آئینہ قادیانیت · مولانا اللہ وسایا
Aenia Qadyaniat · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

﴾ اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ ﷺ ﴿

فِتْنَہ قادیانیت سے مُتَعَلِّق تِیس سُوَالَات کے جَوَابَات

آئینہ قادیانیت

نَظَرثَانِی

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ

استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ

مُقَدِّمَہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید

تَرْتِیب

مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا حفیظہ اللہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ • ملتان • فون: 514122

PDF 2

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

فتنہ قادیانیت سے متعلق تیس سوالات کے جوابات

آئینہ قادیانیت

نظرثانی

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ

استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ

تقدیم

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

ترتیب

مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا حفیظہ اللہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

514122

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحيم!

انتساب!

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پہلے صدر خیر العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور پہلے ناظم اعلیٰ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور اب ان کے جانشین وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الحدیث یادگار اسلاف، حضرت مولانا محمد سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ اور ناظم اعلیٰ فاضل اجل حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری مدظلہ کے نام !

گر قبول افتد زہے عز و شرف
صفحہ ٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

فہرست

افتتاحیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ ....................... ٦ پیش لفظ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ ....................... ٧ تقریظ حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مدظلہ ....................... ١٠ مقدمہ از شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ ....................... ١٢

ختم نبوت

حیات عیسیٰ علیہ السلام

........ اور حضرت ا

ک

صفحہ ٥

مِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ!

فہرست

خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ .................................................... ٦ محمد عابد صاحب مدظلہ .................................................... ٧ ف جالندھری مدظلہ .................................................... ١٠ مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ .................................................... ١٢

ختم نبوت

ب اہمیت وخصوصیات .................................................... ٢٧ ریخ وتوضیح، کتب کے نام .................................................... ٣٣ حادیث، اجماع، تواتر .................................................... ٤٥ س کا جواب .................................................... ٦٠ رّت اصطلاح کا بطلان .................................................... ٦٥ ........................................................................ ٦٨ یں قادیانی تحریفات کے جوابات .................................................... ٧٩ روپوں کا اختلاف اور حکم .................................................... ١٠٦ ر حاضر تک تحریک ختم نبوت .................................................... ١١٣ ئے علمائے دیوبند کی خدمات .................................................... ١١٧

عیسیٰ علیہ السلام

ت اور مسیحیت کا نقطۂ نظر .................................................... ١٣٨ ن وسنت کے دلائل .................................................... ١٤١

سوال نمبر ٣ ........ حیات مسیح کے خلاف قادیانی عقیدہ کی اصل وجہ ................................. ١٥٨ سوال نمبر ٤ ........ یٰعیسیٰ انی متوفیک میں قادیانی تحریف کا جواب ............................... ١٦٠ ........................... اور حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ .............................................................. سوال نمبر ٥ ........ رافعک اور بل رفعہ الله کی توضیح وتشریح ............................................ ١٦٥ سوال نمبر ٦ ........ نزول مسیح کے دلائل نزول مسیح ختم نبوت کے منافی نہیں ................... ١٧٣ سوال نمبر ٧ ........ حضرت مہدیؓ دجال لعین اور قادیانی دجال ........................................... ١٨٠ سوال نمبر ٨ ........ رفع مسیح کے خلاف قادیانی تحریفات کے جوابات .............................. ١٩٠ سوال نمبر ٩ ........ رفع ونزول کا امکان عقلی وحکمتیں ............................................................ ١٩٥ سوال نمبر ١٠ ....... قادیانی وساوس وشبہات کے جوابات ...................................................... ٢٠٢

کذب مرزا قادیانی

سوال نمبر ١ ........ مرزا قادیانی کے حالات ودعاوی کی کیفیت .......................................... ٢٠٩ سوال نمبر ٢ ........ ایمان، ضروریاتِ دین، کفر دون کفر کی توضیح ....................................... ٢١٨ سوال نمبر ٣ ........ قادیانیوں کی وجوہ تکفیر، مسجد، قبرستان ودیگر احکام .............................. ٢٢٦ سوال نمبر ٤ ........ اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی ................................................................ ٢٣٥ سوال نمبر ٥ ........ مرزا قادیانی اور انگریز ............................................................................ ٢٤١ سوال نمبر ٦ ........ اولیائے امت کی عبارات میں تحریف کا اصولی جواب ........................... ٢٤٤ سوال نمبر ٧ ........ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں ................................................................. ٢٤٦ سوال نمبر ٨ ........ محمدی بیگم اور مرزا قادیانی ................................................................... ٢٤٩ سوال نمبر ٩ ........ لو تقول علینا میں قادیانی تحریف کا جواب ........................................... ٢٥٥ سوال نمبر ١٠ ....... مرزا قادیانی کا اخلاق .............................................................................. ٢٥٨

صفحہ ٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم

افتتاحیہ

از شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب

سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں

الحمدلله رب العالمين ، والصلوة والسلام على اشرف الانبياء وخاتم المرسلين . امابعد! نبی کریم ﷺ کی محبت وعظمت ایمان کی بنیاد ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے جہاں دین متین کی حفاظت کی وہاں آپؐ کی ذات اقدس علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کی ناموس کے دفاع میں بڑی حساس اور غیرت مند رہی۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ ہی میں جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ کھڑا ہو گیا تھا۔ مگر امت کے ہراول دستے نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ گزشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو الحمد للہ! تمام مکاتب فکر کے علماء امت خصوصاً علماء دیوبند نے بھر پور طور پر اس کا رد کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، الحمد للہ! ہر سطح پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور دفاع کے لئے خدمت کر رہی ہے۔ حال ہی میں شاہین ختم نبوت عزیزم مولوی اللہ وسایا سلمہ نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابرین کے حکم کی تعمیل میں بڑی عرق ریزی کے ساتھ تیس سوالات کے جوابات آئینہ قادیانیت کے نام سے مرتب کئے ہیں۔ فقیر دعا گو ہے کہ اللہ پاک ان کی اس کاوش کو قبول فرمائیں۔ آمین! انشاء اللہ ! یہ محنت بارگاہ رسالت علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام میں ان کے قرب کا ذریعہ بنے گی۔ میں تمام اہل علم سے عموماً اپنے سے محبت رکھنے والوں سے خصوصاً گزارش کروں گا کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں۔ اللہ پاک مرتب اور تمام معاونین کو جزائے خیر نصیب فرمائیں۔

فقیر ابو الخلیل خان محمد از خانقاہ سراجیہ کندیاں

صفحہ ٧

بسم الله الرحمن الرحيم

پیش لفظ

از حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ خلیفہ مجاز پیر طریقت شیخ کامل حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلویؒ

الحمد لله رب العالمين ، والصلوة والسلام على خاتم النبيين ، وعلى آلہ واصحابہ اجمعین ، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لا نبی بعدی ، امابعد!

نبی کریم ﷺ کا وجود مسعود پوری کائنات کے لئے بے شمار خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے آپؐ کو نوازا ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ آپؐ نبی بھی ہیں سید الرسل علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی۔ مگر اس کے ساتھ آپ ﷺ کا خاص امتیاز واعزاز ختم نبوت کا تاج ہے۔ اسی کی بدولت آپؐ کو ان مقامات و درجات سے نوازا گیا کہ جن کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام روز اول سے ناموس نبوت کے دفاع کے لئے ہر قسم کی قربانی کو سعادت سمجھتی رہی ہے۔ گزشتہ صدی میں متحدہ ہندوستان پر فرنگی کے تسلط کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے ایک بار پھر امت مسلمہ کی غیرت کو للکارا۔ حالات انتہائی کٹھن تھے ملکی قانون غداروں کا محافظ تھا۔ لیکن غیرت و عشق بھی عجیب چیز ہے۔ اس کے دیوانے موت سے بھاگتے نہیں بلکہ موت ان سے دوڑتی ہے۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں صداقت نے طاقت کو پاش پاش کر دیا اور پورے ملک کے مسلمان اس دجل و فریب سے آگاہ ہو گئے۔ اس ذیل میں خاتم المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہ کی گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن تقسیم کے بعد اس فتنہ نے نئے انداز میں سر اٹھایا تو ایک بار پھر آقا ﷺ کی ناموس کے دفاع کے لئے سرفروشان میدان میں اترے اور 1953ء میں ایسی تحریک چلائی کہ مرزائیت کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے اس مقدس مقصد کے لئے جماعت کی تشکیل ہو چکی تھی۔ مجلس کے بانی مرحوم اور ان کے رفقاء کرام نے کام کے لئے مستحکم اصول وضع کئے جن پر جماعت نے بڑی حکمت، حوصلے اور جرات کے ساتھ ہر سطح پر اس فتنہ کے خلاف کام شروع کر دیا جس کے اثرات پورے ملک و بیرون ملک میں ظاہر ہونے لگے مگر کام میں الجھن اس وقت پیدا ہو جاتی جب ملک کا

صفحہ ٨

قانون غداران ختم نبوت کو تحفظ فراہم کرتا۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ 1974ء میں چناب نگر اسٹیشن پر مرزائیوں کی غنڈہ گردی کے نتیجہ میں تحریک چلی جس کے نتیجہ میں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

الحمدللہ! آج بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اصولوں کے مطابق ہر سطح پر کام کر رہی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں مرزائیوں کو مسلسل شکست فاش ہو رہی ہے۔ تحریری حوالے سے اتنا کام ہو چکا ہے کہ اس موضوع پر پورا لٹریچر مرتب ہو گیا ہے۔ ...... تحریک کی محنت سے آگاہی کے لئے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اور ماہنامہ لولاک ملتان مسلسل شائع ہورہے ہیں۔ فالحمدللہ علی ذالک!

لیکن اس کے ساتھ جماعت نے اس بات کی بھی شدت سے ضرورت محسوس کی کہ اہل علم کو اس موضوع کی طرف بطور خاص مزید متوجہ کیا جائے جس کی مفید صورت یہ سامنے آئی کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے حضرات اکابر سے گزارش کی جائے کہ وہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت کو داخل نصاب کریں۔ اس سے جہاں طلباء کرام کو اس موضوع کی اہمیت اور نزاکت کا علم ہوگا وہاں اس لائن پر کام کرنے والوں کو راہنما اصول بھی حاصل ہو جائیں گے۔

الحمدللہ! وفاق کے حضرات کرام نے حوصلہ افزائی فرمائی اور طے پایا کہ جدید اسلوب میں قدیم مواد کو مرتب کیا جائے۔ چنانچہ اس ذیل میں تیس سوالات مرتب کئے گئے ہیں۔

میر کارواں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کے حکم پر شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے بڑی محنت سے جوابات مرتب کئے جو ”آئینہ قادیانیت“ کے نام سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر تین موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ (١)...... کذب مرزا۔ جس میں اصول تکفیر بھی آجاتے ہیں۔ (٢)...... ختم نبوت۔ (٣)...... حیات عیسیٰ علیہ السلام۔ الحمدللہ! مولانا موصوف مدظلہ نے تینوں موضوعات پر دلنشین انداز سے حقائق ترتیب دئے گئے۔ جس کو کچھ علماء کرام نے ملاحظہ کیا۔ چنانچہ کتاب کا پہلا ایڈیشن اکتوبر ٢٠٠١ء میں منظر عام پر آگیا۔ کتاب دوبارہ بعض اہل علم حضرات کی خدمت میں پیش کی گئی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر یادگار اسلاف‘ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ نے بڑی شفقت فرمائی اور متعدد مقامات پر ہونے والی فروگزاشتوں کی طرف متوجہ فرمایا۔ حضرت موصوف مدظلہ کے شکریہ کے ساتھ مجلس نے تمام متعلقہ مقامات کی تصحیح کر دی۔ اس کے علاوہ جانشین حضرت لدھیانوی مرحوم حضرت مولانا سعید احمد صاحب جلالپوری مدظلہ مرکزی راہنما مجلس تحفظ ختم نبوت نے از اول تا آخر بغور کتاب کا مطالعہ کیا اور تصحیح کی۔

صفحہ ٩

کرنا۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ 1974ء میں چناب نگر اسٹیشن پر مرزائیوں جس کے نتیجہ میں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اصولوں کے مطابق ہر سطح پر کام کر رہی ہے۔ اعلیٰ کی فاش ہو رہی ہے۔ تحریری حوالے سے اتنا کام ہو چکا ہے کہ اس موضوع ..... تحریکی محنت سے آگاہی کے لئے ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اور رہے ہیں۔ فالحمدللہ علی ذالك!

وقت نے اس بات کی بھی شدت سے ضرورت محسوس کی کہ اہل علم کو اس سے کیا جائے جس کی مفید صورت یہ سامنے آئی کہ وفاق المدارس العربیہ ت کی جائے کہ وہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت کو داخل نصاب کریں۔ اس سے ی اور نزاکت کا علم ہوگا وہاں اس لائن پر کام کرنے والوں کو راہنما اصول

حضرات کرام نے حوصلہ افزائی فرمائی اور طے پایا کہ جدید اسلوب میں قدیم جس میں تیس سوالات مرتب کئے گئے ہیں۔ اس پر مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کے حکم پر شاہین ختم نبوت حضرت کی محنت سے جوابات مرتب کئے جو ”آئینہ قادیانیت“ کے نام سے آپ کام کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر تین موضوعات پر مرزا۔ جس میں اصول تکفیر بھی آجاتے ہیں۔ (٢)..... ختم نبوت۔ مدظلہ! مولانا موصوف مدظلہ نے تینوں موضوعات پر دلنشین انداز سے علماء کرام نے ملاحظہ کیا۔ چنانچہ کتاب کا پہلا ایڈیشن اکتوبر ٢٠٠١ء میں ں اہل علم حضرات کی خدمت میں پیش کی گئی۔ وفاق المدارس العربیہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ نے بڑی شفقت فرمائی اور متعدد کی طرف متوجہ فرمایا۔ حضرت موصوف مدظلہ کے شکریہ کے ساتھ مجلس نے اس کے علاوہ جانشین حضرت لدھیانوی مرحوم حضرت مولانا سعید احمد مجلس تحفظ ختم نبوت نے از اول تا آخر بغور کتاب کا مطالعہ کیا اور تصحیح کی۔

اہل سنت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری مرحوم کے فرزند اور مجلس کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے علاوہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب مدظلہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی صاحب ، مولانا محمد عبداللہ احمد پور شرقیہ، مولانا منظور احمد چنیوٹی، علامہ خالد محمود سیالکوٹی نے بھی ملاحظہ کیا۔ راقم الحروف محمد عابد نے بھی اپنی ہمت کے مطابق دیکھا جن حضرات نے نظر ثانی کی ان کی آراء کی روشنی میں حذف و اضافہ بھی کیا گیا۔ بہر حال امکانی حد تک کوشش کی گئی کہ کوئی لفظی و معنوی غلطی رہ نہ جائے۔

اب اس کی دوسری طباعت کا اہتمام کیا جارہا ہے تا کہ شعبان و رمضان کی تعطیلات میں ملک کے متعدد مقامات پر ختم نبوت کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے دروس سے علماء و طلبہ اس کتاب سے مزید مستفید ہوسکیں۔

بہر حال مدارس عربیہ کے علماء کرام کو اس مبارک موضوع کی طرف متوجہ کرنے کی یہ ابتدائی سنجیدہ کوشش تو ضرور ہے مگر حرف آخر نہیں۔ حضرات اکابر زید مجدہم کے فرمان پر پھر بھی حذف و اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حضرات اکابر نور اللہ مرقدہ علماء دیوبند کی اس ذیل میں جو گرانقدر خدمات ہیں موجودہ نسل اس سے بخوبی آگاہ نہیں۔ اگر اس وقت اس نزاکت کو نہ سمجھا گیا تو اندیشہ ہے کہ کہیں آنے والی نسل مزید ناواقفیت کا شکار نہ ہو جائے۔ اللہ پاک جزائے خیر نصیب فرمائے شہید ختم نبوت حضرت لدھیانوی مرحوم کو کہ جنہوں نے اس ضمن میں حضرات اکابر کی خدمات پر مشتمل ”دارالعلوم دیوبند اور تحفظ ختم نبوت“ نامی پمفلٹ میں بڑے جامع انداز میں تاریخ مرتب کر دی ہے۔ یہ رسالہ تحفہ قادیانیت جلد دوم میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ”آئینہ قادیانیت“ کو عوام و خواص کے لئے مفید بنائے اور بندہ و مولف مدظلہ کو اپنا قرب خاص نصیب فرمائے۔ آمین!

امیدوار شفاعت محمد عابد غفرلہ مدرس جامعہ خیرالمدارس یکے از خدام حضرت بہلوی قدس سرہ

صفحہ ١٠

محمد حنیف

Muhammad Hanif Jalandhary Principal : Jamia Khair-ul-Madaris, MULTAN. Gen. Sec. : Wafaq-ul-Madaris-al-Arabia, PAKISTAN. Chief Editor : Monthly "AL-KHAIR" Multan. President : Tehrik Millat-e-Islamia, PAKISTAN.

تقریظ

حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مدظلہ

ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان

الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ !

قادیانیت کے دجل وفریب سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کرنا اور ”قصر ختم نبوت“ میں نقب لگانے والوں کی دسیسہ کاریوں سے مسلمانوں کی ”متاع ایمان“ کی حفاظت کرنا افضل ترین عبادت ہے۔ اس فریضہ کی انجام دہی کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ فرمانے کا حکم دیا تھا۔ اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد خلیفۃ الرسول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرامؓ کے فیصلہ کے مطابق مرتدین و منکرین ختم نبوت کے خلاف باقاعدہ جہاد فرمایا۔ اور اس وقت تک تلوار نیام میں نہیں رکھی جب تک اس فتنہ کا مکمل استیصال نہیں ہوا۔ اُس کے بعد بھی جس شقی نے سر اٹھایا اسلامی حکومتوں نے اپنا دینی فریضہ ادا کرتے ہوئے اس پر حد ارتداد جاری کر کے اسے جہنم واصل کیا۔ برصغیر میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سرفہرست ہے۔ جسے ہندوستان میں برطانوی عملداری کی وجہ سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں مسیح موعود اور ١٩٠١ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ علماء امت نے اس فتنہ کے تعاقب و استیصال کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ مگر انگریز کی سرپرستی کے باعث یہ فتنہ سرطان کی مانند بڑھتا گیا۔ تاہم علمائے کرام کے بروقت انتباہ اور جدوجہد کی برکت سے تمام مسلمان قادیانی دجل وفریب کی حقیقت سمجھنے لگے اور امت کے اجتماعی ضمیر نے انہیں ملت کے غداروں کی صف میں شمار کیا۔ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ فرقہ شمار کرتے تھے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو نہ ماننے والوں کو نہ صرف کافر قرار دیا بلکہ انہیں زانیہ کی اولاد، کتیوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا اور اپنے پیروکاروں کو ان کے بچوں، عورتوں اور معصوموں تک کی نماز جنازہ سے روک دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت ”عقیدہ ختم نبوۃ“ پر استوار ہے۔ جو شخص ضروریات دین اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط و غیر متزلزل ایمان رکھے وہ مومن ہے۔ خواہ کسی مسلک اور کسی فقہ کا پیروکار ہو۔ لیکن جو شخص اس وحدت کو توڑتا ہے اور ظلی بروزی وغیرہ کی آڑ میں ختم نبوت کا انکار کرتا ہے اس

کا رشتہ امت محمدیہ ﷺ سے منقطع اسلام کی ٩٠ سالہ جدو جہد اور عظیم قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو پاکستان کی قومی اسمبل اسلامیہ کا متفقہ موقف تھا۔ ساری کرتے ہیں۔ اور آپ ﷺ کی ذا سمجھتے ہیں۔ تاہم قادیانی شاطر بر دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حقیقت بھی معلوم ہے کہ جب کوئی سے مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کو بچانا از بس ضروری ۔ حدیث شریف سے فارغ ہونے کی علمی تردید اور استیصال کے لئے مرزا قادیانی کے دجل وفریب اور پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا موثر و درخواست پر خواجہ خواجگان مخدوم ال مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ قادیانیت‘ تالیف فرمائی ۔ اس کتا اسلام کی ساری عمارت آنحضر کرے گا۔ امت مسلمہ اسے کسی ص اسی طرح اس کتا۔ پیشگوئیوں کا پردہ بھی خوب چاک انشاء اللہ فضلاء وفاق المدارس الع دعا ہے کہ حق تعالیٰ نافع بنائیں اور فتنہ قادیانیت کی سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی توفی

پتہ : جامعہ خیر المدارس ملتان ۔ فون نمبر : 544440-061

صفحہ ١١

کا رشتہ امت محمدیہ ﷺ سے منقطع ہو جاتا ہے۔ قادیانیوں کے اسی ارتداد اور خروج عن الاسلام کی بناء پر اہل اسلام کی ٩٠ سالہ جدوجہد اور عظیم الشان تحریک کے بعد ١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ کسی فرد واحد کی ذاتی رائے نہ تھی۔ بلکہ پوری قوم اور ملت اسلامیہ کا متفقہ موقف تھا۔ ساری دنیا کے مسلمان آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں۔ اور آپ ﷺ کی ذات کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ تاہم قادیانی شاطرین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور وہ آج تک سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ : ”ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ پھر مسلمان کیوں نہیں؟“ حالانکہ قادیانیوں کو یہ حقیقت بھی معلوم ہے کہ جب کوئی شخص دین کے اساسی و بنیادی عقیدے کا انکار کر دے تو محض کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے اسی نوع کے دجل و فریب سے آگاہ ہونا اور مسلمانوں کو بچانا از بس ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ دورہ حدیث شریف سے فارغ ہونے والے طلبہ کو قادیانیت کے خدوخال سے نہ صرف آگاہ ہونا چاہئے ۔ بلکہ اس کی علمی تردید اور استیصال کے لئے ٹھوس دلائل و براہین سے مسلح بھی ہونا چاہئے ۔ تا کہ وہ بحیثیت عالم دین ، مرزا قادیانی کے دجل و فریب اور کفر و الحاد کو برملا واضح کر سکیں اور عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں قادیانیوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا موثر ومثبت جواب دے سکیں۔ چنانچہ ”وفاق المدارس العربیہ پاکستان“ کی درخواست پر خواجہ خواجگان مخدوم العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے حکم سے ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان“ کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدھم نے ”آئینہ قادیانیت“ تالیف فرمائی۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ اسلام کی ساری عمارت آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر قائم ہے۔ جو فرد یا طبقہ اسے منہدم کرنے کی کوشش کرے گا۔ امت مسلمہ اسے کسی صورت میں برداشت نہ کرے گی۔

اسی طرح اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب ، کذب بیانیوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کا پردہ بھی خوب چاک کیا گیا ہے۔ فتنہ قادیانیت کے استیصال و تعاقب کے سلسلہ میں یہ کتاب انشاء اللہ فضلاء وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے لئے کلیدی رہنما ثابت ہوگی ۔

دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اسے مولف زید مجدھم اور ناشرین و ناظرین کے لئے دنیا و آخرت میں نافع بنائیں اور فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی و سرکوبی کے لئے اہل اسلام کو اپنے اسلاف کی طرح مجاہدانہ اور سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین !

پتہ : جَامِعَةُ خَيْرِ الْمَدَارِسِ اُورنگ زِیب رُوڈ مُلتَان پاکستان فون نمبر : 545783-544440 فیکس : 0092-61-545524

(مولانا) محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان ١٩/١٠/١٤٢٤ھ

صفحہ ١٢

مقدمہ

بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد :

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین۔ و کان الله بکل شیء علیما۔“

(الاحزاب)

ترجمہ : ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

”عن ثوبان رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم انه سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انه نبی و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔“

(ابوداؤد ص ٢٢٨ ج ٢ واللفظ له ترمذی ص ٤٥ ج ٢)

ترجمہ : ”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں

صفحہ ١٢

مقدمہ

سم اللہ الرحمن الرحیم علی عبادہ الذین اصطفی‘ اما بعد:

حمد ابا احد من رجالكم و لكن م النبيين۔ و كان الله بكل شىء

(الاحزاب)

ہمارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ

‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

رضى الله تعالى عنه قال قال رسول وسلم انه سيكون فى امتى كذابون عم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى

ص ٢٢٨ ج ٢ واللفظ له‘ ترمذی ص ٤٥ ج ٢)

ت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے گے‘ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں

حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔‘‘

”عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرساله و النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى و لا نبى۔‘‘ (ترمذی ص ٥١ ج ٢)

ترجمہ: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہو چکی ہے‘ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔‘‘

”عن ابى امامة الباهلى عن النبى صلى الله عليه وسلم قال انا آخر الانبياء و انتم آخر الامم۔‘‘ (ابن ماجہ ص ٢٩٧)

ترجمہ: ”حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔‘‘

”عن ابى ذر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا ابا ذر اول الرسل آدم و آخرهم محمد۔‘‘ (کنز العمال ص ٣٨٠ ج ١١)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔‘‘

قرآن کریم کی صریح آیات اور بے شمار احادیث متواترہ سے صراحتاً یہ بات ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ جس سلسلۂ نبوت کا حضرت آدم

صفحہ ١٤

علیہ السلام سے آغاز ہوا تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ آپ کی نبوت و رسالت قیامت تک وسیع اور محیط ہے۔ آپ کے بعد کسی بھی انداز میں دعویٰ نبوت کی گنجائش نہیں۔ جس مسلمان کے قلب میں یہ بات آ جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت و رسالت میں سے کسی کی گنجائش ہے تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس ارتداد کی بنا پر واجب القتل گردانا جائے گا تا وقتیکہ توبہ کرے۔

اس بنا پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جھوٹے مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنے والے کے لئے بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”ختم نبوت کامل“ میں بے شمار آیات کریمہ کی صراحت و دلالت اور سینکڑوں احادیث مبارکہ سے ثابت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت و رسالت کا امکان باقی نہیں رہتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے قتل کا حکم صادر فرما کر اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ شریعت اسلامیہ میں جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکار واجب القتل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا سے تشریف بری کے بعد امت میں جس مسئلہ پر سب سے پہلا اجماع ہوا وہ صحابہ کرام کے درمیان مسئلہ ختم نبوت پر تھا۔ خلیفہ اول و جانشین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب کے جھوٹے دعویٰ نبوت کو مسترد کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کیا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہ صرف اس کی تائید کی بلکہ عملی طور پر اس جہاد میں شرکت کی۔

اجماع امت کے حوالہ سے ہم تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو تمام اکابر امت کی تصریح ملتی ہے کہ چودہ سو سالہ اسلامی دور میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں اس بات پر علمائے امت کا اجماع نہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص

منصب نبوت پر فائز نہیں ہ اور دائرہ اسلام سے خارج علامہ علی قاریؒ فر کہ: ”دعوی کفر بالاجما ترجمہ:’ دعویٰ کرنا بالاجما حافظ ابن حزم اندلـ کی جلد ١ پر رقم طرا بنقل التواتر اخبر انه لا نبی بعد نزول عیسـ اسرائیل و ادعـ بهذه الجملة ود باطل لا يكون ا ترجمہ: ” آنحضرت صلی اللہ نقل کیا ہے ابن کثیـ اکرم صلی اللہ علیہ وسـ

صفحہ ١٥

منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا اور جو شخص آپؐ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

علامہ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر کے صفحہ ٢٠٢ میں صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ: ”دعویٰ النبوة بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع۔“

ترجمہ: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔“

حافظ ابن حزم اندلسیؒ اپنی کتاب ”الفصل فی الملل والاھواء والنحل“ کے صفحہ ٧٧ جلد ١ پر رقم طراز ہیں کہ: ”قد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکافة التی نقلت نبوتہ و اعلامہ و کتابہ انہ اخبر انہ لا نبی بعدہ الا ما جاءت الاخبار الصحاح من نزول عیسٰی علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل و ادعی الیہود قتلہ و صلبہ فوجب الاقرار بہذہ الجملہ وصح ان وجود النبوة بعدہ علیہ السلام باطل لا یکون البتہ۔“

ترجمہ: ”جس کثیر تعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور نشانات اور قرآن مجید کو نقل کیا ہے اسی کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپؐ کے

صفحہ ١٦

بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ البتہ صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے جن کو قتل کرنے اور صلیب دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پس اس امر کا اقرار واجب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے ہرگز نہیں ہو سکتا۔“

حافظ فضل اللہ تورپشتی ”المعتمد فی المعتقد“ کے صفحہ ٩٤ پر فرماتے ہیں کہ وازاں جملہ آنست کہ تصدیق وی کند کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد، مرسل و نہ غیر مرسل، و مراد از خاتم النبیین آنست کہ نبوت را مہر کرد و نبوت بآمدن او تمام شد یا بمعنی آنکہ خدا تعالیٰ پیغمبری را بوی ختم کرد و ختم خدای حکم است بداں نچہ از اں نخواہد گردانیدن ۔“

ترجمہ : ” منجملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ رسول اور نہ غیر رسول، اور خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آپؐ نے نبوت پر مہر لگا دی اور نبوت آپؐ کی تشریف آوری سے حد تمام کو پہنچ گئی، یا یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مہر لگادی اور خدا تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپؐ کے بعد نبی نہیں بھیجے گا ۔“

فتاویٰ عالمگیری کے صفحہ ٢٦٣ جلد ٢ میں تصریح سے مذکور ہے کہ : ”اذا لم یعرف الرجل ان محمداً صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء فلیس بمسلم او قال انا رسول اللہ او قال بالفارسیة من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ۔“

ترجمہ : ”جب کوئی علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو رسول ہوں یا فارسی میں میں پیغام پہنچاتا ہوں تب فقہ شافعی کی مستند کتاب ”مـ میں صراحت سے مذکور ہے کہ : ”(او) نفی ( نفی النبوۃ نبی او وسلم او صدق مـ وسلم اسود او امـ مکتسبة او تنال رتـ یدع نبوۃ (او کذ بہ او باسمہ او با ترجمہ: ”یا کہ اللہ تعالیٰ نے ا کرے یا ہمار کرے یا مدعی اللہ علیہ وسلم ( نہیں تھے، یا یـ کے ذریعہ نبو کرے مگر یہ

صفحہ ١٧

ترجمہ : ”جب کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔“

فقہ شافعی کی مستند کتاب ”مغنی المحتاج شرح منہاج“ ص ١٣٥ ج ٤ میں صراحت سے مذکور ہے کہ :

”(او) نفی (الرسل) بان قال لم یرسلہم اللہ او نفی النبوۃ نبی او ادعی نبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم او صدق مدعیہا او قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم اسود او امرد او غیر قریشی او قال النبوۃ مکتسبۃ او تنال رتبتہا بصفاء النبوۃ او اوحی الی ولم یدع نبوۃ (او کذب رسولا) او نبیا او سبہ او استخف بہ او باسمہ او باسم اللہ (کفر)۔“

ترجمہ : ”یا کوئی شخص رسولوں کی نفی کرے اور یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں بھیجا یا کسی خاص نبی کی نبوت کا انکار کرے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) کالے تھے یا بے ریش تھے یا قریشی نہیں تھے یا یہ کہے کہ نبوت حاصل ہو سکتی ہے یا قلب کی صفائی کے ذریعہ نبوت کے رتبے کو پہنچ سکتے ہیں یا نبوت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے یا کسی رسول و نبی کو

PDF 18

جھوٹا کہے یا نبی کو برا بھلا کہے یا کسی نبی کی تحقیر کرے‘ یا اللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیر کرے تو ان سب صورتوں میں کافر ہو جائے گا ۔‘‘

حنبلی مسلک کے مشہور و مستند مجموعہ فتاویٰ مغنی ابن قدامہ کے صفحہ ١٢٢ جلد ١٠ میں اس سلسلہ میں یہ حکم تحریر ہے کہ :

” و من ادعى النبوة او صدق من ادعاها فقد ارتد لان مسيلمة لما ادعى النبوة فصدقه قومه صاروا بذلك مرتدين و كذلك طليحة الاسدى و مصدقوه ...... و قال النبى صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه رسول الله ۔ “

ترجمہ : ” جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے وہ مرتد ہے کیونکہ مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی تو وہ بھی اس کی وجہ سے مرتد قرار پائی‘ اسی طرح طلیحہ اسدی اور اس کے تصدیق کنندگان بھی‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے نکلیں گے‘ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے ۔‘‘

قاضی عیاضؒ ”الشفاء“ کے صفحہ ٢٤٦ جلد ٢ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :

” و كذلك من ادعى نبوة احد مع نبينا صلى الله عليه وسلم او بعده ...... او من ادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها ...... و كذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه و ان لم يدع النبوة ...... فهولاء كلهم كفار مكذبون للنبى

صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين لا نبي النبيين وانه ارسل كافـ هذا الكلام على تاويل ولا تخصيص كلها قطعاً اجماعاً و

ترجمہ : ”اسی طر کے ساتھ یا آپؐ کے بعـ خود اپنے لئے نبوت کا صفائے قلب کے ذریعـ اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و ہیں اور یہ کہ آپؐ کے بعـ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طـ النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ مبعوث کئے گئے ہیں ا کلام ظاہر پر محمول ہے سے ظاہری مفہوم ہی مر ہونے میں کوئی شک نہیـ کی رو سے قطعی ہے ان تمام شواہد و براہین کـ لدھیانوی نور اللہ مرقدہٗ نے ا

صفحہ ١٩

صلى الله عليه وسلم لانه اخبر صلى الله عليه وسلم انه خاتم النبيين لا نبى بعده و اخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هولاء الطوائف كلها قطعاً اجماعاً وسمعاً۔“

ترجمہ: ”اسی طرح جو شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو...... یا خود اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعہ مرتبہ نبوت تک پہنچنے کو جائز رکھے...... اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے خواہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے ......تو یہ سب لوگ کافر ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ بغیر کسی تاویل وتخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے، اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں اور ان کا کفر کتاب وسنت اور اجماع کی رو سے قطعی ہے۔“

ان تمام شواہد و براہین کی بنا پر ہمارے مرشد شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہٗ نے اپنے رسالے ”عقیدہ ختم نبوت“ (مشمولہ تحفہ قادیانیت

صفحہ ٢٠

جلد اول) میں قرآنی آیات‘ احادیث نبویہ اور اجماع امت کے تمام اقوال اور فقہائے کرام کی تصریحات تحریر فرمانے کے بعد خصوصی کلام کے طور پر تحریر فرمایا ہے کہ : ” قرآن کریم‘ احادیث متواترہ‘ فقہائے امت کے فتاویٰ اور اجماع امت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا استثناء تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں‘ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص کسی معنی و مفہوم میں بھی نبی نہیں کہلا سکتا‘ نہ منصب نبوت پر فائز ہو سکتا ہے اور جو شخص اس کا مدعی ہو وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ خاتمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعلیٰ ترین شرف و منزلت اور عظیم الشان اعزاز و اکرام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبی بن کر آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے‘ کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو سوال ہوگا کہ اس نئے نبی کو کچھ نئے علوم بھی دیئے گئے یا نہیں؟ اگر کہا جائے کہ اس نئے نبی کو نئے علوم نہیں دیئے گئے بلکہ وہی علوم اس پر دوبارہ نازل کئے گئے تھے تو قرآن مجید اور علوم نبویؐ کے موجود ہوتے ہوئے دوبارہ انہی علوم کو نازل کرنا کارِ عبث ہوگا اور حق تعالیٰ شانہ عبث سے منزہ ہیں...... اور اگر یہ کہا جائے کہ بعد کے نبی کو ایسے علوم دیئے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے تو اس سے ...... نعوذ باللہ ...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کا ناقص ہونا‘ قرآن کریم کا تمام دینی امور

کے لئے واضح بیا کا کامل نہ ہونا لا قرآن کریم کی ای علاوہ ازیں کی آمد فرض کی اور اس کا انکار ک صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک شخص آ پر ایمان رکھنے ک مستحق ہو جس ک پر ایمان لانا بھی نجات دلانے جھوٹے مدعیان نبو نے اپنے قبیلہ بنو حنیفہ کے درخواست بھی کر دی کہ مجھے علیہ وسلم کے دست مبارک فرمایا کہ تم امر خلافت میں یہاں پر بھی مورخین کے م خلافت یا نبوت میں شرا بیعت اسلام ہی نہیں کی۔ شراکت کا اعلان کر دیا۔

صفحہ ٢١

کے لئے واضح بیان (تبیاناً لکل شیء) نہ ہونا اور دین اسلام کا کامل نہ ہونا لازم آئے گا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی‘ قرآن کریم کی اور دین اسلام کی سخت توہین ہے۔

علاوہ ازیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس پر ایمان لانا لازم ہوگا اور اس کا انکار کفر ہوگا ورنہ نبوت کے کیا معنی؟ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسرے انداز میں توہین و تنقیص ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپؐ کے پورے دین پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر رہے اور ہمیشہ کے لئے دوزخ کا مستحق ہو جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا بھی (نعوذ باللہ) کفر سے بچانے اور دوزخ سے نجات دلانے کے لئے کافی نہیں۔‘‘

جھوٹے مدعیانِ نبوت کے فتنہ کا آغاز اس وقت ہی ہوگیا تھا جب مسیلمہ کذاب نے اپنے قبیلہ بنو حنیفہ کے ساتھ آستانہ نبویؐ پر حاضر ہو کر بیعت اسلام کی مگر ساتھ یہ درخواست بھی کر دی کہ مجھے اپنا جانشین یا خلیفہ مقرر کر دیں۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ آپؐ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تم امر خلافت میں اگر مجھ سے یہ شاخ بھی طلب کرو تو میں دینے کو تیار نہیں۔ یہاں پر بھی مورخین کے مطابق اصل صورتحال یہ تھی کہ مسیلمہ کذاب نے بیعت کے لئے خلافت یا نبوت میں شراکت کی شرط رکھی تھی‘ جب آپؐ نے قبول نہیں فرمائی تو اس نے بیعت اسلام ہی نہیں کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد اس نے نبوت میں شراکت کا اعلان کر دیا۔ اس فتنہ کو خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جہاد کے

صفحہ ٢٢

ذریعہ ختم کیا اور مسیلمہ کذاب اپنے تیس ہزار لشکر سمیت جہنم رسید ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا سے تشریف بری سے چند دن قبل اسود عنسی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا اور اہل نجران کو شعبدہ بازی اور کہانت کے چکروں میں ڈال کر اپنا پیروکار بنالیا۔ بعد ازاں اس نے یمن پر چڑھائی کر کے پورے یمن پر قبضہ کرلیا۔ حضرت عمرو بن حزم اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچائی جس پر آپؐ نے اہل یمن کے بعض سرداروں کو اہل نجران و یمن کے خلاف جہاد کے لئے خطوط تحریر فرمائے اور اسود عنسی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اسود عنسی نے یمن کے شہر صنعاء پر فتح پانے کے بعد اس کے مسلمان حاکم شہر بن باذان کو شہید کرکے ان کی اہلیہ آزاد کو جبری طور پر اپنا محکوم بنالیا تھا۔ اس مسلمان عورت کے عم زاد حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کو جو شاہ حبشہ کے بھانجے تھے، ان واقعات کی اطلاع ملی تو وہ اپنی بہن کی مدد کو پہنچے اور ابھی بہن کی نجات کے لئے فکرمند تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جہاد اور اسود عنسی کے قتل کا حکم ملا۔ اس پر انہوں نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کا منصوبہ بنایا اور اپنی بہن سے مل کر اسود عنسی کو اس کے محل کے اندر ہی قتل کرنے کی مہم تیار کی اور ایک رات موقع پاکر حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ محل کے عقب سے نقب لگا کر اسود عنسی کے کمرے میں پہنچ گئے۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے اسود عنسی جاگ گیا۔ حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر جست لگا کر اسود عنسی کو پکڑ لیا اور اس کی گردن مروڑ دی۔ شور سن کر پہرہ دار آئے تو آزاد نے کہا کہ خاموش رہو! تمہارے نبی پر وحی نازل ہورہی ہے۔ اسود کے مرتے ہی حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل

کا اعلان کیا اور موذن نے فجر کی بعد ”اشہد ان عبهلة کذ حاصل کرنے کی خوشخبری سنائی۔ جبریل امین علیہ السلام نے آکر خ ان الفاظ کے ساتھ خوشخبری سنائی ”فاز فیروز!“ ترجمہ: ”فیروز ک آپ کی وفات کے بعد صحا مدعی نبوت کے جہنم رسید ہونے کی سنت جاری ہوئی کہ جھوٹا مدعی نبو حدیث کے مطابق قیامت تک تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہزاروں سے تجاوز کرچکی ہے جن جھوٹے مدعیان نبوت جن کی جم جن کے بارے میں کہا جاسکتا نہیں پہنچی۔ اس بنا پر کہا جاسکتا گے جو ملت اسلامیہ کے لئے ف یعنی کانا دجال ہوگا، جس کے لائیں گے۔ چودہ سو سالہ تا ہوا، امت مسلمہ نے ان کا فتنوں میں سے کوئی فتنہ باقی

صفحہ ٢٣

کا اعلان کیا اور موذن نے فجر کی اذان میں ”اشهد ان محمد رسول الله“ کے بعد ”اشهد ان عبهلة كذاب“ کے الفاظ کے ساتھ اہل یمن کو اس سے نجات حاصل کرنے کی خوشخبری سنائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبریل امین علیہ السلام نے آ کر خبر دی تو آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو ان الفاظ کے ساتھ خوشخبری سنائی: ”فاز فیروز!“ ترجمہ: ”فیروز کامیاب ہو گیا!“

آپ کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس پہلے جھوٹے مدعی نبوت کے جہنم رسید ہونے کی اطلاع تفصیل کے ساتھ آئی۔ اس طرح آپ کی یہ سنت جاری ہوئی کہ جھوٹا مدعی نبوت واجب القتل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق قیامت تک تیس کذاب دجال پیدا ہوں گے۔ ہم چودہ سو سالہ تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو اب تک ایسے جھوٹے مدعیان نبوت کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر چکی ہے جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں دعویٰ نبوت کیا مگر بڑے جھوٹے مدعیان نبوت جن کی جھوٹی نبوت کو کسی نہ کسی حد تک کوئی حیثیت حاصل ہوئی یا جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی شمار میں ہوئے ان کی تعداد ابھی تک تیس کو نہیں پہنچی۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ابھی قیامت تک ایسے کچھ اور فتنے بھی رونما ہوں گے جو ملت اسلامیہ کے لئے ناسور بنیں گے اور ان میں سب سے آخری دجال اعظم یعنی کانا دجال ہوگا، جس کے قتل کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تشریف لائیں گے۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں جتنے بھی جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنوں کا ظہور ہوا، امت مسلمہ نے ان کا قلع قمع کرنے کے لئے بھر پور کردار ادا کیا، اس لئے ان فتنوں میں سے کوئی فتنہ باقی نہیں رہا، البتہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی

صفحہ ٢٤

کے شروع میں انگریزی استبداد و غلامی میں مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں جھوٹے مدعی نبوت کے برپا کردہ جس فتنہ قادیانیت نے سر اٹھایا باوجود ایک صدی گزر جانے کے وہ اب تک ملت اسلامیہ کو ناسور کی شکل میں نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ فتنہ قادیانیت محدث العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق اتنا بڑا فتنہ تھا جس کے آغاز کے وقت ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ یہ ملت اسلامیہ کو اپنے بہاؤ میں بہا کر لے جائے گا، لیکن علمائے دیوبند نے اس کے آگے بند باندھ کر اس فتنہ کی شر انگیزیوں اور گمراہیوں سے امت کو محفوظ کر دیا۔

فتنہ قادیانیت کی سب سے بڑی خرابی اور اس برائی کی جڑ یہ ہے کہ اس فتنہ کو ہمیشہ عیسائیوں اور یہودیوں کی سرپرستی حاصل رہی اور اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ زن زر اور زمین اور مال و دولت اس کے سب سے بڑے ہتھیار رہے ہیں، اور متفقہ مسائل و عقائد میں شکوک و شبہات اور بحث و مباحثہ کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنا اس کا طریقہ کار رہا ہے۔ اس لئے جب بھی ہم ان کے کسی مناظرہ یا مباحثہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام، ختم نبوت کا مفہوم، اجرائے نبوت، امام مہدی کی تشریف آوری جیسے علمی اور دقیق مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں، جن کے بارے میں مسلمان عقیدہ کی مضبوطی کی حد تک تو واقفیت رکھتے ہیں مگر ان امور پر علمی بحث عوام الناس تو کیا اکثر علمائے کرام کے دائرہ علم سے بھی باہر ہوتی ہے۔ اس لئے اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے منتہی طلباء کے لئے ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جس میں ان مباحث کا احاطہ کیا جائے اور اس کا

صفحہ ٢٥

با قاعدہ امتحان ہو۔ اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے درخواست کی جس کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے اپنی مجلس عاملہ سے منظور کرا کر نصاب کی تیاری کی ذمہ داری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سپرد کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کی منظوری سے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی۔ انہوں نے بہت محنت اور دقت نظر سے یہ نصاب تیار کیا جس کو حضرت مولانا عبدالمجید صاحب کہروڑ پکا‘ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور راقم الحروف کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے نظر ثانی کے بعد مستند اور مفید قرار دیا۔ امید ہے کہ یہ نصاب نہ صرف اس ضرورت کو پورا کرے گا بلکہ اس کے پڑھنے والے ایک عظیم مبلغ اور مناظر ختم نبوت کے طور پر تیار ہو کر امت مسلمہ کو فتنہ قادیانیت کے ناسور سے بچانے کے لئے اہم کردار ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور امت کے علمائے کرام اور اہل علم کے لئے نافع بنائے ۔ وما توفیقی الا باللہ ۔

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین

ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزی

شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن

PDF 26

حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات

دیکھو فہم دیکھو فراست دیکھو مرزا غلام احمد قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

بچے۔ حکومت کو چاہیے کہ پکڑ پکڑ کر ان خبیثوں کو مار دے۔

اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔

☆......☆......☆

حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات

لیتے ہیں۔

کفریہ عقائد رکھتا ہو۔

کرتا ہے۔

سوال

اہمیت، اور آ خصوصیات کو و

جواب:......

