تین بیٹیاں ہیں اور ایک اہلیہ مجھے (عبدالقیوم صاحب کو) معلوم ہوا کہ وہ پورا خاندان جو سات افراد پر مشتمل ہے مسلمان ہو گیا ہے۔ قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ نئے سرے سے ان کا نکاح ہوا ہے۔ قبول اسلام انہوں نے اپنے گاؤں کے امام مسجد جو سید بھی ہیں مولانا سید شبیر حسین شاہ کے ہاتھ پر کیا ہے۔ ان کے اسلام لانے پر پورے قصبہ تخت ہزارہ میں خوشی منائی گئی۔ دیگیں چڑھائی گئیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوئیں۔ یہ فرماتے ہیں کہ مجھے شوق ہوا کہ میں اس گاؤں میں خود جا کر ان نو مسلم حضرات سے ملوں اور ان سے اظہار خوشی کروں۔
چنانچہ ایک اسکول ماسٹر جناب شکیل خان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے حامی بھری۔ عبدالقیوم صاحب وہاں گئے۔ بہت سارے دوستوں سمیت شوکت احمد صاحب کے گھر حاضر ہوئے۔ مٹھائی پیش کی، مبارکباد دی۔ اتنے میں بیسیوں اور دوست جمع ہو گئے۔ شوکت صاحب سے قبول اسلام کی کہانی دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب عبدالمجید صاحب ہمارے بزرگ ہیں۔ دور کی رشتہ داری و تعلق کے باعث احترام میں ہم انہیں چچا کہتے ہیں۔ یہ پہلے قادیانی تھے۔ عرصہ ہوا مسلمان ہو گئے۔ وہ برابر ہمیں تبلیغ کرتے رہتے تھے کہ قادیانیت دھوکہ و فراڈ ہے۔ کذب و دجل ہے اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے اور اسلام کے تشخص کو برباد کرنے کی اغیار کی ایک سازش ہے۔ وہ ہمیں دلائل سے قائل کرتے رہے۔ تاآنکہ اللہ رب العزت نے ہمارے سینے کھول دیئے۔ ہم نے اسلام قبول کرنے اور قادیانیت کو ترک کرنے کا اعلان کیا۔ گاؤں و علاقہ سے مسلمانوں نے اس اقدام پر ہمیں اتنی محبت دی جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جس نے ہمیں کفر سے نکال کر اسلام کی ابدی غلامی میں قبول فرما لیا۔ ہم گھر کے سات افراد ایک ساتھ مسلمان ہوئے۔ تخت ہزارہ میں آرائیں فیملی سے واحد گھرانہ تھا جو قادیانی رہ گیا تھا۔ اب ہمارے مسلمان ہونے سے تخت ہزارہ میں آرائیں فیملی کا کوئی شخص قادیانی نہیں رہا۔
جناب عبدالقیوم صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے شوق ہوا کہ جناب میاں عبدالمجید صاحب سے ملنا چاہئے جو ان لوگوں کے قبول اسلام کا باعث بنے تو جناب عبدالمجید صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان سے پوچھا کہ آپ نے کیسے قادیانیت ترک کی اور کیسے قبول اسلام کیا؟ تو عبدالمجید صاحب آرائیں نے بتایا کہ مرزا ناصر قادیانی کا دور تھا، میں قادیانی تھا۔ ایک رات مجھے خواب آیا جیسے مجھے کوئی کہہ رہا ہے کہ : ”جن کو تم نے قبول کیا ہے۔ انہیں دیکھا بھی ہے ۔“ اس پر میری جاگ ہو گئی۔ میں اٹھا، پانی پیا، چلا پھرا اور پھر لیٹ گیا۔ دوبارہ پھر خواب میں دیکھا کہ کوئی وہی کہہ رہا ہے جو پہلے کہا تھا کہ : ”جن کو تم نے قبول کیا ہے ان کو دیکھا بھی ہے ۔“ صبح اٹھا تو میں نے اس کا ترجمہ یہ کیا کہ مجھے چناب نگر (ربوہ) جا کر ان کو دیکھنا چاہئے۔ ان میں رہ کر ان سے فیض حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ قادیانیت کے نام زندگی وقف کرنے کا ارادہ کر کے چناب نگر گیا۔ مرزا ناصر سے ملا اور سارا ماجرا عرض کیا کہ اب پوری زندگی قادیانی جماعت کے نام وقف کرتا ہوں۔ مرزا ناصر نے مجھے قبول کر لیا۔ ضروری کارروائی کے بعد مجھے قصر خلافت ( نام نہاد مرزا ناصر کی رہائش گاہ ) پر مالی کے عہدہ پر پودوں و گھاس کی دیکھ بھال کی ڈیوٹی پر لگا دیا۔ مجھے قریباً چھ ماہ گزر گئے۔ مرزا ناصر کی اس کوٹھی پر بہت سارے اور بھی خادم تھے۔ ان میں ایک کی پانی پر ڈیوٹی تھی۔ ایک دن دیکھا کہ اس پانی والے سے ایک اور شخص جو اسی کوٹھی کا ملازم تھا الجھ رہا ہے۔ میں قریب گیا تو معلوم ہوا کہ اس پانی والے نے دوسرے ملازم کی بیٹی سے زیادتی کی ہے۔ اب کئی افراد کھڑے تھے۔ یہ سنتے ہی کہ یہ اچھے واقف زندگی ہیں کہ دوسروں کی بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔ میرے پاس بیلچہ تھا غصہ میں، میں نے وہ پانی والے کے سر پر بلند کیا۔ موجود حاضرین نے بیلچہ قابو کر لیا اور مجھے سرزنش کی کہ کیا کرتے ہو؟ مجھے اس پر بہت تعجب ہوا کہ عجیب بے غیرتی ہے۔ ان لوگوں کی غیرت کا جنازہ نکل گیا کہ ایک شخص دوسرے کی بیٹی کی عزت پامال کرتا ہے اسے کوئی کچھ نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہتا اور مجھے الٹا کوس رہے ہیں۔ ان کے اس بے حمیتی کے عمل پر میرے دن رات اس ادھیڑ بن میں گزرنے لگے۔ ایک جمعہ کو نماز جمعہ سے گھنٹوں پہلے صف اوّل میں جگہ حاصل کرنے کے لئے تیاری کر کے قادیانی عبادت گاہ اقصیٰ صف اوّل میں جا بیٹھا۔ اب جب لوگ آتے گئے، صفیں پُر ہوتی گئیں تو پہلی چار صفوں والوں کی تلاشی اور انٹرویو ہوئے۔ جب میرا پتہ چلا کہ مالی ہوں تو صف اوّل سے مجھے بہت پیچھے کی صفوں میں دھکیل دیا گیا۔ عزت نفس کے مجروح ہونے کا مجھے شدید احساس ہوا۔ اتنے میں مرزا ناصر آئے۔ نماز کے دوران ان کے اپنے آدمی چار صفوں کی تلاشی اور بھرپور سیکورٹی کے باوجود دائیں بائیں ان کے مسلح گارڈ جو نماز پڑھنے کی بجائے اسلحہ تانے کھڑے رہے۔ اس صورت نے مجھے نڈھال کر دیا۔ سامان اٹھایا، قادیانیت پر لعنت بھیج کر چناب نگر (ربوہ) چھوڑ کر گھر آگیا۔ یوں وہ خواب کہ: ”جن کو قبول کیا ہے۔ انہیں دیکھا بھی ہے“ اتنے عرصہ بعد مجھ پر منکشف ہوا کہ قادیانیت کا یہ گھناؤنا کردار اندرون خانہ یہ حال ہے۔ بس ان واقعات سے قدرت نے مجھے اسلام کی گود میں واپس لے لیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ میری تبلیغ سے یہ ایک سات افراد پر مشتمل شوکت صاحب کا گھرانہ مسلمان ہو گیا۔
قارئین! ۷؍ستمبر ۲۰۱۲ء کو پشاور ختم نبوت کانفرنس کے دوران ایک تبلیغی بھائی کی زبانی ساڑھے تین سو قادیانی افراد کے مسلمان ہونے کی خبر ملی۔ اس کی مزید تفصیل کے لئے لاہور کا سفر کرنا ہے۔ خدا کرے کہ بہت جلد وہ خبر بھی قارئین تک پہنچا سکوں۔ لیجئے! ان تخت ہزارہ کے سات افراد کے مسلمان ہونے کی خبر جو ۲۳؍اگست ۲۰۱۲ء کے روزنامہ ایکسپریس صفحہ: ۴ کالم: ۳ سرگودھا ایڈیشن میں شائع ہوئی۔ وہ ملاحظہ فرمائیں۔
تخت ہزارہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
تخت ہزارہ (نمائندہ ایکسپریس) قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ شہر میں جشن کا سماں، تفصیل کے مطابق تخت ہزارہ کے رہائشی چوہدری شوکت علی ولد احمد قوم آرائیں اور ان کے خاندان کے سات افراد نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر جامع مسجد تخت ہزارہ کے امام سید شبیر حسین شاہ کے ہاتھ پر گزشتہ روز اسلام قبول کر لیا۔ سابق قادیانی خاندان کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر تخت ہزارہ میں جشن منایا گیا اور دیگیں پکا کر تقسیم کی گئیں۔ شبیر حسین شاہ نے کہا کہ اسلام ہی واحد ایسا دین مبین ہے جس پر چل کر انسانیت کی فلاح ممکن ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۵، ۶)
قادیانیت سے توبہ
۱۰؍محرم الحرام ۱۴۳۴ھ، بمطابق ۲۵؍نومبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد نماز عشاء چھنی قریشیاں چناب نگر کے رہائشی جناب خلیل احمد صاحب نے مولانا غلام مصطفیٰ صاحب (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر) کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا جب کہ کچھ عرصہ قبل موصوف مذکور کے تین بھائیوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، ان تین بھائیوں کی برکت سے خلیل احمد صاحب نے قادیانیت کو جھوٹا مذہب سمجھ کر خیر باد کہا اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ چنانچہ نماز عشاء کے فوراً بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ادارہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کی مرکزی جامع مسجد ختم نبوت میں مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے پہلے ان کے تین بھائیوں کے قبول اسلام کی روداد سنائی اور پھر اسے کلمہ شہادت اور شہادتین کا ورد کرا کر حضور اقدس ﷺ کی ختم نبوت اور عقیدۂ حیات مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا اقرار کرایا اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے انکار اور ان کے دجال و کذاب ہونے کا واشگاف الفاظ میں اقرار کرایا۔ اس کے بعد مولانا غلام رسول دین پوری سے دعاء کا کہا۔ دعاء کے بعد مدرسہ عربیہ ختم نبوت کے جمیع اساتذہ و طلباء اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جملہ نمازیوں نے اس کا خیر مقدم کیا، اپنے گلے سے لگایا اور مبارکباد پیش کی۔ جامع مسجد ختم نبوت مبارکباد دینے سے گونج اٹھی۔ اللہ تعالیٰ نوجوان خلیل احمد صاحب کے اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کی برکت سے جملہ خاندان اور دیگر قادیانیوں کو حلقہ بگوش اسلام ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ / دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو الہ یار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲/ جنوری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء جامع مسجد مکی میر واہ روڈ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا نظام تباہ ہو جائے ، کائنات ملیا میٹ ہو جائے ، سورج ، ستارے بے نور ہو جائیں یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن آپ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلی ہوئی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر پورے دین کی بنیاد ہے۔ اس بنیادی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ۱۲۰۰ صحابہ کرام ؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب علامہ سید انور شاہ کشمیری نے فتنہ قادیانیت کا مطالعہ کیا تو آپ نے اپنے تمام شاگردوں اور طلباء کو تردید قادیانیت کی طرف متوجہ کیا اور آپ فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم کو تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر فرمایا کہ جس شخص نے ایک گھنٹہ بھی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کیا۔ اس کو ضرور آپ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے مالک سے وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کانفرنس میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض جامعہ صدیق اکبر کے استاذ مولانا خالد نثار نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۶)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ تھر پارکر
۵/ جنوری ۲۰۱۲ء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی دوپہر کو ضلع مٹھی مدرسہ نور الہدی پہنچے۔ ظہر کی نماز کے فوراً بعد پروگرام شروع ہوا۔ مولانا نے ”عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟“ پر سیر حاصل خطاب کیا۔ دعاء کے بعد مولانا موسیٰ درس مہتمم مدرسہ نور الہدی سے مٹھی کی صورتحال معلوم کی۔ بعد نماز مغرب اسلام کوٹ مدرسہ عثمانیہ میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ صبح کا درس بھی عثمانیہ مدرسہ اسلام کوٹ میں دیا۔ اگلے روز جمعتہ المبارک کا خطبہ حضرت مولانا نے ننگر پار کے مدرسہ حق میں دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۱)
رد قادیانیت کورس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اشرف غلہ منڈی میں دو روزہ رد قادیانیت کورس ۸، ۹/ جنوری ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوا۔ ۸/ جنوری ۲۰۱۲ء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عصر سے مغرب تک عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور مغرب سے عشاء اجزائے نبوت سے متعلق قادیانیوں کے شبہات کے جوابات دیئے۔ ۹/ جنوری ۲۰۱۲ء مولانا مفتی محمد راشد مدنی مبلغ رحیم یار خان نے لیکچر دیئے۔ کورس میں دوسو سے زائد حضرات نے شرکت کی۔ انتظامات کی نگرانی مولانا محمد اسحاق ساقی نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس مروٹ و بہاول نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامعہ حمادیہ مروٹ میں ۱۰/ جنوری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطاب کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی اہمیت، رد قادیانیت پر مدلل بیانات کئے۔ مبلغ بہاولنگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے اکابرین ختم نبوت کی قربانیوں کو بیان کرتے ہوئے اکابرین کو خراج تحسین پیش کیا۔ ۱۱؍جنوری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء جامع مسجد گلزار فورٹ عباس میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں مولانا مفتی راشد مدنی نے رد عیسائیت پر مدلل خطاب کیا۔ مولانا محمد اسحاق ساقی نے عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مدلل بیان کیا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی نے بیان کرتے ہوئے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند بنایا جائے۔ تمام قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے تو کسی بھی گستاخ رسول کو کسی بھی پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے کی ہمت نہ ہو۔ اگر حکومت ملک میں امن چاہتی ہے تو عیسائیت، یہودیت اور مرزائیت نواز افسروں کو فوراً برطرف کرے۔ ۱۳؍جنوری ۲۰۱۲ء دن گیارہ بجے ڈاہر انوالہ کالج کے طلبہ کو خطاب کیا۔ مولانا مفتی راشد مدنی نے مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی قادیانی باقی ہے۔ اس کا تعاقب جاری رہے گا۔ مسلمان طلبہ سے عہد لیا کہ کسی بھی قادیانی سے دوستی نہیں رکھیں گے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ختم نبوت کے رضا کار بن کر رہیں گے۔ اسی روز بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد جنڈوالہ میں مفصل، مدلل بیانات ہوئے۔ مرکزی رہنماؤں کا تین روزہ تبلیغی دورہ بہت کامیاب رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۲، ۵۳)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی خیبر پختونخواہ کے دورہ پر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مؤرخہ ۱۶، ۱۷؍جنوری ۲۰۱۲ء صوبہ خیبر پختونخواہ کے دورہ پر تشریف لائے۔ جہاں آپ نے بنوں، سرائے نورنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ختم نبوت کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ مولانا شجاع آبادی کے علاوہ مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد عابد کمال، مولانا عبدالستار نے بھی خطاب کیا۔ موصوف نے المرکز الاسلامی بنوں کا بھی دورہ کیا۔ مرکز کے بانی جمعیت علماء اسلام کے معروف راہنما مولانا سید نصیب علی شاہ تھے۔ موصوف نے ادارہ پر کئی ایک شعبہ جات شروع کئے جو ان کے فرزند گرامی کی نگرانی میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۲ء ص ۴۰)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ ضلع لکی مروت
۱۷؍جنوری ۲۰۱۲ء کو جامع مسجد مجیدی سرائے نورنگ میں سیرت خاتم المرسلین ﷺ کے عنوان سے ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد عابد کمال، مولانا عبدالستار تھے۔ کانفرنس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن میں درجنوں علماء کرام، خطباء، طلباء شامل تھے۔ اسی طرح ۱۲؍فروری ۲۰۱۲ء بروز اتوار بمقام جامع مسجد مجیدی سرائے نورنگ چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ یہ کانفرنس تحصیل سرائے نورنگ کی تاریخ کی سب سے کامیاب کانفرنس تھی۔ کیونکہ اس کانفرنس میں پانچ قادیانیوں نے علماء کرام کے سامنے اسلام قبول کرلیا۔ کانفرنس سے چند دن پہلے علماء کرام، طلباء اور کارکنان ختم نبوت تحصیل نورنگ کے کئی ایک اجلاس ہوئے جس میں کانفرنس کی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔ واضح رہے کہ سرائے نورنگ کے مضافات میں کوٹلہ شفیع آباد علاقے میں چند قادیانی خاندان بستے ہیں اور قبول اسلام کا یہ واقعہ پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ اسلام لانے والے نو مسلم بھائیوں کے نام یہ ہیں۔ صاحبزادہ عامر ولد ابراہیم، صاحبزادہ روح الامین ولد ظہور احمد، صاحبزادہ مبشر احمد ولد محمد شفیع، صاحبزادہ نصیر احمد ولد عبدالقدوس۔ ۱۱؍فروری ۲۰۱۲ء کو جب یہ حضرات اسلام قبول کر گئے تو عاشقان ختم نبوت ضلع لکی مروت اور دیگر مسلمان بھائیوں کی خوشی کی انتہاء نہ تھی اور ہر کوئی دوسرے بھائی کو اس عظیم واقعہ کی مبارکباد دیتا رہا اور ۱۲؍فروری بروز اتوار کو نورنگ سٹی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں چھٹی سالانہ کانفرنس کے موقع پر پورے سرائے نورنگ میں عید کا سماں تھا۔ لوگ جوق در جوق آنا شروع ہو گئے اور آن ہی آن میں ہزاروں کا مجمع جمع ہو گیا جن میں سینکڑوں علماء کرام کے علاوہ طلباء ، تاجر برادری ، مہمانان گرامی ، سول سوسائٹی اور عام مسلمان بھائیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تلاوت جناب محمد مبشر نے فرمائی ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد ابراہیم ادھمی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ صدارت حاجی امیر صالح خان (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت) نے کی ۔ خیبر پختونخواہ کے مشہور نعت خواں حضرات نے اپنے نعتیہ کلام سے شرکاء کانفرنس کو محظوظ کیا ۔ اس نشست میں جمعیت علماء اسلام تحصیل نورنگ کے امیر مفتی ضیاء اللہ نے ختم نبوت کے لئے ہمارے اکابر علماء کرام کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ کر کے مؤثر خطاب فرمایا ۔ اسی طرح مولانا عابد کمال ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، سینیٹر مولانا قاری محمد عبداللہ ، مولانا خلیل الرحمن ، مولانا عبد الغفار ، مولانا سعد اللہ ، مولانا غلام محمد ، مولانا عبد الحمید اور دیگر علماء و خطباء کرام نے ختم نبوت کے مقدس عنوان پر خطاب کیا۔ اس پہلی نشست میں اسلام قبول کرنے والے ان چار نومسلم حضرات کے علاوہ صاحبزادہ ضیاء الحسن ولد ظہور احمد کانفرنس میں تشریف لائے اور مولانا اللہ وسایا مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر معزز علماء کے سامنے پھر کلمہ پڑھا اور اس طرح مجموعی طور پر نومسلم حضرات کی تعداد پانچ ہو گئی۔ ظہر کی نماز کے بعد کانفرنس کی دوسری نشست شروع ہوئی۔ تلاوت مولانا قاری سیف الرحمن نے فرمائی ۔ جب کہ صدارت حاجی امیر صالح خان کے حصے میں آئی ۔ نعتیہ کلام حاجی حمید اللہ ، فقیر ملک شہزاد اور حافظ نیک دراز خان نے پیش کیا۔ اس نشست میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا اللہ وسایا ، استاذ الحدیث مولانا احمد سعید ، مولانا مفتی عظمت اللہ بنوی ، مولانا سعد اللہ ، مولانا عبد الستار اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں مولانا عبد الرحیم ، مولانا بشیر احمد حقانی ، مولانا اعزاز اللہ ، مولانا عاطف اللہ ، مفتی اختر علی شاہ ، مولانا سفیر اللہ ، مولانا محمد گل ، مولانا شبیر احمد حقانی ، سابق ناظم حیات اللہ خان وزیر اور دیگر علماء کرام اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے عام مسلمانوں نے شرکت کی ۔ مجموعی طور پر کانفرنس انتہائی کامیاب رہی اور عصر تک شرکاء کا رش برقرار رہا۔ کانفرنس کے آخر میں مولانا ابراہیم ادھمی نے قراردادیں پیش کیں جو درج ذیل ہیں :
- ۱...... عاشق رسول ﷺ ممتاز قادری کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔
- ۲...... چناب نگر کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں ۔
- ۳...... چناب نگر کا سب تحصیل کا درجہ بحال کیا جائے ۔
- ۴...... تمام مسلمان بھائی قادیانی مصنوعات سے مکمل اجتناب کریں ۔
- ۵...... قادیانیوں کے ٹی وی چینل پر پابندی لگائی جائے ۔
- ۶...... قادیانیوں کو امتناع آرڈیننس قانون کا پابند بنایا جائے ۔
- ۷...... ہم اسلام قبول کرنے والے اپنے نومسلم بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔
کانفرنس کا اختتام شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ جان نقشبندی ( مدرسہ تعلیم الاسلام نورنگ ) کی دعاء پر ہوا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۹ تا ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ
۱۸/ جنوری ۲۰۱۲ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد مکہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور نعتیہ کلام سے ہوا۔ مولانا مفتی محمد عارف مدرس جامعہ مظاہر العلوم اور مولانا مفتی زین العابدین کے بیانات ہوئے۔ آخری اور مفصل خطاب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے فرمایا۔ کانفرنس میں شہر کے جید علماء کرام اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاضی عبد الخالق مبلغ حلقہ نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۱)
لودھراں میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد صدیق اکبر ؓ المعروف (لاری اڈے والی) میں ۲۰؍جنوری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد میاں مہتمم جامعہ سراج العلوم نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جامعہ باب العلوم کہروڑپکا کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی ظفر اقبال تھے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، منہاج القرآن کے مولانا نصیر اللہ بابر نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۲ء ص ۴۰)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ بہاول نگر
۲۷؍ جنوری ۲۰۱۲ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرکزی جامع مسجد اشرف العلوم بخشن خان میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا۔ مبلغ بہاول نگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے چک نمبر ۸ سیٹھا والہ میں جمعہ پڑھایا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد اقصیٰ جنڈوالہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل بیان کیا۔ ۲۸؍جنوری ۲۰۱۲ء کو مرکزی جامع مسجد میں درس قرآن دیا۔ مبلغ بہاول نگر نے ٹبے والی مسجد میں درس دیا اور بہاول نگر کا سفر کیا۔ دن بارہ بجے مولانا محمد اسماعیل نے بار روم میں وکلاء سے خطاب کیا۔ آخر میں سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک وکیل نے سوال کیا ”مرزائی مسلمانوں کے ساتھ کھا پی سکتے ہیں؟“ مولانا نے مدلل جواب دیا جس کی وجہ سے صدر بار روم نے اسی وقت اعلان کر دیا کہ مرزائیوں کے علیحدہ برتن ہوں گے۔ اس اعلان پر بار روم ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد مدینہ میں مولانا محمد اسماعیل نے بیان دیا۔ ۲۹؍جنوری ۲۰۱۲ء کو جامع العلوم عید گاہ بہاول نگر میں طلباء سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
روداد تبلیغی پروگرام اوکاڑہ ، قصور
۳۱؍ جنوری ۲۰۱۲ء کو بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس امیر معاویہ ؓ مسجد طوطل پتوکی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کا مفصل بیان ہوا۔ مولانا عبدالوحید خطیب امام نے عشائیہ دیا۔ یکم؍ فروری ۲۰۱۲ء کو مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بار روم دیپال پور ضلع اوکاڑہ میں بیان کیا اور سوالات کے وکلاء صاحبان کو تسلی بخش جوابات دیئے۔ میز بانی کا شرف چوہدری غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ نے حاصل کیا۔ بعد ازاں دیپال پور جامع مسجد شاہی میں نماز عصر سید محمد انور شاہ بخاری اور ریاض الجنہ حافظ محمد شعبان کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی اور مدرسہ کی ترقی کے لئے دعاء کی۔ بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس بلقیسیہ مسجد میں مولانا سید ضیاء اللہ بخاری مرکزی جمعیت اہل حدیث ساہیوال، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ میز بانی کا شرف مقبول احمد تبسم غوری، مولانا عبدالجبار چوہدری اقبال نے سرانجام دیئے۔
۲؍ فروری ۲۰۱۲ء بصیر پور مدنی مسجد میں طلباء سے بیان کیا ظہر تا عصر ختم نبوت کانفرنس منڈی احمد آباد اوکاڑہ مرکزی قائدین ختم نبوت کے بیانات ہوئے۔ قاری عبدالستار بابر سلطان مغل، حاجی لیاقت زرگر نے استقبال کیا۔ بعد ازاں الہ آباد جامعہ رحمانیہ ضلع قصور میں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ ختم نبوت قصور کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس مفتی عبدالعزیز عزیزی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ محمد عمران نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ ۱۰؍ ربیع الاوّل ۳ فروری کو جمعۃ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامعہ محمودیہ رینالہ خورد اور مولانا عبدالرزاق نے مسجد الیاس میں پڑھایا۔ میزبانی اور تواضع مولانا محمد اکرام اللہ اور قاری محمد رمضان نے کی۔ سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تفصیلی بیان اور مرزا قادیانی کا دجل بیان کیا اور مرزائیوں سے قطع تعلق کرنے کا کہا۔
۱۳ فروری کو علی المرتضیٰ قصور میں مولانا قاری کامران ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ قصور کا بیان ہوا۔ قصور جامعہ رحیمیہ ترتیل القرآن نے ایک ہنگامی اجلاس میں پروگرام ترتیب دیئے۔ جس میں قصور جماعت کے ممبران نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۱۳)
جامع مسجد محمدیہ چناب نگر میں سالانہ جلسہ سیرت النبی ﷺ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں مورخہ ۱۰؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۳ھ ، مطابق ۳؍ فروری ۲۰۱۲ء کو ۳۷واں سالانہ جلسہ ”سیرت النبی ﷺ“ منعقد ہوا جس میں مناظر اسلام مولانا اللہ وسایا ، مولانا غلام مصطفیٰ ، مولانا غلام رسول دین پوری ، مولانا خان عابد حسین نے بیانات کئے۔ مولانا اللہ وسایا نے اہمیت ختم نبوت ، فضیلت امت محمدیہ بیان کرتے ہوئے قادیانیوں کا دلائل کے ساتھ رد فرمایا اور انہیں دعوت اسلام دیتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی کے دھوکے میں مت آؤ! آج وقت ہے۔ اسلام قبول کر لو! ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ چناب نگر کیا پوری دنیا میں قادیانیت کا بیج نظر نہیں آئے گا۔ پھر گوجر خان کے قصبات میں رہنے والے قادیانیوں کے قبول اسلام کے تفصیلی واقعات سے آگاہ فرمایا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ قادیانی دنیا میں شور مچاتے تھے کہ پاکستان اسمبلی نے قادیانیت کے کفر کا کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا۔ الحمدللہ! عالمی مجلس نے اسمبلی کی کارروائی کسی نہ کسی طرح حاصل کر کے چھاپا۔ ساٹھ ہزار سے زیادہ تعداد میں کئی بار وہ کارروائی چھپی اور ملک و بیرون ملک تقسیم ہوئی۔ قادیانیت کے منہ پر طمانچہ ایسا لگا کہ سکوت کی مہر لگ گئی۔ پھر کچھ عرصہ رہ کر شور و غل شروع کر دیا کہ یہ کارروائی اسمبلی کی نہیں۔ بلکہ یہ مولویوں کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ آج عرصہ دراز بعد فہمیدہ مرزا صاحبہ نے وہ کارروائی پوری کی پوری چھاپ دی ہے۔ ان شاء اللہ ! اب اچھے طریقے سے زناٹے دار طمانچہ قادیانیت کے سیاہ رو پر رسید ہو جائے گا اور ان کا کفر مزید آشکار ہو جائے گا۔ آخر میں مولانا غلام مصطفیٰ نے قرارداد پیش فرمائی اور نماز جمعہ سے قبل ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا۔ جب کہ اسے کلمہ پڑھانے کے لئے مولانا اللہ وسایا نے مولانا دین پوری کو حکم فرمایا اور نام خود حضرت نے محمد عبداللہ تجویز فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۱، ۵۲)
مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں جلسہ سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ
۱۲؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۳ھ ، مطابق ۵؍ فروری ۲۰۱۲ء بروز اتوار جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ایک عظیم الشان سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے موضوع پر بعد از نماز مغرب جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں سیرت اور ولادت باسعادت کے حوالے سے عمدہ تقاریر ہوئیں۔ صدارت و سرپرستی مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی۔ حمد ونعت کے ساتھ ساتھ مولانا محمد امین، مولانا غلام رسول دین پوری و دیگر نے بیان کیا۔ آخری بیان اور اختتامی دعاء مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی۔ الحمدللہ ! اختتام جلسہ تک شرکاء حضرات جم کر بیٹھے رہے۔ اختتام پر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب محمد ظفر اقبال جٹ و دیگر احباب کی طرف سے کھانے کا انتظام بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پروگرام کو بھی قبول فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۲)
سرگودھا میں ماہانہ پروگرام
سرگودھا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کی زیر سرپرستی دفتر ختم نبوت لکڑ منڈی میں ختم نبوت کے نوجوانوں کا ماہانہ پروگرام ۶؍ فروری ۲۰۱۲ء بروز جمعتہ المبارک کو منعقد کیا گیا اور یونٹوں کے قافلے ٹھیک اڑھائی بجے دفتر پہنچے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی اور سٹی صدر جناب عاصم اشتیاق نے تمام ساتھیوں کو خوش آمدید کہا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے مختصر خطاب کیا۔ ان ورکروں سے سرگودھا کے ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے امیر مولانا نور محمد ہزاروی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں نے ’’فتنہ قادیانیت‘‘ کے خلاف مرتے دم تک کام کرنا ہے اور حضور ﷺ کی ذات کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور انہوں نے ورکروں سے ہاتھ اٹھا کر اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ ہمیشہ اسی طرح حضور ﷺ کی ذات کے لئے گلی کوچوں، چوک، بازار وغیرہ میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کے سپاہی بن کر پھرتے رہیں گے۔ ان کے بعد سرگودھا کے قائد حافظ مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وہ ورکروں کا اتنا ہجوم دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے۔ پھر انہوں نے ورکروں کو کہا کہ حضور ﷺ کی ذات کے کام کو کبھی بھی کسی صورت میں بھی ہلکا یا ختم ہونے نہ دینا۔ کوئی بھی وقت آجائے، چاہے ظالم حکمران ہوں یا جو مرضی ہو کسی سے ڈرنا مت۔ حضور ﷺ کی ذات کے لئے جان بھی دینا پڑے تو دریغ نہ کرنا۔ کیونکہ اس مشن میں خون ہے شہیدوں کا۔ ہمارے اکابرین قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ ہم نے اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں کو اس فتنے سے بچانا ہے اور اس مشن کے لئے ہمیں اپنی راتوں کی نیند اور جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑے تو کریں گے۔ ان شاء اللہ! تمام ورکروں نے طوفانی صاحب کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اس مشن کے لئے جان دینے کا وعدہ کیا۔ اختتامی دعاء مولانا محمد اکرم طوفانی نے کروائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۲ء ص ۵۱)
خاتم النبیین کانفرنس حلقہ منظور کالونی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام حلقہ منظور کالونی، محمود آباد کراچی میں ’’سیرت خاتم النبیین ﷺ‘‘ کے عنوان سے مختلف مساجد میں کانفرنسز کا انعقاد ہوا، تمام کانفرنسز کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ نے کی۔
پہلا پروگرام: ۶؍ فروری ۲۰۱۲ء بروز پیر جامع مسجد اشرفیہ لیاقت اشرف کالونی میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز قاری تصور حیات کی تلاوت سے ہوا۔ جناب عرفان سعید نے حمد و نعت پیش کی۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا محمد اعجاز مصطفی مدظلہ اور مولانا قاضی منیب الرحمن مدظلہ تھے۔ قاضی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی حضرت خاتم النبیین ﷺ کے راستہ اور طریقہ پر ہے، ہم یہی دعوت قادیانیوں کو بھی دیتے ہیں کہ وہ جھوٹے نبی پر لعنت بھیج کر سچے نبی کے دامن سے وابستہ ہو جائیں۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ نے کہا کہ آئندہ بھی ایسی محافل کا انعقاد ہونا چاہئے تاکہ ہم غفلت سے دور رہ کر بیداری والی زندگی گزاریں ورنہ قادیانیت، فتنہ گوہر شاہی اور اسی طرح دیگر فتنے ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈال سکتے ہیں۔ پروگرام کا اختتام مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کی دعاء پر ہوا۔ پروگرام کے بعد شرکاء میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا پروگرام : ۷؍ فروری ۲۰۱۲ء بروز منگل جامع مسجد فردوس محمود آباد نمبر ۵ میں منعقد ہوا۔ مسجد انتظامیہ نے پروگرام کے حوالے سے بہترین انتظامات کئے۔ تلاوت قاری تصور حیات نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض امام مسجد مولانا نصر من اللہ نے بہترین انداز میں انجام دیئے۔ اس پروگرام کی صدارت مولانا خان محمد ربانی نے کی۔ مہمان خصوصی مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا احسن راجہ تھے۔ قاضی صاحب نے انتہائی درد دل سے شرکاء کو قادیانیت کا مسئلہ سمجھایا، قادیانیت کا زہریلا بچھو کس طریقے سے معاشرے میں اپنے زہریلے اثرات منتقل کر رہا ہے، بے دینی کا سیلاب کس تیزی کے ساتھ ہمارے گھروں میں پھیل رہا ہے، لیکن ہم نے غفلت کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ ہماری غفلت اور دین سے دوری کی وجہ سے فتنہ گوہر شاہی علاقے میں اپنے جھنڈے اور بینرز آویزاں کر رہا ہے چند سرپھروں کے علاوہ کسی مسلمان کو فکر ہی نہیں۔ پروگرام کے دوسرے مہمان مولانا احسن راجہ نے اپنی مخصوص آواز اور انوکھے انداز سے سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو شرکاء کے سامنے بیان کیا۔ محفل کا اختتام مولانا خان محمد ربانی کی دعاء پر ہوا۔ پروگرام میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی اسی طرح علاقے کی معزز شخصیات، مولانا محمد بلال، مولانا محمد فیصل، قاری محمد قاسم، قاری سلیم اللہ خالد اور دیگر علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
تیسرا پروگرام : ۸؍ فروری ۲۰۱۲ء جامع مسجد عائشہ صدیقہ منظور کالونی میں منعقد ہوا۔ قاری محمد عمران نے پُر سوز تلاوت اور حمد و نعت محمد عرفان سعید نے پیش کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی استاذ جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی ملیر شاخ کے مولانا قاضی منیب الرحمٰن تھے۔ قاضی صاحب نے آپ ﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ امت کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کیا تعلق تھا اور آج امت کا حضور ﷺ سے کیا تعلق ہے؟ جتنا حضور ﷺ سے تعلق مضبوط ہوگا اتنا ہی ایمان میں نکھار پیدا ہوگا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نگاہ رکھیں تاکہ کوئی فتنہ گر ہمارے ایمان کو ہم سے چھین نہ لے۔ مسلمانوں کی محبت نبوی ﷺ کی وجہ سے یہ حق بنتا ہے کہ آپ ﷺ کے دشمن قادیانیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔
چوتھا پروگرام : ۹؍ فروری ۲۰۱۲ء جامع مسجد اقصیٰ (پہاڑی والی) ہل ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ قاری تصور حیات کی تلاوت اور حمد ونعت عمر فاروق اور مفتی حسن صاحب نے پیش کی۔ بیان سے پہلے مسجد کے زیر انتظام مدرسہ تحفیظ القرآن کے طلباء وطالبات میں امتحان کے نتائج کا اعلان ہوا اور اوّل، دوم اور سوم آنے والوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا فضل سبحان مدظلہ نے کہا کہ آپ ﷺ کامل نبی ہیں، اب کسی اور نبی کی قطعی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام کی صفات اور کمالات سے نوازا گیا۔ آج دنیا سکون کی تلاش میں بھٹکتی پھر رہی ہے، پریشان ہے، مگر سکون نہیں ملتا، سکون ہے تو دین محمدی میں ہے، آنحضرت ﷺ کے طریقوں میں ہے، لیکن افسوس کہ ہم نے سائنس کی تحقیق کو تو مان لیا، لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بتائے ہوئے فرمودات پر عمل نہ کیا۔ پروگرام کا اختتام مولانا کی دعاء پر ہوا۔
پانچواں پروگرام : ۱۱؍ فروری ۲۰۱۲ء جامع مسجد مریم عید گاہ چوک منظور کالونی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت پیر طریقت مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی نے کی۔ تلاوت اور نعت شریف کے بعد نعمانی صاحب نے کانفرنس کے اغراض ومقاصد شرکاء کے سامنے بیان کئے۔ حلقہ منظور کالونی کے ذمہ دار مولانا محمد بلال کا روح پرور بیان ہوا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا فضل سبحان مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے، ایک روح دوسرا جسم، جس طرح جسم کے لئے غذا کی ضرورت ہے اسی طرح روح کے لئے بھی غذا کی ضرورت ہے اور روح کی غذا ذکر اللہ ہے اور انسان اللہ کا ذکر اس وقت کرے گا جب دل ایمان کی باکمال دولت سے منور ہوگا۔ سارا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے طفیل اس امت کو ملا۔ یہ امت آخری امت ہے اس کے بعد کوئی امت نہیں، حضور ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے اس کے بعد اور کوئی کتاب قابل قبول نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کا دعویٰ کر کے خود بھی گمراہ ہوا اور جو لوگ اس کے نقش قدم پر چلے ان کو بھی گمراہ کیا۔
چھٹا پروگرام : ۱۳؍فروری ۲۰۱۲ء جامع مسجد مقدس اعظم ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا قاری محمد صدیق سواتی نے کی۔ حلقہ منظور کالونی کے امیر مولانا محمد بلال نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ حلقہ ملیر کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے حضور ﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی امت کے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ پروگرام کے دوسرے مہمان مولانا احسن راجہ نے رحمت دو عالم ﷺ کے بچپن، جوانی، قبل النبوت، بعد النبوت کے حالات پر روشنی ڈالی۔ آپ ﷺ صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں اور جنات کے لئے بھی رحمت بن کر آئے۔ آخر میں شرکاء مجلس سے فتنہ قادیانیت کے بائیکاٹ کا عہد لیا گیا۔
ساتواں پروگرام : ۱۸؍ فروری ۲۰۱۲ء جامع مسجد مہتاب شاہ بخاری سولجر بازار میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز مولانا نورتاج کی تلاوت سے ہوا۔ حافظ صبغت اللہ نے خوبصورت آواز میں ہدیہ حمد ونعت اور شان صحابہ ؓ پر اشعار کا مجموعہ پیش کیا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا فضل سبحان نے سیرت کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ خصوصاً شرکاء کو سنت کی اہمیت پر لانے کے لئے واقعات پیش کئے کہ آج ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت پر عمل کریں تو ضرور کل قیامت کے دن پاس ہو جائیں گے اور قلبی سکون بھی اسی سنت والی زندگی میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’من تشبہ بقوم فھو منہ‘‘ جو لوگ جس قوم کی مشابہت ،نقل اتارتے ہیں کل انہیں کے ساتھ ہوں گے۔ آج ہم ذرا اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں ، ہماری خوشی، غمی، ہمارے اخلاق و لباس، کھانا، پینا کس کے طریقے پر ہے؟ اگر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے طریقے پر ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر نبی کے طریقے پر نہیں ہے تو فکر کرنی چاہئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے فتنہ قادیانیت سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا ،انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس ہر کام کے لئے فراغت اور پیسہ ہے نہیں فرصت تو ختم نبوت کے مشن کے لئے نہیں۔ کانفرنس کا اختتام جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا محمد فاروق کی دعا پر ہوا۔ یادرہے کہ اس مسجد میں کافی عرصہ سے مذہبی تنازعات کی وجہ سے کوئی کانفرنس یا محفل نہ ہوئی۔ تقریباً پچاس سال میں پہلی مرتبہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو ہمیشہ کے لئے جاری فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۵، ۲۶)
دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم، لیہ
۱۱؍ فروری ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد صدیق اکبر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چوک اعظم (لیہ) میں زیرسرپرستی مولانا عبدالمجید شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا ربنواز فتح پور (امیر جمعیت علماء اسلام ضلع لیہ) نے کی، جب کہ نگرانی مفتی محمد یاسین ربانی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چوک اعظم نے کی۔ ابتدائی بیان مولانا محمد الیاس اور مولانا سمیع اللہ ربانی نے کئے۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا مفتی کفایت اللہ ایم پی اے صوبہ خیبر پختونخواہ تھے۔ بلاشبہ یہ کانفرنس اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضلع لیہ کی بہت بڑی کانفرنس تھی ، جس کا سارا نظام اور محنت کا سہرا قاری محمد ابوبکر المدنی (صدر مدرس جامعہ دارالہدیٰ) کے سر ہے جن کی دن رات کی محنت شاقہ اور پُر خلوص دعاؤں سے یہ کانفرنس بفضل ربی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ قاری محمد عمر فاروق کی تلاوت سے کانفرنس کی ابتدا ہوئی، ضلع لیہ کے مشہور نعت خواں اللہ نواز خان سرگانی نے ہدیہ نعت پیش
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ اس کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بڑے ولولے اور جوش سے سامعین کو عقیدۂ ختم نبوت قرآن وحدیث اور سلف کے اقوال سے سمجھایا۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے اپنے مخصوص انداز میں حیات مسیح علیہ السلام پر دلائل و براہین سے مزین خطاب کیا۔ تمام سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر حضرت مدظلہ کا بیان سنا۔ آخر میں مہمان خصوصی مولانا مفتی کفایت اللہ نے اپنے دل نشین انداز میں حاضرین کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ یہ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اختتامی دعاء مولانا ربنواز فاروقی نے کی۔ اللہ تعالیٰ سب حضرات کی کوششوں کو قبول فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ / مارچ ۲۰۱۲ء ص ۱۱)
ختم نبوت کانفرنس میانوالی بنگلہ ضلع گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ختم نبوت میں ۱۴/ فروری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت چوہدری ریاست علی نے کی۔ جس سے بریلوی مکتب فکر کے مولانا بدرالدین، وڈالہ سندھواں کے مولانا احسان اللہ فاروقی، بدوملہی کے مولانا رشید احمد ملہی، میانوالی بنگلہ کے مولانا ناطق اقبال طوفانی، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ، مفتی محمد کاشف منڈیکی، مفتی محمد عثمان پسرور، مولانا محمد ایوب خان مہتمم دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، نومسلم چوہدری سہیل احمد وڑائچ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہی۔ نگرانی محمد اشفاق سندھو اور ان کے رفقاء نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ / مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۴)
رد قادیانیت کورس ڈسکہ، سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دارالعلوم مدنیہ میں ۱۴ تا ۱۶/ فروری ۲۰۱۲ء کو سہ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ صبح نو بجے سے عصر کی نماز تک ظہر کی نماز کے وقفہ کے ساتھ رہا۔
۱۴/ فروری ۲۰۱۲ء: کورس کا آغاز مولانا فقیر اللہ اختر کے سبق سے ہوا، جس میں انہوں نے کورس کے اغراض ومقاصد، ضرورت وافادیت کے عنوان سے لیکچر دیا۔
دارالعلوم مدنیہ کے استاذ مولانا غلام مرتضیٰ نے مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی مبادیات پر لیکچر دیا۔ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے قادیانیت کی سنگینی اور ان کی ملک وملت دشمنی پر گفتگو فرمائی، پھر بعد نماز ظہر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت اور کذب مرزا پر خطاب کیا اور مرزا قادیانی کے کذاب ودجال ہونے کے پندرہ دلائل بیان کئے۔
۱۵/ فروری ۲۰۱۲ء: صبح نو سے دس تک گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے شرائط نبوت کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی جب کہ مولانا غلام مرتضیٰ نے حیات مسیح علیہ السلام کے دلائل بیان کئے۔ بعد نماز ظہر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مرزائیوں کا عقیدہ اور اجرائے نبوت کے سلسلہ میں قادیانیوں کے مستدلات اور ان کا رد کیا۔
۱۶/ فروری ۲۰۱۲ء: ۹ تا ۱۰ بجے تک مولانا غلام مرتضیٰ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل دیئے، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حضرت امام مہدی کا ظہور، علامات قیامت اور حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی علامات اور مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت ومہدویت کا رد پیش کیا۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرؤف فاروقی نے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اس کا پس منظر بیان کیا۔ آخری خطاب شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے کیا۔ شرکاء کورس اور کورس کے منتظمین، دارالعلوم مدنیہ کے مہتمم مولانا صاحبزادہ محمد ایوب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خان، ان کے بھائیوں، جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد اسحاق کو کورس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ملک وملت کو قادیانیت سے درپیش خطرات، یہود و ہنود اور نصاریٰ کی سازشی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ، شرکاء کورس کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ آخر میں کورس میں شریک ہونے والے تین سو کے قریب خواتین وحضرات کو اعزازی اسناد دی گئیں۔ مولانا غلام مرتضیٰ اور قاری محمد یامین کنوینر مجلس کو اعزازی و امتیازی سندات پیش کی گئیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطبوعہ لٹریچر کی ایک ایک کاپی دی گئی۔ کورس مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس موسیٰ والا ضلع گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵؍فروری ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء جامع مسجد ختم نبوت موسیٰ والا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ، جس کی صدارت جامع مسجد کے خطیب مولانا غلام مرتضیٰ نے کی ۔ کانفرنس سے مولانا محمد عارف شامی ، مولانا عبدالواحد رسول نگری اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا ۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی ۔ مولانا شجاع آبادی نے اپنے خطاب میں قادیانیت کا کامیاب تعاقب کرنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، جمعیت علماء اسلام، دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ اور فضلاء کو خراج تحسین پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍مارچ ۲۰۱۲ء ص۲۴)
رد قادیانیت کورس اونچی کھرولیاں ضلع سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍فروری ۲۰۱۲ء ظہر سے عشاء تک ختم نبوت کورس منعقد ہوا، جس کا انتظام مولانا عبداللطیف نے کیا۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا مطیع اللہ خطیب ڈیفنس لاہور ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت ،مسلم ، قادیانی متنازعہ چند مسائل کے عنوان پر خطاب کیا۔ عصر سے مغرب تک مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ نے لیکچر دیا ۔ مغرب سے قبل عشاء تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے امام مہدی علیہ الرضوان اور حضرت مسیح علیہ السلام کی علامات و رفع و نزول پر بحث کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍مارچ ۲۰۱۲ء ص۲۴)
۳۱ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
فروری ۲۰۱۲ء ٹنڈوآدم (نامہ نگار) ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے، اس مسئلہ پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کریں گے، قادیانیوں کے حامی کبھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، قادیانیوں کو پاک فوج سے نکالا جائے ، توہین رسالت کی معافی نہیں، اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی ، علامہ احمد میاں حمادی ، مولانا عبدالغفور قاسمی ، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی و دیگر نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے زیر اہتمام ۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے، مسئلہ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا ، اکابرین جو امانت ہمارے کاندھوں پر رکھ گئے اسے احسن طریقے سے نبھایا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں ، یہ کبھی پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، حکومت ان کی سر پرستی ترک کر کے ملک کو بچانے کی فکر کرے، قادیانیوں کو تمام ملک کے کلیدی عہدوں سے ہٹا کر مسلم عوام کو ان عہدوں پر بٹھایا جائے ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عبدالغفور قاسمی ،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بیرون ملک خود کو مظلوم ظاہر کر کے مراعات حاصل کرتے ہیں ، حالانکہ یہ لوگ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عبدالوحید قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانی ہمارے ملک پر قابض ہونا چاہتے ہیں لیکن جب تک رسول اللہ کا ایک امتی بھی زندہ ہے کبھی ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہمارا متحدہ پلیٹ فارم ہے اس پر ہم سب ایک ہیں، جماعت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا تاج محمد ناہیوں، مفتی حبیب اللہ پٹھان، مولانا محفوظ الرحمن شمس، مولانا عبدالغفور ربانی، عبدالعزیز غوری، مولانا دوست محمد فاروق نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی لابیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز کی جانب سے توہین رسالت قانون کو ختم کرانے کے مطالبہ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ختم کرنے کے لئے جو ہاتھ اٹھیں گے انہیں توڑ دیا جائے گا، ہر اس حکومت کو، سیاسی جماعتوں کو مسلمان ووٹ نہیں دیں گے جو قادیانیوں کی حمایت کرے یا ان کی سرپرستی کرے گی، انہوں نے ایک لسانی تنظیم کے رہنما کی جانب سے غیر مسلم اقلیت کو صدر اور وزیر اعظم بنائے جانے کے مطالبہ پر کہا کہ کوئی غیر مسلم پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم نہیں ہو سکتا، جو لوگ اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں انہیں اصل فکر قادیانیوں کی ہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام دشمن قادیانی حامی تنظیموں ، این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔ علماء کرام نے بگرام ایئر بیس پر قرآن مجید شہید کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس جرم میں ان اسلامی حکمرانوں کو بھی ملوث قرار دیا جو امریکا کو افغانستان میں لانے کا سبب بنے، کانفرنس میں حافظ محمد اعظم جہانگیری، مفتی محمد امان اللہ بلوچ، مولانا راشد حبیب، مفتی عرفان، مولانا منظور کمبوہ، مولانا حبیب الرحمن سعید، قاری حماد اللہ عبیدی، مولانا محمود الحسنین انڈھڑ، مفتی محمد یعقوب مگسی، علی عابد لغاری، مولانا عبدالقدیر حقانی، مولانا عبدالجبار عباسی، مولانا عبداللہ بروہی و دیگر علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
- ٭...... کانفرنس میں سندھ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
- ٭...... مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ دل کی تکلیف کے باوجود کانفرنس کی صدارت اور علامہ احمد میاں حمادی مدظلہ کانفرنس کی نگرانی
فرماتے رہے۔
- ٭...... کانفرنس میں جوانوں نے سیکورٹی کے فرائض بہت احسن طریقے سے انجام دیئے۔
- ٭...... کانفرنس بعد نماز عشاء شروع ہو کر رات ۲ بجے تک جاری رہی۔
- ٭...... کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد راشد مدنی احسن طریقے سے سرانجام دیتے رہے۔
- ٭...... امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے اسٹیج پر پہنچنے کے ساتھ پر تپاک نعروں کے ساتھ مجمع نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔
- ٭...... جلسہ گاہ میں مختلف رنگا رنگ بینرز لگائے گئے تھے، جس میں تین چیزوں سے ہمیشہ بچیں: ”شیطان، شیزان، قادیان“،
قادیانیوں کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے کے نعرے درج تھے۔
- ٭...... کانفرنس کی کوریج میں ہر سال کی طرح روزنامہ اسلام نے بہت نمایاں کردار ادا کیا، جس پر علامہ محمد راشد مدنی نے جلسہ میں ان کا
بے حد شکریہ ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۵)
مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد کا دورہ سکھر
یکم؍ مارچ ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء مولانا اللہ وسایا سکھر تشریف لائے اور ۲؍ مارچ عالمی مجلس سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر کی
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معیت میں قنبر علی خان جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل ختم نبوت کے حوالہ سے بیان فرمایا اور بعد نماز عشاء سکھر گھنٹہ گھر چوک میں جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام آئین شریعت کانفرنس سے تفصیلی خطاب فرمایا۔ ۳؍مارچ بروز ہفتہ سے سکھر میں ”تحفظ ختم نبوت ورد قادیانیت کورس“ کا تین روزہ تین جگہوں پر اہتمام کیا گیا۔ (۱) جامعہ اشاعت القرآن والحدیث ہری مسجد نواں گوٹھ للبنات ۔ (۲) جامعہ فاطمۃ الزہراء عثمانیہ مسجد للبنین والبنات ۔ (۳) مکی مسجد نزد محمد بن قاسم پارک سکھر جو مدارس عربیہ، سکول، کالج اور شہری حضرات کے لئے عام تھا۔ ان پروگراموں کی تفصیل اس طرح ہے۔
پہلا پروگرام صبح دس بجے مولانا اللہ وسایا نے ہری مسجد میں درس دیا اور بعد ازاں مولانا محمد حسین ناصر نے درس دیا۔ دوسرا پروگرام صبح ساڑھے دس بجے عثمانیہ مسجد میں پہلے مولانا عبداللطیف اشرفی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور کورس کی غرض وغایت پر گفتگو کی۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے تفصیلی درس دیا جس میں طلباء وطالبات نے نکات نوٹ کئے۔ تیسرا پروگرام مکی مسجد میں بعد نماز ظہر شروع ہوا۔ آغاز حافظ عبدالحیٰ کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ اس کے بعد مولانا قاری خلیل احمد نے کورس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے جماعت کا تعارف کرایا اور افتتاحی دعاء فرمائی۔ مولانا محمد حسین ناصر نے شرکاء کورس کو قادیانیت سے متعلق لیکچر دیا اور پوائنٹ نوٹ کروائے۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ختم نبوت کے حوالہ سے تفصیلی اور مؤثر انداز میں درس دیا۔ نماز عصر سے قبل شرکاء کورس کی چائے او بسکٹ سے ضیافت کی گئی اور بعد نماز عصر مولانا اللہ وسایا کا تفصیلی درس ہوا جس میں طلباء کے ساتھ علماء کرام نے بھی استفادہ کیا۔ کورس کے آغاز میں تمام شرکاء کورس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کی جانب سے پرنٹ شدہ کاپی اور پین تقسیم کئے گئے۔ دوسرے روز ۴؍مارچ جامعہ اشاعت القرآن والحدیث نواں گوٹھ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا اللہ وسایا، فاطمۃ الزہراء عثمانیہ مسجد مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مکی مسجد مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا اللہ وسایا نے درس دیئے۔ تیسرے روز ۵؍مارچ جامعہ اشاعت القرآن والحدیث نواں گوٹھ میں مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا اللہ وسایا، جامعہ فاطمۃ الزہراء بیراج کالونی میں مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان اور مولانا پروفیسر عطاء محمد، مکی مسجد مولانا قاضی احسان احمد نے درس دیئے۔ تینوں دنوں کے کورس میں مولانا اللہ وسایا نے حیات مسیح علیہ السلام اور ظہور مہدی پر، مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدہ ختم نبوت پر اور مولانا محمد حسین ناصر نے کذب مرزا پر گفتگو کی اور شرکاء نے تمام معلموں کے دروس بڑی دلجمعی سے سنے اور پوائنٹ نوٹ کئے۔ آخری روز مکی مسجد میں بعد نماز ظہر تا عصر شرکاء کے دوران موضوع کی مناسبت سے تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں مدارس، اسکول اور شہری حضرات نے حصہ لیا اور چودہ مقررین میں سے ۴ نے امتیازی پوزیشن حاصل کی اور جماعت کی طرف سے کتابوں کے انعام کے مستحق قرار پائے اور حسن اتفاق یہ کہ چاروں مقرر مدرسہ جامعہ اشرفیہ سکھر کے منتخب ہوئے۔ اس موقعہ پر منصفین کے فرائض مولانا مفتی قمر الدین ملانو مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور مولانا مفتی نجم الدین دارالافتاء جامعہ ادارۃ الفرقان نے سرانجام دیئے۔ مقابلہ کے آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے امتیازی حیثیت پانے والوں کے علاوہ تمام شرکاء مقابلہ میں کتاب آئینہ قادیانیت تقسیم کی اور اختتامی دعاء فرمائی۔ تمام حاضرین میں جماعت کا مفت لٹریچر لفافوں میں تقسیم کیا گیا اور آخر میں تمام حاضرین کے لئے جماعت کی طرف سے طعام کا انتظام کیا گیا۔ اس طرح یہ تین روز کورس مکمل ہوا۔ آخری روز تقریری مقابلہ قابل دید اور قابل رشک تھا کہ ہر آنے والا مقرر ایک ہی آیت کی تلاوت کرتا۔ لیکن عنوان آیت ایک ہونے کے باوجود مواد، دلائل اور انداز بالکل جداگانہ ہوتا۔ یہ سب برکات ہیں آپ ﷺ کی ختم نبوت کی۔ اس مقابلہ سے ایک طرف تو جذبہ تقریر بڑھا اور دوسری طرف مختلف افراد کی طرف سے ختم نبوت کے عنوان پر بہت سا مواد بھی سامنے آیا۔ اس طرح تین دن کے تین
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقامات کے کورس سے الحمدللہ سینکڑوں طلباء وطالبات تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے لئے تیار ہوگئے اور بہت سے افراد نے جماعت کے ترجمان رسالہ ختم نبوت اور لولاک کے خریدار بننے کا وعدہ کیا۔ تینوں روز مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد نے بعد نماز عشاء مختلف مساجد میں جلسوں اور کانفرنسوں سے بھی بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۵۳ تا ۵۶)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ ٹوبہ
۳؍مارچ ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ دن ۱۰ بجے چک نمبر ۵۰۷ ماموں کانجن میں ایک تربیتی اصلاحی نشست عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ مولانا خبیب احمد ضلعی مبلغ نے عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واکابرین کی نظر میں اور تقابل ادیان پر گفتگو فرمائی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی کے عنوان سے اور جماعتی سرگرمیوں وسوالات کے جواب دیئے۔ بعد نماز ظہر جامعہ حسین بن علی پھلور میں طلباء واساتذہ کرام سے خطاب فرمایا۔ ۴؍مارچ بروز اتوار جامع مسجد بلال غلہ منڈی ٹوبہ میں درس قرآن دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۴۸)
کسوانہ میں ختم نبوت کانفرنس
کسوانہ احمد سیال کی تحصیل اور جھنگ ضلع کا معروف قصبہ ہے۔ جہاں قادیانی جراثیم پائے جاتے ہیں۔ جناب حامد سیال اور ان کے رفقاء مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جو ان کے مقابلہ میں جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ۴؍مارچ ۲۰۱۲ء کو کسوانہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضلعی امیر مولانا ظہور احمد سالک نے کی۔ کانفرنس سے مولانا غلام حسین، مولانا ظہور احمد سالک، قاری عمر حیات، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، بریلوی مکتب فکر کے عالم دین مولانا حیدر علی، علامہ حبیب الرحمان، مولانا غلام رسول دین پوری، امیر جمعیت مولانا غلام محمد سومرو نے خطاب کیا اور کانفرنس عصر تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
۱۶؍مارچ ۲۰۱۲ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد کبیر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت تاجر رہنما حاجی عبدالقیوم قریشی نے کی۔ تلاوت قاری عطاء الرحمن مدنی، نعت حافظ اشفاق احمد کراچی نے پیش کی۔ جب کہ مولانا تجمل حسین، قاری امجد مدنی، قاری محمد انیس، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اعجاز مصطفیٰ کراچی، امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، سندھ کے معروف خطیب استاذ العلماء مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا ڈاکٹر خالد محمود نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس دو بجے رات تک جاری رہی۔
دارالعلوم حسینیہ دادو
۱۷؍مارچ ۲۰۱۲ء کو حضرت الامیر دامت برکاتہم کی قیادت میں مولانا اعجاز مصطفیٰ، قاضی احسان احمد، مولانا محمد یوسف بہاول پوری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد انس جلال پوری، ریاض احمد میمن پر مشتمل قافلہ نے دارالعلوم حسینیہ شہداد پور میں نائب مہتمم مولانا محمد سلیم کے جوان سال بیٹے کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور مولانا محمد اکرم مرحوم کے رفع درجات کی دعاء کی۔
علماء کنونشن حیدرآباد
۱۷؍مارچ ۲۰۱۲ء کو بعد نماز ظہر دفتر ختم نبوت حیدرآباد میں علماء کا کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ جب کہ مولانا عبدالحق مہمان خصوصی تھے۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا اعجاز مصطفیٰ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم کی نمائندگی مولانا مفتی ظفر اقبال نے کی اور اختتامی دعاء بھی کرائی۔
ہالانی میں جلسہ ختم نبوت
۱۸؍ مارچ ۲۰۱۲ء قبل از ظہر جامعہ دارالفضل ہالانی میں جلسہ سے مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ مدرسہ جنوبی پنجاب کے معروف شیخ طریقت مولانا فضل علی قریشی کے خلیفہ مولانا سید غلام دستگیر نے قائم کیا۔ جہاں ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔
گمبٹ میں جلسہ ختم نبوت
۱۸؍ مارچ ۲۰۱۲ء کو جامع مسجد رحمانیہ میں ظہر سے عصر تک جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی امیر مولانا حکیم عبدالواحد بروہی نے کی۔ جب کہ جمعیت علماء اسلام ضلع خیر پور میرس کے امیر شیخ التفسیر مولانا میر محمد میرک، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا تجمل حسین، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ جلسہ کا انتظام مولانا نعمت اللہ، جاوید اقبال، عبدالسمیع شیخ، مولانا حکیم عبدالواحد بروہی اور دوسرے احباب نے کیا۔
ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل
پنوں عاقل میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر مولانا خلیل الرحمن نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے مولانا میر محمد میرک، مولانا ممتاز احمد کلیار، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا تجمل حسین نے خطاب کیا۔ جب کہ آخری بیان مولانا قاضی احسان احمد کا ہوا۔ نعت کی سعادت مولانا عبدالواحد، معشوق علی نے حاصل کی۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہ کر مولانا قاضی احسان احمد کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ حضرت الامیر علالت کی وجہ سے شرکت نہ فرماسکے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص ۵۳، ۵۴)
ٹیکسلا کی ڈائری
ملعون غلام عابد کذاب کا کیس اڈیالہ جیل ٹرائل کے مراحل سے گزر رہا ہے اور جناب محمد کلیم کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ صاحب چار تاریخوں پر جیل نہیں آئے۔ مؤرخہ ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۲ء کو اکابرین ختم نبوت نے فیصلہ کیا۔ پریس کانفرنس اور تحصیل کی سطح پر بڑی ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے مولانا قاضی عبدالرشید کو صاحبزادہ مولانا محمد زکریا نے ان سے رابطہ کیا کہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا ٹائم لے دیں۔ چنانچہ قاری صاحب نے ٹائم عطاء فرمایا۔ پہلی نشست قبل از نماز عصر قاری عبیداللہ نقشبندی کی مسحور کن آواز میں تلاوت سے شروع ہوئی اور ہدیہ نعت جناب محمد ادریس آصف نے پیش کی صاحبزادہ مولانا مفتی عبد الہادی نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی اہمیت پر بیان فرمایا۔ دوسری نشست بعد از نماز عصر قاری معاویہ حسن کی تلاوت حافظ محمد ادریس آصف کی نعت سے شروع ہوئی۔ ان کے بعد مولانا مفتی شبیر احمد عثمانی نے مسئلہ ختم نبوت اور ملعون غلام عابد کذاب کے کیس کے متعلق زبردست خطاب کیا۔ بعد نماز مغرب ہدیہ نعت جناب صاحبزادہ طاہر رشید راولپنڈی نے پیش کی صدارت مولانا عبدالغفور نے کی خطاب مولانا ظہور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد علوی، مولانا نذیر احمد فاروقی اسلام آباد، مولانا شفیق الرحمٰن راولپنڈی نے کیا۔ چوتھی نشست بعد از نماز عشاء صدارت جناب صاحبزادہ نجیب احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں نے کی اور ہدیہ نعت قاری مصباح الاسلام نے پیش کی۔ خطاب مولانا محمد صدیق مدنی آف لیہ ،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کیا۔ جس میں تمام صحافی وکلاء خصوصاً افضل جنجوعہ، انجمن تاجران صرافہ یونین کے رہنما مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما، بریلوی مکتبہ فکر، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث کے رہنماؤں کی موجودگی میں قاری صاحب نے مولانا عبدالغفور کی صدارت میں بڑی جاندار پریس کانفرنس کی۔ حضرت نے جامعہ عربیہ کے فضلاء کی دستار بندی کی اور بنات کی فاضلات کو تقسیم انعام کیا۔ اس کے بعد آخری خطاب سیرت النبی ﷺ اور مسئلہ ختم نبوت آئین پاکستان کے عنوان پر ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلی گفتگو کی۔ آخر میں صاحبزادہ نجیب احمد خان کی دعا سے رات بارہ بجے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن
۲۸ /اپریل ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامعہ احیاء العلوم حمید آباد مامونکانجن میں مولانا محمد طاہر لکھن کی صدارت میں غازی عبدالقدوس رحیمی کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ مولانا عبدالرؤف چشتی اوکاڑہ اور مولانا عالم طارق چیچہ وطنی نے سیرت النبی اور عظمت قرآن اور ختم نبوت کے حوالے سے مولانا ضیاء الدین آزاد اور عالمی مجلس کا کردار کے حوالے سے ضلعی مبلغ مولانا خبیب احمد نے اپنے اپنے بیان میں کہا :الحمد اللہ !کثیر تعداد میں قادیانیت کو چھوڑ کر حقیقی اسلام کے دائرہ میں داخل ہورہے ہیں اور آپ کی جماعت عالمی مجلس نے کتنے مسلمانوں کو قادیانی ہونے سے بچایا اور بچاتی آرہی ہے اور آئندہ کے لئے بھی اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس بنوں
پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بنوں کی سر زمین پر ۲۹/اپریل ۲۰۱۲ء بروز اتوار جامعہ مسجد حافظ جی بیرون لکی گیٹ بنوں میں منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عطاء الحسن استاد جامعہ محمدیہ اور مفتی عظمت اللہ نے انجام دیئے۔ کانفرنس کی صدارت مولانا قاری امام یوسف نے کی۔ تلاوت قرآن پاک معراج القرآن بیرون لکی گیٹ کے قاری نوید صاحب نے کی۔ نعت ملک شیراز نے پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب فرماتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے، اس میں ہم قادیانیوں کو نہیں چاہتے۔ سب سے پہلا بیان صدر کانفرنس نے کیا۔ آپ نے محبت نبوی ﷺ پر بیان کیا۔ معزز مہمانوں میں سے سب سے پہلے مولانا عابد کمال مبلغ کے پی کے نے النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسہم پر بیان کیا۔ آپ کے بیان کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ آپ کو آقاﷺ دو جہان سے اپنی جان سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ مولانا عبدالستار نے خطاب فرمایا۔ قراردادیں: اکابر کی موجودگی میں مولانا مفتی عظمت اللہ ازہری نے درج ذیل قراردادیں پیش کیں:
- ۱...... قادیانی اپنی عبادت گاہوں وغیرہ کے لئے جو اسلامی نام استعمال کرتے ہیں اس پر پابندی لگائی جائے۔
- ۲...... ممتاز قادری کو فوراً رہا کیا جائے۔
- ۳...... قادیانی مصنوعات ذائقہ گھی اینڈ آئل ، راجہ سوپ صابن، یونیورسل سٹیبلائزر، قاضی دواخانہ حافظ آباد، کیور پیور ربوہ انٹرنیشنل، ورسن
ہومیو پیتھک کی ادویات، شاہ نواز ٹیکسٹائل مل، شاہ تاج شوگر مل منڈی بہاؤالدین، شیزان کمپنی کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
قراردادوں کو کانفرنس کے سب شرکاء نے ہاتھ کھڑے کر کے منظور کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمد للہ! کانفرنس میں علماء کرام اور مشائخ عظام اور مہتمم حضرات خطباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔ یہاں پر ”مشت نمونہ از خروارے“ سٹیج پر بیٹھے ہوئے معززین میں سے چند نام ذکر کئے جاتے ہیں۔ مولانا قاری امام یوسف خلیفہ مجاز مولانا پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی، مولانا یعقوب الرحمن خطیب جامع مسجد تیل منڈی لکی گیٹ بنوں، مولانا عبدالمومن خطیب مسجد جعفر خان لکی گیٹ کے صاحبزادے مولانا حافظ عبداللہ، مولانا سینیٹر قاری عبداللہ، مولانا محمد نواز بنوی، مولانا نسیم علی شاہ روڈ بنوں، امام تعبیر رویا مولانا حسام الدین، مولانا اعزاز اللہ حقانی، ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ مولانا گل، مولانا حفیظ الرحمن المدنی، حاجی محمد ایاز، حاجی محمد نیاز، شیخ الحدیث مولانا محمد زرین، مفتی فرحان اللہ، مولانا شمس الحق، مولانا قاری زبید اللہ، مولانا مفتی شہید نواز، مولانا عبدالجلال شاہ الہاشمی، مولانا مفتی اکرام اللہ، سید ظہیر الدین ایڈووکیٹ قانونی مشیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں ڈویژن صدر ہائی کورٹ سیشن بنوں، مولانا عمر ایاز، مولانا طیب طوفانی نورنگ، صاحبزادہ امین اللہ سرائے نورنگ مولانا مفتی غلام اللہ، مولانا غلام نصیر شاہ فاروقی، مولانا احتشام، مولانا میاں عبدالرحمن شاہ، مولانا محمد نواز، حاجی فضل ریاض اور ان کے صاحبزادے بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ جامعہ اشرف العلوم ہوید لنڈی ڈاک بنوں، جامعہ عثمانیہ، جامعہ تحسین القرآن، جامعہ زکریا سورانی، جامعہ معراج القرآن بیرون لکی گیٹ اور جامعہ دارالاحسان کے اساتذہ اور طلبہ والہانہ انداز میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کے دوران عوام اور خواص کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ شروع سے آخر تک تمام حاضرین بیٹھے رہے اور تمام بیانات کو گوش دل سے سنا۔ الحمد للہ! کانفرنس بخیر و عافیت کے ساتھ مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ کی رقت آمیز دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس پیرووال ضلع خانیوال
۳۰؍ اپریل ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء جامعہ مسجد الممتاز پیرووال میں مولانا محمد عاصم حنفی کی زیر نگرانی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تلاوت کی سعادت حافظ ممتاز احمد نے حاصل کی۔ نعتیہ کلام حافظ محمد طارق نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالستار گورمانی، بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین مولانا محمد اسحاق گولڑوی اور مجلس ختم نبوت کے ضلعی امیر پیر خواجہ محمد عبد الماجد صدیقی، مولانا عطاء المنعم نعیم نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۳، ۵۴)
مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ خیبر پختونخوا
مولانا اکرم طوفانی نے صوبہ خیبر پختونخوا کا پانچ روزہ طوفانی دورہ کیا جس میں ختم نبوت کانفرنسوں اور بڑے بڑے دینی مدارس میں علماء اور طلباء سے خصوصی خطاب فرمایا۔ دورہ کے پہلے مرحلے میں کوہاٹ، سرائے نورنگ، جامعۃ المرکز اسلامی غوری والا بنوں اور بنوں شوگر مل، جامع مسجد حافظ جی بنوں شہر، کرک شہر اور سابق ایم این اے مفتی ابرار سلطان کے دارالعلوم لاچی ضلع کوہاٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ یہ مرحلہ ۲۷؍ اپریل سے ۲۹؍ اپریل تک کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ دوسرے مرحلے میں ۳۰؍ اپریل اور یکم مئی مردان، نوشہرہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور دارالعلوم تعلیم القرآن باڑہ مارکیٹ پشاور اور جامع مسجد اقصیٰ افغان کالونی پشاور میں عظیم الشان کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ تمام دورے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی امیر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عبدالستار، صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی اور ضلعی رہنماؤں اور کثیر تعداد میں صوبے کی دینی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اندرون سندھ ختم نبوت کانفرنسیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم تا ۸؍ مئی ۲۰۱۲ء اندرون سندھ اور کراچی میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ یکم مئی مسجد ختم نبوت کوٹری مقررین مولانا اللہ وسایا مولانا مفتی حفیظ الرحمن رحمانی ٹنڈو آدم اور مقامی حضرات نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا توصیف احمد تھے۔
۲؍ مئی ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس میرپورخاص مدینہ مسجد شاہی بازار میں زیرنگرانی مولانا حفیظ الرحمان فیض منعقد ہوئی۔ مقررین مولانا اللہ وسایا، قاری کامران احمد ، مولانا عبداللہ شاہ مظہر ، تلاوت قاری احسان اللہ یوسف زئی اور نعت حافظ عطاء اللہ یوسف زئی حافظ زوہیب احمد ، اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد علی صدیقی تھے۔
۳؍ مئی ۲۰۱۲ء پہلا پروگرام کوٹ غلام محمد محمدی مسجد میں ہوا جس میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد علی صدیقی، پروگرام کے میزبان ماسٹر محمد اسلم اور مولانا محمد عدنان اور مدرسہ اشرف المدارس کے اساتذہ کرام تھے۔
۳؍ مئی ۲۰۱۲ء کو دوسرا پروگرام مرکزی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کنری جو بعد نماز عشاء بخاری روڈ پر رات ایک بجے تک جاری رہی۔ پروگرام سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالغفور قاسمی ، مولانا احمد علی عباسی ، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا مختار احمد مبلغ تھرپارکر اور ان کے معاون مولانا محمد علی صدیقی تھے۔ پروگرام کے میزبان مقامی مجلس کے محمد ریاض ارائیں، محمد ناصر، محمد سہیل، حافظ ذیشان محمد سلطان اور دیگر حضرات تھے۔
۴؍ مئی ۲۰۱۲ء مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا جمعہ بخاری مسجد کنری، مولانا قاضی احسان احمد مسجد صدیقہ نوکوٹ، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی جھڈو ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد علی صدیقی مدینہ مسجد گولارچی میں پڑھایا۔ دوسرا پروگرام بعد نماز مغرب مدرسہ خاتم النبیین سنجر چانگ ضلع ٹنڈو اللہ یار میں ہوا جس میں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالمجید دین پوری، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی اور مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد علی صدیقی کانفرنس کے میزبان مقامی مجلس کے مولانا راشد محبوب ، مفتی محمد عرفان، مولانا قادر بخش ، مولانا خالد نثار تھے۔
۵؍ مئی ۲۰۱۲ء ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد مسجد فاروق اعظم تلک چاڑی میں بعد نماز عشاء ہوئی جس میں مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالغفور قاسمی ، مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے اور مولانا توصیف احمد اسٹیج سیکرٹری تھے۔ پروگرام کا انتظام مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا سیف الرحمان آرائیں، مولانا محمد عارف قاری رفیق اللہ اور دیگر احباب نے ساتھ مل کر کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۴۹، ۵۰)
کوئٹہ کی ڈائری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام سنہری مسجد میں تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا جس میں تقریباً ایک سو حضرات نے شرکت کی۔ ۶؍ مئی ۲۰۱۲ء کو بعد نماز ظہر مولانا محمد یونس ندیم کے تعارفی بیان سے کورس کا آغاز ہوا تین سے سوا چار بجے تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت بیان کئے اور مرزا قادیانی کے دعاوی کا جائزہ لیا۔ سوا چار سے پونے چھ بجے تک مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے امام مہدی علیہ الرضوان کی اوصاف احادیث نبویہ کی روشنی میں بیان کیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ابطال کیا۔ ۷؍ مئی پونے تین سے سوا تین تک مولانا محمد یونس۔ سوا تین سے ساڑھے چار تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کا ابطال کیا۔ ساڑھے چار سے پونے چھ تک مولانا محمد راشد مدنی نے رفع ونزول مسیح علیہ السلام کے عنوان پر لیکچر دیا۔ ۸؍ مئی تین سے ساڑھے چار بجے تک مولانا شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت آیات قرآنی اور احادیث نبویہ کی روشنی میں پر اختتامی لیکچر دیا۔ جب کہ مفتی راشد مدنی نے مرزائیت کا جنرل پوسٹ مارٹم کیا۔ اس طرح تین روزہ کورس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ مقامی زعماء، مولانا قاری محمد عبداللہ منیر، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی کالے خاں، حمزہ ملوک، محمد عمران خان، عبدالصمد بلوچ چاک و چوبند ہوکر شرکاء کورس کی خدمت میں مصروف رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۲)
سہ روزہ تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کورس، کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام سہ روزہ تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کورس ۷ تا ۹؍ مئی ۲۰۱۲ء کو جامع مسجد سنہری میں منعقد کیا گیا، جس میں دینی مدارس، اسکولز، کالجز، یونیورسٹی کے طلبا اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔
پہلے روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے مبلغ مولانا محمد یونس نے شرکائے کورس کے سامنے کورس کی غرض و غایت بیان کی اور تحفظ ختم نبوت کے متعلق لیکچر دیا۔ مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات و کردار کے موضوع پر خطاب کیا۔
دوسرے روز مولانا محمد یونس نے رد قادیانیت پر بیان کیا جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرزا قادیانی کی تضاد بیانی پر خطاب کیا اور حاضرین کو حوالہ جات نوٹ کروائے۔ مولانا محمد راشد مدنی نے عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام پر لیکچر دیا۔
تیسرے روز مولانا محمد یونس نے قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں فرق واضح کیا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کذبات مرزا پر خطاب کرتے ہوئے مرزا قادیانی کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مولانا راشد مدنی نے جھوٹے مدعیان نبوت کی تاریخ پر تفصیلی لیکچر دیا۔
دریں اثنا مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی استعماری ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں، مسلمان ختم نبوت کے عقیدے کی قدر مشترک پر متحد ہو جائیں، اہل علم حضرات فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کریں جو قوتیں اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ہیں قادیانی ان قوتوں کے دوست ہیں اور دوستی کا حق ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی کوئی فرقہ نہیں بلکہ ایک دہشت گرد اور خطرناک گروہ ہے۔ قادیانی فتنے کی آبیاری انگریزوں نے کی ہے اور انگریزوں نے ہی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی بنایا۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود اس بات کا اقراری ہے کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ الحمدللہ! اکابرین علماء دیوبند نے نہ انگریز کو برداشت کیا اور نہ ہی انگریز کے خود کاشتہ پودے کو برداشت کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اکابرین علماء دیوبند کی ترجمان جماعت ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصد عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کا تعاقب کرنا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۲ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد کوئٹہ میں ۱۰؍ مئی ۲۰۱۲ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے نامور علماء کرام نے شرکت کی کانفرنس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد الیاس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گھمن، مولانا منظور احمد مینگل، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبداللہ منیر، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا عبدالواحد، مولانا محمد یونس نے خطاب کیا۔ علماء نے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان میں مذہبی فرقہ واریت نہیں۔ لیکن سازش کے تحت علماء کا مسلسل قتل ہو رہا ہے جو قوتیں اسلام کے خلاف ہیں قادیانی ان کے دوست ہیں اور دوستی کا حق ادا کر رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام جامع مسجد گول سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں ۱۱؍مئی ۲۰۱۲ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے نامور علماء کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا منظور احمد مینگل، مولانا عبدالواحد، مولانا عبداللہ منیر، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا محمد یونس شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، شیخ الحدیث سید عبدالستار شاہ نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ کی کراچی میں تبلیغی و اصلاحی مصروفیات
وسط مئی میں کراچی کے مختلف علاقوں میں تحفظ ختم نبوت کے پروگرامز منعقد کئے گئے، جن میں اکابرین مجلس تحفظ ختم نبوت اور زعماء کراچی نے خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی اور بزرگ رہنما مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ خصوصی طور پر ان پروگراموں میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ تفصیل درج ذیل ہے۔
کراچی: ۱۲؍مئی ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء پختون آباد گراؤنڈ میں مدرسہ سیف العلوم یوسفیہ کے تعاون سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ پختون آباد کے زیر اہتمام سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری سعید اللہ شمشیر اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ہدیہ نعت معروف و مشہور مداح رسول مولانا محمد اشفاق نے پیش کیا۔ کانفرنس سے شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے جانشین اور فرزند ارجمند مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مفتی حبیب الرحمٰن اور مہمان خصوصی مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ نے خطاب کیا۔ کلمات تشکر مدرسہ سیف العلوم عربیہ کے مہتمم حلقہ پختون آباد اور مجلس کے سرپرست مولانا راحت گل شمشیر نے پیش کئے۔
مولانا طوفانی مدظلہ نے اپنے خطاب میں جہاں قادیانیت اور مرزائیت کے فتنہ عمیاء سے عوام الناس کو آگاہ کیا وہاں موجودہ دور میں رونماء ہونے والے دیگر فتنوں کی بھی نشاندہی کی اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اللہ اور اس کے محبوب رسول محمد عربی ﷺ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں اور ان فتنوں کے تعاقب کے لئے کمر بستہ رہیں، رب کریم ہماری حفاظت فرمائے۔ صاحبزادہ حافظ محمد سعید لدھیانوی مدظلہ کی پُرسوز دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
۱۳؍مئی ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد نماز ظہر دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت متصل جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ پر جاں نثاران محمد عربی ﷺ کا ایک پُر وقار ایمان پرور اجتماع منعقد ہوا، جس میں خدام ختم نبوت نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ الحمدللہ! اکابر علماء کرام کے خطابات ہوئے، مہمان خصوصی مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ کا بھی وجد آفریں بیان ہوا، انہوں نے کہا کہ آپ حضرات آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہیں، آپ کو رحمت حق چن کر اس پروگرام میں لائی ہے اور یہ کام بہت عظیم ہے، جو آپ کو نصیب ہوا۔ دفاع ناموسِ رسالت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات کی حفاظت اور چوکیداری انتہائی عظیم اور بابرکت کام ہے، اس میں اپنی زندگی لگائیں، دونوں جہانوں کی کامیابیاں آپ کے قدم چومیں گی۔ اللہ تعالیٰ توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۴؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز پیر صبح ۱۱ بجے جامعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میٹروول میں مفتی عطاء الرحمن کے ہاں پروگرام منعقد ہوا، جس میں معززین علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی، پروگرام سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد اور مولانا طوفانی زید مجدہم نے خطاب کیا۔ اللہ تعالیٰ منتظمین اور مقررین کو انتہائی جزائے خیر نصیب فرمائے جنہوں نے ایمانی بہاروں پر مبنی پروگرام کا انعقاد کیا۔
۱۴؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز پیر بعد نماز عصر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ قذافی ٹاؤن کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا محمد ساجد نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر سیر حاصل، فکر انگیز ، دلی جذبات پر مبنی گفتگو کی۔ مولانا نے عوام پر زور دیا کہ فتنہ ہمیشہ چالاکی، عیاری اور دھوکہ سے پھیلتا ہے اور فتنہ قادیانیت سے متعلق تو حضور ﷺ نے پیشینگوئی فرمائی ہے کہ جتنے جھوٹے مدعیان نبوت ہوں گے وہ جھوٹے، دھوکہ باز اور فریبی ہوں گے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا اور دھوکہ باز تھا۔ ہماری اصل ذمہ داری ان فتنوں سے عوام کو آگاہ کرنا اور دامن رسول سے وابستہ کرنا ہے۔
راقم الحروف (مولانا قاضی احسان احمد) نے بعد نماز مغرب بیان کیا، بندہ کے بعد پروگرام کے روح رواں مولانا طوفانی کا اردو، پشتو دونوں زبانوں پر مشتمل گرما گرم پُر مغز خطاب دلپذیر ہوا، الحمد للہ! حقیقت ختم نبوت اور استیصال قادیانیت کے عنوان پر اکابرین ملت کی قربانیوں کی داستان عشق و فاء بیان کر کے سامعین کو اس کام کی حفاظت پر لگنے کے لئے دل و جان سے تیار کیا اور سب نے یک زبان ہو کر فتنہ قادیانیت کے خلاف کمر بستہ ہونے کا وعدہ کیا، رب کریم قبولیت نصیب فرمائے۔ آمین !
۱۵؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز منگل بعد نماز مغرب شہید ختم نبوت مولانا سعید احمد جلال پوری کے خلیفہ مجاز شہید ناموس رسالت و ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم مولانا محمد احمد مدنی شہید کے مدرسہ جامعہ محمودیہ مدنیہ بفرزون میں درس قرآن کریم کی تقریب منعقد ہوئی، بیان سے قبل مدرسہ کے ہونہار کمسن طلباء نے عربی زبان میں سربلندیٔ اسلام، آزادیٔ فلسطین اور حفاظت مکہ ومدینہ پر انتہائی رقت آمیز اور جذباتی انداز میں نظم پیش کی، جس کا ثبوت مولانا طوفانی مدظلہ کا اس موقع پر آب دیدہ ہونا اور بعد میں ان بچوں کی تحسین اور تعریف کرنا ہے، بیان میں مولانا مدظلہ نے مدرسہ کے موجودہ مہتمم حضرت مدنی کے جانشین مولانا عبدالرحمن مدنی کی خدمات کو سراہا اور اکابر سے وابستہ رہنے اور ان کے طرز عمل پر قائم رہنے کی نصیحت کی۔ حضور نبی کریم ﷺ کی اپنی امت سے محبت و شفقت کے عنوان پر انتہائی محبوبانہ اور عاشقانہ انداز میں خطاب کیا کہ کوئی آنکھ اشک بار ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اللہ تعالیٰ دل و جان ، محمد ﷺ پر قربان کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین !
۱۵؍ مئی ۲۰۱۲ء بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ موسیٰ کالونی کے زیر اہتمام جامع مسجد خلیلہ موسیٰ کالونی میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت ونعت رسول مقبول ﷺ کے فوراً بعد مولانا طوفانی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”حب الوطن من الایمان“ پیغمبر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ وطن کی محبت ایمان میں سے ہے، اپنے وطن کے ساتھ محبت کرنا ایمان کی علامت ہے، ہم اپنے ملک کے ساتھ محبت کرتے ہیں، یہ ہمارے ایمان کی علامت ہے۔ قادیانی جہاں دین اسلام کے دشمن ہیں وہاں اس ملک کے بھی دشمن ہیں، جب ان کے دلوں میں ملک کی محبت نہیں، دین کی محبت نہیں ہے، اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے خالی و عاری ہیں تو لازمی بات ہے کہ ان کے پاس ایمان کی دولت کا ذرہ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا تمام مسلمان قادیانیت کے فتنہ سے خود بھی بچیں اور لوگوں کو بھی بچائیں۔ شیزان اور دیگر قادیانی اداروں کا بائیکاٹ عشق رسول کا اہم تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ بالایمان فرمائے۔
۱۶؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز بدھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ اورنگی ٹاؤن کے زیر اہتمام دارالعلوم حنفیہ میں بعد نماز عشاء تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس منعقد ہوئی ، تلاوت ونعت رسول مقبول کے بعد حلقہ بلدیہ ٹاؤن کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے کانفرنس کے اغراض ومقاصد اور جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا مختصر الفاظ میں ذکر کیا۔ اس کے بعد راقم الحروف (مولانا قاضی احسان احمد ) کا تفصیلی بیان تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا استحصال ، اکابر کی قربانیوں کی روشنی میں ہوا۔ رب کریم نے کمال فضل اور عنایت کا معاملہ فرمایا کہ بات سے بات اور عنوان سے موضوع کی مناسبت سے کچھ پیش کرنے کا موقع میسر آیا۔
آخری خطاب مہمان خصوصی مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ کا ہوا۔ مولانا نے دو باتوں کی طرف خصوصی توجہ دلائی ۔ ربوہ کا نام کیوں تبدیل کرایا گیا؟ قادیانیوں کو احمدی کہنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کی بنیاد دجل وفریب ، دھوکا وعیاری پر رکھی گئی ہے اگر قادیانی دھوکا، فریب دغابازی، کذب لسانی چھوڑ دیں تو ان کی جھوٹی اور خانہ ساز دعویٰ نبوت کی عمارت یک لخت زمین بوس ہوجائے گی اور کاروبارِ نبوت بند ہوجائے گا۔ مولانا نے کہا کہ قادیانی عام مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنے کے لئے قرآن کریم کی آیت : ”وَا وَیْنَهُمَا اِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْن (المؤمنون: ۵۰)“ کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم غلط اور ناحق ہوتے تو قرآن کریم میں ہمارے شہر کا نام کیوں آتا؟ ہماری بستی کا ذکر کیوں آتا؟ قرآن اور علم قرآن سے ناواقف ایک عام سادہ لوح مسلمان اس دھوکا کا شکار ہو جاتا ہے، مولانا نے کہا کہ یہ قادیانیوں کا دجل ہے، اس آیت کی حقیقت سے ہر مسلمان کو واقف ہونا چاہئے ، یہ آیت جناب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم کے متعلق ہے کہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ:”ہم نے ان کو ٹھکانہ دیا ، ایک ٹیلہ پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی نترا۔“ معلوم ہوا کہ آیت مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور والدہ عیسیٰ کا ذکر ہے نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت کے نو آباد شہر کا جس کا وجود قادیانیوں کے وجود کے بعد رونما ہوا۔
باقی رہا قادیانیوں کا یہ کہنا کہ ان کے شہر کا نام قرآن کریم میں ہے جس کی وجہ سے یہ شہر مقدس اور قادیانی حق پر ہیں تو اس قرآن کریم میں فرعون کا نام بھی ہے تو سارے مرزائی مرزا غلام احمد قادیانی کو فرعون کہیں اور اس قرآن میں خنزیر کا نام بھی ہے سارے قادیانی اپنے آپ کو خنزیر کے نام سے پکارا کریں تاکہ یہ بھی مقدس ہو جائیں اور برحق بھی بن جائیں۔
دوسری بات مولانا نے یہ کہی کہ قادیانیوں ، مرزائیوں کو بعض سادہ لوح مسلمان اور ہمارے تعلیم یافتہ ارباب علم وفن ”احمدی“ کے لفظ سے پکارتے ہیں ، یہ بالکل غلط ہے، کسی حال میں بھی کسی مرزائی یا قادیانی کو احمدی کہنا جائز نہیں ہے بلکہ یہ گناہ ہے تمام مسلمان اس بات کا خیال رکھیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیوں کو مرزائی کے نام سے پکاریں، اس لئے کہ ”مرزائی“ مرزا غلام احمد قادیانی کا الہامی نام ہے مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوا: ”سنفرغ لک یا مرزا“ (تذکرہ طبع دوم،ص:۱۳۳) ... اے مرزا! ٹھہر جا ہم ابھی تیرے لئے فارغ ہوتے ہیں ... پس جب ہم مرزائیوں کو مرزا قادیانی کے الہامی نام کی طرف نسبت کر کے مرزائی کہتے ہیں تو ان کو اس پر خوش ہونا چاہئے نہ کہ ناراض۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ مسلمان غیرت اور حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیانیوں اور مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں، ان کی مصنوعات کی خرید و فروخت سے مکمل اجتناب کریں۔
۱۷؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز جمعرات بعد نماز عصر مدرسہ معارف القرآن شیریں جناح کالونی کیماڑی ٹاؤن میں ”عظمت قرآن کریم و ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوئی اور ختم مشکوٰۃ شریف کی محفل بھی منعقد ہوئی۔ مغرب کی نماز کے بعد تلاوت ونعت کے بعد راقم الحروف نے بیان کیا، خصوصی خطاب مولانا طوفانی مدظلہ کا ہوا۔ مدرسہ کا تعارف اور علاقائی خدمات کا مختصر جائزہ مدرسہ کے مہتمم نے پیش کیا۔ سامعین
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے اپیل کی کہ ہر حال میں ختم نبوت کے کام کو ترجیح دیں۔ شیزان کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ کلمات تشکر پیش کرنے کے لئے کیماڑی ٹاؤن میں جمعیت علماء اسلام کے امیر جناب مولانا قاضی فخر الحسن کو دعوت دی گئی آخر میں مولانا طوفانی مدظلہ نے مفصل خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج یہود و ہنود اور نصاریٰ تمام ملت کفر اسلام کے خلاف صف بندی کئے ہوئے ہے۔ تمام عالم کفر قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، لہٰذا ملت بیضاء ملت حنیفیہ کو بھی تردید قادیانیت کے سلسلہ میں اکٹھے ہونا ہوگا اور قادیانیت و مرزائیت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مدارس و مساجد، مکاتب قرآنیہ اسلام کی سربلندی کے مضبوط قلعے ہیں، ان کی حفاظت واعانت ہمارے لئے ذخیرہ آخرت ہے، لہٰذا ان تمام امور کی طرف آپ حضرات کی ہمیشہ نظر رہنی چاہئے۔
۱۸؍ مئی ۲۰۱۲ء کو عرفات مسجد منوڑہ میں جمعتہ المبارک کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طوفانی مدظلہ نے کہا کہ اے غیور مسلمانو! حضور ﷺ ہمارے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا بلکہ جو مائیں نبی جنا کرتی تھیں، خالق کائنات کے خزانہ میں وہ مائیں ہی ختم ہوگئی ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اب کوئی اور نبی نہیں آئے گا، اپنے عقیدہ کی اصلاح ضروری ہے، اعمال کی تکمیل و اصلاح ضروری ہے، نماز، روزہ، عبادات کا شوق، فکر آخرت، جنت کے حصول کا شوق، جہنم سے بچنے کا داعیہ ہر مسلمان کے دل و دماغ میں ہر وقت بیدار رہنا چاہئے، اس میں ہماری کامیابی و کامرانی ہے۔ قادیانی فتنہ سے امت کو بچانا ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جس نے محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے، آپ یقین کریں محمد ﷺ کی ذات اتنی بلند ذات ہے جن کی عظمت کے معترف اپنے تو اپنے غیر بھی تھے، دوست تو دوست دشمن بھی عظمتوں کے قائل تھے، تاریخ ان حقائق سے بھری پڑی ہے، ہمیں بھی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کے کام میں آگے بڑھنا ہے اور دشمنانِ رسول عربی ﷺ کا راستہ روکنا ہے۔ شیزان مرزائیوں کی کمپنی ہے، اس کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ اسلامی غیرت وحمیت اور قرآن و سنت کا تقاضا ہے۔
۱۸؍ مئی ۲۰۱۲ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء بلدیہ ٹاؤن کی جدید تعمیر سے آراستہ و پیراستہ جامع مسجد بلال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ نے خطاب کیا۔ مولانا نے نہایت دل سوز اور جذباتی انداز میں بیان کیا اور مسلمانوں میں اپنے نبی کریم ﷺ سے متعلق غیرت ایمانی دکھانے کا جذبہ پیدا کیا اور کہا کہ ہمیں دنیا میں اپنے عزیز واقارب کا ہر رشتہ یاد ہے، یہ میرے والد ہیں، یہ میری والدہ ہیں، یہ میرا بیٹا ہے، غرضیکہ استاد و شاگرد، پیر و مرشد، نوکر، مالک، سارے رشتے یاد ہیں مگر ان میں سب سے باوفا، قیمتی، مؤثر، محبتوں، شفقتوں، عظمتوں سے پُر رشتہ اور اس کے تقاضے کچھ بھی یاد نہیں۔ یاد رکھیں دنیا کے سارے رشتے راستے میں دم توڑ جائیں گے۔ رشتۂ وفا محمد ﷺ کام آئے گا۔ آئیے! آگے بڑھیں تحفظ ختم نبوت کے کام کو فروغ دیں، اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے خدام، رفقاء، معاونین، محبین کو اپنی طرف سے کمال جزائے خیر نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جون ۲۰۱۲ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس خانوزئی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد خانوزئی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۴؍ مئی ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلس بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد یونس، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالواحد نے عوام الناس کے عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ژوب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد ژوب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۵؍مئی ۲۰۱۲ء قبل ازعصر منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر شیخ غلام حیدر نے کی کانفرنس سے مولانا عبدالواحد کوئٹہ، صوبائی مبلغ مولانا محمد یونس ندیم اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس عشاء کی نماز تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس لورالائی
عالمی مجلس بلوچستان کے زیر اہتمام لورالائی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۵؍مئی ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوئی جس میں عالمی مجلس بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد یونس، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالواحد نے عوام الناس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ کاشمیری نے فرمایا تھا کہ قادیانی فتنہ سب سے خطرناک فتنہ ہے۔ اگر نجات اخروی چاہتے ہو تو حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کرو۔ علماء کرام نے کہا کہ جنت میں جانے کا مختصر ترین راستہ تحفظ ختم نبوت کا کام ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں اور مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲، ۳؍ رجب المرجب ۱۴۳۳ھ ۲۴، ۲۵؍مئی ۲۰۱۲ء دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی تین نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے کی۔ ۲۴؍مئی کو بعد نماز ظہر منعقد ہو کر عصر کی نماز تک جاری رہی۔ دوسری نشست کی صدارت حافظ محمد ثاقب مدظلہ گوجرانوالہ نے کی۔ جو ۲۵؍مئی ظہر کے بعد سے عصر تک جاری رہی۔ تیسری نشست عصر کے بعد سے مغرب تک جاری رہی۔
اجلاس میں چناب نگر ختم نبوت کورس کے انتظامات کو آخری شکل دی گئی۔
کورس انتظامیہ: مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد خبیب، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد احمد و اساتذہ کرام جامعہ ختم نبوت چناب نگر ہوں گے۔
اساتذہ کرام: میں مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا عبدالقدوس خان قارن گوجرانوالہ، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد۔
لولاک: خریداران لولاک سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے رسالہ کو برقرار رکھنے کے لئے تجدید کرالیں اور ۱۴۳۴ھ ذوالحجہ تک کا چندہ بھجوا دیں۔
خطبات جمعہ: مبلغین نے ملتان شہر کی ۳۸؍ مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبات دیئے۔
انبیاء کرام علیہم السلام پر بنائی جانیوالی فلمیں: یورپ، مراکش، ایران سے ریلیز ہونے والی فلمیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کا کردار بد اخلاق، بدعقیدہ اور بدکردار لوگوں کے ذریعہ فلمایا گیا یا مسلمان اداکاروں کے ذریعہ کافروں کا کردار فلمایا گیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر بنائی جانے والی فلموں پر پابندی عائد کی جائے اور مسلمان ناظرین سے کہا گیا کہ ان کے لئے ایسی فلمیں دیکھنا حرام اور ناجائز ہے۔ دیکھنے والے اللہ پاک سے معافی مانگیں۔ نیز طے ہوا کہ مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد کے علماء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرام کا ایک وفد لے کر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جناب نسیم احمد سے ملاقات کر کے کردار ادا کرنے کی درخواست کریں۔ نیز اس سلسلہ میں راقم الحروف (مولانا محمد اسماعیل) وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے ملاقات کر کے آواز بلند کرنے کی درخواست کریں۔
علماء کرام کے قتل کی مذمت: مفسر قرآن مولانا محمد اسلم شیخوپوری، مولانا نصیب خان استاذ الحدیث دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے دست راست مولانا سید محسن شاہ کے قتل کی مذمت کی گئی۔ نیز بنت امیر شریعت محترمہ سیدہ ام کفیل بخاری، مولانا محمد شریف نعمانی کہروڑ پکا، قاری عزیز الرحمن بہاول پور گھلواں، مبلغ مظفرگڑھ قاضی عبدالخالق کی پھوپھی صاحبہ کی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعاء کی گئی۔
مخلوط تعلیم کی مذمت: سرکاری اداروں میں پہلی کلاس سے مخلوط تعلیم شروع کرنے کی مذمت کی گئی اور اسے اخلاقی بے راہ روی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
ختم نبوت لائرز فورم: لاہور میں ختم نبوت لائرز فورم کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے دوسرے علاقوں میں فورم کے قیام کی حوصلہ افزائی اور تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔
بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب: تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ مرکزی حضرات کے دوروں کے موقع پر بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کا پروگرام بنا کر وکلاء کو اس فتنہ سے باخبر کیا جائے۔
نیٹو سپلائی بحالی کی مذمت: اجلاس میں نیٹو سپلائی کے مجوزہ سرکاری پروگرام کی مذمت کی گئی اور اجلاس میں کہا کہ قوم سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملہ پر صرف معافی نہیں بلکہ امریکیوں سے مکمل انخلا چاہتی ہے۔ نیز پارلیمنٹ کی قرارداد پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
آئندہ سہ ماہی کے لئے کتاب: آئندہ سہ ماہی کے لئے قادیانی شبہات کے جوابات جلد سوم طے ہوئی۔ جس کا مطالعہ اور تلخیص کی جائے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۴۸، ۴۹)
حیدرآباد میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دفتر ختم نبوت آٹو بھان روڈ میں یکم ، ۲ اور ۳؍ جون ۲۰۱۲ء کو تین روزہ رد قادیانیت کورس زیر نگرانی مولانا عبدالسلام قریشی منعقد ہوا۔ یکم؍ جون بعد نماز مغرب افتتاحی بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کا ہوا جس میں انہوں نے کورس کی غرض وغایت اور اہمیت بیان کی۔ دوسرا بیان مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا جس میں انہوں نے اوصاف نبوت پر گفتگو کی اور مرزا قادیانی کے کذاب و دجال ہونے کے پندرہ دلائل بیان کئے۔ مہمان خصوصی قاری منظور الحق تھے۔ کورس رات گئے تک جاری رہا۔ ۲؍ جون کو افتتاحی بیان مولانا توصیف احمد کا ہوا۔ جب کہ مولانا شجاع آبادی رفع ونزول مسیح علیہ السلام قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا۔ آخر میں سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ ۳؍ جون کو مولانا محمد علی صدیقی نے امام مہدی علیہ الرضوان پر گفتگو کی۔ جب کہ مولانا شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت ،قرآن، احادیث نبویہ، اجماع امت اور قیاس کی روشنی میں پر لیکچر دیا۔ مہمان خصوصی مولانا سیف الرحمن آرائیں تھے۔ ان کا آخری مختصر بیان بھی ہوا۔ دعاء مولانا عبدالسلام قریشی نے کی۔ کورس میں ایک سو سے زائد علماء کرام، عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تین روزہ تربیتی ختم نبوت کورس کوٹ ادو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامع مسجد اللہ والی کوٹ ادو میں تین روزہ تربیتی ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا۔ بتاریخ ۱۰، ۱۱، ۱۲/ رجب بروز ہفتہ، اتوار اور پیر روزانہ پہلی نشست بعد نماز مغرب شروع ہوتی اور نماز عشاء تک جاری رہتی اور پھر دوسری نشست بعد نماز عشاء شروع ہوتی اور تقریباً دو گھنٹہ تک جاری رہتی۔ پہلے دن مولانا غلام حسین جھنگ سے تشریف لائے اور دونوں نشستیں انہوں نے پڑھائیں۔ جب کہ دوسرے دن کی پہلی نشست میں مولانا عبد الستار لیہ سے تشریف لائے اور انہوں نے سبق پڑھایا اور دوسری نشست میں مولانا منیر احمد نعمانی آف علی پور نے بیان فرمایا۔ تیسرے دن کی پہلی نشست میں مولانا محمد ادریس، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا قاضی عبدالخالق نے بیان فرمایا اور آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا محمد اکرم طوفانی نے دو گھنٹے بیان فرمایا۔ جماعت ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مولانا قاضی عبدالخالق نے مسجد کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور بھائی محمد خالد انصاری، شیخ عابد، عطاء اللہ، خالد محمود، محمد اسلم، محمد عمران، فاروق، ناصر چہن، شیخ انتظار اور خادم مسجد قاری طاہر کا بھی شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے کورس کو کامیاب بنانے میں محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
گوجرانوالہ میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹، ۱۰، ۱۱/ جون ۲۰۱۲ء جامع مسجد حنفیہ کلر آبادی عالم چوک گوجرانوالہ میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ مغرب سے عشاء تھا۔ کورس کا افتتاح مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت حیات اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان، مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ پر لیکچر دیئے۔ اختتامی کلمات مجلس گوجرانوالہ کے امیر مولانا محمد اشرف مجددی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ میزبانی کے فرائض مولانا حافظ فضل الرحمن اور حاکم علی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ملکوال
۲۱/ جون ۲۰۱۲ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب میلاد چوک ملکوال ضلع منڈی بہاؤالدین میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت حافظ محمد ادریس نے کی۔ جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ امین برادران نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبدالواحد اور منڈی بہاؤالدین کے مبلغ مولانا محمد قاسم نے سرانجام دیئے۔ مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد عمر عثمانی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی کفایت اللہ نے خطاب فرمایا۔ قراردادیں مولانا مفتی صفدر علی نے پیش کیں۔ آخری بیان مولانا محمد عالم طارق کا ہوا اور اختتامی دعاء بھی انہوں نے فرمائی۔ کانفرنس رات ڈیڑھ بجے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
ستائیسویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
پہلی نشست: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۴/ جون ۲۰۱۲ء بروز اتوار سینٹرل مسجد برمنگھم میں ستائیسویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پہلی نشست میں اپنے صدارتی خطاب میں امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا کہ منکرین ختم نبوت نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مقتدا اور نبی مان کر حضور اکرم ﷺ سے اپنا رشتہ ختم کرلیا ہے۔ وہ اسلام کے بھی باغی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بھی باغی ہیں۔ انہوں نے خود اپنا راستہ مسلمانوں سے علیحدہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص مسلم اکثریتی اور اسلامی ممالک میں بھی آج مسلمان کو مسلمان رہنے کے لئے سخت محنت اور قربانی کی ضرورت ہے اور آپ لوگ تو ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور پھر ان ممالک میں مسلمانوں سے متعلق اچھے جذبات نہیں پائے جاتے۔ مسلمان ہمیشہ مخالف پروپیگنڈا کا شکار رہتے ہیں اور غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کی وجہ سے ایک آزمائش میں ہیں اور مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں اپنے تشخص کو برقرار رکھنے اور اپنی نسل کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کے لئے تو بہت زیادہ محنت اور جانفشانی کی ضرورت ہے۔ اس لئے علماء سے اپنا تعلق جوڑیں اور اپنے اور اپنی نسلوں کے ایمان وعقیدہ کے تحفظ کے لئے بھرپور محنت کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلت اور بے توجہی سے ہم اپنا دینی تشخص بھی کھو بیٹھیں۔
کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خالص دینی اور مذہبی تنظیم ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ مجلس اسلامی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے سر پر ختم نبوت کا تاج سجایا اور آپ کو تمام انبیاء کا سردار بنایا اور آپ پر قصر نبوت کی تکمیل فرمادی جو بھی آپ کے اس اعزاز کو چھیننے اور آپ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ ہم اسے ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم منکرین ختم نبوت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سو سال سے زیادہ تاویل در تاویل کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام کی صحیح تعلیمات کا مطالعہ کریں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کے دامن سے وابستہ ہوجائیں۔
جمعیت علماء ہند کے راہنما مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ قرآن کریم کا بیان کردہ عقیدہ ہے جو آپ ﷺ کے علوم کے امین و وارث صحابہ کرام ؓ نے آگے امت تک پہنچایا اور اس عقیدہ کی حفاظت کر کے امت کو درس دیا کہ اس عقیدہ کی حفاظت جان و مال کی حفاظت سے زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر مسلم ممالک میں اپنے بچوں اور اولاد کی دینی تربیت کرنا ضروری ہے اور اس کی ایک ہی صورت ہے کہ یہاں مسلمان مدارس قائم کریں، اسلامی اسکول قائم کریں اور اپنے بچوں کو دینی ماحول دیں۔ تاکہ یہاں کے مادر پدر آزاد ماحول سے ان کو بچایا جاسکے۔
اقراء روضۃ الاطفال کے ڈائریکٹر اور ختم نبوت کے راہنما مفتی خالد محمود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے۔ اسلامی حکومت اپنے ذمی شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی ضامن ہوتی ہے۔ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام تو بدامنی اور دہشت گردی کو انسانی فلاح وسکون کے لئے زہر قاتل قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجات کا مدار حضور اکرم ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کے لائے ہوئے دین کو ماننا ہے اور یہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ بفرض محال یہ تسلیم کرلیا جائے کہ آپ ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اب مدار نجات آنحضرت ﷺ کی ذات نہیں۔ بلکہ اس دوسرے نبی پر ایمان لانے سے نجات ہوگی تو قادیانیت نے نئی نبوت کا جھگڑا کر کے دراصل مسلمانوں کے مرکز وفاداری کو بدلنے کی کوشش ہے اور ان کا عقیدت ومحبت کا رشتہ حضور اکرم ﷺ سے کاٹ کر مرزا غلام احمد قادیانی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مکہ ومدینہ کی چھاتیوں کو خشک قرار دے کر قادیان کو دین کا مرکز اور عقیدت کا محور بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے ناظم اعلیٰ مفتی ظفر اقبال نے کہا کہ دین دشمن طاقتوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مسلمان انتشار و
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خلفشار کا شکار رہیں۔ علماء کرام کے اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ میں تمام علماء کرام خصوصاً دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہو کر کام کریں اور ایک مضبوط قوت بن کر دین کی محنت و کوششوں کو بروئے کار لائیں۔
مولانا خلیل الرحمن نے کہا کہ فتنہ قادیانیت ہندوستان میں پیدا ہوا اور پاکستان میں پروان چڑھا۔ اس لئے پاکستان کے علماء کرام اس فتنہ کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے علماء کرام یہاں آ کر ہمیں اور برطانیہ کے مسلمانوں کو اس فتنہ سے آگاہ کرتے ہیں۔
ختم نبوت یوکے کے رہنما مفتی سہیل احمد نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعوؤں کے ذریعہ جہاں مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔ وہاں مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی بھی کوشش کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان دعوؤں کے ذریعہ اپنی راہ مسلمانوں سے جدا کر لی ہے۔ اب ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
ختم نبوت انگلینڈ کے مبلغ مفتی محمود الحسن نے کہا کہ قادیانی اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر غیر مسلموں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب ڈھونگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ قادیانیوں کی چالوں کو سمجھنے لگے ہیں اور اب وہ ان کے دام میں آنے کے لئے تیار نہیں۔
آسٹریلیا سے آئے ہوئے مہمان مقرر شیخ شادی فلسطینی نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہم دل وجان سے اس کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اولاد کو دین کے عقائد سمجھانے چاہئیں۔ خصوصاً حضور اکرم ﷺ کی محبت وعقیدت ان کے دلوں میں بٹھانی چاہئے کہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں کامیابی آپ ﷺ کے طریقہ سے وابستہ ہے۔
کانفرنس کا آغاز قاری قمر الزماں کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جب کہ ہدیہ نعت پاکستان کے مشہور نعت خوان حافظ ابوبکر حیدری اور قاری عزیز الرحمن شاہ نے پیش کیں۔ کانفرنس کی اس نشست سے قاری فیض اللہ چترالی، قاری عبدالرزاق رحیمی، حافظ محمد اقبال، مولانا امداد اللہ قاسمی، مولانا اسماعیل رشیدی، قاری تصور الحق، مفتی محمد اسلم اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔
دوسری نشست: عقیدہ ختم نبوت نے پوری امت مسلمہ کو متحد کر دیا ہے اور انہیں وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ اس عقیدہ نے ہمیں ایک ایسے مضبوط رشتہ میں منسلک کر دیا ہے جسے زمینی حدود و قیود، زبان و رنگ اور نسل و تہذیب کی تفریق ختم نہیں کر سکتی۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا خواجہ عزیز احمد نے کانفرنس کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کسی خاص جماعت یا کسی خاص طبقہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرنا تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ اور یورپ کے امیر حافظ محمد مکین نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ وہ ہمیشہ امن و سلامتی کا درس دیتا ہے اور جھگڑے فساد سے روکتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسلام کی سدا بہار تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ سلامتی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہاں جب کبھی کسی نے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالا اور اپنے باطل نظریات و عقائد کو دجل و تلبیس سے مسلمانوں میں پھیلانا چاہا تو ہم نے دلائل کی بنیاد پر ان مغالطوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمیشہ دلیل سے اپنی بات سمجھائی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے علامہ ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اجرائے نبوت کا عقیدہ پیش کر کے امت مسلمہ میں انتشار و خلفشار پیدا کیا ہے۔ فتنہ قادیانیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو باہمی اختلافات اور غلط فہمیوں کو فراموش کر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دور امت مسلمہ کے لئے بڑے فتنوں کا دور ہے۔ لیکن آج کا سب سے بڑا المیہ پورے اسلامی معاشرہ پر مغربی تہذیب کی یلغار ہے۔ نئی نسل کے دماغ کو بے دینی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دین اسلام اور اسلاف سے نفرت و بیزاری پیدا کرنے کے لئے ان کے ذہنوں میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔ تہذیب جدید کے متوالے یہود و نصاریٰ اور غیروں کی نقالی اور ان کی تہذیب و تمدن کو اپنانے میں اپنے لئے فخر محسوس کر رہے ہیں۔
مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ سے محبت وعقیدت عین ایمان ہے۔ اگر کسی کے دل میں آپ کی محبت نہیں تو اس کے ایمان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ محبت رسول کا تقاضا ہے کہ ہم آپ کی سیرت وصورت کو اپنائیں۔ آپ کے طریقہ پر چلیں۔ آپ کے دوستوں سے محبت کریں اور آپ کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھیں۔ ناروے سے آئے ہوئے مہمان مولانا مفتی طارق عثمان نے کہا کہ قادیانی حضرات ان ملکوں میں آنے والے نئے مسلمان نوجوانوں کو گھیرنے اور انہیں گمراہ کرکے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن الحمد للہ! علماء کی محنت اور صحیح راہنمائی کی وجہ سے انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی نہیں ہوتی۔ علماء کرام ہر میدان میں دین کی صحیح تصویر اور اس کی اصل تعلیمات سے عوام الناس کو آگاہ کرتے ہیں۔ اس لئے یورپ کے مسلمانوں کو خصوصیت سے چاہئے کہ وہ علماء سے جڑے رہیں۔ ان سے ہمیشہ رابطہ رکھیں۔ اس لئے کہ جو لوگ علماء سے رابطہ نہیں رکھتے مسلمانوں کی اجتماعیت سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ وہ شیطان کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔
مولانا محمد ابراہیم بریڈ فورڈ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانیت کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ کیونکہ یہ دجل سے کام لیتا ہے اور مسلمانوں میں گھس کر اسلام اور مسلمان کے نام سے فتنہ پھیلاتا ہے۔ ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے شراب کی بوتل پر زمزم کا لیبل لگا کر اسے فروخت کیا جائے۔ اس وجہ سے اس فتنہ کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے۔
بنگلہ دیش کے مہمان مقرر مولانا فرید مسعود نے کہا کہ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ اس دین کے بعد اب کسی اور دین کی ضرورت نہیں۔ حضور اکرم ﷺ سے وابستہ ہوجانے کے بعد اب کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ڈنکاسٹر کے مولانا ابوبکر نے کہا کہ قادیانیوں نے حضور اکرم ﷺ کے آستانے سے ہٹانے کے لئے اپنی نبوت کا شوشہ چھوڑا اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے خود ساختہ الہامات کے ذریعہ ایک نیا دین پیش کیا قادیانی بظاہر اسلام کا مقدس نام لیتے ہیں۔ مگر اس میں سراسر کفر پوشیدہ ہے۔ قادیانیت استعمار کا خود کاشتہ ایسا خاردار پودا ہے جس میں الجھ کر امت کا اتحاد تار تار ہو چکا ہے۔
بلجیم کے مولانا عبدالحمید نے کہا کہ چودہ سو سال سے کئی افراد نے نبوت کے دعوے کئے۔ مگر اپنے برے انجام سے دو چار ہوئے۔ امت نے کسی جھوٹے مدعی نبوت کو تسلیم نہیں کیا۔ لندن کے شیخ ممتاز الحق نے کہا کہ نبوت کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور آنحضرت ﷺ پر آکر ختم ہوگئی۔ ظلی، بروزی کے لاحقے، سابقے دجل اور فریب ہیں، سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش ہے۔ مولانا مفتی وقاص نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت میں امت کی وحدت کا راز پوشیدہ ہے اور اس امت کی بقاء کا ضامن ہے اگر یہ عقیدہ درمیان سے نکل جائے تو امت امت نہ رہے گی بلکہ نبوتوں کے دعوؤں سے امتیں جنم لیں گی۔ باٹلی کے مولانا محمد ایوب سورتی نے کہا کہ جب حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ آتا ہے تو پوری امت اس کی حفاظت کے لئے ایک جان ہوتی ہے اور اس کے لئے اپنا تن من دھن اور اپنی اولاد قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔
کانفرنس کی اس نشست سے مولانا شبیر احمد، مولانا اسلام علی شاہ، پیر محمد انور، حافظ اظہر اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سینٹرل مسجد برمنگھم کے خطیب مولانا محمد اسماعیل رشیدی نے مختلف شہروں اور ممالک سے آنے والے علماء ومشائخ اور شرکائے کانفرنس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور عظیم الشان کانفرنس کو کامیاب بنانے پر مبارکباد پیش کی۔
دوسری نشست کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا خواجہ عزیز احمد نے کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری افضال نے حاصل کی۔ جب کہ ابرار شاہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب کی دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۴۹ تا ۵۲)
رد قادیانیت کورس اشرف المدارس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے زیر اہتمام ۲۴/ جون ۲۰۱۲ء بروز اتوار ۲۷ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس برمنگھم زیر صدارت امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ منعقد ہوئی۔ دیگر اکابرین اور زعماء ملت کے علاوہ مولانا اللہ وسایا بھی حسب سابق کانفرنس سے تقریباً ۲۲ دن پہلے برطانیہ کی سرزمین پر قدم رنجا فرما ہوئے تھے۔ کانفرنس ختم ہونے کے بعد ۲۷/ جون ۲۰۱۲ء کو واپس کراچی تشریف آوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے رب کریم مولانا اللہ وسایا مدظلہ کو صحت وعافیت والی طویل زندگی نصیب فرمائے۔
آپ کی کراچی آمد سے قبل یہاں پر آپ کے پروگرام ترتیب دیئے گئے تھے، چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ۲۷/ جون صبح دس بجے ہی پاکستان کی عظیم روحانی و علمی درسگاہ جامعہ اشرف المدارس میں طلباء کرام کو فتنہ قادیانیت اور رد عیسائیت کورس پر لیکچر دینے کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ کورس تین روز تک جاری رہا۔ آپ روزانہ صبح کے وقت تشریف لے جاتے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع ونزول اور امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور جیسے انتہائی اہم عنوانات پر مدلل اور سیر حاصل لیکچر دیتے، جن کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ آپ سیّدہ مریم علیہا السلام کے بطن مبارک سے محض جبرائیل کی پھونک سے پیدا ہوئے، بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے، یہود و نصاریٰ نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی مذموم سازش تیار کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے عیسیٰ بن مریم کو اس جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
قرب قیامت میں دجال رونما ہوگا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام امت مسلمہ کو اس کے فتنہ سے بچانے کے لئے دوبارہ آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے۔ دجال کو قتل فرمائیں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل اور غلام مصطفیٰ کی حیثیت سے ہوگا، آپ کا دوبارہ تشریف لانا ختم نبوت کے عقیدہ کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ آپ کو حضور ﷺ سے پہلے نبوت دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ دیگر نشانیاں وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں جن کا احادیث طیبہ میں تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ تفصیل کے لئے مراجعت فرمائیں۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)
سیدنا مہدی علیہ الرضوان سے متعلق گفتگو فرماتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے ارشاد فرمایا کہ ایک بات تو یہ یاد رکھیں کہ امام مہدی علیہ الرضوان اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیتیں ہیں، قادیانیوں کے نظریئے کے مطابق ایک شخصیت ہے، یہ درست اور صحیح نہیں ہے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام الگ شخصیت کا نام ہے اور سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان الگ شخصیت ہے۔
سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا ظہور عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوگا۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا نام حضور ﷺ کے نام پر محمد اور والد کا نام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ۲۴۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضور ﷺ کے والد کے نام پر عبداللہ ہوگا۔ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے یعنی حسنی حسینی ہوں گے۔ مسلمانوں کے خلیفہ کی وفات پر مہدی علیہ الرضوان مدینہ پاک چھوڑ کر مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں گے۔ دوران طواف لوگ آپ کو پہچان لیں گے اور بیعت کی درخواست کریں گے، آپ انکار فرمائیں گے، دوسری طرف اصرار ہوگا، مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان لوگ بیعت کریں گے۔ آپ سات سال حکومت کریں گے۔
آپ کے زمانہ میں پوری دنیا میں خیر و برکت پھیل جائے گی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ دجال کا خروج پہلے ہو چکا ہوگا، امام مہدی کے لئے فجر کی نماز کی اقامت کہی جا چکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے امام مہدی نماز کی امامت کی درخواست کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انکار کریں گے۔ امامت امام مہدی علیہ الرضوان ہی فرمائیں گے، اس امت کے اعزاز واکرام میں یہ تمام تر تفصیلات احادیث کی کتب میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان امور کی روشنی میں ہمیں اپنے ایمان و یقین کی حفاظت نصیب فرمائے اور فتنہ قادیانیت سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ تمام شرکاء کورس، جماعت کے مراکز اور مبلغین سے رابطہ فرمائیں تا کہ اس خطرناک سازش کو صحیح طریقہ سے بے نقاب کیا جا سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ / جولائی ۲۰۱۲ء ص ۲۶)
۱۹رواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی رپورٹ
الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفےٰ ۔ اما بعد!
اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق سے رفقاء نے ۲/شعبان ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۳/جون ۲۰۱۲ء کو سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کا صبح آٹھ بجے آغاز کیا۔ جامعہ امدادیہ چنیوٹ کے ناظم اعلیٰ اور وفاق المدارس کے ضلعی مسئول مولانا سیف اللہ خالد، مولانا عزیز الرحمن رحیمی استاذ الحدیث جامعہ دارالقرآن فیصل آباد نے ابتدائی بیانات ودعاء سے کورس کا آغاز کیا۔ کورس کے تمام امور کی مکمل نگرانی مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کی۔ مولانا عبدالرشید سیال، مولانا محمد اسحاق ساقی، قاری عبید الرحمن، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا فقیر اللہ اختر نے آپ سے بھر پور تعاون کیا۔ کورس کے تمام تدریسی امور کی نگرانی مولانا غلام رسول دین پوری صدر مدرس مدرسہ ختم نبوت چناب نگر نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی کے سب سے زیادہ لیکچر ہوئے۔ عالمی مجلس کے ان مناظرین کے علاوہ مندرجہ ذیل اساتذہ کرام کے بھی لیکچر ہوئے۔
اساتذہ کرام: مولانا سید نعیم الدین استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ قدیم لاہور، مولانا مفتی محمد حسن استاذ الحدیث وصدر المدرسین جامعہ مدنیہ جدید لاہور، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی مسئول شعبہ تخصص دعوت وارشاد خیر المدارس ملتان، مولانا زاہد الراشدی شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مناظر اسلام مولانا محمد الیاس گھمن ناظم اعلیٰ اتحاد اہل سنت پاکستان، مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، فاضل محقق جناب محمد متین خالد لاہور، مولانا نور محمد ہزاروی استاذ الحدیث جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، مولانا مفتی محمد انیس مظاہری شیخ الحدیث جامعہ احسان العلوم لاہور، مولانا قاضی محمد ابراہیم خانقاہ مدنی اٹک، مولانا محمد احمد مدرس مدرسہ ختم نبوت چناب نگر، جناب حاجی اشتیاق احمد، ایڈیٹر بچوں کا اسلام، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ، مولانا غلام مرتضیٰ صاحب جامعہ مدنیہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کورس کے دوران مختلف اوقات میں مختلف جامعات کے ذمہ داران اساتذہ اور مشائخ تشریف لاتے رہے اور کورس کے شرکاء ان کی زیارت سے مستفیض ہوتے رہے۔ ان حضرات کے تشریف آوری کورس کے منتظمین اور شرکاء کے لئے بہت ہی حوصلہ افزائی کا باعث ثابت ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورس کے دوران تشریف لانے والے علماء کرام: فیصل آباد سے مولانا غلام محمد، پیر طریقت مولانا سید فاروق ناصر شاہ، مولانا سید حبیب احمد شاہ، قاری محمد حنیف عثمانی، مولانا علامہ سعید احمد اسعد، مولانا مفتی محمد اسماعیل، مولانا محمد اسلم، مولانا سید اظہر شاہ، مولانا ہارون، مولانا پیر اصغر علی، جناب حارث، حافظ محمد حذیفہ، بھائی محمد شعیب، قاری محمد خلیل، مولانا محمد یوسف ربانی کورس کے دوران مختلف مواقع پر تشریف لاتے رہے۔
لاہور سے مولانا محمد خالد، جناب عامر خورشید، جناب محمد ذیشان، مولانا محمد سعید، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد بلال، مولانا محمد احمد، مولانا محمد عثمان، جامعہ صفہ اکیڈمی لاہور کے ناظم عمومی مولانا محمد عابد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرپرست و نائب امیر قبلہ نفیس الحسینی صاحب کے خلیفہ مجاز پیر طریقت محترم جناب رضوان نفیس، بھائی محمد نعیم، بھائی ہارون بھی لاہور سے مختلف اوقات میں کورس کے رفقاء کی سرپرستی کے لئے مدرسہ میں تشریف لائے۔
اسی طرح چنیوٹ سے قاری عبدالحمید، حافظ محمد علی، مولانا ہارون، مولانا محمد فاروق، مولانا محمد عمیر چناب نگر، چاہ مخدوماں سے جناب شیر محمد، چناب نگر سے مولانا محمد عابد خان، چنیوٹ سے سرفراز احمد، مولانا محمد یوسف مخدوم، سلانوالی سے قاری محمد اکرم مدنی، اچھرہ وال سے قاری محمد مبین، پھالیہ سے جامع مسجد مہاجرین کے خطیب مولانا مفتی صفدر علی اور ان کے گرامی قدر رفقاء، منڈی بہاؤالدین سے مولانا محمد قاسم نے تشریف آوری سے ممنون احسان فرمایا۔ کورس کا اختتام ۱۷ جولائی ۲۰۱۲ء کو ہوا۔
تقسیم اسناد کی تقریب سعید: اختتامی تقریب میں شرکت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ ایک روز پہلے تشریف لائے۔ آپ نے قریباً چوبیس گھنٹے کورس کے شرکاء کی سرپرستی اور دلجمعی کے لئے چناب نگر مدرسہ ختم نبوت میں گزارے۔ آپ کا سب سے آخری خطاب ہوا۔ آخری تقریب میں شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، مولانا قاری محمد ادریس ہوشیار پوری جامعہ رحیمیہ ملتان، پیر طریقت مولانا حافظ پیر ناصرالدین خاکوانی ملتان، پیر طریقت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، پیر طریقت جناب رضوان نفیس صاحب لاہور، مولانا قاری سیف اللہ خالد جامعہ امدادیہ چنیوٹ، پیر طریقت مولانا سید فاروق احمد ناصر شاہ صاحب فیصل آباد، مولانا سید حبیب احمد شاہ صاحب فیصل آباد، مولانا مفتی محمد ظفر اقبال صاحب کہروڑ پکا، مولانا غلام محمد صاحب، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا حماد الرحمٰن لدھیانوی، قاری عبدالرحمٰن جھنگ، مولانا غلام حسین جھنگ، قاری عبدالرحمٰن سرگودھا، مولانا شفیق احمد سرگودھا، قاری عبدالحمید چنیوٹ، مولانا قاری محمد ابوبکر شیخوپورہ، مولانا قاری منیر احمد گوجرانوالہ، مولانا مفتی فضل الرحمٰن فیصل آباد، قاری منیر احمد فیصل آباد، مولانا غلام محمد فیصل آباد، مولانا محمد ہارون چنیوٹ، مولانا محمد یوسف ربانی نے شرکاء کورس میں سندات تقسیم فرمائیں اور دست مبارک سے شرکاء کورس کو انعامی کتب عنایت فرمائیں۔ آخر میں امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کے حکم مبارک پر پیر طریقت مولانا حافظ پیر ناصرالدین خاکوانی نے دعاء خیر فرمائی۔ آپ کی دعاء مبارک پر بخیر وخوبی، اطمینان وسکون سے یہ کورس اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۴۳)
انیسویں سالانہ ختم نبوت کورس کے شرکاء
کورس میں اس سال شرکاء کی مجموعی تعداد ۲۶۸ تھی۔ ان سب کا امتحان ہوا۔ امتحان میں تین طالب علموں نے پوزیشن حاصل کی۔ جن کے نام بالترتیب یہ ہیں۔ رول نمبر ۱۰۵ محمد وسیم بن حاجی محمد اسلم جن کا تعلق لودھراں سے ۔ انہوں نے امتحان میں پہلی پوزیشن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاصل کی۔ رول نمبر ۶۵ محمد صہیب بن محمد صدیق جن کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے۔ انہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ رول نمبر ۱۲۷ اکرام اللہ خان بن فتح خان نیازی جن کا تعلق میانوالی سے۔ انہوں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اسی طرح حسب سابق طلباء کے مابین تقریری مقابلہ ہوا۔ جن میں سے منتخب چالیس طلباء نے حصہ لیا۔ ان میں سے بھی تین طالب علموں نے پوزیشن حاصل کی۔ رول نمبر ۱۴۶ محمد صہیب بن میاں محبوب احمد نے تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ رول نمبر ۲۱ محمد حبیب بن رفیق احمد۔ اس نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ رول نمبر ۱۵۶ محمد منان بن محمد رفیق۔ اس نے تقریری مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان چھ طلباء کو بزرگوں کے ہاتھوں خصوصی انعام سے نوازا گیا۔ کورس میں جن حضرات نے شرکت کی ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
اسمائے گرامی شرکاء کورس:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع ۱ محمد عزیز ابراہیم خان میانوالی ۲ محمد تنویر الیاس محمد الیاس نارووال ۳ محمد شعیب اعجاز علی قصور ۴ محمد آصف محمد بوٹا قصور ۵ محمد ارشاد ملک آمان مانسہرہ ۶ محمد طیب اختر علی لاہور ۷ فراز پاشا زاہد نوید پاشا وہاڑی ۸ فخر الدین محمد اسرار الدین چترال ۹ ثناء اللہ مولانا نذیر احمد ڈی جی خان ۱۰ محمد ولی اللہ قاری فضل رحیم سوات ۱۱ عبدالقدیر اکبر خان ہری پور ۱۲ محمد ابرار محمد خورشید آزاد کشمیر ۱۳ عازق حسین شاہ محمد جموں کشمیر ۱۴ محمد حسین منور محمد منور حسین بہاول پور ۱۵ تنزیل الرحمٰن خلیل الرحمٰن بہاول پور ۱۶ دین محمد تاج محمد قلات ۱۷ عبدالرحمٰن صلاح الدین قلات ۱۸ عبدالبصیر علی حیدر ہری پور ۱۹ محمد شعیب سہراب خان قصور ۲۰ محمد عرفان طارق محمد ایوب قصور ۲۱ محمد حبیب رفیق احمد ٹوبہ ۲۲ زاہد معاویہ اصغر علی ٹوبہ ۲۳ عبدالرحمٰن لیاقت علی گوجرانوالہ ۲۴ عبدالقدیر غلام حسین گھوٹکی ۲۵ محمد ساجد سلطان محمود بھکر ۲۶ محمد عمران طارق اللہ دتہ جھنگ ۲۷ محمد اعظم طارق منظور حسین جھنگ ۲۸ عبید اللہ حافظ اللہ دتہ جھنگ ۲۹ شفیق الرحمٰن عبدالرحمٰن بہاول پور ۳۰ محمد سہیل عبدالشکور بہاول پور ۳۱ اظہر مسعود رحمت اللہ بہاول پور ۳۲ محمد صداقت عالم زیب مانسہرہ ۳۳ محمد سعید غلام یحییٰ ہری پور ۳۴ عبدالوارث محمد اسحاق مانسہرہ ۳۵ محمد ابرار ستی محمد عجب ستی ایبٹ آباد ۳۶ سید فاروق شاہ سید فقیر محمد شاہ مانسہرہ ۳۷ محمد ابرار محمد الیاس ایبٹ آباد ۳۸ محمد انیس محمد شعیب ایبٹ آباد ۳۹ الطاف حسین عبدالرحمٰن ایبٹ آباد ۴۰ عبدالمالک تاج محمد مانسہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۱ محمد طیب عمر حیات ٹوبہ ۴۲ محمد ندیم عباس محمد احمد ٹوبہ
۴۳ سید مظفر محمود سید احمد شاہ مظفر گڑھ ۴۴ محمد ثاقب غفور عبدالغفور چنیوٹ
۴۵ عارف حسین فیاض گل ہری پور ۴۶ فیاض خان ریاض خان اٹک
۴۷ عبدالرحمٰن عبدالرشید اٹک ۴۸ شکیل احمد خدا بخش ڈی آئی خان
۴۹ محمد وقاص ظہور احمد چنیوٹ ۵۰ عطاء الرحمٰن عطاء اللہ استور
۵۱ فہیم الحق ثناء الدین نوشہرہ ۵۲ محمد اسرار فضل وہاب نوشہرہ
۵۳ فواد علی فضل ربی نوشہرہ ۵۴ توصیف عالم زکریا نوشہرہ
۵۵ محمد عابد مشتاق علی نوشہرہ ۵۶ احمد علی حضرت نبی نوشہرہ
۵۷ محسن علی محمد علی سپراء چنیوٹ ۵۸ محمد یحییٰ ذاکر الرحمٰن ایبٹ آباد
۵۹ محمد خالد حیدری محمد حسین بہاول نگر ۶۰ محمد اعجاز محمد نواز چنیوٹ
۶۱ زاہد معروف محمد معروف مانسہرہ ۶۲ عبداللہ اقبال افتخار احسن فیصل آباد
۶۳ محمد آصف عظمت اللہ ڈی جی خان ۶۴ صالح محمد محبوب شاہ شیرانی
۶۵ محمد صہیب محمد صدیق ننکانہ ۶۶ عمر حیات موج خان لاہور
۶۷ محمد نوید محمد شبیر فیصل آباد ۶۸ محمد طلحہ ثاقب رفیق چنیوٹ
۶۹ محمد نافع مولانا عطاء اللہ فیصل آباد ۷۰ اکرم شاہ محمد نور زیارت
۷۱ خالد محمود محمود حسین فیصل آباد ۷۲ محمد عاشر بشیر احمد گوجرانوالہ
۷۳ آصف محمود جمعہ خان اوکاڑہ ۷۴ محمد عدیل محمد صادق فیصل آباد
۷۵ محمد شہروز نذیر احمد قصور ۷۶ سیف اللہ محمد اسلم کراچی
۷۷ عبدالرؤف رستم خان کراچی ۷۸ وجاہت دین محمد مقبول خان استور
۷۹ عبدالرحمٰن دیندار حمید مردان ۸۰ سید نعیم شاہ سید سلطان شاہ بٹگرام
۸۱ مشتاق احمد مولانا فضل معبود بٹگرام ۸۲ ہدایت اللہ حمزہ خان نوشہرہ
۸۳ طارق عزیز عبدالقادر استور ۸۴ عدنان سلیم محمد سلیم کیانی پونچھ
۸۵ سعید علی خان محمد بٹگرام ۸۶ محمد شعیب شیر خان اسلام آباد
۸۷ عبدالوحید محمد اسلم لاہور ۸۸ محمد معاذ احمد محمد الیاس لاہور
۸۹ محمد عثمان عمر حیات سرگودھا ۹۰ امیر معاویہ محمد سرور لاہور
۹۱ حمید اللہ سید اعظم خان دیر ۹۲ خان زیب امیر زیب مردان
۹۳ خالد زبیر محمد یوسف خانیوال ۹۴ عصمت اللہ اللہ دتہ لاہور
۹۵ محمد ارسلان محمد سجاد لاہور ۹۶ محمد رفیق یار محمد موسیٰ خیل
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹۷ محمد یعقوب خالد محمود ڈی جی خان ۹۸ قیصر احسان محمد حنیف خانیوال ۹۹ محمد اویس حافظ محمد رفیق خانیوال ۱۰۰ محمد اسماعیل محمد رمضان راجن پور ۱۰۱ عامر شہزاد ظفر اقبال ملتان ۱۰۲ نعمان احمد رفقت محمود گجرات ۱۰۳ عمار یاسر عبدالرزاق سیالکوٹ ۱۰۴ محمد انس حمید عبدالحمید سیالکوٹ ۱۰۵ محمد وسیم مہر اسلم لودھراں ۱۰۶ اسرار احمد غلام قادر نوشہرو فیروز ۱۰۷ محمد احمد عبداللہ نوشہرو فیروز ۱۰۸ محمد رفیق محمد شریف خیر پور میرس ۱۰۹ فضل الرحمٰن شاہ محمد سومرو خیر پور میرس ۱۱۰ ممتاز احمد امام دین پاکپتن ۱۱۱ محمد مظہر قاری محمد انور خیر پور میرس ۱۱۲ عبداللہ عبدالحمید خیر پور میرس ۱۱۳ محمد زبیر محمد حسن لاہور ۱۱۴ محمد عبداللہ محمد الیاس قصور ۱۱۵ محمد عمر فاروق عبدالحمید قصور ۱۱۶ ساجد علی محمد الیاس لاہور ۱۱۷ محمد نعمان علاؤالدین ٹانک ۱۱۸ محمد اسحاق مولوی نذیر احمد مظفر گڑھ ۱۱۹ محمد سلمان حاجی صادق محمد مظفر گڑھ ۱۲۰ محمد شاہد تاج تاج محمد بہاول پور ۱۲۱ محمد الیاس عمران خان لاہور ۱۲۲ محمد زمان عبداللہ وہاڑی ۱۲۳ عبدالماجد حبیب احمد بہاول پور ۱۲۴ محمد فہیم الدین خلیل احمد بہاول پور ۱۲۵ عمران حبیب حبیب احمد بہاول پور ۱۲۶ محمد ارشاد شیر محمد بہاول نگر ۱۲۷ اکرام اللہ فتح خان میانوالی ۱۲۸ محمد ثناء اللہ محمد عبید اللہ بہاول پور ۱۲۹ محمد یاسین اللہ دتہ بہاول نگر ۱۳۰ بلال احمد محمد منشاء راز شیخوپورہ ۱۳۱ عتیق الرحمٰن اظہر حسین قصور ۱۳۲ عبدالرحمٰن محمد رمضان لودھراں ۱۳۳ قاری محمد یعقوب حافظ ممتاز احمد رحیم یار خان ۱۳۴ حافظ خالد محمود غلام محمد بہاول پور ۱۳۵ محمد اجمل خادم حسین لودھراں ۱۳۶ محمد صہیب میاں محبوب احمد رحیم یار خان ۱۳۷ محمد زکریا معاذ خان پشاور ۱۳۸ ہارون رشید فقیر خان پشاور ۱۳۹ سمیع اللہ اقبال حسین پشاور ۱۴۰ رفاقت اللہ عنایت اللہ پشاور ۱۴۱ شہزادہ ریدی گل پشاور ۱۴۲ محمد حذیفہ شیر محمد پشاور ۱۴۳ تیمور احمد منظور احمد میر پور خاص ۱۴۴ داؤد خان محمد یوسف مردان ۱۴۵ فرحان الدین احسان الدین مردان ۱۴۶ محمد حامد خاکوانی محمد عابد خاکوانی ملتان ۱۴۷ خالد محمود حافظ عبدالغفور شیخوپورہ ۱۴۸ عبدالرحمٰن جمیل ارشد فیصل آباد ۱۴۹ اویس فاروقی میاں نذر دین ٹوبہ ۱۵۰ محمد صداقت محمد صدیق فیصل آباد ۱۵۱ محمد طیب مختار احمد آسی فیصل آباد ۱۵۲ منور حسین نور محمد قصور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵۳ محمد بلال صدیق نور محمد جھنگوی جھنگ ۱۵۴ محمد نعمان قاری منیر احمد فیصل آباد ۱۵۵ عبدالرحیم محمد سلیم فیصل آباد ۱۵۶ محمد منان بشیر محمد رفیق بہاول نگر ۱۵۷ محمد صہیب احمد قاری محمد احمد فیصل آباد ۱۵۸ عامر اقبال محمد اقبال انجم بہاول نگر ۱۵۹ سمیع الرحمٰن ممتاز احمد فیصل آباد ۱۶۰ حسنین معاویہ ظفر اقبال فیصل آباد ۱۶۱ عبدالاحد محمد رمضان فیصل آباد ۱۶۲ محمد یوسف منظور حسین گجرات ۱۶۳ محمد اصغر محمد انار خان راولپنڈی ۱۶۴ عتیق الرحمٰن محمد سلامت قصور ۱۶۵ محمد ذیشان بہران خان مردان ۱۶۶ محمد توصیف احمد جمال دین لودھراں ۱۶۷ محمد آصف علی محمد علی چنیوٹ ۱۶۸ محمد عثمان محمد عباس شیخوپورہ ۱۶۹ عبدالوحید اختر محمد ثناء اللہ بہاول نگر ۱۷۰ عامر شہزاد غلام حیدر شاکر چنیوٹ ۱۷۱ محمد نوید طوفانی محمد اسلم سرگودھا ۱۷۲ محمد جمیل عبدالحفیظ لاہور ۱۷۳ حبیب اللہ قاری محمد حیات قصور ۱۷۴ محمد سفیان نذیر احمد رحیم یار خان ۱۷۵ احسان الحق محمد بوٹا رحیم یار خان ۱۷۶ زبیر احمد افسر خان خیر پور میرس ۱۷۷ عبدالحنان عبدالرحمٰن نوشہرو فیروز ۱۷۸ عبدالسلام محمد مٹھن خیر پور میرس ۱۷۹ غلام اللہ مولانا امام دین سانگھڑ ۱۸۰ محمد جعفر اللہ رکھا راجن پور ۱۸۱ مجیب الرحمٰن محمد وکیل خیر پور میرس ۱۸۲ محمد طاہر محمد جمیل رحیم یار خان ۱۸۳ غلام مصطفیٰ حاجی صدور خیر پور میرس ۱۸۴ رضا محمد ربانی نیاز محمد خیر پور میرس ۱۸۵ حماد اللہ محمد عیسیٰ خیر پور میرس ۱۸۶ محمد ایاز محمد ہارون شکار پور ۱۸۷ عبدالعظیم محمد یونس خیر پور میرس ۱۸۸ محمد اسلم عبدالغفار ژوب ۱۸۹ محمد حذیفہ فضل الرحمٰن رحیم یار خان ۱۹۰ محمد ساجد عبدالرزاق بہاول پور ۱۹۱ محمد ابوبکر رشید عبدالرشید بہاول پور ۱۹۲ محمد ابوبکر حفیظ الرحمٰن بہاول پور ۱۹۳ محمد ارشد حنیف محمد حنیف لودھراں ۱۹۴ محمد طارق حافظ غلام قاسم بہاول پور ۱۹۵ حنیف الرحمٰن قاری حفیظ الرحمٰن بہاول پور ۱۹۶ ضیاء الرحمٰن حاجی محمد موسیٰ مظفر گڑھ ۱۹۷ محمد عطاء الرحمٰن حاجی محمد موسیٰ مظفر گڑھ ۱۹۸ محمد مدنی محمد حنیف لودھراں ۱۹۹ محمد طیب خلیل الرحمٰن ملتان ۲۰۰ محمد مزمل حاجی محمد اجمل بہاول پور ۲۰۱ سعد کامران خالد محمود گجرات ۲۰۲ عبید الرحمٰن اشفاق احمد گوجرانوالہ ۲۰۳ محمد اکمل محمد افضل بہاول پور ۲۰۴ اعجاز حسین محمد عبداللہ چنیوٹ ۲۰۵ عمران خان محمد حیات چنیوٹ ۲۰۶ فضل الرحمٰن محمد شریف پشاور ۲۰۷ عبدالوہاب محمد عثمان کراچی ۲۰۸ مدثر احمد عبدالستار کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۰۹ محمد حشام عبدالمعین کراچی ۲۱۰ عابد الرحمن صابر حسین راولپنڈی ۲۱۱ محمد عادل محمد عمر کراچی ۲۱۲ بلال احمد خلیل احمد کراچی ۲۱۳ عبدالجبار محمد انور کراچی ۲۱۴ محمد عرفان عبدالرحیم کراچی ۲۱۵ قاضی محمود قاضی حماد کراچی ۲۱۶ عبدالصمد حسن خان ژوب ۲۱۷ محمد امیر حمزہ قاری فتح محمد سرگودھا ۲۱۸ محمد یار شاہ محمد چنیوٹ ۲۱۹ اکرام الحق محمود محمود الحسن ملتان ۲۲۰ محمد صدیق خدا بخش ملتان ۲۲۱ محمد موسیٰ عاشق محمد مظفر گڑھ ۲۲۲ محمد زکریا حاجی عبدالرزاق مظفر گڑھ ۲۲۳ محمد ندیم عبدالمالک مظفر گڑھ ۲۲۴ محمد اسحاق شاکر اللہ خان رحیم یار خان ۲۲۵ محمد زبیر محمد اکرم وہاڑی ۲۲۶ محمد طارق محمد امیر وہاڑی ۲۲۷ محمد محمود محمد قاسم وہاڑی ۲۲۸ محمد عمران محمد نواز وہاڑی ۲۲۹ محمد افتخار حاجی شیر محمد چنیوٹ ۲۳۰ حاجی محمد اختر محمد اکبر چنیوٹ ۲۳۱ محمد عمر جمیل محمد جمیل گوجرانوالہ ۲۳۲ محمد عمران جاوید محمد جاوید اقبال رحیم یار خان ۲۳۳ محمد تمیم اختر علی محمد رحیم یار خان ۲۳۴ عبدالقیوم عبدالمجید نارووال ۲۳۵ شیر عالم شیر خان چنیوٹ ۲۳۶ سمیع اللہ عبدالمجید مظفر گڑھ ۲۳۷ انوار الحق محمد خطاب صوابی ۲۳۸ محمد بہادر محمد یعقوب گوجرانوالہ ۲۳۹ عبدالرشید غلام شبیر ٹانک ۲۴۰ حبیب اللہ امیر بخش رحیم یار خان ۲۴۱ حافظ محمد ہاشم فقیر احمد مردان ۲۴۲ سید نجیب اللہ سید سیف اللہ خیبر ایجنسی ۲۴۳ ماجد یاسین حاجی محمد رمضان جھنگ ۲۴۴ محمد ریاض محمد یوسف چنیوٹ ۲۴۵ محمد نور اللہ شیر زمین مہمند ایجنسی ۲۴۶ محمد عامر امین محمد شریف ٹوبہ ۲۴۷ محمد شاہد عقیل محمد عبدالمجید ساہیوال ۲۴۸ عبدالغفار محمد مشتاق نارووال ۲۴۹ محمود الحسن محمد یوسف نوشہرہ ۲۵۰ ابولمسیب محمود احمد قصور ۲۵۱ محمد عزیز سلیم سلیم اختر قصور ۲۵۲ محمد راشد خلیل احمد لاہور ۲۵۳ سلمان خان حاجت علی خان کوہاٹ ۲۵۴ محمد اویس محمد عبدالواجد لاہور ۲۵۵ عبدالشکور مولوی عبدالعزیز ایبٹ آباد ۲۵۶ محمد ابوبکر محمد اکرم ٹنڈو محمد خان ۲۵۷ نجیب الاسلام نجم الاسلام چارسدہ ۲۵۸ لقمان خان تاج میر خان صوابی ۲۵۹ محمد ارشاد مختیار احمد بہاول پور ۲۶۰ محمد مفتی عبدالجبار کراچی ۲۶۱ غلام عباس محمد عنایت جھنگ ۲۶۲ محمد صفدر عثمان محمد ربنواز جھنگ ۲۶۳ عبدالمجید سلمان گل پشاور ۲۶۴ عبدالرزاق مولانا عبدالرزاق قصور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶۵ حفیظ الرحمن حافظ عبدالکریم وہاڑی ۲۶۶ محمد ریاض حاجی عبدالرحمن بہاول پور ۲۶۷ محمد صفدر حسین محمد انور حسین چنیوٹ ۲۶۸ محمد فیاض غلام رسول ڈی جی خان
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۰، ۵۵)
کامونکی میں سہ روزہ ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ اور انجمن اصلاح و تبلیغ مرکزی جامع مسجد فاروق اعظم ﷺ کامونکی، گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سہ روزہ ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا، جس میں تحصیل کامونکی سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت کی۔ ختم نبوت کورس میں مولانا عبدالقدوس قارن، استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مولانا محمد طیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد، مولانا غلام مرتضیٰ، ڈسکہ ضلع سیالکوٹ، خطیب اعظم کامونکی استاذ العلما، مولانا عبدالواحد رسول نگری اور مبلغ ختم نبوت مولانا محمد عارف شامی نے خطابات کئے۔ کورس کا انعقاد ۳ تا ۵؍ جولائی ۲۰۱۲ء بروز سوموار تا بدھ ہوا۔ آخری روز بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد فاروق اعظم ﷺ کامونکی میں تقریب تقسیم اسناد منعقد ہوئی، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے امیر مولانا محمد اشرف مجددی، نائب امیر مولانا قاری منیر احمد قادری، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید احمد حسین زید، حافظ خرم شہزاد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مولانا محمد اشرف مجددی نے شرکائے کورس کو مبارکباد پیش کی اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے قیمتی ارشادات فرمائے۔ اسی طرح مولانا رسول نگری نے بھی تفصیل کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور شرکائے کورس میں اسناد تقسیم کیں۔ انجمن اصلاح و تبلیغ مرکزی جامع مسجد فاروق اعظم ﷺ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل کامونکی کے صدر رانا محمد ذوالفقار علی، استاذ محترم مولانا محمد یاسر الطاف، مہر ریاض تحسین اور دیگر مقامی احباب نے کورس کی کامیابی کے لئے بڑھ چڑھ کر محنت کی اور تعاون کیا۔ اللہ تعالیٰ منتظمین کورس اور تشریف لانے والے علماء کرام کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍اگست ۲۰۱۲ء ص ۱۹)
جامعہ خالد بن ولید میں مولانا شجاع آبادی کا خطاب
جامعہ خالد بن ولید ٹھنگی کالونی وہاڑی میں تقابل ادیان کورس رکھا گیا۔ جس میں دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت دین اسلام کا اساسی عقیدہ، کذب مرزا و دیگر اہم عنوانات پر ۵؍ جولائی کو خطاب کیا۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست سے بھی خطاب کیا اور سامعین کے سوالات کے جوابات دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۸)
پروگرام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس اترا
جس میں سب سے پہلے تلاوت کلام الٰہی سے ابتداء ہوئی۔ قاری خدا بخش نے کلام الٰہی کی تلاوت سے جامع مسجد حاجن والی میں آنے والے قریب و دور دراز سے مہمان گرامی کے دلوں کو جلا بخشی۔ پھر نعت رسول مقبول ﷺ کے لئے سرگودھا سے آئے ہوئے نعت خواں نے تمام مجمع کے لوگوں کے دلوں کو محبت رسول کا جذبہ، ولولہ دیا۔ اسی اثناء میں خصوصی مہمان گرامی اور علاقے کے ذی وقار احباب تشریف لائے جن میں علماء، صلحاء، وکلا اور تاجر برادری کے حضرات شریک تھے۔ جنہیں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دینے والے مولانا مظہر حسین صاحب نے خوش آمدید کہا اور خصوصی نشستوں پر بیٹھنے کی گزارش کی۔
اس کے بعد مولانا محمد اسلم مبلغ عالمی مجلس خوشاب کو سٹیج پر مدعو کیا۔ جنہوں نے حضور ﷺ کی محبت اور مرزا قادیانی کی نفرت بھری
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زندگی کا پردہ چاک کیا۔ اس کے بعد اسٹیج سیکرٹری نے مولانا غلام مصطفیٰ صاحب سے التماس کیا کہ آپ بھی قیمتی نصائح سے نوازیں۔ حضرت نے تمہیدی کلمات کے بعد فرمایا کہ میرے عزیزان قدر سامعین میں مرزائیت کے گڑھ میں بیٹھ کر ان کی ریشہ دوانیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں اور میری تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ قادیانیوں کے ہسپتال سے مکمل گریز کریں۔ جہاں انسان اپنا وہاں جا کر دنیاوی نقصان کرتا ہے۔ وہیں اخروی کامیابی سے ابدالآباد تک کے لئے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ لہٰذا میری تمام کلمہ گو مسلمان احباب سے گزارش ہے کہ آپ سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ پھر کسی مسلمان حاذق حکیم وڈاکٹر کی طرف رجوع کریں۔ اللہ آپ کو ہمیشہ صحت مند و توانا رکھے۔ آخر میں، میں تمام احباب کو مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے دن رات کر کے یہ عظیم الشان پروگرام کامیابی سے منعقد کرایا۔ اللہ ان حضرات کے علم وعمل وتقویٰ میں ترقی دے۔آمین!
مولانا نور محمد ہزاروی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا نے شرکاء کانفرنس کو سرگودھا کی کارگزاری بیان فرمائی کہ میں نے وہ گلیاں اور گھر دیکھے ہیں جن کے رہائشی مسلمانوں نے یہ لکھا ہوا ہے ’’قادیانی ذرا ہٹ کر گزریں یہ مسلمان کا گھر ہے‘‘ اور دکان داروں نے تو اور بھلی کہی کہ قادیانی ہرگز دکان میں داخل نہ ہو۔ پہلے اسلام لائے پھر دکان میں آئے۔ اے مسلمانوں کے جم غفیر! یہاں ختم نبوت کانفرنس سماعت کرنے والے احباب، آج تہیہ کر لو کہ ہم بھی اسی انداز میں ختم نبوت کا دفاع کریں گے۔ ان شاء اللہ! پھر وہ دن دور نہیں کہ ہمارے اس خطے سے قادیانیت کا بیج ہی ختم ہو جائے گا۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرے بھائیو! میرے آقا ومولا، خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کے دفاع کو سمجھو۔ کیونکہ اللہ رب العزت خود متکلم ہے: ’’النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسہم وازواجہ امہاتہم‘‘ فرمایا کہ نبی کریم ﷺ مومنین کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور آپ کی بیویاں ایمان والوں کی مائیں ہیں۔
گویا کہ مرزائیت نام ہے میرے نبی کی دشمنی کا، یا یوں کہو کہ میرے نبی کا دشمن آج مرزائی ہے۔ میں گزارش کروں گا مرزائی کرم فرماؤں سے بھی کہ میں اپنے کندھے کی چادر سے ان کے گھروں کی صفائی کرنے کے لئے تیار ہوں وہ لوگ جو صدق دل سے میرے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھ لیں۔ سچے دل سے مسلمان ہو جائیں۔ مرزائیت جیسے دنیا کے غلیظ ترین کفر سے بے زاری اختیار کر کے ہمیشہ ہمیشہ کی راحتوں، نعمتوں، آسائشوں اور جنت کے اندر بنے ہوئے بے مثال مکانوں اور ایسی ایسی نعمتوں کے وارث بنو جن کا خیال دل میں آیا نہیں اور آنکھ نے دیکھا نہیں اور کان نے سنا نہیں اور دماغ نے سوچا نہیں۔
کانفرنس کے آخر میں عرفان محمود برق صاحب نے خطاب کیا جنہوں نے کہا کہ میں نے مرزائیت میں آنکھ کھولی۔ ان میں جوان ہوا۔ جو میں نے قادیانیت اور مرزائیت میں گند دیکھا ہے آج تک وہ کسی باطل مذہب کا شعار نہیں ہے اور نہ ہی اس مسلک و مذہب کا وہ حصہ ہے۔ یوں کہو کہ قادیانیت پوری دنیا کا چھانٹا ہوا غلیظ ترین وبدترین کفر ہے۔ میری تمام مسلمان، کلمہ گو بھائیوں سے گزارش ہے کہ مرزائیت سے ہمیشہ نفرت دل میں بھی رکھو اور اس کا برملا اظہار بھی کرو۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو۔ بالخصوص آپ کے علاقے کے لوگ ربوہ جا کر اپنے مریضوں کا ایمان ضائع نہ کریں۔ ان کا ہسپتال، ہسپتال نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کو سلب کرنے اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ سے محبت کو ختم کرنے کا بہت بڑا حربہ ہے۔ پیر نادر شاہ گیلانی کی دعاء سے کانفرنس خیر وخوبی سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۴۷، ۴۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پھالیہ میں خطابات
مدنی مسجد پھالیہ میں ۱۳/ جولائی ۲۰۱۲ء کا خطبہ جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے دیا۔ جس کا انتظام مفتی منیر احمد نے کیا تھا۔ ۱۴/جولائی کو مفتی صفدر حسین کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا مدظلہ تشریف لائے۔ جہاں بنات اور خواتین سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۸)
شادی پورہ میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام ۱۳، ۱۴، ۱۵/ جولائی ۲۰۱۲ء کو جامع مسجد بسم اللہ شادی پورہ میں ردقادیانیت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ ۱۳/ جولائی ۲۰۱۲ء مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ ۱۴/جولائی ۲۰۱۲ء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اوصاف وکمالات نبوت پر خطاب کیا۔ ۱۵/ جولائی ۲۰۱۲ء مولانا مفتی محمد اعجاز نے خطاب فرمایا۔ انتظامات مولانا خالد محمود، مولانا عبدالمتین، قاری ظہور الحق، مولانا محمد سعید نے کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۸)
ختم نبوت تربیتی کورس لاہور
نشتر کالونی کاہنہ نیا اور پرانا میں قادیانیوں کی سرگرمیاں سامنے آئیں تو جامعہ عثمانیہ میں آئمہ وخطبہ کے لئے ۱۴/جولائی ۲۰۱۲ء کو تربیتی ورکشاپ کا انتظام کیا گیا۔ جس میں علاقہ کے تقریباً ایک سو سے زائد علماء کرام، آئمہ وخطبہ نے شرکت کی۔ ورکشاپ کی صدارت عالم باعمل مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ امیر مجلس لاہور نے کی اور اختتامی گفتگو اور کلمات ارشاد فرمائے۔ جب کہ مولانا شجاع آبادی نے اپنے تفصیلی بیان میں قادیانیت کے دجل وفریب کا پردہ چاک کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۸)
شورکوٹ میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد حیدر کرار شورکوٹ سٹی میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۱۵، ۱۶، ۱۷/ جولائی ۲۰۱۲ء کو منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مفتی محمد طلحہ نے کی۔ انتظام محمد اشفاق نے کیا۔ ۱۵، ۱۶/ جولائی ۲۰۱۲ء کو مغرب سے عشاء تک مولانا حافظ غلام حسین جھنگوی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان پر خطاب کیا۔ ۱۷/ جولائی ۲۰۱۲ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جھوٹے مدعیان نبوت کے دجل وفریب، مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ کی تردید کی۔ بھر پور انداز میں قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کرنے کے اصول وضوابط بتلائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۱)
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں مولانا اللہ وسایا کے لیکچرز
ہر سال کی طرح امسال یکم سے ۱۰/ رمضان المبارک مطابق ۲۱ تا ۳۰/ جولائی ۲۰۱۲ء تک مولانا اللہ وسایا نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، رفع ونزول مسیح علیہ السلام، امام مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری کے عنوانات پر لیکچرز دیئے۔ جس سے سامعین نے بھر پور استفادہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
بہاولپور میں سالانہ درس قرآن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالہا سال سے جامع مسجد الصادق میں یکم سے ۱۴/ رمضان المبارک تک درس قرآن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وحدیث کا اہتمام ہوتا ہے۔ حسب سابق امسال بھی یکم تا ۱۴؍ رمضان مطابق ۲۱ جولائی تا ۳؍ اگست ۲۰۱۲ء یہ سلسلہ جاری رہا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی عطاء الرحمن، مولانا فضل الرحمن دھرمکوٹی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاسم رحمانی اور مولانا اسحاق نے خطابات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
گولڑہ شریف میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس
خانقاہ عالیہ گولڑہ شریف کے بانی قبلہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی تھے۔ آپ مولانا احمد علی محدث سہارنپوری شارح بخاری کے شاگرد تھے۔ آپ کا خانقاہی تعلق تونسہ شریف کی گدی سے تھا۔ اپنے دور میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی نابغہ روزگار شخصیت تھے۔
معروف صوفی اور پیر طریقت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا اشارہ فرمایا تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون قادیان نے جب برصغیر پاک و ہند میں ملحدانہ روش اور زندیقانہ چال چلی تو رحمت دو عالم ﷺ کی خواب میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو زیارت ہوئی۔ جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مرزا قادیانی الحاد کی قینچی سے میرے دین کے ٹکڑے کر رہا ہے اور آپ خاموش بیٹھے ہیں۔ اس اشارہ غیبی کے بعد مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے مرزا قادیانی کے خلاف علمی میدان میں قدم رکھا۔
مرزا قادیانی نے جولائی ۱۹۰۰ء میں پیر صاحب کو لاہور میں مقابلہ کے لئے للکارا۔ پیر صاحب نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو قبول کیا۔ ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کی تاریخ طے ہوئی کہ بادشاہی مسجد لاہور میں دو بدو جمع ہوں گے۔ دنیا گواہ ہے۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی لاہور پہنچ گئے اور مرزا قادیانی لومڑی کی طرح اپنی قادیان کی بل سے باہر نہ نکلا۔ لاہور سے قادیانی قادیان گئے۔ مگر مرزا قادیانی بزدلی کی لمبی تان کر سو گئے۔ لاہور میں جلسہ ہوا۔ اس کی پوری تفصیل عرصہ ہوا قسط وار ہم نے ماہنامہ لولاک میں شائع کی اور پھر اسے احتساب قادیانیت میں بھی شائع کر دیا ہے۔ اس سال ۲۵؍ اگست ۲۰۱۲ء کو معرکہ لاہور کی یاد میں خانقاہ عالیہ گولڑہ شریف میں عظیم الشان تاجدار ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ملک بھر سے مذہبی و سیاسی قیادت جمع ہوئی۔ ان شاء اللہ العزیز! یہ کانفرنس تحریک ختم نبوت کے لئے مثالی جدوجہد کو نیا ولولہ و عزم بخشے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۵)
مجلس کے مرکزی مبلغین کے سہ ماہی اجلاس میں اہم فیصلے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۹، ۳۰؍ اگست ۲۰۱۲ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا کی یاد میں ملک بھر میں اجتماعات، کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز طے ہوا کہ اس عظیم الشان فیصلہ کی یاد میں ۷؍ ستمبر کو پشاور، اسلام آباد، ۸؍ ستمبر کو بہاول پور، مردان، نوشہرہ میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوں گے۔ جس میں مجلس کے مرکزی قائدین کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ عظام، دینی وسیاسی رہنما، ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز حضرات شرکت فرمائیں گے۔
اجلاس میں قانون تحفظ ناموس رسالت کو تبدیل کرنے کے لئے امریکی دباؤ کی مذمت کی گئی اور اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا گیا۔ حکمرانوں سے امریکی دباؤ مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مسیحیوں کی طرف سے رحمت دو عالم ﷺ اور قرآن پاک کی اہانت کو سوچی سمجھی سکیم کا حصہ قرار دیا گیا تا کہ بیرونی آقاؤں سے دباؤ ڈلوا کر قانون کو ختم کرایا جاسکے۔ آنے والے انتخابات میں نگران وزیر اعظم کے لئے معروف قادیانی وکیل عاصمہ جہانگیر کے مبینہ نام پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مبلغین کو ہدایت کی گئی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مذکورہ بالا قادیانی نواز وکیل کو چور دروازے سے اقتدار سپرد کرنے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں۔
اجلاس میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے ابتدائی انتظامات پر غور وخوض ہوا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مرکزی نائب امیر کی سرکردگی میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی، جو مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، سید منور حسین، قاضی حسین احمد، علامہ ساجد میر، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، قاری زوار بہادر، جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا عبداللہ اظہر، مولانا سید جاوید حسین شاہ، قاضی ظہور حسین اظہر، پیر عبدالرحیم نقشبندی، ارشد الحسینی، میاں محمد اجمل قادری، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا مفتی محمد طیب، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا ممتاز کلیار، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالمالک خان، مولانا الیاس گھمن سمیت تمام مسالک و مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ عظام سے رابطہ کرے گی۔
مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عزیز الرحمن ثانی پر مشتمل کمیٹی کی گئی جو انتظامیہ سے کانفرنس کی اجازت سمیت دوسرے مراحل طے کرے گی۔
اجلاس میں طے ہوا کہ مبلغین کے لئے سہ ماہی ختم نبوت کورس یکم ستمبر صبح آٹھ بجے سے دارالمبلغین دفتر مرکزیہ ملتان میں شروع ہوگا۔ جس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے جید جدا درجہ میں کامیاب ہونے والے علماء کرام شرکت فرما سکتے ہیں۔
شرکاء کورس کو مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر مرکزی مبلغین تربیت دیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ ستمبر ۲۰۱۲ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد کی کارروائی
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت نے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ملعون اور اس کے پیروکاروں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنیاد پر آئینی اور قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا اس پر مسرت موقع کی مناسبت سے عالم اسلام کی عظیم تاریخی فتح کے عنوان پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز جمعتہ المبارک صبح ۱۰ بجے تا نماز عصر مرکزی جامع مسجد شہید اسلام ( لال مسجد ) میں ایک تاریخی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کیا گیا اور اس اعلان کے مطابق یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی صدارت کے لیے مرکزی دفتر ملتان کے ذریعہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ سے درخواست کی گئی جس کو حضرت الامیر نے قبول فرما کر اہلیان اسلام آباد پر شفقت فرمائی۔ اس کے بعد مولانا عطاء الرحمن نے شرکت فرمائی۔ اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے دو اجلاس منعقد ہوئے ایک اجلاس جامع مسجد الرحمن راولپنڈی زیر صدارت شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی، دوسرا اجلاس جامع مسجد فاروق اعظم G-9/3 اسلام آباد میں زیر صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد منعقد ہوا ان دونوں اجلاسوں میں کثیر تعداد میں علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس کی تشہیر، اشتہارات، سٹیکر اور بینروں کے ذریعہ کی گئی جس کی نگرانی مولانا محمد طیب صاحب کر رہے تھے۔ جب کہ معاونت بھائی طاہر، مسعود احمد، مفتی محمد طاہر، محمد یاسر قاسمی، بھائی محمد قاسم، بھائی عاصم، حافظ محمد آصف زین، حافظ محمد عمر کر رہے تھے۔ کانفرنس کی سیکورٹی کے فرائض جامعہ محمدیہ، جامعہ فریدیہ، جامعہ دارالہدیٰ کے طلباء کرام اپنے اپنے اساتذہ کرام کی نگرانی میں سرانجام دے رہے تھے۔ مولانا زاہد وسیم، مفتی خالد میر نے ٹیکسلا، مری، کہوٹہ، حسن ابدال کا دورہ کیا۔ ۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء صبح ۹ بجے، مولانا محمد طیب، قاری عبدالوحید قاسمی،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لال مسجد میں اپنی پوری ٹیم کے ساتھ حاضر ہو کر خوش آمدیدی اور مطالباتی بینر مسجد کے ہال میں اور باہر حفاظتی جنگلہ پر آویزاں کرا دیئے اور لوگ 9 بجے ہی کثیر تعداد میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ لوگوں میں بڑا شوق و جذبہ دیکھنے میں آیا۔ اس لیے کہ اس مسجد میں خصوصاً اسلام آباد میں کافی عرصہ بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔
پہلی نشست کی صدارت جانشین مخدوم المشائخ خواجہ خواجگان مولانا صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے فرمائی ۔ ۱۱ بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحید قاسمی کی تلاوت قرآن پاک سے نشست کا آغاز کیا گیا۔ جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ جامعہ محمدیہ کے طالب علم نے پڑھی۔
خطبہ استقبالیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب امیر مجلس اسلام آباد رکن مرکزی شوریٰ نے ارشاد فرمایا اور کہا کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو تحفظ ختم نبوت کے لیے منتخب کیا ہے۔ آنے والے تمام حضرات کا میں اپنی طرف سے اور مجلس کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور پوری کانفرنس میں نظم وضبط کی درخواست بھی کرتا ہوں۔ اس کے بعد جناب سید اعجاز احمد کاظمی نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔
مولانا ظہور احمد علوی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ہم اس پلیٹ فارم سے توہین رسالت ایکٹ اور ۲۹۵-سی کی تبدیلی کے حوالے سے کسی قسم کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی صاحب نے فرمایا ہم نے ہر دور میں تحفظ ختم نبوت اور قادیانیوں کا تعاقب کیا ہے اور ہر محاذ پر ان کو شکست سے دو چار کیا ہے اور قیامت تک اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ ۔ جناب مہتاب خان، چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ صحافت کے میدان میں شورش کاشمیری کا کردار ہمارے سامنے ہے ہم بھی روزنامہ اوصاف کے ذریعے سے ہر سازش کو ناکام بنانے میں بھر پور کردار ادا کریں گے۔ مولانا محمد عامر صدیق نائب خطیب لال مسجد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء میں مولانا محمد عبداللہ شہید اور لال مسجد نے اہم کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان شاء اللہ اس سنہری کردار کو جاری وساری رکھیں گے۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا یہ ہمارے اکابرین رحمہم اللہ کی عظیم محنت کا نتیجہ تھا۔
اس نشست کے آخری مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا صاحب نے تفصیلی خطاب فرمایا۔
انہوں نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہمارے رگ وریشہ میں ہے۔ رحمت عالم ﷺ کے اس منصب کا تحفظ اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ اس نیکی کی عظمت وشان اگر معلوم کرنا ہے تو مراد رسول ﷺ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کرو جنہوں نے اپنی عمر کی ساری نیکیاں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھ کر صرف دفاع ناموس رسالت والی نیکی کا تیسرا حصہ مانگ رہے تھے۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا ۷؍ ستمبر امت مسلمہ کی عظیم فتح اور مسرت کا دن ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب میں تمام مکاتب فکر نے خوب کردار ادا کیا ہے اور ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پلیٹ فارم پوری امت کا خوب صورت گلدستہ ہے ہم نے اکابرین سے یہ ہی سیکھا اور سمجھا ہے کہ اس مسئلہ کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرنا کفر ہے۔ حضرت کے بیان کو اہلیان اسلام آباد نے یادگار بیان قرار دیا اور بہت خوش ہوئے۔ خطبہ جمعۃ المبارک سے پہلے مولانا عبدالعزیز غازی صاحب نے مختصر بیان فرمایا، ہماری مسجد شہدا اسلام اہل حق کے لیے ہمیشہ وقف ہے۔ یہ منبر ومحراب والد مولانا عبداللہ شہید صاحب کی امانت ہے۔ مولانا ہمیشہ اکابرین کے معتمد رہتے تھے۔ میں اس کانفرنس کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انعقاد پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ پھر خطبہ جمعۃ المبارک اور نماز کی امامت کرائی اور بعد میں کانفرنس کے حوالے سے عوام الناس کو کہا کہ اس کانفرنس کے آخر تک جمع رہیں اور غور سے سنیں۔
اس کانفرنس کی دوسری نشست کی صدارت حکیم العصر استاذ المحدثین مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمائی۔ نشست کا آغاز مولانا عبدالعزیز غازی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ جب کہ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ مداح رسول مصعب فاروقی، حافظ عبدالباسط اور عطاء الرحمٰن عزیز نے پیش کی۔ جب کہ اس نشست سے تاجر رہنما ختم نبوت ایکشن کمیٹی راولپنڈی شرجیل میر، وفاق المدارس عربیہ کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا قاضی عبدالرشید صاحب، مولانا پیر عزیر الرحمٰن ہزاروی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی سینئر امیر علامہ عبدالعزیز حنیف، مولانا محمود الحسن بالاکوٹی، مولانا شفیق الرحمٰن، مولانا صاحبزادہ حامد الحق حقانی، سابق ایم این اے مولانا محمد اشرف علی نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ مولانا مفتی کفایت اللہ ایم۔ پی۔ اے، کے پی۔ اے نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ۱۹۷۴ء کا تاریخی فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کی فراست اور امت کو یکجا کرنے کی حکمت کا نتیجہ ہے۔
کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رہنما ایم این اے مولانا عطاء الرحمٰن صاحب نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کا تعاقب اور ان کی سرگرمیوں کا سدباب ہم نے ہمیشہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پالیسی اور ہدایات کے مطابق دلیل کی بنیاد پر کیا ہے۔ اب بھی ہماری درخواست یہ ہی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ سے پوری امت مسلمہ تمام مکاتب فکر یکجان ہو کر تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی یاد تازہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں، میں نے آج بھی قومی اسمبلی میں اس چیز کو دہرایا کہ ۱۹۷۴ء کا تاریخی فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت ایکٹ کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر حکومت پابندی عائد کر کے آئین کا پابند بنائے۔
حضرت الامیر کا خصوصی بیان ہوا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں کوئی خطیب اور مقرر نہیں ہوں۔ میں نے ساری عمر درسگاہ میں گزاری ہے، مجلس تحفظ ختم نبوت سے تعلق ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت سے ہے۔ اس تاریخی دن ۷ ستمبر کی خصوصیت کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ پہلے لوگ کہتے تھے یہ صرف مولویوں کا مسئلہ ہے۔ یہ لڑتے رہتے ہیں تو اس دن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس دن نے فیصلہ دے دیا یہ صرف مولویوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی اسمبلی کا فیصلہ ہے۔
اس کے بعد تمام عدالتوں نے فریقین کا مؤقف سن کر فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کا تعلق مسلمانوں سے نہیں۔ جس طرح یہودی، عیسائی حضور ﷺ کے امتی نہیں، اسی طرح قادیانی بھی حضور ﷺ کے امتی نہیں۔ پھر رابطہ عالم اسلامی کا بھی فیصلہ یہی آیا۔ اس کے بعد ان کے کفر کا انکار قومی اسمبلی کے فیصلے کا انکار ہے۔ ان کے کفر کا انکار عدالتی فیصلے کا انکار۔ ان کے کفر کا انکار قومی اسمبلی اور عدالتوں کی توہین ہے۔
قادیانی کفر کے لیے اب دلائل کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بھی اپنا روٹ تبدیل کیا ہوا ہے۔ لالچ دنیاوی مفادات ہیں۔ دلائل کی بات وہ نہیں کرتے اب مزید دلائل کی ضرورت نہیں۔ اب اس کا علاج فکر آخرت ہے۔ جو چلے گئے ہیں قادیانی بن گئے ان کو واپس آنا ہوگا اگر فکر آخرت نصیب ہو جائے تو آئندہ کوئی ادھر جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی اسلام آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا قاضی مشتاق احمد صاحب نے تمام شرکاء کانفرنس مدعوین حضرات کا شکریہ ادا کیا نیز کہا کہ قادیانی پورے ملک کی طرح راولپنڈی میں بھی سازشوں میں مصروف ہیں۔ خصوصاً مکان نمبر ۶۹- ای، ہولی فیملی ہسپتال سے متصل ارتدادی مرکز میں اسلام، ملک وملت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ ہم ان کی کسی بھی سازش کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت اور انتظامیہ ان کا نوٹس لے ورنہ حالات کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔
کانفرنس کا اعلامیہ قاری عبدالوحید قاسمی نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام شہداء ختم نبوت، لال مسجد جامعہ حفصہ، ناموس صحابہ ؓ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ راولپنڈی اسلام آباد میں قادیانیوں کی پر اسرار سرگرمیوں کا فی الفور نوٹس لے۔ خصوصاً پنڈ بیگوال میں ۴۳ کنال پر مشتمل بیت الھدیٰ کے نام سے ارتدادی مرکز کی تعمیر کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے۔ اس لئے کہ یہ ارتدادی مرکز ہمارے قومی اثاثوں کے پاس ہے۔ جو کہ ایک یہودی، ہنودی اور اسرائیلی سازش معلوم ہوتی ہے۔ ۲۹۵-بی، سی کے خلاف ہم کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اگر اس میں کچھ تحفظات ہیں تو حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف جائے جو ایک آئینی ادارہ ہے۔ کانفرنس میں کثیر تعداد میں علماء کرام مولانا عبدالغفار، مولانا نذیر فاروقی، مولانا تنویر علوی، مولانا خلیق الرحمٰن چشتی، مفتی عبدالسلام، مفتی وجیہہ الدین، علامہ محمد شریف قریشی، مولانا سعید الرحمٰن سرور، مولانا محمد خرم، مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا محمد شارق، قاری محمد طیب، مولانا تاج الدین، مولانا یوسف یعقوب، مولانا ممتاز الحق اور دیگر نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس کے آخر میں کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری مبلغ ختم نبوت مولانا محمد طیب نے علماء کرام اور تمام شرکاء خصوصاً مولانا مفتی ظفر اقبال کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ ہم اس کانفرنس کے ذریعہ سے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہیں اور کہا ۷ ستمبر جہاں مسلمانوں کی فتح اور مسرت کا دن ہے وہاں قادیانیوں کو اپنی ذلت کا احساس دلا کر دعوت اسلام کا پیغام بھی دیا ہے۔ نیز انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ ہر سال ۷ ستمبر کے حوالہ سے اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان تاریخی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوا کرے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۷ تا ۴۰)
ہزارہ ڈویژن میں ختم نبوت کانفرنسیں
مولانا اللہ وسایا کے دورہ ہزارہ کے موقع پر مورخہ ۴، ۵ اور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء کو مختلف علاقوں میں ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد کی ترتیب رکھی گئی۔ جن میں مورخہ ۴ ستمبر مغرب کی نماز کے بعد جامع مسجد خلفائے راشدین بٹ دڑیاں مانسہرہ، مورخہ ۵ ستمبر ظہر کی نماز کے بعد جامع مسجد طیبہ قلندر آباد، اسی تاریخ مغرب کی نماز کے بعد جامع امام ابوحنیفہ چمیہ حویلیاں، مورخہ ۶ ستمبر دن ایک بجے مرکزی جامع مسجد خلفائے راشدین نتھیا گلی اور سہ پہر تین بجے مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں پروگرام تھے۔ مولانا نے تحریک ختم نبوت کے محرکات سے لے کر اس قافلہ جدوجہد میں شامل شخصیات کے تحریک کے حوالے سے کردار اور بالآخر فتح پر مبنی انجام تک کے پورے واقعات کی کچھ اس انداز سے منظر کشی کی کہ ہر سامع اپنے آپ کو اس تحریک میں بنفس نفیس شریک سمجھنے لگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۶)
صوبہ خیبر پختونخوا میں ختم نبوت کانفرنسوں کی بہاریں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام صوبہ بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ۷ ستمبر کو یوم تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے ایبٹ آباد، پشاور، کرک، کوہاٹ، سرائے نورنگ، بنوں، مردان، نوشہرہ، چارسدہ میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ اجتماعات سے مرکزی قائدین مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، صوبائی امیر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا قاری سمیع اللہ جان فاروقی، مولانا خیر البشر، مولانا اکرام الحق، مولانا محمد قاسم ایم این اے، مولانا شجاع الملک، مولانا قاری محمد اسلم، مولانا مجاہد خان الحسینی، مولانا حزب اللہ،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا سید محمد گوہر شاہ ، مولانا مفتی عبداللہ شاہ، مولانا غلام محمد صادق نے خطاب کیا ۔ پشاور مردان میں کانفرنسوں کی صدارت خواجہ خان محمد صاحب کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالغفور صاحب دامت برکاتہم ٹیکسلا نے کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۰)
مردان، نوشہرہ ، چارسدہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں بسلسلہ ۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت
مردان : میں عید گاہ شمسی روڈ میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ اعلیٰ سرکاری اور حساس عہدوں پر فائز قادیانیوں کو فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے ۔ کانفرنس سے مجلس کے صوبائی امیر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی ۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ممبر قومی اسمبلی مولانا محمد قاسم ، ڈاکٹر شیر علی شاہ ، جمعیت کے ضلعی امیر مولانا شجاع الملک، مرکزی تنظیم تاجران کے جنرل سیکرٹری احسان بادشاہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا اکرام الحق نے بھی خطاب کیا ۔ جلسہ کی صدارت مولانا عبدالغفور ٹیکسلا نے فرمائی ۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید ، شیخ الحدیث مولانا مطلع الانوار تھے ۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانیوں نے انگریز سے ساز باز کر کے پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچایا اور اب بھی سازشوں میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں دینی مدارس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔ ممتاز علماء کرام کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے ۔ افغانستان ، پاکستان ، برما، فلسطین اور کشمیر میں بے گناہ نہتے مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ قوم بیدار ہو کر ختم نبوت کے غداروں کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔
نوشہرہ : میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، قاری محمد اسلم امیر مجلس ضلع نوشہرہ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے سفر وحضر کے ساتھی مولانا مجاہد خان الحسینی دامت برکاتہم اور قاضی خلیل الرحمن خطیب جامع مسجد نوشہرہ کینٹ نے اجتماع سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر دو قادیانی زاہد حسین اور طاہر حسین مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر حضور اکرم ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہوگئے ۔
چارسدہ : میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے اعلان کیا کہ آئین میں قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور انسداد توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر ہیں۔ قادیانی بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں ۔ قادیانی سامراج کے ایجنٹ ہیں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے مطابق قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی یہ اپنے مذہب کا پرچار کر سکتے ہیں ۔ جب تک اس سرزمین پر ایک بھی قادیانی موجود ہے۔ ان کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی ۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر سابق ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ اور سابق ایم این اے مولانا غلام محمد صادق اور ضلعی امیر مجلس مولانا حزب اللہ نے بھی خطاب کیا ۔ ان تمام کانفرنسوں میں علماء کرام مشائخ عظام اور مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ اس کے علاوہ ۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بنوں میں جامع مسجد حافظ جی سے ضلعی ناظم اعلیٰ مفتی عظمت اللہ کی قیادت میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں مولانا سید نسیم علی شاہ، ظہیر الدین ایڈووکیٹ اور دیگر علماء وزعماء نے قیادت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۵، ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد صادق بہاولپور میں سالانہ کانفرنس کا آغاز قاری محمد اقبال صاحب کی تلاوت قرآن سے ہوا، جناب ظہور احمد عنصر نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ختم نبوت چیچہ وطنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے اپنی زندگیاں ختم نبوت کی چوکیداری کے لئے وقف کر دی ہیں جب تک جسم میں خون کا آخری قطرہ اور آخری سانس ہے، عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کریں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی نے کہا کہ ہم عقیدۂ ختم نبوت کے محافظ اوّل سیّدنا صدیق اکبرؓ کے زمانے میں تحفظ ختم نبوت کے لئے یمامہ کے میدان میں بارہ سو جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے لے کر شہدائے ختم نبوت، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اور کراچی کی سرزمین پر اکابرین ختم نبوت کی شہادتوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی مسلمان اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اپنی جان قربان کردیں گے مگر حضورﷺ کی عزت، آبرو پر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور اقدسﷺ کے آخری دورِ مقدس میں اسود عنسی بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آپ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو حکم دیا کہ اسود کو جہنم رسید کرو۔ اسود عنسی کو حضورﷺ کے فیصلہ کے مطابق قتل کیا گیا۔ دوسرا جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا اس کو سیّدنا صدیق اکبرؓ نے قتل کرایا۔ وادیٔ مہران کے عظیم خطیب، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی راہنما، سینیٹر ڈاکٹر مولانا خالد محمود سومرو نے اپنے بیان میں کہا کہ مسئلہ ختم نبوت سیاسی مسئلہ نہیں، ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ قادیانیت کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہے، پہلے یہ صرف قادیان میں تھا، اب اسرائیل میں یہودیوں کے ساتھ مل کر امت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اور کچھ حکمران بھی ان کے دام تزویر میں آچکے ہیں۔ ہم یہودیوں کی مرضی نہیں چلنے دیں گے۔ مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اس فتنہ کے خلاف سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے کفر کا فتویٰ دیا۔ مسلمانوں نے نوے سال تک جدوجہد کی۔ کانفرنس بارش کے باوجود دو بجے رات تک جاری رہی۔
کانفرنس میں متفقہ طور پر پاس کی جانے والی قراردادیں:
- ۱....... قادیانیوں کو آئین کا پابند بنایا جائے، امتناع قادیانیت آرڈیننس پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
- ۲....... ملک وملت کے غدار قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
- ۳....... مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- ۴....... چناب نگر کی کچی آبادی کے عوام کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- ۵....... چودہ کروڑ عوام تحفظ ناموس رسالت آرڈیننس پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
- ۶....... رمشا مسیح کیس کی آڑ میں ناموس رسالت کے قانون کے خلاف امریکی دباؤ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے،
پاکستانی عوام برداشت نہیں کرے گی۔
- ۷....... انبیاء علیہم السلام پر بنائی جانے والی فلمیں کھلی گستاخی ہیں، ان کو فوراً بند کیا جائے، جن چینلوں سے ریلیز ہو رہی ہیں ان کو سیل کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۳، ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
۲۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء کو مرکزی عید گاہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پانچویں تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا الیاس چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا محمد اکرم طوفانی، مفتی عبدالقدوس، مولانا مفتی عبدالمعید، مولانا نور محمد ہزاروی، مفتی جہانگیر حیدر، قاری احمد علی ندیم، عبداللہ سعید ہاشمی، مولانا قاری عبدالوحید، سید سلیمان گیلانی، مولانا قاری ایوب صدیقی، مولانا اکرم عابد، مفتی شفقت علی، مفتی شاہد مسعود، مولانا عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ مفتی محمد بلال گل اور دیگر مقررین نے کیا۔ کانفرنس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ علماء کرام نے اس موقع پر اپنے خطاب میں ایک مخصوص طبقے کی طرف سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے کی باتوں کو مذہبی انتشار پیدا کرنے کی سازش قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی درپردہ ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں۔ مختلف قراردادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کے واقعات میں ملوث عناصر کو عالمی سطح پر سزائے موت دی جائے اور اس کے لئے قانون سازی کی جائے۔ ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے، انہیں کلیدی عہدوں سے فوری طور پر ہٹایا جائے، نیٹو سپلائی بند کی جائے، یورپی، امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سفارتی تعلقات فوری طور پر ختم کئے جائیں۔ کانفرنس کے دوران مختلف قراردادوں کے ذریعے کہا گیا کہ ملک کے اندر جتنی بھی دہشت گردی اور ملکی امن کو تباہ کرنے کے لئے جو کام ہوتے ہیں۔ ان سب میں قادیانیوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ان حالات میں ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسی اقلیت کو ان سرگرمیوں سے روکا جائے۔ صدر اوباما کے اس بیان پر شدید صدمہ پہنچا کہ اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی اور امریکا میں یہ فلم بند نہیں کی جائے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
۱۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تیاری کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ۱۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز جمعہ کو منعقد ہوئی، جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا خواجہ عزیز احمد صاحب نے فرمائی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن محترم قاضی فیض احمد کی سرپرستی اور لالہ انیس الرحمن بٹ کی نگرانی میں کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں۔ خطبہ جمعہ مولانا محمد عالم طارق نے دیا۔ تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کانفرنس کی دوسری نشست بعد نماز مغرب ہوئی جس میں تلاوت مولانا قاری احمد عثمان نے کی اور نعت رسول مقبول اور حمد باری تعالیٰ حافظ بشیر احمد عثمانی کے حصہ میں آئی۔ خطاب اور مجلس ذکر مولانا سید جاوید حسین شاہ نے فرمائی۔ حضرت نے فرمایا کہ سارے گناہوں کی معافی وتلافی ہو سکتی ہے۔ لیکن گستاخ رسول کی معافی قطعاً نہیں ہو سکتی۔ تیسری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس میں تلاوت سید غلام رسول شاہ نے کی اور حمد ونعت حسان احمد طلحہ کے صاحبزادے انعام الحسن شاہ صاحب، مولانا ذوالقرنین نے مجمع کے دلوں کو گرمایا۔ مقررین میں مولانا سید سرفراز الحسن شاہ، مولانا قاضی احسان احمد نے حرمت رسول اور عقیدۂ ختم نبوت کی نزاکت و اہمیت پر بیان کیا۔ مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے سارے دشمنوں کو معاف فرما دیا مگر گستاخ رسول خواہ مرد ہوں یا عورت، سارے قتل کرنے کا حکم فرمایا۔ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے فرمایا کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے، دنگے فساد کا نہیں۔ دنگے فساد کرنے والے اور اپنے آپ کو امن کے علمبردار بتلانے والوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت و ناموس پر گستاخانہ فلم بنا کر پوری دنیا کا امن تباہ کر دیا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے اور انہوں نے کہا کہ کفار کے لئے بددعا ء کرنا اور گستاخوں کا سر قلم کرنا یہ بھی میرے نبی کی سنت مبارکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ گستاخوں پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مقرر فرمادے اختتامی دعاء پیر صاحب نے بڑی آہ و بکا کے ساتھ کرتے ہوئے مجمع کو رلا دیا ، ہر فرد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ اس کانفرنس میں مولانا سعد اللہ لدھیانوی، لالہ عبدالوہاب بٹ ، بھائی خالد ڈوگر، بھائی مزمل، بھائی عرفان اطہر ناز و دیگر احباب نے بھر پور محنت و کوشش کی اور کانفرنس کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ۲۹ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء ریلوے گراؤنڈ جامع مسجد حافظ حسام الدین میں منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری عبد القدوس رحیمی نے کی۔ نعت قاری عابد حسین قتال پوری نے اور مقررین حضرات مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد حسن ، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا رضوان نفیس نے بھی شرکت فرمائی ۔ مولانا خبیب احمد مبلغ ٹوبہ نے بھی خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی نگرانی اور نقابت مولانا ضیاء الدین آزاد نے فرمائی۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اگلی صبح ۳۰ ستمبر مدرسہ والی مسجد میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیان کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۰)
۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ....... لمحہ لمحہ کی رپورٹ
پہلی نشست: ۴؍ اکتوبر ۲۰۱۲ء جمعرات صبح دس بجے کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز ہوا۔ صدارت: ولی کامل مولانا مفتی محمد حسن صاحب لاہور ۔ تلاوت: قاری محمد عمار ظفر جامعہ حنفیہ بورے والا ۔
افتتاحی کلمات ودعاء: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کرائی ۔ کڑی سے کڑی ملی تو ۳۱ ویں کانفرنس کے شرکاء کا واسطہ در واسطہ تعلق ۱۹۸۲ء کی پہلی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر سے جڑا۔ پھر چشم تصور نے دیکھا کہ یہ سلسلہ پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پہلی ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ سے متصل ہوا۔ چشم تصور کے جھپکتے ہی قادیان کی احرار ختم نبوت کانفرنس ۱۹۳۴ء میں جا شامل ہوئے۔ لیجئے ! لمحوں میں ۲۰۱۲ء کا قافلہ ۱۹۳۴ء کے ساتھیوں کے رہگزر پر کھڑا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاعبادی ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری، خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، پیر کامل پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی، میر کارواں مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، پروفیسر محمد الیاس برنی ، علامہ اقبال، چوہدری افضل حق ، ماسٹر تاج الدین انصاری، آغا شورش کاشمیری ، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، پیر جماعت علی شاہ علی پوری، مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مناظر ختم نبوت مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی ، سید مظفر علی شمسی، مولانا سید مرتضیٰ چاند پوری ایسے ہزاروں رہنماؤں کی قیادت میں یہ قافلہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پہلے محافظ ختم نبوت کے قافلہ کی تلاش میں یمامہ کی جانب رواں دواں ہوا چاہتا ہے کہ اتنے میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہ بن حسنہ، سیدنا حبیب ابن زید رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ کن کن مقدس شخصیات کے تصوراتی مجلس کی حضوری کے جلوؤں کی ٹھنڈی پرسکون چھاؤں میں پھر اسٹیج کی جانب نظر کی، تو اب مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی پشت پر ان کے والد گرامی کی روح پر فتوح کھڑی مسکراتی نظر آئی ۔ اتنے میں قافلہ حق کی بچھڑی کونج حافظ محمد شریف منچن آبادی نے نظم کے لئے مصرعہ اٹھایا۔ نبی آتے رہے سب سے آخر میں نبیوں کے امام آئے۔ (ﷺ)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قارئین! واپس آجائیں اب تقاریر شروع ہوئیں۔
خطاب: مولانا محمد اسلم مبلغ خوشاب، مولانا عبدالستار لیہ، مولانا خبیب احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا محمد خالد عابد سرگودھا، حافظ عبدالوہاب جالندھری حافظ آباد، سید ضیاء الحسن شاہ ناظم مجلس لاہور، مولانا توصیف احمد مبلغ حیدرآباد، مولانا عظمت اللہ، مولانا سید شعیب احمد ناظم بنوں۔
نعت: قاری عمار ظفر بورے والا، ملک عبدالشکور قاسمی چنی گوٹھ۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد علی صدیقی، مولانا ضیاء الدین آزاد۔
مہمان خصوصی: صاحبزادہ رشید احمد صاحب۔
اختتامی کلمات ودعاء: صدر اجلاس مولانا مفتی محمد حسن صاحب لاہوری، پونے ایک بجے اجلاس ختم ہوا۔ کھانے، نماز کی تیاری کا عمل دھڑا دھڑ شروع ہے۔ چار سو عالم رب کریم کے منتخب بندے سراپا تسلیم ورضا اپنے اپنے اعمال بجا رہے ہیں۔ ایک بجا تو مؤذن نے اذان دی۔ اللہ اکبر! اللہ اکبر! واقعی تمام بڑائیاں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ ڈیڑھ بجے جماعت کھڑی ہوئی۔ قاری عبیدالرحمٰن نے جلسہ گاہ میں جماعت کے فرائض دیئے۔
دوسری نشست: لیجئے! قریباً پونے دو بجے دن دوسرے اجلاس کے لئے مہمانان گرامی سٹیج پر براجمان ہونا شروع ہوئے۔
صدر اجلاس: مولانا سعید احمد اسکندر استاذ جامعۃ العلوم اسلامیہ کراچی۔
مہمان خصوصی: مولانا فضل الرحمٰن درخواستی۔
تلاوت: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
نعت: حافظ محمد شریف منچن آباد، اسامہ اجمل قاسمی لاہور۔
خطاب: مولانا عبدالقیوم حقانی نوشہرہ، مولانا غلام مصطفےٰ چناب نگر، مولانا ممتاز احمد کلیار جڑانوالہ، صاحبزادہ مولانا محمود الحسن نقشبندی چکوال، جناب سید منور حسن امیر جماعت اسلامی لاہور، خطیب ابن خطیب مولانا صاحبزادہ محمد امجد خان لاہور۔
صدارتی خطاب: مولانا سعید احمد اسکندر کراچی۔
دعائے خیر: مہمان خصوصی مولانا فضل الرحمٰن درخواستی خان پور۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
اذان ...... جماعت کے بعد......
تیسری نشست: مؤرخہ ۴؍ اکتوبر بعد از نماز عصر تیسری نشست کا آغاز ہوا۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد علی صدیقی۔
خطاب: محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ٹیلیفونک خطاب۔
محفل سوال و جواب میں فقیر راقم (مولانا اللہ وسایا) نے دال دلیا کیا۔
اذان مغرب: مغرب کی جماعت، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے جانشین مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کراچی کی امامت میں ادا کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوتھی نشست: مغرب کی نماز کے بعد زبدۃ الاولیاء مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی اٹک کے جانشین مولانا پروفیسر قاضی محمد ارشد الحسینی مدظلہ کا خطاب و مجلس ذکر کا عمل عشاء تک جاری رہا۔
عشاء کی اذان ہوئی۔ عشاء کی جماعت حافظ قاری عبید الرحمن صاحب نے کرائی۔
پانچویں نشست: مورخہ ۴/ اکتوبر ۲۰۱۲ء بعد از نماز عشاء پانچویں نشست کا آغاز ہوا۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔
مہمان خصوصی: پیر طریقت مولانا عبد الغفور ٹیکسلا، پیر طریقت مولانا سید فاروق ناصر شاہ فیصل آباد، پیر طریقت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب فیصل آباد، پیر طریقت جناب محمد رضوان نفیس لاہور، پیر طریقت مولانا محب اللہ صاحب لورالائی، پیر طریقت جناب قاری عبد المجید جامی مدینہ منورہ، پیر طریقت مولانا مفتی محمد طیب جامعہ امدادیہ فیصل آباد، پیر طریقت مولانا قاری محمد جمیل الرحمن اختر لاہور۔
تلاوت: قاری محمد عثمان جامعہ محمدیہ ساہیوال، ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز فیصل آباد، قاری محمد احسان اللہ فاروقی لاہور۔
نعت: مولانا مفتی شاہد عمران عارفی ساہیوال، جناب طاہر بلال چشتی جھنگ، جناب محمد امین چوکیرہ، جناب مولانا محمد قاسم گجر لاہور، جناب اسامہ اجمل لاہور، قاری محمد عمار ظفر جامعہ حنفیہ بورے والا، جناب عبد الشکور چنی گوٹھ، قاری محمد شریف منچن آباد۔
خطاب: خطیب وادی مہران مولانا عبد الحمید لنڈ سٹھارجہ سندھ، مفتی محمد صفدر علی خطیب پھالیہ، قاری علیم الدین شاکر اچھرہ لاہور، مولانا مخدوم محمد صفدر شاہ سرگودھا، جناب حاجی عبد الحمید رحمانی ننکانہ صاحب، مولانا نور محمد ہزاروی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی راولپنڈی، مولانا صاحبزادہ محمد اشرف علی مہتمم جامعہ تعلیم القرآن راولپنڈی، مولانا عبد الرشید حجازی شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن، مولانا صاحبزادہ عبد الشکور نقشبندی چکوال، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کے صاحبزادہ مولانا عطاء الرحمن ایم این اے، پیر طریقت مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی خانیوال، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صدر جمعیت علماء پاکستان حیدر آباد، قاری محمد زوار بہادر صاحب سیکرٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان لاہور، مولانا صاحبزادہ عبد الخبیر آزاد صوبائی خطیب پنجاب لاہور، شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم مہتمم جامعہ خالد بن ولید وہاڑی، مولانا مفتی محمد ضیاء مدنی خطیب جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد، خطیب اسلام مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری سیکرٹری جنرل متحدہ جمعیت اہل حدیث ساہیوال، مولانا محمد ایوب خان ثاقب جامعہ مدنیہ ڈسکہ، مولانا فضل الرحمن درخواستی خان پور۔
آخری خطاب دعائے خیر پر فجر کی اذانیں شروع ہوگئیں۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص۔
چھٹی نشست: نماز فجر مورخہ ۵/ اکتوبر ۲۰۱۲ء۔
امامت: مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی مفتی دار الافتاء ختم نبوت کراچی۔
درس قرآن: شیخ التفسیر مولانا میر محمد میرک نائب امیر مرکزی جمعیت علماء اسلام پاکستان۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساتویں نشست: نو بجے دن۔ مؤرخہ ۵/اکتوبر قبل از جمعتہ المبارک۔
صدارت: مولانا محمد انور صاحب مہتمم دارالعلوم ربانیہ پھلور۔ تلاوت: قاری مسعود ربانی فاروق آباد۔ نعت: محمد ابوبکر پشاور، قاری سعید احمد مدنی فیصل آباد، فیصل بلال گیلانی گوجرانوالہ۔ خطاب: مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر، مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم، مولانا غلام حسین جھنگ، جناب حبیب اللہ متعلم مدرسہ ختم نبوت چناب نگر، جناب محمد شعیب مدرسہ ختم نبوت چناب نگر، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی ابن شہید اسلام حضرت لدھیانوی کراچی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، قاری محمد اجمل استاذ جامعہ ربانیہ پھلور، جناب محمد مجاہد نور پوری گوجرہ، مکالمہ طلبہ جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ، مفتی محمد عثمان چیچہ وطنی، مولانا محمد عمر عثمانی گجرات، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ۔ اذان جمعہ: مولانا قاری محمد عمر عثمانی گجرات۔ خطاب: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ ملتان۔ خطبہ جمعہ: مولانا مفتی محمد حسن امیر عالمی مجلس لاہور۔
قارئین کرام! جمعہ پر جلسہ گاہ کا پورا پنڈال شرکاء سے کھچا کھچ بھر گیا۔ جنوب ومشرق کی جانب پلاٹوں میں شرکاء نے صفیں بنائیں۔ اس کے باوجود نمازیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ جامع مسجد و مدرسہ میں دوسری جمعہ کی جماعت کرانی پڑی۔ اذان مولانا محمد قاسم رحمانی نے کہی۔ خطبہ جمعہ و امامت مولانا غلام رسول دین پوری صدر مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر نے کرائی۔ اس جمعہ میں مسجد کا ہال، برآمدہ، صحن مسجد، صحن مدرسہ، پلاٹ، اسٹیج فل ہوگئے۔ اتنی حاضری محض اللہ رب العزت کا فضل ہی ہے اور بس۔ دونوں جگہ نماز جمعہ ہو جانے کے بعد اب:
آٹھویں اور آخری نشست کا آغاز: مؤرخہ ۵/اکتوبر ۲۰۱۲ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز جمعہ ہوا۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ۔ مہمانان خصوصی: مولانا قاری محمد یٰسین مہتمم جامعہ دارالقرآن فیصل آباد، مولانا سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد، مولانا مفتی عطاء الرحمٰن شیخ الحدیث دارالعلوم مدنیہ بہاولپور، مولانا عبد الغفور ٹیکسلا۔ تلاوت: قاری احسان اللہ فاروقی لاہور۔ نعت: سید سلمان گیلانی لاہور۔ خطاب: مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا مفتی محمد ظفر اقبال ناظم جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا نے امیر مرکزیہ مولانا عبد المجید لدھیانوی مدظلہ کا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا۔ خطاب: مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر عالمی مجلس خیبر پختونخواہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا قاری عبید الرحمٰن انور امیر عالمی مجلس تلہ گنگ، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد، مناظر اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مرکزی ناظم اعلیٰ اتحاد اہل سنت پاکستان۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اختتامی کلمات و دعائے اختتام: پیر طریقت مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی ملتان نے کرائی۔ آپ کی دعائے خیر پر دوروزہ سالانہ عظیم الشان فقید المثال ختم نبوت کانفرنس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ جناب سید سلمان گیلانی نے اپنی نظم کے دوران جب سامعین کو کھڑا کیا تو پورا پنڈال برآمدوں، دیواروں پر سامعین اور شرکاء کے جم غفیر کا ایک عجیب و غریب نظارہ تھا۔ جس کے منظر کو زیر قلم لانا فقیر کے لئے ممکن نہیں۔
قرار دادیں: قراردادیں مولانا عزیز الرحمن رحیمی نے پیش کیں۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
- ☆....... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم الشان اجتماع یہودیوں اور سامراجی گماشتوں کی طرف سے بنائی گئی توہین آمیز فلموں کی شدید
مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی سطح پر ناموس انبیاء کا قانون بنوانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے اور امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کرے۔
- ☆....... کانفرنس کا یہ اجتماع پیرمحل میں شرپسند گوہر شاہیوں کی طرف سے مولانا مفتی عابد فرید اور ان کے رفقاء پر قاتلانہ حملے کی پرزور
مذمت کرتا ہے اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ پیرمحل اور اس کے قرب وجوار میں فتنہ گوہر شاہیوں کی روک تھام کی جائے۔
- ☆....... مختلف چینلز میں انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار پر بننے والی فلموں کی نمائش سے اسلامیان پاکستان میں شدید
اشتعال کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسی تمام فلموں پر پابندی لگائی جائے اور انٹرنیٹ سے توہین آمیز فلموں کو ختم کیا جائے۔
- ☆....... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ عاشق رسول ممتاز حسین قادری کو باعزت طور پر رہا کیا جائے اور صدر پاکستان اس کی سزا
معاف کرنے کا اعلان کریں۔
- ☆....... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چناب نگر کے سب تحصیل کے درجہ کو فی الفور بحال کیا جائے۔
- ☆....... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی دہشت گرد ادارے خدام الاحمدیہ، تحریک جدید، انصار اللہ، لجنہ اماء اللہ اور تنظیم
اطفال الاحمدیہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور اندرون و بیرون ملک ان کے اثاثے منجمد کئے جائیں۔
- ☆....... کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں میں تحفظ ختم نبوت اور مرزا
قادیانی کے کفر وارتداد کے اقرار پر مبنی حلف نامے کا اندراج کیا جائے اور تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر مضامین شامل کئے جائیں۔
- ☆....... یہ اجتماع حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزادکشمیر میں قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے
اور ان کی رجسٹریشن کرتے ہوئے سرکاری محکموں میں ان کی ملازمتوں کا کوٹہ متعین کیا جائے اور محکمہ تعلیم ، محکمہ صحت اور محکمہ صنعت وتجارت کے تمام عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔
- ☆....... یہ اجتماع وفاقی وصوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ رفاہی اور فلاحی کاموں کی آڑ میں سندھ بھر میں قادیانیوں کی کفریہ
سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔
قادیانی گروہ کو پاکستان کے آئین کی رو سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ اس لئے ان پر کلمہ طیبہ، قرآنی آیات اور اسلامی شعائر کے استعمال پر پابندی ہے۔ لیکن قادیانیوں نے آئین پاکستان، سپریم کورٹ، ہائیکورٹوں، وفاقی شرعی عدالت اور پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تسلیم کرنے کی بجائے بغاوت پر مبنی مؤقف اپنایا ہوا ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کے اسلامی و نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور قادیانیوں کو آئین کا پابند کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ سفاکانہ سلوک کی مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ڈاکٹر
عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس کی خود مختاری کو برقرار رکھا جائے۔ علماء کرام اور دینی کارکنوں پر ناجائز
مقدمات ختم کئے جائیں اور انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع دارفانی سے رحلت کرنے والے علماء کرام اور دینی شخصیات مولانا سعید احمد رائے پوری، مولانا اللہ بخش گرواں
بہاولپور، مولانا ظہور احمد سالک جھنگ، سیٹھ محمد اشرف اعوان گوجرانوالہ اور دیگر علماء کرام کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لئے دعاء کرتا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۴۱ تا ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس فاضل پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۰؍اکتوبر ۲۰۱۲ء کو فاضل پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ حسین احمد ، مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی ، مولانا سیف الرحمن درخواستی ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا بشیر احمد اور مولانا تاج محمد حنفی سمیت کئی ایک علمائے کرام نے خطاب کیا۔ علمائے کرام نے کہا کہ ملالہ کیس کی آڑ میں دینی جماعتوں ، راہنماؤں اور دین دار عوام کی تضحیک ناقابل برداشت ہے۔ مقررین نے کہا کہ میڈیا جس طرح ملالہ کیس کو اٹھا رہا ہے ایسے ہی اس کو جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے شہداء کا کیس اٹھانا چاہئے تھا۔ امریکی ایجنسیوں نے یہ مسئلہ کھڑا کر کے حرمت رسول ﷺ تحریک سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
پانچ روزہ رد قادیانیت کورس کراچی
الحمد للہ ! گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیرانتظام بقرعید کی چھٹیوں میں پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت و رد قادیانیت کورس منعقد کیا گیا۔ کورس ۳۰؍اکتوبر تا ۳؍نومبر ۲۰۱۲ء تک جاری رہا ، جس میں دینی مدارس کے طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ مجلس کے مرکزی مبلغین و دیگر جید علماء کرام نے کورس کے شرکاء کو عقیدۂ ختم نبوت ، تحفظ ناموس رسالت ، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام ، انکارِ حدیث ، ظہور مہدی ، مرزا قادیانی کی تضاد بیانی ، قادیانی تحریفات کے جوابات جیسے اہم موضوعات پر مدلل ومفصل اسباق پڑھائے ، جس کی تفصیل درج ذیل ہے :
پہلا دن : کورس کا آغاز باقاعدہ تلاوت قرآن کریم سے ہوا، بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کا افتتاحی خطاب ہوا، انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کی بنیاد اور اساس ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے کے اوپر قائم ہے، آج قادیانی اپنے کفر کو پھیلانے کے لئے بھرپور ارتدادی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم دلائل اور براہین سے لیس ہو کر میدانِ عمل میں نکلیں۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ مولانا راشد مدنی نے حیات و رفع
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عیسیٰ علیہ السلام پر پُر مغز و مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ عیسائیوں کے دو گروہ ہیں: ایک کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے گناہوں کے کفارے کے لئے صلیب پر چڑھ گئے، پھر اللہ نے ان کو اٹھالیا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ کر وفات پا گئے۔ آپ کو دفن کیا گیا، تین دن بعد اللہ نے آپ کو آسمان پر اٹھالیا۔ قرآن نے عقیدہ صلیب کی نفی کی، فرمایا: ”وما صلبوہ“ اور عقیدۂ رفع کے اثبات میں کہا: ”بل رفعہ اللہ الیہ“ پھر قرآن کریم نے ”ولکن شبہ لہم“ سے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہودا نامی شخص پر شبیہ ڈال دی تھی، جس کو پھانسی دے کر یہودی مغالطے میں پڑگئے تھے۔
مولانا مفتی عبداللہ حسن زئی نے انکار حدیث کے فتنہ پر دلائل و براہین سے لیس سبق پڑھایا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ انکار حدیث وہ فتنہ ہے کہ جس نے اسلام کی جڑیں ہلانے کی کوشش کی۔ دورِ جدید میں برصغیر میں سرسید احمد خان اور مغرب میں طٰہٰ حسین نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ سرسید کے بعد عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز، عنایت اللہ مشرقی، حبیب الرحمٰن صدیقی اور جاوید احمد غامدی نے اس فتنہ کی آبیاری کی، تمام منکرین حدیث میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ معجزات انبیاء کرام علیہم السلام کے منکر ہیں، ان کی دلیل: ”ان الحکم الا للّٰہ“ ہے جو خالصتاً خارجی استدلال ہے کیونکہ قرآن میں ہے کہ: ”وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ یہ کہنا کہ حضور ﷺ کے دو سو سال بعد حدیث لکھی گئی باطل غلط ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احادیث لکھا کرتے تھے، البتہ موجودہ ترتیب و تدوین سے نہ تھی کیونکہ اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں قرآن وحدیث میں خلط ملط نہ ہوجائے۔
دوسرا دن: آج پہلا سبق مولانا راشد مدنی نے پڑھایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو دجال کے قتل کے لئے روانہ ہوجائیں گے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودیوں کا لشکر ہوگا، اس نے مصنوعی جنت بنارکھی ہوگی، خدائی کا دعویٰ کرے گا، دجال کے قتل کے بعد تمام یہودی مارے جائیں گے اور پھر تمام ادیان باطلہ بھی مٹ جائیں گے، پوری دنیا میں صرف اسلام کا پھریرہ لہرائے گا۔ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے دو سال بعد حضرت مہدی علیہ الرضوان کا انتقال ہوگا، مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ حضرت عیسیٰ حج وعمرہ ادا کرکے روضۂ اقدس پر حاضر ہوں گے اور سلام پڑھیں گے۔ حضور اکرم ﷺ جواب دیں گے اور حضرت عیسیٰ سنیں گے، حضرت عیسیٰ شادی کریں گے ان کی اولاد ہوگی پھر انتقال ہوگا اور روضۂ اقدس میں دفن ہوں گے۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا فیصل خلیل نے ”اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات دو قسم کے ہوتے ہیں:
- (۱) فروعی اختلاف: یہ مسائل کا اختلاف ہے، اس سے کفر لازم نہیں آتا۔
- (۲) اصولی اختلاف، عقائد کا اختلاف ہوتا ہے جو کفر میں داخل کر دیتا ہے۔
مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فروعی نہیں بلکہ اصولی اختلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے اسلام کے کئی بنیادی عقائد سے انکار کیا ہے، سب سے پہلا اختلاف حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ہے۔ مرزا نے خود کو خاتم الانبیاء قرار دیا۔ مرزا نے اسلام کے مسلمہ عقیدے جہاد کی بھی بڑے شدومد سے نفی کی اور لکھا کہ مجھ پر کافروں سے قتال کرنا حرام کردیا گیا۔
مولانا قاضی احسان احمد نے تحریک ختم نبوت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تو علماء کرام اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ ۱۹۳۰ء میں علامہ سید انور شاہ کشمیری کے حکم پر تمام علماء نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت کی، پہلی تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں چلی، صرف لاہور میں دس ہزار نوجوان آقا ﷺ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی حرمت پر قربان ہوگئے ، پھر ۱۹۷۴ء میں تحریک چلی اور خون شہیداں رنگ لایا ، قادیانیوں کو پاکستان کے آئین میں کافر لکھ دیا گیا ، پھر جب ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں نے دوبارہ پر پرزے نکالے تو انہیں شعائر اسلام استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا۔
تیسرا دن : مولانا مفتی راشد مدنی نے ”ظہور مہدی علیہ الرضوان“ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مہدی علیہ الرضوان سے متعلق تین گروہ ہیں: (۱) خوارج: جو آپ کی آمد کے منکر ہیں، (۲) روافض : جنہوں نے آپ کے رتبہ کو انبیاء سے بھی بڑھا دیا، (۳) اہل سنت والجماعت : اس سلسلے میں نہ افراط کا شکار ہے نہ تفریط کا، بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے نبی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے، نام محمد ہوگا، والد کا نام عبداللہ ہوگا، پوری دنیا میں اسلام نافذ کریں گے۔
جامعہ فاروقیہ کراچی کے استاذ مولانا زر محمد نے اپنے بیان میں قادیانی تحریفات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی آیت خاتم النبیین میں تحریف کرتے ہیں، خاتم کا معنی مہر ہے، یعنی حضور علیہ السلام کی مہر سے نبی بنیں گے۔ مرزا قادیانی بھی اسی طرح نبی بنا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خاتم النبیین کا یہ معنی کسی مفسر نے نہیں لکھا اور نہ کسی لغت میں یہ معنی مذکور ہے۔ خود مرزا قادیانی کی عبارت سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ مرزا لکھتا ہے: ”اور میرے بعد میرے ماں باپ کے گھر کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی گویا میں اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد تھا ۔“
اب ہم مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ یہاں خاتم الاولاد کا کیا معنی ہے؟ اگر آخری اولاد مراد ہے تو خاتم النبیین میں بھی آخری نبی مراد لو اور اگر خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کی مہر سے نبی بنتے ہیں تو خاتم الاولاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اب مرزا کی مہر سے اولاد پیدا ہوگی۔
مولانا قاضی احسان احمد نے قرآن وحدیث سے عقیدہ ختم نبوت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ : ”والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک“ اس آیت میں حضور علیہ السلام پر اور آپ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کے لئے کامیابی کا اعلان ہے، اگر حضور علیہ السلام کے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا، جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں تو ”من قبلک“ کے بعد ”من بعدک“ بھی ہوتا۔ مولانا نے اس کے علاوہ آیت خاتم النبیین سمیت چند دیگر آیات کی بھی تشریح کی، دوسو دس میں سے چند احادیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضور علیہ السلام نے اپنے بعد تیس جھوٹے نبوت کے دعویداروں کی پیشینگوئی کی ہے اور اعلان فرمایا: ” میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔“
چوتھا دن : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے مبلغ مولانا توصیف احمد نے ”مرزا قادیانی کی پیشینگوئیاں“ کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اپنے دور میں بہت سی پیشینگوئیاں کیں اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہر موقع پر خائب و خاسر کیا اور اس کی کوئی پیشینگوئی بھی پوری نہ ہوسکی ۔ مرزا نے دعویٰ کیا کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی اور خدائی فیصلہ ہو چکا ہے، مگر مرتے دم تک وہ چلاتا رہا اور محمدی بیگم کے گھر والوں کو ڈراتا دھمکاتا رہا، مگر وہ باطل کے سامنے ڈٹ گئے اور محمدی بیگم کو مرزا کے نکاح میں دینے سے انکار کر دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی ضلع ملیر کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے ”اوصاف نبوت“ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر نبی میں چند اوصاف ہوتے ہیں جن میں سے دو یہ ہیں: (۱) عقل کامل ، (۲) حفظ کامل۔ صرف ان دو نشانیوں ہی کو اگر دیکھ لیا جائے تو مرزا ان سے بالکل کورا تھا۔ انبیاء علیہم السلام تو دور کی بات مرزا اپنے عہد کے علماء کے برابر بھی نہیں تھا۔ نبوت کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ نبی مرد ہو، عورت نبی نہیں بن سکتی۔ مرزا نے خود کو عورت کہا، اس کی کتابوں میں لکھا ہے کہ: ” میں مریم ہوں اور مجھے حمل بھی ہوا ہے۔“ اسی طرح نبی با اخلاق اور باکردار ہوتا ہے۔ حضور علیہ السلام کے اخلاق اتنے عالی تھے کہ دشمن بھی مانتے تھے جب کہ مرزے نے اپنے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہا، اس کی کتب ایسی گالیوں سے بھری ہوئی ہیں کہ پڑھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، کیا ایسا شخص منصب نبوت کے لائق ہے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچواں دن: آج عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر منظور احمد میؤ راجپوت ایڈووکیٹ نے ”قادیانیوں کی قانونی و آئینی حیثیت“ پر لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آئین کے تحت قادیانی کافر ہیں، یہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کرسکتے۔ کلمہ طیبہ، بسم اللہ، الحمدللہ! اور دیگر اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کرسکتے، اپنے لئے مساجد کی تعمیر وغیرہ نہیں کرسکتے، حتیٰ کہ کسی مسلمان کو سلام بھی نہیں کرسکتے۔ ختم نبوت کے مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سے جج بھی مسئلہ ختم نبوت سے ناواقف ہیں۔ گوہر شاہی کے خلاف مقدمہ میں جج نے مجھ سے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں کسی کو کلمہ پڑھنے سے روکنے والے؟ یہ کیسا اسلام ہے؟ میں نے جواب دیا: ”گوہر شاہی نے جو گستاخیاں کی ہیں اس نے بکواس کی ہے کہ حضور کو میری شبیہ حجر اسود میں نظر آئی ، اس لئے آپ ﷺ نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور اسلام میں نماز روزہ کچھ نہیں ۔“ یہ سب کون سا اسلام ہے اور کس مسلمان کے عقائد ہیں۔
اس کے بعد راقم الحروف (مولانا قاضی احسان احمد) نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کورس کی تکمیل کے بعد میں اور آپ اپنا فرض جان چکے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے اب میدانِ عمل میں اترا جائے، کام کی ترتیب بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو اپنے حلقے میں جا کر اسی حوالے سے محنت کرنی ہے، وہاں کچھ دوستوں پر مشتمل ایک حلقہ قائم کریں جو ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کو تیار ہوں، اپنے علاقے میں ہر ماہ مساجد میں ختم نبوت پر بیان، سالانہ جلسہ، اسکول کے بچوں کے لئے ختم نبوت کوئز پروگرام، لٹریچر کی تقسیم، دکانوں پر سے قادیانی مصنوعات کے خاتمہ کے لئے گشت، انفرادی محنت جیسے میدانوں میں محنت کر کے ہم عوام میں عقیدہ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت کے حوالے سے شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔
مولانا قاضی احسان احمد نے کورس کی اختتامی نشست سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر قادیانی اپنی جگہ اپنے کفری اشاعت کے لئے محنت کر رہا ہے۔ قادیانیوں نے ارتدادی سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ فنڈ مخصوص کر رکھے ہیں اور ادارے بنا رکھے ہیں، ہمیں بھی آج میدان عمل میں اترنا ہے، ہمیں چاہئے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے لئے اپنے اسلاف کی روایات پر چلتے ہوئے تن من دھن سب کچھ وار دیں۔
اس کے بعد شرکائے کورس میں ”قادیانی شبہات کے جوابات (جلد اول)“ تقسیم کی گئی اور قادیانیوں سے چند سوال، المہدی والمسیح ، آخری زمانے میں آنے والے مسیح کی شناخت اور گالیاں کون دیتا ہے؟ لٹریچر پر مشتمل پیکٹ بھی دیئے گئے۔ کورس کا اختتام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسکاؤٹ کالونی کے راہنما مولانا عبدالسمیع کی دعاء پر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰ نومبر ص ۲۵ تا ۲۷)
ساہیوال میں مرکزی ناظم اعلیٰ مدظلہ کی دعوتی و تنظیمی مصروفیات
ساہیوال: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اپنی ضعیف العمری اور پیرانہ سالی کے باوجود ساہیوال کے دو روزہ تبلیغی و دعوتی پروگرام پر تشریف لائے۔
۲؍نومبر کی صبح کو دفتر ختم نبوت جامع مسجد رحیمیہ ریلوے روڈ چیچہ وطنی میں مختصر قیام کیا۔ اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی کے شیطانی الہامات اور ابلیسی اوہام کو روحانی خزائن کہنے کی بجائے شیطانی خزائن سے تعبیر کرنا چاہئے۔ قادیانی کفریہ عقائد کی تردید کے لئے سب سے پہلے مرزا قادیانی کی کتابوں کے حوالہ جات سے گفتگو کا آغاز ہو، کیونکہ مرزا قادیانی کی کتابیں کذب بیانی، مغالطات، جھوٹی پیش گوئیوں، تکرار اور تضادات سے بھری پڑی ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہاں سے آپ ساہیوال کے لئے عازم سفر ہوئے۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی بھی ہمراہ تھے۔ جامع مسجد شہداء فرید ٹاؤن ساہیوال میں جمعتہ المبارک کے عظیم اجتماع سے آپ نے مثالی اور اصلاحی بیان کیا۔ جامع مسجد شہداء کے منتظمین اور خطیب مولانا قاری منظور احمد طاہر، حاجی بشیر احمد ، محمد عبداللہ اور بھائی محمد آصف اور دیگر کارکنوں نے آپ کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں جامع مسجد مدینہ فرید ٹاؤن کے خطیب اور جامعہ علوم شرعیہ کے مدرس مولانا نور محمد کی طرف سے دیئے گئے اعزازیہ میں شرکت کی، وہاں پر ساہیوال کی تمام مذہبی قیادت اور ختم نبوت کے کارکن اور علمائے کرام کثیر تعداد میں موجود تھے۔ مفتی محمد ذکاء اللہ کے پرخلوص اصرار پر دارالعلوم ساہیوال کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا، مفتی محمد ذکاء اللہ نے مدرسہ کی کارکردگی اور رپورٹ پیش کی۔ آپ نے مفتی صاحب کی دینی خدمات کو سراہا اور ادارہ کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص بھری دعاؤں سے نوازا۔
مغرب کی نماز کے بعد جامعہ محمدیہ کوٹ ۸۵/۶ آر میں تجوید و قرأت اور ترجمۃ القرآن کی کلاسز کی افتتاحی تقریب خطاب کرتے ہوئے علماء کرام، طلباء و طالبات کو پند و نصائح فرمائیں اور دینی مدارس اور ملک کی تازہ ترین صورتحال پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ رات کا قیام جامعہ محمدیہ میں ہوا۔ ۳؍ نومبر کی صبح کو جامع مسجد میں درس قرآن دیا اور بخاری قبرستان میں اکابرین جامعہ رشیدیہ اور علوم شرعیہ کی قبور پر فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں جامعہ رشیدیہ تشریف لائے۔
جامعہ کے مہتمم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا کلیم اللہ رشیدی نے بھر پور استقبال کیا۔ جامعہ رشیدیہ کے اکابرین کی دینی خدمات کے تذکرہ پر مجلس میں روحانی کیف و سرور پیدا ہو گیا۔ جامعہ کے تمام شعبوں اور انتظامات کے متعلق بھی دلچسپ تبادلہ خیال ہوا۔ جامعہ کے تمام شعبوں اور انتظامات کے حوالے سے جامعہ رشیدیہ کے جرأت مندانہ اور دلیرانہ کردار کو سراہا اور اکابرین جامعہ رشیدیہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قدیم مبلغ مولانا محمد یار کے صاحبزادہ مولانا مطیع الرحمٰن کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔ مولانا مرحوم کی یادگار مدرسہ انوار مدینہ احمد نگر میں تھوڑی دیر قیام فرمایا، اس دوران مولانا محمد عالم طارق کے فرزند مولانا احسن عالم اور مولانا محمد عثمان حیدر آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے خانقاہ عزیزیہ چک گیارہ ایل کے بانی و ولی کامل مولانا پیر جی عبدالعزیز رائے پوری کی قبر مبارک پر فاتحہ خوانی کی اور ملتان کے سفر کے لئے عازم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کو عمر نوح عطا فرمائے۔ جنہوں نے شفقت کا معاملہ کرتے ہوئے تمام کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی اور تحفظ ختم نبوت کے مقدس مشن کی آبیاری کے لئے تشریف لائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۲۷)
سہ اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۱، ۲۲؍ ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ مطابق ۷، ۸؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی تین نشستیں ہوئیں۔ اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی میں وفات پا جانے والے جماعتی عمائدین، دینی رہنماؤں اور کارکنوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں آئندہ سہ ماہی تبلیغی پروگرام، رد قادیانیت کورسز ترتیب دیئے گئے اور طے کیا گیا کہ آنے والے سال میں نواب شاہ، ملتان، گوجرانوالہ میں عظیم الشان کانفرنسیں کی جائیں گی اور کانفرنس کے مقام، تاریخ، مقامی جماعتوں سے رابطے اور مقررین سے رابطہ کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ۱۵؍ محرم الحرام ۱۴۳۴ھ سے مجلس کی رکنیت سازی شروع کی جائے گی۔ پچیس سے ایک سو اراکین تک ایک ممبر مرکزی مجلس عمومی کے لئے منتخب کیا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے گا۔ ایک سو ممبران سے اگر زائد ہوں تو ہر سو پر ایک ممبر مجلس عمومی کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ مقامی جماعتوں سے کہا گیا کہ مجلس کے دستور کے مطابق عہدیداروں کا انتخاب کریں۔ دستور سے زائد عہدیداران غیر دستوری شمار ہوں گے۔ آنے والے سال چناب نگر کانفرنس سے پہلے ممبر سازی اور تشکیل جماعت کا مرحلہ مکمل ہو جانا چاہئے۔ اجلاس میں طے ہوا کہ ماہ ربیع الاول میں میلاد خاتم الانبیاء کانفرنسوں کے نام سے اجتماعات منعقد کئے جائیں اور سرور دو عالم ﷺ کی سیرت طیبہ اور عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسول اور محبت رسول ﷺ کے عنوانات پر خطاب کئے جائیں۔ اجلاس میں مزید لٹریچر کی اشاعت کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھی زبان میں مزید لٹریچر کی اشاعت کی اجازت دی گئی۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، ماہنامہ لولاک کی اشاعت و ترسیل کے متعلق بھی فیصلے ہوئے۔ آئندہ سہ ماہی میں احتساب قادیانیت جلد نمبر سولہ کی تلخیص اور مطالعہ کی تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی۔ جب کہ ایک قرارداد میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکمران امریکہ سمیت مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون میں ترمیم اور اسے غیر مؤثر کرنے کے لئے اگر کوئی عزم رکھتے ہیں تو اسلامیان پاکستان اس کے مقابلہ میں سد سکندری بن جائیں گے اور دفعہ نمبر ۳۰۲ کی آڑ میں گستاخ رسول ایکٹ کو غیر مؤثر یا تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
رد قادیانیت کورسز
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے درج ذیل مقامات پر ختم نبوت کورسز منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔
تاریخ مقام استاذ یکم، ۲، ۳ / دسمبر خوشاب مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد اکرم طوفانی ۴، ۵، ۶ / دسمبر ٹوبہ ٹیک سنگھ مولانا محمد اسماعیل، مولانا حبیب احمد ۷، ۸، ۹ / دسمبر فیصل آباد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام محمد ۱۰ تا ۱۴ / دسمبر جھنگ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام حسین ۲۰ تا ۲۳ / دسمبر سکھر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مولانا مفتی محمد راشد مدنی ۲۴، ۲۵ / دسمبر لاڑکانہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد راشد مدنی ۲۶، ۲۷ / دسمبر گمبٹ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا تجمل حسین ۲۹ تا ۳۱ / دسمبر نوابشاہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا تجمل حسین یکم تا ۴ / جنوری حسب صوابدید مولانا محمد علی صدیقی ۵، ۶ / جنوری راجن پور مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد اقبال ۱۲، ۱۳ / جنوری بہاول پور مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۷ تا ۱۸ / جنوری اوکاڑہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبد الرزاق مجاہد ۱۹ تا ۲۱ / جنوری لاہور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی ۲۲، ۲۳ / جنوری گوجرانوالہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد عارف
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۴ تا ۲۶/ جنوری منڈی بہاؤ الدین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی ۲۷، ۲۸/ جنوری خانیوال مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالستار گورمانی
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۳ء ص ۵۳، ۵۴)
مولانا شجاع آبادی کی سرگودھا میں تشریف آوری
سرگودھا: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۰/ نومبر ۲۰۱۲ء کی شام سرگودھا تشریف لائے۔ جہاں آپ نے نیو سیٹلائٹ ٹاؤن میں منعقدہ تربیتی کنونشن سے خطاب کیا، جس کی صدارت ونقابت کے فرائض مولانا نور محمد ہزاروی نے سرانجام دیئے، جب کہ مہمان خصوصی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا محمد اکرم طوفانی تھے۔ کنونشن کا انتظام مقامی میرج ہال میں کیا گیا تھا۔ کنونشن میں شہر بھر کے علماء کرام، مشائخ عظام نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ مولانا نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی جوانیاں توانائیاں انٹرنیٹ، موبائل، فضولیات کے بجائے ناموس رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کردیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا طوفانی خوش نصیب عالم دین ہیں، جنہوں نے اپنے جانشین تیار کر لئے ہیں۔ انہوں نے سرگودھا میں قادیانیت کے لئے بھر پور تعاقب میں انہیں مبارک باد پیش کی۔ کنونشن مفتی شفقت علی کی دعاء سے اختتام پذیر ہوا۔ یکم دسمبر صبح کی نماز کے بعد آپ نے مولانا اسامہ رضوان سے ملاقات کی اور ان کے والد محترم کی وفات پر تعزیت کی۔ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/جنوری ۲۰۱۳ء ص ۹)
پیلووینس اور خوشاب کا تین روزہ دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ختم نبوت میں منعقدہ ایک تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شجاع آبادی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ قادیانیت کے دجل و فریب کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔ یکم دسمبر ۲۰۱۲ء کو یہ نشست گیارہ سے بارہ بجے تک منعقد ہوئی۔ یکم دسمبر بعد نماز عشاء مولانا شجاع آبادی نے جامع مسجد صدیق اکبر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیات النبی ﷺ اور ختم نبوت لازم وملزوم ہیں۔ ۲/دسمبر کو دس سے گیارہ بجے تک جامع مسجد ختم نبوت پیلووینس میں تربیتی نشست سے خطاب کیا اور قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی اور ان کی استقامت کی دعاء کی۔ پروگرام کا انتظام بھائی عبدالرزاق نے کیا۔ ۲/ دسمبر بعد نماز ظہر مدرسہ تعلیم القرآن روڈہ میں حافظ دلاور حسین کی دعوت پر تشریف لے گئے اور آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔ ۲/ دسمبر بعد نماز عصر جامعہ عبداللہ بن مسعود ہڈالی میں خطاب کیا۔ ۳/ دسمبر جامعہ علوم شرعیہ جوہر آباد میں سینکڑوں طلباء وعلماء کرام سے خطاب کیا اور انہیں قادیانیت کے دجل و فریب سے آگاہ کیا۔ ۳/ دسمبر بعد نماز مغرب جامع مسجد فاروقیہ خوشاب میں جلسہ ختم نبوت سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/جنوری ۲۰۱۳ء ص ۹)
سہ روزہ ختم نبوت کورس پیرمحل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ”العصر تعلیمی مرکز“ پیرمحل میں تین روزہ کورس ۴ تا ۶/ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز منگل، بدھ، جمعرات کو منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت، کذب مرزا قادیانی، امت مسلمہ اور مرزائی امت کے درمیان جو اختلافات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں، ان کی وجہ اور دلائل واصول مناظرہ پر مدلل مفصل گفتگو کی اور مولانا محمد خبیب نے ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات مسیح علیہ السلام اور مرزا قادیانی کے کفر کی وجوہات سے متعلق بیان کیا۔ اسی طرح ۴؍ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز منگل کو بعد نماز مغرب جامع حنفیہ باب العلوم مل موڑ کمالیہ میں حیات مسیح اور رفع ونزول مسیح پر خطاب کیا۔ بعد میں سوال وجواب کی نشست بھی منعقد ہوئی اور مولانا خبیب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ونزاکت پر بیان کیا۔ نیز گوہر شاہی فتنہ کے متعلق بھی تفصیلات سے سامعین کو آگاہ کیا۔ ۵؍ دسمبر ۲۰۱۲ء بعد نماز مغرب وعشاء چک نمبر ۱۰ میں مولانا محمد خبیب نے معجزات انبیاء علیہم السلام، ختم نبوت اور مرزا قادیانی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ ۶؍ دسمبر ۲۰۱۲ء بعد نماز ظہر مدینہ مسجد، مدنیہ مارکیٹ ٹوبہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے محفل ذکر میں مدلل ومفصل ذکر کے حوالہ سے بیان کیا اور بعد نماز عشاء قاسمیہ مسجد فیض کالونی میں درس حدیث اور ختم نبوت کے عنوان سے درس دیا۔ تمام پروگرام پیر محل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار مولانا مفتی محمد شیراز مدظلہ مدیر ”العصر تعلیمی مرکز“ کی ہمت و کوشش اور معاونت وسعی سے پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ ان کے علاوہ تمام معاونین اور مخلص کارکن حضرات کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۳ء ص ۲۶)
سات روزہ ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ٹوبہ کے زیر انتظام چک نمبر ۲۸۸ گ ب چوہلہ میں سات روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار سے کورس کا آغاز ہوا، جس میں ضلعی مبلغ مولانا محمد خبیب نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ عقیدہ ختم نبوت قرآن کریم سے، احادیث نبویہ، تورات وزبور اور انجیل سے شرائط نبوت، سیرت امام مہدی وعلامات، حیات مسیح ابن مریم، قادیانیوں سے بائیکاٹ کیوں ضروری ہے اور کریکٹر مرزا قادیانی پر اسباق ہوئے۔ آخر میں سوال وجواب کی نشست ہوئی۔ اس کورس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین خصوصاً اسکول وکالج کے طلبا و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ الحمد للہ ! شرکاء کی تعداد ۱۱۸ تھی، جنہوں نے تمام موضوعات پر نوٹ بھی لکھے۔ اختتامی تقریب ۳۰؍ دسمبر بروز اتوار کو تھی جس میں مولانا غلام رسول دین پوری مدظلہ تشریف لائے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کے حوالہ سے بیان کیا اور شرکاء کورس کو اسناد، قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے و دیگر کتب مختلف موضوعات پر دی گئیں۔ اختتام پر جامعہ دارالعلوم ربانیہ کے استاذ الحدیث مولانا حفیظ اللہ، مولانا عثمان غنی، مولانا مفتی عبدالجبار نے بھی شرکت کی۔ کورس کے انتظام میں حافظ ذوالفقار علی، مولانا عبداللہ یوسف، مولانا احمد عثمان و دیگر احباب نے بھرپور معاونت ومدد کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰؍ جنوری ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرائے نورنگ ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار جامع مسجد مجیدی میں ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوئی۔ کانفرنس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالرحیم، مولانا اشرف علی، مولانا عابد کمال، مولانا قاری سیف الرحمن، مولانا شیخ محمد انور اور مولانا محمد الیاس گھمن نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے ختم نبوت، رد قادیانیت اور رد فرق باطلہ پر مفصل روشنی ڈالی اور عوام الناس کو منکرین ختم نبوت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے خبردار کیا۔ کانفرنس مغرب تک پوری آب وتاب سے جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت حاجی امیر صالح امیر مجلس لکی مروت نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۳ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لاہور میں قادیانیوں کے پریس پر چھاپہ توہین رسالت پر مبنی کتابیں برآمد کر لی گئیں
سانڈہ میں واقع مکان سے پریس منیجر سمیت خدام احمدیہ کے چار کارکن گرفتار، مالکان کی تلاش میں چھاپے۔
تحریف شدہ قرآنی نسخے اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لئے توہین صحابہ پر مشتمل لٹریچر چھاپ کر ملک بھر میں تقسیم کیا جا رہا ہے
چناب نگر کی جانب سے قادیانی پولیس افسران کی کھنچائی، تفتیش رکوانے کی ہدایت کر دی گئی: امت خصوصی رپورٹ۔
لاہور میں توہین رسالت پر مبنی کتب شائع کرنے والا قادیانیوں کا خفیہ پریس پکڑا گیا۔ پولیس نے چھاپہ مار کر سینکڑوں کی تعداد میں کتب کی پلیٹس، ٹریسنگ اور شائع شدہ کتابیں قبضے میں لے کر پریس منیجر سمیت ۴ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ فرار ہو جانے والے مالکان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قادیانی پولیس افسران ملزموں کو بچانے کے لئے میدان میں آ گئے۔ تفتیشی ٹیم پر دباؤ ڈالنے کا انکشاف۔ تھانہ سانڈہ پولیس نے ۲۹۵-سی کی دفعہ مقدمہ میں شامل کرنے کی خاطر، ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اجازت طلب کر لی ہے۔ لاہور سے دستیاب اطلاعات کے مطابق، علاقہ سانڈہ میں واقع چھوٹا سانڈہ بس اسٹاپ کے قریب ہی ایک دومنزلہ مکان سے اکثر شام کے وقت کتابوں سے بھری ہوئی ہائی ایس گاڑیاں نکلتی ہوئی دیکھی جاتی تھیں۔ اہل محلہ کو سرگرمیاں مشکوک لگیں تو انہوں نے اپنے طور پر تحقیقات کیں، جس پر معلوم ہوا کہ اس گھر میں خفیہ طور پر ایک پریس کام کر رہا ہے، جس میں قادیانیوں کی وہ تمام کتب شائع ہوتی ہیں، جن میں ملعون مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی بلکہ سابق انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی توہین کی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے حاصل کردہ معلومات پر مرکز ختم نبوت سے مشورے کے بعد گزشتہ روز اس وقت پولیس کو ۱۵ پر کال کر دی، جب کتابوں سے بھری ایک گاڑی اس پریس سے نکل رہی تھی، جس پر پولیس نے ڈی ایس پی شمس الحق درّانی کی قیادت میں موقع پر پہنچ کر اس گاڑی کی تلاشی لی تو اس میں سے قرآن کریم کا تحریف شدہ ترجمہ، مرزا ملعون کی توہین انبیاء پر مشتمل کتاب ’’روحانی خزائن‘‘ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین پر مبنی کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی سینکڑوں جلدیں برآمد کر لیں، جنہیں چھپا کر لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس نے اہل علاقہ کی موجودگی میں مکان کے اندر تلاشی لی تو موقع پر موجود ۵ ملازمین، جو خدام احمدیہ کے کارکن تھے نے مزاحمت کی کوشش کی۔ مگر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا، مکان کے اندر رنگین طباعت کے لئے چار عدد مشینیں لگی ہوئی تھیں اور ایک سو کے قریب کتابوں کی ٹریسنگ اور سینکڑوں کی تعداد میں توہین آمیز مواد پر مشتمل کتب کی پلیٹس بھی موجود تھیں، جن کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جب کہ بالائی منزل پر اس پریس سے متعلق دفتر اور نگرانی کا بندوبست تھا۔ پولیس نے سارا ریکارڈ قبضے میں لے کر تھانہ سانڈہ میں دفعہ ۲۹۵-بی اور ۲۹۸-سی کے تحت مقدمات درج کر لئے ہیں جب کہ دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت مقدمے کے اندراج کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رائے طلب کر لی گئی ہے۔ گزشتہ روز تھانہ سانڈہ میں اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ ان کا تعلق خدام احمدیہ سے ہے۔ یہ پریس خفیہ طور پر لگایا گیا ہے اور اس کا نام ’’بلیک ایرو‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ قادیانی جماعت کا تمام تر توہین آمیز مواد آئین پاکستان کی رو سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، اس پریس میں شائع ہوتا ہے اور اسے چناب نگر سے آنے والی مسافر ویگنوں میں خفیہ طور پر بھر کر چناب نگر لے جایا جاتا ہے۔ اس لٹریچر میں قرآن کریم کے تحریف شدہ تراجم کے علاوہ، توہین صحابہ ؓ پر مشتمل گمنام لٹریچر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی شائع کر کے تقسیم کیا جاتا ہے، جو بعد ازاں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسے لٹریچر پر مشتمل پلیٹیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے امت کو بتایا کہ گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ یہ جگہ ایک قادیانی ناصر نے بلا معاوضہ فراہم کر رکھی ہے۔ ناصر کی شہر میں کئی ایک میڈیکل لیبارٹریاں بھی کام کرتی ہیں ۔ یہاں پر لگا ہوا پریس ایک دوسرے قادیانی شیخ طارق محمود نے لگا کر قادیانی جماعت کو وقف کیا ہے اور قادیانی جماعت کا شعبہ وقف اس پریس کے معاملات کا انچارج ہے۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس پریس میں شائع ہونے والا توہین آمیز گستاخانہ لٹریچر شائع کرنے کے تمام مالی اخراجات شیزان کمپنی کے مالکان برداشت کرتے ہیں اور یہ لٹریچر ملک میں مفت بانٹا جاتا ہے۔ پولیس نے ناصر، شیخ طارق محمود اور شیزان کمپنی کی انتظامیہ کو بھی شامل مقدمہ کر کے گرفتاری کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ مقدمے کے مدعی محمد طیب نے امت کو بتایا کہ پولیس نے حیرت انگیز طور پر پھرتی کا مظاہرہ کیا اور پرچہ بھی درج کرلیا ہے، انہیں تفتیشی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے جب کہ امت کو لاہور پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ابو بکر خدا بخش نھتھوکہ اور ایک اور پولیس افسر وسیم کوثر (دونوں افسران قادیانی ہیں) کو چناب نگر سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور وہ تفتیشی ٹیم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن چونکہ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور مال مقدمہ بھی پولیس کے پاس محفوظ ہے، اس لئے وہ سردست خود کو بے دست و پا محسوس کرتے ہیں۔ مگر ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح اس مقدمے کی تفتیش کو یہیں ختم کرا دیا جائے۔ چناب نگر سے دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ پریس قادیانی جماعت کا ایک بڑا خفیہ ہتھیار تھا، جس کے پکڑے جانے کے بعد نہ صرف قادیانی جماعت میں سراسیمگی پھیل گئی ہے، بلکہ قادیانی ذمہ داروں نے قادیانی پولیس افسران کی بھی کھنچائی شروع کر دی ہے اور کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس مقدمے کو ختم کرا دیا جائے۔
(روزنامہ امت کراچی، ۱۰؍ جنوری ۲۰۱۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ فروری ۲۰۱۳ء ص ۱۵، ۱۶)
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گوہر شاہیوں کے جلوس پر پابندی
دورِ جدید کا مسیلمہ کذاب فتنہ گوہر شاہی المعروف انجمن سرفروشان اسلام کے نام سے ۱۲؍ ربیع الاول کو شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جلوس نکالتے تھے۔ ان کے جلوس پر پابندی اور رکوانے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کی طرف سے ضلعی صدر مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب کی طرف سے ایک درخواست ڈی پی او، ایس ایچ او، ڈی سی او کے نام دی گئی اور ساتھ گوہر شاہیوں کے خلاف جھنگ عدالت کا فیصلہ اور گوہر شاہی کتب کے حوالہ جات دیئے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایک وفد نے ڈی سی او سے اور ڈی پی او سے ملاقات کی۔ سکیورٹی برانچ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ بالآخر ۱۰؍ ربیع الاول کو ایس ایچ او تھانہ سٹی نے دونوں فریقوں کو بلوایا۔ دلائل سنے اور ۱۱؍ ربیع الاول کو ۱۰ بجے ڈی ایس پی کے پاس جانے کو کہا۔ چھ افراد گوہر شاہیوں کی طرف سے اور سات افراد مجلس کی طرف سے تقریباً تین گھنٹے بحث و مباحثہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فتح عطاء فرمائی۔ ان کے جلوس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آئندہ بھی ضلعی انتظامیہ سے اجازت لئے بغیر کوئی جلوس نہیں نکالے گی۔ ان شاء اللہ گوہر شاہیوں کا آئندہ بھی تعاقب جاری رہے گا۔ ایک تحریر لکھی گئی جس پر دونوں فریقوں نے دستخط کئے۔ جلوس نہ نکالنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے وفد میں مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا محمد حبیب، بھائی عرفان اظہر ناز، سنی تحریک سے مولانا صاحبزادہ منعم حسین صدیقی، ختم نبوت فاؤنڈیشن کی طرف سے صاحبزادہ مولانا شمس الزمان قادری، جماعت اسلامی سے ڈاکٹر خلیل احمد، جمعیت علماء اسلام کی طرف سے مولانا طلحہ عباسی و دیگر کارکنان بھر پور شریک رہے۔ ہر جگہ ساتھ دیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۳ء ص ۳۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عاصمہ جہانگیر کے ممکنہ وزیر اعظم بننے پر علماء کا احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی، نائب امراء مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا خواجہ عزیز احمد، مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے خطبات جمعہ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ختم نبوت، ناموس رسالت ایکٹ اور حدود آرڈی نینس کی مخالف عاصمہ جہانگیر کو اگر نگران وزیر اعظم بنایا گیا تو تمام دینی جماعتیں اس کے خلاف بھرپور اور منظم انداز میں تحریک چلائیں گی۔ علماء کرام نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا نگران وزیر اعظم بننا کسی بھی صورت اسلامیان پاکستان کو منظور نہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاہور، کراچی، حیدر آباد، فیصل آباد، ساہیوال، اسلام آباد، راولپنڈی، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سکھر، کوئٹہ اور میر پور خاص سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۸؍ فروری ۲۰۱۳ء ص ۱۷)
جدید ذرائع ابلاغ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کمیٹی برائے پیغام مجلس بذریعہ انٹرنیٹ کا پہلا اہم اجلاس بروز جمعرات بعد از نماز عصر ۲۸؍ فروری ۲۰۱۳ء کو مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت نائب امیر مرکزیہ مولانا خواجہ عزیز احمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ اجلاس میں مولانا مفتی خالد محمود، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد راشد مدنی اور ناچیز (محمد شہاب الدین پوپلزئی) نے شرکت کی۔
اجلاس میں تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال پر غور کیا گیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشن کو شائستہ اور بھلے انداز سے تمام عالم میں پھیلانے کے لئے بذریعہ انٹرنیٹ کیا تگ و دو کرنی چاہیے جس پر ناچیز نے اس سلسلہ میں کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سابقہ امیر مرکزیہ قدوۃ العلماء والصلحاء خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ و برد اللہ مضجعہ کے دور مسعود میں حضرت کے فیضان و شفقت کے زیر سایہ بذریعہ ویب سائٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پیغام جاری کر دیا گیا تھا۔
www.khatm-e-nubuwwat.com جس پر مجلس کے پیغام کے علاوہ چیدہ چیدہ بنیادی کتب، پمفلٹ، خط و کتابت کورس، بذریعہ ڈاک، ای میل، فون، رابطے کی سہولتوں کے علاوہ ماہنامہ لولاک (ہر ماہ) ہفت روزہ ختم نبوت (ہر ہفتے) ہر صارف کو مفت پڑھنے اور اپنے کمپیوٹر میں مفت محفوظ کرنے کی سہولت دی گئی۔
- الف...... پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت امیر مرکزیہ کی دعائیں رنگ لائیں اور ماہنامہ لولاک کے لئے علیحدہ ویب سائٹ بنادی گئی جو
کہ www.laulak.info کے نام سے ہے اور الحمد للہ اس ویب سائٹ پر اس وقت ماہنامہ لولاک کے ۱۶ سال اور پانچ مہینوں کا ریکارڈ بشمول تازہ شمارہ دستیاب ہے۔ جسے کوئی بھی صاحب (user) بلا معاوضہ اپنے کمپیوٹر میں ماہ بہ ماہ مفت پڑھ اور محفوظ کر سکتا ہے۔
- ب...... ہفت روزہ ختم نبوت کے لئے علیحدہ www.khatm-e-nubuwwat.info کے نام سے ویب سائٹ بنادی گئی جس
میں ہفت روزہ کے گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ اور سال رواں کا ہر ہر شمارہ بمعہ تازہ شمارہ کے موجود ہے۔ ہر صارف user کو اپنے کمپیوٹر میں مفت پڑھنے اور محفوظ کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علاوہ ازیں بذریعہ ای میل ameer@khatm-e-nubuwwat.com پر رابطہ کرنے والوں کے سوالات کا جواب دیا جاتا ہے اور ان جوابات کے لئے اکابر مجلس کی کتب سے استفادہ کر کے انہیں کے الفاظ میں جواب دیا جاتا ہے۔ تاکہ برکت بھی شامل حال رہے اور اگر کسی رابطہ کرنے والے کو قادیانی کتب سے حوالے کی ضرورت ہو تو اس کا عکسی ثبوت بھی بذریعہ ای میل مہیا کیا جاتا ہے۔ اپنی بساط پر ۳ ویب سائٹس کے ذریعے جو خدمت اللہ تبارک وتعالیٰ لے رہے ہیں۔ وہ اکابر مجلس کی سرپرستی میں اللہ کے فضل وکرم سے جاری وساری رہے گی اور یہ تجویز بھی سامنے رکھی کہ بیرون ممالک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشن کو پھیلانے کے سلسلے میں مولانا مفتی خالد صاحب زید مجدہ سے درخواست کی کہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن، دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی، کے ذمہ داران سے ان مؤقر اداروں کے فضلاء کرام جو کہ بیرون ملک دین حقہ کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے ڈاک اور ای میل کے پتے اور رابطہ نمبر حاصل کریں۔ تاکہ انہیں اس کام کی طرف متوجہ کیا جاسکے اور انہیں ختم نبوت کی خدمت کیلئے مفت کتب، پمفلٹ اور حوالہ جات کی سہولت بذریعہ انٹرنیٹ مہیا کی جاسکے اور ان کی خدمت کو بذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک نظم میں لایا جاسکے۔ تاکہ سب کی مساعی جمیلہ سے اللہ کریم بہتر نتائج عطا فرمادے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص۴۳)
لاہور میں قادیانیوں کا ایک اور تبلیغی مرکز پکڑا گیا
اسلام پورہ سے بڑی تعداد میں گمراہ کن لٹریچر، حاضری رجسٹر، بیعت فارم اور ورغلائے گئے مسلمانوں کے کوائف برآمد۔ چار افراد گرفتار کر لئے گئے ”الفضل“ اخبار کے ایڈیٹر عبدالسمیع کی گرفتاری کا عدالتی حکم جاری، پنجاب میں نگران حکومت کے بعد قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں بڑھ گئیں: ذرائع !
