گستاخ رسول کی سزا (الصارم المسلول کا ترجمہ) · حمید محمدی
Ghustakh-e-Rasool ki Saza (Alsaram Almaslool ka Tarjuma) · Hameed Muhammadi
PDF 1

امام ابن تیمیہ کی مشہور زمانہ کتاب

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کا

اختصار اور اس کا اردو ترجمہ

گستاخ رسول کی سزا

الصارم المسلول میں موجود تمام آیات احادیث و آثار صحابہ و تابعین

اور ان سے استدلال و استنباط کو حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے

جس سے استفادہ کرنا ہر خاص و عام کیلئے آسان ہو گیا ہے

PDF 2

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب

مختصر

الصارم المسلول

على شاتم الرسول

لشيخ الإسلام ابن تيمية

اختصار

علامہ محمد بن علی محمد البعلی الحنبلی

مترجم

محمد خبیب احمد

اشاعت اول ........................ اپریل 2011ء

تعداد ........................ ایک ہزار

کمپوزنگ ........................ ابوسفیان غزنوی

ناشر

ادارہ تحقیقات سلفیہ

آبادی محبوب عالم نوشہرہ روڈ گوجرانوالہ 7453436-0300

صفحہ 3

الصارم المسلول على شاتم الرسول

بسم الله الرحمن الرحيم

جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اور بات (حدیث اور سنت) سے پیار و محبت کرے ہماری اس سے محبت ہے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے امت کو یہی سبق دیا ہے۔

واقعہ افک سے مداح رسول سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی متاثر ہوئے۔ یوں ان کا نام بھی اہل افک میں شامل تھا جو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت منفی پروپیگنڈے کی رو میں بہہ گئے تھے۔ اس امر کی سنگینی اپنی جگہ ایک معنی رکھتی ہے اور افک میں ملوث ہونے والوں کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جو شدید جذبات ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جب سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے جاتے تھے تو سیدہ ایسے الفاظ سننے کی بھی روادار نہیں ہوتی تھیں۔ فوراً فرماتی تھیں کہ حسان تو وہ شخصیت ہیں جنھوں نے نبی کریم ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے یہ اشعار کہے تھے ؎

هَجَوْتَ مُحَمَّداً فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللّٰهِ فِي ذٰلِكَ الْجَزَاءُ
هَجَوْتَ مُحَمَّداً بَرّاً تَقِيّاً رَسُوْلَ اللّٰهِ شِيْمَتُهٗ الْوَفَاءُ
فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهٗ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ

”[اے کافر و مشرک!] تو نے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ہجو کی اور میں نے آپ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف سے جواب دیا ہے اور اس پر ہمیں اللہ سے اجر و ثواب ملے گا۔

[اے کافر و مشرک!] تو نے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ہجو کی جو انتہائی نیک و صالح اور متقی و پارسا ہیں اور آپ ﷺ تو اللہ کے فرستادہ و رسول ہیں اور عہد کی پاسداری و وفا شعاری آپ ﷺ کی فطرت میں

صفحہ 4

الصارم المسلول على شاتم الرسول

داخل ہے۔ میرے باپ و دادا کی عزت اور خود میری آبرو، سب حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس کا تم سے تحفظ کرنے کے لیے قربان ہیں۔“

اور جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اور بات (حدیث اور سنت) سے عداوت رکھے ہماری بھی اس سے عداوت ہے۔

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وَ قَالَ اللّٰهُ : قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءُ
وَ قَالَ اللّٰهُ: قَدْ يَسَّرْتُ جُنْداً هُمُ الْأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَاءُ
لَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَاءُ

”اللہ کا ارشاد ہے: میں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو حق و سچ بات کرتا ہے جس میں کوئی خفا و پردہ اور شک و شبہ نہیں، اور اللہ کا فرمان ہے: میں نے انصارِ مدینہ کا ایک لشکر تیار کردیا ہے جن کا کام ہی [کفار و مشرکین سے] مقابلہ کرنا ہے، ہمیں ہر روز بنی معد سے گالی گلوچ سننا، جنگ کرنا یا ہجو سننا پڑتا ہے۔“

مزید فرمایا:

فَمَنْ يَهْجُوْ رَسُولَ اللّٰهِ مِنْكُمْ وَ يَمْدَحُهُ وَ يَنْصُرُهُ سَوَاءُ
وَ جِبْرِيلُ رَسُولُ اللّٰهِ فِينَا وَ رُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ كَفَاءُ

”تم میں سے اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کی ہجو و توہین کرے تو وہ اس شخص کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جو آپ ﷺ کی مدح سرائی و نعت گوئی کرے اور آپ ﷺ کی مدد و نصرت میں لگا رہے؟ اللہ کے بھیجے ہوئے حضرت جبریل علیہ السلام ہمارے مابین موجود ہیں اور حضرت جبریل علیہ السلام کا تو کوئی ہمسر و مد مقابل ہی نہیں ہے۔“

صفحہ 5

فہرست

فِہْرِسْتُ

پہلا مسئلہ

صفحہ 6

فہرست

اگر وہ حلیف نہ ہو .......................................... 36

ہے یا پھر رائیگاں خون والا .......................................... 42

فہرست

گستاخی کی اور دوسری نے

ہمارے دین میں مداخلت

صفحہ 7

فہرست

گستاخی کی اور دوسری نے مسلمانوں کی ہجو کی ................................. 92

ہمارے دین میں مداخلت کرے ................................................... 93

صفحہ 8

فہرست

کیسے فسخ ہوسکتا ہے ...................................................... 98

دوسرا مسئلہ

نہ رحم کیا جائے گا اور نہ ہی فدیہ قبول کیا جائے گا ........................ 102

صفحہ 9

فہرست

عمومی قاعدہ میں شامل یا مستثنیٰ ہے ............................... 106

ہے کہ ان کا تفصیلی کلام قبول کیا جائے ........................... 106

تیسرا مسئلہ

کی تخریج ........................................................... 111

چوتھا مسئلہ

پر رد، انھوں نے یہ نظریہ بعض فلسفیوں (متکلمین) سے لیا ہے .......

صفحہ 10

فہرست

ہے ................................................................ 117

ہے اور وہ کافر ہے .....................................................

ہو جاتا ہے ......................................................... 118

اور اس مسئلہ میں علما کا نزاع .................................... 122

جس میں توبہ قبول کی جاتی ..................................... 124

ہوں تو عرف کا اعتبار کیا جائے گا................................. 125

واجب ہے .......................................................... 126

صفحہ 11

مقدمۃ التحقیق میں گزر چکی 117 .............................................................. 117 .............................................................. دین کرنے والے کا خون حلال .............................................................. میں فقہا کے جوابات کا ذکر و جن کی وجہ سے کفر اور قتل لازم 118.............................................................. لائے کھیت کی سیرابی میں جھگڑا کیا 122.............................................................. نہیں کی جاتی اور اس کفر میں فرق 124.............................................................. شریعت میں حدود و قیود مقرر نہ 125.............................................................. 125.............................................................. 125.............................................................. 125.............................................................. کی گستاخی میں فرق کرنا 126.............................................................. میں تفریق نہیں کرتے تھے .. 126

فہرست

کر دیتا ہے.............................................................. 127

نوعیتیں ہیں.............................................................. 129

یا نہ رکھیں دونوں برابر ہیں، ان میں فرق کرنا انتہائی کمزور پہلو ہے .. 130

صفحہ 12

فہرست

بارے میں قول ................................................. 136

دے اور وہ گالی پس پردہ اللہ تعالیٰ یا اس کے بعض رسولوں کو پہنچے، جیسے وہ زمانے کو گالی دے، یا پھر کسی آدمی کے باپ کو حضرت آدم ؑ تک گالی دے .............................................. 139

صفحہ 13

فہرست

ذیل دلائل کی وجہ سے حرام ہے ............................................. 142

ہو چکا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ کہ یہ منافق ہو ........................... 151

جرح نہیں ہے ................................................................... 157

....................... ❁❁❁ .......................

صفحہ 14

مقدمہ

مقدمہ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ان اعاظم رجال میں سے ہیں جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور ایک دنیا کو متأثر کر جاتے ہیں، وہ متعدد خوبیوں عظیم کمالات اور گوناگوں اوصاف کے حامل تھے، ان کی متنوع خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ داعی اور مبلغ بھی تھے اور مجاہد بھی تھے، امت مسلمہ میں جن کی قلم اور تلوار نے کفر پر یلغار کی ہے ان میں ابن تیمیہ کا نام روشن چمکتا ہوا ستارہ ہے۔

شیخ الاسلام اس شعر کے مصداق تھے ؎

وَلَيْسَ عَلَى اللّٰهِ بِمُسْتَنْكَرٍ
أَنْ يَّجْمَعَ الْعَالَمَ فِيْ وَاحِدٍ

شیخ الاسلام ٦٦١ھ سے لے کر ۷۲۸ھ تک اس دار العدم میں قیام پذیر رہے لیکن ایسے کارہائے نمایاں سر انجام دے گئے کہ ہمیشہ کی جاودانی پا گئے، رہتی دنیا تک اپنے نام کی حیاتی کے ساتھ دارالحیوان میں نبیین، صالحین، صدیقین اور شہداء کا ساتھ پا گئے۔

شیخ الاسلام کی مساعی جمیلہ میں سے ایک خوبصورت کارنامہ ”الصارم المسلول على شاتم الرسول“ ہے، ایک عساف نصرانی نے نبی ﷺ کی شان میں نازیبا کلام کیا، ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کا جواب دینے کے لیے اپنے قلم کو حرکت دیا تو ایک ضخیم کتاب مرتب کر دی۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے (البدایۃ والنہایۃ: ۱۳ / ۳۹۶)

صفحہ 15

مقدمہ

الصارم المسلول میں شیخ نے اپنے استدلالات استنباطات اور استشہادات پیش کیے ہیں جو ان محققین ، متخصصین کے لیے ہیں جو دقائق اور لطائف کو جاننے کا شوق رکھتے ہیں اور طویل مباحث کو پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں کتاب میں کئی مقامات پر تکرار بھی ہے اور ایک عنوان کی تفصیل کئی مقامات پر بکھری پڑی ہے۔ اس لیے اس کتاب کے اختصار اور ترتیب کی ضرورت تھی جس پر کئی علما نے محنت کی اور اس کا اختصار پیش کیا یہ اختصار جو آپ کے پیش خدمت ہے، علامہ محمد بن علی بن محمد البعلی الحنبلی متوفی (۷۷۸ھ) نے کیا ہے۔ جنھوں نے شیخ الاسلام کا زمانہ پایا ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کتاب میں بنیادی چار مسائل پر گفتگو کی ہے۔

پہلا مسئلہ: گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔

دوسرا مسئلہ: ذمی کو بھی قتل کیا جائے گا۔

تیسرا مسئلہ: گستاخ کی توبہ کا کیا حکم ہوگا؟

چوتھا مسئلہ: گستاخی کیا ہے؟

اور ان پر کتاب وسنت کے دلائل پیش کیے، استنباط و استدلال کی قوت سے عنوان کو ثابت کیا ہے جو کہ پوری کتاب میں بکھرے پڑے ہیں۔

اس اختصار میں ان چار بنیادی مسائل کے تمام دلائل، استدلالات، استنباط، اجتہادات کو چن لیا گیا ہے۔

یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ہر عالم، محقق، مجتہد، عامی، طالب علم اپنے پاس رکھے اور ابن تیمیہ کی قوت استدلال کا استحضار کرے اور خود میں ایسا ملکہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ جب کبھی جو کوئی میرے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کا سوچنے لگے اس کے دماغ کو وہیں پھوڑ دے۔

صفحہ 16

مقدمہ

﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ﴾ [الأنبياء: ۱۸]

”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تمھارے لیے اس کی وجہ سے بربادی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔“

محمد حبیب احمد حفظہ اللہ نے اس کو اردو قالب میں ڈھالا ہے، ان کا نام محققین علماء میں شمار ہوتا ہے، ترجمہ کرتے وقت بھی انھوں نے عربی و اردو ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے پوری محنت سے کام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے اعمالِ حسنہ کو قبول فرمائے۔ آمین

والسلام محمد طیب محمدی ادارہ تحقیقات سلفیہ

صفحہ 17

الصارم المسلول على شاتم الرسول

صاحب المختصر کے حالات زندگی

نام:

محمد بن علی بن محمد بن علی بن یعلی البعلی الحسینی۔

لقب وکنیت:

بدر الدین، ابو عبداللہ، المعروف: بابن اسباسلار۔

پیدائش:

ملک شام ۷۱۴ھ

اساتذہ:

الشیخ المحدث المؤرخ قطب الدین ابو الفتح الیونینی (متوفی ۷۲۶ھ) والحجار المسند (متوفی ۷۳۰ھ) و ابن عبد الہادی (متوفی ۷۴۴ھ) والامام ابن القیم (متوفی ۷۵۱ھ)۔

توصیف و ثناء:

ابن ظہیرہ (متوفی ۷۸۱ء) فرماتے ہیں وہ تمام علاقہ بعلبک شہر کے حنابلہ کے امام عالم تھے، ان کے شہر کے باشندے انھی کے فتویٰ پر اعتماد کرتے تھے، اسی طرح کی مدح و تعریف حافظ ابن حجر، ابن المبرد، ابن قاضی شہبہ مجیر الدین العلیمی وغیرہ نے کی ہے۔

صفحہ 18

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

تصانیف :

وفات:

آپ کی وفات ربیع الاول ۷۷۸ھ کو ہوئی۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

صفحہ 19

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

تمہید

ہر قسم کی تعریف اس اللہ رب العزت کے لیے خاص ہے جو جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما دیتا ہے، وہ کتنے ہی اچھے ہدایت دینے والے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ معبود برحق ہے، ایسی گواہی جو اپنے قائل کو کجی سے منزہ کر دیتی ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے، رسول اور بندوں میں سے معزز ترین ہیں۔ اس نے آپ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اسلام کو سبھی ادیان پر غالب کر دیں، اگرچہ دشمن اسے ناپسند سمجھیں، اسی کے لیے ہر قسم کی برتری، وسیلہ اور مقام محمود اور تعریفوں کا جھنڈا ہے۔ جس پرچم تلے سبھی مداح اکٹھے ہوں گے، درود ہوں اس پر، اس کی آل پر، سب سے افضل، سب سے پاکیزہ، سب سے خوبصورت، بڑھنے والا درود، قیامت تک ان پر مسلسل ہوتا رہے۔

حمد و ثنا کے بعد: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور انہی کی بدولت ہمیں ہدایت دی اور انہی کی بدولت ہمیں اندھیروں سے اجالوں میں لا کھڑا کیا اور ان کی رسالت اور عہدہ سفارت کی برکت سے ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عنایت فرما دیں۔ جو شخص ان کے اعلیٰ و ارفع مقام پر انگشت نمائی

صفحہ 20

رہے کہ جہاں ریاست اور جہاں یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ عمل روکو"۔ (مسٹر مارشل بیریز کے بیان اور انٹرویو کی ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۳ھ )

اور گھناؤنا طریقہ:

عورتوں کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: امریکی ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے عورتوں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کرتا ہے اس شخص کے بارے میں جو حکم ہے اس کا اظہار واجب ہے اور جس سزا کا وہ مستحق ہے اس کو بیان کرنا ضروری ہے۔

یہاں ایسا حکم شرعی بیان کرنا مقصود ہے جس پر فتویٰ دیا جائے اور جس کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور ہر بندہ جتنی وہ استطاعت رکھتا ہے اس کے مطابق اس کا اہتمام ضروری ہے۔ اللہ رب العزت ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والے ہیں۔ یہ بحث چار مسائل پر مشتمل ہے۔

مسائل اربعہ:

الصارم المسلول على شاتم الرسول

گستاخ رسول ﷺ واجب القتل

اجماع امت:

جمہور علماء کا یہ مذہب ہے ”اکثر علماء کا اس بات پر کرے گا وہ واجب القتل ہے امام احمد، امام اسحاق اور ثابت سے منقول ہے کہ امام ابوبکر الفارسی ➊ الشافعی ہونے میں مسلمانوں کا اجماع اور کی گستاخی کرے تو اسے کون اس اجماع سے مراد

➊ الصارم (۱۳/۲).

➋ الأوسط (۶۸۲/۲) الاشراف

(ص: ٧٦)

➌ یہ احمد بن الحسین بن سہل ہیں،

ایک کتاب ”الاجماع“ ہے۔ یہ قول

صفحہ 21

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پہلا مسئلہ ❶

گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔

اجماع امت:

جمہور علماء کا یہ مذہب ہے۔ امام ابن المنذر فرماتے ہیں: ❷ ”اکثر علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرے گا وہ واجب القتل ہے، یہی مذہب امام مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحاق اور امام شافعی کا ہے۔ امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت سے منقول ہے کہ ذمی قتل نہیں کیا جائے گا۔“

امام ابو بکر الفارسی ❸ الشافعی نے بھی گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے میں مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے، جیسے کوئی رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کی گستاخی کرے تو اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔

اس اجماع سے مراد ابتدائی دور میں صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے، جیسا

❶ الصارم (١٣/٢)

❷ الأوسط (٢/ ٦٨٢) الاشراف (٢/ ٢٤٤) الاقناع (٢/ ٥٨٤) دیکھیے: الإجماع

(ص: ٧٦)

❸ یہ احمد بن الحسین بن سہل ہیں، جو شافعیہ کے امام ہیں متوفی ٣٥٠ھ ہیں، ان کی کئی تصانیف ہیں

ایک کتاب ”الاجماع“ ہے۔ یہ قول بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ دیکھیے: فتح الباري (١٢ / ٢٩٣)

صفحہ 22

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

کہ شیخ الاسلام (ابن تیمیہ) نے فرمایا ہے۔

اس اجماع سے مراد اس کے واجب القتل ہونے میں اجماع ہے۔ جب وہ مسلمان ہوگا، جیسا کہ قاضی عیاض نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔❶

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرے گا یا وہ کسی ایسی چیز کو ہٹائے گا جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہوگا یا وہ کسی نبی کو قتل کرے گا تو وہ کافر ہوگا، اگرچہ وہ ہر اس چیز کا اقرار کرنے والا ہو جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔“

امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:❷

”مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے گستاخی رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے میں اختلاف کیا ہو۔“

امام محمد بن سحنون فرماتے ہیں:

”علماء کا اجماع ہے کہ گستاخ رسول ﷺ آپ کی شان میں نقص بیان کرنے والا کافر ہے۔ اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے۔“

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، یہ ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) اور دیگر کا مذہب ہے۔ یہی امام احمد اور فقہائے حدیث کا

❶ الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ (۲ / ۳۸۶ مع شرح الملا علی قاری)

❷ فی معالم السنن (٦ / ١٩٩)

صفحہ 23

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مذہب ہے، امام احمد نے مختلف مقامات پر اس کی صراحت فرمائی ہے۔ امام حنبل، امام ابو الصقر ❶، امام الخلال، امام عبداللہ اور امام ابو طالب نے ان (احمد) سے نقل کیا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر واجب القتل ہے۔

امام احمد سے پوچھا گیا کہ اس مسئلہ میں کوئی حدیث بھی ہے؟ فرمایا: متعدد احادیث ہیں، جن میں سے نابینے صحابی والی حدیث ہے جنھوں نے اپنی بیوی کو اس وجہ سے قتل کر دیا کہ اس نے اسے رسول ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے سنا۔ ❷ اور حضرت حصین (بن عبدالرحمن السلمی) کی حدیث ہے۔ ❸ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:

کیے ہیں، دیکھیے: طبقات الحنابلة (۲ / ۵۴۲)

بتلایا گیا کہ یہ گستاخ ہے! فرمایا: اگر میں اسے گستاخی کرتا سُن لیتا تو اس کی گردن اُڑا دیتا، ہم نے ان سے معاہدہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ وہ ہمارے نبی کی گستاخی کریں، اسے مسدّد نے بیان کیا ہے۔ بحوالہ (المطالب، حدیث: ۲۰۴۷)

اور الحارث بن ابی اسامہ نے مسند میں جیسا کہ بغیہ حدیث ۵۱۰ میں ہے اور الخلال نے الجامع (رقم: ۷۳۲ احكام أهل الملل) سبھی نے حصين بن عبدالرحمن السلمی عن رجل لم يسم یعنی اس راوی کا نام مذکور نہیں۔ خلال کے ہاں شیخ ہے، أن ابن عمر بہ کہ عبداللہ بن عمر نے یہ فرمایا:

الحارث کی روایت میں حصین عن ابن عمر ہے، بغیر دوسرے راوی کے واسطے کے حصین نے ابن عمر سے نہیں سنا۔ دیکھیے (تهذيب التهذيب: ۲ / ۳۸۱)

صفحہ 24

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اسے توبہ نہیں کروائی جائے گی۔‘‘

امام ابوبکر نے یہ قول ”الشافی“❶ میں نقل کیا ہے، لہٰذا امام احمد سے اس کے واجب القتل ہونے میں اور اس کے ذمہ کے ٹوٹ جانے میں کوئی اختلاف منقول نہیں۔ البتہ قاضی❷ سے ذمی کے بارے میں ایک روایت مروی ہے کہ اس کا ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ قاضی صاحب کی اتباع ایک جماعت نے کی ہے جن میں الشریف، ابن عقیل، ابو الخطاب اور الحلوانی❸ شامل ہیں۔ ان فقہاء نے وہ سبھی اعمال ذکر کیے ہیں جن میں مسلمانوں کے خلاف ذلت کا پہلو موجود ہے اور جس میں ان کی جان و مال یا دین کا نقصان موجود ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے حکم کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔

مگر اس کے باوجود ان کا اس پر اتفاق ہے کہ حنبلی مذہب میں ذمی کا ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ پھر انہی لوگوں نے یہ بھی ذکر کیا گستاخ رسول ﷺ قتل کیا جائے گا، اگرچہ وہ ذمی ہو اور اس کا عہد (ذمہ) بھی ٹوٹ جائے گا۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں:

پائی، دیکھیے: طبقات الحنابلة (۳/ ۲۱۴) اور ان کی کتاب الشافی ’’جو کہ فقہ میں ہے اس کے اسی اجزا ہیں جیسا کہ ابو یعلی نے ذکر کیا ہے اور خطیب نے ان سے تاریخ (۱۵/ ۴۵۹) میں نقل کیا ہے۔

ہوتے ہیں، ان کا ذکر بہت زیادہ آئے گا۔

مراد ابو الوفاء صاحب ’’الفنون‘‘ متوفی ۵۱۳ھ ہیں۔ ابو الخطاب سے مراد محفوظ بن احمد الکلوذانی متوفی ۵۱۰ھ ہیں اور الحلوانی سے مراد محمد بن علی ابوالفتح متوفی ۵۰۴ھ ہیں۔

صفحہ 25

یہاں سے ترجیح دی جا رہی ہے مذکورہ رپورٹ میں میئرز کے بیان اور ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۴ھ) کا شرمناک طریقہ: جن کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جا

گی۔“ الشافی میں نقل کیا ہے، لہٰذا امام احمد سے اس کے ذمہ کے ٹوٹ جانے میں کوئی اختلاف منقول نہیں۔ کے بارے میں ایک روایت مروی ہے کہ اس کا کی اتباع ایک جماعت نے کی ہے جن میں اور الحلوانی شامل ہیں۔ ان فقہاء نے وہ سبھی وں کے خلاف ذلت کا پہلو موجود ہے اور جس مان موجود ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی ہیں۔

ں پر اتفاق ہے کہ حنبلی مذہب میں ذمی کا ذمہ نے یہ بھی ذکر کیا گستاخ رسول ﷺ قتل کیا عہد (ذمہ) بھی ٹوٹ جائے گا۔

ام الخلال کے نام سے معروف ہیں ۳۶۳ھ کو وفات (۲۶) اور ان کی کتاب الشافی، جو کہ فقہ میں ہے نے ذکر کیا ہے اور خطیب نے ان سے تاریخ (۱۵/

ے شیخ ہیں، جب مطلقاً قاضی بولا جائے تو یہی مراد ۔ بن عیسیٰ ہاشمی متوفی ۲۷۰ھ ہیں اور ابن عقیل سے ۵۱۱ھ ہوں۔ ابو الخطاب سے مراد محفوظ بن احمد سے مراد محمد بن علی ابو الفتح متوفی ۴۶۴ھ ہیں۔

الصارم المسلول على شاتم الرسول ”یہی موقف سب سے عمدہ ہے۔“ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ گستاخی کی وجہ سے اس کا عہد (ذمہ) نہیں ٹوٹے گا۔ یہ اس شکل میں ہے جب ان کے ساتھ معاہدے میں یہ چیز (گستاخی) شامل نہ ہو گی اگر یہ بھی شامل ہو گی تو پھر دو آرا ہیں۔

پہلی رائے:

ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ فقیہ الخرقی کا یہ قول ہے اور علامہ آمدی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

دوسری رائے:

ذمہ نہیں ٹوٹے گا قاضی (ابو یعلی ابن الفراء) کا قول ہے جس موقف پر ہمارے اکثر متقدمین ہیں اور متاخرین نے ان کی پیروی کی ہے وہ یہ کہ نصوص (قرآنی آیات، احادیث نبویہ ﷺ) کو ان کی حالت میں برقرار رکھا جائے گا اور نص میں یہ بات موجود ہے کہ گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے اور اس کا ذمہ ٹوٹ جائے گا، اسی طرح جو مسلمانوں کی جاسوسی کرے یا کسی مسلمان عورت سے بدکاری کا ارتکاب کرے یا کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرے یا راہ زنی کرے اور اس بات کی بھی صراحت موجود ہے۔ کہ جو مسلمان پر زنا کی تہمت لگائے گا یا اس پر جادو ٹونہ کرے گا تو اس ذمی کا ذمہ ٹوٹے گا نہیں۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نصوص (شرعی دلائل) کو برقرار رکھنا واجب ہے ان میں سے کسی چیز کو خارج نہیں کیا جائے گا، اگرچہ شرعی دلائل میں فرق موجود ہے۔ ➊

➊ الصارم (۲/ ۳۵) میں عبارت یوں ہے: یہ واجب ہے کیونکہ دو مسئلوں میں سے ایک کا دوسرے کی طرف اخراج اور دو مسئلوں کو دو روایتیں بنانا باوجود کہ ان دونوں میں نص ⬅

صفحہ 26

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام شافعی کا موقف:

امام شافعی سے یہ صراحت ثابت ہے کہ گستاخی رسول ﷺ ➊ سے ذمہ ٹوٹ جائے گا اور اس کا مرتکب قتل کیا جائے گا، مگر دیگر شوافع نے ذکر کیا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید کی توہین کرے گا تو اس میں دو آرا ہیں۔ بعض شوافع نے یہ فرق کیا ہے کہ معاہدہ کی رو سے ان چیزوں کی پاسداری ضروری ہے یا نہیں؟ بعض نے اس مسئلہ میں مختلف متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ مگر ان کی اختلافی مسائل پر مشتمل کتب میں یہ صراحت موجود ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کا ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ واجب القتل ہوگا۔

احناف کا موقف:

امام ابو حنیفہ اور احناف کا نظریہ یہ ہے کہ گستاخی سے ذمہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی اس وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا لیکن برے اعمال کی بدولت انھیں تعزیر لگائی جائے گی، ان کے ہاں یہ اصول ہے جس میں سزا قتل نہیں ہے، مثال کے طور پر کوئی آدمی کسی کو بوجھ تلے دے کر قتل کر دیتا ہے یا پھر بار بار اندام نہانی کے علاوہ کسی اور جگہ جماع کرتا ہے۔ (ان دونوں صورتوں میں اس کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے) مگر امام (حکمران، قاضی) اسے قتل کر سکتا ہے اور مصلحت کے پیش نظر اس مقرر کردہ شرعی حد پر اضافہ بھی کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسے جرائم کی صورت میں بطور سزا جو قتل کا حکم ہے وہ مصلحت کے پیش نظر تھا، اسی لیے احناف ایسی صورت کا نام سیاسی قتل رکھتے ہیں۔

ہو سکے جائز نہیں ہے۔

➊ دیکھیے: الأم (٤ / ٢٠٨-٢١١)

صفحہ 27

الصارم المسلول على شاتم الرسول

گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کے دلائل:

اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، دین اسلام، قرآن مجید کو دشنام دینے والے کے واجب القتل ہونے کی دلیل اور اگر ذمی ہے تو اس کا ذمہ ٹوٹنے کی دلیل قرآن مجید، سنتِ رسول اللہ ﷺ، صحابہ اور تابعین کا اجماع اور ائمہ کا اتفاق ہے۔

قرآن مجید میں مختلف مقامات ہیں:

پہلا مقام: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَ لَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ ﴾

[التوبة: ٢٩]

”لڑائی کرو ان لوگوں سے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی آخرت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“

اللہ تعالیٰ نے ان کافروں سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے تا آنکہ وہ ذلیل ہو کر ٹیکس (جزیہ) دیں۔ لہٰذا ان کو اسی صورت میں چھوڑنا چاہیے کہ وہ ٹیکس دے کر ذلت کی زندگی گزاریں۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جب وہ جزیہ پابندی سے ادا کریں گے اور جب وہ اسے (مسلمانوں کے) سپرد کریں گے تو اس ساری مدت میں وہ ذلت کے عالم میں ہی رہیں گے اور جو اللہ تعالیٰ یا رسول

صفحہ 28

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اللہ ﷺ کی گستاخی کرے وہ حقیر نہیں ہو سکتا کیونکہ صاغر حقیر کو کہا جاتا ہے اور گستاخی طاقت ور اور علیحدگی اختیار کر کے دشمنی پر اترنے والے کا فعل ہے۔

دوسرا مقام: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖ﴾

[التوبة: ٧]

”مشرکوں کا عہد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد نہیں ہے۔“

﴿وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ
دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [التوبة: ١٢]

”اور اگر عہد کر کے یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمھارے دین پر طعنہ زنی کریں تو کفر کے اماموں کو قتل کرو۔“

اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے معاہدہ کی نفی کی ہے مگر جب تک وہ مسلمانوں سے صحیح برتاؤ کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک سے معاہدہ اسی شرط پر اتنی دیر تک قائم رہے گا۔ جتنی دیر تک وہ سیدھا رہے گا یہ بھی معلوم ہے کہ جو اعلانیہ طور پر ہمارے رب، ہمارے نبی، ہماری کتاب، ہمارے دین پر طنز کرے گا تو وہ ہماری استقامت کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہے۔ جیسے اگر وہ ہم سے جنگ کرے بلکہ ہم مومن ہوں تو یہ گستاخی ہم پر بڑی ناگوار گزرے، لہٰذا ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اپنے لہو اور اموال کا نذرانہ پیش کریں تاکہ اللہ کا کلمہ (دین) سر بلند ہو جائے اور ہمارے گھروں (شہروں) میں کوئی علانیہ طور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کی جرأت نہ کر سکے اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے:

﴿كَيْفَ وَ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّ لَا
ذِمَّةً﴾ [التوبة: ٨]

الصارم المسلول على

”ان کا عہد کس تمھاری رشتہ دا یعنی ان کا عہ کریں گے اور نہ ہ ہو کہ اگر وہ غالب ہو پیمان نہیں اور جو شخص کی دلیل ہے کہ اگر ذلت کی زندگی میں ای حکم اس آدمی کا نہیں تیسرا مقام: الل

﴿وَ اِنْ نَّكَثُوْ
دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا

”اور اگر یہ لوگ کریں تو ان کے یہ آیت کئی سط پر) دلالت کرتی ہیں۔

پہلی دلالت :

محض عہد و پیما طعن کو ذکر کرنا اس حکم اسباب میں سے ایک

... صلی اللہ علیہ وسلم ... الفاروق ص ۱۴۱-۱۴۲ مطبوعہ ۱۳... ... طریقہ: کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصر سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جا

صفحہ 29

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”ان کا عہد کس کام کا؟ اگر وہ تم پر غالب ہوں تو نہ وہ لحاظ رکھیں تمھاری رشتہ داری کا اور نہ اپنے عہد کا۔“

یعنی ان کا عہد کیسا ہوگا اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو وہ رشتہ داری کا پاس کریں گے اور نہ ہی عہد و پیمان کا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کی یہ فطرت ہو کہ اگر وہ غالب ہو تو پھر باہمی عہد و پیمان کی کوئی پاسداری نہیں، کوئی عہد و پیمان نہیں اور جو شخص اعلانیہ طور پر ہمارے دین کو تنقید کا نشانہ بنائے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ کبھی غالب آگیا تو وہ عہد کا وفا نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ذلت کی زندگی میں ایسا کر رہا ہے جب وہ باعزت ہوگا تو اس کا عالم کیا ہوگا؟ یہ حکم اس آدمی کا نہیں جو اعلانیہ طور پر طعن و تنقید نہیں کرتا۔

تیسرا مقام: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَ إِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾

[التوبة: ١٢]

”اور اگر یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمھارے دین میں طعن کریں تو ان کے سرداروں کو قتل کرو۔“

یہ آیت کئی سمتوں سے (گستاخ رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے پر) دلالت کرتی ہیں۔

پہلی دلالت:

محض عہد و پیمان توڑنا جنگ کا متقاضی ہے اور اس کے ساتھ دین میں طعن کو ذکر کرنا اس حکم کی مزید تخصیص کر دیتا ہے کہ یہ (دین میں طعن) ان قولی اسباب میں سے ایک ہے۔ جس کی بدولت جنگ لازم ہوچکی ہے کیونکہ اس

صفحہ 30

الصارم المسلول على شاتم الرسول

آیت سے قتال واجب ہو جاتا ہے۔

﴿ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ﴾ [التوبة: ١٢] ”کفر کے اماموں سے لڑو۔“

اور

﴿ أَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ ﴾ [التوبة: ١٣]

”تم ان لوگوں سے کیوں جنگ نہیں کرتے جنھوں نے اپنے معاہدے توڑ ڈالے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو نکالنے کا پروگرام بنایا۔“

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو صرف قسم توڑے اس سے دوبارہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اسے امن بھی دیا جا سکتا ہے، مگر جو دین میں طعن (تنقید) کرے اس کا قتل کرنا متعین ہو گیا یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے کہ آپ ہر اُس آدمی کا خون رائیگاں قرار دیتے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتا اور دین میں طعن کرتا۔

ایک اشکال:

اگر کوئی اعتراض کرے کہ جو دین میں طعن کرے اور اپنی قسم توڑے اس سے جنگ کرنا واجب ہے اور جو صرف دین میں تنقید کرتا ہے تو آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اکیلا عمل اس حکم کے وجوب کا سبب نہیں بنتا کیونکہ حکم (جنگ کا) دو صفتوں (نقض عہد، دین میں طعن) پر مشتمل ہے۔ لہذا ایک صورت کے فقدان کی وجہ سے حکم کا بھی فقدان ہوگا۔

حل:

ہمارا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ ہر صفت حکم میں مؤثر ہوتی ہے، اس لیے حکم

صفحہ 31

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کو کسی ایسی صفت سے معلق نہیں کیا جاسکتا، جس صفت میں کوئی تاثیر نہ ہو پھر کبھی کبھار ہر صفت اپنی تاثیر کے اعتبار سے مستقل ہوتی ہے۔

مثال مشہور ہے:

”يُقْتَلُ زَيْدٌ لِأَنَّهُ مُرْتَدٌّ زَانٍ .“

”زید قتل کیا جائے گا کیونکہ وہ مرتد اور بدکار ہے۔“

اور کبھی کبھار مجموعی بدلہ مجموعہ پر مرتب ہوتا ہے اور ہر صفت کی بعض میں تاثیر ہوتی ہے، جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ [الفرقان : ٦٨]

”وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ۔“

اور کبھی یہ صفات جو کچھ اس میں ہوتا ہے اس کو مستلزم ہوتی ہیں اگر بالفرض اسے علیحدہ کیا جائے تو وہ مستقل ہوگی یا مشترک تو وہ واجب کرنے کے لیے وضاحت اور بیان ہوگا، جیسے کہا جاتا ہے:

”كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهِ“

انھوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا ۔“

یا: ”عَصَى اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ“

”کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ۔“

اور کبھی کبھار بعض بعض کو مستلزم ہوتا ہے، جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَ يَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ [آل عمران : ٢١]

”وہ جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے کفر کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں۔“