ختم نبوت کا معنی اور م

اللہ رب العزت نے انتہا محمد عربی ﷺ کی ذات آخرالانبیاء ہیں، آپ کے ب عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے

عقیدۂ ختم نبوت کی ا

ختم نبوت کا عقیدہ ا دین میں شمار کئے گئے ہیں رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ الف:...... قرآن مج

صفحہ ٢٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ختم نبوت

سوال ١:……ختم نبوت کا معنی اور مطلب اور اس کی اہمیت، اور آپ ﷺ کی ذات اطہر کے ساتھ اس منصب کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان کریں؟

جواب:……

ختم نبوت کا معنی اور مطلب:

اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ آپ ﷺ آخر الانبیاء ہیں، آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔

عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت:

ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔

الف:……قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ

صفحہ ٢٨

مسئلہ ثابت ہے۔

چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اپنی آخری کتاب ”خاتم النبیین“ میں تحریر فرماتے ہیں:

”واوّل اجماعے کہ دریں امت منعقد شدہ اجماع بر قتل مسیلمہ کذاب بودہ کہ بسبب دعویٰ نبوت بود، شنائع دیگر وے صحابہؓ را بعد قتل وے معلوم شدہ، چنانکہ ابن خلدون آوردہ سپس اجماع بلافصل قرناً بعد قرنٍ بر کفر وارتداد وقتل مدعی نبوت ماندہ و ہیچ تفصیلے از بحث نبوت تشریعیہ وغیر تشریعیہ نبودہ۔“

ترجمہ: ”اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا، اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر وارتداد اور قتل پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔“

(خاتم النبیین ص:٦٧، ترجمہ ص:١٩٧)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف ”مسک الختام فی ختم نبوۃ سید الانام“ میں تحریر فرمایا ہے کہ:

”امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا، وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔“

(احتساب قادیانیت ج:٢،ص:١٠)

آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ ودفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی

گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہؓ ص:٢١٣ قاضی سلیمان منصور پوریؒ) اور تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ سو ہے (جن میں سے سات سو قرآن ٣٠٤ حصہ سوم از مفتی محمد شفیعؒ ومرقاۃ المفا رحمت عالم ﷺ کی زندگی کی کل کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی شہاد

”حبیب بن زید هو الذی ارسله رسو الحنفی صاحب اليمامه محمد ا رسول الله قال قال انا اصم لا اسمع ففع عضوا فمات شهيدا۔“

(اسد الغابه فی معرف

ترجمہ: ”حضرت حب نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیف کذاب نے حضرت حبیب کے رسول ہیں؟ حضرت حب

صفحہ ٢٩

گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد ٢٥٩ ہے۔ (رحمۃ للعالمین ج:٢، ص:٢١٣ قاضی سلمان منصور پوریؒ) اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد بارہ سو ہے (جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے)۔ (ختم نبوت کامل ص ٣٠٤ حصہ سوم از مفتی محمد شفیعؒ و مرقاۃ المفاتیح ج٥ ص٢٤)

رحمت عالم ﷺ کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو:

”حبیب بن زید ...... الانصاری الخزرجی ...... ھو الذی ارسله رسول اللہ ﷺ الی مسیلمۃ الکذاب الحنفی صاحب الیمامہ فكان مسیلمۃ اذا قال لہ اتشھد ان محمدا رسول اللہ قال نعم واذا قال اتشھد انی رسول اللہ قال انا اصم لا اسمع ففعل ذلك مرارا فقطعہ مسیلمۃ عضوا عضوا فمات شہیدا ۔“

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ج: ١، ص: ٤٢١ طبع بیروت)

ترجمہ: ”حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کو آنحضرت ﷺ نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیبؓ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم

صفحہ ٣٠

اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا ، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیبؓ بن زید کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کو شہید کر دیا گیا۔“

اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت واہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے، اب حضرات تابعینؒ میں سے ایک تابعیؒ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو: ”حضرت ابومسلم خولانیؒ جن کا نام عبداللہ بن ثوبؒ ہے اور یہ امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرما دیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم ﷺ کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے لیکن سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابومسلم خولانیؒ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابومسلمؒ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابومسلمؒ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرما دیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کر دیا گیا۔ یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ

PDF 31

یہ سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالت روپوش ہو چکا ہے۔ آنحضرت ﷺ وصال فرما چکے تھے، اور حضرت صدیق اکبر خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبوی کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ وہاں حضرت عمر موجود تھے۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابو مسلم نے جواب دیا۔ حضرت عمر نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابو مسلم نے فرمایا: ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمر کی فراست اپنا کام کر چکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابو مسلم خولانی نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ حضرت عمر نے یہ سن کر فرط مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبر کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبر کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ کے اس شخص کی زیارت کرا دی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔“ (حلیۃ الاولیا ص ١٢٩، ج٢، تہذیب ج ٦ ص ٤٥٨، تاریخ ابن عساکر ص ٣١٥، ج٧، جہاں دیدہ ص٢٩٣ و ترجمان السنۃ ص ٤٤١ ج٤)

منصب ختم نبوت کا اعزاز:

قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ”رب العالمین“، آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ”رحمۃ للعالمین“ قرآن مجید کے لئے ”ذکر للعالمین“ اور بیت اللہ شریف کے لئے ”ھدی للعالمین“ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت ﷺ کی نبوت و

صفحہ ٢٣٢

رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت ورسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔

جس طرح کل کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ ”رب“ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت ﷺ ”نبی“ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ کا اعزاز و اختصاص ہے۔

آنحضرت ﷺ نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

”ارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون“

ترجمہ: ”میں تمام مخلوق کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“

(مشکوٰۃ ص٥١٢ باب فضائل سید المرسلین، مسلم ج١ ص١٩٩ کتاب المساجد)

آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کی امت آخری امت ہے، آپ کا قبلہ آخری قبلہ (بیت اللہ شریف) ہے، آپ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ سب آپ کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پورے کر دیئے، چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اللہ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپ کی امت آخری امت قرار پائی جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ”انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم۔“

(ابن ماجہ ص٢٩٧)

حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”خصائص الکبریٰ“ میں آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا، آپ ہی کی خصوصیت قرار دیا ہے۔ (دیکھئے ج:٢، ص: ١٩٣، ١٩٧، ٢٨٢)

اسی طرح امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

صفحہ ٣٣

”وخاتم بودن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) از میان انبیا از بعض خصائص و کمالات مخصوصہ کمال ذاتی خود است ۔“

(خاتم النبیین فارسی ص ٦٠)

ترجمہ: ”اور انبیا میں آنحضرت ﷺ کا خاتم ہونا، آپؐ کے مخصوص فضائل و کمالات میں سے خود آپ کا اپنا ذاتی کمال ہے۔“ (خاتم النبیین اردو ص: ١٨٧)

سوال ٢:...... قال اللہ تعالیٰ: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اس آیت کی توضیح و تشریح ایسے طور سے کریں کہ مسئلہ ختم نبوت نکھر کر سامنے آجائے اور اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں سے پانچ کتابوں کے نام تحریر کریں؟

جواب:...... آیت خاتم النبیین کی تفسیر :

”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النبيين و كان الله بكل شيئ عليما ۔“ (سورۃ الاحزاب: ٤٠)

ترجمہ: ”محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کو جاننے والا ۔“

شان نزول:

اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہے کہ آفتاب نبوت ﷺ کے طلوع ہونے سے پہلے

صفحہ ٣٤

تمام عرب جن رسومات میں مبتلا تھے، ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام و احوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے، اس کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد شریک وراثت ہونے میں اور رشتے ناطے اور حلت و حرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مر جانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے، اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔

یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی: اختلاطِ نسب، غیر وارث شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا، ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیرہ وغیرہ۔

اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر و ضلالت کی بے ہودہ رسوم سے عالم کو پاک کر دے، اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے) کی فکر کرتا، چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے، ایک قولی اور دوسرا عملی۔ ایک طرف تو یہ اعلان فرما دیا:

”و ما جعل ادعياء کم ابناء کم ذلکم قولکم بافواهکم و الله يقول الحق و هو يهدى السبيل ادعوهم لاباء هم هو اقسط عند الله۔“

(سورۃ الاحزاب: ٤، ٥)

ترجمہ : ”اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے، یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ، پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے، یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔“

اصل مدعا تو یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت و حرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے، لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے، چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہو گیا کہ لے پالک کو

صفحہ ٣٥

اس کے باپ کے نام سے پکارو۔ نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو (جو کہ آپؐ کے غلام تھے) آزاد فرما کر متبنیٰ (لے پالک بیٹا) بنالیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو ”زید بن محمد“ کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر ان کو ”زید بن حارثہؓ“ کہنا شروع کیا۔ صحابہ کرامؓ اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قدیم کو خیر باد کہہ چکے تھے، لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزہ و اقارب اور اپنی قوم و قبیلہ کے ہزاروں طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے، جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے، چنانچہ جب حضرت زیدؓ نے اپنی بی بی زینبؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خداوند عالم نے اپنے رسول ﷺ کا نکاح ان سے کر دیا۔ زوجنکھا۔ تا کہ اس رسم و عقیدہ کا کلیۃً استیصال ہو جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

”فلما قضٰی زید منہا وطراً زوجنکھا لکی لا یکون علیٰ المومنین حرج فی ازواج ادعیاء ہم .....“

(احزاب: ٣٧)

ترجمہ: ”پس جبکہ زیدؓ زینبؓ سے طلاق دے کر فارغ ہو گئے تو ہم نے ان کا نکاح آپؐ سے کر دیا، تا کہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیبیوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔“

ادھر آپؐ کا نکاح حضرت زینبؓ سے ہوا ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا، تمام کفار عرب میں شور مچا کہ لو، اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے۔ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی، یعنی:

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۔“

(سورۂ احزاب: ٤٠)

صفحہ ٣٦

ترجمہ : ”محمدؐ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔“

اس آیت میں یہ بتلا دیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زیدؓ کے نسبی باپ بھی نہ ہوئے۔ لہٰذا آپؐ کا ان کی سابقہ بی بی سے نکاح کر لینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے، اور اس بارے میں آپؐ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔ ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپؐ حضرت زیدؓ کے باپ نہیں، لیکن خداوند عالم نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپؐ زیدؓ کے باپ نہیں بلکہ آپؐ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں، پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بی بی سے نکاح کر لیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے۔ آپؐ کے تمام فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے، ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی آیت میں ”رجالکم“ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دینا اور آپؐ کی برأت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین۔“ (لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر)

خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر:

اب سب سے پہلے قرآن مجید کی رو سے اس کا ترجمہ وتفسیر کیا جانا چاہئے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ”خاتم“ کے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے:

پر)

صفحہ ٣٧

اور دل پر)

ان کے منہ پر)

مہر کر دے تیرے دل پر)

ان ساتوں مقامات کے اول و آخر، سیاق و سباق کو دیکھ لیں ”ختم“ کے مادّہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے۔ ان تمام مقامات پر قدر مشترک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا، اس کی ایسی بندش کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہو سکے، اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے، وہاں پر ”ختم“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، مثلاً پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کر دی، کیا معنی؟ کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ فرمایا: ”ختم الله على قلوبهم“ اب زیر بحث آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اس کا معنی ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی آمد پر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسے طور پر بندش کر دی، بند کر دیا، مہر لگا دی کہ اب کسی نبی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلۂ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فهو المقصود۔ لیکن قادیانی اس ترجمہ کو نہیں مانتے۔

خاتم النبیین کی نبوی تفسیر:

”عن ثوبان رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ انه سیکون فى امتى كذابون ثلاثون کلهم يزعم انه نبی و

صفحہ ٣٨

انا خاتم النبيين لا نبي بعدى۔“

(ابو داؤد ص ١٢٧ ج ٢ کتاب الفتن واللفظ له، ترمذی ص ٤٥ ج ٢)

ترجمہ: ”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“

اس حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ نے لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ”لا نبی بعدی“ کے ساتھ خود فرمادی ہے۔

اسی لئے حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت چند احادیث نقل کرنے کے بعد آٹھ سطر پر مشتمل ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہیں۔ چند جملے آپ بھی پڑھ لیجئے:

”وقد اخبر الله تبارك وتعالى في كتابه ورسوله صلى الله عليه وسلم في السنة المتواترة عنه انه لا نبي بعده، ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب افاك دجال ضال مضل، ولو تخرق وشعبذ واتى بانواع السحر والطلاسم۔“

(تفسیر ابن کثیرؒ ج ٣ ص ٤٩٤)

ترجمہ: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپؐ کے بعد جس نے بھی اس مقام (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا وہ بہت جھوٹا‘ بہت بڑا افترا پرداز‘ بڑا ہی مکار اور فریبی‘ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا‘ اگر چہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف

قسم کے جادو اور طلسماتی کر

خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام

حضرات صحابہ کرامؓ و تابعین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟ اس کے کامل“ کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرما درج کی جاتی ہیں۔ امام ابو جعفر ابن خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرما

”عن قتادة ولك

ترجمہ: ”حضرت تفسیر میں فرمایا، اور لیک آخر النبیین ہیں۔“

حضرت قتادہؒ کا یہ قول شیخ ج عبد بن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی اس قول نے بھی صاف و صر ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخر ال ظلی وغیرہ کی کوئی تفصیل ہے؟ نہ

”ولكن نبينا خاتم النبيين“

گئے، اور سیوطیؒ نے درمنثور میں ب

”عن الحس النبيين بمحمد ﷺ

صفحہ ٣٩

قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔“

خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرامؓ سے:

حضرات صحابہ کرام و تابعین کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق کیا موقف تھا۔ خاتم النبیین کا ان کے نزدیک کیا ترجمہ تھا؟ اس کے لئے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کی ”کتاب ختم نبوت کامل“ کے تیسرے حصہ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں پر صرف دو تابعین کرام کی آراء مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ امام ابو جعفر ابن جریر طبری اپنی عظیم الشان تفسیر میں حضرت قتادہ سے خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں:

"عن قتادة ولكن رسول الله و خاتم النبیین ای آخرہم۔"

(ابن جریر ص ١٦ ج ٢٢)

ترجمہ: ”حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا ، اور لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخر النبیین ہیں۔“

حضرت قتادہ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر دُر منثور میں عبدالرزاق اور عبد بن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔

(دُر منثور ص ٢٠٤ ج ٥)

اس قول نے بھی صاف وہی بتلا دیا جو ہم اوپر قرآن عزیز اور احادیث سے نقل کر چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین ہیں، کیا اس میں کہیں تشریعی غیر تشریعی اور بروزی و ظلی وغیرہ کی کوئی تفصیل ہے؟ نیز حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ہی آیت مذکور میں : ”ولکن نبینا خاتم النبیین“ ہے۔ جو خود اسی معنی کی طرف ہدایت کرتی ہے جو بیان کئے گئے، اور سیوطیؒ نے درمنثور میں بحوالہ عبد بن حمید حضرت حسنؓ سے نقل کیا ہے:

"عن الحسن فی قولہ و خاتم النبیین قال ختم اللہ النبیین بمحمد ﷺ و کان آخر من بعث۔“

(دُر منثور ص ٢٠٤ ج ٥)

صفحہ ٤٠

ترجمہ: ”حضرت حسنؓ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو محمد ﷺ پر ختم کر دیا اور آپؐ ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔“

کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟

خاتم النبیین اور اصحاب لغت:

خاتم النبیین ”ت“ کی زبر یا زیر سے ہو قرآن و حدیث کی تصریحات اور صحابہؓ و تابعینؒ کی تفاسیر اور ائمہ سلفؒ کی شہادتوں سے بھی قطع نظر کر لی جائے اور فیصلہ صرف لغت عرب پر رکھ دیا جائے تب بھی لغت عرب یہ فیصلہ دیتی ہے کہ آیت مذکورہ کی پہلی قرأت پر دو معنی ہو سکتے ہیں، آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے، اور دوسری قرأت پر ایک معنی ہو سکتے ہیں یعنی آخر النبیین۔ لیکن اگر حاصل معنی پر غور کیا جائے تو دونوں کا خلاصہ صرف ایک ہی نکلتا ہے اور بہ لحاظ مراد کہا جا سکتا ہے کہ دونوں قرأتوں پر آیت کے معنی لغتاً یہی ہیں کہ آپؐ سب انبیاء علیہم السلام کے آخر ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا، جیسا کہ تفسیر ”روح المعانی“ میں تصریح موجود ہے:

”و الخاتم اسم آلة لما يختم به كالطابع لما يطبع به فمعنی خاتم النبيين الذی ختم النبيون به و مآله آخر النبيين۔“

(روح المعانی ص ٣٢ ج ٢٢)

ترجمہ: ”اور خاتم بالفتح اس آلہ کا نام ہے جس سے مہر لگائی جائے۔ پس خاتم النبیین کے معنی یہ ہوں گے: ”وہ شخص جس پر انبیاء ختم کئے گئے“ اور اس معنی کا نتیجہ بھی یہی آخر النبیین ہے۔“

صفحہ ٤١

اور علامہ احمد معروف بہ ملا جیون صاحبؒ نے اپنی تفسیر احمدی میں اسی لفظ کے معنی کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

” و المآل علی کل توجیہ ہو المعنی الآخر و لذلک فسر صاحب المدارک قراءۃ عاصم بالآخر و صاحب البیضاوی کل القرأتین بالآخر۔“

ترجمہ: ”اور نتیجہ دونوں صورتوں (بالفتح و بالکسر) میں وہ صرف معنی آخری ہیں اور اسی لئے صاحب تفسیر مدارک نے قرأت عاصم یعنی بالفتح کی تفسیر آخر کے ساتھ کی ہے اور بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں کی یہی تفسیر کی ہے۔“

روح المعانی اور تفسیر احمدی کی ان عبارتوں سے یہ بات بالکل روشن ہوگئی کہ لفظ خاتم کے دو معنی آیت میں بن سکتے ہیں، اور ان دونوں کا خلاصہ اور نتیجہ صرف ایک ہی ہے یعنی آخر النبیین اور اسی بناء پر بیضاویؒ نے دونوں قرأتوں کے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں کیا، بلکہ دونوں صورتوں میں آخر النبیین تفسیر کی ہے۔ خداوند عالم ائمہ لغت کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کی کہ لفظ خاتم کے معنی کو جمع کر دیا، بلکہ تصریحاً اس آیت شریفہ کے متعلق جس سے اس وقت ہماری بحث ہے صاف طور پر بتلا دیا کہ تمام معانی میں سے جو لفظ خاتم میں لغتاً محتمل ہیں، اس آیت میں صرف یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ آپؐ سب انبیاءؑ کے ختم کرنے والے اور آخری نبی ہیں۔

خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج تک کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر و غیر معتبر لکھی گئیں، اور کہاں کہاں اور کس کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت ہے، بلکہ صرف ان چند کتابوں سے جو عرب و عجم میں مسلم الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں ”مشت نمونہ از خروارے“ ہدیہ ناظرین کر کے یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر کے معنی ائمہ لغت نے آیت

صفحہ ٤٢

مذکورہ میں کون سے معنی تحریر کئے ہیں۔

(١) مفردات القرآن: یہ کتاب امام راغب اصفہانی کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی، خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی، آیت مذکورہ کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں:

”وخاتم النبيين لانه ختم النبوة اى تممها بمجيئه.......“

(مفردات راغب ص: ١٤٢)

ترجمہ: ”آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؐ نے نبوت کو ختم کر دیا، یعنی آپؐ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرما دیا ۔“

(٢) المحکم لابن السیدہ: لغت عرب کی وہ معتمد علیہ کتاب ہے، جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں سے شمار کیا ہے کہ جن پر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جا سکے۔ اس میں لکھا ہے:

”وخاتم كل شئ وخاتمته عاقبته وآخره از لسان العرب۔“

ترجمہ: ”اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔“

(٣) لسان العرب: لغت کی مقبول کتاب ہے، عرب و عجم میں مستند مانی جاتی ہے، اس کی عبارت یہ ہے:

”خاتمهم وخاتمهم: آخرهم عن اللحيانی و محمد ﷺ خاتم الانبيا عليه و عليهم الصلوة و السلام۔ (لسان العرب ص ٢٥ ج ٤ طبع بیروت)

صفحہ ٤٣

ترجمہ: ”خاتم القوم بالکسر اور خاتم القوم بالفتح کے معنی آخر القوم ہیں اور انہی معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے، محمدﷺ خاتم الانبیا (یعنی آخر الانبیاء) ہیں۔“

اس میں بھی بوضاحت بتلایا گیا کہ بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی صورت میں خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء کے معنی آخر النبیین اور آخر الانبیاء ہوں گے۔ لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معانی ہو سکتے ہیں، لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف سے اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی صرف آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم تنہا ذکر نہیں کیا، بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

لغت عرب کے تتبع ( تلاش کرنے) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہوتا ہے تو اس کے معنی آخر ہی کے ہوتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں بھی خاتم کی اضافت جماعت ”نبیین“ کی طرف ہے۔ اس لئے اس کے معنی آخر النبیین اور نبیوں کے ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے، اس قاعدہ کی تائید تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے۔ وہو ہٰذا:

”ومن اسمائہ علیہ السلام الخاتم والخاتم وہو الذی ختم النبوۃ بمجیئہ“

ترجمہ: ”اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کردیا۔“

صفحہ ٤٤

(٥) قاموس:

”والخاتم آخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالیٰ وخاتم النبيين اى آخرهم۔“

ترجمہ: ”اور خاتم بالکسر اور بالفتح، قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد خاتم النبیین یعنی آخر النبیین۔“

اس میں بھی لفظ ”قوم“ بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز مسئلہ زیر بحث کا بھی نہایت وضاحت کے ساتھ فیصلہ کر دیا ہے۔

لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں سے یہ چند اقوال ائمہ لغت بطور ”مشتے نمونہ از خروارے“ پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کو یقین ہوگیا ہوگا کہ از روئے لغت عرب، آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتے، اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے علاوہ ہرگز مراد نہیں بن سکتے۔

خلاصہ: اس آیت مبارکہ میں آپؐ کے لئے خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، قرآن و سنت، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ کی تفسیرات کی رو سے اس کا معنی آخری نبی کا ہے، اور اصحاب لغت کی تصنیفات نے ثابت کر دیا ہے کہ خاتم کا لفظ جب جمع کی طرف مضاف ہے تو اس کا معنی سوائے آخری کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی خاتم کو جمع کی طرف مضاف کیا ہے، وہاں بھی اس کے معنی آخری کے ہی ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا، اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ص ٤٧٩ ج ١٥)

صفحہ ٤٥

ختم نبوت کے موضوع پر کتابوں کے نام :

اس مقدس موضوع پر اکابرین امت نے بیسیوں کتابیں لکھی ہیں، ان میں سے دس کتابوں کے نام یہ ہیں:

(مؤلفہ: مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)

لدھیانویؒ)

قادیانیت جلد اول)

سوال ٣:...... مسئلہ ختم نبوت جن آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے، ان میں سے تین تین آیات مبارکہ اور احادیث نقل کر کے ان کی تشریح قلم بند کریں؟

صفحہ ٤٦

جواب:......

ختم نبوت سے متعلق آیات:

سورۃ احزاب کی آیت ٤٠ آیت خاتم النبیین کی تشریح وتوضیح پہلے گزر چکی ہے‘ اب دوسری آیات ملاحظہ ہوں:

لیظهره علی الدین کله“

(توبہ: ٣٣‘ صف: ٩)

ترجمہ: ”اور وہ ذات وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے ۔“

نوٹ:...... غلبہ اور بلند کرنے کی یہ صورت ہے کہ حضور ہی کی نبوت اور وحی پر مستقل طور پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے کو فرض کیا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوتوں اور وحیوں پر ایمان لانے کو اس کے تابع کر دیا ہے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ آپ کی بعثت سب انبیاء کرام سے آخر ہو اور آپ کی نبوت پر ایمان لانا سب نبیوں پر ایمان لانے کو مشتمل ہو۔ بالفرض اگر آپ کے بعد کوئی نبی باعتبار نبوت مبعوث ہو تو اس کی نبوت پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہوگا جو دین کا اعلیٰ رکن ہوگا تو اس صورت میں تمام ادیان پر غلبہ مقصود نہیں ہو سکتا، بلکہ حضور علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا اور آپ کی وحی پر ایمان لانا مغلوب ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ کی وحی پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اگر اس نبی اور اس کی وحی پر ایمان نہ لایا تو نجات نہ ہوگی کافروں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ صاحب الزماں رسول یہی ہوگا، حضور علیہ السلام صاحب الزماں رسول نہ رہیں گے۔ (معاذ اللہ )

کتاب و حكمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم

صفحہ ٤٧

لتومنن به و لتنصرنه۔“

(آل عمران: ٨١)

ترجمہ: ”جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور نبوت دوں، پھر تمہارے پاس ایک ”وہ رسول“ آ جائے جو تمہاری کتابوں اور وحیوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا (یعنی اگر تم اس کا زمانہ پاؤ) تو تم سب ضرور ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا“

اس سے بکمال وضاحت ظاہر ہے کہ اس رسول مصدق کی بعثت سب نبیوں کے آخر میں ہوگی وہ آنحضرت ﷺ ہیں۔ اس آیت کریمہ میں دو لفظ غور طلب ہیں‘ ایک تو ”میثاق النبیین“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عہد تمام دیگر انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا تھا‘ دوسرا ”ثم جاءکم“۔ لفظ ”ثم“ تراخی کے لئے آتا ہے یعنی اس کے بعد جو بات مذکور ہے وہ بعد میں ہوگی اور درمیان میں زمانی فاصلہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سب سے آخر میں اور کچھ عرصہ کے وقفہ سے ہوگی۔ اس لئے آپ کی آمد سے پہلے کا زمانہ‘ زمانہ فترت کہلاتا ہے:

”قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترة من الرسل۔“

(مائدہ: ١٩)

(سبا: ٢٨)

ترجمہ: ”ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔“

ترجمہ: ”فرما دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ

صفحہ ٤٨

کا رسول ہوں۔“

نوٹ:....... یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کر رہی ہیں کہ حضور علیہ السلام بغیر استثناء تمام انسانوں کی طرف رسول ہو کر تشریف لائے ہیں جیسا کہ خود آپؐ نے فرمایا ہے:

”انا رسول من ادرکت حیا و من یولد بعدی۔“

ترجمہ: ”میں اس کے لئے بھی اللہ کا رسول ہوں جس کو اس کی زندگی میں پالوں اور اس کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔“

(کنز العمال ج١١ ص٤٠٤ حدیث ٣١٨٨٥، خصائص کبریٰ ص ٨٨ ج ٢)

پس ان آیتوں سے واضح ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، قیامت تک آپؐ ہی صاحب الزماں رسول ہیں۔ بالفرض اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضور علیہ السلام کافۃ الناس کی طرف اللہ تعالیٰ کے صاحب الزماں رسول نہیں ہو سکتے بلکہ براہ راست مستقل طور پر اسی نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد کرنا فرض ہوگا، ورنہ نجات ممکن نہیں اور حضور علیہ السلام کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس کے ضمن میں داخل ہوگا۔ (معاذ اللہ)

(سورۃ انبیاء: ١٠٧)

ترجمہ: ”میں نے تم کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“

نوٹ:...... یعنی حضور علیہ السلام پر ایمان لانا تمام جہان والوں کو نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر بالفرض آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپؐ کی امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان فرض ہوگا، اور اگر آنحضرت ﷺ پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت اور اس کی وحی پر ایمان نہ لاوے تو نجات نہ ہوگی اور یہ رحمۃ للعالمینی کے منافی ہے کہ اب آپؐ پر مستقلاً ایمان لانا کافی نہیں، آپؐ صاحب الزماں رسول نہیں رہے؟ (معاذ اللہ)

صفحہ ٤٩

“...یں آیتیں صاف اعلان کر رہی ہیں کہ حضور علیہ السلام بغیر استثنا ل ہو کر تشریف لائے ہیں جیسا کہ خود آپؐ نے فرمایا ہے: ول من ادرکت حیا و من یولد بعدی۔“ میں اس کے لئے بھی اللہ کا رسول ہوں جس کو اس کی اور اس کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔“ ج١ ص٢٠٤ حدیث ٣١٨٨٥، خصائص کبریٰ ص ٨٨ ج ٢) واضح ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، قیامت تک آپؐ ہیں۔ بالفرض اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضور علیہ اللہ تعالیٰ کے صاحب الزماں رسول نہیں ہو سکتے بلکہ براہ راست اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد ممکن نہیں اور حضور علیہ السلام کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس (معاذ اللہ )

”و ما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔“

(سورۃ انبیا: ١٠٧)

میں نے تم کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر

رعلیہ السلام پر ایمان لانا تمام جہان والوں کو نجات کے لئے کافی کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپؐ کی امت کو اس پر اور اس کی گر آنحضرتﷺ پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت وے تو نجات نہ ہوگی اور یہ رحمۃ للعالمینی کے منافی ہے کہ اب نہیں، آپؐ صاحب الزمان رسول نہیں رہے؟ (معاذ اللہ )

٦:...... ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔“

(سورہ مائدہ:٣)

ترجمہ: ”آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔“

نوٹ:...... یوں تو ہر نبی اپنے اپنے زمانہ کے مطابق دینی احکام لاتے رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل زمانہ کے حالات اور تقاضے تغییر پذیر تھے اس لئے تمام نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتے رہے، یہاں تک کہ آپؐ مبعوث ہوئے آپؐ پر نزول وحی کے اختتام سے دین پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو آپؐ کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے، اسی لئے اس کے بعد ”واتممت علیکم نعمتی“ فرمایا، علیکم یعنی نعمتِ نبوت کو میں نے تم پر تمام کر دیا، لہٰذا دین کے اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ سلسلہ وحی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ اے امیر المومنین:”قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی ہم اس دن کو عید مناتے“ (رواہ البخاری)، اور حضور علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکیاسی دن زندہ رہے (معارف القرآن ص ٤١ ج ٣) اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ آپؐ آخری نبی اور آپؐ پر نازل شدہ کتاب کامل و مکمل، آخری کتاب ہے۔

٧:...... ”یٰایہا الذین اٰمنوا اٰمنوا باللہ و رسولہ و الکتاب الذی نزل علی رسولہ و الکتاب الذی انزل من قبل۔“

(النساء: ١٣٦)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول

صفحہ ٥٠

محمد ﷺ پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔‘‘

نوٹ :…… یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کر رہی ہے کہ ہم کو صرف حضور علیہ السلام کی نبوت اور آپ کی وحی اور آپؐ سے پہلے انبیاؑ اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور علیہ السلام کے بعد کوئی بعہدۂ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا، معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

قبلک و بالآخرۃ ھم یوقنون۔ اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون۔‘‘

(سورۂ بقرہ:٤، ٥)

ترجمہ : ’’جو ایمان لاتے ہیں، اس وحی پر جو آپ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپؐ سے پہلے نازل کی گئی اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک۔‘‘

(سورۂ نسأ:١٦٢)

ترجمہ : ’’لیکن ان میں سے راسخ فی العلم اور ایمان لانے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپؐ پر نازل ہوئی اور جو آپؐ سے پہلے انبیاؑ علیہم السلام پر نازل ہوئی۔‘‘

نوٹ :…… یہ دونوں آیتیں ختمِ نبوت پر صاف طور سے اعلان کر رہی ہیں بلکہ قرآن شریف میں سینکڑوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپؐ پر نازل شدہ وحی کے ساتھ آپؐ سے پہلے کے نبیوں کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان

صفحہ ٥١

رکھنے کے لئے حکم فرمایا گیا لیکن بعد کے نبیوں کا ذکر کہیں نہیں آتا۔ ان دو آیتوں میں صرف حضور علیہ السلام کی وحی اور حضور علیہ السلام سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر ایمان لانے کو کافی اور مدار نجات فرمایا گیا ہے۔

١٠:...... ’’انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحافظون۔‘‘

(سورۃ حجر:٩)

ترجمہ: ’’تحقیق ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘

نوٹ:...... خداوند عالم نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہم خود قرآن کریم کی حفاظت فرمائیں گے یعنی محرفین کی تحریف سے اس کو بچائے رکھیں گے قیامت تک کوئی شخص اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی کمی زیادتی نہیں کر سکتا، اور نیز اس کے احکام کو بھی قائم اور برقرار رکھیں گے اس کے بعد کوئی شریعت نہیں جو اس کو منسوخ کر دے، غرض قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔

تنبیہ:...... یہ آیتیں بطور اختصار کے ختم نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کر دی گئیں ورنہ قرآن کریم میں سو آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔

(مزید تفصیل کیلئے دیکھئے ’’ختم نبوت کامل‘‘ از حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ)

ختم نبوت سے متعلق احادیث مبارکہ:

نوٹ:...... یہاں پر ہم اتنا عرض کر دیں کہ آئندہ صفحات میں ہم زیادہ تر احادیث کے الفاظ نقل کرنے پر اکتفا کریں گے۔ شارحین حدیث کے تشریحی اقوال نقل کرنے سے اجتناب کیا ہے تاکہ کتاب کا حجم زیادہ نہ ہو جائے۔

صفحہ ٥٢

حدیث : ١....... "عن ابى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله ﷺ قال مثلى و مثل الأنبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا فأحسنه و أجمله الا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به و يعجبون له و يقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فأنا اللبنة و أنا خاتم النبيين ۔"

(صحیح بخاری کتاب المناقب ص ٥٠١ ج ١، صحیح مسلم ص ٢٢٨ ج ٢ واللفظ لہ )

ترجمہ : ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی ؟ آپؐ نے فرمایا : میں وہی (کونے کی آخری ) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۔“

حدیث : ٢....... "عن أبى هريرة رضى الله عنه ان رسول الله ﷺ قال فضلت على الانبياء بست اعطيت جوامع الكلم و نصرت بالرعب و أحلت لى الغنائم و جعلت لى الارض طهورا و مسجداً و أرسلت الى الخلق كافة و ختم بى النبيون ۔"

(صحیح مسلم ص ١٩٩ ج ١، مشکوۃ ص ٥١٢)

ترجمہ : ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

صفحہ ٥٣

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: (١) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے (٢) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال کر دیا گیا ہے (٤) روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا ہے (٥) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (٦) اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اس کے آخر میں ہے:

”وكان النبى يبعث الى قومه خاصة و بعثت الى الناس عامة۔“

(مشکوٰۃ ص٥١٢)

ترجمہ : ”پہلے انبیاء کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔“

حدیث :٣:.......

”عن سعد بن ابى وقاص رضى الله عنه قال رسول الله ﷺ لعلىّ انت منى بمنزلة هرون من موسى الا انه لا نبى بعدى۔“

(بخاری ص٦٣٣ ج٢)

”و فى رواية لمسلم أنه لا نبوة بعدى ۔“

(صحیح مسلم ص٢٧٨ ج٢)

ترجمہ : ”سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسٰی (علیہما السلام) سے تھی، مگر میرے

صفحہ ٥٤

بعد کوئی نبی نہیں۔“ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: ”میرے بعد نبوت نہیں۔“

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی تصنیف ”ازالۃ الخفا“ میں ”مآثر علیؓ“ کے تحت لکھتے ہیں:

”فمن المتواتر: أنت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ“

(ازالۃ الخفا مترجم ص ٤٤٤ ج ٤)

ترجمہ: ”متواتر احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔“

حدیث:٤:.......

”عن ابی ہریرۃؓ یحدث عن النبی ﷺ قال کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلك نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔“

(صحیح بخاری ص ٣٩١ ج١، واللفظ لہ، صحیح مسلم ص ١٢٦ ج٢، مسند احمد ص ٢٩٧ ج٢)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔“

نوٹ:....... بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیاء آتے تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے، مگر آنحضرت ﷺ کے بعد ایسے انبیاء کی آمد بھی بند ہے۔

صفحہ ٥٥

حدیث:٥:....... ”عن ثوبان رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى أمتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي“

(ابو داؤد ص ١٢٧ ج ٢ کتاب الفتن واللفظ لہ، ترمذی ص ٤٥ ج ٢)

ترجمہ: ”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔“

حدیث:٦:....... ”عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة و النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی و لا نبي“

(ترمذی ص ٥١ ج ٢ ابواب الرؤیا، مسند احمد ص ٢٦٧ ج ٣)

ترجمہ: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔“

حدیث:٧:....... ”عن ابى هريرة رضی الله عنه أنه سمع رسول الله ﷺ يقول نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا“

(صحیح بخاری ص ١٢٠ ج ١ واللفظ لہ، صحیح مسلم ص ٢٨٢ ج ١)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم سب کے

صفحہ ٥٦

بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی ۔“

حدیث : ٨:......

”عن عقبة بن عامرؓ قال قال رسول الله ﷺ لو كان نبى بعدى لكان عمر بن الخطاب “

(ترمذی ص ٢٠٩ ج ٢ ابواب المناقب )

ترجمہ : ”حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے ۔“

حدیث : ٩:......

”عن جبير بن مطعم رضى الله عنه قال سمعت النبى ﷺ يقول أن لى أسماء، أنا محمد، و أنا أحمد، و أنا الماحى الذى يمحو الله بى الكفر، و أنا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمى، و أنا العاقب، و العاقب الذى ليس بعده نبى “

(متفق علیہ ،مشکوۃ ص ٥١٥ )

ترجمہ : ”حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں : میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی (مٹانے والا ) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا ) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا ) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

صفحہ ٥٧

اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو اسمائے گرامی آپؐ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اول ”الحاشر“، حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اشارة الى انه ليس بعده نبي ولا شريعة ...... فلما كان لا أمة بعد امته لأنه لا نبى بعده، نسب الحشر اليه، لأنه يقع عقبه۔“

(فتح الباری ص ٢٠٦ ج ٦)

ترجمہ: ”یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں ...... سو چونکہ آپؐ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس لئے حشر کو آپؐ کی طرف منسوب کر دیا گیا، کیونکہ آپؐ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔“

دوسرا اسم گرامی: ”العاقب“ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ: ”الذی لیس بعدہ نبی“ (آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں )

حدیث ١٠: .......

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:

”بعثت أنا والساعة كهاتين“

(مسلم ص ٤٠٦ ج ٢)

(مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے )

ان احادیث میں آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قیامت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ امام قرطبیؒ ”تذکرہ“ میں لکھتے ہیں:

”وأما قوله بعثت أنا والساعة كهاتين فمعناه أنا النبي الاخير فلا يلينى نبى آخر، وانما تلينى القيامة كما تلى السبابة الوسطى وليس بينهما اصبع أخرى ...... وليس بيني وبين

صفحہ ٥٨

القيامة نبي۔“

(التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة ص٧١)

ترجمہ : ”اور آنحضرتﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی نہیں، میرے بعد بس قیامت ہے، جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی کے متصل واقع ہے، دونوں کے درمیان اور کوئی انگلی نہیں...... اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“

علامہ سندھیؒ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں:

”التشبيه في المقارنة بينهما، أى ليس بينهما اصبع اخرى كما أنه لا نبى بينه ﷺ وبين الساعة۔“

(حاشیہ علامہ سندھیؒ بر نسائی ص٢٣٣ ج١)

ترجمہ: ”تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے)، یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں، اسی طرح آنحضرتﷺ کے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔“

ختم نبوت پر اجماع امت:

حجۃ الاسلام امام غزالیؒ ”الاقتصاد“ میں فرماتے ہیں:

”أن الأمة فهمت بالاجماع من هذا اللفظ و من قرائن أحواله أنه أفهم عدم نبى بعده أبدا ...... و أنه ليس فيه تأويل و لا تخصيص فمنكر هذا لا يكون الا منكر الاجماع۔“

(الاقتصاد فى الاعتقاد ص١٢٣)

ترجمہ: ”بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم

صفحہ ٥٩

النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔“

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:

”و دعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع۔“

(شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢)

علامہ ابن نجیم مصریؒ جن کو ابو حنیفہ ثانی کہا جاتا ہے فرماتے ہیں:

”اذا لم يعرف ان محمداً صلى الله عليه وسلم اخر الانبيا فليس بمسلم لانه من الضروريات۔“

(الاشباہ والنظائر مطبوعہ کراچی ج ٢ ص ٩١)

ختم نبوت پر تواتر:

حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں:

”وبذلك وردت الأحاديث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة رضى الله عنهم۔“

(تفسير ابن كثير ص ٤٩٣ ج ٣)

ترجمہ: ”اور ختم نبوت پر آنحضرتﷺ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں، جن کو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔“

اور علامہ سید محمود آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:

”و كونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب و صدعت به السنة و أجمعت عليه الأمة فيكفر مدعی خلافه و يقتل ان اصر۔“

(روح المعانی ص ٣٩ ج ٢٢)

صفحہ ٦٠

ترجمہ: ”اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔“

پس عقیدۂ ختمِ نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے اور ہر دور میں امت کا اس پر اجماع و اتفاق چلا آیا ہے۔

سوال ٤: ...... مرزائی ختم نبوت کے معنی میں کیا تحریف کرتے ہیں؟ قادیانی مؤقف مختصر مگر جامع طور پر تحریر فرمائیں، ساتھ ہی اس کا مختصر اور جامع جواب بھی دیں۔

جواب: ......

خاتم النبیین اور قادیانی جماعت:

قرآن وسنت صحابہ کرام اور اصحاب لغت کی طرف سے لفظ خاتم النبیین کی وضاحت کے بعد اب قادیانی جماعت کے مؤقف کو دیکھئے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ: ”خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر“ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نبوت عنایت فرماتے تھے، اب آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نبوت ملے گی، جو شخص رحمت دو عالم ﷺ کی اتباع کرے گا آپ اس پر مہر لگا دیں گے، تو وہ نبی بن جائے گا (حقیقۃ الوحی ص ٩٧ حاشیہ وص ٢٨ خزائن ص ١٠٠ و ٣٠ ج ٢٢)۔ ہمارے نزدیک قادیانی جماعت کا یہ مؤقف سراسر غلط، فاسد، باطل، بے دینی، تحریف دجل

صفحہ ٦١

وافترا، کذب و جعل سازی پر مبنی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اس موقعہ پر کیا خوب چیلنج کیا، آپ فرماتے ہیں:

’’اگر مرزا صاحب اور ان کی امت کوئی صداقت رکھتے ہیں تو لغت عرب اور قواعد عربیت سے ثابت کریں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ: ”آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں“۔ لغت عرب کے طویل و عریض دفتر میں سے زائد نہیں صرف ایک نظیر اس کی پیش کردیں یا کسی ایک لغوی اہل عربیت کے قول میں یہ معنی دکھلا دیں، اور مجھے یقین ہے کہ ساری مرزائی جماعت مع اپنے نبی اور ابن نبی کے اس کی ایک نظیر کلام عرب یا اقوال لغویین میں نہ دکھلا سکیں گے۔ خود مرزا صاحب نے جو (برکات الدعا ص ١٤، ١٥ روحانی خزائن ص ١٧، ١٨ ج ٦) میں تفسیر قرآن کے معیار میں سب سے پہلا نمبر قرآن مجید سے اور دوسرا احادیث نبی کریم ﷺ سے اور تیسرا اقوال صحابہ کرامؓ سے رکھا ہے۔ اگر یہ صرف ہاتھی کے دکھلانے کے دانت نہیں تو خدارا خاتم النبیین کی اس تفسیر کو قرآن کی کسی ایک آیت میں دکھلائیں، اور اگر یہ نہیں ہوسکتا تو احادیث نبویہ کے اتنے وسیع و عریض دفتر میں ہی کسی ایک حدیث میں یہ تفسیر دکھلائیں، پھر ہم یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ صحیحین کی حدیث ہو یا صحاح ستہ کی، بلکہ کسی ضعیف سے ضعیف میں دکھلا دو کہ نبی کریم ﷺ نے خاتم النبیین کے یہ معنی بتلائے ہوں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں، اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا (اور ہرگز نہ ہوسکے گا) تو کم از کم کسی صحابیؓ ، کسی تابعیؒ کا قول ہی پیش کرو جس میں خاتم النبیین کے یہ معنی بیان کئے ہوں، لیکن مجھے معلوم ہے کہ:

صفحہ ٦٢

چیلنج:

اے مرزائی جماعت اور اس کے مقتدر ارکان! اگر تمہارے دعویٰ میں کوئی صداقت کی بو اور قلوب میں کوئی غیرت ہے تو اپنی ایجاد کردہ تفسیر کا کوئی شاہد پیش کرو، اور اگر ساری جماعت مل کر قرآن کے تیس پاروں میں سے کسی ایک آیت میں، احادیث کے غیر محصور دفتر میں سے کوئی ایک حدیث میں اگر چہ ضعیف ہی ہو، صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے بے شمار آثار میں سے کسی ایک قول میں یہ دکھلا دے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر سے انبیا بنتے ہیں تو وہ نقد انعام وصول کر سکتے ہیں۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔ لیکن میں بحول اللہ وقوتہ اعلاناً کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اور ان کی ساری امت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے تب بھی ان میں سے کوئی ایک چیز پیش نہ کر سکیں گے: ”و لو کان بعضہم لبعض ظہیرا “، بلکہ اگر کوئی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان رکھتا ہے تو قرآن عزیز کی نصوص اور احادیث نبویہ کی تصریحات اور صحابہ کرامؓ و تابعینؒ کے صاف صاف آثار، سلف صالحینؒ اور ائمہ تفسیرؒ کے کھلے کھلے بیانات اور لغت عرب اور قواعد عربیت کا واضح فیصلہ سب کے سب اس تحریف کی تردید کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آیت ”خاتم النبیین“ کے وہ معنی جو مرزائی فرقہ نے گھڑے ہیں باطل ہیں۔“

(ختم نبوت کامل)

قادیانی ترجمہ کے وجوہ ابطال:

صفحہ ٦٣

کہ خاتم القوم اور آخر القوم کے بھی یہی معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم المہاجرین کے یہ معنی ہوں گے اس کی مہر سے مہاجرین بنتے ہیں۔

٤٣١ ج ٣ پر خاتم النبیین کا معنی: ”اور ختم کرنے والا نبیوں کا“ کیا ہے۔

یہاں صرف ایک مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ مرزا نے اپنی کتاب تریاق القلوب ص ١٥٧، روحانی خزائن ص ٣٧٩ ج ١٥ پر اپنے متعلق تحریر کیا ہے:

”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا، اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا ، اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

اگر خاتم الاولاد کا ترجمہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ”ولد“ تھا۔ مرزا کے بعد اس کے ماں باپ کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا، صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، کسی قسم کا کوئی پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزائیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزا صاحب مہر لگاتے جائیں گے اور مرزا صاحب کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ:

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
صفحہ ٦٤

قادیانی تک کوئی نبی نہیں بنا، خود مرزا نے لکھا ہے:

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا، اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ روحانی خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)

اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا کو ہی نبوت ملی، اور پھر مرزا کے بعد قادیانیوں میں خلافت (نام نہاد) ہے۔ نبوت نہیں، اس لحاظ سے بقول قادیانیوں کے حضورﷺ کی مہر سے صرف مرزا ہی نبی بنا، تو گویا حضورﷺ ’’خاتم النبی‘‘ ہوئے خاتم النبیین نہ ہوئے۔ مرزا محمود نے لکھا ہے:

’’ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا، سو وہ ظاہر ہوگیا۔‘‘

(ضمیمہ نمبر ١ حقیقۃ النبوۃ ص ٢٦٨)

مراد لئے جائیں، تو آپؐ آئندہ کے نبیوں کے لئے خاتم ہوئے، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کے لئے آپؐ خاتم النبیین نہ ہوئے، اس اعتبار سے یہ بات قرآنی منشا کے صاف خلاف ہے۔

خاتم النبیین کا قادیانی معنی) یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’اب میں بموجب آیت کریمہ: ”واما بنعمة ربك فحدث“ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش

صفحہ ٦٥

سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧ روحانی خزائن ص ٧٠ ج ٢٢)

لیجئے ! خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر، وہ لگے گی اتباع کرنے سے، وہ صرف مرزا پر لگی، اس لئے آپ خاتم النبی ہوئے ، اب اس حوالہ میں مرزا نے کہہ دیا کہ جناب اتباع سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ تو گویا خاتم النبیین کی مہر سے آج تک کوئی نبی نہیں بنا تو خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟

سوال : ٥...... ظلی بروزی نبی کی من گھڑت قادیانی

اصطلاحات پر جامع نوٹ تحریر کرتے ہوئے اس کا مسکت

جواب تحریر کریں؟

جواب : ......

ظلی اور بروزی:

ظل، سایہ کو کہتے ہیں، جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی شیطان کی تصویر (ظل ) تھا۔ بروز، کا معنی ہے کہ کسی شخصیت کی جگہ کوئی اور ظاہر ہو جائے جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی نے شیطان کی شکل اختیار کر لی، اس کی جگہ ظاہر ہو گیا۔ حلول، کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی روح دوسرے میں داخل ہو گئی، جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی میں شیطان کی روح سرایت (حلول) کر گئی۔ تناسخ، کا معنی یہ ہے کہ ایک شخص مر جائے اور اس کی شخصیت دوسرے جنم میں دوسرے شخص کی ہو، یہ شکل اختیار کر جائے، جیسے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی اس زمانہ میں شیطان مجسم تھا۔

قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ظلی نبی تھا، یعنی آنحضرت ﷺ کے اتباع کی وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کا ظل ہو گیا، اس اعتبار سے اس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اتحاد ہو گیا اور آپ کا وجود مرزا قادیانی کا وجود ہے، جیسا کہ اس نے لکھا ہے:

صفحہ ٦٦

”صار وجودی وجودہ۔“

(خطبہ الہامیہ ص٧٧، خزائن ص٢٥٨ ج١٦)

”یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا...... تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ نے پھر محمد صلعم (مرزا) کو اتارا۔“

(کلمۃ الفصل ص١٠٥ مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)

مرزا کے محمد رسول اللہ (معاذ اللہ) ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت خاتم النبیین محمدﷺ کا دوبار دنیا میں آنا مقدر تھا، پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں محمد کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں آئے، یعنی مرزا کی بروزی شکل میں محمدﷺ کی روحانیت مع اپنے تمام کمالاتِ نبوت کے دوبارہ جلوہ گر ہوئی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”......اور جان کہ ہمارے نبی کریمﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“

(خطبہ الہامیہ روحانی خزائن ص٢٧٠ ج١٦)

”آنحضرتﷺ کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرتﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔“ (تحفہ گولڑویہ ص١٦٣ حاشیہ روحانی خزائن ص٢٤٩ ج١٧)

قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے لئے ظلی اور بروزی کی اصطلاح استعمال

صفحہ ٦٧

کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں، ان الفاظ کی آڑ میں بھی وہ دراصل رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’خدا ایک اور محمد ﷺ اس کا نبی ہے، اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے، اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی ...... جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے ، بلکہ ایک ہی ہو اگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں، صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٥ خزائن ص ١٦ ج ١٩)

قارئین محترم ! مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے، اس کا کہنا کہ میں ظلی بروزی محمد ہوں۔ کیا معنی؟ کہ جب آئینہ میں حضور ﷺ کی شکل دیکھنا چاہو تو وہ غلام احمد ہے۔ دونوں ایک ہیں، قطع نظر اس خبث و بدطینتی کے مجھے یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ظلی و بروزی کہہ کر مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو قادیانی جو فریب کا چولا پہناتے ہیں، وہ اصولی طور پر غلط ہے، اس لئے کہ:

الہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے، اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات، علم، ارادہ، قدرت، سمع ، بصر، کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم اور اکمل طور پر اس (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) میں انعکاس پذیر ہیں۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٧١، ٢٧٢ حاشیہ روحانی خزائن ص ٢٢٤ ج ٢)

تھا۔“

(ایام الصلح ص ٣٩ روحانی خزائن ص ٢٦٥ ج ١٤)

صفحہ ٦٨

(شہادۃ القرآن ص ٥٧ روحانی خزائن ص ٣٥٣ ج ٦)

اگر اب کسی قادیانی کی ہمت ہے کہ وہ کہہ دے کہ آنحضرتﷺ خدا ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور خلفاء نبی اور رسول ہیں۔ نعوذ باللہ۔ مثلاً بقول مرزا قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظلی خدا ہو کر صحیح اور حقیقی اور سچے اور واقعی خدا بن جائیں گے؟ یا محمود قادیانی کے باپ مرزا قادیانی کے اقرار سے خلفاء آنحضرتﷺ کے ظل ہوتے ہیں اور صحابہ کرامؓ میں بھی حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے ظل ہیں، تو کیا خلفاء اور حضرت عمرؓ بھی ظلی نبی ہو کر واقعی اور سچے اور صحیح اور حقیقی نبی قرار پائیں گے؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا تو مرزا قادیانی بزعم خود اگر ظلی نبی (خاکم بدہن) ثابت بھی ہوجائے تو پھر بھی وہ سچا اور حقیقی اور واقعی اور صحیح نبی نہیں ہوگا، بلکہ محض نقلی نبی ہی ہوگا۔

سلطان (بادشاہ) خدا بن جاتا ہے یا اس کا وجود خدا کا وجود بن جاتا ہے؟ غرض ظلی و بروزی خالص قادیانی ڈھکوسلہ ہے۔

سوال ٦:....... وحی الہام اور کشف کا شرعی معنی اور حیثیت واضح کرتے ہوئے بتائیں کہ قادیانی ان اصطلاحات میں کیا تحریفات کرتے ہیں اور اس کا کیا جواب ہے؟

جواب:.......