پنجاب میں نگران حکومت کے بعد قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ قادیانی خفیہ کے بجائے اب اعلانیہ ممنوعہ لٹریچر تقسیم کرنے لگے۔ قادیانی چارہ جوئی کرنے والے مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ تعاقب کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں مقامی مسلمانوں کے ساتھ تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ امت کو دستیاب اطلاعات کے مطابق قادیانی جماعت کا توہین رسالت و توہین اسلام اور ارتدادی مواد پر مشتمل لٹریچر جس میں ان کا اخبار ”الفضل“ اور مرزا قادیانی کی تمام کتب اور دیگر تبلیغی رسائل و جرائد شامل ہیں، چھاپنا، تقسیم کرنا یا بیچنا آئین کی رو سے جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ قادیانی جماعت کے اخبار الفضل کو پنجاب کے ہوم سیکریٹری نے ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو اپنے آرڈر نمبر ۲۱۵۲۱۰ (IS111) کے تحت بین کر رکھا ہے، مگر قادیانی جماعت خفیہ طریقے سے نہ صرف یہ لٹریچر تقسیم کرتی ہے بلکہ خفیہ طور پر تبلیغی ارتدادی مراکز بھی قائم کر رکھے ہیں۔ نگران حکومت قائم ہونے کے بعد سے اس توہین آمیز لٹریچر کی تقسیم سر عام ہونے کی شکایت موصول ہوئی ہیں، جس پر اسلام پورہ پولیس نے چھاپہ مار کر چار قادیانیوں کو گرفتار کر لیا، جب کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے دو کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے مقدمے کے مدعی حسن معاویہ نے بتایا ہے کہ قادیانی اخبار ”الفضل“ کی لاہور میں غیر قانونی تقسیم کا کام کافی عرصے سے جاری ہے اور لاہور میں قادیانیوں کی سرگرمیاں بند کروانے کے لئے پُرامن کوششیں فروری ۲۰۱۲ء سے شروع ہیں۔ جس کے مطابق لاہور کی اخبار مارکیٹ میں ”دارالذکر احمدیہ“ کے نام سے ایک دکان بنائی گئی تھی، جہاں پر ”الفضل“ ہاکروں کے ذریعے تقسیم کیا جاتا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے اور مذاکرات کرنے کے بعد لاہور کی اخبار مارکیٹ انتظامیہ نے اگست ۲۰۱۲ء میں یہ دکان ختم کرادی، جس پر خدام احمدیہ کے لڑکے اخبار مارکیٹ کے باہر فٹ پاتھ پر رکھ کر ”الفضل“ فروخت کرنے لگے، مگر جلد ہی یہاں سے بھی اخبار مارکیٹ انتظامیہ نے انہیں بھگا دیا، اس پر اگست کے آخر میں دو پراڈو اور تین دیگر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گاڑیوں پر مشتمل قادیانی جماعت کا ایک وفد اخبار مارکیٹ انتظامیہ سے ملا اور انہیں کہا کہ وہ مولویوں کی پروا نہ کریں، پولیس کو وہ سنبھال لیں گے، مگر انتظامیہ نے ان کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سے خدام احمدیہ کے لڑکے خفیہ طور پر یہ اخبار تقسیم کر رہے تھے، لیکن نگران حکومت بننے کے بعد ان کی یہ کارروائیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ انہوں نے بعض جگہ چوراہوں پر نہ صرف یہ اخبار تقسیم کرنا شروع کر دیا بلکہ مسلمانوں کو اپنے ارتدادی تبلیغی مراکز پر آنے کی دعوت بھی دینے لگے۔ حسن معاویہ نے بتایا کہ نہ صرف اخبار مفت تقسیم ہونا شروع ہوا بلکہ اس کے ساتھ ہی اخبار میں ایسی لغو تحریریں مرزا مسرور کی جانب سے شائع ہونے لگیں، جن کا مقصد عام سادہ لوح مسلمانوں کو عشق رسول کے نام پر گمراہ کر کے قادیانیت کی طرف راغب کرنا شامل تھا۔ مثال کے طور پر حسن نے بتایا کہ مرزا قادیانی پر ایمان لانے والے مرزائیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ جھوٹ لکھا گیا کہ:
’’حضرت محمد ﷺ نے ایک شخص کے خواب میں آکر مرزا کو ماننے کا حکم دیا اور نہ ماننے والوں پر لعنت کی۔‘‘ (استغفر اللہ)
ان جھوٹی اور پُر فریب داستانوں کے سبب عام مسلمانوں کے گمراہ ہونے کے خوف سے حسن اور اس کے ساتھیوں نے تھانہ گلشن راوی میں الفضل کی تقسیم کے خلاف درخواست دی، مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ بالآخر ۱۰/اپریل ۲۰۱۳ء کو جب اسلام پورہ میں طارق بلڈنگ کے قریب خالد اشفاق اور اس کے ساتھی الفضل تقسیم کر رہے تھے تو مقامی نوجوانوں طاہر محمود اور عمران علی نے ۱۵ پر کال کر کے پولیس کو بتایا، جس پر محمد یاسین اور توقیر نامی اہل کار گاڑی نمبر LHO-111 پر آئے اور انہوں نے خالد اشفاق ولد محمد اشفاق، طاہر احمد ولد عبدالسعید شاہ، فیصل احمد طاہر ولد طاہر احمد، اظہر ظریف ولد ظریف قوم جٹ کو موقع سے گرفتار کرلیا۔ اس وقت ان کے قبضے سے الفضل کے علاوہ میگزین انصار اللہ خالد، میگزین تشہیذ الاذہان اور کتاب روحانی خزائن، برآمد کر کے نہ صرف مقدمہ درج کر لیا گیا، بلکہ ۱۱/اپریل کو انہیں انسداد دہشت گردی نمبر ۲ کی عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ بھی لے لیا۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریمانڈ کے دوران ملزموں کی نشاندہی پر اسلام پورہ میں طارق بلڈنگ کے عقب میں ایک شخص طاہر کے گھر میں قائم ارتدادی مرکز پر چھاپہ مارا تو وہاں سے بے شمار کتابیں، قادیانیوں کی حاضری رجسٹر، بیعت فارم گمراہ کئے گئے مسلمانوں کے کوائف اور جن مسلمانوں کو ابھی ابتدائی مرحلے میں دھوکا دیا جا رہا ہے، ان کے کوائف بھی برآمد ہوئے۔ پولیس نے ایف آئی آر نمبر ۵۱۰/۱۳ تھانہ اسلام پورہ لاہور کے تحت تمام گرفتار ملزمان خالد اشفاق، طاہر احمد، فیصل احمد، اظہر ظریف سے تفتیش مکمل کر کے انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ۲ میں گزشتہ روز پیش کر دیا، جہاں عدالت نے شریک ملزم اور ایڈیٹر الفضل عبدالسمیع اور منیجر طاہر مہدی، امتیاز احمد وڑائچ کی گرفتاری کے لئے عدالت سے استدعا کی، جس پر عدالت نے گرفتار ملزموں کو جیل بھیجتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ایڈیٹر اور منیجر کو چنیوٹ، چناب نگر سے گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے۔ مقدمے کے مدعی حسن معاویہ نے امت کو بتایا کہ گزشتہ روز عدالت میں سماعت کے دوران اور سماعت کے بعد قادیانی وکلاء نے انہیں عدالت میں دھمکیاں دیں اور کہا کہ تم جانتے نہیں کہ کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بعد ازاں عدالت سے نکلتے ہوئے قادیانی جماعت کے کارکن مدعی اور ان کے ساتھیوں کی تصویریں اور ویڈیوز بنا کر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ حسن معاویہ کا دعویٰ ہے کہ جب سے یہ مقدمہ شروع ہوا ہے، کچھ لوگ ان کا پیچھا کرتے پائے گئے ہیں، جس پر انہوں نے تھانہ مصطفیٰ ٹاؤن میں درخواست دے دی ہے اور پولیس اس کی تفتیش بھی کر رہی ہے۔ لاہور سے دستیاب اطلاعات کے مطابق قادیانی جماعت کی ذیلی تنظیم خدام احمدیہ کے لڑکوں نے ملت پارک طارق بلڈنگ کے علاقے میں جا کر لوگوں کو دھمکیاں دیں، جس پر مقامی لوگوں نے اشتعال میں آنے کی بجائے ۱۵ پر کال کر کے پولیس کو طلب کرلیا، جس پر معاملہ رفع دفع ہو گیا، مگر اگلے روز وہی لوگ ایک بار پھر وہاں جا پہنچے جس پر علاقہ ایس ایچ او نے خود ملت پارک کی گلی نمبر ۲ میں جا کر حالات کا جائزہ لیا اور وہاں پولیس چوکی قائم کر کے آٹھ اہلکار
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی ڈیوٹی لگا دی۔ ملت پارک کے لوگوں نے ایس ایچ او کی موجودگی میں اعلان کیا ہے کہ وہ قانون پسند شہری ہیں، لیکن اگر دوبارہ وہ لوگ علاقے میں آئے اور پولیس نے انہیں نہ روکا تو حالات خراب ہونے کی ذمہ داری انتظامیہ اور نگران پنجاب حکومت پر ہوگی۔
(روزنامہ امت کراچی، ۱۶؍اپریل ۲۰۱۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍مئی ۲۰۱۳ء ص ۱۷، ۱۸)
اسلام جیت گیا ... مرزائیت ہار گئی
چک نمبر ۳۱۲ ج . ب گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قادیانی مرزا ڈہ میں کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ نئی تعمیر ۱۹۹۲ء میں ہوئی۔ علماء کرام نے بھر پور آواز اٹھائی، محنت کی۔ انتظامیہ نے ساتھ نہ دیا۔ قادیانیت نوازی کی۔ اب قادیانیوں نے متعلقہ پٹواری سے ملی بھگت کر کے سرکاری سکول میں قبضہ کر کے سکول بنانے کی کوشش کی۔ قادیانیوں نے مشورہ کیا کہ تم ایسا کرو بدلہ میں لڑائی ہوگی۔ خود اپنے گھروں کو جلا دینا۔ تمہارے اقلیت ہونے کی بناء پر گوجرہ کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ تمہیں مراعات ملیں گی۔ پہلے سے زیادہ تحفظ دیا جائے گا۔ چک ہذا کے بھائی رانا افضل نے مجلس ختم نبوت سے مشورہ کیا۔ لائحہ عمل بتلایا گیا۔ پرچہ کروایا گیا اور مرزائیوں کو گرفتار کروانے کے لئے انتظامیہ سے کئی بار حضرات علماء کرام کی بات چیت بھی ہوئی۔ ایک جمعہ کے موقع پر قرارداد پیش کر کے انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا کہ گرفتاری مرزائیوں کی کی جائے اور کلمہ طیبہ بھی محفوظ کیا جائے۔ الحمدللہ کلمہ طیبہ محفوظ ہو چکا ہے۔ مسلک دیوبند کے سید سرفراز الحسن شاہ، مولانا محمد اسلم، ڈاکٹر مجاہد نور پوری، حافظ عبدالحئی، مسلک اہلحدیث کے شیخ ذوالفقار، جماعت اسلامی کے رحمت اللہ ارشد، مسلک بریلوی کے پیر اسرار اللہ شاہ، رانا طارق، میاں عرفان، ملک اشفاق نے بھر پور ساتھ دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۳ء ص ۴۷)
نگران حکومت میں قادیانیوں کی خفیہ سرگرمیاں بڑھ گئیں
قادیانیوں کا اخبار ”الفضل“ بھی پابندی کے باوجود ارتدادی سرگرمیوں میں مصروف۔
چناب نگر (نمائندہ خصوصی) پنجاب میں نگران حکومت کے قائم ہونے کے بعد قادیانیوں کی ارتدادی، خفیہ سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ گئیں، قادیانی خفیہ کی بجائے اعلانیہ طور پر ممنوعہ و توہین رسالت پر مبنی لٹریچر چھاپ کر چناب نگر سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں تقسیم کرنے لگے، اس کے ساتھ قادیانیوں کا اخبار ”الفضل“ بھی پابندی کے باوجود گستاخانہ مواد اور گمراہ کن لٹریچر چھاپنے و غیر قانونی ارتدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ مذہبی حلقوں کا اظہار تشویش، احتجاج کا انتباہ۔ ذرائع کے مطابق چناب نگر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں بڑھ گئیں، قادیانی یہ تمام کام خفیہ کرنے کی بجائے اب اعلانیہ طور پر کرنے لگے جس میں ممنوعہ لٹریچر چھاپ کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کرنے والے مسلمانوں کو ہراساں اور دھمکیاں اور ان کا تعاقب بھی کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق قادیانی جماعت کا توہین رسالت و توہین اسلام و ارتدادی مواد پر مبنی لٹریچر جس میں قادیانی اخبار ”الفضل“ اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام کتب و دیگر رسائل و جرائد شامل ہیں، ان کو بیچنا، چھاپنا آئین کی رو سے جرم ہے جس کا قادیانی ارتکاب کر رہے ہیں۔ قادیانی جماعت کے اخبار ”الفضل“ پر ہوم سیکرٹری پنجاب نے ۲۶؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو اپنے آرڈر نمبر (IsIII)۶۱۵۲۱۰، کے تحت بین لگا رکھا ہے جس کے تحت یہ اپنا اخبار شائع نہیں کر سکتے، لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود قادیانی آئین پاکستان کی کھلم کھلا دھجیاں اڑاتے ہوئے توہین رسالت، توہین اسلام و دیگر جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، لیکن حکومت اس مسئلے کی طرف سنجیدگی اختیار نہیں کر رہی۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍مئی ۲۰۱۳ء ص ۱۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنگلہ دیش توہین رسالت کے نئے قانون کے لئے لاکھوں افراد کا مظاہرہ : پولیس سے جھڑپیں ایک جاں بحق
مظاہرین ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے، ڈھاکہ کے داخلی و خارجی راستے بلاک، دارالحکومت کا دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع ہوگیا، پولیس نے ربڑ کی گولیاں چلائیں، لاٹھی چارج مظاہرین کا پتھراؤ، ۳۷ افراد زخمی بھی ہوئے توہین رسالت کسی صورت برداشت نہیں کرینگے: تنظیم حفاظت اسلامی!
ڈھاکہ (اے ایف پی) بنگلہ دیش میں توہین رسالت کے نئے قانون کے لئے لاکھوں افراد نے مظاہرہ کیا اور دارالحکومت ڈھاکہ کے داخلی و خارجی راستوں کو بلاک کر کے عملی طور پر دارالحکومت کا دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تنظیم حفاظت اسلامی کے کارکن ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں۔ اس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں ایک شخص ہلاک اور ۳۵ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ ربڑ کی گولیاں چلائیں جب کہ مشتعل مظاہرین نے خود ساختہ پٹرول بم پھینکے اور پتھراؤ کیا۔ تنظیم حفاظت اسلامی کے مظاہرین یک نکاتی مطالبہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ لادین افراد کو ہر صورت پھانسی پر لٹکایا جائے۔ توہین رسالت کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو ملک گیر احتجاج کریں گے۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی، ۶؍ مئی ۲۰۱۳ء ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۳۱ مئی ۲۰۱۳ء ص ۱۹)
چناب نگر کے احمد یوسف قتل کیس
قادیانی جماعت نے باغی گروپ کے سربراہ چوہدری احمد یوسف کے قتل کے ڈیڑھ برس بعد مقتول کے ورثاء کو خریدنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ قادیانی جماعت نے مقتول احمد یوسف کے ورثاء کو چار کروڑ تک کی پیشکش کردی ہے، تاہم ورثاء نے رقم لینے سے انکار کر دیا ہے۔
چوہدری احمد یوسف جو قادیانی جماعت کے باغی کی حیثیت سے جماعت پر شدید تنقید اور جماعت کے ظلم کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے، انہیں روزنامہ ”امت“ کے نمائندہ رانا ایاز کے قاتلوں کو شناخت کرنے اور رانا ابرار کے قتل میں قادیانی جماعت کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرنے کے بعد ان کے گھر میں گھس کر ۵؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل پر ان کے بیٹے احمد سیف نے نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ چناب نگر میں مقدمہ درج کروا دیا، بعد ازاں مقتول کی بیٹی نجمہ روزی نے بعض اہم ویڈیو، آڈیو اور دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے ثابت کیا کہ اس قتل میں قادیانی جماعت پاکستان کے صدر عمومی سمیت قادیانی جماعت کی اعلیٰ قیادت ملوث ہے۔ ثبوت پیش کرنے پر پولیس نے سابق صدر عمومی اللہ بخش صادق، ناظم عمومی سلیم الدین، میجر (ر) سعدی اور مرزا خورشید سمیت اعلیٰ قیادت کو شامل تفتیش کر لیا۔ مقتول کے ورثاء کی تفتیش سے عدم اطمینان کے سبب مقدمے کی تفتیش چنیوٹ سے فیصل آباد منتقل ہوچکی ہے، مگر حیرت انگیز طور پر تفتیشی افسر، رانا شاہد نے جس شخص کو ملزم قرار دیا، اس کو شامل تفتیش کرنے کی خاطر موصوف اس کے گھر سیالکوٹ گئے اور اپنے تبادلے تک مقدمے کی فائل میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ اب نئے تفتیشی افسر کا دعویٰ ہے کہ انسپکٹر رانا شاہد نے مقتول کی بیٹی کی جانب سے فراہم کردہ شواہد پر مشتمل یو ایس بی گم کر دی ہے اور اب تفتیش ایک بار پھر صفر سے شروع کی جا رہی ہے۔ اس اہم موقع پر جب مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور مقتول کے ورثاء اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ان کے والد کو قادیانی جماعت کی قیادت نے قتل کرایا ہے، قادیانی جماعت دباؤ اور دھمکی میں ناکام ہو کر اب مدعیوں کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امت سے بات چیت کرتے ہوئے مقتول احمد یوسف کی بیٹی نجمہ عرف روزی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے بتایا کہ مئی میں قادیانی جماعت برطانیہ کے ایک اہم عہدیدار کی اہلیہ نزہت سلیم نے انہیں فون کیا اور تقریباً چالیس منٹ تک بات کی۔ روزی کے مطابق نزہت سلیم کو وہ بچپن سے جانتی ہیں کہ وہ چناب نگر میں ان کے محلے میں رہتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ نزہت نے ان کے والد احمد یوسف کے قتل کے ڈیڑھ برس بعد اپنی اس فون کال میں جو فون نمبر ۰۰۴۴۲۰۰۸۲۶۵۵۶۳۳ سے کی گئی، والد کے قتل پر تعزیت کی اور پھر کہا کہ وہ ایک اچھی خاتون ہیں۔ ان کی جانب سے اپنے والد کے مقدمے کی پیروی سے قادیانی جماعت بدنام ہورہی ہے اور قادیانی جماعت کو اعلیٰ سطح پر مسائل کا سامنا ہے۔ خود خلیفہ مسرور بھی پریشان ہیں۔ لہٰذا وہ اپنے والد کے مقدمہ قتل کی پیروی سے پیچھے ہٹ جائے۔ روزی نے بتایا کہ جب اس نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو نزہت نے دوسرا پتہ پھینکا اور کہا کہ دراصل اس کے شوہر نے اس کی یہ ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ جماعت کی طرف سے روزی کو قائل کرے۔ نزہت نے کہا کہ دیکھو مذہب میں دیت بھی تو جائز ہے، آپ دیت لے لیں اور ساتھ ہی کہا کہ جتنی دیت آپ چاہیں گے مل جائے گی۔ ایک کروڑ دو کروڑ چار کروڑ اور اس سے کئی گنا زیادہ بھی جو رقم منہ سے نکالیں گے مل جائے گی، مگر اس پر روزی کا کہنا ہے کہ اس نے جواب دیا کہ ہم دیت لے کر معاف کر سکتے ہیں مگر ہماری دیت رقم نہیں، ہماری دیت یہ ہے کہ مرزا مسرور قتل تسلیم کرلے، وجہ بتائے کہ اس نے یہ حرکت کیوں کی؟ روزی کا کہنا ہے کہ اس پر نزہت نے مایوس ہو کر فون بند کر دیا۔ اس واقعے کی تصدیق چنیوٹ بار کے سابق صدر صابر شاہ بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قادیانی جماعت کے کارندوں نے صرف روزی کو ہی پیش کش نہیں کی بلکہ مقدمے کے مدعی اور روزی کے بھائی احمد سیف کو بھی ایک سے زیادہ مرتبہ نہ صرف دھمکایا بلکہ انہیں بھی آفر کی ہے کہ وہ رقم لے کر چپ کر جائیں۔ امت کے استفسار پر چوہدری احمد سیف نے بتایا کہ مقدمے کے نامزد ملزم مرزا قدوس جو پولیس حراست سے رہائی کے بعد مرزائیوں کے اسپتال میں پراسرار طور پر ہلاک ہو گیا تھا، اس کے ساتھی حنان بٹ اور صوبیدار (ر) عبدالستار نے کئی بار ان کے آفس چنیوٹ آکر انہیں کہا کہ وہ رقم بتائیں کتنی لیں گے، لیکن جماعت کا نام اس قتل میں نہ لیں۔ چوہدری احمد سیف نے یہ بھی بتایا کہ مقدمہ درج کروانے کے فوراً بعد جماعت کے اس وقت کے صدر عمومی اللہ بخش صادق نے انہیں اپنے دفتر بلا کر کہا کہ وہ اپنے والد کے مقدمہ قتل کی تفتیش کے لئے پولیس اور ریاستی اداروں کے بجائے قادیانی جماعت کو درخواست دیں اور معاملہ جماعت کی صوابدید پر چھوڑ دیں۔ از خود جماعت کا نام نہ لیں۔ ورنہ ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا جائے گا، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ احمد سیف دھمکی میں آنے کو تیار نہیں تو پھر یہ پیشکش بھی کی کہ جو لینا دینا ہے مل بیٹھ کر کر لیتے ہیں شور نہ مچایا جائے۔
مقتول احمد یوسف کی بیٹی نجمہ عرف روزی جو کراچی میں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے امت کو بتایا کہ سب سے شرمناک طریقہ واردات یہ اختیار کیا جارہا ہے کہ ”میرے سسرال کو مجبور کیا جارہا ہے کہ شوہر سے کہو کہ وہ اسے گھر سے نکال دے، پھر ہم جانیں اور ہمارا کام“ روزی کے بقول ان کے شوہر کے بھائی مبشر احمد طاہر پر جماعت دباؤ ڈال رہی ہے جس کے سبب ان کی زندگی شدید پریشانی کا شکار ہے۔
دوسری جانب امت کو معلوم ہوا ہے کہ مقتول احمد یوسف کے بھائی چوہدری بشیر ایڈووکیٹ جو شروع میں اس مقدمے میں اپنی بھتیجی کو سپورٹ کر رہے تھے، اب خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔ وہ کیوں پیچھے ہٹے؟ اس سوال پر چوہدری احمد سیف کہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں جوان ہیں اور رہائش بھی چناب نگر میں ہے، اس لئے وہ اتنا ساتھ دے سکتے تھے۔
روزی نے امت سے بات چیت میں کہا ہے کہ پولیس قادیانیوں کی مدد کر رہی ہے۔ ہمارے پیش کردہ شواہد کو ایک طرف درست قرار دیا جاتا ہے تو دوسری جانب قادیانی قیادت کو شامل تفتیش کر کے بھی مقدمہ کی فائل میں کچھ نہیں لکھا جا رہا، یہاں تک کہ پولیس نے مقتول کا وقوعہ کے وقت چوری ہونے والا موبائل بھی برآمد کر لیا ہے، مگر ایک برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود برآمد شدہ موبائل کا ڈیٹا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں کوئی تذکرہ نہیں اور نہ ہی تفتیش کی گئی کہ مقتول کا موبائل ان لوگوں تک کیسے پہنچا۔
(روزنامہ امت کراچی، ۱۴؍جون ۲۰۱۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍جولائی ۲۰۱۳ء ص ۱۹، ۲۰)
دیباچہ ...... قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ
۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے قادیانی دھرم کے نام نہاد چوتھے گرو مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے ردعمل میں پاکستان میں تحریک چلی۔ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کے لئے پیش کریں گے۔ جہاں قومی اسمبلی کے اراکین، جو آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری فیصلہ کریں گے۔ وہ سب کے لئے قابل قبول ہوگا۔ یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ قادیانی جماعت نے وزیراعظم پاکستان اور قومی اسمبلی کے جنرل سیکرٹری کو درخواست بھجوائی کہ اسمبلی میں ہمارے عقائد پر بحث ہونا ہے تو ہمیں بھی قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا موقعہ دیا جائے۔ چنانچہ وزیر اعظم پاکستان نے قائد حزب اختلاف، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود سے مشاورت کے بعد قادیانی ولاہوری دونوں گروہوں کے سربراہوں کو ان کی درخواست پر قومی اسمبلی میں آکر مؤقف پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان تھے۔ وہ قومی اسمبلی کی اس خصوصی کمیٹی کے بھی چیئرمین قرار پائے۔ ان کی زیر صدارت مہینہ بھر کمیٹی کے اجلاس وقفہ وقفہ سے منعقد ہوتے رہے۔
قادیانی جماعت کے تیسرے چیف گرو مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ کے لاٹ پادری صدر الدین لاہوری، مسعود بیگ لاہوری، عبدالمنان لاہوری پیش ہوئے۔ جب کہ اس وقت پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار تھے۔ چنانچہ طے ہوا کہ تمام قومی اسمبلی کے اراکین جو خصوصی کمیٹی کے بھی اراکین قرار پائے تھے۔ وہ قادیانی، لاہوری گروپ کے قائدین سے قادیانی دھرم کے بارے میں سوالات کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ تمام سوالات اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کے ذریعہ ہوں گے۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو قومی رہنما تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قادیانی مسئلہ ایسے طور پر حل ہو کہ باہر کی دنیا کا کوئی شخص اس پر حرف گیری نہ کر سکے۔ اس لئے آپ نے قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی کے سپرد کیا کہ وہ آزادانہ فیصلہ کریں۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ قادیانی ولاہوری گروپ کے سربراہان اور ان پر سوال کرنے والے جناب اٹارنی جنرل قومی اسمبلی کے ارکان نہ تھے۔ انہیں قومی اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کا کیسے اہل قرار دیا جائے؟ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پوری قومی اسمبلی کو ”خصوصی کمیٹی برائے بحث قادیانی ایشو“ میں بدل دیا گیا۔ قومی اسمبلی کے تمام ممبران کو اس خصوصی کمیٹی کا ممبر قرار دیا گیا۔ یوں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں غیر ممبران قومی اسمبلی کو بھی بلانے کا راستہ نکالا گیا۔ ان دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس سٹیٹ بینک اسلام آباد کی بلڈنگ میں ہوتے تھے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ۵؍اگست ۱۹۷۴ء بروز پیر صبح دس بجے قومی اسمبلی کے ہال واقع سٹیٹ بینک اسلام آباد میں مرزا ناصر پر جرح کا آغاز ہوا۔
۵؍اگست سے لے کر ۱۰؍اگست تک ۶؍دن اور پھر ۲۰؍اگست سے لے کر ۲۴؍اگست تک ۵؍دن۔ کل گیارہ دن مرزا ناصر احمد چیف قادیانی گروہ پر جرح ہوئی۔ ۲۷؍اگست اور ۲۸؍اگست ۲؍دن ...... صدر الدین، عبدالمنان عمر اور مرزا مسعود بیگ، لاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح ہوئی۔ کل تیرہ دن قادیانی ولاہوری گروپ کے نمائندوں پر جرح مکمل ہوئی۔
قادیانی گروپ کے مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ۵؍اگست سے پہلے اپنا ایک بیان پڑھا تھا۔ قادیانی گروپ لیڈر نے قومی اسمبلی کے ہر رکن کو اس کی ایک ایک مطبوعہ کاپی دے دی تھی۔ اس لئے تمام اراکین نے اس کا مطالعہ کر لیا۔ اسے اپنے طور پر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں نے شائع بھی کیا۔ حکومت نے جو سرکاری رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا آغاز ۵ اگست کی کارروائی یعنی مرزا ناصر احمد پر پہلے دن کی جرح سے کیا ہے۔
کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ملت اسلامیہ کا قادیانی فتنہ کے خلاف موقف پیش کرنا تھا۔ چنانچہ مرکزی مجلس عمل کے سربراہ شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری نے راولپنڈی میں ڈیرہ جمالیا۔ پارک ہوٹل میں آپ کا قیام طے ہوا۔ دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے قادیانیت کی کتب اور اخبارات کا ایک ذخیرہ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق مذہبی بحث کو لکھنے کے لئے شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی اور سیاسی بحث لکھنے کے لئے مولانا سمیع الحق صاحب کو راولپنڈی بلا لیا گیا۔ مولانا محمد تقی عثمانی کی مدد کے لئے فاتح قادیان مولانا محمد حیات اور مولانا عبد الرحیم اشعر کے ذمہ حوالہ جات مہیا کرنے کا کام لگایا گیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق سیاسی بحث لکھنے کے لئے حوالہ جات مہیا کرنے کا کام مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری کے ذمہ لگایا گیا۔ دن بھر خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، امام اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی، فخر قوم چوہدری ظہور الہی مرحوم، عزت مآب جناب پروفیسر غفور احمد شریک ہوتے۔ رات کو حضرت شیخ بنوری کے ہاں یہ سب حضرات یا جو فارغ ہوتے، تشریف لاتے۔ البتہ مفتی صاحب بہر حال ہر روز تشریف لاتے۔ دن بھر میں محضر نامہ کا جتنا حصہ تیار ہو جاتا، وہ سنتے۔ حضرت شیخ بنوری کے حکم پر پیر طریقت سید نفیس الحسینی اپنے کاتب شاگردوں کی ٹیم کے ہمراہ راولپنڈی تشریف لائے۔ جو حصہ محضر نامہ کا تیار ہو جاتا، وہ مولانا سید نفیس الحسینی کے سپرد کر دیا جاتا۔ وہ اس کی کتابت کراتے۔ غرض اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ دن رات مشین کی طرح تمام حضرات اپنا اپنا کام کرتے رہے۔ ادھر ۲۸ اگست کو لاہوری گروپ پر جرح مکمل ہوئی۔
اگلے دن ۲۹ اگست (ملت اسلامیہ کا مؤقف جو پہلے سے لکھا جا چکا تھا) کو مفکر اسلام مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں پڑھنا شروع کیا۔ ۲۹، ۳۰ اگست کو مولانا مفتی محمود نے اپنا بیان مکمل فرمایا جو ملت اسلامیہ کا موقف اور چار ضمیمہ جات پر مشتمل تھا۔ ضمیمہ نمبر ۱، فیصلہ مقدمہ بہاول پور۔ ضمیمہ نمبر ۲، فیصلہ مقدمہ راولپنڈی، ضمیمہ نمبر ۳، فیصلہ مقدمہ جیمس آباد، ضمیمہ نمبر ۴، فیصلہ مقدمہ جی ڈی کھوسلہ گرداسپور۔ یہ تمام مسودہ مولانا مفتی محمود نے دو دن میں مکمل فرمایا۔
مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی ایم این اے نے اپنی طرف سے علیحدہ محضر نامہ تیار کیا تھا۔ جسے مولانا عبد الحکیم ایم این اے نے ۳۰ اگست کے اجلاس کے آخری حصہ میں پڑھنے کا عمل شروع فرمایا۔ جو ۳۱ اگست کے اجلاس کے اختتام تک مکمل ہو گیا۔ ۲ ستمبر کے اجلاس میں سردار مولا بخش سومرو، شہزادہ سعید الرشید عباسی، صاحبزادہ صفی اللہ، ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری، سردار عنایت الرحمن عباسی، چوہدری جہانگیر علی، کرنل حبیب احمد، مولانا غلام غوث ہزاروی، مغل اورنگزیب، راؤ خورشید علی خان، مولانا عبد المصطفیٰ الازہری، میاں عطاء اللہ، بیگم نسیم جہاں، پروفیسر غفور احمد، خواجہ غلام سلیمان تونسوی، سید عباس حسین گردیزی، جناب عبد العزیز بھٹی، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، چوہدری غلام رسول تارڑ، جناب محمد افضل رندھاوا، چوہدری ممتاز احمد، غلام نبی چوہدری، ملک کرم بخش اعوان، جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ، مخدوم نور محمد ہاشمی اور دیگر ممبران نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی بحث میں حصہ لیا اور قادیانی مسئلہ پر اظہار خیال کیا۔ قادیانی و لاہوری گروپ پر جرح کے بعد قادیانی مسئلہ پر جو ان کی رائے تھی، اپنے اپنے خطابات میں اس کا کھل کر اظہار کیا۔
۳ ستمبر کو جناب غلام رسول تارڑ، جناب کرم بخش اعوان، مولانا غلام غوث ہزاروی، پروفیسر غفور احمد، ڈاکٹر محمد شفیع، چوہدری جہانگیر علی، مولانا ظفر احمد انصاری، جناب حنیف خان، خواجہ جمال کوریجہ، مولانا عبد الحق ممبران قومی اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۴ ستمبر کو سری لنکا کے وزیر اعظم تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اس لئے اس دن کی کارروائی خصوصی کمیٹی کا حصہ نہ تھی)
۵؍ ستمبر کو پھر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ جناب چوہدری محمد حنیف خان، ارشاد احمد خان، ملک محمد سلیمان، جناب عبد الحمید جتوئی، ملک محمد جعفر، ڈاکٹر غلام حسین، چوہدری غلام رسول تارڑ، احمد رضا خان قصوری کے قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی میں بیانات ہوئے۔ آج کے اجلاس کے آخری حصہ میں جناب یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل نے بحث کو سمیٹنا شروع کیا۔
۶؍ ستمبر کو ممبران قومی اسمبلی اور جناب یحییٰ بختیار کے بیانات و بحث اختتام کو پہنچی۔
۷؍ ستمبر کو بھی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے بحث میں حصہ لیا۔ ۵؍ اگست سے ۷؍ ستمبر تک مہینہ بھر سے زائد کے عرصہ میں اسمبلی کی اس مسئلہ پر کارکردگی کے کل ۲۱؍ دن ہیں۔ جس کا خلاصہ یوں ہے:
مرزا ناصر احمد پر جرح ۱۱؍ دن ہوئی۔ لاہوری گروپ پر جرح ۲؍ دن ہوئی۔ مولانا مفتی محمود کا بیان ۲؍ دن ہوا۔ مولانا عبدالحکیم کا بیان ۱؍ دن ہوا۔ ممبران قومی اسمبلی کے بیانات ۳؍ دن ہوئے۔ ممبران و یحییٰ بختیار کے بیانات ۲؍ دن ہوئے۔ کل ۲۱؍ دن کی کارروائی تھی۔
۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں قادیانی، لاہوری، مرزا قادیانی کے ماننے والے دونوں گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اس زمانہ میں قومی اسمبلی کی یہ تمام تر کارروائی آڈیو ریکارڈ کے ذریعہ محفوظ کی گئی۔ خصوصی کمیٹی کی اس تمام کارروائی کو ٹاپ سیکرٹ (انتہائی خفیہ) قرار دے کر سربمہر کر دیا گیا۔ البتہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام آڈیو کیسٹوں سے اسے کاغذ پر اسمبلی کے عملہ نے منتقل کیا۔ اس خصوصی کمیٹی کی کارروائی کو انتہائی خفیہ کارروائی قرار دے کر اس کی اشاعت کو ممنوع اس لئے قرار دیا گیا کہ قادیانی گروہ نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا کچا چٹھا قادیانی عوام کے سامنے آئے کہ کس طرح دن رات ہر اجلاس میں کئی بار قادیانی قیادت نے اپنے عقائد و نظریات سے انحراف کیا اور سیاہ دلی کے ساتھ سفید جھوٹ بولے۔ قادیانی شاطر قیادت دن رات جھوٹ بول کر اپنی عوام کے سامنے میاں مٹھو بنی کہ اگر اسمبلی کی وہ کارروائی چھپ جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر کا یہ بیان تاریخ کا حصہ ہے۔
ان دنوں جس ٹیم نے قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لئے محنت کی۔ فقیر راقم کو بھی ان کی جوتیوں میں بیٹھنے کی سعادت حاصل تھی۔ تب مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، چوہدری ظہور الٰہی اور دیگر اراکین اسمبلی دن بھر کی کارروائی سنانے کے لئے شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کے پاس راولپنڈی پارک ہوٹل تشریف لاتے۔ ان کی تمام گفتگو، قادیانیوں سے سوالات و جوابات کو تفصیل کے ساتھ فقیر نے کاپی پر نوٹ کیا۔ اسمبلی میں بھی رپورٹنگ کے لئے ساتھی موجود ہوتے تھے۔ جو کارروائی لکھتے رہے۔ وہ تمام کارروائی فقیر نے بھی قلمبند کی۔ کچھ مواد ممبران سے بھی مل گیا۔ اس طرح ’’تاریخی قومی دستاویز‘‘ کتاب تیار ہو گئی۔ اس دوران میں اللہ رب العزت کے کرم کا معاملہ ہوا کہ جوہانسبرگ میں لاہوری گروپ کی طرف سے ایک کیس دائر ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جوہانسبرگ افریقہ کے مسلمانوں نے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ سے اس کیس کی پیروی کے لئے مدد مانگی۔ رابطہ نے پاکستان کے اس وقت کے صدر جناب ضیاء الحق سے اس کیس کی معاونت اور پیروی کے لئے درخواست کی۔ پاکستان سے ایک سرکاری وفد افریقہ کے لئے گیا۔ اس میں پاکستان کے لاء سیکرٹری جناب جسٹس (ر) محمد افضل چیمہ صاحب بھی تھے۔ چنانچہ چیمہ صاحب کے ذریعہ وفد کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی وہ کارروائی جو آڈیو سے رجسٹروں پر منتقل کی گئی تھی۔ اس کی کاپی صدر مملکت کے حکم پر فراہم کی گئی۔ اس وفد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنمایان مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، جناب عبدالرحمن باوا، مولانا منظور احمد الحسینی اور بہت سارے حضرات شریک تھے۔ چنانچہ اس خصوصی کمیٹی کی انتہائی خفیہ کارروائی کی کاپی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ان رہنماؤں کو بھی میسر آگئی۔ اس تمام مواد سے ملخص کتاب فقیر نے مرتب کی تھی۔ وہ بلا مبالغہ پچاس ساٹھ ہزار کے قریب چھپ کر دنیا میں تقسیم ہوئی۔ انگلش، بنگلہ وغیرہ زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہوئے۔
قادیانی جب اسمبلی کی کارروائی کا تذکرہ کرتے تو اس کا خلاصہ یا مفہوم (تاریخی قومی دستاویز) جو بھی آپ فرمائیں، ان کے سامنے کیا جاتا تو وہ دم بخود ہوجاتے۔ قادیانی قیادت اس صورت حال سے بہت پریشان ہوئی۔ ”قومی تاریخ دستاویز“ پونے چار سو صفحات کی کتاب کی اہمیت کم کرنے کے لئے قادیانی قیادت نے مستقل جھوٹ گڑھنے والی پارٹی کا اجلاس کیا اور ایک مضمون تیار کر کے انٹرنیٹ پر رکھ دیا کہ یہ کتاب غلط بیانی پر مشتمل ہے۔ ہم ان سے کہتے رہے اگر یہ غلط ہے تو جو صحیح ہے، وہ آپ آئیں۔ لیکن جھوٹ بولنا اور جھوٹ کی پردہ داری پر سانپ سونگھ جانا۔ یہ قادیانی قیادت کے حصہ میں لکھا ہے۔ غرض اس پر سالہا سال بیت گئے۔
ایک بار محترمہ بینظیر بھٹو کے عہد حکومت میں قومی اسمبلی کے ریکارڈ روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ جو ریکارڈ جل گیا ان میں وہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا آڈیو ریکارڈ بھی تھا۔ اس سے تشویش ہوئی کہ قادیانی اس ریکارڈ کو ضائع کرنے کے درپے ہیں۔ لیکن اطمینان تھا کہ وڈیو سے وہ کاغذوں پر منتقل شدہ حصہ ریکارڈ محفوظ تھا۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل ایک دن خبر آئی کہ محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان نے اس کارروائی کو اوپن کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اور وہ کارروائی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ شائع کر رہا ہے۔ اس اقدام کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس پر خوشی کے جذبات پر مشتمل مضامین ہم نے شائع کئے۔
لیکن زخمی سانپ کی طرح قادیانی قیادت بلوں میں تڑپتی رہی۔ انہوں نے چپ کا روزہ نہ توڑا۔ محترمہ فہمیدہ مرزا کے بیان پر بھی چھ ماہ بیت گئے۔ اسمبلی کی کارروائی نہ چھپی تو پھر قادیانیوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ کیوں نہیں چھاپتے۔ وہ اعلان کا کیا بنا؟ ہمیں اس پر شبہ ہوا کہ شاید پھر قادیانیوں نے اس پر پابندی نہ لگوادی ہو۔ آج سے چند ماہ قبل بزنس ریکارڈر اسلام آباد میں بٹ صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا کہ وہ کارروائی چھپ گئی ہے۔ اس کی بابت تسلی تو ضرور ہوئی۔ لیکن ابھی واہمہ کا شکار تھے کہ اب ۲۰؍جنوری ۲۰۱۲ء کے روزنامہ جنگ میں خبر شائع ہوئی ہے جسے پڑھ کر ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ خوشی سے وجد کرنے لگا۔ آپ بھی خبر پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں:
قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا خفیہ پارلیمانی ریکارڈ اوپن کر دیا گیا:
”اسلام آباد (طاہر خلیل) قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا خفیہ پارلیمانی ریکارڈ اوپن کر دیا گیا۔ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ۳۸ سال بعد قادیانی آئینی ترمیم کا خفیہ ریکارڈ اوپن کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو بھٹو دور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی۔ اس مقصد کے لئے پورے ایوان کو قائمہ کمیٹی قرار دے کر اس کے خفیہ اجلاس منعقد کئے گئے۔ چار خفیہ اجلاس میں جماعت احمدیہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے دلائل دیئے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے جس پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے تفصیلی جرح کی۔ چونکہ ساری کارروائی خفیہ تھی۔ اس لئے تحریری ریکارڈ پارلیمنٹ ہاؤس میں سربمہر رکھا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی بھی دستاویز ۳۰ سال تک خفیہ رہ سکتی ہے۔ تیس سال کے بعد اسے اوپن کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ۳۸ سال کے بعد موجودہ اسپیکر نے خفیہ قادیانی ترمیمی بل کا سارا ریکارڈ اوپن کرنے کی منظوری دے دی۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قادیانی آئینی بل کا خفیہ آڈیو ریکارڈ بینظیر دور ۱۹۹۳ء میں جل گیا تھا۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے خفیہ ریکارڈ کی تیاری اور طباعت پر قومی اسمبلی کو ۴۶ لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے ہیں اور سارا ریکارڈ اوپن کر کے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں رکھ دیا گیا ہے۔ جہاں اراکین اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں سینٹ کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا پارلیمانی ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے۔‘‘
اس خبر اور بٹ صاحب کے مضمون کے بعد سے ہم مسکین اس کی تلاش میں فکر مند ہوئے۔ مولانا محمد خان شیرانی صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان سے دفتر ختم نبوت ملتان میں مستقل ایک میٹنگ کی۔ گزشتہ سال ۱۴۳۲ھ کے حج سے پہلے سکھر میں مولانا عبدالغفور حیدری سے میٹنگ ہوئی۔ حج کے بعد دوبارہ رابطہ ہوا۔ کئی سفر کئے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری نذیر احمد لاہور سے اسلام آباد اتنی بار آئے، گئے کہ شاید ڈائیو والے بھی پریشان ہو گئے ہوں گے۔ لیکن کام نہ ہوا۔ مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا قاری احسان اللہ، مولانا مفتی محمد اویس عزیز، پیر طریقت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عبد الوحید قاسمی، مولانا محمد اکرم طوفانی، پتہ نہیں جنون کی حالت میں کس کس کی منتیں کیں۔ بخدا! اس آفیشل اور مکمل کارروائی کو حاصل کرنے کے لئے اتنا جنون تھا کہ بس نہ پوچھئے کہ غم عاشقی میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔
روبرو، کو بکو، در بدر اور سر بسر۔ کہاں کہاں پر کوشش کی؟ یہ بے قراری کی حالت میں مخلصانہ محنت کی کیفیات تو اللہ رب العزت جانتے ہیں۔ جب بیل منڈھے چڑھتی نظر نہ آئی تو صاحبزادہ سعید احمد صاحب کے گھر لاہور میں مخدوم گرامی مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم سے میٹنگ کرنے کے لئے ملتان سے سفر کر کے لاہور گیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، صاحبزادہ سعید احمد، ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن، سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے ہمراہ پون گھنٹہ مولانا فضل الرحمن سے میٹنگ ہوئی۔ قائد جمعیت نے فرمایا کہ رکاوٹ کیا ہے؟ عرض کیا کہ مولانا حیدری صاحب مدظلہ کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ سپیکر فہمیدہ صاحبہ نہیں مان رہی۔ کارروائی چھپ گئی ہے۔ کئی اس کے سیٹ تیار ہو کر اسمبلی ، ڈپٹی سپیکر کے دفتر کے ساتھ والے کمرہ میں محفوظ ہیں۔ لیکن تقسیم کے لئے محترمہ آمادہ نہیں۔ اس پر چھیالیس لاکھ ہماری غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ کا طباعت پر خرچہ آیا ہے۔ لیکن محترمہ تقسیم پر راضی نہیں۔ مخدوم محترم قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ آپ کے خیال میں اس کے نہ دینے کا باعث کیا ہے؟ فقیر نے عرض کیا کہ حکومت کی دون ہمتی یا قادیانی لابی نے باہر سے زور ڈلوایا ہے کہ تقسیم نہ ہو یا حکومت کا واہمہ کہ کوئی قضیہ نہ کھڑا ہو جائے۔ لیکن ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ چاہے خود قادیانی رکاوٹ ہوں۔ لیکن وہ میاں مٹھو بن جائیں گے کہ باہر کیوں نہیں لاتے؟ تو اس کا تقاضہ ہے کہ یہ ملنی چاہئے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ......! اس پر مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے روک دیا۔ فرمایا چھوڑ دیجئے۔ میں سمجھ گیا۔ کوشش کرتے ہیں۔ وقت لگے گا نکلوانے میں۔ لیکن مل جائے گی۔ اس پر بھی کافی عرصہ بیت گیا۔ تو مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کے ذریعہ بار ہا مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کو یاد دہانی کرائی۔ لیکن مولانا کا خیال مبارک تھا کہ ایک دفعہ کہوں گا اور ایسے طور پر کہ وہ انکار نہ کر سکیں۔ مولانا کا موقف سو فیصد صحیح تھا۔ لیکن ہماری بے قراری کو کارروائی حاصل کئے بغیر کیسے قرار آئے گا؟ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم کے اس مسئلہ پر اتنے کان کھائے کہ ان کو اس کا نام سنتے ہی الرجی ہو جاتی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قارئین کرام! ہر کام کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوتا ہے کہ برادر زادہ مولانا سہیل باوا کا لندن سے فون آیا کہ لندن کی ایک ویب سائٹ پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے قادیانی مسئلہ کی سرکاری آفیشل مکمل کارروائی آگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان سے عرض کیا کہ اس کی سی ڈی بنوائیں۔ ابھی فقیر یہ خبر چھپائے ہوئے تھا کہ برادر جناب محمد متین خالد صاحب نے فرمایا کہ ویب سائٹ پر کارروائی بندہ نے مکمل دیکھ لی ہے۔ مبارک ہو۔ اب سوچوں کہ یا اللہ یہ کیسے ملے گی؟ کچھ دیر کے بعد جناب مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا کراچی سے فون آیا کہ قومی اسمبلی کی کارروائی ویب سائٹ پر آگئی ہے۔ آپ کے علم میں ہے؟ فقیر نے عرض کیا، سنا تو ہے۔ لیکن جب تک دیکھ نہ پائیں، آنکھیں کیسے ٹھنڈی ہوں؟ قاضی صاحب نے فرمایا کہ برادر نبیل صاحب اور جناب سید انوارالحسن صاحب نے اس کا پرنٹ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ فقیر اب ان دونوں سے ڈائریکٹ ہو گیا اور عرض کیا: کاغذ اچھا لگائیں۔ کوئی صفحہ رہ نہ جائے۔ لیجئے! خلاصہ یہ کہ مکمل کارروائی انٹرنیٹ لندن کی ویب سائٹ سے مل گئی۔ کل ۲۱ دنوں کی کارروائی کے ۲۱ حصے اور ۳۰۸۳ صفحات تھے۔
مطبوعہ کارروائی کی کاپی ۲۰۱۲ء عید قربان سے چند دن قبل فقیر کو انٹرنیٹ سے ملی۔ پہلے مرحلہ میں مکمل کارروائی کو علیحدہ علیحدہ جلد کرایا۔ اکیس دنوں کی کارروائی اکیس جلدوں میں جلد ہوئی۔ پھر دوبارہ ہر جلد کا دوسرا فوٹوسٹیٹ کرایا اور اس پر کام کا آغاز کیا۔
جدید ایڈیشن:
ابتداء میں یہی خیال تھا کہ اس کا مکمل عکس لے کر شائع کر دیا جائے۔ چونکہ انٹرنیٹ پر ایک چیز پہلے سے موجود ہے۔ حکومت نے شائع کی، مگر تقسیم نہیں کر رہی۔ قادیانیوں نے اسے شائع نہیں کرنا، اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اسے شائع کریں۔ لیکن اس کو چونکہ انٹرنیٹ سے لیا تھا جس نے انٹرنیٹ پر اس کو لوڈ کیا۔ اس نے بھی سکین کر کے اپ لوڈ کیا اور ہم نے اس کا پرنٹ لیا۔ پرنٹ میں تمامتر احتیاط کے باوجود نقل در نقل سے یہ محصلہ کاپی ایسے نہ تھی جو شائع ہو سکے۔ اب شائع بھی کرنا چاہتے ہیں۔ کمپوزنگ موجود نہیں جو شائع شدہ ہے۔ دوبارہ شائع کرنے سے رزلٹ صحیح نہ آئے گا۔ مجبوراً فیصلہ کیا کہ اس کو دوبارہ کمپوز کرایا جائے۔
- ۲...... خیال ہوا کہ جب کمپوزنگ دوبارہ کرانا ہے تو جتنا انگریزی کا حصہ ہے اس کا ترجمہ بھی ہو جائے تاکہ اردو پڑھا لکھا تمام طبقہ اس
کے ایک ایک حرف سے فائدہ حاصل کر سکے۔ جو کارروائی کی قلمی کاپی جوہانسبرگ کیس کے سلسلہ میں ملی تھی، اس کاپی میں انگلش کا اردو ترجمہ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے راولپنڈی کے جناب کے ایم سلیم سے اس زمانہ میں کرایا تھا۔ اب جو مطبوعہ سرکاری پرنٹ شدہ کاپی کا عکس انٹرنیٹ سے ملا۔ اس قلمی نسخہ کا ترجمہ اس پرنٹ شدہ نسخہ پر نقل کیا گیا۔ لائبریری میں فقیر کے معاون مولانا محمد صفدر نے بہت مدد کی۔ آج اس موقعہ پر مجھے مولانا اجمل شہید جو کراچی میں مجلس کے مبلغ تھے اور شہادت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے وہ بہت یاد آ رہے ہیں اور ان کی جدائی کے صدمہ نے پھر زخم کو ہرا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں کہ قلمی نسخہ کے کے. ایم سلیم کے ترجمہ کو مطبوعہ سرکاری رپورٹ کے صفحات پر منتقل کیا اور اس کے لئے مرحوم نے بلا مبالغہ دن رات ایک کر دیئے۔ بہت ہی کام کے آدمی تھے۔ آج ان کے کام کو دیکھتا ہوں تو وجدان میں یادوں کی ٹیس بے قرار کر دیتی ہے۔ جب تک یہ کتاب دنیا میں رہے گی مرحوم کو ثواب ملتا رہے گا۔ مرحوم کے لئے یہ کتاب صدقہ جاریہ ہے۔ مولانا محمد صفدر، مولانا محمد اجمل دونوں انگریزی سے بقدر ضرورت شناسائی رکھتے تھے۔ جہاں ضرورت پیش آتی مزید رہنمائی عزیز مکرم مولانا حافظ محمد انس سے لیتے تھے۔ اب جونہی ترجمہ کی نقل کا کام مکمل ہو جاتا وہ حصہ فقیر کے سپرد کر دیتے۔ فقیر ان کے حوالہ جات پر کام کرنا شروع کر دیتا۔ جن جلدوں پر کام مکمل ہو جاتا وہ کمپوزنگ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے دے دی جاتیں۔ کچھ جلدیں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے جانشین مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کو بھجوائی گئیں کہ وہ انگلش کی پروف ریڈنگ ، ترجمہ کی چیکنگ اور سرخیاں لگا دیں۔ آپ نے یہ کام جناب مکرم اطہر عظیم صاحب کو دیا۔ انہوں نے شروع کیا۔ جتنا کیا خوب کیا۔ لیکن ان کی دفتری اپنی مصروفیات کراچی کے حالات کا مدوجزر، پھر اچانک ان کی صحت بگڑ گئی۔ ادھر فقیر کی بے قراری جو کام جتنا جس حالت میں تھا، منگوا لیا۔ اردو کے پروف خود پڑھے۔ انگریزی کے پروف پڑھنے کے لئے عزیز مکرم مولانا محمد انس نے سرتوڑ کوشش کی۔ مولانا محمد صفدر ان کے ساتھ رہے، وہ مرحلہ مکمل ہوا۔
- ۳...... ملتان میں کمپوزنگ جناب برادر عدنان سنپال نے کی ان کی معاونت مخدوم زادہ حافظ یوسف ہارون نے کی۔ کچھ کام مولانا محمد
اعجاز مصطفےٰ نے کراچی سے کرایا۔ بہت سی فائلیں ملتان و کراچی کی کمپوز شدہ ان کی پروف ریڈنگ اور سرخیاں قائم کرنے کا کام مولانا محمد اعجاز مصطفےٰ نے سرانجام دیا اور بہت محنت فرمائی۔ اس کراچی کے کام کے انگلش حصہ کی پروف ریڈنگ عزیز مکرم مولانا حافظ محمد انس نے کی۔ غلطیاں جناب برادر عدنان سنپال نے لگائیں۔
- ۴...... پورے اکیس حصص میں بعض مکمل ، بعض ناقص حصے ایسے تھے جن کا انگلش سے اردو میں ترجمہ کا کام باقی تھا۔ وہ جناب برادر
عبدالرؤف صاحب کے ذریعہ جناب راؤ ارشد سراج الدین لاہور نے کیا اور دن رات ایک کر کے کیا۔ وہ حصہ اتنا جامع ترجمہ ہے کہ بہت ہی خوشیوں کا سماں باندھے ہوئے ہے۔ محنت ان دوستوں کی۔ دعاء صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی ، کہ کام ہوا اور خوب ہوا۔ کچھ حصص کا ترجمہ مولانا عزیز الرحمن ثانی کی توجہ سے مولانا غضنفر عزیز پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کر کے یا کرا کے دیا۔
غرض جناب کے ایم سلیم راولپنڈی، جناب راؤ ارشد سراج الدین لاہور، جناب مولانا غضنفر عزیز کی محنتوں سے ترجمہ کا کام ہو گیا۔ حکومت کے شائع شدہ نسخہ میں انگلش کا حصہ بغیر ترجمہ کے ہے۔ ہمارے اس مطبوعہ جدید ایڈیشن میں انگلش متن کے ساتھ ، اس کا اردو ترجمہ بھی ہے۔ گویا یہ اس جدید ایڈیشن کی وہ خوبی ہے جس نے اس کتاب سے استفادہ کو ہر اردو پڑھے لکھے دوست کے مطالعہ کے قابل بنا دیا ہے۔ البتہ ترجمہ کو ہم نے بین القوسین (ان بریکٹ) کر دیا ہے تاکہ حکومتی ایڈیشن کا امتیاز واضح رہے۔
- ۵...... اپریل ۲۰۱۳ء کے اوائل میں قریباً کمپوزنگ کا کام اور ترجمہ مکمل ہو گئے تھے۔ فقیر نے مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری
دامت برکاتہم سے اجازت لے کر ڈیرہ غازیخان کے مبلغ مولانا محمد اقبال صاحب کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ دن رات، سفر و حضر میں پروف ریڈنگ کا کام ہم کرتے رہے۔ بس ان دنوں مسودہ تصحیح کرتے کرتے نیند آتی تھی اور جاگتے ہی پھر کام پر جت جاتے تھے۔ اوّل سے آخر تک تمام پروف پڑھے۔ سرخیاں جہاں ضرورت تھی قائم کیں۔ پھر پورے مسودہ کے انگلش حصہ کی دوبارہ عزیز مکرم حافظ محمد انس حفظہ اللہ تعالیٰ نے پروف ریڈنگ کی۔ اب برادر جناب عبدالرؤف صاحب کا اصرار تھا کہ تمام مسودہ کا انگریزی حصہ اور ترجمہ جناب راؤ ارشد سراج الدین کی نظر سے گزرنا چاہئے۔ یہ فقیر کے دل کی آواز تھی۔ ۲۸؍ اپریل ۲۰۱۳ء کی صبح مسودہ راؤ ارشد سراج الدین صاحب کے سپرد کیا کہ وہ نظر ثانی کریں اور فقیر حجاز مقدس اور ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ روانہ ہوتے وقت فقیر کے اندر کی حالت یہ تھی کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ مجھے حجاز مقدس کے سفر کی خوشی زیادہ تھی یا اس کتاب کے کام رکنے کا غم زیادہ تھا۔ کام رکنے کا معنی یہ ہے کہ اگر فقیر پاکستان ہوتا تو محترم راؤ ارشد سراج الدین صاحب جتنا مکمل کرتے جاتے فقیر اس کی غلطیوں کی تصحیح کے بعد فائنل کرتا جاتا۔ مہینہ بھر تو یوں گزر گیا۔ پھر چناب نگر کورس کی مصروفیت، یوں دو ماہ گزر گئے۔
محترم راؤ صاحب جتنا مکمل کرتے جاتے وہ برادر عدنان سنپال غلطیاں لگا کر مکمل کرتے جاتے۔ دن رات سفر جاری رہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰؍ رمضان المبارک کو کراچی کے سفر سے ملتان حاضر ہوا تو تمام جلدوں کی پروف ریڈنگ، غلطیوں کی تصحیح وغیرہ کا کام ایک دو دن میں مکمل ہو گیا۔
- ۶...... حکومت کے شائع کردہ نسخہ میں پہلی سطر سے سوال و جواب شروع ہوا۔ پھر تقاریر وتجاویز، چل سو چل ہزار ہا صفحات پر پھیلا ہوا
مسودہ ۲۱ حصوں پر مشتمل۔ اوّل سے آخر تک کہیں نہیں معلوم تھا کہ کون سی بات کہاں ہے، ضرورت تھی کہ اس مسودہ کی سرخیاں لگائی جائیں۔ عنوانات قائم کئے جائیں تاکہ استفادہ مزید آسان ہو جائے۔
- ۷...... قومی اسمبلی کے ممبر حضرات کو قادیانیت کے مباحثہ سے پہلی بار پالا پڑا۔ قادیانی ولاہوری گروپ کے سربراہ قادیانیت کی
چالبازیوں کے امام اور فن چکر بازی میں مرزا قادیانی کا مکمل پرتو لئے ہوئے تھے۔ بہت سارے مقامات پر حوالہ جات میں ایسا چکر ڈال دیتے کہ سامنے والا جو مکمل آگاہی نہیں رکھتا وہ ایک بار چونک اٹھے کہ کیا ہو گیا۔ مثلاً سیرۃ الابدال کا حوالہ پیش ہوا کہ ص۱۹۳ پر عبارت ہے۔ مرزا ناصر نے سر پر آسمان اٹھا لیا کہ ۱۶ صفحہ کی کتاب ہے۔ ص ۱۹۳ کہاں سے آگیا۔ اتنی بڑی غلط بیانی ، یوں غلط بیانی سے قادیانیت کو بدنام کیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ! اب حوالہ نہ اٹارنی جنرل کو پڑھنے ہی دیا گیا نہ وہ کارروائی میں پیش ہوا۔ نہ مرزا ناصر نے حوالہ کا ذکر کیا کہ کیا حوالہ ہے۔ اتنا شور کیا کہ بات ۱۶ اور ۱۹۳ صفحہ کے شور میں دب گئی۔ اب حوالہ پیش ہی نہیں ہوا۔ کون سا حوالہ تھا۔ کیا فرق لگا۔ کچھ اشارہ بھی ہوتا تو فقیر حوالہ تلاش کر کے لاتا اور معاملہ قارئین پر صاف ہوتا۔ وہ تو نہ ہوا۔ لیکن فقیر عرض کرتا ہے کہ مثلاً تجلیات کے ص ۴ پر عبارت ہے: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور خود کو سورج قرار دیا ۔“ اب قادیانیوں نے کئی کتابوں کو یکجا کر کے شائع کرنا شروع کیا اور اس سلسلہ اشاعت کا نام روحانی خزائن رکھا۔ اس کی جلد ۲۰ کے صفحہ ۳۹۷ پر یہ عبارت ہے۔ اسی صفحہ کی پیشانی پر تجلیات الٰہیہ بھی لکھا ہے۔ صفحہ ۳۹۷ بھی لکھا ہے۔ صفحہ کے بغل میں سائیڈ پر ۴ لکھا ہے۔ اب ایک صاحب صفحہ کی پیشانی کا صفحہ ۳۹۷ دیکھ کر کہہ دے کہ تجلیات الٰہیہ ص ۳۹۷۔ تو مرزائی عیار کہیں گے کہ کتاب ۲۰ صفحات کی ہے۔ ۳۹۷ کدھر سے آگئے، ناواقف تو ایک دم پریشان ہو جائے گا اور یہی کاریگری مرزا ناصر کرتا رہا۔
دوسری مثال ایک غلطی کا ازالہ مرزا قادیانی کا رسالہ ۶ ورقی ہے۔ لیکن خزائن جلد ۱۸ کے ص ۲۰۸ سے ۲۱۶ پر یہ شامل اشاعت کیا ہے۔ ہر صفحہ کی پیشانی پر ایک غلطی کا ازالہ بھی درج ہے۔ صفحات ۲۰۸ سے ۲۱۶ تک بھی درج ہیں۔ اب پہلی بار جو مرزا کی کتب کو دیکھے، وہ ایک غلطی کا ازالہ ص ۲۰۸ کہہ دے تو قادیانی عیار قیادت کو دھوکہ دہی کے لئے موقعہ مل جائے گا کہ چھ ورقی رسالہ کے صفحات ۲۰۸ کیسے؟ یہ جھوٹ ہے۔ یہ الزام ہے۔ ایک رٹی رٹائی گردان دہرا دیں گے۔ سننے والے، پڑھنے والے حیران ہو جائیں گے۔ حالانکہ جس نے حوالہ دیا وہ بھی صحیح ہے کہ جو لکھا دیکھا ، وہی کہہ دیا۔ یہ تو قادیانی دجل ہے کہ ص ۲ کو ص ۲۰۸ پر پہنچا دیا۔ تو حوالہ جات میں جگہ جگہ قادیانی قیادت نے یہی عیاری کی۔ اب قادیانیوں نے اس دھوکہ دہی کا شاہکار کتاب ”خصوصی کمیٹی میں کیا گزری“ شائع کی جو مرزا سلطان احمد کی مرتب کردہ ہے۔ یہ کتاب فقیر کے سامنے ہے۔ کچھ حصہ دیکھا بھی مگر فقیر اس کو قابل جواب نہیں سمجھتا کہ قادیانی ہمیں الجھانا چاہتے ہیں ۔ یہ ہوا تھا، یہ ہوا تھا۔ اب اس بحث کی ضرورت نہیں۔ جب مکمل کارروائی چھپ کر آ گئی ہے، اسے عام کرو ہر آدمی خود پڑھ کر فیصلہ کرے کہ کون جیتا کون ہارا؟ چنانچہ قادیانی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے ہم نے یہی راستہ اختیار کیا کہ مکمل کارروائی کو شائع کر دیا جائے۔ جو پیش خدمت ہے۔ انہی امور کے لئے بعض بعض مقامات پر مختصر حواشی (فٹ نوٹ) لکھنے پڑے جو اس ایڈیشن کا امتیازی وصف ہے۔
- ۸...... تین دن برادر عزیز جناب حافظ محمد یوسف ہارون صاحب اور فقیر نے حواشی اور سرخیاں کمپیوٹر پر پڑھیں۔ یوں آج ۲۵؍ جولائی
۲۰۱۳ء ۱۵؍ رمضان ۱۴۳۴ھ کو اس کام سے فارغ ہو گئے۔ اب برادر عدنان و برادر ہارون اس کتاب کی سیٹنگ کر رہے ہیں اور فقیر یہ سطریں لکھ رہا ہے۔ فالحمد للّٰہ تعالیٰ اوّلاً و آخراً! یہاں پر اس اعتراف کے بغیر چارہ نہیں کہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے صدر مدرس مولانا غلام رسول دین پوری نے اس کتاب کے لئے فقیر راقم سے بھی زیادہ محنت کی۔ حق تعالیٰ سب کو جزائے خیر دیں۔
جدید ایڈیشن کا امتیاز:
- ......۱ حکومت کے شائع کردہ ایڈیشن میں انگلش کا ترجمہ نہیں۔ لیکن اس ایڈیشن میں انگلش کا جگہ جگہ ترجمہ بین القوسین موجود پائیں گے۔
- ......۲ اس ایڈیشن میں قادیانی، لاہوری جرح پر بعض ناگزیر حواشی موجود پائیں گے۔
- ......۳ مولانا مفتی محمود صاحب نے دو دن حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے ”موقف ملت اسلامیہ“ نامی کتاب پڑھی۔ اس کا
ضمیمہ نمبر ۳ فیصلہ مقدمہ جیمس آباد مطبوعہ حکومتی کارروائی میں اشاعت کے دوران خلط ہو گیا۔ فیصلہ کا ص ۲۲ پہلے کمپوز کر دیا۔ پھر ص ۲۱۔ اس سے مفہوم ہی بدل گیا۔ ہم نے اسے صحیح کمپوز کر دیا۔ اس سے حکومتی ایڈیشن کی کمپوزنگ کی غلطی دور ہو گئی۔
- ......۴ حکومتی شائع شدہ کارروائی میں جہاں عربی تھی وہ ......عربی...... کمپوز کر کے چھوڑ دی۔ اگر کتاب کا حوالہ تھا تو ہم نے وہ مکمل عربی
عبارت نقل کر دی جس سے پہلے ایڈیشن کی نسبت یہ ایڈیشن جامع ہو گیا۔ اگر حوالہ ہی نہ تھا تو وہ جگہ مجبوراً ایسے گزارنا پڑی۔
- ......۵ حکومت کے شائع کردہ ایڈیشن اور ہمارے اس ایڈیشن کے کمپوزنگ میں صفحات کا فرق آ گیا۔ چنانچہ اصل حکومتی ایڈیشن کے
صفحات کو اس جدید ایڈیشن کے صفحات کے درمیان (بین السطور) میں باریک کر کے ہم نے لکھ دیا۔ اس ایڈیشن کے صفحات کو سامنے رکھ کر حکومتی ایڈیشن سے اس ایڈیشن کا آسانی سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ انشاء اللہ کوئی فرق نہ پائیں گے۔ گویا اس جدید ایڈیشن کے صفحات پہلے ایڈیشن کے صفحات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ فالحمد للّٰہ ! ہاں البتہ یاد رہے کہ حکومتی ایڈیشن کی جلد ۱۶، ص ۲۶۱۷ پر ختم ہوئی۔ جلد ۱۷، چار صفحے ٹائٹل کے بعد ص ۲۶۲۲ سے شروع ہونی چاہئے تھی مگر وہ ص ۲۶۹۹ سے شروع ہوئی۔ گویا ستر صفحات چھوڑ کر اگلا نمبر لگا دیا۔ یہ حکومتی ایڈیشن میں صفحات لگانے میں سرکاری اہلکاروں سے غلطی ہوئی۔ درمیان میں مسودہ غائب نہیں ہے۔ ہر لحاظ سے حکومتی ایڈیشن مکمل ہے۔ ہم نے بھی ہر صفحہ پر بین السطور حکومتی ایڈیشن کے جو صفحات لگائے ان میں اسی غلطی کو رہنے دیا۔ تا کہ حکومتی ایڈیشن اور اس ایڈیشن کا تقابل کیا جائے تو ابہام پیدا نہ ہو۔
- ......۶ مولانا غلام غوث ہزاروی کا مرتب کردہ محضر نامہ میں مرزا قادیانی نے اپنی ”مقدس نبوت“ کے قلم سے مخالفین کو جو گالیاں دیں وہ
درج تھیں۔ مولانا نے قادیانیوں کی جن جن کتابوں سے جمع کردہ قادیانی مغلظات کی فہرست دی، ہم نے ہر ایک گالی کے آگے قادیانی کتابوں کے حوالے لگا دیئے۔ آپ پڑھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ الف سے یاء تک کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں مرزا قادیانی نے گالی نہ دی ہو۔ یہ سباب اعظم کا ”سب نامہ“ باحوالہ اس ایڈیشن میں موجود ہے۔ پڑھیں پھر سوچیں کہ مرزا قادیانی لکھنؤ کی بھٹیارنیوں سے بھی گالیوں میں نمبر لے گئے یا نہیں۔ یہ فیصلہ قارئین کریں گے۔
- ......۷ حکومتی ایڈیشن کو سامنے رکھ کر جہاں کہیں ترجمہ سرخیوں، حواشی اور حوالہ جات پر ہم نے کام کیا ہے۔ ان سب کو بین القوسین کر دیا
ہے۔ تا کہ اصل ایڈیشن سے یہ چیزیں ممتاز رہیں۔ متن میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی نہیں کی۔ یوں، یہ ایک ایسا ایڈیشن ہے۔ جو پہلے سے بالکل جدا بھی ہے اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں۔
بایں ہمہ انسان خطاء کا پتلا ہے۔ کہیں غیر ارادی طور پر کوئی سہو ہوا تو اعتراف قصور کے ساتھ گزارش ہے کہ اس کی اطلاع کر کے قارئین ممنون فرمائیں گے تاکہ تصحیح کی جا سکے۔
- ......۸ حکومت کے شائع کردہ ایڈیشن کے ۲۱ حصے تھے جو ہم نے اس ایڈیشن کی پانچ جلدوں میں سمو دیئے۔ تفصیل یہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومتی ایڈیشن کا حصہ ۱، ۲، ۳ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ۱ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ۴، ۵، ۶، ۷، ۸ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ۲ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ۹، ۱۰، ۱۱، ۱۲ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ۳ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ۱۳، ۱۴، ۱۵ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ۴ میں ہے۔ حکومتی ایڈیشن کا حصہ ۱۶، ۱۷، ۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۱ مکمل ...... اس ایڈیشن کی جلد ۵ میں ہے۔
ہر جلد کے اوّل میں اس جلد میں شامل حصوں کی فہرست دے دی ہے۔
قادیانی حضرات کی کرم فرمائی کے نمونے:
- ۱...... حکومتی سطح پر اس کارروائی کے اوپن ہوتے ہی قادیانیوں نے ایک کتاب شائع کی۔ ”خصوصی کمیٹی میں کیا گزری“ کتاب کیا
ہے، تمسخر، بدکلامی، پھبتیوں کا مجموعہ مثلاً (۱) ”عقل سلیم سے عاری“ (۲) ”پرلے درجہ کی بے عقلی“ (۳) ”پوری اسمبلی اس معاملہ میں ناکام ہوئی“ (۴) ”ان...... کی قوت فیصلہ کو مفلوج کر دیا تھا“ (۵) ”مگر عقل و شعور اس کمیٹی میں (جملہ ممبران قومی اسمبلی) ایک جنس نایاب کی حیثیت رکھتی تھی“ (۶) ”جو کچھ کارروائی کے نام پر ہوا۔ وہ محض ایک ڈھونگ تھا“ یہ کلمات ممبران قومی اسمبلی کے لئے استعمال کئے گئے۔ یہ چھ جملے صرف نمونہ کے طور پر پیش کئے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر لگتا ہے کہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کی کمیٹی کارروائی کیا شائع ہوئی گویا قادیانیت کے قدموں کے نیچے آگ کا تندور دہکا دیا گیا کہ وہ اب ننگی گالیوں اور بدزبانیوں پر اتر آئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا کہ اس وقت ان کے دل و دماغ کی کیا حالت بد ہے جو انہیں کسی کروٹ چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔
قادیانیوں نے زیادہ تر حوالہ جات پر دھوکہ دہی کی ہے۔ راقم نے جگہ جگہ بین القوسین (ان بریکٹ) اصل قادیانی کتب کے موجودہ ایڈیشن کے حوالہ جات لگا دیئے ہیں۔ قادیانیوں نے اس کتاب میں کیا کہا۔ اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ حوالہ جات صحیح درج ہونے سے مختلف ایڈیشنوں کے صفحات سے وہ جو دجل کی بولی بولتے تھے وہ ازخود بند ہوگئی۔ البتہ حواشی میں جواب آں غزل میں اس قادیانی کتاب کے مصنف مرزا سلطان کو منہ لگائے بغیر فقیر نے مرزا ناصر کو کھری کھری سنانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ قادیانی مصنف پوری اسمبلی کو عقل سے عاری، مفلوج، پرلے درجے کے بے عقل کہے اور ہم جواب میں مرزا ناصر کو کچھ سنا دیں تو قادیانیوں کو ہے یہ گنبد کی صداء جیسے کہو ویسے سنو، کا مراقبہ کر لینا چاہئے۔
- ۲...... پاکستان پیپلز پارٹی کا ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں قادیانی جماعت نے ساتھ دیا۔ سپورٹ کی، الیکشن مہم چلائی، مالی، جانی امداد کی۔
اس کتاب ”خصوصی کمیٹی کیا گزری“ میں مرزا ناصر احمد کا یہ قول نقل کیا۔ ”ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ منشاء معلوم ہوتا تھا کہ کسی ایک پارٹی کو مستحکم بنایا جائے۔ چنانچہ ہم نے اپنی عقل سے ...... پاکستان پیپلز پارٹی کو ...... ووٹ دینا ملکی مفاد کے عین مطابق سمجھا۔“
قادیانی جماعت نے خدائی اشارہ کو جو اپنی عقل سے سمجھا، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کی شکل میں ظہور میں آیا۔ اب قادیانی عوام غور فرمائیں۔ خدائی اشارہ میں گڑ بڑ ہوگئی یا مرزا ناصر کی عقل نے مار کھائی کہ جس جماعت کے متعلق خدائی اشارہ سمجھا تھا کہ اس کا ساتھ دو، اسی جماعت نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ خدائی اشارہ تھا کہ جس کا نتیجہ غیر مسلم ہونے کی شکل میں بھگتنا پڑا؟
- ۳...... اس قادیانی کتاب میں اس پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ کسی اسمبلی کو کسی کے مذہب کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر یہ صحیح
ہے تو ہمارا صرف اتنا سوال ہے کہ آپ درخواست دے کر کیوں اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنے۔ اگر یہ بات بنیادی طور پر غلط تھی۔ تو تمہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درخواست کر کے اس غلط کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ درخواست دے کر کارروائی کا حصہ بنے جب دیکھا کہ بات نہیں بنتی نظر آتی تو واویلا شروع کر دیا کہ اسمبلی کو اس فیصلہ کا حق نہیں۔ پھر جرح کے دوران مان بھی لیا کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ اس پر متعلقہ اتھارٹی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
قارئین کرام!
- ۱...... اسمبلی کی کارروائی کے دوران میں ایک ممبر اسمبلی ایسا نہیں تھا جس نے ایک دفعہ بھی یہ کہا ہو کہ قادیانی مسلم ہیں ان کو غیر مسلم قرار
نہ دیں۔ بلکہ تمام ممبران اسمبلی کا اس امر پر اتفاق تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ آزاد خیال، آزادانہ ماحول میں بحث سننے کے بعد تمام ممبران قومی اسمبلی متفق اللسان تھے کہ قادیانی کافر ہیں۔ ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مرزا ناصر پر جو سوالات ہوئے مرزا ناصر نے جوابات میں جو جو گوہر فشانی کی اس کا نتیجہ پوری قادیانیت کے سامنے ہے۔
آپ کتاب پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ کس طرح مرزا ناصر لاجواب ہوا، مبہوت ہوا، ششدر رہ گیا، جواب نہ دے سکا۔ چیئرمین نے رولنگ دی کہ گواہ جواب دینے سے کترارہا ہے۔ انہیں کہنا پڑا کہ سوال کا جواب نہیں آیا۔ مرزا ناصر کو کئی مقامات پر کہنا پڑا کہ میں غلط سمجھا تھا۔ وہ میری غلطی تھی۔ میں معافی چاہتا ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر کتاب پڑھتے پڑھتے کئی مقامات پر میری طبیعت میں وجد کی کیفیت پیدا ہوئی۔ قارئین بھی ایسے ہی محسوس کریں گے۔ میں نے یہ چیزیں ارتجالاً عرض تو کر دیں مگر عمداً حوالہ نہیں دیا کہ آپ خود پڑھیں اور فقیر کی طرح حق کی فتح اور باطل کی ذلت آمیز شکست کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالائیں کہ کفر ہار گیا اور اسلام جیت گیا۔ جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا!
- ۲...... قادیانی فرماتے تھے کہ اسمبلی کی کارروائی چھپ جائے تو آدھا پاکستان قادیانی بن جائے۔ ہمارے ایک وفد نے اب حال ہی
میں قومی اسمبلی کے اس زمانہ کے سپیکر جناب فاروق علی خان سے انٹرویو لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اب قادیانیوں سے کہیں ناں کہ وہ کارروائی چھپ گئی ہے، آدھے ملک کو کیوں قادیانی نہیں بناتے۔ بناؤ ناں! اب کیا رکاوٹ ہے؟ لیکن اس موقعہ پر فقیر درخواست گزار ہے کہ جو انصاف پسند قادیانی اسے تعصب و بغض سے خالی ہو کر پڑھے، وہ ضرور قادیانیت پر چار حرف ڈال کر حق کو قبول کر لے گا۔ پڑھیے کہ پڑھنے کی چیز ہے۔
- ۳...... اس کارروائی میں آپ پڑھیں گے کہ جب ایک ممبر نے مرزا قادیانی کے متعلق کہا کہ مرزا صاحب نے فلاں جگہ یوں لکھا ہے تو
دوسرا ممبر کھڑا ہو گیا، اسمبلی کی کارروائی کے دوران، اسمبلی ہال میں کہ ”مرزا قادیانی ...... الحرام تھا“ یہ قومی اسمبلی کے ممبر جناب خواجہ محمد جمال کوریجہ کے الفاظ تھے۔ اتنی بڑی گالی لٹھکائی جو دوران مطالعہ آپ پڑھیں گے۔ اس کارروائی کا یہ حصہ ہے۔ ریکارڈ پر ہے میرے نزدیک مرزا ناصر کی جرح کے جوابات کا یہ اثر اسمبلی کے ممبران پر پڑا تھا جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کارروائی کو پڑھ کر آدھا ملک قادیانی ہو جائے گا۔ میرا موقف یہ ہے کہ اس کارروائی کو پڑھنے کے بعد خود قادیانی قیادت اپنے عوام کے سامنے سے منہ چھپائے گی۔
- ۴...... قادیانی قیادت اب بحث بند کرے۔ قیاس کے گھوڑے نہ دوڑائے۔ فریب کے چکر نہ دے۔ کتاب کو ہم نے شائع کر دیا ہے۔
وہ صرف اپنے عوام سے کہے کہ اس کتاب کا مکمل مطالعہ کریں۔ اپنے نصاب کا حصہ سمجھیں۔ یہی اپیل میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کرتا ہوں۔ انشاء اللہ! جو بھی مطالعہ کرے گا، اس کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ مطالعہ شرط ہے۔
قارئین کرام! اتنے عرصہ کے بعد یہ کارروائی سامنے آئی ہے۔ جو سرکاری رپورٹ ہے۔ اس کو پڑھیں کہ میں اب آپ کے اور اس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کتاب کے مطالعہ کے درمیان حائل نہیں رہنا چاہتا۔ پڑھیں اور اپنے بزرگوں کی محنت کی داد دیں کہ کس طرح منبر و محراب کی صداء کو حق تعالیٰ نے قومی اسمبلی میں بلند کرنے کا سامان پیدا کیا۔ فقیر کے خیال میں یہ سب ورفعنالک ذکرک کا مشاہدہ ہے۔ تاکہ حق الیقین کا درجہ حاصل ہو۔ حق کو اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ وتعز من تشاء! قادیانیت پسپا ہوئی۔ وتذل من تشاء! اور اسی منظر کو آپ اس کتاب میں دیکھیں گے۔
حرف آخر:
اس کتاب کی تیاری کے لئے جس جس دوست نے جتنا جتنا حصہ لیا، وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ انہیں اجر عظیم نصیب فرمائیں۔ فقیر نے مرحلہ بمرحلہ سب کا تذکرہ کر دیا ہے۔ اگر کسی دوست کا تذکرہ ہونا رہ گیا ہو تو اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف فرمانے والے ہیں۔ مجھے شکریہ ادا کرنا ہے اپنے مخدوم و مطاع مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا مفتی خالد محمود کراچی، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کا کہ وہ گاہے بگاہے اس کتاب کی بابت پوچھتے رہے اور یوں فقیر کی ڈھارس بندھواتے رہے۔
محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا!
مؤرخہ ۲۷/ جولائی ۲۰۱۳ء، مطابق ۱۷/ رمضان المبارک ۱۴۳۴ھ
تبصرہ بر ’’قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ‘‘:
(جناب محمد متین خالد لاہور) جبیں پہ سجدے کا نشان، چہرے پر تمکنت، علم و عمل میں سرفراز، دین محمدیﷺ کے سپاہی، شاہین ختم نبوت، خوددار و باحیا مولانا اللہ وسایا مجاہدین تحفظ ختم نبوت کے سرگرم اور پرجوش سالار ہیں۔ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف برسر پیکار، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں ان کا وجود وہی حیثیت رکھتا ہے جو سمندر کی آغوش میں گوہر شب چراغ کو حاصل ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے جدوجہد ان کی زندگی کا مقصد و محور ہے۔ وہ نہ صرف بطل حریت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جرأت کے وارث ہیں۔ بلکہ اکابرین تحفظ ختم نبوت کی عظمتوں کے امین بھی۔ انہوں نے اپنی تقریر اور تحریر کے ذریعے ہر خاص و عام میں تحفظ ختم نبوت کا وہ شعور پیدا کیا۔ جس کی ضیاء پاشیوں سے ان کے قلب و نظر علمی طور پر آج بھی پوری طرح منور ہیں۔ تاریخ کے سینے میں وہ روشن لمحات محفوظ رہیں گے جب مولانا اللہ وسایا کی للکار اور یلغار سے قصر قادیانیت پر لرزہ طاری ہوا اور قادیانی مافیا کا گاڈ فادر مرزا ناصر اس کی تاب نہ لاتے ہوئے جہنم واصل ہو گیا۔
مولانا اللہ وسایا کا قلم اور اس سے نکلا ہوا ہر لفظ قادیانیت کے لئے منجنیق کا وہ پتھر ہے جو پورے عزم و ایمان سے قادیانیت کے ایوانوں پر گر کر ان کا نام و نشان مٹا ڈالتا ہے اور بڑے بڑے قادیانی اور ان کے ہمنواؤں کا زعم برتری، طلسم آزری، ناز آگہی اور دعویٰ دانشوری اس کے ملبے میں دب کر رہ جاتا ہے۔ مولانا اللہ وسایا قادیانیت کے مکر و فن کے حیلوں سے بخوبی آشنا ہیں۔ اس لئے ان کی کتب اس فتنہ کے خلاف ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء‘‘ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ جس شخص کو بھی اس کتاب کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ وہ یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس زندہ و بیدار کتاب کے آئینے میں اس نے براہ راست اپنی آنکھوں سے تحریک کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ عشق کے سوز اور محبت کے گداز میں ڈوب کر لکھی جانے والی یہ ایمان پرور کتاب جب شائع ہو کر تقسیم ہوئی تو مجھے بے شمار لوگوں نے بتایا کہ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ان پر ایسی ایمانی اور وجدانی کیفیات طاری ہوئیں کہ وہ بار ہا دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اس کتاب کے علاوہ ’’تذکرۂ مجاہدین ختم نبوت...... قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت...... تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء (تین جلدیں)...... آئینہ قادیانیت...... اور قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ مولانا کی قابل ذکر تصانیف ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت الجھے مکاشفات، گھسے تخیلات، لات و منات، مہمل نظریات، اندھے مشاہدات اور جنسی تجربات کا فطرت مخالف اور شعور سوز مذہب ہے جس کا ہر پیروکار کفریہ عقل و عقائد کے فالج کا شکار ہے۔ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو دیار جہل ربوہ (حال چناب نگر) میں جو سانحہ پیش آیا۔ اس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملک کے طول و عرض میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا عوامی مطالبہ گونجنے لگا۔ یاد رہے کہ لاکھوں جگر خراش حوادث کے باوجود امت مسلمہ نے ہر دور میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہمیشہ اپنے خون جگر کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ چاہے سر پر موت ہی کیوں نہ کھڑی ہو۔ اس راستہ میں آنے والی ہر مشکل کو انہوں نے ہمیشہ سعادت سمجھ کر بڑی خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ حکومت وقت نے اس تحریک کو ہر ممکن طریقے اور حربے سے دبانے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر اس کی ہر ترکیب و تدبیر ناکام و نامراد ٹھہری۔
۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی قرارداد پیش کی۔ جس پر مولانا مفتی محمود، مولانا عبد المصطفیٰ الازہری، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، چوہدری ظہور الٰہی، شیر باز خان مزاری، مولانا محمد ظفر احمد انصاری، مولانا نعمت اللہ، سردار شوکت حیات، علی احمد تالپور اور رئیس عطا محمد خاں مری سمیت چالیس کے قریب ممبرانِ اسمبلی نے دستخط کئے۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ قادیان کے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ قرآنی آیات کا تمسخر اڑایا۔ جہاد کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا ہے۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ لہٰذا اسمبلی مرزا قادیانی کے پیروکار قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر آئین پاکستان میں ضروری ترمیم کرے۔
۵؍ اگست ۱۹۷۴ء کو صبح دس بجے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں کی صدارت میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ جس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سمیت پوری کابینہ نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد قادیانی جماعت کے وفد کو جس کی سربراہی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کر رہا تھا بلایا گیا۔ اسمبلی میں طے پایا گیا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی براہ راست مرزا ناصر سے سوال نہ کرے۔ بلکہ وہ اپنا سوال لکھ کر اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو دیدے جو خود مرزا ناصر سے اس بارے میں دریافت کریں گے۔ دنیا کی تاریخ میں جمہوری نظامِ حکومت کا یہ واحد واقعہ ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے قادیانی مذہب کے دونوں فرقوں (ربوی و لاہوری) کے سربراہوں کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے بلایا گیا۔
حکومت نے اسمبلی کو ایک کمیٹی کا درجہ دے کر قادیانیت کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔ قومی اسمبلی میں قادیانی کفریہ عقائد کے حوالے سے ان پر تفصیلی جرح کی گئی۔ انہیں صفائی کے تمام مواقع فراہم کئے گئے۔ ۱۳؍ روز کی جرح کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے متفقہ طور پر قادیانی جماعت کے دونوں گروہوں (ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ) کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور یوں مسلمانوں کا ۹۰؍ سالہ مسئلہ آئینی طور پر حل ہوا۔
پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی یہ روداد اتنی دلچسپ، دلنشیں، عوامی، سادہ اور آسان ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے ہر قاری پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے گویا کہ وہ قومی اسمبلی میں بیٹھا براہ راست خود یہ کارروائی دیکھ رہا ہے۔ مولانا اللہ وسایا مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ۲۹۵۲؍ صفحات پر مشتمل ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ (۵؍ جلدیں)“ ایسی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی و تاریخی دستاویز کو بڑی جانگسل محنت اور عرق ریزی سے تلاش اور پھر تخریج کر کے ایک ملی و دینی فریضے کی تکمیل کی ہے۔ یوں رب العزت نے ہر مسلمان کے دل میں ان کے لئے محبت وعقیدت کے لازوال جذبات پیدا کر دیئے ہیں۔
قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ مناظروں اور کج بحثی کا بہت شوق ہے۔ ہر قادیانی چونکہ مذموم عزائم کے پیش نظر مخصوص موضوعات پر اپنے تئیں بھر پور تیاری کے ساتھ مسلح ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمان ان موضوعات سے تقریباً نا بلد ہوتا ہے۔ یوں بظاہر قادیانی کو ایک مسلمان پر عارضی برتری حاصل ہو جاتی ہے پھر پروپیگنڈہ کے زور پر قادیانی فاتح اور مسلمان مفتوح کہلاتا ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی مسلمان اس روداد کا بنظر عمیق مطالعہ کرلے تو دنیا کا کوئی قادیانی اس سے مناظرے اور مجادلے کی جرأت نہیں کرے گا۔
قادیانی ۱۹۷۴ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی شائع ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس قومی تاریخی دستاویز سے قادیانیوں کے ہاں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ”قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔“ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کرلیں۔ ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنادی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی۔ تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہو گئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔“
(انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ”ماہنامہ آتش فشاں“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء)
سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن، جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا، قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد وعزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا۔ بلکہ اعتراف جرم کروایا۔ وہ انہی کا حصہ ہے۔ جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔ علاوہ ازیں مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا ظفر احمد انصاری کی عالمانہ جرح نے بھی نہ صرف قادیانی سربراہ مرزا ناصر کی ”علمیت“ کا پول کھول دیا۔ بلکہ قادیانیت کے بھیانک چہروں اور سربستہ رازوں کی ایسی نقاب کشائی کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ امت مسلمہ ان کی شاندار اور روشن خدمات پر ہمیشہ احسان مند رہے گی۔ صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف ”ان“ کا۔
قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آؤٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس نہ صرف تمام ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پوری ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری سے بڑی خوشی سے قومی اسمبلی گیا۔ اس کے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا انداز بڑا فاتحانہ، متکبرانہ اور تمسخرانہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں تاویلات اور شکوک و شبہات کے ذریعے اسمبلی کو قائل کرلوں گا۔ مگر بری طرح ناکام رہا۔ قادیانی قیادت نے قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں ۱۸۰ صفحات پر مشتمل کتاب ”محضر نامہ“ تقسیم کی۔ جس میں اپنے عقائد کی بھر پور ترجمانی کی۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر ”دعا“ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ”دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق و صداقت پر مبنی ان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن وسنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں ۔‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانیوں کی دعا قبول ہوئی تو وہ قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو وہ جھوٹے ہیں۔
قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو ان کیمرہ، خفیہ کیوں رکھا گیا ۔ یہ کارروائی اخبارات میں روزانہ کیوں شائع نہ ہوئی ؟ اس سوال کا جواب قومی اسمبلی کے اس وقت کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا: ”بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر منظر عام پر آئیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنماؤں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطۂ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے ، مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ نازک اور حساس ہے ۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورتحال سے بچنے کے لئے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے۔ اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔“
(قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری کا انٹرویو ، روزنامہ ’جنگ‘ جمعہ میگزین ۳ تا ۹ستمبر ۱۹۸۲ء)
قادیانی کہتے ہیں یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ یہ بات لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لئے دعوت دی۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر ، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی ۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا۔ بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۳ دن کی طویل بحث و تمحیص کے بعد آئین کے آرٹیکل ۱۰۶ / اور ۲۶۰ / کی شق ۳ / میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ لیکن قادیانیوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انہیں سرکاری مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انہیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے ۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟ کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟ حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لئے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی ۔ ہمیں قبول ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی ، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں۔ انہیں شریعت کا کیا علم؟ اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔
بہت کم ایسی کتابیں ہوتی ہیں جن کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب بھی انہی کتابوں میں سے ایک ہے۔ ہر مسلمان کو اس کے مطالعہ سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ارباب دانش کی رائے ہے کہ نسل نو کی فکری رہنمائی کے لئے یہ کتاب تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے نصاب کے لئے بے حد موزوں اور مفید ہے۔ ان شاء اللہ ! مولانا اللہ وسایا کی اس کاوش کو علمی و مذہبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوگی ۔ یہ قومی و تاریخی دستاویز ” قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ‘‘ جس کا مدتوں سے انتظار تھا۔ وقت کی اہم ضرورت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو پورا کرتی ہے۔ تاریخ کے نازک لمحات محفوظ کرنے پر مولانا اللہ وسایا پوری امت مسلمہ کی طرف سے بے حد مبارک باد کے مستحق ہیں: اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۳۴ تا ۳۸)
قادیانی ایشو پر قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ
(محمد شاہ نقشبندی) قادیانی ایشو پر قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ کو مولانا اللہ وسایا کتابی شکل میں شائع کر کے امت مسلمہ کے دلی شکریہ کے مستحق ہو گئے ہیں۔ آپ نے اس رپورٹ کے اوپن ہوتے ہی جس جس طرح اس کے حصول کی کوششیں کیں۔ یہ آپ کا ایمانی جذبہ اور منصب کا تقاضا تھا۔ آپ کی انتھک محنت اور کاوشیں قابل قدر ولولہ انگیز ہیں۔ اس رپورٹ کے اوپن ہونے کی سرگزشت ’لولاک‘ کے اندر مولانا ہی کے قلم سے پڑھنے کو ملی۔ دل شوق سے لبریز ہو گیا۔ کتاب کی زیارت کی خواہش دل میں مچلنے لگی کہ جلد سے جلد ہاتھ لگ جائے۔ پردہ غیب سے اس کی زیارت کا فوری انتظام ہو گیا۔ ایک کتاب شناس دوست از خود کتاب لے کر جامعہ سیدہ فاطمۃ الزہراء مراد پور میں آ پہنچے اور کتاب بندہ کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگے: ”آپ کے ذوق کی چیز لایا ہوں ۔“ سبحان اللہ ! الحمدللہ ! جزاہ اللہ تعالیٰ خیرا فی الدنیا والآخرۃ!
ایک نعمت غیر مترقبہ ہاتھ لگ گئی۔ پانچ جلدوں پر محیط کتاب اور میرے ذوق، میری تشنگی کی چاہت کہ ایک دم سے کتاب کو پی کر اپنی تشنگی کو سکون بخشا جائے۔ مگر ایسا ممکن نہ تھا۔ دن رات ایک کر کے کتاب کی پانچ جلدیں نظروں سے گزر گئیں۔ مرزا قادیانی کائنات کا بدترین انسان تھا۔ اس انگریز کے پٹھو نے امت مسلمہ کو شدید مشکلات اور مصائب سے دوچار کیا۔ مگر قربان جائیں ”النبی الخاتم ﷺ“ کے شیدائیوں پر کہ انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اہل علم نے اپنے علم کا نذرانہ پیش کیا۔ خطیبوں نے عوام کے دلوں کو گرمئی عشق مصطفیٰ ﷺ سے جوش دے کر اور ہمارے شعراء حضرات ختم نبوت اور عشق مصطفیٰ ﷺ سے لبریز اشعار سامنے لاتے رہے اور امین گیلانی مرحوم کہتے رہے کہ پاؤں دھو کر پی لے گا گیلانی ! صدر اگر فرمائیں مرزا قادیانی کافر ہے۔ بالآخر یہ قربانیاں رنگ لائیں اور ”قادیانیت“ کے پوسٹ مارٹم کے لئے بہت ہی عمدہ جگہ کا انتخاب ہوا۔ ”قومی اسمبلی“۔ حزب اختلاف کے قائد مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں قادیانی ایشو پر تحریک پیش کی۔ اسی طرح مولانا غلام ہزاروی نے اپنے گروپ کی طرف سے بھی تحریک پیش کی۔ قومی اسمبلی نے فتنہ قادیانیت کو اسمبلی میں زیر بحث لانے کی قرار دادیں منظور کر لیں اور بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور و فکر شروع ہوا۔
قادیانیوں کے پوپ کو اسمبلی کے فلور پر لانے کے لئے پوری قومی اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دینا پڑی اور قادیانی پوپ مرزا ناصر کو اپنے بابا کے جھوٹے اعلان نبوت کا دفاع کرنے کا پورا پورا موقع دیا۔ اپنے لاؤ لشکر کو ساتھ لے کر پوری قوت کے ساتھ آنجہانی مرزا قادیانی کی خود ساختہ نبوت کا دفاع کیا مگر نامراد لوٹا : ”یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا“
خوش نصیب وکیل اور پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اپنی کمال ذہانت، حاضر دماغی سے مرزا قادیانی پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ اس کے مکر و فریب کا پول ممبران اسمبلی اور پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ یحییٰ بختیار کو اس علمی، سیاسی بحث کے لئے اسمبلی کے قابل فخر ممبر مولانا مفتی محمود، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا غوث ہزاروی جیسے علماء کرام تیار کرتے رہے۔ ناصر اور یحییٰ بختیار کی بحث کے بعد مولانا مفتی محمود نے ممبران اسمبلی کے سامنے قادیانیوں کے وجوہ کفر کو اس طرز پر بیان فرمایا کہ سامعین عش عش کر اٹھے۔ اسی طرح مولانا غلام غوث ہزاروی نے بھی بڑا علمی محضر نامہ پیش فرمایا۔ جسے مولانا عبدالحکیم نے اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ وجدان کہتا ہے کہ قبروں میں شہدائے ختم نبوت کی ارواح نے جشن مسرت منایا ہو گا۔ بالخصوص محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری، محدث و فقیہ مفتی محمد شفیع عثمانی اور امیر شریعت سید عطاء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ شاہ بخاری کی ارواح تو وجد میں آگئی ہوں گی کہ ان کے شاگردوں نے اسمبلی کے فلور پر مرزا قادیانی کے پرخچے اڑا دیئے۔ جی چاہتا کہ چند اشعار کے ذریعہ ان تمام عاشقان نبی کو خراج عقیدت پیش کر دوں:
شاہ کا بھی شاہ ہوتا ہے غلام مصطفیٰ
اس کو دنیا کی کوئی طاقت مٹا سکتی نہیں
جس کے دل پر ہو گیا ہے نقش نام مصطفیٰ
کس لئے وہ ہاتھ پھیلائے کسی کے سامنے
آب کوثر کا اسے ہے تشنہ کام مصطفیٰ
ذرہ ذرہ یہ گواہی دے رہا ہے دہر کا
اس جہاں میں سب سے افضل ہے مقام مصطفیٰ
انبیاء میں اولین ہیں، اور ختم المرسلین
ہے ازل سے تا ابد روح مقام مصطفیٰ
قومی اسمبلی کے سپیکر، معزز اراکین، قائد ایوان، سبھی نے اپنے غلام مصطفیٰﷺ ہونے کا ثبوت دیا اور بحث کے بعد وزیر قانون نے اسمبلی میں آئین کے اندر ترمیم کا اعلان کیا اور قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اس پر دستخط ثبت کر کے اپنی بخشش کا پروانہ حاصل کر لیا۔ ۱۹۷۴ء کی اس تحریک میں راقم الحروف نے بھی ایک ادنیٰ امتی کی حیثیت سے حصہ لیا۔ مانسہرہ میں ۱۹۷۴ء کی تحریک کے مناظر اب بھی آنکھوں کے سامنے پھرتے ہیں۔ مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبداللہ خالد، جامع مسجد ناڑی کے خطیب مولانا عبدالحئی، معہد القرآن کے مدیر مولانا قاری فضل ربی، پروانہ ختم نبوت مولانا سید غلام نبی شاہ، قاضی خلیل احمد، مولانا سید نواب حسین شاہ۔ مگر مانسہرہ میں جب جلوس نکلے تو مولانا غلام نبی شاہ اور جبوڑی کے جلوس کا انتظار ہوتا۔ جب جبوڑی کا جلوس آتا تو مانسہرہ کے در و دیوار بھی بولنے لگتے۔ یہ سب مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروانے اپنے دل میں یہ عزم بالجزم کئے ہوئے ہیں:
عزم بالجزم:
خواجۂ کونین کا ڈنکا بجایا جائے گا
ہم کسی فرعون کی طاقت سے ڈر سکتے نہیں
ناچ تگنی کا حریفوں کو نچایا جائے گا
کر رہے ہیں اہل ربوہ سازشوں پہ سازشیں
اب انہیں اسلام کے در پر جھکایا جائے گا
قرن اول کی روایت کا پھریرا تھام کر
ارض پاکستان کو جنت بنایا جائے گا
ہم کسی بھی دشمن اسلام کے ساتھی نہیں
ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھایا جائے گا
تحفظ ناموس ختم نبوت کا دفاع سنت صدیقی اور ہر مسلمان کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جس پر جنگ یمامہ میں سات سو کے قریب صحابہ کرامؓ نے اپنی جان کی بازی لگا کر جام شہادت نوش کیا اور بیس ہزار سے زائد مرتدین کو فنافی النار کر کے امت مسلمہ کے لئے ایک گرانقدر مثال اور قابل تقلید نمونہ پیش کر دیا کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کا وہی انجام ہوگا۔ جو مسیلمہ کذاب کا ہوا۔
آنحضرت ﷺ کی محبت مومن کی متاع ایمان ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم“ کہ نبی کریم ﷺ مومنوں کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ شمع نبوت پر مسلمان پروانہ وار اپنی جانوں کو نچھاور کرتے چلے آئے ہیں اور تا قیامت یہ جذبہ سلامت رہے گا۔ صحابہ کرامؓ کی زندگی اس سلسلہ میں تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۲ء ص ۲۵ تا ۲۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین رسالت کا غلط الزام اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش
۱۸، ۱۹؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، ایجنڈا اکیس نکات پر مشتمل تھا، جن پر دو روزہ بحث مباحثہ کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دی گئی۔ ۱۹؍ ستمبر کے اخبارات میں اس خبر نے دینی حلقوں کو چونکا دیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی سزائے موت کا حق دار قرار دینے کی سفارش کی ہے، جو الزام ثابت ہونے پر ملزم کو دی جاسکتی ہے۔ کونسل کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے سفارش کی ہے کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی سزا دی جاسکے، کیونکہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والا بھی دراصل توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے۔ مذکورہ رکن کے بقول کونسل کے اجلاس میں توہین رسالت کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال کے بعد حالیہ واقعات زیر بحث آئے، جس کے بعد جھوٹا الزام لگانے والے کو کڑی سزا دینے کا قانون بنانے کی سفارش کی گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ توہین رسالت کی طرح توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانا بھی سنگین جرم ہے اور اس کا مرتکب بھی کڑی سزا کا مستحق ہے، لیکن اس شخص کو بعینہ وہی سزا دینا جو حقیقی گستاخ رسول کی ہے، محل نظر ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ آئین کی دفعہ ۲۹۵ میں شق سی کا اضافہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور اقتدار میں کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کے مجرم کے لئے عمر قید یا موت کی سزا کے قانون کی منظوری دی۔ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ”عمر قید“ کی سزا کو غیر شرعی قرار دے کر منسوخ کر دیا اور صرف موت کی سزا کو برقرار رکھا۔
اس وقت سے مغرب اور حقوق انسانی کی نام نہاد تنظیمیں اس قانون کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ مغرب کی طرف سے پاکستان کی مختلف حکومتوں پر اس قانون میں ترمیم وتخفیف کے لئے دباؤ ڈالا جاتا رہا، بعض حکمران اس میں ترمیم کے لئے آمادہ بھی ہوئے لیکن عوامی طاقت کے خوف سے وہ اس میں تبدیلی نہ کرسکے۔ اس ضمن میں مغرب کی ایک کوشش یہ بھی تھی کہ توہین رسالت کا جرم ثابت کرنا اس قدر پیچیدہ اور مشکل بنا دیا جائے کہ نہ صرف ملزم سزائے موت سے بچ جائے بلکہ کوئی شخص مدعی بننے کی جرأت و ہمت بھی نہ کرسکے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے گناہگار امتیوں کا جو تعلق ہے وہ نہ مغرب کی سمجھ میں آسکتا ہے، نہ اس طبقے کی سمجھ میں آسکتا ہے جس کے نزدیک معیار خوب و زشت وہی ہے جو مغرب طے کرے اور علم وہ ہے جس کا سرچشمہ آکسفورڈ اور ہارورڈ سے پھوٹے، انہیں اندازہ ہی نہیں ہوسکتا کہ ایک کلمہ گو مسلمان کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ غیر مشروط اطاعت اور والہانہ محبت وعشق کس قدر ضروری ہے؟
مشرق ومغرب میں صرف ایمان اور عقیدے ہی کا فرق نہیں، تہذیبی روایات میں بھی بڑا فرق ہے۔ مغرب میں بائبل کے عہد عتیق میں بھی پیغمبروں کے بارے میں ایسی لغو اور بے ہودہ باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ مسلمان ان کا تصور بھی گناہ سمجھتا ہے۔ اسلام سے زیادہ تہذیب سکھانے والا اور روادار مذہب دنیا میں کوئی اور نہیں ہے، یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات نہیں، ہماری چودہ سو سالہ تاریخ اس کی شاہد ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی بدبخت دریدہ دہن کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کی اجازت دے دی جائے۔ ایسے گستاخوں کا منہ بند کرنے کے لئے قانون توہین رسالت کا پوری قوت وشوکت کے ساتھ برقرار رہنا ضروری ہے، جو شخص توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرے وہ بھی مستحق تعزیر ہے اور قانون میں اس کے لئے سخت سزا موجود بھی ہے۔ عدالت چاہے تو اسے عمر قید تک کی سزا دے سکتی ہے، اس لئے ہماری رائے میں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لئے نیا قانون بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اخبارات میں خبر آنے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فیصلے پر حیرت اور افسوس ہوا، جامعہ خیر المدارس کے مہتمم مولانا محمد حنیف جالندھری بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ہیں، خیال ہوا کہ مولانا سے صحیح صورتحال کا پتا چل سکے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اجلاس سے واپس تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ جس اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ فیصلہ کیا، اس اجلاس میں مولانا موصوف کسی عذر کی وجہ سے شریک نہ تھے۔ دوسرے اجلاس میں جب انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی اس سفارش کا علم ہوا تو انہوں نے دینی حلقوں کی بھر پور ترجمانی کرتے ہوئے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا۔ مولانا نے کہا کہ کونسل کی سفارشات قرآن وسنت کی روشنی میں ہونی چاہئیں۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی نظیر نہیں کہ مدعی کے جھوٹا ثابت ہونے کی صورت میں اسے وہی سزا دی جائے جو صادق ہونے کی صورت میں مدعا علیہ کو ملنی چاہئے تھی۔ اگر کوئی شخص کسی پر قتل عمد کا جھوٹا الزام عائد کرے اور دوران تفتیش اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے تو عدالت اسے اس لئے موت کی سزا نہیں دے گی کہ قتل عمد کی سزا موت ہے۔ تاہم ایسا شخص تعزیر سزا کا مستحق ہے، جو عدالت کی صوابدید پر ہے۔ جھوٹے الزام پر سزاء کا قانون پہلے سے موجود ہے، اس لئے صرف توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر الگ قانون سازی دراصل قانون ناموس رسالت کو غیر مؤثر بنانے کی عالمی سازش ہے۔ توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر سزائے موت کا قانون بنا کر لوگوں کو خوفزدہ کیا جارہا ہے تاکہ کوئی شخص مدعی نہ بن سکے۔
مولانا کی پرزور، پراثر تقریر پر اسلامی نظریاتی کونسل کے تمام ارکان نے اس تجویز کو واپس لیتے ہوئے مولانا کی رائے سے اتفاق کیا۔ یوں بحمد اللہ اسلامی نظریاتی کونسل کی مجوزہ سفارش سے دینی حلقوں میں اضطراب کی جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ ختم ہوگئی۔ اس سلسلہ میں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ جب عام مسلمان یہ سمجھیں گے کہ قانونی طور پر شاتم رسول کو انجام تک پہنچانا بہت مشکل ہے، تو وہ ازخود اسے سزا دینے کی کوشش کریں گے۔ ماضی کے بے شمار واقعات اس کے شاہد ہیں کہ جب کسی گستاخ نے دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا تو اس کا قصہ تمام کرنے کے لئے قانون کے متحرک ہونے کا انتظار نہیں کیا گیا۔ دور رسالت میں ایک نابینا صحابی کی باندی نے شان رسالت میں گستاخی کی تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کر دیا۔ آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خون ہدر اور رائیگاں ہے۔
(بلوغ المرام فی احادیث الاحکام، ص: ۱۲۳)
اسلامی نظریاتی کونسل کے اصحاب علم و فضل ارکان سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہوگی کہ قانون ناموس رسالت کے غلط استعمال کا واویلا اصل میں مغرب اور اس کے ہم نواؤں کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر سزائے موت کی تجویز بھی انہی مغربی سازشوں کا تسلسل ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ تجویز واپس لے کر ایمانی غیرت وحمیت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے۔
(روزنامہ اسلام کراچی ۲۲؍ ستمبر ۲۰۱۳ء)
توہین رسالت قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں: چیئرمین نظریاتی کونسل
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت قانون میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، اگر کوئی شخص اس قانون کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کی سزاء کا قانون پہلے سے موجود ہے۔ وہ پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے فیصلہ سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص غلط شہادت دے تو اس کے خلاف دفعہ ۱۹۲ کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے اور کوئی دعویٰ ہی غلط دائر کرے تو اس کے خلاف دفعہ ۲۱۱ کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے، یہ دونوں قوانین ایسے ہیں جن کی مدد سے تمام قوانین کا غلط استعمال روکا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ جج کو کرنا ہے کہ شہادت غلط ہے یا دعویٰ غلط ہے اور وہ اس کے مطابق سزاء دینے کا اختیار رکھتے ہیں، لہٰذا تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکنے کے لئے تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ مطالبہ جج سے کیا جاسکتا ہے کہ دعویٰ غلط کیا گیا ہے،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کا کونسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تعزیرات پاکستان میں قانون کا غلط استعمال روکنے کی سزائیں مقرر ہیں ان کا استعمال کیا جائے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک مفید ایجاد ہے اس کو قرینے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، اگر کوئی جج اس قرینے کو دوسرے قرائن کے ساتھ ملا کر مثلاً زنا بالجبر کا کیس ہو تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ڈی این اے حد کے لئے بنیادی شہادت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے تحفظ حقوق نسواں کے قانون کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ہمارا واضح مؤقف ہے کہ اس کی بہت سی دفعات ایسی ہیں جو قرآن وسنت کی واضح ترجمانی نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ حدود آرڈیننس اس ضمن میں صحیح راہنمائی کرتا ہے۔ تحفظ حقوق نسواں کا قانون صحیح نہیں ہے۔ شریعت میں زنا سنگین جرم ہے جب کہ جبر سے اس میں شدت پیدا ہوتی ہے لیکن تحفظ حقوق نسواں کے قانون کا سارا زور صرف زنا بالجبر پر ہے، اس میں کئی خامیاں ہیں۔ مثلاً رضا مندی سے زنا کی سزا ایک ماہ سے پانچ سال تک ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ آئین کی آرٹیکل ۲۲۰ کے تحت کونسل کا فریضہ یہ ہے کہ وہ قانون سازی کے عمل میں راہنمائی کرے۔ معاشرے کو اسلامی خطوط پر ڈھالنے کے لئے مذہبی قوانین تیار کرے اور حکومت کو دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۹ء تک کی کونسل کی تمام سفارشات جو ۱۸ رپورٹوں پر مبنی ہیں سینیٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں جمع کرا دی ہیں۔ میں نے ہمیشہ اسپیکر قومی اسمبلی سے بات کی ہے کہ ان رپورٹس پر بحث کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کا کام چونکہ قانون سازی میں مدد دینا ہے، لہٰذا اسے وزارت مذہبی امور کی بجائے وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور کے ماتحت ہونا چاہئے۔ اس سے قبل کونسل وزارت قانون پارلیمانی امور کے تحت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ کونسل کے فیصلوں پر دوران اجلاس کوئی رکن انفرادی رائے نہیں دے گا تا کہ ابہام پیدا نہ ہو۔ میڈیا بھی چیئرمین یا سیکرٹری سے بات کر کے رپورٹنگ کرے۔
(روزنامہ ”جنگ“ کراچی، مورخہ ۲۴؍ستمبر ۲۰۱۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۳ء ص ۱۶، ۱۷)
بلدیاتی امیدواروں کے لئے ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی
رائے ونڈ کے اجتماع میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے نواسے مظاہر العلوم سہارنپور کے ناظم تعلیمات مولانا محمد شاہد سہارنپوری، تبلیغ کے عالمی رہنما مولانا محمد زبیر الحسن سے ملاقات کے لئے ۹؍نومبر ۲۰۱۳ء کو صبح چناب نگر سے رخت سفر باندھا ہی تھا کہ حضرو ضلع اٹک سے ایک صاحب نے فون کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر چاروں صوبوں نے بلدیاتی الیکشن کروانے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ نے اپنے صوبوں کے بلدیاتی امیدواروں کے لئے فارم اپنے اپنے صوبہ کے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کئے ہیں۔ تینوں صوبوں کے فارموں میں مسلمان امیدواروں کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ شامل ہے۔ لیکن جو فارم الیکشن کمیشن پنجاب نے ویب سائٹ پر جاری کیا ہے۔ اس میں ختم نبوت کا حلف نامہ نہیں ہے۔ یہ خبر سنتے ہی دل و دماغ پر جو گزری اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ قادیانیوں نے اسے تسلیم نہ کر کے آئین سے بغاوت کا ارتکاب کیا۔ ہماری بیدار مغز قیادت نے حکومتی سطح پر ختم نبوت کا حلف نامہ تیار کیا کہ جو شخص خود کو مسلمان کہے۔ وہ یہ حلف نامہ پر کرے۔ حلف نامہ یہ ہے:
”میں حلفیہ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا/رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا/کی پیرو کار نہیں ہوں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہونے کا دعویدار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں۔ نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا / رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔“
شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ووٹر لسٹوں، الیکشن لڑنے کے لئے امیدواروں کے فارم غرض سرکاری کاغذات میں جو شخص مسلمان ہونے کا دعویدار ہو۔ وہ حلف نامہ پر کرے۔ اس سے قادیانیوں کے لئے مشکل پیدا ہو گئی کہ وہ آئین سے بغاوت کر کے خود کو مسلمان کہتے ہیں تو مرزا قادیانی کے کذب پر دستخط کرنے پڑتے ہیں اور اگر دستخط نہیں کرتے تو خود کو غیر مسلم تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بنا۔ قادیانیوں نے خود کو مسلمان لکھوایا۔ کیس بنے تو چوتھے قادیانی چیف گرو نے قادیانیوں کو ہدایت کی کہ مسلمان کے بجائے خود کو احمدی لکھوائیں۔ گویا حلف نامہ نے قادیانیوں کو مسلمانوں سے جدا کر دیا۔
جناب بھٹو صاحب کے زمانہ میں یہ حلف نامہ جاری ہوا۔ جناب بھٹو صاحب کو سزائے موت جسٹس مشتاق نے دی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس مشتاق کو چیف الیکشن آف پاکستان بنا دیا۔ جسٹس مشتاق کے سر پر سوار تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو مجھے لٹکا دیں گے۔ مرزا ناصر قادیانی لاٹ پادری نے جسٹس مشتاق کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے جھانسہ دیا کہ آپ ووٹر لسٹوں سے فارم کے حلف نامہ میں تبدیلی کر دیں۔ جسے قادیانی بھی پر کرسکیں۔ تاکہ ان کا مسلمانوں میں شمار ہو۔ اس تبدیلی کے بدلہ میں ہم ظفر اللہ قادیانی کے ذریعے آپ کو ہیگ کی عالمی عدالت کا جج لگوا دیں گے۔ آپ باہر چلے گئے تو پیپلز پارٹی کی دست برد سے بچ جائیں گے۔
- ۱...... چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان جسٹس (ر) مشتاق حسین کے لئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ وہ آمادہ کیا ہوئے ووٹر لسٹوں کے
فارم کے حلف نامہ میں تبدیلی کر کے فارم چھاپنے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد شریف جالندھری ان دنوں عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ تھے۔ انہوں نے اصل حلف نامہ اور تبدیل شدہ دونوں لئے۔ عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد، مولانا تاج محمود تینوں حضرات مفکر اسلام مولانا مفتی محمود سے سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی میں ملے۔ عیادت کی اور اس صورتحال پر مشاورت کی۔ مفتی صاحب نے نوابزادہ نصر اللہ خان کو بلا لیا۔ تمام حضرات نے غور و فکر کے بعد طے کیا کہ نوابزادہ صاحب جنرل ضیاء الحق سے بات کریں۔ انہوں نے بات کی۔ ضیاء صاحب نے جسٹس مشتاق سے پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ فارم تو چھپ گئے ہیں۔ اب ان کو کینسل کریں تو کروڑوں کا نقصان ہوگا۔ ضیاء صاحب نے نوابزادہ صاحب سے معذرت کر لی اور خود اسی شام عمرہ کے لئے چلے گئے۔ نوابزادہ مرحوم نے مفتی صاحب کو ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا کہ ضیاء مشتاق گٹھ جوڑ پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتا۔ مفتی صاحب نے ضیاء صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری سے کہا کہ میری ضیاء صاحب سے بات کرواؤ۔ سعودیہ میں بات ہوئی۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ تبدیل شدہ حلف والے فارم کینسل کرو۔ اصل حلف والے فارم شائع کرو۔ ورنہ آپ کا ہمارا راستہ جدا جدا۔ اس وارننگ سے ضیاء صاحب کی گردن کا سریا خم کھا گیا۔ تبدیل شدہ حلف والے فارم کینسل ہوئے۔ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ یہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۷۸ء کی بات ہے۔
- ۲...... پھر جب جنرل پرویز مشرف برسر اقتدار آئے۔ ضیاء صاحب نے جداگانہ انتخابات کی طرح ڈالی تھی۔ پرویز مشرف نے ان کو
مخلوط کر دیا۔ مخلوط انتخابات کے لئے ووٹر لسٹیں بننا شروع ہوئیں تو پھر حلف نامہ حذف کر دیا گیا۔ اب جنرل ضیاء کی جگہ پرویز مشرف تھے اور مولانا مفتی محمود کی جگہ مولانا فضل الرحمن تھے۔ کیس وہی کھڑا ہو گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب تھے۔ آپ سے تمام صورتحال عرض کی۔ یہ ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۲ء کی بات ہے۔ ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۲ء کو پرویز مشرف کا ”صاف شفاف ریفرنڈم“ تھا۔ یکم مئی کو ۴؍ بجے شام مولانا فضل الرحمن سے ڈیرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسماعیل خان میں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور فقیر نے شرف ملاقات حاصل کیا۔ ۲؍مئی کوئٹہ میں جمعیت کا جلسہ تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے وہاں سے تحریک کا آغاز کر دیا۔ ۴، ۵؍مئی کو جمعیت کی شوریٰ کا لاہور میں اجلاس تھا۔ جمعیت نے اس مطالبہ کو ملک گیر بنا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تمام دینی جماعتوں کے اشتراک و تعاون سے جگہ جگہ جوت جگائی۔ ۱۰؍مئی ۲۰۰۲ء کو یوم احتجاج منایا گیا۔ ۲۸؍مئی ۲۰۰۲ء کو آل پارٹیز کانفرنس فلیٹیز ہوٹل لاہور میں مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ چاروں مکاتب فکر، تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیہ میں ’’ووٹر لسٹوں میں حلف نامہ کو حذف کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے ورنہ تحریک چلائیں گے‘‘ کا اعلان کیا گیا۔ حق تعالیٰ نے کرم کیا۔ پرویز مشرف کی حکومت نے ۳۱؍مئی ۲۰۰۲ء کو حلف نامہ بحال کر دیا۔ ایک بار پھر کفر ہار گیا اور اسلام جیت گیا۔
- ۳...... اب ۹؍ نومبر ۲۰۱۳ء کی فون کال سے معلوم ہوا کہ تینوں صوبوں کے بلدیاتی امیدواروں کے فارم میں حلف نامہ ہے۔ پنجاب
حکومت کے فارموں میں حلف نامہ نہیں ہے۔ چناب نگر سے لاہور ساڑھے ۹ بجے پہنچے۔ برادر حافظ شفیق الرحمٰن سے لاہور، مولانا قاضی احسان احمد سے کراچی، حافظ محمد انس سے ملتان عرض کیا کہ الیکشن کمیشن کی صوبائی ویب سائٹ سے امیدواروں کے فارم نکالیں۔ حافظ محمد شفیق نے آدھ گھنٹہ میں فارم نکال کر دے دیئے۔ واقعی خبر صحیح تھی کہ تینوں صوبوں میں حلف نامہ ہے۔ پنجاب میں نہیں۔ اب مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب سے عرض کیا کہ آپ مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے رپورٹ عرض کریں اور مدد کی درخواست کریں۔
ادھر فقیر نے جناب مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جناب لیاقت بلوچ، مولانا امجد خان، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا اسعد عبید، مولانا رشید احمد لدھیانوی اور دیگر نہ معلوم کن کن حضرات سے صورتحال عرض کی۔ سب نے مدد کا وعدہ کیا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے فرمایا کہ ملک بھر سے الیکشن کمشنر کو ای میل کے ذریعہ اس غلطی پر احتجاج نوٹ کرایا جائے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ صاحب کی طرف سے یہ درخواست ای میل کی گئی:
بخدمت جناب چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان
گزارش ہے کہ پاکستان میں ممکنہ بلدیاتی الیکشن ۲۰۱۳ء کے لئے جو کاغذات نامزدگی (NOMINATION FORM) برائے کینڈیڈیٹ الیکشن کمیشن (پنجاب) کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں ان میں ختم نبوت کے حلف نامے کو شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ یہ فارم مسلم کینڈیڈیٹ کے لئے علیحدہ طور پر اور غیر مسلم کینڈیڈیٹ کے لئے علیحدہ طور پر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے صوبوں (سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ) کی صوبائی گورنمنٹوں نے علیحدہ شائع کئے ہیں۔ لیکن پنجاب گورنمنٹ نے دونوں کو اکٹھا شائع کیا ہے۔ جس سے مسلم اور غیر مسلم نمائندوں کی پہچان مشکل ہوگئی ہے اور امتناع قادیانیت آرڈیننس غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سابق صدر ضیاء الحق مرحوم اور پرویز مشرف کے زمانہ اقتدار میں بھی یہ مذموم حرکت کی گئی اور فارم سے ختم نبوت کے حلف نامے کو ختم کیا گیا۔ مسلمانانِ پاکستان کی عظیم ترین جدوجہد سے یہ قادیانیت نوازی کوششیں ناکام بنادی گئیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پرنٹ شدہ فارموں کو گورنمنٹ نے ضائع کیا اور نئے فارم جن میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل تھا۔ ان کو شائع کیا۔ اب بھی درخواست کی جاتی ہے کہ ان پرنٹ شدہ فارموں کو ضائع کر کے نئے فارم شائع کئے جائیں۔ نئے فارم شائع کرنا گورنمنٹ کی شرعی و آئینی ذمہ داری ہے اور مسلمانانِ پاکستان کا تسلیم شدہ مطالبہ ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کیا جائے۔ مزید یہ کہ ان مشکل حالات میں جن میں ملک کسی قسم کی غیر یقینی صورت حال کا متحمل نہیں۔ الیکشن کمیشن پنجاب میں چھپے قادیانی یا قادیانیت نواز آدمی کو جس نے بغیر ختم نبوت کے حلف نامے کے فارم شائع کئے ہیں اس کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معطل کر کے سزا دی جائے۔ تاکہ مسلمانان پاکستان کے دلوں کے اندر پائی جانے والی تشویش کا ازالہ کیا جا سکے۔
باقی تینوں صوبوں کی لوکل گورنمنٹ نے اپنے جاری کئے گئے کاغذات نامزدگی (NOMINATION FORM) فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا ہے۔ لہٰذا آنجناب سے درخواست کی جاتی ہے کہ باقی صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کے فارموں میں ختم نبوت کے حلف نامہ کو شامل کیا جائے۔ تاکہ منکرین ختم نبوت (لاہوری و قادیانی گروپ) کا کوئی آدمی مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔ آنجناب کی حضور ﷺ سے محبت کا یہی تقاضا ہے۔ اس لئے پرزور امید کی جاتی ہے کہ اس اہم ترین امر پر فوری عمل کیا جائے گا۔ والسلام! (مولانا) عزیز الرحمن جالندھری ...... جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
ادھر تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے چارسدہ کے برادر عبدالرحمن صاحب لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے صاحبزادہ صاحب اور سیکرٹری صاحب کو نوٹ کرایا کہ وہ فقیر راقم سے مولانا کی بات کرائیں۔ چنانچہ ۲ بجے دن کے قریب اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کا فون آگیا۔ ان سے تفصیل عرض کی۔ آپ نے فون بند کرتے ہی الیکشن کمشنر پنجاب کو فون کیا۔ انہوں نے عذر کیا کہ ہمیں تو جو صوبائی حکومتیں فارم تیار کر کے دیتی ہیں وہی شائع کرتے ہیں۔ باقی صوبوں نے حلف نامہ فارم میں دیا۔ پنجاب حکومت نے نہیں دیا۔ جس نے جو دیا وہ ہم نے لگا دیا۔ اس پر مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ: ”بھٹو کے دور سے آج تک انتخابات چاہے مخلوط ہوں یا جداگانہ۔ مرکزی انتخابات ہوں یا بلدیاتی جو پینتالیس سال سے فارموں میں حلف نامہ ہوتا ہے۔ اس دفعہ کو حذف کر کے پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں نے خلاف قانون کیا ہے۔ جو ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں۔ جس نے یہ سازش کی ہے وہ دل و دماغ سے یہ نکال دے کہ بغیر حلف کے کوئی فارم جمع ہوگا۔ ہم اس کی راہ میں سد سکندری بنیں گے۔ فوراً تدارک کیا جائے ۔“ پنجاب الیکشن کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ میں بھی صوبائی حکومت سے کہتا ہوں۔ آپ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ آپ (مولانا فضل الرحمن صاحب) بھی چیف منسٹر پنجاب سے بات کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد مولانا کے سیکرٹری کی کال سے معلوم ہوا کہ الیکشن کمشنر پنجاب سے مولانا کی بات ہوگئی۔ اب چیف منسٹر پنجاب سے رات بات ہوگی۔
جناب لیاقت بلوچ صاحب، مولانا عبد الخبیر کے بھی فون آئے کہ وہ مسلسل رابطہ میں ہیں۔ لیکن دشمن کی عیاری دیکھیں کہ وار کرنے کے لئے وہ وقت چنا جب دو چھٹیاں تھیں۔ ہفتہ کو اقبال ڈے۔ اگلا دن اتوار۔ اب ساری نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں کہ مولانا فضل الرحمن کی چیف منسٹر صاحب سے بات ہو جائے۔ رات ساڑھے گیارہ بجے فون کی گھنٹی بجی۔ آنکھ کیا کھلی۔ مقدر بھی جاگ اٹھا۔ مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم قائد محترم مخدوم ابن مخدوم کا فون تھا۔ علیک سلیک خیر خیریت کے بعد فرمایا کہ: ”میری ابھی چیف منسٹر پنجاب جناب شہباز شریف صاحب سے فون پر بات ہوئی ہے۔ تفصیل سے دو ٹوک بات ہوئی ہے کہ حلف نامہ کی بحالی کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جناب میاں شہباز شریف نے جواباً کہا کہ: ”مولانا آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے احسان فرمایا کہ اس فروگذاشت پر مطلع فرمایا۔ مجھے نہیں معلوم کیا ہوا۔ ابھی نوٹس لیتا ہوں ۔“ مولانا فضل الرحمن کا فقیر نے سراپا شکریہ ادا کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی دوسرے کمرے سے اٹھ کر آگئے۔ مولانا امجد خان کو فون کیا کہ مسئلہ تو حل ہو گیا۔ خبر بھجوائیں۔ اگلے روز ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۳ء کے جنگ لاہور میں یہ خبر شائع ہوئی:
”بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کیا گیا ہے تو فوری کارروائی ہوگی، شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی : اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں قانون اور شریعت کے منافی کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی کے فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے کی بات اگر ٹھیک ہے۔ تو اس پر فوری کارروائی ہوگی اور وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے یہ یقین دہانی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اس جانب توجہ دلانے پر کرائی کہ یہ بلدیاتی انتخابات کے لئے امیدواروں کے لئے جس فارم کا اجراء کیا گیا ہے ۔ اس میں امیدوار کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کر دیا گیا ہے۔ جس کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ شہباز شریف نے اس معاملے کی جانب توجہ دلانے پر مولانا فضل الرحمن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے رہے ہیں اور اس ضمن میں کارروائی سے انہیں بھی آگاہ کیا جائے گا۔‘‘
یہ خبر بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’بلدیاتی الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کا حلف نامہ دوبارہ شامل کیا جائے۔ مجلس ختم نبوت اور جماعت اسلامی کا مطالبہ ۔ مولانا فضل الرحمن کا وزیر اعلیٰ پنجاب کو ٹیلیفون : لاہور (خبر نگار خصوصی + سٹاف رپورٹر ) جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ پاکستان میں بلدیاتی الیکشن ۲۰۱۳ء کے لئے جو کاغذات نامزدگی برائے امیدواران الیکشن کمیشن (پنجاب) کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں۔ ان میں ختم نبوت کے حلف نامے کو شامل نہیں کیا گیا ۔ یہ دوبارہ شامل کیا جائے ۔ یہ فارم مسلم امیدواروں کے لئے علیحدہ اور غیر مسلم امیدواروں کے لئے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ جب کہ دوسرے صوبوں (سندھ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ) کی صوبائی گورنمنٹوں نے علیحدہ شائع کئے ہیں۔ لیکن پنجاب گورنمنٹ نے دونوں کو اکٹھا شائع کیا ہے ۔ جس سے مسلم اور غیر مسلم نمائندوں کی پہچان مشکل ہوگئی ہے اور امتناع قادیانیت آرڈیننس غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور حکومت کی طرح اب بھی درخواست ہے کہ ان پرنٹ شدہ فارموں کو ضائع کر کے نئے فارم شائع کئے جائیں ۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگی کے لئے تیار کردہ فارم سے ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ کو ختم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس حلف نامہ کو فوری طور پر دوبارہ فارم میں شامل کیا جائے ۔ پریس ریلیز کے مطابق جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ نامزدگی فارم میں ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اہم مسئلہ پر توجہ دلانے پر مولانا کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ اس بات کا نوٹس لے کر تحقیقات کروائیں گے اور حلف نامہ شامل کروائیں گے ۔‘‘
(جنگ ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۳ء)
اللہ تعالیٰ کے کرم کو دیکھیں کہ ۹؍ نومبر کو صبح اطلاع ملی کہ ووٹر لسٹ سے حلف نامہ حذف ہوا ۔ ۹؍ نومبر کے ختم ہونے سے پہلے رات گئے بحالی کا مژدہ سن لیا۔ ۱۰؍ نومبر کو اخبارات میں خبریں بھی پڑھیں جو اب قارئین نے بھی پڑھ لیں۔ لیکن ہماری تشویش کا یہ مرحلہ باقی تھا کہ آج اتوار ہے۔ دفاتر بند، نوٹیفکیشن نہ ہوا تو ۱۱؍ نومبر پیر کو یہی فارم بغیر حلف کے تقسیم ہونا شروع ہو گئے ۔ دشمن تو پھر بھی سازش میں کامیاب ہوگیا ۔ اس پر عمل در آمد پنجاب میں ہونا ہے ۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ، مولانا عبد الخبیر آزاد سے عرض کیا کہ وہ الیکشن کمشنر، وزیر قانون پنجاب ، چیف سیکرٹری سے رابطہ کریں ۔ ( اطلاع یہ ہے کہ آخر الذکر صاحب ہی بنیادوں میں پانی مرنے کا باعث تھے ۔ سراپا حیرت ناک خبریں ہیں ) محترم جناب لیاقت بلوچ سے بھی فون پر عرض کی کہ وہ فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے مدد کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں درخواست تیار کر کے خود اٹھتا ہوں ۔ چھٹی کے باوجود اپنے ذرائع سے چیف منسٹر تک درخواست پہنچاتا ہوں۔ چنانچہ ۱۰؍ نومبر کی صبح انہوں نے یہ درخواست ان تک پہنچائی:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مکرمی و محترمی میاں محمد شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ صوبہ پنجاب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے
آئندہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پنجاب حکومت نے امیدواروں کے لئے جو نامزدگی فارم تیار کیا ہے۔ اس میں سے حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ نکال دیا گیا ہے۔ یہ ایک تشویشناک عمل ہے جس پر مذہبی اور دینی حلقوں کی طرف سے بھی سخت ردعمل آ رہا ہے۔ خصوصاً تحریک ختم نبوت کے ذمہ داران نے رابطہ کر کے احتجاج کے ساتھ دکھ اور رنج کا بھی اظہار کیا ہے۔
آپ کی اس طرف توجہ مبذول کروانے کا مقصد یہ ہے کہ اس حلف نامے کو مذکورہ فارم میں شامل کئے جانے کے احکامات جاری کریں۔ یہ ناپاک جسارت کرنے والوں کا کھوج لگائیں اور انہیں سخت ترین سزا دیں۔ کیونکہ ایسا صرف پنجاب ہی میں ہوا ہے۔ باقی تینوں صوبوں کے تیار کردہ نامزدگی فارم میں یہ حلف بدستور شامل ہے۔ یوں پنجاب حکومت کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہورہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ حرکت بیوروکریسی میں موجود قادیانی لابی کی بھی ہوسکتی ہے تاکہ وہ اپنے لئے راہ ہموار کریں اور یہ باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ کفر کی عالمی طاقتوں کو خوش کر کے ان سے مالی امداد حاصل کی جاسکے۔ یہ دونوں سبب بھی بیک وقت اس ناپاک جسارت اور مذموم حرکت کا محرک ہو سکتے ہیں۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس غلطی کے تدارک کا فوری اہتمام کریں تاکہ حالات مزید بگڑنے نہ پائیں۔ آپ کے تعاون کے لئے شکر گزار ہوں گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین ! والسلام ! خاکسار: لیاقت بلوچ
سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
تھوڑی دیر بعد مولانا عبد الخبیر آزاد نے بتایا کہ الیکشن کمشنر نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے بغیر حلف کے فارم دینے سے روک دیا ہے۔ فارم کے ساتھ حلف نامہ بھی جاری ہوگا اور اس کے بغیر کوئی فارم قابل قبول نہ ہوگا۔ تسلی ہوئی۔ مگر حق الیقین کے درجہ پر پہنچنے کے لئے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ جامعہ اشرفیہ میں مولانا فضل الرحیم نے اسی سلسلہ میں میٹنگ طلب کی اور عملدرآمد کے لئے جدو جہد کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ ہوا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے فون کیا کہ آج امن کمیٹی کی ضلعی میٹنگ تھی۔ میں نے دھواں دھار طریقہ سے ہی نہیں بلکہ طوفانی طور پر حلف نامہ کا مسئلہ اٹھایا۔ تو ڈی سی او سرگودھا نے میرے کان میں آ کر کہا کہ مبارک ہو۔ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ تمام الیکشن اتھارٹیز کو اطلاع مل گئی ہے کہ فارم کے ساتھ حلف نامہ پر کرنا لازمی ہوگا۔ ورنہ فارم قبول نہ ہوگا۔ مولانا کی اس اطلاع سے تسلی تو ہوئی۔ لیکن ابھی خلش باقی تھی۔ شام ساڑھے سات بجے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کا فون آیا کہ نوٹیفکیشن ہو گیا ہے۔ تمام اتھارٹیز کو پابند کر دیا گیا ہے۔ صبح سے عمل درآمد کے نظارے ہوں گے۔ یہ ٹی وی پر اعلان سات بجے شام کی خبروں میں میں نے خود سنا ہے۔ یہ سنتے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لائے۔ فقیر نے مولانا فضل الرحمن کو میسج کیا: ”حضرت ! مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی محنتوں کو قبول فرمایا۔ آپ کی کوششوں سے نوٹیفکیشن ہو گیا ہے۔ ٹی وی پر خبر آ گئی ہے۔ شکر یہ بہت ہی شکریہ!“
رات گئے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر فرمایا کہ ابھی رانا ثناء اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی ہے۔ مبارک ہو نوٹیفکیشن ہو گیا ہے۔ اب صبح اٹھے تو خبر تھی:
”کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کا حلف شامل کر دیا ہے: رانا ثناء اللہ ۔ لاہور (خبر نگار) صوبائی وزیر بلدیات و قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے نامزدگی فارمز میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ قانون نے ترمیمی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر کے ریٹرننگ افسروں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ انتخابی امیدواروں سے ان نامزدگی فارمز پر دستخط کرائیں جن میں ختم نبوت کے حلف نامے کا ذکر ہے۔“
(نوائے وقت ملتان ۱۱/نومبر ۲۰۱۳ء)
۱۱ / نومبر صبح سے امیدواروں نے فارم لینے شروع کئے ۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب چنیوٹ سے فارم کے ساتھ حلف نامہ بھی لائے ۔ امیدواروں کو جس کھڑکی سے فارم مل رہے تھے ۔ ساتھ میں حکومت حلف نامہ بھی دے رہی تھی کہ اس کے بغیر مسلمان امیدوار کا فارم قبول نہ ہوگا ۔ یہی اطلاع مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے میانوالی الیکشن آفس سے معلومات حاصل کرنے کے بعد دی ۔ لیجئے آپ بھی حلف نامہ پڑھیں :
AFFIDAVIT
I, _________________ S/O, D/O, W/O ________a candidate, solemnly swear that;
I beleive in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace be upon him), the last of the prophets and that i am not the follower of any one who claims to be a Prophet in any sense of the word or of any description whatsoever after Prophet Muhammad (Peace be upon him), and that i do not recognize such a claimant to be Prophet or a religious reformer, nor do I belong to the Qadiani group or the Lohori group or call myself an Ahmadi.
Signature/ Thumb of the Candidate CNIC #__________________________ Adress: ________________________
لیجئے قارئین ! اب اجازت سے پہلے پھر میرے ساتھ مل کر فرمائیے کہ : ”کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا ۔“ ( درمیان میں فروری ۲۰۰۲ء میں جب ارشاد حسن خان چیف الیکشن کمشنر تھے تب بھی یہی ہوا تھا کہ : ”پہلے کینسل ہوا ۔ پھر بحال ہوا۔ اس کی تفصیلات پھر سہی ۔ )
جناب ! کیا قادیانی کرم فرما توجہ کریں گے کہ بار بار کی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونے کے بجائے چار حرف مرزا قادیانی پر بھیج دیں ۔ ۱۹۷۴ء سے ۲۰۱۳ء تک اس جدوجہد میں حق تعالیٰ نے اہل اسلام کو فتح سے سرفراز کیا ۔ زندگی کا پتہ نہیں ۔ لیکن قادیانی نہ بھولیں کہ ہم رہیں نہ رہیں جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے ۔ قادیانیت کا تعاقب جاری رہے گا ۔ امت کبھی اس مسئلہ سے صرف نظر نہیں کرے گی ۔ سیدنا صدیق اکبر ؓ سے یہی تسلسل ہے جو جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ !
مجھے عرض کرنا ہے کہ یہ بات کہ حضرت الامیر دامت برکاتہم کو جس وقت لاہور حلف نامہ کے حذف ہونے کی خبر سنائی تو آپ جس طرح دل گرفتہ ہوئے اور پھر بحالی پر جس انبساط کا ظہور ہوا ۔ میرے لیے وہی کیفیات کافی ہیں اور بس ۔ کیا قارئین فقیر کی اس درخواست کو دل میں جگہ دیں گے کہ قائد محترم مولانا فضل الرحمن صاحب کو اپنی دعاؤں میں کبھی نہ بھولیں ۔ وہ ہمارے محسن ہیں اور سوائے دعاؤں کے ہم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہیں اور کیا صلہ دے سکتے ہیں؟ انہیں دنیا میں رب کی رحمت اور آخرت میں حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۳ء ص۳ تا ۱۰)
مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کا اجلاس عام
مؤرخہ ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء دہلی کے مشہور معروف مسلم علاقہ سنگم وہار کی بڑی مسجد فردوس میں مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کا اجلاس عام منعقد کیا گیا جس میں سنگم وہار، تغلق آباد، دیولی گاؤں، دکشن پوری وغیرہ سے بڑی تعداد میں ائمہ مساجد اور مسلمانوں نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت مجلس کے صدر جناب قاری ربیع الحسن صاحب مدرسہ زینت العلوم دکشن پوری نے کی جب کہ نظامت کے فرائض مجلس کے مبلغ مولانا محمد عارف قاسمی راجستھانی نے ادا کئے۔ امام مسجد فردوس کی تلاوت قرآن مجید سے پروگرام کا آغاز ہوا۔
اجلاس کے خصوصی مہمان مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے اردگرد سیاسی، سماجی اور مذہبی ہر طرح کے فتنے منڈلا رہے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی مسلمانوں کی آزمائش طرح طرح سے ہوتی رہی ہے لیکن اللہ کے مخلص بندوں کو شیطان کبھی گمراہ نہیں کرسکتا۔ اس وقت ضرورت ہے کہ دینی خدمات میں خلوص پیدا کیا جائے تا کہ ہمارا شمار بھی اللہ کے مخلص بندوں میں ہو۔ ان فتنوں میں قادیانیت نے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے اب سیاسی رنگ میں قادیانی، بی جے پی اور آر ایس ایس کا آلۂ کار بن کر راست طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور اُن میں انتشار پیدا کرنے میں لگے ہیں جو کام اسلام دشمن طاقتیں براہ راست نہیں کر پاتیں اس کام کو قادیانی لوگ مسلمان کہلا کر مسلمانوں کے نام پر انجام دے رہے ہیں مسلمانوں کو اس سے باخبر رہنے اور بچنے کی ضرورت ہے۔ قادیانیوں کا سب سے بڑا کام مسلمانوں کے اندر قرآن وحدیث سے ثابت شدہ عقائد واعمال میں تشکیک پیدا کرنا اور انتشار پیدا کرنا ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں سے اطلاع مل رہی ہے کہ لاہوری قادیانیوں اور قادیان کے قادیانیوں نے اپنے تحریف شدہ قرآن پاک کو مسلمانوں کی مساجد میں چوری چھپے رکھ دیتے ہیں۔ عام مسلمانوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ ترجمہ والا قرآن پاک قادیانیوں کا پڑھ رہے ہیں یا صحیح ترجمہ قرآن پڑھ رہے ہیں، قادیانی فتنہ کی اس خطرناک صورتحال نے ایک عجیب تشویش مسلمانوں میں پیدا کر دی ہے۔ ترجمہ قرآن پڑھنے والوں کو چاہئے کہ وہ علماء سے رجوع کریں اور صحیح ترجمہ والا قرآن پڑھیں۔
اجلاس میں مرکز التراث الاسلامی دیوبند کے نائب ڈائریکٹر مولانا محمد جنید رانچوی، مولانا شاہد انور بانکوی۔ مولانا محمد غانم کٹکی، مولانا عبدالستار، حاجی سلیم الدین سیفی، الحاج احسان علی سیفی، بھائی محمد حنیف، بھائی عبدالغفار جناب سراج صاحب انجینئر اور قرب وجوار کی مساجد کے تمام ائمہ ومتولیان مساجد نے جوش وخروش سے حصہ لیا۔ مولانا شاہ عالم صاحب کی دعاؤں پر شب ۱۰ بجے اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۴ء ص ۲۵)
سانحہ راولپنڈی ..... سوچی سمجھی سازش
محرم الحرام میں عاشورہ کا دن پہلے بھی آتا تھا، لیکن اس سے پہلے اس دن سے کبھی کوئی خوف، کوئی فکر اور کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس دن کے آنے سے صحابہ کرام ؓ کی عظمتوں، ان کی رفعتوں، ان کی قربانیوں اور دین اسلام پر ان کی فداء کاریوں کی ایک بار پھر یاد تازہ ہو جاتی تھی اور ہر مؤمن مسلمان جو صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت عظام ؓ کی محبت اپنے سینوں میں رکھتا ہے، ان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دلوں میں بھی دین اسلام پر مر مٹنے اور احیائے دین کے شعبوں میں سے کسی نہ کسی شعبہ میں اپنے آپ کو کھپا دینے کا جذبہ دل میں موجزن اور ٹھاٹھیں مارتا تھا، لیکن اب خود اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والوں اور دین اسلام کا دم بھرنے والوں نے اسلام اور اسلامی تاریخ کا چہرہ ایسا مسخ اور داغ دار کردیا کہ دین اسلام کے متلاشیوں اور اس سے فیضیاب ہونے کا ارادہ رکھنے والوں کو اسلام اور دین اسلام کی تعلیمات کا صاف و شفاف، خوبصورت دمکتا و چمکتا چہرہ کہیں نظر نہیں آتا۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنی خواہشات، خود ساختہ بدعات ورسومات اور اپنے لایعنی توہمات وافکار کو دین واسلام کا نام دے کر ان کی ترویج واشاعت کو اپنا مقصد اولین بنادیا اور اپنے مخالفین کو دین اسلام کا منکر، گستاخ، گمراہ اور نامعلوم کیا کیا کہا گیا۔
اب بات صرف یہاں تک نہیں رکی بلکہ ہر ایک نے اسلام کا کلمہ پڑھنے اور اس کا دم بھرنے کے باوجود اپنے شوق، اپنی ترجیحات اور اپنے خیالات کو ہی دین اسلام اور دین حق سمجھ کر اس کو عملی جامہ پہنا دیا اور اپنے طبقے کے ماسوا کو دین سے خارج اور بے دین کہنے کو ہی دین کی بڑی خدمت باور کیا جانے لگا۔ جس کی نحوست یہ ظاہر ہوئی کہ آج اپنے ماسوا کوئی کسی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں اور مسلمانوں کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوکر رہ گئی۔
اہل علم کا نظریات کا اختلاف آج کا نہیں بلکہ چودہ صدیاں اس پر بیت گئی ہیں، لیکن یہ عدم برداشت کا کلچر ان ادوار میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایسے لوگوں کو صرف وہی لوگ گناہگار اور گردن زدنی کے مستحق نظر آنے لگے جو اپنے حلیے، لباس وپوشاک، سیرت وصورت، وضع قطع اور انداز واطوار سے دین سے متعلق اور منسوب ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو خانہ خدا میں اپنے خالق ومالک کی بارگاہ میں سربسجود ہوکر اپنی عجز وانکساری کا اظہار اور حق بندگی کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں یا رسول کریم ﷺ کے مدرسہ صفہ میں پڑھنے والے صحابہ کرام ؓ کی یاد تازہ رکھنے والے مدارس میں پڑھنے والے طلباء بنتے ہیں یا وہ تاجر برادری کے افراد اور ان کے کاروبار جو ان دینی اداروں سے ملحقہ ہوتے ہیں، جیسا کہ اس محرم الحرام ۱۴۳۵ھ یوم عاشورہ میں تازہ واقعہ جامعہ تعلیم القرآن راولپنڈی اور اس کے راجہ بازار کا ہے، جس کی تفصیلات اخبارات کے الفاظ میں اس طرح آئی ہیں:
”راولپنڈی (نمائندہ خصوصی، خبر ایجنسیاں) راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس میں شامل شرپسند عناصر نے جامعہ تعلیم القرآن اور مسجد پر حملہ کر کے ۱۱ طلباء اور ۴ نمازیوں کو شہید، جب کہ ۱۰۰ سے زائد افراد کو زخمی کردیا، شرپسندوں نے مسجد، مدرسے اور راجا بازار کی ۱۰۰ دکانوں کو نذر آتش کر دیا، ہنگامہ آرائی کے دوران جامعہ تعلیم القرآن کے متعدد طلباء لاپتا بھی ہوگئے، حکومت نے صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے فوج کو طلب کرلیا، بعدازاں راولپنڈی شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، ادھر پنجاب حکومت نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے اور ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کی تقریر کے دوران ۲۰ کے قریب مسلح افراد مسجد کا گیٹ توڑ کر اندر آئے اور صحن میں جمع ہوکر نعرے بازی شروع کردی، اس دوران نمازیوں نے انہیں باہر نکال دیا، نماز کے بعد ڈیڑھ سو کے قریب چھریوں، ڈنڈوں اور بندوقوں سے مسلح افراد نے حملہ کردیا، ان کے ہاتھوں میں پیٹرول کے کین بھی تھے، انہوں نے آتے ہی توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ اور نشانہ بنا کر فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا، جس سے ۱۰۰ سے زائد افراد زخمی، جب کہ ۴ نمازیوں اور ۱۱ طلباء سمیت ۱۵ افراد شہید ہوگئے، حملہ آوروں کی ٹولی فوارہ چوک پر موجود جلوس سے آئی تھی، حملہ آوروں نے مغرب تک مسجد و مدرسہ کے احاطے میں رہ کر قتل وغارت کا سلسلہ جاری رکھا، انتظامیہ شرپسندوں کی موجودگی اور قتل وغارت سے مکمل طور پر باخبر تھی مگر کچھ بھی نہیں کیا، واقعے میں مسجد ومدرسہ کی پوری عمارت اور ملحقہ مارکیٹیں مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئیں۔ شرپسندوں نے کپڑے کی مارکیٹ کو بھی آگ لگادی جس سے کم ازکم ۱۰۰ دکانیں جل گئیں،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرپسندوں نے آگ بجھانے کے لئے آنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی روک دیا۔ ضلعی انتظامیہ نے صورت حال پر کنٹرول پانے کے لئے فوج کو طلب کر لیا جس کے بعد شہر کے ۱۹ تھانوں کی حدود میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں ہنگامہ آرائی کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس دلخراش واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کی سربراہی میں ۵ رکنی کمیٹی قائم کر دی جو ۳ روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی جب کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے کروائی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ہفتہ کے روز پیش کی جانے والی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے فوج اور رینجرز کی خدمات لینے کی بجائے خود معاملے کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہوئی اور جانی و مالی نقصان ہوا۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۷؍نومبر۲۰۱۳ء)
ہر مسلمان یہ پوچھنے کا اختیار رکھتا ہے کہ جو فعل اور عمل اسلام میں کفر سمجھا جاتا ہے، جس کا کرنے والا بجا طور پر قرآن وسنت کی روشنی میں مرتد اور آئین پاکستان کی رو سے قابل مواخذہ وسزا ٹھہرتا ہے۔ وہی عمل اگر عاشورہ کے دن کیا جائے، نواسۂ رسول کی شہادت کے غم کی آڑ میں کیا جائے، نماز پڑھنے والے لوگوں پر گولیاں برسائی جائیں، قرآن کریم کے نسخوں کو شہید کیا جائے، مسجد اور مدرسہ میں کیمیکل ڈال کر اس میں آگ کے شعلے بھڑکا کر اسے بھسم کر دیا جائے تو بتایا جائے کہ ایسے لوگوں کا شمار کن میں ہوگا؟ اور یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں، کن کے اشاروں پر آئے ہیں اور کس کے ساتھ آئے ہیں اور پولیس والے کیوں غائب ہوئے ہیں، یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کا جواب حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ ہے؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸تا ۱۵؍دسمبر۲۰۱۳ء ص ۵، ۶)
سپریم کونسل قائم کرنے کا اعلان
۵؍دسمبر ۲۰۱۳ء جمعرات صبح دس بجے جامع مسجد پرانا قلعہ راولپنڈی میں امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی صدارت میں وفاق المدارس کی دعوت پر ملک گیر علماء کرام اور دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، اہل سنت والجماعت، جمعیت اشاعت التوحید، مجلس احرار اسلام، تحریک خدام اہل سنت، اتحاد اہل سنت اور تمام بڑے مدارس اور تنظیموں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی۔ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں قائد انقلاب اسلامی مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا اشرف علی، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا قاضی عبدالرشید، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا اورنگزیب فاروقی، مولانا ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن، مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر، مولانا اللہ وسایا، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا ارشاد احمد کبیر والا، مولانا انوار الحق، مولانا سعید یوسف، مولانا سید عدنان کاکا خیل، مولانا مفتی محمد جامعۃ الرشید، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا مفتی محمد نعیم، مولانا عبید اللہ خالد، مولانا قاری محمد ابوبکر جہلم، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن، مولانا محمود الحسن اشرف، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا گل نصیب خان، مولانا پیر سیف اللہ خالد، مولانا رشید اشرف،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا راحت علی ہاشمی، مولانا امداد اللہ، مولانا مفتی محمد طیب، مفتی طاہر مسعود، مولانا عبدالمجید، مولانا گلزار قاسمی، مولانا محمد ابراہیم، مولانا زبیر صدیقی، مولانا قاضی نثار، مولانا محمد ادریس کنڈیارو، مولانا قاری مہر اللہ، مولانا فیض محمد، مولانا مفتی صلاح الدین، قاری خلق داد عثمان، مولانا حبیب الرحمن، مولانا مسعود الرحمن عثمانی، مولانا عبدالمجید ہزاروی، مولانا عبدالغفار، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا نذیر فاروقی، مفتی عبدالرحمن، مولانا شبیر احمد، مولانا پیر اویس عزیز ہزاروی، مولانا شمس الرحمن معاویہ، مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا زاہد وسیم اور مفتی امان اللہ و دیگر علمائے کرام اور تاجر رہنما جناب شرجیل نے شرکت کی۔
اجلاس میں سانحہ تعلیم القرآن راولپنڈی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور یوم عاشورہ پر پیش آنے والے اس سانحے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ نے باہمی اتفاق رائے سے سپریم کونسل بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔ سپریم کمیٹی دیوبندی مکتب فکر کے رہنماؤں جید علمائے کرام سے رابطے کر کے متفقہ طور پر حکمت عملی مرتب کرے گی۔ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ اس کونسل کے سربراہ ہوں گے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سانحہ راولپنڈی افسوسناک ہے۔ حکومت متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے کردار ادا کرے۔ اجلاس میں کمیشن کی رپورٹ جلد مکمل اور ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے پنجاب حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سانحے کے حوالے سے جو بھی اقدامات کرے اس پر پوری قومی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عالمی قوتیں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے ان کے مابین تصادم اور نفرتیں پیدا کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ امت مسلمہ اور پاکستانی قوم فرقہ وارانہ جھگڑوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کے دلخراش سانحہ کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل کو روکنے کے لئے علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں نے جس تدبر اور حکمت عملی سے کام لیا وہ قابل ستائش ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت صلیبی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ امریکی ڈرون حملے شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا راستہ نہیں روکا جارہا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اس وقت پورا ملک حالت جنگ میں ہے اور قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے۔ قوم کو متحد ہو کر تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ وفاق المدارس کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ حکومت پنجاب اس واقعہ کے ذمہ دار حملہ آوروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن پولیس افسران کو معطل کیا گیا۔ ان کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں غفلت برتنے پر کارروائی بھی ہونی چاہئے کہ حکومت کی جانب سے سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لئے بنایا گیا۔ کمیشن محض روایتی نہیں بلکہ عملی ہونا چاہئے۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کراچی کے حالات خراب کرنے میں بلیک واٹر ملوث ہے جو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کر رہی ہے۔
اس اجلاس میں مولانا محمد الیاس گھمن نے بھی اجلاس کے شرکاء سے خطاب کیا اور مختصر وقت میں اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو پیش آمدہ مسائل کے لئے جید اور مستند علماء پر مشتمل فقہی بورڈ بنا دیا جائے اور اس بورڈ کی رائے پورے مسلک کی رائے شمار ہو۔ مختلف مسلکی اور نظریاتی تنظیمات کا ایک ایک فرد لے کر ایک مشاورتی بورڈ بنایا جائے تاکہ ہر تنظیم اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اس انداز میں کام کرے کہ باہمی تصادم کی نوبت نہ آئے اور بورڈ کو جمعیت علماء اسلام اور وفاق المدارس کے زیر نگرانی کر دیا جائے اور اس نگران بورڈ کی ہدایات پر عمل کرنے کے لئے تنظیمات کو پابند بنایا جائے۔ موجودہ صورتحال میں مسلک دیوبند کو متحد کرنے کے لئے تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ہی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق اور صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا سلیم اللہ خان اور صدر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دارالعلوم کراچی مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہم کی سرپرستی اور نگرانی میں ایک اجلاس طلب کیا جائے اور مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب قاسمی، مولانا قاضی نور محمد ، مولانا محمد علی جالندھری اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے جس تحریر پر دستخط فرمائے تھے۔ اسی پر دستخط کرنے کے لئے فریقین کو پابند کیا جائے۔ نظام تعلیم کو مضبوط اور محفوظ رکھنے کے لئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان جب کہ ملک میں نظام شریعت کو نافذ کرنے کے لئے جمعیت علماء اسلام کو مضبوط بنایا جائے اور الیکشن کے دنوں میں متفق اور متحد ہو کر جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر الیکشن لڑا جائے اور اسمبلی اور سینیٹ میں مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ تمام تر دینی وسیاسی معاملات میں قیادت پر مکمل اعتماد کیا جائے اور کچھ اختلاف رائے بھی ہو تو اس کا اظہار سٹیجوں پر نہ کیا جائے۔
اجلاس کے بعد متفقہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ راولپنڈی کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے، فرقہ وارانہ کشیدگی کے سدباب کے لئے مؤثر قانون سازی اور تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جائیں۔ حکومت پنجاب اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنائے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مؤثر قانون سازی کی جائے اور تمام مکاتب فکر کی مذہبی رسومات کے لئے حدود کا از سر نو تعین کیا جائے۔ تاکہ گنجان آباد علاقوں میں کوئی تصادم کی فضاء نہ بن سکے۔ مسجد دارالعلوم تعلیم القرآن اور متأثرہ مارکیٹ کی مقررہ شیڈول میں تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔ کمیشن میں شہادتیں دینے کی تاریخ میں توسیع کی جائے۔ سانحہ کے بعد پولیس افسران کی معطلی کافی نہیں بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اڑھائی بجے مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی کی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۴ء ص ۳ تا ۵)
قادیانیوں کی جانب سے ایک دھمکی
جالندھر پنجاب سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ کے مطابق مؤرخہ ۲۰ دسمبر ۲۰۱۳ء کو قادیانیوں کی جانب سے ایک خبر شائع ہوئی۔ جس میں نام نہاد ’احمدیہ جماعت‘ پر لگا تار مظالم ڈھائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ان پر ایسے ہی جبر اور ظلم ہوتا رہا تو تیسری عالمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اُن پر مظالم کس کی جانب سے ڈھائے جارہے ہیں اور کہاں ڈھائے جارہے ہیں۔ اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد برطانیہ امریکہ اور اسرائیل کے حکام کو خوش کرنا ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس آزادی سے قادیانی فرقہ کے لوگ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ہندو یا مسلمان ایک فیصد بھی کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ بھلا اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ مسلمانوں کے تمام حقوق پر قادیانی لوگ خود کو مسلمانوں سے الگ مانتے ہوئے بھی غاصبانہ قبضہ کر رہے ہیں۔ جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ کسی ایک مسلمان کو اپنے مرگھٹ میں دفن کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اسی طرح قادیان میں مسلمانوں کو گھر بسانے کی بھی اجازت نہیں۔ جن مسلمانوں نے قادیان میں گھر بنایا۔ اُن کو چن چن کر قادیانیوں نے شہید کر دیا۔ جب کہ مسلمانوں کے درمیان ان کی نکسیر تک نہیں پھوٹتی۔ برادران وطن ہندوؤں نے بھی اپنے درمیان انہیں جگہ دے رکھی ہے۔ مگر قادیانی ہیں کہ اپنے گرو مرزا غلام قادیانی کو شری کرشن اوتار کا درجہ دیتے ہیں۔ بھلا اس سے بڑی توہین ہندوؤں کی اور کیا ہو سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ پھر بھی قادیانی خود کو مظلوم اور ہندوؤں یا مسلمانوں کو ظالم بتاتے ہیں۔ سچ ہے ان لوگوں کی ہمیشہ سے یہ سازش رہی ہے کہ کسی طرح سے ہندوستان میں امن وامان کی قائم فضاء کو بدامنی اور جنگ وجدال میں تبدیل کیا جائے تاکہ ان کے برطانوی آقاؤں کو دوبارہ ہندوستان میں پیر جمانے کا موقع مل سکے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاولپور چوک فوارہ کا نام ”ختم نبوت چوک“ ہائیکورٹ کا فیصلہ
بہاول پور چوک فوارہ کا نام ختم نبوت چوک رکھنے کے لئے رفقاء نے کوشش کی۔ بورڈ و بینر لگائے۔ انتظامیہ نے اتار دیئے۔ جناب حاجی محمد شفیع صاحب کی طرف سے ہائیکورٹ لاہور کے بنچ بہاول پور میں کیس دائر کر دیا گیا۔ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۳ء کو سال کی آخری خوش کن خبر اسلامیان پاکستان کو سننے کے لئے ملی کہ ہائیکورٹ میں انتظامیہ کے وکلاء نے ختم نبوت چوک نام رکھنے پر اعتراض نہیں کیا۔ چنانچہ بہاول پور ہائیکورٹ بینچ نے فیصلہ سنا دیا کہ چوک فوارہ کا نام چوک ختم نبوت ہوگا۔ جناب مشتاق احمد وڑائچ، اختر حسین رامے، محمد اشفاق، الطاف نواز چٹھڑ ان تمام وکلاء نے کیس کی پیروی میں بھر پور حصہ لیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس فیصلہ پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۵۲)
کراچی سے گوادر کے سفر کی روئیداد
ملک خداداد پاکستان ظاہری اور باطنی اعتبار سے رب کریم کی عنایات سے مالا مال ہے، کہیں سرسبز و شاداب میدانی علاقے، کہیں لہلہاتی کھیتیاں، کہیں بلند و بالا دلکش و خوبصورت پہاڑ جو برف پوش ہیں تو کہیں سبز گہرے رنگ کا لباس زیب تن کئے ہوئے، ناظرین کے لئے قدرتی مناظر کا پیش بہا خزانہ اور روح پرور نظارے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کا رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، طول وعرض میں پھیلے ہوئے اس وسیع و عریض صوبہ کو بھی رب تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ عجیب و غریب طرز کے بلند پہاڑ، رنگا رنگ کی شکل وصورت، نقش ونگار سے آراستہ و پیراستہ، خالق کائنات کی قدرت کی گواہی دے رہے ہیں۔
چند ماہ قبل تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تربت کا دورہ کیا اور اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی مشاورت سے گوادر اور گرد ونواح کے علاقوں میں تبلیغی پروگراموں کا نظم قائم کیا گیا، چنانچہ بروز بدھ ۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۳ء کی صبح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیرینہ محب مولانا احمد شاہ بلوچ کی ہمراہی میں راقم گوادر کے سفر پر روانہ ہوا۔ یوسف گوٹھ سے جاوید ایکسپریس کے ذریعہ سفر شروع ہوا، آرام دہ، خوبصورت بس کا سفر اور بھی دلچسپی کا باعث بن گیا، بس بل کھاتی خوبصورت سڑک کے نشیب وفراز پر گھومتی اور فراٹے بھرتی ہوئے منزل کے قریب ہو رہی تھی۔ ظہر کی نماز اوڑماڑہ ساحل سمندر پر واقع مسجد میں ادا کی، جس کے پہلو میں ایک سادہ مگر پروقار ہوٹل بھی موجود ہے نماز ادا کی، کھانا کھایا، دوبارہ سفر شروع کیا، بس اوڑماڑہ، پسنی، نلینٹ، سر بندر کے راستہ سے ہوتی ہوئی شام ۷ بجے گوادر ٹرمینل پر پہنچ گئی۔ جہاں جامعہ علوم اسلامیہ کوہ بن وارڈ کے مہتمم مولانا ریاض احمد اور متعلم تیمور پہلے سے موجود تھے۔ بڑے پر تپاک انداز میں استقبال کیا اور خیر مقدمی کلمات کہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ قبل از عشاء پہنچے تو اسکول کے چھوٹے بچے جو بعد ظہر قرآن کریم کی تعلیم اور بعد مغرب اسکول کا ہوم ورک یہاں کرتے ہیں کا ایک جم غفیر تھا، چڑیوں کی چہچہاہٹ کی طرح مدرسہ کے درودیوار گونج رہے تھے۔ فضاء قرآن کریم کی صداؤں سے مسحور کن ماحول پیش کر رہی تھی، نماز عشاء اور کھانے کے بعد مختصر تعارف اور سفر کی غرض وغایت پیش کی اور آرام گاہ کی طرف چل دیئے۔
نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد علاقائی دستور کے مطابق چائے نوش کی اور پھر آج بروز جمعرات کی مصروفیات کے متعلق مشاورت شروع ہوئی تو بعد مشورہ طے پایا کہ آج قبل از ظہر تک مدارس کا دورہ، علماء سے ملاقات بعد ازاں اگلے سفر کا نظم قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ مولانا سلمان، مولانا محمد علی، طالب علم تیمور کے ہمراہ مدارس کا دورہ شروع ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سب سے پہلے جامعہ علوم اسلامیہ کوہ بن کے مدرسین اور طلباء کے سامنے راقم نے عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں تفصیلی بیان کیا، کام کی اہمیت اور علماء کرام کو ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد مدرسہ قاسم العلوم میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، یہاں پر ہمارے میزبان مدرسہ کے ناظم مولانا محمد خیر تھے، انہوں نے علاقائی رواج کے مطابق پُرجوش انداز میں اپنے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مدرسہ کے اساتذہ کرام کو جمع کیا، یہاں پر بھی اسی سابقہ عنوان پر گفتگو ہوئی، تمام اساتذہ کرام اور مدرسین نے تحفظ ختم نبوت کے لئے کام کرنے کا عزم کیا۔ بعدازاں مدرسہ مطلع العلوم کے لئے روانہ ہوئے، چند منٹ موٹر سائیکل کی سواری اختیار کرنے کے بعد مدرسہ میں پہنچ گئے، جہاں پر پہلے سے اطلاع کے مطابق مدرسین واساتذہ کرام جمع تھے، ملاقات ہوئی، یہاں پر جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مختصر تعارف اور اغراض ومقاصد سے ساتھیوں کو آگاہ کیا، تمام احباب انتہائی خوشی محسوس کررہے تھے کہ اس دور افتادہ علاقہ میں اکابر کی جماعت کے کارکنوں کا آنا اور تحفظ ختم نبوت کی صداؤں کو بلند کرنا ہمارے لئے سعادت اور خوش بختی کی بات ہے۔ راقم نے ایک بات جو کثرت سے ان احباب کے سامنے رکھی وہ یہ تھی کہ بظاہر جسمانی شکل وصورت میں یہاں قادیانیت کا وجود مسدود لگ رہا ہے، مگر ان کی مصنوعات کی شکل میں قادیانیوں کا وجود ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے بعد ان کی مشروب ساز کمپنی شیزان اور اس کے مالکان کی ارتدادی سرگرمیوں سے ان کو آگاہ کیا، تمام احباب نے اس تمام گفتگو کی پُرزور تائید کی اور ہر لحاظ سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ قبل از ظہر کی طے شدہ مصروفیات میں سے ایک جگہ باقی تھی جس کی طرف جانا ہوا، علاقہ کا نام گٹی ڈور ہے، یہاں پر مدرسہ حمادیہ واقع ہے، مولانا لطف اللہ اور ان کے مدرسہ کے اساتذہ اور مولانا محمد مجاہد خطیب جامع مسجد فقیر کالونی سے تفصیلی ملاقات ہوئی، تحفظ ختم نبوت مشن سے متعلق مشاورت بھی ہوئی۔ علاقائی علماء اور خطباء کرام کی فہرست، مساجد کے نام اور ایڈریس جمع کرنے اور جلد مطلع کرنے کی ذمہ داری مولانا محمد مجاہد اور مولانا سلمان کے سپرد کی۔ ہر دو احباب نے خوش دلی سے یہ خدمت قبول کی۔
نماز ظہر اپنے میزبان مولانا ریاض کے مدرسہ میں ادا کی، کھانا کھانے کے بعد اگلا سفر شروع ہوا، جیوانی ایران کے بارڈر کے بالکل قریب کا علاقہ ہے، مین سڑک سے جیوانی کو مڑتے ہوئے تقریباً ۳۱ کلو میٹر اور جیوانی پہنچ کر سمندری راستہ سے تقریباً دس بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ایران شروع ہوجاتا ہے۔
جیوانی میں مولانا محمد زاہد صاحب فاضل جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ہمارے میزبان تھے، یہاں نماز عصر ادا کی، ان سے اپنی آمد سے متعلق مختصر گفتگو ہوئی، چائے نوش کی، نماز مغرب کے لئے علاقہ جیوانی کے ممتاز عالم دین استاذ العلماء مولانا مفتی عبدالستار صاحب کے یہاں پہنچ گئے، مغرب کے بعد مولانا سے نہایت خوشگوار ماحول میں تفصیلی نشست ہوئی، جس میں مولانا مدظلہ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آپ حضرات بہت اہم کام کررہے ہیں، ہمیں بھی کرنا چاہئے، دوران گفتگو خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد کا ذکر خیر بھی آیا اور مولانا نذرالرحمن بھی گفتگو کا حصہ بنے۔ رب کریم ہماری جماعت اور اکابر کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ مولانا نے یقین دلایا کہ ہم علاقہ بھر میں ختم نبوت سے متعلق ہر کام کے لئے تیار ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطاء فرمائے۔ مولانا سے ملاقات کے بعد واپس مولانا زاہد صاحب کی قیام گاہ کی طرف آئے، نماز عشاء جامع مسجد ذوالنورین کوہ سر جیوانی میں ادا کی، جہاں پر رفیق سفر مولانا احمد شاہ بلوچ نے بلوچی زبان میں انتہائی پُرمغز اور پُرتاثیر خطاب کیا۔ عقیدۂ ختم نبوت، ناموس رسالت کا دفاع اور گستاخان رسول قادیانیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دار انداز میں بیان کیا، راقم کی دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ کھانا مولانا زاہد صاحب کے ہاں طے تھا جس میں خلوص کے ساتھ تکلف بھرا ہوا تھا، سلیقے اور قرینہ کے ساتھ دستر خوان چنا گیا۔ اللہ رب العزت ان احباب کی مہمان نوازی قبول فرمائے بعدازاں کام کے متعلق تفصیلی بات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چیت ہوئی، جس پر مولانا زاہد نے آئندہ کم از کم دو دن کے وقت اور جمعہ کا مطالبہ کیا جسے مولانا احمد شاہ بلوچ نے قبول کیا۔
ہماری رہائش سے تقریباً دس منٹ پیدل کی مسافت پر سمندر کی موجیں ٹھاٹھیں مار رہی تھیں، جس کے نظارے کے لئے بروز جمعہ بعد نماز فجر چائے نوش کرنے کے بعد مولانا احمد شاہ، راقم اور قاری حنظلہ کا جانا ہوا، قاری حنظلہ ہمارے مقامی رہبر اور ساتھی تھے، جنہوں نے تفصیل سے ہمیں سیر کرائی۔ سمندر کی حدود میں تاحد نظر چھوٹی بڑی ہزاروں کی تعداد میں کشتیاں موجود تھیں جو اپنے مشن کے لئے سرگرداں نظر آ رہی تھیں، کہیں ناؤ کے ہمسفر اور کہیں سامان کنارے لگ رہا تھا، اس پر کشش منظر سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ ناشتہ کرنے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ گوادر تقریباً ۷۰ سے ۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا، تقریباً ۱۱ بجے جامعہ اسلامیہ عربیہ پہنچ گئے، جہاں سے اگلے ہدف کی تیاری شروع ہوئی۔
نماز جمعہ میں عوام الناس کے اجتماع سے خطاب کرنے کے لئے جامع مسجد فیض میں مولانا احمد شاہ بلوچ اور جامع مسجد بلال میں راقم کی ترتیب طے ہوئی، ہر دو احباب نے تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری اور فتنہ قادیانیت کی شرانگیزیوں سے متعلق عوام کو آگاہ کیا اور آخر میں حسب ترتیب ہفت روزہ ختم نبوت اور لٹریچر وافر مقدار میں تقسیم کیا گیا، جامع مسجد بلال گوادر کی بڑی مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد ہے، لٹریچر کافی تعداد میں ہونے کے باوجود کم محسوس ہوا، رب کریم رفقاء کی محنتوں کو قبول فرمائے۔
جامعہ علوم اسلامیہ گوادر کی جس پہاڑی کے پہلو میں قائم ہے، اس کی بلندی کی وجہ سے دن ڈھلنے سے پہلے ہی مدرسہ میں سورج ڈھل جاتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم نے اس پہاڑی کی جانب سیر کا پروگرام بنایا، چنانچہ مولانا سلمان، مولانا محمد راشد، قاری عبدالقدوس کی معیت میں سیر و تفریح کا سفر شروع ہوا۔ پہاڑی کے اس سمت تو بہت ہی دلفریب، دلکش اور جاذب نظر منظر سامنے آیا۔ ایک طرف بحیرۂ عرب کا پُرسکون اور دور دراز تک پھیلا ہوا گہرا پانی، دوسری طرف بلند پہاڑ کی چوٹی نیچے خوبصورت، صاف ستھری سڑک اور اس کے ساتھ گوادر کی بندرگاہ جس کی بناء پر پسماندہ علاقہ بھی آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا، غریب عوام امیر اور امیر، امیر تر ہو گئے، بھوکے سونے والے شکم سیر ہونے لگے، یہ رب کی دین ہے، جسے چاہے نواز دے، بہر کیف اس جزیرہ پر قائم گوادر اپنی سادگی کی بناء پر پُرکشش اور جاذب نظر لگ رہا تھا۔
یہاں سے قافلہ سُربندر کی طرف روانہ ہوا، جہاں نماز مغرب میں ملاقات طے تھی، تقریباً ۲۵ کلومیٹر کا سفر تیز رفتاری اور جذبہ سے طے کرتے ہوئے مدرسہ توحیدیہ سُربندر پہنچے، جہاں طے شدہ پروگرام کے مطابق مولانا عبدالرشید، حافظ اللہ بخش اور بلوچی زبان کے نوجوان شاعر عبدالغفار اور دیگر معززین علاقہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پیغام پہنچایا۔ تمام احباب نے اس کام کو کرنے کا عزم کیا اور آئندہ سربندر میں پروگرام رکھنے کا عندیہ ظاہر کیا۔ نماز مغرب واپس گوادر میں ادا کی، بلوچی شاعری سے بھی لطف اندوز ہوئے۔
رات آٹھ بجے گاڑی گوادر سے کراچی کے لئے روانہ ہوئی اور اگلے روز بروز ہفتہ صبح ۵ بجے کراچی یوسف گوٹھ ٹرمینل پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سفر کو بحرمت حضور نبی کریم ﷺ قبول فرما کر دارین کی سعادت نصیب فرمائے، ان تمام علاقوں میں ختم نبوت کی بہاریں قائم فرمائے۔ آمین ! (مولانا قاضی احسان احمد)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍جنوری ۲۰۱۳ء ص۱۹، ۲۰)
تونسہ میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہمارے نمائندے کے مطابق بزدار کے سلطان احمد ولد فضل علی اور محمد افضل ولد محمد خان قوم بلوچ نے بزدار کے مولانا محمد بخش بزدار کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ یہ دونوں آپس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں چچازاد بھائی ہیں، اس علاقہ کی قادیانی عبادت گاہ کے متولی تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد جس میں مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا محمد اقبال مبلغ ختم نبوت، مولانا امان اللہ قیصرانی امیر جمعیت علماء اسلام تحصیل تونسہ شریف دیگر معززین علاقہ نے جا کر ان نو مسلموں کو مبارک باد دی۔ مولانا عبدالعزیز لاشاری نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں حضرات کی اولاد، بھائی، بیوی اور بچے پہلے سے ہی مسلمان تھے، مگر یہ دونوں بضد تھے جب انہوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو ان کا ایک بھائی جو ضلع لیہ میں قادیانی ہے، ان نو مسلم بزرگوں کو آکر دوبارہ قادیانی بنانے کی کوشش کرتا رہا، مگر یہ ثابت قدم رہے اور قادیانی بھائی کو دعوتِ اسلام دی اور اس پر مرزا قادیانی کے مکر و فریب واضح کئے۔ محمد افضل کے ایک بیٹے نے بتایا کہ ہم اپنے بزرگوں کو اکثر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر پڑھاتے تھے، جن کی بدولت اللہ پاک نے ان کو ہدایت عطاء فرمائی، الحمدللہ! تحصیل تونسہ شریف بستی بزدار میں قادیانی جماعت کا تخم ہی ختم ہوگیا۔ اس پسماندہ علاقہ میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا لال حسین اختر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین دعوت و تبلیغ کا کام ہمیشہ کرتے رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۸؍ فروری ۲۰۱۳ء ص ۲۵)
قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے جناب شمس الدین کا قبول اسلام
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
محترم شمس الدین صاحب وہ خوش نصیب انسان ہیں جو عرصہ دراز قادیانیت کی پرفریب راہوں پر بھٹکنے کے بعد حق و صداقت کی فطری اور حقیقی جستجو لئے اسلام کی دہلیز تک پہنچے اور روشنی و نور کی بستی میں داخل ہوگئے اور قبول اسلام کے بعد پہلا انعام خداوندی زیارت بیت اللہ شریف کی صورت میں ملا۔ گنبد خضریٰ کی ٹھنڈی چھاؤں میں پیارے آقائے دو جہاں ﷺ کے قدموں میں کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھنے کی انہیں اور ان کی اہلیہ کو سعادت نصیب ہوئی۔ یہاں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جو لوگ پیدائشی مسلمان ہیں وہ شاید ان لوگوں کی عظمت کردار کو نہ سمجھ سکیں۔ جنہوں نے اپنے مذہب قادیانیت کو ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ مذہب ترک کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں اور نہ یہ لباس بدلنا، گھر بدلنا، ملک بدلنا جیسا کوئی عمل ہے۔ بلکہ ترک مذہب کرنے والا کبھی اپنے ماحول سے بغاوت کرتا ہے۔ کبھی اسے اپنے والدین چھوڑنا پڑتے ہیں۔ کبھی وہ اپنے دوستوں کو دشمنوں میں بدلتے دیکھتا ہے۔ کبھی عزیز و اقارب کی موجودگی میں تنہائی کا عذاب محسوس کرتا ہے، کبھی اسے ایمان کی خاطر اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے اور کبھی زندگی سے محرومی کی سزا بھی ملتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ انتہائی اخلاص و محبت کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر پرخار وادیوں میں عزیمت کی منزلیں طے کرتا ہوا آبلہ پا، اسلام کی وادی امن میں پہنچتا ہے تو یہاں کچھ لوگ اس پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے ہر عمل کو ایک مخصوص زاویے سے جانچتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ یہ بات ان متلاشیان حق کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ مگر مبارکباد کے مستحق ہیں یہ اہل عزیمت جو ہر پریشانی و مصیبت کا نہایت خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت قدم قدم پر ان کی مدد فرماتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ایمان کے لئے کسی شہادت کے محتاج نہیں۔ بلکہ پورا معاشرہ، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان کے ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔
محترم شمس الدین ۱۹۷۴ء میں محلہ فیکٹری چناب نگر میں پیدا ہوئے۔ موصوف کے والد حمید احمد مرزا مسرور احمد (سربراہ جماعت قادیانی) کے رضائی بھائی ہیں۔ محترم شمس الدین صاحب مرزا مسرور احمد کے رضائی بھتیجا ہیں۔ امید ہے کہ مرزا مسرور احمد محترم شمس الدین کے بھتیجا ہونے کا انکار نہیں کریں گے۔
محترم شمس الدین نے ابتدائی تعلیم چناب نگر میں حاصل کی۔ تین سال فضل عمر ہسپتال میں بھی خدمت سرانجام دے چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملازمت کے سلسلہ میں آج کل عارضی طور پر لاہور مقیم ہیں۔ محترم شمس الدین صاحب کے دادا فتح محمد کے دادا نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کی تھی۔ جب وہ قادیان گئے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے خادم نے پوچھا کہ آپ دور سے پیدل آئے ہیں۔ کھانا کھا لو۔ انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں بھوک نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد پھر پوچھا کہ کھانا کھاؤ گے۔ انہوں نے پھر انکار کیا کہ ہمیں بھوک نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد مرزا غلام احمد قادیانی مہمان خانے میں خود آئے اور کہا کہ مجھے اللہ نے خبر دی ہے کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ آپ کھانا کھالیں۔ فتح محمد کے دادا نے کھانا کھا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر لی کہ مرزا قادیانی کو ہماری بھوک کا غیب کے ذریعہ پتہ چل گیا ہے کہ انہیں بھوک لگی ہوئی ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی کے خادم نے پہلے پوچھ لیا تھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور یہاں پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہے اور خادم نے مرزا قادیانی کو بتا دیا تھا۔ اتنی دور سے مہمان آئے ہیں اور کھانا نہیں کھاتے۔ مرزا قادیانی نے اپنے اندازے کو غیب کی خبر میں تبدیل کر لیا۔ ان کی سادگی مرزا قادیانی کی عیاری کے کام آ گئی۔ یوں محترم شمس الدین صاحب کے آباؤ اجداد قادیانی ہوئے۔ (اس بات کے راوی موصوف کے اہل خانہ ہیں) راقم (ماسٹر عبدالقیوم سرگودھا) ۱۷؍ فروری ۲۰۱۳ء محترم عرفان محمود برق صاحب اور محمد ظفر اللہ رانجھہ (للیانی) کی معیت میں محترم شمس الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ قبول اسلام کی مبارک باد دی اور قادیانیت ترک کرنے کا سبب معلوم کیا۔
محترم شمس الدین صاحب نے بتایا کہ میری پیدائش قادیانی ماں باپ کے گھر ہوئی۔ میری فیملی کے تمام افراد سوائے میری اہلیہ کے قادیانی ہیں۔ میں اور میری اہلیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکٹھے اسلام قبول کیا ہے۔ بدقسمتی سے میرے آباؤ اجداد مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت کے بارے کچھ جانے بغیر قادیانیت کو قبول کر بیٹھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ ”اسلام“ کی اصلاح کے لئے آسمانی دعوت ہے اور مرزا غلام احمد کی صورت میں مسیح موعود اور مہدی موعود ظاہر ہو گئے ہیں۔ میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ قادیانیت ہی صحیح اسلام ہے اور قادیانی ہی سچے مسلمان ہیں اور دوسرے لوگ کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم مرزائیت کے بارے میں صرف مرزائی علماء کی تحریرات پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ نظریہ پختہ ہوتا گیا کہ قادیانی ہونے کی حیثیت سے ہم ہی حق پر ہیں اور جو لوگ مرزا غلام احمد، مسیح موعود اور مہدی موعود پر ایمان نہیں لاتے وہ باطل پر ہیں۔ میں نے مرزائیت کے بارے مرزائی لٹریچر ہی پڑھا تھا۔ مسلمانوں نے مرزائیت کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ میرے علم میں نہیں تھا۔ اللہ رب العزت جب کسی انسان پر خاص فضل و کرم کرتا ہے تو اسے دین اسلام کا علم عطاء فرماتا ہے۔ میری ہدایت کا ذریعہ بخاری شریف اور مسلم شریف اور مسند ابی یعلیٰ موصلی کی احادیث بنیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ پس صلیب توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جنگ ختم کر دیں گے۔ مال کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال و متاع سے ایک سجدہ اچھا معلوم ہوگا۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۰)
نوٹ: ”مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔“
(کشتی نوح ص ۶۰، خزائن ج ۱۹ ص ۶۵)
جب میں نے اس حدیث مبارکہ کو پڑھا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ میرے آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ قسم کھائے بغیر بھی کوئی بات فرما دیں تو درست ہوتی ہے۔ اس کو ماننا ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے اور اس حدیث مبارکہ میں میرے پیارے نبی ﷺ قسم اٹھا کر فرما رہے ہیں اور ساتھ تاکید بھی فرما رہے ہیں۔ قسم اس وقت اٹھائی جاتی ہے جب کوئی بات عقلاً ماننا محال ہو۔ یقین دہانی کی آخری حد ہوتی ہے۔ جب کوئی عام مسلمان بھی قسم کھا کر بات کرتا ہے تو ہم فوراً مان جاتے ہیں اور اس خبر یا بات میں کوئی اشتباہ نہیں رہتا۔ ہم اس مسلمان کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بات مان لیتے ہیں اور اس حدیث مبارکہ میں آقائے دو جہان نبی کریم ﷺ قسم اور تاکید سے بات فرمارہے ہیں کہ ”(عیسیٰ) ابن مریم تم میں حاکم عادل ہوکر اتریں گے۔“ آپ ﷺ کے فرمان کی وجہ سے ہم نے قرآن مجید کو قرآن مجید مانا ہے۔ جب کہ ہم نے خود اس کو اترتے نہیں دیکھا۔ دوسری آسمانی کتابوں کو مانا ہے۔ ان کو بھی اترتے نہیں دیکھا۔ جنت کو بغیر دیکھے مانا، دوزخ کو بغیر دیکھے مانا، فرشتوں کو مانا۔ علاوہ اس کے جو بھی ہمیں کوئی شخص یقینی خبر دیتا ہے تو ہم مان لیتے ہیں۔ جب میں اور میری اہلیہ نے اس حدیث شریف پر غور و فکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں کو ایمانی دولت سے منور کردیا۔ رفتہ رفتہ میرے دل میں قادیانیت کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے اور آہستہ آہستہ ہمارے دل سے قادیانیت نکلنے لگی۔ پہلے قادیانیت کی حقانیت پر سو فیصد یقین تھا تو اب مسلسل میرا یقین کم ہونا شروع ہوا۔ پھر میں نے خالی الذہن ہو کر اسلامی لٹریچر کا مطالعہ شروع کیا۔ دوسری حدیث مبارکہ پڑھی جو کہ مسلم شریف میں ہے: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) فج روحاء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کی گھاٹی میں حج یا عمرہ یا دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ساتھ۔“
(مسلم شریف جلد اوّل ص ۳۱۶)
مرزا قادیانی کے نزدیک بھی یہ حدیث ۱۸۹۱ء تک درست تھی۔
(ازالہ اوہام ص ۸۸۲، خزائن ج ۳ ص ۵۸۲)
اس حدیث مبارکہ میں بھی حضور نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور بہ ضرور تشریف لائیں گے۔ قسم کے بارے میں مرزا قادیانی کا فیصلہ بھی سن لیجئے۔ جو بات قسم اٹھا کر کہی جائے اس سے صرف ظاہر معنی مراد لئے جاتے ہیں وہاں تاویل یا استثناء نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی نے خود یہ اصول بیان کیا۔
ترجمہ: ”اور قسم کھا کر کوئی بات کہنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ کہی ہوئی بات ظاہر پر محمول ہے۔ اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ کوئی استثناء۔ ورنہ قسم کھانے کا کیا فائدہ ہے۔“
(حمامتہ البشریٰ ص ۱۴ حاشیہ، خزائن ج ۷ ص ۱۹۲)
تیسری حدیث مبارکہ (حافظ ابو یعلی موصلی ۳۰۷ھ) ترجمہ: ”قسم اس ذات عالی کی جس کے قبضے میں ابوالقاسم (ﷺ) کی جان ہے۔ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ضرور اتریں گے امام ہو کر، منصف ہو کر، حکم بن کر، عدل کرنے والے پھر آپ (علیہ السلام) عیسیٰ میری قبر پر آئیں گے اور فرمائیں گے کہ اے محمد (سلام ہو تم پر) تو میں ضرور جواب دوں گا۔“
(مسند ابی یعلیٰ ج ۶ ص ۱۰۱)
ان تینوں احادیث کو جب میں نے غور و فکر سے پڑھا تو میرا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تین بار قسم کھا کر تاکید فرمارہے ہیں۔ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہی دوبارہ نازل ہوں گے۔ دوسری طرف مرزا قادیانی قسمیں کھا کر کہہ رہے ہیں۔ حق کی قسم ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ دوبارہ نہیں آئے گا۔ مرزا قادیانی کا یہ بیان بھی میرے سامنے تھا۔ ”کہ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی حصہ بخرہ نہیں دیا۔“
(ازالہ اوہام ص ۵۵۷، خزائن ج ۳ ص ۴۰۰)
مرزا قادیانی کے دونوں بیانات میں کتنا تضاد ہے۔ بھلا جو کسی جھوٹ کو قسم کھا کر بیان کرے اس سے بڑا ملعون کون ہوسکتا ہے؟ اس پر خدا، رسول (ﷺ) کی اور تمام کائنات کی لعنت برستی ہے۔ مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں۔ سچے کے کلام میں تضاد نہیں ہوا کرتا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جھوٹ بولنا نجاست خوری ہے۔ کائنات کا وہ سب سے عظیم فرد خاتم الانبیاءﷺ جو صدق وراستی کا پیکر تھا جس نے کبھی کسی کافر سے بھی جھوٹ نہ بولا تھا۔ وہ عظیم ہستی جو مخالفین میں بھی امین وصادق کے عظیم الشان لقب سے معروف تھی، اس نے قسم اٹھا کر فرمایا تھا کہ :’’اس ذات برحق کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں مریم صدیقہ کے فرزند ارجمند لازماً نازل ہوں گے ۔‘‘
(بخاری، مسلم وغیرہ )
ایک طرف اس عظیم ہستی کی قسم اور حلف وتاکید اور دوسری طرف مرزا قادیانی صاحب کا اپنا ’’الہام‘‘ کیا دونوں میں کوئی تقابل اور توازن ہے؟ واضح حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے میں سمجھ گیا کہ صادق وامین ﷺ کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی کیا وقعت ہے؟ مرزا قادیانی نے اپنا (عقیدہ حیات مسیح ، نزول مسیح ) قرآن وحدیث سے نہیں بدلا۔ بلکہ اپنے خاص الہام سے بدلا۔ قرآن وحدیث کے مقابلے میں کسی کے الہام کی کیا وقعت ہے؟ قرآن وحدیث کا مخالف الہام شیطانی ہو سکتا ہے۔ رحمانی نہیں ہو سکتا۔ قرآن کے مفہوم کو بدلنے والا جماعت مسلمین سے خارج ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے۔ تب تک میں اسی عقیدہ ( نزول مسیح) پر قائم تھا۔ جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے ۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ۶ ،خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
اگر وفات مسیح اور عدم نزول کا عقیدہ قرآن مجید میں ہوتا۔ سب سے پہلے قرآن مجید اس کا اعلان کرتا۔ معلم اعظم محمد رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کو سمجھنے اور سمجھانے والے وہ اعلان فرما دیتے اور تیس آیات قرآنی کی نشاندہی فرما دیتے۔ تیرہ سو سال کے مجددین کو بھی وفات عیسیٰ کی آیات نظر نہ آئیں۔ مرزا قادیانی کو ۱۸۹۱ء تک قرآن دانی کا دعویٰ ہونے کے باوجود ’’عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ‘‘ فوت ہو گئے ہیں کی تیس آیات نظر نہ آئیں۔ چودھویں صدی میں مرزا قادیانی کو قرآن مخالف الہام ہونے شروع ہوئے کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہو گئے۔ ان الہامات کی کیا وقعت ہوگی؟
مزید مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ’’یہ تو ایک سرّ الٰہی اور بھید کی بات تھی جو آج سے قبل کسی پر بھی منکشف نہ ہوئی تھی۔ نہ نبی ﷺ پر نہ صحابہؓ اور آئمہ دین پر، نہ قرآن میں نہ حدیث میں ۔ بلکہ یہ تو ایک سرّ مکتوم تھا۔ جسے اب خدا نے صرف اور صرف مجھ پر ہی منکشف فرمایا ۔‘‘
(اتمام الحجۃ ص۲، خزائن ج۸ص۲۷۵)
مرزائیت کو سمجھنے میں ازالہ اوہام کی مندرجہ ذیل عبارت نے میری بھر پور راہنمائی کی۔ مرزائی حضرات! اس عبارت پر غور وفکر کریں تو ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ۔ ( خلاصہ عبارت مرزا قادیانی ) ابن مریم اور دجال اور یاجوج ماجوج کی حقیقت کاملہ آنحضرت ﷺ پر منکشف نہ ہوئی۔ چونکہ سامنے کوئی نمونہ نہ تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ۶۹۲، خزائن ج۳ص۴۷۴)
اور اب مرزا قادیانی پر وہ ہو بہو منکشف ہو گئی ۔
مرزا قادیانی کو یہ بات بھی مسلم ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ابن مریم ، دجال ، یاجوج ماجوج کی حقیقت ہو بہو منکشف نہ ہوئی اور کما حقہ اسے نہ سمجھے۔ بلکہ ان کی حقیقت سمجھنے میں اجتہادی غلطی رہی اور مرزا قادیانی نے کما حقہ سمجھ لیا اور ان پر امور مذکورہ کی حقیقت کاملہ منکشف نہ ہوئی۔ ’’اب نزاع صرف مندرجہ ذیل امور میں ہے ۔ (۱) کیا یہ اجتہادی امور ہیں؟ (۲) انبیاء سے اجتہادی امور میں غلطی ہو سکتی ہے؟ (۳) ان امور میں اگر مرزا قادیانی کا علم با وجود امتی ہونے کے رسول اللہ ﷺ پر بڑھ جائے تو آنحضرت ﷺ کی کوئی تنقیص وتوہین نہیں؟ ابن مریم اور دجال ، یاجوج ماجوج کا علم امور اعتقادیہ میں سے ہے، نہ کہ اجتہادیہ میں سے۔ ہر مسلمان اس سے واقف ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علامات قیامت امور دینیہ، ایمانیہ میں سے ہے۔ مرزا قادیانی کا بھی اتفاق ہے کہ امور دینیہ ایمانیہ میں انبیاء کرام غلطی سے پاک ہوتے ہیں اور خطا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی کی عبارت ملاحظہ ہو: ”لیکن امور دینیہ میں اس خطاء کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کی تبلیغ میں من جانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۶۹۱، خزائن ج ۳ ص ۴۷۲)
مرزا قادیانی صاحب کے مسلم بزرگ علامہ عبدالوہاب شعرانی کا فیصلہ سنئے۔ ترجمہ: ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ حق یہی ہے، عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔“
(الیواقیت والجواہر)
لہٰذا یہ تمام مذکورہ امور دینیہ ایمانیہ ہیں۔ جن سے کسی قسم کی اجتہادی غلطی ناممکن ہے اور ان امور میں کسی امتی کا علم نبی ﷺ سے زیادہ ماننا کھلا کفر ہے۔ کیونکہ یہ امور غیبیہ سوائے وحی ربانی کے عقل سے معلوم ہی نہیں ہوسکتے اور سید الانبیاء ﷺ اگر ان امور غیبیہ اور اس وحی کو سمجھنے میں غلطی کریں تو اصلاح پھر کون کرے گا۔ ان امور میں مرزا قادیانی کا علم رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ماننا کلمہ کے دوسرے حصے کا (محمد رسول اللہ ﷺ) انکار ہے جو کہ سارے دین کا انکار ہے۔ دوسری بات اگر انبیاء کرام سے خدانخواستہ اجتہادی لغزش ہو تو وہ اس پر قائم نہیں رہتے۔ حفاظت الٰہی ان کو کسی غلطی پر باقی نہیں چھوڑتی۔ بلکہ من جانب اللہ انہیں اس پر متنبہ کردیا جاتا ہے۔ کسی امتی کا علم حضور ﷺ سے زیادہ ہونا ناممکن ہے۔ ہمارے آقاء مولا اعلم الاولین والآخرین پر مرزا قادیانی کا یہ محض بہتان اور اتہام صریح ہے کہ: ”ابن مریم، دجال، یاجوج ماجوج کی مو بہ مو حقیقت منکشف نہ ہوئی اور نہ وحی الٰہی نے اس کی عمیق تہ کا پتا دیا۔“
مرزا قادیانی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو: ”مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ نزول اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے حق ہے۔ لیکن مسلمان (تیرہ صدیوں کے) اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کو پردہ اخفاء میں رکھنے کا تھا۔ پس اللہ کا فیصلہ غالب آیا اور لوگوں کے ذہنوں کو اس مسئلہ کی حقیقت روحانیہ سے خیالات جسمانیہ کی طرف پھیر دیا اور وہ اسی پر قانع ہوگئے اور یہ مسئلہ پردہ اخفاء میں رہا۔ جیسے کہ دانہ خوشے میں چھپا ہوتا ہے۔ کئی صدیوں (تیرہ صدیوں) تک حتیٰ کہ ہمارا زمانہ آگیا...... پس اللہ تعالیٰ نے اس بات (نزول عیسیٰ) کی حقیقت کو ہم پر منکشف کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۵۲، ۵۵۳، خزائن ج ۵ ص ۵۵۲، ۵۵۳)
حضور نبی کریم ﷺ احادیث مبارکہ میں قسم کھا رہے ہیں اور تاکید سے فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم ضرور بہ ضرور نازل ہوں گے۔ مسیح ابن مریم ہی دوبارہ نازل ہوں گے نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی اور نہ ہی اس سے مراد ”مثیل مسیح“ ہے۔ آنحضرت ﷺ احادیث میں قسم کھا رہے ہیں کہ ابن مریم نازل ہوں گے اور مرزا قادیانی بھی قسم کھا کر کہتا ہے۔ میں وہی مسیح موعود ہوں۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ ایک مسلمان کو کس کی بات پر اعتماد کرنا چاہئے؟ آنحضرت ﷺ کی خبر پر یا مرزا قادیانی کی خبر پر؟
احادیث مبارکہ سے واضح ہو چکا ہے کہ آنے والے مسیح کا نام ”عیسیٰ“ ہوگا۔ جب کہ مرزا قادیانی کا نام ”غلام احمد“ تھا۔ کہاں ”غلام احمد“ اور کہاں ”عیسیٰ“ فرق صاف ظاہر ہے۔ مسیح علیہ السلام کی والدہ کا نام مریم صدیقہ ہے۔ جب کہ مرزا کی والدہ کا نام ”چراغ بی بی“ مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے جب کہ مرزا قادیانی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ آنے والا مسیح مرزا قادیانی نہ ہوا۔ بلکہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام آنے والے مسیح ہیں۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت حضور نبی کریم ﷺ اور تیرہ صدیوں کے مسلمانوں (پہلی صدی میں صحابہ کرام ؓ بھی شامل ہیں) سے چھپائے رکھی اور صرف مجھ پر منکشف کی۔ کذب اور دجل کی اپنی مثال آپ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء کرام دنیا میں انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے بھیجے انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں سستی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں کی۔ مرزا قادیانی چونکہ خود انگریزی کوشش سے ”نبی“ بنے ہیں اور ان کی ”نبوت“ کسبی (کوشش سے ) ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک سب انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت وہبی ( من اللہ ) ہے۔ شاید اس لئے مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ ۱۰ سال تک چھپائے رکھا اور وحی کے باوجود اپنا عقیدہ نہیں بدلا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے رہے کہ ”اخفاء کرنا میرے نزدیک گناہ ہے اور کمینے آدمیوں کی عادت ہے۔“
(الاستفتاء ص ۳۶، خزائن ج ۲۲ ص ۶۷۵)
اب قادیانی بتائیں کہ اللہ کے حکم کو چھپانے والا کون ہوتا ہے؟ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بھید شروع میں کسی پر نہ کھلا اور یہ رمز کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ تمام لوگ اس سے بے خبر رہے۔
”میرے دعویٰ کی بنیاد انہیں الہامات سے پڑی اور انہیں میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کردیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے ۔“
(اربعین نمبر ۲ ص ۲۱، خزائن ج ۱۷ ص ۳۶۹)
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ آمد مسیح کے بارے میں قرآن مجید کی ایک دو نہیں بلکہ کئی آیات تھیں۔ اب ان کا مصداق مسیح ابن مریم نہیں رہے۔ بلکہ ان کا مصداق اب میں غلام احمد ابن چراغ بی بی ہو گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کو اس مقام سے فارغ کر کے مجھے اس پر فائز کر دیا ہے۔ (العیاذ باللہ ) کتنی حماقت آمیز گپ ہے۔ پہلے تو از روئے قرآن اسی مسیح نے آنا تھا جو مریم صدیقہ علیہا السلام کے فرزند تھے۔ مگر اب ان آیات کا مصداق وہ نہیں رہے۔ بلکہ خدا نے مجھے ان آیات کا مصداق بنا دیا ہے۔ کیا کبھی ایسا ہونا ممکن ہے؟ کہ کسی آیت کا مصداق ہی بدل جائے۔ یہ بات ناممکن ہے۔ حضرت مسیح کے مصداق کی تبدیلی کی بات کرنا جہالت آمیز گپ ہے۔ دوسری بات مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میرے مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی۔ گویا مرزا قادیانی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ قرآن وحدیث کی بنیاد پر مسیح موعود نہیں بلکہ اپنے الہامات کی بناء پر مسیح موعود ہیں۔ دجل وفریب کی حد ہے۔ دعویٰ میں تاخیر وہ بھی سوچے سمجھے منصوبہ سے کر رہے ہیں۔ اگر وہ الہامات اپنے وقت پر ظاہر کئے جاتے تو لوگ مرزا قادیانی کے پیچ میں نہ پھنستے۔ نبی کا کردار ایسا نہیں ہوتا کہ دھوکہ دہی سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ عطاء فرمائے کہ قادیانیت کس قدر دھوکہ اور فریب ہے۔ سادہ لوح لوگ لاعلمی سے پھنس جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور قادیانیت سے نکلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور جو کوئی اس سے جدا ہوگا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔“
(ترمذی شریف)
جماعت بمعنی ”اجتماعی وحدت“ لہٰذا امت مسلمہ بحیثیت مجموعی بے دین اور گمراہ نہیں ہو سکتی۔ اس طرح تمام محدثین، مفسرین، مجددین اور اکابرین امت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور اخیر زمانہ میں نازل ہوں گے۔ جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا ہے: ”ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۴۰۹، خزائن ج ۵ ص ۴۰۹)
ترجمہ: یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے کامل علوم کے ساتھ نازل ہوں گے۔
جناب شمس الدین کی اپیل:
میں نہایت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ، میں ان سب لوگوں سے جو اسلام کی سچی محبت اور تلاش میں اب تک قادیانیت کو قبول کئے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے ہیں، اپیل کرتا ہوں کہ وہ اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ کسی اعتبار سے بھی قادیانیت اسلام نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس کے بانی نے اس کو ”احمدیت“ کا نام دیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شروع سے یہ ایک نیا مذہب ہے۔ علاوہ بریں قادیانیوں کے چند بنیادی عقائد اور اعمال قادیانیت کو اسلام سے بالکل جدا کر دیتے ہیں۔ اس لئے اس کے کٹر پیروؤں کو قرآن کے اس ارشاد کو یاد رکھنا چاہئے اور اس پر غور وفکر کر لینی چاہئے کہ جو بھی اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کا طالب ہو تو اس سے وہ مذہب قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔
(قرآن مجید)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حق کا بول بالا ہو۔ کفر کا منہ کالا ہو۔ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین کی خدمت کی توفیق اور استقامت عطا فرمائے اور شمس الدین اسم بامسمّیٰ بنادے۔ آمین ثم آمین! (یعنی دین کا آفتاب دین کی روشنی پھیلانے والا، اسلام کی اشاعت کرنے والا بنادے)
خصوصی پیغام:
میرے وہ احباب جو کسی بھی وجہ سے قادیانیت کو ہی سچا اسلام سمجھے بیٹھے ہیں اور مرزا قادیانی کی واضح عبارات کی تاویلات کرتے کرتے تھکتے نہیں۔ ان سے میری خصوصی گزارش ہے۔ وہ اختلافی مسائل کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ جس طرح تیرہ صدیوں کے مجددین کرام نے سمجھا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، محدثین کرام نے سمجھا ہے۔ امید ہے پھر ان کو فیصلہ کرنے میں غلطی نہیں لگے گی۔ یک طرفہ دلائل سننے سے آپ کسی درست فیصلہ پر نہ پہنچ سکیں گے۔ آپ کا خیر خواہ: شمس الدین....... رابطہ کے لئے: 34068314-0303
شیخوپورہ کے قادیانی خاندان کے ۹؍ افراد کا قبول اسلام
۱۱؍ جون ۲۰۱۳ء بروز منگل ناصر محمود ولد فضل محمد، قوم مغل کی اہلیہ وفات پاگئی، اہل محلہ نے اس گھرانے کے قادیانی ہونے کی شہادت دی، کیونکہ ناصر محمود کا والد قادیانی تھا، جس کی وجہ سے ناصر محمود کی اہلیہ کو علماء کرام نے متفقہ طور پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے کی اجازت نہ دی۔ ورثاء اپنے مسلمان ہونے کی یقین دہانی کرواتے رہے، لیکن اہل محلہ نے کہا کہ باپ کے بعد اولاد نے رائج طریقہ کے مطابق قادیانیت سے توبہ اور اسلام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تو وہ علماء کی دعوت پر ایسا کرنے پر تیار ہوگئے تاکہ آئندہ اس لیبل کی وجہ سے ہمیں آئین پاکستان کے مطابق اسلامی حقوق سے محروم نہ کیا جاسکے۔ چنانچہ ۱۳؍ جون ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بوقت نماز عصر جامع مسجد اقصیٰ اہلحدیث نزد ریلوے جنڈیالہ روڈ شیخوپورہ میں ناصر محمود ولد فضل محمد اور اس کے خاندان کے دیگر نو افراد نے نماز عصر کے بعد مسجد میں ہی تمام نمازیوں کی موجودگی میں مولانا قاری عزیز الرحمٰن عزیز کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور بآواز بلند شہادتین کا اقرار کیا اور گواہی دی کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک نبوت کا دعویٰ کرنے والا غلام احمد قادیانی سمیت کوئی بھی شخص کذاب اور لعین ہے اور اس کے پیروکار گمراہ اور کافر ہیں۔ اس موقع پر موجود بطور گواہ چند نمازیوں کے بھی دستخط لئے گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جولائی ۲۰۱۳ء ص ۲۶)
شیخوپورہ میں ایک قادیانی خاتون کا قبول اسلام
حکیم یعقوب احمد قادیانی جو کہ خالد روڈ پر رہائش پذیر ہے۔ اس کی بیٹی مسماۃ نور صباء جو کہ رانا عاصم علی صاحب کے ایک پرائیویٹ سکول میں معلمہ تھیں۔ رانا عاصم علی صاحب اور محترمہ نور صباء صاحبہ کے مابین قادیانیت اور اسلام پر ہلکا پھلکا مباحثہ ہوتا رہتا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محترمہ نورصباح صاحبہ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے رانا عاصم علی صاحب نے مبلغ ختم نبوت ریاض احمد صاحب کو محترمہ کے اشکالات کو رفع کرنے کے لئے دعوت دی۔ انہوں نے دو دن کی کوشش سے محترمہ کو قائل کیا کہ قادیانیت اور قادیانی دجل وفریب کا دوسرا نام ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کاذب اور جھوٹا ہے۔ مولانا ریاض احمد کے ساتھ قاری فہیم عابد اور مولانا محمد الیاس ناظم ضلع شیخو پورہ اور حافظ اظہر فاروق آباد بھی موجود تھے اور مسماۃ نورصباء نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر حضرت محمد عربی ﷺ کے دامن عافیت سے وابستہ ہوگئی یہ سارا معاملہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی پیڈ پر تحریری طور پر موجود ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
نامور سابق قادیانی رانا عظمت اللہ مجاہد ایڈووکیٹ کا قبول اسلام
”چوہڑے کے گھر اور بادشاہ کے محل کا کیا موازنہ“
بہت سارے لوگوں کے لئے یہ بات شاید عام ہو کہ جب سے قادیانیت امت مسلمہ کی طرف سے متفقہ طور پر غیر مسلم اور اقلیت تسلیم کی جا چکی ہے۔ تو اب ہم اس معرکہء کفر و اسلام سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ نے قادیانیت کی زہر کو ہمیشہ بھر پور ختم کرنے کی کوشش کی اور ہر خاص و عام کو اس کے مہلک دجل اور اجتماعی نقصانات کو آشکارا کرنے کی کوشش کی۔ یہ فتنہ اپنی موت مر چکنے کے قریب ہے۔ لیکن روئے زمین پر یہ وہ وبائی زہر ہے جس کی غلاظت کے چھینٹے جس جس پر، جتنے جتنے اور جہاں جہاں پڑے۔ اس نے ایک وبائی شکل اختیار کر لی۔ شیطان کو ابن آدم کی گمراہی کے لئے جو وافر اور ارزاں سامان قادیانیت مہیا کرتی ہے۔ اس کی نظیر امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ علمائے حقہ روز اول سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ لیکن جب تک امت مسلمہ انفرادی حیثیت میں اس اجتماعی مسئلہ کو اپنا بنیادی مسئلہ نہیں سمجھتی اور اس فتنہ عظیمہ کو اپنے سر پر سوار کر کے قرآن وحدیث کے تریاق سے دھو نہیں ڈالتی۔ قادیانیت کی بد بو نت نئے نام سے امت مسلمہ کے افراد کو گمراہ کرتی رہے گی۔
یہ نا قابل تردید حقیقت ہے کہ اگر نفس کا بندہ محض دنیا کے لئے محنت کرے تو اس محنت کو شکل مل جاتی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جس فتنہ کے خاتمہ کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے مقتدر ہستی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جو سعی جمیلہ فرمائی تھی اور کاذبان نبوت کا خاتمہ فرمایا تھا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ماننے والے اگر یہ ذمہ داری ادا کریں تو رب ذوالجلال اسے آب یاری نہ بخشے۔ جہاں قادیانیت اپنے مہلک اثرات چھوڑتی ہے تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا غیبی نظام ہدایت کے ساماں پیدا فرما دیتا ہے۔ علامہ اقبال نے انہی لوگوں کے بارے کہا تھا کہ : ”اگر کعبہ کے پاسبان اپنی ذمہ داری چھوڑ دیتے ہیں تو کبھی کبھار اسے اپنے پاسبان صنم خانے سے بھی مل جاتے ہیں۔“
قادیانیت کے صنم خانے سے اٹھ کر سوئے ہدایت آنے والا رانا عظمت اللہ بھی انہی خوش بختوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نور اسلام سے منور و مشرف کیا۔ توبہ اور رجوع الی اللہ کی توفیق بخشی۔ ابدی نار جہنم بننے والا ہمیشہ ہمیشہ خلد بریں میں جانے والا بن گیا۔ اپنے پیارے آقا دو جہاں ﷺ کے عشق و محبت کی آگ اٹھی اور دائیں بائیں پھیلتی گئی۔ ایمان چمن میں بہار آئی تو خوشبوئیں دور دور تک پھیلتی گئیں۔ عقیدہ ختم نبوت کو مقصد حیات بنانے والوں کے گھروں میں جہاں گھی کے چراغ جلے تو وہیں قادیانیت کا کفرستان اس کی کاری ضرب سے محو حیرت ہوا۔ ان کے قبول اسلام کی روداد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ : ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“
رانا عظمت اللہ قادیانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا نے قادیانیت کو قبول کیا۔ پھر یہ سرطان (نہایت تکلیف دہ اور مہلک پھوڑا) سارے خاندان میں پھیل گیا اور اس نے وبائی شکل اختیار کر لی۔ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ رانا عظمت اللہ پر بھی اس کا شدید
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حملہ ہوا مگر بچانے والا بہت بڑا ہے۔ اس نے اپنے فضل و کرم سے بچا کر گلشن اسلام میں پہنچا دیا۔
رانا عظمت اللہ سے میری ملاقات بھائی ریاست علی نمبردار پیلو وینس کی موجودگی میں محترم شمس الدین (جو کہ موجودہ قادیانی جانشین مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجا ہیں) کے مکان پر ہوئی۔ رانا صاحب نے قبول اسلام کی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ: ”میں نے چک نمبر ۱۰۹ ر، ب، جڑانوالہ قادیانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بدقسمتی سے میرے پردادا نے اس سرطان کو سوچے سمجھے بغیر قبول کیا تھا۔ پھر یہ سرطان پھیلتا پھیلتا نسل در نسل مجھے بھی ورثہ میں ملا۔ اس چک کو میرے آباؤ اجداد نے ہی آباد کیا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے والدین اور خاندان کے دوسرے لوگ بھی قادیانی ہیں اور ہمارا دوسرے مسلمانوں سے دینی اور دنیوی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنا حرام سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کی غم وخوشی میں شرکت حرام سمجھتے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی تھی کہ مسلمانوں کی مسجد نمازیوں سے بھری ہوتی تھی اور کردار کے لحاظ سے بھی بہت اچھے تھے اور ہماری عبادت گاہ میں بہت تھوڑے نمازی ہوتے تھے اور ہمارے نمازیوں کی اکثریت بدکردار تھی۔ ہماری عبادت گاہ کے قریب آم اور مالٹے کے باغات تھے۔ ہماری عبادت گاہ کا مؤذن اذان دے کر کبھی کبھی باغ سے مالٹے چوری کرتا اور مالٹے گھر رکھنے کے بعد باجماعت نماز ادا کرتا۔ ایک دن آم چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ جس سے ہماری جماعت کو بہت شرمندگی اٹھانی پڑی۔
محترم منظور احمد صاحب میرے مخلص دوست تھے اور مخلص مسلمان بھی تھے اور رشتہ دار بھی تھے۔ اتفاق سے ہم دونوں کسی کام کے سلسلہ میں فیصل آباد گئے۔ منظور احمد صاحب نے وہاں ایک بزرگ سے میری ملاقات کروائی۔ اس بزرگ نے مجھے گلے لگا کر پوچھا کہ کیا آپ کے دل میں پیارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے۔ میں نے جواب دیا ساری دنیا جہاں سے زیادہ محبت ہے۔ انہوں نے نصیحت کی کہ: ”اس بات پر قائم رہنا“ اللہ تعالیٰ آپ کو دین و دنیا میں کامیاب کرے گا۔ ان بزرگوں کی یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی۔ ہر آئے دن میرے دل میں اپنے پیارے آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھتی گئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیت سے میں دور ہوتا گیا۔ مرزائیت کے تمام عیوب میرے سامنے آئینہ کی طرح تھے مگر قادیانیت چھوڑنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔
فیصل آباد میں میرے اور دوست احباب بھی تھے۔ قادیانی جماعت نے جاسوسی کے لئے مختلف مساجد میں ہماری ڈیوٹیاں لگا رکھی تھیں کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر دوبارہ اپنی نماز پڑھنا۔ علماء کرام کی تقاریر نوٹ کرنا کہ ہماری جماعت کے بارے کیا کہتے ہیں۔ تاہم پوری طرح جاسوسی کرتے اور اپنی جماعت کو رپورٹ دیتے تھے۔
ایک دفعہ میں گھر آیا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ”عقیدہ ختم نبوت“ کے عنوان کی ایک کتاب ہمارے گھر پڑی ہے۔ ایسی کتاب میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ مسلمان علماء کرام کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے سے سخت منع کیا گیا تھا۔ ہم صرف اپنی جماعت کی کتابیں (لٹریچر) پڑھتے تھے۔ میں یہ کتاب دیکھ کر حیران ہوا۔ امی جان نے پوچھنے پر بتایا کہ میری ایک مسلمان سہیلی ہے۔ وہ آئی تھی۔ معلوم نہیں وہ دانستہ یہ کتاب رکھ گئی ہے یا غیر دانستہ رکھ گئی ہے۔ میں نے کتاب کو بڑے غور وفکر سے اور خالی الذہن ہو کر پڑھنا شروع کیا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ جوں جوں کتاب پڑھتا گیا میرے دل سے کفر کا زنگ اترتا گیا۔ اس کتاب میں ۲۶؍ احادیث ختم نبوت کے عنوان پر درج تھیں۔ جو عقیدہ ختم نبوت کے مفہوم کو واضح کر رہی تھیں۔ کتاب کے مؤلف کا نام یاد نہیں۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کو غریق رحمت کرے۔ آمین!