صفحہ 32

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

یہ آیت جو کسی قسم سے متعلق ہو، فرض کی گئی ہے اس میں دلالت ہے۔ کیونکہ ہمارا مقصود یہ ہے کہ نقض عہد ہی جنگ کو جائز قرار دیتا ہے اور دین میں تنقید اس کی تاکید مزید ہے اور اس کے وجوب کا متقاضی ہے، اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ جب طعن (دین میں تنقید) کی وجہ سے ان لوگوں سے جنگ واجب ہوتی ہے جن کا ہم سے معاہدہ نہیں تو وہ لوگ جن کا ہم سے معاہدہ ہے ان لوگوں کا واجب القتل ہونا بالاولیٰ ہے۔

دوسری دلالت:

ذمی جب رسول اللہ ﷺ یا اللہ تعالیٰ کو گالی دے گا یا پھر اعلانیہ اسلام کی عیب جوئی کرے گا تو اس کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس نے ہمارے دین پر تنقید کی ہے۔ مسلمانوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ جرم کی وجہ سے سزا کا مستحق ہوگا اور اسے سبق سکھا دیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کوئی معاہدہ نہیں لہٰذا قرآنی آیت کی رو سے وہ واجب القتل ہے، یہ دلالت قوی اور عمدہ ہے کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے اپنا معاہدہ توڑ دیا ہے اور دین پر تنقید کی ہے اور قرآن مجید اسے واجب القتل قرار دیتا ہے جو عہد توڑے اور دین پر تنقید کرے۔

تیسری دلالت:

قرآن مجید نے ان کا نام ائمۃ الکفر ”کفر کے امام“ اس لیے رکھا ہے کہ وہ دین پر تنقید کرتے ہیں دوسرے یہ کہ یہ بتلایا ہے ان کا کوئی ایمان نہیں۔ یہ حکم ان سبھی لوگوں کو شامل ہے، جنھوں نے معاہدہ توڑا اور تنقید کی۔ کفر کا امام اپنے کفر کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ کفر کا امام دین میں طعن و تشنیع کی وجہ سے بنا۔ اور وہ

صفحہ 33

الصّارم المسلول على شاتم الرّسول

اسلام کے خلاف دعوت دیتا ہے، یہ امام کی شان ہے لہٰذا دین میں طعن کرنے والا ہر شخص کفر کا امام ہے اور اس سے جنگ کرنا قرآن مجید کی اس آیت کی رُو سے واجب ہے کہ ﴿فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ ”کفر کے اماموں سے جنگ کرو۔“

چوتھی دلالت:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِإِخْرَاجِ
الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُ وْكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [التوبة: ۱۳]

”تم کیوں نہیں لڑتے ان لوگوں سے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور انھوں نے قصد کیا رسول اللہ ﷺ کو نکالنے کا اور انھوں نے ہی پہلے تم سے چھیڑ خانی کی۔“

اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کو نکالنے کو ان چیزوں میں شمار کیا جو جنگ پر ابھارتی ہیں یہ اس وجہ سے اس میں رسول ﷺ کے لیے اذیت کا پہلو موجود ہے اور رسول ﷺ کو گالی دینا اس کو باہر نکالنے کے ارادہ سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ فتح مکہ کے سال آپ ﷺ نے لوگوں سے چشم پوشی کی جنھوں نے آپ ﷺ کو نکالنے کا پروگرام بنایا اور آپ نے گستاخان کو معاف نہیں کیا۔

پانچویں دلالت:

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِأَيْدِيْكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ
عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ﴾ [التوبة: ١٤]

”ان سے جنگ کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں رسوا کرے گا اور ان

صفحہ 34

...الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۲ھ) ... طریقہ: کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی

الصارم المسلول على شاتم الرسول کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔“ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکم دیا کہ جو عہد شکن ہیں، دین پر تنقید کرتے ہیں ان سے جنگ کرو اور ساتھ ہی ضمانت دی کہ جس وقت ہم یہ سرانجام دیں گے وہ انھیں عذاب دے گا، رسوا کرے گا اور ان کے خلاف ہماری مدد کرے گا اور ان مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا، جنھوں نے اس معاہدہ کو ٹوٹنے سے زک اٹھائی، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں سے غیظ و غصہ کو لے جائے گا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ عہد شکن، طعن کرنے والا ان سب چیزوں کا مستحق ہے اور گستاخی رسول ﷺ وعدہ خلاف، طعن کے نشتر چبھونے والا ہے لہٰذا وہ قتل کا بھی مستحق ہے۔

چھٹی دلالت:

یہ فرمان: ﴿ وَ يَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۝ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ﴾ [التوبة: ١٤، ١٥] ”اور وہ مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دلوں کے غصہ کو لے جائے گا۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دلوں نے جو تکلیف عہد شکنی اور دین پر تنقید کی شکل میں برداشت کی، اللہ تعالیٰ اس سے سینوں (دلوں) کو شفایاب فرمائے گا۔ اور مسلمانوں کا غصہ دور کرنا یہ ایسا معاملہ ہے جو شارع کو مطلوب ہے۔ لہٰذا جو رسول ﷺ کو گالی دے وہ مومنوں کو غضب میں مبتلا کرتا ہے اور انھیں زک پہنچاتا ہے اور یہ زک قتل کرنے، مال لوٹنے کی زک سے بھی زیادہ ہے لہٰذا یہ طرز عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے غضب کو بڑھاتا ہے۔➊

چوتھا مقام: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

➊ شیخ الاسلام نے ذکر کیا کہ یہ غیظ و غضب اس وقت ختم ہوگا جب گستاخ قتل کیا جائے گا، اس کی چار وجوہات ہیں، پھر انھیں شیخ الاسلام نے ذکر کیا۔

الصارم المسلول على شاتم الرسول ﴿ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْ ”کیا وہ نہیں جانتے کرے گا تو بے شک رہنے والا ہے، یہی بہ یہ آیت دلالت کر رسول ﷺ سے دشمنی ہے کیو ﴿ وَ مِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْ ”ان میں سے بعض ا اس آیت کا سب منافقوں کو جھاڑ پلائی ہے

پانچواں مقام: ا

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْ الْآخِرَةِ﴾ [الأحزاب ”یقیناً وہ لوگ ج دنیا اور آخرت میں اس آیت سے دے وہ واجب القتل اللہ اور اس کے رس اللہ ﷺ کا یہ فرمان ”کعب بن ا

صفحہ 35

کی سزائیں دی ہیں کہ جن سے انسانیت شرماتی ہے (مودودی“، کراچی ص ۱۱-۱۲، طبع ۱۴۱۳ھ) سزا کا طریقہ: کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: جنہوں نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرہ سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی

ں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔“ عہد شکن ہیں، دین پر تنقید کرتے ہیں کہ جس وقت ہم یہ سرانجام دیں گے ان کے خلاف ہماری مدد کرے گا اور انہوں نے اس معاہدہ کو توڑنے سے رُک و غصہ کو لے جائے گا، یہ اس بات کی ان سب چیزوں کا مستحق ہے اور گستاخی کرنے والا ہے لہٰذا وہ قتل کا بھی مستحق ہے۔

قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ۝ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا اور ان یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دلوں نے جو ان میں برداشت کی، اللہ تعالیٰ اس سے اور مسلمانوں کا غصہ دور کرنا یہ ایسا معاملہ کہ رسول ﷺ کو گالی دے وہ مومنوں کو پہنچاتا ہے اور یہ زک قتل کرنے، مال کی طرف عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے

ارشاد ہے: اس وقت ختم ہوگا جب گستاخ قتل کیا جائے گا، کلام نے ذکر کیا۔

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

﴿ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَ رَسُوْلَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ ﴾ [التوبة: ٦٣] ”کیا وہ نہیں جانتے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی کرے گا تو بے شک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے، یہی بہت بڑی رسوائی ہے۔“ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول ﷺ کو تکلیف دینا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان اس آیت کے بعد ارشاد فرمایا:

﴿ وَ مِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ ﴾ [التوبة: ٦١] ”ان میں سے بعض ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔“ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان مشرکوں اور منافقوں کو جھاڑ پلائی ہے جو آپ ﷺ پر گالم گلوچ کرتے تھے۔

پانچواں مقام: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ﴾ [الأحزاب: ٥٧] ”یقیناً وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دے وہ واجب القتل ہے اور ہم ان سے قطعاً اس پر معاہدہ نہیں کر سکتے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائیں، اس بات کی وضاحت رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے: ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ یقیناً اس نے اللہ اور

صفحہ 36

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے۔ ❶

فصل ❷

وہ آیات جو گستاخ کے کفر اور قتل پر دلالت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں جب وہ (گستاخ) معاہد (حلیف) نہ ہو، اگرچہ وہ ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھے رکھے، اس کے کفر اور قتل پر اجماع ہو چکا ہے۔ ❸

انہی آیات میں سے ایک آیت یہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَ مِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ﴾

[التوبة: ٦١]

”ان میں سے بعض ایسے ہیں جو نبی کو اذیت دیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ کان کا کچا ہے۔“

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾

[التوبة: ٦١]

”اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

﴿اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ فَاَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيْهَا ذٰلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيْمُ﴾

[التوبة: ٦٣]

”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے تو بے شک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے، یہی بہت بڑی رسوائی ہے۔“

صفحہ 37

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو زک پہنچانا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دشمنی رکھنا ہے کیونکہ ایذا کا ذکر دشمنی کے ذکر کا متقاضی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ایذا دشمنی میں داخل ہو یہ دخول اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایذا اور دشمنی کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے باخبر کیا کہ ایسے شخص کے لیے جہنم ہے وہ ہمیشہ ہمیش اس میں رہے گا۔ بلکہ دشمنی ہی عداوت ہے اور یہ کفر اور لڑائی ہے، رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے والا کافر، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دشمن، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے والا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ يَكْفِيْنِيْ عَدُوِّيْ)) ❶ ”میرے دشمن کے بارے میں کون مجھے کفایت کرے گا۔“

بیان کیا ہے، اس میں ایک راوی کا نام مذکور نہیں ہے۔ ابو نعیم نے حلیۃ (۸/ ۴۵) میں ابراہیم بن ادھم از مقاتل بن حیان از عکرمہ از ابن عباس سے ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم اس کے بعد فرماتے ہیں: ”ابراہیم یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اسی سند کے ساتھ لکھتے ہیں۔“ اسے عبدالرزاق (۵/ ۳۰۷) اور ان کی سند سے ابن حزم نے المحلی (۱۱/ ۴۱۳) میں سماک بن الفضل کی سند سے اور وہ از عروہ بن محمد السعدی از رجل من بلقین اسی طرح روایت کی ہے، اس میں قاتل کا نام خالد بن ولید مذکور ہے اور پہلی حدیث میں زبیر بن العوام ہے۔ اس حدیث سے علی بن المدینی نے نے بطور دلیل پیش کیا ہے، ابن حزم نے اس کی تصحیح کی ہے کہ یہ حدیث سنداً صحیح ہے۔ اس میں عروہ بن محمد السعدی کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کی۔ حافظ نے التقریب میں فرمایا: مقبول

صفحہ 38

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے:

﴿ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ ﴾ [المجادلة: ٢٢]

”آپ ایسی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے وہ ان لوگوں سے محبت کی پینگیں بڑھائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں۔“

جب وہ انسان مومن نہیں ہو سکتا جو کسی ایسے شخص سے محبت کرے جو دشمن ہے؟ تو جو خود دشمنی کرے گا اس کا عالم کیا ہوگا؟ کہا گیا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ابو قحافہ نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کو قتل کرنا چاہا۔❶ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن کافر ہے اس کا خون حلال ہے۔

دوسری دلیل❷ :

﴿ يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا ﴾ [التوبة: ٦٤]

”منافقین کو اندیشہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کی خبر دے دے۔“

اللہ فرماتے ہیں:

❶ ابن المنذر نے ابن جریج حدثت أن أبا قحافة سے بیان کیا ہے، دیکھیے: الدر المنثور (٦ / ٢٧٤) اسباب النزول (ص: ٤٧٨) للواحدی۔ اس آیت کے شان نزول میں اور اقوال بھی ہیں۔

❷ الصارم (٢ / ٧٠)

صفحہ 39

الصارم المسلول على شاتم الرسول

﴿ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهِ وَرَسُوْلِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ ﴾ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ ﴾ [التوبة: ٦٥ ، ٦٦] ”اے نبی! فرما دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ سے ٹھٹھا کرتے ہو؟ اب معذرتیں پیش نہ کرو تم یقیناً کافر ہوچکے ہو۔“

یہ آیت اس مسئلہ میں صریح نص ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کا مذاق اڑانا صریح کفر ہے، آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے ہر وہ شخص جو سنجیدگی کے عالم میں یا بطور مذاق رسول اللہ کا استہزا کرے۔ یقیناً اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔

تیسری دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِى الصَّدَقٰتِ ﴾ [التوبة: ٥٨] ”اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو صدقات و خیرات میں طعن کرتے (مذاق اڑاتے) ہیں۔“

”لمز“ کے معنی عیب جوئی اور طعنہ زنی کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ وَ مِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ ... ﴾ [التوبة: ٦١] ”کچھ ایسے ہیں جو رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں۔“

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس پر دلالت کرتا ہے ہر وہ شخص جو طعنہ زنی کرے، ایذا کوشی کا ارتکاب کرے یہ بھی انہی (منافقین) میں سے ہے، جب اللہ تعالیٰ

❶ الصارم (٢/ ٧٥)

صفحہ 40

...کی تباہی میں ۱۱-۱۲ کروڑ کا... طریقہ: ...در حقیقت جاتی رہی ہے: ...عورتوں نے تجربوں کے دوران اپنے ایک ممبر... ...جنگ میں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے... ...ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جا...

الصارم المسلول على شاتم الرسول

نے خبر دی کہ جو رسول اللہ ﷺ کے خلاف عیب جوئی کرتے ہیں اور آپ ﷺ کو اذیت پہنچاتے ہیں وہ منافق ہیں ثابت ہو گیا کہ یہ (ایذا) نفاق کی دلیل ہے۔

چوتھی دلیل:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتَّى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ﴾

[النساء: ٦٥]

”تیرے پروردگار کی قسم! وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنے جھگڑوں میں منصف مان نہ لیں۔“

اللہ تعالیٰ نے بذات خود قسم اٹھائی کہ وہ اتنی دیر تک مومن نہیں ہو سکتے۔ جتنی دیر تک وہ باہمی جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے میں کسی قسم کی اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ آپ کے حکم کو خوب اچھی طرح ظاہراً و باطناً تسلیم کر لیں۔

اس آیت سے پہلے ارشاد فرمایا:

﴿ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ أَنَّهُمْ آمَنُوْا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُوْنَ أَنْ يَّتَحَاكَمُوْا إِلَى الطَّاغُوْتِ﴾ [النساء: ٦٠]

”کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کا خیال ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ ﷺ پر اور جو آپ ﷺ سے پہلے انبیاء پر نازل کیا گیا، وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جائیں۔“

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

الصارم المسلول على شاتم

﴿وَ إِذَا قِيْلَ لَهُمُ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ

”اور جب ان سے نازل کیا اور رسول ﷺ کو دیکھیں گے وہ ا

اس آیت سے م اللہ ﷺ کی طرف بلا ہے، اسی آیت کے ساتھ

﴿ إِنَّمَا كَانَ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ

”مومنوں کا قول طرف بلایا جائے

ہم نے سن لیا اور لہٰذا جو شخص رسو موڑ لیا وہ منافق ہے، نے سن لیا اور ہم نے م سے معلوم ہو گیا تو جو مومن

پانچویں دلیل:

ارشاد باری تعا

❶ الصارم (٨٥/٢)

صفحہ 41

الصارم المسلول على شاتم الرسول

﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا﴾ [النساء: ٦١] ”اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اور رسول ﷺ کی طرف جو نازل ہوا ہے آپ ﷺ منافقوں کو دیکھیں گے وہ اعراض کریں گے، آپ سے سخت اعراض کرنا۔“

اس آیت سے معلوم ہوا ہے کہ جسے فیصلے کے لیے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی طرف بلایا جائے اور وہ رسول ﷺ سے اعراض کرے وہ منافق ہے، اسی آیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی موجود ہے:

﴿ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا﴾ [النور: ٥١] ”مومنوں کا قول جب انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جائے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں تو وہ کہتے ہیں ہم نے سن لیا اور ہم نے سر تسلیم خم کر لیا۔“

لہٰذا جو شخص رسول ﷺ کی اطاعت سے پھر گیا اور اس کے حکم سے منہ موڑ لیا وہ منافق ہے، مومن نہیں ہو سکتا بلکہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ کہے ”ہم نے سن لیا اور ہم نے مان لیا۔“ نفاق محض رسول ﷺ کے حکم سے اعراض کرنے سے معلوم ہو گیا تو جو رسول ﷺ کی تنقیص کرے اور گالی گلوچ بکے وہ کیسا ہو گا؟

پانچویں دلیل ❶:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

❶ الصارم (٢/ ٨٥)

صفحہ 42

الصارم المسلول على شاتم الرسول

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ ﴾ [الأحزاب: ٥٧]

”یقیناً وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں۔“

اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی ایذا کو اپنی ایذا کے ساتھ ذکر کیا ہے جیسے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور یہ فضیلت کئی دلائل سے ثابت ہو چکی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ایذا دے گا وہ کافر ہو گا اس کا خون حلال ہوگا، اس کی مزید توضیح اس سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی عداوت، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دشمنی، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی معصیت کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے، اس آیت میں دو حقوق کا باہمی تلازم ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جہت ایک ہی ہے، لہٰذا جس نے رسول ﷺ کو اذیت دی گویا اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی کیونکہ اللہ اور اس کی مخلوق کے مابین کوئی واسطہ نہیں، کسی ایک کے لیے رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اوامر اور نواہی، عقائد اور ان کے بیان کے لیے اپنا مقام رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا۔ لہٰذا یہ جائز نہیں کہ ہم ان امور میں اللہ اور ان رسولوں کے درمیان تفریق کریں۔

صفحہ 43

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے میں اور مومن مردوں اور عورتوں کو اذیت دینے میں تفریق بتلائی اور اسے بہتان اور کھلم کھلا گناہ قرار دیا اور اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی ایذا کے بارے میں فرمایا کہ اس کے مرتکب پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اس کے لیے انتہائی رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ بھی معلوم ہے کہ جو مومنین کو اذیت دے گا اسے کوڑے لگائے جائیں گے کیونکہ یہ اذیت کبیرہ گناہوں میں شامل ہے اور اس سے زیادہ کفر اور قتل ہے، اسی طرح یہ بھی کہ وہ ملعون ہیں۔ ❶ اور لعنت کے معنی ہیں رحمت سے دوری اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دنیا اور آخرت میں صرف کافر ہی دھتکارا جائے گا، لہٰذا اس کے خون کو گرنے سے بچایا نہیں جا سکتا، بلکہ اس کا خون مباح (رائیگاں) ہے کیونکہ اس کے خون کا تحفظ عظیم رحمت ہے، اس کی تائید اس ارشادِ باری سے بھی ہوتی ہے:

﴿ مَّلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا ﴾

[الأحزاب: ٦١]

”ملعون ہیں، جہاں بھی وہ پائے جائیں انھیں پکڑا جائے اور زبردست انداز میں ان کا کشت وخون کیا جائے۔“

یہ آیت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ جو لوگ بھی قرآن مجید میں ملعون قرار دیے گئے ہیں یا تو وہ کافر ہیں یا پھر مباح الدم (رائیگاں خون والے)۔

اعتراض:

اگر کوئی اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ﴾

[النور: ٢٣]

❶ كذا والاصح: فإنه كما في ”الصارم“

صفحہ 44

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”وہ لوگ جو پاکباز، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں۔“ لہٰذا صرف زنا کی تہمت سے کفر لازم نہیں آتا۔

جواب:

یہ آیت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کا قول ہے۔ ❶

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں رسول ﷺ پر طعن ہے اور آپ کو اذیت میں مبتلا کرنا ہے، اسی بنا پر امام احمد کا رجحان ایک روایت میں اس طرف گیا ہے کہ جو کسی غیر آزاد عورت پر تہمت لگاتا ہے، مثلاً وہ لونڈی ہے یا ذمیہ، اور اس کا آزاد خاوند یا آزاد بیٹا ہے، اس غیر آزاد عورت پر تہمت لگانے کی وجہ سے اس کے مرتکب کو حد لگائی جائے گی، کیونکہ اس پر تہمت لگنے کی وجہ سے اس کے آزاد خاوند یا آزاد بیٹے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، لہٰذا یہ آیت ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو نبی ﷺ کی بیویوں پر تہمت تراشتے ہیں، اگر وہ ان بیویوں کے عیب سے نبی ﷺ کا عیب مراد لے تو وہ منافق ہوگا اور جو کسی مسلمان عورت پر تہمت لگائے وہ فاسق ہوگا باستثنائے کہ وہ توبہ تائب ہو جائے، اللہ رب العزت کے کلام ﴿يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ﴾ میں الف و لام عہدی ہے، جو معہود (ذہن میں موجود چیز) کی طرف لوٹتا ہے اور وہ

❶ اسے ابن ابی حاتم اور الحاکم ابن مردویہ نے بیان کیا ہے، حاکم نے تصحیح بھی کی ہے، بحوالہ الدر المنثور (٥/ ٦٤) مستدرک حاکم کی سند میں سعید بن مسعود المروزی ہے، اسے ابن حبان نے الثقات (٨/ ٢٧١) میں ذکر کیا ہے، اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ یزید بن مروان سے روایت کرتا ہے حالانکہ یہ یزید بن ہارون سے تصحیف ہے۔

صفحہ 45

الصارم المسلول على شاتم الرسول

معہود نبی اکرم ﷺ کی بیویاں ہیں کیونکہ یہ آیتیں واقعہ افک کے بارے میں ہیں، یا پھر عام لفظ کو اس کے خاص سبب کی وجہ سے لوٹایا جائے گا، اس دلیل کے پیش نظر جو یہ واجب کرتی ہے۔ کیونکہ ازواج النبی ﷺ کے ایمان کی گواہی موجود ہے اور وہ مومنوں کی مائیں ہیں اور وہ دنیا اور آخرت میں رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ﴾ [النور: ۱۱]

”اور جس نے اس (طوفان) کا بیڑا اٹھایا اس کے لیے سخت عذاب ہوگا۔“

اس سے معلوم ہوا کہ جو امہات المومنین پر تہمت تراشتا ہے وہ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی عیب جوئی کرتا ہے اور وہ قصہ افک کا بہت بڑا سرغنہ بنا۔ یہ عبداللہ بن ابی منافق کی صفت ہے، اس نے اپنے نفاق کی بدولت ازواج مطہرات پر تہمت تراشی کی اگر اس کا ارادہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانے کا ہے تو یہ مباح الدم ہے، یا پھر اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بات معلوم ہونے کے بعد کہ وہ آخرت میں بھی نبی اکرم ﷺ کے نکاح میں رہیں گی، انھیں تہمت بازی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کسی بھی نبی کی کسی بیوی نے کبھی سرکشی (زنا) نہیں کی۔ اسی لیے تو آپ ﷺ نے فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری اور مسلم میں ہے: ”کون مجھے الزام سے بری کرے گا۔“ جس نے میرے اہل بیت میں مبتلا کر کے مجھے زک پہنچائی، اللہ کی قسم! مجھے صرف اپنے اہل وعیال کے بارے میں نیکی ہی معلوم ہے۔“ ❶

اسی حدیث میں ہے: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”میں آپ ﷺ کو اس کے الزام سے بری کروں گا اگر اس کا تعلق

❶ صحيح البخاري، رقم الحديث (٢٦٣٧، ٤١٤١ وغيرها) و صحيح مسلم، رقم الحديث (٢٧٧٠) من حديث عائشة رضي الله عنها.

صفحہ 46

الصارم المسلول على شاتم الرسول

قبیلہ اوس سے ہوا تو ہم اس کی گردن تن سے جدا کر دیں گے۔“ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد ؓ کی یہ مشاورت کہ ان کی گردنوں کو اُڑا دیا جائے، سُن کر انکار نہیں فرمایا، اگرچہ قصہ افک میں حضرت مسطح، حضرت حسان، حضرت حمنہ شامل تھے مگر ان کے بارے میں ایسی سزا وارد نہیں ہوئی، بلکہ انھیں منافقین کی فہرست میں بھی شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس جرم کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان سے کسی کو قتل کروایا بلکہ اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کو کوڑے لگائے گئے یا نہیں کیونکہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان سے کوئی ایسی علامت ظاہر ہوئی جس سے معلوم ہوتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانا چاہتے تھے اور عبداللہ بن ابی کا معاملہ تو ان سے یکسر مختلف تھا وہ تو ارادہ ہی تکلیف پہنچانے کا رکھتا تھا۔

اسی طرح یہ بات بھی ہے: صحابہ کرام ؓ کے ہاں یہ متعین نہیں تھا کہ آپ ﷺ کی دنیا والی بیویاں ہی آخرت میں بیویاں بنیں گی، لہٰذا ان بیویوں سے زنا کا صدور عقلی طور پر ممکن تھا اسی بنا پر تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے قصہ میں توقف کیا۔

آیت کا دوسرا رخ:

آیت عمومی ہے مگر کئی سندوں سے یہ مروی ہے کہ ”پاکباز عورتوں پر تہمت بازی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔❶“ پھر یہ بھی کہا گیا ہے۔❷ کہ مکہ

ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ارشاد فرمایا: ”سات برباد کرنے والی چیزوں سے بچو“، اور ان میں پاکباز عورتوں پر تہمت بازی کو بھی ذکر کیا ہے۔ (صحیح البخاري، حديث: ٢٧٦٦ و صحيح مسلم، حديث: ٨٩)

صفحہ 47

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کے مشرکوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جب کوئی عورت ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی طرف جانے کا قصد کرتی تو مشرکین مکہ اس پر تہمت تراشتے تھے، اس اعتبار سے مومن عورتوں پر تہمت اس وجہ سے کی جاتی تاکہ ان کے قبول ایمان کے سلسلے کو مسدود کیا جا سکے اور مشرکین مکہ اس تہمت کی وجہ سے مومنوں کو اذیت پہنچانا چاہتے تھے تاکہ انھیں اسلام سے متنفر کیا جا سکے جیسے کہ کعب بن اشرف (یہودی) کا طرز عمل تھا۔

اس بنا پر جو یہ کام سرانجام دیتا ہے وہ کافر ہے اور یہ اذیت رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے مترادف ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے، یہ آیت عام اور مطلق ہے: مگر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾ ﴿النور: ۲۳﴾ ”دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی گئی ہے۔“

”لُعِنُوْا“ مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ لعنت کرنے والا مذکور نہیں، اس لیے ممکن ہے اس لعنت کا فاعل اللہ تعالیٰ کے علاوہ فرشتوں اور لوگوں کو قرار دیا جائے، یہ بھی ممکن ہے کہ ایک وقت میں اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کریں، یا پھر ان کے کچھ لوگوں پر لعنت کریں اور دوسرے وقت میں دوسری مخلوق ان پر لعنت کرے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرتے ہیں جس کی تہمت تراشی دین میں تنقید کا باعث بنتی ہے اور مخلوق کا دوسرے لوگوں پر لعنت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان کے خلاف بد دعا کرتے ہیں اور کبھی کبھار اس کا یہ معنی بھی ہوتا ہے کہ وہ ان مرتکبین کو اللہ کی رحمت سے دور رکھتے ہیں اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو وہ دونوں لعان کریں گے (ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے)۔

صفحہ 48

الصارم المسلول على شاتم الرسول

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَذِبِيْنَ ﴾

[آل عمران: ٦١]

”ہم لعنت بھیجتے ہیں جھوٹوں پر۔“

تہمت تراشنے والے پر لعنت کا مطلب یہ ہے کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اس کی گواہی کو رد کر دیا جائے اور اسے فاسق و فاجر قرار دیا جائے، یہ اس کی سزا ہے، اسے امن مقبولیت کے مقامات سے دور کر دیا جائے گا، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اس آدمی کے خلاف ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے باخبر فرمایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہر قسم کی مدد کے ختم کرنے کا ذریعہ قرار پاتی ہے اور اسے رحمت کے اسباب سے دور لے جاتی ہے، اس کی تائید اس فرمان باری تعالیٰ سے ہوتی ہے:

﴿ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ﴾

[الأحزاب: ٥٧]

”اور اس نے ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔“

اور رسوا کن عذاب قرآن مجید میں صرف کافروں کے لیے ہی مذکور ہوا ہے، جس طرح ارشاد ہے:

﴿ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ ﴾

[البقرة: ٩٠]

”اور کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔“

رہا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:

﴿ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ ﴾

[النساء: ١٤]

”اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے بڑھ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں لے جائے گا وہ

صفحہ 49

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہمیشہ اس میں رہے گا اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔“ یہ وہ شخص ہوگا جو فرائض کا انکار اور استخفاف کرے گا مگر اس کے باوجود یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ عذاب اس کے لیے تیار کر رکھا ہے، عذاب تو کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے، جہنم انھیں کے لیے پیدا کی گئی کیونکہ یہ لازمی طور پر اس میں داخل ہوں گے اور کبھی اس سے نکل نہ سکیں گے۔ اور جو مومن کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کریں گے ان کے لیے گنجائش ہوگی کہ ان کو معاف کر دیا جائے اور جہنم میں داخل نہ کیا جائے اور اگر وہ داخل ہو بھی گئے تو وہ اس سے نکل جائیں گے اگرچہ تھوڑی مدت بعد۔

چھٹی دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ﴾

[الحجرات: ۲]

”نہ بلند کرو تم اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے۔“

اس آیت کی دلالت یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انھیں اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا اور اس طرح پکارنے سے بھی منع کیا ہے جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کیونکہ بسا اوقات یہ رویہ اعمال کی بربادی کا سبب بھی بن جاتا ہے اور اس کے فاعل کو اس کا شعور ہی نہیں ہوتا اور جو چیز اعمال کو اکارت کر دے اس کا ترک کرنا واجب ہے، اسی طرح کفر کی وجہ سے بھی نیک اعمال برباد ہوجاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ﴾

[المائدة: ٥]

صفحہ 50

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”اور جو کفر کرے ایمان کے ساتھ یقیناً اس کے عمل ضائع ہو گئے۔“

کفر کے بغیر اعمال ضائع نہیں ہوتے کیونکہ جو ایمان کی حالت میں فوت ہو وہ لازماً جنت میں داخل ہوگا اور اگر اس کے سارے عمل ضائع ہو جائیں تو وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ہاں! بسا اوقات بعض ایسے اسباب بھی بعض اعمال ضائع کر دیتے ہیں، جیسے احسان جتلانا، یا کسی کو اذیت پہنچانا۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ آواز کو بلند کرنا اور زور سے گفتگو کرنا یہ ایسا عمل ہے جس کے مرتکب کو کافر قرار دینے کا اندیشہ اور اسے اس کا ادراک بھی نہ ہو سکے گا کیونکہ اس میں بے ادبی اور تحقیر ہے حالانکہ اسے اس کا شعور ہی نہیں، اس انسان کا کیا ہوگا جو گالی گلوچ کرتا ہے، آپ ﷺ کی تحقیر کرتا ہے، ارادتاً آپ ﷺ کو تکلیف پہنچاتا ہے اور جان بوجھ کر ایسا طرزِ عمل اپناتا ہے، وہ تو بالاولیٰ کافر ہوگا۔

ساتویں دلیل:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾

[النور: 63]

”تم رسول ﷺ کو اپنے درمیان اس طرح نہ بلاؤ جیسے تمھارا ایک دوسرے کو بلانا ہے۔“

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ ﴾

[النور: 63]

”پس چاہیے کہ ڈر جائیں وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے

صفحہ 51

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہیں کہ پہنچے انھیں فتنہ یا پہنچے انھیں دردناک عذاب۔“

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کریں وہ فتنہ سے ڈر جائیں اور فتنہ سے مراد ارتداد (مرتد ہونا) یا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتّٰى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾

[البقرة: ١٩٣]

”ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے۔“

امام احمد فرماتے ہیں ❶:

”فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ممکن ہے کہ جب کوئی شخص کسی فرمان کو رد کر دے تو اس کے دل میں ٹیڑھ پن واقع ہو جائے اور وہ (کجی) اسے ہلاک کر دے اور پھر یہ آیت تلاوت کی:

﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾

[النساء: ٦٥]

”تیرے رب کی قسم وہ ایمان دار نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو منصف تسلیم کریں۔“

نیز فرمایا ❷:

میں ان لوگوں پر تعجب کرتا ہوں جنھوں نے اسانید اور ان کی صحت کو پہچانا اور پھر وہ فلاں، فلاں کی رائے کی جانب اپنا میلان رکھتا ہے، امام احمد نے فرمایا۔

صفحہ 52

الصارم المسلول على شاتم الرسول

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ﴾

[النور: ٦٣]

”پس ڈرنا چاہیے ان لوگوں کو جو آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ انھیں فتنہ نہ آ گھیرے۔“

تم جانتے ہو فتنہ کیا ہے؟ وہ کفر ہے وہ حدیث کی طرف بلائے جاتے ہیں اور ان کی خواہشات انھیں ”رائے“ کی طرف بلاتی ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرنے والے کو کفر یا دردناک عذاب سے ڈرایا گیا اور اسے کفر تک پہنچایا گیا ہے۔ جب اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کے حق کا استخفاف ہوگا تو یہ ابلیس کا فعل ہوگا۔

اور وہ انسان کیسا ہوگا جو اس (استخفاف) سے گھناؤنا جرم کرتا ہے، جیسے وہ گستاخی کرتا ہے یا شان اقدس کی توہین کرتا ہے؟ یہ موضوع انتہائی وسیع ہے اور اس پر اجماع بھی ہوچکا ہے۔ الحمدللہ!