وحی:

اصطلاح شریعت میں وحی اس کلام الٰہی کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے بذریعہ

صفحہ ٦٩

فرشتہ نبی کو بھیجا ہو، اس کو وحی نبوت بھی کہتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر بذریعہ القاء فی القلب ہو تو اس کو وحی الہام کہتے ہیں (فرشتہ کا واسطہ ہونا ضروری نہیں ہے) جو اولیاء پر ہوتی ہے اور اگر بذریعہ خواب ہو تو اصطلاح شریعت میں اس کو رویائے صالحہ کہتے ہیں، جو عام مومنین اور صالحین کو ہوتا ہے کشف اور الہام اور رویائے صالحہ پر لغتاً وحی کا اطلاق ہو سکتا ہے، قرآن مجید میں آیا ہے: ”واوحینا الی ام موسیٰ“ مگر عرف شرع میں جب لفظ وحی کا بولا جاتا ہے تو اس سے وحی نبوت ہی مراد ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں باعتبار لغت کے شیطانی وسوسوں پر بھی وحی کا اطلاق آیا ہے:

”کما قال تعالیٰ وان الشیطین لیوحون الی اولیائہم۔“

(انعام: ١٢١)

”وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غروراً۔“

(انعام: ١١٢)

لیکن عرف میں شیطانی وسوسوں پر وحی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

الہام:

کسی خیر اور اچھی بات کا بلا نظر و فکر اور بلا کسی سبب ظاہری کے من جانب اللہ قلب میں القا ہونے کا نام الہام ہے۔ جو علم بطریق حواس حاصل ہو وہ ادراک حسی ہے اور جو علم بغیر حس اور عقل، من جانب اللہ بلا کسی سبب کے دل میں ڈالا جائے وہ الہام ہے۔ الہام محض موہبت ربانی ہے اور فراست ایمانی، جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے وہ من وجہ کسب ہے اور من وجہ وہب ہے۔ کشف اگر چہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے الہام سے عام لیکن کشف کا زیادہ تعلق امور حسیہ سے ہے اور الہام کا تعلق امور قلبیہ سے ہے۔

صفحہ ٧٠

کشف:

عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھا کر دکھلا دینے کا نام کشف ہے، کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی، اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانویؒ کشاف اصطلاحات الفنون ص ١٢٥٤ پر لکھتے ہیں:

”الکشف عند اہل السلوک ہوا المکاشفہ و مکاشفہ رفع حجاب را گویند کہ میاں روحانی جسمانی است کہ ادراک آں بحواس ظاہری نتواں کرد الخ۔“

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ:

”حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی صفائی اور نورانیت پر موقوف ہے، جس قدر قلب صاف اور منور ہوگا اسی قدر حجابات مرتفع ہوں گے، جاننا چاہئے کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی نورانیت پر موقوف تو ہے مگر لازم نہیں۔“

وحی اور الہام میں فرق:

وحی نبوت قطعی ہوتی ہے اور معصوم عن الخطأ ہوتی ہے اور نبی پر اس کی تبلیغ فرض ہوتی ہے اور امت پر اس کا اتباع لازم ہوتا ہے اور الہام ظنی ہوتا ہے اور معصوم عن الخطأ نہیں ہوتا، اولیاء معصوم نہیں، اسی وجہ سے اولیاء کا الہام دوسروں پر حجت نہیں اور نہ الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت ہوسکتا ہے، حتیٰ کہ استحباب بھی الہام سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ نیز علم احکام شرعیہ بذریعہ وحی انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور غیر انبیاء پر جو الہام ہوتا ہے سو وہ از قسم بشارت یا از قسم تفہیم ہوتا ہے احکام پر مشتمل نہیں ہوتا جیسے حضرت مریم علیہا السلام کو جو وحی الہام ہوئی وہ از قسم بشارت تھی نہ کہ از قسم احکام، اور بعض مرتبہ وحی الہام کسی حکم شرعی کی تفہیم اور افہام کے لئے ہوتی ہے، جو نسبت رویا ئے صالحہ کو الہام سے ہے وہی نسبت الہام

صفحہ ٧١

کو وحی نبوت سے ہے، یعنی جس طرح رویائے صالحہ الہام سے درجہ میں کمتر ہے، اسی طرح الہام درجہ میں وحی نبوت سے فروتر ہے اور جس طرح رویائے صالحہ میں ایک درجہ کا ابہام اور اخفا ہوتا ہے اور الہام اس سے زیادہ واضح ہوتا ہے، اسی طرح الہام بھی باعتبار وحی کے خفی اور مبہم ہوتا ہے اور وحی صاف اور واضح ہوتی ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے ”الاعلام بمعنی الکشف والوحی والالہام“ مندرجہ احتساب قادیانیت جلد دوم از حضرت کاندہلویؒ۔

انقطاع وحی نبوت:

حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد وحی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا، اس سلسلے میں اکابرین امت کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

”الیوم فقدنا الوحی و من عند اللہ عز و جل الکلام، رواہ ابو اسماعیل الہروی فی دلائل التوحید“ ترجمہ: ”آج ہمارے پاس وحی نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان ہے۔“

(کنز العمال ص ٢٣٥ ج ٧ حدیث نمبر ١٨٧٦٠)

”قد انقطع الوحی و تم الدین او ینقص وانا حی۔ رواہ النسائی بہذا اللفظ معناہ فی الصحیحین۔“

(الریاض النضرۃ ص ٩٨ ج ١ و تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ٩٤)

ترجمہ: ”اب وحی منقطع ہو چکی اور دین الٰہی تمام ہو چکا، کیا میری زندگی ہی میں اس کا نقصان شروع ہو جائے گا؟“

فاروق اعظمؓ دونوں حضرات سے منقول ہے۔

صفحہ ٧٢

تو ایک روز حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ چلو حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کی زیارت کر آئیں کیونکہ آنحضرت ﷺ بھی ان کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم تینوں وہاں گئے، حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا ہمیں دیکھ کر رونے لگیں، ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ دیکھو ام ایمن ! رسول اللہ ﷺ کے لئے وہی بہتر ہے جو اللہ کے نزدیک آپؐ کے واسطے مقدر ہے، انہوں نے کہا:

”قد علمت ما عند اللہ خیر لرسول اللہ ﷺ و لکن ابکی علی خبر السماء انقطع عنا۔“

(ابوعوانہ و کنز العمال ص ٢٢٥ ج ٧ حدیث نمبر ١٨٧٣٤ و مسلم ج ٢ ص ٢٩١)

ترجمہ:”یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ آپؐ کے لئے وہی بہتر ہے جو اللہ کے نزدیک ہے لیکن میں اس پر روتی ہوں کہ آسمانی خبریں ہم سے منقطع ہوگئیں۔“

اسی طرح مسلم شریف میں ہے:

”ولکن ابکی ان الوحی قد انقطع من السماء۔“

”لان بموت النبی ﷺ انقطع الوحی۔“

(مواہب لدنیہ ص ٢٥٩)

ترجمہ:”اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوچکی ہے۔“

ہے:

”و من اعتقد المسلمین۔“

ترجمہ:”اور جو شخص باجماع مسلمین کافر ہے

قادیانی گروہ کشف و الہام صرف کشف و الہام بلکہ وحی نبوت انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اور اس کا نام انہوں نے ”تذکرہ آیت مبارکہ ہے:

”کلا انھا تذکرۃ مطہرہ۔“

ان آیات میں ”تذکرہ“ قادیانی کی وحی کے مجموعہ کا نام قرآن مجید کا غیر عرفی نام چرا کر عنوان قائم کیا:”تذکرہ یعنی وحی قادیانی مرزا غلام احمد قاد ٨١٨ صفحات ہے، اس میں مرزا قادیانی جماعت مرزا قادیانی کی آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا د مرزا قادیانی کی ہزارہا عبارتوں نے اپنے لئے وحی کا دعویٰ کیا ہے

میں سناتا ہوں، یہ قطعی

صفحہ ٧٣

ہے: ” و من اعتقد وحيا بعد محمد ﷺ كفر باجماع المسلمين۔“ ترجمہ: ”اور جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ باجماع مسلمین کافر ہے۔“

(بحوالہ ختم نبوت ص ٣٢٢ از حضرت مفتی محمد شفیعؒ)

قادیانی گروہ کشف و الہام اور وحی میں تحریف نہیں کرتے بلکہ تلبیس کرتے ہیں کہ نہ صرف کشف و الہام بلکہ وحیِ نبوت کو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے جاری مانتے ہیں، چنانچہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نام نہاد وحی کو ایک مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیا ہے اور اس کا نام انہوں نے ”تذکرہ“ رکھا ہے، حالانکہ تذکرہ قرآن مجید کا نام ہے، جیسا کہ آیت مبارکہ ہے:

”كلا انها تذكرة فمن شاء ذكره في صحف مكرمة مرفوعة مطهرة۔“

(عبس ١١۔ ١٤)

ان آیات میں ”تذکرہ“ قرآن مجید کو قرار دیا گیا ہے۔ قادیانی اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے مجموعہ کا نام قرآن رکھتے تو مسلمانوں میں اشتعال پھیلتا، انہوں نے قرآن مجید کا غیر عرفی نام چرا کر مرزا کی وحی پر چسپاں کر دیا اور اسی تذکرہ کے پہلے صفحہ پر عنوان قائم کیا: ”تذکرہ یعنی وحی مقدس و رویا و کشوف حضرت مسیح موعود“۔

قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے وحیِ نبوت کو جاری مانتے ہیں۔ اس تذکرہ کا حجم ٨١٨ صفحات ہے، اس میں مرزا قادیانی کی نام نہاد وحی (خرافات) کو جمع کیا گیا ہے۔ غرض قادیانی جماعت مرزا قادیانی کے لئے وحیِ نبوت کو جاری مانتی ہے، حالانکہ اوپر گزر چکا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا مدعی، مدعیِ نبوت ہے، اور یہ بجائے خود مستقل کفر ہے، اب مرزا قادیانی کی ہزارہا عبارتوں میں سے چند عبارتیں ملاحظہ ہوں، جس میں مرزا قادیانی نے اپنے لئے وحی کا دعویٰ کیا ہے:

میں سناتا ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے، جیسا کہ قرآن

صفحہ ٧٤

اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں، اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے، اور مسیح موعود ماننا واجب ہے۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٧ روحانی خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

ہے، اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے، یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔“ دیکھو براہین احمدیہ، اس میں صاف طور پر اس عاجز (مرزا) کو رسول کرکے پکارا گیا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ٤٣١ ج ٣، ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ روحانی

خزائن ص ٢٠٦ ج ١٨ النبوۃ فی الاسلام ص ٣٠٧، حقیقۃ النبوۃ ص ٢٦١)

امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

صفحہ ٧٥

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ روحانی خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)

ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام

ص ٢١٠، حقیقۃ النبوۃ ص ٢٦٢، مجموعہ اشتہارات ص ٤٣٥ ج ٣)

ہوں، میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٠ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

اب ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا صاحب اپنے اوپر جبریل علیہ السلام کے نزول کے بھی مدعی ہیں:

الله اتیٰ، فطوبیٰ لمن وجد و رای۔“

یعنی میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا، اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا، پس مبارک جو اس کو پاوے اور دیکھے۔ (اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے، اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ حاشیہ منہ )۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣ روحانی خزائن ص ١٠٦ ج ٢٢)

صفحہ ٧٦

ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں، ٹھیک انہی کے طرز پر مرزا صاحب کو بھی معصوم ہونے کا دعویٰ ہے:

الفرقان۔“

(تذکرہ ص ٦٧٤)

”اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔“

قرآن کریم مسلمانوں کی نہایت مقدس مذہبی کتاب ہے جسے خود مرزا صاحب کے پیرو بھی محفوظ عن الخطا سمجھتے ہیں اور مرزا صاحب اپنے تقدس کو قرآن کے مثل ثابت کرتے ہیں۔

(تذکرہ ص ٧٠ طبع ٤ ربوہ)

”ہم نے اس کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“

یہ قرآن کریم کی آیت ہے، جسے مرزا صاحب نے معمولی تصرف کے ساتھ اپنی ذات پر چسپاں کیا ہے گویا جس طرح قرآن منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر خطا و خلل سے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، ٹھیک وہی تقدس مرزا صاحب کو بھی حاصل ہے:

(تذکرہ ص ٣٧٨، ٣٩٢)

”اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو وحی ہے جو اس (مرزا) پر نازل کی جاتی ہے۔“

علمائے شریعت کی طرح تمام صوفیاء بھی اس پر متفق ہیں کہ نبوت و رسالت خاتم النبیین

صفحہ ٧٧

ﷺ پر ختم ہوگئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور حضور پرنور ﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہے، البتہ نبوت و رسالت کے کچھ کمالات اور اجزاء باقی ہیں کہ جو اولیاء امت کو عطا کئے جاتے ہیں مثلاً کشف اور الہام اور رویائے صادقہ (سچا خواب) اور کرامتیں ۔ اس قسم کے کمالات نبوت کے اجزاء ہیں وہ ہنوز باقی ہیں لیکن ان کمالات کی وجہ سے کسی شخص پر نبی کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں ، اور نہ ان کے کشف اور الہام پر ایمان لانا واجب ہے۔ ایمان فقط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ہے۔ نبی کا تو خواب بھی وحی ہے: ”رؤیا الانبیاء وحی“ (بخاری)، مگر ولی کا خواب اور الہام شرعاً حجت نہیں ۔ نبی کے خواب سے ایک معصوم کا ذبح کرنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے، مگر ولی کے الہام سے قتل کا جواز تو درکنار اس سے استحباب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا ۔ غرض کسی بھی بڑے سے بڑے بزرگ کا کشف و الہام شرعی مسئلہ کے اثبات کے لئے کوئی مستقل دلیل نہیں ہے ۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمالات اور خصلتیں بادشاہ اور وزیر کی سی پائی جائیں تو اس بناء پر وہ شخص بادشاہ اور وزیر نہیں بن سکتا ، اور اگر کوئی اس بناء پر بادشاہت اور وزارت کا دعویٰ کرے اور اپنے کو وزیر اور بادشاہ کہنے لگے تو فوراً گرفتاری کے احکام جاری ہو جائیں گے ۔ اس طرح اگر کسی شخص میں نبوت کے برائے نام کچھ کمالات پائے جائیں تو اس سے اس شخص کا منصب نبوت پر فائز ہونا لازم نہیں آتا بلکہ اگر کوئی شخص اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ مرتد اور اسلام کا باغی سمجھا جائے گا ۔

”عن ابی ھریرة قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لم یبق من النبوة الا المبشرات ۔“

(رواہ البخاری فی کتاب التعبیر ص ١٠٣٥ ج ٢)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! نبوت کا کوئی جزو سوائے اچھے خوابوں کے باقی نہیں (اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے) ۔“

اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نبوت بالکلیہ ختم ہو چکی اور سلسلۂ وحی منقطع ہو گیا البتہ

صفحہ ٧٨

اجزائے نبوت میں سے ایک جزو مبشرات باقی ہے یعنی جو سچے خواب مسلمان دیکھتے ہیں یہ بھی نبوت کے اجزا میں سے ایک جزو ہے جس کی تشریح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ : ”سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزو ہے ۔“

ایک شبہ اور اس کا ازالہ:

عبرت کی جگہ ہے کہ ارشادات نبویہ ﷺ کے ان بینات کے بعد بھی بجائے اس کے کہ مرزائی قلوب میں زلزلہ پڑ جاتا ، اور وہ ایک متنبّیٰ کاذب کو چھوڑ کر سید الانبیاء ﷺ کی نبوت کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتے ، ان کی جسارت اور تحریف میں دلیری اور بڑھتی جاتی ہے۔ و كذلك يطبع الله على قلب كل متكبر جبار۔

ادھر حدیث میں سلسلہ نبوت کے انقطاع پر یہ صاف ارشاد ہوتا ہے اور ادھر قادیانی دنیا میں خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ اس سے بقا نبوت ثابت ہو گیا۔ ان هذا لشئ عجاب ۔ کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت کا ایک جزو باقی ہے جس سے نفس نبوت کا بقا ثابت ہوتا ہے ، جیسے پانی کا ایک قطرہ بھی پانی ہو تو اس کو پانی کہا جاسکتا ہے ، اسی طرح نبوت کے ایک جزو کا باقی ہونا خود نبوت کا باقی ہونا ہے ۔ اہل دانش فیصلہ کریں کہ اس فضاء اور سائنس کے دور میں ایک مدعی نبوت کی طرف سے کہا جارہا ہے جس کو جزو اور کل کا بدیہی امتیاز معلوم نہیں ، وہ کسی شے کے ایک جزو موجود ہونے کو کل کا موجود ہونا سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کے ایک جزو مثلاً اللہ اکبر کو پوری نماز اور وضو کے ایک جزو مثلاً ہاتھ دھونے کو پورا وضو کہا جائے ، اسی طرح ایک لفظ اللہ کو پوری اذان اور ایک منٹ کے روزہ کو ادائے روزہ کہا جائے ۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر قادیانی نبوت کی یہی برکات ہیں کہ کسی شے کے ایک جزو کے وجود کو کل کا وجود قرار دیا جائے اور جزو پر کل کا اطلاق درست ہو جائے تو پھر ایک اینٹ کو پورا مکان کہنا بھی درست ہوگا ، اور کھانے کے بیس اجزاء میں سے ایک جزو نمک ہے تو نمک کو کھانا کہنا بھی روا ہوگا ، نمک کو پلاؤ اور پلاؤ کو نمک کہا جائے تو کوئی غلطی نہ ہوگی ، اور پھر تو شاید ایک دھاگہ کو کپڑا کہنا بھی جائز ہوگا اور ایک انگلی کے ناخن کو انسان اور

صفحہ ٧٩

زومبشرات باقی ہے یعنی جو سچے خواب مسلمان دیکھتے ہیں یہ ایک جزو ہے جس کی تشریح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں ہے نبوت کا چھیالیسواں جزو ہے۔“

شادات نبویہﷺ کے ان بینات کے بعد بھی بجائے اس کے جاتا، اور وہ ایک متنبئی کاذب کو چھوڑ کر سید الانبیاءﷺ کی نبوت ن کی جسارت اور تحریف میں دلیری اور بڑھتی جاتی ہے۔ ۔ کل متکبر جبار۔ نبوت کے انقطاع پر یہ صاف ارشاد ہوتا ہے اور ادھر قادیانی کہ اس سے بقا نبوت ثابت ہو گیا۔ ان ھذا لشیء عجاب ۔ ں بتلایا گیا ہے کہ نبوت کا ایک جزو باقی ہے جس سے نفس کہ پانی کا ایک قطرہ بھی باقی ہو تو اس کو پانی کہا جاسکتا ہے، اسی ہونا خود نبوت کا باقی ہونا ہے۔ اہل دانش فیصلہ کریں کہ اس ایک مدعی نبوت کی طرف سے کہا جارہا ہے جس کو جزو اور کل کا شے کے ایک جزو موجود ہونے کو کل کا موجود ہونا سمجھتے ہیں ز کے ایک جزو مثلاً اللہ اکبر کو پوری نماز اور وضو کے ایک جزو ائے، اسی طرح ایک لفظ اللہ کو پوری اذان اور ایک منٹ کے ہم کہتے ہیں کہ اگر قادیانی نبوت کی یہی برکات ہیں کہ کسی کا وجود قرار دیا جائے اور جزو پر کل کا اطلاق درست ہو جائے ہونا بھی درست ہوگا، اور کھانے کے بیس اجزاء میں سے ایک بھی روا ہو گا، نمک کو پلاؤ اور پلاؤ کو نمک کہا جائے تو کوئی غلطی کہ کو کپڑا کہنا بھی جائز ہوگا اور ایک انگلی کے ناخن کو انسان اور

ایک رسی کو چارپائی بھی کہا جائے اور ایک میخ کو کواڑ بھی۔ کیا خوب! نبوت ہو تو ایسی ہو کہ تمام بدیہیات ہی کو بدل ڈالے۔ پس اگر ایک اینٹ کو مکان اور نمک کو پلاؤ اور ایک دھاگہ کو کپڑا اور ایک رسی کو چارپائی اور ایک میخ کو کواڑ نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے چھیالیسویں جزو کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے۔ رہی پانی کی مثال کہ اس کا ایک قطرہ بھی پانی ہی کہلاتا ہے اور پورا سمندر بھی پانی کہلاتا ہے سو یہ ایک جدید مرزائی فلسفہ ہے کہ عقلمندوں نے پانی کے ایک قطرہ کو پانی کا ایک جزو سمجھ رکھا ہے، حالانکہ پانی کا ایک قطرہ بھی ایسا ہی مکمل پانی ہے جیسے ایک دریا۔ جو شخص علم کی ابجد سے بھی واقف ہے وہ جانتا ہے کہ پانی کے ہر قطرہ میں اجزائے مائیہ پورے پورے موجود ہیں، فرق اتنا ہے کہ سمندر میں پانی کے اجزاء زیادہ ہیں اور قطرہ میں کم مقدار میں موجود ہیں، مگر اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک قطرہ میں پانی کے دونوں اجزاء جن کا جدید فلسفہ ہائیڈروجن اور آکسیجن نام رکھتا ہے موجود ہیں، اس لئے پانی کے قطرات کو پانی کے اجزاء نہیں کہا جاسکتا بلکہ پانی کے اجزاء وہی ہائیڈروجن اور آکسیجن ہیں، تو جس طرح تنہا ہائیڈروجن کو بھی پانی کہنا غلط ہے اور تنہا آکسیجن کو بھی پانی کہنا غلط ہے، اسی طرح نبوت کے کسی جزو کو نبوت کہنا بھی غلطی ہے، یہ محض لچر اور ناقابل ذکر بات ہے کہ نبوت کا ایک جزو باقی ہونے سے نبوت کا بقا ثابت کر ڈالا۔

(تلخیص از ختم نبوت کامل)

سوال: ٧:....... مرزائی اجزائے نبوت پر جن آیات مبارکہ اور احادیث میں تحریف کرتے ہیں ان میں سے تین کو ذکر کرکے ان کا شافی جواب لکھیں؟

جواب:....... مرزائیوں سے ختم نبوت و اجزائے نبوت پر بحث کرنا اصولی طور پر غلط ہے اس لئے کہ ہمارے اور قادیانیوں کے درمیان ختم نبوت و اجزائے نبوت کا مسئلہ مابہ النزاع ہی نہیں۔ مسلمان بھی نبوت کو ختم مانتے ہیں، قادیانی بھی۔ اہل اسلام کے نزدیک رحمت دو عالمﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا، مرزائیوں کے نزدیک مرزا

صفحہ ٨٠

غلام احمد قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔

اب فرق واضح ہو گیا کہ مسلمان رحمت دو عالم ﷺ پر نبوت کو بند مانتے ہیں، قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی پر، اس وضاحت کے بعد اب قادیانیوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سارے قرآن وحدیث سے ایک آیت یا ایک حدیث پڑھیں، جس میں لکھا ہوا ہو کہ نبوت رحمت دو عالم ﷺ پر ختم نہیں بلکہ حضورﷺ کے بعد چودہ سو سال میں ایک مرزا صاحب نبی بنے ہیں، اور مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں بنے گا، قیامت تک تمام زندہ مردہ قادیانی اکٹھے ہو کر ایک آیت اور ایک حدیث اس سلسلہ میں نہیں دکھا سکتے۔

مرزا کہتا ہے:

تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ص ٤٠٦، ج ٢٢)

لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے، کیونکہ نبوت پر مہر ہے ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا، اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١ روحانی خزائن ص ٢١٥ ج ١٨)

ہیں۔...... پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص ١٤٨ از مرزا محمود قادیانی)

کیا، مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے

صفحہ ٨١

آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے جو مجھے چھوڑتا ہے، کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٥٦، روحانی خزائن ص ٦١ ج ١٩)

٥:....... ”فاراد الله ان يتم البناء و يكمل البناء باللبنة الاخيرة فانا تلك اللبنة۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١١٢ خزائن ص ١٧٨ ج ١٦)

”پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشنگوئی کو پورا اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“

٦:....... ”امت محمدیہ ﷺ میں سے ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آ سکتے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپ ﷺ نے دی ہے، بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ماہ مارچ ١٩١٤ء)

ان اقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو آخری نبی قرار دیتا ہے، گویا مرزا قادیانی خاتم النبیین ہے۔ معاذ اللہ۔

قادیانی تحریفات:

آیت نمبر ١:....... ”يٰبَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ“

قادیانی کہتے ہیں کہ:

”يٰبَنِىْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيَاتِىْ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔“

(اعراف: ٣٥)

صفحہ ٨٢

یہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی۔ لہذا اس میں حضور ﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے۔ آپؐ کے بعد بنی آدم کو خطاب ہے۔ لہذا جب تک بنی آدم دنیا میں موجود ہیں، اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔

ہے۔ اور اول ”یا بنی آدم“ کا تعلق ”اهبطوا بعضكم لبعض عدو“ سے ہے۔ ”اهبطوا“ کے مخاطب سیدنا آدم علیہ السلام وسیدہ حوا علیہا السلام ہیں۔ لہذا اس آیت میں بھی آدم علیہ السلام کے وقت کی اولاد آدم کو مخاطب بنایا گیا ہے۔ پھر زیر بحث آیت نمبر ٣٥ ہے۔ آیت نمبر ١٠ سے سیدنا آدم علیہ السلام کا ذکر شروع ہے۔ اس تسلسل کے تناظر میں دیکھا جائے تو حقیقت میں یہ خطاب اولین اولاد آدم علیہ السلام کو ہے۔ اس پر قرینہ اس کا سباق ہے۔ تسلسل اور سباق آیات کی صراحتاً دلالت موجود ہے کہ یہاں پر حکایت حال ماضیہ کے طور پر اس کو ذکر کیا گیا ہے۔

اجابت کو ”یا ایها الذین آمنوا“ سے مخاطب کیا جاتا ہے، اور آپؐ کی امت دعوت کو ”یا ایها الناس“ سے خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں بھی آپؐ کی امت کو ”یا بنی آدم“ سے خطاب نہیں کیا گیا، یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت بالا میں حکایت ہے حال ماضیہ کی۔

ضروری وضاحت:

ہاں البتہ ”یا بنی آدم“ کی عمومیت کے حکم میں آپؐ کی امت کے لئے وہی سابقہ احکام ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ منسوخ نہ ہوگئے ہوں، اگر وہ منسوخ ہوگئے یا کوئی ایسا حکم جو آپؐ کی امت کو اس عمومیت میں شمول سے مانع ہو تو پھر آپؐ کی امت کا اس عموم سے سابقہ نہ ہوگا۔

صفحہ ٨٣

عیسائی، یہودی، سکھ سبھی شامل ہیں۔ کیا ان میں سے نبی پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ان کو اس آیت کے عموم سے کیوں خارج کیا جاتا ہے، ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات و واقعات وقرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔ پھر بنی آدم میں تو عورتیں، ہیجڑے بھی شامل ہیں، تو کیا اس عموم سے ان کو خارج نہ کیا جائے گا؟ اگر یہ کہا جائے کہ عورتیں وغیرہ تو پہلے نبی نہ تھیں اس لئے وہ اب نہیں بن سکتیں تو پھر ہم عرض کریں گے کہ پہلے رسول مستقل آتے تھے، اب تم نے رسالت کو اطاعت سے وابستہ کر دیا ہے تو اس میں ہیجڑے وعورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک عورتیں و ہیجڑے بھی نبی ہونے چاہئیں۔

جواب ٤:...... اگر ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل“ سے رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو ”اما یاتینکم منی ھدی“ میں وہی ”یاتینکم“ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نئی شریعت بھی آ سکتی ہے، تو مرزائیوں کے عقیدہ کے خلاف ہوا، کیونکہ ان کے نزدیک تو اب تشریعی نبی نہیں آسکتا۔

جواب ٥:.......

اور ہر مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں، جیسا کہ فرمایا: ”فاما ترین من البشر احدا“ (مریم: ٢٦)۔ کیا حضرت مریم قیامت تک زندہ رہیں گی اور کسی بشر کو دیکھتی رہیں گی؟ مضارع اگر چہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے، مگر استمرار کے لئے قیامت تک رہنا ضروری نہیں، جو فعل دو چار دفعہ پایا جائے اس کے لئے مضارع استمرار سے تعبیر کرنا جائز ہے۔ اس کی ایک مثال یہی آیت ”اما ترین من البشر“ ہے جو اوپر گزر چکی۔

(مائده: ٤٤)

ظاہر ہے کہ تورات کے موافق حکم کرنے والے گزر چکے، آپ کی بعثت کے بعد کسی کو حتی کہ صاحب تورات کو بھی حق حاصل نہیں اس کی تبلیغ کا۔

صفحہ ٨٦

٣:....... ”واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ“ (انعام: ١٩) چنانچہ حضورﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے مگر اب بلاواسطہ آپ کی انذار و تبشیر مسدود ہے۔ ٤:....... ”و سخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر“ (الانبیا: ٧٩) تسبیح داؤد کی زندگی تک ہی رہی پھر مسدود ہوگئی مگر ہر جگہ صیغہ مضارع کا ہے۔ جواب:٦:....... (١).......اما یاتینکم منی ھدی۔ (بقرہ٣٨)۔ (٢).......واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین (انعام:٦٨)۔ (٣).......فاما تثقفنہم فی الحرب فشرد بہم من خلفہم لعلہم یذکرون (انفال: ٥٧)۔ (٤)....... واما نرینک بعض الذی نعدہم او نتوفینک فالینا مرجعہم (یونس: ٤٦)۔ (٥).......اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما (بنی اسرائیل:٢٣)۔ (٦).......فاما ترین من البشر احدا فقولی انی نذرت للرحمٰن صوما (مریم:٢٦)۔ (٧).......اما ترینی مابوعدون رب فلا تجعلنی فی القوم الظالمین (مومنون:٩٣)۔ (٨).......و اما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ (اعراف:٢٠٠)۔ (٩).......فاما نذھبن بک فانا منہم منتقمون (زخرف:٤١)۔ ان تمام آیات میں نون ثقیلہ مضارع ہونے کے باوجود قادیانیوں کو بھی تسلیم ہے کہ ان آیات میں استمرار نہیں، بلکہ حکایت حال ماضی کا بیان ہے۔ جواب:٧:....... درمنثور ج ٣ ص ٨٢ میں زیر بحث آیت ہذا لکھا ہے: ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم الآیۃ اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی فقال ان الله تبارك و تعالیٰ جعل آدم و ذریتہ فی کفہ فقال یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون

علیکم آیاتی، ثم الطیبات واعملوا صا ”ابی یسار سلمی ۔ علیہ السلام اور ان کی جما فرمایا: ”یا بنی آدم ا (رحمت) رسولوں پر ڈا غرض یہ کہ عالم ارواح ۔ جواب:٨:....... بالفرض لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قا بقول خود آدم کی اولاد ہی نہیں، ا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے، ملاء

کرم خاکی
ہوں بشر آ

آیت٢: من یطع الله وا ”ومن ی علیہم من النبی اولئک رفیقا۔“ قادیانی کہتے ہیں کہ صدیق ہوں گے، شہید ہوں ہے، اگر انسان صدیق، شہید ماننا ایک کو بند ماننا تحریف نہیں

صفحہ ٨٥

علیکم آیاتی، ثم نظر الی الرسل فقال یا ایها الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا۔“

”ابی یعمر سلمی سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی جملہ اولاد کو (اپنی قدرت و رحمت کی )مٹھی میں لیا اور فرمایا: ”یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم ...... الخ“ پھر نظر (رحمت ) رسولوں پر ڈالی تو ان کو فرمایا کہ: ”یا ایها الرسل ...... الخ“ غرض یہ کہ عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔“

جواب: ٨: ...... بالفرض والتقدیر اگر اس آیت کو اجرائے نبوت کا مستدل مان بھی لیا جائے تب بھی مرزا غلام احمد قادیانی قیامت کی صبح تک نبی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ وہ بقولِ خود آدم کی اولاد ہی نہیں ، اور یہ آیت تو صرف بنی آدم سے متعلق ہے، مرزا نے خود اپنا تعارف بایں الفاظ کرایا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن ص ١٢٧ ج ٢١)

آیت ٢: من یطع الله والرسول:

”ومن يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا۔“

(نساء : ٦٩)

قادیانی کہتے ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں وہ نبی ہوں گے، صدیق ہوں گے، شہید ہوں گے، صالح ہوں گے، اس آیت میں چار درجات کے ملنے کا ذکر ہے، اگر انسان صدیق، شہید، صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟ تین درجوں کو جاری ماننا ایک کو بند ماننا تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر صرف معیت مراد ہو تو کیا حضرت صدیق اکبرؓ،

صفحہ ٨٦

حضرت فاروق اعظمؓ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے، خود صدیق اور شہید نہ تھے؟

جواب:١:...... آیت مبارکہ میں درجات ملنے کا ذکر نہیں بلکہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمدﷺ کی اطاعت کرے وہ آخرت میں انبیا، صدیقوں ،شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوگا، جیسا کہ آیت کے آخری الفاظ ”حسن اولئك رفيقا“ ظاہر کرتے ہیں۔

جواب:٢:...... یہاں معیت ہے عینیت نہیں ہے۔ معیت فی الدنیا ہر مومن کو حاصل نہیں اس لئے اس سے مراد معیت فی الآخرۃ ہی ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے مسلمہ دسویں صدی کے مجدد امام جلال الدینؒ نے اپنی تفسیر جلالین شریف میں اس آیت کا شان نزول لکھا ہے:

”قال بعض الصحابة للنبي ﷺ كيف نراك في الجنة وانت في الدرجات العلى، ونحن اسفل منك فنزل ومن يطع الله والرسول ...... وحسن اولئك رفيقا، رفقاء في الجنة بان يستمتع فيها برؤيتهم وزيارتهم والحضور معهم وان كان مقرهم في درجات عالية بالنسبة الى غيرهم۔“

(جلالین ص ٨٠)

”بعض صحابہ کرامؓ نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ آپؐ جنت کے بلند و بالا مقامات پر ہوں گے اور ہم جنت کے نچلے درجات پر ہوں گے، تو آپؐ کی زیارت کیسے ہوگی؟ پس یہ آیت نازل ہوئی ’ومن يطع الله والرسول ...... الخ“ (آگے فرماتے ہیں) یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی زیارت و حاضری سے فیضیاب ہوں گے، اگرچہ ان (انبیاء) کا ٹھکانہ دوسروں کی نسبت بلند مقام پر ہوگا۔“

اسی طرح تفسیر کبیر ص ١٧٠ ج ١٠ میں ہے:

”من يطع الله والرسول ذكروا في سبب النزول وجوها۔ الاول روى جمع من المفسرين ان ثوبان مولى رسول الله ﷺ

صفحہ ٨٧

كان شديد الحب لرسول الله ﷺ قليل الصبر عنه فاتاه يوما وقد تغير وجهه ونحل جسمه وعرف الحزن فى وجهه فساله رسول الله ﷺ عن حاله فقال يا رسول الله ما بى وجع غير انى اذا لم ارك اشتقت اليك واستوحشت وحشة شديدة حتى القاك فذكرت الاخرة فخفت ان لا اراك هناك لانى ان ادخلت الجنة فانت تكون فى درجات النبيين وانا فى درجة العبيد فلا اراك وان انا لم ادخل الجنة فحينئذ لا اراك ابدا فنزلت هذه الاية۔“

ترجمہ: ”من يطع الله ...... الخ“ (اس آیت) کے شان نزول کے کئی اسباب مفسرین نے ذکر کئے ہیں۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ حضرت ثوبانؓ جو آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، وہ آپ کے بہت زیادہ شیدائی تھے (جدائی پر) صبر نہ کر سکتے تھے، ایک دن غمگین صورت بنائے آنحضرت ﷺ کے پاس آئے، ان کے چہرہ پر حزن و ملال کے اثرات تھے، آپ نے وجہ دریافت فرمائی، تو انہوں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں، بس اتنا ہے کہ آپ کو نہ دیکھوں تو اشتیاق ملاقات میں بے قراری بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ آپ کی زیارت ہو تو مجھے آخرت کا خیال آ کر یہ خوف لاحق ہے کہ وہاں میں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا چونکہ مجھے جنت میں داخلہ ملا بھی تو آپ تو انبیاء کے درجات میں بلند ترین مقام پر فائز ہوں گے، اور ہم آپ کے غلاموں کے درجہ میں، اور اگر جنت میں سرے سے میرا داخلہ ہی نہ ہوا تو پھر ہمیشہ کے لئے ملاقات سے گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔“

معلوم ہوا کہ اس معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ ابن کثیر، تنویر المقباس، روح البیان میں بھی تقریباً یہی مضمون ہے:

حدیث: ...... ”قال رسول الله ﷺ التاجر الصدوق الامين

صفحہ ٨٨

مع النبیین والصدیقین والشہداء ۔"

(منتخب کنز العمال ج ٤ ص ٧ حدیث ٩٢١٧

ابن کثیر ص ٥٢٣ ج ١ طبع مصر)

ترجمہ : "آپؐ نے فرمایا کہ سچا تاجر امانت دار (قیامت کے دن) نبیوں صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔"

اگر معیت سے درجہ ملنا ثابت ہے تو مرزا جی بتائیں کہ اس زمانہ میں کتنے امین و صادق تاجر نبی ہوئے ہیں؟

"عن عائشۃ قالت سمعت رسول الله ﷺ یقول ما من نبی یمرض الا خیر بین الدنیا والآخرۃ و كان فی شکواہ الذی قبض اخذتہ بحۃ شدیدۃ فسمعتہ یقول مع الذین انعمت علیہم من النبیین ...... فعلمت انہ خیر۔"

(مشکوٰۃ ص ٥٤٧ ج ٢، ابن کثیر ص ٥٢٢ ج ١)

ترجمہ : "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپؐ سے سنا آپؐ فرماتے تھے کہ ہر نبی ، مرض (وفات) میں اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا عالم آخرت میں ، جس مرض میں آپؐ کی وفات ہوئی آپؐ کو شدید کھانسی ہوئی آپؐ اس مرض میں فرماتے تھے : "مع الذین انعمت علیہم من النبیین" اس سے میں سمجھ گئی کہ آپؐ کو بھی دنیا و آخرت میں سے ایک کا اختیار دیا جا رہا ہے۔"

معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبی بننے کا ذکر نہیں کیونکہ نبی تو پہلے بن چکے تھے آپؐ کی تمنا آخرت کی معیت کے متعلق تھی۔

درجات کے ملنے کا تذکرہ:

قرآن کریم میں جہاں دنیا میں ایمان والوں کو درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے، اگرچہ باقی تمام درجات کا ملنا مذکور ہے، مثلاً :

صفحہ ٨٩

والشهداء عندربهم۔“

(الحدید: ١٩)

ترجمہ: ”اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس۔“

الصالحين۔“

(عنکبوت: ٩)

ترجمہ: ”اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔“

هم الصادقون۔“

ان آیات میں صدیق، صالح وغیرہ درجات ملنے کا ذکر ہے، مگر نبوت کا ذکر نہیں۔ غرض جہاں درجات حاصل کرنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں۔ جہاں نبوت کا ذکر ہے وہاں درجات ملنے کا ذکر نہیں بلکہ صرف معیت مراد ہے۔

اطاعت اور پیروی کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اور اگر کسی نے بھی اطاعت و پیروی نہیں کی تو آپ کی امت خیر امت نہ ہوئی بلکہ شر امت ہوگی، نعوذ باللہ، جس میں کسی نے بھی اپنے نبی کی کامل پیروی نہ کی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ میں صحابہ کرامؓ کے متعلق خود شہادت دے دی ہے کہ: ”يطيعون الله و رسوله“ (سورۃ توبہ: ٧١) یعنی رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرتے ہیں۔ بتاؤ وہ نبی کیوں نہ ہوئے؟ اس لئے کہ اگر اطاعت کاملہ کا نتیجہ نبوت ہے تو اکابر صحابہ کرامؓ کو یہ منصب ضرور حاصل ہوتا جنہیں ”رضی الله عنهم ورضوا عنه“ کا خطاب ملا اور یہی رضائے الٰہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”رضوان من الله اكبر۔“ (توبہ: ٧٢)

صفحہ ٩٠

رسول ﷺ کی اطاعت میں نبوت ملتی ہے تو اس آیت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ تم غیر تشریعی کی تخصیص کیوں کرتے ہو؟ اگر اس آیت میں نبوت ملنے کا ذکر ہے تو آیت میں النبیین ہے المرسلین نہیں، اور نبی غیر تشریعی اور رسول تشریعی کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ نبی ورسول کے فرق سے واضح ہے، تو اس لحاظ سے پھر تشریعی نبی آنے چاہئیں، یہ تو تمہارے عقیدہ کے بھی خلاف ہوا، مرزا کہتا ہے:

”اب میں بموجب آیت کریمہ: ”و اما بنعمت ربک فحدث“ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٦٧ روحانی خزائن ص٧٠ ج ٢٢)

اس حوالہ سے تو ثابت ہوا کہ مرزا کو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نہیں بلکہ وہبی طور پر نبوت ملی۔ تو پھر اس آیت سے مرزائیوں کا استدلال باطل ہوا۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ نبوت وہبی چیز ہے جو اسے کسبی مانے وہ کافر ہے۔

نبوت وہبی چیز ہے:

”فان قلت فهل النبوة مكتسبة او موهوبة فالجواب ليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالنسك و الرياضات كما ظنه جماعة من الحمقاء....... و قد افتى المالكية و غيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة۔“

(الیواقیت والجواہر ص١٦٤، ١٦٥ ج١)

ترجمہ :”کہ کیا نبوت کسبی ہے یا وہبی؟ تو اس کا جواب ہے کہ

صفحہ ٩١

نبوت کسبی نہیں ہے کہ درویشی اختیار کرنے یا محنت و کاوش سے اس تک پہنچا جائے جیسا کہ بعض احمقوں (مثلاً قادیانی فرقہ ...... از مترجم) کا خیال ہے، مالکیہ وغیرہ نے کسبی کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔“

"من ادعى نبوة احد مع نبينا ﷺ او بعده ...... او من ادعى النبوة لنفسه او جواز اكتسابها، و البلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها الخ و كذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة ...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي ﷺ لانه اخبر ﷺ انه خاتم النبيين لانبى بعده۔“

(شفا، ص ٢٤٦‘ ٢٤٧ ج ٢)

ترجمہ: ”ہمارے نبی ﷺ کی موجودگی یا آپ ﷺ کے بعد جو کوئی کسی نبوت کا قائل ہو یا اس نے خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا، یا پھر دل کی صفائی کی بنا پر اپنے کسب کے ذریعہ نبوت کے حصول کے جواز کا قائل ہوا، یا پھر اپنے پر وحی کے اترنے کو کہا، اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا، تو یہ سب قسم کے لوگ نبی ﷺ کے دعویٰ ...... ”انا خاتم النبیین“ ...... کی تکذیب کرنے والے ہوئے اور کافر ٹھہرے۔“

ان دونوں روشن حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ نبوت کے کسبی ہونے کا عقیدہ رکھنا اپنے اندر تکذیبِ خدا اور رسول کا عنصر رکھتا ہے، اور ایسے عقیدہ کا رکھنے والا مالکیہ و دیگر علماء کے نزدیک قابل گردن زدنی اور کافر ہے۔

جواب ٦:...... اگر نبوت ملنے کے لئے اطاعت و تابعداری شرط ہے تو غلام احمد قادیانی پھر بھی نبی نہیں ہے، کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کی کامل تابعداری نہیں کی جیسے: (١) مرزا نے حج نہیں کیا، (٢) مرزا نے ہجرت نہیں کی، (٣) مرزا نے جہاد بالسیف نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو حرام کہا، (٤) مرزا نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے، (٥) ہندوستان کے قبضہ

صفحہ ٩٢

خانوں میں زنا ہوتا رہا مگر مرزا غلام احمد نے کسی زانیہ یا زانی کو سنگسار نہیں کرایا، (٦) ہندوستان میں چوریاں ہوا کرتی تھیں مگر مرزاجی نے کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔

جواب: ٧...... نیز مع کا معنیٰ ساتھ کے ہیں، جیسے:”ان الله معنا، ان الله مع المتقين، ان الله مع الذين اتقوا، محمد رسول الله والذين معه، ان الله مع الصابرين“ نیز اگر نبی کی معیت سے نبی ہوسکتا ہے تو خدا کی معیت سے خدا بھی ہوسکتا ہے؟ العیاذ باللہ۔

جواب: ٨...... یہ دلیل قرآن کریم کی آیت سے ماخوذ ہے، اس لئے مرزائی اپنے استدلال کی تائید میں کسی مفسر یا مجدد کا قول پیش کریں، بغیر اس تائید کے ان کا استدلال مردود اور من گھڑت ہے، اس لئے کہ مرزا نے لکھا ہے:

”جو شخص ان (مجددین) کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٢٨،خزائن ص ٣٢٤ ج ٦)

جواب: ٩...... اگر مرزائیوں کے بقول اطاعت سے نبوت وغیرہ درجات حاصل ہوتے ہیں، تو ہمارا یہ سوال ہوگا کہ یہ درجے حقیقی ہیں یا ظلی و بروزی؟ اگر نبوت کا ظلی بروزی درجہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے تو صدیق، شہید اور صالح بھی ظلی و بروزی ہونے چاہئیں، حالانکہ ان کے بارے میں کوئی ظلی و بروزی ہونے کا قائل نہیں، اور اگر صدیق وغیرہ میں حقیقی درجہ ہے تو پھر نبوت بھی حقیقی ہی ماننا چاہئے۔ حالانکہ تشریعی اور مستقل نبوت کا ملنا خود مرزائیوں کو بھی تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے یہ دلیل مرزائیوں کے دعویٰ کے مطابق نہ ہوگی۔

آیت:٣...... و آخرين منهم لما يلحقوابهم:

قادیانی کہتے ہیں کہ طائفہ قادیانیہ چونکہ ختم نبوت کا منکر ہے، اس لئے قرآن مجید کی تحریف کرتے ہوئے آیت:”هو الذى بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين واخرين منهم لما يلحقوابهم“ (جمعہ: ٢،٣) کو بھی ختم نبوت کی نفی کے لئے پیش کر دیا کرتے ہیں۔

صفحہ ٩٣

طریق استدلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جیسے امیین میں ایک رسول عربی ﷺ مبعوث ہوئے تھے اس طرح بعد کے لوگوں میں بھی ایک نبی قادیان میں پیدا ہوگا۔ معاذ اللہ۔

”و آخرين منهم عطف على الاميين او المنصوب فی يعلمهم وهم الذين جاؤا بعد الصحابة الى يوم الدين فان دعوته وتعليمه يعم الجميع۔“

”آخرین کا عطف امیین یا یعلمھم کی ضمیر پر ہے، اور اس لفظ کے زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت صحابہؓ اور ان کے بعد قیامت کی صبح تک کے لئے عام ہے۔“

بعدی“ صرف موجودین کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت اور ہمیشہ کے لئے ہادی ﷺ برحق ہوں۔

خلیل کا جواب ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تکمیل پر دعا فرمائی تھی:

”ربنا وابعث فیهم رسولا منهم یتلوا علیهم آیاتک ویعلمهم الکتاب والحکمة ویزکیھم۔“

(بقرہ:١٢٩)

زیر بحث آیت میں اس دعا کی اجابت کا ذکر ہے کہ دعائے خلیل کے نتیجہ میں وہ رسول معظم ان امیوں میں مبعوث ہوئے لیکن صرف انہیں کے لئے نہیں بلکہ جمیع انسانیت کے لئے جو موجود ہیں ان کے لئے بھی جو ابھی موجود نہیں لیکن آئیں گے قیامت تک، سبھی کے لئے آپ ﷺ ہادی برحق ہیں، جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”یا ایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا“ (اعراف:١٥٨) یا آپ ﷺ کا فرمانا: ”ارسلت الی الخلق کافة“

صفحہ ٩٤

لہٰذا مرزا قادیانی دجال قادیان اور اس کے چیلوں کا اس کو حضورﷺ کی دو بعثتیں قرار دینا یا نئے رسول کے مبعوث ہونے کی دلیل بنانا سراسر دجالیت ہے، پس آیت کریمہ کی رو سے مبعوث واحد ہے اور مبعوث ”الیہم“ موجود و غائب سب کے لئے بعثت عامہ ہے۔

جواب ٤:....... رسولاً پر عطف کرنا صحیح نہیں ہوسکتا، کیونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے۔ چونکہ رسولاً معطوف علیہ ہے فی الامیین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت و آخرین منہم میں بھی کرنی پڑے گی۔ پھر اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ امیین میں اور رسول بھی آئیں گے، کیونکہ امیین سے مراد عرب ہیں، جیسا کہ صاحب بیضاوی نے لکھا ہے: ”فی الامیین ای فی العرب لان اکثرہم لا یکتبون ولا یقرؤن“ اور لفظ منہم کا بھی یہی تقاضا ہے جب کہ مرزا عرب نہیں تو مرزائیوں کے لئے سوائے دجل و کذب میں اضافہ کے استدلال باطل سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔

جواب ٥:....... قرآن مجید کی اس آیت میں بعث کا لفظ ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولاً پر عطف کریں تو پھر بعث مضارع کے معنوں میں لینا پڑے گا۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔

جواب ٦:....... اب آئیے دیکھئے کہ مفسرین حضرات جو (قادیانی دجال سے قبل کے زمانہ کے ہیں) اس آیت کی تفسیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:

”قال المفسرون ہم الاعاجم یعنون بہم غیر العرب ای طائفہ کانت قالہ ابن عباس وجماعۃ وقال مقاتل یعنی التابعین من ہذہ الامۃ الذین لم یلحقوا باوائلہم وفی الجملہ معنی جمیع الاقوال فیہ کل من دخل فی الاسلام بعد النبیﷺ الی یوم القیامۃ فالمراد بالامیین العرب وبالآخرین سواہم من الامم۔“

(تفسیر کبیر ص ٤ جزء ٣٠ مطبع مصر)

صفحہ ٩٥

(یعنی آپﷺ عرب و عجم کے لئے معلم و مربی ہیں) مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد عجمی ہیں۔ عرب کے ماسواء کوئی طبقہ ہو یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں۔ سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں، اور آخرین سے سوائے عرب کے سب قومیں جو حضورﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے وہ سب مراد ہیں۔“

”وهم الذين جاؤا بعد الصحابة الى يوم الدين ۔“

(تفسیر ابوسعود ج ٤ جز ٢٨ ص ٢٢٧)

”آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہؓ کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ (ان سب کے لئے حضورﷺ ہی نبی ہیں ۔)“

”هم الذين يأتون من بعدهم الى يوم القيامة ۔“

(کشاف ص ٥٣٠ ج ٣)

جواب : ٧ :....... بخاری شریف ص ٧٢٧ ج ٢، مسلم شریف ص ٣١٢ ج ٢، ترمذی شریف ص ٢٣٢ ج ٢ ، مشکوٰۃ شریف ص ٥٧٦ پر ہے:

”عن ابی هريرة قال کنا جلوسا عند النبی فانزلت سورة الجمعة و آخرین منهم لما یلحقوا بهم قال قلت من هم یا رسول اللہ فلم یراجعه حتی سال ثلثا وفینا سلمان الفارسی وضع رسول اللہ ﷺ یده علی سلمان ثم قال لو کان الایمان عند الثریا لناله رجال او رجل من هؤلاء ۔“

ترجمہ : ” حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ہم نبیﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپﷺ پر سورۂ جمعہ نازل ہوئی۔ و آخرین منهم لما يلحقوا بهم تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں؟ آپﷺ نے خاموشی فرمائی حتیٰ کہ تیسری بار سوال عرض کرنے پر آپﷺ نے ہم

PDF 96

میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو یہ لوگ (اہلِ فارس) اس کو پا لیتے‘ رجال یا رجل کے لفظ میں راوی کو شک ہے مگر اگلی روایت میں رجال کو متعین کر دیا۔‘‘

یعنی عجم یا فارس کی ایک جماعت کثیرہ جو ایمان کو تقویت دے گی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی۔ عجم وفارس میں بڑے بڑے محدثین، علما، مشائخ ، فقہاء، مفسرین، مقتداً ، مجددین وصوفیاء اسلام کے لئے باعث تقویت بنے۔ آخرین منھم لما یلحقوا بھم سے وہ مراد ہیں۔ ابو ہریرہؓ سے لے کر ابو حنیفہؒ تک سبھی اسی رسول ہاشمی ﷺ کے در اقدس کے دریوزہ گر ہیں۔ حاضر وغائب، اولین وآخرین سب ہی کے لئے آپ ﷺ کا در اقدس وا ہے، آئے جس کا جی چاہے۔ اس حدیث نے متعین کر دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت عامہ وتامہ وکافہ ہے۔ موجود وغائب عرب وعجم سب ہی کے لئے آپ ﷺ معلم ومزکی ہیں۔ اب فرمائیے کہ آپ ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر مبارک ہے یا کسی اور نئے نبی کے آنے کی بشارت؟ ایسا خیال کرنا باطل وبے دلیل دعویٰ ہے۔

آیت ٤: وبالاٰخرۃ ھم یوقنون:

قادیانی اجرائے نبوت کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ : ”وبالاٰخرۃ ھم یوقنون۔“ (بقرہ:٤) (یعنی وہ پچھلی وحی پر ایمان لاتے ہیں)

جواب: ١: ...... اس جگہ آخرت سے مراد قیامت ہے، جیسا کہ دوسری جگہ صراحتاً فرمایا گیا: ”وان الدار الاٰخرۃ لھی الحیوان“ (عنکبوت: ٦٤) آخری زندگی ہی اصل زندگی ہے: ”خسر الدنیا والاٰخرۃ “ (حج: ١١) دنیا وآخرت میں خائب وخاسر: ”و لاجر الاٰخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون “ (النحل: ٤١) الحاصل قرآن مجید میں لفظ آخرۃ پچاس سے زائد مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ مراد جزا اور سزا کا دن ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے تفسیر ابن جریر ص ١٠٦ جلد ١، درمنثور کی جلد اول ص ٢٧ پر ہے: ”عن ابن عباس (وبالاٰخرۃ )ای بالبعث والقیامۃ والجنۃ والنار والحساب والمیزان ۔“ غرض جہاں کہیں قرآن مجید میں

آخرت کا لفظ آیا ہے اس سے قیامت کا دن

جواب: ٢: ...... مرزا قادیانی کہتا

”طالب نجات وہ ہے گیا ہے ایمان لائے .....” و بال

جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیام (الحکم نمبر ٤٤، ٤٥ ج ٨، ١٠ /اکتوبر ١٩٠٤

اسی طرح دیکھو الحکم نمبر ٢ ج ١٠،

قادیانی نے : ” و بالاٰخرۃ ھم یوقنون ‘ ، اور پھر لکھتا ہے: ”قیامت پر یقین رکھتا ہ

تفسیر از حکیم نورالدین خلیفہ

”اور آخرت کی گھڑی (ضمی

لہٰذا مرزائیوں کا: ”وبالاٰخرۃ زندقہ ہے، وہاں قادیانی اکابر کی تصریح

جواب: ٣: ...... قادیانی علم و بھی محض جاہل تھا۔ اسے بھی تذکیر وت ہے کہ الاٰخرۃ تو مؤنث ہے، جبکہ لفظ قرآن مجید میں ہے: ”ان الدار الاٰخ ہے۔ اس لئے لھی کی مونث ضمیر آ چاہئے، تو پھر کوئی سرپھرا ہی الاٰخرۃ کو

آیت ٥: وجعلنا فی ذریتہ ال

قادیانی کہتے ہیں کہ: ”وجـ

صفحہ ٩٧

آخرت کا لفظ آیا ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے نہ کہ پچھلی وحی۔

جواب ٢: ...... مرزا قادیانی کہتا ہے: ”طالب نجات وہ ہے جو خاتم النبیین پیغمبر آخرالزماں پر جو کچھ اتارا گیا ہے ایمان لائے....... ”و بالآخرة ہم یوقنون “ اور طالب نجات وہ ہے جو پچھلی آنے والی گھڑی یعنی قیامت پر یقین رکھے اور جزا اور سزا مانتا ہو“۔

(الحکم نمبر ٣٤، ٣٥ ج ٨، ١٠/ اکتوبر ١٩٠٤ء دیکھو خزینۃ العرفان ص ٧٨ ج ١، از مرزا قادیانی)

اسی طرح دیکھو الحکم نمبر ٢ ج ١٠، ١٧ جنوری ١٩٠٦ء ص ٥ کالم نمبر ٢، ٣۔ اس میں مرزا قادیانی نے: ”و بالآخرة ہم یوقنون “ کا ترجمہ: ”اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں، کیا ہے ، اور پھر لکھتا ہے: ”قیامت پر یقین رکھتا ہوں ۔“

تفسیر از حکیم نور الدین خلیفہ قادیان: ”اور آخرت کی گھڑی پر یقین کرتے ہیں۔“

(ضمیمہ بدر ج ٨ نمبر ١٥ ص ٣ مورخہ ١٤/ فروری ١٩٠٩ء)

لہٰذا مرزائیوں کا: ”وبالآخرة ہم یوقنون“ کا معنی آخری وحی کرنا جہاں تحریف و زندقہ ہے، وہاں قادیانی اکابر کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔

جواب ٣: ...... قادیانی علم ومعرفت سے معرّٰی ہوتے ہیں، کیونکہ خود مرزا قادیانی بھی محض جاہل تھا۔ اسے بھی تذکیر و تانیث واحد و جمع کی کوئی تمیز نہ تھی، ایسے ہی یہاں بھی ہے کہ الآخرة تو مونث ہے، جبکہ لفظ وحی مذکر ہے، اس کی صفت مونث کیسے ہوگی؟ دیکھئے قرآن مجید میں ہے: ”ان الدار الآخرة لھی الحیوان “ دیکھئے دارالآخرة مونث واقع ہوا ہے۔ اس لئے لھی کی مونث ضمیر آئی ہے اور لفظ وحی کے لئے مذکر کا صیغہ استعمال ہونا چاہئے، تو پھر کوئی سر پھرا ہی الآخرة کو آخری وحی قرار دے سکتا ہے؟

آیت ٥: وجعلنا فی ذریتہ النبوة

قادیانی کہتے ہیں کہ: ”وجعلنا فی ذریتہ النبوة والکتاب“ (عنکبوت: ٢٧)

صفحہ ٩٨

یعنی ہم نے اس ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی ، اس سے معلوم ہوا کہ جب تک ابراہیم کی اولاد ہے اس وقت تک نبوت جاری ہے۔

جواب:١....... اگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت جاری ہے تو کتاب کا نزول بھی جاری معلوم ہوتا ہے، حالانکہ یہ بات قادیانیوں کے نزدیک باطل ہے جو دلیل کتاب کے جاری ہونے سے مانع ہے وہی اجرائے نبوت سے مانع ہے۔

جواب:٢....... وجعلنا کا فاعل باری تعالیٰ ہیں، تو گویا نبوت وہبی ہوئی، حالانکہ قادیانی وہبی کی بجائے اب کسبی یعنی اطاعت والی کو جاری مانتے ہیں تو گویا کئی لحاظ سے یہ قادیانی اعتراض خود قادیانی عقائد و مستدلات کے خلاف ہے۔

احادیث پر قادیانی اعتراضات کے جوابات:

قادیانی کہتے ہیں کہ: ”و لو عاش (ابراهيم) لكان صديقاً نبيا“ اس سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ اگر حضورﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ بوجہ وفات کے حضرت ابراہیم نبی نہیں بن سکے ورنہ نبی بننے کا امکان تو تھا۔

جواب:١....... یہ روایت جس کو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں سنن ابن ماجہ، باب ما جاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللہﷺ و ذکر وفاتہ، میں ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:

”عن ابن عباس لما مات ابراهيم بن رسول الله ﷺ صلی رسول الله ﷺ وقال ان له مرضعاً فی الجنة ولو عاش لكان صديقاً نبيا ولو عاش لعتقت اخواله القبط وما استرق قبطی۔“

(ابن ماجه ص ١٠٨)

ترجمہ: ”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب آپﷺ

صفحہ ٩٩

کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا اس کے لئے دودھ پلانے والی جنت میں (مقرر کر دی گئی ) ہے اور اگر ابراہیم زندہ رہتے تو یقیناً نبی ہوتے اور اگر وہ زندہ رہتے تو اس کے قبطی ماموں آزاد کر دیتا اور کوئی قبطی قیدی نہ ہوتا ۔“

کلام کیا ہے: "وقد تکلم بعض الناس فى صحۃ ہذا الحدیث کما ذکر السید جمال الدین المحدث فى روضۃ الاحباب ۔“

(انجاح ص ١٠٨)

”اس حدیث کی صحت میں بعض (محدثین) نے کلام کیا ہے، جیسا کہ روضہ احباب میں سید جمال الدین محدث نے ذکر کیا ہے۔“

" قال النووى فى تہذیبہ ہذا الحدیث باطل وجسارۃ على الکلام المغیبات ومجازفۃ وہجوم على عظیم“ ۔ ترجمہ: ”امام نوویؒ نے تہذیب الاسماء واللغات میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے، غیب کی باتوں پر جسارت ہے، بڑی بے تکی بات ہے۔“

صحت کو نہیں پہنچتی، اس کا کوئی اعتبار نہیں، اس کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان ہے جو ضعیف ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبلؒ ، حضرت امام یحییٰ، حضرت امام داؤدؒ ۔