کتاب میں لکھا تھا کہ: ”عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد و اساس ہے جس پر مکمل ایمان رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید کی ۱۰۰؍ آیات اور ۲۰۰؍ سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں۔ پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری نبی اور رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ نبوت اور رسالت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین، تبع تابعین، محدثین، متکلمین، علماء کرام، صوفیاء کرام، سمیت پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے ساتھ نبوت اور رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح قرآن مجید کی نصوص قطعیہ سے عقیدہ ختم نبوت ثابت ہے۔ بالکل اسی طرح یہ عقیدہ حضور ﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ابوداؤد ج ۲، ص ۲۲۸) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (مشکوٰۃ ص ۵۱۲) رسالت اور نبوت ختم ہوچکی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول اور نہ نبی۔ (ترمذی ج ۲ ص ۵۱) میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ (ابن ماجہ ص ۲۹۷)‘‘
کتاب ’’عقیدہ ختم نبوت‘‘ میں یہ لکھا تھا کہ آپ ﷺ آخر الانبیاء کس طرح ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے۔ تو آپ ﷺ آخر الانبیاء کس طرح ہوئے؟ اس کا بھر پور جواب درج تھا کہ آخر الانبیاء کے یہ معنی ہوئے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو نئے سرے سے نبی نہ بنایا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ سے پہلے نبی بنائے گئے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی آخری نبی ہوئے۔ آپ ﷺ کے بعد اگر کوئی نئے سرے سے دعویٰ نبوت کرے۔ تو وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور دائرہ اسلام سے خارج ٹھہرایا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لا کر اپنی نبوت کے احکام نافذ نہیں فرمائیں گے۔ بلکہ خود بھی شریعت محمدیہ ﷺ پر عمل پیرا ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے اور حاکم عادل ہوں گے۔ حضور نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ:
’’میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ آراستہ و پیراستہ کیا۔ مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے۔ (بخاری، مسلم)‘‘
اس حدیث مبارکہ کو پڑھ کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ اس حدیث مبارکہ سے ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کس بلیغ تمثیل کے ساتھ تمام اوہام کا استیصال فرمایا ہے۔ کیونکہ اس تمثیل کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ایک عالی شان محل کی طرح پر ہے۔ جس کے ارکان انبیاء علیہم السلام ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے اس عالم میں تشریف لانے سے پہلے یہ محل بالکل تیار ہو چکا تھا اور اس میں صرف ایک اینٹ کے سوا اور کسی قسم کی گنجائش تعمیر میں باقی نہیں تھی جس کو آنحضرت ﷺ نے پورا فرما کر قصر نبوت کی تکمیل فرما دی۔ اب اس میں نہ نبوت تشریعیہ کی گنجائش ہے اور نہ غیر تشریعی ، نہ ظلی نہ بروزی۔ یہ حدیث جس طرح نبوت تشریعیہ کے انقطاع کے لئے روشن دلیل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کی نبوت کے اختتام کا اعلان ہے۔
یہی حدیث مبارکہ میری ہدایت کا سبب بنی۔ میں مرزائیت سے دور ہوتا گیا۔ جو شخص جتنا مرزا قادیانی سے دور ہوتا ہے۔ وہ اتنا ہی نبی کریم ﷺ سے قریب ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی سے جتنی نفرت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی قدر پیارے آقا ﷺ سے محبت زیادہ ہوتی ہے۔ جتنی قادیان سے نفرت زیادہ ہوگی۔ اتنی ہی مدینہ منورہ سے محبت زیادہ ہوگی۔ میرا ہر قدم اپنے پیارے نبی ﷺ کی طرف اٹھ رہا تھا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہم قادیانی کتنے بدنصیب اور بدبخت ہیں۔ جنہوں نے اپنے پیارے رسول ﷺ کی احادیث مبارکہ کو مرزا قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے کہنے پر پس پشت ڈال رکھا ہے۔ بظاہر ہم کہتے ہیں کہ ہم احادیث کو مانتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف وہ احادیث مانتے ہیں جن کو مرزا قادیانی درست کہتے ہیں۔ جو حدیث مرزا قادیانی کی تعلیم کے خلاف ہو۔ ہم اسے ردی میں پھینک دیتے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو اختیار دیا گیا ہے کہ ذخیرہ احادیث میں سے جس حدیث کو چاہے درست قرار دے اور جس کو چاہے غلط ۔ وہ حدیث پر حکم ہو کر آیا ہے۔ (معاذ اللہ) درحقیقت ہم حدیث رسول ﷺ کے منکر ہیں۔ یہی ہماری بدنصیبی تھی۔
پھر میں ایک دن جمعتہ المبارک کی نماز پڑھنے کے لئے جامع مسجد میں گیا۔ ایک عالم دین سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر تقریر فرما رہے تھے۔ تقریر سن کر میں بے حد متاثر ہوا۔ قادیانیت کا بت میں نے دل سے نکال کر توڑ دیا اور اپنا ایمانی رشتہ پیارے مدنی ﷺ سے جوڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور تائب ہوا اور نور اسلام سے مشرف ہوا۔ بوئے اسلام لے کر میں اپنے گاؤں پہنچا۔ سب قادیانیوں کو اکٹھا کر کے اپنے قبولِ اسلام کی داستان ان کو سنائی۔ دعوتِ اسلام ان پر پیش کی اور انہیں بتایا قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ مرزا قادیانی ایک کتب فروش ہے۔ مرزا قادیانی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی جماعت ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے مفاد کے لئے کام کر رہی ہے۔ مرزا قادیانی نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ اجرائے نبوت اور وفات عیسیٰ علیہ السلام کی بحث صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی کا کردار لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اسی لئے کوئی قادیانی مبلغ مرزا قادیانی کی سیرت پر مناظرہ کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوتا۔ قادیانیوں کو مزید بتایا کہ الحمد للہ! میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام میں داخل ہو چکا ہوں۔ میرا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے قادیانیت سے نجات دی۔ قادیانیوں نے میری ان باتوں کو مذاق سمجھا۔ بعد میں ان کو یقین ہو گیا کہ میں نے قادیانیت پر چار حرف بھیج کر چھوڑ دیا ہے۔ یہ باتیں میرے اہل خانہ پر بھی ناگوار گزریں۔ گھر والوں سے اچھا خاصا جھگڑا ہوا۔ آخر گھر چھوڑ کر لاہور منتقل ہوا۔ ترک قادیانیت کے اسباب میں سے ایک سبب مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں ہیں۔ روحانی خزائن (قادیانی کتب) تضادات سے پر ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند ایک پیش کئے دیتا ہوں:
- ......۱ ’’میں حلفاً کہتا ہوں میرا کوئی استاد نہیں۔‘‘
(ایام صلح ص۱۴۷،خزائن ج۱۴ص۳۹۴)
تضاد...... ’’میرے کئی استاد ہیں جو میرے لئے نوکر رکھے گئے۔ (فضل الٰہی، فضل احمد، گل علی شاہ، امیر شاہ)‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۸ تا۱۵۰،خزائن ج۱۳ص۱۷۹ تا۱۸۱)
- ......۲ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وطن گلیل میں فوت ہوگئے ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۷۳،خزائن ج۳ص۳۵۳)
تضاد...... ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلادشام میں موجود ہے۔‘‘
(اتمام الحجہ ص۱۸،خزائن ج۸ص۲۹۶، ۲۹۷)
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر یروشلم میں ہے۔‘‘
(اتمام الحجہ ص۲۱،خزائن ج۸ص۲۹۹)
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے۔‘‘
(راز حقیقت ص۲۰،خزائن ج۱۴ص۱۷۲)
- ......۳ ’’لد سے مراد بیت المقدس کا ایک گاؤں ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۲۲۰،خزائن ج۳ص۲۰۹)
تضاد...... ’’لد سے مراد لدھیانہ (ہندوستان کا ایک گاؤں ہے)‘‘
(الہدیٰ ص۹۲،خزائن ج۱۸ص۳۴۱ حاشیہ)
- ......۴ ’’میرا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۴،خزائن ج۱۳ص۱۶۲)
تضاد...... ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۵،خزائن ج۱۹ص۹۸)
- ......۵ ’’ہمیں محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں ہے۔‘‘
(حمامۃ البشریٰ ص۴۹،خزائن ج۷ص۲۴۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تضاد...... ”وحی الہی نے میرا نام محمد ﷺ رکھا ہے۔“
(تذکرہ ص۴۸۱)
- ۶...... ”اور ہمارے رسول کے بعد کوئی نبی کیسے آ سکتا ہے۔ جب کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ نے آپ کے ذریعے
نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔“
(حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)
تضاد...... ”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے بعد آنحضرت ﷺ وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔“
(براہین احمدیہ ج۵ ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۴)
- ۷...... ”کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود خیال کرتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
تضاد...... ”میرا دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)
- ۸...... ”حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے۔“
(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)
تضاد...... ”حضرت مسیح کا نزول آسمان سے نہیں ہوگا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص۲۴، خزائن ج۷ ص۲۰۶)
- ۹...... ”میری دادیاں مغلیہ خاندان سے تھیں۔“
(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹ حاشیہ)
تضاد...... ”میری دادیاں سادات سے تھیں۔“
(نزول المسیح ص۴۹، خزائن ج۱۸ ص۴۲۶ حاشیہ)
- ۱۰...... ”دابۃ الارض سے مراد طاعون۔“
(نزول المسیح ص۳۹، خزائن ج۱۸ ص۴۱۶)
تضاد...... ”دابۃ الارض سے مراد علماء سؤ۔“
(حمامۃ البشریٰ ص۸۶، خزائن ج۷ ص۳۰۸)
مرزا قادیانی نے خود ہی لکھا تھا کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔ اس فیصلے سے مجھے اتفاق ہو گیا کہ یہ شخص پاگل بھی ہے اور منافق بھی۔
میں کبھی کبھی اپنے گاؤں آتا تھا۔ گھر والے قادیانیت چھوڑنے کی وجہ سے ناراض تھے۔ انہی دنوں میری شادی ایک مسلمان گھرانے میں ہو گئی۔ گویا کہ والدین ناراض تھے۔ پھر بھی انہوں نے میری شادی میں بھر پور شرکت کی۔ شادی کے بعد میں نے اپنی مستقل رہائش لاہور میں رکھ لی۔ کچھ عرصہ بعد والدہ محترمہ کو اپنے گھر لے آیا اور ان پر اسلام کی حقیقت پیش کی۔ انہوں نے اسلام کو دل و جان سے قبول کر لیا۔ میری خوشیوں کی انتہاء تھی کہ رب ذوالجلال نے والدہ کو جنت کا مستحق بنا دیا ہے۔ والدہ کے قبول اسلام کے بعد اہلیہ اور والدہ سمیت عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ عمرہ پر جاتے ہوئے والدہ نے مرزا قادیانی کی طرح کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تمہارا جہاز گر جائے گا یا تمہارے خیمہ کو آگ لگ جائے گی۔ تم پاکستان واپس نہیں آسکو گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد فرمائی۔ ہم بخیریت گھر واپس آگئے۔ مرزا قادیانی کے الہاموں اور پیش گوئیوں کی طرح والدہ صاحب کا الہام اور پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔ والدہ کو جب اپنے جھوٹے الہام کی طرف توجہ دلائی تو مرزا قادیانی کی طرح تاویل کرتے ہوئے کہہ دیا کہ میں نے تمہارے لئے خیریت سے واپس آنے کی دعاء مانگی تھی۔ والدہ صاحبہ سے جب پوچھا گیا کہ مکہ اور قادیان میں کیا فرق ہے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ: ”چوہڑے کے گھر اور بادشاہ کے محل کا کیا موازنہ۔“
آخری گزارش:
میں نے قادیانیت میں رہ کر جو دیکھا اسے من وعن پیش کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ کوئی سعید روح ان سطور کو پڑھ کر قادیانیت کی پرخار وادی سے نکلنے کی کوشش کرے اور جو قادیانیت میں پھنسے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نکل چکے ہیں۔ انہیں استقامت نصیب فرمائے۔ آمین! (رانا عظمت اللہ ایڈووکیٹ)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۳ء ص۲۵ تا ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانیوال میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال کے امیر پیر خواجہ محمد عبد الماجد صدیقی مدظلہ کے ہاتھ پر ایک قادیانی گھرانے نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا ہے، جن کے نام درج ذیل ہیں:
زاہدہ شاہین بنت نذیر احمد، زوجہ مبشر احمد تصور، سکنہ گرین ٹاؤن خانیوال ، شناختی کارڈ نمبر: 6-1825539-36102
ابرار جنید بن مبشر احمد تصور، سکنہ گرین ٹاؤن خانیوال۔
ضرار جمشید بن مبشر احمد تصور، سکنہ گرین ٹاؤن خانیوال ، شناختی کارڈ نمبر: 5-7107894-36102
فاطمہ تحریم بنت مبشر احمد تصور، سکنہ گرین ٹاؤن خانیوال ، شناختی کارڈ نمبر: 0-5098511-36102
نو مسلموں نے عہد کیا کہ آج کے بعد ہمارا قادیانی یا لاہوری دونوں گروپوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ہم نبی آخر الزماں ﷺ کی ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے قائل ہیں۔ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج مانتے ہیں۔
اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع خانیوال کے مبلغ مولانا عبد الستار گورمانی، ڈاکٹر محمد آصف، مفتی محمد زاہد، اکبر علی، قاری محمد فاروق، ماسٹر ولی محمد اور قاری ذوالفقار احمد نے اسلام قبول کرنے والوں کو مبارک باد دی اور حضرت امیر صاحب نے اس گھرانے کے لئے استقامت کی دعاء فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۳ء ص۱۲)
تونسہ شریف میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تونسہ کے امیر مولانا عبد العزیز لاشاری، جنرل سیکرٹری حکیم عبد الرحیم جعفر کی موجودگی میں علامہ محمد عبد الستار تونسوی کے مدرسہ جامعہ عثمانیہ تونسہ شریف میں تین قادیانیوں مجاہد اسلام ولد فتح محمد، محمد عابد ولد محمد رفیق اور مسماۃ غلام فاطمہ زوجہ فتح محمد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ ان نو مسلموں کے آباؤ اجداد قادیانی تھے۔ انہوں نے قادیانیت سے برأت کا حلف نامہ لکھ دیا ہے۔ محمد عابد ولد محمد رفیق نے قصبہ مور جھنگی میں بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین قاری عبد العزیز باروی کے سامنے متعدد گواہوں کی موجودگی میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔
مولانا عبد العزیز لاشاری اور قاری محمد اسلم نے مور جھنگی جا کر مولانا باروی اور نو مسلم کو مبارک باد پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن غفاری، ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا غلام اکبر ثاقب، ضلعی مبلغ مولانا محمد اقبال، مولانا عبد القدوس چشتی، مولانا محمد اسحاق ساجد نے نو مسلموں کو جماعت کی طرف سے رد قادیانیت پر مشتمل لٹریچر دیا، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی اور ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور استقامت کی دعاء کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍نومبر ۲۰۱۳ء ص۱۱)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو الہ یار
۲؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز بدھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ٹنڈو الہ یار سندھ تشریف لائے۔ جامعہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ٹنڈو الہ یار میں ظہر کی نماز سے قبل علماء و طلباء کی مجلس سے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر مفصل و مدلل خطاب کیا۔ اسی روز بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو الہ یار کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ تلاوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کلام پاک کے ذریعے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حاضرین کو سیرت سرور کائنات ﷺ، ردقادیانیت اور فتنہ گوہر شاہی کے بارے میں آگاہ کیا۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تمام قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کی بھی خیر خواہ جماعت ہے۔ ہم قادیانیوں کو خاتم النبیین ﷺ کی رحمت کے سائے تلے آنے کی دعوت دیتے ہیں اور آپ کو دنیا و آخرت میں سرخرو کرانا چاہتے ہیں۔ تمام حاضرین نے پورے نظم وضبط وتوجہ کے ساتھ علماء کرام کے خطاب سماعت کئے۔ کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا توصیف احمد (مبلغ حیدرآباد) نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ /جنوری ۲۰۱۳ء ص ۱۶)
ردقادیانیت کورس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامع مسجد اشرف غلہ منڈی میں ۱۲، ۱۳/ جنوری ۲۰۱۳ء کو دو روزہ ردقادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ عصر تا عشاء تھا۔ ۱۲/ جنوری ۲۰۱۳ء عصر سے مغرب تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر لیکچر دیا۔ مغرب سے عشاء تک مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت اور قادیانیوں کے شکوک وشبہات کے جوابات دیئے۔
۱۳/جنوری ۲۰۱۳ء کو مولانا اللہ وسایا نے قادیانیوں کے عقائد وعزائم اور ان کے مقابلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ پروگرام کی سرپرستی الحاج سیف الرحمٰن امیر اور مولانا مفتی عطاء الرحمٰن نائب امیر مجلس بہاولپور نے کی جب کہ انتظامات مولانا محمد اسحاق ساقی نے کئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/ مارچ ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ پروگرامز
۱۳ تا ۲۳/ جنوری ۲۰۱۳ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کے زیراہتمام سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کے عنوان پر حلقہ بھر میں ۱۵ پروگرام منعقد کئے گئے ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا پروگرام: ۱۳/ جنوری بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمانیہ سوات کالونی میں منعقد ہوا۔ پروگرام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ پروگرام میں مقامی علماء کے علاوہ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ شرکاء کا ولولہ، جذبہ اور جوش وخروش قابل دید تھا۔
دوسرا پروگرام: اسی دن بعد مغرب جامع مسجد مدنیہ پریشان چوک فقیر کالونی میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ محمد منشاء نے ، حمد ونعت کی سعادت مولانا طارق شاہ نے حاصل کی۔ اس موقع پر مولانا مفتی فیض الحسن نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ: ”حضور ﷺ سے محبت ایمان کی جان ہے، یہ محبت آل، اولاد، رشتہ دار، عزیز واقارب اور تمام انسانیت سے زیادہ ہونی چاہئے۔ یہ محبت ایمان کی علامت ہے۔ ہمارا وجود آنحضرت ﷺ کی برکت سے ہے، محبت کے ساتھ اطاعت بھی ضروری ہے کیونکہ بغیر اطاعت، محبت صرف دھوکا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ کی محبت میں اولاد، والدین سب کو قربان کیا، جس کی زندہ مثال غزوہ بدر ہے۔
عشاء کے بعد مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی شان بہت بلند ہے اور آپ ﷺ کی نسبت سے جمع ہونا بھی سعادت ہے۔ آپ ﷺ کا پسینہ مبارک عطر سے زیادہ معطر تھا۔ ایک لڑکی کو آپ ﷺ کا پسینہ مبارک جہیز کے طور پر دیا گیا۔ اس کی خوشبو تین نسلوں تک آتی رہی۔ حضرت ابوبکر ؓ کو حضور ﷺ سے نسبت ہوگئی تو بعد انبیاء تمام انسانوں کے سردار بن گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پروگرام میں مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا محمد سراج، مولانا محمد اشفاق، مفتی حیات اللہ، مولانا محمد ارشد، بھائی محمد صابر، بھائی سیّد محمد شاہ، بھائی سیّد کمال شاہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی۔
تیسرا پروگرام: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد امیر حمزہ ؓ ۱۲ نمبر سعید آباد میں منعقد ہوا۔ مولانا عنایت اللہ عادل نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: سیرت منانے کی چیز نہیں اپنانے کی چیز ہے۔ سیرت اپنانے میں کامیابی ہے، اس لئے ہمیں ساری زندگی سیرت اپنانا چاہئے، اللہ تعالیٰ نے حضور کی ذات کو اپنے بندوں کے لئے عملی زندگی کا نمونہ قرار دیا ہے۔
مولانا عبدالقیوم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سر سے پاؤں تک ہر عیب سے پاک تھے جب کہ مرزا قادیانی سر سے پاؤں تک عیب دار ہے۔ قادیانی ہمارے نبی کا نام لے کر اس سے مرزا قادیانی کی ذات مراد لیتے ہیں، یہ قادیانیوں کا دھوکا ہے، ہمارے نبی بھی عیب سے پاک، آپ کی جماعت بھی عیب سے پاک، جب کہ مرزا قادیانی بھی جھوٹا اور کافر، اس کے پیروکار بھی جھوٹے اور کافر ہیں۔ مرزا قادیانی سچا ہوتا تو قرآن میں ضرور اس کا تذکرہ ہوتا، لیکن قرآن میں تو واضح الفاظ میں ختم نبوت کا اعلان ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ قیامت تک تمام انسانیت کے نبی ہیں، آپ ﷺ نبیوں کے بھی نبی ہیں۔
چوتھا پروگرام: ۱۵؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد محمدی و مدرسہ مصعب بن عمیر یوسف گوٹھ میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ عبدالمنان اور حافظ عزیز امین اور نعت کی سعادت حافظ محمد حسن نے حاصل کی، جب کہ نظامت کے فرائض مدرسہ کے ناظم مولانا قاضی امین الحق آزاد نے سرانجام دیئے۔
مولانا مفتی محمد اسلم اور مولانا مفتی فیض الحق نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور ﷺ کی محبت ایمان کی جان ہے، اس لئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور ﷺ پر سب کچھ قربان کر دیا۔ اولاد بھی قربان، والدین بھی قربان، دولت بھی قربان، عزت بھی قربان، حضور ﷺ کی محبت میں حضرت حذیفہ ؓ اپنے والد عتبہ کے مقابلہ پر آئے اور حضرت عبداللہ ؓ اپنے والد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلہ پر آئے۔ پروگرام میں مولانا محمد کرخی، مولانا قاری امین الدین ہزاروی، مولانا قاضی امین الحق آزاد، مولانا غلام اللہ اور کثیر تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی جب کہ آس پاس کی مساجد اور محلوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
پانچواں پروگرام: ۱۷؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد حذیفہ ۹ نمبر سعید آباد میں منعقد ہوا۔ مولانا مفتی ضیاء الرحمن نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: امت کی کامیابی حضور ﷺ کے سنت طریقوں میں ہے۔ آپ ﷺ کے روضۂ مبارک کی مٹی عرش سے بھی افضل ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے، جھوٹی نبوت کا دعویدار اتنا بڑا کافر ہے کہ اس سے دلیل کا مطالبہ کرنے والا بھی کافر ہے۔ ہمارے نبی کا نام محمد و احمد ہے کیونکہ آپ ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں مبعوث ہوئے۔ مولانا عبدالقیوم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی چاہت پر اللہ نے قبلہ تبدیل کیا۔ تمام انبیاء کے کمالات اللہ تعالیٰ نے مجموعی طور پر آپ ﷺ کو عطاء فرمائے۔ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا کہ قرآن میں قادیان کا نام ہے۔ قادیانیوں کا مرزا سے متعلق مجدد اور پیر ہونے کا دعویٰ صرف دھوکا ہے۔
چھٹا پروگرام: ۱۸؍جنوری ۲۰۱۳ء بروز جمعہ جامع مسجد نورانی رشید آباد میں بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔ مفتی ضیاء الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ جس طرح سورج کی موجودگی میں کسی چراغ کی ضرورت نہیں، اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں تاقیامت کوئی انسان نبی نہیں بن سکتا، ختم نبوت کے صدقے امت محمدیہ کو تیمم کی اجازت دی گئی۔ حضور اکرم ﷺ قصر نبوت کی آخری اینٹ ہے۔ ختم نبوت کا منکر کذاب و دجال ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساتواں پروگرام: اسی دن جامع مسجد فاتح خیبر، خیبر چوک اتحاد ٹاؤن میں بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔ نظامت کے فرائض قاری احسان الرحمن نے ادا کئے۔ مولانا مفتی فیض الحق نے خطاب کیا۔
آٹھواں پروگرام: ۱۹؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد مدثر سعید اللہ گوٹھ میں منعقد ہوا۔ مولانا قاری سید شاہ حیدری نے اپنے بیان میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ امام الانبیاء ہیں، نبیوں کے بھی نبی ہیں، خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ سے سچی محبت کرنا ایمان کی علامت ہے۔ آپ ﷺ کی محبت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے۔ قادیانی مرزائی آپ ﷺ کے دشمن اور باغی ہیں، اس لئے ہر مسلمان کو فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ مولانا پروفیسر عبدالودود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ہمارے نبی اللہ کے محبوب ہیں، آپ ﷺ کی تمام ادائیں اللہ کو پسند ہیں۔ اسی لئے آپ ﷺ کے طریقوں میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی رکھی ہے، یہی نبی کی شان ہوتی ہے۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی جھوٹا ہے، خود بھی دوزخی ہے اور اس کے پیروکار بھی دوزخ کا ایندھن ہیں۔
نواں پروگرام: ۲۰؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمانیہ نئی آبادی میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد یوسف رحمانی نے حاصل کی۔ مولانا مفتی صہیب امین نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء کا ثمرہ ہیں۔
آپ ﷺ کی شان خود خدا نے اپنے کلام مبارک میں بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ سچے اور آخری نبی ہیں۔ پروگرام میں مقامی علماء کرام کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔
دسواں پروگرام: اسی دن بعد نماز مغرب جامع مسجد امیر معاویہ ؓ ۹ نمبر سعید آباد میں منعقد ہوا۔ نظامت کے فرائض مسجد کے امام و خطیب قاری محمد عابد نے سرانجام دیئے۔ مولانا مفتی شاہد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ انقلابی نبی ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد سے قبل معاشرہ میں ہر خرابی موجود تھی۔ انسان انسان کا دشمن تھا، قتل و غارت گری اور بے حیائی تھی، ظلم و ستم کا بازار گرم تھا، انسان انسان کی غلامی پر مجبور تھا، آپ ﷺ تشریف لائے تو انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر ترقی کے عروج پر پہنچایا اور دنیا کا امام بنا دیا۔
مفسر قرآن مولانا عبدالقیوم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام نبیوں کے سردار اور اللہ کے محبوب ہیں۔ آپ ﷺ انتہائی حسین و جمیل تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک آسمان کا سورج ہے، ایک میرا سورج ہے، میرا سورج آسمان کے سورج سے زیادہ حسین و جمیل ہے۔ آپ ﷺ سچے تھے، اس لئے نصرت و معیت خداوندی آپ ﷺ کے شامل حال تھی۔ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، اس لئے ہر میدان میں ذلت و رسوائی سے شرمسار ہوا۔
گیارہواں پروگرام: ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد معراج مصطفیٰ گلشن غازی میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد جاوید اور نعت کی سعادت حافظ انیس الرحمن نے حاصل کی۔ مولانا مفتی فیض الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ کامل ترین انسان ہیں، آپ ﷺ کی اعلیٰ اخلاق و کردار کی گواہی ساری انسانیت نے دی، آپ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر، دجال اور جھوٹا ہے۔ یہ فتویٰ آج سے ۱۴ سو سال قبل لسان نبوت سے جاری ہوا ہے۔ اس لئے کسی قادیانی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولانا خادم حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی وہ عظیم نبی ہیں کہ آپ ﷺ کے امتی بننے کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ۳۳۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی دعائیں مانگی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بن مانگے ہمیں آخری امت میں پیدا کر دیا، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔ پروگرام میں مولانا عبداللہ ازہر، مولانا داؤد کے علاوہ دیگر علماء کرام اور بڑی تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی۔
بارہواں پروگرام: ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد نور آفریدی کالونی میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ محمد لقمان نے حاصل کی۔ مولانا مفتی محمد اسلام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کا تذکرہ سننا سنانا حصول شفاعت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں میں سب سے زیادہ عظیم اور بڑی نعمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان جتایا ہے۔ مولانا خادم حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر نیک عمل کی قبولیت کے لئے ایمان شرط اول ہے۔ ایمان تمام اعمال کی روح و جان ہے اور ایمان کی جان حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت ہے۔ مرزا قادیانی بہت بڑا مجرم ہے کیونکہ وہ ختم نبوت کا ڈاکو ہے، اس لئے وہ اور اس کے پیروکار سب کافر ہیں، ہر مسلمان کو قادیانیوں سے دور رہ کر اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے۔ پروگرام میں مولانا عنایت اللہ شاہ اور مقامی علماء کرام کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی اور جوش و جذبہ کا اظہار کیا۔
تیرہواں پروگرام: ۲۳؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد غانم بن عبدالرحمن، مدرسہ معارف اسلامیہ ۸ نمبر سعید آباد میں منعقد ہوا۔ تلاوت کی سعادت مولانا قاری محمد اشفاق اور نعت کی سعادت حافظ فرمان اللہ نے حاصل کی۔ مولانا عبدالقیوم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ تمام کائنات کے عظیم ترین نبی اور پیغمبر ہیں، پوری کائنات میں آپ ﷺ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات کامیابی کی ضامن ہیں، آپ ﷺ کا تابعدار دونوں جہانوں میں سربلند و سرخرو ہوتا ہے۔ مولانا پروفیسر عبدالودود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی کی شان اتنی اونچی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ ﷺ کی شان بیان نہیں کر سکتی۔ سعادتمند انسانوں نے مختلف اعتبار سے آپ ﷺ کی شان بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ پروگرام میں مقامی علماء کرام سمیت بڑی تعداد میں اہل علاقہ آخر تک توجہ سے شریک رہے۔
چودھواں پروگرام: ۲۴؍ جنوری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد بابری ثانی ۸ نمبر سعید آباد میں منعقد ہوا۔ حافظ اسد اللہ نے تلاوت اور حافظ ابراہیم شاہ نے نعت کی سعادت حاصل کی۔ مولانا عبدالعزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر مسلمان کو حضور ﷺ سے سچی محبت کرنی چاہئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور ﷺ کی محبت میں آل اولاد سب کچھ قربان کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ شیزان کا بائیکاٹ کیا جائے، کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کے باغیوں کی کمپنی ہے۔ مولانا رحمت اللہ تونسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ ﷺ کا کوئی استاد نہیں جب کہ آپ ﷺ معلم انسانیت ہیں، فتنہ قادیانیت حضور ﷺ کی توہین و گستاخی کا نام ہے، کوئی مسلمان حضور ﷺ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا، ہر مسلمان حضور ﷺ کی حرمت پر کٹ مرنا اپنے لئے اعزاز و سعادت سمجھتا ہے۔ مولانا پروفیسر عبدالودود نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور ﷺ روح کائنات ہیں، آپ ﷺ اکیلے میدان میں آئے اور ساری دنیا پر چھا گئے۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں، اللہ کے محبوب سے ہر مسلمان کو عشق و محبت ہے، آپ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد اخلاق حسنہ کی تکمیل ہے۔ سیرت اپنانے کی چیز ہے منانے کی نہیں۔ ہمیں اپنی عملی زندگی پر محنت کرنی چاہئے۔ ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے۔ پروگرام میں قاری ساجد محمود اور مقامی علماء کرام کے علاوہ اہل محلہ نے شرکت کی۔
پندرہواں پروگرام: اسی روز بعد نماز مغرب جامع مسجد حنفیہ گلشن غازی میں منعقد ہوا۔ نظامت کے فرائض مولانا یٰسین نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجام دیئے۔ مولانا سعیدالرحمن نے خطاب میں کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی بعثت کو اللہ نے اپنے کلام میں بطور احسان جتلایا ہے۔ ہمیں حضور ﷺ سے صرف زبانی محبت کافی نہیں بلکہ عملی محبت کی ضرورت ہے، عملی محبت آپ ﷺ کی کامل تابعداری کا نام ہے۔ مولانا عبدالقیوم قاسمی نے خطاب میں کہا کہ درود شریف پڑھنا روح کی غذا اور شفاعت نبوی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا مقام اتنا بلند ہے کہ باقی انبیاء کو تو اللہ نے نام سے پکارا جب کہ آپ ﷺ کو کہیں بھی نام سے نہیں پکارا، آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں، علماء نے جان و مال کی قربانی دے کر عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کی تردید کی۔ آج بھی مسلمان تحفظ ختم نبوت کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ پروگرام میں مولانا عبدالستار اور مقامی علماء کرام کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍مارچ ۲۰۱۳ء ص ۲۴ تا ۲۵)
لیہ میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد کروڑ میں یکم ؍فروری ۲۰۱۳ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مقامی امیر مولانا محمد حسین مدظلہ نے کی۔ کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست جمعہ سے قبل منعقد ہوئی، جس سے مولانا عبدالقادر ڈیروی نے خطاب کیا، آپ کا خطاب جمعہ تک رہا۔ نیز خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ بھی موصوف نے پڑھائی۔ دوسری نشست بعد نماز جمعہ منعقد ہوئی جس سے ابن امیر شریعت سیّد عطاء المومن بخاری حسنی مدظلہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا، نعتیہ کلام محمد حنیف نے پیش کیا۔ تیسری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالستار و دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا کا خطاب رات گئے تک جاری رہا۔ قبل ازیں مولانا اللہ وسایا نے کوٹ سلطان میں مولانا عبدالغفور گورمانی کی دعوت پر جمعہ کا خطبہ دیا، جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد حافظ آباد میں مولانا قاری محمد اسلم نیازی کی دعوت پر جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ ختم نبوت کانفرنس کی نقابت و انتظامات قاری عبدالشکور گرواں نے بحسن و خوبی سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍مارچ ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت کورس بہاول نگر
۳؍فروری ۲۰۱۳ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ختم نبوت کورس کی پہلی نشست مدینہ جامع مسجد میں شروع ہوئی۔ مولانا محمد قاسم رحمانی نے امراء ختم نبوت کی خدمات پر گفتگو کی۔ مولانا محمد اسحاق ساقی نے جماعتی پالیسی اور مبلغین کی شبانہ روز کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آخری بیان مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کیا۔ دوسرے روز کو صبح کا درس مولانا محمد اسماعیل نے جامع مسجد عثمانیہ نظام پورہ، مولانا محمد اسحاق ساقی جامع مسجد خضریٰ شہزاد نگر میں دیا۔ دن کو مولانا فیض احمد کی بیمار پرسی کی۔ بعد نماز مغرب کورس کی دوسری نشست شروع ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل نے عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن وحدیث کی روشنی میں دلائل دیئے اور قادیانی اشکالات کا رد کیا۔ ۵؍فروری ۲۰۱۳ء کو صبح کا درس مولانا محمد اسحاق ساقی نے جامع مسجد مدنی مدنی کالونی، مبلغ بہاول نگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے جامع مسجد ہری قریش میں دیا۔ بعد نماز مغرب کورس کی آخری نشست جامعۃ العلوم عید گاہ کی وسیع وعریض مسجد میں ہوئی۔ مبلغ بہاول نگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے ظہور مہدی علیہ الرضوان پر بیان کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے نزول عیسیٰ علیہ السلام پر بیان کیا۔ بعد نماز عشاء سوال و جواب کی محفل ہوئی۔ طلباء نے مختلف سوالات کئے۔ مولانا نے جوابات دیئے۔ تینوں دن سامعین نے نوٹ بھی لکھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص ۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ ماہی اجلاس مبلغین ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۷، ۸؍فروری ۲۰۱۳ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد ہوا۔ جس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا نے کی۔ اجلاس میں تیس کے قریب ملک بھر سے آئے ہوئے مبلغین حضرات نے شرکت فرمائی۔ اجلاس میں علامہ عبدالستار تونسوی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری، مولانا سید حسان علی شاہ، مفتی محمد صالح، مولانا محمد اجمل شاہین، مولانا غریب اللہ صوابی، قاری عبدالتواب الحسینی پنوعاقل، قاضی حسین احمد، پروفیسر غفور احمد، سید کمال شاہ، حافظ رانا محمد ابوبکر بھکر، حافظ محمد یوسف بہاولپور، مولانا نذیر احمد داماد مولانا غلام غوث ہزاروی، حافظ نثار احمد بہاولپور، اہلیہ محترمہ جناب میاں مسعود احمد دین پوری، قاری سعید احمد تلہ گنگ، چوہدری محمد طفیل، مولانا قاری عبدالحیٰ عابد لاہور، مولانا عبدالقیوم ہزاروی، مولانا محمد الیاس خطیب آرمی لودھراں، حافظ احمد زکریا نواب شاہ، والدہ محترمہ مولانا تاج محمد، والد محترم منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ سمیت تمام مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی اور دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔ اجلاس میں محبّت نبوی کے تقاضے، فتنہ قادیانیت، آئینہ قادیانیت، فیصلہ آپ کریں لٹریچر چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ممبر سازی کی رفتار تیز کرنے اور جمادی الآخر تک ممبر سازی کی تکمیل اور جماعتوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ ویب سائٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ اس کے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ قادیانیت کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے۔ تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ آئینہ قادیانیت جامعات میں پڑھانے کی کوشش کریں اور جامعات کی انتظامیہ سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی جامعات میں مبلغین کو ہفتہ میں ایک لیکچر دینے کی سہولت دیں۔ کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا جید علماء کرام اور طلباء دین کے قتل کی پرزور مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے۔ ۲۸؍فروری کو ملتان میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے لئے مولانا محمد اسحاق ساقی کی سرکردگی میں کمیٹی قائم کی گئی۔ قومی اسمبلی کے ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلے سے متعلق مکمل ریکارڈ جو اکیس جلدوں پر مشتمل ہے، میں سے ۱۸ جلدوں کی کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی تکمیل پر اللہ پاک کا شکر ادا کیا گیا اور مولانا اللہ وسایا کی مساعی جمیلہ پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ۲۸؍فروری ملتان، ۶؍مارچ پنوعاقل، ۷؍مارچ سکھر، ۸؍مارچ نواب شاہ، ۱۸؍اپریل جھنگ، ۱۹؍اپریل فیصل آباد، ۲۷؍اپریل گوجرانوالہ کی کانفرنسوں کی کامیابی کے لئے مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد حسین پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق معروف قادیانی پس منظر رکھنے والی وکیل عاصمہ جہانگیر کی نگران وزات عظمیٰ کے لئے مبینہ طور پر نام آنے کی مذمت کی گئی اور مسلم لیگ ن سے نام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا اور اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی قادیانی پس منظر رکھنے والے کو چور دروازے سے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے لئے تقرری کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں کئی ایک تنظیمی فیصلے کئے گئے۔ اجلاس مولانا عابد کمال کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۳ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں
۲۰؍فروری ۲۰۱۳ء بروز بدھ بعد نماز عشاء سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد قاسم طارق نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا محمد سجاد نورانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا عبدالکریم ندیم نے خطاب فرمایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب کہ میزبانی کے فرائض چوہدری محمد جاوید اور مرزا عبد الوحید اور دیگر احباب نے انجام دیئے۔ کانفرنس تقریباً رات دو بجے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص۲۴)
اجتماعات ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان
۲۰، ۲۱، ۲۲/ فروری ۲۰۱۳ء کو بستی بزدار کے دو قادیانی بھائی محمد افضل اور سلطان احمد قادیانیت پر تین حرف بھیج کر مسلمان ہو گئے، سب سے پہلا اجتماع بستی بزدار میں منعقد ہوا مولانا اللہ وسایا نے قادیانیت سے تائب ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی ان کی استقامت کے لئے دعاء کی اور بعد نماز عشاء عظیم الشان اجتماع سے ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’قادیانیت دم توڑ رہی ہے قادیانی کوئی مذہب نہیں ایک وقت آئے گا قادیانی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے بستی بزدار میں موجود قادیانی عبادت گاہ مقفل ہوچکی ہے۔ مولانا محمد بخش اور ڈاکٹر ریاض احمد نے اس اجتماع کا اہتمام کیا مولانا اللہ وسایا نے قادیانیت کے تمام تار و پود بکھیر کر رکھ دیئے فضاء ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔
اگلے دن ۲۱/ فروری بعد نماز فجر مرکزی عید گاہ کوٹ قیصرانی میں مولانا اللہ وسایا نے درس قرآن مجید دیا گزشتہ سال اسی مقام پر سردار امام بخش خان قیصرانی کے قادیانیت سے تائب ہونے پر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس سے حافظ حسین احمد، مولانا اللہ وسایا، سردار موصوف اور دیگر علماء نے خطاب کیا تھا اس کانفرنس کے بعد قادیانیوں کے ایماء پر عبد الغفور نامی ایک بد بخت نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا اسلامیان کوٹ قیصرانی نے غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے گستاخ رسول کے خلاف ۲۹۵-سی کا مقدمہ درج کرایا ملعون گستاخ پابند سلاسل ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مقدمہ کی پیروی کررہی ہے۔
مولانا اللہ وسایا نے ناموس رسالت کی عظمت واہمیت کے موضوع پر درس دیا کثیر تعداد میں علماء اور جاں نثاران ختم نبوت شریک ہوئے عید گاہ کے خطیب مولانا امان اللہ اختر قیصرانی نے درس کا اہتمام فرمایا۔
اسی دن بعد نماز عشاء جامع مسجد یونین کونسل وہوا میں عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا، بارش کے باوجود کثیر تعداد میں علماء اور عوام شریک ہوئے، مولانا اللہ وسایا نے ختم نبوت کے موضوع پر خطاب فرمایا اور ناموس رسالت کی تحریکوں میں اسلامیان پاکستان کی ولولہ انگیز شرکت کا تذکرہ کیا انہوں نے ان تحریکوں میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی جانفشانی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وہوا کے امیر مولانا عبد الغفور سبحانی ان کے رفقاء حافظ عبد الحنیف، قاری غلام سرور، مولانا عبد المجید قیصرانی، قاری سمیع اللہ قریشی، قاری عبد القیوم قیصرانی، قاری امیر محمد نے اس اجتماع کا اہتمام کیا۔
۲۲/ فروری ۲۰۱۳ء نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد شہلانی تونسہ میں مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا اس مسجد کے گرد و نواح میں متعدد قادیانی گھرانے آباد ہیں مولانا موصوف نے ختم نبوت، حیات عیسیٰ اور کذب مرزا کے موضوع پر مفصل خطاب کیا اور قادیانیوں کے دجل و فریب کا پردہ چاک کیا۔ حکیم عبدالرحیم جعفران کے برادران اور رفقا نے اس اجتماع کا اہتمام کیا۔
اس سلسلہ کا آخری اجتماع جامع مسجد مدنی شادن لنڈ میں منعقد ہوا شادن لنڈ میں بھی متعدد قادیانی آباد ہیں مولانا اللہ وسایا نے نزول مسیح اور ظہور مہدی کے موضوع پر مفصل خطاب کیا مولانا قاری جمال عبد الناصر، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد اقبال میلسوی کے بیان بھی ہوئے، محترم شہزاد حمید، بھائی خلیل احمد، قاری محمد بلال قاری اللہ وسایا رحیمی اور ان کے رفقاء نے اس اجتماع کا اہتمام کیا۔ مولانا اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وسایا نے شادن لنڈ میں تحریک تنظیم اہل سنت پاکستان کے نائب صدر صاحبزادہ مولانا محمد عمر فاروق تونسوی سے تفصیلی ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ کیا، ملک وملت کے معروف نعت گو سردار اللہ نواز سرگانی نے تمام اجتماعات میں شرکت کی اور شرکاء کو نعتیہ کلام سے محظوظ کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تونسہ کے امیر مولانا عبدالعزیز لاشاری رفیق سفر رہے ان اجتماعات میں گورنمنٹ کالج لیہ کے لیکچرار گستاخ رسول شیخ عبدالوحید کے خلاف غم وغصہ، اس کے خلاف ۲۹۵۔سی کی دفعہ لگانے، اسے گرفتار کرنے اور قرار واقعی سزا دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۱۳ء ص۲۳)
سہ روزہ ختم نبوت کورس لاہور
سہ روزہ کورس دارالعلوم عزیزیہ للبنین والبنات مکی مسجد ۲۲ علامہ اقبال روڈ لاہور میں ہوا۔ مختلف مکتبہ فکر کے دینی مدارس، سکول وکالجز کے طلباء تاجر برادری وملازمین وعلماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ۲۲؍ فروری ۲۰۱۳ء بروز جمعتہ المبارک نماز مغرب کے بعد مختصراً تلاوت ہوئی۔ مولانا نعیم الدین نے فتنہ قادیانیت کے اعتراضات کے جواب دیئے۔ ان کے بعد یادگار اسلاف مولانا مفتی محمد حسن نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کو بیان کیا۔ کورس کے دوسرے دن ۲۳؍ فروری بروز ہفتہ بعد نماز مغرب مولانا محبوب الحسن طاہر نے قادیانیت کے طریقہ تبلیغ کے عنوان پر بیان فرمایا۔ بعد نماز عشاء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات، وفات مسیح کے عنوان پر بیان فرمایا۔ جس میں مرزائی عقائد کی حیات، مسیح کے بارے میں وضاحت فرمائی۔ کورس کے تیسرے روز ۲۴؍ فروری بروز اتوار بعد نماز مغرب مولانا منیر احمد نے قادیانیت سے تائب ہوکر دائرہ اسلام میں آنے والے خوش نصیب لوگوں کی ایمان افروز کارگزاریاں سنائیں۔ بعد از نماز عشاء مختصر تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ظہور مہدی اور مرزے کی شخصیت کے بارے میں بیان فرمایا۔ مولانا امجد خان کا بیان ہوا۔ جس میں انہوں نے شہداء ختم نبوت کی قربانیوں کا تذکرہ فرمایا اور دعاء سے قبل کورس میں شرکت کرنے والے حضرات کو دارالعلوم عزیزیہ کی جانب سے اسناد اور کتب بھی دی گئیں۔ اسناد اور کتب حاصل کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً ۲۷۵ تھی۔ کورس مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص۱۳)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
۲۸؍ فروری ۲۰۱۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سال گزشتہ کے شوریٰ کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ مجلس کے مدارس، مساجد، شعبہ تبلیغ، شعبہ نشر واشاعت، شعبہ تعمیرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلہ جات کئے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ انٹرنیٹ کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی جو مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا عزیز الرحمن ثانی پر مشتمل ہے۔ اس کا بعد از عصر اجلاس ہوا۔
ختم نبوت کانفرنسوں کا مبارک سلسلہ
الحمدللہ! یوں تو پورے ملک بھر میں کوئی ایسا دن نہیں جاتا جہاں کہیں نہ کہیں ختم نبوت کانفرنس منعقد نہ ہوئی ہو۔ لیکن فروری، مارچ، اپریل، مئی، جون کے پانچ ماہ میں خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ۱۲؍ مارچ ...... ختم نبوت کانفرنس اٹک ۱۹؍ مارچ ...... ختم نبوت کانفرنس خانیوال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۳؍ مارچ......ختم نبوت کانفرنس ہری پور ۲۶؍ مارچ......ختم نبوت کانفرنس ضلع رحیم یار خان ۲۷؍ مارچ......ختم نبوت کانفرنس ضلع رحیم یار خان اور ۲۷؍ اپریل کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ میں منعقد ہوگی۔ جماعتی احباب ان کانفرنسوں کی کامیابی کے لئے اللہ رب العزت کے حضور دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابیوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص۵۶)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں ۲۸؍ فروری ۲۰۱۳ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا امین الدین پاشا اور مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ مہمان خصوصی قائد تحریک ختم نبوت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم تھے۔ کانفرنس سے ابن امیر شریعت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا انوار الحق، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عبدالرؤف ربانی رحیم یار خان، مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی، مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی خانیوال، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا خبیب احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت کئی علمائے کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس دو بجے رات تک جاری رہ کر مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا خبیب احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اقبال، مولانا عبدالستار، مولانا ریاض احمد، مولانا عبدالرزاق مجاہد دن رات مصروف رہے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی اور محمد اسماعیل نے سرانجام دیئے۔ نعت سید سلمان گیلانی نے پیش کی۔ سیکورٹی کے فرائض جامعہ اشرفیہ مانکوٹ کے طلباء نے مہتمم جامعہ مولانا محمد احمد انور کی سرپرستی میں انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۳ء ص۲۵)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
۶؍ مارچ ۲۰۱۳ء قادیانی عالمی سامراجی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ نئی نسل ان حالات سے بے خبر ہے، ان میں دین کا ضروری علم تک نہیں ہے، دینی اداروں اور تنظیموں کو بالخصوص جدید تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرنی چاہئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے اپنے بیان میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کی بنیاد ہے۔ اس عقیدے کے تحفظ کے لئے بارہ سو صحابہ کرام ؓ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کر دیا کہ جان، مال اولاد سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کے بعد کسی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا عبداللطیف اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ انیسویں صدی کی ابتدا میں مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو ہندوستان بھر کے علماء کرام نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف کفر کے فتویٰ جاری کئے۔ مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم نے اپنے بیان میں کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ وہ واحد مسئلہ ہے کہ جس پر امت مسلمہ نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا اور نہ ہی اس بارے میں کمپرومائز کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس میں مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا محمد صالح انڈھڑ، مولانا رحیم بخش سومرو، مفتی محمد جمیل کورائی اور مولانا محمد یحییٰ عباسی نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں مولانا عبدالجبار ہالیجوی مدظلہ نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص۵۲،۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں ۷؍ مارچ ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت درگاہ ہالیجی شریف کے چشم و چراغ مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کی جب کہ مولانا خواجہ خلیل احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں والے مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا بشیر احمد، مولانا مسعود افضل ہالیجوی، مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا اسد اللہ میمن، مولانا عبدالمجیب قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۵۳)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ مارچ ۲۰۱۳ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب سے لے کر رات دو بجے تک جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف والوں نے کی جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کانفرنس کی مکمل سرپرستی فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد امجد مدنی اور مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔
قاری سمیع اللہ نے تلاوت کی سعادت حاصل کی، مولانا محمد راشد مدنی اور مفتی حفیظ الرحمن کے بیانات ہوئے بعد نماز عشاء دوسری نشست میں تلاوت قاری محمد یونس نے کی اور حافظ عبداللہ عبدالقادر نے ہدیہ نعت پیش کیا، اس کے بعد مولانا قاضی احسان احمد کا ولولہ انگیز خطاب ہوا، بعد ازاں مولانا عبدالمجیب قریشی پیر شریف والوں کا خطاب ہوا، پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت دم توڑ رہی ہے، قادیانیت دن بدن روبہ زوال ہو رہی ہے، قادیانیوں کی کثیر تعداد حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہے اور وہ وقت بھی آئے گا کہ قادیانیت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ اس کے بعد حافظ محمد اشفاق نے نظمیں پڑھیں پھر مولانا احمد حسن عباسی درگاہ شاہ پور چاکر والوں کا مختصر خطاب ہوا، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے قراردادیں پیش کیں۔ آخر میں شیخ المعقول والمنقول سائیں مولانا عبدالغفور قاسمی کا تفصیلی خطاب ہوا اور انہوں نے دعاء کرائی۔ اس کانفرنس میں پورے سندھ سے محبان ختم نبوت نے ہزاروں کی تعداد میں قافلوں کی صورت میں بھرپور شرکت کی۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے مبلغین ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا تجمل حسین نے اندرون سندھ کا دورہ کیا، اسی دورہ کے دوران نواب شاہ شہر کی مساجد اور مدارس میں بیانات سمیت مختلف شہروں، محراب پور، بھریا روڈ، خانواہن، دریا خان مری، پھل شہر، جویا مروی، ہوت گوٹھ، کھڈڑ، کھڈرو، ڈوڑے مہر گوٹھ، دوڑ شہر، سانگھڑ، کھپرو وغیرہ میں دعوتی پروگرامز کے لئے گئے اور عوام الناس کو کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ہر کمیٹی نے اپنی ذمہ داری خوب نبھائی، خصوصاً قاری محمد انیس، قاری امجد مدنی، قاری تصور، قاری علی اصغر، بھائی بلال خان، بھائی عبدالرؤف سمیت مقامی جماعت کے عہدیداروں نے خوب محنت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۱۳ء ص ۲۰)
خانیوال میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۳ء بعد نماز عشاء جامع مسجد المینار میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی، جس کی صدارت مقامی امیر مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی مہتمم جامعہ مالکیہ، سجادہ نشین خانقاہ مالکیہ نے کی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مجلس کے مقامی ناظم مولانا عطاء المنعم نعیم نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے ملک کے معروف خطیب مولانا محمد رفیق جامی کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، اکرام القادری، مولانا عبدالستار گورمانی سمیت کئی علماء کرام نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور قادیانیت کے خاتمہ تک پُر امن تحریک جاری رکھیں گے۔ مقررین نے کہا کہ کسی قادیانی یا قادیانی پس منظر رکھنے والے کو پاکستان کے اقتدار پر چور دروازے سے قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا، اگر کسی قادیانی پس منظر رکھنے والے کو مسلط کیا گیا تو بھر پور مزاحمت کی جائے گی۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ دریں اثنا ۲۰ تا ۲۲/ مارچ کو خانقاہ مالکیہ کا سالانہ روحانی اجتماع منعقد ہوا، جس میں خانقاہ مالکیہ سے تربیت حاصل کرنے والے علماء کرام، مشائخ عظام اور صوفیاء کرام نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰/ اپریل ۲۰۱۳ء ص ۱۰)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ ٹوبہ
۱۷/ مارچ ۲۰۱۳ء بروز پیر بعد نماز مغرب چک نمبر ۱۴۸ گ، ب میں تحفظ قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ مرزائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا ممتاز احمد کلیار نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہی اسلام کا تحفظ ہے۔ یہی وہ کام ہے جس پر انسان اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ ۱۸/ مارچ ۲۰۱۳ء کو فجر کا درس جامع مسجد غلہ منڈی میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دیتے ہوئے فرمایا کہ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔ جب ضرورت پڑے خون کا آخری قطرہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پیش کر دیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۴۸ تا ۵۶)
ہری پور میں جماعتی سرگرمیاں اور کانفرنس
جنوری ۲۰۱۳ء ربیع الاول ۱۴۳۴ھ سے ضلع ہری پور کی رکنیت سازی کا کام مولانا طیب فاروقی (مبلغ اسلام آباد) کی زیر نگرانی شروع ہوا الحمد للہ ! پورے ضلع کے دور دراز علاقوں تک رکن سازی کی گئی، اس کے بعد ۲/ فروری ۲۰۱۳ء کو جامع مسجد القریش میں انتخابی اجلاس منعقد ہوا، جس کی سرپرستی مولانا قاضی مشتاق (راولپنڈی) نے کی۔
انتخابی عمل ( ناظم انتخاب ) مولانا محمد طیب فاروقی نے انجام دیا، جس میں مولانا قاری محمد فدا امیر، مولانا مفتی ہارون الرشید شامی ناظم ، مولانا شمس القدیر ناظم تبلیغی، سیف الرحمن سیف ناظم مالیات اور مولانا حسین احمد ناظم نشر و اشاعت منتخب ہوئے۔ اس اجلاس میں علاقے کے ڈھائی سو کے قریب علماء کرام نے شرکت کی۔
اسی اجلاس میں ۲۳/ مارچ ۲۰۱۳ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ مورخہ ۱۶ تا ۲۲/ مارچ ۲۰۱۳ء تک مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد طیب فاروقی ، مولانا قاضی مشتاق اور مولانا زاہد وسیم نے ضلع بھر میں پروگرام کئے ، اسی سلسلے میں ۲۲/ مارچ بروز جمعہ مولانا قاضی مشتاق نے نماز جمعہ جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر ﷺ سرائے صالح میں پڑھائی۔ ان حضرات کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے جامع مسجد علی خان، مولانا زاہد وسیم نے جامع مسجد غازی اور مولانا محمد طیب فاروقی نے جامع مسجد محلہ کھوہ ہری پور میں نماز جمعہ پڑھائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمدللہ !۲۳/ مارچ ۲۰۱۳ء کو ایلیمنٹری کالج گراؤنڈ ہری پور میں ایک عظیم الشان اور تاریخی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء سے وقت لیا گیا۔ بریلوی مکتب فکر کے مولانا صاحبزادہ کمال شاہ، اہلحدیث کے مولانا مقصود احمد سلفی سے وقت طے ہوا اور ان کے علاوہ ملک بھر سے جید علماء کرام تشریف لائے، جن میں متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن، مناظر اسلام مولانا منظور احمد مینگل، مولانا مفتی محمود الحسن مسعودی، مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی مشتاق، مولانا اکرام اللہ مجددی، حافظ حسین احمد قابل ذکر ہیں۔ کانفرنس کی صدارت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد کے خلیفہ مجاز پیر طریقت مولانا عبد الغفور مدظلہ ( ٹیکسلا) نے کی۔ ملک کے مشہور ثناء خواں حافظ عبد القادر (کراچی) نے ختم نبوت پر کلام پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کی خدمات مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا احسان عظیم اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے سرانجام دیں۔
کانفرنس کی کامیابی اور انتظام کے لئے مولانا قاری فدا محمد (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ہری پور) کی سرپرستی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا زاہد وسیم، مفتی ہارون الرشید، مولانا سعید، مولانا مرتضیٰ، مفتی احسان عظیم، مفتی عامر شہزاد، سیف الرحمٰن سیف شامل تھے۔ کمیٹی نے دن رات محنت کر کے اس کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اللہ رب العزت ان حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ مئی ۲۰۱۳ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس پیر جگی موڑ چک نمبر ۵۱۶
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۴/ مارچ ۲۰۱۳ء بروز اتوار دن گیارہ بجے تا نماز عصر بمقام جامع مسجد ختم نبوت چک نمبر ۵۱۶ / تحصیل کوٹ ادو میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تلاوت قاری محمد یاسین نے کی اور محمد ریاض جھنگوی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جب کہ مولانا محمد صادق، مولانا قاضی عبد الخالق، مولانا عبد المجید فاروقی، پیر جی غلام محمد دین پوری، مولانا قاری عبد اللطیف جتوئی، سید محمد کفیل شاہ بخاری، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ بہت سے مقامی علمائے کرام ومعززین علاقہ نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ کانفرنس کے تمام اخراجات کا انتظام چوہدری محمد مشتاق گجر نے کیا۔ پروگرام میں بڑی کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۴/ مارچ ۲۰۱۳ء بروز اتوار بعد نماز عشاء بمقام جامع مسجد اللہ والی وارڈ نمبر ۱۰ کوٹ ادو میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جب کہ مولانا محمد ادریس، مولانا مفتی زین العابدین، قاضی عبد الخالق، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد موسیٰ، صوفی عبد الستار، چوہدری عبد الرزاق، محمد ارشد صدیقی و دیگر مقامی علماء کرام نے شرکت کی۔ آخری اور خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر مفصل خطاب فرمایا۔ بھائی محمد خالد، محمد عابد و دیگران کے نوجوان رفقاء نے کانفرنس کے انتظامات بڑے احسن انداز میں کئے۔ اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائیں۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
جامعہ مخزن العلوم خان پور میں ختم نبوت کی بہاریں
ولی کامل جناب میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کی زیر صدارت شیخ الاسلام حافظ القرآن والحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یادگار جامعہ مخزن العلوم خان پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ حافظ الحدیث حضرت درخواستی ان عہد ساز شخصیات میں سے تھے جنہوں نے بیک وقت ہر محاذ پر داد شجاعت دی اور ہر فتنہ کا مردانہ وار مقابلہ کیا، سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس محاذ پر طویل عرصہ سے مصروف عمل، معروف ادارہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مکمل سرپرستی فرمائی۔ کانفرنس میں مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مجاہدین ختم نبوت کے واقعات سنائے۔ اسی دوران شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی تحفظ ختم نبوت پر جذبات ابھارتے رہے۔ اسٹیج اکابر علماء کرام سے بھر چکا تھا۔ مہتمم جامعہ ہذا مولانا فضل الرحمن درخواستی مدظلہ، مولانا مطیع الرحمن درخواستی، مفتی حبیب الرحمن درخواستی مدظلہ، جنرل سیکرٹری ختم نبوت جماعت مولانا خلیل الرحمن درخواستی مدظلہ، مولانا جمیل الرحمن درخواستی مدظلہ، شیخ الحدیث مولانا امیر محمد تونسوی، مولانا خلیل الرحمن ڈاہر مدظلہ، مولانا عبدالغفار تونسوی، مفتی محمد طاہر دین پوری، مولانا شفیق، مولانا سیف اللہ دین پوری و دیگر اکابرین کثیر تعداد میں موجود تھے۔ مولانا اللہ وسایا اسٹیج پر تشریف لائے تو پنڈال ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا، عرصہ دراز سے جناب میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کی موجودگی میں مولانا اللہ وسایا مدظلہ خطاب فرماتے ہیں تب واضح محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ جناب میاں صاحب کی مکمل توجہات مولانا پر مرتکز ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی مکمل کارروائی تفصیلاً بیان فرمائی مجمع پر کبھی کپکپی طاری ہوتی تو کبھی آنکھوں کے کٹورے آنسوؤں سے بھر جاتے، دوران گفتگو جب مفتی محمود کی مجاہدانہ قیادت کا ذکر آیا تو پنڈال ’’مفتی تیرا قافلہ رواں دواں ، رواں دواں‘‘ کے نعرے بلند ہوتے۔ آخر میں جناب میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کے مبارک کلمات اور دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا، نیز آخر میں جامعہ کے فارغ التحصیل علماء کرام و حفاظ کرام کو اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ کانفرنس کی کامیابی میں ایک اہم کردار مولانا خلیل الرحمن درخواستی کا تھا جنہوں نے جانفشانی کے ساتھ کانفرنس کے سلسلہ میں مختلف اجلاس منعقد کئے۔ مختلف شعبے قائم کئے اور مکمل نگرانی فرمائی۔ سیکورٹی کے فرائض مولانا شبیر احمد جالندھری مدظلہ کی زیر نگرانی تھے۔ عصر کی نماز سے قبل کانفرنس بخیر و خوبی تکمیل کو پہنچی۔ عصر کی نماز جانشین حضرت درخواستی مدظلہ مولانا فضل الرحمن کی امامت میں ہوئی بعدازاں انہوں نے رقت آمیز دعاء کروائی، جس سے جامع مسجد سسکیوں سے گونجتی رہی نماز کے بعد شرکائے کانفرنس کی لنگر سے مہمان نوازی کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
کانفرنس کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ اس کے بعد سید سلمان گیلانی تشریف لائے اور جب مدینہ میں حاضری اور روضۂ اقدس پر سلام کا نقشہ کھینچا تو اجتماع کو لوٹ لیا بعد ازاں سرگودھا سے تشریف لائے ہوئے شعلہ بیاں خطیب مولانا محمد اسامہ رضوان نے خطاب کیا۔ مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے خطاب کا آغاز ہوا وہی کانوں میں رس گھولتی آواز اور دل سے نکل کر دل میں اتر جانے والا درد، جی ہاں دل تک رسائی اسی آواز کی ہوتی ہے جو دل سے نکلے حضرت والا نے دین پور شریف کے اکابرین کی ختم نبوت کے سلسلہ میں والہانہ قربانیوں کا ذکر کیا۔ سید سلمان گیلانی ایک مرتبہ پھر تشریف لائے اور پھر قادیانیت کے وہ پرخچے اڑائے کہ برسوں قادیانی یاد کریں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا خلیل احمد شیخ الحدیث تشریف لائے۔ کانفرنس اپنے عروج پر تھی کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ لیکن مجمع جوں کا توں جذبۂ عشق محمدی سے سرشار بیٹھا رہا۔ اسٹیج پر قاری اظہر اقبال، علامہ عبد الرؤف ربانی، مفتی عبد اللطیف، میاں مظہر نثار، قاری ظفر اقبال شریف قاری خلیل الرحمن، مولانا عارف فاروقی عباسی، انس محمود و دیگر بھی موجود تھے۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا اسٹیج پر تشریف لائے اور مشاورت کے بعد دور دراز سے تشریف لائے ہوئے سامعین کے پیش نظر اختتامی دعاء فرمادی تا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بارش کی وجہ سے واپسی پر سامعین پریشان نہ ہوں یوں یہ یادگار کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۱/مارچ اور یکم/اپریل ۲۰۱۳ء کو کنری میں مولانا مختار احمد مبلغ ختم نبوت عمرکوٹ نے دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ترتیب دیا۔ جس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا توصیف احمد حیدرآباد اور مولانا محمد علی صدیقی میرپور خاص سے تشریف لائے۔ یہ کورس بخاری مسجد کنری میں منعقد کیا گیا، جس کا دورانیہ ظہر تا عصر تھا، ابتدا میں مولانا محمد علی صدیقی نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کی۔ اس کے بعد مولانا قاضی احسان احمد نے قادیانی عقائد و نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
دوسرے روز مولانا مختار احمد نے کورس کی غرض وغایت بیان کرنے کے ساتھ شرکائے کورس کا شکریہ ادا کیا بعد ازاں مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے مخصوص انداز میں قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا، اس موقع پر حافظ محمد ذیشان نے کہا کہ ان شاء اللہ! آئندہ بھی ہر دو ماہ کے بعد ایسے پروگرام ترتیب دیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت یکم تا ۷/مئی ۲۰۱۳ء ص ۱۲)
تربیتی نشست حب چوکی شہر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ حب چوکی شہر کے زیر اہتمام ۱۱/اپریل ۲۰۱۳ء بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد حب چوکی میں خصوصی ختم نبوت تربیتی نشست کا انعقاد ہوا۔ مولانا حافظ امان اللہ اور دیگر احباب کی محنت سے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا۔ اس نشست میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، علماء کرام، طلباء اور عامۃ الناس نے شرکت کی اور جامع مسجد کا اندرونی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جامعہ فاروقیہ کے متعلم حافظ محمد انس نے تلاوت کی اور حافظ کرامت اللہ نے ترانۂ ختم نبوت پیش کیا جب کہ نظامت کے فرائض حافظ امان اللہ نے سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے اس تربیتی نشست میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں امت مسلمہ نے تحفظ ختم نبوت کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں، یہ قربانیاں ہمیں بھی دعوت فکر وعمل دے رہی ہیں کہ ہم بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی خدمات پیش کریں۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی فیض الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ: ’’عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان کا ایمان ہے، یہ دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے، یہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا امتیازی وصف ہے، اس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، یہ تحفظ دنیا میں حصول سعادت وزیارت نبوی اور آخرت میں حصول شفاعت نبوی کا ذریعہ ہے۔ یہ تحفظ جنت کی ضمانت ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے لئے اللہ تعالیٰ خوش بخت اور سعادت مند انسانوں کا انتخاب کرتا ہے۔‘‘ اس مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب بزرگ عالم دین مولانا مفتی کفایت اللہ کی دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/مئی ۲۰۱۳ء ص ۱۸)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸/اپریل ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام الفتح گراؤنڈ سلیمی چوک ستیانہ روڈ فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا آغاز مولانا مفتی عبدالرحمن کی تلاوت سے ہوا۔ نعتیہ کلام سید سلمان گیلانی، قاری سعید مدنی، قاری محمد ہارون نے پیش کی۔ مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ، مولانا مفتی حبیب شاہ، مولانا محمد امجد، مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا طاہر ریحان عباسی، مولانا محمد الیاس
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
گھمن کے بیانات ہوئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرشید سیال نے ادا کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹ اپریل ۲۰۱۳ء کو جامع مسجد الحبیب طارق بن زیاد کالونی ساہیوال میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس میں تلاوت کی سعادت قاری محمد عثمان المالکی نے حاصل کی، نعتیہ کلام مدثر ولی اور محمد ذیشان نے پیش کیا، نقابت کے فرائض جامع مسجد الحبیب کے خطیب مولانا عبدالغفار قاسم نے سرانجام دیئے، جب کہ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری عبدالجبار، محمد آصف سعید، ادارہ معارف القرآن کے بانی قاری محمد شکیل احمد عثمانی، جامعہ عثمانیہ پتوکی کے مہتمم پروفیسر مسعود الحسن رشیدی، مولانا محمد عمران اشرفی، جمعیت علماء اسلام کے مفتی محمد یاسر بشیر جالندھری، قاری منظور احمد طاہر، جامع مسجد یاسین کے خطیب قاری نصیر احمد، مولانا اظہار الحق اور قاری محمد نوید سمیت مختلف مذہبی شخصیات نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت کے فرائض جناب عبدالحفیظ گوریجہ نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے منی اسٹیڈیم شیخوپورہ موڑ گوجرانوالہ میں ۲۷ اپریل ۲۰۱۳ء کو ڈویژنل ختم نبوت کانفرنس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اور اجماعی عقائد میں سے اہم عقیدہ ہے جس پر غیر مشروط طور پر ایمان لائے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے برطانوی سامراج کے اشارہ ابرو پر نبوت کا دعویٰ کر کے دین اسلام میں نقب لگانے کی کوشش کی۔ امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر نے مرزا غلام احمد قادیانی کو دعویٰ نبوت اور توہین انبیاء کرام جیسے مسائل کی وجہ سے متفقہ طور پر کافر قرار دیا جس پر ۱۹۷۴ء میں پاکستان قومی اسمبلی نے ایک متفقہ ترمیم کے ذریعہ مہر تصدیق ثبت کی۔ اعلیٰ عدالتوں نے آئینی فیصلے کئے جن کا تحفظ کیا جائے گا۔ مولانا قاضی احسان احمد، پاکستان شریعت کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا زاہد الراشدی، اتحاد اہل سنت کے سربراہ مولانا محمد الیاس گھمن، جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جامعہ مخزن العلوم خان پور کے مہتمم حافظ الحدیث حضرت درخواستی کے جانشین مولانا فضل الرحمن درخواستی، خانقاہ زاہدیہ قادریہ اٹک کے سجادہ نشین مولانا قاضی ارشد الحسینی، جامعہ نصرۃ العلوم کے ناظم مولانا محمد ریاض خان سواتی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا محمد امجد خان، بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے خطاب فرمایا۔ بارگاہ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت جناب سید سلمان گیلانی نے پیش کیا۔ سیکورٹی کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے چاک و چوبند دستے نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں پیر رضوان نفیس، قاری محمد یوسف عثمانی، قاری منیر احمد قادری، سید احمد حسین زید، مولانا گلزار احمد قاسمی، مولانا مفتی نعیم اللہ، مولانا عبدالرحیم، مولانا محمد قاسم، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عبدالنعیم، قاری عمر حیات، مولانا ظفر اقبال کہروڑ پکا، چوہدری بابر رضوان احمد باجوہ، قاری گلزار احمد آزاد، سید حفیظ الرحمن شاہ، مولانا محمد عارف شامی، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا داؤد احمد، جناب عمر عثمان ہاشمی، جناب حاجی شاہ زمان، مفتی جمیل احمد، پروفیسر عبد الماجد مشرقی، مولانا خالد محمود، مولانا محمد اخلاق،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قاری عبدالعزیز و دیگر سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۵۲)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۳، ۴ مئی ۲۰۱۳ء بروز جمعۃ المبارک اور ہفتہ منعقد ہوا۔ دو درجن سے زائد مبلغین نے ملتان شہر کی اہم مساجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی سنگینی کو اجاگر کیا۔ اجلاس کی چار نشستیں منعقد ہوئیں۔ مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔
مرحومین کے لئے ایصال ثواب : گزشتہ سہ ماہی میں وفات پانے والے جماعتی رفقاء، مولانا محمد مشتاق ہڈالی خوشاب، مولانا محمد عبداللہ مہر شاہ، حاجی غلام نبی جہاں خان بھکر، حکیم منظور احمد چیچہ وطنی، قاری اسلام الدین محراب پور سندھ، عبدالرحیم خان نیازی کچا کھوہ، عم محترم مولانا عبدالرشید غازی اللہ یار سیال احمد پور سیال، والد محترم اور فرزند ارجمند مولانا مفتی محمد شیراز پیرمحل، اہلیہ محترمہ مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید سمیت تمام مسلمانوں کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔
ممبر سازی کی تکمیل اور جماعتوں کی تشکیل: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سہ سالہ ممبر سازی جاری ہے۔ تمام رفقاء کو ہدایت کی گئی کہ ۳۰؍شعبان المعظم تک ممبر سازی کی تکمیل اور جماعتوں کی تشکیل مکمل کی جائے۔
چناب نگر سالانہ ختم نبوت کورس: سالانہ ختم نبوت کورس ۵ تا ۲۷؍شعبان المعظم مطابق ۱۵؍جون تا ۷؍جولائی ۲۰۱۳ء جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر میں منعقد ہوگا۔ شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقدوس خان قارن، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاری غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد احمد بہاول پوری، جناب حاجی اشتیاق احمد اور جناب محمد متین خالد سمیت اساتذہ فن عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت، عقیدہ رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام، قادیانیت کے عقائد و عزائم، سمیت اہم مسائل پر لیکچر دیں گے۔
کورس میں دینی مدارس کے طلباء و اساتذہ کرام، عصری تعلیمی اداروں کے سٹوڈنٹس و ٹیچرز شرکت کرسکتے ہیں۔ کورس کے انتظامات کے لئے مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا غلام مصطفیٰ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ جات کے جامعات کے منتظمین اور اساتذہ کرام سے مل کر طلبہ اسلام سے خطاب فرمائیں اور انہیں کورس میں شرکت کی ترغیب دیں۔ جنوبی پنجاب کے جامعات میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی خطاب فرمائیں گے۔ لاہور ڈویژن مولانا عزیز الرحمن ثانی، گوجرانوالہ ڈویژن مولانا فقیر اللہ اختر، سرگودھا ڈویژن مولانا محمد اکرم طوفانی دورے کریں گے۔ مبلغین کو کہا گیا کہ ملک میں ہونے والے الیکشن میں کسی قادیانی کو مسلم نشست پر اور کسی قادیانی نواز کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ کورس کے دنوں میں چنیوٹ، لالیاں، احمد نگر سمیت مضافاتی قصبات میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ سہ ماہی کے لئے احتساب قادیانیت جلد ۱۸؍ مطالعہ کے لئے تجویز کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۳ء ص ۴۸، ۴۹)
۲۸ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
۱۲؍مئی ۲۰۱۳ء، فقیر اللہ وسایا ......شام پونے چھ بجے لندن ہیتھرو ائیرپورٹ پر جہاز اترا۔ امیگریشن کے مراحل سے فارغ ہوکر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ائیر پورٹ سے باہر آیا۔ تھوڑی دیر میں مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا حافظ محمد اقبال امام و خطیب ختم نبوت سنٹر لندن ائیر پورٹ پر تشریف لائے۔ مغرب کے قریب دفتر حاضری ہوئی۔ کھانا کھایا۔ عشاء پڑھ کر سو گیا۔ صبح نماز کے بعد پھر آرام ہوا۔ آج ۱۳؍مئی کو پاکستان فون کئے۔ قریباً شام تک پورے ملک سے رزلٹ آچکا تھا۔ تین سیٹیں جماعت اسلامی ، دس سیٹیں جمعیت علماء اسلام کو قومی اسمبلی کی ملیں۔ دینی محاذ سرے سے ناک آؤٹ ہو گیا۔ شورکوٹ، جھنگ کی کامیابی کی اطلاع بھی افواہ ثابت ہوئی۔ بہت افسوس ہوا۔ انٹر نیٹ پر مولانا محمود الحسن صاحب خبریں سناتے اور پڑھاتے رہے۔
۱۳؍مئی ...... کو مغرب سے عشاء تک ”ٹوٹنگ جامع مسجد“ میں ختم نبوت کے عنوان پر بیان ہوا۔ مولانا منور حسین سورتی ، مولانا مفتی محمد یوسف ڈنکا، مولانا ممتاز الحق صاحب سے جلسہ پر ملاقات ہوئی۔
۱۴؍مئی ...... عصر کے بعد مولانا منور حسین سورتی نے دعوت کی۔ مغرب تا عشاء ”کرائیڈن“ کی جامع مسجد میں بیان ہوا۔ مولانا مفتی محمد سہیل صاحب جو مولانا سعید احمد جلال پوری مرحوم کے برادر زادہ اور جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل ہیں اور مولانا محمد انور صاحب ، جو مولانا غلام محمد علی پوری مرحوم کے صاحبزادہ اور مولانا منظور احمد الحسینی مرحوم کے بھانجے اور آپ کے جانشین ہیں۔ یہ حضرات ملنے کے لئے تشریف لائے۔ اللہ پاک ان کو اس کی جزائے خیر دیں۔
۱۵؍مئی ...... کو عصر سے مغرب تک ”ویمبلٹن“ کی جامع مسجد میں مولانا ممتاز الحق صاحب کا انگریزی میں اور فقیر کا اردو میں بیان ہوا۔ مولانا صاحب جو افریقہ کے پڑھے ہوئے ہیں، پہلے سٹرلنگ میں ہوتے تھے۔ آج کل کرائیڈن کے علاقہ میں مدرسہ چلاتے ہیں۔ ان کے ہاں دوپہر کا کھانا تھا۔
۱۶؍مئی ...... کو مغرب سے عشاء تک ”مدنی مسجد آکسفورڈ“ میں بیان تھا۔ مولانا عطاء اللہ خان جو جامعہ فاروقیہ کراچی کے فاضل ہیں، وہ میزبان تھے۔ مولانا ممتاز الحق صاحب کا انگلش میں اور فقیر کا اردو میں بیان ہوا۔ یادرہے ان تمام پروگراموں کے منتظم مولانا مفتی محمود الحسن صاحب تھے جو ہر جگہ ہمراہ رہے۔
۱۷؍مئی ...... کو جمعہ کا دن تھا۔ مولانا مفتی محمد سہیل جلال پوری ، مولانا مفتی محمد انور علی پوری ، مولانا مفتی محمود الحسن اور فقیر راقم نے ناشتہ مولانا مفتی محمد سہیل صاحب کے ہاں کیا۔ وہاں سے مولانا مفتی محمد انور کی قیادت میں ”کارڈف“ حاضر ہوئے۔ فقیر کا جمعہ کا بیان مدنی مسجد میں ہوا۔ باقی تینوں حضرات کے دوسری مساجد میں جمعہ کے بیانات ہوئے۔ جمعہ کے بعد مولانا قاری غلام نبی صاحب نے دعوت کی۔ فراغت کے بعد نیو پورٹ جناب محمد ثناء اللہ صاحب کے مکان پر حاضر ہوئے۔ بھائی فاروق صاحب ، مولانا عبدالرزاق رحیمی سے بھی یہاں ملاقات ہوئی۔ واپسی پر فقیر اور مولانا مفتی محمود الحسن صاحب کراؤلی اتر گئے۔ باقی حضرات لندن آگئے۔
۱۸؍مئی ...... بروز ہفتہ کراؤلی میں حاضری تھی۔ مولانا محمد زاہد اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے ایک سالہ عالم کورس شروع کر رکھا ہے جو جمعہ شام ، ہفتہ، اتوار کو صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک ہوتا ہے۔ اس میں تین اساتذہ شرکاء کو لیکچر دیتے ہیں۔ ان کی ایک کلاس جو یونیورسٹیز کے طلباء وطالبات پر مشتمل ہے، قریباً چالیس پچاس اس کے شرکاء ہیں۔ انہوں نے ہفتہ کا دن ختم نبوت کے لئے وقف کردیا۔ وقفہ وقفہ سے فقیر کے گھنٹہ گھنٹہ کے تین بیانات ہوئے۔ آخر میں سوال و جواب کی محفل بھی ہوئی۔ فقیر کے خیال میں اس سفر کا یہ بہت ہی عمدہ پروگرام رہا۔ عصر سے مغرب تک جامع مسجد کراؤلی میں مولانا ممتاز الحق صاحب کا انگلش اور فقیر کا اردو میں بیان ہوا۔ یادرہے کہ فقیر کے تمام بیانات کا ہر جگہ جہاں ضرورت تھی ساتھ ساتھ رواں ترجمہ انگلش میں بھی ہوتا رہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمال الدین سابق قادیانی کا واقعہ:
۱۹؍ مئی ...... کو ظہر کے بعد جامع مسجد ابوبکر ”ساؤتھ ہال“ میں مولانا ممتاز الحق اور فقیر کے بیان ہوئے۔ آج یہاں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بیان ہوا اور بہت تفصیلی ہوا۔ پھر سوال و جواب ، فقیر نے بتایا کہ بستی بزدار ضلع ڈیرہ غازی خان میں قادیانیت کا صفایا ہوا۔ منڈی بہاؤالدین کے قریب ۹ قادیانی حضرات مولانا عبد الماجد صاحب خطیب جامع مسجد مرکزی منڈی بہاؤالدین کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ بالکل منبر کے سامنے ایک خوش شکل بزرگ، پگڑی باندھے، جبہ زیب تن کئے، ہاتھوں میں رنگ برنگی انگشتریاں پہنے تھے۔ جاذب نظر معلوم ہوتے تھے۔ اچانک فقیر کو خطاب کیا کہ مولانا! آپ مجھے نہیں جانتے، میں آپ کو جانتا ہوں۔ میرے والد قادیانیوں کے افریقہ میں مبلغ تھے۔ بحری جہاز کے حادثہ میں فوت ہوئے۔ میرا نام جمال الدین ہے۔ میں پیدائشی قادیانی تھا۔ قادیان میں بھی زیارت کے لئے گیا۔ حق تعالیٰ نے میری بھی رہنمائی کی، اہلیہ سمیت مسلمان ہو گیا ہوں۔ اسی مسجد ابوبکر ”ساؤتھ ہال“ میں جمعہ پڑھتا ہوں۔ جمعہ پر آپ کے بیان کا اعلان سنا۔ زیارت اور بیان سننے کے لئے آ گیا۔ روشن دین تنویر، اللہ دتہ جالندھری، عطاء المجیب راشد سب قادیانی مناظر مجھے جانتے ہیں۔ میرے اسلام لانے کا سب قادیانی قیادت کو علم ہے۔ بیسیوں قادیانی مسلمان ہو چکے ہیں۔ جب کہ میں تین سال سے مسلمان ہوں۔ اسی مسجد میں جمعہ پڑھ رہا ہوں۔ خطیب صاحب سے علیک سلیک ہے۔ محبت واحترام کا رشتہ ہے۔ مگر انہیں بھی معلوم نہیں کہ میں قادیانی تھا۔ اب مسلمان ہوا ہوں۔ ایک دن انہوں نے تعارف پوچھا۔ میں نے کہا کہ میرا تلخ ماضی ہے نہ کریدیں تو بہتر ہے۔ آج آپ کے بیان سے خوشی ہوئی۔ خیال ہوا کہ میں بھی اپنے اعلان سے مسلمانوں کو خوش کردوں۔ آج بعد از عصر جامع مسجد ویمبلے میں بیانات ہوئے۔ یاد رہے کہ ہماری پہلی ختم نبوت کی کانفرنس ویمبلے ہال میں ہوئی۔ وہ یہاں اسی علاقہ میں منعقد ہوئی۔ ویمبلے ہال دیکھنے کے لئے مولانا مفتی ممتاز الحق اور مفتی محمود الحسن تشریف لے گئے مگر معلوم ہوا کہ وہ ہال گرا کر حکومت نے سٹیڈیم تعمیر کر دیا ہے۔
۲۰؍ مئی ...... مولانا مفتی محمد سہیل، مولانا مفتی یوسف ڈنکا، مولانا مفتی محمود الحسن کے ہمراہ دارالعلوم لندن ۱۲ بجے دن حاضری ہوئی۔ دارالعلوم کے حضرات نے محبت فرمائی۔ مدرسہ کے اسباق کی چھٹی کی۔ مسجد میں تمام طلباء، اساتذہ میں بیان ہوا۔ دوپہر کا کھانا کھایا۔ عصر تا مغرب مسجد عمر میں بیان ہوا۔
۲۱؍ مئی ...... کو مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب لاہور سے تشریف لائے۔ جناب محترم محمد بلال صاحب بریڈفورڈ سے گاڑی لے کر آئے تھے۔ مولانا مفتی محمود الحسن صاحب ان کے ہمراہ صاحبزادہ صاحب کو لینے کے لئے ایئرپورٹ گئے۔ فقیر اور مولانا حافظ محمد اقبال صاحب، مولانا محمد مبین کی ملاقات وزیارت کے لئے اسٹیشن حاضر ہوئے۔ یہاں جناب ڈاکٹر خالد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ ظہر یہاں پڑھی۔ ملاقات و کھانا کے بعد واپس لندن دفتر حاضر ہوئے تو صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب دفتر تشریف لاچکے تھے۔ آپ سے ملاقات ہوئی۔ مخدومی صاحبزادہ سعید احمد صاحب کے الیکشن میں تیسرے نمبر پر آنے کے حالات معلوم ہوئے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد سے خانقاہ سراجیہ، عزیزی حافظ محمد انس سے ملتان، عزیزی احمد وابوبکر سے چناب نگر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی سے لاہور فون پر بات ہوئی۔
۲۲؍ مئی ...... آج ظہر کے بعد لندن سے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کی سربراہی میں فقیر، مولانا محمود، جناب بلال صاحب لیسٹر کے لئے روانہ ہوئے۔ لیسٹر میں ملنے کے لئے مولانا خورشید احمد، ان کے صاحبزادہ عزیزی حبیب، سید محمد رفیق شاہ صاحب اور دیگر رفقاء برمنگھم سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ جناب محسن صاحب کے گھر ملاقات ہوئی۔ کھانا مولانا ممتاز الحق صاحب کے بھائی کے گھر تھا۔ مغرب سے عشاء تک مولانا خورشید ومولانا محمود الحسن نے لیسٹر میں اشتہارات دیئے۔ اعلانات کئے۔ دعوتی عمل مکمل کیا۔ فقیر کا مغرب سے عشاء تک
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جامع مسجد عمر میں بیان ہوا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے صدارت واختتامی دعاء فرمائی۔ بھر پور اجتماع تھا۔ بیان کیا، خوب کانفرنس ہوگئی۔ عشاء کے بعد ساڑھے گیارہ بجے مولانا محمد سلیم دھورات سے ان کی اکیڈمی میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بہت ہی محبتوں سے نوازا۔ رات گئے ان سے اجازت لے کر ڈیڑھ دو بجے بریڈ فورڈ آ گئے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب کا قیام جناب بلال صاحب نے اپنے گھر طے کیا۔ مولانا محمود الحسن اور فقیر جناب سید محمد تحسین شاہ صاحب کے ہاں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنا پورا گھر ہمارے لئے خالی کرایا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی دارین میں بہتر جزائے خیر نصیب فرمائیں۔
۲۳؍ مئی....... مولانا محمد ابراہیم صاحب خطیب جامع مسجد مدنی نے ہماری تشکیل یوں کی کہ جناب بلال صاحب کے ہمراہ بریڈ فورڈ سے عصر سے قبل چل کر لیڈز حاضر ہوئے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد اور فقیر نے اسلامک سنٹر لیڈز میں عصر پڑھی۔ فقیر کا بیان ہوا۔ مخدومی صاحبزادہ صاحب نے دعاء فرمائی۔ مولانا محمود اور بلال صاحب اعلانات و بیانات سے فراغت کے بعد تشریف لائے۔ مغرب سے قبل اولڈھم پہنچے۔ مولانا قاری عبدالرشید صاحب نے فقیر اور صاحبزادہ خلیل احمد کے ہمراہ مسجد نصرت الاسلام میں حاضری دی۔ مغرب کے بعد فقیر کے مختصر بیان کا اعلان ہوا۔ مولانا محمود الحسن صاحب نے اور قاری محمد ادریس نے مولانا شمس الرحمن صاحب کی مسجد میں بیان کیا۔ باقی مساجد میں اعلان واشتہار کی ذمہ داری جناب قاری عبدالرشید نے قبول کی۔ رات گئے بریڈ فورڈ آگئے۔
۲۴؍ مئی ....... کو جمعہ تھا۔ مولانا محمود صاحب نے جمعہ نور الاسلام میں پڑھایا۔ فقیر کا ایک بیان قبل از جمعہ مدنی مسجد میں ہوا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے بھی یہاں جمعہ پڑھا۔ فقیر کا دوسرا بیان قبل از جمعہ جامع مسجد ”ہاورڈ سٹریٹ“ میں ہوا۔ جمعہ کے بعد مولانا محمد ابراہیم صاحب کے ہاں کھانا تھا۔ جناب سید تحسین صاحب ہمراہ رہے۔ فقیر کا تیسرا بیان عصر سے مغرب تک بریڈ فورڈ جامع مسجد ابوبکر میں ہوا اور خوب ہوا۔ صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب نے دعاء فرمائی۔ فقیر کا چوتھا بیان بعد از مغرب تا عشاء جامع مسجد قباء میں ہوا۔ نماز میں تھوڑی تاخیر ہوگئی۔ عشاء پڑھ کر یہاں سے روانہ ہوئے۔ ”مڈل برا“ جناب چوہدری محمد یونس، چوہدری محمد شکیل اور ان کے بہنوئی رہتے ہیں۔ ان حضرات کے ہاں حاضری ہوئی۔ جناب محمد یونس صاحب، مولانا محمد عبداللہ صاحب سلیم پوری (حضرت ثانی) کے بھائی کے پوتے ہیں۔ گویا حضرت ثانی کے بھی پوتے ہوئے۔ رات ان کے ہاں قیام رہا۔
۲۵؍ مئی ....... قبل از ظہر جناب چوہدری محمد یونس صاحب کے ہاں کھانا کھایا۔ پہلے وقت نماز پڑھی۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کا فون آیا۔ جناب محمد یونس صاحب بھی ہمراہ جانے کے لئے تیار ہوئے۔ چنانچہ صاحبزادہ خلیل احمد، مفتی محمود الحسن، چوہدری محمد یونس صاحب کی گاڑی میں، فقیر جناب بلال صاحب کی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ عصر سے دو گھنٹے قبل جامع مسجد مرکزی گلاسگو پہنچے۔ آرام کیا۔ ۷ بجے عصر پڑھی۔ اس کے بعد اتحاد المسلمین گلاسگو کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد انعقاد پذیر ہوئی۔ جناب محمد صابر صاحب جو اتحاد المسلمین کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ وہ اس کانفرنس کے داعی و منتظم تھے۔ نظم وتلاوت کے بعد سابق سینیٹر جناب حافظ حسین احمد صاحب، ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ صاحب کے اردو بیانات کے بعد جناب مولانا حبیب الرحمن صاحب کا انگلش میں بیان ہوا۔ اس اجلاس میں آخری بیان فقیر کا تھا۔ جو مغرب کی نماز پر اختتام پذیر ہوا۔ مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء تک علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا بیان ہوا۔ کانفرنس مثالی طور پر کامیاب رہی۔ سکاٹ لینڈ پورے میں پیغام پہنچ گیا۔ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، جناب بلال صاحب نے جناب بابر صاحب کے مکان پر قیام کیا۔ چوہدری محمد یونس، فقیر، مفتی محمود صاحب اور حافظ حسین احمد صاحب کا قیام جناب صابر صاحب کے مکان پر رہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶ مئی....... اتوار کو قبل از ظہر مرکزی مسجد مدرول میں حاضری ہوئی۔ اس مسجد کے بانی رکن جناب حاجی نور محمد صاحب ساکن پیر محل و بانی مسجد روشن پیر محل کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام تھا۔ ظہر سے قبل فقیر کا بیان ہوا۔ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء فرمائی۔ ظہر کے بعد کھانا سے فراغت کے بعد باتھ گیٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ مولانا صاحبزادہ محمد عابد صاحب مرحوم کے کزن جناب محمد طارق اجمل ان کے صاحبزادہ جناب اسد صاحب ان کے برادر جناب محمد عمران یہاں ہوتے ہیں۔ انہوں نے سراجیہ اسلامک سنٹر باتھ گیٹ میں قائم کر رکھا ہے۔ چنانچہ مؤخر الذکر حضرات نے اسلامک سنٹر میں وفد کا استقبال کیا اور گھنٹہ آرام و قیام کے بعد ایڈنبرا عصر کی نماز محترم صاحبزادہ خلیل احمد اور فقیر راقم نے مدرسہ تعلیم القرآن میں حافظ عبد الحمید صاحب کے ہاں پڑھی۔ عصر کے بعد مختصر سا فقیر کا بیان اور صاحبزادہ صاحب کی دعاء ہوئی۔ مولانا مفتی محمود صاحب، جناب محمد یونس صاحب اور عمران صاحب نے دوسری مساجد میں اعلان اور دعوت کا عمل مکمل کیا۔ مغرب معمولی تاخیر سے آکر باتھ گیٹ میں پڑھی۔ رات یہاں قیام رہا۔ کھانا جناب چودھری حافظ محمد عمران کے ہاں تھا۔
۲۷ مئی....... صبح ناشتہ جناب محمد اجمل صاحب کے مکان پر کیا۔ ان کے ویئر ہاؤس میں مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء کرائی۔ ظہر کی نماز و کھانا و آرام مڈل برا میں چودھری محمد یونس صاحب کے ہاں ہوا۔ عصر پڑھ کر یہاں سے چلے۔ رات گئے بریڈفورڈ آکر قیام کیا۔
۲۸ مئی....... صاحبزادہ خلیل احمد، مفتی محمود، مولانا محمد ابراہیم خطیب اعظم بریڈفورڈ، مولانا حسین گجراتی اور فقیر نے عصر کی نماز بولٹن میں پڑھی۔ تمام حضرات کے علیحدہ علیحدہ مساجد میں بیانات ہوئے۔ حافظ محمد یعقوب گجراتی صاحب نے تشکیل کی تھی۔ عصر کے بعد کھانا کھایا۔ مولانا حسین گجراتی، مفتی محمود صاحب نے مغرب و عشاء جا کر آسٹن میں ادا کی۔ جہاں اعلان و بیان و دعوت کا عمل مکمل کیا۔ صاحبزادہ مولانا خلیل احمد، مولانا محمد ابراہیم اور فقیر نے مغرب سے عشاء کا وقت مولانا محمد بلال مظاہری استاذ الحدیث دارالعلوم بری کے ہاں گزارا۔ فقیر کا بیان ہوا جو انٹرنیٹ سے بھی نشر ہوا۔ مولانا محمد بلال صاحب بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ ہر سال کانفرنس برمنگھم تشریف لاتے ہیں۔ امسال بھی تشریف لائے۔ رات واپس بریڈفورڈ قیام رہا۔ اب کے بار جناب محمد بلال صاحب کے علاوہ سید محمد تحسین شاہ صاحب کی گاڑی بھی ہمراہ تھی۔ آج مخدوم زادہ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی صاحب جدہ سے لندن تشریف لائے۔ مولانا حافظ محمد اقبال صاحب نے ان کا استقبال کیا۔ کچھ دیر لندن قیام کے بعد ٹرین کے ذریعہ رات گئے۔ آپ بریڈفورڈ وفد میں آ شامل ہوئے۔
۲۹ مئی....... آج مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، جناب محمد بلال کے ہمراہ ”ہل“ تشریف لے گئے۔ مولانا محمد ابراہیم، فقیر راقم، مولانا محمود، مولانا یحییٰ لدھیانوی صاحب، سید محمد تحسین کی گاڑی میں بعد از عصر بلیک برن حاضر ہوئے۔ مولانا علی صاحب جو دارالعلوم بری میں ناظم الامور ہیں اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل ہیں، پہلی کانفرنس سے ہمیشہ مددگار و معاون ہیں۔ ان کے گھر کھانا کھایا۔ مغرب پر مختلف مساجد میں انہوں نے اعلانات و مختصر بیانات کی تشکیل کی۔ ان کے صاحبزادہ صاحب کی ڈیوٹی لگی کہ وہ مولانا یحییٰ لدھیانوی کو لے کر جامع مسجد جائیں۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب کے مختصر مگر مؤثر و جامع بیان سے یہ صاحبزادہ پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ مصر ہوئے کہ جمعہ کا بیان مولانا یحییٰ صاحب کا بلیک برن میں ہو۔ جہاں مولانا لدھیانوی ہوں گے۔ انہیں وہاں سے لانا، جمعہ پڑھوانا، پھر جہاں فرمائیں گے چھوڑ کے آنا میرے ذمہ۔ چنانچہ یہ تجویز قبول کر لی گئی۔ خوشی ہوئی کہ مولانا یحییٰ لدھیانوی مؤثر بیان فرماتے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں حلقہ بناتے ہیں۔ یہ سب مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید اسلام سے نسبت فرزندی اور دعاؤں کا صدقہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ پاک مزید شرف قبولیت سے نوازیں اور نظر بد سے بچائیں۔ آمین!
۳۰؍ مئی...... مولانا یحییٰ لدھیانوی کو لینے کے لئے جناب نعمان صاحب ڈیوز بری سے آئے۔ وہ آپ کے بیانات کرانا چاہتے تھے۔ فقیر کی تشکیل ہوئی کہ نعمان صاحب ڈیوز بری جاتے ہوئے فقیر کو ہڈرسفیلڈ اتار دیں۔ چنانچہ ایسا ہوا۔ جناب برادر حافظ منصور العزیز کے ہمراہ باٹلی جا کر مولانا محمد ایوب سورتی کی تعزیت کی۔ مولانا ایوب سورتی علماء میں سے سب سے پہلے انڈیا گجرات سے باٹلی تشریف لائے تھے۔ آپ شاہ عبدالقادر رائے پوری سے بیعت تھے۔ پھر مولانا سید نفیس الحسینی سے بیعت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ مولانا لال حسین اختر ، مولانا سید محمد یوسف بنوری کے عاشق صادق تھے۔ ان حضرات کی پاکستان سے آمد پر برطانیہ میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کیا۔ گزشتہ سال ختم نبوت کانفرنس برمنگھم جولائی کے آخر میں ہوئی۔ ہر سال کی طرح گزشتہ سال بھی شریک ہوئے۔ ستمبر میں وفات پاگئے۔ حق تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائیں اور جنت کے اعلیٰ درجات میں مقام نصیب ہو۔ حضرت مرحوم کے گھر جا کر تعزیت کی۔ عصر جا کر ویکفیلڈ سید اسلام علی شاہ صاحب کے ہاں پڑھی اور مختصر بیان بھی ہوا۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب ، مولانا محمود صاحب ، سید تحسین شاہ صاحب نے مانچسٹر کی مساجد کا تبلیغی دورہ کیا۔ فالحمد للہ !
۳۱؍ مئی...... جمعہ ، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے دارالعلوم بلیک برن میں پڑھایا۔ فقیر نے جامع مسجد رچڈیل ، مولانا مفتی محمود صاحب نے بریڈ فورڈ پڑھایا۔ عصر کے بعد سے مغرب تک ختم نبوت کا جلسہ مسجد عمر ؓ بریڈ فورڈ میں ہوا۔ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے بیان کا جادو جگایا۔ صدارت و اختتامی دعاء مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی ہوئی۔ مولانا محمود اور فقیر رات باٹلی آ کر رہے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد ، مولانا محمد یحییٰ صاحب رات بریڈ فورڈ میں رہے۔
یکم ؍ جون ...... ہفتہ کو طالبات میں فقیر کا ساڑھے نو بجے بیان باٹلی میں ہوا۔ اس جامعہ میں مولانا یوسف ماما ، مولانا مفتی ساچا دورہ حدیث کی طالبات کو پڑھاتے ہیں۔ مولانا محمد امین اور ان کے رفیق و یار غار مولانا ہاشم ساچا دونوں حضرات اپنے ہمراہ لیڈز کے میوزیم میں لے گئے۔ جہاں قدیم زمانہ کے دنیا بھر کے جنگی اسلحہ کو میوزیم میں سجایا گیا ہے۔ ظہر کے بعد جامع مسجد ڈیوز بری میں بیان ہوا۔ یہاں کے بزرگ رہنماء مولانا محمد یعقوب قاسمی صاحب کی زیارت ہوئی۔ ان سے دعائیں لیں۔ جلسہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔ آج پانچ بجے شام مسجد دعوت اسلام میں مولانا مفتی ساچا کی سرپرستی ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کی زیر صدارت علماء کرام کا اجلاس ہوا۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب نے بھر پور اور جامع پر مغز خطاب کیا۔ فقیر نے رسمی چند باتیں کہیں۔ صاحبزادہ مولانا خلیل احمد نے اختتامی دعاء کرائی۔ آج عصر سے مغرب کے درمیان ولی کامل مولانا عبدالرؤف صاحب ، خلیفہ مجاز مولانا مسیح اللہ خان کی جامع مسجد میں جلسہ ہوا۔ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے بیان سے سماں باندھ دیا۔ فقیر نے بھی ہاتھ پاؤں مارے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء فرمائی۔ جناب فقیر محمد داجی کے ہاں چائے کی دعوت میں شرکت کی۔ مغرب کا کھانا مسجد دعوت اسلام میں تھا۔ جس میں باٹلی کے بیسیوں علماء، مدرسین ، خطباء اور رابطۃ العلماء باٹلی کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ عشاء پڑھ کر علماء کرام سے اجازت حاصل کی۔ قبرستان میں جا کر تمام وفد کے ارکان نے مولانا ایوب سورتی کے مزار پر حاضری اور دعاء کی سعادت حاصل کی۔ رات بریڈ فورڈ آ کر قیام کیا۔ جناب سید تحسین شاہ صاحب اور محترم بلال بھائی بمعہ اپنی گاڑیوں کے تمام دن ساتھ رہے۔
۲؍ جون ...... کو توکلیہ مسجد میں بنگالی کمیونٹی کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی۔ مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کا بھڑکتا ہوا بیان ہوا۔ فقیر بھی برائے وزن بیت موجود تھا۔ مولانا محمود صاحب نے برطانیہ سے تشریف لانے والے تمام بنگال کے علماء ، خطباء سے ملاقاتیں کیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعوتیں دیں۔ یہاں مولانا نور الاسلام ڈھاکہ، مولانا پیر صاحب سرسینہ شریف سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء کرائی۔ جناب بلال صاحب کی گاڑی میں صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا محمد یحییٰ، مولانا محمود اور فقیر بریڈ فورڈ سے چل کر راستہ میں شیفیلڈ مولانا اسماعیل رشیدی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء برطانیہ سے ملاقات ہوئی۔ ظہر کے قریب مسجد زکریا برمنگھم میں مولانا خورشید صاحب کے ہاں حاضر ہوئے۔ نماز کے بعد صاحبزادہ خلیل احمد اور مولانا محمود صاحب قاری تصور الحق صاحب کی طرف سے منعقدہ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لئے مسجد علی ؓ تشریف لے گئے۔ ان حضرات کا قیام حافظ محمد شریف صاحب مرحوم کے مکان پر ہوا۔
۳؍ جون ...... فقیر کا سپارک بروک برمنگھم میں بیان ہوا۔ مولانا محمد یحییٰ، مولانا خورشید، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا مفتی محمود الحسن نوٹنگھم تشریف لے گئے جہاں مولانا رضاء الحق صاحب نے مختلف مساجد میں وفد کے حضرات کے بیانات واعلانات کرائے۔ مولانا موصوف کے ہاں شام کا کھانا کھا کر رات گئے ان حضرات کی واپسی ہوئی۔
۴؍ جون ...... فقیر آج مسجد طیبہ میں قاری تصور الحق صاحب کی عیادت و دعوت کے لئے حاضر ہوا۔ عصر کے بعد بیان بھی کیا۔ مولانا انیس بلگرامی دہلوی، مولانا امداد الحسن، قاری محمد ادریس آصف لیہ، مولانا قاری آصف رشیدی، برادر زادہ جناب طاہر بلال چشتی سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مغرب کے بعد فقیر کا مسجد زکریا میں نوجوانوں میں بیان ہوا۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب، مولانا محمد سلیم دھورات کی دعوت پر لیسٹر تشریف لے گئے۔ صاحبزادہ خلیل احمد نیو پورٹ، سونزی، جناب ثناء اللہ، جناب فاروق صاحب مولانا عبدالرزاق کی دعوت پر تشریف لے گئے۔ سید رفیق احمد، جناب صابر اور مولانا محمود صاحب کے شہر میں بیانات وملاقاتیں ہوئیں۔
۵؍ جون ...... مولانا خلیل الرحمن صاحب، مولانا محمد یحییٰ صاحب ننیٹن تشریف لے گئے۔ مولانا محمود، مولانا خورشید، سید رفیق شاہ صاحب گلاسٹر تشریف لے گئے۔ فقیر کا مغرب سے عشاء تک دار العلوم والسال مسجد ابوبکر میں مولانا محمد لقمان صاحب کے ہاں بیان ہوا۔ مولانا نصیر الدین غورغشتی کے پوتے جناب حافظ محمد داؤد صاحب کی رفاقت رہی۔
۶؍ جون ....... جمعرات کو تمام وفد کا برمنگھم میں قیام رہا۔ آج شام شیخ الحدیث جامعۃ العلوم مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر مرکزی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمد سہیل صاحب نے آپ کا ائیر پورٹ پر خیر مقدم کیا۔ مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا خلیل الرحمن آپ کو لندن سے مسجد حمزہ برمنگھم لائے۔ آج مولانا محمد متین صاحب بھی شامل وفد ہوئے۔ جناب ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جناب قاری فیض اللہ چترالی، جناب میاں منظور احمد ایڈووکیٹ قانونی مشیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی تشریف لائے۔ اس سے پانچ روز قبل مولانا مفتی خالد محمود صاحب ناظم عمومی اقراء روضۃ الاطفال و رکن مرکزی شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور قاری محمد ایوب میمن تشریف لائے۔ مفتی خالد محمود صاحب نے روزنامہ جنگ لندن میں ختم نبوت کانفرنس کے لئے اشتہارات اور سپیشل ایڈیشن کا حسب سابق اہتمام کیا۔ پہلے یہ کام مولانا مفتی محمد جمیل خان مرحوم شہید وفا سرانجام دیتے تھے۔ اب مفتی خالد محمود صاحب آپ کی نیابت کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں۔ آپ نے لندن تشریف لاتے ہی تمام تر کانفرنس کی میڈیا میں رپورٹنگ کا کام اپنے ذمہ لے لیا۔ اس کے علاوہ آپ نے لندن، ڈیوز بری، ہڈرسفیلڈ برمنگھم اور دیگر کئی شہروں میں شب و روز دعوتی بیانات کے عمل پیہم کو جاری رکھا۔ جناب ڈاکٹر صاحب کی آمد پر تمام وفد کے ارکان مسجد حمزہ میں حاضر ہوئے اور جناب ڈاکٹر صاحب کی زیارت کی۔ اپنے کام کی رپورٹ عرض کی۔ دعائیں اور ہدایات حاصل کیں اور پھر سب رفقاء اپنی اپنی ڈیوٹی پر مستعد عمل ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷؍ جون...... مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق کا مسجد حمزہ ، مولانا مفتی خالد محمود صاحب کا مسجد نقیب الاسلام، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کا مسجد صدام، مولانا مفتی محمود صاحب کا جامع مسجد ، مولانا مفتی خالد ، فقیر راقم کا فیض الاسلام اور مولانا محمد مکین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کا مسجد عمر میں خطبہ جمعہ ہوا۔ مغرب تا عشاء فقیر کا عبداللہ بن مسعود میں بیان ہوا۔ مولانا محمود صاحب ہمراہ تھے۔ آج مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر کے اعزاز میں مولانا خلیل الرحمن اور جناب حاجی معصوم خان نے عشائیہ دیا۔ جس میں وفد کے تمام اراکین اور شہر کے علماء نے شرکت کی۔
۸؍ جون...... فقیر کا ظہر کے بعد برنلے مولانا عزیز الحق صاحب کے مدرسے و مسجد علیؓ میں ختم قرآن کی تقریب سے بیان ہوا۔ گیارہ طلباء نے قرآن مجید ختم کیا۔ جناب قاری ابوبکر حیدری معروف نعت خواں سے یہاں ملاقات ہوئی۔ مولانا مفتی وقاص، مکرم و محترم جناب عزت خان صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا خورشید کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔ عصر کے بعد جامع مسجد حمزہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس و استقبالیہ دعوت ہوتی ہے۔ مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد مکین، مولانا محمد یحییٰ صاحب کے بیانات ہوئے۔ اختتامی خطاب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر کا ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا امداد اللہ قاسمی، مولانا مفتی محمود تھے۔ اختتامی دعاء مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے کی۔ مغرب کے بعد استقبالیہ میں شرکت کی۔
۹؍ جون...... کانفرنس کے انتظامات کو آخری شکل دینے کے لئے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی سرپرستی اور مولانا محمد مکین صاحب کی زیر صدارت رات گئے تک اجلاس ہوا۔ ایک بجے رات نماز عشاء ادا کی۔
اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم:
۱۰؍ جون...... بروز اتوار صبح قریباً ۹؍ بجے مولانا محمد مکین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کی سربراہی مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کی زیر نگرانی جناب بنارس خان، حافظ داؤد صاحب، جناب معصوم خان، مولانا خلیل الرحمن، مولانا گل محمد ، قاری قمر الزمان، مولانا خورشید احمد، سید محمد رفیق شاہ، صاحبزادہ محمد داؤد اور دیگر حضرات کی سرکردگی میں تمام تر انتظامات کو مکمل کیا گیا۔ یاد رہے کہ قریباً یہی حضرات جب سے کانفرنس برمنگھم میں منعقد ہونی شروع ہوئی، انتظامات میں مستعد رہتے ہیں۔ ۱۰ بجے کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔
تلاوت: قاری محمد ضرار بن قاری قمر الزمان نعت: سید محمد رفیق شاہ صاحب صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ بیان: مولانا مفتی محمود صاحب لندن، مولانا محمد مکین صاحب، مولانا محمد بلال پٹیل لندن، مولانا محمد امین پانڈور باٹلی (انگلش)، مولانا محمد عثمان بلیک برن (انگلش)، مولانا علی صاحب بلیک برن (انگلش) نعت: سید عزیز الرحمن شاہ پاکستان ، طاہر بلال چشتی پاکستان بیان: مولانا مفتی محمد سعد وقاص باٹلی (انگلش)، مولانا اشرف علی صاحب بریڈفورڈ (بنگالی) اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد مکین صاحب دعاء خیر: صدر اجلاس مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب وقفہ نماز: ڈیڑھ بجے ...... جماعت ...... پونے دو بجے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا اجلاس، بعد از ظہر:
صدارت: مولانا محمد متین تا آمد مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صدارت: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر تلاوت: قاری محمد ضرار صاحب بیان: مولانا مفتی محمد سہیل صاحب جلال پوری لندن (انگلش)، مولانا محمد ابراہیم بریڈ فورڈ نظم: جناب مولانا قاری محمد آصف رشیدی بیان: مولانا مفتی خالد محمود کراچی نظم: جناب قاری ابوبکر حیدری کراچی بیان: مولانا نور الاسلام ڈھاکہ بنگلہ دیش، مولانا ممتاز الحق صاحب لندن (انگلش)، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کراچی، مولانا عبدالعلیم فاروقی لکھنؤ انڈیا، مولانا محمد انیس بلگرامی دہلی انڈیا، فقیر راقم، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اختتامی کلمات و دعاء: علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب مانچسٹر
اسٹیج سیکرٹری تمام اجلاسوں کے مولانا مفتی محمود صاحب ہی رہے۔ مولانا محمد متین، مفتی خالد محمود، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے آپ کی سرپرستی کی۔ اجلاس مقررین کی زیادتی کے باعث بجائے چھ بجے کے شام سات بجے ختم ہوا۔ پھر بھی مولانا قاری محمد یوسف بلجیم، مولانا عبدالرشید ربانی، مولانا مفتی محمد احمد اور دیگر اہم خطباء کے بیانات نہ ہو سکے۔ جمعہ کو روزنامہ جنگ لندن نے دوسرے صفحہ پر اشتہار شائع کیا۔ اتوار کو صفحہ اوّل اشتہار اور ایڈیشن روزنامہ جنگ لندن نے شائع کیا۔ جسے مولانا مفتی خالد محمود صاحب نے مرتب فرمایا تھا۔
۲۹؍ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۳۱؍اگست ۲۰۱۲ء کو منعقد کرنے کا مولانا محمد متین نے اعلان فرمایا۔ ۱۰، ۱۱؍ جون کو دو دن ختم نبوت کانفرنس کی اخبارات رپورٹ شائع کرتے رہے۔ مجموعی تاثر یہ تھا کہ گزشتہ سالوں سے یہ اجتماع سب سے بڑا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر علامہ خالد محمود جن کی نقد میں طبیعت سخت واقع ہوئی ہے اور تحسین و داد دینے میں بہت محتاط ہیں۔ آپ جونہی پنڈال میں داخل ہوئے تو فقیر راقم سے بغل گیر ہو کر گلوگیر لہجہ میں کانفرنس کی حاضری دیکھ کر بہت دیر تک مبارک باد کے وقیع کلمات ارشاد فرماتے رہے۔ کانفرنس کے اختتام پر جو شخص بھی ملا، کلمات تحسین سے ممنون کرتا۔ حق تعالیٰ شانہ اس کانفرنس کو اہل اسلام کی ہدایت و استقامت اور قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔
مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب کانفرنس کے اختتام پر بریڈفورڈ تشریف لے گئے۔ اگلے روز ۱۰؍ جون کو لندن تشریف لائے۔ جناب منیب الرحمٰن، جناب کاشف، جناب عمران ذکی، مولانا بلال پٹیل، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، فقیر راقم، برادرم نعمان ایک ساتھ قافلہ لندن کے لئے روانہ ہوا۔ مغرب دیر سے جناب منیب صاحب کے گھر پڑھی۔ تھوڑی دیر بعد عشاء پڑھ کر ان کے ہاں کھانا کھایا۔ رات گئے دفتر آ گئے۔ مولانا مفتی محمود پہلے تشریف لا چکے تھے۔ انہیں مولانا ممتاز الحق صاحب ساتھ لائے تھے۔
۱۰؍ جون...... کو مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کا سفر براستہ جدہ کراچی کے لئے ہوا۔ مولانا حافظ محمد اقبال، مولانا محمود صاحب نے انہیں ایئر پورٹ سے الوداع کیا۔ آج عصر کے بعد مسجد کنگسٹن میں مولانا مفتی محمد احمد صاحب نے دعوت کی۔ مغرب کے بعد فقیر کا بیان ہوا۔ مخدومی و مخدوم زادہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء فرمائی۔ یہ مسجد مولانا منظور الحسینی صاحب کی ہے۔ فقیر کا اس سفر کا آخری بیان یہاں ہوا۔ رات گئے دفتر آئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱/جون ...... کو صبح ناشتہ کے بعد صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے اجتماعی دعاء فرمائی۔ اپنی دعاؤں سے فقیر کو رخصت کیا۔ ایئر پورٹ ہیتھرو پر حافظ محمد اقبال، مولانا محمود، عزیزی عمران اقبال نے رخصت کیا۔ ائیر پورٹ پر آخری فون جناب منصور العزیز صاحب کا آیا۔ فقیر نے اس سفر کا آخری فون عزیزی حافظ محمد انس کو کیا۔ راستہ میں یہ کارروائی جہاز پر لکھتا رہا۔ ابھی ائیر پورٹ جدہ پر یہاں کارروائی کو ختم کرتا ہوں۔
قارئین! ۱۲/جون صبح سات بجے کراچی پہنچنا ہے۔ اسی روز مغرب کے قریب ملتان، پھر ایک دن کے لئے گھر جانا ہے۔ واپسی پر سیدی مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم سے رپورٹ عرض کر کے براستہ ملتان، چناب نگر سالانہ کورس کے آغاز کے لئے ہفتہ کے دن پہنچنا ہے۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو۔ اب ذیقعدہ کے لولاک میں ملاقات ہوگی۔ تھک گیا ہوں بس کرتا ہوں۔
تین باتیں (ضمیمہ):
- ۱...... پہلے عرض کر چکا ہوں۔ ۲۵/مئی کو گلاسگو میں سکاٹ لینڈ سطح کی بڑی ختم نبوت کانفرنس تھی۔ اس موقع پر کمرہ ملاقات میں علامہ
ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے مولانا ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب سے فرمایا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے خطیب ہیں۔ مگر کتاب کوئی نہیں لکھی۔ تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے ایک کتاب نہیں بلکہ دو کتابیں لکھی ہیں۔ ایک کتاب کا نام مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری ہے اور دوسری کا نام خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ہے۔
- ۲...... اسی مجلس میں فقیر سے مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے فرمایا کہ میرے نزدیک ختم نبوت کے محاذ پر مجاہد ملت مولانا محمد علی
جالندھری اپنے اندر مجددانہ شان رکھتے تھے۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کر کے ہر ضلع میں دفتر و مبلغ کا نظم قائم کیا۔ دفتر و بورڈ کا ہونا مستقل تبلیغ ہے۔ ہر جگہ ہر اہل اسلام کو فری لٹریچر، فری تبلیغ کی سروس مل جاتی ہے۔ اس لئے قادیانیت کے خلاف جو آہنی شکنجہ جناب مجاہد ملت نے تیار کیا یہ آپ کی مجددانہ شان کا آئینہ دار ہے۔ میرے نزدیک وہ اس محاذ کے مجدد تھے۔
- ۳...... ۹/جون کو اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں بیان فرماتے ہوئے امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی کے پوتے اور
بزرگ عالم دین مولانا عبدالعلیم لکھنوی نے فرمایا کہ انڈیا کے معروف بزرگ عالم دین مولانا علی میاں کی عیادت کے لئے ان کی مرض الوفات میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو مجھے فرمایا کہ مولانا عبدالعلیم صاحب! آپ شیعیت کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اپنے ایجنڈا میں رد قادیانیت کے موضوع کو بھی شامل کرو۔ میں نے سن تو لیا مگر دل میں خیال آیا کہ یہاں قادیانی تو ہیں نہیں۔ آپ کے وصال کے بعد لکھنؤ کے ایک حلقہ میں جانا ہوا۔ معلوم ہوا کہ ۲۰، ۲۵ مقامات پر قادیانیوں نے تعلیم قرآن کے نام پر معلم مقرر کر دیئے ہیں۔ جونہی میں نے سنا تو واپسی کا ارادہ ترک کر دیا اور فیصلہ کیا کہ جب تک کام کھڑا نہیں ہو جاتا واپس نہیں جاؤں گا۔ تب جگہ جگہ بیان ہوئے۔ مسلمانوں نے کہا کہ قرآن مجید کے لئے اس علاقہ میں علماء نہیں ملتے تو قادیانی آگئے۔ میں (مولانا عبدالعلیم فاروقی لکھنوی) نے کہا کہ اچھا پانی نہ ملے تو زہر پی لو گے؟ لوگ سمجھ گئے۔ قادیانی بھاگے۔ مسلمان معلم مقرر کئے۔ قادیانیوں کا ناطقہ بند ہوا۔ ختم نبوت کانفرنس کی۔ اس میں سولہ لاکھ مسلمان شریک ہوئے۔ علاقہ بھر میں قادیانیت نے پسپائی اختیار کی۔ اب اس علاقہ کا قادیانی رخ نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۳ء ص ۳۴ تا ۴۵)
ختم نبوت کورس ٹوبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد عثمانیہ چک نمبر ۳۲۱ گ، ب داؤد پور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ۶ روزہ ختم نبوت کورس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸؍ تا ۱۳؍ جون ۲۰۱۳ء منعقد ہوا۔ جس میں عقیدہ توحید و ختم نبوت، ناموس رسالت، امام مہدی علیہ الرضوان، حیات رفع و نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام، کریکٹر مرزا قادیانی پر لیکچر ہوئے اور چیچہ وطنی سے مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ساہیوال، مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ اور مولانا مطیع اللہ لدھیانوی نے کورس پڑھایا۔ ۵۱؍ حضرات نے کورس میں شرکت کی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا عزم مصمم کیا۔ کورس کے اختتام پر جامعہ دارالعلوم ربانیہ پھلور کے استاد الحدیث مولانا حفیظ اللہ اور مفتی محمد یوسف ربانی، جامعہ امدادالعلوم رجانہ کے مہتمم قاری محمد ناصر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رجانہ کے نائب امیر مولانا ساجد اقبال نے تشریف لا کر شرکاء کورس کو سند، آئینہ قادیانیت، شیخ امین اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے گمراہ کن عقائد و نظریات، تلاش حق اور لٹریچر دے کر نوازا۔ کورس میں مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا عبداللہ، مولانا محمد رفیق معاون خصوصی رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۳ء ص ۵۳)
حضرت ناظم اعلیٰ مدظلہ کا دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ چھ روزہ دورہ پر اندرون سندھ تشریف لائے۔ حضرت ۱۴؍ جون کی شام بذریعہ تیز گام ملتان سے سفر کر کے ۱۵؍ جون صبح نواب شاہ پہنچے، بعد از عصر کبیر مسجد میں علماء کرام سے ملاقات اور رات کو بعد نماز عشاء کوثر مسجد میں بیان فرمایا۔
۱۷؍ جون کو حضرت مدظلہ نے میر پور خاص کے لئے سفر کیا، اس سفر میں پہلے ایک مختصر سا قیام دارالعلوم صدیق اکبر ٹنڈو الہ یار اور جامعہ فاروقیہ ٹنڈو الہ یار میں ہوا، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے امیر مولانا شبیر احمد کرنالوی سے ان کے بڑے بھائی کے انتقال پر تعزیت کی اور اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر امداد اللہ احمدانی کے انتقال پر ان کے بیٹوں اور بھائی سے تعزیت کی۔ رات بعد نماز عشاء مدینہ مسجد شاہی بازار میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں مولانا قاری کامران احمد، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد بھی شریک تھے۔ مولانا حفیظ الرحمن فیض سے ان کے رشتہ دار مولانا عبید اللہ صاحب کے انتقال پر تعزیت کی، رات کا قیام میر پور خاص میں رہا۔
۱۸؍ جون کنری کے لئے سفر کیا، صبح مدرسہ فاطمۃ الزہرا کے زیر اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری میں دراسات دینیہ کے دو سالہ کورس میں شامل کتاب ’’معارف الحدیث‘‘ کی آخری حدیث طالبات کو پڑھائی اور بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کنری میں خطاب کیا۔ حضرت مدظلہ کے علاوہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، قاری کامران احمد، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مختار احمد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کے انتظامات مقامی جماعت کے احباب نے بھر پور انداز میں کئے تھے۔
۱۹؍ جون صبح سانگھڑ کے لئے سفر شروع کیا، جہاں پہلے کوٹ غلام محمد میں مفتی محمد عدنان کی دعوت پر مدرسہ اشرف المدارس میں کچھ دیر قیام اور اس کے بعد سانگھڑ کے قریب مانوں خان چانڈیو کے گوٹھ تشریف لے گئے، جہاں بعد از ظہر جماعتی احباب سے ملاقات کی اور اس کے بعد ڈاکٹر امداد اللہ احمدانی مرحوم کی قبر پر ان کے گاؤں گوٹھ محمد احمدانی تشریف لے گئے۔ عصر کی نماز بلال مسجد سانگھڑ میں ادا کی اور مختصر خطاب کیا۔ ۲۲ چک سانگھڑ میں بعد نماز مغرب پروگرام تھا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا مفتی حفیظ الرحمن اور مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے۔ رات قیام ٹنڈو آدم میں اور ۲۰؍ جون کو ٹنڈو آدم سے کراچی دفتر ختم نبوت تشریف لائے، جہاں امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے اور جماعتی کارکنوں سے ملاقات کی۔ اس پورے سفر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبلغین مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا قاضی احسان احمد بھی ساتھ رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۱۳ء ص ۲۷)
دوروزہ کورس مدرسہ عائشہ للبنات حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے زیر اہتمام ۱۶، ۱۷؍ جون ۲۰۱۳ء کو دوروزہ کورس جامعہ عائشہ للبنات لطیف آباد نمبر ۶ میں منعقد کیا گیا، جس میں بروز اتوار صبح ۹ تا ۱۱ بجے مولانا قاضی احسان احمد کا بیان ہوا، جس کا عنوان ’’عقائد کی درستگی‘‘ تھا۔
انہوں نے کہا کہ تمام اعمال کی قبولیت کا مدار تصحیح عقائد پر ہے۔ عقیدہ درست اور مضبوط تو اعمال سرسبز و شاداب ہوں گے۔ عقیدہ غلط ہو تو تمام اعمال برباد ہوں گے، اگر درخت کو دیمک لگے تو تنہ بار آور نہیں ہوسکتا، شاخ کی پتیاں سلامت نہیں رہ سکتیں، اسی طرح عقیدہ میں کمزوری ہو تو اعمال اکارت ہو جائیں گے۔
بروز پیر ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں بھیج کر اس کے مقصد زندگی کو واضح کر دیا، مسلمان کا مقصد اطاعت خداوندی ہے۔ نفس اور شیطان انسان کو اپنے مقصد سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اگر شیطان کی پیروی کی تو انجام جہنم اگر رب کی اطاعت کی تو انجام جنت ہوگا۔
حضرت مدظلہ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قرب قیامت کی علامت ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف رفع قدرت خداوندی کا اظہار ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ موجود ماننا اور ان کے نزول پر ایمان لانا ضروری ہے، رفع و نزول مسیح کا منکر کافر ہے۔ الحمد للہ! کورس میں کثیر تعداد میں طالبات و خواتین نے شرکت کی اور طالبات میں ختم نبوت لٹریچر کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۱۳ء ص ۲۶)
سہ روزہ ختم نبوت کورس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دفتر ختم نبوت لطیف آباد آٹو بھان روڈ حیدرآباد میں سہ روزہ ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ ۱۴؍ تا ۱۶؍ جون ۲۰۱۳ء بروز جمعہ تا اتوار کو ہونے والے اس کورس میں اسکول، کالج، یونیورسٹی و مدارس کے طلباء و عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پہلے دن جمعہ بعد نماز مغرب مولانا قاضی احسان احمد کا لیکچر ہوا، انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام و ظہور امام مہدی علیہ الرضوان پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ قاضی صاحب نے کہا کہ ہر باطل فتنہ اپنے نظریات کی پوجا کر رہا ہے۔ قرآن و حدیث سے دجل و تلبیس کر کے اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کورسز میں شریک ہو کر باطل کے دجل و فریب کو سمجھا جائے۔ آخر میں قاضی صاحب نے کہا کہ ہم اپنی زندگی کو ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کریں، خوش بخت و سعادت مند انسان کو قدرت ختم نبوت کے کام کے لئے قبول کرتی ہے۔
دوسرے دن مناظر اسلام مولانا منیر احمد منور صاحب کا بیان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے، لوگوں نے اپنی من پسند تشریح قرآن و حدیث کی ہے، جس سے مختلف فرقے وجود میں آئے، اگر پوری امت اپنی پسند کو چھوڑ کر قرآن و حدیث کے عین مطابق تشریح کرے تو فرقہ واریت ختم ہو جائے گی۔
آخری دن مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا بیان ہوا۔ حضرت نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائے اسلام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے فتنے رونما ہو رہے ہیں، ماضی قریب میں قادیانیت کا فتنہ پیدا ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلام، قرآن، حدیث، پیغمبر اسلام ﷺ کے مقابلے میں لایا گیا۔ پوری امت نے مل کر قادیانیت کا تعاقب کیا، ان کے کفر کو واضح کیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ کی نبوت تا قیامت ہے، اب کسی اور کی نبوت کی گنجائش نہیں ہے۔ کورس کے آخر میں شرکاء کورس میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۱۳ء ص ۲۷)
۲۰ رواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر
- ☆ ...... سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کا آغاز ۵؍ شعبان المعظم ۱۴۳۴ھ مطابق ۱۵؍ جون ۲۰۱۳ء بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے مدرسہ عربیہ ختم
نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ہوا۔
- ☆ ...... مولانا عزیز الرحمٰن ثانی پورے نظم کے نگران اعلیٰ تھے۔ داخلہ اور طلباء کو رہائشیں الاٹ کرنے میں مولانا محمد اقبال مبلغ ڈیرہ غازی
خان نے آپ کی معاونت کی۔
- ☆ ...... ناشتہ، صبح و شام کا کھانا تیار کرنے کا نظم مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاولپور اور مولانا محمد صغیر مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی
چناب نگر نے سرانجام دیا۔ مولانا ساقی کے چلے جانے کے بعد آخری ہفتہ مولانا محمد اصغر کی معاونت مولانا محمد خبیب مبلغ ٹوبہ نے کی۔
- ☆ ...... مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا سید فاروق احمد شاہ فیصل آباد، مولانا مفتی خالد محمود
کراچی، مولانا محمد انور اوکاڑوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد انیس مظاہری لاہور، مولانا محمد سیف اللہ خالد چنیوٹ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا قاری محمد ادریس ہوشیار پوری، جناب محمد متین خالد لاہور، مولانا سید خبیب احمد شاہ فیصل آباد، مولانا عزیز الرحمٰن رحیمی، مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد احمد مدرس مدرسہ چناب نگر، مولانا محمد شاہد مدرس مدرسہ چناب نگر، حاجی اشتیاق احمد جھنگ، مولانا نور محمد ہزاروی اور دیگر حضرات کے لیکچرز ہوئے۔ سب سے پہلا سبق مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے مدرس مولانا محمد شاہد صاحب اور سب سے آخری سبق شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کا ہوا۔
- ☆ ...... سب سے زیادہ اسباق مولانا غلام رسول دین پوری (صدر مدرس مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر) نے پڑھائے اور ان
کے بعد زیادہ اسباق مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ہوئے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ایک دن میں تقریباً دو دو گھنٹے کے دو اسباق پڑھائے۔
- ☆ ...... کورس کے دوران مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ)، محترم جناب محمد رضوان نفیس (خلیفہ مجاز مولانا سید نفیس
الحسینی لاہور)، قاری عبدالرحمٰن ضیاء سرگودھا، جناب قاری عبدالحمید حامد، مولانا سیف اللہ خالد (ناظم جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ)، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان صاحب (ناظم اقرأ روضۃ الاطفال پاکستان)، مولانا قاری فیض اللہ چترالی، جناب اعجاز صاحب کراچی، مولانا حبیب اللہ صاحب، شیخ الحدیث معہد الفقیر جھنگ، مولانا غلام محمد فیصل آباد، وفد علماء سرگودھا، چیچہ وطنی سے قاری محمد زاہد اقبال اور مفتی محمد ظفر اقبال اور دیگر بہت سارے مہمان گرامی نے تشریف آوری سے سرفراز فرمایا۔ مولانا غلام مصطفیٰ، قاری عبیدالرحمٰن صاحب نے مہمانان گرامی کی خدمت کی سعادت حاصل فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆ ...... مولانا عبدالرشید صاحب مبلغ فیصل آباد، جناب محمد حارث فیصل آباد نے آخری دو دن مکتبہ پر بھر پور ڈیوٹی سرانجام دی۔
- ☆ ...... کورس میں ملک بھر سے دوصد انسٹھ حضرات نے داخلہ لیا۔ ان میں دو حضرات معذور بھی تھے جو چلنے کے لئے وہیل چیئر استعمال کرتے تھے اور کورس میں دو نابینا حضرات نے بھی شرکت فرمائی جن کا تقریری امتحان ہوا۔
- ☆ ...... اس سال کورس میں فارغ التحصیل علماء، دینی مدارس کے اساتذہ ، اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز حضرات نے کثرت سے شرکت فرمائی۔ باقی درجہ رابعہ سے اوپر کے حضرات تھے۔ اس سال بہت سارے علماء کرام کے صاحبزادوں نے شرکت فرمائی اور ان علماء گھرانوں سے تعلق رکھنے والے شہزادوں کی خدمت کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرفراز فرمایا۔
- ☆ ...... کراچی سے چالیس حضرات پر مشتمل وفد نے شرکت فرمائی۔ یہ سب ایک ساتھ تشریف لائے اور ایک ساتھ واپس ہوئے۔
- ☆ ...... قادیانی شبہات جلد اوّل جو ختم نبوت کے مباحث پر مشتمل ہے۔ قادیانی شبہات جلد دوم جو حیات مسیح علیہ السلام کے مباحث پر مشتمل ہے۔ قادیانی شبہات جلد سوم جو مرزا قادیانی کے کذب کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ تینوں کتابیں نصاب میں شامل تھیں، جو پڑھائی گئیں۔ بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے ہفتہ کے اختتام پر ان تینوں کتابوں کے تحریری امتحانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۲۵۹ حضرات میں سے ۱۲ حضرات جن کے رول نمبر یہ ہیں : ۴، ۶، ۷، ۳۴، ۸۴، ۱۲۱، ۱۳۷، ۱۴۳، ۱۶۵، ۱۹۰، ۱۹۷، ۲۲۵ کثرت غیر حاضری کے باعث یا رخصت لے کر چلے گئے یا امتحان میں انہیں شرکت کا مستحق نہ سمجھا گیا۔ بہر حال یہ حضرات امتحان میں شریک نہ ہو سکے۔
- ☆ ...... کورس میں ہمیشہ سے یہ نظم قائم ہے کہ دن بھر آٹھ گھنٹہ تعلیم ہوتی ہے، عشاء کے بعد ایک گھنٹہ تعلیم اور پھر ان تمام شرکاء حضرات کے دس ، دس افراد پر مشتمل گروپ بنائے جاتے ہیں۔ اس سے بیان اور تقریر میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سال ۲۶ گروپ بنائے گئے، آخری سے پہلے روز ان کے مقابلہ ہوئے ، چھبیس گروپوں سے جو اپنے اپنے گروپ میں اوّل آئے، ان ۲۶ حضرات کا پھر تقریری مقابلہ ہوا، ان میں سے جو اوّل ، دوم ، سوم آئے ان پوزیشن ہولڈرز حضرات کو خصوصی انعامات دیئے گئے ۔
- ☆ ...... تقریری مقابلہ کے تمام تر نظم کی ذمہ داری اوّل سے آخر تک مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے ذمہ لئے رکھی ۔ آخری ہفتہ مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاولنگر نے مولانا کی معاونت کی ۔ تقریری مقابلہ میں فیصلہ کرنے والے مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد حبیب تھے ۔
- ☆ ...... کورس کے شرکاء کی ہر روز دو دفعہ حاضری لی جاتی ہے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی حاضری لیتے رہے یا یہ کہ جسے آپ مقرر کر دیتے تھے۔
- ☆ ...... کورس کے دوران میں جو جمعتہ المبارک آئے وہ مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد راشد مدنی نے پڑھائے۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی تشریف آوری:
شیخ الحدیث ، استاذ العلماء مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے وعدہ فرمایا تھا کہ ۶ جولائی کی شام سرگودھا سے تشریف لائیں گے اور ۷ جولائی کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے ممنون احسان فرمائیں گے، لیکن آپ نے ۵، ۶ ، ۷ جولائی تینوں دن کورس میں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تشریف آوری سے سرفراز فرمایا۔ ۵؍ جولائی بعد از عصر سے قبل از عشاء تک قیام رہا۔ ۶؍ جولائی کو صبح ۸ بجے سے نو بجے تشریف فرما رہے اور آخری امتحان میں شریک رفقاء کا معائنہ بھی فرمایا، اسی روز عصر کے بعد سے قبل از عشاء تک مدرسہ ختم نبوت چناب نگر میں تشریف فرما رہے اور ۷؍ جولائی کو آخری خطاب بھی فرمایا۔ پوری تقریب میں مسلسل تین گھنٹہ تشریف فرما بھی رہے۔ تحریری امتحان میں اول آنے والے خوش نصیب کو اپنے ہاتھوں سے انعام سے بھی سرفراز فرمایا۔
حضرت ناظم اعلیٰ دامت برکاتہم کی تشریف آوری:
۳؍ جولائی سے ۷؍ جولائی تک آپ نے کورس کے شرکاء حضرات کی سرپرستی فرمائی۔ آخری روز سات بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک خطاب بھی فرمایا۔ اختتامی تقریب میں شرکت بھی فرمائی اور کورس کے شرکاء کو اسناد وانعامات سے سرفراز فرمایا۔
کورس کے امتیازی وصف:
اس سال کورس کے حضرات کو ختم نبوت، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان، قیامت، فتن اور خروج دجال پر مشتمل اربعین رسالہ میں شامل چالیس احادیث یاد کرائی گئیں اور خطبہ جمعہ بھی یاد کرایا گیا۔ پورے کورس کے دوران بحمدہ تعالیٰ عمدہ نظم ونسق قائم رہا۔ فالحمد للہ!
اختتامی تقریب:
- ☆...... ۷؍ جولائی ۲۰۱۳ء مطابق ۲۷؍ شعبان المعظم کو صبح ساڑھے آٹھ بجے اسناد وانعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔
- ☆...... اختتامی تقریب کی صدارت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے فرمائی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے اختتامی بیان
کے بعد تقسیم اسناد و تقسیم انعامات کا سلسلہ شروع ہوا۔
- ☆...... سب سے پہلا انعام سیّد فاروق احمد شاہ خلیفہ مجاز مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے اور سب سے آخری انعام حضرت
امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اپنے دست شفقت سے عنایت فرمایا۔
سیّد صفدر شاہ صاحب (ہمبوآنہ)، حاجی بشیر احمد شاہ صاحب (ہمبوآنہ)، مولانا سیف اللہ خالد صاحب (چنیوٹ)، قاری عبدالحمید حامد صاحب (چنیوٹ)، قاری عبدالرحمن ضیاء (سرگودھا)، مولانا عبیداللہ صاحب (لاہور)، پیر طریقت رضوان نفیس صاحب (لاہور)، ملک خلیل احمد صاحب (چنیوٹ)، حاجی محمد علی صاحب (چنیوٹ)، مولانا شفیق احمد سلیم (سرگودھا)، مفتی حفظ الرحمن صاحب بنوری (فیصل آباد)، مولانا خالد صاحب (لاہور)، قاری ظہور احمد صاحب (لاہور)، قاری منیر احمد صاحب (گوجرانوالہ)، قاری یونس صاحب (فیصل آباد)، مفتی فضل الرحمن صاحب (فیصل آباد)، مولانا غلام محمد صاحب (فیصل آباد)، حافظ ناصر گجر (فیصل آباد)، حافظ عبدالمنان صاحب (فیصل آباد)، قاری ابوبکر صاحب (فیصل آباد)، مولانا محمد وسیم صاحب (سرگودھا)، مولانا ظریف اللہ شاہ صاحب (سرگودھا)، جناب ممتاز صاحب (سرگودھا)، صاحبزادہ عبدالقادر رائے پوری (سرگودھا)، حافظ خالد صاحب (فیصل آباد)، مولانا محمد ہارون صاحب (چنیوٹ)، قاری عبدالکریم صاحب (چنیوٹ)، جناب محمد عابد صاحب (چنیوٹ)، مولانا قاری محمد ابوبکر صاحب (شیخوپورہ)، سیّد مظفر حسین گیلانی صاحب (فیصل آباد)، قاری اکبر ضیاء صاحب (فیصل آباد)، قاری عبدالرحیم بلوچ صاحب (فیصل آباد)، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب (چناب نگر)، مولانا محمد قاسم رحمانی صاحب (بہاولنگر)، مولانا مفتی محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)، مولانا حافظ محمد ثاقب صاحب (گوجرانوالہ)، مولانا غلام رسول دین پوری اور دیگر مہمانوں نے تمام شرکاء کو اسناد اور انعامی کتب عنایت فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریری امتحان میں سب سے:
پہلی پوزیشن: رول نمبر ۱۴۶ جناب محمد عبدالمنان بن محمد عارف (فیصل آباد) دوسری پوزیشن: رول نمبر ۲۳۱ محمد بلال معاویہ بن قاری عزیز الرحمن (بھکر) تیسری پوزیشن: رول نمبر ۱۸۵ سمیع اللہ ربانی بن مولانا عبدالمجید فاروقی (کوئٹہ)
تقریری مقابلہ میں سب سے:
پہلی پوزیشن: رول نمبر ۲۵۸ عبیداللہ انیس بن حافظ عزیز الرحمن (گوجرانوالہ) دوسری پوزیشن: رول نمبر ۲۲۲ محبوب احمد بن مولوی الٰہی بخش (مظفرگڑھ) تیسری پوزیشن: رول نمبر ۲۵۹ محمد اعجاز بن عبدالرحمن (بہاول پور) نے حاصل کی۔
جنہیں کتب کے بنڈل انعامات میں دیئے گئے۔ مسلم کالونی چناب نگر کے جناب محمد ظفر صاحب نے تحریری و تقریری مقابلہ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والوں کو ایک ایک ہزار روپے نقد بھی دیا۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے حکم پر مولانا صاحبزادہ خلیل احمد دامت برکاتہم نے اختتامی دعاء فرمائی۔ یوں ساڑھے آٹھ بجے اختتامی تقریب شروع ہو کر ساڑھے گیارہ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۳ء ص ۳ تا ۶)
بیسواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
امسال سالانہ ختم نبوت کورس ۵؍ شعبان المعظم تا ۲۷؍ شعبان المعظم مطابق ۱۵؍ جون تا ۷؍ جولائی ۲۰۱۳ء منعقد ہوا۔ کورس کی عمومی نگرانی مولانا اللہ وسایا نے کی۔ کورس کے شرکاء سے مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد شاہد، مولانا محمد احمد بہاولپوری، جناب محمد متین خالد، جناب حاجی اشتیاق احمد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔ آخری تقریب ۷؍ جولائی کو منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم تھے۔ تقریب میں درجنوں علمائے کرام نے خصوصی شرکت کی۔ کورس میں جن طلبہ کرام نے شرکت کی ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
اسمائے گرامی شرکاء کورس:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 شمس الحق غلام محمد مظفرگڑھ 2 محمد رضوان اللہ دتہ ننکانہ 3 حافظ ذیشان محمد اسماعیل سرگودھا 4 محمد علی مشتاق احمد فیصل آباد 5 محمد بلال محمد ہدایت قصور 6 محمد بلال احمد محمد اکرم قصور 7 محمد جمشید محمد اکرم قصور 8 واجد محمود علی محمد لاہور 9 مدثر مقبول مقبول حسین لاہور 10 محمد ہاشم امیر خان لورالائی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
11 ثناء اللہ طور گل لورالائی 12 عبداللہ لونگ خان نوشہرہ 13 محمد گل شیر اصغر علی قصور 14 زین العابدین محمد داؤد قصور 15 محمد شکیل احمد جمیل احمد قصور 16 محمد وقاص ظہور احمد چنیوٹ 17 مولوی محرم علی عبدالشکور تھرپارکر 18 عبدالحفیظ محمد ملک خیر پور میرس 19 محمد عتیق الرحمن اللہ دتہ مظفر گڑھ 20 محمد ثاقب غفور عبدالغفور چنیوٹ 21 سید حسن عبداللہ سید مظفر حسن فیصل آباد 22 عابد نواز محمد نواز اٹک 23 نفیس احمد عیسیٰ خان اٹک 24 محمد تحسین دوست محمد اٹک 25 سفیر احمد عبدالقدیر باغ 26 عدنان سلیم محمد سلیم کیانی پونچھ 27 عتیق الرحمن محمد ممتاز باغ 28 محمد رضوان محمد شبیر جہلم 29 حسیب الرحمن عبدالرحمن پشاور 30 محمد سفیان محمد ابراہیم سیالکوٹ 31 عبدالخالق عارف علی قصور 32 محمد عارف محمد الیاس لاہور 33 محمد اسحق مولوی نذیر احمد مظفر گڑھ 34 محمد علی صابر علی چنیوٹ 35 تاج محمد سید محمد لورالائی 36 ضیاء الدین حاجی محمد نور ہرنائی 37 محمد ابراہیم محمد یار لکی مروت 38 حفیظ اللہ رسم خان لکی مروت 39 سعد الدین خالق داد صوابی 40 اشفاق احمد خواجہ محمد چارسدہ 41 عمران خان احسان اللہ چارسدہ 42 عبداللہ حاجی علی خان پشاور 43 شیر رحمٰن فضل محمد چارسدہ 44 نور اللہ خواص خان چارسدہ 45 اسد اللہ عباسی نور اللہ خان چارسدہ 46 گل زیب شمس الحق پشاور 47 شکیل احمد امیر محمد پشاور 48 محمد سعد محمد سلیم راولپنڈی 49 شہریار بادشاہ زرشید گل نوشہرہ 50 محمد اکرم صابری محمد رفیق جھنگ 51 محمد سلیم خادم حسین ملتان 52 محمد حسن الحسینی محمد حفیظ نوشہرہ 53 گل نواز شیر رب نواز نوشہرہ 54 ثاقب حسین صابر حسین نوشہرہ 55 منیب الوہاب محمود الوہاب نوشہرہ 56 محمد عتیق عبداللطیف راولپنڈی 57 خادم حسین حضرت بلال چارسدہ 58 فہیم اللہ الف خان چارسدہ 59 عتیق الرحمن مولانا محمد اسحق بہاول نگر 60 وقار علی سلامت علی لاہور 61 محمد ریاست مختار رحمانی شیخوپورہ 62 محمد عمر محمد یونس لاہور 63 گل اسلام حضرت گل چارسدہ 64 محمد دانش محمد رفیق راولپنڈی 65 اکرام اللہ محمد فتح شیر ڈی آئی خان 66 عثمان علی اللہ یار فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
67 اسامہ ارشد محمد ارشد شیخوپورہ 68 خلیل اللہ محمد افضل لیہ 69 رجب علی حاجی جیون ڈیرہ غازیخان 70 عبدالوکیل کمال خان ڈیرہ غازیخان 71 عمر فاروق حافظ عبدالقادر وہاڑی 72 محمد رضوان محمد رفیق بہاول نگر 73 محمد بلال محمد شریف جھنگ 74 محمد اسلم احمد نواز جھنگ 75 فیصل حیات نور محمد جھنگ 76 محمد رمضان بشیر احمد جھنگ 77 حافظ محمد عاطف بشیر احمد جھنگ 78 طلحہ یاسر محمد رمضان ڈیرہ غازیخان 79 نور الامین سردار امیر دیر 80 سید ابرار شاہ سید غلام مصطفیٰ مانسہرہ 81 محمد اسماعیل بہادر خان باجوڑ ایجنسی 82 ارشاد اللہ محمد امین باجوڑ ایجنسی 83 کاشف جاوید آصف جاوید شیخوپورہ 84 عبدالوہاب رسول زمان بنوں 85 سلمان علی نواز خان بنوں 86 محمد طلحہ شفیق احمد نوشہرہ فیروز 87 محمد مبشر محمد اسلم لودھراں 88 محمد یوسف اللہ دتہ وہاڑی 89 محمد رفیق محمد بخش بہاول پور 90 محمد وقاص حکیم عبدالحکیم بہاول پور 91 محمد شاہد فاروق محمد رمضان ملتان 92 محمد طفیل محمد شریف رحیم یار خان 93 عبدالرب نذیر احمد رحیم یار خان 94 محمد ضیاء اللہ اللہ رکھا رحیم یار خان 95 محمد عرفان قاری خلیل احمد بہاول پور 96 محمد ثناء اللہ محمد ظفر ملتان 97 محمد جمیل بشیر احمد ملتان 98 محمد ازہر خادم حسین بہاول پور 99 محمد عمر حیات محمد حیات جھنگ 100 فضل الرحمٰن مفتی محفوظ احمد بہاول پور 101 محمد عمیر طیب محمد طیب بہاول پور 102 محمد لقمان نذیر احمد رحیم یار خان 103 محمد شعیب محمد حنیف لیہ 104 محمد عابد معاویہ محمد سرور شیخوپورہ 105 رئیس احمد شوکت علی بہاول پور 106 عبدالرحیم ارحم غلام مصطفیٰ بہاول پور 107 محمد سجاد اللہ وسایا بہاول پور 108 محمد مدثر نوید حافظ عبدالغفار بہاول پور 109 محمد کلیم اللہ بشیر احمد بہاول پور 110 سیف الرحمٰن عبدالرحمٰن بہاول پور 111 عبدالجبار محمد اسلم ٹھیکیدار بہاول پور 112 محمد اقبال خادم حسین بہاول پور 113 محمد عرفان محمد اقبال بہاول پور 114 محمد شعیب حافظ محمد صدیق بہاول پور 115 محمد سعد سید سعید کاظمی لودھراں 116 عبدالرزاق نذر محمد لودھراں 117 شمس الدین محبوب الرحمٰن مانسہرہ 118 بلال عباسی محمد الیاس عباسی مانسہرہ 119 محمد ایاز کالا خان ایبٹ آباد 120 محمد انیس محمد شعیب ایبٹ آباد 121 سید محمد اسامہ سید قاسم علی بہاول پور 122 محمد ایاز محمود خالد محمود بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ۳۶۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
123 محمد ابوبکر حفیظ محمد حفیظ بہاول پور 124 محمد نعمت اللہ حفیظ الرحمٰن لودھراں 125 محمد زبیر حفیظ حفیظ احمد بہاول پور 126 رحمت اللہ پیر بخش راجن پور 127 نوید لیاقت حافظ لیاقت علی حافظ آباد 128 حافظ عبدالباسط محمد حفیظ اللہ بہاول پور 129 محمد طیب جمیل حاجی عبدالمجید بہاول پور 130 ضیاء الرحمٰن علی شیر سرگودھا 131 محمد ابوبکر محمد افضل بہاول پور 132 محسن عزیز عبدالعزیز راولپنڈی 133 مسعود احمد مرید حسین سرگودھا 134 محمد عبید اللہ حافظ محمد یاسین شیخوپورہ 135 محمد عابد جمیل محمد جمیل قصور 136 محمد فیصل جاوید ملک صغیر احمد بہاول پور 137 حسنین معاویہ نذیر احمد چنیوٹ 138 محمد علی بشیر احمد دیر 139 محمد ابوبکر ذیشان عبدالرزاق بہاول پور 140 حافظ محمد وقاص محمد اصغر شاہ بہاول پور 141 حافظ محمد طارق منظور احمد بہاول پور 142 محمد عثمان محمد اشفاق بہاول نگر 143 زید مصطفیٰ حافظ غلام ربانی سرگودھا 144 محمد حبیب اللہ محمد طارق منڈی 145 احمد حسن محمد رفیق چنیوٹ 146 محمد عبدالحنان محمد عارف فیصل آباد 147 محمد عطاء اللہ دین محمد فریدی بھکر 148 محمد زبیر گل نواز ٹانک 149 آصف صدیق اجمل حسین وہاڑی 150 محمد آصف مجید عبدالمجید ملتان 151 محمد امین محمد رمضان قصور 152 عبدالحفیظ محمد عبداللطیف سیالکوٹ 153 سیف اللہ اختر عارف محمود ملتان 154 محمد ثاقب عبدالغفور ڈیرہ غازیخان 155 شفیع اللہ غلام رسول فیصل آباد 156 سلیم اللہ غلام رسول فیصل آباد 157 محمد اشرف بشیر احمد شیخوپورہ 158 محمد ابراہیم قمر الدین حیدر آباد 159 اظہر الدین حمید الدین بٹگرام 160 حافظ محمد قاسم جماعت علی سیالکوٹ 161 حافظ سیف اللہ رکھا سیالکوٹ 162 محمد یوسف محمد حیات چنیوٹ 163 گل شیر جوگی نبی بخش خیر پور میرس 164 قاری میر محمد شمس الدین نواب شاہ 165 محمد خان عبداللطیف خیر پور میرس 166 محمد شعیب عبدالرشید خیر پور میرس 167 محمد عثمان حیدر فیاض حیدر جھنگ 168 رحمت اللہ صابر شاہ کراچی 169 نور اللہ ظریف خان نوشہرہ 170 احمد گل اول گل کراچی 171 شاہ حسین فقیر احمد فاروقی کراچی 172 زین العابدین اصغر علی کراچی 173 محمد سجاد محمد علی کراچی 174 ولی شان محمد صفدر کراچی 175 عابد علی محمد علی کراچی 176 ملک اویس احمد ملک عبدالستار کراچی 177 عبدالرحمٰن عالم گل چترال 178 نور محمد ہاشم خان چترال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 179 اکبر خان نصیب گل شانگلہ 180 راز محمد محمد نبی سوات 181 نصیب اعتبار محمد کراچی 182 امان اللہ مولانا عبدالحمید مانسہرہ 183 شمس الرحمن واحد گل پشاور 184 ناصر علی ارباب خان سوات 185 سمیع اللہ ربانی مولانا عبدالحمید کوئٹہ 186 فضل احمد مولانا عبدالحمید کوئٹہ 187 امجد علی غلام عباس نوشہرہ فیروز 188 محمد ذاکر محمد ابراہیم بدین 189 رحمت اللہ چار گل خان کوئٹہ 190 محمد معاذ بحرون زادہ کراچی 191 شیر افضل محمد سلیمان کراچی 192 رضوان الرحمن عبدالرحمن مظفر گڑھ 193 عصمت اللہ نور محمد ڈی آئی خان 194 عنایت الرحمن مولانا فضل ربی پشاور 195 محمد شاہ نواز غلام فرید رحیم یار خان 196 محمد بلال مولانا عبد الہادی مظفر گڑھ 197 فیض الرحمن اکرم جان حیدرآباد 198 امجد خان شیر محمد حیدرآباد 199 عبدالقادر عطاء محمد تھرپارکر 200 حماد اللہ کفایت اللہ لسبیلہ 201 مصباح الحق حاجی محمد عالم قلات 202 محمد سلمان محمد حسن جیکب آباد 203 محمد یار محمد اقبال کوہاٹ 204 محمد اختر ہدایت اللہ لسبیلہ 205 کاشف قمر محمد حمزہ لسبیلہ 206 عبدالرحیم غلام مصطفیٰ ٹوبہ ٹیک سنگھ 207 رفیق الدین سعد الدین کراچی 208 خان محمد کاجل خان کراچی 209 عتیق الرحمن محمد رمضان شیخوپورہ 210 حافظ محمد سفیان طارق محمود میرپور خاص 211 زبیر احمد وزیر احمد شکار پور 212 محمد اللہ یار خان کراچی 213 نصیر اللہ بنیامین کراچی 214 عمر صدیق خالد خان کراچی 215 شریف اللہ امانت خان کراچی 216 محمد آصف سعد ملوک کراچی 217 ہارون الرشید عبدالرحمن کراچی 218 محمد عابد صدیقی عبدالرشید صدیقی خانیوال 219 جاوید محمود محمود احمد خانیوال 220 انیس اللہ خان حمزہ بنوں 221 محمد افتخار محمد ابراہیم قصور 222 محبوب احمد مولوی الٰہی بخش مظفر گڑھ 223 محمد طاہر غلام رسول بہاول نگر 224 شرجیل احمد منیر احمد سرگودھا 225 ظفر اقبال احمد خان لیہ 226 محمد کلیم اللہ محمد نواز ڈیرہ غازیخان 227 محمد اعجاز جاول حسین گوجرانوالہ 228 محمد عمران ریاض احمد بہاول پور 229 محمد رضوان محمد صابر بہاول پور 230 محمد اسامہ اللہ وسایا قاسم خانیوال 231 محمد بلال معاویہ عزیز الرحمن بھکر 232 محمد عدنان عبدالرحمن سرگودھا 233 محمد علی اکبر رانا محمد حنیف خانیوال 234 محمد یوسف انور عبید اللہ انور قصور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
235 محمد صدیق عبدالمجید مظفرگڑھ 236 محمد سجاد محمد رمضان جھنگ 237 عمر صدیق محمد رفیق جھنگ 238 عمیر حبیب حفیظ اللہ فاروقی سیالکوٹ 239 محمد احمد محمد قاسم رحیم یارخان 240 محمد اسحق نذر حسین ملتان 241 محمد یار محمد یعقوب بہاول پور 242 شاہ حسن شہاب الدین جھنگ 243 محمد نعیم عبدالمجید لودھراں 244 خلیل احمد غلام حسین لودھراں 245 محمد سمیع اللہ بشیر احمد لودھراں 246 محمد زاہد اقبال غلام حسین جھنگ 247 حمیداللہ سیف الرحمٰن کراچی 248 محمد انس عطاء اللہ طاہر قصور 249 ایاز محمود محمد حنیف قصور 250 محمد عبداللہ محمد رمضان ڈیرہ غازیخان 251 محمد فاروق خدا بخش ڈیرہ غازیخان 252 محمد یاسین رب نواز ڈیرہ غازیخان 253 محمد عثمان رحمانی محمد رمضان چکوال 254 محمد طاہر رشید عبدالرشید مظفرگڑھ 255 عبدالحفیظ عبدالعزیز سرگودھا 256 سیف اللہ محمد صادق مردان 257 محمد طارق یار محمد مظفرگڑھ
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۳ء ص ۲۸ تا ۵۲)
دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرائے صالح ہری پور
اللہ کے فضل و کرم سے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ امیر شریعت سرائے صالح کے زیر اہتمام ۲۹؍ جون ۲۰۱۳ء بروز ہفتہ بعد از نماز عصر تا نماز عشاء مولانا قاری فدا محمد خان امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہری پور کی زیر صدارت دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں مہمانان گرامی مولانا قاضی محمد مشتاق صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی، مولانا محمد طیب صاحب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد، پروفیسر مفتی آصف محمود صاحب صدر اتحاد اہل سنت ہزارہ ڈویژن اور مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب جیوڑی مانسہرہ تھے۔ کانفرنس کی پہلی نشست (عصر تا مغرب) میں خصوصی بیان مولانا محمد طیب صاحب نے کیا۔ دوران بیان حضرت نے ’’مرزا طاہر منصور‘‘ کے قبول اسلام کی کارگزاری سناتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے فضل و کرم سے جب میری مرزا طاہر منصور سے گفتگو شروع ہوئی اور اس کے سامنے مرزائیت کی حقیقت کھلی تو اس نے کلمہ پڑھتے ہوئے اپنی زبان سے یہ جملہ کہا کہ: ’’دنیا میں مرزائیت سے گندہ مذہب اور مرزا قادیانی سے گندہ انسان کوئی نہیں آیا۔‘‘ اس کے علاوہ حضرت نے ایک ’’بہن‘‘ کا واقعہ بھی سنایا جو اسلام آباد میں ملازمت کرتی تھی۔ حضرت نے جب اس کے سامنے مرزائیت کی حقیقت کھولی تو اس نے بھی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ دوسری نشست نماز مغرب کے بعد شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن کے بعد مفتی ہارون الرشید شامی ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہری پور نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ اس کے بعد مفتی آصف محمود صاحب کا انتہائی مدلل اور پرمغز خطاب ہوا۔ ان کے بعد شاہ عبدالعزیز صاحب نے بہت ہی خوبصورت اور مؤثر بیان کیا۔ آخری اور خصوصی خطاب مولانا قاضی محمد مشتاق صاحب کا ہوا۔ حضرت نے پیر مہر علی شاہ صاحب کا واقعہ بیان فرمایا جس میں پیر مہر علی شاہ صاحب کو مکہ مکرمہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے حکم فرمایا کہ تم ہندوستان جاؤ، وہاں ایک فتنہ اٹھے گا۔ پیر مہر علی شاہ صاحب ہندوستان آئے تو اسی عرصے میں فتنہ مرزائیت اٹھا۔ حضرت نے اس فتنے کے خلاف بھر پور کام کیا۔ دوسرا واقعہ مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد علی جالندھری کا تھا کہ ایک دفعہ حضرت جالندھری نے مرزا کو ”الو کا پٹھا“ کہہ دیا تو انگریز کی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا۔ جب حضرت نے جج کے سامنے حوالے پیش کئے تو جج بھی بول اٹھا کہ ”یہ انسان تھا یا کوئی الو کا پٹھا“ کانفرنس کا اختتام مولانا قاضی محمد مشتاق صاحب کی رقت آمیز دعاء کے ساتھ ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۳ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کورس صادق آباد میں پانچ ہزار افراد کی شرکت
عظیم الشان شعور ختم نبوت وفہم دین کورس جو کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صادق آباد کے زیر اہتمام جامع مسجد مکی مظہر فرید کالونی میں منعقد ہوا۔ اس حوالہ سے کامیاب ترین کورس تھا کہ تقریباً ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسلسل اکیس دن کورس میں شرکت کی اور جہاں علمی پیاس بجھائی وہیں ایمان دشمن فتنوں سے آگاہی حاصل کی۔ کورس میں وکلاء، ڈاکٹرز، اسکول و کالج کے اساتذہ کرام، تاجر حضرات نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نیز کورس کی خاص بات اڑھائی ہزار خواتین کی شرکت تھی۔ کورس میں شرکت کرنے والوں کو کاپی، قلم بھی جماعت کی طرف سے دیئے گئے۔
کورس میں جن مضامین پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت نیز چودہ صد سالہ تاریخ مدعیان نبوت اور جس طرح سے امت مسلمہ نے ان جھوٹے دجالوں کا دیوانہ وار مقابلہ کیا۔ اس کا تفصیلاً ذکر ہوا۔ فتنہ قادیانیت کی ابتداء اس فتنہ کی کاشت کاری کی وجہ، انگریز کی سرپرستی، علماء حقہ کا مقابلہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مکمل تاریخ، ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی تحریک کا مکمل احوال اور دنیا بھر میں مجلس ختم نبوت کی جانب سے قادیانیت کا تعاقب نیز حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن مجید، احادیث مبارکہ سے پرمغز دلائل اور منکرین حیات عیسیٰ علیہ السلام کے شبہات کے جوابات حضرت مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری، حقانیت اسلام جس میں ایسے دلائل ذکر ہوئے جنہیں سن کر دنیا کا کوئی بھی کافر اسلام کو سچا مذہب تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مرزا قادیانی کا گھناؤنا کردار خود قادیانیت کی کتابوں کے آئینہ میں، قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق، بائبل سے عیسائیوں کو دعوت اسلام نیز مروجہ عیسائیت کے من گھڑت عقائد کی تردید بزبان بائبل اور تحریف بائبل بزبان بائبل جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ عشر پر جدید مسائل، نیز معاشی مسائل، جدید تجارتی مسائل کے بنیادی اصول، سود، جواء، انعامی سکیموں کی حقیقت، انعامی بانڈز، شیئرز کا کاروبار، انشورنس کے صحیح طریقہ کار پر تفصیلاً بیان ہوا۔ معاشرتی مسائل نکاح، طلاق، خلع، وراثت، وصیت، حق مہر، فسخ نکاح ہر آسان فہم جدید مسائل پر بیانات ہوئے۔ مکمل اسلامی عقائد پر دو دن تفصیلی بحث ہوئی۔ حیات انبیاء علیہم السلام اور برزخی زندگی پر دلائل کی دنیا میں بحث ہوئی۔
دوران کورس سامعین کے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے اور وقتاً فوقتاً لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ نیز منکرین حدیث کے اشکالات کے جوابات دیئے گئے۔ الحمد للہ مسلسل ۲۱ روز مولانا مفتی محمد راشد مدنی کے بیانات ہوئے جس میں صادق آباد اور رحیم یار خان شہر کے جید علماء کرام نے مسلسل شرکت کی۔ خصوصاً مجلس تحفظ ختم نبوت صادق آباد کے امیر مولانا محمد مشتاق مدظلہ، ناظم اعلیٰ مولانا طلحہ، ناظم تبلیغ مولانا محفوظ احمد جالندھری، ناظم نشر و اشاعت فیصل رحمٰن، خازن شفقت حسین بھی شریک کورس رہے۔
کورس میں مقامی اسلامی کتب فروش مکتبۃ الامۃ کو اس امر پر آمادہ کیا گیا کہ ۴۵ فیصد رعایت پر اسلامی کتابیں فروخت کریں۔ تاکہ ہر مسلمان کے گھر میں اسلامی لٹریچر پہنچ سکے۔ الحمدللہ! یہ تجربہ بھی کامیاب رہا۔ بہت بڑی تعداد میں شرکاء نے اس مکتبہ سے کتابیں نیز
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتب خریدیں۔ واضح رہے کہ کورس میں ۹۸ فیصد دنیا دار طبقہ تھا جنہوں نے انتہائی دلجمعی سے اس کورس سے استفادہ کیا۔ تقریباً ہر فتنہ کے متعلق مثبت انداز میں گفتگو ہوئی۔ کورس کی کامیابی میں حاجی غلام رسول صاحب، حکیم محمد زاہد، مولانا مفتی محمد صفدر خطیب جامع مسجد ہذا، مولانا عبدالرحمن، مولانا محمد عبداللہ بھائی عبداللہ بھائی عامر کی خصوصی کاوشیں تھیں جنہوں نے شرکائے کورس کو ہر قسم کی راحت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی مفتی قاضی شفیق الرحمن امیر مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان اور مولانا محمد مشتاق امیر مجلس صادق آباد تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کورس کی کامیابی کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقدس پلیٹ فارم کی مرہون منت قرار دیتے ہوئے مولانا مفتی محمد راشد مدنی کی بہترین انداز میں حوصلہ افزائی فرمائی اور شرکاء کورس کو مبارک باد دی۔ یہ مرحلہ بڑا ایمان افروز تھا جب تقسیم اسناد کے موقع پر ۱۵ سال کے جوان سے لے کر ۸۰ سالہ بوڑھا سند وصول کر رہا تھا۔ اختتامی دعاء مولانا محمد مشتاق مدظلہ نے فرمائی اور شرکاء کو مجلس تحفظ ختم نبوت سے جڑے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے لولاک کے خریدار بننے کی ترغیب دی۔ رقت آمیز دعاء ہوئی اور یوں یہ کورس دور رس اثرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۳ء ص ۵۴،۵۳)
مبلغین ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حافظ محمد ثاقب نے کی۔ اجلاس میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا کی یاد میں یکم ستمبر تا ۱۰ ستمبر ۲۰۱۳ء سے عشرہ ختم نبوت منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
طے ہوا کہ یکم ستمبر بہاول پور، ۵ ستمبر جامعہ اشرفیہ لاہور، ۶ ستمبر جامع مسجد ہلال اسلام آباد، ۷ ستمبر پشاور اور ۸ ستمبر کو مردان میں بڑے بڑے اجتماعات اور ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ جب کہ علاقائی سطح پر ہر اہم شہر میں اجتماعات، سیمینارز، کانفرنسیں، جلسے منعقد کئے جائیں گے۔
پورے ملک میں ممبر سازی ہو چکی ہے۔ ساتھیوں کو ہدایت کی گئی کہ جماعتوں کی تشکیل مکمل کر کے تفصیلات دفتر مرکزیہ کو ارسال فرمائیں۔ تاکہ ممبران عمومی کو اجلاس کے لئے دعوت نامے ارسال کئے جاسکیں۔
چناب نگر سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۲۴، ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو منعقد ہوگی۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی سربراہی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام مصطفیٰ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام، دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دیں گے۔
اجلاس میں ”دی مسیح“ فلم کے ”جیو“ پر نشر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جیو انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ گستاخی انبیاء کرام پر مشتمل اس فلم کو بند کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۳ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم ستمبر ۲۰۱۳ء بعد نماز عشاء جامع مسجد الصادق بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مرکزی نائب امیر صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم تھے۔ کانفرنس سے مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسحاق ساقی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ مولانا مفتی عطاء الرحمن، مولانا شفقت الرحمن، مولانا شمس الدین انصاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، قاری غلام یاسین صدیقی، محمد سلیم انصاری، شیخ محمد شاہد سمیت بہاول پور کی دینی قیادت نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ علماء کرام نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے عظیم الشان فیصلہ جس میں قادیانیوں کے دونوں گروہوں قادیانی اور لاہوری گروپس کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قادیانیوں کی ارتدادی تبلیغ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۴۳)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍ستمبر ۲۰۱۳ء جامعہ اشرفیہ لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد امجد خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، جناب لیاقت بلوچ، جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم، قاری زوار بہادر، مولانا زاہد الراشدی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ، مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر، حافظ اسعد عبید اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ علماء کرام نے ۱۹۷۴ء قومی اسمبلی کی مکمل روئیداد کی اشاعت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی جمیلہ پر خراج تحسین پیش کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ جامعہ کے نظماء، مولانا قاری ارشد عبید، حافظ اسعد عبید، مولانا محمد اکرم کشمیری، مولانا مجیب الرحمان انقلابی ہمہ وقت مہمانوں کے استقبال اور خدمت میں مصروف رہے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مدنی کے خلیفہ مجاز حاجی حافظ صغیر احمد، مولانا محب النبی، پیر سیف اللہ خالد، مفتی انیس احمد مظاہری، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا عبد النعیم، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا قاری علم الدین شاکر، سید ضیاء الحسن شاہ، قاری نذیر احمد و دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔ جب کہ شاعر ابن شاعر سید سلمان گیلانی وقتاً فوقتاً اپنی مسحور کن آواز اور کلام سے مجمع کو گرماتے رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد بسلسلہ یوم ختم نبوت ۷؍ستمبر
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کے دور میں تمام اراکین پارلیمنٹ نے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ملعون اور اس کے پیروکاروں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنیاد پر ایک متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس تاریخ ساز فیصلہ کی یاد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عشرہ ختم نبوت منانے کا اعلان ہوا تو ۶؍ستمبر بروز جمعتہ المبارک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان تاریخی ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد لال اسلام آباد میں انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔ اس پورے عمل میں محترم قاری حبیب الرحمن نائب امام لال مسجد مکمل معاونت اور سرپرستی فرماتے رہے جب کہ مسجد کمیٹی کے چیئرمین محترم چوہدری محمد یونس اس پورے عمل کو دیکھ کر خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے بار بار کہتے جارہے تھے۔ لال مسجد ہمیشہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مرکز رہی۔ تلاوت قرآن کریم کے لئے قاری سعید اللہ ازہری کو دعوت دی۔ بعد ازاں قاری زبیر احمد مدرس لال مسجد نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت کلام کی سعادت حاصل کی اور نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت طالب محمد زبیر نے حاصل کی۔ جب کہ اسٹیج کے انتظام مولانا قاری عبد الوحید قاسمی کے حوالہ کر دیا۔ اس نشست کی صدارت مولانا عبد الرؤف مدظلہ نے فرمائی ۔
مولانا خلیق الرحمن چشتی نے کہا کہ آج ہماری خوشی کی انتہا نہیں کہ ہم اپنے اکابرین کی پرخلوص محنت کے صدقہ سے عظیم الشان تاریخی فتح کی مناسبت سے یوم ختم نبوت منا رہے ہیں۔ مولانا عبدالحلیم قاسمی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کو اس جماعت کے ہاتھوں غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا جس کی انہوں نے ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں بھر پور محنت کی تھی۔ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے فرمایا کہ ہم نے مولانا غلام غوث ہزاروی سے یہی سیکھا ہے کہ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے مگر قادیانیت سے سودا بازی نہیں ہوسکتی ۔ مولانا قاری محمد زرین نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہمارے اکابر کی جماعت ہے جس نے ہمیشہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کی تردید میں بھر پور کردار ادا کیا۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بڑی تفصیل کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، قادیانی دجل اور عالمی مجلس کے بنیادی کردار پر اپنے مخصوص مسحور کن انداز میں روشنی ڈالی مجمع نے خوب داد دی۔
نماز جمعہ کے بعد دوسری نشست کا آغاز قاری عبد الوحید قاسمی کی تلاوت کلام سے ہوا۔ اس نشست کی صدارت مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ نے فرمائی ۔ نعت رسول مقبول کے لئے منصب حسین فاروقی ، مولانا مبشر مقبول محترم عطاء الرحمن عزیز کو دعوت دی گئی۔ ہر ایک نے خوب سے خوب تر انداز میں ختم نبوت کے عنوان پر کلام پیش کیا۔ مولانا قاضی عبد الرشید صاحب نے علمائے راولپنڈی اور وفاق المدارس کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ختم نبوت کے لئے ہمارے مدارس ، جانیں ، عزت و آبرو سب کچھ قربان ہے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بنیادی کردار ہے۔ مولانا نے فرمایا اس تحریک کے دو حصے اور دو محاذ تھے۔ ایک پاکستان کے کوچہ و بازار تھا تو دوسرا قومی اسمبلی کا فورم۔ بریلوی مکتب فکر کے نامور عالم دین دربار عالیہ چشتیہ گولڑہ شریف کے نمائندہ شیخ عبد الحمید چشتی نے بہت خوب صورت علمی انداز میں عقیدہ ختم نبوت کو بیان کیا اور قادیانیت کی تردید کی۔ مولانا محمد عالم طارق نے کہا کہ ہم ناموس رسالت ، عقیدہ ختم نبوت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں گے ۔ حافظ حسین احمد مرکزی راہنما جمعیت علمائے اسلام نے قادیانیت کی آئینی اور قانونی حیثیت کو پارلیمانی انداز میں بیان کیا جو کہ یقیناً اس کانفرنس کا لب لباب تھا۔ مولانا ظہور احمد علوی نے علمائے اسلام آباد کی نمائندگی کی جب کہ مری کے علمائے کرام کی نمائندگی مولانا قاری سیف اللہ سیفی نے کی۔ جب کہ آخری خطاب مولانا محمد الیاس گھمن کا ہوا جنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں عقیدہ ختم نبوت پر اکابرین علمائے دیوبند کی خدمات پر روشنی ڈالی ۔
کانفرنس میں پنڈی اسلام آباد کی کثیر تعداد میں علماء نے شرکت کی ۔ مولانا نذیر احمد فاروقی ، مولانا عبد الغفار ، مولانا تاج الدین مدنی ، قاری احسان اللہ ، مولانا حسین طارق ، مولانا طاہر سلطان ، قاری سہیل عباسی ، مولانا قاضی مشتاق احمد صاحب ، مولانا عبد الکریم ، مولانا محمد شریف ہزاری ، مولانا شارق احمد صدیقی ، مولانا عزیز الرحمن ، مولانا اورنگزیب ، مولانا قاضی محمد طیب ، مولانا فخر الاسلام جب کہ ٹیکسلا سے قاری محمد زکریا ، ہری پور سے بھائی سیف الرحمن ، سرائے صالح سے مفتی عامر شہزاد ، داتہ مانسہرہ سے مولانا عبد القدیر ، مری سے قاری سیف اللہ سیفی ، علاقہ علی پور فراش سے قاری عبد الرزاق کی قیادت میں وفود نے شرکت کی۔ مولانا زاہد وسیم ، مفتی خالد میر نے اپنی ٹیم کے ساتھ مہمانوں کے اکرام کا بہت احسن انداز میں نظم نبھایا جب کہ سعید الرحمن ، اسامہ ، فیض الرحمن معاویہ نے ان کی معاونت کی ۔ کانفرنس کا اختتام مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ کی دعاء پر ہوا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۵۳، ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پشاور
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی یاد میں ہر سال سالانہ ختم نبوت ۷؍ستمبر کو پشاور میں منعقد ہوتی ہے۔ امسال مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی دامت برکاتہم کی زیر قیادت پشاور کی جماعتی قیادت نے بھرپور اہتمام کیا۔ عشاء کے بعد سے رات گئے تک قصہ خوانی بازار میں ہزاروں کرسیوں پر براجمان عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کانفرنس کے مدوجزر سے مستفیض ہوا۔ کانفرنس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے فرمائی۔ مہمان خصوصی پیر طریقت مولانا عبدالغفور صاحب ٹیکسلا تھے۔ خطباء میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا مفتی کفایت اللہ اور مولانا اللہ وسایا شامل تھے۔ رات گئے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۹)
ختم نبوت کانفرنس بنوں
ضلع بنوں میں ۷؍ستمبر کی عظیم الشان فتح کی خوشی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کر کے عوام الناس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت اجاگر کی گئی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے شہر کے جامع مساجد کے خطباء سے ملاقاتیں کی گئیں۔ تاکہ عوام الناس کو عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈال کر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے اور اسی سلسلہ میں شہر کے مدرسوں کے مہتمم حضرات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ تلاوت کلام پاک کا شرف قاری گل نذر دین صاحب کو حاصل ہوا جس کی مسجد میں کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ مولانا حمید اللہ صاحب نے نعت شریف پیش کی۔ مولانا شمس الحق، امام یوسف، قاری عبداللہ امیر جمعیت علماء اسلام ضلع بنوں، ٹانک کے مفتی نور اللہ اور اسلام آباد کے مولانا محمد طیب فاروقی صاحب نے بیانات کئے۔ جس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کے ساتھ ساتھ حکومت خیبر پختونخواہ اور خاص کر عمران خان سے مطالبہ کیا گیا کہ حال ہی میں لطیف خان قادیانی کو ایڈووکیٹ جنرل بنایا گیا ہے۔ اس کو فوری طور پر معزول کیا جائے اور آئندہ کے لئے کلیدی عہدوں پر اس ناپاک کافر کو مسلط نہ کیا جائے۔ اس کے بعد پریس کلب تک ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے قریب بھی مولانا مفتی عبدالغنی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے اور خاص طور پر قادیانی مصنوعات سے بائیکاٹ پر لوگوں کو آمادہ کیا گیا۔ کانفرنس اور ریلی مفتی عظمت اللہ سعدی کے زیر سرپرستی ہوئیں۔ الحمدللہ! بہت اچھے تأثرات مرتب ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۳۸)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ
کوہاٹ (رپورٹ: محمد علی) گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع کوہاٹ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۷؍ستمبر ۲۰۱۳ء کو کوہاٹ کی مشہور و معروف تاریخی مسجد حضرت حاجی بہادر میں منعقد ہوئی۔ جلسہ کی صدارت سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم نے فرمائی۔ رمضان المبارک کے فوراً بعد کارکنان ختم نبوت نے کانفرنس کی تیاری میں دن رات ایک کر کے کوشش کی۔ خاص کر قاسم پراچہ، آصف علی، مولانا عاصم شنواری، مولانا فخر الرحمن، مفتی محمد ابراہیم، قاری عبید اللہ پانی پتی، مولانا سفیان، محمد عاطف قابل ذکر ہیں۔ اس ضمن میں تمام مدارس عربیہ کے علماء کرام، مدرسین، مہتمم حضرات اور طلباء سے ملاقاتیں کی گئیں اور ان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ تمام علاقے کو اشتہارات اور بینرز کے ذریعے آراستہ کیا گیا تھا۔ منادی کے لئے زین الدین اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آصف علی مقرر ہوئے تھے۔ جلسہ اپنے وقت مقررہ پر شروع ہوا۔ ابتدائی تقریر مفتی نعمت اللہ حقانی رئیس دارالافتاء مدرسہ انجمن تعلیم القرآن کوہاٹ و ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کی۔ نعت خواں فیصل بلال اور حافظ عبدالمعز صفی کوہاٹی نے لوگوں کے دلوں کو مسرور کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی کی کارروائی کی روئیداد بھر پور انداز میں بیان کی۔ جلسہ کے مہمان خصوصی شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے فرزند ارجمند مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے دلوں کو گرما دینے والی انتہائی عالمانہ انداز میں تقریر کی اور مدلل انداز میں قادیانیت کا دجل و فریب سامعین پر آشکارا کیا اور سامعین کے دلوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور مرتبہ کو بڑے خوبصورت انداز میں جاگزین فرمایا۔
قارئین کرام وہ منظر بڑا قابل دید تھا جب جلسہ کے اسٹیج پر ایک ہی وقت میں امام اولیاء خواجہ خواجگان مولانا خان محمد صاحب کے فرزند مولانا خواجہ خلیل احمد اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے فرزند مولانا محمد یحییٰ جلوہ افروز تھے اور جلسہ گاہ کو علم اور تصوف کی برکات و انوارات سے منور کئے ہوئے تھے اور مقامی علماء کرام نے چار چاند لگا دیئے۔ انجمن تاجران کے صدر جناب حاجی محمد عابد پراچہ نے بڑے جارحانہ انداز میں قراردادیں پیش کیں۔ خاص کر خیبر پختونخوا گورنمنٹ کے اس فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کی، جس میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدہ پر ایک سکہ بند قادیانی عبداللطیف یوسف زئی کو نامزد کیا گیا۔ مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ کی دعاء کے ساتھ یہ عظیم الشان جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء ص۲۴)
مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کی سرگرمیاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کی جانب سے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی یاد میں شہدائے ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے، ٹنڈو آدم و قرب جوار میں گاؤں گوٹھوں میں بھر پور طریقے سے یوم دفاع ختم نبوت منایا گیا۔ کئی مقامات پر بھی ختم نبوت کنونشن منعقد کئے گئے، جن کی سرپرستی جناب علامہ احمد میاں حمادی فرماتے رہے۔ ۷ ستمبر ۲۰۱۳ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء ختم نبوت کنونشن بلال مسجد قائد اعظم کالونی میں منعقد ہوا۔ صدارت جامعہ دارالعلوم ختم نبوت کے مدیر مفتی حفیظ الرحمان رحمانی کر رہے تھے۔ کنونشن میں خصوصی خطابات مولانا قاری کامران احمد اور مولانا عبدالقیوم عباسی کے ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۵۵)
مردان، چارسدہ، نوشہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں
۸ ستمبر ۲۰۱۳ء کو صبح ۹ بجے سے ۲ بجے ظہر تک مردان جامع مسجد عید گاہ، قبل از عصر سے مغرب تک چارسدہ، بعد از مغرب سے رات گئے تک نوشہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد طیب فاروقی اور دیگر مہمانان گرامی نے خطاب کیا۔ تمام اجلاسوں کی صدارت صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے فرمائی۔ عظیم الشان کانفرنسوں کے کامیاب انعقاد میں مقامی دینی قیادت نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۵۶)
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
۱۲ تا ۱۴ ستمبر ۲۰۱۳ء کو جامع مسجد مدنی پل لکڑ والی ختم نبوت کورس کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت میں اہتمام کیا گیا۔ تینوں دنوں میں سینکڑوں احباب نے استفادہ کیا۔ مولانا محمد اشرف مجددی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا صاحبزادہ عبدالقدوس قارن، مولانا محمد عارف شامی، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پچند
عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس پچند میں ۱۵؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کو منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے امیر مولانا عبید الرحمن انور کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ سینکڑوں بسوں، ویگنوں، گاڑیوں، کوچوں کے ذریعہ ضلع بھر کے ہر قصبہ و دیہات، شہر و قریہ سے کانفرنس میں شرکت کی حد نگاہ تک اجتماع ہی اجتماع تھا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے صدارت فرمائی۔ عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مہمان خصوصی تھے۔ مولانا اسامہ رضوان، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ ضلع بھر کے مذہبی و سیاسی قائدین نے اجلاس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی استقبالیہ نے مہمانان گرامی کا بھرپور استقبال کیا۔ کانفرنس کیا تھی گویا عید کا سماں تھا جو چہار جانب خوشیوں کی خوشبو بکھیر رہا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۹)
ختم نبوت کانفرنس ڈنگہ
۱۶؍ ستمبر ۲۰۱۳ء بعد از مغرب تا رات گئے مولانا قاضی کفایت اللہ صاحب کی زیر صدارت جامع مسجد ڈنگہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا قاضی مطیع الرحمن، مولانا قاضی عبید اللہ، مولانا محمد خالد عابد، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد قاسم گجر، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۶)
ختم نبوت کنونشن پھالیہ
۱۷؍ ستمبر ۲۰۱۳ء بعد از ظہر جامعہ فاروقیہ پھالیہ میں قاری مظہر محمود صاحب کی سربراہی میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ مولانا محمد قاسم، مولانا محمد عارف شامی، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ شہر بھر کی دینی قیادت شریک اجتماع تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاء الدین
۱۷؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کو بعد از مغرب مرکزی جامع مسجد منڈی بہاء الدین ختم نبوت کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔ مولانا محمد قاسم گجر کی نظمیں، مولانا عبد الماجد صاحب خطیب جامع مسجد ہذا، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ دعاء تبلیغی مرکز کے حضرت مفتی صاحب نے فرمائی۔ مولانا قاری عبد الواحد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا محمد قاسم صاحب نے انتظامات کی سرپرستی فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت انعام گھر لاہور
۱۸؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کو محلہ شادی پورہ، مغل پورہ کے عظیم الشان شادی ہال میں ختم نبوت انعام گھر کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا خالد محمود منتظم اعلیٰ تھے۔ جناب محمد متین خالد صاحب نے سپیکر کے فرائض سرانجام دیئے۔ جناب رضوان نفیس، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر سمیت بیسیوں علماء نے شرکت سے سرفراز کیا۔ مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔ مولانا محمد قاسم گجر کی نظمیں ہوئیں۔ پروگرام مثالی طور پر کامیاب رہا۔ شرکاء کا ذوق دیدنی تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس احمد پور سیال
۱۹/ستمبر ۲۰۱۳ء کو پیر طریقت سید عبدالرحمن صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور سیال کی زیر اہتمام ظہر تا عصر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد پیر عبداللطیف احمد پور سیال میں منعقد ہوئی۔ مقامی قائدین کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام حسین، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس پھلروان
۲۶/ستمبر ۲۰۱۳ء کو پھلروان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد رفیق، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس قصور
۲۷/ستمبر ۲۰۱۳ء کو قصور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے حاجی شبیر احمد، میاں محمد معصوم، قاری مشتاق احمد، مولانا عبدالرزاق، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ صدارت میاں محمد رضوان نفیس نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس ہائے مانسہرہ
۲۸/ستمبر ۲۰۱۳ء بعد از مغرب جامع مسجد ناڑی، ۲۹/ستمبر ۲۰۱۳ء مدرسہ مولانا سید ہدایت اللہ شاہ، بعد از مغرب داتا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جناب عبدالرؤف اور آپ کے گرامی رفقاء نے انتظام فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام میونسپل گراؤنڈ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲/اکتوبر ۲۰۱۳ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا زبیر احمد صدیقی، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی کفایت اللہ سابق ایم۔پی۔اے نے خطاب فرمایا۔ علماء کرام نے حضرت امیر دامت برکاتہم کو یقین دلایا کہ آپ جو حکم فرمائیں گے ان شاء اللہ العزیز! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تلاوت قاری فیاض احمد، قاری نصیر الدین نے کی۔ نعت مولانا شاہد عمران عارفی، ظفر شہزاد نے پیش کی۔ رات گئے تک کانفرنس جاری رہی۔ آخری خطاب اور دعاء جانشین حضرت درخواستی، مولانا فضل الرحمن درخواستی نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
۳/اکتوبر ۲۰۱۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی عید گاہ میں چھٹی سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ کانفرنس سے اتحاد اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الیاس گھمن، جمعیت علماء اسلام کے مولانا مفتی کفایت اللہ ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مجلس صیانۃ المسلمین مولانا سید عبدالقدوس ترمذی ساہیوال، ممتاز خطیب مولانا عبدالرؤف چشتی، مولانا عبدالقدوس توٹر ، جناب عرفان برق، قاضی مطیع اللہ نے خطاب فرمائے۔ آخری خطاب مولانا محمد الیاس گھمن نے کیا۔ کانفرنس کی عمومی نگرانی مولانا محمد اکرم طوفانی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد خالد عابد نے سرانجام دیئے۔ نعتیہ کلام مولانا محمد قاسم گجر نے پیش کیا۔ کانفرنس صبح کی اذان تک جاری رہی۔ علماء کرام نے تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی، محترمہ شیریں مزاری اور دیگر تحریک کے ایم این اے کی ناموس رسالت قانون کے خلاف اسمبلی کے فلور پر گفتگو کی پر زور مذمت کی اور کہا گیا کہ خون کے آخری قطرہ تک ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۳ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس، میاں چنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام ۶/ اکتوبر ۲۰۱۳ء بعد نماز عشاء جامع مسجد ابوعبیدہ بن جراح میاں چنوں ضلع خانیوال میں ختم نبوت کانفرنس بڑی شان وشوکت سے منعقد ہوئی، تلاوت قاری عطاء اللہ انور نے کی۔ نعتیہ کلام کشمیری برادران اور غلام رسول ساجد نے پیش کیا۔ کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے امیر قاری محمد صفدر جاوید اور نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد فیصل عمران اشرفی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا، پیر طریقت مولانا محمد عبد الماجد صدیقی ، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا فیصل عمران اشرفی، مولانا محمود الحسن، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ ،مفتی عثمان غنی، قاری صفدر جاوید، مولانا محمد اسماعیل، حافظ محمد مغیرہ ، حافظ عبدالرشید ودیگر علماء کرام نے خطاب فرمائے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ نومبر ۲۰۱۳ء ص ۲۷)
سالانہ عظمت انبیاء کانفرنس، شاہ لطیف ٹاؤن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لانڈھی ضلع ملیر کراچی کے زیر اہتمام سالانہ عظمت انبیاء کانفرنس ۱۰/ اکتوبر ۲۰۱۳ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب بمقام منگل بازار گراؤنڈ سیکٹر ۱۷۔ اے شاہ لطیف ٹاؤن میں منعقد ہوئی۔
تلاوت کلام پاک مولانا قاری عطاء الحق نے پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حیات ونزول اور عیسائیت کے کفریہ عقیدے پر مفصل بیان کیا۔
کانفرنس کی دوسری نشست کا آغاز بعد نماز عشاء تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حافظ محمد یوسف، حافظ محمد فیصل اور مولانا حافظ محمد اشفاق نے اپنی خوبصورت آواز میں حمد ونعت پیش کی۔
اس کے بعد جماعت اسلامی زون الحدید بن قاسم ٹاؤن کے نائب امیر مولانا مفتی ضیاء الرحمن فاروقی نے بیان کیا۔
مولانا عبدالرزاق ہزاروی نے اپنے بیان میں کہا کہ ۱۹۴۷ء میں یہ ملک بنا، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء چلی، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں اللہ پاک نے کامیابی نصیب فرمائی اور مرزائیوں وقادیانیوں کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ صرف علماء کا کام نہیں، یہ ہر مسلمان کا کام ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرے۔
جمعیت علماء اسلام سندھ کی شوریٰ کے رکن مولانا قاضی منیب الرحمن نے بہت ہی خوبصورت انداز میں انبیاء کرام علیہم السلام کی عظمت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ خالق کائنات نے اس دنیا میں جتنی مخلوقات کو پیدا فرمایا، ان تمام مخلوقات میں اعلیٰ مقام حضرت انسان کو دیا ہے، پھر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تمام انسانوں میں اس کائنات کے اندر سب سے اعلیٰ مقام انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے اور پھر انبیاء میں سب سے اعلیٰ مقام آخر میں آنے والے تمام نبیوں کے سردار امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رب نے عطاء فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اس دنیا میں مبعوث ہوئے۔ آج کا مسلمان تمام انبیاء کی نبوت و رسالت کو مانتا ہے، جس طرح مسلمان نبی اکرم ﷺ کی توہین کو کفر سمجھتا ہے اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین کو بھی کفر سمجھتا ہے۔
آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے دورِ حاضر کے فتنوں کے متعلق علمی بیان کیا۔
پروگرام میں شاہ لطیف ٹاؤن بھینس کالونی کے علماء کرام مولانا عادل محمود، مولانا قاری احسان اللہ اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام میں نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لانڈھی ملیر کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ سرانجام دے رہے تھے۔ مولانا قاضی احسان احمد کے دعائیہ کلمات سے پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ نومبر ۲۰۱۳ء ص ۲۶، ۲۷)
سالانہ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی
(مولانا عبدالحی مطمئن) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیراہتمام ہر سال عیدالاضحیٰ کی تعطیلات میں مختصر تحفظ ختم نبوت و ردِ قادیانیت کورس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ حسب معمول عیدالاضحیٰ کی تعطیلات میں دفتر ختم نبوت جامع مسجد باب رحمت پرانی نمائش میں یہ کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ روزانہ صبح ۸ تا ۱۲ بجے پر مشتمل تھا۔
پہلی نشست: ۲۰؍ اکتوبر بروز اتوار کو صبح ۸ بجے کورس کا باقاعدہ آغاز حافظ محمد عثمان شاکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پہلا درس جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کے استاذ حدیث مولانا مفتی محمد یاسین صاحب نے ’’گستاخ رسول کی شرعی سزا، قرآن وسنت اور آئین پاکستان کی روشنی میں‘‘ دیا، انہوں نے کہا کہ عہد رسالت سے لے کر آج تک تمام امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کی بھی شان میں گستاخی کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج مرتد اور واجب القتل ہے۔ عہد رسالت میں اس قانون پر بھر پور عمل ہوا اور نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرنے والے بدبختوں کو چن چن کر عبرت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دور سے لے کر اب تک ہر زمان ومکان میں یہ قانون عملاً مسلمانوں نے جاری رکھا۔
دوسرے درس میں راقم الحروف نے ’’آیات ختم نبوت اور قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ کے تحت اپنی گزارشات پیش کیں۔ تیسرا درس پھر مولانا مفتی محمد سلمان یاسین صاحب نے ’’قادیانی اور شعائر اسلام‘‘ کے عنوان پر دیا۔ اسی طرح چوتھا درس پھر راقم کے حصہ میں آیا، عنوان تھا ’’احادیث ختم نبوت اور قادیانی شبہات کے جوابات۔‘‘
دوسری نشست: ۲۱؍ اکتوبر بروز پیر کو دوسری نشست صبح ۸ بجے سے شروع ہوئی، پہلا درس جامعہ انوارالعلوم مہران ٹاؤن کے مدرس مولانا محمد رضوان صاحب نے ’’اوصاف نبوت‘‘ کے عنوان پر دیا۔ دوسرا درس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اورنگی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب نے ’’تعارف مرزا قادیانی‘‘ کے عنوان پر دیا۔ تیسرے درس میں مولانا محمد رضوان نے ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء‘‘ کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح چوتھے درس میں مولانا محمد شعیب نے ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تحریک کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسری نشست: ۲۲؍ اکتوبر بروز منگل کو کورس کی تیسری نشست صبح ۸ بجے سے شروع ہوئی۔ آج کے پہلے درس میں مولانا محمد شعیب نے ”تعاقب فتنہ گوہر شاہی“ کے تعارف، عقائد و نظریات اور اس کے انجام کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ دوسرا درس میں جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن کے استاذ حدیث مولانا علی اکبر صاحب نے ”عقیدۂ ظہور امام مہدی“ کے بارے میں شرکائے کورس کو آگاہ کیا۔ تیسرا درس بھی مولانا علی اکبر صاحب نے ”فتنہ انکار حدیث“ کے موضوع پر دیا اور منکرین حدیث سرسید احمد خان، غلام احمد پرویز، عبد اللہ چکڑالوی، اسلم جیراجپوری کے خیالات و افکار سے طلباء کو روشناس کرایا۔ چوتھا درس مولانا مفتی عبد اللہ حسن زئی نے ”رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام“ کے عنوان پر قرآنی آیات کی روشنی میں مدلل بیان کیا۔
چوتھی نشست: آج کی نشست میں پہلا درس مولانا عبدالحئی نے ”تفسیر و تشریح خاتم النبیین“ کے عنوان پر طلباء عزیز کے سامنے دیا اور قادیانیوں کے دجل وفریب کا پردہ چاک کیا۔ دوسرا درس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے مبلغ مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ کا ”اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف“ کے عنوان پر تھا۔ تیسرا درس مدرسہ اعجاز القرآن لانڈھی کے مدرس مولانا شمس الرحمن نے ”تعارف و تعاقب جاوید غامدی“ کے عنوان سے غامدی کے گمراہ کن نظریات کا تذکرہ کیا۔ چوتھا درس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ نے ”تحفظ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت“ بیان کرتے ہوئے نوجوان علماء اور طلباء کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بالصفات کے دفاع کے سلسلہ میں اپنے اکابرین کے مشن سے وابستہ ہونے کی تلقین کی۔
پانچویں نشست: ۲۴؍ اکتوبر بروز جمعرات کو صبح ۸ بجے مولانا عبدالحئی نے زید حامد کی شخصیت اور یوسف کذاب سے اس کے تعلق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر ذاکر نائک کی ”نام نہاد تحقیقات“ کا پردہ چاک کیا۔ دوسرے درس میں مولانا مفتی عبد اللہ حسن زئی نے اپنے گزشتہ موضوع ”رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام“ سے متعلق ذخیرہ احادیث میں سے چند احادیث مبارکہ بیان کیں اور سامعین کو تسلی بخش جوابات دیئے۔
امتحان: ۱۳۰ شرکاء کورس نے امتحان میں حصہ لیا، امتحان کا دورانیہ صرف ۳۰ منٹ پر مشتمل تھا، تمام شرکاء نے خوب ذوق و شوق اور دلچسپی سے امتحانی عمل کو مکمل کیا۔ پہلی دس پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو انعامات بھی دیئے گئے جن کی تفصیلات علیحدہ سے درج ہیں۔
اختتامی بیان: شہید اسلام اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے خلیفہ اور جامع مصباح العلوم منظور کالونی کے مدیر جناب حافظ عبدالقیوم نعمانی مدظلہ نے امتحان کے بعد اختتامی بیان فرمایا۔ شرکائے کورس اور منتظمین حضرات کو مبارک باد دی۔ حضرت اقدس کی خصوصی دعاء پر سالانہ پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس اختتام پذیر ہوا۔ دعاء ہے کہ اللہ رب العزت یہ تمام تر کوشش و کاوش قبول فرما کر پوری امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے ۔ آمین ثم آمین!
تقریب تقسیم انعامات، پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی:
پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات کی تقسیم کرنے کی تقریب مؤرخہ ۲۵؍ ذوالحجہ مطابق ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء بروز جمعرات کو منعقد ہوئی، جس میں طلباء نے بھر پور شرکت کی۔ اس تقریب سعید کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کے صاحبزادے حافظ محمد اور بنوری ٹاؤن کے طالب علم حافظ محمد عمران کی تلاوت سے ہوا۔ بعد ازاں بنوری ٹاؤن کی شاخ گلشن عمر کے طالب علم سیف الرحمن نے نعت رسول مقبول سے محفل کو گرمایا۔ نقابت کے فرائض کراچی ضلع غربی کے مبلغ مولانا محمد عبدالحئی مطمئن نے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا قاضی احسان احمد نے طلباء کو عقیدہ تحفظ ختم نبوت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت صرف ایمان کا جزو ہی نہیں بلکہ اساس اور بنیاد ہے۔ ہمارے اکابر علماء کرام نے اس کام کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس مشن کی خاطر اپنے تن من دھن کی بازی لگادی اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ہم بھی اپنے اکابرین کے نام لیوا ہیں تو آج ہمیں بھی وقت کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چل کر اس گلشن کی آبیاری کرنی ہوگی۔ مجلس کی طرف سے پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو کتب انعام میں دی گئیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) محمد ریحان بن فضل احمد (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۲) سید محمد منیب بن سیّد ناظم قادری (جامعہ معہد الخلیل الاسلامی)، (۳) عماد الدین بن محمد اسحاق (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۴) شفیع الرحمن بن منور خان (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۵) محمد عمر بن حیات گل (جامعہ عمر، مکہ مسجد)، (۶) حمید الحسن بن عبدالحسن (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۷) سیف اللہ بن عبدالعزیز (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۸) عبدالغفور بن حافظ سیف الرحمن (جامعہ تعلیم القرآن)، (۹) ابرار زمان بن خان زمان (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۱۰) عنایت اللہ بن محمد خان (جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن)، (۱۱) اسامہ طیب بن محمد حفیظ (جامعہ امام محمد)، (۱۲) فدا محمد بن بخت افسر (جامعہ عربیہ اسلامیہ ملیر)، (۱۳) محمد اسماعیل بن جان محمد خان (جامعہ محمودیہ میراں ناکہ)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۳ء ص ۲۶، ۲۷)
۳۲ رویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
۲۴، ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو سالانہ ختم نبوت چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر مرکزیہ نے سفر حج ملتوی کر کے کانفرنس میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے بدھ کے روز اسباق سے فراغت کے بعد سفر کیا۔ رات پیر محل جامعہ العصر میں قیام فرمایا۔ آپ کی پیشوائی کے لئے مولانا عزیز الرحمن رحیمی صاحب پیر محل تشریف لے گئے۔ ناشتہ کے بعد قریباً آٹھ بجے آپ نے سفر کیا اور کانفرنس کے آغاز پر تشریف لائے۔ آپ کی تشریف آوری سے رفقاء کو ایک نیا حوصلہ ملا جوں ہی مجلس کے خدام، مبلغین، کارکنوں، مقامی جماعتوں کے ذمہ داران، آپ کے شاگردان، علماء، شرکاء کو آپ کی تشریف آوری کی اطلاع ملتی گئی۔ ملنے والوں کا ہجوم ہوتا گیا۔ آپ اپنے بڑھاپا، کمزوری، علالت کے باوجود چوکڑی لگا کر کیا بیٹھے کہ ظہر کی نماز تک وفود کو شرف زیارت و ملاقات سے سرفراز کیا۔ کھانا، نماز کے بعد معمولی استراحت کے بعد پھر عصر تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ رفقاء نے خوب دل بھر کر شرف زیارت حاصل کیا اور گزشتہ تین سالوں کی قضاء بھی ادا ہوگئی۔ عصر کے بعد سے مغرب، پھر مغرب سے عشاء کے بعد تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ عشاء کے بعد معمولی دیر کمر سیدھی کی اور اسٹیج پر تشریف لائے۔ رات گئے تک اسٹیج پر علماء، مشائخ، خطباء، حضرات کے ہمراہ تشریف فرما رہے اور پبلک نے جی بھر کر شرف زیارت سے سرفرازی حاصل کی۔
افتتاحی نشست: ۳۲ رویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا افتتاح صبح دس بجے ہوا: صدارت: محترم الحاج قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ تلاوت: قاری مہتاب احمد متعلم مدرسہ ختم نبوت چناب نگر مہمان خصوصی: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افتتاحی خطاب: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خطاب: حافظ عبدالوہاب جالندھری مبلغ حافظ آباد، مولانا مختار احمد مبلغ تھر پارکر سندھ ، مولانا محمد طاہر ٹنڈو آدم، مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاول نگر، مولانا محمد توصیف احمد مبلغ حیدرآباد، مولانا حبیب احمد مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مولانا عبدالخالق مبلغ مظفر گڑھ نعت: جناب حافظ محمد شریف منچن آباد، جناب ابوبکر پشاور اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد علی صدیقی مبلغ میر پور خاص، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن دعائے خیر: صدر اجلاس الحاج جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ
ایک بجے ظہر کی نماز اور دوپہر کے کھانا کے لئے وقفہ ہوا۔ پہلے دن ظہر سے دوسرے دن عصر تک کی تمام نمازوں کے لئے جماعت کا اہتمام پنڈال میں کیا گیا۔ بے پناہ ازدحام کے باعث مسجد میں جماعتیں کرانا ممکن نہ تھا۔ پنڈال میں نمازوں کی امامت مولانا محمد شاہد ندیم مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر نے فرمائی ۔ پنڈال میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے بعد جو حاضرین بچ جاتے ان کے لئے جامع مسجد ختم نبوت میں امامت کے فرائض مولانا محمد شفیق مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سر انجام دیتے رہے۔
دوسری نشست ۲۴ / اکتوبر جمعرات بعد از ظہر تا عصر : صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ تلاوت: قاری محمد عمار ظفر چیچہ وطنی نعت: حافظ محمد شریف منچن آباد، قاری عمار ظفر چیچہ وطنی، مولانا محمد قاسم گجر لاہور خطاب: مولانا محمد اسلم نفیس مبلغ خوشاب، مولانا مفتی عظمت اللہ بنوں، مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ساہیوال، مولانا محمد یوسف خان استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا حبیب اللہ نقشبندی شیخ الحدیث معہد الفقیر جھنگ، مولانا اشرف علی مہتمم جامعہ تعلیم القرآن راولپنڈی، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی شیخ التفسیر جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا ممتاز احمد کلیار جڑانوالہ دعائے خیر: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد خانقاہ سراجیہ اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاول نگر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان
محفل سوال و جواب: عصر کے بعد حسب سابق سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی۔ حاضرین کے سوالات کے جوابات دینے کی فقیر ( مولانا اللہ وسایا ) نے سعادت حاصل کی۔ یہ سلسلہ مغرب کے تھوڑی دیر قبل اختتام پذیر ہوا۔ مولانا عبدالرؤف صاحب چشتی خطیب اوکاڑہ نے دعاء فرمائی۔
مجلس ذکر : حسب سابق مغرب کے بعد سے عشاء تک مجلس ذکر منعقد ہوئی۔ اس کا آغاز مولانا غلام رسول دین پوری نے کیا۔ اتنے میں خانقاہ عالیہ خدام الدین شیرانوالہ گیٹ لاہور کے سجادہ نشین جناب میاں ڈاکٹر محمد اجمل قادری تشریف لائے ۔ آپ نے خطاب فرمایا اور مجلس ذکر کرائی۔ آپ کی دعاء پر یہ اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
تیسری نشست ۲۴/ اکتوبر ۲۰۱۳ بعد از عشاء : صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تلاوت: قاری مسعود احمد ربانی فاروق آباد، صاحبزادہ قاری قاضی محمد بلال راولپنڈی، صاحبزادہ قاری محمد عثمان مالکی ساہیوال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی، جناب عطاء الرحمن عزیز اسلام آباد، امین برادران، طاہر بلال چشتی، مولانا شاہد عمران عارفی ساہیوال، جناب حافظ ابوبکر کراچی
خطاب: مولانا عبدالواحد قریشی ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا عبدالمالک خان منصورہ لاہور، فخر جمعیت مولانا عبدالغفور حیدری قلات، جناب شمس الدین (رضاعی بھتیجا مرزا مسرور قادیانی) لاہور، مولانا محمد ایوب ثاقب ڈسکہ، مولانا زبیر احمد ظہیر نائب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث، جناب قیصر محمود شیخ ایم.این.اے جاپان والے، جناب ڈاکٹر لیاقت علی نیازی لاہور، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ساہیوال، صاحبزادہ مبشر محمود فیصل آباد، مولانا مفتی محمد طیب مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد، مولانا محمد امجد خان مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت علماء اسلام، مولانا مفتی محمد راشد مدنی مبلغ رحیم یار خان، مولانا نور محمد ہزاروی امیر مجلس سرگودھا، مولانا عبدالحمید لنڈسٹھارجہ، مولانا محمد ضیاء مدنی خطیب مرکزی جامع مسجد فیصل آباد، مولانا مفتی کفایت اللہ مانسہرہ
مہمانان خصوصی: پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری چیچہ وطنی، مولانا مفتی محمد اعجاز صاحب کراچی، مولانا محمد سعید لدھیانوی کراچی، پیر طریقت جناب رضوان نفیس لاہور، فخر جمعیت مولانا رشید احمد لدھیانوی رحیم یار خان، یادگار اسلاف مولانا محمد عبداللہ بھکر، جناب قاری محمد اسلم نوشہرہ، مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی، مولانا مفتی طاہر مسعود سرگودھا، جناب قاری عبدالرحمن ضیاء سرگودھا، مولانا مفتی شاہد مسعود سرگودھا، مولانا عبدالرؤف چشتی اوکاڑہ، مولانا اکرام اللہ قرب مردان، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا مفتی اعجاز احمد فیصل آباد، جناب قاری جمیل الرحمن اختر لاہور، مولانا عبدالرزاق مہتمم جامعہ محمدیہ فیصل آباد، مولانا مفتی محمد عثمان چیچہ وطنی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی مہتمم جامعہ ملیہ فیصل آباد، مولانا محمد انور صاحب مہتمم دارالعلوم ربانیہ پھلور
مشائخ عظام: مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی ملتان، مولانا عبدالغفور قریشی ٹیکسلا، مولانا سید فاروق ناصر شاہ فیصل آباد، مولانا سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد، حاجی عبدالرشید رحیم یار خان، صاحبزادہ شہاب الدین موسیٰ زئی شریف
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا قاضی احسان احمد مبلغ کراچی
دعائے خیر: مولانا مفتی محمد حسن صاحب جامعہ مدینہ جدید لاہور
یاد رہے کہ مولانا مفتی محمد حسن صاحب، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ سفر حج سے تشریف لائے اور بعض حضرات نے محض کانفرنس میں شرکت کے لئے پروگرام حج ایسے ترتیب دیا کہ ایسے وقت واپسی ہو کہ کانفرنس میں بھی شریک ہوا جاسکے۔ ان سب حضرات کا اتنے عظیم سفر سے واپس تشریف لانا اور پھر کانفرنس میں شریک ہونا کانفرنس کے شرکاء کے لئے مسرتوں کا باعث ہے۔ قاری محمد ابراہیم صاحب فیصل آباد سے علالت کے باوجود ایمبولینس پر تشریف لائے۔ حق تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے سرفراز فرمائے۔
درس قرآن مجید:
۲۵ / اکتوبر بروز جمعہ صبح فجر کی نماز کی امامت فخر القراء پیر طریقت مولانا قاری احسان اللہ فاروقی نے کرائی۔ فجر کے بعد درس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن مجید شیخ التفسیر والحدیث مولانا میر محمد میرک مہتمم دارالعلوم حمادیہ خیر پور میرس و مرکزی نائب امیر جمعیت علماء اسلام نے ارشاد فرمایا۔ درس کے بعد دعاء بھی آپ نے فرمائی۔
آئندہ تین سال کے لئے مولانا عبدالرزاق اسکندر اور مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر منتخب :
چناب نگر (۲۵/اکتوبر ۲۰۱۳ء) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس صبح ساڑھے آٹھ بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں منعقد ہوا۔ صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمائی۔ اجلاس میں ملک بھر سے آئے ہوئے تقریباً پانچ سو مجلس عمومی کے ممبران نے شرکت کی۔
تلاوت کے بعد ابتدائی خطاب مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر مرکزیہ نے فرمایا۔ حاضرین کو خوش آمدید کہا اور جماعتی پالیسی پر سیر حاصل گفتگو کی۔
اس کے بعد مولانا عزیز الرحمن جالندھری زید مجدہ نے خطاب فرمایا۔ خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے فرمایا کہ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کے حکم پر امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے جماعتی طور پر قادیانیت کا تعاقب شروع کیا۔ تقسیم سے پہلے برصغیر پاک وہند کے قریہ قریہ، بستی بستی، گھومے اور قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ پاکستان بننے کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے غیر سیاسی اور غیر فرقہ وارانہ جماعت تشکیل دی۔ حضرت شاہ جی پہلے امیر اور مولانا محمد علی جالندھری پہلے ناظم اعلیٰ بنے۔ حضرت شاہ جی کی وفات کے بعد مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے امارت قبول فرمائی۔ ان کے وصال کے بعد مولانا جالندھری امیر رہے۔ مولانا جالندھری کے بعد مولانا لال حسین اختر امیر بنے۔ مولانا کے بعد شیخ بنوری نے اس شرط پر امارت قبول فرمائی کہ مولانا خواجہ خان محمد نائب امارت قبول فرمائیں۔ حضرت بنوری کے حکم پر حضرت خواجہ صاحب نے نائب امارت قبول فرمائی۔ حضرت بنوری کے بعد حضرت خواجہ صاحب مجلس کے امیر بنائے گئے جو بعد میں تقریباً تینتیس ۳۳ سال تک امیر رہے۔
حضرت خواجہ صاحب کی وفات کے بعد شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم مرکزی امیر منتخب کئے گئے۔ نیز اب حضرت خواجہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی قائم کردہ شوریٰ مستقل شوریٰ ہے جو انیس شخصیات پر مشتمل ہے۔ اس میں کئی حضرات ایسے ہیں جو حضرت شاہ جی کے زمانہ سے جماعت سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔ آج آپ تین، چار سال کے بعد جمع ہیں تاکہ مرکزی نائب امراء کا انتخاب فرمائیں۔ مولانا نے فرمایا کہ خیبر پختونخواہ سے مرکزی مجلس عمومی کے ممبران کی تعداد ۱۰۸ /ہے۔ ان میں سے ۱۰۵ / ممبران نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ تین سالوں کے لئے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ اور مولانا صاحبزادہ عزیز احمد زید مجدہ کو نائب امیر منتخب کر لیا جائے۔ تو تمام شرکاء نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر صاحب اور حضرت صاحبزادہ کو نائب امیر منتخب کر لیا۔ فالحمد للہ علی ذالک!