آٹھویں دلیل:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا...﴾ [الأحزاب: ٥٣]

”اور تمھارے لائق نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ اور نہ تم اس کی وفات کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔“

اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر یہ حرام قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کیا جائے کیونکہ یہ عمل آپ ﷺ کو

صفحہ 53

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اذیت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی یہ بہت بڑا ہے، پھر جو شخص آپ ﷺ کی بیویوں سے نکاح کرے یا پھر آپ ﷺ کی مملوکہ لونڈیوں سے نکاح کرے اس کی سزا قتل ہے کیونکہ اس نے حرمت کو پامال کیا ہے، گستاخ رسول ﷺ تو بالاولیٰ واجب القتل ہوگا اور اس کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے۔❶

حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی پر رسول اللہ ﷺ کی مملوکہ لونڈی سے بدکاری کا الزام تھا، آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حکم فرمایا کہ اس کی گردن تن سے جدا کر دی جائے، حضرت علی ؓ جب اس کے پاس پہنچے تو وہ کنویں میں پانی سے ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا۔ حضرت علی ؓ نے اسے کہا: باہر نکل، اس نے اپنے ہاتھ حضرت علی ؓ کو تھمایا تو حضرت علی ؓ نے اسے باہر نکالا تو اچانک کیا دیکھا کہ وہ تو خواجہ سرا ہے اس کا عضو تناسل ہی نہیں، حضرت علی ؓ یہ منظر دیکھ کر رک گئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کو آ کر اطلاع دی کہ وہ تو مخنث ہے اس کا عضو تناسل نہیں، اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ نے قیلہ❷ بنت قیس، جو اشعث کی ہمشیرہ تھیں، سے نکاح کیا اور آپ ﷺ اس سے دخول کیے بغیر فوت ہو گئے اور وہ عورت بھی آپ ﷺ کے پاس آ نہ سکی۔❸

ایک قول یہ بھی ہے کہ اسے اختیار دیا گیا کہ وہ پردہ کر کے امہات المومنین میں شامل ہو جائے یا پھر وہ طلاق لے کر جس سے مرضی نکاح کر لے تو اس نے نکاح کو اختیار کیا، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عکرمہ نے

❶ صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۷۱) ❷ اس کا نام قتیلہ بھی مذکور ہوا ہے۔ ❸ اسے ابو نعیم نے معرفۃ الصحابۃ (۶/ ۳۲٤۵) میں ابن عباس سے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ”الاصابہ“ میں کہا ہے: موصول قوی الاسناد

صفحہ 54

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ان سے نکاح کر لیا، جب حضرت ابوبکر ؓ کو اس معاملہ کی خبر ہوئی تو انھوں نے ان دونوں (قیلہ اور حضرت عکرمہ) کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا، یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یہ امہات المومنین میں سے نہیں ہے تو حضرت ابوبکر ؓ نے اسے چھوڑ دیا۔ ❶

فصل ❷

یہی مسئلہ کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے:

پہلی حدیث:

امام شعبی حضرت علی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودن رسول اللہ ﷺ کی گستاخی اور الزام تراشی کرتی تھی، ایک آدمی (خاوند) نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا، اسے ابو داود❸، ابن بطہ❹ نے روایت کیا ہے، امام احمد نے اس سے استدلال کیا ہے❺، یہ بھی مروی ہے کہ یہ آدمی نابینا تھا❻، یہ عمدہ حدیث ہے اور

❶ اسے ابن جریر نے تفسیر (١٠/ ٣٦٧) میں عامر شعبی سے مرسلاً بیان کیا ہے۔

❷ الصارم (٢/ ١٢٥)

❸ رقم (٤٣٦٢)

❹ سنن ابن بطہ جیسا کہ شیخ الاسلام نے ذکر کیا ہے، یہ کتاب طبقات الحنابلة (٣/ ٢٧٠) میں ان کے سوانح عمری میں موجود ہے۔ یہ کتاب گم شدہ کتب کے زمرہ میں ہے۔

❺ عبداللہ نے ان سے (احمد) سے بیان کیا ہے، جیسا کہ الخلال نے الجامع (٢/ ٣٤١) میں ذکر کیا ہے۔

❻ خلال نے الجامع لأحكام أهل الملل (٢/ ٣٤١) میں شعبی سے مرسلاً بیان کیا ہے۔

صفحہ 55

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

متصل ہے کیونکہ شعبی نے حضرت علی ؓ کو دیکھا ہے۔ ❶ اگرچہ یہ مرسل ہے مگر مکمل طور پر حجت ہے، کیونکہ محدثین کے ہاں شعبی صحیح المراسیل ہے۔ اس کی ہر مرسل صحیح ہے۔ ❷ یہ قصہ گستاخ رسول ﷺ کے قتل میں صریح ہے۔ اور یہ اس کی بھی دلیل ہے کہ ذمی واجب القتل ہے، مسلمان مرد وعورت اگر گستاخی کریں گے تو وہ بالاولیٰ واجب القتل ہوں گے۔

دوسری حدیث ❸ :

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: ایک نابینے آدمی کی لونڈی تھی، جس کے بطن سے اس کا بیٹا بھی تھا، رسول اللہ ﷺ کو دشنام دیتی اور آپ ﷺ پر تنقید کے نشتر چلاتی تو اس نابینے نے باریک نوک دار نیزے والی چھڑی پکڑی اور اسے اس عورت کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اتنا زبردست دباؤ ڈالا کہ اسے قتل کر ڈالا، پھر یہ قصہ نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ اُسے امام ابو داود اور امام نسائی نے روایت

❶ دیکھیے: جامع التحصیل (ص: ٢٠٤) و تحفة التحصيل (١: ١٦٨ب) شعبی کی حضرت علی سے روایت صحیح بخاری (٦٨١٢) میں ہے، بعض محدثین نے اس کی تردید کی ہے۔ امام دارقطنی نے صراحت کی ہے کہ شعبی نے حضرت علی سے صرف یہی حدیث سنی ہے۔ دیکھیے: فتح الباري (١٢/ ١٢١)

❷ اسے عجلی نے ذکر کیا ہے، ابن المدینی نے قوت میں شعبی کی مراسیل کو ابن المسیب کی مراسیل سے ملایا ہے۔ دیکھیے: شرح علل الترمذي لابن رجب (١/ ٥٤٣)

❸ الصارم (٢/ ١٤٠)

صفحہ 56

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کیا ہے۔ امام احمد نے اس سے استدلال کیا ہے۔❷ ممکن ہے کہ یہ قصہ پہلی حدیث والا ہی ہو کیونکہ یہ عورت بھی یہودن تھی، قاضی ابو یعلی وغیرہ کا یہی قول ہے اور انھوں نے ان دونوں حدیثوں میں مذکور قصہ کو ایک ہی قرار دیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے یہ دوسرا قصہ ہے۔ امام خطابی فرماتے ہیں:❸ ’’اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے کیونکہ گستاخی ارتداد ہے۔‘‘

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام خطابی کے ہاں یہ عورت مسلمان تھی مگر حدیث میں اس کا ثبوت نہیں ہے بلکہ بظاہر وہ کافرہ ہی معلوم ہوتی تھی، کیونکہ حدیث میں ہے کہ اس کے آقا نے اسے بار بار تنبیہ کی۔ اور اگر وہ مرتد تھی تو اس سے ازدواجی تعلقات قائم رکھنا بھی جائز نہیں تھا اور نہ ہی اتنی طویل مدت اسے ڈھیل دینا تھی۔

تیسری حدیث:

جو امام شافعی کی دلیل ہے کہ ذمی جب گستاخی کرے گا تو واجب القتل

نے بیان کیا ہے۔ الحاکم (٤ / ٣٥٤) بیہقی (٧/ ٦٠) عن عثمان الشحام عن عکرمۃ عن ابن عباس بہ ، امام حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے۔ ابن حجر بلوغ المرام (٢/ ١٣٨) میں فرماتے ہیں: ’’اس کے راوی ثقہ ہیں۔‘‘

صفحہ 57

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہوگا، وہ کعب بن اشرف یہودی کا قصہ ہے، اس کا قصہ مشہور و معروف ہے۔ ❶

اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے۔‘‘

حضرت محمد بن مسلمہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ اسے قتل کروانا چاہتے ہیں، ارشاد فرمایا: ’’ہاں‘‘ محمد بن مسلمہ ؓ نے عرض کیا کہ کہ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں آپ ﷺ کے خلاف کچھ کہہ سکوں۔ ❷

آپ ﷺ نے اجازت دے دی، حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کعب کے پاس آئے اور شکایت کرنے لگے کہ اس آدمی نے صدقہ و خیرات مانگ مانگ کر ہمارا جینا دو بھر کر دیا ہے، جب کعب نے سنا تو کہنے لگا: ہاں اللہ تعالیٰ کی قسم! تم ضرور اس آدمی (رسول اللہ ﷺ) سے اکتا جاؤ گے، پھر پورا واقعہ بیان کیا، پھر محمد بن مسلمہ نے اسے موت کی بھینٹ چڑھا دیا، یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے، کعب نے جب نبی کریم ﷺ کی ہجو کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا، کعب کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہمارے ساتھی کو اچانک اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے حالانکہ وہ ہمارے سردار تھے۔

تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اگر وہ قیام کرتا جیسے دوسرے قیام کرتے ہیں تو اسے اذیت (قتل نہ کیا جاتا) نہ دی جاتی، لیکن اس نے ہمیں تکلیف دی ہے۔ ❸ اور

❶ صحيح البخاري حديث (٢٥١٠) و مسلم (١٨٠١) وغيره، عن جابر بن عبدالله

❷ زيادة متعينة.

❸ الصارم (٢/ ١٥٢) میں ہے: ’’جیسا اس کے ہم خیال دوسرے زندگی گزار رہے ہیں، وہ قتل نہ کیا جاتا۔‘‘

صفحہ 58

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اشعار کے ذریعے سے ہماری ہجو کی ہے اور تم میں سے کوئی بھی یہ کام کرے گا تو تلوار اس کا کام تمام کرے گی۔‘‘

یہود ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے اور جس دن کعب بن اشرف قتل کیا گیا اس دن سے احتیاط کرنے لگے، کعب (مسلمانوں کا) حلیف تھا، جب اس نے گستاخی کی تو اس کا معاہدہ ٹوٹ گیا، اسی بنا پر تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے۔‘‘ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دے گا وہ واجب القتل ہے اور مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ گستاخی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتی ہے، لہٰذا اس کا مرتکب واجب القتل ہے۔

چوتھی حدیث ➊ :

حضرت علی ؓ سے بیان کیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو نبی ﷺ کی گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے اور جو صحابہؓ کرام کی گستاخی کرے اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔‘‘

اسے ابو محمد الخلال، امام ابو القاسم الازجی اور امام ابو ذر الہروی نے روایت کیا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا قتل بغیر توبہ کروائے کیا گیا لیکن اس میں عبدالعزیز بن الحسن بن زبالہ ضعیف راوی ہے جیسا کہ شیخ الاسلام نے صراحت فرمائی ہے۔ ➋

➊ الصارم (۲ / ۱۸۸)

➋ الصارم (۲ / ۱۹۱) میں فرمایا: ابن زبالہ اسے مسلسل ہاشمیوں کی سند سے بیان کرتے

ہیں اس کے بارے میں دل میں کھٹکا ہے، اس با برکت سند سے منکر متن جوڑ دیا گیا ہے۔ ذہبی نے میزان (۳ / ۳۴۱) میں ابن زبالہ کے ترجمے میں اس پر نکارت کا حکم لگایا ہے۔ اس کی ایک متابعت بھی موجود ہے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اسے عبیداللہ ⬅

صفحہ 59

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پانچویں حدیث:➊

عبداللہ حضرت ابو برزۃ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ سے بدتمیزی کی، میں نے اجازت مانگی: اسے قتل کر دوں؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ نے مجھے ڈانٹ پلائی اور ارشاد فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کی گستاخی پر قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘

اسے امام نسائی نے بیان کیا ہے۔➋ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ کی گستاخی کی تو پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ نے یہ ارشاد فرمایا، اسے امام ابو داود نے السنن میں بیان کیا ہے۔➌ علماء کی ایک جماعت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ قتل کیا جائے گا، جن علماء میں امام ابو داود، امام اسماعیل بن اسحاق، امام ابوبکر بن عبدالعزیز اور قاضی ابویعلیٰ وغیرہ شامل ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے فی الجملہ جو بھی گستاخی کرے گا، اس کا قتل جائز ہے اور یہ ہر مسلمان اور کافر کے لیے عام ہے۔

چھٹی حدیث:➍

عصماء بنت مروان کا واقعہ ہے، جسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ بیان

← العمری از ابن ابی اویس از ہشیم بیان کرتے ہیں۔ اسے طبرانی نے الاوسط (۵/ ۳۶، ۳۵) الصغیر (۱/ ۳۹۳) میں بیان کیا ہے۔ عمری جھوٹ کی تہمت سے متہم ہے۔

مطرف بن الشخیر از ابو برزۃ بیان کرتے ہیں۔

صفحہ 60

60 الصارم المسلول على شاتم الرسول

رو قیمت جاتی رہی ہے: رین نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے ک میں کی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی

کرتے ہیں کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”من لي بها“ ”اس عورت سے میرا انتقام کون لے گا؟“ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میں اس کا کام تمام کروں گا، وہ آدمی گئے اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی آپ ﷺ نے فرمایا: ((لا ينتطح بها عنزان)) ”اس معاملہ میں دو رائے نہیں ہیں۔“❶ اہل المغازی کے ہاں اس کا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے، اس عورت کے قاتل کا نام عمیر بن عدی تھا تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے چند اشعار میں ان کی مدح سرائی کی۔❷

بنو وائل، بنو واقف اور خطمہ، بنو خزرج کے علاوہ جب تمھاری بہن نے گریہ زاری سے اپنی ہلاکت کو بلایا تو اموات واقع ہو رہی تھیں، جب اس کے طعنے نے ایک معزز نوجوان کو جھنجھوڑا جو لین دین کے اعتبار سے انتہائی عمدہ ڈھنگ کا مظہر تھا، پس اس نے اسے جسم کے اندرونی خون سے لت پت کر دیا، صبح سے تھوڑی دیر پہلے اور وہ بھاگ نہ سکی، پس تجھے اللہ جنت کی نعمتوں کی ٹھنڈک دے، بہترین داخل ہونے کی جگہ میں۔

❶ اسے واقدی نے المغازی (١/ ١٧٢-١٧٣) میں منقطع سند سے بیان کیا ہے، ابن سعد (٢/ ٢٧) وغیرہ نے ان کی پیروی کی ہے۔ ابن عدی نے الکامل (٦/ ١٤٥) خطیب نے تاریخ بغداد (١٣/ ٩٩) میں محمد بن الحجاج ابو ابراہیم الواسطی از مجالد از شعبی از ابن عباس بیان کرتے ہیں۔ اس سند میں محمد بن الحجاج الواسطی کو متعدد علماء نے جھوٹ اور وضع حدیث سے متہم کیا ہے۔

❷ الديوان (١/ ٤٤٩) وسيرة ابن هشام (٢/ ٦٣٧)

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اس کا قتل رمضان المبارک کے خـ اللہ ﷺ معرکہ بدر سے واپس پلٹے ہوئے، جسے امام ابن سعد، امام العسکری، ابو عبید بیان کیا ہے۔❶ یہ واقعہ انتہائی مشہور ہے ا سے قتل کیا گیا ہے۔

ساتویں حدیث:

ابو عفک یہودی کا قصہ ہے جـ ہے۔❷ اس کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللـ آپ ﷺ میدان بدر کی طرف نکلے او کامرانی عطا فرمائی تو اس نے حسد کیا او انتہائی قبیح جملہ یہ کہا، ان کا معاملہ ایک مـ دو صورتوں میں ہے۔

حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کـ ہے اور امام احمد، ابن سعد نے ذکر کیا ہے روایت ہے لیکن یہ درست ہے کہ یہ قـ اور مؤید ہو۔

❶ الأموال لأبي عبيد (٢/ ١٩٤، حـ

❷ الصارم (٢/ ٢١١)

❸ واقدی نے المغازي (١/ ١٧٤) نے ا (٦٣٧-٦٣٥)

صفحہ 61

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اس کا قتل رمضان المبارک کے ختم ہونے سے پانچ دن پہلے جب رسول اللہ ﷺ معرکہ بدر سے واپس پلٹے ہوا، یہ واقعہ اصحاب السیر نے بھی نقل کیا ہے جسے امام ابن سعد، امام العسکری ، ابو عبید نے الاموال میں اور واقدی وغیرہ نے بیان کیا ہے ➊ ۔ یہ واقعہ انتہائی مشہور ہے اسے رسول اکرم ﷺ کی گستاخی کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

ساتویں حدیث :

ابو عفک یہودی کا قصہ ہے جسے اہل مغازی اور سیرت نے نقل کیا ہے ➋ ۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ میدان بدر کی طرف نکلے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو زبردست کامرانی عطا فرمائی تو اس نے حسد کیا اور آپ ﷺ کے متبعین کی مذمت کی اور انتہائی قبیح جملہ یہ کہا، ان کا معاملہ ایک سوار چھین گیا، خواہ وہ حرام ہو یا حلال ہر دو صورتوں میں ہے۔

حضرت سالم بن عمیر ؓ نے کہا: میں نے اسے قتل کرنے کی نذر مانی ہے اور امام ابن سعد نے ذکر کیا ہے کہ وہ یہودی تھا۔ مگر اہل مغازی کی یہ روایت ہے لیکن یہ درست ہے کہ یہ قصہ تقویت پہنچانے والا ، تاکید کرنے والا اور مؤید ہو۔

٢٣٥ ۔ ٢٣٦)

صفحہ 62

الصارم المسلول على شاتم الرسول

آٹھویں حدیث:

انس بن زنیم الدیلی کا واقعہ ہے۔ اہل سیر کے ہاں یہ معروف واقعہ ہے، ابن اسحاق اور واقدی وغیرہ نے اسے ذکر کیا ہے۔➊ انس نے بھی رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی، قبیلہ خزاعہ کے ایک غلام نے جب اس کی گستاخی سنی تو اسے پتھر مارا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دیا تھا، جب اسے معلوم ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت کرتے ہوئے آیا اور آپ ﷺ کی مدح میں ایک قصیدہ کہا:

آپ وہی تو ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں آپ کے حکم کی اطاعت ہے
بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی ہدایت دی اور کہا آپ کے لیے گواہی دے
کسی اونٹنی نے اپنے کجاوے پر ایسا سوار نہیں اٹھایا
جو نیکی اور عہد کی پاس داری میں محمد ﷺ سے زیادہ ہو
جان لیجیے، اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے پکڑ سکتے ہیں
اور آپ کی دھمکی ہی ہاتھ سے پکڑنے کے مترادف ہے
جان لیجیے! اے اللہ کے رسول ﷺ آپ تہام اور منجد کے ہر باشندے
پر قادر ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی کہ میں نے ان کی ہجو کی جبکہ میرا ہاتھ میرے کوڑے سے میری طرف نہیں بڑھا➋

➊ سیرۃ ابن ہشام (٤٢٤/٢) مختصراً، و مغازی الواقدی (٢/ ٧٨٢-٧٩١)

➋ السیرۃ میں یوں ہے: ’’انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی ہے کہ میں نے ان کی ہجو کی ہے، میرا ہاتھ اس وقت بھی میرے کوڑے کی طرف نہیں بڑھا۔

صفحہ 63

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

سوائے اس کے میں نے کہا: اے نوجوان بربادی
وہ موسم بہار کے انتہائی عمدہ دن میں نحوست سے قتل کیے گئے
میں نے کسی کی عزت پامال نہیں کی اور نہ کسی کا خون بہایا➊
اے حق شناس اور سیدھی راہ کے مسافر ذرا غور کیجیے➋

جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا قصیدہ اور معذرت نامہ پہنچا، نوفل بن معاویہ الدیلی نے اس کے بارے میں بات چیت اور سفارش کی اور انس بن زنیم کو قبیلہ بنو خزاعہ کے آدمی نے پتھر سے زخمی بھی کیا تھا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”میں نے اس سے چشم پوشی کر لی ہے۔“

نوفل کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں! پھر انس آئے اور معذرت کی اور کہا لوگوں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ اس میں دلالت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے دس برس کے لیے مصالحت کی اور اس میں خزاعہ اور بنو بکر بھی داخل تھے۔➌ پھر یہ آدمی معاہد (حلیف) تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی جو اس کے بارے میں کہا گیا اور اسے آدمی نے زخمی کیا اگر انھیں معلوم ہو جاتا کہ حلیف نبی ﷺ کی ہجو کرے تو یہ ان چیزوں میں ہے جن سے انتقام واجب ہے وہ ایسا نہ کرتے۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے اسی بنا پر اس کے خون کو رائیگاں فرمایا۔ یہ اس

➊ في السيرة: ”... لا ديناً فتقت“

➋ في السيرة ”تبين“

➌ بنو خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔

صفحہ 64

بوسنیا کے مسلمانوں پر سربوں کی (الفاروق، کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۲ھ) نیا طریقہ: کس قدر درندگی کی جاتی رہی ہے: امریکی ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا کہ جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

بات کی دلیل ہے کہ حربی جو ہجو کرے اس کا خون مباح ہوگا پھر وہ اپنے اشعار میں اسلام کا اظہار کرتا ہے باوجود کہ اس نے اپنی ہجو سے بھی براءت کا اظہار کیا اور اس نے ان لوگوں کی گواہی بھی رد کر دی جنھوں نے اس کے خلاف گواہی دی کیونکہ وہ اس کے دشمن تھے اور ان کے مابین جنگیں اور جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں، اس عمل سے اس کا خون مباح نہ ہوتا تو انھوں نے اسے قتل کے لیے ہجو کو سہارا کیوں بنایا؟

پھر اس کے اسلام لانے کے بعد اور اپنی معذرت پیش کرنے کے بعد اور مخبروں کی تکذیب کے بعد اور رسول اللہ ﷺ کی مدح کے بعد، اس نے معافی مانگی کہ اس کا خون بہایا نہ جائے اور معافی اسی وقت ہوتی ہے جب گناہ کے مرتکب کو سزا دینے کا جواز موجود ہو۔❶

اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کے باوجود اور معذرت کرنے کے باوجود سزا کا استحقاق رکھتا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ نے بردباری اور سخاوت کی وجہ سے اس سے چشم پوشی فرمائی باوجود اس کے کہ یہ عہد ہدنہ (جنگ کے بعد صلح یا وقفہ جنگ بندی جس میں فریقین تیاری کرتے ہیں) تھا، عہد جزیہ (زمین کا خراج) نہ تھا اور جو جنگ کے بعد صلح کرتا ہے اور اپنے شہر میں مقیم ہوتا ہے وہ اپنے شہر میں جو چاہے کرے اس کا عہد اسی وقت ٹوٹے گا جب وہ جنگ کرے گا، اس سے معلوم ہوا کہ ہجو جنگ کی قسم ہے بلکہ اس سے بھی سخت ہے اور جو ہجو کا ارتکاب کرتا ہے اس کے ذمے کی کوئی پاس داری نہیں۔

نویں حدیث❶:

ابن ابی سرح کا واقعہ، یہ بھی ان واقعات میں سے ایک ہے جن پر

❶ الصارم (۲/ ۲۶۹)

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اہلِ علم کا اتفاق ہے اور یہ ان کے ہاں ا روایت سے مستثنیٰ ہے۔

قصہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے روز عبد ا بن عفان کے پاس چھپ گئے۔ حضرت کے سامنے لا کھڑا کیا، عرض کی یا رسول ا اللہ ﷺ نے سر اوپر اٹھایا اس کی طرف کر رہے تھے، تین بار کے بعد بیعت ک متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: "کیا تم میں کوئی دانشمند آدمی نہی بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک صحابہ کرام گویا ہوئے کہ ہمیں کی ذرا آنکھ سے اشارہ فرما دیتے؟ تو رسول "نبی کے یہ لائق نہیں کہ اس کی آ امام ابو داود نے اسے سنن میں نسائی نے بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون

❶ ابو داود، حدیث (۲۶۸۳) ۲۵۹،

(۳/ ٤٥)، بیہقی (۷/ ٤٠) مسند احمد

والطبرانی عن السدی، عن مصعب بن سعد

ذہبی نے موافقت کی ہے، اسے شیخ ال

السلسلة الصحيحة، حدیث (۱۷۲۳)

صفحہ 65

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اہل علم کا اتفاق ہے اور یہ ان کے ہاں اس قدر شہرت یافتہ ہے کہ احاد راویوں کی روایت سے مستثنیٰ ہے۔

قصہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے روز عبداللہ بن سعد بن ابی سرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کے پاس چھپ گئے۔ حضرت عثمان نے انھیں اچانک رسول اللہ ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا، عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! عبداللہ سے بیعت کیجیے، رسول اللہ ﷺ نے سر اوپر اٹھایا اس کی طرف نگاہ دوڑائی، تین بار دیکھا، ہر مرتبہ انکار کر رہے تھے، تین بار کے بعد بیعت کر لی پھر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:

”کیا تم میں کوئی دانشمند آدمی نہیں، جس وقت میں نے اس سے بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک رکھا تو وہ اسے قتل کر دیتا۔“

صحابہ کرام گویا ہوئے کہ ہمیں کیا معلوم آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ ذرا آنکھ سے اشارہ فرما دیتے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”نبی کے یہ لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔“ ❶

امام ابو داود نے اسے سنن میں صحیح سند سے بیان کیا ہے، اسی طرح امام نسائی نے بھی۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون بھی رائیگاں قرار دیا۔ یہ حضرت عثمان کا

❶ ابو داود، حدیث (٢٦٨٣، ٤٣٥٩) سنن نسائی (٧/ ١٠٥ - ١٠٦) الحاکم (٣/ ٤٥) بیہقی (٧/ ٤٠) سبھی احمد بن المفضل کی سند سے اور وہ از اسباط بن نصر الهمدانی عن السدی عن مصعب بن سعد عن ابیہ بہ۔ اس حدیث کو حاکم نے صحیح کہا ہے، ذہبی نے موافقت کی ہے، اسے شیخ الاسلام اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: السلسلة الصحيحة، حديث (١٧٢٣)

صفحہ 66

الصارم المسلول على شاتم الرسول

رضاعی بھائی تھا، جب حضرت عثمان نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا، ابن ابی سرح پہلے اسلام لایا پھر مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جا ملا، یہ رسول اللہ ﷺ کا کاتب وحی تھا، جب یہ مشرکوں کے پاس پہنچا تو انھیں کہنے لگا: میں وحی میں جیسے چاہتا تصرف کرتا تھا اور وہ مجھے حکم دیتے کہ میں ان کے لیے کوئی چیز لکھوں، میں انھیں کہتا: اس طرح، اس طرح؟ وہ کہتے: ہاں، یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے: علیم حکیم تو وہ کہتا: عزیز حکیم لکھ لوں تو آپ ﷺ فرماتے: ہاں دونوں یکساں ہیں۔ ❶

کہا گیا ہے کہ اس شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

﴿ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ ﴾ [الأنعام: ٩٣] ❷

”اور اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا وہ کہتا ہے میری طرف وحی کی گئی حالانکہ اس کی طرف کچھ وحی نہیں کی گئی اور جو شخص یہ کہے میں بھی ایسا قرآن اتاروں گا۔“

جیسے اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے: اس میں دلالت یہ ہے کہ اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے کہ وہ آپ کی وحی کی تکمیل کرتا اور جو چاہتا ہے وہ لکھتا اور رسول اللہ ﷺ اسے اسی طرح برقرار رکھتے تھے، یہ بھی گستاخی کی ایک قسم ہے، جب اسی طرح کا افترا ایک اور کاتب نے باندھا تو اللہ تعالیٰ

❶ انظر السيرة (٢ / ٤٠٩) لابن هشام.

❷ دیکھیے: تفسیر الطبری (٥ / ٢٦٨) أسباب النزول (ص: ٢٥٤) والدر المنثور

(٣ / ٥٥، ٥٦)

صفحہ 67

ماننے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کی سفارش ر دیا، ابن ابی سرح پہلے اسلام لایا پھر مرتد اللہ ﷺ کا کاتب وحی تھا، جب یہ مشرکوں مکہ میں جیسے چاہتا تصرف کرتا تھا اور وہ مجھے چیز لکھوں، میں انھیں کہتا: اس طرح، اس ﷺ فرماتے: علیم حکیم تو وہ کہتا: عزیز حکیم وں یکساں ہیں۔ ارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

ى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ
مَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ

لتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ی کی گئی حالانکہ اس کی طرف کچھ وحی ں بھی ایسا قرآن اتاروں گا۔‘‘ اس میں دلالت یہ ہے کہ اس آدمی نے کہ وہ آپ کی وحی کی تکمیل کرتا اور جو چاہتا سی طرح برقرار رکھتے تھے، یہ بھی گستاخی کی ایک اور ایک کاتب نے باندھا تو اللہ تعالیٰ

الأسباب النزول (ص: ٢٥٤) والدر المنشور

مسٹر مارشل پیرز کے بیان اور انٹرویو کی ’’الفاروق‘‘ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۳ھ)

یہ ظالمانہ طریقہ: اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں میں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول نے اسے توڑ ڈالا اور اسے انجام سے دو چار کرنے کے لیے موت دے دی جب بھی لوگ اسے دفن کرتے زمین اسے باہر نکال پھینکتی۔ ❶ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی گستاخی کا انتقام خود ہی لے لیتا ہے، ابن ابی سرح کا خون کا حلال ہونا اس کے بعد کہ وہ تائب ہو کر اور مسلمان بن کر آیا اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ’’تم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا؟‘‘ پھر اس کے بعد اسے معافی دے دینا، اس بات کی نشانی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اختیار ہے کہ اسے قتل کر دیں یا اسے معاف کر دیں، یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اختیار ہے کہ جو آپ ﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کروا دیں اگرچہ وہ توبہ تائب ہو کر اسلام کی طرف پلٹ آئے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ابن ابی سرح فتح مکہ سے پہلے اسلام کی طرف پلٹ آیا تھا❷ اور حضرت عثمان کو کہنے لگا: ’’میرا جرم بہت سنگین ہے اور میں توبہ تائب ہو کہ آیا ہوں۔‘‘❸ پھر فتح مکہ کے بعد حضرت عثمان ؓ اسے رسول اکرم ﷺ کے پاس لے آئے، لوگ اس کی توبہ کے بعد ٹھنڈے پڑ گئے۔

حالانکہ رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ کوئی مسلمان اسی وقت اس کا کام تمام کر دے، آپ ﷺ تھوڑی دیر اس کے مقتول ہونے کا انتظار کرتے رہے، بعض لوگوں نے خیال کیا کہ عنقریب یہ موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا، یہ

حضرت انس سے بیان کیا ہے۔

بلکہ فرمایا: عکرمہ سے مروی ہے اور مزید فرمایا: کچھ نے یہ بھی ذکر کیا ہے ابن ابی سرح دوبارہ مسلمان ہو گئے تھے۔

صفحہ 68

... ہے ۔ (مسٹر مارشل میئر پیرس کے بیان اور انٹرویو کی ... ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۲ھ)

رہنماؤں کا طریقہ:

... ں کی قدر و قیمت جانتی رہی ہے: ... ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: ... سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ... دی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول

سب سے واضح دلیل ہے کہ اس کے اسلام لانے کے بعد اسے قتل کیا جائے گا، جان لیجیے! ابن ابی سرح اور دوسرے عیسائی کاتب رسول اللہ ﷺ پر یہ بہتان تراشنا کہ وہ ان دونوں سے سیکھا کرتے تھے، واضح ترین بہتان ہے۔

رسول اللہ ﷺ صرف وہی کچھ لکھواتے جو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر نازل فرماتے تھے اور آپ ﷺ کو حکم بھی یہی تھا کہ قرآن کو اسی طرح برقرار رکھیں جیسے اللہ تعالیٰ نے وحی کی ہے اور اس میں تصرف کا کوئی اختیار نہ تھا۔❶ بلکہ اسی طرح تصرف فرماتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ چاہتے تھے۔

قرآن مجید میں مختلف قراءتیں:

پھر اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان کاتبوں کی تحریر کو رسول اللہ ﷺ نے برقرار رکھا یعنی جو چیز رسول اللہ ﷺ نے ابتداء نہیں لکھوائی، یا پھر آپ ﷺ نے اس کاتب کو کچھ کہا؟ دو قول ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے جو چیز نہیں لکھوائی اس کو برقرار رکھنا قطعاً ثابت نہیں ہے۔❷ بلکہ ان دونوں نے بہتان تراشی کی ہے تاکہ وہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے متنفر کر سکیں۔

املا کرواتے ہوئے فرماتے تھے: ”سميعاً بصيراً“ وہ لکھتا: ”سميعاً عليماً“ آپ ﷺ اسے فرماتے

❶ في مطبوعة الصارم ولا ينصرف له وما في المختصر اصح.

❷ في الأصل على كتابة ما غيره... ! وهو سهو.

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”دَعْهُ“ اسے چھوڑ دو وغیرہ۔ ہوتا ہے، آپ ﷺ اسے فرماتے ان میں ہر ایک درست ہے اور قرآن سات حروف میں اتارا گـ کہیں عزیز حکیم یا غفور رحیم تو و آیت پر اور عذاب والی آیت پـ احادیث اس پر دلالت قرآن مجید اتارا گیا یہ ہے کہ ا ان اسماء میں بدل جائز ہے، تو سے کوئی اسم پڑھ لے اور رسو جسے چاہے ان حروف میں لکھ کی قراءت کی ہوتی تو آپ کیونکہ آپ ﷺ بکثرت دو فرماتے تھے: ”ہاں دونوں الـ نازل ہوئی تو آپ ﷺ اسے

❶ اسے احمد (۲۲۵/۳ ، ۲۲۶

۱۲۰ ۔ ۱۲۱) میں بیان کیا ہے، ا سے بیان کیا ہے، شیخ الاسلام رحـ

❷ یہ حدیث متواتر احادیث میں

اس کی تخریج کی ہے، اس کی مذکورہ الفاظ مختلف متعدد مرویا ١٦٣) المرشد الوجيز (ص

صفحہ 69

الصارم المسلول على شاتم الرسول

"دَعْهُ" اسے چھوڑ دو وغیرہ ❶ اور کبھی کبھار ان دونوں حرفوں میں ہر حرف نازل ہوتا ہے، آپ ﷺ اسے فرماتے اس طرح لکھ اور اگر تو چاہے تو اس طرح لکھ ان میں ہر ایک درست ہے اور رسول اللہ ﷺ سے یہ صراحت موجود ہے کہ قرآن سات حروف میں اتارا گیا ہے ہر حرف کافی وشافی ہے، اگر آپ ﷺ کہیں عزیز حکیم یا غفور رحیم تو درست ہے جب تک رحمت کی آیت عذاب کی آیت پر اور عذاب والی آیت رحمت پر ختم نہ ہو۔❷

احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سبعہ احرف سے مراد، جس سے قرآن مجید اتارا گیا یہ ہے کہ ایک آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کے جو اسماء ہیں ان اسماء میں بدل جائز ہے، قاری کو اختیار ہے کہ وہ قراءت میں ان اسماء میں سے کوئی اسم پڑھ لے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان حروف میں اختیار دیتے کہ وہ جسے چاہے ان حروف میں لکھ لے اور بسا اوقات رسول اللہ ﷺ نے ایک حرف کی قراءت کی ہوتی تو آپ ﷺ سے کہا جاتا کہ اس طرح بھی درست ہے، کیونکہ آپ ﷺ بکثرت دو حرفوں میں سے اختیار دے دیتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: "ہاں دونوں الفاظ برابر ہیں" کیونکہ آیت اکٹھی دونوں حرفوں پر نازل ہوتی تو آپ ﷺ اسے برقرار رکھتے۔

❶ اسے احمد (۳/ ۲۲۵۔ ۲۲۶) نے ثابت از انس سے بیان کیا ہے۔ پھر اسی طرح (۳/ ۱۲۰ ۔ ۱۲۱) میں بیان کیا ہے، ابن حبان نے الاحسان (۶۲/۲) میں حمید از انس کی سند سے بیان کیا ہے، شیخ الاسلام نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (۲۴۲/۲) ❷ یہ حدیث متواتر احادیث میں شمار ہوتی ہے، کتب صحاح، سنن اور مسانید کے مؤلفین نے اس کی تخریج کی ہے، اس کی بعض سندوں میں کچھ زائد الفاظ اور اضافے بھی ہیں اور مذکورہ الفاظ مختلف متعدد مرویات سے اخذ کردہ ہیں، دیکھیے: قطف الأزھار (ص: ۱۶۳) المرشد الوجیز (ص: ۷۷ ۔ ۹۵ لأبي شامة)

صفحہ 70

... یہ بوسنیا میں سربوں کے جبر کے بیان اور اس کی ( "الفاروق" کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۲ھ ) سفاکانہ طریقہ: اس کی قدر و قیمت جانی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا میں جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں بھی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ ۞ ۞ ۞

الصارم المسلول على شاتم الرسول پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض حروف کو اس وقت منسوخ کر دیا جب حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ سے رمضان المبارک میں قرآن مجید کا دور کرتے تھے اور عرضہ اخیرہ (آخری دور) میں قرآن مجید کی قراءت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قراءت پر روک دی گئی اور اسی قراءت کو آج بھی پڑھا جاتا ہے اسی قراءت پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے لوگوں کو جمع کیا، ایک دوسری سند سے یوں بھی مروی ہے ۔➊ کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرتا کہ میں تعلمون لکھوں یا تفعلون تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے: اس میں سے جو چاہے وہ لکھ لے، اللہ تعالیٰ اسے درست لکھنے کی توفیق عطا فرما دیتے اور وہ ان دونوں حرفوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہوتا وہ لکھ دیتے بشرطیکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہوں یا پھر وہی لکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا، رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ اختیار اس بات کی علامت ہے کہ جو نازل کیا گیا ہے اس میں وسعت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی حفاظت میں وثوق ہے۔➋ اور اس بات کی نشانی ہے کہ آپ ﷺ صرف وہی لکھتے ہیں جو نازل کیا جاتا ہے، یہ اس کتاب، جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہے، میں کوئی منکر چیز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی ضمانت دی ہے کہ باطل نہ تو اس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔ بعض علماء نے اس کی ایک تیسری توجیہ بھی پیش کی ہے کہ کاتب بسا اوقات

➊ امام احمد نے اسے الناسخ والمنسوخ میں بیان کیا ہے، جیسا کہ الصارم (۲/ ٢٤٥) میں ہے۔ امام احمد اور ابن ابی حاتم نے اس کی سند بیان کی ہے، جیسا کہ الدر المنثور (٣/ ٥٥) میں مختصر طور پر مروی ہے، اس کی سند ارسال کے ساتھ سخت ترین ضعیف بھی ہے۔ ➋ كذا استظهرت، والکلمتان غير محررتين في النسخة، وفي الصارم "أو ثقة بحفظ الله..."