منکر الحدیث ہے: حضرت امام ترمذیؒ متروک الحدیث ہے: حضرت امام نسائیؒ

PDF 100

اس کا اعتبار نہیں: حضرت امام جوزجانیؒ ضعیف الحدیث ہے: حضرت امام ابو حاتمؒ

ضعیف ہے اس کی حدیث نہ لکھی جائے، اس نے حکم سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں ۔ (تہذیب التہذیب ص ٩٤‘ ٩٥ ج ١) (یادر ہے کہ زیر بحث روایت بھی ابوشیبہ نے حکم سے روایت کی ہے ۔)

ایسا راوی جس کے متعلق آپ اکابر امت کی آراء ملاحظہ فرما چکے ہیں، اس کی ایسی ضعیف روایت کو لے کر قادیانی اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقیدہ کے اثبات کے لئے خبر واحد (اگرچہ صحیح بھی کیوں نہ ہو) معتبر نہیں ہوتی، چہ جائیکہ کہ عقائد میں ایک ضعیف روایت کا سہارا لیا جائے، یہ تو بالکل ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ والی بات ہو گی ۔

جواب : ٢.......... اور پھر قادیانی دیانت کے دیوالیہ پن کا اندازہ فرمائیں کہ اسی متذکرہ روایت سے قبل حضرت ابن اوفیٰؓ کی ایک روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے جو صحیح ہے، اس لئے کہ امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح بخاری میں اسے نقل فرمایا ہے جو قادیانی عقیدہ اجراء نبوت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے ۔

اے کاش ! قادیانی اس ضعیف روایت سے قبل والی صحیح روایت کو پڑھ لیتے جو یہ ہے:

”قال قلت لعبداللہ ابن ابی اوفیٰ رأیت ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ قال مات وهو صغیر ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنہ ابراہیم ولکن لا نبی بعدہ، ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلوٰۃ علی ابن رسول اللہ و ذکر وفاتہ۔“

(ص ١٠٨)

ترجمہ : ” اسماعیل راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن اوفیٰؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کو آپ نے دیکھا تھا ؟ عبداللہ ابن اوفیٰؓ نے فرمایا کہ وہ (ابراہیم) چھوٹی عمر میں انتقال

فرما گئے اور اگر حضور ﷺ ابراہیم زندہ رہتے، لیکن آ یہ وہ روایت ہے جسے اس اس لئے کہ حضرت امام بخاریؒ نے بھـ اسے مکمل نقل فرمایا ۔

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کـ لائے اور جس کو امام بخاریؒ نے بھی اپنی کتاب شہادت القرآن ص ٤١ الکتب بعد کتاب اللہ“ تسلیم کیا ہے ۔ بخاری کی روایت کے مقابلہ میں ایک اور دیانت یہ دو متضاد چیزیں ہیں ۔ لیجئے ایک اور روایت انہیں ملاحظہ فرمائیے :

”حدثنا ابن ابی کان بعد النبی ﷺ نبی ”ابن ابی خالد فـ فرماتے تھے کہ حضرت رحـ بیٹے ابراہیم فوت نہ ہوتے حضرت انسؓ سے سدیؒ ـ تھی ؟ آپ نے فرمایا: ”قد ملاء ا نبیكم آخر الانبیا “ وہ پنگھوڑ اتنے بڑے تھے کہ پنگھوڑا بھرا ہو

صفحہ ١٠١

فرما گئے اور اگر حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا ہوتا، تو آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“

یہ وہ روایت ہے جسے اس باب میں ابن ماجہ سب سے پہلے لائے ہیں، یہ صحیح ہے اس لئے کہ حضرت امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح کے باب ”من سمی باسماء الانبیا“ میں

(دیکھئے بخاری ج ٢ ص ٩١٤)

اسے مکمل نقل فرمایا۔

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ صحیح روایت جسے ابن ماجہ متذکرہ باب میں سب پہلے لائے اور جس کو امام بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح بخاری میں روایت کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنی کتاب شہادت القرآن ص ٤١ روحانی خزائن ص ٣٣٧ ج ٦ پر ”بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ“ تسلیم کیا ہے۔ اگر مرزائیوں میں دیانت نام کی کوئی چیز ہوتی تو اس صحیح بخاری کی روایت کے مقابلہ میں ایک ضعیف اور منکر الحدیث کی روایت کو نہ لیتے۔ مگر مرزائی اور دیانت یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔

لیجئے ایک اور روایت انہیں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٣ کی ملاحظہ فرمائیے:

”حدثنا ابن ابی خالد قال سمعت ابن ابی اوفی یقول لو کان بعد النبی ﷺ نبی مامات ابنہ ابراہیم“

”ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ سے سنا فرماتے تھے کہ حضرت رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ کے بیٹے ابراہیم فوت نہ ہوتے۔“

حضرت انسؓ سے سدیؒ نے دریافت کیا کہ حضرت ابراہیم کی عمر بوقت وفات کیا تھی؟ آپ نے فرمایا: ”قد ملاء المہد ولو بقی لکان نبیاً ولکن لم یکن لیبقی لان نبیکم آخر الانبیاء“ وہ پنگھوڑے کو بھر دیتے تھے (یعنی بچپن میں ان کا انتقال ہوا لیکن وہ اتنے بڑے تھے کہ پنگھوڑا بھرا ہوا نظر آتا تھا) اگر وہ باقی رہتے تو نبی ہوتے لیکن اس لئے

صفحہ ١٠٢

باقی نہ رہے کہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں۔

(تلخیص التاریخ الکبیر لابن عساکر ص ٢٩٤ ج ١ فتح الباری ج ١٠ ص ٤٧٧ باب سمی باسماء الانبیاء)

اب ان صحیح روایات جو بخاری ، مسند احمد اور ابن ماجہ میں موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایک ضعیف روایت کو جس کا جھوٹا اور مردود ہونا یوں بھی ظاہر ہے کہ یہ قرآن کے نصوص صریحہ اور صد ہا احادیث نبویہ کے خلاف ہے، اسے صرف وہی لوگ اپنے عقیدے کے لئے پیش کر سکتے ہیں جن کے متعلق حکم خداوندی ہے:

"ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة۔"

(بقرہ:٧)

جواب :٣....... اس میں حرف لو قابل توجہ ہے، اس لئے کہ جیسے: ”لو كان فيهما الهة الا الله لفسدتا“ کو عربی میں محال کے لئے بولا جاتا ہے، اس روایت میں بھی تعلیق بالمحال ہے۔ اس سے اثبات عقیدہ کے لئے استدلال کرنا قادیانی علم کلام کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے۔

(٢) ولا تقولوا لا نبی بعده:

قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: ”قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعده ۔“ (تکملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢ در منثور ص ٢٠٤ ج ٥) اس سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک نبوت جاری تھی۔

جواب :١....... حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف اس قول کی نسبت صریحاً بے بنیاد ہی ہے۔ دنیا کی کسی کتاب میں اس کی سند متصل مذکور نہیں۔ ایک منقطع السند قول سے نصوص قطعیہ اور احادیث متواترہ کے خلاف استدلال کرنا سراپا دجل وفریب ہے۔

جواب :٢....... رحمت دو عالمﷺ فرماتے ہیں: ”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قول: ”ولا تقولوا لا نبی بعده“ یہ صریحاً اس فرمان نبویﷺ کے مخالف ہے، قول صحابہؓ وقول نبویﷺ میں تعارض ہو جائے تو حدیث و فرمان نبوی کو ترجیح

صفحہ ١٠٣

ہوگی، پھر لا نبی بعدی حدیث شریف متعدد صحیح سندوں سے مذکور ہے اور قول عائشہ ایک منقطع السند قول ہے، صحیح حدیث کے مقابلہ میں یہ کیسے قابل حجت ہو سکتا ہے؟

جواب:٣...... خود حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کنزالعمال ص ٣٧١ ج ١٥ حدیث: ٤٣٢٤٣ میں روایت ہے: ”لم يبق من النبوة بعده شئ الا مبشرات“ اس واضح فرمان کے بعد اس قول کو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب کرنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

جواب:٤...... قادیانی دجل ملاحظہ ہو کہ وہ اس قول کو جو مجمع البحار میں بغیر سند کے نقل کیا گیا ہے استدلال کرتے وقت بھی ادھورا قول نقل کرتے ہیں، اس میں ہے: ”هذا ناظر الی نزول عیسٰی علیه السلام۔“

(تکملہ مجمع البحار ص ٥٠٢ ج ٥)

اگر ان کا یا مغیرہؓ کا جو قول: ”اذا قلت خاتم الانبیاء حسبک“ وغیرہ جیسے الفاظ آئے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ تھا، یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد نبی کوئی نہیں (آئے گا) اس لئے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا نزول ہوگا، یہ کہو کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں یعنی آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی بنایا نہیں جائے گا۔ اس لئے کہ عیسٰی علیہ السلام آپؐ سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں۔

جواب:٥...... اس قول ”ولا تقولوا لا نبی بعدہ“ میں ”بعدہ“ خبر کے مقام پر آیا ہے، اس لئے اس کا پہلا معنی یہ ہوگا: ”لا نبی مبعوث بعدہ“ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات حاشیہ مشکوٰۃ شریف پر یہی ترجمہ مراد لیا گیا ہے جو صحیح ہے۔

دوسرا معنی:...... ”لا نبی خارج بعدہ“ حضورﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ یہ غلط ہے، اس لئے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مغیرہؓ نے ان معنوں سے: ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ کی ممانعت فرمائی ہے، جو سو فیصد ہمارے عقیدہ کے مطابق ہے۔

تیسرا معنی:...... ”لا نبی حیی بعدہ“ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں، ان معنوں کو سامنے رکھ کر حضرت عائشہؓ نے: ”لا تقولوا لا نبی بعدہ“ فرمایا۔ اس لئے کہ خود

صفحہ ١٠٤

ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی روایات منقول ہیں۔

قادیانی سوال:

اگر اس قول عائشہ صدیقہ کی سند نہیں تو کیا ہوا تعلیقات بخاری کی بھی سند نہیں۔

جواب: یہ بھی قادیانی دجل ہے ورنہ فتح الباری کے مصنف علامہ ابن حجرؒ نے الگ ایک مستقل کتاب تالیف کی ہے، جس کا نام تغلیق التعلیق ہے۔ اس میں تعلیقات صحیح بخاری کو موصول کیا ہے۔

٣: مسجدی آخر المساجد:

قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”مسجدی آخر المساجد“ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی مسجد کے بعد دنیا میں ہر روز مسجدیں بن رہی ہیں، تو نبی بھی بن سکتے ہیں۔

جواب: ...... یہ اشکال بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے، اس لئے جہاں ”مسجدی آخر المساجد“ کے الفاظ احادیث میں آئے ہیں، وہاں روایات میں آخر مساجد الانبیاء کے الفاظ بھی آتے ہیں، تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت مبارک یہ تھی کہ وہ اللہ رب العزت کا گھر (مسجد) بناتے تھے۔ تو انبیاء کرام علیہم السلام کی مساجد میں سے آخری مسجد، مسجد نبوی ہے۔ یہ ختم نبوت کی دلیل ہوئی نہ کہ اجزائے نبوت کی۔ ترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٧٣ حدیث: ١٧٧١ میں خاتم مساجد الانبیاء کے الفاظ صراحت سے موجود ہیں۔ نیز کنز العمال ص ٢٧٠ ج ١٢ حدیث: ٣٤٩٩٩ باب فضل الحرمین میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے: ”عن عائشة قالت قال رسول اللہ ﷺ انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم مساجد الانبیاء“

٤: انك خاتم المهاجرين:

قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا: ”اطمئن یا عم (عباسؓ) فانك خاتم المهاجرين فی الهجرة كما انا خاتم النبيين فی النبوة ۔“ (کنز العمال ص ٦٩٩ ج ١٢ حدیث: ٣٤٣٦٨) اگر حضرت عباسؓ کے بعد ہجرت

صفحہ ١٠٥

جاری ہے تو حضورﷺ کے بعد نبوت بھی جاری ہے۔

جواب: ...... قادیانی اس روایت میں بھی دجل سے کام لیتے ہیں، اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ کے سفر پر روانہ ہوگئے تھے، مکہ مکرمہ سے چند کوس باہر تشریف لے گئے تو راستہ میں مدینہ طیبہ سے آنحضرتﷺ دس ہزار قدسیوں کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ فتح کرنے کے لئے تشریف لے آئے، راستہ میں ملاقات ہوئی تو حضرت عباسؓ کو افسوس ہوا کہ میں ہجرت کی سعادت سے محروم رہا۔ حضورﷺ نے حضرت عباسؓ کو تسلی وحصول ثواب کی بشارت دیتے ہوئے یہ فرمایا۔ اس لئے واقعتاً مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے آخری مہاجر حضرت عباسؓ تھے، اس لئے کہ ہجرت دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف کی جاتی ہے، مکہ مکرمہ رحمت دو عالمﷺ کے ہاتھوں ایسے فتح ہوا جو قیامت کی صبح تک دارالاسلام رہے گا، تو مکہ مکرمہ سے آخری مہاجر واقعی حضرت عباسؓ ہوئے۔ آپؐ کا فرمانا: ”اے چچا تم خاتم المہاجرین ہو، تمہارے بعد جو بھی مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے گا اسے مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ اس لئے امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: ”لا هجرة بعد الفتح۔“ (بخاری ص ٤٣٣ ج ١)۔ حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اصابہ ص ١٧٢ ج ٢ طبع بیروت میں فرماتے ہیں:

”هاجر قبل الفتح بقليل وشهد الفتح“ ۔

”حضرت عباسؓ نے فتح مکہ سے قدرے پیشتر ہجرت کی اور آپؓ فتح مکہ میں حاضر تھے۔“

٥: ابوبکر خیر الناس:

قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ابوبکر خیر الناس الا ان یکون نبی“ ابوبکر تمام لوگوں سے افضل ہیں، مگر یہ کہ کوئی نبی ہو، اس سے معلوم ہوا کہ نبوت جاری ہے۔

جواب: ...... یہ روایت (کنزالعمال ج ١١ ص ٥٤٣ حدیث: ٣٢٥٤٧) کی ہے، اس کے آگے ہی لکھا ہے: ”ھذا الحدیث احد ما انکر“ یہ روایت ان میں سے ایک ہے، جس پر انکار

صفحہ ١٠٦

کیا گیا ہے، ایسی منکر روایت سے عقیدہ کے لئے استدلال کرنا قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ جواب: ٢....... کنز العمال ج ١١ ص ٥٤٦ حدیث ٣٢٥٦٢ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے:

"ما صحب النبيين والمرسلين اجمعين ولا صاحب
یسن، افضل من ابی بکر“

ترجمہ: ”رحمت دوعالم ﷺ سمیت تمام انبیاء ورسل کے صحابہؓ سے ابوبکر صدیقؓ افضل ہیں ۔“ حاکم میں حضرت ابوہریرہؓ سے کنز العمال میں ج ١١ ص ٥٦٠ حدیث ٣٢٦٤٥ پر روایت کے الفاظ ہیں:

”ابوبکر و عمر خيرالاولين و خير الاخرين وخير اهل
السموات وخير اهل الارضين الا النبيين والمرسلين“

ترجمہ: ”زمینوں و آسمانوں کے تمام اولین و آخرین میں سوائے انبیاء مرسلین کے باقی سب سے ابوبکرؓ و عمرؓ افضل ہیں۔“ ان روایات کو سامنے رکھیں تو مطلب واضح ہے کہ انبیاء کے علاوہ ابوبکرؓ باقی سب سے افضل ہیں۔ لیجئے اب ان تمام روایات کے سامنے آتے ہی قادیانی دجل پارہ پارہ ہوگیا۔

سوال: ٨....... لاہوری اور قادیانی مرزائیوں میں کیا فرق

ہے؟ جب لاہوری مرزا غلام احمد کو نبی ہی نہیں مانتے تو ان کی وجہ تکفیر

کیا ہے؟ دونوں فرقوں کے درمیان اختلافات کا جائزہ پیش کریں؟

جواب....... مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کے دو گروپ ہیں، ایک لاہوری دوسرا قادیانی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور نورالدین کے زمانہ تک یہ ایک تھے۔ مارچ ١٩١٤ء میں نورالدین کے آنجہانی ہونے پر لاہوری گروپ کے چیف گر ومحمد علی ایم اے اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ نورالدین کی جگہ محمد علی کو قادیانی جماعت کی زمامِ اقتدار سونپ

دی جائے گی۔ مگر مرزا قادیانی کے خاندان قادیانی کی نام نہاد خلافت کی گدی پر بٹھا دیا لے کر لاہور آ گئے۔ تب سے مرزا قادیانی قادیانی، دنیا جانتی ہے کہ یہ لڑائی صرف اور تھا۔ اس لئے کہ لاہوری گروپ مرزا قادیانی قادیانی گروپ کا ہمنوا تھا بلکہ اب بھی یہ لاہ میں سچا سمجھتا ہے۔ امام، مامور من اللہ، مجدد، کفریہ دعاوی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں کی کتب کی اشاعت کرتے ہیں۔ قادیانیوں اقتدار نہ ملنے کے باعث علیحدہ ہوئے ہیں۔ لڑائی کو عقائد کے اختلاف کا چولا پہنا دیا مسائل میں اختلاف ہے:

ہم ان کو کافر نہیں کہتے۔

برسول يأتى من بعدى اسمه اس آیت کا مرزا کو مصداق نہیں سمجھ

نبی قرار نہیں دیتے۔“ اس پر ان کے درمیان مناظرے ہو کے تحریری مناظروں کی روئیداد شائع شدہ جات دیئے ہیں۔ یہ خود مرزا قادیانی کے جم

صفحہ ١٠٧

دی جائے گی۔ مگر مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد اور مریدوں نے نوعمر مرزا محمود کو مرزا قادیانی کی نام نہاد خلافت کی گدی پر بٹھا دیا۔ محمد علی لاہوری اپنے حواریوں سمیت اپنا سا منہ لے کر لاہور آ گئے۔ تب سے مرزا قادیانی کی جماعت کے دو گروپ بن گئے۔ لاہوری و قادیانی، دنیا جانتی ہے کہ یہ لڑائی صرف اور صرف اقتدار کی لڑائی تھی۔ عقائد کا اختلاف نہ تھا۔ اس لئے کہ لاہوری گروپ مرزا قادیانی اور نور الدین کے زمانہ تک عقائد میں نہ صرف قادیانی گروپ کا ہمنوا تھا بلکہ اب بھی یہ لاہوری گروپ مرزا قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا سمجھتا ہے۔ امام، مامور من اللہ، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی و بروزی نبی وغیرہ مرزا کے تمام کفریہ دعاوی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے عقائد کی ترویج اور توسیع اس کی کتب کی اشاعت کرتے ہیں۔ قادیانیوں نے لاہوریوں کے متعلق یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ اقتدار نہ ملنے کے باعث علیحدہ ہوئے ہیں۔ تو لاہوریوں نے اپنے دفاع کے لئے اقتدار کی لڑائی کو عقائد کے اختلاف کا چولا پہنا دیا۔ لاہوریوں نے کہا کہ ہمیں قادیانیوں سے تین مسائل میں اختلاف ہے:

ہم ان کو کافر نہیں کہتے۔

برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد “ کا مصداق قرار دیتے ہیں، ہم اس آیت کا مرزا کو مصداق نہیں سمجھتے۔

نبی قرار نہیں دیتے۔“

اس پر ان کے درمیان مناظرے ہوئے۔ ”مباحثہ راولپنڈی“ نامی کتاب میں دونوں کے تحریری مناظروں کی روئیداد شائع شدہ ہے۔ فریقین نے مرزا قادیانی کی کتب کے حوالہ جات دیئے ہیں۔ یہ خود مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی

صفحہ ١٠٨

ایسے شیطان کی آنت کی طرح الجھے ہوئے ہیں کہ مرزا کے ماننے والے خود فیصلہ نہیں کر پائے کہ مرزا قادیانی کے کیا دعاوی تھے؟ لیکن یہ اقتدار کی رسہ کشی، اور نفس پرستی ہے۔ جب دو گروپ بن گئے۔ ایک گروپ کا چیف مرزا محمود، دوسرے گروپ کا چیف محمد علی لاہوری قرار پائے تو مرزا محمود نوجوان تھا۔ اقتدار اور پیسہ پاس تھا، اس نے وہ بے اعتدالیاں کیں کہ مرزا قادیانی کے بعض پکے مرید کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔ مرزا محمود کی جنسی بے راہ روی اور رنگینیاں اور سنگینیاں اس داستان نے قادیان سے لاہور تک کا سفر کیا۔ تو لاہوری گروپ نے تاریخ محمودیت، ربوہ کا پوپ، ربوہ کا مذہبی آمر، کمالات محمودیہ ایسی دسیوں کتابیں لکھ کر مرزا محمود کی بدکرداریوں کو الم نشرح کیا۔ مرزا محمود نے جواب آں غزل کے طور پر لاہوریوں کو وہ بے نقط سنائیں کہ الامان والحفیظ۔ ذیل میں حوالے ملاحظہ ہوں:

’’فاروق‘‘ جناب خلیفہ قادیان کے ایک خاص مرید کا اخبار ہے۔ جناب خلیفہ صاحب کئی مرتبہ اس کی خدمات کے پیش نظر اس کی توسیع اشاعت کی تحریک فرما چکے ہیں۔ سوقیانہ تحریریں شائع کرنے اور گالیاں دینے کے لحاظ سے اس اخبار کو قادیانی پریس میں بہت اونچا درجہ حاصل ہے۔ جماعت لاہور اور اس کے اکابر کو گالیاں دینا اس اخبار کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اس کی ٢٨؍ فروری ١٩٣٥ء کی اشاعت میں ہمارے خلاف چند مضامین شائع ہوئے ہیں ان میں بے شمار گالیاں دی گئی ہیں۔ جن میں سے چند بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں:

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ١١؍ مارچ ١٩٣٥ء)

(١) لاہوری اصحاب الفیل، (٢) اہل پیغام کی یہودیانہ قلا بازیاں، (٣) ظلمت کے فرزند اور زہریلے سانپ، (٤) لاہوری اصحاب الاخدود، (٥) خباثت اور شرارت اور رزالت کا مظاہرہ، (٦) دشمنان سلسلہ کی بھڑکی ہوئی آگ میں یہ پیغامی لاہوری فریق حطب النار وقود النار بن گئے، (٧) نہایت ہی کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل

صفحہ ١٠٩

فطرت والا اور احمق سے احمق انسان، (٨) اصحاب اخدود پیامی ، (٩) دوغلے اور نچلے درجوں نچلے بروں عقائد، (١٠) بد لگام پیامیو، (١١) حرکات دنیہ اور افعال شنیعہ، (١٢) محسن کشانہ اور غدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات، (١٣) دو رخے سانپ کی کھوپڑی کچلنے، (١٤) تم نے اپنے فریب کارانہ پوسٹر میں ...... تک انگیخت اور اشتعال کا زور لگالیا، (١٥) فوراً کپڑے پھاڑ کر بالکل عریانی پر کمر باندھ لی، (١٦) ایسی کھجلی اٹھی تھی، (١٧) رذیل اور احمقانہ فعل، (١٨) کبوتر نما جانور، (١٩) احمدیہ بلڈنگ (لاہوری جماعت کے مرکز) کے؟ کرمک، (٢٠) اے ستر سے بہترے بڈھے کھوسٹ، (٢١) اے بد لگام تہذیب ومتانت کے اجارہ دار پیامیو (فریق لاہور)، (٢٢) برخوردار پیامیو، (٢٣) جیسا منہ ویسی چیپڑ ، (٢٤) کوئی آلو، ترکاری یا لہسن پیاز بیچنے بونے والا نہیں، (٢٥) جھوٹ بول کر اور دھوکے دے کر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن کر، (٢٦) لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھاؤ معلوم ہو جاتا، (٢٧) آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر لگے، (٢٨) اگر شرم ہو تو وہیں ...... چلو بھر پانی لے کر ڈبکی لگالو، (٢٩) یہ کسی قدر دجالیت اور خباثت اور کمینگی، (٣٠) علی بابا اور چالیس چور بھی اپنی مٹھی بھر جماعت لے کر بلوں میں سے نکل آئے ہیں، (٣١) بھلا کوئی ان پیامی ایروں غیروں سے اتنا تو پوچھے، (٣٢) سادہ لوح پیامی نادان دشمن، (٣٣) پیامیو عقل کے ناخن لو، (٣٤) نامعقول ترین اور مجہول ترین تجویز، (٣٥) سادہ لوح اور احمق، (٣٦) اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیام، (٣٧) پیغام بلڈنگ کے اڑھائی ٹوٹرو، (٣٨) احمق اور عقل وشرافت سے عاری اور خالی، (٣٩) اہل پیغام (لاہوری فریق) نے جس عیاری اور مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں، (٤٠) چاپلوسی اور پاجی کا مظاہرہ، (٤١) اہل پیغام کے دو

صفحہ ١١٠

تازہ گندے پوسٹر۔

(منقول از اخبار ”فاروق“ قادیان بہائی نمبر مورخہ ٢٨/ فروری ١٩٣٥ء)

لاہوری مرزائی بھی قادیانیوں کو گالیاں دینے میں کم نہ تھے۔ ملاحظہ ہو:

”مولوی محمد علی صاحب (لاہوری) کا خطبہ جمعہ ١٩/ اکتوبر ١٩٣٥ء ہمارے سامنے ہے۔ یہ خطبہ بھی حسب معمول جماعت احمدیہ اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف الزامات اور گالیوں سے پر ہے۔ جناب مولوی صاحب کی گالیوں کی شکایت کہاں تک کی جائے ان کا جوش غیظ و غضب ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آتا۔ ہم ان کی گالیاں سنتے سنتے تھک گئے ہیں مگر وہ گالیاں دیتے دیتے نہیں تھکے۔ ہر خطبہ گزشتہ خطبہ سے زیادہ تلخ اور طعن آمیز ہوتا ہے، بدگوئی اور بدزبانی اب جناب مولوی صاحب کی عادت ثانیہ بن چکی ہے، کوئی بات طعن و تشنیع اور گالی گلوچ کی آمیزش کے سوا کر ہی نہیں سکتے۔“

(مضمون مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان ج ٢٣، نمبر ٢٧٣، ص ٦، مورخہ ٢٢/ نومبر ١٩٣٥ء)

لیکن گالی گلوچ کی بوچھاڑ تو دونوں جماعتوں کی عادت ہے، کبھی ایک سبقت لے جاتی ہے کبھی دوسری۔ اس فن کی بنیاد خود مرزا قادیانی صاحب کی کتابوں میں رکھی گئی ہے۔ پس اتباع لازم ہے۔ مرزا محمود نے محمد علی کی گالیوں کی شکایت کی، اب محمد علی کی مرزا محمود کے متعلق شکایت بھی ملاحظہ ہو:

”خود جناب میاں محمود احمد صاحب نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ، دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔“

(مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ مندرجہ

اخبار ”پیغام صلح“ لاہور جلد ٢٢، نمبر ٣٣، ص ٧ مورخہ ٣/ جون ١٩٣٤ء)

مسلمانوں نے (لاہوری و قادیانی) دونوں کی اس باہمی چیخ پخ کو ایک سکہ کے دورخ قرار دیا۔ ایک گروہ کے دو چیلوں کی ا نتیجہ قرار دیا۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء ا قادیانیوں میں کیا فرق ہے؟ آپؒ نے فی ا چاہے گورے رنگ کا ہو یا کالے رنگ ک لاہوریوں کا مرکز لاہور میں ہے۔ قادیانیوں اور اب ان کا مرکز بہشتی مقبرہ سمیت لند گروپوں کے کفر کا فتویٰ دیا، قومی اسمبلی اور گردانا۔

لاہوری گروپ کیوں کافر؟

آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص ن جو لوگ اپنا امام، مجدد، مامور من اللہ، مہدی، م نبوت کو جو لوگ مسلمان سمجھیں بلکہ جو اسے نے اپنے فتاویٰ میں، عدالتوں نے اپ قادیانیوں کی طرح لاہوری گروپ کو بھ لاہوری گروپ بھی صحیح تسلیم کرتے ہیں، ملا لاہوری گروپ مرزا قادیانی کو ا دعوٰی ہے کہ:

بھیجا۔“

صفحہ ١١١

دوزخ قرار دیا۔ ایک گروہ کے دو چیلوں کی اخلاق باختگی کو مرزا قادیانی کی روحانی تربیت کا نتیجہ قرار دیا۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے کسی نے پوچھا کہ لاہوریوں اور قادیانیوں میں کیا فرق ہے؟ آپؒ نے فی البدیہہ فرمایا: بر ہر دو لعنت، خنزیر، خنزیر ہوتا ہے، چاہے گورے رنگ کا ہو یا کالے رنگ کا۔ کفر کفر ہے، چاہے لاہوری ہو یا قادیانی۔ لاہوریوں کا مرکز لاہور میں ہے۔ قادیانیوں کا مرکز پاکستان بننے کے بعد چناب نگر (ربوہ) اور اب ان کا مرکز بہشتی مقبرہ سمیت لندن کو سدھار گیا ہے۔ تمام علماء اسلام نے دونوں گروپوں کے کفر کا فتویٰ دیا، قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ تک سب نے دونوں کو کافر وغیر مسلم گردانا۔

لاہوری گروپ کیوں کافر؟

آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالاجماع کافر ہے۔ اس کو جو لوگ اپنا امام، مجدد، مامور من اللہ، مہدی، مسیح، ظلی نبی، تسلیم کریں وہ بھی کافر ہیں حتیٰ کہ مدعی نبوت کو جو لوگ مسلمان سمجھیں بلکہ جو اسے کافر نہ سمجھیں وہ بھی کافر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء امت نے اپنے فتاویٰ میں، عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اور اسمبلی نے اپنے قانون میں قادیانیوں کی طرح لاہوری گروپ کو بھی کافر قرار دیا ہے۔ مرزا کے کفریہ دعاوی جن کو لاہوری گروپ بھی صحیح تسلیم کرتے ہیں، ملاحظہ ہوں:

لاہوری گروپ مرزا قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں سچا مانتا ہے، مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ:

بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء، خزائن ص٢٣١ ج١٨)

(بدر ٥ / مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ص ١٢٧ ج ١٠)

صفحہ ١١٤

وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٥ حاشیہ خزائن ص ٦٨ ج ٢١)

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)

سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ (مرزا) بھی ہوا، جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٨ حاشیہ خزائن ص ٣٠ ج ٢٢)

مذکور ہیں، میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔“

(الحکم ١٠؍اپریل ١٩٠٨ء ملفوظات ص ٢١٧ ج ١٠)

ان حوالہ جات میں مرزا قادیانی کا صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ موجود ہے، اور پہلے انبیاء (سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک) کی طرح نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ اب نبی کے لئے معجزہ چاہئے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کو اللہ تعالیٰ نے معجزہ نہ دیا ہو، مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے لئے معجزہ چاہئے، چنانچہ وہ اپنے معجزات کے متعلق خود لکھتا ہے:

(تحفۃ الندوہ ص ٩ روحانی خزائن ص ٩٧ ج ١٩)

معجزات اب تک ظاہر ہو چکے ہیں۔“

(تحفۃ الندوہ ص ١٢ روحانی خزائن ص ١٠٠ ج ١٩)

ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٧ خزائن ص ٥٧٥ ج ٢٢)

دیکھئے نبی کے لئے وحی نبوت بھی ہونی چاہئے مرزا صاحب اس کے متعلق لکھتا ہے:

صفحہ ١١٣

١٠:..... ”اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ص ٤٠٧ ج ٢٢) ان حوالہ جات سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور یہ امر طے شدہ ہے کہ:

”دعوی النبوۃ بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع ۔“

(شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ٢٠٧ مصری)

آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالاجماع کافر ہے۔ مرزا کے ان کفریہ دعاوی کو لاہوری گروپ بھی صحیح مانتے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کی طرح لاہوری بھی کافر ہیں۔ (مزید تفصیل ”احتساب قادیانیت“ ج اول میں مولانا لال حسین اختر کی ترک مرزائیت اور ”تحفہ قادیانیت“ ج ٢ میں معرکہ لاہور و قادیان از حضرت لدھیانوی شہیدؒ ملاحظہ کریں)۔

سوال ٩:..... عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دور

صدیقی سے دور حاضر تک جو خدمات سرانجام دی گئی ہیں ان کا

تذکرہ مختصر مگر جامع انداز میں تحریر کریں؟

جواب:..... آپ ﷺ کی ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں چودہ سو سال سے کبھی بھی امت دورائے کا شکار نہیں ہوئی، بلکہ جس وقت کسی شخص نے اس مسئلہ کے خلاف رائے دی امت نے اسے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کر دیا۔ ختم نبوت کا تحفظ یا بالالفاظ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دین کا ہی ایک حصہ ہے۔ دین کی نعمت کا اتمام آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر ہوا۔ اس لئے دین کے اس شعبہ کو بھی اللہ رب العزت نے خود آنحضرت ﷺ سے وابستہ فرما دیا اور سب سے پہلے خود آنحضرت ﷺ نے اپنے زمانہ میں پیدا ہونے والے جھوٹے مدعیان نبوت کا استیصال

صفحہ ١١٤

کر کے امت مسلمہ کو اپنے عمل مبارک سے کام کرنے کا عملی نمونہ پیش فرمادیا۔

تحفظ ختم نبوت آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ:

چنانچہ اسود عنسی کے استیصال کے لئے رحمت عالم ﷺ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو اور طلیحہ اسدی کے مقابلہ میں جہاد کی غرض سے حضرت ضرار بن ازورؓ کو روانہ فرمایا۔ یہ امت کے لئے خود آنحضرت ﷺ کا عملی سبق ہے، امت کے لئے خیر و برکت اور فلاح دارین اس سے وابستہ ہے کہ ختم نبوت کے عقیدہ کا جان جوکھوں میں ڈال کر تحفظ کرے اور منکرین ختم نبوت کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ امت نے آنحضرت ﷺ کے اس مبارک عمل کو اپنے لئے ایسے طور پر مشعل راہ بنایا کہ خیر القرون کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک ایک لمحہ کے لئے بھی امت اس سے غافل نہیں ہوئی۔ طلیحہ اسدی نے اپنے ایک قاصد عم زاد ’حبال‘ کو حضور ﷺ کے پاس بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔ طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمت عالم ﷺ کو بہت فکر دامن گیر ہوئی چنانچہ آپ ﷺ نے تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ کے پہلے سپہ سالار کے لئے اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازورؓ کا انتخاب فرمایا اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے، حضرت ضرارؓ نے علی بن اسد سنان بن ابوسنان اور قبیلہ قضاعہ اور قبیلہ بنو ورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت ﷺ کا پیغام سنایا اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہو کر واردات کے مقام پر پڑاؤ کیا دشمن کو پتہ چلا، انہوں نے حملہ کیا جنگ شروع ہوئی، لشکر اسلام اور فوج محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوادیئے مظفر و منصور واپس ہوئے۔ ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منورہ کے راستہ میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کا وصال مبارک ہو گیا۔

(تلخیص ائمہ تلبیس ص ١٧ ج١)

عہد صدیقی میں تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ:

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ

صفحہ ١١٥

یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہؓ پھر حضرت شرحبیلؓ بن حسنہ اور آخر میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔ اس پہلے معرکہ ختم نبوت میں ١٢ سو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ وقاری تھے اور بہت سے صحابہ بدریین تھے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرم ارتداد قتل کر دیا جائے۔ عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایۃ والنہایۃ ج ٦ ص ٣١٠ اور طبری تاریخ الامم والملوک کی جلد ٢ ص ٤٨٢) کے مطابق مرتدین کے احراق کا بھی حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم فرمایا لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کر چکے تھے، معاہدہ اس طرح ہوا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسیلمہ کے ایک ساتھی مجاعہ کو گرفتار کر لیا تھا۔ جنگ کے اختتام پر اسے قید سے رہا کر کے فرمایا کہ اپنی قوم کو قلعہ کھولنے پر تیار کرو۔ مجاعہ نے جا کر عورتوں اور بچوں کو پگڑیاں بندھوا کر مسلح کر کے قلعہ کی فصیل پر کھڑا کر دیا اور حضرت خالدؓ کو یہ تاثر دیا کہ بہت سا لشکر قلعہ میں جنگ کے لئے موجود ہے۔ حضرت خالدؓ اور مسلمان فوج ہتھیار اتار چکے تھے۔ نئی جنگ کے بجائے انہوں نے چوتھائی مال و اسباب پر مسیلمہ کی فوج سے صلح کر لی۔ جب قلعہ کھول دیا گیا تو وہاں عورتوں اور بچوں کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ حضرت خالدؓ نے مجاعہ سے کہا کہ تم نے دھوکہ دیا۔ اس نے کہا کہ اپنی قوم کو بچانے کی خاطر ایسا کیا۔ باوجودیکہ یہ معاہدہ دھوکہ سے ہوا لیکن حضرت خالدؓ نے اس معاہدہ کو برقرار رکھا۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے قتل کیا تھا اور بدایہ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کی خاطر بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک ان کی تلاش میں پھرتے رہے تا کہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں، جن کو انہوں نے اپنے ارتداد کے زمانہ میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کر دیا تھا، ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو حضرت خالدؓ نے آگ میں جلا دیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا، اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرا دیا، یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تا کہ مرتدین عرب

صفحہ ١١٦

کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کریں۔ (البدایہ ج ٢ ص ١١٦ اردو ترجمہ مطبوعہ نفیس اکیڈیمی، کراچی)

اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ باقی تمام فتنوں سے مباحثہ، مجادلہ، مناظرہ ومباہلہ وغیرہ ہوئے۔ لیکن جھوٹے نبیوں سے تو گفتگو کی بھی شریعت نے اجازت نہیں دی اور فصول عمادی میں کلمات کفر شمار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

"وكذالو قال انا رسول الله اوقال بالفارسية من پیغمبرم يريد به پیغام می برم يكفر ولو انه حين قال هذه المقالة طلب غيره منه المعجزة قيل يكفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان كان غرض الطالب تعجيزه وافتضاحه لا يكفر۔"

(فصول: ١٣٠٠)

ترجمہ: ”اور ایسے ہی اگر کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی زبان میں کہے من پیغمبرم اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام لے جاتا ہوں تو کافر ہوجائے گا اور جب اس نے یہ بات کہی اور کسی شخص نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض کے نزدیک یہ طالب معجزہ بھی کافر ہوجائے گا، لیکن متأخرین نے فرمایا ہے کہ اگر طالب معجزہ کی نیت طلب معجزہ سے محض اس کی رسوائی اور اظہار عجز ہو تو کافر نہ ہوگا۔“

اور خلاصۃ الفتاویٰ جلد ٤ صفحہ ٣٨٦ کتاب الفاظ الکفر فصل ثانی میں امام عبدالرشید بخاریؒ فرماتے ہیں کہ:

"ولو ادعى رجل النبوة و طلب رجل المعجزة قال بعضهم يكفر وقال بعضهم ان كان غرضه اظهار عجزه وافتضاحه لا يكفر۔"

ترجمہ: ”اور اگر کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض فقہاء کے نزدیک یہ طالب معجزہ بھی

صفحہ ١١٧

مطلقاً کافر ہو جائے گا اور بعض نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر اس نے اظہار عجز و رسوائی کے لئے معجزہ طلب کیا تھا تو یہ کافر نہ ہوگا۔“

چنانچہ امت کی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی کسی اسلامی حکومت میں کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو امت نے اس سے دلائل و معجزات مانگنے کی بجائے اس کے وجود سے ہی اللہ تعالیٰ کی دھرتی کو پاک کر دیا۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بطور ”خود کاشتہ پودا“ آبیاری کی۔ مسلمان قوم مظلوم، محکوم، غلام تھی، لاچار امت کو قادیانی گروہ سے مناظرہ کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین، مقدمات و مناظروں، منبر و محراب، عدالتوں و اسمبلی، مکۃ المکرمہ و افریقہ تک جہاں بھی کسی فورم پر قادیانی کیس گیا امت مسلمہ کو کامیابی نصیب ہوئی۔ یہ راستہ مجبوراً اختیار کرنا پڑا، ورنہ شرعاً جھوٹے مدعی نبوت اور پیروکاروں کا وہی علاج ہے جو صدیق اکبرؓ نے اپنے عہد زرین میں مسیلمہ کذاب کا یمامہ کے میدان میں کیا تھا، اور یقین فرمائیے کہ جب کبھی اس خطہ میں اسلام کی حکومت قائم ہوگی، سنت صدیقیؓ دہرائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ امت محمدیہؐ کو توفیق نصیب فرمائے۔

نوٹ:...... آج تک جو جھوٹے مدعیان نبوت ہوئے، ان کی تفصیل ”ائمہ تلبیس“ (دو جلد) میں مولانا محمد رفیق دلاوریؒ نے قلمبند کی ہے۔ اس کی تلخیص ٢٢ جھوٹے نبی کے نام سے نثار احمد خان فتحی نے کی ہے، ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

سوال: ١٠:...... مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد اکابر علمائے دیوبند نے جو گرانقدر خدمات اس محاذ کے مختلف میدانوں میں سرانجام دی ہیں۔ ان کا مختصر تذکرہ کریں؟

جواب:...... برصغیر میں جب انگریز نے اپنے استبدادی پنجے مضبوطی سے گاڑ لئے تو اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی اختیار کی

صفحہ ١١٨

دیگر ضمیر و دین فروشوں اور فتویٰ بازوں کے علاوہ اسے ایک ایسے مدعی نبوت کی ضرورت پیش آئی جو اس کے ظالمانہ و کافرانہ نظام حکومت کو ”سند الہام“ مہیا کر سکے، اس کے لئے اس نے ہندوستان بھر کے ضمیر فروش طبقات سے اپنے مطلب کا آدمی تلاش کرنے کے لئے سروے شروع کیا۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیے کہ قادیانی فتنہ کے جنم لینے سے قبل دارالعلوم دیوبند کے مورث اعلیٰ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ پر بطور کشف کے اللہ تعالیٰ نے منکشف فرما دیا تھا کہ ہندوستان میں ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے چنانچہ مکہ مکرمہ میں ایک دن ان کے ہاں مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت پیر صاحبؒ سے فرمایا:

”در ہندوستان عنقریب یک فتنہ ظہور کند، شما ضرور در ملک خود واپس بروید و اگر بالفرض شما در ہند خاموش نشسته باشید تا ہم آں فتنہ ترقی نہ کند و در ملک آرام ظاہر شود پس ما در یقین خویش وقوع کشف حاجی صاحب را بفتنہ مرزا قادیانی تعبیر می کنم۔“

ترجمہ: ”ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا تم ضرور اپنے وطن میں واپس چلے جاؤ اگر بالفرض تم ہندوستان میں خاموش بھی بیٹھے رہے تو وہ فتنہ ترقی نہ کرے گا اور ملک میں سکون ہوگا میرے (پیر صاحبؒ) نزدیک حاجی صاحبؒ کی فتنہ سے مراد فتنہ قادیانیت تھی۔“

(ملفوظات طیبہ ص ١٢٦، تاریخ مشائخ چشت ص ٧١٣،

٧١٤، بیس بڑے مسلمان ص ٩٨، مہر منیر ص: ١٢٩)

اس سے اتنی بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ مرزا قادیانی کے فتنہ انکار ختم نبوت سے قبل ہی حق تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے متوجہ فرما دیا۔ اس پر حق تعالیٰ شانہ کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کہ سب سے پہلے فتنہ قادیانیت

صفحہ ١١٩

کی تردیدی و تکفیری مہم کے لئے حق تعالیٰ نے جس جماعت کا انتخاب کیا وہ علمائے دیوبند کی جماعت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے منصوبہ کے مطابق مبلغ، مناظر، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی و بروزی، تشریعی نبی اور پھر معاذ اللہ خدا ہونے کے دعوے کئے۔ اس کی سب سے پہلی کتاب جس وقت منظر عام پر آئی اور مرزا ابھی تعارف اور جماعت سازی کے ابتدائی مرحلے مکمل کرنے کے درپے تھا اس وقت سب سے پہلے جس مرد خدا، عارف باللہ نے پڑھنے پڑھانے سے نہیں بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے باطن کی صفائی کی بنیاد پر مرزا کے کافر و مردود اور اسلام سے برگشتہ ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کیا وہ خانوادۂ دیوبند کے سرخیل حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ تھے۔ میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے پاس مرزا کی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لئے قادیانی وفد حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے پوچھتے ہو تو سن لو یہ شخص تھوڑے دنوں میں ایسے دعوے کرے گا جو نہ رکھے جائیں گے، نہ اٹھائے جائیں گے۔ قادیانی وفد یہ سن کر جزبز ہونے لگا کہ دیکھو علما تو علما، درویش کو بھی دوسرے لوگوں کا شہرت پانا گراں گزرتا ہے۔ میاں صاحبؒ نے فرمایا مجھ سے پوچھا ہے تو جو سمجھ میں آیا بتا دیا، ہم تو اس وقت زندہ نہ ہوں گے، تم آگے دیکھ لینا۔

(ماخوذ از ارشادات قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ص ١٢٨)

قادیانیوں کے خلاف پہلا فتویٰ:

مرزا غلام احمد قادیانی نے اب پر پرزے نکالے۔ جماعت سازی کے لئے ١٣٠١ھ مطابق ١٨٨٤ء میں لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبداللہ لدھیانویؒ اور مولانا محمد اسماعیل لدھیانویؒ نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مجدد نہیں بلکہ زندیق اور ملحد ہے۔

(فتاویٰ قادریہ ص ٣)

اللہ رب العزت کا کرم تو دیکھئے! سب سے پہلے دیوبند مکتبہ فکر کے علمائے کرام کی جماعت کو مرزا غلام احمد قادیانی پر کفر کا فتویٰ دینے کی توفیق ہوئی۔ یہ مولانا محمد لدھیانویؒ معروف احرار رہنما مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے دادا تھے۔ ان حضرات کا فتویٰ مرزا

صفحہ ١٢٠

قادیانی کے کفر کو الم نشرح کرنے کے لئے کھڑے پانی میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوا۔ اس کی لہریں اٹھیں، حالات نے انگڑائی لی پھر:

لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مولانا محمد حسین بٹالوی وغیرہ مرزا قادیانی کی کتب پر مثبت رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ ١٨٩٠ء میں انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مرزا قادیانی نے انگریز کے ایما پر رسائل و کتب شائع کیں۔ ہندوستان کے علمائے کرام حسب ضرورت اس کی تردید میں کوشاں رہے۔ قارئین کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ باضابطہ فتویٰ مرتب کر کے متحدہ ہندوستان کے تمام سرکردہ جید علمائے کرام سے فتویٰ لینے کی سعادت بھی اللہ تعالیٰ نے دیوبند کو نصیب فرمائی۔ دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا محمد سہولؒ نے ١٢؍ صفر ١٣٣١ھ کو فتویٰ مرتب کیا کہ:

مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزائیوں کو سلام نہ کریں، ان سے رشتہ ناتہ نہ کریں، ان کا ذبیحہ نہ کھائیں، جس طرح یہود، ہنود، نصاریٰ سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں اسی طرح مرزائیوں سے بھی علیحدہ رہیں۔ جس طرح بول و براز، سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔

پیچھے نماز پڑھنا۔

مساجد میں عبادت کی اجازت دینا ایسے ہے۔ جیسے ہندوؤں کو مسجد میں پوجا پاٹ کی اجازت دینا۔

اس لئے اس کے پیروکاروں کو جائے۔

اس فتویٰ پر دستخط کر حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، حضر حسن چاند پوریؒ، مولانا عبدا ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا ا اکابر علمائے کرام کے دستخط تھے پور، راولپنڈی، ہزارہ، مراد آباد اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا وقیع او کفر عیاں وعریاں ہے بایں ہمہ سوچ سمجھ کر اتنا جاندار فتویٰ مرتب کہ ایک صدی گزرنے کے باو اس کے بعد ١٣٣٢ھ میں دارالع رشتہ ناتہ کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ ہے، اس پر دیوبند سے حضر مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، ح حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ، ح کامل پوریؒ، حضرت مولانا عب الامت حضرت مولانا محمد اشر رائے پوریؒ، حضرت مولانا شا اللہ دہلویؒ، غرض کلکتہ، بنارس راولپنڈی، ملتان، ہوشیار پور بھوپال، رام پور، وغیرہ سے ب

صفحہ ١٢١

اس لئے اس کے پیروکاروں کو ’’قادیانی‘‘ یا ’’فرقہ غلامیہ‘‘ بلکہ جماعت شیطانیہ ابلیسیہ کہا جائے۔

اس فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا عبدالسمیع، حضرت مفتی عزیز الرحمٰن دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا اعزاز علی دیوبندیؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن ایسے دیگر اکابر علمائے کرام کے دستخط تھے جن کا تعلق دیوبند، سہارنپور، دہلی، کلکتہ، ڈھاکہ، پشاور، رام پور، راولپنڈی، ہزارہ، مراد آباد، وزیر آباد، ملتان اور میانوالی وغیرہ سے تھا۔ آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنا وقیع اور جاندار فتویٰ تھا۔ آج سو سال کے بعد جب کہ قادیانیت کا کفر عیاں و عریاں ہے بایں ہمہ اس فتویٰ میں ذرہ برابر زیادتی کرنا ممکن نہیں۔ ان اکابر نے سوچ سمجھ کر اتنا جاندار فتویٰ مرتب کیا، اس میں تمام جزئیات کو شامل کر کے اتنا جامع بنا دیا کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود اس کی آب و تاب و جامعیت جوں کی توں باقی ہے۔

اس کے بعد ١٣٣٢ھ میں دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ جاری ہوا جس میں قادیانیوں سے رشتہ ناتہ کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ فتویٰ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحب کا مرتب کردہ ہے، اس پر دیوبند سے حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ، حضرت مولانا رسول خانؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، حضرت مولانا گل محمد خانؒ، سہارنپور سے مظاہر العلوم کے مہتمم حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمٰن کامل پوریؒ، حضرت مولانا عبداللطیفؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، تھانہ بھون سے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، رائے پور سے حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، دہلی سے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، غرض کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مراد آباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان، ہوشیار پور، گورداسپور، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حیدر آباد دکن، بھوپال، رام پور، وغیرہ سے سینکڑوں علمائے کرام کے دستخط ہیں۔ اس فتویٰ کا نام ’’فتویٰ

صفحہ ١٢٢

تکفیر قادیان‘ ہے۔ یہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سے شائع ہوا۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات:

حضرات علمائے دیوبند کی مساعی جمیلہ کے صدقے پوری امت کے تمام مکاتب فکر قادیانیوں کے خلاف صف آرا ہو گئے تو پورے متحدہ ہندوستان میں قادیانیوں کا کفر امت محمدیہؐ پر آشکارا ہوا۔ یوں تو ہندوستان کی مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ ماریشس تک کی عدالتوں کے فیصلہ جات قادیانیوں کے خلاف موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ جس مقدمہ نے شہرت حاصل کی اور جو ہر عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن گیا وہ ”مقدمہ بہاولپور“ ہے۔ علمائے بہاولپور کی دعوت پر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ابوالوفا شاہجہانپوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ایسے اکابر علمائے دیوبند نے بہاولپور ایسے دور افتادہ شہر آ کر کیس کی وکالت کی۔ اس مقدمہ کی ١٩٢٦ء سے لے کر ١٩٣٥ء تک کارروائی چلتی رہی۔ اس مقدمہ میں جج نے قادیانیت کے کفر پر عدالتی مہر لگا کر قادیانیت کے وجود میں ایسی کیل ٹھونکی جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی۔ سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کی بنیاد یہی فیصلہ ہے جس کی کامیابی میں فرزندان دیوبند سب سے نمایاں ہیں۔ فالحمد للہ اولاً و آخراً۔

قادیانیت کا جماعتی سطح پر احتساب:

فرد کا مقابلہ فرد اور جماعت کا مقابلہ جماعت ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ مارچ ١٩٣٠ء کو لاہور میں انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں جو حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر منعقد ہوا تھا ملک بھر سے پانچ سو علمائے کرام کے اجتماع میں امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ”امیر شریعت“ کا خطاب دیا اور قادیانیت کے محاذ کی ان پر ذمہ داری ڈالی۔ اس وقت قادیانیت

صفحہ ١٢٣

کے خلاف افراد اور اداروں کی محنت میں دارالعلوم دیوبند کا کردار قابل رشک تھا۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ تو گویا تکوینی طور پر محاذ ختم نبوت کے انچارج تھے۔ قادیانیوں کے خلاف ان کا اور مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ کا وجود ہندوستان کی دھرتی پر درۂ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب جماعتی سطح پر قادیانیوں کے احتساب کے لئے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی ڈیوٹی لگی۔ آپ نے مجلس احرار اسلام ہند میں مستقل شعبہ تبلیغ قائم کر دیا۔ جمعیۃ علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کی پوری قیادت کا ان پر اس سلسلہ میں بھر پور اعتماد تھا۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ایسے مقبولان بارگاہ الٰہی نے سر پرستی سے سرفراز فرمایا۔

قادیان کانفرنس:

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے مجلس احرار اسلام ہند نے ٢٠، ٢١، ٢٢ / اکتوبر ١٩٣٤ء کو قادیان میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں ان اکابرین ملت نے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عنایت علی چشتیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، حضرت مولانا رحمت اللہ مہاجر مکیؒ وغیرہ ان سب حضرات نے قادیان میں رہ کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم کے فیصلوں کو دیکھئے کہ یہ سب حضرات خانوادۂ دیوبند سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کانفرنس میں علمائے کرام نے ملک کے چپہ چپہ میں قادیانی عقائد و عزائم کی قلعی کھولنے کی ایک لہر پیدا کر دی۔

قادیان سے ربوہ تک:

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ”مجلس احرار اسلام“ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعے انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن خبیثہ کو پھونک ڈالا۔ تا آنکہ ١٩٤٧ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہو گیا اور قادیان کی منحوس بستی دارالکفر اور

صفحہ ١٢٤

دارالحرب ہندوستان کے حصہ میں آئی۔ قادیانی خلیفہ اپنی ”ارض حرم“ اور ”مکتہ المسیح“ (قادیان) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور پاکستان میں ربوہ کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد شاہکار نبوت کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

قیام پاکستان کے بعد:

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان خلیفہ قادیان (حال ربوہ) کا ادنیٰ مرید ہے اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ”احرار اسلام“ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے بکھر چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ”احرار اسلام“ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ اس لئے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ”تحفظ ختم نبوت“ کا کام انسان نہیں کرتے خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لئے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرما دیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت:

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے۔ چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ”مسجد سراجاں“ (١٩٤٩ء) میں ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مولانا عبدالرحمن میانویؒ مولانا تاج محمود لائلپوریؒ اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ شریک ہوئے۔ غور و فکر کے بعد ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدر المبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات

صفحہ ١٢٥

صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جو قادیان میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے ملتان طلب کیا گیا۔ ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر تھا‘ وہی دارالمبلغین تھا‘ وہی دارالاقامہ تھا‘ وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔ شہید اسلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بقول: ”وذلك في ذات الاله وان يشاء يبارك على اوصال شلو ممزع“۔ حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف وضعیف تحریک میں ایسی برکت ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ لاکھوں سے متجاوز ہے۔

قیادت باسعادت:

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیاء اللہ کی قیادت و سرپرستی اور دعائیں اسے حاصل رہی ہیں۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ آخری دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ خانقاہ سراجیہ کندیاں‘ اس کے سرپرست ہیں‘ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے بانی اور امیر اول امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ امیر شریعتؒ کی وفات ١٩٦١ء میں ہوئی اور خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کے جانشین مقرر ہوئے‘ ان کے وصال کے بعد حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو امارت سپرد کی گئی۔ ان کے وصال کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ امیر مجلس ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو مسند امارت تفویض ہوئی مگر اپنے ضعف وعوارض کی بناء پر انہوں نے اس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی

صفحہ ١٢٦

پیش قدمی رک جانے کا اندیشہ لاحق ہو گیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکا یک ایک ایسی ہستی کو اس منصب عالی کے لئے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم و روایات کی امین تھی اور جس پر ملت اسلامیہ کو بجا طور پر فخر حاصل تھا۔ میری مراد شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے ہے۔

تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت، امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وراثت و امانت تھی اور اس کا اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوری سے بہتر اور کون ہو سکتا تھا؟ چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی خطابت، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نور اللہ مرقدہ کی ذہانت، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کی رفاقت، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی بلندی عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگا دیئے بلکہ ان حضرات کی قیادت نے قصر قادیانی پر اتنی ضرب کاری لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر کذب و افترا کی آئینی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت:

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا مقصد تاسیس، عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت اور امت مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ جماعت خارزار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے، چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کر دی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے، کیونکہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لئے دوسرے حضرات موجود ہیں۔ اس لئے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد، اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے مقصود تھے: ایک یہ کہ ”جماعت تحفظ ختم نبوت“ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدۂ ختم نبوت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ دوم یہ کہ ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی

صفحہ ١٢٧

جماعت سے تصادم نہیں ہوگا۔ اور امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ختم نبوت اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔

امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ:

امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کو قدرت نے قادیانیت کے خلاف سراپا تحریک بنا دیا تھا۔ آپ نے اپنے شاگردوں کی ایک مستقل جماعت کو قادیانیت کے خلاف تحریری و تقریری میدان میں لگایا تھا۔ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، مولانا غلام اللہ خانؒ ایسے جید علمائے امت جنہوں نے قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے، یہ سب حضرت کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی مسندِ حدیث پر بیٹھ کر اس مرد قلندر نے اس فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا جسے دیانت دار مورخ سنہرے حروف سے لکھنے پر مجبور ہے۔

پاکستان اور قادیانیت:

١٩٤٧ء میں پاکستان بنا، قادیانی جماعت کا لاٹ پادری مرزا محمود قادیان چھوڑ کر پاکستان آگیا، پنجاب کے پہلے انگریز گورنر موڈی کے حکم پر چنیوٹ کے قریب ان کو لبِ دریا ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر الاٹ کی گئی۔ فی مرلہ ایک آنہ کے حساب سے صرف رجسٹری کے کل اخراجات -/10,034 روپے وصول کئے۔ قادیانیوں نے بلا شرکت غیرے وہاں پر اپنی اسٹیٹ ”مرزائیل“ کی اسرائیل کی طرز پر بنیاد رکھی۔ ظفر اللہ قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنا۔ اس نے سرکاری خزانہ سے آب و دانہ کھا کر قادیانیت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ انگریز خود چلا گیا مگر جاتے ہوئے اسلامیانِ برصغیر کے لئے اپنی لے پالک اولاد قادیانیت کے لئے ایک مضبوط بیس مہیا کر گیا۔ قادیانی علی الاعلان

صفحہ ١٢٨

اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔ ان پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ قادیانیوں کی تعلی اور لن ترانیاں دیکھ کر اسلامیان پاکستان کا ہر درد رکھنے والا شخص اس صورت سے پریشان تھا۔ قادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح ہوا پر سوار تھے۔ ملک میں جدا گانہ طرز انتخاب پر الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ شمار کیا گیا۔ چنانچہ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بریلوی مکتبہ فکر کے رہنما مولانا ابو الحسنات قادریؒ کے ہاں بھیجا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ مکاتب فکر اکٹھے ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی جسے تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں مرکزی کردار ابنائے دارالعلوم دیوبند کا تھا۔ اس تحریک نے قادیانیوں کے منہ زور گھوڑے کو لنگڑا کر دیا۔ ظفر اللہ قادیانی ملعون اپنی وزارت سے آنجہانی ہو گیا۔ قادیانیت کی اس تڑاخ سے ہڈیاں ٹوٹیں کہ وہ زمین پر رینگنے لگی۔ عقیدہ ختم نبوت کی ان عظیم خدمات پر دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے، قبل ازیں ١٩٤٩ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جس پلیٹ فارم کا اعلان ہوا تھا۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد اسے مستقل جماعت کے طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے منظم کیا گیا جبکہ سیاسی و مذہبی طور پر اسلامیان پاکستان کی رہنمائی اور اسلامی نظام کے نفاذ اور اشاعت دین کے لئے ”جمعیت علماء اسلام پاکستان“ کی تشکیل کی گئی۔ یہ سب ابنائے دارالعلوم کا کارنامہ ہے۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان نے ایوبی دور میں مغربی پاکستان اسمبلی میں شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت با سعادت میں ”تحفظ ختم نبوت“ کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں، غرض مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قادیانیت کا احتساب کیا گیا ”مغربی آقاؤں“ کے اشارے پر قادیانی ”فوج“ و دیگر سرکاری دوائر میں سرگرم عمل تھے علماء کرام کی مستقل جماعت مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا

صفحہ ١٢٩

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا گل بادشاہؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا عبدالرحمٰن میانویؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالقیومؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ اور ان کے ہزاروں شاگرد لاکھوں متوسلین کروڑوں متعلقین نے جو خدمات سرانجام دیں وہ سب دارالعلوم کا فیضان نظر ہے۔ سب اسماء گرامی کا استحضار و احصاء ممکن نہیں وہ سب حضرات جنہوں نے اس سلسلہ میں خدمات سرانجام دیں ہمارے ان الفاظ کے لکھنے کے محتاج نہیں وہ یقیناً رب کریم کے حضور اپنے حسنات کا اجر پا چکے۔ (فنعم اجر العاملین)

قرار داد رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ:

رابطہ کا سالانہ اجتماع اپریل ١٩٧٤ء میں منعقد ہوا، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے اکابرین دیوبند اس اجتماع میں نہ صرف موجود تھے بلکہ اس قرارداد کو پاس کرانے کے داعی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی جو دور رس نتائج کی حامل ہے، اس سے پوری دنیا کے علماء اسلام کا قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد ہو گیا۔

تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء:

اللہ رب العزت کے فضل و احسان کے بموجب ١٩٧٠ء میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مثالی جدوجہد سے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا صدر الشہیدؒ اور دیگر حضرات قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم برسر اقتدار آئے، قادیانیوں نے ١٩٧٠ء میں پیپلز پارٹی کی دامے درمے اور افرادی مدد کی تھی، قادیانیوں نے پھر پر پرزے نکالے۔ ٢٩؍مئی ١٩٧٤ء کو چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا، اس کے نتیجہ میں تحریک چلی اسلامیان پاکستان ایک پلیٹ فارم ”مجلس

صفحہ ١٣٠

عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر جمع ہوئے جس کی قیادت دارالعلوم دیوبند کے مرد جلیل، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فرمائی اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی نمائندگی کا شرف حق تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ یوں قادیانی قانونی طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کہاں قادیانی اقتدار کا خواب اور کہاں چوہڑوں، چماروں میں ان کا شمار، اس پوری جدوجہد میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کی خدمات اللہ رب العزت کے فضل و کرم کا اظہار ہے، غرض دارالعلوم دیوبند کے سرپرست اول حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی ”الف“ سے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک شروع ہوئی وہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی ”یاء“ پر کامیابی سے سرفراز ہوئی۔

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے متعلق جو کارروائی ہوئی وہ سب قومی ”تاریخی دستاویز“ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کر دی ہے۔ قومی اسمبلی میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان ہمارے اکابر نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں قادیانیوں کو جس طرح چاروں شانے چت کیا یہ دستاویز اس پر ”شاہد عدل“ ہے۔ قادیانیوں نے اسمبلی میں ایک محضر نامہ پیش کیا تھا جس کا جواب مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگرانی میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے لکھا۔ حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعر نے فراہم کئے اور قومی اسمبلی میں اسے مفکر اسلام قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق برسر اقتدار آئے ان کے زمانہ میں پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالے ایک بار ووٹنگ لسٹوں کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی، اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھریؒ بھاگم بھاگ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے پاس راولپنڈی پہنچے۔ حضرت مفتی صاحبؒ ملٹری ہسپتال میں پاؤں کے زخم کے علاج کے سلسلہ میں زیر علاج تھے۔ اس حالت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے جنرل ضیاء الحق کو فون کیا۔

آپ کی للکار سے اقتدار کا نشہ ہرن ہوا ا میں قادیانیوں سے متعلق قانون کو نرم کر فرزند کی للکار حق نے ناکام بنادیا۔

١٩٨٢ء میں جنرل ضیاء الحق کے شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل ابہام پیدا ہو گیا کہ قادیانیوں سے متعلق قـ رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلاء کے دستخطوں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعید الرّ مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ محترم جناب راجہ ظفر الحق وفاقی وزیر ۔ آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے مـ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینا آئینی تحفظ حاصل ہے۔

تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء:

جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شـ الحق کے زمانہ میں قادیانی خواہش تھی کہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے سے مسلمانوں کے ردّعمل نے تحریک ختم نـ مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مو آزمائش میں دارالعلوم دیوبند کے زعما برکاتہم، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن

صفحہ ١٣١

آپ کی للکار سے اقتدار کا نشہ ہرن ہوا اور وہ غلطی درست کر دی گئی وہ غلطی نہ تھی بلکہ حقیقت میں قادیانیوں سے متعلق قانون کو نرم کرنے کی پہلی چال تھی، جسے دارالعلوم دیوبند کے ایک فرزند کی للکار حق نے ناکام بنا دیا۔

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں پرانے قوانین کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل کر چکے ہوں ان کو نکال دیا جائے)۔ اس موقعہ پر ابہام پیدا ہو گیا کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم بھی منسوخ ہوگئی ہے، اس پر ملک کے وکلاء کی رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلاء کے دستخطوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ جنگ میں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعید الرحمن مہتمم جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ صدر راولپنڈی، مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک جنرل صاحب کو ملے ان کی کابینہ میں محترم جناب راجہ ظفر الحق وفاقی وزیر تھے ان کے مشورہ سے جنرل صاحب نے ایک آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا وہ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس آرڈی نینس کو اس وقت بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء:

جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شدہ آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں قادیانی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ ترمیم منسوخ ہو جائے اس کے لئے وہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے۔ قادیانی سازشوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے مسلمانوں کے ردّعمل نے تحریک ختم نبوت ١٩٨٤ء کی شکل اختیار کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ اب اس نئی آزمائش میں دارالعلوم دیوبند کے زعماء خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا محمد اجمل خان، مولانا

صفحہ ١٣٢

عبیداللہ انور، پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیر شریف، مولانا محمد مراد ہالیجوی ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا میاں سراج احمد دینپوری ، مولانا سید محمد شاہ امروٹی ، مولانا عبدالواحد ، مولانا منیر الدین کوئٹہ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حبیب اللہ مختار شہید، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا سید امیر حسین گیلانی، ایسے ہزاروں علماء حق نے تحریک کی قیادت کی اور اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے متعلق پھر قانون سازی کے اس خلا کو پُر کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈی نینس منظور ہوا۔

یہ آرڈی نینس اس وقت قانون کا حصہ ہے، اس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:

سکتے۔

سکتے۔

کر سکتے۔

صفحہ ١٣٣

بحمدہ تعالیٰ اس قانون کے منظور ہونے سے قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ جسے وہ ظلی حج قرار دیتے تھے، پاکستان میں اس پر پابندی لگی۔ قادیانی جماعت کے چیف گرو، لاٹ پادری مرزا طاہر کو ملک چھوڑ کر لندن جانا پڑا۔ اس تمام تر کامیابی و کامرانی کے لئے ”ابنائے دارالعلوم دیوبند“ نے جو خدمات سرانجام دیں ان کو کوئی منصف مزاج نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانیوں کے لئے ”نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن“ والا قصہ ہو گیا۔

مقدمات:

تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے حکم پر کیس کی تیاری اور پیروی کے لئے شہید مظلوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب پر مشتمل جماعت نے لاہور ڈیرے لگا دیئے۔ ملتان عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ سے بیسیوں بکس کتب کے بھر کے لاہور لائے گئے، فوٹواسٹیٹ مشین کا اہتمام کیا گیا، جامعہ اشرفیہ لاہور کی لائبریری اس کیس کی پیروی کے لئے جامعہ کے حضرات نے وقف کر دی۔ ١٥؍ جولائی سے ١٢؍ اگست ١٩٨٤ء تک اس کی سماعت جاری رہی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور خانقاہ رائے پور کی روایات کے امین حضرت اقدس سید نفیس الحسینی اور مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود بھی تشریف لاتے رہے۔ لاہور کی تمام جماعتوں نے بھر پور حصہ لیا اور بالکل بہاولپور کے مقدمہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ اللہ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے نہایت ہی کرم کا معاملہ فرمایا۔ ١٢؍ اگست ١٩٨٤ء کو جب فیصلہ آیا تو قادیانیوں کی رٹ خارج کر دی گئی ”کفر

صفحہ ١٣٤

ہار گیا، اسلام جیت گیا‘‘ تفصیلی فیصلہ جسٹس فخر عالم نے تحریر کیا۔

کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ١٢/ جنوری ١٩٨٨ء سپریم کورٹ اپیل بینچ نے اس اپیل کو بھی مسترد کر دیا۔ اسی طرح قادیانیوں نے لاہور، کوئٹہ، کراچی ہائیکورٹس میں کیس دائر کئے، تمام جگہ ان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانی ان تمام مقدمات کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے کر گئے۔ حق تعالیٰ شانہ نے یہاں بھی فیض یافتگان دارالعلوم دیوبند کو توفیق بخشی۔ اس کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا علامہ احمد میاں حمادی، شہید اسلام مولانا محمد عبداللہ، قاری محمد امین، مولانا محمد رمضان علویؒ، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ کے جانشین مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبدالرؤف اور اسلام آباد، راولپنڈی کے تمام ائمہ و خطباء نے ایمانی جرأت و دینی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ٣/ جنوری ١٩٩٣ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ بحمدہ تعالیٰ ان تمام فیصلہ جات پر مشتمل کتاب ”قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے“ شائع شدہ ہے، جس میں دیگر تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی زین العابدین، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، ڈاکٹر محمود احمد غازی، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا منظور احمد الحسینی نے اس کی پیروی کے لئے وہاں کے سفر کئے

یہ فیصلہ بھی قادیانیوں کے خلاف ہوا۔

امتناع قادیانیت قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانی جماعت کے بھگوڑے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ ابنائے دارالعلوم دیوبند وہاں بھی پہنچے۔ سالانہ

صفحہ ١٣٥

عالمی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ١٩٨٥ء سے ہر سال تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتی رہی ہے۔ پاکستان، ہندوستان، عرب، افریقہ و یورپ سے علماء کرام اور ابنائے و فضلائے دارالعلوم دیوبند تشریف لا کر اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں، اسی طرح برطانیہ میں مستقل طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا مستقل دفتر قائم کر دیا ہے، جہاں سے ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جا رہا ہے۔ امریکہ، افریقہ، یورپ کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مستقل بنیادوں پر قادیانیت کے خلاف کام ہو رہا ہے اور وہ تمام تر کام بحمدہ تعالیٰ ابناء دارالعلوم دیوبند سرانجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ تربیتی کورسز کا سلسلہ شروع ہے۔ کتب، لٹریچر کی اشاعت و تقسیم ہو رہی ہے اور اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند میں ہی ”کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت“ قائم کر دی گئی ہے۔ فالحمد للہ۔

آثار و نتائج:

اکابر دیوبند کی مساعی اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے مقاصد و خدمات کا مختصر سا خاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہدِ مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے۔

اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر مرتد دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

کفر و نفاق واضح ہو گیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے واقف ہو گئے۔

کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے دیئے۔

صفحہ ١٣٦

ممالک کو قادیانیوں کے غلبہ اور تسلط سے محفوظ کر دیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔

پنجم ...... بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہو کر مرتد ہو گئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہو گئے۔

ششم ...... ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہو جاتے تھے۔ اب بھی اگر چہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے۔ مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہو رہا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہو رہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی اور ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔

ہفتم ...... قیام پاکستان سے ١٩٧٤ء تک ”ربوہ“ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی، حتیٰ کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ”ربوہ“ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ١٩٧٥ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس ومساجد دفتر ولائبریری قائم ہیں۔

ہشتم ...... قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

نہم ...... پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

دہم ...... پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا تعزیری جرم قرار دیا جا چکا ہے۔

یاز دہم ...... سعودی عرب م ہے اور انہیں ”عالم کفر کے جاسوس“

دواز دہم ...... مرزا غلام احمد اجازت نہیں تھی، مگر اب صورت حا

سیز دہم ...... قادیانی جو بیرو میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دا میں ذلیل ہو چکے ہیں، بلکہ خدا کی ز قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین آج قادیانی شہر کا نام مٹنا ہے تو ور (انشاء اللہ العزیز)۔

نوٹ ...... موضوع کی منا خدمات دربارہ تحفظ ختم نبوت کا ا اہلحدیث یا شیعہ حضرات، سب ا محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دی ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ”تحریک ختم اکابر کی سنہری خدمات کا تفصیلی تا

صفحہ ١٣٧

یازدہم:...... سعودی عرب‘ لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ”عالم کفر کے جاسوس“ قرار دیا جا چکا ہے۔

دوازدہم:...... مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی‘ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

سیزدہم:...... قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ”ربوہ“ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہو چکے ہیں‘ بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔ ربوہ کا نام مٹ کر اب ”چناب نگر“ ہے۔ آج قادیانی شہر کا نام مٹا ہے تو وہ وقت آیا چاہتا ہے جب قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ (انشاء اللہ العزیز)۔

نوٹ:...... موضوع کی مناسبت اور سوال کی نوعیت کے پیش نظر صرف علمائے دیوبند کی خدمات دربارہ تحفظ ختم نبوت کا تذکرہ کیا ہے ورنہ تمام علماء کرام چاہے وہ بریلوی ہوں یا اہلحدیث یا شیعہ حضرات‘ سب اس محاذ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے۔ سب نے اس محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ کتاب ”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ”تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء“ (تین جلدیں) ان میں تمام مکاتب فکر کے اکابر کی سنہری خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی سید المعصومین حضور سیدنا محمد ﷺ کا ارشاد گرامی

صفحہ ١٣٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حیات عیسیٰ علیہ السلام

سوال ١:....... سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے بارے میں اسلام، یہودیت، مسیحیت اور مرزائیت کا نقطہ نظر واضح کریں؟

جواب:...... اسلام کا نقطہ نظر دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام: عقیدہ ختم نبوت کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع ونزول کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین میں شامل ہے جو قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور جس کو علماء امت نے کتب تفسیر، شروح احادیث اور کتب علم کلام میں مکمل توضیحات وتشریحات کے ساتھ منقح فرمایا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم کے بطن مبارک سے محض نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے، یہود نے ان سے بغض وعداوت کا معاملہ کیا، آخر کار جب ایک موقع پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی تو بحکم خداوندی، فرشتے ان کو اٹھا کر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہوگا اور وہ

صفحہ ١٣٩

دنیا میں فتنہ و فساد پھیلائے گا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے، اور قرآن وحدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ ان کے زمانہ میں (جو اس امت کا آخری دور ہوگا) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا، اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہو جائے گا، نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال وزر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں دفن کر دیں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں جن کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)

اسلامی عقیدہ کے اہم اجزاء یہ ہیں:

ہدایت ہیں، جن کی بشارت کتب سابقہ میں دی گئی ہے وہ سچے نبی کی حیثیت سے ایک مرتبہ دنیا میں مبعوث ہو چکے ہیں۔

صفحہ ١٤٠

(حضرت عیسیٰ بن مریم) نزول فرما کر مسیح ضلالت (دجال) کو قتل کریں گے، ان سے الگ کوئی اور شخص ان کی جگہ مسیح کے نام سے دنیا میں نہیں آئے گا۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہودیوں کا نقطۂ نظر:

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت ابھی نہیں آیا، اور عیسیٰ بن مریم" نامی جس شخص نے اپنے آپ کو مسیح اور رسول اللہ کہا ہے (نعوذ باللہ) وہ جادوگر اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا تھا، اسی لئے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا، بلکہ ان کے بقول یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا، جیسا کہ ارشاد ہے:

"وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم رسول الله۔"

(سورة نساء آیت:١٥٧)

"اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا۔"

(ترجمہ شیخ الہند)

دعویٰ قتل عیسیٰ بن مریم میں تو تمام یہود متفق ہیں، البتہ ان میں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ قتل کئے جانے کے بعد اہانت اور تشہیر کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا، اور دوسرا فریق کہتا ہے کہ سولی پر چار میخ کئے جانے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔

(محاضرہ علمیہ نمبر ٤ ص ١٤ از حضرت قاری محمد عثمان صاحب)

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحی نقطۂ نظر:

اور نصاریٰ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مسیح ہدایت آچکے ہیں اور وہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں، اس کے بعد ان میں دو فرقے بن گئے:

صفحہ ١٤١

نے زندہ کر کے ان کو آسمان پر اٹھا لیا ، اور سولی پر چڑھایا جانا عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ہو گیا ، اسی لئے عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔

کو آسمان پر اٹھا لیا۔

پھر یہ دونوں فرقے بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت عین قیامت کے دن جسم ناسوتی یا جسم لاہوتی میں، خدا بن کر آئیں گے ، اور مخلوق کا حساب لیں گے۔

حاصل یہ کہ تمام یہود اور نصاریٰ کی بڑی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت الصلیب کی قائل ہے، اور یہود و تمام نصاریٰ کو ایک مسیح ہدایت کا انتظار ہے، یہود کو تو اس وجہ سے کہ ابھی یہ پیشنگوئی پوری نہیں ہوئی، اور نصاریٰ کو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن برائے فیصلہ خلائق خدا کی شکل میں آنے والے ہیں۔

(محاضرہ علمیہ نمبر ٤ ص ٤)

حضرت عیسیٰ کے متعلق قادیانی عقائد:

مرزا قادیانی نے کتب ”ازالہ اوہام ، تحفہ گولڑویہ، نزول مسیح اور حقیقت الوحی“ وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کا خلاصہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ”حقیقی اسلام“ میں تحریر کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ:

”اس بحث کے دوران میں (مرزا قادیانی) نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی۔

ایک انسان تھے جو دشمنوں کی شرارت سے صلیب پر ضرور چڑھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچا لیا اس کے بعد وہ

صفحہ ١٤٢

خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے۔

کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی (٨٧ برس کے بعد ) اور وہیں ان کی قبر (سری نگر کے محلہ خانیار میں، ناقل) موجود ہے۔

جاسکتا، اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔

ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔

قادیانی) کے وجود میں پورا کیا گیا، اور آپ ہی وہ مسیح موعود ہیں جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق صداقت کی آخری فتح مقدر ہے، خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قسم کھا کر لکھا ہے:

”میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ و كفى بالله شهيداً۔“

(حقیقی اسلام ص: ٢٩، ٣٠)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست درازیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے آسمانوں پر اٹھالیا، آپ قرآن واحادیث صحیحہ کی روشنی میں اس عقیدہ کو ثابت

جواب:....... حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھایا جانا:

ورافعك الى ومطهرك اتبعوك فوق الذين كف فاحكم بينكم فيما كنتم

ترجمہ: ”جب کہ اللہ گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا اپنی والا ہوں جو منکر ہیں اور غالب رکھنے والا ہوں ان پھر میری طرف ہوگی سب کر دوں گا، ان امور میں

اس آیت کریمہ کے متصل ما تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی مفسرین آیت مذکورہ میں فرمائی گئی ہے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناپاک منصوبہ بنا رہے تھے، حضر علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے ب

صفحہ ١٤٣

روشنی میں اس عقیدہ کو ثابت کریں؟

جواب:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا:

دلیل:١...... ارشاد ربانی: ”اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعك الی ومطهرك من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیمة ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون۔“

(آل عمران:٥٥)

ترجمہ:”جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھالوں گا اپنی طرف اور تجھ کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں، ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ منکر ہیں، روز قیامت تک پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی، سو میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا، ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔“

اس آیت کریمہ کے متصل ماقبل کی آیت کریمہ و مکروا و مکر اللہ میں باری تعالیٰ کی جس خفیہ و کامل تدبیر کی جانب اشارہ فرمایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل حسب بیان مفسرین آیت مذکورہ میں فرمائی گئی ہے۔ اس محکم تدبیر کے وقوع سے پہلے ہی جب کہ یہود بے بہبود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے قیام کا محاصرہ کر کے قتل وسولی پر چڑھانے کا ناپاک منصوبہ بنارہے تھے، حضرت حق جل مجدہ نے ایسے خطرناک وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دینے کے لئے بشارت دے دی کہ آپ کے دشمن خائب وخاسر رہیں گے،

صفحہ ١٤٤

اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے گئے:

یہ چار وعدے اس لئے فرمائے گئے کہ یہود کی سازش میں یہ تفصیل تھی کہ:

ونام لیوا بھی نہ رہے۔

لہذا ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں متوفيك فرمایا، یعنی تم کو بھر پور لینے والا ہوں، تم میری حفاظت میں ہو، اور ارادۂ ایذاء و قتل کے مقابلہ میں رافعك الی فرمایا، یعنی میں تم کو آسمان پر اٹھالوں گا، اور رسوا اور ذلیل کرنے کے مقابلہ میں مطهرك من الذين كفروا فرمایا، یعنی میں تم کو ان یہود نامسعود سے پاک کروں گا، رسوائی و بے حرمتی کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور آپ کی امت کو مٹانے اور دین مسیحی کو نیست و نابود کرنے والوں کے مقابلہ میں: ”جاعل الذين اتبعوك ...... الخ“ فرمایا، یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر غلبہ دوں گا۔

توفی کے معنی :

بہر حال پہلا وعدہ لفظ ”توفی“ سے فرمایا گیا ہے۔ اس کے حروف اصلیہ ”و ف ی“ ہیں، جس کے معنی ہیں پورا کرنا، چنانچہ استعمال عرب ہے وفی بعهده اپنا وعدہ پورا کیا۔

(لسان العرب) ۔ باب تفعل میں جا

(بیضاوی) یعنی کسی چیز کو پورا پورا لینا

تمام انواع آتی ہیں ، موت ، نیند اور رف

” قوله (انی مت

جنس تحته انواع

السماء فلما قال بعده (

لم يكن تكراراً۔“ (تفسیر

ترجمہ :”باری تعالیٰ

پر دلالت کرتا ہے اور وہ

کوئی بالموت اور کوئی بالر

اس کے بعد و رافعك

الى السماء ) نہ کہ تکرار “

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ ک

حالیہ و مقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔

ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد و

کیوں کہ رفع ، وضع وخفض کی ضد ۔

و مطهرك من الذين كفروا ۔

ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا

” عن ابی ح

ومطهرك من الذ

وتطهيره من الذين -

صفحہ ١٤٥

(لسان العرب)۔ باب تفعل میں جانے کے بعد اس کے معنی ہیں: اخذ الشئ وافياً (بیضاوی) یعنی کسی چیز کو پورا پورا لینا، توفی کا یہ مفہوم جنس کے درجہ میں ہے، جس کے تحت یہ تمام انواع آتی ہیں، موت، نیند اور رفع جسمانی۔ چنانچہ امام رازیؒ فرماتے ہیں:

”قوله (انی متوفيك) يدل على حصول التوفی وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء فلما قال بعده (و رافعك الى) كان هذا تعيينا للنوع و لم يكن تكراراً۔“

(تفسیر کبیر زیر آیت یعیسی انی متوفیک ص ٧٢ جز ٨)

ترجمہ: ”باری تعالیٰ کا ارشاد انی متوفیک صرف حصولِ توفی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ایک جنس ہے جس کے تحت کئی انواع ہیں کوئی بالموت اور کوئی بالرفع الی السماء۔ پس جب باری تعالیٰ نے اس کے بعد و رافعك الی فرمایا، تو اس نوع کو متعین کرنا ہوا (رفع الی السماء) نہ کہ تکرار۔“

یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ جنس کو بول کر اس کی خاص نوع مراد لینے کے لئے قرینہ حالیہ و مقالیہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو یہاں توفی بمعنی رفع جسمانی الی السماء لینے کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد و رافعك الی فرمایا گیا۔ رفع کے معنی ہیں اوپر اٹھا لینا، کیوں کہ رفع، وضع و خفض کی ضد ہے جس کے معنی نیچے رکھنا، اور پست کرنا، اور دوسرا قرینہ ومطهرك من الذين كفروا ہے، کیونکہ تطہیر کا مطلب یہی ہے کہ کفار (یہود) کے ناپاک ہاتھوں سے آپ کو صاف بچالوں گا۔ چنانچہ ابن جریجؒ سے محدث ابن جریرؒ نے نقل فرمایا ہے:

”عن ابی جريج قوله (انی متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا) قال فرفعه اياه اليه توفيه اياه وتطهيره من الذين كفروا۔“

(تفسیر ابن جریر ج٣ ص ٢٩٠)

صفحہ ١٤٦

”کہ باری تعالیٰ کا ارشاد گرامی متوفیک الخ کی تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینا ہی آپ کی توفی ہے اور یہی کفار سے ان کی تطہیر ہے۔“ اور تیسرا قرینہ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت مرفوعہ ہے جس کو امام بیہقیؒ نے نقل فرمایا ہے، اور جس میں نزول من السماء کی تصریح ہے: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم“

(کتاب الاسماء الصفات ص: ٢٠٣)

اس لئے کہ نزول سے پہلے رفع کا ثبوت ضروری ہے، اسی طرح جب یہ لفظ موت کے معنی دے گا تو قرینہ کی احتیاج ہوگی مثلاً: ”قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم۔“

(الم سجدہ: ١١)

ترجمہ: ”اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ تم کو قبض کرے گا ملک الموت جو تم پر مقرر کیا گیا ہے (یعنی تم کو مارے گا)۔“

اس میں ملک الموت قرینہ ہے، دیگر متعدد آیات میں بھی بر بنائے قرائن توفی بمعنی موت آیا ہے، کیونکہ موت میں بھی توفی یعنی پوری پوری گرفت ہوتی ہے۔ ایسے ہی جہاں نیند کے معنی دے گا، تو بھی قرینہ کی ضرورت ہوگی۔ مثلاً: ”وہو الذی یتوفکم باللیل“

(انعام: ٦٠)

ترجمہ: ”خدا ایسی ذات ہے کہ تم کو رات کے وقت پورا لے لیتا ہے، یعنی سلا دیتا ہے۔“

صفحہ ١٤٧

یہاں لیل اس بات کا قرینہ ہے کہ توفی سے مراد نوم ہے کیونکہ وہ بھی توفی (پوری پوری گرفت) کی ایک نوع ہے۔ یہ تمام تفصیلات بلغاء کے استعمال کے مطابق ہیں۔ البتہ عام لوگ توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ کلیات ابوالبقاء میں ہے:

"التوفی الاماتة وقبض الروح وعليه استعمال العامة او الاستيفاء واخذ الحق وعليه استعمال البلغاء"

(کلیات ابوالبقاء : ١٢٩)

یعنی عام لوگ تو توفی کو اماتت اور قبض روح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور بلغاء پورا پورا وصول کرنے اور حق لے لینے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

بہر حال زیر بحث آیت کریمہ میں بربنائے قرائن توفی کے معنی قبض اور پورا پورا یعنی جسم مع الروح کو اپنی تحویل میں لے لینے کے ہیں اماتت کے نہیں ہیں۔ البتہ قبض روح بصورت نیند کے معنی ہو سکتے ہیں کیونکہ قبض روح کی دو صورتیں ہیں، ایک مع الامساک اور دوسری مع الارسال، تو اس آیت میں توفی بقرینہ رافعک الی بمعنی نیند ہو سکتی ہے، اور یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں ہوگا کیونکہ نیند اور رفع جسمی میں جمع ممکن ہے۔ چنانچہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کیا ہے:

"(الثانی) المراد بالتوفی النوم ومنه قوله تعالى الله (يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت في منامها) فجعل النوم وفاة و كان عيسى قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا يلحقه خوف"

(خازن ص ٢٥٥ ج ١)

دلیل ٢: "......وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه"

(سورۃ نساء: ١٥٧، ١٥٨)

صفحہ ١٤٨

ترجمہ: ”اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔“

(ترجمہ شیخ الہندؒ)

یہودیوں کی جانب سے محاصرہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے زندہ رفع جسمانی کا جو وعدۂ خداوندی ہوا تھا، اس کے پورا ہونے کی اطلاع مذکورہ بالا آیات کریمہ میں دی گئی ہے۔

لفظ رفع کی تحقیق:

رفع کے لغوی معنی اوپر اٹھانا بتائے جاچکے ہیں، المصباح المنیر میں مذکور ہے:

”فالرفع فی الاجسام حقیقۃ فی الحرکۃ والانتقال وفی المعانی محمول علی ما یقتضیہ المقام“

(المصباح المنیر ص: ١٣٩)

ترجمہ: ”لفظ رفع جسموں کے متعلق حقیقی معنی کی رو سے حرکت اور انتقال کے لئے ہوتا ہے، اور معانی کے متعلق جیسا موقع ومقام ہو ویسی مراد ہوتی ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ ”رفع“ کے حقیقی و وضعی معنی جب کہ اس کا متعلق جسم ہو، یہی ہے کہ اس کو نیچے سے اوپر حرکت دے کر منتقل کردیا، اس حقیقی معنی کو جبکہ اس کو اختیار کرنے میں کوئی دشواری نہیں، جب کہ محاورات میں اس کی بہت سی نظائر موجود ہیں۔ مثلاً حضرت زینبؓ کے صاحبزادے کے انتقال کی حدیث میں آتا ہے:

”فرفع الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الصبی۔“

(مشکوٰۃ ص: ١٥٠)

ترجمہ: ”یعنی وہ لڑکا (آپ کا نواسہ) آپ کے پاس اٹھا کر لایا گیا۔“

اور اہل زبان بولا کرتے ہیں: ”رفعت الزرع الی الـ ترجمہ: ”میں کھیت کاٹـ بہر حال ”بل رفعہ اللہ“ میں ر حقیقی ہے کیونکہ ”ہ“ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کـ صرف روح کا، جیسا کہ ارشاد ہے: ”ورفع ابویہ علی العـ ترجمہ: ”یوسف علیـ چڑھا کر بٹھایا۔“ اور جہاں قرینہ پایا جائے گا وہاں اس کے ساتھ رفع جسم کے معنی نہیں۔ ا ہے۔ جیسے ارشاد ہے: ”ورفعنا بعضہم فوق ترجمہ: ”اور ہم نے ا بہر حال ”بل رفعہ اللہ“ میں نہ تو مـ اس لئے یہاں صرف رفع منزلت کے جسمانی کو سمجھنے کے لئے ایک آیت بھی ساتھ اس کو بیان فرمایا گیا، لیکن بے بـ ہے کہ : ”سارے قرآن شریف میں ا السلام کا زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھ

صفحہ ١٤٩

اور اہل زبان بولا کرتے ہیں:

”رفعت الزرع الى البيدر“

(قاموس، اساس البلاغة)

ترجمہ: ”میں کھیت کاٹ کر اور غلہ اٹھا کر خرمن گاہ میں لے آیا۔“

بہر حال ”بل رفعه الله“ میں رفع جسمانی مع الروح تو یقیناً مراد ہے جو اس کا معنی حقیقی ہے کیونکہ ”ہ“ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے جو جسد مع الروح کا نام ہے نہ کہ صرف روح کا، جیسا کہ ارشاد ہے:

”ورفع ابويه على العرش“

(سورہ یوسف: ١٠٠)

ترجمہ: ”یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر چڑھا کر بٹھایا۔“

اور جہاں قرینہ پایا جائے گا وہاں لفظ رفع مجازاً صرف رفع منزلت کے معنی دے گا اس کے ساتھ رفع جسم کے معنی نہیں لئے جاسکتے کیونکہ حقیقت ومجاز کا جمع ہونا جائز نہیں ہے۔ جیسے ارشاد ہے:

”ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات“

(سورہ زخرف: ٣٢)

ترجمہ: ”اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے۔“

بہر حال ”بل رفعه الله“ میں نہ تو حقیقی معنی متعذر ہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ موجود ہے، اس لئے یہاں صرف رفع منزلت کے معنی نہیں ہو سکتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو سمجھنے کے لئے ایک آیت بھی کافی تھی مگر قرآن کریم میں دو جگہ صراحتاً لفظ رفع کے ساتھ اس کو بیان فرمایا گیا، لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ یہی رٹ لگاتا رہتا ہے کہ: ”سارے قرآن شریف میں ایک آیت بھی ایسی نہیں کہ جس سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھایا جانا ثابت ہو“ (فسحقا لهم)۔

صفحہ ١٥٠

حالانکہ مذکورہ دو آیتوں کے علاوہ متعدد آیات کریمہ سے رفع عیسیٰ بجسدہ کا مضمون ثابت ہے۔ مثلاً:

(نساء:١٥٩)

(زخرف:٦١)

الصالحین“

(آل عمران:٤٦)

احادیث نبویہ سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت:

حدیث ١:...... ”عن النواس بن السمعانؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہروذتین واضعاً کفیہ علی اجنحۃ ملکین...... الخ فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ“

(مسلم ص ٤٠١ ج ٢ باب ذکر الدجال)

ترجمہ: ”حضرت نواس بن سمعانؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے وہ دمشق کی جامع مسجد کے سفید مشرقی مینار پر اتریں گے وہ دو زرد چادریں پہنے ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے الخ پھر وہ دجال کی تلاش میں نکلیں گے تاآنکہ اسے باب لد کے مقام پر پائیں گے پھر اسے قتل کر دیں گے۔“

صفحہ ١٥١

اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ بطور معجزہ ان کے منہ کی ہوا حد نگاہ تک پہنچے گی اور اس سے کافر مریں گے۔

حدیث٢: ...... ”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء وامامکم منکم۔“

(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص: ٣٠١)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری خوشی کا اس وقت کیا حال ہوگا، جب کہ عیسیٰ بن مریمؑ تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا“ (یعنی امام مہدی تمہارے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ باوجود نبی و رسول ہونے کے امام مہدی کی اقتداء کریں گے)۔“

تنبیہ:١: ...... اس حدیث میں لفظ من السماء کی صراحت ہے۔

تنبیہ:٢: ....... اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان الگ الگ شخصیتیں ہیں۔

حدیث٣: ...... ”قال الامام احمد حدثنا عفان ثنا ھمام انبأنا قتادۃ عن عبدالرحمن عن ابی ھریرةؓ ان النبی صلی الله علیہ وسلم قال الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد وانی اولیٰ الناس بعیسیٰ بن مریم لانہ لم یکن نبی بینی وبینہ وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران کان رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعو الناس الی الاسلام ویھلک الله فی زمانہ الملل کلھا

صفحہ ١٥٢

الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون۔“

(وكذا رواه ابوداؤد كذا فى تفسير ابن كثير ج١ ص٥٧٨

زیر آیت و ان من اهل الكتاب، قال الحافظ ابن حجر

رواه ابوداؤد و احمد باسناد صحیح، فتح الباری ص ٤٥٧ ج٦)

ترجمہ: ”امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں مائیں مختلف یعنی شریعتیں مختلف ہیں اور دین یعنی اصول شریعت سب کا ایک ہے، اور میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ قریب ہوں اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ نازل ہوں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ میانہ قد ہوں گے، رنگ ان کا سرخ اور سفیدی کے درمیان ہوگا، ان پر دو رنگے ہوئے کپڑے ہوں گے، سر کی یہ شان ہوگی کہ گویا اس سے پانی ٹپک رہا ہے، اگرچہ اس کو کسی قسم کی تری نہیں پہنچی ہوگی، صلیب کو توڑیں گے جزیہ کو اٹھائیں گے، سب کو اسلام کی طرف بلائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب کو نیست و نابود کردے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو قتل کرائے گا، پھر تمام روئے زمین پر ایسا امن ہوجائے گا کہ شیر اونٹ کے ساتھ اور چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور

صفحہ ١٥٣

بچے سانپ کے ساتھ کھیلنے لگیں گے، سانپ ان کو نقصان نہ پہنچائیں گے، عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال ٹھہریں گے پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔“

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی۔ آسمان سے نازل ہونے کے بعد قیامت سے پیشتر جب یہ تمام باتیں ظہور میں آ جائیں گی تب وفات ہوگی۔

حدیث ٤: ...... ”عن الحسن (مرسلاً) قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لليهود ان عیسیٰ لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيمة“ (أخرجه ابن کثير فی تفسير آل عمران ج ١ ص ٣٦٦)

ترجمہ: ”امام حسن بصری سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک نہیں مرے، زندہ ہیں اور وہ قیامت سے قبل واپس تشریف لائیں گے ۔“

حدیث ٥: ...... ”عن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ينزل عیسیٰ بن مريم الى الارض فيتزوج ويولد لہ ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معی فى قبرى فأقوم انا وعیسیٰ بن مريم فى قبر واحد بین ابی بکر و عمر۔“

(رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء کتاب الاذاعہ ص

١٧٧ مشکوٰۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ ابن مريم)

صفحہ ١٥٤

ترجمہ: ”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے، (اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے پیشتر زمین پر نہ تھے بلکہ زمین کے بالمقابل آسمان پر تھے) اور میرے قریب مدفون ہوں گے، قیامت کے دن میں مسیح بن مریم کے ساتھ اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان قبر سے اٹھوں گا۔“

حدیث ٦: ..... ”حدثنی المثنیٰ قال ثنا اسحاق قال ثنا ابن ابی جعفر عن ابیہ عن الربیع فی قولہ تعالیٰ (الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) قال ان النصاریٰ اتوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فخاصموہ فی عیسیٰ بن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اللہ الکذب والبہتان لا الہ الا ھو لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا فقال لہم النبی صلی اللہ علیہ وسلم الستم تعلمون انہ لا یکون ولد الا ھو یشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا قیم علی کل شیء یکلوہ ویحفظہ ویرزقہ قالوا بلیٰ قال فھل یملک عیسیٰ من ذلک شیأً قالوا لا قال افلستم تعلمون ان اللہ عزوجل لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء قالوا بلیٰ۔ قال فھل یعلم عیسیٰ من ذلک شیا الا ما علم قالوا لا۔ قال فان ربنا صور عیسیٰ فی الرحم کیف شاء فھل تعلمون ذلک قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا لا یاکل الطعام ولا یشرب الشراب ولا یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان عیسیٰ حملتہ امرأۃ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ

صفحہ ١٥٥

كما تضع المرأة ولدها ثم غذی كما یغذی الصبی ثم كا ، یطعم الطعام ویشرب الشراب و یحدث الحدث قالوا بلیٰ قال فكیف یكون هذا كما زعمتم قال فعرفوا ثم ابوا الا جحوداً فانزل الله عزوجل الم الله لا اله الا هو الحی القیوم۔“

(تفسیر ابن جریر ص ١٦٣ ج ٣)

ترجمہ: ”ربیعؒ سے ”الم الله لا اله الا هو الحی القیوم“ کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب نصارٰی نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارے میں آپؐ نے مناظرہ اور مکالمہ شروع کیا اور یہ کہا کہ اگر حضرت مسیح ابن اللہ ہیں تو پھر ان کا باپ کون ہے؟ (مراد کہ اگر حضرت عیسیٰ کا باپ نہیں تو ان کو اللہ ہی کا بیٹا کہنا چاہئے) حالانکہ خدا وہ ہے جو لا شریک ہے بیوی اور اولاد سے پاک اور منزہ ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ ارشاد فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کیوں نہیں بے شک ایسا ہی ہوتا ہے (یعنی جب یہ تسلیم ہو گیا کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے) تو اس قاعدہ سے حضرت مسیح بھی خدا کے مماثل اور مشابہ ہونے چاہئیں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ خدا بے مثل ہے اور بے چون و چگون ہے ”لیس کمثله شئ ولم یکن له کفواً احد“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار حی لا یموت ہے یعنی زندہ ہے، کبھی نہ مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت اور فنا آنے والی ہے (اس جواب سے

صفحہ ١٥٦

صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں مرے نہیں، بلکہ زمانہ آئندہ میں ان پر موت آئے گی) نصاریٰ نجران نے کہا بے شک صحیح ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہمارا پروردگار ہر چیز کا قائم کرنے والا تمام عالم کا نگہبان اور محافظ اور سب کا رزاق ہے۔ نصاریٰ نے کہا بے شک، آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی کیا ان چیزوں کے مالک ہیں؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا تم کو معلوم ہے کہ اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی شے پوشیدہ نہیں، نصاریٰ نے کہا ہاں بے شک۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کیا عیسیٰ کی بھی یہی شان ہے؟ نصاریٰ نے کہا نہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو رحم مادر میں جس طرح چاہا بنایا؟ نصاریٰ نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم کو خوب معلوم ہے کہ اللہ نہ کھانا کھاتا ہے، نہ پانی پیتا ہے اور نہ بول و براز کرتا ہے، نصاریٰ نے کہا بے شک۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے اور عورتوں کی طرح ان کی والدہ مطہرہ حاملہ ہوئیں اور پھر مریم صدیقہ نے ان کو جنا جس طرح عورتیں بچوں کو جنا کرتی ہیں، پھر عیسیٰ علیہ السلام کو بچوں کی طرح غذا بھی دی گئی۔ حضرت مسیح کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے، اور بول و براز بھی کرتے تھے، نصاریٰ نے کہا بے شک ایسا ہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ پھر عیسیٰ علیہ السلام کس طرح خدا کے بیٹے ہو سکتے ہیں؟‘‘ نصاریٰ نجران نے حق کو خوب پہچان لیا مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا، اللہ عز وجل نے اس بارے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں: ’’الم اللّٰه لا

اله الا هو الحی القیوم

ایک ضروری تنبیہ:

ان تمام احادیث اور روایا کے نزول کی خبر دی گئی، اس سے د مریم کے بطن سے بلا باپ کے پ معاذ اللہ نزول سے امت محمدیہ م السلام کا مثیل ہو، ورنہ اگر احادی نزول کے وقت آنحضرت صلی ا کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذ اللہ آ پیدا ہونا مراد ہے، تو لازم آئے مثیل مسیح اور مرزا صاحب ہی مر کو ذکر فرما کر بطور استشہاد آیت وسلم کا مقصود انہیں مسیح بن مری اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عم ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح رفع الی السماء کا قرآن میں ذ دوسرا مسیح مراد نہیں، دونوں جگہ

ضروری نوٹ:.....

السلام کے نزول کی سو سے زی

صفحہ ١٥٧

الہ الا ھو الحی القیوم۔“

ایک ضروری تنبیہ:

ان تمام احادیث اور روایات سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ احادیث میں جس مسیح کے نزول کی خبر دی گئی، اس سے وہی مسیح مراد ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے، جو حضرت مریم کے بطن سے بلا باپ کے نفخ جبریلؑ سے پیدا ہوئے اور جن پر اللہ نے انجیل اتاری۔ معاذ اللہ نزول سے امت محمدیہ میں سے کسی دوسرے شخص کا پیدا ہونا مراد نہیں کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہو، ورنہ اگر احادیث نزول مسیح سے کسی مثیل مسیح کا پیدا ہونا مراد ہوتا تو بیان نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوہریرہؓ کا آیت کو بطور استشہاد تلاوت کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟ معاذ اللہ اگر احادیث سے نزول میں مثیل مسیح اور مرزا کا قادیان میں پیدا ہونا مراد ہے، تو لازم آئے گا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا ہے سب جگہ مثیل مسیح اور مرزا صاحب ہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول مسیح کو ذکر فرما کر بطور استشہاد آیت کو تلاوت کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود انہیں مسیح بن مریم کے نزول کو بیان کرنا ہے، جن کے بارے میں یہ آیت اتری، کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں، اور علیٰ ہذا امام بخاری اور دیگر ائمہ احادیث کا احادیث نزول کے ساتھ سورۂ مریم اور آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات کو ذکر کرنا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ احادیث میں ان ہی مسیح بن مریم کا نزول مراد ہے کہ جن کی توفّی (اٹھائے جانے) اور رفع الی السماء کا قرآن میں ذکر ہے۔ حاشا وکلا قرآن کریم کے علاوہ احادیث میں کوئی دوسرا مسیح مراد نہیں، دونوں جگہ ایک ہی ذات مراد ہے۔

ضروری نوٹ :...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی سو سے زائد احادیث منقول ہیں جن سب کو امام العصر حضرت مولانا

صفحہ ١٥٨

سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی کتاب ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں ذکر فرمایا ہے، ان میں سے مندرجہ بالا چھ احادیث کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ ہر حدیث قادیانیوں کے نظریہ کا رد ہے، مثلاً:

پروں پر ہاتھ رکھ کر اترنا اور باب لد (جو فلسطین کے ایک گاؤں کا نام ہے) پر دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔

مریم جن کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں وہی نازل ہوں گے۔

ایک چیلنج:...... کتب احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تو باب ہے، ساری کائنات کے قادیانی مل کر کسی حدیث کی کتاب سے وفات مسیح کا باب نہیں دکھا سکتے۔

فائدہ:...... حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا رسالہ ”نزول عیسیٰ علیہ السلام“ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل قابل دید ہے۔

سوال ٣:...... مرزائیوں کو اس مسئلہ سے کیوں دلچسپی ہے؟ مرزا تو مدعی نبوت ہے، پھر ان کو مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام سے کیا سروکار؟ وضاحت سے لکھیں؟

جواب:...... مرزا غلام احمد قادیانی ابتداء میں خود حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا

صفحہ ١٥٩

اور قرآن مجید کی آیات سے مسیح علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتا تھا۔

”یہ آیت (ھو الذی ارسل رسولہ) جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ج ١، روحانی خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ومثلہ

بادنیٰ تغیر چشمہ معرفت در روحانی خزائن ج ٢٣ ص: ٩١)

حیات مسیح علیہ السلام کا ابتدا میں مرزا قائل تھا، لیکن دعویٰ نبوت کے لئے اس نے بتدریج مراحل طے کئے، پہلے خادم اسلام، پھر مبلغ اسلام، مامور من اللہ، مجدد ہونے کے دعوے کئے، اصل مقصود دعویٰ نبوت تھا منصوبہ بندی یہ کی کہ پہلے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا جائے، مسیح بننے کے لئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکاوٹ تھا، اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے وفات مسیح کا عقیدہ تراشا، پھر کہا چونکہ احادیث میں مسیح علیہ السلام کا آنا ثابت ہے۔ وہ فوت ہوگئے ہیں، تو ان کی جگہ میں مثیل مسیح بن کر آیا ہوں، اور میں ان سے افضل ہوں، اس کا مشہور شعر ہے:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٤ روحانی خزائن ص ٢٢٠ ج ١٨)

جب مرزا اپنے خیال فاسد میں مسیح بن گیا تو کہا کہ مسیح علیہ السلام نبی تھے تو اب مسیح ثانی (مرزا قادیانی) جو ان سے افضل ہے۔ وہ کیوں نبی نہیں؟ لہٰذا میں نبی ہوں، اس طرح دجل کر کے محض نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے اس نے وفات مسیح کا عقیدہ

صفحہ ١٦٠

اختیار کیا۔ اصل میں وہ تدریجاً دعویٰ نبوت کی طرف جا رہا تھا، تو یوں دجل در دجل کا مرتکب ہوتا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ: ”میرے بعد جو نبوت کا دعویٰ کریں گے وہ دجال ہوں گے۔“

دجل: دھوکہ، تلبیس، حق و باطل کے اختلاط کا نام ہے، جو مرزا قادیانی میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ اس دجال اعظم، مفتری اکبر نے اپنے دجل سے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت وحیات مسیح علیہ السلام پر اپنے الحاد و زندقہ کی کلہاڑی چلائی۔ معاذ اللہ۔

سوال ٤:..... قال اللہ تعالیٰ: ”و اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ اس کی صحیح تفسیر بیان کر کے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کو ثابت کریں، مرزائی ”توفی“ سے وفات مراد لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے بھی ”متوفیک“ کی تفسیر ”ممیتک“ منقول ہے۔ اور اس تائید میں مرزائی ”توفنا مع الابرار، تو فنا مع المسلمین“ کو بھی پیش کرتے ہیں، ان تمام امور کا شافی جواب تحریر کریں؟

جواب:..... ”و اذ قال اللہ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہے، یہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل ہے، نہ کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کی، توفی وغیرہ کی کچھ بحث پہلے گزر چکی ہے مزید ملاحظہ ہو:

توفی کا حقیقی معنی:

ہوتا، تو ضرور قرآن وسنت میں کہیں ”توفی“ کو ”حیات“ کے مقابل ذکر کیا جاتا، حالانکہ ایسا

صفحہ ١٦١

کہیں نہیں ہے، بلکہ ”توفی“ کو ”مادمت فیھم“ کے مقابلہ میں رکھا گیا۔ معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید میں جگہ جگہ موت وحیات کا تقابل کیا گیا ہے نہ کہ توفی وحیات کا۔ مثلاً الذی یحیی ویمیت، یحییکم ثم یمیتکم، ھو امات و احیی، لایموت فیھا ولایحیی، ویحی الموتی، اموات غیر احیاء، یحیی الموتی، یحیی الارض بعد موتھا، تخرج الحی من المیت و تخرج المیت من الحی، یہ تقابل بتاتا ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا کے تحت حیات کی ضد موت ہے توفی نہیں۔ توفی کو قرآن مجید میں مادمت فیھم کے مقابلہ میں لایا گیا: ”وکنت علیھم شہیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی“۔ اس سے توفی کا حقیقی معنی سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا ہے؟ اس کے لئے علامہ زمخشری کا حوالہ کافی ہوگا:

”اوفاہ، استوفاہ، توفاہ استکمال ومن المجاز توفی و توفاہ اللہ ادرکتہ الوفاۃ۔“

ترجمہ : ”اوفاہ، استوفاہ اور توفاہ کے معنی استکمال یعنی پورا لینے کے ہیں۔ توفی کو مجازاً موت کے معنی میں لیا جاتا ہے جیسے توفی اور توفاہ اللہ یعنی اس کی وفات ہوگئی۔“

اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں، البتہ مجازاً کہیں کہیں موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

فرمائی، غیر اللہ کی طرف ہرگز نہیں کی، جبکہ ”توفی“ کی اسناد ملائکہ کی طرف بھی اکثر موجود ہے، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔ جیسے ”حتی اذا جاء احد کم الموت توفتہ رسلنا“ یہاں پر توفی کی اسناد ملائکہ کی طرف کی گئی۔

صفحہ ١٦٢

الموت“ یہاں توفی اور موت کو مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اب اس کے معنی ہوں گے کہ ان کو موت کے وقت پورا پورا لے لیا جاتا ہے۔ اگر توفی کا معنی موت ہو تو پھر اس کا معنی تھا کہ: ”یمیتھن الموت“ یہ کس قدر رکیک معنی ہوں گے، کلام الٰہی اور یہ رکاکت؟ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت ويرسل الاخرىٰ الىٰ اجل مسمیٰ“

(الزمر: ٤٢)

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نفسوں کو لے لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان نفسوں کو جو نہیں مرے ان کو نیند میں لے لیتا ہے، پس وہ نفس جس کو موت وارد ہوتی ہے روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقرر مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔“

توفی عین موت نہیں۔

موت کے مغائر ہے۔

اس کی طرف توفی کی نسبت کی گئی، توفی بھی ہے اور آدمی زندہ ہے مرا نہیں۔ کیا یہ نص نہیں اس بات کی کہ توفی کا حقیقی معنی موت نہیں۔

خلاصہ بحث:

توفی کا حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں، ہاں البتہ کبھی مجازاً موت کے معنی میں بھی توفی

صفحہ ١٦٣

کا استعمال ہوا ہے جیسے: ”توفنا مع الابرار، توفنا مسلمین، وغیرہ۔

ضروری تنبیہ :...... اگر کہیں کوئی لفظ کسی مجازی معنی میں استعمال ہو تو ہمیشہ کے لئے اس کے حقیقی معنی ترک نہیں کر دیئے جائیں گے۔ اگر کوئی ایسے سمجھتا ہے تو وہ قادیانی احمق ہی ہو سکتے ہیں ورنہ اصول صرف یہ ہے کہ مجازی معنی وہاں مراد لئے جائیں گے، جہاں حقیقی معنی متعذر ہوں یا عیسیٰ انی متوفیک میں حقیقی معنی پورا پورا لینے کے لئے جائیں گے۔ اور توفنا مع الابرار میں مجازی معنی (موت) کے کئے جائیں گے۔

حضرت ابن عباسؓ اور حیات عیسیٰ علیہ السلام:

الف :...... حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پوری امت کی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول وحیات کی روایت کی ہیں۔ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح، طبع ملتان“ کے ص ١٨١، ٢٢٣، ٢٢٤، ٢٤٥، ٢٧٣، ٢٧٩، ٢٨٤، ٢٨٩، ٢٩١، ٢٩٢ پر دس روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی حضرت ابن عباسؓ کے حوالہ سے حضرت انور شاہ کشمیریؒ نے جمع فرمائی ہیں۔ من شاء فلیراجع۔

ب :...... متوفیک کے معنی ممیتک عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کرنے والا راوی علی بن ابی طلحہ ہے۔

(تفسیر ابن جریر ص ٢٩٠ ج ٣)

علماء اسماء الرجال نے اس کے متعلق ضعیف الحدیث، منکر، لیس بمحمود المذہب کے جملے فرمائے ہیں اور یہ کہ اس نے حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی زیارت بھی نہیں کی، درمیان میں مجاہدؒ کا واسطہ ہے۔

(میزان الاعتدال ج ٥ ص ١٦٣، تہذیب التہذیب ج ٤ ص ٢١٣)

رہا یہ کہ پھر صحیح بخاری شریف میں یہ روایت کیسے آگئی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: امام

صفحہ ١٦٤

بخاریؒ کا یہ التزام صرف احادیث مسندۃ کے بارے میں ہے نہ کہ تعلیقات و آثار صحابہ کے ساتھ۔ چنانچہ فتح مغیث ص ٢٠ میں ہے:

”قول البخارى ماادخلت فى كتابى الا ماصح عندی، مقصود به هو الاحاديث الصحيحة المسندة دون التعاليق والآثار الموقوفة على الصحابة فمن بعدهم والاحاديث المترجمة بها ونحوذلک۔“

ترجمہ: ”یعنی امام بخاریؒ کے اس فرمان کا مطلب کہ میں نے اپنی کتاب میں صرف وہی ذکر کیا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ اس سے مراد صرف احادیث صحیحہ مسندہ ہیں باقی تعلیقات اور آثار موقوفہ وغیرہ اس میں شامل نہیں۔ اس طرح وہ احادیث جو ترجمۃ الباب میں ذکر کی گئی ہیں وہ بھی مراد نہیں ہیں۔“

ج:..... حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسری صحیح روایت میں اگرچہ توفی کے معنی موت منقول ہیں مگر اسی روایت میں کلمات آیت کے اندر تقدیم و تاخیر بھی صراحتاً مذکور ہے جس سے قادیانی گروہ کی خود بخود تردید ہوجاتی ہے۔

”اخرج ابن عساکر واسحاق بن بشر عن ابن عباسؓ قال قولہ تعالیٰ یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخرالزمان“

(درمنثور ص: ٣٦ ج ٢)

ترجمہ: ”یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے (بروایت صحیح) ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھانے والا ہوں اپنی طرف پھر آخر زمانہ میں (بعد نزول)

صفحہ ١٦٥

آپ کو موت دینے والا ہوں۔“

د:...... تفسیر ابن کثیر میں عبداللہ ابن عباسؓ سے صحیح روایت منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر قتل کے زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔

"ورفع عيسىٰ من روزنة فى البيت الى السماء هذا اسناد صحيح الى ابن عباس“

(تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٤ زیرآیت بل رفعه الله)

ترجمہ: ”عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن (روشن دان) سے (زندہ) آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے، یہ اسناد ابن عباسؓ تک بالکل صحیح ہے۔“

سوال :٥...... سورۂ آل عمران میں ارشادِ خداوندی ہے: ”ورافعك“ اور سورۂ نساء میں فرماتے ہیں: ”بل رفعه الله اليه“ دونوں مقامات پر قادیانی رفع سے مراد رفع روحانی یا رفع درجات لیتے ہیں، آپ ان کے مؤقف کا اس طرح رد کریں جس سے قادیانی دجل تار تار ہوجائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی ثابت ہو؟

جواب :...... یہ بات بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے کہ وہ کہیں رافعك اور بل رفعه الله میں رفع روح مراد لیتے ہیں، اور جب ان پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تمہارے (قادیانی) عقیدہ کے مطابق تو مسیح علیہ السلام صلیب سے اتر کر زخم اچھے ہونے کے بعد

صفحہ ١٦٦

کشمیر چلے گئے اور ستاسی سال بعد ان کی موت واقع ہوئی، تو موت کے بعد رفع روح ہوا، حالانکہ یہ قرآن کے اسلوب بیان کے خلاف ہے اس لئے کہ چاروں وعدوں میں سے تین وعدے جو براہ راست مسیح علیہ السلام کی ذات (جسم) مبارک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ایک ساتھ ان کا ایفاء ہوا۔ تو قادیانی مجبوراً پھر اس سے فوراً رفع درجات پر آجاتے ہیں جس طرح قادیانیوں کو ایمان کا قرار (سکون) نصیب نہیں اس طرح ان کے موقف کو بھی قرار نہیں وہ اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں کبھی رفع روح مراد لیتے ہیں، کبھی رفع درجات مراد لیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں موقف غلط ہیں۔

ہے کہ جس طرف ’قتلوہ‘ اور ’صلبوہ‘ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ’قتلوہ‘ اور ’صلبوہ‘ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک اور جسد مطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں۔ اس لئے کہ قتل کرنا اور صلیب پر چڑھانا جسم ہی کا ممکن ہے۔ روح کا قتل اور صلیب پر لٹکانا قطعاً ناممکن ہے۔ لہٰذا ’بل رفعہ‘ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف ’قتلوہ‘ اور ’صلبوہ‘ کی ضمیریں راجع ہیں۔

رفعہ اللہ الیہ‘ سے اس کی تردید کی گئی ہے۔ لہٰذا بل رفعہ میں رفع جسم ہی مراد ہوگا، اس لئے کہ کلمہ بل کلام عرب میں ماقبل کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا بل کے ماقبل اور مابعد میں منافات اور تضاد کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ: ”و قالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحنہ بل عباد مکرمون“ ولدیت اور عبودیت میں منافات ہے دونوں جمع نہیں ہو سکتے، ”ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ہم بالحق“ مجنونیت اور اتیان بالحق (یعنی من جانب اللہ حق کو لے کر آنا) یہ دونوں متضاد اور متنافی ہیں یکجا جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ شریعت حقہ

صفحہ ١٦٧

کا لانے والا مجنون ہو ۔ اسی طرح اس آیت میں یہ ضروری ہے کہ مقتولیت اور مصلوبیت جو بل کا ماقبل ہیں وہ مرفوعیت الی اللہ کے منافی ہو جو بل کا مابعد ہے اور ان دونوں کا وجود اور تحقق میں جمع ہونا ناممکن ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ مقتولیت اور روحانی رفع بمعنی موت میں کوئی منافات نہیں محض روح کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا قتل جسمانی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کا جسم تو قتل ہو جاتا ہے اور روح آسمان پر اٹھالی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہوا کہ بل رفعہ اللہ میں رفع جسمانی مراد ہو کہ جو قتل اور صلب کے منافی ہے، اس لئے کہ رفع روحانی اور رفع عزت اور رفعت شان قتل اور صلب کے منافی نہیں بلکہ جس قدر قتل اور صلب ظلماً ہوگا ، اسی قدر عزت اور رفعت شان میں اضافہ ہوگا ، اور درجات اور زیادہ بلند ہوں گے۔ رفع درجات کے لئے تو موت اور قتل کچھ بھی شرط نہیں ۔ رفع درجات زندہ کو بھی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ کما قال تعالیٰ : ” ورفعنالك ذكرك “ اور ” يرفع الله الذين آمنوا منكم والذین اوتو العلم درجات “ ہے۔

٣:....... یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کے قتل اور صلب کے مدعی تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ابطال کے لئے بل رفعہ اللہ فرمایا ، یعنی تم غلط کہتے ہو کہ تم نے اس کے جسم کو قتل کیا ، یا صلیب پر چڑھایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لیا ، نیز اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل اور صلب کی نفی سے کیا فائدہ؟ قتل اور صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور بل اضرابیہ کے مابعد کو بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء باعتبار ماقبل کے امر ماضی ہے۔ یعنی تمہارے قتل اور صلب سے پہلے ہی ہم نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا ۔ جیسا کہ بل جاءہم بالحق میں صیغہ ماضی اس لئے لایا گیا کہ یہ بتلا دیا جائے کہ آپ کا حق کو لے کر آنا کفار کے مجنون کہنے سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔ اسی طرح بل رفعہ اللہ بصیغہ ماضی لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ رفع الی السماء ان کے مزعوم اور خیالی قتل اور صلب سے پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔

صفحہ ١٦٨

٤.......جس جگہ لفظ رفع کا مفعول یا متعلق جسمانی شے ہو گی تو اس جگہ یقیناً جسم کا رفع مراد ہوگا ، اور اگر رفع کا مفعول اور متعلق درجہ یا منزلہ یا مرتبہ یا امر معنوی ہو تو اس وقت رفع مرتبت اور بلندی رتبہ کے معنی مراد ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ : ”ورفعنا فوقکم الطور“ اٹھایا ہم نے تم پر کوہ طور ”اللہ الذی رفع السمٰوت بغیر عمد ترونھا“ اللہ ہی نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ ”واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسمٰعیل“ یاد کرو اس وقت کو کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل ان کے ساتھ تھے۔ ”ورفع ابویہ علی العرش“ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا۔ ان تمام مواقع میں لفظ رفع اجسام سے مستعمل ہوا ہے اور ہر جگہ رفع جسمانی مراد ہے اور ورفعنا لك ذكرك ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا اور ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات ہم نے بعض کو بعض پر درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے بلند کیا۔ اس قسم کے مواقع میں رفعت شان اور بلندی رتبہ مراد ہے۔ اس لئے کہ رفع کے ساتھ خود ذکر اور درجہ کی قید یعنی قرینہ مذکور ہے۔

قادیانی اشکال:

ایک حدیث میں ہے:

”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة“

(کنزالعمال ص ١١٠ ج ٣ حدیث نمبر ٥٧٢٠ بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق)

ترجمہ : ”جب بندہ تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتے ہیں۔“ اس حدیث کو خرائطیؒ نے اپنی کتاب مکارم الاخلاق میں ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔

(کنزالعمال ج ٣ ص ١١٠ حدیث ٥٧٢٠)

اس روایت کو مرزائی بہت خوش ہو کر بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ رفع کا مفعول

صفحہ ١٦٩

جسمانی شے ہے اور الی السماء کی بھی تصریح ہے، مگر باوجود اس کے رفع سے رفع جسمی مراد نہیں بلکہ رفع معنوی مراد ہے۔

جواب ...... یہ ہے کہ یہاں مجاز کے لئے قرینہ عقلیہ قطعیہ موجود ہے کہ یہ اس زندہ کے حق میں ہے جو لوگوں کے سامنے زمین پر چلتا ہے اور تواضع کرتا ہے تو اس کا مرتبہ اور درجہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ساتویں آسمان کے برابر بلند اونچا ہے، ظاہر ہے کہ یہاں رفع جسم مراد نہیں بلکہ رفع درجات مراد ہے۔ غرض یہ کہ رفع کے معنی بلندی رتبہ مجازاً بوجہ قرینہ عقلیہ لئے گئے اور اگر کسی کم عقل کی سمجھ میں یہ قرینہ عقلیہ نہ آئے تو اس کے لئے قرینہ قطعیہ بھی موجود ہے، وہ یہ کہ کنز العمال میں روایت مذکورہ کے بعد ہی علی الاتصال یہ روایت مذکور ہے :”من يتواضع لله درجة يرفعه الله درجة حتى يجعله فى عليين“ یعنی جس درجہ کی تواضع کرے گا، اسی کے مناسب اللہ اس کا درجہ بلند فرمائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ تواضع کے آخری درجہ پر پہنچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو علیین میں جگہ دیں گے، جو علو اور رفعت کا آخری مقام ہے۔ اس حدیث میں صراحتاً لفظ درجہ مذکور ہے اور قاعدہ مسلمہ ہے الحديث يفسر بعضه بعضا ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر اور شرح کرتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کے ہیں، لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے اور کبھی معانی اور اعراض کا ہوتا ہے اور کبھی اقوال اور افعال کا، اور کبھی مرتبہ اور درجہ کا جہاں رفع اجسام کا ذکر ہوگا، وہاں رفع جسمی مراد ہوگا اور جہاں رفع اعمال اور رفع درجات کا ذکر ہوگا وہاں رفع معنوی مراد ہوگا۔ رفع کے معنی تو اٹھانے اور بلند کرنے ہی کے ہیں، باقی جیسی شے ہوگی اس کا رفع اسی کے مناسب ہوگا۔

کے قتل اور صلب کا ارادہ کیا تو اس وقت قتل اور صلب نہ ہوسکا بلکہ اس وقت حضرت مسیح کا اللہ کی طرف رفع ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ یہ رفع جس کا بل رفعہ اللہ میں ذکر ہے حضرت عیسیٰ کو پہلے سے

صفحہ ١٧٠

حاصل نہ تھا بلکہ یہ رفع اس وقت ظہور میں آیا کہ جس وقت یہود ان کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے اور وہ رفع جو ان کو اس وقت حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ اس وقت بجسدہ العنصری صحیح وسالم آسمان پر اٹھا لئے گئے ، رفعت شان اور بلندی مرتبہ تو ان کو پہلے ہی سے حاصل تھی اور وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين کے لقب سے پہلے ہی سرفراز ہوچکے تھے۔ لہٰذا اس آیت میں وہی رفع مراد ہوسکتا ہے کہ جو ان کو یہود کے ارادۂ قتل کے وقت حاصل ہوا یعنی رفع جسمی اور رفع عزت ومنزلت اس سے پہلے ہی ان کو حاصل تھا، اس مقام پر اس کا ذکر بالکل بے محل ہے۔

کمال عزت و رفعت بجسدہ العنصری صحیح و سالم آسمان پر اٹھائے جانے ہی میں زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ نیز یہ رفعت شان اور علو مرتبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں، زندہ اہل ایمان اور زندہ اہل علم کو بھی حاصل ہے۔ کما قال تعالیٰ: ”يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين اوتوا العلم درجات“ بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور اہل علم کو باعتبار درجات کے۔

رفع روحانی بمعنی موت یہود کے قتل اور صلب سے پہلے واقع ہوا جیسا کہ: ”ام یقولون به جنة بل جاء هم بالحق، ويقولون أئنا لتاركوا الهتنا لشاعر مجنون، بل جاء بالحق“ ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق کو لے کر آنا ان کے شاعر اور مجنون کہنے سے پہلے واقع ہوا اسی طرح رفع روحانی بمعنی موت کو ان کے قتل اور صلب سے مقدم ماننا پڑے گا، حالانکہ مرزا صاحب اس کے قائل نہیں۔ مرزا صاحب تو (العیاذ باللہ ) یہ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہود سے خلاص ہو کر فلسطین سے کشمیر پہنچے اور عرصہ دراز تک بقید حیات رہے اور اسی عرصہ میں اپنے زخموں کا علاج کرایا اور پھر طویل مدت کے بعد یعنی ستاسی سال زندہ رہ کر وفات پائی اور سری نگر کے محلہ خان یار

صفحہ ١٧١

میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا مزار ہے۔ لہذا مرزا صاحب کے زعم کے مطابق عبارت اس طرح ہونی چاہئے تھی: ”وما قتلوہ بالصلیب بل تخلص منہم و ذھب الی کشمیر و اقام فیہم مدۃ طویلۃ ثم اماتہ اللہ و رفع الیہ“۔

ساتھ مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ عزیز اور حکیم اور اس قسم کی ترکیب اس موقعہ پر استعمال کی جاتی ہے کہ جہاں کوئی عجیب و غریب اور خارق العادات امر پیش آیا ہو، اور وہ عجیب و غریب امر جو اس مقام پر پیش آیا وہ رفع جسمانی ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے، وہ عزت والا اور غلبہ والا اور قدرت والا ہے اس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں اور نہ یہ خیال کرے کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا خلاف حکمت اور خلاف مصلحت ہے، وہ حکیم ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں، دشمنوں نے جب حضرت مسیح پر ہجوم کیا تو اس نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلا دیا کہ اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو دشمن قتل کے ارادہ سے آئے تھے انہی میں سے ایک کو اپنے نبی کا ہم شکل اور شبیہ بنا کر انہی کے ہاتھ سے اس کو قتل کرا دیا اور پھر اس شبیہ کے قتل کے بعد ان سب کو شبہ اور اشتباہ میں ڈال دیا۔

رفع کے معنی عزت کی موت نہ کسی لغت سے ثابت ہے نہ کسی محاورہ سے اور نہ کسی فن کی اصطلاح سے، محض مرزا صاحب کی اختراع ہے۔ البتہ رفع کا لفظ محض اعزاز اور رفع جسمانی کے منافی نہیں اعزاز اور رفع جسمانی دونوں جمع ہو سکتے ہیں نیز اگر رفع سے عزت کی موت مراد ہو تو نزول سے ذلت کی پیدائش مراد ہونی چاہئے، اس لئے کہ حدیث میں نزول کو رفع کا مقابل قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نزول کے یہ معنی مرزا صاحب کے ہی مناسب ہیں۔

صفحہ ١٧٤

ہے کہ بل رفعه الله الیہ (اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا) اس کلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ: ”تعرج الملائكة والروح اليه“ کے معنی یہ ہیں کہ: فرشتے اور روح الامین اللہ کی طرف چڑھتے ہیں یعنی آسمان پر۔ وقال تعالیٰ: ”الیه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه“ اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے یعنی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس طرح بل رفعه الله الیہ میں آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہوگا، اور جس کو خدائے تعالیٰ نے ذرا بھی عقل دی ہے وہ سمجھ سکتا ہے بل رفعه الله الیہ کے یہ معنی کہ خدا نے ان کو عزت کی موت دی، یہ معنی جس طرح لغت کے خلاف ہیں اسی طرح سیاق و سباق کے بھی خلاف ہیں۔ اس طرح کہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باسناد صحیح یہ منقول ہے:

”لما اراد الله ان يرفع عيسى الى السماء ۔“

(تفسیر ابن کثیر ص ٢٥٤ ج ١ زیر آیت بل رفعه الله)

”جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا الیٰ آخرالقصہ“

اس کے علاوہ متعدد احادیث میں آسمان پر جانے کی تصریح موجود ہے وہ احادیث ہم نقل کر چکے ہیں۔

”لہٰذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے، مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں:

”في مقعد صدق عند مليك مقتدر“

(ازالۃ اوہام ص ٥٩٩ خورد، روحانی خزائن ص ٤٢٤ ج ٣)

مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ا عبارت سے خود واضح ہے کہ بل ”مقعد صدق“ تو آسمان ہی میں ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آ دونوں گئے، سو یہ ہم پہلے ثابت ک

سوال ٦:

مرزا کے اس استد ہوں“ نیز خا، نبوت کے منافی

جواب: ...... آیات

نزول عیسیٰ کا مضمون وا

”وان من

ترجمہ: ”او

عیسیٰ پر ان کی موت

”وانه لعل

ترجمہ: ”او

صفحہ ١٧٣

مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ رفع سے ایسی موت مراد ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسے مقربین کی موت ہوتی ہے کہ ان کی روحیں مرنے کے بعد علیین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس عبارت سے خود واضح ہے کہ بل رفعہ اللہ سے آسمان پر جانا مراد ہے۔ اس لئے کہ علیین اور ”مقعد صدق“ تو آسمان ہی میں ہیں۔ بہر حال آسمان پر جانا تو مرزا صاحب کو بھی تسلیم ہے۔ اختلاف اس میں ہے کہ آسمان پر حضرت مسیح بن مریم کی فقط روح گئی یا روح اور جسد دونوں گئے، سو یہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ آیت میں بجسدہ العنصری رفع مراد ہے۔

سوال ٦:....... نزول مسیح کے دلائل ذکر کرتے ہوئے

مرزا کے اس استدلال فاسدہ کا رد کریں کہ ”میں مثیل مسیح ہوں“ نیز ثابت کریں کہ نزول مسیح کا عقیدہ، عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں؟

جواب:...... آیات قرآنیہ سے نزول عیسیٰ کا ثبوت:

نزول عیسیٰ کا مضمون دو آیتوں میں اشارۃً قریب بصراحت کے موجود ہے:

”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔“

(نساء: ١٥٩)

ترجمہ: ”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر وہ حضرت عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے ضرور ایمان لائے گا۔“

”وانہ لعلم للساعۃ“

(زخرف: ٦١)

ترجمہ: ”اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہیں۔“

صفحہ ١٧٤

چنانچہ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:

”ونزول عیسیٰ من السماء كما قال الله تعالیٰ وانه اى عیسیٰ لعلم للساعة اى علامة القيامة و قال الله تعالیٰ و ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عیسیٰ بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل واحدة و هى ملة الاسلام۔“

(شرح فقہ اکبر ١٣٦)

ترجمہ: ”آسمان سے نزول عیسیٰ قول باری تعالیٰ کہ عیسیٰ قیامت کی علامت ہیں، سے ثابت ہے، نیز اس ارشاد سے ثابت ہے کہ اہل کتاب ان کی آسمان سے تشریف آوری کے بعد اور موت سے پہلے قیامت کے قریب ان پر ایمان لائیں گے، پس ساری ملتیں ایک ہو جائیں گی اور وہ ملت، ملت اسلام ہے۔“

بہر حال اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قبل موتہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جیسا کہ لیؤمنن بہ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ چنانچہ ”ارشاد الساری“ شرح بخاری میں ہے:

”وان من اهل الكتاب احد الا ليؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وهم اهل الكتاب الذين يكونون فى زمانه فتكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح۔“

(ارشاد الساری ص ٥١٨، ٥١٩ ج ٥)

ترجمہ: ”یعنی اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ ہوگا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا، اور وہ اہل کتاب ہوں گے جو ان (حضرت عیسیٰ ) کے زمانہ (نزول) میں

صفحہ ١٧٥

ہوں گے، پس صرف ایک ہی ملت اسلام ہو جائے گی۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے اس پر جزم کیا ہے، اس روایت کے مطابق جو ابن جریر نے ان سے سعید ابن جبیر کے طریق سے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی۔‘‘

حیات ونزول عیسیٰ پر امت کا اجماع ہے:

آیات کریمہ واحادیث مرفوعہ متواترہ کی بنا پر حضرات صحابہؓ سے لے کر آج تک امت کا حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ پر اجماع چلا آ رہا ہے۔ ائمہ دین میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف مروی نہیں ہے۔ معتزلہ جو بہت سے مسائل کلامیہ میں اہل سنت والجماعت سے اختلاف رکھتے ہیں، ان کا عقیدہ بھی یہی ہے جیسا کہ کشاف میں علامہ زمخشری نے اس کی تشریح کی ہے۔ چنانچہ ابن عطیہؒ فرماتے ہیں:

”حیاۃ المسیح بجسمہ الی الیوم و نزولہ من السماء بجسمہ العنصری ھما اجمع علیہ الامۃ وتواتر بہ الاحادیث۔“

ترجمہ: ”تمام امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں بجسم عنصری پھر تشریف لانے والے ہیں، جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔“

یہ ایک سو سے زیادہ احادیث تیس صحابہ کرامؓ سے مختلف انداز سے مروی ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں:

(١) حضرت ابوہریرہؓ، (٢) حضرت جابر بن عبداللہؓ، (٣) حضرت نواس بن سمعانؓ، (٤) حضرت ابن عمرؓ، (٥) حضرت حذیفہ بن اسیدؓ، (٦) حضرت ثوبانؓ، (٧) حضرت مجمعؓ، (٨) حضرت ابوامامہؓ، (٩) حضرت ابن مسعودؓ، (١٠) حضرت ابونضرہؓ،

صفحہ ١٧٦

(١١) حضرت سمرہؓ، (١٢) حضرت عبدالرحمٰن بن حُبَیْرؒ، (١٣) حضرت ابوالطفیلؓ، (١٤) حضرت انسؓ، (١٥) حضرت واثلہؓ، (١٦) حضرت عبداللہ بن سلامؓ، (١٧) حضرت ابن عباسؓ، (١٨) حضرت اوسؓ، (١٩) حضرت عمران بن حصینؓ، (٢٠) حضرت عائشہؓ (٢١) حضرت سفینہؓ، (٢٢) حضرت حذیفہؓ، (٢٣) حضرت عبداللہ بن مغفلؓ، (٢٤) حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہؓ، (٢٥) حضرت ابوسعید خدریؓ، (٢٦) حضرت عمارؓ، (٢٧) حضرت ربیعؒ، (٢٨) حضرت عروہ بن رویمؒ، (٢٩) حضرت حسنؒ، (٣٠) حضرت کعبؒ۔

ان حضرات کی تفصیلی روایات ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ یہ کتاب درحقیقت زہری وقت حضرت علامہ انور شاہ کشمیری قدس سرہ سابق صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کی املا کردہ ہے، جس کو ان کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ مفتی اعظم پاکستان نے بہترین انداز میں مرتب فرماکر اہل اسلام کی ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ (فجزاہ اللہ وافیا) اور اس کتاب پر اس زمانہ کے محقق نامور عالم حضرت شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ نے تحقیقی کام کیا ہے اور مزید تلاش و جستجو کے بعد بیس احادیث کا اضافہ ”استدراک“ کے نام سے فرمایا ہے۔ حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا رسالہ ”نزولِ عیسیٰ علیہ السلام“ مشمولہ تحفہ قادیانیت جلد سوم قارئین کیلئے مفید ہوگا۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے:

حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کا نزول احادیث متواترہ سے ثابت ہونا۔۔۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ خود مرزا صاحب بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اوّل درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں، اس کے ہم پہلو اور ہم

صفحہ ١٧٧

وزن ثابت نہیں ہوتیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٢٣١)

اس سے چند سطریں پہلے مرزا صاحب اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں غلط ہیں...... لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٢٣٠)

یہ الگ بات ہے کہ مرزا صاحب ان احادیث کو توڑ مروڑ کر مسیح موعود کا مصداق اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

مثیل مسیح کا قادیانی ڈھونگ:

ایک بے سروپا بات ہے، پیدائش مسیح سے رفع تک اور نزول سے وفات تک وہاں کسی ایک بات میں مرزا قادیانی کو مماثلت نہیں۔ مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ساری عمر مکان نہیں بنایا، ساری عمر شادی نہیں کی، نزول کے بعد حاکم، عادل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، ان کے زمانہ میں تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ صلیب پرستی کا خاتمہ ہو کر خدا پرستی رہ جائے گی، دمشق جائیں گے بیت المقدس جائیں گے، حج کریں گے، عمرہ کریں گے، مدینہ طیبہ حاضری دیں گے، نزول کے بعد پینتالیس سال زندہ رہ کر پھر وفات پائیں گے۔ یہ چند بڑی، بڑی علامات ہیں۔ ان میں سے ایک بھی مرزا قادیانی میں نہ پائی جاتی تھی۔ اس کے باوجود دعویٰ مثیل ہونے کا کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ڈھٹائی ہو سکتی ہے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں:

مرزائیت کی تمام تر بنیاد دجل وفریب پر ہے۔ چنانچہ وہ اس جگہ مسلمانوں کو دھوکہ

صفحہ ١٧٨

دینے کے لئے ایک اعتراض پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ تشریف آوری کے بعد منصب نبوت پر فائز ہوں گے یا نہیں؟ اگر وہ بحیثیت نبی آئیں گے تو ختم نبوت پر زد پڑتی ہے اگر نبی نہیں ہوں گے تو ایک نبی کا نبوت سے معزول ہونا لازم آتا ہے اور یہ بھی اسلامی عقائد کے خلاف ہے تو سنئے :

جواب :....... علامہ محمود آلوسیؒ نے اپنی تفسیر ”روح المعانی“ میں لکھا ہے :

”وکونه خاتم الانبیاء ای لا ينبأ احد بعده واما عيسى ممن نبئ قبله“

جائے گا، عیسیٰ علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنائے جاچکے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری رحمت عالم کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ آپؐ وصف نبوت کے ساتھ اس دنیا میں سب سے آخر میں متصف ہوئے، اب کوئی شخص وصف نبوت حاصل نہیں کرسکے گا، نہ یہ کہ پہلے کے سارے نبی فوت ہوگئے۔

الاولاد کہتا ہے حالانکہ اس کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر زندہ تھا۔ مرزا غلام قادر کے زندہ ہونے کے باوجود اگر مرزا کے خاتم الاولاد ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا تو عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے سے رحمت عالم کی ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔

پوچھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا:

”آخر ولدك من الانبیاء“

(کنزالعمال ص٢٥٥ج ١١ حدیث نمبر ٣٢١٣٩ بحوالہ ابن عساکر)

صفحہ ١٧٩

ترجمہ: ”انبیاء میں سے آپ کے آخر الاولاد ہیں۔“

اس حدیث نے بالکل صاف کر دیا کہ خاتم النبیین کی مراد یہی ہے کہ آپؐ انبیاء میں سے آخرالاولاد ہیں، اور یہ معنی کسی نبی کے باقی رہنے کا معارض نہیں، ولہٰذا آپؐ کا آخرالانبیاء وخاتم الانبیاء ہونا نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے کسی طرح مخالف نہیں ہو سکتا۔

٤٧٩ پر لکھتا ہے: ”ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال و تمام دورۂ حقیقتِ آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو، یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔“

جب خاتم الاولاد کے معنی مرزا صاحب کے نزدیک یہ ہیں کہ عورت کے پیٹ سے کوئی کامل انسان اس کے بعد پیدا نہ ہو تو خاتم النبیین کے بھی یہ معنی کیوں نہ ہوں گے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی عورت کے پیٹ سے پیدا نہ ہوگا۔ جس سے تین فائدے حاصل ہوئے، اول تو یہ کہ ختمِ نبوت اور نزولِ مسیح علیہ السلام میں تعارض نہیں، خاتم النبیین چاہتا ہے کہ عورت کے پیٹ سے اس کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو، اور مسیح علیہ السلام آپؐ سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں۔ دوسرے یہ بھی صاف معلوم ہوا کہ اگر مرزا صاحب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں تو ان کی نبوت خاتم النبیین کے خلاف ہے۔ تیسرے یہ بھی متعین ہو گیا کہ جس مسیح کے نزول کی خبر احادیث میں دی گئی ہے وہ اس وقت ماں کے پیٹ سے پیدا نہ ہوں گے، ورنہ خاتم النبیین کے خلاف ہوگا اور اس بنا پر مرزا صاحب مسیح موعود بھی نہیں ہو سکتے۔ مکرر واضح ہو کہ آپؐ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کا یہ مطلب ہے کہ کسی کو آپؐ کے بعد منصبِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپؐ کی آمد سے صدیوں پہلے منصبِ نبوت پر فائز ہو چکے ہیں۔

مذکورہ بالا اعتراض کا ایک عقلی جواب بھی سن لیجئے، ایک شخص کسی ملک کا فرماں روا ہے،

صفحہ ١٨٠

وہ کسی دوسرے ملک کے سرکاری دورے پر جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ وہ اپنی صدارت، بادشاہی یا وزارت عظمیٰ کے منصب سے معزول نہیں ہوا لیکن دوسرے ملک میں جا کر اس کا حکم نہیں چلے گا، وہاں پر حکم اسی ملک کے صدر یا وزیراعظم کا چلے گا، اسی طرح پر حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام جب تشریف لائیں گے تو وہ منصب نبوت سے معزول نہیں ہوں گے لیکن جیسا کہ قرآن پاک میں فرما دیا گیا ہے : ”و رسولاً الیٰ بنی اسرائیل“ ان کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اب امت محمدیہ میں ان کی نبوت کا قانون نافذ نہیں ہوگا۔ امت محمدیہ پر قانون سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا نافذ ہوگا، یہ الگ بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد سے یہود کی بھی اصلاح ہو جائے گی اور نصاریٰ کی غلط فہمی بھی دور ہو جائے گی۔ یوں وہ سب دین قیم (اسلام) کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے اور ”لیظهره علی الدین کله“ کا فرمان پورا ہو جائے گا۔

سوال ٧: ...... حضرت مہدی و مسیح علیہم السلام کی آمد اور دجال کے خروج کے متعلق اسلامی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے ، قادیانی تلبیس اور اس کا رد کریں۔

جواب: ...... مہدی علیہ الرضوان: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی مندرجہ ذیل شناخت بیان کی گئی ہیں:

(١) حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے، (٢) مدینہ طیبہ کے اندر پیدا ہوں گے، (٣) والد کا نام عبداللہ ہوگا، (٤) ان کا اپنا نام محمد ہوگا اور لقب مہدی، (٥) چالیس سال کی عمر میں ان کو مکہ مکرمہ

صفحہ ١٨١

حرم کعبہ میں شام کے چالیس ابدالوں کی جماعت پہنچے گی، (٦) وہ کئی لڑائیوں میں مسلمان فوجوں کی قیادت کریں گے، (٧) شام جامع دمشق میں پہنچیں گے، تو وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، (٨) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی علیہ الرضوان کے پیچھے ادا کریں گے، (٩) حضرت مہدی علیہ الرضوان کی کل عمر ٤٩ سال ہوگی، چالیس بعد خلیفہ بنیں گے، سات سال خلیفہ رہیں گے، دو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نیابت میں رہیں گے، ٤٩ سال کی عمر میں وفات پائیں گے، (١٠) ثم یموت ویصلی علیہ المسلمون (مشکوٰۃ:٤١٧) پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ تدفین کے مقام کے متعلق احادیث میں صراحت نہیں، البتہ بعض حضرات نے بیت المقدس میں تدفین لکھی ہے۔

اس ذیل میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا رسالہ ”الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ“ اور محدث کبیر مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کا رسالہ ”الامام المہدیؒ“ ترجمان السنۃ ج٤ مشمولہ احتساب قادیانیت جلد چہارم میں قابل دید ہیں۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول:

کی رفع سے پہلی پوری زندگی، زہد و انکساری، مسکنت کی زندگی ہے۔ (٢) یہودی ان کے قتل کے درپے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ظالم ہاتھوں سے آپ کو بچا کر آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا،

صفحہ ١٨٢

(٣) قیامت کے قریب دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے، (٤) دو زرد رنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی، (٥) دمشق کی مسجد کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے، (٦) پہلی نماز کے علاوہ تمام نمازوں میں امامت کرائیں گے، (٧) حاکم عادل ہوں گے، پوری دنیا میں اسلام پھیلائیں گے، (٨) دجال کو مقام لد پر (جو اس وقت اسرائیل کی فضائیہ کا ایئربیس ہے) قتل کریں گے، (٩) نزول کے بعد پینتالیس سال قیام کریں گے، (١٠) مدینہ طیبہ میں فوت ہوں گے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق کے ساتھ روضہ اطہر میں دفن کئے جائیں گے، جہاں آج بھی چوتھی قبر کی جگہ ہے، فیکون قبرہ رابعاً۔

(تاریخ البخاری)

دجال کا خروج:

(١) اسلامی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں شخص (متعین) کا نام ہے، جس کی فتنہ پردازیوں سے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں کو ڈراتے آئے۔ گویا دجال ایک ایسا خطرناک فتنہ پرور ہوگا جس کی خوفناک خدا دشمنی پر تمام انبیاء علیہم السلام کا اجماع ہے، (٢) وہ عراق و شام کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا، (٣) تمام دنیا کو فتنہ و فساد میں مبتلا کردے گا، (٤) خدائی کا دعویٰ کرے گا، (٥) ممسوح العین ہوگا، یعنی ایک آنکھ چٹیل ہوگی (کانا ہوگا)، (٦) مکہ مدینہ جانے کا ارادہ کرے گا، حرمین کی حفاظت پر

صفحہ ١٨٣

مامور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا منہ موڑ دیں گے، وہ مکہ، مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، (٧) اس کے متبعین زیادہ تر یہودی ہوں گے،

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حربہ (ہتھیار) سے قتل ہوگا۔

اسلامی نقطۂ نظر سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کی قریباً ایک سو اسی علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری تواتر سے ثابت ہے۔ چنانچہ علامہ شوکانی لکھتے ہیں:

"فتقرر ان الاحاديث الواردة فى المهدى المنتظر متواترة والاحاديث الواردة فى نزول عيسىٰ بن مريم متواترة۔"

(الاذاعه ص ٧٧)

ترجمہ: ”چنانچہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں۔“

اور حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"قال ابو الحسن الخسعى الابدى فى مناقب الشافعى! تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عيسىٰ يصلى خلفه ذكر ذلك رد للحديث الذى اخرجه ابن ماجه عن انس و فيه ولا مهدى الا عیسیٰ“۔

(فتح الباری ص ٣٥٨ ج ٦)

صفحہ ١٨٤

ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ابوالحسن حمصی نے یہ بات اس لئے ذکر فرمائی ہے تاکہ اس حدیث کا رد ہو جائے جو ابن ماجہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے جس میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی مہدی ہیں۔“

حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جن احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے:

”عن جابر بن عبدالله قال قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا: ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة۔“

(مسلم ج١ ص٨٧ باب نزول عیسیٰ ابن مریم واحمد ص٣٤٥ ج٣)

ترجمہ : ”حضرت جابر عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ میں جنگ کرتی رہے گی، دشمنوں پر غالب رہے گی، اس کے بعد آپؐ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم اتریں گے (نماز کا وقت ہوگا) مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے اور نماز پڑھا دیجئے وہ فرمائیں گے: یہ نہیں ہو سکتا، اس امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام واعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام وامیر ہو۔“

اس حدیث سے جہاں ایک جانب یہ ثابت ہوا کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان

صفحہ ١٨٥

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام الگ الگ مقدس ہستیاں ہیں، دوسری جانب اس سے امت محمدیہ کی کرامت و شرافت عظمیٰ بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرب قیامت تک اس امت میں ایسے برگزیدہ افراد موجود رہیں گے کہ اسرائیلی سلسلہ کا ایک مقدس رسول آ کر بھی اس کی امامت کی حیثیت کو برقرار رکھ کر ان کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے جو اس بات کا صاف اعلان ہے کہ جس شرافت اور کرامت کے مقام پر تم پہلے فائز تھے آج بھی ہو۔ یہ واقعہ بالکل اس قسم کا ہے جیسا کہ مرض الوفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت کی نماز حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں ادا فرما کر امت کو گویا صریح ہدایت دے دی کہ میرے بعد امامت و اقتداء کی پوری صلاحیت ابوبکر صدیقؓ میں موجود ہے۔

سیدنا مسیح علیہ السلام اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق احادیث کی روشنی میں بیان کردہ علامات دیکھنی ہوں تو ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ کے آخر میں علامات قیامت اور نزول مسیح (مترجم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی) اور حضرت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیعؒ کا رسالہ ”مسیح موعود کی پہچان“ دیکھی جاسکتی ہیں۔

حضرت مسیح علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ الرضوان اور دجال لعین کے متعلق مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ تین شخصیات ہیں:

”اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہوں گے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ص ١٦٧ ج ١٧)

تینوں مشرق میں ہوں گے، یہ تو قادیانی دجل کا شاہکار ہے، البتہ اتنی بات مرزا قادیانی کے اس حوالہ سے ثابت ہے کہ یہ تین شخصیات علیحدہ علیحدہ ہیں۔

قادیانی موقف:

لیکن قادیانی جماعت کی بدنصیبی اور ایمان سے محرومی دیکھئے ان کا موقف ہے کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی ایک شخصیت ہے، اور وہ مرزا قادیانی ہے۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام اور

صفحہ ١٨٦

مہدی علیہ الرضوان دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں، ان کے نام، کام، جائے پیدائش، جائے نزول، وقت ظہور، مدت قیام، عمر، دونوں علیحدہ تفصیلات کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ لیکن قادیانی دجال اور اس کی جماعت کے دجل کو دیکھو سینکڑوں احادیث صحیحہ و متواترہ کو چھوڑ کر ایک جھوٹی و وضعی روایت سے اپنا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ دیکھئے مرزا نے کہا:

”ايها الناس انى انا المسيح المحمدى وانى انا احمد المهدى۔“

(خطبہ الہامیہ خزائن ص ٢١ ج ١٦)

ترجمہ: ”اے لوگو! میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں ہے اور میں احمد مہدی ہوں۔“

قاضی محمد نذیر قادیانی لکھتا ہے:

”امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے۔“

(امام مہدی کا ظہور ص ١٦)

قادیانی مغالطہ:

قادیانی گروہ دلیل میں ابن ماجہ کی روایت پیش کرتا ہے:

”لا المهدى الا عيسى بن مريم“۔

(ابن ماجہ ص ٢٩٢ باب شدة الزمان)

یہی قاضی محمد نذیر اس حدیث کے متعلق لکھتا ہے:

”اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہی المہدی ہے اور اس کے علاوہ کوئی ”المہدی“ نہیں ہے۔“

یہ حدیث اولاً تو ضعیف ہے، ثانیاً اس کا مطلب وہ نہیں جو قادیانی سمجھتے ہیں۔ ملا

علی قاریؒ فرماتے ہیں:

”حديث لا مه المحدثين كما صرح علیٰ۔“

ترجمہ: ”حدیث ا ہے جیسا کہ ابن جزریؒ فتی الاعلیٰ“ کے قبیل سے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درجہ جو لافتی الاعلیٰ کا ہے۔ یعنی مہدی صف گیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے ہدایت یا الاعلیٰ“ کے معنی اعلیٰ درجہ کے جوان او یہ مطلب لینا غلط ہے کہ جس ہے۔ خود مرزا صاحب ایک اصول ل

”جس حالت می مطابق ...... ہیں پھر اگر ا جو اس مجموعۂ یقینیہ کے مخ خارج کریں گے اور یا ا نہیں کہ ایک ضعیف اور م نصوص بینہ فرقانیہ و حدیثی اس اصول کی روشنی میں دیکھ

صفحہ ١٨٧

علی قاریؒ فرماتے ہیں:

”حديث لا مهدى الا عيسى بن مريم ضعيف باتفاق المحدثين كما صرح به الجزرى على انه من باب لافتىٰ الا علىٰ۔“

(مرقاۃ ص ١٨٣ ج ١٠)

ترجمہ: ”حدیث لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم باتفاق محدثین ضعیف ہے جیسا کہ ابن جزریؒ نے اس کی صراحت کی ہے، علاوہ ازیں یہ ”لا فتی الا علیٰ“ کے قبیل سے ہے“۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درجہ میں حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا وہی مطلب ہے جو لا فتی الا علیٰ کا ہے۔ یعنی مہدی صفت کا صیغہ ہے اور اس کے لغوی معنی مراد ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے ہدایت یافتہ عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ بطور حصر اضافی جیسے ”لا فتی الا علیٰ“ کے معنی اعلیٰ درجہ کے جوان اور بہادر حضرت علیؓ ہی ہیں۔

یہ مطلب لینا غلط ہے کہ جس شخصیت کا نام مہدی ہے، وہ عیسیٰ بن مریم ہی کی شخصیت ہے۔ خود مرزا صاحب ایک اصول لکھتے ہیں:

”جس حالت میں تقریباً کل حدیثیں قرآن شریف کے مطابق ...... ہیں پھر اگر بطور شاذ و نادر کوئی ایسی حدیث بھی موجود ہو جو اس مجموعہ یقینیہ کے مخالف ہو تو ہم ایسی حدیث کو یا تو نصوص سے خارج کریں گے اور یا اس کی تاویل کرنی پڑے گی کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک ضعیف اور شاذ سے وہ محکم عمارت گرا دی جائے جس کو نصوص بینہ فرقانیہ وحدیثیہ نے طیار کیا ہو ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٢٥ و ٢٢٦)

اس اصول کی روشنی میں دیکھئے مرزائیوں کی پیش کردہ ابن ماجہ کی روایت کی کیا حیثیت

صفحہ ١٨٨

رہ جاتی ہے؟ اس لئے کہ نزول عیسیٰ کی مذکورہ بالا روایات صحیحہ متواترہ سے صاف طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے نہ یہ کہ وہ دنیا میں کسی خاندان میں پیدا ہوں گے، جب کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں حدیث ہے:

يقول المهدى من عترتى من ولد فاطمة“۔

(ابوداؤد ص ١٣١ ج٢ کتاب المهدی)

ترجمہ: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میری عترت سے ہوگا یعنی حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے۔“

(ابوداؤد: ص ١٣١ ج٢ کتاب المهدی)

ترجمہ: ”جو میرا نام ہے وہی اس کا نام ہوگا، جو میرے باپ کا نام ہے، وہی اس کے باپ کا نام ہوگا۔“

اور حدیث مندرجہ ذیل نے معاملہ بالکل منقح کر دیا ہے۔

والمسيح آخرها۔“

(مشكوة ص ٥٨٣ باب ثواب هذه الامة)

ترجمہ: ”وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کی ابتداء میں، میں (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں، درمیان میں مہدی ، اور آخر میں مسیح علیہ السلام ہیں۔“

یہ حدیث اس مسئلہ میں بانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ مرزا قادیانی کا مؤقف صراحتاً دجل ، کذب کا شاہکار ہے لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ کو یہ صاف صاف روایتیں بھی نظر نہیں آتیں اور پوری بے شرمی کے ساتھ مسیح ومہدی کے ایک ہونے کی رٹ لگاتا رہتا ہے۔ حالانکہ دونوں کے بارے میں روایات الگ الگ اور متواتر آئی ہیں۔

صفحہ ١٨٩

دجال:

کہا کہ اس سے مراد پادری ہیں۔ اس پر سوال ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپؐ نے رونے کی وجہ دریافت فرمائی، میں نے عرض کیا کہ دجال کے بارہ میں آپؐ نے تفصیلات بیان فرمائی: میں سن کر پریشان ہوگئی، اب خیال آتے ہی فوراً رونا آ گیا، آپؐ نے فرمایا کہ: میں موجود ہوا اور وہ آ گیا تو تمہاری طرف سے میں کافی ہوں۔ اگر میری زندگی میں نہ آیا تو جو شخص سورۂ کہف کی آخری آیات پڑھتا رہے وہ اس سے محفوظ رہے گا۔ اگر پادری ہی دجال تھے، وہ تو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا کیا مطلب ہوا؟

ہیں تو دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام قتل کریں گے تم تو ”انگریز کے خودکاشتہ پودا“ ہو۔

واحد ہے، قوم مراد نہیں، اس نے کہا کہ دجال نہیں حدیث میں ”رجال“ ہے۔ یہ اس کی جہالت کی دلیل ہے۔ اس کی تردید کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ابن صیاد کے مسئلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی کہ میں اسے قتل کردوں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (دجال) ہے تو ”لست صاحبہ“ تم اس کو قتل نہیں کر سکتے، اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔

ابن صیاد کی بابت کتب احادیث میں تفصیل سے روایات موجود ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دجال تلوار سے قتل ہوگا، نہ کہ قلم سے جیسا کہ قادیانیوں کا مؤقف ہے۔

صفحہ ١٩٠

خلاصہ:...... یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کا مؤقف اسلام کے چودہ سوسالہ مؤقف کے خلاف ہے۔

سوال ٨:...... مرزائی جن آیات و آثار کو عدم رفع اور

وفات مسیح کے لئے پیش کرتے ہیں، ان میں سے تین کا ذکر کر کے ان کا شافی رد کریں؟

جواب:...... قادیانی استدلال: ١:

”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم۔“

(مائده: ١١٧)

مرزا بشیر الدین کے ترجمہ کے الفاظ یہ ہیں: ”اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا‘ میں ان کا نگران رہا مگر جب تو نے میری روح قبض کر لی تو‘ تو ہی ان پر نگران تھا۔“

(ترجمہ قرآن مجید از مرزا بشیر الدین ص ٢٥٨)

وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اس آیت سے قادیانی استدلال کی بنیاد ان کے خیال میں بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت پر ہے جو مندرجہ ذیل ہے: ”انه يجاء برجال من امتى فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول يارب اصحابى فيقال انك لاتدرى ما احدثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح: وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم ......الخ“

(بخاری ص ٢٦٥ ج ٢ کتاب التفسیر)

ترجمہ: ”میری امت کے بعض لوگ لائے جائیں گے اور

صفحہ ١٩١

بائیں طرف یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا تو میں کہوں گا: اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں ، پس کہا جائے گا کہ آپ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا، پس میں ایسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ، ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بتمامہ بھر پور لے لیا تھا ، اس وقت آپ نگہبان تھے۔“

تو ”توفی“ کا لفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کے کلام میں آتا ہے ، اور ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توفی بصورت وفات ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بصورت وفات ہوگی۔ نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ کا ارشاد زمانہ ماضی میں ہو چکا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔

جواب:...... اس تحریف کا جواب بھی معلوم ہو چکا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں یہ بمعنی موت ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپ کی وفات ہوئی ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں توفی بطور اصعاد الی السماء پائی گئی ہے کیونکہ اس کا قرینہ ورافعک الی موجود ہے۔

جواب:...... اگر دونوں حضرات کی توفی ایک طرح کی ہوتی تو آپ یوں فرماتے: ” فاقول ما قال، العبد الصالح “ تو فاقول کما قال العبد الصالح فرمانا بتا رہا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں چونکہ تغایر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اصل مقصد ہر دو حضرات کا امت کے درمیان اپنی عدم موجودگی کو بطور عذر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی غیر موجودگی توفی بمعنی اصعاد الی السماء سے بیان فرمائی ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی غیر موجودگی توفی بصورت موت بیان فرمائی ہے۔

صفحہ ١٩٢

جواب:.......... رہا یہ کہ آپ نے اپنے متعلق فرمایا اقول اور حضرت عیسیٰ کے متعلق قال ماضی کا صیغہ فرمایا۔ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس وقت آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی: سورۃ مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہو چکی تھی اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول جو قیامت کے دن باری تعالیٰ کے سوال کہ: ”ا انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ“ کے جواب میں فرمائیں گے، حکایت کیا گیا ہے۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام پہلے ہو چکے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بعد میں پیش آئے گا۔

قادیانی استدلال: ٣:

”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ۔“

(آل عمران: ١٤٤)

قادیانی ترجمہ: ”اور محمدؐ صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے کے سب رسول فوت ہو چکے ہیں، پس اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کئے جائیں، تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے۔“

اس آیت میں قادیانی گروہ خلو کو بمعنی موت لیتا ہے، اور من قبلہ کو الرسل کی صفت مانتا ہے، اور الرسل پر لام استغراق مانتا ہے۔ اس لئے استدلال کا حاصل یہ ہوا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں، تو بس مسیح علیہ السلام بھی ان میں آگئے۔

جواب:....... خلت، خلو سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی مکان سے متعلق ہونے کی صورت میں جگہ خالی کرنے کے، اور زمان سے متعلق ہونے کی صورت میں گزرنے کے آتے ہیں اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے ان کو بھی تبعاً خلو سے موصوف کر دیتے ہیں۔

صفحہ ١٩٣

مثالیں:

(بقرہ:١٤)

ترجمہ:”اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس۔“

(سورہ حاقہ:٢٤)

ترجمہ:”ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے بامید صلہ گزشتہ ایام میں کئے ہیں۔“

(بقرہ: ١٤١)

ترجمہ:”یہ ایک جماعت جو گزر چکی۔“

(بیان القرآن)

بہر حال خلو کے معنی جگہ خالی کرنا خواہ زندہ گزر کر، یا موت سے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹ جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل قطعیہ ہوتے ہوئے اس کو موت کے معنی میں لینا تحریف ہی تو ہے۔

پہلے کے تمام پیغمبر مر گئے کیونکہ یہ الرسل سے مقدم ہے بلکہ یہ خلت کا ظرف ہے، اب صحیح معنی یہ ہیں کہ محمدؐ سے پیشتر کئی رسول گزر چکے۔

”الرسل“ پر لام تعریف جنس کا ہے کیونکہ استغراق کے معنی لینے کی صورت میں آیت کے جملوں میں تعارض لازم آئے گا، بایں طور کہ وما محمد الا رسول سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رسالت ثابت کی، اور جب خلت من قبلہ الرسل میں الرسل استغراق کے لئے ہوا، اور من قبلہ کا ظرف ہونا ثابت ہو ہی چکا۔ تو اب ترجمہ یہ ہوگا کہ: جتنے اشخاص صفت رسالت سے موصوف تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اس سے نعوذ باللہ آپؐ

صفحہ ١٩٤

رسول برحق ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لئے لام جنس ماننا ضروری ہے۔

جواب:...... اور اگر ’’علی سبیل التنزل‘‘ قادیانی گروہ کی تینوں باتیں مان لی جائیں تو بھی اس سے زیادہ سے زیادہ رسل کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوگی نہ کہ بطریق خصوص، اور اس صورت میں یہ آیت ان کی دلیل بننے کے قابل نہیں رہے گی، کیونکہ علم اصول کی کتابوں میں اس قاعدہ مسلمہ کی تصریح ہے کہ کوئی امر خاص دلیل (تخصیص منقول) سے ثابت ہو، تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہاں دلائل قطعیہ مخصوصہ سے حضرت عیسیٰ کی حیات ثابت کی جا چکی ہے۔

قادیانی استدلال:٣

”ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین۔“ (بقرہ: ٣٦)
ترجمہ: ”(از مرزا) تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی
رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔“

اسی کے ساتھ مرزائی یہ آیت بھی پڑھتے ہیں: ”فیھا تحیون و فیھا تموتون و منھا تخرجون“ (اعراف: ٢٥) اور ان کے استدلال کا حاصل یہی ہے کہ انسانی زندگی یہیں زمین پر بسر ہونی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کو چھوڑ کر کسی اور جگہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ (دیکھئے ازالہ اوہام ص٢٥٠)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر لے جانے سے روکتی ہے، کیونکہ ”لکم“ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے، اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا، زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔

جواب ١:...... کسی مقام کا کسی کے لئے اصل جائے رہائش ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عارضی طور پر کہیں اور نہ جاسکے آدمی ہوائی جہاز کا سفر کرتا ہے اور گھنٹوں فضا میں رہتا ہے تو کیا

صفحہ ١٩٥

کوئی احمق کہہ سکتا ہے کہ قرآنی ضابطہ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ایک عرصہ سے۔ خلانوردی کا سلسلہ شروع ہے جولائی ١٩٦٩ء میں پہلی مرتبہ دو آدمیوں نے چاند پر پاؤں رکھے۔ اللہ کی قدرت کہ بہت سی چیزیں جو پہلے بعید از عقل معلوم ہوتی تھیں سائنسی ایجادات کی بدولت وہ حقائق اور واقعات بن چکی ہیں، تو کیا کہا جائے گا کہ یہ خلائی سفر قرآنی آیات کے خلاف ہیں؟ اگر مرزا صاحب کا یہ کہنا صحیح ہے کہ ”جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا“ تو کیا نیل آرم سٹرانگ اور ایڈون ایلڈرن اور ان کے بعد کئی اور آدمی کوئی فرشتے تھے کہ خلائی مسافت طے کر کے چاند تک پہنچے؟ تو آیت کریمہ کا ضابطہ اپنی جگہ پر درست ہے مگر اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے، کیونکہ وہ عارضی طور پر آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، بہر حال وہ بھی مقررہ وقت پر پھر زمین پر آئیں گے اور دیگر انسانوں کی طرح وفات پا کر زمین میں دفن ہوں گے۔

جواب ٢:.......علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو پیدائشی طور پر ملائکہ سے مشابہت تھی، لہٰذا ان کو آسمان پر اٹھایا جانا، اور زیر بحث آیت کے حکم سے ان کا خارج ہونا اپنے فطری مادہ کے اعتبار سے ہے۔ رہی احادیث مبارکہ تو ایک صحیح حدیث قادیانی قیامت تک مسیح علیہ السلام کی وفات پر پیش نہیں کر سکتے، جو پیش کرتے ہیں یا موضوع ہیں یا مجروح ہیں یا مجہول ہیں، ایک بھی صحیح روایت وہ اپنے مؤقف پر پیش نہیں کرسکتے۔ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار۔

یہ ہیں قادیانی تحریفات کے چند نمونے، اختصار کے پیش نظر ان ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں شہادت القرآن کا مطالعہ کیا جائے، جو مولانا ابراہیم سیالکوٹی کی تصنیف ہے، اس سے بھی زیادہ عام فہم کتاب حیات عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت شیخ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی ہے، جو ”احتساب قادیانیت جلد دوم“ میں شامل ہے۔

سوال : ٩....... رفع و نزول جسم عنصری کے امکان عقلی کو

صفحہ ١٩٦

بیان کرتے ہوئے اس کے نقلی نظائر پیش کریں نیز رفع ونزول کی حکمتیں بیان کریں؟

جواب: ...... مرزا صاحب اور ان کی جماعت کا دعویٰ ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پا کر مدفون ہوچکے اور دلیل یہ ہے کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٧ ج ١ تقطیع خورد روحانی خزائن ص ١٢٦ ج ٣)

قرآن وسنت سے رفع ونزول نہ صرف ثابت ہے بلکہ اس کے نظائر بھی موجود ہیں، مثلاً:

جانا اور پھر وہاں سے واپس آنا حق ہے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا آسماں سے نازل ہونا بھی بلاشبہ حق اور ثابت ہے۔

اسی طرح حضرت عیسیٰ کا آسمان سے زمین کی طرف نزول بھی ممکن ہے ”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم۔“

حدیثوں سے ثابت ہے، اسی وجہ سے ان کو جعفر طیارؓ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے: ”اخرج الطبرانی باسناد حسن عن عبداللہ بن جعفرؓ قال قالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم هنيئاً لك ابوك يطير مع الملائكة فى السماء۔“

(وکذافی فتح الباری ص ٦٢ ج ٧ زرقانی شرح مواھب ص ٢٧٥ ج ٢)

ترجمہ: ”امام طبرانی نے باسناد حسن عبداللہ بن جعفرؓ سے

صفحہ ١٩٧

روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک بار یہ ارشاد فرمایا کہ اے جعفرؓ کے بیٹے عبداللہؓ تجھ کو مبارک ہو تیرا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑتا پھرتا ہے (اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جعفرؓ جبرئیل ومیکائیل کے ساتھ اڑتا پھرتا ہے ) ان ہاتھوں کے عوض میں جو غزوہ موتہ میں کٹ گئے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو ملائکہ کی طرح دو بازو عطا فرما دیئے ہیں اور اس روایت کی سند نہایت جید اور عمدہ ہے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اس بارے میں ایک شعر ہے:

وجعفر الذي يضحى و يمسى
يطير مع الملائكة ابن امى

ترجمہ: ”وہ جعفرؓ کہ جو صبح و شام فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے وہ میری ہی ماں کا بیٹا ہے۔“

کے جنازہ کا آسمان پر اٹھایا جانا روایات میں مذکور ہے جیسا کہ حافظ عسقلانی نے اصابہ میں حافظ ابن عبدالبر نے استیعاب میں اور علامہ زرقانی نے شرح مواہب ص ٨٧ ج ٢ میں ذکر کیا ہے۔ جبار بن سلمی جو عامر بن فہیرہ کے قاتل تھے وہ اسی واقعہ کو دیکھ کر ضحاک بن سفیان کلابی کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور یہ کہا:

”دعانی الی الاسلام ما رأیت من مقتل عامر بن فہیرۃ ورفعہ الی السماء“۔

ترجمہ:”عامر بن فہیرہ کا شہید ہونا اور ان کا آسمان پر اٹھایا جانا میرے اسلام لانے کا باعث بنا۔“

ضحاکؓ نے یہ تمام واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں لکھ کر بھیجا،

صفحہ ١٩٨

اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”فان الملائکۃ وارت جثتہ وانزل فی علیین“۔

ترجمہ: ”فرشتوں نے اس کے جثہ کو چھپا لیا اور وہ علیین میں اتارے گئے“۔

ضحاک ابن سفیان کے اس تمام واقعہ کو امام بیہقیؒ اور ابو نعیمؒ دونوں نے اپنی اپنی دلائل النبوۃ میں بیان کیا۔

(شرح الصدور فی احوال الموتیٰ والقبور للعلامۃ السیوطی ص: ١٧٤)

اور حافظ عسقلانی نے اصابہ میں جبار بن سلمی کے تذکرہ میں اس واقعہ کی طرف اجمالاً اشارہ فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہؓ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے واقعہ کو ابن سعد اور حاکم اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ غرض یہ کہ یہ واقعہ متعدد اسانید اور مختلف روایات سے ثابت اور محقق ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمریؓ کو خبیبؓ کی نعش اتار لانے کے لئے روانہ فرمایا۔ عمرو بن امیہؓ وہاں پہنچے اور خبیب کی نعش کو اتارا دفعتاً ایک دھماکہ سنائی دیا۔ پیچھے پھر کر دیکھا اتنی دیر میں نعش غائب ہوگئی، عمرو بن امیہؓ فرماتے ہیں گویا زمین نے ان کو نگل لیا، اب تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا، اس روایت کو امام ابن حنبلؒ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

(زرقانی شرح مواہب ص ٧٣ ج ٢)

شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ خبیبؓ کو زمین نے نگلا اسی وجہ سے ان کا لقب بلیع الارض ہو گیا، اور ابو نعیمؒ فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ عامر بن فہیرہؓ کی طرح خبیبؓ کو بھی فرشتے آسمان پر اٹھا لے گئے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے عامر بن فہیرہؓ اور خبیب بن عدیؓ اور علاء بن حضرمیؓ کو آسمان پر اٹھایا۔ انتہیٰ۔

صفحہ ١٩٩

معجزات کی وراثت ہے:

ومما يقوى قصة الرفع الى السماء ما اخرجه النسائى والبيهقى والطبرانى وغيرهم من حديث جابر ان طلحة اصيبت انامله يوم احد فقال حس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو قلت بسم الله لرفعتك الملائكة والناس ينظرون اليك حتى تلج بك فى جو السماء شرح الصدور ص:٢٥٨ طبع بیروت ١٩٩٣ء سن طبع ...... واخرج ابن ابى الدنيا فى ذكر الموتى عن زيد بن اسلم قال كان فى بنى اسرائيل رجل قد اعتزل الناس فى كهف جبل و كان اهل زمانه اذا قحطوا استغاثوا به فدعا الله فسقاهم فمات فاخذوا فى جهازه فبينا هم كذلك اذا هم بسرير يرفرف فى عنان السماء حتى انتهى اليه فقام رجل فاخذه فوضعه على السرير فارتفع السرير والناس ينظرون اليه فى الهواء حتى غاب عنهم“

(شرح الصدور ص٢٥٧ طبع بیروت ١٩٩٤ء سن طبع)

ترجمہ:”شیخ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ اور خبیب رضی اللہ عنہما کے واقعہ رفع الی السماء کی وہ واقعہ بھی تائید کرتا ہے جس کو نسائی اور بیہقی اور طبرانی نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ غزوۂ احد میں حضرت طلحہؓ کی انگلیاں زخمی ہوگئیں تو اس تکلیف کی حالت میں زبان سے ”حس“ یہ لفظ نکلا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو بجائے ”حس“ کے بسم اللہ کہتا تو لوگ دیکھتے ہوتے اور فرشتے تجھ کو اٹھا کر لے جاتے یہاں تک کہ تجھ کو آسمان کی فضا میں لے کر گھس جاتے......ابن ابی الدنیا

صفحہ ٢٠٠

نے ذکر الموتی میں زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جو پہاڑ میں رہتا تھا، جب قحط ہوتا تو لوگ اس سے بارش کی دعا کراتے وہ دعا کرتا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے بارانِ رحمت نازل فرماتا۔ اس عابد کا انتقال ہوگیا، لوگ اس کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے اچانک ایک تخت آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا یہاں تک کہ اس عابد کے قریب آ کر رکھا گیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس عابد کو اس تخت پر رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ تخت اوپر اٹھتا گیا، لوگ دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غائب ہوگیا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آسمان سے زمین پر اتر آنا مستدرک حاکم میں مفصل مذکور ہے۔

(مستدرک ص٣٦٤، ج٣ طبع بیروت)

مقصد ان واقعات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ منکرین اور ملحدین خوب سمجھ لیں کہ حق جل شانہ نے اپنے محبین ومخلصین کی اس خاص طریقہ سے بارہا تائید فرمائی کہ ان کو صحیح وسالم فرشتوں سے آسمانوں پر اٹھوالیا اور دشمن دیکھتے ہی رہ گئے، تاکہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک نشان اور کرشمہ ظاہر ہو اور اس کے نیک بندوں کی کرامت اور منکرین معجزات و کرامات کی رسوائی و ذلت آشکارا ہو اور اس قسم کے خوارق کا ظہور مومنین اور مصدقین کے لئے موجب طمانیت اور مکذبین کے لئے اتمامِ حجت کا کام دے۔ ان واقعات سے یہ امر بھی بخوبی ثابت ہوگیا کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے، نہ سنتِ اللہ کے متصادم ہے بلکہ ایسی حالت میں سنتِ اللہ یہی ہے کہ اپنے خاص بندوں کو آسمان پر اٹھالیا جائے تاکہ اس ملیک مقتدر کی قدرت کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ کی اپنی خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے کہ ایسے وقت میں ان کو آسمان

صفحہ ٢٠١

پر اٹھا لیتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں بلکہ ممکن اور واقع ہے اور اسی طرح کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے اور پیئے زندگی بسر کرنا بھی محال نہیں۔

نزول کی حکمتیں:

یہ دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا کما قال و قولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ اور دجال جو اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی قوم یہود سے ہوگا۔ اور یہود اس کے متبع اور پیرو ہوں گے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے تا کہ خوب واضح ہو جائے کہ جس ذات کی نسبت یہود یہ کہتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا وہ سب غلط ہے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زندہ آسمان پر اٹھایا اور اتنے زمانہ تک ان کو زندہ رکھا اور پھر تمہارے قتل اور بربادی کے لئے اتارا تا کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ تم جن کے قتل کے مدعی تھے ان کو قتل نہیں کر سکے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے قتل کے لئے نازل کیا اور یہ حکمت فتح الباری کے باب نزول عیسیٰ علیہ السلام صفحہ : ٣٥٧ جلد ١٠ پر مذکور ہے۔

ہی میں نزول ہوگا تا کہ اس ملک کو فتح فرمائیں ، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے چند سال بعد فتح مکہ کے لئے تشریف لائے ، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے شام سے آسمان کی طرف ہجرت فرمائی اور قیامت سے کچھ روز پہلے شام کو فتح کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہوں گے اور یہود کا استیصال فرمائیں گے۔

نصارٰی کا یہ اعتقاد کہ مسیح بن مریم صلیب پر چڑھائے گئے بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح

صفحہ ٢٠٢

علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے، اس لئے نازل ہونے کے بعد صلیب کا نام و نشان بھی نہ چھوڑیں گے۔

یہ عہد لیا تھا کہ اگر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پاؤ تو ان پر ضرور ایمان لانا اور ان کی ضرور مدد کرنا۔ کما قال تعالیٰ: لتؤمنن بہ ولتنصرنہ، اور انبیاء بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوتا تھا۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا تا کہ جس وقت دجال ظاہر ہو اس وقت آپ آسمان سے نازل ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی مدد فرمائیں کیونکہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا وہ وقت امت محمدیہ پر سخت مصیبت کا وقت ہوگا اور امت شدید امداد کی محتاج ہوگی۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے تا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت واعانت کا جو وعدہ تمام انبیاء کر چکے ہیں وہ وعدہ اپنی طرف سے اصالۃً اور باقی انبیاء کی طرف سے وکالتاً ایفا فرمائیں ،فافہم ذلك فانہ لطیف۔

سوال ١٠:...... حیات مسیح پر قادیانی جو عقلی وساوس و

شبہات پیدا کرتے ہیں ان میں سے تین کو ذکر کر کے ان کا

جواب دیں؟

جواب:......

قادیانی اشکال نمبر ١:...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں

میں ہیں تو وہاں کھاتے کیا ہوں گے؟

صفحہ ٢٠٣

بحکم خداوندی اڑا کر لے جاتی تھی، کسی بندہ کے عمل اور صنعت کو اس میں دخل نہ تھا اس لئے وہ معجزہ تھا اور ہوائی جہاز معجزہ نہیں۔

قادیانی اشکال ٤:...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:

”کسی جسد عنصری کا آسمان پر جانا سراسر محال ہے، اس لئے کہ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے کس طرح صحیح وسالم گزر سکتا ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٧ ج ١ روحانی خزائن ص ١٢٦ ج ٣)

نوٹ:...... یہ طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریر وغیرہ قدیم فلاسفہ یونان کے خرافاتی نظریات ہیں جو موجودہ سائنس کی رو سے بالکل غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ انسان کے چاند پر اترنے کے بعد وہاں زمینوں کی الاٹمنٹ شروع ہوگئی تھی۔ تو ان خلائی سفروں میں کہاں کا کرہ نار اور کہاں کا طبقہ زمہریر؟ آج کی پڑھی لکھی دنیا میں یونانی خرافات پیش کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اس کے علاوہ چلئے حضرات انبیاء علیہم السلام کی سوانح سے بھی اس کا جواب سن لیجئے:

کا لیل ونہار طبقہ ناریہ اور کرہ زمہریریہ سے مرور وعبور ممکن ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی عبور و مرور ممکن ہے اور جس راہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط اور نزول ہوا ہے، اسی راہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہبوط ونزول بھی ممکن ہے۔

صراحتاً مذکور ہے کما قال تعالیٰ: ”اذ قال الحواریون یعیسی بن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء (الی قولہ تعالیٰ) قال عیسیٰ بن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا وایۃ منک وارزقنا وانت خیر الرازقین قال اللہ انی منزلھا علیکم“، پس اس مائدہ کا نزول بھی طبقہ ناریہ

صفحہ ٢٠٤

ہیں۔

میں صراحتاً مذکور ہے ان کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد: ” فلولا انہ كان من المسبحين للبث في بطنه الى يوم يبعثون “ (الصفت ١٤٤،١٤٣) اس پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یونس علیہ السلام اگر مسبحین میں سے نہ ہوتے تو اسی طرح قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ٹھہرے رہتے اور بغیر کھائے پیئے زندہ رہتے۔

قادیانی اشکال نمبر٢: ...... جو شخص اسی یا نوے سال کو پہنچ جاتا ہے

وہ محض نادان ہو جاتا ہے ، کما قال تعالیٰ : ” ومنكم من يرد الى ارذل العمر

(النحل ٧٠)

لکیلا یعلم بعد علم شيئاً ۔“

اپنی طرف سے لگائی ہے، قرآن وحدیث میں کہیں قید نہیں۔

رہے اور ظاہر ہے کہ نبی کے علم اور عقل کا زائل ہونا ناممکن اور محال ہے۔

قادیانی اشکال ٣: ...... زمین سے لے کر آسمان تک کی طویل

مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ممکن ہے؟

کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتی ہے۔ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے، اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں، علاوہ ازیں انسان جس وقت نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو حرکت شعاعی اس قدر سریع ہوتی ہے کہ ایک ہی آن میں آسمان تک پہنچ جاتی ہے اگر یہ آسمان حائل نہ ہوتا تو اور دور تک وصول ممکن تھا۔

صفحہ ٢٠٥

پر پھیل جاتا ہے حالانکہ سطح ارضی ٢٠٣٦٣٦٣٦ فرسخ ہے جیسا کہ سبع شداد ص ٤٠ پر مذکور ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ ٦١٠٩٠٩٠٨ میل ہوا۔ حکمائے قدیم کہتے ہیں کہ: جتنی دیر میں جرم شمس بتمامہ طلوع کرتا ہے اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت ٥١٩٦٠٠ لاکھ فرسخ ہوتی ہے اور ہر فرسخ چونکہ تین میل کا ہوتا ہے لہٰذا مجموعہ مسافت ١٥٥٨٨٠٠ لاکھ میل ہوئی۔

مسافت کا طے کر لینا ممکن ہے تو کیا خداوند عالم اور قادر مطلق کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خاص بندے کو چند لمحوں میں اس قدر طویل مسافت طے کرا دے؟

السلام کی خدمت میں پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دینا قرآنِ کریم میں مذکور ہے‘ کما قال تعالیٰ:

”قال الذی عندہ علم من الکتب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی۔“

(النمل: ٤٠)

مذکور ہے کہ وہ ہوا سلیمان علیہ السلام کے تخت کو جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی اور مہینوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرتی کما قال تعالیٰ: ”وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ“۔

پر تو ایمان لے آئے ہیں مگر نہ معلوم سلیمان علیہ السلام کے تخت پر بھی ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ ہوائی جہاز بندہ کی بنائی ہوئی مشین سے اڑتا ہے اور سلیمان علیہ السلام کے تخت کو ہوا

صفحہ ٢٠٦

لوازمات روحانیہ طاری ہوجاتے ہیں اور دنیاوی عوارض اس کو لاحق نہیں ہوتے۔ یوں سمجھیں کہ اس دنیا میں جسم غالب، اُس جہاں میں روح غالب جسم مغلوب۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں کے حالات کے مطابق روحانی غذا ملتی ہے۔ پس وہ کیا کھاتے ہوں گے؟ یہ اشکال باقی نہ رہا۔

میں مذکور ہے: ”و لبثوا فی کھفھم ثلث مائۃ سنین و ازدادوا تسعا ۔“ (الکھف: ٢٥)

دجال ظاہر ہوگا تو شدید قحط ہوگا اور اہل ایمان کو کھانا میسر نہ آئے گا، اس پر صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس وقت اہل ایمان کا کیا حال ہوگا؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”یجزئھم ما یجزئ اھل السماء من التسبیح والتقدیس “ (مشکوٰۃ ص٤٧٧) یعنی اس وقت اہل ایمان کو فرشتوں کی طرح تسبیح و تقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

فرماتے: ”ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی و یسقینی“ (بخاری ص:١٠١٤ ج٢) تم میں کون شخص میری مثل ہے کہ جو ”صوم وصال“ میں میری برابری کرے، میرا پروردگار مجھے غیب سے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے یہ غیبی طعام میری غذا ہے معلوم ہوا کہ طعام و شراب عام ہے خواہ حسی ہو یا غیبی ہو۔ لہٰذا و ما جعلنھم جسدا لا یاکلون الطعام سے یہ استدلال کرنا کہ جسم عنصری کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا ناممکن ہے غلط ہے۔ اس لئے کہ طعام و شراب عام ہے کہ خواہ حسی ہو یا معنوی۔

حضرت مسیح علیہ السلام نفخۂ جبرئیل سے پیدا ہونے کے باوجود جبرئیل امین کی طرح تسبیح و تہلیل سے زندگی کیوں نہیں بسر فرما سکتے؟ کما قال تعالیٰ : ”ان مثل عیسٰی عند اللہ کمثل آدم “ (آل عمران:٥٩)، جو آدم علیہ السلام آسمانوں پر کھاتے تھے وہی عیسیٰ علیہ السلام کھاتے

صفحہ ٢٠٧

سے گزر کر ہوا ہے۔ مرزا صاحب کے زعم فاسد اور خیال باطل کی بنا پر اگر وہ نازل ہوا ہوگا تو طبقہ ناریہ کی حرارت اور گرمی سے جل کر خاکستر ہوگیا ہوگا۔ نعوذ باللہ من ہذہ الخرافات یہ سب شیاطین الانس کے وسوسے ہیں اور انبیاء و مرسلین کی آیات نبوت اور کرامات رسالت پر ایمان نہ لانے کے بہانے ہیں۔

السلام کی طرح بردا وسلاما نہیں بنا سکتا؟ جبکہ اس کی شان یہ ہے:

”انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون، فسبحان ذی الملک والملکوت والعزۃ والجبروت امنت باللہ وکفرت بالطاغوت“۔

ایک ایٹم بم حوالہ:

اس بحث کو ختم کرنے سے قبل دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔ پہلے حوالہ میں مرزا قادیانی صراحت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اقرار کرتا ہے، دوسرے حوالہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات آسمانوں پر مانتا ہے۔ ان حوالہ جات سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ جب کوئی مرزائی حیات مسیح پر اشکال کرے کہ مسیح علیہ السلام آسمانوں پر کیسے گئے تو فوراً آپ کہہ دیں کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام گئے تھے۔ وہ پوچھے عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے، آپ کہہ دیں کہ جو موسیٰ علیہ السلام کھاتے ہیں۔ حیات مسیح پر تمام اشکالات کا حل اور الزامی جواب یہ حوالہ جات ہیں۔ مرزا لکھتا ہے:

الا تقرء فی القرآن ما قال اللہ تعالیٰ عز و جل فلا تکن فی مریۃ من لقائہ۔ و انت تعلم ان ہذہ الایۃ نزلت فی موسیٰ

صفحہ ٢٠٨

فہی دلیل صریح علیٰ حیات موسیٰ علیہ السلام لانہ لقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والاموات لا یلاقون الاحیاء ولا تجد مثل ہٰذہ الآیات فی شان عیسیٰ علیہ السلام نعم جاء ذکر وفاتہ فی مقامات شتّیٰ۔“

(حمامة البشریٰ ص ٥٥ روحانی خزائن ص ٢٤١ ج ٧)

الیٰ حیاتہ و فرض علینا ان نؤمن انہ حیٌّ فی السماء و لم یمت و لیس من المیتین۔“

(نور الحق ص ٥٠ روحانی خزائن ص ٦٩ ج ٨)

دے دیں جو حوالہ جات بالا سے ثابت ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا جہاد جاری ہے، مرزا نے کہا جہاد حرام ہے۔ آپؐ نے فرمایا نبوت بند ہے، مرزا نے کہا جاری ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، مرزا نے کہا کہ فوت ہوگئے ۔ آپؐ کی امت کا عقیدہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے، مرزا کہتا ہے آسمان پر زندہ ہیں، تو جو شخص ہر بات میں آپؐ کی مخالفت کرے وہ ابلیس سے بھی بڑا کافر ہے۔

صفحہ ٢٠٩

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کذب مرزا

سوال ١:...... مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے مختصر حالات تحریر کریں جس میں اس کے دعویٰ نبوت تک پہنچنے کے تدریجی مراحل کا باحوالہ بیان ہو؟ وضاحت سے لکھیں۔

جواب:

نام ونسب: مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتا ہے:

”میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے، اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٣٤، روحانی خزائن ص ١٦٢، ١٦٣ ج ١٣)

تاریخ ومقام پیدائش:

مرزا غلام احمد قادیانی کا آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور پنجاب ہے اور تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں اس نے یہ وضاحت کی ہے:

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ ص ١٥٩ حاشیہ، روحانی خزائن ص ١٧٧ ج ١٣)

تعلیم:

مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان میں ہی رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، جس

صفحہ ٢١٠

کی قدرے تفصیل خود اس کی زبانی ملاحظہ ہو:

”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر (استاذ کا احترام ملاحظہ ہو...... ناقل ) رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا، اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی، اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے، وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا، ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔‘‘

(کتاب البریہ برحاشیہ ص ١٦١ تا ١٦٣ روحانی خزائن ص ١٧٩ تا ١٨١ ج ١٣ بر حاشیہ)

جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت:

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب کچھ شعور حاصل کیا اور جوانی میں قدم رکھا تو نادان دوستوں اور احباب کی بدولت آوارہ گردی میں مبتلا ہو گیا، اس کا کچھ اندازہ حسب ذیل واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے، چنانچہ مرزا کا اپنا بیٹا بشیر احمد لکھتا ہے:

صفحہ ٢١١

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا، جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا، جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا، حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے ۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٤٣ روایت ٤٩ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

مرزا غلام احمد قادیانی کو بہلا کر لے جانے والا مرزا امام الدین کس قماش کا تھا اس کے لئے درجہ ذیل تصریح ملاحظہ ہو:

”مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے ۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١١٤ روایت ١٢٧)

حکومت برطانیہ کا منظور نظر:

سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران مرزا غلام احمد نے یورپین مشنریوں اور بعض انگریز افسروں سے پینگیں بڑھانی شروع کیں اور مذہبی بحث کی آڑ میں عیسائی پادریوں سے طویل خفیہ ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنی حمایت و تعاون کا پورا یقین دلایا چنانچہ سیرت مسیح موعود مصنفہ مرزا محمود صفحہ ١٥ (ربوہ) میں برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج مسٹر ریورنڈ بٹلر کی مرزا سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ یہ ١٨٦٨ء کی بات ہے۔ اس کے چند ہی دن بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے سیالکوٹ کچہری کی ملازمت ترک کر کے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کر دیا۔ مرزا صاحب ”ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ١٨٦٤ء

صفحہ ٢١٢

سے ١٨٦٨ء تک چار سال ملازم رہے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٥٤ تا ١٥٨ ملخصاً)

صداقتِ اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز:

قادیان پہنچ کر پہلے تو عام مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں، ہندوؤں اور آریوں سے کچھ نامکمل مناظرے کئے، اس کے بعد ١٨٨٠ء سے (براہین احمدیہ) نامی کتاب لکھنی شروع کی، جس میں اکثر مضامین عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تھے، لیکن ساتھ ہی اس میں مرزا نے اپنے بعض الہامات داخل کر دیئے اور طرفہ تماشہ یہ کہ صداقتِ اسلام کے دعویٰ پر لکھی جانے والی اس کتاب میں انگریزوں کی مکمل اطاعت اور جہاد کی حرمت کا اعلان شدومد کے ساتھ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک براہین احمدیہ کے ٤ حصے لکھے، جب کہ پانچواں حصہ ١٩٠٥ء میں لکھ کر شائع کیا۔

دعاوی مرزا:

١٨٨٠ء سے مرزا نے مختلف دعاوی کا سلسلہ شروع کیا، اس کے چند اہم دعاوی یہ ہیں:

ان کے علاوہ بھی اس نے عجیب و غریب قسم کے دعوے کئے۔

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

”خدا نے اپنے الہام میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔“

(اربعین ٢ ص ١٥ حاشیہ روحانی خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

١٨٨٢ء مجدد ہونے کا دعویٰ:

”جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں کا ظہور ہونے لگا تو

صفحہ ٢١٣

خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔“

(کتاب البریہ ص١٨٣ برحاشیہ، روحانی خزائن ج١٣ ص٢٠١)

١٨٨٢ء مامور ہونے کا دعویٰ:

”میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں۔“

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ پنجم ص٥٢ در روحانی خزائن ج٢١ ص٦٦

و کتاب البریہ ص١٨٤ حاشیہ در روحانی خزائن ج ١٣ ص٢٠٢)

١٨٨٢ء نذیر ہونے کا دعویٰ:

”الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر اباؤهم“ (خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے) (تذکرہ ص٤٤، ضرورۃ الامام ص٣١ در روحانی خزائن ص٥٠٢

جلد ١٣، براہین احمدیہ حصہ ٥ ص٥٢ در روحانی خزائن ج٢١ ص٦٦)

١٨٨٣ء آدم، مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ:

”يا ادم اسكن انت وزوجك الجنة يامريم اسكن انت وزوجك الجنة يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة نفخت فيك من لدنی روح الصدق“

ترجمہ:”اے آدم، اے مریم، اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے، جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہو جاؤ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔“

(تذکرہ ص٧٠، براہین احمدیہ ص٤٩٧ روحانی خزائن ج١ ص٥٩٠ حاشیہ)

تشریح:

”مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور

صفحہ ٢١٤

داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ٨٢ مکتوب بنام میر عباس علی بحوالہ تذکرہ ص ٧١، ٧٢ حاشیہ)

١٨٨٤ء رسالت کا دعویٰ:

الہام: ”انی فضلتک علی العالمین قل ارسلت الیکم جمیعا“۔ (میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں)

(تذکرہ ص ١٢٩ مکتوب حضرت مسیح موعود مرزا مورخہ ٣٠؍ دسمبر ١٨٨٤ء

اربعین نمبر ٢ ص ١٧ روحانی خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)

١٨٨٦ء توحید و تفرید کا دعویٰ:

الہام: ...... ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔“

(تذکرہ ص ٣٨١ طبع دوم)

”تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔“

(تذکرہ ص ٤٣٦ طبع دوم)

١٨٩١ء مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ:

”اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔“

(تذکرہ ص ١٧٢ طبع سوم تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٥٩ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠٧)

١٨٩١ء مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ:

الہام: ...... ”جعلناک المسیح بن مریم“ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔“

(تذکرہ ص ١٨٦ طبع سوم ازالہ اوہام ص ٤٧٣ و روحانی خزائن ص ٤٤٢ جلد ٣)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
PDF 215

اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠ در روحانی خزائن ص ٢٤٠ جلد ١٨)

١٨٩٣ء صاحب کن فیکون ہونے کا دعویٰ:

الہام : ...... ”انما امرك اذا اردت شیئا ان تقول له كن فيكون۔“

”یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔“

(تذکرہ ٢٠٣ طبع سوم براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٥ در روحانی خزائن ص ١٢٤ ج ٢١)

١٨٩٨ء مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ:

”بشرنی وقال ان المسيح الموعود الذي يرقبونه والمهدي المسعود الذى ينتظرونه هوانت۔“

ترجمہ : ”خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔“

(تذکرہ ص ٢٥٧ طبع سوم اتمام الحجۃ ص ٣ در روحانی خزائن ج ٨ ص ٢٧٥)

١٨٩٨ء امام زماں ہونے کا دعویٰ:

”سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔“

(ضرورۃ الامام ص ٢٤ در روحانی خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)

١٩٠٠ء تا ١٩٠٨ء ظلی نبی ہونے کا دعویٰ:

”جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ در روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

صفحہ ٢١٦

نبوت ورسالت کا دعویٰ:

ترجمہ: ”ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٩ در روحانی خزائن ج ١ ص ٥٩٣، الحکم جلد نمبر ٤

شمارہ نمبر ٣٠ مورخہ ٢٤؍ اگست ١٩٠٠ء بحوالہ تذکرہ ص ٤٦٧ طبع سوم)

بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١ در روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ در روحانی خزائن ١٨ ص ٢١١)

ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ در روحانی خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦

وضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤ در روحانی ج ١٧ ص ٧٣)

تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“

(دافع البلاء ص ٥ در روحانی خزائن ص ٢٢٥، ٢٢٦ ج ١٨)

مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ:

مرسل من اللہ“ ترجمہ: ”اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔“

(اشتہار معیار الاخیار ص ٣ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٦ منقول از تذکرہ ص ٣٥٢ طبع سوم)

ارسلنا الی فرعون ر ترجمہ: ”ہم۔ مانند جو فرعون کی طرف

نہ ہر ایک مفتری تو اول شریعت کی کوئی قید نہیں ہے؟ جس نے اپنی وحی کے لئے ایک قانون کے رو سے بھی ہمارے نبی بھی۔ مثلاً یہ الہام فروجہم ذالک از بھی ہے اور نبی بھی او تک میری وحی میں ام شریعت مراد ہے جس ہے۔ ان ھذا لفی قرآنی تعلیم توریت میں باستيفاء مراد نہیں شریف میں باستيفاء ا

(اے سردار تو خدا ک

صفحہ ٢١٧

ارسلنا الى فرعون رسولاً۔“ ترجمہ: ”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ در روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا، پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ویحفظوا فروجهم ذالك ازکی لہم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تینتیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی، اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان هذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراهیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفا امر اور نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے، کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفا احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ در روحانی خزائن ص ٤٣٥، ٤٣٦ ج ١٧)

(اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر)

صفحہ ٢١٠

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ اور روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

مفسدین وانی جاعلک للناس اماما وانی مستخلفک اکراماً کما جرت سنتی فی الاولین۔“

(انجام آتھم ص ٧٩ و روحانی خزائن ج ١١ ص ٧٩)

”هو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله“

(اعجاز احمدی ص ٧١، روحانی خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢ و روحانی خزائن ص ٦٢ ج ١١)

یہ ہیں مرزا غلام احمد کے چند دعاوی جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ ان سبھی دعاوی کے صرف دو محرکات ہیں:

نوٹ:....... ان ہی دو وجوہات کو عوام کے سامنے بیان کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی بتدریج بیان کرنے چاہئیں تاکہ عوام کا ذہن اس بات کو بآسانی قبول کرنے پر آمادہ ہو کہ ان بلند بانگ دعوؤں کی بنیاد روحانیت، عقلیت یا حقیقت پر نہیں بلکہ صرف صرف مادیت پرستی، بدعقلی اور کذب پر ہے۔

سوال ٢:....... ایمان کی تعریف کریں؟ ضروریات دین کس کو کہتے ہیں؟ کفر کا کیا معنی ہے؟ ”کفر دون کفر“ کسے کہتے ہیں؟ نیز کافر، ملحد، مرتد، زندیق اور منافق ہر ایک کی تعریف کریں اور بتائیں کہ قادیانی کس زمرہ میں داخل ہیں؟ لزوم کفر اور التزام کفر کو واضح کرتے ہوئے مرزائیوں کے کفر کا جواب دیں کہ قادیانیوں

صفحہ ٢١٩

کی تکفیر کرنے والوں نے آپس میں بھی ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے؟

جواب:

ایمان کی تعریف:

لفظ ایمان امن اور امانت سے مشتق ہے، لغت میں ایمان ایسی خبر کی تصدیق کو کہتے ہیں کہ جس خبر کا ہم نے مشاہدہ نہ کیا ہو اور محض مخبر کی امانت اور صداقت کے بھروسہ اور اعتماد پر اس کو تسلیم کر لیا ہو، اور اصطلاح شریعت میں انبیاء کرام علیہم السلام پر اعتماد اور بھروسہ کر کے احکام خداوندی اور غیب کی خبروں کی تصدیق کو ایمان کہتے ہیں مثلاً فرشتوں کو بغیر دیکھے محض نبی اور رسول کے اعتماد پر ماننے کا نام ایمان ہے اور مرتے وقت فرشتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر ماننا یہ ایمان نہیں، کیونکہ یہ ماننا اپنے مشاہدہ پر مبنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد اور بھروسہ پر نہیں۔ واضح ہو کہ فقط یقینی علم کا نام ایمان نہیں بلکہ اپنے ارادے اور دل سے اس کو ماننا بھی ضروری ہے، جس کو تسلیم کہتے ہیں۔

نوٹ:....... اس موضوع پر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ”اکفار الملحدین“ لاجواب کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے اسی سے اکتساب کیا ہے۔ دیکھئے احتساب قادیانیت جلد دوم۔

ضروریات دین کی تعریف:

ضروریات دین اصطلاح شریعت میں ان قطعی اور یقینی امور کو کہا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بطریق تواتر قطعی طور پر ثابت ہوں اور حد تواتر یعنی شہرت عام کو پہنچ چکے ہوں کہ عام طور پر مسلمان ان امور کو جانتے ہوں۔ ایمان اور اسلام کے لئے ان امور کا تسلیم کرنا لازم اور ضروری ہے۔

تاویل وہاں معتبر ہے جہاں کوئی اشتباہ ہو اور قواعد عربیت اور قواعد شریعت میں اس کی گنجائش ہو یعنی وہ تاویل کتاب وسنت اور اجماع امت کے خلاف نہ ہو اور جو حکم شرعی ایسی دلیل سے ثابت ہو جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت بھی ہو اس میں تاویل معتبر نہیں

صفحہ ٢٢٠

بلکہ ایسے امور میں تاویل کرنا انکار کے ہم معنی ہے۔

کفر کی تعریف:

کفر شریعت میں ایمان کی ضد ہے، اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نبی کے بھروسہ اور اعتماد پر بے چوں و چرا تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی ایک بات کو نہ ماننا جو ہمیں قطعی اور یقینی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہنچی ہو، اس چیز کو نہ ماننے کا نام کفر ہے۔ قطعی اور یقینی کی قید اس لئے لگائی گئی کہ دین کے احکام ہم تک دو طریق سے پہنچے ہیں، ایک بطریق تواتر اور ایک بطریق خبر واحد، تواتر اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک علی الاتصال اور مسلسل اس طرح پہنچی ہو کہ ہر دور میں ایک جماعت اس کو روایت کرے اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک نسلاً بعد نسل ہر زمانہ کے مسلمان اس کو نقل کرتے چلے آرہے ہوں۔ ایسی شے قطعی اور یقینی ہے جس میں احتمال خطا اور نسیان کا نہیں، ایسے قطعی اور یقینی اور متواتر امور کا انکار کفر ہے، اور جو امور خبر واحد سے ثابت ہوں ان کا انکار کفر نہیں۔

کفر دون کفر:

کفر کا اطلاق کبھی کفر فرعی یعنی غیر اصلی پر بھی ہوتا ہے جیسے: ”سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر“ اس کو کفر دون کفر کہتے ہیں۔ ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت کہا گیا ہے نور کی مثال خالص دن اور کفر کی مثال خالص رات کی سی ہے۔ اب دن اور رات کے بعد درمیانی حصہ مثلاً صبح صادق وغیرہ نہ تو خالص دن ہے اور نہ خالص رات یہی مثال کفر دون کفر کی ہے۔

لزوم کفر:

غیر ارادی طور پر کہیں ایسی بات کہہ ڈالی جو کفریہ بات تھی ، جیسے داڑھی کا مذاق اڑایا، مگر اسے ایسی بات کا خیال بھی نہیں تھا کہ یہ کفر ہے لیکن اس کے اس فعل سے کفر لازم آگیا، اسے لزوم کفر کہتے ہیں۔

التزام کفر:

ایک آدمی نے جان بو نبوت جاری ہے، وحی نبوت کیا۔ لزوم کفر کم درجہ کا کفر۔ کفریہ عقائد و نظریات کا عقید الکافرون حقا۔

کافر:

لغت میں کفر انکار کو ک کرنے والے کو کافر کہتے ہیں

ملحد و زندیق:

جو امور بدیہی اور قطعی معنی بیان کرنا جو اجماعی عقید میں اس کا نام زندقہ ہے، او الفاظ تو اسلام کے کہے، مگر ا جائے جیسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں معنی مراد ہیں، اور اس خاص ہے، ایک معین نصاب سے ما غرض زندیق وہ ہے ج کرنے کی کوشش کرے۔

زندیق کا حکم:

زندیق کے بارے میں ہیں کہ: اس کی توبہ قبول نہیں، ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

صفحہ ٢٢١

ایک آدمی نے جان بوجھ کر کفریہ کلمہ کہا جیسے یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری ہے، وحی نبوت جاری ہے، اگر جان بوجھ کر، عقیدۃً وارادۃً کہا تو کفر کا التزام کیا۔ لزومِ کفر کم درجہ کا کفر ہے، التزامِ کفر شدید بلکہ اشد درجہ کا کفر ہے۔ تمام قادیانی ان کفریہ عقائد و نظریات کا عقیدۃً وارادۃً ارتکاب کر کے التزامِ کفر کرتے ہیں۔ فاولئک ھم الکافرون حقا۔

کافر:

لغت میں کفر انکار کو کہتے ہیں، اصطلاح شریعت میں کسی ایک شرعی قطعی حکم کے انکار کرنے والے کو کافر کہتے ہیں۔

ملحد وزندیق:

جو امور بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ثابت ہوں ان میں تاویل کرنا اور ان کے ایسے معنی بیان کرنا جو اجماعی عقیدۂ کے خلاف ہوں، قرآن کریم میں اس کا نام الحاد اور حدیث میں اس کا نام زندقہ ہے، اور اصطلاح شریعت میں ملحد اور زندیق اس شخص کو کہتے ہیں جو الفاظ تو اسلام کے کہے، مگر ان کے معنی ایسے بیان کرے جس سے ان کی حقیقت ہی بدل جائے، جیسے صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں یہ تاویل کرے کہ قرآن میں صلوٰۃ سے فقط دعا اور ذکر کے معنی مراد ہیں، اور اس خاص ہیئت سے نماز پڑھنا ضروری نہیں، اور زکوٰۃ سے تزکیہ نفس مراد ہے، ایک معین نصاب سے مال کی خاص مقدار کا دینا مراد نہیں۔

غرض زندیق وہ ہے جو اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو بعین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

زندیق کا حکم:

زندیق کے بارے میں امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور ایک روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ: اس کی توبہ قبول نہیں، کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، یعنی کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اور کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے، شراب پر

صفحہ ٢٢٢

زمزم کا لیبل چپکایا ہے، یہ جرم ناقابل معافی ہے، اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی۔ تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ قادیانی زندیق ہیں۔ (تحفہ قادیانیت ص ٢٦٧ ٢٦٨ ج اول)

مرتد:

ارتداد کے معنی لغت میں لوٹ جانے اور پھر جانے کے ہیں، اور اصطلاح شریعت میں ایمان اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جانے کا نام ارتداد ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی ”مفردات“ میں ارتداد کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ھو الرجوع من الاسلام الی الکفر“ (اسلام سے کفر کی طرف پھر جانے کا نام ارتداد ہے)۔

مرتد کا حکم:

چاروں فقہوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو کر مرتد ہو جائے یعنی نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ اسلام سے پھر جائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے۔ اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے ، اور اسے سمجھایا جائے، اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے، تو بہت اچھا ورنہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کر دیا جائے ، یہ مسئلہ قتل مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہمارے ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

منافق:

منافق وہ ہے جو اپنے دل کے اندر کفر چھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ اسلام کا اقرار کرتا ہو۔ منافق لوگ عہد نبوت میں ہوتے تھے۔ اب دو ہی صورتیں ہیں یا مومن یا کافر (کیونکہ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا، اب کسی کے دل کا حال کیسے معلوم ہو؟)

قادیانیوں کا حکم:

قادیانی زندیق ہیں، وہ اپنے کفر خالص یعنی قادیانیت کو عین اسلام کہتے ہیں، اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو عین اسلام ہے، اسے عین کفر کہتے ہیں، قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تب بھی ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا، ان کا عام کافر کا حکم نہیں ہوگا، اس لئے کہ

صفحہ ٢٢٣

ان کا یہ جرم یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا، ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں، خواہ وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، یعنی قادیانی اور زندیق بنے ہوں، یا ان کے بقول پیدائشی قادیانی ہوں، قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو۔ ان سب کا ایک ہی حکم ہے، یعنی مرتد اور زندیق کا، کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے ہیں، اور اپنے دین کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے، خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو، اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے کہ بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔ (تفصیل کیلئے ”کافر کون؟ مسلمان کون؟“ رسالہ از حضرت کاندھلویؒ مندرجہ احتساب قادیانیت جلد دوم ملاحظہ ہو)

مسلمانوں کی باہم تکفیر بازی:

قادیانی اپنے کفر بواح سے توجہ ہٹانے کے لئے مغالطہ دیتے ہیں کہ جو علماء ہم پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں لہٰذا ان کے فتوؤں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ اس مغالطے کے جواب کے لئے درجہ ذیل امور ملاحظہ ہوں:

بارے میں عرض ہے کہ امت کے باہمی تکفیر کے یہ تمام فتویٰ اپنے اپنے مکاتب فکر کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے، اس کے بجائے ہر مسلمان مکتب فکر میں محقق اور اعتدال پسند علماء نے ہمیشہ اس بے احتیاطی اور عجلت پسندی سے شدید اختلاف کیا ہے، جو اس قسم کے فتوؤں میں روا رکھی گئی ہے۔ لہٰذا معدودے چند متشددین، عجلت پسند اور غیر محتاط افراد کے چند فتاویٰ کو پیش کر کے یہ تاثر دینا بالکل غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے کہ یہ سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ ہر مکتب فکر میں ایک ایسا عنصر رہا ہے، جس نے دوسرے مکتب فکر کی مخالفت میں اتنا تشدد روا رکھا ہے کہ وہ تکفیر کی حد تک پہنچ جائے۔ لیکن اسی مکتب فکر میں بڑی تعداد ایسے علماء کرام کی رہی ہے۔ جنہوں نے ان اختلافات کو ہمیشہ اپنی حدود میں رکھا اور ان حدود سے نہ صرف یہ کہ تجاوز نہیں کیا بلکہ اس

صفحہ ٢٢٤

کی مذمت کی ہے اور عملاً یہی محتاط اور اعتدال پسند عنصر غالب رہا ہے۔

نہیں، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مشترکہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے، تو ان تمام مکاتب فکر کے مل بیٹھنے میں ان چند متشددین کے باہمی نزاعی فتوے کبھی رکاوٹ نہیں بنے۔ ان مسلمان فرقوں کی باہمی فرقہ بندیوں کا پروپیگنڈہ دنیا بھر میں گلا پھاڑ پھاڑ کر کیا گیا ہے اور ان کے اختلافات کا شور مچا مچا کر قادیانیوں جیسے باطل طبقات نے اپنے کفریہ، باطل نظریات کی دکانیں چمکائی ہیں، ورنہ یہی وہ مسلمان فرقے تھے:

کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر اسلامی دستور کے اساسی اصول طے کر کے اٹھے، جن کو ”بائیس نکات“ کہا جاتا ہے۔

کا مرحلہ آیا تو انہوں نے اکٹھے ہو کر متفقہ سفارشات پیش کیں، جبکہ یہ کام پہلے سے زیادہ غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔

درج کرانے کے لئے یہ تمام مکاتب فکر اکٹھے ہوئے۔

میں یہ تمام مکاتب فکر یک جان و یک زبان متفق و متحد نظر آتے ہیں، اس طرز عمل پر غور کرنے سے چند باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں:

حیثیت رکھتے ہیں کسی مکتب فکر کی نمائندہ حیثیت نہیں ورنہ یہ مکاتب فکر کبھی بحیثیت مسلمان جمع نہ ہوتے۔

صفحہ ٢٢٥

میں رکھتا ہے۔ اور آپس کے اختلافات کو تکفیر کا ذریعہ نہیں بناتا، ورنہ اس قسم کے تمام مکاتب فکر کے باہمی اجتماعات کو قبول عام حاصل نہ ہوتا۔

حیثیت رکھتے ہیں، ان میں یہ سب لوگ متفق ہیں۔

سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی شخص کافر ہو ہی نہیں سکتا؟ اور اگر یہ سب لوگ مل کر بھی کسی کو کافر کہیں تو وہ کافر نہیں ہوگا؟

کیا دنیا میں عطائی قسم کے لوگ علاج کر کے انسانوں پر مشق ستم نہیں کرتے؟ اور کیا ماہر سے ماہر ڈاکٹر سے کبھی غلطی نہیں ہو جاتی؟ لیکن کیا کبھی کوئی انسان بشرطیکہ وہ عقل سے بالکل ہی معذور نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ: ان انفرادی غلطیوں کی سزا کے طور پر ڈاکٹروں کے طبقے کی کوئی بات قابل قبول نہیں ہونی چاہئے؟ کیا عدالتوں کے فیصلوں میں ججوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ان انفرادی غلطیوں کی وجہ سے عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں، یا ججوں کا فیصلہ ہی نہ مانا جائے؟ کیا مکانات اور سڑکوں کی تعمیرات میں انجینئرز غلطی نہیں کرتے؟ لیکن کبھی کسی ذی ہوش نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ان غلطیوں کی بنا پر تعمیر کا ٹھیکہ انجینئروں کی بجائے گورکنوں کو دے دیا جائے؟ پھر یہ کہ اگر چند جزوی نوعیت کے فتوؤں میں بے احتیاطیاں ہوئیں تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اب اسلام و کفر کے فیصلے قرآن وسنت کی بجائے مرزائی تحریفات کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔ علامہ اقبال نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا خوب بات کہی کہ:

”مسلمانوں کے بے شمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں، اگرچہ وہ دوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں۔“

(حرف اقبال ص ١٢٧ مطبوعہ المنار اکادمی لاہور ٧٢)

صفحہ ٢٢٦

سوال ٣:....... قادیانیوں کی وجوہ تکفیر کون کون سی ہیں؟ کیا قادیانی اہل قبلہ شمار ہوتے ہیں، نیز بتائیں کہ قادیانی اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟ قادیانیوں کا حکم کیا ہے؟ قادیانی اگر مسجد بنائیں، مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کریں تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:

قادیانیوں کی وجوہ تکفیر:

شہرہ آفاق مقدمہ بہاولپور میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے چھ وجوہ کفر متعین فرمائے تھے:

(روئداد مقدمہ مرزائیہ بہاولپور ص ٢١٧ ج ١)

مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریرات کفر کا ڈھیر ہیں، جس میں ہزاروں کفر موجود ہیں، اس کی ایک ایک عبارت مرقع کفر ہے، یہی وجہ ہے کہ: ”حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ: مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب (مرزا) کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے۔“

(احتساب قادیانیت ج ٢ ص ١١)

اب ہم ذیل میں حضرت شاہ صاحبؒ کی طرف سے متعین کردہ وجوہ کفر و ارتداد قادیانیت پر مختصراً دلائل عرض کرتے ہیں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث کے

صفحہ ٢٢٧

تواتر اور امت کے اجماع سے ثابت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا انکار ختم نبوت کی صریح دلیل ہے، جبکہ ختم نبوت کا منکر قطعی کافر ہے، اس سلسلہ میں ایک حوالہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے:

”وكونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة، واجمعت عليه الامت فيكفر مدعی خلافه و يقتل ان اصر۔“

(روح المعانی ج ٨ ص ٣٩ زیر آیت خاتم النبیین)

ترجمہ: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر کتاب اللہ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر سنا دیا اور اس پر امت کا اجماع ہے، پس اس کے خلاف جو دعویٰ کرے کافر ہو جائے گا، اور اگر اصرار کرے تو قتل کیا جائے گا۔“

٢:...... مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت:

(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ خزائن ص ١٥٤ ج ٢٢)

(تذکرہ ص ٣٥٢ مجموعہ الہامات مرزا)

فرعون رسولا“۔

(مجموعہ الہامات مرزا تذکرہ ص ٦١٠)

٣:...... ادعائے وحی اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح قرار دینا:

صفحہ ٢٢٨

اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٠ خزائن ص ٢٢٠ ج ٢٢)

٢:.......”آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطاء
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہان خدائے پاک و وحید
و آں یقین کلیم بر تورات
آں یقین ہائے سید سادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین“

ترجمہ:”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں، خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں، قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے، یہ میرا ایمان ہے، خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو تورات پر اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ص ٤٧٧ ج ١٨، از مرزا قادیانی)

قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری

صفحہ ٢٢٩

حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٠، خزائن ص ١٤٠، ج ١٩ از مرزا قادیانی)

یہاں پر مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر صرف تین حوالوں پر اکتفا کیا گیا ہے، اور تیسرے حوالہ میں مرزا قادیانی نہ صرف اپنی وحی کو قرآن کی سطح پر لایا ہے بلکہ اس نے احادیث کی بھی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

٤:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:

سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ص ٢٣٣، ج ١٨ از مرزا قادیانی)

سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے ...... مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٤٨ روحانی خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(کشتی نوح ص ٥٦ روحانی خزائن ج ١٩ ص ٦٠)

رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیشگوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں، اور یہ بھی فرما دیا

صفحہ ٢٣٠

کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٨٥ روحانی خزائن ج٢١ ص١١١)

آخری حوالہ میں عبارت کے اس حصہ پر بھی توجہ فرمائیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا“ کیا نعوذ باللہ مرزا کی کتاب براہین احمدیہ خدا تعالیٰ کی کتاب تھی؟ ایسا کہنا بذات خود مستقل کفر ہے۔

٥:...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین:

مرزا نے اپنی تصنیفات میں تقریباً تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین و تنقیص کی ہے۔ ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں اور توہین پر مشتمل مرزا کے چند حوالے ملاحظہ ہوں:

منہم لما یلحقوا بہم“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام ”محمد“ اور ”احمد“ رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے، پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا، کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٨ خزائن ص٢١٢ ج١٨)

خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی ص٧١ خزائن ص١٨٣ ج١٩)

کرنے کا وقت نہیں، یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں، کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا ہے، سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں

صفحہ ٢٣١

ہوکر میں (مرزا) ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ص ٤٤٥، ٤٤٦، ج ١٧)

کو کامل بنایا اور اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف اور وجود کو میری طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا (مرزا) وجود اس (آنحضرتؐ) کا وجود ہوگیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی: آخرین منہم کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٧١، خزائن ص ٢٥٨، ٢٥٩، ج ١٦)

”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار“ اس وحی میں میرا (مرزا) کا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ روحانی خزائن ص ٢٠٧، ج ١٨)

٦:....... امت محمدیہ کی تکفیر:

میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص ٦٠٧ طبع سوم از مرزا قادیانی)

کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا، دوم یہ کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمامِ حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے، اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے، پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔ اور اگر غور

صفحہ ٢٣٢

سے دیکھا جائے تو یہ دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ص ١٨٥ ج ٢٢)

اسی طرح مرزا محمود اور مرزا بشیر احمد غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کے بارے میں لکھتا ہے:

بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا محمود ابن مرزا قادیانی)

یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠ از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

قادیانی اور اہل قبلہ:

اہل قبلہ کا لفظ اصطلاح میں اہل ایمان کے لئے بولا جاتا ہے، اور شریعت میں اہل قبلہ وہی لوگ کہلاتے ہیں جو تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں، ہم اہل قبلہ کو اس وقت تک کافر نہیں کہتے جب تک کہ وہ کسی موجب کفر قول یا فعل کا ارتکاب نہ کریں جو لوگ ضروریات دین کے منکر ہوں مثلاً ختم نبوت کے منکر ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت کو سچا مانتے ہوں، وہ شریعت میں اہل قبلہ نہیں، اہل قبلہ کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ جو شخص فقط قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتا ہو، وہ اہل قبلہ ہے، چاہے وہ کسی قطعی حکم کا منکر بھی کیوں نہ ہو، کیونکہ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز تو مسیلمہ کذاب بھی پڑھتا تھا۔ لہٰذا اہل قبلہ وہ کہلائیں گے جو تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوں وہ اہل قبلہ ہیں۔

صفحہ ٢٣٣

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق:

جو لوگ دین اسلام کے منکر ہیں، وہ کافر ہیں جیسے عیسائی، یہودی لیکن قادیانیوں اور عیسائیوں، یہودیوں اور قادیانیوں کے کفر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موجودہ عیسائی خود جھوٹے ہیں، مگر ان کے نبی عیسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں، موجودہ یہودی خود جھوٹے ہیں مگر ان کے نبی موسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں، قادیانی خود بھی جھوٹے ہیں ان کا نبی بھی جھوٹا تھا، اسلام سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کے وجود کو بطور اہل کتاب یا ذمی کے تسلیم کرتا ہے۔ اسلام نہ جھوٹے نبی کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے پیروکاروں کو۔ جھوٹے نبی کے پیروکاروں کا وہی حکم ہے جو صدیق اکبرؓ نے یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں کے لئے تجویز فرمایا تھا۔ عام کافروں پر قادیانیوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ قادیانی زندیق ہیں اور زندیق کا وجود اسلام کو قبول نہیں ہے۔ (تفصیل کیلئے ”قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں فرق“ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل از حضرت لدھیانوی شہیدؒ کا مطالعہ کریں)

قادیانی عبادت گاہ:

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔ منافقین نے عہدِ نبوت میں مسجد کے نام پر ایک اڈہ قائم کیا تھا۔ جسے اسلام نے مسجدِ ضرار قرار دیا۔ آنحضرتؐ نے اس کے انہدام و احراق کا حکم دیا تھا۔ جب اسلام نے منافقین کی عبادت گاہ کو مسجد تسلیم نہیں کیا تو قادیانی زندیقوں کی عبادت گاہوں کو کیسے مسجد تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ نہ ان کی اذان کو شرعاً اذان قرار دیا جاسکتا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے رسالہ ”قادیانی اور تعمیر مسجد“ مؤلفہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ مندرجہ تحفہ قادیانیت جلد اوّل)

مسلم قبرستان میں قادیانی مردوں کی تدفین کا حکم:

جس طرح کسی ہندو، یہودی، عیسائی اور چوڑھے چمار کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح کسی قادیانی مردہ کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں، اگر وہ چوری چھپے دفن کردیں تو اسے مسلمانوں کے قبرستان سے نکال باہر کرنا ضروری

صفحہ ٢٣٤

ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ”قادیانی مردہ“ تحفہ قادیانیت جلد اول) حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے احکام لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

کفر کے دنیوی احکام:

بیزاری ہو، یعنی کافروں کو خدا کا دشمن سمجھے اور کوئی دوستانہ تعلق ان سے نہ رکھے۔ کافروں سے موالات یعنی دوستانہ تعلقات کی ممانعت اور حرمت صراحتاً مذکور ہے اور علماء نے کافروں سے ترک موالات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔

کافروں سے بچی لینا حرام ہے۔

جائز نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

”لا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون“

ترجمہ: ”اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر، وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مرگئے نافرمان۔“

وقت طلب رحمت کا ہے اور کافر سے لعنت آتی ہے۔

قریبی رشتہ دار ہوں، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

صفحہ ٢٣٥

”ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربیٰ ...... الایۃ“

ترجمہ: ”لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے۔“

میں بھرتی کر کے جہاد میں ساتھ لے جانا جائز نہیں۔

لیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”لا اکرمھم اذا اھانھم اللہ ولا اعزھم اذا اذلھم اللہ ولا ادنیھم اذا اقصاھم اللہ تعالیٰ۔“

(اقتضاء الصراط المستقیم)

ترجمہ: ”فاروق اعظمؓ نے فرمایا خدا کی قسم میں ان لوگوں کا ہرگز اعزاز اور اکرام نہ کروں گا جن کو خدا نے ذلیل اور حقیر قرار دیا، ان لوگوں کی ہرگز عزت نہ کروں گا جن کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا ہے اور ان لوگوں کو ہرگز اپنے قریب جگہ نہ دوں گا، جن کو اللہ تعالیٰ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔“

(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ”مسلمان اور کافر“ مؤلفہ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ص ٤٢٩، ٤٣١ ملخص احتساب قادیانیت ج٢)

سوال ٤: ...... خصوصیات اوصاف نبوت کیا کیا ہیں؟

مرزا قادیانی کی زندگی اور اوصاف نبوت میں تضاد کو واضح کریں؟ نیز ان اوصاف کا مرزا قادیانی کی زندگی سے موازنہ

PDF 236

کریں اور ثابت کریں کہ مرزا قادیانی میں ان اوصاف میں سے کسی بھی وصف کی کوئی ادنیٰ جھلک پائی جاتی تھی؟

جواب:

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ بہت سی خصوصیات و اوصاف سے نوازتے ہیں جن میں سے چند ایک کو ذکر کر کے ہم موازنہ پیش کرتے ہیں:

کے سمجھنے میں غلطی نہ کرے، وہ عقل و فہم میں اس درجہ بلند ہو کہ اس زمانہ میں کوئی اس کی نظیر نہ ہو، ناممکن ہے کہ کسی امتی کی عقل کسی نبی کے عقل سے بڑھ کر ہو، عقل اور دانائی میں نبی اتنا برتر و بالا تر ہوتا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے عاقل کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہیں ہو سکتی جبکہ مرزا قادیانی ”دائیں اور بائیں“ جوتے کی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔

(سیرت المہدی ج ١ ص ٦٧ روایت ٨٣)

کامل الحفظ اور اکمل الحفظ ہو، جبکہ مرزا قادیانی کا اقرار ہے کہ ”مجھے مراق ہے۔“

(ملفوظات ج ٨ ص ٤٢٥)

نیز یہ کہ اس نے اپنے ایک مرید کو خط لکھا کہ:

”میرا حافظہ بہت خراب ہے، اگر کئی دفعہ کسی سے ملاقات ہو تو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“

(مکتوبات ج ٥ نمبر ٢ ص ٣١)

ادراک سے بالا اور برتر ہو، مرزا کے علم کا یہ عالم تھا کہ ”وہ ماہ صفر کو اسلام کا چوتھا مہینہ قرار دیتا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ٤٢ روحانی خزائن ص ٢١٨ ج ١٥)

صفحہ ٢٣٧

کے متعلق خود اس کے مریدوں کا اقرار ہے کہ ” وہ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتا تھا۔“

(خطبہ مرزا محمود صاحب مندرجہ اخبار الفضل ٣١ / اگست ١٩٣٨ء)

مرزا قادیانی ”غیر محرم عورتوں سے پاؤں دبوا یا کرتا تھا۔“

(سیرت المہدی ص ٢١٠ ج ٣ روایت ٧٨٠)

پرلے درجے کا کذاب اور بددیانت تھا۔ اس نے پچاس کتابیں لکھنے کا وعدہ کیا، پچاس کی رقم لی، پانچ کتابیں لکھ کر اعلان کر دیا کہ : ” پانچ سے پچاس کا وعدہ پورا ہوا‘ اس لئے کہ پچاس میں اور پانچ میں ایک نقطہ کا فرق ہے۔“ (براہین احمد یہ حصہ پنجم ص ٧ روحانی خزائن ص ٩ ج ٢١)۔ چنانچہ مرزا نے جھوٹ بولا اور بددیانتی سے لوگوں کا مال کھایا۔ ان کی دروغ گوئی کا نمونہ ملاحظہ ہو:

مرزا صاحب کی دروغ گوئی کا نمونہ:

یہ بات ذہن میں رہے کہ ” راست بازی“ نبی کے لئے وصف لازم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے جو قریش مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ بھی آپؐ کے سچ بولنے (صدق وامانت ) کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ مـا جــربـنـا علیہ الا صـدقاً ۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”فانهم لا يكذبونك و لكن الظلمين بايات اللـه يـجـحـدون“ مگر مرزا صاحب کا یہ حال ہے کہ متعدد جگہ وہ اپنے بارے میں وحی نقل کرتے ہیں کہ: ”و مـا يـنـطـق عـن الـهـوى ان هو الا وحـي يـوحـى “ (اربعین نمبر ٢ ص ٣٩ اربعین نمبر ٣ ص ٤٣)‘ اس کے باوجود وہ عرب کے نامور دروغ گو ابوالحسین کذاب کو مات دے جاتے ہیں۔ ان کی کذب بیانی اور دروغ گوئی کا نمونہ ملاحظہ ہو:

گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علما کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا‘ وہ اس کو کافر قرار دیں گے

صفحہ ٢٣٨

اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠،٢١)

بتائیے یہ پیش گوئیاں قرآن مجید میں کہاں ہیں؟ اور حدیث کی کون سی کتاب میں ہیں؟ مرزا صاحب نے تین سطروں میں پانچ جھوٹ بول دیئے۔

بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ٩)

سے آواز آئے گی کہ:”هذا خليفة الله المهدی“ اب سوچو کہ یہ حدیث کس مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ”اصح الکتب بعد کتاب الله “ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١)

بخاری شریف کا جو نسخہ ہندو پاک میں رائج ہے وہ ١١٢٩ صفحات پر مشتمل ہے۔ کوئی ہمیں بتائے کہ بخاری شریف کے کون سے صفحہ پر اور کس عنوان کے تحت یہ حدیث درج ہے؟

لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔“

(کشتی نوح ص ٨٧)

جی کون سا صفحہ؟ کون سا باب؟

انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت (یعنی مسیح موعود کی آمد کے وقت) آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی۔“

(دافع البلاء ص ٤٢)

صفحہ ٢٣٩

توریت اور انجیل تو دور کی بات ہے، قرآن پاک مسلمانوں کے گھر گھر میں موجود ہے ۔ چلئے اس میں کوئی دکھا دے کہ یہ خبر کس جگہ موجود ہے؟

متواتر سے ثابت ہے: "لا نورث ماترکنا فهو صدقة"

(بخاری ج ١ ص ٥٤٦)

نوٹ : ....... حضرت امام بخاریؒ نے اس حدیث کو گیارہ بار اپنی جامع صحیح میں ذکر فرمایا ہے، مزید تفصیلی حوالہ جات کی فہرست کے لئے موسوعہ اطراف الحدیث ج ٧ ص ٢٩١ دیکھئے بیسیوں حدیث کی کتب میں یہ روایت موجود ہے۔

البدایہ والنہایہ کی ج ٤ ص ٣٠٢ پر نحن معشر الانبیاء لا نورث ماترکناه فهو صدقة ہے جبکہ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنے رسالہ شرائط نبوت ص ١٤ پر نحن معشر الانبیاء لا نرث ولا نورث ماترکنا فهو صدقة روایت نقل کر کے اسے متواترات میں شمار کیا ہے جبکہ مرزا قادیانی نہ صرف اپنے آباؤ اجداد کی جائیداد کے حصول کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمے لڑتا رہا، اور مرزا کی اولاد اس کی جائیداد کی وارث بھی ہوئی۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے رئیس قادیان)

کا مقصد بندوں کو خدا تک پہنچانا ہے، ظاہر ہے کہ جو خود لذات پرست ہو وہ دنیا کو خدا پرست کیسے بنا سکتا ہے؟ جبکہ مرزا قادیانی ”کنجریوں کے مال پر بھی ہاتھ صاف کرنے کے لئے مستعد نظر آتا ہے ۔“ (سیرت المہدی ص ٢٦١ ج ١ روایت ٢٧٢) اور اس نے اسے استعمال میں لانے کے لئے دلیل بھی گھڑ لی ۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٧‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اسی طرح مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے نام پر مردہ فروشی کی تجارت کو فروغ دیا جو آج بھی قادیانی جماعت کی عقل و خرد پر ماتم کر رہی ہے۔

اسی طرح مرزا قادیانی کھاؤ پیو تھا‘ چنانچہ اس کی خوراک کیا تھی؟ اس پر ایک حوالہ ملاحظہ ہو ”سالم مرغ کا کباب، گوشت مونگرے، گوشت کی بھنی ہوئی بوٹیاں، سوپ، میٹھے

صفحہ ٢٤٠

پلاؤ‘ اور پتہ نہیں کیا کیا کھاتا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص١٨٢، ١٨٣) جبکہ مرزا قادیانی کا ایک الہامی نسخہ زوجام عشق ہے جس میں ”زعفران، مشک اور افیون بھی پڑتا تھا۔ ‘ (سیرت المہدی ص٥١ ج٣ روایت ٥٦٩)۔ مرزا قادیانی ”شراب اپنے مریدوں سے منگوایا کرتا تھا‘ ملاحظہ ہو ”خطوط امام بنام غلام“ (ص٥ کالم١)۔ مرزا ”مشک اور عنبر استعمال کیا کرتے تھے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم ص١٣٧ روایت ٤٤٤)

ہے۔ مرزا قادیانی مغل بچہ تھا، اور اس کا خاندان انگریز کا ٹوڈی خاندان تھا، جیسا کہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے:

”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ (انگریز) کا پکا خیر خواہ ہے، میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب نے رئیسان پنجاب میں کیا ہے، اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر (جنگ آزادی) کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے تھے۔“ (کتاب البریہ ص٤، روحانی خزائن ص٤ ج ١٣)

”وما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحى اليهم“

جبکہ مرزا قادیانی کو ”مریم ہونے کا اور حاملہ ہونے کا دعویٰ بھی تھا۔

(کشتی نوح ص٤٧، روحانی خزائن ج١٩ ص٥٠)

دریغ نہیں کرتا تھا چنانچہ وہ لکھتا ہے:

گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

صفحہ ٢٤١

(انوار اسلام ص ٣٠ روحانی خزائن ص ٣١ ج ٩)

عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔“ (نجم الہدیٰ ص ٥٣ روحانی خزائن ص ٥٣ ج ١٤)

نیز یہ کہ الف سے یا تک کوئی ایسی گالی نہیں جو مرزا قادیانی نے نہ بکی ہو، لکھنؤ کی بھٹیارن سے بھی زیادہ بد زبان اور بد اخلاق تھا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے مغلظات مرزا مؤلفہ مولانا نور محمد خاںؒ)

سوال ٥: ...... دلائل سے ثابت کریں کہ مرزا انگریز کا ایجنٹ تھا اور انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے اس کو مذہب کا لبادہ اوڑھایا، واضح ہو کہ انگریز مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھا اور چاہتا تھا کہ مسلمانوں سے یہ جذبہ ختم ہو جائے، آپ واضح کریں کہ مرزا نے انگریز کی خواہش کی تکمیل کس طرح کی؟

جواب: ...... مرزا قادیانی جدی طور پر انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا، انگریز نے جب متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تو اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے اور مسلمانوں سے جذبہ جہاد مٹانے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات حاصل کیں۔ مرزا قادیانی کی تحریرات سے ہمارے مؤقف کی صداقت ملاحظہ ہو:

خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے...... اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت جزم اور احتیاط اور تحقیق و توجہ سے کام لے...... ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور

صفحہ ٢٤٢

نہ اب فرق ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٣٥٠ روحانی خزائن ص ٣٥٠ ج ١٣)

٢:...... ”سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ (انگریزی) نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اول درجہ پر سرکار دولتمدار انگریزی کا خیرخواہ ہے...... ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب، میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١٠٩ ج ٣)

٣:...... ”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١١ ج ٣)

٤:...... ”اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١١ ج ٣)

٥:...... ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارہ میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو

صفحہ ٢٤٣

خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥ روحانی خزائن ص ١٥٦، ١٥٥ ج ١٥)

اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی، جو درحقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئے اور وفاداری کے ساتھ اس کی شکر گزاری کرنی چاہئے ورنہ خدا تعالیٰ کے گناہ گار ہوں گے۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ١١ ج ٣)

اور بدکار آدمی کا کام ہے، سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں، ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں، دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو، جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو، سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔...... سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص ”ج ، د“ روحانی خزائن ص ٣٨٠، ٣٨١ ج ٦)

کم کرتا گیا ہے، حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے، پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا، اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

صفحہ ٢٤٤

(اربعین نمبر ٤ ص ٣ ، حاشیہ روحانی خزائن ص ٤٣٣ ج ١٧)

٩:...... اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤١، ٤٢ روحانی خزائن ص ٧٧، ٧٨ ج ١٧)

سوال ٦:...... جن الفاظ کی بناء پر مرزا کی تکفیر کی گئی ہے، اس طرح کے الفاظ بعض اولیا سے بھی منقول ہیں اگر مرزا نے ایسے الفاظ لکھ دیئے تو صرف اسی پر فتویٰ کفر کیوں؟ الغرض قادیانی بعض اولیا کی جن عبارتوں سے اپنے مؤقف کو ثابت کرتے ہیں، ان کا شافی جواب تحریر کریں؟

جواب :...... سب سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ دین کا اصل سرچشمہ کتاب وسنت اور اجماع امت ہے۔ مرزائیوں نے بہت سے مسائل میں ان کو ٹھکرا دیا ہے۔ اب مبہم اور مجمل اقوال سے استدلال کر کے عقیدہ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ نیز واضح ہو کہ:

خواب اور دوسرے شطحیات۔

یاد رہے کہ آج تک جس جس شخص نے جو بات خلاف شرع کہی ہے، وہ دو حال سے خالی نہیں یا تو جان بوجھ کر اس نے کوئی بھی ہو اگر حالت سکر میں کہا کہ وہ کافر تھا یا معذور؟ ان دونوں

باب میں تو صفر کے برابر بھی نہیں خواب پیش کر دینا دیانت کے خلا خواب بھی وحی ہوتے ہیں، جبکہ بز

آپ نے فلاں بات خلاف شرع کیوں نہ کر دیا، دیکھو پھر اگر میں کو مرزا کے کہ یہ تو ان خلاف شرع با ان کی اشاعت کرتا ہے اور ان پر ف

بزرگ نے یہ خواب دیکھا، جس ب اور کسی دوسرے کے لکھنے کی ان بز اپنی کتب میں پائی جاتی ہیں۔

’’ اقوال سلف و

کے ماہرین علیحدہ ہوتے ہیں۔ ت وظیفہ اور اس کی اصطلاحات علیح تصوف کی ہیں‘ کیونکہ ان کتابوں

صفحہ ٢٤٥

خالی نہیں یا تو جان بوجھ کر اس نے خلاف شرع کہا اگر ایسے ہے تو کہنے والا کافر ہے۔ چاہے کوئی بھی ہو اگر حالت سکر میں کہا ہو تو وہ معذور ہے۔ مرزا قادیانی کے متعلق قادیانی بتائیں کہ وہ کافر تھا یا معذور؟ ان دونوں حالتوں میں وہ نبوت کے قابل نہیں۔

باب میں تو صفر کے برابر بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کے خوابوں کے جواب میں بزرگوں کے خواب پیش کر دینا دیانت کے خلاف ہے، اس لئے کہ مرزا نبوت کا مدعی تھا اور انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں، جبکہ بزرگوں کے خوابوں کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں۔

آپ نے فلاں بات خلاف شرع کہی تو اس نے جواب میں کہا کہ تم نے اس وقت مجھے قتل کیوں نہ کر دیا، دیکھو پھر اگر میں کوئی بات خلاف شرع کہوں تو مجھے قتل کر دیا جائے۔ بخلاف مرزا کے کہ یہ تو ان خلاف شرع باتوں کو کتابوں میں شائع کرتا ہے اور بڑی آب و تاب سے ان کی اشاعت کرتا ہے اور ان پر فخر ومباہات کرتا ہے۔

بزرگ نے یہ خواب دیکھا، جس بزرگ کا نام لیا جا رہا ہے وہ کتاب ان کی اپنی کتاب نہیں، اور کسی دوسرے کے لکھنے کی ان بزرگوں پر ذمہ داری کیسے؟ جبکہ مرزا کی تمام کفریات اس کی اپنی کتب میں پائی جاتی ہیں۔

”اقوال سلف وخلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٦٩ حصہ دوم خزائن ص ٣٨٩ ج٣)

کے ماہرین علیحدہ ہوتے ہیں۔ تفسیر حدیث، فقہ، عقائد اور تصوف میں سے ہر ایک علم کا وظیفہ اور اس کی اصطلاحات علیحدہ ہیں۔ ان علوم میں سب سے دقیق اور پیچیدہ تعبیرات تصوف کی ہیں، کیونکہ ان کتابوں کا تعلق نظریات اور ظاہری اعمال کی بجائے ان باطنی

صفحہ ٢٤٦

تجربات اور ان واردات و کیفیات سے ہے جو صوفیاء پر اپنے اشغال کے دوران طاری ہوئیں اور معروف الفاظ کے ذریعہ ان کی تعبیر دشوار ہوتی ہے۔ عقائد و عملی احکام علم تصوف کا موضوع نہیں، اس لئے بعض صوفیاء کی کوئی بات از قسم شطحیات عقائد و اعمال میں کوئی حجت نہیں۔ الحمد للہ ! محقق صوفیاء کرام جیسے ہمارے حضرات اکابر ہیں ان کا کلام اس قسم کے امور سے خالی ہوتا ہے۔ تاہم اس موضوع پر مولانا لال حسین اختر کا رسالہ ”ختم نبوت اور بزرگان امت“ مندرجہ ”احتساب قادیانیت“ جلد اوّل ملاحظہ فرمائیں۔

سوال: ٧...... نبی جب کوئی پیش گوئی کرتے ہیں تو اللہ پاک اس کو ضرور پورا فرماتے ہیں، مگر مرزا کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ کم از کم تین مثالیں دیں؟

جواب:...... مرزا کی زبانی پیش گوئیوں کی نسبت معیار صداقت ہونا ملاحظہ ہو:

”اگر ثابت ہو جائے کہ میری سو پیش گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٣٠)

”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ٩)

پہلی پیش گوئی: مرزا کی موت سے متعلق:

مرزا قادیانی نے اپنی موت سے متعلق یہ پیش گوئی کی کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں ۔ (تذکرہ ص ٥٩١ طبع سوم )

ہمارا دعویٰ ہے کہ مکہ، مدینہ میں مرنا تو درکنار مرزا قادیانی کو مکہ اور مدینہ دیکھنے کی سعادت بھی نصیب نہ ہوئی، اور خود اپنی پیش گوئی کے بموجب ذلیل و رسوا ہوا اور جھوٹا قرار

صفحہ ٢٤٧

پایا۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں:

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا اور اعتکاف نہیں کیا اور زکوۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ١١٩ روایت نمبر ٢٧٢)

اسی طرح سیرۃ المہدی حصہ اول ص ١١ میں لکھا ہے کہ مرزا کی موت لاہور میں قے اور اسہال کی حالت میں دستوں والی جگہ ہوئی...... لہٰذا مکہ یا مدینہ میں مرنے کی بابت مرزا کی پیش گوئی سراسر جھوٹی ثابت ہوئی۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری پیش گوئی: زلزلہ اور پیر منظور محمد کے لڑکے کی پیش گوئی:

پیر منظور محمد، مرزا قادیانی کا بڑا خاص مرید تھا۔ مرزا کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے تو مرزا نے ایک پیش گوئی کر دی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کی پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں:

”پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا، بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے لئے ایک نشان ہوگا اس لئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا۔“

(حقیقۃ الوحی حاشیہ در روحانی خزائن ص ١٠٣ ج ٢٢)

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی، تو مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اس سے یہ تھوڑی مراد ہے کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا، آئندہ کبھی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اتفاق سے وہ عورت ہی مر گئی، اور دوسری پیش گوئیوں کی طرح یہ پیش گوئی بھی صاف جھوٹی نکلی۔ نہ اس عورت کے لڑکا پیدا ہوا، اور نہ وہ زلزلہ آیا، اور مرزا ذلیل و رسوا ہوا۔

صفحہ ٢٤٨

تیسری پیش گوئی: ریل گاڑی کا تین سال میں چلنا

امام مہدی اور مسیح موعود کی علامات اور نشانیوں میں سے جو مرزا قادیانی نے ایک نشانی یہ بیان کی ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تین سال کے اندر ریل گاڑی (TRAIN) چل جائے گی۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

”یہ پیش گوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہوکر مدینہ آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی، اور امید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سالوں تک یہ کام تمام ہو جائے گا، تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہیں یک دفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک عظیم انقلاب عرب اور بلاد شام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہورہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ مکرمہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بدوؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٣، روحانی خزائن ص ١٩٥ ج ١٧)

اب قادیانی بتائیں کہ کیا ریل گاڑی (TRAIN) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان چل گئی ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا یہ پیش گوئی جھوٹی ہوکر مرزا غلام احمد قادیانی کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوئی یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ کتاب ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے۔ مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق ١٩٠٥ء میں یہ ریل گاڑی چل جانی چاہئے تھی۔ ٩٢ سال اوپر گزر گئے ہیں مگر وہ ریل گاڑی ابھی تک نہ چل سکی بلکہ جو گاڑی شام سے مدینہ منورہ تک چلتی تھی وہ بھی اس جھوٹے مسیح کی نحوست کی وجہ سے بند ہوگئی۔

چوتھی پیش گوئی: غلام حلیم کی بشارت:

مرزا صاحب نے اپنے چوتھے لڑکے مبارک احمد ہی کو مصلح موعود، عمر پانے والا،

صفحہ ٢٤٩

كأن الله نزل من السماء (گویا خدا آسمان سے اتر آیا) وغیرہ الہامات کا مصداق بتایا تھا اور وہ نابالغی کی حالت میں ہی مر گیا۔ اس کی وفات کے بعد ہر چہار طرف سے مرزا صاحب پر ملامتوں کی بوچھاڑ اور اعتراضات کی بارش ہوئی تو انہوں نے پھر سے الہامات گھڑنے شروع کئے تاکہ مریدوں کے جلے بھنے کلیجوں کو ٹھنڈک پہنچے۔ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٧ء کو الہام سنایا:

”انا نبشرك بغلام حلیم۔“

(البشریٰ ص ١٣٤ ج ٢)

اس کے ایک ماہ بعد پھر الہام سنایا:

”آپ کے لڑکا پیدا ہوا ہے یعنی آئندہ کے وقت پیدا ہوگا۔ انـــــــا نبشرك بغلام حلیم۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ ینزل منزل المبارك۔ وہ مبارک احمد کی شبیہہ ہوگا۔“

(البشریٰ ص ١٣٦ ج ٢)

چند دن کے بعد پھر الہام سنایا:

”ساھب لك غلاماً زكيا۔ رب هب لي ذرية طيبة۔ انا نبشرك بغلام اسمه یحییٰ۔ میں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں۔ میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش۔ تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام یحییٰ ہے۔“

(البشریٰ ص ١٣٦ ج ٢)

ان الہامات میں ایک پاکیزہ لڑکے مسمّٰی یحییٰ جو مبارک احمد کا شبیہہ اور قائم مقام ہونا تھا، کی پیش گوئی مرقوم ہے۔ اس کے بعد مرزا کے گھر کوئی لڑکا پیدا ہی نہ ہوا اس لئے یہ سب کے سب الہامات افتراءً علی اللہ ثابت ہو گئے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ معجزات کا شرف نصیب فرماتے ہیں، جن سے وہ مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں۔ معجزہ خرق عادت ہوتا ہے مگر جھوٹے مدعی نبوت کے ہاتھ پر کوئی خرق عادت کام نہیں ہوتا تا کہ حق و باطل میں تلبیس نہ ہو۔ اس لئے بطور خرق عادت مرزا کی کوئی بات یا پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔

سوال:٨...... محمدی بیگم کے نکاح کے بارے میں مرزا

قادیانی کے متضاد دعوؤں کو واضح کریں؟ نیز واضح کریں کہ نبی

صفحہ ٢٥٠

کے کلام میں تضاد نہیں ہوتا ، جبکہ مرزا کا کلام تضادات کا مجموعہ ہے؟ کم از کم تین مثالیں دیں؟

جواب ......: محمدی بیگم سے متعلق:

محمدی بیگم مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کی نو عمر لڑکی تھی ، مرزا قادیانی نے اس کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا ، اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پڑی چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی ، مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا جب کچھ دن کے بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا نے جواب دیا کہ دستخط اسی شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح میرے ساتھ کر دو خیریت اسی میں ہے، اس کی دھمکی کے الفاظ یہ ہیں :

”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے پیغام دے اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرلے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے ، بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو، میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں گا اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے ۔“

(آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج ٥ ص ٥٧٢ ، ٥٧٣)

ان دھمکیوں وغیرہ کا منفی اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کرنے سے صاف انکار کر دیا ، مرزا نے خطوط لکھ کر اشتہار شائع کروا کر، اور پیش گوئیاں کر کے حتی کہ منت سماجت کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ کسی طرح اس کی آرزو پوری ہو جائے لیکن محمدی بیگم کا نکاح ایک دوسرے شخص مرزا سلطان

صفحہ ٢٥١

احمد سے ہو گیا اور مرزا قادیانی کے مرتے دم تک بھی محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئی۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو جھوٹی پیش گوئی کی تھی اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہو گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔“

(اشتہار ٢٠/فروری ١٨٨٦ء تبلیغ رسالت ج ١ ص ٦١

مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢ حاشیہ)

اس پیشگوئی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا:

”میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا، دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا، سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا، چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی سال کے عرصہ تک مر جانا، پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا، ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اسکے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔“

(آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ٥ ص ٣٢٥)

اس بارے میں عربی الہام اس طرح ہے:

”كذبوا بايتنا و كانوا بها يستهزئون فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمت الله ان ربك فعال لما يريد، انت معی و انا معك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا۔“

(آئینہ کمالات اسلام در روحانی خزائن ج ٥ ص ٢٨٦، ٢٨٧)

صفحہ ٢٥٢

علاوہ ازیں انجام آتھم ص ٣١ اور تذکرہ میں متعدد جگہ یہ پیش گوئی مختلف الفاظ میں مذکور ہے اور اللہ کی قدرت کہ ہر اعتبار سے مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی کوئی ایک بھی دعویٰ سچا نہیں ہوا، محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا اور ١٩٣٨ء میں وفات پائی اور خود محمدی بیگم بھی ١٩٦٦ء تک زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا اعلان کرتی رہی اور ١٩/نومبر ١٩٦٦ء کو لاہور میں بحالت اسلام اس کی موت واقع ہوئی۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کے ذلیل و رسوا اور خائب و خاسر ہونے کا بہترین انتظام فرما دیا۔ آج کوئی بھی صاحب عقل محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھ کر مرزا کے جھوٹے اور اوباش ہونے کا بآسانی یقین کر سکتا ہے۔ فالحمدللہ علیٰ ذلک

مرزا قادیانی کے مریدوں کا موقف:

جب مرزا ٢٦/مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں بمرض ہیضہ آنجہانی ہو گیا اور محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا، تو قادیانیوں نے جواب گھڑا کہ نکاح جنت میں ہوگا۔ اس پر کہا گیا کہ محمدی بیگم مرزا پر ایمان نہ لائی تھی، تو مرزا کا کہنا تھا کہ میرے منکر جہنم میں جائیں گے، تو کیا مرزا جہنم میں برات لے کر جائے گا، تو اس پر مرزائیوں نے جواب تیار کیا کہ یہ پیشگوئی متشابہات میں سے ہے، غالباً قادیانیوں کو یہی معلوم نہیں کہ پیش گوئی رب کا وہ وعدہ ہوتا ہے جس کا نبی تحدی سے اعلان کرتا ہے، جو ضرور پورا ہوتا ہے مگر (معاذ اللہ) مرزا کا خدا بھی مرزا سے جھوٹے وعدے کرتا تھا۔

تضادات مرزا:

ایک سچا نبی جو کچھ کہتا ہے وہ وحی الٰہی کے تحت کہتا ہے اس لئے اس کا کلام تضاد بیانی کے عیب سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ تضاد بیانی خود اس بات کی دلیل ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہہ رہا ہے وہ منجانب اللہ نہیں ہے بلکہ اس کے اپنے ذہن کی اختراع اور من گھڑت ہے۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: ”لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً۔“

اس اصول کے تحت جب ہم مرزا صاحب کے کلام کو پرکھتے ہیں تو وہ مضحکہ خیز تضادات سے پُر نظر آتا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:

صفحہ ٢٥٣

دعواے نبوت کیا ہے جواب دیا کہ نبوت کا دعویٰ نہیں، بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ٤٢١، ٤٢٢ روحانی خزائن ص ٣٢٠ ج ٣)

اس کے برخلاف دوسری جگہ کہتا ہے کہ: ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے، اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، روحانی خزائن ص ٢٠٩ ج ١٨)

نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں، میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ٢٣٠ ج ١)

اس کے برخلاف ملفوظات میں کہتا ہے: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“

(ملفوظات ص ١٢٧ ج ١٠)

لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٢ روحانی خزائن ص ٣٥٣ ج ٣)

اس کے برخلاف ست بچن میں کہتا ہے: ”اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔“

صفحہ ٢٥٤

(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤ روحانی خزائن ص ٣٠٧ ج ١٠)

٤:......’’ میں نے صرف مثیل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا، بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ١٩٩ روحانی خزائن ص ١٩٧ ج ٣)

اس کے برخلاف دوسری جگہ کہتا ہے کہ: ’’اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(تحفۃ الندوہ ص ٥ روحانی خزائن ص ٩٨، ج ١٩)

٥:......’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے، جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٥٧ روحانی خزائن ص ٢٨١ ج ١٥)

اس کے برخلاف ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ: ’’خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز نمبر ١ ص ٤٥٧ جلد اول مندرجہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٨،

روحانی خزائن ص ١٥٢ ج ٢٢، دافع البلا ص ١٣ روحانی خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

تضاد بیانی کی ایک اور واضح مثال سنئے‘ مرزا صاحب اپنی تمام تر توانائیاں اس پر صرف کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو فوت شدہ ثابت کریں۔ اب نہ تو کتاب وسنت کی کوئی نص ان کے پاس موجود ہے‘ نہ کوئی قابل وثوق تاریخی‘ جغرافیائی حوالہ‘ وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں‘ کبھی انہیں کشمیر پہنچا کر وہاں ان کا فوت ہونا اور قبر میں مدفون ہونا بتاتے ہیں‘ چنانچہ ”ستارۂ قیصریہ“ میں لکھتے ہیں:

’’دلائل قاطعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔...... آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے اور ایک مدت تک

صفحہ ٢٥٥

کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ١٢ ١٣)

”اور لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے۔“

(اتمام الحجج ص ١٩)

پھر اپنی تائید میں مولوی محمد سعید طرابلسی کا ایک عربی خط نقل کیا ہے جس کا ترجمہ مرزا صاحب نے کیا ہے اس میں لکھتے ہیں:

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدۂ قدس میں موجود ہے۔“

(اتمام الحجج ص ٢٢)

مرزا جی کی یہ تضاد بیانی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں منجانب اللہ نہیں ہوتا۔

سوال ٩:.... مرزائی ارشاد الٰہی: ”لو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین“ کو کس ضمن میں پیش کرتے ہیں؟ اس کا اصولی طور پر رد کریں؟ نیز مرزائی ”ھلا شققت قلبہ“ کو کس ذیل میں پیش کرتے ہیں؟ اسی طرح حضرت ابو محذورہؓ سے اذان کہلانے کا کیا مطلب بیان کرتے ہیں؟ مؤقف واضح طور پر بیان کر کے اس کا شافی رد تحریر کریں؟

جواب:..... قادیانی کہتے ہیں کہ: ”لو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین ۔“ (سورہ الحاقہ: ٤٤۔٤٦) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اگر محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھ پر کوئی جھوٹا افتراء باندھتے تو میں ان کی شہ رگ کو کاٹ کر ہلاک کر دیتا۔“

صفحہ ٢٥٦

اس سے ثابت ہوا کہ اگر مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء کیا تھا تو اسے ٢٣ سال کے اندر اندر ہلاک کر دیا جاتا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی جاتی ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد ٢٣ سال تک بقید حیات رہے، اور یہ بات آپ کی اس زندگی سے متعلق ہے۔

جواب ١:..... اس آیت کا سیاق و سباق دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کسی قاعدہ کلیہ کے طور پر نہیں ہے، بلکہ یہ قضیہ شخصیہ ہے اور صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بات کہی جا رہی ہے اور یہ بھی اس بناء پر کہ بائبل میں موجود تھا کہ : ”اگر آنے والا پیغمبر اپنی طرف سے کوئی جھوٹا الہام یا نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ جلد مارا جائے گا۔“ چنانچہ درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو:

”میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تجھ سا..... ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا (مراد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) وہ سب ان سے (یعنی اپنی امتوں سے ) کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا، لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا، یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔“

(انجیل مقدس عہد نامہ قدیم ص ١٨٤ کتاب استثنا باب ١٨ آیت ١٨ تا ٢١)

جواب ٢:..... بالفرض اگر یہ قانون عام بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ قانون سچے نبیوں کے متعلق ہوگا نہ کہ جھوٹے نبیوں کے متعلق، کیونکہ جھوٹے نبیوں کو مہلت ملنے سے یہ قانون مانع نہیں۔ فرعون و نمرود، بہاء اللہ ایرانی وغیرہ کو خدائی اور نبوت کے دعویدار ہونے کے باوجود کافی مہلت ملی۔

جواب ٣:..... مرزا قادیانی اپنی اس دلیل کی روشنی میں خود جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ مرزا نے نبوت کا دعویٰ ١٩٠١ء میں کیا۔ اس کا دعویٰ نبوت اگر چہ محل نزاع ہے کیونکہ اس کے

صفحہ ٢٥٧

ماننے والے دو جماعتوں میں منقسم ہیں، لاہوری گروپ اس کو نبی تسلیم نہیں کرتا، اس کے خیال میں اس کا اپنا دعویٰ نبوت ہر شک سے بالا ہے۔ اس کے برعکس قادیانی گروپ اس کو نبی تسلیم کرتا ہے، اور نبی تسلیم کرنے والے گروپ کی تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی موت ١٩٠٨ء میں ہوگئی تھی، لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ مرزا قادیانی ٢٣ سال پورے کرنے سے پہلے ہی ہیضہ کی موت سے مرکر اپنی اس دلیل کو جھوٹا کر گیا۔

ھلا شققت قلبہ کا جواب:

”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت اسامہؓ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ جنگ میں فلاں کافر سے میرا سامنا ہوا، جب وہ میری تلوار کی زد میں آیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا، اس کے باوجود میں نے اس کو قتل کردیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :’میں تیرے اس فعل سے بری ہوں‘ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے تو قتل سے بچنے کے لئے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا تھا، اس پر آپؐ نے فرمایا کہ: ھلا شققت قلبہ ( کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا)۔“

قادیانی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ظاہری طور پر کلمہ پڑھ لے تو اس کے کلمہ کا اعتبار کیا جائے، اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے تفصیلی حالات معلوم نہ ہوں، اگر اس کی کوئی ایسی بات ملتی ہو جو کفر کی طرف مشعر ہو تو اس کے معاملہ تکفیر میں احتیاط برتی جائے گی چنانچہ اگر کوئی خفیف سے خفیف ایسا احتمال نکلتا ہو جس کی وجہ سے وہ کفر سے بچ سکتا ہو تو اس احتمال کو اختیار کرتے ہوئے اسے کافر نہ کہا جائے گا، لیکن قادیانیوں کا اس روایت سے استدلال پکڑنا غلط ہے، اس لئے کہ ان کے کفریہ عقائد سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات مختلفہ والفاظ واضحہ موجود ہیں، پھر یہ شخص خود کفریہ معنی مراد لیتا ہے، اس کے اپنے کلام میں کفر کی تصریحات موجود ہیں، اس لئے باجماع فقہاء امت اس پر کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے گا۔

حضرت ابو محذورہؓ کی اذان کا جواب:

حضرت ابو محذورہؓ ابھی نو عمر تھے اور انہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، یہ

صفحہ ٢٥٨

کھیل رہے تھے کہ حضرت بلالؓ نے اذان دینی شروع کی تو انہوں نے بھی نقل اتارنی شروع کردی، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے اذان کے کلمات کہلوائے، اشہد ان محمد رسول اللہ پر جب وہ پہنچے تو چونکے، آپؐ نے تلقین کی تو انہوں نے یہ کلمات بھی کہہ دیئے ساتھ ہی آپؐ نے ان کے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اُن کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی، جس کے نتیجہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کرگئی اور وہ صدق دل سے مسلمان ہوگئے قادیانی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ابومحذورہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غیرمسلم ہونے کی حالت میں اذان کہی، چلو ہم قادیانی غیرمسلم ہی سہی، مگر ہمیں اذان دینے کی تو اجازت دی جائے۔

جواب:...... اذان مسلمانوں کا شعار ہے، غیرمسلم کو اُن مسلمانوں کے شعار کے اختیار کرنے کی قطعاً اجازت نہیں، غیرمسلم بھی اگر اسلامی شعائر کو استعمال کریں تو پھر اسلام بازیچۂ اطفال بن جائے گا، اسلام کی تاریخ میں کبھی نماز کے بلانے کے لئے ایک بار بھی کسی غیرمسلم نے اذان نہیں کہی، جس دن حضرت ابومحذورہؓ نے حضرت بلالؓ کی نقل اتاری تھی اس دن بھی نماز کے لئے اذان حضرت بلالؓ نے دی تھی تبھی تو وہ ان کی نقل اتار رہے تھے۔

سوال ١٠:...... ثابت کریں کہ مرزا قادیانی بداخلاق، بدزبان اور بدکردار انسان تھا، اپنے مخالفین کو گالیاں دیتا تھا، انبیاء کرام علیہم السلام کی خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتا تھا۔ کم از کم بیس سطروں پر مضمون تحریر کریں۔

جواب:...... مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر واقع بستی قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور (انڈیا) میں ہوئی۔ انگریز نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور جہاد کو حرام قرار دلوانے کیلئے اپنی اغراض مذمومہ اور خواہشات فاسدہ کیلئے اسے پروان چڑھایا یہ اتنا بداخلاق شخص تھا کہ معمولی معمولی باتوں پر بدزبانی پر اتر آتا تھا۔ اپنے مخالفین کو ولدالحرام، کنجری کی اولاد، کافر، جہنمی کہنا اس کا صبح شام

کا مشغلہ تھا جیسا کہ اس نے خود اپنی

جاوے گا کہ اس کو ولد الح

مشرک رکھا گیا۔“

ان کے معارف سے فائد اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈی کی۔“ (آئینہ کمالات اسل

کتیوں سے بڑھ گئی ہیں

کے بعد تیری دشمنی اور تی

میری دعوت پہنچی اور اس

اس کی بدزبانی صرف عام کے متعلق بھی بدزبانی کیا کرتا تھا

آیا جس نے کبھی اجتہاد

صفحہ ٦

کا مشغلہ تھا جیسا کہ اس نے خود اپنی کتابوں میں لکھا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

الف:...... ”اور (جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠ روحانی خزائن ص ٣١ ج ٩)

ب:...... ”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح حاشیہ ص ٤ روحانی خزائن ص ٣٧٨ ج ١٨)

ج:...... ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨ روحانی خزائن ص ٥٤٧، ٥٤٨ ج ٥)

د:...... ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ٥٣ روحانی خزائن ص ٥٣ ج ١٤)

ہ:...... ”اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔“

(تذکرہ ص ١٦٨ طبع دوم)

و:...... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“

(تذکرہ ص ٦٠٠ طبع دوم)

اس کی بدزبانی صرف عامۃ المسلمین تک کو شامل نہیں بلکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق بھی بدزبانی کیا کرتا تھا جیسا کہ ملاحظہ ہو:

ز:...... ”میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥ خزائن ص ٥٧٣ ج ٢٢)

صفحہ ٢٦٠

ح:....... ”خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧ خزائن ص ٥٧٥ ج ٢٢)

ط:....... ”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا غلام احمد قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا ۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٩ خزائن ص ٩٩ ج ٢١)

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو اس کی بدزبانی اور بدکلامی نے دنیا بھر کے بدزبانوں کا ریکارڈ توڑ دیا‘ ملاحظہ ہو:

ی:....... ”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“ (حاشیہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ص ٢٨٩ ج ١١)

ک:....... ”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے‘ یہودیوں کی کتاب ”طالمود“ سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١)

ل:....... ”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے

صفحہ ٢٦١

پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ص ٢٩١ ج ١١)

م:...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٧٣ خزائن ص ٧١ ج ١٩)

ن:...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ص ٢٣٣ ج ١٨)

س: ...... ” ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ص ٢٤٠ ج ١٨)

دیکھئے یہ بدزبانی وہ شخص کر رہا ہے جو خود شراب کا رسیا تھا (تفصیل کے لئے دیکھئے ”خطوط امام بنام غلام“ ص ٥) اور غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں دبواتا تھا۔

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠)

دوائیوں میں افیون کھاتا تھا، جیسا کہ خود اس کے اپنے نام نہاد الہامی نسخہ زوجام عشق (قوت باہ) کے نسخہ کے اجزاء میں افیون بھی شامل ہے۔

(تذکرہ ص ٧١٧ طبع سوم)

اسی طرح وہ خواب میں بھی ننگی عورتوں کے نظارے کرتا تھا۔

(تذکرہ ص ١٩٩ طبع سوم)

اسی لئے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کے لاہوری گروپ نے جو اسے بجائے نبی کے ولی اللہ مانتے ہیں، اس پر زنا کا الزام لگایا۔ (ملاحظہ ہو الفضل قادیان ج ٢٦ نمبر ٢٠٠ مورخہ ٣١ اگست ١٩٣٨ء)

ایسے اخلاق و کردار کا آدمی یہ دعویٰ کرے کہ میں نبی ہوں، محمد رسول اللہ ہوں، اس سے بڑھ کر کوئی اور ظلم ہوسکتا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں۔ امت میں سے سب سے زیادہ مرزا قادیانی کے کفر کو اگر کسی نے سمجھا ہے تو وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ تھے انہوں نے فرمایا تھا کہ مرزا قادیانی فرعون اور ہامان سے بھی بڑا کافر تھا۔ اس فتنہ سے بچنا اور پوری امت کو اس

صفحہ ٢٦٢

سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین۔ برحمتك يا ارحم الراحمين والحمدلله اولاً وآخرا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

رسول بھی ہیں اور صحابی بھی

حافظ شمس الدین ذہبی تجرید میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی اصابہ میں اور علامہ زرقانی شرح مواہب میں تحریر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم جس طرح نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں اسی طرح صحابی بھی ہیں۔ اس لئے کہ مسیح بن مریم علیہا السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ المعراج میں بحالت حیات، وفات سے پیشتر اسی جسد عنصری کے ساتھ دیکھا ہے۔