حضرت مولانا نے فرمایا کہ جہاں جہاں مبلغ نہیں ہیں۔ آپ سب حضرات اپنے آپ کو ختم نبوت کا مبلغ سمجھیں اور ناموس رسالت کا تحفظ اور قادیانیت کا تعاقب اپنا فرض سمجھیں۔ تمام حاضرین نے حضرت ناظم اعلیٰ صاحب سے وعدہ کیا کہ ہم اپنے اپنے علاقوں میں ناموس رسالت اور ختم نبوت پر حرف نہیں آنے دیں گے۔
حضرت الامیر دامت برکاتہم نے مختصر بیان فرمایا اور صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ کو حکم دیا کہ وہ دعائے خیر سے اجلاس کو اختتام تک
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہنچائیں۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی اختتامی دعاء سے اجلاس مکمل ہوا۔
چوتھی نشست قبل از جمعہ ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء:
صدارت: یادگار اسلاف مولانا محمد عبداللہ سرپرست جمعیت علماء اسلام پاکستان
تلاوت: فخر القرآء قاری احسان اللہ صاحب فاروقی کراچی
خطاب: پیر طریقت مولانا احمد حسن عباسی خان پور چاکر سندھ، مولانا مسعود احمد سومرو لاڑکانہ، پیر طریقت مولانا عبدالمجیب قریشی پیر شریف، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد صاحب مبلغ کراچی
امامت نماز جمعہ: مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور
پنڈال میں سکیورٹی جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے طلباء نے اپنے استاذ مولانا حبیب الرحمٰن کی قیادت میں سرانجام دی۔
پانچویں نشست بعد از جمعہ تا عصر:
صدارت: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
نعت: جناب سید سلمان گیلانی لاہور، جناب قاری آصف رشیدی لاہور
مہمان خصوصی: قاری محمد یسین صاحب فیصل آباد
خطاب: مولانا محمد الیاس گھمن سرگودھا، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ
اسٹیج سیکرٹری: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
دعائے اختتام: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ
یوں یہ کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ اگلے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین، مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے مدرسین اور کانفرنس کی انتظامیہ کا اجلاس مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں کانفرنس کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور کانفرنس کے مدعوین، مقررین، خطباء کا شکریہ ادا کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۳ء ص ۲۳ تا ۲۹)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس ماموں کانجن
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے۔ مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظر آتا ہے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی شائع ہونے کے بعد کتنے مسلمان مرزائی بنے؟ بتائے جماعت مرزائیہ کا لاٹ پادری مرزا مسرور۔ یہ بات مولانا اللہ وسایا صاحب نے ۶؍ نومبر بروز بدھ کو مامونکانجن ضلع فیصل آباد میں ہونے والی تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی۔ مزید کہا ہمارے پاس بہت بڑی تعداد کی پوری فائلیں ہیں۔ نام ولدیت قوم علاقہ تحصیل ضلع ایک ایک کو بتلا سکتے ہیں کہ انہوں نے مرزائیت پر لعنت بھیج کر دامن مصطفیٰ ﷺ سے اپنا رشتہ جوڑ لیا ہے۔ مرزائی پہلے چیلنج کرتے تھے کہ اگر کارروائی منظر عام پر آتی تو آدھا پاکستان مرزائی بن جاتا۔ لیکن اب مرزائی منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۲ء ص ۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملکوال میں ختم نبوت کانفرنس
۲۲؍ نومبر ۲۰۱۳ء بعد نماز عشاء میلاد چوک نزد ریلوے اسٹیشن ملکوال میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت ضلعی امیر قاری عبدالواحد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس گھمن نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۴ء ص ۹)
شان قرآن کانفرنس رجانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۳ء بروز منگل کو جامعہ امدادالعلوم پیرمحل روڈ رجانہ میں اساتذہ و طلباء کرام سے خطاب کیا اور کہا اس پرفتن دور میں مساجد و مدارس سے تعلق قرآن وحدیث کی تعلیم وتعلم حفاظتِ ایمان کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ محنت وشوق ولگن دل جمعی سے دین محمدی ﷺ کے پورے وارث بنو۔ اس پروگرام میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار حلقہ رجانہ کے امیر قاری عمران حسین ناصر اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۴ء ص ۹)
ختم نبوت کنونشن ائمہ و خطباء کرام تحصیل کوٹ ادو
۷؍ دسمبر ۲۰۱۳ء جامع مسجد اللہ والی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل کوٹ ادو کے زیراہتمام ایک علماء کنونشن منعقد ہوا۔ جن کی صدارت مولانا محمد اشفاق احمد قاسمی نے کی۔ قاری محمد ظفر صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت سے کنونشن کا آغاز کیا۔ ابتدائی کلمات مولانا قاضی عبدالخالق نے کہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے علماء کرام سے خصوصی خطاب فرمایا۔ جس میں مولانا غلام مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد ادریس صاحب، مولانا محمد ناصر، مولانا مفتی زین العابدین، چودھری عبدالرزاق، مفتی محمد عارف سعید صاحب کے علاوہ تقریباً ایک سو علماء کرام نے شرکت کی اور جامع مسجد اللہ والی کی انتظامیہ کے ساتھی بھائی محمد خالد، محمد عابد و دیگر حضرات نے بہترین انتظام کیا ہوا تھا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جمعہ مکہ جامع مسجد میں پڑھایا اور صبح کا درس جامع مسجد اولیاء میں دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۴۶)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا خیبر پختونخواہ کا دس روزہ تبلیغی دورہ
۱۱ تا ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۳ء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خیبر پختونخواہ کا دس روزہ تبلیغی و تنظیمی دورہ کیا۔ آپ نے تبلیغی دورہ کا آغاز ڈیرہ اسماعیل خان سے کیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان: ۱۱؍ دسمبر ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت کانفرنس جامع مسجد آزاد میدان میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالواحد قریشی، مولانا محمد اسلم نفیس اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ رات کا قیام مدرسہ سراج العلوم میں رہا۔
مدرسہ کے طلباء واساتذہ کرام سے خطاب: ۱۲؍ دسمبر صبح کی نماز کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مدرسہ سراج العلوم کے طلباء واساتذہ کرام سے خطاب کیا اور انہیں ”قادیانیوں سے گفتگو کرنے کا طریقہ“ کے عنوان پر لیکچر دیا۔
روزنامہ میزان عدل کے دفتر میں: حاجی ریاض الحسن گنگوہی کے فرزند ارجمند سہیل گنگوہی روزنامہ ”میزان عدل“ کے چیف
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ۳۸۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایڈیٹر خبریں سے قاری محمد خالد گنگوہی کی رفاقت میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسلم نفیس نے ملاقات کی۔ ”میزان عدل“ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن، بنوں اور بھکر و میانوالی میں مقبول اخبار ہے۔ مولانا شجاع آبادی نے چیف ایڈیٹر سے کہا کہ آپ بھی ختم نبوت کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اخبار میں قادیانیوں کے عقائد وعزائم اور ملک دشمنی کا پردہ چاک کریں۔ موصوف نے وعدہ کیا۔
مولانا قاری محمد نواز کی تعزیت: مولانا قاری محمد نواز نے ڈیرہ میں مرالی کے مقام پر مدرسہ قائم کیا۔ مدرسہ کے سالانہ پروگراموں میں تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ علامہ عبدالستار تونسوی کو بلاتے رہے اور اہل علاقہ کے عقائد واعمال کی درستگی کی کوشش کرتے رہے۔ جمعیت علماء اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور تنظیم اہل سنت سے تادم زیست وابستہ رہے۔ مولانا شجاع آبادی نے ان کے فرزندان گرامی سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت اور ترقی درجات کی دعاء کی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے معتمد ساتھیوں میں سے تھے۔
پرووا میں جلسہ ختم نبوت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مکی مسجد پرووا میں بعد نماز مغرب ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا محمد عبدالغنی، امیر مجلس تحصیل پرووا نے کی۔ تلاوت کی سعادت مولانا محمد اسلم شاہ نے کی۔ نعت غلام سرور پردیسی نے پڑھی جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تفصیلی بیان ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا سید اللہ بخش شاہ نے سرانجام دیئے۔ جلسہ عشاء کی نماز تک جاری رہا۔
۱۳/دسمبر کی صبح کی نماز کے بعد مولانا محمد اسلم نفیس نے مکی مسجد میں درس دیا۔ سرائے نورنگ میں گزشتہ سال ۳۶ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ الحمد للہ! نورنگ میں قادیانیت کا صفایا ہوچکا ہے۔ ۱۳/دسمبر مولانا شجاع آبادی نے ۱۲ سے پونے ایک بجے تک جامع مسجد اڈا میں اور ایک سے ڈیڑھ بجے تک مرکزی جامع مسجد جمعہ خان میں خطاب کیا۔
مولانا محمد اسلم نفیس نے جامع مسجد امیر حمزہ اور مولانا محمد عابد کمال نے جامع مسجد تبلیغی مرکز میں جمعہ کا خطبہ دیا۔
۱۴/دسمبر مدرسہ دارالہدیٰ میں: مدرسہ کے مہتمم نے وفد کو عصر سے قبل خوش آمدید کہا اور عصر کی نماز کے بعد مولانا شجاع آبادی نے طلباء واساتذہ کرام سے مختصر خطاب فرمایا۔
۱۴/دسمبر مغرب کی نماز بنوں میں ادا کی۔ رات کا قیام ڈاکٹر دوست محمد جو بنوں کے معروف سرجن ڈاکٹر ہیں، کے ہاں ہوا۔
۱۵/دسمبر تحصیل ڈومیل بنوں میں: مدرسہ منہاج القرآن ڈومیل میں صبح دس بجے سے ظہر تک جلسہ میں شرکت کی۔ جلسہ سے مفتی عظمت اللہ بنوی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
سورانی میں مدرسہ تعلیم القرآن: بعد نماز ظہر ختم نبوت کے عنوان پر منعقدہ جلسہ میں مولانا عابد کمال اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کنونشن میں شرکت: ۱۵/دسمبر بعد نماز ظہر جامعہ علوم الشرعیہ میں علاقائی علماء کرام اور جامعہ کے طلباء سے مولانا شجاع آبادی نے قادیانیوں کے عقائد ونظریات کے عنوان پر خطاب کیا۔ مولانا عابد کمال صوبائی مبلغ اور مفتی عظمت اللہ کی رفاقت ومعیت حاصل رہی۔ مدرسہ کے ناظم اعلیٰ مولانا غلام اللہ خان نے مبلغین کی تشریف آوری کا خیر مقدم کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ تعلیم القرآن دوسڑہ کی: ۱۵؍دسمبر قبل از نماز عصر منعقدہ جلسہ سے مولانا عابد کمال اور مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا، تمام اجتماعات بھر پور رہے۔
کرک میں ختم نبوت کانفرنس: کرک کی مرکزی عیدگاہ تنگوڑی کرسٹی میں منعقد ہوئی صدارت مولانا محمود الرحمن امیر مجلس نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا عابد کمال سمیت کئی ایک مقامی علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ تلاوت قاری غلام فرید، نعت جاوید انور اور رؤف سعید نے پیش کی۔ مبلغین ختم نبوت نے رات کا قیام دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رؤف میڈیسن مارکیٹ کوہاٹ میں کیا۔ جامع مسجد فاروق اعظم سیکٹر ۲ کے ڈی اے میں مولانا شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان پر خطاب کیا۔ چارسدہ میں اجتماعات سے خطاب: ۱۶؍دسمبر جامعہ عزیزیہ یونین کونسل ڈھکی امیر آباد میں صبح دس بجے سے ظہر تک جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا پیر حزب اللہ جان ضلعی امیر مجلس نے کی۔ جلسہ سے قاری اکرام الحق امیر مجلس مردان، مولانا عابد کمال اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
شبقدر میں جلسہ: دوسرا جلسہ ۱۷؍دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد مٹہ مغل خیل شبقدر میں منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا پیر قاری عبدالغفور نقشبندی مدظلہ نے کی۔ نعت نادر شاہ نے پیش کی۔ مولانا مفتی محمد قاسم فرزند ارجمند مولانا محمد امیر بجلی گھر، مولانا عابد کمال، مولانا پیر حزب اللہ جان اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
مدرسہ حفظ القرآن بھوسی خیل چارسدہ: تیسرا پروگرام مغرب کی نماز کے بعد مدرسہ حفظ القرآن بھوسی خیل کی جامع مسجد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا مفتی محمد عبداللہ شاہ نے کی۔ جلسہ سے پیر حزب اللہ جان اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
نوشہرہ میں جلسہ ختم نبوت: ۱۸؍دسمبر بعد نماز ظہر جامع مسجد رضوان شکلے میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ صدارت قاری محمد اسلم نے کی، جب کہ مولانا عابد کمال، پشتو کے شعلہ بیان خطیب مولانا محمد اکرام الحق امیر مجلس مردان اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ تلاوت قاری محمد اسحاق اور نعت مولانا فضل امین نے پڑھی، جلسہ عصر کی نماز تک جاری رہا۔
مدرسہ تحسین القرآن میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۸؍دسمبر مغرب کی نماز کے بعد مدرسہ تحسین القرآن کی عظیم جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت ضلعی امیر مولانا محمد اسلم نے کی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جامعہ کے مہتمم قاری عمر علی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت جامعہ کے استاذ نے کی، جب کہ چارسدہ سے تشریف لانے والے مولانا فضل امین شاہ نے نعت رسول پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا قاری اکرام الحق، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس مغرب سے ۱۰ بجے رات تک جاری رہی۔
مردان میں مبلغین کی تشریف آوری: ۱۹؍دسمبر ۱۱ بجے صبح دارالعلوم ترشک مردان میں تربیتی پروگرام ختم نبوت کے سلسلہ میں منعقد ہوا، جس کی نگرانی مولانا سجاد الحجابی نے کی۔ مولانا قاری اکرام الحق، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس مردان: ۱۹؍دسمبر جامع مسجد فردوس خان میں ختم نبوت تربیتی مجلس کے نام سے کانفرنس منعقد ہوئی جس کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدارت مولانا سجاد الحجابی نے کی جب کہ مولانا حزب اللہ جان، مولانا عابد کمال اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس عصر کی نماز تک جاری رہی۔ ضلع کے تمام علاقوں سے علماء کرام نے شرکت کی۔
صوابی میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد: ۲۰ / دسمبر بعد نماز جمعہ جامع مسجد شیخین کریمین میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا اعزاز الحق نے کی۔ تلاوت و نعت کی سعادت قاری محمد صابر نقشبندی نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد طیب مبلغ اسلام آباد کے خطابات ہوئے۔
ٹوپی میں ختم نبوت کانفرنس: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد پنج پاؤ سبزی منڈی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا عبدالباری نے کی۔ تلاوت قاری سعید اللہ ، نعت قاری انوار الحق نے پیش کی۔ مولانا اعزاز الحق ، مولانا محمد طیب مبلغ اسلام آباد نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا نصیب محمد اور مولانا عبدالسلام نے کی۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد اعجاز نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی دس روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد گوجرانوالہ روانہ ہوگئے۔
ختم نبوت کانفرنس بنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بنوں کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۶/دسمبر ۲۰۱۳ء بروز سوموار بوقت صبح ۸ بجے بمقام جامع مسجد حافظ جی بنوں سٹی منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی کر رہے تھے جب کہ اسٹیج سیکرٹری مولوی عبدالغنی اشرفی اور مولوی ساجد اللہ تھے اور انتظامی امور مولوی عبدالحسیب، مولوی حمید اللہ شاہ، مولوی قاری امام یوسف مولوی شمس الحق حاجی محمد آیاز قاری زبید اللہ مفتی شہید نواز قاری سعید الرحمٰن اور حافظ محمد سلمان سرانجام دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی صاحبزادہ مولانا رشید احمد صاحب مدظلہ تھے تلاوت کلام پاک قاری ادریس آصف نے پیش کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مفتی عظمت اللہ سعدی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال نے اپنے بیان میں سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ مسلمان کی عشق و محبت کا معیار بتا کر کہا کہ کوئی بھی مسلمان جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کبھی بھی حضور خاتم النبیین ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے فرمایا کہ ہمارے اکابر نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بہت تکالیف برداشت کیں اور قید و بند سے گزرے ہیں۔ مرکزی ناظم شعبہ نشر و اشاعت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی صاحب مدظلہ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ صرف علماء کا کام نہیں بلکہ ہر مسلمان کا کام ہے۔ نومسلم جناب شمس الدین نے ہزاروں لوگوں کے مجمع سے اپنے ایمان لانے اور قادیانیت سے بیزاری کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات نے ایمان پر آمادہ کیا کہ قادیانی کتب میں دجل اور فریب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا شرافت کی باتیں قادیانیوں کی کتابوں میں بالکل مفقود ہیں اور اسلامی کتب میں نور ہی نور اس بات سے میں نے اندازہ لگایا کہ نبی تو شرافت کے بول بولتے ہیں اور مرزا قادیانی ملعون سراسر جھوٹ اور بیہودہ بکواس کرتا ہے بھلا یہ کیسا نبی ہو سکتا ہے اپنے خطاب میں جناب شمس الدین صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد حاجی محمد اکرم خان درانی نے کہا کہ میری باتیں اصل نہیں بلکہ بھائی شمس الدین صاحب جو ایک نومسلم قادیانی ہے کی باتیں اصل ہیں کیونکہ وہ ان ہی کا آدمی تھا اور وہ قادیانیوں کی تمام بھید جانتے ہیں انہوں علماء سے درخواست کی کہ علماء حضرات ہمارے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فتنوں کی نشان دہی فرمائیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس کو پارلیمنٹ کی سطح پر ہم اٹھائیں گے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر اور ہر دلعزیز شخصیت مولانا قاری محمد عبداللہ صاحب نے انبیاء کرام علیہم السلام کی عظمت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام عظمت والے ہیں کائنات میں سب سے اعلیٰ واولیٰ مقام حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے درجات انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو چنا پھر انبیاء کرام علیہم السلام میں جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا انتخاب فرمایا اور محمد رسول اللہ خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اور آپ ﷺ پر تمام عظمتوں کی انتہاء ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس شبقدر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مٹہ مغل خیل شبقدر چارسدہ کے زیر اہتمام ”عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس“ بتاریخ ۱۷؍ دسمبر بروز منگل بوقت دو بجے ظہر بمقام ”جامع مسجد صاحب حق صاحب“ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت معروف روحانی شخصیت امام العارفین، آفتاب نقشبندیت مولانا قاری عبدالغفور صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض تحصیل کے جنرل سیکرٹری اور کانفرنس کے منتظم عبدالمعبود حقانی نے انجام دیئے۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز حافظ عبدالسلام عارف کی تلاوت سے ہوا۔ مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ قاطع قادیانیت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ مولانا نے انتہائی مختصر وقت میں ترتیب وار دس باتیں ارشاد فرمائیں اور ”دریا کو کوزہ“ میں بند کر کے قادیانیت کا کامیاب آپریشن کیا۔ جن دوسرے علماء نے اس موقع پر بیانات کئے ان میں مولانا عابد کمال مبلغ پشاور ڈویژن، مولانا مفتی محمد قاسم ابن مولانا محمد امیر بجلی گھر، مولانا حزب اللہ جان امیر ضلع چارسدہ، مولانا ایاز احمد حقانی امیر تحصیل شبقدر، مولانا نجیب الاسلام ناظم ضلع چارسدہ شامل ہیں۔ یہ عظیم الشان کانفرنس مہمان خصوصی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی جامع اور مؤثر دعاء سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۵۵)
مولانا محمد اکرم طوفانی کا دس روزہ دورہ کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اکرم طوفانی ۱۳ تا ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۳ء بروز جمعرات دس روزہ دورے پر کراچی پہنچے۔ آپ مجاہدین ختم نبوت کے کارواں کے پُر جوش اور باہمت قائد ہیں۔ آپ کے ولولہ انگیز بیانات شوق سے سنے جاتے ہیں، چنانچہ آپ کی کراچی آمد کے قیمتی موقع پر بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف علاقوں میں آپ کے بیانات کا نظم بنایا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
۱۳؍ دسمبر بروز جمعہ: بہادر آباد میں واقع قاری محمد انور صاحب کی جامع مسجد قرطبہ میں طوفانی صاحب نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت پر مفصل خطاب فرمایا۔
۱۵؍ دسمبر بروز اتوار: دفتر ختم نبوت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ میں صبح ۱۱ بجے ایک اجتماع منعقد کیا گیا جس میں عوام الناس کے علاوہ کارکنان ختم نبوت کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تلاوت کے بعد مولانا عبدالحئی مطمئن (مبلغ ضلع غربی) اور مولانا محمد حامد (شافعی مسجد شیر شاہ) نے مختصر خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا طوفانی صاحب نے سوا گھنٹہ پر مشتمل مفصل و مدلل خطاب کیا۔
ظہر کی نماز کے بعد کوئٹہ سے مولانا انوار الحق حقانی مدظلہ کی قیادت میں ۵۰ افراد کا وفد جو کہ کراچی کے تعلیمی اداروں کے مطالعاتی دورہ پر تھا، دفتر ختم نبوت بھی آیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۳ء ۳۹۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) نے بھی اس موقع پر بیان کیا، آپ نے کہا کہ قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کے فریب سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام، علماء کرام سے مستقل رابطے میں رہیں تاکہ اس فتنے سے اپنا ایمان محفوظ رکھ سکیں، بعد ازاں مہمان حضرات میں ہفت روزہ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر مشتمل لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
۱۶/ دسمبر بروز پیر: صبح کے وقت مولانا طوفانی صاحب، مولانا سید محمد طاہر صاحب (امام و خطیب جامع مسجد بنوری ٹاؤن) کے تعلیمی ادارے اسلامک انسٹیٹیوٹ تشریف لے گئے، جہاں طلباء سے خطاب کیا۔
۱۷/ دسمبر بروز منگل: آج صبح مولانا طوفانی صاحب، مولانا محمد حنیف عبدالمجید (مدرسہ بیت العلم) کے عصری تعلیمی ادارے البدر اسکول تشریف لے گئے اور ننھے نونہالوں سے خطاب کیا۔ عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد دکھنی (پاکستان چوک) میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ مولانا طوفانی صاحب نے خطاب کیا۔
۱۸/ دسمبر بروز بدھ: شام چار بجے مولانا طوفانی صاحب بلدیہ ٹاؤن میں مجلس کے مقامی ساتھی جناب سید محمد شاہ کے بھائی جناب سید نور محمد کے حج و عمرہ ٹریولنگ ایجنسی کے افتتاح کے لئے تشریف لے گئے، آپ کے ہمراہ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ اور سید انوار الحسن شاہ اور محمد سلمان الیاس بھی تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ فیڈرل بی ایریا کے زیر اہتمام جامع مسجد الاخوان دستگیر بلاک ۱۵ میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں مولانا طوفانی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔
۱۹/ دسمبر بروز جمعرات: صبح ۱۰ بجے مدرسہ سیف العلوم یوسفیہ پختون آباد (مولانا راحت گل شمشیر مدظلہ کے ادارہ) میں تقریب تقسیم انعامات بسلسلہ سہ ماہی امتحان منعقد ہوئی۔ مہمان کے طور پر راقم نے مختصر بیان کیا، اس کے بعد مولانا طوفانی صاحب نے بیان کیا۔ مغرب کی نماز کے بعد جامع مسجد المصطفیٰ پاکستان مارکیٹ اسٹیل ٹاؤن میں مولانا طوفانی صاحب کے بیان سے قبل مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کیا۔
۲۰/ دسمبر بروز جمعہ: جامع مسجد شافعی شیر شاہ میں مولانا طوفانی صاحب نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور قادیانیت کی زہرناکی سے عوام کو آگاہ کیا۔ عصر کی نماز کے بعد بلدیہ ٹاؤن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذیلی دفتر و مسجد جامع عائشہ میں تربیتی نشست سے خطاب کیا۔
مغرب کے بعد جامع عائشہ صدیقہ (منظور کالونی) میں اہل محلہ سے خطاب کیا اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے کی دعوت دی۔ عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ تعلیم القرآن والسنۃ (منظور کالونی) میں علاقے کے علماء کرام سے خطاب کیا۔
۲۱/ دسمبر بروز ہفتہ: دوپہر ۱۲ بجے مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہ العالی سے ملاقات کے لئے جامعہ دارالعلوم کراچی تشریف لے گئے اور ان کو سرگودھا میں قائم کردہ خاتم النبیین میڈیکل ہارٹ سینٹر کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ مغرب کی نماز کے بعد ظفر ٹاؤن لانڈھی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مشہور نعت خواں حافظ محمد اشفاق نے نعت پیش کی۔ اس موقع پر مولانا طوفانی صاحب نے بیان کیا۔
۲۲/ دسمبر بروز اتوار: صبح مولانا طوفانی صاحب اپنا دورۂ کراچی مکمل کر کے ملتان روانہ ہو گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۵ تا ۲۱/ جنوری ۲۰۱۴ء ص ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۴ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امریکا کا اشتعال انگیز اقدام اور وفاقی وزیر کا جرأت مندانہ جواب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی
سب کو معلوم ہے کہ قادیانیت برطانیہ اور انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے، جب تک برطانیہ کا طوطی بولتا رہا تو وہ اپنے اس خود کاشتہ پودے کو پانی دیتا رہا اور جب اس میں خاطر خواہ دم نہ رہا تو اس نے اپنے دوسرے تمام اختیارات کی طرح قادیانیت نوازی کا اختیار بھی امریکا بہادر کو سونپ دیا۔ اب امریکا پوری دنیا کا تھانیدار بنا ہوا ہے اور وہ ایک تھانیدار کی طرح اپنے زیر اثر ممالک میں اپنا حکم اور فرمان جاری کرتا رہتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے ان کے سینیٹروں نے اپنے فورم پر یہ بات کہی کہ امریکا کو قادیانیوں کی مدد اور تعاون کرنا چاہئے، اب اس کے صدر نے ایک چار رکنی وفد پاکستان بھیجا ہے اور جس نے آتے ہی یہی مطالبہ کر دیا کہ: ’’پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہو رہا جس پر امریکا کو تشویش ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر عائد قدغن ختم کی جائے‘‘۔ اس پر وفاقی وزیر مذہبی امور جناب سردار یوسف صاحب نے خودداری اور جرأت مندانہ دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور حکومت اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں جب روزنامہ اسلام کی ٹیم نے اس امریکی وفد کے پاکستان آنے کے مقاصد اور قادیانیت نوازی پر مبنی ان کے مطالبہ کے بارہ میں مولانا اللہ وسایا صاحب سے اس بارہ میں انٹرویو لیا تو آپ نے فرمایا:
’’امریکا کی جانب سے قادیانیوں کی تبلیغی آزادی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے روزنامہ اسلام سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہماری پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے اور کسی ملک کی پارلیمنٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر کے اس ملک میں مداخلت کرنا کسی طور ٹھیک نہیں ہے۔ امریکا کی کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان میں قادیانیوں کے حوالے سے بنے ہوئے قانون کو ختم کرائے، یہ قانون جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں بنا تھا۔ قادیانیوں کے متعلق جتنے بھی قوانین ہیں، رہتی دنیا تک کوئی مائی کا لال انہیں منسوخ نہیں کر سکتا۔ ان شاء اللہ! قادیانی، امریکا کی لابی ہیں اور امریکا ہر اس لابی کی سپورٹ کرتا ہے جو مسلمانوں اور اسلام کے مخالف ہو، قادیانی اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی میں صفِ اوّل میں ہیں، اس لئے امریکا ان کو تھپکی دیتا ہے اور ان کو مکمل تعاون فراہم کرتا ہے۔ امریکا کا یہ کہنا کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، سراسر غلط ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں، پاکستان میں قادیانیوں کے بڑے بڑے کاروبار ہیں، یہ لوگ پاکستان میں گورنمنٹ کے محکموں کے اندر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ مطالبہ پاکستان کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش اور بہانہ ہے۔ پاکستان میں ہندو، عیسائی، سکھ اور دوسرے کئی مذاہب کے لوگ بستے ہیں، سب محفوظ ہیں۔ بھارت میں عیسائیوں کو قتل کیا گیا، ان کی عبادت گاہوں کو جلایا گیا، مسلمانوں کا بھارت میں قتل عام جاری ہے۔ امریکا اس ظلم کے خلاف آواز کیوں بلند نہیں کرتا۔ صرف پاکستان میں قادیانیوں کی بات ہی کیوں کرتا ہے، ہماری حکومت امریکا کے الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔ امریکا کا ایسا مطالبہ کرنا پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ ہماری پارلیمنٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ حالانکہ قادیانی خود پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ کیا، یہ مسلمانوں کا جنازہ نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پڑھتے۔ انہوں نے پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہیں پڑھا، جب ان کا سب کچھ مسلمانوں سے علیحدہ ہے، تو اب ان کا مسلمانوں سے کیا تعلق رہا، قادیانی قادیانیت کو قادیانیت کے نام پر پیش کریں، اسلام کے نام پر پیش نہ کریں، اس سے اسلام کا تشخص برباد ہوتا ہے، اگر کوئی آدمی اسلام کے نام پر یہودیت کو پھیلائے گا اور عیسائیت کو پھیلائے گا تو اس سے اسلام کا تشخص برباد ہوگا، مسلمان اس کو کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی، ۶؍ مئی ۲۰۱۴ء)
اس پر روزنامہ اسلام نے جو اداریہ تحریر کیا وہ ہمارے دل کی آواز ہے۔ قارئین ہفت روزہ ختم نبوت کی خدمت میں اسے من وعن یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’اطلاعات کے مطابق چند روز پیشتر امریکی صدر بارک اوباما کے خصوصی ایلچی اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے لئے ان کے مقرر کردہ نمائندے ارشاد حسین نے ۴ رکنی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف سے ملاقات کی جس کا واضح مقصد قادیانیوں کو پاکستان میں مذہبی آزادی دلانے کے لئے دباؤ ڈالنا تھا۔ اس موقع پر امریکی نمائندے نے وفاقی وزیر سے کہا کہ اقلیتی برادری خصوصاً قادیانیوں کے ساتھ پاکستان میں اچھا برتاؤ نہیں ہو رہا جس پر امریکا کو تشویش ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر عائد قدغن ختم کی جائے، جس پر وفاقی وزیر مذہبی امور نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور حکومت اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے، جسے اپنے اندرونی معاملات کے بارے میں کسی بیرونی دباؤ اور ہدایات کی قطعاً حاجت نہیں تاہم بدقسمتی سے ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار کی جانب سے عالمی قوتوں کے سامنے اختیار کیا جانے والا غیر معمولی لچکدار رویہ اور فدویانہ انداز ہی غیروں کو ملک کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا بھر پور موقع فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی استعماری طاقتیں جن کا سرخیل اس وقت امریکا بنا ہوا ہے، ہمارے ذاتی مسائل و معاملات میں کھلی مداخلت کر رہی ہیں اور اس دخل اندازی کی تازہ مثال مذکورہ خبر کے آئینے میں بخوبی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ قادیانیوں کو وطن عزیز میں تبلیغی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے لئے امریکی دباؤ بلاشبہ قابل مذمت ہے کیونکہ قادیانی مذہب نبی آخر الزماں، تاجدارِ ختم نبوت جناب محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا کھلم کھلا منکر ہے اور اسی بنا پر عالم اسلام متفقہ طور پر قادیانی مذہب کو دائرہ اسلام سے خارج جانتا اور سمجھتا ہے، چنانچہ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسلمان ریاست میں کسی بھی غیر مسلم اقلیت کو عموماً اور قادیانیت کو خصوصاً مذہبی آزادی دلوانے کی امریکا کی شعوری کوشش نہ صرف اشتعال انگیز اقدام ہے بلکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے بلا جواز مطالبے سے اسلامی دنیا کے مذہبی جذبات و احساسات بُری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ امرِ واقع یہ ہے کہ قادیانیت نے اپنے باطل مذہب اور بے بنیاد عقائد کی ترویج و اشاعت کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور اسلامی شعائر و اصطلاحات کی آڑ لے کر اس کے مبلغین سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم سعی عمل میں لاتے ہیں۔ قادیانیوں کے اس پُر فریب اندازِ تبلیغ کو جعل سازی کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ جب خود مغربی معاشرے میں جعل سازی قابل مواخذہ جرم ہے تو مشرق میں اس عام فہم اصول اور ضابطے کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے؟ امریکی حکام کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کو مذہبی اور سماجی حقوق حاصل ہیں اور ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں لیکن کسی بھی ملک میں کسی مذہبی اقلیت کی جانب سے اکثریت کی شناخت چرانے کو انسانی اور مذہبی حق قرار دینا محل نظر ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا بجا ہے کہ ملک میں قادیانیت سمیت تمام اقلیتی مذاہب کے لئے قانون وضع ہے جس کے مطابق سب کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کے عدم تحفظ کے حوالے سے محض پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس پر مزید کوئی وضاحت نہیں دی جاسکتی۔
تصویر کے دوسرے رخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قادیانیت کی داغ بیل برصغیر پر قابض برطانوی استعمار نے ڈالی تھی جس کا نمایاں ہدف جنوبی ایشیا میں استعمار مخالف نظریات وافکار کا قلع قمع اور مقامی حریت پسند اور باحمیت مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کی بیخ کنی کرنا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر دُہرانے جارہی ہے، فرق محض یہ ہے کہ برطانیہ کی جگہ امریکا نے لے لی ہے۔ مقام تعجب ہے کہ امریکی قیادت ایک جانب عالم اسلام کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی دعویدار ہے تو دوسری طرف وہ ایسے غیر مسلم اقلیتی گروہ کو مکمل پشت پناہی فراہم کرکے اسلامی معاشرے میں اثر ونفوذ کی بھی خواہشمند ہے، جس کا دور دور تک اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں ہے۔ امریکا کا یہ دُہرا رویہ اس کے دعوؤں کی تردید وتکذیب کرتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے سامنے یہ امر از خود واضح ہورہا ہے کہ صہیونی طاقتیں عسکری میدان میں شکست و ہزیمت کا داغ اٹھانے کے بعد فکری میدان میں مسلم امہ کو مغلوب کرنے کی انتہا پسندانہ سوچ میں مبتلا ہیں اور اس مذموم مقصد کے لئے زیر زمین تیاریاں مکمل ہیں جب کہ برسر زمین کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کی رفتار تیز کردی گئی ہے، لیکن یاد رہے کہ ماضی میں اس نوعیت کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں اور اب بھی ہوں گی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ عالم اسلام متحد ومتفق ہوکر سامراجی منصوبوں اور عزائم کے آگے بند باندھنے کے مشترکہ نکتے پر مجتمع ہو جائے کیونکہ یہی وقت کی پکار ہے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ اسلام کراچی، ۷؍ مئی ۲۰۱۲ء)
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے تمام حکمرانوں کو وفاقی مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب کی طرح جرأت رندانہ نصیب فرمائے اور وہ دین دشمنوں کو اسی انداز میں جواب دیں، جس کے وہ مستحق ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے ترقیات سے نوازے اور دین دشمنوں وملک دشمنوں سے ہمیشہ ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ مئی ۲۰۱۴ء ص ۲ تا ۶)
پنجاب یونیورسٹی میں قادیانی ڈائریکٹر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، نائب امراء مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا خواجہ عزیز احمد، مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف بائیو کیمسٹری اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر امۃ الجمیل کی بطور ڈائریکٹر تقرری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانی خاتون کو بطور ڈائریکٹر ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس قادیانیت نواز اقدام سے یونیورسٹی کے طلباء اور مسلمانوں کے اندر شدید بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ علماء کرام نے کہا کہ اگر قادیانی خاتون کو ڈائریکٹر بنانے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تمام دینی اور مذہبی تنظیمیں اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائیں گی۔ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائس چانسلر اور سینڈیکیٹ کمیٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانی خاتون کی بطور ڈائریکٹر تقرری کو منسوخ کیا جائے بصورت دیگر اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ حکومت قادیانیت نوازی ترک کردے۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۲۹؍ مئی ۲۰۱۴ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۱۴ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ فسادات قادیانیوں کو قانون کا پابند بنایا جائے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد لله وسلام علیٰ عبادہٖ الذین اصطفیٰ
قرآن کریم، سنت نبویہ کی نصوص اور امت مسلمہ کے اجماع کی رو سے اسلام، اللہ تبارک و تعالیٰ کا پسندیدہ اور آخری دین ہے۔ قرآن کریم اللہ تبارک و تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور امت مسلمہ، امت محمدیہ اور الہامی کتابوں پر ایمان رکھنے والی آخری امت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کو ماننا، حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر یقین کرنا، تمام فرشتوں، تمام الہامی کتابوں، تمام رسولوں پر ایمان لانا، آخرت پر یقین رکھنا، تقدیر کو ماننا کہ سب کچھ خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے مقدر ہوتا ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر یقین کرنا ایمان کہلاتا ہے اور یہ ایمان آدمی کی اپنی جان، مال، اولاد، عزیز و اقارب، رشتہ دار اور دوست احباب سے زیادہ قیمتی اور ضروری ہے۔ اسی طرح تمام ضروریات دین کو ماننا یعنی وہ چیزیں جن کا ثبوت اور دین اسلام کا جزو ہونا یقینی اور قطعی ہے، ان کو ماننا بھی ضروری ہے۔ جیسے اثبات علم الٰہی، قدرت محیط، ارادۂ کاملہ، صفتِ کلام، قرآن کریم، قدم قرآن، قدم صفات باری، حدوثِ عالم، حشر اجساد، عذاب قبر، جزا و سزا، رؤیت باری قیامت میں، شفاعت کبریٰ، حوض کوثر، وجودِ ملائکہ، وجودِ کراماً کاتبین، ختم نبوت، نبوت کا وہبی ہونا، مہاجرین و انصار کی اہانت کا عدم جواز، اہل بیت رضی اللہ عنہم کی محبت، خلافت شیخین رضی اللہ عنہم، پانچ نمازیں، فرض رکعات کی تعداد، تعداد سجدات، رمضان کے روزے، زکوٰۃ، مقادیر زکوٰۃ، حج، وقوف عرفات، تعداد طواف، جہاد، نماز میں استقبال کعبہ، جمعہ، جماعت، اذان، عیدین، جواز مسح خفین، عدم جواز سب رسول، عدم جواز سب شیخین رضی اللہ عنہم، انکار جسم، انکار حلول اللہ، عدم استحلال محرمات، رجم زانی، حرمت لبس حریر (ریشم پہننا)، جواز بیع، غسل جنابت، تحریم نکاح امہات، تحریم نکاح بنات، تحریم نکاح ذوی المحارم، حرمت خمر، حرمت قمار، جیسی چیزیں ضروریات دین میں داخل ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے انکار یا تاویل سے کفر لازم آتا ہے، آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
اسی ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر مسلم اور کافر میں امتیاز کیا جاتا ہے، قوموں میں اسی عقیدے اور نظریئے کے تحفظ کی بنا پر جنگیں اور لڑائیاں ہوتی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی مدنی زندگی میں غزوۂ بدر، احد، احزاب، خیبر، فتح مکہ، حنین و تبوک یہ تمام غزوات نظریئے اور عقیدے کی بنا پر وقوع پذیر ہوئے تھے۔ ایک مسلمان کے لئے جس طرح ان تمام ضروریات دین پر ایمان لانا فرض قطعی اور ضروری ہے، اسی طرح ان کی حفاظت کرنا بھی فرض قطعی اور ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حضرت خالد بن ولید کی امارت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا گیا، جس میں بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین عظام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مسیلمہ کذاب نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج حتی کہ اذان میں اشہد ان محمد رسول اللہ بھی کہلواتا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے خلاف جہاد کیا گیا، کیونکہ وہ ضروریات دین میں سے صرف ایک ضروری چیز ختم نبوت کا منکر تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی اور رسول نہیں مانتا تھا۔ اس نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ضروریات دین کی حفاظت کے پیش نظر اس کا مقابلہ کیا اور دین کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بدقسمتی سے متحدہ ہندوستان میں انگریز نے جہاں اور چیزوں میں مسلمانوں کا استحصال کیا، وہاں مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کو خراب کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا اور اس نے مسلمانوں کو مرتد کرنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک جتھا اور گروہ وجود میں آگیا اور اس نے قرار دیا کہ مدارنجات حضور اکرم ﷺ کی ذات نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہر قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، حالانکہ وہ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتا ہے اور حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی اور رسول ماننے والے مسلمانوں کو ہر قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی کے دس بیٹے ہوں اور سب جانتے ہوں کہ یہ فلاں کے بیٹے ہیں اور ایک نامعلوم النسب آدمی کھڑا ہو جائے اور یہ کہنا شروع کردے کہ یہ دس بیٹے اس کے نہیں، میں اس کا بیٹا ہوں۔ دنیا کی ہر عدالت اس کو جھوٹا اور دھوکا باز کہے گی، اسی طرح ہر قادیانی جھوٹا اور دھوکا باز ہے۔
قادیانیوں کے نزدیک نہ قرآن کریم کی کوئی اہمیت ہے، نہ نبی آخر الزمان کی کوئی حیثیت ہے، نہ بیت اللہ کی تعظیم ہے، نہ انبیاء کرام علیہم السلام کی کوئی عزت وحرمت ہے، بلکہ ہر بے دینی کی بات ان سے پھوٹتی ہے اور ہر بے دین کے پیچھے ان کی پشت پناہی ہوتی ہے اور ان کے پیچھے مغرب اور آج کل امریکا جیسا مسلمان دشمن ملک کھل کر قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، کبھی وہ اپنی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کی پشت پناہی کے بیانات دیتا ہے اور کبھی وفود اور خطوط لکھ کر مسلم ممالک خصوصاً پاکستان کے حکمرانوں کو متنبہ کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ قادیانیوں کے بارہ میں عائد قانونی پابندیوں کو ختم کیا جائے۔
قادیانیوں نے مظلوم بننے، پاکستان کو بدنام کرنے اور مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے یہ ایک طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ جھوٹا افسانہ کھڑا کیا جاتا ہے یا مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی کی جاتی ہے، کبھی حضور اکرم ﷺ کی توہین کا ارتکاب عیسائیوں وغیرہ سے کرایا جاتا ہے اور کبھی بیت اللہ کی توہین کی جاتی ہے، اس کے بعد مسلمانوں کا اشتعال میں آنا یقینی اور بدیہی بات ہے، اس کے بعد فسادات ہوتے ہیں تو قادیانی اپنے آقاؤں کو دہائی دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور ہمیں اپنے ملک میں سیاسی پناہ دی جائے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا واقعہ پیش ہی کیوں آیا؟ اس کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں؟ آج کل ایسے واقعات اور فسادات میں اس کو کیوں نہیں دیکھا جاتا، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
گوجرانوالہ فسادات میں یہی کچھ ہوا۔ عاقب نامی قادیانی نے صدام حسین مسلمان نوجوان کو فیس بک پر ایک خاکہ بھجوایا، جس میں بیت اللہ کی توہین اس طرح کی گئی کہ ایک بدصورت ننگی عورت کو خانہ کعبہ کی چھت پر (نعوذ باللہ) گندگی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ صدام حسین نے یہ خاکہ دیکھ کر اپنے مسلمان دوستوں کو اس کا بتایا تو وہ اسے سمجھانے کے لئے ایک سابق قادیانی ڈاکٹر کے پاس گئے کہ عاقب نامی قادیانی کو سمجھائیں وہ ایسا نہ کرے۔ وہیں عاقب چند قادیانیوں کے ساتھ آگیا، خاصی بحث وتکرار ہوئی، اتنے میں قادیانی گھروں سے اینٹوں اور پتھروں کی بارش شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے قادیانیوں کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک بچے کی ٹانگ پر گولی لگی، اسے ہسپتال لے جایا گیا، ادھر پولیس نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا، جس سے یہ وقوعہ رونما ہو گیا۔ اب اس واقعہ کی بنا پر مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے اور ان کی گرفتاریوں کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے، جو آدمی اس واقعہ کا سبب بنا، اسے گرفتار کیا جائے۔ اس کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی جائے۔ ہماری حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اٹلی کا وزیر اعظم برملا اعلان کر رہا ہے کہ جو اسلام چھوڑ کر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئے گا، ہم اسے اپنے ملک کی نیشنلٹی دیں گے اور ایسوں کو پناہ دینے کے لئے ہمارا ملک حاضر ہے۔ مرتدہ عورت کا وہ استقبال کرتا ہے، ان کا پوپ اس مرتدہ کو ملاقات کا شرف بخشتا ہے، صدر اوباما اس کو مبارک باد دیتا ہے اور پورا امریکا ایسوں کے لئے دعائیں کرتا ہے تو ہمارے مسلمان حکمرانوں کی اسلامی غیرت کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کی حفاظت اور شعائر اسلام کی عزت وحرمت کی پامالی کو نہیں روک سکتے؟ کیا وجہ ہے کہ ان کا ایمان وعقیدہ کمزور ہے یا مغرب کا بے جا خوف انہیں ایسا کرنے سے روکتا ہے؟ اے مسلم حکمرانو! اگر تم اللہ تعالیٰ اس کے رسول، دینِ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے عتاب وغضب سے نہیں بچ سکو گے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی حفاظت کرنا آتا ہے اور وہ ضرور کرے گا۔ لیکن تمہارے ہاتھ میں دنیا و آخرت کی رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اگست ۲۰۱۴ء ص۴، ۵)
گوجرانوالہ واقعے کے اصل محرکات
ذیل میں مولانا زاہد الراشدی کا روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والا ایک کالم پڑھا جائے:
”گوجرانوالہ شہر کے حیدری روڈ پر رمضان المبارک کی ۲۹ ویں شب کو رونما ہونے والے واقعے کے بارے میں ملک کے مختلف حصوں سے احباب تفصیلات دریافت کر رہے ہیں اور ملکی وبین الاقوامی پریس میں طرح طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں میسر معلومات سے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔
حیدری روڈ پر قادیانیوں کے پندرہ بیس خاندان ایک عرصہ سے قیام پذیر ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں اسی محلے میں ایک واقعہ پیش آیا کہ قادیانیوں نے اپنے مرکز میں ڈش لگا کر احمدیہ ٹی وی کی نشریات کے ذریعے ارد گرد کے نوجوانوں کو ورغلانے کا سلسلہ شروع کیا تو علاقے کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا۔ شہر میں غیر مسلم اقلیتیں ہمیشہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں اور اگر حدود سے تجاوز کی بات نہ ہو تو انہیں برداشت کیا جاتا ہے۔ اس برداشت اور رواداری میں گوجرانوالہ شہر بہت سے دوسرے شہروں سے بہتر روایات رکھتا ہے، مگر قادیانیوں کا مسئلہ مختلف ہے، اس لئے کہ وہ اپنی دعوت اور سرگرمیاں اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔ حالانکہ پوری امت مسلمہ انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور پاکستان کے دستور میں بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے لیکن وہ اس فیصلے اور دستور پاکستان کو مسترد کرتے ہوئے اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ و دعوت پر بضد رہتے ہیں، جس پر پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ دستور وقانون کو بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اس لئے ان کی سرگرمیاں قابل قبول نہیں ہوتیں اور وہ جہاں بھی ایسا کرتے ہیں ارد گرد کے مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
۱۹۹۲ء کے اس واقعے پر علاقے کے مسلمان مشتعل ہوئے تو قانون حرکت میں آیا اور قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو روک دیا گیا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی حلقوں سے رابطہ قائم کیا اور کم و بیش ستائیس افراد اس بہانے کینیڈا کا ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور وہ وہیں آباد ہیں۔ اس کے بعد دو عشروں سے زیادہ عرصہ خاموشی کے ساتھ گزر گیا اور ایک محلے میں رہنے کے باوجود مسلمانوں اور قادیانیوں میں کشیدگی کا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔
رمضان المبارک کی انتیسویں شب کو عاقب نامی ایک قادیانی نوجوان نے صدام حسین نامی مسلمان لڑکے کو فیس بک پر ایک خاکہ بھجوایا، جس میں بیت اللہ شریف کی توہین کی گئی ہے۔ یہ تصویر موبائل ریکارڈ پر موجود ہے اور اس کا پرنٹ بھی بعض دوستوں نے سنبھال رکھا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں ایک بدصورت ننگی عورت کو خانہ کعبہ کی چھت پر (نعوذ باللہ) گندگی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک محفل میں وہ خاکہ اور تصویر بعض دوستوں نے مجھے دکھانا چاہی تو میں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میں اس معاملے میں بہت کمزور واقع ہوا ہوں۔ یہ توہین آمیز خاکہ جس کیفیت میں بتایا جا رہا ہے، میں اسے نہیں دیکھ سکوں گا۔ صدام حسین نے یہ خاکہ دیکھ کر اپنے دو چار دوستوں سے بات کی اور وہ مل کر ڈاکٹر سہیل صاحب کی دکان پر گئے جو پہلے قادیانی تھے اب مسلمان ہیں۔ ان لڑکوں نے ان سے کہا کہ وہ عاقب کو سمجھائیں کہ وہ ایسی حرکتیں نہ کرے یہ ناقابل برداشت ہیں۔ وہیں عاقب بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آ گیا اور ان کے درمیان خاصی توتکار ہوئی جو بڑھتے بڑھتے اس نوبت تک پہنچ گئی کہ قریب کے قادیانی مکانات کی چھتوں سے اینٹیں اور پتھر برسنا شروع ہوئے۔ عاقب نے صدام اور اس کے ساتھیوں سے کہا کہ جاؤ تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو مجھے کوئی پروا نہیں ہے اس کے ساتھ ہی قادیانی لڑکوں میں سے کسی نے فائرنگ بھی کر دی، جس سے قریب کی ایک مسجد کے امام مولانا حاکم خان کا تیرہ سالہ لڑکا زخمی ہو گیا، جس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی۔ علاقے کے سابق کونسلر مقبول احمد کہتے ہیں کہ وہ اس لڑکے کو خود اٹھا کر سول ہسپتال لے گئے۔ اس دوران فائرنگ اور باہمی تصادم کی خبر ارد گرد کے محلوں میں پھیل گئی اور لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ محلے کے پندرہ بیس حضرات یہ دیکھ کر تھانہ پیپلز کالونی گئے اور انچارج تھانہ سے بات کی کہ حالات زیادہ خراب ہونے کا خدشہ ہے، اس لئے وہ مداخلت کریں اور وہاں پہنچیں۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی دونوں سے ان کی بات ہوئی مگر ان دونوں کو واقعے میں دلچسپی لینے پر قائل کرنے میں انہیں ڈیڑھ دو گھنٹے لگ گئے۔
یہ وہ وقت تھا جب لوگ تراویح کی نماز سے فارغ ہو کر مساجد سے نکل رہے تھے اس لئے ارد گرد محلوں کی بیسیوں مساجد کے نمازی وہاں جمع ہوئے اور ہزاروں افراد کا اجتماع ہو گیا، محلے کے پندرہ بیس سرکردہ حضرات اس وقت تھانے میں پولیس افسران کو قائل کرنے میں مصروف تھے، سابقہ کونسلر مقبول احمد زخمی بچے کو لے کر ہسپتال گئے ہوئے تھے، ہجوم مشتعل تھا اور کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس لئے مشتعل اور بے قابو ہجوم نے قادیانیوں کے گھروں کا رخ کیا اور انہیں آگ لگانا شروع کر دی۔ اس دوران ضلعی امن کمیٹی کے ارکان قاری محمد سلیم زاہد، مولانا مشتاق چیمہ اور بابر رضوان باجوہ بھی وہاں پہنچ گئے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے، ان کا کہنا ہے کہ وہ جب پہنچے تو مکانوں کو آگ لگی ہوئی تھی، پولیس ایک طرف کھڑی تھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہجوم نے روکی ہوئی تھیں جب کہ پولیس کے جوان ہجوم کو کارروائیوں سے روکنے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو راستہ دلوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے تھے، اس کے بعد جب ڈی سی او، سی پی او اور پھر کمشنر صاحب وہاں پہنچے تو انہوں نے کارروائیوں کو رکوانے میں پولیس اور محلے داروں کی مدد سے مؤثر کردار ادا کیا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے کے لئے وہاں پہنچ پائیں۔ محلے داروں کا کہنا ہے کہ آتش زنی اور لوٹ مار کے افسوسناک واقعات ہوئے ہیں لیکن محلے داروں نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا، باہر سے آنے والے نامعلوم حضرات نے ایسا کیا ہے، بلکہ ایک مکان میں پھنسے ہوئے آٹھ دس قادیانی افراد کو محلے داروں نے ہی وہاں سے نکالا ہے اور اس کوشش میں ایک مسلمان خود بھی جھلس گیا ہے۔
اس دوران آتش زنی سے قادیانی گھرانے کی ایک خاتون اور دو بچیاں جاں بحق ہوئیں۔ رات دو بجے کے لگ بھگ اس صورت حال کو کنٹرول کیا جاسکا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ دونوں طرف سے مقدمات تھانے میں درج ہو چکے ہیں اور عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد اس سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔
محلہ کے ذمہ دار حضرات اور امن کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ کی توہین ناقابل برداشت ہے، اس پر عوام کا مشتعل ہونا فطری بات تھی مگر اسے بروقت کنٹرول کرنے میں اگر تھانہ پیپلز کالونی محلہ کے ذمہ دار حضرات سے تعاون کرتا اور ڈیڑھ دو گھنٹے کا وقت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہاں ضائع نہ ہو جاتا تو آتش زنی اور لوٹ مار کے افسوسناک بلکہ شرمناک واقعے کی نوبت شاید نہ آتی۔ یہ حضرات خانہ کعبہ کی توہین کے ساتھ ساتھ آتش زنی کے واقعات پر بھی رنجیدہ خاطر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے اور خانہ پری کے لئے غیر متعلقہ لوگوں کو خواہ مخواہ ملوث کر دینے کی روایت کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔
اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر جمعرات کو شہر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ اجلاس دفتر ختم نبوت میں ہوا۔ اجلاس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز درج ذیل ہے:
گوجرانوالہ میں حیدری روڈ پر قادیانیوں کی طرف سے بیت اللہ شریف کی بے حرمتی اور اس کے بعد کے واقعات پر آل پارٹیز اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے ہیڈ آفس میں امیر ضلع مولانا محمد اشرف مجددی کی صدارت میں ہوا، جس میں قادیانیوں کی شرپسندی اور مسلمانوں پر درج شدہ مقدمات کے حوالے سے ختم نبوت رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے سرپرست شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی، شیخ الحدیث مولانا محمد امین محمدی، خطیب پاکستان مولانا ابو طاہر عبد العزیز چشتی کو بنایا گیا۔ مولانا صاحبزادہ محمد رفیق مجددی کو رابطہ کمیٹی کا کنوینر ، سید احمد حسین زید کو رابطہ کمیٹی کا سیکرٹری اور رانا محمد کفیل خان کو ڈپٹی سیکرٹری بنایا گیا، جب کہ مولانا قاری محمد سلیم زاہد، علامہ محمد ایوب صفدر، مولانا محمد مشتاق چیمہ، بلال قدرت بٹ، چوہدری بابر رضوان باجوہ، مولانا محمد اشرف مجددی، سید غلام کبریا فاروقی ، مولانا ابو یاسر اظہر حسین فاروقی اور سید مظاہر علی بخاری کو رابطہ کمیٹی کارکن بنایا گیا۔ متفقہ فیصلہ ہوا کہ بیت اللہ شریف کی بے حرمتی اور سانحہ حیدری روڈ پر کل جمعۃ المبارک کو یوم احتجاج منایا جائے گا اور مساجد میں قراردادیں منظور کی جائیں گی۔ ایک قرارداد کے ذریعے عاقب مرزائی اور اس کی فیملی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنے، واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے اور تفتیشی ٹیم میں امن کمیٹی کے ارکان کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور بے گناہ مسلمانوں کے نام شامل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے قادیانی ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔“
(روزنامہ اسلام کراچی ۲۰؍ اگست ۲۰۱۲ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اگست ۲۰۱۲ء ص۶، ۷)
امریکہ کی قادیانیوں کی ناروا پشت پناہی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
راقم الحروف گزشتہ ڈیڑھ ماہ حج بیت اللہ کی غرض سے حرمین شریفین کی مقدس زمین و معطر فضاؤں میں رہا۔ اس دوران پاکستان کی سیاست اور حالات میں کئی مد و جزر آئے اور تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئے۔ ان میں سے ایک واقعہ ایسا بھی ہوا ہے جس کا ختم نبوت کی فائلوں میں محفوظ ہونا نہایت ضروری ہے اور وہ ہے کہ امریکا کی طرف سے قادیانیوں کی ناروا پشت پناہی اور حکومت پنجاب کی طرف سے امریکی سفیر کو حقیقت پسندانہ اور مدبرانہ جواب۔
قارئین جانتے ہیں کہ ہفت روزہ ختم نبوت کے اداریوں میں کئی بار لکھا گیا کہ پہلے برطانیہ قادیانیت کی تخم ریزی، آبیاری، اسے بار آور اور ثمر آور بنانے کے لئے مصروف رہا، اب جب سے امریکا بہادر اپنی چالبازیوں اور فریب کاریوں سے دنیا والوں کی نظروں میں سپر مین بنا تو اس نے قادیانی ٹولے کی کھلم کھلا سرپرستی کرتے ہوئے اپنے لے پالک قادیانی گروہ کو ہر جگہ پروٹوکول اور تحفظ دینے کی کوششیں تیز کردیں۔ کبھی امریکا کے سینیٹر امریکی ایوان میں قادیانیوں کے حق میں بولتے ہیں، کبھی وہ وفد بنا کر پاکستانی حکومت کو قادیانیوں کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مراعات کے بارہ میں بات کرتے ہیں ،کبھی وہ پاکستانی حکومت کو خطوط لکھتے ہیں اور اب امریکی اتھارٹیز کی طرف سے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کی تحویل میں لئے گئے کالج قادیانیوں کو واپس کئے جائیں۔ اس پر ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مدیر شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ نے بہت ہی مناسب اور مسکت اداریہ تحریر فرمایا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اسے یہاں من وعن نقل کیا جاتا ہے:
’’روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۹؍ ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکا نے چناب نگر میں قادیانیوں کے دو کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے کے لئے حکومت پنجاب سے کہا ہے۔ جب کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے سے انکار کر دیا ہے، انکار کے حوالہ سے محکمہ نے جو تفصیل جاری کی ہے، اس کے مطابق گورنمنٹ ٹی آئی کالج اور جامعہ نصرت کالج چناب نگر قادیانی جماعت نے ۱۹۷۲ء میں قائم کئے تھے، اس وقت کی حکومت نے انہیں سرکاری کنٹرول میں لیا تھا اور یہ کالج ہائر ایجوکیشن کے بغیر کسی تفریق کے انٹر سے پوسٹ گریجویٹ تک تعلیم کی علاقہ بھر کے عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں، جب کہ بھاری سرکاری اخراجات سے بلڈنگوں کی تعمیر، مختلف شعبوں کے قیام اور بغیر تفریق کے تعلیمی انتظامات کے علاوہ محکمہ نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ مذہبی طور پر یہ معاملہ پاکستان میں حساس ہوسکتا ہے اور ان کالجوں کو سرکاری تحویل سے نکالنے پر مذہبی اور سماجی جھگڑا ہو سکتا ہے جو امن عامہ کے حوالہ سے خطرناک ہوگا ، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی نمائندہ برائے پاکستان و افغانستان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر کے ان سے یہ درخواست کی تھی جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبائی وزیر کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے امریکی قونصلیٹ کی سیاسی سیکرٹری لبنی خان سے ملاقات کر کے انہیں حکومت کے موقف سے آگاہ کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے قادیانیوں کے کالجوں کو واپس کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ اس طرح کا فیصلہ کسی بھی ملک کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے۔
جہاں تک محکمہ تعلیم کے موقف کا تعلق ہے وہ ملکی مفاد اور عوام کے جذبات کے حوالہ سے انتہائی مناسب اور خوش آئند ہے جس پر صوبائی حکومت تحسین کی مستحق ہے، لیکن امریکا کی طرف سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس طرح کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب سے پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کا آغاز کیا ہے اور بعض بین الاقوامی معاہدات و معاملات میں امریکا کے ساتھ شراکت اور رفاقت اختیار کی ہے اس قسم کی مداخلت روز مرہ معمولات کا حصہ بنی ہوئی ہے اور صرف امریکا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کے اتحادی دیگر مغربی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی مسلسل دخل اندازی نے پاکستان کے نظام وقوانین اور دستور کی عملداریوں کو سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے۔
یہ بات ہمارے لئے قومی المیہ کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ خود ہمارے بعض مقتدر طبقات اور گروہوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر عالمی اداروں اور مغربی طاقتوں کو پاکستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے مسلسل مواقع فراہم کر کے قومی خود مختاری کو داؤ پر لگا دیا ہے، جس سے ہمارے بہت سے قومی معاملات خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، تعلیمی ہوں یا ثقافتی اور سماجی ہوں یا علاقائی بیرونی قوتوں کی مداخلت کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں اور خاص طور پر قادیانیوں کی سر پرستی اور ملک وقوم کے خلاف ان کے معاندانہ موقف اور ہٹ دھرمی کی پشت پناہی میں ان بیرونی قوتوں نے اصولوں اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔
امریکا اور اس کے ہمنوا مغربی ممالک دنیا بھر میں ہر وقت جمہوریت کی بالا دستی ، پارلیمنٹ کی حکمرانی اور دستور وقانون کی عملداری کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں اور ان کے علم میں ہے کہ قادیانیوں نے گزشتہ چالیس سال سے ملک کی منتخب پارلیمنٹ کے جمہوری فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور وہ پاکستان کے دستور وقانون کے خلاف دنیا بھر میں محاذ آرائی میں مصروف ہیں، لیکن امریکی حکومت انہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک کے دستور اور عوام کے جمہوری فیصلے کو تسلیم کرنے کی تلقین کرنے کی بجائے ان کے دو کالجوں کو آزاد کرانے کی فکر میں ہے اور ملک کے دستور وقانون کے خلاف قادیانیوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کو سپورٹ کر رہی ہے، ہم امریکی حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ ہر معاملہ میں قادیانیوں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے زمینی حقائق اور پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق و مفادات کا احترام کرے اور قادیانیوں کی ناز برداری کا رویہ ترک کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور وقانون اور پاکستانی عوام کے مذہبی و جمہوری جذبات اور مؤقف کی پاسداری کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جمہوریت، دستور اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کا یہی تقاضا ہے۔‘‘
(بشکریہ ماہنامہ نصرت العلوم، اکتوبر ۲۰۱۴ء)
ہم وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح پنجاب حکومت نے امریکا کو مدلل اور دوٹوک جواب دیا ہے۔ اسی طرح وہ بھی اپنی تمام تر پالیسیوں میں اور ایسے مطالبات کے جواب میں خودداری اور آزاد پالیسی کا پاس رکھتے ہوئے انہیں دوٹوک جواب دے اور ان کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ہر پہلو کو بند کردے۔ ان شاء اللہ ! اس سے جہاں ملکی سالمیت کا تحفظ ہوگا، وہاں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت بھی ہماری طرف متوجہ ہوگی ۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍نومبر ۲۰۱۴ء ص۲، ۵)
مرزاڑہ سیل کر دیا گیا
خالد کالونی حافظ آباد روڈ گوجرانوالہ میں مرزاڑے کی غیر قانونی تعمیر پر اہل علاقہ اور علماء کرام نے احتجاج کیا جس پر ضلعی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے مرزاڑے کو سیل کر دیا اور موقع پر موجود ایک مرزائی کو گرفتار کرنے کے علاوہ مرزائیوں کو کسی بھی قسم کی غیر آئینی سرگرمی سے باز رہنے کی وارننگ دی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے علاقہ کا دورہ کیا اور علماء کرام و اہل علاقہ کو اس غیرت ایمانی کے مظاہرے اور کامیابی پر مبارکباد دی اور ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی آئین پاکستان کی رو سے شعائر اسلام کا استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ علاقہ کے عوام اس حوالہ سے بیدار ہیں اور انہوں نے قادیانیوں کے ناپاک منصوبہ کو ناکام بنا دیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
ڈسکہ میں قادیانیوں کے منہ پر ایک اور طمانچہ
تحصیل ڈسکہ میں اکثریت جاٹ اور مغل برادری کی ہے گلوٹیاں تحصیل ڈسکہ کے نمایاں قصبات میں سے ہے اس کے نواحی گاؤں موضع گھوکل میں قادیانیوں کے گھر دو تین ہی ہیں مگر وہ جاٹ، زمیندار اور اثر ورسوخ کے مالک ہیں۔ آنجہانی عبدالمجید قادیانی فوت ہوا تو دولت ورسوخ کے بل بوتے پر عبدالمجید قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ مولانا فقیر اللہ اختر ، امیر ضلع پیر شبیر احمد گیلانی کی سرپرستی میں خود موضع گھوکل میں تحصیل کے امیر قاری محمد یامین، گلوٹیاں کے امیر حافظ سجاد احمد خاں اور دیگر احباب سمیت حاضر ہو گئے اور مولانا محمد ایوب ثاقب کی نگرانی میں حالات کا جائزہ لے کر لائحہ عمل طے کیا، پولیس کو درخواست دی گئی۔ ایس ایچ او تھانہ رڑکی لیت ولعل سے کام لیتا رہا۔ ڈی ایس پی رانا محمد زاہد سے شنوائی کی درخواست کی گئی مگر قادیانی اثر ورسوخ وہاں بھی آڑے آیا۔ مولانا فقیر اللہ اختر نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرزائیوں کو وارننگ دی کہ وہ اپنا مردہ ہماری جگہ سے نکال لیں بصورت دیگر ہم خود نکال کر پھینک دیں گے۔ اس پر قادیانیوں نے آنجہانی عبدالمجید کی قبر پر مسلح گارڈز تعینات کر دیئے۔ اس پر موضع گھوکل کے قاری محمد ارشد اور ملک عبدالرشید ڈویژنل صدر دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لائے اور جمعیت علماء اسلام کے سرپرست مولانا مفتی جمیل احمد گجر کے ہمراہ ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف مجددی ، مبلغ مولانا محمد عارف شامی اور سید احمد حسین زید سے ملاقات کی اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر سے مشاورت کی اور ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ ریجن سے تحریری درخواست لے کر وفد کی صورت میں ملاقات کی۔ آر پی او صاحب نے مؤقف سننے کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ کو احکامات دے دیئے کہ قادیانی مردہ کو فوری قبر سے منتقل کیا جائے۔ ۱۷؍ جون کو مولانا محمد اشرف مجددی کی قیادت میں وفد نے ایڈیشنل ڈی پی او سیالکوٹ جناب غلام اکبر سے ملاقات کی اور آر پی او صاحب کے احکامات کی روشنی میں اقدامات کا تقاضا کیا۔ انہوں نے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ درخواست پر من وعن عمل کیا جائے گا۔ اگلے روز یہی احکامات ڈی ایس پی ڈسکہ اور ایس ایچ او متعلقہ کو بھیج دیئے گئے۔ ۱۸؍ جون کو پولیس نے آنجہانی عبد المجید کے بیٹوں کو فوری لاش منتقل کرنے کا حکم دیا۔ مسلم قبرستان قادیانی کے ناپاک وجود سے پاک ہو گیا۔ اس طرح قادیانیوں کو ایک اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور مسلمانوں کی جدوجہد قادیانیوں کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۵، ۵۶)
گوجر خان میں ختم نبوت کی سرگرمیاں
گوجر خان کی نواحی بستی بردیانہ کا محروم القسمت ریاض احمد گوہر شاہی، مدعی مہدویت اور ملحد عقائد رکھتا تھا۔ گو وہ رہائشی یہاں کا تھا مگر اپنی گمراہی وضلالت کی دوکان سندھ کوٹری میں جا کر کھولی۔ وہیں پر اس کے خلاف توہین رسالت کا کیس دائر ہوا اور سزا ہوئی۔ ملک سے فرار ہوا اور باہر کہیں جل کر مردار ہوا۔ کوٹری لا کر دفنایا گیا۔ اب اس کے پیروکار گوجر خان کے علاقہ میں اس کی مکروہ دعوت چلانے کے لئے مختلف عنوانات کے تحت پروگرام کرتے ہیں۔ لیکن یہ پروگرام بغیر تشہیر کے ہوا کرتے تھے۔ اس مرتبہ ریاض گوہر شاہی کے والد کے عرس کے عنوان سے پروگرام رکھا اور پہلی مرتبہ اس کی خوب تشہیر کی۔ پوسٹر، فلیکس، بینرز، غرض پوری تحصیل گوجر خان میں اس پروگرام کی تشہیر کی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران تک ان سرگرمیوں کی رپورٹیں پہنچیں۔ فوراً جمعیت علماء اسلام گوجر خان کے امیر مولانا ریاض عثمانی کے ساتھ مل کر تمام شہر کے علماء سے ملاقاتیں کیں۔ درخواست لکھ کر ڈی ایس پی گوجر خان کو پیش کی۔ گوہر شاہی کے عقائد باطلہ کے حوالے ساتھ لگائے۔ ڈی ایس پی صاحب سے گزارش کی کہ قانونی طور پر گوہر شاہی کی جماعت، انجمن سرفروشان اسلام، ایسے پروگرام نہیں کر سکتی کہ علاقہ میں اشتعال انگیزی کا خطرہ ہے۔ ڈی۔ایس۔پی صاحب نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ضلع راولپنڈی کے ساتھیوں سے مشاورت ہوئی۔ خصوصاً اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب اور امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی مولانا قاضی مشتاق احمد نے فرمایا کہ اس معاملہ کو اتنا آسان سمجھنا مناسب نہیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے ڈی. پی. او راولپنڈی سے ملاقات کا حکم فرمایا بلکہ خود ہی اس کا انتظام بھی کر دیا۔ چنانچہ اگلے دن ڈی. پی. او راولپنڈی سے ملے۔ ڈی پی او صاحب نے کہا کہ ابھی آپ سے پہلے انجمن سرفروشان اسلام کا وفد بھی آیا تھا اور اسی اجتماع کے سلسلہ میں صفائی پیش کر رہا تھا۔ جناب قاضی مشتاق احمد نے ڈی پی او کے سامنے جب گوہر شاہی کے چند کفریہ عقائد پیش کئے تو ڈی پی او صاحب بھی چکرا کر رہ گئے۔ فوراً متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او ساجد گوندل کو فون کیا کہ ان کے تمام بینرز اور پوسٹر اتروائیں۔ اجتماع چار دیواری میں بغیر سپیکر کے ہو۔ کوئی رکاوٹ ڈالے تو بیدریغ گرفتار کیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پولیس نے علاقہ بھر سے تمام بینر فلیکس وغیرہ اتار دیئے۔ پروگرام کا رنگ نہ جم سکا۔ بلکہ حاضری بھی سابقہ کی نسبت بہت کم ہوئی۔ بریلوی حضرات کی طرف سے بھی بہت اچھا ردعمل سامنے آیا، مقامی پندرہ بریلوی علماء نے مقامی تھانہ میں درخواست جمع کرائی کہ گوہر شاہی مدعی نبوت ومہدویت تھا۔ گستاخ رسول تھا۔ اس کی جماعت کو کسی قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ الحمدللہ! مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی پر علاقہ بھر میں گوہر شاہی کے خلاف علماء میں ایک بیداری پیدا ہوئی۔ اب مقامی ساتھیوں کے مشورہ سے فتنہ گوہر شاہی کے عنوان سے پروگرام رکھنے کی ترتیب بنائی گئی ہے۔ اللہ رب العزت دستگیری فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۴، ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور ہائیکورٹ سے آسیہ کی سزا برقرار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے رہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا ضیاء الحسن، مولانا عبدالنعیم، مولانا عمر حیات، مولانا قاری عبدالعزیز و دیگر مرکز ختم نبوت مسلم ٹاؤن میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت کے لئے ہر جگہ امت مسلمہ ہمیشہ حساس رہی ہے اور تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کا ہر حال میں تحفظ کر کے دکھایا ہے۔ گستاخان رسول کا ہر جگہ پر مقابلہ اور ان کا تعاقب کیا جائے گا۔ علماء نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ کی اپیل خارج کرنا اور سیشن عدالت کا فیصلہ برقرار رکھنا اہل اسلام کی عظیم فتح ہے۔ گستاخ رسول کسی بھی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ علماء کرام نے کیس کے مدعی قاری محمد اسلم قاسمی اور ختم نبوت لائیرز فورم کے رہنماؤں بیرسٹر خواجہ ابرار مجدال، چوہدری غلام مصطفیٰ، چوہدری خالد محمود، عامر لطیف سبحانی، غلام مجتبیٰ و دیگر وکلاء جنہوں نے اس کیس کی پیروی کی ان کو مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گستاخ رسول جہاں کہیں بھی ہو وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ نومبر ۲۰۱۴ء ص ۲۰)
چناب نگر میں قادیانی اور پولیس کیا کررہی ہے؟
چناب نگر کے سابق قادیانی مربی محمد نذیر کے قبول اسلام کی داستان جو ۳ تا ۶ اور پھر ۹ تا ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۴ء کے اخبار ”روزنامہ امت“ کراچی میں جناب منصور اصغر راجہ کے قلم سے شائع ہوئی کی تلخیص پیش خدمت ہے۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے آپ کی توجہ کی شدید متقاضی ہے کہ چناب نگر میں:
- ۱...... قادیانیوں نے دہشت گردی، ظلم و بربریت کی انتہاء کر دی ہے۔
- ۲...... پولیس قانون کی حکمرانی کی بجائے قادیانی قیادت کے اشاروں پر رقص کناں ہے۔
- ۳...... قادیانی لاقانونیت کے ہاتھوں ملکی قانون مفلوج ہے اور یہاں حکومتی رٹ دیوانے کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔
- ۴...... قادیانیوں نے شہر کی سڑکوں پر ہر جگہ بیریئر لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ منظور شدہ ٹاؤنز پلاننگ کے نقشہ کا اس شہر میں
قادیانیوں نے حلیہ بگاڑ دیا ہے۔
- ۵...... قادیانیوں نے ناجائز تجاوزات کی انتہاء کر رکھی ہے۔
- ۶...... قادیانیوں نے اپنا احتسابی و عدالتی نظام علیحدہ قائم کر رکھا ہے۔ اپنے عدالتی فارم و سمن بنا رکھے ہیں۔
- ۷...... کلمہ طیبہ اسلام کا علامتی شعار ہے۔ شریعت اسلامیہ اور ملکی قانون کے تحت قادیانی کوئی ایسی علامت استعمال نہیں کر سکتے جس
سے کہ ان کا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو۔ اس لئے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں قادیانی اپنے مکانات، اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ نہیں لکھ سکتے۔ لیکن قادیانیوں نے پورے چناب نگر میں اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ لکھ کر قانون کو پاؤں تلے روند رکھا ہے۔ حکومتی افسران، انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان حالات میں جناب کمشنر صاحب، ڈی آئی جی فیصل آباد ڈویژن، ڈی سی او، ڈی پی او چنیوٹ سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر:
- ۱...... چناب نگر کی سڑکوں پر سے بیریئر ہٹائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... رات کو پورے چناب نگر میں ناکے لگا کر قادیانی وارداتوں اور غنڈہ گردی کا سدباب کریں۔
- ۳...... قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ کو محفوظ کر کے قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائیں۔
- ۴...... قادیانی عدالتی نظام جو ریاست اندر ریاست کا بھیانک اور مکروہ چہرہ پیش کر رہا ہے اس پر فوری پابندی عائد کریں۔
- ۵...... ملعون قادیان مرزا قادیانی کی کتب جو سرعام فروخت ہو رہی ہیں اور اس ملعون کو ’علیہ السلام‘ لکھ کر اہانت کا ارتکاب ہو رہا ہے اس
پر قدغن لگائی جائے۔
ذیل میں روزنامہ امت کی ۱۸ اشاعتوں میں شائع ہونے والا مضمون پیش خدمت ہے:
العارض: (مولانا) محمد اکرم طوفانی ایڈیشنل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکڑ منڈی سرگودھا
قادیانی مربی نذیر کے قبول اسلام کی داستان اور مظالم کی ہوش ربا کہانی
’’میرا نام محمد نذیر ہے۔ میں ۱۹۷۳ء میں جھنگ کے ایک قادیانی گھرانے میں پیدا ہوا۔ والد غلام حسین جماعت احمدیہ جھنگ کے سرکردہ ارکان میں سے تھے۔ انہوں نے پچاس کی دہائی کے اوائل میں قادیانیت اختیار کی تھی۔ وہ ۲۲ سال تک جماعت احمدیہ جھنگ کے صدر بھی رہے۔ والدہ ۶ سال تک قادیانی خواتین کی تنظیم ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کی ضلعی صدر رہیں۔ بڑے بھائی محمد رفیع ۶ سال تک انجمن خدام الاحمدیہ جھنگ کے صدر رہے۔ معروف قادیانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ہمارے قریبی عزیز تھے۔ میری شادی بھی انہی کی فیملی میں ہوئی۔ میری سابقہ قادیانی بیوی ان کی بھانجی ہے۔ والد نے میری پیدائش کے وقت ہی مجھے قادیانیت کی خدمت کے لئے وقف کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ لہٰذا مجھے مربی (مبلغ) ہی بننا تھا۔ جب ہوش سنبھالا تو گورنمنٹ پرائمری سکول برانچ نمبر ۲ جھنگ میں داخل کرا دیا گیا۔ وہاں دو قادیانی اساتذہ، ماسٹر دوست محمد اور ماسٹر ولی محمد قادیانی بچوں پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے مجھے پڑھانے کے ساتھ ساتھ میری ’’مذہبی‘‘ تربیت بھی شروع کر دی۔ ایک روز ایسا ہوا کہ سکول کے اوقات میں ظہر کی نماز کے وقت اپنے کچھ ہم جماعت مسلمان دوستوں کی دیکھا دیکھی میں بھی نماز پڑھنے مسجد میں چلا گیا۔ واپسی پر ان دونوں ٹیچرز نے مجھے زمین پر لٹا کر ڈنڈوں سے خوب پٹائی کی۔ مجھے اس پر سخت حیرت ہوئی کہ یہ لوگ نماز پڑھنے پر مجھے کیوں مار رہے ہیں؟ بعد میں انہوں نے مجھے سمجھایا کہ ’’جن لڑکوں کے ساتھ تم نماز پڑھنے گئے تھے وہ کافر ہیں اور ہم مسلمان ہیں۔ آئندہ ان کی مسجد میں بالکل نہیں جانا۔‘‘
یہ میری تربیت کا پہلا ’’سبق‘‘ تھا۔ انہوں نے مجھے دوسرا سبق یہ دیا کہ مسلمان علماء کے قریب بھی نہیں پھٹکنا۔ وہ علمائے کرام کو جادوگر کہتے اور ان سے میل جول اور بات چیت سے سختی سے منع کرتے تھے۔ ۱۹۹۲ء میں اسلامیہ ہائی سکول جھنگ سے میٹرک کرنے کے بعد اپریل ۱۹۹۲ء میں مربی کے خصوصی کورس کے لئے جامعہ احمدیہ چناب نگر میں داخل ہوا۔ جامعہ احمدیہ میں قادیانیت کے ’’مذہبی اسکالر‘‘ تیار کرنے کے لئے دو کورس کرائے جاتے ہیں۔ جن میں پانچ سالہ کورس ’’مبشر‘‘ اور سات سالہ کورس ’’شاہد‘‘ کہلاتا ہے۔ ان میں فرق یہ ہے کہ ’’شاہد‘‘ کورس کرنے والا اپنے ’’فن‘‘ کا اسپیشلسٹ ہوتا ہے۔ یہ کورس کرنے والوں کو تخصص کرایا جاتا ہے۔ میرا داخلہ ’’مبشر‘‘ کورس کے لئے ہوا تھا۔ کورس کرنے والے طلباء کے قیام و طعام کا انتظام جامعہ کے اندر ہی تھا۔ اس دور میں جامعہ کے ہر طالب علم کو ۷۰۰ روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔ ہر طالب علم کے تمام اخراجات قادیانی جماعت برداشت کرتی تھی۔ میری معلومات کے مطابق، جامعہ احمدیہ میں مربی کا کورس کرنے والے ایک طالب علم پر ۲۰ ہزار روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں۔ اگر پانچ سال کا حساب کیا جائے تو ایک مربی تیار کرنے پر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت، بارہ لاکھ روپے خرچ کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر طالب علم سے اس کو ملنے والے وظیفے میں سے ۱۶ فیصد بطور چندہ جماعت ضرور وصول کرتی تھی۔ ہماری کلاس کا آغاز صبح چھ بجے ہوتا اور دوپہر ایک بجے چھٹی ہوتی تھی۔ پہلے سال نورانی قاعدہ یسرنا القرآن سے ہماری پڑھائی کا آغاز ہوا اور ساتھ ساتھ ”سیرت مسیح موعود“ بھی پڑھائی جانے لگی۔ اس کے علاوہ دیگر عصری علوم بھی سبق میں شامل تھے۔ اگلے سال وفات مسیح (قادیانی عقیدہ کے مطابق، معاذ اللہ) سے متعلق قرآن مجید کی قریباً ۳۰ آیات کا ترجمہ اور قادیانی جماعت کی تفسیر کے علاوہ ”تذکرہ“ کو بھی سبق میں شامل کر دیا گیا۔ ”تذکرہ“ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات اور ”وحی“ (نعوذ باللہ) پر مشتمل کتاب ہے۔ جو قادیانیوں کے نزدیک قرآن مجید کے برابر بلکہ اس سے بھی افضل کتاب خیال کی جاتی ہے۔ ”تذکرہ“ پڑھاتے ہوئے ہمارے استاد ہمیں بتایا کرتے کہ اگر قرآن مجید کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں تو ”تذکرہ“ کے ایک حرف پر سو نیکیاں ملتی ہیں۔
تیسرے سال جماعت احمدیہ کی مخصوص کتب پڑھانے کے علاوہ ہمیں نمازوں کے اوقات میں چناب نگر کی قادیانی عبادت گاہوں میں نماز کی امامت کے لئے بھی بھیجا جانے لگا۔ جماعت نے اپنی مرضی کی (تراشیدہ) کچھ احادیث کو توڑ مروڑ کر ”حدیقۃ الصالحین“ کے نام سے ایک مجموعہ احادیث بھی تیار کر رکھا ہے۔ یہ کتاب اکثر قادیانیوں کے گھروں میں موجود ہوتی ہے۔ ہمارے نصاب میں بھی یہ کتاب شامل تھی۔ ابھی جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ وہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ اسلام آباد کا رہائشی سعید نامی لڑکا میرا ہم جماعت تھا۔ سعید اور نفیس دونوں کزن تھے اور وہاں مربی کا کورس کرنے آئے تھے۔ سعید بے حد خوبصورت، گورا چٹا اور بھولا بھالا سا تھا۔ ایک روز کلاس ختم ہونے کے بعد جب ہم ہاسٹل واپس آئے تو سعید نے اپنا بستر اور دیگر سامان باندھنا شروع کر دیا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ لیکن وہ کچھ بتانے کو تیار نہ ہوا۔ بس خاموشی سے اپنا سامان سمیٹتا رہا۔ جب ہم نے اصرار کیا تو اس نے بتایا کہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل نے اس کے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ لہٰذا اب وہ یہاں ایک پل بھی رکنے کو تیار نہیں۔ سعید کی اس بات پر ہمیں شدید غصہ آیا۔ کیونکہ ہمارے پرنسپل تو ”مرزا صاحب“ (غلام احمد قادیانی) کی فیملی کے قریبی عزیزوں میں سے تھے۔ ہمیں تو وہ چلتا پھرتا فرشتہ دکھائی دیتے تھے۔ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ پرنسپل ایسی گھٹیا حرکت بھی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کئی روز تک سعید کو گالیاں دیتے رہے۔ سعید کے والد غالباً فوجی افسر تھے۔ جب یہ معاملہ جماعت کے مرکزی ذمہ داروں تک پہنچا تو انہوں نے سعید کے والد کو بلوا لیا۔ سعید کے والد نے اسے جامعہ میں ہی رکنے پر زور دیا۔ لیکن اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ اسے گولی مار دیں یا گھر سے نکال دیں۔ لیکن وہ اب جامعہ میں پڑھے گا نہ یہاں رہے گا۔ بالآخر وہ واپس اپنے گھر چلا گیا۔ جب کہ اس کے کزن نفیس نے کورس مکمل کیا اور وہ اب بھی قادیانی مربی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ مربی کی تربیت کے دوران چند باتوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہر مربی کے لئے انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اسے کسی بھی وقت کسی بھی ملک میں قادیانیت کے پرچار کے لئے بھیجا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں آکسفورڈ کی کتابیں پڑھائی گئیں جس کے لئے ماہر اساتذہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ دوران تعلیم کھیلوں میں حصہ لینا لازمی تھا۔ ہر مربی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی کھیل کا بہترین کھلاڑی بھی ہو۔ جامعہ احمدیہ میں کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، والی بال، بیڈمنٹن اور کبڈی کھیلنے کا مکمل انتظام موجود تھا اور ہر طالب علم کو کسی نہ کسی کھیل میں ضرور حصہ لینا پڑتا۔ طالب علم کے لئے دوران تعلیم ڈرائیونگ سیکھنا بھی ضروری ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس پانچ سالہ کورس کے دوران ہر طالب علم کو ہومیو پیتھی لازمی پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے لئے بھی ماہر اساتذہ کا انتظام جامعہ احمدیہ میں موجود ہے۔ ہر طالب علم کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک قابل ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی بنایا جاتا ہے۔ کیونکہ عملی میدان میں قادیانیت کے پرچار کے لئے لوگوں سے راہ ورسم بڑھانے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مربی کا پہلا ٹارگٹ مفلوک الحال مسلمان :
مالی معاونت کر کے برین واشنگ کی جاتی ہے۔ ۱۹۹۸ء کی مردم شماری میں تھر پارکر میں جعلسازی کے ذریعے مسلمانوں کی کثیر آبادی کو قادیانی ظاہر کیا۔ اعلیٰ کارکردگی پر جماعت کی طرف سے مجھے لینڈ کروزر دی گئی۔
جامعہ احمدیہ سے فراغت کے بعد ۱۹۹۶ء میں میری پہلی تعیناتی ضلع حافظ آباد کے موضع پیرکوٹ ثانی میں ہوئی۔ اس گاؤں میں قادیانی اکثریت میں ہیں اور ہر لحاظ سے طاقتور بھی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک اس گاؤں کو بڑی مقدس حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہاں مرزا غلام احمد قادیانی کے تین مصاحبین کی قبریں بھی ہیں۔ اس گاؤں میں میری تعیناتی ایک طرح کی ہاؤس جاب تھی۔ یہاں سے ٹریننگ لینے کے بعد مجھے ضلع منڈی بہاؤالدین کے دیہات ”رجوعہ اور مرالہ کھناں والی“ بھیج دیا گیا۔ چند ماہ وہاں گزارنے کے بعد میری پوسٹنگ ضلع گجرات کے علاقوں ”ڈنگہ“ اور ”کنجاہ“ میں ہوگئی۔ میں ایک سال تک ان چار اسٹیشنز پر کام کرتا رہا۔ پہلے ہی سال حیران کن کارکردگی کی وجہ سے میں جماعتی قیادت کی نظروں میں بھی آ گیا اور اس کے ساتھ ہی مجھے ملنے والی مراعات اور پروٹوکول میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ ویسے عام طور پر بھی مربی کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ کافی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ میں جب ۱۹۹۶ء میں فیلڈ میں آیا، اس وقت ایک مربی کی ماہانہ تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ میڈیکل اور بچوں کی تعلیم فری تھی۔ اگر ملک میں علاج ممکن نہ ہوتا تو جماعت اپنے خرچے پر بیرون ملک علاج کے لئے بھجواتی۔ جس علاقے میں تعیناتی ہوتی وہاں ایک وی آئی پی گھر ملتا۔ موسم کی مناسبت سے ہر سال نیا بستر دیا جاتا۔ کھانا الاؤنس الگ تھا۔ چناب نگر آنے جانے کا ٹی،اے،ڈی،اے دیا جاتا۔ گرمیوں اور سردیوں میں قیمتی کپڑوں کے تین تین جوڑے بنوا کر دیئے جاتے۔ ابتداء میں سائیکل دی جاتی، جس کی دیکھ بھال کے لئے ماہانہ ۲۰۰ روپے الگ ملتے تھے۔ بہترین کارکردگی دکھانے پر اگلے مرحلے میں نئی لینڈ کروزر دی جاتی۔
”مربی کا براہ راست ناظر امور عامہ سے رابطہ ہوتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے دو طاقتور ترین ذیلی انتظامی ادارے ناظر امور عامہ اور دفتر عمومی ہیں۔ دفتر عمومی صرف چناب نگر میں قادیانیوں کے معاملات کو ڈیل کرتا ہے اور ناظر امور عامہ پورے ملک کے قادیانیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ مسلمانوں کو قادیانیت کی طرف مائل کرنے کے لئے ہر مربی دو بنیادی ہتھیاروں خوش اخلاقی اور چرب زبانی سے تو لیس ہوتا ہی ہے اس کے علاوہ بھی دوران تعلیم مسلمانوں کو پھانسنے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ مربی کا پہلا ٹارگٹ انتہائی غریب مسلمان ہوتے ہیں۔ وہ ان کی کمزور مالی حالت اور معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے قریب ہوتا ہے۔ مربی کی سفارش پر جماعت ”ٹارگٹ“ کی مالی معاونت کے لئے فنڈ جاری کرتی ہے۔ اس کے لئے کوئی بندھی رقم نہیں بلکہ لامحدود فنڈ ہوتا ہے۔ ٹارگٹ کی حالت کے پیش نظر مربی جتنی رقم چاہے، جاری کرا سکتا ہے۔ مربی کی سفارش کو جماعت شاذ و نادر ہی رد کرتی ہے۔ مالی معاونت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ”ٹارگٹ“ کی برین واشنگ بھی شروع کر دیتا ہے۔ جس کا نتیجہ اکثر کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک مربی کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ ایک وقت میں کم از کم ۱۰ مسلمانوں کو قادیانیت کا پرچار کرے۔ مربی کا دوسرا بڑا ٹارگٹ وہ کھاتے پیتے امیر مسلمان ہوتے ہیں جو دین سے دور ہوں۔ ان میں سے بھی خاص طور پر وہ لوگ مربی کے لئے انتہائی آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں جو علمائے کرام سے الرجی رہتے ہوں اور ان سے میل ملاقات اور ان کی مجالس میں بیٹھنا پسند نہ کرتے ہوں۔ ایسے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانے کے بعد مربی انہیں اپنی عبادت گاہ ”بیت الذکر“ آنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ والا ”ٹارگٹ“ جب قادیانی عبادت گاہ میں داخل ہوتا ہے تو مربی اس پر پہلا حملہ یہ کرتا ہے کہ اسے نماز پڑھ کر دکھاتا ہے اور نماز کے بعد دعاء نہیں مانگتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھا دیتا ہے کہ ہم نماز کے بعد دعاء اس لئے نہیں مانگتے کہ نماز بذات خود دعاء ہے۔ بعد میں دعاء مانگنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑے غیر محسوس انداز میں اپنے ”ٹارگٹ“ کو یہ باور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراتا ہے کہ جو لوگ (یعنی مسلمان) نماز کے بعد دعاء مانگتے ہیں وہ غلط ہیں اور ہم صحیح ہیں۔ ”ٹارگٹ“ پر اگلا حملہ کرنے لئے مربی کسی قادیانی بچے کو بلا کر اس سے پہلا کلمہ سنواتا ہے۔ جب ”ٹارگٹ“ یہ دیکھتا ہے کہ ایک قادیانی بچہ بھی وہی کلمہ پڑھ رہا ہے جو ایک مسلمان بچہ پڑھتا ہے تو وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے اور مولوی کو کوستے ہوئے اسے مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کرنے کا الزام دینے لگتا ہے۔ اب مربی کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ زمین ہموار ہو جاتی ہے۔ پھر وہ پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو ”ٹارگٹ“ کے سامنے ایک ولی، بزرگ اور مجدد کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ پھر ظلی بروزی نبی کے طور پر متعارف کراتا ہے اور آخر میں اپنے ”ٹارگٹ“ کو اس بات پر لے آتا ہے کہ آخری نبی تو بس ”مرزا قادیانی“ ہی ہیں (نعوذ باللہ) یہ مربی کا مخصوص طریقہ واردات ہوتا ہے۔
میں نے پنجاب میں ڈیوٹی کے دوران حافظ آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد اور بہاول نگر میں کام کیا۔ بہاول نگر کی تحصیل فورٹ عباس کے چک نمبر ۲۲۳ نائن آر میں تعیناتی کے دوران مجھے صحیح اندازہ ہوا کہ جامعہ احمدیہ میں دوران تعلیم کھیلوں میں حصہ لینا کیوں لازمی ہے اور اس کی کیا افادیت ہے۔ میں دور طالب علمی میں بطور بلے باز کرکٹ کا ایک اچھا کھلاڑی رہا ہوں۔ بعد میں بھی پریکٹس جاری رکھی۔ اس گاؤں میں بھی قادیانی بہت طاقتور اور اکثریت میں تھے۔ میں بھی شام کے وقت مقامی لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتا۔ اسی دوران ایک میچ میں ایک مسلمان بالر لڑکے کو میں نے چار گیندوں پر لگاتار چار چھکے مارے۔ اس شاندار بیٹنگ نے مقامی مسلمان لڑکوں کو میرا گرویدہ بنا دیا۔ اب وہ میرے ساتھ کھل کر اٹھنے بیٹھنے لگے۔ جب تعلق بڑھا تو وہ مجھے اپنی ٹیم کی طرف سے دوسری ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کی دعوت دینے لگے۔ وہ جب بھی کھیلنے کی دعوت دیتے تو میں جواباً ان کے سامنے کبھی بیت الذکر آنے، کبھی ساتھ مل کر نماز پڑھنے اور کبھی میرا خطبہ سننے کی شرط رکھ دیتا۔ بس اس کھیل ہی کھیل میں، میں نے گیارہ ماہ میں اس گاؤں کے کئی مسلمان لڑکے قادیانی بنا دیئے۔
جماعت کی طرف سے مربی کو مسلمان علماء کے ساتھ بحث ومباحثے اور مناظرے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں قادیانی اکثریت میں ہوں، وہاں وہ مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے۔ میں وزیر آباد کے قریب قادیانیوں کے اکثریتی گاؤں ”کھیوے والی“ میں تعینات تھا۔ وہاں میں نے ایک مسلمان کو قادیانیت کی دعوت دی تو اس نے مجھے مناظرے کا چیلنج کر دیا۔ میں نے بھی جوش میں آکر چیلنج قبول کر لیا۔ ان لوگوں نے اگلے روز سرگودھا کے مشہور عالم دین مولانا محمد اکرم طوفانی کو بلا لیا۔ جماعت کو خبر ہوئی تو مجھے مناظرہ کرنے سے سختی سے روک دیا گیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی آئے۔ انہوں نے رد قادیانیت پر بڑی سخت تقریر کی اور ساتھ ہی میرا نام لے کر مجھے بھی خوب لتاڑا۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ گاؤں کے اردگرد ساری اراضی قادیانی زمینداروں کی ملکیت تھی۔ مسلمانوں کو اس میں سے گزر کر اپنے رقبے پر جانا پڑتا تھا۔ میں نے انہیں سبق سکھانے کے لئے قادیانی زمینداروں کی میٹنگ بلالی۔ باہم مشورے سے حکمت عملی طے کی اور اگلے روز اس پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ قادیانی لڑکے ڈنڈے لے کر اپنی زمینوں پر کھڑے ہو گئے۔ جو بھی مسلمان وہاں سے گزرتا وہ اس کی پٹائی کرتے۔ مجبوراً مسلمانوں کو قادیانیوں سے معافی مانگنی پڑی۔
قادیانیوں کی جعل سازی:
”اسی دوران ۱۹۹۸ء کی مردم شماری شروع ہو گئی۔ جماعت احمدیہ کے ذمہ دار سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح قادیانیوں کی آبادی زیادہ شو کی جائے۔ بالآخر باہمی مشورے سے ایک منصوبہ طے پایا اور مربیوں کے ذریعے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں میری ڈیوٹی اندرون سندھ ضلع تھرپارکر میں لگائی گئی۔ میں نے وہاں مردم شماری ڈیوٹی کرنے والے مقامی ٹیچرز سے رابطہ کیا۔ ان کے ساتھ معاملات طے ہوئے اور پھر میں نے انہیں کچی پینسلیں خرید کر دیں۔ وہ سارا دن ان پینسلوں سے مردم شماری فارم پُر کرتے۔ شام کو ساری
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فائلیں اٹھا کر میری قیام گاہ پر لے آتے اور میرے سامنے بیٹھ کر کچی پنسل سے لکھا مٹا کر پکی پنسل کے ساتھ مذہب کے خانے میں مسلمانوں کے ناموں کے آگے بھی احمدی لکھتے جاتے اور بدلے میں منہ مانگا معاوضہ وصول کرتے۔ اس ”پروجیکٹ“ پر کام کے دوران میں نے ان ٹیچرز پر جماعتی فنڈ میں سے سات لاکھ روپے صرف کئے۔ اسی لئے تو میں اب چیلنج سے کہتا ہوں کہ مرزا طاہر اپنے دور میں یہ جو دعویٰ کیا کرتے تھے کہ سندھ میں ان سے بیعت ہونے والوں کی تعداد تین کروڑ ہے۔ یہ دعویٰ بالکل جھوٹ پر مبنی ہے۔ سندھ میں قادیانیوں کی تعداد ۳۰ ہزار سے زیادہ نہیں ہے اور وہ لوگ بھی پیسے کی آکسیجن پر زندہ ہیں۔ باقی جو کروڑوں کے دعوے ہیں وہ سب کاغذی کارروائی ہے۔“
میری کارکردگی دیکھتے ہوئے ۲۰۰۱ء میں جماعت نے میری پوسٹنگ صوبائی نائب ناظم جماعت احمدیہ کے طور پر سندھ میں کر دی۔ یہاں میں نے قادیانیت کے پرچار کے لئے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کے روپ میں کام کا آغاز کیا اور میر پور خاص میں ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی سے چند روز عملی تربیت لینے کے بعد مٹھی، نگر پارکر اور دو ہٹڑ کے مقام پر تین کلینک قائم کئے۔ میں چیک اپ اور دوا کے صرف ۱۰ روپے لیتا تھا۔ میرے کلینکس پر صبح سے شام تک رش رہتا۔ ان علاقوں میں غربت بہت ہے اور میں اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتا تھا۔ آنے والے مریضوں کو مفت دوا کے ساتھ ان کی کچھ مالی معاونت بھی کرتا تھا۔ کبھی کبھی ٹافیوں کے پیکٹ لے کر کسی گاؤں پہنچ جاتا اور بچوں اور بڑوں میں ٹافیاں تقسیم کر کے جماعت احمدیہ کے رکنیت فارم پر انگوٹھے لگوا لیتا اور ان میں مسلمان ہی نہیں ہندو بھی شامل ہوتے تھے۔ صرف اندرون تھر پارکر میں ہم نے ۴۲۰ کلینکس کھول رکھے تھے اور میں ان سب کا انچارج تھا۔ سندھ میں میرا رہن سہن بڑا شاہانہ تھا۔ جماعت نے نقل و حرکت کے لئے پہلے مجھے گھوڑا فراہم کیا۔ جس کی دیکھ بھال کے لئے میں نے تین مقامی لڑکے ملازم رکھے ہوئے تھے۔ جنہیں میں ۲۰۰ روپے فی کس ماہانہ تنخواہ دیتا تھا۔ جلد ہی مجھے نئی لینڈ کروزر دے دی گئی۔ میری کارکردگی بھی بڑی زبردست تھی۔ اس سب کے باوجود میں نے جماعت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔
قادیانی رہنما اخلاقی گراوٹ کا شکار
جماعت احمدیہ سے متنفر ہونے کا ایک سبب یہ بھی تھا۔ اعلیٰ عہدیداروں کی بداعمالیوں کے بارے میں جماعت کے امیر مرزا خورشید کو خط لکھا تو انہوں نے مجھے پاگل قرار دے دیا۔ اسلامیہ اسکول جھنگ کے ماسٹر نے نجات کی راہ دکھائی۔
”دور طالب علمی میں جب جامعہ احمدیہ میں ہمارے ہم جماعت ساتھی، سعید نے جامعہ کے پرنسپل پر جنسی تشدد کا الزام لگایا تو ہم نے سعید کو جی بھر کے گالیاں دی تھیں۔ فیلڈ میں آنے کے بعد بھی اس طرح کے کچھ واقعات میرے علم میں آئے۔ لیکن میں انہیں اکا دکا لوگوں کا ذاتی فعل سمجھتا رہا۔ تاہم جب میں جماعت کے اعلیٰ حلقوں کے قریب ہوا تو مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور پستی کے ایسے ایسے واقعات سامنے آئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ ظاہری طور پر جو لوگ ہمیں فرشتوں سے بھی افضل نظر آتے تھے، باطنی طور پر وہ ابلیس کو بھی مات دیتے دکھائی دیئے۔
مرزا خلیل قمر چناب نگر:
مرزا خلیل قمر چناب نگر کی مشہور علمی شخصیت ہیں۔ قادیانی خواتین کی اصلاح و تربیت کے لئے چھپنے والے جماعت احمدیہ کے رسالے ”مصباح“ کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کے علم و فضل کے بارے میں ایک بار قادیانی خلیفہ رابع، مرزا طاہر نے کہا تھا کہ اگر کتابوں سے بھرے ہوئے پانچ سو ٹرک ایک طرف ہوں اور مرزا خلیل قمر دوسری طرف تو مرزا خلیل قمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ ”انصار اللہ“ کی تاریخ بھی انہی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب نے لکھی۔ لیکن اس عالم فاضل شخص کا اپنا کردار یہ ہے کہ اخلاقی بے راہروی موصوف کا من پسند مشغلہ ہے۔ اسی عادت بد کے ہاتھوں ایک دفعہ بہت برے پھنسے بھی تھے۔ یہ ۲۰۰۷ء کی بات ہے کہ انہوں نے ایک لڑکے سے زیادتی کی۔ متاثرہ لڑکے کے اہل خانہ پولیس کے پاس پہنچ گئے۔ مرزا خلیل نے جب بات بگڑتی دیکھی تو متاثرہ فریق کو ایک لاکھ ۶۵ ہزار روپے دے کر راضی نامہ کر لیا۔ ان میں سے ۶۵ ہزار روپے الائیڈ بینک چناب نگر برانچ کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر کئے گئے اور باقی رقم نقد ادا کی گئی۔ راضی نامے کا اشٹامپ پیپر دو گواہوں کے روبرو لکھا گیا۔ جو اب بھی محفوظ پڑا ہے۔ اگر مرزا خلیل قمر پسند فرمائیں تو وہ ان کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
محمد بخش صادق جماعت احمدیہ کے سابق امیر اعلیٰ:
محمد بخش صادق جماعت احمدیہ کے سابق امیر اعلیٰ پاکستان ہیں۔ ان کے پاس جماعت کی کئی ذمہ داریاں ہیں۔ ناظم وقف جدید، ناظم تحریک جدید، ناظم خدمت درویشاں کے علاوہ جماعت احمدیہ کینیڈا کے امیر بھی رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیوں سے اپنی ٹانگیں دبوانا، نوعمر لڑکوں سے زیادتی اور جماعتی اثاثوں کا بے دریغ ناجائز استعمال ان کے خاص شوق ہیں۔
سابق منیجر یو۔ بی۔ ایل نسیم سیفی قادیانی:
گزشتہ ۲۰ سال سے چناب نگر کے محلہ دارالرحمت غربی کے صدر ہیں۔ وہ مالی تعاون کے بدلے غریب خواتین کے استحصال کا کوئی موقع ضائع جانے نہیں دیتے۔
سید مبارک شاہ قادیانی:
سید مبارک شاہ قادیانی بھی جماعت کے بڑے بااثر اور مرکزی مبلغ ہیں۔ یہ سندھ میں میرے پیشرو تھے۔ جب میری وہاں پوسٹنگ ہوئی تو میں نے انہی سے چارج لیا تھا۔ جماعت کے اندرونی حلقوں میں موصوف کو کرپشن کا بادشاہ اور جعلی بیعت کرانے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر اللہ بخش صادق:
جھنگ کے رہائشی ڈاکٹر اللہ بخش صادق آج کل چناب نگر کی کالونی ”بیت الحمد“ میں رہتے ہیں۔ اندرون سندھ اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے کئی ہندو لڑکیوں کی عزت لوٹی۔ احسان اللہ چیمہ جماعت احمدیہ صوبہ سندھ کے ناظم ہیں۔ خالد محمود سندھو ایک اسپیشلسٹ مربی ہیں۔ جنہوں نے جامعہ احمدیہ چناب نگر سے سات سالہ ”شاہد“ کورس کیا ہوا ہے۔ خالد سندھو اور احسان چیمہ جامعہ میں کلاس فیلو اور گہرے دوست تھے۔ احسان چیمہ کی جب منگنی ہوئی تو وہ اپنی منگیتر سے ملنے کبھی کبھی اپنے سسرال جایا کرتے، تو خالد سندھو بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ چونکہ یہ دونوں بھی پرلے درجے کے بدمعاش ہیں۔ اس طرح کے کئی واقعات جب میرے علم میں آئے تو میرے دل میں قائم تقدیس، تکریم اور عقیدت کا تاج محل مسمار ہونے لگا۔ لیکن
مولوی محمد دین قادیانی:
مولوی محمد دین قادیانی کے بارے میں انکشافات اندھی عقیدت کے اس تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ مولوی محمد دین جماعت احمدیہ کے خلیفہ رابع مرزا طاہر کے استاد ہیں۔ موصوف بھی ایک بدعادت میں مبتلا ہیں۔ ان سے ”مستفید“ ہونے والوں میں احسن گوندل، افتخار شاکر، عبدالحفیظ، نوید اور محسن گلو کا نام زیادہ آتا ہے۔ میں اس ساری صورتحال سے اس قدر بددل ہوا کہ میں نے ۲۰۰۳ء میں ان تمام واقعات کے تذکرے پر مبنی ۸ صفحات پر مشتمل ایک خط اس وقت کے امیر جماعت احمدیہ پاکستان، مرزا خورشید کو بذریعہ ٹی سی ایس ارسال کیا۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ پندرہ یوم تک جواب کا انتظار کرنے کے بعد میں نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور اپنے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خط کے بارے میں پوچھا کہ کیا ان افراد کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تو انہوں نے جواباً کہا کہ: ”آپ ایک پاگل انسان ہو، اس لئے آپ کے خط پر کسی قسم کا عمل نہیں ہو سکتا۔“ امیر جماعت کا یہ جواب سننے کے بعد میں نے جماعت سے علیحدگی کے لئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کر دیا۔
مجھے بچپن سے ہی اسکن الرجی تھی۔ جسم پر خارش کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہتا، بہت علاج کرایا۔ بڑی مہنگی دوائیں اور کریمیں استعمال کیں۔ لیکن کوئی فرق نہ پڑا اسلامیہ ہائی سکول جھنگ میں ہمارے ایک استاد ماسٹر عبدالحق صاحب ہوا کرتے تھے۔ جو ہمیں دسویں جماعت میں پڑھایا کرتے تھے۔ متقی مسلمان ہیں اور ماشاء اللہ اب بھی بقید حیات ہیں۔ مجھے ان سے بہت انسیت ہے۔ میں جب بھی جھنگ جاتا تو ان کی خدمت میں ضرور حاضری دیتا۔ وہ میرے خاندانی و مذہبی پس منظر سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود میرے ساتھ بے حد محبت کرتے ہیں۔ جن دنوں میں جماعت سے علیحدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا تو ایک روز ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دوران گفتگو میں نے اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے ان سے دعاء کے لئے درخواست کی تو فرمانے لگے کہ: ”میں تمہارے لئے دعاء تو ضرور کروں گا۔ لیکن تم ایک کام کرو۔ چالیس روز تک روزانہ ہر رات اپنی عبادت گاہ میں کچھ وقت اللہ کی یاد میں گزارا کرو اور اس دوران اللہ سے یہ التجاء کیا کرو کہ اے میرے رب، اگر تو نے مجھے اس بیماری سے شفا دے دی تو میں مرتے دم تک تیرا فرمانبردار بن کر رہوں گا۔“ میں نے ماسٹر صاحب کی اس ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ ان دنوں میں ذہنی طور پر پریشان ہونے کی وجہ سے ویسے بھی تنہائی کی تلاش میں رہتا تھا۔ ماسٹر صاحب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ۳۰ روز گزر چکے تھے۔ اس رات میں منڈی بہاؤالدین کے موضع ”رجوعہ“ میں ایک دوست کے پاس ٹھہرا ہوا تھا۔ حسب معمول رات کے وقت عبادت گاہ میں بیٹھا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کوڑھ ہو گیا ہے۔ میرا سارا جسم گل سڑ رہا ہے اور اپنی اس حالت کی وجہ سے میں زار و قطار رو رہا ہوں۔ اتنے میں خواب میں ہی مجھے ایک انتہائی پرنور باریش چہرہ نظر آیا۔ ایسا حسین وجمیل چہرہ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس شخصیت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہو۔ میں نے روتے ہوئے جواباً عرض کیا کہ میری جو حالت ہے، کیا یہ ہنسنے کے قابل ہے؟....... میرا جواب سن کر اس چہرے پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ جگمگائی اور پھر انہوں نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے کہا کہ: ”تمہاری بیماری ختم ہو جائے گی۔ آئندہ کوئی دوائی استعمال نہ کرنا اور اب فرمانبردار ہو جاؤ۔“ اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ اب مجھے تائب ہو جانا چاہئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ دن اور آج کا دن، مجھے دوبارہ کبھی خارش کی تکلیف نہیں ہوئی۔ میں نے تمام دوائیں اور کریمیں پھینک دیں۔ اب کبھی اسکن الرجی کے لئے دوا استعمال نہیں کی۔ یہ ۲۰۰۶ء کی بات ہے۔
قادیانی جماعت نے میری بیٹی کو اغوا کر لیا:
”جب قادیانی جماعت کے کچھ سرکردہ لوگوں کی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتوں کے متعلق میرے خط کے جواب میں امیر جماعت احمدیہ پاکستان مرزا خورشید نے مجھے پاگل قرار دیا تو یہ بات میرے لئے کسی شاک سے کم نہ تھی۔ میں کئی روز تک اس صدمے سے باہر نہ نکل سکا۔ کیونکہ اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے میں جماعت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں بے حد پسند کیا جاتا تھا۔
منظور وٹو کا والد اور سلمان تاثیر:
مجھ پر جماعتی قیادت کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کے والد نے فضل عمر ہسپتال چناب نگر میں جب زندگی کی آخری سانس لی تو اس وقت ان کا سر میری گود میں تھا۔ کیونکہ وہ جتنے دن ہسپتال میں زیر علاج رہے ان کی دیکھ بھال اور خدمت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے لئے جماعت نے مجھے ان کے ساتھ متعین کئے رکھا۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر جب ابھی گورنر نہیں بنے تھے اس وقت بھی جماعت کے اعلیٰ سطحی وفود مختلف درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے اکثر ان سے ملاقاتیں کیا کرتے اور سلمان تاثیر ان مسائل کے حل کے لئے جماعت کی ہر طرح سے معاونت کیا کرتے تھے۔ اس طرح کے کئی وفود میں، میں بھی شامل رہا اور مجھے متعدد بار سلمان تاثیر سے ملاقات اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع ملا۔ لیکن آج جب میں نے کچھ لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کی طرف انگلی اٹھائی تو جماعت کی قیادت کی نظر میں پاگل ٹھہرا۔ اس صورتحال کی وجہ سے اپنے کام سے میرا دل اچاٹ ہوگیا اور میں از خود کو جماعت چھوڑنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔ اس بات کا تو مجھے بھی یقین تھا کہ اگر جماعت کا امیر ہی میری بات پر توجہ نہیں دے رہا تو ایک عام قادیانی میری بات پر کیسے یقین کرے گا۔ اس لئے میں نے مربی کی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لئے بھی سوچ بچار شروع کردی۔ اسی سلسلے میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ جماعت سے تین سال کی رخصت مانگی، جو Without Pay کی شرط کے ساتھ منظور کر لی گئی۔ چھٹی منظور ہوتے ہی میں نجی دورے پر ملائشیا چلا گیا اور پھر ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۵ء تک میں ملائشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں رہا۔ اس دوران زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے مختلف مزدوریاں بھی کیں۔ اصولاً بیرون ملک سے واپسی کے بعد مجھے دوبارہ مربی کی ڈیوٹی جوائن کرنی چاہئے تھی۔ لیکن میں چونکہ یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس لئے اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے کی بجائے نوکری کی تلاش شروع کردی۔ چند روز بعد ہی مجھے ہومیو پیتھک ادویات کی ڈسٹریبیوشن کمپنی ”کیوریٹو ہومیو پیتھک“ میں جاب مل گئی۔ جس کے مالک موجودہ ناظر امور عامہ سلیم الدین کے برادر نسبتی راجہ رشید احمد رشدی ہیں۔ یہ صاحب اپنے آپ کو رشدی کہلوا کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ میں نے یہاں کام شروع کر دیا اور دوسری طرف جماعت نے ڈیوٹی پر واپس پہنچنے کا تقاضا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں مجھے جماعت کی طرف سے متعدد بار تنبیہ بھی کی گئی اور بطور مربی کام کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن جب میری طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو جماعت نے مجھے مربی کی ذمہ داری سے فارغ کرتے ہوئے تمام میڈیکل کارڈز، پاسپورٹ اور دیگر ضروری کاغذات مجھ سے واپس لے لئے۔ اس کے ساتھ ہی ”کیوریٹو ہومیو پیتھک“ کی نوکری سے بھی مجھے جواب مل گیا۔ اب حالت یہ ہوگئی کہ نئی نکور لینڈ کروزر پر گھومنے والا نذیر اپنا گھر چلانے کے لئے رکشہ چلانے پر مجبور ہوگیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ میں تو جماعت اور مربی کی ذمہ داری سے الگ ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔ چلو اچھا ہوا کہ جماعت نے خود ہی میری جان چھوڑ دی۔ لیکن یہ میری خوش فہمی تھی۔ کیونکہ جماعت احمدیہ تو قیادت سے اختلاف رائے کی جرأت کرنے والے کسی عام قادیانی کو معاف نہیں کرتی۔ یہاں تو لاکھوں روپے صرف کرکے تیار کیا جانے والا ایک مربی جماعت سے بغاوت کی جرأت کر رہا تھا۔ جماعت اسے ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر لیتی۔
چونکہ میں کاروباری ذہن کا مالک ہوں۔ اس لئے چند روز ادھر ادھر چھوٹی موٹی مزدوری کرنے کے بعد میں نے کوئی کاروبار کرنے کا سوچا۔ اب میں ایسا کاروبار تو کر نہیں سکتا تھا کہ جس کے لئے بھاری سرمایہ انویسٹ کرنا پڑے کہ سرمایہ کہاں سے لاتا۔ البتہ بات کرنے کا سلیقہ بھی تھا اور خوش اخلاقی کا دس سالہ تجربہ بھی تھا۔ میں نے ان دونوں صلاحیتوں سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور چنیوٹ میں بطور مڈل مین گنے کی ٹھیکیداری شروع کر دی۔ اللہ نے برکت دی اور میرا کام چل نکلا۔ اسی دوران میرے اندر ایک اور تبدیلی بھی آئی۔ اگرچہ میں اسکن الرجی سے شفایابی والا خواب دیکھنے کے بعد دل سے اسلام کی حقانیت پر ایمان لا چکا تھا۔ لیکن ابھی علی الاعلان قادیانیت سے تائب نہیں ہوا تھا۔ البتہ جماعت سے میں نے عملاً علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ چناب نگر میں رہتے ہوئے بھی تو میں جماعت کی مذہبی تقریبات میں نہ شرکت کرتا اور نہ ہی جماعت کو چندہ دیتا۔ علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا زیادہ ہو گیا۔ بلکہ میں اکثر ان کی مسجد میں بھی چلا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاتا۔ جماعت میری سرگرمیوں کو واچ کر رہی تھی۔ اس کا پتہ مجھے ایسے چلا کہ جب ایک روز مجھے صدر دفتر عمومی طلب کر کے کہا گیا کہ: ’’آپ کی حرکات ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ اس پر توجہ دیں۔ ورنہ آپ کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔‘‘ میں نے اس دھمکی کا جواب اس طرح دیا کہ چناب نگر والا گھر چھوڑ کر قریبی پہاڑی کے دامن میں سرکاری اراضی پر ایک کچا کمرہ بنایا اور بیوی کے ہمراہ وہاں رہنے لگا اور پوری توجہ اپنے کاروبار پر مرکوز کر دی۔‘‘
’’وہ ۷؍جنوری ۲۰۰۷ء کی صبح تھی۔ گھڑی غالباً سات بج کر چالیس منٹ بجا رہی تھی۔ میں اپنی چھ سالہ بیٹی عروسہ نذیر کو راجیکی روڈ پر واقع اس کے سکول ’’ٹونکل اسٹار اکیڈمی‘‘ چھوڑنے کے لئے گھر سے نکلا۔ ہم باپ بیٹی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ جب راجیکی روڈ پر چڑھے تو پیچھے سے آنے والی ایک ۸۶ ماڈل کی کرولا کار میں سے کسی نے آواز دی۔ ’’ٹھیکیدار صاحب ذرا رکنا۔‘‘ میں سمجھا کہ شاید کوئی مقامی زمیندار ہے جو گنے کی فصل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے موٹر سائیکل روک لی۔ میرے رکتے ہی کار میں سے تین نامعلوم مسلح افراد نکلے۔ انہوں نے مجھ سے میری بیٹی اور موٹر سائیکل چھینی، میری جیب میں موجود تین ہزار روپے نکالے اور چلتے بنے۔ میں نے تھانہ چناب نگر اطلاع دی تو پولیس نے بچی کی بازیابی کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ چند روز گزر گئے۔ لیکن بچی نہ مل سکی۔ اسی دوران نامعلوم نمبرز سے مجھے کالیں آنے لگیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ کال اس وقت آتی جب میں تھانے آتا۔ تھانے سے باہر نکلتے ہی میرا موبائل فون بجنے لگتا اور کسی نامعلوم نمبر سے کال کرنے والا شخص مجھے کہتا، ’’تھانے سے ہو آئے ہو، اچھی بات ہے۔ لیکن کیا اس طرح تمہیں تمہاری بیٹی مل جائے گی۔ تم نے بہت کاروبار کر لیا ہے۔ اب اگر اپنی بیٹی کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو اس میں سے ہمارا بھی کچھ حصہ نکالو۔‘‘ وہ لوگ چند روز تک اسی طرح میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے اور پھر ایک روز انہوں نے مجھ سے بیٹی کے بدلے ۵۰ لاکھ تاوان مانگ لیا۔ میرے منت سماجت کرنے پر ۲۰ لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا۔ لیکن میرے لئے یہ بھی بہت بڑی رقم تھی۔ میں اتنے پیسے کہاں سے لاتا۔ چونکہ گنے کا سیزن چل رہا تھا۔ کئی زمینداروں کے بل میرے پاس پڑے تھے۔ میں نے انہیں منت سماجت کر کے اس بات پر راضی کیا کہ اگر وہ مجھے اپنی رقم استعمال کرنے کی اجازت دیں تو انہیں میں چند روز ٹھہر کر ادائیگی کر دوں گا۔ کچھ قریبی دوستوں سے ادھار پیسے پکڑے اور اس طرح کر کرا کے ۲۰ لاکھ روپے جمع کئے۔ اغوا کاروں نے تاوان کی ادائیگی کے لئے مجھے رات ایک بجے فیصل آباد کے علاقے ستیانہ بنگلہ میں جھامرہ روڈ پر واقع چک نمبر ۲۳۸ گ۔ب شیر کا، کے قریب گزرنے والی نہر کے پل پر بلایا۔ تاوان وصول کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگلے روز دوپہر کے وقت چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر آنے والی ایک ٹرین کے ڈبے سے مجھے میری بیٹی مل جائے گی۔ اگلے روز ایسا ہی ہوا اور چھ روز بعد مجھے میری بیٹی مل گئی۔ بچی بازیاب ہوتے ہی چناب نگر کی پولیس حرکت میں آئی اور مجھے میرے گھر سے اٹھا کر تھانہ چناب نگر کی حوالات میں بند کر دیا۔ مجھ پر میری ہی بیٹی کو اغوا کرانے کا الزام تھا۔ اس روز پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ جماعت نے مجھے سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب آزمائش کا دور شروع ہونے والا ہے۔‘‘
قادیانی رہنماؤں کی ایما پر تھانے میں بدترین تشدد کیا گیا:
’’بیٹی کی بازیابی کے بعد اگلے تین روز تک مجھے جماعت احمدیہ کے دفتر عمومی بلوایا جاتا رہا۔ جہاں دفتر عمومی کا کارخاص ناصر بلوچ مجھے یہ دھمکی آمیز پیغام دیتا کہ ’’آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ تم سدھر جاؤ۔‘‘ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی تین روزہ ’’نصیحت‘‘ کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا تو اگلے ہی روز مجھے اپنے گھر سے اٹھا کر تھانہ چناب نگر کی حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ ساری شام اسی ادھیڑ بن میں گزری کہ مجھے کس الزام کے تحت یہاں لایا گیا ہے۔ جب گھڑی نے رات کے گیارہ بجائے تو ایک اہلکار مجھے حوالات سے نکال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر تھانے کے ایک الگ کمرے میں لے گیا۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی میں نے دیکھا کہ صدر دفتر عمومی اللہ بخش صادق، قادیانی نواز ڈی. ایس.پی سعید اختر تتلہ، مقامی ایس.ایچ.او یاسر پنسوتہ، چوکی انچارج چوہدری اصغر، صدر محلہ باب الابواب نذیر احمد شیشے والا اور ناصر بلوچ سامنے ہی کرسیوں پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے۔ ان لوگوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں تحریری طور پر یہ الزام قبول کروں کہ میری بیٹی کا اغوا ایک خود ساختہ ڈرامہ تھا اور میں نے اسے خود اغوا کرایا تھا۔ میں نے یہ سب لکھ کر دینے سے انکار کر دیا۔ میرا انکار سنتے ہی میرے اردگرد کھڑے پولیس اہلکار مجھ پر پل پڑے۔ انہوں نے مجھے مکمل طور پر برہنہ کرنے کے بعد الٹا لٹایا اور چھترول شروع کر دی۔ ایک اہلکار با آواز بلند گنتی کر رہا تھا اور باقی مجھے مار رہے تھے۔ انہوں نے گن کر مجھے ۱۰۰ چھتر مارے۔ ۴۰ کے بعد میں درد اور تکلیف سے قدرے بے نیاز ہو گیا۔ گنتی پوری ہونے کے بعد انہوں نے مجھے ڈنڈا ڈولی کرتے ہوئے اٹھایا اور لاکر حوالات میں پھینک دیا۔ میری حالت دیکھ کر وہاں بند دیگر حوالاتی بھی سہم گئے۔ ہمارے علاقے کا نامی گرامی چور ’’یارو موچی‘‘ بھی اس وقت حوالات میں بند تھا۔ اس نے میرا سارا جسم دبایا، سنتری سے کہہ سن کر تھوڑا سا تیل منگوایا اور مجھے مالش کی۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد میرے حواس بحال ہوئے اور میں اٹھ کر بیٹھنے کے قابل ہوا۔ لیکن یہ تو ابھی ابتداء تھی۔ مجھے چار روز تک حوالات میں بند رکھا گیا۔ اس دوران پولیس نے مجھ پر تشدد کا ہر ہر حربہ آزمایا۔ وہ بار بار مجھے منجی (چارپائی) پر چڑھاتے تھے۔ چارپائی الٹی کر کے وہ میرے ہاتھ پاؤں چاروں پایوں کے ساتھ باندھ کر چارپائی سیدھی کر دیتے۔ ہاتھ پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے سارا زور میرے جسم پر پڑتا تو مجھے ایسے لگتا کہ میرے جسم کا ایک ایک جوڑ الگ ہو رہا ہے۔ یہ اس قدر تکلیف دہ عمل تھا کہ میں چند منٹ ہی برداشت کر پاتا۔ ان چار دنوں میں بار بار میرے جسم کو سگریٹوں سے جلایا جاتا رہا۔ لوہے کے سریے کو آگ میں گرم کر کے میری پنڈلیوں کو داغا جاتا۔ جس کے نشان اب تک موجود ہیں۔ میری رانوں پر رولر پھیرا جاتا۔ جس کے باعث میری چیخوں سے سارا تھانہ گونج اٹھتا۔ لیکن مجھ پر تشدد کرنے والے میری چیخ و پکار سے محظوظ ہوتے اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا کہ میں اپنی جان بخشی چاہتا ہوں تو انہیں لکھ کر دوں کہ اپنی بیٹی کے اغوا کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ لیکن اس قدر مار کھانے کے بعد بھی میں یہ الزام قبول نہ کر سکا۔ یارو موچی مجھے کہتا تھا کہ ’’پولیس کے تشدد کو سب سے زیادہ چور برداشت کرتا ہے، کیونکہ وہ مار کھانے کا عادی ہوتا ہے۔ لیکن جتنا تشدد تم پر ہوا ہے اگر مجھ پر ہوتا تو شاید میں بھی برداشت نہ کر پاتا۔‘‘ دراصل یارو موچی اصل بات سے واقف نہیں تھا کہ مجھ پر یہ تشدد کیوں ہو رہا تھا۔ بیٹی کے اغوا کا الزام تو محض ایک بہانہ تھا۔ اصل جرم تو جماعت احمدیہ سے میری بغاوت تھی۔ میں چونکہ اصل معاملے سے بخوبی واقف تھا۔ اسی لئے پولیس کا ہر ستم میرا حوصلہ بڑھاتا رہا اور میں اپنے موقف میں مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔ جماعت احمدیہ کے خلاف میرے دل میں نفرت بڑھتی رہی۔ اس دوران میری تذلیل کا بھی خوب انتظام کیا گیا۔ چناب نگر کے مختلف گھرانوں کے لوگ اپنے بچوں سمیت تھانہ چناب نگر آتے، مجھے حوالات میں بے یار و مددگار پڑا دیکھ کر ہنستے مسکراتے، مجھ پر آوازے کستے، تمسخر اڑاتے اور مجھ پر باقاعدہ لعنت بھیج کر واپس چلے جاتے۔ کچھ ’’خیر خواہ‘‘ مجھے واپس لوٹ آنے اور ایک اطاعت گزار احمدی بن کر زندگی گزارنے کا ’’مشورہ‘‘ بھی دیتے۔ یہ ساری صورتحال میرے لئے انتہائی تکلیف دہ تھی۔ کیونکہ میرا تعلق ایک انتہائی بااثر قادیانی گھرانے سے تھا۔ میرے گھرانے کے اثر و رسوخ کا اندازہ کرنے کے لئے یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ ۱۹۸۸ء میں میرے بڑے بھائی محمد رفیع کی جھنگ میں جوتوں کی دکان ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے جوتے رکھنے والے شوکیس کے باہر شیشے پر کلمہ طیبہ کا اسٹیکر لگا رکھا تھا۔ چونکہ امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے تحت یہ قانوناً جرم ہے۔ اس لئے کسی مقامی مسلمان کی شکایت پر ایک مجسٹریٹ نے ہماری دکان پر چھاپہ مارا۔ اس ’’گستاخی‘‘ پر میرے بڑے بھائی نے اس مجسٹریٹ کو بھرے بازار میں تھپڑ مارے تھے۔ پولیس بھائی کو تھانے لے گئی۔ ڈاکٹر عبدالسلام ان دنوں برطانیہ میں تھے۔ گھر والوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وہاں سے ایس۔ پی جھنگ کو فون کیا اور آدھے گھنٹے بعد پولیس میرے بھائی کو عزت واحترام کے ساتھ گھر چھوڑ گئی۔ اس گھرانے کا ایک چشم و چراغ آج بے بسی کے عالم میں تھانہ چناب نگر کی حوالات میں پڑا تھا۔ اپنی اس بے بسی پر اگر چہ میری آنکھیں بھیگ جاتیں۔ لیکن یہ سوچ کر دل کو اک گونا اطمینان بھی ہوتا کہ مجھ پر ہونے والے اس ظلم وتشدد کی وجہ میرا کسی اخلاقی جرم میں مبتلا ہونا نہیں ہے بلکہ مجھے جماعت احمدیہ سے بغاوت اور قادیانیت سے نفرت کے جرم میں اس آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جو مجھے پولیس کا تشدد برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی تھی۔ حوالات میں گزرنے والے وہ چار دن انتہائی صبر آزما تھے۔ اس دوران مجھے بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ دیگر حوالاتیوں کی روٹی میں سے جو چند ٹکڑے بچتے، میں انہیں پانی کے ساتھ نگل لیتا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں میرے اپنوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا تھا۔ والدین، بہن، بھائی، اہلیہ اور سسرال والے مجھے چھوڑ کر جماعت کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ وہ سب میرے حالات سے مکمل طور پر باخبر تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس سارے معاملے سے لاتعلق رہے۔ انہوں نے پولیس سے کوئی رابطہ کیا نہ تھانے آ کر مجھ سے ملنے کی کوشش کی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے میں ان کے لئے مر چکا ہوں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا تھا کہ مجھ پر بیٹی کے اغوا کا الزام محض ایک فریب تھا۔ اصل معاملہ تو کچھ اور تھا۔ اسی لئے میرے گھر والوں حتی کہ میری بیوی نے بھی میرے کیس میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ بلکہ اس معاملہ سے لاتعلق رہ کر انہوں نے جماعت سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت تک میں نے قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ صرف جماعت سے عملاً علیحدگی اختیار کی تھی۔ لیکن میرا یہ جرم بھی گھر والوں کے لئے قابل قبول تھا نہ جماعت احمدیہ کے لئے۔ اسی دوران میرے ایک وکیل دوست سید زید حسن کاظمی ایڈووکیٹ کو میرے حالات کی خبر ہوئی تو انہوں نے میری بازیابی کے لئے عدالتی بیلف کا پروگرام بنایا۔ کسی طرح چناب نگر پولیس کو بھی اس کی خبر ہو گئی تو انہوں نے فوری طور پر میرے خلاف اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اگلے روز ریمانڈ کے لئے مجھے ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ عقیل نذیر کی عدالت میں پیش کر دیا۔ میری اس وقت یہ حالت تھی کہ مجھ سے ٹھیک طرح سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میرے ساتھ آنے والے دو پولیس اہلکاروں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ جج صاحب نے میری طرف دیکھا اور مجھ سے کچھ پوچھا۔ میں چند ثانیے ان کی طرف دیکھتا رہا اور پھر ایک عجیب سی حرکت کی۔ میری اس حرکت پر جہاں جج صاحب کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے۔ وہیں مجھے عدالت لانے والے سب انسپکٹر اور دو سپاہیوں کے رنگ بھی فق ہو گئے اور میرے پیچھے کھڑے سب انسپکٹر نے بھری عدالت میں اوئے اوئے کرتے ہوئے میری گدی پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا ۔‘‘
چناب نگر میں قادیانیت ترک کرنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں:
’’جب مجھے ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے لے جایا جا رہا تھا تو میں مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ میں عدالت میں اپنی بے گناہی کیسے ثابت کروں گا۔ پولیس کا مجھ پر سخت دباؤ تھا کہ میں عدالت میں پولیس تشدد کے متعلق یا پولیس کے خلاف ایک لفظ بھی نہ کہوں۔ ایس ایچ او تھانہ چناب نگر نے عدالت لے جانے کے لئے مجھے ڈبل ہتھکڑی لگائی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ ’یاد رکھنا، اگر تم نے ہمارے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو واپس ہمارے پاس ہی آنا ہے ۔‘‘ پولیس کے بہیمانہ تشدد نے میرا دماغ اس قدر ماؤف کر دیا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ دنیا کو کیسے بتاؤں کہ ایک باپ اپنی ہی بیٹی کو کیسے اغوا کر سکتا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں مجھے عدالت کے کٹہرے میں پہنچا دیا گیا۔ میں جج صاحب کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے۔ پھر نہ جانے میرے جی میں کیا آئی کہ میں نے یکدم نیچے سے اپنے آپ کو برہنہ کر دیا۔ میری اس حرکت پر فوری طور پر دو ردعمل ظاہر ہوئے۔ پہلا یہ کہ جج صاحب کے چہرے پر غصے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے آثار نمودار ہوئے۔ دوسرا میرے پیچھے کھڑے سب انسپکٹر کا میری گدی پر زور دار تھپڑ پڑا۔ لیکن جیسے ہی جج صاحب کی نظر میرے نچلے حصے پر جلے ہوئے زخموں پر پڑی تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے ایک کڑی نظر سے مجھے لانے والے پولیس اہلکاروں کی طرف دیکھا تو ان کے رنگ پھیکے پڑ گئے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ کمرہ عدالت پہ سکوت طاری تھا۔ جج صاحب خاموش بیٹھے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرا سر جھکا ہوا تھا۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ لب کانپ رہے تھے۔ میں بہت کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن لفظ میری زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد جج صاحب نے میری دل جوئی کے لئے چند ہمدردانہ جملے کہے اور پھر مجھے کسی ڈر اور خوف کے بغیر اپنا موقف کھل کر عدالت کے سامنے بیان کرنے کا حکم دیا۔ اس پر میں نے جج صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ’سرکار! میری سمجھ کے مطابق اگر کوئی باپ اپنی ہی بیٹی کے اغوا کا ڈرامہ رچائے تو اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ اس ڈرامے سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دوسری یہ کہ اگر کسی کی اپنی بیوی یا سسرال والوں سے کوئی ناچاقی ہو تو وہ انہیں اذیت دینے کے لئے ایسی قبیح حرکت کرتا ہے۔ تیسری یہ کہ بعض لوگ اپنے دشمنوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لئے بھی اس طرح کے ڈرامے رچاتے ہیں۔ لیکن میرے کیس میں یہ تینوں باتیں دکھائی نہیں دیتیں۔ میں اس ڈرامے سے کوئی ذاتی مفاد تو کیا حاصل کرتا، الٹا اغوا کاروں نے مجھ سے ۲۰ لاکھ روپے تاوان لیا اور یہ رقم بھی میں نے ادھر ادھر سے قرض لے کر پوری کی۔ میں ایک خوشگوار گھریلو زندگی بسر کر رہا ہوں۔ میری اپنی بیوی سے کوئی ناچاقی ہے نہ سسرال والوں سے کوئی جھگڑا۔ تیسری بات یہ کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ نہ ہی میرا ایسا کوئی مخالف ہے جسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لئے میں ایسی گھٹیا حرکت کروں۔‘ جج صاحب نے میری بات اطمینان سے سنی اور پھر پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے فوری طور پر میری باعزت رہائی کا حکم دے دیا۔ لیکن رہائی کے بعد بھی جماعت احمدیہ نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی دھمکیوں کا سلسلہ تو جاری تھا ہی اس کے علاوہ بھی جماعت نے میرا حقہ پانی بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ میری اہلیہ تو اسی وقت مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئی تھی۔ جب پولیس نے مجھے بیٹی کے اغوا کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ میں نے دوبارہ چناب نگر میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کی تو جماعت کی طرف سے حکم جاری کیا گیا کہ کوئی بھی شخص مجھے اپنا گھر کرائے پر نہ دے۔ لہٰذا مجھے ایک مضافاتی آبادی میں رہائش اختیار کرنی پڑی۔ ۲۰ لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد گنے کی ٹھیکیداری تو کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ بلکہ اب تو اس بھاری رقم کی واپسی ہی میرے لئے سوہان روح بنی ہوئی تھی۔ دوسری جانب پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔ انہی دنوں میرے ایک غمگسار قادیانی دوست رفیق جٹ نے مجھے مظفر آباد میں نیلم جہلم پراجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ اگر میں وہاں کوشش کروں تو مجھے کوئی چھوٹی موٹی نوکری مل سکتی ہے۔ میں نے رفیق جٹ کے مشورے پر عمل کیا تو مجھے وہاں باورچی کی نوکری مل گئی۔ وہاں گزرنے والے چند ماہ قدرے پرسکون تھے۔ لیکن پھر اچانک مجھے وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے ہیڈ آفس لاہور سے لے کر مظفر آباد میں سائٹ تک غیر ملکیوں کے علاوہ جو مقامی لوگ کام کر رہے ہیں ان میں صرف دس فیصد مسلمان ہیں۔ جب کہ ۹۰ فیصد قادیانی ہیں۔ ابتداء میں تو انہوں نے میری خوب آؤ بھگت کی۔ لیکن جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ میں جماعت احمدیہ سے بغاوت کے جرم میں آج کل زیر عتاب ہوں تو انہوں نے میرا ایسا ناطقہ بند کیا کہ مجبوراً مجھے وہاں سے نکلنا پڑا۔ واپس آ کر میں نے دوبارہ رفیق جٹ سے رابطہ کیا۔ اس کی چناب نگر میں دودھ دہی کی دکان تھی اور وہ پہلے بھی کئی مواقع پر خاموشی سے میری مدد کر چکا تھا۔ ہم نے باہم مل کر کھیتی باڑی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے چنیوٹ کے کچھ زمینداروں سے رابطہ کر کے ۱/۲ ۱۲ ایکڑ زرعی اراضی ٹھیکے پر لی اور کام شروع کر دیا۔ کچھ مسلمان دوستوں کی مہربانی سے ادھار پر ضروری زرعی آلات خریدے اور پہلی فصل اترتے ہی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادائیگی کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ تاوان والے ۲۰ لاکھ روپے کی واپسی کا تقاضا بھی اب بڑھنے لگا تھا۔ مجھے اس کی بھی فکر کھائے جارہی تھی۔ انہی حالات میں کھیتی باڑی شروع کی اور چاول کی فصل کاشت کی۔ اس دوران میرا سابقہ معمول دوبارہ بحال ہوگیا۔ مسلمان دوستوں سے تعلق پہلے سے زیادہ بڑھ گیا اور اب میں نے کھلے عام ان کی مساجد میں جانا شروع کر دیا۔ جب فصل پک کر تیار ہوئی تو کٹائی کے دوران پہلے میرے والد فوت ہوئے اور پھر تین دن کے وقفے سے بڑے بھائی محمد رفیع بھی انتقال کرگئے۔ اگرچہ وہ لوگ مجھے چھوڑ چکے تھے۔ لیکن باپ اور بھائی کے انتقال پر صدمہ ایک فطری امر تھا۔ چند روز سخت پریشانی میں گزرے۔ اسی دوران رفیق جٹ نے فصل کی کٹائی مکمل کرائی اور تمام فصل غلہ منڈی چنیوٹ میں فروخت کرنے کے بعد خود ہی حساب کتاب کرکے مجھے اطلاع دی کہ ہماری چاول کی پہلی فصل ۶۵ لاکھ روپے کی ہوئی۔ جس میں سے میرے حصے میں ۳۵ لاکھ روپے آئے تھے۔ اس نے مجھے ۱۰؍دسمبر۲۰۱۰ء کو ۳۵لاکھ روپے کا چیک دیا اور کہا کہ اگلے ایک دو روز میں رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائے گی۔ اس چیک کا نمبر A11697458 تھا اور وہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ چناب نگر برانچ کا چیک تھا۔ جہاں رفیق جٹ نے اپنا کرنٹ اکاؤنٹ کھلوا رکھا تھا۔ جس کا نمبر 01013064 تھا۔ لیکن رقم میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہ ہوسکی۔ دو روز بعد بینک نے تحریری طور پر بتایا کہ مذکورہ اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم نہیں ہے۔ بعد میں مجھے کچھ ذرائع سے پتہ چلا کہ جب جماعت کو میری اور رفیق جٹ کی شراکت داری کا علم ہوا تو قادیانی ذمہ داران نے اسے دفتر طلب کرکے سخت سرزنش کی اور اس کے بعد نہ رقم میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئی اور نہ ہی رفیق جٹ چناب نگر میں دکھائی دیا۔ وہ وہاں سے ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اب اصولاً تو چیک ڈس آنر ہونے پر رفیق جٹ کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ یہاں یہ بھی بتادوں کہ چناب نگر میں قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہونے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر چناب نگر تھانے میں ان کی شنوائی اور داد رسی تو دور کی بات ہے الٹا پولیس انہیں اپنے مخصوص ہتھکنڈوں کے ذریعے واپس قادیانیت کی طرف لوٹ جانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال ڈی.ایس.پی سعید اختر تتلہ ہے۔ جس نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی قادیانیوں کے اشارے پر مجھے پر تشدد کرایا۔ اسی طرح جماعت کے مظالم کے خلاف کئی لوگوں کی درخواستیں اب بھی تھانہ چناب نگر میں پڑی ہوئی ہیں۔ لیکن ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا۔ چیک ڈس آنر ہونے کی وجہ سے صورتحال یہ ہوئی کہ مجھ پر کم از کم بیس پچیس لاکھ روپے کا قرضہ چڑھ گیا اور میری جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ مجبوراً مجھے چناب نگر چھوڑنا پڑا۔‘‘
اسلام قبول کرنے والے تین نوجوانوں کو زندہ جلا دیا گیا:
’’چناب نگر میں جماعتی قیادت سے معمولی سا اختلاف کرنے والوں کا حقہ پانی تو بند کیا ہی جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ قادیانیت پر لعنت بھیج کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ انہیں ایسے ظالمانہ طریقے سے نمونہ عبرت بنایا جاتا ہے کہ دوبارہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ جب کہ مقامی پولیس ایسے جرائم کی مکمل طور پر پردہ پوشی کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال ۲۰۱۱ء میں وقوع پذیر ہونے والا ایک واقعہ ہے۔ چناب نگر کے علاقے طاہر آباد کے رہائشی تین لڑکے احمد، ندیم اور حفیظ مسلمان ہوگئے۔ ان کی عمریں ۲۰ سے ۲۵ سال کے لگ بھگ تھیں۔ جماعت نے انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ لیکن یہ تینوں نوجوان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے۔ جب جماعت نے دیکھا کہ ان کی کوششیں رائیگاں جارہی ہیں تو پھر ایک روز نائب صدر دفتر عمومی ڈی.ایس.پی (ر) حمید اللہ قریشی کے بھائی سابق پولیس انسپکٹر بشیر بلا نے ان تینوں کو اپنے ڈیرے پر بلایا اور آخری بار سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ان تینوں نے قادیانیت کی طرف واپس لوٹنے سے واضح انکار کر دیا تو ان پر پیٹرول چھڑک کر تینوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان تینوں نوجوانوں کے ورثاء اپنے بچوں کے اس ظالمانہ قتل سے بخوبی واقف
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے۔ لیکن انہوں نے قادیانی ہونے کی وجہ سے جماعت احمدیہ سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے یا کسی خوف کے سبب قاتلوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی۔ چند روز بعد اس واقعے کو حادثہ قرار دے کر فائل بند کر دی گئی۔ مقتولین کے ورثاء کی خاموشی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان تینوں ”باغی“ نوجوانوں کو زندہ جلائے جانے کا فیصلہ کہیں اور کیا گیا تھا۔ بشیر بلّا نے تو صرف اس فیصلے پر عملدرآمد کیا تھا۔ چناب نگر میں یہ معمول کی بات ہے کہ اگر کسی ”باغی“ کو ٹھکانے لگایا جائے تو اولاً تو اس کے ورثاء کوئی قانونی کارروائی نہیں کرتے اور اگر معاملہ زیادہ بگڑ جائے یا میڈیا پر آجائے تو پھر پہلے ورثاء کی طرف سے مقدمہ درج کرایا جاتا ہے اور پھر چند روز بعد انہیں کچھ رقم بطور دیت ادا کر کے صلح کر لی جاتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ چناب نگر میں رہنے والے سب لوگ یہ کام اپنی خوشی سے نہیں کرتے، بلکہ کئی مجبوریوں نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں اور وہ بہت سے کام اپنی مرضی کے برخلاف اور جماعت کی مرضی کے مطابق کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جماعتی قیادت نے اپنی ”امت“ پر بے شمار چندے عائد کر رکھے ہیں۔ جب میں جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم تھا۔ اس وقت ہر قادیانی سے ۲۵ مختلف مدّات میں چندہ لیا جاتا تھا۔ اب تو سنا ہے کہ جب سے مرزا مسرور نے خلافت سنبھالی ہے چندے کی کچھ مزید مدّات بڑھادی گئی ہیں۔ اسی طرح جو لوگ چناب نگر میں رہائش اختیار کرتے ہیں انہیں وہاں زمین، جائیداد کے مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ چناب نگر کا تمام رقبہ ۹۹ سالہ لیز پر جماعت احمدیہ کے نام ہے جو قادیانی وہاں اپنا گھر بنانا چاہے اس سے ایک فارم بھروا کر جماعت اسے سادہ کاغذ کی ایک چٹ پر پلاٹ کا الاٹی نمبر لکھ کر تھما دیتی ہے۔ اس موقع پر خریدار سے یہ تحریری ضمانت لی جاتی ہے کہ وہ یہ زمین کسی غیر قادیانی کو کسی بھی صورت فروخت نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کسی قادیانی کو بھی فروخت کرنا چاہے تو اس کے لئے بھی جماعت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ چونکہ چناب نگر میں کسی کے پاس بھی جائیداد کے مالکانہ حقوق نہیں۔ اس لئے بغاوت کرنے والوں کے گھر اور جائیداد پر جماعت کا قبضہ عام معمول ہے۔ پھر بغاوت کرنے والوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی باغی کے بچے چھوٹے ہوں تو جماعت وہ بچے چھین لیتی ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود ہوں۔ میری دو بیٹیاں سابقہ بیوی اپنے ساتھ لے گئی۔ اب جماعت کی طرف سے مجھے ان سے ملنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ اسی طرح ہمارے ایک ساتھی شیخ زبیر انور ہیں۔ جنہوں نے ۲۰۰۲ء میں اسلام قبول کیا۔ اس وقت ان کی اکلوتی بیٹی دو ڈھائی سال کی تھی۔ وہ بچی ان سے چھین لی گئی۔ وہ گزشتہ بارہ سال سے اپنی بیٹی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اب بھی اس سلسلے میں چنیوٹ کی ایک مقامی عدالت میں ان کا کیس چل رہا ہے۔“
شیخ زبیر انور کے قبول اسلام کی داستان:
محمد نذیر نے مزید بتایا کہ: ”شیخ زبیر انور کا بھی عجیب قصہ ہے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے کیا خوبصورت اسباب پیدا کئے۔ ایک ملاقات میں وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ بعد ازاں چناب نگر منتقل ہو گئے۔ وہ پیدائشی قادیانی تھے اور ۳۸ برس تک قادیانیت سے وابستہ رہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ شیخ زبیر کا کسی گھریلو مسئلے پر بیوی سے جھگڑا ہو گیا۔ دفتر عمومی کی طرف سے انہیں اس جھگڑے میں ثالثی کا پیغام دیا گیا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر دفتر آنے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کا گھریلو مسئلہ ہے۔ جماعت اس میں مداخلت نہ کرے۔ جماعت ان کے اس حرف انکار پر اس قدر تلملائی کہ چند روز بعد کچھ لڑکے زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اٹھا کر دفتر عمومی لے آئے۔ اس وقت دفتر عمومی کے انچارج میجر (ر) شاہد سعدی اور نائب صدر ڈی ایس پی (ر) حمید اللہ قریشی ہوا کرتے تھے۔ دفتر عمومی میں شیخ زبیر پر شدید تشدد ہوا اور انہیں وہاں چند روز تک محبوس رکھا گیا۔ اس دوران ان کے گھر پر قبضہ ہوا۔ اس سلسلے میں ان کی قادیانی بیوی نے جماعت کا بھر پور ساتھ دیا۔ پھر ایک روز انہیں شام کے وقت وہاں سے نکال کر ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چنیوٹ کے ایک چوک میں یہ کہہ کر اتار دیا گیا کہ دوبارہ چناب نگر کا رخ نہ کرنا۔ شیخ زبیر کے پاس اس وقت صرف تن کے کپڑے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ رات کہاں گزاریں۔ اسی اثناء میں پاس سے گزرنے والے کسی مقامی آدمی نے انہیں قریب ہی واقع مولانا منظور احمد چنیوٹی کے مدرسے کی راہ دکھائی۔ وہ وہاں پہنچ گئے۔ اتفاقاً مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں چنیوٹ میں ہی قیام پذیر تھے اور اس وقت مدرسے میں موجود تھے۔ شیخ زبیر کی بپتا سننے کے بعد انہوں نے اپنے مدرسے میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ شیخ زبیر قریباً ڈیڑھ ماہ ان کے مدرسے میں مقیم رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران وہ جس بات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ یہ تھی کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ایک بھی دن ان سے نفرت کا اظہار کیا نہ ہی انہیں قادیانیت چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ بلکہ وہ جب بھی مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتے تو وہ ان کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے۔ چونکہ شیخ زبیر پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ اس لئے وہ خود گاہے بگاہے مولانا چنیوٹی سے قادیانیت اور اسلام کے متعلق سوالات پوچھتے رہتے اور مولانا جواب دیتے جاتے۔ شیخ زبیر کا یہ کہنا ہے کہ مولانا منظور چنیوٹی کی صحبت میں گزرنے والے ان چند دنوں نے ہی ان کی کایا پلٹ دی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ جب ان کے مسلمان ہونے کی اطلاع چناب نگر پہنچی تو جماعت نے انہیں پھر نشانے پر رکھ لیا۔ ۲۰۰۲ء، ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں ان کے خلاف تین جھوٹے مقدمے درج کرائے گئے جن میں ان کی گرفتاری بھی ہوئی اور وہ مجموعی طور پر پانچ سال جیل میں بھی رہے۔ لیکن ان مظالم کے باوجود ثابت قدم رہے۔ تاہم اب بھی وہ اپنی بیٹی کے حصول کے لئے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ بچے چھیننے کے بعد باغیوں کے خلاف جو دوسرا بڑا حربہ استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی کی جوان بیٹیاں شادی شدہ ہوں تو باپ کے مسلمان ہونے کی صورت میں بیٹیوں کو طلاقیں دلوا دی جاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ کسی باپ کے لئے بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قادیانی کمیونٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں کا معاشی و سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے کئی تکلیف دہ مسائل بھی بے شمار قادیانیوں کے مسلمان ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
قادیانی جماعت نے چناب نگر میں اپنا عدالتی نظام بنا رکھا ہے:
’’چناب نگر میں جماعت احمدیہ نے ریاست کے اندر ریاست قائم کر رکھی ہے۔ وہاں ان کا اپنا پولیس اور عدلیہ کا متوازی نظام ہے۔ دفتر امور عامہ تھانے اور دفتر عمومی پولیس چوکی کا درجہ رکھتے ہیں۔ جہاں باقاعدہ ٹارچر سیل بنے ہوئے ہیں۔ ان کا عدالتی نظام ایسے ہی ہے جس طرح ملک بھر میں عدالتی نظام کے چار درجے ہیں۔ سول کورٹ، سیشن کورٹ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ۔ بالکل اسی طرح چناب نگر میں جماعت احمدیہ کے عدالتی نظام کے بھی چار درجے ہیں۔ قادیانی وکلا وہاں پیش ہو کر بحث میں حصہ لیتے ہیں۔ قادیانی ججز چھٹی کے روز وہاں فرائض انجام دیتے ہیں اور آخری اپیل مرزا مسرور کے پاس کی جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چناب نگر میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ قادیانیوں کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتی ہے۔ لیکن ان کی معاشی و سماجی مجبوریاں آڑے آ رہی ہیں۔ میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج حکومت چناب نگر کو اوپن سٹی قرار دیتے ہوئے وہاں کے مکینوں کو جائیداد کے مالکانہ حقوق اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرے تو ۲۵ فیصد قادیانی ابھی مسلمان ہو جائیں گے۔ جماعت احمدیہ کی قیادت کی علمی قابلیت کا یہ حال ہے کہ ۱۹۹۹ء میں جب میری شادی ہوئی تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرا نکاح مرزا مسرور پڑھائیں۔ جو اس وقت ابھی خلیفہ نہیں بنے تھے۔ بلکہ ناظر اعلیٰ و امیر مقامی جماعت احمدیہ پاکستان تھے۔ میں نے جب ان کے پاس حاضر ہو کر نکاح پڑھانے کی درخواست کی تو وہ پریشان ہو گئے۔ تھوڑی دیر کچھ سوچتے رہے اور پھر بڑی سنجیدگی سے بولے۔ ’’آپ میری انگلی پکڑو اور مجھے جامعہ احمدیہ میں داخل کرا آؤ۔ پانچ سالہ کورس مکمل کرنے کے بعد میں آپ کا نکاح پڑھانے کے قابل ہو جاؤں گا۔‘‘
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۳۷ تا ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دفتر ختم نبوت بھکر کا افتتاح
۱۸/ دسمبر ۲۰۱۴ء بعد از نماز مغرب بھکر چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں مولانا صفی اللہ، مولانا کفایت اللہ، مولانا عبدالغفور حقانی، معروف سیاسی وسماجی رہنما آفتاب احمد، ڈاکٹر عتیق الرحمٰن، قاری حمید احمد سمیت کئی ایک رہنماؤں اور جماعتی کارکنوں نے شرکت کی۔ جماعتی کارکنوں سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے بھکر میں ختم نبوت کے قیام کا خیر مقدم کیا اور کارکنوں سے درخواست کی کہ دفتر سے رابطہ رکھیں۔ مولانا حمزہ لقمان نوجوان عالم دین، متحرک و فعال مبلغ ہیں ان شاء اللہ العزیز! دفتر ضلع بھر میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے گا۔ ان شاء اللہ العزیز قادیانیت کا بھر پور تعاقب جاری رکھا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/ فروری ۲۰۱۵ء ص ۱۹)
چناب نگر میں ختم نبوت فری ڈسپنسری کا قیام تعارف وخصوصیات
- ۱...... اللہ کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ختم نبوت فری
ڈسپنسری کا آغاز اکتوبر ۲۰۱۴ء سے ہو چکا ہے۔
- ۲...... ختم نبوت فری ڈسپنسری کی مکمل سرپرستی و دیکھ بھال ڈاکٹر محمد صولت نواز کر رہے ہیں۔
- ۳...... مختلف اوقات میں میڈیکل کیمپ اور آئی کیمپ وغیرہ کا بھی وسیع پیمانے پر اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں الٹرا ساؤنڈ ، بلڈ ٹیسٹ ۔
ای سی ۔ جی وغیرہ کے ٹیسٹ کی مریضوں کو فری سہولت مہیا کی جاتی ہے اور ان کیمپوں کے لئے فیصل آباد ، چنیوٹ کے ماہر ڈاکٹرز حضرات تشریف لاتے ہیں۔ صبح ۱۰ بجے سے شام مغرب تک بغیر کسی وقفہ کے مریضوں کے چیک اپ علاج وغیرہ میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں اور پانچ سو سے زائد مریض ان فری کیمپوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
- ۴...... ختم نبوت فری ڈسپنسری میں روزانہ ۳ بجے سے ۶ بجے تک مستقل ایک ڈاکٹر صاحب پابندی سے بیٹھتے ہیں جو فری میں مریضوں کو
چیک کرتے اور نسخہ لکھ دیتے ہیں ، ان کے ساتھ ایک کوالیفائیڈ ڈسپنسر بھی موجود رہتا ہے جو مریضوں کو تجویز شدہ نسخہ کے مطابق ادویات فراہم کرتا ہے۔ اگر مناسب سمجھتے ہیں تو فیصل آباد یا سرگودھا کے ماہرین ڈاکٹروں کی طرف رہنمائی کر دیتے ہیں یومیہ اس فری ڈسپنسری سے ساٹھ سے زائد مریض بحمد اللہ فری علاج کراتے اور اللہ کے فضل و کرم سے شفایاب ہوتے ہیں۔
- ۵...... ان جملہ امور کی نگرانی اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کر رہے ہیں۔ مختلف اوقات میں وسیع پیمانے پر فری کیمپوں کا اہتمام کیا
جاتا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۴ء ص بیک بیرون ٹائٹل)
فیصل آباد کے ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے رہنما مولانا سید خبیب احمد شاہ صاحب مدظلہ کے دست حق پرست پر فیصل آباد محلہ نور پورہ کے جناب مدثر احمد اور وسیم احمد نے عرصہ ہوا کہ قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ ان کی والدہ محترمہ نے بھی قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ایک بھائی جو ان سے علیحدہ ہے وہ رہ گیا ہے۔ اس کے لئے قارئین دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی قبول اسلام کی سعادت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۱۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شیخوپورہ میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ضلع شیخوپورہ کی باڈی کا اجلاس جامعہ تعلیم القرآن میں زیرصدارت مولانا مشرف علی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ منعقد ہوا۔ جس میں تمام شرکاء اجلاس کے متفقہ فیصلہ کے ساتھ یہ طے پایا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو قادیانیوں کو دعوت اسلام کا فریضہ سرانجام دے۔ مولانا مشرف صاحب نے ان حضرات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ مولانا ریاض احمد مبلغ ختم نبوت شیخوپورہ، ناظم جناب محمد اجمل صاحب، سید تجمل شاہ صاحب، ناظم نشر واشاعت شیخوپورہ اس کمیٹی نے دن رات ایک کر کے کوشش کی، جس کے نتیجہ میں یہ تینوں حضرات جن کا بڑے قادیانی تاجر حضرات میں شمار ہوتا تھا ان کو دعوت قبول اسلام دی گئی: جناب محمد حنیف، سکنہ طارق روڈ گلی نسیمیہ حوالدار شیخوپورہ۔ جناب ندیم اختر، سکنہ طارق روڈ گلی نسیمیہ حوالدار شیخوپورہ۔ جناب محمد شریف، سکنہ طارق روڈ گلی نسیمیہ حوالدار شیخوپورہ۔ مذکورہ بالا تینوں حضرات نے کئی علماء کرام اور دوسرے حضرات کی موجودگی میں قادیانیت پر لعنت بھیج کر دامن مصطفیٰ سے وابستہ ہوئے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کو اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۱۸)
قبول اسلام
محمد اجمل ولد محمد اسلم قوم راجپوت، محلہ نصرت آباد چناب نگر۔ روزینہ بی بی زوجہ محمد اجمل، محلہ نصرت آباد چناب نگر نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت دجل وفریب، شکوک وشبہات کا نام ہے۔ انہوں نے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے تمام دعاوی میں کذاب ودجال اور جھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قادیانی جماعت کے دونوں گروپوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ آئندہ ان کا قادیانیوں سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
قادیانی رینجر اہلکار کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کے مبلغ مولانا محمد قاسم رحمانی کی ۲۷ فروری ۲۰۱۴ء کو قادیانی رینجر اہلکار عبدالغفور نامی ایک شخص سے گفتگو ہوئی۔ عبدالغفور نے رفع ونزول مسیح علیہ السلام، مہدی علیہ الرضوان اور خروج دجال سے متعلق اپنے چند شبہات پیش کئے۔ سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ مولانا محمد قاسم رحمانی نے اشکالات رفع کئے اور تینوں موضوعات پر مسلمانوں کا مؤقف قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کیا۔
اس کے بعد مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم رحمانی نے حدیث کی کتاب مشکوٰۃ شریف کھولی اور یہ سب حدیثیں اس کو دکھا دیں اور یہ کہا کہ یہ کتاب دنیا کے کسی کونے سے لیں گے تو یہ حدیثیں آپ کو مل جائیں گی۔ عبدالغفور آبدیدہ ہوکر کہنے لگا: ہمیں یہ حدیثیں نہیں بتائی گئیں۔ کہنے لگا: قرآن پاک اور حدیث پاک کی روشنی میں مجھے مسئلہ سمجھ آ گیا ہے۔ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کریں۔ اس موقع پر تمام حاضرین نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور نومسلم عبدالغفور کو مبارکباد دی۔ عبدالغفور نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ میرے خاندان کے لئے بھی دعا کریں کہ وہ بھی مسلمان ہو جائیں۔ اس کے بعد مفتی صاحب نے دعاء کرائی۔ تمام دوستوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اللہ تعالیٰ عبدالغفور کو استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۴ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بدین میں ۶ قادیانیوں کا قبول اسلام
بدین کے ذیلی علاقے نیو دمبالو میں ۶؍ افراد مرزائیت چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ بیت السلام ماتلی میں قبول اسلام کی تقریب منعقد ہوئی۔ نومسلم ”طاہر مشتاق“ نے اپنی اہلیہ اور چار بچوں سمیت مولانا قاری عبدالرشید، دارالعلوم حسینیہ شہداد پور کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا۔ تقریب میں مولانا قاری عبدالمجید کمبوہ صاحب منتظم ادارہ بیت السلام، قاری محمد یونس، مولانا محمد اسحاق صاحب اور دیگر مقامی علماء کرام اور عوام نے شرکت فرمائی۔ نومسلم گھرانے نے مسلمان ہونے پر غیر معمولی خوشی کا اظہار کیا اور عزم ظاہر کیا کہ زندگی ختم نبوت مشن کے لئے وقف کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۴ء ص ۷)
لیہ کے ایک خاندان کا قبول اسلام
میاں مسعود احمد ولد میاں عبدالقیوم محلہ فیض آباد لیہ نے مرزائیت سے توبہ کی اور سید مخدوم اویس علی چشتی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ضلع لیہ کے امیر مولانا محمد حسین اور ناظم مولانا قاری عبدالشکور نے ان سے ملاقات کی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت کی طرف سے آپ کی رہنمائی ہوتی رہے گی۔ بعد ازاں ان کے لئے استقامت کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۴ء ص ۴۴)
پیرمحل میں چھ افراد کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مبلغ مولانا محمد حبیب کے ہاتھ پر ۲۶؍ رمضان المبارک بروز جمعہ کو کچی آبادی پیرمحل ضلع ٹوبہ کی ایک مرزائی فیملی کے چھ افراد نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ جن میں ایک بیوہ، تین بچیاں اور دو بچے شامل ہیں۔ اس مبارک موقع پر پیرمحل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بعد نماز جمعہ ان نومسلمین کے لئے دین اسلام پر استقامت کی دعاء کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۴ء ص ۴۴)
لیہ میں جامع مسجد ختم نبوت کا سنگ بنیاد و ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے زیر اہتمام ۵؍ جنوری ۲۰۱۴ء بعد نماز ظہر جامعہ اشرف المدارس لیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا محمد حسین اور مولانا عبدالقادر ڈیروی نے خطاب کیا۔ محترم عزیز الرحمٰن شاہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ عصر کی نماز کے بعد جامع مسجد تاجدار ختم نبوت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۴ء ص ۱۱)
ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چوک اعظم کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس بمقام جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر ۵؍ جنوری ۲۰۱۴ء بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب نے کی۔ محترم جناب عزیز الرحمٰن شاہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا اللہ وسایا و دیگر علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ چوک اعظم مجلس کے ذمہ دار حضرات، مولانا مفتی محمد یٰسین، محترم قاری ابوبکر، محترم عبدالرؤف نفیسی و دیگر حضرات نے بڑے احسن انداز میں کانفرنس کے انتظامات کئے ہوئے تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۴ء ص ۱۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی کی تبلیغی رپورٹ
۵ / جنوری بروز اتوار بعد نماز ظہر جامعہ اصحاب صفہ للبنات ظفر ٹاؤن لانڈھی میں منعقد ہوا، جس میں مولانا قاضی احسان احمد (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے بیان کیا۔
دوسرا پروگرام: اسی روز بعد نماز عصر جامع مسجد شاہی ایف۔ ون شیر پاؤ کالونی لانڈھی میں منعقد ہوا، اس میں بھی مولانا قاضی احسان احمد نے مقامی حضرات سے خطاب کیا۔
تیسرا پروگرام: بعد نماز مغرب جامع مسجد مدینہ ظفر ٹاؤن میں حلقہ قذافی ٹاؤن ، ظفر ٹاؤن اور گلشن عسکری کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا قاضی احسان احمد فرما رہے تھے۔ اس اجلاس میں مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لانڈھی ملیر ) مولانا مفتی امین الرحمن ، مولانا مفتی عبدالحمید ، مولانا عبداللہ ، مولانا احمد ، مولانا ضیاء الرحمن ، حافظ عامر شاہ اور حلقے کے ذمہ داران و کارکنان نے شرکت کی۔
چوتھا پروگرام: ۹ / جنوری بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد اقصیٰ سیکٹر ۱۷۔ بی شاہ لطیف ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ مولانا احسن راجہ الحسینی نے سامعین کے سامنے سیرت النبی کے مختلف پہلوؤں پر بیان کیا۔
پانچواں پروگرام: ۱۰ / جنوری بروز جمعتہ المبارک بعد نماز مغرب جامع مسجد مدینہ پورٹ قاسم حاضری گراؤنڈ ظفر ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ اس میں مولانا عنایت اللہ قاضی (امیر جمعیت علماء اسلام (ف) یوسی فور نے بیان کیا۔
چھٹا پروگرام: ۱۱ / جنوری بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد اصحاب صفہ اسٹیل ٹاؤن مولانا محمد اعجاز مصطفی (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) اور مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کئے۔
ساتواں پروگرام: ۱۲ / جنوری بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد رشیدیہ گلستان سوسائٹی مرغی خانہ اسٹاپ قائد آباد میں منعقد ہوا۔ بیان مولانا محمد لائق شاہ (مدیر جامعہ اصحاب صفہ للبنات ظفر ٹاؤن) نے کیا۔
آٹھواں پروگرام: ۱۳ / جنوری بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد صدیقیہ مین روڈ مجید کالونی میں منعقد ہوا۔ مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفی نے بیان کیا۔
نواں پروگرام: ۱۴ / جنوری بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد محمد حاجی رحیم داد گوٹھ ملیر میں منعقد ہوا۔ مولانا مفتی ساجد محمود (استاد الحدیث جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن) نے بیان کیا۔
دسواں پروگرام: ۱۵ / جنوری بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد طیبہ بلال کالونی ، گل احمد چورنگی میں منعقد ہوا۔ بیان مولانا احسن راجہ الحسینی نے کیا۔
گیارہواں پروگرام: ۱۷ / جنوری بروز جمعتہ المبارک بعد نماز مغرب جامع مسجد اقصیٰ قذافی ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ بیان مولانا احسان اللہ ٹکر وی (امیر جمعیت علماء اسلام (ف) لانڈھی ٹاؤن) نے کیا۔
بارہواں پروگرام: ۱۸ / جنوری بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد عمر فاروق مسلم آباد کالونی میں منعقد ہوا، مولانا مفتی امین الرحمن جدون نے بیان کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیرہواں پروگرام: ۲۰/ جنوری بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد توحید فیز ون گلشن جدید میں منعقد ہوا۔ مولانا حسن ربانی نے بیان کیا۔
چودہواں پروگرام: ۲۱/ جنوری بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد محمودہ بھینس کالونی نمبر ۱۰ میں منعقد ہوا۔ بیان مولانا نور الرحیم نے کیا۔
پندرہواں پروگرام: ۲۳/ جنوری بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد مدنی عبداللہ گوٹھ میں منعقد ہوا۔ مولانا طارق محمود قاسمی نے بیان کیا۔
سولہواں پروگرام: ۲۴/ جنوری بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب جامع مسجد ربانی سندھی گوٹھ پپری میں منعقد ہوا۔ مولانا مفتی مبشر ابراہیم نے بیان کیا۔
سترہواں پروگرام: ۲۵/ جنوری بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد اقصیٰ نیو مظفر آباد کالونی میں منعقد ہوا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کیا۔
اٹھارہواں پروگرام: ۶/ فروری بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد اقصیٰ سیکٹر ۱۷-بی شاہ لطیف ٹاؤن میں ماہانہ اصلاحی تربیتی نشست منعقد ہوئی۔ مولانا پیر محمد عمران نقشبندی نے بیان کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷/ مارچ ۲۰۱۴ء ص ۲۵، ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس جام شورو
۹/ جنوری ۲۰۱۴ء کو عشاء کی نماز کے بعد مکی مسجد جام شورو پھاٹک میں ختم نبوت کانفرنس مولانا غلام شبیر کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مفتی عبدالشہید، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ٹنڈو آدم، مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
۱۰/ جنوری: خطبہ جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مکی مسجد پٹھان کالونی میں دیا۔ لطیف آباد نمبر ۴ میں بعد نماز عشاء جامع مسجد قاسم چھوٹی گٹی میں جلسہ سیرت النبی سے مولانا شجاع آبادی، مولانا توصیف احمد نے خطاب کیا۔
۱۱/ جنوری: مدرسہ دارارقم ریشم بازار کے مہتمم مولانا محمد رفیع، مولانا محمد احمد کی دعوت پر بنات اور خواتین کا جلسہ منعقد ہوا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد گلشن زیل پاک سوسائٹی میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا جس میں مولانا توصیف احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷/ فروری ۲۰۱۴ء ص ۲۷)
سیرت النبی ﷺ پروگرامز ضلع ڈی آئی خان
۱۰/ جنوری بروز جمعہ ظفر آباد ضلع ڈی۔ آئی۔ خان میں مولانا محمد اسلم صاحب کی مسجد میں سیرت النبی کے موضوع پر مولانا مدظلہ کا بیان ہوا، مغرب کے بعد مولانا محمد عنایت اللہ عثمانی کی مسجد میں پروگرام طے ہوا تھا۔ جس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، اس مجلس کی صدارت مولانا محمد اسلم نفیس ضلع ڈی۔ آئی۔ خان کے نائب امیر عالمی مجلس فرما رہے تھے۔ اس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد اسلم نفیس نے کہا کہ حضور ﷺ سب سے آخر میں ہیں اور مرتبے کے اعتبار سے سب سے شان والے ہیں، اس لیے کہ آپ ہی کی شان میں کہا گیا ہے ”ورفعنا لک ذکرک“ اس مجلس کا اختتام مولانا مفتی عبدالواحد قریشی مدظلہ کے مختصر بیان اور دعاء کے ساتھ ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱؍جنوری بروز ہفتہ کو مولانا گل زمان صفدر صاحب کی مسجد، جامع مسجد مدنی چمن چوک میں پروگرام منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد گل زمان صفدر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا محمد اسلم نفیس نے عقیدہ ختم نبوت پر بیان کیا۔
۱۲؍جنوری بروز اتوار کو سرائے نورنگ میں عظیم الشان کانفرنس سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے منعقد کی گئی ،جس میں پشاور سے آئے ہوئے مہمان مولانا سید سجاد سبحان جو کہ مولانا مفتی فرید کے خلیفہ ہیں، تشریف لائے۔ جے ۔یو۔آئی کے جوائنٹ سیکرٹری مولانا مفتی عبدالشکور اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس پروگرام کی صدارت مدرسہ تعلیم الاسلام کے شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ کر رہے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عہدیداران مولانا سید ابراہیم ادہمی، مولانا عبدالغفار، مولانا مفتی ضیاء اللہ ، مولانا محمد طیب طوفانی بھی شریک ہوئے۔
۱۳؍جنوری بروز پیر کو بعد از نماز فجر ختم نبوت مسجد کمشنری بازار میں درس قرآن ہوا، بعد از نماز مغرب ماہڑہ میں مولانا عبدالغنی کی نگرانی میں جامع مسجد سیدنا ابو بکر صدیق میں پروگرام ہوا جو عشاء کی نماز تک جاری رہا۔
۱۴؍جنوری بروز منگل کو نماز فجر کے بعد گشکوری کی جامع مسجد میں درس قرآن ہوا، بعد از نماز ظہر دھاوا کی تقویٰ مسجد میں پروگرام ہوا، نماز عصر سے نماز عشاء تک جامع مسجد ختم نبوت کمشنری بازار میں عظیم الشان سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے کانفرنس ہوئی، جس میں ضلع کے تمام عہدیداران نے شرکت کی۔ انہوں نے سیرت النبی ﷺ کے تمام پروگرام کی کوریج بھی بہت اچھے انداز میں کی۔ اس کانفرنس میں مہمان خصوصی مولانا محمد اسلم نفیس لاہور مولانا مفتی عبدالواحد قریشی تھے۔ جنہوں نے حضور ﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور فتنہ قادیانیت کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو آئین کا پابند بنایا جائے اور چناب نگر کے اسکول وکالج قادیانیوں کو سپرد کرنا ایک بہت بڑے فتنے کا سبب بنے گا، بلکہ بدامنی اور انتشار کا باعث ہوگا، جب کہ ہمارا پیارا دیس اس کا متحمل نہیں ہے، لہٰذا اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔
۱۵؍جنوری بروز بدھ کو بعد از نماز مغرب مسجد الوحید ظفر آباد میں پروگرام کی صدارت مولانا پروفیسر قاری واحد بخش نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۸؍فروری ۲۰۱۲ء ص ۲۳)
چناب نگر میں جلسہ سیرت النبی ﷺ
۱۳؍جنوری ۲۰۱۲ء بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد غلام محی الدین (چھنی قریشیاں) چناب نگر میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں مولانا محمد وسیم اسلم (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر) اور مولانا غلام رسول دین پوری (صدر مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر) نے حضور اقدس ﷺ کی سیرت طیبہ اور عقیدہ ختم نبوت پر بیان کئے۔ حاضرین مجلس نے ہمہ تن گوش ہو کر بیانات سنے۔
۱۴؍جنوری ۱۲؍ربیع الاوّل بروز منگل صبح ۹ بجے جامع مسجد بخاری چناب نگر سے مولانا غلام مصطفیٰ صاحب کی زیر قیادت مسلمانوں نے جلوس نکالا، چناب نگر کی مختلف جگہوں (مثلاً ایوان محمود، اقصیٰ چوک وغیرہ) پر مختلف علماء کرام نے بیان کئے۔ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے کمیٹی کے سامنے مفصل و مدلل بیان کیا، جس میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی شرانگیزیوں کو وضاحت کے ساتھ بتایا اور پھر قادیانیوں کو دعوت اسلام پیش کی۔
۱۵؍جنوری کو بعد نماز عشاء جامع مسجد ختم نبوت (واقع مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر) میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی منعقد ہوا جس میں مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اور مولانا قاری علیم الدین شاکر لاہور نے بیان کیا، جس میں سیرت کے مختلف پہلوؤں اور عقیدہ ختم نبوت کو بہت اچھے انداز میں بیان کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷/ جنوری بروز جمعتہ المبارک جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں ۳۹ واں عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ منعقد ہوا، جس میں مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب کے بیانات ہوئے۔ بیان میں حضور اقدس ﷺ کی سیرت، عقیدہ ختم نبوت، جامع مسجد محمدیہ کی بنیاد اور بانی کا تذکرہ اور ۱۹۷۴ء کی تاریخ پر جامع انداز میں گفتگو ہوئی۔ خطبہ اور نماز جمعہ کے فرائض مولانا غلام رسول دین پوری نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/ فروری ۲۰۱۴ء ص ۲۱)
پانچ روزہ پروگرام کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے گزشتہ دنوں کراچی کا بہت مختصر اور طوفانی دورہ کیا، جس کے دوران مختلف مقامات پر سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسز سے خطابات بھی فرمائے، اس کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
۱۶/ جنوری بروز جمعرات: بعد نماز مغرب دفتر ختم نبوت (پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ) میں دینی و عصری تعلیمی اداروں کے طلباء اور عوام الناس سے تفصیلی بیان فرمایا۔ حافظ محمد اور حافظ عمران نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔
۱۷/ جنوری بروز جمعہ: جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب جامع مسجد یحییٰ حبیب بینک چورنگی میں فرمایا، جہاں مولانا محمد عمر صاحب زیدہ مجدہ نے پہلے سے حضرت کی تشریف آوری سے عوام الناس کو خوب آگاہ کر رکھا تھا۔ چنانچہ بیان سے قبل ہی سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔
بعد نماز عشاء جامع مسجد مدنیہ بلاک ۱۷، گلبرگ ٹاؤن میں بیان فرمایا۔
۱۸/ جنوری بروز ہفتہ: صبح نو بجے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کے شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف مدنی، مفتی سلمان یٰسین مدظلہم اور دیگر رفقاء گرامی کی دعوت پر حضرت مدظلہ ان کے ادارہ میں تشریف لے گئے اور طلباء سے خطاب فرمایا۔
دوپہر میں مولانا اللہ وسایا سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب سعید الزماں صدیقی صاحب سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ کے ہمراہ سید انوار الحسن، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد رضوان، مولانا قاضی احسان احمد، جناب طارق سمیع، مفتی سلمان یٰسین اور مولانا اشفاق بھی تھے۔ جناب صدیقی صاحب بڑے تپاک سے ملے اور اپنے ادارے کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میری خواہش ہے کہ علماء کرام اور طلباء دین بھی قانون سازی کے میدان میں آگے آئیں اور امت کی راہنمائی کریں۔ حضرت مدظلہ نے ان کے جذبے اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ مخلوق خدا کی بڑی خدمت کر رہے ہیں اور اس ملک میں انصاف کی فراہمی میں آپ کا کردار کلیدی رہا ہے۔ بعد ازاں حضرت مدظلہ نے صدیقی صاحب کو ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ“ پر مشتمل کتابوں کا سیٹ پیش کیا اور اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کئی مرحلوں سے گزر کر اسے حاصل کر کے پہلی بار شائع کر دیا ہے۔ صدیقی صاحب نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجلس کی خدمات کو سراہا۔
۱۸/ جنوری بروز ہفتہ بعد نماز مغرب سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس جامع مسجد حذیفہ سعید آباد نمبر ۹ میں مولانا سعید الرحمن صاحب کی زیر نگرانی منعقد ہوئی، جس میں اہل علاقہ اور علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
۱۹/ جنوری بروز اتوار: صبح دس بجے کمیونٹی سینٹر نیول کالونی میں تحفظ ختم نبوت سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں تلاوت کلام پاک اور حمد ونعت کے بعد مولانا عبدالحئی مطمئن نے سیمینار کی غرض وغایت سے شرکاء کو آگاہ کیا بعد ازاں مولانا قاضی احسان احمد نے تقریباً آدھا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گھنٹہ ”تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری“ کے عنوان پر گفتگو کی بعدازاں مولانا اللہ وسایا نے تقریباً سوا گھنٹہ دفاع ناموس رسالت، تاج ختم نبوت کی حفاظت اور سیرت خاتم الانبیاء کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ بعد نماز ظہر جامع مسجد بلال اسکاؤٹ کالونی نزد ختم نبوت چوک میں عظیم الشان کانفرنس مولانا عبد السمیع رحیمی کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ قاری فہیم نے تلاوت کلام پاک کی، حمد و نعت حافظ عبد القادر نے پیش کی، جب کہ محمد بلال نے ترانہ ختم نبوت: ”ختم نبوت زندہ باد“ پڑھا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبد الرؤف ادا کر رہے تھے۔
بعد نماز عصر مولانا مدظلہ جامع مسجد خاتم النبیین (پوسٹ آفس سوسائٹی) تشریف لے گئے۔ آپ کے ہمراہ سیّد انوار الحسن، مفتی حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مولانا عبد الرؤف اور دیگر تھے۔ مولانا لدھیانوی شہید، مفتی شامزئی شہید، مفتی محمد جمیل خان شہید، مولانا جلال پوری شہید اور ان کے رفقائے کرام کی قبور پر حاضری دی اور ایصال ثواب کیا۔
بعد نماز عشاء دارالعلوم مدنیہ (جامع مسجد الاخوان) بلاک ۱۵، دستگیر سوسائٹی میں ایک پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں مولانا تشریف لے گئے۔
۲۰ / جنوری بروز پیر: صبح ساڑھے نو بجے مدرسہ انوار العلوم مہران ٹاؤن میں طلباء سے خطاب میں علم کی افادیت پر بیان کرتے ہوئے طلباء کو تعلیم پر توجہ دینے کی تلقین کی اور مہران ٹاؤن میں ایک جدید مسجد بنام خاتم النبیین میں دعاء کے لئے جانا ہوا، نماز ظہر اور دعاء کی تقریب ہوئی مولانا محمد بلال نقشبندی اس مرکز کے روح رواں ہیں۔
بعد مغرب جامع مسجد باب رحمت (مدرسہ امام ابو یوسف شادمان ٹاؤن)، مولانا سعید احمد جلال پوری شہید کا ادارہ ہے، یہاں مولانا اللہ وسایا نے طلباء اور عوام سے مختصر خطاب کیا۔
بعد نماز عشاء جامع مسجد عثمان غنی بلاک ۲۲، شفیق کالونی میں کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کلام پاک قاری فاروق محمود نے کی، نعت طالب علم وقار احمد نے پڑھی جب کہ نظم ”ختم نبوت زندہ باد“ سجاد احمد نے پیش کی۔ راقم نے مختصر بیان کیا، اس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے مفصل بیان کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/ فروری ۲۰۱۴ء ص ۲۱ تا ۲۳)
علماء ومشائخ سیمینار لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کی طرف سے ۲۵ / جنوری ۲۰۱۴ء کو جامع مسجد مجیدی نورنگ میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا۔ ”علماء و مشائخ تربیتی سیمینار“ کے نام سے موسوم یہ پروگرام کافی حد تک نتیجہ خیز اور کامیاب رہا۔ مولانا مجاہدین، مولانا محمود الرحمٰن، مولانا مستقیم، مولانا طارق خالد اور دیگر علماء کرام کی قیادت میں وفود اور جماعتوں کی شکل میں لوگ شریک ہوئے۔ سیمینار کا آغاز لکی مروت کے جماعتی امیر حاجی امیر صالح خان کی صدارت میں قاری عبید الرحمٰن کی تلاوت سے ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے انجام دیئے۔ مولانا عبد الرحیم، مولانا عبد المتین، مولانا عابد کمال اور دیگر مقامی علماء کرام نے رد قادیانیت کے حوالے سے مفید گفتگو فرمائی۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ اور ختم نبوت کے مشن کی اہمیت سامعین پر اجاگر فرمائی۔ سیمینار میں خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا کا تھا۔ ختم نبوت کے حوالے سے سلف کی قربانیوں کا حوالہ دے کر خلف کو اس کی اہمیت بتلادی۔ علماء کرام اور خصوصاً مدارس کے ذمہ داران کو اس بات کی ترغیب دی کہ طلباء کے درمیان روزانہ کم از کم ۱۰ منٹ ختم نبوت کے حوالے سے درس دیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۴ء ص ۱۴)
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء
تحفظ ختم نبوت کانفرنس میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی پپلاں کے زیر اہتمام جامع مسجد مہاجرین میں ۲۶؍جنوری ۲۰۱۲ء بروز اتوار کو بعد نماز عشاء تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی گئی، جس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت رسول مقبول حافظ ابوبکر نے پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی کے مبلغ مولانا محمد اسلم نفیس نے اس پروگرام کی غرض وغایت اور عقیدہ ختم نبوت پر بیان کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کی۔ مہمان خصوصی مجاہد ختم نبوت مولانا نور محمد ہزاروی، مناظر اسلام مولانا مفتی شاہد مسعود تھے۔ مفتی صاحب نے اس موقع پر مقام نبوت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آقا دوجہاں، رحمت عالم ﷺ کے پسینہ مبارک سے خوشبو آتی تھی۔ آپ ﷺ جب آرام فرماتے تھے تو آپ کی آنکھ سوتی تھی جب کہ آپ کا قلب مبارک جاگتا تھا۔ میرے آقا ومولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسن وجمال رکھتے تھے، کیونکہ نبی اپنی امت کے تمام افراد سے حسین ہوتا ہے، جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا حال دیکھو کہ شکل وعقل کے اعتبار سے سب سے گھٹیا، دو آنکھوں میں سے ایک آنکھ نہیں، دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کام کا نہیں، پانی کا گلاس تک نہیں اٹھا سکتا تھا، اس پر دعویٰ ہے کہ میں بعینہ محمد رسول اللہ ﷺ ہوں۔
اس کانفرنس کا اختتام صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ کی دعاء سے ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍مارچ ۲۰۱۲ء ص۲۲)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورۂ ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ۶، ۷؍فروری ۲۰۱۲ء کو مختلف مقامات پر اجتماعات ہوئے۔ مرکزی خطیب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ اجتماعات ختم نبوت کورسز کے اختتامی تقریب کے طور پر تھے۔ مولانا شجاع آبادی نے کورسز کے شرکاء کو ختم نبوت مشن کی اہمیت بیان فرمائی۔ شرکاء کو کتب، لٹریچر اور انعامات دیئے۔ تحریک ختم نبوت میں عالمی مجلس کے کردار کو سامعین پر اجاگر کیا۔ موجودہ حالات کے پیش نظر اتحاد امت پر زور دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۲ء ص۵۴)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چار روزہ دورہ پر جھنگ تشریف لائے، جہاں آپ نے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔
۷؍فروری ۲۰۱۲ء بعد نماز مغرب جامع مسجد ٹھنڈی جھنگ شہری میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس سے صاحبزادہ مولانا سید محمد زکریا شاہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
۸؍فروری ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری جھنگ صدر میں منعقدہ سہ روزہ ختم نبوت کورس کے اجتماع سے خطاب کیا۔
۹؍فروری بعد نماز فجر جامع مسجد اللہ والی سیٹلائٹ ٹاؤن میں بعنوان ’’عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت‘‘ پر درس قرآن دیا۔
۹؍فروری بعد نماز ظہر ٹھنڈی مسجد جھنگ سٹی میں منعقدہ تربیتی نشست سے خطاب کیا۔ بعد نماز عصر مولانا حکیم محمد یاسین مدظلہ رہنما جمعیت علماء اسلام (س) سے ملاقات کی اور اپنے تبلیغی دورہ کی رپورٹ بیان کی۔ حکیم صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے کورس عام جلسوں سے زیادہ مفید ہیں۔ حکیم صاحب نے اپریل میں کورس رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹ فروری بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں منعقدہ ختم نبوت کورس کی دوسری نشست سے خطاب کیا۔ عنوان تھا امام مہدی کا ظہور، حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اور مرزا کے دعویٰ سے تقابلی جائزہ، ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کے عنوان پر خطاب کیا۔
جلسہ میں مولانا شجاع آبادی کے علاوہ حافظ غلام حسین، مولانا محمد سرور خان، قاری محمد اکرم اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔
۱۰ فروری بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں منعقدہ سہ روزہ رد قادیانیت کورس کی آخری تقریب تھی، جس میں مولانا شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیا۔
۱۱ فروری صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد حق نواز جھنگ صدر میں بیان فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ اپریل ۲۰۱۴ء ص ۲۴)
مولانا شجاع آبادی کے شیخوپورہ میں دعوتی و اصلاحی خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۴ فروری ۲۰۱۴ء کو فاروق آباد میں گنبد والی مسجد میں جمعۃ المبارک کا خطبہ دیا۔
مغرب کی نماز کے بعد جامع مسجد عائشہ جنڈیالہ شیر خان روڈ شیخوپورہ میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا، جس میں جامع مسجد عید گاہ کے خطیب مولانا ضیاء الرحمٰن اور جامعہ توحیدیہ کے خطیب مولانا قاری محمد رمضان اور شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کنونشن کی صدارت قاری محمد الیاس ناظم اعلیٰ مجلس شیخوپورہ نے کی۔
۱۵ فروری صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد ہاؤسنگ اسکیم میں مولانا شجاع آبادی نے ’’فتنوں کا تعاقب‘‘ کے عنوان پر درس دیا، جس میں تقریباً ایک سو سے زائد حضرات نے شرکت کی۔ ۱۱ بجے قبل از دوپہر مولانا شجاع آبادی نے جامعہ فاروقیہ کے طلباء و اساتذہ کرام سے خطاب کیا۔
۱۹ فروری کو بعد نماز عشاء جامع مسجد میاں شیر محمد شرق پور شریف میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت حافظ سلمان کنوینر مجلس شرق پور نے کی۔ کانفرنس سے مولانا قاری غلام مصطفٰی قاری کوٹ عبد المالک، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱، مارچ ۲۰۱۴ء ص ۲۶)
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سہ روزہ ختم نبوت کورس مورخہ ۲۱، ۲۲، ۲۳ فروری ۲۰۱۴ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار جامع مسجد ختم نبوت المعروف مسجد شیر شاہ سوری نزد چمن شاہ قبرستان میں منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ نماز مغرب تا عشاء رکھا گیا۔ کورس کے پہلے روز مولانا محمد عمر حیات نے اپنے عالمانہ مگر عام فہم انداز میں تحریکات ختم نبوت پر لیکچر دیا۔ بعد ازاں ضلعی مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کا دلائل کے ساتھ محاسبہ کیا۔ آخر میں ضلعی نائب امیر مولانا قاری منیر احمد قادری نے دعاء کے ساتھ نشست کا اختتام کیا۔ دوسرے روز مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں اور ان کے سد باب کے عنوان پر مفصل لیکچر دیتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کو عالم کفر کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور وہی اس خود کاشتہ پودے کو پھل، پھول لگانے میں مصروف ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ کے فضل و کرم سے جب تک نبی ﷺ کے غلام زندہ ہیں۔ ان کی تمام سرگرمیوں کے سامنے سدسکندری کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان کے بعد مولانا داؤد احمد نے قادیانی ریشہ دوانیوں پر خوب روشنی ڈالی اور قادیانیوں کی طرف سے سادہ لوح مسلمانوں پر استعمال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کئے جانے والے داؤ پیچ کو واضح کیا۔ بعد ازاں مولانا عبد القدوس قارن نے حیات مسیح علیہ السلام پر مدلل لیکچر دیا اور قادیانی اعتراضات کے جواب بھی دیئے۔ آخر میں دعاء کے ساتھ اس نشست کا اختتام کیا۔ تیسرے اور آخری روز مولانا عزیز الرحمن ثانی نے دفاع ختم نبوت کے عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے فرمایا کہ دفاع ختم نبوت ہماری رگوں میں رچ بس چکا ہے اور اس کا دفاع زندگی کے آخری لمحات تک کرتے رہیں گے۔ آخری خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ انہوں نے سیرت امام مہدی علیہ الرضوان اور رد قادیانیت پر مفصل ومدلل بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اس دنیا میں محمد عربی ﷺ کی دشمنی کی چلتی پھرتی تصویر ہیں اور دشمن رسول کا بائیکاٹ محبت نبی ﷺ کا تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرزا قادیانی کے پیروکار اسے چھوڑ کر محمد عربی ﷺ کی غلامی میں آ جائیں تو انہیں گلے لگا لیں گے۔ سہ روزہ ختم نبوت کورس میں چارسو سے زائد افراد شریک ہوئے۔ تمام شرکاء کورس کو سند اعزاز اور انعامات دیئے گئے ۔ تقسیم اسناد وانعامات میں ضلعی ناظم قاری محمد یوسف عثمانی، پروفیسر حافظ محمد انور، سید احمد حسین زید، قاری منیر احمد قادری، قاری محمد انور خطیب جامع مسجد شیر شاہ سوری، مولانا قاری عبدالغفور آرائیں، شیخ احسان احمد خان، شاہجہان خان اور مولانا محمد عارف شامی نے شرکت کی ۔ شرکاء کورس کے لئے با قاعدہ طعام کا انتظام کیا گیا تھا جس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ چمن شاہ کے احباب حاجی گلستان خان اور ماسٹر فضل نور نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کیا تھا۔ اختتامی کلمات اور دعاء ضلع گوجرانوالا کے امیر مولانا اشرف مجددی نے کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۴ء ص ۵۵)
مولانا شجاع آبادی کے ڈیرہ غازی خان میں تبلیغی پروگرام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ایک روزہ تبلیغی دورہ پر ۲۶/ فروری ۲۰۱۴ء کو ڈیرہ غازی خان تشریف لائے۔
جامعہ فاروقیہ میں ۱۱ بجے صبح اقرأ خدام القرآن کے زیر تربیت ۱۶۰ اساتذہ کرام سے ”عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس“ کے عنوان پر خطاب کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بطلان کو قرآن وسنت سے ثابت کیا۔
دارالقراء کوٹ ہیبت کے جلسہ سے خطاب
بعد نماز ظہر مدرسہ دارالقراء کوٹ ہیبت میں مہتمم قاری محمد اسماعیل کی دعوت پر منعقدہ جلسہ سے مولانا محمد یوسف بہزاد، راقم الحروف اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ صدارت مولانا عبدالرحمن غفاری امیر مجلس ڈیرہ غازی خان نے کی۔ بعد نماز عصر جامع مسجد بلال چوک چورہٹہ میں درس قرآن کے اجتماع سے مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ مولانا عبدالرحمن غفاری نے خصوصی شرکت کی ۔ بعد نماز مغرب ، جامع مسجد الفرحان میں درس قرآن پاک دیا ، درس میں مولانا عبدالعزیز خیر آبادی بھی شریک ہوئے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱/ مارچ ۲۰۱۴ء ص ۲۶، ۲۷)
مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی و تنظیمی اسفار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۷ /مارچ ۲۰۱۴ء کو جماعتی وتبلیغی دورہ پر ساہیوال تشریف لائے ۔ مجلس کے مقامی رہنماؤں مولانا کلیم اللہ رشیدی ، قاری عبدالجبار ،مولانا عبدالحکیم نعمانی، رانا محمد آصف سعید، محمد اسلم بھٹی اور جامعہ رشیدیہ و جامعہ علوم شرعیہ کے طلباء اور اساتذہ نے بھر پور استقبال کیا۔ جماعتی امور کا سرسری جائزہ لیا اور مقامی مجلس کی کارکردگی کو سراہا۔ کارکنان ختم نبوت سے دعوتی پروگراموں پر مشاورت و ملاقات سے فراغت پر آپ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جامعہ محمدیہ کوٹ R-6-85 میں مختصر قیام کے بعد فرید ٹاؤن تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے جامع مسجد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اسکیم نمبر 2 میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔ بیان میں اصلاح معاشرہ کے ساتھ تحفظ ناموس رسالت اور عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم اور مناقب ختم نبوت کا موضوع نمایاں تھا۔ شرکاء کو جدید و قدیم فتنوں سے بچنے کی تلقین کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱/مارچ ۲۰۱۲ء ص ۸)
سالانہ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس، جیکب آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیکب آباد کے زیر اہتمام مارچ ۲۰۱۲ء میں سالانہ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس زیر صدارت ڈاکٹر اے جی انصاری اور زیر نگرانی حاجی ہادی بخش چنہ منعقد ہوئی۔ علماء کرام میں مولانا عبد الستار مبلغ عالمی مجلس لاڑکانہ، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ عالمی مجلس سکھر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنما مولانا الٰہی بخش ٹانوری و دیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ مولانا تاج محمد چنہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیکب آباد، حماد اللہ انصاری، تاج محمود انصاری، فہیم احمد سمیجو، نذر محمد سمیجو، حاجی محمد سومرو نے کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۵)
۳۳ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کی جانب سے ۳۳ ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۷/ مارچ ۲۰۱۲ء کو ایم اے جناح روڈ متصل جامع مسجد ختم نبوت پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز نماز عشاء کے فوراً بعد ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری محمد عاصم اندھڑ نے حاصل کی مشہور و معروف نعت خواں محمد زمان جلبانی، اور کفایت اللہ نے ابتدائی نعتیں پیش کیں، ان کے بعد سندھ کے مایہ ناز نعت خواں الحاج امداد اللہ پھلپوٹو نے حمد، نعت، مدح صحابہ، عقیدہ ختم نبوت، تردید قادیانیت پر نظمیں پیش کر کے مجمع کو گرما دیا۔
علامہ احمد میاں حمادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، جمعیت علماء اسلام ضلع سانگھڑ کے رہنما، مولانا عبد الغفور مینگل، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا توصیف احمد، خیر پور، نوابشاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے خطابات کئے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے کہا کہ قادیانیوں کو ہم نے ہمیشہ اسلام کی دعوت دی ہے اور اب بھی انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور محمد عربی ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہو جائیں ہمارے بھائی بن جائیں اور اگر یہ صورت اختیار نہیں کر سکتے تو ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں کئے گئے فیصلے کو تسلیم کریں اور خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷/اپریل ۲۰۱۲ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیر اہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۸/ مارچ ۲۰۱۲ء بعد نماز مغرب شاہی بازار نزد قادریہ مسجد پنوعاقل منعقد ہوئی، جس کی صدارت قاری خلیل الرحمٰن اندھڑ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل نے کی۔ مولانا محمد حسین ناصر مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر ڈویژن نے نگرانی کی۔
کانفرنس کا آغاز بعد نماز مغرب ہوا، عشاء تک مقامی علماء کرام کے بیانات ہوئے، بعد نماز عشاء تلاوت ونعت کے بعد مولانا سید محمد حسن شاہ حیدری، مولانا عبد الرزاق میکھو، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا محمد راشد مدنی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن اور مفتی محمد کفایت اللہ کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس رات ڈیڑھ بجے مفتی کفایت اللہ کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، اسٹیج پر مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا محمد صالح انڈھڑ، پنوعاقل کی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالرحیم و دوسرے علماء کرام کثیر تعداد میں آخری بیان ودعاء تک موجود رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے زیر اہتمام دسویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۹؍ مارچ ۲۰۱۲ء بروز اتوار گورنمنٹ مراد ہائی اسکول کے اسمبلی گراؤنڈ میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے امیر حکیم عبدالواحد بروہی صاحب نے کی جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راقم نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس کا باقاعدہ آغاز بعد نماز عشاء تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت حافظ طاہر مسعود نے حاصل کی۔ پھر قاری صبغۃ اللہ پنہور نے ہدیہ نعت پیش کیا اور ختم نبوت کے عنوان پر نظم پیش کی، اس کے بعد مولانا راشد مدنی صاحب کا بیان ہوا، پھر مولانا امجد مدنی صاحب، مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب کا بیان ہوا، اس کے بعد ملک کے مشہور قاری قاری محمد علی مدنی صاحب نے تلاوت کلام پاک سے سامعین کے دلوں کو منور کیا، پھر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی صاحب کا بیان ہوا، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے سرپرست شیخ الحدیث مولانا نعمت اللہ شیخ صاحب نے قراردادیں پیش کیں، اس کے بعد جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نے خطاب کیا، پھر بلبل سندھ فقیر حاکم علی بھرٹ نے نظمیں پڑھیں۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب کا تفصیلی خطاب ہوا اور آخر میں مولانا اسد اللہ کھڑوصاحب کا بیان ہوا اور اختتامی دعاء ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر سامعین میں قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر مبنی سندھی اور اردو پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس سناواں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سناواں کے زیر اہتمام ۹؍ مارچ ۲۰۱۲ء کو بعد نماز ظہر تا عصر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور ضلعی مبلغ مولانا قاضی عبدالخالق اور ملتان سے نعت خواں حافظ عبدالشکور برادران تھے۔ پروگرام نہایت احسن طور پر پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۳۴)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۰؍ مارچ ۲۰۱۲ء بروز پیر مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالکریم سہتو کی زیر سرپرستی کانفرنس کا آغاز بعد از نماز مغرب ہوا۔ صدارت کے فرائض مفتی محمد یاسین صاحب نے اور نگرانی مولانا عبدالصمد ہالیجوی نے کی۔ کانفرنس سے مولانا امجد مدنی، مولانا محمد حسین ناصر، عالمی مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا مفتی کفایت اللہ اور قاری کامران احمد، مولانا تجمل حسین نے خطاب کیا۔ تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت، قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ، توہین رسالت آئین پر بیرونی ہرزہ سرائی کی مذمت، بیانات کے اہم موضوعات تھے۔ مولانا عبدالرحمن پھل، مولانا سعید احمد سومرو، مولانا آصف محمود پھل، مفتی ولی اللہ عباسی، مولانا عبدالشکور، مفتی شاہد، قاری غلام مصطفیٰ، مولانا ابراہیم حیدری، مولانا سید حماد اللہ شاہ، مفتی محمد احمد،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا شاکر محمود، قاری عبدالرحمن، قاری عبدالحنان، مولانا خالد حسین کوری، حافظ حسیب الرحمن، قاری فتح محمد، مولانا عارف محمود، مولانا غلام نبی ،مولانا عثمان ، مولانا لیاقت علی سمیت تمام مقامی حضرات نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
۱۲؍مارچ ۲۰۱۴ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد مہاجر کالونی بہاول نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ سید تحسین الاحمد شاہ کی زیرصدارت منعقد اس کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاول پور اور مولانا اکرام اللہ عارفی نے بیانات فرمائے۔عقیدۂ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام اہم موضوعات تھے۔ نو مسلم جناب شمس الدین نے بھی شرکت فرمائی۔ اختتامی دعاء مولانا جلیل احمد اخون نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۴ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس پیر جگی موڑ کوٹ ادو
۱۶؍مارچ ۲۰۱۴ء کو بمقام پیر جگی موڑ کوٹ ادو میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی، مولانا عبدالمجید توحیدی، مولانا قاری محمد طاہر حنیف، مولانا عبدالخالق قاضی، مولانا اللہ وسایا اور پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی نے بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۴ء ص ۴۴)
سہ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس گلشن حدید کراچی
۲۲؍ مارچ ۲۰۱۴ء بعد نماز عصر جامع مسجد فاروق اعظم بھٹو کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے عظمت رسالت کے عنوان پر مختصر مگر پُر اثر بیان کیا۔
اسی طرح نماز مغرب جامع مسجد ناصر بھٹو کالونی میں بیان کیا، جس کا موضوع تھا ”آنحضرت ﷺ کی نسبت سے امت مسلمہ کی شان وفضیلت“ دونوں مقام پر بڑی تعداد میں اہل محلہ نے شرکت کی۔ یہاں جامع مسجد ناصر کے امام وخطیب مولانا محمد فرقان، مسجد علی المرتضیٰ کے امام مولانا غلام اللہ کشمیری، مفتی اسد اللہ خوشابی نے شرکت بھی کی، جب کہ ختم نبوت کے رہنما جامعہ جویریہ للبنات کے مدیر مولانا غلام اللہ خوشابی، اقرأ تہذیب الاسلام کے مدیر، جامع مسجد فاروق اعظم کے امام وخطیب مولانا عبدالعلیم حسن زئی، ختم نبوت منگھوپیر کے ذمہ دار قاری ظفر اقبال، جامع مسجد سیرۃ النبی کے امام وخطیب مولانا قاری رحمت حلیم نے ان بیانات میں شرکت کی۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۴ء ص ۱۸)
ختم نبوت کانفرنس خانیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۴ء سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ضلعی امیر خواجہ عبدالماجد صدیقی سجادہ نشین خانقاہ مالکیہ کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری ذوالفقار احمد نے کی۔ نعتیہ کلام مولانا عبداللہ عباس نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عطاء المنعم نعیم اور دیگر علمائے کرام نے بیان فرمایا۔ کانفرنس پیر طریقت خواجہ عبدالماجد صدیقی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۴ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس بمقام جامعہ حنفیہ فریدیہ جامع مسجد خاتم النبیین میں ۲۶؍
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مارچ ۲۰۱۲ء کو بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا مفتی عمار شاہد نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولوی محمد یوسف نے سرانجام دیئے۔ تلاوت قاری معاذ نے کی۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مفتی محمد عمار شاہد، مولانا مقصود احمد، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا طلحہ ایوب حیدری، مولانا ممتاز احمد، قاری محمد انور، مولانا محمد یوسف محمودی، مولانا رشید احمد، مولانا نثار بیگ، مولانا بشیر احمد عثمانی سمیت متعدد علماء کرام نے شرکت و خطاب کیا۔ کانفرنس میں اڈہ رنگشاہ اور چک سردول میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۴۷)
چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن شپ لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چوتھی سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس آرائیں چوک ٹاؤن شپ لاہور میں ۲۷/ مارچ ۲۰۱۲ء بروز جمعرات بعد از نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت پیر طریقت مولانا خواجہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مفتی کفایت اللہ، مولانا مفتی محمد حسن، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (مسلک اہلحدیث)، مولانا عاشق حسین (مسلک بریلوی)، جناب وحید عالم ایم این اے، سید احسان اللہ وقاص (جماعت اسلامی)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری علیم الدین شاکر، مولانا خواجہ رشید احمد، پیر رضوان نفیس معروف ثناء خواں مولانا محمد عثمان قصوری و دیگر علماء کرام نے شرکت و خطاب فرمایا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/ اپریل ۲۰۱۲ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت
عالمی مجلس ضلع لکی مروت نے ۲۹/ مارچ ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس میں مرکزی اور صوبائی قائدین نے شرکت کی اور بیانات فرمائے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا خواجہ خلیل احمد، حاجی امیر صالح خان، مولانا محمد انور اور مقامی علمائے کرام نے بیانات فرمائے۔ اکابرین ختم نبوت کا تذکرہ، ملکی اسمبلیوں میں قادیانیوں کے خلاف پیش رفت اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت، تقریروں کے اہم موضوعات تھے۔ کانفرنس نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوئی۔ شیخ الحدیث مولانا محمد امین، مولانا سیف اللہ جان، مولانا حسین احمد، مولانا عبدالرحیم (امیر جے یو آئی لکی مروت)، مولانا سمیع اللہ کے دیگر جید علماء کرام، طلباء عظام نے شرکت فرمائی۔ اختتامی دعاء مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۴۳)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ادو
۳۰/ مارچ ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد نماز عشاء بمقام جامع مسجد فاروقیہ المعروف پرانا تبلیغی مرکز میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی سرپرستی جناب صوفی عبدالستار نے کی اور صدارت مولانا محمد اشفاق قاسمی نے کی۔ مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اور مولانا محمد امجد خان تھے۔ ان کے علاوہ مولانا مفتی زین العابدین، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا عبدالخالق و دیگر مقامی علماء کرام نے بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۴۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
خانقاہ دین پور شریف کے سجادہ نشین جناب میاں مسعود احمد دین پوری کے حکم پر ۲؍ اپریل ۲۰۱۲ء کو چک ۴۵-بی رحیم یار خان میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ تقریباً تین ماہ شبانہ روز محنت کی گئی۔ مختلف علاقوں میں علماء کرام معززین علاقہ کے بھر پور کامیاب اجلاس ہوئے۔ علاقائی جلسوں میں بیانات ہوئے۔ سب سے پہلا اجلاس جنوری میں مولانا غلام مدنی کے مدرسہ مدینۃ الاسلامیہ میں ہوا۔ جس میں تیس میل تک تمام علاقائی ائمہ حضرات شریک ہوئے اور پھر یہ سلسلہ چک ۱۱۷-ون. ایل، چک ۱۱۸-ون. ایل، چک ۱۲۱-ون. ایل، چک ۴۵-بی، بستی گل بہار، سبجہ، کوٹ سمابہ، موضع باغ و بہار، میں جاری رہا۔ علاقائی بیداری بڑھنا شروع ہوئی۔ تقریباً پچپن جامع مساجد میں مسلسل جمعہ کے بیانات میں اہل علاقہ کو ختم نبوت کی اہمیت اور جلسہ میں پہنچنے کا وعدہ لیا جاتا رہا۔ اسی دوران بستی فیضو ترڑ موضع گل بہار میں جماعت ختم نبوت کی درخواست پر انتظامیہ نے دوچکوں پر قادیانیوں کو آئین کا پابند بنایا۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے جمعہ کے بیانات میں قادیانیت کے کفر اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کے متعلق آگاہی دی جس کے الحمدللہ! اہل علاقہ کے سادہ لوح مسلمانوں پر بہترین اثرات مرتب ہوئے۔ کانفرنس کے سلسلہ میں آخری اجلاس چک ۴۵-ایل میں واقع ختم نبوت کے مرکز مدرسہ ختم نبوت دارالقرآن میں حافظ مقصود کی زیر صدارت ہوا، جس میں چہار اطراف سے ائمہ حضرات، معززین علاقہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ کمیٹیاں بنائیں گئیں، ڈیوٹیاں تقسیم ہوئیں۔ یکم؍ اپریل چک ۴۵-بی میں کانفرنس کا آغاز ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے اسی (۸۰) شامیانوں پر مشتمل پنڈال باوجود وسعتوں کے تنگی داماں کا سماں پیش کرنے لگا۔ تمام بستیوں سے لوگ بسوں، ٹرالیوں، موٹر سائیکل پر پہنچنا شروع ہوئے۔ جناب میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرپرستی فرماتے ہیں بلکہ سرپرستی کا حق ادا فرماتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مریدین کو مکتوب لکھ کر حکم نامہ جاری کیا کہ جہاں تک ممکن ہو کانفرنس کو کامیاب بنایا جائے اور تمام متعلقین کانفرنس میں شرکت لازمی سمجھیں۔ پنڈال سجا تو اکثریت کی رائے تھی ہم نے ضلع بھر میں اتنی بڑی کانفرنس کبھی نہیں دیکھی۔ کانفرنس کا نظم ونسق جامعہ تفسیریہ شمس العلوم رحیم یار خان کے طلباء نے مولانا خلیل اللہ جنرل سیکرٹری مجلس ختم نبوت رحیم یار خان کی زیر نگرانی مکمل طور پر ذمہ داری کو نبھایا۔
دارالعلوم دیوبند سے بھی زیادہ قدیم ادارہ جامعہ تفسیریہ شمس العلوم کی مکمل سرپرستی الحمدللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہے۔ دو بسیں جامعہ سے کانفرنس میں پہنچیں۔ اسی طرح حضرت درخواستی کی یادگار جامعہ مخزن العلوم خان پور اور شہر خان پور سے احباب نہایت ولولہ کے ساتھ بسوں کی صورت میں جلسہ گاہ پہنچے۔ سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے کر مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، حضرت بنوری، مولانا خواجہ خان محمد تک ہر دور میں اکابرین مجلس ختم نبوت اور جامعہ مخزن العلوم کے اکابر اکٹھے چلے۔ جہاں حضرت درخواستی رہے مریدین کو مجلس ختم نبوت کے ساتھ جوڑتے رہے، وہیں جانشین حضرت درخواستی مولانا فضل الرحمن درخواستی ہمہ تن جماعت کی سرپرستی فرماتے ہیں۔ مدرسہ جامعہ قادریہ رحیم یار خان سے مفتی قاضی شفیق الرحمن کی زیرنگرانی بڑا قافلہ پنڈال پہنچا۔ یہ ادارہ بھی اول دن سے مجلس ختم نبوت کے اکابرین کا میزبان ادارہ ہے۔ الحمدللہ ! آج بھی رحیم یار خان میں قاضی صاحب کی امارت میں مجلس ختم نبوت کا کام عروج پر ہے اور ان کے صاحبزادے قاضی جواد الرحمن صاحب ہی ہر وقت ختم نبوت کے کاز پر فکر مند رہتے ہیں۔ کانفرنس کو ابتدا حافظ مقصود احمد، قاری غلام یسین، معین عباسی، مولانا فضل الرحمن دین پوری، شاعر جمعیت عبدالرحمن ساجد نے سنبھالے رکھا۔ راقم الحروف نے بھی یہ ذمہ داری سرانجام دی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی آج اپنے جوبن پر نظر آئے۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری انہیں اپنے والد سے ملی۔ مولانا رضوان نے ختم نبوت کاز پر بہترین گفتگو فرمائی۔ مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری بھی آج اکابرین کی یادیں تازہ فرمارہے تھے۔ ان کے نورانی کلمات سونے کے بھاؤ تولنے کے لائق تھے۔ مجمع طلب کے ساتھ بیٹھے تو خطیب بھی دل کھول کر علمی ذوق سامعین کو مہیا کرتا ہے۔ حضرت کے بیان کے دوران مجمع سانس لینا بھول گیا۔ جناب عرفان محمود برق لاہور سے تشریف لائے، جب خطاب کے لئے احقر نے دعوت دی تو تا حد نظر سامعین نے فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ گھر کے بھیدی کی حیثیت سے انہوں نے جب قادیانیت کے متعفن لاشے سے غلیظ کیڑے دکھانا شروع کئے تو سامعین مرزائیت پر ............ بے شمار کہنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے اپنی قبولیت اسلام کی کہانی اور بعد ازاں ظلم وستم کی داستان سنائی تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ انہوں نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ اے قادیانیو! جھوٹے مرزے پر لعنت بھیج کر محمد عربی ﷺ کی غلامی میں آ جاؤ۔ اسی میں دنیا اور آخرت کی عزت ہے۔
مولانا اللہ وسایا نے آج تاریخ ساز خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان قادیانی بدنصیبوں کو دیکھو کتنے اونچے نبی امام الانبیاء، مقصود کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو چھوڑ کے مرزا لعین کی غلامی میں آگئے۔ اپنے مفصل خطاب میں انہوں نے بتلایا کہ قادیانیت دم توڑ رہی ہے۔ آئے روز مصدقہ اطلاعات ملتی ہیں کہ فلاں شہر میں اتنے اور فلاں شہر میں اتنے قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ الحمد للہ ! اب تک ہزاروں کی تعداد میں قادیانی مسلمان ہوچکے ہیں۔ آخر میں درگاہ نقشبندیہ، مجددیہ عالیہ کے سجادہ نشین حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے اختتامی کلمات اور دعاء فرمائی۔ حضرت خاکوانی مدظلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کے امیر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا اور گاؤں گاؤں ، بستی بستی بلکہ پوری دنیا میں ختم نبوت کا پیغام پہنچانے پر جماعت ختم نبوت کے اکابرین کو خوب دعائیں دیں۔ آخر میں درگاہ عالیہ دین پور شریف کے سجادہ نشین جناب میاں مسعود احمد دین پوری کی زیر سرپرستی تمام سامعین کی لنگر سے مہمان نوازی کی گئی۔ یقیناً کانفرنس کی کامیابی جناب میاں صاحب کی توجہات اور دعاؤں کی مرہون منت تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۲، ۵۳)
عظیم الشان فقید المثال ختم نبوت کانفرنس لاہور
(مولانا محمد رضوان عزیز) انسانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جذبات کا بحر نا پیدا کنار، ایک خاص لگن اور شوق سے آج مورخہ ۱۲؍اپریل کو جامعہ مدنیہ جدید میں جمع تھا اور جامعہ کی وسیع وعریض زمین باوجود اپنی وسعت کے تنگ دامنی کا گلہ کررہی تھی۔ آج سے کم وبیش ایک صدی قبل سرزمین ہندوستان میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا نہ جانے اس پر کیا خبط سوار تھا کہ امت مسلمہ کے ایسے اجتماعی عقیدہ پر حملہ آور ہوا۔ جسے اسلام کی نظریاتی اور جغرافیائی اساس قطعاً برداشت نہیں کرتی۔ اس مردم خیز زمین سے اسے بھی کچھ سوختہ ایمان کمبخت، حرماں نصیب پیروکار مل گئے۔ اس لئے عربی کا مقولہ ہے۔ ’’لکل ساقطة لاقط‘‘ ہر گری پڑی چیز کوئی نہ کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے۔ ۱۹۰۱ء میں اس کے دعویٰ نبوت سے لے کر ۱۹۷۴ء تک امت مسلمہ کی جہد مسلسل نے اس فتنے کی حقیقت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا اور دنیا کو پتہ چل گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار پردہ سکرین پر ناچنے والی وہ پتلیاں ہیں جن کی ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے ہاتھ انبیاء علیہم السلام کے خون ناحق سے رنگے ہوئے ہیں۔ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے ہزاروں قربانیاں وصول کر لینے کے بعد مرزائیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو یہ محمد عربی ﷺ اور ان کے جانثاروں کی فتح تھی اور قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ مگر مرزائیت اپنے پشت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بائوں کی گود میں پناہ لے چکی تھی اور تا حال پینترے بدل بدل کر عقیدۂ ختم نبوت پر نقب زنی کی کوشش کرتی رہتی ہے جسے محافظان ختم نبوت اپنی شبانہ روز محنت سے ناکام بنا کر حق ایمان و دین ادا کرتے رہتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی روایت ہے کہ وہ ہر سال ملک کے مختلف حصوں میں فقید المثال کانفرنسیں کرتی ہے۔ لاہور میں شاہی مسجد، شالیمار باغ، جامعہ اشرفیہ میں عظیم الشان کانفرنسوں کے انعقاد کے بعد اب جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ لاہور میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی۔
۱۲؍اپریل ۲۰۱۲ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہونے والی یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس درحقیقت امت مسلمہ کے عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اس بڑی کانفرنس کے انعقاد سے پہلے لاہور ڈویژن میں کم و بیش دو صد چھوٹے بڑے پروگرام اور دروس ہوئے جن میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالشکور حقانی، قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا قاری علم الدین شاکر، جناب پیر رضوان نفیس، مولانا عمر حیات، مولانا امجد خان، قاری نذیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا ریاض وٹو اور مولانا عبدالنعیم وغیرہ کی خدمات قابل ذکر ہیں اور اس کانفرنس کی تیاری کے لئے ان مندرجہ بالا حضرات نے تقریباً ایک ماہ قبل سے ہی لاہور، قصور، جمبر، پتوکی، بھائی پھیرو، ننکانہ، شیخوپورہ، کوٹ رادھا کشن، ہنڈال، رتی بھنڈی، رائے ونڈ، شاہدرہ، کاہنہ، سمن آباد، جوہر ٹاؤن وغیرہ میں دن رات ایک کر کے اس بڑی کانفرنس کو کامیاب بنانے کی محنت کی۔ بجا طور پر اس پر خلوص محنت کا ذکر کئے بغیر عصر حاضر کے خدام ختم نبوت کی تاریخ مکمل نہیں ہوگی۔
۱۲؍اپریل ۲۰۱۲ء کو ختم نبوت کانفرنس کا باضابطہ آغاز بعد از نماز مغرب ہوا۔ عوام عصر سے ہی آنے شروع ہو گئے تھے اور کچھ قافلے تھے جو ابھی جانب منزل رواں دواں تھے۔ پہلی نشست پیر رضوان نفیس خلیفہ مجاز مولانا سید نفیس الحسینی شاہ کی صدارت میں ہوئی۔ جامعہ مدنیہ جدید کے طالب علم محمد عبداللہ نے اپنی خوبصورت آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کی اور جناب عمر فاروق صاحب نے حضرت رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ بعد ازاں جناب قاری علیم الدین شاکر ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کا ایمان افروز بیان ہوا۔
دوسری نشست بعد از نماز عشاء انعقاد پذیر ہوئی۔ انسانوں کا تلاطم تھا۔ انسانوں کا ہجوم اور ہنگامہ لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ مگر اتنا بڑا مجمع انتہائی نظم و ضبط اکابرین کی آواز پر لبیک کہنے والے سرفروش اور تحفظ ختم نبوت کے لئے قربانی کی کسی بھی حد تک جانے والوں کا یہ جم غفیر پنڈال میں پہنچا۔ مگر مجال ہے جو ذرا سی بھی بدانتظامی کی شکایت آئی ہو۔ دوسری نشست کی صدارت جامعہ مدنیہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا سید محمود میاں نے فرمائی اور سرپرستی امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے فرمائی۔ مہمان خصوصی میں وہ عظیم ہستیاں تھیں جو ہر محفل میں جان محفل ہوا کرتی ہے۔ پیر و مرشد مفتی محمد حسن، پیر طریقت مولانا سعید الحسن دہلوی، ڈاکٹر محمد اویس، مولانا محب النبی اور مولانا نعیم الدین۔ تلاوت قرآن پاک کا شرف قاری مختار نے حاصل کیا اور جناب رسول کریم ﷺ کی شان میں ہدیہ عقیدت مولانا محمد قاسم گجر، مولانا شاہد عمران عارفی، صوفی عبیداللہ اور جناب سید سلیمان گیلانی نے پیش کیا۔ دوسری نشست میں مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے انتہائی دلنشیں انداز میں مسئلہ ختم نبوت اور تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا اور پھر مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد یوسف خان، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالشکور حقانی، سید محبوب شاہ گیلانی، مفتی محمد شاہد مسعود، مولانا عبدالشکور نقشبندی، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا امجد خان، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی کفایت اللہ اور دیگر حضرات نے خطاب فرمائے۔ سب کے بیانات پر مغز دلنشیں تھے۔ مرزائیت کی حقیقت کو اس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرح شاندار انداز سے واضح کیا کہ اس جعلی فرنگی ساختہ نبوت کے بارے میں عوام کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی۔ بقول اقبال ؎
مولانا اللہ وسایا کے وجد آفرین خطاب نے تو مجمع پر رقت طاری کر دی۔ مولانا اللہ وسایا عمر کے جس حصے میں ہیں وہاں قانون فطرت اپنے جوبن دکھا رہا ہے۔ طبعی عوارض یہ اجازت نہ دیتے تھے کہ عہد گزشتہ کو آواز دے کر وہی حالت شباب کا ساز بجایا جاتا۔ مگر آقاﷺ کی محبت جو رگ و ریشے میں رچی بسی ہے اس نے وہ سب کہلوایا جو وقت کا تقاضا تھا۔ راہروان عشق ومستی کے لئے نشان منزل تھا۔ مولانا نے کیا خوب فرمایا : ”تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا“ ایک عہد تھا جو بیت گیا۔ ایک لمحہ تھا جو گزر گیا۔ کہنے والے حالِ دل کہہ کر رخصت ہوئے۔ سننے والے دردِ دل لے کر روانہ، آقا کی ختم نبوت کا ترانہ گونجا اور صبح قیامت تک اس کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔ جنگ یمامہ کے شہداء سے شہداء لاہور تک ان سرفروشوں نے ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ کوئی مسیلمہ کذاب ہو یا مسیلمہ پنجاب اب اس کے سینگ نہیں سما سکتے:
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۰، ۵۱)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۱۴؍اپریل سے ۲۳؍اپریل ۲۰۱۲ء تک سندھ کا دورہ کیا اور مختلف کانفرنسوں اور اجتماعات سے خطاب کیا۔ ۱۴؍اپریل کو سکھر، ۱۵؍اپریل کو نواب شاہ، ۱۶؍اپریل کو میر پور خاص میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا قاضی احسان احمد، قاری کامران احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا حفیظ الرحمن فیض اور مولانا شبیر احمد کرنالوی کے بیانات ہوئے۔ ۱۷؍اپریل کو کنری ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا احمد علی عباسی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا مختار احمد کے بیانات ہوئے۔ ۱۸؍اپریل کا جمعہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے بخاری مسجد کنری میں پڑھایا۔ اسی روز شام کو مدرسہ خاتم النبیین سنجر چانگ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۹؍اپریل کو مسجد فاروق اعظم حیدرآباد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا ظہور احمد میمن، قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا عبدالسلام، مولانا توصیف احمد کے بیانات ہوئے۔ اس کے بعد ۲۰؍تا ۲۲؍اپریل تک کراچی کا سفر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
۱۴؍اپریل ۲۰۱۲ء بروز پیر مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز عشاء تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت و نظم کے ہدیے حبیب الرحمن، محمد مسعود، عبدالسمیع عباسی اور راشد منگی نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالستار مبلغ لاڑکانہ، مولانا مفتی سعود افضل، مولانا قاری خلیل الرحمن، مولانا تاج محمد چنہ جیکب آباد، مولانا محمد مسعود، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا حبیب الرحمن ضیاء، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت مولانا غلام اللہ ہالیجوی نے فرمائی جب کہ سرپرستی آغا سید محمد شاہ نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۲، ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت سیمینار کھڑڈہ
۱۵؍اپریل ۲۰۱۲ء بروز منگل کو جامعہ عربیہ شمس العلوم کھڑڈہ میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے علماء، طلباء سے خصوصی خطاب کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا تجمل حسین حضرت کے ہمراہ تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس، نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵؍اپریل ۲۰۱۲ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں ایک عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے امیر مولانا انیس مدظلہ نے کی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاری محمد امجد مدنی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز بعد نماز مغرب کیا گیا۔ تلاوت قاری نور احمد نے کی۔ حافظ میر محمد بھٹی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا یاسین بھٹی کا بیان ہوا، پھر مولانا محمود الحسن الحسینی کا بیان ہوا، پھر عشاء کی نماز کا وقفہ ہوا۔ عشاء کے بعد دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری عطاء الرحمن مدنی نے حاصل کی، پھر مفتی حفیظ الرحمن کا بیان ہوا، پھر مولانا حافظ اشفاق احمد نے نظمیں پڑھیں، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا ایمان افروز بیان ہوا، پھر مولانا مفتی عبدالرحیم پٹھان کا بیان ہوا، اس کے بعد مولانا قاری کامران احمد نے بیان کیا، آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان کا بیان ہوا اور مولانا حزب اللہ کھوسو نے اختتامی کلمات کہے اور دعاء کرائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍جون ۲۰۱۲ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے زیر اہتمام ۴۰ویں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷؍اپریل ۲۰۱۲ء بروز جمعرات مدرسہ جامعہ عمر کنری میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد علی صدیقی، تلاوت کی سعادت قاری عبید اللہ نے حاصل کی۔ محترم جناب ڈِنی بخش چاچڑ نے ہدیہ نعت پیش کی۔ مقامی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی اور صاحبزادہ محترم جناب ڈاکٹر سائیں موسیٰ جان کانفرنس میں عمر کوٹ، چھاچھرو، کھوکھراپار، چھور کینٹ، دھورونارو، نیو دمبالو، گولارچی، تھرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ، ڈیپلو، ننگر پارکر، ٹالہی، نبی سر، سامارو جیمس آباد سمیت مختلف علاقوں سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ جو مسلمان تشریف لائے اور جنہوں نے کانفرنس کے لئے محنت کی۔ اللہ رب ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۲ء ص ۲۳)
کاروان ختم نبوت گوجر خان
۱۷؍اپریل کو جامع مسجد امیر حمزہ بڑی جدید میں مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ اسلام آباد نے درس دیا۔ ۱۱؍مئی کو مولانا عزیز الرحمن ثانی نے گوجر خان کا تبلیغی دورہ کیا۔ حضرت بذریعہ ٹرین لاہور سے تشریف لائے۔ کچھ دیر آرام کیا۔ پھر صدر اہل سنت والجماعت گوجر خان قاری فضل کریم کے ہمراہ نواحی قصبہ بوکڑہ تشریف لے گئے۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بیان فرمایا۔ اس عنوان سے منعقد ہونے والا یہ اس علاقہ میں پہلا باقاعدہ پروگرام تھا۔ چنانچہ لوگوں نے بہت توجہ اور انہماک سے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیان سنا۔ عصر کے بعد گوجر خان کے بڑے قصبہ دولتالہ میں مقامی عالم دین مولانا مفتی حسن نواز جنجوعہ کے ترتیب دئے گئے پروگرام میں شرکت کے لئے روانگی ہوئی۔ الحمد اللہ! اس علاقہ میں بھی یہ ختم نبوت کے عنوان سے پہلا پروگرام تھا۔ مفتی حسن نواز جنجوعہ نے تمام مساجد میں اعلانات، ملاقاتیں، علماء کو خصوصی دعوتیں، غرض اس پروگرام کے لئے بہت محنت فرمائی۔ مغرب کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی نے نہایت علمی بیان، جذباتی انداز میں فرمایا۔ یہ دونوں پروگرام گوہر شاہی ملعون کے آبائی علاقہ کے قریب تھے۔ چنانچہ اس فتنہ کی طرف بھی علماء کی توجہ دلائی گئی۔ قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی دعوت بھی دی گئی۔ اس موقع پر حاضرین کی جذباتی کیفیت دیدنی تھی۔ اللہ رب العزت ان تمام پروگراموں کے اہتمام کرنے والے حضرات کی کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۲۹)
چناب نگر و مضافات میں سلسلہ دروس قرآنیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر اور اس کے مضافات کی مختلف مساجد میں مولانا غلام مصطفیٰ کی سرپرستی میں اپریل اور مئی میں ۲۰ روزہ درسِ قرآن کے عنوان سے پروگرام رکھے گئے۔ مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد احمد، مولانا محمد امین، مولانا صغیر احمد، مولانا محمد شاہد، مولانا الیاس الرحمن، مولانا شفیق الرحمن، مولانا محمد عمر ساقی، مولانا محمد وسیم اسلم نے مختلف موضوعات پر بیانات فرمائے۔ بعض علاقہ والوں نے اپنی طرف سے اشتہار چھپوائے اور علاقہ کی مختلف مساجد میں چسپاں کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس یکم مئی ۲۰۱۴ء کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اور دوسرے اجلاس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔ گزشتہ اجلاس کی خواندگی مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کی۔ مرحومین کی مغفرت کی دعاء اور ایصال ثواب کیا گیا۔ دعاء مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کرائی۔ چناب نگر کورس کے سلسلہ میں مبلغین کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے جامعات کے دورے کریں۔ اپنے بیانات میں علماء، طلباء کو چناب نگر کورس میں شرکت کی دعوت دیں۔ کورس کے لئے پچیس سو اشتہار چھپوائے گئے جو مبلغین میں تقسیم کر دیئے گئے۔ عرب ممالک میں قادیانی نشریات کو رکوانے کے لئے مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ خط لکھیں۔ مولانا قاضی احسان احمد کو ہدایت کی گئی کہ وہ جناب ڈاکٹر صاحب سے خط لکھوا کر بھجوائیں۔ جیو اور اے آر وائے سمیت نیوز چینل پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، اصحاب و اہل بیت رضی اللہ عنہم رسول ﷺ پر دکھلائی جانے والی فلموں کی مذمت کی گئی اور گستاخانہ فلموں پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ تمام احباب کو ہدایت کی گئی کہ مجلس کے مستقل دفاتر میں ماہانہ درسوں کا سلسلہ مستقل طور پر جاری رکھیں۔ مجلس کے مطبوعہ لٹریچر کے آخر میں قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ سے متعلق اشتہار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مبلغین حضرات نے اپنے اپنے حلقوں میں بڑی کانفرنسوں کی رپورٹ پیش کی۔ جس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۲۳، ۲۴؍ اکتوبر کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہو گی۔ اس کی تیاری، مقررین سے رابطے شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
عالمی مجلس بنوں کے زیر اہتمام تربیتی پروگراموں کا انعقاد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں کے ضلعی امیر مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی کے زیر سرپرستی مئی میں تین روزہ شعور ختم نبوت کورس جو کہ مسجد و مدرسہ ختم نبوت ہنجل میں منعقد کیا گیا تھا۔ تین روز علمائے کرام نے مختلف موضوعات پر خطاب کئے: (۱) جن میں قادیانیوں اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائیوں کی موجودہ ملک اور اسلام خلاف سرگرمیوں کا نوٹس ۔ (۲) حیات عیسیٰ علیہ السلام ۔ (۳) جھوٹے مدعیان نبوت، قادیانیوں ، مرزائیوں اور عام کافروں کے مابین فرق۔ قادیانی، مرزائی، مرتد اور زندیق ہیں۔ ان کا کفر بہ نسبت دوسرے کافروں سے زیادہ سخت ہے۔ اس لئے شرعی طور سے ان سے سوشل بائیکاٹ ضروری ہے۔ (۴) تعارف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور قائدین ختم نبوت۔ اس شعور ختم نبوت کورس میں بنوں کے خطباء ائمہ کرام اور دینی مدارس کے طلبائے کرام، سکول اور کالجز کے سٹوڈنٹ حضرات نے بھی شرکت کی۔ کورس پڑھانے والوں میں مولانا مفتی شمس الحق حقانی ، مولانا قاری امام یوسف، مولانا مفتی شہید نواز ، حاجی محمد ایاز ، مولانا مفتی حمید اللہ شاہ، مولانا ساجد اللہ، مولانا گوہر علی شاہ، مفتی عرفان اللہ ، مولانا حاجی حمید اللہ، مفتی طارق ، مولانا محمد اکبر اکبری، مولانا قاری محمد عبداللہ سمیت دیگر بااثر شخصیات نے شرکت کی۔ آخر میں مولانا قاری محمد عبداللہ نے قائدین تحریک ختم نبوت کے اوپر ایک رقت انگیز خطاب کیا۔ پھر کورس میں شریک طلبائے کرام کے لئے خصوصی انعامات کا انتظام بھی کیا گیا تھا جو کہ مولانا مفتی حمید اللہ شاہ کے ہاتھوں میں تقسیم ہوا۔ اس کورس میں ایک سو افراد شریک ہوئے ۔ تربیتی کانفرنس کی اختتامی دعاء مولانا قاری محمد عبداللہ نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۳، ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۶؍ مئی ۲۰۱۴ء کو غلہ منڈی جھنگ کے وسیع وعریض گراؤنڈ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا صاحبزادہ محمد امجد خان، مولانا محمد احمد لدھیانوی، جناب لیاقت بلوچ، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے خطاب فرمایا۔ مولانا شاہد عمران عارفی، ملک شہادت علی طاہر جھنگوی برادران نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا غلام حسین ، مولانا سید مصدوق حسین شاہ ، مولانا محمد اقبال شیروانی، شیخ مقبول احمد، مولانا غلام سرور نے کئے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۴ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ژوب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے زیراہتمام ۶؍ مئی ۲۰۱۴ء کو جامع مسجد ژوب میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر الحاج شیخ غلام حیدر خان نے کی۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد یونس کوئٹہ ، مرکزی مسجد کے خطیب مولانا اللہ داد کاکڑ، جماعت اسلامی کے مولانا عبدالحی کے علاوہ مقامی علماء کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اہل ژوب بالخصوص مولانا شمس الدین شہید، حاجی محمد علی، حاجی محمد عمر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۶)
ختم نبوت کانفرنس لورالائی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیراہتمام ۷؍ مئی ۲۰۱۴ء کو لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی مولانا ممتاز احمد کی زیر صدارت منعقدہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مفتی راشد مدنی ، شیخ الحدیث مولانا حافظ فضل محمد ، مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد، صوبائی مبلغ مولانا یونس، خواجہ محمد اشرف اور دیگر مقامی علماء نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس خانوزئی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍مئی ۲۰۱۲ء کو خانوزئی میں منعقدہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مفتی راشد مدنی، مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد، مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالظاہر، صوبائی مبلغ مولانا یونس، مقامی رہنماء حاجی محمد اکبر اور دیگر مقامی علماء نے خطاب کیا۔ علماء نے کہا کہ قادیانی قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے مرزا قادیانی کو اپنا نبی ورسول تسلیم کیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص۶)
سہ روزہ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کھیالی یونٹ، گوجرانوالہ کے زیر اہتمام سہ روزہ ختم نبوت کورس بتاریخ: ۹ تا ۱۱؍مئی ۲۰۱۲ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار بوقت مغرب تا عشاء یونیورسل کالج کھیالی اڈا گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ مرکزی ناظم نشر و اشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن ثانی، پروفیسر متین خالد صاحب لاہور اور مولانا ندیم مرادعلی سندھو کے بیانات ہوئے۔ یونیورسل کالج کے پرنسپل پروفیسر حافظ محمد اویس مشتاق، یونیک اسکول کے پرنسپل پروفیسر منیر علی سندھو، مولانا پروفیسر شعیب محمود، مولانا عرفان، ڈاکٹر عمران رفیق اور ڈاکٹر محمد نواز سجاد نے تینوں دن انتظامات کی ذمہ داری نبھائی اور کورس کو کامیاب کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ سیکورٹی کے انتظامات مولانا طاہر حنیف طاہری اور ان کی ٹیم نے بطریق احسن انجام دیئے۔ اختتامی دعاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کھیالی یونٹ کے جنرل سیکرٹری قاری عبداللطیف قاسمی نے کروائی، جس میں قادیانیوں کے لئے ہدایت، امت مسلمہ کی فتنہ قادیانیت سے حفاظت اور بالخصوص پاکستان کی امن وسلامتی کے لئے دعائے خیر کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۱۲ء ص ۲۲)
معراج مصطفیٰ کانفرنس باندھی
۱۲؍مئی ۲۰۱۲ء بروز پیر بعد نماز عشاء حسینی چوک میں معراج مصطفیٰ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے قاری کامران احمد، مولانا عبدالجبار حیدری، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو سمیت دیگر علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالرحیم مینگل نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد انور نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۲ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۱۹؍مئی ۲۰۱۲ء بروز سوموار دن ایک بجے سے شروع ہو کر رات ۱۰ بجے تک جاری رہی۔ پہلی نشست بعد از نماز ظہر زیر صدارت مولانا عبدالغفور، تلاوت زینت القراء جناب قاری محمد عمار سے افتتاح ہوا۔ نعت رسول مقبول محمد ادریس آصف نے پیش کی۔ بیانات مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ اسلام آباد، مولانا زاہد وسیم مبلغ راولپنڈی، مولانا ثاقب الحسینی امیر عالمی مجلس ضلع اٹک، مولانا قاضی عبدالرشید ناظم پنجاب وفاق المدارس نے فرمایا۔ دوسری نشست بعد نماز عصر استاذ القراء قاری الٰہی بخش کی تلاوت کلام سے شروع ہوئی۔ نعتیہ کلام ناصر محمود ناصر میلسی، مطیع الرحمان نفیس واہ کینٹ نے پیش کی۔ بیانات مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر مجلس صوبہ سرحد، مولانا اسامہ رضوان سرگودھا، حافظ عبدالعظیم نے خطاب کیا۔ تیسری نشست بعد نماز مغرب زیر صدارت صاحبزادہ نجیب احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں نے فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا عزیز الرحمن ہزاروی تھے۔ نعتیہ کلام محمد امین برادران سرگودھا، اطہر ہاشمی سرحدی نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیش کی۔ بیانات مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد رضوان، مولانا محمد عمر راجن پوری ملتانی، مولانا عبدالغفور حیدری نے خطاب فرمایا اور ساتھ ہی جامعہ عربیہ سراج المدارس کے درجہ تحفیظ کے ۵۴ طلباء کرام کی دستار بندی اور درجہ کتب کے بائیس طلباء کرام کو گرانقدر کتب کا انعام دیا گیا۔ آخر میں مولانا عبدالغفور کی دعائے خیر پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا خطیب الرحمن قریشی، مولانا صاحبزادہ محمد زکریا نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۳)
تحفظ ختم نبوت سیمینار، بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے زیر اہتمام ۲۸؍ مئی ۲۰۱۴ء بروز بدھ بعد نماز مغرب پریس کلب بدین میں ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ بدین کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام، معزز شخصیات، اسکول، کالج اور دینی مدارس کے طلباء، عوام الناس اور صحافی حضرات نے شرکت کی۔ پریس کلب کا ہال دیکھتے ہی دیکھتے بھر گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کا نعروں سے استقبال کیا گیا۔ ضلع بدین کے مبلغ مولانا مختار احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک سے سیمینار کا آغاز ہوا، مولانا فضل اللہ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا صفدر صدیقی نے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ پاکستان پر بیان کیا، آخر میں مولانا قاضی احسان احمد کا ’’عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت‘‘ پر تفصیلی خطاب ہوا۔ مولانا نے کہا کہ ہر آدمی کو اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اس سیمینار میں مولانا عبدالغفار جمالی، حافظ عبدالحمید، مولانا محمد عاشق، مولانا محمد اسماعیل، مفتی عبدالغنی نے بھی شرکت کی۔ آخر میں تحفظ ختم نبوت لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ دریں اثنا ۲۹؍ مئی ۲۰۱۴ء بروز جمعرات بعد نماز فجر بسم اللہ مسجد اتفاق کالونی بدین میں مولانا قاضی احسان احمد کا درس ہوا۔ بعد نماز ظہر شادی لارج میں عقیدۂ ختم نبوت پر بیان ہوا، اسی طرح عشاء کے بعد مدینہ مسجد جھڈو میں بھی مولانا قاضی صاحب کا خطاب ہوا۔ ۳۰؍ جون بروز جمعہ جامع مسجد فضل بھنبرو میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور شام کو جامع مسجد ختم نبوت ٹالہی سے کنری کے پروگرام کے لئے روانہ ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۱۴ء ص ۱۷)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ ترتیل القرآن قصور میں ۲۸؍ مئی ۲۰۱۴ء کو بعد نماز عشاء سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حاضرین کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ کانفرنس میں دو خوش نصیب طلباء نے حفظ قرآن کریم کی سعادت اور آخری سبق سنانے کا شرف حاصل کیا۔ مولانا عثمان قصوری نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا اللہ وسایا کا تفصیلی بیان ہوا۔ قاری حبیب اللہ قادری نے تلاوت اور مولانا مفتی محمد حسن صاحب نے دعاء کرائی۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ ختم نبوت نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۴ء ص ۲۳)
عشق مصطفیٰ کانفرنس پتوکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۱؍ مئی ۲۰۱۴ء کو ویرم میں بعد نماز عشاء عشق مصطفیٰ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مولانا تاج محمود ریحان، مولانا اسماعیل قمر، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرزاق مجاہد کے بیانات ہوئے۔ علاقہ کی معروف شخصیت مولانا ہارون الرشید رشیدی صاحب نے صدارت فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس میں علاقہ کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سمیت ہر طبقہ کے مسلمانوں نے بھرپور شرکت کی۔ مولانا عبداللہ قاسم پھول نگر والوں کی دعاء سے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍جولائی ۲۰۱۴ء ص ۲۲)
۲۱ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی روئیداد
حسب سابق اس سال بھی وفاق المدارس کے سالانہ امتحان کے ختم ہوتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر میں شرکت کے لئے رفقاء آنا شروع ہو گئے۔ ۳۰؍ مئی جمعہ کو بھی آتے رہے۔ حسب روایت ۳۱؍ مئی بروز ہفتہ ۲۰۱۴ء کو صبح پونے آٹھ بجے کلاس کے آغاز کے لئے گھنٹی لگائی گئی۔ ایک سو پچیس شرکاء سے کلاس کا افتتاح ہوا۔ تلاوت کے بعد حاضری ہوئی اس کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ جامعہ اشرفیہ مانکوٹ کے مہتمم مولانا صاحبزادہ محمد احمد صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔ آپ کی دعاء سے کلاس کا آغاز ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے سرپرست اور روح رواں پیر طریقت مولانا سیّد فاروق ناصر شاہ صاحب نے افتتاحی بیان فرمایا ، مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے مدرس مولانا محمد شاہد صاحب نے پہلا سبق پڑھایا۔ مولانا غلام رسول دین پوری ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکوی ، مولانا محمد احمد مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت نے اسباق پڑھانا شروع کئے۔ پہلا ہفتہ یعنی ہفتہ سے جمعرات تک ردعیسائیت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے موضوعات پر اسباق ہوئے اور قادیانی شبہات کے جوابات حصہ دوم پڑھائی گئی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد اقبال مبلغ ڈیرہ غازی خان ، مولانا محمد احمد اور مدرسہ کے درجہ ثانیہ کے دو طالب علم جناب سید امیر ، جناب صدام حسین نے داخلہ کے نظم کو چلایا۔ الحمدللہ! کہ ابتدائی چند دنوں میں ۲۸۷ دوصد ستاسی اسکولز و کالجز کے طلباء ، مدارس عربیہ کے اساتذہ و فضلاء اور مفتیان اور طلباء نے کورس میں داخلہ لیا۔ جمعرات شام کو جامعہ خیر المدارس ملتان کے شعبہ تخصص ، دعوت و ارشاد کے نگراں مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی صاحب تشریف لائے اور آپ نے بائبل سے آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں پر مشتمل اسباق پڑھائے۔
۳۱؍ مئی سے ۵؍ جون تک دوران ہفتہ جو پڑھایا گیا اس کا ۶؍ جون ہفتہ کے دن امتحان ہوا۔ ۶؍ جون کی شام بعد از ظہر سے دوسرے ہفتہ کی تعلیم شروع ہوئی۔ اس ہفتہ میں کتاب قادیانی شبہات کے جوابات حصہ اوّل کی جوختم نبوت کے مباحث پر مشتمل ہے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا غلام رسول دین پوری نے تعلیم دی۔ اس دوران میں مولانا محمد الیاس گھمن ، مولانا مفتی خالد محمود (ناظم اعلیٰ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ پاکستان) بھی تشریف لائے اور ایک ایک سبق پڑھایا۔ مولانا مفتی خالد محمود کے ہمراہ ہمارے مخدوم زادہ مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان شہید نے بھی تشریف آوری سے ممنون و احسان فرمایا۔
حسب سابق اس دوسرے ہفتہ کی تعلیم کا امتحان ۱۳؍ جون جمعہ کے روز قبل از جمعہ ہوا اور اسی دن ہی عصر کے قریب جامعۃ الرشید کراچی سے مولانا مفتی ابولبابہ اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے۔ جمعہ عصر سے ہفتہ عصر تک انہوں نے تمام کلاس کو مختلف حصوں میں گروپس بنا کر اپنے رفقاء سمیت قرآنی عربی کورس پڑھایا ، تمام شرکاء نے بھرپور فائدہ حاصل کیا اور خوب رونق رہی۔ ۱۵؍ جون کو مولانا محمد رضوان عزیز نے خطباء کورس اور ۱۵ ، ۱۶؍ جون کو مولانا عبداللہ معتصم نے جغرافیہ کورس پر لیکچرز دیئے۔
۱۶؍ جون سے ۲۲؍ جون تک آخری ہفتہ کے اسباق مولانا غلام رسول دین پوری ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد قاسم رحمانی اور دیگر حضرات نے پڑھائے۔ اس ہفتہ میں قادیانی شبہات کے حصہ سوم جو کذب مرزا کے مباحث پر مشتمل ہے پڑھائی گئی اور ۲۲؍ جون کو کورس کا آخری امتحان ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس ہفتہ میں جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ لاہور کے استاذ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور، مولانا قاری عبدالواحد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین بھی اپنے رفقاء، مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد، مولانا مفتی محمد ظفر اقبال، مولانا قاری محمد زاہد اقبال چیچہ وطنی، جناب خالد متین صاحب لاہور، جناب خالد مسعود صاحب ایڈووکیٹ تلہ گنگ، روزنامہ اسلام کے بچوں کے صفحہ کے ایڈیٹر الحاج محمد اشتیاق بھی تشریف لائے اور ان حضرات کے بیانات ہوئے۔ اس سال خصوصیت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خیبر پختونخوا کے سربراہ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی بھی تشریف لائے، آپ نے اتوار کے روز ظہر سے عصر تک سبق پڑھایا۔ اتوار کے روز ۲۲/ جون بعد از عشاء آخری بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما اور مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا ہوا اور یوں آپ کے آخری سبق پڑھانے پر ۳۱/ مئی سے شروع ہوکر ۲۲/ جون کی شام سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی تعلیم بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
۲۳/ جون کو صبح آٹھ بجے کورس کی آخری تقریب تھی جس میں شرکاء حضرات کو اسناد اور کتب اور انعامات دینے تھے۔ چنانچہ صبح آٹھ بجے اس تقریب کا آغاز ہوا۔ تلاوت کے بعد مولانا قاضی احسان احمد نے کورس کی غرض وغایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور مہمانان گرامی کی تشریف آوری پر خیر مقدمی کلمات کہے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کامیاب ہونے والے شرکاء حضرات کے نام پکارنے شروع کئے، چنانچہ رول نمبر نام اور ضلع کی صراحت کے ساتھ اعلانات ہوتے رہے اور شرکاء مہمانان گرامی کے ہاتھوں انعامی کتب حاصل کرتے رہے۔ مولانا غلام رسول دین پوری صاحب نام بنام سند دیتے۔ مولانا قاضی احسان احمد وہ سند حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی خدمت میں پیش کرتے، امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی صدر اجلاس وامیر مرکزیہ دامت برکاتہم اپنے مبارک ہاتھوں سے وہ سند صاحبزادہ مولانا خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کو عنایت فرماتے اور آپ سے شرکاء وہ سند وصول کرتے۔ اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے احتساب قادیانیت ج: ۳۲، ۵۳، ۵۴، ۵۵ شرکاء حضرات کو دی گئیں، جناب پیر کفایت اللہ صاحب بودلہ کی طرف سے تحریر کردہ کتاب ”ختم نبوت قرآن مجید کی روشنی میں“ اور جناب عتیق انور کی لاہور سے شائع کردہ کتاب جو پیر طریقت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق نائب امیر حضرت سیّد نفیس الحسینی کا مجموعہ کلام ہے جس کا نام ”برگ گل“ ہے یہ کتب دی گئیں۔ اس طرح آخری مرحلہ پر الحاج محمد جمیل صاحب گجرات والوں کی جانب سے ”فیصلہ کن مناظرے“ اور ”ایک ہفتہ حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں“ بھی شرکاء کو سیٹ کی شکل میں دی گئیں۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کے معروف نشریات کتب کے ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان کے جناب حافظ محمد اسحاق صاحب ملتانی کی جانب سے چودہ کارٹن کتابوں کے شرکاء کورس میں انعامی کتب کے سیٹ کے ساتھ پیش کئے گئے۔ گویا کم وبیش دس، دس کتب کا ایک ایک سیٹ شریک کورس کی خدمت میں پیش کی گئیں۔ پشاور سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور جناب محترم عنایت اللہ، جناب صاحبزادہ نصیر الدین پوپلزئی، راولپنڈی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا قاضی ہارون الرشید، تلہ گنگ سے جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جناب قاضی فیض احمد، گجرات سے جناب حاجی اللہ رکھا صاحب، الحاج محمد جمیل، منڈی بہاؤالدین سے مولانا محمد قاسم، لاہور سے جناب پیر طریقت رضوان نفیس، مولانا خالد محمود، قاری ظہور الحق، مولانا سعید وقار، جناب منصور احمد، نعیم صاحب، فیصل آباد سے پیر طریقت سیّد فاروق ناصر شاہ صاحب، روزنامہ اسلام کے نمائندہ مولانا ذکر اللہ الحسینی، مولانا غازی عبدالرشید، چنیوٹ سے مولانا سیف اللہ خالد، قاری عبدالحمید صاحب، الحاج محمد علی، مولانا محمد رضوان صاحب، ملک خلیل احمد، مولانا محمد عارف، سرگودھا سے مولانا قاری عبدالرحمن ضیاء، مولانا محمد عابد، جھنگ سے مولانا سیّد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مصدوق حسین شاہ، الحاج مقبول احمد، مولانا غلام حسین، چنیوٹ سے قاری محمد افضل، مولانا منیر احمد، حاجی شہادت علی، قاری خوشی محمد، قاری محمد نثار، سیالکوٹ سے مولانا فقیر اللہ اختر، ملتان سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد انس، بہاولنگر سے مولانا محمد قاسم رحمانی اور دیگر مہمانانِ گرامی ذی وقار کے ہاتھوں شرکاء کورس نے اسناد اور کتب کے انعامات وصول کئے۔
اس سال بھی حسب سابق تمام شرکاء کورس کے لئے تقریروں کی بھی تربیت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چنانچہ ابتدائی دنوں سے تقریر شروع کرا دی گئی تھیں۔ امسال بھی دس دس شرکاء حضرات پر مشتمل گروپ بنائے گئے جو دن بھر پڑھتے تھے رات کو دن بھر کے اسباق کا خلاصہ بیان کر دیتے تھے۔ ابتداء میں یہ نظم مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا عزیز الرحمن ثانی کی زیرنگرانی چلتا رہا۔ آخری عشرہ میں مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی بھی اس نظم میں شریک کار رہے۔ تمام گروپس کے ایک ایک ساتھی کا انتخاب ہو کر کل انتیس حضرات تقریری مقابلہ کے لئے مستحق قرار پائے۔ چنانچہ ان حضرات کا تقریری مقابلہ ہوا، ان میں: رول نمبر ۲۴۶: جناب صفوان محمد بن غلام محمد یمن خیر پور میرس (اوّل)، رول نمبر ۲۱۵: جناب محمد سلمان بن فضل الرحمن پشاور (دوم)، رول نمبر ۷۶: حافظ محمد بلال بن نذیر احمد شیخوپورہ (سوم) آئے۔ جنہیں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور، پیر سید صفدر حسین اور جناب قاضی فیض احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے انعامات دیئے۔ اس طرح کورس کی تعلیم مکمل حاصل کرنے اور تینوں امتحانات میں مجموعی طور پر پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب یہ تھے: رول نمبر ۴: جناب حافظ عتیق الرحمن بن سیف الرحمن لانگ لودھراں نے (اوّل)، رول نمبر ۲۱: جناب محمد نصیر بن عبدالرشید راولپنڈی (دوم)، رول نمبر ۲۱۲: حیدر علی اطرافی بن گل الرحمن اطرافی پشاور (سوم) پوزیشن حاصل کی۔ یوں ”مین آف دی کورس“ جناب حافظ عتیق الرحمن صاحب قرار پائے، امتحان میں پوزیشن ہولڈرز حضرات کو انعامات مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اپنے دست شفقت سے عنایت فرمائے۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے حکم پر مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے اختتامی دعاء کرائی۔
مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا صغیر احمد، قاری محمد رمضان، قاری عبید الرحمن، مولانا محمد عمر ساقی، مولانا محمد ابوبکر، جناب محمد یاسین، قاری محمد اصغر اور دیگر اساتذہ حضرات نے مہمانوں کو کھانا کھلایا۔ امسال بھی کورس کے دوران کھانے کی نگرانی مولانا محمد اسحاق ساقی اور مولانا صغیر احمد نے کی۔ موجود اساتذہ کرام نے پرچوں کے نمبر لگائے۔ نتائج کی ترتیب اور اسناد کی تیاری مولانا غلام رسول دین پوری کی زیر قیادت جناب شیر زمان اور جناب ساجد صاحب نے کی۔ آخری دو روز مکتبہ کا کام مولانا عبدالرشید غازی کی زیر نگرانی انجام پایا۔ مولانا محمد عمر ساقی اور دوسرے رفقاء آپ کے معاون رہے۔ یوں بخیر و خوبی یہ پروگرام تکمیل کو پہنچا۔ فالحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۳ تا ۶)
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
کورس میں جن حضرات نے شرکت کی ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 حبیب اللہ عامیل خان ٹانک 2 عبدالباسط عبدالروف خارج شد 3 محمد وقاص منیر احمد اختر خارج شد 4 عتیق الرحمان سیف الرحمان لودھراں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
5 محمد ظفر اللہ نواب خان خارج شد 6 محمد علی احمد علی چنیوٹ 7 سیف الرحمان حاجی احمد شیر چنیوٹ 8 عمر فاروق غلام محمد چنیوٹ 9 عتیق الرحمان عبید الرحمان چنیوٹ 10 محمد تسکین محمد اختر رحیم یار خان 11 عبدالوحید حاجی محمد اسلم چنیوٹ 12 محمد طلحہ حضور بخش مظفر گڑھ 13 محمد یوسف محمد حیات چنیوٹ 14 محمد ساجد محمد ابراہیم رحیم یار خان 15 عبدالرحیم شیر محمد چنیوٹ 16 محمد اسحاق حاجی غلام رسول مظفر گڑھ 17 محمود احمد قاری عبدالرشید اوکاڑہ 18 محمد مزمل محمد خورشید قصور 19 صدیق اکبر حاجی عبدالواحد خارج شد 20 محمد صفدر غلام حسین مرحوم سرگودھا 21 محمد نصیر عبدالرشید راولپنڈی 22 شیخ ریحان شیخ نذر حسین راولپنڈی 23 محمد داؤد عادل عطی الرحمان میانوالی 24 ابوبکر علی عبدالقیوم میانوالی 25 محمود زبیر زبیر احمد خانیوال 26 حمید اللہ محمد عامر خانیوال 27 محمد رضوان حق دار ڈی آئی خان 28 عبدالوحید محمد حنیف ڈی آئی خان 29 سلیم نواز اللہ نواز ڈی آئی خان 30 محمد علی غلام حسن ڈی آئی خان 31 شیر زمان خان فراز ٹانک 32 فضل حق محمد امین وزیرستان 33 عبدالرحمان باز گل خان وزیرستان 34 اللہ داد محمد یاسین خانیوال 35 محمد ریحان نقی محمد نقی خان مونوچھ 36 محمد سرفراز حاجی شیر محمد چنیوٹ 37 حبیب بادشاہ خان بادشاہ نوشہرہ 38 طارق احمد نصیر بادشاہ نوشہرہ 39 کامران خان فضل محمد نوشہرہ 40 حافظ محمد حارث فضل رازق نوشہرہ 41 محمد عزیز فضل رازق نوشہرہ 42 محمد خلیل اللہ حاجی ظالف وزیرستان 43 عبدالغفار محمد عبداللہ خارج شد 44 شمس الحق غلام محمد مظفر گڑھ 45 محمد یونس الحسن ایوب خان کرک 46 واجد علی ہاشمی محمد یوسف ہاشمی چنیوٹ 47 عبداللہ عبدالغفور قصور 48 فرید الحق حبیب الحق دیر 49 محمد شیراز مسعود شاہ کوہاٹ 50 اکرام اللہ خان مست کوہاٹ 51 سید عمر فاروق سید محمد داؤد شاہ ہنگو 52 عبدالحفیظ فیض محمد نواب شاہ 53 امجد حسین زاہد حسین نواب شاہ 54 احتشام الدین مقبول احمد فیصل آباد 55 سفیان احمد مقبول احمد فیصل آباد 56 الہداد کچپانی عبدالرزاق نواب شاہ 57 محمد عمران پھل عبدالکریم پھل نوشہرو فیروز 58 عبدالرحمان رند عبداللہ رند نوشہرو فیروز 59 ثناء اللہ رند عبداللہ رند نوشہرو فیروز 60 فداء الرحمن گنجائی عبدالجبار گنجائی نواب شاہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ۴۴۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
61 عتیق الرحمن مدنی مولانا محمد سعید نواب شاہ 62 نذیر احمد لال محمد نوشہرو فیروز 63 صاحب الدین محمد صادق پھل نوشہرو فیروز 64 عبدالجبار پھل محمد ثمن پھل نوشہرو فیروز 65 واجد علی فضل محمد راولپنڈی 66 محمد اکرم محمد اشرف سرگودھا 67 محمد عبداللہ عبدالرشید خوشاب 68 محمد آصف عبدالغفار میانوالی 69 محمد یاسین خان عبداللہ خان لکی مروت 70 محمد یعقوب بشیر احمد ملتان 71 عمر فاروق محمد یعقوب راولپنڈی 72 محمد عثمان غنی محمد یعقوب راولپنڈی 73 محمد ضیاء اللہ محمد خان شیخوپورہ 74 سید نجیب احمد شاہ سید احمد شاہ جھنگ 75 محمد عباس محمد صالح مردان 76 حافظ محمد بلال نذیر احمد شیخوپورہ 77 رستم نواز زیور خان کرک 78 محمد نفیس عبدالرشید شیخوپورہ 79 احسان اللہ محمد یاسین بہاول نگر 80 اکرام اللہ غلام حیدر بہاول نگر 81 ضیاء الحق محمد علی خان خارج شد 82 زین العابدین عبدالمتین خارج شد 83 فرہاد علی سلیم داد صوابی 84 احمد زیب انور زیب صوابی 85 محمد آصف خدا بخش مظفرگڑھ 86 محمد عمران غلام یاسین مظفرگڑھ 87 محمد شہزاد محمد رفیق مظفرگڑھ 88 محمد اقبال اللہ بچایا مظفرگڑھ 89 محمد بلال الیاس محمد الیاس مظفرگڑھ 90 محمد بلال محمد الیاس مظفرگڑھ 91 رئیس ریاض ریاض احمد مظفرگڑھ 92 محمد عنایت اللہ عبدالحی مظفرگڑھ 93 عبدالماجد عبداللطیف مظفرگڑھ 94 سید عبدالرحمن سید محمد ابوبکر شاہ بہاول پور 95 محمد اعظم طارق حاجی غلام رسول بہاول پور 96 محمد فرہاد محمد نصیب بہاول پور 97 محمد اسماعیل عبدالرحمان بہاول پور 98 محمد ایوب محمد نفیس بہاول پور 99 محمد ساجد حاجی شیر احمد بہاول پور 100 محمد راشد محمد اختر بہاول پور 101 سید انعام الحسن مظہر حسین لودھراں 102 محمد جمیل نذر حسین بہاول پور 103 محمد اکبر اللہ وسایا لودھراں 104 محمد عمران رانا انتظار احمد لودھراں 105 محمد وسیم عبدالغفور بہاول پور 106 محمد ہاشم عبداللہ بہاول پور 107 محمد نعیم شفیقی محمد ابراہیم لودھراں 108 محمد احمد سعادت علی راجن پور 109 جنید اقبال فیروز خان خارج شد 110 حامد اقبال محمد یسین صوابی 111 محمد آصف محمد شریف قصور 112 محمد عمران محمد اسماعیل بہاول پور 113 محمد ساجد رمضان محمد رمضان خارج شد 114 عمر فاروق مولانا بشیر احمد چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
115 محمد عمیر طیب حافظ طیب بہاول پور 116 حافظ محمد یوسف محمد عبداللہ خارج شد 117 حافظ محمد عرفان محمد اقبال بہاول پور 118 محمد موسیٰ خان محمد نذر خان بہاول پور 119 محمد رفیع الدین شاہد محمود بہاول پور 120 محمد زبیر رفیق حافظ محمد رفیق بہاول پور 121 محمد ضیاء الرحمان حافظ حبیب احمد بہاول پور 122 محمد اعجاز محمد خان بہاول نگر 123 سجاد احمد کاغانی عبدالرحمان مانسہرہ 124 محمد راشد محمد اکبر مانسہرہ 125 محمد حبیب اللہ حاجی غلام قادر رحیم یار خان 126 محمد رضوان محمد ممتاز وہاڑی 127 ثناء اللہ محمد عارف نیاز منڈی بہاؤالدین 128 محمد وقاص ملک تاج دین فیصل آباد 129 سمیع اللہ سوال محمد بٹ گرام 130 محمد اسماعیل طور خان فیصل آباد 131 محمد عامر معاویہ عبدالنور اوکاڑہ 132 عمر حیات موج خان لاہور 133 عبدالقیوم محمد سلیم خارج شد 134 محمد طارق حق نواز خارج شد 135 قمر الزمان نثار احمد خارج شد 136 اعجاز احمد مقبول احمد خارج شد 137 حق نواز محمد نذیر احمد غفاری چنیوٹ 138 محمد ابوبکر قاری عبدالرؤف ٹوبہ ٹیک سنگھ 139 محمد رضوان محمد سلیمان شیخوپورہ 140 احمد الدین سعید احمد خیر پور میرس 141 ساجد احمد مہر محمد سہتو نوشہرو فیروز 142 محمد حنیف حافظ محمد قاسم نوشہرو فیروز 143 محمد بلال عید محمد نواب شاہ 144 کلیم اللہ محمد حنیف پنہور نواب شاہ 145 عبدالفتاح عبدالستار نوشہرو فیروز 146 محمد عارف احمد الدین شکار پور 147 مجاہد غلام مصطفیٰ حاجی صدورو خیر پور میرس 148 معظم علی افتخار علی بینظیر آباد 149 ثناء اللہ محمد صدیق بینظیر آباد 150 محمد طاہر عبداللہ بینظیر آباد 151 اعجاز احمد اللہ رکھا نواب شاہ 152 سجاد علی غلام عباس نوشہرو فیروز 153 حبیب الرحمان عبدالشکور فیصل آباد 154 عبدالرؤف محمد نواز بہاول پور 155 امیر حمزہ خان الطاف حسین لیہ 156 ارسلان وحید عبدالوحید لاہور 157 محمد سلمان شفقت اللہ لکی مروت 158 فضل الرحمان مولوی ظہور الحق مظفر گڑھ 159 محمد سلمان محمد اکرم گوجرانوالہ 160 ذیشان قمر محمد قمر خارج شد 161 لئیق احمد محمد گستاسب ایبٹ آباد 162 محمد ابوبکر صدیق حافظ منیر احمد اوکاڑہ 163 شاہد نواز ظہور احمد اوکاڑہ 164 محمد عبداللہ خلیل احمد بہاول پور 165 عبدالرحیم عبدالمنان قلعہ سیف اللہ 166 زبیر احمد وزیر احمد شکار پور 167 عبدالرؤف محمد حنیف گھوٹکی 168 محمد ارشاد گلزار احمد میر پور خاص 169 محمد نوید بشیر احمد میر پور خاص 170 صدام حسین محمد یامین میر پور خاص
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
171 سید جواد احمد سید شاہ محمد شاہ کراچی 172 محمد عثمان امتیاز احمد کراچی 173 حماد اللہ اعوان عبد الرشید اعوان کراچی 174 عبدالوہاب محمد وہاب سوات 175 ظفر احمد عبداللہ خان نوشکی 176 محمد اقبال محمد یوسف کوہاٹ 177 بشیر اللہ مومن شاہ صوابی 178 ذاکر اللہ نیاز گل اٹک 179 طاہر علی حقانی کلا دین صوابی 180 ریاض الرحمان لطیف الرحمان کراچی 181 طاہر محمد اسرائیل خان کراچی 182 عثمان غنی علی الرحمان کراچی 183 محمد افتخار محمد سلیم کراچی 184 راجہ حمید آفریدی حمید اللہ خان کراچی 185 محمد اسحاق رحیم بخش کراچی 186 عطاء الرحمان شوکت علی خان کراچی 187 محمد عابد محمد علی خان کراچی 188 رحمت علی گل زادہ کراچی 189 صدام حسین شہزاد میر کراچی 190 محمد اشفاق مشتاق احمد کراچی 191 دانش منظور منظور احمد کراچی 192 محمد بلال خیال زادہ کراچی 193 جمیل احمد شاہ شاہ محمد شاہ کراچی 194 ریاض محمد عبد المناف سری لنکا 195 محمد محمد حسین سری لنکا 196 عبداللہ محمد حسین سری لنکا 197 عتیق اللہ سراج الدین شانگلہ 198 محمد شریف تل خان لسبیلہ 199 حبیب اللہ محمد موسیٰ خان آوران 200 محمد اجمل خان مفتی صاحب کراچی 201 عبید الرحمان عبدالرحمان کراچی 202 سید محمد اظہر سید مظفر حسین کراچی 203 عبداللہ غازی بھگو کراچی 204 محمد طلحہ شہاب الدین لاہور 205 محمد اقبال محمد رفیق خانیوال 206 محمد افضل رحیم بخش بہاول پور 207 محمد شاہد اللہ سرعلی خان بنوں 208 محمد زاہد اقبال محمد رمضان سیالکوٹ 209 محمد سمیع اللہ محمد اشرف خارج شد 210 محمد غلام فرید محمد اسلم سیالکوٹ 211 سعید احمد نذیر حسین خارج شد 212 حیدر علی اطراقی گل رحمن اطراقی پشاور 213 شاہ خالد عبد الوحید شاہ پشاور 214 محمد سلمان محمد نصیر الدین پشاور 215 محمد سلمان فضل الرحمان پشاور 216 ہارون الرشید محمد ابراہیم پشاور 217 مفتی محمد دین ولایت شاہ پشاور 218 انیس الرحمان شفیق الرحمان پشاور 219 زین العابدین محمد زبیر خان پشاور 220 توقیر الحسن عبدالکریم بہاول پور 221 محمد شہزاد بشیر احمد خانیوال 222 عبدالاحد عبدالکریم ملتان 223 محمد عتیق الرحمان حافظ محمد انوار بہاول پور 224 حافظ عثمان حافظ محمد زاہد بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
225 سعید احمد محمد اسلم چنیوٹ 226 محمد وقاص مولانا غلام نبی بہاول پور 227 محمد ثناء اللہ مطیع اللہ بہاول پور 228 محمد سرفراز محمد نواز بہاول پور 229 محمد عثمان مولانا محمد یار بہاول پور 230 محمد طلحہ زبیر محمد رفیق بہاول پور 231 محمد اشتیاق غلام قادر بہاول پور 232 عبدالرشید عبدالرحمان بہاول پور 233 عمر فاروق انعام الٰہی چنیوٹ 234 محمد عبداللہ محمد عنایت اللہ کراچی 235 محمد اظہر نوردین نوردین کراچی 236 عبدالرقیب غلام مصطفیٰ ٹوبہ ٹیک سنگھ 237 محمد وسیم عبداللہ محمد عبداللہ چنیوٹ 238 محمد ساجد نواز محمد رفیق وہاڑی 239 محمد ابوبکر مولانا محمد اسلم لیہ 240 محمد اعجاز حضور بخش رحیم یار خان 241 محمد فیصل محمد ادریس رحیم یار خان 242 محمد عمر معاویہ حاجی گامن رحیم یار خان 243 ظہور احمد محمد عبداللہ رحیم یار خان 244 محمد طفیل عنایت اللہ صوابی 245 محمد طارق اقبال قاری محمد اقبال مظفر گڑھ 246 صفوان محمد غلام محمد میمن خیر پور میرس 247 گل محمد حافظ غلام حسین شکار پور 248 منصور اللہ خان محمد رئیس خان خارج شد 249 نورانی گل میر شاہ ولی خان خارج شد 250 محمد صدیق سجاد عبدالمجید خارج شد 251 محمد عمران محمد اسماعیل لاہور 252 عبدالواجد محمد ایوب پشین 253 محمد عاصم اسلم محمد اسلم ٹوبہ ٹیک سنگھ 254 عقیل الرحمان محمد ابراہیم خارج شد 255 محمد جمشید حسن خان اسلام آباد 256 نعمان محمد غلام محمد خارج شد 257 عبداللہ الٰہی بخش خارج شد 258 سہیل احمد احمد بخش گھوٹکی 259 محمد سلیم عطاء محمد بہاول پور 260 محمد نعیم عبدالمجید لودھراں 261 محمد قاسم محمد اسماعیل خارج شد 262 محمد سہیل لیاقت علی قصور 263 محمد ریاض محمد مشتاق قصور 264 فیضان رسول غلام رسول حافظ آباد 265 زین العابدین محمد داؤد قصور 266 جنید احمد احمد دین قصور 267 محمد عادل محمد رفیق قصور 268 محمد رضوان محمد اسلم قصور 269 جنید اشرف محمد اشرف چکوال 270 محمد احمد مختار احمد خارج شد 271 محمد سلیم یعقوب کراچی 272 محمد وزیر احمد ظہور احمد وہاڑی 273 محمد عمر فاروق محمد نواز مظفر گڑھ 274 محمد عبدالماجد غلام محمد ملتان 275 قیصر علی جہانزیب خارج شد 276 محمد اشفاق محمد نواز ڈی جی خان 277 آصف علی دوست محمد چنیوٹ 278 شاہد عمران ملک شیر چنیوٹ 279 محمد لقمان نذیر احمد رحیم یار خان 280 عمر فاروق عبدالحمید رحیم یار خان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
281 اشفاق علی غلام نبی خارج شد 282 محمد یوسف محمد اسماعیل ساہیوال 283 محمد زاہد عطاء الرحمن ملتان 284 محمد نعیم اشرف محمد اشرف وہاڑی 285 محمد شعیب محمد یونس ٹوبہ ٹیک سنگھ 286 محمد شفیع مولانا پشاور 287 شہاب خان ارشاد خان پشاور
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۲ء ص ۲۷ تا ۵۲)
تحفظ ختم نبوت کورسز
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے زیر اہتمام دینی مدارس، اسکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء وطالبات اور عوام الناس کے لئے ”تحفظ ختم نبوت کورسز“ کا اہتمام کیا گیا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا کورس: ۲۱ تا ۲۶؍ جون بروز ہفتہ تا جمعرات، بوقت: دوپہر ۲ بجے تا ساڑھے چار بجے تک، بمقام: اقراء حفظ القرآن اکیڈمی قذافی ٹاؤن لانڈھی میں منعقد کیا گیا۔ کورس میں عقیدۂ ختم نبوت، عظمت صحابہ ؓ، اہل بیت، عقیدۂ رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، رد عیسائیت، عقیدۂ ظہور مہدی علیہ الرضوان، فتنۂ قادیانیت، فتنہ انکار حدیث، فتنہ زید حامد، فتنۂ گوہر شاہی، فتنۂ ڈاکٹر ذاکر نائیک، نماز کی اہمیت وفضیلت، روزے کی اہمیت وفضیلت، والدین کے حقوق، غیبت کی حقیقت ونقصانات، پردے کی اہمیت وفضیلت، ازواج مطہرات کی گھریلو زندگی کے موضوعات پر مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر)، مولانا عبدالرؤف رستم (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی)، مولانا عبدالحی مطمئن (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی)، مولانا مفتی ساجد محمود (استاذ الحدیث جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن)، مولانا مفتی عبدالحمید، مولانا عبدالماجد، مولانا مفتی مبشر ابراہیم، مولانا مفتی محمد اویس، مولانا احسن راجہ الحسینی، مولانا محمد عمران نقشبندی، مولانا مفتی امین الرحمن، مولانا عنایت اللہ قاضی، مولانا محمد رضوان قاسمی اور مولانا مختار احمد نے خصوصی درس دیئے۔ کورس میں علاقہ بھر کے دینی مدارس، سکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء وطالبات اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کورس مولانا اقبال اللہ (خلیفہ مجاز شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی) کی زیر سرپرستی اور مولانا عارف محمود عارفی (نائب مدیر جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن)، مولانا مفتی ساجد محمود (استاذ الحدیث جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن) کی زیر نگرانی میں منعقد کیا گیا۔ کورس کا اختتام مولانا اقبال اللہ کے دعائیہ کلمات کے ساتھ ہوا۔
دوسرا کورس: ۲۴ تا ۲۶؍ جون بروز منگل تا جمعرات بوقت بعد نماز مغرب تا عشاء جامعہ عثمانیہ تعلیم القران معین آباد داؤد چورنگی لانڈھی میں منعقد کیا گیا۔ قاری سرفراز الحسن فاروقی کی تلاوت کلام پاک سے کورس کا آغاز ہوا۔ کورس میں عقیدۂ ختم نبوت، عقیدۂ رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، عقیدۂ ظہور مہدی علیہ الرضوان، فتنۂ قادیانیت کے موضوعات پر مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر)، مولانا عبدالحی مطمئن (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی)، مولانا قاضی احسان احمد (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)، مولانا تجمل حسین (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نواب شاہ) نے خصوصی بیانات کئے۔ اس کورس میں بھی علاقہ بھر کے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کورس کا اختتام مولانا قاضی احسان احمد کے دعائیہ کلمات سے ہوا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کورسز کے ذریعے تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کو تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍اگست ۲۰۱۲ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
۲۳؍ جون ۲۰۱۴ء کو ختم نبوت کورس چناب نگر کی اختتامی دعا تھی۔ اسی روز شام کو ملتان دفتر حاضری ہوئی۔ ۲۴، ۲۵؍ جون ۲۰۱۴ء کو ملتان دفتر میں شوال المکرم کے ماہنامہ لولاک کی تیاری، احتساب قادیانیت ج ۵۷، ۵۸ کی تیاری اور جلد ۵۹ کی کمپوزنگ کا کام رفقاء کے سپرد کیا کہ فقیر کے بیرونی سفر کے باعث رفقاء مصروف رہیں۔ انہیں زحمت نہ ہو۔ ۲۵؍ جون کی شام گھر حاضر ہوا۔ ۲۶؍ جون کی شام عزیزی محمد سلمہ اللہ الصمد کھیلتے ہوئے اوپلوں کی آگ میں چلا گیا۔ اس کے دونوں پاؤں بہت ہی جل گئے۔ معصوم کی عمر پونے دو سال ہوگی۔ اس سے جو قلب وجگر پر بیتی نوک قلم پر لانا ممکن نہیں۔ فوری بہاول پور ہسپتال لے گئے۔ بروقت علاج شروع ہو گیا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کسی بڑے حادثہ سے بچ گئے۔ ۲۶؍ جون کی شام سے یہ پریشانی شروع ہوئی۔ ۲۷؍ جون کو بھی ایسے وقت گزرا۔ ۲۸؍ جون کو صبح ڈائیو سے کراچی کے لئے سفر متعین تھا۔ بہاول پور سے ڈائیو پکڑی اور کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔ عزیزی محمد سلمہ کو عمداً دیکھنے ہسپتال نہ گیا کہ طبیعت پر اس صدمہ کے اتنے گہرے اثرات تھے کہ خود کو ملاقات کے لئے جانے پر آمادہ نہ کر سکا۔ ۲۹؍ جون سے ۶؍ جولائی تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اس سال جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی دورہ حدیث کی کلاس کو یومیہ گیارہ بجے سے ایک بجے تک دو گھنٹے کے لیکچرز دیئے۔ ۴؍ جولائی کو مدینہ مسجد بنس روڈ میں جمعہ پر بیان ہوا۔ ۵؍ جولائی کو دہلی مرکنٹائل کراچی کے رفقاء کی طرف سے دفتر میں افطاری کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا منظور احمد نعمانی شیخ التفسیر والحدیث ظاہر پیر اور جامعہ خاتم النبیین کراچی کے مدیر مولانا محمد طیب لدھیانوی اور دیگر حضرات نے شرکت سے سرفراز فرمایا۔ ۶؍ جولائی کو کراچی کی تین مساجد میں دروس ہوئے۔ مغرب کے بعد مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کی قائم کردہ خانقاہ اور جامعہ مسجد میں حاضری کی سعادت حاصل کی۔ عشاء جامع مسجد خاتم النبیین میں ادا کی۔ مزارات پر ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی سعادت حاصل کی۔ ۷؍ جولائی کو تیاری کی۔ ۸؍ جولائی اڑھائی بجے بعد از ظہر کراچی سے جدہ کے لئے روانگی ہوئی۔ عصر جدہ ائیر پورٹ پر پڑھی۔ مغرب راستہ میں، عشاء کے بعد تراویح میں جاکر حرم کعبہ کی جماعت میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ تراویح سے فراغت کے بعد عمرہ کا عمل مکمل ہوا۔ سحری کھائی، فجر پڑھی، اس کے بعد جاکر ہوٹل مبارک ٹو میں آرام کیا۔
۸؍ جولائی سے ۱۵؍ جولائی تک مکہ مکرمہ میں حاضری رہی۔ صبح دس گیارہ بجے حرم شریف جانا ہوتا۔ تراویح کے بعد سحری کے لئے واپس ہوٹل اور پھر فجر کے بعد آرام کا معمول رہا۔ ۱۵؍ جولائی کو مدینہ منورہ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ آخری عشرہ حرم نبوی میں اعتکاف کی توفیق سے حق تعالیٰ نے سرفراز فرمایا۔ کراچی، گوجرانوالہ، لاہور کے رفقاء کا ہمراہ رہا۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے مدیر مولانا عبد اللطیف طاہر، محترم الحاج غزالی، الحاج میر محمد لقمان، جناب ڈاکٹر فضل الرحمٰن، جناب محمد عارف بلوچ، جناب ڈاکٹر محمد سلیم، لاہور کے جناب چوہدری محمد ارشد ایڈووکیٹ اور دیگر حضرات کی محبتوں سے بہت ہی راحت رہی۔ مولانا عبد الغفور صاحب خلیفہ مجاز مولانا خواجہ خان محمد، جامعہ خیر المدارس کے شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق، جمعیت علماء اسلام کے ناظم عمومی مولانا عبد الغفور حیدری، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کراچی، مولانا سید اخلاق احمد مدنی، جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن، جناب محمد اکرم خان درانی اور بہت سارے حضرات سے شرف ملاقات رہا۔ جب بھی کہیں نظر اٹھتی کوئی نہ کوئی کوئے یار میں مل جاتا۔ ہمارے گروپ کے حضرات نے تو عید کے روز شام کو کراچی جانا تھا۔ البتہ جناب الحاج محمد عارف بلوچ کے ہمراہ مزید دو دن گزرے اور خوب گزرے۔ ان کے سفر کرنے کے بعد فقیر کا قیام بقیع کے کونہ کے پہلے چوک پر ویلکن ہوٹل کے عقب میں جناب الحاج محمد سرور لدھیانوی کے مکان پر رہا۔ رمضان المبارک کے بعد بھی دس گیارہ بجے سے رات گئے تک اور پھر تہجد کے وقت سے فجر تک کا تمام وقت حرم نبوی میں گزرتا۔ اعتکاف وعمرہ کے حضرات کا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عید کے بعد رش کم ہونا شروع ہوا تو مواجہہ شریف پر صلوٰۃ و سلام اور ریاض الجنہ میں آسانی کے ساتھ جگہ مقدر ہو جاتی رہی۔ فالحمد للہ !
۱۵؍ جولائی سے ۶؍ اگست صبح تک مدینہ طیبہ قیام رہا۔ ۶؍ اگست ناشتہ کے بعد جدہ کے لئے سفر ہوا۔ دوپہر سے عشاء تک جناب قاری محمد رفیق رحیمی مدظلہ کے ہاں جدہ قیام رہا۔ عشاء کے بعد ائیر پورٹ آنا ہوا۔ ۷؍ اگست رات اڑھائی بجے جدہ سے ہیتھرو لندن کے لئے سعودی ائیر لائن سے روانگی ہوئی۔ ۷؍ اگست صبح سواسات بجے لندن پہنچے۔ ائیر پورٹ پر پیشوائی کے لئے ختم نبوت سنٹر کے امام حافظ محمد اقبال اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے مبلغ مولانا مفتی محمود الحسن تشریف لائے ہوئے تھے۔ مولانا محمود الحسن نے اپنی گاڑی لے لی ہے اور ڈرائیونگ بھی شروع کر دی ہے۔ ائیر پورٹ سے وہ گاڑی چلا کر دفتر لائے۔ ان کی طرف سے اس سفر کا گویا یہ پہلا سر پرائز تھا۔ دن بھر خوب آرام کا موقعہ ملا۔ نماز پر دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور کنٹری سائیڈ سے فون آنے کا سلسلہ بھی برابر چلتا رہا۔
۸؍ اگست : جمعہ کارڈف میں پڑھایا۔ مولانا مفتی محمود الحسن ، مولانا مفتی محمد احمد جو مولانا غلام محمد علی پوری کے صاحبزادہ اور مولانا منظور احمد الحسینی صاحب کے بھانجے ہیں۔ ان حضرات نے بھی مختلف مساجد میں جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ مولانا قاری غلام نبی نے خطبات جمعہ کا اہتمام کیا۔ شام کو دفتر لندن واپس آگئے۔
۹؍ اگست : ظہر کی نماز کے بعد جامع مسجد ابوبکر ساؤتھ ہال میں فقیر کا تفصیل سے درس قرآن ہوا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ائیر پورٹ گئے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد پاکستان سے تشریف لائے۔ جناب عمران اقبال لندن سے اور مڈلبراس سے محترم چوہدری محمد یونس اور عمران صاحب بھی ائیر پورٹ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ صاحبزادہ صاحب سے ملاقات کے بعد فقیر راقم ، مولانا مفتی محمود الحسن ، مولانا حافظ اقبال ٹولیوٹن چلے گئے۔ صاحبزادہ عزیز احمد صاحب بمع رفقاء لندن دفتر تشریف لے گئے۔ جمعیت علماء برطانیہ کے رہنما مفتی خالد صاحب کی لیوٹن مسجد میں عصر سے مغرب تک ختم نبوت کانفرنس تھی جس میں فقیر نے معروضات پیش کیں۔ بحمدہ تعالیٰ عوام سامعین کے ساتھ کثیر تعداد میں علماء کرام بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ بھر پور پروگرام رہا۔
۱۰؍ اگست : اتوار سٹاک ویل گرین لندن ختم نبوت سنٹر میں پروگرام تھا۔ ظہر سے عصر تک مشاورتی اجلاس ہوا۔ صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے فرمائی۔ اجلاس کے اغراض و مقاصد مولانا مفتی محمود الحسن نے بیان فرمائے۔ گلاسگو، برمنگھم ، کارڈف، آکسفورڈ اور لندن شہر سے توقع سے زیادہ علماء کرام و مندوبین نے شرکت فرمائی۔ کام کو مربوط اور وسیع کرنے کے لئے بھر پور اور مفید مشوروں سے دوستوں نے سرفراز فرمایا۔ عصر سے مغرب تک لندن کے قرب و جوار کے رفقاء کو دعوت دی گئی ۔ فقیر کا بیان ہوا اور سوال جواب کی محفل بھی ہوئی ۔ بحمدہ تعالیٰ ختم نبوت کا ہال بھرا ہوا تھا۔ دونوں پروگرام خاصے کامیاب رہے۔ دوستوں نے کامیابی پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
۱۱؍ اگست : ٹوٹنگ مسجد میں مغرب سے عشاء تک پروگرام ہوا۔ بھر پور حاضری ہوئی۔ محبت و شوق سے دوستوں نے شرکت کی۔ اس انہماک اور غور وفکر سے سراپا توجہ بن کر دوستوں نے شرکت کی کہ واضح طور پر سکینت وطمانیت کا ماحول بن گیا۔ فقیر اور مولانا محمود الحسن کا بیان ہوا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے دعاء فرمائی۔
۱۲؍ اگست : کو والتھم سٹوؤ لندن ۔
۱۳؍ اگست : کرائیڈن ، مولانا مفتی یوسف ڈنکا کی مسجد۔
۱۴؍ اگست : سلو کی جامع مسجد میں جلسہ ہوا۔ فقیر راقم اور جناب محمد ممتاز صاحب کے بیانات ہوئے۔ جناب مسعود صاحب چکوال والے میزبان تھے۔ بھر پور حاضری تھی اور دلکش پروگرام ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸ تا ۱۴؍ اگست تک لندن کے گردونواح کے ان پروگراموں کو یوں سمجھیں کہ ہفتہ بھر کی ختم نبوت کانفرنس کے اجلاس تھے۔ جو مختلف مساجد میں رکھے گئے۔ افادیت اور تبلیغ کے نکتہ نظر سے ہزاروں ہزار لوگوں تک پیغام پہنچا اور الحمدللہ! ہفتہ میں گویا سات کانفرنسیں ہوگئیں۔ لٹریچر کی تقسیم، کانفرنس برمنگھم میں شرکت کی اپیل اور ختم نبوت کی تبلیغ کے لئے پورا علاقہ گویا جلسہ گاہ بن گیا۔ فالحمدللہ!
۱۵؍ اگست: کا جمعہ اکسفورڈ میں مولانا عطاء اللہ صاحب کے ہوا۔
۱۶؍ اگست: کو عصر کی نماز جامع مسجد حمزہ برمنگھم میں ادا کی۔ نماز کے بعد رفقاء مولانا صاحبزادہ محمد داؤد، قاری قمر الزمان، قاری محمد داؤد، لالہ بنارس خان، مولانا خورشید احمد، مولانا خلیل الرحمن، لالہ معصوم خان اور دیگر حضرات سے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا مفتی محمود الحسن نے مشاورت کی۔ رات مسجد زکریا برمنگھم میں قیام رہا۔
۱۷؍ اگست: ۱۲ بجے دن مولانا مفتی محمد اسلم صدر جمعیت علماء برطانیہ سے رادھرم میں مشاورت کی۔ ظہر سے عصر تک مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ کی اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں ۱۷ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت صاحبزادہ عزیز احمد نے کی اور آخری بیان فقیر کا ہوا۔ مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا عطاء اللہ، مولانا محمد اکرم اور بہت سارے حضرات کے بیانات ہوئے۔ رات جناب عزت خان صاحب کے ہاں برنلے جامع مسجد فاروق اعظم میں قیام رہا۔
۱۸؍ اگست: عصر، مغرب پرسٹن کی مساجد میں اعلان و بیان ہوئے۔
۱۹؍ اگست: ظہر شیفلڈ، عصر سکنٹھوپ، مغرب ہل میں اعلان و بیان ہوئے۔
۲۰؍ اگست: ہڈرسفیلڈ ظہر میں مولانا مفتی محمود، جناب قاری محمد عثمان شاہد نے اعلان و بیان کئے۔ عصر رچڈیل میں ادا کی۔ عصر کے بعد تفصیلی بیان ہوا۔ وفد نے جمعیت علماء برطانیہ کے سیکرٹری نشر واشاعت حافظ محمد اکرم سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی۔ رات بریڈ فورڈ آگئے۔
۲۱؍ اگست: مولانا مفتی محمود، سید تحسین شان صاحب نے ظہر ہزلنگٹن میں ادا کی۔ عصر پر لیڈیز کی مساجد میں اعلان و بیان ہوئے۔ مغرب توکلی مسجد بریڈ فورڈ میں فقیر کا بیان ہوا۔
۲۲؍ اگست: مدنی مسجد اور جامع مسجد ہاور سٹریٹ میں دو جگہ فقیر کے جمعہ کے بیان ہوئے۔ مسجد عمر میں مولانا محمود الحسن، مسجد نور الاسلام میں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ عصر اولڈہم میں مسجد زینت الاسلام میں فقیر کا بیان ہوا۔ صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی محمد ابراہیم، مولانا محمود الحسن نے مختلف مساجد میں اعلان و بیان و ملاقاتیں فرمائیں۔
۲۳؍ اگست: بروز ہفتہ مدرستہ البنات باٹلے میں ۱۲ بجے دن سے ایک بجے تک طالبات میں بیان ہوا۔ قبل از ظہر باٹلے میں مستورات کی ختم نبوت کانفرنس میں بیان ہوا۔ عصر سے مغرب تک ختم نبوت کانفرنس باٹلے میں خطاب ہوا۔
۲۴؍ اگست: عصر سے مغرب تک مدنی مسجد میں علماء کرام سے تفصیلی نشست ہوئی۔
۲۵؍ اگست: عصر و مغرب بلیک برن میں ادا کیں۔ دارالعلوم بری کے ناظم مولانا علی صاحب اور ان کے صاحبزادہ، مولانا مفتی شبیر احمد صاحب، شیخ الحدیث دارالعلوم بری کی زیر سرپرستی مولانا ابوبکر، مولانا عمر، مولانا عثمان، مولانا علی، مولانا مفتی محمد ابراہیم، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا محمود الحسن کے بیانات ہوئے۔ مسجد ساجدین اور مسجد زینت الاسلام میں فقیر کے تفصیلی بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶؍ اگست : بولٹن میں عصر و مغرب پر بیانات واعلانات ہوئے۔ مغرب سے عشاء تک جامع مسجد زکریا بولٹن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی اور خوب ہوئی۔
۲۷؍ اگست : کو مڈل برا کے لئے سفر ہوا۔
۲۸؍ اگست : کو باتھ گیٹ سراجیہ سنٹر میں حاضری ہوئی۔ عصر و مغرب ایڈنبرا میں ادا کیں۔ اعلان و بیان وملاقاتیں ہوئیں۔
۲۹؍ اگست : کو فقیر کا جمعہ پر بیان جامع مسجد مدرول میں ہوا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا مفتی محمود کا سٹرلنگ میں جمعہ پر بیان ہوا۔
۳۰؍ اگست : کو عصر سے عشاء تک مرکزی جامع مسجد گلاسگو میں انجمن اصلاح المسلمین کے تحت سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا فیض احمد کراچی، مولانا حافظ حسین احمد کوئٹہ، مولانا محمود الحسن، مولانا حبیب الرحمن، ڈاکٹر سعید عنایت اللہ، فقیر راقم (اللہ وسایا) اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ بڑی بھر پور حاضری تھی اور خوب سے خوب تر بیانات ہوئے۔
۳۱؍ اگست : کو جمعیت علماء برطانیہ کی سالانہ ۲۸ویں توحید وسنت کانفرنس ویکفیلڈ میں منعقد ہوئی۔ پہلے اجلاس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور دوسرے اجلاس کی صدارت استاذ العلماء مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب نے فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا عبد الغفور حیدری، حافظ حسین احمد، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود، رابطہ عالم اسلامی لندن کے ڈائریکٹر سعودی سفارت خانہ کے پریس اتاشی تھے۔ مولانا مفتی محمد اسلم سر پرست تھے۔ مولانا محمد اکرم الحق، حافظ اکرام، مولانا سید اسلام علی شاہ اسٹیج سیکرٹری تھے۔ اسی روز زکریا مسجد میں عصر سے مغرب تک فقیر راقم، مولانا محمود الحسن اور مغرب سے عشاء تک شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا مفتی خالد محمود کے بیانات ہوئے۔ یہ دوسری ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جو اس مسجد میں منعقد ہوئی۔ ایک ہفتہ میں دو ختم نبوت کانفرنسوں کا ایک ہی جگہ کامیابی سے منعقد ہونا محض انعام الٰہی ہی ہے۔ فالحمد للہ!