الصارم المسلول على شاتم الرسول رسول اللہ ﷺ سے آیت سنتا حتی سے استدلال کرتے ہوئے اس ک وظیفہ ہوتا ہے وہ اسے لکھتا اور آپ ﷺ ارشاد فرماتے: ”اسی ط جیسے اسی طرح کا اتفاق میں ہے:

﴿ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ ال

شیخ الاسلام فرماتے ہیں ہ

دسویں حدیث :

دو لونڈیاں جو رسول اللہ اہل سیرت کے ہاں یہ کی دو لونڈیاں، جو رسول اللہ ص میں سے ایک قتل کی گئی اور دو دی گئی، اسے محمد بن عائذ، ابن

➊ اسے طیالسی نے مسند (ص ۱ بحوالہ الدر المنثور (١٢/٥) نے نے اپنے رب کی چار چیزوں اسے طبرانی (الكبير ١١ / ٣ بیان کیا ہے۔ اس کی سند میں ➋ الصارم (٢ / ٢٣٩) ➌ دیکھیے : مغازی الواقدی (

صفحہ 71

الصارم المسلول على شاتم الرسول

رسول اللہ ﷺ سے آیت سنتا حتی کہ ایک یا دو کلمے باقی رہ جاتے تو وہ باقی حصے سے استدلال کرتے ہوئے اس کی تکمیل کر دیتا جیسا ایک ذہین اور حاذق آدمی کا وظیفہ ہوتا ہے وہ اسے لکھتا اور پھر اس کی قراءت رسول اللہ ﷺ پر کرتا آپ ﷺ ارشاد فرماتے: ”اسی طرح اتارا گیا ہے۔“

جیسے اسی طرح کا اتفاق حضرت عمر ؓ بن خطاب سے بھی اس فرمان میں ہے: ﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾ [المؤمنون: ١٤] ❶

شیخ الاسلام فرماتے ہیں پہلا قول سب سے عمدہ قول ہے۔

دسویں حدیث ٭:

دو لونڈیاں جو رسول اللہ ﷺ اور بنی ہاشم کے خلاف ہجو کرتی تھیں ❷

اہل سیرت کے ہاں یہ مشہور و معروف ہے، رسول اللہ ﷺ نے ابن خطل کی دو لونڈیاں، جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتی تھیں، کے قتل کا حکم صادر فرمایا، ان میں سے ایک قتل کی گئی اور دوسری روپوش ہو گئی، یہاں تک کہ اسے جان کی امان دی گئی، اسے محمد بن عائذ، ابن اسحاق اور عبداللہ بن حزم نے نقل کیا ہے۔

بحوالہ الدرر المنثور (٥/ ١٢) نے از انس از عمر بیان کیا ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب کی چار چیزوں میں موافقت کی ہے، جس میں یہ آیت بھی شامل ہے۔“

اسے طبرانی (الکبیر ١١/ ٤٣٩) ابن مردویہ بحوالہ: الدرر (٥/ ١٤) ابن عباس سے بیان کیا ہے۔ اس کی سند میں کلام ہے۔ دیکھیے : مجمع الزوائد (٩/ ٧١)

صفحہ 72

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں لونڈیاں ابن خطل کی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن خطل کے ساتھ ان کا بھی کام تمام کر دیا جائے اور ان دونوں کے واقعہ پر اہل سیرت کا اتفاق ہے اور مشہور واقعہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض کفر اصلی کی بنیاد پر کسی عورت کو جان بوجھ کر قتل کرنا بالا جماع جائز نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت بھی معروف ہے کہ آپ ﷺ عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔❶

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں عورتوں کو اس وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا کہ یہ اپنے اشعار میں ہجو کیا کرتی تھیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرے اور آپ ﷺ کی گستاخی کرے وہ ہر حالت میں واجب القتل ہے۔

گیارہویں حدیث:

رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے سر پر لوہے کا خود (ٹوپی) تھی۔ جب آپ ﷺ نے اسے اتارا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’اسے قتل کر ڈالو۔‘‘ یہ واقعہ بھی انتہائی معروف ہے، صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے اور وہ مقتول ہو گیا۔❷ اس کا جرم یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے عامل زکوۃ بنا کر بھیجا اور اس

❶ ان میں سے صحیح بخاری حدیث (٣٠١٤) و مسلم حدیث (١٧٤٤) کی حدیث جو حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا، جب آپ نے بعض جنگوں میں کسی مقتول عورت کو دیکھا۔“ ❷ البخاری، رقم (١٨٤٦) و مسلم، رقم (١١٥٧) من حدیث انس۔

صفحہ 73

گئی۔ (مسٹر مارشل ہیریز کے بیان اور انٹرویو کی مجلہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۳ھ) دکھانا، طریقہ: اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ ❁❁❁

ں لونڈیاں ابن خطل کی تھیں، رسول اللہ ﷺ کا بھی کام تمام کر دیا جائے اور ان دونوں کے اور مشہور واقعہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جان بوجھ کر قتل کرنا بالاجماع جائز نہیں ہے معروف ہے کہ آپ ﷺ عورتوں اور بچوں

ہی دونوں عورتوں کو اس وجہ سے قتل کرنے کا کرتی تھیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو ے وہ ہر حالت میں واجب القتل ہے۔

ل مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ ب آپ ﷺ نے اسے اتارا، ایک آدمی سے لٹکا ہوا ہے۔

صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے اور وہ

ملم نے اسے عامل زکوۃ بنا کر بھیجا اور اس (٣٠١٤) و مسلم حديث (١٧٤٤) کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”عورتوں اور بچوں وں میں کسی مقتول عورت کو دیکھا۔“ ١١٥٧) من حديث انس .

الصّارم المسلول على شاتم الرّسول کی خدمت میں ایک خادم بھی روانہ کیا اسے اپنے ساتھی پر اس وجہ سے غصہ آ گیا کہ اس نے اس کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تو اس نے اپنے خادم کو قتل کر دیا، پھر اسے اندیشہ لاحق ہوا کہ اسے بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا، اس لیے یہ مرتد ہو گیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گیا اور رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرنے لگا، اپنی لونڈیوں کو حکم دیتا وہ اس ہجو کو گاتیں۔

گویا تین جرائم اس کے خون کو مباح کر گئے؛ جان کا قتل، ارتداد اور ہجو۔ اسے قتل کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اس پر قصاص تھا۔ اس لیے چاہیے یہ تھا کہ وہ مقتول کے اولیاء، قبیلہ خزاعہ کے سپرد کیا جاتا یا تو وہ اسے قتل کرتے، یا معاف کر دیتے یا پھر دیت لے لیتے۔

محض ارتداد کی بنا پر بھی قتل درست نہیں تھا کیونکہ مرتد سے توبہ کروائی جائے گی اور اگر وہ مہلت مانگے تو اسے مہلت بھی دی جائے گی اور یہ ابن خطل اپنے گھر سے بھاگا پناہ طلب کرتے ہوئے، امان چاہتے ہوئے، جنگ ترک کرتے ہوئے، اسلحہ پھینکتے ہوئے مگر ان سب چیزوں کے جاننے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور جو صرف مرتد ہوتا تھا آپ ﷺ کا یہ طریقہ نہ ہوتا کہ اسے قتل کر دیا جائے لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ قتل کا حکم ہجو اور گستاخی کی وجہ سے تھا۔

بارہویں حدیث:

رسول اللہ ﷺ نے اپنی گستاخی کی وجہ سے ایک جماعت کے قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور اسی بنا پر ایک جماعت کو موت کے گھاٹ اتارا بھی گیا باوجود کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں، جو ان کے قائم مقام کافر اور جنگجو تھے، سے چشم پوشی بھی فرمائی، جس طرح کہ پہلے حضرت ابن المسیب کے حوالے سے گزر چکا

صفحہ 74

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہے کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے روز ابن الزبعری کے قتل کا حکم ارشاد فرمایا۔❶

امام ابن اسحاق رقمطراز ہیں :

جب رسول اللہ ﷺ طائف سے پلٹ کر مدینہ تشریف لائے تو بجیر بن زہیر نے اپنے بھائی کعب بن زہیر کو خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں ان لوگوں کو قتل کروا دیا ہے۔❷ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی اور آپ ﷺ کو اذیت پہنچائی اور قریش کے جو شعرا مثلاً ابن الزبعری اور ہبیرہ بن ابی وہب وہ ادھر اُدھر بھاگ چکے ہیں، ابن الزبعری نے تو نجران کا رُخ کیا، پھر اسلام قبول کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنی توبہ اور معذرت میں انتہائی عمدہ اشعار کہے آپ ﷺ نے گستاخی کی وجہ سے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا، باوجود یہ کہ آپ ﷺ نے سبھی اہلِ مکہ کو امان دی ہے ہاں وہ شخص جس کا جرم اسی کے مثل تھا۔

ان لوگوں میں سے عبداللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ اور ابوسفیان بن الحارث بن عبد المطلب تھے اور اس کا رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں واقعہ مشہور ہے۔❹ حالانکہ ابوسفیان آپ ﷺ کا رضاعی بھائی تھا، حضرت حلیمہ نے اسے بھی دودھ پلایا، مگر رسول اللہ ﷺ اپنی ہجو اور اپنے صحابہ کرام کی ہجو کی وجہ سے اس

❶ ابن سعد نے اسے الطبقات (٢/ ١٤١) میں ذکر کیا ہے۔ شیخ الاسلام الصارم (٢/ ٢٦٧) میں فرماتے ہیں: سعید بن المسیب کی مراسیل عمدگی کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں، بعض اہل مغازی اسے ذکر نہ کریں تو یہ اسے نقصان نہیں دیتی، یعنی ابن الزبعری کا قصہ۔ اور جو کسی چیز کو ثابت کرے اسے ذکر کرے وہ اس کے خلاف حجت ہے، جو اسے ثابت نہیں رکھتا۔

❷ دیکھیے: السيرة النبوية لابن هشام (٢/ ٥٠١)

❸ وقع في الأصل رجلاً وهو سهو.

❹ دیکھیے: المغازي للواقدي (٢/ ٨٠٦ - ٨١٠) و السيرة (٢/ ٤٠٠، ٤٠١) اشعار اس میں ہیں۔

صفحہ 75

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا ہے، یہاں تک وہ آیا اور معذرت کی اور اسلام قبول کیا، حضرت عباس جو رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے اور حضرت علی ؓ اور دیگر کو اپنا سفارشی بنایا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اپنے اسلام اور معذرت کے حوالے سے اشعار کہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا دل پسیج گیا۔

لعمرك إني يوم أحمل راية
لتغلب خيل اللات خيل محمد
لكالمدلج الحيران أظلم ليله
فهذا أواني حين أهدى وأهتدي
هداني هاد غير نفسي ودلني
على الله من طردت كل مطرد
تیری عمر کی قسم! میں نے ایسے دن جھنڈا اٹھایا
جب لات کے شہسوار محمد ﷺ کے شہسواروں پر غالب آگئے
جیسے سرگرداں رات کو چلنے والا جب رات انتہائی گہری ہوجائے
یہ میرا ایسا وقت ہے جب مجھے ہدایت کی گئی اور میں ہدایت یافتہ ہو گیا
میرے ضمیر کے علاوہ مجھے کسی اور نے راہنمائی کی
اللہ کی طرف، میں علیحدہ ہوگیا ہر حقیر چیز سے

اور باقی اشعار بھی ذکر کیے۔

ایک روایت میں یوں ہے، ❶ کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت نہ دی، رسول اللہ ﷺ کی بیوی حضرت ام سلمہ نے عبداللہ بن ابی امیہ اور ابوسفیان بن الحارث کے بارے میں گفتگو کی کہا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کا ازواجی رشتہ ہے، آپ ﷺ کی پھوپھی

صفحہ 76

... (مستر مارشل ہیرلز کے بیان اور انٹرویو کی رو سے ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۴ھ )

شرمناک طریقہ:

اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے:

ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

٭ ٭ ٭

76 الصارم المسلول على شاتم الرسول

کا بیٹا ہے، آپ کے چچا کا بیٹا ہے اور آپ کا بھائی ہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں کو مسلمان بنا کر لایا ہے اور آپ ﷺ کے ساتھ مل کر بدبخت نہیں ہو سکتے، آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بھی معافی دی ہے جن کا جرم ان دونوں کے جرم سے سنگین تھا اور آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے جرم کو معاف کرنے والے ہیں، آپ ﷺ نے جواباً فرمایا: ”اس نے مجھے بے عزت کیا ہے، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“

جب یہ بات ابوسفیان تک پہنچی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ تو کہنے لگا، اللہ کی قسم ! وہ میری معذرت کو قبول کرے گا یا پھر میں اپنے بیٹے کے ہمراہ صحرا میں بھوکا اور پیاسا تڑپ تڑپ کر جان دے دوں گے۔ آپ ﷺ تو لوگوں میں سے سب زیادہ بردبار ہیں، سب سے زیادہ احترام کرنے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ کا دل اسی وقت پسیج گیا، آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرما دی اور وہ دونوں مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام انتہائی عمدہ رہا۔

عبداللہ بن ابی امیہ طائف میں مقتول ہو گئے اور ابوسفیان خلافت عمر رضی اللہ عنہ میں مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا، رضی اللہ عنہما، وجہ دلالت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان بن الحارث کا خون رائیگاں قرار دیا، حالانکہ دیگر سرداران قریش جو جہاد کے خلاف اپنی جانوں اور اموال کو خوب خوب پیش کرتے تھے، کا خون رائیگاں قرار نہیں دیا۔ ابوسفیان کا جرم رسول اللہ ﷺ کی گستاخی اور ہجو کے علاوہ اور کچھ نہ تھا، پھر وہ مسلمان ہو گئے اور آپ ﷺ پھر بھی اس سے اعراض کرنے لگے، حالانکہ آپ ﷺ کا طرز عمل تو یہ تھا کہ آپ ﷺ کنارہ کشی کرنے والوں سے الفت ڈالنے کی جستجو کرتے، ابوسفیان تو آپ ﷺ کے خاندان کا آدمی تھا! معلوم ہوا کہ اس نفرت کا سبب توہین رسالت تھا، جیسا کہ

الصارم المسلول على شاتم الرسول

حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے اسی طرح فتح مکہ کے روز چھ ”ابن ابی سرح، ابن خطل، الحو ابوسفیان کا واقعہ ان لوگوں بیان کیا ہے۔ ❶ اور ان میں سے اکثر سے مروی ہو بالخصوص جو اس کا اہت ہے، بلکہ اہل مغازی کے ہاں بعض جو ایک ایک سند سے مروی ہے۔ - اسی طرح عقبہ بن ابی معیط ک اور وہ سوال کرتا: اے جماعت قریش پیاسا رکھ کر مارا جا رہا ہوں؟ رسول ”تیرا رسول اللہ ﷺ سے کفر اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ

ہے۔ المغازي (۲ / ۸۱۰)

کو نامزد فرما کر قتل کرنے کا حکم دیا تھ میں متفرق روایات سے انھیں جمع فرم

(۲ / ۳۲۰) یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ا کے قتل کا واقعہ مشہور ہے جسے اہل م

صفحہ 77

... (مسٹر مارشل ہیرئز کے بیان اور انٹرویو کی ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی، ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۴ھ)

گھناؤنا طریقہ:

اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول

آپ کا بھائی ہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں کو م کے ساتھ مل کر بدبخت نہیں ہو سکتے، وہی ہے جن کا جرم ان دونوں کے جرم سے سے سب سے زیادہ ان کے جرم کو معاف فرمایا: ، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“ تی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ تو کو قبول کرے گا یا پھر میں اپنے بیٹے کے ب کر جان دے دوں گے۔ آپ ﷺ تو سب سے زیادہ احترام کرنے والے ہیں، لیا، آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرما دی اسلام انتہائی عمدہ رہا۔

مقتول ہو گئے اور ابو سفیان خلافت عمر ؓ ضی اللہ عنہا، وجہ دلالت یہ ہے کہ رسول خون رائیگاں قرار دیا، حالانکہ دیگر سرداران اور اموال کو خوب خوب پیش کرتے تھے، کا کا جرم رسول اللہ ﷺ کی گستاخی اور ہجو ن ہو گئے اور آپ ﷺ پھر بھی اس سے کا طرز عمل تو یہ تھا کہ آپ ﷺ کنارہ کی جستجو کرتے، ابو سفیان تو آپ ﷺ کے نفرت کا سبب توہین رسالت تھا، جیسا کہ

الصارم المسلول على شاتم الرسول

حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ ❶ اسی طرح فتح مکہ کے روز چھ آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا: ”ابن ابی سرح، ابن خطل، الحویرث، مقیس، عکرمہ اور ھبار۔“ ❷

ابو سفیان کا واقعہ ان لوگوں سے زیادہ مشہور ہے، اسے کئی محدثین نے بیان کیا ہے۔ ❸ اور ان میں سے اکثر مرسل ہیں اور مرسل جب کئی مختلف سندوں سے مروی ہو بالخصوص جو اس کا اہتمام کرے اس کی مرسل مسند کی طرح ہوتی ہے، بلکہ اہل مغازی کے ہاں بعض مشہور چیزیں ان سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں جو ایک ایک سند سے مروی ہے۔

اسی طرح عقبہ بن ابی معیط کو اتنا بھوکا اور پیاسا قید رکھا گیا کہ وہ مارا گیا اور وہ سوال کرتا: اے جماعت قریش! میں نے کیا جرم کیا ہے میں تو بھوکا اور پیاسا رکھ کر مارا جا رہا ہوں؟ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے: ”تیرا رسول اللہ ﷺ سے کفر کرنا اور بہتان تراشی کرنا۔“ ❹

اسی طرح حضرت علی ؓ نے نضر بن الحارث کو گستاخی رسول ﷺ کی

ہے۔ المغازی (۲ / ۸۱۰)

کو نامزد فرما کر قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ حافظ ابن حجر ؒ نے الفتح (۷ / ۶۰۴ ، ۶۰۵) میں متفرق روایات سے انھیں جمع فرمایا ہے۔

(۲ / ۳۲۰) یحییٰ بن سلمہ بن کہیل اسے بیان کرنے میں متفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کے قتل کا واقعہ مشہور ہے جسے اہل مغازی نے بیان کیا ہے۔

صفحہ 78

الصارم المسلول على شاتم الرسول

وجہ سے بھوکا اور پیاسا قیدی رکھ کر مار ڈالا۔ ➊

اس میں یہ ثبوت ہے کہ جنگ بدر کے دو قیدی گستاخی رسول ﷺ کی وجہ سے واجب القتل قرار پائے اور فتح مکہ کہ بعد ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا جو آپ ﷺ کی ہجو (توہین) کرتے تھے خواہ وہ قریشی ہو یا دیگر اہل عرب۔

اسی طرح ایک نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی اور ہجو کی تو اسے ایک عبقری جن نے موت کی بھینٹ چڑھا دیا اور یہ قاتل جن مسلمان تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس واقعہ کی لوگوں کو خبر دی۔ ➋

اسی طرح ابو رافع بن ابی الحقیق یہودی کا قتل تھا، اس کا واقعہ بھی مشہور ہے اور صحیح بخاری میں مروی ہے۔ ➌

یہ سبھی احادیث اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرے گا اور گستاخی کرے گا اسے قتل کیا جائے گا اور اس قتل پر لوگوں کو ابھارا جائے گا۔

تیرہویں حدیث : ➍

اس واقعہ کو امام ابو القاسم عبداللہ بن محمد البغوی اور ابو احمد ابن عدی نے الکامل میں بیان کیا ہے ۔ ➎ کہ مدینہ منورہ سے دو میل کے فاصلے پر بنولیث کا

➊ دیکھیے: المغازي للواقدي (١٠٧/١٠٦)

➋ دیکھیے: الصارم (٢/ ٢٩١، ٢٩٢)

➌ صحيح البخاري، رقم (٤٠٣٨،٣٠٢٣،٣٠٢٢)

➍ الصارم (٢/ ٣٢٣)

➎ الكامل لابن عدی (٤/ ٥٣، ٥٤) ابن عدی نے یہ واقعہ بیان کیا ہے اور اسے صالح

بن حیان قرشی کوفی کی مناکیر میں شامل کیا ہے اور اس کے بعد کہا: "یہ قصہ میں اسے

صرف اسی سند جانتا ہوں۔" یعنی حجاج الشاعر کی سند سے کہ حدثنا زکریا بن عدی

حدثنا علی بن مسهر از صالح بن حيان از ابن بريدة از أبيه.

صفحہ 79

الصارم المسلول على شاتم الرسول

قبیلہ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے زمانہ جاہلیت میں ان کی کسی عورت سے منگنی کی مگر انھوں نے اسے شادی نہ کرنے دی۔ یہ ان کے پاس ایک قیمتی جوڑا (حُلہ) لے کر گیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حُلہ پہنا کر بھیجا ہے اور مجھے ارشاد بھی فرمایا ہے کہ میں تمھارے خون (قتل) اور اموال کا فیصلہ کیا کروں، پھر یہ اس عورت کے گھر والوں کے پاس گیا، جس سے محبت کرتا تھا تو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف قاصد روانہ کر کے حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”اللہ تعالیٰ کے دشمن نے جھوٹ بولا۔“

پھر ایک آدمی کو اس کی طرف روانہ کیا اور فرمایا:

”اگر وہ تجھے مل جائے تو اسے قتل کر ڈالنا اور اگر وہ مر جائے تو اسے آگ میں جلا دینا۔“

پھر ارشاد فرمایا:

”جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولتا ہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“

اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے، اس کی کوئی علت بھی معلوم نہیں۔ ➊ اس واقعہ کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی ہے، مگر اس میں ہے:

تفریق نہ کرنے کا نتیجہ ہے، بعض نے حیان کہا ہے۔ ثقہ راوی ہے، اسی وہم کی نشان دہی زمانہ قدیم میں حافظ ذہبی نے سیر أعلام النبلاء (٧/ ٣٧٣، ٣٧٤) میں کی ہے: کہا: ہمارے شیخ ابو العباس نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول“ میں صالح بن حیان کی اس حدیث پر اعتماد کیا ہے اور اسے قوی قرار دیا ہے۔ اس میں ان کا وہم ہے۔

دیکھیے: المیزان (٢/ ٧)

صفحہ 80

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”اسے مت جلانا کیونکہ آگ سے عذاب آگ کا پروردگار ہی دے سکتا ہے۔“❶

اس حدیث کے بارے میں لوگوں کے دو اقوال ہیں:

رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولے گا اسے قتل کیا جائے گا، ان لوگوں میں سے بعض کا موقف یہ ہے کہ وہ اس جھوٹ کی وجہ سے کافر ہوجائے گا، ایک جماعت کا یہ نظریہ ہے جن میں ابو محمد الجوینی بھی شامل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ ہے، اسی بنا پر تو ارشاد فرمایا:

”میرے اوپر جھوٹ بولنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ تمھارا ایک دوسرے پر جھوٹ بولنا ہے۔“❷

جس کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا آپ ﷺ کی اتباع اسی طرح واجب ہے جس طرح اللہ کے حکم کی اتباع واجب ہے لہٰذا جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولتا ہے وہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے کی طرح ہے۔

اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب جھوٹ کی قسم ہے، آپ ﷺ کی تکذیب سے مراد یہ ہے کہ جو آپ ﷺ نے غیبی خبریں دی ہیں

❶ المعافی النہروانی نے الجلیس الصالح (١/ ١٨٢، ١٨٣) میں روایت کیا ہے، اس کی سند سے ابن الجوزی نے الموضوعات (١/ ٨٣) میں بیان کیا ہے، اس کی سند میں داود بن زبرقان متروک راوی ہے۔ اس حدیث کے دیگر ضعیف شواہد بھی ہیں جن کی بدولت یہ مقبول کے درجے میں پہنچ جاتی ہے، امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی کوئی سند صحیح نہیں۔“ دیکھیے: قصص لا تثبت للعتيق (٤/ ١٣ - ٢٤)

❷ صحیح البخاری، حدیث: (١٢٩١) و صحیح مسلم، حدیث (٤) عن المغيرة.

صفحہ 81

ہے۔ (مستند شاہد بشیر نیز ان کے بیان اور انٹرویو کی مجلہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۴ھ)

رہنمائی کا طریقہ:

اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: بی بی سی ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

٭ ٭ ٭

80

سے عذاب آگ کا پروردگار ہی دے

ں کے دو اقوال ہیں: ظاہر کو لیتے ہوئے عمل کیا جائے گا، یعنی جو عمداً اسے قتل کیا جائے گا، ان لوگوں میں سے جھوٹ کی وجہ سے کافر ہوجائے گا، ایک محمد الجوینی بھی شامل ہیں اور اس کی وجہ یہ تعالیٰ پر جھوٹ ہے، اس بنا پر تو ارشاد فرمایا: ا ہے جیسا کہ تمھارا ایک دوسرے پر

فرمایا حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے جس طرح اللہ کے حکم کی اتباع واجب ہوتا ہے وہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے کی

ی اللہ ﷺ کی تکذیب جھوٹ کی قسم ہے، بلکہ جو آپ ﷺ نے غیبی خبریں دی ہیں (۱/ ۱۸۲، ۱۸۳) میں روایت کیا ہے، اس (۱/ ۸۳) میں بیان کیا ہے، اس کی سند میں حدیث کے دیگر ضعیف شواہد بھی ہیں جن کی ہ امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں: ”اس کی کوئی

(١٣/٤-٢٤)

صحیح مسلم، حدیث (٤) عن المغیرۃ.

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

وہ راست نہیں ہے گویا یہ اللہ تعالیٰ کے دین کو باطل کرنے والی بات ہے اور جو آپ ﷺ پر جھوٹ بولتا ہے۔ گویا وہ عمداً دین میں ایسی چیزیں داخل کرتا ہے جس کا تعلق اس سے نہیں اور وہ خیال کرتا ہے کہ امت پر اس کی تصدیق بھی لازم ہے۔

یہ بھی اسی طرح ٹھٹھا اور تحقیر ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے ایسی چیزوں کا حکم دیا ہے جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ اس کا حکم دینا بھی جائز نہیں ہے، یہ اس کی نسبت بے وقوفی کی طرف ہے یا پھر وہ باطل اشیاء کی خبر دیتا ہے، یہ اس کی نسبت جھوٹ کی طرف ہے اور صریح کفر ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر عمداً جھوٹ بولے وہ اسی طرح جیسے وہ عمداً اللہ تعالیٰ کی تکذیب کر رہا ہے بلکہ اس سے بھی برا حال ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ آپ کی تکذیب کے مترادف ہے۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں ❶: جان لیجیے! یہ قول انتہائی مستحکم ہے اور پھر اس کے متعدد دلائل ذکر کیے جن کی قوت اور کثرت کی بنا پر ان کی تردید ناممکن ہے۔

پھر فرمایا: ’’یہ ملحوظ خاطر رکھا جائے گا کہ جو بالمشافہ جھوٹ بولے اور جو کسی وساطت سے جھوٹ بولے ان دونوں میں تفریق کی جائے گی، مثال کے طور پر وہ کہے: مجھے فلاں بن فلاں نے اس طرح ان سے حدیث بیان کی، اس اعتبار سے اس نے اس آدمی پر جھوٹ بولا، اور

❶ الصارم (۳۳۳/۲)

صفحہ 82

میں سزا کے بیان اور اس کی ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ (ذیقعد ۱۴۱۳ھ) صادقانہ طریقہ: کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: مجاہدین نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

الصارم المسلول على شاتم الرسول

لیکن جب یہ کہے: یہ حدیث صحیح ہے، یا کہے یہ حدیث آپ ﷺ سے ثابت ہے، اور اسے علم تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، تو یہ اس نے سیدھا رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولا ہے۔

رہا جب اس کا بہتان تراشی کرنا اور معمولی روایت بیان کرنا، اس معاملہ میں غور وفکر کرنا چاہیے، رہا وہ شخص جو حدیث بیان کرے اور وہ جان لے کہ یہ جھوٹ ہے تو یہ حرام ہے لیکن اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا، ہاں اس کی روایت میں ایسی چیز موجود ہو جس سے کفر لازم آئے۔

کیونکہ وہ اس بات میں سچا ہے کہ اس کے استاد نے اسے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے، اس بنا پر جو توہین رسالت کرے وہ قتل کا زیادہ حق دار ہے، بہ نسبت اس آدمی کے جو آپ پر جھوٹ بولتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی، جس نے آپ پر جھوٹ بولا، کو بغیر توبہ کروائے قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس اعتبار سے گستاخ رسول بالاولیٰ اس کا حق دار ہے۔

جائے گی مگر اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا، اس کا قتل جائز نہیں کیونکہ جن چیزوں کی وجہ سے کفر اور قتل لازم آتا ہے وہ معروف اشیاء ہیں اور اس کا تعلق اس سے نہیں، اس لیے یہ جائز نہیں کہ اس چیز کو برقرار رکھا جائے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور جو اس قسم کی بات کرے اس کی بات کو مقید کیا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ ظاہری عیب پر مشتمل نہ ہو۔ اور اگر وہ خبر دیتا ہے کہ میں نے یہ کلام سنا ہے اور وہ کلام ظاہری طور پر رسول اللہ ﷺ کی تنقیص اور عیب جوئی کرتا ہے، جیسے:

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”گھوڑے کے پینے والی جگہ اللہ ﷺ سے ٹھٹھا اور ظاہری گس اس کا ارتکاب کرنے والا بالا الاسلام نے ذکر کیا ہے، یہ آدمی جس جھوٹ تھا جو رسول اللہ ﷺ کی عیب بزعم خویش یہ باور کرایا کہ رسول ا کے لیے منصف بنا کر بھیجا ہے اور کے گھروں میں سے جس گھر میں کے ہاں رات گزارے اور اس جا حرام اشیاء کو حلال قرار دینے کی خ رسول اللہ ﷺ کی توہین اور عیب حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عیب ج ہے، پہلا قول یہ ہے کہ وہ کافر ہ کرنے والا ہے، پہلے قول کی تائید زنی اور گالی گلوچ ظاہر ہو جاتا تو وہ

چودھویں حدیث:

بدوی کا واقعہ جس نے رسو

میں بیان کیا ہے اور اس کے بعد کہا نہیں ہے ایک مسلمان ایسی حدیث م

صفحہ 83

الصارم المسلول علی شاتم الرسول 83

"گھوڑے کے پسینے والی حدیث" اور دیگر لغویات ہیں، یہ رسول اللہ ﷺ سے ٹھٹھا اور ظاہری تمسخر ہے۔ ❶

اس کا ارتکاب کرنے والا بلاشبہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے، یہ شیخ الاسلام نے ذکر کیا ہے، یہ آدمی جس نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولا یہ ایسا جھوٹ تھا جو رسول اللہ ﷺ کی عیب جوئی اور توہین پر مشتمل تھا، کیونکہ اس نے بزعم خویش یہ باور کرایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قوم کے خون (قتل) اور اموال کو مباح بنا کر بھیجا ہے اور اسے یہ اجازت بھی بخشی ہے کہ وہ ان لوگوں کے گھروں میں سے جس گھر میں چاہے رات گزار سکتا ہے تا کہ وہ اس عورت کے ہاں رات گزارے اور اس سے بدکاری کرے۔ پس جس صورت میں اس نے حرام اشیاء کو حلال قرار دینے کی ناپاک کوشش کی ہے ان کے ہاں اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی توہین اور عیب جوئی کی ہے، ان دونوں اقوال کے مطابق اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عیب جوئی کرنے والا قتل کا مستحق ہے اور یہی مطلوب ہے، پہلا قول یہ ہے کہ وہ کافر ہے اور دوسرے قول کے مطابق وہ طعنہ زنی کرنے والا ہے، پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اگر ان کے ہاں طعنہ زنی اور گالی گلوچ ظاہر ہو جاتا تو وہ اس پر انکار کرنے میں جلدی کرتے۔

چودھویں حدیث:

بدوی کا واقعہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو عطیات کی فراہمی کے موقعہ پر

❶ یہ من گھڑت اور موضوع حدیث ہے، اسے ابن جوزی نے الموضوعات (۱/ ۱۰۵)

میں بیان کیا ہے اور اس کے بعد کہا ہے: "اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ایک مسلمان ایسی حدیث وضع نہیں کر سکتا۔

❷ الصارم (۲/ ۳۳۹)

صفحہ 84

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کہا آپ نے اچھا نہیں کیا اور نہ ہی آپ ﷺ نے انصاف کیا ہے۔ تو مسلمانوں نے اسے قتل کرنے کا پروگرام بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اسے قتل کر دیتے تو وہ آگ میں داخل ہوتا۔“ ❶

یہ قصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے مارا گیا وہ جہنمی ہے اور یہ اس کے کفر کی بدولت ہے اور اس کے قتل کے جائز ہونے کے حوالے سے ہے وگرنہ تو وہ شہید ہوگا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے چشم پوشی کی کیونکہ آپ ﷺ کو اختیار ہے کہ جو آپ ﷺ کو تکلیف پہنچائے اسے معاف کر سکتے ہیں۔

اسی طرح قول اس آدمی کا بھی ہے جس نے حنین کی غنیمت کی تقسیم کے موقعہ پر کہا: یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی خوشنودی مطلوب نہیں ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے چھوڑیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ ❷

آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل سے اس وجہ سے منع فرمایا کہ لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے توضیح بھی فرمائی۔

اسی طرح کا قول عبداللہ بن ابی کا ہے:

﴿ لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ﴾

[المنافقون: ٨]

”اگر ہم مدینہ پلٹے تو ہم میں سے جو معزز ہے وہ مدینہ سے ذلیل ترین آدمی کو ضرور نکالے گا۔“

❶ اسے بزار نے الکشف (۳/ ۱۵۹، ۱۶۰) اور ابو الشیخ نے اخلاق النبی (۱/ ۴۷۲، حدیث: ۱۷۷) میں بیان کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن الحکم سخت ترین ضعیف ہے۔

❷ صحیح مسلم، رقم (۱۰۶۳) من حديث جابر رضي الله عنه.

صفحہ 85

الصارم المسلول على شاتم الرسول

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن اڑا دوں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((إِذَنْ تُرْعَدُ لَهُ أُنُوفٌ)) ”بہت سے ناک کانپنے شروع ہو جائیں گے (بڑے حمایتی کھڑے ہو جائیں گے)۔“

اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کمزور تھے تو آپ ﷺ کو اندیشہ لاحق ہوا کہ لوگ اسلام سے بددل نہ ہو جائیں۔ ❶

اسی طرح آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے: ”میرے الزام کی صفائی کون دے گا، جس آدمی نے میرے اہل بیت کو اذیت دی ہے۔“

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے میں آپ ﷺ کو اس الزام سے بری کروں گا اگر وہ قبیلہ اوس سے ہوا تو میں اس کی گردن تن سے جدا کر دوں گا۔ رسول اکرم ﷺ نے اس پر کوئی انکار نہ کیا۔ ❷

پندرھویں حدیث:

امام سعید بن یحییٰ بن سعید الاموی ”المغازی“ میں امام شعبی سے نقل

❶ صحیح البخاري، حديث (٣٥١٨) و صحيح مسلم، حديث (٢٥٨٤) عن جابر رضي الله عنه.

❷ اس کا واقعہ مشہور ہے، جسے امام بخاری حدیث (٤١٤١) اور امام مسلم حدیث (٢٧٧٠) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔

صفحہ 86

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کرتے ہوئے فرماتے ہیں❶:

جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا، عزٰی کا مال منگوایا اور آپ کے سامنے بکھیر دیا گیا، پھر آپ ﷺ نے ایک آدمی کو نام لے کر بلوایا اور اس مال سے اسے مرحمت فرمایا، پھر ابوسفیان بن حرب اور حارث بن ہشام کو بلوا کر اس میں سے عطا فرمایا، پھر سعید بن حریث کو بلوا کر عطا فرمایا، پھر قریش کی ایک جماعت کو بلوا کر عطا فرمایا، آپ ﷺ ایک آدمی کو سونے کی ایک ٹکڑی عنایت فرماتے جس کا وزن پچاس یا ستر مثقال ہوتا۔❷

ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کیا: آپ ﷺ بڑے ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں اور معلوم ہے کہ سونے کی ڈلی کسے دینی ہے!!!

اس نے دوبارہ یہی جسارت کی۔

آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا، مگر وہ تیسری بار بھی کھڑا ہوا اور دریدہ دہنی کرتے ہوئے کہنے لگا: ہم آپ کے فیصلے میں عدل نہیں پاتے۔❸

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مخرج مجالد جو کہ ابن سعید ہے، اس میں لین ہے، مگر اس کے معنی کی تائید ہوتی ہے۔‘‘

کے، جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور فتح مکہ میں شمولیت کی، ان کی عمر پندرہ برس تھی، اس لیے اس سے وہ مراد لینا بعید ہے۔ ممکن ہے کہ درست ابن الحارث ہو جو رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی تھے۔ دیکھیے: السیر (١/ ٢٠٢) و الإصابة (٢/ ٤٥)

صفحہ 87

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”تیری بربادی ہو! میرے بعد تو کوئی عدل نہیں کرے گا پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو بلوایا اور فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو۔“

حضرت ابوبکر ؓ گئے تو وہ مل نہ سکا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تو اسے قتل کر دیتا تو مجھے امید ہے کہ یہ ایسے لوگوں کا اول و آخر ہی ہوتا۔“

یہ دلیل ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ پر طعن و تنقید کرے گا وہ توبہ کروائے بغیر قتل کر دیا جائے گا۔

یہ واقعہ غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے علاوہ ہے اور یہ وہ واقعہ بھی نہیں ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو روانہ کیا۔

عزیٰ کو گرائے جانے کا واقعہ فتح مکہ کے فوراً بعد آٹھ ہجری کا ہے اور غزوہ حنین اس کے بعد ذی القعدہ میں ہوا اور حضرت علی ؓ کا واقعہ دس ہجری کو درپیش ہوا۔

پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس آدمی کو قتل کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر رضا مندی کا اظہار نہیں کیا ❶۔

حضرت عمر کے اس اقدام میں قرآن مجید کا نزول ہوا، حالانکہ اس کا جرم اس (گستاخ) کے جرم سے کم تر تھا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس آدمی کا واقعہ موجود ہے جس نے سونے کی تقسیم میں رسول اللہ ﷺ پر کیچڑ اچھالا ❷۔

ہے۔ واقعہ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے بیان کیا ہے، جیسا کہ الدر المنثور میں ہے۔ (۲/ ۳۲۲) اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں، دُحیم نے اپنی تفسیر میں دوسری سند سے بیان کیا ہے، جیسا کہ یہ بھی الدرر میں موجود ہے۔

الخدري۔ رضی اللہ عنہ۔

صفحہ 88

الصارم المسلول على شاتم الرسول

تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”اس کی اولاد میں سے ایسے لوگ جنم لیں گے جو قرآن مجید کی تلاوت انتہائی احسن انداز میں کریں گے مگر وہ (قرآن) ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا، دین سے وہ اس طرح نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے، مسلمانوں کو قتل کریں اور بتوں کی پرستش کرنے والوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کو پا لیا تو عاد کے قتل کی طرح انھیں قتل کردوں گا۔“

نیز فرمایا:

”عنقریب زمانے کے آخر میں ایسے لوگ ظہور پذیر ہوں گے جو نو عمر ہوں گے، عقلوں کے اعتبار سے بے وقوف ہوں گے، مخلوق میں سے سب سے عمدہ کلام ان کا ہوگا، ان کا ایمان ان کی ہنسلیوں سے تجاوز نہیں کرے گا، دین میں ایسے نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے، تم جہاں بھی انھیں پاؤ انھیں قتل کرو، جو انھیں قتل کرے گا قیامت کے دن اسے اس قتل کا بدلہ دیا جائے گا۔ ❶“

یہ سبھی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عیب جوئی کرنے والی اس آدمی کی جماعت کو قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی اطلاع دی کہ جو انھیں قتل کرے گا اسے اس قتل کے عوض میں اجر وثواب سے نوازا جائے گا، فرمایا:

❶ أخرجه البخاري، رقم (٣٦١١) ومسلم، رقم (١٠٦٦) من حديث على رضي الله عنه.

صفحہ 89

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

’آسمان کے چھت تلے یہ بدترین مقتول ہیں۔‘ ١ قتل کو اس وجہ سے لازمی قرار دیا کہ یہ دین سے نکل چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا قتل اس لیے ناگزیر قرار پایا جب انھوں نے اس میں غلو کیا یہاں تک دین سے برگشتہ ہوگئے، ان کی مختلف قسمیں ہیں یہ ان کا ہراول دستہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نمودار ہوا اور آپ ﷺ کی مال غنیمت کی تقسیم پر انگشت نمائی کرنے لگا۔

ہر وہ انسان جو آپ ﷺ کی کسی سنت کی تحقیر کرتا ہے اس کا حکم ان جیسوں کا ہوگا، جس آدمی کا یہ تصور ہو کہ آپ ﷺ نے اپنی تقسیم میں ظلم کیا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے اور اس کے ہاں آپ ﷺ کی اتباع بھی واجب نہیں ہے کیونکہ وہ رسالت کے حوالے سے جو امانت ہے اور اطاعت کا وجوب ہے اس کے متضاد کہہ رہا ہے، کسی قول اور فعل میں آپ ﷺ کے فیصلے کے بارے میں دل میں کھٹکا بھی رہے گا۔

جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ کے حکم کی فرمانبرداری کو واجب قرار دیا ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ) کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتے، لہٰذا اس معاملے میں جو عیب جوئی کرے گا گویا کہ وہ آپ ﷺ کی تبلیغ کے صحیح ہونے میں تنقید کر رہا ہے اور یہ درحقیقت رسالت (پیغمبری) میں تنقید ہے جو کہ بدترین اور انتہائی قبیح کفر ہے۔

(۳۰۰۰) اور امام ابن ماجہ نے حدیث (۱۷۶) میں بیان کیا ہے۔

صفحہ 90

الصارم المسلول على شاتم الرسول

فصل ➊

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع:

ان سے مختلف متعدد واقعات اور فیصلے نقل کیے گئے ہیں جو کہ بکھرے ہوئے اور مشہور ہیں اور ان واقعات پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا لہٰذا وہ اجماع صحابہ ہوا۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں:

جان لیجیے! کسی جزوی مسئلے میں صحابہ کرام کے اجماع کا دعویٰ، جو اس حالت و کیفیت سے زیادہ مضبوط ہو، ممکن نہیں ہے۔

اس کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے جسے سیف بن عمر التمیمی نے ذکر کیا ہے۔ ➋ کہا کہ مہاجر کے پاس ➌ دو گانے والی لائی گئیں، ان دونوں میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اس کے سامنے والے دو دانت اکھاڑ دیے گئے اور دوسری لونڈی نے مسلمانوں کی ہجو کی اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اس کے ثنائی دانت اکھاڑ دیے گئے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجر کو خط لکھا:

جس عورت نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی ہے اس کے حوالے میں مجھے اطلاع ملی ہے، اگر آپ نے اس کے بارے میں یہ اقدام نہ کیا ہوتا تو میں

ہوئے اور حضرت ابوبکر نے انھیں مرتدین سے جنگ کرنے کے لیے یمن روانہ کیا۔

الاصابة (٣ / ٤٦٥)

صفحہ 91

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اس کے قتل کا حکم دیتا، کیونکہ انبیاء کی توہین کی حد عام حدود کے مشابہ نہیں ہے، جو شخص اس کی طرف ہاتھ بڑھائے گا اگر وہ مسلمان ہوگا تو مرتد ہو جائے گا اور اگر حلیف ہوگا تو وہ جنگ جو اور غدار ہوگا۔

جس عورت نے مسلمانوں کی ہجو کی اس کے بارے میں لکھا:

حمد و ثنا کے بعد! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے اس عورت جس نے اپنے گانے میں مسلمانوں کی ہجو کی ہے، کا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور اس کے سامنے والے دو دانت اکھیڑ دیے ہیں، اگر وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو ادب سکھلانا اور مثلہ کے علاوہ سزا دینا۔

اور اگر وہ ذمیہ ہے تو مجھے میری قسم تو نے ایسی چیز سے درگزر کیا ہے جو شرک سے بھی بہت بڑی ہے، اس جیسے فیصلے میں آپ کے لیے کوئی لائحہ عمل آپ کو دے دیتا تو شاید آپ کو یہ ناپسند ہوتا۔

لوگوں کا مثلہ کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ گناہ اور قابل نفرت چیز ہے مگر قصاص میں نہیں۔

اس واقعہ کو سیف کے علاوہ اوروں نے بھی کہا ہے، جو پہلے گزر چکا ہے اس کی موافقت کرتا ہے ❶: جو بھی رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرتا ہے آپ کو اختیار ہے کہ اسے قتل کروا دیں اور یہ قتل رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور کیلئے روا نہیں۔

یہ اس بات میں صریح ہے کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے، خواہ وہ

❶ جیسے امام طبریؒ التاریخ (۲ / ۳۰۵ - ۳۰۶) مگر یہ بھی سیف کی سند سے مروی ہے، اس کی سند میں سیف بن عمر کے ضعف کے ساتھ انقطاع بھی ہے۔

صفحہ 92

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مسلمان ہو یا حلیف، اور اگر چہ عورت بھی ہو، یہ بغیر توبہ کروائے قتل کیے جائیں گے۔ مگر جو نبی کی گستاخی کرتا ہے، اس کا یہ حکم نہیں اور اس کا قتل انبیاء کی توہین کی حد ہے۔ جیسا کہ جو کسی کی توہین کرے اس کو اَسّی کوڑے لگانا اس کی حد ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجر کو اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا، کیونکہ انھوں نے اس بارے میں اجتہاد کیا اور اس پر حد لگوائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ناپسند سمجھا کہ اس عورت پر دو حدیں لاگو کریں۔

اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ وہ اسلام لائی یا اس نے توبہ کی تو مہاجر نے حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے خط سے پہلے اس کی توبہ قبول کر لی یہ اجتہاد کا مقام ہے اس لیے سابقہ حکم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تبدیل نہیں کیا کیونکہ اجتہاد سے اجتہاد توڑا نہیں جاسکتا۔

امام حرب نے ”مسائل“ میں بیان کیا ہے کہ لیث: مجاہد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گستاخ رسول لایا گیا تو اسے قتل کروا دیا، پھر ارشاد فرمایا:

”جو اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کی یا کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسے قتل کردو۔“➊

حضرت مجاہد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی مسلمان جو اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول ﷺ یا کسی نبی کی گستاخی کرے، اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی ہے، یہ ارتداد ہے اس سے توبہ کروائی جائے گی اور اگر وہ توبہ کرے تو فبہا بصورت دیگر اسے قتل کروا دیا جائے گا اور کوئی بھی حلیف

➊ مسائل حرب للإمام أحمد، مخطوط ہے ابھی تک طبع نہیں ہوئے۔

صفحہ 93

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

جو کسی رسول کی گستاخی کرے تو اس نے معاہدہ توڑ دیا، لہٰذا اسے قتل کر دو۔

امام حرب مزید لکھتے ہیں ❶ : کہ حضرت عمر رضی اللہ نے نبطی، جس نے کچھ گستاخی کی تھی، کو جب وہ ملک شام میں داخل ہوا تو خط لکھا: ”میں نے تجھے امان اس وجہ سے نہیں دی کہ تو ہمارے دین میں مداخلت کرے ❷ ، اگر تو نے پھر یہ حرکت کی تو تیری گردن اڑا دوں گا۔“

حضرت عمر رضی اللہ انصار اور مہاجرین کی موجودگی میں ایک معاہد سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تجھ سے اس وجہ سے معاہدہ نہیں کیا تو ہمارے دین میں مداخلت کرے اور قسم اٹھائی کہ اگر اس نے دوبارہ حرکت کی تو بالضرور اس کی گردن تن سے جدا کر دی جائے گی اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ معاہدین کا کوئی استحقاق نہیں کہ وہ ہمارے دین میں دخل اندازی کریں اور یہی عمل ان کے خون کو مباح قرار دے گا اور سب سے بڑا اعتراض رسول اللہ ﷺ کی گستاخی ہے، یہ بالکل ظاہر ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے مروی ہے کہ وہ ایک راہب کے پاس سے گزرے تو حضرت عبداللہ کو بتلایا گیا کہ یہ رسول اقدس ﷺ کی شان کی گستاخی کرتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ نے ارشاد فرمایا:

لتدخل علینا في دیننا...“ وھي قلقۃ. وما اثبتہ أوضح، وھو بنحوہ في الصارم.

نے تاریخ میں بیان کیا ہے۔

صفحہ 94

الصارم المسلول على شاتم الرسول

”اگر میں اسے سن لیتا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دیتا۔“ ❶

اس واقعہ کو کئی علما نے بیان کیا ہے، حضرت عمر ؓ اور صبیغ ❷ کا قصہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی حضرت عائشہ اور دیگر ازواج کی شان میں حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ ❸

حضرت خالد بن ولید کا واقعہ بھی ہے کہ انھوں نے ایک گستاخِ رسول ﷺ عورت کو قتل کر دیا، امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔ ❹

امام عبد اللہ بن المبارک نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ غرفۃ بن الحارث الکندی، جو صحابی ہیں، نے ایک عیسائی کو رسول اکرم ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے سنا تو حضرت غرفۃ نے اسے ضرب لگا کر اس کی ناک پھوڑ ڈالی، حضرت عمرو بن العاص کے پاس یہ معاملہ پہنچا تو فرمایا ❺: ہمارا ان سے معاہدہ ہے، حضرت غرفۃ فرمانے لگے: اللہ کی پناہ! ہم نے ان سے اس لیے معاہدہ نہیں کیا کہ

❶ اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔ ❷ اس ”مختصر“ میں اس حوالے سے کچھ نہیں گزرا بلکہ الصارم (۲/ ۳۵۶) میں گزرا ہے۔ شیخ الاسلام نے وہاں فرمایا: ”اسے اموی وغیرہ نے صحیح سند سے بیان کیا ہے۔“ اس قصہ کو دارمی نے السنن، حدیث (۱۴۶) آجری نے الشريعة، حدیث (۱۵۲، ۱۵۳) للآلکائی، حدیث (۱۱۳۶-۱۱۳۸) ابن بطہ نے الإبانة، حدیث (۳۰۸-۳۰۹) وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ ❸ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ❹ ان (امام احمد) کی سند سے الخلال نے ”الجامع“ (۲/ ۳۴۲۔ أھل الملل) میں از عبد الرحمن بن مہدی از ابن المبارک از معمر از سماک بن الفضل از رجل من بلقین بیان کیا ہے۔ بیہقی (۸/ ۲۰۲-۲۰۳) نے بھی ابن مہدی سے اسی سند سے بیان کیا ہے، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام معلوم نہیں ہے۔ ❺ في الأصل: عمر، وهو سهو. بدليل ما بعدها.

صفحہ 95

الصارم المسلول على شاتم الرسول

وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کریں۔❶ حضرت عمرو بن العاص فرمانے لگے: آپ نے سچ کہا۔ یہ صحابہ اور تابعین، جن سے اللہ تعالیٰ نے احسان کا وعدہ کیا ہے، کے اقوال ہیں۔ رضی اللہ عنہم.

اقدار کا تحفظ :

گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے میں ہماری اسلامی قدروں کا تحفظ ہے اور اس کی کئی سمتیں ہیں۔

پہلی وجہ:

ہمارے دین میں عیب جوئی کرنا، ہمارے نبی کی گستاخی کرنا ہم سے جنگ و جدال ہے اور معاہدہ کی نقض ہے جیسے کوئی ہاتھ سے جنگ کرے۔ اس دعویٰ کی تائید اس فرمانِ باری تعالیٰ سے ہوتی ہے: ﴿ وَ جَاهِدُوْا بِأَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ﴾ [التوبة: ٤١] ’’اور جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر اللہ کے رستے میں۔‘‘ نفس سے جہاد زبان سے بھی ہوتا ہے جیسے ہاتھ سے ہوتا ہے۔

دوسری وجہ:

ہم نے ان کے کفریہ عقائد کو برقرار رکھا، یہ اس بات کا بھی اقرار ہے کہ

❶ اسے امام بخاری نے التاریخ الکبیر (۷/ ۱۱۵) ابو یعلیٰ نے المسند میں بحوالہ: المطالب العالية، حديث (٢٠٤٨) بیہقی نے الکبریٰ (۹/ ۲۲۰) میں بیان کیا ہے۔ بوصیری نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (۵/ ۲۱۵) مگر ابو یعلیٰ کی روایت میں ہے کہ غرفہ نے عیسائی کو قتل کیا، بقیہ مصادر میں ہے انھوں نے ناک پھوڑ دیا ہے۔

صفحہ 96

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اسلام کے بارے میں وہ عداوت چھپائے پھرتے ہیں۔ اس لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی اور دین کی توہین جنگ و جدال اور نقض عہد ہے۔

تیسری وجہ :

ہمارا کافروں سے یہ مطلق طور پر معاہدہ متقاضی ہے کہ وہ علانیہ طعن و تشنیع اور گستاخی سے احتراز کریں گے، اسی طرح یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ان کا خون نہیں بہایا جائے گا، بلکہ گستاخی تو خون بہانے سے بھی کہیں زیادہ سنگین جرم ہے کیونکہ ہم مال و دولت لٹا کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے رسول ﷺ کی ناموس کا تحفظ کرتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں اور دین بلند ہوتا ہے وہ کافر بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری دین سے وابستگی کس قدر ہے جب وہ اس معاہدہ کی مخالفت کریں گے تو ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔

چوتھی وجہ :

ہمارا معاہدہ وہی ہے جو حضرت عمر ؓ نے ان سے معاہدہ کیا اور اسے خوب واضح کیا اور یہ شرط بھی لاگو کی، جیسا کہ امام حرب نے حضرت عبدالرحمن بن غنم سے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ ❶

پانچویں وجہ :

ذمیوں سے ہمارا یہ معاہدہ ہے کہ ہمارے علاقوں میں اسلام کے احکام نافذ ہوں گے اور وہ ذلیل اور رسوا ہوں گے، ان دونوں شرطوں پر ان سے

❶ حضرت عمر کا وہ معاہدہ جو انھوں نے شام کے عیسائیوں سے کیا ہے۔

صفحہ 97

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

معاہدہ اور مصالحت کی گئی ہے۔ اعلانیہ گستاخی رسول ﷺ اور دین اسلام میں تنقید اس بات کی نفی کرتی ہے کہ وہ ذلیل اور رسوا ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔

چھٹی وجہ:

اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنے رسول ﷺ کی تعظیم وتکریم وتوقیر واحترام، مدد ونصرت اور بچاؤ، ان کی جلالت کی پاسداری کو فرض قرار دیا ہے، یہ حکم ہر گستاخی سے آپ کی حفاظت کا تقاضا کرتا ہے۔

ساتویں وجہ:

رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے کیونکہ یہ مدد تعظیم اور تکریم ہے اور یہ سب سے عظیم جہاد ہے، اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ﴾ [التوبة: ٤٠]

”اگر تم رسول ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا۔“

بلکہ عام مسلمانوں کی مدد کرنا فرض ہے تو سید ولد آدم ﷺ کی مدد کے بارے میں کیا خیال ہے؟

آٹھویں وجہ:

کفار سے اس بات پر معاہدہ ہو چکا ہے کہ وہ ایسی چیز کا اظہار نہیں کریں گے جو قابل انکار اور ان کے دین کے ساتھ مختص ہوگی، جب وہ ایسی چیز ظاہر کریں گے تو ان کی بیخ کنی کی جائے گی، اسی طرح جب وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کریں گے تو وہ لازمی طور پر اس کا مزہ چکھیں گے اور وہ قتل ہے۔

صفحہ 98

میں رکھا گیا ہے۔ ص ۱۱-۱۲ طبع ۱۴۱۳ھ) اس کا طریقہ : کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: اور بی بی سی نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول

نویں وجہ:

مسلمانوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کفار کو اعلانیہ سب وشتم کرنے سے روک دیا گیا ہے، اس ممانعت کے بعد اگر وہ یہ کام کریں گے تو اس کی سزا انھیں بھگتنا ہوگی، اس سے معلوم ہوتا ہے انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی اور جب وہ ایسے جرائم کا ارتکاب کریں گے جس کی اجازت نہیں دی گئی تو وہ بالاتفاق سزا کے مستحق ہیں، رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے علاوہ کسی اور کی گستاخی سے کوڑے لگانا لازم آتا ہے تو جو رسول ﷺ کی گستاخی کرے گا اس کا قتل کرنا کیسے لازم نہیں آئے گا؟

دسویں وجہ:

قیاس جلی بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ جب وہ کسی ایسی چیز کی مخالفت کریں گے جس کا ان سے معاہدہ کیا گیا ہے ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا، جس طرح فقہاء کی ایک جماعت کا رجحان ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ اپنے معاہدہ کی ایفا نہیں کریں گے تو ان کا معاہدہ اسی طرح فسخ ہو جائے گا جس طرح خرید وفروخت میں۔ اگر دو معاہدین میں سے کوئی اپنے وعدہ کو پورا نہ کریں، اس میں حکمت بھی ظاہر ہے کہ کسی چیز کی پابندی اسی صورت میں ممکن ہوگی جس صورت میں ایک مشروط چیز کی پابندی ضروری ہوگی، اگر اس مشروط پابندی کا لحاظ نہیں رکھا جائے تو اس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی شرط بھی غیر اہم ہو جائے گی۔ حذاق لوگوں کا اتفاق ہے کہ جو حکم کسی شرط سے متعلق ہو تو اس شرط کے عدم وجود سے حکم کا بھی فقدان ہوگا۔ جب یہ واضح ہو گیا تو اگر معقود علیہ (جس

الصارم المسلول على شاتم الرسول سے معاہدہ کیا جائے) کا عاقد (م وہ غیر مشروط طور پر اسے خرچ کر فسخ نہیں ہو جائے گا بلکہ عاقد کو ا خرید وفروخت میں کسی چیز کے گر اور اگر وہ اللہ کا حق ہو یا غی کرنا درست ہوتا ہے، اس میں م سے وہ از خود فسخ ہو جائے گا یا اس ک شرط لگاتا ہے کہ وہ آزاد اور مسلما عقد الذمة امام کا حق نہی ہے، اگر کسی مشروط چیز کی مخالفت کرنا فرض ہے۔ اور فسخ سے مراد ہے ا سے نکال دے۔ مگر یہ قول انتہائی کمزو فقدان سے معاہدہ خود بخود ختم کی شرطیں بھی اللہ تعالیٰ کا حق فرض کیا جائے کہ غیر م اس صورت میں ہے جو ان کا ف اگر ان کا قیام مسلمانو ٹھہرنے نہیں دیا جائے گا، فر

صفحہ 99

(الفاروق، ص ۱۱-۱۲ حصہ ۱۳۱۴ھ) سائنا طریقہ: ہی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

اختلاف نہیں ہے کہ کفار کو اعلانیہ سب وشتم کی ممانعت کے بعد اگر وہ یہ کام کریں گے تو اس سے معلوم ہوتا ہے انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی، اب کریں گے جس کی اجازت نہیں دی گئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے علاوہ کسی اور کی طرح ہے تو جو رسول ﷺ کی گستاخی کرے گا اس کا

تقاضی ہے کہ جب وہ کسی ایسی چیز کی مخالفت لیا گیا ہے ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا، جس ان ہے۔

معاہدہ کی ایفا نہیں کریں گے تو ان کا معاہدہ خرید و فروخت میں۔

اپنے وعدہ کو پورا نہ کریں، اس میں حکمت اسی صورت میں ممکن ہوگی جس صورت میں گئی، اگر اس مشروط پابندی کا لحاظ نہیں رکھا ہونے والی شرط بھی غیر اہم ہو جائے گی۔

جو حکم کسی شرط سے متعلق ہو تو اس شرط کے جب یہ واضح ہو گیا تو اگر معقود علیہ (جس

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

سے معاہدہ کیا جائے) کا عاقد (معاہدہ کرنے والا) پر حق ہے تو عاقد کو چاہیے کہ وہ غیر مشروط طور پر اسے خرچ کرے، اگر وہ خرچ نہیں کرے گا تو اس سے معاہدہ فسخ نہیں ہو جائے گا بلکہ عاقد کو اختیار ہے کہ اس معاہدہ کو فسخ کر دے جیسے وہ خرید و فروخت میں کسی چیز کے گروی رکھنے کی شرط لگا دیتا ہے۔

اور اگر وہ اللہ کا حق ہو یا غیر کا ایسا حق ہو جس میں رشتہ داری کی بنا پر تصرف کرنا درست ہوتا ہے، اس میں معاہدہ لاگو نہیں کیا جائے گا بلکہ شرط کے عدم وجود سے وہ از خود فسخ ہو جائے گا یا اس کا فسخ کرنا واجب ہے جیسے وہ بیوی کے بارے میں شرط لگاتا ہے کہ وہ آزاد اور مسلمان ہو تو بت پرست عورت علیحدہ ہو جائے گی۔

عقد الذمۃ امام کا حق نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور عام مسلمانوں کا حق ہے، اگر کسی مشروط چیز کی مخالفت کریں گے تو امام (حکمران) پر اس معاہدہ کا فسخ کرنا فرض ہے۔

اور فسخ سے مراد ہے اسے مامون اور محفوظ جگہ پہنچا دے اور دار الاسلام سے نکال دے۔

مگر یہ قول انتہائی کمزور ہے کیونکہ شرط اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس کے فقدان سے معاہدہ خود بخود ختم ہو جائے گا، فسخ کرنے کی ضرورت نہیں، اور ذمہ کی شرطیں بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔

فرض کیا جائے کہ غیر مشروط طور پر ان کے ٹھہرنے کا جواز نکلتا ہے تو یہ اس صورت میں ہے جو ان کا قیام مسلمانوں کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

اگر ان کا قیام مسلمانوں کے لیے مضر ہے تو انھیں قطعی طور پر علاقوں میں ٹھہرنے نہیں دیا جائے گا، فرض کیجیے کہ ان کا ٹھہراؤ مسلمانوں کی جانوں اور

صفحہ 100

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مالوں کے لیے نقصان دہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے دین کے بگاڑ اور قرآن وسنت پر سب وشتم کے لیے ان کے وجود کو برقرار رکھنا درست نہیں ہے۔

ذمیوں سے معاہدہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی نہ کریں۔ جیسے قابل فروخت چیز کا نقائص اور قیمت کے ابہام سے محفوظ ہونا اور مردوزن کا (نکاح کے) موانع سے محفوظ ہونا اور خاوند کے اسلام اور (غلامی سے) آزادی سے متعلق احکام مطلق طور پر ایک معاہدہ کو لازم کر دیتے ہیں اور اس کے متقاضی بھی ہیں۔

معاہدہ عرف کے مطابق ہوگا اگرچہ زبان سے اس کی شروط کو دہرایا نہ جائے۔ یہ بات بھی معلوم ہے کہ مسلمان ذمیوں سے اس وجہ سے معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ طعن و تشنیع نہیں کریں گے اور یہ رکنا انھیں اس طرح مطلوب ہوتا ہے جیسے کافروں کو کہ مسلمان ہم سے جنگ نہیں کریں گے کیونکہ یہ جنگ بھی بہت بڑے نقصانات کا سبب بنتی ہے۔

اعتراض:

اگر کوئی اعتراض کرے کہ ذمیوں کو ہم نے ان کے دین پر برقرار رکھا ہے اور اس دین میں گستاخی بھی جائز ہے ➊۔ جب وہ ایسی باتیں کریں جن پر ہمارا معاہدہ نہیں ہوا تو؟

جواب:

ہم اسے یہ جواب دیں گے کہ ان کے دین میں مسلمانوں سے جنگ کرنا، ان کا مال لوٹنا اور ہر محاذ پر ان سے ہاتھا پائی کرنا حلال ہے۔

➊ دیکھیے: الصارم (٢/ ٤٤٨)

صفحہ 101

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مگر وہ معاہدہ کے باوجود ایسے کام نہیں کرتے، جب کریں گے ان کا معاہدہ بھی ٹوٹ جائے گا کیونکہ ہم نے ان کو ان کے عقیدے کے مطابق برقرار رکھا ہوا ہے وہ چھپانے کی چیزیں چھپاتے ہیں۔

ہم انھیں ان ظاہر کرنے والی چیزوں کی بنا پر برقرار نہیں رکھ سکتے جبکہ وہ انھیں مسلمانوں کے درمیان بھی کہتے پھریں، ہم کسی گستاخ کا معاہدہ اتنی دیر تک نہیں توڑتے جب تک ہم خود اس کی گستاخی سن نہ لیں یا مسلمان اس کی گواہی نہ دے دیں جب یہ معلوم ہو جائے تو یقیناً انھوں نے گستاخی کا اظہار کیا ہے۔

اگر ہم انھیں ان کے دین پر برقرار رکھیں تو پھر ہم نے انھیں مساجد کے منہدم کرنے، قرآن مجید جلانے، علما اور نیک لوگوں کے قتل کرنے اور اپنی دشمنی کا بدلہ لینے پر برقرار رکھا اور اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ اگر وہ ان میں سے کوئی کام کریں گے تو وہ قطعی طور پر اس چیز پر برقرار نہیں رکھے جائیں گے۔

صفحہ 102

(ص: ۳، ج ص ۱۱-۱۲، طبع ۱۳۱۴ھ )

الطريقة:

قدر و قیمت جاتی رہی ہے:

ٹیلی وژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁❁❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول

دوسرا مسئلہ ❶

گستاخ رسول ﷺ کا قتل نافذ ہے تھوڑی سی مہلت بھی روا نہیں اس پر رحم کیا جائے گا اور نہ ہی فدیہ قبول کیا جائے گا۔

اگر تو وہ مسلمان ہے تو اس پر اجماع ہے، کیونکہ وہ گستاخی ارتداد اور لا دینیت کی قسم ہے، جیسے مرتد کا قتل مقرر ہے اسی طرح زندیق کا بھی قتل نافذ ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔

اگر وہ معاہدہ (عہد و پیمان کرنے والا) ہے تو مسلمان کی طرح اس کا قتل بھی متعین ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، سلف صالحین اور ان کے متبعین کا یہی فیصلہ ہے، امام ابن المنذر کا قول شروع کتاب میں گزر چکا ہے۔

کہ ”اکثر علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ گستاخ نبی واجب القتل ہے، یہی قول مالک، لیث، احمد، اسحاق کا ہے، امام شافعی کا بھی مذہب ہے، نعمان (بن ثابت ابو حنیفہ) سے منقول ہے کہ ذمی قتل نہیں کیا جائے گا“

یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ اکثر علماء کے ہاں وہ واجب القتل ہے، اس کے قتل کی وجہ دو عیوب ہیں:

پہلا عیب: عہد شکنی۔

❶ الصارم (٤٦٧/٢)

الصارم المسلول على شاتم الرسول

دوسرا عیب: دیگر حدود میں سے ایک

امام ابن راہویہ فرماتے ہیں

”اگر وہ علانیہ گستاخی کا ارتکا جن کا موقف ہے: کفار کرتے ہیں، یہ موقف غلط

نیز فرمایا:

”یہ قتل کیے جائیں گے ک

حضرت عمر بن عبدالعزیز عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ا کی گستاخی کی۔“

اور ارشاد فرمایا:

”ہم نے ان سے مصالحہ

اسی طرح امام احمد ابن کو کئی دلائل سے ثابت کیا ہے اکثر حنابلہ نے یہی موقف بیان ک کیا ہے اور اس کو من جملہ ان چیز متقدمین علمائے کرام ک ہے اور ذمی کا قتل عہد شکنی کی

❶ (ص: ۳۲، ۳۳)

❷ ای: من الحنابلة.

صفحہ 103

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

دوسرا عیب: دیگر حدود میں سے ایک یہ بھی حد ہے، فقہائے حدیث کا یہ قول ہے۔

امام ابن راہویہ فرماتے ہیں:

’’اگر وہ علانیہ گستاخی کا ارتکاب کریں گے تو وہ قتل کیے جائیں گے۔ جن کا موقف ہے: کفار گستاخ رسول ﷺ سے زیادہ جرم شرک کرتے ہیں، یہ موقف غلط ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

’’یہ قتل کیے جائیں گے کیونکہ انھوں نے عہد شکنی کی ہے، اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کیا، اس میں کوئی شبہ نہیں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس پادری کو قتل کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی۔‘‘

اور ارشاد فرمایا:

’’ہم نے ان سے مصالحت اس وجہ سے نہیں کی کہ وہ گستاخی کریں۔‘‘ ❶

اسی طرح امام احمد اس کے واجب القتل ہونے اور اس کے عہد کے ختم کو کئی دلائل سے ثابت کیا ہے، ان کی بعض نصوص پہلے گزر چکی ہیں، اسی طرح اکثر حنابلہ نے یہی موقف بیان کیا ہے، انھوں نے متعدد مخصوص مقامات پر اس مسئلے کو ذکر کیا ہے اور اس کو من جملہ ان چیزوں میں ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے عہد شکنی لازم آتی ہے۔

متقدمین علمائے کرام اور متاخرین کے ایک گروہ نے کہا ہے اس کا قتل نامزد ہے اور ذمی کا قتل عہد شکنی کی بنا پر ہے جیسا کہ امام کا کلام اس پر دلالت کرتا ہے۔ ❷

❶ (ص: ۳۳، ۳۲)

❷ ای: من الحنابلة.