یکم ستمبر : بعد از ظہر جامع مسجد نور ہڈرسفیلڈ اور عصر پر باٹلے میں دو ختم نبوت کے اجتماعات منعقد ہوئے۔ جمعیت علماء برطانیہ کے سر پرست مولانا عبد الرشید ربانی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور فقیر راقم کے بیانات ہوئے۔
۲ سے ۴؍ ستمبر : تک مولانا مفتی خالد محمود، صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا محمود الحسن، مولانا خورشید احمد، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا حافظ حسین احمد، مولانا خلیل الرحمن اور دیگر حضرات کے برمنگھم، لیسٹر، نوٹنگھم، ڈربی، رگبی، والسال اور گرد و نواح میں بھر پور بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر نے سر پرستی فرمائی۔
۵؍ ستمبر : کو مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سمیت تمام وفد کے حضرات نے برمنگھم شہر کی مرکزی مساجد میں جمعہ کے اجتماعات سے خطابات کئے۔ شام کو جناب الحاج معصوم خان کے ہاں عشائیہ میں سب حضرات نے شرکت کی۔
۶؍ ستمبر : کو بعد از نماز عصر حسب سابق جامع مسجد حمزہ میں ختم نبوت کانفرنس کی استقبالیہ تقریب تھی۔ اس میں مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد متین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے ختم نبوت پر بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا مفتی محمود اور مولانا امداد اللہ قاسمی تھے۔ شہر بھر کے علماء کرام نے اس استقبالیہ تقریب میں شرکت فرمائی۔ مغرب کے بعد پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تمام مہمانوں نے اس میں شرکت فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلا اجلاس: ۷؍ ستمبر: ۲۰۱۲ء کو صبح دس بجے ۲۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا آغاز ہوا۔ صدارت: مولانا محمد نگین صاحب تلاوت: مولانا قاری قمر الزمان صاحب نعت: مولانا سید محمد رفیق شاہ صاحب برمنگھم، جناب تبسم صاحب ہڈرزسفلیڈ تقریر: مولانا مفتی محمود الحسن صاحب (غرض وغایت بیان کی) صدارتی بیان: مولانا محمد نگین صاحب تقریر: مولانا محمد ابوبکر بلیک برن (انگلش میں بیان)، مولانا عبدالحمید صاحب بلجیم، مولانا اشرف علی صاحب بریڈ فورڈ، مولانا فاروق سلطان صاحب ڈنمارک نعت: مولانا سید محمد عمر شاہ صاحب ڈربی اختتامی بیان ودعاء: مولانا منور حسین سورتی خطیب جامع مسجد بالہم لندن اسٹیج سیکرٹری: مولانا مفتی محمود الحسن صاحب
دوسرا اجلاس: صدارت: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب اسٹیج سیکرٹری: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مہمان خصوصی: مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نعت: جناب سید ابرار حسین صاحب ڈربی تقریر: مولانا عبدالحلیم صاحب لکھنؤ (انگلش)، مولانا محمد ابراہیم صاحب بریڈ فورڈ (انگلش)، مولانا عبدالرحیم صاحب استاذ الحدیث دارالعلوم بری (انگلش)، مولانا فضل الرحیم صاحب لاہور، مولانا عبدالہادی العمری صاحب خطیب اہل حدیث برمنگھم، جناب عبدالعزیز الحربی مندوب سعودی سفارت خانہ لندن (عربی)، جناب ڈاکٹر احمد صاحب ڈائریکٹر رابطہ عالم اسلامی لندن (انگلش)، جناب عادل المعاودہ صاحب ڈپٹی اسپیکر بحرین اسمبلی بحرین (عربی)، جناب حافظ حسین احمد صاحب پاکستان، مولانا محمد ممتاز صاحب لندن (انگلش)، مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب مانچسٹر، مولانا عبدالغفور حیدری صاحب پاکستان، فقیر راقم اللہ وسایا، مولانا مفتی فاروق صاحب جماعت اسلامی، مولانا مفتی محمد ربانی افغانی صاحب اختتامی بیان ودعاء: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ خصوصی شرکت: مولانا مفتی محمد اسلم صاحب، مولانا عبدالرشید ربانی صاحب، مولانا سید محمد اسد شاہ صاحب، مولانا بشیر احمد شاد چشتیاں، مولانا ڈاکٹر احمد خان بحرین
بحمدہ تعالیٰ ۲۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم صبح دس بجے سے شروع ہو کر سوا چھ بجے شام بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۰ تا ۳۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا شجاع آبادی کے تبلیغی و دعوتی اسفار
شیخوپورہ میں میٹنگ : یکم ستمبر ۲۰۱۴ء جوتیاں والا موڑ قاری محمد ابوبکر زید مجدہ کے مدرسہ میں ختم نبوت کانفرنس سے متعلق منتظمہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔
وار برٹن میں جلسہ ختم نبوت : ۲؍ ستمبر بعد نماز مغرب جامع مسجد عید گاہ میں جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مفتی عمر فاروق نے کی۔ جلسہ سے مولانا ریاض احمد وٹو اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ اختتامی دعاء فیروز وٹواں کے مدرسہ اجمل المدارس کے مہتمم مولانا سرور شعیب نے کرائی۔
۳؍ ستمبر کا دن بہت مصروف گزارا، صبح کی نماز کے بعد درس اجمل المدارس کی جامع مسجد میں ہوا۔ پونے آٹھ بجے سے سوا آٹھ تک جامعہ ہائر سیکنڈری اسکول شیخوپورہ میں سینکڑوں اساتذہ و طلباء سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب ہوا۔ گیارہ سے ساڑھے گیارہ تک ”وارث شاہ ڈگری کالج“ جنڈیالہ شیر خان شیخوپورہ کے پروفیسرز اور طلباء سے خطاب کیا۔
مغرب کے بعد قاری محمد الیاس اور سید تجمل حسین کی معیت میں ”مرزا اورکاں“ میں جامع مسجد بلال میں بیان ہوا۔
قدرت آباد میں جلسہ ختم نبوت : جنڈیالہ شیر خان کی مضافاتی بستی قدرت آباد کے مدرسہ تعلیم القرآن میں جلسہ منعقد ہوا۔ صدارت مولانا قاری محمد سلیم نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ شہر کے امیر مولانا مشرف حسین، مولانا امتیاز احمد کشمیری، مولانا سعید احمد، قاری محمد الیاس اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسلم نے سرانجام دیئے۔ جلسہ رات گیارہ بجے تک جاری رہا۔
کیلے میں بیان : بعد نماز ظہر جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر ؓ میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔
جھبراں میں ختم نبوت کانفرنس : بعد نماز مغرب جامع مسجد درس والی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عثمان غنی اور راقم کے بیانات ہوئے۔
خطبہ جمعہ : مولانا محمد ایوب طاہر کی دعوت پر جامع مسجد سوسائٹی میں دیا۔ شدید ترین بارش کے باوجود سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
جامع مسجد نمرہ مریدکے میں جلسہ : ۵؍ ستمبر بعد نماز مغرب جامع مسجد نمرہ مریدکے میں جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تفصیلی بیان ہوا۔ بارش کی شدت کے باوجود احباب نے شرکت کی، جلسہ کا اہتمام مولانا مفتی ندیم معاویہ نے کیا۔
چناب نگر میں ختم نبوت سیمینار : ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی یاد میں ۶؍ ستمبر کو جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ سیمینار سے جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور کے خطیب مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، جماعت اسلامی چنیوٹ کے امیر سید نور الحسن شاہ، چنیوٹ کے علماء کرام مولانا عبد الوارث، قاری محمد ایوب، مولانا خلیل احمد اشرفی، مولانا سیف اللہ خالد، قاری عبد الحمید حامد، مفتی محمد افضال، مولانا فیض اللہ سلیمی، قاری حفیظ اللہ طاہر، قاری محمد افضل برہانی، مولانا محمد عارف، چناب نگر کے مولانا عابد حسین خان کے خطابات ہوئے۔
جامع مسجد محمود فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس : ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کی یاد میں ۷؍ ستمبر ۲۰۱۴ء نماز مغرب سے لے کر رات گئے تک ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت سید ناصر فاروق شاہ نائب امیر مجلس فیصل آباد نے کی۔ تلاوت حافظ فہد محمود ابن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحبزادہ طارق محمود نے کی۔ نعتیہ کلام حافظ محمد سعید مدنی نے پیش کیا۔ مندرجہ ذیل مقررین کے بیانات ہوئے۔ مولانا سید مظفر شاہ گیلانی، مولانا سید محمد زکریا شاہ امیر جمعیت علماء اسلام فیصل آباد، مولانا حماد الرحمن لدھیانوی، مولانا سید حبیب احمد شاہ، مولانا عبد الرشید غازی، قاری ڈاکٹر صولت نواز ، مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف کے فرزند ارجمند ڈاکٹر زاہد اشرف نے خصوصی شرکت کی۔ مؤخر الذکر نے مولانا تاج محمود کے ساتھ اپنے والد محترم مولانا حکیم محمد عبد الرحیم اشرف کی خدمات کو اجاگر کیا۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء میں مولانا تاج محمود کے شاندار کردار پر خراج تحسین پیش کیا۔ آخری خطاب پنجابی زبان کے خوش الحان خطیب مولانا ممتاز احمد کلیار کا ہوا۔
جھنگ صدر میں ختم نبوت کانفرنس: ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے حوالہ سے ۸؍ ستمبر بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس کی صدارت مقامی امیر مولانا سید مصدوق حسن شاہ بخاری نے کی۔ مقامی علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ ہر ماہ کم از کم ایک جمعہ ختم نبوت کی اہمیت پر وعظ فرمائیں تا کہ نوجوان نسل کو اس مہیب فتنہ سے بچایا جائے۔ اس کانفرنس میں مولانا محمد اسماعیل فیصل آباد کے خوش الحان خطیب قاری شبیر احمد عثمانی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
بہاولپور میں ختم نبوت کانفرنس: بہاولپور میں ہر سال کی طرح امسال بھی جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۲؍ ستمبر بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس گھمن اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خطابات ہوئے۔ کانفرنس ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ، اس کے قانونی تقاضے، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے پس منظر کے ارد گرد گھومتی رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء ص ۲۱ تا ۲۳)
ہری پور میں عشرۂ ختم نبوت
الحمد للہ ! اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ضلع ہری پور میں ستمبر کے پہلے عشرہ کو بطور عشرہ ختم نبوت منایا گیا، جس میں یکم ستمبر سے ۱۱؍ ستمبر تک مختلف مقامات پر کانفرنسز کی گئیں۔
مفتی شفقت صاحب اور اورنگزیب مغل صاحب کی خصوصی کاوشوں سے اس سلسلے کا پہلا جلسہ ”مسجد عائشہ“ سوات چوک ہری پور میں ہوا، جس میں مولانا قاضی محمد مشتاق صاحب اور مولانا اسامہ رضوان صاحب نے خطاب کیا۔
دوسری کانفرنس ۲؍ ستمبر کو حلقہ انور شاہ کشمیری کے تحت جامع مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھجوالہ بگڑہ میں مفتی سعید صاحب اور مولانا عبد العزیز صاحب کی سرپرستی میں ہوئی ، جس میں مہمان خصوصی مولانا اسامہ رضوان صاحب اور پروفیسر مفتی آصف محمود صاحب تھے۔
تیسرا پروگرام ۴؍ ستمبر کو حلقہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے تحت مسجد خلفاء راشدین اعوان کالونی میں مولانا محمد افضل علوی صاحب کی سرپرستی میں منعقد ہوا، جس میں مہمان خصوصی مفتی ہارون الرشید شامی صاحب اور مولانا امان اللہ صاحب تھے۔
چوتھا پروگرام حلقہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے تحت بانڈہ منیر خان میں ۵؍ ستمبر کو مولانا حافظ عمران صاحب اور مفتی عبد القادر رحمانی میں منعقد کیا گیا، جس میں مہمان خصوصی مفتی ہارون الرشید شامی صاحب اور مفتی شمس القدیر صاحب تھے۔
پانچواں جلسہ مولانا محمد علی جالندھری کے تحت ۶؍ ستمبر کو بانڈی منیم خان میں مولانا پیر سید احسان علی شاہ صاحب کی سرپرستی میں طے ہوا، جس میں مولانا شفیق الرحمن صاحب نے خصوصی خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چھٹا جلسہ ۷؍ ستمبر کو حلقہ غازی علم الدین شہید کے تحت کھِلا بٹ میں منعقد ہوا، جس میں مہمان خصوصی مفتی محمد عمر صاحب تھے اور سرپرستی مولانا فرید اللہ حیدری صاحب نے کی۔
ساتواں جلسہ حلقہ سیّدنا خالد بن ولید کے تحت ۸؍ ستمبر کو کوٹ نجیب اللہ میں مولانا احمد سعید صاحب اور مفتی شمس القدیر نے خطاب کیا۔
آٹھواں پروگرام مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا الولی میں مولانا عبدالقادر رحمانی صاحب، مولانا احتشام الحق صاحب اور مفتی معرفت شاہ صاحب کی سرپرستی میں ہوا، جس میں مولانا احسان عظیم صاحب، مفتی ہارون الرشید شامی صاحب اور پروفیسر مفتی آصف محمود صاحب نے خطابات کئے۔
نواں جلسہ حلقہ حبیب ابن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے تحت بھیرہ خان پور میں مولانا نعیم شاہ صاحب کی زیر سرپرستی ہوا جس میں مولانا احسان عظیم صاحب اور مولانا پیر سیّد قوی اللہ شاہ صاحب نے خطاب کیا۔
اس سلسلے کی آخری اور سب سے اہم کانفرنس حلقہ امیر شریعت کے تحت سرائے صالح مین بازار میں منعقد کی گئی۔ جس میں یادگار اسلاف مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد طیب (اسلام آباد)، سابق مرزائی نو مسلم جناب شمس الدین (چناب نگر) اور پروفیسر مفتی آصف محمود نے شرکت فرمائی اور شاعر اسلام جناب اعجاز شاہ کاظمی (مظفر آباد) اور مطیع الرحمٰن اطہر نے ختم نبوت پر اپنا کلام پیش کیا۔ کانفرنس بارش کے باوجود جاری رہی اور کثیر تعداد میں شرکاء نے شرکت فرمائی۔ ان ساری کانفرنسز کی بھرپور سرپرستی مولانا قاری فدا محمد خان (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہری پور) فرماتے رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍نومبر ۲۰۱۲ء ص ۱۵)
عشرہ ختم نبوت
ستمبر ۲۰۱۳ء میں تحصیل پروآ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جسے علماء اور عوام کی طرف سے کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ امسال ستمبر کی آمد سے پہلے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تحصیل پروآ کے زیر اہتمام پوری تحصیل میں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے: ۲۹؍ اگست کا جمعہ جامع مسجد چاہ خان والا میں مولانا محمد عمران حیدر نے اور جامع مسجد صدیق اکبر ماہڑہ میں حافظ اللہ بخش نے بعنوان تحفظ ختم نبوت پڑھایا۔ ۳۱؍ اگست کو جامع مسجد حنفیہ ببر پکہ، مقررین: مولانا عبدالغنی، حافظ اللہ بخش، مفتی ثناء اللہ خطیب جامع مسجد میالی۔ ۲؍ ستمبر جامع مسجد حضرت بلال، مقرر: مولانا اللہ نواز، حافظ اللہ بخش، مولانا عبدالغنی۔ ۳؍ ستمبر بعد از نماز عصر جامع مسجد میالی درس قرآن بعنوان ختم نبوت، مقرر: مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ، بعد از نماز مغرب جامع مسجد صدیق اکبر ماہڑہ مولانا غلام حسین، بعد از نماز مغرب جامع مسجد روڑہ، مقرر: مولانا قاری حفیظ اللہ، مولانا قاری عنایت اللہ عثمانی، مولانا محمد عمران حیدر، مولانا طاہر حبیب، بعد از نماز مغرب مدنی مسجد نائیولہ، مقرر: قاری محمد خالد، مولانا قاضی عبدالحلیم۔ ۴؍ ستمبر بعد از نماز مغرب جامع مسجد عثمانیہ رمک مقرر مولانا غلام حسین جھنگ، حافظ اللہ بخش شاہ، درس قرآن بعد از نماز فجر مدنی مسجد گشکوری مولانا غلام حسین۔ ۵؍ ستمبر بروز جمعہ جامع مسجد تقویٰ قبل از نماز جمعہ قاری محمد خالد گنگوہی، بعد از نماز جمعہ مفتی عبدالواحد قریشی، بعد از نماز عصر مسجد حضرت عمر گشکوری، مقرر: مولانا مفتی عبدالواحد، بعد از نماز مغرب المدینہ جامع مسجد کٹ شہانی، مقرر: مفتی عبدالواحد قریشی، جامع مسجد مدنی چاہ خان والا، مقرر: حافظ اللہ بخش، جامع مسجد سکندر جنوبی مولانا اللہ نواز، جامع مسجد ہبی روڑہ مولانا محمد عمران حیدر۔ ۷؍ ستمبر بعد از نماز مغرب جامع مسجد بھٹیسر غربی حاجی جمعہ خان، مقرر: مولانا ثناء اللہ، مولانا عبدالغنی، مولانا اسلم شاہ گشکوری۔ ۸؍ ستمبر بمقام جامع مسجد خانہ شریف بعد از نماز عصر مولانا محمد اسلم شاہ، بعد از نماز مغرب جامع مسجد کڑ مولانا عبدالعزیز شاہ، مولانا محمد اسلم شاہ، بعد از نماز مغرب جامع مسجد درابن خورد مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ نواز، مولانا محمد عمران حیدر، مولوی محمد اصغر، حافظ اللہ بخش شاہ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ
۶؍ ستمبر بروز ہفتہ ضلع کوہاٹ میں یوم ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس میں علماء کرام نے تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے بیانات فرمائے اور مجاہدین و شہدائے ختم نبوت کی لازوال قربانیوں پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ۷؍ ستمبر بروز اتوار بھی کوہاٹ سے ریلی نکالی گئی۔ ضلعی امراء و دیگر قیادت نے ریلی کی قیادت کی اور بیانات بھی فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۱۴)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء کو مرکزی جامع مسجد لال اسلام آباد میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کا آغاز مولانا قاری سعید اللہ ازھری کی تلاوت سے ہوا۔ جب کہ افتتاحی بیان اور صدارت مولانا عبدالرؤف امیر مجلس اسلام آباد نے فرمائی۔ دوسری نشست بعد نماز ظہر کا آغاز مؤذن لال مسجد قاری حبیب الرحمن کی تلاوت سے ہوا۔ جب کہ صدارت مولانا عبدالغفور صاحب نے فرمائی۔ ان کے تشریف لے جانے کے بعد مولانا ظہور احمد علوی نے صدارت کی۔ تیسری نشست بعد نماز عصر زیر صدارت مولانا قاضی محمد ثاقب الحسینی کے ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا خلیق الرحمن چشتی، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد طیب، قاری عبد الوحید قاسمی اور مولانا محمد عامر صدیق نے سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے بہت ہی ایمان افروز بیان فرمایا۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا حافظ محمد زبیر احمد ظہیر، مولانا شیخ عبدالحمید، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا محمد فضل غفور ایم پی اے، مولانا عبدالرؤف، فضل الرحمن خان نیازی ایڈووکیٹ، شرجیل میر، قاری عبدالوحید قاسمی، قاری محمد زرین، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد طیب وغیرہ نے کانفرنس سے خطاب کیا۔
قراردادیں:
- ☆ ...... قانون ناموس رسالت، قادیانیت کے حوالے سے متفقہ آئینی ترمیم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں برداشت کی جائے گی۔
- ☆ ...... ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی دن کی مناسبت سے ۷؍ ستمبر کو سرکاری سطح پر منایا جائے اور میڈیا پر اس حوالے سے خصوصی پروگرامز کا
انعقاد کیا جائے۔
- ☆ ...... اسلامیان پاکستان کا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کی پشت پناہی ختم کر کے انہیں امتناع
قادیانیت آرڈیننس کا پابند اور پنڈ بیگوال، بارہ کہو اسلام آباد اور ۶۹-ای سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں قادیانیوں کے ارتدادی مرکز کو سیل کیا جائے۔
- ☆ ...... مختلف ویب سائٹس پر موجود انبیاء کرام کی شان میں موجود گستاخانہ مواد ہٹا کر ان ویب سائٹس پر پابندی عائد کی جائے۔
- ☆ ...... لال مسجد آپریشن میں ملوث پرویز مشرف سمیت تمام ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے۔
- ☆ ...... غازی ناموس رسالت ممتاز قادری اور دیگر غازیان اسلام کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۴، ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پشاور
۷؍ستمبر۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد نماز عشاء بمقام ختم نبوت چوک قصہ خوانی بازار پشاور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام حسب سابق ایک عظیم الشان کانفرنس بعنوان ’’چالیسواں یوم ختم نبوت‘‘ منعقد ہوئی۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں عشاق محمد ﷺ نے شرکت کی۔ مسند صدارت کو مولانا عبدالغفور صاحب مدظلہ بانی سراج المدارس و خانقاہ سراجیہ ٹیکسلا نے رونق بخشی۔ اسٹیج پر پشاور کے مشائخ مولانا نقیب اللہ، مولانا لطف اللہ حقانی، قاری سمیع اللہ جان فاروقی، مولانا پروفیسر خیرالبشر کے علاوہ ختم نبوت ضلع صوابی کے امیر مولانا شیخ اعزاز الحق اور ضلع بنوں کے امیر مولانا مفتی عظمت اللہ اور دیگر علماء کرام رونق افروز تھے۔ صوبائی امیر مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے انتہائی عقیدت سے مہمان خصوصی مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، نمونہ اسلاف مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا تعارف کرایا اور انہیں دعوت خطاب دی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے اپنے مدلل و علمی بیان سے سامعین کی تشنگی دور فرمائی۔ پشتو زبان میں قاری سمیع اللہ جان فاروقی اور دیگر مقامی مقررین نے اپنی تقریر میں عقیدہ ختم نبوت کی عظمت، فضیلت اور اہمیت بیان کی۔ ۷؍ستمبر کے حوالے سے عوام الناس کو آگاہ کیا اور قادیانیوں کے مکر و فریب اور خفیہ چالوں کو طشت از بام کرتے ہوئے مجاہدین ختم نبوت اور شہداء ختم نبوت کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور قادیانیوں اور قادیانی مصنوعات سے بائیکاٹ کے متعلق عہد لیا۔ مولانا پروفیسر خیر البشر نے قراردادیں پیش کیں اور عوام الناس سے بھرپور تائید حاصل کی۔ الحمدللہ! حاضرین جلسہ نے عزم کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سائے تلے مرتے دم تک تحفظ ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت اور اسلامی قوانین کی حفاظت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا عبدالغفور صاحب مدظلہ کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص۵۳)
یوم تشکر ریلی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار صبح آٹھ بجے یوم تشکر ریلی کے نام سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ قیادت ضلعی امیر حاجی میر صالح خان نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد ابراہیم ادہمی اور مولانا عبدالرحیم نے ادا فرمائے۔ مولانا احسان اللہ، مولانا غلام محمد، مولانا خلیل الرحمن، حافظ قدرت اللہ، مولانا بشیر احمد حقانی، مولانا اعزاز اللہ، مولانا عبدالرحیم، مولانا عبدالستار نے خطاب فرمایا۔ ریلی نے مسجد میناری سرائے نورنگ سے حاجی محمد نصیر خان پمپ تک سفر کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص۳۶)
ختم نبوت سیمینار چوک اعظم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر کے فیصلے کے حوالے ۶؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب بمقام پریس کلب چوک اعظم میں ایک عظیم الشان سیمینار منعقد کیا گیا۔ صدارت ضلع لیہ مجلس کے امیر مولانا محمد حسین نے فرمائی۔ مولانا حمزہ لقمان، جناب مقبول ہراج، چوہدری محمد خالد، رانا محمد خالد، مولانا عبدالرؤف، مولانا عمر فاروق، مولانا عبدالمجید فاروقی اور مولانا قاضی عبدالخالق کے بیانات ہوئے۔ عالمی مجلس چوک اعظم کے امیر مفتی محمد یاسین اور دیگر رفقاء قاری محمد افضل، ثناء اللہ وغیرہ نے بہت محنت سے پروگرام کو ترتیب دیا اور کامیاب بنانے کی کوشش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص۳۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد نماز عشاء الفاروق مسجد سکھر میں عظیم الشان یوم فتح تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبداللطیف اشرفی نے سرانجام دیئے۔ علماء کرام میں مبلغ ختم نبوت مولانا محمد حسین ناصر، مولانا مفتی سعود افضل، مولانا قاری خلیل احمد، مولانا الٰہی بخش ٹانوری نے خطابات فرمائے۔ علماء کرام نے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں قابل ذکر کردار ادا کرنے والے ممبران مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق کو خراج تحسین پیش کیا۔ قاری صاحب کی دعاء پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۳۶)
ختم نبوت کانفرنس چارسدہ
۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز پیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع چارسدہ کے زیر اہتمام جامع مسجد تحصیل بازار میں بوقت ظہر عظیم الشان یوم ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس میں مولانا حمد اللہ جان، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا رضوان عزیز، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، ضلع چارسدہ کے نامور شیوخ الحدیث اور مقامی علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مسئلہ ختم نبوت، رد قادیانیت اور قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کے متعلق خوب وضاحت فرمائی۔ کانفرنس نماز مغرب سے پہلے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس مردان
۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز پیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مردان کے زیر اہتمام بمقام عیدگاہ شیشی روڈ مردان میں صبح سات بجے سے یوم ختم نبوت کانفرنس شروع ہوئی۔ مہمان خصوصی مولانا عبدالغفور مدظلہ تھے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے علاوہ مقامی شیوخ عظام، علماء کرام، مفتیان عظام، قراء اور سیاسی زعماء نے بھی خطاب فرمایا۔ اسٹیج کو شیخ المشائخ مولانا حمد اللہ جان، مولانا اعزاز الحق، مفتی سجاد الحجابی، مولانا ندیم احمد، مولانا فضل علیم، مولانا عرفان، مولانا پیر حزب اللہ جان، مولانا گوہر شاہ نے رونق بخشی۔ صوبائی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام مولانا شجاع الملک، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا قاری اکرام الحق کے علاوہ مقامی علماء کرام نے بھی خطاب فرمایا۔ آخری خطاب مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے اپنے مخصوص علمی و پرجوش طرز میں فرمایا۔ الحمد للہ مقررین نے مسئلہ ختم نبوت، رد قادیانیت اور قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کے متعلق خوب وضاحت فرمائی۔ نماز عصر سے پہلے کانفرنس بخیریت و عافیت ختم ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۲ء ص ۱۴)
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ
۸؍ ستمبر ۲۰۱۲ء بروز پیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نوشہرہ کے زیر اہتمام نوشہرہ جامع مسجد کینٹ میں بعد از نماز عصر عظیم الشان یوم ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد مجاہد خان الحسینی مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس کی مہمان خصوصی کی نشست کو رونق مولانا عبدالغفور مدظلہ نے بخشی اور اپنے قیمتی ملفوظات سے شمع رسالت کے پروانوں کو سرفراز فرمایا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد صاحب و دیگر مقامی علماء نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مجاہدین ختم نبوت اور شہداء ختم نبوت کی قربانیوں سے
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء
عوام الناس کو آگاہ کیا اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور ضرورت اور قادیانیوں سے بائیکاٹ کے متعلق خوب وضاحت فرمائی آخر میں مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے خطاب فرمایا۔ الحمد للہ ! رات بارہ بجے کانفرنس بخیر و عافیت اپنے اختتام کو پہنچی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ صدر جھنگ شیخ لاہوری کے زیر اہتمام ہر سال ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ امسال یہ کانفرنس ۸ ستمبر ۲۰۱۴ء بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری جھنگ صدر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مصدوق حسین شاہ امیر مجلس جھنگ نے کی۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا غلام مرتضیٰ نے کی۔ قاری شفیق حسانی نقشبندی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدی علیہ الرضوان کے مسئلہ پر گفتگو کی۔ قاری شبیر احمد عثمانی فیصل آبادی نے خطیبانہ لہجے میں مسئلہ ختم نبوت بیان کیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی میاں محمد اجمل قادری دامت برکاتہم سیلاب سے راستہ بند ہونے کی وجہ سے نہ پہنچ سکے۔ مولانا محمد اقبال شروانی نے قراردادیں پیش کیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء ص ۱۲)
ختم نبوت کانفرنس پروآ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
۹ ستمبر ۲۰۱۴ء بروز منگل بعد از نماز مغرب بمقام عربی مسجد پروآ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا محمد حامد خطیب جامع مسجد چوگلہ سر پرست اعلیٰ عالمی مجلس تحصیل پروآ نے کی۔ حافظ اللہ بخش شاہ نے کانفرنس کی غرض و غایت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل پروآ کی کارکردگی بیان کی۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد عمران حیدر، قاری عنایت اللہ عثمانی، قاری محمد خالد ، مفتی عبدالواحد قریشی، شیخ الحدیث مولانا اشرف علی ، مولانا محمد حمزہ لقمان مبلغ عالمی مجلس۔ ان تمام علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اور اجماع امت کے عقیدہ کے مطابق حضور ﷺ کی ختم نبوت کو واضح کیا اور جھوٹے مدعیان نبوت اسود عنسی، مسلمہ کذاب سے لے کر مسلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت ، کذب وافتراء کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کی ملک پاکستان کے خلاف سازش کا ذکر کیا اور حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کا وعدہ کیا اور لیا بھی۔ مولانا محمد حامد کی دعاء سے اس کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۴ء ص ۳۹)
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
۱۳ ستمبر ۲۰۱۴ء بروز اتوار بعد نماز مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شیخوپورہ میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے فرمائی۔ آغاز مولانا قاری ظہور الحق کی افتتاحی دعاء سے ہوا۔ نقابت کے فرائض مولانا خالد عابد نے سرانجام دیئے۔ مولانا سعید وقار ، مولانا حافظ سعید احمد ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، قاری علیم الدین شاکر، مولانا نور محمد ہزاروی، جناب امجد نذیر بٹ، ملک اسلم بلوچ، مولانا امتیاز احمد کشمیری ، مولانا مشرف، مولانا عالم طارق، مولانا شاہ نواز فاروقی ، مولانا امجد خان، مولانا حافظ محمد قاسم ، مولانا اللہ وسایا، مولانا ریاض احمد وٹو، جناب شمس الدین نے بیانات فرمائے۔ مولانا ریاض احمد مبلغ شیخوپورہ نے آخر میں قراردادیں پیش کیں اور حاضرین جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس مفتی کفایت اللہ کی رقت آمیز دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۴ء ص ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے اہتمام ہر سال الحمد للہ ! با قاعدگی سے ۱۳ تا ۱۷؍ ذوالحجہ تک پانچ روزہ تربیتی کورس کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں کثیر تعداد میں دینی مدارس، اسکول، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباء اور عوام الناس شرکت کرتے ہیں، اس سال بھی حسب معمول یہ کورس جامع مسجد باب الرحمت و دفتر ختم نبوت پرانی نمائش میں منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ صبح ۸ تا ۱۲ بجے دوپہر تھا، جب کہ درمیان میں دس منٹ کا وقفہ بھی رکھا گیا تھا۔
کورس کا آغاز ۱۳؍ ذوالحجہ بروز جمعرات صبح ۸ بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا، تلاوت کلام پاک کی سعادت محمد زبیر نے حاصل کی جب کہ حمد ونعت تنویر احمد نے پیش کی۔
پہلا دن: صبح ساڑھے آٹھ بجے سے با قاعدہ کورس کا آغاز ہوا، ابتدائی دو اسباق جامع معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کے استاذ مفتی محمد سلمان یاسین نے پڑھائے، جن میں پہلے سبق کا عنوان ’’قادیانی اور شعائر اسلام‘‘ جب کہ دوسرے سبق کا عنوان ’’قرآن وسنت اور آئین پاکستان کی روشنی میں گستاخ رسول کی شرعی سزا‘‘ تھا۔ سوا دس تا بارہ بجے مولانا قاضی احسان احمد نے ’’آیات و احادیث ختم نبوت‘‘ اور قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ جیسے موضوعات پر لیکچر دیا۔ اس کے بعد طلباء کے لئے کھانے کا نظم دفتر کی طرف سے تھا، لہٰذا تمام طلباء کو کھانا کھلایا گیا۔
دوسرا دن: ۱۴؍ ذوالحجہ بروز جمعہ صبح آٹھ بجے تلاوت کلام پاک کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا محمد قاسم نے ’’اوصاف نبوت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔ ساڑھے آٹھ تا ۹ بجے تک مدرسہ انوار العلوم مہران ٹاؤن کے استاذ مولانا محمد رضوان نے ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کا پس منظر اور حالات و واقعات‘‘ پر مفصل بیان کیا۔ ۹ تا ۱۰ بجے تک اورنگی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب نے ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء‘‘ پر تفصیل سے روشنی ڈالی بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن نے ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس‘‘ کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پونے گیارہ تا بارہ بجے ’’دورِ حاضر اور جدید فتنے‘‘ کے عنوان سے ذکری فرقہ، غامدی فتنہ، فتنہ گوہر شاہی، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی اور ان کے عقائد اور افکار ونظریات سے شرکائے کورس کو آگاہ کیا۔
تیسرا دن: ۱۵؍ ذوالحجہ آج سب سے پہلے مولانا محمد شعیب کا بیان ہوا۔ انہوں نے طلباء کے سامنے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا مکمل تعارف پیش کیا۔ آیت خاتم النبیین کی تفسیر اور اس آیت میں قادیانی تاویلات اور اس کے جوابات پیش کئے۔ بعد ازاں جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن کے استاذ حدیث مولانا علی اکبر نے ’’عقیدہ ظہور مہدی حالات حاضرہ کی روشنی میں‘‘ تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا شمس الرحمٰن نے ’’جماعت المسلمین‘‘ اور ان کے نظریات سے سامعین کو روشناس کرایا۔ آخری گھنٹہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کراچی کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے ’’اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف‘‘ کے عنوان پر لیکچر دیا۔
چوتھا دن: ۱۶؍ ذوالحجہ بروز اتوار آج کے پہلے بیان میں مولانا عبدالحی مطمئن نے طلباء سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف کرایا۔ دوسرے لیکچر میں مولانا محمد شعیب نے ’’مرزا قادیانی کے چند جھوٹ‘‘ طلباء کے سامنے پیش کئے۔ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے ’’جھوٹے مدعیان نبوت‘‘ کا مختصر تذکرہ کیا، جب کہ مفتی عبداللہ حسن زئی نے ایک گھنٹہ ’’حجیت حدیث اور فتنۂ انکار حدیث‘‘ کے موضوع پر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدلل اور سیر حاصل گفتگو کی۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی (رحیم یار خان) نے ”ردِ عیسائیت اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام “ کے عنوان پر طلباء کو تیاری کروائی۔
پانچواں دن : ۱۷؍ ذوالحجہ بروز پیر صبح آٹھ بجے سے دس بجے تک مفتی محمد راشد مدنی نے سابقہ عنوان پر بیان کیا۔ بعد ازاں آدھا گھنٹہ طلباء نے تیاری کی اور ساڑھے دس بجے کورس کے شرکاء کا امتحان ہوا، جس میں کل ۷۳ طلباء نے شرکت کی۔ امتحان کے بعد مولانا عبدالحی مطمئن نے ”عقیدہ تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری“ کے عنوان پر تقریر کی اور طلباء کو اس کورس میں شرکت کرنے پر مبارکباد دی۔
اختتامی بیان ودعاء: کورس کا اختتامی بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے کیا، جس میں انہوں نے فارغ التحصیل طلباء کو اجازت حدیث بھی دی اور آخر میں دعاء فرمائی۔ حسب معمول نماز سے قبل طلباء کو کھانا کھلایا اور نماز کے بعد پہلے طلباء کے مابین ایک کوئز مقابلہ اور بعد ازاں تقریری مقابلہ ہوا، دونوں مقابلوں میں طلباء نے بھرپور حصہ لیا اور انعامات حاصل کئے۔ مفتی محمد راشد مدنی اور مولانا قاضی احسان احمد نے طلباء میں انعامات تقسیم کئے اور آخر میں مولانا قاضی احسان احمد کی دعاء پر مجلس برخاست ہوئی۔ اختتامی تقریب میں شرکاء کورس کے علاوہ دیگر خدام ختم نبوت نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ تمام منتظمین اور شرکاء کو اپنی شایان شان اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍نومبر ۲۰۱۲ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
پیریاں والا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مورخہ ۱۱؍اکتوبر ۲۰۱۲ء بروز ہفتہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا محمد موسیٰ نے فرمائی۔ کانفرنس سے مہمان مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد الیاس گھمن، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام حسین، مولانا اللہ بخش، مولانا لطف اللہ لدھیانوی، مولانا عطاء اللہ نقشبندی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۲۰)
ننکانہ میں انعام گھر کا انعقاد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام سیرت النبی ﷺ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوعات پر مبنی دلچسپ اور معلوماتی پروگرام انعام گھر (سوالاً جواباً) مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۲۰۱۲ء ۸ بجے رات بمقام بابا فرید پارک ننکانہ صاحب میں منعقد ہوا۔ جس میں آسان سوالات پر سینکڑوں قیمتی انعامات دیئے گئے۔ اس پروگرام کی صدارت ننکانہ صاحب کی جماعت کے امیر جناب بشیر احمد زرگر صاحب نے کی جب کہ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا صاحب تھے۔ اس پروگرام کی کمپئیرنگ جماعت کے سرپرست جناب محمد متین خالد نے کی۔ انعام گھر میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ پروگرام اس قدر دلچسپ تھا کہ رات ڈیڑھ بجے تک لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے سرکوبی کے موضوعات پر سوالات اور جوابات نہایت توجہ اور دلچسپی سے سنتے رہے۔ ایک موقع پر ڈنر سیٹ کے انعام پر جب مجمع سے پوچھا گیا کہ آنجہانی مرزا قادیانی پر جو فرشتہ نام نہاد وحی لے کر آتا تھا اس کا نام کیا ہے۔ تو تقریباً تمام پنڈال نے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مجلس ختم نبوت کی شبانہ روز محنت سے لوگوں میں تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کا شعور آچکا ہے۔ مرزا قادیانی کے شعر ”کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں...... ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“ پر مجمع میں خوب قہقہے لگے۔ پروگرام میں عوام الناس کی دلچسپی کے تمام مواقع موجود تھے۔ پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں سے سب سے موٹے شخص کو فٹ بال اور کمزور آدمی کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیبوں کا مربہ دیا گیا۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے مولانا اللہ وسایا صاحب کا ایمان پرور خطاب ہوا۔ ان کے خطاب سے پہلے اعلان ہوا کہ حضرت کی تقریر میں سے ایک سوال پوچھا جائے گا۔ درست جواب پر ایک پیڈسٹل پنکھا دیا جائے گا۔ چنانچہ اس پر مجمع نے نہایت توجہ اور ہمہ تن گوش ہوکر مولانا اللہ وسایا کا خطاب سنا۔ مولانا اللہ وسایا نے نہایت مدلل اور پرمغز انداز میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی۔ درود شریف کی فضیلت پر ایسا بیان شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ پورا مجمع عش عش کر اٹھا۔ بعد میں مولانا کی تقریر میں سے سوال تیار کیا گیا۔ درست جواب پر کامیاب امیدوار کو پیڈسٹل پنکھا دیا گیا۔ موٹر سائیکل کے لئے ۵ سوالات کے درست جوابات دینا ضروری تھے۔ مگر اس کے لئے شرکاء میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا سمیت تمام مہمانوں کو خوبصورت شیلڈز دی گئیں۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے مولانا مفتی صغیر احمد کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۵ء ص ۵۱)
تینتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مورخہ ۲۳، ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء کو تینتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں آب و تاب سے فقید المثال طور پر انعقاد پذیر ہوئی۔ امسال یہ کانفرنس ایسے موقع پر منعقد ہوئی کہ مدرسہ ختم نبوت کے جدید حصہ کی تعمیرات سو فیصد مکمل ہوچکی تھیں۔ صحن میں ٹف ٹائل لگ چکی تھی۔ ۸ عدد وسیع وعریض باہمی متصل گراسی پلاٹوں میں گھاس اپنی مکمل تر و تازگی سے دل لبھا رہا تھا۔ دائیں بائیں تمام کمروں میں عمدہ قسم کا کارپٹ بچھایا جاچکا تھا۔ چالیس فٹ بلند وبالا 10x18x18 کی ٹینکی جس میں بیس ہزار گیلن پانی کے جمع ہونے کی گنجائش ہے، مکمل تعمیر ہوچکی تھی۔ نئی ٹربائن لگ چکی تھی۔ بلڈنگ کی پچھلی جانب پر شرق وغرب کی جانب وسیع وعریض وضوخانے تیار تھے۔ جس میں مجموعی طور پر نئی و پرانی بلڈنگ میں تقریباً پانچ سو افراد ایک وقت میں وضو کرسکتے ہیں۔ تمام کمروں میں اٹیچ باتھ چالو ہوچکے تھے۔ غرض ۳۳ ویں سالانہ کانفرنس کے مہمانوں کی سہولت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے امکانی طور پر تمام تیاری مکمل کرلی تھی۔
ختم نبوت فری ڈسپنسری:
ہر سال کانفرنس کے لئے ڈسپنسری بھی قائم کی جاتی ہے۔ امسال اس نئی بلڈنگ کے دو کمروں کے آگے چار دیواری کرکے باہر میں سڑک سے دروازہ دے کر مستقل ڈیزائننگ کے تحت وسیع وعریض ڈسپنسری مستقل بنیادوں پر تعمیر ہوکر فعال کردی گئی تھی۔ ایک ڈاکٹر صاحب ہر روز ۳ سے ۶ بجے تک ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ایک مستقل کوالیفائڈ ڈسپنسر اس کے علاوہ مصروف کار ہیں۔ ہر روز ساٹھ سے ایک سو کے درمیان مریضوں کو فری میڈیکل سہولت دی جاتی ہے۔ امسال ۱۲؍ اکتوبر کو ایک فری میڈیکل کیمپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یہاں پر لگایا گیا۔ صبح دس بجے سے مغرب تک بغیر وقفہ کے پورا دن مجموعی طور پر چارسو سے زائد مریضوں کا الٹرا ساؤنڈ ، بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی وغیرہ کے ٹیسٹ ہوئے۔ پانچ ڈاکٹرز اور اتنا ہی دیگر عملہ کی ٹیم جناب ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز کی سربراہی میں آئی۔ کچھ ڈاکٹرز حضرات مریض چیک کرتے۔ جن کا ٹیسٹ لینا تجویز ہوتا۔ ان کے ٹیسٹ ہوتے۔ نسخہ لکھا جاتا اور تجویز کردہ دوائیاں مہیا کی جاتیں۔ اس دفعہ چناب نگر کے قرب وجوار میں سیلاب آیا تھا۔ اس سے متاثرہ بہت سارے لوگوں نے بڑے شوق سے اس فری میڈیکل کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔ ٹیسٹوں کے علاوہ بعض مریض ایسے تھے جنہیں چیک اپ کے بعد تجویز کردہ ادویات دی گئیں۔ ان سب کی مجموعی تعداد آٹھ صد ہوگی۔ ان سب کو فری کھانا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مہیا کیا گیا۔ عید کے موقعہ پر پچیس بڑے جانوروں کی قربانی کا گوشت علاقہ بھر میں تقسیم کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیلاب زدگان کی مدد:
سیلاب کے موقعہ پر ایک بار چارسدہ کے جماعتی رفقاء نے دس لاکھ روپیہ کا آٹا، گھی ، چاول اور دیگر اشیاء گھر گھر جا کر تقسیم کیں۔ دوسرے علاقوں سے بھی امداد لے کر دوست آتے رہے اور مجلس کے رفقاء کی نگرانی میں جا کر تقسیم کرتے رہے۔ اب کانفرنس سے اگلے روز سیلاب زدگان میں رضائیاں تقسیم کرنے کا نظم بنایا گیا ہے۔ رضائیاں پہنچ گئی تھیں۔ فہرستیں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا غلام مصطفیٰ بنا رہے تھے۔ تقسیم کنندگان معطی حضرات تشریف لائیں گے تو گھر گھر جا کر سردی سے بچاؤ کی رضائیاں تقسیم ہونا تھیں۔ کانفرنس سے اگلے روز ۲۶؍اکتوبر کو فری آئی کیمپ کا مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں اہتمام کیا گیا۔ ماہر آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد اخلاق صاحب نے آنکھوں کا چیک اپ کیا اور فری ادویات دی گئیں۔ تمام تر ادویات کا اہتمام فیصل آباد سے جناب ڈاکٹر محمد صولت نواز نے کیا۔ غرض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تبلیغ عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ علاقہ بھر میں سماجی خدمات کے ذریعہ بھی ایک اچھا خاصہ حلقہ بنا لیا ہے۔ جس سے علاقہ کے عوام کے دلوں میں ڈھیروں محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔
سماجی خدمات، لٹریچر کی ترسیل اور تبلیغ کے علاوہ قدیم اور جدید وسیع وعریض کوہ قامت بلڈنگوں میں حفظ وناظرہ قرآت وگردان کی بنین وبنات کی تعلیم کے علاوہ درس نظامی کی کلاسیں قائم ہیں۔ اس وقت تک سینکڑوں حفظ وناظرہ ، درس نظامی ، میٹرک کے بچوں نے تعلیم مکمل کی ہے۔ امسال اس مدرسہ میں مشکوٰۃ شریف کے درجہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ فالحمد للہ !
اسی طرح ملتان دفتر میں سہ ماہی سالانہ ختم نبوت کی کلاس مدارس کے فضلاء کے لئے لگتی تھی۔ اس سال اس کا دورانیہ ایک سال کر کے اس کا اجراء مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں کیا گیا۔ فاضل نوجوان، مناظر مولانا محمد رضوان عزیز کو اس کلاس کی نگرانی سپرد کی گئی۔ آپ کے علاوہ مدرسہ ختم نبوت کے صدر مدرس مولانا غلام رسول دین پوری ، مولانا محمد امین ، مولانا محمد احمد بھی یومیہ مختلف متنوع نصاب تخصص کی کلاس کو پڑھاتے ہیں۔ یومیہ نو گھنٹہ تعلیم ہوتی ہے۔ مقالہ جات، خطابت، مناظرہ، حفظ حدیث کے علاوہ قدیم وجدید تمام فتن کا تقابلی جائزہ پر مکمل عبور کے حامل علماء ومناظرین ومتکلمین کا مکمل نصاب پڑھانا مطلوب ہے۔ غرض سماجی، تعلیمی، تبلیغی ان خدمات جلیلہ کی حق تعالیٰ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس علاقہ میں توفیق ارزاں فرمائی ہے۔ ۳۳ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی تیاری کے لئے عید الاضحیٰ سے قبل چہار رنگہ خوبصورت اشتہار شائع کر کے ملک بھر کے جماعتی رفقاء اور مبلغین حضرات کو ارسال کر دیا گیا تھا۔ تمام حضرات نے اپنے اپنے حلقہ میں قافلوں کی ترتیب قائم کر لی تھی۔
عید کے تین دن گزار کر چوتھے روز جمعرات کو مبلغین حضرات کا چناب نگر میں اجلاس منعقد ہوا۔ اساتذہ اور مبلغین حضرات سمیت اٹھائیس حضرات کی مختلف علاقوں میں پیغام ودعوت کے لئے ڈیوٹی لگی۔ لاہور، گوجرانوالہ، ساہیوال، فیصل آباد، سرگودھا ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اشتہارات، بینرز، فلیکس لگوانے کا اہتمام کیا گیا۔ بیانات ہوئے۔ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ اجتماعی وانفرادی طور پر دعوت کا سلسلہ چلایا گیا۔ تمام حضرات نے شب وروز ایک کر کے تندہی سے یہ فریضہ سرانجام دیا۔ بظاہر تو یہ ایک سالانہ کانفرنس ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تیاری کے لئے چار پانچ ڈویژنوں میں لگا تار تبلیغ عقیدہ ختم نبوت سے ایک نورانی ماحول قائم ہو جاتا ہے۔
مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا سیف اللہ خالد نے کانفرنس کی منظوری، پنڈال کی تیاری، گردونواح کی صفائی، سڑکوں پر چونا ڈالنا، بجلی، پانی، جنریٹروں کی آمد، ڈیزل، لکڑی کی خریداری، خوردونوش کے سامان کی فراہمی، کھانا پکانے والی ٹیموں سے رابطہ، ۲۰۰ جدید صفوں کی پشاور سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ذریعہ منگوانے کا تمام عمل مکمل کر لیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکورٹی کے لئے حسب سابق مانسہرہ کی جماعت، جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے ذمہ داران، کھانا کھلانے کے لئے جامعہ طیبہ فیصل آباد اور شیخوپورہ مجلس کے قاری محمد ابوبکر، سمیت تمام حضرات نے بار بار دورہ کر کے منتظمین حضرات سے مشورہ کے بعد اپنے اپنے پلان ترتیب دے رکھے تھے اور ڈیوٹیاں دینے والے حضرات کی فہرستیں بن گئی تھیں۔ ان کے پہنچنے کا ٹائم طے ہو چکا تھا۔ ۲۱؍اکتوبر دوپہر کو مولانا عزیز الرحمن جالندھری تشریف لائے۔ تمام موجود حضرات نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ اپنی اپنی کارکردگی اور اپنے اپنے شعبہ ڈیوٹی کے انتظامات کی تیاری کی رپورٹ دی۔ ظہر سے عصر تک میٹنگ ہوئی۔ اس میں مناسب رد و بدل کے بعد ڈیوٹیاں لگا دی گئیں۔ مدرسہ کے اساتذہ کی سرپرستی میں طلباء کرام نے مدرسہ کی صفائی کر کے اس کے در و دیوار کو نہ صرف چمکتا دمکتا بنا دیا۔ بلکہ مہمانوں کی آمد کے لئے سراپا انتظار بھی کر دیا۔ اسی دن ہی صبح سے ٹینٹ کا سامان آنا شروع ہو گیا۔ شام کو پنڈال کا سائبان کھڑا کر دیا گیا۔ اگلے روز شام کو تمام پنڈال کی ٹف ٹائل پر چاولوں کی پرالی بچھا دی گئی۔ ۲۲؍اکتوبر کو بجلی کی تنصیب کر کے جنریٹروں کو چالو کر دیا گیا۔ جامع مسجد ختم نبوت کے ساتھ ملحقہ سولہ کنال کا گراسی پلاٹ جو اب عمدہ باغ کی شکل اختیار کر چکا ہے اس میں حسب سابق کھانا کھلانے کا پنڈال تیار کیا گیا۔ بدھ کے روز ظہر سے قبل جھنگ سے کھانا پکانے اور چنیوٹ سے روٹیاں پکانے والی ٹیموں نے آ کر اپنا انتظام مکمل کر لیا۔
چارسدہ سے عصر کے قریب اطلاع ملی کہ سات عمدہ بڑی ہینو، ڈائیو طرز کی بسوں پر قافلہ روانہ ہو رہا ہے۔ سکھر سے اطلاع ملی کہ ایک مستقل بوگی پاکستان ایکسپریس کے ساتھ کانفرنس کے شرکاء کی لگ کر آ رہی ہے۔ سندھ تھرپارکر، کنری سے، کراچی سے، ایبٹ آباد، مانسہرہ، حیدرآباد، بنوں، کوہاٹ، راجن پور، کوئٹہ، مردان، خضدار، میانوالی، خوشاب، صوابی، پشاور، سیالکوٹ، ڈسکہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، نوشہرہ، لاہور، ٹنڈوآدم، سانگھڑ، گمبٹ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پھلور، دارالعلوم ربانیہ، جامعہ امدادیہ فیصل آباد، قصور، جنڈوالا، بہاول نگر، گوجرانوالہ، سرگودھا، علی پور چٹھہ غرض ہر قابل ذکر شہر سے وفود و قافلوں کی روانگی کی خوش کن اطلاعات نے نیا ولولہ و جذبہ دیا۔
عصر کے قریب جامعہ دارالقرآن فیصل آباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ کے رفقاء کی آمد ہوئی۔ صاحبزادہ مولانا عزیز الرحمن رحیمی، مولانا غلام فرید، جناب عبدالرؤف کی قیادت میں رفقاء نے سیکورٹی کا نظم سنبھال لیا۔ رات بھر قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۲ء جمعرات کی نماز پر جامع مسجد ختم نبوت کا ہال، برآمدہ اور صحن پر ہو چکے تھے۔ کسی زمانہ میں جتنا اجتماع جمعہ کے روز کانفرنس پر ہوتا تھا امسال اتنا تو صبح کے وقت نماز پر ہو گیا۔ کیا سنہری ماحول قائم ہوا۔ عرصہ سے روایت ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لاہور کے امیر شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن کا جمعرات صبح کی نماز کے بعد درس قرآن سے کانفرنس کا آغاز ہوتا ہے۔ امسال بھی ایسے ہوا۔ جمعرات صبح کی نماز کی امامت، تفصیلی درس قرآن اور آپ کی دعاء سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ درس سے فراغت کے بعد تمام مہمانوں نے ناشتہ کیا اور پھر اپنی اپنی رہائش گاہوں یا پنڈال میں آرام کیا۔ فجر کی نماز کے بعد تمام پنڈال میں صفیں قبلہ رخ بچھا کر پورے پنڈال کو بقعہ نور اور سراپا نورانی کیفیت کا حامل بنا دیا گیا۔
قریباً ساڑھے نو بجے سپیکر چالو کیا گیا۔ دوستوں نے اٹھ کر وضو بنایا اور پنڈال میں تشریف لانا شروع ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے کی۔ صدارتی کلمات ارشاد فرمائے۔ مختصر وقت میں کانفرنس کی غرض و غایت اور مکمل تاریخ جستہ جستہ دہرائی۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے دعاء فرمائی اور کانفرنس کا آغاز کر دیا گیا۔
پہلی نشست ....... جمعرات قبل از ظہر:
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت: قاری محمد مہتاب متعلم مدرسہ ختم نبوت چناب نگر نعت: حافظ محمد شریف منچن آباد تقریر: مولانا محمد نعیم، مولانا احسان الحق، مولانا بلال رشید، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد امجد، حافظ عبدالوہاب جالندھری مبلغ حافظ آباد، مولانا خبیب احمد مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا مختار احمد مبلغ کنری، مولانا توصیف احمد مبلغ حیدرآباد، مولانا سیف الرحمٰن لاہور اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد علی صدیقی مبلغ میر پور خاص، مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاول نگر
دوسری نشست...... بعد از ظہر تا عصر:
صدارت: مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد مولانا مطیع الانوار چارسدہ تلاوت: قاری محمد یاسر مدرس جامعہ سراجیہ چیچہ وطنی تقریر: مولانا محمد وسیم اسلم مبلغ چناب نگر، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ، جناب سید نور الحسن امیر جماعت اسلامی چنیوٹ نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی، حافظ نادر شاہ چارسدہ، قاری محمد شریف محمودی چشتیاں، مولانا سید محمود میاں شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ مدنیہ جدید لاہور، مولانا قاری محمد خلیل بندھانی استاذ التفسیر جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا حق نواز خالد خطیب فیصل آباد مہمان خصوصی: مولانا صاحبزادہ شہاب الدین موسیٰ زئی شریف، مولانا مفتی عبداللہ شاہ چارسدہ اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی
تیسری نشست...... بعد از عصر:
مہمان خصوصی وصدر اجلاس: پیر طریقت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی سوالات و جوابات: راقم آثم فقیر اللہ وسایا
چوتھی نشست...... بعد از مغرب تا قبل از عشاء:
تلاوت ونعت کے بعد تقریر مولانا عبدالرؤف چشتی اوکاڑہ مجلس ذکر: مولانا غلام رسول صاحب دین پوری
پانچویں نشست...... بعد از عشاء:
زیر صدارت: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ تلاوت: قاری محمد عثمان مالکی ساہیوال نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی، حافظ محمد طارق حفیظ ساہیوال تقریر: مولانا سید محمد شعیب بنوں، مولانا عبدالواحد قریشی ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد رضوان عزیز نگران شعبہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر، مولانا مفتی عظمت اللہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں، مولانا محمد یوسف خان استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور نعت: مولانا مفتی سلمان یسین کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تقریر: مولانا عبدالرؤف فاروقی مرکزی ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام (س)، صاحبزادہ مبشر محمود خطیب جامع مسجد محمود فیصل آباد، جناب شمس الدین سابق قادیانی لاہور، مولانا صاحبزادہ عبدالجبار عباسی شاہ پور چاکر، مولانا صاحبزادہ مفتی عتیق الرحمٰن لاہور، مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مجاہد اسلام مولانا عبدالشکور حقانی لاہور، مولانا صاحبزادہ عبدالخبیر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور، مولانا نور محمد ہزاروی امیر مجلس سرگودھا، مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر امیر مرکزیہ جمعیت علماء پاکستان، مولانا صاحبزادہ محمد امجد خان مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام پاکستان
کلام: سید سلمان گیلانی لاہور
تقریر: مولانا زبیر احمد ظہیر نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری امیر جمعیت اہل حدیث (متحدہ) پاکستان، مولانا عبدالحمید وٹو قلعہ دیدار سنگھ
کے خطاب پر رات گئے اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے دعاء کرائی۔
مہمان خصوصی: مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، صاحبزادہ مولانا احمد علی ثانی انجمن خدام الدین لاہور، پیر طریقت جناب رضوان نفیس لاہور
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص
آج کا اجتماع مثالی اجتماع تھا۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت کا پورا پنڈال سامعین سے کھچا کھچ بھر گیا تو رش کی وجہ سے مین گیٹ سے داخلہ بند کرنا پڑا۔ ٹینکی کی جانب کا ذیلی دروازہ کھول کر دونوں سائیڈوں کے سینکڑوں فٹ لمبے برآمدہ میں قطار در قطار مہمانوں کو داخل کیا گیا۔ صحن، مدرسہ کے برآمدے بھر گئے تو کمروں کے دروازے کھول کر ہزاروں آدمیوں نے کمروں میں بیٹھ کر کانفرنس کی کارروائی سنی۔ جامع مسجد و قدیم مدرسہ کے صحن میں سپیکر لگا کر شرکاء کو وہاں پر کارروائی سننے کی سہولت مہیا کی گئی۔
دونوں مدرسوں میں جتنے شرکاء تھے اس سے کہیں زیادہ سڑکوں پر رش تھا۔ ایک جرنلسٹ نے فی البدیہہ کہا کہ کاش عمران خان دیکھتا کہ جلسے یوں ہوا کرتے ہیں۔ اس بار تو مین گیٹ پر اتنا رش ہوا کہ کسی حادثہ کا خوف پیدا ہونے لگا۔ آج مغرب سے کچھ قبل مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم پر کوئٹہ میں حملہ ہوا۔ شدید تشویش ہوئی۔ اس کے بعد کانفرنس میں اس واقعہ کے خلاف شدید غم وغصہ کا اظہار بیانات میں ہوتا رہا۔
امسال طے تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کوئٹہ سے فراغت کے بعد جمعہ صبح پی آئی اے سے اسلام آباد، وہاں سے موٹروے کے راستہ تشریف لا کر کانفرنس میں آخری خطاب فرمائیں گے۔ پھر جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے امیر مولانا سید محمد زکریا شاہ صاحب کے حوالہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ صبح سپیشل طیارہ سے فیصل آباد، وہاں سے ریلی کی قیادت کے ذریعہ تشریف آوری ہوگی۔
مولانا فضل الرحمٰن صاحب پر قاتلانہ حملہ کے بعد فقیر راقم پر سکتہ کی کیفیت رہی۔ رات گئے پہلے مولانا قاری نذیر احمد لاہور نے تفصیل سے حالات سنائے۔ رات گئے اسٹیج پر خود مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کو فون کیا اور خیر خیریت معلوم ہوئی۔ اب کوئٹہ میں تین جنازے رکھے ہیں۔ کئی کارکن ہسپتال میں ہیں۔ ان حالات میں حضرت دامت برکاتہم کا تشریف لانا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ آپ نے شرکت سے معذرت فرمائی۔ رات گئے تو یہ کیفیت رہی۔ رات اڑھائی بجے کے قریب بارش ہوگئی۔ دوستوں نے جہاں جگہ ملی وقت گزارا۔ صبح کی نماز بھی بارش میں ہوئی۔ لیکن وائے عشق رسالت ﷺ کا جذبہ صادق کہ ایک ساتھی نہ گیا، نہ شکوہ کیا۔ اس حالت میں وقت گزارا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فجر کی نماز کے بعد مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ امیر مجلس کراچی نے درس قرآن دیا۔ اس کے بعد دوستوں نے کچھ آرام کیا۔ اتنے میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا غلام مصطفیٰ اور مدرسہ کے تمام اساتذہ نے مل کر پنڈال کے سائبان، کھانے کا نظم، پنڈال کی صفوں کی ترتیب درست کر لی۔ ۹؍ بجے جمعہ کے روز جب صبح کی نشست کے لئے سپیکر کھولا تو الحمد للہ موسم درست ہو چکا تھا۔ آسمان کھل گیا تھا۔ پانی خشک ہو چکا تھا اور موسم میں خنکی نے موسم بہار کا سرور پیدا کر دیا تھا۔ ادھر جلسہ کا آغاز ہوا ۔ ادھر کھانا کھلانے کا آغاز کر دیا گیا۔ رات کے اجلاس میں مہمانوں کی کثرت کے باعث عشاء کے بعد اور پھر جمعہ کے روز صبح پہلے سے زیادہ وسیع انتظام کیا گیا۔ کھانا پکانے کی جھنگ کی ٹیم نے جناب محمد جاوید کی نگرانی اور مولانا محمد اسحاق ساقی صاحب کی سرپرستی میں بڑی مستعدی سے کام کیا۔ لیکن مہمان اتنے تھے کہ رات کو فوری اور جمعہ کو بھی بیسیوں دیگوں کا جامعہ امدادیہ چنیوٹ میں پکوانے کا مولانا سیف اللہ صاحب خالد نے ذمہ اٹھا لیا۔ فجزاهم الله ! ان کے اس اقدام سے بہت سہولت رہی۔ جمعہ پر پنڈال بھر گیا۔ تو دوسرا جمعہ مسجد میں ہوا۔ جامع مسجد قدیم مدرسہ اور مسجد کا صحن برآمدے بھر گئے۔ کمروں میں بھی صفیں بنائی گئیں۔ الحمد لله اولاً و آخراً!
چھٹی نشست ...... قبل از جمعہ:
صدارت: مولانا مفتی عبداللہ شاہ چارسدہ تلاوت: فخر القراء قاری احسان اللہ نقشبندی لاہور نعت: قاری محمد شریف منچن آباد تقریر: مولانا محمود الحسن بھکر، مفتی شفاء اللہ خان دریا خان، مولانا مفتی عبداللہ شاہ چارسدہ، مولانا محمد افضال الحق کٹھانہ علی پور چٹھہ، قاری محمد خالد گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، مولانا محمد علی صدیقی مبلغ میر پور خاص سندھ، مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم، مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاول نگر، مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ چیچہ وطنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی مبلغ رحیم یار خان اذان اوّل: قاری محمد مہتاب چناب نگر تقریر: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (سنتوں کا وقت دیا گیا) اذان ثانی: جناب الحاج محمد یٰسین صاحب چناب نگر خطبہ و امامت جمعہ: مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور
ساتویں نشست ...... بعد از جمعہ:
زیر صدارت: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مہمان خصوصی: مولانا محمد عبداللہ صاحب سرپرست اعلیٰ جمعیت علماء اسلام پاکستان، مولانا عبدالغفور ٹیکسلا، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا قاری محمد یٰسین مہتمم دارالقرآن فیصل آباد، پیر طریقت سید جاوید حسین شاہ صاحب امیر عالمی مجلس فیصل آباد، پیر طریقت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا محب اللہ صاحب لورالائی، مولانا محمد ضیاء مدنی خطیب جامع مسجد فیصل آباد، مولانا محبّ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الہی صاحب سرپرست اعلیٰ جمعیت علماء اسلام لاہور، مولانا سید محمد زکریا امیر جمعیت علماء اسلام فیصل آباد، پیر رضوان نفیس لاہور، مولانا محمد حنیف صاحب جھنگ
تلاوت: قاری محمد نصیر چنیوٹ نعت: حافظ محمد شریف منچن آباد، سید سلمان گیلانی لاہور صدارتی تقریر: مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ قراردادیں: مولانا قاضی احسان احمد مبلغ کراچی تقریر: مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی پشاور، مولانا محمد الیاس گھمن سرگودھا کلمات تشکر: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ دعائے اختتام: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ
جامع مسجد میں نمازیں مولانا محمد شفیق صاحب، پنڈال میں نمازیں مولانا محمد شاہد صاحب نے پڑھائیں۔ خدمت مہمانان خصوصی مولانا مفتی ظفر اقبال اور مولانا فقیر اللہ اختر، قاضی امتیاز احمد ٹوبہ، قاضی رضوان احمد ٹوبہ، قاری زاہد اقبال، مولانا محمد الیاس، مولانا محمد احمد کے ذمہ رہی۔ مکتبہ کا نظم مولانا عبدالرشید اور ان کے رفقاء کے ذمہ رہا۔
عمومی طعام: مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاری محمد رمضان، قاری محمد مدنی۔ استقبالیہ کیمپ نمبر ۱: مولانا محمد طیب، مولانا راشد مدنی، سید پروفیسر شجاعت، خالد مسعود ایڈووکیٹ، خالد مبین گجرخان، حافظ محمد الیاس، راولپنڈی۔ سیکورٹی: مولانا عزیز الرحمن رحیمی، جناب عبدالرؤف روفی، شیخ الحدیث مولانا غلام فرید کے ذمہ رہے۔ میڈیا اطلاعات: مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالنعیم رحمانی، مولانا محمد عرفان بھیروی، مولانا وسیم اسلم۔ استقبالیہ نمبر ۲: مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا ریاض احمد وٹو، مولانا توصیف احمد، مولانا حبیب احمد، قاضی عبدالخالق۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۲ء ص ۲۴ تا ۳۵)
ختم نبوت چوک کا افتتاح
منظور کالونی کراچی میں عیدگاہ بس اسٹاپ چوک کو ختم نبوت چوک سے موسوم کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب یکم دسمبر ۲۰۱۲ء بروز پیر بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔ تقریب سے مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی مدظلہ نے خطاب کیا۔ حضرت نے کہا کہ الحمدللہ! قادیانیت کا ہر محاذ پر ہمارے اکابرین نے مقابلہ کیا ہے۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی جوانی عزیز ہے، لیکن جب حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہو تو اس جوانی کو قربان کرنے سے دریغ نہ کرنا اور آج ہم اس چوک پر کھڑے ہو کر حضور اکرم ﷺ کے تاج ختم نبوت کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ تقریب سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ائمہ کرام، خطباء حضرات اور عوام الناس کے علاوہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی، جن میں ملک محمد شاہ نواز اعوان، ملک محمد بشیر مغل، جمال خان کاکڑ، چوہدری محمد دانیال گجر شامل تھے۔ تقریب کا اختتام مولانا خان محمد ربانی مدظلہ کی دعاء پر ہوا۔ اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رب العزت تمام حضرات کو جنہوں نے اس چوک کے لئے مساعی کی انہیں دنیا و آخرت میں اس کا بہترین اجر نصیب فرمائیں۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۴ء ص ۱۰)
ختم نبوت کانفرنس ٹل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروگرامات اپنے معمول کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں اور ہر ضلع میں ہوتے رہتے ہیں تاکہ سادہ لوح مسلمان جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی عیاریوں، مکاریوں اور اس کے پیروکاروں کے مکر و فریب سے محفوظ رہ سکیں ۔ اسی سلسلے میں کوہاٹ ڈویژن ضلع ہنگو تحصیل ٹل میں عظیم الشان دفاع ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کی آمد پر کوہاٹ کے دوستوں مولانا مجاہدین صاحب امیر مجلس کوہاٹ، بھائی محمد علی، بھائی احتشام اور دیگر کے ہمراہ استقبال کیا اور مولانا کی آمد پر دل سے خوشی کا اظہار کیا۔ پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق صبح بروز منگل ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۴ء مولانا قاضی صاحب سمیت تمام احباب کوہاٹ سے ٹل کے لئے روانہ ہوئے اور ٹھیک بارہ بجے ٹل کی مشہور درسگاہ دارالعلوم عربیہ ٹل پہنچے۔ دارالعلوم ٹل کے اساتذہ کرام نے بہت خوشی کے ساتھ استقبال کیا، مولانا عبدالوہاب نے جن کی کاوشوں سے یہ پروگرام عمل میں آیا، مہمانوں کی تواضع کے لئے چائے اور کھانے کا بہترین بندوبست کیا تھا، پھر نماز ظہر کے فوراً بعد مرکزی گنبد مسجد میں باقاعدہ پروگرام کا افتتاح مولانا قاری ولی اللہ کی تلاوت سے ہوا۔
اس پروگرام میں مولانا عباس، مولانا علیم اللہ کے بیانات اور مولانا زاہد کے استقبالیہ کلمات کے بعد مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد کے تفصیلی بیان نے مجلس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے۔ عوام اور خواص نے پُر جوش انداز میں شرکت فرما کر عشق رسول کا ثبوت دیا اور سب نے وعدہ کیا کہ اس کام کو اوڑھنا بچھونا بنائیں گے اور قادیانیوں کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے اور اسی طرح کے پروگرامات کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ !
آخر میں عصر کی نماز سے کچھ پہلے شیخ الحدیث مفتی سردار صاحب نے اختتامی کلمات اور دعاء فرمائی ۔ ہم دعاء گو ہیں ان تمام احباب کے لئے جنہوں نے اس پروگرام میں تعاون کیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۵ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت
خیبر پختونخواہ کے ایک ضلع لکی مروت کی جامع مسجد طوطی آبائی میں ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۴ء ظہر سے عصر تک ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مقامی امیر شیخ الحدیث مولانا احمد سعید امیر لکی تحصیل نے کی ۔ ابتدائی بیان مولانا محمد ابراہیم ادھمی، ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرائے نورنگ کا ہوا ۔ بعد ازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس بنوں
۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۴ء کو جامع مسجد حافظ جی بنوں میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرکز سے نمائندگی کی۔ علاقائی اور صوبائی شخصیات نے بھی بھر پور خطاب فرمائے۔ کانفرنس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ضلع بنوں کی شاخ نے کیا، جس کے امیر مولانا مفتی عظمت اللہ ہیں اسی روز جمعیت علماء اسلام کے سابق ایم پی اے مولانا عبدالصمد فاضل دیوبند کا انتقال اور جنازہ بھی ہوا، جس میں ہزاروں حضرات نے شرکت کی۔ کانفرنس صبح نو بجے سے شام چار بجے نماز عصر تک جاری رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۰)
چارسدہ میں سہ روزہ ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶ تا ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۴ء دارالعلوم فیض الاسلام تحفظ ختم نبوت کورس منعقد ہوا، جس کا افتتاح شیخ الحدیث مولانا مطلع الانوار فاضل دیوبند کے ابتدائی بیان سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا عابد کمال نے اوصاف نبوت پر بیان کیا۔ جمعتہ المبارک کا خطبہ جامع مسجد میں دیا۔ ۲۷؍ دسمبر کو مولانا صابر شاہ، مولانا محمد عابد کمال اور راقم الحروف کے لیکچرز ہوئے۔ ۲۸؍ دسمبر کو بھی مولانا صابر شاہ، مولانا عابد کمال، مولانا قاضی احسان احمد اور راقم کے لیکچرز ہوئے، لیکچرز میں ختم نبوت قرآن وحدیث، مرزا قادیانی کے اقوال کی روشنی میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول قرآن سنت، اجماع امت اور مرزا قادیانی کے اقوال کی روشنی میں، مرزا قادیانی کا کردار وکریکٹر، دعاوی باطلہ، تضادات، نیز مرزا قادیانی اور فتنہ قادیانیت کے مقابلہ میں علماء کرام کی خدمات کے عنوان پر بیانات ہوئے۔ آخری خطاب وبیان صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی دامت برکاتہم کا ہوا۔ کورس کی نگرانی ضلعی امیر مولانا پیر حزب اللہ جان اور مولانا نجیب الاسلام نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۰، ۲۱)
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ کلاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد جامعۃ العلوم والمعارف نوشہرہ کلاں میں ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۴ء بعد نماز ظہر تا نماز مغرب عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت ضلعی امیر مولانا قاری محمد اسلم نے کی۔ کانفرنس سے مقامی علماء کرام اور نعت خوانوں کے علاوہ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور، مولانا عابد کمال نوشہرہ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں پختون روایات کے مطابق ہزاروں مسلمانوں نے جوش وجذبہ اور والہانہ عقیدت کے ساتھ شرکت کی۔ کانفرنس میں سانحہ پشاور پر گہرے رنج والم کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور سانحہ میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزادی جائے۔ کانفرنس سے مفتی حاکم علی حقانی، مولانا محمد عارف بھکروی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے انتظامات میں ادارہ کے مہتمم مولانا عبدالقیوم فقیر نے بھر پور سرپرستی فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۱)
خطبہ جمعتہ المبارک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کا خطبہ جمعتہ المبارک چک نمبر ۳۲۵ ج ب دلم میں مولانا قاضی احسان احمد نے ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۵ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ۴۷۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فرانسیسی جریدہ اور گستاخانہ خاکے
یہودیت اور عیسائیت آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ قرآن کریم کے مطابق یہودیوں کا کہنا ہے کہ عیسائیت کوئی مذہب اور حقیقت نہیں اور عیسائیوں کا कहना ہے کہ یہودیت کی اب کوئی حیثیت اور اصل نہیں۔ لیکن اسلام کے پھیلنے اور غیر مسلموں کے اسلام اور ایمان کی آغوش میں آنے سے یہودی اور عیسائی تلملا اٹھے ہیں اور اب دونوں اسلام دشمنی میں متحد اور متفق ہو چکے ہیں اور وہ اپنے اس اندرونی بغض و عناد کا اظہار وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں فرانس سے نکلنے والے ایک جریدے جس نے پہلے بھی گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے، حملہ آوروں نے اس کے دفتر پر حملہ کر کے اس کے چیف ایڈیٹر ، ۴ کارٹونسٹ، ۲ پولیس اہلکاروں سمیت ۱۲ افراد کو قتل اور کئی ایک کو زخمی کر دیا۔ یہ حملہ آور کون تھے؟ کس نے حملہ کرایا اور کیوں کرایا؟ مختلف سوالات ہیں ، جن کا تسلی بخش جواب فرانس کی حکومت نے ابھی تک نہیں دیا، لیکن اس کے بعد اس کا الزام بھی دو مسلمانوں پر لگا دیا گیا اور اس کے رد عمل میں سو سے زائد مسلمانوں پر حملے کئے گئے ، ان کی مساجد جلائی گئیں، مساجد میں گندگی پھینکی گئی اور اس کے بعد اس جریدے نے اعلان کر دیا کہ وہ دوبارہ نعوذ باللہ! حضور اکرم ﷺ کے خاکے شائع کرے گا اور اس نے اس پر عمل کر بھی دیا۔ ادھر امریکا سمیت پورے مغربی ممالک کے سفرا ایک واک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سب ”چارلی ایبڈو“ ہیں یعنی ہم سب پیغمبر اسلام کی توہین میں شریک ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ یہ ہے مغرب کی اسلام دشمنی اور اسلام فوبیا کی تازہ مثال۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے مغرب نے اپنے اوپر جو انصاف پسندی کا لیبل لگایا ہوا ہے اس کا پاس اور لحاظ کرتے ، لیکن اس کے برعکس اس اخبار کی ہمنوائی اور دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر اسے سراہا جا رہا ہے۔ اخبارات میں تو یہ خبریں بھی آ چکی ہیں کہ یہ اخبار دیوالیہ ہو چکا تھا اور بند ہونے کے قریب تھا کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کو مروا کر اپنے اخبار کو پاپولر کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے اور ایک خبر یہ بھی ہے کہ چونکہ فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ اسرائیل اور امریکا اس پر ناراض تھے تو ان کی خفیہ ایجنسی موساد اور سی آئی اے نے یہ کارروائی کر کے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں۔ ایک فرانس کو سبق سکھانے کا اور دوسرا مسلمانوں کو بدنام کرنے کا۔ بہر حال کچھ بھی ہو، اس جریدے میں کام کرنے والے اور گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس سے عبرت پکڑنا چاہئے اور ایسی گستاخیوں سے باز آنا چاہئے ، ورنہ اللہ تعالیٰ کی گرفت بڑی مضبوط ہے اور یہ سزا ایسی جگہ سے ملتی ہے، جہاں سے کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ جو لوگ آزادی اظہار کی آڑ میں پیغمبر اسلام کے خاکے بنا کر آپ ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں ، ان کی وسیع الظرفی کا حال بھی دیکھئے کہ انہیں میں سے جب ایک انصاف پسند پادری نے یہ بات کہی کہ ”آزادی اظہار کی بھی حدود ہوتی ہیں جو میری ماں کو گالی دے گا ، اس کو اپنے منہ پر میرے تھپڑ کا بھی انتظار کرنا چاہئے“ تو اس پر پورا یورپ سیخ پا ہو گیا اور اس پادری کے اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرنے لگے، یہ ہے مغرب اور اس کی قوت برداشت۔
بہر حال پوری دنیا کے مسلمان اس گھناؤنی حرکت اور اس گستاخی پر سراپا احتجاج اور اپنے اپنے ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ فرانس اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، اقوام متحدہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کے ارتکاب کی سزا مقرر کی جائے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے ارکان نے قومی اسمبلی میں اس گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر قرارداد بھی پاس کی ہے اور انہوں نے اس پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے، جس کو روزنامہ جنگ نے یوں رپورٹ کیا ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
’’اسلام آباد (ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے فرانسیسی رسالے شارلے ایبدو میں پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ، جس میں اقوام متحدہ ، یورپی یونین اور او آئی سی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت روکنے کے لئے بھر پور اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں جب کہ بعد ازاں ارکان اسمبلی نے احتجاجی مارچ بھی کیا ۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے ، گستاخانہ خاکوں سے تہذیبوں کے مابین عدم مفاہمت اور تشدد میں اضافہ ہو گا ، وزیر اعظم نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عالمی برادری اشتعال انگیز مواد کی حوصلہ شکنی کرے۔ اس مذمتی قرارداد کی کاپیاں ملک میں موجود تمام غیر ملکی سفارت خانوں ، اقوام متحدہ ، او آئی سی اور فارن مشنز کو بھیجی جائیں گی ۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ یورپ بار بار ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ کرے ، توہین آمیز خاکوں کے خلاف او آئی سی میں آواز اٹھائیں گے ، پورا عالم اسلام توہین رسالت کے خلاف یک زبان ہو جائے ۔ وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف متفقہ قرارداد کی منظوری سے قبل ایوان میں جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے بیان دے رہے تھے ......
(روزنامہ جنگ کراچی ، ۱۶؍ جنوری ۲۰۱۵ء)
صدر پاکستان: جناب ممنون حسین صاحب نے بھی اس پر اخبارات کو درج ذیل احتجاجی بیان دیا ہے: ’’اسلام آباد (ایجنسیاں) صدر ممنون حسین نے فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی جریدہ بلاشبہ مسلمانوں کی دل آزاری کا مرتکب ہوا ہے ، جس پر اسے معافی مانگنی چاہئے ۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی مذہب کے مقدس شعائر کی توہین کی جائے اور اس کے ماننے والوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جائے ۔ جمعہ کو ایک بیان میں فرانسیسی جریدے میں خاکوں کی اشاعت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی حدود وہاں ختم ہو جاتی ہیں ، جہاں دوسرے کی آزادی متاثر ہو اور اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان تمام آسمانی مذاہب کا کھلے دل سے احترام کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوتا ، جب تک وہ تمام انبیاء کرام اور تمام الہامی کتابوں پر ایمان نہ لائیں ۔ مسلمان کسی پیغمبر تو کجا کسی بھی مذہب کے کسی رہنما کی شان میں گستاخی تک کا تصور بھی نہیں کر سکتے ، اس لئے دنیا کا کوئی بھی فرد خواہ کوئی عقیدہ بھی رکھے ، اسے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔‘‘
(روزنامہ امت کراچی ، ۱۷؍ جنوری ۲۰۱۵ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان نے درجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے اور کئی ایک ریلیاں بھی نکالیں ۔ مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ: فرانس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کئے جائیں ، او آئی سی اپنا جلد اجلاس بلا کر اس صورتحال پر غور کرے اور مغرب کو سخت پیغام دے ۔ اسی طرح تمام اسلامی ممالک کے سفرا مل کر ایک ریلی نکالیں اور مغرب کو بتا دیں کہ حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت پر ہم سب ایک ہیں اور اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ حضور اکرم ﷺ سمیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی کرنے والوں کے خلاف قانون بنائیں ، اگر وہ نہ مانے تو تمام اسلامی ممالک اقوام متحدہ کا بائیکاٹ کریں اور مسلم ممالک اپنا علیحدہ پلیٹ فارم بنائیں ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا محافظ بنائے اور آخرت میں آپ ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۹ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲، ۵)
خاکوں پر فرانسیسی کمپنی کی تیل سپلائی روک دی
کراچی: (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہڑتال کر دی اور فرانسیسی کمپنیوں کی تیل کی سپلائی روک دی ہے ۔ چیئرمین ایسوسی ایشن شمس شاہوانی کے مطابق گستاخانہ خاکوں کے خلاف شیریں جناح کالونی پر
تحریک ختم نبوت جلد (٩) ٢٠١٥ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دھرنا جاری ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے آج بلاول ہاؤس پر بھی احتجاج ہو گا جب کہ فرانس کے قونصل خانے پر دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شیورون پاکستان لمیٹڈ سابقہ کالٹیکس لمیٹڈ نے اپنے تمام شیئرز اور ملکیت ٹوٹل کمپنی کو فروخت کر دی ہے، ٹوٹل کمپنی کا تعلق فرانس سے ہے۔ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجاً پورے ملک میں فرانسیسی کمپنیوں کو تیل سپلائی روک دی گئی ہے۔
(روزنامہ امت کراچی، ٢٨ جنوری ٢٠١٥ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ١٦ تا ٢٢ فروری ٢٠١٥ء ص ٢٢)
حکومت پنجاب کے قائم کردہ متحدہ علماء بورڈ پنجاب کا فیصلہ
روئیداد مشترکہ اجلاس ذیلی کمیٹی نمبر ١،٢ متحدہ علماء بورڈ پنجاب منعقدہ مورخہ ٢٢ جنوری ٢٠١٥ء ۔
ذیلی کمیٹی نمبر ١،٢ متحدہ علماء بورڈ پنجاب کا مشترکہ اجلاس زیر صدارت جناب صاحبزادہ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب مورخہ ٢٢ جنوری ٢٠١٥ء بروز جمعرات بوقت ١١:٠٠ بجے دن بمقام رہائش گاہ جناب چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب واقع فیروز پور روڈ، لاہور منعقد ہوا، جس کی روئیداد بعد از منظوری چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب، برائے اجراء و عملدرآمد ازاں جملہ متعلقہ محکمہ جات و تکمیل ریکارڈ ارسال خدمت ہے۔
روئیداد مشترکہ اجلاس ذیلی کمیٹی نمبر ١،٢ متحدہ علماء بورڈ پنجاب ۔
زیر صدارت جناب صاحبزادہ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب ۔
منعقدہ مورخہ ٢٢ جنوری ٢٠١٥ء بروز جمعرات بوقت ١١:٠٠ بجے دن ۔
متحدہ علماء بورڈ پنجاب کی ذیلی کمیٹی نمبر ١،٢ کا مشترکہ اجلاس مورخہ ٢٢ جنوری ٢٠١٥ء بروز جمعرات بوقت ١١:٠٠ بجے دن بمقام جامع اشرفیہ لاہور زیر صدارت جناب صاحبزادہ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب منعقد ہوا جس میں حسب ذیل معزز اراکین ذیلی کمیٹی نمبر ١،٢ نے شرکت فرمائی ۔
- ١...... جناب مولانا محمد راغب حسین نعیمی ممبر
- ٢...... جناب مولانا عبدالرؤف فاروقی ممبر
- ٣...... جناب مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی ممبر
- ٤...... جناب علامہ قاضی غلام مرتضیٰ ممبر
- ٥...... محترمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ حسنین ممبر
- ٦...... محترمہ ڈاکٹر حافظ شاہد پروین ممبر
- ٧...... محترمہ ڈاکٹر زاہدہ شبنم ممبر
- ٨...... محترمہ سیدہ سائرہ جعفری ممبر
اجلاس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ آئین پاکستان کے مطابق چونکہ مرزائی / قادیانی / لاہوری گروپ غیر مسلم قرار پائے ہیں اور وہ اسلامی اصطلاحات قانوناً استعمال نہیں کر سکتے اس کے باوجود قانون شکنی کرتے ہوئے اسلامی اصطلاحات مسلسل استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ان کی تکفیر، ردوتردید کے حوالے سے چھپنے والا ختم نبوت کا لٹریچر کسی طور پر بھی ہیٹ میٹریل کے زمرے میں نہیں آتا۔ لہٰذا محکمہ داخلہ، محکمہ پولیس بالعموم اور حکومت پنجاب بالخصوص ختم نبوت کے لٹریچر کی تحریر، تدوین، پرنٹنگ، طباعت، تقسیم و فروخت وغیرہ پر قطعاً کوئی کارروائی نہ کرے۔ متفقہ طور پر سفارش کی گئی محکمہ داخلہ پنجاب اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے۔ نیز متفقہ طور پر ختم نبوت اور رد قادیانیت کے لٹریچر کے حوالے سے پولیس کی کارروائیوں کی بھرپور مذمت کی گئی۔
(صاحبزادہ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی)
چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ٢٠١٥ء ص فرنٹ ٹائٹل اندرون)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیمبیا میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا
ہر آدمی کو عموماً اور دینی جدوجہد کرنے والوں کو خصوصاً خلوص نیت کے ساتھ ساتھ اس عزم وحوصلے ہمت و جذبے اور قوت و استقامت سے کام کرنا چاہئے کہ آج ہم جو سعی و کوشش کر رہے ہیں، ان شاء اللہ ! جلد یا بدیر اس کے اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت جس میں تقریباً دس ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، حکمرانوں کی غفلت ، غلط سوچ اور تشددانہ پالیسی کی بناء پر بظاہر وہ تحریک ناکام ہوگئی لیکن اس وقت کے امیر مرکزیہ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ اس تحریک کی بدولت ان شاء اللہ ! قادیانیت کا کفر مسلمانوں پر روزِ روشن کی طرح آشکارا ہو جائے گا۔
”قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید“ کے مصداق قادیانیوں کی اپنی شرارت کے ردعمل میں ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، رابطہ عالم اسلامی کی تمام مسلم تنظیموں نے بالاتفاق قادیانیوں کو اسلام کے مخالف گروہ قرار دیا، جنوبی افریقا کی ایک عدالت نے انہیں غیر مسلم قرار دیا اور اب گیمبیا کے علماء اور حکام نے بھی قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے انہیں اپنے ملک میں مذہبی سرگرمیوں سے منع کر دیا ہے۔ وہاں کے مسلم علماء کرام کی جدوجہد اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی مکمل تفصیل مولانا اللہ وسایا نے اپنے مضمون میں اس طرح لکھی ہے:
”گیمبیا مغربی افریقا کا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ ۲۴؍جنوری ۲۰۱۵ء کو گیمبیا کے سرکاری ٹی وی پر ایک رپورٹ نشر ہوئی، جو بعد میں مختلف ویب سائٹس پر بھی اپ لوڈ کی گئی۔ اس رپورٹ کا خلاصہ بمع حوالہ جات ذیل میں آپ ملاحظہ فرمائیں:
”رپورٹ میں بتایا گیا ۱۹۵۰ء سے قادیانی گروہ نے گیمبیا میں الحادی وارتدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ گیمبیا کے علماء کرام اور دینی قیادت نے قادیانیوں کے خلاف عظیم خدمات سرانجام دیں اور عوام و خاص پر واضح کیا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کا اسلام یا مسلم امت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ غیر مسلم گروہ ہے، ان علماء کرام میں سابق امام رتیب بنجول کے امام محمد الامین بہ، گنجور کے شیخ خطاب بوجانگ، سینو کے شیخ کارلانگ کنیجہ، کیانگ کے شیخ محمد الامین فیدرا، گنجور کے شیخ عمر بن جنگ اور تلنڈنگ کے شیخ جبرائیل مہدی کجابی شامل ہیں (اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمت فرمائے) چنانچہ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ علماء کرام برابر اپنی تبلیغی کوششیں جاری رکھے رہے۔ گیمبیا میں مذہبی امور سے متعلق ملک کا سب سے بڑا ادارہ ”سپریم اسلامک کونسل“ میں قادیانیوں کا مسئلہ پیش ہوا، جس میں حضرات علماء کرام نے اپنا موقف پیش کیا۔
گیمبیا کے مسلمانوں کے رہنما اور سرکاری طور پر اسٹیٹ ہاؤس کے امام حاجی عبدالعلی فاتے نے نومبر ۲۰۱۴ء میں یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ قادیانی مسلمانوں سے مختلف عقائد رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہیں غیر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کی بطور مسلم تبلیغ پر پابندی عائد کی جائے۔ جس پر قادیانیوں نے حاجی عبدالعلی کا مذاق اڑایا کہ ایک سیکولر ملک میں کسی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کسی کے مذہب کا فیصلہ کرے۔ یہ معاملہ سپریم اسلامک کونسل میں لے جایا گیا اور سپریم کونسل نے طویل بحث کے بعد جنوری ۲۰۱۵ء کے آخری ہفتے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے قادیانی جماعت کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ اپنے فیصلے میں کونسل نے پاکستانی علماء کے ۱۹۵۳ء کے اتفاق رائے اور قادیانیوں کے خلاف تحریک ۱۹۷۴ء میں پاکستانی پارلیمنٹ کے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے فیصلے سمیت سعودی حکومت اور جامعہ ازہر مصر کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قادیانی گروہ کو اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ کونسل کا یہ فیصلہ سرکاری ٹی وی اور سرکاری اخبارات پر نشر اور شائع کیا گیا۔ پوری دنیا کے مسلمانوں نے گیمبیا کے اس خوش کن اور دانشمندانہ فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ گیمبیا کی مرکزی اسلامی کونسل نے جو کہ ملک میں دینی معاملات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے متعلق عمومی سرگرمیوں کا واحد ذمہ دار ادارہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی حدیث (الدین النصیحہ) کی بنیاد پر کہا ہے کہ دین ایک نصیحت ہے اور یہ کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ گیمبیا میں دین اسلام سے متعلق کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو مستند حوالہ جات سے دور کرے۔ اس لئے کونسل، عوام الناس بالخصوص مسلم امہ کے سامنے قادیانیت کے متعلق مسلم امہ کا مؤقف پیش کرتی ہے۔ دنیا بھر کے اسلامی علماء جن میں پاکستان کے علماء کرام بھی شامل ہیں۔ اس بات پر متفق ہیں کہ احمدیہ جماعت مسلمان نہیں۔ درحقیقت ان سب دلائل کے باوجود جو کہ احمدیہ جماعت قرآن اور حدیث سے پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، ان کے عقائد کی بنیاد مندرجہ ذیل غلط ستونوں پر ہے:
”وہ (قادیانی) اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہے۔ (مرزا قادیانی کی ہر کتاب کے ٹائٹل پر یہ دعویٰ لکھا گیا ہے) وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی ورسول تھا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱، ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷، ایک غلطی کا ازالہ ص ۴، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۱)
”قادیانی عقیدہ رکھتے ہیں کہ : ”اللہ عز وجل روزہ رکھتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۰۳، خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۷)
”اللہ تعالیٰ نماز پڑھتا ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ۴۶۰ طبع چہارم)
”اللہ تعالیٰ سوتا ہے جاگتا ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ۴۶۰ طبع چہارم)
”اللہ تعالیٰ دستخط کرتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۵۵، خزائن ج ۲۲ ص ۲۶۷)
”اللہ غلطیاں کرتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۰۳، خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۶)
قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ : ”نبوت آنحضرت (ﷺ) پر ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے اور خدا ضرورت کے وقت نبی بھیجتا ہے۔“
(ملخص حقیقت الوحی ص ۳۹۰، ۳۹۱، خزائن ج ۲۲ ص ۴۰۶، ۴۰۷)
”مرزا غلام احمد تمام انبیاء سے افضل ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۸۹، خزائن ج ۲۲ ص ۹۲)
قادیانی کہتے ہیں کہ: ”غلام احمد کے لائے ہوئے قرآن کے علاوہ کوئی قرآن نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ۸۲، خزائن ج ۲۲ ص ۸۷، تذکرہ ص ۴۲۱ طبع چہارم)
”مرزا کی تعلیمات کی روشنی کے سوا کوئی حدیث نہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۰، خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
”قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو مرزا کو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔“
(تذکرہ ص ۷۰۶ طبع چہارم)
”قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں سے رشتہ لینا دینا جائز نہیں۔“
(ملائکۃ اللہ ص ۴۶، انوار العلوم ج ۵ ص ۴۴۰، از مرزا محمود، کلمۃ الفصل ص ۱۶۹، از مرزا بشیر احمد ایم اے)
”قادیانی عقیدہ کے مطابق غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۸ حاشیہ، خزائن ج ۱۷ ص ۶۴)
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گیمبیا کے دور دراز کے دیہاتوں میں بہت تفرقہ پیدا کیا ہے۔
احمدیہ جماعت سے متعلق مسلمانوں کا مؤقف : ”۱۹۵۳ء میں پاکستان کے لوگوں نے احتجاج کیا اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کو فارغ کیا جائے اور قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت سمجھا جائے۔“ پاکستان کی قومی کونسل (مرکزی پارلیمنٹ) نے قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مباحثہ کیا۔ پارلیمنٹ نے فیصلہ دیا اور قادیانیوں / احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا گیا۔ الازہر شریف میں اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے اپنے فتویٰ کی تجدید کی کہ احمدیہ کے پیروکار غیر مسلم ہیں اور اس امر کی تصدیق کی اس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یکم ربیع الاول ۱۳۹۴ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۴ء مسلم ورلڈ لیگ کے ہیڈ کوارٹر مکہ میں ایک جنرل کانفرنس منعقد ہوئی اور اس میں دنیا بھر سے بین الاقوامی اسلامی تنظیموں کے نمائندگان اور ملکی سطح کے ممبران نے شرکت کی۔ کانفرنس نے اس گروہ کے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا اعلان کیا اور حکومتوں اور مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ وہ اس پیش آنے والے خطرے کے خلاف جدوجہد کریں اور احمدیوں سے کوئی معاملہ نہ رکھیں۔ اس لئے گیمبیا کی مرکزی اسلامی کونسل یہ فیصلہ دیتی ہے کہ احمدیہ جماعت غیر مسلم گروپ ہے اور یہ بات دنیا بھر کی علمی مجالس کے قانونی فیصلہ کے عین مطابق ہے اور یہ اعلان کیا گیا کہ یہ گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور مسلمانوں کو تاکید کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے کہ اس گروہ کے ساتھ مذہبی معاملات نہ رکھیں۔ اس پر گیمبیا کے صدر یحییٰ ابو بکر نے اپنے حکم کے ذریعے اس فیصلے کو نافذ کرکے بحث ہی ختم کردی کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور یہ کہ گیمبیا میں وہ خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے۔ فالحمدللّٰہ! وہ لوگ جو قادیانیوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں وہ غور فرمائیں کہ قادیانی کفر کس طرح پوری دنیا میں ایک حقیقت بن گیا ہے؟ اس سے صرف نظر کرنا حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی، ۲۰؍ مارچ ۲۰۱۵ء)
اللہ تبارک و تعالیٰ تحفظ ختم نبوت کے لئے ہمارے اکابر کی محنتوں کو قبول فرمائے اور انہیں اپنے شایان شان جزائے خیر سے نوازیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ اپریل ۲۰۱۵ء ص ۲، ۵)
گیمبیا میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مبارکباد
محترم جناب .............................................................. سفیر گیمبیا، افریقا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ کریم آپ کا وقار اور بلند کرے۔ آمین!
اخباری اطلاعات کے مطابق حال ہی میں سپریم اسلامک کونسل آف گیمبیا نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا نہایت جرأت مندانہ اقدام کیا ہے، جس پر گیمبیا کے صدر محترم جناب یحییٰ ابو بکر صاحب، اراکین سپریم اسلامک کونسل، دینی و مذہبی علمائے کرام خصوصاً اسٹیٹ ہاؤس کے امام جناب مولانا حاجی عبدالعلی فاتے صاحب و دیگر مسلمانان گیمبیا زبردست مبارکباد کے مستحق ہیں، جن کی محنتوں، کاوشوں اور کوششوں سے گیمبیا میں قادیانی و مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔
ہم پوری مسلم امہ خصوصاً پاکستان کے علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کے اس فیصلہ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ! اب گیمبیا میں قادیانی گروہ مزید اپنی ارتدادی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکے گا اور اسلام کے نام پر اپنے ملحدانہ عقائد ونظریات کا پرچار کرکے یہاں کے عوام کو مزید دھوکا اور انتشار میں مبتلا نہیں کرسکے گا۔
ایک بار پھر ہم آپ کو ختم نبوت کا علم بلند کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاء گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ بروز محشر ہم سب کو آنحضرت ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین!
علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس مسئلہ میں کسی قسم کا تعاون مطلوب ہو تو ہم اس کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے اپنا شرف محسوس کریں گے۔ امید ہے اسلام کی سربلندی اور تحفظ ناموس رسالت کی حفاظت جاری رہے گی۔
(ڈاکٹر مولانا) عبدالرزاق اسکندر (مدظلہ) امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۳ تا ۲۰؍ اپریل ۲۰۱۵ء ص ۱۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چار پاکستانی سفارت خانوں میں قادیانی افسران کی تعیناتی کا انکشاف
نبیل منیر نیویارک میں قونصلر، رابعہ شفیق انقرہ، بلال واشنگٹن، طلحہ یو این میں تعینات۔
دس افسران کا تعلق ہندو اور عیسائی برادری سے ہے، وزارت خارجہ کا قومی اسمبلی میں تحریری بیان۔
اسلام آباد (آئی این پی) وزارت خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک چار سفارت خانوں میں اہم عہدوں پر قادیانی افسران تعینات ہیں۔ قومی اسمبلی میں آسیہ ناز تنولی کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے چودہ افسران وزارت خارجہ اور سفارت خانوں میں اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔ تحریری جواب کے مطابق چار قادیانی افسران میں گریڈ ۱۹ کے نبیل منیر نیویارک میں پاکستانی سفارت خانے میں قونصلر کے عہدے پر تعینات ہیں جب کہ گریڈ ۱۹ کی ہی رابعہ شفیق انقرہ، بلال واشنگٹن سفارت خانے میں قونصلر جب کہ گریڈ ۱۷ کے چوہدری طلحہ بن خالد اسسٹنٹ ڈائریکٹر یو۔این۔ون وزارت خارجہ میں فرائض انجام دے رہے ہیں جب کہ گیاچند سیکنڈ سیکریٹری ہیں، مائیکل نیل کنگن، عدیل کینتھ، سیموئیل ہارون، راشد بھٹی، عارف گلزار، وسیم بھٹی، یونس شکیل اور کامران جان عیسائی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مختلف عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۵؍ فروری ۲۰۱۵ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۸؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۵)
کھلا خط
بخدمت جناب چیف سیکریٹری حکومت پنجاب سول سیکریٹریٹ لاہور
درخواست برائے فوری قانونی کارروائی برخلاف فتنہ گوہر شاہی
جناب عالی! گزارش ہے کہ سائل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کا مرکزی ذمہ دار ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت اس جماعت کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔ ہمارے ملک عظیم پاکستان کی سر زمین پر دیگر فتنوں کے علاوہ ایک فتنہ گوہر شاہی جو مختلف ناموں مثلاً انجمن سرفروشان اسلام، مہدی فاؤنڈیشن، عالمی روحانی تنظیم، R,A,G,S انٹرنیشنل کے ناموں سے ایک عرصہ سے اپنے کفریہ عقائد کا پرچار کر رہا ہے اور اس وقت اس فتنہ کی سرگرمیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ ماہ مبارک ربیع الاول میں فتنہ گوہر شاہی کے پیروکار محافل عید میلاد النبی کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے، ان کے ایمان پر ڈاکہ زنی کرنے اور اپنے کفریہ عقائد کا پرچار کرتے رہے۔ جن کو اگر فوری طور پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے نہ روکا گیا تو ملک عزیز میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے کا قوی امکان ہے، جب کہ ملک عزیز کے حالات بالکل اس بات کے متحمل نہیں ہیں۔ فتنہ گوہر شاہی کی غیر قانونی، غیر اسلامی سرگرمیاں لاہور اور صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں عروج پر نظر آرہی ہیں، لہٰذا ان تمام لوگوں کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کئے جائیں اور ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر مستقل پابندی لگائی جائے کیونکہ ان کے کفریہ عقائد سے نہ صرف توہین باری تعالیٰ، توہین رسالت، توہین انبیاء، توہین صحابہ، بزرگان دین اور توہین قرآن اور شعائر اسلامی کی توہین کا ارتکاب ہونا پایا جاتا ہے بلکہ یہ اسلام کے بنیادی عقائد کے بھی انکاری ہیں اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہو رہے ہیں۔
جناب عالی! اس تنظیم کا روحانی پیشوا ’’ریاض احمد گوہر شاہی‘‘ آنجہانی اور اس کے پیروکاروں کو ہمارے ملک کی عدالتیں توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کی سزائیں دے چکی ہیں، جن سے ان کے کفریہ عقائد کی واضح تصدیق ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس فتنہ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خلاف تمام مکاتب فکر کے مفتیان کرام اور امام کعبہ شیخ محمد بن عبداللہ السبیل کے متفقہ فتاویٰ جات موجود ہیں جو ان کے کفریہ عقائد کی مزید توثیق کرتے ہیں۔
ان حالات میں آپ سے انتہائی مؤدبانہ التماس ہے کہ فتنہ گوہر شاہی کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے اس گروہ کی ہر قسم کی تقریبات اور سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری فرمائے جائیں۔
العارض: (مولانا) عزیز الرحمن ثانی مرکزی سیکرٹری اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رابطہ نمبر: 0300-4304277,0321-4220552
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۴)
انٹرنیٹ کے میدان میں ایک اور قدم
الحمد للہ ! دو عشروں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت اور تعاقب و رد قادیانیت کے لئے انٹرنیٹ کے میدان میں خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ و بردہ اللہ مضجعہ کی دعاؤں اور اجازت سے جو فری ڈومین اور فری ویب ہوسٹنگ کے ذریعے شروع کیا تھا، رفتہ رفتہ مرکزی ویب سائٹ ختم نبوت ڈاٹ کام www.khatm-e-nubuwwat.com ماہنامہ لولاک کے لئے ڈاٹ انفو www.laulak.info ہفت روزہ ختم نبوت کے لئے ختم نبوت ڈاٹ انفو www.khatm-e-nubuwat.info اور سوشل میڈیا پر فیس بک facebook.com/amtkn313 تک پہنچا۔
- مرکزی ویب سائٹ پر تعارف مجلس ، چیدہ چیدہ کتب مجلس ، منتخب پمفلٹ، مجلس کے دفاتر کے ڈاک ایڈریس، ذمہ داران و مبلغین
کے رابطہ نمبر اور ای میل کی سہولت فراہم کی گئی، بذریعہ ای میل وطن عزیز بشمول بیشتر ممالک سے رابطہ کرنے والوں کو جوابات اور قادیانی کتب کے حوالہ جات کی عکسی دستاویز مہیا کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔
- لولاک ڈاٹ انفو www.laulak.info کے نام سے مجلس کے ماہنامہ ’’لولاک کی علیحدہ ویب سائٹ قائم کی گئی ، جس میں
ماہنامہ ’’لولاک‘‘ کا سترہ سال کا مکمل ہر شمارہ موجود ہے، جو پڑھا بھی جا سکتا ہے اور صارف (user) اسے مفت اپنے کمپیوٹر میں محفوظ بھی کر سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قارئین کے لئے بطور تحدیث نعمت عرض ہے کہ الحمد للہ ! ملک میں بڑے بڑے دینی اداروں کے ماہنامے اب انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں لیکن کروڑوں روپے کے سالانہ بجٹ رکھنے والے کسی بھی ادارے کے ماہنامہ کا سترہ سالہ ریکارڈ انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔ ’’ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء‘‘
- ختم نبوت ڈاٹ انفو www.Khatm-e-nubuwat.info کے نام سے مجلس کے ہفت روزہ ’’ختم نبوت کے لئے
علیحدہ ویب سائٹ قائم کی گئی ، جس پر ہفت روزہ ختم نبوت کے سات سال کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اور آٹھواں شروع ہو چکا ہے۔ یہ تمام رسائل سہولت سے پڑھے اور اپنے پاس محفوظ کئے جا سکتے ہیں اور ہفت روزہ کے سابقہ بیس سالہ ریکارڈ کو اس ویب سائٹ پر محفوظ کرنے کے لئے کوشش جاری ہے۔ اکابر و احباب مجلس سے دعاؤں کی درخواست ہے۔
- سوشل میڈیا پر ضرورت محسوس کر کے مجلس کے مشن کی ترجمانی کرتے ہوئے گزشتہ سال ۱۵/ شعبان المعظم کی برکتوں والی شب فیس
بک facebook.com/amtkn313 کے نام سے پیج کا اجراء ہو چکا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ۴۸۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”الحمدللہ! ہر ویب سائٹ اور فیس بک کا پیج باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔“
اب جانثاران ختم نبوت، سپاہیان لشکر صدیقی، رہروان قافلہ امیر شریعت کی سہولت کے پیش نظر ایک نیا پیج اپ لوڈ کیا گیا ہے جو کہ ربیع الاول کا بے مثل تحفہ ہے، مجلس کے نام عالمی سے a کا انتخاب، مجلس سے m کا انتخاب، تحفظ سے t کا انتخاب، ختم سے کے k کا انتخاب، نبوت سے n کا انتخاب کیا گیا ہے، یعنی ہر لفظ کا پہلا حرف، اس مجموعہ کے ڈومین سے جس سے پہلے تین ڈبلیو ڈاٹ www اور آخر میں ڈاٹ کام com لکھ کر تلاش search کیا جائے تو www.amtkn.com کے نام سے ایک نیا پیج اسکرین پر نمودار ہوگا۔
جس میں کائنات کے اجرام فلکی تاریکیوں سے روشن ہوں گے، ایک کہکشاں سامنے آئے گی، جس کے بالکل درمیان میں بیت اللہ شریف کا عکس نظر آئے گا۔ اس منظر میں اس ...... کو دکھلایا گیا ہے کہ کہکشاں بھی اسی سمت، اسی رخ پر گردش کر رہی ہے جس رخ پر طواف کرنے والے محبوب حقیقی کے بیت مقدس پر مرکوز تجلیات و انوار ربانی کے گرد عروج عشق میں دیوانہ وار گھومتا ہے۔ ”یعنی تمام معلوم و نامعلوم کائنات اپنے خالق حقیقی پر صدقہ اور واری جا رہی ہے“ اسی تصویر پر دائیں جانب مجلس کا نام تحریر ہے اور بائیں جانب مجلس کے مونوگرام کا عکس ہے۔ اب آپ مونوگرام پر ”کرسر“ لا کر کلک کریں گے تو مجلس کا تعارف، اغراض و مقاصد سامنے آئیں گے، پھر مجلس کے نور سے ایک مدار میں طواف کے رخ موجود سیاروں میں سے پہلے پر کلک کریں تو مجلس کی مرکزی ویب سائٹ کھل جائے گی، دوسرے پر کلک کرنے سے ماہنامہ ”لولاک“ کی ویب سائٹ کھل جائے گی، تیسرے پر کلک کرنے سے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کی ویب سائٹ کھل جائے گی، چوتھے پر کلک کرنے سے فیس بک پر موجود مجلس کا پیج کھل جائے گا۔ پانچویں پر کلک کرنے سے ایک نئی چیز جو آئندہ کے پروگرام میں ہے ان شاء اللہ ”ای مکتبہ“ یعنی ”ای لائبریری“ الیکٹرونک لائبریری جس میں آئندہ بتوفیق الٰہی ختم نبوت اور دیگر دینی موضوعات پر مشتمل کتب ڈالی جائیں گی، فی الحال ایک پیج سامنے آئے گا جس پر قومی اسمبلی کی مصدقہ کارروائی کی پانچ جلدیں پی.ڈی.ایف pdf کی صورت میں محفوظ ہیں جو کہ پڑھی اور اپنے پاس مفت محفوظ کی جا سکتی ہیں، اس کے علاوہ ”ثبوت حاضر ہیں“ نامی کتاب ایک بے مثال کاوش کے ساتھ مکمل اور علیحدہ علیحدہ ابواب میں اپنے پاس محفوظ کرنے کی سہولت موجود ہے اور فی الحال چند دوسری کتب مثلاً آئینہ قادیانیت، قومی دستاویز، الخلیفة المہدی فی الاحادیث الصحیحہ وغیرہ دستیاب ہیں۔ چھٹے پر کلک کرنے سے آئندہ سائٹ میپ sitemap کے نام پیج کھلے گا یعنی ویب سائٹ کا نقشہ، جس میں علی الترتیب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جملہ ویب سائٹس websies کے مواد کی تفصیلات ترتیب اخراج و حصول درج کیا جائے۔
اب یہی ساری چیزیں سہولت کے لئے ایک خط کے اوپر تلے لائن میں اردو، انگلش میں درج کی گئی ہیں، یہاں سے بھی کلک کر کے آپ مذکورہ مقامات تک پہنچ سکتے ہیں، یہاں مجلس کے خط و کتابت کورس اور آئندہ ان شاء اللہ! آن لائن کورس online کے لئے لنک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
آخر میں آپ کو مجلس سے رابطہ کے لئے زمین پر آنا پڑے گا، کرۂ ارضی کی تصویر کے ساتھ رابطہ کو منسلک کیا گیا ہے، اس پر کلک کرنے سے مجلس کے دفاتر، ذمہ داران و مبلغین سے روابط کے ذرائع کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔
اب آپ مجلس کی کسی بھی ویب سائٹ پر جانا چاہیں تو مجلس کے پہلے انگریزی حرف یعنی www.amtkn.com پر جائیں اور سب کچھ پالیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ کچھ بتوفیق الٰہی خاص خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کا فیضان اور توجّہات کا ثمرہ ہے۔ اس کو مزید آگے بڑھانے کے لئے آپ کی آراء کے منتظر ہیں۔ ’’sani@amtkn.com, popalzai@amtkn.com‘‘
محمد شہاب الدین پوپلزئی
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ / مارچ ۲۰۱۵ء ص ۲۷)
قادیانی عبادت گاہ کے مینار ومحراب ...... سیشن کورٹ کا تاریخی فیصلہ
حال ہی میں ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ نے قادیانی عبادت گاہ کے سلسلہ میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ پر مینار یا محراب وغیرہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ چنانچہ قادیانی عبادت گاہ پر تعمیر شدہ مینار اور محراب مسمار کر دیئے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق ۱۱ / مارچ ۲۰۱۱ء کو پچند (لاوہ) تلہ گنگ میں قادیانیوں نے ایک نئی عبادت گاہ بنانا شروع کی تو مسلمانوں میں شدید تحفظات پیدا ہوئے۔ کیونکہ چھوٹے سے علاقہ میں ایک عبادت گاہ کے ہوتے ہوئے چند قادیانیوں کا مسلمان آبادی میں ایک نئی عبادت گاہ تعمیر کرنا کسی بھیانک سازش کا حصہ معلوم ہوتا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانون سے مدد لینے کا فیصلہ کیا اور سول جج کی عدالت میں درخواست دائر کی۔ یہاں قادیانیوں نے عجیب مؤقف اختیار کیا کہ یہ عبادت گاہ نہیں بلکہ رہائشی مکان تعمیر ہورہا ہے۔ مسلمان وکلاء نے کہا کہ عدالت ان سے رہائشی نقشہ طلب کرے اور انہیں اسی کے مطابق تعمیر کرنے کا پابند کرے۔ اس پر قادیانیوں کو سانپ سونگھ گیا اور انہوں نے اپنی پرانی عبادت گاہ کو نئے سرے سے تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ اس پر مسلمانوں نے پھر عدالت کا رخ کیا۔ اس پر ۳۰ /ستمبر ۲۰۱۳ء کو سول کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی قانون کے مطابق شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے اور اس طرح وہ عبادت گاہ پر مینار اور محراب وغیرہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ بصورت دیگر ان کی عبادت گاہ اور مسلمانوں کی مسجد میں فرق ختم ہو جائے گا۔ اس فیصلہ کے خلاف قادیانیوں نے سیشن کورٹ تلہ گنگ میں اپیل کی جس کی سماعت جناب طارق محمود زرغام ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ نے کی۔ ۴ /مارچ ۲۰۱۵ء کو معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ پر مینار یا محراب تعمیر نہیں کر سکتے ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے قادیانی عبادت گاہ پر تعمیر کردہ مینار اور محراب مسمار کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ یہ تاریخی کامیابی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کیس کے سلسلہ میں بوڑھے جرنیل جناب طیب خان صاحب کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ بے پناہ دباؤ اور خطرناک دھمکیوں کے باوجود اُن کی شب و روز کی کوششیں رنگ لائیں۔ اس کے علاوہ جناب ملک محمد آصف ایڈووکیٹ، جناب حامد نواز ایڈووکیٹ اور جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ ذیل میں سیشن کورٹ کے تاریخی فیصلہ کا اُردو متن دیا جارہا ہے اس کا مطالعہ تحفظ ختم نبوت کے ہر کارکن کے لیے ضروری ہے۔
بعدالت جناب طارق محمود زرغام ...... ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج تلہ گنگ دیوانی اپیل نمبری ۵۹۳ سال ۲۰۱۳ء ...... تاریخ مقدمہ ۲۶ / نومبر ۲۰۱۳ء ...... تاریخ فیصلہ ۴ /مارچ ۲۰۱۵ء اپیل کنندہ ، حبیب اللہ ودیگر .................. بنام .................. مدعی، مولانا محمد ظہور ودیگر فیصلہ اور حکم مؤرخہ ۳۰ /ستمبر ۲۰۱۳ء کے خلاف اپیل
فیصلہ:
- ۱...... یہ اپیل، جناب احمد منہاس، فاضل سول جج، تلہ گنگ، ضلع چکوال کی طرف سے کیے گئے فیصلے اور دیے گئے حکم مؤرخہ ۳۰ /ستمبر ۲۰۱۳ء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے خلاف کی گئی ہے، جس کے ذریعے مسئول علیہان/مستغیثوں کے مقدمے میں مستقل حکم جاری کیا گیا تھا۔
......۲ مسل کے مطابق موجودہ اپیل کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ مسئول علیہان/مستغیثوں نے اپیل کنندگان/مدعاعلیہان کے خلاف مستقل حکم کے لیے یہ کہتے ہوئے اپیل ہٰذا دائر کی ہے کہ مذہب کے لحاظ سے فریق ثانی قادیانی ہیں۔ انہوں نے اپنی پرانی عبادت گاہ کو مسمار کر دیا اور اس کے بجائے وہ ایک نئی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے تھے اور وہ اس عمارت کو مسجد کی صورت میں تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مینار اور محرابیں تعمیر کی جائیں جب کہ منطقی طور پر اور آئین پاکستان کے تحت، انہیں اس امر سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور یہ مقدمہ اس کے متعلق ہے۔
......۳ اس مقدمہ کی مخالفت مدعا علیہان کی طرف سے ایک تحریری درخواست دائر کرنے کے ذریعے کی گئی جس میں انہوں نے مستغیثوں کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے کے متعلق بعض قانونی اور حقیقی اعتراض اٹھائے ہیں۔
......۴ فریقین کی طرف سے پیش کیے گئے مختلف مؤقف کی روشنی میں فاضل عدالت نے مندرجہ ذیل امور قائم کیے:
- (۱) کیا مدعاعلیہان غیرقانونی طور پر، اسلامی مسجد سے مشابہ، قادیانی عبادت گاہ دانستہ طور پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟
- (۲) کیا مقدمہ ہٰذا جھوٹا، بے حقیقت، تکلیف دہ اور مدعاعلیہان کے آئینی حقوق کے خلاف ہے اور خاص لاگت کے ساتھ
مسترد کرنے کے قابل ہے؟
- (۳) کیا مستغیث، اپیل اور مستقل حکم کے ذریعے قبضہ کے حکم کے مستحق ہیں جس طرح ان کے مرکزی نوٹ میں ذکر کیا گیا ہے؟
- (۴) کیا مستغیث کا مؤقف بے بنیاد ہے؟
- (۵) کیا مستغیث، اپنے الفاظ وطرز عمل کے باعث مقدمہ ہٰذا دائر کرنے سے روک دیے گئے ہیں؟
- (۶) داد رسی۔
......۵ اپنے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے دونوں فریقوں نے زبانی اور دستاویزی ثبوت پیش کیے۔ فریقوں کے فاضل وکلاء کی جانب سے دلائل کی سماعت کے بعد فاضل عدالت نے ایک ایسا فیصلہ اور حکم دیا جس میں مدعاعلیہان/مدعیوں کے مقدمہ کے متعلق حکم جاری کیا گیا۔ اس فیصلے اور حکم سے متاثر ہونے کے باعث اپیل ہٰذا، ایک درخواست کے ذریعے اپیل کنندگان کی طرف سے دائر کی گئی۔
......۶ اپیل کنندگان کے فاضل وکیل کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی کہ فاضل عدالت کی طرف سے دیا گیا فیصلہ اور حکم غیرقانونی ہے، قانون اور حقائق کے خلاف ہے اور یہ ثبوت کو غلط طور پر پڑھنے اور نہ پڑھنے کا نتیجہ ہے، یہ بھی کہ فاضل عدالت نے قانون کا غلط مطلب اخذ کیا، یہ کہ فاضل عدالت فریقوں کے دعووں سے پیدا ہونے والے معاملات سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام رہی؛ یہ کہ فاضل عدالت کے فیصلے، قانون اور مسل پر موجود ثبوت اور گواہی کے مطابق نہیں، یہ کہ فاضل عدالت، معاملہ نمبر ۵ کے متعلق، غیرقانونی اور بے قاعدگیوں کی مرتکب ہوئی ہے، یہ کہ دیا گیا فیصلہ اور حکم، قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا، یہ کہ دیا گیا فیصلہ اور حکم، منسوخ کیا جائے اور اپیل ہٰذا قبول کر لی جائے۔
......۷ اس کے برعکس، مدعاعلیہان کے فاضل وکیل نے یہ کہتے ہوئے فیصلے اور حکم کی مکمل تائید کی کہ دیا گیا فیصلہ اور حکم، قطعی قانونی اور مقدمہ کے حالات کے حقائق کے عین مطابق ہے۔ یہ کہ دیے گئے فیصلہ اور حکم، کی بنیاد حقائق کے علاوہ ان گواہیوں اور ثبوتوں پر ہے جو ریکارڈ پر پیش کیے گئے اور ان میں کوئی غلطی نہیں، اس لیے متذکرہ فیصلے اور حکم کو بخوبی برقرار رکھا جائے اور اپیل مسترد کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸...... میں نے دونوں فریقوں کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل سماعت کیے اور پیش کیے گئے ریکارڈ کو انتہائی احتیاط سے ملاحظہ کیا۔
- ۹...... میں نے دیے گئے فیصلے اور حکم کے علاوہ متعلقہ معاملات کے متعلق فاضل عدالت کی آراء کو بھی ملاحظہ کیا۔ اپیل کنندگان کے فاضل
وکیل نے دلیل دی کہ مقدمہ ہذا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی اجازت کے بغیر دائر نہیں کیا جاسکتا جس کی اجازت اس وجہ سے نہ تو لی گئی اور نہ ہی مسل میں پیش کی گئی کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاملہ، جھگڑے کے زمرے میں آتا ہے اور یہ مدعاعلیہان/مستغیث کے لیے ضروری ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی اجازت حاصل کریں۔ Black Law Dictionary اور دیگر لغات میں جھگڑے کی تعریف ملاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ جھگڑے کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان معاملہ خالص مذہبی نوعیت کا حامل ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک عمومی جھگڑا ہے اور جہاں تک میری ناقص رائے ہے کہ مدعا علیہان/مستغیث کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مقدمہ ہذا دائر کرنے کے لئے وہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اجازت حاصل کرتے۔
- ۱۰...... ریکارڈ کا ملاحظہ یہ ثابت کرتا ہے کہ فاضل عدالت نے دونوں فریقین کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل میں سے جو چھ نکات اخذ کیے،
ان میں سے پہلا نکتہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم ہے جس کے باعث فریقوں کے درمیان تنازع حل ہوا ہے۔ میں نے نہایت احتیاط سے پہلے نکتہ کے متعلق فاضل عدالت کی آراء ملاحظہ کی ہیں اور فریقوں کے فاضل وکلاء کی بہترین معاونت سے مسل پر موجود تمام ریکارڈ ملاحظہ کیا ہے۔ فاضل عدالت نے پیرا نمبر ۹ میں انتہائی درست طور پر اپنا یہ فیصلہ دیا کہ ”یہ ایک بخوبی طے شدہ قانون ہے کہ مدعاعلیہان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ ایسے الفاظ بولیں یا تحریر کریں یا پھر ایسا طرز عمل اپنائیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ مسلمان ہیں۔ آئینی طور پر مدعاعلیہان کو اس قسم کا طرز عمل اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔“ استغاثہ گواہ نمبر ۳ کی طرف سے گواہی کی صورت میں مدعاعلیہان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے دوران مقدمہ ”محراب“ اور مینار تعمیر کیے ہیں۔ یہ معاملہ، مدعاعلیہ کی طرف سے اس اعتراف کی روشنی میں ثابت ہو گیا جس معاملہ پر جواب اثبات میں دیا گیا۔ فاضل عدالت کی آراء کی بنیاد، قانون اور حقائق کی مناسب طور پر جانچ کے علاوہ مسل پر موجود گواہی اور ثبوت ہے۔ اندریں حالات، PLD 2002 ،PLD 1972 SC 25 ،2000 SCMR 460 1993 ،PLD 1985 Federal Shariat Court page 8 ،1992 P.Cr.L.J 2351 ،SC 303 SCMR 1768 کی رہنمائی میں، فاضل عدالت کی آراء اور فیصلوں کی بنیاد ٹھوس معقول وجوہ ہیں۔ یقینی طور پر غیرمسلم، یعنی ”قادیانیوں“ کو اسلامی شعار اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔ ریکارڈ کے ملاحظے سے مزید ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ گواہ نمبر ۳، ملک شمشاد خان، گواہی دینے کے لیے پیش ہوا اور اپیل کنندگان/مدعاعلیہان کے فاضل وکیل کی جانب سے جرح کے دوران، اس نے واضح طور یہ کہا: ”یہ درست ہے کہ محراب اور مینار، دعویٰ دائر کے بعد تعمیر کیے ہیں۔“
اس سے مراد یہ ہے کہ مدعاعلیہان نے دوران مقدمہ یہ تسلیم کیا کہ ”محراب“ اور مینار، تعمیر کیے گئے ہیں اور یہ محراب اور مینار، قابل مسمار ہیں کیونکہ مدعاعلیہان نے اپنی تحریری درخواست میں اپنائے گئے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے نہ تو کوئی ثبوت پیش کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی اس پر اصرار کیا: مدعاعلیہان کا یہ طرز عمل، واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں۔ اندریں حالات، فاضل عدالت نے مستغیثوں/مدعاعلیہان کے مقدمے کا درست طور پر فیصلہ کیا ہے۔ پہلے نکتے کے علاوہ دیگر نکات کے متعلق فاضل عدالت کا فیصلہ، قانون اور حقائق کے مطابق ہے اور اسے برقرار رکھا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۱...... مندرجہ بالا بحث کے مطابق، چونکہ اپیل ہذا کسی بھی بنیاد سے محروم ہے، اس لیے مسترد کی جاتی ہے۔ فاضل عدالت کی طرف سے دیا گیا
فیصلہ اور حکم جو اپیل کنندگان کے خلاف جاری کیا گیا تھا، برقرار رکھا جاتا ہے کہ محراب اور مینار، جو دورانِ مقدمہ تعمیر کیے گئے، ایک ماہ کے اندر مسمار کر دیے جائیں۔ لاگت کے متعلق کوئی حکم نہیں دیا جا رہا۔ فاضل عدالت کا ریکارڈ واپس بھیجا جائے جب کہ اپیل کا ریکارڈ مکمل کیے جانے کے بعد ریکارڈ روم میں محفوظ کیا جائے۔ دستخط جج
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۵ء ص ۴۵ تا ۴۸)
قادیانی ممنوعہ رسائل اور کتب کی اشاعت پر مقدمہ
توہین انبیاء کرام علیہم السلام پر مبنی لٹریچر کی طباعت، اشاعت، تقسیم و ترسیل اور قادیانیت کی تبلیغ وتشہیر کرنے جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے پر ضیاء الاسلام پریس چناب نگر (ربوہ) کے منیجر طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ اور دیگر ۶ ملزمان کے خلاف ایک مقدمہ نمبر ۱۵۱/۱۴ زیر دفعات ۲۹۸-سی ۲۹۵-اے ت.پ اور دفعات ۱۱-ڈبلیو، ۱۱/۸ انسداد دہشت گردی ایکٹ تھانہ ملت پارک لاہور میں مدعی حافظ ناصر کی درخواست پر درج کیا گیا۔ جو ملزم طاہر مہدی امیتاز احمد وڑائچ اور اس کے ہمراہی ملزمان عمران، عرفان ناصر، احمد طاہر مرزا، فرحان احمد ذکاء اور عبدالمنان کوثر روپوش ہو گئے تھے۔ مورخہ ۳۰؍مارچ ۲۰۱۵ء کو مذکورہ ملزم طاہر مہدی امیتاز احمد وڑائچ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ جب کہ باقی ملزمان ابھی تک روپوش ہیں۔ مذکورہ ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قادیانی لٹریچر کی اشاعت، طباعت اور تقسیم و ترسیل کر رہا ہے۔ ملزم جن رسائل اور جرائد کی طباعت واشاعت حکومت پنجاب کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے باوجود کرتا چلا آ رہا ہے۔ ان میں روزنامہ الفضل، ماہنامہ انصاراللہ، ماہنامہ تحریک جدید، ماہنامہ مصباح، ماہنامہ خالد اس کے علاوہ روحانی خزائن کی ۱ تا ۲۳ جلدیں شامل ہیں۔ دوران تفتیش پولیس نے نفرت آمیز مواد ملزم کی نشاندہی پر اپنے قبضہ میں لیا اور ملزم کو گناہ گار تحریر کر کے عدالت میں رپورٹ کی۔
ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری قبل ازیں ماتحت عدالت خارج ہو گئی تھی جس پر ملزم نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی۔ بحث کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت میں غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ جو لٹریچر، کتابیں، رسائل و جرائد ملزم شائع و تقسیم کرتا ہے ان پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہ ہے جس پر استغاثہ کی طرف سے ختم نبوت لائرز فورم پاکستان کے وکلاء غلام مصطفیٰ چوہدری، طاہر سلطان کھوکھر، طاہرہ شاہین اور محمد مبشر چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ تمام لٹریچر و مواد پر حکومت پنجاب نے پابندی عائد کی ہوئی ہے اور اس کو چھاپنے و تقسیم کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کرنے اور شائع شدہ مواد فوری ضبط کرنے کے احکامات صادر فرمائے ہیں جس کے ثبوت میں حکومت پنجاب کے احکامات / نوٹیفکیشن پیش کئے گئے جس پر عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی اور معزز عدالت کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ قادیانیوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے مذہب کی آڑ میں شعائر اسلام کا استعمال کریں اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۵۴، ۵۵)
سیشن جج ساؤتھ کراچی کی عدالت سے قادیانی ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ کے ایڈیٹر و پبلشر کے وارنٹ گرفتاری
عدالتی رپورٹ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ احمد میاں حمادی مدظلہ نے مورخہ ۱۱؍ مارچ ۲۰۰۱ء کو تھانہ ٹنڈو آدم میں ایف آئی آر زیر دفعہ ۲۹۵، ۲۹۵-سی، ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے تحت قادیانیوں کا ماہنامہ انصار اللہ شمارہ ۱، جلد ۴۲ کے ایڈیٹر نصر اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خان ناصر ، پبلشر چوہدری محمد ابراہیم ، پرنٹر قاضی منیر اور شبیر احمد ثاقب درج کرائی۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ نے بیان کیا کہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۱ء کو جامع مسجد میں یہ رسالہ رکھا ہوا تھا، جب ہم نے رسالے کو پڑھا تو مطالعہ کے دوران اس رسالے میں توہین رسالت، حضرت امام حسین کی بے حرمتی اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے اور قرآن مجید کی بے حرمتی اور قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کرنے کا مواد موجود تھا۔ صفحہ نمبر ۱۴ اور صفحہ ۳۰ پر ملعون غلام احمد قادیانی کے لئے درود و سلام کے الفاظ لکھ کر توہین رسالت کی گئی ہے۔ کیونکہ درود وسلام کے الفاظ حضور نبی پاک ﷺ اور دوسرے انبیا کرام علیہم السلام کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور شہادت حسین کو مرگ حسین یعنی حضرت حسین کی موت لکھ کر حضرت حسین اور ان کی بے مثال شہادت کی توہین کی ہے۔
قرآن مجید کی آیات یا آیتوں کے حصے لکھ کر قرآن مجید کا غیر قانونی استعمال کر کے توہین قرآن اور کفریہ قادیانی مذہب کا قرآن مجید ظاہر کر کے اور قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کرنے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا جرم کیا ہے۔ لہٰذا ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، چلان داخل ہوا۔ ملزمان نصر اللہ خان ناصر اور شبیر احمد ثاقب نے مورخہ ۲۵؍ نومبر ۲۰۰۴ء کو ہائیکورٹ سے اپنی عبوری ضمانتیں کروالیں۔ باقی دو ملزمان چوہدری ابراہیم اور قاضی منیر کو عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا۔
ملزمان نے ہائیکورٹ سندھ کراچی میں مورخہ ۲۷؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو مقدمے کو ٹنڈو آدم سے کراچی منتقل کرنے کی درخواست داخل کی۔ جس میں تحریر کیا گیا کہ ملزمان کو مدعی اور اس کے پیروکاروں سے جان کا خطرہ ہے، لہٰذا اس مقدمے کو کراچی منتقل کیا جائے۔ چنانچہ عدالت نے ملزمان کی اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے مقدمے کو کراچی منتقل کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج ساؤتھ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی، تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے تو قادیانی ملزمان نے سیشن کورٹ میں بریت کی درخواست داخل کی، جس پر تفصیلی بحث ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر منظور احمد میؤ راجپوت ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کورٹ کو بتایا کہ اب تک کی جتنی گواہیاں کورٹ میں لائی گئی ہیں۔ ان میں ماہنامہ ”انصار اللہ“ میں تحریر کردہ عبارت اور ملزمان کی طرف سے اس تحریر کا انکار نہیں ہوا، ملزمان نے اب تک عدالتی کارروائی میں جتنے بھی حلف نامے داخل کئے ہیں ان میں لفظ احمدی / قادیانی تحریر ہے۔ لہٰذا ملزمان کے خلاف الزام ثابت ہو چکا ہے۔ اس پر عدالت نے ملزمان کی بریت کی درخواست خارج کر دی، اس کے بعد ملزمان نے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف بریت کی اپیل ہائیکورٹ میں داخل کی جب کہ مورخہ ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۱ء کو ہائیکورٹ کے جج شاہد انور باجوہ نے بھی قادیانیوں کی بریت کی درخواست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کا بیان سیشن جج ساؤتھ ریکارڈ کر کے اس کا فیصلہ دے، ملزمان کورٹ میں حاضر نہیں ہوئے سیشن جج ساؤتھ نے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے اور مورخہ ۳؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو ایس پی چنیوٹ اور ڈی آئی جی فیصل آباد کو نوٹس جاری کئے کہ قادیانی ملزمان ماہنامہ ”انصار اللہ“ کے ایڈیٹر پبلشر اور پرنٹر کو گرفتار کر کے بمعہ ضمانتی ۶؍ اپریل ۲۰۱۵ء کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدعی علامہ احمد میاں حمادی نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت پنجاب کو حکم جاری کیا جائے کہ قادیانی ماہنامہ ”انصار اللہ“ کی اشاعت پر پابندی لگائے اور اشاعتی اجازت نامے کو اور اس کے تمام اشاعت شدہ مواد کو ضبط کیا جائے، تاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب نہ ہو، عدالت نے نوٹس جاری کر دیئے۔ منظور احمد میؤ راجپوت ایڈووکیٹ
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ مارچ ۲۰۱۵ء ص ۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی محاذ پر ایک اور شاندار کامیابی
۲۶/ جون ۲۰۱۲ء کو رات دس بجے کے قریب جب اپنے معمولات سے فارغ ہو کر آرام کے لئے لیٹا تو موبائل پر گھنٹی بجی، موبائل آن کیا تو نمبر میرے (ڈاکٹر دین محمد فریدی کے) لئے نیا تھا، آواز آئی کہ میں چک نمبر ۷۰ تحصیل منکیرہ سے محمد اقبال بول رہا ہوں (میں چونک اٹھا کہ یا اللہ خیر، کیونکہ اس چک میں اکثر گھر قادیانیوں کے ہیں۔ مگر حالات اجازت نہیں دیتے کہ اس دور دراز چک میں بغیر واقفیت کے جاؤں ، انہوں نے اپنی عبادت گاہ بھی مسجد کے طرز پر بنارکھی ہے، یہ معلومات مجھے تھیں مگر راستہ نہیں مل رہا تھا) بہر حال میں نے پوچھا کہ کیوں فون کیا ؟ انہوں نے کہا کہ منصور نامی قادیانی ہمیں تین دن سے قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے ، آج شام ساڑھے چھ بجے ہماری اچھی خاصی تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی بھی ہوئی ،ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے۔ میں نے کہا: اب آرام کرو اور صبح میرے پاس چلے آؤ۔
۲۷/ جون ۲۰۱۲ء کو محمد اقبال، عمران یحییٰ اور محمد اختر تین نوجوان پہنچے۔ حالات سنے ، سارا دن جوڑ توڑ میں گزرا، چونکہ یہ نوجوان چک کے غریب برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ قادیانی زمیندار اور بااثر تھا۔ خانقاہ سراجیہ پیرو مرشد خواجہ خلیل احمد مدظلہ سے رہبری چاہی ، آپ نے فرمایا کہ: ”اللہ بھلی کرے گا، نوجوانوں کی سرپرستی کرو۔“
۲۸/ جون ۲۰۱۲ء کو اللہ کے بھروسے پر نوجوانوں سے بیان حلفی لے کر خود مدعی بنا اور ان کو بطور گواہ بنایا۔ ڈی. پی. او بھکر کو درخواست گزاری۔ معلوم ہوا کہ قادیانیوں نے بھی ڈی. پی. او سے رابطہ کر کے کہا کہ منصور قادیانی کو اقبال وغیرہم نے مارا پیٹا ہے، جب بندہ نے ان نوجوانوں کو لے کر ڈی. پی. او کی خدمت میں درخواست مقدمہ پیش کی تو ڈی. پی. او نے کہا: فریدی صاحب! انہوں نے منصور قادیانی کو بری طرح پیٹا ہے، آپ درخواست بھی اسی کے خلاف دے رہے ہیں، میری ایمانی غیرت پھڑکی۔ میں نے ڈی. پی. او کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ دیہاتی لوگ ہیں، انہیں نماز کے مسائل بھی صحیح نہیں آتے ،مسلمان ہیں، قادیانیت کو کفر سمجھتے ہیں، یہ منصور قادیانی ان کو قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شدہ کہتا ہے، مرزا کے مہدی ہونے کے دلائل دیتا ہے، دیہاتیوں کے پاس ان دلائل کا جواب گھونسا ہے، اس کے دلائل لینے ہیں تو میرے ساتھ بات کرے، بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ نہ کرے، ان نوجوانوں نے منصور قادیانی کو پیٹا ہے، وہ کیوں؟ وہ ان کے سامنے قادیانیت کو سچا اور اسلام کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، میرا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف ۲۹۸-سی کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ ڈی. پی. او نے چند لمحے میری بات پر غور کیا اور تھانہ منکیرہ کے ایس. ایچ. او کو تفتیش کے لئے مارک کیا۔
۲۹/ جون ۲۰۱۲ء کو بندہ تھانہ منکیرہ پہنچا اور منکیرہ کے علماء کرام سے رابطہ کیا وہ بھی تھانے آگئے۔ ایس. ایچ. او منکیرہ نے گاڑی بھیج کر فوراً منصور قادیانی کو طلب کر لیا، تھانہ میں گفتگو ہوئی ، منصور قادیانی نے اعتراف کر لیا کہ میں نے مذہبی بحث کی مجھ سے غلطی ہوئی ، میں معافی مانگتا ہوں۔ منکیرہ کے دو تین مولوی اس کی عاجزی پر نرم ہوئے کہ اسے معاف کر دیا جائے، میں نے فوراً اپنے پیر و مرشد خواجہ خلیل احمد مدظلہ سے رابطہ کیا۔ منصور قادیانی کو معاف کر دیا جائے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا: اسے قانون کے حوالے کر کے معاملہ اللہ پر چھوڑ دو، یہ معافی کے قابل نہیں، میں نے عرض کیا کہ متعلقہ مولوی کو سمجھائیں۔ میرے مرشد نے اس مولوی سے بات کی اس کو سمجھ آ گئی اور منصور قادیانی کے خلاف ۲۹۸ سی کا پرچہ درج ہوا۔ سول جج کی عدالت میں پیش ہوا اور تین دن کے ریمانڈ کے بعد میانوالی جیل بھیج دیا گیا۔ درخواست ضمانت سول جج منکیرہ سے خارج ہوئی۔ آخر بڑی مشکل سے ضمانت ہائیکورٹ سے ہوئی اور کیس شروع ہوا۔ مختلف مراحل سے گزر کر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہیاں اور بندہ کا بیان ریکارڈ ہوا، یہاں میں یہ عرض کرنے میں بخل نہیں کروں گا کہ عاشق رسول وکیل ختم نبوت جناب عبدالجبار ہاشمی نے بے لوث مقدمہ لڑا، ہمیں رشک آتا ہے کہ ایسے عاشق رسول بھی وکیل موجود ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ آمین ! ۲۰؍ مئی ۲۰۱۵ء کو جناب سول جج محمد افضل صاحب نے منصور قادیانی کو مجرم گردانتے ہوئے ایک سال قید اور مبلغ ۲۰ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی جیسے ہی عوام میں خبر پہنچی تو چاروں طرف اس عظیم فتح پر مبارکباد پہنچنا شروع ہوگئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ ستمبر ۲۰۱۵ء ص ۲۵)
انڈونیشیا میں قادیانیوں کی عبادت گاہ سیل
آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کو پیغمبر قرار دینے پر اسلامی تنظیم کے سینکڑوں کارکنان نے عمارت کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ پولیس نے اسلامک ڈیفینڈر فورم کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے معبد خانے پر تالا ڈال دیا۔ حکام کی جانب سے مرزائیوں کا واویلا مسترد۔
انڈونیشیا میں قادیانیوں کی عبادت گاہ سیل کر دی گئی۔ جمعہ کے روز قادیانی جماعت کی جانب سے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی قرار دینے پر مسلمان نوجوانوں کی تنظیم کے سینکڑوں کارکنان نے مرزائیوں کی عبادت گاہ کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اس موقع پر مسلمان نوجوانوں نے گستاخانہ عقائد کا پرچار کرنے والوں کو نکال باہر کیا۔ جب کہ ”اسلامک ڈیفینڈر فورم“ نے انتظامیہ کو بھی کال کر کے مرزائیوں کی ناپاک جسارت کی اطلاع دے دی تھی۔ اس پر پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر قادیانیوں کے معبد خانے پر تالا ڈال دیا۔ دوسری جانب قادیانی جماعت نے مظلومیت کا ڈھونگ رچاتے ہوئے اس اقدام کو ”انسانی حقوق“ کی خلاف ورزی قرار دینے کی کوشش کی، تاہم انڈونیشی حکام نے یہ واویلا مسترد کر دیا ہے۔ انڈونیشی جریدے ٹریبیون نیوز وارتو کارتا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے قادیانی جماعت کو وارننگ دی ہے کہ اگر آئندہ انہیں اس قسم کی شکایت موصول ہوئی تو گستاخانہ عقائد کا پرچار کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آئین کے تحت انڈونیشیا میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن کچھ جنوبی ریاستوں میں قادیانی مشنری خود کو مسلمان مبلغ ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دینے میں سرگرم ہے۔ جریدے کے مطابق قادیانی جماعت کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی وضع قطع بنا کر گمراہ کیا جائے۔ اسی مذموم مقصد کے تحت ضلع وارگا بوکیٹ دوری میں قادیانیوں نے ایک عبادت گاہ تعمیر کر کے اسے ”مسجد“ قرار دیا اور اپنے گمراہ کن عقائد کا پرچار شروع کر دیا۔ انڈونیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ معبد خانے میں جمعہ کے روز ”خصوصی درس“ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس دوران عمارت کو مسجد سمجھ کر ”نمازِ جمعہ“ ادا کرنے آنے والے سادہ لوح افراد کو چرب زبان مرزائی خطیب قائل کرنے کی کوشش کرتے کہ آنجہانی مرزا غلام احمد (استغفر اللہ) نبی تھا اور قادیانیوں کے موجودہ سرغنہ مرزا مسرور کی ”بیعت“ پر راغب کیا جاتا۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان مذموم سرگرمیوں کی اطلاع جب اسلامک ڈیفینڈر فورم کے عہدیداروں کو ملی تو انہوں نے اس فتنے کی سرکوبی کا فیصلہ کر لیا۔ اس حوالے سے چند کارکنان کو جمعہ کے روز قادیانی عبادت گاہ بھیجا گیا، جہاں انہوں نے مرزائیوں کی تمام سرگرمیاں نوٹ کیں اور تنظیم کے رہنماؤں کو سگنل دے دیا، کچھ ہی دیر بعد اسلامک ڈیفینڈر فورم کے سینکڑوں کارکنان اور مقامی مسلمانوں نے معبد خانے کا گھیراؤ کر کے قادیانی مشنری کو نکال باہر کیا۔ ادھر قادیانیوں کے ترجمان جریدے ”احمدیہ ٹائمز“ نے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کی تنظیم نے ”غنڈہ گردی“ کا مظاہرہ کیا اور ”مسجد“ پر ہلہ بول کر ”نمازیوں“ کو مار بھگایا۔ جب کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ۴۹۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پولیس نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی، بلکہ اس نے ”مسجد“ کو سیل بھی کر دیا۔ دوسری طرف ضلعی پولیس کے کمشنر Ketut Sudarma نے قادیانیوں کا واویلا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت خانے کے حوالے سے پہلے بھی اطلاعات تھی کہ یہاں مرزائی خطیب خود کو مسلمان قرار دیتے ہوئے گستاخانہ عقائد کا پرچار کرتے ہیں۔ تاہم اس بار پولیس کو چشم دید گواہوں نے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔ چنانچہ ”مسجد“ کے نام پر قائم قادیانیوں کی عبادت گاہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ انڈونیشی پولیس کمشنر کے مطابق اگر موقع پر موجود سینکڑوں مسلمان نوجوان چاہتے تو قادیانی مشنریوں کو جان سے مار سکتے تھے، لیکن انہوں نے قانون پسند شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ لہٰذا قادیانیوں کی جانب سے مظلوم بننے کی کوشش سفید جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قادیانی عبادت گاہ کے قریب رہائش پذیر ایک مسلمان ٹیچر شاکر کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل چند قادیانیوں نے ایک عمارت تعمیر کر کے ظاہر کیا تھا کہ وہ مسلمان مبلغ ہیں اور ضلع کے غریب افراد کے لئے انہوں نے ”مسجد“ بنائی ہے، لیکن الحمد للہ ! ان بدباطنوں کا پردہ چاک ہوا۔ ادھر اسلامک ڈیفینڈر فورم کے رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پورے انڈونیشیا میں قادیانی مشنری کا تعاقب کر کے ان کے مکروہ عزائم ناکام بنائیں گے۔
(روزنامہ امت کراچی، ۱۴/ جون ۲۰۱۵ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۲ تا ۱۸/ جولائی ۲۰۱۵ء ص ۲۴)
بخدمت جناب ڈائریکٹر صاحب ...... دعوہ اکیڈمی اسلام آباد
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته مزاج گرامی!
آپ بہتر جانتے ہیں کہ:
- ۱...... مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
- ۲...... مرزا قادیانی نے کہا کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷)
- ۳...... مرزا قادیانی نے کہا کہ ”میں بروزی طور پر محمد بھی ہوں اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۶، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۶)
- ۴...... مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم.اے نے کہا کہ ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ جو اشاعت اسلام کے لئے
قادیان میں دوبارہ تشریف لائے۔“
(کلمتہ الفصل ص ۱۵۸، از بشیر احمد ایم.اے)
مرزا قادیانی اور قادیانی گروہ کے ان جیسے بے شمار کفریہ عقائد کے باعث قادیانیوں کو پاکستان پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور سپریم کورٹ نے بھی اس گروہ کے کفر پر فیصلہ دیا۔ قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم نہ کر کے آئین سے بغاوت کا ارتکاب کیا۔ غرض یہ کہ: (۱) مرزا قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ (۲) مرزا قادیانی اور قادیانی گروہ اسے ”محمد“ ثانی قرار دیتے ہیں۔ (۳) ان جیسے دیگر کفریہ عقائد کے باوجود قادیانی، پاکستان پارلیمنٹ کے آئینی فیصلہ کو نہ مان کر پاکستان کے آئین سے بغاوت کرتے ہیں۔
قادیانیوں کی ان تمام کفریہ سرگرمیوں اور آئین پاکستان سے بغاوت کے باوجود آپ کی ”دعوہ اکیڈمی اسلام آباد“ کے آئمہ کورس کے انچارج جناب ”مصباح الرحمٰن یوسفی“ ائمہ کورس کے شرکاء کو قادیانیوں کے مرکز چناب نگر میں لے جاتے ہیں۔ وہاں قادیانی مبلغ ان کو تبلیغ کرتا ہے۔ وہاں یہ خاصہ وقت گزارتے ہیں۔ پھر رفع تہمت کی خاطر مدرسہ ختم نبوت بھی پندرہ منٹ کے لئے چہرہ نمائی کرتے ہیں اور واپس آ کر جناب مصباح الرحمٰن ان آئمہ کورس کے طلباء کرام کی ذہن سازی کرتے ہیں کہ قادیانی کتنے اخلاق والے ہیں۔ کتنے پردہ کے پابند ہیں۔ وغیرہ!
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حالانکہ ان پڑھے لکھے عقلمند سے کوئی پوچھے کہ ”کفر و اسلام کا فیصلہ اعمال پر نہیں ہوتا بلکہ عقائد پر ہوتا ہے۔ صرف قادیانی نہیں بلکہ یہودی، مسیحی سب داعیان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ اچھے اخلاق نہیں بلکہ رشتے بھی کفر کی دعوت کے لئے بطور حربہ کے استعمال کرتے ہیں ۔“ چنانچہ آئمہ کورس کے شرکاء جب قادیانی مرکز سے واپس آتے ہیں تو وہ قادیانی کفریہ عقائد اور اپنے انچارج (جناب مصباح الرحمن یوسفی) کے طرز عمل سے دو ذہنی کا شکار ہوتے ہیں۔
جب یہ افسوسناک اور بدترین صورتحال ہمارے علم میں آئی تو شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب سر پرست جمعیت علماء اسلام و امیر عالمی مجلس ، مولانا عبد الوحید قاسمی صاحب ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا محمد طیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد، مولانا خلیق الرحمن چشتی ناظم اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر مشتمل ایک وفد یکم/ جولائی ۲۰۱۵ء کو جناب مصباح الرحمن یوسفی صاحب کے پاس ان کے دفتر گیا۔ ان سے ملاقات کی ۔ یہ جان کر حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ یوسفی صاحب نہ صرف قادیانیوں کے تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ، ان کے اخلاق کے مبلغ اور پرچارک نظر آتے ہیں ۔ بلکہ علماء کرام پر بے جا تنقید اور ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنے والوں پر بے جا متعصبانہ جارحانہ طرز عمل رکھتے ہیں اور قادیانیوں کا پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں اور انہوں نے ان علماء کے سامنے فرمایا کہ مجھے چناب نگر کے قادیانی رشید احمد نے قادیانیت قبول کرنے کی دعوت دی اور یہ کہ مجھے قادیانی جامعہ احمدیہ چناب نگر کے پرنسپل نے کہا کہ آپ کے احمدیت قبول کرنے پر میں آپ کو مبارک دیتا ہوں۔
یہ خود مصباح الرحمن نے کہا کہ خود وہاں کا قادیانی عملہ ان کے متعلق یہ تاثر رکھتا ہے کہ میں احمدی ہوں ۔ میں نے (مصباح الرحمن صاحب) کہا کہ نہیں پرنسپل صاحب یہ غلط ہے۔ میں نے احمدیت قبول نہیں کی۔ جناب عالی! ہمارے وفد نے ان سے کہا کہ اپنے طرز عمل پر غور کریں: (۱) آپ قادیانیوں کی بے جا حمایت کرتے ہیں۔ (۲) ایک سرکاری ادارہ کے طلباء کو چناب نگر لے جا کر ان کو قادیانیوں کی تبلیغ کرانے کا موقع دیتے ہیں۔ (۳) آپ ایک غیر مسلم اور آئین پاکستان سے انحراف کرنے والی کفر بواح کی مرتکب جماعت و گروہ سے ہمدردانہ تعلق رکھتے ہیں۔
آپ کا طلباء کو قادیانی مرکز میں لے جانا ٹھیک نہیں ہے ۔ اس پر آپ غور کریں۔ آگے انہوں نے بڑی رعونت سے جواب دیا کہ آپ کا اپنا طریقہ کار ہے اور ہمارا اپنا طریقہ کار ہے۔ گویا ایسا نہ کرنے پر رضامند بھی نظر نہیں آتے۔ ان حالات میں سوائے اس کے چارہ نہیں کہ ہم آپ سے درخواست کریں کہ ”دعوۃ اکیڈمی“ کے طلباء کو قادیانیوں کے ہاں دعوتیں اڑانے اور قادیانیوں کی تبلیغ سنوانے کے لئے لے جانا ہرگز مستحسن امر نہیں ہے اور ایسا شخص جس کے ایمان کو قادیانی کفر للچائی ہوئی نظر سے دیکھتے ہیں اور بقول خود جناب مصباح الرحمن صاحب کے قادیانی پرنسپل مجھے قادیانیت قبول کرنے پر مبارک دے رہے تھے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر معاملہ بہت ہی حساس اور نازک ہے۔ میں اپنے اس خط کی کاپی:
- ١...... مولانا فضل الرحمن صاحب
- ٢...... جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب
- ٣...... جناب پروفیسر ساجد میر صاحب
- ٤...... جناب ساجد نقوی صاحب
- ٥...... جناب لیاقت بلوچ صاحب
- ٦...... جناب سراج الحق صاحب
- ٧...... صدر علماء بورڈ پنجاب
- و دیگر
کو فی الحال بھجوا رہا ہوں ۔ امید ہے کہ آپ ہمارا معاملہ یہاں پر حل فرمادیں گے ۔ یقین فرمائیے کہ اس ادارہ کے اس ذمہ دار
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افراد کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کی واضح طور پر تلافی نہیں ہو جاتی۔ ہم مجبور ہیں کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تمام آئینی راستے اختیار کریں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ہمارے دل زخمی اور ان کے کفر پرور رویہ پر ماتم کناں ہیں۔ امید ہے کہ توجہ کی جائے گی۔
العارض: ...... اللہ وسایا مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل آف پاکستان (حضوری باغ روڈ ملتان)
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۵ء ص ۷۴)
دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے مبارک اقدام
مصباح الرحمن یوسفی کو ائمہ کلاس کی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا گیا
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ. اما بعد!
قارئین لولاک نے گزشتہ شمارہ میں ڈی۔جی دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے نام فقیر راقم کا مکتوب مفتوح ملاحظہ فرمایا۔ جس میں دعوہ اکیڈمی کے استاذ و نگران مصباح الرحمن یوسفی کے ”قادیانیت سے متعلق نرم گوشہ“ پر شکوہ کیا گیا تھا اور اس خط کی کاپی جن حضرات کو بھیجی گئی ان میں سے جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر (مرکزی صدر جمعیت علماء پاکستان و مرکزی صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان) اور عالی جناب لیاقت بلوچ صاحب (سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان و مرکزی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان) کے جوابی خطوط موصول ہوئے۔ جنہیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں جو یہ ہیں:
صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کا خط:
محترم جناب ڈائریکٹر صاحب دعوہ اکیڈمی اسلام آباد
السلام علیکم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مجھے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں دعوہ اکیڈمی کے ائمہ کورس کے انچارج مصباح الرحمن یوسفی کی قادیانیت نوازی کے بارے میں بتایا گیا ہے جسے پڑھ کر بہت تشویش ہوئی۔ امید ہے آپ اس مسئلہ کی فوری تحقیق کر کے اور اس پر فوری ایکشن لے کر مسلمانوں کے مجروح جذبات کی تشفی کا ضرور سامان کریں گے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صدر۔ جمعیت علماء پاکستان
کاپی برائے اطلاع جناب مولانا اللہ وسایا صاحب
جناب لیاقت بلوچ صاحب کا والا نامہ:
مولانا اللہ وسایا مرکزی نائب امیر ملی یکجہتی کونسل پاکستان و مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ۔ ملتان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے
آپ کا خط بنام ڈائریکٹر دعوہ اکیڈمی، اسلام آباد کی ایک ایک کاپی امیر جماعت اسلامی پاکستان اور مجھے موصول ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعوہ اکیڈمی کے شرکاء کورس کے قادیانیوں کے مرکز چناب نگر کے دورے سنگین معاملہ ہے اور اس پر ان کے ذمہ داران کا مبینہ رویہ بھی حساس نوعیت کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا نوٹس لینے کی بھی ضرورت ہے اور مزید تحقیق کی بھی۔ ہمیں ایک طرف عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی ہر صورت حفاظت کرنی ہے اور دوسری طرف ایک اسلامی ادارہ ”دعوہ اکیڈمی“ کو متنازعہ ہونے سے بھی بچانا ہے۔
مولانا محترم!
ہم نے اپنے طور پر تحقیق شروع کر دی ہے۔ جونہی ہمیں مصدقہ معلومات مل جاتی ہیں، ہم نہ صرف آپ کو آگاہی دیں گے بلکہ اس پر ایک متفقہ مؤقف اختیار کر کے لائحہ عمل ترتیب دیں گے تاکہ ملک کا کوئی ادارہ یا ذمہ دار فرد عقیدہ ختم نبوت کا بالواسطہ یا بلا واسطہ انکار و تضحیک کا مرتکب نہ ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ والسلام! (لیاقت بلوچ)
کاپی برائے اطلاع: قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان
محترم سراج الحق صاحب، امیر جماعت اسلامی پاکستان
ماہنامہ لولاک ملتان کے گزشتہ شمارہ میں شائع شدہ جناب ڈائریکٹر صاحب دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے نام مکتوب مفتوح کے بعد جناب مصباح الرحمن یوسفی صاحب نے فقیر کو ذیل کا خط لکھا ملاحظہ فرمائیں:
جناب مصباح الرحمن کا خط :
بسم الله الرحمن الرحيم
محترمی ومکرمی جناب اللہ وسایا صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ کا مکتوب بنام ڈائریکٹر دعوۃ اکیڈمی (تاریخ ندارد)، جو آپ نے اور بھی بہت سارے ذمہ داروں اور علمائے کرام کو ارسال کیا ہے، موصول ہوا۔
محترم! الحمد للہ میں ایک صحیح العقیدہ مسلمان ہوں اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کے کسی بھی حالت میں نبوت کے دعویٰ کو باطل سمجھتا ہوں۔ مسیلمہ کذاب، سجاح، طلیحہ، اسود، عبداللہ افغانی اور مرزا غلام احمد سمیت ہر اس شخص کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں جو نبوت کا دعویٰ کرے یا اس دعویٰ کو تسلیم کرے۔
جہاں تک ہمارے چناب نگر کے دورہ کا تعلق ہے تو آپ کے علم میں ہے کہ دعوۃ اکیڈمی ملک بھر کے مساجد کے امام اور خطیب حضرات کی دینی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام منعقد کرتی ہے۔ یہ پروگرام گزشتہ تیس سال (۱۹۸۵ء) سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس کے شرکاء کم عمر یا کچے ذہن کے حامل طلبہ نہیں بلکہ مساجد کے ایسے امام وخطیب حضرات ہوتے ہیں جو دینی مدارس سے ”عالمیہ“ درجے یا ایم. اے اسلامیات کے سند یافتہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کے نصاب میں ایک مضمون ”ادیان ومذاہب کا تقابلی مطالعہ“ بھی ہوتا ہے جن کے بارے میں با قاعدہ دروس ہوتے ہیں۔ معروف اسلامی گروہوں دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث وغیرہ کے مدارس و مساجد میں جاکر ان سے ہم آہنگی اور رواداری کے جذبات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ منحرف اور غیر اسلامی گروہوں، ہندومت، بدھ مت، عیسائیت، یہودیت، بہائیت اور قادیانیت کا بھی مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان سے براہ راست ان کے عقائد اور عبادات کو سمجھنا بھی اس مطالعہ کا حصہ ہے۔ ان تمام دوروں اور ملاقاتوں میں اکیڈمی کا ایک ذمہ دار استاد / عالم دین ساتھ ہوتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سلسلے میں اس دفعہ باقاعدہ پروگرام کے تحت چناب نگر بھی جانا ہوا۔ صبح سے شام تک کے اس پروگرام میں کھیوڑہ کی کان نمک، چناب نگر اور بھیرہ شریف کی جامعہ محمدیہ کا دورہ شامل تھا۔ چناب نگر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں تمام شرکاء نے نماز ظہر ادا کی ، دوپہر کا کھانا کھایا، مجلس کا کتب خانہ دیکھا اور وہاں کے مقیم مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب سے قادیانیت کے بارے میں تفصیلی بیان بھی سنا۔ (آپ کے حافظہ میں یقیناً ہوگا کہ ایسے ہی ایک دورہ کے موقع پر آپ بھی ہمارے زیر تربیت ائمہ کے ایک پروگرام کے شرکاء سے مسلم کالونی ، چناب نگر کی مسجد میں خطاب فرماچکے ہیں ) چونکہ چناب نگر میں ہمارا وقت ۱۲ بجے کا طے تھا۔ لیکن مرکز تحفظ ختم نبوت میں قیام طویل ہونے کی وجہ سے جب سہ پہر کے ۳ بج گئے تو مولانا سے خاموشی سے کان میں کہہ کر گزارش کی گئی کہ اپنی گفتگو مختصر کریں تا کہ ہم چناب نگر بھی دیکھ سکیں۔ شرکائے کورس میں سے ایک فرد نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ایک بڑی جذباتی تقریر کی اور رد قادیانیت کے سلسلے میں دلائل دیتے ہوئے ایک دلیل یہ بھی بیان فرمائی کہ چونکہ تمام انبیاء کرام کے نام مفرد ہیں اور مرزا غلام احمد کا نام مرکب ہے۔ لہٰذا یہ کافر ہے۔ تو تقریر کے بعد میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ کے مخاطب تربیت ائمہ کورس کے شرکاء علماء کرام ہیں۔ لہٰذا جذباتی اور غصیلی گفتگو کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ مذکورہ دلیل مناسب نہیں ہے۔ بلکہ قادیانیوں سے ہمارے اختلاف کی بنیادی وجہ ہمارا عقیدہ ختم نبوت ہے، کہ ہم خاتم الانبیاء علیہ السلام کے بعد کسی کو کسی بھی صورت میں نبی یا رسول نہیں تسلیم کرتے۔ میرا یہ ٹوکنا ان صاحب کو اچھا نہیں لگا اور انہوں نے پورے پروگرام ہی پر تنقید شروع کر دی۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام تمام علماء کرام کی رغبت اور اصرار پر ہی ترتیب دیا گیا تھا۔
مولانا صاحب! میں کسی سے اپنے ایمان کی تصدیق کرانا ضروری نہیں سمجھتا ہوں۔ میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ الحمد للہ میں ختم نبوت پر ایمان کا داعی اور پرچارک ہوں۔ ائمہ و خطباء مساجد بچے نہیں بلکہ عالمیہ کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے علم میں اضافے کی خاطر یہ پروگرام مرتب کیا جاتا ہے۔ چناب نگر کے دورہ میں ہم ہمیشہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا دورہ بھی لازماً کرتے ہیں۔
بنیادی بات یہ ہے کہ معترضین کی نظر میں چناب نگر جانا اور وہاں پر ملاقاتیں کرنا صحیح نہیں ہے۔ کاش کہ زور اسی پر ہوتا اور اس دعوے کے اثبات میں ادارے کی اس پالیسی پر اچھے انداز میں گفت و شنید کر لی جاتی ، مگر افسوس کہ اس مزعومہ دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے مجھ پر الزام تراشی شروع کر دی گئی۔ میرے عقیدے کو نشانہ بنایا گیا۔ لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ میں العیاذ باللہ قادیانی ، یا قادیانیت نواز ہوں یا ان کے اخلاق و کردار کا پرچارک ہوں یا علماء کرام اور آئین پاکستان کا باغی ہوں۔ یہ صریحاً ظلم ہے۔ دوستوں کو دشمن بنانے کی یہ پالیسی حکمت، موعظہ حسنہ اور مجادلہ بالتی ھی احسن کے سراسر خلاف ہے۔ آپ نے جو کیا وہ آپ کا ذمہ، لیکن ہم حکمت اور موعظہ حسنہ کی حکمت عملی پر کار بند رہیں گے۔ مناظرہ بازی، گالم گلوچ، تحقیر، استہزاء اور اپنی رائے کو ثابت کرنے کے لئے ”سب کچھ“ کر گزرنا میرا طرز عمل نہیں ہے۔ ہم دوستی اور دشمنی ہر حال میں اسلامی اخلاق کے پابند ہیں۔ ہمارا کام فاصلے گھٹانا اور روابط بڑھانا ہے۔ ہم محبت اور پیار کی زبان میں دعوت کا کام کرنے والے ہیں۔ اپنے ذوق کی تسکین کے لئے ہمیں داغدار نہ کریں۔ ہمیں کفر اور کفار کے صفوں میں کھڑا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ ہم سب کے مشن ”دعوت دین“ کے لئے نقصان دہ ہے اور بحیثیت عالم دین آپ یا کسی بھی اور عالم کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا۔ میں آپ کے علم، خلوص اور خدمت کا قدردان ہوں اور آپ کے کام کی داد دیتا ہوں۔ لیکن کچھ نادانوں کے ہاتھ میں کھیل جانے پر مجھے سخت صدمہ ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے اوپر الزام تراشی کے معاملہ میں میرا ایمان ہے کہ ظلم کرنے والوں کو اپنے ظلم کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اس لئے میں اس مقدمہ کو اللہ رب العالمین کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں۔ اللہ کریم سے دعاء ہے کہ وہ ہم سب کو راہ ہدایت پر قائم رکھے اور اپنے حبیب پاک ﷺ کی سچی پیروی کرنے کا حق ادا کرتے رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!
مصباح الرحمن یوسفی فیصل مسجد دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
۱۹؍رمضان المبارک ۱۴۳۶ء، مطابق ۷؍جولائی ۲۰۱۵ء نقل بنام:
- ۱...... مولانا فضل الرحمن ۲...... جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر
- ۳...... پروفیسر ساجد میر ۴...... علامہ ساجد نقوی
- ۵...... جناب لیاقت بلوچ ۶...... جناب سراج الحق
- ۷...... صدر علماء بورڈ پنجاب
مصباح الرحمن صاحب کے خط کا جواب:
جناب مصباح الرحمن یوسفی کے اس خط کے جواب میں فقیر نے ذیل کا جوابی خط لکھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
محترمی و مکرمی جناب مصباح الرحمن صاحب یوسفی زید عنایتکم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
آپ کا مکتوب گرامی محررہ ۷؍جولائی ۲۰۱۵ء موصول ہوا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی مصروفیات کے باعث فقیر رخصت پر تھا۔ آج ۲۲؍جولائی کو آپ کا مکتوب گرامی پڑھا۔
جواباً عرض ہے کہ:
- ۱...... فقیر کے جس مکتوب کا آپ نے جواب تحریر فرمایا۔ اسے پھر پڑھیں اور بار بار دقت نظر سے پڑھیں۔ کہیں آنجناب کو قطعاً،
قادیانی نہیں لکھا۔ پھر اس پر ”مناظرہ بازی، گالم گلوچ، تحقیر، استہزاء اور دینی رائے کو ثابت کرنے کے لئے سب کچھ کر گزرنا، اپنے ذوق کی تسکین کے لئے داغدار کرنا۔“ ایسے الفاظ کا فقیر کے لئے استعمال کرنا خود آپ کے الفاظ کے مطابق ”اسلامی اخلاق“ کی پابندی کے دائرہ میں آتا ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل سے غور فرمالیں۔
- ۲...... چناب نگر کے دورہ میں آپ کے طلباء دو ذہنی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ (تفصیل عرض کرتا ہوں) اس کی معلومات جب ملیں تو
خاموشی اور راز داری سے صرف آپ سے ملاقات کے لئے چار رکنی علماء کرام کا وفد آپ کے پاس حاضر ہوا، جو آپ نے ان سے خود گفتگو فرمائی اس کا (میرے) خط میں ذکر ہے اور آپ نے اپنے جواب میں ان باتوں میں سے کسی کی تردید نہیں فرمائی۔ جس میں وفد کے سامنے آپ کا یہ کہنا بھی شامل ہے کہ: ”قادیانی (رشید) نے مجھے احمدیت قبول کرنے کی دعوت دی اور پھر جامعہ احمدیہ چناب نگر کے قادیانی پرنسپل نے احمدیت قبول کرنے پر مجھے مبارک دی اور میں نے کہا کہ غلط ہے۔ میرا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ قادیانی عورتیں پردہ کرتی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ ان کے یہ اخلاق ہیں ۔ علماء سختی کرتے ہیں ۔‘ وغیرہ! آپ نے ان باتوں سے کسی کی تردید نہیں فرمائی ۔
محترمی ! سوچئے، بار بار سوچئے کہ ختم نبوت کے کاز پر کام کرنے والوں کو (جب ) یہ معلوم ہو کہ ہماری اسلامک یونیورسٹی کے تحت دعوت کا کام کرنے والی اکیڈمی کے طلباء کے قادیانی مرکز کے دورہ سے یہ مفاسد پیدا ہوتے ہیں، تو ہم نے کسی کو خط نہیں لکھا۔ اخبار میں نہیں دیا۔ قومی اسمبلی میں سوال نہیں اٹھوایا۔ دعوہ اکیڈمی کی باڈی کو شکایت نہیں کی۔ اس کو اسلام آباد کی مساجد میں موضوع بحث نہیں بنایا۔ بلکہ براہ راست آپ سے معاملہ کے حل کے لئے وفد ملا۔ اس وفد سے آپ کی گفتگو نے ہمارے لئے راز داری کے سب دروازے بند کر دیئے ۔ اب ہمارے پاس آپ کے طرز کے بعد چارہ نہ رہا کہ ہم اس معاملہ کو آگے لے جائیں ۔ پھر بھی احتیاط کی۔ اکیڈمی کی پوری باڈی کو باخبر کرنے کی بجائے ، صرف ڈائریکٹر صاحب یا اپنی دینی قیادت جن کی مدد کی کل اس معاملہ میں ہمیں ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ یا اسمبلی میں لے جانے کے لئے اخبار کا حوالہ درکار ہوگا ۔ اس ضرورت کے لئے محدود خطوط لکھے ۔ لیکن یہ سب کچھ آپ کے وفد سے طرزعمل کے بعد ہوا۔ اب بھی اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر ڈالتے ہیں ۔ تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ ” آپ کے انصاف یہ توقع نہ تھی ۔“
- ۳....... آپ کے ایک کندھ کوٹ کے شاگرد رشید جناب عبدالرشید کا بھی والا نامہ آیا ہے ۔ اس میں ہے کہ مسیحی حضرات، یہودی کرم
فرماؤں سے آپ کا وقت طے نہ ہوا۔ قادیانیوں سے طے ہوا۔
- ۴....... آپ کے والا نامہ میں ہے کہ ”فقیر کا بھی ایک موقعہ پر ان کورس کے ائمہ سے چناب نگر میں خطاب ہوا ۔“
محترمی ! ان مؤخر الذکر دو امور کو لیں ۔ مسیحی و یہودی حضرات اپنے اپنے دور کے سچے نبیوں کے امتی کہلاتے ہیں ۔ قادیانی خود بھی جھوٹے ان کا بانی بھی جھوٹا ۔ ان کے علیحدہ علیحدہ احکام کو ایک قرار دینا آپ ہم سب کے لئے قابل غور ہے ۔ پھر فقیر کے خطاب کا تذکرہ کرنا ، مجھے قطعاً آپ سے توقع نہ تھی کہ آپ اس معاملہ کو خلط کرنے کی عمداً کوشش کریں گے ۔ قادیانیوں سے آپ کا وقت طے تھا ۔ ہمارے پاس ناگہانی طور پر تشریف لائے ۔ نماز پڑھی ، مسجد کے صحن میں مجھے حکم فرمایا گیا کہ یہ طلباء آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں ۔ پھر آپ کی اکیڈمی کے ان طلباء کرام نے وہی سوالات کئے ۔ قادیانی مربی نے یہ کہا ، اس کا کیا جواب ہے؟ اس سوال کا کیا جواب ہے؟ فقیر نے ان کے ان سوالات کے جوابات عرض کئے ۔ وہ ناگہانی ایک مجلس سوالات و جوابات کی منعقد ہوگئی ۔ کوئی طے شدہ خطاب نہیں تھا۔ قادیانیوں کے پاس طے شدہ پروگرام کے تحت اور دوسری جگہ ناگہانی تشریف لے جانا ، یہ بین تفاوت، بھی آپ کی توجہ چاہتا ہے؟
آپ کو یاد ہو گا کہ فقیر نے بار بار ، سوال کرنے والے حضرات سے کہا کہ آپ کی ائمہ کی کلاس ، نامور اکیڈمی میں آپ پڑھ رہے ہیں ۔ آپ یہ سوال مجھ سے کیوں فرماتے ہیں؟ خود کیوں جواب نہیں دیتے ۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ اکیڈمی میں قادیانیت کے متعلق اتنی بھر پور تیاری کرائی گئی ہوتی تو وہ شرکاء یہ سوال کیوں کرتے؟ آپ اس پر توجہ فرمائیں ۔ کیا یہ ہمارے موقف کی دلیل نہیں کہ آپ اپنے ان شرکاء کو تیاری کے بغیر قادیانیوں کے سامنے جا کر بٹھا دیتے ہیں اور پھر وہ شرکاء قادیانیوں کے لیکچر سننے کے بعد قادیانی لیکچرار سے زبانی سوال بھی نہیں کر سکتے ۔ صرف تحریری اور پھر ان تمام سوالات کا جواب بھی ضروری نہیں کہ قادیانی دیں، ان کی مرضی پر ہے اور یہ وہ قادیانی حربہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے سامنے اختیار کیا اور آج تک ہر قادیانی اپنے مزعومہ نبی کی سنت پر عمل پیرا ہے کہ سامعین کو پتہ ہی نہ چلے کہ کیا سوال ہوا؟ یہ اس کا جواب بھی ہے یا نہ؟
محترمی ! قادیانیوں سے ہو کر ختم نبوت کے مرکز آتے ۔ قادیانیوں کے اعتراضات کے شرکاء کو جوابات مل جاتے ۔ اب طریقہ آپ نے بدل دیا کہ ختم نبوت کے مرکز کے بعد قادیانیوں کے لیکچر اور مطالعاتی دورہ کے لئے جاتے ہیں تاکہ قادیانی اعتراضات کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جوابات کا بھی موقعہ نہ رہے۔
۵...... آپ نے تحریر فرمایا کہ آپ کے کورس کے شرکاء میں سے کس نے اپنے رفقاء کے سامنے تفصیلی تقریر کر دی اور یہ کہ نبی کا نام مفرد ہوتا ہے مرکب نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا اس دلیل کی ضرورت نہیں۔
محترمی! آپ کو حق ہے جو آپ فرمائیں۔ لیکن جس آپ کے شاگرد نے یہ بات کہی، صحیح کہی اور یہ ان کی بات نہیں بلکہ مولانا پیر سید جماعت علی شاہ مرحوم ومغفور علی پور سیداں والوں کی ہے جو مرحوم نے مرزا کی زندگی کے آخری ایام میں لاہور میں فرمائی۔ اس کا جواب دیئے بغیر مرزا قادیانی تو چلتا بنا۔ اب قادیانی کہتے ہیں کہ ”اسما“ اور ”ایل“ دو مرکب ہیں۔ حالانکہ پوری کائنات میں عرفاً ”اسماعیل“ مفرد کے طور پر اس وقت ذکر ہوتا ہے۔ پھر قادیانی دجل کہ پیر سید جماعت علی شاہ صاحب کے پورے استدلال کو نقل نہیں کرتے کہ غلام احمد، مضاف، مضاف الیہ کو ملا کر ایک نام بنایا گیا۔ جو قادیانیوں نے مثال دی اس میں یہ شرط مفقود ہے۔ مضاف، مضاف الیہ کے علاقہ کے ہوتے ہوئے دو نام ایک ہو کر نبی کا نام بنے ہوں، ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہے۔ باقی رہا قادیانی دجل کا کمال کہ خود مرزا قادیانی، حضرت امام بخاری کا نام ”محمد اسماعیل بخاری“ لکھتا ہے۔ جس کی جہالت کا یہ عالم ہو، اس کے لئے پیر جماعت علی شاہ مرحوم کی دلیل پر سیخ پا ہونا، اگر خیال میں ہوتا کہ پیر صاحب مرحوم امت کے محسن اور بڑے فاضل بزرگ تھے تو اس کا ارتکاب نہ کیا جاتا۔ معافی چاہتا ہوں کہ میرا عریضہ طویل ہو رہا ہے۔ ہمیشہ سوال مختصر اور جوابات میں تفصیل تو ہوا ہی کرتی ہے۔
۶...... محترمی! (۱) قادیانیت، مسیحیت یا یہودیت کی طرح مذہب نہیں۔ قادیانیت، رحمت عالم ﷺ کے باغیوں کا گروہ ہے۔ مسیحی، مسیحیت کو مسیحیت کے نام پر، یہودی، یہودیت کو یہودیت کے نام پر تبلیغ کرتے ہیں۔ قادیانی اپنے کفر قادیانیت کو اسلام کے نام پر پھیلاتے ہیں۔ یہ فرق ملحوظ خاطر رہے۔ (۲) قادیانی پاکستانی پارلیمنٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اور آئین پاکستان سے بغاوت کے مرتکب ہیں۔ آئین پاکستان کے باغی گروہ سے آپ کی اکیڈمی کے طلباء کو لیکچر سننے کا موقعہ فراہم ہونا۔ (۳) پورے ملک کا کوئی سکول، کالج، یونیورسٹی اور ادارہ اپنے طلباء کو آئین پاکستان کے باغیوں کے دروازے پر نہیں لے جاتا۔ آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ آپ کے لئے لائق غور و فکر ہے۔ پورے جمہور کی رائے کے علی الرغم آپ کا اقدام ہے۔ (۴) قادیانی لیکچرار کے سامنے آپ کی ائمہ کلاس کا خاموشی سے لیکچر سننا، پھر آپ کی اس کلاس کی تصاویر کو اپنے مقاصد کے لئے قادیانیوں کا استعمال کرنا، آپ نے کبھی ٹھنڈے دل سے اس کے نتائج وعواقب پر کاش غور فرمایا ہوتا تو ہمیں حرف شکایت زبان پر نہ لانا پڑتا۔
۷...... محترمی! تمام تر بحث آپ کے وفد سے ملاقات کے وقت طرز عمل سے پیدا ہوئی۔ یقین فرمائیے کہ میں کسی مفسد ذہن کے ہاتھوں نہیں کھیل رہا۔ یہ آپکی سراسر فقیر پر سفید الزام تراشی ہے۔ آپ کے احترام میں فقیر آپ کے کسی تعلق والے سے کم نہیں۔ مجھے آپ کے ادارہ کا، آنجناب کی ذات اور منصب کا جتنا بے پناہ احترام ہے اس سے کہیں زیادہ آپ سے شکایت ہے کہ آپ نے مطالعاتی دورہ کا فیصلہ کرتے وقت ایک پہلو کو سامنے رکھا اور اب اس پر بے جا اصرار اور لایعنی فضول من گھڑت دلائل سے معاملہ گمبھیر بنا رہے ہیں۔ فقیر کا پہلا خط ایک اخبار اور ہمارے ایک دینی رسالہ میں شائع ہوا۔ آپ کا یہ خط اور اس کا جواب کچھ مدت تک کہیں شائع نہیں ہوگا تاکہ آپ کو اصلاح احوال کا موقع مل سکے۔
توجہ فرمائیے! بار بار درخواست ہے کہ اس ناروا فیصلہ کو واپس لیجئے۔ اپنے اس خط کی کاپی صرف ان حضرات کو ارسال کر رہا ہوں جنہیں آپ نے خط ارسال فرمایا۔ مثبت جواب کے لئے سراپا انتظار ہوں تاکہ معاملہ یہیں پر اصلاح پذیر ہو جائے۔ ذاتی طور پر فقیر کا کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جملہ کبیدگی کا باعث بنا ہو تو اس پر معذرت قبول فرمائیے۔ جہاں تک نفس قضیہ کا تعلق ہے اس پر بڑی شدت سے قائم ہوں کہ یہ ایمان کا تقاضہ ہے۔ محمد عربی ﷺ کے دشمنوں سے اظہار برأت کی بجائے لیت ولعل سے کام لینا، لیپا پوتی کرنا ایمانی غیرت کے منافی سمجھتا ہوں۔ ان ارید الا الاصلاح وما توفیقی الا باللہ!
محتاج دعاء: آپ کا ، فقیر اللہ وسایا، ملتان
مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۲۰۱۵ء، مطابق ۵؍شوال ۱۴۳۶ھ، بروز بدھ
اس خط کے بعد اخلاقی طور پر فقیر، جواب الجواب ملنے کی انتظار کے لئے تمام کارروائی سے رک گیا۔ لیکن اس دوران معلوم ہوا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ اس لئے کہ اطلاع یہ تھی کہ یوسفی صاحب نے فقیر کے نام اپنے خط میں غلط بیانی کی تھی کہ:
- ۱...... جن حضرات کو وہاں چناب نگر لے جایا گیا وہ صرف ائمہ کلاس کے حضرات نہ تھے بلکہ اندرون سندھ اکیڈمی میں تعلیم پانے والے
نوعمر حضرات بھی شامل تھے جنہیں سندھ سے دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے تحت بلوا کر چناب نگر کی درشن کرائی گئی۔ جو کام قادیانی مبلغ کرتے ہیں کہ ملک سے گھیر گھار کر پبلک کو چناب نگر لے کر جاتے ہیں۔ وہ کام دعوہ اکیڈمی کے مصباح الرحمن یوسفی نے کیا اور فقیر راقم کے نام اپنے مکتوب گرامی میں اس جرم کو ایسے چھپایا گیا جیسے......
- ۲...... یہ بھی معلوم ہوا کہ مصباح الرحمن یوسفی نے قادیانیوں سے نہ صرف کھانا کھایا اور چائے پی۔ بلکہ قادیانیوں ہی کی گاڑی انہیں لاہور
لے کر گئی۔ اس سے دلی صدمہ ہوا کہ ان کی قادیانیوں سے اتنی قربت اور ان سے یہ مفادات اٹھانے اور اپنے اس عمل ناروا پر بیجا اصرار۔
اس پر فقیر نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے رہنما مولانا عبدالوحید قاسمی صاحب سے درخواست کی کہ آپ اسلام آباد کے علماء کرام کا وفد ڈی جی دعوہ اکیڈمی اسلام آباد سے ملائیں۔ ان کے جواب کے بعد پھر اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ چنانچہ مولانا عبدالوحید صاحب نے ذیل کا خط ای میل سے فقیر کو بھجوایا۔ آپ ملاحظہ فرمائیں جو یہ ہے:
(رپورٹ: قاری عبدالوحید قاسمی) آج ۲۸؍جولائی ۲۰۱۵ء کو صبح ۱۰ بجے جامع حقانیہ F-8 اسلام آباد میں مولانا قاری محمد احسان اللہ صاحب کے ہاں امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف کے حکم پر مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا جس میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب، مولانا محمد نذیر فاروقی صاحب، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا حسن فاروقی اور مولانا قاری احسان اللہ ہزاروی صاحب موجود تھے۔ اجلاس میں دعوہ اکیڈمی اور قادیانیت نوازی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا کے خطوط و جوابی خطوط کے حوالے سے قاری عبدالوحید قاسمی نے تفصیلاً بریفنگ دی۔ سابقہ ملاقات مصباح الرحمن یوسفی اور اس کے رویئے پر غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آج ہی اس حوالے سے دعوہ اکیڈمی کے ڈی جی صاحب سے ملاقات کر کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کا پیغام پہنچایا جائے اور اسلام آباد کے علماء کرام کی تشویش سے مطلع کیا جائے۔ چنانچہ متذکرہ بالا علماء کرام نے دعوہ اکیڈمی فیصل مسجد کے آفس میں ڈی جی جناب سہیل حسن صاحب سے ملاقات کر کے اپنے اور تمام مسلمانوں خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے خدشات سے مطلع فرمایا اور کہا کہ ہم نے ان دونوں دینی اداروں اسلامی یونیورسٹی اور دعوہ اکیڈمی کو خلفشار و انتشار سے بچانے کے لئے کوئی سخت اقدام نہیں اٹھایا حالانکہ آپ کو معلوم ہے عقیدہ ختم نبوت اور قادیانی فتنہ بڑا حساس معاملہ ہے اس لئے آپ اس حوالے سے فی الفور کوئی قدم اٹھائیں اور اس طرح کی قادیانیت نوازی کا سد باب ہونا چاہئے۔ اس پر ڈی جی اکیڈمی صاحب نے تحمل سے تمام تفصیلات سنی اور کہا کہ مولانا اللہ وسایا کا بھی تفصیلاً لکھا گیا خط مجھے ملا، اس پر غور کیا گیا اور سعودی حکومت کی طرف سے ہمیں خط موصول ہوا تھا اس حوالے سے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ مطالعاتی دورہ قادیانیوں کے ہاں چناب نگر نہیں ہوا کرے گا۔ دوسرا ہم نے مصباح الرحمن
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوسفی کو اس ائمہ کورس سے بھی الگ کر دیا ہے، باقی معاملات زیر غور ہیں۔ تمام علماء کرام نے ڈی جی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانی سازشوں سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کرنا ہم سب کا مشترکہ فرض ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کے اکابرین نے اس مسئلہ کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں ہمیں اس کا دفاع کرنا ہوگا۔
اس کے بعد ملاقات ختم کر کے ہم واپس آئے اس معاملے میں کامیابی حقیقت میں ختم نبوت کی برکت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کا خلوص اور جذبہ تھا اللہ ہم سب کو اس کام کے لئے قبول فرمائے آمین! (عبدالوحید قاسمی)
چنانچہ مولانا عبدالوحید صاحب قاسمی کے ملنے والے ای میل کے بعد ذیل کے خطوط جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب اور عالی جناب لیاقت بلوچ کو فقیر راقم نے تحریر کئے:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مزاج گرامی
آپ کو یہ معلوم کر کے بہت مسرت ہوگی کہ مصباح الرحمن یوسفی صاحب کو دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کی ائمہ کلاس سے ڈی سیٹ کر دیا گیا ہے اور یہ کہ آئندہ ائمہ کلاس کے شرکاء چناب نگر قادیانی مرکز میں دورہ کے لئے نہیں جائیں گے۔ آج سے کچھ دن قبل ڈی جی دعوہ اکیڈمی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد ملا تو انہوں نے یہ فیصلہ سنایا اور یہ کہ اس پر عمل درآمد بھی ہو گیا ہے کہ نئے تعلیمی شیڈول میں مصباح صاحب کا نام نہیں ہے۔
آپ نے اس سلسلہ میں جو تعاون فرمایا وہ لائق تحسین ہے۔ آپ کے اس تعاون و سرپرستی پر دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار
ہوں۔ والسلام! محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا
یکم اگست ۲۰۱۵ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
اب تمام قارئین لولاک مبارک باد قبول فرمائیں کہ اس معاملہ میں یوں اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ فاالحمدلله!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۵ء ص ۳ تا ۱۱)
۱۴/ اگست کی سرکاری تقریب قادیانی مرکز میں کیوں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى!
قادیانیوں نے پاکستان بنتے وقت پاکستان کی مخالفت کی تھی، انہوں نے باقاعدہ اس کمیشن کو درخواست دی تھی جو پاکستان باؤنڈری کے لئے متعین تھا کہ ہمیں مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے ، اس لئے ضلع گورداس پور پاکستان میں شامل نہ ہوسکا، لیکن پاکستان بنتے ہی یہ قادیانی نہ صرف یہ کہ پاکستان میں گھس آئے بلکہ پاکستان کی کلیدی پوسٹوں اور اعلیٰ عہدوں پر بھی براجمان ہوگئے۔ بدقسمتی سے جب پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ہی ایک قادیانی سر ظفر اللہ خان کو بنا دیا گیا تو پاکستان کے تمام سفارت خانوں میں ان قادیانیوں کو گھسایا گیا، جنہوں نے پاکستان کی سفارت کم اور قادیانیت کی تبلیغ اور اس کا پرچار زیادہ کیا۔ اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج تک وہ سفارت خانوں میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں تمام سفارت خانوں میں موجود افسران کی ایک فہرست پیش کی گئی تھی جس کے دیکھنے سے پتہ چلتا تھا کہ شاید مسلمانوں میں کوئی قابل پڑھا لکھا اور ایسا کوالیفائڈ ایک بھی مسلمان نہیں جو بائیسواں گریڈ حاصل کر سکے ، اگر کوئی اس گریڈ کے قابل ہے تو وہ صرف اور صرف قادیانی ہی ہیں۔ نعوذ باللہ !
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اب حال یہ ہے کہ پاکستان کی یوم آزادی کی تقریب کے لئے قادیانیوں کے مرکز کو منتخب کیا گیا اور درپردہ اس کے میزبان قادیانیوں کو ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ کتنا بڑا دھوکا اور مسلمانوں کے ساتھ فریب ہے۔ اس لئے کینیڈا میں رہنے والے مسلم پاکستانی سراپا احتجاج ہیں کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کے ساتھ کیوں کھلواڑ کیا جارہا ہے اور جب کہ یہ قادیانی آج تک ہمارے آئین پاکستان کو نہیں مانتے اور نہ ہی وہ انتخابات میں اس بنا پر حصہ لیتے ہیں تو جو آئین پاکستان کو ہی نہ مانتا ہو، اس کے ہاں اس ملک کی آزادی کی یہ تقریب رکھنا چہ معنی دارد؟ اس کی مکمل رپورٹ درج ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیں:
”کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی قونصل جنرل کی جانب سے یوم آزادی کی سرکاری تقریب کا انعقاد قادیانیوں کی عبادت گاہ میں کیا جارہا ہے۔ تقریب کے حوالے سے چھپوائے گئے کارڈز پر مزید معلومات کے حصول کی خاطر قادیانی ویب سائٹ کا ایڈریس اور فون نمبر درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قونصل جنرل کے اس اقدام پر کینیڈا میں پاکستانی مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب قونصل جنرل ریاض احمد گولو کا کہنا ہے کہ: ”بڑی سرکاری تقریب کسی اور جگہ ہے، یہ تقریب قادیانیوں نے رکھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلیں۔“ جب کہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ”امت“ کے رابطہ کرنے پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور پروگرام سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ”امت“ کو دستیاب معلومات کے مطابق قونصل جنرل ٹورنٹو کی جانب سے ۱۴؍ اگست ۲۰۱۵ء کی سرکاری تقریب کے لئے جو دعوت نامہ جاری کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ: ”پاکستان کے یوم آزادی پر قونصل جنرل پاکستان کی جانب سے دعوت فن و فوڈ اسٹالز بھی ہوں گے۔ جمعہ ۱۴؍ اگست ۲۰۱۵ء کو ۳ بجے سے ۹ بجے شام مختلف اسٹالز اور بچوں کے کھیل ہوں گے اور اسٹیج پر آفیشل تقریب شام ۷ بجے شروع ہوگی۔ تقریب کا مقام قادیانیوں کی عبادت گاہ (بیت الاسلام گراؤنڈ) رکھا گیا اور کارڈ پر قادیانیوں کی عبادت گاہ کا ایڈریس دیا گیا ہے۔ دوسرے کونے پر مزید معلومات کے لئے قادیانیوں کی ویب سائٹ www.ahmadiyya.com اور فون نمبر 2669-832-1.905 دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ”امت“ کو ٹورنٹو میں موجود ذرائع نے بتایا کہ کینیڈا میں اس معاملے پر بات کرنا خاصا مشکل ہے، کیونکہ قادیانی انتہائی منظم ہیں۔ یہاں ان کی دو عبادت گاہیں ہیں۔ تقریباً ۱۰ برس قبل انہوں نے اس علاقے میں ۴ سو گھروں کی کالونی میں اکٹھے ۲۰۰ گھر اس شرط پر خریدے تھے کہ گلیوں کے نام ان کی مرضی سے رکھے جائیں، لہٰذا ایسا ہی ہوا ہے۔ قادیانی یہاں اپنا سالانہ جلسہ بھی کرتے ہیں، جس میں پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں۔ ”امت“ کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی قونصل خانے کے سابق افسر عمران علی کے دور میں قادیانیوں کو اہمیت ملنا شروع ہوئی، اس سے قبل انہیں قونصلیٹ میں وہ اہمیت حاصل نہیں تھی۔ ”امت“ سے مقامی مسلمان نمائندوں نے خود رابطہ کر کے اس پروگرام پر احتجاج کیا ہے۔ تاہم قونصلیٹ کی مخالفت اور قادیانیوں کے اثر و رسوخ کے سبب وہ فی الحال اپنے نام ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں۔ ”امت“ کو وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ قادیانیوں کے حوالے سے نہ صرف قوانین تبدیل کرے بلکہ انہیں سرکاری تقریبات میں بھی اہمیت دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی یہ تقریب اس سلسلے کی کڑی ہے۔ کینیڈا کی ایک مسجد کے امام نے بتایا کہ یہاں قادیانیوں کے حوالے سے کسی طرح بھی بات کرنے کو مذہبی منافرت کے زمرے میں لیا جاتا ہے اور سرکاری سطح پر اس کی سخت سزا دی جاتی ہے۔ انہی قوانین کی آڑ میں قادیانی کمیونٹی مسلمانوں خصوصاً مساجد کے خلاف وارداتیں کرتی رہتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کینیڈا کا ایک اردو اخبار ختم نبوت پر ایک کتاب قسط وار شائع کر رہا ہے، لیکن اس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت بند کرے، یا قادیانیوں کی حمایت میں بھی کتاب شائع کی جائے۔ ”امت“ کو بتایا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا ہے کہ صرف کینیڈا ہی نہیں تقریباً تمام مغربی ممالک میں قادیانیوں کو وہی حیثیت حاصل ہوچکی ہے جو یہودیوں کو حاصل ہے۔ ان کے حوالے سے کوئی خاص قانون تو نہیں بنایا گیا، مگر مذہبی منافرت کے قوانین کا سہارا لے کر قادیانیوں کو تحفظ دیا جارہا ہے۔
ٹورنٹو میں پاکستان کے یومِ آزادی کی سرکاری تقریب کا انعقاد قادیانی عبادت گاہ میں کئے جانے کے حوالے سے ”امت“ نے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا: ”جب تک میں اپنے ذرائع سے معلومات حاصل نہ کرلوں، میں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔“ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس وقت تک معلومات حاصل کرسکیں گے؟ تو انہوں نے کہا: ”میں بہت مصروف ہوں، اتنی جلدی ممکن نہیں ہوسکے گا۔“ امت نے جب یہ پوچھا کہ کیا ماضی میں بھی کبھی سرکاری تقریب قادیانی مرکز میں رکھی گئی ہے؟ تو قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی بات کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔
دریں اثنا ”امت“ نے اس حوالے سے تفصیلات جاننے کی خاطر ٹورنٹو کے قونصل جنرل ریاض گولو سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کے گراؤنڈ میں یہ تقریب ہورہی ہے، لیکن یہ مرکزی تقریب نہیں۔ قونصل خانے کی مرکزی تقریب THORNCLIF کے اسٹیڈیم میں ہوگی، جس میں ۲۲ ہزار پاکستانی شریک ہوں گے اور وہاں ۳ بجے پاکستان کا جھنڈا لہرایا جائے گا، جب کہ قادیانی عبادت گاہ میں پروگرام شام کے وقت ہے۔ اس سوال پر کہ اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ ”شہر میں ۱۵ سے ۲۰ ہزار قادیانی ہیں، انہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ بھی پاکستانی ہیں، لہٰذا وہ ایک تقریب رکھنا چاہتے ہیں، جس پر انہیں اجازت دے دی گئی۔“ اس سوال پر کہ تقریب کا دعوت نامہ تو آپ کی اجازت سے جاری ہوا ہے؟ ریاض گولو نے کہا کہ: ”وہ چاہتے ہیں کہ دیگر پاکستانیوں کو بھی بلایا جائے، اس لئے ہم نے انہیں اپنی طرف سے دعوت نامہ جاری کرنے کی اجازت دی، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلیں، اس شہر میں پہلے کبھی پاکستان کا دن نہیں منایا گیا۔ اس بار پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے۔ اسماعیلی، مسیحی سب الگ الگ منارہے ہیں۔ کوئی ۱۸ یونٹ ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، چونکہ معاملہ پاکستان کا ہے، اس لئے ہم سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، جہاں تک ان کے اپنے اسکول آف تھاٹ کا تعلق ہے تو ہم اس معاملے میں نہیں پڑتے۔ ان کے جو مذہبی پروگرام ہوتے ہیں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، نہ ہم کوئی دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ چونکہ پاکستان کا معاملہ ہے، اس لئے ہم سارے پاکستانیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ ہمارے معاشرے کی تقسیم یہاں دکھائی نہ دے۔“ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی پارلیمنٹ میں ۱۰؍اگست کو یوم پاکستان منایا جارہا ہے، جس پروگرام کا ذکر ہورہا ہے، یہ بھی صرف پاکستان کے نام پر ہے۔
(روزنامہ امت کراچی، ۸؍اگست ۲۰۱۵ء)
حکومت پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک یہ قادیانی آئین پاکستان کو نہیں مانتے ان سب کو تمام سفارت خانوں سے بے دخل کیا جائے۔ اس لئے کہ اس حالت میں وہ پاکستان کی نیک نامی کی بجائے پاکستان کو بدنام کرنے اور پاکستان کی خیرخواہی کی بجائے پاکستان کی بدخواہی کے ہی منصوبے بناتے رہیں گے اور جو قادیانی افسران پاکستانی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں ان سب کو ہٹا کر مسلم افسران کو ان کی جگہ متعین کیا جائے۔ ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله۔ علیہ توکلت والیہ انیب!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍اگست ۲۰۱۵ء ص ۵،۴)
پنجاب اسمبلی، خیبر پختونخواہ اسمبلی، قومی اسمبلی اور ختم نبوت کا مسئلہ
ٹل فورڈ برطانیہ میں قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ تھا جسے وہ مرزا قادیانی کے زمانے سے منعقد کرتے چلے آرہے ہیں۔ قادیان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے بعد پاکستان، آج کل یہ برطانیہ میں ہوتا ہے۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق اس میں شرکت ”ظلی حج“ ہے۔ قادیانیوں کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ہائی کمشنر پاکستان (واجد شمس الحسن) جو برطانیہ میں مقیم ہیں، نے بھی اس قادیانی جلسہ میں شرکت اور خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا فیصلہ غلط تھا۔ بھٹو صاحب نے مذہبی جماعتوں کے دباؤ میں آکر تاریخی غلطی کی۔ جس کا میں جواز ثابت نہیں کرسکتا۔ بھٹو صاحب زندہ ہوتے تو وہ بھی اس کا جواز مہیا نہ کرسکتے۔“
(روزنامہ خبریں ملتان مؤرخہ ۲۷ اگست ۲۰۱۵ء)
جناب واجد شمس الحسن کے بیان کے اخبارات میں آتے ہی جناب عبدالوہاب صاحب نے دوحہ (عرب امارات) سے انٹرنیٹ پر یہ بیان جاری کیا:
واجد شمس الحسن کی قادیانیت نوازی کوئی نئی بات نہیں ہے:
تحریک تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور کارکن بخوبی جانتے ہیں کہ برطانیہ میں ابتداء میں جنگ اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر آنے والا، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے قریبی مراسم رکھنے والا، برطانیہ میں نامزد سابق پاکستانی سفیر ”واجد شمس الحسن“ کے قادیانیوں کے ساتھ پرانے گھریلو روابط ہیں۔
اور قادیانیوں نے ان کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور قادیانی اپنے مرزائی مقاصد کے حصول کے لئے پاکستانی سفارت کار کو برطانیہ اور دیگر ممالک میں بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔ ان گہرے روابط کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا مسرور کا دست راست قادیانی ”مرزا مظفر چوہدری“ جو قادیانی الیکٹرانک میڈیا کا کنٹرولر اور قادیانیت کا اوّل درجے کا مالی سپورٹر بھی ہے۔ اس کے پاس واجد شمس الحق کا بیٹا نوکری کرتا رہا ہے۔
۲۰۱۰ء میں واجد شمس الحق جب لندن میں باقاعدہ پاکستان کے سفیر تھے اس وقت یہ خبر لیک ہوئی تھی کہ واجد صاحب نے قادیانیوں کے لئے لفظ ”مسلم“ اور مرزاوڑے کے لئے لفظ ”مسجد“ استعمال کیا تھا اور فوت شدہ قادیانیوں کے لئے مرزاوڑے میں جا کر دعائے مغفرت بھی کی تھی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے احتجاج کے بعد نیز مسلمانوں کی طرف سے بھرپور ردعمل کو بھانپنے کے بعد واجد شمس الحق کو مجبوراً میڈیا پر آکر معافی مانگنی پڑی تھی۔
یاد رہے کہ ۱۹۷۳ء کے ترمیمی آئین کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں اور ۱۹۸۴ء امتناع قادیانی آرڈیننس کے تحت مرزائی اپنے مرزاوڑوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ ۲۰۱۰ء سے اب تک واجد شمس الحق کی طرف سے کئی بار مختلف موقعوں پر قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے کے واقعات نوٹ کئے جاتے رہے ہیں اور اب برطانیہ میں ایک خالص قادیانی مذہبی تقریب میں واجد صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا اور ان کا سرعام بلا جھجک آئین پاکستان کو غلط قرار دینا اور پاکستانی پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کو بڑی غلطی کہنا اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے فیصلے کو ناجائز کہنا، یقیناً کسی مک مکاؤ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
ان حقائق کے ہوتے ہوئے حق تعالیٰ نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کے رکن اسمبلی جناب وحید گل صاحب نے یہ قرار داد پیش کی:
قرار داد پنجاب اسمبلی واجد شمس الحسن:
یہ معزز ایوان وفاقی حکومت سے پرزور سفارش کرتا ہے کہ سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کا خبریں اخبار کو دیا گیا بیان، جس میں
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۵ء ۵۰۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مذہبی ودینی جماعتوں کے دباؤ پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ مذکور کا بیان نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی مذہبی دینی جماعتوں اور امت مسلمہ میں شدید اشتعال، دل آزاری کا سبب بنا ہے اور قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلے کی توہین کی گئی ہے۔
یہ معزز ایوان مذکور کے درج بالا بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ آج تک اسے جتنے بھی اعزازات دیئے گئے ہیں فوراً واپس لئے جائیں اور مذکور کا جس جماعت سے تعلق ہے وہ جماعت فوراً اس سے لاتعلقی کا اظہار کرے۔
مذکور کے بیان کو آئین پاکستان سے غداری اور توہین رسالت کا مرتکب قرار دیا جائے اور اس کے خلاف آئین پاکستان سے غداری اور توہین رسالت کی دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کئے جائیں۔
لہٰذا یہ ایوان اس وقت کی تمام دینی جماعتوں اور ان کے سربراہان اور وزیر اعظم کو خراج عقیدت بھی پیش کرتا ہے۔
- ۱...... محمد وحید گل (PP-145) ۲...... محمد الیاس چنیوٹی (PP-73)
- ۳...... حاجی عمران ظفر (PP-111) ۴...... پیر سید محفوظ مشہدی (PP-120)
- ۵...... قاضی احمد سعید (PP-286)
(P.P.P)
- ۶...... ملک محمد ارشد (PP-222) ۷...... ابو حفص محمد غیاث الدین
- ۸...... ڈاکٹر فرزانہ نذیر ۹...... میاں محمد اسلم اقبال
اس قرارداد پر ۱۹ ارکان اسمبلی نے دستخط کئے۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے محرک نے اخبارات کے مطابق یہ بھی فرمایا کہ: ”رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت پر اسمبلی کی رکنیت نہیں۔ بلکہ اس پر ہزاروں اسمبلیاں بھی قربان۔“
غرض پنجاب اسمبلی میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی۔ اسمبلی میں موجود حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے تمام ممبران نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ق لیگ نے بھی ساتھ دیا۔ قائم مقام سپیکر، ڈپٹی سپیکر، لاء منسٹر پنجاب نے آؤٹ آف ٹرن پر قرارداد پیش کرنے کی تائید کر کے شکریہ کے مستحق قرار پائے۔ یوں اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ ایک بار پھر پرنٹ میڈیا پنجاب اسمبلی کے فلور سے یہ مسئلہ اجاگر ہوا اور پوری دنیا نے ”ختم نبوت زندہ باد“ کی صداؤں سے خوشی کے ثمرات اپنے دامنوں میں سمیٹے۔
اس دوران میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶؍ستمبر ۲۰۱۵ء کی شام لاہور جامع مسجد آسٹریلیا، میکلوڈ روڈ پر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت فرمائی۔ اس میں قرارداد کے محرک جناب محمد وحید گل بھی تشریف لائے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد کے پیش ہونے اور متفقہ طور پر منظور ہونے کی تفصیلات پیش کیں تو پورا اجتماع خیر مقدمی نعروں سے گونجتا رہا۔ اس گئے گزرے دور میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت مسلمہ کی یہ بیداری، محبت و شیفتگی باعث اطمینان ہے۔
فالحمد لله اوّلاً وّآخراً!
اللہ رب العزت کے کرم کے فیصلہ کو دیکھیں کہ پنجاب اسمبلی میں قرارداد کے منظور ہوتے ہی اگلے روز جناب واجد شمس الحسن کا روزنامہ جنگ ملتان میں یہ بیان شائع ہوا۔
”پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن ...... (دنیا بھر اور پاکستان کے مسلمانوں کے) جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہزار بار حقیقی جذبہ کے تحت معافی مانگتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کے حکم کے مطابق مجھے معاف کر دیں۔‘‘
(روزنامہ جنگ ملتان مورخہ ۲۹؍ اگست ۲۰۱۵ء)
موصوف کے طویل بیان سے اقتباس آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس بیان میں موصوف نے اگرچہ، مگرچہ، چونکہ، چنانچہ، لہٰذا کے تحت خفت مٹانے کے لئے دور کی کوڑی لائے۔ غلط بات کو صحیح بنانا جتنا مشکل کام ہے اس اذیت سے گزرتے بھی، بیان میں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بہت غنیمت کہ انہوں نے معذرت کر لی۔ لاہور، پسرور، سیالکوٹ، ڈنگہ، اسلام آباد، کوہاٹ میں ختم نبوت کانفرنس ۷؍ ستمبر کے حوالہ سے مجلس نے منعقد کر رکھی تھیں۔ ان تمام کانفرنسوں میں یہ مسائل زیر بحث رہے۔ ۷؍ ستمبر کو ۴۱ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس قصہ خوانی بازار پشاور میں تھی۔ جس میں شرکت سے قبل جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل غفور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ممبر نے یہ خوشخبری سنائی کہ آج خیبر پختونخواہ اسمبلی میں، میں نے قرارداد پیش کی۔ جس پر پاکستان مسلم لیگ ن، اے.این.پی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی دستخط کئے۔ قرارداد یہ ہے:
قرارداد خیبر پختونخواہ اسمبلی ختم نبوت کا نصاب:
بحیثیت مسلمان ہم اللہ رب العالمین کو واحد لاشریک اور محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔ چونکہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس کا دفاع ہمارا ایمانی فریضہ ہے اور آئین پاکستان نے بھی اس کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس لئے نسل نو کو ختم نبوت کی ضرورت واہمیت کے عنوان سے باخبر رکھنے کے لئے یہ ہمارے نصاب تعلیم کا حصہ ہونا چاہئے۔
لہٰذا یہ صوبائی اسمبلی، صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ ختم نبوت کے عنوان سے نصاب تعلیم میں مضامین شامل کئے جائیں۔
خادم ختم نبوت: فضل غفور (MPA)
- ۱...... سردار اورنگ زیب نلوٹھا (PML.N)
- ۲...... مسز یاسمین نگہت اورکزئی (PPP)
- ۳...... سید جعفر شاہ (ANP)
- ۴...... شہرام خان ترکئی (AJ.P)
یہ قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ فالحمد للہ تعالیٰ اولاً وآخراً!
اگلے روز ۸؍ ستمبر کو مردان، چارسدہ، نوشہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں تھیں۔ وہاں سامعین ان خوشیوں سے اپنے دامن بھرتے رہے۔ مردان ختم نبوت کانفرنس ۸؍ ستمبر ۲۰۱۵ء بعد از ظہر کے اجلاس عام میں خیبر پختونخواہ اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر جو صوبہ کی حکمران جماعت پی.ٹی.آئی سے تعلق رکھتے ہیں تشریف لائے۔ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا کہ: ’’جمعیت علماء اسلام کے ممبر مولانا فضل غفور صاحب نے کل خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ختم نبوت کے موضوع کو نصاب کا حصہ بنانے کی قرارداد پیش کی۔ جسے ہم نے بالاتفاق منظور کیا۔ اس کی روشنی میں بحیثیت سپیکر اسمبلی کے اعلان کرتا ہوں کہ اس پر بہت جلد عمل کا آغاز کر دیا جائے گا‘‘ ان کے اس اعلان سے سامعین نے جس خوشی کا اظہار کیا وہ قابل دید تھا۔
اس کے اگلے روز پاکستان قومی اسمبلی کی مسجد کے خطیب مولانا احمد الرحمن صاحب نے یہ خوشخبری سنائی کہ آج قومی اسمبلی کی مسجد میں بہت سارے ممبران اور قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر تشریف لائے۔ ختم نبوت کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ آئندہ سال سے قومی اسمبلی کے ہاؤس میں سرکاری سطح پر ۷؍ ستمبر کے دن تقریب منعقد کریں گے۔
۱۲؍ ستمبر ختم نبوت کانفرنس بہاول پور میں خطاب کے دوران جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چیئرمین سینٹ آف پاکستان نے خوشخبری سنائی کہ قومی اسمبلی کے قائم مقام سپیکر کے اعلان ”یوم ختم نبوت“ کا نوٹیفکیشن بھی جلد ہونے والا ہے۔ فالحمد للہ اوّلاً و آخراً!