صفحہ 104

یہ صورتحال بھی ان کے ہاں اور عربوں کی الفاروق ص ۴۱، ص ۱۱-۱۲ (طبعہ ۱۴۱۴ھ)

رسوا کن طریقہ:

ان کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں اب ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

۞ ۞ ۞

الصارم المسلول على شاتم الرسول

علماء کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ جو ذمی عہد شکنی کرے گا اس کے بارے میں حاکم کو اسی طرح اختیار ہوگا جس طرح قیدی کے بارے میں اختیار ہوتا ہے۔❶ لہٰذا گستاخ رسول ﷺ عمومی کلام میں شامل ہوگا، مگر محققین حضرات، جن میں قاضی (ابو یعلی الفراء) وغیرہ شامل ہیں❷، نے اس میں یہ قید لگائی ہے کہ گستاخ رسول ﷺ اس عمومی کلام میں شامل نہیں ہے بلکہ اس کا قتل مقرر ہو چکا ہے، رہا یہ کہ اس کے قتل کے متعین ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ان علماء نے ایک جگہ مطلق طور پر ذمی کے احکام بیان کر دیے اور دوسری جگہ اسے مقید کر دیا کہ اس کا قتل نامزد ہو چکا ہے، لہٰذا وہ عمومی حکم میں داخل نہیں ہے۔ یا پھر اس میں کوئی ضعیف رائے موجود ہے کیونکہ انھوں نے ایک جگہ کچھ کہا اور دوسرے مقام پر اس رائے کی خود ہی مخالفت کر دی۔

شوافع کے نزدیک:

شوافع کا بھی اس میں اختلاف ہے، بعض کی یہ رائے ہے کہ اس کا قتل متعین ہو چکا ہے اور بعض نے اس میں اختلاف ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دیگر عہد شکن لوگوں کی طرح ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس کا قتل کرنا جائز ہے۔❸ ان کا کہنا ہے کہ یہ قیدی کی طرح ہے امام (حاکم) کو اختیار ہے کہ وہ درست معاملہ کرے، امام شافعی کا کلام اس بات کا متقاضی ہے کہ عہد شکن کا حکم حربی (جنگجو) کا حکم ہے اور دوسرے مقام پر نامزد طور پر اس کے قتل کا حکم دیا ہے، اس میں اختیار نہیں ہوگا۔❹

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مراد یہ ہے کہ ذمیوں کا معاہد والے اور جنگ جو ہوں گے حفاظت میں رہتے ہیں، لہٰذا

مالکی مذہب:

ان کا عہد اتنی دیر ہوئے نہ نکلیں، کسی ظلم و زیاد یا دار الحرب چلے جائیں واجب القتل قرار دیا ہے ا سے زبردستی بدکاری کرتا ۔ اسے سخت ترین اذیت کے ان نصوص وغیرہ ہے جیسا کہ کئی اماموں ۔ رہا اس آدمی کا قتـ اور وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے کہ اس میں مسلمانوں مذہب ذکر کیا ہے جیسے ا

صفحہ 105

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں: ❶

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسئلہ اپنی اصل پر نہیں ہے، اصل سے مراد یہ ہے کہ ذمیوں کا معاہدہ اسی وقت ٹوٹے گا جس وقت وہ شان وشوکت والے اور جنگ جو ہوں گے وہ اس (شان و شوکت کی بدولت) حمایت اور حفاظت میں رہتے ہیں، لہٰذا اپنے احکامات کا اجرا اُن پر ممکن نہیں ہے۔

مالکی مذہب:

ان کا عہد اتنی دیر تک نہیں ٹوٹے گا جب تک وہ ہم سے چھٹکارا پاتے ہوئے نہ نکلیں، کسی ظلم و زیادتی کی شکایت کے بغیر جزیہ دینے سے انکار کر دیں، یا دارالحرب چلے جائیں لیکن امام مالک نے گستاخِ رسول ﷺ کو نامزد طور پر واجب القتل قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی ذمی کسی آزاد مسلمان عورت سے زبردستی بدکاری کرتا ہے تو وہ واجب القتل ہے اور اگر وہ عورت لونڈی ہے تو اسے سخت ترین اذیت سے دوچار کیا جائے گا۔ ❷

ان نصوص وغیرہ سے معلوم ہوا کہ گستاخ رسول ﷺ کا قتل متعین ہوچکا ہے جیسا کہ کئی اماموں نے اس کا اثبات کیا ہے۔ ❸

رہا اس آدمی کا قول جس نے یہ کہا کہ ہر عہد شکن کا قتل نامزد ہوچکا ہے اور وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے یا پھر ہر عہد شکن کا قتل اس وجہ سے لازم ہوچکا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے لیے ضرار اور اذیت ہے، جیسا کہ ہم نے امام احمد کا مذہب ذکر کیا ہے جیسے امام شافعی کا کلام بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔

❶ انظر الصارم (٢ / ٤٩٦)

❷ انظر الصارم (٢ / ٥٠١)

❸ من الصارم

صفحہ 106

رسول اللہ ﷺ کے جان اور عزت کا (الفاروق، مئی ۱۹۹۴ء، ص ۱۱-۱۲، ذی قعدہ ۱۴۱۴ھ) سفاکانہ طریقہ : اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے : محی الدین نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں بھی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ ❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول 106

یا کوئی یہ کہے کہ محض گستاخِ رسول سے عہد شکنی ہو جاتی ہے اور اس کے مرتکب کا قتل متعین ہو چکا ہے، جیسا کہ قاضی (ابویعلیٰ) نے ذکر کیا ہے اور جیسے شوافع کی ایک جماعت نے یہ ذکر کیا ہے۔

اور جیسے ان لوگوں نے بھی اس کا اثبات کیا ہے جنھوں نے اس گستاخی کو عہد شکنی میں شمار کیا ہے، انھوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حاکم اجمالی طور پر عہد شکنی کے مسئلے میں فیصلے کرنے کا مختار ہے۔

انھی علماء نے دوسرے مقامات پر ذکر کیا کہ وہ بغیر کسی اختیار کے قتل ہی کیا جائے گا، یہ مسئلہ واضح ہے۔ رہا اس آدمی کا یہ قول کہ ہر عہد شکنی میں امام (حکمران) مختار ہوگا، ہم نے یہ تو ذکر کیا ہے کہ ان سے سبھی حقوق پورے پورے لیے جائیں گے، جیسے قتل کا بدلہ، حد یا تعزیر وغیرہ کیونکہ ہمارا ان سے یہ معاہدہ ہوا ہے کہ وہ ہمارے احکامات قبول کریں گے اور یہ ہمارا حکم ہے، جب ہم نے اس کے پورے احکام بیان کر دیے تو اب امام (حکمران) اس مسئلے میں خود مختار ہے جیسے کہ وہ قیدی کے مسئلے میں ہے۔

اس قول کے پیش نظر ممکن ہے کہ وہ یہ کہیں کہ گستاخ رسول ﷺ کا قتل شرعی حدود میں سے ایک حد کی وجہ سے ہے، جیسے وہ (معاہدہ) زنا اور راہ زنی سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس جرم کی پاداش میں واجب القتل ہونے کی صورت میں اسے قتل کیا جاتا ہے، بلکہ کبھی کبھار تو حدود میں سے کسی حد کی پامالی کی وجہ سے ذمی کو قتل کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کا معاہدہ نہ بھی ٹوٹے، جیسے اگر وہ کسی ذمی کو قتل کر دیتا ہے۔

امام مالک کے مذہب کی توجیہ اس سمت سے ممکن ہے اگرچہ بعض مالکیہ کا یہ موقف ہے کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حکمران خود مختار ہے اس پر بعض فقہاء کا عمومی

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اور مطلق کلام دلالت کرتا ہے، اسی جائے گا۔

مطلق مذاہب کا اختیار ان بریں ضروری ہے کہ ان کا وہی کلام

خلاصۂ کلام:

اگر اس میں اختلاف بھی ہے ضعیف (ناقابل اعتبار) ہے، اس کرنے کی دلیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنھیں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

1 انظر الصارم (١-٥١٢/٢)

صفحہ 107

کے بیان اور عزم کا

(الفاروق، ص ص ۱۱-۱۱۲، طبع ۱۴۱۳ھ)

ساداتی طریقہ: ہی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ماہرین نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

ل سے عہد شکنی ہو جاتی ہے اور اس کے قاضی (ابویعلی) نے ذکر کیا ہے اور جیسے

ثابت کیا ہے جنھوں نے اس گستاخی کو ذکر کیا ہے کہ حاکم اجمالی طور پر عہد

کر گیا کہ وہ بغیر کسی اختیار کے قتل ہی ذمی کا یہ قول کہ ہر عہد شکنی میں امام کہ ان سے سبھی حقوق پورے پورے وغیرہ کیونکہ ہمارا ان سے یہ معاہدہ ہے اور یہ ہمارا حکم ہے، جب ہم نے م (حکمران) اس مسئلے میں خود مختار

ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کا قتل شرعی معاہدہ) زنا اور راہ زنی سے ٹوٹ ہونے کی صورت میں اسے قتل کیا پامالی کی وجہ سے ذمی کو قتل کیا جاتا ذمی کو قتل کر دیتا ہے۔ ہے ممکن ہے اگرچہ بعض مالکیہ کا

ہے اس پر بعض فقہاء کا عمومی

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اور مطلق کلام دلالت کرتا ہے، اسی طرح یہ موقف کہ اسے دار الحرب پہنچا دیا جائے گا۔

مطلق مذاہب کا اختیار ان کے ذمہ غلطی تھوپنے کے مترادف ہے، بنا بریں ضروری ہے کہ ان کا وہی کلام اختیار کیا جائے جو مفسر ہو۔

خلاصۂ کلام:

اگر اس میں اختلاف بھی ثابت ہو جائے تو یہ نقلی طور پر اور توجیہی طور پر ضعیف (ناقابل اعتبار) ہے، اس (گستاخ رسول ﷺ) کے نامزد طور پر قتل کرنے کی دلیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ، احادیث اور آیات قرآنیہ ہیں، جنھیں ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ ➊

➊ انظر الصارم (٥١٢/٢-٥٤١)

صفحہ 108

الصّارم المسلول علی شاتم الرّسول

تیسرا مسئلہ ❶

اسے قتل ہی کیا جائے، اسے توبہ نہیں کروائی جائے گی

خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر

امام احمد فرماتے ہیں ❷ : ’’ہر گستاخ رسول ﷺ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر واجب القتل ہے، میری رائے ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا توبہ نہیں کروائی جائے گی۔‘‘

باوجود یہ کہ امام موصوف نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے تو مرتد ہو جائے گا اور اگر وہ ذمی ہے تو اس کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا، اکثر حنابلہ نے مطلق طور پر گستاخ رسول کو واجب القتل قرار دیا ہے اور توبہ کروانے کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ جو رسول اللہ ﷺ کی والدہ (حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا) پر تہمت لگائے گا وہ بھی مطلق طور پر واجب القتل ہے، اس سے بھی توبہ کروانے کا ذکر نہیں ہے۔

باوجود یہ کہ ایسا مرتد جو گستاخ نہیں ہے اس سے توبہ کروانا واجب ہے یا مستحب ہے اس بارے میں آراء نقل کی گئی ہے۔

اگر وہ گستاخی سے توبہ کرے یعنی اسلام لے آئے یا دوبارہ اپنے ذمہ کی طرف پلٹ آئے اگر وہ کافر ہو اور گستاخی سے باز آ جائے تو قاضی (ابو یعلی)

❶ الصارم (٥٥١/٣)

❷ امام حنبل کی روایت ہے، دیکھیے: الجامع للخلال (٢/ ٣٣٩ـ أهل الملل)

صفحہ 109

الصارم المسلول على شاتم الرسول

وغیرہ کا قول ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچ چکی ہے۔ ➊

یہی قول ابن عقیل کا ہے کہ وہ آدمی کا حق ہے اس کا ساقط کرنا معلوم نہیں ہے۔

عام اصحاب کا یہ قول ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اگر وہ توبہ بھی کرے اسے موت کے گھاٹ اتارنا ہی ہوگا، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے ایک قول کے خلاف کہ مسلمان سے توبہ کروائی جائے گی اگر وہ توبہ تائب ہو جائے تو فبہا بصورت دیگر قتل کر دیا جائے گا۔

اگر وہ ذمی ہو تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا۔ شوافع کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، علامہ الشریف ”ارشاد“ میں فرماتے ہیں ➋: علامہ موصوف قابل اعتماد شخصیت ہیں۔

”گستاخ رسول ﷺ قتل کیا جائے گا توبہ نہیں کروائی جائے گی اہل ذمہ بھی گستاخی کی وجہ سے قتل کیے جائیں گے اگرچہ وہ بعد میں مسلمان ہو جائیں۔“ ➌

علامہ ابویعلی ابن البنا ”الخصال“ میں فرماتے ہیں:

”گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، اگر وہ کافر ہو اور بعد ازیں اسلام قبول کر لے صحیح مذہب یہ ہے کہ اسے قتل ہی کیا جائے گا توبہ نہیں کروائی جائے گی۔“ ➍

جز مکتبہ موسوعۃ فقہیہ کویت میں موجود ہے۔ رقم (١ / ١٢٩٣)

صفحہ 110

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام مالک کا مذہب ہمارے موقف جیسا ہی ہے، ان کے اکثر علماء مسلمان یا کافر کے واجب القتل ہونے میں کوئی اختلاف ذکر نہیں کرتے اور یہ جرم اسلام قبول کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتا۔

علامہ قاضی ”الجامع الصغیر“ میں فرماتے ہیں❶: گستاخ رسول ﷺ قتل کیا جائے گا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، اگر وہ کافر ہو اور مسلمان ہو جائے تو اس میں دو روایتیں ہیں۔“

اسی طرح علامہ ابو الخطاب نے ذکر کیا ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی والدہ کی گستاخی کرے گا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کروائی جائے گی اور اگر وہ کافر ہو تو اس میں دو روایتیں ہیں۔

ہمارے بعض اصحاب نے ایک روایت یوں بھی ذکر کی ہے کہ مسلمان کی بھی توبہ قبول کی جائے گی، جب وہ اسلام کی تجدید کرے اور گستاخی سے رجوع کرے۔❷ ابو الخطاب نے (الہدایۃ) یہ موقف ذکر کیا ہے، بعض متاخرین بھی اسی نقش قدم پر چلے ہیں۔❸

خلاصہ یہ ہے کہ علماء نے گستاخ رسول ﷺ کی توبہ کے بارے میں تین روایات ذکر کی ہیں:

❶ جامعہ الامام میں اس رسالہ کی تحقیق ہوچکی ہے۔ دیکھیے : المدخل المفصل (۸۰۹/۲)

❷ یعنی امام احمد سے عبارت میں کلمہ ”روایۃ“ مکرر ہے اور اگر ایک پر وہ اکتفا کرتے تو کفایت کر جاتا۔

❸ (۱۱۰/۲)

صفحہ 111

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کافر کی توبہ قبول کی جائے گی، مسلمان کی نہیں ذمی کی توبہ اسی شکل میں قبول کی جائے گی، جب وہ اسلام قبول کرے گا۔ رہا یہ مسئلہ کہ وہ گستاخی سے باز آجائے اور دوبارہ معاہدہ کرے تو ایک روایت میں ہے کہ اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔❶

ہمارے اس قول کے مطابق قیدی کی طرح اسے بھی اختیار دیا جائے گا دوبارہ معاہدہ میں جانے کے لیے اس سے توبہ کروانا مشروع ہے، ایک روایت کے مطابق یہ توبہ کروانا واجب نہیں ہے، علامہ ابو الخطاب کی ذکر کردہ روایت کے مطابق اگر ذمی اسلام قبول کرلے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا، یہ اس قول کی طرح ہے کہ ہر کافر کو دعوت دینا واجب ہے اور ذمی کو توبہ کروانا بھی واجب ہے۔❷

علامہ السامری نے ذکر کیا ہے کہ مسلمان کی توبہ کے بارے میں دو روایتیں ہیں اس کافر کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔❸

یعنی دوسرے علماء کی روایت کے برعکس ہے، مگر معاملہ ایسا نہیں، بلکہ اس میں خلل ہے وگرنہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمان کی توبہ اسلام کی وجہ سے قبول کریں تو ذمی کی توبہ تو اسلام لانے کی وجہ سے بالاولیٰ قبول کی جائے گی، شیخ الاسلام نے اسے ذکر کیا ہے۔❹

نیز فرمایا:

علامہ السامری کی رائے میں یہ توجیہ ہے کہ مسلمان سے گستاخی غلطی کی بنا

❶ يحتمل رسمها ايضاً: ”تائباً“ وما اثبت موافق للصارم (٣ / ٥٦٣) وهو الاوفق.

❷ الصارم (٣ / ٥٦٩ ، ٥٧٠)

❸ یہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ السامری متوفی ۶۱۶ ھ ہیں، ذیل الطبقات (۲/ ۱۲۱)

❹ الصارم (٣ / ٥٦٤-٥٦٥)

صفحہ 112

( الفاروق " ص ۱۱۱-۱۱۲ مطبع ۱۳۱۴ھ )

سادہ طریقہ:

اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے:

ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: کہ یہ جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پر بھی ممکن ہوتی ہے، اعتقادی طور پر ضروری نہیں، ہم اس کی توبہ کو اس وجہ سے قبول کریں گے کہ اس کی زبان غوطہ کھا گئی ہے یا وہ انتہائی محدود پیمانے کے علم کا مالک ہے، اور ذمی تو محض تکلیف دینے کے درپے ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب اس پر حد واجب ہوگئی تو دیگر حدود کی طرح وہ حد اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوگی۔

خلاصہ یہ نکلا کہ مشہور دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں توبہ نہیں کروائے جائیں گے اگر وہ دونوں توبہ کر لیں تو مشہور مذہب کے مطابق ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔❶

ذمی کے بارے میں ان (السامری) سے منقول ہے کہ جب وہ مسلمان ہو جائے تو اس سے قتل ساقط ہو جائے گا اگرچہ وہ توبہ نہ کرے۔ ان سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان سے توبہ کروائی جائے گی اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس سے ذمی نکال دیا جائے گا کہ وہ توبہ کرے، یہ انتہائی بعید ہے۔

جان لیجیے کہ گستاخی قذف کی شکل میں ہو یا کسی اور صورت میں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے، اسے امام احمد کے اکثر اصحاب اور دیگر علماء نے بھی ذکر کیا ہے۔

شیخ ابو محمد نے قذف اور گستاخی میں فرق کیا ہے اور مسلمان اور کافر کے قذف (تہمت) کے حکم میں دو روایتیں ذکر کی ہیں۔❷

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پھر کہا:

’’اسی طرح اس کے گستاخ کی حد سے ساقط ہو جاتی ہے۔‘‘

یہ قول عنقریب آ رہا ہے۔

مالکی مذہب:

رہا امام مالک کا مذہب تو کروائی جائے گی اور آپ کا مشہور کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور بطور حد قتل کیا جائے گا، کفر کی وجہ

ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ’’اس بنا پر اس سے توبہ کرو عبرتناک سزا دی جائے گی اگ

رہا ذمی جب وہ گستاخی کر اس کے قتل کو دور کر دے گا اس نے ذکر کیا ہے۔❶

شافعی مذہب:

مذہب شافعی میں گستاخ ر

بغداد (٣١/١١) و ترتيب المدار

صفحہ 113

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پھر کہا: ’’اسی طرح اس کا گستاخ کرنا، تہمت لگانا ہاں وہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہے۔‘‘ ١ یہ قول عنقریب آ رہا ہے۔ ٢

مالکی مذہب:

رہا امام مالک کا مذہب تو اس میں گستاخ کو قتل کیا جائے گا توبہ نہیں کروائی جائے گی اور آپ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مسلمان گستاخ رسول ﷺ کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اس کا حکم زندیق کا ہے، ان کے ہاں اسے بطور حد قتل کیا جائے گا، کفر کی وجہ سے نہیں اگر وہ توبہ کا بھی اظہار کرے۔

ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ ارتداد ہے، آپ ﷺ کے اصحاب نے فرمایا: ’’اس بنا پر اس سے توبہ کروائی جائے گی اگر وہ توبہ کر لے تو اسے عبرتناک سزا دی جائے گی اگر وہ انکاری ہو تو اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

رہا ذمی جب وہ گستاخی کرے اور پھر اسلام لے آئے، کیا اس کا اسلام اس کے قتل کو دور کر دے گا اس میں دو روایتیں ہیں، جنھیں عبد الوہاب ٣ وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ ٤

شافعی مذہب:

مذہب شافعی میں گستاخ رسول ﷺ کی دو صورتیں ہیں:

١ دیکھیے: المغنی (١٢ / ٤٠٥) ٢ چوتھے مسئلہ میں بیان ہوگا۔ ٣ یہ قاضی عبد الوہاب بن علی بن نصر البغدادی المالکی متوفی ٤٢٢ھ ہیں، دیکھیے: تاریخ بغداد (١١ / ٣١) و ترتیب المدارک (٧ / ٢٢٠ - ٢٢٧) ٤ دیکھیے: الشفا (٢ / ٤٨٨)

صفحہ 114

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اولاً: وہ مرتد کی طرح ہے اگر وہ توبہ کر لے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا۔ ثانیاً: ہر حالت میں اس کی حد قتل ہے۔ ❶

صیدلانی نے ایک تیسرا قول بھی ذکر کیا ہے کہ تہمت سے گستاخی کرے اسے ارتداد کی بنا پر قتل کیا جائے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا قتل زائل ہو جائے گا اور تہمت کے جرم میں اسّی کوڑے لگائے جائیں گے، اگر وہ تہمت کے علاوہ کوئی اور گستاخی کرے تو اس کے جرم کے مطابق اسے تعزیر لگائی جائے گی۔ ❷

پھر مؤلف نے ان لوگوں کے دلائل ذکر کیے جن کے ہاں گستاخ کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جو اس کے معارض دلیل ہے ان کا بھی جواب دیا ہے۔ ❸

اور اس پر استدلال قرآن مجید، سنت نبویہ، اجماع اور اعتبار (اقدار) کے ایسے دلائل سے کیا ہے جنھیں رد کرنا ممکن نہیں ہے، جن کی مقدار ہمارے شہر کی آٹھ کاپیاں بنتی ہے، انھیں وہاں سے ملاحظہ کیا جائے۔ ❹

❶ دیکھیے: روضۃ الطالبین (١٠ / ٣٣٢) و مغنی المحتاج (٤ / ١٤١) ❷ یہ ابوبکر محمد داود بن محمد الصیدلانی الشافعی متوفی ۴۲۷ھ، ہیں دیکھیے: طبقات السبکی (٤ / ١٤٨) ❸ هذا من كلام المختصر إلى نهاية الفقرة. ❹ شیخ الاسلام نے الصارم (٣ / ٧٠٩۔ ٨٦٢) میں ذمی اور گستاخ مسلمان کے قتل کے لازم ہونے پر ستائیس طریقوں سے استدلال کیا ہے۔ پھر مخالفین اور ان کے اعتراضات کے پچیس جوابات دیے ۔ (٣ / ٨٦٤۔ ٩٤٠)

صفحہ 115

الصارم المسلول على شاتم الرسول

چوتھا مسئلہ ❶

گستاخی سے کیا مراد ہے اس میں اور محض کفر میں کیا فرق ہے؟

اس بحث سے قبل ہم بطور مقدمہ چند باتیں ذکر کرنا چاہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی ظاہری اور باطنی کفر ہے، خواہ گستاخ اس کے حرام ہونے کا عقیدہ رکھے یا اسے حلال سمجھے یا پھر وہ اپنے عقیدے سے بے خبر ہو، یہ مذہب فقہاء اور دیگر ائمہ اہل سنت کا ہے جن کے ہاں ایمان قول اور عمل کا نام ہے۔ امام اسحاق بن راہویہ، جو امام شافعی اور امام احمد کے علم وفضل میں ہم پلہ ہیں، فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرے یا اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کرے یا وہ کسی ایسی چیز کا رد کرے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے یا وہ کسی پیغمبر کو قتل کرے وہ کافر ہے اگرچہ وہ ہر منزل من اللہ کا اقرار کرے۔‘‘ ❷

یہی موقف سحنون کا ہے اور فرمایا: جو اس کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے، متعدد علما نے اس کا اثبات کیا ہے جن میں امام احمد امام شافعی وغیرہ شامل ہیں۔

مزید فرمایا:

جو اللہ تعالیٰ کی کسی نشانی سے ٹھٹھا کرے وہ کافر ہے۔ ❸

صفحہ 116

ہوگا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہری پور کے بیان اور انٹرویو کی ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۳ھ)

گھناؤنا طریقہ:

جس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے:

ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

۞ ۞ ۞

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اسی طرح ہمارے اصحاب اور دیگر علما نے فرمایا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کرے وہ کافر ہے، خواہ مزاحاً کرے یا عمداً اور یہی موقف درست ہے۔

قاضی (ابویعلیٰ) فرماتے ہیں❶: ”جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کرے وہ کافر ہوگا خواہ وہ اسے حلال سمجھے یا نہ سمجھے اگر وہ کہے کہ میں تو اسے حلال نہیں سمجھتا، ظاہر حکم میں اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، ایک روایت یہی ہے اور وہ مرتد ہوگا، ظاہراً اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا، رہا باطنی اعتبار سے، اگر وہ سچا ہے تو وہ مسلمان ہے، جیسے زندیق کے بارے میں ہمارا موقف ہے۔“

قاضی نے فقہاء سے نقل کیا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ، اگر وہ اسے حلال سمجھتا ہے تو، وہ کافر ہے، اگر وہ اسے حلال نہیں سمجھتا تو اس نے فسق و فجور کیا اسے کافر نہیں کہا جائے گا، جیسے صحابہ کرام کی گستاخی ہے۔

بعض عراقیوں سے نقل کیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کو کوڑے لگائے جائیں گے، امام مالک نے اس کا انکار کیا ہے اور اس فتویٰ کو رد کیا ہے۔❷

حافظ ابن حزم نے ذکر کیا ہے کہ بعض لوگوں کے ہاں ٹھٹھا کرنے والوں کو کافر نہیں کہا جائے گا۔❸

❶ ابویعلیٰ نے اپنی کتاب ”المعتمد فی أصول الدین“ میں بیان کیا ہے، جیسے الصارم میں ہے، یہ کتاب بھی مفقود ہے اور جو مطبوع ہے وہ مختصر ہے۔ اور اس میں یہ عبارت نہیں ہے۔

❷ دیکھیے: الشفا (٢/ ٤١١)

❸ دیکھیے: المحلی (١٢/ ٤٣١)

الصارم المسلول على شاتم الرسول

قاضی عیاض نے بعض فقہاء کردہ اختلاف کے بعد متعدد علماء کا عراق مشہور بالعلم نہیں ہیں اور ان

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: فقہاء سے جو حکایت مذکور ہے وگرنہ نہیں، اس قول کی کوئی بنیا سے نقل کیا ہے❹ جنھوں نے فقہاء کے اصولوں کے پیش نظر یہ اصول ہ لہٰذا کوئی یہ گمان نہ کرے ک

ہم اب اصل مسئلہ کی طرف ہے کہ جو آپ ﷺ کی گستاخی کر اگرچہ ہر کفر گالی نہیں ہوتا، اب ہم

❶ الشفا (٢/ ٤١١)

❷ یعنی: أبا یعلی.

❸ شیخ الاسلام نے یہاں (٣/ ٦٠ جن کا قول ہے کہ محض گستاخی اور طعن طور پر اسے حلال بھی سمجھے، ان شبہات ہم نے ان کے کلام کی تلخیص مقدمہ کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

❹ الصارم (٣/ ٩٧٧)

صفحہ 117

بوسنیا : ”مسلمانوں کے جان اور عزت لوٹی گئی“ ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ (ذیقعد ۱۴۱۳ھ) گھناؤنا طریقہ : کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ ۞ ۞ ۞

116 اور دیگر علماء نے فرمایا ہے کہ جو اللہ اور اس کے ہے، خواہ مزاحاً کرے یا عمداً اور یہی موقف

کی گستاخی کرے وہ کافر ہوگا خواہ وہ کہے کہ میں تو اسے حلال نہیں سمجھتا، کیا جائے گا، ایک روایت یہی ہے کا حکم لگایا جائے گا، رہا باطنی اعتبار ہے، جیسے زندیق کے بارے میں

کہ گستاخ رسول ﷺ، اگر وہ اسے حلال حلال نہیں سمجھتے تو اس نے فسق و فجور کیا کی گستاخی ہے۔

کہ گستاخ رسول کو کوڑے لگائے جائیں اس فتویٰ کو رد کیا ہے۔ ❶

میں لوگوں کے ہاں ٹھٹھا کرنے والوں

المدونہ میں بیان کیا ہے، جیسے الصارم میں کفر ہے۔ اور اس میں یہ عبارت نہیں ہے۔

الصّارم المسلول علی شاتم الرسول 117 قاضی عیاض نے بعض فقہائے عراق کی تردید اور حافظ ابن حزم کے ذکر کردہ اختلاف کے بعد متعدد علماء کا اجماع نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض فقہائے عراق مشہور بالعلم نہیں ہیں اور ان کے فتویٰ کی مختلف وجوہ سے تاویل کی ہے۔ ❶

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: فقہاء سے جو حکایت مذکور ہے کہ اگر وہ گستاخی کو حلال سمجھتا ہے تو کافر ہے وگرنہ نہیں، اس قول کی کوئی بنیاد نہیں، قاضی نے اس حکایت کو بعض متکلمین سے نقل کیا ہے۔ ❷ جنھوں نے فقہاء سے نقل کیا ہے یہ جھوٹ ہے انھوں نے ان کے اصولوں کے پیش نظر یہ اصول بیان کر دیا ہے۔

لہٰذا کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یہ اختلافی مسئلہ ہے، یہ محض غلط ہے۔ ❸

فصل ❹

ہم اب اصل مسئلہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ ہم نے کہا ہے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو آپ ﷺ کی گستاخی کرے اس کا خون مباح ہے اور وہ کافر ہے، اگرچہ ہر کفر گالی نہیں ہوتا، اب ہم علماء کی عبارات نقل کریں گے۔

جن کا قول ہے کہ محض گستاخی اور ٹھٹھا کفر نہیں ہے، بلکہ وہ لازمی نہیں ہے، بلکہ وہ لازمی طور پر اسے حلال بھی سمجھے، ان شبہات کے جوابات دیے جن پر مزید اضافہ ممکن نہیں ہے، ہم نے ان کے کلام کی تلخیص مقدمۃ التحقیق (ص: ۵ - ۱۴) میں بیان کر دی ہے، لہٰذا اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

صفحہ 118

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام احمد فرماتے ہیں: ”جو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی یا توہین کرے وہ مسلمان ہو یا کافر وہ واجب القتل ہے، اس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی۔“

مزید فرمایا: ”جو کوئی ایسی چیز ذکر کرے جس میں رب کا ذکر کر کے پھبتی کسے وہ واجب القتل ہے۔“❶

ہمارے اصحاب کے ہاں یہ ہے: ”جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی اشارتاً کرے یہ ارتداد ہے اور یہ صراحتاً گستاخی کے حکم میں ہے۔“❷

اس مسئلہ میں ہمارے اصحاب کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کی والدہ پر قذف لگائے تو یہ ان اسباب میں سے ایک ہے جو قتل کو لازم کرتا ہے اور اس کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔

قاضی عیاض فرماتے ہیں❸: ”ہر وہ شخص جو گستاخی رسول ﷺ کرے، عیب جوئی کرے، آپ ﷺ کی شخصیت، نسب نامہ، دین یا کسی خوبی کو داغ دار کرتا ہے یا پھر اشارتاً گستاخی کرتا ہے یا کسی ناپسندیدہ چیز سے تشبیہ دیتا ہے یا آپ کی حیثیت کم کرتا ہے یا بے قدری کرتا ہے یا عیب جوئی

❶ حنبل کی روایت ہے، جیسا الجامع لأھل الملل للخلال (٢ / ٣٣٩) میں ہے۔ ❷ انظر: الانصاف (١٠ / ٣٣٣) ❸ الشفا (٢ / ٣٩٢۔ بشرح القاری)

صفحہ 119

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

کرتا ہے، یہ گستاخ ہے اسے قتل کیا جائے گا، خواہ وہ گستاخی صراحتاً کرے یا اشارتاً۔ اسی طرح جو آپ پر لعنت کرے یا نقصان پہنچانے کی خواہش کرے، بددعا کرے، ایسی چیز کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کرے جو آپ ﷺ کے منصب کے لائق نہیں یعنی بطور مذمت، آپ ﷺ کی زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں عیب جوئی کرے، جھوٹ بہتان تراشی اور بکواس کرے، یا جو آپ ﷺ پر مصیبتیں اور پریشانیاں آئیں ان میں سے کسی کا طعنہ دے یا آپ ﷺ کے بعض بشری تقاضے کے تحت کیے ہوئے جائز کاموں کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھے یا جو آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔“

قاضی صاحب فرماتے ہیں: ان چیزوں پر علما، صحابہ کرام سے لے کر ہنوز مفتیان اسلام کا اجماع ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو آپ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا توبہ نہیں کروائی جائے گی۔“

امام ابن القاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یا آپ ﷺ کو گالی دے، عیب جوئی کرے توہین کرے وہ قتل کیا جائے گا اس کا حکم زندیق کا ہے۔“ ❶

بعض مالکیہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی نبی ﷺ پر کسی مکروہ چیز کی بددعا کرے اسے بغیر توبہ کرائے قتل کیا جائے گا۔ ❷

❶ دیکھیے: الشفا (۲/ ۳۹۵)

❷ اسے قاضی نے الشفا (۳۹۶/۲) میں ذکر کیا ہے۔ الصارم اور الشفا میں بعض مالکیہ کا ذکر ہے۔

صفحہ 120

الصارم المسلول على شاتم الرسول

قاضی عیاض نے مختلف فیصلوں میں مشہور فقہائے مالکیہ کا اجماع نقل کیا ہے کہ اسے بغیر توبہ کرائے قتل کر دیا جائے گا۔❶

ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک آدمی نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے سنا، اچانک ان کے پاس سے ایک بدشکل اور بری داڑھی والا آدمی گزرا ایک بدبخت نے کہا: کیا تم نبی ﷺ کی شکل وصورت جاننا چاہتے ہو؟ وہ ایسا تھا جیسا یہ آدمی گزر رہا ہے۔

اور وہ واقعہ ہے کہ ایک آدمی نے کہا: نبی ﷺ تو کالے رنگ کا تھا۔

اسی طرح آتا ہے کہ ایک آدمی کو کہا گیا: لا وحق رسول اللہ ﷺ! اس نے جواب دیا: اللہ اس سے ایسا ویسا کرے اسی طرح: ”عشّار“ (سامان کا ٹیکس وصول کرنے والا)

أَدِّ، واشْكُ إلى النبي ﷺ.❷

”تو ٹیکس ادا کر اور جا نبی کو جا کر شکایت کر۔“

اسی طرح متفقہ (بناوٹی فقیہ) اپنے مناظرہ میں آپ ﷺ کا نام یتیم اور ختن حیدرۃ (ختن سے مراد ہر وہ رشتہ دار جو عورت کی طرف سے ہو) رکھتا، اور اس (بدبخت) کا یہ تصور تھا کہ آپ ﷺ کا زہد ارادتاً نہ تھا اگر وہ پاکیزہ چیزوں کو کھانے کی قدرت رکھتے تو ضرور استعمال کرتے اسی طرح کی یاوہ گوئی کرتا۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”ہر وہ اشارہ جس میں سبکی ہو وہ گالی ہے۔“

❶ في الشفاء (۲ / ۳۹۷ - ۳۹۸)

❷ أي أنه غير مبال باطلاع النبي ﷺ على اخذه المكس.