اس سال ملک بھر میں تمام دینی و مذہبی جماعتوں، تمام مسالک نے بھی ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر اجتماعات کئے۔ جس پر جتنا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۳ تا ۶)
قدیم مسجد گولیکی ہتھیانے میں قادیانی ناکام
موضع گولیکی میں واقع مسجد کو مرزائیوں نے اپنی عبادت گاہ بنالیا تھا، خونیں تصادم کے بعد ۲۰۰۱ء میں سیل کر دی گئی۔
عدالت نے ۱۸ برس بعد خانہ خدا پر مسلمانوں کا حق تسلیم کر لیا، قادیانی مقدمے کے مدعی کو شہید کر چکے ہیں: رپورٹ
گجرات میں ۳۰۰ سالہ قدیم مسجد پر قبضے کا مقدمہ قادیانی ہار گئے۔ ۱۹۳۰ء میں موضع گولیکی کی مرکزی مسجد کے پیش امام نے قادیانیت اختیار کر لی تھی، جس کے باعث تقریباً آدھا گاؤں مرتد ہو گیا تھا۔ ۱۹۹۱ء میں مسجد کی تعمیر نو کے دوران قادیانیوں نے اسے اپنی عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا۔ گاؤں میں کشیدگی پھیلنے کے باعث ضلعی انتظامیہ نے اٹھارہ سال پہلے مسجد کو سیل کر دیا تھا۔ قادیانیوں اور مسلمانوں کے تنازعے کی وجہ سے ۲۰۰۱ء میں اس گاؤں میں آٹھ افراد قتل ہوئے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو مقدمہ واپس لینے اور مسجد سے دستبردار ہونے کے لئے کئی حربے استعمال کئے۔ ۲۰۱۰ء میں قادیانیوں نے مقدمے کے مدعی ماسٹر سرفراز کو شہید بھی کر دیا، تاہم مسلمانوں کی اٹھارہ سالہ جدوجہد رنگ لے آئی۔ مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں کرتے ہوئے مسجد کھولنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
گجرات شہر کی مغربی جانب تقریباً ۱۵ کلومیٹر کی مسافت پر واقع گاؤں، گولیکی گزشتہ بیس برس کے دوران کئی بار خبروں میں شامل رہا۔ جس کی وجہ یہاں مسلمانوں اور قادیانیوں کا ایک پرانا تنازعہ تھا۔ ڈھائی ہزار گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں کی مرکزی مسجد کی بنیاد تقریباً تین سو سال پہلے یہاں کے ایک بزرگ حافظ غلام دستگیر نے رکھی تھی۔ ۱۹۳۰ء میں امام دین نامی پیش امام نے قادیانیت اختیار کر لی۔ مرتد ہونے کے بعد پیش امام نے اپنی ”محنت“ شروع کر دی۔ مقامی ذرائع کے مطابق دوسری طرف حالت یہ تھی کہ مقامی مسلمانوں کو قادیانی فتنے کے بارے میں کچھ زیادہ آگاہی نہیں تھی۔ علاوہ ازیں لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے۔ لہٰذا گاؤں کے سیدھے سادے دیہاتی اس مرتد پیش امام کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتے رہے اور اس سے نکاح اور جنازے بھی پڑھواتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ عرصے بعد گاؤں کے بیشتر لوگ قادیانی ہو گئے۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد گاؤں کے مسلمانوں کو بات کچھ سمجھ آئی، لیکن چونکہ سب لوگ آپس میں قریبی رشتہ دار تھے، اس لئے بزرگوں نے بات آگے بڑھانے کی بجائے، یہ فیصلہ کیا کہ مسلمان یہاں نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔ جس کے بعد قادیانیوں کا مسجد پر قبضہ مزید مضبوط ہو گیا۔ ۱۹۹۱ء میں قادیانیوں نے اس مسجد کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا اور اس دوران مسجد کو با قاعدہ قادیانی عبادت گاہ کی شکل دینے کی کوشش کی، لیکن چونکہ اب ۱۹۳۰ء نہیں بلکہ ۱۹۹۱ء تھا، لہٰذا کچھ پڑھے لکھے نوجوان آگے بڑھے اور قادیانیوں کو عبادت گاہ کے مینار تعمیر کرنے سے روک دیا۔ گاؤں کا ماحول ایک بار پھر کشیدہ ہو گیا، لیکن گاؤں کے بزرگ پھر آگے آئے اور فریقین میں مصالحت کرا دی۔ قادیانی کچھ عرصہ خاموش رہے، لیکن ۱۹۹۶ء میں انہوں نے اچانک مسجد کی چار دیواری پر ”بیت الحمد“ لکھوا کر اس کے قادیانی عبادت گاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مسلمانوں نے جب اس پر احتجاج کیا تو مالی طور پر بے حد مضبوط مقامی قادیانیوں نے انہیں آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ کون ہوتے ہیں اس مسجد کے معاملات میں مداخلت کرنے والے اور اس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا کے ساتھ ہی وہاں مسلح قادیانیوں کا پہرا بٹھا کر مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ گاؤں میں ایک بار پھر کشیدگی پھیل گئی اور بات مرنے مارنے تک پہنچ گئی، چونکہ پیسے کے اعتبار سے قادیانی زیادہ مضبوط تھے۔ علاوہ ازیں ان کی جماعت بھی انہیں مبینہ طور پر مکمل سپورٹ کر رہی تھی، لہٰذا مسلمان بزرگوں نے خون خرابے سے بچنے کے لئے لڑائی جھگڑے کی بجائے عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے علاقہ مجسٹریٹ الیاس گل کی عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ تین سو سال پرانی مسجد کو قادیانیوں کے قبضے سے واگزار کرایا جائے۔ اس مقدمے کے مدعی ماسٹر سرفراز، افضل سندھو، محمد نثار، محمد اکرم اور محمد اعظم بنے۔ کمرہ عدالت سے باہر آتے ہوئے ایک بااثر قادیانی نے مسلمانوں کو دھمکانے کی کوشش کی تو مسلمان لڑکے بپھر گئے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مجسٹریٹ نے فی الفور مسجد کو سیل کرنے کا حکم دے دیا۔ یوں مذکورہ مسجد ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۶ء کو سیل کر دی گئی، لیکن گاؤں کی صورت حال اس وقت کشیدہ ہونے لگی جب بااثر قادیانیوں نے مقدمہ واپس لینے کے لئے مسلمانوں پر دباؤ ڈالنا شروع کیا، وہ کبھی مسلمانوں کو دھمکیاں دیتے اور کبھی مختلف لالچ، تاہم پانچوں مدعی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ۲۰۰۱ء میں اسی تنازعے کی وجہ سے کچھ مسلمان لڑکوں کی قادیانیوں سے تلخ کلامی ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فریقین نے ہتھیار نکال لئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں چار مسلمان شہید ہوئے اور چار قادیانی مارے گئے۔ اب گاؤں کی فضا مزید خراب ہوگئی، لیکن مقدمے کے مدعی اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ ۲۰۰۸ء میں مقامی سینئر سول جج شہزاد کیانی نے قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گجرات کی عدالت میں اپیل کر دی۔ سیشن جج نے یہ کہہ کر کیس دوبارہ سول عدالت میں ریفر کر دیا کہ یہ استقرار حق کا کیس ہے، لہٰذا اس کی سماعت سول کورٹ میں ہی ہونی چاہئے۔ اس کیس کا فیصلہ بھی دسمبر ۲۰۱۲ء میں مسلمانوں کے خلاف ہوگیا، لیکن مسلمانوں نے حوصلہ ہارنے کی بجائے اس قانونی لڑائی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف دوبارہ سیشن کورٹ میں اپیل کر دی، جس پر سیشن کورٹ کی طرف سے کیس دوبارہ سول عدالت میں ریفر کر دیا گیا۔ اس دوران قادیانیوں نے مسلمانوں کو دباؤ میں لانے کے لئے اپنے ہتھکنڈے جاری رکھے۔ مقدمے کے ایک مدعی افضل سندھو کو متعدد بار پیغام بھیجا گیا کہ آپ لوگ مسجد کے رقبے سے دوگنی زمین متبادل جگہ پر لے لیں۔ قادیانی وہاں مسجد بھی تعمیر کرا کے دیں گے، لیکن آپ لوگ مقدمے سے دستبردار ہو جائیں۔ علاوہ ازیں مدعیوں کو کیس واپس لینے کے عوض بھاری رقم کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن انہوں نے کیس واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر ۲۰۱۰ء میں مقدمے کے مدعی ماسٹر سرفراز شہید کر دیئے گئے۔ وہ صبح سویرے اسکول جا رہے تھے کہ راستے میں قادیانیوں نے انہیں فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ مقدمے کے ایک مدعی افضل سندھو نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ ’’ہمارے دوست ماسٹر سرفراز کو صبح آٹھ بجے شہید کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ رات ساڑھے دس بجے ادا کی گئی۔ ساڑھے چودہ گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی ان کا چہرہ بالکل تر و تازہ پھول کی مانند کھلا ہوا تھا اور زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کے جنازے میں اس طرح خلقت امڈ کر آئی کہ نماز کے لئے دس کنال کے رقبے میں صفیں بنانی پڑیں۔ اس منظر کو دیکھ کر ہم باقی بچ جانے والے چاروں دوستوں کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس مسجد کی خاطر اگر ہماری بھی جان چلی جائے تو یہ سودا ہرگز مہنگا نہیں ہے۔ بالآخر مسلمانوں کی اٹھارہ سال کی جدوجہد رنگ لے آئی۔ مقامی سینئر سول جج قاسم بھٹی نے ۱۷؍ستمبر ۲۰۱۵ء کو مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مسجد کھولنے کا حکم جاری کر دیا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے لکھا کہ: ’’جس جگہ مسجد تعمیر کی جائے، وہ جگہ زمین کی تہہ سے لے کر آسمان تک تا قیامت مسجد ہی رہے گی، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ افضل سندھو کے مطابق بعد ازاں ہفتے کی شام نماز عشاء کے موقع پر مقامی پولیس کی نگرانی میں مسجد کو کھول کر مسلمانوں کے حوالے کر دیا گیا، جہاں اٹھارہ سال کے بعد نماز عشاء کی اذان دینے کی سعادت افضل سندھو کو حاصل ہوئی، اس فیصلے سے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علاقے بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں افضل سندھو نے ”امت“ کو بتایا کہ مذکورہ گاؤں میں اب صرف پچاس قادیانی گھرانے باقی ہیں، جب کہ ۳۵ گھرانوں کے تمام تر افراد گزشتہ چند برس کے دوران اسلام قبول کر چکے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ امت کراچی، ۲۱/ ستمبر ۲۰۱۵ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/ اکتوبر ۲۰۱۵ء ص ۲۴، ۲۵)
مولانا اللہ وسایا کی روزنامہ ”اسلام“ سے خصوصی گفتگو
مولانا اللہ وسایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما ومبلغ ہیں۔ ایک طویل عرصے سے اندرون و بیرون ملک قادیانیت کے خلاف انتہائی پرامن طریقے سے تبلیغی کام میں مصروف ہیں اور ملک وملت اور دین کے خلاف ان کی سازشوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ روزنامہ ”اسلام“ نے ان سے اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کی سازشوں، قادیانیت کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں، جماعت کو ان کے خلاف ملنے والی کامیابیوں، قادیانیت کے خلاف جاری جدوجہد میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی، جو نذر قارئین ہے:
روزنامہ اسلام: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اندرون ملک جماعتی کارکردگی کی کیا صورتحال ہے؟
مولانا اللہ وسایا: اللہ کا فضل ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر موجود ہیں۔ تقریباً ہر اہم ضلع میں مجلس کا مبلغ موجود ہے اور کہیں دو دو اضلاع میں ایک مبلغ اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا ہے، تو اس طرح پورے ملک کے ضلعی سطح تک ہمارے جماعتی مبلغ بڑے منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ کراچی سے لے کر خیبر تک ہر اہم شہر میں ہم باری باری کانفرنسیں منعقد کراتے رہتے ہیں۔ نشرواشاعت کے حوالے سے ایک سلسلہ احتساب قادیانیت کے عنوان سے شروع کر رکھا تھا جس میں ان پرانے بزرگوں کی کتابیں شائع کرنا شروع کی تھیں جو سو ڈیڑھ سو سال پہلے شائع ہوئیں۔ پھر نایاب ہو گئیں۔ ان کو احتساب قادیانیت کی صورت میں یک جا جمع کر دیا گیا ہے۔ جس کی ۶۰ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ اب اسی سلسلے کو محاسبۂ قادیانیت کے نام سے شروع کر دیا گیا ہے۔ جس کی دو جلدیں چھپ چکی ہیں اور تیسری جلد پر کام جاری ہے۔
روزنامہ اسلام: احتساب قادیانیت کے سلسلہ کو محاسبۂ قادیانیت کے عنوان میں کیوں تبدیل کیا گیا ہے؟
مولانا اللہ وسایا: بات دراصل یہ ہے کہ ۶۰ جلدوں کے سیٹ کو ہمہ وقت حاضر رکھنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ کبھی کوئی جلد شارٹ ہو جاتی تو کبھی کوئی، اس سے بچنے کے لئے یہ نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس سے یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ اسی طرح حال ہی میں قومی اسمبلی کی وہ کارروائی جس میں قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دیا گیا تھا، اس کو ۵ جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔ اسی طرح ”فتاویٰ ختم نبوت“ کے نام پر تمام مسالک کے پاک و ہند میں متداول ۳۸ فتاویٰ جات میں جو قادیانیت کے متعلق مواد تھا اسے فقہی ترتیب پر مرتب کر کے ۳ جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔
روزنامہ اسلام: سرکاری سطح پر سختی کی بناء پر آپ کی جماعت کے جلسوں میں کمی واقع تو نہیں ہوئی؟
مولانا اللہ وسایا: اللہ کا فضل ہے ہمارے ایک جلسے پر بھی پابندی نہیں لگی، کہیں اگر کوئی افسران اس طرح کی بات کرتے بھی ہیں تو ہمارا مؤقف سننے کے بعد اجازت دے دیتے ہیں۔ ہمارے کام پر کسی قسم کی پابندی نہیں۔ البتہ ایک بات یہ ہے کہ ابتدائی دنوں میں ہمارے چند ساتھی گرفتار ہو گئے تھے، اس پر بھی ہم نے اپیل کر رکھی ہے، امید ہے کہ اللہ کے فضل سے وہ ساتھی رہا ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے پورے ملک میں ہمارے کسی ساتھی پر کوئی کیس نہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
روزنامہ اسلام: بیرون ممالک میں جماعتی کارکردگی کیا ہے؟ کن کن ممالک میں مجلس کا باضابطہ کام ہو رہا ہے؟
مولانا اللہ وسایا: زیادہ تر تفصیلات میرے پاس نہیں اور نہ یہ شعبہ میرے پاس ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ بیرون کے جتنے دوست ہیں، وہ سارے قادیانیت کے فتنہ سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ابھی کچھ مہینوں پہلے کی بات ہے کہ گیمبیا میں قادیانیوں کے خلاف فیصلہ آیا ہے۔ پاکستان میں سیشن کورٹ نے فیصلہ دیا کہ قادیانی اپنی عبادت گاہوں کا مینار نہیں بناسکتے۔ ۱۷ یا ۱۸؍ ستمبر کو ایک فیصلہ گجرات میں آیا، جہاں قادیانی ۱۰۰ سال سے مسلمانوں کی ایک مسجد پر قابض تھے، وہ مسجد مسلمانوں کو واپس مل گئی۔
روزنامہ اسلام: یورپی ممالک میں قادیانی لابی کھلے عام گمراہی پھیلا رہی ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے؟
مولانا اللہ وسایا: اللہ کا فضل ہے بیرونی ممالک میں بھرپور کام ہو رہا ہے۔ صرف ان کے مرکز لندن کو ہی لے لیں، برطانیہ میں قادیانی اس ارادے سے گئے تھے کہ ہم وہاں موجود سارے مسلمانوں کو قادیانی بنالیں گے، لیکن الحمدللہ! وہ ایک بھی مسلمان کو قادیانی نہیں بنا سکے۔ الحمد للہ! وہاں انتہائی مؤثر انداز میں ہمارا کام شروع ہے۔ کچھ لوگ وہاں سیاسی پناہ کے نام پر گئے، کچھ لوگ زلزلے اور قحط سالی کی وجہ سے وہاں آئے، قادیانیوں نے ان لوگوں کو اپنا شکار بنالیا ہو تو اس کا میں انکار نہیں کر سکتا، وگرنہ مسلمانوں کو قادیانی بنانے میں قادیانیت مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔
روزنامہ اسلام: ایک تأثر یہ ہے کہ بی. بی.سی (BBC) اور وائس آف امریکا (Voice of America) قادیانیت کو سپورٹ کرتے ہیں۔ مجلس اس حوالے سے عالمی میڈیا میں کیا کام کر رہی ہے؟
مولانا اللہ وسایا: قادیانیوں کو ان ہی ممالک نے پیدا کیا ہے، اس لئے وہ ان کے حق میں بولتے رہتے ہیں۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ کسی موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ عالمی میڈیا نے ہماری جماعت سے یا حکومت سے کوئی وضاحت یا جواب طلب کیا ہو اور ہماری جماعت اور حکومت خاموش رہی ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ ہر موڑ پر ہماری جماعت اور حکومت نے بھرپور انداز میں اہل اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
روزنامہ اسلام: عالمی میڈیا میں اپنے مشن کے حوالے سے مجلس کیا کردار ادا کر رہی ہے؟
مولانا اللہ وسایا: یہ صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ روزنامہ اسلام، وفاق المدارس، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر تمام مذہبی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ممکنہ حد تک عالمی میڈیا میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ پورے ملک میں ہمارے مسلک کا کوئی نمائندہ ٹی وی چینل نہیں ہے۔ تنہا مجلس تحفظ ختم نبوت اس ذمہ داری کی متحمل نہیں ہے کہ وہ کسی ٹی وی چینل کی ذمہ داری قبول کرکے اس کا اعلان کرے۔ یہ منصوبہ ہمارے ہاں زیر غور ہے اور نہ ہی ہمارے بس میں ہے۔
روزنامہ اسلام: گزشتہ دنوں برطانیہ میں واجد شمس الحسن نے کہا تھا کہ قادیانیت کے معاملہ میں بھٹو صاحب غلطی پر تھے، بعد میں اپنے بیان پر معذرت بھی کی۔ کیا آپ لوگ ان کے اس معذرتی بیان سے مطمئن ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: اس شخص کے قادیانیوں سے پرانے مراسم ہیں۔ ان کا بیٹا قادیانیوں کے ہاں ملازمت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے ایسا پہلی بار نہیں کہا، اس سے قبل بھی یہ الٹے سیدھے بیان دے چکے ہیں۔ جب پنجاب اسمبلی میں ان کے خلاف توہین عدالت کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپیل دائر کی گئی تو انہوں نے وضاحتی بیان جاری کر دیا ، یہ بھی ہماری فتح ہے کہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا، باقی میں ان کے بیان سے مطمئن نہیں ہوں، دلوں کے راز اللہ ہی جانتے ہیں، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ دفع الوقتی کر رہے ہیں، اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔
روزنامہ اسلام: آئین پاکستان میں ختم نبوت کے تحفظ کی شقوں کو غیر مؤثر بنانا قادیانی لابی کی اولین ترجیح ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اس مذموم مقصد میں کامیاب ہوسکیں گے؟
مولانا اللہ وسایا: اگر امت مسلمہ بیدار رہی تو ان شاء اللہ کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ کوئی مائی کا لال ان کو دوبارہ مسلمانوں کی صفوں میں لا کھڑا کرے، ایسا نہیں ہو سکتا۔
روزنامہ اسلام: موجودہ حکومت کس حد تک آپ سے تعاون کر رہی ہے؟ آپ نے کون سے مطالبات منظور کروالئے ہیں اور کن مطالبات پر کام جاری ہے؟
مولانا اللہ وسایا: زرداری صاحب کی حکومت ہو یا نواز شریف صاحب کی ، جو کچھ ہو چکا ہے، وہی سلامت رہ جائے تو غنیمت ہے۔
روزنامہ اسلام: مزید کسی مطالبے پر کام نہیں ہو رہا؟
مولانا اللہ وسایا: اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی ہے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہوں کی صورت مسجد کی طرز پر نہیں بنا سکتے تو اس طرح کے جتنے ادارے ہیں، ان کے بس میں جو کام ہے، وہ اس کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔ لیکن جب گورنمنٹ قانون سازی نہیں کرتی تو ہم کیسے کہہ دیں کہ ہمارے اتنے مطالبات مان لئے گئے ہیں اور مزید پر کام ہو رہا ہے۔ بس ہماری کوششیں جاری ہیں، ہوگا وہی جو منظور خدا ہے۔
روزنامہ اسلام: قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک میں آپ کو کتنی کامیابی ملی ہے؟ مزید اس حوالے سے کیا کام کر رہے ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: مرزا قادیانی سے ہماری کوئی ذاتی عداوت نہیں۔ بس ہم اہل اسلام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک قادیانیوں نے مرزائیت کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال رکھا ہے، اس وقت تک ہماری ان سے صلح نہیں ہو گی۔
روزنامہ اسلام: یہ الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، قادیانی لابی بھی اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے اس کا بھر پور استعمال کر رہی ہے۔ مجلس اس حوالے سے کیا کام کر رہی ہے؟
مولانا اللہ وسایا: ٹی وی چینل کے حوالے سے تو بتا دیا، البتہ ویب سائٹس ہزاروں کی تعداد میں بنائی گئی ہیں۔ ہماری ویب سائٹس کی وجہ سے قادیانیوں کو اپنی بعض ویب سائٹس بند بھی کرنا پڑیں۔ ہم اس سلسلہ میں بالکل شرعی حدود کے اندر رہ کر جو کام کر سکتے تھے، وہ کر رہے ہیں۔ مثلاً ایک ہی ویب سائٹ میں قادیانیت کے خلاف لکھی گئی ایک ہزار کتابیں اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔ ہمارا ایک منظم شعبہ ہے، جو ان کو جواب دیتا رہتا ہے۔
روزنامہ اسلام: قادیانیت کو کن کن محاذوں پر آپ نے شکست سے دوچار کیا ہے؟ مزید کن محاذوں پر کام کی اشد ضرورت ہے؟
مولانا اللہ وسایا: اللہ کا فضل ہے مناظرے کے میدان میں یہ شکست خوردہ ہیں۔ وعظ و تبلیغ کے سلسلے میں ان کو مات دی گئی ہے۔ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک، پاکستان سے لے کر مکہ مکرمہ تک ، مکہ مکرمہ سے لے کر جوہانس برگ تک ، دنیا جہان کی جن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عدالتوں میں یہ گئے ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل قادیانی اقدام کیا کرتے تھے اور ہم دفاع، الحمد للہ! اب قادیانی بالکل دفاعی پوزیشن پر جا چکے ہیں اور ہم اقدام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر محاذ پر ہمیں سو فیصد کامیابیوں سے نوازا ہے۔ تحریر کا محاذ ہو یا تقریر کا، ایجی ٹیشن ہو یا کوئی موومنٹ، ایک محاذ بھی ایسا نہیں ہے، جس کے بارے میں قادیانی یہ کہہ سکیں کہ ہمیں اس محاذ پر کامیابی ملی ہے۔
روزنامہ اسلام: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ قادیانیت کے خلاف مزید کس درجہ محنت کی ضرورت ہے؟
مولانا اللہ وسایا: کبھی اپنے دشمن کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ جب تک قادیانیت کے جراثیم موجود ہیں، امت کو ہمیشہ اپنی ذمہ داری قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور پرامن طریقے سے پوری کرتے رہنا چاہئے۔
روزنامہ اسلام: کن کن ممالک میں قادیانیت کے خلاف قانون پاس ہو چکے ہیں یا متوقع ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: مصر، شام، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، افریقا کے بعض ممالک، ان تمام تر ممالک میں قادیانیت کے خلاف قانون پاس ہو چکے ہیں۔ سرکاری سطح پر ان کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔
روزنامہ اسلام: دیگر کن ممالک میں اس حوالے سے کام جاری ہے؟
مولانا اللہ وسایا: ہر جگہ امت اس فتنے کے تعاقب میں لگی ہوئی ہے۔ ہر مسجد، مدرسہ، ہر مسلک اس فتنہ کے خلاف کھڑا ہے۔
روزنامہ اسلام: جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں گمراہی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آپ اس حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟
مولانا اللہ وسایا: اس کے لئے مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی بھی مسلمان کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ قادیانیت سے متاثر ہو رہا ہے تو ہم اس کو سمجھانے کی اور اس کی مدد کی ایک حد تک ضرور کوشش کرتے ہیں۔ باقی سارے عالم میں پوری ملت کو بچانے کے لئے اس کام کی اشد ضرورت ہے۔ یہ کام صرف مجلس کا نہیں، بلکہ ہر جماعت اور ادارے کو اس معاملہ میں سرگرم ہونا چاہئے۔ ہمارے جتنے بھی ادارے ہیں، خصوصاً وفاق المدارس، انہیں چاہئے کہ وہ کوئی منظم پالیسی وضع کریں تو ہم بھی ان کے معاون کی حیثیت سے حاضر ہیں۔
روزنامہ اسلام: پاکستان کے تمام اہم اداروں میں قادیانی لابی براجمان ہے، جو قادیانیت کو سپورٹ کرتی ہے۔ اس حوالے سے مجلس کیا اقدامات کر رہی ہے؟
مولانا اللہ وسایا: ہم ان سے باخبر رہتے ہیں۔ ہم نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے جو ابھی تک نہیں مانا گیا۔ مگر جب اللہ کو منظور ہوگا تو ضرور مانا جائے گا۔ البتہ اگر وہ ان عہدوں پر رہ کر کوئی اقدام کریں تو ہم ان کے توڑ کا حل سوچتے رہتے ہیں۔
روزنامہ اسلام: روزنامہ اسلام کے قارئین کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
مولانا اللہ وسایا: قارئین اسلام سے یہ درخواست ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یہ سب فرض ہیں۔ لیکن ان سب فرائض کا تعلق رحمت عالم ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے اور اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ اعضاء اور جوارح سے، جس طرح اعضاء حرکت کرتے ہیں تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانا، رکوع کرنا، سجدہ میں جانا تو اس سے اعمال وجود میں آتے ہیں۔ گویا ان تمام فرائض کا تعلق اعمال سے ہے۔ وہ اعضاء کو حرکت دینے سے سرزد ہوتے ہیں۔ جب کہ ختم نبوت کا مسئلہ محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے اس کام کو کرنا حضور نبی کریم ﷺ کی براہ راست خدمت کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے سر پر ختم نبوت کا تاج رکھا۔ یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ نے صرف محمد عربی ﷺ کو نصیب کیا، اس کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ قارئین اسلام کو، پوری امت کو، آپ کو اور مجھے اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(بشکریہ روزنامہ اسلام ۷؍نومبر ۲۰۱۵ء، ماہنامہ لولاک ملتان ربیع الثانی ۱۴۳۷ھ ص ۴۱ تا ۴۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ ختم نبوت چناب نگر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
اللہ تبارک وتعالیٰ کی خصوصی عنایت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کی دعاؤں اور محنت کی بدولت مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں گاہے بگاہے فری میڈیکل کیمپ لگایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ یہ میڈیکل کیمپ ۸؍نومبر ۲۰۱۵ء بروز اتوار لگایا گیا۔ میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹر صولت نواز، ڈاکٹر اللہ رکھا، ڈاکٹر محمد اشرف، ڈاکٹر نصر اللہ، ڈاکٹر آصف جنجوعہ اور ڈاکٹر حسن جمیل کے علاوہ دو لیڈی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نے ۸۰۰ مریضوں کا مفت چیک اپ کیا۔ الٹرا ساؤنڈ، ای سی جی، بلڈ پریشر، شوگر کا فری چیک اپ کیا گیا اور تمام مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ میڈیکل کیمپ صبح نو بجے سے مغرب کی نماز کے بعد تک جاری رہا اور ڈاکٹرز نے یکسوئی اور توجہ کے ساتھ تمام آنے والے مریضوں کا چیک اپ کیا۔ میڈیکل کیمپ کی تیاری کے سلسلے میں مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے تمام اساتذہ کرام نے میڈیکل کیمپ کو کامیاب کرانے میں بھر پور محنت کی۔ یقیناً یہ فری میڈیکل کیمپ چناب نگر اور قرب و جوار کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ بہت سارے مسلمان چناب نگر میں یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے علاج و معالجہ کی غرض سے قادیانیوں کے ہسپتالوں کا رخ کیا کرتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس کیمپ کو شروع کرنے کی وجہ سے مسلمانوں نے قادیانیوں کے ہسپتالوں سے علاج معالجہ کرانا ترک کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۵ء ص ۲۱)
سرائے نورنگ میں ختم نبوت چوک، ضلعی دفتر اور لائبریری کا افتتاح
لکی مروت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپیل کی تھی کہ اس امیدوار کو ووٹ دیں جو آپ کے ساتھ وعدہ کریں کہ شہر کے مین چوک کو ختم نبوت چوک کا نام دیں گے۔ مرکزی ناظم اعلیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت نے غور شروع کیا ہی تھا کہ اس دوران جمعیت علماء اسلام تحصیل نورنگ کی مجلس عاملہ نے تجویز پاس کرتے ہوئے مجلس کی ضلعی جماعت سے مطالبہ کیا کہ سرائے نورنگ کے وسط میں جی ٹی روڈ پر لکی روڈ کے سامنے چوک کو ’’ختم نبوت چوک‘‘ کا نام دیا جائے۔
مجلس کے ذمہ دار حضرات نے فوراً عمل شروع کر کے انتہائی مختصر وقت میں تمام انتظامات مکمل کر لئے اور صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ رابطہ کر کے ’’ختم نبوت چوک‘‘ کے افتتاح کے لئے وقت مانگ لیا۔ صوبائی امیر نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ۳۰؍نومبر ۲۰۱۵ء بروز سوموار ۲ بجے کا وقت افتتاح کے لئے دے دیا۔ مجلس کے ساتھیوں نے اتفاق و اتحاد کی فضا کو قائم کرنے کے لئے ضلع لکی مروت کی تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ تاجر برادری، معززین علاقہ اور صحافی برادری کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جو الحمد للہ! تمام حضرات نے بخوشی قبول کرتے ہوئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرا دی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے تمام ساتھیوں نے بہت محنت کی۔ ۳۰؍نومبر ۲۰۱۵ء کو صوبائی امیر مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے افتتاح سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے ناظم مالیات مولانا محمد ابراہیم ادہمی کے گھر جا کر ان کی والدہ محترمہ کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی۔
تقریب ضلعی امیر حاجی امیر صالح خان کی صدارت میں مولانا حافظ امیر پیاؤ شاہ کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرحیم کے ابتدائی کلمات کے بعد اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے اپنے صوبائی امیر، مفکر ختم نبوت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کو دعوت خطاب دی۔ اپنے خصوصی خطاب میں حضرت مفتی صاحب نے ضلعی جماعت کے اراکین اور کارکنان ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سمیت تمام جماعتوں ومعززین علاقہ کو ”ختم نبوت چوک“ کے نام پر مبارک باد دی اور کہا کہ الحمد للہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہم سب کا متفقہ پلیٹ فارم ہے اور اسی متفقہ پلیٹ فارم سے ہم اتحاد و اتفاق برقرار رکھ سکتے ہیں اور آج کی افتتاحی تقریب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم سب عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پہلے بھی ایک تھے ، آج بھی ایک ہیں اور ان شاء اللہ ! آئندہ بھی ایک رہیں گے ۔ اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ خون کے آخری قطرے تک کریں گے اور اپنے پیارے نبی ﷺ کے دشمنوں کا مقابلہ ہر میدان میں کریں گے ۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آج بڑی خوشی کا مقام ہے کہ ختم نبوت چوک کے افتتاح کے ساتھ ساتھ ضلعی دفتر اور ختم نبوت لائبریری کا افتتاح بھی ہے۔ ختم نبوت چوک اور دفتر ہم کو اپنا سبق ہر وقت یاد دلائے گا، لہٰذا ہر مکتب فکر کے ساتھیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ یہاں مجلس کے ساتھیوں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں ۔ آپ کی تقریر کے بعد ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ نے تمام مہمانوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ۔ اس کے بعد مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے نعرۂ تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں میں ختم نبوت چوک ، ضلعی دفتر اور لائبریری کا افتتاح کیا۔ تقریب کے بعد صوبائی امیر نے مولانا محمد طیب طوفانی کے گھر جا کر ان کی والدہ محترمہ کے لئے دعائے مغفرت بھی کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء ص ۲۲)
حافظ آباد میں قادیانی کا قبول اسلام
مسمی محمد شیر ولد محمد شفیع قوم چوہان ادھریانوالہ روڈ محلہ جیلانی پورہ حافظ آباد کا رہائشی ہوں ۔ اس سے قبل میرا تعلق قادیانی مذہب سے تھا۔ اب میں بقائم ہوش وحواس بغیر کسی لالچ ، دھمکی ، دباؤ کے بصدق دل یہ یقین ایمان رکھتا ہوں کہ آج کے بعد میرا مرزائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میں مبلغ ختم نبوت حافظ عبدالوہاب جالندھری کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہوں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ٹولے کے کفر سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان شاء اللہ ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
لیہ میں قادیانی کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری عبدالشکور گرواں کے مطابق محمد حامد ولد محمد نواز سکنہ چک نمبر 142T-A.D لیہ نے مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۵ء کو چک مذکورہ بالا کی جامع مسجد میں مجمع کے روبرو قادیانیت سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ۔ اللہ پاک موصوف کو دین اسلام پر استقامت کی توفیق نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۵ء ص ۳۴)
رحمۃ اللعالمین کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد رحیمیہ ریلوے روڈ چیچہ وطنی میں ۷؍ جنوری ۲۰۱۵ء کو ایک عظیم الشان ”رحمۃ اللعالمین کانفرنس“ منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال کے امیر مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی ، مولانا محمد حبیب ، مولانا عبدالحکیم نعمانی ، مفتی محمد ظفر اقبال ، مفتی یاسر بشیر جالندھری ، قاری زاہد اقبال ، قاری محمد اصغر عثمانی نے شرکت و خطاب کیا ۔ جب کہ قاری اسد اللہ فاروقی اور قاری ابوبکر نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۵ء ص ۳۹)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بلدیہ ٹاؤن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام ۹؍ جنوری ۲۰۱۵ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء مین چاندنی چوک ۲۴ مارکیٹ بلدیہ ٹاؤن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
تلاوت کلام مجید کی سعادت قاری افتخار احمد نے حاصل کی، حمد و نعت جمعیت علماء اسلام کے مشہور نعت خواں قاری محمد رفیق دانش نے پیش کی۔ نقابت کے فرائض جمعیت علماء اسلام کراچی کے رہنما شیخ القرآن والحدیث مفتی فیض الحق نے سرانجام دیئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار جھوٹا اور کافر ہے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی دعویٰ نبوت کرنے سے کافر ہوگیا ہے، اس کے ماننے والے بھی سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں، جب کہ قادیانیوں کے نزدیک آخری نبی حضرت محمد ﷺ نہیں بلکہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ مرزا غلام قادیانی ہے اسی طرح قادیانی کلمہ طیبہ میں اسم محمد سے مراد آخری نبی حضرت محمد بن عبداللہ عربی ﷺ نہیں لیتے، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں تو کوئی قادیانی صرف اسلامی کلمہ پڑھنے سے مسلمان تصور نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اسم محمد کے مصداق کی وضاحت کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کا اظہار نہ کریں۔ آخری بات یہ کہ ختم نبوت کی حفاظت ہر اُس شخص کے ذمہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہے یہ صرف کسی خاص طبقہ، شعبہ، جماعت یا مخصوص افراد کا کام نہیں۔ تحفظ ختم نبوت کی خاطر آل اولاد، جان، مال، صلاحیتیں اور زندگی قربان کرنا مسلمان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے مشہور و معروف نعت خواں جناب قاری صلاح الدین نے کئی نظمیں اور نعتیں پیش کیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالرؤف رستم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں نے ہر طرح کے خطرات سے بے خوف ہوکر منکرین ختم نبوت کا تعاقب کیا ہے۔ ہمارے اکابرین کی قربانیاں اس میدان میں زندہ مثال ہیں۔ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے خاتمہ تک پُر امن بھر پور جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سامعین سے قادیانیوں کی تمام مصنوعات خصوصاً شیزان کے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ہماری تحریک کی سند خلیفہ اوّل سیّدنا ابوبکر صدیق ؓ سے ملتی ہے۔ سب پہلے انہوں نے یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہ کرام ؓ و تابعین عظام کی قربانی پیش کر کے ختم نبوت کا تحفظ کیا، ختم نبوت کے عقیدہ پر امت مسلمہ کبھی بھی دورائے کا شکار نہیں ہوئی، جب بھی کسی بد بخت ملعون نے ختم نبوت کا انکار کیا تو غلامان محمد آگے بڑھے اور اس کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ عاشقان رسول کی یہ ایک طویل داستان عشق و وفا ہے۔ آج بھی یہ محاذ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے سرگرم ہے۔ اکابرین کی ہدایات و فرمودات کے مطابق جانب منزل ترقی پر گامزن ہے۔ اس محاذ سے سارے مسلمان فتنہ قادیانیت کے خاتمہ کے لئے کمر بستہ ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کراچی کے رہنما پیر طریقت علامہ ڈاکٹر عطاء الرحمن خان نے مختصر طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی گرانقدر خدمات کو سراہا اور سامعین کو دعوت دی کہ جماعت کی ہدایت پر اپنی خدمات کو پیش کرنے سے دریغ نہ کریں۔
جمعیت علماء اسلام کراچی کے نڈر اور بے باک رہنما سابق ایم پی اے حافظ محمد نعیم شموزئی نے سرکاری سیکورٹی ادارے، مہمانان گرامی، منتظمین، معاونین اور تمام شرکاء کا بھر پور طریقہ سے شکریہ ادا کیا اور کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کی اور ہر وقت ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ بعد ازاں حافظ محمد شاہ رخ نے نعت پیش کی۔
مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے پُر مغز تاریخی، تفصیلی اور ایمان افروز خطاب میں فرمایا کہ ہر فتنہ کے چار زمانے ہوتے ہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ابتدا، عروج، زوال اور خاتمہ۔ قادیانیت کے تین دور ہم دیکھ چکے ہیں، اب خاتمہ کا انتظار ہے۔ مسلمانوں نے تحفظ ختم نبوت کی خاطر ایک روشن تاریخ رقم کی ہیں۔ آج بھی قادیانیت کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں، کسی بھی سازش میں قادیانیوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ان شاء اللہ! منکرین ختم نبوت، فتنہ قادیانیت کے خلاف مسلمان متحد ومتفق اور بیدار ہو چکے ہیں، ان شاء اللہ! وہ دن دور نہیں کہ پوری دنیا سے ڈھونڈنے کے باوجود ایک بھی قادیانی نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کی دعا ء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
کانفرنس میں تشریف لانے والے سرکردہ حضرات میں نمونۂ اسلاف مولانا شیخ عبدالقادر، مولانا محمود الحسن حقانی (مدیر جامعہ حقانیہ)، مولانا غلام مصطفیٰ فاروق (رہنما جے یو آئی (س)، جناب امیر طارق (رہنما جماعت اسلامی)، مولانا سعید الرحمٰن (مدیر مدرسہ صدیقیہ)، مفسر قرآن مولانا عبدالقیوم قاسمی (مدیر جامعہ معارف اسلامیہ)، مولانا پروفیسر عبدالودود (مدیر مدرسہ فاطمۃ الزہرا)، بزرگ عالم دین مولانا قاری محمد صدیق (نگراں شعبہ تجوید جامعہ حقانیہ)، مولانا مفتی فضل کریم (مدیر جامعہ خیر العلوم)، قاری سعید شاہ حیدری، حکیم محمد صدیق، مولانا حسین احمد (نائب مدیر جامعہ عمر)، مولانا عبدالعزیز (نائب مدیر جامعہ عثمانیہ)، مولانا شیر افضل، مولانا سلیم اللہ، مولانا اسحاق، مولانا مفتی اسلم، قاری ساجد محمود، قاری غلام اکبر، مولانا عبداللہ شاہ، مولانا عنایت اللہ شاہ، مولانا عنایت اللہ عادل، مولانا قاضی عبدالغفار، مولانا محمد عاصم، مولانا احسان اللہ، مولانا عبدالواجد، مولانا صفدر، مولانا سراج، محمد اختر، مولانا شمس العلوم، مولانا محمد قاسم، مولانا مشتاق احمد شیرازی، مولانا محمد فیض ربانی، مولانا محمد شعیب، مولانا عرفان علی شاہ، مولانا نثار احمد نثار، مولانا عبدالرحیم اور دیگر کئی حضرات شامل ہیں۔
کانفرنس کی کامیابی کے لئے محمد صابر، سید محمد شاہ، مولانا مفتی فیض الحق، مولانا سعید الرحمٰن، مولانا عبدالقیوم قاسمی، مولانا عبدالواجد، مولانا شمس العلوم، مولانا سراج محمد اختر کے علاوہ بلدیہ ٹاؤن کے حلقہ جات کے ذمہ داران نے بھر پور کوشش کی۔ ساری محنتیں اللہ تعالیٰ قبول فرما کر دارین میں فلاح و کامیابی کا ذریعہ بنائے ۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۳، ۲۴)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منظور کالونی کراچی
۱۰؍ جنوری ۲۰۱۵ء بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ منظور کالونی جمشید ٹاؤن کے زیر اہتمام عظیم الشان سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مقررین نے نبی آخر الزمان ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا اور عقیدۂ ختم نبوت سے شرکائے کانفرنس کو آگاہ کیا۔ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے علاقہ بھر کی مساجد میں مختلف پروگرام رکھے گئے تھے۔
پروگرام کا آغاز نماز عشاء کے بعد تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبول سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ محمد حمزہ نے حاصل کی جب کہ نعت و نظم بالترتیب محمد اسامہ اور علی حسنین نے پیش کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی کے مبلغ مولانا عبدالحیٰ مطمئن نے عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ فتنہ قادیانیت سے لوگوں کو متعارف کروایا۔ بعد ازاں مشہور ومعروف قاری مولانا محمد اکبر مالکی نے اپنی پُرسوز آواز میں تلاوت کی، رات کی تاریکی اور سناٹے میں کیف وسرور کا سماں باندھ دیا تلاوت کے بعد مولانا حافظ عبدالقادر نے حمد ونعت اور نظم ختم نبوت زندہ باد سے پروگرام کو چار چاند لگا دیئے۔
تحریک اہل حدیث کے ذمہ دار ارشاد الحق اثری نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ پر دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے شرکاء کانفرنس سے کہا کہ اس کاز کے لئے جتنی محنت اور کوشش کی جائے کم ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما غلام قادر سبحانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار بڑے کھلے دل سے کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی عظیم الشان خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ملک وملت میں حضور اکرم ﷺ کی عزت وناموس کے جھنڈے کو بلند و بالا کرنے کا عزم کیا۔
مولانا اللہ وسایا نے تقریباً ایک گھنٹہ جماعتی پالیسی، اکابر کی تحفظ ختم نبوت پر عظیم الشان کاوشوں پر مبنی فکر انگیز، ایمان پرور زندگی کا تذکرہ کیا۔
متحدہ جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیر مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری دامت برکاتہم نے پون گھنٹے کے قریب بیان فرمایا، جس میں اتحاد علماء کے اس عظیم مظہر کی واشگاف الفاظ میں تحسین کی۔
مولانا محمد الیاس گھمن کے ایمان افروز بیان سے قبل حافظ عرفان سعید نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ بعد ازاں مولانا گھمن نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور علماء دیوبند کے تبحر علمی پر ایمان پرور وجد آفرین بیان کیا۔
پروگرام کے آخری مقرر مولانا محمد رفیق جامی مدظلہ تھے، جنہوں نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود شیر کی گھن گرج کے ساتھ بیان کیا۔ پروگرام کی اختتامی دعاء مولانا محمد فاروق خطیب جامع مسجد النجم نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں علاقہ بھر کے علماء اور معززین نے بھر پور تعاون کیا جن میں مولانا رضوان قاسمی منتظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ منظور کالونی خوب سرگرم عمل رہے۔ ان کے علاوہ علامہ خان محمد ربانی، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا قاری اللہ داد، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد بلال، حافظ احسن سلفی، حشمت اللہ، مولانا اشرف، حافظ ابوبکر نعمانی، مولانا محمد فیصل، مولانا حفیظ الرحمن، مفتی تقی، مولانا نعمت اللہ، مولانا سلیم اللہ، مولانا صدیق سواتی جملہ علماء کرام منظور کالونی و دیگر حلقہ جات مولانا محمد عمران خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ملک شاہنواز، شریف گجر، بھائی آفاق، رانا جاوید، سہیل اختر (ایس ایچ او تھانہ بلوچ کالونی)، آصف مروت (ٹریفک پولیس)، سیکورٹی کا مکمل انتظام جمال کاکڑ اور ان کی ٹیم جے یو آئی مفتی محمود یونٹ نے کیا جو پروگرام کی ابتدا سے انتہا تک چاک و چوبند نظر آئے۔ مولانا غلام یسین، دانیال گجر، قاری محمد اقبال بھی ان کے ہمراہ تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۳، ۲۴)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کراچی
۱۱؍ جنوری ۲۰۱۵ء بروز اتوار ہونے والی ”سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس“ اسی سلسلے کی کڑی تھی جو دارالعلوم مدنیہ (جامع مسجد الاخوان) بلاک ۱۵ دستگیر سوسائٹی میں منعقد کی گئی۔
کانفرنس کا آغاز نماز ظہر کے متصل بعد ہوا، زینت القراء محترم جناب قاری عبدالرحیم مدظلہ نے پُرسوز آواز میں تلاوت کلام پاک کی۔ اس کے بعد مداح رسول حافظ سہیل سہیل نے خوبصورت آواز میں بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ نقیب محفل مسجد کے امام مولانا عبدالنعیم فاروقی تھے جو بحسن و خوبی پروگرام کو آگے بڑھا رہے تھے۔
تلاوت ونعت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد کا خطاب شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ تحفظ ختم نبوت کا داعی ہے، ہر آدمی اپنے اپنے شعبے میں اسلام کے اس بنیادی عقیدے کا مبلغ ہے ہر امتی اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی حرمت کا پاسبان ہے، ہر مسلمان شجر اسلام کی اس سب سے مضبوط اور اہم جڑ کا محافظ ہے اور ہر مومن محاذ ختم نبوت کا مجاہد ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا محمد الیاس گھمن صاحب مدظلہ تھے۔ آپ نے کانفرنس سے ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلی خطاب کیا اور عقیدۂ ختم نبوت پر مدلل علمی گفتگو کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس اسکاؤٹ کالونی کراچی
۱۱؍ جنوری ۲۰۱۵ء بروز اتوار بعد نماز ظہر بلال مسجد ختم نبوت چوک اسکاؤٹ کالونی کراچی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات بلال مسجد کے امام و خطیب مولانا قاری عبدالسمیع رحیمی نے سنبھال رکھے تھے۔ حافظ محمود کی تلاوت اور محمد اسامہ کی حمد ونعت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ نقابت کے فرائض مولانا عبدالرؤف (مبلغ ختم نبوت کراچی) نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی عظیم شخصیات نے قربانیاں دیں، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑے کر دیئے مگر انہوں نے محمد عربی ﷺ کے دامن کو نہیں چھوڑا، فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسود عنسی جیسے بدبخت کو اس کے گھر میں داخل ہو کر اسے قتل کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مسیلمہ کذاب کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں اور اس خونریز معرکہ میں ۱۲۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد بالآخر مسیلمہ کذاب قتل کر دیا جاتا ہے اور اسلام کے خلاف کھڑا ہونے والا یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ ہم بھی آج مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے خلاف میدان میں ہیں، ہمارے اکابرین نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس عقیدہ کی حفاظت کی ہے اور ان شاء اللہ جب تک ہماری جان میں جان ہے، دہن میں زبان ہے، اس عقیدے کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
مولانا محمد رفیق جامی مدظلہ العالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ دنیا کے سب سے عظیم پیغمبر تھے، اللہ رب العزت نے انہیں مجموعہ کمالات بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام عالمگیر نبی ہیں، سارے جہانوں، سارے زمانوں کے نبی ہیں، اس لئے قیامت تک کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، کجا مرزا قادیانی جیسا انسان مجموعہ امراض و رذائل وہ نبوت کا دعویٰ کرے اور حضور علیہ السلام کی ختم نبوت پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرے؟ ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔ ہم قادیانیوں کو بھی دعوت اسلام دیتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ چھوڑو اس جھوٹے کو، آؤ حضور علیہ السلام کی غلامی قبول کر کے دنیا کی اعلیٰ ترین امت میں شامل ہو جاؤ۔
مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد دنیا کی عظیم ترین ہستیاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھیں اور ان میں بھی وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اتنے افضل تھے کہ حضور علیہ السلام کی رحلت کے بعد دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کی زیارت کے لئے آتے تھے۔ جب مسیلمہ کذاب کے خلاف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اعلان جنگ فرمایا تو اس جنگ میں ۱۲۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ شہید ہوئے، جن میں ۷۰۰ قرآن مجید کے حافظ و عالم تھے، جب کہ ۷۰ بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ میں دیکھتا ہوں کہ دور نبوت کے ۲۳ سالوں میں پورے دین کی حفاظت کے لئے ۲۵۹ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے جب کہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے لڑی جانے والی ایک جنگ، جنگ یمامہ میں ۱۲۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اس سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، آج ہمارے کچھ لیڈر قادیانیوں کے ساتھ ہمدردی جتلارہے ہیں، بیرونی طاقتیں بھی اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے آئین سے ناموس رسالت کو ختم کر دیا جائے، مگر جس طرح کل ہمارے اکابرین نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی اور اس قانون کو بنایا تھا تو آج ہم بھی اس قانون کی اور اس عقیدہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان شاء اللہ! حفاظت کریں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۷)
محراب پور میں ختم نبوت کانفرنس
۱۱؍ جنوری ۲۰۱۵ء بعد نماز عشاء جامع مسجد قباء محراب پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ، جس کی صدارت مولانا قاری مفتی محمد یاسین نے کی۔ کانفرنس سے مولانا تجمل حسین ، مولانا قاری حبیب الرحمن اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ نگرانی مولانا عبدالصمد امیر مجلس نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۵ء ص ۱۵)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس نارتھ کراچی
۱۲؍ جنوری ۲۰۱۵ء بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد مدنی آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں عظیم الشان سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے انجام دیئے۔ حمد ونعت کے بعد مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۵ء ص ۲۷)
عرفات مسجد خیر پور میرس میں ختم نبوت کانفرنس
۱۸؍ جنوری ۲۰۱۵ء بعد نماز عشاء جامع مسجد عرفات خیر پور میرس میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ، جس کی صدارت مفتی اصغر علی نے کی۔ کانفرنس سے مولانا تجمل حسین ، مولانا محمد عبداللہ عباسی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
پنوعاقل میں ختم نبوت کانفرنس
جامع مسجد مدنی پنوعاقل میں ۱۹؍ جنوری ۲۰۱۵ء بعد نماز عشاء ختم نبوت وسیرت کانفرنس منعقد ہوئی ، جس کی سرپرستی مولانا خلیل الرحمن نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قرآن پاک اور احادیث نبویہ، خلفائے راشدین کے اقوال اور امت مسلمہ کے تعامل سے ثابت کیا کہ اہانت رسول کی سزا سزائے موت ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۵ء ص ۲۱)
سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس ۲۴؍ جنوری ۲۰۱۵ء دفتر مرکزیہ میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گذشتہ سہ ماہی میں وفات پانے والے علماء کرام ، مشائخ عظام ، جماعتی کارکنوں ، جناب میاں سراج احمد دین پوری ، مولانا محمد نافع جامعہ محمدی شریف جھنگ ، مولانا جمشید احمد رائے ونڈ ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو لاڑکانہ ، مولانا مجاہد خان الحسینی نوشہرہ ، مولانا قاضی حمد اللہ مہتمم دارالہدیٰ ٹھیڑھی ، مولانا رشید احمد سومرو خیر پور میرس ، مولانا بشیر احمد شاہ جمالی ڈیرہ غازیخان ، مولانا قاری محمد ابراہیم فیصل آباد ، الحاج میاں عبدالخالق والد محترم مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا نور محمد تونسوی ترنڈہ محمد پناہ ، حافظ مشتاق احمد انبالوی سید والا ننکانہ ، مولانا سعید احمد بہاول نگر ، مولانا محمد امین نقشبندی خانیوال ، حافظ فلک شیر جھنگوی ، حاجی محمد یوسف خانیوال ، حاجی بھائی عبدالرحمان گوجرانوالہ ، ملک غلام فرید برادر محترم مولانا محمد اسحاق ساقی ، مولانا نور محمد جمالی کوٹ میر محمد خیر پور میرس ، مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قاسم سیوطی مبلغ منڈی بہاء الدین کے نانا جان، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ سمیت جماعتی رفقاء کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔
فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر رنج والم کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ: (۱) او۔آئی۔سی کا اجلاس بلاکر فرانس سمیت یورپ سے دوٹوک بات کی جائے۔ (۲) اقوام متحدہ کو مقدس شخصیات کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے قانون سازی پر مجبوراً کیا جائے۔ (۳) فرانس کو حکومتی سطح پر معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے۔ بصورت دیگر فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔
اجلاس میں ملک بھر میں علماء کرام، مشائخ عظام، جماعتی کارکنوں پر بننے والے بوگس کیسز کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا کہ مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی، مولانا قاری محمد طیب بورے والا، مجلس رحیم یار خان کے امیر مولانا قاضی شفیق الرحمان، جامع مسجد عائشہ لاہور کے خطیب مولانا محبوب الحسن طاہر، مجلس کے مرکزی راہنما محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خلاف بنائے جانے والے بوگس کیس خارج کئے جائیں۔ مجلس شیخوپورہ کے مبلغ مولانا ریاض احمد وٹو، ناظم اعلیٰ قاری محمد الیاس کی گرفتاری کی پرزور مذمت کی گئی اور اسے قادیانی ڈی۔آئی۔جی خدا بخش نتھوکہ کی قہرستانی قرار دیا گیا۔ مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ بالا علماء کرام کے خلاف بنائے جانے والے کیس ختم کئے جائیں اور خدا بخش نتھوکہ کو اہم عہدہ سے برطرف کیا جائے۔ مبلغین اور جماعتی کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ مجلس کے بزرگوں کے طرزعمل کے مطابق قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تبلیغی سرگرمیوں کو برقرار رکھا جائے۔ دینی راہنماؤں اور جماعتی کارکنوں کے خلاف بنائے جانے والے ۱۱ ہزار کیسز میں سے پچانوے فیصد کیس جعلی اور علماء کرام کو ہراساں کرنے کے لئے ہیں۔ لہٰذا انہیں خارج کیا جائے۔ مدارس کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی پالیسی کو متوازن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ مدارس اور دینی اداروں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو سہل کرکے رجسٹریشن کا عمل جلدی مکمل کیا جائے۔
۲۶؍مارچ فیصل آباد، ۳۰، ۳۱؍مارچ رحیم یار خان، ۴؍اپریل قصور، ۲۴؍اپریل حیدرآباد میں ختم نبوت کانفرنسز کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ ۵ تا ۷؍فروری، ۱۲ تا ۱۴؍فروری، ۲۶ تا ۲۸؍فروری کو لاہور میں تین مقامات پر ختم نبوت کورسز، ایسے ہی گوجرانوالہ ۱۱ تا ۱۳؍فروری، ۲۷، ۲۸؍فروری، یکم ؍مارچ کو گوجرانوالہ، ۲۷، ۲۸؍فروری کو سرگودھا میں ختم نبوت کورسز کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک بھر کے جماعتی کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حسب سابق تبلیغی پروگراموں کو جاری رکھیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی قسم کی کمی وکوتاہی کا ارتکاب نہ کریں۔ مبلغین نے اپنے اپنے حلقوں میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی کہ ملک بھر میں فرانسیسی خاکوں کے خلاف مظاہرے، ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۵ء ص ۵۵، ۵۶)
چوتھی سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچند
موضع پچند تحصیل تلہ گنگ حال تحصیل لاوہ ضلع چکوال میں قادیانی اپنی پوری طاقت اور دبدبے سے رہتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بلکہ لوگ ان کے شر اور ڈر سے ان سے تعلقات استوار کرتے تھے۔ کوئی بھی ان کے خلاف بات نہ کرسکتا تھا۔ اللہ رب العزت جزائے خیر دے علمائے کرام کو کہ انہوں نے چار سال قبل اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور تلہ گنگ سے جا جا کر وہاں کے مسلمانوں کو جگایا اور انہیں قادیانیت کے سحر سے آزاد کرایا۔ قادیانیت کے خلاف لوگوں میں شعور پیدا کیا اور قادیانیت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا اصل روپ لوگوں کو دکھلایا۔ قادیانی جو اپنی عبادت گاہ و تربیتی سنٹر بنانے کا پروگرام بنا چکے تھے بلکہ اس کام پر عمل کرنا شروع کر چکے تھے۔ اس کام کو عدالت کے ذریعے رکوا دیا گیا اور ایک کانفرنس پچند شہر میں منعقد کرائی جس میں ایک قادیانی نے مولانا اللہ وسایا صاحب کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ کر قادیانیت پر لعنت بھیج کر حضور اکرم ﷺ کے دامن میں پناہ لی۔
پھر یہ کانفرنس ہر سال منعقد ہونا شروع ہوگئی۔ امسال بھی یہ کانفرنس مورخہ ۲۲ فروری ۲۰۱۵ء بروز اتوار دن ایک بجے تا ساڑھے پانچ بجے پچند شہر سے باہر ایک کھلی جگہ پر منعقد کی گئی۔ جس میں مقامی علمائے کرام کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا قاضی عبدالرشید، نعت خوانوں میں رانا محمد عثمان، طاہر بلال چشتی، سعد اللہ ندیم، قاری بن یامین ومحمد امین صاحبان نے شرکت کی۔ جلسہ کے لئے پنڈال جو کہ ایک وسیع جگہ پر بنایا گیا اور ایک وسیع اسٹیج بھی بنایا گیا تھا۔ جلسہ کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ استاذ القراء مولانا قاری نور محمد نے تلاوت قرآن پاک کی جب کہ اسٹیج سیکرٹری قاری فضل محمود کاشف صاحب تھے۔
پہلا بیان مولانا عزیز الرحمن ثانی کا ہوا۔ جس میں انہوں نے عوام کو قادیانی مصنوعات کے بارے میں بتایا اور لوگوں کو کہا کہ وہ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس کے بعد ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا پرمغز بیان ہوا۔ حضرت ناظم اعلیٰ صاحب نے فرمایا کہ قادیانیت کے کفر کو ہر جگہ عام کرنے میں لوگوں کی قربانیاں شامل ہیں اور لوگوں نے اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔ ہم سب لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم لوگ خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کا دفاع کریں۔
اگلا بیان وفاق المدارس پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری قاضی عبدالرشید کا ہوا۔ آپ نے ختم نبوت کے موضوع پر مدلل دلائل دیئے۔ ساتھ ہی آپ نے مدارس اور مساجد کی حفاظت کی طرف بھی نشاندہی کی کہ ہم لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ ہم لوگ مدارس کی حفاظت کے لئے حکومت وقت پر زور ڈالیں کہ وہ مدارس کے ساتھ نہ چھیڑے۔ کیونکہ یہاں قرآن وحدیث پڑھائی جاتی ہے۔ مدارس دہشت گردی کے اڈے نہیں بلکہ یہ تو ملک کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
آخری بیان مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آپ لوگ جب یہاں سے جائیں تو ایک مشن اور پیغام لے کر جائیں کہ پچھلی کانفرنس سے لے کر اس کانفرنس تک قادیانی فتنہ کہاں سے چلا اور کہاں تک پہنچایا گیا۔ کسی بھی فتنے کے چار دور ہوتے ہیں۔ اس کا آغاز، اس کا عروج، اس کا زوال اور اس کا اختتام۔ قادیانیت کی ابتداء یہ ہے کہ اس کو انگریز نے پیدا کیا۔ انگریز نے اسے عروج دکھایا۔ لیکن مسلمانوں نے اس فتنہ کے خلاف ہمیشہ اور ہر جگہ اپنی اپنی بساط کے مطابق کوشش کی پھر علمائے کرام کی کوششیں رنگ لائیں اور پہلے عدالتوں نے اور پھر ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا۔ یہ قادیانیت کا زوال ہے اور اب قادیانیت اپنے اختتام کی طرف جارہی ہے۔ میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ میری ٹوپی لے جائیں اور مقامی قادیانیوں کے پاؤں پر رکھ دیں کہ خدا کے واسطے! اس جھوٹے دجال کو چھوڑ کر محمد عربی ﷺ کے دامن میں آجاؤ۔ ہماری تم سے کوئی عداوت نہیں۔ اگر ہم دن کو تمہارے خلاف بولتے ہیں تو رات کو اللہ کے حضور تمہاری ہدایت کی دعاء کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ! حضور اکرم ﷺ کا دین ضرور باقی رہے گا۔ مٹ گئے دین کو مٹانے والے۔ دین زندہ ہے اور رہے گا۔ ہم لوگ اپنے فرض سے غافل نہیں ہوئے ہیں۔ لوگو مبارک باد لے کر جاؤ کہ آج ختم نبوت کے لٹریچر کی ایک سطر پر بھی پابندی نہیں اور مرزا قادیانی کی ایک بھی کتاب ایسی نہیں جس پر پابندی نہ ہو۔ جب تک جان میں جان باقی ہے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کیا جائے گا۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر صاحبزادہ عزیز احمد کی دعاء سے جلسہ کا اختتام ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نماز عصر پنڈال میں ادا کی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ کے امیر مولانا عبدالرحمن انور نے کانفرنس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور سیاستدانوں کا بھی جنہوں نے اپنا وقت نکال کر اس کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس میں درج ذیل قراردادیں پیش کی گئیں جو منظور کر لی گئیں:
- ۱...... ترحدہ چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھا جائے۔ اس قرارداد کے بعد علاقہ میں ایم.این.اے کے نمائندہ محمد امیر خان نے کہا کہ وہ
ان شاء اللہ اس کام کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور ترحدہ چوک کا نام ختم نبوت کر کے ختم نبوت چوک ہو جائے گا۔
- ۲...... قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ارتدادی سرگرمیوں اور آئینی خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
- ۳...... شرکاء کانفرنس نے ملک کے اندر دہشت گردی کی بھی پرزور مذمت کی۔
- ۴...... شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، میاں سراج احمد دین پوری، مولانا محمد نافع، مولانا نور محمد تونسوی اور دیگر علمائے کرام کی وفات پر ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعاء کی گئی اور ان کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۵۲، ۵۳)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۸؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو مرکزی جامع مسجد بندر روڈ میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے فرمائی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، مولانا اللہ وسایا مرکزی خازن، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا تجمل حسین، مولانا مدثر تھانوی اور مولانا ناصر احمد سومرو نے بیانات فرمائے۔ قاری خلیل احمد بندھانی کی وفات پر اظہار غم اور ایصال ثواب کیا گیا۔ گیمبیا میں قادیانیوں کے متعلق حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور وہاں کے حکمران کو اتنا عظیم اور خوش کن فیصلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کانفرنس کے شرکاء نے باہمی اتفاق سے قرارداد منظور کی کہ فرانس کے جریدے کی گستاخی کی وجہ سے فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کر دیئے جائیں۔ فرانس کے سفیر کو بلا کر تنبیہ کی جائے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا بشیر احمد، مولانا عبداللطیف ہاشمی، حافظ محمد رمضان نعمانی، حافظ محمد امیر معاویہ، محمد مبشر، محمد انس، محمد اویس اور دیگر مقامی حضرات نے بھرپور تعاون کیا۔ اختتامی دعاء مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۵ء ص ۸)
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت
۱۵؍ مارچ ۲۰۱۵ء بروز اتوار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے زیراہتمام سالانہ نویں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے مقامی احباب نے کانفرنس سے قبل تقریباً ۷۰ چھوٹے پروگرام منعقد کئے تھے۔ ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ حقانی، ناظم مالیات مولانا محمد ابراہیم ادہمی، ناظم تبلیغ مولانا طیب طوفانی، ناظم اطلاعات صاحبزادہ امین اللہ جان، مولانا شبیر احمد حقانی اور مولانا محمد امجد پر مشتمل وفد نے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں، مدارس اور دیگر اداروں کے دورے کئے تھے۔ مولانا حفیظ الرحمن، مولانا مستقیم شاہ، شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، مولانا جان محمد، مولانا بشیر احمد حقانی، مولانا حمزہ لقمان، شیخ الحدیث مولانا محمد انور نے بیانات فرمائے۔ مولانا محمد انور نے پہلی نشست کی اختتامی دعاء فرمائی۔ نماز ظہر کے بعد دوسری نشست کی ابتداء مولانا خواجہ خلیل احمد کی صدارت میں ہوئی۔ اس میں مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عظمت اللہ، مولانا خالد گنگوہی، مولانا سفیر اللہ جمعیت علماء اسلام، مولانا عبدالغفار، مولانا گل رئیس خان، مولانا محمد طیب طوفانی، مولانا شبیر احمد حقانی اور دیگر مقامی علماء کرام نے بیانات کئے۔ کانفرنس میں مولانا ابراہیم ادھمی کو ختم نبوت کی مثالی خدمات انجام دینے پر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے انعام واعزاز سے نوازا۔ آخری بیان صوبہ خیبر پختونخواہ کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کیا۔ آپ کا بیان نہایت جامع اور پرمغز تھا۔ اختتامی دعاء مولانا خواجہ خلیل احمد نے فرمائی۔ کانفرنس کے انتظامی امور مولانا نقیب اللہ، مولانا محمد گل، مفتی رضوان اللہ ترابی، انور جمال، عظمت اللہ، امداد اللہ، سید احمد، ماجد حسین، انور علی اور عبدالباسط نے انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۱۷)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیراہتمام ۱۹؍مارچ ۲۰۱۵ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیرنگرانی مولانا عبدالصمد منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت مفتی محمد یاسین نے کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا خالد محمود نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت قاری فتح محمد نے حاصل کی۔ پھر بھائی اظہر نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد قاسم سومرو کا بیان ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اکابرین نے ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل کنڈیارو کے قریبی علاقہ کمال دیرو میں قادیانیوں سے ہونے والے مناظرے کے متعلق سامعین کو بتایا کہ کس طرح قادیانی اس مناظرے میں شکست کھا کر ذلیل ورسوا ہوئے۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی ملک وقوم اور اسلام کے غدار ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۵۵)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس نوابشاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے زیراہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۰؍مارچ ۲۰۱۵ء بروز جمعۃ المبارک جامع مسجد کبیر میں زیرصدارت مولانا محمد انیس صاحب اور زیرنگرانی مولانا محمد امجد مدنی صاحب کے منعقد کی گئی۔
کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کی سعادت قاری نیاز احمد خاصخیلی نے حاصل کی، قاری محمد عثمان نور نے ہدیہ نعت پیش کیا اور نظمیں پڑھیں، اس کے بعد مولانا محمود الحسن حسینی صاحب نے بیان کیا۔ پھر مولانا علی احمد چنہ نے ختم نبوت پر نظمیں پڑھیں، اس کے بعد مرشد الموحدین ولی کامل مولانا سائیں عبدالمجیب صاحب قریشی (پیر شریف) نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اس پر ایمان لانا لازمی ہے اور حضور اکرم ﷺ کی شفاعت کے حصول کے لئے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
اس کے بعد مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جھوٹے مدعی نبوت کو کسی دور میں بھی برداشت نہیں کیا گیا، قادیانیوں نے آج تک اپنے آپ کو کافر تسلیم نہیں کیا ہے، یہ ملک وقوم سے غداری کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء نے مل کر جدوجہد کی ہے، انہوں نے کہا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قادیانی اور قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
قاری علی اصغر، قاری محمد تصور، قاری عبداللہ فیض، مولانا ظہیر احمد، قاری عطاء الرحمٰن مدنی اور بھائی عبدالرؤف کانفرنس کے جملہ امور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور علماء کرام اور دیگر مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے۔ کانفرنس میں ہر طبقے کے لوگوں نے بھر پور شرکت کی، خصوصاً قاری محمد حسن موروجو، قاری عبد الماجد خانخیلی ، مولانا اشفاق احمد پھل اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍اپریل ۲۰۱۵ء ص ۸)
ختم نبوت کانفرنس ضلع کرک
۲۳؍مارچ ۲۰۱۵ء کو بروز پیر دوپہر عید گاہ ضلع کرک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ضلعی امیر مولانا حافظ محمودالرحمان حقانی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تقریباً پانچ ہزار سے زائد شرکاء نے شرکت فرمائی ۔ با قاعدہ آغاز دوپہر ایک بجے کیا گیا۔ ضلعی ناظم تبلیغ مولانا کرامت اللہ نے استقبالیہ پیش کیا اور کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ پہلا بیان خیبر پختونخواہ کے مبلغ مولانا عابد کمال نے فرمایا۔ ان کے بعد مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اظہار خیال فرمایا۔ حافظ فضل امین نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس کا اختتامی خطاب صوبائی امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کیا۔ مفتی صاحب نے اپنے بیان میں قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ اور قادیانیت کے حوالے سے شعور و آگاہی کے مہم پر زور دیا۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا سیف اللہ الاسلام ناظم نشر و اشاعت ضلع کرک نے کئے تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۳۵)
مولانا قاضی احسان کا دورہ کوہاٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ۲۴، ۲۵؍مارچ ۲۰۱۵ء کو ضلع کوہاٹ کا دوروزہ تبلیغی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ صوبائی امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور مولانا عابد کمال بھی تھے۔ کوہاٹ کے مقامی کارکن مولانا مجاہدین نے ان حضرات کے پروگرام مختلف مقامات پر ترتیب دیئے تھے۔ اس تبلیغی دورہ کو کامیاب بنانے کے لئے جناب محمد علی، محمد آصف، محمد وسیم، شامی صاحب، محمد مزمل ، محمد فرمان ، محمد نعمان ، محمد خالد ، محمد قاسم اور حاجی انصار گل صاحب نے تگ و دو کی۔ اللہ ان حضرات کی مساعی کو قبول فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۳۵)
ختم نبوت کانفرنس شبقدر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل شبقدر کے زیر اہتمام ۳۰؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو کانگڑہ میں ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مولانا عبد الماجد صدیقی ، مولانا عبد القیوم حقانی ، نو مسلم جناب شمس الدین ، صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، مولانا مفتی عبداللہ شاہ اور دیگر مقامی علماء نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۵ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع قصور کے زیر اہتمام تاریخی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴؍اپریل ۲۰۱۵ء بروز ہفتہ ڈگری کالج گراؤنڈ قصور میں منعقد ہوئی ۔ تقریباً پچاس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ قصور ضلع کے علاوہ لاہور ، بصیر پور، منڈی احمد آباد، رائے ونڈ سے بھی لوگوں نے قافلوں کی شکل میں شرکت کی ۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز مغرب حافظ حسین احمد اور محمد ابوبکر کی تلاوت سے ہوا۔ صدارت مولانا پیر رضوان نفیس نے کی ۔ حافظ محمد وسیم اور محمد عمر نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ بیانات مولانا محمد قاسم ، مولانا عبد النعیم ، مولانا عمر حیات کے ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسری نشست کا آغاز بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر جناب قاری مشتاق احمد رحیمی کی تلاوت سے ہوا۔ صدارت نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے کی۔ بیانات پروفیسر مولانا غلام سرور قاسمی، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا جمیل الرحمن اختر، مولانا قاری نذیر احمد نے ختم نبوت کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور قادیانیت کے دجل وفریب کا پردہ چاک کیا۔
خیبر پختونخواہ کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے سیرت نبوی ﷺ کے مختلف ادوار کو بیان کیا۔ بریلوی مکتب فکر کے مولانا سید عاشق حسین، مولانا شفاعت رسول نوری نے اپنے بیانات میں اتحاد امت کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا۔ جمعیت اہل حدیث کے جنرل سیکرٹری مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ قادیانیوں کو امتناع قادیانیت آرڈیننس کا پابند کیا جائے۔ خطیب خوش الحان مولانا عبدالرؤف چشتی نے خطاب میں کہا کہ مرزا قادیانی کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر وسیم اختر ایم۔ پی۔ اے بہاولپور، مسلم لیگ کے جناب نعیم صفدر انصاری ایم۔ پی۔ اے قصور، جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا امجد خان، ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا۔ ہم ان شاء اللہ! پارلیمنٹ کے ایوانوں کے اندر کسی کو بھی اسلامی شقوں کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جب بھی پارلیمنٹ میں کوئی مسئلہ آتا ہے تو ہم بھرپور دفاع کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
کانفرنس میں نقابت کے فرائض مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالرزاق نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کے پنڈال اور سٹیج کو قائدین کی آمد کو خوش آمدید کے خوبصورت بینروں اور فلیکسوں سے سجا دیا گیا۔ مولانا اللہ وسایا نے بیان میں گیمبیا افریقہ کے ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے خلاف ان کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔ وہاں کے حکمرانوں کو اتنا عظیم اور خوشکن فیصلہ کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ قاری مشتاق احمد رحیمی اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے تمام انتظامیہ افسران بالا اور آنے والے مہمانوں اور قافلوں کو خوش آمدید کہا۔ سیکورٹی کا نظم مولانا خالد محمود لاہور والوں کے طلباء اور اقراء روضۃ الاطفال قصور کے اساتذہ وعملہ نے سرانجام دیا۔ انتظامی امور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے ناظم میاں محمد معصوم انصاری اور حاجی شبیر احمد مغل، طلباء جامعہ رحیمیہ، انجمن تاجران اور پریس رپورٹران، کالج سکولز کے اساتذہ طلباء نے احسن طریقے سے فرائض سرانجام دیئے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مفتی عبدالعزیز عزیزی اور مولانا محمد صادق، مولانا حافظ طارق، مولانا عبداللطیف، مولانا افضل، مولانا عمر فاروق، مولانا طاہر، قاری نور محمد شاکر، مولانا حبیب اللہ، قاری عبدالکریم، حافظ طلحہ، حافظ عبداللطیف، قاری محمد طاہر، قاری سیف اللہ رحیمی، قاری محمد رفیق، قاری محمد رمضان، قاری شاہ محمد، مفتی زبیر، قاری جمال دین، مولانا عبدالغنی، مولانا رفیق، بھائی ساجد، مولانا سیف اللہ لیاقت طلباء جامعہ عبداللہ بن عباس اور طلباء جامعہ رحیمیہ قصور کے علاوہ کافی دوستوں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے میں خوب محنت کی۔ سید نفیس الحسینی کے خلیفہ مجاز مولانا پیر رضوان نفیس کی دعا سے کانفرنس رات ایک بجے خیر وخوبی سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۵ء ص ۵۵، ۵۶)
چنیوٹ میں تین روزہ کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۱ تا ۲۳؍ اپریل ۲۰۱۵ء جامع مسجد محمدی میں تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالوارث نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی، خروج دجال، ابطال مرزائیت، کذبات مرزا قادیانی کے عنوانات پر لیکچر دیئے۔ جس میں شہر کے علماء کرام، ائمہ مساجد، مدرسین مدارس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کورس کا دورانیہ ساڑھے دس تا نماز ظہر رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۵ء ص ۲۴)
طالبات کے لئے دوروزہ ختم نبوت کورس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۲، ۲۳؍ اپریل ۲۰۱۵ء بروز بدھ، جمعرات کو دوروزہ ختم نبوت کورس جامعہ رحیمیہ قصور کے زیراہتمام مستورات اور طالبات میں منعقد ہوا۔ قصور کی مستورات میں ان کا شوق قابل دید تھا، یہ کورس استاذ القراء امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کی صدارت میں ہوا اور مولانا پروفیسر غلام سرور قاسمی اور الحاج محمد معصوم انصاری نے خوب سرپرستی فرمائی۔ بیانات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالرحیم لاہور، خطیب خوش الحان مولانا تاج محمود ریحان اور مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق مجاہد قصور کے ہوئے۔ عنوانات: عقیدہ ختم نبوت، مسئلہ رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان کی شخصیت اور ان کے فضائل ومناقب، اہمیت اور لعین کذاب کی کذب بیانیاں اور مکروہ چہرے سے پردہ اٹھایا گیا اور اسی تقریب میں حافظ محمد طاہر کا قرآن پاک مکمل ہونے پر اساتذہ اور علماء حاضرین کو اپنا آخری سبق سنایا تقریباً ۴۵۰ خواتین نے کورس میں حصہ لیا اور کورس کے اختتام پر طالبات کو اسناد بھی پیش کی گئیں اور طالبات نے عزم کیا کہ ہم ختم نبوت کا پیغام گلی گلی، کوچہ کوچہ، محلہ محلہ، گاؤں گاؤں پہنچائیں گی۔ ان شاء اللہ !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۱۵ء ص ۱۵)
تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
کانفرنس کے لئے ۱۸؍ فروری کوٹری، ۲۵؍ فروری مٹیاری اور ۲۷؍ فروری جامشورو میں بھرپور اجلاس ہوئے۔ درجن سے زائد میٹنگ اور ۱۰۰ سے زائد پروگرامز ہوئے۔ مبلغین ختم نبوت نے مساجد میں دروس دیئے۔
مؤرخہ ۲۳؍ اپریل کو حیدرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں کانفرنس کی صدا کو مزید مضبوط کرنے کے لئے تشہیری کیمپ میانی روڈ، حیدر چوک اور نسیم نگر چوک پر لگائے گئے۔
تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ نعت پیش کی گئی۔ اس کے بعد علماء کرام کے بیانات شروع ہوئے۔ عالمی مجلس کے مبلغین نے اپنے موضوع پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ وفاق المدارس العربیہ سندھ کی نمائندگی مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں نے کی۔ مختلف اوقات میں قرارداد پیش کرنے کے لئے جمعیت علماء اسلام (ف) حیدرآباد کے امیر مولانا تاج محمد ناہیوں، مولانا مفتی حبیب اللہ، قاری محمد کامران احمد، جمعیت علماء اسلام (س) کے حافظ محمد ارمان چوہان تشریف لائے اور قرارداد پیش کی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا حکیم محمد اختر کے فرزند ارجمند مولانا حکیم محمد مظہر صاحب کے صاحبزادہ جناب مولانا محمد ابراہیم نے بطور خاص شرکت کی اور اپنے اسلاف کی روایات کے مطابق خوب دل کھول کر عقیدہ ختم نبوت اور جماعت کی مساعی کو داد وتحسین پیش کیا۔
کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد ابراہیم، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا سیف الرحمن، مولانا امیر عبداللہ فاروقی، عبدالوحید قریشی، ناظم علی آرائیں، مولانا مختار احمد، مولانا تجمل حسین اور مولانا عبدالحئی کے بیانات ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت، اسلام کی سربلندی اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی پر مفصل خطاب فرمایا اور مسلمانوں کے دلوں کو جذبہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عشق رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خوب تیار کیا۔
کانفرنس کی کامیابی اور کامرانی کے لئے تمام مسلمانوں نے دل کھول کر حصہ لیا۔ چراغ مسجد جو کانفرنس کا مرکز تھی، کے نمازیوں اور اہل محلہ نے اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لئے دن رات محنت کی۔ علماء، طلباء، مدارس ومساجد، اسکول اور کالج کے مسلمانوں نے دن رات خوب محنت کی۔ کانفرنس میں مدرسہ الحسینیہ شہداد پور کے شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم صاحب تشریف لائے اور خوب سرپرستی فرمائی۔ مولانا مفتی حفیظ الرحمن اور مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم سے بھر پور انداز میں شریک ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ مئی ۲۰۱۵ء ص ۲۰ تا ۲۱)
کارروائی سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۶ ، ۷؍ رجب المرجب ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۶ ، ۲۷ اپریل ۲۰۱۵ء مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی رکن مرکزی شوریٰ، مولانا غلام محمد گوپانگ بدین، والد محترم قاری منیر احمد گوجرانوالہ، حاجی محمد اسلم والد محترم مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، عبدالرحمن ماموں مولانا محمد قاسم رحمانی، حافظ عبدالقادر میرانی، ضرار عثمانی اوکاڑہ، مولانا عبدالقادر پتوکی، قاری غلام حسن حافظ والا، جلالپور پیروالا، چوہدری محمد اقبال گجر منڈی بہاؤالدین، مولانا دوست محمد شورکوٹ، والد محترم ظفر سجاد لالہ موسیٰ، والد محترم شیخ عبدالغفار، والد محترم غلام شبیر پنوعاقل سمیت تمام مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ مولانا ریاض وٹو مبلغ شیخوپورہ کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصل آباد، قصور، حیدر آباد میں منعقد ہونے والی بین الاضلاعی ختم نبوت کانفرنسوں کی کامیابی پر اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجا لایا گیا۔ کانفرنسوں میں مدعو علماء کرام، خطباء عظام کا شکریہ ادا کیا گیا۔
تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ ہر سہ ماہی میں کم از کم ایک کورس ضرور رکھیں اور کورس کی کامیابی کے لئے بھر پور محنت کریں۔ نیز تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ اپنے اپنے حلقوں کے پروگراموں کی خبریں ماہنامہ لولاک، ہفت روزہ ختم نبوت، قومی اخبارات کے علاوہ پشاور دفتر کو بھی ضرور بھجوائیں تاکہ فیس بک پر لائی جاسکے۔ تمام مبلغین نے اپنے اپنے حلقوں کی تبلیغی رپورٹیں پیش کیں۔ جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ تبلیغی نظام میں اور تیزی لائیں۔
آل پاکستان ختم نبوت کورس چناب نگر منعقدہ ۴ تا ۲۷؍ شعبان المعظم مطابق ۲۳ مئی تا ۱۵؍ جون کے انتظامات کو آخری شکل دی گئی۔
تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ ماہ رجب میں تمام مدارس عربیہ کے دورے مکمل کرلیں۔ مدارس اور جامعات میں ترغیبی بیانات کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کرام کو شرکت کی ترغیب دیں۔ ایک سالہ کورس میں شرکت کے لئے بھی فضلاء کو تیار کریں۔ جو ان شاء اللہ العزیز آئندہ تعلیمی سال سے چناب نگر مدرسہ ختم نبوت میں منعقد ہوگا۔ شرکت کے متمنی حضرات مولانا رضوان عزیز انچارج کورس سے فون نمبر پر رابطہ فرمائیں۔ نشستیں محدود ہوں گی۔ سالانہ کورس ۱۵؍ شوال المکرم سے رجب کے آخر تک جاری رہے گا۔ شرکاء کورس کا ماہانہ ۱۵ سو روپے وظیفہ بھی دیا جائے گا۔
شاہ تاج شوگر مل منڈی بہاؤالدین کے منیجر جناب شمس امتیاز کے قبول اسلام کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے لئے دین اسلام پر استقامت کی دعاء کی گئی۔ ماہنامہ لولاک سے متعلق بھی کئی ایک فیصلہ جات کئے گئے۔ آئندہ سہ ماہی کے لئے کتاب احتساب قادیانیت جلد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نمبر ۲۴ منتخب کی گئی جس میں کل اٹھارہ رسائل ہیں۔ ہر ماہ چھ چھ رسائل کی تلخیص ہوگی اور تلخیص دفتر مرکزیہ کو ہر ماہ بھیجنا ضروری ہے۔ آئندہ میٹنگ ۸، ۹، شوال المکرم مطابق ۲۴، ۲۵ / جولائی کو دفتر ملتان میں ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۵ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا
مورخہ ۲۹ / اپریل ۲۰۱۵ء بروز بدھ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد جامعہ عربیہ سراج المدارس کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد خانقاہ سعدیہ نقشبندیہ میں کیا گیا جس کی چار نشستیں ہوئیں۔
پہلی نشست بعد از نماز ظہر : ”ختم مجددیہ و ختم معصومیہ“ مولانا محمد زکریا نے پڑھائے ۔ صدارت: مولانا عبدالغفور صاحب دامت برکاتہم ۔ خصوصی خطاب: مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے ختم نبوت کی اہمیت اور علماء کرام کی اس میدان ضرورت کے عنوان پر لاجواب بیان فرمایا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صاحبزادہ مولانا مفتی عبد الہادی نے سرانجام دیئے۔
دوسری نشست بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔ صدارت: مولانا محب اللہ صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ مہمان خصوصی : مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ ۔ بیان : مولانا قاضی ہارون الرشید راولپنڈی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ۔
تیسری نشست بعد از نماز مغرب : زیر صدارت: مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب دامت برکاتہم اٹک ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد زکریا نے سرانجام دیئے۔ بیان : مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی مدظلہ اور مولانا قاضی عبدالرشید مدظلہ راولپنڈی نے کیا۔ تیسری نشست کے بعد جامعہ عربیہ سراج المدارس کے دورہ حدیث اور درجہ حفظ کے طلباء کی دستار بندی ہوئی۔ طلباء کو دستار فضیلت مولانا عبدالغفور، مولانا محب اللہ، مولانا قاضی ارشد الحسینی اور مولانا خواجہ خلیل احمد کے مبارک ہاتھوں پہنائی گئی۔
چوتھی اور آخری نشست بعد نماز عشاء : زیر صدارت : مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ ۔ بیان : مولانا عبدالرؤف چشتی اوکاڑہ ۔ مولانا محمد الیاس گھمن کا بیان ہوا۔ اختتامی دعاء پیر طریقت مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب دامت برکاتہم نے رات بارہ بجے فرمائی۔ الحمد للہ ! کانفرنس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس ہال کی خوبصورتی اور حسن انتظام کی تمام تر تدبیر کا سہرا مولانا محمد زکریا صاحب کے رفقاء اور جامعہ عربیہ کے اساتذہ مولانا مفتی محمد عثمان ، مولانا مفتی حبیب الرحمٰن مولانا قاری محمد ابراہیم، مولانا خطیب الرحمٰن کی محنت کا ثمرہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فلاح دارین کا سبب بناویں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۵ء ص ۲۰)
تحفظ ختم نبوت سیمینار کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ۶ /مئی ۲۰۱۵ء بروز بدھ صبح دس بجے بمقام دفتر ختم نبوت آرٹ اسکول روڈ پر تحفظ ختم نبوت سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ چنانچہ فیصلہ کے مطابق سیمینار کے لئے معززین علاقہ، علماء کرام، مہتمین حضرات، وکلا دانشور اور تاجر برادری کو شرکت کے دعوت نامہ جاری کئے گئے، تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب تلاوت کلام پاک سے سیمینار کا آغاز ہوا۔ مولانا محمد یونس نے نقابت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے ناظم نشر و اشاعت مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی، مولانا انوار الحق ، مولانا عبدالواحد (امیر کوئٹہ ) نے مختصر بیانات کئے۔ مولانا عبد الباقی ، مولانا محمد راشد مدنی کے بھی بیانات ہوئے ۔ فتنہ قادیانیت کی سنگینی، اپنی ذمہ داری کا احساس تحفظ ختم نبوت کے کام کی عظمت ، حضور اکرم ﷺ کی ناموس سے متعلق بیان ہوئے۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما جناب حافظ حسین احمد نے بھی پروگرام میں بطور خاص شرکت فرمائی اور بیان بھی کیا۔ مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اپنے بیان میں دیگر اہم اور ضروری باتوں کے علاوہ اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت وقت بلوچستان کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے قادیانی فتنہ کے ساتھ ساتھ تربت کی سرزمین پر پائے جانے والے ذکری فتنہ کا بھی جائزہ لے۔ یہ فتنہ اسلام، پیغمبر اسلام اور شعائر اسلام کی مکمل طور پر خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ سے متعلق ایک اللہ کی عبادت، محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ذکری فتنہ رب کریم کی توہین، محمد رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی اور شعائر اسلام کی توہین و تنقیص کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ مسلمانوں کے بیت اللہ کے مقابلہ میں بیت اللہ بنا رکھا ہے۔ غرضیکہ اس طرح باقی چیزیں ....! تو کیا یہ ساری باتیں خلاف اسلام نہیں؟ اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا سدباب کرے۔
پروگرام کے آخر میں مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا اور مجلس کی دن رات کی محنت اور کوشش کو سامعین کے سامنے پیش کرتے ہوئے ۱۹۷۴ء کی تحریک کا تذکرہ کیا۔ تحریک کیسے چلی؟ اسباب کیا بنے؟ امت کیسے اکٹھی ہوئی، سیاسی و دینی جماعتیں کیسے متحرک ہوئیں؟ اسی داستان کو بیان فرمایا۔ پوری دنیا میں قادیانیت منہ چھپاتے پھرتے ہیں، انہیں کوئی اسلام کا سرٹیفکیٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حال ہی میں گیمبیا کی اسلامک لاء سپریم کونسل نے بھی قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا اور پاکستان کے علماء کی محنت اور قومی اسمبلی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی کاوشوں کو بنیاد بنا کر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔
بہر حال! سیمینار خوب کامیاب رہا۔ تمام شرکاء نے کام کا عزم کیا اور اپنی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر خوب اعتماد کرتے ہوئے کام کرنے کو تیار ہوئے۔ سیمینار میں جماعتی رفقاء میں جناب حاجی خلیل الرحمن، حاجی نعمت اللہ، حاجی گل محمد، حاجی احتشام، ڈاکٹر عتیق الرحمن، مفتی عزیز الرحمن، حاجی عبدالاحد، حاجی عمران، حافظ حمزہ ملوک، قاری رضوان، محمد ارسلان فیاض، حاجی عارف شاہ، قاری عبدالرحمن، صدر الدین آغا، غازی عبدالرحمن، مولانا محمد رفیق، حاجی حزب اللہ، حاجی نصر اللہ، مفتی محمد احمد، حاجی سراج الدین آغا، حاجی ظفر، حاجی الیاس، عبدالصمد سومرو اور دیگر اہم شخصیات کے بھر پور شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانانِ گرامی کے اکرام کا بھی بہت عمدہ نظم کیا گیا۔ علماء کرام میں مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالرحیم رحیمی، شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، شیخ التفسیر حافظ حسین احمد شرودی، مولانا عطاء اللہ، مولانا محمد اسحاق مینگل، مولانا محمد شکیل اور مفتی عبدالرزاق شریک ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جون ۲۰۱۵ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۷؍ مئی ۲۰۱۵ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ قصور پورہ راوی روڈ لاہور کے زیر اہتمام نویں سالانہ تاریخی عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس زرفشاں اسٹریٹ نزد جامع مسجد فاروق اعظم لاہور میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز قاری سید لئیق شاہ کی تلاوت سے ہوا، جب کہ نعت و نظم مولانا محمد قاسم گجر، مولانا رانا محمد عثمان قصوری نے پیش کی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لاہور کے سرپرست شیخ الحدیث مولانا نعیم الدین نے کی۔ کانفرنس میں عالمی اتحاد اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا عمر حیات، مولانا عبدالنعیم، قاری محمد اقبال، حامد بلوچ، قاری محمد اسلم عثمانی، مجلس یونٹ قصور پورہ کے امیر محمد اشفاق، رانا محمد عظیم، قاری غلام نبی، ڈاکٹر اکرام الحق، علیم احمد، مولانا محمد عارف دین پوری، قاری شفیع الرحمن اور میاں عاصم صدیق ایڈووکیٹ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والے احباب اور اہل علاقہ نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت کا فریضہ جاری وساری رکھیں گے۔ امریکا میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش دنیا کی بدترین دہشت گردی ہے، کفار کی طرف سے بار بار توہین رسالت مسلم حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ مسلمان ممالک کے سربراہان توہین رسالت کے خلاف ہونے والی سازشوں کے روک تھام کے لئے متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ گستاخانہ خاکے مسلمانوں کے ایمان پر سراسر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ ہر مسلمان کا دینی وایمانی فریضہ ہے۔ مکہ اور مدینہ کے تقدس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نعیم الدین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی روح اور بنیاد ہے۔ قادیانی آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت ہیں۔ حکومت ان کی غیرآئینی سرگرمیوں کا سدباب کرے۔
مولانا محمد الیاس گھمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت احیادین اور امت کی وحدت کا مظہر ہے، مسلمانوں کی اجتماعیت ویگانگت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے ساتھ وابستہ ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پرعمل درآمد کروانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور آئین پاکستان سے سنگین مذاق ہے۔ مولانا قاری علیم الدین شاکر نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ اور قادیانیت کے متعلق قوانین کسی بھی صورت ختم نہیں ہونے دیں گے۔
کانفرنس رات گئے تک جاری رہی، سامعین کا جوش وجذبہ دیدنی تھا۔ فضا تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍جون ۲۰۱۵ء ص ۲۱)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیراہتمام گزشتہ دنوں سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیرصدارت قاری خلیل الرحمن انڈھڑ، زیر نگرانی مبلغ مولانا محمد حسین ناصر، زیرانتظام حافظ عبدالغفار شیخ منعقد ہوئی، جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد راشد مدنی حمادی، مولانا عبدالغفور، مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا اسداللہ کھوڑو ودیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ مولانا عبداللطیف نے اپنے بیان میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرتے، یہ بہت بڑی ایمانی کمزوری ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہے تو پھر حضور اکرم ﷺ کے دشمنوں کا اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ کانفرنس الحمدللہ! رات ایک بجے اختتام پذیر ہوئی۔ تلاوت کی سعادت قاری عبدالقدوس خان نے حاصل کی جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عبدالغفار نے ادا کئے۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے حافظ عبدالغفار شیخ، قاری عبدالقادر چاچڑ، غلام شبیر شیخ، حافظ محمد ایاز شیخ، حافظ عبدالعزیز شیخ، محمد شاہد شیخ اور دیگر جماعتی احباب نے بھرپور تعاون کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے بیان کے بعد حافظ عبدالغفار شیخ کے والد اور غلام شبیر شیخ کے والد کی وفات پر ان کے گھر جا کر تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍جولائی ۲۰۱۵ء ص ۸)
ختم نبوت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامعہ شیخ الہند محمود حسن جامع مسجد مہتاب ہربنس پورہ میں تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس کی سرپرستی مولانا قاری محمد حنیف کمبوہ نے کی۔ جب کہ نگرانی مولانا خالد محمود، قاری اظہار الحق، مولانا سعید احمد نے کی۔ ۱۱ تا ۱۳؍مئی ۲۰۱۵ء کورس کا دورانیہ مغرب تا عشاء۔ عشاء تھوڑی تاخیر کے ساتھ۔ ۱۱؍مئی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ثانی، مولانا خالد محمود نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی کے عنوان پر لیکچر دیئے۔ ۱۲؍مئی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سعید احمد، مولانا محمود الرشید نے حیات مسیح علیہ السلام اور رفع ونزول مسیح ، ظہور امام مہدی ، خروج دجال پر لیکچر دیئے۔ مولانا عبدالنعیم، قاری ذکاء الرحمن اختر نے خصوصی شرکت کی۔ ۱۳؍مئی مغرب سے عشاء تک آخری تقریب جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور کے استاذالحدیث مولانا نعیم الدین مدظلہ نے خطاب فرمایا۔ ایک سو کے قریب حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۵ء ص ۵۰)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گوادر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی طرف سے بندہ (مولانا احمد بلوچ) کو سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گوادر میں منعقد کرنے کی ذمہ داری دی گئی، تاہم الحمد للہ! یہ میرے لئے بہت بڑی سعادت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں اپنا نام شامل کرنے کا سنہری موقع تھا، پروگرام کی تاریخ اور مقام ۲۴؍مئی بروز اتوار بعد نماز عصر جامع مسجد بلال گوادر طے کی گئی۔
۱۶؍مئی بروز اتوار کراچی سے تربت کا سفر کیا، صبح سویرے اپنے گاؤں ڈگاری میں فجر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد گھر جا کر والدین کی خدمت میں حاضری دی۔ پروگرام سے متعلق اطلاع دی اور پروگرام کی کامیابی کی خوب دعائیں کرائیں، پھر تربت شہر کی طرف روانہ ہوا، وہاں پر مختلف علماء کرام سے پروگرام کے متعلق ملاقات کی اور کانفرنس کی دعوت اور مجلس کا پیغام پہنچایا۔
مدرسہ اصحاب صفہ کے مدیر مولانا مفتی مراد جان، مولانا عمران صاحب سے ملاقات کی۔ تربت شہر میں مولانا محمد فاروق، مولانا احمد مدنی پھر شیر مکران مولانا محمد الیاس، مولانا ادریس اور دیگر کو دعوت دی اور شفقت وسرپرستی کی درخواست کی تو شیر مکران نے خوشدلی سے قبول کیا، مولانا خالد ولید سیفی، مولانا عبدالحفیظ مینگل، مولانا عبدالباسط فیض اور مدرسہ عربیہ دار ارقم تربت کے مدیر و بندہ کے برادر کبیر مولانا مفتی زاہد حسین، مولانا حافظ عبدالقیوم، مولانا زبیر عارف و دیگر اساتذہ کرام کے سامنے مجلس کا پیغام و دعوت پہنچائی، بعد ازاں صبح سویرے تربت سے گوادر کے لئے روانہ ہوا، وہاں پہلے سے بندہ کو لینے کے لئے ہمارے دوست و مخلص ساتھی مولانا محمد مجاہد معاویہ موجود تھے۔
مدرسہ عربیہ مطلع العلوم نیا آباد گوادر میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مولانا مجاہد کے ہاں طعام واکرام سے فراغت حاصل کی اس کے بعد کانفرنس کے پوسٹر لگانے کا کام شروع کیا، جس کے لئے تین ٹیمیں تشکیل دی گئیں، ایک ٹیم کی بندہ نے خود نگرانی کی، پوسٹر لگانے کے کام میں شریک عمل میرے ساتھ طالب علم محمد بلال، طالب علم محمد عمر و دیگر شریک تھے۔ مولانا مجاہد، مولانا ناصر دشتی بھی مصروف عمل ہوئے۔ مطلع العلوم کے طلباء کی ٹیم قاری محمد عالم کی نگرانی میں مختلف مساجد، مدارس، دفاتر اور عوامی مقامات پر اشتہار لگاتی رہی۔ رات گئے اس عمل سے فارغ ہوئے۔ الحمد للہ! رات کا قیام مدرسہ خلفاء راشدین فقیر کالونی میں تھا، وہاں پر علماء کرام اور عوام الناس سے خصوصی نشست ہوئی، صبح ناشتہ کے بعد مدرسہ مطلع العلوم کے علماء کرام سے خصوصی ملاقات کی۔
مدرسے کے مدیر اور جمعیت علماء اسلام گوادر کے امیر مولانا عبدالحمید انقلابی، مولانا یونس، مولانا عبدالحکیم، مولانا ندیم، مولانا عنایت، مولانا اسحاق، صوفی عبدالناصر، حافظ بلال، سید مفتی اختر علی، قاری محمد عالم، قاری رفیق احمد موجود تھے۔ باوجود اس کے کہ مدرسہ اور وفاق المدارس العربیہ کے امتحان چل رہے تھے، پھر بھی ہمارے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور اچھے انداز میں تعاون فرمایا۔ مولانا انقلابی اور مولانا محمد الیاس دشتی نے دو مرتبہ جمعیت کا اجلاس بلایا، بندہ بھی شریک رہا اور اجلاس کا ایجنڈا سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس تھا۔ گوادر میں تقریباً ۸۰ کے قریب مساجد ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد دعوت نامہ ائمہ مساجد، علماء کرام اور معززین شہر کو دیئے گئے۔ میری کوشش تھی کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئی مسجد اور عالم دین رہ نہ جائے، اکثر علماء کرام سے ملاقات بندہ نے خود کی بعد نماز عصر راقم، بلال احمد مدرسہ علوم اسلامیہ کوہ بُن گئے، وہاں پر مولانا محمد ایاض بلوچ مدیر مدرسہ، مولانا عبدالحلیم، مولانا سلمان، مولانا احمد دین، قاری عبدالقدوس، طلباء و دیگر رفقاء سے ملاقات کر کے کانفرنس سے متعلق دعوت دی پھر رات کو جامع مسجد نورانی میں قریب پون گھنٹہ سیرت کے عنوان پر گفتگو کی اور کانفرنس کی بھر پور دعوت دی۔ نورانی مسجد کے امام و خطیب مولانا عبدالکریم سے اچھی نشست ہوئی۔ اگلے روز قاسم العلوم گوادر میں علماء وطلباء سے ملاقات کی، وہاں پر مولانا قاضی ابراہیم اور مولانا محمد خیر فاروقی سے ملاقات ہوئی۔ پھر مرکزی جامع مسجد گوادر جہاں پروگرام منعقد کرنا تھا کے امام و خطیب مولانا عبد الہادی نائب امام و خطیب مولانا شاہد اور دیگر رفقاء سے ملاقات کی۔ رات کا کھانا اور خطاب مولانا محمد راشد کی مسجد علی میں طے تھا، نماز عشاء کے بعد محبت نبوی کے عنوان پر بیان کیا اور کانفرنس کی بھر پور آواز لگائی۔ دن گزرے رات آئی بس وقت گزرتا رہا۔
گوادر سے ۱۳ کلومیٹر کے فاصلہ پر سُر بندر میں رات مدرسہ دارالتوحید چلے گئے، وہاں پر مولانا اللہ بخش، مولانا حافظ عبدالرشید، عبدالقادر و دیگر دوستوں سے ملاقات کی اور کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی دعوت چلائی۔ واپس گوادر آ کر جامع مسجد فیضی کے امام و خطیب مولانا سعید احمد دشتی اور ان کے رفقاء سے ملاقات کی۔ مسجد یٰسین کے امام و خطیب اور ختم نبوت کے پرانے محبّ مولانا قاری علی بلوچ سے ملاقات کی اور نمازی بھائیوں کو کانفرنس سے متعلق آگاہ کیا، نماز سے متصل جامع مسجد شیر عمر میں بیان ہوا۔ الحمد للہ! یوں مکمل دن کام میں گزر گیا۔
اگلے روز پشکان کے علماء کرام مولانا محمد انور، مولانا غلام اللہ سلیمی، مولانا محمد نور ودیگر سے حال واحوال کیا اور کانفرنس کی دعوت دے کر جمعہ میں اعلانات کے لئے عرض کیا جو انہوں نے قبول کیا، اسی طرح تحصیل جیوانی کے علماء کرام مولانا محمد عارف، مولانا زاہد، مولانا سلیم اللہ ودیگر کی خدمت میں کانفرنس سے متعلق ملاقات ہوئی اور ان حضرات نے عملاً مہم چلائی، پھر گوادر میں بندہ نے مولانا پندرانی، مولانا لطف اللہ، مولانا انور منور، حکیم داد، عبدالصمد ودیگر سے ملاقات کی۔ جامع مسجد بلال میں جمعہ کا خطبہ و تقریر راقم نے دیا اور کانفرنس سے متعلق آگاہ کیا، پھر رات کو جامع مسجد سید المرسلین میں امام و خطیب مولانا فیوض عبدالناصر کی موجودگی میں ۳۰ منٹ تقریر کی اور عوام کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ جمعہ کے اجتماعات میں تمام علماء کرام نے اعلانات کئے، ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پھر ہفتہ کی شام مولانا قاضی احسان احمد مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے رفقاء کے ساتھ کراچی سے گوادر نیا آباد تشریف لائے، جامعہ مطلع العلوم میں مولانا عبدالحمید انقلابی اور طلباء نے وفد کا بھر پور استقبال کیا، وفد میں ہمارے دوست، ساتھی اور مجلس کے محبّ و معاون مولانا عبدالعزیز، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن اور حافظ محمد اسامہ شریک تھے۔
عشاء کی نماز کے بعد رات کا کھانا اور قیام مولانا مجاہد معاویہ کے پاس تھا۔ اتوار ۲۴؍ مئی بعد نماز عصر سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس شروع ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام سے کیا گیا۔ پروگرام تین نشستوں پر مشتمل تھا، اسٹیج و نظامت بندہ نے سنبھالا ہوا تھا، کراچی سے آئے ہوئے ہمارے مہمان مولانا قاری محمد عامر نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس کے بعد مولانا عبدالقیوم حقانی مدرس مدرسہ دارارقم تربت نے ”حیاء و پاک دامنی اور ہماری ذمہ داری“ کے موضوع پر بیان کیا، دوسرے مقرر مولانا عبدالحی مطمئن تھے جنہوں نے عقیدۂ ختم نبوت، ایمان کی دولت کے موضوع پر بیان کیا اور سامعین کی ذہن سازی کی اور شیزان کے بائیکاٹ پر زور دیا۔ دوسری نشست نماز مغرب کے بعد مولانا حافظ عبدالرشید سُر بندر کی تلاوت کے ساتھ شروع ہوئی، نعتیہ کلام حافظ اسامہ اور طالب علم امید علی نے پیش کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا مفتی زاہد حسین بلوچ مدیر مدرسہ دارارقم تربت نے امام مہدی علیہ الرضوان، حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور خروج دجال کے موضوع پر بہترین و مدلل بیان کیا، انہوں نے کہا کہ یہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے اس کے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا، یہ فتنوں کا دور چل رہا ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور علماء کے ساتھ رہیں تا کہ نجات ممکن ہوسکے، پھر مولانا محمد عارف بلوچ امیر جمعیت علماء اسلام جیوانی نے ’’عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری‘‘ کے موضوع پر بیان کیا، بعد نماز عشاء تیسری نشست کی تلاوت بندہ کے لئے سعادت عظیمہ تھی، نعتیہ کلام مولوی غلام اللہ سلیمی نے پیش کیا۔ خطیب بلوچستان شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید ملازئی مدیر جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کراچی کے فرزند ارجمند مولانا عبدالعزیز ملازئی نے دلنشین انداز میں بیان فرمایا اور کہا کہ یہودی و عیسائی و مرزائی و دیگر غیر مسلم قومیں جلسہ منعقد کر کے آپ علیہ السلام کی شان میں العیاذ باللہ گستاخی کرتے ہیں تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر گلی کوچہ اور ضلع میں سیرت کانفرنس منعقد کر کے آپ علیہ السلام کی سیرت و مدح بیان کر کے سنتوں پر عمل کریں، ہمارے مہمان خصوصی، ہر دلعزیز شخصیت، عاشق رسول، میرے محبّ مشفق مولانا قاضی احسان احمد کا بیان نہایت مدلل، پُرمغز، روایتی گھن گرج کا حامل تقریباً پون گھنٹہ پر محیط تھا۔ سامعین حضرت کے بیان سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔ شیزان جوس و دیگر مرزائی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ اور ختم نبوت کے کاز و مشن پر مر مٹنے کے عہد کئے گئے۔ حضرت کے بیان کے بعد طالب علم تیمور شہید، عبدالوحید مرحوم، انور میر و دیگر کے لئے فاتحہ خوانی اور دعاء کرائی گئی اور مظلوم مسلمان جو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، ان کی رہائی اور آزادی کی دعاء کی گئی۔ ہمارے میزبان و نگران مولانا عبد الہادی کی دعا سے جلسہ اختتام پذیر ہوا، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین!
مجلس کی طرف سے تمام علماء و طلباء، عوام و کارکنان ختم نبوت انتظامیہ سب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ آخر میں دور دراز سے آئے ہوئے تمام مہمانان گرامی کے لئے مجلس کی طرف سے طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔ کراچی سے تشریف لائے ہوئے وفد کا قیام جناب نبیل بلوچ کے پُر اصرار اور شفقت پر مبنی دعوت پر اُن کی رہائش گاہ پر تھا۔ جناب برادرم شبیر بلوچ نے خوب مہمان نوازی کی۔ ربّ کریم تمام احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ کانفرنس مسلمانوں کے ایمان کی تقویت اور قادیانیوں کے ایمان کا باعث ثابت ہو۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۱۵ء ص ۲۱،۲۲)
۳۴ واں تحفظ ختم نبوت کورس، چناب نگر کی اختتامی تقریب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام امسال ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ کے امتحانات کے اختتام کے بالکل متصل ۴؍شعبان ۱۴۳۶ھ ۲۳؍مئی ۲۰۱۵ء کو کورس کا آغاز ہوا۔ جس کا اختتام الحمدللہ! ۲۶؍شعبان ۱۴۳۶ھ، مطابق ۱۳؍جون ۲۰۱۵ء بروز اتوار ہوا۔ یوں رب کریم کی توفیق سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ میں ۲۲ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا۔ یہ ۳۴ واں سالانہ کورس تھا جو ہر سال اللہ کریم کی عنایت سے بہت ہی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔
فتنہ قادیانیت کی ابتداء ہندوستان کی سرزمین سے ہوئی۔ جہاں پر اکابرین امت نے اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ چونکہ فتنہ قادیانیت کی پشت پناہی ہندوستان کے اقتدار پر قابض انگریز کر رہے تھے۔ اس لئے علماء کرام اور عوام الناس کو مسلمانوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے بہت بڑی قربانی دینی پڑی۔ فتنہ قادیانیت نے جس رنگ و روپ ، جس زبان و انداز اور جس بھی طریقہ کار سے امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ علماء امت نے اسی انداز میں فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کی اور امت کے ایمان پر پہرہ دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا غلام قادیانی اور پھر اس کے بعد نور الدین اور بشیر الدین نے امت کو بے دین بنانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کئے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں کا رخ کیا۔ اسی رخ اور سمت میں ان کا مقابلہ کیا گیا۔ یہاں پر پڑھنے والے مسلمان طلباء کی فتنہ قادیانیت سے متعلق علمی، عملی اور تعمیری ذہن سازی کی گئی۔ جس کی بنا پر یہ فتنہ پھل پھول نہ سکا اور قریب قریب اپنی موت آپ مر گیا۔ نوجوان نسل کسی بھی ملک وملت کا بہترین اور مضبوط ترین سرمایہ ہوتی ہے۔ اس کو تعمیری اور فکری ذہن دینا، یہ اصل کامیابی ہے۔
اسی فارمولے کو اپناتے ہوئے علماء ختم نبوت کے سرخیل صدر المدرسین، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا خدا بخش شجاع آبادی جیسے عظیم المرتبت بزرگوں نے تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے امت کو باخبر رکھنے کے لئے کورس منعقد کرانے کا اہتمام کیا۔
چناب نگر کی سرزمین پر منعقد ہونے والا ختم نبوت کورس اسی سلسلہ کی کڑی ہے جو ہندوستان کی سرزمین سے پاکستان ”ملتان“ منتقل ہوا۔ پھر وہاں سے چناب نگر تا حال قائم ودائم اور جاری وساری ہے۔ رب کریم اس کو تا قیام دنیا آباد وشاداب رکھے۔ علوم نبوت کے پھیلنے کا ذریعہ بنائے رکھے۔
بحمد اللہ تعالیٰ! اس سال کورس کا آغاز ہوا تو حسب سابق ماہرین فن، اساطین امت، بزرگان دین، علوم نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے خوگر متوجہ رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مفکر اسلام مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، سفیر ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد انور اکاڑوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا قاضی محمد ابراہیم اٹک، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا غلام محمد فیصل آباد، مولانا خبیب شاہ، مولانا شاہد ندیم، مولانا محمد احمد، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر، جناب حاجی اشتیاق احمد، جناب متین خالد، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ اور راقم (مولانا قاضی احسان احمد) کے اسباق ہوئے۔ کورس کی مجلس منتظمہ کے سرخیل مولانا عزیز الرحمان ثانی تھے۔ جنہیں رب کریم نے انتہائی فکر اور لگن نصیب فرمائی ہے۔ مولانا اسحاق ساقی بہاولپور، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا محمد اقبال میلسی، بھائی غلام یاسین، مولانا محمد وسیم اسلم چناب نگر اور جناب قاری عبید الرحمان اپنے ہونہار طلباء کرام کی ٹیم کے ساتھ ہمہ وقت خدمت میں مصروف عمل رہے۔
کورس میں عقیدہ ختم نبوت، جناب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و رفع ونزول، امام مہدی علیہ الرضوان کی پیدائش وظہور، فتنہ دجال کا خروج، مرزا غلام قادیانی کی زندگی، حجیت حدیث، فرق باطلہ کا شافی وافی تقابلی جائزہ، اتحاد امت، اہل بیت ؓ کی شان، اصحاب رسول ﷺ کی تقدیس وتطہیر، فتنہ گوہر شاہی، ڈاکٹر جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ایسے بیسیوں اہم ترین عنوانات پر بہت ہی سیر حاصل اور پرمغز دلائل وبراہین کا حسین گلدستہ انتہائی شائستہ انداز میں پیش کیا جاتا رہا۔ تا کہ ہر آنے والا طالب علم دلائل سے آراستہ و پیراستہ ہو کر جب اپنے مستقر کو لوٹے تو دل کی دنیا تحفظ ختم نبوت کے مشن سے آباد ہو۔ یہ دلائل اس کے دل کی کھیتی کو صاف شفاف پانی مہیا کرتے ہوئے اسے تروتازہ، سرسبز وشاداب اور نکھرا ہوا رکھے۔
بحمد اللہ! یہ بات نعمت عظمیٰ کے طور پر زیر تحریر لارہا ہوں کہ ملک عزیز پاکستان میں بہت کورس منعقد ہوتے ہیں۔ مگر جو خصوصیات اور امتیازات اس کورس کو حاصل ہیں۔ وہ شاید ہی کسی اور کورس میں موجود ہوں۔ یہ بات تو وہی بتلا سکتے ہیں جن دوستوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ۵۳۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہیں اور سے بھی کورس کیا ہو اور اس کورس میں بھی شریک رہے ہوں۔ تاہم اختتامی تقریب سے پہلے مرحلہ وار تین امتحان منعقد ہوئے۔ پہلے ہفتہ میں قادیانی شبہات کے جوابات جلد اوّل ، دوسرے ہفتہ میں جلد دوم اور تیسرے ہفتہ میں جلد سوم کے پرچے لئے گئے۔ کامیاب طلباء کرام میں اسناد اور مجلس کی مطبوعات میں سے منتخب کتب کا سیٹ اور فی کس چار صد روپے ہدیہ محبت عنایت کیا گیا۔ امتحانات کے ساتھ ساتھ حسب سابق طلباء کے مابین تقریری مقابلہ بھی منعقد ہوا۔ امتحانات اور تقریری مقابلہ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو مزید کتب سے نوازا گیا۔
علاوہ ازیں تین وقت کھانا، ٹھنڈا پانی ، ڈسپنسری اور جنریٹر سمیت دیگر اہم ترین سہولیات سے مہمانان رسول ﷺ کا خیال رکھا گیا۔ رب کریم نے کرم فرمایا تقریباً ۳ صد کے قریب مختلف مدارس، اسکولز ، کالجز وغیرہ کے طلباء شریک کورس رہے۔ یوں اکابرین تحفظ ختم نبوت کی پرسوز دعاؤں سے یہ کورس اپنے اختتام کو پہنچا۔
اختتامی تقریب میں شہر چنیوٹ، لالیاں، احمد نگر ، سرگودھا، فیصل آباد اور گردونواح کے احباب و متعلقین نے بھر پور شرکت کی۔ اپنی دعاؤں سے آنے والے معزز مہمان طلباء کرام کو رخصت کیا۔
تقریب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امراء حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد ، مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا اللہ وسایا، مولانا شبیر احمد فیصل آباد، مولانا ظہور الحق حسن ابدال، مولانا مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی، مولانا قاری محمد زاہد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مولانا سیف اللہ خالد، مولانا قاری محمد یاسین، مولانا عزیز الرحمان رحیمی فیصل آباد، مولانا عبدالعزیز لاشاری ڈیرہ غازیخان، حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، چنیوٹ سے قاری عبدالحمید حامد، مولانا ملک خلیل احمد، مولانا فیض اللہ خان، مولانا محمد عمر اصغر، مولانا محمد عارف، مفتی محمد افضال، قاری نذیر احمد، مولانا عبدالواحد نفیسی ، مولانا محمد افضل برہانی اور دیگر جید علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ اللہ کریم اس گلشن بخاری کی آب و تاب کو باقی رکھے۔ یہ گلشن یوں ہی چمکتا و لہلہاتا رہے۔ اس گلشن کی ایک ایک کلی آنے والے کل میں گلاب کے پھول کی طرح کھل کر زمانہ بھر میں تحفظ ختم نبوت کی صدا کو بلند سے بلند تر کرتی رہے اور تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کی صدائے بازگشت سے ایک زمانہ جیتا جاگتا رہے۔ امین بحرمة النبی الکریم!
رب کریم ان تمام اکابر کی قبروں پر رحمت کی بارش نازل فرمائے۔ جنہوں نے اس میدانِ عشق ومحبت میں زندگی کی تمام بہاریں لگا کر جذبہ وفاداری کو زندہ و جاوید رکھا۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۵ء ص ۳ تا ۵)
چونتیسواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
کورس کے اختتام پر شرکاء کے تحریری و تقریری امتحانات ہوئے جس میں ذیل کے طلباء نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ تحریری امتحان میں پہلی پوزیشن جناب محمد عبداللہ بخاری بن جناب قدیر بخش فیصل آباد، دوسری پوزیشن جناب محمد زاہد بن جناب خطیب الرحمان مانسہرہ، تیسری پوزیشن جناب محمد وسیم بن جناب گلزار احمد چنیوٹ نے حاصل کی۔ تقریری امتحان میں پہلی پوزیشن جناب احسان اللہ بن جناب غلام محمد جھنگ ، دوسری پوزیشن جناب محمد آصف بن محمد حنیف قصور، تیسری پوزیشن جناب محمد عامر بن محمود خان قصور نے حاصل کی۔ کورس میں جن طلباء کرام نے شرکت کی ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسمائے گرامی شرکاء کورس
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 عبدالقدیر غلام محمد مظفر گڑھ 2 سید امیر خان اطلس خان چنیوٹ 3 عماد اللہ محمد اسلام چارسدہ 4 انوار اللہ مولانا کبیر صوابی 5 دانیال گل امین صوابی 6 عبدالعزیز عبدالرشید شیخ خیر پور میرس 7 آفتاب احمد مشتاق احمد نواب شاہ 8 صدام حسین خان محمد خیر پور میرس 9 عبدالکریم علی نواز نصیر آباد 10 شکیل احمد عبدالستار لکی مروت 11 بشار احمد شمس الدین خیر پور میرس 12 محمد صفدر غلام حسین سرگودھا 13 ظہور احمد علی حسن جھل مگسی 14 نجم الدین علی شیر نواب شاہ 15 ثناء اللہ محمد صدیق نواب شاہ 16 عبدالرؤف شعیب الدین سکھر 17 ابوبکر غالب خان مردان 18 عبدالعزیز باچہ سعید باچہ صوابی 19 علی مراد چاکر خان نواب شاہ 20 نصر اللہ امان اللہ خیر پور میرس 21 عبدالواحد سولنگی عبدالستار خیر پور میرس 22 عبدالوہاب حاجی محمد ملہار خیر پور میرس 23 محمد ایوب عبدالمجید خیر پور میرس 24 نعیم اللہ سخی جان پشاور 25 عطاء الرحمن محمد اسجد مدنی نواب شاہ 26 عطاء الحسن سیف الرحمن بہاول پور 27 محمد طیب محمد زکریا کوہستان 28 محمد معاذ بصر نور البصر صوابی 29 ہارون الرشید عبدالرشید فیصل آباد 30 نصر اللہ منصور لوح محفوظ صوابی 31 محمد رئیس منظور حسین جھنگ 32 محمد فرحان سردار محمد جھنگ 33 سیف اللہ خلیل الرحمن چارسدہ 34 اویس اللہ ارشد اللہ نوشہرہ 35 محمد علی شیر رحمان نوشہرہ 36 فضل مولا فضل الہی نوشہرہ 37 حافظ محمد وقاص مظہر اقبال فیصل آباد 38 محمد نعیم محمد امین کرم ایجنسی 39 مختار احمد سعید چوہدری علی محمد جھنگ 40 احسان قادر منصب خان سرگودھا 41 محمد عرفان محمد رمضان سرگودھا 42 محمد ظفر اللہ نواب خان حیدرآباد 43 شعیب احمد محمد عبداللہ رحیم یار خان 44 محمد سلمان عبدالستار بہاول پور 45 محمد عبداللہ کبیر بخش فیصل آباد 46 مصباح الرحمن مسعود الرحمن لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
47 عبدالرب غلام رسول مظفر گڑھ 48 شاہد اسحاق محمد اسحاق قصور 49 محمد یوسف شکیل احمد ڈی جی خان 50 محمد ساجد عبدالرحمان راجن پور 51 محمد کاشف عزیز محمد راجن پور 52 محمد نعمان حسن الوہاب نوشہرہ 53 محمد نبیل عبدالواحد لودھراں 54 محمد ساجد غلام فرید لودھراں 55 محمد اعجاز محمد نواز بہاول پور 56 محمد طلحہ منیر منیر احمد گوجرانوالہ 57 محمد زاہد خطیب الرحمٰن مانسہرہ 58 محمد عثمان آس محمد ملتان 59 احسان اللہ غلام محمد جھنگ 60 غلام مصطفیٰ غلام فرید جھنگ 61 محمد سلمان عجب خان مردان 62 محمود احمد زرولی خان وزیرستان 63 محمد فاروق عبدالغنی فیصل آباد 64 محمد بلال احمد ولی محمد فیصل آباد 65 غلام محی الدین نور محمد خان غنی خیل 66 حبیب الرحمٰن ایوب خان مردان 67 یاسر محمود غلام رسول ٹوبہ ٹیک سنگھ 68 اسد نواز محمد نواز ڈی جی خان 69 محمد رمضان دین محمد ڈی جی خان 70 محمد ابوبکر صدیق حاجی اللہ داد ڈی جی خان 71 عرفان شبیر حافظ غلام شبیر ڈی جی خان 72 محمد عثمان اقبال حسین ڈی جی خان 73 محمد مدثر محمد اجمل ڈی جی خان 74 محمد سجاد غلام حسین ڈی جی خان 75 محمد مدنی رب نواز مظفر گڑھ 76 محمد عبداللہ حافظ غلام فرید ڈی جی خان 77 صداقت علی عبدالمعروف مانسہرہ 78 رب نواز خان عبدالستار خان ہری پور 79 عبید الرحمان محمد رفیق ہری پور 80 محمد وقار فخرالدین بھکر 81 محمد شعیب عبدالرشید گوجرانوالہ 82 محمد عثمان غنی علی محمد شیخوپورہ 83 محمد ثناء اللہ غلام فرید ڈی جی خان 84 محمد آصف حبیب اللہ ڈی جی خان 85 عصمت اللہ غلام نبی ڈی جی خان 86 شبیر احمد مختار احمد مظفر گڑھ 87 محمد عبیداللہ محمد عبدالکریم مظفر گڑھ 88 محمد یحییٰ عثمان شبیر احمد مظفر گڑھ 89 محمد شاہد مشتاق احمد مظفر گڑھ 90 اللہ بخش ملک حاجی احمد مظفر گڑھ 91 محمد مدنی محمد اکمل مظفر گڑھ 92 محمد امجد ظفر علی مظفر گڑھ 93 محمد اقبال حافظ رب نواز مظفر گڑھ 94 محمد عمران اللہ ڈیوایا مظفر گڑھ 95 محمد زمان احمد علی بہاول نگر 96 ظہیر عباس حسین علی ٹوبہ ٹیک سنگھ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
97 عدنان شاہد محمد اسحاق بہاول نگر 98 حافظ محمد ساجد محمد اکرم بہاول پور 99 محمد خضر ممتاز احمد بہاول پور 100 محمد زاہد مدنی عبدالستار بہاول پور 101 حافظ محمد عرفان محمد اقبال ساقی بہاول پور 102 محمد حنظلہ عبدالجمیل بہاول پور 103 مجیب الرحمن عبدالمجید امجد بہاول پور 104 سیف الرحمن عبدالرحمان بہاول پور 105 محمد سجاد احمد بخش بہاول پور 106 محمد عمر فاروق حافظ گل محمد بہاول پور 107 محمد ساجد محمد رمضان بہاول پور 108 محمد وسیم گلزار احمد چنیوٹ 109 محمد نعمان عبدالرحمن ڈی جی خان 110 محمد ریاض نذیر احمد لودھراں 111 میاں عزیر اختر میاں اختر نواز بہاول پور 112 محمد غفران عبدالقیوم بہاول پور 113 محمد عمران محمد سلمان بہاول پور 114 فخر عالم محمد ظفر اقبال رحیم یار خان 115 محمد عاطف شبیر احمد لودھراں 116 محمد عباس غلام حسین بہاول پور 117 محمد عمران عبدالخالق بہاول پور 118 محمد معاویہ غلام حسن ملتان 119 محمد وسیم جمال حافظ محمد جمال بہاول پور 120 سعید احمد نبی بخش بہاول پور 121 محمد ابوبکر محمد عمر بہاول پور 122 صلاح الدین سعید احمد بہاول پور 123 عبدالرؤف منیر احمد بہاول پور 124 محمد عدنان محمد بلال بہاول پور 125 محمد اسامہ عبدالکریم رحیم یار خان 126 محمد رمضان قادر بخش بہاول پور 127 محمد شاہد محمود محمد حضور احمد بہاول پور 128 محمد جنید آصف محمود بہاول پور 129 محمد عرفان حافظ محمد فرقان بہاول پور 130 محمد نعمان محمود محمود الحسن لودھراں 131 محمد لقمان مقبول احمد بہاول پور 132 محمد احمد عبدالمجید بہاول پور 133 محمد نجیب عبدالمجید بہاول پور 134 محمد وسیم حافظ منیر احمد رحیم یار خان 135 زین اللہ تاج الدین پشین 136 مقصود احمد نصیر احمد رحیم یار خان 137 عبدالوہاب عبدالجبار رحیم یار خان 138 محمد رفیق عبدالخالق رحیم یار خان 139 محمد معاویہ خلیل احمد رحیم یار خان 140 محمد یونس نور احمد رحیم یار خان 141 عمر عثمان منظور احمد رحیم یار خان 142 محمد وقاص محمد احمد امین رحیم یار خان 143 محمد عبداللہ حاجی محمد زکریا رحیم یار خان 144 غلام مرتضیٰ محمد اقبال فیصل آباد 145 شرافت علی لیاقت علی بھمبر 146 محمد عرفان عبدالمجید لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
147 محمد زکراللہ شیر علی سید چارسدہ 148 محمد عامر سلطان کریم بخش چنیوٹ 149 محمد حذیفہ خلجی مولانا عبدالستار گوجرانوالہ 150 محمد سلیمان منیر احمد گجرات 151 محمد فرخ محمد ارشاد سیالکوٹ 152 محمد اسد محمد طیب گوجرانوالہ 153 عبدالرحمن مولوی اللہ رحم شیخوپورہ 154 محمد عمران محمد رمضان مظفر گڑھ 155 محمد ریحان محمد افضل فیصل آباد 156 محمد رضوان عبدالکبیر پاکپتن 157 عبدالمصدق عبدالقدوس ٹوبہ ٹیک سنگھ 158 محمد نعیم تبسم محمد صدیق جھنگ 159 شعیب حسن محمد حسن جاوید جھنگ 160 محمد رمضان شبیر احمد جھنگ 161 عبدالمنان عبدالرحمان جھنگ 162 غلام فرید محمد نواز ڈی آئی خان 163 محمد رضوان قاسم علی جھنگ 164 محمد عرفان محمد نواز ڈی آئی خان 165 شمس الرحمان عبدالوہاب ژوب 166 صدام حسین محمد رمضان نوشہرہ فیروز 167 محمد حنیف حافظ محمد قاسم نوشہرہ فیروز 168 عطاء الرحمان فتح خان نوشہرہ فیروز 169 طارق محمود شیخ شیر افضل اٹک 170 محمد ابوبکر حافظ غلام فرید بہاول پور 171 محمد جہانزیب محمد اکرم حیدر آباد 172 محمد شعیب محمد حنیف لیہ 173 سید اسامہ محمود سید محمود حسین باغ 174 محمد اطہر قاری محمد طاہر چنیوٹ 175 جمیل احمد غلام قاسم مانسہرہ 176 محمد عرفان وزیر زادہ چارسدہ 177 راحیل معاویہ محمد جمیل ڈی جی خان 178 عثمان خان یحییٰ خان چارسدہ 179 اعجاز الحق زر زر خان چارسدہ 180 حماد احمد امان گل مردان 181 نجیب الاسلام نجم الاسلام چارسدہ 182 شاہ فہد امان شاہ چارسدہ 183 حامد خان جاوید خان چارسدہ 184 احمد علی سبز علی چارسدہ 185 اسحاق جان فضل باقی چارسدہ 186 عتیق اللہ فضل غنی چارسدہ 187 نظار علی شیر زادہ چارسدہ 188 بشارت حبیب الرحمن چارسدہ 189 بشیر محمد شیر محمد مردان 190 سعید اللہ جان معرفت شاہ چارسدہ 191 داود شاہ مکمل جان مردان 192 محمد حمزہ محمد عمر قصور 193 محمد عابد محمد رفیق قصور 194 محمد یحییٰ حاجی نور اللہ سکھر 195 شاہ زمان حق نواز سبی 196 عبدالصمد دودا خان سبی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
197 خضر حیات گوہر ایمان مانسہرہ 198 وقار احمد مشرف خان چترال 199 نور الدین زنگی سید محمد قاسم کراچی 200 سمیع اللہ محمد امین چمن 201 محمد نعمان محمد افسر کراچی 202 محمد طاہر دوست محمد مانسہرہ 203 محمد مسلم محمد فاضل قمر کراچی 204 محمد حسین محمد اسماعیل کراچی 205 عتیق الرحمان محمد حنیف کراچی 206 محمد اسماعیل محمد ابراہیم رحیم یار خان 207 اعجاز احمد غلام حسین رحیم یار خان 208 سعید الرحمان محمد زمین سلارزو 209 مشہود احمد غلام محمد کراچی 210 ارشاد اللہ فضل الرحمان لکی مروت 211 عبدالودود عبدالقادر خضدار 212 سحر گل فضل سبحان مردان 213 منیب الرحمان علی محمد خضدار 214 محمد آصف محمد ہاشم کراچی 215 عنایت اللہ محمد ہارون کراچی 216 محمد بشیر خان حکیم خان بٹ گرام 217 شاکر احمد شاہ بڑانگ چترال 218 فداء محمد احمد خان کراچی 219 محمد امین عمر احمد اللہ کراچی 220 محمد عبید سید فرید قبائل کوہاٹ 221 عبدالسلام عبدالحلیم کراچی 222 اویس احمد ملک عبدالستار کراچی 223 محمد وقاص محمد حنیف کراچی 224 محمد ابوبکر عبدالشکور کراچی 225 جنید علی قیوم نواز کراچی 226 محمد عدنان مفتی محمد اعظم قصور 227 محمد عدنان محمد انور خانیوال 228 محمد عثمان عبدالحق لودھراں 229 محمد ارسلان قاسم خان بہاول پور 230 محمد راشد محمد سلیم لودھراں 231 حافظ محمد طیب حافظ عبدالحمید بہاول پور 232 محمد عبدالمنان ارشاد الحق بہاول پور 233 محمد صدیق غلام یاسین رحیم یار خان 234 محمد عامر خلیل احمد بہاول پور 235 محمد اخلاق محمد عارف لودھراں 236 محمد نعمان علی محمد ذوالفقار لودھراں 237 مصور یعقوب نذیر احمد ملتان 238 احمد حسن محمد حنیف جھنگ 239 مدثر بخت زادہ پشاور 240 مطیع الرحمٰن ضیاء الرحمٰن پشاور 241 محمد ارشاد عبداللطیف ڈی جی خان 242 محمد صدیق حافظ محمد اسحاق بہاول پور 243 کاظم علی غنی الرحمان چارسدہ 244 محمد عاصم محمد دلدار اسلام آباد 245 عمران فیاض فیاض احمد بہاول پور 246 عبدالباسط محمد امین بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
247 محمد بلال ارشد محمد ارشد بہاول پور 248 غلام اکبر محمد مراد شکار پور 249 عبد الصمد نور محمد شکار پور 250 محمد عبیدالرحمان محمد اسلم خانیوال 251 عبدالسلام محمد اقبال چنیوٹ 252 عبدالرحمان عبدالسمیع کراچی 253 محمد ظاہر مختیار جان کراچی 254 محمد عابد محمد علی خان کراچی 255 محمد شہزاد بشیر احمد خانیوال 256 احتشام الحق جلیل احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ 257 عطاء اللہ ناظر مولوی ناظر علی ملتان 258 مزمل صدیق غلام صدیق ڈی جی خان 259 محمد احمد محمد اقبال ملتان 260 عبدالرؤف بشیر احمد خانیوال 261 اخلاق احمد غلام یاسین بھکر 262 عبیدالرحمان احمد علی مظفر گڑھ 263 محمد اویس محمد صادق فیصل آباد 264 عبدالرحمان عبدالسلام شیخوپورہ 265 محمد شکیل عبد الوحید ساہیوال 266 عظمت اللہ سعد اللہ خان بنوں 267 عمیر احمد مولانا زبیر احمد پشاور 268 حیدر عباس سکندر حیات چنیوٹ 269 محمد ارسلان محمد انور چنیوٹ 270 عثمان محمود محمود سلطان فیصل آباد 271 محمد آصف محمد حنیف قصور 272 محمد نعیم شاہ منور حسین لاہور 273 سجاد احمد محمد گلزار نیلم 274 عبدالرب غلام رسول مظفر گڑھ 275 محمد ابوبکر محمد عارف گھوٹکی 276 عبد الوحید عبدالمجید گھوٹکی 277 سراج احمد عبدالقادر گھوٹکی 278 محمد مصور بشیر بشیر احمد جھنگ 279 راز محمد بہادر خان باجوڑ ایجنسی 280 لیاقت علی سعید ور خان باجوڑ ایجنسی 281 محمد مراد علی غلام حسین پشاور 282 عبدالجبار عبدالغفار سرگودھا 283 محمد بلال محمد اسلم چنیوٹ 284 محمد عامر محمود احمد قصور 285 اظہر عباس محمد اقبال مظفر گڑھ 286 محمد عمیر طیب محمد طیب بہاول پور 287 حق نواز محمد عبداللہ رحیم یار خان 288 محمد اسماعیل عبدالرحمان بہاول پور 289 محمد طلحہ ظفر مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۵ء ص ۵۱ تا ۵۶)
مولانا قاضی احسان احمد کا اندرون سندھ کا دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے زیر اہتمام ۲۸؍ مئی ۲۰۱۵ء بروز بدھ بعد نماز مغرب پریس کلب بدین میں تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیمینار منعقد ہوا۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء، معزز شخصیات نے شرکت کی۔ ضلع بدین کے مبلغ مولانا مختار احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک سے سیمینار کا آغاز ہوا۔ مولانا محمد صفدر صدیقی نے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ پاکستان پر بیان کیا۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر تفصیلی بیان فرمایا۔ سیمینار میں سکول، کالج کے اساتذہ وطلبہ، صحافی حضرات اور عوام الناس کا بھرپور مجمع تھا۔ آخر میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
۲۹؍ مئی کو بعد نماز فجر بسم اللہ مسجد اتفاق کالونی بدین میں مولانا قاضی احسان احمد نے درس قرآن دیا۔
بعد نماز ظہر شادی لارج میں بیان ہوا۔
بعد نماز عشاء مدینہ مسجد جھڈو میں بیان فرمایا۔
۳۰؍ مئی کو جامع مسجد فضل بھمبرو میں بیان کیا۔ نصرت آباد اور گردونواح میں قادیانیت کے حوالے لوگوں سے معلومات حاصل کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ، دارالعلوم دیوبند
ایشاء کی عظیم دینی اور اسلامی درسگاہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں گذشتہ آٹھ سالوں سے اسلامی عقائد کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کے سدباب کے طور وطریق اور فضلائے مدارس اسلامیہ کو فرقہائے باطلہ سے نبرد آزمائی کے طریقہ کار سے واقف کرانے اور اکابر علماء دیوبند کی روشن خدمات اور علمی استدلال سے استفادہ کے لئے پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیرنگرانی منعقد ہوتا رہا ہے۔ اس کیمپ کے مربی خصوصی مولانا شاہ عالم گورکھپوری ہوتے ہیں۔ سال رواں بھی یہ تربیتی کیمپ ۲۰ تا ۲۵ شعبان ۱۴۳۶ھ مطابق ۸ تا ۱۳ جون ۲۰۱۵ء کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی اور مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی زیر تربیت بمقام دارالحدیث (فوقانی) منعقد ہوا۔ کیمپ کی پہلی نشست کی صدارت کرتے ہوئے مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زید مجدہم مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اس کا افتتاح فرمایا۔ کیمپ کی روزانہ تین نشستیں (صبح ۸ تا ۱۲ بجے، بعد نماز ظہر تا عصر اور بعد نماز مغرب تا عشاء) منعقد ہوتی تھیں۔ اس طرح پانچ دنوں میں کل ۱۵ نشستیں ہوئیں جس میں فضلائے مدارس عربیہ اور مندوبین علمائے کرام کو نت نئے فتنوں کی خطرناکی سے واقف کرایا گیا اور ان کے تازہ حملوں کی تردید وتنکیر کا اصول بتایا گیا۔ نیز حکمت ومصلحت کے ساتھ میدان عمل میں مسلمانوں کے دین وایمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کا طریقہ کار بتلایا گیا۔ دوران بیان پیش کئے گئے حوالوں کی مراجعت اور مطالعہ ومشاہدہ کا نظم الیکٹرانک پروجیکٹر کے ذریعہ بھی کیا گیا تھا۔ تاکہ حوالوں کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرنے اور مشاہدہ کرنے میں شرکاء کیمپ کو آسانی ہو۔
اس خصوصی اور یادگاری تربیتی کیمپ میں دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف دیوبند، دارالعلوم شیخ زکریا دیوبند، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مراد آباد ودیگر مدارس عربیہ کے فضلاء اور آسام، گجرات، بنگال، بہار، کیرالہ، ممبئی وغیرہ کے علمائے کرام نے شرکت کی۔ جن کی تعداد دوسو کے قریب تھی۔ کل ہند مجلس کی جانب سے آویزاں اعلان کے مطابق متعینہ عنوانات پر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری استاذ حدیث وناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، مولانا شاہ عالم گورکھپوری استاذ و نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی مبلغ مجلس کل ہند تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، جناب حافظ اقبال احمد ملی ناظم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا ثناء اللہ وسایا
احیاء السنہ اسلامک سینٹر مالیگاؤں کے تربیتی اسباق اور پرمغز بیانات ہوئے۔ حوالوں کی مراجعت و مشاہدہ میں مولانا اشتیاق احمد قاسمی، مولانا محمد شاہد انور قاسمی بانکوی، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری، مولانا محمد جنید قاسمی رانچوی، مولانا محمد غانم قاسمی کٹکی اور مولانا محمد بلال قاسمی متعلم شعبہ تحفظ ختم نبوت نے تعاون کیا۔ گاہے گاہے کیمپ کی مختلف نشستوں میں مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مولانا ریاست علی بجنوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا مفتی محمود الحسن بلند شہری مفتی دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا اکرام اللہ قاسمی شاہجہاں پوری استاذ حدیث مدرسہ جامع الہدی مراد آباد اور دیگر علمائے کرام کے بصیرت افروز بیانات بھی ہوئے۔
کیمپ میں شریک بیشتر شرکاء کے تاثرات یہ تھے کہ اس طرح کا تربیتی کیمپ وقت کی ضرورت ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے طرز پر دیگر مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران کو بھی اپنے اپنے مدارس و جامعات اور علاقوں میں گاہے گاہے اس طرح کے تربیتی کیمپ کا انعقاد کرانا چاہئے۔ افادہ عام کے لئے کیمپ کی تمام نشستوں کی مختصر رپورٹ حسب ذیل ہے:
افتتاحی نشست: سابقہ روایت کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے سالانہ امتحان کے مکمل ہونے کے بعد اسی روز ۲۰؍ شعبان المعظم ۱۴۳۶ھ بروز پیر بعد نماز مغرب زیر صدارت مولانا مفتی ابوالقاسم بنارسی مہتمم دارالعلوم دیوبند، تربیتی کیمپ کی پہلی وافتتاحی نشست منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام اللہ اور بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت کے بعد مہتمم صاحب کا افتتاحی وکلیدی خطاب ہوا۔ حضرت والا نے اپنے خطاب میں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت امت مسلمہ کی اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ کام صرف علماء اور مبلغین کا نہیں بلکہ آپ ﷺ سے عقیدت ومحبت رکھنے والے تمام افراد امت کا ہے۔ مفتی صاحب نے دارالعلوم کی روشن خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اکابر دارالعلوم میں سے علامہ انور شاہ کشمیری اپنی دیگر علمی مصروفیات کو ترک کرکے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے ہمہ تن متوجہ ہوگئے تھے۔ حضرت علامہ نے صرف اس فتنہ کی حقیقت آشکارہ کرنے کے لئے بغرض پیروی مقدمہ بہاولپور سفر کیا اور جج کے سامنے اس فتنہ کی حقیقت کو اجاگر کیا۔ چنانچہ کورٹ کا فیصلہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں آیا۔ مفتی صاحب نے فتنہ قادیانیت کی زہرناکی اور خطرناکی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے غلیظ اور بدترین فتنہ ہے۔ دجل وتلبیسات کا سہارا لے کر سادہ لوح عوام اور بعض دفعہ پڑھے لکھے انسان کو گمراہ کردیتا ہے۔ اس لئے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہر عام وخاص تک یہ پیغام پہنچانا علماء امت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔ صدر مجلس نے تربیتی کیمپ میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے علماء اور طلباء سے مخاطبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اہم موضوع کو سمجھنے کے لیے آپ حضرات نے پانچ روز کا وقت فارغ کیا ہے۔ اس کے لئے آپ سبھی حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کیونکہ چھٹی کے اوقات کو تعلیمی مشاغل میں لگانا طلباء کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے تمام نشستوں کی ایک ایک لمحہ کی قدر کرتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ کیجئے اور آئندہ مستقل تحفظ ختم نبوت کی تحریک سے وابستہ ہوکر امت مسلمہ کی خدمت کیجئے۔
بعد ازاں مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے خطاب کیا۔ قاری صاحب نے خطبہ مسنونہ کے بعد حدیث مبارکہ ”ابشروا ابشروا انما مثل امتی مثل الغیث لا یدری آخرہ خیر ام اولہ أو کحدیقۃ اطعم منہا فوج عاما ثم اطعم منہا فوج عاما لعل آخرہا فوجا ان یکون اعرضہا عرضا واعمقہا عمقا و احسنہا حسنا کیف تہلک امۃ انا اولہا والمہدی وسطہا والمسیح آخرہا ولکن بین ذالک فیج أعوج لیسوا منی ولا انا منہم“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس امت کی ہلاکت کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ جب کہ اس کے شروع میں نبی پاک ﷺ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنفس نفیس موجود رہے ہیں۔ درمیان میں حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں اور آخر میں مسیح علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے۔ بیشتر فتنے انہی تین شخصیتوں کو نشانہ بنا کر برپا کئے جاتے ہیں۔
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے قیام کا پس منظر اور اسکی مفصل تاریخ بیان کرتے ہوئے قاری صاحب نے فرمایا کہ اکابر علماء دیوبند ہمیشہ سے ہی باطل کے سامنے نبرد آزما رہے ہیں اور ان کی تمام پالیسیوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔ فدائے ملت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی سابق صدر جمعیۃ علماء ہند و رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند ہند و بیرون ہند دورہ کرتے تھے۔ ان کی دوررس نگاہوں نے جہالت زدہ اور غربت زدہ علاقوں کے حالت زار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیا کہ اہل فتن ان کو اپنا نشانہ بنالیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں ایمان کی شمع روشن کرنے کے لئے کوئی تنظیم یا ادارہ قائم کیا جائے۔ چنانچہ مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی تجویز کے مطابق دار العلوم دیوبند میں سہ روزہ عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۲۹؍ تا ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء میں منعقد کی گئی جس میں پورے ملک سے چیدہ چیدہ علماء کرام کو مدعو کیا گیا۔ اسی کانفرنس میں ”کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند“ کا قیام عمل میں آیا۔
قاری صاحب نے تربیتی کیمپ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند میں سب سے پہلا تربیتی کیمپ ۱۳؍ تا ۲۳؍ جمادی الاول ۱۴۰۹ھ مطابق ۲۲؍ دسمبر ۱۹۸۸ء تا ۲؍ جنوری ۱۹۸۹ء میں مولانا اسماعیل کٹکی سابق رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی زیر تربیت لگایا گیا تھا۔ اس کے بعد دوسرا تربیتی کیمپ ۱۱؍ تا ۲۱؍ جمادی الاول ۱۴۱۰ھ بمطابق ۱۱؍ تا ۲۱؍ دسمبر ۱۹۸۹ء میں لگایا گیا جس میں پاکستان سے نامور عالم دین، فاتح ربوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی مربی کی حیثیت سے تشریف لائے تھے اور ان کی خودنوشت یادداشت فوٹو کاپی کرا کر تمام شرکاء کو تقسیم کیا گیا تھا جو شائع ہو کر اب ”رد قادیانیت کے زریں اصول“ کے نام سے دستیاب ہے۔ شرکاء کیمپ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فتنوں سے نبرد آزمائی کے لئے ان پانچ صفات کا پیدا کرنا بہت ضروری ہے: (۱) ایمانی حس۔ (۲) غیرت ایمانی۔ (۳) شجاعت وبہادری۔ (۴) علم وفضل کا سرمایہ۔ (۵) انابت الی اللہ۔ آپ حضرات ان صفات سے متصف ہو کر عملی میدان میں کام کریں۔
اس افتتاحی نشست سے مولانا مفتی محمود حسن بلند شہری مفتی دارالعلوم دیوبند نے بھی خطاب کیا۔ مفتی صاحب نے حمد وصلوٰۃ کے بعد آیت کریمہ ”وجادلہم بالتی ھی احسن“ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا کہ علماء کرام اپنے علاقوں میں درس وتدریس، امامت وخطابت اور مدارس ومکاتب کی انتظامی ذمہ داری کی وجہ سے اپنے اردگرد، محلوں اور علاقوں میں پیش آنے والے فتنوں کی طرف توجہ نہیں کر پاتے ہیں۔ لیکن یہ عدم توجہی علماء کرام کی شان کے خلاف ہے کہ فتنہ آپ کے اردگرد پھیل رہا ہو اور آپ اپنے دینی وعلمی مشغولیات میں مصروف رہیں۔ اس لئے علماء کرام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کریں اور اخلاص کے ساتھ میدان عمل میں اتریں۔ مفتی صاحب نے اکابر علماء دیوبند وبزرگان دین کے حکمت ومصلحت سے لبریز اور سبق آموز واقعات سنا کر سامعین کو محظوظ فرمایا۔ اخیر میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیمپ کے اصول وضوابط اور فوائد بیان کرتے ہوئے ہندوستان میں منعقد کئے جانے پر تربیتی کیمپوں کی ایک مفصل ومربوط تاریخ سے حاضرین وسامعین کو روشناس کرایا۔ یہ نشست ۱۰:۳۰؍ بجے شب کو مکمل ہوئی۔
دوسری نشست: ۲۱؍ شعبان المعظم بروز منگل صبح ۸؍ بجے سے شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد اس نشست میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے ”ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ھی احسن“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کے تینوں اصولوں کو مثال اور ذاتی تجربات کی روشنی میں خوب واضح کیا۔ اس نشست میں مولانا اکرام اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قاسمی شاہجہاں پوری استاذ مدرسہ جامع الہدی مراد آباد نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ مولانا محترم نے اپنے والد مرحوم مولانا مفتی کفایت اللہ شاہجہانپوری صدر مدرس مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہجہاں پور کی رد قادیانیت پر خدمات کا تذکرہ کیا اور انہوں نے بتایا کہ جس وقت شاہجہاں پور میں قادیانیوں نے شورش برپا کر رکھی تھی اور ایک ٹینکی والی مسجد پر قادیانیوں کی جانب سے مقدمہ چل رہا تھا تو والد مرحوم نے قادیانیت کی بطلان اور اس کے اسلام سے الگ ہونے پر مختلف مضامین لکھے ہیں جو اس وقت کے رسالہ صدق جدید اور رسالہ دارالعلوم دیوبند میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اس مقدمہ میں قادیانیوں کو بری طرح شکست ہوئی اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا جس کی نقل کاپی میں نے دارالعلوم دیوبند کو جمع کرادی ہے۔ یہ نشست ۱ بجے تک مکمل ہوئی۔ بعدہ طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
تیسری نشست: بعد نماز ظہر ۳:۳۰ بجے منعقد ہوئی۔ اس نشست میں مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی، مولانا شاہد انور قاسمی بانکوی، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری، مولانا بلال احمد مدراسی اور مجلس تحفظ ختم نبوت ساؤتھ دہلی کے کارکنان نے حوالوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرایا اور تمام شرکاء کو بیان کے دوران پیش کئے گئے حوالہ جات نوٹ کرائے۔ تمام حاضرین نے بچشم خود کتابوں کا مطالعہ کر کے حوالوں کو اپنی اپنی کاپیوں میں نوٹ بھی کیا اور ہر حوالے کے سیاق وسباق کو بھی سمجھا۔
اس نشست میں مولانا عبدالخالق سنبھلی مدظلہ العالی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کا تقریباً نصف گھنٹہ خصوصی خطاب ہوا۔ حضرت نے اپنے تمہیدی بیان میں کہا کہ آپ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس تربیتی کیمپ سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اس کیمپ سے آپ کو میدان میں کام کرنے کے ایسے اصول ملیں گے جن سے باطل و گمراہ فرقوں کے مقابلے کے لئے کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ حضرت نے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ باطل اور گمراہ فرقوں کے بطلان اور گمراہی کے بنیادی اسباب تین ہیں: (۱) اتباع ہویٰ۔ (۲) تقلید آباء۔ (۳) خوش فہمی، جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں۔ انہوں نے تینوں اسباب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (۱) اتباع ہویٰ جس کو قرآن پاک نے اَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰهُ کے ذریعہ بیان کیا ہے۔ (۲) تقلید آباء جس کو قرآن کریم نے کفار و مشرکین کے مقولہ کے طور پر بے شمار جگہ بیان فرمایا ہے جیسے: قالوا بل نتبع ما وجدنا عليه آبائنا، قالوا بل وجدنا آبائنا كذالك يفعلون، قالوا حسبنا ما وجدنا عليه آبائنا ۔ (۳) خوش فہمی جس کو عربی میں اعجاب بالنفس کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے مرزائیوں کے اندر یہ تینوں اسباب مکمل پائے جاتے ہیں۔ یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی۔
چوتھی نشست: بعد نماز مغرب متصلاً شروع ہوئی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا شاہ عالم گورکھپوری کا ’’مرزا قادیانی کا تعارف وتجزیہ قادیانی تحریرات کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر مفصل تربیتی بیان ہوا۔ حضرت نے مرزا کے نام میں تضاد کو مرزائی تحریرات سے واشگاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل نام نہ تو ’’غلام احمد‘‘ ہے اور نہ ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ بلکہ اس کے نانیہال کی عورتوں کا بتایا ہوا نام ’’سندھی‘‘ ہی اصل ہے۔ مرزا کی تاریخ پیدائش میں بھی زبردست تضاد ہے۔ مرزا کی تحریر کے مطابق ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء ہے۔ جب کہ مرزائی اس تاریخ کو نہیں مانتے ہیں اور ۱۸۳۵ء یا ۱۸۳۶ء بتاتے ہیں۔ مرزائیوں کی تاویل کی وجہ مرزا کی ایک پیشینگوئی کو درست کرنا ہے کہ جس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کر کے یہ الہام بنایا کہ ہم تجھے ۸۰ سال یا اس کے قریب قریب یا اس سے زائد کی زندگی عطاء کریں گے۔ لیکن مرزا کو خدائی فیصلے کے مطابق ہیضے کی موت نے ۶۹ سال کی ہی مدت میں آ دبوچا۔ جس سے وہ الہام بانی میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ مرزا کو خطہ زمین کے اس منحوس حصہ میں گاڑا گیا جہاں کے لوگ بقول اس کے ناپاک پلید اور یزیدی الطبع ہوتے ہیں۔ یہ نشست ۱۰؍ بجے شب میں مکمل ہوئی۔ بعدہ نماز عشاء پروگرام ہال میں ادا کی گئی اور طعام وآرام کا وقت دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچویں نشست: ۲۲؍ شعبان المعظم بروز بدھ صبح ۸؍ بجے شروع ہوئی۔ تلاوت کلام اللہ اور نعتیہ کلام کے بعد مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری دامت برکاتہم استاذ حدیث و ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کا ’’مسئلہ رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ پر مفصل خطاب ہوا۔ قاری صاحب نے اسلامی تعلیمات و ہدایات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ رفع قرآن کریم کی متعدد آیتوں سے ثابت ہے اور بیشمار احادیث ان آیتوں کی موید ہیں۔ خود مرزا قادیانی بھی دعویٰ مسیحیت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا قائل تھا۔ یہ نشست ۱؍ بجے تک مکمل ہوئی۔ بعدہ طعام و آرام کا موقع دیا گیا۔
چھٹی نشست: بعد نماز ظہر متصلاً منعقد ہوئی۔ اس نشست میں حوالوں کا مشاہدہ کرایا گیا۔ بعدہ مولانا شاہ عالم نے شرکاء کے سوالات کے جوابات تفصیل سے دیئے۔
ساتویں نشست: بعد نماز مغرب متصلاً منعقد ہوئی۔ مولانا قاری عبدالرؤف استاذ دارالعلوم دیوبند کی تلاوت کلام اللہ شروع ہوئی۔ بعدہ جناب حافظ اقبال احمد ملّی ناظم احیاء السنۃ اسلامک سینٹر مالیگاؤں نے تحفظ ختم نبوت کی عملی اور میدانی خدمت میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو کس طرح اور کیسے ہٹایا جائے اور مختصر وقت میں اس رکاوٹ کو دفع کر کے تحفظ ختم نبوت کے مشن کو آگے کس طرح آگے بڑھائیں اس موضوع پر حافظ صاحب کا تفصیلی خطاب ہوا۔ دوران تقریر حافظ صاحب نے تقلید کی شرعی حیثیت کو ایک چارٹ بنام ’’الکلام الفرید فی اثبات التقلید‘‘ (یہ چارٹ تمام شرکاء کو آخری نشست میں بشکل انعام دیا گیا) کے ذریعہ سمجھاتے ہوئے کہا کہ مسائل منصوصہ متعارضہ غیر معلوم التقدیم والتاخیر غیر اجماعی اور مسائل غیر منصوصہ غیر اجماعی میں مجتہد اجتہاد کرتا ہے اور مقلد مجتہد کے اجتہاد کی پیروی کرتا ہے اور اسی کا نام تقلید ہے بلکہ ان مسائل میں بھی دو قسم کے اقوال ہوتے ہیں۔ ایک مفتی بہ۔ دوسرا غیر مفتی بہ۔ مقلدین کا مسلک مفتی بہ اقوال پر عمل کرنا ہے نہ کہ غیر مفتی بہ پر اور غیر مقلدین اجماع ہی سے الگ ہوگئے ہیں۔ اسی لئے وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں۔ حافظ صاحب نے مسلک اور فرقہ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقلدین ایک فرقہ ہے اسے مسلک سے جوڑنا درست نہیں ہیں۔ یہ نشست ۱۰:۳۰؍ بجے شب تک اختتام پذیر ہوئی۔ بعدہ نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد طعام اور آرام کا موقع دیا گیا۔
آٹھویں نشست: ۲۳؍ شعبان بروز جمعرات صبح ۸ بجے منعقد ہوئی۔ تلاوت و نعت کے بعد دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاذ حدیث مولانا ریاست علی بجنوری مدظلہ کا خصوصی بیان ہوا۔ حضرت نے دوران بیان سابق شیخ الحدیث مولانا فخر الدین مراد آبادی کے حوالے سے گمراہ اور باطل کو جانچنے کے معیار پر تفصیل سے خطاب کیا۔ اس کے بعد مولانا شاہ عالم نے شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے مجلس کے مبلغ جناب مولانا اشتیاق احمد کو کذبات مرزا پر بیان کرنے کے لئے دعوت دی۔ جناب مولانا اشتیاق احمد نے کذبات مرزا پر مفصل خطاب کیا۔ مولانا نے دوران بیان فرمایا کہ آپ ﷺ نے فاران کی چوٹی سے اپنی نبوت کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جب تک کہ حاضرین نے یہ یقین نہیں دلا دیا کہ ما جربنا علیک الا صدقا اور ہم آپ کو الصادق الامین کے لقب سے جانتے ہیں۔ اسی طرح مدعیان نبوت کو پرکھنے کے لئے ان کے اقوال کو دیکھیں گے کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔ مولانا موصوف نے مسیلمہ پنجاب کے جھوٹے اقوال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا نے جھوٹ کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، خزائن ص ۵۶ ج ۱۷) اسی طرح دوسری جگہ لکھتا ہے کہ تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، خزائن ص ۵۹ ج ۲۲) قادیانی فیصلے سنانے کے بعد مرزا قادیانی کے بہت سے جھوٹے اقوال کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ مولانا نے سوا گھنٹہ اس موضوع پر بیان کیا۔ بعد ازاں جناب مولانا حافظ اقبال احمد ملّی نے اپنے موضوع کو مکمل کیا۔ یہ نشست ۱؍ بجے تک مکمل ہوئی بعدہ طعام و آرام کا موقع دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نویں نشست: بعد نماز ظہر متصلاً منعقد ہوئی۔ حوالوں کے مطالعہ ومباحثہ کے بعد وقفہ سوالات کا موقع دیا گیا۔ شرکاء کیمپ نے اپنے اشکالات واعتراضات پیش کئے۔ حافظ اقبال احمد نے ان کے تحقیقی اور تشفی بخش جوابات دیئے۔ یہ نشست اذان عصر تک مکمل ہوئی۔
دسویں نشست: بعد نماز مغرب متصلاً منعقد ہوئی۔ اس نشست میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے ”مرزا کادیانی کا تعارف“ کے موضوع کو مکمل کیا۔ مولانا نے بتایا کہ مرزا کی پہلی شادی ۱۸۵۲ء میں ہوگئی تھی اور مرزا ابھی بچہ ہی تھا کہ سلطان احمد پیدا ہوگیا تھا۔ مرزا کی دوسری شادی دہلی کے میر ناصر نواب کی بیٹی نصرت جہاں بیگم سے ۱۳۰۴ھ میں ہوئی۔ جو مرزا ہی کے گھر میں پہلے کرایہ دار کی حیثیت سے رہا کرتی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ آشنائی پہلے سے تھی۔ لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ شناسائی پہلے سے تھی اور تیسری شادی محمدی بیگم سے ہوئی تھی۔ بقول مرزا یہ نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پر پڑھایا تھا۔ نکاح کے چھوہارے تقسیم ہوئے بھی یا نہیں اور ہوئے تو کس کس نے کھائے۔ اس سلسلے میں مرزائی کچھ نہیں بتاتے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ مرزائیوں کی اس ماں کو کوئی دوسرا لے کر بھاگ گیا اور مرتے دم تک مرزا کو یہ نصیب نہیں ہوئی۔ مولانا موصوف نے مرزا کادیانی کا مکمل تعارف مرزا کادیانی اور مرزائی کتابوں سے کرایا۔ علاوہ ازیں مرزا کے اقوال اور پیشینگوئیوں کی روشنی میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت کیا۔ یہ نشست تقریباً ۱۰:۱۵ بجے اختتام کو پہنچی۔ بعد ازاں نماز عشاء کی ادائیگی کیمپ کے ہال میں ہوئی اور طعام و آرام کا وقت دیا گیا۔
گیارہویں نشست: ۲۴؍شعبان المعظم بروز جمعہ کو صبح ۸؍بجے شروع ہوئی۔ حافظ اقبال احمد نے مبتدعین کی جانب علمائے دیوبند پر اعتراض کو دفع کرنے کا آسان حل بتایا اور مختصر وقت میں اتحاد کے طریقہ کار پر تفصیل سے خطاب کیا۔ اس کے بعد اس نشست میں مولانا شاہ عالم نے دعاوی مرزا اور پیش گوئیوں پر تفصیل سے خطاب کیا۔ دعاوی مرزا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا کادیانی کے دعاوی بیشمار ہیں۔ بے شمار دعاوی ہی اس کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہیں۔ مولانا موصوف نے تفصیل سے مرزا کے دعاوی کو شمار کراتے ہوئے کہا کہ ۱۸۸۰ء سے مرزا کادیانی کے ملہم من اللہ ہونے کے دعوے کا ثبوت ملتا ہے۔ اس سے قبل دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور مرزائی جو ثبوت فراہم کرتے ہیں وہ سب بعد از وقت ہیں۔ خود مرزا کادیانی نے بھی ۱۸۸۰ء سے قبل کے جو الہامات شمار کرائے ہیں وہ بعد از وقت ہیں۔ ۱۸۸۲ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا۔ ۱۸۹۹ء میں ظلی بروزی نبوت کا اور ۱۹۰۱ء میں باقاعدہ تشریعی نبوت اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا اور سب سے اخیر میں ۱۹۰۲ء میں اس نے کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ گویا پہلا دعویٰ ملہم من اللہ ہونے کا اور آخری دعویٰ کرشن ہونے کا۔ دوران بیان مولانا نے مرزا کے تمام دعاوی میں اسے جھوٹا ہونا ثابت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مالیخولیا اور مراق کا اثر تھا جو مرزا کو لاحق تھا اور اسی وجہ سے اول فول بکتا رہتا تھا۔ یہ نشست تقریباً ۱۲؍بجے مکمل ہوئی اور شرکاء کو نماز جمعہ کی تیاری کا موقع دیا گیا۔
بارہویں نشست: بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔ اس نشست میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے ”جھوٹے مدعیان مہدویت اور ان کا تاریخی پس منظر“ کے عنوان پر تفصیل سے خطاب کیا۔ مولانا کا بیان اذان مغرب تک مکمل ہوا۔
تیرہویں نشست: بعد نماز مغرب متصلاً منعقد ہوئی۔ اس نشست میں مولانا شاہ عالم نے ”علمی اور عملی میدان میں فتنہ کادیانیت کا تعاقب کس طرح کیا جائے اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کا ازالہ کس طرح ہو“ کے عنوان پر بیان کرتے ہوئے علمی اور عملی میدانوں میں کام کرنے کے طور و طریق اور اصول بیان کئے۔ آپ نے بتایا کہ اہل علم اور مدارس اسلامیہ، اسی طرح کالج اور یونیورسٹیوں میں کام کرنے کی متعدد نوعیتیں ہیں جو فضلاء علمی ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے لیے اس میدان میں کام کرنے کا سنہرا موقع ہے۔ اسی طرح پبلک کے درمیان خدمت انجام دینے کے مواقع بھی متعدد جہتوں سے ہیں جن کے لائق جو خدمت ہو اس میں لگ جائیں۔ یہ نشست ساڑھے دس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بجے شب میں اختتام کو پہنچی۔ بعدہ طعام و آرام کا موقع دیا گیا۔
۱۴ویں اور اختتامی نشست: ۲۵؍ شعبان المعظم مطابق ۱۳؍ جولائی بروز سنیچر صبح ۸؍ بجے منعقد ہوئی۔ شرکاء کیمپ میں سے منتخب علماء نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ بعدہ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے صدارتی خطاب کیا اور شرکائے کیمپ کو پند و نصائح سے نوازا۔ اخیر میں مہتمم صاحب کے بدست تمام شرکاء کو بصورت کتب قیمتی انعامات سے نوازا گیا۔ اس آخری نشست میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری، مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتمم، جناب حافظ اقبال احمد ملی مالیگاؤں، جناب مولانا اسعد اللہ قاسمی، جناب مولانا اشتیاق احمد مبلغ شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا شاہد انور قاسمی بانگوی مرکز التراث الاسلامی دیوبند، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری وغیرہ شریک رہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۵ء ص ۵۰ تا ۵۷)
تحفظ ختم نبوت پروگرام کراچی میٹروول
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ میٹروول کراچی کی جانب سے مدارس بنات کی عالمات و طالبات اور اسکول کے بچے، بچیوں کے لئے دو پروگرام منعقد کئے گئے۔
پہلا پروگرام: اسکول کی چھٹیوں میں سمر کیمپ کے نام سے سترہ دن کا کورس تھا، جس میں ۲۵ کے قریب بچوں اور ۱۶ بچیوں نے شرکت کی، قرآنی آیات و احادیث کی تفہیم کے لئے ’’تعلیم و تربیت‘‘ کتاب کا انتخاب کیا اور ختم نبوت کا شعور بیدار کرنے کے لئے ’’شعور ختم نبوت‘‘ نامی کتابچہ زبانی یاد کرایا گیا۔ الحمدللہ! بچوں نے انتہائی دلچسپی سے یاد کر کے فرفر سنایا اور انعام کے مستحق ہوئے۔ سمر کیمپ میں بچوں کو پڑھانے کے لئے اساتذہ کرام مولانا مدثر، مولانا آصف، مولانا فیض ربانی، مولانا عبدالکریم، مولانا نثار احمد نے خدمات انجام دیں جب کہ احمد الرحمٰن، انس خالد اور مولانا محمد نے معاونت کی۔
اسی طرح بچیوں میں پڑھانے کے لئے تین استانیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ الحمدللہ کورس بہت کامیاب رہا۔ آخر میں تقریب تقسیم انعامات منعقد کی گئی۔ بچوں اور بچیوں کو انعامات دیئے گئے۔
دوسرا پروگرام: عالمات اور بڑے درجہ کی طالبات کے لئے چھ روزہ ختم نبوت و خطابت کورس رکھا گیا۔ مدرسہ طیبہ للبنات میں ہونے والے اس پروگرام میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
پہلے دن ۱۳؍ جون بروز ہفتہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدی علیہ الرضوان پر مولانا عبدالحئی مطمئن نے لیکچر دیا۔ پھر اگلے گھنٹے میں خطابت کا طریقہ سکھایا گیا، جس کی باقاعدہ پریکٹس ایک گھنٹہ ہوتی رہی۔
۱۴؍ جون بروز اتوار مولانا شعیب (ذمہ دار حلقہ اورنگی ٹاؤن) نے ’’قادیانی شبہات کے جوابات‘‘ پر دو گھنٹے سبق پڑھایا۔
۱۵؍ جون بروز پیر مولانا عبدالحئی مطمئن نے اپنے موضوع پر بیان کیا۔
۱۶؍ جون کو مولانا عبدالحئی مطمئن نے ختم نبوت کے موضوع پر ہی بیان کیا۔
۱۷؍ جون کو مولانا قاضی احسان احمد نے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے علمائے کرام کی جدوجہد اور کوششوں کا تذکرہ کیا اور اس کے مثبت نتائج سے آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخری روز عالمات اور طالبات کا تحریری اور تقریری مقابلہ ہوا جس میں اوّل، دوم اور سوم آنے والی طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ پورے کورس میں اول سے آخر تک شریک ہونے والی طالبات کی تعداد ۳۵ رہی مولانا قاضی صاحب کا اختتامی بیان ہوا۔ یوں چھ روزہ کورس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۳۱/جولائی ۲۰۱۵ء ص ۷)
ختم نبوت کورس شور کوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اقصیٰ میں ۲۴، ۲۵، ۲۶/جون ۲۰۱۵ء کو تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات اور رفع و نزول مسیح علیہ السلام پر لیکچر دیا اور مولانا غلام حسین نے ختم نبوت اور مرزا قادیانی کے کردار پر بیان فرمایا۔ کورس میں تقریباً ایک سو حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۴ء ص ۵۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس ۸، ۹/شوال المکرم ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۴، ۲۵/جولائی ۲۰۱۵ء بروز جمعہ، ہفتہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا تھے۔
اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی میں وفات پا جانے والے درج ذیل علماء کرام اور جماعتی رفقاء مولانا ہارون الرشید رشیدی پتوکی، مولانا ایوب الرحمٰن انوری فیصل آباد، مولانا شبیر احمد پکا لاڑاں رحیم یار خان، صاحبزادہ طاہر محمود قاسمی فیصل آباد، فرزند ارجمند پیر ایوب جان سرہندی سندھ، خالد بٹ کوٹلی آزاد کشمیر، مولانا فقیر اللہ اختر کے ماموں زاد بھائی بشیر احمد فوجی، مولانا محمد طیب اسلام آباد کے بھائی محمد شاہد، استاذ القراء قاری محمد شفیع لاہور کے فرزند ارجمند قاری محمد احمد مدنی اور نواسہ، میاں اعجاز سرگانہ کے بھائی میاں اعزاز سرگانہ، مولانا حبیب احمد کے ماموں محمد نذیر، چوہدری محمود احمد بہاول پور، حاجی عبدالکریم جالندھری قصور، مولانا عبداللطیف تونسوی کے والد محترم، مولانا محمد اقبال فاروق گڑھ موڑ جھنگ، حاجی منور سعادت گوجرہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد نے دعائے مغفرت کرائی۔
تمام مبلغین نے ملتان اور مضافات ملتان میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطاب کیا اور جمعۃ المبارک کا خطبہ دیا۔ مولانا محمد نعیم کہروڑی کو خوشاب اور میانوالی کا مبلغ مقرر کرنے کی توثیق کی گئی۔ ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ جس میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا، کی یاد میں ماہ ستمبر کے پہلے دس دنوں کو ملک بھر میں عشرہ ختم نبوت منانے کا فیصلہ کیا گیا اور طے ہوا کہ یکم/ستمبر گجرات، ۲/ستمبر وزیر آباد، ۳/ستمبر گوجرانوالہ، ۴/ستمبر سیالکوٹ، ۵/ستمبر لاہور، ۶/ستمبر کوہاٹ، ۷/ستمبر اسلام آباد، سرگودھا، فیصل آباد، جتوئی، بدین، ہری پور ہزارہ میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ نیز ۷ تا ۹/ستمبر پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ میں اجتماعات منعقد ہوں گے۔ ۱۱، ۱۲/ستمبر کو بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ جن میں ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔ نیز یکم تا ۱۰/ستمبر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اندرون سندھ اجتماعات سے خطاب فرمائیں گے۔
آل پاکستان ۳۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹، ۳۰/اکتوبر ۲۰۱۵ء کو منعقد ہو گی۔ مقررین و خطباء سے رابطہ کے لئے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ کی سرکردگی میں تمام مسالک کے علماء کرام اور مشائخ عظام سے رابطہ کرے گی۔ مولانا غلام مصطفیٰ اجازت حاصل کرنے کے لئے ابھی سے چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں گے۔ جامع مسجد مسلم کالونی میں توسیع کے لئے مولانا سیف اللہ خالد اور مولانا عزیز الرحمن ثانی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو انجینئرز سے رابطہ کر کے برآمدہ کی تعمیر کا اسٹیمیٹ اور دوسری ضروریات کا اندازہ لگا کر شوریٰ سے منظوری لے گی۔
ختم نبوت کورسسز
لاہور بارڈر ایریا میں تین مقامات پر ختم نبوت کورسسز، سیالکوٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، سمندری، ٹوبہ، رجانہ، گوجرانوالہ، سرگودھا میں تین تین روزہ کورسسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ سہ ماہی اجلاس ۲۳؍ ذوالحجہ، ۸؍ اکتوبر کو ملتان میں منعقد ہوگا۔ آنے والی سہ ماہی کے لئے احتساب قادیانیت جلد نمبر ۲۵ تجویز کی گئی جو مولانا محمد عالم آسی امرتسری کے رسائل ’’الکاویہ علیٰ الغاویہ‘‘ پر مشتمل ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۵ء ص ۵۵، ۵۶)
۳۰ رویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۰ رویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۶؍ اگست ۲۰۱۵ء کو برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔
پہلی نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری قمر الزمان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے امیر مرکزیہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، اقراء روضۃ الاطفال کے مدیر مفتی خالد محمود، انگلینڈ کے امیر مولانا حافظ نگین احمد، قاری محمد اسماعیل رشیدی، مفتی محمود الحسن، مفتی محمد اسلم، حافظ محمد اقبال امام سینٹر مجلس تحفظ ختم نبوت، قاری فیض اللہ چترالی، حافظ محمد ایوب، مولانا خلیل احمد اور مولانا امداد اللہ قاسمی نے بیانات کئے۔
دوسری نشست کی صدارت نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری قمر الزمان جب کہ ہدیہ بارگاہ رسالت جناب عمر حسین شاہ نے پیش کیا۔
کانفرنس کی دوسری نشست سے مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود مانچسٹر، دارالعلوم بری کے شیخ الحدیث مفتی عبدالرحیم، مولانا محمد سجاد، قاری ممتاز الحق، مولانا منور حسین سورتی، حاجی عبدالحمید بلجیم، مولانا محمد ابراہیم بریڈ فورڈ، صاحبزادہ رشید احمد، مولانا اسلام علی شاہ، حافظ اکرام الحق، مفتی محمد جاوید، مولانا خلیل الرحمن اور یورپی ممالک کے دیگر علماء کرام نے خطابات کئے۔
(رپورٹ ملخص ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۱۵؍ ستمبر ۲۰۱۵ء)
تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس و ختم نبوت کانفرنس چمن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام ۲۷، ۲۸، ۲۹؍ اگست ۲۰۱۵ء کو چمن میں ۳ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد یونس نے اسباق پڑھائے۔ کورس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تحفظ ختم نبوت کورس چمن کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ شرکاء کورس میں اکثر علماء کرام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ومفتیان عظام تھے۔ کورس کے اختتام پر کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس میں مولانا محمد اکرم طوفانی، شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالظاہر، علامہ عبدالغنی کے جانشین شیخ الحدیث حافظ محمد یوسف، مجلس بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواحد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا محمد یونس نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء کورس کو عالمی مجلس بلوچستان کی طرف سے اسناد تقسیم کی گئیں۔ تحفظ ختم نبوت کورس و کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چمن صاحبزادہ قاری جنید احمد فردوسی صاحب اور ان کے مخلص رفقاء کار نے خوب محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۲۹)
ختم نبوت کانفرنس خانوزئی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام خانوزئی میں ۳۰؍اگست ۲۰۱۵ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد یونس، شیخ الحدیث مولانا عبدالظاہر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے عالمی مجلس خانوزئی کے ناظم اعلیٰ حاجی محمد اکبر اور ان کے رفقاء گرامی نے خوب محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۵۵)
دروس ختم نبوت کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کی طرف سے ۳۱؍اگست ۲۰۱۵ء کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دروس ختم نبوت کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بعد نماز عصر جامع مسجد طوبیٰ اور بعد نماز مغرب جامع مسجد فیض محمد میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر درس دیئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد اور بعد نماز مغرب جامع مسجد گول نواں کلی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور مرزا قادیانی کے کذب پر درس دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۱۷)
ختم نبوت کانفرنس نارووال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حسب سابق امسال بھی پورے ملک بھر میں ۷؍ستمبر کے عظیم الشان کارنامے کی یاد میں پورے ملک میں تحفظ ختم نبوت کی صدا کو بلند کیا۔ اسی سلسلے میں ضلع نارووال تحصیل شکر گڑھ فاتح قادیان، رئیس المناظرین، استاذ المبلغین مولانا محمد حیات کے گاؤں بارے خان میں ۲؍ستمبر ۲۰۱۵ء بروز بدھ بعد نماز ظہر شہداء ختم نبوت اور جاں نثاران ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت مولانا قاری محمد رمضان امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل شکر گڑھ نے فرمائی۔ جب کہ تلاوت قاری محمد شاہد اور نعت فیصل حسان بلال حسان نے پیش کی۔ کانفرنس کے اجتماع سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا راشد قاسمی، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا گل محمد توحیدی نے خطاب فرمایا۔ تمام مقررین نے شہداء ختم نبوت، جاں نثاران ختم نبوت کے کردار کے عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے عزم نو کیا کہ آئندہ بھی ان عاشقان رسول کے کردار کو یاد رکھا جائے گا۔ ۲؍ستمبر: بعد نماز ظہر جامع مسجد وہاب ڈسکہ شہر میں مولانا اللہ وسایا کا خصوصی پروگرام تشکیل دیا گیا جس میں علاقہ بھر کے احباب نے شرکت فرمائی۔ پروگرام اگرچہ مختصر مگر پر اثر رہا۔ سامعین نے تجدید عہد کرتے ہوئے زندگی بھر اپنی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم کے نام سے کام کرنے کا عزم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پسرور
۳؍ ستمبر ۲۰۱۵ء: بعد نماز مغرب جامع مسجد فاروق اعظم پسرور میں ’’ختم نبوت‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پسرور کے امیر اور شاہی مسجد کے خطیب مولانا مفتی محمد عثمان نے جب کہ سرپرستی کے فرائض مولانا قاری غلام فرید اعوان نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کے بعد نعت پیش کرنے کے لئے جناب فیصل بلال حسان تشریف لائے اور اہل علاقہ کے دل محبت رسول سے باغ باغ کر دیئے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد اسحاق، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ سامعین کو خوب فائدہ ہوا اور حضور پرنور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہونے کا ارادہ کیا۔ ۴؍ ستمبر: مولانا اللہ وسایا نے جامع مسجد امیر حمزہ سیالکوٹ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۳۶)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
۴؍ ستمبر ۲۰۱۵ء بعد نماز عشاء جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس، گرامی قدر پیر شبیر احمد گیلانی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں حسب ترتیب تلاوت، نعت کے بعد مولانا قاضی احسان احمد، مولانا فقیر اللہ اختر کا بیان ہوا۔ بعد ازاں پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت اور اس کا تحفظ کے اہم ترین عنوان پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور دعائے خیر پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۲۶)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ۶؍ ستمبر ۲۰۱۵ء بروز اتوار مرکزی لال مسجد اسلام آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس صبح ۱۰ بجے شروع ہو کر نماز عصر تک جاری رہی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کا دن عالم اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کی فتح کا دن تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام قادیانی ملعون اور اس کے پیروکاروں کو ان کے کفریہ عقائد و نظریات کی بنیاد پر متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اسی تاریخ ساز فیصلے کی یاد اور عزم نو کے لئے ہر سال عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مرکز شہداء اسلام جامع مسجد لال اسلام آباد میں منعقد ہوتی ہے۔ اس کانفرنس میں ملک کے تمام مسالک کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، قانون دان، صحافی اور تاجر برادری بھر پور شرکت کرتی ہے۔ ماشاء اللہ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے راولپنڈی ڈویژن کے تمام علماء کرام بھر پور کوشش کرتے ہیں مری، ٹیکسلا، ہری پور، کہوٹہ، بہارہ کہو اور اسلام آباد کے تمام علماء کرام و عاشقان مصطفیٰ اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں اور خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کی کامیابی میں مولانا عبد العزیز مدظلہ کی دعاؤں کا بڑا دخل ہوتا ہے اور نائب خطیب مولانا عامر صدیق بھی بھر پور سرپرستی کرتے ہیں مسجد کی انتظامیہ کا تعاون بھی مثالی ہوتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان تمام حضرات کے تعاون پر ان کی اس خدمت کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ یہ تعاون ہر سال ہوا کرے گا۔ ان شاء اللہ یہ ہم سب کے لئے شفاعت محمدیہ کا ذریعہ ہوگا۔
اس کانفرنس کے دو اجلاس منعقد ہوتے ہیں ایک صبح ۱۰ بجے امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد شیخ الحدیث مولانا عبد الرؤف کی صدارت اور ان کے بیان سے شروع ہوتا ہے اور دوسرا اجلاس بعد از نماز ظہر تا عصر ہوتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس میں مولانا عبدالکریم ندیم نے بھی عقیدہ ختم نبوت ائمہ کرام اور علماء امت کے کردار پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نائب چیرمین سینٹ آف پاکستان تھے جنہوں نے تحریک ختم نبوت اور دوسری تمام تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب قوم نے اتحاد کیا تمام مسائل حل ہوئے آج بھی پوری مسلم قوم کا اتحاد ملک کے استحکام ، دہشت گردی ختم کرنے اور دوسرے تمام مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ ختم نبوت اسلام آباد نے بھی اہم کردار ادا کیا خادم ختم نبوت قاری عبدالوحید قاسمی اور مولانا خلیق الرحمن چشتی معاون تھے۔
مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا قاضی احسان احمد، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا ظہور احمد علوی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، قاری سیف اللہ سیفی، مولانا ادریس حقانی و دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قوم میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا تو مقاصد حاصل نہیں کر پائیں گے۔ پاکستان بنانے میں ہمارے اکابرین نے قربانیاں دی ہیں۔ آج جو لوگ محب وطن ہونے کے دعویدار ہیں، ان کا پسینہ بھی اس میں شامل نہیں۔ پاکستان ہم نے بنایا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ خدانخواستہ پاکستان پر کوئی برا وقت آیا تو یہ نام نہاد محب وطن لندن، دوبئی اور سعودی عرب بھاگ جائیں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جنہوں نے پاکستان کا پرچم بلند کیا انہیں ملک دشمن کہا جارہا ہے اور جنہوں نے انگریزوں کے جوتے پالش کر کے سر اور نواب کے القابات حاصل کئے، وہ محب وطن ہونے کے دعویدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر مکمل درآمد کیا جائے تو ملک میں خلافت راشدہ کا نظام نافذ ہو جائے گا۔ آئین کی دفعات پر عمل کیا جائے تو صرف حاجی اور مولوی ہی ممبر پارلیمنٹ بن سکتے ہیں۔ سیکولر طبقہ اسی سے خائف ہے۔ آئین میں واضح طور پر موجود ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور وہ کسی بھی کلیدی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے۔ ہم اس آئین پر مکمل درآمد کے خواہاں ہیں اور جو لوگ اس آئین کو قبول نہیں کر رہے ہیں، ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں ترمیم میں دہشت گردی کو مذہب سے جوڑا گیا ، جس پر ہم نے احتجاج کیا۔ اب ان لوگوں کو بھی احساس ہو گیا ہے۔ اس لئے وہ اب اس ترمیم میں اصلاح کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی جارحیت کے خلاف بھی قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ عسکری قیادت اور قوم نے مل کر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہم ملک کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ کرنا قربت خداوندی اور نجات اخروی حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ جب تک اس دھرتی پر ایک بھی قادیانی موجود ہے، ہماری تحریک جاری رہے گی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا مجاہدین ختم نبوت اور اراکین پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے واجد شمس الحسن کے خلاف قرارداد پیش کر کے پوری امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ تمام اراکین پنجاب اسمبلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ قادیانی آیات ختم نبوت میں تحریف معنوی اور احادیث نبویہ میں مطلب براری کے معانی نکال کر امت مسلمہ کو دھوکا دے رہے ہیں۔ مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا کہ دینی مدارس، علمائے کرام اور اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کو وارننگ دینے والوں کو عاد وثمود اور مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا انجام بد بھی یاد رکھنا چاہیے۔ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ قرار دینے والے عناصر قادیانی مؤقف کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔ دینی جماعتوں اور مذہبی لوگوں اور دینی مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ تعجب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتخریج: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی بات ہے کہ تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والوں پر جھوٹی ایف آئی آر کاٹی جا رہی ہیں۔ حالانکہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/اکتوبر ۲۰۱۵ء ص۲۶)
تحفظ ختم نبوت سیمینار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء پاکستان کی قومی اسمبلی کے تاریخ ساز فیصلے کی یاد میں پریس کلب کوئٹہ میں تحفظ ختم نبوت سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں امیر مولانا عبد الواحد، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبد الرحیم رحیمی، مولانا محمد یونس، سابق صوبائی وزیر مولانا حافظ حسین احمد شرودی، مولانا حبیب اللہ مینگل، مولانا سلیم بارک، جمعیت اہل حدیث کے مفتی زکریا ذاکر، انجمن تاجران کے چیئرمین حاجی تاج آغا نے خطاب کیا۔ جب کہ تلاوت کے فرائض ملک پاکستان کے مایہ ناز قاری جناب قاری محمد ابراہیم کاسی نے سر انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص۱۷)
سندھ میں عشرہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم تا ۱۰/ستمبر ۲۰۱۵ء کو ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ کی یاد میں عشرہ ختم نبوت منایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یکم/ستمبر جامع مسجد اقصیٰ نواں گوٹھ سکھر میں جلسہ ختم نبوت مولانا مفتی محمد یاسین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد حسین ناصر نے خطاب کیا۔
۲/ستمبر ۲۰۱۵ء: جامع مسجد صدیقیہ نزد سیشن کورٹ سکھر میں جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا عبد الحمید آرائیں نے کی۔ جلسہ سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد حسین ناصر نے خطاب کیا۔
۳/ستمبر ۲۰۱۵ء: مدرسہ تعلیم القرآن توحیدیہ گمبٹ کے زیر اہتمام جلسہ منعقد ہوا۔ جس سے پیر شریف کے سجادہ نشین سائیں عبد المجیب قریشی، مولانا میر محمد میرک، مولانا محمد قاسم سومرو، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت پر خطاب فرمایا جو عصر کی نماز تک جاری رہا۔
۳/ستمبر ۲۰۱۵ء: بعد نماز عشاء مدینہ مسجد رانی پور میں مجلس کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا حکیم عبد الواحد بروہی نے کی۔ کانفرنس سے خیر پور میرس اور نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
۴/ستمبر ۲۰۱۵ء: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جس میں ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ پر روشنی ڈالی۔
۵/ستمبر ۲۰۱۵ء: بعد نماز ظہر جامعہ بدرالعلوم بدین میں حافظ عبدالحمید کی صدارت میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس سے مولانا تجمل حسین اور مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ نیز جامعہ کے بانی مولانا عبدالستار چاوڑہ کو خراج تحسین پیش کیا۔
۵/ستمبر ۲۰۱۵ء: بعد نماز عشاء جامع مسجد فاروقیہ ٹنڈو باگو میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا تجمل حسین نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶؍ ستمبر ۲۰۱۵ء: بعد نماز عشاء بخاری مسجد کنری تھر پارکر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا تجمل حسین، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت علالت کے باوجود بھائی محمد ناصر نے کی۔ کانفرنس میں موصوف اور دوسرے مریضوں کی صحت وعافیت کی دعاء کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص ۵۵، ۵۶)
تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد آسٹریلیا لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء پاکستان کی قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلے کی یاد میں جامع مسجد آسٹریلیا لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن نے کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ کرنا قربت خداوندی اور نجات اخروی حاصل کرنے کے مترادف ہے، جب تک اس دھرتی پر ایک بھی قادیانی موجود ہے ہماری تحریک جاری رہے گی، انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے قرارداد پیش کر کے پوری امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ تمام اراکین پنجاب اسمبلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
مسلم لیگ ن کے ایم۔ پی۔ اے وحید گل نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اسمبلی کی رکنیت کیا چیز ہے اپنی جان بھی قربان کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واجد شمس الحسن نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے پر تنقید کر کے پوری پارلیمنٹ کی توہین کی ہے۔
جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ صرف علماء کرام اور مفتیان عظام کا نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیشن کورٹس، ہائیکورٹس، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے لے کر کینیا، رابطہ عالمی اسلامی، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ اور گمبیا کی عدالتوں نے بھی قادیانیوں کے کفر وارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
مولانا مفتی محمد حسن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔
کراچی مجلس کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ قادیانی آیات ختم نبوت میں تحریف معنوی اور احادیث نبویہ میں مطلب براری کے معانی نکال کر امت مسلمہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
متحدہ جمعیت اہل حدیث کے مرکزی رہنما مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ دینی مدارس، علماء کرام اور اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کو وارننگ دینے والوں کو عاد وثمود اور مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کا انجام بد بھی یاد رکھنا چاہئے۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفاع کی جنگ لڑ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔
بریلوی مکتب فکر کے رہنما مولانا مفتی غلام حسین کلیانوی نے کہا کہ قادیانی گروہ سازش کے تحت ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے لئے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
جمعیت علماء اسلام (س) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ دینی جماعتوں اور مذہبی لوگوں اور دینی مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
لندن کے معروف عالم دین مولانا امداد الحسن نعمانی نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم ونسق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت اسلامی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد انور گوندل نے کہا کہ پاکستان میں مسلمان اکثریتی اعتبار سے جانے پہچانے جاتے ہیں، لیکن ملک کا پورا نظام قادیانی اقلیت اور چند فیصد باقی اقلیتوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔
کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لاہور کے سرپرست مولانا مفتی نعیم الدین، آسٹریلیا مسجد کے خطیب مولانا عبدالرؤف ملک، مولانا عبدالشکور حقانی، عزیز الرحمن ثانی، مولانا حافظ محمد سلیم، جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے امیر شیخ الحدیث مولانا محب النبی، وفاق المدارس لاہور ڈویژن کے مسئول مولانا عزیز الرحمن، پیر رضوان نفیس، قاری مومن شاہ، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا عبدالنعیم، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا قاسم گجر، مولانا شاہد عمران عارفی، حامد بلوچ، قاری ظہور الحق، قاری عبدالعزیز، قاری علیم الدین، جامعۃ الخیر کے ناظم محمد نعمان حامد شاکر، مولانا محمد خالد محمود، مولانا سعید وقار، مولانا عمر حیات، حافظ محمد اشرف گجر، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد سعادت، مولانا خالد عابد، تاجر رہنما حاجی مقصود، خلیل الرحمن، حافظ عباس سمیت کثیر تعداد میں علماء طلباء، تاجر برادری، صحافی اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۵ء ص فرنٹ اندرون ٹائٹل)
چھ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اکابرین کی سرپرستی میں دینی مدارس، اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور نوجوان نسل کو عقیدۂ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے اندرون و بیرون ملک مختلف پروگرامز منعقد کرتی ہے۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی کراچی مرکز میں ہونے والا سالانہ پانچ روزہ کورس بھی ہے جو ہر سال بقرہ عید کے متصل بعد منعقد ہوتا ہے۔ چنانچہ امسال بھی حسب سابق یہ کورس مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍ ذوالحجہ ۱۴۳۶ھ، بمطابق ۲۸؍ ستمبر تا ۴؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز پیر تا بروز اتوار بمقام جامع مسجد باب الرحمت دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش میں منعقد ہوا اور پانچ کے بجائے چھ روزہ رکھا گیا۔ ۱۷؍ ذوالحجہ، مطابق ۲؍ اکتوبر بروز جمعہ کو تعطیل رہی۔
ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی شفقت فرماتے ہوئے اپنے قیمتی لمحات میں سے وقت نکال کر ہمیں اور کورس کے طلباء کو استفادہ کا خوب موقع عنایت فرمایا۔ کورس کے پورے دورانیہ میں ہر روز حضرت کے دو سبق رکھے گئے تھے لیکن پہلے دن سفر سے تاخیر سے پہنچنے کی بنا پر اس کا متبادل نظم کرلیا گیا، باقی ایام میں حضرت نے تمام سامعین کو اپنے دروس سے مستفید فرمایا۔
الحمدللہ! کورس شروع ہونے سے قبل ہی تشہیری و دیگر انتظامات بخوبی مکمل ہوگئے تھے اور دینی مدارس کے طلباء کرام چرم قربانی جمع کرکے تھکن کے باوجود کافی تعداد میں صبح سویرے پہنچ گئے تھے جن میں ایک بڑی تعداد دور دراز سے آنے والے طلباء کی بھی تھی۔ دفتر کی جانب سے تمام طلباء کے اعزاز میں بطور اکرام سبق کے اختتام پر کھانے کا بھی نظم کیا گیا تھا۔
کورس میں پڑھانے والے اساتذہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مفتی محمد راشد مدنی، مفتی محمد عبداللہ حسن زئی، مفتی محمد سلمان یاسین (استاذ حدیث جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد)، مولانا علی اکبر جلبانی (استاذ جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن)، مولانا عبدالحئی مطمئن، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد شعیب (ذمہ دار حلقہ اورنگی ٹاؤن)، مولانا محمد رضوان (ذمہ دار حلقہ منظور کالونی و استاذ جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن)، مولانا محمد مشتاق (ذمہ دار حلقہ میٹروول)، مولانا نور اللہ رشیدی (چیئرمین ادارہ تبلیغ اسلام پاکستان) شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائیں اور نجات اخروی کا وسیلہ بنائیں۔ آمین!
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسباق کی تفصیل درج شدہ نقشہ پر ملاحظہ فرمائیں۔
چھ روزہ ”تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس“ 28/ ستمبر تا 04/اکتوبر 2015ء ۔ 14 تا 19/ذی الحجہ 1436ھ
تاریخ دن 08:00 تا 08:30 08:30 تا 09:00 09:00 تا 9:30 9:30 تا 10:00 10:00 تا 11:00 11:00 تا 12:30
14/ ذی الحجہ 28/ ستمبر پیر تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالنبی کوکب مدظلہ آیت خاتم النبیین کی تشریح مولانا عبدالنبی کوکب مدظلہ عقیدہ ختم نبوت از قرآن کریم مولانا عبدالرؤف مدظلہ عقیدہ ختم نبوت از قرآن کریم مولانا محمد مشتاق مدظلہ تحفظ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت مولانا قاضی احسان احمد مدظلہ عقیدہ ختم نبوت پر قادیانی شبہات کے جوابات مولانا عبدالنبی کوکب مدظلہ
15/ ذی الحجہ 29/ ستمبر منگل چند اہم پیشگوئیاں مولانا محمد قاسم مدظلہ تعارف مرزا غلام احمد قادیانی مولانا محمد شعیب مدظلہ قادیانی اور شعائر اسلام مفتی محمد سلمان یاسین مدظلہ گستاخ رسول کی شرعی سزا از قرآن و سنت اور آئین پاکستان مفتی محمد سلمان یاسین مدظلہ عقیدہ ختم نبوت اور اکابرین امت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ
16/ ذی الحجہ 30/ ستمبر بدھ دور حاضر اور جدید فتنے مولانا عبدالرؤف مدظلہ عقیدہ ختم نبوت از احادیث طیبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ عقیدہ ظہور مہدی علیہ الرضوان اور مرزا قادیانی مولانا علی اکبر مدظلہ عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قادیانی شبہات کے جوابات مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ
17/ ذی الحجہ 01/ اکتوبر جمعرات جھوٹے مدعیان نبوت کا تعارف مولانا عبدالرؤف مدظلہ رد عیسائیت مولانا نور اللہ رشیدی مدظلہ عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام از قرآن کریم مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف مولانا قاضی احسان احمد مدظلہ عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور اکابرین امت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ
18/ ذی الحجہ 03/ اکتوبر ہفتہ تحریک ختم نبوت 1953ء, 1974ء اور 1984ء مولانا محمد رضوان مدظلہ عقیدہ رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام از احادیث طیبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ حجیت حدیث اور فتنہ انکار حدیث مفتی عبداللہ حسن زئی مدظلہ ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں؟ مولانا مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ
19/ ذی الحجہ 04/ اکتوبر اتوار اوصاف نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ تیاری امتحان امتحان اختتامی کلمات و دعا مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ اکتوبر کراچی ۲۰۱۵ء ص ۲۴، ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچویں سالانہ عظیم الشان دفاع ختم نبوت کانفرنس اورنگی ٹاؤن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اورنگی ٹاؤن کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ عظیم الشان دفاع ختم نبوت کانفرنس ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء، رحمٰن بابا اسٹیڈیم اورنگی ٹاؤن نمبر ۴ میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت قاری تاج محمد صابر نے حاصل کی۔ حمد ونعت حافظ محمد بلال اور مولانا حافظ محمد اشفاق نے پیش کی۔ نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحئی نے انجام دیئے۔
علاقہ کی معروف علمی شخصیت مولانا محمد عقیل قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ آج عمومی صورتحال یہ ہے کہ اعمال کی اصلاح پر توجہ ہے جب کہ عقائد کے معاملہ میں غفلت اور لاپروائی سے کام لیا جارہا ہے، حالانکہ اعمال سے زیادہ عقائد کی اصلاح کا اہتمام کرنا چاہئے، کیونکہ عمل میں کمزوری قابل برداشت ہے جب کہ عقائد میں معمولی لغزش بھی بندہ کو دوزخی بنا دیتی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی محنت مسلمانوں کے ایمان کو بچانا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کام کے لئے ہر زمانہ میں مسلمانوں نے بے مثال قربانیوں سے ایک عظیم تاریخ رقم کی ہے۔ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے تمام اکابرین میدان عمل میں اترے۔
مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے اپنے منفرد خطاب میں کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ ہورہا ہے۔ فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے دنیا کو باخبر کیا جارہا ہے۔ الحمدللہ! وقت آگیا ہے کہ قادیانی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے اپنی ذلت و ناکامی کے فیصلے سن رہے ہیں۔ قادیانیوں کے قبضہ سے مسلمانوں کی مساجد آزاد ہورہی ہیں۔ قادیانیوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ آج بھی مسلمانوں کا یہی عزم ہے کہ فتنہ قادیانیت کا تعاقب جاری رہے گا۔ وہ دن آئے گا کہ اللہ کی دھرتی قادیانیت کے ناپاک وجود سے خالی ہوگی۔
خطیب اسلام مولانا سعید یوسف خان کشمیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ محمد عربی ﷺ کی امت میں ہیں۔ نسبت بڑی چیز ہے، نبی ﷺ سے نسبت ہوئی تو نعلین شریفین اور لباس مبارک عرش پر پہنچا۔ حضور اکرم ﷺ والی صورت و سیرت اپنانا جنت میں داخلہ کا ذریعہ ہے۔ ذکر رسول کے ساتھ فکر رسول بھی ضروری ہے۔ محمد عربی ﷺ جیسے عظیم پیغمبر کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو کسی بھی نبی کی ضرورت نہیں۔ ختم نبوت کے بعد نبوت کا دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی بدترین کافر ہے۔ حکومت پاکستان کی ۷؍ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں یوم ختم نبوت کی تقریب قابل فخر اقدام ہے۔ جس میں مہمان خصوصی کے لئے تقریر کی تیاری کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی۔ الحمدللہ! مولانا کشمیری کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
کانفرنس میں مولانا عبدالقدوس حسن زئی، مولانا مجاہد نبی، قاری فتح محمد، مولانا عطاء اللہ، مولانا مشتاق احمد، مولانا فیض ربانی، پیپلز پارٹی ضلع غربی کے صدر محترم علی احمد، قاری نذیر احمد مالکی، مولانا نورالوہاب، مولانا شفیق الرحمٰن اور دیگر علماء کرام کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی تیاری اور کامیابی کے لئے ختم نبوت اورنگی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب اور ان کے رفقاء کار مولانا محمد وسیم، مولانا محمد اسامہ، حافظ ضیاء الرحمٰن، حافظ عثمان شاکر، دلاور، محمد شاہد، گلزیب، معین کاکڑ، محمد سعید، محمد بلال، محمد اویس اور دیگر کارکنان نے دن رات انتھک کوشش کی تاریخی کانفرنس منعقد کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍نومبر ۲۰۱۵ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چونتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹، ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء
پاکستان پارلیمنٹ نے آئینی طور پر جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تب قادیانی مرکز چناب نگر کو بھی کھلا شہر قرار دیا گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پہلے بلدیہ ٹاؤن پھر مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن اور پھر مسلم کالونی میں اپنے کام کو منظم کیا۔ اب تو اللہ رب العزت کا فضل ہے مجلس کا یہ کام ”اصلہا ثابت وفرعہا فی السماء“ کا مصداق بن رہا ہے:
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسلم کالونی میں جامع مسجد و مدرسہ عربیہ ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔
- ۲...... اب وہاں پر حفظ و ناظرہ کی چھ کلاسیں، گردان کی کلاس۔
- ۳...... بنات کے لئے حفظ و ناظرہ کی دو کلاسیں۔
- ۴...... بنین کے لئے درجہ کتب اعدادیہ سے مشکوٰۃ شریف تک بڑی کامیابی سے محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چل رہے ہیں۔
- ۵...... تخصص کی کلاس اس کے علاوہ ہے۔ جس میں دو درجن فاضل علماء کرام ایک سالہ تخصص کر رہے ہیں۔
- ۶...... یوں حفظ و ناظرہ، بنین و بنات درجہ کتب و درجہ تخصص کے مجموعی طور پر پانچ صد طلباء و طالبات یہاں پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
جن کے تمام تر مصارف عالمی مجلس کا مرکزی بیت المال ادا کرتا ہے۔
- ۷...... ہر سال دینی مدارس کی سالانہ رخصتوں کے موقع پر یہاں پچیس روزہ ”سالانہ ختم نبوت ریفریشر کورس“ منعقد ہوتا ہے اور اس
وقت تک بلا مبالغہ ہزاروں ہزار علماء کرام فیضیاب ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔
- ۸...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یہاں پر ایک وسیع و عریض لائبریری قائم کی ہے جس میں دس ہزار سے زیادہ کتب موجود ہیں۔ اس
سے عوام و خواص جہاں مستفید ہوتے ہیں وہاں کالجز و یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس اپنے ایم. فل یا پی. ایچ. ڈی کے مقالا جات کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ جب کہ درسی کتب کی لائبریری علاوہ ازیں ہے۔
- ۹...... اسی طرح اپنے اس مرکز میں ایف. اے تک کی عصری تعلیم کے لئے بھی باضابطہ نظام قائم ہے اور یوں ہر سال مڈل، میٹرک،
ایف اے کے امتحانات حکومتی تعلیمی بورڈ کے تحت دلوائے جاتے ہیں۔
- ۱۰...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہاں قائم مدرسہ کا باقاعدہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ الحاق ہے اور اس کے تمام طلباء کا
وفاق کے تحت امتحان دلایا جاتا ہے۔
- ۱۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس مدرسہ میں نئے تعلیمی سال شوال ۱۴۳۷ھ سے ان شاء العزیز دورہ حدیث شریف کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
- ۱۲...... یہاں مدرسہ کی جدید بلڈنگ میں ہی عالمی مجلس نے ڈسپنسری قائم کی ہے۔ یومیہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر صاحب، کمپوڈر ڈیوٹی دیتے ہیں
اور یوں علاقہ بھر کے عوام کو فری علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
- ۱۳...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس مرکز مکتبہ بھی قائم کر رکھا جس میں مجلس کی تمام تر مطبوعات ارزاں قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔
- ۱۴...... یہاں پر ہر سال آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ امسال چونتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کے لئے
۲۹، ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات جمعہ کی تاریخیں مقرر کی گئیں۔ کانفرنس کے انتظامات، فیصل آباد، سرگودھا، لاہور ڈویژنوں میں کانفرنس کی تشہیر و دعوت، اشتہارات، اسٹیکرز، ہینڈ بل، پینا فلیکس، بینرز کی تنصیب و تقسیم کے لئے میٹنگیں ہوئیں۔ ۱۵؍ اکتوبر کو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دو درجن مبلغین حضرات نے شرکت فرمائی اور نئے عزم و ولولہ سے اپنے مفوضہ تبلیغی پروگرام کی تکمیل کے لئے ۱۵ سے ۲۵؍اکتوبر کا گیارہ روزہ تبلیغی دورہ کیا۔ ان تین ڈویژنوں کے شہروں و قصبات میں ختم نبوت کی صدا بلند ہوئی۔ لوگوں نے نئے جذبہ سے کانفرنس میں شرکت کے لئے وعدے و ارادے فرمائے۔ قافلوں اور وفود کی تیاری کے لئے بھرپور جدوجہد ہوئی۔ فاالحمد للّٰہ! (۱) چناب نگر سے لے کر لاہور روڈ پنڈی بھٹیاں موٹروے تک۔ (۲) چناب نگر سے فیصل آباد روڈ پر موٹروے تک۔ (۳) چناب نگر سے احمد نگر روڈ، سیال انٹرچینج موٹروے تک۔ (۴) چناب نگر سے سرگودھا روڈ، سرگودھا تک۔ (۵) چناب نگر سے جھنگ روڈ ، ہست کھیوہ تک۔ (۶) چناب نگر سے چنڈ بھروانہ تک۔ گویا شش جہت تک روڈوں پر مدرسہ ختم نبوت کے اساتذہ وطلباء نے چنیوٹ، لالیاں، احمد نگر، بھوانہ، پنڈی بھٹیاں، اندرون شہروں سمیت تمام حلقہ میں اشتہارات اور مساجد میں عالیشان خوبصورت فلیکس لگائے۔ 50X50، 30X50، 30X20 کے ایڈورٹائزنگ بورڈوں پر چنیوٹ میں تین فلیکس بورڈ لگوائے گئے۔ چنیوٹ سے لالیاں تک سرگودھا روڈ پر تمام پولوں پر بینرز لٹکائے گئے۔ ۱۶ اور ۲۳؍اکتوبر کے دونوں خطبات جمعہ کے لئے علاقہ بھر کی ایک سو سے زائد مساجد میں خطبات جمعہ ہوئے۔ یوں کانفرنس سے قبل پورے علاقہ کو سراپا جلسہ گاہ بنا دیا گیا۔ فاالحمد للّٰہ تعالیٰ!
ختم نبوت علماء کنونشن سرگودھا: ختم نبوت کانفرنس سے ایک روز قبل یعنی ۲۸؍اکتوبر سرگودھا شہر وضلع کے علماء کرام مدرسین عظام اور خطباء گرامی کا ایک کنونشن سرگودھا مسجد ابوحنیفہ واٹر سپلائی میں منعقد کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امراء حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد، لاہور سے مولانا مفتی محمد حسن تشریف لائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے دن پورے ضلع وشہر سرگودھا سے قافلے کانفرنس کے لئے رواں دواں ہوئے۔
پنڈال کی تیاری: ۲۶؍اکتوبر ۲۰۱۵ء کو کانفرنس کے پنڈال میں سائبان لگا دیئے گئے۔ ۲۷؍اکتوبر کو طعام گاہ میں سائبان اور خیمے نصب ہوئے۔ اس دن ہی شام تک وسیع وعریض دکانوں، سٹالوں کا بازار تا حد نگاہ لگ گیا۔ ۲۸؍اکتوبر کو صبح مولانا ابوبکر اپنے جامعہ طیبہ کے طلباء اور پوری ٹیم سمیت تشریف لائے اور عام کھانے کی تقسیم کے عمل کے انتظامات میں لگ گئے۔ آج ہی جھنگ سے کھانا پکانے کی پوری ٹیم آن موجود ہوئی۔ آج دوپہر کو ٹنڈو آدم سے بھاری بھرکم قافلہ پہنچ گیا۔ شام تک مانسہرہ کے دوستوں کے چلنے کی اطلاع ملی۔ شام تک تمام تک رفقاء نے اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے کام اور مفوضہ امور کو سنبھال لیا۔ سرگودھا سے شام تک مولانا مفتی محمد حسن تشریف لائے اور رات یہیں قیام فرمایا۔ ۲۸، ۲۹؍اکتوبر کی درمیانی رات عشاء کے بعد سب سے پہلا قافلہ مولانا مفتی ظفر اقبال جامعہ السراجیہ چیچہ وطنی سے لے کر تشریف لائے۔ اس کے بعد چارسدہ، قصور، رائے ونڈ، ڈسکہ، بنوں، احمد پور سیال سے رات بھر قافلے آتے رہے۔ پوری رات مولانا عزیز الرحمن ثانی اپنے مبلغین رفقاء سمیت آنے والے مہمان قافلوں کا استقبال کرتے رہے۔ صبح نماز کے لئے کانفرنس کے پنڈال سے جامع مسجد میں گئے تو پوری مسجد محراب سے صحن کی آخری صف تک مکمل بھر چکی تھی۔ مزید نمازیوں کے لئے وہ متحمل نہ تھی۔ وہاں اعلان کرایا گیا کہ دوسری جماعت پنڈال میں ہوگی۔ اب وضو کر کے نمازیوں نے کانفرنس کے پنڈال میں آنا شروع کیا۔ مسجد میں جو نمازی نہ سما سکے وہ یہاں پنڈال میں آگئے۔ یہاں دوسری نماز ہوئی۔ اچانک انتظام کرنا پڑا۔ ابھی پنڈال کا سپیکر چالو کرنے کا نہ سوچا تھا۔ اچانک اس صورت کو یوں سنبھالا گیا کہ ایک جہیر الصوت مہمان قاری صاحب نے امامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مکمل چار صفیں بھر گئیں۔ رہائشی درجنوں کمروں میں جو جماعتیں ہوئیں وہ علاوہ ازیں ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کا آغاز : کانفرنس کے آغاز سے معمول ہے ۔ پہلے دن فجر کے بعد کانفرنس کا آغاز جامع مسجد ختم نبوت میں درس قرآن مجید سے ہوتا ہے ۔ چنانچہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ درس جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ کے استاذ الحدیث اور عالمی مجلس لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن ارشاد فرماتے ہیں: چنانچہ حسب سابق امسال بھی آپ کے درس قرآن مجید سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس کے بعد تمام بیرونی مہمانوں کو ناشتہ کرایا گیا اور اس کے بعد مہمانوں کو آرام کا موقعہ دیا گیا ۔ چنانچہ دس بجے تک مہمانوں نے آرام کیا۔
کانفرنس کا پہلا اجلاس : ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات صبح دس بجے کانفرنس کا پہلا اجلاس کانفرنس کے پنڈال میں منعقد ہوا۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ۔ تلاوت: حافظ قاری محمد مہتاب، متعلم مدرسہ عربیہ ختم نبوت۔ نعت: عمار حسن (متعلم مدرسہ عربیہ ختم نبوت)، احمد حسن (متعلم جامعہ اشرفیہ لاہور)، صاحبزادہ حسان شاہد رامپوری (گوجرانوالہ)، فیصل بلال۔ افتتاحی خطاب: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ خطاب: مولانا عبدالحکیم نعمانی (مبلغ ساہیوال و پاکپتن)، حافظ عبدالوہاب (مبلغ حافظ آباد)، مولانا ضیاء الدین آزاد (ماموں کانجن)، مولانا غلام حسین (جھنگ)، مولانا محمد قاسم رحمانی (بہاول نگر)، مولانا مختار احمد (مبلغ تھرپارکر سندھ)، مولانا عتیق احمد (درجہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت)، مولانا صغیر احمد (درجہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت)، مولانا محمد یونس (درجہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت)، مولانا خان محمد (درجہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت)۔ نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی۔ دعاء: مولانا مفتی محمد حسن (لاہور) اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد علی صدیقی۔ (وقفہ برائے طعام و نماز)
دوسری نشست : ۲۹؍ اکتوبر بروز جمعرات بعد از ظہر چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی دوسری نشست ۔
زیر صدارت: حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ مہمان خصوصی: شیخ الحدیث امام یوسف نقشبندی، مولانا محمد سلیم (مدرسہ حسینیہ شہداد پور)، شیخ الحدیث مولانا حمید اللہ (بنوں)، مولانا مفتی محمد عرفان (ٹنڈو الہ یار)، مولانا قاری محمد انیس (امیر عالمی مجلس نواب شاہ)، قاری محمد احمد (ناظم عالمی مجلس نواب شاہ)۔ تلاوت: قاری عبدالرشید، جامعہ عبداللہ بن عمر لاہور۔ نعت: قاری محمد مہتاب (چناب نگر)، محمد اسامہ اجمل (لاہور)، قاری فضل امین (نوشہرہ)۔ خطاب: مولانا عبدالرشید (مبلغ فیصل آباد)، سید نور الحسن (امیر جماعت اسلامی چنیوٹ)، مولانا ریحان محمود (قصور)، مولانا قاری جمیل احمد بندھانی (خطیب جامع مسجد و جامعہ اشرفیہ سکھر)، مولانا محمد فواد (تخصص چناب نگر)، مولانا محمد سلیمان (تخصص چناب نگر)، مولانا صاحبزادہ اشرف علی (مہتمم جامعہ تعلیم القرآن راولپنڈی)، مولانا صاحبزادہ محمود الحسن نقشبندی (چکوال)، مولانا عبد الکریم ندیم (خان پور)۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسری نشست: ۲۹/اکتوبر بروز جمعرات بعد از عصر تیسری نشست منعقد ہوئی۔
خطاب: خطیب اسلام مولانا محمد امجد خان (ناظم عمومی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان)، مولانا اللہ وسایا۔
چوتھی نشست: ۲۹/اکتوبر بروز جمعرات بعد از مغرب۔
خطاب: مولانا عبدالرؤف چشتی (اوکاڑہ)۔
مجلس ذکر: مولانا غلام رسول دین پوری۔
پانچویں نشست: ۲۹/اکتوبر بروز جمعرات بعد از عشاء۔
صدارتی خطبہ: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ (کراچی)۔
بعدہ صدارت: مولانا عبدالغفور صاحب (ٹیکسلا)۔
تلاوت: قاری مسعود خان ربانی (فاروق آباد)، قاری محمد عثمان مکی (ساہیوال)۔
نعت: جناب طارق حفیظ (ساہیوال)، سید احمد حسن (لاہور)، عبدالباسط احسان (اسلام آباد)، جناب مولانا محمد قاسم گجر (لاہور)، فیصل بلال (گوجرانوالہ)، جناب طاہر بلال چشتی (جھنگ)، حافظ محمد شریف (مچن آباد)، جناب امین برادران (سرگودھا)، جناب سید سلمان گیلانی (لاہور)۔
خطاب: مولانا عبدالواحد قریشی (ڈیرہ اسماعیل خان)، قاری علیم الدین شاکر (لاہور)، مولانا محمد رضوان عزیز (مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر)، مولانا سید محمد یوسف شاہ (اکوڑہ خٹک)، مولانا میاں ڈاکٹر محمد اجمل قادری شیرانوالہ (لاہور)، مولانا عبدالرؤف فاروقی (ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان)، مولانا محمد یوسف خان (استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور)، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ساہیوال)، مولانا محمد مظہر شاہ (جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام پنجاب)، مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر (جمعیۃ علماء پاکستان)، مولانا احمد علی قصوری (خطیب اعظم لاہور)، مولانا نور محمد ہزاروی (امیر مجلس سرگودھا)، جناب سیف اللہ قادری (گوجرانوالہ)، ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی (سرگودھا)۔ آج رات گئے باب العلوم کہروڑ پکا کا قافلہ بھی شریک کانفرنس ہوا۔
نعت: مولانا مفتی شاہد عمران عارفی (ساہیوال)۔
خطاب: مولانا زبیر احمد ظہیر (لاہور)۔
دعاء: مولانا محمد عابد مدنی (استاذ الحدیث جامعہ خیرالمدارس ملتان)۔
مہمان خصوصی: مولانا حماد قاسمی (سیالکوٹ)، صاحبزادہ مبشر محمود (فیصل آباد)، مولانا عبدالشکور حقانی (لاہور)۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (ملتان)، مولانا محمد قاسم رحمانی (بہاول نگر)۔
درس قرآن مجید: ۳۰/اکتوبر بروز جمعہ بعد از فجر، مولانا منیر احمد منور صاحب شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا۔
چھٹی نشست: ۳۰/اکتوبر بروز جمعہ صبح دس بجے:
صدارت: حافظ پیر ناصر الدین صاحب خاکوانی (ملتان)۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ۵۶۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمان خصوصی: صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)، سید جاوید حسین شاہ (فیصل آباد)، مولانا عبدالغفور (ٹیکسلا)، قاری محمد یاسین (فیصل آباد)، مولانا محمد عابد مدنی (ملتان)۔
تلاوت: قاری مسعود الرحمن ربانی (فاروق آباد)۔
نعت: طارق حفیظ جالندھری (ساہیوال)۔
خطاب: مولانا تجمل حسین (مبلغ نواب شاہ)، مولانا عادل خورشید (درجہ تخصص)، گل اسلام حقانی (درجہ تخصص)، مولانا حبیب اللہ حسن (درجہ تخصص)، مولانا مفتی محمد راشد مدنی (مبلغ رحیم یار خان)، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی (ناظم وفاق المدارس پاکستان)۔
نوٹ نمبر ۱: اس کے بعد ۱۴۳۶ھ وفاق المدارس سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر کے جن ۱۸ طلباء نے امتحان پاس کیا۔ مہمانان خصوصی نے ان کی دستار بندی کرائی۔ (ان کی فہرست آگے آئے گی)
نوٹ نمبر ۲: ۱۴۳۵ھ، ۱۴۳۶ھ سال اوّل کے جن ۱۳ علماء کرام نے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سے درجہ تخصص میں کامیابی حاصل کی ان کی مہمانان خصوصی نے دستار بندی کرائی۔ ان کی فہرست آگے درج ہے۔
خطاب: قبل از جمعہ آخری خطاب اور خطبہ جمعہ، امامت جمعہ اور دعاء بعد از صلوٰۃ الجمعہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (ناظم عمومی وفاق المدارس العربیہ پاکستان)۔
ساتویں نشست (آخری): ۳۰؍ اکتوبر بروز جمعہ بعد از جمعہ سے شروع ہو کر عصر پر ختم ہوئی۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)
مہمان خصوصی: حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی (ملتان)، مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)۔
تلاوت: قاری احسان اللہ فاروقی نقشبندی (لاہور)۔
قراردادیں: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
خطاب: قاری انوار الحق حقانی (کوئٹہ)، مولانا مفتی عظمت اللہ (امیر عالمی مجلس بنوں)، قاری اکرام الحق (امیر عالمی مجلس مردان)۔
آمد: قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم۔
خیر مقدم واستقبالیہ منجانب صدر اجلاس، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد۔
نعت: سید سلمان گیلانی۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)۔
اختتامی خطاب و دعائے اختتام قائد جمعیۃ، امام انقلاب اسلامی، امیر مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا۔ یوں جمعرات دس بجے سے یہ کانفرنس شروع ہو کر جمعہ عصر کی نماز پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
جمعہ کی دو نمازیں ہوئیں۔ پہلی نماز جمعہ پنڈال میں ادا کی گئی جو حضرات بچ گئے انہوں نے جامع مسجد میں نماز ادا کی۔ اس دوسری جماعت میں بھی مسجد و مدرسہ کا پورا گراؤنڈ مین گیٹ تک بھر گیا تھا۔ حق تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر کے ۱۸ طلباء نے ۱۴۳۶ھ میں وفاق المدارس سے حفظ قرآن کا امتحان پاس کیا۔ ان کی کانفرنس پر جمعہ سے پہلے دستار بندی ہوئی ان کی فہرست یہ ہے:
نمبر نام طالب علم ولدیت ضلع نمبر نام طالب علم ولدیت ضلع ۱ حافظ محمد اقبال محمد ریاض چنیوٹ ۱۰ حافظ محمد نعیم نواز محمد نواز چنیوٹ ۲ حافظ عزیز الرحمٰن قاری عبید الرحمٰن بہاول نگر ۱۱ حافظ خان بادشاہ تازہ گل وزیرستان ۳ حافظ محمد شاہ نواز بشیر احمد مظفر گڑھ ۱۲ حافظ محمد ادریس حافظ اللہ یار چنیوٹ ۴ حافظ نعمان علی نذیر احمد چنیوٹ ۱۳ حافظ محمد سراج گل امیر خان وزیرستان ۵ حافظ محمد شہباز مختار احمد چنیوٹ ۱۴ حافظ محمد احمد محمد اظہر لودھراں ۶ حافظ ثقلین مشتاق حاجی فلک شیر چنیوٹ ۱۵ حافظ محمد ندیم برخوردار چنیوٹ ۷ حافظ محمد ضیاء الحق حاجی ممتاز حسین چنیوٹ ۱۶ حافظ محمد بلال اللہ دتہ چنیوٹ ۸ حافظ محمد مزمل عمر حیات چنیوٹ ۱۷ حافظ محمد عمران محمد رمضان خانیوال ۹ حافظ محمد ثمر حیات سلطان چنیوٹ ۱۸ حافظ عامر شہزاد محمد علی چنیوٹ
تخصص سال اوّل کے ۱۳ علماء کرام نے (۱۴۳۵ھ شوال تا رجب ۱۴۳۶ھ میں) درجہ تخصص سے فراغت حاصل کی۔ کانفرنس پر جمعہ سے قبل ان کی دستار بندی کی گئی ان کی فہرست یہ ہے:
سند نمبر داخلہ نمبر اسماء طلباء کرام سکنہ 05251 1 محمد امجد بن محمد اکبر ساہیوال 05252 2 عبد الرؤف بن محمد حنیف گھوٹکی 05253 3 محمد نعیم بن عبد المجید کہروڑ پکا 05254 4 محمد بلال رشید بن عبد الرشید بالاکوٹ 05255 5 محمد شفیع شیر بن شیر زمان بالاکوٹ 05256 6 محمد راحیل بن منظور احمد چنیوٹ 05257 7 محمد عمران حنفی بن محمد اسماعیل بہاول پور 05258 8 عبد الوحید بن محمد نواز لاڑکانہ 05259 9 احسان الحق بن خان عابد حسین چناب نگر 05260 10 محمد یوسف بن بشیر احمد جلال پور 05261 11 محمد اولیس بن نذیر حسین بالاکوٹ 05262 12 عبد الرحمٰن بن محمد فاروق رحیم یار خان 05263 13 محمد ریاس احمد بن عبد المناف سری لنکا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انعقاد مقابلہ مضمون نویسی ...... عنوان سیرت النبی ﷺ
منتظمین کانفرنس کو ذیل کی درخواست موصول ہوئی:
بخدمت جناب منتظمین تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مؤدبانہ گزارش ہے کہ عالمی کمیٹی برائے انعقاد مقابلہ مضمون نویسی نے اپنا پہلا مقابلہ سیرت النبی ﷺ پر منعقد کیا جس میں الحمد للہ ! تقریباً ۳۵۰۰/ افراد نے حصہ لیا۔ جن میں سے قواعد و ضوابط پر پورا اترنے والے ۳۹۶ مضامین کو مقابلہ میں شریک کیا گیا۔ ان مضامین کو ججز کے مختلف پینلز (جو کہ مفتیان کرام ، کالم نگار اور پروفیسرز صاحبان پر مشتمل تھا) نے چیک کیا اور ۷۰ بہترین مضامین کو اگلے مرحلے کے لئے منتخب کیا گیا۔ جہاں پر مختلف اخبارات اور رسائل کے مدیران حضرات نے انہیں چیک کیا۔ ان میں سے ۲۴ نمایاں مضامین کو فائنل مرحلے کے لئے منتخب کیا گیا۔ جہاں انہیں ۳ مفتیان اور ایک کالم نگار پر مشتمل ججز کے پینل نے انہیں چیک کیا اور نمبر جاری کئے۔ ان میں سے پہلے دس پوزیشن ہولڈرز کو کمیٹی کی جانب سے انعامات کے لئے منتخب کیا گیا جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلی پوزیشن: عمرہ کی ٹکٹ اور سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر کتابوں کا سیٹ۔ دوسری پوزیشن: دس ہزار (۱۰۰۰۰) روپے اور کتابوں کا سیٹ۔ تیسری پوزیشن: پانچ ہزار (۵۰۰۰) روپے اور کتابوں کا سیٹ۔ چوتھی پوزیشن سے لے کر دسویں پوزیشن تک صرف کتابیں دی جائیں گی۔
اس مقابلے میں حصہ لینے والی کم ترین عمر (۱۲ سالہ) بچی کو انعام اعزازی طور پر کتابوں کی شکل میں دیا جائے گا اور ہماری خواہش ہے کہ یہ انعامات ختم نبوت کے اسٹیج پر بزرگانِ دین اپنے مبارک ہاتھوں سے تقسیم فرمائیں۔ مہربانی فرما کر ہمیں شفقت فرماتے ہوئے کانفرنس میں انعامات کی تقسیم کی اجازت عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا! والسلام!
محمد تمیم اشرفی، طالب علم جامعہ دارالقرآن مسلم ٹاؤن فیصل آباد امیر کمیٹی برائے انعقاد مقابلہ مضمون نویسی
مولانا قاضی احسان احمد نے ان امتحان پاس کرنے اور انعام حاصل کرنے والوں کو ۳۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس پر بلایا۔ مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا قاضی عبدالرشید (راولپنڈی)، مولانا ظہور احمد علوی نے ان کو انعامات دیئے۔ انعام یافتگان کی فہرست یہ ہے:
نمبر شمار نام شہر زبان مضمون 1 گل طارق کراچی اردو 317 2 سجاد احمد اسلام آباد اردو 360 3 اویس قرنی لودھراں اردو 128 4 خورشیدہ کراچی عربی 229 5 حماد احمد لاہور اردو 204
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
6 حنا نرجس لاہور انگلش 226
7 اکرام اللہ متحدہ عرب امارات اردو 52
8 امینہ بتول ملتان اردو 153
9 راحیل جاڑا کراچی اردو 288
10 محمد ادریس دوحہ قطر اردو 324
قراردادیں ختم نبوت کانفرنس:
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ’۳۳ ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس‘ چناب نگر کا یہ عظیم الشان اجتماع اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے تمام خطباء ومقررین اور شرکاء کانفرنس کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ حضرات کی تشریف آوری سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
- یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دستور پاکستان کی روشنی میں اسلامی ومشرقی اقدار کے فروغ کے لئے فحش فلموں، ڈراموں، حیاء سوز اشتہاروں، سائن بورڈوں، جرائد ورسائل، کمرشل وثقافتی امور پر پابندی عائد کی جائے۔ کیونکہ مذکورہ امور ہماری نوجوان نسل کی اخلاقی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
- اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے اور دیگر اقلیتوں کے اوقاف کی طرح قادیانی اوقاف بھی تحویل میں لیا جائے۔
- قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنے سول کورٹ، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ قائم کئے ہوئے ہیں جو سٹیٹ اندر سٹیٹ کے مترادف ہے۔ لہٰذا چناب نگر میں سرکاری رٹ کو قائم کرتے ہوئے انہیں ملکی قانون کا پابند کیا جائے۔
- ملک بھر کی عسکری تنظیموں پر پابندی ہے، لیکن قادیانیوں کی تربیت یافتہ مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ کو کھلی چھٹی دی جاچکی ہے۔ دیگر عسکری تنظیموں کی طرح قادیانیوں کی مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے اثاثے بحق سرکار ضبط کئے جائیں۔
- کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چناب نگر کے باسیوں کو بلا استثناء مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- عدلیہ کے فیصلے اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے ارشادات کی روشنی میں گوہر شاہی ایک گستاخ رسول تھا۔ اس کو سزا ہوئی اور اس کی جماعت انجمن سرفروشان اسلام اور مہدی فاؤنڈیشن اس کے باطل نظریات کو چلا کر ارتدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان پر فی الفور پابندی لگائی جائے۔
- یہ اجتماع حکومت پاکستان سے ۱۹۷۴ء کے پارلیمنٹ کے متفقہ اور عظیم الشان فیصلہ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا اور امتناع قادیانیت ایکٹ اور دیگر پارلیمانی اور عدالتی فیصلوں پر ان کے تقاضوں کے مطابق عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
- کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات وواقعات پر ریلیز ہونے والی فلموں پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔
- یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ دہری شہریت اور گرین کارڈ کے حامل قادیانی افراد کی نقل وحرکت کی کڑی نگرانی کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کیا جائے، تاکہ عوام الناس کو مسلم
اور غیر مسلم کی پہچان میں آسانی ہو۔
- ☆...... یہ اجتماع ملک بھر کے زلزلہ زدگان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے شہداء کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی
دعاء کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ متاثرین کے لئے امدادی عمل کو خورد برد، کرپشن سے پاک کیا جائے تاکہ حکومتی امداد اصل مستحقین تک شفاف طریقے سے پہنچے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۶ء ص ۳ تا ۱۲)
ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کا اختتامی خطاب
”الحمدلله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له. ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له ونشهد ان سيدنا وسندنا ومولنا محمدا عبده ورسوله، ارسله بالحق بشيرا ونذيرا، وداعيا الى الله باذنه وسراجا منيرا. صلى الله على خير خلقه محمد واله وصحبه وسلم تسليما كثيرا كثيرا. اما بعد! فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. ومن اظلم من افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوح اليه شئ. ومن قال سانزل مثل ما انزل الله ولو ترى اذا الظلمون فى غمرات الموت والملئكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن ايته تستكبرون. صدق الله العظيم“
جناب صدر محترم ! برادر مکرم ! مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب اور برادر مکرم مولانا عزیز احمد صاحب، اکابر علماء کرام، بزرگان ملت، میرے دوستو اور بھائیو! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ سالانہ اجتماع جس میں شرکت میرا معمول رہا ہے میں اس پلیٹ فارم کا ایک ادنیٰ کارکن اور خادم ہوں اور اس طرح کے اجتماع میں اپنی شرکت کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ یہ بات اپنی جگہ پر کہ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر نہیں رہا اور آج شدت سے اس بات کا بھی احساس ہے کہ مولانا عبدالمجید صاحب اس اجتماع میں موجود نہیں ہیں۔ ہمارے ان تمام بزرگوں اور اس سلسلے کے تمام اکابرین کو اللہ اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کی جو تحریک ہے جس عقیدے کو انہوں نے فروغ دیا ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے لئے انہوں نے اپنی زندگی میں جو انسانیت کو اور امت مسلمہ کو شعور عطاء کیا ہے ایسے اکابر کا دنیا سے جانے کے باوجود مشن زندہ رہتا ہے۔ تحریک زندہ رہتی ہے اور ان کی خدمات لازوال ہوا کرتی ہیں۔ آج کا اجتماع میں دیکھ رہا ہوں ماشاء اللہ ! ایک تاریخ ساز اجتماع ہے اور ہمارے اکابرین اپنی قبروں میں سکون اور اطمینان محسوس کر رہے ہوں گے کہ ہم نے وہ عقیدہ بحفاظت اپنی نئی نسلوں کو منتقل کر دیا ہے۔
امریکہ کی رضا مندی نہیں چاہئے:
میرے محترم دوستو! آج پوری امت مسلمہ پر کڑا وقت ہے۔ ہمارے ملک میں مدارس کو شکوہ ہے، اہل مدارس کو شکوہ ہے، مسجدوں اور خانقاہوں سے تعلق رکھنے والوں کو شکوہ ہے، دین سے اپنی مضبوط وابستگی رکھنے والوں کو شکوہ ہے کہ ہمیں اس مضبوط وابستگی کی سزا دی جارہی ہے۔ ہم نماز نہ پڑھتے ، ہم مسجد سے ناتہ توڑ دیتے ، ہم علماء سے تعلق توڑ دیتے ، ہم مدارس سے فیض حاصل کرنے کا سلسلہ ختم کر دیتے ،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمارے سروں پر پگڑی نہ ہوتی، ہمارے چہروں پر داڑھی کی زینت نہ ہوتی تو آج ہم بھی سکون کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ آج ہم سے بھی امریکہ راضی رہتا۔ آج ہم سے بھی مغرب راضی رہتا۔ آج پاکستان کا سیکولر طبقہ ہمیں گلے لگاتا۔ آج ہماری بیوروکریسی بھی ہم سے محبت کرتی۔ آج ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی ہمیں سینوں سے لگاتی۔ لیکن ...... مجھے اطمینان ہے اس بات پر کہ ہم نے امریکہ اور یورپ کی رضامندی کی بجائے اپنے رب کی رضامندی کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ اور یورپ، ان کی پیروی، ابدی زندگی میں ہمیں کیا دے سکتی ہے اس کو بھی سوچنا چاہئے۔ ہم نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ہمیں ابدی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے اور ہم اس کے حقدار بن جائیں، تو یہ کوئی تاوان کا سودا نہیں ہے اور یہ ایسا وقت نہیں ہے کہ آقائے دو عالم ﷺ نے ہمیں اس دور کے بارے میں بتایا نہ ہو۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ تم پچھلی قوموں کی پیروی قدم بہ قدم بالشت بہ بالشت اس طرح کرو گے کہ اگر وہ گوہ کی غار میں بھی جائیں گے تو تم ان کا پیچھا کرو گے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم یہود و نصاریٰ کی پیروی کریں گے؟ فرمایا: اور کون کرے گا؟ آج وہ دور آ گیا ہے کہ جب ہم اپنے حکمرانوں کو دیکھتے ہیں، اپنے سیاستدانوں کو دیکھتے ہیں، اپنے بیوروکریٹس کو دیکھتے ہیں، اپنے وڈیروں کو دیکھتے ہیں، اپنے جاگیرداروں، اپنے خوانین کو دیکھتے ہیں، جب وہ ان کی پیروی کرنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اور ہم اور آپ اس پیروی کو اپنے لئے باعث ننگ سمجھتے ہیں اور اگر ہم پیروی نہ کریں تو ہم انتہاء پسند ہیں، پھر ہم شدت پسند ہیں، پھر ہم دہشت گرد ہیں، پھر ہمارے مدارس دہشت گردی کے مراکز ہیں۔
یہ ابتلاء کا دور ہے:
میرے محترم دوستو! یہ ابتلاء کا دور ہے، نئی اور جعلی نبوت کا دعویٰ مرزائے قادیان نے کیا، تو نیا حکم یہی دیا تھا کہ اب جہاد کا حکم ختم ہو گیا ہے اور آج بھی دنیا میں یہی تحریک چل رہی ہے۔ عالمی میڈیا ہو یا ہماری میڈیا، کہ جہاد کے تصور کو دہشت گردی میں تبدیل کر کے ایک شرعی فریضے کو جرم قرار دیا جائے۔ ایک آدمی اگر نماز غلط پڑھتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نماز کی فرضیت کا انکار کر دیں؟ ایک آدمی اگر روزہ غلط رکھتا ہے تو کیا ہم روزے کی فرضیت کا انکار کر دیں گے؟ ایک آدمی اگر زکوۃ غلط ادا کرتا ہے تو کیا زکوۃ کی فرضیت کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ کوئی آدمی غلط حج کرتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ حج کی فرضیت کا انکار کر دیا جائے؟ اگر کوئی جہاد کو غلط مفہوم دیتا ہے، جہاد کا ایک غلط کردار سامنے آتا ہے اس کا یہ معنی تو نہیں ہے کہ آپ جہاد کی فرضیت کا انکار کر دیں۔ آج اگر پورے ملک کے مدارس، تمام مکتب فکر کے مدارس، پورے ملک کے علماء کرام طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں کروڑوں علماء اور طلباء مدارس کا ایک پھیلا ہوا جال، تمام کے تمام بیک آواز تمام مذہبی جماعتیں اور ان کے سیاسی ادارے بیک آواز پاکستان کے قوانین کے ساتھ پاکستان کے آئین کے ساتھ اور اس کے دائرے میں جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن اگر سو میں دو آدمیوں نے غیر شرعی طریقے سے یا غلط انداز میں بندوق اٹھالی ہے تو ہم نے پورا اسلام دو آدمیوں کے نام الاٹ کر دیا ہے اور یہ لاکھوں کروڑوں علماء اور مذہبی طبقہ ان کے اسلام کی تعبیر ان کو دنیا سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ پورا ملک ہے اس کے طول و عرض میں علماء پھیلے ہوئے ہیں اور الحمد للہ ! ہمارے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ علمی رہنمائی میں خدا کا فضل و کرم ہے ہمارے اوپر کہ ہم خود کفیل ہیں۔ اس میدان میں کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس محاذ پر ہم کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ مشکل صرف ہماری نہیں ہے، یہ مشکل پوری امت مسلمہ کی ہے۔ افغانستان میں جائیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کیا حشر کر دیا۔ پورے ملک کو تباہ و برباد کر دیا۔ عراق کو تباہ و برباد کر دیا۔ لیبیا کو برباد کر دیا۔ الجزائر اور تیونس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ آج شام میں خانہ جنگی، یمن میں
خانہ جنگی اور پورا سعودی عرب اور حرمین اس وقت خطرے میں ہے۔ آج پوری امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے؟ کیا امت مسلمہ کے حکمرانوں نے کبھی اس پالیسی کو بھی چھیڑا ہے یا نہیں۔ کبھی اس حوالے سے بھی ہم نے سوچنا ہے یا نہیں۔ ہر شخص اپنی عافیت اسی میں سمجھتا ہے کہ امریکہ بہادر سے ہماری وابستگی اور تعلق میں کوئی فرق نہ آئے اور صورتحال یہ ہے کہ آج برطانیہ کا سابق وزیر اعظم علی الاعلان کہتا ہے کہ عراق پر ہمارا حملہ اس پر میں شرمندہ ہوں۔ میں نے خود سعودی عرب میں اعلیٰ پائے کے لوگوں کو اپنے کانوں سے سنا ہے جو کہتے ہیں کہ عراق جنگ میں ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا اب کیا فائدہ؟ اگلے مستقبل کے لئے ہمیں سوچنا ہوگا۔ ہمارا آنے والا مستقبل کیا ہے۔ آپ حضرات کوئی زیادہ ناواقف نہیں ہیں کہ آپ کا مستقبل کن کو حوالے کرنے کی طرف کہا جارہا ہے۔ اپنے وفاداروں کے سپرد کرنے جارہے ہیں۔ آپ کا مستقبل جو اس ملک کے لوگ ہیں جو اس ملک سے وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں، جو اپنے وطن عزیز کے چپے چپے کے وفادار ہیں اور پورے یقین واطمینان کے ساتھ کہتا ہوں اور جنرل راحیل شریف کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ خدا پاکستان پر کڑا وقت نہ لائے۔ اس محاذ پر یہ داڑھی، پگڑی والا نوجوان آپ کے شانہ بشانہ ہوگا۔ ایک سیکولر اور ننگے، پاکستان کا علمبردار پتہ نہیں یہودیوں کے لئے دم دبا کر بھاگیں گے۔ آپ کے شانہ بشانہ نہیں کھڑے ہوں گے۔
میرے محترم دوستو! تو دیکھو، یہ حقائق ہیں پاکستان کے تحفظ ، اس کی سرزمین کا تحفظ ، اس کی جغرافیائی حدود کا تحفظ ، اس کے لئے یہی نوجوان آپ کو مستقبل میں نظر آئیں گے جن پر آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ جن کو آج آپ اس وطن کے مستقبل کا مالک بنانا چاہتے ہیں، جن بیرونی ایجنٹوں کو قوم کا آنے والے حکمران کا خواب دیکھ رہے ہیں اگر ملک پر کڑا وقت آیا تو یہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آپ کے شانہ بشانہ نہ ہوں گے۔ اپنی سوچ میں تبدیلی لاؤ۔ اپنے تجزیے میں تبدیلی لاؤ۔ سب حقائق کو جانتے ہیں۔ سب صورتحال سے ہم آگاہ ہیں۔
دہشت گردکون؟ :
اور میرے محترم دوستو! سمجھ لو کہ تاریخ کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔ فرنگی کے دور کے ایجنٹ جنہوں نے ختم نبوت کے قلعے میں نقب زنی کی اور عقیدہ ختم نبوت کے تصور کو خاکستر کرنے کی کوشش کی، جہاد کا تصور ختم کرنے کی کوشش کی ، میرے اکابرین کو تحریک آزادی کے دوران بھی دہشت گرد کہا گیا، انتہاء پسند کہا گیا۔ آج بھی وہ نظریہ کسی نہ کسی شکل میں زندہ و تابندہ ہے اور جب انگریز دور کا یہ فتنہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے تو پھر میرے اکابر کی جلائی ہوئی شمع اور چراغ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے۔ اپنی روشنی پھیلا رہا ہے اور وہ تحریک آج بھی زندہ ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ ! زندہ رہے گی ۔ صرف دارومدار ہے میرے بھائیو سنو ، علماء کرام اور طلباء عظام اور اس وقت کے نوجوانو! سنو، ذرا دارو مدار آپ کی اعصابی قوت پر ہے۔ آپ ڈٹ گئے تو کوئی آپ کو غلام نہیں بنا سکتا اور آپ ڈر گئے تو پھر غلامی آپ کا مقدر ہے۔ مذہب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ ہم تو اس میدان میں ہیں۔ میں تو آپ کے پاس ان گلی کوچوں سے آتا ہوں جن غلام گردشوں میں ہمیں سنایا جاتا ہے مولوی صاحب اچھے بھلے آدمی ہو، سب چیز جانتے سمجھتے ہو یہ کیا مذہب کا پلو پکڑا ہوا ہے۔ اپنے مذہب کو اپنی سیاست سے الگ کرو۔ تم پاکستان کے حکمران بن جاؤ گے۔ تمہاری یہ داڑھی پگڑی تمہارے راستے میں رکاوٹ ہے۔ اندازہ لگاؤ جب آپ سے مذہب چھینا جائے جب آپ سے تہذیب چھینی جائے گی تو جب یہ دو چیزیں انسان سے چھن جاتی ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ اب وہ غلام بن چکا ہے۔ اس جنگ کا میدان ہے یہ ایک محاذ ہے، جس پہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھو جنگیں حکمت سے لڑی جاتی ہیں، جدوجہد کے وہ پہلو جس کے مثبت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نتائج آپ کے سامنے آتے ہیں اور جدوجہد کے وہ پہلو جس کے منفی اثرات آپ پہ پڑتے ہیں، دونوں کو الگ کرنا ضروری ہوگا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جذبات میں آ کر جدوجہد کے منفی اثرات کو دعوت دیتے ہیں اور جدوجہد کے مثبت اثرات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکمت صحیح ہو۔ دعوت کا محاذ ہو تو بھی حکمت اور حسن موعظت سے بھرا ہو۔ گالم گلوچ سے اور بے ڈھنگے انداز سے تحریکیں نہیں چلا کرتیں۔ شائستگی کے ساتھ ہو۔
ختم نبوت کا پلیٹ فارم:
آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آج جن روز وشب سے ہم گزر رہے ہیں بحمد اللہ ! مجموعی طور پر ملک کے اندر ایک ہم آہنگی اور یکجہتی کی فضاء موجود ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے اندر بھی، ان کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ، مدارس کی سطح پر بھی ایک اچھا ماحول اس وقت موجود ہے اور یہ بھی ایک واضح بات ہے کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مکاتب فکر جمع ہو سکتے ہیں۔ بیس پچیس سال کے تعطل کے بعد ہمیں اب دوبارہ اس طرف بڑھنا پڑ رہا ہے تو ہم پوری قوم کو پوری امت کو اس اسٹیج پر اکٹھا کر سکتے ہیں۔ ہم جب کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی قانون سازی ہو۔ اسلامی قانون سازی کے لفظ سے ہمارے ملک کے مسلمان سیاستدان گھبرا جاتے ہیں۔ یا اللہ ! یہ دن بھی دیکھا تھا جب اپنا مسلمان لفظ اسلام سے گھبرا جاتا ہے اور جب آپ ان سے پوچھتے ہیں تو سیدھا کہتے ہیں اچھا ..... آپ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں گردنیں کٹتی ہیں، انسان ذبح ہوتے ہیں، بابا یہ سب ہم انسانوں کو ذبح کرنے والے ہیں۔ کم بخت ہمیں نہیں دیکھ رہے؟ ہم پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھے آپ کے ساتھ؟ ہم دلیل کے محاذ پہ بات نہیں کر رہے؟
لیکن میرے محترم دوستو! مغربی دانشوروں نے ..... جو کتابیں لکھی ہیں، برملا اعتراف کیا ہے انہوں نے کہ ہمارے لئے سب سے خطرناک وہ مسلمان ہے جو دلیل کے محاذ پر ہمارا مقابلہ کرے۔ سب سے زیادہ خطرناک وہ مولوی ہے ..... اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ دنیا میں جنگ یہ آپ کی ضرورت ہے، ہماری ضرورت نہیں۔ بلکہ میں تو اس جنگ کے بارے میں یہ نظریہ رکھتا ہوں۔ جنگوں میں عام طور پر برابر کی قوتیں ایک دوسرے کے سامنے آتی ہیں۔ اسلامی دنیا کا، امریکہ اور یورپ سے کیا مقابلہ۔ کیا اقتصادی طور پر ہم ان کے اقتصاد کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا دفاعی قوت کے اعتبار سے ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ جہاں پیسہ بھی ہم ان سے قرضہ لیتے ہیں، جہاں اسلحہ بھی ہم ان سے قرضہ لیتے ہیں تو ہمارا دماغ خراب تھا کہ ہم جنگ شروع کریں ان کے ساتھ؟ اسلامی دنیا کو کیا پڑی ہے؟ ..... کہ جب جنگ کے لئے جو ضرورتیں ہوتی ہیں مادی ضرورتیں، کبھی وہ جنگ شروع نہیں کرتا، لیکن ہم پہ جو جنگ مسلط کی گئی ہے کیوں مسلط کی گئی ہے؟ یہ جنگ تو ۱۹۹۳ء کے بعد شروع ہوئی۔ ۲۰۰۱ء کے بعد نہیں۔ جب ۱۹۹۲ء میں سوویت یونین ٹوٹ چکا اور اشتراکی نظام کا خاتمہ ہو گیا ، شکست کا شکار ہو گیا۔ مغرب کی سرمایہ داریت اور اس کا سرمایہ دارانہ نظام، فاتح بن گیا، پوری دنیا پر اپنا نظام مسلط کرنے کے لئے ظاہر ہے کہ اب اس کے لئے میدان کھلا رہ گیا۔ آپ کو سمجھ میں آرہی ہے بات؟
اور جنگ تو آپ کی شروع ہو چکی تھی ایشیاء کے ساتھ، ایشیاء اپنا اقتصادی حجم بنا رہا تھا۔ ۹۶ ، ۱۹۹۷ء میں آئی ایم ایف نے ورلڈ بینک میں قرضہ دینے والے اداروں نے ہاتھ کھینچ لئے۔ ایشیاء کی ساری اقتصادی عمارت گر گئی اور آپ کو یاد ہو ہم اس وقت کہا کرتے تھے ایک ملائشیا ہے اور اس کا مہاتیر محمد ہے جس نے اپنے ملک کی معیشت کو بچایا ہے۔ یاد ہے نا آپ کو؟ یہ وہ جنگ تھی، لیکن نائن الیون کے بعد ! اب پوری دنیا کی اقتصاد پر قبضہ کرنا، ان کے وسائل پر قبضہ کرنا اور چونکہ اسلامی دنیا، یہ مشرقی ایشیاء، جنوب ایشیاء، وسط ایشیاء اور افریقہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے دروازے پر بیٹھی ہوئی قوم ہے۔ لہٰذا ان کے دروازوں پر براہ راست مغرب آ کر قبضہ کرے، وسائل پر قبضہ کرے اور دنیا سے کہے کہ ان کے ڈکٹیٹروں کو ہٹا رہے ہیں، ہم تو دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ جنگ آپ کی ایشیاء کے ساتھ، جنگ آپ کی اقتصادی اور مسلط کر دی آپ نے دہشت گردوں کے نام پر اسلامی دنیا کے اوپر۔ سو اب یہ جنگ جاری ہے اور جب تک یہ جنگ جاری ہے تو جنگ آپ کی ضرورت ہے۔ ہماری ضرورت نہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم امن کے علمبردار ہیں۔ ہم امن کی قدر و قیمت کو جانتے ہیں۔ کیونکہ مجھے اپنا ایمان کہتا ہے کہ میری بنیاد امن ہے۔ مجھے اسلام کہتا ہے کہ میری بنیاد سلامتی ہے۔
مسلمان امن و سلامتی کا علمبردار ہے:
لیکن انہوں نے ہم پہ جنگ مسلط کر دی اور آپ جانتے ہیں کہ جب تک دنیا میں اشتراکی نظام تھا، دنیا میں جنگ نظریاتی تھی۔ نظریہ کسی بھی سیاسی جماعت کی شناخت ہوا کرتا تھا۔ آج نظریات کی سیاست ختم ہو گئی۔ مفادات اور سرمائے کی سیاست ہے۔ لہٰذا ۱۹۹۳ء اور ۱۹۹۶ء کے بعد پوری دنیا میں اور ہمارے ملک میں بھی آپ نے دیکھا۔ اب جس سیاسی مخالف پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے یہ کہہ کر نہیں کہ آپ حکومت کی مخالفت کیوں کرتے ہیں بلکہ یہ کہہ کر کہ تم کرپٹ ہو۔ اب اپنے سیاسی مخالف کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس بنیاد پر کہ آپ کرپٹ ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں لوگ جیلوں میں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں لوگ جیلوں میں تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں لوگ جیلوں میں تھے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ سیاسی لوگ ہیں۔ یہ سیاسی قیدی ہیں۔ لیکن جنرل مشرف آیا۔ اب ٹرینڈ بدل گیا۔ اب جس مخالف کو گرفتار کیا جائے گا یہ کرپٹ ہے۔ اس نے چوری کی تھی۔ اب ان کو چوریاں نظر آگئیں اور جب نائن الیون ہو گیا اب مذہبی آدمی مخالفت کرتا ہے تو پھر کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہے، انتہاء پسند ہے۔ اس کو بھی بطور حربہ کے استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ بھی کڑوا ایک وقت ہے کہ ہم اور آپ اپنے نظریاتی شناخت کو زندہ اور تابندہ رکھ سکے ہیں۔ لہٰذا آج اگر مغربی دنیا مذہبی حوالے سے، قادیانیت کی پشت پناہی کر رہی ہے اور تہذیبی حوالے سے بھی ان کے ایجنٹ پوری دنیا میں کام کر رہے ہیں تو پھر ہمیں اور آپ کو سوچنا ہو گا ہم اور آپ کم از کم یکسو ہو جائیں۔ ہمارا اور آپ کا ذہن کم از کم ان حقائق کو تو تسلیم کرلے، کہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ ہم تو کئی سالوں سے آپ کو کہہ رہے ہیں۔ لیکن اپ کو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اب تو گھر کی گواہیاں سامنے آ گئی ہیں۔ شہد شاہد من اہلہا (سب ہنسنے لگے) آج تو اہلیہ بھی نہیں ہے۔ اہل کے علاوہ اہلیہ بھی نہیں ہے۔
حالات کو پہچانو:
تو بہر حال! بارش کو دور بادلوں میں سمجھ لیا کرو۔ آپ پر جب برستی ہے تب بھی مشکل سے یقین کرتے ہو بارش ہے بھی یا نہیں اور اگر ہم پہلے سے بھانپ لیتے ہیں اور آپ کو بتا رہے ہوتے ہیں، آپ کو یقین نہیں آ رہا ہوتا۔ آج ہم پھر آپ سے کہنا چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اسی صوبہ پنجاب میں مدارس پر چھاپے ہیں، مدارس کے مہتممین کے پاس ایک فارم آیا کہ آپ یہ پر کر دیں تو جب میں نے پڑھا تو میں نے کہا کہ جیل کے قیدی کو بھی یہ فارم نہیں دیا جاتا۔ جیل کے قیدیوں سے بھی یہ تفصیلات نہیں پوچھی جاتیں جو اب مدارس کے شریف طبقے سے یعنی علماء سے پوچھتے ہیں اور ہم نے واضح طور پر کہا کہ ہمیں اس طرح کے فارم قبول نہیں ہیں۔ ہم پاکستان میں کسی قیمت پر بھی ذلت کی زندگی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ (نعرے قائد کی شان میں) جو عزت کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم اور پروفیسر کو حاصل ہے، میں کسی بھی طرح میں دینی مدرسے کے طالب علم اور اس کے استاد کی عزت کو کم نہیں سمجھتا۔ جو عزت ہمارے ملک کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیورو کریٹس کو دی جاتی ہے، خواتین اور وڈیروں کو دی جاتی ہے میں کسی ملک کے ادنیٰ طالب علم اور ادنیٰ عالم دین کی عزت کو اس سے بہت زیادہ سمجھتا ہوں۔ سر اٹھا کر چلو علماء حضرات! یہ پگڑیاں آپ نے پہنی ہوئی ہیں۔ سر اٹھا کے چلنے کے لئے پہنی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں کے سامنے سر جھکا کے چلنے کے لئے نہیں پہنی ہوئی۔
میرے محترم دوستو! علماء ہیں آئے روز ان کے خلاف فورتھ شیڈول لگائے جاتے ہیں۔ کون لگاتا ہے؟ ایک ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر، یہ بیورو کریٹ وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں ملک کا وفادار ہوں۔ معاشرے کا وفادار ہوں یا نہیں۔ میری وفاداری کا امتحان مت لو۔ میں آپ کی وفاداری کا امتحان لوں گا تم کتنے پاکستان کے وفادار ہو۔ آئین مجھے حق دیتا ہے اظہار رائے کا، آئین مجھے حق دیتا ہے تنقید کا، تم فورتھ شیڈول کے ذریعے میری زبان بندی کر رہے ہو؟
میرا عالم دین اب مسجد میں خطبہ نہیں دے سکے گا۔ اب مدرسے میں جا کر درس نہیں دے سکے گا۔ اب قرآن نہیں پڑھا سکے گا۔ درس قرآن نہیں دے سکے گا۔ درس حدیث نہیں دے سکے گا۔ جمعے کا خطبہ نہیں دے سکے گا۔ مہتمم مدرسے کے دفتر میں نہیں جا سکے گا۔ اس جمہوریت کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھیں؟ اس کے بعد بھی آپ حکمران خود کو جمہوری لوگ کہتے ہو؟ اور میں نے میاں صاحب کو کہا ہے۔ میاں صاحب! اس لئے آپ نے آٹھ نو سال جدے اور لندن میں گزارے تھے؟ کہ پنجاب میں یہ جمہوریت آپ نے ہمیں دینی ہے۔ جب علماء آپ کا ساتھ دے رہے تھے، مذہبی تنظیمیں آپ کا ساتھ دے رہی تھیں، آج ان کے احسان کا بدلہ یوں چکا رہے ہو؟ دہشت گردی ختم کرنی ہے؟ مجھے بلالو نہ؟ مجھے بلالو مجھ سے پوچھ لو، میں تمہیں انگلی اٹھا اٹھا کے بتاؤں گا۔ یہ دہشت گرد ہے یہ تنظیم یہ تنظیم یہ تنظیم۔ وہ تو آپ کے پروں کے نیچے پل رہے ہیں اور مدرسے کے اندر ایک مولوی صاحب اور ایک طالب علم کے بارے میں کہیں رپورٹ آگئی ہے پورے ادارے کی تذلیل و توہین کرنا یہ تمہاری ذمہ داری ہو گئی ہے؟ منظم اور مسلح تنظیمیں آپ کی نگرانی میں آپ کے پاکستان میں مصروف عمل ہیں۔ مدرسوں میں تم دہشت گرد ڈھونڈ رہے ہو؟ میں جتھوں کے جتھے آپ کو بتاؤں گا مجھے بلاؤ تو سہی ذرا۔ (نعرے قائد کی شان میں) تو میرے محترم دوستو! یہ ابتلاء کا دور ہے جو گزر رہا ہے۔ ہمارے اندر استقامت ہونی چاہئے۔ ہمارے اعصاب کی جنگ ہے اور ان شاء اللہ ! مضبوط اعصاب سے ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے۔ ان شاء اللہ !
ان شاء اللہ کس نیت سے کہہ رہے ہو؟ مجھے روایت میں شک ہو جاتا ہے۔ سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہے۔ دعاء کرو، اللہ ہمیں توفیق عطاء فرمائے۔ آمین! کہ اللہ کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم عاجز ہیں اللہ کے سامنے، ہم اللہ کے سامنے ہاتھ بلند کرتے ہیں اپنے عجز کے ہاتھ بلند کرتے ہیں کہ الہ العالمین! یہ تیرے چند بندے آپ کے دین کا نام لیتے ہیں۔ اس چھوٹے سے جتھے کی حفاظت فرما (آمین) اس دور میں یہ غنیمت ہے ہماری خطاؤں کو مت دیکھ یا اللہ ! اپنی شان کے مطابق معاملہ فرما۔ ہمارے دلوں کی دنیا کو سیدھا کرنے والا تو ہے، ان قلوب بنی آدم بین اصبعی الرحمن یقلبها کیف یشاء تو ان حالات میں اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ یہ مسلمان کا ایک لازمی فرض بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تائید سے سرفراز فرمائے۔ (آمین) اور جس محاذ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کام کر رہی ہے ان شاء اللہ ! ہمیں قدم بہ قدم میدان میں اپنا کارکن تصور کرے۔ ان شاء اللہ! اس محاذ پر ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ یہ ہمارے ایک ساتھی ہیں۔ ان کے ماموں صاحب وفات پاگئے ہیں ان کے لئے بھی دعاء فرمادیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۵ء ص ۲۸ تا ۳۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کی صدارت میں مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ۳۰؍اکتوبر ۲۰۱۵ء کو منعقد ہوا۔ جس میں درج ذیل حضرات نے شرکت کی: حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی (ملتان)، صاحبزادہ عزیز احمد (خانقاہ سراجیہ)، مولانا عبدالرؤف (اسلام آباد)، مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حافظ محمد انس (ملتان)، مولانا مفتی خالد محمود، رانا محمد انور، مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)، مولانا قاری انوار الحق (کوئٹہ)، جناب قاضی فیض احمد (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا مفتی محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)، قاری محمد یوسف عثمانی، حافظ نذیر احمد (گوجرانوالہ)، مولانا عزیز الرحمن ثانی (لاہور)، مولانا سید عبدالمجید ندیم (راولپنڈی)، حاجی اشتیاق احمد (جھنگ)، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)، قاری محمد یاسین (فیصل آباد)، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)۔
اجلاس میں مولانا عبدالواحد (کراچی)، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ (اکوڑہ خٹک)، مولانا مفتی عبدالمعید (سرگودھا)، حافظ محمد ثاقب، قاری منیر احمد قادری (گوجرانوالہ)، مولانا عبدالغنی چشتی (راجن پور)، میاں سراج احمد دین پوری، مولانا محمد نافع محمدی شریف (چنیوٹ)، مولانا جمشید احمد (رائے ونڈ)، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید (لاڑکانہ)، مولانا عبدالصمد سابق ایم۔ پی۔ اے بنوں، مولانا رشید احمد کھرلڑہ (خیر پور میرس)، مولانا نور محمد تونسوی، قاری محمد ابراہیم (فیصل آباد)، مولانا بشیر احمد شاہ جمالی (ڈیرہ غازیخان)، مولانا سعید احمد (بہاول نگر)، مولانا مجاہد خان الحسینی (نوشہرہ)، مولانا حمد اللہ (ٹھیڑی سندھ) سمیت سال رواں میں وفات پا جانے والے علماء کرام، مشائخ عظام اور جماعتی کارکنوں کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے شوریٰ کو بتلایا کہ اس وقت اسّی سے زائد مبلغین، مدرسین مجلس کے زیرنگرانی مختلف مقامات پر تبلیغ وتدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں موقوف علیہ تک کتب کی تدریس کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ چناب نگر کے مدرسہ میں گزشتہ سال سے تخصص کی کلاس جاری ہے۔ گزشتہ سال تیرہ علماء کرام نے پورے سال تخصص کے سلیبس کے مطابق تعلیم حاصل کی اور ان کی دستار بندی اور تقسیم اسناد آج ہورہی ہے۔ امسال اس کلاس میں چوبیس علماء کرام زیر تربیت ہیں۔ مولانا جالندھری نے شوریٰ کو بتلایا کہ ملک بھر میں دسیوں مسلمان قادیانی مظالم کی وجہ سے جیلوں میں محبوس ہیں، جن میں قادیانی ظالم اور مسلمان مظلوم ہیں۔ مجلس ان کی قانونی اور مالی امداد کرتی ہے۔ نیز ناموس رسالت کے حوالہ سے بھی قید مسلمانوں کی مالی اور قانونی مدد کی جاتی ہے۔ اس کی توثیق کی گئی۔ ملک بھر میں کئی ایک دفاتر کی تعمیر و مرمت کی اجازت دی گئی۔ سال رواں میں تخصص کے درجہ سے فارغ ہونے والے ایک عالم دین مولانا محمد نعیم کو خوشاب میں مبلغ رکھنے کی توثیق کی گئی۔ شیخوپورہ اور ننکانہ میں لاہور کے مبلغین مولانا محمد خالد عابد، مولانا عبدالنعیم دس دس روز دے رہے ہیں۔ مستقل مبلغ کی رہائی تک یہ سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ چناب نگر مسجد کے صحن میں برآمدہ کی تعمیر اور ایک دوسرے پلاٹ چناب نگر کالونی میں چار عدد فیملی کوارٹر بنانے کی بھی اجازت دی گئی۔ مدرسہ چناب نگر کے سب سے اوّل میں تعمیر ہونے والے آٹھ کمروں کی نئی دومنزلہ تعمیر کی منظوری دی گئی۔ علاوہ ازیں بہت سارے معاملات پر فیصلے ہوئے۔ اجلاس حضرت الامیر دامت برکاتہم کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۶ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت ناظم اعلیٰ کا دورہ کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمان جالندھری صاحب مدظلہ مورخہ ۱۲/نومبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات شام کنری میں تشریف لائے۔ آپ کے ہمراہ رحیم یار خان سے مولانا محمد راشد مدنی، میر پور سے مولانا محمد علی صدیقی اور پھر کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد بھی تشریف لائے۔ ضیافت کا انتظام حافظ محمد ذیشان آرائیں نے کیا۔ آپ نے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی جس میں کنری جماعت کے تمام اراکین بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ناظم اعلیٰ صاحب مدظلہ نے مقامی حضرات کی مشاورت کے بعد دفتر ختم نبوت کنری کی تجدید اور بخاری مسجد کنری کی توسیع کی اجازت عنایت فرمائی۔ بعد ازاں کنری جماعت کے ناظم حاجی محمد ناصر صاحب کی عیادت کی، صحت یابی کے لئے دعا فرمائی۔ جمعہ کے روز ناظم اعلیٰ صاحب مدظلہ نے بخاری مسجد کنری میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ دوران خطبہ آپ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نبی آخر الزمان ﷺ کے ہم امتی ہیں، اس کی دستار ختم نبوت کی تحفظ کا کام کرو، جتنا زیادہ کام کرو گے، اتنے ہی زیادہ شفاعت کے حقدار بنو گے۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمان اگر قادیانیت کا مکمل بائیکاٹ کر لیں تو قادیانیت از خود ختم ہوجائے گی۔ اسی طرح دیگر مبلغین ختم نبوت میں سے مولانا قاضی احسان احمد صاحب نے جامعہ محمدیہ کنری، مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے جامع مسجد مکہ اور مولانا مختار احمد نے جامع مسجد رحمانیہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔ بعد از نماز جمعہ یہ وفد ناظم اعلیٰ صاحب مدظلہ کی قیادت میں ملتان کے لئے روانہ ہوگیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۶ء ص ۴۵)
ختم نبوت کورسز
- ۱...... ۱۶، ۱۷، ۱۸/نومبر ۲۰۱۵ء جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا
محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیوں کے غلیظ عقائد و عزائم کے عنوان پر لیکچر دیئے۔ کورس کا دورانیہ مغرب تا عشاء تھا۔
- ۲...... ۲۲، ۲۳، ۲۴/نومبر ۲۰۱۵ء لال مسجد سید والا ضلع شیخوپورہ میں ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مذکورہ بالا عنوانات پر مولانا محمد
اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد خالد عابد نے لیکچر دیئے۔ کورس میں سینکڑوں عوام نے شرکت کی۔
- ۳...... ۲۵، ۲۶، ۲۷/نومبر ۲۰۱۵ء کو منڈی بہاؤالدین کے بنات کے مدارس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی
اہمیت و ضرورت کے عنوان پر لیکچر دیئے۔ جن میں طالبات کے علاوہ سینکڑوں خواتین نے بھی شرکت کی۔
- ۴...... ۳/دسمبر ۲۰۱۵ء جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا میں طلبہ کرام کے درمیان ختم نبوت کے عنوان پر تقریری مقابلہ ہوا۔ جس میں ۱۹ طلبہ
کرام نے شرکت کی اور ۵ طلباء کرام انعامات کے مستحق قرار پائے۔
اس پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ انعامات جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور، نگران اعلیٰ مولانا حبیب الرحمٰن اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ہاتھوں دلوائے گئے۔ مولانا حبیب احمد اور مولانا محمد احمد بہاول پوری نے خصوصی شرکت فرمائی۔ منصفی کے فرائض مولانا منیر احمد ریحان، مولانا محمد عمران اساتذہ جامعہ نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۶ء ص ۴۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پروآ
نومبر میں تیسری سالانہ یوم فتح تحفظ ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تحصیل پروآ یونٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ جس کے تمام انتظامات پروآ یونٹ کے امیر مولانا عبدالغنی خطیب جامع مسجد صدیق اکبر ماہڑہ اور یونٹ کے ناظم اعلیٰ حافظ اللہ بخش شاہ خطیب جامع مسجد مدنی چاہ خان والا نے ترتیب دیئے۔ کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں کچھ پروگرام ترتیب دیئے گئے جن کی تفصیل درج ذیل ہے: (۱) خطبہ جمعہ جامع مسجد مدنی چاہ خان والا :مقرر: حافظ اللہ بخش شاہ۔ (۲) خطبہ جمعہ جامع مسجد صدیق اکبرؓ ماہڑہ،مقرر:مولانا حمزہ لقمان مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بھکر ۔ (۳) جامع مسجد خالد بن ولید میرن : مقررین : مولانا خالد گنگوہی،مولانا حمزہ لقمان،مفتی عبدالواحد قریشی ۔ (۴) جامع مسجد عربی پروآ:مقررین: مولانا محمد عمر مہتمم جامعہ محمدیہ پروآ،مولانا محمد حامد خطیب جامع مسجد چوگلہ پروآ،مولانا محمد خالد گنگوہی، قاری عنایت اللہ عثمانی، مفتی عظمت اللہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بنوں،سید ظہیر علی ایڈووکیٹ قانونی مشیر عالمی مجلس ضلع بنوں،مولانا محمد حمزہ لقمان مبلغ، مولانا عزیز الرحمن ثانی،مولانا مفتی عبدالواحد قریشی۔ ان تمام پروگراموں میں مقررین وخطباء حضرات نے قرآن وسنت کی روشنی میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ امت محمدیہ ﷺ نے ہر دور میں جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی سرکوبی کے لئے ہرممکن کوشش کی۔ آخر میں ناظم اعلیٰ پروآ یونٹ حافظ اللہ بخش شاہ نے تمام مقررین حضرات اور سامعین حضرات کا شکریہ ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
نومبر ۲۰۱۵ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد عیدگاہ بازار شیخوپورہ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک عزیز کے معروف خطیب مولانا ممتاز احمد کلیار، مولانا محبوب الحسن طاہر،مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم،مجلس تحفظ ختم نبوت سٹی کے امیر مولانا میاں مشرف حسین، جامع مسجد عیدگاہ کے خطیب مولانا ضیاء الرحمن، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا امتیاز احمد کاشمیری، چوہدری محمد شفقت، قاری محمد ابوبکر، قاری محمد انور، قاری فہیم عابد قاسمی، بھائی تجمل حسین شاہ سمیت کئی ایک نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ممتاز احمد کلیار نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس اور بنیاد ہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہمارا مذہبی اور آئینی فریضہ ہے ہر قیمت پر اس کا تحفظ کریں گے۔ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف ہماری آئینی و قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ مولانا محبوب الحسن طاہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کا کام قرب خداوندی حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ جب تک ایک بھی منکر ختم نبوت اس دھرتی پر موجود ہے۔ ہماری پرامن تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ منکرین ختم نبوت اور اسلام وملک دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں نظم ونسق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ مولانا عبدالنعیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی اسلام کا فرقہ نہیں بلکہ یہ ایک فتنہ ہے جس نے انگریز کے کہنے پر ختم نبوت کے عظیم محل میں نقب لگانے کی کوشش کی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۶ء ص ۵۰)
میاں چنوں میں چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس
چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں جامع مسجد ابو عبیدہ بن جراح (ؓ) میں ۱۰/دسمبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منعقد ہوئی، سرپرستی قاری مولانا عبدالغفور نے کی، تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری شاہدالرحمٰن نے حاصل کی، جب کہ صدارت کے فرائض مقامی امیر مولانا عمران فیصل اشرفی نے سرانجام دیئے۔
مہمانان خصوصی ضلعی امیر مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی خانیوال، مولانا عطاء المنعم نعیم تھے۔ کانفرنس سے پیر طریقت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم نے خطاب کرتے ہوئے سامعین کو ذکر وفکر اور شکر کی تلقین کی۔ راقم الحروف (مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی) نے ”تحریک ختم نبوت ماضی وحال اور مستقبل“ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوئر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک، بہاولپور کی عدالت سے ماریشس کی عدالت تک، پاکستان کی پارلیمنٹ سے کیپ ٹاؤن کی عدالت عظمیٰ تک، رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد سے گیمبیا کی عدلیہ کے فیصلہ تک ہم اپنا کیس ہر فورم پر جیت چکے ہیں۔ کانفرنس سے مولانا شوکت علی ناصر، قاری صفدر جاوید، مولانا عبد الستار گورمانی مبلغ خانیوال و وہاڑی اضلاع نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد الحسن نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم کی مجلس ذکر، حضرت خواجہ صاحب مدظلہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۶ء ص ۲۱)
ختم نبوت کورس شہر سلطان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شہر سلطان کے زیر اہتمام ۱۲، ۱۳، ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۵ء کو تین روزہ ختم نبوت کورس جامع مسجد مہاجرین میں منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ بعد نماز مغرب تا عشاء تھا۔ ۱۲؍ دسمبر ضلعی مبلغ مولانا قاضی عبدالخالق نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت پر لیکچر دیا۔ ۱۳؍ دسمبر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شرائط نبوت پر سبق پڑھایا اور نوٹس لکھوائے۔ ۱۴؍ دسمبر کو مولانا محمد اسماعیل نے حیات اور رفع ونزول مسیح علیہ السلام پر عام فہم لیکچر دیا۔ سامعین سینکڑوں کی تعداد میں شریک ہوئے۔ جس میں سے اکثر کاروباری اور ملازمین حضرات تھے۔ کورس کا انتظام مولانا عبدالرؤف خطیب مدنیہ مسجد اور مولانا ندیم عباس خطیب جامع مسجد مہاجرین نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کنونشن
۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۵ء قبل از نماز ظہر مدنیہ مسجد (درکھاناں والی) شہر سلطان میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عبدالرؤف نے کی مہمان خصوصی مولانا عبدالکریم خطیب جامع مسجد ختم نبوت پرمٹ تھے۔ کنونشن میں کثیر تعداد میں شہر اور مضافات کے علماء کرام نے شرکت کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے علماء کرام کی ختم نبوت کی ذمہ داری کے عنوان سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کورس راولپنڈی
۱۹، ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۵ء کو جامع مسجد الرحمان میں دو روزہ ختم نبوت کورس شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد امیر مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۴۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
میر پور آزادکشمیر اور جہلم کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی یہاں تین روزہ تبلیغی دورہ پر تشریف لائے ۔ ۲۱ / دسمبر ۲۰۱۵ء کو آپ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ ایف ۔ ۲ میر پور میں طلباء عزیز اور اساتذہ کرام سے خطاب کیا ۔ تقریب کی صدارت جامعہ کے استاذ الحدیث اور مجلس میر پور کے امیر مولانا غلام کبریا نے کی ۔ آپ نے ظہر کی نماز کے بعد طلباء کو قیمتی نصیحتوں سے نوازا ۔ جامعہ کے مہتمم حاجی محمد بوستان انگلینڈ میں قیام پذیر ہیں ۔ آپ نے اساتذہ کرام سے درخواست کی کہ وہ اپنے اسباق میں طلباء کو قادیانیت سمیت باطل طبقات کے شکوک وشبہات اور ان کے جوابات سے آگاہ کریں ۔
۲۱ / دسمبر بعد نماز مغرب جامع مسجد الکرم نانگی اڈا میر پور میں میلاد النبی کے عنوان پر خطاب کیا ، اس تقریب کی صدارت بھی مولانا غلام کبریا نے کی ۔ اسی تاریخ کو بعد نماز عشا تقویٰ مسجد ای ۔ ۲ سیکٹر میں بعد نماز عشاء خطاب کیا ۔
۲۲ / دسمبر صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد اسماعیل خان میں نمازیوں سے ”کنت اول النبیین فی الخلق و آخرہم فی البعث“ کے عنوان پر خطاب کیا ۔
جامعہ حسینیہ پکھو در میں طلباء سے خطاب : دینہ اور منگلہ کے درمیان پکھو در میں مولانا قاری خالقداد مدظلہ نے جامعہ حسینیہ کے نام سے معیاری درسگاہ قائم کی ہے، جس کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے مہتمم اور ہزاروں قراء اور علماء کرام کے استاذ مولانا قاری محمد یاسین مدظلہم فرمارہے ہیں۔ قاری خالقداد مدظلہ کے مدرسہ کا چاک وچوبند عملہ اور محنتی اساتذہ وطلباء کا ماحول دیکھ کر دارالقرآن فیصل آباد کا نظم ونسق یاد آرہا تھا ۔ بہرحال استاذ جی نے ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ بجے جامعہ کے اساتذہ وطلباء سے بیان کیا اور انہیں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت سے آگاہ کیا اور احتساب قادیانیت کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی ۔
مدنی مسجد دینہ میں جلسہ سیرت : مدنی مسجد دینہ میں ۲۲ / دسمبر بعد نماز مغرب میلاد النبی کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا خالد محمود ضیغم نے کی ، جب کہ مہمان خصوصی جامع مسجد صدیق اکبر کے خطیب مولانا تنویر طارق تھے۔ استاذ جی نے بیان فرمایا ۔
جامعہ عثمانیہ میں بیان : ۲۳ / دسمبر صبح کی نماز کے بعد استاذ جی نے جامعہ عثمانیہ میں درس دیا ۔ جامعہ کے بانی مولانا مصعب عمیر ہیں ۔ موصوف نوجوان عالم دین اور مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ کے شاگرد رشید اور جامعہ مدنیہ جدید کے فاضل ہیں ۔ ختم نبوت پر خاصا مطالعہ رکھتے ہیں ۔ احتساب قادیانیت کا مکمل سیٹ ان کے پاس ہے ۔ نیز مضافات اور شہر کے قادیانیوں سے گفتگو کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں بھی استاذ جی نے ولادت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے حالات پر روشنی ڈالی ۔
جامعہ حنفیہ جہلم میں بیان : جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مولانا عبداللطیف جہلمی تلمیذ رشید شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ، خلیفہ مجاز شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری نے قائم کیا ۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند ارجمند مولانا قاری حبیب احمد عمر نظم ونسق سنبھالے رہے ۔ اب مولانا قاری ابوبکر صدیق انتظام وانصرام سنبھالے ہوئے ہیں ۔ مولانا قاری ابوبکر صدیق زید مجدہ کی دعوت پر استاذ جی نے جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کرام سے خطاب کیا ، جس میں شہر اور مضافات شہر کی مساجد کے ائمہ وخطباء نے بھی شرکت کی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جامعہ حسنین کریمین میں خطاب: بعد نماز عصر جامعہ حسنین کریمین میں نمازیوں اور طلباء سے خطاب کیا۔
جامع مسجد الہدیٰ میں جلسہ: جامع مسجد الہدیٰ چونترہ میں عشاء کی نماز کے بعد جلسہ سیرت منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا محمد عمر نے کی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا شجاع آبادی کا سیرت النبی کے عنوان پر تفصیلی خطاب ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۵ء ص ۲۳)
سیرت النبی ﷺ پر پروگرام حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے زیراہتمام سیرت النبی کے عنوان سے آٹھ دن میں تقریباً ۲۲ کے قریب پروگرامز منعقد ہوئے۔ تمام پروگرامز کی سرپرستی مولانا عبدالسلام قریشی (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد) اور نگرانی قاری عبدالرشید (خلیفہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید) نے کی۔
پروگرامز ۶؍ ربیع الاوّل بروز جمعہ: وفاق المدارس حیدرآباد ڈویژن کے مسئول مولانا سیف الرحمن نے جامع مسجد فاروق اعظم ﷺ (تلک چاڑی) میں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا توصیف احمد نے مرکزی جامع مسجد (قاسم آباد) میں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے گول مسجد قاسم آباد میں جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کئے جب کہ بعد از عشاء مولانا توصیف احمد نے جامع مسجد نورانی لیاقت کالونی، مولانا تجمل حسین نے محمدی مسجد گئو شالہ میں بیانات کئے۔ پروگرامز میں مقامی علماء و رفقاء قاری محمد عارف، حاجی محمود، مولانا محمد ابراہیم، مولانا عبدالرحمن، فاروق آزاد، محمد آفاق احمد و دیگر کئی احباب نے شرکت کی۔
پروگرامز ۷؍ ربیع الاوّل بروز ہفتہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے بعد مغرب جامع مسجد کرم مصطفیٰ بھٹائی کالونی، جب کہ بعد عشاء جامع مسجد ختم نبوت بہار کالونی کوٹری، مولانا توصیف احمد نے صبح مدرسہ زم زم بدین اسٹاپ میں جمعیت علماء اسلام لطیف آباد کے امیر مولانا ضیاء الرحمن طاہر کے فرزند محمد ولی اللہ کے تکمیل قرآن پر منعقدہ تقریب سے، جب کہ بعد عشاء جامع مسجد قدیمی سہوانی محلہ کوٹری شہر میں، مولانا تجمل حسین نے نور مسجد گھمن آباد میں بیانات کئے۔ پروگرامز میں حاجی زمان خان، مولانا عبدالمجید ہالیجوی، حافظ عبدالرزاق، مولانا محمد فیصل، قاری محمد اعظم طاہر نے شرکت کی۔
پروگرامز ۸؍ ربیع الاوّل بروز اتوار: مولانا محمد علی صدیقی نے بعد عشاء مدرسہ سیدنا صدیق اکبر نورانی بستی میں بیان اور مولانا توصیف احمد نے چراغ مسجد میانی روڈ میں ہفتہ وار درس قرآن اور قاری محمد اعظم طاہر نے بخاری مسجد نیا پل میں بیان کیا۔ پروگرام میں قاری خالد محمود، مولانا گلزار احمد، مولانا سہیل احمد، مدرسہ کے اساتذہ کرام، قاری عبدالرشید، مفتی محمد خبیب نے شرکت کی۔
پروگرام ۹؍ ربیع الاوّل بروز پیر: مولانا توصیف احمد نے بعد عشاء پشاوری مسجد شاہی بازار میں سیرت النبی کے عنوان پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروگرام میں مولانا شکیل الزمان، قاری عبدالرشید نے شرکت کی۔
پروگرام ۱۰؍ ربیع الاوّل بروز منگل: مولانا توصیف احمد نے بعد عشاء مکان بھائی ناصر قاضی عبدالقیوم روڈ نزد قائم خانی مسجد میں ماہانہ پروگرام سے عقیدہ ختم نبوت پر مدلل گفتگو کی، جب کہ قاری محمد اعظم طاہر نے نہر والی مسجد نزد ریشم گھاٹ میں بیان کیا۔ پروگرام میں مولانا عبدالحمید، مفتی محمد نعمان، مولانا فیضان اور تبلیغی احباب نے بھر پور شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پروگرام ۱۱/ربیع الاوّل بروز بدھ : مولانا توصیف احمد نے بعد عشاء مکی مسجد پٹھان کالونی اور حافظ خالد حسن دھامرا نے مدینہ مسجد بچل سومرو میں اجتماعات سے بیانات کئے۔ پروگرام میں مولانا شمس الحق، قاری عبدالرشید، قاری محمد زبیر اور مدرسہ تعلیم القرآن کے طلباء نے بھر پور شرکت کی۔
پروگرام ۱۲/ربیع الاوّل جمعرات : مولانا توصیف احمد نے بعد عشاء آرائیں گوٹھ میں تفصیلی بیان کیا، مسجد میں کالج، یونیورسٹی کے طلباء پر مشتمل سہ روزہ کی جماعت بھی آئی ہوئی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا نے آخر میں فکرِ آخرت پر گفتگو کرتے ہوئے تشکیل بھی کی۔ بعد ازاں جامع مسجد وحدت کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ محفل حمد ونعت میں شرکت کی، جس میں کراچی کے حافظ محمود خاطر نے حمد ونعت اور قاری جواد یسین، قاری حبیب الرحمٰن (دارالعلوم کراچی)، قاری عطاء الرحمٰن (دارالعلوم کراچی)، حافظ محمد اسامہ مدرسہ سیدنا صدیق اکبر نورانی بستی) نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔ آخر میں مولانا محمد ایوب بندھانی نے بیان اور دعا کی۔ محفل میں مولانا محمد رمضان میمن (جامعہ مفتاح العلوم)، مولانا مخدوم روشن صدیقی، قاری خالد محمود نے شرکت کی اور پروگرام کی مکمل سرپرستی مسجد ہذا کے خطیب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشفق مولانا جمیل الرحمٰن نقشبندی نے کی۔
تبلیغی جماعت کی نصرت : مولانا توصیف احمد نے بعد عصر سائٹ ایریا نزد ہاشمی کالونی سپر اسٹار موٹر سائیکل کمپنی کی مسجد میں سہ روزہ جماعت کی نصرت کی۔ رفقائے سہ روزہ جماعت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں، ختم نبوت کے کارکن خاص منور حسین جمعرات کے جملہ پروگرام میں مولانا توصیف کی معیت میں رہے۔
پروگرام ۱۳/ربیع الاوّل بروز جمعہ : مولانا توصیف احمد نے مبارک مسجد لطیف آباد نمبر ۸ میں جب کہ مولانا ضیاء الرحمٰن نے زم زم مسجد بدین اسٹاپ میں اجتماعات جمعہ سے خطاب کیا، جب کہ بعد از عشاء مولانا محمد علی صدیقی نے قاسم مسجد چھوٹی گھٹی میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کیا۔ جامع مسجد قاسم میں شہید ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے خلیفہ اجل مولانا مفتی محمد نعیم میمن کی اصلاحی مجلس ہوتی ہے، ان تمام پروگرام میں قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی گئی اور ’’ماہنامہ لولاک‘‘ ’ہفت روزہ ختم نبوت‘ کے مستقل خریدار بننے کی بھی ترغیب دی گئی۔ بڑی تعداد میں عوام الناس ’’ماہنامہ لولاک‘‘ ’ہفت روزہ ختم نبوت‘ کے خریدار بنے اور وعدہ کیا کہ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے۔
اللہ رب العزت جملہ پروگرامز کو قبول فرمائیں اور ہمارے لئے نجات کا ذریعہ بنائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/جنوری ۲۰۱۶ء ص ۲۲، ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس جہلم
تبلیغی مرکز قدیم جہلم میں ۱۱/ربیع الاوّل بعد از نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا۔ ۱۳/ربیع الاوّل مطابق ۲۵/دسمبر جمعتہ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کالی صوبہ خان کی مرکزی جامع مسجد میں دیا۔ جس میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ بعد نماز جامع مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حبیب پورہ کامونکی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے تفصیلی خطاب فرمایا۔ صدارت مجلس کے مقامی امیر رانا ذوالفقار احمد نے کی۔ مولانا شجاع آبادی کے علاوہ مولانا محمد عارف شامی، مولانا محمد خرم شہزاد اور مولانا مقصود احمد عثمانی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۲۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ ختم نبوت کانفرنسیں
۲۶؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بعد نماز عشاء کوٹ ہرا کی جامع مسجد میں ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ مولانا شجاع آبادی، مولانا محمد عارف شامی اور مولانا عاطف نے خطاب کیا۔ ۲۷؍ دسمبر بعد از نماز عشاء لوئیاں والا موڑ کی جامع مسجد میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل اور مولانا عارف شامی نے خطاب کیا۔ صدارت قاری محمد ریاض نے کی۔ نعتیہ کلام فیصل بلال صاحب نے پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
مولانا اللہ وسایا کا دورۂ کراچی
مولانا اللہ وسایا ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز سوموار بہاول پور سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔ ۲۹؍ دسمبر بروز منگل آپ ایک ہفتہ کے دورہ پر کراچی پہنچے۔ اسی دن ۲۹؍ دسمبر بروز منگل بعد از نماز عشاء دکھنی مسجد کانفرنس میں آپ نے بیان فرمایا۔ اسی طرح ۳۰؍ دسمبر بروز بدھ کو بعد از نماز عشاء میراں ناکہ کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ بعد ازاں آپ کے دو، دو پروگرام روزمرہ کی بنا پر شروع ہو گئے۔ لہٰذا ۳۱؍ دسمبر بروز جمعرات دن ۱۱ بجے جامعہ اشرف المدارس میں آپ کا بیان ہوا۔ جس میں ابتدائی گفتگو کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے فرمائی۔ اسی دن کا دوسرا پروگرام بعد از نماز مغرب جامع مسجد باب الرحمت دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں تربیتی نشست کے حوالے سے منعقد ہوا۔ جس میں آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے عنوان پر لیکچر دیا۔ یکم؍ جنوری بروز جمعتہ المبارک جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی زیرنگرانی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ پھر بعد از نماز مغرب شافعی مسجد میں کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ ۲؍ جنوری بروز ہفتہ بعد از نماز ظہر مدرسہ رحمانیہ بفرزون میں اور پھر بعد از نماز عشاء منظور کالونی کانفرنس میں بیان فرمائے۔ ۳؍ جنوری بروز اتوار بعد از نماز ظہر اسکاؤٹ کالونی اور بعد از نماز عشاء مرکز شاہ لطیف ٹاؤن کانفرنس میں بیان فرمایا۔ ۴؍ جنوری بروز سوموار کو کراچی سے ملتان کے لئے روانہ ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۳۸)
ختم نبوت کورس رینالہ خورد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ محمودیہ رینالہ خورد میں ۲۸، ۲۹، ۳۰؍ دسمبر ۲۰۱۵ء کو ختم نبوت کورس منعقد ہوا جس میں مولانا عبدالرزاق، مولانا مفتی غلام مصطفیٰ اوکاڑہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔ مولانا قاری زرین احمد خان اور مولانا قاضی ہارون الرشید نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۴۰)
ختم نبوت کورس اوکاڑہ
۲۸، ۲۹، ۳۰؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بعد نماز مغرب تا عشاء جامع مسجد حنفیہ پل مولی میں تین روزہ کورس منعقد ہوا۔ ۲۸؍ دسمبر مولانا مفتی غلام مصطفیٰ، ۲۹، ۳۰؍ دسمبر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۴۰)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام ۱۷؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۷ھ بمطابق ۲۹؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد دکھنی پاکستان چوک میں عظیم الشان ’’سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۶ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۶ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ممتاز قادری کی شہادت اور ہماری مروجہ دانش کا المیہ
حضرت امام احمد بن حنبل نے فرمایا تھا کہ: ”بیننا وبین اهل البدع الجنائز“ کہ ہمارے اور باطل پرستوں کے درمیان فیصلہ جنازوں پر ہوتا ہے۔ جب کہ خود ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت نے فیصلہ کر دیا تھا کہ امام احمد بن حنبل اور ان پر کوڑے برسانے والوں میں سے کون حق پر تھا؟ امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والے بھی مسلمان ہی کہلاتے تھے اور امام موصوف کو باغی اور واجب التعزیر قرار دینے پر دلائل رکھتے تھے، مگر امت مسلمہ نے نہ صرف اس وقت ان دلائل کو مسترد کر دیا تھا بلکہ آج تک ان خود ساختہ دلائل کو کوڑے دان سے نکال کر امت کے سامنے لانے کا کسی کو حوصلہ نہیں ہوا۔
غازی ممتاز قادری شہید کو پھانسی دینے پر بھی دلائل کی لائن لگی ہوئی ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں، لیکن اسلامیانِ پاکستان نے غازی کے جنازے کو راولپنڈی، اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بنا کر ان ساری توجیہات کو ہوا میں اڑا دیا ہے اور بتایا ہے کہ شرعی و قانونی دلائل و توجیہات اپنی جگہ، مگر سول سوسائٹی اور رائے عامہ اسے شہید ہی سمجھتی ہے اور اسے خراج عقیدت پیش کرنے پر متفق و مجتمع ہے۔ البتہ مروجہ دانش کی اس چابکدستی کی داد دینا پڑتی ہے کہ اسے پینترے بدلنے میں خوب مہارت حاصل ہے، کیونکہ جب کسی مسئلہ پر شرعی تقاضوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو مروجہ دانش کی زبان وقلم پر سماجی ضروریات اور سوسائٹی کے رجحانات کی دہائی شروع ہو جاتی ہے اور اگر سماجی تقاضے اور سوسائٹی کے رجحانات ان اہل دانش کے ایجنڈے کی پیش رفت میں رکاوٹ بنتے ہیں تو انہیں قانونی موشگافیاں یاد آنے لگتی ہیں اور وہ شرعی و فقہی فروعات وجزئیات کا سہارا لینے میں بھی کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے۔
ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں یہی ہوا تھا، اس نے پاکستان میں آکر کیا کیا گل کھلائے تھے، وہ کن لابیوں کے ساتھ کون سے مقاصد کے لئے سرگرم عمل تھا اور پاکستانی عوام کے جذبات واحساسات اس کے بارے میں کیا تھے؟ ہمارے ان دانشوروں کو یہ سب باتیں بھول گئی تھیں اور صرف یہ یاد رہ گیا تھا کہ اسلامی شریعت میں دیت کا بھی ایک قانون موجود ہے جس کا سہارا لے کر ریمنڈ ڈیوس کو نہ صرف قانون و شریعت کی زد میں آنے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے عزائم و جرائم پر پردہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور شریعت کے ایک قانون کی آڑ لے کر سول سوسائٹی کے جذبات و احساسات کا خون کر دیا گیا، مگر ریمنڈ ڈیوس کو پھانسی سے بچانے والے آج غازی ممتاز قادری کو پھانسی پر چڑھانے کے جواز میں قانون کی عملداری کی دہائی دینے میں مصروف ہیں۔ انہیں صرف یہ دکھائی دے رہا ہے کہ غازی ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے لئے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا۔ یہ بات ان کے ذہن سے محو ہو گئی ہے کہ سلمان تاثیر نے جس دستور کی پاس داری کا حلف اٹھا کر گورنر کا منصب سنبھالا تھا، اسی دستور کے تحت ایک جمہوری قانون کو ”کالا قانون“ قرار دے کر اپنے حلف کا کیا حشر کیا تھا اور عدالت سے سزا یافتہ ایک مجرمہ کے پاس جیل میں جاکر بلکہ وہاں پریس کانفرنس کر کے عدالتی فیصلوں کا کس طرح مذاق اڑایا تھا اور قانون کی بالادستی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔
خدا خوش رکھے پاکستان کے زندہ دل مسلمانوں کو کہ انہوں نے سلمان تاثیر کے جنازے اور غازی ممتاز قادری کے جنازے کی صورت میں اپنا یہ فیصلہ تاریخ میں رقم کر دیا ہے کہ ان میں قانون کو ہاتھ میں لینے والا کون تھا اور کس نے دستور و قانون کی روح کے تحفظ کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے! ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے، جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کسی اور کے ہاتھ میں ہے اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب ریموٹ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کو کنٹرول کر رہا ہے اور کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لئے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے کہ حسب موقع جی چاہے تو بچے دے اور جی چاہے تو انڈے دینا شروع کر دے۔ یہ دانش ایک جانب اسلامی ممالک میں سزائے موت کے قانون کے خاتمے کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب اسلام کا نام لینے والوں کو پھانسیاں دینے پر بغلیں بھی بجاتی پھرتی ہے۔
غازی ممتاز قادری کو ملک بھر کی رائے عامہ اور سول سوسائٹی خراج عقیدت پیش کر رہی ہے جس کی سب سے بڑی دلیل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر وہ خفیہ کنٹرول ہے کہ اس کی کوئی خبر منظر عام پر نہ آنے پائے۔ چنانچہ جب لاکھوں کے اجتماعات میں شرکت کرنے والے لوگ رات کو ٹی وی چینلز اور صبح کو اخبارات دیکھتے ہیں تو انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اظہار رائے کا حق اور میڈیا کی آزادی ان کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی بات کہہ سکیں اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ان کی آواز ’’آزاد میڈیا‘‘ کے اس دور میں ان کے دوسرے ہم وطنوں تک پہنچنی چاہئے۔
غازی ممتاز قادری کے ساتھ میری عقیدت کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ جب عالمی قوتیں پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی اسلام‘‘ کا فرق کھڑا کر کے بریلوی، دیوبندی کشمکش کو ہوا دینے کی پلاننگ کر رہی تھیں، اس کی بریفنگ ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی تجزیاتی رپورٹ کی روشنی میں ’’پینٹا گون‘‘ میں دی جا رہی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ دینی حوالہ سے مزاحمت اور جذباتیت کا ماحول صرف دیوبندیوں کے ہاں پایا جاتا ہے، اس لئے ’’صوفی اسلام‘‘ کے ذریعہ انہیں کارنر کر دیا جائے، اس فضا میں ممتاز قادری نے قلندرانہ جرأت کا مظاہرہ کر کے دنیا کو باور کرایا کہ دینی حمیت اور مزاحمت کے جذبہ میں بریلوی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور دینی حمیت و غیرت کو دیوبندیوں، بریلویوں میں تقسیم کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ یہ منصوبہ فلاپ ہو گیا تھا اور اس کا ڈراپ سین اسلام آباد کے امریکی سفارت خانہ کی طرف سے کچھ لوگوں کے ساتھ چند ہزار ڈالروں کے لین دین کی بات کے اچانک انکشاف کی صورت میں سامنے آیا تھا۔
غازی ممتاز قادری کی شہادت اور اس کے تاریخ ساز جنازے نے ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی اسلام‘‘ میں فرق کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ہے اور وہ امت کی وحدت کی علامت بن کر دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین!
(روزنامہ اسلام کراچی، ۴ / مارچ ۲۰۱۶ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ مارچ ۲۰۱۶ء ص ۱۲، ۱۵)
ممتاز قادری کی سزا میں ڈہرا معیار کیوں؟
۲۰۱۱ء کا سال مسلمانوں پر ایسا کڑا گزرا ہے کہ اس وقت کے حالات اور واقعات سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ دین دشمنوں، کفار اور شاتم رسول گروہوں نے بیک وقت اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یلغار کر دی ہے۔ ایک طرف آنحضرت ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنا کر مسلمانوں کے قلوب و اذہان کو چھلنی اور زخمی کیا جا رہا تھا، دوسری طرف آئین پاکستان میں ناموس رسالت کے تحفظ پر مشتمل شقوں کو تبدیل کرانے پر زور دیا جا رہا تھا۔ جس کی بنا پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام قابل ذکر بڑے شہروں میں جگہ جگہ احتجاج اور مظاہرے ہو رہے تھے۔ اس دوران آسیہ نامی ایک عیسائی خاتون نے آنحضرت ﷺ کی گستاخی کا ارتکاب کیا، موقع پر موجود لوگوں نے اس قضیہ کو تھانے تک پہنچایا، اس ملعونہ کی گرفتاری ہوئی، معاملہ عدالت تک پہنچا، انکوائریاں ہوئیں، بیانات ہوئے، بیانات پر جرح ہوئی، آسیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسیح پر جرم ثابت ہوا، عدالت نے اس کو قانون کے مطابق سزائے موت سنائی۔ ادھر اس وقت صوبہ پنجاب پر مسلط کیا گیا گورنر جس کا نام سلمان تاثیر تھا جو تنخواہ اور مراعات تو پاکستان سے لیتا تھا، لیکن اخبارات کے بقول وہ نوکری مغرب کے ایک خفیہ ادارے کی کرتا تھا، جس نے گورنر پنجاب ہوتے ہوئے اس آسیہ مسیح سے جیل میں جا کر ملاقات کی اور اس کو رہا کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ناموس رسالت کے تحفظ پر مشتمل قانون کو ”کالا قانون“ کہا اور اس قانون کے ختم کرانے کی اپنی مذموم کوششوں کو اس نے ”مقدس مشن“ کا نام دے رکھا تھا اور علی الاعلان گستاخانہ جملے اپنے غلیظ منہ سے نکالے تھے، جن غلیظ جملوں کے سننے کی تاب نہ لاتے ہوئے اور مغلوب الحال ہو کر ڈیوٹی پر مامور اس کے ایک محافظ جناب ملک ممتاز حسین قادری نے اس کو قتل کر دیا۔ اس لئے کہ کوئی بھی مسلمان چاہے وہ اعمال میں کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، وہ اپنے کانوں اور اپنے سامنے حضور اقدس ﷺ کی توہین و تنقیص اور گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ تو ملک ممتاز حسین قادری تھے، ان کی جگہ کوئی اور مسلمان ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا جو جناب ملک ممتاز حسین قادری نے کیا۔ بہرحال جناب ملک ممتاز حسین قادری کو گرفتار کیا گیا، اس پر مقدمہ چلا اور ان کو سزائے موت سنا دی گئی۔ یہ مقدمہ سیشن کورٹ، ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچا، حتیٰ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر صاحب نے بھی اس ناموس رسالت کے محافظ کے والدین اور وکلاء کی طرف سے کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا اور جناب ملک ممتاز حسین قادری کو سزائے موت دے دی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی شخص وزیر، مشیر، گورنر، وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم یا صدارت کے منصب پر ہو اور وہ آئین پاکستان کو یا آئین پاکستان کی کسی دفعہ کے بارہ میں کہے کہ میں اس کو نہیں مانتا؟ یا وہ آئین پاکستان کی فلاں دفعہ کو ”کالا قانون“ کہے؟ آئین پاکستان کا حلف اٹھانے والا اس کہنے کے باوجود کیا اس منصب پر قائم رہ سکتا ہے؟ نہیں اور یقیناً نہیں! اب جب سلمان تاثیر نے اپنے حلف اور عہدے کی پاسداری نہ کرتے ہوئے یہ سب باتیں آئین اور ناموس رسالت کے قانون کے بارہ میں کہیں تو اس کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ جب حکومت نے اپنی یہ ذمہ داری ادا نہیں کی اور اس نے مسلسل اس قانون کے ختم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اور ان کوششوں کو ”مقدس مشن“ کا نام دے کر اس پر عمل شروع کر دیا تو قانون کو ہاتھ میں لینے کا مرتکب وہ ہوا نہ کہ ملک ممتاز حسین قادری شہید۔
- ۲....... ٹھیک ہے ملک ممتاز حسین قادری شہید سے غلبۂ حال کی بنا پر یہ فعل سرزد ہو گیا تو اس کے وکلاء کی یہ بات کیوں نہیں سنی گئی کہ ملک
ممتاز حسین قادری کے معاملہ کو صرف ایک آدمی کے قتل کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، بلکہ یہ معاملہ ناموس رسالت کے تحفظ کا ہے اور ایسے معاملات میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ ایمان والا بھی کچھ سے کچھ کر سکتا ہے، جیسا کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ جناب عبد الرحمن ملک کا بیان ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ممتاز قادری کی جگہ میں ہوتا اور میرے سامنے میرے نبی ﷺ کے بارہ میں کوئی گستاخانہ کلمہ کہتا تو میں بھی وہی کرتا جو ملک ممتاز قادری نے کیا۔
- ۳....... اگر یہ معاملہ غلبۂ حال اور نبی کریم ﷺ کے عشق و محبت میں ان سے سرزد ہو بھی گیا تھا تو حکومت کو چاہئے تھا کہ ملک ممتاز حسین
قادری اور مقتول سلمان تاثیر کے ورثاء کے درمیان ثالث اور دونوں کے سرپرست ہونے کا کردار ادا کرتی، کہ یہ معاملہ چونکہ ان سے ہو گیا ہے اور ناموس رسالت کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے اور غلطی سلمان تاثیر سے بھی ہوئی تھی، لہٰذا آپ لوگ ملک ممتاز حسین قادری کو معاف کر دیں، یا ان سے دیت کا مطالبہ کر لیں۔ اس طرح کردار ادا کرنے سے ملک ممتاز حسین قادری کی جان بھی بچ جاتی، سلمان تاثیر کے ورثاء بھی خوش ہو جاتے اور اہل پاکستان کے دلوں میں بھی حکومت کا وقار اور مرتبہ بلند ہو جاتا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... اگر یہ بھی نہیں کیا گیا تو جب صدر مملکت کے پاس ملک ممتاز حسین قادری کے ورثاء اور وکلاء کی طرف سے اپیل گئی تھی تو انہیں چاہئے
تھا کہ پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے ان کی اپیل کو قبول کر لیتے اور انہیں باعزت طور پر رہا کر دیتے۔ کیونکہ یہ اختیار ان کے پاس ہے اور وہ اپنے اس اختیار کو استعمال کر سکتے تھے یا اگر ایسا نہیں کر سکتے تھے تو کم از کم ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیتے۔ اس سے صدر مملکت کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوتا ، مسلمانوں کی دعائیں بھی ملتیں اور ان کی دنیا و آخرت بھی سنور جاتی۔
- ۵...... قانون دان ، علماء کرام ، وکلاء حضرات اور پاکستانی عوام اس سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اعلیٰ عدالتوں میں کتنے لوگوں کے بارہ میں
سزائے موت کے فیصلے ہو چکے ہیں ، لیکن سالہا سال سے ان کو پھانسی کے پھندے پر نہیں لٹکایا گیا ، اس سے بڑھ کر یہ کہ برسوں سے کتنے توہین رسول جیلوں میں ایسے ہیں ، جن کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ آچکا ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک کو بھی ابھی تک پھانسی نہیں دی گئی ، اس سے بڑھ کر یہ کہ سلمان تاثیر اور ملک ممتاز حسین قادری کے اس قضیہ کا سبب بننے والی آسیہ مسیح آج تک زندہ ہے ، اپیلوں کے نام پر اس کی سزائے موت کو ابھی تک روکا ہوا ہے، آخر ایسا کیوں؟
اب سننے میں آرہا ہے کہ اس آسیہ مسیح کے آقاؤں نے اس کے لیے اپنے ہاں فلیٹ بھی تیار کر لیا ہے، اس کو شہریت بھی دے دی گئی ہے اور کسی وقت اس کو ملک سے مخفی طور پر رخصت کر دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک ، حکومت اور صاحبان اقتدار کے لیے ایک اور کالک ہوگی اور اس سے حکومت، عدلیہ اور بر سر اقتدار طبقہ کی جو رسوائی ہو گی ، اس کو سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
- ۶...... ملک ممتاز حسین قادری شہید نے تو آخری وقت تک کسی قسم کی گھبراہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ، بلکہ اپنے گھر والوں سے آخری ملاقات
کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ : ” میں جیت گیا تم ہار گئے ۔“ میں نہیں کہتا تھا کہ تم صدر مملکت کے پاس اپیل لے کر نہ جاؤ ، پھر اپنے بیٹے سے قرآن کریم کی تلاوت سنی ، بہادروں کی طرح اخیر وقت میں اذان دی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام کو بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو کامیابی کی طرف دعوت دی اور درود و سلام پڑھتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو گلے لگا لیا اور کہتا ہوا گیا کہ حضور اکرم ﷺ میرا انتظار فرما رہے ہیں ، تھوڑی دیر بعد امام الانبیاء خاتم الانبیاء سردار دو عالم ﷺ سے ملاقات ہو گی ۔
حکمرانو! تم کس کس کو پھانسی پر لٹکاؤ گے اور کس کس چیز پر پابندیاں لگاؤ گے؟ اور کیا ان پھانسیوں اور پابندیوں سے مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ عشق و وفا کے سپوتوں کی محبت کم کر سکو گے؟ حاشا و کلا! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمہ اللہ کے نماز جنازہ میں چار کلو میٹر پر پھیلا ہوا انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نہ ہوتا ۔ ملک ممتاز حسین قادری شہید کی نماز جنازہ سے ان کے بارہ میں غلط فہمی میں مبتلا افراد اور اداروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ / مارچ ۲۰۱۶ء ص ۴، ۵)
عاشق رسول ﷺ جناب ممتاز قادری
- ۱...... پاکستان کے تمام باسیوں کی عزت کے تحفظ کے لئے قانون ہے۔ اگر کسی شخص کی عزت نفس مجروح ہو تو وہ ہتک عزت کا کیس کر
کے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔ گویا سٹیٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کی عزت نفس کو تحفظ مہیا کرے۔
- ۲...... پاکستان کے بانی جناب قائد اعظم محمد علی جناح کے لئے قانون موجود ہے کہ اگر کوئی ان کی اہانت کرے تو مستوجب سزا ہو گا۔
- ۳...... پاکستان میں حساس ادارہ فوج کی ناموس کے تحفظ کا قانون موجود ہے۔ جناب الطاف حسین صاحب کے بیانات میں اسی قانون
کی خلاف ورزی ہوئی تو ان پر کیس درج ہوئے جو ابھی چل رہے ہیں۔ اسی طرح جناب زرداری صاحب کا باہر جانا بھی اس کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴ ...... پاکستان میں کوئی شخص عدلیہ کے اراکین کی اہانت کرے تو اس پر توہین عدالت کا قانون لاگو ہوتا ہے۔
- ۵ ...... ملک عزیز پاکستان کی کوئی اہانت کرے، اس کی سالمیت کے خلاف کوئی بات کرے تو اس پر مملکت کی غداری کا کیس بنے گا۔
- ۶ ...... پہلے ہمارے اس خطہ پر تعزیرات انگلشیہ لاگو تھیں جنہیں بعد میں تعزیرات ہند یا تعزیرات پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس میں مقدس
مقامات (قبرستان یا عبادت گاہیں) ومقدس شخصیات کے تحفظ کے لئے قانون موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل مقدس شخصیات کی ناموس کے تحفظ کے حوالہ سے رحمت عالم ﷺ، اہل بیت عظام ؓ اور صحابہ کرام ؓ کے لئے دفعہ ۲۹۵ میں بعض ذیلی شقوں کا اضافہ کیا گیا۔
- ۷ ...... بہت سارے مغربی ممالک میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی ناموس کے تحفظ کے حوالہ سے قوانین موجود ہیں۔
- ۸ ...... پاکستان میں صرف آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ناموس کے تحفظ کا قانون موجود ہے۔ ان
میں سے کسی ایک کی بھی اہانت پر کیس بنتا ہے۔
ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے اگر پاکستان میں رحمت عالم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لئے قانون موجود ہے تو یہ کوئی ایسا انوکھا اور نادر امر نہیں ہے کہ جس پر مغربی ممالک شور وغوغا کریں۔ لیکن جب سے قانون بنا ہے اس دن سے مغربی ممالک اور ان کے گماشتے برابر اس قانون کو ختم کرنے کے لئے برسر میدان ہیں۔ گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا اور اہم مسئلہ صرف یہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے دلوں سے پیغمبر اسلام ﷺ کی محبت نکال دی جائے۔
اسلامیان وطن کو یاد ہوگا کہ ضلع گوجرانوالہ کے ایک دیہات رتہ دوہتڑ میں ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی نسبت انتہائی کمینے، گندے الفاظ دیواروں پر لکھے۔ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس پر کیس درج ہوا چالان مکمل ہوا، گواہ بھگتے ،سیشن جج نے اسے سزائے موت سنائی۔ اس دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم پاکستان تھیں۔ تب لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر ہوئی۔ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ روکے رکھا۔ تمام عدالتوں میں چھٹی ہوگئی۔ یہ عدالت کھلی رکھی گئی۔ عصر، مغرب گزر گئی، فیصلہ نہ سنایا گیا۔ رات گئے فیصلہ میں ملزم کو بری کر دیا گیا۔ عدالت سے اسی وقت روبکار تیار ہوئی۔ سرکاری اہلکار اور سرکاری گاڑی وہ روبکار لے کر جیل گئے۔ اسے راتوں رات رہا کیا گیا۔ ایئر پورٹ لایا گیا۔ حجامت کرائی گئی۔ نہلا دھلا کر نیا پینٹ پتلون کا پہناوا نذر کیا گیا۔ پاسپورٹ پر پہلے سے غیر ملکی ویزہ لگوایا ہوا تھا۔ ایئر ٹکٹ ، کنفرم سیٹ پرمشتمل کاغذات اس کے سپرد کئے گئے۔ جہاز کی سیڑھیوں پر بریف کیس ڈالروں سے بھرا ہوا اس کے سپرد کر کے اسے اس سرکاری اہتمام سے روانہ کیا گیا۔ جو شخص اہانت رسول ﷺ کا ملزم تھا حکومت نے اسے سرکاری اعلیٰ درجہ کا مہمان قرار دیا اور اسے پروٹوکول دیئے گئے۔ اس کے اعزاز واکرام اور کاغذات کی تیاری کا تمام تر نظم دیکھ کر یہ کہنا نا ممکن نہیں کہ اس کا عدالتی فیصلہ بھی اس تیاری کا حصہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں کراچی سے خیبر تک خوفناک اور بھیانک قسم کی اہانت رسول ﷺ کے واقعات کی ایسی فضا بن گئی گویا سیلاب آ گیا۔ ہر کہ ومہ یہ سمجھ رہا تھا کہ بیرون ملک جانے کا شارٹ کٹ راستہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو گالیاں دیتے جاؤ اور باہر کا ویزا لیتے جاؤ۔ یہ سب کچھ حکمرانوں اور مملکت کے سربراہوں کی بدتدبیری اور احمقانہ سوچ کے باعث ہوا۔ اس موقعہ پر کس دکھ سے یہ عرض کیا جائے کہ جس دن سے یہ قانون بنا ہے ایک بھی اہانت رسول ﷺ کے مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ سینکڑوں کیس درج ہوئے۔ پہلے پولیس، ورنہ سیشن جج مجرم کو فارغ کر دیتے ہیں اور اگر وہاں سے سزا ہو جائے تو ہائیکورٹ و سپریم کورٹ نے تو گویا قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس قانون کے مجرموں کو سزا نہیں دینا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توجہ فرمائیے! کہ ایک دفعہ ویٹیکن سٹی کے پوپ نے مختلف ممالک کے سربراہوں کو اپنے درشن کے لئے بلایا۔ مسیحی ممالک کے سربراہان تو شرف زیارت کے لئے لپکے۔ پاکستان کے سربراہ جناب زرداری صاحب بھی نیارے وارے ہونے کے لئے پہلی صف میں حاضر باش ہوئے۔ تب براہ راست پوپ نے فرمایا کہ پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت قانون ختم ہونا چاہئے۔ زرداری صاحب نے دل وجان سے جھک کر سر نیچے کر کے دونوں ہاتھ باندھ کر سینے پر رکھے اور ٹھوڑی کو ہاتھوں کی انگلیوں کے اوپر کے سرے سے ملا کر وعدہ کیا کہ جی حضور وعدہ رہا۔ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ختم کریں گے۔ اس سے قبل ایک شور تھا۔ نیشنل اسمبلی میں شیریں رحمن، تحفظ ناموس قانون ختم کرنے کا بل جمع کرا چکی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب عمرہ کر کے کراچی تشریف لائے۔ کراچی میں تحفظ ناموس رسالت ریلی تھی۔ لاکھوں خلق خدا جمع تھی۔ ”ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ کا عملی منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ تبت سنٹر کے پل پر اسٹیج بنایا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمایا تھا:
”جناب زرداری صاحب! اگر آپ نے پوپ صاحب سے وعدہ کیا ہے قانون کو ختم کرنے کا تو میں رحمت عالم ﷺ سے گنبد خضراء پر وعدہ کر کے آیا ہوں کہ قانون ختم نہیں ہونے دیں گے۔“
آپ کی للکار حق سے اس منصوبہ کے بال و پر بھسم ہو گئے۔ کراچی میں لاہور کی ریلی کا اعلان کیا گیا۔ لاہور کی ریلی پنجاب کی سب سے بڑی ریلی تھی۔ اس میں بعض حکومتی کارندے اور بعض احمق و نادان، عقل و خرد کے دشمن، گماشتوں اور آوارہ گرد ذہنی مفلسوں نے بدمزگی پیدا کرنا چاہی۔ اللہ رب العزت کی شان کبریائی دیکھئے، آج وہی لوگ اور ان کے مربیان منہ چھپاتے پھر رہے ہیں: ”ترا کاشکے مادر نہ زادے“ لاہور کی ریلی میں پشاور کی ریلی کا اعلان کر دیا گیا۔ ابھی پشاور کی ریلی کا وقت نہ آیا تھا کہ وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وزیر اعظم جناب گیلانی صاحب نے دستخط کر دیئے کہ تحفظ ناموس ﷺ کا قانون ختم نہیں ہوگا۔ وہ نوٹیفکیشن مولانا فضل الرحمن صاحب کے سپرد کیا گیا۔ اسلام جیت گیا اور اسلامیان وطن سرفراز و شادمان ہو گئے۔
اس سے قبل ایک اور سانحہ ہوا کہ ننکانہ صاحب کے قریب چک اٹانوالی میں فالسہ کا پھل چنتے ہوئے ایک مسیحی خاتون آسیہ مسیح نے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور رحمت عالم ﷺ کے خلاف دریدہ دہنی کی۔ گاؤں کی عورتوں نے گاؤں میں تذکرہ کیا۔ نمبردار نے پنچایت بلائی تو آسیہ مسیح نے جرم واضح طور پر تسلیم کیا۔ گاؤں کی پنچایت تھانہ گئی۔ درخواست دی جو تھانیدار نے سرکاری ڈسٹرکٹ ایڈووکیٹ کو قانونی رائے دہی کے لئے بھجوادی۔ سرکاری وکیل نے رپورٹ دی کہ کیس بنتا ہے۔ مقدمہ درج ہوا۔ ایس پی نے انکوائری کی۔ ملزمہ نے ان کے سامنے بھی اعتراف جرم کیا۔ انہوں نے چالان مکمل کیا۔ سیشن جج کی عدالت میں کیس چلا۔ جرم ثابت ہوا۔ عدالت نے فیصلہ سے قبل پوری عدالت خالی کرا کر ملزمہ سے علیحدگی میں دریافت کیا کہ آپ پر دباؤ کی وجہ سے کیس بنایا گیا یا ڈرا کر بیان دلوایا گیا ہو تو آپ صحیح صحیح بتا دیں۔ آپ کو رہا کر دیں گے۔ ابھی وقت ہے۔ اس نے ان کے سامنے بھی اعتراف جرم کیا۔ چنانچہ سزا سنا دی گئی۔ ادھر فیصلہ ہوا۔ ادھر گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے جیل میں جا کر آسیہ سے ملاقات کی۔ درخواست لکھائی کہ صدر مملکت سے تمہاری سزا معاف کرا کر آتا ہوں۔ حالانکہ سیشن جج کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ پھر ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل جانے کا مرحلہ اور قانونی راستہ ترک کیا۔ قانون کو بلڈوز کر کے پاؤں کے تلے روندا گیا۔ جیل سے باہر اخبارات اور ٹیلی ویژن کے نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو کالا قانون کہا۔ اسے ایک ڈکٹیٹر کی ایجاد قرار دیا۔ یاوہ گوئی، ژاژ خوانی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جو اس قانون کے خلاف دریدہ دہنی کرتے ہوئے سلمان تاثیر نے استعمال نہ کیا ہو۔ پوری حکومت میں ایک شخص نے یہ نہیں کہا کہ سلمان تاثیر نے جس قانون
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی پاسداری کا حلف اٹھایا اس کی مخالفت کر کے کمینگی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ نتیجہ میں جناب ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو چلتا کیا۔
جناب ممتاز قادری کو ملنے کے لئے کوئی گورنر نہیں گیا۔ ان حالات میں کیس درج ہوا۔ مقدمہ اس تیزی سے نمٹایا گیا کہ گویا آندھی و طوفان کی رفتار سے اس کیس کو چلایا گیا۔ اگر ایک عدالت نے چند دفعات اڑا دی تھیں تو دوسری عدالت نے وہ بحال کر کے ان کے تحت بھی سزا سنا دی۔ سینئر وکیل، ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج اور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس بھی ملزم کی طرف سے عدالت میں صفائی کے لئے پیش ہوئے۔ لیکن ان کے خلاف فیصلہ سنا دیا گیا۔ نظرثانی مسترد ہو گئی۔ صدر مملکت سے رحم کی اپیل ہوئی۔ تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے صدر مملکت کو تحریری رحم کی اپیل کی۔ مگر رحم کی اپیل بھی مسترد ہو گئی اور جناب ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ان کے جنازہ کا کسی ٹیلی ویژن سے اعلان نہ ہونے دیا گیا۔ قدرت حق نے کرم کیا کہ اگلے روز میلوں میں جنازہ ہوا اور کئی ملین لوگوں نے شرکت کر کے اپنے ریفرنڈم کا فیصلہ سنا دیا کہ لبرل ازم والے ہار گئے اور ممتاز قادری جیت گیا۔ اس وقت کی صورتحال کا منظر نامہ تو یہی پیش کر رہا ہے۔ آگے جو قدرت کو منظور ہوگا۔
رہا آسیہ مسیح کا کیس تو ہائیکورٹ نے مجرمہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے سیشن کورٹ کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا برقرار رکھی ہے۔ جناب ممتاز قادری صاحب کی اپیل کا سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔ لیکن آسیہ مسیح کی اپیل سپریم کورٹ میں ابھی زیرانتظار ہے۔ یہیں تفاوت، امتیازی رویہ کو کیا نام دیا جائے؟ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ آسیہ کی اپیل جو پہلے دائر ہوئی وہ ابھی لگی نہیں۔ جو اپیل بعد میں دائر ہوئی وہ فوری اور ارجنٹ بنیادوں پر فیصل ہوئی۔ امور مملکت خسروان بداند پر محمول کئے بغیر چارہ نہیں۔
لبرل ازم کے علمبرداروں سے درخواست ہے کہ ۲۳ اگست ۲۰۱۳ء کو ٹلہ جام ضلع بھکر میں شیعہ سنی تنازعہ میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان میں چھ سنی تھے اور دو شیعہ۔ ان کے مجرموں پر دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کیس چلا۔ سنیوں میں دو کو سزائے موت اور چار کو عمر قید، جب کہ شیعہ کے چھ افراد کو تین تین بار سزائے موت جب کہ ایک کو عمر قید کی سزا ہوئی۔ جناب شہباز شریف صاحب کو وحدت المسلمین کی قیادت ملی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے ایم پی اے (پی پی ۲۸) دریا خان کے انعام اللہ خان نیازی کے ذمہ لگایا۔ مقتولین کے ورثاء کو ایک کروڑ چالیس لاکھ دیت دے کر دونوں فریقوں کے مجرموں کو معاف کر کے صلح کرا دی گئی۔ وہ رہا بھی ہو گئے۔
(۲۶؍فروری ۲۰۱۶ء، روزنامہ اسلام لاہور)
بہت ہی اچھا ہوا کہ شیعہ وسنی تنازعہ کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس پر وزیراعلیٰ کے فیصلہ پر تنقید ناروا ہوگی۔ لیکن اسی طرح ممتاز قادری کیس میں بھی حکومت یہی رویہ اختیار کرتی تو کیا مناسب نہ تھا؟ ریمنڈ ڈیوس امریکی باسی نے لاہور جیل روڈ پر علی الاعلان برسر بازار امریکی اسلحہ سے دو لاہوری مسلمان بھون ڈالے۔ اس کو راتوں رات رہا کر کے امریکہ بھجوا دیا گیا۔ ایک غیرت مند ملک کے حکمرانوں نے یہ رویہ کیوں اختیار کیا۔ کیس کے فیصلہ کے بعد اس کی لاش امریکہ جاتی تو ان کو پیغام جاتا کہ پاکستانی بھی انسان ہیں۔ لیکن حکومت کے کارندوں نے پوری پاکستانی قوم کے ناموس کو خاک میں ملایا۔ اس سے قبل رمزی کیس میں ایک امریکی وکیل نے ریمنڈ ڈیوس کے مسئلہ پر کہا تھا کہ پاکستانیوں کا کیا ہے۔ ڈالروں کے بدلے ماں کا بھی سودا کر دیتے ہیں۔ کہا گیا کہ دیت ادا کر کے صلح کرا دی گئی۔ اس لئے رہا ہوا۔ بندگان خدا تم نے ممتاز قادری کیس میں ایسا کیوں نہ کیا؟ تمہارے دوہرے طرز عمل کا کوئی جواز ہے؟ نہیں اور بالکل نہیں۔
چلئے جانے دیں۔ غازی علم الدین کیس میں مسلم لیگ کے بانی جناب قائد اعظم صفائی کے وکیل تھے اور انگریز عدالت نے سزا دی۔ انگریز حکومت نے عمل درآمد کیا۔ تاریخ کا یہ بھی حصہ ہے کہ اسی مسلم لیگ کے موجودہ حکمرانوں کی حکومت نے ایک عاشق رسول ﷺ کی سزا پر عمل درآمد کیا ہے۔ تاریخ کے کردار کتنی جلدی بدل گئے اور اسی میں جناب ممتاز قادری امر ہو گئے۔ مسلم لیگ کے بانی جناب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ۵۸۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قائداعظم نے پاکستان بناتے وقت نعرہ لگایا تھا پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ موجودہ مسلم لیگ کے سربراہان فرماتے ہیں۔ پاکستان کا مطلب لبرل ازم۔ قادیانی ہمارے بھائی، ممتاز قادری قابل گردن زدنی۔
قارئین! اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ جناب ممتاز قادری کی پھانسی کا امریکہ نے خیر مقدم کرتے ہوئے آسیہ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کہیں ممتاز قادری کی پھانسی بھی امریکہ کے دباؤ کا نتیجہ تو نہیں؟ تمام شواہد سے تو یہی سمجھ آتا ہے۔ البتہ ؎
محتاج دعا: فقیر اللہ وسایا
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۳ تا ۷)
رد قادیانیت کی کتب پر کوئی پابندی نہیں
نیشنل ایکشن پلان پر کارروائی شروع ہوئی تو بعض پولیس افسران نے جلدی میں رد قادیانیت کی کتابوں پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یا اس طرح کے اداروں کی شائع کردہ کتب پر اعتراض کیا۔ ان کا یہ اعتراض کم علمی، ناواقفیت اور قانون سے ناشناسی پر مبنی تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ”متحدہ علماء بورڈ پنجاب“ کو درخواست دی۔ متحدہ علماء بورڈ نے ۴؍نومبر ۲۰۱۵ء کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ یا رد قادیانیت پر کتابوں کے سلسلہ میں ایک ایک پر انفرادی طور پر چھان بین کے بعد متحدہ علماء بورڈ تجویز دے گا۔ اس کے بعد حکومت کارروائی کرے۔ ہر پولیس کا آدمی اٹھ کر ان کتب کے متعلق کوئی اقدام کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ اس رویہ کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ چنانچہ اب ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو اس پر نوٹیفکیشن بھی پنجاب گورنمنٹ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کر دیا ہے۔ ذیل میں اس کا عکس ملاحظہ کریں:
MOST IMMEDIATE/ BY FAX No. SO(IS-II)6-15/2010 Pt.I GOVERNMENT OF THE PUNJAB HOME DEPARTMENT Lahore, the 31st March, 2016
To Provincial Police Officer/IGP, Punjab, Lahore.
Subject: - SUO MOTO PROCEEDING / ACTION BY LAW ENFORCEMENT AGENCIES.
I am directed to refer to the subject noted above and to state that Muttahida Ulema Board Punjab in its meeting held on 04.11.2015 has observed as under:
"درخواست پر غور و خوض کرتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ردقادیانیت سے متعلقہ دفتر ہذا میں موصولہ کیسز پر انفرادی طور پر فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم اس امر کا نوٹس لیا گیا کہ رد قادیانیت پر مشتمل لٹریچر پر قانون نافذ کرنے والے ادارے از خود کارروائی کرتے ہیں جو قطعاً نا مناسب اور غلط ہے اس رویہ کی ہر صورت حوصلہ شکنی کی جائے۔"
It is therefore, requested that recommendations of Muttahida Ulema Board be complied with in letter and spirit.
SECTION OFFICER (INTERNAL SECURITY-III)
Encl: as above
CC:
- - The Chairman, Muttahida Ulema Board, Punjab, Lahore.
- - The Section Officer (IMB), Auqaf & Religious Affairs Department.
- - PS to Home Secretary, Punjab.
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۴۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قائد آباد میں چوک ختم نبوت کا افتتاح
اسلامیان وطن سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اپنے شہر میں ”چوکوں“ کا نام ”ختم نبوت چوک“ کے نام سے رکھوانے کی جدوجہد کریں۔ اب تک آمدہ اطلاعات کے مطابق ایک محتاط اندازہ کے مطابق ملک میں بیسوں چوکوں کا نام ختم نبوت کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات ملتے ہی یہ مہم اور ذوق وشوق سے شروع ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائیں۔ آمین! ذیل میں ۵؍اپریل کے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کا عکس ملاحظہ ہو:
No. 1087- /DOC/HCG
OFFICE OF THE ADMINISTRATOR ZILA COUNCIL KHUSHAB
Dated 05 /04/2016
NOTIFICATION
In exercise of powers conferred upon me under Punjab Local Govt. Ordinance 2001, I, ZIA-UR-REHMAN, ADMINISTRATOR ZILA COUNCIL KHUSHAB do hereby change name of "Noorpur Chowk Quaidabad" as "KHATAM-E- NABUWAT CHOWK QUAIDABAD" with immediate effect. All concerned are hereby directed to make necessary amendment in their record and in future read, write and call it with its new name.
Administrator Zila Council Khushab
No. & Date Even
A copy is forwarded for information to the: -
- 1. Additional District Collector / Administrator TMA Khushab
- 2. Assistant Commissioner, Quaidabad
- 3. All Executive District Officers / Heads of Federal, Provincial and District
Government Departments in district Khushab.
- 4. District Information Officer, Khushab for publicity.
- 5. Superintendent of Govt. Printing Press, Lahore for publication in the
Extra Ordinary Official Gazette
Administrator Zila Council Khushab
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۴۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گھانا میں پاکستانی تبلیغی جماعت کو قادیانیوں نے گرفتار کرایا
افریقی ملک گھانا میں سادہ لوح نومسلموں کو مرتد بنانے میں مصروف قادیانی جماعت نے چند روز قبل پاکستانی تبلیغی جماعت کے جن ۷؍ مسلم ارکان کو القاعدہ کے دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کرایا تھا، انہیں گھانا کے حکام نے تحقیقات کے بعد رہا کر دیا ہے۔ قادیانی جماعت کی جانب سے گھانا کی پولیس اور امیگریشن حکام کو جھوٹی اطلاع دی گئی تھی کہ پاکستان سے آنے والے افراد القاعدہ کے دہشت گرد ہیں۔ جس پر ۷؍ پاکستانی مسلمان مبلغین کو گرفتار کر کے مقامی پولیس اسٹیشن میں بند کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں گھانا کی عظیم روحانی شخصیت اور نیشنل چیف امام، شیخ احمد نوح کی جانب سے پولیس اور امیگریشن حکام کو مطلع کیا گیا کہ پاکستانی تبلیغی جماعت کو اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لئے دنیا بھر کی دیگر تبلیغی جماعتوں کی طرح گھانا کے دورے کے لئے انہوں نے بطور خاص اسپانسر کیا تھا، تاکہ قادیانیوں کے ارتدادی جال میں پھنسنے والے سادہ لوح نو مسلموں کو بچایا جائے۔ ۹۳ سالہ شیخ احمد نوح کا کہنا ہے کہ قادیانیوں کے سرغنہ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو ابتدا میں مجدد، مصلح، مسیح اور بعدازاں نعوذ باللہ نبی بنا کر پیش کیا تھا، جس پر دنیا بھر کی اسلامی حکومتوں نے قادیانی اقلیت کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا، لیکن انگریزوں کی کاسہ لیس اس جماعت کے لوگ افریقا میں اپنا نیٹ ورک بنا کر سادہ لوح مسلمانوں، بالخصوص نومسلم افریقی عوام کو مرتد بنا رہے ہیں۔ گھانا کے مقامی میڈیا کے مطابق قادیانیوں کی ان ارتدادی سرگرمیوں کے تدارک کے لئے شیخ احمد نوح نے دنیا بھر کی تبلیغی جماعتوں کو گھانا مدعو کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور ان کے قیام وطعام کا سارا خرچ شیخ احمد نوح برداشت کرتے ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ پاکستانی تبلیغی جماعت پر دہشت گردی اور القاعدہ سے تعلق کا الزام جھوٹ ثابت ہونے پر گھانا پولیس اور امیگریشن انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے قادیانیوں کی مقامی جماعت کے امیر کو وارننگ دی ہے کہ جھوٹی اطلاع دینے پر ان کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قادیانیوں کی جھوٹی اطلاع پر گرفتار کئے گئے ۷؍ پاکستانیوں میں سے چند افراد کے نام ایم نذر، ایم امین، ایم اسرار، علی خان، ایم ایم گل خان، نذیر گل اور جان عالم بتائے گئے ہیں۔ گھانا کے جریدے ڈیلی گائیڈ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے امیگریشن حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ تمام پاکستانی مسلمان ۱۳؍مئی ۲۰۱۶ء تک گھانا میں رہ سکتے ہیں۔ انہیں سینٹرل ڈسٹرکٹ ریجن آسین فاسو سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہاں کے پولیس کمانڈر سیموئیل لاسن نے بتایا کہ انہیں ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء کی رات قادیانی جماعت کے لوگوں نے اطلاع دی تھی کہ القاعدہ کے دہشت گرد علاقے میں دیکھے گئے ہیں، جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جس پر ان تمام مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعدازاں ان کی سفری دستاویزات کی چیکنگ کے لئے جمعہ کے روز امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداران کو بلوایا گیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ یہ تمام افراد قانونی طور پر گھانا آئے ہیں اور یہ گھانا کے چیف امام شیخ احمد نوح کے مہمان ہیں۔ واضح رہے کہ گھانا میں قادیانیوں کا ایک منظم نیٹ ورک موجود ہے، جو سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے مقامی مسلم تنظیموں کی دعوت پر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی تبلیغی جماعتیں سادہ لوح نو مسلموں کو قادیانیوں کے چنگل سے بچانے کے لئے وقتاً فوقتاً تبلیغی دورے کرتی رہتی ہیں، جس سے ختم نبوت کی منکر اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی جھوٹی نبوت کی دعویدار قادیانی جماعت انتہائی پریشان تھی، یہی وجہ ہے کہ مقامی قادیانی جماعت (احمدی مشن) کے سربراہ احمد اینڈرسن لندن میں بیٹھے قادیانی سرغنہ مرزا مسرور احمد قادیانی کی ہدایات پر شاطرانہ چال چلتے ہوئے گھانا پولیس، انٹیلی جنس اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں موجود اپنے ہمدرد افسران کو مطلع کیا کہ پاکستان سے آنے والے افراد القاعدہ کے دہشت گرد ہیں، جن کی بڑی بڑی داڑھیاں ہیں، وہ گھانا کے مختلف علاقوں میں جا کر دہشت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ۵۹۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گردی کی وارداتوں کے لئے اسکریننگ میں مصروف ہیں۔ گھانا سے شائع ہونے والی آن لائن جریدے سٹی ایف ایم نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس جھوٹی اطلاع کے بعد قادیانیوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ پاکستان اور دیگر علاقوں سے القاعدہ کے دہشت گرد آ رہے ہیں جو گھانا کے لوگوں کی لڑکیوں، عورتوں اور بچوں کو کینیا کی شدت پسند تنظیم الشباب اور دیگر جنگجو تنظیموں کی طرح ہلاک اور اغوا کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گھانا کے قادیانیوں کی تمام سازشیں ناکام ہوگئی ہیں۔
(روزنامہ امت کراچی، ۷؍اپریل ۲۰۱۶ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍مئی ۲۰۱۶ء ص ۱۳)
ضلع خوشاب میں ساٹھ سال بعد مسجد مسلمانوں کے حوالے
ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر ضلع خوشاب نے سید اطہر حسین شاہ بخاری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گزشتہ تقریباً ساٹھ سالوں سے قادیانیوں (غیر مسلموں) کے غیر شرعی، غیر قانونی اور ناجائز غاصبانہ قبضہ سے مسجد واگزار کروا کر مسلمانوں کے حوالے کروادی۔ جس پر مسلمانوں نے انتہائی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور مسجد کا قبضہ لینے کے بعد اسے باقاعدہ غسل دیا گیا اور باجماعت نماز کی ادائیگی شروع کردی ہے تفصیلات کے مطابق چک نمبر 2-TDA تحصیل قائد آباد ضلع خوشاب میں پانچ کنال اراضی جو حکومت پنجاب کی ملکیتی تھی اس جگہ کو ساٹھ سال قبل اہل اسلام کے لیے وقف برائے مسجد کر دیا گیا تھا۔ جس پر ۱۹۵۵ء میں ایک مسجد تعمیر کی گئی جس میں مقامی لوگ نماز ادا کرتے چلے آرہے تھے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر کافر اور غیر مسلم قرار دیا۔ اس کے بعد مذکورہ مسجد میں قادیانیوں کا داخلہ روک دیا گیا مگر اس کے باوجود قادیانیوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مسجد بلکہ مسجد کی ملکیتی اراضی پر بھی قبضہ کر لیا اور زبردستی دھونس دھاندلی سے مسجد پر قابض چلے آرہے تھے جو سید اطہر حسین شاہ نے ۲۰۱۲ء میں مسجد کی واگزاری کے لیے مقامی تھانہ میں درخواست دائر کی جو بعد ازاں سیشن کورٹ سے اور پھر عدالت عالیہ تک مقدمہ بازی چلتی رہی اور یہ ساری مقدمہ بازی مذکورہ سائل سید اطہر حسین شاہ کے حق میں ہوتی رہی جو بالآخر عدالت عالیہ لاہور نے ڈی سی او خوشاب کو ہدایت کی کہ فریقین کو سن کر فیصلہ کرے جس پر باقاعدہ سماعت ہوئی جو ڈی سی او فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ ملاحظہ کرنے کے بعد اپریل میں مسجد مسلمانوں کے حوالے کرنے کے احکامات سنائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۱۸)
قادیانی اڑتالیس آف شور کمپنیاں
پانامہ پیپرز کے افشاء نے جہاں حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں قادیانی جماعت میں بھی ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ جن کے نام نہاد خلیفہ، ان کے خاندان اور دوستوں کے نام پر ۴۸ آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ قادیانی جماعت کے ذرائع کے مطابق خلیفہ کے کاروبار پر کسی کو اعتراض نہیں۔ البتہ ان کمپنیوں میں چندے کی رقم ہڑپ کئے جانے کے انکشاف پر قادیانی جماعت کی صفوں میں بھی ہلچل محسوس کی جا رہی ہے اور خلیفہ کے حوالے سے سوالات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ ایک شخص جس کا کوئی ذریعہ روزگار نہیں اور جماعت کا سربراہ بننے سے پہلے وہ ایک امیر آدمی بھی نہیں تھا۔ اب اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی کہ وہ دنیا کے امیر ترین لوگوں سے بھی زیادہ امیر دکھائی دے رہا ہے۔ اوصاف کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق قادیانی جماعت میں موجودہ نام نہاد خلیفہ کے آنے کے بعد سے اب تک کئی ایک دھڑے بندیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جن میں سے ان کے مخالفین کا ایک الزام مشترک ہے کہ یہ خلیفہ بدعنوان ہے اور جماعت کے چندوں کی رقم میں خورد برد کا مرتکب ہے۔ مگر کسی کے پاس اس کا ثبوت نہیں تھا۔ اس حوالے سے پہلا الزام ۲۰۱۰ء میں سامنے آیا۔ جب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا گیا کہ مرزا مسرور بڑی تعداد میں برطانیہ میں پراپرٹی خرید رہا ہے۔ اس کے لئے رقم کہاں سے آ رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ چندوں کی مد میں جو رقم غریب قادیانیوں سے حاصل کی جاتی ہے، اس کے عوض انہیں دی جانے والی سہولتوں میں مزید کمی دکھائی دے رہی تھی اور نام نہاد شاہی خاندان کو بھی شکایت تھی کہ ان کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔
واضح رہے کہ مرزا قادیانی کے خاندان کو قادیانی جماعت میں شاہی خاندان کہا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت کے نظام کے تحت دنیا بھر میں جن ممالک سے چندے زیادہ وصول ہوتے ہیں ان میں پاکستان، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ شامل ہیں۔ یہ رقم وہاں سے خیراتی رقم کے نام سے منتقل کی جاتی ہے تا کہ اس پر ٹیکس بچایا جا سکے۔ اسے برطانیہ میں AMJ انٹرنیشنل کے نام سے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ سے صرف ایک ادارہ شرکتہ الاسلامیہ چلایا جارہا تھا اور اس کی آمدن اور اخراجات سال کے آخر میں برابر ظاہر کر دیئے جاتے تھے۔ مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اسی اکاؤنٹ سے رقوم ادھر ادھر بھی منتقل کی جاتی تھیں اور انہیں گھما پھرا کر آف شور کمپنیوں میں چھپایا جاتا تھا۔
۲۰۱۰ء میں ہی ایک قادیانی عمارت کے لئے بھاری شرح سود پر قرض حاصل کیا گیا جو وقت کے ساتھ غیر معمولی مقدار میں بڑھنا شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ قرض دینے والی یہ کمپنی TJ Holdings کس کی ہے اور اس کے پس پردہ کیا کہانی ہے۔ اس وقت تو یہ کہانی سامنے نہیں آئی لیکن اب بھانڈا پھوٹا ہے کہ یہ مرزا مسرور کی اپنی خاندانی کمپنی ہے جو جعلی نام پر کام کرتی ہے۔
اوصاف کو ذرائع نے بتایا ہے کہ مرزا نے زیادہ تر کمپنیاں اپنے نام پر نہیں بنائیں بلکہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے نام پر مال اکٹھا کیا ہے۔ جن میں عبدالباقی ارشد کا نام بہت اہم ہے۔ اطلاعات کے مطابق عبدالرشید احمد کی عمر ۸۱ برس ہے اور وہ مرزا مسرور کا ذاتی دوست ہے اور کم وبیش ۲۳ چندہ چور کمپنیوں کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قادیانی جماعت چندے کی رقم کے حوالے سے اس قدر حساس ہے کہ اس پر ٹیکس نہ دینے کا معاملہ اٹھانے پر چوہدری احمد حسن کو قتل کروا دیا گیا تھا۔ جس کی تحقیقات میں جماعت کی کئی ایک شخصیات کو تفتیش میں شریک ہونا پڑا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چندے کی لوٹ مار ہمیشہ سے ایسے ہی رہی ہے۔ لیکن مرزا نے ماضی کی روایت کے مطابق مل کر کھانے کے بجائے سب خود ہی کھانے کی پالیسی اختیار کی جس پر احتجاج ہونا قدرتی بات تھی۔ دوسرے یہ کہ ماضی میں ایسا کوئی خلیفہ پکڑا نہیں گیا۔ اس کی بدقسمتی کہ پانامہ پیپرز نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اطلاعات کے مطابق مرزا کی آف شور کمپنیاں صرف پانامہ میں ہی نہیں بلکہ برٹش ورجن آئی لینڈ اور دیگر ٹیکس چوری کے حوالے سے بدنام جگہوں پر بھی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ مرزا نے مرزا طاہر کی بیوی آصفہ کے نام پر اور نصرت جہاں کے نام سے بھی کمپنیاں کھولی ہیں۔ لندن میں قادیانی جماعت کے ذرائع نے مرزا مسرور کی مختلف فرنٹ مینز کے نام پر کمپنیوں کی تفصیل فراہم کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کام کیا جارہا ہے۔ یہ تعداد حتمی نہیں ہے۔ مزید انکشافات کی توقع رکھنی چاہئے۔
پانامہ پیپرز میں شامل قادیانی جماعت کی آف شور کمپنیاں اور ان کے رہنماؤں کی فہرست جن کی نشاندہی قادیانی ذرائع نے کی ہے:
نمبر شمار قادیانی رہنماؤں کے نام آف شور کمپنیوں کے نام کمپنی کے قیام کی تاریخ ۱ سید قاسم احمد، لاہور فضل انٹر پرائزز پاناما ۹ / جون ۲۰۰۰ء ۲ سید قمر سلیمان احمد، لاہور فضل انٹر پرائزز پاناما ۹ / جون ۲۰۰۰ء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳ سید محمود احمد، لاہور فضل انٹرپرائزز پاناما ۹/ جون ۲۰۰۰ء ۴ مرزا سفیر احمد، لاہور فضل انٹرپرائزز پاناما ۹/ جون ۲۰۰۰ء ۵ شوکت جہاں احمد، لاہور فضل انٹرپرائزز پاناما ۹/ جون ۲۰۰۰ء ۶ مسعود احمد خالد، چناب نگر سند ہولڈنگس ایس اے پاناما ۱۲/ جون ۲۰۰۰ء ۷ مرزا ظفر احمد، لاہور سند ہولڈنگس ایس اے پاناما ۱۲/ جون ۲۰۰۰ء ۸ مرزا ثمر احمد، چناب نگر سند ہولڈنگس ایس اے پاناما ۱۲/ جون ۲۰۰۰ء ۹ ماجد احمد خان، چناب نگر اشڈیل لمیٹڈ NIUE ۶/ جنوری ۲۰۰۲ء ۱۰ سید خالد احمد شاہ، چناب نگر نورڈن انویسٹمینٹ NIUE ۴/مئی ۲۰۰۴ء ۱۱ امتل وحید، چناب نگر زینڈوانویسٹمینٹ NIUE ۱۲/اکتوبر ۲۰۰۰ء ۱۲ مرزا مظفر احمد، لاہور بلال انویسٹمینٹ پاناما ۷/ جون ۲۰۰۰ء ۱۳ شاہد احمد سعدی، لاہور بلال انویسٹمینٹ پاناما ۷/ جون ۲۰۰۰ء ۱۴ مرزا ناصر انعام احمد، چناب نگر بلال انویسٹمینٹ پاناما ۷/ جون ۲۰۰۰ء ۱۵ مرزا مسرور احمد، لاہور نصرت انویسٹمینٹ پاناما ۱۶/دسمبر ۱۹۹۲ء ۱۶ سید خالد احمد، چناب نگر نصرت انویسٹمینٹ پاناما ۱۶/دسمبر ۱۹۹۲ء ۱۷ سید شعیب احمد، لاہور نصرت انویسٹمینٹ پاناما ۱۶/دسمبر ۱۹۹۲ء ۱۸ حمید اللہ، لاہور ٹی جے ہولڈنگس پاناما ۲۵/اگست ۱۹۹۲ء ۱۹ منصور احمد خان، لاہور ٹی جے ہولڈنگس پاناما ۲۵/اگست ۱۹۹۲ء ۲۰ عالیہ بخش چوہدری، لاہور ٹی جے ہولڈنگس پاناما ۲۵/اگست ۱۹۹۲ء ۲۱ مرزا مسرور احمد، لاہور الحماد ہولڈنگس پاناما ۲۳/مئی ۱۹۹۲ء ۲۲ سید قاسم احمد، لاہور الحماد ہولڈنگس پاناما ۲۳/مئی ۱۹۹۲ء ۲۳ سید خالد احمد، لاہور الحماد ہولڈنگس پاناما ۲۳/مئی ۱۹۹۲ء ۲۴ سید محمود احمد، لاہور قادر انٹرپرائزز پاناما ۲۲/مئی ۲۰۰۰ء ۲۵ سید شعیب احمد، لاہور قادر انٹرپرائزز پاناما ۲۲/مئی ۲۰۰۰ء ۲۶ میاں محمد اسلم، لاہور اسلم کارپوریشن پاناما ۲/ جون ۲۰۰۰ء ۲۷ پروین اسلم، لاہور اسلم کارپوریشن پاناما ۲/ جون ۲۰۰۰ء ۲۸ ندیم اسلم، لاہور اسلم کارپوریشن پاناما ۲/ جون ۲۰۰۰ء ۲۹ محمد معین اسلم، لاہور اسلم کارپوریشن پاناما ۲/ جون ۲۰۰۰ء
تحریک ختم نبوت جلد(۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰ محمد علی اسلم، لاہور اسلم کارپوریشن پاناما ۲؍ جون ۲۰۰۰ء ۳۱ میاں ضیاء الدین طور، راولپنڈی کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۲ صوفیہ طور، راولپنڈی کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۳ حسن احمد، لاہور کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۴ سجادہ جمیل، لاہور کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۵ شریفہ حامد، لاہور کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۶ عبدالشکور اظہر کاسکا ہولڈنگس پاناما ۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء ۳۷ میاں ضیاء الدین طور، راولپنڈی ماہا انٹرنیشنل پاناما ۲۳؍ فروری ۱۹۹۴ء ۳۸ صوفیہ طور، راولپنڈی ماہا انٹرنیشنل پاناما ۲۳؍ فروری ۱۹۹۴ء ۳۹ عبدالشکور اظہر ماہا انٹرنیشنل پاناما ۲۳؍ فروری ۱۹۹۴ء ۴۰ سید قمر سلیمان احمد، لاہور سلامت ہولڈنگس پاناما ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۱ سید محمود احمد، لاہور صائمت ہولڈنگس پاناما ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۲ سید شعیب احمد، لاہور سلامت ہولڈنگس پاناما ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۳ سیدہ بشریٰ بیگم، لاہور سلامت ہولڈنگس پاناما ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۴ مرزا مسرور احمد، لاہور سمٹ پراپرٹیز پاناما ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۵ سید قمر سلیمان احمد، لاہور سمٹ پراپرٹیز پاناما ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۶ سید قاسم احمد، لاہور سمٹ پراپرٹیز پاناما ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء ۴۷ ........................... لامبرڈا انویسٹ لمیٹڈ ................... ۴۸ ........................... جفاہ انٹر پرائزز ...................
(ماخوذ از: روزنامہ اوصاف لاہور، مورخہ ۱۵؍ مئی ۲۰۱۶ء، بروز اتوار، ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۶ء ص ۳۶ تا ۳۹)
ختم نبوت چوک سرائے نورنگ کا نوٹیفکیشن
عالمی مجلس تحفظ ختم کی تحریک پر سرائے نورنگ کے اہم چوک کو ختم نبوت چوک اور لگری روڈ کو ختم نبوت روڈ کے نام سے سرکاری حیثیت دلا دی گئی۔
اس قرارداد کو منظور کرانے کے لئے جناب حاجی امیر صالح خان، مفتی عبدالغفار، مولانا عبدالرحیم، مفتی ضیاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، صاحبزادہ امین اللہ اور ماسٹر محمد عمر خان نے بھر پور کردار ادا کیا۔
ذیل میں سرکاری نوٹیفکیشن کا عکس ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
OFFICE OF THE TEHSIL MUNICIPAL ADMINISTRATION,
SERAI NAURANG.
No. 218 /TN/TMA Serai Naurang. Dated: 13 / 6 /2016.
NOTIFICATION
The Tehsil Council TMA Serai Naurang has adopted unanimously a Resolution No. A-1 dated 13.6.2016, whereas, the name of the Chowk of Kaki Road near Fresh Way Sweets & Backers has renamed as "Khatam-e-Naboowat Chowk".
Therefore, the name of "Khatam-e-Naboowat Chowk" is notified accordingly with immediate effect.
Tehsil Nazim, Tehsil Council, Serai Naurang.
Endst. of even No. & date. Copy to the:
- 1. Commissioner, Bannu Division Bannu.
- 2. Deputy Commissioner, Lakki Marwat.
- 3. Tehsil Municipal Officer, TMA Serai Naurang.
- 4. Adl. Asstt: Commissioner, Serai Naurang.
- 5. Haji Amir Saleh Khan District Ameer for Alami Majlis Tahafuz.e.Khatam-e.
Naboowat, Lakki Marwat.
Tehsil Nazim, Tehsil Council, Serai Naurang.
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ۵۹۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بدین میں قادیانی دہشت گردوں کے خلاف ایف آئی آر کا عکس
ابتدائی اطلاعی رپورٹ بہ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس رپورٹ شدہ زیر دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری نمبر 159/2016 تھانہ بدین ضلع بدین تاریخ ووقت وقوعہ 2016-06-29 بوقت 18:00
1- تاریخ ووقت رپورٹ 30-06-2016 @ 14:00 6 تھانہ سے روانگی کی تاریخ ووقت بوقت 2- نام وسکونت اطلاع دہندہ و مستغیث منجانب سرکار سب انسپکٹر خدا بخش لنڈ، پی۔ایس۔ بدین 3- مختصر کیفیت جرم (مع دفعہ) مع مال اگر کچھ کھویا گیا ہے۔ U/S 3,4,5 Explosive Act, R/W 120B PPC /6/7 ATA 4- جائے وقوعہ سے فاصلہ تھانہ اور سمت ملزم عمران گرگیز کے گھر کی گلی پوسٹ آفس روڈ تھانہ سے مشرق کی طرف مفاصلہ تقریباً 2 کلومیٹر، دیھ تحصیل بدین 5- جانچ پڑتال کونسے قدم لئے گئے اور خبر داخل کرنے دیر کیوں ہوئی اس تفتیش شروع کے اسباب
SIP خدا بخش لنڈ SIP PS. Badin صحیح عہدہ
نوٹ : اطلاع کے نیچے، اطلاع دہندہ کے دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط یا بطور تصدیق ہونا چاہئے :
فریاد ہے کہ میں تھانہ کڑیو گھنور پہ SIP تعینات ہوں۔ کل ہم بمع سپاہ PC-16 زاہد حسین، PC-1837 نایاب حسین اسلحہ ایمبولیشن کے ساتھ سرکاری گاڑی SP-3588 ڈرائیور DPC عبدالمجید PS بدین کے روزنامچہ انٹری نمبر ۱۸ مورخہ ۲۹/جون ۲۰۱۶ء بوقت 17:10 بجے پیٹرولنگ کرنے کے لیے روانہ ہوکر مختلف مقامات سے پیٹرولنگ کرتے ہوئے جب پوسٹ آفس سے آرمی شوگر ملز کی طرف جارہے تھے جب وقت چھ بجے شام ڈاکٹر پیر محمد واہرو اسپتال پر پہنچے تو مشرق کی جانب سے ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ جس پر ہم فوری گلی میں گئے دیکھا کہ لوگ گھروں سے باہر نکل کر دہشت خوف و ہراس میں بھاگ دوڑ رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ عمران علی گرگیز کے گھر میں یہ دھماکہ ہوا تھا۔ ایسی معلومات بھی ملی اور عمران ولدیت اصغر گرگیز رہائشی اصل خدا آباد نزد کڈہرو، تحصیل ٹنڈو باگو حال رہائشی قائد آباد محلہ شہر بدین زخمی حالت میں گلی میں پڑا ہوا تھا جس کی ٹانگوں اور بازوں سے خون بہہ رہا تھا۔ اتنے میں دو نامعلوم افراد آئے جو کہ عمران علی گرگیز کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے کر بھاگ گئے جن کو ہم نے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ گلیوں سے بھاگ گئے۔ ہم نے زمین پر دیکھا کہ ایک ریموٹ کنٹرول ایرل والا بمعہ بیٹری ہاف وائیٹ کلر والا، ایک کالے کلر ڈوائیس ایرل والا بمعہ سیلز، ایک ڈیٹونیٹر وائیر لال اور زرد کلر کی تاروں سے ملے۔ دھماکے کے سبب اردگرد کے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول تھا جو ہم نے بروقت امن امان کی صورتحال کو سنبھالتے ہوئے مشیر نامہ تیار کر کے ویریفائے کرتے رہے۔ جس کے بعد فرار ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں کرتے رہے جس کے بعد آج
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مؤرخہ ۳۰/جون ۲۰۱۶ء کو ہم بمعہ سپاہ PC زاہد حسین، PC نایاب حسین مخفی اطلاع پر جوابدار عمران علی ولد اصغر علی گرگیز کو سیرانی روڈ نزد ٹیکنیکل کالج سے گرفتار کر کے اس کی بدن تلاشی لی جو قمیص کے سائیڈ والی جیب سے ایک چھوٹی سائیز والا پسٹل اور شلوار کے ور میں سے ایک پلاس ملا۔ قمیص کے آگے والی جیب سے ایک موبائیل فون ملی۔ جوابدار کو دونوں ٹانگوں اور بازؤں میں سوراخ نما زخم تھے۔ جس کی تفتیش پر ظاہر کیا کہ کل میں رموٹ کنٹرول دیسی ساخت والا بم شہباز روڈ پر عام خریداری والی ایریا میں دھماکہ کرنے کے لیے لے جا رہا تھا کہ اچانک رموٹ کنٹرول پر ہاتھ لگنے سے زور دار دھماکہ کر کے بم پھٹ گیا۔ جس سے میں زخمی ہو گیا تھا۔ ملزم نے اپنا نام عمران ولد اصغر علی گرگیز، رہائش اصل خدا آباد کڈہرو، تحصیل ٹنڈو باگو، حال قائد آباد محلہ شہر بدین بتایا۔ جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کا ایسا مشیر نامہ PC زاہد حسین، PC نایاب حسین کے روبرو تیار کر کے گرفتار ملزم کو حفاظت میں لے کر سول اسپتال بدین پہنچے جہاں سے اس کا علاج کروا کر اسے حفاظت میں لے کر ابھی حاضر ہو کر فریاد کرتا ہوں کہ ملزمان عمران علی گرگیز اور دو نامعلوم افراد نے ہم صلاح ہو کر سازش مجرمانہ کر کے دیسی ساخت ریموٹ کنٹرول بم اپنے قبضہ میں رکھ کر شہر بدین میں کاروباری علاقہ شہباز روڈ پر بم دھماکہ کرنے کی سازش بنا کر بم دھماکہ کرنے کے لیے بم لے جا رہا تھا کہ ریموٹ کنٹرول پر ہاتھ لگنے سے دھماکہ ہو گیا جس سے لوگوں میں دہشت اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ سارا عمل کر کے ملزمان نے قلم 3,4,5 دھماکہ خیز ایکٹ ATA 6/7 کا جرم کیا ہے۔ اس لیے سرکار کی طرف سے فریادی ہو کر ملزمان بالا کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔
نوٹ: فریادی کا فریاد اس کے کہنے کے موجب حرف بہ حرف تحریر کر کے اس کو پڑھا کر سنایا گیا جس کو درست تسلیم کر کے دستخط کیے ہیں۔
پولیس کارروائی SIP PS. Badin
جناب عالی ! اوپر والی فریاد اس کتاب میں داخل کر کے دفعہ CrPC 157 کی بجا آوری متعلقہ عدالت سے کی گئی۔ ایف آئی آر کاپیاں افسران بالا کو ارسال کی گئیں۔ انسپکٹر رینک کا آفیسر مقرر ہونے پر مقدمہ کی تفتیش اس کے حوالے کی جائے گی۔ SIP PS. Badin
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۵۱، ۵۲)
قادیانیوں کی حمایت کرنے کا انجام، حمزہ علی عباسی برطرف
مشکوٰۃ شریف میں کتاب العلم کی ایک روایت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ علماء کے ختم ہونے سے (آخر زمانہ میں ) علم بھی ختم ہوتا جائے گا۔ لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے۔ وہ لوگ بغیر علم کے فتوے دیں گے۔ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(مشکوٰۃ ج ۱ ص ۳۳)
رمضان المبارک کی صورتحال کو سامنے رکھیں تو بیسیوں ٹی۔وی چینلوں پر ”رمضان ٹرانسمشن“ کے نام سے جو پروگرام منعقد ہوئے ان پروگراموں میں اکثر ”رمضان ٹرانسمشن“ کے میزبان اداکار، فنکار اور گلوکار متعین تھے۔ جنہوں نے اپنے اپنے طور طریقوں سے نہ صرف رمضان المبارک کے مقدس ماحول کو پامال کیا بلکہ آئین اور مذہب کی نظریاتی سرحدوں کو عبور کرنے کی ناپاک جسارت کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ رمضان ٹرانسمشن کی خصوصی نشریات میں جہاں دیگر شعائر اسلامی کا تمسخر اڑایا گیا، وہاں ایک سوچے سمجھے پروگرام کے تحت ۱۳/جون ۲۰۱۶ء کو آج ٹی وی کے اینکر پرسن حمزہ علی عباسی نے نہ صرف مذہبی بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آئینی سرحدوں کو پامال کیا۔ حمزہ علی عباسی کو شاید علم نہیں کہ ابتدائی جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف سب سے پہلے ایک اسلامی ریاست ”ریاست مدینہ“ نے ہی فیصلہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے وطن عزیز کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے نہ کہ یہ کوئی لبرل ملک ہے جہاں مذہب کی کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قید نہ لگائی جاسکتی ہو۔ اسلامی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ علماء مسئلہ بتا سکتے ہیں۔ لیکن نفاذ اتھارٹی صرف ریاست کے پاس ہوتی ہے۔
بہر حال اس ناگہانی واقعہ کے بعد ۱۴؍ جون ”امت“ اخبار کراچی کے صفحات پر علماء کی طرف سے اس واقعہ کی بھر پور مذمت کی گئی۔ ۱۴؍ جون کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا کی طرف سے چیئرمین پیمرا کے نام ایک کھلا خط لکھا گیا۔ جو ۱۶؍ جون کو روزنامہ ”اسلام“ کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوا۔ پھر دیگر اخبارات میں بھی یہ کھلا خط شائع ہوا۔ جس میں انہوں نے حمزہ علی عباسی کے خلاف قانونی کارروائی کرانے کا مطالبہ کیا۔ جو کھلا خط چیئرمین پیمرا کے نام شائع ہوا وہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
بخدمت جناب چیئرمین پیمرا پاکستان، اسلام آباد
جناب عالی !
۱۳؍ جون ۲۰۱۶ء ”آج ٹی وی“ کی رمضان نشریات کے اینکر پرسن حمزہ علی عباسی نے اپنی نشریات میں کہا کہ ریاست کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔
جناب عالی ! جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا، اس روز سے علماء کرام، مولانا پیر مہر علی شاہ، مولانا عبداللہ لدھیانوی، مولانا نذیر حسین دہلوی، مولانا احمد رضا خان، مولانا علی الحائری، مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا غلام دستگیر ایسے اپنے وقت کے جید علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو مسلم امت سے علیحدہ قرار دیا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے سپریم کورٹ، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ، جنوبی افریقہ کے سپریم کورٹ غرض جتنے بھی کسی متنازعہ مسئلہ کو طے کرنے کے فورم تھے۔ جب قادیانی کیس ان کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے قادیانیوں کو ملت اسلامیہ کا کبھی حصہ قرار نہ دیا۔
۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کی کارروائی میں قادیانی جماعت نے خود درخواست کر کے اس میں شرکت کی اجازت حاصل کی۔ اس وقت قادیانی جماعت کے چیف گرو مرزا ناصر نے یہی بحث اٹھائی کہ کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔ مرزا ناصر سے کہا گیا کہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اس کا صدر مسلمان ہوگا۔ اگر ایک ہندو خود کو مسلمان کہہ کر پاکستان کی صدارت کے الیکشن میں حصہ لے کہ وہ مسلمان ہے، تو اس کے متعلق حکومت یا عدالت کو حق حاصل ہے کہ نہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ یہ مسلمان ہے یا نہیں؟ کوٹہ سسٹم کے تحت ایک یونیورسٹی یا کالج یا کسی سرکاری ادارہ میں ایک غیر مسلم خود کو مسلمان کہے تو کیا اس کے متعلق ادارہ کے سربراہ یا عدالت کو حق حاصل ہے یا نہ کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ یہ شخص مسلمان ہے یا نہ؟ غرض تفصیلی بحث کے بعد مرزا ناصر کو تسلیم کرنا پڑا کہ ہاں ! حکومت یا ادارہ کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
جناب عالی ! آج قومی اسمبلی کی اس بحث کا تمام سرکاری ریکارڈ خود حکومت نے شائع کر دیا ہے۔ توجہ طلب یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ”جس شخص کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ وہ خدا کے نزدیک قابل مواخذہ اور جہنمی ہے ۔“ اسی طرح قادیانی جماعت کے دوسرے چیف گرو مرزا محمود نے ”آئینہ صداقت“ نامی کتاب میں لکھا کہ ”جو شخص مرزا قادیانی کو نہیں مانتا، اگرچہ اس نے مرزا کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر ہے ۔“ پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد قادیانی کا اپنی کتاب ”کلمۃ الفصل“ میں کہنا کہ ”مرزا کے نہ ماننے والے نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“ ان حوالہ جات کے ہوتے ہوئے گویا ٹی وی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اینکر پرسن حمزہ علی عباسی قادیانیوں کو تو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کے مسلمان کو غیر مسلم قرار دیں اور اگر ایک اسلامی سٹیٹ طویل بحث ومباحثہ، غور وفکر واجتہاد کے بعد قادیانیوں کے متعلق فیصلہ کرتی ہے۔ تو وہ غلط ہے۔
یہ فلسفہ ٹی وی پر بیان کرنا بلاوجہ نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی گہری چال ہے جو دشمن نے پاکستان کے حالات میں بگاڑ پیدا کرنے کے لئے چلی ہے۔ آج جب کہ پورے ملک میں انتہاء پسندی، مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا دائرہ تنگ کیا گیا ہے۔ اسلامیان وطن نے فرقہ واریت سے پناہ پا کر سکھ کا سانس لیا ہے۔ اس موقع پر ایک طے شدہ مسئلہ کو زیر بحث لانا ، متنازعہ بنانا، یہ بلاوجہ نہیں اس کے پس منظر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کو پھر انارکی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
جناب! یقین جانئے کہ ایک شرعی اسلامی متفقہ مسئلہ، جس پر پارلیمنٹ بھی مہر تصدیق ثبت کر چکی۔ عرب و عجم ، مشرق و مغرب کے مسلمان جس پر متفق ہیں۔ اسے متنازعہ بنا دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں ۔ یہ قادیانیوں یا قادیانی نوازوں کی خام خیالی ہے۔ وہ غیر مسلم ہیں، جب تک مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے قلادہ کو اپنی گردن سے نہیں اتارتے انہیں کوئی ماں کا لعل مسلمانوں کی صف میں نہیں کھڑا کر سکتا۔
جناب عالی! حقائق پر غور کیا جائے ۔ یہ کیا ہو رہا ہے کہ ایک اینکر اور ایکٹر عقیدہ وایمان کے متفقہ مسئلہ کو متنازعہ بنا کر پورے ملک میں ایک اضطراب و ہیجان کی فضا پیدا کر دے۔ یہ سب کچھ ایک منصوبہ کا حصہ ہے۔ ٹی وی مالکان نے یہ جو اسے ذمہ داری سونپی یہ بھی گہری چال ہے جو ملک کے حالات کو بگاڑنے کے لئے چلی گئی ہے۔ ایک شخص اگر شیعہ، سنی کے نام پر منافرت پھیلائے تو وہ قابل مواخذہ ہے اور اگر وہ کفر واسلام کی حدود کو توڑ دے، متفقہ طے شدہ مسئلہ کو اختلافی اور متنازعہ بنائے تو وہ قابل مواخذہ کیوں نہیں؟ کیا اب جب کہ امریکہ، افغانستان، انڈیا مل کر پاکستان میں راہداری کے خلاف افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان میں پھر بدامنی کو راہ دی جا رہی ہے۔ ہماری دیانتدارانہ رائے ہے کہ اس اینکر پرسن کی یہ گفتگو بھی اسی پلاننگ کا حصہ ہو سکتی ہے۔ تعزیرات پاکستان میں درج ہے کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ اینکر پرسن نے اس قانون کی روح کو پائمال کیا ہے۔ اس پر اس دفعہ کے تحت کیس درج ہونا چاہئے۔ اس نے افراتفری پھیلا کر ضرب عضب کو چیلنج کیا ہے۔ اس گفتگو سے انہوں نے ایکشن پلان کو تہہ و بالا اور ملیا میٹ کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔
براہ کرم ! پیمرا کا فرض بنتا ہے کہ وہ ”آج ٹی وی“ اور اس کے اینکر پرسن اور اس سازش کے پیچھے چھپے کرداروں کے خلاف قانونی کارروائی کر کے اسلامیان وطن کو مطمئن کرے۔ ایک بار پھر قادیانی لابی اور قادیانی نوازوں تک یہ پیغام پہنچانا فرض سمجھتے ہیں کہ قادیانی غیر مسلم تھے اور ہیں۔ یہ قانون رہے گا۔ اس کے بدخواہ اور اس کو ختم کرنے والے کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بقول علامہ اقبال مرحوم ” قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے اور ختم نبوت میں امت کی وحدت کا راز مضمر ہے ۔“ ان حقائق پر غور کر کے اس گہری چال کا انسداد کیا جائے۔ شکریہ! اللہ وسایا (مبلغ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
چنانچہ ملک بھر سے علماء نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ ۱۸؍جون کو کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما قاضی احسان احمد ، جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے امیر قاری محمد عثمان اور دیگر علماء کے وفد نے آج نیوز کے سی ای او جناب شہاب زبیری سے ملاقات کی۔ حمزہ علی عباسی کی عقیدہ ختم نبوت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے حمزہ علی عباسی کو آج ٹی وی چینل سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ۱۹؍جون کو روزنامہ ”اسلام“ کے ادارتی صفحات پر ایک مضمون اور ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی جس میں چیئرمین پیمرا کی طرف سے غیر منصفانہ فیصلہ سامنے آیا۔ ذیل میں ۱۹؍جون کو شائع ہونے والے دونوں مضامین ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت نوازی ...... کچھ قرینے بھی ہوتے ہیں حصول داد کے:
ٹائم بم (Time Bomb) مقررہ وقت پر پھٹنے والے بم کو کہا جاتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کے معاملات ایسے حساس ہوتے ہیں، انہیں بودے دلائل کے سہارے زیر بحث لایا جائے تو ٹائم بم کی طرح پھٹتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ اور ایمان کی بنیاد ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا خاتم النبیین ہونا قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ سورۂ احزاب میں اللہ کا ارشاد ہے: ”محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ خود رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ایک عمارت کی مثال دے کر ارشاد فرمایا کہ میں نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ ہوں۔ آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ؓ ہوتے۔ اسی طرح اور بہت سی احادیث سے عقیدۂ ختم نبوت ثابت ہے۔ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی، سجاح اور دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف دور صدیقی میں جہاد اس بات کا ثبوت ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی ظلی اور بروزی نبی کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے عقیدے کے حامل مسلمان نہیں۔
برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ترک جہاد کے لئے انگریز نے اتارا اور پھر اس سے امت مسلمہ کے متفقہ عقیدے پر ضرب لگانے کی سعی لاحاصل کی۔ برصغیر کی تقسیم سے قبل ہی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور اس قبیل کے علماء نے قادیانیت کو چیلنج کیا اور دلائل وبراہین کے ذریعے اس کے تار و پود بکھیرے۔ قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے علماء نے عقیدۂ ختم نبوت کے لئے طویل جدوجہد کی اور زنداں کی صعوبتیں کاٹیں اور بے شمار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت اس کی شاہد ہے۔ پھر دوبارہ ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت چلی۔ جس کے نتیجے میں یہ معاملہ قومی اسمبلی کے فلور پر آیا اور اس وقت کے قادیانی سربراہ مرزاناصر اور اس کے ساتھیوں کو مکمل مواقع فراہم کئے گئے کہ وہ اپنا مؤقف اسمبلی میں پیش کریں۔ قومی اسمبلی میں بحث کا سلسلہ دو ماہ کے لگ بھگ جاری رہا اور قومی اسمبلی کے ۲۶ اجلاسوں کی چھیانوے نشستیں ہوئیں اور وہ ماہ اگست کے پہلے عشرے (۵ اگست) سے شروع ہونے والی مرزاناصر پر جرح وقفے وقفے سے ۳۱ اگست تک جاری رہی۔ یہ جرح ۴۰ گھنٹوں سے زائد کے دورانیے پر مشتمل تھی۔ جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان یحییٰ بختیار نے مرزاناصر سے جو سوالات کئے وہ قادیانیوں کے سربراہ غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے حوالہ جات پر مشتمل تھے۔ جس میں امت مسلمہ کے بارے میں آنجہانی کے جو عقائد تھے وہ بیان کئے اور پھر ان حوالوں کی تصدیق بھی مرزاناصر سے چاہی جس پر اس نے ان کی کہیں بلاواسطہ تصدیق کی اور کہیں بالواسطہ مرزاناصراحمد نے اسمبلی کے فلور پر جو باتیں کیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی بات کو نہ ماننے والا کافر ہے، چاہے وہ حضرت محمد ﷺ کو مانتا ہو۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ غیر احمدیوں سے رشتہ حرام ہے۔ غلام احمد (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ سے ”افضل“ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد جو یہ کہے کوئی نبی نہیں آئے گا وہ جھوٹا ہے۔ قادیانی وزیر (ظفراللہ) نے قائد اعظم کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی کہ وہ ہمارے خلاف فتویٰ دینے پر خاموش رہے۔ اسمبلی قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دے تو ہمیں اعتراض نہ ہوگا۔
اس کے بعد بھی اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کسی کو کافر قرار دینا پارلیمنٹ یا ریاست کا حق نہیں تو ایسے لوگوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ جب مرزاناصر نے مرزا غلام احمد کے نبوت کے منکرین کو کافر کہنا مانا اور اسے خاتم الانبیاء ﷺ سے (نعوذ باللہ) افضل قرار دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدۂ ختم نبوت رکھنے والوں کو کذاب، قائد اعظم پر بھی بالواسطہ کفر کا فتویٰ لگایا اور پارلیمنٹ کے حق کو تسلیم کیا کہ وہ قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے سکتی ہے تو پھر یہ دلیل ”تار عنکبوت“ سے زیادہ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ اگر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے عقائد سے براہ راست آگاہی حاصل کر کے متفقہ فیصلہ کیا تو پھر اسے تسلیم نہ کرنا اور بار بار زیر بحث لانے کی منطق کیا ہے؟ عقیدۂ ختم نبوت جب اسلام کے عقائد کا حصہ ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اس کا انکار کر کے مسلمان کہلانے پر مصر ہوں۔ قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔ آپ مسلمان ہیں تو پھر اسلام کے تمام احکامات کو تسلیم کرنا ہو گا۔ اس کے کسی حکم کو چیلنج کرنے کا حق کسی دین سے نابلد اینکر کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔
مغرب جس کا حق نمک ادا کرنا ان کا معمول ہے، وہاں مذہب اور دنیوی معاملات الگ الگ ہیں۔ اسے ہر شخص کا ذاتی معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔ جب کہ اسلام زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ ”میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو“ کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔ وہ اسلام کے دائرے میں آتا ہے تو اسے سارے احکامات ماننے ہوں گے، چاہے اسے پسند ہوں یا نہ ہوں۔ اسی طرح آپ ریاست اور اس کے قوانین کی بات کرتے ہیں کہ اسے اختیار نہیں کہ وہ کسی کو کافر یا مسلمان قرار دے، غیر مسلم پارلیمنٹ جو قوانین بنائے، چاہے وہ شراب کی اجازت دے، ہم جنسیت کو جائز قرار دے اور زنا بالرضا کو قانونی قرار دے تو اسے آسمانی صحیفہ سمجھ کر ٹی وی چینلوں پر اکھاڑے سجانے والے بنیاد بنا کر یہاں بھی اجازت گناہ مانگیں تو انہیں کوئی لگام دینے والا نہ ہو، بلکہ انہیں تحفظ دیا جائے تو ایک مسلم اور نظریاتی ممالک کی اسمبلی اور ریاست کو یہ اختیار کیسے نہیں کہ وہ امت مسلمہ کے متفقہ عقیدہ کو قانونی شکل دے اور اس کا نفاذ کرے؟
ایک متفقہ عقیدے کو بحث و مباحثہ کا موضوع بنا کر متنازعہ بنانے کی مساعی کی اجازت ہر کہ و مہ کو دی جاسکتی ہے؟ پھر قادیانی پاکستان میں رہنا بھی چاہتے ہیں اور ملکی قوانین کی پابندی سے بری الذمہ بھی ہونا چاہتے ہیں۔ کیا کسی اور ملک میں اجازت ہوتی ہے کہ آپ اس میں آباد بھی ہوں اور یہ بھی کہیں کہ اس ملک یا شہر کے صرف من پسند قوانین کو مانوں گا کبھی یہ ”باشیئے“ اپنے ممدوح امریکا میں ہی یہ کر کے دیکھ لیں تو انہیں اس طرح کی آزادی ملے گی یا جیل کی ہوا کھانا ان کا مقدر ہو گا۔ عقیدۂ ختم نبوت اسلامی معاشرے کی نظریاتی شناخت ہے۔ اس پر ضرب لگانے کے لئے اس وقت کا چناؤ اس لئے کیا گیا کہ تہذیب مغرب کے ذریعے نسل نو کو مذہب سے بے زار کر دیا گیا ہے اور دینی قوتیں بھی دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں دیکھا جائے کہ ان کا وار نشانے پر بیٹھتا ہے یا خالی جاتا ہے، لیکن انہیں معلوم ہو گیا کہ نئی نسل تمام تر خرابیوں کے باوجود عقیدے اور ایمان پر کسی ضرب کو برداشت نہیں کرے گی۔
ایک شخص اور اس کی ذریت کہے کہ ہم مسلمان ہیں اور تم سب کافر ہو، آپ جیسے ایمان فروش پھر بھی انہیں مسلمان کہنے پر مصر ہوں تو پھر مفہوم واضح ہے کہ اب اکثریت کو کافر کہنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ ایک اقلیت کے لئے نظریاتی شناخت پر بھی وار کریں۔ ریاست اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کا حق چھیننے کی جہالت کا ارتکاب بھی کریں جب کہ اسی اقلیت کے رہنما پارلیمنٹ کے اس حق کو تسلیم بھی کرے۔ وہ کسی کو دائرہ اسلام سے دلائل کی روشنی میں خارج قرار دے سکتی ہے تو پھر اس دانش پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ تنخواہ کا حق ادا کرنے کے لئے اور بھی بہت سے راستے ہیں۔ ”متفقات“ کو چھیڑنا اور پھر عقیدہ و ایمان سے چھیڑ چھاڑ کر کے ”داد“ وصول کرنا کیا قرین انصاف ہے؟ اعتبار ساجد کے بقول ؎
(پروفیسر عبد الواحد سجاد، روزنامہ ”اسلام“ مؤرخہ ۱۹؍ جون ۲۰۱۶ء ص ۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینی وسیاسی جماعتوں نے پیمرا کا فیصلہ غیر منصفانہ قرار دے دیا:
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے رمضان ٹرانسمیشن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر دو ٹی۔وی چینلز کے میزبانوں پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ٹی۔وی ون کے پروگرام ”عشق رمضان“ کے میزبان شبیر ابوطالب اور آج ٹی۔وی کے پروگرام ”رمضان ہمارا ایمان“ کے میزبان حمزہ علی عباسی پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیمرا کے مطابق انہیں موصول ہونے والی شکایات پر یہ اقدام کیا گیا۔ پیمرا کے مطابق دونوں ٹی۔وی چینلز اپنے پروگرام کسی دوسرے میزبان کے ذریعے جاری رکھ سکتے ہیں لیکن میزبان شبیر ابوطالب، حمزہ علی عباسی اور ایک شریک گفتگو کوکب نورانی اوکاڑوی نے اگر کسی اور ٹی۔وی چینل پر اس موضوع پر یا کوئی اور متنازع گفتگو کی تو اس چینل کے پروگرام کو بند کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ حمزہ علی عباسی نے رمضان ٹرانسمیشن کے دوران قادیانیوں کے مسئلے پر آئین پاکستان پر تنقید کی تھی۔ جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعدازاں نیوز ون ٹی۔وی پر ”عشق رمضان“ پروگرام کے میزبان شبیر ابوطالب نے مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی سے اس مسئلے پر ان کی رائے لی۔ مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی نے حمزہ علی عباسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ روزنامہ ”اسلام“ نے اس حوالے سے مختلف مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کی۔ رہنماؤں نے پیمرا کی جانب سے نجی ٹی۔وی چینلز کے پروگرامات پر پابندی کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق پیمرا کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ پیمرا نے عوامی شکایات پر حمزہ علی عباسی کے خلاف کارروائی کی ہے۔ جب کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ نہ صرف حمزہ علی عباسی کے پروگرام پر پابندی عائد کی جائے بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے۔ لیکن پیمرا نے ان کے ساتھ ساتھ شبیر ابوطالب کے پروگرام پر بھی پابندی عائد کر دی اور علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے خلاف بھی کارروائی کی ہے، جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔
جمعیۃ علمائے اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کا تحفظ ہمارا ایمان ہے۔ مسلمان چاہے کتنا ہی کمزور عمل والا ہو، لیکن وہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی نواز ٹولے کو لگام دی جائے ورنہ عاشقان رسول تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا امتحان نہ لیا جائے یہ ملک آقا ﷺ کے غلاموں کا ہے اور یہاں پر نہ خلاف اسلام کوئی قانون بن سکتا ہے اور نہ ہی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی کو وطن عزیز کا اسلامی تشخص برداشت نہیں تو پھر ان کے پاس چلا جائے جن کے ایجنڈے پر وہ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا صرف نوٹس نوٹس کھیل رہی ہے۔ رمضان سے متعلق پروگرامات میں شرمناک حرکات کی جا رہی ہیں لیکن پیمرا کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا پیمرا نے شبیر ابوطالب کے پروگرام پر پابندی لگا کر یکطرفہ فیصلہ کیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے پیمرا کی جانب سے ایک نجی ٹی۔وی (آج) کے ایک متنازعہ پروگرام پر پابندی عائد کرنے والے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دیر آید درست آید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض چینلز ریٹنگ کی دوڑ میں اپنی نشریات میں ماہ صیام کا تقدس پامال اور اسلام وشعائر اسلام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ طے شدہ معاملات جس پر تمام مسالک کا اتفاق ہے ان کو ٹی۔وی پر متنازعہ کر کے پیش کرنے سے سوسائٹی میں انتشار پھیل رہا ہے۔ رمضان ٹرانسمیشن جیسے پروگرامات جید علمائے کرام کے ذریعے کرا کر عوام خصوصی طور پر نسل نو کو اسلامی تعلیم وتربیت دینے کی بجائے فنکاروں اور اداکاروں کے حوالے کر کے ماہ مقدس اور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خاص طور پر نسل نو کے ساتھ سنگین مذاق کیا جارہا ہے۔ محب وطن اور دین سے محبت کرنے والے لوگوں کے زبردست احتجاج پر متنازعہ پروگرام پر پابندی ایک خوش آئند قدم ہے۔ ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت مذکور متنازعہ پروگرامات کے خلاف آواز بلند کرنے سے لے کر امت کی ترجمانی تک، روزنامہ ”امت“ کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے امت کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیمرا آئندہ بھی اس طرح کی نشریات کا نوٹس لے کر اپنی بیداری و ذمہ داری کا ثبوت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ شبیر ابو طالب کے پروگرام پر اس بنیاد پر کارروائی کرنا کہ انہوں نے عوامی جذبات کے حق میں پروگرام میں کہا تھا اور اس پروگرام میں قانون تحفظ ناموس رسالت کے حق میں بات کی تھی، سراسر نا انصافی ہے۔
جمعیۃ علمائے پاکستان کے جنرل سیکرٹری شاہ اویس نورانی نے کہا کہ پیمرا کا فیصلہ نا انصافی پر مبنی ہے۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ قانون تحفظ ناموس رسالت پر ہم اپنا سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ پیمرا نے عوامی شکایات پر حمزہ علی عباسی کے خلاف کارروائی کی ہے جب کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ نہ صرف حمزہ علی عباسی کے پروگرام پر پابندی عائد کی جائے بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے۔ لیکن پیمرا نے ان کے ساتھ ساتھ شبیر ابو طالب کے پروگرام پر پابندی عائد کر دی اور علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے قانون تحفظ ناموس رسالت کے حق میں بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کے حق میں بات کرنے والے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پیمرا کسی ٹی وی چینل کی نشریات چاہے بند کرے یا کھولے عوام قانون تحفظ ناموس رسالت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کے اس یکطرفہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حمزہ علی عباسی کے پروگرام کے خلاف عوام نے ہر سطح پر احتجاج کیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف عوامی جذبات مجروح کئے تھے بلکہ ایک طے شدہ آئینی مسئلے پر بات کر کے غیروں کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہٰذا پیمرا کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
جماعۃ الدعوۃ کراچی کے امیر ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا ہے ٹی وی چینلز کے بیہودہ ٹرانسمیشن سے رمضان کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ ماہ رمضان عبادات کا مہینہ ہے۔ لیکن ٹی وی چینلز اسے کمرشلائز بنا کر لوگوں کے ایمان و عقائد سے کھیل رہے ہیں۔ سحر و افطار میں عبادات کی ترغیب کے بجائے قوم کو اداکاروں کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمزہ علی عباسی کی جانب سے ختم نبوت پر سوالات اٹھانا کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ پیمرا کی جانب سے انہیں نوٹس بھیجنا لائق تحسین اقدام ہے۔
تاہم پیمرا تمام چینلز کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکے۔ نیوز ون کے پروگرام میں عقیدہ ختم نبوت کے حق میں بات کرنے پر بھی نوٹس جاری کئے گئے ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔ مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ پیمرا رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بیہودہ اور آئین و شریعت سے متصادم پروگرامات کا راستہ روکے۔ علماء کرام بھی ایسے پروگرامات میں شرکت نہ کریں، جہاں رمضان میں بیہودگی کو رواج دیا جا رہا ہو۔ ٹی وی چینلز مالکان ماہ رمضان کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اصلاح پر مبنی پروگرامات کو رواج دیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ روکا تو عوام ان چینلز کو دیکھنا ترک کر دیں۔
(چنانچہ آج ٹی وی سے قادیانیوں کی حمایت کرنے والے حمزہ علی عباسی کو علیحدہ کر دیا گیا۔ جب کہ شبیر ابو طالب ہاشمی اور علامہ کوکب نورانی کو بحال کر دیا گیا۔ الحمد للہ ! یوں حق غالب اور باطل مغلوب ہوا)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمد للہ!
جماعتی حضرات اور عقیدۂ ختم نبوت کے رفقاء کے لئے یہ بات خوشی کا باعث ہوگی کہ امسال آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مؤرخہ ۲۷، ۲۸/اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات جمعہ کو منعقد ہوگی۔
- ۱...... "چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ" ۳ جلدوں پر مشتمل سیٹ
- ۲...... ماہنامہ "لولاک" کی خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد پر اشاعت خاص (جو عرصہ سے نایاب تھی)
- ۳...... "قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ کا تیسرا جدید ایڈیشن"
- ۴...... "تذکرۂ حکیم العصر (مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی سوانح)" پر مشتمل نئی کتاب
یہ چاروں کتابیں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر جماعتی رفقاء کو سستے داموں مجلس مہیا کرے گی۔ اس کے علاوہ "محاسبہ قادیانیت" کی چار جلدیں بھی مہیا ہوں گی۔
جماعتی رفقاء ابھی سے ان کتب کی خریداری کا عزم کر کے اپنی لائبریریوں کو مکمل فرمائیں۔ ان میں نمبر ۱ اور نمبر ۴ بالکل پہلی دفعہ چھپ کر آ رہی ہیں۔ جب کہ ۲، ۳ نایاب تھیں ان کے جدید ایڈیشن شائع کئے جارہے ہیں۔
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان (پاکستان)
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۳۷ تا ۵۳)
قادیانی مذہب کی الجزائر میں کوئی جگہ نہیں
کفریہ مذہب مرزائیت کا پرچار کرنے والا قادیانی مرکز مسمار کر دیا گیا۔ افریقہ کے ملک الجزائر کی حکومت نے ۱۰۰ سے زیادہ قادیانیوں کو گرفتار کر لیا جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو اپنے کفریہ لٹریچر کے ذریعہ گمراہ کر رہے تھے۔ قادیانی مرکز المعروف مرزائے کو حکومتی سرپرستی میں مسمار کر دیا جہاں خود کو احمدی مسلمان کہلوانے والے مرزائی کافر اپنی مذہبی رسومات ادا کیا کرتے تھے۔ الجزائر کے وزیر اوقاف و مذہبی امور شیخ محمد عیسیٰ نے اعلان کیا کہ الجزائر میں قادیانیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آئندہ کے لئے کسی احمدی / قادیانی گروہ کو پرچار کی اجازت نہیں ہوگی۔ جامعہ الازہر کی طرف سے قادیانی / احمدی گروہ کے بارے میں کفر کا فتویٰ جاری ہوچکا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کیس کا فیصلہ آ گیا
ماڈل حمزہ عباسی کی ختم نبوت کے بارے میں ہرزہ سرائی کیس، ڈی سی او لاہور نے ڈی آئی جی آپریشن کو کارروائی کا حکم دے دیا۔ معروف ماڈل اداکار حمزہ علی عباسی کی نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے قوانین کے خلاف ہرزہ سرائی اور قادیانیوں کی کھلم کھلا حمایت کے خلاف ایک طلباء تنظیم کے صدر، شریک چیئرمین ہیومن رائٹس کمیٹی لاہور ہائیکورٹ بار میاں اشرف عاصمی، پاکستان فلاح پارٹی پنجاب کے صدر پیر زادہ بدر ظہور چشتی کی مدعیت میں اداکار ماڈل حمزہ علی عباسی کے خلاف کارروائی کے لئے لاہور سیشن کورٹ میں رٹ دائر کی ہوئی تھی۔ جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیشن کورٹ لاہور نے حمزہ علی عباسی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵-سی، ۲۹۶، ۲۹۷، ۲۹۸،۲۹۷-سی، ۲۹۵-اے کے تحت کارروائی کا حکم دیا تھا۔ جب کہ عدالتی حکم کی تکمیل کے لئے ڈی سی او لاہور نے ڈی آئی جی آپریشن لاہور کو حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ علی عباسی کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۳۰)
بدین میں قادیانی دہشت گرد گروہ کے ۲۴ کارندے گرفتار
ڈیٹونیٹر ٹیسٹ کے دوران پھٹنے سے تخریب کاری کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ زخمی دہشت گرد کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ذرائع! عیدالفطر کے موقع پر ضلع بدین میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ گھر میں پڑے بم کے پھٹنے سے ناکام ہو گیا۔ جس کے بعد قادیانی دہشت گرد گروہ کے ۲۴ کارندے گرفتار کر لئے گئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدین کے علاقے قائد آباد کالونی میں قادیانی دہشت گرد عمران گرگیز نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کافی عرصے سے گھر کرائے پر لے رکھا تھا۔ دو روز قبل عمران دہشت گردی میں استعمال ہونے والے ڈیٹونیٹر کو اپنے گھر کی چھت پر ٹیسٹ کر رہا تھا کہ وہ پھٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں وہ خود بھی زخمی ہو گیا اور اسی حالت میں اسے بدین پولیس نے حراست میں لے لیا۔ عمران کے گھر سے بدین پولیس نے مزید ڈیٹونیٹر اور دو ہیوی ریموٹ کنٹرول ڈیوائس بھی برآمد کی ہیں جس پر اس کے خلاف دہشت گردی اور بارودی مواد کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور قادیانی دہشت گرد کی نشاندہی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس نے گروہ کے مزید ۲۳ کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قادیانی دہشت گرد گروہ نے عید پر ضلع بدین میں دہشت گردی کی بڑی واردات کا منصوبہ تیار رکھا تھا اور اسی مقصد کے لئے نئے لڑکوں کو اس کام کے لئے منتخب کیا گیا تھا، جن کی غلطی سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اب تک ۲ درجن سے زائد گرفتاریاں کی ہیں، جن سے تحقیقات جاری ہیں اور امید ہے کہ بدین میں مختلف مقامات پر چھپایا جانے والا مزید بارودی مواد بھی برآمد اور مزید دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ ایس ایس پی بدین عبدالقیوم پتافی کے مطابق دہشت گرد ٹولہ کسی مذہبی اجتماع کو نشانہ بنانے والے تھے۔ ان سے برآمد ہونے والا بم پری میچور تھا اور ریموٹ کنٹرول سے با آسانی ۶۰۰ سے ۱۰۰۰ میٹر کے فاصلے سے دھماکہ کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع بدین کے پرامن شہر سے بم برآمد ہونا نہایت ہی خطرناک ہے اور اس حوالے سے پورے ضلع کی پولیس فورس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بدین پولیس نے دہشت گردوں کی تلاش کے لئے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ دریں اثناء مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے دہشت گردی کے واقعے اور قادیانی گروہ کی گرفتاری کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کی برکت سے ضلع بدین دہشت گردی کے بڑے واقعہ سے بچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی گروہ اوّل روز سے ملک میں دہشت گردی کرتا آ رہا ہے۔ مگر ہماری بات پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی دہشت گردوں کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے اور اس ٹولے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
(روزنامہ امت حیدر آباد، ۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء، ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۷)
قادیانی انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک بے نقاب
پاکستان کو بدنام کرنے والے قادیانی اسمگلروں کا نیٹ ورک توڑنے میں ایف آئی اے نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ عرصہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دراز سے قادیانیوں کو دبئی سے ترکی اور پھر یورپ لے جا کر سیاسی پناہ دلوائی جاتی تھی۔ پناہ کی درخواست کرنے والے قادیانی پاکستان میں غیر مسلموں پر ظلم و زیادتی کے جھوٹے الزامات لگاتے تھے۔ انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی نے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر چند روز میں مقدمات درج کر کے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ملک مرتضیٰ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث قادیانیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ماتحت افسران کو تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کے احکامات بھی دے دیئے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ چناب نگر اور دیگر شہروں میں موجود قادیانی ایجنٹوں نے ملک بھر کے قادیانیوں کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر مغربی یورپی ممالک میں شہریت دلانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرنے کا سلسلہ برسوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے بیرون ملک پاکستان کی بہت زیادہ بدنامی ہو رہی تھی اور مذکورہ نیٹ ورک چلانے والے ایجنٹ پاکستان سے درست سفری دستاویزات کی وجہ سے پکڑے نہیں جاتے تھے۔ تاہم اس نیٹ ورک کو ختم کرنے میں ترکی امیگریشن نے اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ذریعے پانچ قادیانی مسافروں عامر شہزاد، طاہر لقمان، بشیر احمد خان، صادق احمد اور ظافر حسین نے الگ الگ تاریخوں میں وزٹ ویزہ حاصل کر کے دبئی کے لئے اڑان بھری۔ کراچی سے جاتے وقت ان تمام افراد کے سفری دستاویزات درست تھے۔ جس کی وجہ سے امیگریشن حکام نے مذکورہ افراد کو کلیئرنس جاری کر دی۔ تمام افراد دبئی پہنچے اور وہاں ان کی ملاقات فیاض نامی شخص سے ہوئی جس سے انہیں دبئی سے ترکی روانگی کی تیاری کی ہدایت ملی اور اس نے مذکورہ افراد کو بذریعہ بس ابوظہبی پہنچانے کا انتظام کیا۔ جہاں سے ٹرانزٹ سفر شروع ہونا تھا۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ ان تمام افراد کو معلوم تھا کہ انہیں روس لے جانے سے قبل استنبول ایئر پورٹ پر امیگریشن کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ استنبول ایئر پورٹ پر امیگریشن حکام کی جانب سے روکنے یا پھنسنے کی صورت میں مذکورہ افراد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ روس کے بجائے وہیں پناہ کی درخواست کریں۔ استنبول ایئر پورٹ پر موجود امیگریشن حکام نے پانچ افراد کے پاسپورٹ پر موجود روسی ویزہ پہچاننے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا اور ان کی طرف سے کی جانے والی پناہ کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اگلے روز پاکستان بھیج دیا۔ جہاں ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں حراست میں لے کر ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی بھجوا دیا۔ جہاں ان سے تحقیقات کا آغاز ہوا۔ انویسٹی گیشن میں انکشاف ہوا کہ قادیانی ایجنٹوں نے ان سے بھاری رقوم لینے کے بعد انہیں روٹ اور پناہ حاصل کرنے کا طریقہ کار واضح کیا تھا۔ مذکورہ افراد نے بتایا کہ انہیں جرمنی میں موجود سرغنہ عمران تک پہنچانے کی ذمہ داری سب ایجنٹ فیاض کی تھی جو دبئی میں ملا تھا اور پھر ترکی سے روس روانہ ہونا تھا۔ تاہم اس سے قبل ہی ویزہ جعلی ہونے پر گرفتار ہوگئے۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ قادیانی انسانی اسمگلر دبئی یا ابوظہبی سے جعلی ویزہ حاصل کرنے کے بعد قادیانیوں کو ان جعلی ویزوں کے ذریعے بلغاریہ، ہنگری، بیلاروس، مالڈووا، پولینڈ، رومانیہ، روس اور یوکرائن پہنچاتے ہیں۔ جہاں سے عمران ان کے سفری دستاویزات لینے کے بعد انہیں جلا دیتا ہے اور پھر ان کے لئے مغربی یورپی ریاستوں فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، اٹلی، نیدرلینڈ، بلجیم اور ناروے میں پناہ کے لئے درخواستیں ڈالی جاتی ہیں۔ جن میں پاکستان میں ان پر ظلم و ستم کی جھوٹی داستانیں درج ہوتی ہیں اور ملکی بدنامی کے بعد اس طریقہ کار کو سرانجام دینے والوں کو مذکورہ ممالک میں پناہ مل جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ساتوں ملزمان تنویر، نادیہ، عامر شہزاد، طاہر لقمان، بشیر احمد خان، صادق احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور ظافر حسین نے دوران تحقیقات چار ایجنٹوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں جن کے ذریعے معلوم ہوا کہ قادیانی ایجنٹ زعیم احمد بھٹہ چناب نگر کا رہائشی ہے اور اس نے انسانی اسمگلنگ کی غرض سے موبائل نمبر 6710899-0333 لے رکھا تھا اور وہ اسی نمبر سے ساری ڈیلنگ کرتا تھا۔ لاہور کے رہائشی قادیانی ایجنٹ ملک بشارت موبائل نمبر 8176590-0334 کے ذریعے ڈیل میں مصروف رہا۔ گجرات کا رہائشی قادیانی ایجنٹ عبدالعزیز بٹ ولد عبدالمجید بٹ حامل شناختی کارڈ نمبر 7-8461055-34201 محلہ چک سہارا گجرات کا رہائشی ہے اور موبائل نمبر 1140754-0335 کے ذریعے قادیانیوں کو جرمنی میں شہریت دلانے کے لئے گھیرتا ہے۔ اسی طرح کھاریاں ضلع گجرات کا رہائشی قادیانی ایجنٹ محمد طارق ولد محمد شفیع موبائل نمبر 2394105-0332 کے ذریعے قادیانیوں کو مغربی یورپی ممالک میں شہریت دلانے کے نام پر لوٹتا ہے۔ ایف۔آئی۔اے ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل ملک مرتضیٰ نے مذکورہ ایجنٹوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ جب کہ ایف۔آئی۔اے کے اپنے سافٹ ویئر میں بھی مذکورہ نام چڑھا دیئے گئے ہیں جو ان کی پاکستان سے نکلنے کی کوشش یا پاکستان پہنچنے کی صورت میں گرفتاری میں مدد دے گی۔
(روزنامہ امت کراچی، یکم؍ اگست، ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۴۵، ۴۶)
ختم نبوت چوک میانوالی روڈ تلہ گنگ
ترحدہ چوک جو کہ کراچی اسلام آباد شاہراہ پر واقع ہے اور مرکز بھی ہے۔ اس کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ یونٹ اور لاوہ یونٹ کے تمام عہدیدار، علمائے کرام اور عوام و خواص نے شرکت کی۔ مولانا عبید الرحمن انور، امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تلہ گنگ نے ختم نبوت چوک کا بورڈ لگا کر دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۵۵)
پیمرا کا خلاف آئین و قانون نوٹس کیوں؟
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا، اس مناسبت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ملک اور بیرون ملک عشرۂ ختم نبوت پورے عقیدت و احترام اور بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ اس مناسبت سے ملک بھر میں جہاں علماء کرام نے بڑے بڑے جلسوں اور کانفرنسوں اور خطباء عظام نے منبر و محراب سے مسلمان عوام کو عقیدۂ ختم نبوت سے روشناس کرایا، وہاں ۱۹۷۴ء میں برپا کی گئی تحریک ختم نبوت کے پس منظر اور پیش منظر سے بھی آگاہ کیا۔
الحمدللہ! پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے بھی اپنے اپنے طور پر ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء قومی اسمبلی کے اس فیصلے کی مناسبت سے خبروں اور خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کیا، روزنامہ جنگ اور روزنامہ اسلام نے بھی خصوصی صفحات شائع کئے جب کہ روزنامہ امت تو ردّ قادیانیت میں جس طرح جہاد کر رہا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی برکات دنیا میں بھی ان کو ملیں گی اور آخرت میں بھی ان شاء اللہ! ان کا اجر یقینی ہے۔ روزنامہ جنگ، روزنامہ اسلام اور ادارہ روزنامہ امت، اس کے ڈائریکٹر، ذمہ داران اور صاحب مضمون سب اس انعام میں برابر کے شریک ہیں۔
دو ٹی وی چینل ’’نیو‘‘ اور ’’۹۲‘‘ نے بھی اپنے اپنے طور پر ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے اس فیصلے پر ڈاکومنٹری اور پروگرام کئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آئین پاکستان اور اس کی دفعات کی وضاحت خصوصاً قومی اسمبلی کی وہ کارروائی جس میں قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا، نئی نسل کو اس سے آگاہ اور روشناس کرانے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی، جس سے دوسرے ٹی وی چینلز کو بھی ترغیب ملتی، لیکن الٹا ہوا یہ کہ پیمرا نے قادیانیوں کی شکایت پر ان ٹی وی چینلز کو خلاف آئین و قانون نوٹس بھیج دیا۔ ہر پاکستانی بجا طور پر پیمرا سے یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ کیا آئین اور قانون کی دفعات کو اپنی عوام کو بتلانا اور پاکستان میں اقلیت کی فہرست میں کون لوگ آتے ہیں، اس کی وضاحت کرنا کیا منع ہے؟ اس سے کس طرح کسی کی دل آزاری ہوتی ہے؟ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس بارہ میں روزنامہ امت کی درج ذیل خبر بھی برمحل ہے جو قارئین ختم نبوت کے لئے نقل کی جارہی ہے:
”اسلام آباد (رپورٹ : وجیہہ احمد صدیقی) پاکستان مخالف مواد اور فحش بھارتی پروگراموں پر خاموش پیمرا قادیانیوں کا وکیل بن گیا ہے۔ ختم نبوت سے انکار کرنے والے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے سے متعلق قانون اور قومی اسمبلی کے فیصلے سے متعلق بات چیت پر مبنی پروگراموں پر دو ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت مانگ لی۔ قانونی ماہرین کے مطابق پیمرا کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 260(3) کی ذیلی شقوں A اور B کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پیمرا کو یہ حق اور اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آئین میں جن کو غیر مسلم کہا گیا ہے، ان کو ٹیلی ویژن پر، غیر مسلم کہنے سے روک دے۔ پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اسے بڑی تعداد میں ناظرین اور صدر انجمن احمدیہ کی جانب سے یہ شکایت ملی ہیں کہ چینل 92 کے پروگرام صبح نو اور نیو ٹی وی کے پروگرام حرف راز میں اقلیتوں کے خلاف باتیں کی گئی ہیں۔ اپنی روایات کے برعکس پیمرا نے ان پروگراموں کی تاریخ نشر اور ان کے شرکاء کے بارے میں نہیں بتایا، بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے بیان کو دہراتے ہوئے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کے مطابق ان پروگراموں میں اقلیتوں کے خلاف بات کی گئی ہے، اقلیت کے ارکان پہلے ہی ماضی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں سے خوفزدہ اور انہیں بھگتتے ہوئے ہیں۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ ایسے پروگرام قومی مفاد میں نہیں ہیں اور نیشنل ایکشن پروگرام اور پیمرا کے قواعد کے خلاف ہیں۔ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ پیمرا نے یہ شکایات اپنی لاہور کونسل کو بھیج دی ہے جو پیمرا قوانین کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ واضح رہے کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے ختم نبوت سے انکار کرنے والے قادیانیوں، مرزائیوں اور اپنے آپ کو احمدی اور لاہوری گروپ کہنے والوں کو پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا، جس پر مذکورہ پروگراموں میں بات چیت ہوئی تھی۔ معروف ایڈووکیٹ حشمت حبیب نے ”امت“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کا یہ نوٹس آئین کے آرٹیکل 260(3) کی ذیلی شقوں A اور B کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پیمرا کو یہ حق اور اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آئین میں جن کو غیر مسلم کہا گیا ہے، ان کو ٹیلی ویژن پر غیر مسلم کہنے سے روک دے۔ پیمرا آئین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا اور نہ ہی آئین سے متصادم کوئی قاعدہ بنا سکتا ہے۔ حشمت حبیب ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے نوٹسز جاری کرنے کے بعد چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی پاکستان اور آئین سے وفاداری مشکوک ہوگئی ہے۔ انہوں نے ٹی وی چینلز کو پاکستان مخالف اور فحش بھارتی پروگرام نشر کرنے کی کھلی آزادی دے رکھی ہے، لہٰذا ان کو فوری طور پر برطرف کر کے ان پر مقدمہ چلایا جائے، کیونکہ انہوں نے اردو ون پر ایکٹر ایلینا کی فلم میں پاکستانی پرچم کے بارے میں ایک اداکارہ کے فحش اور توہین آمیز ڈائیلاگ نشر ہونے کا بھی نوٹس نہیں لیا ہے وہ ابھی تک نشر ہو رہا ہے۔“
(روزنامہ امت کراچی، ۱۸؍ستمبر ۲۰۱۶ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین اور راہنماؤں نے پیمرا کے اس خلاف آئین وقانون نوٹس پر احتجاج بھی کیا ہے اور پیمرا کو ایک خط تحریر کیا ہے جو درج ذیل ہے:
”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیمرا کی طرف سے ۷؍ستمبر یوم ختم نبوت کے موقع پر دو ٹی وی چینلز (92 چینل، نیو ٹی وی) کو اپنی نشریات میں عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے حوالے سے پروگرام نشر کرنے پر نوٹس جاری کرنے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے اسلامیانِ پاکستان کے کروڑوں مسلم عوام کے عقیدے و جذبات کی توہین کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مترادف قرار دیتے ہیں۔ اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کہنا ہے کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پارلیمنٹ نے ایک جرأت مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے قادیانی، لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے، اس فیصلے کی یاد میں یوم تجدید عہد کے طور پر ملک بھر میں تمام اسلامیان پاکستان کی طرف سے یوم ختم نبوت منایا جاتا ہے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ دو ٹی وی چینلز (۹۲ چینل، نیو ٹی وی) نے ۷؍ستمبر کو آقائے نامدار خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت و ختم نبوت پر پروگرام نشر کئے اور قادیانی جماعت جو اسلام اور ملک دشمنی کی پوری تاریخ رکھتی ہے، کی شکایت پر پیمرا نے مذکورہ ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کر دیئے جو پارلیمنٹ، آئین اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں سے انحراف ہے۔ پیمرا کے اس عمل سے عاشقان رسول ﷺ اور اسلامیان پاکستان کے دل مجروح ہوئے ہیں۔ اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مزید یہ کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام اور وحدت ملی کی اساس ہے۔ یہ عقیدہ قرآن، حدیث اور اجماع امت کی عکاسی کرتا ہے جب کہ قادیانی پارلیمنٹ کے فیصلے سے پہلے بھی غیر مسلم ہی تھے، پارلیمنٹ نے تو صرف مسلمانوں کے عقیدے کی حفاظت کرتے ہوئے آئینی اور قانونی فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے قادیانیوں کا کفر پوری دنیا پر آشکارا ہو گیا اور کئی مسلم ممالک میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے فیصلے کو بنیاد بنا کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کہنا ہے کہ قادیانی اپنے کفر کو اسلام کا نام دے کر اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں، لہٰذا ۷؍ستمبر کو دو ٹی وی چینلز پر پروگرام نشر ہونا نہ صرف مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کی ترجمانی ہے، بلکہ امت مسلمہ کی قیادت کرتے ہوئے قومی اسمبلی پاکستان نے جو لازوال آئینی ترمیم کی اس کی اشاعت کی ہے۔ قادیانی جماعت کی شکایت پر پیمرا کی کارروائی عقیدۂ ختم نبوت سے مذاق کے مترادف ہے اور آئین پاکستان کی توہین بھی ہے۔ چیئرمین پیمرا مذکورہ نوٹس واپس لیں اور ساری قوم سے اس دل آزاری پر معذرت کریں۔‘‘
بہر حال ہم حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے باز پرس کریں اور اس قانون شکنی کے ارتکاب پر ان سے مواخذہ کریں اور اگر کوئی قادیانی یا قادیانی نواز ان اداروں میں گھسے ہوئے ہیں یا ان اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں، ان کو ان اداروں سے نکال باہر کریں اور ان کے اثرات بد سے ان اداروں کو پاک کریں، ورنہ عشق مصطفیٰ اور ناموس مصطفیٰ کے نام پر اٹھنے والی تحریکات اس پر گواہ ہیں کہ عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے غیض و غضب کا ایسا طوفانی سیلاب آئے گا کہ اس کے سامنے کسی کا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے پاکستان کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں ہمارا دشمن بھارت ہمیں جنگی دھمکیاں دے رہا ہے اور ہمارے اندر چھپے ہوئے ہمارے ازلی دشمن قادیانی ہمیشہ ہر پلیٹ فارم پر ہمارے پیارے ملک پاکستان کو بدنام کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں اپنے مسلمان بھائیوں کی دل آزاری کرنا اور حضور اکرم ﷺ کے منصب ختم نبوت کی ترجمانی کرنے والے چینلز کو نوٹس بھجوانا کسی بھی اعتبار سے قرین قیاس نہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری جفاکش، بہادر اور جرأت مند افواج کی محنتوں، مساعی اور قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور حقیقی معنوں میں ہمارے ملک کو اسلام کا قلعہ بنائے ۔ آمین ۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۵، ۶)
منظور کالونی میں ختم نبوت چوک کا افتتاح
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے ختم نبوت جماعت کے تمام مقامی عہدیداران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اپنے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حلقہ جات میں مقامی اثر ورسوخ استعمال کر کے مختلف علاقوں میں ختم نبوت چوک قائم کرنے کی تحریک چلائی جائے۔ جس کا مقصد اپنے پیغام کو زبان زد عام کرنا ہے، اس سے عقیدہ کی حفاظت مقصود ہے۔
ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نبوت ورسالت کا تاج کسی اور کے سر پر نہیں رکھا جائے گا۔ ”ختم نبوت چوک“ ہمیں اس عقیدہ کی یاد دلاتا رہے گا تا کہ ہمارے ذہنوں پر نقش ہو جائے۔ حال ہی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ منظور کالونی کراچی کی طرف سے ایک فقید المثال تقریب منعقد کی گئی، جس میں ”ختم نبوت چوک“ کا افتتاح کیا گیا، جس کے لئے شب و روز محنت اور بھاگ دوڑ کی گئی، بحمد اللہ ! رفقاء کرام کی محنت ۴؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بوقت ۳ بجے رنگ لائی جب علاقہ بھر کے غیور مسلمان، علماء کرام، سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی موجودگی میں تحفظ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کے عنوان پر تقاریر ہوئیں۔
پروگرام کا آغاز حافظ محمد عمران کی تلاوت سے ہوا، نقابت کے فرائض مولانا عبدالحئی مطمئن نے ادا کئے۔ مولانا محمد رضوان، مولانا قاری اللہ داد، مولانا قاضی احسان احمد اور جناب علی رضا عابدی ایم ۔ این ۔ اے، کمشنر ایسٹ جناب آصف جان صدیقی اور جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر جناب قاری محمد عثمان نے خطاب کیا۔
تقریب نقاب کشائی میں تمام مہمانان گرامی نے حصہ لیا اور نعرہ ہائے تکبیر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کی صدا سے علاقہ گونج اٹھا اور دعاء پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ ختم نبوت چوک کی تیاری کے لئے مقامی انتظامیہ علاقہ کے چیئر مین محترم جناب ملک شاہ نواز اعوان اور مولانا محمد فیصل جامع مسجد خلفائے راشدین نے دن رات انتھک محنت کی۔ اللہ تعالیٰ تمام رفقاء کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۷)
بین المسالک صوبائی امن کانفرنس اور قادیانی مسئلہ
۲۹؍ستمبر ۲۰۱۶ء کو لاہور رائل پام کنٹری ہوٹل میں ورلڈ کونسل آف ریلیجنز (عالمی مجلس ادیان) کے تحت ایک بین المسالک صوبائی امن کانفرنس منعقد ہوئی۔ ورلڈ کونسل ایک غیر ملکی این۔جی۔او ہے۔ جسے مبینہ طور پر ناروے سے سپانسر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب نعمان صاحب اس کانفرنس کے منتظم اعلیٰ اور داعی تھے۔ اس میں نہ صرف تمام مسالک کے نمائندگان شامل تھے بلکہ دیگر ادیان کے رہنما یان اور ہمارے مدارس کی تنظیمات کی نمائندگی کا بھی کنونشن کو اعزاز حاصل ہے۔ مسلم و غیر مسلم ایک اسٹیج پر جمع تھے۔
گزشتہ کچھ مہینوں سے تسلسل کے ساتھ رحمت عالم ﷺ کے ذاتی امتیاز اور اعزاز خاص ”ختم نبوت“ کے مسئلہ پر وار کئے جارہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت کی حمایت میں برابر یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ پہلے ایک ٹی وی چینل سے مبشر لقمان صاحب قادیانیوں کی حمایت میں سرگرم رہے۔ پھر رمضان المبارک میں حمزہ عباسی نے قادیانی گروہ کی حمایت کا علم بلند کیا۔ ابھی ۷ ستمبر کے پروگراموں کے سلسلہ میں پیمرا نے نوٹس جاری کئے جس میں اس پر برہمی کا اظہار کیا گیا تھا کہ ٹی وی پروگراموں میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی آئینی جدوجہد میں پارلیمنٹ کے فیصلہ کو کیوں اجاگر کیا گیا؟ کار پردازان پیمرا کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ بھی فرقہ واریت ہے۔ اس جہالت مآبی پر کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے کرم فرمایا کہ متذکرہ تمام مرحلوں میں امت مسلمہ نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا اور قادیانیوں کی خلاف عقل ونقل حمایت کرنے والوں کو معذرت اور معافی کی ندامت سے نہال ہونا پڑا۔
قادیانی حمایت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے رائل پام کی ورلڈ کونسل ریلیجنز کی کانفرنس میں بھی ایک مندوب نے قادیانیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی حمایت میں وارفتہ ہو کر ”کلمہ خیر“ بلند کیا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت دینا چاہئے۔ موصوف کا مندرجہ بالا ارشاد اگر تنظیم کارخیر کا ہے تو پھر تنظیم شر کے چیئرمین کا کیا ارشاد گرامی ہوگا؟ اس سے اسلامیان وطن کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ملک عزیز کے ان نام نہاد دانشوروں کی سوچ کے دھاروں نے کیا رخ اختیار کر رکھے ہیں۔ اس کانفرنس میں جناب مولانا زبیر عابد اور اہل حدیث رہنما مولانا زبیر احمد ظہیر نے اپنا احتجاج نوٹ کرایا اور کلمہ حق کہا۔ لیکن پوری کانفرنس میں باقی تمام شرکاء اور رہنما خاموش رہے۔ اسٹیج سیکرٹری صاحب نے قادیانیوں کی حمایت اور ختم نبوت کی حمایت کو اپنی اس مجلس کا حسن قرار دیا۔ گویا دونوں کو یکساں قرار دیکر اپنی ڈیوٹی کو کما حقہ ادا کر کے کارخیر کے مستحق قرار پائے۔ اسٹیج و انتظامیہ کی جانب سے اس پر ایک لفظ نہیں کہا گیا کہ مقرر نے قادیانیوں کی ناروا خلاف اسلام و خلاف قانون حمایت کر کے غلط کیا ہے۔ ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی پر زبان کو بند کر لینا کئی خدشات کا طوفان لئے ہوئے ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مقام تدفین علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں جو وسیع وعریض جگہ مردوں کی تدفین کے لئے مختص ہوتی ہے۔ اس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے علیحدہ علیحدہ حد براری کر کے اختصاص و امتیاز کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہر جگہ ہے۔ خود پاکستان کے محکمہ مال کے کاغذات میں مسلمانوں کے مقام تدفین کو قبرستان لکھا جاتا ہے اور غیر مسلموں کے مقام تدفین کو مرگھٹ کہتے ہیں، تو مسلمانوں کے قبرستان علیحدہ اور غیر مسلموں کے علیحدہ ہیں۔ ان تمام تر اصول وضوابط اور طریقہ کار کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی گنجائش پیدا کرنے کے لئے لب کشائی یا خود قادیانیوں کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کے لئے اصرار کرنا خود کو مسلمان ثابت کرنے کے تاثر کو قائم کرنا ہے جو آئین پاکستان کے یکسر منافی ہے۔ ذیل میں چاروں مذاہب کی فقہ کی کتابوں کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے جس میں صراحت ہے کہ غیر مسلم مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے ۔
اس کے لئے شرح المقاصد ج ۲ ص ۴۴۸ اور فقہ حنفی کے معروف رہنما ابن نجیم مصری کی ”الاشباہ والنظائر“ ج ۱ ص ۱۵۲، مولانا عبدالحی لکھنوی کی اواخر کتاب الجنائز میں لم يدفن فی مقابر المسلمين کی صراحت ہے کہ غیر مسلم مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ کتاب الجنائز، کتاب السیر، باب المرتدین میں بھی علامہ شامی نے یہی صراحت فرمائی ہے۔
فقہ مالکی کے نامور رہنما قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المالکی نے احکام القرآن ج ۲ ص ۸۰۲ مطبوعہ بیروت میں متأولین کے کفر پر بحث کرتے ہوئے یہی صراحت کی ہے۔
فقہ شافعی کے علامہ نووی نے بھی شرح مہذب ج ۵ ص ۲۸۵ میں لکھا ہے۔ لا يدفن الكافر في مقابر المسلمين ولا مسلم في مقبرة الكفار .
فقہ حنبلی کے نامور رہنما، علامہ ابن قدامہ المقدسی الحنبلی نے المغنی شرح کبیر ج ۲ ص ۴۲۳ میں بھی یہی صراحت فرمائی ہے۔
مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت کا متفق علیہ اور مسلم مسئلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفن کیا جا سکتا۔ شریعت اسلامی کا یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے کہ:
”حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سرو پا حکایتیں لکھی گئی ہیں۔ وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرّہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعویٰ پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اسی زمانے کی کسی تحریر کے ذریعے سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی جھوٹے دعویٰ نبوت پر مرے اور ان کا کسی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے ۔‘‘
(تحفۃ الندوة ص ۳، خزائن ج ۱۹ص۹۵)
اسی رسالے میں آگے چل کر لکھا ہے : ’’پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرض محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آئے ۔ جس کو قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعویٰ ہے ) خدا کی ایسی وحی کہتا ہوں، جس کی صفت میں لا ریب فیہ ہے، جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیر توبہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا ۔‘‘
(تحفۃ الندوة ص ۷، خزائن ج ۱۹ص۹۹)
مرزا غلام قادیانی کی ان دونوں عبارتوں سے تین باتیں واضح ہوئیں :
- اوّل ...... یہ کہ جھوٹا مدعی نبوت کافر و مرتد ہے۔ اسی طرح اس کے ماننے والے بھی کافر و مرتد ہیں۔ وہ کسی اسلامی سلوک کے مستحق نہیں۔
- دوم ...... یہ کہ کافر و مرتد کی نماز جنازہ نہیں اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔
- سوم ...... یہ کہ مرزا غلام قادیانی کا نبوت کا دعویٰ ہے اور وہ اپنی شیطانی وحی کو ... نعوذ باللہ ... قرآن کریم کی طرح سمجھتا ہے۔
پس اگر مرزا قادیانی کے نزدیک بھی گزشتہ دور کے جھوٹے مدعیان نبوت اس کے مستحق ہیں کہ ان کو اسلامی برادری میں شامل نہ سمجھا جائے ۔ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے ۔ تو مرزا غلام احمد قادیانی ۔ جس کا جھوٹا دعویٰ نبوت اظہر من الشمس ہے اور اس کی ذریت کا بھی یہی حکم ہے کہ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے ۔
اس شرعی مسئلہ کے ہوتے ہوئے قادیانیوں کی حمایت کے لئے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور پھر تسلسل کے ساتھ اس کے دورے پڑنا یہ بلاوجہ نہیں۔ باعث خوشی ہے کہ اس صاحب نے معذرت کر لی ۔ وہ صرف کہنے کہلانے پر نہیں بلکہ اللہ رب العزت کے حضور بھی ندامت کا اظہار کریں کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے باغی طبقہ کی حمایت حمیتِ اسلام اور غیرتِ دینی کے منافی ہے ۔ مغربی این جی اوز کی چمک دمک کے لئے ہوٹلوں میں لاکھوں کے خرچہ سے یہ تقریبات اور ان میں قادیانیوں کی حمایت بلاوجہ نہیں ۔ پردہ زنگاری میں کون کون گھات لگائے بیٹھے ہیں؟ کاش اس تقریب کے حضرات کی پیشانی پر بھی چند قطرے ندامت و تاسف کے نمودار ہو جاتے تو انسب تھا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۷ء ص۲۴،۲۵)
تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کرنے کا فیصلہ قبول نہ کرنے کا اعلان
لاہور (پ ر) چناب نگر کے تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کرنے کا فیصلہ قبول نہیں ، اگر اس طرح کی کسی قسم کی کوئی کوشش کی گئی تو تمام مسلمان حکومت کے اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ، پیر میاں رضوان نفیس ، قاری نذیر احمد ، مولانا عبدالشکور حقانی ، قاری علیم الدین شاکر ، مولانا عبد النعیم ، مولانا محبوب الحسن طاہر اور مولانا خالد عابد نے اپنے ردِ عمل میں کیا ۔ علماء کرام نے کہا کہ چناب نگر کے نیشنلائز کئے گئے تعلیمی ادارے قادیانی جماعت کو واپس کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس قادیانی نواز فیصلے کے خلاف سخت مزاحمت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۲ء سے اب تک ان تعلیمی اداروں پر حکومت نے اربوں روپے خرچ کئے ہیں اور ان تعلیمی اداروں میں اکثر طلباء اور طالبات اور اساتذہ مسلمان ہیں ۔ ایسے ادارے جن پر حکومت نے اتنی خطیر رقم خرچ کی ہو یہ قادیانیوں کے سپرد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنا قادیانیت کو پروان چڑھانے کے مترادف ہے۔ موجودہ حکومت نے قادیانیوں کو نوازنے میں سابقہ تمام حکومتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ حکومت قادیانیوں کو نوازنے کا سلسلہ بند کرے۔ حکومت کی قادیانیت نواز پالیسی اس کو لے ڈوبے گی۔ حکومت کا یہ اقدام پاکستان کے خزانے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
(ہفت روزہ اخبارالمدارس، یکم تا ۷؍ دسمبر ۲۰۱۶ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۸)
قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ کو قادیانی کے نام سے منسوب کرنا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں شریک مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو عبدالسلام قادیانی کے نام سے موسوم کیا گیا تو حکومت کے خلاف بھر پور ملک گیر تحریک چلائی جائے گی، جب کہ سندھ اسمبلی میں متنازع بل کے خلاف آج (جمعہ) یوم احتجاج منایا جائے گا۔ اسلام کی اشاعت کو روکنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جمعرات کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر میں منعقدہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان، جماعت الدعوۃ کراچی کے مسئول انجینئر مزمل اقبال ہاشمی، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن مولانا سعید خان اسکندر، جمعیت غرباء اہل حدیث کے نائب امیر محمد احمد سلفی، نظام مصطفیٰ پارٹی کے صوبائی صدر الحاج محمد رفیع ، جے یو آئی (س) کے رہنما مولانا مشتاق احمد عباسی ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے محمد اشرف قریشی، جے یو پی نورانی کے صوبائی صدر عقیل انجم قادری، قاضی احمد نورانی، جے.یو.پی کے مفتی غوث قادری،مستقیم نورانی، شیعہ عالم دین سید کرار علی نقوی، جامعہ اشرف المدارس کے ناظم مولانا ارشاد، دارالعلوم کراچی کے مولانا محمد حنیف خالد اور دیگر نے شرکت کی۔ اے.پی.سی کے مشترکہ اعلامیہ کا اعلان کرتے ہوئے قاری محمد عثمان نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے اس شعبہ کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ عبدالسلام قادیانی کی ملک وقوم کے لئے ذرہ بھر کوئی خدمات نہیں۔ سائنسی مشیر ہونے کی حیثیت سے وہ پاکستان کے ایٹمی صلاحیت کے حصول میں رکاوٹ بنا رہا۔ بلکہ ایٹمی راز پاکستان مخالف قوتوں تک پہنچائے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے بعد عبدالسلام قادیانی بیرون ملک چلا گیا اور بیان دیا کہ: ’’مسٹر بھٹو اور فیصلے کے ذمہ دار تمام کا بیڑا غرق ہو‘‘ قاری محمد عثمان نے کہا کہ ایسا شخص جو ملک اور اسلام کا دشمن تھا اس کے نام سے بانی پاکستان کے نام سے منسوب جامعہ کے ایک شعبہ کو موسوم کرنا انتہائی شرمناک فیصلہ ہے۔
مذکورہ شعبہ کو محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے نام سے منسوب کیا جائے۔ اعلامیہ میں سندھ اسمبلی کے منظور کردہ متنازع بل کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے حامی ہیں، اسلام میں جبری تبدیلی مذہب کا تصور نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی آڑ میں اسلام کی اشاعت کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی اجازت نہیں دے سکتے اور آج جمعہ یوم احتجاج کے طور پر منائیں گے اور جمعہ کے خطبات میں بل کی متنازع شقوں کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں گے۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ کو قادیانی کے نام سے منسوب کرنا انتہائی قابل مذمت اقدام ہے۔ ملک میں علماء کرام سائنس دانوں اور قابل ذکر خدمات انجام دینے والی مسلمان شخصیات کی کمی نہیں ہے۔ ملک و مذہب کے دشمن کو اعزاز سے نوازنا ملکی آئین سے انحراف ہے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکمران اسلام دشمنی پر اتر آئے ہیں۔ سیکولرازم کو ہوا دی جارہی ہے۔ تمام مذہبی جماعتیں اور علماء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرام اپنے اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بنائیں۔ اے. پی. سی میں نظامت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ قاضی احسان احمد صاحب نے انجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۲۳)
قادیانیوں کی دوکان سے مقامات مقدسہ کی تصویر محفوظ کر لی گئی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبد الخالق مبینہ اطلاعات ملنے پر علی پور پہنچے۔ جائے وقوعہ پر دیکھا کہ قادیانی دوکاندار نے دوکان پر بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی تصاویر لگا رکھی ہیں۔ مولانا قاضی عبد الخالق نے علی پور سے چند مقامی علماء کرام کو لے کر تھانہ علی پور میں ایس ایچ او سے ملاقات کی۔ قادیانیوں کی شعائر اسلامی کی توہین سے آگاہ کرتے ہوئے قادیانیت سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ایس ایچ او صاحب نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ان حضرات کی موجودگی میں پولیس بھیج دی۔ جنہوں نے قادیانیوں کی دوکان سے بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی تصاویر کو محفوظ کر لیا۔ فالحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۷ء ص ۳۱)
سانحہ دوالمیال کی تفصیلی رپورٹ
دوالمیال ضلع چکوال کا ایک مشہور گاؤں ہے جو تحصیل چوآ سیدن شاہ سے کلر کہار روڈ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے دائیں جانب واقع ہے۔ اس گاؤں کی ایک عظیم مذہبی اور علمی شخصیت بابا لعل شاہ رہے ہیں۔ جنہوں نے علاقے میں دینی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی ایک جامع مسجد ہے جہاں نماز جمعہ بھی ہوتی ہے جو عقیدۂ تحفظ ختم نبوت کا مرکز رہی ہے اور اب بھی ہے۔ مینار والی مسجد (جس پر قادیانیوں نے قبضہ کر رکھا ہے) اس گاؤں کے سر پر واقع ہے اور علاقے میں دور سے نمایاں نظر آتی ہے۔ اس کا بلند و بالا مینار ایک عرصہ سے اپنی محرومی کا احساس دلاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ گاؤں کے تمام لوگ اس میں نمازیں اور جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ قادیانیوں کے قبضہ میں جانے کے بعد مسلمان الگ ہو گئے اور یہ قادیانیوں کی مستقل گرفت میں چلی گئی۔ ۱۹۹۷ء میں مسلمانوں نے سول کورٹ میں رٹ کر کے مسجد کو سیل کروا دیا۔ قادیانیوں نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کر کے کھلوا دیا۔ مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی لیکن ہائی کورٹ سے فائل ریکارڈ بھی غائب کر دیا گیا۔ دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی ہے کہ کاغذات مسجد جو تحصیل سے حاصل کئے گئے وہ رقبہ نمبر ۳۵ کے تھے۔ جب کہ مسجد رقبہ نمبر ۳۳ میں تھی۔ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ ہوا جب قبضہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ فیصلہ رقبہ نمبر ۳۵ کا ہوا ہے۔ جب کہ مسجد رقبہ نمبر ۳۳ میں ہے۔ اس لئے مسلمان مسجد کا قبضہ حاصل نہیں کر سکے۔
۱۲؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۸ھ، مطابق ۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو مسلمان جلوس لے کر مسجد کی طرف گئے۔ اس سے قبل پانچ دسمبر کو قادیانیوں نے انتظامیہ کو سیکورٹی کے لئے درخواست دی۔ لیکن انہیں سیکورٹی نہیں دی گئی۔ پولیس کی موجودگی میں جلوس جوں ہی مسجد کے قریب پہنچا قادیانی مورچہ بند اسلحہ سمیت تیار تھے۔ مسجد سے ملحقہ قادیانیوں کے گھروں سے جلوس پر پتھراؤ شروع ہوا اور مسجد کے مینار سے فائرنگ کر دی گئی۔ پولیس نے نہ تو جلوس کے راستہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی اور نہ شرکاء جلوس کو مسجد کی طرف جانے سے روکا۔ پہلے ہوائی فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا۔ قادیانی جو ایک سو کے قریب مسجد میں اسلحہ سمیت موجود تھے تہہ خانہ کے مورچہ سے فائرنگ شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں ملک شفیق اور تین دوسرے لوگ زخمی ہو گئے۔ ملک نعیم پینتالیس منٹ زندہ رہا۔ اس کو مسجد کے اندر قادیانیوں نے چھپا دیا۔ دیگر قادیانی مسجد کے تہہ خانہ والے راستہ سے اسلحہ سمیت فرار ہو گئے۔ اس کے بعد ڈی سی او نے مسجد سیل کر دی اور مسلمانوں سے چلے جانے کو کہا۔ لیکن مسلمان مسجد لینے پر مصر رہے۔ پولیس آنسو گیس استعمال کر کے لوگوں کو منتشر کر سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی دوران قرب و جوار
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے دیہاتوں سے میلاد کے شرکاء گاڑیاں لے کر وہاں پہنچ گئے۔ مزید پولیس کی نفری طلب کر لی گئی۔ کچھ لوگ مسجد کے اندر بیک ڈور سے داخل ہوگئے۔ مسجد کے اندر سے ڈش، ٹی، وی، کیرم بورڈ، تاش کے پتے اور شراب کی بوتلیں باہر نکال دیں۔ مسجد کی صفائی کے بعد اذان دی گئی اور نماز ادا کی گئی۔ مزید پولیس کی نفری پہنچ گئی اور رینجرز کے دستے بھی آگئے۔ مولانا صاحبزادہ پیر عبدالقدوس نقشبندی، مولانا مفتی محمد معاذ، مولانا حبیب الرحمٰن اپنے دیگر ساتھیوں کی موجودگی میں ڈی سی او اور ڈی پی او سے بھی ملے معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ مغرب کے قریب آرمی اور سب ڈویژن مجسٹریٹ پنڈی بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے مسجد خالی کروا کر دوبارہ سیل کر دی جو تا حال سیل ہے۔ گاؤں میں کرفیو لگا دیا گیا۔ مغرب کے بعد پولیس نے لاش ورثاء کو دی۔
شہید ملک محمد نعیم کا تعلق قریب ہی واقع تتڑال گاؤں سے تھا۔ دوسرے دن اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ حتیٰ کہ ڈی سی او اور ڈی پی او کے علاوہ چکوال، تحصیل تلہ گنگ کے تمام ساتھی بھی شریک ہوئے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی سے قبل صاحبزادہ پیر عبدالقدوس نقشبندی نے مختصر خطاب میں شہید کو خراج تحسین پیش کیا اور عالمی مجلس کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔
۱۵؍ ربیع الاوّل ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو حالات کی نزاکت کا جائزہ لینے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع چکوال کے مبلغ مولانا مفتی خالد میر نے دوالمیال گاؤں کا مختصر دورہ کیا۔ گاؤں میں کرفیو کا سماں تھا۔ کوئی مرد گھر میں موجود نہیں تھا۔ لوگ گرفتار کر لئے گئے جو گرفتاری سے بچے وہ گاؤں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ پورے گاؤں میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ۲۹ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا اور بعض گھروں کے دروازے ہتھوڑے کے ساتھ توڑے گئے۔ صرف دو قادیانیوں کو گرفتار کیا گیا۔ مشترکہ ایف آئی آر کاٹی گئی، جس میں چونتیس قادیانی اور انتالیس مسلمانوں کے نام درج تھے۔ ۲۹ گرفتاریوں میں سے ایک کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا۔ ان میں ایک سید رئیس شاہ نام کا نوجوان بھی شامل تھا جس کے دونوں بازو نہیں ہیں۔ بعد میں اس کو رہا کر دیا گیا۔
چکوال مجلس کے سرپرست پیر عبدالقدوس نے رابطہ کر کے ہنگامی طور پر آل پارٹیز میٹنگ طلب کی اور ساتھ ہی اخبارات کے تمام نمائندوں کو مدعو کیا۔ تین بجے بھر پور آل پارٹیز میٹنگ بیت المرشد میں منعقد ہوئی۔ ان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، تحریک منہاج القرآن، جمیعۃ علماء اسلام، جمیعۃ علماء پاکستان اور جماعت اسلامی ضلع چکوال کے نمائندے شریک ہوئے۔ میٹنگ میں ملک نعیم کی شہادت کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور قادیانیوں کی کھلی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی گئی۔ انتظامیہ سے قادیانیوں کی گرفتاری اور بے گناہ مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ نیز تمام جماعتوں کی طرف سے یہ یقین دلایا گیا کہ ہم دوالمیال اور ملک نعیم شہید کے ورثاء کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم دوالمیال کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ مسجد کا قبضہ ختم کروا کر مسلمانوں کے سپرد کی جائے۔ اسی شام رات سات بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمیعۃ اہل سنت کے ایک وفد نے ڈی سی او اور ڈی پی او چکوال سے میٹنگ کی۔ جس میں آرمی اور رینجرز کے لوگ موجود تھے۔ وفد کی قیادت صاحبزادہ پیر عبدالقدوس نقشبندی اور امیر مولانا مفتی محمد معاذ نے کی۔ جب کہ جمیعۃ اہل سنت کے رہنما ندیم صاحب انجمن تاجران کے صدر شاہد عباس کے علاوہ مبلغ ختم نبوت ضلع چکوال مولانا مفتی خالد میر بھی موجود تھے۔
انتظامیہ سے قادیانیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ بلاوجہ مسلمانوں کو گرفتار کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی اور اس پر عمل بھی کیا گیا۔ چھ دن تک کسی کو بلاوجہ ایف آئی آر کے علاوہ گرفتار نہیں کیا گیا۔ حالات کو نارمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ گاؤں کے لوگ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معمول کی زندگی جاری رکھ سکیں۔ لیکن اس کے باوجود گاؤں میں کرفیو کا سماں رہا جو تاحال جاری ہے۔ البتہ آرمی کم کی گئی ہے۔ پولیس گاؤں میں بدستور موجود ہے۔ انکوائری آفیسر نے دوسو پچاس آدمیوں کی نئی لسٹ تیار کر کے گرفتاریوں اور چھاپے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گاؤں کے بعض افراد نے اطلاع دی کہ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہیں۔ بعض بہت ہی غریب گھرانے تھے۔ چند ایک کو بغیر کھائے پیئے بھی رہنا پڑا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع چکوال نے ہنگامی طور پر گاؤں کا دورہ کیا۔ ان میں انجمن تاجران ضلع چکوال کے صدر شاہد عباسی صاحبزادہ پیر عبدالقدوس نقشبندی، مولانا مفتی معاذ، مولانا عتیق الرحمن، مولانا مفتی خالد میر اور شیخ سلیم کے علاوہ دیگر ساتھی شامل تھے۔ کھانے کی چیزیں غریب مسلمانوں کے گھر دیں۔ تیس گٹو تیار کئے اور مسلمانوں کے گھروں میں پہنچائے۔ ان میں چینی، پتی، گھی، دالیں اور چاول شامل تھے۔ زخمیوں کے ورثاء کو پندرہ پندرہ ہزار روپے کے الگ الگ گھروں میں جا کر چیک دیئے اور ان کے گھروں میں جا کر سامان بھی پہنچایا۔ ملک نعیم شہید کے والد کو بیوہ اور اس کے بچوں کے لئے ایک لاکھ روپے کا چیک مجلس کی طرف سے دیا۔ اس کے درجات کی بلندی کی دعاء کی اور ان کو ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ چکوال کے مسلمان آپ کے ساتھ کھڑے ہیں جو بھی تعاون آپ ہم سے طلب کریں گے ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔
۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو الفلاح مسجد تلہ گنگ روڈ چکوال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی جس کی تاریخ چناب نگر منعقدہ کانفرنس ۲۸؍ اکتوبر کو مقرر کی گئی تھی۔ درمیان میں اتفاقاً دوالمیال کا واقعہ ہو گیا۔ الفلاح مسجد چکوال میں یہ ختم نبوت کانفرنس تھی جو بھر پور طریقے سے کامیاب ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا، تلہ گنگ جماعت کے امیر مولانا عبیدالرحمن، خالد مسعود ایڈووکیٹ کے علاوہ چکوال کے علمائے کرام بھی شریک ہوئے اور خطابات کئے۔ دوالمیال واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور قادیانیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ مولانا اللہ وسایا نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور یہ باور کرایا کہ مجلس دوالمیال کے مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گی۔ نیز انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب کرنے کی مذمت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ حکومت یہ اعلان واپس لے اور ڈاکٹر ریاض الدین جو چالیس سال سے ان کے نام چل رہا تھا چلنے دیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۴۸ تا ۵۱)
ایک ہی خاندان کے ۱۸ افراد کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے مانگا قدیم تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ میں مختلف پروگراموں اور جمعہ کے بیانات سے لوگوں کو فتنہ قادیانیت کا تعارف کروا رکھا ہے، قادیانیت سے بائیکاٹ کی تحریک چلائی جس سے لوگوں میں شعور ختم نبوت جگایا، اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ مانگا قدیم کے ایک ساتھی نوید احمد کی جدوجہد اور ایس ایچ او کے تعاون سے قلعہ چوک میں نہ صرف قادیانیوں کی دوکان سے کلمہ طیبہ محفوظ کرایا گیا بلکہ قلعہ کالروالا میں ایک ہی خاندان کے اٹھارہ افراد قادیانیت پر لعنت بھیج کر محمد عربی ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے، مولانا قاری دین محمد ثاقب، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عبدالرحمن ہاشمی نے اسلام قبول کرنے والے خاندان کو مبارکباد دی اور ان کے حق میں استقامت کی دعاء فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۱۷)
فیصل آباد میں اکیس قادیانی افراد کا قبول اسلام
فیصل آباد چک نمبر 109 گ، ب روڈ اور مکوآنہ سٹاپ جڑانوالہ روڈ میں جناب محمد شوکت علی، محمد اکرام، محمد اسلام سمیت راجپوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیملی کے اکیس افراد نے جامع مسجد شوکت علی فضلی میں بیس شعبان کو مغرب کی نماز کے وقت تمام نمازیوں کی موجودگی میں قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ اس خاندان کو استقامت نصیب کرے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۶ء ص ۱۷)
چار قادیانیوں کا قبول اسلام
ٹوبہ ٹیک سنگھ چک نمبر ۲۹۵ پیر یانوالہ ۶؍ نومبر ۲۰۱۶ء بعد از عشاء ایک اور قادیانی مصور ولد بشارت جامع مسجد میں تمام گاؤں والوں کے سامنے مولانا لطف اللہ لدھیانوی کے سامنے مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ فالحمد للہ ! اسی طرح ماموں کانجن چک نمبر ۵۸ کڑا کے چالیس سالہ جوان سلطان احمد نے بھی قاری عتیق الرحمن رضوی کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔
(روزنامہ ایکسپریس ص۲، مورخہ ۱۹؍اکتوبر ۲۰۱۶ء)
اس سے کچھ عرصہ قبل ٹوبہ ٹیک سنگھ چک ۲۹۵ پیر یانوالہ میں نمبردار خاندان کے فرد جناب نوید ولد مبارک نے مولانا لطف اللہ لدھیانوی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے قادیانیت سے برأت کا اظہار کیا تھا۔ فالحمد للہ ! اس طرح نوید کے اسلام قبول کرنے سے قبل بھی ہمایوں ولد شبیر احمد نے بھی اسلام قبول کیا تھا۔ گویا چک پیر یانوالہ میں تین اور چک کڑا میں ایک، کل چار قادیانیوں نے اس علاقہ میں قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۷ء ص ۳۱)
کراچی میں ختم نبوت کانفرنسیں
پہلا بیان ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات صبح ۱۱ بجے جامعہ اشرف المدارس کی جامع مسجد اشرف میں مولانا اللہ وسایا کا عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کے موضوع پر بیان ہوا۔ حضرت کے بیان سے پہلے مولانا قاضی احسان احمد نے ابتدائی گفتگو کی۔ اس پروگرام میں جامعہ اشرف المدارس کے نائب مہتمم مولانا محمد ابراہیم، شیخ الحدیث مولانا مفتی عبد الرشید، جامعہ کے اساتذہ مولانا حسین احمد، مولانا ارشاد احمد کے علاوہ دیگر اساتذہ کرام اور تمام طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
یکم جنوری ۲۰۱۶ء کو مولانا اللہ وسایا نے جمعہ کا بیان جامعہ بنوری ٹاؤن میں ارشاد فرمایا۔ جس میں مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کے علاوہ جامع مسجد کے امام و خطیب، جامعہ کے اساتذہ کرام، طلباء اور دیگر مسلمانوں نے بڑی تعداد میں سرپرستی فرمائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام یکم جنوری ۲۰۱۶ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء جامع مسجد شافعی گلی نمبر ۳۲ محمدی روڈ شیر شاہ میں سالانہ عظیم الشان ’’سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت جامع مسجد کے امام و خطیب مفتی عبد الرحمن نے جب کہ نقابت کے فرائض نائب خطیب مولانا محمد حامد نے انجام دیئے۔
تلاوت ونعت کے بعد ابتدائی بیان مولانا قاضی احسان احمد کا ہوا۔ ان کے بعد جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان صاحب نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ آخری بیان مہمان گرامی مولانا محمد رفیق جامی صاحب کا ہوا اور آپ کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
۲؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر جامعہ اسلامیہ رحمانیہ بفرزون میں ’’سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس صدارت جامعہ کے مدیر مولانا عطاء الرحمن مدنی نے کی۔ کانفرنس میں تلاوت ونعت کے بعد مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد رفیق جامی اور مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا کے خطابات ہوئے۔ کانفرنس میں جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا قاری محبوب شاہ کے علاوہ اساتذہ کرام کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بڑی تعداد اور تمام طلباء شریک ہوئے۔
۳؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز ظہر ختم نبوت چوک نزد جامع مسجد بلال اسکاوٹ کالونی میں سالانہ عظیم الشان ’’سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت جامعہ انوار الصحابہ کے مدیر مولانا محمد طیب نے کی۔ جب کہ نگرانی مسجد بلال کے امام و خطیب مولانا قاری عبدالسمیع رحیمی نے کی۔ نقابت کے فرائض جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا ندیم الرشید نے انجام دیئے۔ تلاوت ونعت کے بعد کانفرنس کی غرض وغایت حافظ عبدالمغیث نے بیان کی۔ مولانا قاضی احسان احمد اور مہمان خصوصی مولانا محمد رفیق جامی کے خطابات ہوئے۔ ساہیوال کے مولانا حافظ شاہد عمران عارفی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس میں جامعہ صدیقیہ کے مدیر مولانا محمد سلطان، جامعہ عربیہ اسلامیہ کے مدرس مولانا محمد جواد، ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن کے علاوہ دیگر علماء کرام، طلباء عظام اور عامۃ الناس نے بھر پور تعداد میں شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۶ء ص ۱۸)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس منظور کالونی
۲؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ کے بازار میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز نماز عشاء کے بعد ہوا۔ قاری صدر الامین نے تلاوت اور مولوی محمد عمر فاروق نے حمد ونعت پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالحئی مطمئن نے ادا کئے۔ جامعہ تعلیم القرآن والسنہ کے طالب علم عبدالواجد نے تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کی۔ اس کے بعد قاری جعفر طیار، قاری محمد سلیم نے خوبصورت تلاوت اور محمد عرفان سعید، ثناخوان رسول مولانا حافظ عبدالقادر نے خوبصورت اور دلنشین انداز میں حمد ونعت سے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔ ساہیوال سے تشریف لائے ہوئے مولانا شاہد عمران عارفی نے اپنی مخصوص آواز وانداز میں سامعین کو مسحور کیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانی سازشوں سے متعلق عوام کے سامنے حقائق بیان کئے اور خصوصاً جہلم میں پیش آنے والے واقعہ کو قادیانی سازش قرار دیا اور حکومت سے اپیل کی کہ اس واقعہ کی حکومتی سطح پر تحقیقات کی جائے۔
جمعیت علماء اسلام سندھ کے نائب امیر مولانا قاری محمد عثمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ہماری جماعت نے عقیدۂ ختم نبوت کے لئے قربانیاں پیش کیں اور آئندہ بھی اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے حاضر ہیں۔
مکتبہ اہلحدیث کے شیخ محمد احسن سلفی نے کہا کہ میں اور میری جماعت ہر قربانی کے لئے مجلس کے پلیٹ فارم پر تیار ہیں، یہ ہر مسلمان کا کام ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے مخصوص انداز میں اس کام کی اہمیت وفضیلت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرا اور میرے بزرگوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کے صدقے معاف فرما دیں گے۔ ہمیں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور جماعت کے نظم کے مطابق اس کام کو کرنا ہے، جب قانون ہمارے حق میں ہے تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم کسی کو اجازت دیں گے۔ آخر میں فیصل آباد سے تشریف لائے ہوئے مہمان مولانا محمد رفیق جامی مدظلہ اسٹیج پر تشریف لائے تو سامعین اور اسٹیج پر موجود مہمان حضرات نے کھڑے ہو کر نعروں کی گونج میں استقبال کیا، جامی صاحب نے مخصوص انداز میں سیرت النبی کے موضوع پر بیان کیا جسے تمام سامعین نے بے حد سراہا اور بھر پور داد دی۔ جامی صاحب نے کہا کہ اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے ہمارے بزرگوں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر اس مسئلہ کو اس اسٹیج پر پہنچایا اب نوجوان بیدار رہیں، قادیانیوں کو چاہئے کہ ہوش کے ناخن لیں مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنے نبی کی توہین کو برداشت نہیں کر سکتے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کا اختتام مولانا جامی صاحب کی دعاء پر ہوا۔ کانفرنس میں اہل حدیث مکتبہ فکر کے نامور خطیب جامعۃ الاحسان کے مدیر شیخ محمد احسن سلفی ، بریلوی مکتبہ فکر کے پیر طریقت حافظ محمد اسلم حنفی بریلوی ، استاذ الحدیث مولانا شفیق الرحمٰن کشمیری ، مجاہد ملت مولانا قاری اللہ داد ، پیر طریقت حافظ عبدالقیوم نعمانی ، نوجوان خطیب مولانا فضل سبحان ، استاذ الحدیث مفتی محمد سلمان یاسین ، مولانا غیاث الدین رہنما جمعیت علماء اسلام ، ملک شاہنواز اعوان ، چوہدری محمد نواز ، ڈاکٹر محمد ندیم ، داعی اتحاد امت مولانا قاری شبیر احمد عثمانی کے علاوہ علماء کرام ائمہ حضرات نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۶ء ص ۱۶)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسز کراچی
گزشتہ ماہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ صدر ٹاؤن کے زیر اہتمام مختلف مساجد میں ’’سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس‘‘ کے عنوان سے پروگرام ترتیب دیئے گئے ، جن کی رپورٹ ہمارے ساتھی محمد کلیم اللہ نعمان نے تیار کی۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا پروگرام: ۳؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز عشاء غوثیہ مسجد سٹی ریلوے کالونی گیٹ نمبر ۱۰ کراچی میں ’’سیرت خاتم الانبیاء‘‘ رکھا گیا۔ پروگرام کا آغاز قاری محمد عثمان کی تلاوت سے ہوا اور نعت حافظ محمد حبیب اللہ نعمان نے پیش کی۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا فیصل خلیل صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ ختم نبوت واحد جماعت ہے جس کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتب فکر متفق ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی برکت سے آج ہمارا ایمان محفوظ ہے۔ پروگرام میں قاری عبدالرحمٰن ، مولانا عطاء الرحمٰن ، مسجد ہٰذا کے امام مولانا رضاء اللہ ، فیضان اور پروگرام کے نگران شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اسرار دامت برکاتہم نے شرکت کی۔ نقابت کے فرائض قاری اسرار نے سرانجام دیئے اور مفتی صاحب کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔
دوسرا پروگرام: ۷؍ جنوری بروز جمعرات بعد نماز عشاء مدینہ مسجد برنس روڈ گلی نمبر ۴ میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز مولانا عبدالحمید امام جامع مسجد سنہری کی تلاوت سے ہوا اور نعت حافظ محمد حبیب اللہ نعمان نے پیش کی۔ مہمان خصوصی نائب مفتی دارالعلوم کراچی مولانا مفتی عبدالمنان مدظلہ نے بیان سے قبل اپنے شیخ عارف باللہ ، مولانا حکیم محمد اختر کا کلام پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۶ء ص ۱۰)
کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلہ جات بسلسلہ تحفظ ختم نبوت ۷؍ جنوری تا ۳؍ مارچ ۲۰۱۶ء
الحمد للہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور تردید قادیانیت کے لئے شب و روز سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لئے وقتاً فوقتاً ملک بھر میں مختلف نوعیت کے پروگرامز ہوتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں کراچی بھر کے دینی مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریری مقابلے تین مرحلوں پر تقسیم کئے گئے۔ پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر مقابلہ ہوا جس میں تقریر کا عنوان ’’عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘ تھا۔ دوسرا مرحلہ ضلعی سطح پر منعقد ہوا جس کا عنوان ’’عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان‘‘ تھا۔ تیسرا مرحلہ مرکزی مقابلہ ہے جس میں تقریر کا عنوان ’’فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کا کردار‘‘ ہے۔ پہلے اور دوسرے مرحلے کی مفصل رپورٹ درج ذیل ہے:
پہلا مرحلہ: پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر کراچی کے ۱۶ مقامات پر تقریری مقابلے ہوئے، جن میں ۱۱۸ مدارس کے ۲۳۰ طلباء کرام نے حصہ لیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اورنگی ٹاؤن : ۷؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو دارالعلوم نعمان بن ثابت (جامع مسجد حنفیہ ) میں اورنگی ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے مابین تقریری مقابلہ ہوا، جس میں، (۱) دارالعلوم نعمان بن ثابت، (۲) جامعہ محمودیہ اور (۳) مدرسہ عثمانیہ، مکی مسجد کے ۵ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی جامعہ بنوریہ عالمیہ، سائٹ کے استاذ الحدیث مولانا عزیز الرحمن تھے۔ میزبان مفتی سجاد احمد اور قاری محمد انور تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا عمران عثمانی، مولانا نذیر کاغانی اور مولانا احمد شاہ نے انجام دیئے۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات حلقہ اورنگی ٹاؤن کے کارکنوں نے مولانا محمد وسیم کی نگرانی میں کئے۔ دارالعلوم نعمان بن ثابت کے طالب علم نور اللہ نے پہلی، جامعہ محمودیہ کے امیر حسین نے دوسری اور دارالعلوم نعمان بن ثابت کے محمد یحییٰ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
کیماڑی ٹاؤن : ۷؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ عثمانیہ، شیر شاہ میں کیماڑی ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے مابین تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں (۱) جامعہ عثمانیہ شیر شاہ، (۲) جامعہ شمس العلوم اور (۳) مدرسہ معارف القرآن کے ۹ طلباء نے حصہ لیا۔ میزبان قاری محمد عثمان (نائب امیر جمعیت علماء اسلام سندھ ) اور نگران و منتظم قاری صاحب الدین تھے۔ مہمان خصوصی مفتی فیض الحق تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا نور الحق، مفتی عبدالرحمن اور مفتی عامر علی نے انجام دیئے۔ مقابلے کے انتظامات مولانا حضرت حسین، مولانا محمد عارف اور مولانا محمد حامد نے کئے۔ جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے طاہر شاہ نے پہلی، ضیاء الدین نے دوسری اور محمد شاہد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بن قاسم ٹاؤن : ۷؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ اشاعت القرآن محمودیہ میں بن قاسم ٹاؤن کے دینی مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا۔ اس میں (۱) مدرسہ شمس الہدیٰ، (۲) مدرسہ بدرالعلوم، (۳) جامعہ بیت العتیق، (۴) مدرسہ ابن عباس، (۵) جامعہ محمودیہ اشاعت القرآن، (۶) جامعہ بیت السلام اور (۷) جامعہ محمد بن قاسم کے ۱۲ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا احسن راجہ تھے۔ منصفین کے فرائض مفتی طارق محمود اور مولانا امان اللہ نے انجام دیئے۔ مقابلے کے انتظامات مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ اور ان کے ساتھیوں نے کئے۔ جامعہ بیت السلام کے محمد عزیر نے پہلی، محمد طلحہ نے دوسری اور مدرسہ بدرالعلوم کے عمر ایاز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ملیر ٹاؤن : ۷؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ اشاعت القرآن محمودیہ میں ملیر ٹاؤن کے طلباء کے درمیان مقابلہ منعقد ہوا، جس میں (۱) مدرسہ عربیہ اسلامیہ، (۲) مدرسہ امام ابو حنیفہ، (۳) جامعہ انوار العلوم اور (۴) جامعہ مجیدیہ کے ۹ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مفتی محمد شکیل اور مولانا عبدالرزاق ہزاروی تھے۔ منصفین کے فرائض مفتی طارق محمود اور مولانا امان اللہ نے انجام دیئے۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے انتصار الحق نے پہلی، سمیع الحق نے دوسری اور جامعہ انوارالعلوم کے محمد حسن نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
لانڈھی ٹاؤن : ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد طیبہ بلال کالونی میں لانڈھی ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے درمیان مقابلہ منعقد ہوا۔ اس میں (۱) مدرسہ معاویہ تعلیم القرآن، (۲) مدرسہ ضیاء العلوم، (۳) جامعہ انوار القرآن، (۴) مدرسہ تبلیغ الاسلام، (۵) جامعہ تحفیظ القرآن، (۶) جامعہ ابی ہریرہ، (۷) جامعہ کنز العلوم، (۸) مدرسہ رحیمیہ اور (۹) جامعہ محمد بن قاسم کے ۱۷ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا محمد یوسف تھے۔ میزبان مولانا نور الرحیم تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا امان اللہ خان اور مولانا عبدالبر نے انجام دیئے۔ پروگرام کے انتظامات حافظ محمد عبدالوہاب نے کئے۔ جامعہ محمد بن قاسم کے عطاء اللہ نے پہلی، جامعہ انوار القرآن کے طارق جمیل نے دوسری اور سجاد عابد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
کورنگی ٹاؤن : ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ معہد عثمان بن عفان میں کورنگی ٹاؤن کے طلباء کا مقابلہ ہوا، جس میں (۱) جامعہ دارالعلوم کراچی، (۲) جامعہ حمادیہ، (۳) مدرسہ رحمانیہ، (۴) مدرسہ معہد عثمان بن عفان، (۵) مدرسہ عربیہ اسلامیہ، (۶) جامعہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انوارالعلوم اور (۷) جامعہ مدینہ کے ۴ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مفتی عبدالمنان (نائب مفتی دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی) تھے۔ میزبان مولانا نورالبشر تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا عبدالباسط غنی، مولانا عمران حسن اور مولانا محمد شریف نے انجام دیئے۔ پروگرام کے انتظامات حافظ عثمان شاکر نے کئے۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے عطاء الرحمن نے پہلی، مدرسہ رحمانیہ کے محمد عاطف مجید نے دوسری اور محمد یوسف نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
گڈاپ ٹاؤن: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۶ء کو ادارۃ العلوم الاسلامیہ سہراب گوٹھ میں گڈاپ ٹاؤن کے طلباء کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں (۱) جامعۃ الرشید، (۲) جامعہ صدیقیہ، (۳) جامعہ دراسات اقبالیہ، (۴) مدرسہ ادارۃ العلوم الاسلامیہ، (۵) مدرسہ اسلامیہ منبع العلوم، (۶) مدرسہ ابوسعید خدری، (۷) مدرسہ بیت العلوم الاسلامیہ، (۸) جامعہ دارالعلوم قاسمیہ اور (۹) جامعہ محمودیہ کے ۱۵ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا عزیز الرحمن (استاذ الحدیث جامعہ بنوریہ) تھے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ میزبان مولانا محمد قاسم آغا تھے جب کہ منصفین کے فرائض مفتی نصر اللہ احمد پوری، مفتی نجیب اللہ عمر اور مولانا محمد ریاض نے انجام دیئے۔ پروگرام کے انتظامات قاری محمد ظفر اور مولانا محمد شفیق نے ادارۃ العلوم الاسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ مل کر سرانجام دیئے۔ جامعہ صدیقیہ کے محمد فہیم الحسن نے پہلی، جامعۃ الرشید کے محمد حذیفہ نے دوسری اور ادارۃ العلوم الاسلامیہ کے حسین احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
نارتھ ناظم آباد ٹاؤن: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ امام ابو یوسف، شادمان ٹاؤن میں نارتھ کراچی اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کرام کے مابین تقریری مقابلہ ہوا، جس میں (۱) دارالعلوم رحمانیہ، (۲) مدرسہ امام ابو یوسف، (۳) جامعہ احسن الدراسات، (۴) دارالعلوم رحمانیہ گودھرا کالونی، (۵) جامعہ مدنیہ نیوکراچی، (۶) جامعہ انوار القرآن، (۷) جامعہ اشرفیہ نارتھ ناظم آباد، (۸) مدرسہ حسان بن ثابت، (۹) مدرسہ بطحاء اور (۱۰) مدینۃ العلوم کے ۱۷ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا سعد اللہ تھے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ منصفین مولانا محمد آصف، مفتی عبدالمتین اور مولانا محمد صدیق تھے۔ مولانا محمد انس جلال پوری، مولانا بخت علی شاہ، مولانا محمد سلمان، مولانا محمد زبیر، جناب عرفان شاہ جی اور حلقہ نارتھ کراچی کے احباب نے پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے۔ مدرسہ امام ابو یوسف کے محمد ابوبکر نے پہلی، دارالعلوم رحمانیہ کے محمد نوید نے دوسری اور مدرسہ بطحاء کے ظفر اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
گلبرگ ٹاؤن: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۶ء کو الاخوان مسجد، دارالعلوم مدنیہ، بلاک ۱۵، دستگیر سوسائٹی میں گلبرگ ٹاؤن اور لیاقت آباد ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس میں (۱) مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر ؓ، (۲) محمدی مدرسہ، (۳) مدرسہ عربیہ دارالقرآن، (۴) جامعۃ الابرار، (۵) مدرسہ زکریا الخیریہ اور (۶) جامعہ مدینۃ العلوم کے ۱۶ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مفتی حبیب الرحمن لدھیانوی تھے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ میزبان مولانا عبدالکریم فاروقی تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا عبدالنعیم، مولانا خرم اور مولانا افضال احمد نے انجام دیئے۔ پروگرام کے انتظامات محمد قاسم کی نگرانی میں حلقہ فیڈرل بی ایریا کے کارکنوں نے کئے۔ مدرسہ گلشن عمر ؓ کے عبدالقدوس نے پہلی، مدرسہ زکریا الخیریہ کے محمد امین نے دوسری اور مدرسہ مدینۃ العلوم کے محمد ابراہیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
گلشن اقبال ٹاؤن: ۱۴؍جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ عربیہ اسلامیہ (شاخ جامعہ بنوریہ عالمیہ) اسکاؤٹ کالونی میں گلشن اقبال ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں (۱) جامعہ احسن العلوم، (۲) مدرسہ شفیق الاسلام، (۳) مدرسہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دارالسلام، (۴) جامعہ نظامیہ، (۵) جامعہ انوارالصحابہ، (۶) جامعہ ابن عباس، (۷) مدرسہ عارف العلوم، (۸) دارالعلوم گلشن، (۹) مدرسہ احسن العظیم، (۱۰) مدرسہ عربیہ اسلامیہ، (۱۱) مدرسہ بیت المقدس، (۱۲) مدرسہ ابراہیم الاسلامیہ، (۱۳) جامعہ معارف القرآن، (۱۴) جامعہ بیت المکرم، (۱۵) جامعہ مدنیہ، (۱۶) جامعہ دارالہدیٰ اور (۱۷) جامعہ اشرف المدارس کے ۱۷ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل تھے۔ میزبان مولانا فصیح احمد تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا سعد، مولانا اورنگزیب اور مولانا مجاہد امین نے انجام دیئے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ حلقہ گلشن اقبال کے ذمہ دار مولانا قاری عبدالسمیع رحیمی، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے مولانا جواد اور مولانا مزمل فاروق نے پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے۔ ادارہ معارف القرآن کے محمد قاسم نے پہلی، جامعہ دارالہدیٰ کے جلال الدین نے دوسری اور مدرسہ احسن العظیم کے محمد یوسف نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
بلدیہ ٹاؤن: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ ابوہریرہ، اتحاد ٹاؤن میں بلدیہ ٹاؤن کے مدارس کے طلباء نے تقریری مقابلہ میں حصہ لیا، جن میں (۱) جامعہ دارالعلوم الصفہ، (۲) جامعہ حقانیہ، (۳) جامعہ ندوۃ العلم، (۴) جامعہ عمر، (۵) جامعہ تعلیم القرآن، (۶) جامعہ احیاء العلوم، (۷) جامعہ عثمانیہ، (۸) جامعہ ابوہریرہ، (۹) جامعہ خیرالعلوم، (۱۰) جامعہ حدیقۃ العلوم، (۱۱) جامعہ دارالقرآن، (۱۲) مدرسہ قاسمیہ اور (۱۳) جامعہ علوم اسلامیہ کے ۱۷ طلباء کرام شامل تھے۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی منیب الرحمٰن تھے۔ مقابلے کے مسؤل مفتی فیض الحق، میزبان قاری عبدالکریم بخاری اور نگران و منتظم مولانا ہارون الرشید عادل تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا خادم حسین، مولانا محمد کلیم اللہ اور مولانا قاری احسان اللہ نے انجام دیئے۔ جامعہ حقانیہ کے نصراللہ نے پہلی، جامعہ عثمانیہ کے لعل ملک نے دوسری اور جامعہ عمر کے محمد عامر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
سائٹ ٹاؤن: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد فاطمہ، میٹروول سائٹ میں سائٹ ٹاؤن کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا، جس میں (۱) جامعہ بنوریہ، (۲) جامعہ خلفاء راشدین، (۳) مدرسہ اشرفیہ امدادیہ، (۴) مدرسہ مظاہر العلوم، (۵) جامعہ مخزن العلوم، (۶) جامعہ حقانیہ، (۷) جامعہ عثمانیہ بھٹو کالونی اور (۸) جامعہ صدیقیہ کے ۱۷ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا عبدالحمید (ناظم تعلیمات جامعہ بنوریہ عالمیہ) تھے۔ میزبان مولانا ڈاکٹر قاسم محمود تھے۔ منصفین کے فرائض مفتی عطاء الرحمٰن قریشی، مولانا آزاد عالم اور مفتی اسد اللہ نے انجام دیئے۔ حلقہ میٹروول کے احباب نے مولانا سیّد مشتاق احمد کے ساتھ مل کر پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے۔ جامعہ عثمانیہ کے شریف اللہ نے پہلی، جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ساجد اللہ نے دوسری اور جامعہ خلفاء راشدین کے شبیر احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
صدر ٹاؤن: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ خلفاء راشدین، منظور کالونی میں صدر ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا، جس میں (۱) جامعہ احتشامیہ، (۲) جامعہ ارشاد العلوم، (۳) جامعہ اسلامیہ کلفٹن، (۴) جامعہ بیت السلام، (۵) جامعہ اسلامیہ سعیدیہ اور (۶) دارالعلوم نورانی (صرافہ بازار) کے ۱۴ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ میزبان مولانا خان محمد ربانی تھے جب کہ منصفین کے فرائض مفتی محمد رمضان اور مولانا قیصر نے انجام دیئے۔ حافظ محمد کلیم اللہ نعمان اور بھائی محمد عمر نے پروگرام کے انتظامات کئے۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے محمد جعفر نے پہلی، جامعہ ارشاد العلوم کے محمد عبداللہ نے دوسری اور جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے عصمت اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
لیاری ٹاؤن: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ ضیاء الاسلام، لی مارکیٹ میں لیاری ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے مابین تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ اس میں: (۱) جامعہ عثمانیہ بہار کالونی، (۲) جامعہ محمودیہ، (۳) جامعہ توحیدیہ، (۴) جامعہ دارالفیوض اور (۵) جامعہ ترتیل القرآن کے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵ طلباء کرام شریک ہوئے۔ مہمانانِ خصوصی مولانا نور الحق اور مولانا ابراہیم تھے۔ میزبان مولانا حسین احمد مدنی تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا محمد عارف ، مولانا ضیاء الدین اور مولانا محمد حامد انجام دے رہے تھے۔ پروگرام کے انتظامات مولانا نعیم اللہ ، مفتی مطیع اللہ اور محمد مجاہد نے کئے۔ جامعہ عثمانیہ کے حنیف اللہ نے پہلی ، ہدایت اللہ نے دوسری اور جامعہ توحیدیہ کے نفیع اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
جمشید ٹاؤن: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو نجم مسجد میں جمشید ٹاؤن کے مدارس کے طلباء نے تقریری مقابلہ میں حصہ لیا، جن میں (۱) جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن، (۲) جامعہ اسلامیہ طیبہ، (۳) معہد الخلیل الاسلامی، (۴) جامعہ عثمانیہ بہادر آباد، (۵) جامعہ تعلیم القرآن والسنہ، (۶) جامعہ الاحسان الاسلامیہ اور (۷) جامعہ انوار العلوم مہران ٹاؤن کے ۲۱ طلباء کرام شامل تھے۔ مہمانانِ خصوصی مولانا مفتی شفیق عارف (رفیق دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن) اور مولانا محمد زکریا مدنی (شیخ الحدیث معہد الخلیل الاسلامی) تھے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ میزبان مفتی محمد سلمان یسین تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا رمضان اور مولانا محمد رفیق قاسمی نے انجام دیے۔ مولانا محمد رضوان کی نگرانی میں ان کے ساتھیوں نے پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے۔ جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کے نوید اصغر نے پہلی ، جامعہ تعلیم القرآن والسنہ کے عبدالواجد نے دوسری اور جامعہ عثمانیہ کے سیف الرحمن صدیقی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
شاہ فیصل ٹاؤن: ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ صدیقیہ ناتھا خان گوٹھ میں شاہ فیصل ٹاؤن کے مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ ہوا، جس میں (۱) جامعہ فاروقیہ، (۲) جامعہ صدیقیہ، (۳) جامعہ حمادیہ، (۴) جامعہ تراث الاسلام اور (۵) جامعہ دارالہجرہ کے ۱۵ طلباء کرام نے شرکت کی۔ مہمانانِ خصوصی مولانا شفیق الرحمن کشمیری اور مولانا سلطان محمد تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا عبدالشکور ، مولانا عبدالقیوم ہزاروی اور مولانا شفیق الرحمن علوی نے سرانجام دیئے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد نے کی۔ حلقہ شاہ فیصل ٹاؤن کے کارکنوں نے مولانا شفیق الرحمن علوی اور مولانا محمد اشفاق کی نگرانی میں پروگرام کے انتظامات کئے۔ جامعہ فاروقیہ کے کاشف تبسم نے پہلی، حضرت علی نے دوسری اور جامعہ صدیقیہ کے عمیر نذیر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
دوسرا مرحلہ: دوسرے مرحلے میں ضلعی بنیاد پر کراچی کے کل پانچ مقامات پر تقریری مقابلے منعقد ہوئے ، جن میں ٹاؤن کی سطح پر پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء نے حصہ لیا۔ مجموعی طور پر ۳۵ مدارس کے ۴۶ طلباء کے درمیان یہ مقابلہ ہوا، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
ضلع وسطی: ۲۸؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر ؓ (شاخ جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن) میں نارتھ کراچی و نارتھ ناظم آباد، گلبرگ ٹاؤن و لیاقت آباد اور گڈاپ ٹاؤن کے مقابلوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء کا مقابلہ ہوا، جن میں: (۱) مدرسہ امام ابو یوسف شادمان ٹاؤن، (۲) جامعہ صدیقیہ، (۳) مدرسہ گلشن عمر ؓ، (۴) دارالعلوم رحمانیہ، (۵) جامعۃ الرشید، (۶) مدرسہ زکریا الخیریہ، (۷) مدرسہ بطحاء، (۸) ادارۃ العلوم الاسلامیہ اور (۹) جامعہ مدینۃ العلوم کے ۹ طلباء شامل تھے۔ مہمانانِ خصوصی مولانا قاری مفتاح اللہ (استاذ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن) اور مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ میزبان مولانا سید رزین شاہ اور مولانا زبیر تھے، جب کہ منصفین کے فرائض مولانا شفیق الرحمن عطاء ، مولانا محمد صدیق اور مولانا افضال احمد انجام دے رہے تھے۔ مولانا محمد شعیب کی نگرانی میں ضلع وسطی کے کارکنوں نے پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے۔ ادارۃ العلوم الاسلامیہ کے حسین احمد نے پہلی، مدرسہ گلشن عمر ؓ کے عبدالقدوس نے دوسری اور دارالعلوم رحمانیہ کے نوید احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع شرقی: ۲۸ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ اسلامیہ طیبہ میں ضلع شرقی کے تین ٹاؤنز گلشن اقبال ، جمشید ٹاؤن اور شاہ فیصل کے مقابلوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء نے حصہ لیا ، جن میں (۱) ادارہ معارف القرآن، (۲) جامعہ تعلیم القرآن والسنہ ، (۳) جامعہ عثمانیہ بہادر آباد، (۴) جامعہ فاروقیہ ، (۵) جامعہ صدیقیہ اور (۶) مدرسہ احسن العظیم کے ۷ طلباء کرام شامل تھے۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی سعید احمد اوکاڑوی (امام و خطیب جامع مسجد عالمگیر، بہادر آباد) تھے۔ خصوصی شرکت مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد نعمان ارمان مدنی نے کی۔ میزبان مولانا محمد عادل اور مولانا محمد عاصم تھے جب کہ منصفین کے فرائض مفتی محمد شعیب عالم ، مفتی محمد رمضان اور مولانا ندیم الرشید نے انجام دیئے۔ پروگرام کے انتظامات مولانا محمد رضوان کی نگرانی میں ضلع شرقی کے ساتھیوں نے کئے ۔ جامعہ فاروقیہ کے محمد کاشف نے پہلی ، جامعہ تعلیم القرآن والسنہ کے عبد الواحد نے دوسری اور ادارہ معارف القرآن کے محمد قاسم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ضلع غربی: ۲۸ جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ضلع غربی کے تین ٹاؤنز اورنگی، بلدیہ اور سائٹ کے مقابلوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں (۱) دارالعلوم نعمان بن ثابت ، (۲) جامعہ خلفاء راشدین ، (۳) جامعہ محمودیہ ، (۴) جامعہ عمر ، (۵) جامعہ بنوریہ ، (۶) جامعہ عثمانیہ منگھو پیر ، (۷) جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ اور (۸) جامعہ حقانیہ کے ۹ طلباء کرام نے شرکت کی ۔ منصفین کے فرائض مولانا عنایت اللہ عادل ، مولانا محمد عقیل قریشی اور مولانا عطاء الرحمن قریشی نے انجام دیئے ۔ مہمانان خصوصی مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی (مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ) اور حافظ محمد اقبال تھے۔ میزبان جناب مولانا مفتی محمد نعیم تھے۔ مولانا عبدالحی مطمئن کی نگرانی میں ضلع غربی کے احباب نے پروگرام کے تمام تر انتظامات کئے ۔ جامعہ بنوریہ کے ساجد اللہ نے پہلی ، جامعہ عثمانیہ منگھوپیر کے شریف اللہ نے دوسری اور نعمان بن ثابت کے نور اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ضلع جنوبی: ۲۸ / جنوری ۲۰۱۶ء کو جامعہ اسلامیہ کلفٹن میں ضلع جنوبی کے تین ٹاؤنز لیاری ، کیماڑی اور صدر کے مقابلوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء نے حصہ لیا ، جن میں (۱) جامعہ اسلامیہ کلفٹن ، (۲) جامعہ عثمانیہ بہار کالونی ، (۳) جامعہ توحیدیہ، (۴) جامعہ ارشاد العلوم ، (۵) جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے ۹ طلباء کرام شامل تھے۔ مہمانان خصوصی مولانا شفیق الرحمن بستوی اور مولانا محمد نعمان ارمان مدنی تھے۔ میزبان مولانا ابوطلحہ محی الدین اور مفتی کمال الدین المسترشد تھے جب کہ منصفین کے فرائض مولانا قاضی فخر الحسن ، مولانا خالد محمود کراچوی اور مولانا الطاف الرحمن نے انجام دیئے ۔ پروگرام کے انتظامات مولانا محمد عارف کی نگرانی میں ضلع جنوبی کے ساتھیوں نے انجام دیئے۔ جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے ضیاء الدین نے پہلی ، جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے ہدایت اللہ نے دوسری اور جامعہ عثمانیہ بہار کالونی کے حنیف اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ضلع ملیر : ۲۸ / جنوری ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد اقصیٰ شاہ لطیف ٹاؤن ( مرکز ختم نبوت ) میں ضلع ملیر کے چار ٹاؤنز کورنگی ، لانڈھی ، ملیر اور بن قاسم کے مقابلوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء کے درمیان مقابلہ ہوا ، جن میں (۱) مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیر، (۲) مدرسہ رحمانیہ، (۳) جامعہ انوار العلوم ، (۴) مدرسہ بدرالعلوم ، (۵) جامعہ انوار القرآن، (۶) جامعہ بیت السلام اور (۷) جامعہ محمد بن قاسم کے ۱۲ طلباء کرام شامل تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا طارق قاسمی ، مولانا محمد سرفراز اور مولانا مبشر ابراہیم نے انجام دیئے۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی منیب الرحمن اور مولانا مفتی حضرت علی تھے۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ کی نگرانی میں ضلع ملیر کے کارکنوں نے سرانجام دیئے۔ جامعہ انوار العلوم شاد باغ کے محمد حسن نے پہلی ، جامعہ بیت السلام کے محمد عزیر نے دوسری اور مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے عطاء الرحمن نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر ہونے والے مقابلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء کرام کو منتخب کتب انعام کے طور پر دی گئیں اور منصفین ومہمان علماء کرام کو بھی کتب پیش کی گئیں جب کہ روزنامہ اسلام کی جانب سے بھی تمام شرکاء کو بچوں کا اسلام (ختم نبوت نمبر، صحابہ کرام نمبر ) اور خواتین کا اسلام کے منتخب شماروں پر مشتمل سیٹ دیئے گئے۔ دوسرے مرحلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء کو منتخب کتب کے ساتھ ساتھ نقد انعام سے بھی نوازا گیا، جن میں فتاویٰ ختم نبوت (مکمل تین جلد )، ختم نبوت منزل بہ منزل (دو جلد) اور تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء قابل ذکر ہیں۔ جب کہ منصفین اور مہمان علماء کرام کو بھی کتب پیش کی گئیں۔ ان تمام پروگرامز کے انعقاد کے لئے مرکز کے ساتھ مل کر تمام مقامی حلقوں نے بڑی جاں فشانی سے کام کیا۔ الحمدللہ ! تمام پروگرامز بھر پور انداز میں کامیاب ہوئے ۔ مدارس کے منتظمین واساتذہ نے خوب معاونت کی۔ طلباء کرام نے بھی پوری تیاری کے ساتھ جاندار مقابلہ کیا ۔ اللہ تعالیٰ تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/مارچ ۲۰۱۶ء ص۲۳ تا ۲۷)
کل کراچی تقریری مقابلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ مقابلہ تین مرحلوں پر مشتمل تھا۔ پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر شہر کے ۱۶ مقامات پر مقابلے ہوئے، جن میں ۱۱۸ مدارس کے ۲۳۰ طلباء نے شرکت کی۔ پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء دوسرے مرحلے کے لئے منتخب ہوئے ۔ دوسرے مرحلے میں ضلع کی سطح پر شہر کے پانچ مقامات پر مقابلے ہوئے جن میں ۴۶ طلباء شریک ہوئے ۔ ضلع کی سطح پر پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کل کراچی مرکزی تقریری مقابلے میں شرکت کے اہل قرار پائے ۔
یہ مقابلہ ۲۳/جمادی الاولیٰ ۱۴۳۷ھ مطابق ۳/مارچ ۲۰۱۶ء بروز جمعرات، بعد نمازِ مغرب جامع مسجد باب الرحمت (دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نمائش کراچی) میں منعقد ہوا۔ مقابلہ کا عنوان ’’فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کا کردار‘‘ تجویز کیا گیا تھا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالحی مطمئن اور مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ سرانجام دے رہے تھے۔ تلاوت اور حمد ونعت کے بعد مقابلے کا آغاز ہوا۔ ضلعی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے درج ذیل ۱۵ طلباء نے مقابلہ میں حصہ لیا۔
- ۱...... محمد قاسم بن مفتی امتیاز عباسی، درجہ اولیٰ، ادارہ معارف القرآن۔
- ۲...... عطاءالرحمن بن خطیب عبدالرحمن، درجہ سادسہ، مدرسہ عربیہ اسلامیہ (شاخ جامعہ بنوری ٹاؤن)۔
- ۳...... نوید احمد، درجہ رابعہ، دارالعلوم رحمانیہ۔
- ۴...... حنیف اللہ بن سیف اللہ، درجہ رابعہ، جامعہ عثمانیہ لیاری۔
- ۵...... نوراللہ بن نورعالم، درجہ رابعہ، دارالعلوم نعمان بن ثابت ۔
- ۶...... عبدالواحد بن محمد اقبال، دورۂ حدیث، جامعہ تعلیم القرآن والسنہ۔
- ۷...... محمد عزیر بن مولانا عبدالرزاق، درجہ سادسہ، جامعہ بیت السلام ۔
- ۸...... عبدالقدوس بن عبدالقیوم، درجہ سابعہ، مدرسہ گلشن عمر رضی اللہ عنہ (شاخ جامعہ بنوری ٹاؤن)۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء
- ۹...... ہدایت اللہ بن محمد جعفر، درجہ رابعہ، جامعہ اسلامیہ کلفٹن ۔
- ۱۰...... شریف اللہ بن عظیم اللہ، درجہ تخصص، جامعہ عثمانیہ بھٹو کالونی۔
- ۱۱...... محمد کاشف بن عبدالجلیل، دورۂ حدیث، جامعہ فاروقیہ ۔
- ۱۲...... محمد حسن بن غلام محمد، درجہ سابعہ، جامعہ انوار العلوم شادباغ ۔
- ۱۳...... حسین احمد بن حاجی سلطان، درجہ ثالثہ، ادارۃ العلوم الاسلامیہ سہراب گوٹھ ۔
- ۱۴...... ضیاء الدین بن عاصم سیّد، درجہ اولیٰ، جامعہ عثمانیہ شیر شاہ ۔
- ۱۵...... ساجد اللہ بن یاسین، دورۂ حدیث، جامعہ بنوریہ عالمیہ ۔
تمام طلباء نے بھر پور تیاری کے ساتھ مقابلہ میں حصہ لیا۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے مفصل خطاب کیا۔ اس کے بعد نتیجے کا اعلان ہوا اور طلباء کو انعامات بھی دیئے گئے۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ٹاؤن کے ساجد اللہ نے پہلی ، ادارۃ العلوم الاسلامیہ سہراب گوٹھ کے حسین احمد نے دوسری اور مدرسہ عربیہ اسلامیہ (شاخ جامعہ بنوری ٹاؤن ) کے عطاء الرحمن نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ منصفین کے فرائض جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا شفیق الرحمن عطا، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا قاضی منیب الرحمن اور حلقہ کیماڑی کے ذمہ دار مولانا عارف انجام دے رہے تھے۔
پروگرام میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن، جمعیت علماء اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان، امیر مجلس کراچی مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا سیّد عتیق الحسن (استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن)، نائب مدیر اقرأ روضۃ الاطفال مفتی خالد محمود، مولانا نور الحق، قاری اللہ داد، مولانا عبدالرزاق ہزاروی، ایڈووکیٹ منظور احمد میو راجپوت، مولانا ابوطلحہ اور دیگر بہت سے علماء کرام نے شرکت کی۔ نمازِ عشاء کے بعد مجلس لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن صاحب نے بیان فرمایا، حضرت نے فرمایا کہ: یہ ”فتنوں کا دور ہے، ہر طرف مختلف قسم کے فتنے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے پھیلے ہوئے ہیں، ہمیں ان فتنوں سے بچنے کے لئے اپنی علمی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا، خصوصاً فتنہ قادیانیت وقت کا خطرناک فتنہ ہے، اس سے خود بھی بچنا اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی بچانا ہمارا ایمانی فریضہ ہے۔ آپ نے قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی مصنوعات خرید کر ہم قادیانیوں کو مالی لحاظ سے مستحکم کر رہے ہیں، انہی مصنوعات کے منافع سے وہ ہمارے مسلمانوں کو گمراہ کرتے اور فتنہ قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں ۔“ مفتی محمد حسن صاحب کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۶ء ص ۱۵، ۱۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس مؤرخہ ۲۷، ۲۸؍ ربیع الاول ۱۴۳۷ھ مطابق ۸، ۹؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اور مولانا اللہ وسایا نے کی۔ اجلاس میں سہ سالہ ممبر سازی کا آغاز کیا گیا اور طے ہوا کہ جہاں پچیس ممبر ہوں وہاں مجلس کا یونٹ تشکیل دیا جائے گا۔ ایک سے پچیس ممبران پر ایک رکن مرکزی مجلس عمومی کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ جو پچیس سے ایک سو تک، ایک سو ایک پر دو، دو سو ایک پر تین ممبران مرکزی نمائندے ہوں گے۔ ممبر سازی کا سلسلہ تیس شعبان المعظم ۱۴۳۷ھ تک جاری رہے گا۔ بعد ازاں مجالس کی تشکیلات عمل میں لائی جائیں گی۔ درج ذیل
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ۶۲۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات کو ناظم انتخابات مقرر کیا گیا۔ مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا توصیف احمد حیدرآباد ڈویژن، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص ڈویژن، مولانا مختار احمد تھرپارکر، بدین، عمرکوٹ، مولانا تجمل حسین نواب شاہ ڈویژن، مولانا محمد حسین ناصر سکھر ڈویژن، مولانا مفتی راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد اسحق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا محمد اقبال ڈیرہ غازیخان، راجن پور، مولانا قاضی عبد الخالق مظفر گڑھ، لیہ، مولانا حمزہ لقمان بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد نعیم میانوالی، خوشاب، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا غلام مصطفیٰ چنیوٹ، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبد الستار گورمانی خانیوال، وہاڑی، مولانا عبد الحکیم نعمانی ساہیوال، پاکپتن، مولانا عبد الرزاق قصور، اوکاڑہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا عبد النعیم شیخوپورہ، مولانا محمد خالد عابد ننکانہ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، نارووال، مولانا عبد الرشید سیال فیصل آباد، مولانا خبیب احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا محمد قاسم سیوطی منڈی بہاؤالدین، گجرات، مولانا محمد عارف گوجرانوالہ، حافظ آباد، مولانا مفتی خالد میر آزاد کشمیر اور مولانا محمد وسیم اسلم ملتان۔ مندرجہ بالا علماء کرام اپنے اپنے حلقوں میں اپنی نگرانی میں ممبر سازی اور انتخابات کرائیں گے۔ مقامی جماعتوں کو ممبر سازی کی بکوں کی ضرورت ہو تو مبلغ سے وصول کریں۔ تاحیات ممبر سازی کے لئے فیس رکنیت پانچ سو روپے مقرر کی گئی اور مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ تاحیات فیس رکنیت کی رسید مرکزی بک پر کاٹیں اور ”مد“ کے خانہ میں تاحیات فیس رکنیت لکھیں۔ مقامی جماعتوں کو براہ راست رکنیت سازی بکیں نہیں بھجوائی جائیں گی۔ رکنیت سازی کے بعد جدید انتخابات کے اجلاس سے گزشتہ عہدہ دار کالعدم تصور ہوں گے۔ ممبر سازی ۳۰؍ شعبان المعظم تک مکمل کر لی جائے۔
اجلاس میں درج ذیل مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ مولانا محمد عبد اللہ، حاجی اشتیاق احمد، مولانا سید عبد المجید شاہ ندیم، حاجی ریاض الحسن گنگوہی، مولانا سید در محمد شاہ، مولانا محمد عبد اللہ شیخ الحدیث، مولانا محمد طیب علوی، مولانا سید مسعود الحسن، مولانا عبد البر محمد قاسم، مولانا محمد یامین۔
بعض علاقوں میں مقامی احباب کی کوششوں سے معروف چوکوں کا نام ختم نبوت چوک رکھا گیا۔ علماء کرام کے اجلاس نے اس کا بھر پور خیر مقدم کیا اور نام تجویز و قبول کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ ملک کے کئی ایک علاقوں میں ختم نبوت کانفرنسیں تجویز کی گئیں۔ بعض علاقوں میں ختم نبوت کورسز کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ سہ ماہی کے لئے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ۲۷ (ستائیس) تجویز کی گئی۔ نیز آئندہ اجلاس جمادی الثانی کے آخر میں تجویز کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۶ء ص ۵۶،۵۵)
ختم نبوت کانفرنس کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ برنس روڈ کے زیر اہتمام ۱۸؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز پیر بعد نماز عشاء عظیم الشان سیرۃ خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی عظیم اسلامی اسکالر مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے مہمان ذی وقار کا شکریہ ادا کیا اور حاضرین مجلس کو خراج تحسین پیش کیا اور مجلس کی طرف سے سہ سالہ رکنیت سازی کا اعلان کیا۔ مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل نے شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت اور صورت دونوں لائق اتباع ہیں۔ پروگرام کی تیاری کے سلسلہ میں حلقہ برنس روڈ کے خدام ختم نبوت نے دن رات محنت کی جن میں راقم الحروف، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرؤف، محمد بن مستقیم، محمد مظہر، مولانا عبدالحمید، قاری محمد شاہد اور دیگر کئی احباب شریک محنت رہے۔ مقامی علماء کرام میں پیر طریقت مولانا نعمان ارمان مدنی، مولانا مفتی اسرار، مولانا تاج فراز، مولانا مسعود الرحمن، مولانا احسن اللہ، مولانا عمر خطاب، مولانا ثاقب انیس، مولانا رضاء اللہ، قاری عبدالرحمن، مولانا محمد ظفر اور حافظ محمد ہارون کے علاوہ کئی حضرات نے شرکت کی۔ اللہ کریم سب کی حاضری اور محنت کو قبول فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۶ء ص ۱۹)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس لیاقت آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ لیاقت آباد کے زیر اہتمام ۲۳؍ جنوری ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامعہ صدیقیہ لیاقت آباد نمبر ۹ نزد کرکٹ گراؤنڈ میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد کی گئی، جس کے مہمان خصوصی مجلس کے بزرگ رہنما مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی تھے۔ پروگرام کی ابتدا قاری محمد سلیم کی تلاوت سے ہوئی۔ حافظ محمد حبیب اللہ نعمان نے نعت پیش کی۔ مولانا سید عتیق الحسن الحسینی نائب امام و خطیب بنوری ٹاؤن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکابرین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ قادیانیت کا کفر پوری دنیا میں عیاں ہو چکا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ منکرین ختم نبوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں قادیانیوں کے کفریہ عقائد سے خبردار رہنے کی تلقین فرمائی۔ پیر صاحب کی دعاء پر یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۶ء ص ۲۱)
مولانا اللہ وسایا کا سیالکوٹ میں تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد عارف شامی دو روزہ تبلیغی دورہ پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ مبلغ ختم نبوت مولانا فقیر اللہ اختر نے سیالکوٹ کے مختلف مقامات پر مولانا اللہ وسایا کے بیانات ترتیب دیئے۔ ۵؍ فروری کو جامع مسجد نور فتح گڑھ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ بعد از نماز مغرب مولانا اللہ وسایا کو سیالکوٹ کے دفتر میں عشائیہ دیا گیا۔ پیر سید شبیر احمد گیلانی نے خصوصی شرکت فرمائی۔ بعد از نماز عشاء جامع مسجد نور چونڈہ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ کانفرنس سے مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا اللہ وسایا نے تفصیلی خطاب فرمایا۔
۶؍ فروری بروز ہفتہ کو مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر کے ہمراہ سیالکوٹ کی مشہور مذہبی شخصیت حکیم محمود احمد ظفر کے گھر ان کی اہلیہ کی تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے دعاء بھی فرمائی۔ بعد از نماز ظہر جامع مسجد الہدیٰ بٹر میں پیغام قرآن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تلاوت قاری محمد یوسف، نعت مولانا قاری نذیر نے پڑھی۔ بعد ازاں مولانا عبدالباسط فاروقی، مولانا قاری عبداللطیف، مولانا قاری منیر فرقان کے بیانات ہوئے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ نماز، روزہ، زکوۃ، حج جیسے اعمال انسان کے مرنے پر ختم ہو جاتے ہیں۔ جنت میں یہ سب اعمال نہیں ہوں گے۔ مگر قرآن کی تلاوت جنت میں بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہیں گے قرآن کی تلاوت کرتا جا اور جنت کی منزلیں طے کرتا جا۔ ایک دستار بندی تو یہ ہے جو ہم آج ان بچوں کی کر رہے ہیں ایک دستار بندی وہ بھی ہوگی جب اللہ حفاظ کے ماں باپ کی دستار بندی کرے گا اور ان کے سروں پر تاج پہنائے گا۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر، قاری عبداللطیف، قاری منیر فرقان نے بچوں کی دستار بندی کی۔ بعد از نماز مغرب مولانا اللہ وسایا نے جوئیاں ضلع سیالکوٹ میں ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور دعاء فرمائی۔ جوئیاں میں ہی بعد از نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا بشیر احمد قاسمی اور اویس احمد فاروقی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کتوزئی شبقدر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل کتوزئی شبقدر ضلع چارسدہ کے زیر انتظام ”عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس“ مؤرخہ ۶؍فروری ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ بوقت ایک بجے ظہر بمقام صدر گڑھی منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل شبقدر کے امیر مولانا میاں ایاز احمد حقانی کررہے تھے۔ جب کہ نظامت کے فرائض عبدالمعبود حقانی سرانجام دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ قاضی صاحب نے مختصر وقت میں عقیدۂ ختم نبوت پر جامع بیان فرمایا۔ جن دوسرے علماء نے اس موقع پر بیانات کئے ان میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا حزب اللہ جان امیر ضلع چارسدہ، مولانا عبدالرؤف شاکر نائب امیر ضلع چارسدہ شامل ہیں۔ کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقان مصطفیٰ ﷺ اور ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی۔ بہترین انتظام کرنے پر مقررین نے مولانا سید یوسف شاہ، مولانا اقبال شاہ اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ عظیم الشان کانفرنس مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی جامع اور مؤثر دعاء سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس قلعہ دیدار سنگھ
۷؍فروری ۲۰۱۶ء کو مرکزی جامع مسجد قلعہ دیدار سنگھ میں مولانا اللہ وسایا کا عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر مفصل بیان ہوا۔ مولانا قاضی عطاء الحسن نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا قاضی لقاء الحسن نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد عارف شامی، مولانا محمد عثمان، مولانا ابوسفیان اور مولانا لقاء الحسن کے بیانات ہوئے۔ آخری بیان مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۵۴)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا دورۂ بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۱۲؍فروری ۲۰۱۶ء بروز جمعہ بدین تشریف لائے۔ میرپور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد بھی مولانا جالندھری کے ہمراہ تشریف لائے۔ مولانا جالندھری نے خطبہ جمعہ جامع بسم اللہ مسجد بدین میں ارشاد فرمایا۔ مولانا محمد علی صدیقی نے مانجھی مسجد بدین میں جب کہ مولانا قاضی احسان احمد نے مدینہ مسجد گولارچی میں جمعہ پڑھایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر انتظام تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۱۳؍فروری ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز عشاء سکھر کی مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ نماز عشاء کے بعد مولانا قاری خلیل احمد کے پوتے قاری عمر شکیل نے تلاوت کی اور نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت جناب اللہ بخش اور جناب محمد راشد منگی نے حاصل کی۔ بعد ازاں مولانا محمد امین چنہ گھوٹکی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا عبدالمجیب قریشی پیر شریف، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا سعید یوسف اور مولانا راشد محمود سومرو نے بیانات فرمائے۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے فرمائی اور نقابت کے فرائض مولانا قاری جمیل احمد، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ مجلس ختم نبوت سکھر اور عبداللطیف اشرفی نے سرانجام دیئے۔ اس دوران اسٹیج پر مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا مفتی محمد شفیع اندھڑ، مولانا الٰہی بخش ٹانوری، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفتی قمر الدین ملانو، مفتی عبدالغفار جمالی، مولانا تجمل حسین، مولانا سعود افضل ہالیجوی، مولانا محمد صالح اندھڑ اور دیگر علماء موجود تھے۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے امیر آغا سید محمد شاہ علالت اور نقاہت کے باوجود وہیل چیئر پر تشریف لائے اور تقریباً کانفرنس کے اختتام تک تشریف فرما رہے۔ کانفرنس انتظامات، تقاریر، نظم و ضبط کے اعتبار سے لائق تقلید تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص۵۳)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۸ سے ۲۵/فروری ۲۰۱۶ء تک ایک ہفتہ کے تبلیغی دورہ پر اسلام آباد تشریف لائے۔ جہاں آپ نے جامع مسجد غفوریہ ۲-۱۱-جی میں ختم مشکوۃ شریف کے پروگرام میں شرکت کی۔ ۱۹/فروری کا خطبہ جمعہ جامع مسجد مغیرہ بن شعبہ ۳-۱۰-جی میں ارشاد فرمایا۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد طیبہ ۳-۷-جی میں خطاب کیا۔ ۲۰/فروری بعد نماز ظہر جامع مسجد الرحیم ۱-۸-آئی بعد نماز عصر جامع مسجد فاروق اعظم ۳-۹-جی بعد نماز مغرب جامع مسجد تقویٰ ۴-۹-جی میں بیانات فرمائے۔ ۲۱/فروری جامع مسجد اصحاب صفہ ۴-۱۰-جی بعد نماز عصر ۳-۱۱-جی مدنی مسجد، بعد نماز مغرب جامع مسجد سید ابوایوب انصاری۔ ۲۲/فروری بعد نماز عصر مدنی مسجد نیڈو گرہ۔ ۲۳/فروری بعد نماز مغرب مرکز اصلاح و ارشاد ٹیکسلا۔ ۲۴/فروری ۳ بجے سہ پہر جامعہ اسلامیہ صدر، بعد نماز عشاء جامع مسجد الہدیٰ پشاور روڈ راولپنڈی۔ ۲۵/فروری بعد نماز مغرب جامع مسجد توحیدیہ چک شہزاد اسلام آباد میں خطابات فرمائے۔ معروف پیر طریقت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی مدظلہ، مولانا عبدالغفور قریشی مدظلہ ٹیکسلا، مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا خلیق الرحمٰن چشتی، قاری محمد یوسف، قاری امیر الدین، مولانا عبدالرشید کوثر، قاری عبدالعزیز، مولانا عبدالقیوم شاکر، قاری عبدالوحید قاسمی اور دیگر علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ نیز روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر جناب مہتاب احمد خان، کالم نگار جناب سیف اللہ خالد، نامہ نگار جناب عمر فاروق سے ملاقاتیں کیں۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، مولانا قاضی مشتاق احمد کی سرپرستی حاصل رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص۵۴، ۵۵)
ایک روزہ رد قادیانیت کورس قصور
۲۲/فروری ۲۰۱۶ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رحیمیہ بھسر پورہ قصور میں ایک روزہ تربیتی کورس طلباء وطالبات میں منعقد ہوا۔ مولانا اللہ وسایا، مبلغ قصور مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا عبدالنعیم مبلغ لاہور نے لیکچر دیا اور نوٹس تیار کرائے۔ شرکائے کورس میں اسناد اور ختم نبوت کے عنوان پر فری لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ الحمد للہ! حاضری بھرپور رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص۵۲)
ختم نبوت کانفرنس قصور
۲۲/فروری ۲۰۱۶ء بروز پیر بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد گنبد والی میں منعقد ہوئی۔ جناب حافظ محمد رفیع نے تلاوت اور مولانا سیف الرحمٰن، مولانا نعیم الرحمٰن، مولانا جاوید افتخار احمد نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیں۔ قصور کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد نے ختم نبوت کانفرنس کی غرض و غایت بیان کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے امیر قاری مشتاق احمد رحیمی نے مختلف قرأتوں میں تلاوت قرآن پاک کی۔ مولانا اللہ وسایا نے جماعتی کامیابیوں کو بیان کیا۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا امجد خان نے سیرت رسول ﷺ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سید زبیر شاہ ہمدانی نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تین روزہ ۲۳؍ فروری تا ۲۵؍ فروری ۲۰۱۶ء بروز منگل، بدھ، جمعرات بخاری مسجد کنری تحفظ ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رحیم یار خان کے مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے کورس کے شرکاء کو عقیدہ ختم نبوت، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان جیسے موضوعات پر لیکچر دیا۔ مفتی صاحب نے کورس کے آخری روز تجارت کے شرعی اصول بیان کئے جس میں کنری شہر کی تاجر برادری نے خصوصیت کے ساتھ شرکت کی۔ آخر میں سوال و جواب کی نشست ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص۶)
جامعہ فاروقیہ میں ختم نبوت کانفرنس
جامعہ فاروقیہ جڑانوالہ روڈ فیصل آباد میں ۲۵؍ فروری ۲۰۱۶ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا نے تفصیلی بیان فرمایا۔ نگرانی مولانا وحید اللہ نے کی۔ علاقائی علماء کرام نے بھرپور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص۵۰)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ چکوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چکوال کے تین روزہ دورہ پر تشریف لے آئے۔ آپ نے ۲۶؍ فروری کے جمعتہ المبارک کا خطبہ دارالعلوم حنفیہ کی جامع مسجد میں جمعیت علماء اسلام س کے مرکزی امیر مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی مدظلہ کی خصوصی دعوت پر دیا۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد اصحاب صفہ، مولانا زاہد توحیدی، بعد نماز عشاء ملت چوک کی جامع مسجد مولانا ممتاز الحق صدیقی کی جامع مسجد میں خطاب فرمایا۔ ۲۷؍ فروری جامعہ تدریس القرآن مولانا عتیق الرحمن، مولانا مفتی محمد معاذ کی دعوت پر طلباء اور اساتذہ کرام سے ۱۱ سے ۱۲ بجے تک خطاب فرمایا۔ تحریک خدام اہل سنت کے مرکزی امیر مولانا قاضی ظہور حسین اظہر، حافظ عبدالوحید حنفی جناب انجم نیازی سے ملاقات کی۔ بعد نماز عشاء جامعہ اظہار الاسلام کے اساتذہ وطلباء سے خطاب فرمایا۔ مہتمم جامعہ مولانا مفتی جمیل الرحمن مدظلہ، مولانا عطاء الرحمن اور دیگر اساتذہ کرام سے ملاقات کی۔ ۲۸؍ فروری ۱۱ بجے صبح جامعۃ الحبیب کے طلباء واساتذہ کرام سے خطاب فرمایا۔ مولانا محمود الحسن نقشبندی اور دیگر اساتذہ کرام نے خیر مقدم کیا۔ بعد نماز ظہر بھون کی مکی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس مولانا مفتی محمد معاذ امیر چکوال کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مولانا شجاع آبادی نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ جب کہ نعتیہ کلام جناب فاروق معاویہ نے پیش کیا۔ مدارس کے طلباء کو شعبان المعظم میں چناب نگر میں منعقد ہونے والے سالانہ کورس میں شرکت کی دعوت دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۶ء ص۵۵)
فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ نور پورہ ستیانہ روڈ ۲۸؍ فروری ۲۰۱۶ء بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری غلام مرتضیٰ عطاری نے کی۔ نعت قاری محمد سعید مدنی، محمد اکرم چشتی، حافظ محمد سجاد نے پڑھی۔ مولانا اللہ وسایا، قاری محمد یعقوب، علامہ اسحاق بریلوی، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا سید حبیب احمد شاہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی سرپرستی پیر فاروق ناصر شاہ، مولانا محمد طیب شاہ نے کی۔ کانفرنس پیر سید فاروق شاہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا شجاع آبادی کا دورۂ لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی گزشتہ دنوں ضلع لکی مروت کے مدارس کے دورے پر آئے۔ ۶؍مارچ ۲۰۱۶ء جامعہ عثمانیہ عثمان آباد لکی مروت حاضری ہوئی، وہاں پر اساتذہ اور طلباء سے خطاب کیا۔ اس کے بعد جامعہ دارالہدٰی لکی مروت میں تشریف لے گئے اور وہاں پر بعد از نماز ظہر مسجد کے ہال میں جامعہ کے سب اساتذہ وطلباء اور نمازیوں سے ختم نبوت پر تفصیلی خطاب کیا۔ اس کے بعد دارالعلوم بنوری ٹاؤن لکی، دارالعلوم حلیمیہ درہ پیزو اور جامعہ تعلیم الاسلام سرائے نورنگ بھی تشریف لے گئے اور ہر مدرسے میں اساتذہ وطلباء سے تفصیلی خطابات ہوئے اور طلباء کو ’’ختم نبوت کورس چناب نگر‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔ بعد ازاں میڈیا سینٹر سرائے نورنگ میں صحافیوں کو بھی ختم نبوت کورس پر بریفنگ دی۔ اس دورے میں مولانا عبد الرحیم، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، صاحبزادہ امین اللہ جان آپ کے شانہ بشانہ رہے۔ اسی دورے کے دوران مولانا شجاع آبادی نے جامعات کے شیوخ الحدیث مولانا محمد انور (درہ پیزو)، مولانا شیخ حسین احمد (نورنگ)، مولانا قاری شفیع اللہ (لکی سٹی) سے تفصیلی گفتگو کی اور انہیں دعوت دی کہ اپنے طلباء کو اپنی نگرانی میں کورس میں شرکت کے لئے روانہ فرمائیں۔ اس کے علاوہ مولانا شجاع آبادی نے مقامی عہدیداروں کے ساتھ مولانا محمد طیب طوفانی کے والد محترم ڈاکٹر غلام نبی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶تا ۲۲؍اپریل ۲۰۱۶ء ص ۱۶)
ختم نبوت کورس بنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ نظام العلوم چار بجلی چوک بنوں ۷، ۸؍مارچ ۲۰۱۶ء کو ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ صدارت مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی نے کی۔ ۷؍مارچ جامعہ کے مہتمم مولانا امداد اللہ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت قرآن وسنت سے بیان کی۔ مولانا عابد کمال نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے علمائے کرام کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات اور رفع ونزول عیسٰی علیہ السلام قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرمایا۔ ۸؍مارچ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی حیات عیسٰی علیہ السلام کے خلاف قادیانیوں کے عقلی شبہات کے جوابات بیان فرمائے۔ مولانا محمد عابد کمال نے اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی، آخری خطاب مولانا امداد اللہ نے فرمایا۔ کورس کا دورانیہ ظہر سے عصر تک رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس صوابی
۱۳؍مارچ ۲۰۱۶ء کو صبح آٹھ بجے تا نماز عصر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ہزاروں عوام نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت ضلعی امیر مولانا اعزاز الحق شاہ منصور نے کی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلوئی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا قاضی راشد الحسینی اٹک، قاری اکرام الحق مردان، مولانا رضوان عزیز چناب نگر، مولانا عطاء الحق درویش، مولانا خلیل احمد مخلص، مولانا عبد الہادی، مولانا حزب اللہ جان چارسدہ، مولانا نور الہادی نے خطاب کیا۔ مولانا محمد قاسم گجر لاہوری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
۱۴؍مارچ ۲۰۱۶ء بعد از نماز مغرب جامع مسجد یوسف بنوری ملحقہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ بنوری ٹاؤن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی پیر طریقت مولانا حافظ محمد ناصر الدین خاکوانی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت تھے۔ کانفرنس کی نقابت کے فرائض مولانا قاسم نے سرانجام دیئے۔ تلاوت مولانا عبدالوکیل نے کی۔ نعت کی سعادت اویس احمد فاروقی، مولانا قاسم گجر، مولانا خاکوانی صاحب کے خادم جناب جعفر کو حاصل ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد طیب، مولانا مفتی عثمان، مولانا شاہ نواز فاروقی، پیر سید شبیر احمد گیلانی، مولانا اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم العالیہ نے خطاب فرمایا۔ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا سیالکوٹ کا تبلیغی سفر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اسماعیل شجاع آبادی ۱۴؍ مارچ ۲۰۱۶ء تبلیغی دورہ پر سیالکوٹ تشریف لائے۔ سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے سیالکوٹ کے مختلف مقامات پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ترتیب دیئے۔ چناب نگر سالانہ کورس کے سلسلہ میں سیالکوٹ کے مدارس میں تشریف لے گئے۔ دارالعلوم الشہابیہ رنگپورہ سیالکوٹ میں مولانا محبوب الٰہی صاحب اور دوسرے اساتذہ نے بھرپور استقبال کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سالانہ ختم نبوت کورس کی افادیت اور اس کے ثمرات پر روشنی ڈالی اور طلباء جامعہ سے بھرپور شرکت کا وعدہ لیا۔ بعد ازاں جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ پیر سید شبیر احمد گیلانی اور ان کے رفقاء نے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کو اپنے دفتر برف خانہ چرچ روڈ سیالکوٹ میں ظہرانہ دیا۔ سیالکوٹ کی مشہور مذہبی شخصیت حکیم محمود احمد ظفر صاحب کے گھر ان کی اہلیہ کی تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔ مرحومہ کا کچھ عرصہ پہلے بیرون ملک سفر میں انتقال ہوا تھا۔ مولانا نے حکیم محمود ظفر اور ان کے اہل خانہ سے مرحومہ کی تعزیت کی اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے دعاء بھی فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶تا۲۲؍اپریل ۲۰۱۶ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بمقام مرکزی جامع مسجد ختم نبوت کنگنی والہ گوجرانوالہ میں ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۶ء بروز منگل بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی تیاری شہر بھر میں خوب کی گئی تھی۔ اشتہارات، فلکس بینرز سے پوری طرح تشہیر کی گئی۔ پہلی نشست میں تلاوت قاری محمد ابوبکر خالد نے کی۔ نعت حافظ محمد حسان شاہد رامپوری نے پڑھی۔ افتتاحی بیان مولانا مفتی محمد غلام نبی کا ہوا۔ مفتی صاحب نے نسل نو کو موجودہ دور میں جو فتنے جنم لے رہے ہیں ان سے آگاہ کیا۔ مفتی صاحب کے بعد ملک کے مشہور نعت خواں حافظ فیصل بلال حسان نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا شاہ نواز فاروقی کا بیان ہوا۔ آپ نے عقیدہ ختم نبوت کو قرآن و احادیث، اجماع امت اور قیاس سے ثابت کیا اور کہا صحابہ کرامؓ کی عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کے لئے قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ بعد از نماز عشاء کانفرنس کی دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ تلاوت قاری محمد یوسف عثمانی نے کی۔ نعت قاری ارشد محمود صفدر عالمی ایوارڈ یافتہ نے پیش کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحاریک ختم نبوت پر خوب روشنی ڈالی۔ آخری اور مفصل بیان پیر ناصر الدین خاکوانی صاحب مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہوا۔ نقابت کے فرائض مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عمر حیات نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
جمعہ ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۶ء ۱۱؍بجے تا نماز عصر جامع مسجد ختم نبوت بیگ کالونی جھنگ نیا شہر میں پندرھویں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد علی شورکوٹ نے خطبہ جمعہ دیا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صبح ہی تشریف لے آئے تھے۔ آپ نے خطبہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعہ اور نماز جمعہ کی جماعت کروائی۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن نے اکابرین تحریک ختم نبوت کی خدمات بیان کیں۔ اس کے بعد مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد صدیق جمعیۃ اہل حدیث، مولانا شوکت علی، مولانا غلام حسین اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے خطاب فرمایا۔ طاہر بلال چشتی اور حافظ سیف اللہ خالد نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ آخر میں مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ نے دعاء فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس لیہ
امسال ۱۸/ مارچ ۲۰۱۶ء کو جمعہ سے قبل اور جمعہ کے بعد دو نشستیں منعقد ہوئی۔ جمعہ سے قبل نقشبندی اجتماع منعقد ہوا جس سے حضرت خاکوانی صاحب مدظلہ نے اصلاحی خطاب فرمایا۔ جمعہ کے بعد ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقادر ڈیروی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خطابات ہوئے۔ صدارت ضلعی امیر مولانا محمد حسین نے کی۔ انتظامات مولانا قاری عبدالشکور کی نگرانی میں طے ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محلہ مصطفیٰ کے زیر اہتمام ۱۸/ فروری ۲۰۱۶ء بعد نماز عشاء سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کی سعادت ڈاکٹر قاری صولت نواز نے حاصل کی۔ نعت حافظ یونس داؤد فاروقی، قاری محمد سعید مدنی اور قاری طلحہ محمود ہمدانی نے پیش کی۔ جب کہ مولانا اللہ وسایا، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا غلام محمد، مولانا سید حبیب احمد شاہ، مولانا عبدالرشید سیال کے بیانات ہوئے۔ نقابت کے فرائض صاحبزادہ مبشر محمود نے سرانجام دیئے۔ جامعۃ الحسنین کے استاذ مولانا عبیدالرحمان مہمان خصوصی تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس چک نمبر ۱۰۵ا پیر جگی موڑ ضلع لیہ
۲۰/ مارچ ۲۰۱۶ء صبح گیارہ بجے تا نماز عصر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا پیر غلام محمد دین پوری نے کی۔ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مفتی محمد ادریس، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس قبل مغرب حضرت خاکوانی صاحب مدظلہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ انتظامات کے فرائض چوہدری مشتاق احمد گجر اور ان کے رفقاء نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
۲۰/ مارچ ۲۰۱۶ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامعہ تفسیریہ شمس العلوم رحیم یار خان منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ضلع بھر سے ختم نبوت کے پروانے پہنچے۔ دارالعلوم دیوبند سے بھی قدیم دینی درسگاہ جو ایک عظیم تاریخ رکھتی ہے جس جامع میں قطب الاقطاب خلیفہ غلام محمد دین پوری جیسی ہستیاں بھی علمی پیاس بجھاتی رہی ہیں۔ اس دینی درسگاہ کی بلندیاں آج بھی آب و تاب سے جاری وساری ہیں۔ دورۂ حدیث میں شامل اڑھائی صد سے زائد طلباء سمیت سینکڑوں کی تعداد میں علماء، طلباء، تاجر، وکلاء ہر طبقہ تک کے محبین ختم نبوت مدرسہ شمس العلوم میں مولانا اللہ وسایا بیان فرمارہے تھے۔ مجمع جہاں ایمانی حرارت بڑھا رہا تھا وہیں معلومات کا ذخیرہ محفوظ کر رہا تھا۔ مولانا نے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمرانوں کو مخاطب کر کے فرمایا: سنو حکمرانو! سب کچھ برداشت ہوسکتا ہے مگر محمد عربی ﷺ کی ناموس کے متعلق ایک حرف بھی برداشت نہیں ہوسکتا۔ کوششیں کرنے والے مٹ جائیں گے۔ 295/C آئین کو نہیں مٹنے دیں گے۔ ان کے علاوہ قاضی احسان احمد کراچی سے تشریف لائے۔ مولانا راشد مدنی اور جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری بھی تشریف لائے اور حکمرانوں کو جھنجھوڑتے رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۴)
رحیم یار خان بار سے خطاب
۲۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو معزز ججز اور وکلاء حضرات کالے کوٹ پہنے عدالت کے ہال میں منتظر تھے اور صدر بار مجاہد ختم نبوت سلیم اللہ خان جتوئی اور جنرل سیکرٹری سید فہد صہیب بار سے باہر پھولوں کے ہار لئے کھڑے تھے اور منتظر تھے مولانا اللہ وسایا کے۔ صدر بار جتوئی صاحب مولانا اللہ وسایا کو لے کر اندر چلے تو سبھی نے استقبال کیا۔ خطاب شروع کرنے سے قبل صدر بار جتوئی صاحب نے مقدمہ بہاولپور کا والہانہ تذکرہ کیا۔ جسٹس اکبر کی جرأت و بہادری کا ذکر خیر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی یاد میں سیمینار ہوچکا ہے رحیم یار خان بار میں اور بار کی لائبریری کا نام بھی انہی کے نام سے اکبر لائبریری معنون کروانے میں صدر بار سلیم اللہ جتوئی کا اعلیٰ کردار ہے۔ بعد ازاں ججز اور وکلاء کی بڑی تعداد کی موجودگی میں مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت پر عقلی، نقلی دلائل کے انبار لگانا شروع کئے۔ اس موقع پر مولانا راشد مدنی اور قاضی احسان احمد بھی موجود تھے۔ فخر السادات سید فہد نے سعید ایڈووکیٹ سے مل کر پروگرام کو کامیاب بنانے میں دن رات محنت کی۔ آخر میں صدر بار جتوئی صاحب نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم آئندہ بھی ختم نبوت کے ان حضرات کے منتظر ہیں کہ ہمیں خدمت کا موقع دیں۔ بعد ازاں تمام شرکاء کی ضیافت کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس خانپور
۲۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء گرین ٹاؤن خانپور شہر کی نئی آبادی کا حصہ ہے۔ جہاں تیزی سے قادیانی آباد ہورہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ تاریخ ساز کارنامہ ہے کہ پوری دنیا کے چپے چپے پر جہاں بھی قادیانی پائے گئے وہیں مبلغین ختم نبوت پہنچے۔ جہاں ان قادیانیوں کو دعوت اسلام دی وہیں سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان بھی بچایا۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ختم نبوت کانفرنس گرین ٹاؤن خانپور تھی۔ جسے جناب میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کی زیر سرپرستی و نگرانی منعقد کیا گیا۔ کانفرنس کی میزبانی کا شرف مرکزی جامع عبداللہ بن مسعود کے مہتمم مولانا حماد اللہ درخواستی کو حاصل ہوا۔ عصر کی نماز پر جناب میاں مسعود احمد دین پوری تشریف لے آئے جو کہ اکثر اپنی مجالس میں فرماتے ہیں کہ میری جماعت تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہی ہے۔ جب بھی مجلس کے اکابر آئیں جناب میاں صاحب مدظلہ کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ کانفرنس میں عصر کے وقت ہی خطاب فرمایا۔ اکابر کے واقعات سے سامعین کے ایمانوں کو گرمایا۔ بعد از نماز مغرب مولانا راشد مدنی اور قاضی احسان احمد کا پرجوش اور ولولہ انگیز خطاب ہوا۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا سٹیج پر تشریف لائے۔ مسجد بلا مبالغہ تنگی داماں کا نظارہ پیش کررہی تھی۔ آخر میں مولانا حماد اللہ درخواستی نے بیان فرمایا۔ دعائے خیر ہوئی اور کانفرنس بخیر و خوبی انجام کو پہنچی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۴، ۵۳)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس خانیوال
سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۶ء بروز منگل بعد نماز عشاء خانقاہ مالکیہ مینار مسجد خانیوال میں پیر خواجہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالماجد صدیقی ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد از نماز عشاء قاری محمد ذوالفقار اور قاری اشفاق احمد کی تلاوت سے ہوا۔ ھدیہ نعت حافظ حبیب الرحمن نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، سفیر ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، ضلعی مبلغ مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا عطاء المنعم نعیم، مولانا محمد عباس اختر و دیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس خواجہ عبدالماجد صدیقی کی رقت آمیز دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۵)
فیصل آباد الفتح گراؤنڈ کی سالانہ کانفرنس
الفتح گراؤنڈ فیصل آباد کی سالانہ کانفرنس ۲۴ مارچ ۲۰۱۶ء بعد نماز مغرب ہوئی جس میں مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا محمد اسماعیل محمدی لاہور، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ساہیوال، مولانا اعجاز مصطفیٰ امیر مجلس کراچی، مولانا سید عاشق شاہ لاہور، مولانا عبدالحمید وٹو قلعہ دیدار سنگھ نے خطاب کیا۔ نعتیہ کلام جناب فیصل بلال، حافظ حسان شاہد رامپوری، مفتی سعید مدنی، مولانا محمود مدنی، سید قاری طلحہ محمود ہمدانی نے پیش کیا۔ کانفرنس مولانا سید جاوید حسین شاہ، مولانا سید فاروق ناصر شاہ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض مولانا مفتی حبیب شاہ، مولانا عبدالرشید سیال نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کی زیر سرپرستی اور صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کی زیر صدارت سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۴ / مارچ ۲۰۱۶ء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد زبیر کی تلاوت سے ہوا۔ نعمان بدیع اور محمد زکریا نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا نور محمد نے نقابت کی۔
بیانات مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا اللہ وسایا، مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد امجد خان، مفتی طاہر مسعود، مولانا عبدالرشید، مفتی عبدالقدوس، مولانا سمیع اللہ، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا ظہیر احمد، حافظ محمد وسیم اور جناب محمد عرفان کے ہوئے۔
کانفرنس میں خصوصی شرکت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد اور صاحبزادہ خلیل احمد نے کی۔ ہزاروں عاشقان مصطفیٰ نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ مئی ۲۰۱۶ء ص ۲۳)
ملک وال ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۵ / مارچ ۲۰۱۶ء کو مغرب کے بعد میلاد چوک میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، جس کے لئے بھر پور محنت کی گئی اشتہارات، پینا فلیکس، دعوت نامے، اسٹیکرز غرضیکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مجلس کے کارکن اپنے ضلعی امیر، ضلعی مبلغ مولانا قاری عبدالواحد، مولانا محمد قاسم سیوطی کی نگرانی میں شب و روز محنت میں مصروف رہے۔ اتفاق سے ۲۵ / مارچ صبح سے بارش کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا، تمام انتظامات دھرے رہ گئے تو مجبوراً ایک جامع مسجد میں کانفرنس کو منتقل کرنا پڑا، چنانچہ کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا قاضی کفایت اللہ، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب، مولانا محمد عارف شامی مبلغ گوجرانوالہ، جناب برق نے خطاب کیا۔ نعتیہ کلام وقفہ وقفہ سے مولانا محمد قاسم گوجرانوالہ پیش فرماتے رہے اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ کانفرنس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین اور ہمارے مخدوم زادہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے کی اور حضرت کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ مئی ۲۰۱۶ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بنوں
پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو بمقام حافظ جی مسجد بنوں میں منعقد ہوئی۔ مجلس کے ضلعی امیر مولانا عظمت اللہ سعدی کی شب و روز محنت سے جہاں بنوں کا بچہ بچہ عقیدہ ختم نبوت سے روشناس ہوا وہاں اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ علاوہ ازیں مدارس سے طلباء، سکول، کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے بھی بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت نائب امیر مرکزیہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری ظاہر اللہ کی تلاوت سے ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا شمس الحق حقانی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے بیان کیا۔ جب کہ خطبہ جمعہ قاضی احسان احمد نے ارشاد فرمایا۔ دوسری نشست کی صدارت مولانا عبدالغفور نقشبندی نے فرمائی۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا اللہ وسایا نے شرکائے کانفرنس کو فتنہ قادیانیت اور ان کی سازشوں سے آگاہ فرمایا۔ مولانا عظمت اللہ سعدی نے قراردادیں پیش کیں۔ کانفرنس کا اختتام مولانا عبدالغفور نقشبندی کے وعظ اور دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص۵۴)
ختم نبوت کورس ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ڈیرہ ختم نبوت مسجد کمشنری بازار میں ۲۵ تا ۲۷؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو سہ روزہ کورس رکھا گیا۔ جس میں بندہ (مولانا محمد اسماعیل) نے بھی شرکت کرنا تھی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات خانقاہ موسیٰ زئی شریف میں منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونا تھا، ان کے حکم پر راقم مولانا عمر حیات کی معیت میں سرگودھا حاضر ہوا۔ انہیں اور مولانا راشد مدنی کو لے کر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے روانہ ہو گئے۔ مولانا راشد تو خانقاہ سراجیہ کے لئے کندیاں موڑ اتر گئے، بقیہ حضرات مولانا محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں ڈیرہ کے لئے روانہ ہوئے، چشمہ بیراج کے راستہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے۔ مولانا طوفانی ڈیرہ سے خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے لئے روانہ ہو گئے۔ ڈیرہ کورس میں ۲۵؍ مارچ کو مقامی علماء کرام مولانا مفتی عبدالواحد قریشی، قاری محمد خالد گنگوہی اور دیگر کے لیکچر ہوئے۔ ۲۶؍ مارچ کو تین سے پونے چار تک تلاوت و نعت کے بعد ضلعی مبلغ مولانا حمزہ لقمان نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ پونے چار سے سوا پانچ تک راقم (مولانا محمد اسماعیل) نے قادیانیوں اور مسلمانوں کے فرق پر روشنی ڈالی۔ نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع و نزول پر تفصیلی بیان کیا اور قادیانیوں کے عقلی اور نقلی اشکالات کے جوابات دیئے۔ نیز رات کو عشاء کے بعد شور کوٹ یونٹ کے زیر اہتمام جامع مسجد فاروق اعظم میں جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا حمزہ لقمان، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور راقم (مولانا محمد اسماعیل) کے بیانات ہوئے اور جلسہ رات گئے تک جاری رہا۔ رات کا قیام مولانا مفتی عصمت اللہ کے ہاں رہا۔ ۲۶؍ مارچ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے جامعہ معارف شرعیہ میں حاضری دی۔ بعد نماز ظہر کورس کی تیسری نشست ہوئی، جس سے مولانا محمد نعیم اور راقم الحروف کے لیکچرز ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ مئی ۲۰۱۶ء ص۲۶، ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ جامع مسجد مجیدی سرائے نورنگ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی پہلی نشست صبح آٹھ بجے مولانا مفتی عبدالغفار کی صدارت میں شروع ہوئی۔ تلاوت حافظ محمد اور حافظ ذبیح اللہ ادہمی نے کی۔ سٹیج
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری کے فرائض ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ اور مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے سرانجام دیئے۔ نعت حافظ مبشر، محمد ابراہیم خلیلی اور امیر حسین نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد طیب طوفانی، ماسٹر عمر خان تاجہ زئی، مولانا حبیب الرحمن، مولانا عبدالحمید، مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے ۔ مولانا مفتی عبدالغفار نے پہلی نشست کی اختتامی دعاء کرائی ۔ نماز ظہر کے بعد مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی صدارت میں دوسری نشست شروع ہوئی ۔ قاری صفی اللہ نے تلاوت فرمائی ۔ نعت ابراہیم خلیلی اور امیر حسین نے پیش کی ۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے بیانات فرمائے ۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں علماء کرام، مدرسین حضرات، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، سرکاری ونجی اداروں کے ذمہ دار، تاجر برادری اور خصوصی طور پر صحافی حضرات نے شرکت کی ۔ کانفرنس مولانا محمد شہاب الدین پوپلزئی کی رقت آمیز دعاء سے اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۶ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن ٹو پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹاؤن ٹو پشاور کے زیر انتظام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس بتاریخ ۳؍ اپریل ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد از نماز ظہر چہل غازی بابا گراؤنڈ ورسک روڈ میں منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کی سرپرستی تلمیذ رشید شیخ الاسلام حضرت مدنی شیخ الحدیث مولانا محمد مطلع الانوار نے کی ۔ نقابت کے فرائض مولانا قاری محمد اسحاق نے انجام دیئے ۔ کانفرنس کا آغاز قاری عبیدالرحمن کی تلاوت سے ہوا ۔ نعت رسول ﷺ کی سعادت قاری فضل امین آف چارسدہ نے حاصل کی ۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی تھے ۔ مولانا اکرم طوفانی نے مختصر وقت میں عقیدہ ختم نبوت اور کردار مرزا پر جامع بیان فرمایا ۔ جن دوسرے علماء نے اس موقع پر بیانات کئے ۔ ان میں مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا قاری اکرام الحق، پیر حزب اللہ جان شامل ہیں ۔ اس دوران سٹیج پر مفتی ازہداللہ، مولانا عابد کمال صوبائی مبلغ، پیر سید سجاد سبحان، حاجی فرید اللہ خان، انجینئر فرید اللہ ٹاؤن ممبر، چاچا عنایت اور دیگر علماء موجود تھے ۔ خراب موسم اور بارش کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عاشقان مصطفیٰؐ اور ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی ۔ یہ عظیم الشان کانفرنس مفتی زاہد اللہ صاحب کی دعاء سے اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹؍ اپریل ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد ہاجرہ یعقوب اقراء روضۃ الاطفال اعوان مارکیٹ چونگی امرسدھو فیروز پور روڈ لاہور میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے نائب امیر مرکزیہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان، مولانا مفتی محمد حسن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا مفتی عزیز الرحمن، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عتیق الرحمن سمیت کئی ایک حضرات علمائے کرام نے خطاب کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۴، ۵۵)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس شبقدر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل شبقدر کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس بتاریخ ۱۰؍ اپریل ۲۰۱۶ء بروز اتوار، بمقام گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سبحان خوڑ شبقدر منعقد ہوئی ۔ کانفرنس صبح ۸؍ بجے سے شام ۶؍ بجے تک جاری رہی ۔ صدارت مولانا میاں ایاز احمد حقانی نے فرمائی ۔ جب کہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالمعبود حقانی نے انجام دیئے ۔ کانفرنس کا آغاز حافظ حسین احمد ایاز، مولانا قاری مہربان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شاہ اور مولانا قاری نصیر اللہ ندیم کی تلاوت سے ہوا۔ پہلی نشست میں مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ مولانا نے عقیدۂ ختم نبوت پر تفصیلی جامع اور موثر بیان فرمایا۔ آپ کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن ہزاروی ، مولانا مفتی عبداللہ شاہ اور حاجی سید رحیم شاہ باچا نے ختم نبوت کے موضوع پر بیانات کئے۔ جب کہ مولانا مفتی طاہر اللہ درویش نے قراردادیں پیش کیں۔ نماز ظہر کے بعد دوسری نشست شروع ہوئی۔ قاری فضل امین شاہ ، حافظ عبدالسلام عارف ، حافظ سعد اللہ جان، قاری نادر شاہ اور فضل غفار نے وقفے وقفے سے نعت خوانی کی۔ دوسری نشست میں مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا الیاس گھمن ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا حسین احمد صدیقی اور مجلس کے ضلعی امیر مولانا حزب اللہ جان نے خطبات ارشاد فرمائے ۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی دعاء سے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
ہر تین ماہ کے بعد مجلس کے مبلغین کا اجلاس ملتان مرکز میں منعقد ہوتا ہے۔ جس میں شعبہ تبلیغ سے منسلک تمام علماء کرام شرکت فرماتے ہیں ۔ اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی کی کارکردگی کا جائزہ اور آنے والی سہ ماہی کے پروگرام تشکیل دیئے جاتے ہیں ۔ چنانچہ مبلغین کا اجلاس ۱۴؍اپریل بروز جمعرات مولانا غلام مصطفیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا۔
مرحومین کے لئے ایصال ثواب کیا گیا جس میں شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق ملتان، مولانا عبیداللہ اشرفی المفتی لاہور، قاری محمد انور شہداد پور ، میاں رشید احمد کنری ، پروفیسر عطاء اللہ اعوان بہاول پور، مولانا اللہ بخش انور بہاول پور، جناب محمد شفیع ہاشمی ، حافظ محمد صدیق رحیم یار خان ، محمد طاہر انجم فیصل آباد، قاری عبدالحمید قصور، حافظ علی محمد صدیقی ، محمد طارق برادر عزیز الرحمن رحمانی، حافظ فیاض احمد کوٹ سلطان لیہ ، مولانا غلام رسول ٹوبہ ، شیخ محمد مجاہد، قاری عبدالرحمن بہاول پور ، حاجی عبدالرشید منڈی بہاؤالدین، محمد اسلم برادر مولانا محمد قاسم رحمانی سمیت پچھلی سہ ماہی میں وفات پا جانے والے، سانحہ گلشن پارک لاہور میں شہید ہونے والے اور دیگر دہشت گردی کی نذر ہونے والے شہداء کی مغفرت ، رفع درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی ۔
اجلاس میں گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ممبر سازی کی رفتار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ عیدالفطر سے پہلے پہلے تمام علاقوں میں جماعتوں کی تشکیل اور مجلس عمومی کے لئے اراکین کا انتخاب مکمل کیا جائے ۔ رفقاء نے رپورٹ پیش کی کہ مجلس کی اپیل پر اور مبلغین کی مساعی جمیلہ سے درج ذیل بعض مقامات پر چوکوں کا نام ختم نبوت چوک رکھا گیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکے ہیں اور بعض مقامات پر سرکاری اصول وضوابط کے طریقہ کار سے گزارا جا رہا ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے۔ بہاولنگر میں جنرل بس اسٹینڈ چوک، قصور میں کچہری چوک، لاہور سبزہ زار سکیم میں لیاقت چوک کے قریب چوک، مردان میں پاکستان چوک، چارسدہ میں شبقدر چوک، نوشہرہ میں شمع گھی مل کے قریب چوک، سرائے نورنگ میں مین چوک ، میر پور ہزارہ میں شیرانوالہ گیٹ کے قریب چوک، قائد آباد میں نور پور تھل موڑ ، کہروڑ پکا میں سنہری مسجد والا چوک، علی پور میں تھہیم والا چوک ، لیہ میں ٹیلی انڈس چوک ۔
احتساب قادیانیت ساٹھ جلدیں مکمل ہونے کے بعد محاسبہ قادیانیت کا آغاز ہو چکا ہے ۔ مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ احتساب کے خریداروں سے رابطہ فرما کر محاسبہ قادیانیت بھی ان تک پہنچائیں۔ بیرون ملک مختلف زبانوں میں لٹریچر تیار کرنے اور طباعت کی ڈیوٹی اور دیگر مراحل مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے سپرد کئے گئے ۔ بعد از اجلاس مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی قیادت میں مولانا محمد اسماعیل
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شجاع آبادی، مولانا مفتی راشد مدنی اور مولانا قاضی احسان احمد پر مشتمل ایک وفد نے مرکزی نائب امیر مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ سے ملاقات کی ۔ مجلس کے مبلغین کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کیا ۔ حضرت نے فیصلوں پر تحسین فرماتے ہوئے عملی جامہ پہنانے کی دعاء فرمائی۔ اگلے روز مجلس کے مبلغین نے ملتان شہر کی مختلف مساجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطابات فرمائے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت سیمنار لطیف آباد حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍ اپریل ۲۰۱۶ء مہران آرٹس کونسل لطیف آباد نمبر ۷ میں تحفظ ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا جس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا توصیف احمد نے خطابات کئے ۔ جب کہ صدارت مولانا عبدالسلام قریشی نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۴، ۵۵)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ، نواب شاہ
۱۸؍ اپریل ۲۰۱۶ء بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں عظیم الشان سالانہ تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ کانفرنس کی صدارت جامعہ دارالعلوم الحسینیہ کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم صاحب نے فرمائی ، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مبلغ ختم نبوت نواب شاہ مولانا تجمل حسین اور مولانا امجد مدنی نے ادا کئے ۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری نور احمد نے حاصل کی ۔ کانفرنس سے مولانا ثناء اللہ مگسی ، مولانا قاری محمد انیس ، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاری کامران احمد نے خطاب کیا۔ کانفرنس مغرب سے لے کر رات ۲ بجے تک جاری رہی۔ اختتامی دعاء مولانا ضرب اللہ کھوسو نے کرائی۔ کانفرنس میں مولانا مفتی عبد الکریم لغاری ، قاری عبد الخالق ، مولانا مفتی محمد یونس ، مفتی عبدالرؤف قریشی ، مفتی محمد عقیل ، مولانا محمد یٰسین ، قاری حنیف عثمانی ، مولانا مفتی سلیم اللہ ابڑو ، مولانا ولایت علی شاہ ، مولانا ظہیر ، مولانا عبدالستار بھٹی ، مولانا سراج الدین میمن ، حافظ عبدالرزاق، قاری محمد تصور ، قاری علی اصغر ، مولانا عبداللہ بروہی ، مولانا غلام مرتضیٰ ، مولانا یٰسین بھٹی ، مولانا محمد اکبر سمیت دیگر مقامی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی ۔ ان کے علاوہ سکرنڈ ، قاضی احمد ، ہوت گوٹھ ، عمر بودلہ گوٹھ ، پھل شہر ، رند گوٹھ ، باندھی دوڑ اور دریا خان مری سے ساتھیوں نے بھر پور شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۶ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۹؍ اپریل ۲۰۱۶ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامعہ دارالعلوم محمدیہ کوٹری کبیر روڈ محراب پور میں عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس عشاء سے لے کر رات ۳ بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت مفتی محمد یٰسین نے کی جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے امیر مولانا عبدالصمد کانفرنس کے جملہ امور کی نگرانی کرتے رہے اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا خالد محمود اور راقم الحروف نے ادا کئے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا تلاوت کی سعادت مدرسہ جامعہ دارالعلوم محمدیہ کے طالب علم حافظ محمد افضل نے حاصل کی پھر عاشق اظہر نے نعت پڑھی۔ قاری عبدالعزیز نے بھی نعت پڑھی۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا اور اس کے بعد مشہور نعت خواں قاری زین العابدین جلالی اور ان کے صاحبزادے حافظ محمد اطہر جلالی نے نظمیں پڑھیں۔ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا کا خطاب ہوا اور آخر میں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کے مرکزی رہنما مولانا مفتی کفایت اللہ نے خطاب کیا اور دعاء کرائی۔ کانفرنس میں مولانا مفتی محمد شاہد، مولانا عبدالشکور، مفتی محمد احمد، مولانا شاکر محمود، حافظ حبیب الرحمن، مولانا عارف محمود، حافظ تاج محمد احمد، مولانا مفتی سید حماد اللہ شاہ ہالانی والے اور قاری محمد اشرف، قاری غلام مصطفیٰ، مولانا ابراہیم، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا شاہد حسین، مولوی شعیب، مولانا الطاف حسین، مولانا آصف محمود پھل، کھرڑاہ سمیت مقامی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۶ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے زیر اہتمام مورخہ ۲۰؍اپریل ۲۰۱۶ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمانی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس مغرب سے لے کر رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت حکیم عبدالواحد بروہی امیر ختم نبوت گمبٹ نے کی اور کانفرنس کے جملہ امور کی نگرانی شیخ الحدیث مولانا نعمت اللہ شیخ، سرپرست جماعت ختم نبوت نے کی جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض رحمانی مسجد کے امام مولانا عبدالصمد شیخ نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کی سعادت قاری عبدالاحد راجپر نے حاصل کی۔ پھر مسجد خاتم النبیین کے امام قاری صبغت اللہ پنہور نے نعتیں پڑھیں۔ کانفرنس سے مبلغ ختم نبوت گمبٹ مولانا تجمل حسین، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ ختم نبوت سکھر، شیخ الحدیث مولانا میر محمد میرک، ولی کامل مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی پیر شریف والے اور مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی حفیظ الرحمن و دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۶ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیر اہتمام ۶۴ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍اپریل ۲۰۱۶ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء شاہی بازار روڈ نزد قادریہ مسجد پنوعاقل پر منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا مسعود افضل ہالیجوی، مولانا عبدالجبار حیدر، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا سید حبیب اللہ شاہ، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا محمد صالح انڈھڑ اور دیگر کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا لیہ میں خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ، یادگار اسلاف مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم مورخہ ۲۲؍اپریل ۲۰۱۶ء کو لیہ تشریف لائے۔ آپ نے جمعتہ المبارک کا خطبہ جامع مسجد ہاؤسنگ کالونی میں ارشاد فرمایا۔ بعدازاں لیہ کے علماء کرام مولانا محمد حسین، مولانا عبدالرحمن جامی، قاری محمد اسلم نیازی، قاری عبدالشکور گروآں نے ناظم اعلیٰ صاحب سے ملاقات کی اور جماعتی معاملات میں مشاورت کی۔ حضرت والا جامعہ اشرف المدارس میں تشریف لے گئے اور دعاء فرمائی۔ زیر تعمیر جامع مسجد ختم نبوت گولڈن سٹی میں بھی تشریف لے گئے اور مسجد کی تعمیر وتوسیع کے لئے دعاء فرمائی۔ بعد نماز مغرب جامعہ دارالہدیٰ چوک اعظم میں تشریف لے گئے اور حفاظ وقراء کی دستار بندی کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر
اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے ۱۴؍مئی ۲۰۱۶ء مطابق ۶؍شعبان ۱۴۳۷ھ بروز ہفتہ سابقہ روایات کے مطابق ساڑھے
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سات بجے صبح سالانہ ختم نبوت کورس کے شرکاء ناشتہ سے فارغ ہوگئے۔ وضو اور تحیۃ المسجد وصلوٰۃ الحاجۃ پڑھنے کے بعد پونے آٹھ بجے حاضری کے لئے گھنٹی لگادی گئی۔ ساڑھے چار سو سے زائد رفقاء اس پہلے پیریڈ میں جمع تھے جو رات کو ہی تشریف لائے تھے۔ امسال وفاق المدارس کے سالانہ امتحان کے ختم ہونے سے قبل ہی بعض غیر وفاقی ساتھی تشریف لائے۔ وفاق کا امتحان جمعرات قبل از دوپہر ختم ہوا۔ جمعرات شام تک ساتھیوں کی بھرپور آمد شروع ہوگئی۔ جمعہ کے دن وقفہ وقفہ سے وفود وقافلے شرکت سے سرفراز فرماتے رہے۔ جمعہ شام کو احتیاطاً کھانا زیادہ بنوالیا گیا تھا کہ رات بھر مہمانان رسول مقبول ﷺ کی آمد متوقع تھی۔ چنانچہ ایسے ہوا کہ چارسدہ سے ایک بڑی ہینو کوچ اور ایک بڑی ائیرکنڈیشنڈ ویگن پر قافلہ پہنچا۔ کراچی واندرون سندھ سے ایک قافلہ ایک سو انتالیس ساتھیوں کا ایک ٹرین سے فیصل آباد اترا۔ وہاں سے پھر ویگنوں کے ذریعہ چناب نگر مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی تشریف لائے۔ غرض جمعہ کا دن، اگلی رات ہفتہ کا دن اور اس سے اگلی رات جوق در جوق، قافلہ در قافلہ، کارواں درکارواں، رفقاء کرام تشریف لاتے رہے۔ ہمیشہ سے معمول ہے کہ کورس کا دو روز داخلہ ہوتا ہے۔ اتوار شام کو داخلہ کے بند ہونے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ داخلہ کی بندش کے اعلان کے وقت آٹھ سو بیالیس رفقاء، علماء کرام، طلباء عظام اور مہمانان گرامی کا داخلہ ہوچکا تھا۔ اس کے باوجود اتوار و پیر کی درمیانی شب بہت سارے دوست آگئے۔ لیٹ آنے کی وجہ سے جن کے عذر معقول تھے ان میں سے آٹھ مزید ساتھیوں کو داخلہ دے کر آٹھ سو پچاس پر داخلہ بند کردیا گیا۔ جن حضرات سے داخلہ کی معذرت کی گئی ایک تو ان کے عذرات ایسے نہ تھے جس کے باعث ان کے لیٹ ہوجانے کو جواز کی سند ملتی۔ بعض دوستوں سے درخواست کی گئی کہ ہم اپنے اصول وضوابط کو تو نہیں توڑتے۔ البتہ آپ اگر چاہیں تو بغیر داخلہ کے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ رہائش، خوراک کی سہولت ادارہ آپ کو مہیا کرے گا۔ البتہ امتحان میں شرکت وسند وغیرہ سے معذرت ہوگی۔
غرض اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ بعض پڑھنے کے شوقین بغیر داخلہ کے بھی شریک درس ہوئے۔ نمازوں کے بعد کالونی کے نمازی اور مہمان بھی شریک درس ہوتے۔ یوں کلاس کی کبھی کبھی ایک ہزار سے بھی حاضری متجاوز ہوجاتی۔
قارئین لولاک کی خدمت میں پہلے سے عرض کیا جاچکا اور وہ باخبر ہیں کہ مدرسہ کے جدید بیس کمرے پر مشتمل دومنزلہ بلاک کورس سے قبل تیار کرلیا گیا تھا۔ کھڑکیاں، دروازے بجلی وغیرہ کا نظم مکمل ہوگیا تھا۔ ساتھیوں کو قدیم مدرسہ کی عمارت میں ٹھہرایا گیا۔ جب رش زیادہ ہوا تو حفظ کی چھ کلاسوں کو مدرسہ جدید کی عمارت کے چھ کمروں میں منتقل کیا گیا۔ یہی کمرے ان حفظ کے بچوں کی درسگاہیں اور رہائش گاہیں قرار پائیں۔
مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر کے وہ طلباء جو کورس میں شریک تھے یا جن کی خدمت کی ڈیوٹی لگی تھی وہ تمام کے تمام اساتذہ کے خالی مکانوں میں رہائش پذیر ہوئے۔ قدیم مدرسہ کی عمارت مہمانان گرامی سے پر ہوگئی تو باقی مہمانوں کو جدید عمارت میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا گیا۔ وہ عمارت بھی بھرگئی تو مسجد کے دوسرے برآمدہ کو اردگرد قناتیں لگا کر رہائش کے لئے مختص کیا گیا۔ یوں اللہ رب العزت کے محض فضل وکرم واحسان سے جتنے مہمان آتے گئے ان کی رہائش کے لئے حق تعالیٰ شانہ بہتر سے بہتر سبیل پیدا فرماتے گئے۔ پہلے دن سے کھانے کے نظم کو مولانا محمد اسحق ساقی (بہاولپور)، مولانا محمد اقبال (ڈیرہ غازیخان) اور پھر کچھ دنوں بعد مولانا محمد حبیب (ٹوبہ ٹیک سنگھ) نے سنبھالا۔ ان حضرات نے اس گرمی کے موسم میں ایثار وقربانی کی مثال قائم کردی۔ حسب سابق سالن پکانے کے لئے جھنگ سے اور روٹیاں لگانے کے لئے مولانا سیف اللہ خالد ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ امدادیہ نے اہتمام کیا۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر کے مطبخ کا پورا عملہ بھی چاک وچوبند دستہ کی طرح شریک عمل ہوا۔ گیس وبجلی کی وقفہ وقفہ سے بندش کے باوجود کبھی بھی کھانے میں پریشان کن تاخیر یا تعطیل
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں ہوئی۔ ساڑھے آٹھ سو شرکاء کورس، مدرسہ کے حفظ کے بچوں کی چھ کلاسیں، عملہ، مہمانان گرامی، محتاط انداز کے مطابق بارہ صد افراد کا دو وقت کا کھانا و ناشتہ ہر روز تیار ہوتا تھا۔ مسلسل بائیس دن اتنا بڑا اہتمام پھر کلاسوں کی تسلسل سے تعلیم، گویا بائیس روزہ عظیم الشان کانفرنس کی رونق اور سماں، دن رات کا یہ ایمان پرور منظر اور پھر تمام امور کا وقت پر پورا ہو جانا یہ صرف اور صرف پروردگار عالم کے محض فضل و کرم کا صدقہ ہے اور کسی کی اس میں قابلیت نہیں۔
اب اتنی بڑی تعداد کو ایک ساتھ بٹھا کر اکٹھے ایک ٹرم میں کھانا کھلانے کے لئے کوئی جگہ بھی کافی نہ ہوتی تھی۔ مطبخ کا ہال، دارالقرآن کے ہال، مدرسہ کی بلڈنگ کے تمام برآمدوں میں دستر خوان لگائے جاتے تھے۔ پھر بھی مہمان پورے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے مدرسہ کے لان کے درختوں کی چھنگائی کر کے مدرسہ کے لان کے نصف حصہ پر اڑھائی سو فٹ لمبے اور بہتر فٹ چوڑے سائبان لگائے گئے۔ اس کے ساتھ مدرسہ کے نئے برآمدہ کو شامل کیا گیا۔ یوں جا کر اتنے دسترخوانوں کے لئے جگہ کا اہتمام ہو گیا کہ ایک ساتھ پورے رفقاء بیٹھ کر آرام وسکون سے کھانا تناول فرماسکیں۔ مدرسہ کے حفظ کے اساتذہ نے باری باری اپنی اپنی کلاسوں کو کھانا کھلانے کی خدمت پر لگایا۔ دسترخوان پر کھانا پہلے چن دیا جاتا۔ تمام رفقاء وقار سے ایک ساتھ آ کر بیٹھ جاتے اور یوں کھانا کھلانے، چائے پلانے، ناشتہ کرانے، قہوہ پیش کرنے کا عمل آدھ سے پون گھنٹہ کے درمیان مکمل ہو جاتا۔ یہ نظم اس عمدگی سے پورا ہوتا رہا جو محض فضل ایزدی ہی ہے۔
صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک کلاس لگتی۔ درمیان میں پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا۔ پھر ظہر سے عصر تک اور پھر عشاء کے بعد ایک گھنٹہ گویا قریباً آٹھ گھنٹے یومیہ پڑھائی ہوتی۔ رفقاء اپنے طور پر جو تیاری یا مطالعہ کرتے وہ اس کے علاوہ ہے۔ دوسرے روز ہی شام کو عشاء کے متصل بعد تعلیم سے فارغ ہوتے ہی تقریروں کا نظم شروع کرا دیا گیا تھا۔ پانچ پانچ طلباء کے گروپ بنائے گئے۔ یوں ایک سو ستر گروپ بنے۔ ہر روز ہر ساتھی دس منٹ بیان کرتا۔ قارئین! ذرا تصور فرمائیے گا کہ وسیع وعریض مسجد کے ہالوں میں ایک سو ستر خطیب بیک وقت رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے عنوان پر خراج تحسین پیش کر رہا ہو۔ اپنے جذبات ایمانی اور اپنے نور قلبی کے ساتھ محو گفتگو ہو تو کیا منظر ہوتا ہوگا؟ بس یقین فرمائیے کہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ آسمانوں سے رب کریم کی رحمت کے فرشتے بھی جھک جھک قابل رشک نظاروں پر شاداں وفرحاں ہوتے ہوں گے۔ مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا رضوان عزیز، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا فقیر اللہ اختر اور دوسرے رفقاء نے اس نظم کو سنبھالنے میں قابل رشک محنت کی۔
یاران طریقت! اس گرمی کے موسم میں دوپہر ٹھیک بارہ بجے ایک کپڑے کے سائبان نے کتنی گرمی روکنی ہے؟ اس تپتے ماحول میں رفقاء کے بیٹھ کر کھانا کھانے کا عمل کتنا صبر آزما ہوگا؟ تمام شرکاء ڈھیروں شکریہ کے مستحق ہیں کہ کسی ایک نے بھی اف نہیں کی۔ بس ان کے قابل قدر ایثار پر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام دیا کہ وقفہ وقفہ سے دو تین بار بارش ہوگئی۔ گرمی، ٹھنڈک، خنکی، تپش کے ماحول میں یوں وقت گزر گیا کہ کانوں کان کسی کو گویا خبر بھی نہ ہوئی۔ ہمہ وقت ٹھنڈے پانی کے کولر اور مشین برابر روبعمل رہے۔ ناشتہ میں چائے، شام کے کھانا کے بعد قہوہ بھی چلتے رہے۔ ہفتہ میں ایک بار حلوہ کا ناشتہ اور ایک بار بریانی پکتی رہی۔ صبح کو عموماً سبزی گوشت، شام کو دال گوشت چلتے رہے۔ غرض مجلس کے ساتھیوں نے مہمانان گرامی کے لئے حد درجہ اکرام کو سامنے رکھا۔ شرکاء کورس ساتھیوں نے بھی محبتوں سے سرفراز کیا کہ پورے کورس کے دوران کوئی پریشانی کھڑی نہیں کی۔ بس جس جس کو اس کار خیر میں جتنی سعادت حاصل ہوئی، محض اور محض، صرف اور صرف توفیق ایزدی ہی ہے اور بس۔ اللہ کافی اور بس۔ باقی ہوس۔
قارئین گرامی! حسب سابق امسال بھی ہر ہفتہ کے روز امتحان ہوئے۔ ہفتہ بھر میں جو پڑھا تو اگلے ہفتہ کے روز اس کا پیپر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو گیا۔ یوں تین امتحان ہوئے۔ پورا سلیبس پڑھایا گیا اور تحریری امتحان لیا گیا۔ تینوں پرچوں کے نمبرات جمع کر کے نتیجہ مرتب کیا گیا۔ اس طرح تقریروں کے بھی مقابلے ہوئے۔ ان کا بھی نتیجہ مرتب کیا گیا۔
تحریری امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کے نام
اول 141 عبدالواجد بن شیخ عبدالمجید کراچی 255 دوم 435 رشید احمد بن مولانا عبدالہادی صوابی 234 سوم 789 محمد شعیب بن محمد ناصر چنیوٹ 230
تقریری مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کے نام
اول 192 محمد سفیان بن قاری عبدالحمید سرگودھا 92 دوم 849 عبدالسلام بن محمد فاروق ٹوبہ ٹیک سنگھ 91 سوم 260 عبدالرحمن بن توحید احمد سیالکوٹ 90
مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو کتابوں کا سیٹ انعام میں پیش کیا گیا۔
برادرانِ دینی! آپ کو خوب معلوم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے کورس کے شرکاء کو منتخب کتابوں کا سیٹ پیش کرتی ہے۔ ہر سال ہر ساتھی دو، اڑھائی ہزار روپے کی کتابیں لے کر جاتے ہیں۔ اس سال اعلان کیا تھا کہ تمام ساتھیوں کو پانچ پانچ ہزار روپے کی کتابیں یعنی ہر سال کی نسبت اس سال دگنا کتب دی جائیں گی۔ اللہ رب العزت کے کرم کے معاملہ کو دیکھیں کہ امسال ساڑھے آٹھ صد رفقاء کا داخلہ تھا۔ امتحان میں شرکت کرنے والے آٹھ صد تھے۔ ان آٹھ صد رفقاء کو کتابیں دینا تھیں۔ جو کسی بھی عذر کی وجہ سے امتحان میں شریک نہ ہو سکیں۔ وہ سند، وظیفہ اور کتب کے مستحق نہیں ہوتے۔ آٹھ صد رفقاء نے امتحان دیا۔ امتحان مسجد کے محراب سے نئے تعمیر شدہ ہال کی آخری صف تک۔ آٹھ سو رفقاء کے امتحان دینے کا منظر سامنے رکھیں۔ تینوں امتحانوں کے نگران اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا غلام رسول دین پوری تھے۔ امتحانوں کے وقت موجودہ تمام مدرسین، درجہ کتب، حفظ اور مبلغین بھی امتحان کی نگرانی میں شریک عمل رہے۔ فالحمد للہ!