صفحہ 121

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر احناف فرماتے ہیں: ”جو توہین کرے، یا اظہار براءت کرے یا تکذیب کرے وہ مرتد ہے۔“

علما کے سبھی گروہوں کے دلائل کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کی توہین ایسا کفر ہے جس کی بدولت خون مباح ہو جاتا ہے اور ان علماء کا توبہ کروانے میں اختلاف پیچھے گزر چکا ہے۔

اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عیب جوئی کا قصد کرے یا نہ قصد کرے، یا بطور تمسخر کہے یا مزاحاً، یہ سب یکساں ہیں کیونکہ بسا اوقات آدمی ایسا کلمہ کہتا ہے وہ اس کے وبال کی وجہ سے ایسی آگ میں جا گرتا ہے جو مشرقین سے زیادہ دوری رکھتی ہے۔❶

جو آدمی جس قسم کی گستاخی اور توہین کرے یقیناً اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے اور اس کا تعلق بھی ان اقوال سے ہے جو اقوال بذات خود باعث اذیت ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اذیت دیتے ہیں اگرچہ اس کا قائل اذیت دینے کا ارادہ نہ بھی کرے، کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا: ﴿ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ... ﴾ [التوبة: ٦٥] ”ہم تو محض خوش گپی اور دل لگی کر رہے تھے۔“

جو شخص کسی سے جھگڑا کرے اور کسی حکم میں اس سے بحث و مباحثہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ کے ذکر سے اس کا سینہ تنگ ہو جائے یہاں تک کہ وہ

❶ جس طرح صحیح البخاري، حديث (٦٤٧٧) میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہ انسان بسا اوقات ایسا کلمہ بولتا ہے کہ وہ جہنم میں اتنی دور چلا جاتا ہے جتنا کہ مشرق مغرب سے دور ہوتا ہے۔“

صفحہ 122

مت روکو“۔ (مسٹر مارشل ہیرئیر کے بیان اور انٹرویو کی ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۴ھ)

اور گھناؤنا طریقہ: اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: اس سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں اس کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

٭ ٭ ٭

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اپنی گفتگو میں فحش گوئی کرے۔ وہ قرآن مجید کی آیت: ﴿ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ... ﴾ [النساء: ٦٥] ”تیرے رب کی قسم! یہ اتنی دیر تک مومن نہیں ہو سکتے، جتنی دیر تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل تسلیم نہ کریں۔“ کی رو سے کافر ہے، اس کا یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے مد مقابل کو پچھاڑنا چاہتا تھا۔

یہ قول بھی اسی قول جیسا ہے جس نے کہا تھا: ”یہ ایسی تقسیم ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود نہیں ہے۔“❶

اور دوسرے نے کہا: ”اے محمد ﷺ عدل کر، تو نے عدل و انصاف نہیں کیا۔“

ایک انصاری کا یہ کہنا: ”تیری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“❷

یہ صراحتاً کفر ہے آپ نے اس سے اسی طرح چشم پوشی کی جس طرح آپ نے اس آدمی سے کی جس نے کہا اس تقسیم سے خوشنودی الٰہ مقصود نہیں ہے اور اسی آدمی سے جس نے کہا: عدل کر، ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو اس وجہ سے قتل کر ڈالا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کا

❶ یہ ذو الخویصرۃ تھا جس کا واقعہ صحیح البخاري، حدیث (٦١٥٠) و صحیح مسلم، حدیث (١٠٦٢) میں حضرت ابن مسعود سے مروی ہے، یہ واقعہ حضرت ابن مسعود کے علاوہ اور صحابہ سے بھی مروی ہے۔

❷ کھیت کو سیراب کرنے کے حوالے سے حضرت زبیر بن العوام کا قصہ ہے، جسے امام بخاری، حدیث (٢٣٦٢) نے بیان کیا ہے۔

الصارم المسلول على شاتم الرسول

حکم نہیں مانا۔❶ قرآن مجید اس فیصلے پر تنقید کرتا ہے اس کا کیا ہ ایک جماعت، جن میں کرے اس کی سزا تعزیر ہے، ک جائے گی کیونکہ وہ غیر واجب کیونکہ یہ اس کا حق ہے، بعض زبیر رضی اللہ عنہ کو حکم ارشاد فرمایا: وہ تک کہ وہ کھیتی کی دیواروں تک یہ سب ردی اقوال ہیں ا شک نہ ہوگا کہ یہ قتل کا مستحق بدری ہے اور بدری کے بارے می اسے جواب دیا جا کرتے ہیں اور اکثر راویان ہ جیسے حضرت کعب اور ہیں۔❸ اہل مغازی اور اصحاب

❶ یہ اس ”مختصر“ میں نہیں گزرا ❷ اس واقعہ کو اسحاق بن راہوی ابن جریر (١٦٢/٣) اور ابن الـ الباري (٥ / ٤٦) و الدر المـ طرف رجحان رکھتے ہیں۔ ❸ ابن تیمیہ نے اس کو وہم ہو ❹ جس طرح یہاں ہے اسی ط

صفحہ 123

الصارم المسلول على شاتم الرسول

حکم نہیں مانا۔➊ قرآن مجید اس کی موافقت میں نازل ہوا۔➋ اور آپ ﷺ کے فیصلے پر تنقید کرتا ہے اس کا کیا ہوگا؟

ایک جماعت، جن میں ابن عقیل اور شوافع ہیں، نے کہا ہے جو ایسا کرے اس کی سزا تعزیر ہے، پھر انہی میں سے بعض نے کہا اسے تعزیر نہیں لگائی جائے گی کیونکہ وہ غیر واجب ہے اور بعض نے کہا: اس سے چشم پوشی کی جائے کیونکہ یہ اس کا حق ہے، بعض نے کہا: اسے سزا دی جائے گی، جیسے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو حکم ارشاد فرمایا: وہ اپنی کھیتی سیراب کرے، پھر پانی روک لے یہاں تک کہ وہ کھیتی کی دیواروں تک پہنچ جائے۔

یہ سب ردی اقوال ہیں اور جو آدمی اس میں تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اسے کوئی شک نہ ہوگا کہ یہ قتل کا مستحق ہے، اگر کوئی اعتراض کرے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ وہ بدری ہے اور بدری کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کفر کیا ہے۔

اسے جواب دیا جائے گا کہ اس زیادت کو ابو الیمان عن شعیب بیان کرتے ہیں اور اکثر راویان بیان نہیں کرتے، لہٰذا یہ وہم ہے۔➌

جیسے حضرت کعب اور ہلال بن امیہ کی حدیث میں ہے کہ وہ بدری صحابی ہیں۔➍ اہل مغازی اور اصحاب السیرت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ

➊ یہ اس ”مختصر“ میں نہیں گزرا بلکہ اصل الصارم (۲/ ۸۵) میں گزر چکا ہے۔ ➋ اس واقعہ کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے، اسی طرح دحیم نے بھی، ابن جریر (۳/ ۱۶۲) اور ابن ابی حاتم نے بھی۔ دیکھیے: الصارم (۲/ ۸۱۔۸۵) و فتح الباری (۵ / ۴۶) و الدر المنثور (۲/ ۳۲۲) ابن تیمیہ اور ابن حجر اس کی تقویت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ ➌ ابن تیمیہ نے اس کو وہم ہونے کو جزماً ثابت نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا ”ممکن ہے یہ وہم ہو“۔ ➍ جس طرح یہاں ہے اسی طرح اصل (۳/ ۹۸۷) میں ہے، عبارت میں سقط ہے، ⇦

صفحہ 124

الصارم المسلول على شاتم الرسول

دونوں بدر میں شریک نہیں ہوئے۔❶

اسی بنا پر ابن اسحاق نے زہری سے روایت کرتے ہوئے اسے ذکر نہیں کیا۔❷ مگر اس کا صحیح ہونا ظاہر ہے۔

ہم اس وقت کہیں کہ حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ یہ قصہ بدر کے بعد پیش آیا، ممکن ہے کہ وہ بدر سے پہلے ہوا ہو اور صحابی بدری کہلائے کیونکہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے قصہ اس وقت بیان کیا جب وہ بدری بن چکے تھے اور اگر یہ بدر کے بعد پیش آیا تو اس کے قائل نے توبہ و استغفار کر لیا ہوگا اور توبہ گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔❸

فصل

جب یہ ثابت ہوگیا کہ ہر گستاخی، جو صراحتاً ہو یا اشارتاً، قتل کو واجب کرتی ہے، جس چیز کی پاسداری کرنا لازم ہے وہ یہ ہے کہ اس گستاخی جس سے توبہ قبول نہیں ہوتی اور وہ کفر جس سے توبہ قبول کی جاتی ہے ان دونوں میں تفریق ہے، اسی بنا پر ہمارا یہ موقف ہے:

ہلال بن امیہ کا واقعہ گزر چکا ہے۔“ یہ اضافہ ضروری ہے کیونکہ حضرت کعب نے صراحت کی ہے کہ وہ معرکۂ بدر میں شریک نہیں ہوئے تاہم حضرت مرارۃ اور ہلال دونوں بدری ہیں۔

❶ فتح الباری (۷/ ۳۶۱ - ۳۶۲، ۷۲۴ - ۷۲۵) اور زاد المعاد (۳/ ۵۷۷) میں

یہ اختلاف ملاحظہ ہو، حافظ ابن حجر تو ان کے بدر ہونے کی طرف میلان رکھتے ہیں اور ابن القیم اس کے برعکس ہیں، ہر ایک کی دلیل اور حجت ہے۔

❷ في السيرة النبوية (٢/ ٥٣٤)

❸ دیکھیے: فتح الباری (٥/ ٤٤)

صفحہ 125

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اس عمل کو قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت قرار دیا گیا ہے، بعض احادیث میں اسے گستاخی اور گالی سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ جس نام کی لغت اور شریعت میں حد بندی نہ ہو اس کی تحدید میں عرف کو پیش نظر رکھا جائے گا، لغت میں جیسے آسمان اور زمین کا نام ہے اور شریعت میں نماز، زکوٰۃ، کفر اور ایمان کا نام ہے، عرف میں جیسے کسی چیز کا حصول اور ہلاک ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ٹھہرا کہ تکلیف، گستاخی اور گالم گلوچ میں عرف کا اعتبار کیا جائے۔ اہل عرف جسے گستاخی، توہین، عیب جوئی، طعنہ زنی وغیرہ قرار دیں وہ توہین ہے، اور جو ایسا نہ ہو وہ کفر ہے گستاخی نہیں۔

اس مسئلہ میں یہ اعتبار کیا جائے گا کہ وہ گستاخی اور تکلیف رسول ﷺ کے لیے ہو اگرچہ وہ دوسروں کے لیے گالی اور اذیت نہ ہو۔ اسی بنا پر یہ بات ہے کہ جو الفاظ غیر نبی کے لیے کہے تو اس پر تعزیر یا حدود میں سے کوئی حد لاگو ہو جائے تو وہ نبی ﷺ کے بارے میں گستاخی ہی شمار ہوگی جیسے تہمت تراشی اور لعنت کرنا وغیرہ ہیں۔

رہی وہ مذمت جو منصب نبوت کے ساتھ خاص ہے اگر وہ صرف نبوت کی عدم تصدیق پر مشتمل ہے تو یہ محض کفر ہے۔ ❶ اگر اس میں عدم تصدیق کے ساتھ ٹھٹھا، تحقیر ہو تو وہ گستاخی ہوگی۔ یہاں کچھ اجتہادی مسائل ہیں جن میں فقہائے کرام متردد ہیں کہ وہ گستاخی ہے یا محض ارتداد ہے، پس اگر یہ ثابت ہوا کہ وہ گستاخی نہیں ہے، اگر اس کا مرتکب روپوش ہو جائے تو وہ زندیق ہے، اس کا حکم بھی زندیق کا ہوگا وگرنہ وہ محض مرتد ہوگا، اس مسئلہ کی سبھی اقسام کو اکٹھا کرنا اور ان میں فرق کرنا کسی اور محل کا محتاج ہے۔

❶ في الأصل "فإنه لم يتضمن مجرد" والاصلاح من الصارم.

صفحہ 126

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

فصل❶

رہا ذمی تو محض اس کے کفر اور اس کی گستاخی میں تفریق کرنا لازم ہے، اس کے کفر سے بالاتفاق نہ تو عہد شکنی ہوتی ہے اور نہ ہی معاہد کا خون مباح ہوتا ہے۔ رہا اس کا گستاخی کرنا تو اس وجہ سے اس کا معاہدہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ پیچھے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

قاضی (ابو یعلی) فرماتے ہیں: ”ذمیوں کا معاہدہ انھیں ان کے کفر پر رہنے کی اجازت دیتا ہے مگر گستاخی رسول ﷺ پر نہیں۔“❷

ہمارا موقف یہ ہے کہ اصحاب کرام اور سلف صالحین کے آثار سے مطلق طور پر یہ ثابت ہوتا ہے جو گستاخی کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا معاہد، وہ گستاخی میں تفریق نہیں کرتے اور نہ ہی وہ متواتر یا غیر متواتر توہین میں تفریق کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے اعلانیہ کرنے میں اور نہ ہی غیر اعلانیہ کرنے میں۔

غیر اعلانیہ سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے انبوہ میں اس حوالے سے گستاخی نہ کرے وگرنہ اس کے بذات خود اقرار پر یا دو مسلمانوں کی گواہی کی بدولت اسے حد لگائی جائے گی۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ فرض کیا جائے کہ اس نے اپنے خالی گھر میں گستاخی کی تو اس کے مسلمان پڑوسیوں نے اسے سن لیا یا پھر کوئی مسلمان ان سے تھوڑی سی گستاخی سن لیتا ہے۔

❶ الصارم (٣ / ٩٩٤)

❷ الصارم میں ”معاہدہ“ کے بجائے ”امان“ ہے۔

صفحہ 127

الصارم المسلول على شاتم الرسول

امام مالک اور امام احمد ؒ فرماتے ہیں: ”ہر گستاخ اور توہین کا ارتکاب کرنے والا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر قتل کیا جائے گا۔❶“

ہمارے اصحاب نے بھی اسے مطلق طور پر بیان کیا ہے کہ اگر وہ تنقیص کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر قتل کیا جائے گا۔

قاضی (ابو یعلیٰ) اور ابن عقیل ؒ نے ذکر کیا ہے: ”جو ایمان کو باطل کر دیتی ہے وہ امان کو بھی باطل قرار دیتی ہے جب اسے اعلانیہ کریں۔“

ابن عقیل نے اس قیاس کو ہر اس آدمی کے لیے عام کیا ہے جو تثنیہ یا تثلیث کے ساتھ ایمان کی تنقیص کرتا ہے۔❷ جیسے عیسائیوں کا قول ہے کہ اللہ تین کا تیسرا ہے، اسی طرح جو ذمی اپنے دین کے مطابق بھی اعلانیہ شرک کرے گا اس کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔

قاضی (ابو یعلی الفراء) فرماتے ہیں کہ امام احمد نے صراحت کی ہے، جیسا کہ ان سے حنبل نے روایت کی ہے کہ جو شخص بھی اشارتاً اللہ تعالیٰ کی توہین کرے وہ واجب القتل ہوگا، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، یہی اہل مدینہ کا مذہب ہے۔❸ امام احمد نے اس یہودی کے بارے میں فرمایا جو کسی مؤذن کو اذان دیتا

اور اندھیرے کو سمجھنا ہے۔ عیسائیوں کے عقیدہ میں تثلیث سے مراد جو باپ، بیٹا اور روح القدس (جبریل) معروف ہیں۔

صفحہ 128

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہوا سن کر کہتا ہے تو نے جھوٹ بولا ہے، امام صاحب نے فرمایا: اس کی گستاخی کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا۔❶

امام ابن القاسم نے گستاخ رسول کے بارے میں کہا کہ وہ گستاخ، کہے وہ نبی نہیں، یا انھیں نبی نہیں بنایا گیا یا اس پر کوئی قرآن نازل نہیں کیا گیا وہ تو بس اپنی طرف سے کہتا ہے، تو اسے قتل کیا جائے گا، اگر وہ یہ کہے کہ وہ ہماری طرف نہیں بھیجے گئے بلکہ صرف مسلمانوں کی طرف بھیجے گئے ہیں اور ہمارے نبی موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ ہیں تو ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔❷

اگر وہ یہ کہے کہ اس کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے، اسے ادب سکھلایا جائے گا اور طویل عرصہ اسے قید کر دیا جائے گا، یہ قول محمد بن سحنون کا ہے جسے وہ اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں اور ان کا یہ قول بھی ہے۔ کہ اگر وہ ایسے انداز میں گستاخی کرے جس بنا پر وہ کافر بھی ہے تو وہ قتل نہیں کیا جائے گا اور ایسی گستاخی کے علاوہ اور گستاخی پر قتل کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ اسلام قبول کرے۔❸

موصوف نے یہودی کے بارے میں کہا جو مؤذن کی شہادت سن کر کہے ”کذبت“ تو نے جھوٹ بولا ہے، اسے سزا دی جائے گی اور قیدی بنایا جائے گا۔❹ اسی صورت کے حوالے سے امام احمد کی صراحت گزر چکی ہے کہ وہ قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے گستاخی کی ہے۔

صفحہ 129

الصارم المسلول على شاتم الرسول

شوافع کا اختلاف:

گستاخ رسول ﷺ کی گستاخی کی وجہ سے ذمی کے معاہدہ کا ٹوٹ جانا اور اس کے واجب القتل ہونا میں شوافع کا اختلاف اور اس کی دو سمتیں ہیں:

پہلی سمت:

ہمارے نبی ﷺ کی مطلق طور پر گستاخی کرنے سے اور اسی طرح ہمارے دین میں اعلانیہ تنقید کرنے سے ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا، اگرچہ وہ اسے دین ہی گردانیں، جمہور کا یہی قول ہے۔

دوسری سمت:

وہ جسے دین سمجھیں کہ وہ رسول ﷺ نہیں اور قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو یہ اسی طرح کا اظہار ہے جیسے ان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور تثلیث کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے۔ ❶

ان (بعض شوافع) کا کہنا ہے کہ بغیر کسی تردد کے عہد نہیں ٹوٹے گا بلکہ ان کے اعلانیہ اظہار پر تعزیر لگائی جائے گی۔ رہا جو گستاخی کرے اور وہ اسے دین نہ سمجھے جیسے آپ ﷺ کے نسب نامہ میں طعن کرنا، اس آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس کا معاہدہ ٹوٹ گیا ہے یہ صیدلانی اور ابو المعالی وغیرہ کا پسندیدہ موقف ہے۔ ❷

جبکہ دلائل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی گستاخی، خواہ وہ اسے دین

❶ تحريف العبارة في الصارم: إلى : "انهم اذا اظهروه" وإن كانوا يعتقدون فيه دينا من انه... وهو انتقال نظر من السطر الذي قبله.

❷ الصیدلانی کا تعارف پہلے گزر چکا ہے، ابو المعالی سے مراد امام الحرمین الجوینی متوفی (۴۷۸ھ) ہیں۔

صفحہ 130

ورنہ یہ مسئلہ بغیر جزیے کے جان اور آبرو کی

(ماہنامہ ’’الفاروق‘‘ کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۳ھ)

رونما ڈرامائی طریقہ: عورتوں کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: سی این این ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: بوسنیا میں صرف ہتھیاروں سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں منظم طریقہ سے اور ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

الصارم المسلول على شاتم الرسول

سمجھیں یا نہ سمجھیں، یکساں ہے اور مطلق طور پر گستاخی واجب القتل قرار دیتی ہے اور جو بحث پہلے گزر چکی ہے وہ کافی ہے۔ وہ لوگ جو آپ ﷺ کی ہجو کرتے ہیں اور عیب جوئی کرتے ہیں اور آپ ﷺ سے لوگوں کو نفرت دلاتے ہیں اگرچہ وہ اس بارے میں دین کا عقیدہ رکھے تو اس کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فرق کی کوئی حیثیت نہیں۔ ❶

اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ گستاخی وہی ہوگی جو ان کے دین میں نہ ہوگی۔ تو ہر آدمی کے لیے یہ عذر پیش کرنا ممکن ہوگا کہ میں اسے دین سمجھ کر کرتا ہوں۔ تو اس وقت ہم اسے کہیں گے کہ گستاخی کو بطور مثال بیان کرنا یا اس کی کیفیت بیان کرنا دل اور زبان دونوں پر ثقیل ہے اور ہم اس حوالے سے اپنے مونہوں کو کھولنا بہت بڑی جسارت سمجھتے ہیں۔ لیکن بحث اس کی متقاضی ہے لہٰذا ہم فرضی طور پر بغیر کسی تعین کے مطلقاً گستاخی کی اقسام بیان کیے دیتے ہیں اور فقیہ اپنے متعلقہ قول کا انتخاب کر لے۔

گستاخی کی اقسام:

گستاخی کی دو قسمیں: ① دعا۔ ② خبر دعا تو اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی لوگوں کو کہے: ”اللہ اس پر لعنت کرے، اللہ اس کا برا کرے، اللہ اسے ذلیل کرے، اللہ اس پر رحم نہ کرے، اللہ اس سے راضی نہ ہو، اللہ نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔“ یہ انبیاء اور غیر انبیاء کے لیے گالی

❶ اصل میں اس کے بیکار ہونے کی تین وجوہات مذکور ہیں اور ”المختصر“ میں صرف تیسری ذکر کی گئی ہے۔

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہے، یا وہ کسی نبی کے بارے می اللہ اس کا ذکر بلند نہ کرے، ا دنیا، دین یا آخرت میں نقصان صادر ہو تو یہ گستاخی ہے اور ہر اس کا اظہار اعلانیہ کرے گا تو وہ رہا اس کا بظاہر دعا کر معلوم ہو جائے، کہ کچھ لوگ ا پر السام علیکم (تمہیں موت آ کرائے کہ وہ السلام (تم پر سلا پہلا قول: یہ گستاخی ہے کا یہودی کو اس وقت معاف کر حکم تھا، یہ مالکیہ، شافعیہ اور حنا دوسرا قول: یہ وہ گستاخ نے گستاخی اعلانیہ نہیں کی اور سلام ہی ظاہر کیا ہے اور ”لام“ سامعین سمجھ پاتے ہیں اور کبھی ہے کہ ہم ان کی تردید کریں اصحاب کی ایک جماعت کا یہی یہ نہیں کیا جائے گا کہ

❶ انظر: الشفا (٢/ ٤١٥، ٤١٦) ❷ الصارم (٣/ ١٠٠٧) میں

صفحہ 131

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہے، یا وہ کسی نبی کے بارے میں کہے: ”اللہ اس پر درود نہ بھیجے اور نہ ہی سلام، اللہ اس کا ذکر بلند نہ کرے، اللہ اس کا نام مٹا دے۔“ وغیرہ ایسی دعا جس میں دنیا، دین یا آخرت میں نقصان کا تقاضا ہو، یہ سب کچھ اگر مسلمان یا معاہد سے صادر ہو تو یہ گستاخی ہے اور ہر حالت میں مسلمان قتل کیا جائے گا اور ذمی جب اس کا اظہار اعلانیہ کرے گا تو وہ بھی اس جرم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔

رہا اس کا بظاہر دعا کرنا اور باطنی طور پر بد دعا کرنا جو اس کی غلطی سے معلوم ہو جائے، کہ کچھ لوگ اسے سمجھ پائیں اور کچھ نہ سمجھ پائیں، مثال کے طور پر السام علیکم (تمھیں موت آئے) جب وہ سلام کرنے کے موقع پر کہے اور باور کرائے کہ وہ السلام (تم پر سلامتی ہو) کہتا ہے تو اس میں دو اقوال ہیں:

پہلا قول: یہ گستاخی ہے جس بنا پر واجب القتل ہے اور رسول اللہ ﷺ کا یہودی کو اس وقت معاف کرنا ہے جب اسلام کمزور تھا اور آپ کو درگزر کا حکم تھا، یہ مالکیہ، شافعیہ اور حنبلیہ کا قول ہے۔❶

دوسرا قول: یہ وہ گستاخی نہیں ہے جو معاہدہ کو توڑ دیتی ہے کیونکہ انھوں نے گستاخی اعلانیہ نہیں کی اور نہ ہی اسے ظاہر کیا ہے بلکہ انھوں نے لفظاً اور حالاً سلام ہی ظاہر کیا ہے اور ”لام“ کو خفیہ انداز میں حذف کر دیتے ہیں جسے بعض سامعین سمجھ پاتے ہیں اور کبھی اس کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔❷ لہٰذا ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کی تردید کریں اور یہ شرعی حکم ہم میں باقی ہے، ہمارے متقدمین اصحاب کی ایک جماعت کا یہی موقف ہے۔

یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ موت کی دعا اور موت برحق ہے گستاخی نہیں بلکہ

صفحہ 132

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مسلمانوں کے خلاف موت کی اور دین چھوڑنے کی بددعا کرنا بہت بڑی گستاخی ہے جیسا کہ صحت، سلامتی کی دعا باعثِ عزت ہے۔

گستاخی، دوسری قسم:

خبر دینا ہے: ہر وہ چیز جسے لوگ گستاخی، گالی یا توہین شمار کریں اس سے قتل لازم ہو جاتا ہے کیونکہ کفر گستاخی کو لازم نہیں ہے۔ اور ایک ہی بول ایک حالت میں گستاخی ہوتا ہے اور دوسری حالت میں گستاخی نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگوں، ماحول اور اقوال کے اختلاف سے مختلف ہو جاتا ہے، جب گستاخی کی لغوی اور شرعی تعریف نہ ہو تو عرف کو مد نظر رکھا جائے گا، لوگوں کے عرف میں جو گستاخی ہوگا اس پر صحابہ کرام اور علماء کے کلام کو محمول کیا جائے گا وگرنہ نہیں۔

ہم نے اس کی متعدد اقسام ذکر کی ہیں، اس لیے ہم کہتے ہیں:

بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی توہین اور ٹھٹھے کا برملا اظہار مسلمانوں کے ہاں گستاخی ہے، جیسے کوئی گدھے یا کتے کا نام رکھ دیتا ہے یا پھر انھیں مسکنت، ذلت، رسوائی سے موصوف قرار دیتا ہے یا وہ یہ خبر دیتا ہے کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے اور اس پر لوگوں کے گناہوں کا بوجھ ہے، اسی طرح اس انداز سے تکذیب کرتا ہے جو مکذّب کی توہین کا باعث ہوتی ہے، مثلاً وہ آپ کو ساحر، دھوکے باز، متکبر باور کراتا ہے جو ان کی پیروی کرے گا وہ نقصان اٹھائے گا، اگر وہ ان مذمتوں کو بطور اشعار بیان کرے تو یہ انتہائی بڑی گستاخی ہوگی، اس سے تحفظ حاصل کیا جائے گا۔

رہا اس کا اپنے عقیدے کے بارے میں بغیر طعن کے خبر دینا، مثلاً اس کا کہنا کہ میں اس کا متبع نہیں ہوں میں اس کی تصدیق نہیں کرتا، میں اس سے محبت

❶ الصارم (١٠٠٩/٣)

صفحہ 133

الصارم المسلول على شاتم الرسول

نہیں کرتا، میں اس سے راضی نہیں۔ ❶ اور اس کی توہین کا کوئی قرینہ نہ ہو کیونکہ اس نے اپنے عقیدہ کے بارے میں خبر دی ہے جو اس کی جہالت، دشمنی، حسد اور اپنے اسلاف کی تقلید کی وجہ سے ہے۔

اور جب وہ کہے: وہ رسول ﷺ اور نبی نہیں ہے، یہ صراحتاً تکذیب ہے اور ہر تکذیب جو آپ ﷺ کی نسبت جھوٹ کی طرف کرے اور آپ ﷺ کو کذاب باور کرائے (یہ صراحتاً تکذیب ہے)۔

لیکن اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نبی نہیں اور اس کا کذاب کہنے میں فرق ہے۔ اس اعتبار سے فرق ہے یہ تکذیب ہمارے معلومات کی وساطت سے ہے گویا کہ وہ کہہ رہا ہے میں اللہ کا رسول ہوں اور جو بعض صفات کی نفی اپنے غیر سے کرے وہ اس آدمی کی طرح نہیں ہوسکتا جو ان کی اس سے نفی کرے اپنے دعویٰ میں تکذیب کی طرف نسبت کرتے ہوئے لہٰذا ایک معنی ہی بعض عبارات کو گالی شمار کراتا ہے اور بعض کو گستاخی شمار نہیں کرواتا۔

فصل

اللہ تعالیٰ کی گستاخی:

اگر وہ مسلمان ہو تو اس کے قتل پر اجماع ہے کیونکہ وہ کافر بلکہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ ❷

پھر ہمارے اصحاب نے اس کی توبہ کے قبول کرنے میں اختلاف کیا ہے،

❶ الصارم میں ہے: ”میں اس کے دین سے راضی نہیں۔“ ❷ الصارم (١٠١٧/٣) ❸ دیکھیے: الشفا (٤٩١/٢)

صفحہ 134

میں، یہ مسلم عورتوں کی جان اور عزت لوٹی گئی (رسالہ "الفاروق" کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۳ھ) گھناؤنا طریقہ: س کی قدرو قیمت جاتی رہی ہے: ٹی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

❁ ❁ ❁

الصارم المسلول على شاتم الرسول یعنی مرتد کی طرح اس سے بھی توبہ کروائی جائے گی اور حکمران کے سامنے جانے کے بعد اگر وہ توبہ کر لے تو اس کا قتل ساقط ہو جائے گا؟ اس مسئلے میں دو اقوال ہیں:

پہلا قول:

پہلا قول یہ ہے کہ وہ گستاخی رسول ﷺ کی طرح ہے اس میں دو روایتیں ہیں، جس طرح گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں دو روایتیں ہیں، یہ منہج ابو الخطاب اور ان کی اتباع میں مابعد متاخرین کا ہے۔❶ امام احمد کا کلام بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، اہل مدینہ کا یہی مذہب ہے۔❷ اس طریقہ پر ظاہر مذہب یہ ہے کہ قدرت کے بعد توبہ سے قتل ساقط نہیں ہوگا، دوسری روایت یہ ہے کہ وہ مرتد ہوگا۔ پہلی روایت مالک، لیث اور ابن القاسم کی ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا اور توبہ کروائی جائے گی۔❸

دوسرا قول:

اسے توبہ کروائی جائے گی اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی اسے مرتد کے قائم مقام قرار دیا جائے گا، یہ قاضی، الشریف،❹ ابن البناء اور ابن عقیل کا قول ہے، باوجود یہ کہ ان کا یہ قول بھی ہے کہ گستاخ رسول ﷺ سے توبہ نہیں کروائی جائے گی، یہ اہل مدینہ کی ایک جماعت کا قول ہے، اسے اسی طرح شوافع نے بھی ذکر کیا ہے انھوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گستاخی ارتداد ہے یہ ابو حنیفہ کا مذہب ہے۔ ان کا ماخذ جن کے ہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کرنے

❶ دیکھیے : الهداية (۲/ ۱۱۰)

❷ دیکھیے : ما تقدم .

❸ دیکھیے : الشفا (۲/ ٤٩١)

❹ أبو جعفر الحنبلي.

الصارم المسلول على شاتم الرسول والے سے توبہ کروائی جائے گی انھوں اور جنھوں نے اس میں تفصـ گستاخی یہ اللہ تعالیٰ کے حق میں محض تائب سے اپنا حق ساقط کر دے اور پڑتی، بندوں کے دلوں میں اس کـ جرأت اس کی حرمت کو پامال نہیں کر اسی سے اس کے اور رسول (گستاخی رسول ﷺ) آدمی کا حق رکھے ہوئے کہ وہ اللہ کا حق ہے جو حد لگانے ہی سے پورا کیا جائے شراب نوشی کے حکم میں ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا گستاخ اگر ذمـ رسول ﷺ کے ساتھ ہوگا، امام ا مسلمان ہو یا کافر۔❶ اسی طرح ہـ موقف ہے، اسی طرح شوافع کا مو مگر یہاں دو مسئلے قابل ذکـ

❶ الصارم (۳/ ۱۰۳۱)

❷ (ص: ۹۰)

صفحہ 135

الصارم المسلول على شاتم الرسول

والے سے توبہ کروائی جائے گی انھوں نے کہا کہ یہ ارتداد ہے۔

اور جنھوں نے اس میں تفریق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گستاخی یہ اللہ تعالیٰ کے حق میں محض کفر ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ) جانتا ہے کہ وہ تائب سے اپنا حق ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ پر کسی مذمت اور ذلت کی زد نہیں پڑتی، بندوں کے دلوں میں اس کی حرمت اس سے کہیں بڑی ہے کہ کسی کی جرأت اس کی حرمت کو پامال نہیں کرسکتی۔

اسی سے اس کے اور رسول ﷺ کے درمیان تفریق ہو جاتی ہے اور وہ (گستاخی رسول ﷺ) آدمی کا حق ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ یہ ملحوظ خاطر رکھے ہوئے کہ وہ اللہ کا حق ہے جو اس کی حرمت پامال کرے گا تو اس کا نقصان حد لگانے ہی سے پورا کیا جائے گا، اس اعتبار سے یہ زنا، چوری چکاری اور شراب نوشی کے حکم میں ہوگا۔

فصل❶

اللہ تعالیٰ کا گستاخ اگر ذمی ہو اس کے ساتھ وہی ہوگا جو ذمی گستاخ رسول ﷺ کے ساتھ ہوگا، امام احمد نے فرمایا اسے قتل کیا جائے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔❷ اسی طرح ہمارے اصحاب، امام مالک اور مالکی علماء کا یہی موقف ہے، اسی طرح شوافع کا موقف ہے۔

مگر یہاں دو مسئلے قابل ذکر ہیں:

❶ الصارم (۳/ ۱۰۳۱)

❷ (ص: ۹۰)

صفحہ 136

ے۔ مستشرق مارشل ہیجز کے بیان اور انٹرویو کی ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ص ۱۱-۱۲ (ذیقعد ۱۴۱۳ھ) گھناؤنا طریقہ: اس کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

٭٭٭

الصارم المسلول على شاتم الرسول

پہلی قسم: ایسی گستاخی جس کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بطور دین یہ کرتا ہے بلکہ وہ متکلم وغیرہ کے ہاں بھی توہین گردانی جاتی ہے جیسے لعنت کرنا ہے، بلاشبہ یہ گستاخی ہے۔

دوسری قسم: اس میں وہ چیزیں شامل ہیں، جنھیں بطور دین سمجھا جاتا ہے اور وہ اس کی عظمت کا عقیدہ رکھ کر یہ کام کرتا ہے، مثلاً عیسائیوں کا یہ کہنا: ”اس کا بیٹا اور بیوی ہے“ جب ذمی یہ اعلانیہ کہے تو اس میں اختلاف ہے۔

قاضی اور ابن عقیل نے کہا کہ اس کی وجہ سے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا امام مالک اور شافعی کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس سے دین داری کا اظہار کرے تو یہ گستاخی نہیں ہے، امام احمد کے کلام کا ظاہر بھی یہی ہے اور یہ اس وجہ سے کہ کافر یہ بطور گستاخی نہیں بلکہ یہ تو اس کی عظمت کے پیش نظر کرتا ہے۔

ہمارے جمہور اصحاب کا یہ قول ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی امام شافعی کا معروف مذہب یہی ہے، مالکیہ میں سے ابن القاسم وغیرہ کا یہی موقف ہے کہ اس سے توبہ کروائی جائے گی، امام مالک سے منصوص یہ ہے کہ اس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا، امام احمد کے کلام کا ظاہر بھی یہی ہے، بطور خلاصہ عرض ہے کہ گستاخی کے تین مراتب ہیں۔❶

پہلا مرتبہ:

جسے بطور دین کیا جائے جیسے عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قول ہے، اس کا حکم کفر کی باقی انواع کا حکم ہے، اس کے اظہار سے عہد کے ٹوٹ جانے کے بارے میں ہم نے اختلاف ذکر کر دیا ہے، جب کہا جائے کہ

❶ کذا بالاصل

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اس سے عہد ٹوٹ جائے گا تو اس توجہ ہے، یہ جمہور کا قول ہے۔❷

دوسرا مرتبہ:

وہ ایسی چیز کرے جو کے لیے گستاخی ہو جیسے یہود عیسائی کا فیصلہ کے لیے حضور یا وہ احکام اللہ سے رسول ﷺ کا حکم ہوگا اور اس ”وہ اللہ اور اس کی ر رہا اسلام قبول کر کی طرح ہے۔

تیسرا مرتبہ:

وہ ایسی چیز سے میں بھی حرام ہے، جیسے فرق ہے، بلکہ کبھی کبھار حرمت کے عقیدہ کی تجد وہ زنا کرے، یا قتل کرے تو جب ہم کہتے ہی جائے گی تو ذمی کی توبہ

❶ تقدم قریباً

❷ تقدم (ص: ۹۰)

صفحہ 137

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اس سے عہد ٹوٹ جائے گا تو اسلام قبول کرنے سے اس کا قتل ساقط ہو جانا قابل توجہ ہے، یہ جمہور کا قول ہے۔ ❶

دوسرا مرتبہ:

وہ ایسی چیز کرے جو ان کے دین میں موجود ہو اور وہ مسلمانوں کے دین کے لیے گستاخی ہو جیسے یہودی کسی مؤذن کو کہے تو نے جھوٹ بولا ہے، جیسے ایک عیسائی کا فیصلہ کے لیے حضرت عمر ؓ کے پاس آنا۔ ❷

یا وہ احکام اللہ سے کسی چیز کی تنقیص کرے، عہد شکنی میں اس کا حکم گستاخ رسول ﷺ کا حکم ہوگا اور اسی بات کو فقہا نے اس عبارت سے تعبیر کیا ہے: ”وہ اللہ اور اس کی کتاب کو توہین آمیز انداز میں ذکر کرتا ہے۔“ رہا اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اس کا قتل ساقط ہونا تو یہ گستاخ رسول کی طرح ہے۔

تیسرا مرتبہ:

وہ ایسی چیز سے گستاخی کرتا ہے جو وہ دین نہیں سمجھتا بلکہ اس کے دین میں بھی حرام ہے، جیسے لعنت کرنا اس کے مابین اور مسلمان کی گستاخی کے مابین فرق ہے، بلکہ کبھی کبھار یہ انتہائی سنگین بھی ہو جاتی ہے، اس کا اسلام اس کی حرمت کے عقیدہ کی تجدید نہیں کرتا بلکہ وہ اس مسئلہ میں ذمی کی طرح ہے جب وہ زنا کرے، یا قتل کرے یا چوری کرے پھر اسلام قبول کرے۔

تو جب ہم کہتے مسلمان جب اللہ کو گالی دے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی تو ذمی کی توبہ قبول نہ کرنا بالاولیٰ ہے، رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے

❶ تقدم قريباً

❷ تقدم (ص: ۹۰)

صفحہ 138

الصارم المسلول على شاتم الرسول

برخلاف اور اسے مسلمان عورت سے زنا کرنے سے تشبیہ دی ہے، ➊ اس قسم میں فقہاء کے تین اقوال ہیں:

پہلا قول:

ذمی سے توبہ کروائی جائے گی جیسے مسلمان سے کروائی جائے گی، دوسرا قول اس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی اگر وہ اسلام قبول کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، یہ امام شافعی کا قول ہے امام احمد سے ایک روایت ہے اور ابن القاسم کا قول ہے۔

دوسرا قول:

اس سے توبہ نہیں کروائی جائے گی اور اگر وہ اسلام قبول کرے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، یہ امام شافعی کا قول ہے، امام احمد سے ایک روایت ہے اور ابن القاسم کا قول ہے۔

تیسرا قول:

ہر حالت میں اسے قتل کیا جائے گا، امام مالک، امام احمد کے کلام سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے، جیسے ہمارا یہ قول ہے کہ اس پر زنا اور چوری کی حد لگائی جائے گی۔

وہ اس کے دین اور مسلمانوں کے ہاں حرام ہے اور بے شمار دلائل اس کی تائید کرتے ہیں۔ ➋

➊ کیونکہ بدکاری ان کے دین میں بھی حرام ہے، مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے، اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اس سے ساقط نہیں ہوگی۔

➋ کذا بالاصل، والمعنٰی ظاہر.

صفحہ 139

الصارم المسلول على شاتم الرسول

فصل

اگر وہ کسی وصف یا کسی نام سے موصوف کر کے کسی کی گستاخی کرے اور وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ یا اس کے بعض رسولوں کی گستاخی کرے مگر اس سے ظاہر یہ ہو کہ اس نے اس کا قصد نہیں کیا، ایسا قول اور اس جیسے دوسرے اقوال فی الجملہ حرام ہیں، اس کے مرتکب سے توبہ کروائی جائے گی اگر اسے اس کی حرمت کا علم نہیں ہے اور اگر اسے علم ہے تو اسے زبردست تعزیر لگائی جائے گی، مگر اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ اسے قتل کیا جائے گا۔

اسے اس مثال سے سمجھیے کہ جو شخص زمانہ کو گالی دے اس میں اور دیگر مسبوبوں میں فرق کرے اور وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اس کا فاعل وہ دھر (زمانہ) ہے اور اس کے حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہیں تو اس کے بدون قصد وہ گالی اللہ تعالیٰ کو جائے گی اور اسی طرف رسول اللہ ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے:

”زمانہ کو گالی مت دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے۔“ ❷

اسی طرح جو کسی آدمی کو گالی دے اور کہے اے فلاں بن فلاں بن فلاں ... کرتا کرتا حضرت آدم تک چلا جائے تو یقیناً اس نے بڑے گناہ کا ارتکاب کیا باوجود یہ کہ اس میں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام اور شیث علیہ السلام وغیرہ دیگر انبیاء شامل ہیں اور اس حال میں اس عموم میں انبیاء کا قصد نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح ابن زید نے کہا ہے: جو شخص کہے اللہ عرب، بنی اسرائیل اور بنی آدم پر لعنت کرے، اس نے اس عبارت سے انبیاء کا قصد نہیں کیا بلکہ ان

❶ الصارم (١٠٤٢/٣)

❷ رواه مسلم، رقم (٢٢٤٦) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.

صفحہ 140

الصارم المسلول على شاتم الرسول

میں سے جو ظالم ہیں وہ مراد لیے ہیں، حاکم کے اجتہاد کے مطابق اسے ادب سکھلایا جائے گا۔❶

کچھ لوگوں کا رجحان اس کے قتل کی جانب ہے، الکرمانی کا یہی مسلک ہے۔ ہمارے اصحاب دو سمتوں میں سے ایک سمت کا قیاس یہ ہے کہ جو یہ کہے: میں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے، ہر چیز میں جو اس نے مجھے حکم دیا ہے۔❷

فصل❸

سبھی انبیاء کی گستاخی کا حکم وہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ کی گستاخی کا ہے، کسی نے بھی یہ تفریق نہیں کی کہ نبی اور نبی میں فرق کیا جائے گا، بلاشبہ آپ ﷺ کی گستاخی کا جرم دوسرے انبیاء ﷺ کی گستاخی سے زیادہ ہے۔

فصل❹

رہا وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کی گستاخی کرتا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اللہ رب العزت کی طرف سے براءت کے بعد بھی تہمت لگاتا ہے یقیناً اس نے کفر کیا ہے اس پر متعدد علماء نے اجماع نقل کیا ہے۔❺

رہا وہ شخص جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر ازواج النبی ﷺ پر تہمت بازی کرتا ہے تو اس میں دو قول ہیں:

❶ دیکھیے : الشفا (٢/ ٤٣٧)

❷ دیکھیے : الصارم (٣/ ١٠٤٥) و المغنی (١٣/ ٤٦٤)

❸ الصارم (٣/ ١٠٤٨) و الشفا (٢/ ٥٤٥ و ما بعدها)

❹ الصارم (٣/ ١٠٥٠) و الشفا (٢/ ٥٥٤ و ما بعدها)

❺ الصارم میں : اسماعیل بن اسحاق کا بھی ذکر موجود ہے۔

صفحہ 141

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ہے جو حضرت عائشہ ؓ پر لگانے کا ہے۔ ❶

فصل

گستاخ صحابہ کی سزا:

رہا وہ شخص جو کسی صحابی کی گستاخی کرے تو امام احمد نے مطلق طور پر یہ کہا ہے کہ اسے سخت ترین سزا دی جائے گی اور اس کے کفر اور قتل سے توقف کیا جائے گا، بلکہ یہ بھی کہا: اسے سزا دی جائے گی اور کوڑے لگائے جائیں گے اور اسے اتنی دیر قید کیا جائے گا جتنی دیر تک وہ مر نہیں جاتا یا اس سے رجوع نہیں کر لیتا، امام مالک کا مشہور مذہب یہی ہے۔

امام ابن المنذر فرماتے ہیں:

مجھے معلوم نہیں کہ کسی نے بھی ایسے آدمی کو واجب القتل قرار دیا ہو۔ ❷

قاضی ابو یعلیٰ فرماتے ہیں:

جو صحابہ کرام کی گستاخی حلال سمجھ کر کرے وہ کافر ہے وگرنہ فاسق ہے، چاہے ان کی تکفیر کرے یا ان کے دین میں عیب جوئی کرے، فقہاء کا بھی یہی موقف ہے، فقہاء کی ایک جماعت کا یہ خیال بھی ہے کہ صحابہ کی گستاخی کرنے والا بھی قتل کیا جائے گا، انھوں نے رافضیوں کو کافر قرار دیا ہے، متعدد ہمارے اصحاب نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔

❶ انظر ما تقدم.

❷ الصارم (٣/ ١٠٥٥) و الشفا (٢/ ٥٥٤)

❸ الأشراف على مذاهب أهل العلم (٢/ ٢٤٥)

صفحہ 142

الصارم المسلول على شاتم الرسول

ابوبکر عبدالعزیز ”المقنع“ میں رافضی کی بابت فرماتے ہیں:❶

”اگر وہ گستاخی کرے تو یقیناً وہ کافر ہو گیا اس سے نکاح نہ کیا جائے۔“

بعض نے یہ کہا کہ ان کی گستاخی ایسی ہے جو ان کے دین اور ان کی عدالت کو مجروح کرتی ہے لہٰذا یہ کفر ہے، قاضی نے اس موقف کی تائید کی ہے۔

کچھ ایسی بھی گستاخی ہے جو باعث جرح نہیں ہے مثلاً وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آباء و اجداد کو گالی دے یا وہ گستاخی سے اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنا چاہے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔

امام احمد نے ایک ایسے آدمی کو زندیق کہا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گالیاں بکتا تھا، ایک روایت یوں بھی ہے، جسے حنبل نے روایت کیا ہے:

”جو کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو گالی دے میرا خیال نہیں ہے کہ وہ اسلام پر ہو۔“❷

قاضی فرماتے ہیں:

امام احمد کا قول مطلق طور پر یہ ہے کہ کسی ایک صحابی کی گستاخی سے وہ کافر ہو جائے گا، امام عبداللہ، امام ابو طالب کی روایت میں ہے کہ اس کے قتل میں توقف کیا ہے، مکمل حد کا لگانا اور تعزیر کا موجب قرار دینا اس کا متقاضی ہے کہ اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

مزید فرمایا، امام احمد کا قول:

”میں اسے مسلمان خیال نہیں کرتا۔“

اس پر محمول کیا جائے جو ان کی گستاخی کو حلال سمجھتا ہے وہ تو بغیر اختلاف

ہے، جیسا کہ تاریخ بغداد (۱۰/۴۵۹) والمدخل المفصل (۲/۸۰۸) میں ہے۔

صفحہ 143

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کے کافر ہے، قتل کا ساقط ہونا اس آدمی پر محمول کیا جائے گا جو اسے حلال نہیں سمجھتا۔ اس میں بھی احتمال ہے کہ اسے اس آدمی پر محمول کیا جائے جو ان کی عدالت میں طعن کرتا ہے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جو گستاخی کرے، تکفیر نہیں کرے تو وہ قتل نہیں کیا جائے گا، جیسا وہ یہ کہے کہ وہ (صحابہ) قلیل العلم تھے، سیاست اور شجاعت سے نا آشنا تھے، ان میں بخیلی اور دنیا کی محبت تھی وغیرہ۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کے کلام کو ظاہر پر محمول کیا جائے گا اس لیے ان کی گستاخی کے بارے میں دو روایتیں ہیں: ”پہلی روایت یہ ہے کہ اسے کافر قرار دیا جائے، دوسری روایت یہ ہے کہ اسے فاسق قرار دیا جائے ۔“

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: قاضی کا قول اسی پر ٹھہرتا ہے، ان کے علاوہ اس کی تکفیر میں دو روایتیں بیان کی ہیں۔

قاضی فرماتے ہیں: جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائے باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بری کر دیا ہے وہ بغیر کسی اختلاف کے کافر ہوگا۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: ہم کلام کو دو فصلوں پر مرتب کریں گے۔ پہلی فصل: ان کی مطلق طور پر گستاخی کے بارے میں ہے۔ دوسری فصل: گستاخ کے احکام کی تفصیل کے بارے میں ہے۔ رہی پہلی فصل تو صحابہ کی گستاخی قرآن وسنت کی روشنی میں حرام ہے۔

قرآن مجید سے دلائل:

اولاً یہ غیبت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

صفحہ 144

الصارم المسلول على شاتم الرسول

﴿ وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ﴾ [الحجرات: ١٢] ”اور بعض تمھارا بعض کی غیبت نہ کرے۔“

اسی طرح فرمایا: ﴿ وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَ إِثْمًا مُّبِينًا ﴾ [الأحزاب: ٥٨] ”وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچاتے ہیں بغیر اس کے جو انھوں نے کمایا یقیناً انھوں نے بہتان تراشا اور کھلم کھلا گناہ کیا، اسی طرح فرمایا:

﴿ لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾ [الفتح: ١٨] ”البتہ تحقیق اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ آپ ﷺ کی بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے۔“

اور صحیح (مسلم) سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ان میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہوگا۔“

﴿ لَقَدْ تَابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ وَ الْمُهٰجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ ... ﴾

[التوبة: ١١٧]

”اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی نبی ﷺ ، مہاجرین اور انصار پر۔“

اسی طرح ارشاد فرمایا: ﴿ وَالَّذِينَ جَاءُوْا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوْبِنَا

صفحہ 145

الصارم المسلول على شاتم الرسول

غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ﴾ [الحشر: ١٠] ”وہ لوگ جو ان کے بعد ایمان لائے وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے سبقت لے گئے اور تو نہ ڈال کینہ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! یقیناً آپ رؤف و رحیم ہے۔“

اس سے معلوم ہوا کہ ان کے لیے استغفار کرنا اور خیانت سے دل کو پاکیزگی دینا ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اور اس کے فاعل کی تعریف کرتے ہیں، پھر اسی حوالے سے متعدد آیات ذکر کی ہیں۔

احادیث سے دلائل:

بخاری ومسلم میں آپ ﷺ کا ارشاد مروی ہے: ”تم میرے صحابہ کو گالی مت دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مدّ یا نصف مدّ کے خرچ کرنے کے ثواب کو نہیں پہنچ سکتے۔“❶

امام برقانی نے روایت کیا ہے: ”تم میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے لیے میرے صحابہ کو چھوڑ دو۔“❷

❶ صحيح البخاري، رقم (٣٦٧٣) و صحيح مسلم، رقم (٢٥٤٠) عن أبي سعيد رضي الله عنه.

❷ حافظ ابن حجر فتح الباري (٧/ ٣٤) میں فرماتے ہیں کہ برقانی نے المصافحہ میں اسے بیان کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی۔ دیکھیے: جزء لا تسبوا أصحابي (ص: ٦٠) لابن حجر.

صفحہ 146

فاروقی گستاخی ص ۱۱-۱۲ (مطبوعہ ۱۳۱۴ھ) مارنے کا طریقہ: اتنی قدرو قیمت جاتی رہی ہے: انہوں نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

الصارم المسلول على شاتم الرسول نیز فرمایا: ’’یقیناً میرا انتخاب میرے صحابہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، ان میں سے میرے لیے وزراء، انصار، سسرالی رشتہ داروں کو بنایا، پس جو انھیں گالی دے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، فرشتوں اور سبھی لوگوں کی لعنت ہے اس سے قیامت کے دن کسی قسم کا فدیہ معاوضہ قبول نہیں کرے گا۔‘‘ ❶ نیز فرمایا: ’’میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے بعد انھیں ہدفِ تنقید نہ بنانا، جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کیا اس نے مجھ سے بغض کیا، جنھوں نے انھیں اذیت دی گویا انھوں نے مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی یقیناً اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو

نے السنۃ (۳/ ٥١٥، رقم: ٨٣٤) والحاکم (۳/ ٦٣٢) وغیرہ سبھی نے محمد بن طلحہ المدنی از عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدة عن ابیه عن جده۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، ذہبی نے موافقت کی ہے، شیخ الاسلام نے فرمایا: ’’یہ حدیث اس سند سے محفوظ ہے۔‘‘ البانی نے تخریج السنۃ میں عبدالرحمن بن سالم کی جہالت کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور محمد بن طلحہ کے سوئے حفظ کی وجہ سے بھی، حضرت انس کی حدیث اس کی شاہد ہے، جسے خطیب نے تاریخ (۲/ ۹۹) اور حضرت جابر کی حدیث کو بزار نے الکشف (۳/ ۲۸۸) میں روایت کیا ہے۔ ہیثمی فرماتے ہیں ’’اس کے راوی ثقہ ہیں بعض میں اختلاف ہے۔‘‘ مجمع الزوائد (١٠/ ١٦)

الصارم المسلول على اذیت دی عنقری ابن البناء نے ’’جس نے میرے جس نے میری زبیری روایت ’’جو میرے صحابہ بے شمار احادیث اگر ان کی گستاخ ہم فقہائے کرام، صحابہ

السنۃ (٢/ ٤٦٥) اور مغفل کی حدیث بیان

حضرت معاذ بن جبل سند سے اور اس کی ’’اصبہانی‘‘ کا بھی

الترمذي، حديث (٢/ ٤٣٤) لل حديث (٧) حضر ہے، امام ترمذی فرما سے، اس حدیث

صفحہ 147

الصارم المسلول على شاتم الرسول اذیت دی عنقریب اللہ اسے پکڑے گا۔“ ترمذی وغیرہ❶ ابن البناء نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے: ”جس نے میرے صحابہ کو گالی دی یقیناً اس نے مجھے گالی دی اور جس نے میری گستاخی کی یقیناً اس نے اللہ کی گستاخی کی۔“❷ زبیری روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: ”جو میرے صحابہ کو گالی دے اس پر لعنت ہو۔“❸ بے شمار احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔ اگر ان کی گستاخی کی نوعیت یہی ہے تو کم از اس میں تعزیر ہے اور اس میں ہم فقہائے کرام، صحابہ کرام اور تابعین عظام سے کوئی اختلاف نہیں پاتے، باقی اہل

❶ حدیث (٣٨٦٢) اور فرمایا: ”یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے اسی سند سے پہچانتے ہیں۔“ ❷ امام احمد نے المسند (٤/ ٨٧) و فضائل الصحابة (١/ ٤٩) ابن ابی عاصم نے السنة (٢/ ٤٦٥) ابن حبان (١٦/ ٢٤٤ - الاحسان۔) وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل کی حدیث بیان کی ہے۔ مگر اس کی سند ضعیف ہے۔ ❸ جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن عدی نے الکامل (٤/ ٢١٠) میں اسی طرح حضرت معاذ بن جبل کی حدیث بیان کیا ہے، مگر عبداللہ بن خراش از عوام بن حوشب کی سند سے اور اس کی اس (عوام) سے عام احادیث منکر ہے اور ”اصحابی“ کے بعد ”اصہاری“ کا بھی اضافہ کیا، اصہاری کا معنی: سسرالی رشتہ ہیں۔ ❹ از محمد بن خالد از عطاء بن ابی رباح مرسلاً، رواہ لالکائی (٧/ ١٢٤٨) و سنن الترمذی، حدیث (٣٩٥٨) بزار في الکشف (٣/ ٢٩٣، ٢٩٤) طبرانی في الکبیر (١٢/ ٤٣٤) للالکائی (٧/ ١٢٤٨) الضیاء في النہی عن سب الأصحاب، حدیث (٧) حضرت ابن عمر سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ یہ سیف بن عمر کی مفارید میں سے ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ”یہ حدیث منکر ہے۔“ یعنی ابن عمر کی مرفوع حدیث کی سند سے، اس حدیث کے دو شاہد حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ کی حدیث ہے۔

صفحہ 148

الصارم المسلول على شاتم الرسول

سنت کا بھی اس پر اجماع ہے کہ ان کی مدح ثنائی واجب ہے ان کے لیے استغفار کرنا، رحم کی دعا کرنا، ان سے رضا مندی کا اظہار ان سے محبت اور مودت رکھنا اور جو ان کے بارے میں زبان طعن دراز کرے ان سے لڑائی کرنا واجب ہے۔

جس آدمی کا یہ قول ہے کہ ان کی گستاخی کی وجہ سے انھیں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’کسی مسلمان کا خون اتنی دیر تک حلال نہیں ہے جب وہ تین چیزوں میں سے ایک کا ارتکاب کرے۔‘‘ ➊ کیونکہ بعض کو دشنام دیتا ہے لہٰذا اس وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔

اور جس کا یہ قول ہے: گستاخ قتل کیا جائے گا یا اسے کافر قرار دیا جائے، انھوں نے متعدد دلائل سے دلیل لی ہے جن میں یہ فرمانا بھی ہے: ﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ... ﴾ [الفتح: ٢٩] ’’محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہے اور وہ ان کے ہمراہ ہیں...‘‘ جو ان پر غیظ و غضب کا اظہار کرے گا وہ ان کفار میں شامل ہوگیا جنھیں اللہ تعالیٰ نے ذلیل کر دیا، انھیں رسوا کر دیا اور انھیں برباد کر دیا۔ جو کفار سے شراکت کرے گا اس چیز سے جس کی بدولت وہ ہلاک کیے گئے تو یہ بھی ان جیسا کافر ہو، کیونکہ مومن کفر کے بدلے میں ہلاک نہیں کیا جاتا۔

اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ حکم کو ایسی صفت سے معلق کیا جو مشتق اور

➊ صحيح البخاري، رقم (٦٨٧٨) و مسلم، رقم (١٦٧٦) من حديث ابن مسعود رضي الله عنه، وجاء من حديث جماعة الصحابة.

صفحہ 149

الصارم المسلول على شاتم الرسول

مناسب ہے، کیونکہ کفر مناسب ہے کہ اس کے مرتکب کو غصہ دلایا جائے، جب وہ موجب ہے کہ اس کا مرتکب صحابہ کرام کے بارے میں کینہ رکھتا ہے اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ منع فرمائیں اور وہ کوئی آدمی کرے وہ ایک کام کو واجب قرار دے گا اور وہ کفر ہے۔

امام احمد کے قول ”میں اسے اسلام پر خیال نہیں کرتا“ کا یہی معنی ہے، یعنی رافضی کے بارے میں اس طرح یہ قول بھی ہے۔ ➊

”جس نے ان سے بغض رکھا یقیناً اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے انھیں اذیت دی گویا اس نے مجھے اذیت دی اور جو انھیں گالی دے گا اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سبھی لوگوں کی لعنت ہے اس سے کسی قسم کا کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔“ ➋

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اذیت کفر ہے، اس سے فرق واضح ہو جاتا ہے کہ جو انھیں شرف صحابیت سے پہلے اذیت پہنچاتا ہے اور جو باقی مسلمانوں کو اذیت پہنچاتا ہے جو صحابی آپ ﷺ کی صحبت میں رہا اور اسی پر وفات ہوئی اسے اذیت دینا شرف صحبت کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”لوگوں کو ان کے گہرے دوستوں سے پرکھو۔“ ➌

جیسا کہ ایک شعر بھی ہے:

صفحہ 150

الصارم المسلول على شاتم الرسول

عن المرء لا تسأل وسَلْ عن قرينه
فكل قرين بالمقارن يقتدي
آدمی کے بارے میں سوال نہ کر اس کے دوست کے بارے میں پوچھ
ہر دوست اپنے ہم راز کی پیروی کرتا ہے ❶

امام مالک فرماتے ہیں:

”یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر تنقید کرنا چاہتے تھے مگر ان کے لیے ناممکن تھا اس لیے انھوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کیا، تاکہ کہا جا سکے برے آدمی کے برے دوست ہوتے ہیں۔“

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

”تم محمد ﷺ کے ساتھیوں کو دشنام نہ دو، ان میں سے کسی ایک کا مقام تمھاری زندگی کے سبھی اعمال سے بہتر ہے۔“❷

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد فرمایا:

”کہ تجھ سے صرف مؤمن محبت کرے گا اور تجھ سے صرف منافق بغض رکھے گا۔“ اسے امام مسلم نے بیان کیا ہے۔❸

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے:

”ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض ہے۔“❹

❶ یہ شعر عدی بن زید العبادی کا ہے، دیکھیے: عيون الأخبار (3/ 79) وبهجة المجالس (1/ 705)

❷ ابن ماجہ نے سنن کے مقدمہ رقم (162) امام احمد نے فضائل (1/ 57) اور ابن ابی عاصم نے السنة (2/ 470، رقم: 1006) میں بیان کیا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔

❸ رقم (78)

❹ البخاري، رقم (17) و مسلم، رقم (74) من حديث انس رضي الله عنه.

صفحہ 151

الصارم المسلول على شاتم الرسول

اسی طرح ان دونوں میں ہے :❶ ”انصار سے محبت صرف مؤمن کریں گے اور ان سے بغض صرف منافق رکھیں گے، جو ان سے محبت کریں گے اللہ ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھیں گے اللہ تعالیٰ ان سے بغض رکھے گا۔“❷ لہٰذا جو ان کی گستاخی کرے گا یقیناً وہ ان کے بغض میں مزید آگے بڑھ جائے گا ضروری ہے کہ وہ منافق ہو، اور اس کے لیے انصار کو خاص کیا، جنھوں نے مہاجرین کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور ایمان کو جگہ دی، رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، آپ کی مدد کی، اور دشمنوں سے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا، دین کی استقامت کے لیے اپنی جانوں اور اموال کی قربانی دی، رسول اللہ ﷺ کی خاطر ہر سرخ و سیاہ دشمنی مول لی، مہاجرین کو اپنے اموال میں شریک کیا، مہاجرین تھوڑے سے، اجنبی فقیر اور انتہائی کمزور تھے، آپ ﷺ نے یہ فرما کر ارادہ کیا کہ لوگوں انصار کی قدر و منزلت متعارف کروائی جائے، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے اور معاملہ عنقریب مہاجرین میں آجائے گا، اس لیے جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت میں حتی الامکان مشارکت کی وہ درحقیقت ان کے ساتھ شریک ہے۔

جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغض رکھے نفاق ہے اس میں وہ سبھی صحابہ کرام داخل ہیں جنھوں نے آپ ﷺ کی اعانت فرمائی اور ان سے بغض

❶ البخاري، رقم (۳۷۸۳) و مسلم، رقم (۷۵) من حديث البراء رضي الله عنه. ❷ في الاصل آية الايمان حب الانصار وآية النفاق بغضهم...“ وهو تكرار للحديث السابق والتصويب من ”الصارم“ و ”الصحيح“

صفحہ 152

الصارم المسلول على شاتم الرسول

رکھنے والا منافق کافر ہے۔

طلحہ بن مصرف نے فرمایا:

”کہا جاتا کہ بنو ہاشم سے بغض رکھنا نفاق ہے، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے بغض رکھنا نفاق ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ میں شک کرنا گویا سنت میں شک کرنا ہے۔“❶

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”زمانہ کے آخر میں میری امت میں ایسے لوگ آ جائیں گے جنھیں رافضی کہا جائے گا وہ اسلام کو روندیں گے۔“❷

سنن میں اسے عبداللہ بن احمد نے مسند میں کثیر النواء از ابراہیم ابن الحسن از ابیہ از جدہ از علی بیان کیا ہے،❸ اس کی متعدد اسانید ہیں۔❹ کثیر (راوی) کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔❺

ابو یحییٰ الحمانی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اے علی رضی اللہ عنہ ! تو اور تیری جماعت جنت میں جائے گی، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بد اخلاق ہوں گے جنھیں رافضی کہا جائے گا، اگر تو انھیں پالے تو انھیں قتل کرنا وہ مشرک ہیں۔“

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

٢٩٠، رقم: ٣٥٣) اسی طرح محارب بن دثار نے بیان کیا ہے۔

صفحہ 153

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

”اہل بیت سے محبت کا لبادہ اوڑھے رکھیں گے حالانکہ وہ ہوں گے نہیں اور اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو گالیاں دیں گے۔“ اسے عبداللہ بن احمد نے روایت کیا ہے۔❶

بعض کے الفاظ ہیں:

”ہمارے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو ہم سے محبت کے دعوے کریں گے اور وہ ہم پر جھوٹ بولیں گے، دین سے نکلنے والے ہوں گے، اس کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو گالی دیں گے۔“❷

اسے امام بغوی نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے:

”اگر تو انھیں پالے انھیں قتل کرنا، یہ مشرک ہیں۔“❸

حضرت علی ؓ سے یہ موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح سے مروی ہے۔❹

ابن بطہ نے حضرت انس ؓ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:❺

”اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا، میرے لیے میرے صحابہ کا انتخاب کیا اور انھیں میرا مددگار اور میرے سسرالی رشتہ دار بنایا، عنقریب زمانہ

❶ السنۃ میں (٢/ ٥٤٧۔ ٥٤٨) ابن عدی نے الکامل (٧/ ٢١٣) میں یہ ابو جناب الکلبی کی منکرات میں سے ہے۔

❷ اسے لالکائی نے بیان کیا ہے۔ (٨/ ١٤٥٤)

❸ جیسا کہ شیخ الاسلام نے ذکر کیا ہے، اسے لالکائی، ایضاً (٨/ ١٤٥٦) نے بھی بیان کیا ہے، اس میں جو ضعف ہے وہ پہلے گزر چکا ہے۔

❹ دیکھیے: لالکائی (٨/ ١٤٥٦)

❺ الابانۃ میں یہ روایت نہیں ہے۔

صفحہ 154

الصارم المسلول على شاتم الرسول

کے آخر میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ان کی تحقیر کریں گے، خبردار! ان کے ساتھ مت کھاؤ اور مت پیو، خبردار! ان سے مت رشتے قائم کرو، خبردار! ان کے ساتھ نمازیں مت پڑھو، اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھو، ان پر لعنت حلال ہوچکی ہے۔ ❶

اس میں نظر ہے، اس سے زیادہ کمزور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے مگر یہ صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ ❷

حضرت علی ؓ کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن السوداء نے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی تنقیص کی تو حضرت علی ؓ نے اسے قتل کرنے کی ٹھان لی۔ ❸

یہ ابو الاحوص سے محفوظ ہے، اسے النجاد، ابن بطہ اور لالکائی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ ❹ اور ابراہیم ؒ (النخعی) کی مراسیل عمدہ ہیں، حضرت علی ؓ نے یہ ظاہر نہیں کیا وہ آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہیں مگر یہ کہ وہ ان کے ہاں ایسا شخص تھا جس کا قتل کرنا حلال تھا، مگر فتنے سے بچنے کے لیے اسے چھوڑ دیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے بعض منافقوں کو قتل کرنے سے توقف کیا۔

حضرت عبدالرحمن بن ابزی فرماتے ہیں: ”اگر میں کسی آدمی کو حضرت عمر ؓ کی گستاخی کرتے ہوئے سن لوں

❶ الخلال نے السنۃ (٢ / ٤٨٣) عقیلی نے الضعفاء (١/ ١٢٦) ابن حبان نے المجروحین (١ / ١٨٧) میں اسے روایت کیا ہے۔ یہ باطل خبر ہے، جیسا کہ ابن حبان نے فرمایا ہے۔

❷ ابن البناء نے اسے ان الفاظ سے بیان کیا ہے: ”تم صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس کا کفارہ قتل ہے۔“ الصارم (٣ / ١٠٩٩)

❸ لالکائی نے اسے بیان کیا ہے۔ (٧ / ١٢٦٤)

❹ تحرفت في الاصل إلى: اللاكي.

صفحہ 155

الصارم المسلول على شاتم الرسول

تو میں اس کی گردن تن سے جدا کر دوں گا۔“ ❶

حضرت عبدالرحمن مشہور صحابی ہیں، جو مکہ کے عامل تھے اور حضرت علی ؓ نے انھیں خراسان کا عامل مقرر کر دیا۔ ❷

حضرت علی ؓ ارشاد فرماتے ہیں:

”مجھے کوئی حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ پر فوقیت نہ دے وگرنہ میں اسے بہتان تراشی کے جرم میں کوڑے لگاؤں گا، رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں سے سب سے بہترین حضرت ابوبکر ؓ پھر حضرت عمر ؓ ہیں۔“ ❸

اسے امام عبداللہ بن احمد اور ابن بطہ وغیرہ نے بیان کیا ہے، اس بارے میں بہت سارے آثار مروی ہیں۔

امام احمد نے ابن ابی لیلیٰ سے صحیح سند سے روایت کیا ہے ❹ کہ انھوں نے

❶ الخلال نے اسی طرح السنة (١/ ٢٥٥) میں بیان کیا ہے۔

❷ یعنی حضرت عمر بن خطاب کی طرف سے۔

❸ حضرت علی کے ان دو آثاروں کو مؤلف نے ایک سیاق میں جمع کر دیا ہے، پہلا اثر ”المفتری“ (بہتان تراش) تک مکمل ہو جاتا ہے، اسے امام احمد نے الفضائل (١/ ٨٣) اور عبداللہ بن احمد السنة (٢/ ٥٦٢) میں بیان کیا ہے۔ دوسرا اثر: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فوقیت دیتے ہیں اور اگر میں نے یہ اقدام نہ کیا ہوتا تو میں اس بارے میں مؤاخذہ کرتا، لیکن تقدم (برتری) کی وجہ سے میں سزا ناپسند سمجھتا ہوں اور جو اس حوالے سے کچھ کہے وہ بہتان تراش ہے اس پر وہی مؤاخذہ ہوگا جو بہتان تراش کا ہوگا۔ لوگوں میں بہترین ...“ اسے احمد نے فضائل (١/ ٣٣٦) عبداللہ نے السنة (٢/ ٥٨٨) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

❹ الفضائل (١/ ٣٠٠) ان کے بیٹے عبداللہ السنة (٢/ ٥٧٩)

صفحہ 156

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

فرمایا: تم ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں شک کرتے ہو، ایک آدمی کہنے لگا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔ الجارود فرمانے لگے: بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان سے افضل ہیں۔ ❶ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انھوں نے اس کو کوڑے سے اس طرح پٹائی کی کہ اس کے پاؤں میں لرزہ پیدا ہو گیا۔ پھر الجارود کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میرے پاس سے دور رہو، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس چیز میں بہترین ہیں، پھر فرمایا: جو اس کے علاوہ کہے گا ہم اس پر جھوٹ باندھنے والے کی حد لگائیں گے۔

جب دونوں خلیفہ راشد حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما ان کو کوڑے لگا رہے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دیتے ہیں یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فوقیت دیتے ہیں اور اس میں گالی بھی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ ان دونوں کے نزدیک گستاخی کی سزا کہیں زیادہ ہے۔

فصل ❷

خلاصہ کلام یہ ہے:

جو گستاخی کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معبود ہے یا وہ نبی ہے اور جبریل نے غلطی کی ہے اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے، بلکہ جو اسے کافر قرار دینے میں توقف کرے اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ اسی طرح

❶ الجارود بن المعلىٰ، عبدالقیس کے سردار ہیں، عام الوفود کو اسلام قبول کیا۔ نہاوند کے معرکہ میں شہید ہوئے۔ دیکھیے: الاصابۃ (۲۱۶/۱)

❷ الصارم (۱۱۰۷/۳)

صفحہ 157

الصارم المسلول على شاتم الرسول

جس کا یہ تصور رہے کہ قرآن سے کوئی چیز کم ہو گئی ہے یا چھپا لی گئی ہے یا اس کے ہاں پوشیدہ تاویلات ہیں جو مشروع اعمال کو ساقط کر دیتی ہیں وغیرہ۔

جیسا کہ یہ قول قرامطہ، باطنیہ اور بعض تناسخیہ کا ہے، ان سب لوگوں کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

رہا وہ شخص جو انھیں ایسی گالی دیتا ہے جو ان کی عدالت اور دین میں باعث قدح نہیں ہے جیسے انھیں کنجوسی، بزدلی، قلۃ علم، زہد کی عدم موجودگی وغیرہ کے ساتھ گستاخی کرتا ہے تو اس کے مرتکب کو ادب سکھلایا جائے گا اور تعزیر لگائی جائے گی، کافر قرار نہیں دیا جائے گا، اور اسی پر ان علماء کا کلام محمول کیا جائے گا جن کی علما نے تکفیر نہیں کی۔

اور رہا وہ شخص جو لعنت کرتا ہے اور مطلق طور پر برا بھلا کہتا ہے تو اس کے بارے میں اختلاف ہے، کیونکہ لعن الغیظ اور لعن الاعتقاد کے مابین تردد ہے۔

اور رہا وہ شخص جو اس سے تجاوز کرتے ہوئے یہ خیال کرے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مرتد ہو گئے تھے، چند لوگوں کے علاوہ جن کی تعداد دس سے کچھ اوپر ہے یا پھر وہ فاسق بن گئے تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کا قائل کافر ہے، بلکہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں عبرت ناک سزاؤں سے دوچار کیا اور یہ بات بھی تواتر سے ثابت ہے کہ ان کے چہرے ان کی زندگی یا موت کے وقت مسخ کر کے خنزیروں جیسے بنا دیے گئے۔ ❶

خلاصہ کلام یہ ہے کہ گستاخی کی کچھ اقسام ایسی ہیں جن کے کفر میں کوئی شک نہیں اور بعض علماء ان پر کفر کا حکم نہیں لگاتے اور بعض متردد ہیں، یہ مقام ان

❶ شیخ الاسلام نے منہاج السنۃ (١ / ٤٨٥) میں ذکر کیا ہے اس کی مراجعت کیجیے۔

صفحہ 158

میں سفر کر آئی ہے نے بیان اور تبصرہ کیا الفاروق" کراچی ص ۱۱-۱۲ ذیقعدہ ۱۴۱۳ھ) رندانہ طریقہ: کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے: لی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں اور ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ

الصارم المسلول علی شاتم الرسول

اقوال کے استیعاب کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اگر ہم اس کا استیعاب کریں تو یہ بہت طویل ہو جائے گا۔ ضرورت کے مطابق ہم نے یہاں بیان کر دیا ہے۔ واللہ اعلم.

اس کتاب کو اس کے کاتب محمد بن علی بن محمد نے ذو الحجہ ۷۳۰ھ میں مختصر کیا ہے۔ ﴿حسبنا الله ونعم الوکیل﴾ ”ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“ یہاں مختصر الصارم المسلول کا ذوالقعدہ ۷۳۰ھ کو اختتام ہوا۔

PDF 159

امام ابن تیمیہؒ کی مشہور زمانہ کتاب

الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول

کا

اختصار اور اس کا اردو ترجمہ

اختصار

محمد بن علی بن محمد البعلی الحنبلی

مترجم محمد خبیب احمد

گستاخِ رسولؐ کی سزا

”الصارم المسلول“ میں موجود تمام آیات و احادیث، اجماع، آثار صحابہ

اور ان سے استدلال و اجتہاد کو حسن ترتیب کے ساتھ چُن لیا گیا ہے

جس سے استفادہ کرنا ہر خاص و عام کیلئے آسان ہو گیا ہے