انہیں حضرات کی سربراہی میں رزلٹ مرتب ہوئے۔ اب آئیے فی ساتھی پانچ ہزار کی کتابیں دینا ہیں، تو آٹھ صد حضرات کے لئے فقط کتابوں کی مد میں اتنا اہتمام کرنا ذرا خیال فرمائیے کہ اللہ رب العزت نے کس طرح مجلس کے ساتھ ہمیشہ کی طرح خیر کا معاملہ فرمایا کہ ملتان کے ایک مکتبہ نے ۲۳ کارٹن کتب، کراچی کے ایک مکتبہ نے بائیس کارٹن کتب، لاہور کے ایک مکتبہ نے تین کارٹن کتب اور گوجرانوالہ کے ایک بزرگ اہل علم نے ایک ویگن کتابوں کی بھری ہوئی ان مہمانوں کے لئے چناب نگر بھجوادی۔ ادھر دفتر مرکزیہ ملتان سے تقریباً اسی کارٹن کتب ٹرک کے ذریعہ چناب نگر پہنچائی گئیں۔ مجلس کی تازہ کتاب ”چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ“ کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ جو پونے سترہ صد صفحات پر مشتمل تھا۔ کتاب ”ایک ہفتہ حضرت شیخ الہند کے دیس میں“، کتاب ”قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے“، ”احتساب قادیانیت“ کی سات سات جلدیں، ”قادیانی شبہات کے جوابات“ تین جلدوں میں ہر شریک کورس کلاس کے ہر ساتھی کو دی گئیں۔ مجلس کو عطیہ میں ملنے والے کتب اور مجلس کی اپنی مطبوعہ کتب کا ہر سیٹ بیس بیس کتب پر مشتمل ہو گیا۔ جن کی عام بازار کی قیمت کسی بھی طرح وعدہ کردہ قیمت سے کم نہ تھی۔ فالحمد للہ! یوں ایک ہی دن میں ملک بھر میں چھوٹی آٹھ صد لائبریریوں کا قدرت نے اہتمام فرما دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قارئین! اب اتنی کتابوں کے بنڈل کے لئے پلاسٹک کے شاپر متحمل نہ تھے۔ پلاسٹک کی چھوٹی بوری میں بند کرنے پر طبیعت نہ مانتی تھی۔ مولانا سید خبیب احمد شاہ نے اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ پرنٹ شدہ گتہ کے کتابوں کے سائز کے مطابق آٹھ صد کارٹن تیار کرادیئے۔ یوں ڈبہ پیک عمدہ گفٹ کتب ہر ساتھی کے لئے تیار ہو گیا۔
مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا رضوان عزیز چناب نگر، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ کے مستقل باری باری اسباق چلتے رہے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا عبد الشکور حقانی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا محمد انور اوکاڑوی، قاضی محمد ابراہیم ثاقب اٹک، مولانا محمد احمد، مولانا محمد شاہد ندیم چناب نگر، مولانا عبدالماجد منڈی بہاؤالدین، مولانا فضل محمد فیصل آباد، جناب محمد متین خالد لاہور کے ایک ایک لیکچر مختلف اوقات میں ہوئے۔ علاوہ ازیں ماموں کانجن سے مولانا قاری عطاء اللہ اپنے رفقاء کے ساتھ، فیصل آباد سے مولانا غلام محمد، گوجرانوالہ سے مولانا سیف الرحمن قاسم، چارسدہ سے جناب الحاج عبدالرحمن بمع رفقاء، کراچی سے مولانا عبدالحئی مطمئن، مولانا کلیم اللہ اور دیگر حضرات کورس کے دوران تشریف لا کر حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ یوں اللہ رب العزت نے فضل و کرم کا معاملہ فرمایا کہ بائیس روزہ کورس پایہ تکمیل کو پہنچا۔
کورس کی اختتامی تقریب ۳؍ جون ۲۰۱۶ء قبل از جمعہ منعقد ہوئی۔ اجلاس کی غرض و غایت مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر صدارت تقریب سعید منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا تھے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا منیر احمد منور، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا قاری عبدالحمید، الحاج عبدالرحمن چارسدہ، حافظ عبدالسلام (ماموں کانجن)، مولانا پیر محمد صفدر، مولانا پیر محمد عابد جملہ مدرسین کتب و حفظ جملہ موجود مبلغین اور دیگر حضرات نے اپنے ہاتھوں شرکاء کو اسناد اور کتب کا سیٹ پیش کیا۔ یوں جمعہ سے قبل یہ تقریب پایہ تکمیل کو پہنچی۔ خطبہ جمعہ و امامت مولانا غلام رسول دین پوری نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۶ء ص۸،۴)
پینتیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
کورس میں جن طلباء کرام نے شرکت کی ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 معروف احمد محمد رستم خان رحیم یار خان 2 عبید اللہ خانپور خان پشاور 3 محمد عاشر عباسی محمد ہمایوں ایبٹ آباد 4 انیس الرحمن شفیق الرحمن مانسہرہ 5 شاہد نواب سید نواب ملاکنڈ 6 واجد الرحمن عزیز الرحمن مالاکنڈ 7 محمد محسن خان محمد کریم خان باغ آزاد کشمیر 8 شریف اللہ انور شاہ وزیرستان 9 انیس احمد بختیار احمد مردان 10 سلیمان شاہ حازق علی شاہ کوہاٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
11 صالح محمد فتح محمد لورالائی 12 اسلام سعید میاں گل دیر 13 عبدالشکور عبداللہ دیامر 14 محمد ثاقب محمد صدیق باغ آزادکشمیر 15 عطاء الرحمٰن گوہر الرحمٰن ایبٹ آباد 16 رحمت اللہ محمد یوسف باجوڑ 17 فضل ہادی عبدالرحمٰن صوابی 18 محمد شاکر محمد اقبال بونیر 19 ظہور احمد فقیر محمد گلگت 20 ضیاء الاسلام گل محمد بونیر 21 محمد عیسیٰ مولانا گل داد کوہستان 22 محمد رحمٰن تعمیم خان مردان 23 محمد وقار علی اکبر مانسہرہ 24 زبیر احمد طلحہ افسر خان خیرپور میرس 25 اشفاق احمد وریام خان خیرپور میرس 26 محمد حنظلہ حافظ اللہ دتہ بہاول پور 27 محمد عدنان اللہ ڈیوایا بہاول پور 28 محمد عبداللہ عبدالستار جھنگ 29 محمد اشفاق محمد صادق بہاول پور 30 محمد عمر دراز محمد رمضان جھنگ 31 صدام حسین محمد نواز چنیوٹ 32 غلام مصطفیٰ دریا خان پھل خیرپور میرس 33 صغیر احمد انور علی خیرپور میرس 34 مولوی محمد انور نظر محمد خیرپور میرس 35 غلام فرید غلام عباس خیرپور میرس 36 غلام مصطفیٰ حاجی صدورو پھل خیرپور میرس 37 حافظ انور علی عبدالخالق خیرپور میرس 38 جاوید احمد ملاح بشیر احمد ملاح خیرپور میرس 39 امان اللہ عبدالمجید کوہستان 40 محمد سہیل محمد مشتاق راولپنڈی 41 محمد ریاض گل جہاں کوہستان 42 سید محمد شریف عبدالغفار پشین 43 محمد یاسر خلیل الرحمٰن مظفرآباد (رخ) 44 فیصل سجاد محمد سجاد ایبٹ آباد 45 محمد ہمایوں سراج الدین صوابی 46 عبدالقدیر غلام محمد مظفرگڑھ 47 شعیب احمد عبداللہ رحیم یار خان 48 شرافت علی محمد طیب راجن پور 49 محمد مشتاق عبدالقادر رحیم یار خان 50 عتیق الرحمٰن عبدالرحمٰن چنیوٹ 51 مسعود احمد تاج محمد نوشہروفیروز 52 مسعود علی عباس علی نوشہروفیروز 53 محمد صغیر محمد صدیق مٹیاری 54 غلام علی سکندر علی جعفرآباد 55 عبدالوہاب فضل الرحمٰن کوہاٹ 56 سہیل خان تاج ولی کوہاٹ 57 محمد بلال حضرت خان وزیرستان 58 اللہ نور عبدالرزاق ٹانک 59 وقار احمد محمد ادریس گھوٹکی 60 عبدالغفار امام الدین شکارپور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
61 سجاد الرحمن سرتاج علی خیر پور میرس 62 غلام رسول غلام قادر راجن پور 63 عنایت اللہ نائب خان بنوں 64 امیر حمزہ مولانا عبداللہ خیر پور 65 عمر فاروق محمد شریف نوشہرو فیروز 66 گلزار محمد موسیٰ شکار پور 67 فیض محمد محمد فام بٹگرام 68 عبدالمالک عبدالرزاق نوشہرو فیروز 69 مؤمن علی محمد ملک جوگی خیر پور میرس 70 اختر زیب جہانزیب بٹگرام 71 محمد علی دلدار حسین مٹیاری 72 محمد ابوبکر محمد شریف نوشہرو فیروز 73 محمد طاہر عبدالغفار جعفرآباد 74 سہیل احمد راجہ سلیم خان بٹگرام 75 رفیع اللہ عبداللہ میانوالی 76 عبدالقیوم رحیم بخش ڈی جی خان 77 محمد توقیر محمد خورشید میانوالی 78 محمد عرفان فقیر عطاء اللہ ڈی آئی خان 79 شاہد اللہ انور خان وزیرستان 80 فیاض محمد محمود مانسہرہ 81 محمد طیب الٰہی بخش ملتان 82 محمد فیاض عزیز احمد لودھراں 83 محمد عثمان غلام یٰسین لودھراں 84 عبدالناصر محمد اسلام سکھر 85 محمد یٰسین عبیداللہ سکھر 86 محمد اسماعیل عبدالواحد سکھر 87 محمد اشرف اللہ بخش ملتان 88 محمد جاوید بلال احمد ملتان 89 اسامہ اللہ ڈنو شکار پور 90 عبدالکریم علی نواز نصیر آباد 91 عبدالجبار عبدالعزیز بھکر 92 جاوید یوسف یوسف صدیق خانیوال 93 عبدالباسط محمد رفیق راجن پور 94 محمد ایوب عبدالمجید خیر پور میرس 95 حامد علی علی خان خیر پور میرس 96 عنایت اللہ سید لال شاہ خیر پور میرس 97 عبدالرحیم عطاء اللہ غربی 98 شہریار مظفر علی غربی 99 مجتبیٰ منصور منصور اختر غربی 100 محمد سعد محمد صدیق غربی 101 عبدالجبار عبدالرشید غربی 102 فرمان علی محمد عظیم لاڑکانہ 103 سلطان شاہ عبدالرحیم شاہ غربی 104 عدنان صغیر محمد صغیر ٹوبہ ٹیک سنگھ 105 محمد ندیم مغل علی عمر خان غربی 106 محمد اجمل خان خان محمد سرگودھا 107 محمد اکمل خان خان محمد سرگودھا 108 محمد نصیر نور محمد چنیوٹ 109 محمد سلمان مفتی محمد عثمان غربی 110 حبیب اللہ حفیظ اللہ خیر پور میرس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
111 محمد اجمل محمد منظور حسین خانیوال 112 سیف اللہ عطاء اللہ خان خانیوال 113 امان اللہ عطاء اللہ خان خانیوال 114 محمد مظفر اقبال محمد اختر خانیوال 115 محمد طائف فضل کریم صوابی 116 محمد مجتبیٰ محمد اسحاق کشمور 117 محمد صدیق محمد ہاشم خیر پور میرس 118 محمد علی حبیب الرحمٰن صوابی 119 محمد طفیل حقانی بہادر خان صوابی 120 محمد بلال رحمٰن سیف الرحمٰن مانسہرہ 121 محمد سلمان نیاز محمد صوابی 122 بحرالامین رائے مند خان بونیر 123 خادم حسین خدائے ڈنو خیر پور میرس 124 فاروق احمد عزیز اللہ جیکب آباد 125 محبوب خان شیر زمان صوابی 126 محمد خورشید انور غلام سرور بونیر 127 فائق زمان محمد امین صوابی 128 عبدالعزیز عبدالرشید شیخ خیر پور میرس 129 شیراز خان شیر نواب خان صوابی 130 عنایت اللہ زرزمین شاہ صوابی 131 انوار اللہ نور الاکبر صوابی 132 محمد عبید عالم شیر صوابی 133 احسان اللہ عبدالربان شکار پور 134 خدا بخش عبدالجبار لاڑکانہ 135 محمد عمر حیدری حاجی آدم لورالائی 136 امین الحق خلیل احمد نوشکی 137 محمد اسلم مولوی یار محمد پشین 138 عبدالحق گل جان کوئٹہ 139 نصیب اللہ عبدالکریم مستونگ 140 محمد سہیل خان امیر بہادر مردان 141 عبدالواجد شیخ عبدالمجید غربی 142 زوہیب حقانی ثواب گل صوابی 143 عتیق الرحمٰن ریاض الرحمٰن مردان 144 نورالوہاب شاہ کریم کوہاٹ 145 حافظ رفیع اللہ فیض اللہ لکی مروت 146 اعجاز احمد حقانی محمد اعظم صوابی 147 عبداللہ حقانی حافظ وحید گل صوابی 148 عبدالہادی عبدالشکور خیر پور میرس 149 وقاص وحید محمد وحید ایبٹ آباد 150 تاج محمد ملاح در محمد ملاح خیر پور میرس 151 عرفان احمد منیر احمد خیر پور میرس 152 عبدالقیوم ساجن شاہ نوشہرو فیروز 153 محمد احمد محمد طارق نوشہرہ 154 ساجد اسلم محمد اسلم نواب شاہ 155 ایاز خان ایوب خان نوشہرہ 156 محمد ابراہیم سوار خان نوشہرہ 157 حیدر علی شاہ احمد علی شاہ نوشہرہ 158 اکرام اللہ عارف اللہ نوشہرہ 159 گل زیب گل نارس نوشہرہ 160 محمد حامد محمد قائم نوشہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
161 توصیف احمد دینار احمد خان چترال 162 محمد الیاس امداد خان نوشہرہ 163 سمیع اللہ محمد مرسلین باجوڑ 164 محمد یوسف فتح محمد پاکپتن 165 محمد اکرم محمد اسلم پاکپتن 166 محمد الیاس محمد زبیر پاکپتن 167 محمد اویس عبید اللہ ساہیوال 168 محمد امین عبد الخالق وہاڑی 169 ماجد حسین طالب حسین ساہیوال 170 محمد آصف نواز حق نواز پاکپتن 171 محمد حیدر سمندر خان لورالائی 172 محمد ابوذر مظہر عباس جھنگ 173 وارث خان شیر بہادر مردان 174 کاظم خان نواز خان مردان 175 ابوبکر غلام سید مردان 176 عبدالسلام محمد فیاض چارسدہ 177 محمد شیراز محمد شعیب مردان 178 حبیب اللہ نوشاد چارسدہ 179 مدرار اللہ جمشید خان مردان 180 سر بلند ممتاز مردان 181 محمد اسحاق اشفاق علی مردان 182 ارشاد علی گل زمین مردان 183 فہیم شاہ صاحب گل مالاکنڈ 184 محمد عبید اللہ مولا بخش پاکپتن 185 محمد یار شاہ محمد چنیوٹ 186 عمر فاروق غلام محمد چنیوٹ 187 محمد شعیب نور محمد سرگودھا 188 محمد یاسین عبدالکریم چنیوٹ (خ) 189 اللہ نور روزے محمد قلعہ سیف اللہ 190 محمد آصف جان محمد قصور 191 محمد انس شیر احمد شاہد خانیوال 192 محمد سفیان حمید عبدالحمید سرگودھا 193 محمد حذیفہ گلزار شیخ گلزار احمد سرگودھا 194 حق نواز اللہ بخش حافظ آباد 195 ابوبکر صدیق حاجی قادر بخش ڈی جی خان 196 عزیز احمد محمد ہاشم خاران 197 زاہد اقبال ممتاز حسین جھنگ 198 احسان اللہ محمد یوسف جھنگ 199 شہادت علی قلندر خان جھنگ 200 شیر علی شاہ جہاں فیصل آباد 201 امر اللہ محمد انور بٹگرام 202 محمد اقبال دواس الحق مانسہرہ 203 عمر حیات عبدالحلیم بٹگرام 204 احتشام الحق مہتاب گل بٹگرام 205 امداد اللہ سراج الدین چارسدہ 206 محرم یسین عبدالغفار لاہور (خ) 207 محمد احسن جمشید بیگ چنیوٹ (خ) 208 محمد زبیر علی محمد یوسف سرگودھا 209 فضل الرحمن ضیاء الرحمن پشاور 210 کلیم اللہ ظفیر گل پشاور
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
211 حبیب الرحمن عبدالشکور فیصل آباد 212 عبدالرؤف محمد نواز بہاول پور 213 عبدالوحید گلزار احمد فیصل آباد 214 محمد اظہر حفیظ بہاولنگر 215 محمد آصف سلطان احمد جھنگ 216 محمد طارق غلام حسن بہاول پور 217 محمد عمران محمد رفیق رحیم یار خان 218 محمد احمد احمد دین بہاولنگر 219 محمد راشد اقبال محمد اقبال جھنگ 220 محمد مزمل عمر دراز جھنگ 221 محمد شعیب محمد معروف مانسہرہ 222 امیر حمزہ محمد حنیف مانسہرہ 223 محمد حسن محمد ارشاد مانسہرہ 224 محمد امیر معاویہ عبدالرشید ڈی جی خان 225 نصر حیات محمد نواز سرگودھا 226 علی شان غلام عباس سرگودھا 227 عطاء الرحمن عطاء اللہ سرگودھا 228 شاہد اقبال غلام رسول سرگودھا 229 محمد قاسم غلام سرور سرگودھا 230 محمد نعمان عبدالستار سرگودھا 231 محمد عثمان راؤ محمد عارف خانیوال 232 محمد صابر عبدالرحمن بٹگرام 233 محمد عثمان آفتاب احمد سرگودھا 234 محمد رضوان عبدالرحمن خوشاب 235 احمد اسحاق محمد اقبال سرگودھا 236 اللہ دتہ نور محمد سرگودھا 237 محمد وسیم محمد عبداللہ چنیوٹ 238 محمد نصیب اللہ غلام فرید ڈی جی خان 239 محمد راشد غلام حسین ڈی جی خان 240 محمد تنویر عبدالرشید ڈی جی خان 241 محمد سراج حق نواز ڈی جی خان 242 محمد دلشاد محمد شریف ڈی جی خان 243 عمر فاروق محمد نواز سرگودھا 244 حسین احمد منظور احمد ملتان (خ) 245 محمد امتیاز شریف محمد شریف چنیوٹ (خ) 246 عبدالواجد محمد زاہد پشاور 247 زین العابدین امین خان پشاور 248 محمد احسن محمد ہارون ننکانہ 249 سمیع اللہ امیر نواب مردان 250 محمد واجد سمر خان اوکاڑہ 251 محمد ابرار گل سند شاہ کوہاٹ 252 سمیع اللہ رئیس خان کوہاٹ 253 شفیع اللہ حکیم خان صوابی 254 محمد عثمان محمد یامین شیخوپورہ 255 محمد راشد حیدر غلام حیدر ملتان 256 محمد ذیشان ذیشان اقبال سیالکوٹ 257 محمد امتیاز ظہور الدین سیالکوٹ 258 حمزہ منور حسین سیالکوٹ 259 عبدالرحمن رفاقت علی سیالکوٹ 260 عبدالرحمن توحید احمد سیالکوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
261 محمد سلیم نادر خان لکی مروت (خ) 262 محمد اقبال محمد شریف وہاڑی
263 محمد سیف اللہ مقصود احمد بہاول پور 264 اکبر خان محمد اسلم اٹک
265 جابر احمد غلام محمد صوابی 266 عبدالباعث ممتاز احمد صوابی
267 محمد عبداللہ رب نواز بہاول پور 268 محمد ندیم اکرم محمد اکرم بہاول پور (خ)
269 محمد ضیاء الرحمن حافظ خلیل احمد لودھراں 270 محمد احمد مقبول احمد بہاول پور
271 محمد سلیم منظور احمد بہاول پور 272 محمد ابوبکر محمد بخش بہاول پور (خ)
273 محمد عمر فاروق عبدالمومن بہاول پور 274 محمد آصف محمد خلیل بہاول پور
275 محمد ساجد محمد بلال بہاول پور (خ) 276 محمد ریحان منور جاوید بہاول پور
277 نذیر احمد محمد رفیق ملتان 278 محمد ابوبکر محمد اسحق بہاول پور (خ)
279 سمیع اللہ محمد شفیع رحیم یار خان (خ) 280 محمد طارق عبدالجلیل لودھراں
281 فضل حق محمد امین وزیرستان 282 رحمت اللہ حافظ دلشاد احمد ڈی جی خان
283 محمد محبوب اللہ یار ڈی جی خان 284 محمد یعقوب عزیز الرحمن ڈی جی خان
285 نصر اللہ منصور لوح محفوظ صوابی 286 صیاد اکبر قاضی اکبر مردان
287 شکیل احمد عبدالرزاق گوجرانوالہ 288 محمد عابد حاجی اللہ بخش لودھراں
289 محمد نادر شیر محمد بہاول پور 290 محمد مشتاق اللہ بخش ملتان
291 محمد زاہد حسین خادم حسین ملتان 292 خلیق الرحمن حبیب الرحمن لودھراں
293 عبدالصمد مولانا ظفر احمد رحیم یار خان 294 محمد نعمان محمد عظیم بخش بہاول پور
295 محمد رضوان غلام اکبر بہاول پور 296 محمد صدیق محمد صادق بہاول پور
297 محمد علی قاری نذیر احمد لودھراں 298 محمد طاہر عطا محمد لودھراں
299 محمد سلیمان عبدالحق لودھراں 300 شکیل احمد محمد رشید بہاول پور
301 غلام نازک غلام حسن ملتان 302 محمد آصف دین محمد ملتان
303 عدیل احمد محمد رشید بہاول پور 304 محمد آصف غلام محمد مظفر گڑھ
305 محمد عمیر محمد اسلم فیصل آباد 306 محمد اصغر عبدالستار فیصل آباد
307 ضیاء الرحمن غلام فرید بھکر 308 خلیق الرحمن احسان الرحمن ڈی آئی خان
309 مجیب الرحمن سیف الرحمن لکی مروت 310 محمد عمر غلام مصطفیٰ رحیم یار خان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
311 محمد سفیان محمد اسماعیل وہاڑی 312 عمران اسلم محمد اسلم اوکاڑہ 313 محمد شہزاد محمد اقبال ملتان 314 محمد نذیر محمد دین بہاول پور 315 زین العابدین لیاقت علی بہاول پور 316 محسن جاوید جاوید حسن بہاول پور 317 محمد عارف محمد اسلم بہاول پور 318 محمد سلیم عبدالرشید بہاول پور 319 ظفر اقبال غلام حیدر مظفر گڑھ 320 محمد آصف ملک محمد امین رحیم یار خان 321 محمد طارق غلام اکبر مظفر گڑھ 322 ریاض حسین بگو خان مظفر گڑھ 323 محمد یاسر محمد اسماعیل مظفر گڑھ 324 محمد مدثر عبدالمجید مظفر گڑھ 325 محمد عمران غلام یسین مظفر گڑھ 326 محمد حنظلہ واسع عبدالواسع مظفر گڑھ 327 محمد عزیر احمد ظہور احمد مظفر گڑھ 328 ابوذر معاویہ عطاء اللہ ڈی جی خان 329 محمود نواز غلام نازک مظفر گڑھ 330 محمد ابرار محمد شریف مظفر گڑھ 331 محمد ثناء اللہ محمد عبداللہ مظفر گڑھ 332 مہران حسن شیر احمد چارسدہ 333 محمد کاشف علی عسکر چارسدہ 334 امان اللہ معاذ اللہ چارسدہ 335 فیصل خان راویل خان چارسدہ 336 جنید حسین شیر حسین چارسدہ 337 خائستہ الرحمٰن خائستہ خان چارسدہ 338 نعمان شبلی سرتاج خان چارسدہ 339 محمد اشرف محمد بشیر شیخوپورہ 340 محمد عاصم سرتاج خان چارسدہ 341 ولی اللہ سبحان اللہ صوابی 342 محمد اویس فضل قادر چارسدہ 343 کامل خان شیرداد خان چارسدہ 344 وحید الرحمٰن محمد ابراہیم چارسدہ 345 اکرام الحق غیاث الدین مردان 346 اکرام اللہ شمس القمر باجوڑ 347 ثناء اللہ جوہر الدین چارسدہ 348 محمد امین فضل قیوم چارسدہ 349 محمد اسماعیل نور محمد چارسدہ 350 حمید اللہ گل محمد چارسدہ 351 حضرت بلال گل محمد چارسدہ 352 صابر حسین فرشاد گل چارسدہ 353 محمد حمید مولانا محمد نعیم چارسدہ 354 عبد الہادی رضوان اللہ چارسدہ 355 عزیز الرحمٰن فضل غفور چارسدہ 356 اسد اللہ مسلم خان چارسدہ 357 ثناء اللہ محمد نبی مردان 358 عالم زیب نور الرحمٰن مردان 359 شہزاد خان نہار خان چارسدہ (خ) 360 محمد عبداللہ تسلیم خان دیر (خ)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 361 صابر اللہ خورشید احمد چارسدہ 362 محمد ندیم اللہ عنایت اللہ چارسدہ 363 ذاکر اللہ محمد زاہد پشاور 364 محمود احمد رحمت اللہ چارسدہ 365 نور اللہ روح اللہ چارسدہ 366 محمد صدیق شیر محمد مردان 367 عماد الدین شاہ زرین چارسدہ (خ) 368 محمد ابوبکر عبدالرزاق بہاول پور 369 نور الامین روح الامین چارسدہ 370 محمد عامر غنی اکبر چارسدہ 371 صدیق احمد صبر خان چارسدہ 372 محمد طفیل گوہر علی چارسدہ (خ) 373 سعید الرحمن رحمت شاہ چارسدہ 374 عابد اللہ سردار خان چارسدہ 375 عطاء اللہ نسوی حامد اللہ چارسدہ (خ) 376 اصغر خان فضل خان چارسدہ 377 سدیس احمد فضل محمد چارسدہ 378 محمد عامر خان مکمل خان چارسدہ 379 محمد شہزاد خان جاوید احمد چارسدہ 380 محمد شہاب محب علی چارسدہ 381 عثمان حنیف یحییٰ جان چارسدہ 382 مرتضیٰ عبدالمجید چارسدہ (خ) 383 حمزہ محمد رزاق چارسدہ 384 واسع اللہ فضل مجید چارسدہ 385 محمد شیراز احسان الدین چارسدہ 386 محمد ذیشان فضل سبحان چارسدہ 387 محمد سہیل فضل کریم چارسدہ 388 منظر خان ابوالقاسم صوابی 389 محمد عثمان شیر عالم چارسدہ (خ) 390 ظفر علی اکبر خان چارسدہ 391 طاہر جان مہر قادر چارسدہ 392 محسن خان عبداللہ خان چارسدہ (خ) 393 حبیب اللہ تحسین اللہ چارسدہ (خ) 394 عبدالرحمٰن فتح الامین چارسدہ 395 نجیب الاسلام نجم الاسلام چارسدہ 396 حامد الحق زرمان گل نوشہرہ 397 کامران اللہ اورنگزیب پشاور 398 ثناء اللہ ضلعدار خان پشاور 399 سردار علی محمد یونس شانگلہ 400 محمد زبیر گل زادہ پشاور 401 عبدالصبور دولت خان نوشہرہ (خ) 402 اعجاز خان محمد زمان پشاور 403 امجد خان غازی خان نوشہرہ 404 جنت اللہ عبدالجلیل وزیرستان 405 نور الامین سبحان گل پشاور 406 حکیم اللہ نور شاد محمد پشاور 407 محمد حمزہ خالد خالد ایاز پشاور 408 عامر علی فضل مولیٰ چارسدہ 409 اختر حسین مثل خان ہنگو 410 حمد اللہ حاجی صبرک ہنگو
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
411 لائق زمان نورا جان کرم ایجنسی 412 عابد اللہ حاجی صبرک ہنگو 413 نور اللہ حاجی صبرک ہنگو 414 محمد شاہین حبیب خان کرم ایجنسی 415 حافظ محمد زبیر مولانا ریاض بہاولنگر 416 محمد مختار صدر الدین بہاولنگر 417 درویش خان خان زرین چارسدہ (خ) 418 محمد طارق خادم حسین مظفر گڑھ 419 محمد شبیر خائستہ محمد چارسدہ 420 تجوید اللہ نور اللہ خان چارسدہ 421 محمد اسدالقیوم عبدالقیوم بہاولنگر 422 عبدالغفار بشیر احمد ملتان 423 محمد ہارون سجاد ذوالفقار میانوالی 424 روح اللہ رحمت اللہ چارسدہ (خ) 425 محمد ابوبکر فضل مولیٰ پشاور 426 محمد شاکر سجاد احمد پشاور (خ) 427 ولی اللہ ہاتھی خان لکی مروت (خ) 428 حفیظ اللہ خیال محمد پشاور 429 محمد طاہر شریف گل پشاور 430 محمد نعمان عادل نبی پشاور 431 محمد آصف عبدالحکیم خیبر ایجنسی 432 رضوان خان عبدالمجید پشاور 433 محمد رمضان افضل شاہ اوکاڑہ 434 محمد عامر محمد سرور قصور 435 رشید احمد عبدالہادی صوابی 436 طاہر حسین گل نذیر خان صوابی 437 عاصم حیات امیر زادہ صوابی 438 محمد عثمان غنی عبدالشکور رحیم یار خان 439 محمد اصغر ایاز احمد رحیم یار خان 440 محمد احمد حاجی عبیداللہ رحیم یار خان 441 حسن محمود جمیل احمد رحیم یار خان 442 محمد اصغر خدا بخش رحیم یار خان 443 حبیب اللہ سیف اللہ راجن پور 444 محمد جمیل عبدالمجید رحیم یار خان 445 محمد عابد قاری غلام محمد رحیم یار خان 446 محمد عامر جمیل احمد رحیم یار خان 447 محمد ابراہیم عبدالصبور رحیم یار خان 448 محمد ایوب اللہ دتہ رحیم یار خان 449 محمد سلمان محمد زاہد رحیم یار خان 450 محمد صابر عابد حسین رحیم یار خان 451 محمد غلام یسین محمد عمر وڈا رحیم یار خان 452 محمد عبداللہ حاجی محمد زکریا رحیم یار خان 453 محمد احمد جام خان رحیم یار خان 454 محمد رمضان محمد عرفان مانسہرہ 455 عامر غلام جیلانی مانسہرہ 456 نصیب اللہ سوال محمد بٹگرام 457 نصیر احمد محمد منظور مانسہرہ 458 زاہد محمود اللہ دین ایبٹ آباد 459 عمر خطاب محمد فرید ایبٹ آباد 460 محمد ارشد عبدالرشید مانسہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
461 اکرام اللہ سید عالم چارسدہ (خ) 462 بختیار علی ریدون خان صوابی 463 واقف خان شیرامان صوابی 464 شہباز علی خان فرمان علی مردان 465 محمد آصف محمد مسکین مانسہرہ 466 محمد مہتاب محمد فاروق لاہور 467 اویس گل گوہر رحمن ایبٹ آباد 468 محمد نعمان محمد عرفان ایبٹ آباد 469 تنویر احمد شاہد پرویز جھنگ 470 سجاد احمد محمد احمد بھکر (خ) 471 محمد رضوان نور محمد بہاول پور 472 عمر حیات محمد اصغر بہاول پور 473 صبغت اللہ محمد اسلم بہاول پور 474 محمد بلال لیاقت علی بہاول پور 475 محمد عرفان الحق محمد اقبال بہاول پور 476 محمد شاہد محمد نواز مظفر گڑھ 477 محمد اسد اللہ محمد زبیر ثاقب مظفر گڑھ 478 محمد ثناء اللہ حافظ عبد الکریم باغ آزاد کشمیر 479 محمد توصیف نور محمد خان وزیرستان 480 احسان اللہ اجمال خان چنیوٹ 481 محمد داؤد اللہ یار چنیوٹ 482 محمد عمر عثمان ذاکر علی چنیوٹ (خ) 483 محمد رمضان محمد یعقوب چنیوٹ 484 محمد اکرام حاجی خوشی محمد ڈی جی خان 485 محمد عمران عبدالحنیف فیصل آباد 486 عمیر احسن محمد یسین چنیوٹ 487 محمد ریاض احمد محمد یوسف مردان 488 طفیل حبیب حبیب خان بہاول پور 489 عبدالرشید محمد بخش بہاول پور 490 محمد عمران محمد سلیم سرگودھا 491 وسیم اکرم محمد اکرم رحیم یار خان 492 آصف حسین عاشق حسین رحیم یار خان 493 محمد وسیم حافظ منیر احمد رحیم یار خان 494 محمد سلمان عبدالرشید احمد رحیم یار خان 495 محمد بلال حمید اللہ رحیم یار خان 496 محمد سمیع اللہ منیر احمد رحیم یار خان 497 مقصود احمد نصیر احمد رحیم یار خان 498 سمیع اللہ محمد حسین رحیم یار خان 499 محمد ایوب اللہ بخش بہاول پور 500 محمد الیاس عبدالرحمن رحیم یار خان 501 محمد وقاص محمد احمد امین رحیم یار خان 502 فرحت اللہ نذیر احمد راجن پور 503 محمد صدیق سعید احمد رحیم یار خان 504 محمد سلمان نذیر احمد رحیم یار خان 505 عبدالسلام محمد شفی استور (خ) 506 محمد یاسر بشیر احمد چکوال 507 محمد عمر محمد مرسلین چنیوٹ 508 نور اللہ شیر زمین چنیوٹ 509 محمد ضیاء القاسمی محمد قاسم چنیوٹ 510 ابوسفیان محمد اقبال فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
511 محمد صدام محمد صدیق شیخوپورہ 512 آصف نواز محمد نواز جھنگ 513 حافظ خرم شہزاد محمد اکرم اوکاڑہ 514 عبدالوہاب محمد ابوبکر بہاول پور (خ) 515 عبدالماجد عبدالواحد بہاول پور (خ) 516 محمد جہانگیر محمد رمضان سرگودھا 517 محمد محسن مشتاق احمد اوکاڑہ 518 محمد فرہاد محمد رفیق پاکپتن 519 محمد عمر یعقوب محمد یعقوب لاہور 520 کفایت اللہ عظمت اللہ ڈی جی خان 521 محمد ندیم بشیر احمد ڈی جی خان 522 محمد عزیر گل محمد طیب جھنگ 523 انس نواز محمد نواز خانیوال (خ) 524 محمد اقبال محمد فاضل بہاول پور 525 محمد فاروق محمد رمضان سرگودھا 526 نور زمان بشیر احمد چنیوٹ 527 عمر بلال محمد ریاض سیالکوٹ 528 محمد قاسم حبیب الرحمن سیالکوٹ 529 ابرار الحق محمد سرور بٹ سیالکوٹ (خ) 530 عبداللہ شاہ فضل احمد سیالکوٹ 531 خرم نذیر نذیر احمد چنیوٹ 532 محمد سہیل محمد ایوب ٹوبہ ٹیک سنگھ 533 محمد ارشد محمد یونس بہاول پور 534 بابر محمود محمد یٰسین سرگودھا 535 محمد انتظار محمد حیات چنیوٹ 536 بشیر اللہ عطاء محمد خان سوات 537 محمد ارشد علی خان چکوال (خ) 538 سجاد احمد تاج محمد لودھراں 539 احسان الٰہی وارث علی لودھراں (خ) 540 محمد عمر غلام مصطفیٰ لاہور 541 مبشر الطاف الطاف حسین لاہور 542 محمد نعمان خان محمد فیصل آباد 543 محمد شبیر محمد اقبال فیصل آباد 544 محمد جہانزیب اللہ دتہ فیصل آباد 545 ذوالقرنین عبدالستار فیصل آباد 546 محمد اسامہ محمد اسرائیل فیصل آباد 547 محمد عزیر عبداللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ 548 حارث سلیم اللہ مردان 549 رانا محمد اشفاق محمد اکبر جھنگ 550 محمد ندیم مقصود علی لاہور 551 محمد اسماعیل محمد اسلم کراچی 552 محمد حنیف عبدالمجید لاہور 553 شاہد محمود امانت علی لاہور 554 خلیل احمد شبیر احمد کراچی (خ) 555 احسن رضوان قاری شبیر احمد چنیوٹ (خ) 556 محمد کاشف محمد اسحٰق لاہور 557 مدثر حسین مظفر حسین چکوال 558 عبدالواحد سجاد کبیر چکوال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
559 مدثر بشیر محمد بشیر چکوال 560 محمد اشفاق محمد حسین چکوال 561 شاہد عمران فلک شیر چنیوٹ 562 محمد علی احمد علی چنیوٹ 563 محمد قاسم بشیر احمد بٹگرام 564 نعیم اللہ غلام سرور بٹگرام 565 فیصل خان نظام خان میانوالی (رخ) 566 عبدالجبار حافظ محمد ممتاز بھکر 567 محمد امجد فاروق محمد منیر احمد خانیوال 568 محمد عمیر محمد رفیق خانیوال 569 محمد ظہیر محمد نظیر مانسہرہ 570 محمد یاسر علی بہادر مانسہرہ 571 عبدالباسط عبدالقیوم ایبٹ آباد 572 عبدالرحمن شرافت خان ایبٹ آباد 573 یاسر معاویہ حکیم خان ہری پور 574 شعیب خان چن رحمن ہری پور 575 شاہ قیاز خان محبوب خان وزیرستان 576 محمد عدنان محمد لقمان ڈی آئی خان 577 عبدالرحیم رشید احمد کراچی 578 عبداللہ محمد شمروز بٹگرام 579 عبدالرحمن محمد حنیف کراچی 580 سرفراز سیف سیف اللہ نوشہرہ فیروز 581 محمد کاشف عبدالمجید کراچی 582 اویس رشید عبدالرشید لسبیلہ 583 سمیع الحق عبدالصمد قلات 584 جلیل احمد محمد کریم خضدار 585 کفایت اللہ محمد مراد خضدار 586 جمال احمد عبدالخالد کراچی 587 زاہد اللہ گل سعید اللہ کراچی 588 ظاہر زین العابدین کراچی 589 نعمت اللہ عبدالقادر خضدار 590 محمد طاہر علی خادم حسین مظفر گڑھ 591 محمد ریحان محمد عاشق ملتان 592 محمد عثمان غنی حسین احمد کوئٹہ 593 عبدالرزاق غم داد گوادر 594 محمد یوسف محمد شمس الدین کراچی 595 عمر فاروق شاہد الرحمن کراچی 596 محمد شاہد اللہ دتہ وہاڑی 597 خیر محمد نور محمد کراچی 598 رمیز شہزاد نصیر اختر کراچی 599 امجد علی عبدالرزاق بدین 600 خالد شاہ صلاح اللہ تورغر 601 محمد فیاض جمعہ خان کوہستان 602 اکرام اللہ صاحب گل باجوڑ 603 شاہد احمد فضل احمد چترال 604 جاوید علی مولیٰ بخش ٹنڈوالہ یار 605 محمد ندیم بہادر خان کراچی 606 جمیل احمد عبدالعزیز وزیرستان
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 607 امان اللہ بہادر خان لوئر دیر 608 سکندر سخی داد کراچی 609 ہیواد خان عبدالغفور قلعہ سیف اللہ 610 محمد زوہیب محمد اسلم کراچی 611 سمیع اللہ سبحان اللہ مردان 612 عبدالصمد عبدالغنی کوئٹہ 613 محمد عاطف محمد یعقوب کراچی 614 عبدالفتاح عبدالکریم حیدرآباد 615 محمد سلیم محمد عیسیٰ عمرکوٹ 616 محمد اسماعیل عبداللہ قلعہ عبداللہ 617 حمید اللہ جان عبدالواحد شانگلہ 618 نعمان خان فیض محمود کوہاٹ 619 عبدالباسط عبدالرشید صوابی 620 عباداللہ صبر محمد بٹگرام 621 محمد جہانگیر عامر حسین کراچی 622 ذوالفقار احمد مرزا خان غذر 623 محمد عاقب نیاز علی خان سوات 624 محمد عظیم محمد علی کراچی 625 نادر شیر زمان کوئٹہ 626 سید محمد باز محمد کراچی 627 محمد حنیف علی حسن کراچی 628 محمد رمضان غلام حسین ٹنڈو محمد خان 629 کامران خان حیدر زمان کراچی 630 ظاہر شاہ محمود خان ٹنڈوالہ یار (خ) 631 محمد خالد میر صمد خان تورغر 632 سلیم زادہ رحیم اللہ کراچی 633 احمد زیب شیرین فروش شانگلہ 634 دانش افضل محمد افضل کراچی 635 اسلام الدین زین العابدین کراچی 636 عبدالودود عبدالغنی خضدار 637 سید عبدالخالق محمد جمیل کراچی 638 ذاکر اللہ حبیب الرحمٰن کراچی 639 محمد عبداللہ سمیع اللہ کراچی 640 حسان احسانی احسان اللہ کراچی 641 عبداللہ الف زر خان کراچی 642 محمد شہباز غلام یٰسین جھنگ (خ) 643 خلیل الرحمٰن نور بخش خضدار 644 محمد طاہر محمد رضاء خضدار 645 محمود علی محمد علی کراچی 646 علی محمد علی اصغر خان کراچی 647 محمد سلیم محمد اقبال کراچی 648 میر نواز علی اظہر بٹگرام 649 عنایت الرحمٰن عزیز الرحمٰن چترال 650 محمد علی بختیار سوات 651 حیات الرحمٰن گل محمد خان چترال 652 محمد حکیم عمر غنی کراچی 653 نثار احمد حسین گل سوات 654 محمد سلیم محمد ممتاز خان سوات
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
655 سمیع اللہ فیض اللہ حیدرآباد 656 علی مراد محمد سلطان عمر کوٹ 657 امیر معاویہ عبدالرحمٰن خیر پور میرس 658 سمیع اللہ امیر گل حیدرآباد 659 محمد علی محمد کامل حیدرآباد 660 عبدالرزاق عبداللہ سانگھڑ 661 حفیظ الرحمٰن محمد اسماعیل نصیر آباد 662 محمد الیاس انظر محمد عباس انظر بہاولنگر 663 نثار احمد محمد عیسیٰ بدین 664 محسن خان شفیع عالم خان حیدرآباد 665 محمد عمیر بیگ اسلم پرویز حیدرآباد 666 عبدالرزاق غلام خان جامشورو 667 مقصود احمد حافظ محمد عثمان میر پور خاص 668 شوکت علی محبوب علی حیدرآباد 669 حنظلہ انیس حفظ الرحمٰن میر پور خاص 670 عبدالوارث سلطان حیدرآباد (خ) 671 عارف حسین بشیر احمد سانگھڑ 672 محمد شیراز روزی خان حیدرآباد 673 فرید اللہ نور احمد حیدرآباد 674 عبدالواحد عمر میر پور خاص 675 محمد شاہد شہاب الدین حیدرآباد 676 عبدالجبار آدم خان عمر کوٹ 677 علی نواز شیر خان عمر کوٹ 678 عبدالرحمٰن عبدالرزاق عمر کوٹ 679 محمد شہزاد محمد سلیم ملک مٹیاری 680 عبدالشکور حاجی گل محمد خضدار 681 محمد عبداللہ مقصود احمد کراچی 682 محمد حذیفہ عتیق الرحمٰن کراچی 683 صدام حسین غلام حسین ٹوبہ ٹیک سنگھ 684 محمد رب نواز غلام مصطفیٰ بہاول پور 685 محمد ابوہریرہ مولوی محمد ہاشم بہاول پور 686 مجیب الرحمٰن اللہ وسایا ملتان 687 شفیق الرحمٰن عبدالکریم بہاول پور 688 سیف الرحمٰن احمد شیر چنیوٹ 689 مصور یعقوب نذیر احمد ملتان 690 محمد نصیر خضر حیات ڈی آئی خان (خ) 691 کفایت اللہ اصل جان وزیرستان (خ) 692 قمر ندیم اللہ بخش بھکر (خ) 693 محمد ندیم عبدالرزاق بھکر 694 محمد احسن خورشید احمد بھکر 695 شاہد اقبال سلطان غنی میانوالی 696 محمد شفاء اللہ غلام حسین بھکر 697 محمد زبیر احمد سعید بھکر 698 حبیب الرحمٰن دلاور خان لکی مروت 699 ساجد الرحمٰن خوش ولی شاہ چترال 700 محمد فیصل ظہور احمد چنیوٹ 701 محمد شہباز لیاقت علی ٹوبہ ٹیک سنگھ 702 محمد کاشف اشتیاق احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
703 محمد صہیب شاہد رزاق ٹوبہ ٹیک سنگھ 704 حسن یوسف محمد یوسف ٹوبہ ٹیک سنگھ 705 محمد عثمان جہانزیب مردان 706 محمد مقصود منظور احمد لیہ 707 محمد سہیل قیصر عباس لیہ 708 محمد اجمل احمد بخش لیہ 709 اسلام شاہ ظفر علی شاہ لکی مروت 710 حامد اقبال محمد یٰسین صوابی 711 آفاق الزمان رفیع الزامن صوابی 712 محسن ریاض الرحمٰن صوابی 713 راشد منہاس احسان صوابی 714 امتیاز احمد محمد ایاز پشاور 715 عظمت علی نثار احمد پشاور 716 مظہر علی علی اکبر پشاور 717 گل سید غنچہ گل پشاور 718 محمد شاہ گل شاہ پشاور 719 محمد نعیم محمد علی ساہیوال 720 عبدالمجید اللہ دتہ ساہیوال 721 محمد نعمان احمد علی ساہیوال 722 ابوسفیان محمد لیاقت ساہیوال 723 محمد مسلم عبدالغفور گوادر (خ) 724 شمشیر علی فضل رحیم بونیر (خ) 725 عبدالرحیم عمر سید بونیر (خ) 726 افسر خان محمد عظیم بونیر (خ) 727 محمد مشتاق محمد نصیر احمد مظفر گڑھ 728 خلیل احمد شبیر احمد رحیم یار خان (خ) 729 فیصل خان نظام خان میانوالی 730 محمد آصف مختیار احمد مظفر گڑھ 731 یاسر حنیف محمد حنیف لاہور 732 محمد سرور محمد الیاس قصور 733 شاہ نواز علی نواز ٹنڈو محمد خان 734 زبیر الحق خان بادشاہ باجوڑ 735 محمد یوسف عبدالجلیل قلات 736 محمد زبیر محمد اصغر حیدر آباد 737 نذیر احمد محمد علی عمر کوٹ 738 محمد طاہر ربانی محمد قاسم ربانی حیدر آباد 739 محمد ذیشان ریاست علی قصور 740 محمد اکرام محمد علی قصور 741 محمد راشد محمد رشید قصور 742 محمد عمران محمد نواز فاروقی قصور 743 محمد عمران اکرم محمد اکرم قصور 744 روح الامین عبدالمنان کوہاٹ 745 محمد عثمان خان میر کوہاٹ 746 محمد ثاقب محمد ہارون مانسہرہ 747 ذیشان علی محمد حنیف لودھراں 748 قمر الدین حافظ عبدالقادر گھوٹکی 749 محمد حذیفہ نصر اللہ مظفر گڑھ 750 عصمت اللہ کلام الدین ڈی آئی خان 751 سجاول علی انعام اللہ خان استور 752 طلحہ عمر محمد حفیظ اٹک
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
753 محمد مجاہد فرید غلام فرید مظفر گڑھ 754 محمد احمد قاری محمد زوار حسین وہاڑی 755 محمد اسعد مالک شیر مالک پشاور 756 محمد ندیم احمد احمد بخش پشاور 757 عبدالقیوم شاہ خسرو پشاور 758 صلاح الدین تاج الدین دیر لوئیر 759 ثمامہ افتخار افتخار احمد بہاول پور 760 محمد وقاص حاجی عبدالحمید لیہ 761 محمد ادریس عبدالرشید لیہ 762 عمر فاروق حاجی نذیر احمد لودھراں 763 انس احمد مولانا محمد احمد بہاول پور 764 محمد سعد ریاض احمد رحیم یار خان 765 تنویر احمد گلزار حسین خوشاب 766 زبیر احمد حافظ امیر بھکر 767 محمد رضوان محمد صابر بہاول پور 768 محمد شہزاد خادم حسین ملتان 769 محمد سلیم محمد صدیق ملتان 770 محمد مجاہد محمد اسلم ملتان 771 منیر احمد زاہد اللہ ڈی جی خان 772 محمد عابد عبدالمجید ڈی جی خان 773 محمد رفیق قادر بخش ڈی جی خان 774 محمد ابوبکر حبیب الرحمن مظفر گڑھ 775 محمد نعمان زبیر احمد گھوٹکی 776 محمد طاہر محبت خان گھوٹکی 777 غلام مرتضیٰ غلام الرسول سکھر 778 قادر بخش حاجی جعفر سکھر 779 محمد ایوب طاہر غلام قادر سکھر 780 مجیب الرحمن عبدالواحد سکھر 781 محمد خبیب جامی محمد عثمان علی سرگودھا 782 شبیر عباس احمد شیر جھنگ 783 محمد امین محمد اقبال چنیوٹ 784 امجد علی محمد رب نواز جھنگ 785 محمد سعید محمد شریف جھنگ 786 ذیشان سلیم محمد سلیم راہی رحیم یار خان 787 ضیاء الرحمن مطیع الرحمن رحیم یار خان 788 محمد زاہد عثمانی محمد رمضان رحیم یار خان 789 محمد شعیب محمد ناصر چنیوٹ 790 وقار اللہ فدا حسین پشاور 791 عامر جاوید مرزا خان سرگودھا 792 مسعود اظہر عبدالقادر بہاول پور 793 شاہد محمود محمد ابراہیم گوجرانوالہ 794 سیف اللہ عبدالقدیر کوئٹہ 795 شمس الاسلام اکا جان بٹگرام 796 سلیم اللہ عبداللطیف کوئٹہ 797 تصور عباس سلطان خان جھنگ 798 سلمان احمد مقبول احمد رحیم یار خان 799 محمد ذیشان محمد ارشد علی وہاڑی 800 امداد اللہ عمر نور احمد فیصل آباد 801 حامد محمود عبیدالرحمن اوکاڑہ (خ) 802 محمد الطاف محمد حنیف اوکاڑہ (خ)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
803 محمد نعمان ضیاء الاسلام اوکاڑہ (خ) 804 سیف اللہ امان خان کراچی 805 سمیع اللہ گل حسن ڈی آئی خان 806 عبدالرحیم شیر محمد چنیوٹ 807 عتیق الرحمن غلام مرتضیٰ بہاولنگر 808 جہانگیر خان اخلاق حسین مردان 809 احمد الرحمن عبدالصمد کراچی 810 عبدالغفار عبدالرشید ڈی جی خان 811 محمد توقیر محمد طاہر ڈی جی خان 812 محمد عمران کبیر کبیر چنیوٹ 813 محمد آصف ریاض احمد سرگودھا 814 محمد ساجد عبدالشکور کراچی 815 سیف اللہ محمد نواز کراچی 816 امید علی علی حسن کشمور 817 محمد عمر محمد جلیل سکھر 818 محمد یعقوب محمد اکرم بہاول پور 819 محمد جاوید اللہ دتہ بہاول پور 820 سیف الکبیر محمد اسحق کراچی 821 محمد مدثر عمر ملک عمر حیات چنیوٹ 822 صادق حسین ملک اللہ ڈیوایا ملتان 823 محمد بلال صنوبر خان بٹگرام (خ) 824 فرید احمد خان محمد کریم خان چترال 825 آفاق مختار مختار علی شیخوپورہ 826 اورنگزیب محمد فضل شیخوپورہ 827 محمد عابد سونے خاں لودھراں 828 محمد شاہد یار محمد لودھراں 829 مبارک شاہ عبدالکریم کراچی 830 محمد ہمایوں محمد عارف اوکاڑہ 831 راشد خان امیر رحیم صوابی 832 زرولی شاہ گل ریحان صوابی 833 عبدالقادر عبدالرشید اوکاڑہ 834 یوسف علی سید بہادر صوابی 835 محمد زبیر محمد اصغر قصور (خ) 836 سلیم خان زرین محمود صوابی 837 خالد رحمن فیض الرحمن بونیر 838 نور الامین جمشید خان نوشہرہ 839 خلیل احمد نواز سید نواز صوابی 840 عبداللہ یوسف محمد یوسف کراچی 841 مبارک علی احسان احمد جھنگ 842 محمد ادریس احسان اللہ بنوں (خ) 843 عبدالقیوم نواز خان بنوں (خ) 844 سید اسید شاہ ولی محمد بٹگرام 845 محمد نعیم نور شاہ رحیم یار خان 846 صابر حسین لدھا خان ڈی جی خان 847 محمد نعمان عبدالرحمن ڈی جی خان 848 حسیب اللہ عبدالکریم پشاور 849 عبدالسلام محمد فاروق ٹوبہ ٹیک سنگھ 850 ذیشان احمد صادق حسین ٹوبہ ٹیک سنگھ
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۶ء ص۲۲ تا ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چناب نگر میں دورۂ حدیث کا اجراء
پاکستان بننے سے لے کر ۱۹۷۴ء تک چناب نگر میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی قادیانی اجازت نہ دیتے تھے۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ تب اس کے ساتھ ہی سانحہ ربوہ (چناب نگر) کی تحقیقات کے لئے جناب کے ایم صمدانی ہائیکورٹ کے جج پر مشتمل عدالتی کمیشن نے سفارش کی کہ چناب نگر کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ چنانچہ پچاس ایکڑ رقبہ پر مشتمل مسلم کالونی چناب نگر میں ہاؤسنگ سکیم کے تحت منظور ہوئی۔ اس میں ۹؍ کنال کا پلاٹ مسجد و مدرسہ کے لئے رکھا گیا جو مجلس تحفظ ختم نبوت کو الاٹ ہوا۔
تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری تھے۔ آپ کے حکم پر مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالرحمن میانوی نے جہاں ۱۹۷۵ء میں ریلوے اسٹیشن پر جامع مسجد محمدیہ تعمیر کی۔ وہاں مسلم کالونی میں ۱۹۷۶ء میں مسجد و مدرسہ ختم نبوت کی بنیاد بھی رکھی۔ تب ان اکابر کے ساتھ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا خدا بخش مرحوم، مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی مرحوم، مولانا عبدالرزاق رحیمی حال برطانیہ، شیخ منظور احمد مرحوم چنیوٹی اور ان سب کا کفش بردار فقیر راقم اللہ وسایا شریک عمل تھے۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت میں قاری منیر احمد صاحب مدرس مقرر ہوئے۔ حفظ و ناظرہ، قرآن مجید کی کلاس جاری ہوئی۔ بعد میں قاری عبدالرحمن (حال جھنگ) مدرس کے طور پر آئے۔ قاری عبدالواحد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین بھی مدرس کے طور پر تشریف لائے۔ مختلف اساتذہ تشریف لاتے رہے۔ تعداد کبھی کم، کبھی زیادہ رہی۔ کام چلتا رہا۔ ایک دفعہ کچھ عرصہ کے لئے مولانا عبدالرحمن ظفر فیصل آباد والوں کی سربراہی میں درجہ کتب کا بھی اجراء کیا گیا۔
قادیانی کفر کا سحر اور نحوست کو توڑتے توڑتے تیس اکتیس برس بیت گئے مگر درجہ کتب کا مستقل اجراء نہ ہوسکا۔ آج سے تقریباً دس سال قبل اللہ رب العزت کے فضل و کرم کے بھروسہ پر عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مولانا محمد اکرم طوفانی کی تجویز پر منظوری دی۔ مولانا خواجہ خان محمد کی دعاؤں سے درجہ کتب کا آغاز ہوا۔ تب لاہور کے جامعہ قاسمیہ سے مولانا سجاد الہی تونسوی تدریس کے لئے تشریف لائے۔ پہلے سال دو درجے جاری کئے۔ ایک دو سال بعد مولانا سجاد الہی صاحب تو لاہور واپس تشریف لے گئے۔ ان کی جگہ صدر مدرس کے طور پر مولانا غلام رسول دین پوری تشریف لائے۔ ہر سال ایک ایک درجہ بڑھاتے گئے۔ ایک دو سال درجہ نہ بڑھایا کہ پیچھے کی کلاسیں مزید بھرپور ہوجائیں۔ ۱۴۳۶ھ میں مشکوٰۃ شریف کے درجہ تک پہنچے۔ مقدر دیکھئے اور قدرت کے کرم پر قربان جائیں کہ مشکوٰۃ شریف کے پہلے سال کے آخر میں مشکوٰۃ شریف کی اختتامی تقریب کے موقع پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے صاحبزادہ مولانا طلحہ کاندھلوی صاحب مدظلہ تشریف لائے۔ زہے نصیب!
امسال ۱۴۳۷ھ میں مشکوٰۃ شریف کے ختم پر مولانا قاضی عبدالرشید اور مولانا صاحبزادہ عزیز الرحمن رحیمی تشریف لائے۔ اب مولانا غلام رسول دین پوری کی سربراہی میں درجہ کتب کے اساتذہ کی بھرپور جماعت تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی مدرسہ کے نظم و نسق کی نگرانی فرماتے ہیں۔ مولانا غلام مصطفیٰ مدرسہ کے بیرونی معاملات اور خطابت کے نظم کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ چھ حفظ و گردان کی کلاسیں ہیں۔ بنات کے لئے حفظ و ناظرہ کا شعبہ علیحدہ ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سے یک سالہ تخصص کی کلاس کا اجراء ہوا جو ترقی پذیر ہے۔ اس کا نظم مولانا رضوان عزیز کے ذمہ ہے۔ الحمد للہ ! ۱۴۱۶ھ سے سالانہ ختم نبوت ریفریشر کورس مدرسہ عربیہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں شعبان کے مہینہ میں منعقد ہوتا ہے۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عزیز الرحمن ثانی ایسے حضرات جنہوں نے اس کورس میں پڑھا تھا۔ آج وہ یہ کورس کامیابی و کامرانی سے پڑھا رہے ہیں۔ اس وقت تک چار ہزار سے زائد علماء نے کورس کیا ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کا کہیں سے گزر ہوا۔ دیکھا کہ ایک بوڑھا ضعیف آدمی کھجور کا پودا لگا رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ بزرگو! آپ تو گور کنارے ہیں، اس پودے کے پھل دینے سے قبل آپ نے راہی عدم آباد ہو جانا ہے تو پودا لگانے کا فائدہ؟ اس بزرگ نے جواب دیا: بادشاہ سلامت! میرے بڑوں نے پودے لگائے میں نے ان کا پھل کھایا، میں پودا لگا رہا ہوں، میرے بعد والے اس کا پھل کھائیں گے۔ بادشاہ نے خوش ہو کر انعام دیا۔ بزرگ نے کہا کہ لوگوں کے پودے سالوں بعد پھل دیں گے میں نے ادھر پودا لگایا، ادھر پھل مل گیا۔ بادشاہ نے خوش ہو کر مزید انعام دیا۔ بزرگ نے کہا کہ لوگوں کے پودے سال میں ایک بار پھل دیتے ہیں میرے پودے نے دو بار پھل دیا ہے۔ بادشاہ نے خوش ہو کر تیسری بار انعام دیا۔ اس واقعہ سے صرف اتنا استدلال مقصود ہے کہ مقدر والوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ اپنے ہاتھوں لگائے پودوں کا پھل اترتا اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
قارئین کرام! توجہ فرمائیے سوچئے اور بار بار سوچئے آج سے چالیس سال قبل جب آپ کے اکابر نے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کا آغاز کیا۔ تصور بھی نہ تھا کہ یہاں دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوگا۔ ایک بار پھر سوچئے کہ مدرسہ ختم نبوت چناب نگر میں (۱) حفظ وگردان کی چھ کلاسیں۔ (۲) بنات کا حفظ وناظرہ کا شعبہ۔ (۳) شعبہ تخصص۔ (۴) بنین کے شعبہ میں مشکوٰۃ شریف تک کی تعلیم۔ (۵) مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر وفاق المدارس کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں سے شعبہ کتب کا امتحانی سنٹر ہے۔ (۶) مدرسہ سے ملحقہ عظیم الشان دو لائبریریاں۔ (الف) تدریسی کتب کی لائبریری، (ب) جنرل لائبریری، دونوں میں بیس ہزار کے لگ بھگ کتب مختلف موضوعات پر موجود ہوں گی۔ (۷) اور اب اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس ۱۴۳۵ھ کے فیصلہ کے مطابق ۱۴۳۷ھ شوال میں تعلیمی نئے سال کے آغاز پر دورۂ حدیث شریف کا اجراء، درجہ مشکوٰۃ، دورۂ حدیث شریف اور تخصص کے شرکاء کے لئے کمپیوٹر کی تعلیم لازمی۔ تخصص کے شرکاء کے لئے پندرہ صد اور دورۂ حدیث کے شرکاء کے لئے ایک ہزار روپیہ ماہانہ وظیفہ۔ یاد رہے کہ امسال پورے ضلع چنیوٹ کے مدارس سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت کے طلباء کی تعداد وفاق کے امتحان میں زیادہ تھی۔
یہ سب اللہ رب العزت کا کرم ہے۔ پودا لگانے والے مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد حیات، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری ان حضرات کے اخلاص کا صدقہ ہے کہ اس وقت درجہ کتب، درجہ حفظ وگردان وناظرہ اور درجہ تخصص کے رہائشی طلباء کی تعداد ساڑھے چار صد کے قریب رہی۔ پورا سال ہر ماہ تحریری خواندہ کتب کا جائزہ ہوتا رہا۔ پورا سال شرکاء لائبریری سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ پورا سال جمعرات کی شام تقریر میں مہارت کے لئے مقابلے ہوتے رہے اور اب دورۂ حدیث شریف ہوگا۔ زہے نصیب!
ملک بھر کے مبلغین حضرات سے اس تحریر کے ذریعہ درخواست ہے کہ وہ کم از کم ایک ایک طالب علم درجہ کتب کے لئے اپنے اپنے حلقہ سے روانہ کریں۔ جماعتی رفقاء سے استدعا ہے کہ وہ مدرسہ کی کامیابی کے لئے جہاں دعاء فرمائیں وہاں وہ بھی اپنے متعلقین کو مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں پڑھنے کے لئے بھجوائیں۔ اس سے کہیں زیادہ یہ کہ دعاء بھی فرمائیں کہ حق تعالیٰ اس مدرسہ کو باقی مدارس کی طرح مزید ترقیوں سے سرفراز فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ برکت اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائیں۔ نظر بد، فتنہ و فساد اور سماوی وارضی حادثات سے محفوظ فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۶ء ص ۳ تا ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ۱۳، ۱۴؍ جولائی ۲۰۱۶ء کو منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے کی۔
اجلاس میں مولانا محمد لقمان علی پوری، قاری خادم حسین (ملتان)، حافظ محمد الیاس قادری (ناظم دفتر گوجرانوالہ)، حافظ محمد طارق (گوجرانوالہ)، مولانا سید بشیر حسین شاہ (بہاولنگر)، قاری محمد اجمل (صدر مدرس احیاء العلوم مظفر گڑھ)، شاہد جاوید خوشنویس (اوکاڑہ)، والدہ محترمہ قاضی محمد ابراہیم ثاقب الحسنی (اٹک)، والدہ محترمہ مولانا محمد اشرف مجددی (گوجرانوالہ)، مولانا عبدالغفور (کچا کھوہ)، حاجی فضل محمد (فیصل آباد) کی وفات پر قلبی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ نیز ان کی مغفرت، پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے عظیم الشان تاریخ ساز فیصلہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے یکم ستمبر سے ۱۰؍ ستمبر ۲۰۱۶ء تک ختم نبوت کانفرنسیں، اجتماعات، سیمینار منعقد کئے جائیں گے۔ مظفر گڑھ، شورکوٹ، جھنگ، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، میاں چنوں، لاہور اور دیگر کئی ایک مقامات پر ختم نبوت کورسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ ممبر سازی کی تکمیل کے بعد جماعتوں اور مرکزی مجلس عمومی کے ممبران کی تشکیل کا مرحلہ عید الاضحیٰ سے پہلے پہلے مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقدہ ۲۷، ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کے انتظامات کے لئے کئی ایک کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ کی سرکردگی میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو تمام مسالک اور مکاتب فکر کے علماء کرام اور مشائخ عظام سے رابطہ قائم کرے گی۔
کانفرنس کی تشہیر کے لئے اشتہارات، پینا فلیکس، اسٹیکرز کی اشاعت کے لئے مولانا عزیز الرحمن ثانی اور ان رفقاء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تمام رفقاء نے عہد کیا کہ زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت کے تعاقب کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
دو درجن سے زائد مبلغین ملتان کی اہم مساجد میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔ آئندہ سہ ماہی کے لئے چمنستان نبوت کے گلہائے رنگارنگ جلد اوّل متعین کی گئی۔
آئندہ سہ ماہی اجلاس ۲۰، ۲۱؍ ذوالحجہ مطابق ۲۳، ۲۴؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز جمعہ، ہفتہ کو دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کورس شورکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اقصیٰ شورکوٹ سٹی میں ۱۵، ۱۶، ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۶ء کو مغرب سے عشاء تک ختم نبوت کورس منعقد ہوا جس کی صدارت جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا محمد زاہد نے کی۔ جب کہ منتظمین میں مولانا مفتی خالد عمر، رانا محمد اشفاق سرفہرست رہے۔ ۱۵؍ جولائی کو مولانا قاضی احسان احمد مبلغ مجلس کراچی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر لیکچر دیا۔ ۱۶؍ جولائی کو مولانا غلام حسین نے امام مہدی علیہ الرضوان کی علامات پر بیان کیا اور مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت کا رد کیا۔ مولانا عبدالرشید سیال مبلغ مجلس فیصل آباد نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کا ابطال کیا۔ ۱۷؍ جولائی کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات اور رفع ونزول مسیح علیہ السلام
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
از قرآن وحدیث پر بیان کیا اور مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کا رد کیا۔ کورس میں ایک سو کے قریب حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص۲۴)
مولانا محمد اسحاق ساقی کا خطبہ جمعہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی جامعہ دارالہدیٰ پرمٹ علی پور میں ۲۹؍جولائی ۲۰۱۶ء کے جمعتہ المبارک کا خطبہ دیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامعہ خلفائے راشدین اچشریف میں جمعتہ المبارک کا خطبہ دیا۔ مولانا شجاع آبادی نے بعد نماز مغرب مدرسہ مصباح العلوم شہر سلطان، بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد اور اگلے دن صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد تقویٰ المعروف درکھاناں والی میں درس دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص۲۴)
ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام چوتھا سالانہ ختم نبوت پروگرام ۲۶؍جولائی بروز منگل تا ۳۱ جولائی ۲۰۱۶ء بروز اتوار بمقام جامعہ رحمت للعالمین ٹوبہ گوجرہ روڈ ۸۳ پھاٹک برائے طلباء کرام اور چک نمبر ۲۸۵ج، ب بلال مسجد میں برائے خواتین منعقد ہوا۔ جس میں ۵۹ طلباء کرام اور ۳۸ طالبات وخواتین نے شرکت کی۔ شرکائے کورس کو شعور ختم نبوت وفتنہ مرزائیت (سوالاً جواباً) پڑھایا گیا اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وامام مہدی علیہ الرضوان، فتنہ دجال، کردار آنجہانی مرزا قادیانی اور مقدمہ مرزائیہ بہاول پور، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء سبقاً پڑھائی گئی۔ شرکائے کورس سے اختتام پر ایک معروضی پرچہ لیا گیا جس میں اوّل، دوم، سوم کے علاوہ دس پوزیشنیں رکھی گئیں۔ مختلف چکوک سے طلباء کرام وطالبات نے کورس میں شرکت کی۔ اول ایک پوزیشن، دوم دو پوزیشن، سوم ایک پوزیشن آئیں۔ اوّل، دوم، سوم آنے والوں کو کتابوں کے سیٹ اور کپڑوں کے سوٹ انعام دیئے گئے۔
اختتامی تقریب ۳۱؍جولائی بروز اتوار بعد نماز ظہر ہوئی جس میں تلاوت قاری غلام مصطفیٰ، نعت عثمان لطیف نے اور خطاب مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقدوس گجر نے فرمایا۔ دو طلباء کرام کی آمین بھی ہوئی اور مولانا اللہ وسایا کے دست مبارک سے دستار بندی کرائی گئی۔ مقامی علمائے کرام میں مولانا سعداللہ لدھیانوی، سید سرفراز الحسن شاہ، مولانا مصدق عباس، مولانا اسعد مدنی، مولانا سفیان، قاری حیدرعلی، محترم زاہد اقبال، محترم عثمان ودیگر معزز علمائے کرام ومہمان گرامی نے شرکائے کورس کو انعامات سے نوازا۔ کورس کے منتظم محترم قاری عبداللطیف مدیر جامعہ رحمت للعالمین تھے اور تدریس کے فرائض ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۶ء ص۵۵)
سہ روزہ ختم نبوت کورس علی پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل علی پور کے زیر اہتمام ۵، ۶، ۷؍اگست ۲۰۱۶ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار بعد نماز مغرب تا عشاء بمقام جامع مسجد مکی محلہ فاروقیہ علی پور میں تین روزہ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ کورس کی تیاری میں ضلعی مبلغ مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا قاری عبدالجبار قاسمی، مولانا محمد اجود حقانی، مولانا منیر احمد نعمانی ودیگر مقامی علماء کرام نے محنت کی۔ کورس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان کے عنوانات پر سبق پڑھائے۔ ان تین دنوں میں علی پور شہر اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں درس اور ملاقاتیں ہوئیں۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۵؍اگست بروز جمعہ پہنچے اور جمعتہ المبارک کا خطبہ جامع مسجد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاروقیہ جتوئی شہر میں ارشاد فرمایا۔ پھر نماز مغرب تا عشاء کورس کا سبق پڑھایا اور رات کا قیام مولانا منیر احمد نعمانی کے مدرسہ تحفیظ القرآن میں ہوا۔ ۶؍اگست بروز ہفتہ صبح کا درس مدرسہ تحفیظ القرآن بعد نماز ظہر جامع مسجد اقصیٰ مڑھی والہ پروگرام ہوا اور بعد نماز عصر مدرسہ جامعہ عبداللہ ابن عباس بستی پیارے والی میں مولانا کا بیان ہوا۔ پھر مغرب تا عشاء کورس کا سبق ہوا۔ بعد نماز عشاء میر والہ کی جامع مسجد میں بیان ہوا۔ رات کا قیام میر والہ میں ہوا۔ ۷؍اگست بروز اتوار صبح کا درس میر والہ کی جامع مسجد میں ہوا۔ پھر بعد نماز ظہر جامع مسجد شاہی سیت پور میں درس ہوا اور بعد نماز عصر جامع مسجد بیت المکرم مولانا محمد لقمان صاحب والی میں درس ہوا اور بعد نماز مغرب تا عشاء کورس کا سبق ہوا۔ پھر رات کا قیام مولانا منیر احمد نعمانی کے مدرسہ میں ہوا اور ۸؍اگست بروز اتوار صبح کا درس جامع مسجد تقویٰ علی پور میں ہوا۔ کورس میں روزانہ پورے شہر علی پور تمام ائمہ اور خطباء کرام کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام الناس شرکت کرتی رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر، نومبر ۲۰۱۶ء ص ۴۷)
مولانا اللہ وسایا کا ایک روزہ دورہ گوجرانوالہ
مولانا اللہ وسایا کا ۱۱؍اگست ۲۰۱۶ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب مرکزی مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن میں درس قرآن ہوا۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت وقادیانی سازشوں سے عوام الناس کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں جناب صاحبزادہ خلیل احمد تشریف لائے تو حضرت نے بیعت اور دعاء کرائی۔ میزبان مولانا داؤد احمد، قاری محمود الرشید تھے۔
بعد نماز عشاء جامع مسجد ابوایوب انصاری کنگنی والہ میں مولانا اللہ وسایا نے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی اور تاریخی خطاب ختم نبوت کے حوالے سے فرمایا۔ بعد ازاں جناب صاحبزادہ خلیل احمد تشریف لائے اور دعاء کرائی۔ مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا مفتی غلام نبی، مولانا محمد یوسف، مولانا فرقان، مولانا قاسم اور مولانا محمد عارف کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر، نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۱؍اگست ۲۰۱۶ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بخاری چوک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قاری عبدالمجید نے تلاوت کلام پاک سے آغاز فرمایا۔ مولانا قاری کامران، مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی کا ہوا۔ مفتی صاحب نے مدلل گفتگو فرمائی۔ آخری بیان مولانا صبغت اللہ جوگی کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر، نومبر ۲۰۱۶ء ص ۴۲)
۳۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت زیر اہتمام ۳۱ ویں سالانہ کانفرنس ۱۴؍اگست ۲۰۱۶ء بروز اتوار کو سینٹرل مسجد برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی دو نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب نے کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری فخر الزمان نے حاصل کی۔ پہلی نشست سے صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، چیئرمین اقراء روضۃ الاطفال کراچی مولانا مفتی خالد محمود، امیر ختم نبوت برطانیہ حافظ محمد نگین، مولانا مفتی محمود الحسن لندن، مفتی محمد اسلم امیر جمعیت علماء برطانیہ، مولانا محمد ابراہیم بریڈ فورڈ اور مولانا خلیل الرحمن نے بیانات کئے۔
دوسری نشست کی صدارت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد نے فرمائی۔ تلاوت کی سعادت مولانا محمد افضال جب کہ ہدیہ نعت کی سعادت سید ابرار حسین شاہ ڈربی نے حاصل کی۔ دوسری نشست سے پیر حافظ محمد ناصر الدین خاکوانی، مولانا عبدالرشید ربانی باٹلے، مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینٹ آف پاکستان، مولانا عطاء الرحمن سینیٹر پاکستان، حاجی عبدالحمید بلجیم، مولانا محمد اسماعیل رشیدی، مفتی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سعید الرحمن بریڈفورڈ، حافظ محمد اقبال، مفتی سیف الرحمن بریڈفورڈ نے بیانات کئے۔ ان کے علاوہ کانفرنس میں صاحبزادہ سعید احمد، مولانا محمد بلال، مفتی سہیل احمد، مولانا ممتاز الحق، مولانا سہیل یعقوب باوا، مولانا علی بھائی، مفتی طارق علی شاہ، مولانا ابراہیم، بابائے برمنگھم مولانا خورشید احمد، مولانا امداد اللہ قاسمی، مولانا محمد سلیم، مولانا اکرام اللہ، قاری ممتاز، مولانا اسلم زاہد، پیر حافظ انور، مفتی عبدالقادر، مولانا عبدالباری، حافظ اسامہ رحمانی، معاویہ انور، سفیان انور، نعمان مصطفیٰ و دیگر علماء کرام اور ہزاروں عاشقان مصطفیٰ ﷺ شریک ہوئے۔ اس طرح یہ عظیم الشان کانفرنس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی پُرسوز دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۶ء ص ۱۲ تا ۱۸)
یوم تحفظ ختم نبوت پروگرامز کراچی
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس عظیم فتح مبین کی مناسبت سے ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کی طرح کراچی کی سطح پر بھی ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ منایا گیا۔ ۷؍ ستمبر کو مرکزی دفتر ختم نبوت پرانی نمائش میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں کراچی کے جید علماء ومشائخ شریک ہوئے۔ اس کی تیاری کے لئے شہر کی مختلف مساجد میں پروگرامز ترتیب دیئے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا پروگرام: ۱۶؍ اگست ۲۰۱۶ء بروز منگل بعد نماز مغرب کھتری مسجد ٹھٹھہ بس اسٹاپ لی مارکیٹ لیاری ٹاؤن میں پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ پروگرام کا آغاز مفتی محمد تقی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ حافظ حبیب اللہ ارمانی نے ہدیہ نعت و ختم نبوت پر نظم پیش کی۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ الحمدللہ ! ہمارے اکابر علماء کرام نے دین اسلام کے لئے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
دوسرا پروگرام: ۲۱؍ اگست ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز مغرب سندھ سیکریٹریٹ مدینہ مسجد میں پروگرام رکھا گیا اور عوام الناس کو ۷؍ ستمبر کو ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن کا بیان ہوا۔
تیسرا پروگرام: ۲۵؍ اگست بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد عائشہ صدیقہ بن قاسم ٹاؤن میں ختم نبوت پروگرام انعقاد پذیر ہوا۔ مولانا عبدالحئی مطمئن نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ! پورا سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پورے پاکستان میں وقتاً فوقتاً ختم نبوت پروگرام کا انعقاد اس لئے کراتی ہے کہ امت مسلمہ کے ہر ایک شخص کے ایمان کی حفاظت کی جاسکے۔
چوتھا پروگرام: ۲۶؍ اگست حلقہ پٹیل پاڑہ دربن بازار سنہری مسجد میں بروز جمعہ بعد نماز عشاء تحفظ ختم نبوت پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالحئی مطمئن اور مولانا سید عتیق الحسن الحسینی جامعہ بنوری ٹاؤن کے استاذ و نائب امام وخطیب کے بیانات ہوئے۔
پانچواں پروگرام: ۲۷؍ اگست بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد دکھنی پاکستان چوک میں پروگرام ترتیب دیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی پیر طریقت مولانا محمد نعمان ارمان مدنی تھے اور خصوصی خطاب مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کیا۔ پروگرام کا آغاز مولانا قاری عامر شفیق کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور ہدیہ نعت حافظ حبیب اللہ ارمان نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
چھٹا پروگرام: ۲۸؍ اگست بروز اتوار بعد نماز عشاء صدر ٹاؤن کا پروگرام سنہری مسجد برنس روڈ میں کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز حافظ قاری مدنی کی تلاوت اور حافظ حبیب اللہ ارمانی کی نعت سے ہوا۔ مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالحئی مطمئن نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷ستمبر کے دن مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے عظیم فتح نصیب فرمائی اور آج دشمن ختم نبوت بھیگی بلی کی طرح چھپا ہوا ہے، ایک وقت آئے گا کہ ان شاء اللہ ! ان تمام ملعونوں کا نام ونشان مٹ جائے گا۔
ساتواں پروگرام: ۲۹؍اگست بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد مدینہ گودھرا میں ختم نبوت پروگرام ۷؍ستمبر کے حوالے سے رکھا گیا۔ مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کے لئے پوری قوم نے بھر پور محنت کی۔ پروگرام میں مولانا سلمان، مولانا زبیر اور دیگر کئی علماء کرام نے شرکت فرمائی۔
آٹھواں پروگرام: ۳۰؍اگست بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد دارالسلام لیاقت آباد گوشت مارکیٹ میں مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس عقیدہ پر پورے اسلام کی بنیاد ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۶ء ص ۲۱ تا ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍اگست ۲۰۱۶ء بروز اتوار کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے قبل کئی دن تک مختلف مساجد میں مختلف علماء کرام کے بیانات ہوتے رہے جن میں مفتی عبدالواجد، مفتی خالد، مولانا احتشام، مولانا محمد صدیق اور مفتی زین العابدین شاہ شامل ہیں۔
۱۸؍اگست بروز جمعرات کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی مبلغین قاضی احسان احمد کراچی، مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان سے ایبٹ آباد تشریف لائے۔ اسی شب قاضی احسان احمد نے داتہ اور مفتی محمد راشد مدنی نے سرسید کالونی میں عوام الناس سے خطاب فرمایا۔
۱۹؍اگست کو قاضی احسان احمد نے دھمتوڑ جب کہ مفتی محمد راشد مدنی نے قلندر آباد میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے خطبات فرمائے۔ بعد نماز مغرب قاضی احسان نے ملک پورہ اور مفتی محمد راشد مدنی نے حویلیاں کی عوام سے خطاب کیا۔
۲۰؍اگست بروز ہفتہ کو قاضی احسان کا جامعہ ابوبکر حویلیاں میں جب کہ مفتی راشد کا جامعہ ابوحنیفہ حویلیاں میں خطاب ہوا۔ اسی روز سہ پہر پی سی ہوٹل ایبٹ آباد میں مجلس ایبٹ آباد کی طرف سے عمائدین شہر کے اعزاز میں عصرانہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں شہر بھر کے علماء، وکلاء، تاجر برادری، صحافی، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے شرکت کی۔ ان خاص حضرات سے ہر دو مبلغین کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ عصرانہ کے بعد مفتی راشد مدنی نے جامعہ الزیتون کے طلباء سے بیان فرمایا۔ اسی شب قاضی شاہد اقبال نے مہمانان گرامی، علماء اور کارکنان کو عشائیہ دیا۔
۲۱؍اگست بروز اتوار کو قاضی احسان احمد نے بلال مسجد کاکول روڈ کے مدرسے میں جب کہ مفتی راشد مدنی نے مدرسہ علوم الصدیقیہ میں طلباء سے بیان فرمایا۔ بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں سالانہ عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا شفیق الرحمٰن نے کی۔ نقابت کے فرائض محمد ساجد اعوان نے سرانجام دیئے۔ سید محمد علی اور سید احمد علی کی تلاوت کے بعد انعام اللہ خان اور حافظ جنید مصطفیٰ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ بعد ازاں کانفرنس سے مولانا قاضی ہارون الرشید، مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، قاضی احسان احمد کراچی کے ولولہ انگیز خطابات ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا کی آمد پر نعرہ تکبیر کی صداؤں سے ان کا پر تپاک استقبال ہوا۔ مولانا نے اپنے تفصیلی خطاب میں فتنہ قادیانیت کے حوالے سے امت کی ذمہ داریوں پر بحث کی اور تمام سامعین سے ختم نبوت کے مشن پر سب کچھ قربان کرنے کا عزم لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۵ تا ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کانفرنس
۴ ستمبر ۲۰۱۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس بروز اتوار بعد نماز مغرب توحید مسجد گلشن حدید فیز ون میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت حضرت لدھیانوی شہید کے خلیفہ مجاز مولانا اقبال اللہ مدظلہ نے کی۔
کانفرنس کا آغاز قاری امیر معاویہ کی تلاوت سے ہوا، جب کہ ہدیہ نعت حافظ زین العابدین جلالی و حافظ محمد اطہر جلالی نے پیش کی۔ مولانا احسن راجہ نے پُرسوز اشعار سے مجلس کو چار چاند لگا دیئے، بعد نماز عشاء پروگرام کی دوسری نشست منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری ربنواز نے پیش کی۔ مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحفظ ختم نبوت کا کام ہماری زندگی کا مقصد ہے، ہم میں سے ہر کلمہ گو مسلمان کو اس کام سے جڑنا ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا ہے۔ قادیانیت کا بائیکاٹ شریعت کے عین مطابق اور پاک پیغمبر ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔
مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک کی کامیابی یہ امت مسلمہ کی ۹۰ سالہ جدوجہد کا صلہ ہے، بزرگوں نے ہمیں جس راستے پر لگایا تھا الحمد للہ ! آپ کی جماعت اسی آب و تاب کے ساتھ عدم تشدد کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پوری دنیا میں کامیابیوں و کامرانیوں سے ہمکنار ہو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قادیانی اپنے ناپاک مذہب سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۶)
ختم نبوت سیمینار کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۴ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز اتوار جامع مسجد خالد بن ولید کہروڑ پکا میں ختم نبوت سیمینار بسلسلہ یوم ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا غلام محمد ریحان نے فرمائی۔ سیمینار سے جامعہ اسلامیہ باب العلوم کے شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور، مجلس کہروڑ پکا کے امیر مولانا غلام محمد و نائب امیر مولانا منیر احمد ریحان نے بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کورس و جلسہ خوشاب
۴ ستمبر ۲۰۱۶ء صبح دس بجے تا نماز عصر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے دفتر سے ملحقہ مسجد عمر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کے افتتاح کی خوشی میں ختم نبوت کورس و جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت مقامی امیر مولانا قاری سعید احمد اسعد نے کی۔ کورس سے خطیب چناب نگر مولانا غلام مصطفیٰ، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سیکرٹری مولانا محمد عبداللہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا نور محمد ہزاروی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۵)
فتح مبین کانفرنس ماموں کانجن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ماموں کانجن کے زیر اہتمام ۴ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد احیاء العلوم ماموں کانجن میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے حوالہ سے فتح مبین کے نام سے کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عطاء اللہ نقشبندی نے صدارت کی۔ مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی تفصیل بیان کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے تمام اراکین خصوصاً مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی دیگر تمام علماء کرام اور جناب ذوالفقار علی بھٹو اور شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی بے لوث قربانیوں پر چراغ عقیدت پیش کیا۔ مولانا پیر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حبیب اللہ نقشبندی نے عقیدۂ ختم نبوت پر امت مسلمہ کی اتفاقیت، اکابرین و اسلاف کی وسعت نظری، بے دریغ قربانیوں کو مفصل بیان فرمایا۔ ملک عبدالحمید، ملک راشد، مولانا قاری ناصر، مولانا عبدالقدوس گجر و دیگر علماء کرام نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
۵؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز پیر جج گھر ٹوبہ میں صبح ۱۰ بجے تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا مفتی محمد عثمان چیچہ وطنی، مولانا منیب الرحمن لدھیانوی فیصل آباد، مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ، مولانا مجیب الرحمن نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر روشنی ڈالی اور شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کرنے پر قومی اسمبلی پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ و اکابرین ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اسی طرح کمالیہ، پیرمحل، رجانہ، پھلور، مرید والا، سمندری، کھدر والا، کالا پہاڑ، مونگی بنگلہ وغیرہ مقامات پر ختم نبوت کے بھرپور پروگرام کئے گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۲)
یوم ختم نبوت گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام ۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد ختم نبوت گوجرہ میں دفاع پاکستان اور یوم ختم نبوت کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوا جس کی صدارت مجلس گوجرہ کے امیر مولانا محمد اسلم چشتی نے کی۔ تلاوت قاری محمد اجمل نے کی۔ نعت رسول مقبول قاری شرافت علی مجددی نے پڑھی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کو مدلل ومفصل بیان فرمایا۔ مجلس ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مبلغ مولانا محمد حبیب نے ۶؍ ستمبر کے شرکاء وشہداء اور ۱۹۷۴ء کے اراکین قومی اسمبلی پاکستان و شہداء ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا ضیاء اللہ، مولانا مصدق عباس، سید سرفراز الحسن شاہ، شیخ عامر، محترم میاں ارشد، بھائی ذوالفقار، ڈاکٹر محمد مجاہد، مکرم سعادت، مولانا اسد مدنی، لالہ عثمان بٹ، شیخ زاہد اقبال اس کانفرنس میں شانہ بشانہ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۱)
یوم پاکستان و تحفظ ختم نبوت ٹنڈو الہ یار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز منگل مرکزی جامع مسجد، میمن محلہ، ٹنڈو الہ یار میں یوم پاکستان و تحفظ ختم نبوت کی نسبت سے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا راشد محبوب، مولانا مختار احمد، مولانا توصیف احمد نے خطاب کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۳)
یوم ختم نبوت ریلیاں تاجہ زئی و سرائے نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت ملک بھر میں پورے مذہبی جوش وجذبے سے منایا جاتا ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ہر سال ضلع لکی مروت کی تحصیلوں میں بھی یوم ختم نبوت انتہائی شایان شان طور پر منایا جاتا ہے۔ ۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء کو تاجہ زئی میں یوم ختم نبوت ریلی نکالی گئی۔ ریلی سے حافظ خلیل اللہ، حافظ صلاح الدین، مولانا عتیق الرحمن اور کئی دیگر علماء نے بیانات کئے۔ ریلی میں مجلس ختم نبوت تاجہ زئی کے تمام اراکین سمیت کثیر تعداد میں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی۔ ۷؍ ستمبر کو سرائے نورنگ میں سالانہ ریلی اس
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دفعہ صبح کی بجائے بعد نماز ظہر نکالی گئی۔ سکولز و کالجز کے طلباء کی پر زور اپیل پر ریلی کی تاخیر کا فیصلہ کیا گیا۔ نماز ظہر کے متصل ہی سکولوں سے اساتذہ سمیت طلباء کے قافلے آنا شروع ہو گئے۔ مدارس ، سکولز اور کالجز کے کثیر طلباء ریلی کی زینت بنے۔ ریلی مولانا مفتی عبدالغفار، شیخ الحدیث حسین احمد و دیگر ضلعی عہدیداران مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کی قیادت میں ختم نبوت زندہ باد، شہداء ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کی فضا میں سہ پہر تین بجے جامع مسجد منیاری سرائے نورنگ سے نکلی ، شہر کے مختلف مقامات سے ہوتی ہوئی پاسبان پلازہ پہنچی ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ مختلف مقامات پر مولانا عبدالحمید ، مولانا حفیظ الرحمن ، مفتی رضوان ، مولانا محمد طیب طوفانی ، مولانا خلیل الرحمن، مشہور پشتو شاعر فرید خان فرید ، مولانا ابراہیم ادہمی ، مولانا بشیر احمد حقانی ، مولانا عبدالصبور نقشبندی ، مولانا اعزاز اللہ کے بیانات ہوئے۔ آخر میں مولانا مفتی ضیاء اللہ کا بیان ہوا۔ مجلس کے ضلعی نائب امیر مولانا مفتی عبدالغفار کی رقت آمیز دعاء سے یہ عظیم الشان ریلی ا ختتام پذیر ہوئی۔ مولانا شبیر احمد حقانی اور مولانا محمد امجد طوفانی نے دن رات ریلی کی کامیابی کے لئے خصوصی کوشش کی۔ مولانا گل فراز شا کر کی نگرانی میں انصار اسلام کے رضاکاروں نے بہترین اور منظم انداز سے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد پرانی وحدت کالونی حیدرآباد میں ۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت کے حوالہ سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا توصیف احمد ، مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کئے۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی نے کی جب کہ مولانا سیف الرحمن، مولانا جمیل الرحمن، مفتی محمد عرفان، قاری محمد اعظم، حاجی زمان خان، مولانا غلام شبیر چنڈ و دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۲، ۵۳)
یوم ختم نبوت سیمینارز ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز بدھ کو ملتان شہر میں یوم ختم نبوت کے حوالہ سے تین پروگرام کئے گئے۔ بعد از نماز مغرب دو پروگرام منعقد ہوئے۔ ایک پروگرام جامع مسجد رحمانیہ وائے بلاک نیوملتان میں مولانا قاری شمس الدین کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مجلس ختم نبوت ملتان کے مبلغین مولانا حافظ محمد انس اور مولانا محمد وسیم اسلم نے بیانات کرتے ہوئے ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر کئے جانے والے ظالمانہ حملہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء میں ہونے والے نیشنل اسمبلی کے تاریخ ساز فیصلے سے آگاہ کیا۔ دوسرا پروگرام جامعہ مسجد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نزد ۹ نمبر ملتان میں مولانا اسد اللہ ضیاء کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت مظفر گڑھ کے مبلغ مولانا قاضی عبدالخالق اور مولانا محمد بلال ملتان نے بیانات کرتے ہوئے قادیانیت کی ریشہ دوانیوں سے عوام الناس کو آگاہ کیا۔ تیسرا پروگرام بعد نماز عشاء جامع مسجد اللہ اکبر، بسم اللہ چوک معصوم شاہ روڈ ملتان میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ جس میں مفتی محمد عبداللہ رئیس دارالافتاء خیر المدارس ملتان، مولانا منیر احمد جالندھری اور مجلس ختم نبوت ملتان کے مبلغ مولانا محمد وسیم اسلم نے بیانات کرتے ہوئے عوام الناس کو قادیانیت کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور قادیانیت کی مصنوعات سے مکمل بائیکاٹ کرنے کا عہد لیا۔ تینوں پروگراموں میں کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۳، ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس راجن پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع راجن پور کی جانب سے ۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء کو یوم تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں تمام مسالک کے علماء، سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اسسٹنٹ کمشنر راجن پور شاہد محبوب بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ اس موقع پر جلیل الرحمٰن صدیقی ضلعی امیر مجلس راجن پور، قاری نور الحسن، سید احسن شمسی ایڈووکیٹ، مولانا موسیٰ رضا کاظمی، مولانا یاسین راہی، مولانا منظور احمد نعمانی، مولانا محمد تقی فاضل، مولانا غلام یاسین شاکر، مولانا عبدالصمد درخواستی، مولانا قاری حماد اللہ، مولانا محمد اقبال مبلغ ڈیرہ غازیخان، عبدالمالک قریشی، مولانا عمر فاروقی، مولانا الٰہی بخش ساقی، سید عبدالرحمٰن شاہ، مولانا رفیق احمد گبول اور مولانا خورشید احمد نے خطاب کیا۔ آخری بیان بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس غلام محمد آباد فیصل آباد
جامعہ نعمانیہ غلام محمد آباد میں ۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بعد نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مولانا سید خبیب احمد شاہ، مولانا محمد طیب، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا حق نواز خالد کے بیانات ہوئے۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے یادگار فیصلہ سے متعلق تفصیلی بیان ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء کو جامعہ عبیدیہ فیصل آباد میں جامعہ کے مہتمم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے امیر سید جاوید حسین شاہ کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام القاری المقری عبدالرحمٰن نے کی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا غلام محمد، مولانا سید خبیب احمد شاہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیان ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرشید غازی نے سرانجام دیئے۔ تفصیلی و آخری بیان جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے امیر مولانا سید محمد زکریا نے کیا۔ موصوف نے پارلیمنٹ میں جمعیت علماء اسلام کے قائدانہ کردار پر روشنی ڈالی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۶)
سیالکوٹ میں دروس ختم نبوت بسلسلہ عشرہ ختم نبوت
۷؍ ستمبر کے تاریخی اور یادگار دن کے حوالہ سے سیالکوٹ شہر بھر میں عشرہ ختم نبوت منایا گیا۔ عالمی مجلس ختم نبوت سیالکوٹ کے امیر پیر سید شبیر احمد گیلانی کی صدارت میں مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محبوب الٰہی، مولانا حافظ محمد اسلم، مولانا منیر احمد فرقان، مفتی داؤد احمد، قاری نذیر احمد، مولانا عاصم شہزاد، مفتی عارف حسین، قاری نصیب احمد مدنی، مولانا زبیر احمد طالب، مولانا احمد مصدق قاسمی، مولانا محمد خان فاروقی، مولانا حماد انور قاسمی، مولانا خلیل احمد بلال، مولانا عزیز الرحمٰن قاسمی، مولانا محمد ابوبکر، مولانا تسلیم الرحمٰن شاکر، مولانا محمد شہباز حنفی، قاری محمد ارشد، مولانا عبدالباسط فاروقی، حافظ محمد عمیر فاروقی، اویس احمد فاروقی نے شہر کی مختلف مساجد جامع مسجد خالد بن ولید پسرور روڈ، جامع مسجد عمر فاروق رام گڑھا، جامع مکی مسجد کوٹلی بھٹہ، جامع مسجد ایبٹ روڈ، جامع مسجد تقویٰ گجر ٹاؤن، جامع مسجد سید یوسف بنوری الہادی ٹاؤن، جامع مسجد امیر حمزہ پسرور روڈ، مدرسہ صفدریہ تعلیم القرآن پکی کوٹلی، جامع مسجد الہدیٰ بٹر، جامع مسجد خاص چائینہ چوک، جامع مسجد الکوثر مجاہد روڈ، جامع مسجد امیر معاویہ نیکا پورہ، جامع مسجد مدینہ محلہ اراضی یعقوب، جامع مسجد جہانگیری اقبال روڈ، جامع مسجد ختم نبوت بن والی، جامع مسجد ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت گولوپھالہ، جامع مسجد فاروقیہ رنگ پورہ، جامع مسجد نور فتح گڑھ، جامع مسجد ختم نبوت فتح گڑھ، جامع مسجد کشمیری المعروف ملاں کمال الدین محلہ کشمیریاں میں دروس ختم نبوت میں عوام الناس سے خطابات کئے۔ پیر سید شبیر احمد گیلانی نے عوام الناس، علماء کرام اور مولانا فقیر اللہ اختر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیالکوٹ میں عشرہ ختم نبوت کے سلسلہ میں کامیاب دروس منعقد کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دروس ختم نبوت کے حوالے سے مرکزی تقریب جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں ہوئی، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ خطبہ جمعہ میں انہوں نے عوام الناس پر زور دیا کہ ہر شخص حضرات علماء سے رابطہ رکھے اور اس فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرے، علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ ہر شخص چلتا پھرتا مجاہد ختم نبوت نظر آئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء کو یوم ختم نبوت کے موقع پر فیروز والہ روڈ پر واقع جامع مسجد خاتم النبیین میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا ممتاز احمد نقشبندی، مولانا نور الحسن انور قادری، مولانا محمد عارف شامی، شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی، حافظ فیصل بلال حسان، مولانا مفتی انعام الرحمٰن ثاقب، مولانا عزیز الرحمٰن ثاقب اور دیگر حضرات نے قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو دعوت اسلام دی۔ انہوں نے کہا کہ دائمی نجات کا مدار نبی کریم ﷺ کو آخری نبی ماننے اور ان پر پختہ ایمان لانے پر ہے۔ آپ کی پیروی ہی امن عالم کی ضمانت ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۷)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ سلطان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوٹ سلطان ضلع لیہ کے زیر اہتمام ۲۵؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز ظہر مدرسہ جامعہ تعلیم القرآن رحیمیہ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد رضوان کراچی، مولانا حفیظ الرحمٰن کراچی، مولانا عبدالمجید فاروقی، علامہ محمد عمر قریشی، مولانا عبدالمجید قاسمی اور مولانا قاضی عبدالخالق نے بیانات فرمائے۔ مجلس کے ضلعی امیر مولانا محمد حسین نے صدارت کی۔ مولانا اللہ وسایا نے ولولہ انگیز خطاب میں فرمایا کہ اب قادیانیت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ کانفرنس میں ضلع بھر کے علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس پہاڑ پور
مؤرخہ ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء بروز سوموار بمقام دارالعلوم صدیقیہ پہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل پہاڑ پور کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ملک بھر کے علماء کرام اور مشہور نعت خواں حضرات نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت استاد القراء قاری حاجی محمد صاحب (ہمت) نے حاصل کی۔ پروگرام کی صدارت شیخ الحدیث مولانا قاری عطاء الرحمٰن سرپرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل پہاڑ پور نے کی اسٹیج سیکر ٹری کے فرائض امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاری محمد کفایت اللہ قاسمی نے سرانجام دیئے۔ پروگرام میں مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا، نمائندہ پیر آف گولڑہ شریف شیخ عبدالحمید، مجاہد ختم نبوت مولانا قاضی احسان (کراچی)، مولانا مفتی عظمت اللہ (امیر مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع بنوں ) ، پیر حفیظ الرحمن (کراچی ) ، مولانا حمزہ لقمان ( علی پوری ) ، مولانا عبدالحکیم اکبری رہنما (JUI) ڈیرہ ، مولانا عبدالمجید قاسمی (ناظم اعلیٰ تنظیم اہل سنت والجماعت پاکستان) ،مولانا محمد رضوان (کراچی) ،فرزند مفتی محمود مولانا عبید الرحمن ،محمد طیب اکبری ایڈووکیٹ ، صاحبزادہ پیر آف موسیٰ زئی شریف اور دیگر ضلع بھر کے علماء کرام نے بھر پور انداز میں شرکت کی ۔ نعت خواں حضرات میں صوفی اللہ بخش (پنجاب ) ،حافظ حبیب احمد (ڈیرہ ) ، حافظ نجیب اللہ (شاہداؤ ) ، حافظ محمد طاہر قریشی اور مقامی نعت خواں حضرات نے شرکت کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍نومبر ۲۰۱۶ء ص۲۱)
ختم نبوت کانفرنس ضلع لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکی مروت کے زیر اہتمام بسلسلہ یوم ختم نبوت ۷؍ستمبر کے حوالہ سے تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء بروز منگل کو شیخ الحدیث مولانا عبدالمتین کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا احمد سعید نے سر انجام دیئے ۔ قاری فضل الرحمن کی تلاوت کے بعد کانفرنس سے مولانا عبدالرحیم ، حافظ قدرت اللہ اور مولانا محمد ابراہیم ادہمی کے بیانات ہوئے ۔ بعد ازاں قاضی احسان احمد کراچی کو دعوت خطاب دی گئی ۔ آخری اور مفصل خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا ۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ قادیانیت آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب پوری دنیا میں ایک بھی قادیانی نہیں ہوگا ۔ کانفرنس میں مولانا اشرف علی ، مولانا صلاح الدین ،مفتی امیر نواز ایڈووکیٹ ، حافظ آصف علی ایڈووکیٹ ، ڈاکٹر سرفراز خان ، حاجی امیر نواز خان ، مولانا عبدالحق اور مولانا شبیر احمد سمیت کثیر تعداد میں علماء وعوام الناس نے شرکت کی ۔ کانفرنس مولانا عبدالمتین کی دعاء سے اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص۵۵ ،۵۶)
یوم ختم نبوت و دفاع پاکستان ریلیاں بنوں
۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء بروز بدھ بوقت صبح ۷ تا ۱۱ بجے جامع مسجد حق نواز سے بنوں پریس کلب تک ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں شیخ الحدیث مولانا محمد زرین ، شیخ الحدیث مولانا حفیظ الرحمن ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں کے ضلعی امیر مفتی عظمت اللہ سعدی اور ان کے تمام جماعتی رفقاء سمیت دینی مدارس کے مدرسین وطلباء ، سکول و کالج ، انجمن تاجران ، سیاسی اراکین ، ائمہ مساجد ، تمام مکاتب فکر کے رہنما اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ ریلی کی قیادت ضلعی امیر مفتی عظمت اللہ سعدی نے کی ۔ شرکاء ریلی سے مولانا سید سجاد سبحان ، مولانا مفتی تاج محمد ، مولانا قاری محمد عبداللہ ، عبدالرؤف قریشی ، مولانا مفتی عبدالغنی ، سید ظہیر الدین ایڈووکیٹ ، مولانا شمس الحق حقانی نے بیانات کر کے تجدید عہد کرایا ۔ اخیر میں مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی نے قراردادیں بھی پیش کیں ۔
۲۷؍ستمبر بروز منگل دوپہر ایک بجے مفتی عظمت اللہ سعدی کے زیر امارت اظہار یکجہتی و دفاع پاکستان کی ایک عظیم الشان ریلی نکلی ۔ جس میں سیاسی ، مذہبی ، علماء وخطباء کرام ، تاجر برادری سمیت عوام نے ہزاروں کے تعداد میں شرکت کی ، ریلی سے شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عوام اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں بھارت آج مختلف حربے استعمال کر کے پاکستان کو دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں سے ڈرانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے لیکن ہم ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والی قوم نہیں اگر بھارت نے پاکستان سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو بھارت یاد رکھے کہ مدارس کے طلباء اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ سمیت پوری پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی
الحمد للہ ! ہر سال کی طرح اس سال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی دفتر جامع مسجد باب الرحمت ایم اے جناح روڈ میں عیدالاضحی کی چھٹیوں میں پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا، جس میں دینی مدارس کے طلباء نے بھر پور حصہ لیا۔ کورس میں مبلغین ختم نبوت کے ساتھ ساتھ کئی دیگر علماء نے بھی لیکچر دیئے ہیں۔ کورس کی ابتدا ۱۶؍ستمبر بروز جمعہ کو ہوئی، جب کہ ۲۰؍ستمبر بروز منگل اختتام ہوا۔
۲۹؍ستمبر بروز جمعرات بعد نماز مغرب مرکز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ میں تربیتی نشست میں کورس میں اوّل، دوم اور سوم آنے والے طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ کامیاب طلباء کو مبارک باد دی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۲۱)
دفتر مرکزیہ ملتان میں مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ۲۳،۲۴؍ستمبر ۲۰۱۶ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا نے کی۔
اجلاس میں درج ذیل مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی:
جناب جعفر خاں خاکوانی برادر نائب امیر مرکزیہ، حافظ مختار احمد برادر مولانا محمد یونس مبلغ کوئٹہ، والد محترم قاری محمود الرحمن امیر مجلس کرک، والدہ محترمہ مفتی محمد حسن لاہور، والدہ محترمہ مولانا علیم الدین شاکر لاہور، والدہ محترمہ مولانا عبدالکریم ندیم خان پور، مولانا محمد ارشد برادر نسبتی مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر، ملک عبدالرشید چچا محترم مولانا محمد یونس مبلغ کوئٹہ، والد محترم محمد شعیب سیال ملتان، والدہ محترمہ مولانا محمد یوسف خاں جامعہ اشرفیہ لاہور، ڈاکٹر محمد رفیق کنری، نانی محترمہ مولانا ندیم حقانی مردان، عزیزہ مولانا مختار احمد، والدہ ڈاکٹر محمد نعیم حیدرآباد، میاں ضیاء اللہ گوجرانوالہ، مولانا مختار عمر نافع جامعہ محمدی شریف چنیوٹ، حافظ محمد احمد ابن مولانا شیخ حبیب احمد کہروڑ پکا، حافظ ہارون الرشید وہاڑی، مولانا محمد اکرم ہمدانی راولپنڈی، چوہدری محمد احمد بستی سراجیہ خانیوال، قاری حبیب الرحمن دارالعلوم کبیروالا، مولانا عزیز الرحمن چشتیاں، مولانا صہیب ماٹری ٹوبہ، بنت قاری عبدالمالک خانیوال، برادرزادہ مولانا تاج محمد پشاور، والد محترم مفتی محمد زاہد خانیوال۔
اجلاس میں ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ کے حوالہ سے ملک بھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اجتماعات، کانفرنسوں، سیمینارز، کنونشنز کی رپورٹ کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پروگرام منعقد کرانے والے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا اور مبلغین نے شرکاء اجلاس کو بتلایا کہ پروگراموں میں تجدید عہد کا اعلان کیا گیا کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے یادگار فیصلہ جس میں قومی اسمبلی نے متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت ایکٹ کے تحفظ اور اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلوں کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں ۷؍ستمبر کے حوالہ سے بعض نیوز چینلوں کو پیمرا کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس پر سخت احتجاج کیا گیا کہ پیمرا نے آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر آئین کی بعض شقوں جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، کی وضاحت پر نوٹس جاری کر کے کروڑوں پاکستانیوں کی دل شکنی کی۔ پیمرا کو چاہئے کہ فوراً وضاحت کر کے بلکہ معذرت کر کے اسلامیان کے دلوں میں پائی جانے والی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رنجشوں کو دور کیا جائے۔ نیز پیمرا قادیانیت نوازی ترک کرے۔
اس سلسلہ میں پیمرا کے حکام سے ملاقات کر کے احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی نشر واشاعت کرنے والے نیوز چینلو کو مبارک باد پیش کی گئی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۶ء ص ۴۹ تا ۵۱)
تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست و تقسیم انعامات
ہر مہینے کی چوتھی جمعرات کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ میں تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں علماء کرام اور مبلغین ختم نبوت عوام الناس اور طلباء سے خطاب کرتے ہیں، اس مرتبہ یہ تربیتی نشست ۲۹؍ستمبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب منعقد کی گئی۔ اسی نشست میں پانچ روزہ ختم نبوت کورس میں حصہ لینے والے طلباء کے امتحان کا نتیجہ اور اول، دوم اور سوم آنے والے خوش نصیب نوجوانوں میں تقسیم انعامات کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مہمانان خصوصی مولانا عتیق الحسن الحسینی نائب امام و خطیب جامع مسجد بنوری ٹاؤن تھے۔
مولانا سید عتیق الحسن الحسینی مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ ختم نبوت کے کام کے لئے کوشاں ہے اور میری درخواست ہے کہ اس کورس میں شریک نوجوان اپنے علاقے میں اور مدرسہ میں اس کام کو اہتمام کے ساتھ کرتے ہوئے اپنے طالب علم ساتھیوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ جامعہ مصباح العلوم منظور کالونی کے مہتمم مولانا عبدالقیوم نعمانی نے اختتامی کلمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بڑوں نے جو راستہ دکھایا ہم اسی پر چلتے رہے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جماعت کی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ اکابرین کے طرز کو اپنائے رکھا اور منکرین ختم نبوت کا تعاقب جاری رکھا۔ اب یہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بھر پور کردار ادا کریں۔
پروگرام کے اختتام پر پانچ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے احمد اللہ بن ولی محمد جامعہ صدیقیہ گلشن معمار، دوم محمد فیصل بن محمد اقبال، جامعہ اسلامیہ طیبہ، سوم پوزیشن کے حامل عبید اللہ جکھرانی بن حاجی غلام عباس جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ یہ اجلاس مولانا عبدالقیوم نعمانی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء ص ۱۸)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
یکم؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ چیچہ وطنی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سید جاوید حسین شاہ اور پیر جی عبدالحفیظ رائپوری نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماؤں مولانا اللہ وسایا، سینیٹر حافظ حمد اللہ، حافظ محمد اکرم برطانیہ، مولانا مفتی ظفر اقبال، مولانا قاری محمد زاہد اقبال، مولانا محمد ارشاد، مولانا کفایت اللہ حنفی، مولانا مفتی محمد عثمان، مولانا محمد شاہد عمران عارفی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، حافظ محمد اصغر عثمانی، حاجی محمد ایوب، پروفیسر جاوید منیر، حافظ نصیر احرار، بلال میر لاہور، مفتی عبدالرحمن، مفتی محمد ساجد، مولانا مطیع الرحمن، مفتی محمد یاسر بشیر جالندھری اور مولانا عبدالباقی سمیت ممتاز مذہبی شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس پچند
عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے، اگر کوئی اس عقیدہ سے غافل رہا اس کے ایمان کی بنیاد کمزور ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شب و روز محنت سے سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں تک عقیدہ ختم نبوت کا پیغام پہنچ چکا ہے بے شمار لوگ فتنہ قادیانیت سے محفوظ ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں، اس بات کا اظہار مولانا اللہ وسایا نے پانچویں سالانہ ختم نبوت پچند کانفرنس میں کیا اس سالانہ ”ختم نبوت کانفرنس“ میں ہزاروں فرزندان اسلام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا۔ کانفرنس میں شریک شمع رسالت کے پروانوں نے تحفظ ختم نبوت کے لئے تن من دھن قربان کرنے کا عزم کیا۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس تلہ گنگ کے موضع پچند میں ۲؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں تحصیل بھر سے ہزاروں شمع رسالت کے پروانوں نے شرکت کی اس کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، خانقاہ سراجیہ کے مولانا خواجہ خلیل احمد، مجلس احرار اسلام کے سید کفیل شاہ بخاری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائم مقام مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا سید ارشد الحسینی اٹک، مولانا عبد الکریم ندیم، مولانا محمد سیف اللہ قادری، مولانا عبید الرحمن انور، مفتی اسد محمود، صاحبزادہ مولانا عبد القدوس، مولانا اخلاق احمد، ظہور السلام، قاری نور محمد، قاری محمد زبیر، مولانا نور محمد آصف ثمن، قاری فضل محمود، مفتی محمد آصف لاوہ سمیت ملک کی دینی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور علاقہ کی معروف، سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰؍ نومبر ۲۰۱۶ء ص ۲۱)
تحفظ رسالت و حسینؓ زندہ باد کانفرنس کہروڑ پکا
۶؍ محرم الحرام مطابق ۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد خالد بن ولید میں ”حسینؓ زندہ باد“ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس پروگرام کے خصوصی مہمان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ تھے۔ یہ پروگرام مولانا منیر احمد منور شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کی سرپرستی اور مولانا غلام محمد ریحان مجلس ختم نبوت کہروڑ پکا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پروگرام سے مولانا منیر احمد ریحان، حافظ محمد نواز، مولانا صہیب محمود، مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا محمود شریف و دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ آصف برادران نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ آخری خطاب مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۵۶)
پینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے پینتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۷، ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعرات و جمعہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونا قرار پائی۔
ایک ماہ قبل کانفرنس کے اشتہارات شائع کر کے ملک بھر کے رفقاء کو ارسال کر دیئے گئے۔ تمام تر مقررین حضرات کو دعوت نامے بھی ڈاک سے بھجوا دیئے تھے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مقررین سے بالمشافہ دعوت بھی دی تھی۔ پورے ملک میں زور و شور سے کانفرنس کی تیاری کا عمل شروع ہو گیا۔ چونکہ امسال بھی کانفرنس ۲۵، ۲۶؍ محرم ۱۴۳۸ھ کو ہونا تھی اس لئے طے ہوا کہ عشرہ محرم گزر جانے کے بعد اشتہارات لگوائے جائیں۔ چنانچہ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو صبح مسلم کالونی چناب نگر میں مبلغین و منتظمین حضرات کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مجلس کے بزرگ رہنما، مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔ اس اجلاس میں طے ہوا کہ مولانا فقیر اللہ اختر،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عبدالرشید (ضلع فیصل آباد)، مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد خالد عابد (ضلع لاہور، ضلع شیخوپورہ)، مولانا عبدالرزاق مجاہد (ضلع قصور واوکاڑہ)، مولانا محمد حبیب (ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ )، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالستار گورمانی (چناب نگر، لالیاں، گردونواح)، مولانا حمزہ لقمان (بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد وسیم اسلم (چنیوٹ، بھوانہ، سیال موڑ، پنڈی بھٹیاں اور چنیوٹ کے اطراف کی تمام شاہراؤں )، مدرسین درجہ کتب و حفظ اور تخصص کے طلباء (چنیوٹ و لالیاں شہر )، مولانا محمد علی صدیقی (بھلوال، میانوالی )، مولانا محمد امجد علی (سرگودھا شہر، شاہ پور )، مولانا محمد نعیم (ضلع خوشاب )، مولانا خالد عابد، مولانا خالد میر (ضلع سرگودھا) کے دیہات، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا غلام حسین (ضلع جھنگ)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ )، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام مصطفیٰ کانفرنس کی ہمہ جہت تیاری، مولانا محمد عارف شامی کی (ضلع گوجرنوالہ وحافظ آباد) کے لئے تشکیل ہوئی۔
رفقاء نے اپنے اپنے مفوضہ اضلاع میں اشتہارات، سٹیکرز، فلیکس وغیرہ کی تنصیب، اجتماعی، انفرادی ملاقاتوں، مساجد میں ہر نماز پر دعوتی اعلانات و بیانات کا سلسلہ شروع کیا۔ ۱۶؍ اکتوبر سے ۲۴؍ اکتوبر تک ایک ہفتہ متذکرہ علاقوں میں دعوت کا عمل ایسے بھرپور انداز میں چلایا گیا کہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، لاہور ڈویژن کے گاؤں، قصبات اور شہروں کو گویا کانفرنس کا پنڈال بنا دیا گیا۔ راقم اللہ وسایا نے ۱۴؍ اکتوبر کو جڑانوالہ جمعہ پر بیان کیا۔ ۱۵؍ اکتوبر کو ضلع چنیوٹ کے تمام مدارس ملحقہ وفاق المدارس، جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء کا مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں اجلاس ہوا۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مفتی محمود کانفرنس فیصل آباد اور چناب نگر کانفرنس کی دعوت دی گئی۔ اس اجلاس میں قاری مولانا عزیز الرحمن رحیمی، مولانا سید محمد زکریا شاہ فیصل آباد سے بطور خاص شریک ہوئے۔
۱۷؍ اکتوبر کو فقیر کا چونڈہ، پسرور، گلا والا کا تبلیغی سفر ہوا۔ ۲۰؍ اکتوبر کو جامعہ حنفیہ چکوال، ۲۱؍ اکتوبر جمعہ پر بیان اور رات فیصل آباد مفتی محمود کانفرنس میں شرکت ہوئی۔ یہاں بھی ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی دعوت دی گئی۔ سٹیج سے کانفرنس کے لئے اعلان بھی ہوا۔ ۲۲؍ اکتوبر چک نمبر ۹۹ شمالی، ۲۳؍ اکتوبر بھیں ضلع چکوال سنی کانفرنس میں شرکت اور اعلانات ہوئے۔ ۲۴؍ اکتوبر کو حافظ والا نزد پپلاں میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت اور اعلان ہوا۔ ۲۰؍ اکتوبر سے ۲۲؍ اکتوبر تک مولانا قاضی احسان احمد نے سرگودھا میں متعدد کانفرنسوں اور جمعہ میں خطاب کیا اور یوں کانفرنس کی دعوت کے عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
۲۴؍ اکتوبر کو رفقاء دعوت کے اس عمل سے فارغ ہو کر چناب نگر پہنچنا شروع ہوئے۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان سے مولانا راشد مدنی رحیم یار خان سے تشریف لائے۔ ۲۳، ۲۴؍ اکتوبر کی درمیانی شب فیصل آباد سے ٹینٹ، سپیکر، بجلی کے جنریٹر پہنچنا شروع ہوئے۔ اگلے روز ان کی تنصیب کا عمل شروع ہو گیا۔ عید گاہ و جنازہ گاہ، چار نئے رہائشی مکانات، ۲۰ مدرسہ کے نئے کمرے، سٹیج کے عقب میں وسیع و عریض ہال جامع مسجد ختم نبوت کا نیا ہال کی تعمیرات کا مرکزی ناظم اعلیٰ صاحب نے جائزہ لیا۔ اس روز شام کو ڈیوٹیاں لگنا شروع ہوئیں۔ تمام امور کی تقسیم کار کا نقشہ مکمل ہوا۔ ۲۵؍ اکتوبر بعد از ظہر کو انتظامات کا حتمی جائزہ اجلاس، مرکزی ناظم اعلیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ طے ہوا کہ جمعرات صبح مہمانوں کا ناشتہ چنے کا سالن اور روٹی سے کرایا جائے تاکہ سینکڑوں میل کا سفر کر کے آنے والے بھر پور ناشتہ سے فارغ ہو کر آرام کر کے دس بجے اجلاس میں بآسانی شرکت کر سکیں۔ ناشتہ کا عمل شروع رہے تا آنکہ دوپہر کے کھانے کی تقسیم شروع ہو جائے۔ یہ شام تک جاری رہے تا آنکہ جمعرات شام کے کھانا کی تقسیم شروع ہو جائے۔ مقصد یہ تھا کہ جو مہمان جس وقت آئے ان کی ضیافت ہو سکے۔ امسال جھنگ سے کھانا تیار کرنے کے لئے ہمیشہ آنے والے حضرات جناب جاوید، جناب محمد رمضان نے اپنی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالن تیار کرنے والی ٹیم میں اضافہ کیا ۔ جمعرات، جمعہ صبح مولانا سیف اللہ خالد نے پچیس پچیس دیگیں خود اپنی نگرانی میں پکوا کر بھجوا دیں ۔ ایک گوجرانوالہ کے دوست تین دیگیں پکوا کر لائے ۔ جناب خان ہاشم خان نے ۲۲ دیگیں جمعرات شام جمعہ صبح کے لئے تیار کروا دیں ۔ روٹی پکوانے کے لئے ٹیم اور تندوروں کا اضافہ کیا گیا ۔ مولانا محمد ابوبکر رحیمی، قاری اشفاق بدھ قبل از ظہر فیصل آباد سے تشریف لائے ۔ اپنے رفقاء سمیت بدھ شام سے جمعہ تک برابر کھانے کے تقسیم کے عمل میں منہمک رہے ۔ مولانا مفتی ظفر اقبال اپنے رفقاء سمیت بدھ کو تشریف لائے ۔ مدعو علماء کرام، مہمانان خاص کے کھانا کا بدھ شام سے جمعہ شام تک انہوں نے بڑی کامیابی سے نظم چلایا ۔
یوں اس سال دوستوں کی بھر پور کوشش سے کھانے کا اتنے وسیع پیمانہ پر اہتمام ہوا کہ پوری کانفرنس کے دوران مہمانوں کو زحمت نہیں ہوئی ۔ تمام اساتذہ، تمام مبلغین حضرات نے اس جانفشانی سے اپنے ذمہ امور کو نبھایا کہ اس پر ان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔ جامعہ دارالقرآن فیصل آباد، جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، جامعہ امدادیہ فیصل آباد نہ معلوم کن کن حضرات علماء کرام و طلباء نے سیکورٹی کے نظم کو کامیابی سے چلایا کہ مثال قائم کر دی ۔ جناب عبدالرؤف اپنی ٹیم کے ساتھ مانسہرہ سے تشریف لائے ۔ ان متذکرہ حضرات کے ساتھ نظم کو بہتر سے بہتر چلایا ۔
مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، برادر جناب یٰسین، مولانا عبد الرشید نے فیصل آباد سے سامان منگوانے کے لئے متعدد سفر کئے ۔ چاول، دالیں، گھی، چائے، خشک دودھ، چنے، چینی کا سامان بذریعہ ٹرک جناب برادر خالد مبین اور حافظ محمد الیاس اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے راولپنڈی سے بھجوا دیا ۔ فالحمد للہ ! بقیہ سامان چنیوٹ سے خرید لیا گیا، ۔ ہزاروں فٹوں پر مشتمل نئی عمدہ پلاسٹک کی ڈیڑھ صد صفیں پشاور سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، جناب چچا الحاج عنایت صاحب نے بھجوا دیں ۔ بدھ دوپہر تک پہلا قافلہ میر پور خاص سندھ سے تشریف لایا ۔ پھر کراچی وحیدر آباد، ٹنڈوآدم کے دوست آئے ۔ بدھ دوپہر سے قافلوں کی آمد چاروں صوبوں و آزاد کشمیر سے شروع ہوئی ۔ جمعرات فجر کی نماز کانفرنس کے پنڈال میں اور جامع مسجد ختم نبوت میں دو جماعتیں ہوئیں ۔ بزرگ عالم دین، فرشتہ سیرت رہنما، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن بدھ شام تشریف لائے ۔ حسب سابق کانفرنس کے پنڈال میں آپ نے فجر کی نماز کی امامت فرمائی اور فجر کے بعد اشراق تک درس سے کانفرنس کا آغاز فرمایا ۔
دونوں مدرسوں کی تمام عمارتیں قدیم وجدید، جامع مسجد ختم نبوت، عید گاہ، مسلم کالونی دوستوں کے مکانات، چنیوٹ کے مدارس اور چنیوٹ کے دیگر شرکاء کے رشتہ داروں کے ہاں مہمانوں کے ٹھٹھ لگ گئے ۔ دوستوں نے بتایا کہ امسال صرف چکوال سے دس گاڑیوں کا قافلہ آیا ۔ چارسدہ سے چودہ ڈائیوو بسوں کا قافلہ قصور و گوجرانوالہ، فیصل آباد، بنوں، صوابی، نوشہرہ اندرون سندھ اسی طرح پورے ملک بالخصوص قریب کے اضلاع سے اتنی خلق خدا جمع ہوئی کہ میلے کا سماں لگتا تھا ۔ جلسہ گاہ جدید مدرسہ، قدیم مدرسہ، بازار، سڑکیں کالونی کے پارک جدھر دیکھو خلق خدا کا سیلاب امڈتا ہوا نظر آتا تھا ۔ بسیں، ویگنیں، کاریں، ٹرالیاں کالونی میں اس طرح جمع تھیں کہ پیرودھائی راولپنڈی، بادامی باغ لاہور کے بس اڈوں کا گمان ہوتا تھا ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس اور وصف خاص ختم نبوت سے محبت کے ان نظاروں پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے ۔ اس گئے گزرے دور میں امت کی خالصتاً دینی حوالہ سے نجات اخروی کے لئے یہ کوشش، قابلِ تقلید ولائقِ رشک ہے ۔ دوست اس محبت سے تشریف لائے کہ اجتماع پر رحمت خداوندی کی طرف سے سکینہ کی کیفیت کا پرتو معلوم ہوتا تھا ۔ بازاروں میں چلنا دشوار لگتا تھا ۔ چہار جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جب بھی قافلہ آتا عشق ومستی وجذب ومحبت کی ایک خاص کیفیت پورے اجتماع میں جلوہ فگن ہو جاتی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیجئے! ہر ساتھی اپنے اپنے کام میں عشق کی دیوانگی کیفیت سے سرشار مگن ہے خشوع وخضوع اخلاص وللہیت سے لگا ہوا ہے۔ پروردگار عالم کی قدرت کی انگلیوں کے درمیان انسانوں کے قلوب ہیں جدھر چاہیں پھیر دیں۔ تمام اداروں، تمام مدارس، تمام اضلاع، تمام مسالک، تمام جماعتوں کی شمولیت نے ملک بھر کا نمائندہ اجتماع اور وفاق کی علامت اسے بنادیا۔ یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کمال نہیں، بلکہ محض اور محض صرف اور صرف فقط اور فقط عنایت الٰہی کا کرشمہ ہے۔ اس پر، اس عنوان پر کام کرنے والوں کے قلوب اللہ رب العزت کے حضور جھک جانے چاہئیں۔ لیجئے! قریباً دس بجے مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اپنے رفقاء سمیت اسٹیج پر براجمان ہوئے۔ سپیکر کھلا۔ اعلان ہوا، دوستوں نے بیدار ہو کر وضو کیا۔ پنڈال میں تشریف لانا شروع ہوئے۔
قارئین کرام! صبح نماز فجر کے بعد درس ہوا۔ ناشتہ آرام کے بعد دس بجے اجلاس شروع ہوا۔ ایک بجے کھانے کا وقفہ و تیاری نماز، ڈیڑھ بجے ظہر کی جماعت، بعد از ظہر تا عصر اجلاس عام، بعد از عصر مجلس سوالات و جوابات، بعد از مغرب بیان ومجلس ذکر، بعد از عشاء تا رات اڑھائی بجے تک اجلاس عام۔
جمعہ کے روز بعد از فجر درس۔ اس کے بعد مجلس عمومی کا اجلاس، سہ سالہ مرکزی مجلس کے انتخابات، بعدہ اجلاس تا نماز جمعہ، بعد از جمعہ تا عصر اجلاس عام ہوئے۔ اس ٹائم ٹیبل سے اندازہ فرمالیں کہ کس طرح شرکاء کانفرنس جمعرات سے جمعہ کی عصر تک بھر پور مصروف وقت گزارتے ہیں اور کس طرح اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ محض فضل باری تعالیٰ ہے کہ قلوب کو اس طرف یوں متوجہ فرمادیا کہ لوگ اس کانفرنس میں شرکت کو عبادت اور نجات اخروی کا باعث سمجھتے ہیں۔
لیجئے! اب آپ پہلے اجلاس سے آخری اجلاس تک کانفرنس کے مقررین و خطباء کی فہرست پر نظر فرمائیں۔ اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ تمام تقاریر با مقصد ہوئیں۔ تمام بیانات کانفرنس کے موضوع پر ہوئے۔ ایک بھی بیان ایسا نہیں جو موضوع سے ہٹ کر ہو۔ اس دور میں اسے محض فضل ربی ہی کہا جاسکتا ہے۔
پہلا اجلاس ...... ۲۷؍ اکتوبر جمعرات صبح دس بجے آغاز:
تلاوت ونظم: حافظ قاری مولوی مہتاب احمد متعلم مدرسہ ختم نبوت چناب نگر۔ صدارت وافتتاحی دعاء: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ۔ افتتاحی کلمات: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کے حکم پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ارشاد فرمائے۔ خطاب: مولانا طاہر ربانی (درجہ تخصص، عنوان: حیات عیسیٰ علیہ السلام)، مولانا عبدالجبار (عربی میں بیان، وجوہ تکفیر مرزائے قادیان)، مولانا اویس احمد (عنوان: تحفظ ختم نبوت)، مولانا محمد ولید (عنوان: کذب مرزائے قادیان)، مولانا بدر الاسلام عباسی (عنوان: مرزا قادیانی کے جھوٹ)، مولانا عابد حقانی (عنوان: تحریک ختم نبوت کے خدوخال)، مولانا محمد عرفان، (عنوان: مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیاں)، مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم (عنوان: کئے جاؤ میخارو کام اپنا اپنا)، مولانا غلام حسین جھنگ (عنوان: خدا کرے نہ سمجھے کوئی)، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن (عنوان: عمر رفتہ کو ذرا آواز دینا) نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمانان خصوصی: مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا عبدالسلام قریشی حیدر آباد، مولانا سیف الرحمن آرائیں حیدر آباد، مولانا قاری عبدالرشید حیدرآباد۔
اختتام اجلاس پر دعاء: مولانا مفتی محمد حسن لاہور۔ (وقفہ کھانا و نماز ایک بجے دن )
دوسری نشست ...... جمعرات بعد از ظہر تا عصر:
صدارت: حافظ ناصر الدین خاکوانی ( نائب امیر مرکزیہ )
تلاوت: حافظ محمد عمران (کراچی)
نعت: مولانا عبدالرحمن مظہری (دیر)
بیان: مولوی محمد امین (متعلم مدرسہ ختم نبوت)، مولوی محمد علی (متعلم مدرسہ ختم نبوت)، مولانا محمد رضوان (کراچی)
نعت: محمد شریف محمود (چشتیاں)
بیان: مولانا مفتی عظمت اللہ (عنوان: قادیانی کافر کیوں؟)، مولانا محمد ابراہیم مخلص (بلوچی)، مولانا عبدالباسط (انگریزی)
نعت: جناب فیصل بلال گیلانی (گوجرانوالہ)
بیان: قاری جمیل الرحمن بندھانی (سکھر)، مولانا سیف الرحمن (ناظم وفاق المدارس سندھ )
مہمانان خصوصی: مولانا عبداللطیف اشرفی (سکھر)، مولانا غلام فرید ( فیصل آباد)، مولانا غلام رسول دین پوری (چناب نگر)
نعت: جناب اسامہ (لاہور)
بیان: قاری محمد انور انصر (چونڈہ)، مولانا محمد ایوب خان (ڈسکہ)
نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی
بیان: مولانا عبدالقیوم حقانی (اکوڑہ خٹک )، پیر طریقت مولانا صاحبزادہ عبدالرحیم نقشبندی (چکوال)، شیخ الحدیث مولانا احسان الحق (پشاور)، مولانا قاضی ظہور حسین اظہر ( امیر خدام اہل سنت پاکستان)
دعاء: صدر اجلاس حضرت قبلہ خاکوانی صاحب مدظلہ
تیسری نشست ...... سوال و جواب جمعرات بعد از عصر تا مغرب:
صدارت: مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)
سوالات و جوابات: اللہ وسایا ( راقم الحروف)
دعاء: پیر طریقت قبلہ خاکوانی صاحب مدظلہ
چوتھی نشست ...... جمعرات بعد از مغرب:
بیان: پیر طریقت مولانا صاحبزادہ ارشد الحسینی (خانقاہ مدنیہ اٹک )
مہمانان خصوصی: مولانا پیر عبدالرحمن ہزاروی (جامعہ زکریا راولپنڈی)، مولانا محمد احمد (باب العلوم کہروڑ پکا)، مولانا حبیب الرحمن (ناظم باب العلوم کہروڑ پکا)، مولانا راشد محبوب ( ٹنڈو آدم )، مولانا محمد سلیم ( جامعہ حسینیہ شہداد پور)، مولانا شہاب الدین (سجادہ نشین موسیٰ زئی شریف)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ۶۸۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس ذکر: میاں محمد اجمل قادری (خانقاہ خدام الدین شیرانوالہ لاہور)
پانچویں نشست ......جمعرات بعد از عشاء :
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)
تلاوت: قاری محمد عثمان مالکی (ساہیوال)
نعت: حافظ محمد شریف (منچن آباد)، جناب فضل امین (چارسدہ)، فیصل بلال (گوجرانوالہ)، اسامہ اجمل (لاہور)، نیاز الرحمن (فیصل آباد)، مولانا محمد قاسم گجر (لاہور)، امین برادران (سرگودھا)، جناب طاہر بلال چشتی (جھنگ)، مولانا شاہد عمران عارفی (ساہیوال)، شہباز عالم (لاہور)
بیان: مولانا عبدالرؤف چشتی (اوکاڑہ، عنوان: مرزا قادیانی کی اہانت اہل بیت علیہم السلام)، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی (عنوان: فضائل درود شریف، اہمیت ختم نبوت)، مولانا علیم الدین شاکر لاہور (عنوان: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ملعون قادیانی)، مولانا امجد خان لاہور (عنوان: پارلیمنٹ میں مسئلہ ختم نبوت)، مولانا حسنین معاویہ چناب نگر (عنوان: کذب قادیانی)، مولانا حبیب اللہ چناب نگر (عنوان: قادیانی انگریز کا خودکاشتہ پودا)، مولانا قاضی محمود الحسن آزاد کشمیر (عنوان: آزاد کشمیر میں تحریک ختم نبوت)، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا (عنوان: قادیانی شبہات کے جوابات)، مولانا معین الدین وٹو منچن آباد (عنوان: ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی برکات)، مولانا سید مظہر شاہ اسعدی بہاول پور (عنوان: تحفظ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری)، مولانا سید محمد زکریا فیصل آباد (عنوان: اتحاد امت)، سید کفیل شاہ بخاری ملتان (عنوان: ۱۹۳۴ء کی احرار کانفرنس قادیان)، جناب لیاقت بلوچ لاہور (عنوان: اتحاد امت وقت کی ضرورت)، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور (عنوان: قادیانی ملک کے قانون کے باغی)، مولانا رضوان عزیز چناب نگر (عنوان: اعتماد علی الاکابر کامیابی کی ضمانت)، مولانا سعید اسکندر کراچی (عنوان: عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا)، مولانا قاضی ہارون الرشید راولپنڈی (عنوان: ہم ہیں عاشقان ختم نبوت)، انجینئر جناب ابتسام الٰہی ظہیر لاہور (عنوان: تحریک ختم نبوت منزل بمنزل)، حافظ زبیر احمد ظہیر لاہور (عنوان: بڑھتے چلو)، مولانا سیف اللہ قادری گوجرانوالہ (فری سٹائل)، شیخ عبدالحمید گولڑہ شریف (عنوان: قبلہ پیر صاحب گولڑہ کا تعاقب قادیانیت)، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ساہیوال (عنوان: اسلام میں ختم نبوت کا عقیدہ)، مولانا سید عبدالخبیر آزاد لاہور (عنوان: عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد)
نعت: سید سلمان گیلانی (لاہور)
مہمانان خصوصی: مولانا سید فاروق ناصر شاہ (فیصل آباد)، مولانا مفتی خالد محمود (کراچی)، مولانا اعجاز مصطفےٰ (کراچی)، مولانا مفتی طاہر مسعود (سرگودھا)، پیر طریقت جناب رضوان نفیس (لاہور)، مولانا مفتی شاہد مسعود (سرگودھا)، مولانا سیفی صاحب (مری)، مولانا محمد عابد (خیر المدارس، ملتان)، مولانا سلیمان (کراچی)، مولانا عبدالمجید (چوک سرور شہید)، مولانا منیر احمد منور (کہروڑ پکا)، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان (لاہور)، مولانا ظہور احمد علوی (اسلام آباد)، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)، مولانا حماد الرحمن لدھیانوی (فیصل آباد)، مولانا محمد زکریا (ٹیکسلا)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعاء: مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)
۲۸ / اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعہ بعد از نماز فجر مولانا منیر احمد منور شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا نے درسِ قرآن مجید ارشاد فرمایا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس:
۲۸ / اکتوبر ۲۰۱۶ء صبح قریباً ۹ / بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کے صدر نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے فرمائی۔ آپ کے ساتھ کرسی پر مولانا اعجاز مصطفےٰ امیر مجلس کراچی بھی تشریف فرما تھے۔ جامع مسجد ختم نبوت کا ہال شرکاء ارکان مجلس عمومی سے بھرا ہوا تھا۔ اجلاس کے دعوت نامے پیشگی ارسال کر دیئے گئے تھے۔ اجلاس بروقت شروع ہوا اور بڑی محبت وعقیدت سے ارکان مرکزی مجلس عمومی نے شرکت فرمائی۔
قاری عبید الرحمان تلاوت کلام پاک کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم عمومی مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اجلاس کی غرض وغایت، مسئلہ ختم نبوت کی برکات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد آپ نے مجلس عمومی کے ارکان کے سامنے دستور کے مطابق مرکزی دو نائب امراء کے انتخاب کے لئے مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی اور صاحبزادہ مولانا عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کے نام پیش کئے۔ کوئی متبادل نام سامنے نہ آیا۔ بلکہ پورے ہاؤس نے ہاتھ کھڑا کر کے دستور کے مطابق ہر دو حضرات کو متفقہ طور پر منتخب کیا۔ اس کے بعد ناظم اعلیٰ مدظلہ نے باقی مجلس کے عہدیداران اور ارکان شوریٰ کے نام پڑھے۔ ارکان مرکزی مجلس عمومی نے ان کی توثیق کردی۔
مرکزی ناظم اعلیٰ کے لئے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا نام پڑھا۔ اس کی بھی مجلس عمومی نے توثیق کر دی۔ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی عہدیداران، عاملہ اور شوریٰ کے ارکان کی تفصیل یہ ہے:
اسماء گرامی ...... امیر و نائب امراء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (پاکستان)
۱ مخدوم ومکرم مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس ۲ مخدوم المکرم حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس ۳ مخدومنا المکرم صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس
اسماء گرامی ...... مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (پاکستان)
۱ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ ناظم اعلیٰ عالمی مجلس ۲ مولانا اللہ وسایا مدظلہ ناظم مالیات عالمی مجلس ۳ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ ناظم تبلیغ عالمی مجلس ۴ مولانا ثانی عزیز الرحمن مدظلہ ناظم نشر واشاعت عالمی مجلس ۵ مولانا حافظ محمد انس مدظلہ ناظم مرکزی دفتر ملتان
اسماء گرامی ...... اراکین مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (پاکستان)
۱ صاحبزادہ سید محمد سلمان بنوری مدظلہ کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲ مولانا مفتی خالد محمود مدظلہ کراچی
- ۳ مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ پشاور
- ۴ مولانا سمیع اللہ جان فاروقی مدظلہ پنجہ غلام، خیبر پختونخواہ
- ۵ مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ خانقاہ سراجیہ کندیاں
- ۶ شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف مدظلہ اسلام آباد
- ۷ مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ لاہور
- ۸ مولانا قاری محمد یٰسین مدظلہ فیصل آباد
- ۹ مولانا انوار الحق مدظلہ کوئٹہ
- ۱۰ مولانا قاضی محمد ابراہیم مدظلہ اٹک
- ۱۱ مولانا عبیدالرحمن انور مدظلہ تلہ گنگ
- ۱۲ مخدوم مکرم حاجی فیض احمد مدظلہ ٹوبہ ٹیک سنگھ
- ۱۳ مخدوم مکرم حاجی سیف الرحمٰن مدظلہ بہاول پور
- ۱۴ مخدوم ومکرم حافظ نذیر احمد مدظلہ گوجرانوالہ
- ۱۵ مخدوم ومکرم میاں خان محمد مدظلہ باگڑ سرگانہ
- ۱۶ مولانا حفیظ الرحمٰن مدظلہ ٹنڈو آدم
- ۱۷ مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ سرگودھا
- ۱۸ مخدوم مکرم مولانا حافظ محمد یوسف عثمانی مدظلہ گوجرانوالہ
چھٹی نشست ......۲۸؍اکتوبر ۲۰۱۶ء قبل از جمعہ:
صدارت: مولانا حافظ ناصرالدین خاکوانی مدظلہ
تلاوت: قاری مسعود احمد ربانی (فاروق آباد)
نعت: حافظ افتخار احمد (قصور) ، مولانا مفتی محمد یٰسین (کراچی)
بیان: مولانا توصیف احمد حیدرآباد (عنوان: قادیانی عقائد) ، مولانا مختار احمد تھرپارکر (عنوان: قادیانی عزائم) ، قاضی عبد الخالق مظفر گڑھ (عنوان: قادیانی عزائم) ، مولانا سمیع اللہ جان خیبر پختونخواہ (عنوان: قادیانی دہشت گرد) ، ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر (عنوان: قادیانیوں سے مناظرے) ، قاری سیف اللہ سیفی مری (عنوان: ہمارے فرائض) ، مولانا خالد عابد ننکانہ (عنوان: سیدنا مہدی علیہ الرضوان) ، مولانا محمد امیر چناب نگر (عنوان: طلباء کی ذمہ داری) ، مولانا امجد علی سرگودھا (عنوان: انداز تبلیغ) ، مولانا مسعود احمد لاڑکانہ (عنوان: ہماری ذمہ داری) ، ڈاکٹر محمود الحسن عارف لاہور (عنوان: حیات عیسیٰ علیہ السلام) ، مولانا اعزاز الحق صوابی (عنوان: اپنے علاقہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رپورٹ)، مولانا عبدالشکور نقشبندی راولپنڈی (عنوان: اتحاد کی برکات)، پیر طریقت مولانا عبدالقدوس نقشبندی چکوال (عنوان: ہمارے کرنے کے کام)، صاحبزادہ مبشر محمود فیصل آباد (عنوان: ہمارے اکابر)، مولانا خالد مسعود گیلانی سلانوالی (عنوان: ختم نبوت اور اکابر کی خدمات)، مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال (عنوان: عمومی بیان)، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی (عنوان: مدارس عربیہ کی ضرورت واہمیت)
مہمانانِ خصوصی: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ کندیاں)، مولانا مفتی سعید اسکندر (کراچی)، مولانا قاری محمد انیس (نواب شاہ)، مولانا محمد عابد (ملتان)، مولانا عبدالمجید (چوک سرور شہید)، مولانا ظہور احمد علوی (اسلام آباد)، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی (ملتان)
اسٹیج پر موجود مہمانانِ گرامی نے ۱۴۳۷ھ میں مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر سے حفظ مکمل کر کے وفاق کا امتحان پاس کرنے والے انیس حفاظ اور ۱۴۳۷ھ میں تخصص کا ایک سالہ کورس مکمل کرنے والے انیس علماء متخصّصین کل ۳۸ حضرات کی دستار بندی کرائی۔ یاد رہے کہ ۱۴۲۲ھ میں مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر کے حفظ کے شعبہ کا وفاق المدارس عربیہ سے الحاق منظور ہوا۔ تب ۱۴۲۲ھ سے لے کر ۱۴۳۷ھ تک سولہ سال میں مدرسہ ختم نبوت سے حفظ مکمل کرانے والے کل طلباء کی تعداد دوسو پچپن ہے۔ اوسطاً حفظ مکمل کرنے والوں کی سالانہ تعداد پندرہ سولہ بنتی ہے۔ بہت مناسب ہوگا کہ ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۰۰۱ء سے ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۰۱۶ء تک حفظ مکمل کرنے والوں کی فہرست یہاں ریکارڈ کے لئے شامل کر دی جائے، جو یہ ہے:
فہرست حفاظ کرام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ:
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۲ھ بمطابق ۲۰۰۱ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 1 1 عبدالرؤف احمد خان قصور 2 2 عبیدالرحمٰن عبدالرحمٰن شاکر ملتان 3 3 سعیدالرحمٰن عبدالرحمٰن شاکر ملتان 4 4 محمد ارشاد عبداللہ سرگودھا 5 5 فیض الحسن احمد خان قصور 6 6 امتیاز عالم حنفی محمد عبداللہ جھنگ 7 7 محمد حلیم غلام محمد جھنگ 8 8 قدرت اللہ فلک شیر جھنگ 9 9 محمد نصیر محمد نذیر جھنگ 10 10 محمد عبداللہ محمد احمد ملتان 11 11 محمد اصغر مجاہد محمد ہاشم ملتان 12 12 محمد علی گلزار احمد ملتان 13 13 محمد ساجد سلیم محمد سلیم لودہراں 14 14 محمد فاروق ملک محمد حیات جھنگ 15 15 فیض اللہ محمد ریاض چنیوٹ 16 16 محمد ندیم اظہر محمد شفیع شورکوٹ 17 17 محمد طاہر خدا بخش ملتان 18 18 محمد شعیب غلام احمد چنیوٹ 19 19 شہباز عالم محمد رمضان ملتان 20 20 محمد افتخار محمد مختار ملتان 21 21 محمد عمران غلام مرتضیٰ جھنگ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۳ھ بمطابق ۲۰۰۲ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 22 1 کاشف محمود محمد ہاشم خانیوال 23 2 محمد ارشد محمد طیب خانیوال 24 3 شہباز احمد احمد علی جھنگ 25 4 محمد شعیب محمد اسلم ملتان 26 5 عبدالباسط محمد اسلم ملتان 27 6 محمد آفتاب محمد صابر ملتان 28 7 راحت نواز محمد نواز چنیوٹ 29 8 عبدالرحمٰن محمد جھنگ 30 9 شمشیر مرتضیٰ فلک شیر جھنگ 31 10 محمد ندیم محمد شریف لودہراں 32 11 محمد قاسم عبدالمجید ملتان 33 12 محمد شہزاد عالم محمد حسین ملتان 34 13 خادم حسین چراغ دین ملتان 35 14 لیاقت علی سخی محمد ملتان 36 15 شاہد دین دین محمد ملتان 37 16 محمد طاہر محمد امین ملتان 38 17 ثناء اللہ محمد صدیق ملتان 39 18 سجاد احمد سراج دین ملتان 40 19 محمد شفیق محمد صدیق ملتان 41 20 امیر حمزہ محمد صدیق ملتان 42 21 شوکت علی حبیب احمد ملتان
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۰۰۳ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 43 1 محمد قاسم عبداللہ چنیوٹ 44 2 قیصر محمود برکت اللہ چنیوٹ 45 3 عبدالماجد محمد صادق گوجرانوالہ 46 4 محمد دل جان اللہ یار چنیوٹ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۵ھ بمطابق ۲۰۰۴ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 47 1 محمد امین اللہ یار چنیوٹ 48 2 محمد ساجد امین محمد یامین سرگودھا 49 3 خرم شہزاد محمد اشرف ملتان 50 4 محمد یاسین محمد ریاض اوکاڑہ 51 5 محسن علی وقاص محمد علی چنیوٹ 52 6 محمد عمران غلام مرتضیٰ چنیوٹ 53 7 محمد نوید ایاز محمد دین ایاز چنیوٹ 54 8 محمد یونس امیر امیر محمد ڈیرہ غازیخان 55 9 محمد علی غلام فرید چنیوٹ 56 10 محمد قاسم خان محمد انور خان چنیوٹ 57 11 فیاض احمد محمد منیر منڈی بہاؤالدین
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۶ھ بمطابق ۲۰۰۵ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 58 1 محمد سلیم محمد اللہ یار چنیوٹ 59 2 امتیاز احمد احمد علی چنیوٹ 60 3 عبد الشکور محمد اکرم چنیوٹ 61 4 غلام مصطفیٰ محمد لیاقت چنیوٹ 62 5 محمد فرحت نواز محمد نواز چنیوٹ 63 6 محمد عاشق رفیق محمد رفیق چنیوٹ 64 7 محمد زاہد واحد بخش ملتان 65 8 محمد بلال اللہ یار چنیوٹ 66 9 محمد مراتب علی محمد ذوالفقار علی چنیوٹ 67 10 محمد اشرف محمد عاشق علی اوکاڑہ 68 11 محمد امجد علی محمد عارف چنیوٹ 69 12 محمد شہزاد غلام حیدر چنیوٹ 70 13 محمد عابد حسین محمد حسین چنیوٹ 71 14 محمد عارف خان محمد ظفر اللہ خان میانوالی 72 15 امان اللہ عبدالرحیم مظفر گڑھ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۷ھ بمطابق ۲۰۰۶ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 73 1 محمد بلال محمد عارف چنیوٹ 74 2 محمد مبشر محمد نذیر چنیوٹ 75 3 محمد جہانگیر کرامت حاجی اللہ رکھا چنیوٹ 76 4 محمد فیصل نواز محمد نواز چنیوٹ 77 5 محمد فاروق غلام مصطفیٰ چنیوٹ 78 6 محمد اسد علی محمد یار چنیوٹ 79 7 عزیز الرحمٰن محمد یونس چنیوٹ 80 8 محمد صفی الدین محمد صالحین چکوال 81 9 محمد عمران ظہور محمد ظہور چنیوٹ 82 10 محمد خورشید اصغر علی چنیوٹ 83 11 محمد عمران کبیر محمد کبیر چنیوٹ 84 12 محمد شاہد اقبال محمد اقبال چنیوٹ 85 13 زوہیب احمد غلام احمد چنیوٹ 86 14 محمد یٰسین محمد حیات چنیوٹ 87 15 غلام مرتضیٰ محمد لیاقت چنیوٹ 88 16 محمد شاہد اقبال محمد ذوالفقار علی حافظ آباد 89 17 محمد ریاض محمد اعجاز چکوال 90 18 محمد حسن علی محمد ثناء اللہ حافظ آباد 91 19 عبدالجبار محمد امین خانیوال 92 20 عزیز اللہ خان محمد قلندر خان سوات 93 21 محمد مظہر حسین محمد اختر حسین مظفر گڑھ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۸ھ بمطابق ۲۰۰۷ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبعلم ولدیت ضلع 94 1 محمد بلال علوی محمد علی علوی چنیوٹ 95 2 محمد حسن علی محمد عبداللہ چنیوٹ 96 3 محمد شفقت محمد نواز چنیوٹ 97 4 محمد حسنین ظفر محمد ظفر حسین چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
98 5 محمد حبیب اللہ عامل خان جنوبی وزیرستان 99 6 محمد زاہد اقبال محمد اقبال چنیوٹ 100 7 محمد مظہر محمد مختار چنیوٹ 101 8 محمد ممتاز خان خان محمد چنیوٹ 102 9 محمد طارق محمد خالد چنیوٹ 103 10 محمد نیک دارعلی محمد نور ولی شمالی وزیرستان 104 11 محمد شاہد عمران فلک شیر چنیوٹ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۲۹ھ بمطابق ۲۰۰۸ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 105 1 محمد شیر عالم محمد شیر خان چنیوٹ 106 2 محمد عبداللہ مولانا فقیر اللہ اختر مظفر گڑھ 107 3 محمد مدثر عمر محمد عمر حیات چنیوٹ 108 4 محمد زاہد حسن شفیق عالم سرگودھا 109 5 عبدالرحیم شیر محمد چنیوٹ 110 6 محمد جاوید اقبال محمد جابر خان میانوالی 111 7 غلام مصطفیٰ غلام حیدر چنیوٹ 112 8 محمد مبشر علی میاں اللہ یار چنیوٹ 113 9 محمد ندیم محمد نواز چنیوٹ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۰ھ بمطابق ۲۰۰۹ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 114 1 محمد سرفراز حاجی شیر محمد چنیوٹ 115 2 محمد عمران صدیقی محمد رمضان مظفر گڑھ 116 3 محمد رمضان عزیز عبدالعزیز ٹوبہ ٹیک سنگھ 117 4 محمد عامر سلطان کریم بخش چنیوٹ 118 5 محمد وسیم انور انوار علی چنیوٹ 119 6 محمد شاہد عالم محمد عالم چنیوٹ 120 7 غلام مصطفیٰ محمد وارث چنیوٹ 121 8 محمد فاروق دوست محمد چنیوٹ 122 9 حبیب الرحمن محمد علی علوی چنیوٹ 123 10 محمد افضل مولانا اللہ وسایا لودھراں 124 11 محمد اکرام اللہ فتح خان میانوالی
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۱ھ بمطابق ۲۰۱۰ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 125 1 محمد وسیم مدنی گلزار احمد چنیوٹ 126 2 محمد ابوبکر خان عامل خان ٹانک 127 3 محمد اکرام محمد فیروز حافظ آباد 128 4 عتیق الرحمان عبدالرحمان چنیوٹ 129 5 محمد آصف محمد شفیع چنیوٹ 130 6 محمد عثمان محمد ظہور بھلوال 131 7 عبدالقدیر غلام محمد مظفر گڑھ 132 8 عبدالباسط محمد نواز چنیوٹ 133 9 محمد اعجاز محمد یعقوب چنیوٹ 134 10 عبدالخالق محمد خالد ملتان 135 11 محمد عامر احمد شیر چنیوٹ 136 12 مظہر عباس اللہ دتہ چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
137 | 13 | محمد قاسم | محمد نواز | چنیوٹ | 138 | 14 | محمد ارسلان | محمد ارشد | چنیوٹ 139 | 15 | محمد عثمان | محمد ارشد | چنیوٹ | | | | |
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۲ھ بمطابق ۲۰۱۱ء
مسلسل نمبر | نمبر شمار | نام طالب علم | ولدیت | ضلع | مسلسل نمبر | نمبر شمار | نام طالب علم | ولدیت | ضلع 140 | 1 | محمد سجاد اللہ | سین اللہ خان | جنوبی وزیرستان | 141 | 2 | محمد یاسین | عبدالکریم | چنیوٹ 142 | 3 | محمد عامر علی | احمد شیر | چنیوٹ | 143 | 4 | محمد ارسلان | محمد حبیب | خانیوال 144 | 5 | محمد حسن رضا | سکندر حیات | چنیوٹ | 145 | 6 | محمد سید امیر | اطلس خان | میانوالی 146 | 7 | محمد عدنان | محمد اشرف علی | چنیوٹ | 147 | 8 | محمد انس | شبیر احمد عثمانی | چنیوٹ 148 | 9 | محمد عبداللہ | حاجی غلام اللہ | چنیوٹ | 149 | 10 | محمد الطاف | محمد طالب حسین | خانیوال 150 | 11 | محمد تنویر | غلام محمد | مظفرگڑھ | 151 | 12 | محمد علی | احمد علی | چنیوٹ 152 | 13 | نوید سلطان | محمد ریاض | سرگودھا | 153 | 14 | محمد قاسم | سلطان احمد | چنیوٹ 154 | 15 | محمد عدیل | محمد نواز | چنیوٹ | 155 | 16 | محمد ساجد | محمد ابراہیم | رحیم یار خان 156 | 17 | محمد شعیب | محمد عبداللہ | رحیم یار خان | 157 | 18 | محمد امین | محمد ابراہیم | رحیم یار خان 158 | 19 | محمد شمس الحق | رئیس قطب الدین | رحیم یار خان | 159 | 20 | محمد صغیر | محمد عثمان | رحیم یار خان 160 | 21 | محمد ظفر اللہ | نواب پیروہی | شکار پور | | | | |
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۳ھ بمطابق ۲۰۱۲ء
مسلسل نمبر | نمبر شمار | نام طالب علم | ولدیت | ضلع | مسلسل نمبر | نمبر شمار | نام طالب علم | ولدیت | ضلع 161 | 1 | محمد امتیاز | ممتاز احمد | چنیوٹ | 162 | 2 | محمد حسن جاوید | محمد گلزار | چنیوٹ 163 | 3 | محمد امین اللہ | عبدالسلام | ٹانک | 164 | 4 | محمد شاکر بلال | محمد صادق | چنیوٹ 165 | 5 | محمد حسن رضا | ریاض احمد | حافظ آباد | 166 | 6 | محمد زبیر | عبدالستار | جھنگ 167 | 7 | محمد عمران نیازی | عبدالغفار | میانوالی | 168 | 8 | محمد اویس | نذیر احمد | چنیوٹ 169 | 9 | محمد امجد | اللہ دتہ | چنیوٹ | 170 | 10 | محمد صابر | محمد فاضل | چنیوٹ 171 | 11 | محمد افضل | محمد حبیب | خانیوال | 172 | 12 | محمد روح اللہ | لقمان خان | نارتھ وزیرستان 173 | 13 | محمد مشتاق | عبدالقادر | رحیم یار خان | 174 | 14 | محمد اشفاق | عبدالقادر | رحیم یار خان 175 | 15 | محمد حنظلہ | حافظ اللہ دتہ | بھاولپور | 176 | 16 | انیس الرحمٰن | حافظ سیف الرحمٰن | لودھراں 177 | 17 | زوہیب انور | محمد انور | چنیوٹ | 178 | 18 | عبدالمعین خان | شہباز خان | چنیوٹ 179 | 19 | آصف علی | نور زمان | چنیوٹ | | | | |
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۴ھ بمطابق ۲۰۱۳ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 180 1 محمد زوہیب حسن گلزار احمد چنیوٹ 181 2 محمد افتخار مختار حسن چنیوٹ 182 3 محمد عابد نواز محمد نواز چنیوٹ 183 4 محمد صابر محمد فاضل چنیوٹ 184 5 محمد سعید احمد محمد اکبر چنیوٹ 185 6 محمد طاہر محمد گلزار چنیوٹ 186 7 احمد علی محمد علی چنیوٹ 187 8 محمد اسماعیل محمد حق نواز مظفر گڑھ 188 9 محمد نعیم محمد اسماعیل رحیم یار خاں
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۵ھ بمطابق ۲۰۱۴ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 189 1 محمد احمد غلام اللہ چنیوٹ 190 2 محمد عمران صدیقی مزمل حسین چنیوٹ 191 3 محمد ابو بکر صدیق غلام مصطفیٰ چنیوٹ 192 4 محمد شکیل محمد سلطان چنیوٹ 193 5 محمد ساجد علی شاہمند علی چنیوٹ 194 6 محمد نعمان محمد ابراہیم چنیوٹ 195 7 محمد جاوید خان محمد امین خان چنیوٹ 196 8 محمد زاہد محمد وریام چنیوٹ 197 9 محمد عمر فاروق غلام شبیر چنیوٹ 198 10 محمد قاسم گلزار احمد فیصل آباد 199 11 محمد کاشف مقبول احمد چنیوٹ 200 12 محمد حذیفہ اکرم محمد ابراہیم چنیوٹ 201 13 محمد ضمیر اللہ احمد شیر ٹانک سرحد 202 14 محمد مقدس علی نوشیر خان چنیوٹ 203 15 محمد نجیب اللہ محمد اسلم ٹانک سرحد 204 16 محمد سلمان حافظ عبدالمالک بہاولپور 205 17 محمد زین اللہ انور خان ٹانک سرحد 206 18 محمد ابو بکر مدنی برخوردار چنیوٹ 207 19 محمد وقار قاری محمد ابراہیم سرگودھا 208 20 محمد اکرام اللہ دوست محمد فیصل آباد 209 21 محمد گلباز ذوالفقار علی چنیوٹ 210 22 مزمل عباس عمر عباس چنیوٹ 211 23 تحسین حیدر اکبر علی چنیوٹ 212 24 محمد عمران دولت محمد دولت چنیوٹ 213 25 محمد اقبال ظہور احمد چنیوٹ 214 26 نذیر بادشاہ نعمت خان ٹانک سرحد 215 27 معراج اللہ قادر خان شمالی وزیرستان 216 28 محمد رضوان منظور احمد سرگودھا 217 29 محمد رضوان اللہ یار انجم چنیوٹ 218 30 محمد فرحان منظور احمد چنیوٹ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۶ھ بمطابق ۲۰۱۵ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 219 1 محمد اقبال محمد ریاض چنیوٹ 220 2 عزیز الرحمٰن قاری عبید الرحمٰن بہاولنگر
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
221 3 محمد شاہ نواز بشیر احمد مظفرگڑھ 222 4 نعمان علی نذیر احمد چنیوٹ 223 5 محمد شہباز مختار احمد چنیوٹ 224 6 ثقلین مشتاق حاجی فلک شیر چنیوٹ 225 7 محمد ضیاء الحق حاجی ممتاز حسین چنیوٹ 226 8 محمد مزمل عباس عمر حیات چنیوٹ 227 9 محمد ثمر حیات محمد سلطان چنیوٹ 228 10 محمد نعیم نواز محمد نواز چنیوٹ 229 11 خان بادشاہ تازہ گل خان ٹانک سرحد 230 12 محمد ادریس حافظ اللہ یار چنیوٹ 231 13 سراج الدین گل امیر خان ٹانک سرحد 232 14 محمد احمد محمد اظہر لودھراں 233 15 محمد ندیم برخوردار چنیوٹ 234 16 محمد بلال اللہ دتہ چنیوٹ 235 17 محمد عمران محمد رمضان خانیوال 236 18 عامر شہزاد محمد علی چنیوٹ
تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۷ھ بمطابق ۲۰۱۶ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبِ علم ولدیت ضلع مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالبِ علم ولدیت ضلع 237 1 حافظ محمد احمد امیر احمد بہاولپور 238 2 حافظ محمد شان مزمل حسین چنیوٹ 239 3 حافظ محمد ضیاء الحق حاجی ممتاز حسین چنیوٹ 240 4 حافظ محمد ثقلین غلام محمد چنیوٹ 241 5 حافظ محمد صابر محمد یوسف چنیوٹ 242 6 حافظ محمد عصمت اللہ محمد رمضان چنیوٹ 243 7 حافظ محمد امان اللہ حفیظ اللہ مظفرگڑھ 244 8 حافظ قادر خان کریم خان چنیوٹ 245 9 حافظ محمد فیصل نواز عاشق نواز چنیوٹ 246 10 حافظ محمد طیب حسن بشیر احمد چنیوٹ 247 11 حافظ عبدالرحمن اکبر علی چنیوٹ 248 12 حافظ محمد نوید الحسن مختار احمد چنیوٹ 249 13 حافظ محمد زوہیب حسن حق نواز چنیوٹ 250 14 حافظ محمد اسامہ غلام رسول چنیوٹ 251 15 حافظ محمد حمزہ شاہد محمود چنیوٹ 252 16 حافظ محمد رمضان محمد بشیر چنیوٹ 253 17 حافظ محمد عنصر منور حسین چنیوٹ 254 18 حافظ عمر گل شیرا چنیوٹ 255 19 حافظ محمد ارسلان ظفر علی چنیوٹ
اسی طرح ۱۴۳۵ھ مطابق ۲۰۱۴ء سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت میں تخصص کی کلاس کا اجراء کیا گیا۔ ۱۴۳۵ھ میں ۱۳ علماء نے یک سالہ تخصص مکمل کیا اور ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۰۱۵ء میں ۱۹ علماء نے تخصص مکمل کیا۔ ۲۰۱۵ء ۱۹ متخصصین کی اس سال کانفرنس کے موقعہ پر دستار بندی کرائی گئی۔ لیکن بہت مناسب ہوگا کہ گزشتہ دونوں سالوں کے متخصصین کی فہرست ریکارڈ کے لئے یہاں شامل کر دی جائے، جو یہ ہے۔
اسماء گرامی طلباء تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ:
تکمیل تخصص ۱۴۳۵ھ بمطابق ۲۰۱۴ء (سال اوّل)
مسلسل نمبر نمبر شمار نام مع ولدیت ایڈریس ضلع 1 1 مولانا محمد امجد بن محمد اکبر چک نمبر ۹-۱۹۹/ایل، ڈاکخانہ خاص ساہیوال
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
2 2 مولانا عبدالرؤف بن محمد حنیف تحصیل اوباڑو رانوتی گھوٹکی 3 3 مولانا محمد نعیم بن عبدالمجید کولال والا، گوٹھ بہار تحصیل کہروڑ پکا لودھراں 4 4 مولانا محمد بلال بن عبدالرشید گاؤں بولی، ڈاکخانہ و تحصیل بالاکوٹ مانسہرہ 5 5 مولانا محمد شفیع بن شیر زمان گاؤں پٹیکہ، تحصیل بالاکوٹ مانسہرہ 6 6 مولانا محمد راحیل بن منظور احمد محلہ شیخان، سرگودھا روڈ چنیوٹ 7 7 مولانا محمد عمران بن محمد اسماعیل مبارکپور بہاولپور 8 8 مولانا عبدالوحید بن محمد نواز تحصیل اتو ڈھور لاڑکانہ 9 9 مولانا احسان الحق بن خان عابد مسلم کالونی چناب نگر، تحصیل لالیاں چنیوٹ 10 10 مولانا محمد یوسف بن بشیر احمد ڈاکخانہ بہادر پور، جلالپور پیر والہ ملتان 11 11 مولانا محمد اویس بن نذیر حسین گاؤں سگدھار، تحصیل بالاکوٹ مانسہرہ 12 12 مولانا عبدالرحمن بن محمد فاروق رحیم یار خان رحیم یار خان 13 13 مولانا ایاس احمد بن عبدالمناف سری لنکا سری لنکا
تکمیل تخصص ۱۴۳۶ھ بمطابق ۲۰۱۵ء (سال دوم)
مسلسل نمبر نمبر شمار نام مع ولدیت ایڈریس ضلع 14 1 مولانا گل اسلام بن حضرت گل مابزاره، ڈاکخانہ حاجی زئی، شبقدر چارسدہ 15 2 مولانا محمد فواد بن محمد اسلام غازو ڈھیری چینہ، ڈاکخانہ ترناب، تنگی چارسدہ 16 3 مولانا عادل خورشید بن خورشید احمد اپر چھتر ہاؤسنگ سکیم، آزاد کشمیر مظفر آباد 17 4 مولانا محمد یونس بن امیر محمد ٹبی قیصرانی، ڈاکخانہ و تحصیل تونسہ ڈی جی خان 18 5 مولانا سلیمان حیدر بن اللہ وسایا ڈاکخانہ وتحصیل ڈیرا اسماعیل خان ڈی آئی خان 19 6 مولانا مختیار احمد بن عبدالغفور گاؤں بہرام خان تحصیل تنگی چارسدہ 20 7 مولانا عبدالحسیب بن ارشد محمود ویر والا، ڈاکخانہ سیان، ڈسکہ سیالکوٹ 21 8 مولانا خان محمد بن نصر اللہ خان ڈاکخانہ بہالیکے، تحصیل صفدر آباد شیخوپورہ 22 9 مولانا محمد ایوب بن نور دین نیس والی جاگیر، ڈاکخانہ ڈھولن قصور 23 10 مولانا احتشام بن راجہ سلطان محلہ گنج قدیم، فوارہ چوک ایبٹ آباد 24 11 مولانا عتیق احمد بن مقبول احمد اعوان پٹی، ڈاکخانہ گڑھی دوپٹہ مظفر آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
25 12 مولانا محمد وقار بن فخر الدین محلہ کمال، ڈاکخانہ خاص، کلاچی بھکر 26 13 مولانا حبیب اللہ بن مولانا شبیر احمد محمد بلاک، علی ٹاؤن، سرگودھا روڈ فیصل آباد 27 14 مولانا سجاد الرحمن بن محمد ہارون گاؤں و ڈاکخانہ خیر آباد، بالاکوٹ مانسہرہ 28 15 مولانا انوار احمد بن محمد حسین ڈاکخانہ گڑھی دوپٹہ، تحصیل ہٹیاں مظفر آباد 29 16 مولانا محمد اشرف بن عبد الستار سکندر پور، ڈاکخانہ کھڈیاں خاص قصور 30 17 مولانا محمد مزمل بن محمد خورشید گاؤں رسول نگر، ڈاکخانہ بازید پور قصور 31 18 مولانا محمود احمد بن عبد الرشید چک نمبر ۱۲ / ۱ اے ایل، رینالہ خورد اوکاڑہ 32 19 مولانا سرمد شہباز بن شہباز خان منڈی صادق گنج، محلہ غزنوی، منچن آباد بہاولنگر
اس سال فارغ ہونے والے حفاظ کرام اور تخصص کے حضرات علماء عظام کی دستار بندی مکمل ہونے کے بعد جمعہ کی اذان کہی گئی۔ سنن کی ادائیگی کے بعد جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے خطبہ جمعہ اور امامت جمعہ کے فرائض سرانجام دیئے۔ دعاء جمعہ کرائی، نوافل کی ادائیگی کے بعد، بعد از جمعہ کانفرنس کا آخری اجلاس شروع ہوا۔
آخری نشست ...... ۲۸؍اکتوبر ۲۰۱۶ء بعد از جمعہ تا عصر :
صدارت: مولانا سید سلمان بنوری (کراچی) تلاوت: استاذ القراء مولانا قاری احسان اللہ فاروقی بیان: مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی (ملتان) قراردادیں: مولانا محمد راشد مدنی (رحیم یار خان) نعت: سید سلمان گیلانی (لاہور) خطاب و اختتامی دعاء: مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (ملتان)
مہمانان خصوصی: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد (خانقاہ سراجیہ کندیاں)، صاحبزادہ سعید احمد (خانقاہ سراجیہ)، مولانا قاری محمد یسین (فیصل آباد)، مولانا محمد احمد (کہروڑ پکا)، مولانا محبّ النبی (لاہور)، مولانا سید محمود میاں (لاہور)، مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، پیر طریقت مولانا محبّ اللہ (لورالائی)، جناب رضوان نفیس (لاہور)، مولانا عبدالمجید (چوک سرور شہید)، مولانا منیر احمد منور (کہروڑ پکا)، قاری عبدالحمید حامد (چنیوٹ)، مولانا ظہور احمد علوی (اسلام آباد)، مولانا عزیز الرحمن رحیمی (فیصل آباد)، مولانا سیف اللہ خالد (چنیوٹ)
ان حضرات کے علاوہ اور بھی بہت سارے اکابر علماء کرام موجود تھے۔ کانفرنس کے اختتام کے قریب دعاء سے کچھ عرصہ قبل قائد احرار ابن امیر شریعت پیر جی عطاء المہیمن شاہ بخاری بھی سٹیج پر رونق افروز ہوئے۔ ان حضرات کی موجودگی میں کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
فالحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۳ تا ۲۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنسز بلوچستان
ختم نبوت کانفرنس پشین: ۱۲؍ نومبر ۲۰۱۶ء بروز ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد پشین میں ہوا۔ پروگرام کی صدارت مولانا محمد ہمایوں نے کی اور مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد تھے۔
ختم نبوت کانفرنس مستونگ: ۱۳؍ نومبر بروز اتوار بعد نماز ظہر بمقام ٹاؤن ہال کمیٹی مستونگ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ہوا۔ کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے سینئر مفتی عبدالستار صاحب نے کی۔ کانفرنس میں تبلیغی جماعت مستونگ کے امیر صاحب، مولانا قاضی احسان احمد، صوبائی مبلغ مولانا محمد یونس، مولانا سعید الرحمن فاروقی اور مفتی جلیل احمد صاحب نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس لورالائی: ۱۴؍ نومبر بعد نماز عصر مولانا قاضی احسان احمد اور بعد نماز مغرب مولانا محمد یونس، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ جلسہ کی صدارت مرکزی جامع مسجد لورالائی کے خطیب اور مقامی امیر مولانا ممتاز احمد نے کی، جب کہ مہمان خصوصی خواجہ خواجگان مولانا خان محمد کے خلیفہ مجاز پیر طریقت مولانا محبّ اللہ تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد حسن نے سرانجام دیئے۔
ختم نبوت کانفرنس ژوب: ۱۵؍ نومبر کو مبلغین ختم نبوت جناب محمد عمران کی رفاقت میں ژوب کے لئے روانہ ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسہ ختم نبوت سے ناظرہ قرآن پاک مکمل کرنے والے ۲۵ لڑکوں اور لڑکیوں کو آخری سبق مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے پڑھایا۔
قبل عصر مولانا محمد یونس نے مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا جب کہ عصر کے بعد مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد اسماعیل کے بیانات ہوئے۔ بعد نماز مغرب مولانا راشد مدنی نے شاندار عالمانہ خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی جامع مسجد کے خطیب اللہ داد کاکڑ نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حاجی محمد اکبر نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۲۳)
خانوزئی میں ختم نبوت کانفرنس: خانوزئی کی مرکزی مسجد میں ۱۶؍ نومبر کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالظاہر نے کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حاجی محمد اکبر نے سرانجام دیئے۔ عصر کی نماز کے بعد تلاوت و نعت کے بعد مولانا محمد یونس اور مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے جب کہ مغرب کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا اختتام شیخ الحدیث مولانا عبدالظاہر کی دعاء پر ہوا۔ کانفرنس سے قبل مولانا محمد راشد مدنی نے مدرسہ شمس العلوم خانوزئی کے طلباء اور اساتذہ کرام سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۲۴)
چمن میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو چمن کی جامع مسجد الجامعۃ الاسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۷؍ نومبر صبح کی نماز کے بعد مبلغین ختم نبوت کا یہ قافلہ چمن کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں کوئٹہ مجلس کے کارکن جناب حاجی محمد سلیم خان اچکزئی بھی شامل قافلہ ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قبل از عصر تلاوت و نعت کے بعد صوبائی مبلغ مولانا محمد یونس، مولانا قاضی احسان احمد اور بعد نماز عصر مولانا مفتی محمد راشد مدنی اور امیر جمعیت علماء اسلام چمن مولانا عبد الخالق نے خطاب کیا۔ اس نشست کی صدارت شیخ القراء قاری ممتاز احمد سرحدی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض چمن کے معروف نعت خوان مولانا محمد عمر کدیوال نے سرانجام دیئے، بعد نماز مغرب آخری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت مہتمم الجامعہ شیخ محمد یوسف نے کی۔ قاری سہیل احمد نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام سے آغاز کیا، جب کہ نعت خوان حافظ عطاء اللہ نے اردو اور پشتو میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ آخری خطاب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا۔
سبی میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۸؍ نومبر بعد نماز عشاء جامعہ مفتاح العلوم سبی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سبی کے امیر اور سبی میونسپل کمیٹی کے چیئرمین حاجی محمد داؤد نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عطاء اللہ تھے۔
کانفرنس سے صوبائی مبلغ مولانا محمد یونس، رحیم یار خان کے مبلغ مفتی راشد مدنی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ نعتیہ کلام اور ترانہ ختم نبوت کوئٹہ کے خوش الحان نعت خوان اور شاعر حافظ عطاء اللہ نے پیش کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
بھاگ ناڑی میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۹؍ نومبر کو مدرسہ مدینۃ العلوم مین بازار میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا سید محمد ارشد شاہ نے کی۔
کانفرنس میں تلاوت کلام پاک کے بعد جناب حاجی خدا بخش نے سندھی زبان میں دو نعتیں پڑھیں۔ حافظ عطاء اللہ کوئٹہ نے اردو زبان میں حمد و نعت پڑھی۔ بعد ازاں مولانا محمد یونس اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر بیانات کئے۔ نیز علاقہ کے علماء کرام سے استدعا کی کہ وہ کم از کم ہر ماہ میں ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت پر خطاب فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۶ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس جیکب آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیکب آباد کے زیر اہتمام ۲۰؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو مسجد علی المرتضیٰ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا تاج محمد چنہ، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ ختم نبوت سکھر اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ پروگرام کے آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع جیکب آباد کی مقامی جماعت کی تشکیل کی گئی۔ جو کہ ذیل میں مرقوم ہے۔ سرپرست: ڈاکٹر اے جی انصاری، نائب سرپرست: حاجی محمد امین سومرو، امیر: مولانا تاج محمد چنہ، نائب امیر اوّل: مفتی شبیر احمد سرکی، نائب امیر دوم: مولانا عبدالعزیز، ناظم: حافظ نیاز احمد بنگلانی، خازن مولانا شاہنواز، پریس سیکرٹری حافظ ظہور احمد سومرو۔ کانفرنس کا اختتام مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۷ء ص ۴۵)
ختم نبوت انعام گھر لاہور
۲۱؍ نومبر ۲۰۱۶ء لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ شادی پورہ لاہور کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت انعام گھر آغاز میرج ہال پاکستان منٹ جی ٹی روڈ لاہور میں منعقد ہوا۔ انعام گھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، معروف مصنف محمد متین خالد، انجمن تاجران اعظم مارکیٹ کے صدر میاں محمد داؤد، پیر رضوان نفیس، قاری جمیل الرحمن اختر، قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ظہور الحق، مولانا عبدالنعیم، مولانا خالد محمود، مولانا سعید وقار، قاری عبدالعزیز، تاجر میاں محمد شفیق، میاں حاجی فریاد، میاں محمد اختر بٹ، مولانا سبحان محمود، حافظ عبداللہ سمیت اسکولز، کالجز، اکیڈیمیز اور دینی مدارس کے طلباء اور علماء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ختم نبوت انعام گھر میں آسان سوالات کے درست جوابات دینے والوں کو قیمتی انعامات سے نوازا گیا متین خالد نے احسن انداز میں کمپرنگ کی اور سامعین کو خوب محظوظ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد گنبد والی قصور میں نماز عصر سے عشاء تک ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت مقامی امیر قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ نگران مولانا سید حبیب احمد ہمدانی تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس طوگانی بونیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام طوگانی بونیر خیبر پختونخواہ میں ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عابد کمال، مولانا اعزاز الحق، مولانا فیضان الحق نے خطاب کیا۔ کانفرنس صبح دس بجے سے نماز عصر تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۳۸)
ختم نبوت کورس واسک لوئیر دیر
جامع مسجد ورسک، مدرسہ مدینۃ العلوم میں ۲۷، ۲۸، ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عابد کمال، مولانا گل اسلام، مولانا تاج محمد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر لیکچر دیئے۔ مولانا محمد تاثیر، مولانا محمد عمران شیخ الحدیث نے نگرانی وصدارت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۳۸)
بنوں میں ختم نبوت کانفرنسیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں کے زیر اہتمام گڑھی شیر احمد میں یکم؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ظہر کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضلعی امیر مولانا عظمت اللہ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا حمید اللہ، مولانا ظاہر شاہ، مولانا غریب نواز، مولانا عصمت اللہ، مفتی عبدالغنی اشرفی، سید ظہیر الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ دوسرا پروگرام اسی روز بعد نماز عشاء جامع مسجد کوثر فتح میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت ضلعی امیر مفتی عظمت اللہ نے کی۔ ضلعی نائب امیر مولانا شمس الحق اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
۲؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بعد نماز مغرب جامع مسجد ابوبکر صدیق شہزاد کالونی فیصل آباد میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا جس سے مولانا سید جاوید حسن شاہ صاحب مدظلہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ نعتیہ کلام مولانا محمد قاسم گجر نے پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھلوال میں خطبہ جمعہ
۲؍دسمبر ۲۰۱۶ء مطابق ۲؍ربیع الاول کا جمعۃ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد مدنی نہر والی میں مولانا محمد یعقوب احسن کی دعوت پر دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۳۸)
ختم نبوت کانفرنس راوی روڈ لاہور
۳؍دسمبر ۲۰۱۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام سالانہ تاریخی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس آفتاب چوک کریم پارک راوی روڈ لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امت کے تمام طبقات نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مجلس لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن، عالمی مجلس لاہور کے سرپرست مولانا محمد نعیم الدین، مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل محمدی، مولانا شاہنواز فاروقی، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ، قاری جمیل الرحمن اختر، پیر رضوان نفیس، عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا محمد قاسم گجر، بھائی محمد حامد بلوچ، مولانا عبد النعیم، قاری عبد العزیز، قاری غلام عباس، بھائی مسلم بلوچ، بھائی محمد یونس، بھائی عبد الولی، حکیم ارشاد حسین، کاشان مرزا، نعمان ملک، حافظ ذوالفقار، مرزا عمر بیگ، رانا قیصر، ناصر ادریس، بھائی محمد وقاص سمیت متعدد دینی و مقتدر شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۵تا۲۱؍جنوری ۲۰۱۷ء ص ۲۲)
۲۳ روزہ اجتماعات بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاءﷺ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ اسماعیل خان کے زیر اہتمام ۲۳ روزہ اجتماعات بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاء منعقد ہوئے۔ یہ پروگرام ۴؍دسمبر ۲۰۱۶ء سے شروع ہو کر ۲۵؍دسمبر کو اختتام پذیر ہوئے۔ ضلع بھر میں ہونے والے ان ۲۳ پروگراموں میں متعدد علماء کرام، مشائخ عظام و دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ جن میں ولی ابن ولی صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عطاء الرحمن خانوخیل، مولانا قاری محمد طارق، مولانا مفتی احمد انور، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا خلیفہ محمد طیب، مولانا قاری کفایت اللہ، مولانا قاری عبد الحلیم، مولانا اللہ بخش، مولانا رمضان ثاقب، قاری عبد اللطیف، مولانا قاری حفیظ اللہ، مولانا قاری عنایت اللہ عثمانی، مولانا شیخ محمود الحسن، مولانا زین العابدین، مولانا محمد حمزہ لقمان، جناب میاں مستقیم و ثناء خوان مصطفیٰ قاضی ابراہیم احمد مدنی، حافظ سلمان سعید، جناب شوکت اللہ صدیقی، حافظ حبیب احمد و دیگر کئی شخصیات شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی کے زیر اہتمام ۷؍دسمبر ۲۰۱۶ء بروز بدھ بعد نماز عشاء مکی سراجیہ مسجد وانڈی روشن والی میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد یوسف نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبد القدوس، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور مولانا عثمان علی فاروقی نے بیانات فرمائے۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا عبد الرزاق جنرل سیکرٹری مجلس اور صدارت مولانا عبد الرحیم شیخ الحدیث خانقاہ سراجیہ نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ہڈالی
۸؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد ہڈالی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت ونعت حافظ عطاء الرحمن نے پڑھی۔
مولانا محمد نعیم، مفتی محمد معاویہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
پیلووینس میں خطبہ جمعہ
۹؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کا جمعتہ المبارک کا خطبہ مولانا شجاع آبادی نے جامع مسجد ختم نبوت پیلووینس میں دیا، جب کہ مولانا محمد نعیم نے جامعہ مسجد میں جمعہ پڑھایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۹)
ختم نبوت کانفرنس لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس ضلع لکی مروت، و روئت ہلال کمیٹی تحصیل نورنگ کے زیر اہتمام ۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بروز اتوار کو جامع مسجد مولانا جمعہ خان نورنگ میں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس ضلعی نائب امیر مولانا مفتی عبدالغفار کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے ادا کئے۔ کانفرنس حافظ ذبیح اللہ ادہمی وقاری صفی اللہ کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔
کانفرنس سے مولانا مفتی عبدالشکور، مولانا قاری محمد عبداللہ، مولانا شیر بہادر نے خصوصی خطاب کئے۔ اس کے علاوہ مولانا حافظ امیر پیاؤ شاہ، مولانا سیف اللہ جان، مفتی ضیاء اللہ، مولانا ماسٹر عمر خان، مولانا بشیر احمد حقانی اور مولانا محمد طیب طوفانی نے بھی مختصر خطاب کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
جامع مسجد الصادق بہاولپور میں ختم نبوت کانفرنس
علماء اہل سنت والجماعت (دیوبندی مسلک) کی تمام دینی وسیاسی جماعتیں ہر سال ۱۲؍ ربیع الاوّل کو جامع مسجد الصادق میں سیرت النبی کے حوالے سے مشترکہ پروگرام منعقد کرتی ہیں۔ امسال ۱۲؍ ربیع الاوّل ۱۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اوپر والے ہال میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا مفتی عطاء الرحمن نے کی۔ تلاوت کلام کی سعادت جناب قاری منظور احمد مدنی نے حاصل کی، نعتیہ کلام اصغر برادران نے پیش کیا۔
کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخوا کے رہنما مولانا مفتی کفایت اللہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا معین الدین وٹو، مولانا عبدالرحمن، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا قاری محمد احمد کہروڑ پکا دیگر مختلف دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
پروگرام میں مولانا مفتی ارشاد احمد، قاری غلام یاسین صدیقی، مولانا شمس الدین انصاری، مولانا احمد جالندھری، مولانا صہیب مصطفیٰ سمیت مدارس کے اساتذہ کرام اور مساجد کے ائمہ وخطباء نے خصوصی شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۲۱)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس منظور کالونی کراچی
۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کراچی (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ منظور کالونی فرنیچر مارکیٹ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے فرمایا کہ دیگر اسلامی عقائد کی طرح عقیدۂ ختم نبوت کو مانے بغیر کوئی بھی آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ قادیانی آئین پاکستان سے بغاوت کے مرتکب ہیں۔ قادیانیوں کی قانون شکنی کا نوٹس لے کر انہیں قانون کا پابند کیا جائے۔ مرکزی امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مولانا ضیاء اللہ بخاری نے کہا کہ حکومت نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کو متعصب اور جنونی قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام موسوم کرنے کا آرڈر پاس کیا ہے جو قادیانیت نوازی اور مسلمان سائنس دانوں کی خدمات سے چشم پوشی کے مترادف ہے، وزیر اعظم اپنا یہ حکم واپس لیں۔ مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا قاضی احمد نورانی، مولانا محمد رفیق جامی (فیصل آباد) نے کانفرنس میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ چکوال میں ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کی فی الفور تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار شرپسند قادیانی عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے تاکہ مسلمانوں میں اشتعال اور اضطراب کی کیفیت ختم کی جاسکے۔ مولانا قاری احمد میاں تھانوی، مولانا قاضی احسان احمد ودیگر اکابر علماء کرام نے کہا کہ سندھ حکومت نے قبول اسلام کے لئے عمر کی جو شرائط عائد کی ہیں وہ فوری طور پر واپس لی جائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۱۹)
کلویا ٹوبہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۶ء بعد نماز عشاء مدرسہ عربیہ خدام الدین چک نمبر ۳۷ پی ج ب کلویا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا سید محمد بدر عالم ترمذی نے کی۔ کانفرنس سے انجمن خدام الدین لاہور کے امیر مولانا محمد اجمل قادری مدظلہ کے فرزند ارجمند مولانا احمد علی ثانی، احقر حبیب احمد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جب کہ تلاوت ونعت قراء اور نعت خوانوں نے پیش کی۔ مولانا احمد علی ثانی نے فضائل ذکر کے عنوان پر خطاب فرمایا اور ذکر کرایا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ اس علاقہ سے بندہ کا دہرا تعلق ہے، کیونکہ میرے شیخ، استاذ العلماء، سید الصلحاء مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم کا یہ آبائی علاقہ ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۷ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس چکوال
گزشتہ دنوں الفلاح مسجد تلہ گنگ روڈ چکوال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ الفلاح مسجد چکوال میں یہ پہلی ختم نبوت کانفرنس تھی جو بھرپور طریقے سے کامیاب ہوئی۔ اس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ تلہ گنگ جماعت کے امیر مولانا عبدالرحمن، خالد مسعود ایڈووکیٹ کے علاوہ چکوال کے علماء کرام بھی شریک ہوئے اور خطابات کئے۔ دوالمیال واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور قادیانیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ فروری ۲۰۱۷ء ص ۲۴)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۹، ۳۰؍ دسمبر ۲۰۱۶ء کو دو دن رہ کر اختتام پذیر ہوگیا۔
اجلاس میں مبلغین کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور طے کیا گیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے ہماری پرامن تحریک جاری رہے گی۔ اسلام آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ، فیصل آباد، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، سمندری، سیالکوٹ اور سندھ کے بعض
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علاقوں میں ختم نبوت کورسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مختلف زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت اور تقسیم کا بھی فیصلہ کیا گیا اور مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو لٹریچر کا جائزہ لے کر اشاعت کے لئے سفارش کرے گی۔ کئی ایک علاقوں میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ نئے سال سے معاون مبلغین کی تقرری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح چناب نگر کے نیشنلائزڈ تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کرنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی۔ سانحہ دوالمیال میں ایک مسلمان کو شہید اور درجنوں مسلمانوں کو زخمی کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس شاہ لطیف ٹاؤن کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے زیرانتظام ختم نبوت کانفرنس ۱۸/ دسمبر ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز عشاء بمقام جامع مسجد اقصیٰ سیکٹر بی-۱۷، شاہ لطیف ٹاؤن کراچی میں منعقد ہوئی۔
پروگرام کا آغاز قاری حبیب الرحمن صاحب فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی کی تلاوت سے ہوا، حمد ونعت رسول مقبول حافظ محمد اشفاق فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن نے پیش کی۔ پروگرام کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ دامت برکاتہم فرما رہے تھے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں آقاﷺ سے عقیدت اور محبت کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ آقاﷺ کا امتی ہونا دنیا اور آخرت کا سب سے بڑا اعزاز ہے اور قادیانی اس اعزاز سے محروم ہیں۔
مولانا عبدالکریم ندیم مدظلہ نے اپنے خطاب میں پاک پیغمبرﷺ کے اوصاف کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح کلمہ توحید کے پہلے جزو میں کوئی نکتہ نہیں، اسی طرح دوسرے جزو میں بھی کوئی نکتہ نہیں، جب تک نبوت جاری تھی نکتوں والے آتے رہے اور جب نبوت ختم ہوگئی تو محمد رسول اللہﷺ تشریف لائے کیونکہ آپﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ مولانا نے تمام مجمع سے عہد لیا کہ ختم نبوت کے کام میں اپنے آپ کو پیش کریں، یہ کام ہر کلمہ گو مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ عشق رسول سے خود بھی سرشار ہو اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے۔
مولانا احسن راجہ صاحب نے نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ شرکاء میں جمعیت علماء اسلام ضلع ملیر کے امیر مولانا احسان اللہ، مولانا مفتی عبدالخالق ، مولانا عبدالماجد، مولانا عبدالواجد، مفتی مبشر ابراہیم ، مولانا عبدالسلام ، مولانا ضیاء الرحمن ، مولانا طارق قاسمی ، مولانا عادل محمود ، مولانا عبدالشکور ، مولانا محمد وسیم سمیت سینکڑوں سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام رات گئے اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۲۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے اجلاسات
نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس
۱۱۳ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۲؍مارچ ۲۰۱۱ء، مطابق ۱۶؍ربیع الثانی ۱۴۳۲ھ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی
۱۱۴ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۱؍مارچ ۲۰۱۲ء، مطابق ۱۷؍ربیع الثانی ۱۴۳۳ھ // // //
۱۱۵ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۸؍فروری ۲۰۱۳ء، مطابق ۱۷؍ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ // // //
۱۱۶ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۲۵؍اکتوبر ۲۰۱۳ء، مطابق ۱۹؍ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ // // //
۱۱۷ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۹؍مارچ ۲۰۱۴ء، مطابق ۱۷؍جمادی الاول ۱۴۳۵ھ // // //
۱۱۸ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۸؍فروری ۲۰۱۵ء، مطابق ۱۸؍ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر
۱۱۹ مسلم کالونی چناب نگر (اجلاس شوریٰ) ۳۰؍اکتوبر ۲۰۱۵ء، مطابق ۱۶؍محرم الحرام ۱۴۳۷ھ // // //
۱۲۰ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۲۸؍اکتوبر ۲۰۱۶ء، مطابق ۲۶؍محرم الحرام ۱۴۳۸ھ حضرت صاحبزادہ خلیل احمد
۱۲۱ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۱؍دسمبر ۲۰۱۶ء، مطابق ۱۱؍ربیع الاول ۱۴۳۸ھ حضرت صاحبزادہ عزیز احمد
(۱۱۳واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۲۲؍مارچ ۲۰۱۱ء، مطابق ۱۶؍ربیع الثانی ۱۴۳۲ھ، بروز: منگل منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۲) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۳) مولانا سید محمد سلیمان بنوری، (۴) مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، (۵) صاحبزادہ عزیز احمد، (۶) صاحبزادہ خلیل احمد، (۷) مولانا مفتی خالد محمود، (۸) مولانا عبدالرؤف، (۹) مولانا مفتی محمد شہاب الدین، (۱۰) مولانا نور الحق نور، (۱۱) مولانا عبدالواحد، (۱۲) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۳) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۴) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۵) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۶) حاجی سیف الرحمن، (۱۷) حاجی فیض احمد، (۱۸) میاں خان محمد سرگانہ، (۱۹) حاجی اشتیاق احمد، (۲۰) حافظ محمد یوسف عثمانی، (۲۱) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۳) مولانا اللہ وسایا، (۲۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۵) مولانا بشیر احمد، (۲۶) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۲۷) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۸) مولانا مفتی محمد ظفر اقبال (اعزازی)۔
تلاوت: مولانا قاضی احسان احمد صاحب۔
مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا مرغوب الرحمن انڈیا، مولانا عبدالرحمن اشرفی اور دیگر مرحومین کے لئے دعاء مغفرت و ترقی درجات کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سابقہ اجلاس مجلس شوریٰ اور اجلاس مجلس عمومی کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ اراکین نے تائید کی اور قائم مقام امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے توثیقی دستخط کئے۔ فالحمدلله!
دستوری ترامیم: اجلاس مجلس عمومی منعقدہ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء میں تین ترامیم منظور کی گئی تھیں کہ آئندہ مجلس کے:
- ☆ ...... دو نائب امیر ہوں گے
- ☆ ...... مجلس شوریٰ کی مستقل حیثیت ہوگی
- ☆ ...... امیر مرکزیہ مجلس شوریٰ نامزد کرے گی
ان تین ترامیم کے باعث دستور مجلس تحفظ ختم نبوت میں جن ترامیم کی ضرورت پیش آئی، اس کے لئے ایک دستوری کمیٹی بنائی گئی تھی۔ مجوزہ کمیٹی نے دستور مجلس کی توضیح وتشریح اور جو ترامیم کیں وہ کمپوز شدہ تمام مقرر اراکین کو پیش کی گئیں۔ جن کی خواندگی اور نظر ثانی کے بعد نئے دستور کی اشاعت کی منظوری دی گئی۔
شعبہ تبلیغ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شعبہ تبلیغ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ مجلس کے شعبہ تبلیغ کے مقاصد میں فتنہ قادیانیت جو اسلام، بانی اسلام اور مسلمانان اسلام کے خلاف عالمی سطح پر انتہائی بغض وعداوت اور بدترین دشمنی رکھنے والا گروہ ہے۔ اس کی گمراہی سے اسلامی عقائد اور مسلمانوں کے ایمانوں کو بچانا یہ اہم ترین مقصد پوری امت مسلمہ کی طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت ادا کر رہی ہے۔ ردقادیانیت پر کورس، درس، خطبات جمعہ، کانفرنسیں، فری تقسیم لٹریچر جیسے اور بہت سے پروگرام شامل ہیں۔ اس وقت مجلس کے اہم مبلغین ملک کے اہم حلقوں میں تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں اور اخلاص نصیب فرمائیں۔ آمین!
شعبہ تعلیم وتدریس: مجلس کے زیر انتظام گیارہ مدارس ہیں جن میں قرآن کریم کے حفظ و ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مسلم کالونی چناب نگر، چوک پرمٹ ضلع مظفرگڑھ ۔ ان دو مقامات پر مقیم طلباء کرام ہیں۔ جن کی تعداد ۳۶۶ ہے۔ تفصیل حسب ذیل ہے۔ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں رابعہ تک درجہ کتب ہے۔ درجہ کتب میں تعداد مقیم طلباء کرام ۵۶ ہے۔ پانچ جید علماء کرام تدریسی خدمات انتہائی محنت سے سرانجام دے رہے ہیں۔ ناشتہ، کھانا اور نقد ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ آئندہ حسب فیصلہ مجلس شوریٰ طلباء کرام درجہ کتب کو ۲۰۰ روپیہ وظیفہ دیا جائے گا۔
مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی درجہ تحفیظ القرآن میں پانچ اساتذہ کرام، ۲۳۰ مقیم طلباء کرام ہیں۔ جنہیں عمدہ ناشتہ، کھانا اور نقد ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔
مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی درجہ پرائمری میں دو اساتذہ کرام ہیں۔ مقیم طلباء کرام کو پرائمری تا میٹرک کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ چوک پرمٹ ضلع مظفرگڑھ درجہ تحفیظ القرآن میں تین اساتذہ کرام ہیں۔ ۸۰ مقیم طلباء کرام ہیں۔ ناشتہ، کھانا عمدہ دیا جاتا ہے۔ دیگر مدارس میں صبح و شام سکول کے بچوں اور بچیوں کو ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ اسلامی باتوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔
بینک لین دین: عالمی مجلس کی جملہ آمد کے اکاؤنٹ نیشنل بینک، پنجاب بینک، مسلم کمرشل بینک، یو. بی. ایل بینک میں ہیں۔ مجلس شوریٰ نے دستور کی دفعہ نمبر ۱۱، شق نمبر ۷ کے مطابق بینک لین دین کی توثیق کی اور قرار دیا کہ:
امیر مرکزیہ: مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی ...... نائب امیر مرکزیہ: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب ناظم اعلیٰ: مولانا عزیز الرحمن جالندھری ...... ناظم مالیات: مولانا اللہ وسایا صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے دستخطوں سے بینکوں میں اکاؤنٹ رکھے جائیں ۔ چیک پر ان چار حضرات میں کسی دو کے دستخط ضروری ہوں گے۔
عبدالمجید
(۱۱۴واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔
مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۲۰۱۲ء، مطابق ۱۷؍ربیع الثانی ۱۴۳۳ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) صاحبزادہ خلیل احمد، (۴) مولانا مفتی خالد محمود، (۵) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۶) مولانا عبدالرؤف، (۷) مولانا نور الحق نور، (۸) مولانا عبدالواحد، (۹) مولانا انوار الحق، (۱۰) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۱) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۲) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۳) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۴) جناب حاجی سیف الرحمن، (۱۵) جناب حاجی فیض احمد، (۱۶) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۷) مولانا مفتی محمد ظفر اقبال (اعزازی)، (۱۸) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۹) مولانا اللہ وسایا، (۲۰) مولانا بشیر احمد، (۲۱) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۲) مولانا عزیز الرحمن ثانی ۔
شرکاء مالیاتی کمیٹی: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۳) جناب حاجی سیف الرحمن، (۴) جناب حاجی فیض احمد۔
شرکاء تعمیراتی کمیٹی: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا اللہ وسایا، (۳) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۴) جناب محمد عامر۔
تلاوت: جناب حافظ محمد یوسف عثمانی صاحب گوجرانوالہ ۔
دعائے مغفرت: مولانا محمد مراد صاحب ہالیجوی، مولانا مفتی محمد فرید صاحب اکوڑہ، مولانا علی محمد حقانی لاڑکانہ، مولانا قاری اہل اللہ رحیمی اور دیگر فوت شدگان کے لئے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مغفرت اور ترقی درجات کی دعاء کرائی۔
سابقہ کارروائی: سابقہ اجلاس شوریٰ کی کارروائی مولانا عزیز الرحمن نے پڑھ کر سنائی اور ساتھ ساتھ مجوزہ امور کی تشریح و توضیح کی۔ کارروائی گزشتہ اجلاس شوریٰ کی خواندگی کے بعد امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
اجلاس شوریٰ میں عدم شرکت: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا سید محمد سلیمان بنوری، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ۔ تینوں حضرات اپنی اہم دینی مصروفیات کی بناء پر شریک اجلاس نہ ہوسکے۔
قاری محمد یٰسین، میاں خان محمد سرگانہ، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی سفر عمرہ مبارک کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔
حافظ نذیر احمد اور حاجی اشتیاق احمد بوجہ علالت شریک اجلاس نہ ہوسکے۔
جدید تقرریاں: شعبہ تبلیغ میں سہ ماہی کورس دفتر مرکزیہ ملتان میں شریک ہونے والے علماء کرام میں سے مولانا محمد خالد عابد سرگودھا، مولانا محمد اسلم خوشاب، مولانا محمد ریاض احمد شیخوپورہ، مولانا مختار احمد سندھ علاقہ تھر میں بطور مبلغ مقرر کئے گئے اور مولانا صفدر حسین ختم نبوت لائبریری مرکزی دفتر ملتان مقرر کئے گئے۔
اور شعبہ تدریس میں مولانا محمد شاہد درجہ کتب چناب نگر میں مدرس رکھے گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس کے چار مبلغین مولانا محمد یوسف نقشبندی، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا محمد عرفان، مولانا محمد نذر عثمانی چاروں حضرات مجلس کے شعبہ تبلیغ سے الگ ہو گئے۔
کراچی دفتر کا حادثہ: اس سال یکم محرم الحرام ۱۴۳۳ھ چوک پرانی نمائش پر دو متحارب جلوسوں کے شرکاء میں فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوا۔ بھگدڑ میں کچھ مظاہرین کراچی دفتر میں گھس آئے۔ دفتر کے اندر اور باہر مظاہرین کی شدید ہنگامہ آرائی سے دفتر کے ساتھیوں کو جانیں بچانی مشکل ہوگئیں۔ دفتر کے باہر مجلس و دیگر کے شرکاء کی کاریں اور موٹر سائیکلیں جلادی گئیں۔ رینجر اور پولیس نے مظاہرین سے دفتر خالی کرانے کے ساتھ دفتر کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے قریبی تھانہ پہنچا دیا۔ دو یوم دفتر ختم نبوت پولیس کے قبضہ میں رہا۔ پولیس کیا تھی، ڈکیت اور چور قابض ہو گئے۔ دفتر اور مکانات کے تالے اور دروازے توڑ کر دفتر کی سیف، ساتھیوں کے بکس، گھریلو سامان، زیورات اور نقدی سب کا پولیس نے صفایا کر دیا۔ اس صورتحال سے اعلیٰ آفیسران سے شکایت اور انہیں حالات سے آگاہ کیا گیا۔ موقع پر توڑ پھوڑ دیکھ کر حکام نے نقصانات کی تلافی کا وعدہ کیا۔ اگر انتظامیہ مجلس کے رفقاء کے نقصانات کی تلافی نہ کرسکی تو ساتھیوں کے نقصانات کی تلافی مجلس کو کرنی چاہئے۔
چوک پرانی نمائش جہاں دفتر واقع ہے ہمہ وقت ہنگامہ آرائی کا مرکز ہے۔ ہمارے ساتھی بڑی حوصلہ مندی سے کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائیں۔
عبدمجیب
(۱۱۵واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۲۸؍فروری ۲۰۱۳ء، مطابق ۱۷؍ ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ، بروز: جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۲) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۳) مولانا شہاب الدین پوپلزئی، (۴) صاحبزادہ عزیز احمد، (۵) صاحبزادہ خلیل احمد، (۶) مولانا عبدالرؤف، (۷) مولانا مفتی خالد محمود، (۸) مولانا نورالحق نور، (۹) مولانا انوار الحق، (۱۰) مولانا عبدالواحد، (۱۱) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۲) قاری محمد یٰسین، (۱۳) جناب حاجی سیف الرحمٰن، (۱۴) جناب حاجی فیض احمد، (۱۵) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۱۶) جناب حاجی اشتیاق احمد، (۱۷) جناب حافظ نذیر احمد، (۱۸) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۹) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۲۰) مولانا اللہ وسایا، (۲۱) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۲) مولانا بشیر احمد، (۲۳) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۴) مولانا عزیز الرحمٰن ثانی۔
شرکاء مالیاتی کمیٹی: صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی شہاب الدین، جناب حاجی سیف الرحمٰن، جناب حاجی فیض احمد۔
شرکاء تعمیراتی کمیٹی: صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، جناب محمد عامر۔
آغاز: باجازت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کارروائی اجلاس شوریٰ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا۔ جناب حافظ محمد یوسف عثمانی نے قرآن کریم کی سورۂ فتح کا آخری رکوع تلاوت کیا۔ گزشتہ سال بہت سی علمی اور روحانی شخصیات طبعی وفات سے ہم سے جدا ہوئیں اور بہت سے علماء اور طلباء کراچی کے ہنگامہ اور فسادات میں شرپسندوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، ان مسافران آخرت کے لئے صاحبزادہ خلیل احمد زید مجدہ نے دعائے مغفرت اور ترقی درجات کرائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شعبہ تبلیغ: مجلس کا شعبہ تبلیغ ۴۹ مبلغین پر مشتمل ہے۔ ۴۹ حلقوں میں مجلس کے دفاتر ہیں۔ یہ شعبہ تبلیغ شب و روز قادیانیت کی تبلیغی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو قادیانیت کے محاذ پر بیدار رکھتا ہے۔ تبلیغی بیانات، تقسیم لٹریچر، یک روزہ دو روزہ، سہ روزہ کورس ہائے رد قادیانیت مساجد اور مدارس میں رکھے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ اس کے علاوہ کانفرنسیں ایک مربوط نظم کے ساتھ تمام حلقوں میں رکھی جاتی ہیں۔ خاص طور پر پشاور کانفرنس، مسلم کالونی اور اسلام آباد، لاہور، بہاول پور، سکھر، نواب شاہ، کنری، کوئٹہ ان شہروں میں بڑے اہتمام کے ساتھ کانفرنس ہائے ختم نبوت سال ہا سال سے منعقد ہوتی آ رہی ہیں۔ جن کا آج تک انعقاد جاری ہے۔ اس سال سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۹، ۲۰؍ ذی الحجہ مطابق ۲۴، ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد ہوگی۔ ان شاء اللہ!
اسی طرح حسب سابق برمنگھم ختم نبوت کانفرنس ۹؍ جون ۲۰۱۳ء بروز اتوار منعقد ہوگی۔ ان شاء اللہ!
مدرسہ ختم نبوت اچھرہ وال: اس مدرسہ کے بانی ماسٹر محمد حیات صاحب ہیں جو معمر اور معذور ہو گئے ہیں۔ ان کی خواہش پر کہ مجلس اس مدرسہ کا انتظام سنبھال لے۔ حاضرین اجلاس سے درخواست ہے کہ مدرسہ کے انتظامی اور تعلیمی امور سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام رسول، مولانا غلام مصطفیٰ پر مشتمل کمیٹی کو امور مدرسہ سنبھالنے کی اجازت دی گئی۔
کمیٹی برائے ویب سائٹ مجلس: مولانا مفتی خالد محمود نے اپنی تجاویز میں ایک اہم تجویز مجلس کی اپنی ویب سائٹ بنانے کی دی۔ موصوف نے دیگر اداروں کی ویب سائٹ ان کی کارکردگی کی توضیح وتشریح کرتے ہوئے مجلس کی اپنی ویب سائٹ کی ضرورت، اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ صاحبزادہ عزیز احمد نے تائید فرمائی۔ چونکہ یہ ایک تکنیکی شعبہ ہے تو اس کو آگے بڑھانے کے لئے صاحبزادہ عزیز احمد کی زیرصدارت سہ رکنی کمیٹی بنادی گئی۔ مولانا مفتی خالد محمود اور مولانا عزیز الرحمن ثانی ہر دو اس کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ بوقت ضرورت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو شریک مشورہ کر لیا کریں گے۔
امداد مسجد ختم نبوت گوجرہ: نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد کی تجویز پر تکمیل تعمیر مسجد ختم نبوت گوجرہ کے لئے مبلغ (-/۵۰۰۰۰۰) پانچ لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی۔
امداد مدرسہ بنات ٹالہی: قادیانیوں کی زرعی جاگیر کے درمیان مسلمانوں کا ایک شہر ٹالہی ہے۔ عالمی مجلس نے دو سال قبل ٹالہی میں مسجد خاتم النبیین تعمیر کرائی۔ اب مدرسہ بنات زیر تعمیر ہے۔ عالمی مجلس کنری پاک کے ساتھی نگرانی کر رہے ہیں۔ عالمی مجلس نے -/۱۵۰۰۰۰ روپے ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ میں بھجوائے تھے۔ اب مزید -/۲۰۰۰۰۰ روپے جماعت کنری کی درخواست پر بھجوانے کی مجلس شوریٰ سے منظوری لی گئی۔ مذکورہ رقم بذریعہ ڈرافٹ نمبر ۷۶۵۰۰۲۶ یو۔بی۔ایل حرم گیٹ ملتان سے عالمی مجلس کنری پاک کے نام بھجوائے گئے۔
ممبرشپ: سال ۱۴۳۴ھ مجلس کی ممبرشپ کا سال ہے۔ اس کے اخیر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر سہ سالہ مرکزی انتخابات ہوں گے۔ جس میں عالمی مجلس کے دو نائب امراء کا انتخاب ہوگا۔ طے ہوا کہ معاشی حالات کے پیش نظر فیس ممبرشپ میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ فیس ممبرشپ -/۱۰ روپے ہی رہنے دی جائے۔ فی الحال بک ہائے ممبرشپ پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپی جائیں۔ مزید ضرورت ہو تو پچیس سو چھاپ لی جائیں۔ اسی طرح بقدر ضرورت احتیاط سے بکیں چھاپی جائیں۔ ممبرشپ پورے ملک میں حضرات مبلغین یا اراکین شوریٰ کے زیر نگرانی کی جائے۔
ممبرشپ کے ساتھ ساتھ مقامی جماعتوں کی تشکیل اور اراکین مجلس عمومی کا تقرر عمل میں لایا جائے اور یہ کام ۳۰؍ شعبان المعظم ۱۴۳۴ھ تک مکمل کر لیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس مجلس عمومی: عالمی مجلس کے نائب امراء کے انتخاب کے لئے اراکین مجلس عمومی کا اجلاس بروز جمعہ ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء صبح ۹ بجے بموقع سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر منعقد ہوگا۔ ان شاء اللہ!
حسابات آڈٹ: حسب سابق عبدالستار اینڈ کمپنی سے حسابات آڈٹ کرانے کی اجازت دی گئی۔ عبدالمجید
(۱۱۶واں) اجلاس مجلس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔
مؤرخہ ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء، مطابق ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ، بروز: جمعتہ المبارک منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم۔
حسب فیصلہ مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امراء کے انتخاب کے لئے اراکین مجلس عمومی کا اجلاس بروز جمعتہ المبارک ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء صبح ۹ بجے بموقع سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر منعقد ہوا۔
نوٹ: (اسماء گرامی اراکین مجلس عمومی، مرکزی شوریٰ کے رجسٹر پر درج ہیں)
اسماء گرامی حضرات امراء مجلس: (۱) مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم امیر مرکزیہ، (۲) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم نائب امیر، (۳) صاحبزادہ عزیز احمد دامت برکاتہم نائب امیر۔
مہمان خصوصی: صاحبزادہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: جناب حافظ محمد یوسف گوجرانوالہ۔
عالمی مجلس کے ہر دو امراء کے چناؤ کی کارروائی کے آغاز پر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ۱۰۸ اراکین مجلس عمومی کے دستخطی کارڈ پیش کئے۔ جن میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ان ہر دو حضرات کے نام آئندہ ۳ سال کے لئے (یکم محرم ۱۴۳۵ تا ذی الحجہ ۱۴۳۷ھ) نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے تجویز کئے گئے تھے۔ چنانچہ تمام ممبران عمومی نے اس تجویز کی تائید و توثیق کی۔
الحمدللہ! بہت ہی مختصر اور پرسکون ماحول میں یوں مجلس عمومی کی کارروائی مکمل ہوئی۔
حضرت امیر مرکزیہ کے فرمان پر مخدوم و مکرم صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ نے اختتامی دعا فرمائی۔ عبدالمجید
(۱۱۷واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۴ء، مطابق ۱۷؍ جمادی الاوّل ۱۴۳۵ھ، بروز: بدھ منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۲) جناب سید سلمان بنوری، (۳) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۴) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۵) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۶) صاحبزادہ خلیل احمد، (۷) مولانا مفتی خالد محمود، (۸) مولانا انوار الحق، (۹) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۰) قاری محمد یٰسین، (۱۱) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۲) جناب حاجی سیف الرحمٰن، (۱۳) جناب حاجی فیض احمد،
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
(۱۴) جناب میاں خان محمد، (۱۵) جناب حاجی اشتیاق احمد، (۱۶) جناب قاری محمد یوسف عثمانی، (۱۷) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۱۸) مولانا اللہ وسایا، (۱۹) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۰) مولانا بشیر احمد، (۲۱) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۲) مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، (۲۳) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۴) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۲۵) مولانا محمد انس۔
آغاز اجلاس: جناب حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ کی تلاوت سے اجلاس شوریٰ کا افتتاح ہوا۔
مرحومین کے لئے دعاء: گزشتہ سال ہماری بہت سی علمی، روحانی شخصیات وفات پا گئیں۔ ان مرحومین اور دیگر تمام مسلمانوں کے لئے مخدوم ابن مخدوم صاحبزادہ خلیل احمد نے دعائے مغفرت اور ترقی درجات فرمائی۔
شعبہ دعوت و ارشاد: تجویز مولانا سید سلمان بنوری۔ سہ ماہی کورس رد قادیانیت جو ہمیشہ شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ میں فضلاء مدارس عربیہ کے لئے ہوتا رہا ہے۔ مولانا سید سلمان بنوری کی تجویز پر اس کو سالانہ کر دیا گیا۔ جس میں موضوع کی مناسبت سے قادیانیت اور دیگر فرق باطلہ کے تردیدی مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس شعبہ کا نام ”دعوت و ارشاد“ تجویز کیا گیا۔ شعبہ دعوت و ارشاد میں داخلہ ۳۰؍ شوال تک ہوگا۔ شرکاء کو ۱۵۰۰ روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
جدید تقرریاں: مولانا رضوان عزیز اور مولانا عبداللہ معتصم جن کا بطور مبلغ ابھی نیا تقرر ہوا ہے۔ یہ دونوں حضرات کورس دعوت و ارشاد کا نصاب اور شرکاء کے قواعد و ضوابط مرتب کریں گے۔ مزید چار مبلغ مولانا محمد قاسم کراچی، مولانا عبدالرؤف کراچی، مولانا محمد حمزہ لقمان سندھ، مولانا محمد وسیم چناب نگر کا تقرر کیا گیا۔
مصدقہ رپورٹ کا خلاصہ: تجویز: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مصدقہ رپورٹ کی ۵؍ جلدیں تو بہت ضخیم ہیں۔ اگر ممکن ہو سکے تو رپورٹ کا وہ حصہ جس میں قادیانیت پر بحث کی گئی ہے، وہ الگ بطور خلاصہ طبع ہو سکے تو مناسب ہے۔ اس پر سوچ لیا جائے۔
آڈٹ حسابات: مجلس کے حسابات عرصہ دراز سے عبدالستار اینڈ کمپنی نواں شہر ملتان سے آڈٹ کراتے ہیں۔ جناب عبدالستار صاحب مجلس کے حسابات کے آڈٹ کے لئے اپنے عملے کو مجلس کے مرکزی دفتر میں بھجوا دیتے ہیں۔ اس سے بہت آسانی رہتی ہے۔ مجلس شوریٰ نے طرز آڈٹ کی تعریف کی اور نئے سال ۱۴۳۵ھ کے حسابات کے آڈٹ کرانے کی انہی سے منظوری دی۔ عبد مجید
(۱۱۸واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۸؍ فروری ۲۰۱۵ء، مطابق ۱۸؍ ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا ناصر الدین خاکوانی، (۴) صاحبزادہ خلیل احمد، (۵) مولانا عبدالرؤف، (۶) مولانا مفتی خالد محمود، (۷) مولانا مفتی محمد حسن، (۸) مولانا انوار الحق، (۹) مولانا قاری محمد یٰسین، (۱۰) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۱) جناب حاجی فیض احمد، (۱۲) جناب حاجی سیف الرحمٰن، (۱۳) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۱۴) جناب حاجی اشتیاق احمد، (۱۵) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۶) مولانا بشیر احمد، (۱۷) مولانا عزیز الرحمٰن، (۱۸) مولانا اللہ وسایا، (۱۹) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۰) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۱) مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، (۲۲) مولانا حافظ محمد انس، (۲۳) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۲۴) مولانا قاضی احسان احمد۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تبلیغی و تنظیمی امور کے مشیر: مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا قاضی احسان احمد کو تبلیغی و تنظیمی امور کا مشیر مقرر کیا گیا۔
مرحومین کے لئے دعاء مغفرت: امیر مرکزیہ عالمی مجلس شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی، جناب میاں سراج احمد دین پوری، مولانا محمد نافع، مولانا جمشید احمد رائے ونڈ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا نور محمد تونسوی، مولانا بشیر احمد شاہ جمالی، قاری محمد ابراہیم فیصل آباد، مولانا سعید احمد بہاول نگر، مولانا قاری نذیر احمد کندیاں، مولانا عبد الستار چاوڑہ بدین و دیگر بہت سی علمی، روحانی شخصیات جو سال گزشتہ وفات پاگئیں، تمام مرحومین کے لئے مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر نے بخشش و مغفرت اور ترقی درجات کی دعاء کرائی۔
انتخاب امیر مرکزیہ: محبوب العلماء والصلحاء امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی ۱۱؍ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ مطابق یکم فروری ۲۰۱۵ء بروز اتوار دفتر وفاق المدارس العربیہ ملتان تشریف لائے۔ حالات حاضرہ پر باہم مشاورت کے لئے ڈویژن ملتان کے منتظمین مدارس عربیہ سے خطاب کے دوران حضرت امیر مرکزیہ کو دل کی تکلیف ہوئی۔ حضرت والا کی طبیعت سنبھل نہ سکی۔ کارڈیالوجی لے جاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اجلاس شوریٰ میں ”عہدہ امیر مرکزیہ“ کے لئے مخدومنا المکرم مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم کا نام نامی، اسم گرامی پیش ہوا۔ ”نائب امیر“ کے لئے مخدومنا المکرم مولانا حافظ ناصر الدین صاحب خاکوانی دامت برکاتہم کا اسم گرامی پیش ہوا۔ تمام اراکین شوریٰ نے توثیق و تحسین فرمائی۔
کارروائی گزشتہ اجلاس: ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے گزشتہ اجلاس شوریٰ کی کارروائی مناسب وضاحتوں کے ساتھ پڑھ کر سنائی۔ اراکین شوریٰ نے توثیق کی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
- ۱...... مجلس شوریٰ نے آمد و اخراجات ۱۴۳۵ھ کے گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لیا اور سالانہ اخراجات کی منظوری دی اور آڈٹ حسابات
کی تحسین کی۔
- ۲...... مجلس شوریٰ نے مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی میں آئندہ تعلیمی سال درجہ دورۂ حدیث شریف کے اجراء کی منظوری دی۔
- ۳...... مجلس شوریٰ نے دفتر مرکزیہ ملتان کے ستونوں اور دیواروں کے حاشیہ پر روغنی ٹائل لگانے کی اجازت دی۔
- ۴...... مجلس شوریٰ نے لاہور دفتر کے بوسیدہ دوکمروں کی جدید تعمیر کی اجازت دی۔
عبدالرزاق
(۱۱۹ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔ مؤرخہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۱۵ء، مطابق ۱۶؍محرم الحرام ۱۴۳۷ھ، بروز: جمعتہ المبارک منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔ شرکاء: (۱) مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، (۲) مولانا حافظ محمد ناصر الدین خاکوانی، (۳) صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، (۴) صاحبزادہ خلیل احمد، (۵) مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، (۶) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۷) مولانا عبدالرؤف، (۸) مولانا خالد محمود، (۹) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۰) مولانا قاری محمد یٰسین، (۱۱) جناب حاجی فیض محمد، (۱۲) مولانا انوار الحق، (۱۳) جناب حاجی اشتیاق احمد، (۱۴) جناب حافظ نذیر احمد، (۱۵) جناب حافظ محمد یوسف، (۱۶) مولانا عزیز الرحمن جالندھری،
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۷) مولانا اللہ وسایا، (۱۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۱۹) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۲۰) مولانا محمد انس، (۲۱) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۲) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۳) مولانا مفتی محمد راشد مدنی۔
صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم ۱۵؍ محرم الحرام بروز بدھ کراچی سے فیصل آباد پہنچے۔ شب اقراء روضۃ الاطفال کے پروگرام میں مہمان خصوصی تھے۔ اگلے روز صبح مسلم کالونی چناب نگر کے لئے روانہ ہوئے۔ نو بج کر انسٹھ منٹ پر موبائل پیغام میں ارشاد فرمایا کہ دس بجے تک پہنچنے والا ہوں۔ اجلاس شوریٰ بروقت شروع کر دیا جائے۔ حضرت امیر مرکزیہ کی اجازت پر شیخ المشائخ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز کیا گیا۔
تلاوت: جناب حافظ محمد یوسف عثمانی کی تلاوت سے اجلاس شوریٰ کا آغاز کیا گیا۔
دعائے مغفرت: اسی دوران امیر مرکزیہ قبلہ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم تشریف لے آئے اور صدارتی نشست کو رونق بخشی۔
کارروائی سابقہ اجلاس شوریٰ: بندہ عزیز الرحمن جالندھری نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کے اہم اہم عنوانات کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔ ممبران شوریٰ نے توثیق کی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
آغاز کارروائی: اجلاس میں ایجنڈا کی تفصیلات کمپوز شدہ پیش کی گئیں۔ شعبہ تبلیغ میں تبلیغی خدمات سرانجام دینے والے حضرات مبلغین کی فہرست، درجہ کتب کے اساتذہ کی فہرست، درجہ حفظ کے اساتذہ کی فہرست، سکول، پرائمری، ائمہ و خطباء، تعداد طلباء، وظائف طلباء کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ اراکین شوریٰ نے تفصیلات ملاحظہ فرما کر مجلس کے دائرہ کار کی تحسین کی اور مالیاتی کمیٹی کو اجازت دی کہ وہ مجلس کے تبلیغی، تعلیمی اور تنظیمی خدمات سرانجام دینے والے رفقاء کے مشاہرات میں غور کر کے مناسب ترقی برائے سال ۱۴۳۷ھ تجویز کر دے۔
ڈبل سٹوری چار مکانوں کی تعمیر: اراکین شوریٰ سے درخواست کی گئی کہ اساتذہ کے لئے مکانوں کی ضرورت ہے۔ ۵ مرلہ کا ایک پلاٹ کالونی میں مجلس کی ملکیت ہے۔ نقشہ منظور شدہ ہے۔ ڈبل سٹوری چار مکانوں کے بنانے کی اجازت دی جائے۔ تعمیر ٹھیکہ پر کرائیں گے تاکہ لیبر، معمار، مزدور کے حسابات اور نگرانی لیبر کی الجھن سے بچ کر ٹھیکہ داری کے آسان طریقہ سے چاروں مکان بعجلت تیار ہو جائیں۔ مجلس شوریٰ نے تعمیر مکانات کی اجازت دی۔ الحمد للہ!
آٹھ قدیم کمروں کی تعمیر، عید گاہ: مسجد کے شمالی جانب آٹھ قدیم کمرے جن کی چنائی گارا کی ہے۔ چھتیں گارڈر ٹی آئرن کی، خستہ حالی اور بارش کا پانی ٹپکنے کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہے۔ ان آٹھ کمروں کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے۔ مجلس شوریٰ نے ان آٹھ کمروں کی تعمیر نو کی اجازت دی۔ عید گاہ مسلم کالونی مجلس کے زیر قبضہ ہے۔ چار دیواری موجود ہے۔ مزید تعمیراتی کام کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔
صحن مسجد میں برآمدہ کی تعمیر: مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی میں حاضری طلباء ۵۰۰ صد کے قریب ہے۔ نمازیوں کی بھی کثرت ہے۔ ان حالات میں صحن مسجد میں برآمدہ کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ مجلس شوریٰ نے صحن مسجد میں تعمیر برآمدہ کی بھی اجازت دی۔ الحمد للہ! مکانات، آٹھ کمرے، برآمدہ صحن مسجد تینوں کاموں کو ٹھیکہ پر کرایا جائے۔
ممبر سازی: ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء بروز جمعتہ المبارک مسلم کالونی چناب نگر میں نائب امراء عالمی مجلس کا چناؤ عمل میں لایا گیا تھا۔ جس کی میعاد تین سال محرم الحرام ۱۴۳۵ھ تا ذی الحجہ ۱۴۳۷ھ تھی۔ سال ۱۴۳۷ھ ممبر شپ اور مقامی جماعتوں
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی تشکیل کا ہے۔ ناظم اعلیٰ صاحب کی درخواست پر مجلس شوریٰ نے ممبر شپ کی اجازت دی۔ طے ہوا کہ آئندہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر نائب امراء عالمی مجلس کا انتخاب ہوگا۔ ان شاء اللہ!
آڈٹ حسابات: عبدالستار اینڈ کمپنی عرصہ تیس سال سے مجلس کے حسابات آڈٹ کرتے ہیں۔ ۱۴۳۶ھ کے حسابات وہ آڈٹ کر چکے ہیں۔ رپورٹ تیار کی جارہی ہے۔ اراکین شوریٰ نے مسلسل ایک ہی آڈیٹر سے حسابات آڈٹ کرانے کو پسندیدہ قرار دیا۔ رپورٹ تیار ہونے پر امیر مرکزیہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کو تائیدی دستخط کے لئے بھجوادی جائے گی۔ ان شاء اللہ! جناب عبدالستار کی آڈٹ فیس مبلغ ۵۰۰۰۰ روپے ہے۔ وہ اس پر طبعاً راضی نہیں۔ اس سے زیادہ فیس دینا مناسب بھی نہیں۔ اگر وہ موجودہ آڈٹ فیس پر حسابات کرتے رہیں تو ٹھیک ہے اگر زیادہ فیس مانگیں تو آڈیٹر بدلنے کی اجازت دی جائے۔ مجلس شوریٰ نے دونوں تجاویز کو قبول کیا اور اجازت دی۔
مکرمی حافظ نذیر احمد صاحب رکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت از گوجرانوالہ کی ہمشیرہ صاحبہ نے اپنا اڑھائی مرلے کا مکان مسجد خاتم النبیین کنگنی والا گوجرانوالہ کی تجدید، تزئین، فرش اونچائی، دروازوں اور ونڈوز کی تبدیلی جائے وضو اور تجدید تعمیر واش روم کے لئے وقف کیا اور مکان عالمی مجلس کے نام بطور وقف رجسٹری کرا دیا۔ مرحومہ کی وفات کے بعد مکرمی حافظ نذیر احمد نے حسب وصیت مکان فروخت کر دیا اور حسب وصیت مسجد خاتم النبیین کی تعمیر و مرمت بہت عمدہ پیرائے سے کرا دی۔ حافظ صاحب کے فرمان پر بندہ عزیز الرحمن اور مولانا حافظ محمد انس نے گوجرانوالہ کا سفر کیا اور مکان خریدار کے نام رجسٹری کرا دیا اور رقم برائے تعمیر مسجد خاتم النبیین حافظ نذیر احمد نے وصول کر لی۔
مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن مولانا عبدالواحد کوئٹہ نحیف اور کمزور اب سفر کے قابل نہ رہے۔ کئی اجلاسوں میں ان کی تشریف آوری نہ ہوسکی۔ مولانا احمد میاں حمادی عمر رسیدگی، گھٹنوں کا درد، دل کی تکلیف کے باعث یہ بزرگ بھی سفر کے قابل نہ رہے۔ کئی بزرگ وفات پاگئے تو بمشورہ صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ کی اجازت سے مجلس سے گہرا قلبی تعلق رکھنے والے مولانا قاضی ابراہیم اٹک اور مولانا قاضی عبید الرحمن تلہ گنگ، مولانا سمیع اللہ جان فاروقی پشاور، مولانا حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم ان چاروں حضرات کی اپنے اپنے حلقے میں گزشتہ تحریک ہائے ختم نبوت میں گراں قدر خدمات ہیں اور موجودہ حالات میں محاذ ختم نبوت پر نئی نسل کو قادیانیت کے دجل وفریب سے باخبر رکھنے میں بہت فعال ہیں۔ چاروں حضرات کو رکن شوریٰ عالمی مجلس کا رکن منتخب کیا گیا۔
جماعت نواب شاہ اور جماعت کنری میں مقامی دفتر تعمیر کرنے کا مقامی رفقاء نے ارادہ کیا جو مناسب ہے۔ اس سلسلے میں ان حضرات کو مقامی بکیں پندرہ پندرہ عدد دی گئی ہیں۔ حسب ضرورت مزید بھی مقامی بکیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بمد تعمیر مقامی بکیں دینے کی اجازت دی گئی۔ عبدالرؤف
(۱۲۰ واں) اجلاس مجلس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔
مؤرخہ ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء، مطابق ۲۶؍ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ، بروز: جمعۃ المبارک منعقد ہوا۔
زیر صدارت: صاحبزادہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم۔
مؤرخہ ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء بروز جمعۃ المبارک صبح ۹ بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین صاحبزادہ مولانا خلیل احمد نے فرمائی۔ جامع مسجد ختم نبوت کا وسیع ہال اراکین مجلس عمومی سے بھرا ہوا تھا۔ اراکین کو دعوت نامے پیشگی بذریعہ ڈاک ارسال کر دیئے گئے تھے۔ اجلاس بروقت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شروع ہوا۔ انتہائی عقیدت و محبت سے اراکین مجلس عمومی نے شرکت فرمائی۔
جناب قاری عبیدالرحمن کی تلاوت قرآن کریم سے اجلاس عمومی کا آغاز ہوا۔ مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اجلاس کی غرض وغایت، مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت و برکات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے آغاز و قیام پر روشنی ڈالی۔ مجلس عمومی کے ارکان کے سامنے دستور مجلس کے مطابق نائب امراء کی توثیق کے لئے مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی اور صاحبزادہ مولانا عزیز احمد کے نام پیش کئے۔ پورے ہاؤس نے ہاتھ کھڑے کر کے ہر دو حضرات کو متفقہ طور پر آئندہ تین سال کے لئے مجلس کا نائب امیر منتخب کیا۔
اس کے بعد حاضرین کے سامنے مجلس منتظمہ کے نام اور مجلس شوریٰ کے نام پڑھ کر سنائے۔ ممبران نے ہر دو نائب امراء، مجلس منتظمہ، مجلس شوریٰ اور تمام عہدیداران کی توثیق فرمائی۔
صاحب صدر صاحبزادہ مولانا خلیل احمد نے اختتامی دعاء فرمائی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک! منیر احمد
(۱۲۱واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۱۱؍دسمبر ۲۰۱۶ء، مطابق ۱۱؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۸ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیرصدارت: نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۶) مولانا حافظ محمد انس، (۷) مولانا قاضی احسان احمد، (۸) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۹) مولانا خواجہ خلیل احمد، (۱۰) مولانا سمیع اللہ جان، (۱۱) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۱۲) مولانا عبدالرؤف، (۱۳) مولانا عبیدالرحمن، (۱۴) مولانا قاضی محمد ابراہیم ثاقب، (۱۵) قاری محمد یٰسین، (۱۶) مولانا حفیظ الرحمن، (۱۷) جناب حاجی سیف الرحمن، (۱۸) جناب حافظ محمد یوسف، (۱۹) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۲۰) مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، (۲۱) مولانا بشیر احمد۔
۱۱؍ ربیع الاوّل بروز اتوار صبح ۹ بجے لائبریری ہال میں اجلاس شروع ہوا۔
امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب دامت برکاتہم بوجہ دھند فلائٹ کینسل ہونے کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے۔
نائب امیر مرکزیہ قبلہ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی صاحب زید مجدہم بوجہ اجتماع خانقاہ شیخوپورہ تشریف نہ لاسکے۔
اجلاس کا آغاز قاری محمد یوسف صاحب عثمانی کی تلاوت سے ہوا۔
اجلاس زیر صدارت نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد زید مجدہم خانقاہ سراجیہ منعقد ہوا۔
آغاز کارروائی: مجلس کے ناظم اعلیٰ نے ایجنڈا کی شق نمبر ۱ کی وضاحت کرتے ہوئے حاضرین کو ۳۸ مبلغین حضرات کی فہرست اور ان کے حلقہ ہائے تبلیغ کی تحریری فہرست پیش کی۔ وضاحت کی کہ ہر تین ماہ بعد دفتر مرکزیہ ملتان میں تمام مبلغین کی سہ ماہی میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ گزرے ہوئے تین ماہ کی تبلیغی پروگراموں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آئندہ کے تین ماہ کے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جس میں عمومی تبلیغی پروگرام، مدارس، مروجہ تعلیمی ادارے سکول وغیرہ اور مساجد میں یک روزہ، دو روزہ، سہ روزہ، کورس رد قادیانیت رکھے جاتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات مبلغین لٹریچر رد قادیانیت اپنے تبلیغی پروگراموں شرکاء کو تقسیم کرواتے ہیں۔ سالانہ کورس رد قادیانیت چناب نگر کی تشہیر، اس میں شرکت کی دعوت اور کورس چناب نگر کا انعقاد شعبان المعظم میں ۲۵/ روزہ منعقد ہوتا ہے اور بڑے اہتمام کے ساتھ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوتی ہے۔ اکابرین کو خصوصی دعوت نامے اور مقامی جماعتوں کو عمومی دعوت نامے، اشتہارات پورے ملک میں لگوائے جاتے ہیں۔ جہاں جہاں ہنگامی ضرورت ہو حضرات مبلغین کی فرمائش اور تجویز پر وہاں خصوصی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ حضرات مبلغین کی پوری ٹیم ہمہ وقت اس جہادی جدوجہد میں اپنے اوقات مصروف رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں اور فتنہ قادیانیت اور گمراہ طبقوں کو نیست و نابود فرمائیں۔ مجلس کے شعبہ ہائے نشر و اشاعت سے ہر کورس کے انعقاد اور اختتام پر تعلیم یافتہ، متحرک بعض خصوصی افراد میں مفید کتب بھی ہدیہ کی جاتی ہیں۔
شعبہ ہائے تدریس، تعلیم اور مساجد کا نظم: مسلم کالونی چناب نگر میں اس وقت دورۂ حدیث تک کتب کے تمام درجات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ شعبہ حفظ کا بھی بہت اہتمام کیا گیا ہے۔ دینی مدارس میں رائج مروجہ تعلیم کا طلباء کے لئے بھی انتظام کیا گیا ہے۔ مسلم کالونی چناب نگر میں فری ڈسپنسری کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ طلباء کے لئے ناشتہ اور کھانے کا بہتر اور مناسب انتظام کیا گیا ہے اور اہم بات یہ کہ فضلاء درس نظامی کے لئے درجہ تخصص کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ضلع مظفر گڑھ چوک علی پور میں درجہ حفظ کا مدرسہ ہے۔ ناظرہ اور حفظ کے طلباء کے لئے ناشتہ اور کھانے کا انتظام ہے۔
مالیاتی کمیٹی: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی سابق امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشورہ سے مالیاتی کمیٹی کی تجدید کی گئی تھی۔ مالیاتی کمیٹی کا کام اخراجات پر نظر رکھنا، مشاہرات میں اضافہ کرنا، حسابات بر وقت آڈٹ کرانے کی نگرانی کرنا، کمیٹی کے ارکان حسب ذیل نامزد کئے گئے تھے۔ نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ عزیز احمد، اراکین مجلس منتظمہ اور مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی مذکورہ مالیاتی کمیٹی، رفقاء مجلس کے مشاہرات کا جائزہ لے کر ترقیاں تجویز کریں گی۔ چنانچہ ۱۱/ ربیع الاول ۱۴۳۷ھ بعد نماز عصر تا عشاء مالیاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ مشاہرات میں اضافہ تجویز کیا گیا۔
- ۱...... تجویز از مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی زید مجدہ : مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب نے تجویز دی کہ صوبہ
خیبر پختونخواہ میں مزید دو مبلغین کی ضرورت ہے۔ اس کی منظوری دی جائے۔ جواباً مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ خیبر پختونخواہ میں مولانا عابد کمال دو سال سے شعبہ تبلیغ میں مقرر ہیں لیکن فنڈ کے لئے بک نہیں رکھتے۔ اس وقت بھی ان کے پاس بک نہیں ہے تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ تینوں مبلغین بکیں رکھیں گے اور فنڈ بھی کریں گے۔ ان شاء اللہ ! چنانچہ دو مبلغین خیبر پختونخواہ میں رکھنے کی اجازت دی گئی۔
- ۲...... تجویز از صاحبزادہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ : مدرسہ مسلم کالونی، درجہ تخصص کو مزید وسعت دی جائے۔ درجہ
تخصص کے شرکاء کی تعداد پچاس کر لیں۔ اس وضاحت پر کہ ماہانہ وظیفہ کی وجہ سے خرچہ بہت بڑھ جائے گا۔ اس پر حضرت والا کی تجویز اس طرح منظور کی گئی کہ درجہ تخصص کے طلباء کی تعداد ۳۰ سے بڑھا کر ۳۵ کر دی جائے۔
- ۳...... تجویز از مولانا اللہ وسایا : مسلم کالونی شعبہ کتب میں ایک مدرس کی ضرورت ہے۔ فی الحال موجود اساتذہ سے گزارہ کر رہے
ہیں۔ درجہ کتب کے لئے ایک مدرس، مدرسہ مسلم کالونی کی انتظامی امور کے لئے ایک ناظم مدرسہ اور صفائی کے لئے ایک خادم کی ضرورت
تحریک ختم نبوت جلد (۹) ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ مدرس کتب، ناظم مدرسہ اور صفائی کنندہ خادم کے رکھنے کی اجازت دی گئی۔
- ...... ۴ تجویز از مولانا اللہ وسایا: مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی میں تا دورہ حدیث شریف مکمل کلاسیں موجود ہیں۔ اساتذہ کرام کے لئے
زیر تعلیم شروحات کتب کی ضرورت ہے اور جدید لائبریری مسلم کالونی میں کچھ ضروری کتابیں رکھنے کی ضرورت ہے۔ حسب ضرورت کتابیں اور شروحات خریدنے کی اجازت دی گئی۔
- ...... ۵ تجویز از مولانا اللہ وسایا: حضرت لدھیانوی شہید کی رد قادیانیت پر ”تحفہ قادیانیت“ کے نام سے چھ جلدیں ہیں۔ آئندہ
۲۵ یومیہ کورس رد قادیانیت چناب نگر کے شرکاء کے لئے تحفہ قادیانیت کو چھاپنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ حسب ضرورت تحفہ چھاپنے کی اجازت دی گئی۔
- ...... ۶ تجویز از مولانا عزیز الرحمٰن ثانی: مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے بجلی کے لئے جنریٹر اور ڈیزل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے
پیش نظر رائے دی کہ دفتر مرکزیہ ملتان میں سولر سسٹم نصب کر دیا جائے۔ وقتی طور پر خرچہ زیادہ ہوگا۔ نتیجہ کے اعتبار سے خرچہ آدھے سے کم رہ جائے گا۔ شرکاء اجلاس نے اس کی تحسین فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ ثانی صاحب ، حافظ محمد انس، جناب یوسف ہارون اور مولانا محمد وسیم یہ چار ساتھی سولر سسٹم لگانے کا جائزہ، اخراجات کا تخمینہ لگا کر ناظم اعلیٰ صاحب کی رائے حاصل کریں۔
- ...... ۷ تجویز از مولانا اللہ وسایا: بعض قادیانی افسران کی مسلسل ترقی اور بعض تعلیمی اداروں کا نام عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھے
جانے کی حکومت کی کوشش اور جدوجہد سے عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لئے کہیں مجلس عمل کا اجلاس یا جمعہ کے خطبات، کون سا راستہ اپنایا جائے ۔مختلف تجاویز کے بعد یہ طے ہوا کہ خطبہ جمعہ سے قبل مختصر اور جامع قرارداد مرتب کر کے خطباء کو دی جائے ۔ جسے خطیب حضرات خطبہ جمعہ سے قبل حاضرین کو پڑھ کر سنا دیں۔
توسیع برآمدہ مسجد چناب نگر: برآمدہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ فرش اور روغنی ٹائل کا کام باقی ہے۔ تکمیل کام کی اجازت دی گئی۔
مسجد اچھر وال : حاجی جمیل احمد لاہور کے مخیر ساتھی ہیں۔ مسجد اچھر وال اور مدرسہ اچھر وال تعمیر کروا رہے ہیں۔ مدرسہ کی تعمیر مکمل ، مسجد زیر تعمیر ہے۔ کسی ہنگامی ضرورت کے تحت تعمیر مسجد میں مجلس کی طرف سے مناسب تعاون کی اجازت دی گئی۔
دفتر ختم نبوت نواب شاہ: نواب شاہ میں بعض تاجر حضرات نے تعمیر دفتر ختم نبوت نواب شاہ کے لئے پلاٹ خریدا اور دفتر کی تعمیر شروع کر دی ۔ یہ منصوبہ اندازاً چالیس لاکھ میں مکمل ہوگا۔
بخاری مسجد کنری: کنری شہر میں بننے والا دفتر اور مسجد سن ۱۹۷۴ء میں تعمیر ہوئے ۔ مسجد میں حاضری بڑھنے کی وجہ سے مقامی ساتھیوں نے بخاری مسجد اور دفتر ختم نبوت کی جدید تعمیر کا باہم مشورہ کیا۔ مذکورہ تمام تعمیراتی منصوبوں کی اراکین شوریٰ نے بخوشی اجازت دی۔
این.ٹی.این نمبر کے حصول کی ضرورت: مخدوم و مکرم صاحبزادہ عزیز احمد نے رائے دی کہ مجلس کا این.ٹی.این نمبر حاصل کر لیا جائے اور یہ کام جناب خالد مسعود صاحب تلہ گنگ کے ذمہ لگا دیا جائے۔
خریداری نیو کار برائے دفتر ملتان: دفتر مرکزیہ ملتان کی گاڑی نمبر ۵۶۹، ماڈل ۱۹۹۸ء جو کہ تقریباً ۱۰ سال سے مرکز ملتان کے زیر استعمال ہے۔ کافی پرانی بھی ہے۔ صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس کی تجویز پر دفتر مرکزیہ ملتان کے لئے مناسب قیمت والی نئی گاڑی خریدنے کی اجازت دی گئی۔
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر وتحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ وتحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبران اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۹۲۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق ومحبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ اندازِ نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت ومحبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہو گی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور