ارتداد — ماضی اور حال کے آئینے میں · محمد کاظم حبیب
Irtadaad · Muhammad Kazim Habib
PDF 1

اِرتداد

ماضی اور حال کے آئینے میں

تالیف

مُحمّد کاظم حبیب

PDF 2

ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔“

٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

ارتداد

ماضی اور حال کے آئینے میں

تالیف

محمد کاظم حبیب

دار العروبة

المنصورة o لاہور پاکستان

صفحہ ۳

لعب ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“ ☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَ كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَ كَانَ لَهُ مِنْهَا

انتساب

زمامِ اقتدار ہے۔

تنگ آتے ہیں، لیکن ان سے نجات کی کوئی سبیل نہیں پاتے۔

جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہے ۔ وہ ماسوا اللہ کے جلال کے کسی طاغوت و جبروت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا، اور اسی کی طاقت وقوّت اور اعانت کے سہارے وہ غالب آنے والا ہے ۔ اور ظلم وجور کی تاریک رات کے بعد عدل وانصاف کی سحر دیکھنے والا ہے ۔ الیس الصبح بقریب، کیا سحر قریب نہیں ہے ۔

ان سب کے نام میں یہ کتاب منسوب کرتا ہوں تاکہ میرے افکار کے ذریعے وہ حق سے آگاہ ہوں ۔ سو جس کا جی چاہے مان لے، جو چاہے نہ مانے ۔ جو مان لے گا تو اس میں اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو نہیں مانے گا اُس کے انکار سے اللہ کا کوئی نقصان نہ ہوگا، ہاں اس کا اپنا ہی نقصان ہوگا اور اس کا علم اسے اُس روز ہوگا جس دن ظالم ندامت سے کفِ افسوس ملے گا اور حق کا انکار کرنے والا کہے گا ”اے کاش میں مٹی ہوتا“ (تاکہ عذاب سے بچ جاتا)۔

اللہ کا قول سچا ہے اور وہ سیدھی راہ بتانے والا ہے۔

وَ آخِر دعوانا ان الحمدلله ربّ العلمين

۳۰ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ محمد کاظم حبیب

PDF 4

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“ ٭ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

تھے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انتساب

زمامِ اقتدار ہے۔

تنگ آتے ہیں، لیکن ان سے نجات

جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہے، کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا، وہ غالب آنے والا ہے۔ اور ظالم دیکھنے والا ہے۔ الیس الصبح بقریب ان سب کے نام میں یہ کتاب آگاہ ہوں۔ سو جس کا جی چاہے مان فائدہ ہے اور جو نہیں مانے گا اُس ک نقصان ہوگا اور اس کا علم اسے ق ملے گا اور حق کا انکار کرنے والا کہے گا اللہ کا قول سچا ہے اور وہ سب س وآخر دعوانا ا ۲۰ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ

شرکت پرنٹنگ پریس لاہور O

صفحہ ۵

فہرست

— پہلا باب — ۳۱

فقہ اور قانون میں ارتداد کے احکام

— فصل اول — ۳۲

فقہ اسلامی کی رُو سے جن عقائد و اعمال کے صدور سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔

صفحہ 6

پہنچے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔" ☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

=== فصل دوم === اسلام میں دینی ارتداد کی قسمیں ۵۳

=== فصل سوم === ۶۰ اسلام اور خانہ ساز قوانین میں ارتداد اور مرتدین کے بارے میں احکام

صفحہ ۷

ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“

☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " " کے مختلف احکام کی قسمیں ۵۳ مرتدین کے بارے میں احکام ۶۰

PDF 8

لئے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“ ☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

کرو؟

ضمیمہ ۔ باب اوّل کی تیسری فصل کا ضمیمہ ۹۵

فصل چہارم ۱۰۴

جدید نظاموں اور قوانین میں سیاسی ارتداد کی اقسام اور ان کی سزائیں

ـــــــ دُوسرا باب ـــــــ ۱۱۳

اسلام میں ارتداد کی تاریخ اور نظام ہائے

حکومت اور معاشرے پر اسکے اثرات

فصل ـــــــ

صفحہ ۹

فصل اوّل ۱۱۴

صفحہ ۱۰

ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی ۔‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

══ فصل دوم ══ ۱۳۵

اسلام میں پہلے اور بعد کے

دینی ارتداد کے پس پردہ یہود کا ہاتھ تھا

قدیم اور نئے فرقوں کے پسِ پشت یہود کا ہاتھ تھا {

خارج ہیں یا جو اسلام کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں ۔ {

══ فصل سوم ══ ۱۶۲

اسلام میں سب سے پہلے اور بعد کے

سیاسی فتنوں میں یہود کا حصہ

══ فصل چہارم ══

عصرِ حاضر کی ارتدادی تحریکیں

فری میسنز، کمیونزم اور عیسائ

ـــــ تیسرا باب

حاکم اور رعایا

══ فصل اوّل ══

رعایا پر حاکم کے ارتداد کا اث

صفحہ ١١

= فصل چہارم = ۱۷۵

عصرِ حاضر کی ارتدادی تحریکوں کے پسِ پُشت فری میسنز، کمیونزم اور عیسائی مشنریاں ہیں،

تیسرا باب ۲۲۳

حاکم اور رعایا کا ارتداد

= فصل اوّل = ۲۲۴

رعایا پر حاکم کے ارتداد کا مقابلہ واجب ہے

صفحہ ۱۲

ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔" ☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

کا اعلان کر دے تو کیا لازم آتا ہے؟ }

۲۳۹

══ فصل دوم ══

حاکم اور رعیت کے ارتداد کے مقابلے میں اقلیت کا طرز عمل

۲۷۰

══ فصل سوم ══

برائے نام مسلمانوں اور منافق مسلمانوں کے درمیان مؤمنین اجنبی ہیں

۱۳

صفحہ ۱۳

ہے؟ کعب نے کہا : تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی ۔“

☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

ٹھیک ہو افرادی } ۲۳۹ عمار کے رد عمل یہود کا معاملہ ۲۷۰

═══◯═══

صفحہ ۱۵

لعب ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو خبر دی۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

تمہید

موضوع زیر بحث کا آغاز کرنے سے پہلے بہتر نقاب کشائی کے لیے ہم شریعت اسلامیہ اور خانہ ساز تاکہ حقیقت بالکل آشکارا ہو کر نہ صرف اُن کے سامنے آنکھیں نہیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ حقیقت کے دشمن اور اپنے رب کو پہچان لیں جس کی شریعت کاملہ میں رجعت قہقری اور پستی کی علامت سمجھتے ہیں۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اس پر دونوں جہان فخر کر حکیم اور علیم کی صنعت ہے جس نے زمین کا فرش بچھا ساخت عطا فرمائی اور مخلوق کے لیے شریعتِ مط لیے موزوں ہے جس میں کوئی تحریف و تصریف ہوئی لیکن شریعت اسلامیہ ہر صدی کا عرصہ گ محفوظ ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود ا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُ اور اس موازنے کے لیے سب سے ب کی تحریک اسلامی کے داعی کبیر ، مصر کے جلی استاذ کبیر عبدالقادر شہیدؒ کے سوا اور کون اور جنت فردوس بریں میں جگہ عطا فرمائے انسانی قانونِ وضعی“ میں رقمطراز ہیں :

صفحہ ۱۵

تے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“ ☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

تمہید

موضوع زیر بحث کا آغاز کرنے سے پہلے بہتر یہ ہے کہ موضوع کی وضاحت اور حقیقت کی نقاب کشائی کے لیے ہم شریعتِ اسلامیہ اور خانہ ساز انسانی قوانین کا جامع مگر مختصر موازنہ پیش کریں تاکہ حقیقت بالکل آشکارا ہو کر نہ صرف اُن کے سامنے آجائے جو حقیقت سے بے بہرہ لیکن اس سے آنکھیں نہیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ حقیقت کے دشمن بھی اس سے آشنا ہو جائیں، ہدایت پائیں اور اپنے رب کو پہچان لیں جس کی شریعتِ کاملہ میں وہ سوسو عیب نکالتے نہیں تھکتے اور اسے رجعت قہقری اور پستی کی علامت سمجھتے ہیں۔

چاہیے تو یہ تھا کہ اس پر دونوں جہاں فخر کرتے اور ہر حال میں اس کے گن گاتے کیونکہ یہ اُس حکیم اور علیم کی صنعت ہے جس نے زمین کا فرش بچھایا اور آسمان کی چھت بنائی اور مخلوق کو بہترین ساخت عطا فرمائی اور مخلوق کے لیے شریعتِ کاملہ بھی نازل فرمائی جو ہر زمان و مکان کی ہر قوم کے لیے موزوں ہے جس میں کوئی تحریف و تصریف نہیں ہوئی جیسے کہ گزری ہوئی اُمتوں کی شریعت میں ہوئی لیکن شریعتِ اسلامیہ ۱۴ صدی کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہر قسم کی کمی بیشی اور نقص سے محفوظ ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے، فرمایا:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ۔

اور اس موازنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہستی منفرد قانون دان، بیسویں صدی کی تحریک اسلامی کے داعی کبیر، مصر کے معدودے چند مشاہیر میں سے ایک مصر کے شہرۂ آفاق استاذ کبیر عبد القادر عودہ شہیدؒ کے سوا اور کون ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمت برسائے اور جنت فردوس بریں میں جگہ عطا فرمائے۔ آپ اپنی کتاب ”اسلام کا فوجداری قانون بمقابلہ انسانی قانون وضعی“ میں رقمطراز ہیں:

PDF 16

ہے۔ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی ۔ “

☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

” جب میں شریعت اور خانہ ساز قوانین میں موازنہ کرتا ہوں تو ساتویں صدی عیسوی کے قانون اور اسی صدی کے اوائل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت کے مابین موازنہ مقصود نہیں ہوتا، کیونکہ اُس دَور کا قانون اس درجہ کا نہیں تھا کہ اسے شریعت اسلامیہ کے مقابل لانے کا تصوّر بھی کیا جائے بلکہ عصر حاضر کے قانون اور شریعت کے درمیان مقصود ہے۔ قانون بھی وہ جو ہر دم تغیّر پذیر رہا اور ترقی کے مراحل طے کرتا رہا حتی کہ کمال کے درجے کو پہنچ گیا جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے اور شریعت ویسی ہی ۱۴ صدی پرانی جس میں نہ تو ماضی میں کوئی تغیّر و تبدل ہُوا اور نہ مستقبل میں ہوگا۔ اس کا مزاج تغیّر و تبدل کو قبول نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اللہ کے کلمات میں کبھی تبدیلی نہیں ہُوا کرتی، یہ اس کی تخلیق ہے جس نے ہر چیز کی ساخت بہترین طریقے سے کی ہے اور جس کی تخلیق میں کسی شک و اضافے کی گنجائش نہیں عنقریب ہم یہ دیکھیں گے اور اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ان خطوط پر قائم شریعت کے یہ شایان شان نہیں کہ اس کا مقابلہ خود ساختہ جدید قوانین سے کیا جائے“ ؎

جب تک مسلمان اس شریعت کے شیدائی تھے اس کے احکام پر عمل پیرا رہے تو اس نے اپنا کردار بحسن و خوبی انجام دیا جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے احکام سے منہ موڑا تو اُن کی ترقی رُک گئی اور وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے اور ان کی تاریک دَور کی طرف ترقیِ معکوس شروع ہو گئی تو وہ کمزور اور مجبور ہو کر رہ گئے ۔ ان کے دل و دماغ میں یہ بات ڈالی گئی اور وہ اس فریب میں آ گئے کہ یورپ کی ترقی و عروج ان کے قوانین اور نظامِ حکومت کی بدولت ہے۔ پس وہ ان کی پیروی کرنے لگے ان کی تقلید کو اپنا شعار بنا لیا لیکن اس سے وہ مزید گمراہی میں مبتلا ہو گئے اس سے

؎ ۶۱۰ء میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور ۶۳۲ء/ ۱۱ھ میں آپ کی رحلت کے ساتھ شریعت مکمل ہو گئی

؎ التشريع الجنائى الاسلامى (ج ۱، ص ۴-۵)

ان کو کوئی فائدہ نہ ہُوا ۔ وہ یہ حقیقت شریعتِ اسلامیہ ہی مسلمانوں کو عدم سے لہٰذا مسلمان شریعت کی صناع ہیں، ان کی بقا میں مضمر ہے ۔ اور ان کی حکومت جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شریعت دلائل پر مبنی نہیں ہے۔ کم علمی کی دلیل ہے کے جو قائل ہیں ان کے دو گروہ ہیں۔ ایک قانون کا ۔ دوسرا فریق وہ ہے جس نے قانون لہٰذا دونوں فریق شریعت کے متعلق حق احکام سے قطعی نابلد ہیں ۔ اور جس کو کسی فیصلہ کیا خاک دے گا ؟ درحقیقت ان ہونے کا غلط عقیدہ ان کے اس غلط قیاس صدی کے اواخر تک جاری تھے، عصر حا جبکہ یہ تو قرونِ وسطیٰ میں لاگو رہی ہے، تو یہ غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ان قوانین کا نے وضع کیا ہے برابر سمجھ لیا ہے۔ تو ان کا کے برابر کرنے کے مصداق ہے۔ عقلِ سلیم برابر کیسے تسلیم کر سکتی ہے ؎ میں ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا

؎ مأخذ سابق ؎ مصدر سابق

صفحہ 17

ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد عادل ہے کہ شریعتِ اسلامیہ ہی مسلمانوں کو عدم سے وجود میں لاتی ہے اور انہیں بہترین امت بنایا ہے۔ لہٰذا مسلمان شریعت کی صناعی ہیں، ان کا وجود اس کے وجود کا مرہونِ منت ہے۔ ان کی بقا شریعت کی بقا میں مضمر ہے۔ اور ان کی حکومت شریعت کی سلطنت کے تابع ہے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شریعت دورِ حاضر میں قابلِ عمل نہیں، تو ان کی رائے علم و عمل اور منطقی دلائل پر مبنی نہیں ہے۔ کم علمی کی دلیل ہے۔ مزید برآں دورِ حاضر میں شریعتِ اسلامیہ کے ناقابلِ عمل ہونے کے جو قائل ہیں ان کے دو گروہ ہیں۔ ایک فریق تو وہ ہے جس نے نہ شریعت کا مطالعہ کیا ہے اور نہ قانون کا۔ دوسرا فریق وہ ہے جس نے قانون کا مطالعہ تو کیا ہے لیکن شریعت کی ابجد سے واقف نہیں لہٰذا دونوں فریق شریعت کے متعلق فتویٰ صادر کرنے کے اہل نہیں کیونکہ دونوں فریق شریعت کے احکام سے قطعی نابلد ہیں۔ اور جس کو کسی چیز کے بارے میں مطلق علم ہی نہ ہو تو وہ اس چیز کے متعلق فیصلہ کیا خاک کرے گا ؟ درحقیقت ان شریعت سے بے بہرہ لوگوں کا شریعت کے ناقابلِ عمل ہونے کا غلط عقیدہ ان کے اس غلط قیاس پر مبنی ہے، وہ کہتے ہیں: جب وہ قوانین جو اٹھارویں صدی کے اواخر تک جاری تھے، عصرِ حاضر میں ناقابلِ عمل ہیں تو شریعت کیسے قابلِ عمل ہو سکتی ہے جبکہ یہ تو قرونِ وسطیٰ میں لاگو رہی ہے، تو یہ تو بدرجۂ اولیٰ ناقابلِ عمل ہے۔ اور ان کے اس قیاس میں غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ان قوانین کو جو بشر کے وضع کردہ ہیں، اور شریعت کو جس کو ربِّ البشر نے وضع کیا ہے برابر سمجھ لیا ہے۔ تو ان کا یہ قیاس زمین کو آسمان کے برابر اور لوگوں کو ربِّ الناس کے برابر کرنے کے مصداق ہے۔ عقلِ سلیم اپنے آپ کو اپنے رب کے برابر اور زمین کو آسمان کے برابر کیسے تسلیم کر سکتی ہے۲؎

پس ان کی خدمت میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کا یہ عقیدہ ان کے اسلام کے عقیدے

۱؎ ماخذ سابق ۲؎ مصدر سابق

صفحہ ۱۸

تلنے؟ کعب نے کہا : تم اپنی عورتوں کو سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔

☆ نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ اَعْمٰى كَانَ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ اُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

کے مطابق نہیں ہے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، میں انہیں اللہ عزوجل کا یہ قول یاد دلاتا ہوں : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰى اَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ

(البقرہ: ۸۵)

”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دُنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں، اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔“

انہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ ہماری پس ماندگی اور انحطاط کا سبب یہ ہے کہ ہم نے شریعت کاملہ کو اپنے عہد پر مکمل اور عادلانہ طور پر منطبق نہیں کیا ہے پس جب ہماری پس ماندگی کا سبب شریعت سے غفلت اور اس کے احکام کو ترک کر دینا ہے تو ہمیں قوانین کی پابندی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اُلٹا پسماندگی اور انحطاط میں اضافہ ہی ہوگا۔ اور ہماری پس ماندگی اور زوال کا علاج یہ ہے کہ ہم اپنے انحطاط اور زوال کے اسباب کا کھوج لگائیں اور شریعت اسلامیہ کا دوبارہ نفاذ کریں۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۗ

(الرعد : ۱۱)

حضرت علامہ اقبالؒ نے اس آیت کا کیا خوب منظوم ترجمہ فرمایا ہے ؎

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

بے شک صدرِ اوّل کے مسلمان ایمان لائے اور کیا خوب ایمان لائے، پس اللہ نے انہیں زمین میں استحکام بخشا، اور جس خدا نے انہیں ان کے ضعف اور قلت کے باوجود تمکن بخشا وہ ہمیں بھی زمین میں استحکام بخشنے پر قادر ہے بشرطیکہ ہم ایمان لائیں جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ وَ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا

”اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے صالح کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اور ان کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کو امن میں بدل دے گا، بس وہ میری نہ کریں۔“

مزید برآں اسلام مسلمانوں کو جدید دور اگر قوانین اور ضوابط قرآن وسنت کی نصوص شریعت کے موافق ہوں تو ان کی اطاعت مستوجبِ سزا ہوگا۔ اگر قوانین اور ضوابط اصولوں سے ہٹ کر یا رُوحِ تشریعی کے کی شریعت کے ناموافق اور مخالف ہونے نہیں، بلکہ ہر مسلم کا فرض ہے کہ اس کی مخالفت شریعتِ اسلامیہ کے مخالف بنائے جاسکتا ہے جن میں سے چند یہ ہیں :

منع کیا ہے۔ فرمایا : اِتَّبِعُوْا مَا

صفحہ ۱۹

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ ہے: وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا

(النور: ۵۵)

”اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور عمل صالح کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اور ان کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کی (موجودہ) حالت خوف کو امن میں بدل دے گا پس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔“

مزید برآں اسلام مسلمانوں کو جدید زبان اور جدید اسلوب پر قوانین بنانے سے منع نہیں کرتا۔ اگر قوانین اور ضوابط قرآن وسنت کی نصوص کے مطابق اور شریعتِ عامہ کے اصولوں اور رُوح شریعت کے موافق ہوں تو ان کی اطاعت واجب ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والا مستوجب سزا ہو گا۔ اگر قوانین اور قواعد و ضوابط قرآن وسنت کی نصوص یا شریعتِ عامہ کے اصولوں سے ہٹ کر یا رُوح تشریعی کے متعارض ہوں تو یہ قوانین مکمل طور پر باطل ہیں۔ اللہ کی شریعت کے ناموافق اور مخالف ہونے کی وجہ سے اور کسی شخص پر اس کی اطاعت واجب نہیں، بلکہ ہر مسلم کا فرض ہے کہ اس کی مخالفت کرے۔

(التشریع الجنائی، ص ۲۲۳)

شریعتِ اسلامیہ کے مخالف خانہ ساز قوانین کا ابطال بہت سے دلائل سے ثابت کیا جا سکتا ہے جن میں سے چند یہ ہیں:

منع کیا ہے۔ فرمایا: اِتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُوْنِهِ أَوْلِيَاءَ

صفحہ ۲۰

ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں

انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ کو خبر دی۔“

☆ بینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا

قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ۔ (الاعراف: ۳) ”لوگو! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دُوسرے سر پرستوں کی پیروی نہ کرو، مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔“

کا حکم مانیں اور بغیر ما انزل اللہ کے مطابق اپنے مقدموں کے فیصلے کرانے کی اجازت دی ہے، بلکہ اس نے غیر اللہ کے حکم کا انکار کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ، يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ (النساء: ۶۰) ۔

”اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نہیں دی جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ان کے لیے پسند فرمائے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ فرماتے ہیں: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ”کسی مؤمن مرد اور کسی مؤمن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے (الاحزاب : ۳۶) ۔

کا فتویٰ لگایا ہے جیسی کہ صورت حال ہو۔ اللہ سبحانہٗ فرماتے ہیں:

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطا

نہیں ۔ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۔ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ

فیصل نہیں مانتے ۔ اللہ سبحانہ کا ار فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِي ”اے محمدؐ، تمہارے ربّ کی قسم ی باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرن پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس

بھی حزبِ اقتدار یا حکومت اس کا مخلوق کے اس حکم کی اطاعت واج (لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق

صفحہ ۲۱

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ

(المائدہ : ۴۴)

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ

( " : ۴۵)

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ

( " : ۴۷)

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں“ ” ” ” ” ” ” ظالم ہیں “ ” ” ” ” ” ” فاسق ہیں “

نہیں ۔ قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ ..... لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ ۔ اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۔ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ ۔

فیصل نہیں بناتے ۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ط

(النساء : ۶۵)

” اے محمد ، تمہارے ربّ کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں “

بھی حزبِ اقتدار یا حکومت اس کا حکم دے یا اسے مباح قرار دے دے ۔ کیونکہ مخلوق کے اس حکم کی اطاعت واجب نہیں ہے جس سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو ۔ (لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق) ۔

صفحہ ۲۲

واجب نہیں ہے مگر ان حدود میں جو اللہ اور اُس کے رسولؐ نے پسند فرمائی ہیں۔ اگر حاکم اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت سے خروج کو حلال قرار دے دے تو وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اور مسلمانوں پر اس کے خلاف بغاوت واجب ہے اور اس کے خلاف خروج کا کم ترین درجہ شریعت کے مخالف اس کے اوامر و نواہی کی نافرمانی کرنا ہے۔

وہ باہر نہیں جاسکتا۔ تنفیذی تشریعات کے باب میں خود نفاذ شریعت کا ضامن ہونے کی وجہ سے یا تنظیمی تشریعات کے باب میں جماعت کی حمایت اور شریعتِ اسلامیہ کے عام اصولوں کی بنیاد پر عوام الناس کی حاجت براری کے لیے جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو وہ حدود میں رہتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے لیکن بہر حال اولی الامر کو قطعی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو قانون ساز بنالے اللہ کے سوا۔ یہ سب سے بڑا شرک ہے کیونکہ قانون سازی کا حق صرف اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ ، پھر اس کی اجازت سے اُس کے رسولؐ کا ہے۔

مُعتبر ہے اور جو اس کے مخالف ہے وہ باطل اور حقیر ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ باطل کو قبول کرنے یا اُس کی طرف توجہ دینے کا اشارہ کرے۔ یہ قانونی قاعدہ ہے عہدِ جدید کے جدید قانونی نظریات بھی اس سے متفق ہیں۔

یہی منفرد شریعتِ اسلامیہ ہے جس کا عالمین میں کوئی مثل نہیں، کیونکہ یہ ربّ العالمین کی صنعت گری ہے۔ یہ اپنے ثبات مکمل ہونے اور لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے لیے علانیہ اور خفیہ قابلِ احترام اور مقبولیتِ عامہ جیسی خصوصیات کی حامل ہونے کی وجہ سے دوسری شرائع وضعیہ سے ممتاز ہے۔ کیونکہ یہ شریعت بھی ہے نظامِ حکومت بھی ہے اور دین بھی ہے۔ اپنے جملہ احکام میں اخلاقی پہلو مدّنظر رکھتی ہے اور لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر مسلّط

صفحہ ۲۳

نہیں کرتی یا راہ نہیں دیتی کیونکہ یہ عادل حاکم کی صفت ہے جس کی رحمت عام ہے اور تمام مخلوق کو محیط ہے اور اس کی حکومت مطلق عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اُس نے اپنے دائمی دستور میں فرمایا ہے : شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران: ١٨) ” اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور فرشتے اور سب اہلِ علم بھی راستی اور انصاف کے ساتھ اس پر گواہ ہیں کہ اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔“ نیز اللہ سُبحانہ کا ارشاد ہے ”إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ“ (النحل: ٩٠) ” اللہ عدل کا حکم دیتا ہے“ نیز فرمایا ”يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ“ (النساء: ١٣٥) ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو“ لاریب ایسی شریعت ہر خانہ ساز شریعت پر فوقیت رکھتی ہے، اگرچہ یہ بات منافقوں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

اس روشن اور منوّر شریعت کی روشنی میں ہم اپنی کتاب ”ارتداد“ کے موضوع پر بحث کریں گے اور ہم نے یہ رعایت رکھی ہے کہ ہماری بحث موضوعی (یعنی اس کے عوارض ذاتی سے علم میں بحث کی جائے) بحث ہو اور اس کا انداز علمی انداز ہو یعنی اپنے جذبات اور طفلانہ پن سے بالا ہو کر بحث کی ہے۔ ہم نے شخصیات پر کیچڑ نہیں اچھالا ہے اگرچہ اس کے وہ کئی گنا بھی مستحق تھے! اور نہ گالی گلوچ سے کام لیا ہے اگرچہ وہ لعن طعن سے بھی زیادہ کے اہل تھے، کسی مخالف مذہب یا دین کا ذکر محض تشہیر کی غرض سے نہیں کیا ہے بلکہ اس کے بارے میں شرعی حکم اور کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اس کی حقیقی ماہیت کا ذکر کیا ہے، جہاں تک علمی بحث کے آداب کی حدود نے اجازت دی ہے یا متقاضی ہیں اور قارئین کرام کے ذوقِ سلیم کا لحاظ رکھتے ہوئے جس طرح ہم نے اس حکم اور فتویٰ کی بنیاد ان مستند علمی مصادر پر رکھی ہے جن سے علمی کتب خانے اور علماء کے دولت کدے

صفحہ ۲۴

بھرے پڑے ہیں۔ اور اِن سب سے زیادہ ہمارا انحصار کتاب اللہ اور سُنّتِ رسولؐ اللہ پر رہا ہے جس نے ان دونوں کے ساتھ بات کی تو سچی بات کی جو بھی بات کی۔ اور جو ان دونوں چشموں سے سیراب ہوا تو وہ حقیقت کو پا گیا اور راہِ حق پر گامزن ہو گیا۔ اور جس نے ان دونوں سے کنارہ کشی اختیار کی تو اس نے گویا حق اور راستی سے کنارہ کشی کی اور جس نے انہیں سینے سے چمٹائے رکھا تو اس نے صراطِ مستقیم کی طرف راہ پالی۔

اے اللہ! میں اپنی یہ کتاب اپنی قوم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، تو ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ صادر فرما دے کہ تو ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اے اللہ! ہمیں اپنی نافرمانی سے بچا اور ہمارا مرنا جینا اسلام کے لیے اور اسلام پر ہو۔ ہم اِس دارِ فانی سے جائیں تو ایمان سے خالی نہ جائیں، نہ کسی فتنہ کا شکار ہوں اور نہ دین سے رُوگرداں ہوں۔

المؤلّف

صفحہ ٢٥

مُقَدّمَہ

عہد حاضر میں جاہلیت اور اسلام ، کفر و ایمان کے معرکے ، جاہلی معاشرے اور اسلامی معاشرے غیر اسلامی طرزِ حکومت اور اسلامی نظام کے موضوعات پر بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔ جیسا کہ اس عہد میں ایسے ایسے حوادث وقوع پذیر ہوتے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور جن کے صدمے سے مومنوں کے دل پارہ پارہ ہوگئے ہیں۔ اس موضوع پر کتب، مقالات اور ڈرامے لکھے گئے ہیں جن میں سے کچھ اس کی تائید میں ہیں تو دوسرے موضوع کی مخالفت میں رقم کی گئی ہیں۔ اس کی حمایت میں جماعتیں اور جمعیتیں قائم ہوئیں تو اس کی مخالفت میں بھی تنظیمیں اور انجمنیں بنیں۔ پھر مومنوں کے لیے جیلوں کے دروازے کھلے جہاں ان پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ شہید ہوگئے۔ مظلوموں پر مظالم ڈھانے کے لیے محکمے قائم ہوئے اور پھر ہر متقی اور غیر متقی پر فردِ جرم عائد کر دی گئی اور ہر پارسا شخص دیکھتا ہی رہ گیا۔

یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ دنیا کیوں مبتلائے الم ہے ۔ دنیا کو کیا ہو گیا ہے ؟ حاکم اور محکوم کس سے فریاد کریں ؟ واللہ یہ سب مکار یہودیوں کا کیا دھرا ہے۔ یہ انہی کا جگایا ہوا فتنہ ہے کہ اللہ کے دشمن ہر جگہ مسلمانوں کی گھات میں ہیں ، وہ اپنے نصب العین یعنی عظیم تر اسرائیل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں حتی الوسع مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنا اور حتی الامکان ان کی جڑ مٹا دینا ان کا اپنا نصب العین ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی شاہدِ عادل ہے کہ جہاں ایک طرف تو یہودیوں کو اسلام میں نفاق کی بدعت کے خالق ہونے کی فضیلت حاصل ہے وہاں اسلام سے مرتد ہونے میں بھی ان کو اولیت حاصل ہے اور یہی لوگ اسلام میں پیدا ہونے والے مختلف فرقوں بالخصوص باطنیہ فرقوں کے بانی مبانی

صفحہ ۲۶

تھے اور اس طرح جُرمِ ارتداد کے باعث حبش مرتدین کے سرغنہ تھے۔ اور تاریخ اسلام میں منصوبہ بندی کے تحت اجتماعی ارتداد کے خالق ہونے کا سہرا بھی یہود کے سر بندھتا ہے جس کی طرف قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے :

" وقالت طائفة من اهل الكتاب: امنوا بالذي انزل على الذين امنوا وجه النهار واكفروا اخره لعلهم يرجعون"

" اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ : مسلمانوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اُس پر صبح کو ایمان لے آؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو۔ شاید کہ وہ لوگ (جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہو گئے ہیں اپنے دین کی طرف ) لوٹ آئیں "

یعنی شاید مومنین ان کے ارتداد سے دھوکہ کھا کر ان کے ساتھ مرتد ہو جائیں۔ پھر ان کے بعد بہت سی مخلوق بھی مرتد ہو جائے گی۔

دعوتِ اسلامیہ کے آغاز سے ان کی یہی سیاست ہے اور اب تک وہ یہی سیاست چلتے آتے ہیں اور اس میں نت نئے طریقے اختیار کرتے رہے ہیں اور حتی الوسع اپنے خبیث نصب العین کے حصول میں شب و روز جدوجہد کر رہے ہیں۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ان کی چالیں، ان کے حربے ، ان کے اسلوب اور طریقے بدلتے رہے ہیں اور وسائل و اسباب بڑھتے رہے ہیں، اس کی شکلیں اور وقائع بدلتے رہے ہیں۔

اس لیے ہم نے اس اہم موضوع پر تبلیغ کی خاطر اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے قلم اٹھایا ہے لہٰذا زیر نظر کتاب "ارتداد ماضی اور حال کے آئینے میں" کو ہم نہ صرف دنیا کے گوشے گوشے میں دعوت اسلامیہ کے میدان میں سرگرم عمل کارکنوں کے ہاتھوں میں بلکہ ان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ شاید کہ یہ کتاب ان کے ذہن میں بھی بیٹھ جائے جن سے معاشرے کو شکایت ہو اور حاکمین اور محکوموں کو خواب سے بیدار کر دے اور شاید کہ یہ ان کے

صفحہ ۲۷

حقیقی مرض کی تشخیص اور پھر اس کے صحیح علاج میں مدد دے۔ ہم نے طویل شاہراہ پر روشن شمعوں سے یہ شمع جلائی ہے تاکہ نشان راہ واضح ہو جائیں ...... یعنی دعوت الی اللہ کی راہ۔

الغرض میں نے اس کام کو بہترین بنانے کے لیے بڑی کاوش کی ہے اور اللہ سے اپنے اجر کا طالب ہوں۔ اگر اس میں کوئی خامی رہ گئی ہو — حالانکہ میں نے اخلاص نیت سے یہ کوشش کی ہے — تو اللہ کے سوا کون خطاؤں اور گناہوں کا بخشنے والا ہے ؟ اس کوشش میں میرا جو کچھ بھی حصہ یا دخل ہے وہ سب عطیہ خداوندی ہے جس نے اس کا خیال میرے دماغ میں ڈالا۔ اور اگر وہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت پانے والے نہیں تھے۔ اور جو کچھ میں نے سپرد قلم کیا ہے اس میں کسی کمال کا دعویٰ نہیں کرتا۔ ہاں یہ ایک حقیر سی کوشش ضرور ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ میں نے خلوص نیت سے یہ کام کیا ہے اور امکانی حد تک اپنی تمام توانائیاں اس میں صرف کی ہیں، حتیٰ کہ راتوں کو جاگ جاگ کر یہ سطور قلمبند کرتا رہا ہوں، اور راتیں بھی وہ جن میں سے ایک رات ہزاروں مہینوں سے افضل ہے، یعنی رمضان کی راتیں لے ۔ اور خونِ دل سے یہ کتاب رقم کی ہے۔

میں خلوص دل سے قارئین کرام سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے میری کوتاہیوں اور خامیوں سے سُنّتِ مطہرہ اور کتاب اللہ پر مبنی دلائل کے ساتھ آگاہ فرمائیں۔ اور اللہ سے دُعا گو ہوں کہ جو شخص میرے عیوب سے مجھے آگاہ کرے اس پر اللہ کی رحمت ہو۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو میرے درجات کی بلندی، میرے گناہوں کی بخشش، میرے والدین اور جن کا میرے اوپر حق ہے، مومن مرد عورتوں اور مسلم مرد و زن کی مغفرت کا ذریعہ بنائے، اُس روز جس روز حساب ہو گا۔

وَآخِرُ دَعوَانَا اَنِ الحَمدُ لِلّٰهِ رَبِّ العٰلَمِين۔

مؤلف

لے ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۹۷۰ء کے رمضان المبارک کی راتیں تھیں ۔ مترجم کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ترجمے کا اکثر حصہ رمضان ۱۳۹۶ھ کی راتوں میں مکمل ہوا۔

PDF 28

تیرے نام سے

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں ” يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِي إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ ، وَكَيْفَ تَكْفُرُ رَسُولُهُ ، وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَ ” اے لوگو جو ایمان لائے کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے کفر کی طرف جانے کا اب کیا ج ہیں اور تمہارے درمیان اس کا وہ ضرور راہِ راست پائے گا“

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ح وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا ، كَذَلِكَ ” اے لوگو جو ایمان لائے ہ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں

صفحہ ۲۹

افتتاحیہ

تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا :

”يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ كَافِرِينَ ، وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ؟ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ع“

(آل عمران : ۱۰۰-۱۰۱)

”اے لوگو جو ایمان لاتے ہو! اگر تم نے ان اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر دیں گے تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے ؟ جبکہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے ۔ جو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور راہِ راست پائے گا “

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ، وَكُنْتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا ، كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ۔

(آل عمران : ۱۰۲-۱۰۳)

”اے لوگو جو ایمان لاتے ہو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط

صفحہ ۳۰

پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اسی احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیئے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے، تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے :

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۔ (آل عمران : ١٠٤-١٠٧)

”تم میں سے کچھ لوگ تو ضرور ہی ایسے ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور بُرائیوں سے روکتے رہیں، جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزا پائیں گے جبکہ کچھ لوگ سُرخ رُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا مُنہ کالا ہو گا جن کا منہ کالا ہو گا ان سے کہا جائے گا کہ نعمتِ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اس کفرانِ نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہونگے تو ان کو اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے۔“

————— ٭ —————

صفحہ ۳۱

باب اوّل

فقہ اور قانون میں ارتداد کے احکام

ضائع ہو جاتا ہے ۔

کے بارے میں احکام ۔

اقسام اور اُن کی سزائیں ۔

صفحہ ۳۲

فصلِ اوّل

فقہ اسلامی کی رُو سے جن عقائد و اعمال کے صدور سے اسلام اور ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔

نمبر شمار موضوع

۱- تمہید

زیر نظر فصل میں جو اہم مباحث کہیے کہ پوری کتاب اسی فصل کی ایمان پر کیسے عقیدہ رکھیں، نیز یہ کہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے سے نکل کر گمراہی کے راستہ پر گامزن مارتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اس ہم بے خبری یا ناسمجھی (لاعلمی) اور پڑ جاتے ہمارے اعمال اور اجتہاد کرنا جائز ہوجاتے، اور ہم صرف رہ جاتے۔ العیاذ باللہ

اگر ہم دینی امور میں کچھ عرفِ عام میں ارتداد کہا جاتا ہے

ارتداد کسے کہتے ہیں؟ ا کیا احکام ہیں؟ ان سب مسائل کی دوسری فصل میں دیں گے

۱۔ اس فصل کا آخر میں دیا گیا

صفحہ ۳۳

۱ - تمہید

زیر نظر فصل میں جو اہم مضمون بیان ہوا ہے وہ تقریباً تمام کتاب کا احاطہ کیے ہوئے ہے یا یوں کہیے کہ پوری کتاب اسی فصل کی بازگشت ہے۔ اس فصل میں یہ ذکر ہے کہ ہم ارکانِ اسلام اور ارکانِ ایمان پر کیسے عقیدہ رکھیں، نیز یہ کہ ان باتوں سے احتراز کریں جن پر عقیدہ رکھنے اور عمل کرنے سے ہم دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں اور کفر کی دلدل میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ ہدایت کی جنت سے نکل کر گمراہی کے راستہ پر گامزن ہو جاتے ہیں، حق کے نور کی بجائے باطل کی تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اس قدر دین کا علم اور سمجھ بوجھ حاصل کریں کہ جس سے ہمارا ایمان محفوظ رہے۔ ہم بے خبری یا ناسمجھی (لاعلمی) اور مذاق مذاق میں ایسی باتیں نہ کہہ گزریں جن سے ہمارا ایمان خطرے میں پڑ جائے۔ ہمارے اعمال اور اجر و ثواب ضائع ہو جائیں، ہمارا خون اور مال حلال ہو جائے (یعنی قتل کرنا جائز ہو جائے) اور ہم صرف کفِ افسوس ملتے رہ جائیں اور آخرت کا عذاب ہمارا مقدر بن کے رہ جائے۔ ۱؎ العیاذ باللہ

اگر ہم دینی اُمور میں کچھ بھی درک رکھتے ہوں تو ہم کفر کی دلدل میں پھنسنے سے بچ جائیں گے جسے عرفِ عام میں ارتداد کہا جاتا ہے یعنی ایمان لانے کے بعد اپنے دین سے پھر جانا یا مرتد ہو جانا۔

ارتداد کسے کہتے ہیں؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس کی کتنی اقسام ہیں؟ اور اس کے بارے میں کیا احکام ہیں؟ ان سب مسائل اور ان سے متعلق دوسرے اُمور کا جواب ہم انشاء اللہ العزیز اسی باب کی دُوسری فصول میں دیں گے۔

۱؎ اس فصل کے آخر میں دیا گیا ضمیمہ ملاحظہ ہو۔

صفحہ ۳۴

۲ - ارتداد کی تعریف بلحاظ لغت و شرع

(الف) لغت کے لحاظ سے: رِدَّہ یعنی واپس پھیر دینا، کسی کی کوئی چیز پھیر دینا، قبول نہ کرنا، خطاکار ٹھہرانا، اپنے گھر کی طرف لوٹنا۔ اصل کی طرف لوٹنا۔ اور ارتداد یعنی لوٹنا اور اسی سے مرتد یعنی لوٹنے والا مُراد وہ شخص ہے جو اپنے دین سے پھر گیا یا اسلام کے بعد کفر اختیار کیا۔

(ب) شرعاً ارتداد کی تعریف یہ ہے کہ کسی عاقل، بالغ، مسلم مرد یا عورت سے ایسے قول، فعل، شک ۱؎ یا اعتقاد کا برضا و رغبت صادر ہونا جو اسے دین سے خارج کر دے اور اس کا جان و مال اس پر حلال کر دے (یعنی اس کا قتل جائز ہو جائے)۔ اگرچہ اس سے یہ قول، فعل، شک یا اعتقاد بطور مزاح، عداوت، دیدہ و دانستہ یا نادانستہ صادر ہو۔

۱؎ شک پر قائم رہنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام اور ایمان و عصیان کے درمیان متردد ہو۔ جو وساوس اور شیطانی خیالات دل و دماغ میں مہمان کی طرح خیمہ زن ہو جاتے ہیں، پھر ذہن سے نکل جاتے ہیں اور مستقل بسیرا نہیں کرتے یا ذہن پر چھا نہیں جاتے تو یہ شیطانی فعل ہے، اور اس کے تدارک کو استغفار پڑھنا اور اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے تاکہ وہ اس سے ہٹایا جائے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے اور اللہ کا فرمان ہے:

وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ اگر کبھی شیطان تمہیں بہکائے، اکسائے تو اللہ کی پناہ
بِاللّٰهِ اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (حم السجدہ: ۳۶) مانگو، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰئِفٌ مِّنَ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا
الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال اگر انہیں
(الاعراف ۲۰۰-۲۰۱) چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں۔

یہاں ان وساوس سے وہ شک مقصود نہیں ہے جن سے انسان کافر ہو جاتا ہے بلکہ مراد اس شک سے ہے جس پر انسان پکا اور پختہ ہو جائے۔

۲؎ بشری قوانین میں محض اعتقاد یا شک کو کوئی گناہ یا جرم نہیں سمجھا جاتا اور ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں کیا جاتا۔

صفحہ ۳۵

۳- ارتداد کے اسباب

ارتداد کی مذکورہ بالا تعریف سے ارتداد کے اسباب یہ متعین ہوتے کہ:

اور ان تمام کفریہ اعتقادات، شکوک و شبہات اور اقوال و افعال کا ارتکاب ایسے مہلک جرائم میں سے ایک جرم ہے جو انسان کو اس کے دین و ملت سے خارج کرنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اسے کافروں کے زمرے میں شامل کرنے کا سبب بن جاتا ہے، اور انہی کو اصطلاح میں نواقض الاسلام والایمان کہا جاتا ہے، جو ہیں تو بہت سے لیکن یہاں ہم ان میں سے چند بطور مثال ذکر کرتے ہیں۔ انہی پر انحصار نہ کر لیا جائے۔

۴- اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسے عقائد و اعمال باطلہ کا صدور جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ فطرت ہی زندگی اور موت دیتی ہے یا اللہ کے بارے میں شک کرے تو قانون کی نظر میں وہ مجرم نہیں، اگرچہ وہ اپنے اس عقیدے یا شک کا اظہار زبانی، تحریری، شبیہ، یا اظہار کے دیگر کسی ذریعہ سے کرے، بلکہ قانون الٹا اس کی حمایت کرتا ہے۔

١؎ ارکان اسلام یہ ہیں (۱) اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اس کے رسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا، (۳) زکوٰۃ دینا (۴) روزہ رکھنا (۵) بشرط استطاعت حج بیت اللہ کرنا۔۔۔۔ ارکان ایمان یہ ہیں: (۱) اللہ پر ایمان، (۲) ملائکہ پر ایمان (۳) کتب سماوی پر ایمان (۴) انبیاء پر ایمان (۵) آخرت پر ایمان، اور (۶) تقدیر پر ایمان۔

صفحہ ۳۶

کی سزا ہے؟ جبکہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

اُسے دیتا ہے جس کے دانت داڑھیں نہیں، یہ ایک عام مروجہ مثال ہے جس سے مراد ہے کہ اللہ غیر مستحق کو عطا کرتا ہے یا کام کو غلط طریقے سے کرتا ہے نقل کفر کفر نہ باشد۔

کے جنت سے اخراج کا یہی سبب تھا کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے اس بنا پر انکار کیا تھا کہ وہ آدم سے افضل ہے پھر افضل کم تر کو سجدہ کیوں کرے۔

کہنا جو اس کی شایانِ شان نہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ عاجز ہے اس کی ذات میں نقص ہے۔

صفحہ ۳۷

جبریل اعرابی کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا یا فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ کی شکل میں ظہور کیا، یا ائمہ کرام اور اولیاء عظام میں سے کسی میں حلول کیا ، جیسا کہ روافض ، فرقہ باطنیہ اسماعیلیہ اور علویوں کا عقیدہ ہے۔

اللہ کے وجود کا انکار کرنا یا اس کے وجود میں شک کرنا۔

یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کے بیوی بچے، دوست احباب، ہم جلیس و ہم نشین ہیں یا اس کا کوئی شریک ہے۔

غیر اللہ کو قانون سازی یا قانون میں ترمیم و تغیر و تبدل کرنے کا مجاز تسلیم کرنا۔

۵۔ ملائکہ، جنّ اور شیاطین کے متعلق ان عقائد و اعمال باطلہ کا بیان جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

کہانیاں سمجھنا۔

انبیاء اور رُسُل پر لاتا رہا ہے (یعنی سلسلہ نبوت منقطع نہیں ہوا ہے)۔

فاطمہؓ پر چند ماہ جاری رہا۔ (اثنا عشریہ کی طرح)

صفحہ ۳۸

وجود کو تسلیم نہیں کروں گا۔

کی غرض سے یا حقارت سے پھینک دینا۔

۶۔ قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتب سے متعلق ان عقائد و اعمال کا بیان جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

لیے کھیلنا اور اس کی شان گھٹانا۔

کی غرض سے رکھ دینا۔

لوگوں نے آپ کی مدد کی۔

ماخوذ ہے۔

صفحہ ۳۹

ہے اور موجودہ قرآن مُحَرَّف ہے جسے امام منتظر آکر جلا ڈالے گا۔

نازل ہوا جسے مُصحفِ فاطمہ کہا جاتا ہے۔

سکتے ہیں۔

کسی حصّے پر عمل کو ساقط کر دیا ہے۔

کرنے، عصائے موسیٰ اور جادو، واقعہ معراج، اصحابِ فیل اور ابابیلوں، اصحابِ کہف کے قصے اور ابراہیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے اور اسی طرح کے دوسرے قصص کی صحت میں شک کرنا۔

ہیں اور اس کا ظاہر باطن سے مختلف ہے، ظاہر عوام الناس جانتے ہیں، جیسا کہ فرقہ باطنیہ کا عقیدہ ہے۔

۷۔ انبیاء علیہم السلام سے متعلق ان عقائد و اعمالِ باطلہ کا بیان جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

شان نہیں۔

صفحہ ۴۰

بھی افضل ہے۔

رہے۔

ان سے بھی زیادہ۔

عزیز ہو۔

صفحہ ۴۱

طرح آپ کی براءت میں کلام کرنا، جیسا کہ شیعہ حضرات کی آج تک یہی روش چلی آرہی ہے۔

عیب منسوب کرنا۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)

۸- آخرت کے متعلق اُن عقائد و اعمالِ باطلہ کا بیان جن کے صدور سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

دوسرے غیبی امور جن کا قرآن میں صراحتاً ذکر ہے، کا منکر ہونا۔

اگر نہیں ہوگا تو بھی اپنے وارے نیارے ہیں۔

یہ عقیدہ رکھنا کہ جنت اِس دُنیا میں سعادت اور جہنم اِس دُنیا میں شقاوت کا نام ہے۔

سوا کچھ نہ ہوگا۔

صفحہ ۴۲

۹۔ قضا و قدر کے متعلق اُن عقائد و اعمال باطلہ کا بیان جن کے

صدور سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

نہیں ہوگی۔

لکھا ٹال دیں گے۔

سرِتسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔

۱۰۔ کلمہ شہادت کے متعلق اُن عقائد و اعمال باطلہ کا صدور جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

کے رسول ہیں۔

صفحہ ۴۳

١١۔ نماز کے متعلق اُن عقائد و اعمال باطلہ کا بیان جن کے صُدور سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

ایسا ہی شرک ہے جیسا مشرکوں کا بُتوں کی طرف منہ کرنا۔

پر مُصر رہنا۔

صفحہ ۴۴

۱۲۔ زکوٰۃ کے متعلق ایسے عقائد و اعمال کا بیان جن کے صُدور سے ایمان قائم نہیں رہتا

۱۳۔ صیامِ رمضان کے متعلق اُن عقائد و اعمال کا بیان جن کے صُدور سے ایمان باطل ہو جاتا ہے

۱۴۔ حج کے متعلق ایسے عقائد و اعما

کی آرزو کرنا۔

قرار دینا۔

بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔ اِ

۱۵۔ رُوحِ شریعت اور اس ک

کے صُدور سے ایما

صفحہ ۴۵

۱۴۔ حج کے متعلق ایسے عقائد و اعمال کا صدور جن سے ایمان باطل ہو جاتا ہے

کی آرزو کرنا۔

قرار دینا۔

بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔

۱۵۔ رُوحِ شریعت اور اس کے متعلق دوسرے امور کے بارے میں جن عقائد و اعمال

کے صدور سے ایمان قائم نہیں رہتا

صفحہ ۴۶

نیز حلال و حرام اور اطاعت و معصیت اس کے لیے برابر ہیں۔

اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اس پر توکّل کرے۔

صفحہ ۴۷

کے خلاف فتویٰ دینا۔ متعہ وغیرہ سے نکاح کو جائز قرار دینا۔ کافر قرار دینا۔ نہیں کرنا یا اسے مسلمانوں کے لیے حرام قرار دینا۔ مسلمانوں پر اسے حرام کر دینا۔ نماز سے مسلمان عورتوں پر حرام کرنا۔ اور اس سے انہیں روکنا، یا بے پردگی کو جائز بتانا۔ میں کوئی سند نہیں بلکہ یہ عباسیوں کی بدعت ہے۔ تھا یا عورت کی میراث مرد کے برابر تصور کرنا۔ کے تعلقات زنا شوئی کو جائز جاننا۔ وری کو جائز قرار دینا۔

پر ہے جہاں اس سے شرع کی پابندی ساقط ہو گئی ہے اس کے لیے برابر ہیں۔ غیب اور جو کچھ رحم مادر میں ہے جانتا ہے۔ ماننا جسے مصائب میں پکارے اور اپنی قضا حاجات پر توکل کرے۔

بات کو حلال بتانا۔ کافر ہونا۔ میں حلول کر گئی ہے۔

خیال لوگوں کا خیال ہے۔

اور ان سب باتوں کی تشہیر کو جائز تصور کرنا۔

غرض سے اُن کی اعانت کرنا یا شریک ہونا۔

صفحہ ۴۸

اشتراکی اور فری میسنری عورتوں سے نکاح کو مباح جاننا۔

کر کے شریعت یہود نافذ کرے گا۔

بھائی ہوتے۔

صفحہ ۴۹

حاکم کا بغیر ما انزل اللہ حکم کرنا جائز ہے۔

کفار کو دوست بنانا اور سمجھنا۔

کوشش کرنے والوں کی اعانت کرنا ۔

کی ضرورت نہیں۔

صفحہ ۵۰

یہ نیت کرنا کہ عنقریب وہ کفر اختیار کرے گا یا کفر کی طرف لوٹ جائے گا۔

یہ وہ چند اقوال و افعال، اعتقادات اور شکوک و شبہات ہیں جو ایک مسلمان کو کافر بنا دیتے ہیں اور جن کا فاعل مرتد ہوجاتا ہے اور اس کا جان اور مال ان شرائط مقررہ کے ساتھ جن کا ذکر ہم اپنے مقام پر کریں گے، مسلمانوں کے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ مندرجہ بالا مثالیں مشتے نمونہ از خروارے ہیں، انہی کو حرف آخر نہ سمجھ لیا جائے بلکہ اس پر آپ مزید قیاس کر سکتے ہیں۔

حضرت عبدالقادر عودہ شہیدؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”التشریع الجنائی الاسلامی“ میں ارتداد کے موضوع کے ضمن میں ان افعال و اقوال کا ذکر کیا ہے جو کفر تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپ رقمطراز ہیں:

”ان مثالوں میں سے جو عصر حاضر میں شریعت اسلامیہ سے امتناع کی بدولت کفر پر دلالت کرتی ہیں، ایک یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق حکم کرنے سے روکنا اور اس کے بجائے انسانوں کے خود ساختہ قوانین کا نفاذ ہے۔ اسلام میں یہ نص قطعی موجود ہے کہ قوانین الٰہیہ کے مطابق حکم چلانا واجب ہے اور اس کے خلاف قوانین نافذ کرنا حرام ہے اور فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ شریعت اسلامیہ کے خلاف جو بھی قوانین ہیں وہ باطل ہیں ان کی اطاعت واجب نہیں اور ان پر عمل مسلمانوں کے لیے حرام ہے۔ خواہ کوئی حکومت ان کا حکم کرے یا ان کی اطاعت کو مباح قرار دے۔

اور اس بات پر بھی فقہاء کا اتفاق ہے کہ جو شخص یا حکمران مسلمانوں پر غیر منزل من اللہ قوانین مسلّط کرے اور احکام الٰہی یا کسی حکم الٰہی پر عمل کو چھوڑ دے بغیر کسی تاویل صحیح کے اور اپنے اس فعل کو درست قرار دے تو اس کا عمل کفر، ظلم یا فسق میں سے کسی ایک حکم کے مصداق ہے، جیسی بھی صورت ہو۔

اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو رد کیا، خواہ اس کا رد شک کی وجہ سے ہو یا ان کو قبول نہ کرتا ہو، یا سرے سے ان کو تسلیم ہی نہ کرتا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

صفحہ ۵۱

اور جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ شریعت عصر جدید کا ساتھ نہیں دے سکتی ، یا یہ مسلمانوں کی پستی و انحطاط کا سبب ہے، یا یہ کہ جب تک مسلمان شریعت سے نجات حاصل کر کے انسانوں کے خود ساختہ قوانین کو نہیں اپناتے تو وہ ترقی کے مدارج طے نہیں کریں گے، تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“

(التشریع الجنائی الاسلامی ج ۲ ص ۷۰۰ - ۷۰۱)

ہم اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہیں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ایسے عقائد، شرک، قول و فعل سے بچائے جو ارتداد کا باعث ہو اور اپنے بھائیوں کے لیے یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ بھی ان اقوال وافعال، اعتقادات، شکوک و شبہات سے احتراز کریں جو کفر کا باعث ہیں اور جن کی مثالیں ہم اوپر دے چکے ہیں۔ نیز ہمارا ایمان سلامت رکھے جو ہمارے دین کی اساس ہے اور اسی میں ہم سب کی سعادت ہے اور دنیا و آخرت میں ہماری فلاح کا سبب ہے۔

١٦- ضمیمہ۔ اعتقاد کے لحاظ سے ایک ہی گناہ کے مختلف احکام

چور اگر چوری کو گناہ سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ فاسق ہے اور اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔ اگر جرم کی شرائط اور ارکان پورے ہوں ۔ اور اگر وہ چوری کو جائز سمجھ کر بغیر کسی شبہ یا تاویل کے مسلمانوں کے اموال کی چوری کو حلال سمجھے تو وہ کافر مرتد ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے، اور اگر تائب ہو جائے تو صرف حد سرقہ جاری کی جائے۔

اسی طرح اگر شرابی شراب کو حرام اور شراب خوری کو گناہ سمجھے تو وہ فاسق ہے اور اس کی سزا کوڑے مارنا ہے اگر وہ شراب کو حلال سمجھے تو وہ کافر مرتد ہے اگرچہ خود نہ پیتا ہو۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے۔

اور ایسی ہی مثال زانی، قاتل، رمضان کے روزے کھانے والے ، حائضہ بیوی سے مباشرت کرنے والے یا نماز کے تارک کی ہے اگر وہ اپنے ان افعال کو گناہ سمجھتے ہوں تو فاسق مسلمان ہیں ان پر ہر گناہ کے مطابق حدود جاری ہونگی، قصاص اور تعزیر کا سزاوار ہوگا۔ اگر رجوع نہ کریں تو ان کا قتل

صفحہ ۵۲

جائز ہے۔ خوارج گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں اور اس کی توبہ قبول نہیں کرتے اور اس کی جان و مال کو حلال سمجھتے ہیں اور یہ کہ مرتکب گناہ کبیرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا ۔ ان کا یہ عقیدہ اس لیے باطل ہے کہ فقہاء نے خود ان پر کفر اور ملت سے خروج کا فتویٰ دیا ہے۔

صفحہ ۵۳

دُوسری فصل

تاریخِ اسلام میں دینی اِرتداد کی اقسام

صفحہ ۵۴

(۱۷)

۱۷۔ تمہید

اسلام کے اولین دور (جبکہ ابھی قرآن نازل ہو ہی رہا تھا) سے لے کر پھر خلفاء راشدہ ، امویہ ، عباسیہ ، فاطمیین اور عثمانی، حتی کہ عصر حاضر تک مسلمان جس کثرت سے ارتداد کے قعر مذلت میں گرتے رہے ہیں اگر اس کی تاریخ لکھنے بیٹھیں تو پوری ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ بلکہ صرف موجودہ صدی میں ارتداد کی جتنی متنوع اقسام ہیں، نیز مؤثر اسباب اور ہولناک نتائج، طبیعت و ہیئت کے لحاظ سے علانیہ اور خفیہ، اس کی جس قدر شکلیں اور صورتیں ظہور پذیر ہوئی ہیں محض ان کے بیان کے لیے ایک تصنیف درکار ہے، ان کی تفصیل کا یہ مقام نہیں۔ زیر نظر کتاب میں ان کی صرف نشاندہی پر اکتفا کیا گیا ہے تا کہ موضوع زیر بحث اور اس کے حقائق کو قاری کے ذہن رسا میں بخوبی جاگزیں کرنے میں ممد و معاون ہو۔

جہاں تک مرتد کی سزا کا تعلق ہے وہ ان سب اقسام کی صورت میں ایک ہی ہے۔ کوئی شخص اس میں کمی بیشی، اس کے نفاذ میں تاخیر یا کلیتہً مجرم کو معاف کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

۱۸۔ انفرادی اور اجتماعی ارتداد

دوسروں کو ترغیب نہ دے۔

ترغیب دیتے ہوں اور اپنے اس فعل قبیح کی کسی ایک سبب یا اسباب سے مدافعت کرتے ہوں، یا مختلف طریقوں سے لوگوں کو اس پر برانگیختہ کرتے ہوں مثلاً کسی پارٹی کا صدر اگر دین کو سیاست یا حکومت سے جدا قرار دے اور پارٹی کے دیگر افراد اس کے ہمنوا ہوں تو وہ سب کے سب اسلام سے۔

صفحہ ۵۵

خارج اور مرتد ہو گئے ، یہی اجتماعی ارتداد ہے۔

اسی طرح اگر صدر مملکت شریعت اسلامیہ پر عمل معطل کر کے اس کی جگہ خود ساختہ قوانین نافذ کرنے کا عزم ظاہر کرے اور اُمت کا ایک فریق اس کے اس عزم کو سراہے اور دوسرا اس کی مذمت کرے پس جو طبقہ ملک کو لادینی بنانے کا عزم کرے شرح صدر کے ساتھ تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔ یہ بھی اجتماعی ارتداد ہے۔

بعینہ اگر کوئی گمراہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اور لوگوں کا ایک گروہ اس کی تصدیق کرے، نیز اس کی نصرت اور حمایت کرے تو وہ سب مُرتد ہیں۔ یہ بھی اجتماعی ارتداد ہے۔

اگر لوگوں کی ایک جماعت کسی لادین سیاسی جماعت، کمیونزم، سوشلزم اور قومیت پرستی کی دعویدار، یا فری میسنری جیسی مذہب سے منحرف جماعتوں میں شامل ہو جائے (رکن بن جائے) یا محض اپنے آپ کو اُن سے منسوب کرے یا ان کی ہمدرد ہو تو وہ دین اسلام سے مُرتد ہو گئی، خواہ اس کا ارادہ ارتداد کا نہ ہو۔ یہ بھی اجتماعی ارتداد کی ایک قسم ہے۔

۱۹۔ نظری اور عملی ارتداد

ا۔ نظری ارتداد :- اس سے مُراد وہ شک یا اعتقاد ہے جس کا حامل دین سے خارج ہو جاتا ہے۔ جیسے کوئی مسلمان خنزیر کا گوشت کھانے، زناکاری، شراب خوری یا چوری کو حلال سمجھے یا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، حشر نشر یا شریعتِ اسلامیہ کے بیسویں صدی میں اور اس کے بعد قابلِ عمل ہونے میں شک کرے۔ یہ ارتداد انفرادی بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی بھی۔

(ب) عملی ارتداد :- اس سے مُراد ہر وہ قول یا فعل ہے جس کا مُرتکب دینِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جس کا اظہار، زبانی، تحریری، تصویر کے ذریعے، اشارۃً ، صراحتاً یا صورت کے ذریعے یا زبانِ حال سے کیا جائے یا موقع محل جب کلام کا متقاضی ہو تو خاموش رہنا اور موقع محل اُٹھنے کا تقاضا کرے تو بیٹھے رہنا۔ جیسے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر دشنام طرازی کرے اور غیر اللہ پر دشنام طرازی کو ناپسند کرے، یا ایسا تحریر کے ذریعے کرے یا اللہ کو گالیاں سُن کر ہنس دے یا خاموشی اختیار کرے اور گالیاں کرے اور گالیاں کرے اور گالیاں

صفحہ ۵۶

دینے والے کو قدرت کے باوجود نہ روکے یا اس محفل میں بیٹھا رہے جس میں اللہ تعالیٰ پر زبان طعن دراز کی جا رہی ہو اور وہاں سے نہ نکلے ، یا حرکات و سکنات کے ذریعے یا اشارۃً ، تحریر کے ذریعے ، مزاحاً یا قصداً میں اللہ کا مذاق اُڑائے یا نکتہ چینی کرے ، ایسی نکتہ چینی جو اللہ تعالیٰ کی شان کے شایاں نہ ہو۔ نیز اللہ ، اس کے رسول اور اس کے دین پر عیب جوئی کو برضا و رغبت سُنے ، یا ہنسی مذاق اور لہو و لعب کی محفلوں میں شریک رہے۔

اور اسی طرح اگر حاکم یا سردار کو سجدہ کرے یا شریعت الٰہی کے مطابق فیصلے نہ کرائے بلکہ اس کے خلاف فیصلے کرائے ، یا اللہ و رسول کے دشمن ، اسلام کو مٹانے والے اور اس کے لیے حالات سازگار کرنے میں مدد دینے والے کے انتخاب کے لیے راہ ہموار کرے۔ ایسا ارتداد انفرادی بھی ہوسکتا ہے اور اجتماعی بھی۔

یہاں نظری اور عملی ارتداد میں اصل فرق بیان کر دینا مناسب ہے جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ نظری ارتداد کا تعلق دل سے ہے اور عملی ارتداد کا تعلق اکثر و بیشتر اعضاء و جوارح سے ہے۔ اور دونوں کے درمیان امتیاز کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا ارتداد نظری ہو، پھر وہ اس سے تائب ہو جائے اور کسی کو اس کے ارتداد کی خبر نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے نکاح کی از سر نو تجدید کرے جو اس کے نظری ارتداد کی وجہ سے فسخ ہو گیا تھا۔ نیز اسے وہ حج بھی دوبارہ کرنا چاہیے جو اُس نے دوران ارتداد کیا۔ کیونکہ اس دوران کی گئی اس کی سب عبادات اس کی لاعلمی میں باطل ہوگئیں۔ اگر اس کا ارتداد مشتہر نہ ہوا ہو اور کسی کو اس کا علم نہ ہو تو پھر توبہ کو بھی مشتہر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس یہ کافی ہے کہ وہ اپنے رب سے معافی کا طلب گار ہو۔ اپنی بیوی سے تجدید نکاح میں بھی دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کافی ہے۔

اسے دوران ارتداد اپنے دیگر تصرفات بھی حاکم کے سامنے لانا چاہیں۔ مثلاً اس نے اس دوران اگر اپنی بیٹی کا نکاح کیا ہو تو وہ بھی باطل ہے، کیونکہ وہ اپنی بیٹی کا ولی نہیں رہا تھا لہٰذا اس کا نکاح بھی فسخ کر کے دوبارہ اس کی تجدید کرے۔

صفحہ ۵۷

۲۰۔ ارتداد جلی اور خفی

کی نفی کرتا ہو اور نہ اس حقیقت امری سے لاعلمی کا اظہار کرے بلکہ وہ اس کا برملا اعتراف کرے جیسے کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر عیسائی یا یہودی بن جائے، یا کمیونزم، فری میسنری، بہائیت یا قادیانیت اختیار کرے، یا روافض اور باطنیہ کا مذہب اپنالے۔

مرتد ہو، العیاذ باللہ۔ وہ اپنے آپ کو صالح اور ناجی تصوّر کرتا ہو اور ہو خاسرین و ہالکین میں۔ ایسے ارتداد میں ارادے اور نیّت کو دخل نہیں ہوتا اور نہ قصد جرم ہوتا ہے۔ ایسا ارتداد شرکِ خفی کے مشابہ ہے جس میں لاشعوری طور پر مسلمانوں کی اکثریت مبتلا ہے اور وہ جانتے نہیں کہ وہ مشرک ہیں۔ بہر حال لاعلمی انہیں دُنیا میں باز پُرس اور آخرت کے عذاب سے مبرّا نہیں کر سکتی۔ اور شریعت کے احکام سے لاعلمی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حدودِ شریعت سے خارج نہیں ہوا اور اس کے دائرہ سے نہیں نکلا۔ جیسے کوئی شخص اللہ و رسولؐ کا مذاق اڑائے اور پھر سمجھے کہ وہ مسلمان ہے، حالانکہ وہ مذہب و ملت سے خارج ہے۔ اسی طرح غصّے میں اللہ کو گالی دینے والا مرتد ہو جاتا ہے خواہ اس کا ارادہ ارتداد کا نہ ہو۔ ایسے ہی قوانینِ الٰہیہ کے بجائے خود ساختہ قوانین نافذ کرنے والوں کی اطاعت پر رضا مند ہونے یا اپنی نسبت ایسے گروہ سے کرنے یا عام انتخاب میں ایسے لوگوں کو منتخب کرنے، یا اسلام میں تعدّدِ ازواج ، طلاق، میراث اور مرد و عورت کے حصّوں کی حکمت پر اعتراض کرنے، یا ترکِ نماز پر اصرار کرنے، یا باطنیہ اور اسلام سے منحرف فرقوں کے حق پر ہونے یا سُود اور بے پردگی کو جائز سمجھنے، اللہ و رسولؐ کے دشمنوں سے محبّت سے پیش آنے یا مسلمانوں کے مقابلے میں کفّار کو دوست بنانے سے انسان مرتد اور دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اگرچہ وہ ان افعال کے نتائج کی حقیقت سے بے بہرہ ہونے کا دعویٰ کرے۔ یہ ارتدادِ خفی کی مثال ہے جس دَلدل میں انسان دانستہ پھنس جاتا ہے ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ سے سلامتی اور عفو و درگزر کے خواہاں ہیں۔

PDF 58

۲۱- علانیہ اور خفیہ ارتداد

یہ ارتداد جلی ہے جس کا مرتد نے خود اعلان کر دیا ہو۔ چونکہ یہ اس کے اپنے علم میں ہوتا ہے اس لیے جلی ہے اور لوگوں پر ظاہر ہونے کی وجہ سے علانیہ ہے۔

کے لیے ارتداد جلی ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے خفیہ ، زندیق کی طرح جو اپنا کفر لوگوں سے چھپاتا ہے اور بظاہر اسلام پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہی حال منافقین کا ہوتا ہے جن کا ارتداد سب سے زیادہ خطرناک ہے، نیز اسلام اور مسلمانوں پر اس کا بڑا برا اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے منافقوں کا ٹھکانا اللہ نے جہنم کا سب سے نچلا طبقہ بتایا ہے۔

ارتداد جلی اور ارتداد خفیہ کے مابین فرق واضح ہے کہ ارتداد خفی میں چونکہ نیت اور ارادے کو دخل نہیں ہوتا اس لیے مرتد کو خود اس کا علم نہیں ہوتا لیکن خفیہ یا پوشیدہ ارتداد میں چونکہ مرتد کی نیت میں ارتداد اور ارادہ جرم کا دخل ہوتا ہے اس لیے مرتد خود اس سے آگاہ ہوتا ہے، لیکن لوگوں سے قصداً پوشیدہ رکھتا ہے یا چھپاتا ہے۔ اس لیے یہ ارتداد بدترین قسم کا ہے جس کے لیے منافق یہودی بہت مشہور ہیں اور ان کے بعد باطنیہ فرقے مثلاً دروزیہ اور نصیریہ ، اسماعیلیہ اور جعفریہ وغیرہ جو تقیہ پر ایمان رکھتے ہیں کافی مشہور ہیں۔

۲۲- ارتداد خاص اور عام

جاتا ہے، میں سے کوئی خاص یا معین سبب ہو۔ یہ ارتداد بھی انفرادی اور اجتماعی ہو سکتا ہے۔

سب اسباب ہوں جیسے اسلام کا کلّاً یا تفصیلاً انکار کرنا ۔ یہ ارتداد بھی انفرادی اور اجتماعی ہوتا ہے

۲۳- ارتداد صغیر اور کبیر

ایک خاص قسم کے ارتداد میں مبتلا ہو جائے لیے شراب کو حلال قرار دے لے لیکن

مملکت مرتد ہو جائے اور اس سے تمام مملـ ساختہ قوانین یا کمیونزم یا سوشلزم کو ملک کا عصر حاضر میں اس کی مثال ترکی کا ملحد جمہوری نظام کے نفاذ کا اعلان ہے جسے علماء اسلام سے خارج ہوگئے لیکن انہیں اس تمام ممالک ، عرب ممالک نے عموماً اپنے سے دُور ہو گئے ۔ نتیجہ ان ممالک میں بھی کچھ کا مطالبہ ہے کہ شریعت اسلامیہ وہ مرتد ہیں اور ارتداد عظیم کا حصہ ہیں

صفحہ ۵۹

۲۳ - ارتداد صغیر اور کبیر

ایک خاص قسم کے ارتداد میں مبتلا ہو جائے مثلاً اس کے اعتقاد میں بگاڑ پیدا ہو جائے، یا محض اپنے لیے شراب کو حلال قرار دے لے لیکن اسے عام نہ کرے۔

مملکت مُرتد ہو جائے اور اس سے تمام ملک یا قوم متاثر ہو جیسے شریعت کو منسوخ کر کے اس کی جگہ خود ساختہ قوانین یا کمیونزم یا سوشلزم کو ملک میں نافذ کر دے۔

عصرِ حاضر میں اس کی مثال ترکی کا خلافتِ اسلامیہ کو منسوخ کر کے اس کی جگہ لادینی و جمہوری نظام کے نفاذ کا اعلان ہے جسے مسلمانوں کی اکثریت نے خوش آمدید کہا، اور اس طرح وہ دینِ اسلام سے خارج ہو گئے لیکن انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ پھر تو یہ ایک فیشن بن گیا اور عالمِ اسلام کے تمام ممالک، عرب ممالک نے عموماً اور شام نے خصوصاً لادینی جمہوری نظام اختیار کر لیا اور شریعتِ الٰہی سے دُور ہو گئے۔ نتیجۃً ان ممالک میں ایسے فتنوں نے جنم لیا کہ جن کی آگ بجھاتے نہیں بجھتی۔ عوام میں سے کچھ کا مطالبہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نافذ کی جائے لیکن سوادِ اعظم اس مطالبے کے خلاف ہے لہٰذا وہ مُرتد ہیں اور ارتدادِ عظیم کا حصہ ہیں۔

صفحہ ۶۰

تیسری فصل

اسلام اور انسانی قوانین میں ارتداد اور مرتدین کے بارے میں احکام

صفحہ ۶۱

مرتدین کے بارے میں احکام

کے متعلق احکام

توبہ کرنے کی شرائط

بطلان ہوتا ہے؟

واقع ہوتا ہے

اس کی اذیتوں پر صبر کرنے کی فضیلت

کے بارے میں احکام

جس میں تاخیر واجب ہے؟

قبول نہ کی جائے ؟

حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ اول کا فرمان (مراسلہ) }

PDF 62

۲۴- فقہ اور قانون میں ارتداد کے احکام

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ترجمہ : جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کا انکار کیا سوائے اس کے کہ جو کفر پر مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر قائم ہے، لیکن جس نے شرح صدر کے ساتھ کفر اختیار کیا، پس اُن پر اللہ کا غضب ہے اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خَالِدُوْنَ ترجمہ : تم میں سے جو اپنے دین سے پھر گئے پس وہ مر گئے اور وہ کافر تھے پس اُن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی لوگ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : لا يحل دم امرئ مسلم الا باحدى ثلاث : كفر بعد إيمان، وزنا بعد إحصان، وقتل نفس بغير نفس ۔ ترجمہ : تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا خون حلال نہیں ہے۔ ایمان لانے کے بعد کفر کرنا، اور شادی شدہ کا زنا کرنا، اور بغیر حق کے قتل کرنا ۔ ایک اور حدیث ہے : مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ جس نے اپنا دین بدلا پس اسے قتل کر دو ۔

نیز اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ارتداد بدترین قسم کا کفر ہے اور یہ ایسا جرم ہے جس کا مرتکب خواہ مرد ہو یا عورت ، واجب القتل ہے ۔ اور یہ بات خلفائے راشدین حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صحابہ کرام حضرات معاذ ، خالد ، ابو موسیٰ الاشعری اور ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے۔

۱؎ النحل ۱۰۶ - ۲؎ البقرہ ۲۱۷ -

ملکی اور خود ساختہ قوانین میں اسلام سزا کا مستحق ہو، حد کو چھوڑ دیئے۔ اسی متعلق کوئی شق موجود نہیں۔ بلکہ مرتد کو ان میں کافی حمایت میسر ہے لیکن اس کے با ملت میں رائج سیاسی نظام کے خلاف فوجی حکومتیں قائم ہیں ان نظاموں کے با جاتا ہے یا کوڑوں سے اتنا مارا جاتا ہے یا موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے یا ان ارتداد جیسے جرم سے عدم معافی سمجھتے جس پر کوئی معاشرہ قائم کیا جاسکے۔ نہ گناہ ۔ مروجہ نظام کے باغی کو تو اس ن لیکن اسلام سے خروج کرنے والے، اپ ہے اور اسے مبارک سلامت دی جا طرز عمل یہی ہے۔

ان قوانین میں مرتد کی سزا کے مباح ہے خواہ یہ بات باطل کی پیروی کر دے تو اس کے قتل کا بدلہ نہیں لیا ج عین مطابق ہے بلکہ اس نے اپنے اوپ شریعت اسلامیہ میں ارتداد کی

۱؎ التشریع الجنائی الاسلامی، الجزء الاو

صفحہ ۶۳

لَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيْمَانِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ه ترجمہ : جس نے کفر پر مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے

مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ اَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ کافر تھے پس ان کے اعمال دنیا و میں ہمیشہ رہیں گے۔

دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : ترجمہ : تین صورتوں کے علاوہ مسلمان شدہ کا زنا کرنا ، اور بغیر حق کے قتل نے اپنا دین بدلا پس اسے قتل کر دو۔ کفر ہے اور یہ ایسا جرم ہے جس کا اور یہ بات خلفائے راشدین تابعین اور صحابہ کرام حضرات رضوان اللہ علیہم اجمعین سے

ملکی اور خود ساختہ قوانین میں اسلام سے ارتداد کو کوئی جرم تو کجا گناہ بھی نہیں گردانا جاتا کہ جو سزا کا مستحق ہو، حد تو چھوڑیئے۔ اسی لیئے ملکی قوانین تعزیر میں ارتداد کے جرم اور اس کی سزا کے متعلق کوئی شق موجود نہیں۔ بلکہ مرتد کو ان خود ساختہ قوانین میں حریتِ فکر، آزادی رائے اور ضمیر کے ضمن میں کافی حمایت میسر ہے لیکن اس کے برعکس یہی قوانین اُس شخص کو موت کی سزا دیتے ہیں جو کسی ملت میں رائج سیاسی نظام کے خلاف بغاوت کرے۔ خصوصاً وہ ممالک جہاں کمیونسٹ اور فوجی حکومتیں قائم ہیں ان نظاموں کے باغی کی سزا موت ہے۔ پھانسی کے ذریعے یا زندہ جلا دیا جاتا ہے یا کوڑوں سے اتنا مارا جاتا ہے کہ وہ مر جائے یا گولی سے اُڑا دیا جاتا ہے یا گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے یا اسے اتنا عذاب دیا جاتا ہے کہ وہ مر جاتا ہے۔

ارتداد جیسے جرم سے عدمِ ممانعت کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اسلام کو سیاسی نظام ہی نہیں سمجھتے جس پر کوئی معاشرہ قائم کیا جاسکے۔ لہٰذا اس میں ارتداد یا بغاوت کو نہ تو کوئی جرم سمجھا جاتا ہے نہ گناہ۔ مروّجہ نظام کے باغی کو تو اس نظام کے تقدس کی حفاظت ہی کی خاطر سزا وار سمجھا جاتا ہے لیکن اسلام سے خروج کرنے والے اور مُرتد کو سزا نہیں دی جاتی بلکہ اُلٹا اس کی حمایت کی جاتی ہے اور اسے مبارک سلامت دی جاتی ہے۔ عرب اور مسلمان ممالک پر غالب اکثر قوانین کا طرزِ عمل یہی ہے۔

ان قوانین میں مُرتد کی سزا کے متعلق کسی شق کی عدم موجودگی کا بہر حال یہ مطلب نہیں کہ ارتداد مباح ہے خواہ یہ بات باطل کی پیروی کرنے والوں کو کتنی ناپسند ہو، پس جو شخص کسی مُرتد کو قتل کر دے تو اس کے قتل کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ اس لیے کہ اس کا یہ فعل مباح، شریعتِ اسلامیہ کے عین مطابق ہے بلکہ اس نے اپنے اوپر واجب ایک فرض ادا کیا ۱؎ شریعتِ اسلامیہ میں ارتداد کی سزا قتل ہے کیونکہ وہ اسلام کو ایک سیاسی نظام سمجھتی ہے

۱؎ التشریع الجنائی الاسلامی ، الجزء الاوّل ص ۵۳۶ - ۵۳۷

صفحہ ٦٤

جس پر ایک معاشرہ اور حکومت کی تشکیل کی جاسکتی ہے، اور اس سے ارتداد اس نظام کی بنیاد کو ہلا دینے کے مترادف ہے اور مرتد کی سزا سے تساہل برتنے کا نتیجہ یہ ہے کہ نظام کی بنیاد متزلزل ہوجاتی ہے۔ تمام بڑی اور ترقی یافتہ اقوام اور حکومتیں اپنے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کی حمایت و حفاظت کے لیے یہی رویہ اختیار کرتی ہیں اور انہوں نے اپنے قوانین میں ملکی نظام سے بغاوت کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی ہوئی ہے۔ انہی خود ساختہ قوانین سے اکثر عرب اور اسلامی ممالک کے قوانین ماخوذ ہیں، جن کی اندھی تقلید میں انہوں نے اسلام سے ارتداد کی تو کوئی سزا اپنے دساتیر میں نہیں رکھی۔ لیکن مروجہ نظام (جو غیر اسلامی ہیں) کے خلاف بغاوت کی سزا موت رکھی ہوئی ہے۔ اللہ نے سچ ہی فرمایا ہے: فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ "پس ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ ان کے سینوں میں جو دل ہیں وہی اندھے ہیں"

۲۵۔ مرتد عورت کا قتل

مرتد عورت کے قتل کے مسئلے میں فقہاء کے دو قول ہیں:

تک کہ مسلمان ہو جائے یا مرجائے۔ دورانِ قید اُسے روزانہ ۳۹ کوڑے مارے جائیں گے اگر کوئی اسے قتل کردے تو اس کی ضمانت نہ دی جائے، کیونکہ ارتداد کی وجہ سے اس کا خون حلال تھا۔ مرتد مرد کا قتل جائز ہے، کیونکہ وہ دشمن ہے اور اس کا شر (ارتداد) زیادہ نہ پھیلے لیکن مرتد عورت اگر ملکہ ہو یا صاحب الرائے ہو جس کی رائے کی قوم قدر کرتی ہو تو پھر قتل کی جائے۔ احناف نے جادوگر عورت کے قتل کا فتویٰ بھی دیا ہے۔ اور جو مرد اپنے ارتداد پر مصر ہو وہ بھی قتل کیا جائے، اگر توبہ کرلے اور رجوع کرلے تو پھر قتل نہیں کیا جائے گا۔

احناف کی یہ رائے ہے کہ تبدیلی دین کی جزا اللہ تعالیٰ کے ہاں قتل سے کہیں عظیم تر ہے۔

۱؎ الحج : ۴۶۔

صفحہ ۶۵

ب ۔ شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ مرتد عورت کا قتل واجب ہے۔ اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے سے استدلال کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ مروان کو جو اسلام سے پھر گئی تھی اور تائب نہیں ہوتی تھی، قتل کیا۔ اسی طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُمّ قرفہ کو جو مرتد ہو گئی تھی، قتل کیا۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ مرتد عورت اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کا قتل مؤخر کیا جائے۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ دودھ پلانے والی ماں کو جب تک اُسے کوئی ایسی عورت نہ مل جائے جو اس کے بچے کو دودھ پلانے پر راضی ہو اُس وقت تک مہلت دی جائے۔ اگر حاملہ نہ ہو تو حیض سے پاک ہونے تک مہلت دی جائے۔

فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ مرتد اگر طبعی موت یا کفر کی حالت میں قتل سے بغیر حد کے ہلاک ہو جائے تو نہ غسل دیا جائے گا نہ اس کی تجہیز و تکفین واجب ہے نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے قبرستان میں بھی دفن نہ کیا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔

۲۶۔ ارتداد کی صحت اور بطلان کی شرائط

صحتِ ارتداد کی شرائط :۔ عاقل، بالغ اور صاحبِ اختیار ہونا، بغیر جبر و اکراہ کے، اپنے نفس کو موت کے حوالے کرنا، یا اعضاء کو تلف کرنا، یا تعذیب کے لیے پیش کرنا یا تہدید کے لیے کسی عزیز کا قتل کرنا جب صحتِ ارتداد کی شرائط مکمل ہو جائیں، مرتد پر ارتداد کے احکام عائد ہو جاتے ہیں، اسے عفو و درگذر کرنا، تاخیر کرنا یا اُسے کسی دوسری سزا سے بدلنا جائز نہیں اگر مرتد اپنے کفر پر مُصر رہے۔

اگر شرائط صحت نہیں پائی جاتیں تو وہ ارتداد باطل ہے تو اس کے فاعل یا متہم پر احکام جاری نہیں ہوں گے اور اسے مرتد نہیں شمار کیا جائے گا۔

۲۷۔ بچے کا ارتداد

اگر بچہ ناسمجھ ہو تو اس کا ارتداد صحیح نہیں جیسے اس کا اسلام صحیح نہیں۔ اس پر عُلماء کا اجماع ہے۔ سمجھ دار بچے کے ارتداد میں دو قول ہیں :۔

صفحہ ٦٦

میں (جب وہ آٹھ یا دس برس کے تھے) اسلام لانے اور حضور کے اس قول سے استدلال کیا ہے کہ اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم دو جب وہ سات برس کے ہو جائیں اور جب دس سال کے ہو جائیں تو انہیں مار کر نماز پڑھاؤ (اگر نہ پڑھیں) علّموا اولادکم الصلوة وهم ابناء سبع واضربوهم عليها وهم ابناء عشر (الحديث) چونکہ سمجھ دار بچے کی عبادات صحیح ہیں لہٰذا اس کے اسلام اور ارتداد کا بھی اعتبار کیا جائے گا لیکن مرتد بچہ قتل کی بجائے قید کیا جائے گا، حتی کہ وہ بالغ ہو جائے، تو اسے تین دن تک توبہ کرنے کی ترغیب دی۔ اگر تائب نہ ہو تو قتل کیا جائے۔ اگر بچہ بلوغ سے قبل ارتداد کی حالت میں مر گیا تو کافر ہو کر مرا۔

دارالاسلام میں مرتدین کے بچے اور عورتیں مسلمان ہی ہونگی ، کیونکہ ان کا ارتداد لاحق (تبعی) ہے اصلی نہیں ہے ، لہٰذا ان کا حکم ایک مجبور و کمزور کا ہے، سوائے ان کے جو اُن میں سے لڑنے والی، مقابلہ کرنے والی اور مدافعت کرنے والی ہیں۔ اسلام کے بجائے ارتداد کے لیے ان کا ارتداد اصلی ہے، لاحق (تبعی) نہیں ہے۔

اسلام کا اعتبار ہے نہ ارتداد کا۔ اس رائے میں امام زفر نے احناف کی رائے چھوڑ کر امام شافعی کی رائے اختیار کی ہے۔ ابو یوسف کا قول اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا اسلام معتبر ہے لیکن ارتداد معتبر نہیں کیونکہ اسلام اس کے حق میں خیر محض ہے اس لیے صحیح ہے اور ارتداد اس کے حق میں شر محض ہے لہٰذا صحیح نہیں۔ اور یہ رائے صائب ہے جس کی تائید یہ حدیث کرتی ہے " رُفِع القلم عن ثلاث : عن الصبى حتى يبلغ وعن النائم حتى يستيقظ وعن المجنون حتی یفیق" (تین اشخاص مرفوع القلم ہیں بچہ جب تک بالغ نہ ہو، سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو۔ اور مجنون جب تک اسے جنون سے افاقہ نہ ہو)۔

۲۸۔ پاگل کا ارتداد

مجنون کے بارے میں یہ قاعدہ کلیہ ذہن نشین رکھا جائے کہ اس کی حالت جنون سے پہلے کے حالات و کیفیات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پاگل اگر ہوا تو وہ مسلم ہے مرتد نہیں ہے۔ اگر کسی نے اسے اگر اس کے اولیاء و وارث طلب کریں بعض کہتے ہیں اگر ایک شخص ہوش کی حالت میں مرتد ہو پھر مخبوط الحواس افاقے تک مہلت دی جائے گی جب افاقہ ہو جائے جائے تو ٹھیک ورنہ قتل کیا جائے۔ اگر جنون کی حالت دیا جائے گا اور قصاص نہیں لیا جائے گا، کیونکہ مقتول

۲۹۔ مدہوش کا ارتداد

مدہوش کے ارتداد کے حکم کے بارے میں فقہاء

لیکن اُسے مہلت دی جائے اور قتل نہ کیا جائے توبہ کی ترغیب دی جائے۔ اگر وہ مدہوشی میں ارتداد قبل کسی نے اسے قتل کر دیا تو اُسے سزا دی جائے گی مدہوشی میں تائب ہو گیا اور ہوش میں آنے کے بعد آنے پر توبہ سے پھر گیا تو کافر ہے، اُسے توبہ کی ترغیب جائے۔

طرح ہے، کیونکہ اس کا شعور اور ادراک مفقود ہے ہاں مسکر حرام (نشے کی مدہوشی) کا عذر معتبر نہیں، اس

صحیح ہے اور اس کو توبہ کی ترغیب دینا صحیح ہے گرچہ

صفحہ 67

حالات و کیفیات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پاگل اگر جنون سے پہلے مسلمان تھا اور جنون کے دوران مرتد ہوا تو وہ مسلم ہے مرتد نہیں ہے۔ اگر کسی نے اُسے مرتد سمجھ کر عمداً قتل کر دیا تو اس کا قصاص لیا جائے اگر اس کے اولیاء قصاص طلب کریں بعض کہتے ہیں کہ صرف تعزیر لگائی جائے گی قصاص نہیں لیا جائیگا۔

اگر ایک شخص ہوش کی حالت میں مرتد ہو پھر مخبوط الحواس ہو جائے ارتداد کی حالت میں تو اسے جنون سے افاقہ تک مہلت دی جائے گی جب افاقہ ہو جائے تو اسے توبہ کی ترغیب دی جائے۔ اگر تائب ہو جائے تو ٹھیک ورنہ قتل کیا جائے۔ اگر جنون کی حالت میں اسے کوئی قتل کر دے تو تعزیر کا مستوجب قرار دیا جائے گا اور قصاص نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ مقتول ہوش میں مرتد ہوا لہٰذا اس کا خون حلال تھا۔

۲۹ - مدہوش کا ارتداد

مدہوش کے ارتداد کے حکم کے بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں :-

لیکن اُسے مہلت دی جائے اور قتل نہ کیا جائے حتیٰ کہ ہوش میں آجانے کے بعد تین دن تک اُسے توبہ کی ترغیب دی جائے۔ اگر وہ مدہوشی میں ارتداد کی حالت میں مر گیا تو کافر مرا۔ اگر ہوش میں آنے سے قبل کسی نے اسے قتل کر دیا تو اُسے سزا دی جائے قتل نہ کیا جائے کیونکہ اس کا خون حلال تھا۔ اگر وہ مدہوشی میں تائب ہو گیا اور ہوش میں آنے کے بعد بھی توبہ پر قائم رہا تو وہ مسلمان ہے۔ اگر ہوش میں آنے پر توبہ سے پھر گیا تو کافر ہے، اُسے توبہ کی ترغیب دی جائے گی۔ اگر تائب نہ ہو تو قتل کر دیا جائے۔

طرح ہے ، کیونکہ اس کا شعور اور ادراک مفقود ہے۔ مالکیہ نے سکر حلال کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے ہاں سکر حرام (نشے کی مدہوشی) کا عذر معتبر نہیں جانتے۔

صحیح ہے اور اس کو توبہ کی ترغیب دینا صحیح ہے لیکن وہ اس کے ہوش میں آنے تک مہلت دینے کے

صفحہ ۶۸

قائل ہیں۔ اور اگر کوئی نشے کا عادی نہ ہو بلکہ نشہ پینے پر مجبور کیا گیا ہو تو اس کا ارتداد صحیح نہیں جیسے اس کی دی ہوئی طلاق صحیح نہیں اور یہی رائے صائب ہے۔ میرے نزدیک احناف کی رائے قابل ترجیح ہے بشرطیکہ مدہوشی سے اس کی عقل و فہم بالکل مفقود ہو گئی ہو ورنہ اس کا ارتداد معتبر ہے اور عصر حاضر میں جدید طبی آلات کے ذریعے یہ پتہ لگانا ممکن ہے کہ مدہوش بالکل فاتر العقل ہو چکا ہے یا کچھ عقل و شعور اسے ہے۔

۳۰- ارتداد باطل

مندرجہ ذیل حالات میں ارتداد باطل ہو گا اور صاحب ارتداد پر ارتداد کے احکام جاری نہیں ہوں گے:-

ہو جائے۔

۳۱- وقوع ارتداد کے ثبوت

مرتد کا ارتداد دو طریقے سے ثابت ہوتا ہے :

مرتد کا ارتداد ثابت ہونے پر مندرجہ ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :-

امام محمد کہتے ہیں مرتد اور اس کی بیوی انکار کرے تو قاضی طلاق دے۔ ارتداد سے قبل جو اولاد ارتداد کے بعد پیدا ہوئی وہ کافر ہو گی

۳۲۔ کن حالات میں ارتداد واقع ہو

درج ذیل تین حالتوں میں ارتداد واقع ہو

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ؂۱

مرتد ہو چکے ہو۔

اس نے شرح صدر کے ساتھ اسے قبول نہ کیا ہو

كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهِ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مـ فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عـ

زائل ہو جائے تو وہ مسلمان ہی تصور ہو گا ۔ اور جو ہے جب سے وہ ارتداد پر مجبور کیا گیا ۔ اور اگر کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : میری کے کسی فرد سے خطا و نسیان سرزد ہو جائے یا جائے۔

؂۱ التوبہ : ۶۶ ؂۲ النحل : ۱۰

النحل : ۱۰۶

صفحہ ۶۹

امام محمدؒ کہتے ہیں مرتد اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کے لیے طلاق ضروری ہے ۔ اگر وہ اس کا انکار کرے تو قاضی طلاق دے ۔ ارتداد سے قبل جو اولاد ہوئی وہ مسلمان ہوگی اگر دارالاسلام میں ہے اور جو اولاد ارتداد کے بعد پیدا ہوئی وہ کافر ہوگی ۔

۳۲۔ کن حالات میں ارتداد واقع ہوتا ہے؟

درج ذیل تین حالتوں میں ارتداد واقع ہوتا ہے۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ ؎۱ اب معذرتیں بے سود ہیں کیونکہ تم تو اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہوچکے ہو “

اس نے شرح صدر کے ساتھ اسے قبول نہ کیا ان پر کوئی مواخذہ نہیں ، کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيْمَانِ وَلَكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ؎۲ اور اس کا ارتداد بھی درست نہیں جب مجبوری زائل ہو جائے تو وہ مسلمان ہی تصور ہوگا۔ اور جو مجبوری کی حالت ختم ہونے کے بعد بھی ارتداد پر قائم رہا تو وہ کافر ہے جب سے وہ ارتداد پر مجبور کیا گیا ۔ اور اگر اسلام قبول کر لیا مجبوری ختم ہونے کے بعد تو وہ مسلمان ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : عُفِيَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ”میری اُمت کے کسی فرد سے خطا و نسیان سرزد ہو جائے یا اس پر مجبور کر دیا جائے تو اسے معاف کر دیا جائے ۔

؎۱ التوبہ : ۶۶ ؎۲ النحل : ۱۰۶

PDF 70

۳۳- جبری مرتد کے اذیتوں پر صبر کرنے کی تلقین

جو شخص کفر پر مجبور کیا جائے اور اس کے لیے اُسے اذیت پہنچائی جائے لیکن وہ اس پر صبر کرے اور کلمۂ کفر نہ کہے اور حتی الوسع اذیت کو برداشت کرے تو اس کا یہ عمل بڑی فضیلت والا ہے۔ حضرت خبابؓ جنہوں نے ضعیف ہونے کے باوجود کفار کی اذیتیں جھیلیں، سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے اُن میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا تھا کہ اس کے لیے زمین میں ایک گڑھا کھود کر اسے اس میں کھڑا کر کے اس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے بھی کر دیئے جاتے تو بھی وہ اپنے دین سے باز نہ آتا۔ حدیث : ان كان الرجل فيمن قبلكم ليحفر له في الارض، فيجعل فيها، فيجاء بمنشار فيوضع على شق رأسه ويشق باثنين، ما يمنعه ذلك عن دينه ۔

قرآنِ کریم میں اصحابِ اُخدود کا جو قصّہ بیان ہوا وہ بھی مسلمانوں کے کسی دور اور کسی ملک میں پوشیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے آگ میں جلائے جانے کو خندہ پیشانی سے جھیلا اور صبر کیا، حتیٰ کہ وہ موت سے ہمکنار ہوئے۔ اس کے باوجود اپنا دین نہ چھوڑا؎۱

عصرِ حاضر میں بھی ایسے مومنین کی کمی نہیں جنہوں نے اذیتوں پر صبر کی بڑی اچھی مثالیں پیش کی ہیں عقیدے کی خاطر ظالموں نے انہیں جیلوں میں ٹھونسا، اُن پر کوڑے برسائے حتیٰ کہ اُن پر وحشی کتے چھوڑے گئے، جنہوں نے ان کے جسم کی بوٹیاں نوچ کھائیں، لیکن ان کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی۔ انہوں نے ذرّہ بھر کمزوری نہ دکھائی، نہ مطیع ہوئے نہ عاجز ہوئے، نہ رحم کی اپیلیں کیں لیکن شہادت کا جام شیریں نوش کر گئے؎۲

۳۴- ارتداد سے رجوع کرنا

مرتد اگر ارتداد سے توبہ کرے تو یہ جائز ہے۔ اگر اس کا ارتداد مشہور نہ ہوا اور کسی کو اس کی

؎۱ سید قطبؒ کی تفسیر 'فی ظلال القرآن' ملاحظہ ہو۔

؎۲ کتاب 'در دوزخ' (نافذۃ علی الجحیم) ملاحظہ ہو۔

کانوں کان خبر نہ ہو تو چپکے سے توبہ کرلے۔

کے سامنے توبہ کی ترغیب کے بعد توبہ کر لے اسے کوئی سزا نہ دی جائے۔ کہیں وہ سزائے کی ترغیب کے دوران قید میں رکھا جائے نہ ہو جائے۔ اور اس پر عرصہ حیات تنگ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا دانہ پانی بند کر دیا جائے، نہ توبہ پر مجبور کیا جائے (جبر کے با ذمہ ہو، بیت المال سے وہ سب پورا کیا جا وہ تائب نہ ہو اور کوئی انسان اس پر اپنا سمجھا جائے گا۔

۳۵۔ توبہ کی ترغیب دینے کے با

سمجھ دار بچے کو بالغ ہونے کے بعد اُس کا نشہ اتر جانے کے بعد انہیں توبہ کی تر لیکن عاقل بالغ مرتد کو توبہ کی ترغیب

ذیل ہے :

ہے۔ کیونکہ اسے دعوت پہنچ چکی ہے، اب دعوت مل گئی ہے اور جس کو ایک دفعہ دع مستحب ہے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و کا کوئی ذکر نہیں۔ چونکہ مرتد کافر حربی ایک امر موہوم یعنی اس کی توبہ کے ام

صفحہ ۷۱

کانوں کان خبر نہ ہو تو چپکے سے توبہ کرلے۔ اگر اس کا ارتداد مشتہر ہو گیا ہو یا وہ امام یا اس کے نائب کے سامنے توبہ کی ترغیب کے بعد توبہ کرلے تو علانیہ توبہ کرے یا اپنی توبہ کا اعلان کرے۔ توبہ کے بعد اسے کوئی سزا نہ دی جائے۔ کہیں وہ سزا کے خوف سے پھر توبہ سے یا اسلام سے پھر نہ جائے۔ ہاں توبہ کی ترغیب کے دوران قید میں رکھا جائے، مبادا وہ موقع سے فائدہ اٹھا کر، دارالحرب کی طرف فرار نہ ہو جائے۔ اور اس پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا جائے تاکہ یہ ندامت اسے توبہ پر ابھارے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا دانہ پانی بند کر دیا جائے۔ بلکہ اس کا راشن اسے بدستور دیا جائے اور نہ مارا پیٹا جائے ، نہ توبہ پر مجبور کیا جائے (جبر نہ کیا جائے) حتیٰ کہ اس کے اہل وعیال اور جن کا نان نفقہ اس کے ذمہ ہو بیت المال سے وہ سب پورا کیا جائے اگر اس کے پاس مال نہ ہو۔ اگر اس مہلت کے بعد بھی وہ تائب نہ ہو اور کوئی انسان اس پر ارتداد کا الزام لگائے لیکن وہ اس سے انکار کرے تو وہ تائب سمجھا جائے گا۔

۳۵ - توبہ کی ترغیب دینے کے بارے میں احکام

سمجھ دار بچے کو بالغ ہونے کے بعد ، فاتر العقل کو صحت ہو جانے کے بعد ، اور جو نشے کا عادی ہو اس کا نشہ اتر جانے کے بعد انہیں توبہ کی ترغیب دینا واجب ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ لیکن عاقل بالغ مرتد کو توبہ کی ترغیب دینے کے بارے میں فقہاء میں اختلاف ہے جو درج ذیل ہے :

ہے۔ کیونکہ اسے دعوت پہنچ چکی ہے ، اسے اسلام کی دعوت دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسے دعوت مل گئی ہے اور جس کو ایک دفعہ دعوت مل چکی ہو اسے دوبارہ دعوت دینا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”من بدل دینہ فاقتلوہ“ اس میں مہلت کا کوئی ذکر نہیں۔ چونکہ مرتد کا کفر جلی ہوتا ہے اس لیے بغیر مہلت دیئے اس کا قتل واجب ہے۔ ایک امر موہوم یعنی اس کی توبہ کے احتمال کی وجہ سے واجب میں تاخیر جائز نہیں۔ ہاں قاضی اسے

صفحہ ۷۲

مہلت دینے کا فیصلہ کرے تو اسے تین دن تک قید میں رکھا جائے۔ اگر اسلام لے آئے تو ٹھیک ہے ورنہ قتل کر دیا جائے۔ اگر مرتد خود مہلت طلب کرے تین دن کی تو یہ اس کا حق ہے۔

ب ۔ ظاہری کہتے ہیں توبہ کی ترغیب دینا نہ واجب ہے نہ منع ہے۔

ج ۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ توبہ کی ترغیب دینا واجب ہے اور امام پر لازم ہے کہ وہ مرتد کو تین دن کی مہلت دے اور اس سے پہلے اس کا قتل جائز نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے مسلمان کا ارتداد کسی شبہ کی بنا پر ہو۔ تو اس کے بغیر چارہ نہیں کہ اُسے غور و فکر کی مہلت دی جائے تاکہ اس پر حق واضح ہو جائے اور اس کی مقدار تین دن اس لیے مقرر کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب انہیں ابی موسیٰ اشعریؓ کی طرف سے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے ایک مرتد کو بغیر توبہ کی ترغیب دیئے اور مہلت دیئے قتل کر دیا تو آپ نے فرمایا بہتر یہی تھا کہ تم اسے تین دن قید رکھتے اور روزانہ اُسے ایک روٹی کھانے کو دیتے۔ اور اُسے پانی پلاتے، شاید وہ توبہ کر لیتا پھر فرمایا اے اللہ! میں اس فعل کا نہ شاہد ہوں نہ میں نے اس کا حکم دیا تھا۔ اور نہ میں اس فعل پر راضی ہوں“ امام مالکؒ نے اپنی موطا میں یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ لہٰذا ان کے فعل سے حضرت عمرؓ کا اپنے آپ کو بری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تین دن کی مہلت واجب ہے۔ اگر تو تائب ہو جائے تو چھوڑ دیا جائے ورنہ فوراً قتل کر دیا جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ تین مرتبہ توبہ کی ترغیب دی جائے ان کی دلیل حضرت موسیٰؑ کا اور نیک بندے حضرت خضرؑ کا قصہ ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ نے خضرؑ سے کہا إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِيْ اس کے بعد اگر میں آپ سے کوئی سوال کروں تو مجھے اپنا ساتھی نہ بنائیں پھر تیسرے سوال کے بعد آپ نے کہا قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا۔

د ۔ توبہ کی ترغیب اور مہلت کے بارے میں مالکیہ شافعیہ کے ہم خیال ہیں۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ توبہ کی ترغیب دینا واجب ہے لیکن تین دن کی مہلت اس دن سے شمار ہوگی جب اس کا ارتداد ثابت ہو جائے نہ کہ مرتد ہونے کے دن سے یا جس دن اس کی شکایت کی جائے۔ نیز جیل میں روزانہ اسے کئی مرتبہ اسلام کی دعوت دی جائے۔

صفحہ ۷۳

ھ ۔ حنابلہ کے اس بارے میں دو قول ہیں۔ پہلا قول احناف کے مطابق ہے اور دوسرا شافعیہ اور مالکیہ سے مطابقت کرتا ہے۔ ان کا مشہور و معروف وہ قول ہے جو حضرت حسن بصریؒ کا مشہور قول ہے کہ مرتد کو توبہ کی ترغیب نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کیا جائے لیکن حضرت عطاءؒ کہتے ہیں کہ جو مسلمان کے گھر پیدا ہوا ہو اسے توبہ کی ترغیب نہ دی جائے لیکن جو کافر سے مسلمان ہو کر مرتد ہوا ہو اُسے توبہ کی ترغیب دی جائے۔ امام ابن تیمیہؒ کی رائے یہ ہے کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے توبہ کی ترغیب نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کیا جائے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔

مؤلف کی رائے یہ ہے کہ اسلامی حکومت کے عدم قیام اور شریعت اسلامیہ کے عدم نفاذ کی صورت میں ان مرتدین محاربین کے حق میں توبہ کی ترغیب ساقط ہے جن کا قتل علانیہ یا خفیہ واجب ہے جب بھی اس کی ہمیں فرصت ملے جیسے کہ ان کے حق میں تراخی و آرام سے قتل کرنا، ساقط ہے۔ ان کا ہر طریقے اور ہر ذریعے سے قتل کرنا جائز ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے

۳۶۔ کن حالات میں توبہ کی ترغیب میں تاخیر واجب ہے ؟

تک توبہ کی ترغیب میں تاخیر جائز ہے۔

اور ان سب صورتوں میں توبہ کی ترغیب سے قبل اور بعد بھی مرتد کا خون حلال ہے ۔ جب تک وہ توبہ نہ کرے۔ اور توبہ سے اس کی جان اور مال محفوظ ہوتے ہیں۔ اگر توبہ سے قبل قتل کر دیا جائے تو قاتل پر کوئی قصاص نہیں۔

۳۷۔ ارتداد سے توبہ کی کیفیت

جب مُرتد توبہ کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ پہلے کلمہ طیبہ پڑھے یعنی یہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ پھر باقی ارکانِ اسلام کا اقرار کرے،

صفحہ ۷۴

اسلام کے سوا ہر دین سے براءت کا اعلان کرے۔ اگر اس کے ارتداد کا سبب کسی کا انکار ہے تو اس کا بھی اقرار کرے یا اگر کوئی اعتقاد فاسد ہو تو اس سے رجوع کرے یا حلال کو حرام اور حرام کو حلال سمجھنے کا باعث ہو تو اُسے چاہیے کہ حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھے۔ اگر کوئی گواہ یہ گواہی دے کہ وہ نمازی تھا یا حاجی تھا، یا زکوٰۃ دیتا تھا تو جب تک وہ رکوع و سجود کے ساتھ نماز نہ پڑھے اس کے مسلمان ہونے کا فتویٰ نہ دیا جائے۔ کیونکہ نماز کافر اور مسلمان کے مابین وجہ امتیاز ہے۔ کیونکہ اس میں قبلہ رو ہونا اور رکوع و سجود کرنا پڑتا ہے جن کی نظیر کفار کی عبادات میں نہیں ملتی۔

۳۸۔ کن حالات میں مرتد کی توبہ قبول نہ کی جائے۔

درج ذیل چار صورتوں میں مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جاتی:

اوّل — اگر مرتد نے اللہ تعالیٰ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن کریم، یا کسی پیغمبر، یا کتب سماوی اللہ کا پیغام لانے والے فرشتے جن کا ذکر قرآن میں آتا ہے، کو سبّ و شتم کا نشانہ بنایا ہو یا ان کا مذاق اُڑایا ہو، یا ان کی قدر و منزلت گھٹائی ہو۔ اور تقدس کو پامال کیا ہو۔ اور اس سلسلے میں جہالت، مدہوشی غیظ و غضب، مزاح یا زبان کے پھسل جانے کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ جس مرتد کے ارتداد کا سبّ و شتم کے علاوہ کوئی اور سبب بھی ہو لیکن زمانہ ارتداد میں اُس نے گالیاں دی ہوں، پھر تائب ہو گیا اور ایمان لے آیا، پھر بھی سَبّ و شتم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔

دوم — اگر مرتد دو دفعہ ارتداد کا مرتکب ہو۔ کہا جاتا ہے کہ بنی سعد کا ایک شخص مسجد بنی حنیفہ کے پاس سے گزر رہا تھا کہ وہاں کچھ لوگ مسیلمہ کذاب کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ یہ سن کر وہ شخص ابن مسعود کے پاس آیا اور تمام واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے ایک آدمی بھیج کر ان لوگوں کو بلا بھیجا پھر انہیں توبہ کی ترغیب دی تو وہ تائب ہو گئے۔ آپ نے اُن سے کوئی تعرض نہ کیا لیکن ایک شخص ابن نواحہ نامی کو یہ کہہ کر روک لیا کہ تم اس سے قبل بھی میرے پاس لائے گئے تھے تو میں سمجھا کہ تم تائب ہو گئے ہو لیکن تم پھر آگئے۔ آپ نے اس کو قتل کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ (النساء : ۱۳۷) یہ بیشک وہ لوگ

صفحہ ۷۵

جو ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لے آئے پھر کافر ہوگئے اور کفر میں بڑھ گئے۔ اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔

سوم ــــــ اگر زندیق ہو، اور زندیق وہ منافق ہے جو بظاہر مومن اور مسلمان ہو لیکن بباطن کافر اور نافرمان۔ تو وہ فوراً بغیر توبہ کی ترغیب اور مہلت دیئے قتل کر دیا جائے، کیونکہ اُس نے تقیہ توبہ کی، پھر جب اپنے آپ کو عادتاً مسلمان ظاہر کیا توبہ کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ وہی بات تھی جس کا بظاہر وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ اگر وہ حقیقتاً تائب ہو جائے تو اس کا اجر آخرت میں اس کا رب دے گا، اس کی توبہ وہاں فائدہ مند ہوگی، دُنیا میں کوئی نفع نہ دے گی، اس کا قتل بطور حد نہ کہ بلحاظ کفر لازم ہے توبہ کے مشکوک ہونے کی وجہ سے۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ توبہ کرنے سے زندیق پر جو قتل کی حد جاری ہوتی ہے ساقط نہیں ہوتی، جب کہ اس نے کفر خفی یا باطنیہ کا کفر یا کوئی ایسا دین اختیار کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو تسلیم نہیں کرتے، یا آپ کو صرف عربوں کے لیے مبعوث سمجھتا ہے یا ایسا مذہب اختیار کرے جس میں تقیہ ہو، یا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں یا آپ کو ملامت کیا یا جھٹلایا، یا کسی فرض اور حرام حلال کا انکار کیا۔ ان جملہ صورتوں میں اس کی توبہ قابل قبول نہیں، یہی رائے احناف کی ہے۔

چہارم ــــــ اگر مرتد جادو گر ہو تو فوراً بغیر توبہ کی ترغیب یا مہلت دیئے قتل کردیا جائے اور اس کی توبہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ دُنیا میں اس کی یہی سزا ہے۔ آخرت میں اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔

اور وہ مرتد جو جبراً مسلمان بنایا گیا ہو قتل نہ کیا جائے گا جب مجبوری ختم ہو جانے پر وہ پھر مرتد ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر اس کے باوجود اسلام پر کچھ عرصہ تک قائم رہے پھر مرتد ہو جائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے گا۔ قاصد اگر مرتد ہو جائیں تو قتل نہیں کیے جائیں گے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کذاب کے قاصدوں کو جو مرتد تھے قتل نہیں کیا تھا۔

صفحہ ۷۶

۳۹۔ مرتد کے قتل کی کیفیت

جب مرتد کا قتل ثابت ہو جائے تو اُسے تلوار سے قتل کیا جائے کہ یہ سب سے آرام دہ طریقہ ہے اور تلوار مشہور آلہ قتل ہے۔ گولی مار کر قتل کرنے میں بھی مضائقہ نہیں کہ یہ عصر حاضر کا مشہور طریقہ قتل ہے اور آرام دہ بھی، اور گلا گھونٹ کر یا پھانسی کے ذریعے ہلاک کرنے کے برعکس کیونکہ یہ نہ تو مشہور طریقہ قتل ہے اور نہ ہی گولی مار کر اور تلوار سے قتل کرنے کی نسبت زیادہ آرام دہ ہے ۔

ہاں شریعت اسلامیہ کے عدم نفاذ اور امام اعظم کی غیر موجودگی میں ہر طریقے سے جو قاتل کے لیے موزوں ہو مرتد کو قتل کرنا جائز ہے اور ان کا آرام دہ ہونا بھی کوئی ضروری نہیں ہے۔ البتہ ان طریقوں سے قتل کرنے میں لوگوں کے لیے عبرت نہیں ہے۔

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے تو یہاں تک روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت خالد بن ولید کو مرتدین کے ایک گروہ کو آگ میں جلانے کا حکم دیا تھا جب تک وہ مر نہ جائیں۔ اور جو فرمان آپ نے مرتدین کو ڈرانے اور ارتداد سے باز رکھنے کے لیے خالد بن ولید کو بھیجا تھا اس میں تحریر تھا کہ ”جو آپ کی دعوت قبول کر لے اور اقرار و اعتراف کرے اور عمل صالح کرے تو اس کی توبہ قبول کر لو اور اس کی مدد کرو اور جو انکار کرے تو اس کے ساتھ جنگ کی جائے یہاں تک کہ اُس پر قابو پا لیا جائے تو اُسے آگ میں جلا دیا جائے“ ۱؎

اس خط میں بھی جو آپ نے ان فوجی سالاروں کو بھیجا تھا جو مرتدین سے جنگ میں مصروف تھے لکھا تھا ” اور جو انکار کرے اُس کے ساتھ جنگ کرو۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پر تمہیں غلبہ عطا کر دے تو اسے اسلحے سے قتل کرو یا آگ میں جلا دو“ ۲؎

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آزاد کردہ غلام قنبر کو حکم

۱؎ اس فصل کے آخر میں ضمیمہ ملاحظہ ہو۔

۲؎ ” ” ” ” ” ” ”

دیا کہ وہ مرتدین کے اس گروہ کو آگ لگاد خدا بنا دیا تھا۔ وہ آپ کو کہتے تھے آپ خدا ہو۔ ان کو آگ میں جلا دیا گیا چنانچہ عباسؓ سے بھی نقل کی ہے ۔

اسی لیے ہماری رائے میں اسلامی ح طریقے سے چاہے مرتد کو قتل کر سکتا ہے۔ ہے جیسا آرام دہ طریقے سے قتل کرنا ہوں جو فرض کفایہ ہے، نیز جس کی صو مروجہ طریقہ قتل میں سے اس علا فوراً واجب ہے اور کسی کو اس میں تاخیر

۴۰۔ مرتد کو کون قتل کرے

مرتد کو قتل نہیں کر سکتا۔ اگر ان کے علاو اولی الامر کی صلاحیت سے بڑھ جائے اُس نے مرتد کو توبہ کی ترغیب دیئے جس کا خون توبہ کی ترغیب دیئے بغی بدلے کے طور پر اس کا قتل لازم نہیں کہ دو آدمیوں نے آپ کے گھر کے پا سے ایک نے کہا ہم دونوں کے درمیا کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے، انہوں نے ف اور آپ سے فیصلہ کرانے آیا ہے تا

صفحہ ۷۷

دیا کہ وہ مرتدین کے اس گروہ کو آگ میں جلا ڈالے جو حُبّ علیؓ میں غلو کرتا تھا جنہوں نے آپ کو خدا بنا دیا تھا۔ وہ آپ کو کہتے تھے اَنْتَ هُوَ (تو وہ ہے) ۔ آپ نے پوچھا وہ کون؟ کہنے لگے تم خدا ہو۔ ان کو آگ میں جلا دیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ امام بخاریؒ نے اسی طرح کی روایت ابنِ عباسؓ سے بھی نقل کی ہے۔

اسی لیے ہماری رائے میں اسلامی حکومت کے عدم قیام اور امام کی غیر موجودگی میں قاتل جس طریقے سے چاہے مُرتد کو قتل کر سکتا ہے۔ تلوار سے یا گولی مار کر قتل کرنا ہی فرض نہیں ہے بلکہ مُستحب ہے جیسا آرام دہ طریقے سے قتل کرنا مُستحب جب حالات واجب کی ادائیگی کے لیے سازگار نہ ہوں جو فرض کفایہ ہے، نیز جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں تمام قوم گنہگار ہوتی ہے تو چاہیے کہ ہر مروجہ طریقہ قتل میں سے اس غایت کی ادائیگی میں جو بھی طریقہ ممکن ہو اختیار کیا جائے کیونکہ قتلِ مُرتد فوراً واجب ہے اور کسی کو اس میں تاخیر کرنے کا حق نہیں خواہ وہ حاکم ہی ہو یا امام۔

۴۰۔ مرتد کو کون قتل کرے

۱۔ اسلامی حکومت قائم ہونے کی صُورت میں :- امام اعظم یا اس کے نائب کے سوا کوئی مرتد کو قتل نہیں کر سکتا ۔ اگر ان کے سوا کسی نے قتل کر دیا (مُرتد کو) تو اُسے امام کے اختیار اور اُولی الامر کی صلاحیت سے بڑھ جانے پر تعزیر لگائی جائے لیکن قصاص میں قتل نہ کیا جائے اگرچہ اُس نے مُرتد کو توبہ کی ترغیب دینے سے پہلے قتل کر دیا ہو، کیونکہ اس نے ایسے انسان کو قتل کیا جس کا خون توبہ کی ترغیب دینے سے پہلے اور بعد میں بھی حلال تھا ۔ اگرچہ یہ اس پر حرام تھا لیکن بدلے کے طور پر اس کا قتل لازم نہیں ۔ اس باب میں حضرت عمر بن الخطاب کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ دو آدمیوں نے آپ کے گھر کے دروازہ پر دستک دی ۔ آپ باہر تشریف لائے تو ان میں سے ایک نے کہا ہم دونوں کے درمیان کسی بات پر تنازعہ تھا ، ہم دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے ، انہوں نے میرے حق میں فیصلہ کیا لیکن یہ آدمی اس پر راضی نہیں ہے اور آپ سے فیصلہ کرانے آیا ہے۔ آپ نے کہا اچھا ٹھہرو میں ابھی فیصلہ کیے دیتا ہوں ۔ آپ

صفحہ ۷۸

اندر گئے اور اپنی تلوار لے کر آئے پھر اس آدمی کا سر تن سے جُدا کر دیا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ فرمایا جو اللہ اور اُس کے رسول کا فیصلہ نہیں مانتا میں اس کا فیصلہ اس طریقے سے کرتا ہوں جب یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپؐ نے حضرت عمرؓ کو تنبیہ فرمائی لیکن قصاص نہیں لیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ط ۱؎ ”اے محمد! تیرے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر تم جو بھی فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سرِ تسلیم خم کر لیں“ اللہ تعالیٰ کی جناب سے اپنی تائید پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر فاروقؓ خوش ہوئے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اُس مسلمان پر کفر اور ارتداد کا فتویٰ لگایا ہے جو شریعتِ اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرانے سے انکار کر دے یا اس کے فیصلہ کو نہ مانے ، یا اس کے فیصلے پر اپنے نفس میں تنگی یا درشتی محسوس کرے یا اسے مطلقاً تسلیم ہی نہ کرے بلکہ اس کے فیصلے پر ادنیٰ مذمت ، تعرض ، بغض و عناد ، سرکشی یا نقد و جرح حتیٰ کہ ادنیٰ عتاب کا بھی شائبہ نہیں ہونا چاہیے۔

توبہ کی ترغیب اور مہلت دیئے کسی بھی مقررہ (مروجہ) طریقے (خواہ وہ آرام دہ بھی نہ ہو) سے قتل کر دے۔ اس کا قتل فرضِ کفایہ ہے۔ اگر کوئی ایک ادا کر دے تو باقی تمام قوم سے ساقط ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بھی اسے قتل نہ کرے تو تمام قوم گناہ گار ہوتی ہے۔ جہاں اسلامی نظام نافذ نہ ہو وہ چونکہ صرف فقہی معنوں میں دار الاسلام نہیں ہوتا کیونکہ وہاں شریعت نافذ کرنے والا اور لوگوں کے حقوق کی رعایت کرنے والا اور اسلام کی حمایت کرنے والا امام نہیں ہوتا ۔ اس لیے ہر شخص پر جو بھی قادر ہو مرتد کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔

۱؎ النساء: ۶۵

صفحہ ۷۹

ج ۔ مرتد کے دارالحرب میں فرار ہو جانے کی صورت میں بھی ہر شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے بغیر توبہ کی ترغیب اور مہلت دیئے جس طریقے سے چاہے قتل کر دے اور اس کا جو بھی مال متاع ہو لے لے کیونکہ وہ دارالحرب میں بھاگ جانے کی وجہ سے حربی ہو گیا۔ اگر تعزیراتی قانون ارتداد کے موضوع سے غفلت اور مرتد کی سزا سے اغماض برتتا ہو تو مرتد کے قاتل کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔ قوانین میں اس واجب کے لیے کوئی شق مخصوص نہیں، جیسا کہ عالم اسلام اور عرب ممالک کی اکثریت کا حال ہے۔ اس لیے یہ واجب ہر مسلمان کے ذمے ہے جو اس کی ادائیگی پر قادر ہے کیونکہ مرتد کی سزا کسی حال میں ساقط نہیں اور اُولی الامر کو اس سزا کے معاف کرنے یا اسے قید تا حیات میں بدلنے کا کوئی حق نہیں۔ نہ اس کے نفاذ میں تاخیر کرنے کا حق ہے۔ اگر کسی نے مرتد کو قتل کر دیا تو اُس نے ایک فرض کفایہ ادا کیا اور دوسروں سے ایک واجب ساقط کر دیا۔ ورنہ تمام قوم گناہگار ہوتی ہے۔ حکام یا قوانین کو مرتد کے قاتل کا مواخذہ کرنے اور اسے سزا دینے کا اُس وقت تک حق نہیں جب تک مرتد کی سزا کی تخصیص نہیں کرتے۔ جب حکام احکام نافذ کرنے سے اهمال برتتے ہیں اور افراد یا کوئی فرد انہیں نافذ کر دیتا ہے تو وہ اجر کا مستحق ہے نہ کہ ملامت اور سزا کا ؟ کیونکہ فقہی اور قانونی قواعد مرتد کے قاتل کی سزا کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ اس عمل کا عادی ہو جائے اور حکام کے عام اختیارات کی توہین کا باعث ہو۔ جب تک یہ حکام مرتد کی سزا سے غفلت برتیں اور ارتداد کے جُرم کے متعلق نص کی ضرورت نہ سمجھیں تو انہیں مرتد کے قاتل کو ملامت کرنے کا کوئی حق نہیں بلکہ وہ خود قابلِ ملامت ہیں اور انہیں چاہیے کہ قوانین کو نصوص شریعت اسلامیہ کے مطابق کر کے انہیں عدل و انصاف کا حامل بنائیں یا معتدل بنائیں۔

جہاں تک مرتد کے خون کے تاوان کا تعلق ہے عبدالقادر عودہ شہید اپنی کتاب ’التشریع الجنائی الاسلامی‘ میں لکھتے ہیں ”مرتد کے قاتل سے کوئی تاوان نہیں لیا جائے گا کیونکہ شریعت میں مرتد کا خون حلال ہے لیکن اس کے قاتل کی کوئی سزا نہیں ہے کیونکہ اس کا یہ فعل مباح ہے اور شریعت نے ہر مسلمان پر مرتد کا قتل واجب ٹھہرایا ہے۔ نیز یہ فرض کفایہ ہے اگر کوئی فرد ادا کر دے تو تمام اُمت

صفحہ ٨٠

سے ساقط ہو جاتا ہے۔ ایک اور مقام پر آپ رقمطراز ہیں "جب تک حکام بالا اسے نافذ نہ کریں یہ واجب افرادِ اُمت سے ساقط نہیں ہوتا۔" الا یہ کہ اس سے کسی قسم کے انتشار کا اندیشہ نہ ہو اور مرتد کے ارتداد کی صحت کا ثبوت ہو اور وہ قتل کا مستحق بھی ہو۔

اگر یہ منع ہٹ جائے تو قاتل کے لیے کوئی عذر نہیں اور اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اس وقت اس کا اجر دگنا ہو جاتا ہے جب شریعت کا نور بجھ گیا ہو اور اس کی حکمرانی نہ ہو اور شریعت کا احترام کم ہوگیا ہو۔ ظالم اور بے دین لوگ اس کی توہین کرنے لگے ہوں اور بھیڑیوں کی طرح چوپان اور محافظ کی عدم موجودگی میں بھیڑوں کے گلے میں فساد برپا کرتے ہوں۔

۴۱۔ مرتد کے مال کے بارے میں احکام

یہاں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو دارالاسلام میں مرتد کی ہلاکت سے قبل اور ہلاکت کے بعد اس کے مال ومتاع سے تعلق رکھتے ہیں نیز اگر وہ دارالحرب میں چلا جائے تو کیا احکام ہوں گے۔

١۔ مرتد کی ہلاکت سے قبل اس کے مال کے بارے میں احکام :

حنابلہ کہتے ہیں کہ مسلمان کے مرتد ہو جانے سے اس کے مال کی ملکیت ختم نہیں ہو جاتی بلکہ موقوف ہو جاتی ہے۔ ایک روایت شافعیہ سے بھی اسی قسم کی ہے۔

احناف کہتے ہیں کہ مسلمان کے مرتد ہو جانے سے اس کے مال کی ملکیت ختم ہو جاتی۔ یہ زوالِ ملکیت موقوف رہے گا۔ یہ شافعیہ کی دوسری روایت ہے۔

دونوں احکام کے درمیان جو فرق ہے اس کی وضاحت درج ذیل ہے :۔

حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ مرتد کا مال محفوظ رہتا ہے جب تک اس کا ارتداد کسی انجام کو نہیں پہنچ جاتا ہے یعنی توبہ یا ہلاکت۔ اگر تائب ہو جائے تو اس کا تمام مال اسے دے دیا جاتا ہے اور اگر ہلاک ہو جائے تو امام کے تصرف میں چلا جاتا ہے۔

١۔ التشریع الجنائی الاسلامی، ج ۱، ص ۲۵۳ اور آگے ۔ ۲۔ ایضاً ص ۵۳۶ ۔

صفحہ ۸۱

احناف کی رائے یہ ہے کہ امام مرتد کے مال میں محض اس کے ارتداد کی وجہ سے تصرف کر سکتا ہے۔ اگر مرتد تائب ہو جائے تو جو مال امام کے تصرف سے بچ جائے وہ اس کا حقدار ہے اُسے دیا جائے۔ کیونکہ ان کی رائے میں ارتداد بمنزلہ موت کے ہے اور مرتد میت کی طرح لیکن حنابلہ ارتداد کو مرض الموت کی مانند سمجھتے ہیں۔

ب ۔ مرتد کی ہلاکت کے بعد اس کے مال کے بارے میں احکام :

مسلمانوں کے بیت المال کے لیے مال فے ہو جاتا ہے۔ اور مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے کوئی اس کا وارث نہیں ہوتا کیونکہ مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔ اس پر علماء کا اجماع ہے۔ کیونکہ مال حربی پر جنگ کے بغیر اگر قبضہ کیا جائے تو وہ مال فے ہوتا ہے۔

کا قول ہے لیکن امام ابو حنیفہؒ نے مرتد کے مال کی دو قسمیں بتائی ہیں :۔

اس کے وارث ہوں گے۔

۴۲۔ مرتد کے دارالحرب میں بھاگ جانے کی صورت میں اُسکے مال کے بارے میں احکام

اگر مرتد دارالحرب کی طرف بھاگ جائے اور اس سے الحاق کر لے یا قاضی اس کے الحاق کا فتویٰ دے دے تو اس کا مال اس کے مسلمان ورثاء کی میراث ہے۔ یہ رائے ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کی ہے اس کے قرضوں کی ادائیگی واجب ہے، لیکن امام ابو حنیفہؒ کی رائے میں مسلمان اس مال کے وارث ہوں گے جو اُس نے مسلمان ہوتے ہوئے کمایا اور جو ارتداد کی حالت میں کمایا وہ مسلمانوں کے بیت المال کے لیے مال فے ہو جائے گا کیونکہ احناف کے نزدیک مرتد میت کی طرح ہے۔ اور دارالحرب سے

صفحہ ۸۲

الحاق بمنزلہ موت کے ہے جو اس کی ملکیت زائل کر دیتا ہے۔ البتہ مذاہب ثلاثہ کا مسلک اس کے خلاف ہے۔

اگر مرتد تائب ہو کر دارالاسلام کی طرف لوٹ آئے تو جو کچھ اس کے مال میں سے بچ گیا ہو وہ اس کا حقدار ہے۔

لیکن وارث کو وارث کب سمجھا جائے گا ؟

امام محمدؒ کا قول : مرتد کے مال کا وارث اس وقت سے معتبر ہوگا جس وقت سے وہ دارالحرب سے ملحق ہو گا کیونکہ سبب وراثت الحاق ہے ۔

امام ابو یوسفؒ کا قول : وارث قاضی کا مرتد کے دار الحرب سے الحاق کا فتویٰ جاری کرنے کے بعد وارث متصور ہوگا کیونکہ مرتد قاضی کے فیصلے سے میت کے مانند ہو گا ۔

مرتد کے قرضوں کے بارے میں احکام :

احناف کہتے ہیں کہ دورِ اسلام کے قرضے دورِ اسلام کی کمائی سے اور دورِ ارتداد کے قرضے دورِ ارتداد کی کمائی سے ادا کیے جائیں گے۔ یہ رائے امام ابو حنیفہؒ کی ہے۔ صاحبین کی رائے میں اس کے قرضے دونوں ادوار کی کمائی سے ادا کیے جائیں گے بغیر کسی امتیاز کے۔

حنابلہ کی رائے میں جب مرتد دارالحرب سے الحاق کرے تو وہ حربی ہو جاتا ہے۔ جو بھی اس پر قدرت حاصل کرے اس کا قتل مباح ہے اور اس کا مال لے لے۔ عصمہ یعنی دارالاسلام کے زائل ہونے کے باعث جو مال دار الاسلام میں رہ جائے اس سے اس کی ملکیت زائل نہیں ہوگی بلکہ جب تک وہ زندہ ہے اس کی ملکیت باقی رہے گی۔ کیونکہ اس کے خون کے حلال ہو جانے سے اس کے مال کی وراثت حقیقی حربی کی طرح لازم نہیں آتی۔ جب دارالحرب میں اس کا قیام طویل ہو جائے اور اس کے قتل سے معذور ہو جائیں تو حاکم اس کے قرض ادا کریں اور قرضے کے بعد جو مال بچ جائے اس میں تصرف کریں ۔

شافعیہ کے نزدیک جب مرتد دارالحرب کی طرف فرار ہو جائے تو اس کا مال موقوف ہوگا۔

صفحہ ٨٣

لیکن اس سے اس کے قرضے ادا ہوں گے جو اس کے ارتداد سے قبل دور اسلام میں اس نے لیے ہوں کیونکہ قرضہ کی ادائیگی ورثاء کے حقوق اور مال فے پر مقدم ہے۔ اگر وہ ارتداد کی حالت میں مر گیا تو جو مال اس کے ذمے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کے بعد بچ رہے تو وہ مسلمانوں کے لیے بیت المال کے لیے مال فے ہے۔ اور مُرتد کا ارتداد سے قبل اپنے ذمے واجب الادا قرضے کا اقرار جائز ہے۔ جبکہ کوئی دوسری صحیح شہادت میسر نہ ہو، اس کی دی ہوئی کسی خبر کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور نہ اس سے علم حاصل کیا جائے نہ علم فقہ وغیرہ جو کسی عادل اور ثقہ مسلمان سے حاصل کیا جاتا ہے۔

۴۳۔ مُرتد کے تصّرفات

احناف کے نزدیک مُرتد کے تصّرفات کی درج ذیل اقسام ہیں : نافذہ ...... جیسے قرضہ باطلہ ...... جیسے نکاح موقوفہ ...... جیسے بیع، شراکت اگر تائب ہو جائے تو صحیح ہے، اگر ہلاک ہو جائے یا ارتداد کی حالت میں تو باطل ہو گی۔ مختلف ...... خرید، ہبہ، رہن، اجارہ، وقف، صدقہ، نذر، اور جملہ عبادات باطل ہیں اگر تائب ہو جائے تو اسے چاہیے کہ ارتداد سے قبل کیا ہُوا حج دوبارہ ادا کرے۔ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ نے اس کے تصرفات میں سے قربانی کو مستثنیٰ قرار دیا ہے، البتہ گردن کا آزاد کرنا نافذ رہے گا۔

ـــــ مالکیہ اور شافعیہ کے مطابق مُرتد کی تمام تصرفات سوائے عبادات اور احسان کے باطل ہیں اگر اس نے ارتداد سے قبل حج کیا تھا، پھر توبہ کر لی تو اس کا حج باطل نہیں ہُوا، اور اس کا اعادہ نہیں کرے گا۔ اور اگر ارتداد سے قبل وہ محصن تھا، پھر اُس نے زنا کیا، ارتداد کے دوران پھر تائب ہو گیا تو رجم کیا جائے گا۔ ارتداد سے عمل اُس صورت میں باطل اور ضائع ہوتا ہے جب اسی حالت میں فوت ہو جائے۔ اگر ارتداد اور موت کے درمیان اس نے توبہ کر لی تو عمل باقی رہے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔

صفحہ ۸۴

" وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ، فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ " ١؎

”(اور یہ خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا اس کے اعمال دُنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے“ کیونکہ توبہ ماقبل گناہوں کو اس سے اس طرح کاٹ کر دُور پھینک دیتی ہے جس طرح اسلام کاٹ کر الگ کر دیتا ہے۔ گویا توبہ سے اگلے گناہ اس طرح معاف ہو جاتے ہیں جس طرح اسلام لانے سے معاف ہو جاتے ہیں۔

۔ حنابلہ کے قول کے مطابق مرتد ملکیت کا مالک ہو سکتا ہے، جیسے ہبہ، شکار، خریدا ہوا مال، اور یہ تصرفات اس کے لیے صحیح ہیں، کیونکہ عدمِ عصمت اس کے تصرفات کی صحت کے حربی کی طرح منافی نہیں، لیکن وہ اپنے مال میں تصرف سے روک دیا جائے خصوصاً بیع، ہبہ، وقف اور اجارہ کیونکہ ان کا تعلق دُوسروں سے ہے مفلس کے مال کی طرح۔ یہ تمام تصرفات موقوف تصور ہونگے۔ اگر وہ مسلمان ہو جائے تو یہ نافذ ہو جائے گا اور اگر ارتداد کی حالت میں مر جائے تو اس کا تصرف باطل ہو جائے گا جیسے اس کا عمل اجر و ثواب سے تغلیظاً باطل ہو جاتا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق مرتد کا خود شادی کرنا یا اپنی بیٹی کی شادی کرنا صحیح نہیں کیونکہ وہ کافر ہے اس کے لیے مسلمان عورت حلال نہیں اور ارتداد کی وجہ سے اس کی بیٹی کی ولایت زائل ہو گئی۔ ہاں اس کا احصان اس کے ارتداد کی وجہ سے باطل نہیں ہوگا۔ اگر ارتداد کے دور میں اُس نے زنا کیا پھر تائب ہو گیا اور اسلام قبول کر لیا تو سنگسار کیا جائے گا جیسا کہ اگر وہ توبہ کے بعد زنا کرتا تو سنگسار کیا جاتا ۔ اسی طرح اس کے ارتداد کی وجہ سے اس سے حدِ قذف (تہمت لگانا) اور چوری کی حد بھی ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ ارتداد نے اس کے لیے سختی کو اور

١؎ البقره : ۲۱۷ ۔

زیادہ کر دیا ہے۔

حنابلہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب مرتد کی قضا اس پر نہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد سَلَفَ ٢؎ جن لوگوں نے کفر کیا انہیں کہہ آجائیں تو ان کے پہلے گناہ معاف کر دی مرتدین سے مافات کی قضا کا تقاضا نہ ہو جاتے ہیں اور وہ اپنا حج بھی نہیں اعمال ضائع نہیں ہوتے۔ اعمال ا واقع ہو جاتے۔ دلیل یہ آیت قرآ اگر کفر کی حالت میں اُسے موت نہ میں موت آجائے تو اس کے اعم

۴۴ ۔ ارتدادِ کبریٰ

اگر عالمِ اسلام کے کسی حصے جائیں اور اسلامی حکومت سے بغا ملک میں کافرانہ احکام اور قوا دیں تو وہ ملک یا شہر دارالحرب ہوں گے جو دارالحرب میں جاری مال و متاع مالِ غنیمت تصور ہ یا مصالحت کی پیش کش کو قبو

٢؎ الانفال ۳۸ ۔

صفحہ ۸۵

زیادہ کر دیا ہے۔

حنابلہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جب مُرتد دوبارہ اسلام لے آئے تو اس کی فوت شدہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی قضا اس پر نہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے "قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ لے" یعنی جن لوگوں نے کفر کیا انہیں کہہ دیجیے (اے رسول !) اگر وہ (اپنے افعالِ بد سے) باز آجائیں تو ان کے پہلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ اور حضرت ابوبکرؓ کا یہ فعل بھی کہ انہوں نے مرتدین سے مافات کی قضا کا تقاضا نہیں کیا، کیونکہ توبہ سے اسلام کی طرح سب اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ اپنا حج بھی نہیں لوٹائے گا، کیونکہ ہلاکت سے قبل توبہ کر لینے سے اس کے اعمال ضائع نہیں ہوتے ۔ اعمال اُس وقت ضائع ہوتے ہیں جب ارتداد کی حالت میں موت واقع ہو جائے۔ دلیل یہ آیت قرآنی ہے "وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ.. کہ الخ اگر کفر کی حالت میں اُسے موت نہ آئے تو اس کے اعمال ضائع نہیں ہوں گے۔ اگر کفر کی حالت میں موت آجائے تو اس کے اس دُنیا کے اعمال اور آخرت کا اجر ضائع ہو جائیں گے۔

۴۴ - ارتدادِ کبریٰ

اگر عالمِ اسلام کے کسی ملک یا کسی شہر کے مسلمان جو شان و شوکت کے مالک ہوں مُرتد ہو جائیں اور اسلامی حکومت سے علیحدگی یا اُمتِ محمدیہ سے علیحدگی کا اعلان کردیں اور اپنے شہر یا ملک میں کافرانہ احکام اور قوانین جاری کر دیں اور شریعت کے احکام اور قوانین کو معطل کر دیں تو وہ ملک یا شہر دارالحرب اور اس کے شہری حربی بن جائیں گے اور ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دارالحرب میں جاری ہوتے ہیں یعنی ان کا قتل اور ان کے ساتھ قتال جائز ہوگا اور ان کا مال و متاع مالِ غنیمت تصور ہوگا۔ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ان کی طرف سے صلح یا مصالحت کی پیش کش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ان کو اسلام یا موت میں سے ایک راہ

لے الانفال ۳۸ - کہ البقرہ ۲۱۷ -

صفحہ ۸۶

اختیار کرنے کی دعوت کے ماسوا اور کوئی صورت واجب و ضروری نہیں۔

امام اعظم یا اس کے نائب پر لازم ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرے، اس فتنے کی علامات کو مٹائے اور اس آگ کو بجھانے میں جلدی کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس آگ کے شعلے پھیل جائیں یا یہ شر عام ہو جائے اور اس کے سبب حکومت کا نظام اور توازن بگڑ جائے اور سخت مصیبت والے بہت بڑے خطرے میں (قوم و ملک) مبتلا ہو جائے۔

ایسے ہی ایک فتنہ نے ابوبکر کو آغاز عہد خلافت میں ایک لشکر تیار کرنے اور اس کے سالاروں کو مرتدین سے قتال کرنے اور ان کے فتنے کو فرو کرنے کا عہد لینے پر آمادہ کیا جب ان سے امام اعظم قتال کرے تو اسے حق ہے کہ وہ انہیں اسلحے سے قتل کرے یا آگ میں جلا ڈالے۔ اسے چاہیئے کہ ان میں سے جو پیٹھ پھیر کر بھاگیں ان کا تعاقب کرے، ان کے زخمیوں کو مار کر ان کا کام تمام کر دے، ان کے قیدیوں کو قتل کر ڈالے، ان کے اموال کو مالِ غنیمت بنالے، بالکل دار الحرب کے باسیوں کی طرح برابری کے اصول پر بخلاف باغیوں کے جیسا کہ ہم اس فصل کے آخر میں ان کے متعلق بیان کریں گے کیونکہ باغی مسلمان ہوتے ہیں اور اُن کا جرم (بغاوت) ایک سیاسی جرم ہوتا ہے، ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا جائے گا اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے خلاف بغاوت کرے۔

۲۵۔ بوقتِ ضرورت امام کا مرتدین کو جلا ڈالنے کا جواز

اگر کسی شہر کے باسی مرتد ہو جائیں اور امام پر ان کا معاملہ دشوار ہو جائے اور اُن کا شر بڑھ جائے اس فتنے کی آگ کے پھیل جانے کا ڈر ہو اور اسلامی حکومت کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو امام کو اگر مرتدین کے کسی گروہ پر قدرت حاصل ہو جائے تو اُس کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کو بُری طرح قتل کرنے اور آگ میں جلا کر مار ڈالنے کے احکام صادر کرے تاکہ جو اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں ان کے لیے درسِ عبرت ہو اور اس فتنے کی آگ فرو ہو جائے جیسے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کیا۔ اُنہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو ارتداد کی مشہور جنگوں میں مرتدین کے اس گروہ کو جلا ڈالنے کا حکم دیا جو مرتدین سے مختلف عناصر کی بیخ کنی نہ فرماتے تو اس فتنے کی اپنے دین پر قائم تھے اور اگر اسلامی حکومت عرب کی تاریخ ہی مختلف ہوتی لیکن اللہ جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر مرتدین کا نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔ يَأَيُّهَا بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ له ۔ اے وہ لوگو ہے کہ اس کی جگہ پس عنقریب اللہ ایسی ق محبت کرتی ہے۔ مومنوں کے لیے عاجز کی راہ میں وہ جہاد کرتے ہیں اور کسی الزام آیت فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّه رضوان اللہ علیہم اجمعین مراد ہیں جو مرتد حق میں سخت تھے۔ مرتدین کی بیخ کنی کر منتشر کرنے میں اور ان کے فتنے کی آگ نومولود سلطنت اسلامیہ کی بنیادیں مضبو سے نہیں ڈرتے تھے۔

یہی حال حضرت علی ابن ابی طال آپ کی طرف الوہیت منسوب کی

له المائدہ : ۵۴

صفحہ ۸۷

جلا ڈالنے کا حکم دیا جو مرتدین سے مختلف جنگوں میں ان کے زیر نگیں آگئے۔ اگر سیدنا ابوبکرؓ ان عناصر کی بیخ کنی نہ فرماتے تو اس فتنے کی آگ عربوں کے ان لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی جو اپنے دین پر قائم تھے اور اگر اسلامی حکومت (خلافت) کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہ کرتے تو آج عرب کی تاریخ ہی مختلف ہوتی لیکن اللہ نے اس کو سلامتی بخشی، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ مل کر مرتدین کا مقابلہ کیا وہ مخلص اور برگزیدہ لوگ تھے جن کی طرف اللہ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے ۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ ۫ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ط ١؎ ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے تم میں سے جو اپنے دین سے پھر گیا (جان لے کہ اس کی جگہ) پس عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا جسے وہ چاہتا ہے اور جو اس (اللہ) سے محبت کرتی ہے۔ مومنوں کے لیے عاجزی کرنے والے اور کافروں پر سختی کرنے والے اللہ کی راہ میں وہ جہاد کرتے ہیں اور کسی الزام لگانے والے کے الزام سے نہیں ڈرتے ہیں“

آیت (فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّوْنَهٗ) میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مراد ہیں جو مرتدین سے لڑے۔ اُنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور کفار کے حق میں سخت تھے۔ مرتدین کی بیخ کنی کرنے، اُنہیں جلانے اور قتل کرنے اور ان کی جمعیت کو منتشر کرنے میں اور ان کے فتنے کی آگ کو فرو کر کے اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے میں اور نومولود سلطنتِ اسلامیہ کی بنیادیں مضبوط کرنے میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔

یہی حال حضرت علی ابن ابی طالبؓ کا تھا۔ انہوں نے مرتدین کے ایک گروہ کو جنہوں نے آپ کی طرف اُلوہیت منسوب کی تھی اور منافق عبداللہ بن سبا یہودی کی ترغیب پر آپ کی

١؎ المائدہ : ۵۴

صفحہ ٨٨

محبت میں غلو کرتے تھے آگ میں جلا دینے کا حکم دیا تھا۔ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی طرف آیہ کریمہ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ ....... ....... میں اشارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مرتد کی دُگنی سزا مقرر کی ہے، ایک تو دنیا میں قتل کی اور دوسری جہنم میں ہمیشہ رہنے کی۔ مرتد کا حد کے طور پر محض قتل کر دینا اس کے ارتداد کی کافی سزا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مرتد کی موت مسلمان کی موت ہوتی جیسے اس شخص کی مانند جو قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے یا سنگسار کیا جائے کیونکہ ان کا قتل ان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اسی لیے وہ باقاعدہ غسل تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے بعد مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیے جاتے ہیں لیکن مرتد کا قتل بطور حد نہیں ہے اس کے حق میں اور یہ دنیا میں اس کی سب سے کم سزا ہے قتل اس کے لیے مقرر ابدی عذاب کے مراحل میں پہلا مرحلہ ہے اسی لیے قتل کے بعد اسے نہ غسل دیا جاتا ہے نہ اس کی تجہیز و تکفین ہوتی ہے نہ اس کی نماز جنازہ ہوتی ہے اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جاتا ہے۔

مزید برآں ارتداد قابل حد جرائم میں سے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو حاکم کے لیے اس کی سزا میں کمی بیشی کرنا جائز نہ ہوتا۔ کیونکہ حدود اللہ تعالیٰ کا حق ہیں اور کسی کو ان حدود سے تجاوز کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ اسی لیے مرتد کا قتل اس کے جرم کا پورا بدلہ نہیں ہے کیونکہ ارتداد ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا قتل سے بھی بڑی ہے۔ مرتد کے قتل کا مقصد اس کے فتنے کا قلع قمع کرنا اور اس کے پھیلنے سے روکنا اور اس نظام کی حفاظت کرنا ہے جس پر اسلامی معاشرہ کی اساس قائم ہو۔ اور اس حکمت کو سب سے پہلے سمجھنے والے حضرت ابو بکر صدیق تھے جنہوں نے مرتدین کی ایک جماعت کو جلانے میں پہل کی پھر خلیفہ چہارم حضرت علی ابن ابی طالب نے بھی آپ کے فعل کی پیروی کی اور دونوں جس درجے کے صحابی ، اہل علم ، فقیہ اور متقی تھے سب پر عیاں ہے۔

٤٦ ۔ امام کا مرتدین کو جلانے مرتدین کی بیخ کنی کی غرض یہی ہے کہ انہیں مروجہ آلات ہے۔ اور یہ بھی عام قاعدہ ہے القتلة ۔ جب تم قتل کرو تو اچھی آرام سے ذبح کرنے کا حکم ہے عنہما نے مرتدین کو جلا دینے کا عمل

٤٧ ۔ مرتد اہالیان شہر کی عرب یا اسلامی ممالک میں دے اور شریعت اسلامیہ پر عمل اور قوم اس نئی تبدیلی کو قبول کرے کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو رضامند ہو گئے۔ امیر المومنین ملک کو از سر نو فتح کرنے کا نیا کے ساتھ جنگ سے افضل ہے کے ساتھ صلح یا ان کی طرف رجوع حاضر کے ہر اس ملک کی مثال شریعت اسلامیہ کی جگہ خود ساختہ

٤٨ ۔ دین کو سیاست سے جدا

۱۔ مؤلف کی ایک دوسری کتاب بعنوان کچھ مزید اضافے کے بعد اسے

صفحہ ٨٩

۴۶۔ امام کا مرتدین کو جلانا ایک عام قاعدہ نہیں ہے

مرتدین کی بیخ کنی کی غرض سے انہیں آگ میں جلا ڈالنا کوئی عام قاعدہ نہیں ہے۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ انہیں مروّجہ آلاتِ قتل (جیسے تلوار یا عصرِ حاضر میں گولی مار دینا) کے ذریعے قتل کرنا ہے۔ اور یہ بھی عام قاعدہ ہے کہ مقتول کو آرام دہ طریقہ سے قتل کیا جائے۔ واذا قتلتم فاحسنوا القتلة ”جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو۔ یعنی تلوار کی دھار کو تیز کر لینے اور ذبیحہ کو آرام سے ذبح کرنے کا حکم ہے (یعنی جلدی سے)۔ اسی لیے حضرت ابو بکر صدیق اور علی رضی اللہ عنہما نے مرتدین کو جلا دینے کا عمل دوبارہ نہیں دہرایا۔

۴۷۔ مرتد اہالیانِ شہر کی مثال

عرب یا اسلامی ممالک میں سے کوئی دوسرا ملک اگر اسلامی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دے اور شریعت اسلامیہ پر عمل کو منسوخ کر دے اور اس کی جگہ خود ساختہ قوانین رائج کر دے اور قوم اس نئی تبدیلی کو قبول کر لے تو وہ ملک دار الحرب بن جاتا ہے اور اس کے باشندے حربی کیونکہ انہوں نے دین اسلام کو رد کر دیا اور غیر منزل من اللہ قوانین کے مطابق فیصلے کرنے پر رضامند ہو گئے۔ امیر المؤمنین پر لازم ہو جاتا ہے کہ فی الفور اس قوم سے قتال کر کے ان کے ملک کو از سرِ نو فتح کرنے کا بندوبست کرے یا اقدام کرے اور ان کے ساتھ جنگ پیدائشی کفار کے ساتھ جنگ سے افضل ہے۔ وہ اسلام یا موت میں سے ایک راہ اختیار کر سکتے ہیں ان کے ساتھ صلح یا ان کی طرف سے مصالحت یا فدیہ کی پیش کش کو قبول کرنا حرام ہے اور دورِ حاضر کے ہر اس ملک کی مثال ایسی ہے جس کے باشندے دین کو سیاست سے علیحدہ کرنے اور شریعت اسلامیہ کی جگہ خود ساختہ دستور نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

۴۸۔ دین کو سیاست سے جدا کرنے کے بارے میں ائمہ عظام کے فتوے ۱؎

۱؎ مؤلف کی ایک دوسری کتاب بعنوان ”مؤامرۃ فصل الدین عن الدولۃ“ ہے۔ اگر قارئین کرام کے لیے ممکن ہو تو وہ بھی پڑھ لیں۔ کچھ مزید اضافے کے بعد اسے دوبارہ طبع کرنے کا ارادہ ہے۔

صفحہ ۹۰

”دین کو سیاست سے جُدا کرنے کی سعی و کوشش کرنا صریحاً کفر ہے اس کی کوشش کرنے والا مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہے اور اہل قبلہ کے عقیدہ سے جُدا ہے۔ اس سے نکاح اور اس کا ذبیحہ حلال نہیں“

امام کوثری

”دین کو سیاست سے جُدا کرنے کا مطلب دین کے بڑے نمایاں حقائق کو منہدم کرنا ہے اس کے لیے مسلمان اس وقت تک ایسا اقدام نہیں کرتے جب تک وہ غیر مسلم نہ ہو جائیں“ (یعنی ایسا کرنے والے غیر مسلم ہیں)

امام محمد خضر حسین

”دین کو سیاست سے جُدا کرنے کا مطلب دینِ متین کے خلاف سرکاری بغاوت ہے۔ بلکہ پہلے حکومت کا باغی ہونا، پھر اُمت کا۔ اگر قوم اس پر خاموش تماشائی بنی رہے تو یہ کفر کا نزدیک ترین راستہ ہے“

شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری

” اس امر پر سب متفق ہیں کہ جو شخص اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں سے کسی کو بھی رَدّ کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے خواہ اس کا رَدّ شک کی وجہ سے ہو یا اسے قبول نہ کرتا ہو یا اسے سرے سے تسلیم ہی نہ کرنے کی وجہ سے ہو۔ اور جو کچھ شریعت کے خلاف ہے وہ مسلمانوں پر حرام ہے خواہ اس کا حکم دیا جائے یا کسی بھی حاکم نے اسے مباح قرار دیا ہو۔ اور جو شخص مسلمانوں میں غیر منزل من اللہ احکام رائج کرتا ہے اور منزل من اللہ قوانین کو کُلاً یا جزاً بغیر تاویلِ صحیح کے ترک کرتا ہے تو وہ ان میں سے کسی ایک کا مصداق ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں موصوف کیا ہے۔ کفر، ظلم، فسوق جو بھی اس کے حسب حال ہو .... اور علماء و فقہاء میں اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ شریعت

صفحہ ۹۱

اسلامیہ کے خلاف ہر قانون سازی باطل ہے اس کی اطاعت واجب نہیں“ عبدالقادر عودہ شہیدؒ

فرمودہ اقبال ؎

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

۴۹۔ خلافتِ اسلامیہ کے احیاء کی کوشش مسلمانوں پر فرضِ عین ہے

جب یہ واضح ہے کہ اسلام بغیر شریعت اور شریعت بغیر نظام اور امام کے بے معنی ہے تو خلافتِ اسلامیہ کے احیاء اور اس کی وسیع وعریض حکومت کے قیام اور اس کی خالص شریعت اور اس کے عادلانہ احکام کے نفاذ کے لیے اصرار کی ضرورت بھی واضح ہے جس کی رو سے دین پر صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کی عبادت کا حق ہے لیکن حال یہ ہے کہ ہم اسلام کے متن کے بجائے حاشیے پر زندگی گزار رہے ہیں اور ایک مردہ مذہبی طریقے کے لیے باہم کوشاں ہیں جس میں نہ روح ہے نہ زندگی کی رمق، ہم ارتداد اور ضیاع کے عالم میں رہ رہے ہیں جسے ہم عالمِ اسلام کا نام دیتے ہیں لیکن یہ بات مشکوک ہے کہ واقعی ہم حقیقی مسلمان ہیں؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت دین سے نکل گئی ہے اور مرتد ہوچکی ہے بے خبری میں یا دیدہ دانستہ ۔ اور ہماری حالت اس مچھلی کی طرح ہے جو ارتداد کے بحرِ بیکراں میں تیر رہی ہو، وسیع وعریض سمندر کہ افق میں جس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا اور نہ اس میں ٹھہراؤ ہے، تموج ہے۔ ..... دُور بہت دُور ..... تاریکیاں ..... ایک دوسرے کے اوپر ۔ تہ بہ تہ ۔ اور یہ سارے کا سارا اللہ کے لیے ہے۔

لہٰذا دنیا میں ضائع ہونے اور آخرت میں ہلاکت سے بچنے کے لیے ہر مسلمان کے لیے جو شریعتِ اسلامیہ پر عمل سے تہی دَور میں زندہ ہے، اگر وہ مسلمان رہنا چاہتا ہے تو اُس کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کرے ورنہ اس کا مُرتدین میں شمار ہوگا۔ دَورِ حاضر میں دعوتِ اسلامی کے شہرۂ آفاق داعی امام حسن البنا شہیدؒ اپنے

PDF 92

ایک خطاب میں یہ رائے قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اور اخوان المسلمون کو اپنے طریقہ کار اور حکمت عملی میں خلافت کی فکر اور اس کے احیاء کے لیے کوشش کو شامل کرنا چاہیے“ وہی خلافت جس کو ختم کرنے کے لیے یہود و ہنود ۱۳ صدیوں سے پہلے مشرکین اور دورِ جدید میں یورپی حکومتوں کی اعانت سے مسلسل اور برابر کوشش کرتے رہے ہیں حتیٰ کہ سُلطان عبدالحمید کے زوال کے ساتھ ان کا زوال رُک گیا اور عروج شروع ہو گیا۔

اور سقوطِ خلافت اور شریعت کے میدانِ حیات سے نکل جانے سے مسلمان ہر جگہ شکست کھاگئے اور تہذیب و تمدن کے میدان سے اُن کا دورِ حکومت رخصت ہو گیا اور وہ اپنے دشمنوں یعنی صہیونیوں اور صلیبیوں کے غلام بن گئے اور ان کا اسلام ایک بے جان مذہبی رسوم و رواج اور بے رُوح حرکات و سکنات اور بے فائدہ زبانی جمع و خرچ کا سامان بن کر رہ گیا ہے۔ جو نہ اس کی تقویت کا باعث ہے اور نہ ہی رفع حاجتِ شکم کا موجب۔

ان جملہ حالات کی بنا پر ہمارے نزدیک خلافتِ اسلامیہ کے احیاء اور قیام کی کوشش ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے تا آنکہ گم شدہ حکومت قائم ہو جائے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔

۵۰۔ وائے افسوس بر مسلمین :

فقہاء کی کتب میں یہ نص موجود ہے کہ اگر کسی شہر کے شہری اجتماعی طور پر اذان جیسے شعار کو قصداً ترک کر دیں تو امامِ اعظم کا حق ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ ان کے خلاف اعلانِ جنگ کرے تا آنکہ اس شہر کی فضا میں اللہ کا کلمہ پھر سے بلند ہو جائے لیکن آج کے مسلمان تو تمام شریعتِ اسلامیہ اور اس کے احکام کے تارک ہیں اور آج کے فقہا اس پر بھی خاموش ہیں۔ آخر وہ کب زبان کھولیں گے اور کب سمجھیں گے ۔ آج کے مسلمانوں پر حیف صد حیف ۔ ان کا خسارہ کتنا عظیم ہے ۱؎

۱؎ اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لیے ملاحظہ ہو مؤلف کی کتاب ”مؤامرة فصل الدین عن الدولة“

اور ان کا حال کیا ہی برا ہے، گویا کا

لہٰذا آج کے مسلمان اعصاب ان کے حالات بدتر ہوچکے ہیں ا اور حرام کو حلال کیے ہوئے ہیں اور اپنے بھائیوں سے انہیں جدا دیتے اور نہ اللہ کی طرف متوجہ ہو شکار ہیں۔ مومنوں کے لیے سخت بھیڑیوں کو دعوت دیتے ہیں جیس خوردنی کی طرف ایک دوسرے کا حکم کرتے ہیں اور جو ما انزل اللہ ہیں لیکن حقیقت میں مدہوش نہیں حیف صد حیف مسلمانوں پر اقبالؔ ؎ گنوادی ہ

ثریا نے زم

اور اپنی آنے والی نسلوں کے حق اور جہاد جو مسلمانوں کا شعار تھا اُسے اب چو اور قرآن پکار پکار کر انہیں ”يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ

صفحہ ۹۳

اور ان کا حال کیا ہی بُرا ہے، گویا کہ وہ شاعر کے اس مزاحیہ شعر کے مصداق ہیں ؎

سو جاؤ اور مت جاگو
کہ نیند سی کوئی کامیابی ہے

لہٰذا آج کے مسلمان اصحاب کہف سے بھی زیادہ گہری اور لمبی تان کر سوتے ہوئے ہیں ان کے حالات بدتر ہوچکے ہیں اور ان کے سر ذلت سے جھکے ہوئے ہیں۔ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیے ہوئے ہیں، وہ اپنے دشمنوں سے بڑی محبت اور مودت سے ملتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے انہیں عداوت ہے، مخلص اور داعی کی نصیحت کا جواب تک نہیں دیتے اور نہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب انہیں اللہ کی یاد دلائی جائے۔ باہمی رسہ کشی کا شکار ہیں۔ مومنوں کے لیے سخت گیر ہیں اور کفار کے لیے نرم گوشہ دل ۔ اپنی چیر پھاڑ کے لیے بھیڑیوں کو دعوت دیتے ہیں جیسا کہ ضیافت پر بلائے ہوئے لوگ دستر خوان پر چنی ہوئی اشیاء خوردنی کی طرف ایک دوسرے سے گوئے سبقت لے جانے کے لیے لپکتے ہیں غیر ما انزل اللہ کا حکم کرتے ہیں اور جو ما انزل اللہ کی دعوت دیتا ہے اس سے لڑتے ہیں۔ وہ مدہوش نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں مدہوش نہیں لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔

حیف صد حیف مسلمانوں پر جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی عظمت و بزرگی کو گنوا دیا بقولِ اقبال ؎ گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا نے زمین پر آسماں سے ہم کو دے مارا

اور اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق کو پامال کر دیا، ان کے لیے کچھ نہ چھوڑا جس پر وہ فخر کر سکیں، اور جہاد جو مسلمانوں کا شعار تھا اُسے منسوخ کر دیا۔ اب جس کی بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی۔

اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال

اور قرآن پکار پکار کر انہیں یہ دعوت دے رہا ہے : ”يَاقَوْمَنَا أَجِيْبُوا دَاعِيَ اللّٰهِ... وَمَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ“

صفحہ ۹۴

وَلَيْسَ لَهُ مِنْ دُوْنِهِ أَوْلِيَاءُ ط۔

"اے ہماری قوم اللہ کے داعی کی پکار پر لبیک کہو۔۔ اور جو اللہ کے داعی کی پکار کا جواب لبیک سے نہیں دیتا وہ جان لے، کہ زمین میں کہیں جائے پناہ نہیں ہے، اور اللہ کے سوا اس کا کوئی دوست نہیں"

حیف ہے آج کے مسلمانوں پر ! گروہ در گروہ راہِ راست سے پیٹھ پھیر گئے ہیں اور جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے باز نہیں آتے بلکہ اسے کیے بغیر نہیں چھوڑتے۔ اور جن بُرے کاموں کی بدولت پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں وہی کام یہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بندوں کو انہوں نے معبود بنایا اور ظالموں کو تقدیس کا درجہ دیا۔ اور بتوں کو خدا بنایا اور کتاب اللہ کے علاوہ اپنا قرآن بنایا اور شریعت کے سوا اپنے دستور بنائے۔ ان کا انصاف و عدل بگڑ گیا اور ان کے ضمیر اور ذمہ داریاں بھی خراب ہو گئے اور حقوق پامال ہو گئے اور باطل کا لبادہ اوڑھ لیا۔ زمین زمین نہ رہی اور انسان انسان نہ رہے۔ ان سب کے پیچھے یہود کی سازشوں کا ہاتھ ہے اس کے باوجود ہم ان کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے کوشش کرتے ہیں ان کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ان کے اقدام کی وجہ سے ہم ذلت و نکبت کا شکار ہیں۔ پھر بھی یہ دعویٰ ہے کہ ہم آزاد و حُریّت پسند لوگ ہیں، ہم طاقتور، متمدن، باہم متحد اور ایک دوسرے کے خیر خواہ و تابعدار ہیں، حالانکہ غلام ہیں، پسے ہوئے ہیں، ذلیل و خوار ہیں حیف ایسی مسلمانی پر، اے کاش کہ میری قوم یہ جان لیتی کہ : ع

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

اور اے کاش کہ میری قوم کو شعور ہوتا اور وہ سمجھ جاتی۔ بقولِ اقبالؒ :۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

۱؎ الاحقاف ۳۱ - ۳۲

ضمیمہ

۵۱- حضرت ابوبکر صدیقؓ

حضرت ابوبکر صدیقؓ جس میں انہیں نصیحت کی گئی گئی اور انہیں اسلام کی طرف د میں تمہاری طرف ع کو بھیج رہا ہوں اس ح تاکہ اُسے اللہ کی و اور اس پر ثابت قدم ر کر لو اور اس کی مدد کرو قتال کرو۔ تا آنکہ ان م یا جس طرح بھی قتل کیا ج قبول نہ کر لئے" مورخ اس مراسلے کی ت "ہمارے علم کے م نے صادر فرمایا، کہ یہ ب

۵۲- حضرت ابوبکرؓ کا فرمان

حضرت ابوبکرؓ نے اُن ا جن میں اُن کو مُرتدین سے لڑ

۱؎ تاریخ الاسلام از شیخ م

صفحہ ٩٥

ضمیمہ (پہلے باب کی تیسری فصل کا)

۵۱-حضرت ابوبکر صدیق کا خط (سرکلر) مرتدین کے نام

حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کی طرف ایک گشتی مراسلہ بھیجا، اُن سے جنگ چھیڑنے سے پہلے۔ جس میں اُنہیں نصیحت کی گئی تھی اور اللہ اور اس کے رسول کی یاد دلائی گئی تھی، توبہ کی ترغیب دی گئی اور اُنہیں اسلام کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی گئی تھی، جس کا متن یہ ہے :-

”میں تمہاری طرف مہاجرین و انصار اور تابعین کے لشکروں کے سالار (فلاں) کو بھیج رہا ہوں اس حکم کے ساتھ کہ وہ تم میں سے کسی سے نہ جنگ کرے نہ اسے قتل کرے تا آنکہ اُسے اللہ کی دعوت کی طرف نہ بلائے پس جس نے اس کی دعوت قبول کر لی اور اس پر ثابت قدم رہا اور باز آگیا (کفر سے) اور نیک عمل کیے اس کی توبہ قبول کرلے اور اس کی مدد کرے۔ اور جس نے انکار کیا تو مَیں نے اسے حکم دیا ہے کہ اس سے قتال کرے۔ تا آنکہ ان میں سے ہر ایک پر غلبہ پالے اور انہیں آگ میں جلا ڈالے یا جس طرح بھی قتل کیا جاسکتا ہو قتل کرے اور ان کا اسلام کے سوا کوئی عذر قبول نہ کرلے۔“

مورخ اس مراسلے کی شرح کرتے ہوئے لکھتا ہے :-

”ہمارے علم کے مطابق یہ سب سے پہلا گشتی مراسلہ ہے جو خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ نے صادر فرمایا تاکہ یہ لوگوں کے مجمعوں میں اور ان کی مجلسوں میں پڑھا جائے ۔“

۵۲-حضرت ابوبکر کا فرمان مرتدین کے خلاف سپہ سالاروں کے نام

حضرت ابوبکر نے اُن سپہ سالاروں کے نام بھی خطوط لکھے جو مرتدین کے خلاف برسرِ پیکار تھے جن میں اُن کو مرتدین سے لڑنے اور ان کے فتنے کو کچلنے کی وصیت ان الفاظ میں کی تھی، نمونہ

۱؎ تاریخ الاسلام از شیخ محمد الخضری ، ج ۱، ص ۱۰۵، طبع ہشتم

صفحہ ٩٦

ملاحظہ ہو :

"یہ فرمان ہے حضرت ابو بکر خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فلاں کے نام جنہیں ان کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ وہ ہر اُس شخص سے جنگ کرے جو دینِ اسلام سے پھر گیا ہے .... (پھر آخر میں ان الفاظ پر مراسلے کو ختم کیا ہے) :

"جس نے انکار کیا اسے قتل کرو ، اگر اللہ نے اس پر غلبہ عطا کیا تو اسے ہر طرح ہتھیاروں سے یا آگ میں جلا کر قتل کر ڈالئے ١؎

۵۳۔ خلیفۂ اول اور خلیفۂ چہارم کا دفاع

بعض مسلمان حضرات خلیفۂ اول اور چہارم کے ادوار میں مرتدین کے دو گروہوں کے آگ میں جلائے جانے کے واقعہ کو تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے تعجب کی بڑی وجہ غالباً اس امر پر حیرت ہے کہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مقررہ سزا کو کیسے ایک شدید یا خفیف سزا میں تبدیل کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ امامِ اعظم اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں وہ ان میں کمی بیشی نہیں کرتے۔

ان کے استغراب و تعجب کا دوسرا سبب یہ ہے کہ سنت تو یہ ہے کہ مقتول کو آرام دہ طریقے سے قتل کرنا اور موت سے قبل اس کے عذاب میں تخفیف کرنا ہے۔ اور ان کے استعجاب کا تیسرا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں سزا کے طور پر جلانے سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلانے پر تعجب کرنے والوں میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور شیعہ حضرات بھی شامل ہیں۔ امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو جب یہ علم ہوا کہ حضرت علیؓ نے ایک گروہ کو آگ میں جلا ڈالا ہے تو آپؓ نے فرمایا : اگر اُن (علیؓ) کی جگہ میں ہوتا تو انہیں

١؎ ایضاً ص ١٧٦ بحوالہ مذکور ۔

صفحہ ۹۷

نہ جلاتا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللّٰهِ ۔ لوگوں کو وہ سزا نہ دو جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اور میں ان کو (مرتدین) قتل کرتا۔“ ہم ان سب کا استعجاب دُور کرنے کے لیے درج ذیل دلائل پیش کرتے ہیں :

جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے یہ بات اس پر مخفی نہیں کہ حضرات ابوبکر و علی رضی اللہ عنہما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت، عالی مرتبے، کثرتِ علم و عرفان، بے حد و حساب سمجھ بوجھ اور فہم و فراست، دِقّتِ نظر، زہد، تقویٰ، ورع کی بنا پر جس اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں، اُس کے پیشِ نظر ان کے بارے میں قرآن و سُنت سے بے بہرہ ہونے اور اللہ و رسول کی مخالفت کے الزام کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور میرے جیسے ناچیز کو اگر ہزار سال عمر بھی عطا ہو تو بھی ہم سے بتمام و کمال مدح و ثنا ممکن نہیں۔

جب ان دونوں کے عُلوِ مرتبت کا یہ حال ہے تو مسلمان کے علم میں یہ بات اچھی طرح راسخ ہونی چاہیے کہ انہوں نے جو احکام صادر فرمائے وہ شریعتِ مطہرہ اور سُنتِ نبویہ مطہرہ کے منافی کیسے ہو سکتے ہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے کیا عین سُنتِ نبوی کے مطابق کیا صحبتِ رسالتمآب اور فقاہتِ دین کے جس مقام تک ان کی رسائی تھی، استعجاب کا اظہار کرنے والے ہرگز اُس مقام تک رسائی نہیں رکھتے تھے (ان میں وہ صحابہ کرام بھی شامل ہیں جو اس پر متعجب ہوتے)۔

پہلے شبہے کا جواب تو یہ ہے کہ ارتداد اُن جرائم میں سے نہیں جن کی حد ایک مقررہ سزا ہے، جیسا کہ اکثر لوگوں اور فقہ کا شوق رکھنے والوں کا خیال ہے۔ مُرتد کے قتل کا مقصد وحید اس خطرے کو پھیلنے سے روکنا ہے۔ جہاں تک اس کی سزا کا تعلق ہے تو وہ اُس کے ربّ پر ہے جو اُسے جہنّم میں ہمیشہ جلائے گا۔ اگر قتل محض ارتداد کی کافی سزا ہوتی تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے دو سزائیں نہ رکھتا۔ ایک اس دُنیا میں (قتل) اور دوسری اُس دنیا میں (خُلود فِی النّار)۔ اگر ارتداد کے جُرم کے لیے قتل کی سزا کافی ہوتی تو مقتول کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کیا جاتا جو حد کے طور پر قتل کیے جاتے ہیں۔ برعکس اس کے نہ اُسے غسل دیا جاتا ہے نہ ان کی تجہیز و تکفین ہوتی ہے۔ نہ

صفحہ ۹۸

نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوتے ہیں۔ مالکیہ تو انہیں غیر مسلموں کے قبرستان میں دفن کرنے کے بھی خلاف ہیں تاکہ درس عبرت ہوں۔

دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے قبل ازیں کہا ہے کہ مرتد کے قتل سے مقصود اس کے شر اور خطرے کو مزید پھیلنے سے روکنا اور جو اس کے پشت پناہ ہیں ان کو تنبیہ کرنا ہے۔

ہر قتل حالات و ظروف اور وقت کا تقاضا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو یہ مشروع ہے (مرتد کا قتل کرنا) اور دوسری طرف اس کا ساتھ دینے والوں کو اس کے انجام کے ذریعے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ ارتداد سے باز رہیں۔ انجام کے خوف سے تو اس کا مقصد اس کے جراثیم کی بیخ کنی ہے مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتد کے قتل کا کوئی خاص طریقہ معین نہیں کیا (کہ جس کے علاوہ کوئی اور طریقہ انسان اختیار نہیں کرسکتا۔ مترجم)۔

تیسرا اعتراض کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی سزا سے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو یہ قاعدہ عام ہے جیسا کہ آپؐ نے جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن بعد میں مرتد عورتوں کو قتل کرنے کی اجازت دے دی۔ اس میں کوئی حرج نہیں مزید برآں اس فعل کو دونوں حضرات میں سے کسی نے دوبارہ نہیں دہرایا۔ لہٰذا یہ ایک عام قاعدہ اور قابل تقلید نمونہ نہیں ہے۔ بس حالات و ظروف اس بات کے متقاضی تھے کہ آگ کے ذریعے اس فتنے کی بیخ کنی کی جائے جیسے طبیب ضرورت کے تحت عضو فاسد کو کاٹنے یا آگ سے داغنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور ضرورت کا تعین وقت کے تحت ہوتا ہے۔

نیز اگر دونوں حضرات کا یہ فعل اللہ و رسول کے مخالف ہوتا تو جمہور صحابہ جو تا قیامت امت محمدیہ کے برگزیدہ لوگ ہیں آپؐ کی مخالفت ضرور کرتے حتیٰ کہ ابن عباس نے بھی اعتراض نہیں کیا بلکہ اپنی مجرد رائے کا اظہار فرمایا تھا۔

۵۴۔ مرتد کی سزا قتل سے بھی بڑی ہے

جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ فقہ میں یہ نص موجود ہے کہ قتل مرتد ارتداد کی حد نہیں ہے نہ ہی یہ اس کے

صفحہ ۹۹

کفر کی مکمل سزا ہے بلکہ یہ اس کے شر کو اور اس کے خطرات اور اذیت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہے۔ اسی لیے جب مُرتد کو قتل کیا جاتا ہے تو وہ کافر کی موت مرتا ہے اور عذابِ دُنیا کے بعد برزخ کا عذاب اور عذابِ آخرت اس کا مقدر ہے۔ یہ ابدی عذاب کا ایک سلسلہ ہے، اللہ کی پناہ ۔ اگر مرتد کی سزا سے مُراد اس کے کفر اور اسلام سے اس کے ارتداد کا بدلہ دینا ہوتا تو دُنیا میں ہی اس کا جلا دینا قرینِ عدل وانصاف ہوتا بنسبت آخرت میں جہنم کی آگ میں ہمیشہ جلائے جانے کے، اور یہ اس کی سزا کے سلسلہ کا پہلا مرحلہ ہے لیکن شارع کی حکمت کے قربان جائیے کہ دُنیا میں آگ میں جلانے کو عام قاعدہ نہیں بنا دیا بلکہ اسے آخرت کے دن پر چھوڑ دیا ۔

۵۵ - جنگ میں عورت کے قتل کی ممانعت اور مُرتد عورت کے قتل کا حکم

یہ مسئلہ بھی عوام و خواص کی توجہ کا مستحق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کردہ حدیث میں ہے اور اس نہی کا فائدہ عام ہے۔ پھر آپؐ نے مرتد عورت کو اس سے مستثنیٰ قرار دے کر اس کے قتل کا حکم فرمایا جب آپؐ نے اُمِّ مروان کے قتل کا حکم صادر فرمایا کہ اگر وہ ارتداد سے توبہ نہ کرے ۔ یہ استثناء بھی قانون کا درجہ رکھتا ہے اور اس عام قاعدہ میں کہ عورتوں کو قتل نہ کیا جائے، ایک تخصیص ہے۔ جیسا کہ آگ میں جلانے کا مسئلہ ہے ۔

۵۶ - جدید نظریات پر قائم حکومتیں اپنے مخالفوں کو کیسے سزا دیتی ہیں

یہ سوال ہر دل میں اُٹھتا ہے کہ جدید نظریات پر مبنی حکومتیں مثلاً نازی، فاشسٹ، کمیونسٹ اور سوشلسٹ، حتیٰ کہ صلیبی حکومتیں جیسے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ وغیرہ اپنے نظاموں، مذاہب اور عقائد کے مخالفین کو کیا سزا دیتی ہیں۔

تاریخی اور مادی جنگیں جن سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور لاکھوں انسان جنہیں بھڑکتی آگ نگل گئی اور جو نیپام بموں اور آتشیں گولوں کی نذر ہوگئیں اور ان کے تباہ و مسمار شدہ مساکن جلتی ہوئی کھیتیاں اور کمزور آدمی اور مویشی اس پر نہایت عمدہ شاہد ہیں کہ بیسویں صدی اور اس سے قبل کی حکومتیں اپنے

صفحہ ۱۰۰

مخالفین کو کیسے سزائیں دیتی ہیں۔

۵۷- باغی اور مرتد میں فرق

اسلام نے چودہ صدی قبل سیاسی اور غیر سیاسی جرائم میں فرق واضح کر کے ساری دنیا پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ اس نے ارتداد اور بغاوت میں امتیاز کیا۔ اس کے نزدیک بغاوت محض ایک سیاسی جرم ہے جس کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور مسئولیت میں بھی کم بنسبت ارتداد کے، جو ایک ایسا جرم ہے جس کا تعلق عقیدے سے بہت گہرا ہے۔ باغی وہ سیاسی مجرم ہیں جو عقیدے کے لحاظ سے تو مسلمان ہی ہوں لیکن وہ کسی معقول دلیل یا شبہ کی بنا پر قوت حاکمہ کے خلاف ہوں اور اس کے خلاف مسلح خروج کریں۔ اور مرتدین اگر چہ ہتھیار بکف نہیں ہوتے حاکموں کے خلاف لیکن وہ باغیوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں حکومت کے لیے۔ ان دونوں کا بنیادی فرق درج ذیل ہے :-

مرتد

ملت سے خروج کے مترادف۔

کھانا جائز نہیں۔

ہے۔

مسلح ہو سکتا ہے۔

باغی

سے کوئی تعلق نہیں اور باغی بہر حال مسلمان رہتا ہے۔

بغاوت کا سبب ہو سکتی ہے۔

مرتد

کوئی نہیں جانتا اور بظاہر بھی ہوتا ہے۔

مکمل بیخ کنی ہوتا ہے۔

حرب کا استعمال ممنوع

کافروں کی مدد حاصل کر

زخمیوں اور میدان سے بھا والوں کا قتل جائز ہے۔

نہیں کیا جاتا۔ وہ کافر ہیں دیا جاتا ہے نہ تجہیز و تکفی جنازہ پڑھی جاتی ہے نہ مسل قبرستان میں دفن کیا جاتا ہ

صفحہ ١٠١

فرق واضح کر کے ساری دنیا پر سبقت یں کے نزدیک بغاوت محض ایک میں بھی کم بہ نسبت ارتداد کے، جو باغی وہ سیاسی مجرم ہیں جو عقیدے پر قوت حاکمہ کے خلاف ہوں اور ہوتے حاکموں کے خلاف لیکن ہے۔ ان دونوں کا بنیادی فرق

باغی

مسلح نافرمانی ہے جس کا عقیدے تعلق نہیں اور باغی بہرحال مسلمان ہوتے ہیں۔ اکثر کوئی غلط تاویل کا سبب ہو سکتی ہے۔ اعضاء جوارح کا فعل ہے۔ ایک مسلح اجتماعی فعل ہے۔ محض ارادہ قتل ہے۔

مرتد

کوئی نہیں جانتا اور حکومت کا مترقب بھی ہوتا ہے۔

مکمل بیخ کنی ہوتا ہے۔

حرب کا استعمال ممنوع نہیں۔

کافروں کی مدد حاصل کرنا منع نہیں۔

زخمیوں اور میدان سے بھاگ جانے والوں کا قتل جائز ہے۔

نہیں کیا جاتا۔ وہ کافر ہیں۔ انہیں نہ غسل دیا جاتا ہے نہ تجہیز و تکفین، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔

باغی

خروج کی وجہ سے نمایاں ہو جاتا ہے۔

دفع شر ہوتی ہے۔

ہوتے ہیں جیسے توپ کے گولوں سے گولہ باری یا ہوائی جہاز سے بمباری، یا ٹینکوں کے ذریعہ سے باغیوں کے ساتھ قتال حرام ہے۔

مدد طلب کرنا امام کے لیے حرام ہے۔

زخمیوں اور میدان سے پیٹھ پھیرنے والوں کا قتل حرام ہے۔

ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ ہوتا ہے غسل، تجہیز و تکفین، نمازِ جنازہ وغیرہ، اور انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔

صفحہ ۱۰۲

مرتد

جاتے ہیں۔

علماء سے حصولِ علم جائز ہے۔

کاٹنا اور ان کی کھیتیوں کو تلف کرنا، یا پانی جمع کرنے کی جگہوں (کنوئیں تالاب) کو تلف کرنا اور ان کی آرام گاہوں گھر وغیرہ کو منہدم کرنا جائز ہے۔

نہیں یا ان کی صلح کی پیشکش، فدیہ یا جزیہ کو قبول کرنا نا جائز ہے اور ان کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ اچانک جنگ چھیڑنا بھی جائز ہے۔

ہاتھ لگے اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

کوئی مطالبہ تسلیم نہ کیا جائے۔

باغی

ان کا اکرام کیا جاتا ہے حتیٰ کہ جنگ بند ہو جائے۔

فاسق اور اہلِ بدعت نہ ہوں ان کے علماء سے حصولِ علم جائز ہے۔

کاٹنا، ان کی کھیتیاں اور کنوئیں تالاب وغیرہ تلف کرنا اور ان کے گھروں کو منہدم کرنا جائز نہیں۔

قتال جائز نہیں۔ امام کو چاہیے کہ ان کے شبہ کو دور کرے۔ اور اُن کے خروج کا سبب معلوم کرے۔ اس کے باوجود اگر کوئی حل نہ نکلے تو اُن کے خلاف اعلانِ جنگ کرے۔

وغیرہ جو ہاتھ لگے وہ انہیں واپس کر دیا جائے۔

کے مطالبات کو پورا کرے۔

مرتد

معاف نہیں کر سکتا۔

پڑھنا جائز نہیں۔

طریقے سے کیا ہو۔

مرتد کی اہلیت، عدالت اور ساقط ہے۔

ہیں اور اپنے ابناء جنس سے جاتے ہیں۔

ہے اور حرام ہے۔

۱؎ اسے بغاوت کا نام نہیں د

صفحہ ۱۰۳

باغی

باغیوں کے اسیر قید میں ڈالے جاتے ہیں کام کیا جاتا ہے حتیٰ کہ جنگ بند ہو جائے باغیوں کی شہادت قابل قبول ہے اگر وہ فاسق اور اہل بدعت نہ ہوں ان کے علماء سے حصول علم جائز ہے۔ باغیوں کے ساتھ جنگ میں ان کے درخت کاٹنا، ان کی کھیتوں اور کنوئیں تالاب وغیرہ تلف کرنا اور ان کے گھروں کو منہدم کرنا جائز نہیں۔

باغیوں کا خون جنگ کے سوا معصوم ہے۔ صلح و صفائی کی کوشش سے قبل باغیوں سے جنگ جائز نہیں۔ امام کو چاہیے کہ ان کے شبہ کو دور کرے۔ اور ان کے خروج کا سبب معلوم کرے۔ اس کے باوجود اگر کوئی حل نہ نکلے تو ان کے خلاف اعلان جنگ کرے۔ جنگ کے اختتام پر باغیوں کا مال اور اسلحہ وغیرہ جو ہاتھ لگے وہ انہیں واپس کر دیا جائے۔ اگر باغی حق پر ہوں تو امام کو چاہیے کہ ان کے مطالبات کو پورا کرے۔

مرتد

معاف نہیں کر سکتا۔

پڑھنا جائز نہیں۔

طریقے سے کیا ہو۔

مرتد کی اہلیت، عدالت اور ولایت ساقط ہے۔

ہیں اور اپنے ابنائے جنس سے خود بخود کٹ جاتے ہیں۔

ہے اور حرام ہے۔

باغی

جائز ہے۔

نماز جائز ہے۔

کی اہلیت، عدالت اور ولایت ساقط ہے۔

شریعتِ اسلامیہ سے منحرف ہو جائے یا اس کی جگہ خود ساختہ قوانین نافذ کرے تو ایسے حالات میں مسلمانوں پر بغاوت واجب ہے اور مقدس فریضہ ہے ۱؎

۱؎ اسے بغاوت کا نام نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ جہاد ہے۔

صفحہ ١٠٤

فصل چہارم

سیاسی ارتداد کی اقسام اور جدید نظاموں اور قوانین میں

اُن کی سزا

۵۸ - تمہید

۵۹ ۔ سیاسی ارتداد اور اس کی سزاؤں کی مثالیں

صفحہ ۱۰۵

۵۸- تمہید

دین سے پھر جانا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور دساتیر میں کوئی ایسا قانونی جرم نہیں جس پر اور جس کی سزا پر ان میں کوئی نص موجود ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ خود ساختہ قوانین اور دساتیر زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ ارتداد مباح ہے اور مرتد نہ گناہ گار ہے اور نہ قابل مواخذہ جرم کا مرتکب یہ قوانین خود ساختہ جو اکثر عرب ممالک اور مزعومہ اسلامی ممالک میں مروج ہیں، عقیدے، فکر اور تعبیر کی آزادی کے پردے میں مرتد کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم یہاں ایک عرب ملک جو عربی الاصل اور اسلام کا علمبردار ہونے کا مدعی ہے، کے دستور کی چند شقیں اقتباس کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دوسری شق میں یہ مذکور ہے کہ ملک کا دین اسلام اور شریعت اسلامیہ اس کے دستور کا بڑا ماخذ ہوگی۔ پھر گمراہی یہاں پیدا ہوتی ہے جب ہم چھٹی شق پڑھتے ہیں جس میں قوم (عوام) کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا ہے یعنی قانون سازی کا حقدار بنایا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ پھر ۳۵ ویں شق میں اسلام کے خلاف ایک مکروہ سازش پوشیدہ ہے جس میں ہر شخص کو عقیدے کی آزادی عطا کی گئی ہے۔

اس طرح ہر شخص کے لیے اس بات کا دروازہ کھول دیا کہ ہر شخص جو اس کا جی چاہے عقیدہ رکھے خواہ وہ اعتقاداً کھلا کفر اور صریحاً اسلام سے ارتداد کے مترادف ہو پھر یہ مجنونانہ مکروہ سازش اور عظیم ہو جاتی ہے جب اس سے اگلی شق میں آزادی رائے کی ضمانت دی گئی ہے نیز ہر انسان کو اپنی رائے کی تعبیر اور زبانی یا تحریری اس کی نشر و اشاعت کا حق ہے۔ نیز اس سے قبل بتیسویں شق میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ آزادی رائے کوئی جرم نہیں اور اس کی کوئی سزا نہیں اگر وہ قانون کے منافی نہ ہو۔ اور جب قانون میں ارتداد جیسے جرم اور پھر اس کی سزا پر کوئی شق موجود نہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ارتداد کی آزادی کی بھی ضمانت دی گئی ہے اور مرتد کو اپنے ارتداد کی تعبیر زبانی یا تحریری طور پر کرنے کا حق ہے اگر یہ تعبیر قانون عامہ کے منافی نہ ہو۔ مضحکہ خیز امر تو یہ ہے کہ

صفحہ ۱۰۶

دستور میں (صدر مملکت) کی ذات کو ہر عیب سے مبرا قرار دیا گیا ہے کہ اس کی طرف کوئی انگشت نمائی نہیں کر سکتا۔ لیکن شریعت اسلامیہ کے متعلق ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ اس کی تقدیس پر حرف گیری نہ کی جاسکے جس کے تحت ، دستور کے طنبور (دستار) سے ایک اور نغمہ الاپا گیا ہے کہ جس کی ایک شق میں مملکت کا نصب العین امن و سلامتی ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس مملکت ، جو عربی اور اسلامی مملکت ہے ، کا نصب العین اسلام کی نشر و اشاعت اور خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے مبادیات کی تحقیق نہیں ہے۔ شاید اس کا راز وہ مسخ شدہ گرہ دار شخصیت ہے اور کمزور کا طاقتور کی تقلید محض ہے جو دھوکہ دہی پر مبنی ہے جیسے ایک کاہل طالب علم امتحان میں دھوکہ دیتا ہے۔ فرق صرف ایک ہے کہ کاہل شخص حرف بحرف نقل کرتا ہے لیکن انہوں (قانون سازوں) نے تھوڑے سے تصرف اور ردو بدل کے ساتھ نقل کیا ہے (دوسرے غیر ملکی اور غیر اسلامی قوانین کی)

ان خود ساختہ قوانین میں جو عرب اور اسلامی ممالک میں رائج ہیں دستور یا صدر مملکت کے خلاف بغاوت کو تو ایسا قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے کہ جس سے نظام مملکت متزلزل ہو جاتا ہے لیکن دستور سماوی سے بغاوت اور اللہ تعالیٰ کی ذات عالی مقام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ اور مخالفت کو سرے سے جرم ہی تصور نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ وہ نظام مملکت کی اساس کو متزلزل کرنے والا ہو۔

سب سے پہلے رومی قانون نے خود ساختہ دستور صدر مملکت کے خلاف بغاوت کو قابل تعزیر جرم قرار دیا۔ یہ خود ساختہ قوانین میں سب سے زیادہ مشہور قانون ہے جس میں دستور یا صدر مملکت کے باغی کو آگ میں جلا کر مارنے کی سزا دی جاتی ہے یا اسے ارباب اختیار اور معززین قوم کی موجودگی میں درندوں کے سامنے ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس کے چیتھڑے اُڑا دیں اور اس کو ہڈیوں سمیت کچا چبا جائیں۔

پھر حقوق کے میدان میں سیاسی جرائم کا اضافہ ہُوا۔ قانون بنانے والوں نے ان پر نئے نئے قوانین بنا لئے ۔ ان کی تعریف اور ان کی ماہیت اور پھر ان کی سزا کے متعلق موجودہ صدی

صفحہ ۱۰۷

اس کے لیے خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ لیکن حقوق کے لیے اس بھاگ دوڑ اور قانون سازی کے مقابلے میں شریعت اسلامیہ اور اسلامی عقائد کے متعلق نصوص انتہائی بے جان اور کمزور قسم کی ہیں اور وہ بھی شرما شرمی میں رکھ دی گئی ہیں کہ مسلمانی کی کچھ لاج رہ جائے یا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہ اسلامی ملک کا قانون برائے نام اسلامی ہے ۔ (مترجم)

ایک دوسرے عربی اور اسلامی ملک کے دستور میں اسلام کو ملک کا مذہب (دستور کی حد تک) عملاً نہیں قرار دیا گیا ہے۔ پھر اعتقاد کی مطلق آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، نیز مختلف ادیان کے احکام کے قیام کی آزادی کی حمایت کی ہے پھر دستور میں جرائم کے باب میں دفعتوں ۱۳۸ و ۱۳۹ میں ۴ جرائم سے متعلق نصوص کا ذکر ہے :-

ان ممالک میں جو اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور جن کے عوام دین اسلام کو عزیز جانتے ہیں اتنی ہی دستوری اور قانونی حمایت حاصل ہے جو آپ نے ملاحظہ کی۔ ان اسلامی ممالک کے وضع کردہ قوانین سے اسلام کو اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مسیحیت اور یہودیت جیسے ارضی ادیان کو فائدہ پہنچا ہے ۔ قانون نے شدہ شدہ وہی حمایت برخلاف شعائر دین اور ان کی پیدائش کے مقامات پر تشویش ، مساجد ، گرجا گھر ، کنائس وغیرہ عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی مخالفت اگرچہ ان میں شیطان کی عبادت کی جائے ۔ اور مُردوں تک کو ان سے فائدہ پہنچا ہے کہ ان کی قبریں ٹوٹ پھوٹ اور لوٹ مار اور بے پردگی سے محفوظ ہیں ۔ ان مقابر کی حفاظت شاید آثار قدیمہ اور سیر و سیاحت کے مقامات کے طور پر ہو جو زائرین کو دعوتِ سیاحت دیتے ہیں ۔

مزید برآں ان جرائم کا مُرتکب قانون کی نظر میں گناہ گار ہے اور گناہ بھی بڑے درجے کا ۔

صفحہ ۱۰۸

اور اس گناہ کی سزا ؟ آپ کو علم ہے اس گناہ کی کیا سزا ہے ۔ اگر آپ یہ جان لیں تو آپ کو اس قانون پر رحم بھی آئے گا اور ہنسی بھی ۔ ہماری اصلاح اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم ان خود ساختہ قوانین کو چھوڑ کر شریعت الہیہ کو نہیں اپناتے ۔ اللہ تعالیٰ کا قول سچا ہے : ”إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ“ ؎

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

۵۹۔ سیاسی ارتداد اور ان کی سزاؤں کی مثالیں

پہلے درجے کے جو جرائم ہیں وہ سیاسی جرائم ہیں جنہیں جدید حکومتیں جن کی اساس کسی عقیدہ پر ہے ، وطن، ملت اور نظام حکومت کے خلاف غداری تصور کرتی ہیں جو درج ذیل سیاسی ارتداد کے مظاہر پر مشتمل ہیں ۔

لہ الرعد : ۱۱

صفحہ ١٠٩

یہ سب اور ایسے ہی بہت سے جرائم ایسے ہیں جن کے مجرم کو جدید نظریات کی حامل حکومتیں جیسے کمیونسٹ، سوشلسٹ، نازی، فاشسٹ اور اکثر جمہوری حکومتیں موت کا مستحق سمجھتی ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں یہ جرم ارتداد نظام حکومت کو متزلزل کرنے اور ملک و قوم کے امن کو معرض خطر میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا یہ مُرتدین حکومت اور عوام کی لعنت ملامت کے سزاوار ہیں۔ اور ان کی کم سے کم سزا موت ہے لیکن سزائے موت کے طریقے ہر حالت، ملک اور نظام میں مختلف ہیں، مثلاً کمیونسٹ ممالک میں سیاسی مرتد کی سزائے موت کے اور المناک اذیتیں دینے کے ایسے ایسے طریقے مستعمل ہیں جن کا انسان گمان بھی نہیں کرسکتا۔ چند مثالیں مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہوں:-

اور دمِ آخرین تک یہ سلسلہ جاری رکھنا۔

اُتارنا۔

PDF 110

کو کاٹ دینا۔ کھوپڑی میں کیل سے سوراخ کرنا حتی کہ سیاسی مرتد کی موت واقع ہو جائے

اس بیسویں صدی میں جو تہذیب و تمدن کے عروج پر ہے ایسی اور بہت سی سزائیں مہذب حکومتیں اپنے سیاسی مخالفین کو روزانہ دیتی ہیں اور سب سے ہلکی سزا تاحیات قید ہے جسے آہستہ رو موت بھی کہا جاتا ہے لیکن بعض اوقات سزائے موت مقررہ مخالفت کے

اسباب یا مخالفت کی آزادی کو ختم کرنے کے اولاد کے لیے نان نفقہ مہیا نہ کر سکے وہ روٹی جائیں اور باپ کے نقش قدم پر چلنے سے باز جاننے والی اُمتوں کا مستقبل میں نامعلوم ہیں۔ اگر ہم اپنے رب کی طرف نہیں لوٹیں میں پھنسے رہیں گے اور اگر اللہ کی شریعت

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَ يَفْقَهُونَ ۱؂

(اے نبیؐ) کہو وہ اس پر قاد تمہارے قدموں کے نیچے سے کو دوسرے گروہ کی طاقت کا سے اپنی نشانیاں ان کے سام کیا نصیحت اور تنبیہ کا

۱؂ الانعام : ۶۵

صفحہ ١١١

اسباب یا مخالفت کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے دی جاتی ہے یا اس لیے کہ وہ آزادی سے اپنی اولاد کے لیے نان نفقہ مہیا نہ کر سکے وہ روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کے ایک گھونٹ کو ترس جائیں اور باپ کے نقش قدم پر چلنے سے باز رہیں۔ ان جادہ حق سے گریزاں اور شریعت الٰہی کو ہیچ جاننے والی اُمتوں کا مستقبل میں نامعلوم مشیت الٰہی پوشیدہ ہے عظیم مصائب ان کا مقدر بن چکے ہیں۔ اگر ہم اپنے رب کی طرف نہیں لوٹیں گے تو پستی و ذلت اور شدید معاشی بدحالی و تنگدستی کے جال میں پھنسے رہیں گے اور اگر اللہ کی شریعت کو نافذ نہیں کریں گے تو اللہ کا عذاب نازل ہو کر رہے گا۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ؕ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ ۱؎

”اے نبیؐ! کہو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے! دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں“

کیا نصیحت اور تنبیہ کافی نہیں ہے؟

۱؎ الانعام : ۶۵

PDF 112

باب ۵

اسلام میں ارتداد

اور معاشرتی

فصل اوّل :- قرآن میں آیات فصل دوم :- اسلام میں پہلا فصل سوم :- اسلام میں پہلا ارتداد فصل چہارم : عصر حاضر میں ارتداد اور مشنری ادارے

صفحہ ۱۱۳

باب دوم

اسلام میں ارتداد کی تاریخ اور نظامِ حکومت

اور معاشرے پر اس کے اثرات

فصل اول :۔ قرآن میں آیاتِ ارتداد اور اُن کی تفسیر۔

فصل دوم :۔ اسلام میں پہلے اور مابعد کے دینی ارتداد میں یہود کا ہاتھ تھا۔

فصل سوم :۔ اسلام میں پہلے اور مابعد کے سیاسی ارتداد میں یہود کا حصّہ۔

فصل چہارم :۔ عصرِ حاضر میں ارتداد کی تحریکوں کے پسِ پشت کمیونزم، فری میسنری اور مشنری اداروں کی کارروائیاں ہیں۔

صفحہ ۱۱۴

فصل اوّل

قرآن میں وارد آیاتِ ارتداد اور اُن کی تفسیر

۱؎ اس فصل میں ہم نے ارتداد کے متعلق جو چھ آیاتِ قرآنی بیان کی ہیں انہی پر ارتداد کا موضوع بس نہیں ۔ ہم نے اختصار کے ساتھ ان آیات کا انتخاب کیا ہے جن میں ارتداد کی صراحت آئی ہے ۔

صفحہ ۱۱۵
صفحہ ۱۱۶

۶۰۔ تمہید

قرآن کریم کی چھ آیات میں ایسے الفاظ کا صریحاً ذکر ہے جن کے معنی ارتداد کے ہیں، جن میں سے دو سورۃ بقرہ میں، دو سورۃ آل عمران میں، ایک سورۃ مائدہ میں، اور ایک سورۃ محمدؐ میں۔ یہ سب ہم اس فصل میں انشاء اللہ قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔ قرآن میں ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ارتداد کے موضوع پر ہیں اگرچہ صریحاً الفاظ نہیں ہیں جیسے سورۃ نحل کی یہ آیت :

مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ اِلَّا مَنۡ اُكۡرِهَ وَقَلۡبُهٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِيۡمَانِ وَلٰـكِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡكُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ

”جس شخص نے ایمان لانے کے بعد مجبوراً کفر اختیار کیا جبکہ اس کا دل ایمان کی دولت پر مطمئن ہو، لیکن جس نے شرح صدر کے ساتھ کفر اختیار کیا اُن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور اُن کے لیے عذابِ عظیم ہے۔“

ہم نے ان صریح اور واضح آیات کے ترجمہ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہم نے ان آیات کی شرح و بسط سے تفسیر میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ پہلے مشکل الفاظ کے معنی اور شرح دیتے ہیں۔ پھر جہاں ضروری سمجھا گیا آیات کے سبب نزول پر روشنی ڈالی ہے یا شانِ نزول واضح کیا ہے پھر آیات کے معانی بیان کیے ہیں۔ پھر سید قطب شہیدؒ کی شہرہ آفاق تفسیر ”فی ظلال القرآن“ میں ان آیات کی جو تشریح کی گئی ہے مختصراً بیان کیا ہے اور آخر میں ان آیات کے اہم مضامین کا لبِ لباب دیا گیا ہے۔ ہم اللہ عزوجل سے دست بدعا ہیں کہ اس علم کو ہمارے لیے نفع بخش بنائے اور رشد و ہدایت کی راہ ہم پر واضح کر دے اور ہمیں کامیابی سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین

۶۱۔ سُورۃ بقرہ میں ارتداد سے متعلق دو آیات

وَدَّ كَثِيۡرٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا ۚ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡحَقُّ ۚ (۱۰۹)

صفحہ ١١٧

”اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بناء پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے “

وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ - (۲۱۷)

” وہ تم سے لڑتے رہیں گے تا آنکہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیریں تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور حالت کفر ہی میں مر جائے تو ان کے دنیا و آخرت کے اعمال ضائع اور اکارت گئے یہی ہیں وہ لوگ جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے“

۶۲ - اجمالی معنی

مشکل الفاظ کے معنی :

وَدَّ - بمعنی اَحَبَّ اور تَمَنَّی ۔ اَحَبَّ : اس نے محبوب رکھا ۔ تَمَنَّی : اس نے خواہش و تمنا اور آرزو کی ۔ دونوں کا تعلق دل کے افعال سے ہے ، اعضاء و جوارح سے نہیں ۔

اہل الکتاب : یہود و نصاریٰ ۔ یہاں خصوصاً یہود مراد ہیں ۔

الحسد : حاسد کی یہ خواہش کہ محسود کو میسر نعمت اس سے چھن جائے ۔

حبطت اعمالہم : ان کا ثواب ضائع ہو گیا ۔ اِحْبَاطٌ اس وقت بولا جاتا ہے جب مویشی اتنا کھا جائیں کہ ان کا پیٹ پھول جائے اور خارج کچھ نہ ہو اور وہ اپھارے سے مر جائیں ۔

سبب نزول : پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مدینہ کے اکثر یہودی مسلمانوں کو بہ جبر و اکراہ اور ہر طریقے سے دین حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان سازشیوں کے سرغنوں میں حیی بن اخطب اور شاعر کعب بن اشرف جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ ۱۱۸

ہجو میں شعر کہا کرتا تھا تا کہ لوگ دین اسلام سے متنفر ہو جائیں بہت مشہور ہیں ۔ اُس نے حضرت حذیفہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو دین اسلام سے پھیرنے کی ترغیب و تحریص کے ذریعے بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔

ـــــ مفہوم : مُراد یہ ہے کہ یہود دینِ اسلام کے ظہور سے تہہ دل سے یہ چاہتے تھے کہ حتیٰ الوسع وہ مسلمانوں کے عقیدے کو متزلزل کریں اور ہر طریقے سے کیا مکر و فریب کیا ترغیب و تحریص سے انہیں اپنے دین سے پھیر دیں ۔ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اس وقت کے تمام معروف ذرائع اعلام انہیں میسر تھے ۔ حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ مسلمان حق پر ہیں ۔ یہ بات ان کی اپنی کتابوں سے بھی ظاہر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس کے باوجود وہ آپ کا انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں سے اپنے اندرونی حسد و کینہ کی وجہ سے حسد کرتے ہیں اس بات پر کہ یہ نبی منتظر ان کی قوم میں سے کیوں نہ ہوئے ۔

دوسری آیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اہلِ کتاب عموماً اور یہود خصوصاً ہمیشہ مسلمانوں کے مخالف اور دشمن رہیں گے ۔ یہ کبھی ان کے دوست ہو نہیں سکتے ہمیشہ ان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہیں گے اور ہر میدان میں ان کے خلاف ہر اسلحہ سے لیس ہو کر برسرپیکار ہوں گے، ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے اور اتنا مجبور و بے بس کرنے کی سعی کریں گے کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔

لہٰذا اے مسلمانو! یہودیوں کی سازشوں اور مکر و فریب کی چالوں اور ان کا تمہیں اپنے دین سے پھیرنے کا جو نصب العین ہے اس سے ہوشیار اور متنبہ رہو کہ جو ان کے باطل سے متاثر ہوگا ان کی اغراض کے تابع ہوگا اور ان کے مکر و فریب کے جال میں پھنس جائے گا تو وہ اپنے دین سے پھر جائیگا اور اگر وہ اسی ارتداد کی حالت میں مر گیا تو کافر کی موت مرے گا ۔ اس کے اعمال اور ان کا اجر و ثواب ضائع ہو جائیں گے اور وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہے گا اور اس کے کفر کی حالت میں مرنے کی وجہ سے اس کا ابدی ٹھکانہ جہنم میں ہوگا ، کیونکہ ارتداد باعث فساد ، خون کو حلال کرنے

صفحہ ۱۱۹

والا اور اعمال کو ضائع کرنے والا ہے۔ اللہ ہمیں ارتداد اور مرتدین کے شر سے محفوظ رکھے۔

۶۳۔ تفسیر فی ظلال القرآن میں ان آیات کی تشریح

سید قطب شہیدؒ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ ان کی قبر اور جنت میں ان کے گھر پر رحمت برسائے، رقمطراز ہیں: علیم و خبیر نے اس تقریر صادق میں مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنے کے شر پر اصرار خبیث سے پردہ اُٹھایا ہے اور تمام رُوئے زمین اور ہر زمانے میں موجود اُمتِ مسلمہ کے دشمنوں کا یہی ہدف رہا ہے۔ رُوئے زمین پر اسلام کا وجود فی ذاتہ ان اعداء الدین کے غیظ و غضب کا باعث ہے یعنی اسلام کا وجود تک ان دشمنِ دین لوگوں کو ناگوار ہے، تکلیف دہ اور خوفناک ہے کیونکہ اس نے ہر باطل پر بغاوت اور ہر فساد کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا ہے اور اس پر ان باطل پرستوں، باغیوں اور مُفسدین کا کوئی بس نہیں چلتا، ورنہ ان کی منشا تو یہ ہے کہ وہ اہلِ اسلام کو فتنے میں مبتلا کر دیں۔ اور انہیں ان کے دین سے پھیر دیں، انہیں کسی نہ کسی صورت سے کافر بنا کر چھوڑیں۔

مسلمانوں سے جنگ و قتال کے طریقے بدلتے رہتے ہیں لیکن ہدف نہیں بدلتا وہ ایک ہی ہے کہ ان کا بس چلے تو ان صادق مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیر دیں۔ اور علیم و خبیر کی یہ خبر سچی ہے اور وہ انہیں ان کی اس مذموم خواہش کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے سے روکتی ہے اور ان کی سازش اور جنگ و جدل پر صبر کرنے کی دعوت دیتی ہے ورنہ دنیا و آخرت کا خسارہ ان کا مقدر ہے جو ان کے مکر و فریب میں آجائیں۔ اور یہ تحذیر قیامت تک کے لیے ہے اور کوئی مسلم کسی حیلے بہانے سے اس عذاب اور فتنے کے آگے سپر نہ ڈالے اور اپنے دین کو نہ چھوڑے اور نہ اپنے ایمان اور اسلام سے پھرے۔۱

۶۴۔ ان آیات کے اہم مضامین

ـــــ قرآن کی نصِ صریح سے یہ بات ثابت ہے کہ یہود خصوصاً اور اہلِ کتاب عموماً

۱؎ تفسیر فی ظلال القرآن سے اختصار مگر قدرے تصرف کے ساتھ۔

صفحہ ۱۲۰

دعوت اسلام کے آغاز سے آج تک مسلمانوں کے خلاف اس مکروہ سازش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح ان کو ان کے دین سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلے۔

ہے اور یہ ان کے دین سے حسد کے باعث ہے۔

باطل کی پیروی کرتے ہیں۔

کے لیے جہنم ہے۔

۶۵۔ سورۃ آل عمران میں ارتداد سے متعلق دو آیات

إِيْمَانِكُمْ كَافِرِينَ۔ (۱۰۰)

”اے ایماندار لوگو! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مانو گے تو وہ تمہیں ایمان میں آنے کے بعد کفر کی جانب پھیر دیں گے“

بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ۔ (۱۴۹۔۱۵۰)

”اے ایماندار لوگو! اگر تم کفار کی بات مانو گے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں پر پھیر دیں گے پس پھر تم خسارہ پانے والے ہو جاؤ گے (یہ تمہارے حامی اور خیر خواہ نہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا مولا و کارساز اور بہترین حامی و ناصر ہے“

۶۶۔ اجمالی معنی پہلی آیت کے اجمالی معنی

صفحہ ۱۲۱

جھگڑ رہے تھے۔ ایک یہودی پاس کھڑا سُن رہا تھا وہ بجائے ان کو منع کرنے کے اُلٹا ان کو اکسانے لگا۔ جاہلیت کے دَور کے ان دونوں قبیلوں میں جو خون کے بدلے واجب تھے ان کی یاد دلا کر ان کو اکسانے لگا حتیٰ کہ ان کے مابین تلخ کلامی تک نوبت پہنچ گئی اور وہ ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوگئے۔ یہودی جلتی پر تیل کا کام کر کے تماشا دیکھنے لگا۔ پھر کیا تھا دونوں نے اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔ ایک چلایا: اے اوس قبیلے کے لوگو! اور دوسرا پکارا: اے خزرج قبیلے والو! مدد کے لیے آؤ۔ یہ سنتے ہی دونوں قبیلوں کے لوگ مسلح ہو کر نکل پڑے اور جنگ چھڑنے ہی والی تھی کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر آنکلے اور آپ نے طرفین کو سمجھا بجھا کر اس فتنہ کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا اور حکمت سے ان میں صلح صفائی کرا دی۔ ان کو اخوتِ اسلامی کا سبق یاد دلایا اور جاہلی عصبیت وقومیت اور حمیت سے ان کو ڈرایا جس پر یہ آیت اتری: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقاً ... الخ جس میں مسلمانوں کی صفتِ مشترکہ جس سے وہ اخوتِ ایمانی کے رشتے میں ایمانی پرچم کے نیچے باہم منسلک ہیں کا تذکرہ ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا اے اوس یا اے خزرج ، اور نہ ہی اے اہل عرب کہا بلکہ ان کی محبوب اور مشترکہ صفت کے ساتھ پکارا اور وہ ایمان کی صفت ہے۔ فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ۔ اے وہ لوگو جو اللہ پر ایمان لائے اور جاہلیت سے منکر ہوئے۔ اور ایمان کے ناطے سے وہ بھائی بھائی ہوئے نہ کہ قبائلی عصبیت کی بدولت ۔ اوس، خزرج اور عصبیت نامی کوئی چیز نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود اور ان کی سازشوں کی طرف مائل ہونے نیز ان کی اطاعت سے روکا ہے جس کا نتیجہ سوائے ارتداد اور تشتت و انتشار کے کچھ نہیں۔ یہ ہے وہ نفسیاتی چیز جو مسلمانوں کے لیے اذیت کا موجب ہے۔ اگر مسلمان قرآن کریم کے نصائح کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں تو ان کے لیے مال ومنال اور اوقات میں کوئی کمی نہ رہے جو وہ یہود و نصاریٰ کی اطاعت میں آپس کے لڑائی جھگڑوں میں صرف کر رہے ہیں اور یہود ونصاریٰ تو شب و روز خفیہ اور علانیہ اس سازش میں مصروف ہیں کہ کہیں اپنے دین سے پھیر دیں اور کافر بنا کر دم لیں۔

صفحہ ۱۲۲

۶۷ ۔ فی ظلال القرآن میں اس آیت کی تشریح

سید قطب شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

”یہ امت اس لیے وجود میں آئی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے بتاتے ہوئے راستے پر چلے ، جو ممتاز ہے ، منفرد ہے، غالب ہے اور حیاتِ انسانی میں خاص رول اور کردار ادا کرنا سوائے اس اُمت کے کسی کا کام نہیں۔ اس اُمت کا وجود اس وقت تک متحقق ہی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ صرف اللہ سے راہِ راست پر گامزن رہنے کے لیے رہنمائی نہ لے اور جو رہنمائی اسے اللہ واحد کی طرف سے تلقی ہوتی ہے اس کی بنا پر جب تک وہ نوعِ بشر کی قیادت پر متولی نہ ہو، نوعِ بشر کی قیادت کسی انسان سے رہنمائی لینے، کسی بشر کی اتباع اور اطاعت کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اگر یہ چیز ہی ہے تو یہ کفر، گمراہی اور انحراف ہے۔

یہ اُمت تو انسانیت کی رہنمائی کے لیے بھیجی گئی ہے نہ کہ جاہلیت کی پیروی کے لیے۔ بلکہ وہ اس جاہلیت کو بدلنے کے لیے آئی ہے اور اس غرض کے لیے آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملا دے اور اللہ تعالیٰ کے طریقے کو مضبوط اور قوی کردے۔

اہلِ کتاب کی اطاعت، ان سے کچھ لینے اور ان کے طریقوں اور وضع قطع کو اپنانے کا پہلا نتیجہ داخلی ہزیمت اور بنی نوع انسان کی قیادت کے کردار سے محرومی ہے جس کے لیے یہ اُمتِ مسلمہ اس عالم میں آتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے طریقے ، دستور کے بنی نوع انسان کی قیادت کے اہل اور نظامِ حیات ہونے یا بنی نوع انسان کی ترقی، عروج اور ارتقاء کا باعث ہونے میں شک کرنا یہ نفس میں کفر کی پہلی لہر دوڑنے کے مترادف ہے۔“

یہ تو تصویر کا ایک رُخ تھا۔ جہاں تک دوسرے رُخ کا تعلق ہے تو اہلِ کتاب اس اُمتِ مسلمہ کو اپنے عقیدے سے ہٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ اور جب وہ اس کے عقیدے کا مقابلہ کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو سازشوں اور مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں اور جب تن تنہا مقابلے سے قاصر رہتے ہیں تو بظاہر مسلمان لیکن باطن منافقین جو اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں

صفحہ ۱۲۳

انہیں اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں اور اس طرح اُمتِ مسلمہ میں اندر سے انتشار، افتراق اور رخنہ ڈالتے ہیں اور ان کے لیے ان کے واضح راستے کے علاوہ اور ان کی قیادت کے سوا دوسری قیادت کو مزین کر کے پیش کرتے ہیں اور جونہی اہل کتاب کو مسلمانوں میں سے مطیع اور ان کی بات کی طرف دھیان دینے والے کچھ مسلمان مل جاتے ہیں تو ان کی مذموم اغراض وغایات پوری ہو جاتی ہیں۔ ان منافقین کے ذریعے وہ تمام امتِ مسلمہ کو کفر و ضلالت اور گمراہی کے عمیق گڑھے میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

۶۸۔ دوسری آیت کے اجمالی معنی

——شانِ نزول : روایت ہے کہ جب مسلمان غزوہ اُحد سے دل برداشتہ، مایوس کُن اور مجروح حالت میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وجہ سے جو حادثہ فاجعہ پیش آیا تھا اس پر نادم واپس لوٹے تو منافقین کو جن کا سرغنہ عبداللہ بن ابی بن سلول یہودی تھا موقع ہاتھ لگ گیا وہ لگے باتیں بنانے اور مسلمانوں کو ان کے عقیدے سے بہکانے۔ ان کو اپنے دین اور پیغمبر کی صداقت کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلا کرنے کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ کہنے لگے اگر تمہارے نبی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہوتے تو غزوہ اُحد میں ان کو جو واقعہ پیش آیا وہ پیش نہ آتا اور تم میدانِ جنگ میں ہزیمت سے دوچار نہ ہوتے۔ وہ اس طرح کی باتیں کر کے مسلمانوں کو جادہ حق پر چلنے سے روکنا اور ایمان سے ہٹا کر کفر کی دلدل میں پھنسانا چاہتے تھے۔ ان کے نبی کی صداقتِ نبوت کو مشتبہ بنانا چاہتے تھے تاکہ یہ لوگ اپنے نبی سے روگرداں ہو جائیں۔ اس موقع پر مسلمانوں کے ضمیر کو مزید جلا بخشنے اور انہیں ان کی محبوب اور مشترک صفتِ (ایمان) یاد دلانے کے لیے یہ آیت اُتری جس میں انہیں اہل کتاب کی گمراہیوں کی طرف مائل ہونے اور ان کے وساوس اور دسیسہ کاریوں پر کان دھرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ ان کی طرف مائل ہونے اور ان کی تمناؤں کو پورا کرنے کا مطلب کفر کی پرانی روش کا اختیار کرنا ہے جو سراسر خسارے والا سودا ہے جیسا کہ خسارے کے معنی ہیں یعنی دین و دنیا کا خسارہ۔ ایک طرف تو دین ایمان سے گئے، دوسری طرف ان کے عیّار اور جھوٹے دشمن نے جو ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس سے بھی محروم رہے۔ غالباً اس مکار دشمن نے مسلمانوں کے کانوں میں یہ بات ڈالی ہے

صفحہ ۱۲۴

کہ اگر وہ ان (یہود) کی قیادت تسلیم کرلیں اور ان پر اعتماد کریں تو اس میں ان کے مستقبل کی بہتری مضمر ہے تو اگر مسلمان ان کی اس بات پر صاد کریں گے اور ان کی اطاعت کریں گے تو یہی خسرانِ مبین ہے۔ کیونکہ خیر ونصر سب اللہ کے ہاتھ میں ہے تو جو کوئی اللہ کے سوا کسی سے ان کا طالب ہوگا وہ ناکام و نامراد ہوگا اور سوائے خسارے اور ندامت کے کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں آئے گا۔

لہٰذا مسلمان کافروں کو دوست بنانے سے احتراز کریں اور اپنے معاملات کے انتظام ، مصالح کی رعایت اور اُمور کی تنظیم کے لیے ان کی طرف نہ دیکھیں۔ ان سے حمایت ونصرت طلب نہ کریں کیونکہ ان کا مددگار سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا ہے اور اللہ سب سے بہتر ناصر و مددگار اور حلیف ہے اور مشیر ہے۔

۶۹۔ ”فی ظلال القرآن“ میں اس آیت کی تشریح

سید قطب شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

”غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو جو عارضی ہزیمت اٹھانی پڑی تو مدینے کے کفار، منافقین اور یہود نے اس موقع کو غنیمت جانا اور مسلمانوں کو ان کے عزائم سے ہٹانا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے انجام سے ڈرایا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کافروں کی اطاعت سے روکتا ہے کیونکہ کفار کی اطاعت میں سراسر گھاٹا ہے۔ مومن کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ کفر اور کفار سے جہاد کرے اور باطل اور باطل پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے یا اپنے دین کو چھوڑ کر پھر کفر کی روش اختیار کر لے کیونکہ ایک پختہ عقیدہ کے حامل مسلمان کا اپنے عقیدے کے مخالفوں کی طرف میلان طبع یا ان کے وسواس پر دھیان دینا یا ان کی توجیہات کو قبول کرنا روحانی ہزیمت کے مترادف ہے۔ اگر اس نے ان خرافات کی طرف ایک مرتبہ بھی دھیان دیا تو گویا وہ ان کی حمایت و نصرت کا طلبگار ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس دلیل پر اسے وہم ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ۔ بَلِ اللّٰهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ ، کیونکہ اللہ جل جلالہ کی ذات ہی وہ واحد ہستی ہے جس سے

صفحہ ۱۲۵

مؤمنین حمایت و نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں اور جس کا اللہ حامی و ناصر ہو تو اسے کسی بندے کی حمایت و نصرت کی حاجت نہیں رہتی ہے ۱؎

۷۰۔ ان آیات کے اہم مضامین

ناصر نہیں۔

۷۱۔ سورۃ المائدہ میں ارتداد سے متعلق ایک آیت

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ط ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ط وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ۔ (۵۴)

”اے ایماندارو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ عنقریب ایسے لوگ اُٹھا کھڑا کرے گا جو اس سے محبت کرتے ہونگے اور اللہ تعالیٰ اُن سے محبت کرے گا اہل ایمان پر نرم اور کافروں پر سخت گیر ہوں گے ۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کریں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ فراخ دست اور علم رکھنے والا ہے ۔

۱؎ فی ظلال القرآن سے اقتباس ۔

صفحہ ۱۲۶

۷۲۔ آیت کے اجمالی معنی

مفردات کی تفسیر: اذلۃ علی المومنین: مومنین سے شدید محبت کرتے ہیں۔ ان سے رحمت و رافت سے پیش آتے ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ ۔

اعزۃ علی الکافرین : کافروں کے لیے سخت گیر ہیں۔ وہ ان پر عقیدے کے لحاظ سے غالب ہیں کیونکہ اللہ کی نصرت اور اس کی بخشی ہوئی عزت ان کے شاملِ حال ہے۔

حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحلت کے بعد لوگ اسلام سے پھر جائیں گے لہٰذا ان کو خبردار کیا ہے کہ عنقریب اللہ ایسی قوم پیدا کرے گا جو اس سے محبت کرتی ہوگی اور اللہ کو وہ قوم محبوب ہوگی۔

حضرات علیؓ، قتادہ اور ضحاک فرماتے ہیں : اس قوم سے یہاں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو مرتدین سے برسر پیکار ہوئے بعض صحابہ کرام نے مرتد مانعین زکوٰۃ سے قتال کو ناپسند کیا اس بنا پر کہ ہم اہل قبلہ سے کیسے جنگ لڑیں؟ اس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے تلوار اپنی گردن میں حمائل کی اور میدان جہاد کا رُخ کیا۔ لہٰذا صحابہ کے لیے بھی ان کی تقلید کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کے ساتھ غلبہ عطا فرمایا۔

اس آیت میں ہر زمانے اور ہر ملک کے مسلمانوں کے لیے سخت اور خوفناک تنبیہ کی گئی ہے خصوصاً ان مسلمانوں کو جن کے دل وسوسوں میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے دین سے پھر جانے کی سوچ رہے ہیں سخت تنبیہ ہے۔ اگر ان میں سے کوئی قوم مرتد ہو گئی تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو مشرف بہ اسلام کر دے۔ اگر کوئی نسل مرتد ہو گئی تو اس کی جگہ دوسری نسل لانے پر قادر ہے۔ اور اگر کچھ لوگ مرتد ہوئے تو ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو مسلمان کرنے پر بھی قادر ہے جنہیں وہ پسند کرتا ہوگا اور وہ اسے پسند کرتے ہونگے۔ مومنین کے ساتھ رحیم ہونگے، کافروں پر سخت گیر ہونگے۔ مرتدین سے اور کافرین میں سے جو اُن کی پشت پناہی کریں گے لڑیں گے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈریں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے فوری بعد اجتماعی ارتداد کا ایک سلسلہ شروع

صفحہ ۱۲۷

ہو گیا اور اُمت مسلمہ کی اساس اور حکومت اسلامیہ پر اس کے اثرات کا خطرہ بڑھ گیا۔ مرتد قوم دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اُس قوم کو اُن پر مسلط کر دیا جنہیں اللہ تعالیٰ چاہتا تھا اور وہ اللہ کو چاہتے تھے۔ ان کا سربراہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور خالد بن ولید ان کے درمیان تھے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مصداق تھے: اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِينَ۔ اللہ کی راہ میں انہوں نے جہاد کیا اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرے اور فتنہ کو قبل اس کے کہ وہ بڑھ جائے کچل دیا اور مرتدین کو جلا ڈالا پیشتر اس سے کہ وہ اُمت مسلمہ کو اپنے مکر و فریب کی آگ میں جھونک دیں۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی سے کیوں ڈرتے یا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیوں کرتے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ میں مخلص تھے اور اللہ کی رضا کا حصول ان کا مطمح نظر تھا۔ لہٰذا اس فضیلت پر جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے انہیں مبارکباد عرض ہے کیونکہ اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہی وسیع علم والا اور عطا کرنے والا ہے۔

۷۔ ”فی ظلال القرآن“ میں اس آیت کی تشریح

سید قطب شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:-

”اس طرح جو اپنے دین سے پھرے اس پر تہدید ہے کہ پہلے یہود و نصاریٰ کے ساتھ روابط بڑھاتے پھر اسلام سے پھر جاتے خصوصاً جبکہ ان میں سے پہلے ایک اعراض برتتے ہوئے اُمت مسلمہ سے جُدا ہو جاتے پھر ایک گروہ جو اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں اسلام سے پھر جائیں تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم ان کی جگہ لے آئے گا جنہیں وہ چاہتا ہوگا اور وہ اُسے چاہتی ہوگی۔ لہٰذا محبت اور رضا متبادل اُن کے اور اُن کے رب کے مابین صلہ ہے تعلق ہے جب کہ اللہ کی محبت اپنے بندوں سے ایک بندے کے ساتھ ایسا امر ہے جو تعبیر سے ماورا ہے۔ اور بندے کی اپنے رب سے محبت ایک ایسا امر ہے جس کی تعبیر ممکن ہے، محبت کرنے والوں کے کلام میں بھی اس کی چند مثالیں مل جاتی ہیں جیسا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎

صفحہ ۱۲۸

"اے کاش کہ تو شیریں دہن ہوتی جبکہ زندگی تلخ ہے اور اے کاش تو راضی ہو جاتی جبکہ لوگ تو ناراض ہیں اور اے کاش تمہارے اور میرے درمیان جو آباد ہیں اور تمہارے اور میرے درمیان جو ویرانے ہیں اگر میری محبت سچی ہو تو یہ سب کچھ مجھ پر گراں نہیں اور مٹی پر تو جو کچھ ہے وہ سب فانی ہے

"اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ" ... مومن دوسرے مومن کے لیے نرم خو اور متواضع ، رحم دل حلیم ، درگزر کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے اور مومنین کے لیے اس عجز و انکساری میں کوئی ذلت و رسوائی اور اہانت نہیں ہے بلکہ یہی اخوت و بھائی چارہ ہے ۔ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ ، ان میں کفار کے لیے سختی او شدت ہے۔ یہ ایمان کی پختگی اور اصول کی مضبوطی ہے پھر یہ حزب اللہ کا جاہلیت کے گروہوں پر غلبہ اور اُن کے مقابلہ میں ثقہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔

"يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ" جہاد فی سبیل اللہ سے زندگی میں اللہ کی شریعت نافذ کرنا اور عامۃ الناس کے لیے منبع خیر و برکت ہونا مراد ہے ۔ اور وہ ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہیں ڈرتے اور لوگوں کی طعن و تشنیع کی وہ پروا بھی کیوں کریں۔ انہیں تو لوگوں کے رب کی محبت کی ضمانت حاصل ہے۔ لوگوں کی پھبتیوں سے تو وہ خائف ہو جو اپنی مقصد براری اور غرض و غایت کے لیے لوگوں کا محتاج ہو اور لوگوں سے اعانت و امداد کا طالب ہو، لیکن جو اپنی قوت و طاقت اللہ کی قوت و طاقت سے مانگتا ہو اسے کیا خوف کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ۔ اسی لیے مؤمن جماعت جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خائف نہیں ہوتی۔ اور یہی خود مختار مومنوں کا امتیازی نشان ہے ۔ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ وہ اپنے وسیع ذرائع سے علم اور اندازے کے مطابق عطا کرتا ہے

۴۷ ۔ اس آیت کے اہم مضامین

والے واقعات سے باخبر کیا گیا ہے۔

غلبہ عطا فرمایا ۔

فِيْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَ

کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے

ملامت کرتے ہیں ۔

کی اُس میں اللہ کی محب يُجَاهِدُوْنَ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَا

انہیں اس کی پروا نہیں ۔

قوم پیدا کرنے پر قادر ہے جو کرے اور ان کے فتنے کو کچل فتنے کو کچلنے کے لیے ایسی قوم

صفحہ ۱۲۹

غلبہ عطا فرمایا ۔

فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ -

کرے گا اور جو اُن سے بُغض رکھے گا اللہ اس سے بُغض رکھے گا

ملامت کرتے ہیں ۔

کی اس میں اللہ کی حکمت پوشیدہ تھی اور ان کا یہ اقدام قرآن پاک کی اس آیت يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ کا مصداق تھا ۔

انہیں اس کی پروا نہیں۔

قوم پیدا کرنے پر قادر ہے جو اللہ کو محبوب ہو اور اللہ اسے محبوب ہو ۔ جو مُرتدین سے قتال کرے اور ان کے فتنے کو کچل دے ۔ اور یہ کہ اللہ ہر مرتبہ مرتدین سے قتال کرنے اور ان کے فتنے کو کچلنے کے لیے ایسی قوم پیدا کرنے پر قادر ہے جو اسے محبوب ہو اور اللہ اسے محبوب ہو

صفحہ ۱۳۰

رکھتا ہے اور اللہ اس قوم کو محبوب ہوتا ہے اور وقت پڑنے پر یہی لوگ اللہ کا لشکر بن کر اس کے دین کا دفاع حضرت ابوبکرؓ اور ان کے لشکروں کی طرح کرتے ہیں۔

کرنے کے لیے متحد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس فضل کے لیے مختص کر لیتا ہے۔

۷۵۔ سورۂ محمدؐ میں ارتداد سے متعلق ایک آیت

اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَی الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ وَاَمْلٰى لَهُمْ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ

”حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقّعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہے۔ اسی لیے اُنہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے“

۷۶۔ آیت کے اجمالی معنی

اس آیت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین سے پھر گئے ہیں اور اُمتِ مسلمہ سے نکل گئے ہیں اور ہدایت سے جان بوجھ کر منہ پھیر لیا ہے تو انہوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر ایسا کیا ہے جس نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈال دیئے ہیں اور ان کے ارتداد کے عمل کو مزین کر کے پیش کیا ہے اور انہیں اُن کے اختیار کردہ راستے اور طریقے پر چلنے کی مہلت دی گئی ہے اور انہیں یہود کی اطاعت پر مائل کیا ہے جو اللہ سے بغض رکھتے ہیں اور اس نے جو کچھ اپنے بندے پر اُتارا (قرآن) اسے ناپسند کرتے ہیں۔ وہ یہ اعلان کرتے ہوئے ان کی صفوں میں شامل ہو گئے کہ عنقریب

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت مناسب موقع ملا یا جب اس کی کی بدولت تھا۔

تو ان میں سے جو مرتد ہوئے ضلالت میں غرق و واضح ہو جانے کے شیاطین کے ورغلانے سے مرتد ہوئے کی غداری کی وہ عملاً مرتد ہو گئے اگرچہ سے جدا ہونے کا خفیہ منصوبہ ہو، وہی اُن کی غداری پر صد حیف ! کچھ وہ خفیہ کرتے ہیں اور جو کچھ علانیہ بعض اُمور میں ہی ہو یا تم میں سے کسی ہو جائیں گے اور ان کا کوئی فعل اللہ اعمال سے بھی باخبر ہے۔

۷۷۔ آیت کے اہم اسباق

پھر جانے کے مترادف ہے

کافرین کی فطرت میں اِس کی ہے، نفرت ودیعت کسی کام میں کافرین کی اطا

صفحہ ١٣١

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور تصدیق سے دست کش ہو جائیں گے جب بھی انہیں اس کا مناسب موقع ملا یا جب اس کی ضرورت پڑی۔ یہ فتنہ شیطان کی پیروی اور منافقین و یہود کی اطاعت کی بدولت تھا ۔

تو ان میں سے جو مُرتد ہوئے وہ جہالت کی وجہ سے مُرتد نہیں ہوئے بلکہ حق و باطل اور ہدایت و ضلالت میں فرق واضح ہو جانے کے بعد وہ مُرتد ہوئے ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ جن و انس اور یہودی شیاطین کے ورغلانے سے مُرتد ہوئے ۔ اس طرح انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین سے خیانت کی غداری کی وہ عملاً مُرتد ہو گئے اگرچہ انہوں نے اپنی زبان سے کفر کا اعلان نہیں کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے جدا ہونے کا خفیہ منصوبہ یہودیوں سے مل کر خفیہ طور پر اس وقت بنایا جبکہ ماہِ صفر کا آغاز ہو رہا تھا ۔ اُن کی غداری پر صد حیف! انہوں نے پانچویں کالم کا کردار ادا کیا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے جو کچھ وہ خفیہ کرتے ہیں اور جو کچھ علانیہ ۔ لہٰذا اے مومنین یہود و نصاریٰ کی اطاعت سے الحذر، اگرچہ بعض اُمور میں ہی ہو یا تم میں سے کوئی گروہ خفیہ طور پر ان سے الحاق کرے ۔ ایسا نہ کریں گے تو وہ مُرتد ہو جائیں گے اور ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے جو ان کے علانیہ افعال کی طرح خفیہ اعمال سے بھی باخبر ہے ۔

۷۷۔ آیت کے اہم اسباق

پھر جانے کے مترادف ہے ۔

کافرین کی فطرت میں اس شریعت الٰہی اور کلام الٰہی کی جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نازل کی ہے ، نفرت ودیعت کی گئی ہے ۔

کسی کام میں کافرین کی اطاعت کا مطلب ارتداد اور پُرانے دین پر پلٹنا ہے ۔

صفحہ ۱۳۲

۷۸ ۔ قرآنی آیات ارتداد سے اللہ تعالیٰ کی مراد

قرآن میں وارد آیات ارتداد اور ان کے جو معنی اور تفسیر ہم نے پیش کی اُن سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں :

اولاً ۔ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے کافرین کی سیاست کا عموماً اور یہود کی سیاست کا خصوصاً ذکر کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے روکنے کی سیاست ہے۔ ان کی سیاست کا لبّ لباب یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنا ان کا مطمح نظر ہے، دیرینہ تمنا ہے اور پھر ان کو عملاً ان کے دین سے پھیرنا ان کا عمل ہے۔

ثانیاً ۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں کو یہود اور کافرین کی سیاست کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے۔ انہیں خصوصاً یہود کے مکر و فریب اور کافرین کی تیاریوں سے عموماً متنبہ کیا ہے اور ان سے موالات اور نصرت و حمایت طلب کرنے اور ان پر قابل اعتماد بھروسہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

ثالثاً ۔ سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ ان کی صفوں میں ارتداد کی وبا پھیلنے کا احتمال ہے اور ہر نسل میں اس کی تکرار کا خطرہ ہے لہٰذا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مخلص مسلمانوں کے گروہ تیار رہیں اور لوگوں کو مرتدین سے جہاد کرنے پر اکسایا ہے اور ان مجاہدین کی صفات یہ بیان کی ہیں کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں اور اللہ ان کو محبوب ہے۔ مومنین کے ساتھ ان کا سلوک نرم دلانہ اور رحمدلانہ ہوگا، لیکن کفار کے ساتھ سختی اور شدّت کا۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے نہ ان کے جہاد کی غرض و غایت کچھ اور ہوگی (ہوس زر و مال و دولت شہرت یا حکومت) ۔ اور وہ لوگوں کی طعن و تشنیع اور یاوہ گوئی سے بے پروا ہونگے۔

رابعاً ۔ سورۃ محمد میں اللہ تعالیٰ نے منافقین اور یہود کے مابین طے پانے والے اس خفیہ معاہدے سے نقاب

اٹھایا ہے جس کا مقصد عین لڑائی مکان میں منافقین ایسا ہی رویہ اُمت میں پانچواں کالم قرار دی

۷۹ ۔ آیات ارتداد میں مضمر

ہے اور یہی خیال ان کے دل

ہے ۔

کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے

سیاسی اور قانونی اور قیا سکھانے والی اور امن و کرنے کا سبق دینے وال

صفحہ ۱۴۳

اُٹھایا ہے جس کا مقصد عین لڑائی کے وقت مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا ہے۔ اور ہر زمان و مکان میں منافقین ایسا ہی رویہ اختیار کریں گے۔ مومنوں کو یہ انتباہ کیا گیا ہے۔ اور مرتدین کو اُمّت میں پانچواں کالم قرار دیا ہے۔

۷۹۔ آیاتِ ارتداد میں مضمر اہم اسباق

ہے اور یہی خیال ان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔

ہے۔

کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

سیاسی اور قانونی اور قیادت کے لیے تیار کرنے والی کتاب بھی ہے۔ نظامِ جہانبانی سکھانے والی اور امن و سعادت کا درس دینے والی ، طاقت وعزت کی زندگی بسر کرنے کا سبق دینے والی کتاب ہے۔ قیادت و سیادت سکھانے والی ایک دستاویز

صفحہ ۱۳۴

ہے ۔ اس میں معاشیات کے اصول بھی درج ہیں۔ اس میں معاشرت کے حسین طریقے بھی وضع کیے گئے ہیں ۔ الغرض اس میں کیا کچھ نہیں ہے جس کی لوگوں کو حاجت ہے ؟

اسلام میں

جدید و قدیم

کرنے والے

صفحہ ۱۲۵

فصل دوم

اسلام میں پہلے اور ما بعد کے دینی ارتداد میں

یہود کا ہاتھ تھا

جدید و قدیم فرقوں کے پیچھے یہود تھے۔

کرنے والے انیسویں اور بیسویں صدی کے چند فرقوں کا حال ۔

صفحہ ۱۳۶

تمہید

موضوع زیر بحث میں غور و خوض سے قبل ہم نے تین باتیں پیش کی ہیں تاکہ ان کی مدد سے موضوع کے اغراض و مقاصد اور مضامین کو سمجھ سکیں اور اس کے نتائج واثرات سے بہرہ ور ہوسکیں ، وہ یہ ہیں :

ان اُمور سے موضوعِ زیر بحث مزید واضح ہو جائے گا اور واضح حقائق کی نشاندہی کی جاسکے گی اور ہدایت وضلالت اور مؤمن اور کافر اور مرتد میں فرق روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا ۔ اس طرح ہمارے تاریخی اور سیاسی ذخیرے میں ایسی معلومات اور حقائق کا اضافہ ہو گا جن سے عقل دنگ رہ جائے گی ۔ جو ہمیں صحیح راستے پر چلنے اور صحیح طریقہ اختیار کرنے میں مددگار ہوں گے اور بغیر کسی ادنیٰ کوتاہی کے عمل کرنے میں ممد و معاون ہوں گے تاکہ دین تمام کا تمام اللہ کے لیے ہو جائے ۔

۱۔ ظہورِ اسلام سے قبل یہود میں نفاق کا وجود

قرآن کی نصِ صریح سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلام میں نفاق کے بانی یہود ہیں اور خود وہ کئی صدیوں پہلے سے اس پر عمل پیرا رہے ہیں ۔ اس حقیقت کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے :

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ وَمِنْ اَهْلِ الْمَدِيْنَةِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَاتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۱؎

”تمہارے اردگرد کے بدویوں میں سے منافق اور اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ نفاق پر ڈٹے اور

۱؎ التوبہ : ۱۰۱

صفحہ ۱۳۷

جمے ہوئے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں تمہیں ان کا علم نہیں“

اہل مدینہ سے مراد یہاں یہود ہیں جو نفاق پر جمے ہوئے ہیں اسی پر وہ پروان چڑھے ہیں اور یہ ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور صدیوں سے یہ ان میں نسل در نسل وراثتاً چلا آ رہا ہے حالانکہ ان میں کئی انبیاء اور پیغمبر آتے (اصلاح کے لیے)۔

مسلم اور غیر مسلم مفکرین، مورخین اور علم الاجناس اور ادیان کے محققین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہودی دنیا کے بڑے بڑے علماء اور راہب مختلف ممالک اور مختلف عہد میں موجود فرقوں اور معاشروں میں ایک کمزور اقلیت کی حیثیت سے گھس جاتے اور بظاہر ان کے دین اور مذہب کو بھی اختیار کر لیتے تاکہ ان کے دین میں خرابی ، تحریف ، کجی اور تغیر و تبدل پیدا کریں جن کے ذریعے عالمی یہودیت کے مفاد و مصالح کی خدمت انجام دی جاسکے اور اپنے آپ کو ان فرقوں کی دشمنی اور مخالفت سے بھی محفوظ رکھیں۔ وہ ان میں اس طرح گھل مل کر واردات کرتے اور بڑے پُر امن طریقے سے وہ اندرونی مہلک عداوت کے اسباب کا بھی سدّ باب کر لیتے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ مارِ آستین ہیں بعثت مسیحؑ سے لے کر آج تک یہود نے جو بالفعل اس قسم کے جوہر دکھاتے ہیں تو وہ مسیحیت کی آڑ میں عیسائیوں کا روپ دھار کر انجام دیتے ہیں۔ سب سے پہلے جس معاشرے میں انہوں نے اپنا یہ خبیث طریقہ نافذ کیا وہ ایرانی معاشرہ تھا جس میں یہ کثرت سے شامل ہو گئے اور ان کا مذہب مجوسیت اختیار کر لیا۔ یہاں تک کہ ان کے بڑے کاہن اور مذہبی پیشوا بن گئے مکر و فریب سے ۔ اور ایرانی درباروں میں اتنا اثر و رسوخ پیدا کر لیا کہ ایرانی بادشاہوں کو تیسری صدی عیسوی کے عیسائیوں اور ان کی باغی افواج کی تباہی و ہلاکت پر اُکسانے لگے۔

ان معاشروں میں سے ایک یورپ کا وہ بت پرست معاشرہ ہے جس میں بہت سے یہودی شامل ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ اصل بت پرستوں سے بھی زیادہ بت پرست بن گئے اور ان کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں میں اعلیٰ مناصب و مراتب تک جا پہنچے بلکہ خود بادشاہ بن بیٹھے۔ جیسے نیرون تاج و تخت پر قبضے سے ان کے لیے یہ سہل ہو گیا کہ وہ بُت پرست معاشرے کو

صفحہ ۱۳۸

عیسائیت سے لڑا دیں اور طرفین میں چکنا چور کرنے والی جنگوں کی ایسی آگ بھڑکا دیں کہ جس میں عیسائیت اور بُت پرستوں کی طاقت و قوت جل کر بھسم ہو جائے۔ اور یہود کی جس چال نے عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا کہ وہ دو دشمنوں میں گھر گئے مشرقی جانب سے جو لشکر ان پر حملہ آور ہوا اس کی کمان عملاق مجوسی کر رہا تھا اور مغربی جانب سے حملہ آور لشکر کی کمان عملاق بُت پرست کے ہاتھ میں تھی۔

جب شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت کا مذہب اختیار کیا تو عیسائیوں کو بڑا عروج حاصل ہوا تو مکار یہودیوں نے فوراً اپنا طریق واردات بدل ڈالا اور جلد ہی عیسائیت کے مذہب میں داخل ہو گئے اور اس کے معاشرے میں ایسے گھل مل گئے کہ وہ مذہبی پیشوائی کے بڑے بڑے اعلیٰ مراتب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح انہوں نے باہم متصادم مذاہب اور آپس میں لڑنے جھگڑنے والے فرقوں پر غلبہ پا لیا۔ اس سے پہلے انہوں نے انجیل میں تحریف و تزییف کی اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق ایسی ایسی تعبیریں اور تفسیریں کیں جن سے ان کے مذموم مقاصد اور مصالح پورے ہوتے تھے۔ یعنی وہ عیسائیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ لہٰذا مختلف عیسائی فرقوں کے مابین جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی اور بے شمار عیسائی اس فرقہ وارانہ فسادات کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن یہودی منافقوں کا ایک فرد واحد بھی اس فساد کی لپیٹ میں نہ آیا۔ اس طرح انہوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا کہ عیسائیوں کو آپس میں بھڑا کر ہلاک کر دیا جیسا کہ اس سے قبل عیسائیوں کو مجوسیوں اور بُت پرستوں کے ہاتھوں تباہ و برباد کیا تھا۔ منافقت کی انتہا یہ ہے کہ یہ لوگ اکثر پوپ جیسے اعلیٰ ترین مذہبی منصب تک پہنچ گئے اور دوسروں کے لیے یہاں تک پہنچنے کے لیے راہ ہموار کرتے۔ بظاہر اس منصب کو وہ عیسائیت کی خدمت کے لیے استعمال کرتے لیکن حقیقتاً یہودی مصالح کو سر انجام دینا ان کا مطلوب و مقصود تھا اور اس مرکزی اور رفیع المقام ادارے کے ذریعے مختلف امم، گروہ اور قبائل کو گمراہی میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے ایک طرف تو کیتھولک گرجا کے خلاف ایک اصلاحی تحریک کے نام سے پروٹسٹنٹ فرقے کو شہ دی اور دوسری طرف دین کو سیاست سے جُدا کرنے کی تحریک چلائی لہٰذا گرجا فرانسیسی یہودی انقلاب کی شدید ضرب سے مسمار کر دیا ۔ اب خالی عمارتیں باقی رہ گئیں۔ اب گرجا کو پہلی جیسی

صفحہ ۱۳۹

طاقت و قوت حاصل نہ رہی کہ بادشاہ اور حکام پوپ کی مرضی سے مقرر ہوتے تھے۔ اب گرجا کا عوام الناس پر وہ اثر باقی نہ رہا، ان سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ نہ لوگوں کی عام زندگی پر انہیں پہلے جیسا کنٹرول حاصل رہا اور اب ان کا رُخ سوائے لنگڑے لولے، اندھے، اپاہج ، پیدائشی اندھے، جذام زدہ ، مطلقہ اور مہجور راہب اور گوشہ نشینوں کے اور کوئی نہ کرتا۔ وہ زمانہ گیا کہ کلیسا بادشاہوں اور حکام کو شطرنج کے بے جان مہروں کی طرح استعمال کرتا تھا۔ یہودیوں کا مکر وفریب اور نفاق اس وقت اوج کمال پر پہنچ گیا جب انہوں نے پوپ سے یہ فتویٰ صادر کرایا کہ یہود قتل مسیح کے الزام سے بری ہیں۔ اس ایک فتویٰ نے تمام اناجیل اور پہلے جتنے بھی پوپ گزرے تھے بیس صدیوں میں ان سب کی نفی کردی اور جھٹلا دیا۔

اور یہود صدیوں سے نفاق پیشہ ہوتے ہیں اور ان کا اسلوب وہی پرانا ہے۔ شرقی لشکر کو غربی لشکر سے بھڑانا پس اس کو انہوں نے نام نیا دے دیا ہے دایاں اور بایاں۔ یہی یہود ہیں جو کمیونزم کے خالق ہیں اور یہی سرمایہ داری کے ستون ہیں اور دونوں لشکروں کو جہنم کی طرف لے جائیں گے اور ان کو عالمی جنگیں نگل جائیں گی تاکہ عیار یہودیوں کا تمام دنیا پر قبضے کا ناپاک منصوبہ مکمل ہو جائے۔

یہودی فلسفی بروتوکولات کا کہنا ہے کہ سیاست ایک شے ہے اور اخلاق کا قیام یا ادیان وغیرہ چیزے دیگر۔ سیاست کی بنیاد نفاق ہے اور سیاستدان کے لیے ضروری ہے کہ وہ منافق ہو اور جتنا وہ ماہر منافق ہو گا اتنا ہی کامیاب سیاست دان ہوگا۔ اور کذب وافتراء تو اس کی گھٹی میں پڑا ہونا چاہیے اور اسی سے اس کی سیاست کا تانا بانا بُنا ہوا ہو تو اسے لوگوں میں شرف قبول حاصل ہو گا۔

لیکن دونوں بازوؤں کے بہت سے پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی یہودیوں کی عیاری اور چالاکی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اگر سمجھ گئے ہیں تو اس سلسلے میں کچھ کرنے سے معذور ہیں جیسے کوئی خفیہ طاقت اور غیر مرئی جادوگرانہ ہاتھ ان پر مسلط ہے جس کی وجہ سے ان کا وجود تک کالعدم ہو کر رہ گیا ہے اور ان کی کوئی حرکت، کوئی پیش رفت سُننے میں نہیں آتی ۔ اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی یہ حالت کب

صفحہ ۱۴۰

تک رہے گی یا حالات کب تک اسی طور رہیں گے لیکن قلق تو اس بات کا ہے کہ اس حد تک ان کے مکروہ عزائم کا علم ہونے کے باوجود تمام انسانیت پر خطرہ بدستور منڈلا رہا ہے اگر اس خفیہ ہاتھ کی جڑ نہ مار دی گئی اور اقوام کے درمیان ان کے پھیلاتے ہوئے مکر و فریب کے جال کے تار و پود نہ بکھیر دیئے گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کرۂ ارض کی تمام اقوام یہود کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں اور ان سے دو دو ہاتھ کریں۔

۸۲۔ ظہورِ اسلام کے بعد یہود کے نفاق کی صورت یا ارتدادِ خفیہ

یہ اسلام کی عظیم طاقت تھی کہ اس نے یہود کو ان کی دسیسہ کاریوں، غداری اور بار بار سازشیں کرنے کی وجہ سے دائمی موطن رسالت نبوی چھوڑنے پر مجبور کر دیا جو ان کا بھی وطن تھا اور رسول اللہ نے انہیں ایسا سبق سکھایا کہ وہ عمر بھر نہیں بھلا سکیں گے۔ یہاں پھر انہوں نے اپنی خباثتِ نفس جس کے وہ مشاق و ماہر تھے اور جو ان کے خون میں رواں دواں تھی، بلکہ ان کی شریانوں میں خون کی جگہ جاری وساری تھی، یعنی نفاق کا ایک بار پھر بھر پور مظاہرہ کیا۔ ان میں کچھ یہودیوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا جیسے انہوں نے اس سے قبل عیسائیت، مجوسیت اور وثنیت اختیار کی تھی اور اس طرح فتنے جگا کر اور اُمتِ مسلمہ کو فرقوں میں بانٹ کر ان میں جنگ کی آگ بھڑکا کر اپنا تاریخی کردار ادا کیا اس استثناء کے ساتھ کہ کتاب اللہ ان کی تحریف و تصریف کی دستبرد سے محفوظ رہی کیونکہ اس کی حفاظت و عصمت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا تھا، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے : إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ یہ ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اور اس طرح قرآن کریم ان کے شر سے مامون رہا اور اب تک ہے بحمداللہ۔ یہ اسی طرح کمی بیشی سے محفوظ رہا جیسا کہ نزول کے وقت تھا۔ یہود اپنی عادت کے مطابق اسلامی معاشرے میں بھی اس طرح گھل مل گئے اور ان میں سے بعض نے تو حمیتِ دینی کا اس قدر شدت سے مظاہرہ کیا کہ غلو کی حد تک جا پہنچے اور اس طرح دائرہ اسلام سے خارج اور اسلام سے مرتد فرقے پیدا کرنے کا باعث بنے۔ ابتداءً حبّ علیؓ اور اولاد علیؓ سے کی اور شہادتِ عثمانؓ کا فتنہ پیدا کیا۔ بعد اس کے کہ وہ حضرت عمرؓ کے قتل میں کامیاب ہو گئے تھے اور اُمتِ مسلمہ میں اس پر کوئی گڑبڑ

صفحہ ۱۴۱

یا ہنگامہ پیدا ہوا نہ کوئی انقلاب آیا۔ پھر ہر عہد میں انہوں نے کچھ بیسیوں خلفاء سینکڑوں اُمراء اور ہزاروں سپہ سالار اور لاکھوں سپاہیوں کو دھوکے سے قتل کرنے کے منصوبے بنائے خصوصاً ان ادوار میں جن میں کسی مُرتد فرقے کو اسلامی مملکتوں میں غلبہ یا حکومت حاصل ہو گئی جیسے مثلاً چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں اور کچھ چھٹی صدی ہجری میں۔

منافقین کا ابلیس اور اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک یہودی عبداللہ بن سبا ملقب بابن السودا یمنی صنعانی تھا یہی وہ شخص تھا جو علیؓ اور اولادِ علیؓ کے گروہ کے نظریہ کا بانی تھا بعد میں اُس نے حضرت علیؓ کی طرف الوہیت تک منسوب کی جس کا ذکر ہم آگے کریں گے۔ اور انہی ظاہر و باہر منافقین میں حسن بن صباح مذہب اسماعیلی کا مؤسس، عبیداللہ بن میمون القداح سلطنت فاطمیہ کا بانی اور نشتکین الدروزی شام اور لبنان میں مذہب حاکمیہ یا دروزی مذہب کا بانی وغیرہم ہیں۔ جنہوں نے تاریخِ اسلام کو بہت سے خلافِ اسلام مذاہب اور فرقوں سے بھر دیا۔

عصرِ حاضر میں سب سے زیادہ خطرناک کردار ان یہودیوں نے ادا کیا جو ۱۴۹۲ء میں ہسپانیہ سے جان بچا کر بھاگے اور ترکی کے شہر سالونیکا میں پناہ گزین ہوئے وہ بظاہر مسلمان بن کر ترکی کے مسلمانوں میں اس طرح گھل مل گئے کہ ان میں سے اکثر فوج اور حکومت کے بڑے بڑے مناصب پر فائز ہوئے کچھ سلاطین کے اطباء اور مفکر ، شعراء اور ادیب اور مصلح قوم بنے۔ انہی منافق یہودیوں میں سے ایک مدحت پاشا تھا جس کا لقب ابی الدستور یا ابی الاحرار تھا۔ اُس نے ترکی میں اصلاح کی ایک تحریک شروع کی جس کا مقصد شرعی احکام کی جگہ خود ساختہ انسانی قوانین کو رواج دینا اور سلطان عبدالحمید رحمہ اللہ نے جو اسلامی معاشرہ قائم کیا تھا اسے مغرب کی نقالی کے تباہ کُن راستے پر چلانا تھا پھر یہی اصلاح کے دعویدار ملک میں فوجی انقلاب لے آئے اور زیرِ زمین کام کرنے والی خفیہ تنظیموں مثلاً فری میسنری اور ان کے لیڈروں کا ملک بھر میں طوطی بولنے لگا۔ انہوں نے خلافتِ اسلامیہ کی بساط لپیٹ کر اس کی جگہ لادینی نظامِ حکومت کی مسند بچھا دی۔ اور روایتی یہودی منافقت نے ۱۹۲۴ء میں کمال اتاترک کے روپ میں ایک بار پھر ظہور کیا جس نے حضرات خلفاء راشدین سے لے کر سقوطِ بنی عثمان تک تقریباً ۱۴ صدی

صفحہ ۱۴۲

سے زائد عرصے تک قائم اسلامی حکومت اور اسلامی نظام پر غیر اسلامی اور لادینی نظام کو ترجیح اور رواج دیا۔

حضرت عمرؓ فاروق پر بحالت نماز قاتلانہ حملہ (جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے) کرنے کے بعد خلیفہ سوم عثمانؓ کے عہد میں فتنہ کبرٰی کو جنم دینے والے یہودی منافق تھے پھر تو قتل وغارت ، فتنہ پردازی اور سازشوں کا ایک تانتا بندھ گیا اور مسلمان اپنے ہی بھائیوں (منافق مسلمانوں) کے ہاتھوں شہادت کے جام نوش کرنے لگے اور تمدّن اسلامی جنگوں کی نذر ہو گیا اور مسلمانوں کا تقریباً نام ونشان مٹ گیا اور اس میں یہودی کا نفاق اور عیاری کار فرما تھی۔

خلفاء ، اُمراء اور سپہ سالاروں کے دھوکے سے قتل میں ہمیشہ یہود کا ہاتھ رہا اور انہوں نے مسلمان بن کر کفار سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔

سطورِ ذیل میں ہم ان حادثات اور فتنوں کی مختصر روداد پیش کرتے ہیں جو ہزار سال میں پہلی صدی ہجری میں حضرت عثمانؓ بن عفان کی شہادت سے لیکر چودھویں صدی ہجری میں سقوطِ خلافت آلِ عثمان تک واقع ہوئے۔ اسلام اور اہل اسلام کی عداوت اور اہل اسلام کو دین کے مضبوط حصار سے نکالنے میں یہودی منافقین اور ان کی اولاد مختلف اسلامی عہدوں میں جو کردار ادا کیا اس کا بھی جائزہ لیں گے۔

اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی پے در پے شہادتیں ہوئیں۔ اور اس طرح مقامی فتنوں کے بیج بوتے گئے اور مذہبی فرقوں کی بنیاد پڑی اور حبّ اہلِ بیت اور حکومت اور سرداری کے لیے ان کے حق کے دفاع کے پردے میں باطنی فرقے نے جنم لیا۔ عبداللہ بن سبا یہودی منافق کی کوششوں سے جس نے حضرت علیؓ کے خدا ہونے کا دعویٰ کیا، شیعانِ علی میں ایک اور فرقے نے سبائیہ کے نام سے ظہور کیا۔ پھر ان فرقوں نے حکومتوں اور خاندانوں کی تبدیلی اور لوگوں میں اپنے مذہب کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عباسیوں سے مل کر پہلے امویوں کی حکومت کا تختہ اُلٹا، پھر عباسیوں سے بھی غداری کی اور دمشق وحلب اور قاہرہ اور

صفحہ ۱۴۳

دیگر اسلامی ممالک میں اپنی حکومت قائم کرلی ، جن میں وزیر اور مشیر سب شامل تھے ان میں مشہور ابو فرج یعقوب بن یوسف بن کلس یہودی تھا جو فاطمی خلیفہ العزیز باللہ کے دور (۳۶۵ھ ۔ ۳۸۵ھ) میں وزیر با تدبیر تھا اور سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ اس نے حکومت کے تمام اعلیٰ مناصب پر یہود و نصاریٰ کی بھر مار کردی جس کی وجہ سے شام کی سرحدوں پر صلیبی جنگوں میں فوج کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، یہاں تک کہ والی عسقلان ( جو انہی میں سے ایک تھا) نے عسقلان کا قلعہ بند شہر بغیر کسی مقابلے کے دشمن کے حوالے کر دیا اس پر فوج اور شہری باغی ہو گئے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر ۳۸۶ھ میں فاطمی خلیفہ حاکم بامر اللہ تخت خلافت پر بیٹھا جو شیعہ کے بارے میں اس قدر متعصب تھا کہ اس کے عہد میں لوگوں کا عرصہ حیات تنگ ہوگیا ۔ ۴۱۱ ھ میں اس نے یہودی اور مجوسی ہشتگین دروزی کے بہکانے پر الوہیت کا دعویٰ کر دیا تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے موقع پاکر اسے قتل کر دیا اور ہشتگین دروزی چھپ چھپا کر لبنان اور شام کی طرف بھاگ گیا جہاں اُس نے دروزی مذہب کو فروغ دیا۔ یہودیوں کے اب تک دروزیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات اُستوار ہیں اور دروزی آج تک اسرائیلیوں کے لیے ایسی نمایاں اور بیش بہا خدمات بجا لاتے رہے ہیں جن کی قیمت اسرائیل تمام عمر نہیں ادا کر سکتا۔

کی قدر و منزلت اور بڑھ گئی اور مسلمانوں پر ان کا خطرہ اور بڑھ گیا اور وہ ملک کے سیاسی اور مالی وسائل پر اس حد تک مسلط ہو گئے کہ عراقی حکومت کے خلاف بغاوت پر تیار ہو گئے ۔ لہٰذا ۴۲۲ ھ میں انہوں نے یہودیوں اور یہودیوں کے مکانات کو جلا کر خاکستر کر دیا۔

اور یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بویہی قرامطہ کی تحریک کے پشت پناہ تھے اور انہیں مالی اور جنگی امداد مہیا کرتے تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر یہودیوں کے قابض ہونے کی وجہ سے قرامطہ نے مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم ڈھائے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ہے۔

ساتویں صدی ہجری میں آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے شیعہ وزیر ابن العلقمی کی غداری کی بدولت

صفحہ ۱۴۴

ہلاکو خاں تاتاری کے ہاتھوں بغداد پر جو قیامت صغریٰ ٹوٹی وہ ایسا سانحہ عظیم ہے کہ کوئی کتاب اس کا احاطہ نہیں کرسکتی نہ کوئی قلم اُسے بیان کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس وقت کے مسلمان تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ بس قیامت آگئی۔

شیعی مذہب اختیار کرلیا جن میں سے ایک :

"غیاث الدین الجایتو خدابندہ محمد تھا جو اپنے آباؤ اجداد سے بھی زیادہ مسلمانوں پر سخت گیر واقع ہوا تھا۔ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں یہودیوں اور صلیبیوں کا حلیف بن گیا۔ اس کے عہد میں یہودی بغداد، موصل اور جزیرہ ابن عمرو کی حکومتوں میں اعلیٰ مناصب پر فائز، سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے تھے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ غیاث الدین سُنّی مسلمانوں کے مقابلے میں پوپ اور انگریز اور فرانسیسی بادشاہوں کا حلیف بن گیا تھا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا ابو سعید بہادر خان ۷۱۶ھ میں تخت پر بیٹھا جو اہلِ سنّت والجماعت کے مذہب پر کاربند تھا۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی صلیبیوں کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے۔ اندرونِ ملک کے یہود پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور یہودیوں کو ان کے عہدوں سے معزول کردیا اور تمام اہلِ کتاب کے لیے یہ لازم قرار دیا کہ وہ ایک خاص لباس پہنیں جو انہیں مسلمانوں سے ممتاز کرے۔ مسلمانوں کو اس کے عہد میں عروج حاصل ہوا لیکن یہ عروج عارضی ثابت ہوا کیونکہ یہودیوں کی سازش سے ابو سعید کو ۷۳۶ھ میں قتل کر دیا گیا"

اپنے مناصب سے خوب فائدہ اُٹھایا اور صفویوں کو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف برسرِ پیکار ہونے پر اُکسایا۔ اُن کے لیے پرتگالیوں کی اعانت تک حاصل کی جو اس وقت خلیج عربی پر قابض تھے اور جزیرہ ہرمز میں ان کا بحری بیڑہ لنگر انداز تھا۔ یہ ۹۳۰ھ اسماعیل اوّل کے عہد کا ذکر ہے ۔

صفحہ ۱۴۵

جب طہماسپ جانشین ہوا تو صفویوں اور پرتگیزیوں میں تعلقات کو اور تقویت ملی اور ۹۶۲ھ میں رومیوں اور ملکہ برطانیہ الزبتھ کے ساتھ خلافت عثمانیہ کے خلاف عسکری اعانت کا معاہدہ ہوا۔ عباس اول کے عہد میں یعنی ۹۹۵ھ میں بری فوج کی تربیت کے لیے انگریزوں اور سمندروں پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے برطانوی بحری بیڑے کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن انگریز نہ صرف ان کے حلیف تھے بلکہ عثمانیوں کے بھی تھے۔ معرکے کے اختتام پر عثمانی سپہ سالار نے خلیفہ کو استنبول میں ایک پیغام بھیجا جس میں اس نے صفوی لشکر کے متعلق یہ کہا تھا کہ ”یہ اوباش زنادقہ اور قزلباش ملاحدہ کا ایک قلیل گروہ ہے“ قزلباش سے مراد سُرخ عمامے تھے کیونکہ اہل سنت سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے انہوں نے اپنے سر سُرخ عماموں سے ڈھانپے ہوئے تھے جس کی ۱۲ تہیں تھیں جو ان کے مذہب اثنا عشری کی علامت تھی۔

تفصیل کسی اور موقع پر دی جائے گی۔ لوگ فوج در فوج مرتد ہونے لگے۔

ہزار سال کے عرصے میں منافق یہودیوں ان کی اولاد اور ان کے پیدا کردہ فرقوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسلام کا جھوٹا اور فریبی لبادہ اوڑھ کر یعنی بظاہر مسلمان بن کر لیکن بباطن کفر و الحاد پر قائم رہ کر جو کچھ کارنامے انجام دیئے ان کی یہ ایک خفیف سی جھلک ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک میں تخریب کاری اور فساد انگیزی کی جو وبا پھیلائی تو اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیر کر انہیں مرتد یا نیم مسلمان بلکہ ضعیف مسلمان بنا کر کرۂ ارض اور اس پر بسنے والوں پر غلبہ یاب ہو جائیں۔ شیعہ نے ہر زمانے میں ہر نسل پر اسلام اور مسلمانوں پر زخم لگائے ہیں اور آج تک زخم تازہ ہیں۔

۸۴۔ فریبی عقیدہ یا (منصوبے کے تحت ارتداد)

فریبی عقیدے یا منصوبہ بندی کے تحت ارتداد کا نظریہ اس اساس پر قائم ہے کہ اللہ کے دین میں بظاہر فوج در فوج داخل ہو جائیں، پھر یہ کہہ کر اس سے پھر جائیں کہ اس میں تو عیب ہیں جنہوں نے انہیں اس سے متنفر کر دیا ہے اور پھر اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ جائیں۔ اس طرح ان لوگوں کو جو

صفحہ ۱۴۶

نئے نئے ایمان لائے ہوتے ہیں موقع مل جاتا ہے وہ بھی منافقین کے ارتداد کی پیروی میں اندھا دھند اس دین سے پھر جاتے ہیں بغیر کسی دلیل کے بغیر کچھ دیکھے بھالے بس محض اندھی تقلید یا عداوت میں۔ لیکن اللہ سبحانہ نے بھی ان منافقین یہود کا پردہ چاک کر دیا اور ان کی بڑی فضیحت ہوئی جب یہ آیت اللہ کے رسول اور مومنین پر نازل ہوئی " وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ۱؎ " اور اہلِ کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ مسلمانوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لے آؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو شاید کہ وہ لوگ (جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوگئے ہیں اپنے دین کی طرف) لوٹ آئیں ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ یہود کا اس منصوبہ کے تحت دین اسلام سے پھر جانے کی غرض وغایت مسلمانوں کے عقیدے میں تشویش اور لوگوں میں ان کے دین کی حقیقت اور صداقت کے متعلق شک و شبہ پیدا کرنا تھا تاکہ وہ بھی ان کی پیروی میں دائرہ اسلام سے نکل جائیں اور ان کی منصوبہ بندی کے تحت ارتداد کی تقلید میں مسلمان بھی مرتد ہو جائیں۔ اس طرح جماعت کا نظام بگڑ جائے اور ان کی جمعیت بکھر جائے ۔ اللہ انہیں ہلاک کرے کیسا بُرا ان کا اخلاق ہے اور کیسا بُرا ان کا ٹھکانا ہے ۔ درحقیقت یہی یہود کا اخلاق ہے ۔

۴۸۔ یہود کا اخلاق قرآن کے آئینے میں

قرآن کریم نے یہود کی اکثر مقامات پر مذمت کی ہے اور ان کو قبیح ترین وصف کے ساتھ موصوف کیا ہے جسے ایک انسانیت سے گرا ہوا اور شرافت سے عاری، ناشکرا انسان موسوم کیا جاسکتا ہے۔ اور وہ سوءِ خلق کے سب سے نچلے درجے تک گر گئے ہیں۔ اللہ علیم وخبیر نے جن اوصاف سے انہیں موصوف کیا ہے وہ ہیں حسد، عناد، ظلم، فسق وفجور، فضول خرچی، جھوٹ، فساد، لوگوں پر دستِ تعدی دراز کرنا، غلو، مومنین کا مذاق اڑانا، لوگوں کا مال ناجائز طور پر کھا جانا، سود خوری، اللہ کے دین کی مخالفت، انبیاء کا قتل، عہد و پیمان کو توڑنا، اللہ کے علاوہ احبار کی عبادت اور بچھڑے کی عبادت، نفاق اور زمین میں

۱؎ آل عمران ۔ ۷۲

صفحہ ۱۴۷

فساد پھیلانا وغیرہ جن کا بیان اللہ عزوجل کی آیات ذیل میں آیا ہے :

عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ

(البقرہ ۔ ۱۰۹)

"اہلِ کتاب میں سے اکثر کی خواہش ہے کہ اپنے اندرونی حسد کی وجہ سے تمہیں حالت ایمان سے کفر کی طرف پھیر دیں۔"

(النساء ۔ ۴۶)

"اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سُن لیا ہے اور آہستہ سے کہتے ہیں ہم نے نافرمانی کی"

(النساء ۔ ۴۶)

"ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں"

(النساء ۔ ۱۶۰)

"غرض ان یہودی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہ رویّہ کی بنا پر ہم نے بہت سی پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں"

(البقرہ ۔ ۵۹)

"آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، یہ سزا تھی اُن نافرمانیوں کی جو وہ کر رہے تھے"

(ال عمران ۔ ۷۸)

"وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں"

بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ۔

(المائدہ ۔ ۷۸)

"بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی"

صفحہ ۱۴۸

(الاسراء : ۴)

”ہم نے بنی اسرائیل کے لیے اپنی کتاب میں یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں فساد برپا کرو گے “

(البقرہ ۔ ۲۱۲)

”ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں “

(النساء ۔ ۱۷۱)

”اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو “

وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ ، وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۔

(النساء : ۱۶۱)

”اور اُن کے سُود لینے کی بناء پر جبکہ انہیں اس سے روک دیا گیا تھا اور اس بنا پر کہ لوگوں کے اموال ناحق کھا لیتے ہیں “

النَّاسِ ۔

(آل عمران ۔ ۲۱)

”اور وہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں ۔

(البقرہ : ۱۰۱)

”کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالائے طاق رکھ دیا “

(المائدہ ۔ ۱۸)

صفحہ ۱۴۹

”یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں“

(التوبہ - ۳۱)

”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا ہے“

اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ ۔

(الاعراف - ۱۴۸)

”موسیٰ کے (کوہِ طور پر) چلے جانے کے بعد انہوں نے زیورات سے بچھڑے کا مجسمہ بنا لیا۔ اور ان ظالموں نے اس کی پوجا شروع کر دی“

النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔

(آل عمران - ۷۲)

”اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبیؐ کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو۔ شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں“

وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۔

(آل عمران - ۶۹)

”اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہِ راست سے ہٹا دے حالانکہ درحقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔“

(المائدہ - ۶۴)

”اور یہ لوگ زمین میں فساد کی سعی و کوشش کرتے ہیں حالانکہ اللہ مفسدین کو پسند نہیں کرتا“

(البقرہ - ۴۲)

صفحہ ۱۵۰

”باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو“

مقام الہ کے بارے میں تکبر: وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۔

(البقرہ ۔ ۵۵)

”یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کرینگے جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقہ نے تم کو آلیا“

کفر : وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ

(البقرہ ۔ ۸۸)

”اور وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں، نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے“

زندگی کی حرص: وَلَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيٰوةٍ۔

(البقرہ ۔ ۹۶)

”تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے“

شیطان کی اتباع: وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ۔

(البقرہ ۔ ۱۰۲)

”اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لیکر پیش کیا کرتے تھے“

بیوقوفی : سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مَا وَلّٰهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْا عَلَيْهَا۔

(البقرہ ۔ ۱۴۲)

”بیوقوف لوگ (یہود) کہیں گے کہ ان کے پہلے قبلہ سے پھر جانے کی کیا وجہ ہوئی؟“

اقتدار کی محبت: وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ۔

(البقرہ ۔ ۱۲۰)

”یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہونگے جب تک تم اُن کے طریقے پر نہ چلنے لگو“

اس کے علاوہ بہت سی قرآن میں مطالعہ کی جاسکتی ہیں۔ یہ خدا انہیں غارت کرے قرآن کریم کی ۱۱۴ سورتیں اور دس سے زیادہ سورتوں میں منا

یہ سورتیں تمام مدنی سورتیں ۱۱ آیتیں مدینہ میں نازل ہوتیں پر نہیں۔ جو اس بات کی واضح منافقین کو جانتے تک نہ تھے

۱؎ بعض مقامات پر بصیغہ حفظ

صفحہ ۱۵۱

اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہیں یہود کے متعلق جن کی خبر خالق کائنات نے دی ہے۔ جو قرآن میں مطالعہ کی جاسکتی ہیں۔ لیکن صفات میں سے سب سے گھٹیا یعنی نفاق ان کی مخصوص صفت ہے۔ خدا انہیں غارت کرے قرآن کریم کی ۱۱۴ سورتوں میں بہت سی سورتوں میں نفاق کے موضوع کا اکثر ذکر کیا گیا ہے اور دس سے زیادہ سُورتوں میں منافقین کا ذکر تیس مرتبہ کیا ہے جو کچھ اس طرح ہے :

یہ سورتیں تمام مدنی سورتوں کے نصف کے برابر ہیں۔ اور جیسا کہ معروف سورۃ عنکبوت کی ۱۱ آیتیں مدینہ میں نازل ہوئیں اور نفاق کا ذکر انہی آیات میں آیا ہے اس سورت کے کسی اور مقام پر نہیں۔ جو اس بات کی واضح دلیل قاطع ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ مسلمان نفاق اور منافقین کو جانتے تک نہ تھے نیز قرآن نے ان کا ذکر مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد ہی چھیڑا ہے جہاں

لے بعض مقامات پر بغیر لفظ نفاق کے منافقان کا ذکر آیا ہے جیسے سورہ بقرہ اور دوسری مدنی سورتوں میں۔

صفحہ ۱۵۲

یہود آباد تھے اور مدینہ کے نواح میں بھی تو ان میں سے کچھ یہودی بظاہر دینِ اسلام میں داخل ہو گئے۔ لیکن حقیقتاً وہ دل سے یہودی ہی تھے۔ یہ سب سے پہلا نفاق کا بیج تھا اور یہودی اسلام میں سب سے پہلے منافق تھے۔

نفاق بھی ارتداد ہی کی ایک قسم ہے لیکن خفیہ ارتداد ہے جو مرض کینسر کے مترادف ہے۔ پھر یہود ہر جماعتی حقیقی اور غیر حقیقی یا مصنوعی ارتداد کے پشتیبان رہے ہیں عبداللہ بن ابی بن سلول کعب الاحبار اور عبداللہ بن سبا منافقین کے سرغنے ہیں۔ مؤخر الذکر تو انسان کے روپ میں شیطان مجسم تھا جس کے شر، فتنہ، مکر و فریب اور سازشوں سے مسلمان آج تک زک اُٹھا رہے ہیں۔

۸۵- اسلام سے خارج اور اسلام کا جھوٹا دعویٰ کرنیوالے جدید و قدیم

فرقوں کے پسِ پشت یہود کا ہاتھ تھا :

علماء، مؤرخین، ادیب اور اسلامی علوم کے ماہر خواہ وہ قدیم ہوں یا جدید اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام سے خارج فرقوں کے خالق یہودی ہیں اپنے نفاق کی وجہ سے۔ ان جدید مؤرخین میں سے ایک شیخ محمد الخضری اپنی کتاب تاریخ الامم الاسلامیہ میں رقمطراز ہیں :

"مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے تھے، اُن میں ایک شیطان عبداللہ بن سبا پیدا ہوا جس نے تعظیمِ رسول اور اہلِ بیت کے سلسلے میں بہت غلو کیا اور حضرت علیؓ بن ابی طالب کو ان کا رئیسِ اعظم اور وصیِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیا جیسا کہ ہر نبی کا وصی ہوتا ہے اور کہا کہ یہ لازم ہے کہ حقدار کو صاحبِ امر بنایا جائے اور جس نے اس کا یہ حق لیا وہ ظالم اور غاصب ہے پھر اس نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کی مدح سرائی میں اس قدر غلو کیا اور آپ کو اس درجہ اللہ تک لے گیا جس کے حضرت علیؓ خود بھی طالب نہیں تھے۔" ۱؎

۱؎ طبع ہشتم، ج ۲ ص ۴۴۔ (جلد دوم صفحہ ۴۴)

صفحہ ۱۵۳

لوامع الانوار البہیہ علامہ ابن تیمیہؒ سے ان کے رسالہ الحمویہ الکبریٰ میں نقل کرتے ہیں ۔

” ابن سبا رافضی فرقے کا بانی ، منافق زندیق تھا۔ اس نے دین اسلام میں فساد برپا کرنے کا ارادہ کیا جس طرح بولص اُن رسائل کے جو نصاریٰ کے ہاتھ میں تھے مصنف نے کیا۔ اس نے ان کے دین کو بگاڑنے کے لیے ان میں بدعتوں کو رواج دیا۔ وہ خود یہودی تھا لیکن اُن کی مِلّت میں فساد پیدا کرنے کی نیت سے بظاہر نصرانی بن گیا ۔ اسی طرح ابن سبا بھی یہودی تھا جس نے حضرت عثمانؓ کے قتل کی کوشش کی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا حضرت عثمانؓ کو باغیوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ ابن سبا کی بدعتوں اور گمراہیوں کی چند جماعتوں نے پیروی کی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت علیؓ شہید نہیں ہوئے بلکہ وہ بادلوں میں موجود ہیں اور کڑک ان کی آواز ہے اور بجلی کی چمک ان کا کوڑا ہے۔ وہ زمین پر نازل ہوں گے اور اسے عدل وانصاف سے بھر دیں گے جب بھی گرج چمک ہوتی وہ کہتے وعلیک السلام یا امیر المؤمنین ۱؎ ۔ ان میں سے بعض عقیدہ تناسخ پر یقین رکھتے ہیں اور امامت کو دَورِ تناسخ سمجھتے ہیں ۲؎ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی صورت میں ہے اور اس کی رُوح نے حضرت علیؓ میں حلول کیا ہے پھر اس کے فرزند ارجمند حضرت محمد ابن حنفیہ میں حلول کیا تھا بعض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نُوری انسان ہے اور اس کا قلب حکمت کا سرچشمہ ہے نیز یہ کہ اُس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر امانت (یعنی امامت) پیش کی تو انہوں نے اس کے اُٹھانے سے انکار کیا اور اس بارِ امانت سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اُٹھا لیا (یعنی حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) بے شک وہ ظالم اور جاہل ہے (نقل کفر کفر نہ باشد)

۱؎ شام کے پہاڑوں میں نصیریوں کا بھی یہی عقیدہ ہے ۔

۲؎ شام و لبنان کے دُرُوزیوں کا یہ عقیدہ ہے ۔

صفحہ ۱۵۴

بعض کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روح انبیاء اور ائمہ میں حلول کرتی رہی حتی کہ حضرت علیؓ اور آپ کی اولاد کو پہنچی وہ محرمات کو حلال جانتے ہیں اور قیامت کے منکر ہیں بعض نے یہ دعویٰ کیا کہ ائمہ انبیاء ہیں جنت دنیا کی آرام و راحت کا نام ہے اور جہنم دنیا کے مصائب و آلام ہیں انہوں نے فرائض کو ترک کیا ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا تاکہ آپ آپ کی طرف بلائیں لیکن آپ نے لوگوں کو اپنی طرف بلایا۔ حضرت علیؓ ، حسنؓ ، حسینؓ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف الوہیت منسوب کی۔ وہ فاطمہ کی بجائے فاطم کہتے ہیں یعنی تانیث سے مبرّا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت جبریلؑ غلطی سے وحی حضرت علیؓ کی بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جاتے رہے وہ مسلسل ۲۳ برس تک غلطی کرتے رہے۔ اسماعیلیہ کہتے ہیں کہ قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ۔ اور وہ باطن پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی دعوت شریعت کے ابطال پر قائم ہے اور وہ اس کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو جادۂ حق سے ہٹی ہوئی ہے۔ وہ اصل میں مجوسی ہیں جو اُس وقت کی پیداوار ہیں جب اسلام میں فتنوں نے جنم لیا اور اختلاف رونما ہوا ۔ اسلام کی شان و شوکت ماند پڑ گئی اور دین کا گریبان چاک کر دیا گیا ۔ جب وہ اس کی کوئی وضاحت نہ کرسکے تو انہوں نے شریعت کی تاویل اس انداز سے کی جو ان کے مجوسی اسلاف کے قواعد سے جاملتی تھی۔ ان کا سرغنہ حمدان قرمطی تھا۔ ان کے مذہب کی اصل صابی اور مجوسی مذہب سے ماخوذ ہے۔ ان کے مذہب کی اکثر باتیں بعد میں صوفیوں کے کلام میں شامل ہوگئیں۔ ان کی مثال رسائل اخوان الصفا کے مصنفین کی ہے جن کا اصل مذہب قرامطہ کا مذہب تھا۔ انہوں نے اپنے کلام کا اکثر حصّہ امام جعفر صادق سے غلط طور پر منسوب کیا ہے تاکہ اسے اہل بیت کی میراث ثابت کرسکیں۔ سلطنت عبیدیہ فاطمیہ جو اہل بیت کی طرف منسوب تھی اور فاطمیین کہلاتی تھی وہ اسی قسم کی تھی۔ ان کا ظاہر مذہب رافضی تھا اور باطن انکار محض۔ ان میں سے ایک فرقہ

صفحہ ۱۵۵

دروزی ہے۔ اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ انکار کرنے والے ہیں" (مختصراً)

ہم اپنی بحث کا رخ پھر منافقوں کے شیطان عبداللہ بن سبا کی طرف کرتے ہیں۔

ہم بحث کا رخ پھر منافقوں کے شیطان لعین اور بلاء عظیم کے موجد کی طرف موڑتے ہیں۔ یہ یہودی فریب کار شیعان علی کے لیے افکار گھڑتا تھا۔ ان میں اور توراۃ کی آیات میں ربط پیدا کرتا تھا تاکہ وہ مستند ہو جائیں۔ پھر ان میں مجوسی افکار بھی گڈ مڈ کر دیتا تھا جو اس وقت بلاد فارس میں پھیلے ہوئے تھے تاکہ یہ ایک ممتاز اور مستقل فلسفے کی شکل اختیار کرلے شیعان علی میں سبئیہ بہت مشہور ہوئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ اللہ کی روح کا ایک حصہ حضرت علی میں حلول کر گیا تھا جس کی بدولت آپ نے عظیم باب خیبر اکھاڑ ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ پھر وہ اس سے بھی آگے بڑھے اور کہنے لگے۔ علی خود خدا ہے۔ وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میں ظاہر کے ساتھ حکم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نیتوں کا حال جانتا ہے" اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً مشرکین کے ساتھ قتال کیا، کیونکہ شرک کفر ظاہر ہے اور حضرت علی کو منافقین کے ساتھ جنگ کے لیے مختص کیا، کیونکہ نفاق ایک خفیہ معاملہ ہے تو حدیث کی رو سے ثابت ہوا کہ وہ (علی) اللہ ہے۔ اس کی مزید تصریح اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ علی کو مخاطب کر کے کہتے: "يَا عَلِيُّ أَنْتَ هُوَ" اے علی تو وہ ہے۔ آپ نے پوچھا "وہ کون؟" کہنے لگے "تو اللہ ہے" آپ نے اس پر سخت غیظ و غضب کا اظہار فرمایا اور آپ نے زمین میں گڑھے کھدوائے جن میں آگ جلائی گئی اور پھر اپنے خادم قنبر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو اس میں جلا ڈالے۔ وہ آگ میں جلتے ہوئے کہتے جاتے "اب ہم پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ تو اللہ ہے۔ کیونکہ اللہ کے سوا کوئی آگ کا عذاب نہیں دیتا۔"

کتب سیر، فقہ اور حدیث میں یہ قصہ مشہور ہے۔ اسی قسم کی ایک روایت امام بخاری نے صحیح بخاری میں ابن عباسؓ سے نقل کی ہے جو ہم اس کتاب کے پہلے باب کی تیسری فصل میں ذکر کر آئے ہیں۔

(یہاں پر شیعہ فرقوں پر بحث نظر انداز کر دی گئی ہے ص ۱۳۵ تا ۱۳۹)

صفحہ ۱۵۶

۸۸ ۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے اُن فرقوں کا حال جو اسلام سے خارج ہیں یا جو اپنی نسبت

غلط طور پر اسلام سے کرتے ہیں

یہ امر کسی صاحب عقل سے مخفی نہیں کہ عصر حاضر کے ان مشہور فرقوں کی تخلیق میں یہود کا کتنا بڑا حصہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں سے دور ہو گئے یا جو اپنی نسبت کسی سیاسی اغراض کے لیے مسلمانوں سے کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ فرقے یا خود ساختہ مذاہب درج ذیل ہیں:۔

بابی مذہب کیا ہے ؟ ایک خاکہ

کیا کہ وہ نیا نبی ہے اور اس کی کتاب البیان نے قرآن کو منسوخ کر دیا ہے۔

اباحیت) کے ذریعے بابی مذہب پھیلانے میں ممد و معاون تھی۔

لہٰذا سینکڑوں یہودی اس نئے مذہب میں داخل ہو گئے۔

یا شاہی فرامین ملے اُن سے یہ ثابت ہوا کہ مرزا علی محمد اور اس کے اعوان و انصار طہران میں روسی سفارت خانے کی معرفت ماہوار مشاہرے شاہی خزانے سے وصول کرتے تھے۔

اسلام کا دعویٰ کرتا تھا اور علماء جیسے لباس زیب تن کرتا تھا ، اپنے آپ کو شیخ عیسیٰ کہا کرتا تھا۔ ۱۸۴۹ء میں اس کے مذہبی پیشوا باب کو پھانسی کا حکم ہو جانے کے بعد اس شخص کی

صفحہ ۱۵۷

باب کو لوگوں کی نظروں سے مستور رکھنے میں کافی حصہ تھا۔

— البیان کی چند آیات

"قل ان یا اولی الهدی (کذا) بهدای تهتدون .... ثم انتم بالخلال والسواك بعد ما تفرغون من رزقكم افواهكم تنظفون ، ثم تترقدون (کذا) ثم وجوهكم وايديكم من الكف تغسلون ، ان تريدون ان تصلون (کذا)"

ترجمہ : کہہ دو کہ اے ہدایت یافتہ لوگو! (کذا) میری ہدایت و رہنمائی کے ساتھ ہی تم کامیاب و کامران ہوگے .... پھر تم کھانا کھانے کے بعد مسواک اور خلال سے اپنے منہ اور دانت صاف کرتے ہو، پھر تم سو جاتے ہو (کذا) پھر اگر تمہیں نماز پڑھنی ہوتی ہے تو پہلے اپنے چہرے اور ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو (کذا)۔

— بہائی مذہب ..... ایک خاکہ

بہائی مذہب کا مولد بھی مجوس و یہود کا موطن (ایران) ہے۔ اس کا داعی میرزا حسین علی مازندرانی النوری تھا اس کا لقب بہاء اللہ تھا۔ وہ اپنے آپ کو مسیح منتظر کہتا تھا۔ وہ ۱۳۰۹ھ میں مطابق ۱۸۹۲ء میں مرا۔

اس کی کتاب 'الاقدس' کی چند آیات

"انا ما دخلنا المدارس، وما طالعنا المباحث ۔ اسمعوا ما يدعوكم به هذا الامى الى الله الابدى انه خير لكم مما كنز فى الارض لو انتم تفقهون "

"ہم نہ مدارس میں داخل ہوئے اور نہ مباحث کا مطالعہ کیا۔ اس اُمی کی پکار سنو جو ابدی اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ یہ تمہارے زمین کے جمع کردہ خزانوں سے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ بوجھ رکھتے ہو"

صفحہ ۱۵۸

دعوت ۔

وہ اپنے عبادت خانوں کو مشارق اذکار کہتے ہیں اور ان کا کعبہ مقبوضہ فلسطین کا ایک مقام عکہ ہے۔

عثمانی افواج میں پانچویں کالم کا کردار ادا کیا جس پر انگریزوں نے اس کے خلیفۂ اوّل عباس آفندی کو جس کا لقب عبدالبہاء تھا، وکٹوریہ کراس دیا۔ جب ۱۹۱۸ء میں بہائیوں نے فلسطین پر قبضے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا۔

دور ختم ہوا ۔

شائع ہوتے ۔

آگئے۔

اور مسلمان و مجوس ایک دینِ واحد یعنی دینِ بہائی پر جمع ہوتے۔

صفحہ ۱۵۹

قادیانیت : ایک خاکہ

قائد تحریک اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اردو میں ایک کتاب لکھی ہے ”مسئلہ قادیانیت“ جس کا ترجمہ الاستاذ خلیل الحامدی معتمد دارالعروبہ للدعوۃ الاسلامیہ منصورہ لاہور نے عربی میں کیا ہے، فاضل مترجم اس کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :

”حمد وثنا کے بعد ۔ پاک و ہند کے مسلمان بیسویں صدی کے آغاز سے ایک ایسی ابتلاء میں مبتلا ہوئے جو بظاہر مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی لیکن اس کی روح سیاسی تھی۔ مرور ایام کے ساتھ اس کے عواقب و خطرات بڑھتے ہی گئے۔ اور وہ ہے قادیانی فرقہ ۔ بالفاظ دیگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمار کی ایک ناپاک سازش۔

قادیانیت کیا ہے ؟ اس کا مختصر خاکہ درج ذیل ہے :۔

گھرانے میں پیدا ہوا جو انگریز استعمار کی حمایت ونصرت میں کافی شہرت رکھتا تھا ۔

ہیں اور اسے اعتراف تھا کہ وہ کئی امراض جیسے ہسٹیریا، سل اور سلسل البول میں مبتلا تھا اور اس کا حافظہ بھی کمزور تھا ۔

عام دی ۔

بھی تائید حاصل تھی جن کا سربراہ پنڈت جواہر لال نہرو تھا ۔

صفحہ ۱۶۰

لیکن مسلمان انہیں قادیانی کہنے پر مصر ہیں۔

دعوت دینا۔

کہتے ہیں۔ اور ان کے ناموں پر رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں اور اس کی بیوی کو ام المؤمنین کہتے ہیں اور حج قادیان جاکر کرتے ہیں سنہ ۱۹۰۸ء میں اس کے ( ) ہیضہ سے مرنے کے بعد وہ اپنے جھوٹے نبی کی قبر کی زیارت کرتے ہیں جیسے مسلمان رسول اللہ کے روضے کی زیارت کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سورۂ اسراء میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مسجد قادیان ہے نہ کہ فلسطین کی مسجدِ مبارک ۔

ناصر احمد ابن بشیر الدین جانشین ہوا جو اب تک ہے۔

بڑے بڑے مناصب پر فائز ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔

تبلیغی مراکز قائم ہیں خصوصاً افریقہ، یورپ اور اسرائیل میں۔

مقابلے اور انہیں پاکستا

اس دین سے خارج فرقہ

میں مارشل لاء لگا۔

۱؎ "قادیانی مسئلہ" کے مؤلف

صفحہ ۱۶۱

مقابلے اور انہیں پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں کافی حصہ ہے۔ اس دین سے خارج فرقے کے مقابلے میں ہزاروں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے جب پنجاب میں مارشل لاء لگا ۔

۱؎ ”قادیانی مسئلہ“ کے مؤلف کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا، پھر اسے بدل کر چودہ سال قید با مشقت دی گئی ۔

صفحہ ۱۶۲

فصل سوم

اسلام میں سب سے پہلے اور مابعد کے سیاسی فتنوں کے

پسِ پُشت یہود تھے

صفحہ ۱۶۳

۸۷ خلیفہ اول کے خلاف بغاوت میں یہود کا ہاتھ تھا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے فوراً بعد حضرت ابوبکر صدیق کے عہد میں دینی ارتداد کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں کی تھکن ابھی مسلمان دور کرنے نہ پائے تھے کہ وہ اپنی نوعیت کی پہلی آزمائش میں مبتلا ہو گئے اور وہ تھی خلیفہ ثانی حضرت عمر ابن الخطاب کی ۲۴ھ میں شہادت۔ یہ ایک سازش کا نتیجہ تھی جسے حاسد یہود و نصاریٰ نے مل کر تیار کیا تھا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ابو لولوء فیروز مجوسی کی خدمات اُجرت پر حاصل کی گئی تھیں۔

یہودیوں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی تھی ایک دفعہ آپ ایک مکان کی دیوار کے زیرِ سایہ آرام فرما رہے تھے کہ انہوں نے اوپر سے بھاری پتھر آپ پر گرانے کا منصوبہ بنایا۔ (لیکن آپ کو بروقت اللہ نے باخبر کر دیا۔ آپ وہاں سے اُٹھ گئے مترجم) ایک دُوسرے موقع پر انہوں نے آپ کی یہودی پڑوسن کے ذریعے آپ کو بکرے کے پکے ہوئے پائے ہدیہ کیے جن میں زہر ملایا گیا تھا۔ یہ سب باتیں کتبِ سیر میں موجود ہیں۔

یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاتمہ کرنے میں تو ناکام رہے لیکن آپ کے صحابی حضرت عمر کو دھوکے سے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ابھی اسلامی سلطنت کو قائم ہوئے ربع صدی بھی نہیں گزری تھی۔ یہ اسلامی سلطنت کے سربراہ کا سب سے پہلا قتل تھا۔ پھر تو دینی اور سیاسی قتل ایک معمول بن گیا جو آج تک جاری ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس قتل کا منصوبہ بنانے والوں کا سرغنہ مکار یہودی کعب بن الاحبار تھا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خلیفہ عمر کے قتل کا اشارہ توراۃ میں موجود ہے لیکن حضرت عمر نے اس کے دعوے کو کبھی کوئی اہمیت نہ دی جب یہ سانحہ رونما ہوا تو کعب آپ کے پاس بڑے حزن و ملال کے عالم میں آیا اور کہا کیا میں نے آپ کو بتایا نہ تھا کہ محتاط رہیں؟

اس طرح اسلامی سلطنت کے سربراہ کے قتل کے جرم میں تین طاقتیں (یہودی، صلیبی، مجوسی) شریک تھیں۔ پھر خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان ان کے تیرِ ستم کا نشانہ بنے اور اس کے بعد خلیفہ چہارم

صفحہ ۱۷۴

حضرت علی بن ابی طالبؓ اور پھر خلفاء کا قتل ایک معمول بن گیا، جو ایک خفیہ طاقت کا کرشمہ تھا جس کا مرکز جزیرۃ العرب کے قریب یمن میں تھا۔ اور کعب کا مکر و حیلہ، مکر و فریب کی ایک ضرب المثل بن گیا اور وہ مدرسہ بھی جس میں اس کے حواری مکر و فریب کی تعلیم پاتے تھے۔ پہلے منصوبے بناتے پھر قتل کرتے، پھر مقتول کے جنازے پر روتے پیٹتے۔

۸۸۔ اسلام کے آخری خلیفہ کے زوال کا سبب یہود تھے

حضرت عمرؓ بن الخطاب کی شہادت کے بعد بھی قتل کی وارداتیں جاری رہیں۔ ریشہ دوانیاں اور فتنے بڑھ گئے۔ انقلابات اور سرکشی اور عصیان میں اضافہ ہو گیا۔ ایک خلیفہ کی جگہ دوسرا خلیفہ، ایک خانوادے کی جگہ دوسرا خانوادہ اور ایک نظام کی جگہ دوسرا نظام اور عہد کی جگہ دوسرا عہد لانے کے لیے علانیہ اور خفیہ کوششیں ہونے لگیں۔ اس طرح خلفائے راشدین کا دور گزرا۔ اموی خلفاء کا دَور آیا، پھر عباسیوں کا دور ختم ہوا تو فاطمی خلفاء تخت خلافت پر بیٹھے، پھر ممالیک آئے اور سب سے آخر میں تاریخ نے عثمانیوں کے لیے تختِ سلطنت بچھایا اور اللہ کے حکم سے یہ خانوادہ صدیوں سے زیادہ حکمران رہا۔ صلیبی ممالک کو انہوں نے زیر کیا اور اسلام کی فتح کا جھنڈا یورپ کے وسط میں (ویانا) کے دروازوں پر دستک دینے لگا اور اس کے حکام اور اقوام سے جزیہ طلب کرنے لگا۔ یہ خفیہ طاقت جو اسلام سے تعصب رکھتی تھی اس کامیابی پر سخت حیران و پریشان ہوئی تو اُس نے صلیبی ممالک، اسلام سے باغی اُمّتوں اور باطنی فرقوں کے ساتھ مل کر اس خاندان کو تخت خلافت سے ہٹانے اور اس کی شہنشاہی کو ختم کرنے کے لیے کوشش کی۔

آخر کار یہ خفیہ طاقت بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں تاریخ اسلام کی سب سے بڑی سازش تیار کرنے اور اس کی زندگی میں سب سے بڑا انقلاب لانے میں کامیاب ہو گئی ۱۹۰۸ء میں اس نے سلطان عبدالحمید ثانی رحمہ اللہ کو خلافت سے محروم کر دیا۔ اور پھر ۱۹۲۴ء میں تاریخ میں پہلی مرتبہ نظام خلافت کی بساط ہی لپیٹ کر رکھ دی۔

اور اس طرح یہودی متواتر ۱۴ صدیوں سے ، شہادتِ عثمان کے فتنہ کُبریٰ سے لے کر

صفحہ ۱۶۵

آخری عثمانی خلیفہ کی معزولی تک خلافت کو ختم کر کے اور خلفاء کو قتل کر کے دین اسلام کو مٹانے اور اہل اسلام کو جبراً مرتد بنانے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں اور درحقیقت وہ اپنے ان مذموم مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں لیکن ہنوز مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے اور اللہ تعالیٰ ان کے مکر و فریب کے پردے چاک کرنے والا ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کے لیے نظام خلافت کی تنسیخ اور اس کی جگہ حکم اور تعلیم کے میدان میں لادینی نظام کی ترویج خلافت عباسیہ پر تاتاریوں کی یلغار اور ان کے دارالحکومت بغداد کی تباہی سے بھی زیادہ بُرا سانحہ ہے۔ اس وقت مسلمان ساڑھے تین سال تک بغیر خلیفہ اور امام کے رہے لیکن جلد ہی وہ اپنی تباہی و بربادی سے اُٹھے اور اپنی شان و شوکت اور نظام حکومت دوبارہ قائم کر لی۔ اس وقت یہ حال ہے کہ مسلمان ۷۰ برس سے گہری نیند میں غرق ہیں، مدہوش ہیں، نہ خود بیدار ہوتے ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کو جگا دے۔ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ۔

سالونیکا میں آباد یہودیوں کے لیے عثمانی انقلاب ایک عظیم کامیابی کی حیثیت رکھتا تھا یہ وہی یہودی ہیں جو ۱۴۹۲ء میں اندلس کے مذبح خانوں سے نجات پانے کے لیے بھاگے تھے اور ترکی کے شہر سالونیکا میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ بظاہر اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔ یہودی میسن جو جو اس وقت روما کی بلدیہ کا سربراہ تھا۔ اس انقلاب میں اس کا بڑا ہاتھ تھا اور اس کی پشت پر تمام دنیا کے فری میسنز تھے۔

جس دن سلطان عبدالحمید کی معزولی کی خبر تار برقی کے ذریعے دی گئی تو تمام عالم میں یہودی خوشی سے ناچنے لگے اور یورپ کے کلیساؤں میں گھنٹیاں بجائی گئیں اور لوگوں نے تین دن تک شراب کے جام لنڈھائے اور گھی کے چراغ جلائے، یہ ان کے لیے بڑی خوشی و مسرت کا دن تھا۔

۸۹۔ اسلام میں پہلے سیاسی فتنے کے پسِ پشت یہود تھے

حضرت عثمان ذوالنورینؓ داماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جس فتنہ کبریٰ کی آگ بھڑکی وہ مسلمانوں اور ان کے امام کے مابین پہلا سیاسی فتنہ تھا جس نے سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور

صفحہ ١٦٦

اس کی عمارت میں شگاف ڈال دیتے جیسا کہ دوست اور دشمن سب جانتے ہیں کہ یہ منافق یہودیوں کی کارستانی تھی۔

اس زمانے میں یمن مشرق میں یہودیوں کی خفیہ قوت کا مرکز تھا۔ انہوں نے عبداللہ بن سبا کو جس کا لقب ابی السوداء تھا صنعاء سے مسلمانوں کے دارالخلافہ مدینہ منورہ قاصد بنا کر بھیجا تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو بروئے کار لائے جن کے نتائج و عواقب آج تک مسلمان بھگت رہے ہیں۔

منافق ابن سبا نے مدینے کے مسلمانوں میں فتنے کی آبیاری شروع کی اور لوگوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف بلوہ کرنے پر اکسایا۔ یہ کہہ کر کہ اُنہوں نے اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور آپ پر اقرباء نوازی کا الزام لگایا۔ حضرت علیؓ کی خلافت کی دعوت دینے لگا کہ وہ خلافت کے اصل حقدار ہیں وصی رسول ہونے کی حیثیت سے جیسا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے۔ توراۃ میں بھی اس پر نص موجود ہے۔ نیز حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے آپ سے پہلے منصب خلافت پر غاصبانہ اور ظالمانہ قبضہ کیا اور امانت اور وصیت کی خیانت کی۔ پھر وہ اپنے ان افکار کی مختلف شہروں میں تبلیغ کرنے لگا۔ وہ مدینہ، کوفہ، بصرہ، شام اور مصر میں گیا تاکہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے اور انہیں ایک نئی فجر کے طلوع توراۃ کی نبوت اور تائید ایزدی کی نوید سنائے جس سے حضرت علیؓ اور ان کی اولاد متمتع ہوگی حتیٰ کہ ۳۵ھ میں سانحۂ عظیم رونما ہوا حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا گیا اور آپ کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔ کتب سیر و تاریخ میں اس سانحہ کی تفاصیل موجود ہیں۔

تاریخ اسلام میں یہ پہلا سیاسی فتنہ تھا جس کے بعد مسلمانوں کو کئی فتنوں سے واسطے پڑے جن کے خطرناک نتائج آج تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ظاہر ہے ان سب فتنوں کے پس پردہ یہودی مکر و فکر کا ہاتھ ہے جو ہر زمانے میں ایک نیا بہروپ بھر کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔

دعوت اسلام کے آغاز سے یہود کبھی مجوسیوں کے ساتھ اور کبھی نصاریٰ کے ساتھ مل کر لوگوں کو نئے دین سے متنفر کرنے اور اس سے پھیرنے میں لگے ہوئے ہیں مجوسیوں کے ساتھ یہودیوں کے تعاون

صفحہ ۱۶۷

کی دو صورتیں ہیں اور یہ دو میدانوں میں ظاہر ہوا : اول ـــــ نظری صورت میں : عقیدے کے میدان میں دوم ـــــ عملی شکل میں : سیاسی میدان میں

عقیدے کے میدان میں یہود و مجوس نے مل کر جھوٹے عقیدے گھڑ کر نو مسلموں یا ان مسلمانوں میں جو وطن رسالت سے دُور تھے، پھیلائے اور ان طبقوں کے لوگوں کے دل شیعانِ علی کی دعوت کی طرف مائل کیے اور جمہور صحابہ اور مسلمانوں کے خلاف ان میں حزب علی کی فکر کو مزین کر کے پیش کیا کہ حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد اور آپ کے وصی ہیں جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل کے ہر نبی کا ایک وصی ہوتا تھا حضرت علی کو تائید الٰہی حاصل ہے جس نے آپ کا ساتھ دیا وہ نجات پا گیا اور جو آپ سے جدا ہوا وہ ہلاک ہوا۔ لہٰذا جو نجات کا خواہاں ہے تو وہ آپ کی کشتی میں سوار ہو جائے اور جو پیچھے رہ گیا وہ غرق ہونے والوں میں سے ہوگا۔

کیونکہ مجوسی عربوں کے پڑوسی تھے اور ان سے حسد کرتے تھے لہٰذا وہ اسلام کو بدنام کرتے اور لوگوں کو اس کے قبول کرنے سے روکتے تھے کیونکہ اسلام نے بلاد فارس میں مجوسیوں کی جلتی ہوئی مقدس آگ کو بجھا دیا تھا۔ اور مسلمانوں نے کسریٰ کی سلطنت کو تہ و بالا کر دیا اور ان کی حکومت کو صفحۂ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا تھا جس دن حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افواج قاہرہ نے بلاد فارس کو زیر نگیں کر لیا تھا اور اُن کے ناقابل تسخیر قلعوں پر فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے تھے اور اس کے میدانوں میں ان کے اسلحے اور لوہے کے ہتھیاروں سے مسلح گھوڑے دوڑ رہے تھے اور ان کے جابر بادشاہ کی افواج ہتھیار ڈال چکی تھیں اور ان کے خزانوں اور جواہرات سے لدے پھندے اونٹ مع قیدیوں اور مال و متاع کے فارس کے دارالحکومت مدائن سے مسلمانوں کے دارالخلافہ مدینہ منورہ کی طرف رواں دواں تھے۔

اب تو انہیں انتقام کا موقع ملا ہے اور یہود و مجوس کے مصالح مشترک ہیں۔ ان کا نصب العین اور منزل ایک ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنا۔ لہٰذا ہر راستہ اسی

صفحہ ۱۶۸

ایک منزل کی طرف جاتا ہے خواہ وہ مجوس کا اپنی شکست خوردہ سلطنت و حکومت کا بدلہ لینا ہو یا یہودیوں کا اپنی اس بے عزتی کا جس کا سامنا انہیں اس وقت کرنا پڑا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جزیرہ العرب سے ان کی کارستانیوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے جلا وطن کر دیا تھا کہ یہ پھر وہاں لوٹ کر واپس نہ آسکیں۔

اس طرح طرفین میں اشتراک و تعاون کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جو خفیہ خفیہ نمو پاتا رہا اور بڑھتا رہا یہاں تک کہ امت باہم متخاصم گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئی۔ ہر گروہ اپنے تئیں خوش ہے۔ ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو مورد لعن طعن قرار دیتا ہے، ایک دوسرے کے مہدی کو جھٹلاتا ہے۔ ایک دوسرے کے پیشوا کی مذمت کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے پیروکار کو کافر ٹھہراتا ہے اور ایک دوسرے کے اعوان وانصار سے لڑتا ہے اور سب فرقے اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں جو غلط اور بہتان ہے۔ حق تو یہ ہے کہ انہیں اپنی نسبت اپنی اس اصل کی طرف کرنی چاہیے جس سے وہ نکلے ہیں۔ انہیں اسلامودیہ یا اسلامجوسیہ کہلانا چاہیے، یہودیت اور مجوسیت کی طرف نسبت ہے جن سے وہ پیدا ہوئے، جن کی گود میں وہ پلے بڑھے۔ جو شخص ان فرقوں کے عقائد کا مطالعہ کرے گا اور یہودیت اور مجوسیت سے ان کا تقابل کرے گا اسے ایک لمحہ بھر ادنیٰ شائبہ بھی نہیں ہو سکتا کہ دونوں فرقوں کا خمیر نجس مٹی سے اٹھایا گیا ہے ۱؎

۹۱۔ یہود اسلام سے باغی فرقوں کو بھڑکاتے رہے ہیں

۱۸۸۲ء میں فرانس میں منعقد ہونے والی فری میسنز کی کانفرنس میں یہ سفارشات پیش کی گئیں:

”اگر فری میسنز غیر لوگوں کے اشتراک سے کوئی جماعت بنائیں تو انہیں چاہیے کہ اس جمعیت کا انصرام و انتظام غیر فری میسنز کے ہاتھ میں نہ دیں بلکہ اس کے مرکزی عہدے

۱؎ آگے صفحہ ۱۵۳ سے ۱۵۸ تک چھوڑ دیا گیا ہے۔

صفحہ ۱۶۹

وہ اپنے ہاتھ میں رکھیں اور جیسے انہیں مرکز سے ہدایت ملے اس کے مطابق اس کا انتظام چلائیں ۱؎“

۱۸۸۹ء میں فری میسنری کی کانفرنس میں درج ذیل قرار داد پاس ہوئی :۔ ”فری میسنز کو چاہیے کہ وہ دینی جمعیتوں میں گھس جائیں بلکہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس قسم کی دینی جمعیتیں خود قائم کریں جو حقیقی دینی روح سے عاری ہوں بس بظاہر دینی جماعتیں ہوں ۲؎“

سنہ ۱۹۰۰ء کی عالمی فری میسنز کی کانفرنس کی روداد میں لکھا ہے : ”ہم صرف متدین اور دیندار لوگوں اور ان کے عبادت خانوں پر غلبہ حاصل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہمارا بنیادی مقصد مذہب کا سرے سے وجود ہی مٹا دینا ہے ۳؎“

عصر حاضر کی اس عالمی یہودی تنظیم کے گرگوں کے متعین کردہ اغراض و مقاصد پر ایک نظر ڈالنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ اغراض و مقاصد بعینہ وہی ہیں جو اس سے قبل ان کے اسلاف اور تلمود نے متعین کیے ہیں اس سے یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک اسلام سے باغی فرقوں کی تخلیق کے یہود کس حد تک ذمہ دار ہیں۔ زمانہ قدیم میں باطنی فرقوں اور عصر حاضر میں بابی بہائی اور قادیانی مذاہب کی تخلیق اور ان کی تبلیغ و اشاعت میں یہود کو بڑا دخل حاصل ہے ۔

ان فرقوں کے عقائد باطلہ ، سرگرمیاں اور ان کے سرغنوں کی کارگزاریاں سامنے لانے سے ہمارا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ان کا معاملہ بڑا سنگین اور سنجیدگی سے غور طلب ہے ۔ ان کی سیادت و قیادت

۱؎ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : اسرار الماسونیۃ از جنرل جواد رفعت (ترکی)

۲؎ ، ۳؎ ملاحظہ ہو ترکی مسلمان جنرل جواد رفعت اتلھان کی کتاب ”فری میسنز کے اسرار“

صفحہ ۱۷۰

ہمارے لیے شر عظیم ہے ۱؎

۹۲۔ تاریخ گواہ ہے ... اور اللہ سب سے بہتر گواہ ہے

تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے تو انسان فتنوں اور سازشوں کی کثرت دیکھ کر حیران و پریشان رہ جاتا ہے جو یہود اور اس جیسے دیگر فرقوں اسماعیلیہ و باطنیہ یا اسلام نما نے اُمتِ مُسلمہ کے خلاف تیار کیں خصوصاً قرامطہ زنگیوں، تاتاریوں، اسماعیلیوں، نصیریوں اور صلیبیوں کے ہاتھوں مسلمانوں اور اسلامی ممالک کو جیسے جیسے سازشوں، بغاوتوں اور فتنوں کا سامنا کرنا پڑا کہ مسلمان علماء نے باطنیہ فرقوں کی افواج میں ملازمت کو خواہ چوکیدار کی حیثیت سے ہی ہو کفر قرار دیا ہے ۲؎

یہی اقوام تھیں جو ایک حج کے موقع پر مکہ میں در آئی تھیں اور ہزاروں حجاج کو تہہ تیغ کر دیا تھا اور حجر اسود کو خانہ کعبہ سے اکھاڑ کر بحرین لے گئے تھے جو ان دنوں ان اقوام کا گڑھ تھا۔

انہی اقوام نے بصرہ کے علاوہ کئی عراقی شہر اور بستیوں کو جلایا، مسمار کیا اور لُوٹا تھا۔ انہی لوگوں نے شام کے کئی شہروں اور قلعوں پر صلیبی قبضے میں مدد کی اور انہیں بیت المقدس کے دروازوں تک لے آئے۔

یہی لوگ تھے جنہوں نے آخری عباسی خلیفہ کے ساتھ غداری کی اور ہلاکو خاں تاتاری کے ہاتھ پر سقوط بغداد اور اسلامی تہذیب و تمدن کی تباہی کا باعث بنے جو سات صدیوں سے دیگر اقوام کے لیے منارۂ روشنی کا کام دے رہی تھی۔ ان کا سرغنہ ابوطالب مؤید الدین محمد بن العلقمی وزیر تھا جس نے تاتاریوں کے ساتھ ساز باز کر کے بغیر لڑے بھڑے حیلے اور دھوکے سے بغداد ان کے حوالے کر دیا۔ کہتے ہیں ادھر خلیفہ مذاکرات صلح کی غرض سے اپنے اعیان سلطنت، سپہ سالاروں سمیت شاہی لباس زیب تن کیے، بغداد کے دروازوں کے باہر خیمہ زن ہلاکو خاں کے خیمہ میں داخل ہوا اور ادھر ہلاکو خاں کے وحشی لشکر

۱؎ آگے دو پیرے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ ۲؎ ملاحظہ ہوں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے فتاویٰ

صفحہ ۱۷۱

بغداد میں گھس گئے اور اسے تاخت و تاراج کیا کہ تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے بغداد کی گلیاں کئی دن تک خون کی ندیاں بنی رہیں اور متعفن لاشوں کی وبا شام تک پھیل گئی عالی شان عمارات سے شعلے بلند ہوتے رہے اور دجلہ وفرات ایک طرف تو خون مسلم سے رنگین ہو گئے اور دوسری طرف بغداد کے عظیم کتب خانوں کی بیش قیمت کتابوں سے پُر ہو گیا جو جاہل تاتاریوں نے دریا بُرد کر دی تھیں۔ تخت خلافت خلیفہ سے خالی ہو گیا، اور مسلمان بغیر امام کے یتیم ہو کر رہ گئے۔ مؤرخین نے مسلمانوں کا بغیر امام کے رہ جانے کو سانحہ اعظم قرار دیا ہے بہ نسبت اس دنیاوی ابتلاء و مصائب کے جس کی نذر ان کے جان و مال اور تہذیب و تمدن تک ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمان تین سال تک بغیر امام کے رہے یہ منصب امامت عظمیٰ فرض لازم ہے جس کے بغیر مسلمانوں کے دین اور حکومت کا کوئی اعتبار نہیں، تین سال تک بغیر امام کے رہے مسلمانوں کے لیے یہ عظیم سانحہ تھا کہ خطیب نے جمعہ کے خطبے میں یہ دعا کی ”اے اللہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے جس میں اسلام اور اہل اسلام اس سے پہلے کبھی مبتلا نہیں ہوئے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“لہ

ابن علقمی کی غداری کا صلہ ہلاکو خاں نے یہ دیا کہ اسے اپنا وزیر بنا لیا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا فضل بن محمد بن علقمی وزیر بنا جو باپ سے بھی بازی لے گیا اور مسلمانوں پر تاتاریوں سے بھی زیادہ سخت گیر واقع ہوا، پھر تاتاریوں نے بغداد کا انتظام و انصرام آل جوینی کی مدد سے چلانا شروع کیا جو مسلمانوں کے لیے تیغ بے نیام ثابت ہوئے۔

بہر حال سقوط بغداد کی قیامت صغریٰ بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں سقوط خلافت کے مقابلے میں کچھ نہیں، کیونکہ پہلی مصیبت سے تو مسلمانوں نے چند سالوں میں ہی چھٹکارا حاصل کر لیا تھا۔ لیکن دوسری ضرب اتنی شدید ہے کہ ۷۰ برس گزر جانے کے باوجود مسلمانوں کے زخم مندمل نہیں ہو سکے

له ابن کثیر ۱۳ / ۲۱۵ - ۲۱۸

صفحہ ۱۷۲

عثمانی سلطنت کے حصے بخرے ہوچکے ہیں۔ ہر حصہ مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے۔ نتیجۃً اُمتِ مسلمہ خود جغرافیائی حدود کی پابند ہو کر مختلف نسل پرست اقوام، قبائل اور سیاسی گروہوں اور مذہبی فرقوں میں بٹ کر رہ گئی ہے جو باہم متخاصم ہیں اور صرف اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کسی بات پر آپس میں اتفاق نہیں کریں گے۔ اس تشتت و انتشار کے مرض سے افاقے کی کیسے اُمید کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً ۱۹۶۷ء اور پھر ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد تو یہ اُمت مزید افتراق و تشتت کا شکار ہو گئی ہے اور روز بہ روز رُوبہ زوال ہے۔ لبنان سے لے کر جولان ، حوران اور سیناء تک، یہ سب یہود اور اُن کے عزیز و اقارب مجوس کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔

لیکن مستقبل قریب میں سب سے بڑی آفت اس وقت رُونما ہوگی جب مثلث کے اضلاع باہم مل جائیں گے اور ان کے سربراہ ایران و حبشہ اور مقبوضہ فلسطین میں اپنا مستقر بنالیں گے اور مسیحا ظاہر ہوگا تو سونا آگ بن جائے گا اور ہر رطب و یابس کو جلا ڈالے گا اور آسمان اس کے سیاہ اور گہرے بادلوں میں چھپ جائے گا اور زمین گھٹیا لوگوں کے بوجھ سے چیخ اُٹھے گی تو اے خفیہ قوت ابن علقمی کی اولاد، ابن ابی السودار کے شاگردو، اے بیسویں صدی کے قرامطہ ! اے افاعی کے بیٹو! خوشیاں ہرگز نہ مناؤ کہ یہ تمہارے لیے عید کا دن ہوگا۔ اور اُس وقت سونے والا (مسلمان) نیند سے بیدار ہوگا تو دیکھے گا کہ اسرائیل کی حکومت نیل سے لے کر فرات تک پھیل گئی ہے۔ نیز یہ کہ اولادِ محمّدیہ نے شریعتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منسوخ کر دیا ہے اور اس کی جگہ آلِ داؤد و سلیمان علیہما السلام کی شریعت قائم کر دی ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ ان سے اس کی دلیل طلب کرے۔

جس روز مشرق کی طرف سے اولادِ مجوس اور مغرب کی طرف سے افاعی کی اولادیں مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گی اور مُوسیٰ کے اَشْقِیَاء ایسا کاٹیں گے کہ اس کے درد سے وہ افاقہ نہیں پائیں گے جب تک اللہ نہ چاہے۔ اس روز عرب رونا بند کر دے گا جیسا کہ یہود کا دعویٰ ہے اور ایران و حبشہ کے سوا کسی اُمت سے یہود کی مساعدت نہ کرنے کا کوئی عذر قبول نہ کیا جائے گا۔

۹۳۔ اُمید کی کرن اور عمل

جو چیز انسان کے دل میں پیدا نگہبان ہے جس سے زمین و آسمان اللہ کی شان دیکھے کہ جس عثمانی پیش آیا اسی سال عثمانی خلافت کا تک قائم رہی جس نے اسلام اور اسلام کا علم لہرایا۔ یہ سب کچھ عثمانی اسی طرح جب خلافت پر دعوتِ اسلامیہ حسن البناء پیدا ہو خلافتِ اسلامیہ کے قیام پر اکسایا بٹھانے کی دعوت دی۔ آپ کی عام حاصل ہوا۔ پھر یہ تحریک بھی بیرونی سازشوں کا نشانہ بنی تو تحریک کے قافلے جام شہادت نوش کر گئے لیکن یہ تحریک ان قربانیوں ہی گئی۔ اور ان شہداء کی جگہ نئے اور عزم و ہمت سے بھر پور جنہو شہادت کا راستہ اختیار کریں گے یہ تحریک ایسی چلی پھیلی کہ انڈونیشیا، پاک و ہند، ترکی کے رُکن بنے۔

صفحہ ۱۷۳

۹۳- اُمید کی کرن اور عمل کی تحریک

جو چیز انسان کے دل میں اُمید کی کرن اور عمل کا جذبہ پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نگہبان ہے جس سے زمین و آسمان کی کوئی خفیہ چیز مخفی نہیں ہے۔

اللہ کی شان دیکھیے کہ جس سال یعنی ۶۵۶ھ میں ہلاکو خان تاتاری کے ہاتھوں سقوطِ بغداد کا سانحہ پیش آیا اسی سال عثمانی خلافت کا بانی عثمان بن ارطغرل پیدا ہوا۔ وہی عثمانی سلطنت جو ۷ صدیوں تک قائم رہی جس نے اسلام اور مسلمانوں کی بے عزتی کا بدلہ لیا۔ اور مشرق سے لے کر مغرب تک اسلام کا علم لہرایا۔ یہ سب کچھ علیم و خبیر کی تدبیر کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح جب خلافت عثمانیہ کو زوال آیا تو بیسویں صدی میں اس کی نجات کے لیے امام دعوتِ اسلامیہ حسن البناء پیدا ہوئے جس نے مسلمانوں کو ان کی گہری نیند سے بیدار کیا اور دوبارہ خلافتِ اسلامیہ کے قیام پر اکسایا اور امامتِ عظمیٰ کی خالی کرسی پر کسی صائب الرائے اہل ہستی کو بٹھانے کی دعوت دی۔ آپ کی دعوتِ اسلامی کو نہ صرف عربوں میں بلکہ تمام عالمِ اسلام میں قبولِ عام حاصل ہوا۔ پھر یہ تحریک بھی حسبِ معمول استعمار اور صیہونیت اور اُن کے شرکاء کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا نشانہ بنی تو تحریک کے ارکان نے جان و مال کی پے بہ پے قربانیاں دیں اور قافلے کے قافلے جامِ شہادت نوش کر گئے اور آخرکار آپ خود بھی مقامِ شہادت پر فائز ہوئے۔

لیکن یہ تحریک ان قربانیوں کے باوجود ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ چار دانگ عالم میں پھیلتی اور بڑھتی ہی گئی۔ اور ان شہداء کی جگہ نئے لوگوں نے لے لی۔ نیا خون، جوان خون، تقویٰ سے دمکتے چہرے اور عزم و ہمت سے بھرپور جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا کہ وہ بھی اپنے پیشرو کے نقوشِ قدم پر چل کر شہادت کا راستہ اختیار کریں گے، یہاں تک کہ وہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوں۔

یہ تحریک ایسی پھلی پھولی کہ کرّہ ارض کے گوشے گوشے میں اسلامی جماعتیں قائم ہوگئیں، افریقہ، انڈونیشیا، پاک و ہند، ترکی اور یورپ و امریکہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور چیدہ لوگ ان جماعتوں کے رکن بنے۔

صفحہ ۱۷۴

اور اللہ تعالیٰ کا قول سچا ہے :

”اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّئَاتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا؟ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ“ ۱؂

”کیا وہ لوگ جو بُرے اعمال کرتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم پر سبقت لے جائیں گے؟ کتنا بُرا ان کا فیصلہ ہے“

”كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْط اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ“ ۲؂

”اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ضرور وہ مجھے اور میرے قاصدوں کو غالب کرے گا، بے شک اللہ قوی اور غالب ہے“

”وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ“ ۳؂

”اللہ تعالیٰ اپنے کام پورے کرنے میں مکمل طور پر غالب ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس بات کا شعور نہیں ہے“

۱؂ العنکبوت : ۴ ۲؂ المجادلہ : ۲۱ ۳؂ یوسف : ۲۱

صفحہ ۱۷۵

فصل چہارم

عصر حاضر کی ارتداد کی تحریکوں کے پس پشت فری میسنز، کمیونزم

اور عیسائی مشنریاں ہیں

اثرات۔

اور جماعتوں کے ساتھ اس کا رابطہ۔

صفحہ ۱۷۶

۹۴۔ فری میسنری

فری میسنری صہیونیت کی بیٹی ہے جس کی ماں توراۃ اور باپ تلمود ہے۔ یہ عصرِ حاضر کا یہودی حریت۔ کا اژدھا ہے کہ آج اگر موسیٰ کا عصا ہوتا تو ان سب سانپوں کو نگل جاتا لیکن یہ اژدھا سب قوموں کو عنقریب نگل جائے گا۔ مزید تفصیلات کے لیے سفر حزقیال کی ۲۹ ویں فصل ملاحظہ ہو۔

فری میسنری کی تشکیل اس تاریخی اجلاس میں ۱۸۹۷ء میں کی گئی جس میں دنیا کے بڑے بڑے یہودی فری میسن ( ) شریک ہوئے اور اسے ایک سیاسی تنظیم بنانے اور ایسے شیطانی اسلوب پر چلانے کا عہد کیا کہ جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کی بنیادوں پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور مملکت اسرائیل میں ”مسیحا منتظر“ کا استقبال تھا۔

فری میسنری اپنی نئی شکل میں عصر حاضر میں ہی ظاہر ہوئی۔ اس سے قبل یہ ”خفیہ طاقت“ کے نام سے بعثت اسلام کے وقت سے کام کر رہی ہے اور تمام خلافتوں اور اسلام سے خارج فرقوں کے نشو و نما پانے کے وقت سے سب زمانوں میں اس کی ہم عصر رہی ہے۔

جس طرح ”خفیہ طاقت“ نے خلافت عباسیہ کے دارالخلافہ بغداد کے سقوط پر ۶۵۶ھ میں خوشیاں منائی تھیں اسی طرح ۱۹۰۸ء میں فری میسنری نے عثمانی خلافت کے دارالخلافہ استنبول کے سقوط پر مسرت کے شادیانے بجائے تھے۔ تاریخ اسلام کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے زوال اور اس کے بعد جیسے پکے ہوئے توت کا پھل آندھی میں بکھر جائے اسی طرح اس کے چھوٹے چھوٹے صوبوں اور سلطنتوں میں بٹ جانے پر فری میسنری کی آنکھیں مسرت سے پھیل گئیں۔ وہ مسلمان لیڈروں کے دلوں کو حریت، اخوت، مساوات، قومیت، وطنیت اور آزادی جیسے خوشنما نعروں سے لبھا لیتے ہیں، عموماً آزاد خیال مسلمان جنہوں نے بچپن میں اُن کے قائم کردہ سکولوں، کالجوں میں تعلیم و تربیت حاصل کی، اور جن کی جوانی ان کی محفلوں اور مجالس میں اُٹھتے بیٹھتے گزری، ان کے پھیلائے ہوئے جال میں بآسانی پھنس جاتے ہیں، پھر جب وہ ہولناک حلف بھی اُٹھا لیتے ہیں اور طوق غلامی اپنی گردنوں میں ڈال لیتے

صفحہ ۱۷۷

ہیں تو اب اگر کوئی چاہے بھی تو اپنی جان خلاصی نہیں کرا سکتا۔ اگر کسی نے اس حلف کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ تو اس حلف کے بعد وہ اس تنظیم سے کسی صورت علیحدگی یا راہ فرار اختیار نہیں کر سکتے۔ ان بد نصیبوں کے لیے جو اس تنظیم کے ایک مرتبہ باقاعدہ حلف اٹھا کر رکن بن جاتے ہیں۔ دو ہی راستے ہیں یا وہ اپنی تمام زندگی اسی میں ہو کر گزاریں بصورتِ دیگر موت اُن کا مقدر ہے یعنی اس سے انحراف موت کے مترادف ہے۔

اور کم علم کم عقل اور نچلے درجے کے لوگوں کے لیے جنہوں نے فری میسنری کے ہاتھوں بیعت نہیں کی ان کے مرتبے، عقل و فہم اور خواہشات کی مناسبت سے فری میسنری نے ایک اور جال تیار کر رکھا ہے اور وہ ہے کمیونزم بنت فری میسنری اور اس لعین کا زہر اس کی ماں کے زہر سے بھی زیادہ مہلک ہے جس کا ذکر انشاء اللہ اگلے عنوان کے تحت آئے گا۔

اگر دیکھا جائے تو فری میسنری تمام خفیہ تنظیموں میں سب سے قدیم ہے اگرچہ ”خفیہ قوت“ کی بدلی ہوئی دوسری صورت ہے جو بیس صدیوں سے یعنی آغازِ مسیحیت سے اندر ہی اندر اپنا کام کر رہی ہے۔ صیہونیت فری میسنری کو فکری غذا مہیا کرتی ہے اور اس کے ارکان وہ یہود ہیں جو فری میسنری کے مدارج میں سے ۳۰ سے اوپر مدارج طے کر چکے ہیں۔

اِس تنظیم نے اپنے ہاتھ پاؤں اتنے پھیلا لیے کہ اب اِس تنظیم کے دروازے مسلمانوں، مسیحیوں، مجوس، یہود اور مشرکین کے لیے یکساں کھلے ہوئے ہیں اور اس کی شاخیں دنیا کے تمام ممالک میں قائم ہیں اور وہ سیاست کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ جہاں بڑے اہم اُمور کے حتمی فیصلے کیے جاتے ہیں جہاں بادشاہوں اور ملکوں کے سربراہوں کے عزل و نصب اور زوال و بقا کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جہاں تباہ کن سازشوں اور خفیہ تحریکوں، اجتماعی اور سیاسی انقلابات اور ہنگاموں کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ تنظیم سازشیں تیار کرنے اور انقلابات کے منصوبے بنانے کا مطبخ اور اخلاق کا مقبرہ ہے۔

دنیا کے پیچیدہ اور اہم امور طے ہونے کی بدولت اس تنظیم کے ارکان ہر ملک کی خفیہ پولیس

صفحہ ۱۷۸

(C. I. D) میں ملازم ہو کر تنظیم کے لیے جاسوسی اور اس کے اغراض و مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر یہ تنظیم نہ ہوتی تو تمام دنیا سے دھتکارے ہوئے اور تمام حقیر قوموں سے بھی حقیر یہودی اپنی مقصد براری کے لیے دوسرے ادیان اور اقوام کے لوگوں کے شانہ بہ شانہ آزادی کے ساتھ کبھی بھی کام نہ کر سکتے ۔

جب کوئی مسلمان اس تنظیم کے پُر فریب جال میں پھنس کر اس کا رکن بن جاتا ہے تو وہ دانستہ یا نادانستہ کفر کے گڑھے میں اور ارتداد کی دلدل میں گر پڑتا ہے۔ اللہ اس سے بچائے۔ اور پھر کفر و ارتداد کی دلدل میں نیچے ہی نیچے دھنستا چلا جاتا ہے۔

سب سے پہلے ان کے ذہن نشین یہ بات کرائی جاتی ہے کہ دین اللہ کے لیے ہے اور وطن سب کے لیے ۔ پھر یہ کہ یہود و نصاریٰ اور مجوس و مسلمان انسانیت ، وطنیت اور قومیت کی رُو سے بھائی بھائی ہیں۔ پھر اُن پر یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ اگر انبیاء اور گمراہ کرنے والے رسول نہ ہوتے تو لوگ ایک اُمت ہوتے ۔ ان میں دین و مذہب کی کوئی تفریق نہ ہوتی ۔ نہ شیخ ہوتے نہ پادری ۔ پھر وہ اپنے مقاصد کی صراحت ان الفاظ میں کرتے ہیں ”ہماری غرض وغایت مذہب کا وجود مٹا دینا ہے“ ۔ اور مذہب سے ان کی مراد یہودی مذہب نہیں ہے۔ پھر یہ سبق پڑھاتے ہیں ”عنقریب اللہ کے سوا مقصود ومطلوب صرف انسانیت ہی ہو جائے گا“ اور ان (ارکان) پر لازم ہے کہ وہ معاشرے میں فساد اور لوگوں کے اخلاق میں بگاڑ پیدا کرنے کی سعی کریں اور ان کے جماعتی نظم کا شیرازہ بکھیر دیں اس ہدایت کے تحت کہ ”لوگوں میں ایسا طبقہ پیدا کیا جائے جو اپنی پوشیدہ باتوں کے افشاء پر بھی نہ شرمائے“ یہ تو تھیں دین و اخلاق کے بارے میں ہدایات سیاست کے میدان میں جو ہدایات

۱؂ ۱۹۱۶ء کی عالمی فری میسنری کانفرنس کی رُوداد ۔ ۲؂ مشرقی فرانس کی عظیم کانفرنس کی رُوداد ۱۹۱۳ء ۳؂ فری میسنری کی حقیقت از ڈاکٹر زعبی ۔

صفحہ ۱۷۹

ہیں ان میں سر فہرست سیاست کو دین سے علیحدہ کرنا ہے۔ مذہب کی مخالفت میں کمال ہم تبھی حاصل کر سکتے ہیں کہ ہم سیاست کو مذہب سے جُدا کر دیں“۔ اس مقصود کے حصول کے لیے فری میسنز کے مختلف گروہ ، جماعتیں اور خفیہ مجلسیں تشکیل دی گئیں جو دینی تحریکوں کے مقابلے کے لیے سازشیں اور انقلابات کے منصوبے تیار کریں۔ لہٰذا ۱۹۰۰ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی فری میسنری کی کانفرنس میں یہ قرار پایا کہ فری میسنری کا نصب العین عالمی لادینی جمہوری حکومت کا قیام ہے، ”فری میسنری کے وجود کی غرض و غایت ان دینی جمعیتوں کو تہہ تیغ کرنا ہے جو ماضی سے روشنی اور رہنمائی حاصل کرتی ہیں اور اس مقصود کے حصول کے لیے فری میسنز صفِ اوّل میں قتال کرتے ہیں۔“

ان بیانات سے فری میسنری کے اصل اغراض و مقاصد عیاں ہوتے ہیں کہ ان دینی جمعیتوں کی مخالفت جن کے رشتے اپنے تابناک ماضی سے مستحکم ہیں اور ان حکومتوں کی مقاومت جن کی اساس مذہب پر قائم ہے جو راہنمائی کے لیے ماضی کی طرف دیکھتی ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین و مذہب سے برگشتہ کر دیا جائے اور انہیں تباہ کن ارتداد کی پستیوں میں گرا دیا جائے۔

ان اغراض و مقاصد کا حصول کئی سالہ مرحلہ وار منصوبے پر عمل کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی لیے ۱۸۸۴ء میں منعقدہ فری میسنری کی کانفرنس میں درج ذیل ہدایات جاری کی گئیں :

”فری میسنز کو دینی جماعتوں میں شامل ہو جانا چاہیے بلکہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خود ایسی بظاہر دینی جماعتیں تشکیل دیں جو حقیقی دینی رُوح سے عاری ہوں“۔

”اور ان فری میسنز پر جو تنظیم کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں، لازم ہے کہ وہ حکومت کے مراکز میں گھس جائیں اور حکومت کے کلیدی عہدوں پر بکثرت قابض ہونے کی سعی کریں“۔

۱؎ فری میسنری کا ترجمان مجلّہ ”اکاسیا“ ۱۹۰۳ء ۔ ۲؎ فری میسنری کے اسرار از جنرل جواد رفعت ۔ ۳؎ فری میسنری کے اسرار از جنرل جواد رفعت ۔ ۴؎ " " " " "

صفحہ ۱۸۰

مشرقی فرانس کی کانفرنس منعقدہ ۱۹۲۳ء میں شرکاء نے کہا :۔

”فری میسنری تنظیم سیاسی گروہوں کی سردار ہے خادم نہیں ہے اور اس کے وجود کی غرض وغایت ان دینی جماعتوں کی مخالفت ہے جو اپنے تابناک ماضی سے روشنی اور راہنمائی حاصل کرتی ہیں“ ۱؎

اس طرح فری میسنری مختلف مسلک اور مشرب کے حامل گروہوں کو ایک نصب العین کے حصول پر متحد کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان متدین باقیات السلف کے خلاف اعلان جنگ جن کے تابناک ماضی سے رشتے مستحکم ہیں، اور یہ سیاست کو دین سے جدا کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

اس نصب العین کے حصول کے لیے فری میسنری زیر زمین کام کرتی رہی اور سلطنت عثمانیہ کے زوال کا باعث بنی جس کے نتیجے میں کرۂ ارض سے نظام خلافت کی بساط لپٹ کر رہ گئی وہ نظام جو اپنے اسلاف کی اقدار کا حامل تھا۔

یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسی تنظیم نے ۱۷۸۹ء میں انقلاب فرانس برپا کیا اور ۱۹۱۷ء کا مارکسی انقلاب جس سے کمیونزم کو دنیا میں ثبات حاصل ہو گیا، بھی انہی کے دماغوں کی اُپج تھی۔

بادی النظر میں یہ بات بڑی عجیب و غریب لگتی ہے لیکن حقائق اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اولادِ افاعی نے اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب کارنامے سرانجام دیئے۔

تنظیم کے ترجمان مجلہ اکاسیا نے ۱۹۰۳ء میں صفحہ ۲۷ پر لکھا ہے :

”یہ فری میسنری کی تنظیم ہی تھی جس نے ۱۷۸۹ء کے انقلاب فرانس کے لیے فضا سازگار کی۔ انہی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مارکسی انقلاب کے لیے فضا سازگار بنائیں“ ۲؎

۱؎ فری میسنری کے اسرار از جنرل جواد رفعت۔

۲؎ " " " " " " "

صفحہ ۱۸۱

اس دعوت پر امریکہ کی وہ پانچ بڑی فری میسنری کی تنظیمیں فوراً حرکت میں آگئیں جو تمام دنیا کی فری میسنری کی تنظیموں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ انہوں نے مارکسی انقلاب برپا کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی رقم اور لاکھوں یہودیوں کو بھینٹ چڑھا دیا۔ انہوں نے عالمی رائے عامہ کو اس انقلاب کے لیے ہموار کرنے کی غرض سے عالمی صحافت کو خرید لیا اور عالمی رائے عامہ کو شاہی نظام کے خلاف اکسایا اور ایک ہیجان برپا کیا۔ بہت سے یہودی جس کی نذر ہو گئے۔ ان کی سازش کامیاب ہوگئی اور انقلاب نے روسی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا جس کے خلاف یہودی ایک طویل تاریخی جنگ لڑ رہے تھے اور نتیجۃً یہود زار روس کو تخت سے ہٹا کر مارکسی انقلاب کے ذریعہ خود مسند اقتدار پر براجمان ہوگئے۔

قارئین کرام یہ جان کر مزید حیرت زدہ ہوں گے کہ مارکسی انقلاب کا مفکر کارل مارکس یہودی تھا اور اکتیسویں درجہ کا فری میسن تھا اسی طرح اس کا دست راست اینجلز بھی یہودی اور فری میسن تھا۔ یہ دونوں کمیونسٹ منشور کے مصنف تھے پھر مارکسی انقلاب سے ۴ سال قبل اور مجلۂ ”اکاسیا“ میں مارکسی انقلاب کے لیے فضا سازگار کرنے کی دعوت کی اشاعت کے ایک سال بعد ۱۹۰۴ء میں مشرقی فرانس اعظم کی کانفرنس میں یہ بیان صادر ہوا: ”فری میسنری تنظیم کو اشتراکیت کی صورت میں اچھا معاون میسر آگیا ہے لہٰذا ہمیں بھی اس کی امداد و اعانت کے سوا کوئی چارہ نہیں“ ۱؎

کمیونزم بنت فری میسنری کی طرح سرمایہ داری کی جائے پناہ بھی فری میسنری ہے اور دونوں کا نصب العین ایک ہے صہیونیت ۔ اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ امریکی ڈالر پر یہودی خفیہ فری میسنری حکومت کا نقشہ بنا ہوا ہے کیونکہ حرف (G) صہیونیت کا نشان ہے۔ اور اس کے اطراف میں بریکٹیں ہیکل سلیمان کے ستونوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ۲؎

مندرجہ بالا شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تنظیم دنیا کی اُمّ انقلاب اور اُمّ احزاب ہے یعنی دنیا کے انقلابات اور گروہ بندیوں کی خالق ہے اور ہلاکت خیز زیر زمین تحریکوں اور عالمی جنگوں کی

۱؎ ماخذ سابق ۲؎ فری میسنری کی حقیقت از ڈاکٹر ربیعی

صفحہ ۱۸۲

محرک اور نگہبان ہے۔ اسی نے یورپ میں دو عظیم انقلاب برپا کیے۔ ایک ۱۷۸۹ء میں اور دُوسرا ۱۹۱۷ء اور دُنیا میں دو عظیم جنگوں کی آگ بھڑکائی۔ ایک ۱۹۱۴ء اور دوسری ۱۹۳۹ء میں۔ اور تاریخ اسلام کے دو بڑے انقلاب بھی اسی کے مرہونِ منت ہیں۔ ایک ۱۹۰۸ء کا انقلاب جس میں مسلمانوں کا آخری خلیفہ معزول کیا گیا۔ اور دُوسرا ۱۹۲۴ء کا جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ نظامِ خلافت کی بساط لپیٹی گئی۔ مسلمانوں کا اتحاد تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گیا، پارہ پارہ ہو گیا اور اُمتِ مسلمہ کئی چھوٹی چھوٹی کمزور قومیتوں اور وطنوں میں بٹ گئی اور شریعتِ اسلامیہ کی جگہ خود ساختہ قوانین و دساتیر نے لے لی اور لوگ اس کفرِ صریح پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ کچھ اس فعل میں ان کے معاون و مددگار بنے نتیجتہً وہ فوج در فوج، گروہ در گروہ ارتداد کے عمیق گڑھے میں گر پڑے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ۔

فری میسنری دُنیا کے ہر شہر اور ہر کونے میں قائم اپنی ذیلی تنظیموں اور ان کے ارکان کے ذریعے اس پر قادر ہو گئی کہ اسلامی حکومت کے سوتے خشک کر دے۔ اس کے چشمے بند کر دے اور مسلمانوں کے مراکزِ حکومت میں کلیدی عہدوں پر ایسے اشخاص کو فائز کرا دے جو اسلامی جمعیتوں اور تحریکوں کے فعال کارکنوں کو ملکی ابلاغِ عامہ کے وسائل کے ذریعے لوگوں میں سب سے گھٹیا ، اوباش ، خائن، بدمعاش بنا کر پیش کرے۔ ان پر شعائرِ اسلامی کی پابندی کی وجہ سے رجعت پسندی کی تہمت لگائیں، اور خود شعائرِ اسلامی کا مذاق اُڑائیں اور قوم کے سلیم الفطرت اور دیندار صالح نوجوانوں کو پسِ دیوارِ زنداں ڈال کر اُن کی تحریک کو شل کردیں۔ لوگوں میں فلموں، سینما اور فحش رسائل و اخبارات کے ذریعے فواحشات کی اشاعت کریں اور تعیش پسندی ، فسق و فجور، کفر و عصیان کو ان کے لیے مرغوب بنا دیں اس کے برعکس ایمان و یقین، خدا اور رسول اور زہد و تقویٰ سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا کریں۔ اور قوم کے علماء و صلحاء کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر ان کو سب سے احقر مخلوق اور ناپسندیدہ عناصر بنا کر ان کے خلاف لوگوں میں نفرت کا جذبہ پیدا کریں، پھر آخری وار ان کا یہ تھا کہ انہوں نے ان مسلمانوں پر احکامِ الٰہی کے بجائے خود ساختہ احکام (غیر ما انزل اللہ) نافذ کر دیتے۔ لوگوں نے اسے شرح صدر

صفحہ ۱۸۳

کے ساتھ قبول کر لیا اور اُمتِ اسلامیہ کی آنکھوں پر جہالت کے پردے پڑگئے بعد اس کے کہ حق ان پر واضح تھا۔

جب فری میسنری کی حقیقی تصویر پر سے پردے اُٹھ گئے تو اُنہوں نے ایک نیا بہروپ بھرا مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے۔ مسلمان ممالک میں جو ان کی اصل عالمی یہودی مزاج کے بالکل منافی ہے نئی تنظیم کا نام اُنہوں نے م م م رکھا ہے یعنی ماسونیہ مسلمہ مسیحیہ یعنی مسلم مسیحی فری میسنری بیروت میں اس کا مرکز ہے اور اس کا صدر اپنے آپ کو مہدی منتظر کہتا ہے لیکن یہ کھلا دھوکہ، صریح فریب اور کمینگی ہے لے

فری میسنری نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو قسم قسم کے حیلے اور مکر و فریب کے جو طریقے وضع اور اختیار کیے ہیں ان کی کوئی حد و شمار نہیں صدر اسلام میں یہ باطنی فرقوں مثلاً اسماعیلیہ، قرامطہ اور زنگی انقلاب کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی عصر حاضر میں اس نے مختلف مذاہب اور اصلاحی تحریکوں کا روپ دھارا جو قدامت پرستی کو چھوڑ کر تجدد پسندی کی دعوت دیتی تھیں جیسے مصر میں جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کی تحریک تجدید۔ ایران میں بابی اور بہائی مذاہب، پاک و ہند میں قادیانی مذہب کا ظہور اس کی بین مثالیں ہیں۔ سیاسی میدان میں اس نے لوگوں کو دائیں بازو اور بائیں بازو، سرمایہ داری اور اشتراکیت کے چکر میں ڈال دیا۔ واللہ اعلم پردہ غیب میں اس تنظیم نے کیا کیا تخریب کاری اور دسیسہ کاری کی صورتیں چھپائی ہوئی ہیں۔

اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ استعماری سامراج فری میسنری کا اسی طرح بھائی ہے کہ جو نہ جُدا ہوتے ہیں نہ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں جس طرح یہ کمیونزم اور مسیحی مشنریوں کا بھائی ہے۔ یہ ان کی خدمت کے لیے مستعد اور وہ اس کی خدمت کے لیے تیار۔ یہ ان کی راہ میں کوشاں اور وہ اس کی راہ ہموار کرنے والی۔ اس لیے نپولین کے عہد میں فرانسیسی استعمار نے جب مصر پر قبضہ

لے فری میسنری کی حقیقت از ڈاکٹر ربیعی۔

صفحہ ۱۸۴

کیا تو وہاں اس تنظیم کی بنیاد رکھنے میں بڑی تیزی دکھائی ۔ درآنحالیکہ نپولین نے دین اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ جیسا کہ بعد میں کعب الاحبار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کیا یہی عمل انگریزی استعمار نے مصر میں مقدس یوحنا کی مجلس کا افتتاح کر کے دُہرایا۔ لارڈ کرومر وائسرائے مصر کو مصر کی فری میسنری تنظیم کا پہلا ناظم الأمور مقرر کیا گیا تاکہ وہ اس کے مقاصد کی تکمیل کی نگرانی کرے اور اس مقصد براری میں اپنی امداد و اعانت کے لیے اس کی نظر انتخاب اپنے جگری دوست نام نہاد شیخ الاسلام محمد عبدہ پر پڑی ۔

باب عالی یعنی خلافت عثمانیہ کے دارالخلافہ میں مجلس سالونیک اس تنظیم کا کردار ادا کرتی رہی ۔ پھر اس سے مجلس المشرق العثمانی نے جنم لیا جس نے سلطان عبدالحمید کے خلاف تحریک انقلاب برپا کی، اس کا صدر حاخام ناحوم نعوم تھا جس نے سلطنت عثمانیہ میں قومیت پرستی کو ہوا دی ۔ مثلاً عربی قومیت اور طورانی قومیت ۔

فری میسنز نے سلاطین عثمانیہ کے درباروں میں ماہر اطباء کے رُوپ میں رسائی حاصل کی ۔ سب سے پہلے سلطان سلیمان القانونی کے بیٹے کا علاج کر کے ان یہودی فری میسنز طبیبوں نے دربار میں ایک خاص مقام حاصل کیا اور بتدریج اپنے پاؤں جما لیے لیکن سلاطین ان کی عیاری اور فریب کاری کو نہ سمجھ سکے کہ یہ خدمت انسانی کے پردے میں جاسوسی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مسلسل اور ہمیشہ سلاطین کا اعتماد حاصل کیا اور اس سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے رہے اور اُن کے خلاف جاسوسی اور سازش کرتے رہے جن کا کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کو زوال سے ہم کنار کر کے ہی دم لیا۔ کیا اس کے بعد بھی ہم بیدار نہیں ہوں گے اور بدستور غفلت کو اپنا شعار بنائے رکھیں گے ؟

یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ خبیث سرطان دنیا کے بدن میں کہاں تک سرایت کر چکا ہے ہم یہاں ان کلیدی عہدوں کی تفصیل دے رہے ہیں جو ان یہودی فری میسنز نے اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیم میں سنبھالے ہوئے ہیں :-

اقوام متحدہ کے سیکرٹری

صفحہ ۱۸۵

اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں :

صفحہ ١٨٦

اقوام متحدہ کے اطلاعات کے مراکز میں

شعبہ برائے داخلی اُمور (I.L.O)

عالمی تنظیم برائے زراعت و خوراک (F.A.O) میں

صفحہ ۱۸۷

یونیسکو یعنی تنظیم برائے علم و فن اور ثقافت میں

عالمی بینک برائے آبادکاری

صفحہ ۱۸۸

بین الاقوامی مالی فنڈ

عالمی ادارہ تارکینِ وطن میں (I.R.1)

تنظیم عالمی صحت میں (W.H.O)

ادارہ عالمی تجارت میں (I.T.O)

؎۱ یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ ادارہ فلسطینی تارکین وطن کو ان کے وطن لوٹانے کا کوئی اہتمام یا بندوبست نہیں کرتا جبکہ اس نے روس کے تارکینِ وطن کو جو اس سُرخ جہنم سے فرار ہو کر آتے تھے بجبر واکراہ رُوس کو واپس لوٹا دیا ۔

صفحہ ۱۸۹

— صدر شعبہ اطلاعات عالمی یہودی

یہ سب تو پیدائشی یہودی ہیں لیکن ان کے ساتھ کام کرنے والے بھی بہت سے دیگر ملتوں کے افراد تبعاً یہودی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے فری میسنوں کا مذہب قبول کیا ہوا ہے یعنی وہ اس تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں۔ اسی لیے مسلم جنرل جواد رفعت نے فری میسنری کے مآخذ سے یہ قول نقل کیا ہے : ”اگر کوئی فری میسن پیدائشی یہودی نہیں ہے تو وہ شخص متہود (یہودی بنایا گیا) ضرور ہے“ ۱؎

۹۵ کیمونزم ۲؎

یہ واضح ہو چکا ہے کہ کیمونزم فری میسنری کی پیداوار ہے اور فری میسنری صہیونیت کی دختر ہے نیز صہیونیت کی ماں توراۃ اور باپ تالمود ہے۔ لہٰذا کیمونزم تین نجاستوں کا مجموعہ ہے۔ مزید برآں یہ بھی ثابت ہے کہ کارل مارکس اور اینجلز فری میسنری کے اکتیسویں (۳۱) درجے کے رکن تھے نیز مشرقِ فرانسیسی اعظم نے ۱۹۰۴ء میں فری میسنری مفکرین کے مجلّہ ”اکاسیا“ میں شائع شدہ اس دعوے کا جواب دیا تھا جس میں فری میسنر پر مارکسی انقلاب کے لیے فضا سازگار بنانے کے لیے لازم قرار دیا تھا ان الفاظ میں ”فری میسنر نے ہی ۱۷۸۹ء میں فرانسیسی انقلاب کے لیے فضا ہموار کی تھی۔ ان پر لازم ہے کہ اب مارکسی انقلاب کے لیے فضا تیار کریں“ پھر مجلّہ ”لاتونیا“ میں مشرقِ فرنسِ اعظم کے ان الفاظ کی گونج سنائی دی تھی ”فری میسنری کو اشتراکیت کی صورت میں بہترین معاون میسر آیا۔ لہٰذا ہمیں بھی اس کی امداد و اعانت کرنی چاہیے“

ہم اس سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ مارکسی انقلاب کی آگ بھڑکانے کے لیے امریکی فری میسنری تنظیم کے پانچ سرکردہ ارکان نے کیسے لاکھوں ڈالر صرف کیے نیز اس فتنے اور مذبح خانے کی تخلیق

۱؎ فری میسنر کے اسرار ، ص ۴۳ - ۵۰

۲؎ کیمونزم پر جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کے لیے ہم ڈاکٹر عمر جلیق اور استاذ محمد الغزالی کے مشکور ہیں کہ یہ خیالات انہی کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔

صفحہ ۱۹۰

کے لیے کیسے لاکھوں یہودیوں کو اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کی دعوت دی۔ اور اس سے پہلے کیسے انہوں نے عالمی صحافت کے ضمیر کو خریدا اور عمّال کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔ ۱۹۱۷ء میں جب انقلاب آگیا اور زار روس کی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا تو انقلاب کے سرغنہ یہودیوں نے تمام اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ کامنیف سوویت جمہوریہ کا پہلا صدر منتخب ہوا جو یہودی تھا لینن اس کا پہلا وزیر اعظم بنا وہ بھی یہودی تھا۔

ٹرالسکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بنا وہ بھی یہودی تھا۔ پھر پہلی مجلس کمیسرز تشکیل دی گئی جس کے کل ۵۴۷ ارکان میں سے ۴۴۷ ارکان یہودی تھے۔ کمیونسٹ گروہ کی ایک مرکزی مجلس بنائی گئی جس کے ۳۸۸ ارکان میں سے ۳۷۱ ارکان یہودی تھے۔ ابھی لینن کی حکومت کو قائم ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ دو اہم احکام نافذ کیے گئے :

قدیم مجلہ فرنسا نے ۱۹۲۰ء میں اپنی ۱۶۰ویں اشاعت میں ان احکام کو شائع کیا کیا اب بھی کوئی یہ باور کر سکتا ہے کہ کمیونزم بدنام زمانہ یہودیت کی دشمن ہے بلکہ یہ تو اس کا مہربان دوست ہے۔

اللہ تعالیٰ عزوجل نے سچ فرمایا ہے۔" فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ "

ترجمہ : بے شک ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ ان کے دل اندھے ہوگئے ہیں جو ان کے سینوں میں ہیں۔

مارکسی انقلاب کو برپا ہوئے ابھی ایک ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ شرقِ اوسط کے بارے میں اپنی سیاسی حکمت عملی کا تعین کرنے کے لیے منطقہ اسلامیہ قوقاز کے شہر باکو میں سرخ انقلاب کے گرگوں کی کانفرنس بلائی گئی جس میں زیادہ تعداد فری میسن یہودیوں کی تھی۔ ان میں کارل راڈریک بھی تھا جو پرانے نظام کو بدل کر نئے نظام حکومت کے قیام میں لینن کا برابر کا شریک تھا اور

۱؎ الحج ۴۶۔

صفحہ 191

وسطی یورپ میں مارکسی انقلاب برپا کرنے والی تحریکوں کا سربراہ تھا ۔ بالآخر کانفرنس نے یہ فیصلہ کیا کہ روس اور مشرق کے مسلمانوں کو بھی اس انقلاب کی دعوت دی جائے جس کا عنوان ہو ”روس اور مشرق کے تمام مسلمانوں کے لیے دعوتِ عام“ جس میں ان سے التجا کی گئی تھی کہ وہ انہیں قوت و طاقت پہنچائیں ان کے ہاتھ مضبوط کریں اور انقلاب برپا کرنے میں ان کی مدد کریں جو انہیں غاصب بادشاہت کے مرض سے نجات دے کر حریت و استقلال کی ضمانت دے گا۔ یہ جملہ مسلمانوں پر کارگر ہو گیا اور انہوں نے شاہی استعمار کو ختم کر کے انقلاب کو کامیاب کرنے کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔

باکو میں منعقدہ کانفرنس کے اختتام پر جو منشور شائع ہوا اس میں مذکور ہے :

”اے روس اور مشرق کے مسلمانو! اے فولگا اور قریم کی چوٹیوں پر بسنے والے تاتاریو! اے کرغیزو اور ترکستان و سائبیریا کے ساکنین! اے ترک اور قوقاز کے پہاڑی باشندو! اے وہ لوگو! جن کی مساجد اور قبور کی بے حرمتی کی گئی! اور جن کے مذہب و عقائد پر دستِ ظلم دراز کیا گیا! ان مستبد لٹیروں کے جوئے سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان ظالم بادشاہوں کے شر کے خلاف جنگ میں اپنے حق اور آزادی کے حصول کے لیے جس کی ضمانت ہم آج دیتے ہیں ہمارا ساتھ دو۔

اے روس اور مشرق کے مسلمانو! اس انقلاب کی مدد کرو کہ یہ تمہارا انقلاب ہے۔ یہ مزدوروں، کسانوں، اور سپاہیوں کا انقلاب ہے۔ یہ مظلوموں، مغلوب محنت کشوں کا انقلاب ہے۔ اس کی جائز حکومت کی امداد کرو اور خبردار! شبہات اور استعذار میں اپنا وقت ضائع نہ کرنا یا یہ کہ کوئی دوسرا تمہارا یہ فرض پورا کر دے گا۔ اپنی آزادی کے حصول کے لیے یہ واحد تاریخی موقع ہے تو آؤ اے ساتھیو! ہم مل کر ایک پُر امن عادل جمہوریہ اور ایک نئی آزاد دنیا بنائیں“۔

اس منشور پر لینن اور سٹالن دونوں نے اپنے دستخط ثبت کیے۔ جب انقلاب برپا ہو گیا تو انہوں نے مسلمان ریاستوں پر قبضے پر اصرار کیا اور امام بخاری کی اولاد کی چیخ پکار صدا بصحرا ثابت ہوئی۔

صفحہ ۱۹۲

اُن کی نجات کے لیے کوئی معتصم اور صلاح الدین نہ آیا۔

سنہ ۱۹۲۰ء میں سوویت کومنٹرون نے جس کے بیشتر ارکان یہودی تھے صہیونی مارکسی کارل راڈیک کی قیادت میں ایک کانفرنس منعقد کی جس کا شمار اسلامی اقوام میں آزادی وطن کی تحریک تھا۔ انہوں نے اپنی دعوت کا رُخ مشرق اسلامی کے قبائل کی طرف یہ کہہ کر پھیر دیا:

”اے مشرق کی اقوام ! اے مضبوط جمہوریو ! تم دنیا کے بڑے حصے کی مالک ہو جو سب سے زیادہ سرسبز و شاداب اور سب سے زیادہ وسیع ہے۔ یہ باقی بھوکی اقوام کو غذا مہیا کرنے والا علاقہ ہے۔ اے شرقی اقوام ! کتنی مرتبہ تمہاری رجعت پسند حکومتوں نے تمہیں جہاد اور مقدس جنگ کی دعوت دی ہے اور تم نے نبی کے سبز پرچم تلے یہ دعوت قبول کی ہے لیکن یہ جنگیں تمہارے لیے ایک خدع و فریب کا جال تھیں جن سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہاں رجعت پسندوں اور جاگیر داروں کو اس کا فائدہ ضرور ہوا۔ یہ جھنڈا جھوٹا تھا کیونکہ نبی خود جھوٹا اور فریبی تھا جو ایسی دعوت لے کر آیا جو رجعت پسندوں اور جاگیر داروں کی خادم تھی۔

سامراجی اور رجعت پسند طاقتیں تمہارے افتراق و انتشار اور زوال کا باعث ہیں۔ برطانوی استعمار نے فلسطین میں کیا کیا۔ انہوں نے یہودیوں کا ساتھ دیا۔ اگر یہ دشمن باقی رہا تو طرفین یعنی عرب اور یہودی کمزور ہو جائیں گے اور برطانوی استعمار اور رجعت پسند عرب اکٹھے ان پر حکومت کریں گے اور عرب اور یہود جمہور کی صفوں میں انتشار پیدا ہو جائے گا“

۱؎ روس کے مسلمان اٹھارہویں صدی کے اوائل سے شاہی استعمار کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے۔ اب سوویت یونین کی نصف آبادی سے زیادہ ان کی آبادی ہے، ان کی تعداد تمام عرب قبائل کی تعداد کے برابر ہے، ان کے ممالک کا رقبہ پورے یورپ کے کئی گنا زیادہ ہے اور یہ ترکستان، قرم، قوقاز، اورال، سائبریا، استرخان، ازبکستان وغیرہ ریاستوں پر مشتمل ہے اور سوویت جمہوریہ متحدہ میں بڑا حصہ ان جمہوریتوں کا ہے۔

صفحہ ۱۹۳

دستخط روس سے کارل راڈریک یہودی ہنگری سے بیلا کاہن " فرانس سے روز مار " امریکہ سے ریڈ " ہالینڈ سے جانسن " بلقان سے چپلین " کانفرنس کی طرف سے زینوجیف " نمسہ سے شائن ہارڈ "

مارکسی یہودیوں نے عالمی فری میسن تنظیم کے بہی خواہوں کے لیے یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ گروہ بندی، جماعت سازی ،ہنگامہ آرائی اور انقلابات برپا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان جماعتوں کی صدارت انہیں تفویض کی جائے اور ان کی انتظامیہ میں انہیں ید طولیٰ حاصل ہو۔ ان کا یہ قول ہم پہلے بھی نقل کر چکے ہیں ۔

”جب فری میسن غیروں کے اشتراک کے ساتھ کوئی جمعیت تشکیل دیں تو انہیں چاہیے کہ اس جمعیت کا انتظام وانصرام غیروں کے ہاتھ میں نہ چھوڑیں بلکہ اس کے کلیدی عہدوں پر فائز اشخاص ان کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح ہوں اور وہ ان کی ہدایت کے مطابق کام کریں۔ اور فری میسن یہود کے لیے بروئے دنیا میں ایک ایسا خطۂ ارضی حاصل کریں جو ان کارگزاریوں کے لیے بنیاد و اساس کا کام دے“

اسی بنا پر فری میسن یہودی سوویت کنٹرول کی کمیٹیوں کے صدر ہیں نیز ریاستوں ، حکومتوں، جمعیتوں اور انجمنوں کے سربراہ ہیں۔ اور اس کی وہ اس قدر حرص رکھتے ہیں کہ علمی مدارس ہوں یا تحقیق کے مراکز یا اطلاعات کے مراکز، نظریاتی ہوں یا فنی ، کوئی ان کی دست بُرد سے محفوظ نہیں خصوصاً جن کا

صفحہ ۱۹۴

تعلق عربی اور اسلامی علوم و آداب سے ہے۔ یہ مجلس کی کرسی صدارت پر براجمان ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوویت یونین میں ایک اکیڈمی ہے برائے علومِ اجتماعیہ جس میں کئی سکول ہیں جیسے عالمی اقتصادیات کا سکول یا ریاستی سیاست کا سکول وغیرہ اور یہ سب کے سب یہودیوں کے زیرانتظام ہیں اسی طرح وہاں جمعیت علومِ شرقی کے نام سے ایک بڑی جمعیت قائم ہے جو چودہ مراکز پرمشتمل ہے جس کا اہم کام علوم اور تحقیق کا اجرا نیز عرب اور اسلامی ممالک میں انقلابی عمل کے لیے بنیادیں مہیا کرنا اور عرب ممالک، ترکی، ایران، افغانستان، پاکستان اور انڈونیشیا وغیرہ اسلامی ممالک میں آزادی وطن کی تحریکوں کے لیے قواعد وضوابط وضع کرنا ہے۔ یہ سب مراکز بھی یہودیوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔

یہودی لازاروف کے سکول کو سکول برائے تدریس عربی لغات اور عربی لہجہ میں تبدیل کر دیا گیا جہاں مارکسی خیالات کے حامل مدرس مقرر ہیں۔

سوویت یونین میں عام وسائل علم، ثروت اور عزت یہودیوں کے زیرتسلط ہیں، مثلاً نشر واشاعت کے اداروں پر یہودی مسلط ہیں خصوصاً جن کا تعلق شرقی عرب اور اسلامی امور سے ہے جمعیت علومِ شرقیہ کا یہودی صدر مجلہ (الشرق الجدید) شرقِ جدید کا بھی ایڈیٹر جس کا اصل نام تو لازار فائمین ہے لیکن باتو فومیش اس کا قلمی نام ہے۔ اشتراکی اکیڈمی برائے اجتماعی علوم کے ڈائرکٹر یہودی روز نٹائن کے اضافی فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ تحقیق کے ان موضوعات کا تعین کرے جن کا تعلق سوویت سیاست میں عرب اور مسلمانوں کے نظری اور عملی اُمور سے ہے۔ یہی وہ مکار یہودی ہے جسے ماسکو کے کمنٹرن کی مرکزی کمیٹی نے ۱۹۲۸ء میں مندوب بنا کر فلسطین کے دورے پر بھیجا جو ان دنوں انگریزوں کے زیر انتداب تھا تاکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کمیونزم کی تحریک کو رجعت پسندوں اور استعمار کے مقابلے کے شعار کے تحت منظم کرے۔

سوویت دائرۃ المعارف کبریٰ کے عرب اور مسلمانوں سے متعلق تحریر کا ایڈیٹر بھی ایک یہودی

شمیڈت ہے۔

یہودی بارٹولڈ کے ذمے عقائد اس پر کیسے غلبہ پایا جائے اس کا جائزہ لینا ذمہ داری تھی۔ نعرہ کہ ”اسلام اشتراکی یہ فقرہ ایجاد کیا۔

مشرقی نوآبادیات اور قومیتوں ہے جو اس کے ترجمان مجلہ ”مشرقی اقو رئیس التحریر ہے۔

سوویت کمیونسٹ پارٹی کی مر ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو اسلامی ریاس نوآبادیات میں بدلنے کے لیے معرکہ آ

سوویت روس کی اسلامی جمہو ہولناک قصے اور روایات مشہور ہیں۔ اشتراکی نوآبادیات میں تحویل خلاف سوویت یونین میں ضم کرنا نیز ا مارکسی مذہب میں داخل کرنا جس کی حما

مادہ کے سوا کوئی خدا نہیں“

”یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ ا

”دین اقوام کے لیے افیون

”انبیاء، دجال اور بورژوا ہیں

١؎ سوویت دستور کی شق ۱۲۴ میں

صفحہ ۱۹۵

شیدت ہے۔

یہودی بارٹولڈ کے ذمے عقائد اسلام کا خصوصی مطالعہ اور اشتراکی عقائد علمیہ کو جو چیلنج وہ پیش کرتے ان پر کیسے غلبہ پایا جائے اس کا جائزہ لینا ہے نیز اسلام کی تفسیر اشتراکی فلسفے کے مطابق کرنا بھی اس کی ذمہ داری تھی یہ نعرہ کہ "اسلام اشتراکی مذہب ہے" اسی کے ذہن کی اختراع ہے، سب سے پہلا اسی نے یہ فقرہ ایجاد کیا۔

مشرقی نو آبادیات اور قومیتوں کی دشواریوں کے علوم کی جمعیت کا سربراہ ایک دوسرا یہودی ہے جو اس کے ترجمان مجلوں "مشرقی انقلاب" نیز "مشرقی نو آبادیات اور قومیتوں کے مشاكل" کا بھی رئیس التحریر ہے۔

سوویت کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ادارہ برائے ترقی ثقافت کا سربراہ لونا شارسکی ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو اسلامی ریاست ازبکستان اور دیگر پڑوسی اسلامی ریاستوں کو اشتراکی نو آبادیات میں بدلنے کے لیے معرکہ کا ناظم تھا جس نے اس علاقے کو لہولہان کر دیا، خوں رنگ کر دیا۔

سوویت روس کی اسلامی جمہوریتوں کو اشتراکی نو آبادیات میں بدلنے کے بارے میں ایسے ہولناک قصے اور روایات مشہور ہیں کہ جن سے تاریخ کے اوراق تک سُرخ ہیں اور ناقابل فراموش ہیں۔ اشتراکی نو آبادیات میں تحویل کا مطلب دوسرے الفاظ میں ان اسلامی اقوام کو ان کی مرضی کے خلاف سوویت یونین میں ضم کرنا نیز ان کو ان کے دین وملت، ماضی، تقالید اور شریعت سے نکال کر اس مارکسی مذہب میں داخل کرنا جس کی عمارت ان لادینی اساس پر قائم ہے جیسے :

"مادہ کے سوا کوئی خدا نہیں"

"یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ کو پیدا کیا ہے نہ کہ اللہ نے انسان کو موت کے بعد کوئی حیات نہیں"

"دین اقوام کے لیے افیون ہے "

"انبیاء ، دجال اور بورژوا ہیں" ، وغیرہ جو پاگل کے ہذیان سوا کچھ نہیں اور جو قوموں سے پوشیدہ

۱؎ سوویت دستور کی شق ۱۲۴ میں دین وملت کے خلاف دعوت کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ قوانین

صفحہ ۱۹۶

نہیں رہے۔

اس سُرخ انقلاب نے وہاں کی مسلمان اقوام کو پارہ پارہ کر دیا۔ انہیں اپنے وطن اور مسکن چھوڑ کر نامعلوم دُور دراز مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا میاں کو بیوی سے، باپ کو بیٹے سے جُدا کر دیا۔ عزیز و اقارب کو ایک دُوسرے سے علیحدہ کر دیا تاکہ وہ مل کر ان کی مخالفت نہ کر سکیں اور باہم ایک دُوسرے کی مدد نہ کر سکیں۔ انہوں نے خونِ شہداء سے پیاسی یہودیت کی پیاس بجھائی۔ اُن کے وطنوں پر قابض ہو گئے جن کی زمینیں سونا اگلتی تھیں اور ان زمینوں کے اُوپر بھی خزانے تھے اور زیرِ زمین بھی خزانے مدفون تھے۔

اس جہنمی طریقے اور شیطانی مکر و فریب سے رُوس کے یہودی ان ممالک پر قابض ہو گئے جن کا کُل رقبہ یورپ کے کُل رقبے سے کئی گنا ہے اور وہ جن مدفون خزانوں سے مالا مال ہیں اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ صرف مغربی ترکستان میں جو معدنی ذخائر پائے جاتے ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے : سونے کی ۲۵ کانیں۔ چاندی کی ۱۶ کانیں۔ لوہے کی ۴۶ کانیں۔ سیسے کی ۳۲ کانیں۔ پٹرول کے ۴۲ کنوئیں ۔ گندھک کی ۸۰ کانیں۔ سوڈیم کی ۶۳ کانیں۔ یورینیم ۔ پارے ۔ تانبے جست اور پلاٹینیم وغیرہ قیمتی معدنیات کے ذخیرے ابھی شمار نہیں کیے گئے یعنی بے شمار ذخیرے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان اسلامی ممالک کو سُرخ سامراج کے پنجوں سے آزادی اور استقلال عطا فرما دے تو رُوس ایک دس گنا چھوٹا حقیر فقیر، محتاج ملک یعنی موجودہ ملک کا دسواں حصہ رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔

تعزیراتی شق نمبر ۵۸ کی رُو سے دینداری کو جُرم اور جملہ دینداروں کو انقلاب کا دشمن قرار دیا گیا ہے نیز پولیس کو امن کے قیام کے لیے ہر حالات و ظروف میں ان کے گھروں کی تلاشی لینے کا حق ہے۔ اسی قانون کی شق نمبر ۱۲۲ میں تبلیغ دین کو ممنوع قرار دیا ہے۔ رُوسی استعمار میں سُرخ آزادی کے یہی معنی ہیں۔

لہ سوویت یونین اپنے پٹرول کا بڑا حصہ معدنیات اور پٹرول کے ذخائر سے مالا مال اسلامی جمہوریہ آذربائیجان سے حاصل کرتی ہے۔

اشتراکی انقلاب کے دوا پہاڑ ٹوٹے کہ جس کی نظیر تاریخ ہوگا تاریخ کے کسی دَور میں کے پہلے اور تیسرے عشرے پر مجبور ہو گئے۔ قحط کی بدولت قوم میں ۵۰ لاکھ کی مسلم آبادی صر کے قلیل عرصے میں پیش آئ لاکھوں مسلمان اس ظل پہاڑوں میں جا چھپے جہاں بعد اختیار کی اس سے چند تہذیب و تمدن، مقدّس دکھاتے لیکن اس سیلاب کالج، مدارس، مساجد، خانقا صرف ترکستان مساجد کی اینٹ سے این دفاتر بنالی گئیں۔ ایک طرف تو ا

لہ سوویت یونی دینا تھا تا کہ قوم کو یہودیو

صفحہ ۱۹۷

اشتراکی انقلاب کے دوران مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر آلام و مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹے کہ جس کی نظیر تاریخ میں ملنا محال ہے۔ دنیا کی کسی قوم کو ایسے آلام و مصائب سے واسطہ نہ پڑا ہو گا تاریخ کے کسی دور میں کہ جن سے مسلمانوں کو واسطہ پڑا حتیٰ کہ مسلمان بھوک کے ہاتھوں اس صدی کے پہلے اور تیسرے عشرے میں قحط کی وجہ سے اپنی اولاد اور حرام جانوروں کا گوشت تک کھانے پر مجبور ہو گئے۔

قحط کی بدولت قوم میں مسلمانوں کی تعداد حیرت انگیز حد تک گھٹ گئی۔ صرف ربع صدی میں ۵۰ لاکھ کی مسلم آبادی صرف ۵ لاکھ رہ گئی ہے۔ ترکستان میں ۱۹۲۲ء اور ۱۹۳۳ء کے دوران وباء کے قلیل عرصے میں بیس لاکھ سے زائد مسلمان لقمہ اجل بن گئے۔

لاکھوں مسلمان اس سرخ سیلاب بلا سے جان بچانے کے لیے بے آب و گیاہ چٹیل میدانوں اور پہاڑوں میں جا چھپے جہاں وہ بھوک پیاس سے مر گئے۔ یہ فرار کی راہ انہوں نے شدید مخالفت کے بعد اختیار کی اس سے پہلے مسلمان مجاہدوں نے بخارا، سمرقند اور ترمذ جیسے تاریخی اسلامی شہروں میں اپنی تہذیب و تمدن، مقدس مقامات اور دین کے دفاع میں شجاعت و بہادری کے غیر معمولی کارنامے دکھائے لیکن اس سیلاب کی سیاست کے سامنے ان کی ایک پیش نہ گئی۔ خدا معلوم کتنے سکول، کالج، مدارس، مساجد اور کتب خانے ان کی اس وحشیانہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔

صرف ترکستان میں انہوں نے سات ہزار سے زائد دینی مدارس اور ایک ہزار چھ سو زائد مساجد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جن میں سے بہت سی اصطبل، عجائب خانے اور حکومت کے دفاتر بنالی گئیں۔

ایک طرف تو یہ سُرخ عفریتِ رُوس کے اسلامی علاقوں کی ہر رطب و یابس کو ہڑپ کر رہا تھا

۱؎ سوویت یونین کی اس مذموم کوشش کا مقصد غالباً روس میں آباد مسلم قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دینا تھا تاکہ قوم کو یہودیوں کا وطن بنایا جاسکے مگر وہ فلسطین کو اپنے بنائے نقشہ کے مطابق وطن بنانے میں ناکام رہے۔

صفحہ ۱۹۸

تو دوسری طرف مرکزی حکومت پڑوسی اسلامی ممالک جیسے ترکی، ایران اور افغانستان میں نفوذ بھیج رہی تھی جو ان کے ساتھ دوستی حسن جوار اور ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کے معاہدے کر رہے تھے جن سے ان کی غرض سرخ احمقوں کی جنت میں ان بخت زدہ مسلمانوں کی امداد اعانت کی ہر راہ مسدود کرنا تھی۔ فری میسنری نے کمیونزم کے لیے ایسی فضا تیار کر دی تھی جس میں وہ مکمل آزادی کے ساتھ بغیر کسی پڑوسی ممالک کی ادنیٰ مداخلت کے اپنی مذموم تحریک کو جاری رکھ سکتا تھا۔ خلافت عثمانیہ ختم ہوچکی تھی بلکہ تتّر بتّر ہو چکی تھی اور عرب ممالک میں سامراج نے اس کی جگہ لے لی تھی۔ نیز ہر جگہ مسلمان داخلی ہنگامے اور سیاسی دشمنیوں کو ہوا دینے یعنی سیاسی تفرقہ بازی بغض و کینہ کی بناء پر اور قومیت اور وطن پرستی کی عصبیت کو ابھارنے میں مشغول تھے۔ اس حد تک کہ شام کا مسلم ترکی یا ترکستان کے مسلمان کو بھائی سمجھنے پر تیار نہ تھا۔ اب مسلمانوں کا حال زار ان کے اپنے ممالک میں ان عورتوں کی طرح ہو گیا جو کسی حمام میں سخت تاریک رات میں بند ہوں اور پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہو۔ پھر دفعتاً حمام میں ایسا ابلتا ہوا پانی چھوڑ دیا جائے یا ایسا دھواں چھوڑ دیا جائے جس میں کہیں سے ہوا کا جھونکا تک نہ گزرے اور دم گھٹ جائے۔

اس اُمتِ واحد کے بکھرے ہوئے شیرازے کے مجتمع ہونے کی اُمید موہوم اس مکروہ حیلے نے بالکل ختم کر دی جب مصطفیٰ کمال اتاترک نے ۱۹۲۴ء میں مذہب و ملتِ عربیہ اور ماضی سے اس کے دیرینہ تعلق کو بالکل منقطع کر کے حقیقت میں سوویت ثقافتی انقلاب کی حمایت و نصرت کی اور اس کے لیے راہ ہموار کی۔

اس طرح ترکی سوویت یونین کے مسلمانوں اور بلاد عرب کے مسلمانوں کے مابین ایک پردہ حاجز کی صورت اختیار کر گیا۔ ایران اور افغانستان اس وقت انقلاب کے بعد رُونما ہونے والے اپنے داخلی مسائل میں اُلجھے ہوئے تھے اور ہند کا حال بھی ان سے مختلف نہیں تھا۔ وہاں کے مسلمانوں کا برطانوی استعمار نے بُرا حال کیا ہوا تھا۔ اس طرح روس کی اسلامی ریاستوں کا اشتراکی جمہوریتوں میں بدلنے کا عمل پڑوسی مسلمان ممالک کی ادنیٰ مداخلت یا ان کی طرف سے کسی احتجاج کے بغیر مکمل ہو گیا اور وہاں کے مسلمان

ر اولاد بخاری، اس آگ میں جلتے رہے یہ فساد انگیز روایت اس کلمہ کی یہودی مارکسی لونا شارسکی سوویت کی ا ٹراٹسکی وزیر دفاع کر رہے تھے۔ الا ان کے ذہن سے تابناک ماضی کے تما مٹا رہا تھا۔ مختصراً یہ ذہنی تطہیر، ایک ذریعے انسانی ضمیر کو سلا دینا اور اس ک تادیب کے ذریعے بالجبر اجتماعی ہن دشمنی ہے۔

اشتراکی انقلاب کا نظریہ ک مسئلے کا اور ان کے لیے ایک تمدنی تھیوڈور ہرتزل کی رائے یہ تھی کہ فط آماجگاہ ہے۔ ہمیں یہ تو علم ہے کہ جو فری میسنری کے درجوں میں تیار صیہونیت جدید کے بانی ” ہما کے دقت نظر کے حاصل ہونے پر کی وجہ سے وہ میرا پیشوا اور ہیرو ہمیں بخوبی علم ہے کہ شق کے بیج کس نے بوئے۔ ۱۹۱۸ء میں انگریز یہودی فوجی افسر تھا، یہود مارکسی فری میسن روز شائن جاند

صفحہ ۱۹۹

داؤلادنجاری، اس آگ میں جلتے رہے۔

یہ فساد انگیز روایت اس کلمہ کی عملی تفسیر تھی یعنی اشتراکی انقلاب کی جس کی قیادت اسلامی ریاستوں میں یہودی مارکسی لونا شارسکی سوویت کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی برائے ترقی ثقافت کا سربراہ اور یہودی ٹراٹسکی وزیر دفاع کر رہے تھے۔ ان سب پرمستزاد ذہنی تطہیر کا عمل تھا جو ان کے ذہن سے تابناک ماضی کے تمام آثار از قسم مذہب وملت، عرف وعادت اور اخلاق وعقائد وغیرہ مٹارہا تھا۔ مختصراً یہ ذہنی تطہیر ایک ایسا عمل ہے جس میں مختلف قسم کی وحشتناک تعذیب وتادیب کے ذریعے انسانی ضمیر کو سلا دینا اور اس کی جگہ اخلاق کا جدید مفہوم جاگزین کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں تہدید و تادیب کے ذریعے بالجبر اجتماعی ارتداد کا عمل ہے مسلمانوں کے ساتھ کتنا شدید تعصب اور کتنی سخت دشمنی ہے۔

اشتراکی انقلاب کا نظریہ کارل مارکس کے ذہن کی اُپج ہے جو اس کے نزدیک دنیا میں یہودی مسئلے کا اور ان کے لیے ایک قومی وطن کی ایجاد کے لیے واحد حل ہے۔ جبکہ اس کے صہیونی دوست تھیوڈور ہرٹزل کی رائے یہ تھی کہ فلسطین دنیا کے یہودیوں کے لیے قومی وطن کے طور پر فلسطین واحد آماجگاہ ہے۔ ہمیں یہ تو علم ہے کہ دونوں حضرات کارل مارکس اور تھیوڈور ہرٹزل وہ فری میسنز تھے جو فری میسری کے درجوں میں تیس درجے طے کر کے اکتیسویں میں قدم رکھ چکے تھے۔ اور دونوں نظریۂ صہیونیت جدید کے بانی ”موزہیس“ کے شاگرد تھے۔ جس کے متعلق کارل مارکس کہتا ہے ” اس عبقری کے دقت نظر کے حاصل ہوتے خیالات میں توارد اور میرے عقیدے سے اس کی آراء کے موافق ہونے کی وجہ سے وہ میرا پیشوا اور میرے لیے نمونہ ہے ..... وہ بالغ فکر و نظر کا مالک شخص ہے “

ہمیں بخوبی علم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اشتراکیت کی بنیاد کیسے پڑی۔ عربوں کی سرزمین میں اس تحریک کے بیج کس نے بوئے۔ ۱۹۱۹ء میں جب فلسطین انگریزوں کے زیر انتداب تھا اور اس کا سربراہ ایک انگریز یہودی فوجی افسر تھا جس کی خدمت ماسکو کی کومنٹن کی مرکزی کمیٹی کے مندوب کے طور پر یہودی مارکسی فری مین روز شائن حاضر ہوا۔ اس نے وہاں پہلی کمیونسٹ پارٹی رجعت پسندوں اور استعمار کے

صفحہ ۲۰۰

خلاف جنگ لڑنے کے لیے قائم کی۔ رجعت پسندوں کے خلاف جنگ سے ان کی مراد تھی، لوگوں کی زندگی سے دین کے عمل دخل کو ختم کر کے اس کی جگہ لادینیت کو رواج دینا۔ اور استعمار کے مقابلے سے ان کی مراد مغربی سرمایہ پرست استعمار کو بے دخل کر کے اس کی جگہ مشرقی اشتراکی استعمار کو مستحکم کرنا تھی ۔ مقبوضہ فلسطین سے اشتراکیت کے شعلوں نے اُڑ کر پڑوسی عرب ممالک کے مراکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقاریر میں اس طرف اشارہ ہے کہ فلسطین میں یہود کے قومی وطن کے قیام کے نظریہ سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ عالم عرب عنقریب سوویٹ یونین کی آغوش میں پناہ لے گا جو مغربی استعمار کے چنگل اور سازشوں سے نجات کا واحد ذریعہ ہے ۔

مصر میں پہلی کمیونسٹ پارٹی کا قیام ۱۹۲۱ء میں عمل میں آیا جس کو قاہرہ کے یہودی بنک کویل نے سرمایہ فراہم کیا۔ یہودیوں کی ایک جماعت نے وطن کی آزادی کے لیے ایک جمہوری تحریک کی بنیاد ڈالی اور فوجی افسروں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ شام میں کمیونسٹ پارٹی کی تاسیس ۱۹۲۴ء تک موخر رہی جب حرکی نام کے ایک یہودی نے جو کمال کے لادینی انقلاب کا ساتھی تھا، شام میں اس کی بنیاد رکھی ۔

اس شر کے شعلے اُڑ کر عراق بھی پہنچے جہاں کی ہر جماعت نے ماسکو کے کومنٹرون کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حتی المقدور جدوجہد کر ڈالی اور علاقے میں اس تحریک کے فروغ کے لیے کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔ شام کے کامریڈ خالد بکداش کا ذکر کافی ہے جس کی سعی مشکور کا کسی طور صلہ نہیں دیا جا سکتا جو بالآخر بڑا سرکردہ کامریڈ بنا۔

یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہوگا کہ عرب ممالک کی تمام کمیونسٹ پارٹیاں اسرائیل کی کمیونسٹ پارٹی اور فلسطین میں یہودی مسئلے سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ یہ ان کی پیشانیوں پر کلنک کا ٹیکہ ہے جو تاقیامت نہیں مٹ سکتا۔

۱۹۴۷ء میں جب عرب افواج فلسطین کی جنگ میں کود پڑیں تو عرب ممالک کے کمیونسٹوں نے یہودیوں کے ساتھ عربوں کی جنگ و جدل میں عربوں کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ جو فلسطین

صفحہ ۲۰۱

کے جائز حقدار ہیں۔

بائیں بازو کی جمہوریتوں کے مجلہ نے اپنی ۱۴؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں وادیٔ نیل کی کمیونسٹ پارٹی کے لیے ذیل کا بیان شائع کیا :۔

’’فلسطین میں اس وقت تک امن کا قیام محال ہے جب تک وہ سویت یونین کی سیاست کو نہ اپنائے عرب رجعت پسندوں اور مغربی استعمار سے جنگ کے لیے اس سے اسلحہ نہ حاصل کرلے۔ اور فلسطین کو ان کے قومی وطن ہونے کا حق جو انہیں اشتراکیوں نے مہیا کیا ہے تسلیم نہ کیا جائے اور عربوں کو ان کی عربی دینی رجعت پسند قیادت سے نجات دے کر عرب انقلاب پسندوں کو ان کی قیادت نہ سونپی جائے‘‘

لبنان میں اخبار کمیونسٹ پارٹی کی آواز نے اپنی ۱۰ / ۴ / ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں لکھا :

’’عرب افواج کی یہود پر یلغار امن کے حق میں جرم ہے‘‘

شام اور لبنان کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے ایک بیان میں عربوں کی اجنبی غازی فوجوں کو فلسطین سے مل جانے کی دعوت دی۔

عراق کے مجلہ کمیونزم کا قانون نے فلسطین میں عرب ریاست کے پہلو میں یہودی ریاست کے قیام کو خوش آمدید کہا اور اسے عربوں کے وطن میں دینی رجعت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا حلیف ٹھہرایا۔ پھر اسی مجلہ نے رجعت پسندوں اور استعمار کے پیروکاروں کی عربوں اور یہود کو دی گئی تفرقہ کی دعوت کے باوجود عربوں اور یہودیوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔

اسی مجلہ نے ۱۹۵۳ء کی اپنی اشاعت میں لکھا :

’’عراقی قوم دوست اسرائیلی قوم کے ساتھ جنگ سے انکار کرتی ہے کیونکہ محنت کش عربوں اور یہودیوں سے لڑنے میں کوئی مصلحت نہیں، کوئی فائدہ نہیں بلکہ مکروہ عرب بورژوائیت سے لڑنا چاہیے۔ لہٰذا استعمار اور رجعت پسندوں کے اقدامات کو ناکام کرنے کے لیے جمہوریت پسند عربوں کو یہودیوں سے دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہیے۔

صفحہ ۲۰۲

اور عرب یہود دوستی کو زندہ کرنا چاہیے “

۱۹۵۸ء میں اُردن کی فلسطینی مارکسی تحریک کے ترجمان ”قومیت“ کی مخالفت نے لکھا :

”ہماری یہ کوشش ہے کہ عربوں اور یہود کے مابین اخوت، دوستی اور اشتراکیت کے رشتے اُستوار کرنے کے لیے اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی کی زیر قیادت تمام قوموں کے ترقی پسند عوام کی تائید و حمایت کریں۔“

مصر میں سوویت یونین ۱۹۵۶ء میں ناصر کی حمایت خریدنے میں کامیاب ہو گئی اور اس نے مصری حکومت کے ہاتھ اسلحے کی فروخت کی پیشکش کی اس شرط کے ساتھ کہ وہ اسلحہ مذہبی رجعت پسندوں کے خاتمے اور استیصال کے لیے استعمال کیا جائے مصر نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا لیکن سوویت یونین نے وعدہ کی خلاف ورزی کی انہوں نے وہ اسلحہ مصر کو نہیں دیا جو داخلی ہنگاموں اور متوقع انقلابات اور آئے دن کی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے کام آتا۔ ناصر کی حکومت اس خسارے پر نادم ہوئی جو طاقتور مومنین کے گروہ کو اُٹھانا پڑا اور وہ سوویت یونین سے پیاسے کی طرح روز مطالبہ کرتی اور سوویت یونین اسے بہلا پھسلا کر دھوکہ دیتی ۔ یہاں تک کہ اُس نے قوم کی خوراک خرید لی حقیر سی مقدار اسلحہ کے بدلے میں۔

یہ ہر ملک میں اشتراکیت کی نشوونما کی تاریخ کا ایک مختصر سا جائزہ ہے جو اس کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ جو اس پر یقین کرنا چاہے کرلے اور جو اس حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو نہ مانے۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہیں کہ ہماری اُمت کی اس قوم کو حق کی راہ سُجھائے جو کافی عرصے تک دھوکے میں رہے اور انہوں نے گمراہی کی راہ اختیار کی ۔ ان میں سے بعض نے اپنا قبلہ ماسکو کو بنایا اور بعض نے واشنگٹن، لندن اور پیرس کو۔ اور ان کا خیال تھا کہ دائیں یا بائیں بازو میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کے سوا چارہ نہیں اے اللہ انہیں سیدھی راہ دکھائے جس پر ہمارے قائد اور زعیم اور سردار دو جہاں محمد بن عبداللہ علیہ وسلم چلے۔ آمین ثم آمین۔

۹۶ - عیسائی مشنریاں

عیسائی مشنریوں استعمار یاد آجاتا ہے کیونک جو اس کا محتاج ہے اس ہے اور اس کے لئے استشراق اسلامی غیر مسلح جنگجو ہیں جو فکر و قلم ہیں جن کے آگے اونچے عیسائی مشن یا عیسائی اور کثرت سے اللہ کے کے تابع ہو جائیں تو ال مستشرقین اور مسیحی عادات و اطوار، اقوام اور سیاست سے بخوبی روز کوشاں ہیں جس علمی انہیں عبور حاصل ہوتا ہے وغیرہ جیسے معمولی امور تک ہے کہ وہ استعمار کے لیے

لے عیسائی مشنری اور استعمار ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی شریعت کال

صفحہ ۲۰۳

۹۶۔ عیسائی مشنریاں ؎۱

عیسائی مشنریوں کے ذکر کے ساتھ استشراق کا ذکر بھی لازمی ہے اور جب استشراق کا ذکر ہو تو استعمار یاد آ جاتا ہے کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کے لیے چرواہے کے عصا کی حیثیت رکھتے ہیں جو اس کا محتاج ہے اس پر ٹیک لگاتا ہے، اپنے ریوڑ کے لیے پتے جھاڑتا ہے اور اس سے ہانکتا ہے اور اس سے اسے دیگر کئی فائدے ہیں۔

استشراق اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے خلاف غیر مسلح صلیبی جنگ ہے اور مستشرقین غیر مسلح جنگجو ہیں جو فکر وقلم اور ان کے پس پردہ بغض وعناد اور مکروفریب جیسے ہتھیاروں سے لیس ہیں جن کے آگے اونچے اونچے پہاڑ بھی رائی کا دانہ بن جاتے ہیں۔

عیسائی مشن یا عیسائیت کا پرچار موسیقی کا عمدہ کلمہ ہے جس کا مطلوب و مقصود لوگوں کو آسانی اور کثرت سے اللہ کے دین سے ارتداد کی دعوت دینا ہے۔ اگر لوگ چاہیں کہ وہ ان پرچارکوں کے تابع ہو جائیں تو ان کے مذہب میں داخل ہو جائیں۔ یہ ان کا کیا ہی اچھا فعل ہوگا۔

مستشرقین اور مسیحی مشنریوں کی اکثریت متعصب علماء کی ہے وہ مشرق کے حالات، مذاہب، عادات واطوار، اقوام، ان کے علوم وفنون، ان کی تاریخ جغرافیہ ان کے آداب، طبائع اقتصادیات اور سیاست سے بخوبی واقف ہیں، نیز اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جس کے وہ شب و روز کوشاں ہیں جس علم کی ضرورت پڑتی ہے اس سے بہرہ ور ہیں حتیٰ کہ ان کی مادری زبانوں پر بھی انہیں عبور حاصل ہوتا ہے وہ ان کے قلبی احوال، طعام و شراب کی انواع واقسام، ان کی پسند و ناپسند وغیرہ جیسے معمولی امور تک سے آگاہ ہیں۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے دوسری طرف ان پر یہ لازم ہے کہ وہ استعمار کے لیے ان ممالک میں بہتر خطوط پر راہ ہموار کریں اور انہیں غلام بنانے کے لیے

؎۱ عیسائی مشنری اداروں اور استشراق کے متعلق جو کچھ میں ضبط تحریر میں لایا ہوں اس کے لیے میں اسلام کے داعی کبیر ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی شریعت کالج جامعہ دمشق کے سابق پرنسپل اور استاذ محب الدین الخطیب رحمہم اللہ کا مشکور ہوں۔

صفحہ ۲۰۴

فضا سازگار بنائیں ۔ خصوصاً اگر ان مبلغین کی استطاعت ہو تو انہیں ایثار و قربانیوں کے لیے تیار کریں جو ظاہر ہے کلیسا کے لیے ہوتی ہیں اور اس بات کی ضمانت ہوتی ہیں کہ وہ طویل عرصے تک عبودیت اور پیروی کریں۔

اس مقصد کے لیے عیسائی مبلغین گرجا ، مذہبی انجمنوں اور مذہبی کانفرنسوں کی خدمت مخبروں کے طور پر کرتے ہیں جن میں اپنے اول شکاروں (نومسیح) سے متعلق تجربات و تحقیقات کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے جوتے تسمے بنتے ہیں، شکاری کتوں کی طرح جاسوسی کریں۔ ان کی قوم جو کل تک ان کے بھائی تھے کڑی نظر رکھتے ہیں۔

لہٰذا عیسائیت کی تبلیغ کا مطلب تنصیر ہے، تکفیر کا مطلب مبلغ اور کافر بنانے والے کے وسیلے سے مسلمانوں کا اپنے دین سے پھر جانا ہے۔

ارتداد غلامی کا پیش خیمہ (مقدمہ) ہے۔ اسی لیے غیر سامراجی طاقتوں کی نسبت سامراجی ممالک عیسائیت کی تبلیغ اور استشراق کو بڑی اہمیت دیتی ہیں۔ اس کی روشنی میں عیسائی مشنریوں، مستشرقین اور عیسائی سامراجی ممالک کی وزارتِ خارجہ کے مابین گہرے روابط کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ کیونکہ سامراج عیسائی مبلغوں کو بلی کے پنجوں کی طرح استعمال کرتے ہیں جس سے وہ شکار کرتے ہیں۔ ان کے لیے عیسائی مبلغ استعمار کو گڈریے کے عصا کی طرح استعمال کرتے ہیں جس سے وہ اپنے ریوڑ کو ہنکاتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں جو ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔

مستشرقین ہی نے مسلمان ممالک کے ساتھ صلیبی جنگوں کی راہ اس طرح ہموار کی جس طرح علمی تحریک کے ذریعہ سے ان کے علوم و فنون اور معارف پر بزور قبضہ سے پہلے اثر انداز ہوتے تھے۔

ان سامراجیوں نے ہماری سر زمین پر قدم رکھتے ہی ترقی یافتہ ممالک اور سرکردہ لوگوں پر اپنی یلغار کر دی اور انہیں مالِ غنیمت سمجھ لیا جس میں مقدم مختلف علوم و فنون اور آداب پر لکھے ہوئے نادر و نایاب قلمی نسخے اسلام کا عظیم ورثہ تھے۔ جو ترجمہ کے بعد استشراقی علوم کے مرجع کا کام دیتے، ان تراجم سے بعض پر ہمارے ابنائے وطن تربیت لے کر ماہر بن بیٹھے، پھر جو کوئی ان کی طرف دیکھتا ہے وہ

صفحہ ۲۰۵

اسے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دکھاتے ہیں یا گفتگو سے انہیں مرعوب کرتے ہیں۔ وہ کھوکھلے ڈھول ہیں جو کھڑکتے بہت ہیں جیسے تھوتھا چنا باجے گھنا۔ اور طوطوں کی طرح جہل مرکب کی رٹ لگاتے ہیں جسے وہ علم کہتے ہیں جو قوم کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے اہل نہیں ہیں۔

انیسویں صدی عیسوی میں جب مغربی استعمار کو استحکام حاصل ہوگیا تو عیسائی مبلغوں کی کوششیں بھی تیز تر ہوگئیں۔ اور سب سے نمایاں کارنامہ ان کا وہ تبلیغی کانفرنس تھی جو انہوں نے پیرس میں ۱۹۰۲ء میں منعقد کی تھی جس کی بازگشت کافی دیر تک سُنائی دیتی رہی۔ پھر تو مشرقی علوم اور مشرق کے حالات کی مزید معرفت حاصل کرنے اور ان سے پہلے جو وسائل اور معلومات جمع کی گئی تھیں ان کو جاننے کے لیے مسیحی کانفرنسوں کا تانتا بندھ گیا۔ ان مبلغین کے جملہ مصارف، کانفرنسوں کے اخراجات، دُور دراز مقامات کے دوروں اور دیگر ضروریات کے مصارف ان کی سامراجی حکومتیں برداشت کرتی ہیں۔

مندرجہ بالا امور کی بنیاد پر ہر شخص کے لیے ان غیر مسلح صلیبی جنگوں جو مسیحی تبلیغی مشن اور استشراق کے نام سے موسوم ہیں، کے حقیقی مقاصد کا سراغ لگانا آسان ہے۔ نیز اس ہلاکت خیز تحریک کے قریب اور بعید کے اہداف (اغراض و مقاصد) اور ان کے عواقب و نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ اس تحریک کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو کم ہے کہ: یہ ایک عقیدے کی جنگ ہے جس کے مقتول مُرتَدّین ہیں اور اس کے مجروحین وہ حیران و پریشان لوگ ہیں جن کے دلوں میں شکوک و شبہات اور وسوسے گھر کر گئے ہیں ان کے عقیدے کے متعلق۔

مسیحی مشنوں اور استشراق کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں :

کرنا۔ طعن و تشنیع کے ذریعے۔ ترغیب و تحریص کے ذریعے۔ مکر و فریب سے۔ بہتان لگا کر۔ تحریف و تصحیف کے ذریعے۔

خام مال، خوراک، لباس اور صنعت کے مصادر پر قبضہ کرنا۔ منڈیوں پر چھا جانا اور کم سے کم

صفحہ ۲۰۶

اُجرت پر مزدور حاصل کرنا۔

وسائل معلوم کرنا۔ ان کی میراث سے استفادہ کرنا اور ان کے قلمی نسخوں پر متصرف ہونا ۔

اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان کے اعلیٰ عہدیداروں کے ضمیر خریدنے کی کوشش کرنا جاسوسوں اور مخبروں کو بھیجنا ، اپنے حمایتی جماعتیں اور گروہ پیدا کرنا ، ان کی صفوں میں فتنوں اور سازشوں کے بیج بونا ، انہیں ایک دوسرے سے لڑانا ۔

مزاحمت کرنے والی شخصیتوں سے توڑ کر ان کے اسباب بقا اور طاقت کو ختم کر کے ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دینا۔

صداقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اس کی دعوت اور اس کی کتاب میں تشکیک ، قرآن کے منجانب اللہ ہونے اور اس کے اعجاز میں صحاح ستہ کی صحت اور اہمیت ، سنت مطہرہ میں تشکیک ، اُمت اسلامیہ کی وحدت ، شریعت اسلامیہ کے قابل عمل اور حکومت کے اہل ہونے ، تاریخ اسلامی کی عظمت اور اجداد کی تہذیب قیمہ میں تشکیک ، اپنی کھوئی ہوئی مجد و بزرگی کے دوبارہ حصول کے امکان اور جادہ حق وغیرہ کی طرف رجوع میں تشکیک ان سب اہم اُمور میں شک وشبہے ، مستشرقین اور مسیحی مبلغین کے مکائد ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کے عقائد متزلزل کر کے اگر ہو سکے تو ان کے اپنے دین سے پھیر دیں تاکہ وہ اس کے اپنے پشت پناہ سامراج کی امن وسلامتی کے ساتھ خدمت سرانجام دے سکیں ۔ مسیح کی رضا حاصل کرنے کے لیے نہیں ، کیونکہ مسیح ان سے بری ہے اور وہ مسیح سے بری ہیں ۔

اپنے اغراض ومقاصد کے حصول کے لیے مسیحی مبلغین اور مستشرقین جو وسائل اور حیلے استعمال کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :-

صفحہ ۲۰۷

لیے ہوں ۔

اشتراک ۔

منشیات کی تجارت کو رواج دے کر اُمتِ مسلمہ میں فواحشات کی اشاعت کرنا، اور اس طرح اسے کمزور کرنا۔لے

لے اس طرح کی ایک اہم شخصیت سے میں خود واقف ہوں، جس کا عرب ملک میں ایک مسیحی تبلیغی مدرسہ ہے اور نائٹ کلب بھی ۔ وہ جنس اور منشیات کی تجارت بھی کرتا ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جاسوس ہے۔ کون اس کی تحقیق کرے اور کون جواب دے؟

صفحہ ۲۰۸

یہ تو وہ حربے تھے جو عیسائی مبلغین نے انیسویں صدی میں اختیار کیے۔ بیسویں صدی میں ان کا طریقۂ کار بدل گیا ہے اور ان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے مرکزی شہروں میں اپنے مراکز بنا لیے ہیں۔ قاہرہ ، اسکندریہ ، بیروت ، حلب ، عمان یا بحرین کا تو ذکر ہی کیا کہ مبلغین کی کوششوں سے ان شہروں کے لوگوں کے ذہن پر خوفناک تیزی سے چھا گئے ہیں بلکہ ہند و پاک، انڈونیشیا، ترکی ، ایران حتیٰ کہ تمام افریقہ کیا شمالی ، کیا وسطی اور کیا شرقی اور غربی تک ان کی ترکتازیوں سے محفوظ نہیں عیسائی مبلغین نے عالم عرب اور عالم اسلام میں بعض مقامات کو اپنا مرکز بنا لیا ہے جو ان کی فوجوں کے لیے چھاؤنیوں کا کام دیتے ہیں۔ جہاں سے نکل کر حملے کرتے ہیں اور قتال کرتے ہیں جب حملے سے فارغ ہو جاتے ہیں تو پھر اپنی ان چھاؤنیوں کی طرف لوٹ آتے ہیں تا کہ تازہ دم ہو کر نیا حملہ کریں۔

قاہرہ میں مورخہ ۴ /۴/ ۱۹۰۶ء کو عرابی پاشا کے گھر میں ایک اہم مسیحی تبلیغی کانفرنس منعقد ہوئی جو پادری سیموئیل زویمر کی مساعی کا نتیجہ تھی، پھر وہی اس کا صدر بھی منتخب ہوا۔ اس نے صدارتی خطبے میں کہا :

" اسلامی ممالک میں مبلغین بھیجنے کے دو فائدے ہیں۔ ایک مسلمانوں کو دائرہ نصرانیت میں داخل کرنا ۔ دوسرا اگر وہ نصرانی نہ بنیں تو ان کو ان کے دین سے پھیر دینا "

سب سے اہم موضوع جو کانفرنس کے شرکاء (نام نہاد شیوخ الاسلام اور علماء جو تمام رات لارڈ کرومر کے ساتھ جاگتے رہے جو مسیحی تبلیغ کا حامی اور فری میسنری استعمار کا سرغنہ تھا، بھی اس میں شریک ہوئے) کے زیر بحث آیا وہ تھا 'ارتداد' کانفرنس کے شرکاء نے مسلمانوں کی صفوں میں ارتداد اور نصرانیت کو فروغ دینے کے لیے تجاویز پیش کیں اور اس کے اسباب و وسائل اور نتائج و عواقب اور اس کے مستقبل اور اُمت پر اس کے سیاسی و اقتصادی اثرات کا جائزہ لیا۔ کانفرنس کے ایجنڈے (جدول) میں جو دوسرے موضوعات شامل تھے وہ یہ ہیں:

صفحہ ۲۰۹

کانفرنس کے شرکاء کی رائے یہ تھی کہ عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے موسیقی کے آلات سے مدد لینا مفید ہے۔ اور ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان پر احسان و مہربانی کرنا ضروری ہے، خصوصاً جس قدر ممکن ہو مخلوط مجالس منعقد کرنا۔ اور ان کی مادری زبانیں اور قرآن کی چند سورتیں سیکھنا ضروری ہے۔

ترقی پسندوں کے متعلق انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ان کی توجہ اسلام اور قرآن و سنت پر اہم اعتراضات کی طرف منعطف کرائی جائے، خصوصاً طلاق، تعدد ازدواج، پردہ پر آزادی نسواں کے نام سے عورت کے حقوق از قسم پردے سے آزادی وغیرہ جیسے اعتراضات اٹھانا۔ بیرون ممالک میں ان کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کرنا، مجالس اور جماعتیں قائم کرنا، سینما اور مقامی فن کی حوصلہ افزائی کرنا۔ سرکردہ مغربی مستشرقین کی کتب اور مقالات کی ان میں نشر و اشاعت وغیرہ جیسے مفید وسائل سے کام لینا، لیکن ان کے زیادہ اہم شبہات ایک طرف مسیحیت اور مغربی تہذیب کے مابین

صفحہ ۲۱۰

تعلق پر، دوسری طرف اسلام اور شرقیین کے تاثر کے مابین تھے۔ کانفرنس کے اہم فیصلوں میں سے ایک جامعہ ازہر کو خورد بین کے تحت رکھنا۔ اور ایک طرف تو اس کے مقابلے کے درپے ہونا اور دوسری طرف اس کے اثرات کو زائل کرنا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اصلاح ازہر اور اس کی تجدید کا مطالبہ اٹھایا۔ اس کام کا بیڑہ شیخ الاسلام (شیخ الاطاعت) اور قابض طاقتوں کے مفتی لارڈ کرومر کے گہرے دوست شیخ محمد عبدہ نے اٹھایا جو دنیا کو اٹھاتا اور بٹھاتا تھا حتی کہ وہ اپنے ارادوں یعنی اسے قدیم اصولوں سے منحرف کرنے اور نئے اصولوں کے مطابق چلانے اور اس میں عصر حاضر کے اسلوب یعنی جدید علوم داخل کرنے میں کامیاب ہو گیا یہاں تک کہ وہ نہ ازہر شریعت باقی رہی اور نہ جدید علوم کی یونیورسٹی بن سکی۔ قدیم ازہر کے ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ طاقت بھی ختم ہو گئی جو مصر، افریقہ اور عرب ممالک کو فاضل اور اجل علماء، حفاظ اور مبلغین فراہم کیا کرتی تھی اب اس سے نیم ملا ادھورے متعلم نکلنے لگے۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ لوگ اس کے متعلق کہنے لگے کہ ازہر میں ۱۴ برس اسلام پڑھا لیکن اسلام کو سمجھا نہیں۔ جی ہاں اسلام کا فہم تو یورپ میں مستشرقین اساتذہ کی تعلیم و تدریس سے حاصل ہوتا ہے جہاں پر شیخ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرتا ہے اور پھر وہ استاد محترم ڈیش فلاں فلاں کہلاتا ہے۔ انہوں نے حرف ش (مشیخت کی علامت) کو چھوڑ کر اس کی جگہ حرف د پر اکتفا کر لیا، غالباً یہ شیخ تو استغفر اللہ بھول گیا لیکن اس ڈاکٹر یعنی پوپ ہربرٹ نے جو ایک فرانسیسی راہب تھا اندلس کے اسلامی مدارس میں علوم حاصل کیے جب ان سے سند فراغت حاصل کر کے واپس لوٹا تو ۹۹۹ء میں روم کے گرجا کا پوپ منتخب ہوا لیکن بیسویں صدی میں معاملہ اس کے برعکس ہو گیا۔ اب اسلامی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لوگ غیر اسلامی ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔

یہ بیسویں صدی کے ترقی پسندوں کی فکری غلامی کا کمال ہے۔

ان فکری غلاموں اور مغرب کی فکری غلامی کی دعوت دینے والوں میں سب سے زیادہ مشہور ڈاکٹر طہ حسین ازہر کا تربیت یافتہ ہے۔ اس فکری غلامی کی روش پر اس نے علماء کی بڑی

صفحہ ۲۱۱

بھاری جماعت فارغ ہوکر نکلی جو روش شیخ الاسلام محمد عبدہ نے ازہر کے لیے اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اس سے سند فراغت پانے والوں کے لیے پسند کی تھی لیکن اللہ سے یہ امید وابستہ ہے کہ وہ ازہر میں ایمان کا نور پھیلائے تاکہ اس کی بزرگی اور اس کا وہ فعال دور پھر لوٹ آئے جس میں یہاں علماء، عاملین، مبلغین اور مجاہدین تیار ہوا کرتے تھے۔

ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب مبلغین جن کا مرکز لاہور تھا، قبل از تقسیم مسلمانوں کے چند سرکردہ اشخاص کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ مثلاً مولوی صفدر علی، مولوی عماد الدین، سید عبداللہ آتھم، محمد حنیف اور ڈاکٹر برخدار خاں وغیرہ ہم بعض متنصرین (عیسائی یا نصرانی بنائے گئے لوگ) پادری بن گئے جنہوں نے پشاور اور لاہور کو اپنا مرکز بناکر عیسائیت اور تثلیث کے عقائد کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ متنصر جو پہلے امیر زادہ محمد شکری تھا، نصرانیت قبول کرنے کے بعد پادری اقناتیوس کہلایا۔ مجلہ ”مشرق میں عیسائیت کی تبلیغ“ میں اسلام کے موضوع پر لکھنے لگا، اس میں اس نے ”بلادِ اسلامیہ میں عیسائیت کی تبلیغ میں ترقی“ کے موضوع پر ایک مقالہ لکھا جس میں اس نے یہ ذکر کیا کہ اڈنبرگ میں منعقدہ عیسائی مشن کی کانفرنس میں مختلف ممالک سے ۱۲۰۰ مندوب شریک ہوئے جن میں ۵۰۰ سے زائد امریکی تھے اور ان میں امریکہ کے سابق صدر روزویلٹ بھی شامل تھے۔ پروٹسٹنٹ عیسائی مبلغوں کا لشکر اس وقت تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گیا اور اس میں لاکھوں عیسائی ان کے مددگار تھے جو اناجیل کی نشر و اشاعت میں مدد کرتے تھے بیسویں صدی کے پہلے دہے میں انہیں عیسائیت کی تبلیغ کے بہت سے وسائل اور طریقے حاصل تھے جیسے کتب خانے، لائبریریاں، دواخانے، شفا خانے مسیحی یا مشن ہسپتال، نسخے تجویز کرنے والے اطباء، تیمار داری کے ادارے، یتیم خانے اور بے آسرا لوگوں کے ٹھکانے، ہزاروں کی تعداد میں سکول، اور کالج اور باغات وغیرہ۔

ہند و پاکستان کے موجودہ حالات بھی پہلے سے بہتر نہیں ہیں۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم لے

لے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عوام اور حکومت شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں، ہم اللہ سے اس پُرعظمت مشن کے انجام کی دعا کرتے ہیں۔

صفحہ ۲۱۲

بقول شاعر ؎

وہی ہے چال بے ڈھنگی
جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

درج ذیل اہم اسباق کے ہولناک نتائج ان افکار و مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں جو ہم نے گزشتہ صفحات میں عیسائی مشنریوں اور استعمار کے ساتھ ان کے تعلقات کے متعلق بیان کیے ہیں :۔

مسیحی تبلیغی استعماری المانی کانفرنس جو بیسویں صدی کے اوائل میں منعقد ہوئی، کے مندوبین نے درج ذیل فیصلے کیے :۔

اعمال کے ساتھ ضم کرنا لازم ہے۔

کے سوا چارہ نہیں۔

اور جماعتوں اور ہر اس سبب کی مقاومت کریں جو اسلام کی طاقت میں توسیع کا سبب ہو۔ مسلمانوں میں ضبط ولادت اور آبادی کی منصوبہ بندی کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور انہیں تعدد ازواج سے روکیں۔

آخر میں کانفرنس نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے مسیحی ہر طرف سے عالم اسلام پر غارتگری کے لیے یلغار کردیں۔

پادری مبلغ لیسیوس جرمن عیسائی مشن کا بانی کہتا ہے :

”مشرق مغرب کو پکار رہا ہے تاکہ وہ مسیح کے ذریعے اسے طاقت پہنچائے اور اسے آزاد کرائے۔ آؤ عالم اسلام کے قلب کی طرف آؤ تاکہ ہم صلیب کو ہلال پر غالب کریں“

”صلیب اور ہلال کے درمیان جنگ کی آگ صرف دور دراز ممالک میں ہی

صفحہ ۲۱۳

نہیں بھڑک رہی بلکہ عنقریب یہ ان مراکز میں بھی بھڑکنے والی ہے جہاں سے اسلام اپنی حمایت و نصرت طلب کرتا ہے، نیز جب تک مسلم اقوام دارالخلافہ آستانہ کی طرف متوجہ ہیں، ہماری تمام کوششیں رائیگاں ہیں بے فائدہ ہیں اگر ہم اسے (خلافت) کو ختم کرنے کی کوئی راہ نہیں نکالتے“

ایک اور حاسد اور آنکھوں کا اندھا مبلغ کہتا ہے :

”جب تک ہم عرب ممالک کی نظروں سے قرآن اور مکہ مکرمہ کو اوجھل نہ کردیں تب تک یہ ممکن نہیں کہ ہم عربوں کو بتدریج اس عیسائیت کی تہذیب کی طرف لے جائیں جس سے صرف محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی قدر اور اس کی کتاب نے انہیں بچایا تھا“

۱۹۱۱ء کے سال کا عیسائی مبلغین کا آخری اجتماع جو اس سے ۵ سال قبل قاہرہ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں مندوبین نے لکھنؤ میں اپنی کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا تھا عرب اور اسلامی ممالک میں اس وقت تک بڑے بڑے حوادث و واقعات رُونما ہو چکے تھے مثلاً

سنبھال لی۔

تخت نشین ہوا۔

کے لقب سے مشہور ہے لے

لے مؤلف عنقریب ایک کتاب شائع کرے گا جس کا عنوان ”افغانی اور محمد عبدہ کی سیاست اور عقائد کے اسرار“ ہوگا۔

صفحہ ۲۱۴

لکھنؤ کی کانفرنس میں درج ذیل امور زیر غور آئے :

اسلام اور مبلغین پر اثرات ۔

پادری زویمر نے کھڑے ہو کر عالم اسلامی میں اہم سیاسی انقلابات واقع ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور حمیدی عہد کے خاتمے اور دور آزادی کے قیام پر مسرت کا اظہار کیا، کیونکہ عبدالحمید کے سلانیکا میں قید ہو جانے کے بعد مبلغین کے لیے سلطنت عثمانیہ اور ایران میں داخلہ آسان ہو گیا ۔ اسی طرح اس نے اسلامی ممالک پر انگریزوں ، فرانسیسیوں ، روس اور ہالینڈ کے قابض ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ۔

”عنقریب واقع ہونے والے انقلابات کے بعد عیسائی حکومتوں کے تحت مسلمانوں کی تعداد بڑھ جائے گی“

پھر قاہرہ کی مسیحی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا :

”قاہرہ کانفرنس مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے عصر جدید کا آغاز تھی“

پادری اسلیٹین نے ایران کے سیاسی انقلاب پر اظہار خیال کیا جس نے حریت مذاہب کے حصول کی راہ ہموار کر دی تھی ۔

”مذہبی آزادی کے دور میں باب کا مذہب ماننے والوں اور بہائیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور ہزاروں ایرانی اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر لیں گے یا کسی مذہب پر بھی ان کا ایمان باقی نہیں رہے گا یعنی وہ لا مذہب اور لادین ہو جائیں گے“

اس کے بعد پادری ولـ ”مغربی تعلیم و تربیـ لکھنؤ کانفرنس کے اختـ کے سیاسی حالات نے اس کـ براعظم افریقہ کی طرف زیاد کی بنیاد رکھنا ضروری تھا جہا اور تاریخ اسلامی سیکھتے اور اـ میں موجود عیسائی مشنوں کو اـ ہم یہاں ایک عجیب و پکڑیں ۔“ واشنگٹن کے ایک ہوتے اور انہوں نے تنقیـ میں جدوجہد کرنے والے مبلغین کی تـ عالم کو ۲۵ سال کی مدت میں ضروری مالی اعانت کے لـ اے اللہ ہمیں صـ

١۔ اسی سال قاہرہ کی کاـ ٢۔ میں عالم عرب اور خـ خلیج عربی کے خصوصاً) سے اتنـ کانفرنس بلائیں جو عیسائی مشن کـ

صفحہ ۲۱۵

اس کے بعد پادری وٹسن نے ہندوستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:-

"مغربی تعلیم و تربیت ایسی طاقت ہے جو نمایاں اسلامی روابط کو کمزور کر دے گی"

لکھنؤ کانفرنس کے اختتام پر یہ فیصلہ ہوا کہ اگلی کانفرنس ۱۹۱۶ء میں قاہرہ میں منعقد ہو گی ۱؎۔ اگر وہاں کے سیاسی حالات نے اس کانفرنس کی اجازت نہ دی تو پھر لندن میں منعقد کی جائے گی۔ کانفرنس نے براعظم افریقہ کی طرف زیادہ توجہ دینے پر زور دیا اور اس کے لیے مصر میں مسیحی مشن کے ایک خاص مدرسہ کی بنیاد رکھنا ضروری تھا جہاں سے مبلغین افریقہ بھیجے جائیں۔ اسی طرح کانفرنس نے مبلغین کو عربی زبان اور تاریخ اسلامی سیکھنے اور ان سے متعلق اہم کتب پڑھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ آخر میں کانفرنس نے ہند میں موجود عیسائی مشنوں کو اپنے مبلغین افریقہ بھیجنے پر اکسایا۔

ہم یہاں ایک عجیب حادثے کا ذکر کرتے ہیں، شاید کہ عالم اسلام کے اہل ثروت اس سے عبرت پکڑیں:-

واشنگٹن کے ایک مالدار تاجر کی دعوت پر امریکہ کے اہل ثروت ۱۹۱۰ء میں واشنگٹن میں جمع ہوئے اور انہوں نے مبلغین کے بھیجنے اور اس کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ لہٰذا انہوں نے اس سلسلے میں جدوجہد کرنے اور مبلغین کی تربیت کے مصارف برداشت کرنے کا عہد کیا۔ اور اس عمل کے ذریعے تمام عالم کو ۲۵ سال کی مدت میں عیسائی بنانے کا عہد کیا۔ اس غرض کے لیے اور اس تخریبی تحریک کی سال بسال ضروری مالی اعانت کے لیے انہوں نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔

اے اللہ میں نے قارئین اور سامعین کو پیغام پہنچا دیا ہے۔ اے اللہ پس تو گواہ رہ ۲؎

۱؎ اسی سال قاہرہ کی مسیحی کانفرنس منعقد ہوئی۔

۲؎ میں عالم عرب اور عالم اسلام کے عموماً مخلص اور با مروت مفکرین اور مؤلفین اور عاملین فی سبیل اللہ اور اہل ثروت و خلیج عربی کے خصوصاً سے التماس کرتا ہوں کہ وہ عیسائی مشنریوں اور ہلاکت خیز تحریکوں کے مقابلہ کے لیے ایک اسلامی بین الاقوامی کانفرنس بلائیں جو عیسائی مشن کے مقابلہ میں مسلم مشن کا کام دے مسلمان مبلغین کی تربیت کے لیے مدارس قائم کریں اور خاص

صفحہ ۲۱۶

۹۷۔ ہلاکت خیز تحریکوں (فری میسن، کمیونزم اور مسیحی مشن) کے

عالم اسلام کے معاشروں اور نظامہائے حکومت پر اثرات

عالم اسلام کے معاشروں اور نظامہائے حکومت پر ان تین مہلک تحریکوں کے اثرات سے آگاہی کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ قارئین کرام کرہ (گیند) کو دوبارہ نہ گھمائیں، بلکہ گذشتہ اوراق کی طرف پلٹیں اور عنوانات نمبر ۹۴، ۹۵، ۹۶ کا دوبارہ مطالعہ فرمائیں حیران کن حقائق کی اہمیت سے بہرہ ور ہونے کے لیے ہم درج ذیل سطور میں ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں :

۱۔ فری میسنری کی حقیقت .... ایک خاکہ

سے قائم ہوئی ۲؎

فری میسنری وہ سرطان ہے جو حکومت کے اہم اور اعلیٰ عہدوں پر قابض ہے اور تنظیموں اور اقوام متحدہ میں سرایت کیے ہوئے ہے ۳؎

فری میسنری سامراجی صہیونی تحریک ہے جو اقوام عالم کو نگل کر ایک عالمی حکومت (عظیم تر اسرائیل) بنانا چاہتی ہے جس کے منتظم وہ خود ہوں گے ۴؎

جماعتیں اور جمعیتیں تشکیل دیں جو عیسائی مبلغین کا تعاقب کریں اور عالم عرب اور عالم اسلام میں زیر زمین کام کرنے والی خطرناک تحریکوں اور خفیہ جمعیتوں کی سازشوں کا توڑ کریں یہ قلیل عرصے میں ممکن ہے اور اللہ رب العالمین ساتھ ہے اور اب ہم مذکورہ بالا تین

۱؎ اس کتاب کا مضمون نمبر ۹۴ کا آخری جملہ ملاحظہ ہو۔

۲؎ "خفیہ قوت" کے نام سے یہ تنظیم عہد مسیح اور صدر اسلام میں کارفرما تھی۔

۳؎ اقوام متحدہ اور ایسی ہی دیگر تنظیموں میں یہود کا اثر و نفوذ ملاحظہ ہو۔

۴؎ ۱۹۴۷ء میں پیرس میں منعقدہ عالمی فری میسنری کانفرنس کی قرارداد دیکھیے۔

صفحہ ۲۱۷
۱؎ دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری (مترجم)

کرنا ہے۔

(بقول اقبالؔ: جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ مترجم)

علمبردار ہے۔

اور اسے امامتِ عظمیٰ کے منصب سے محروم کرنے کی ذمہ دار ہے۔

۱؎ مضمون نمبر ۹۵ دیکھیے۔

۲؎ کتاب کا مضمون نمبر ۹۶ ملاحظہ کیجیے۔

صفحہ ۲۱۸

کی تحریکوں اور خفیہ جمعیتوں کی خالق ہے۔

ب - کمیونزم کی حقیقت .... ایک خاکہ

کے جواز کا قائل ہے۔

قابض ہے اور وہاں کے کروڑوں مسلمانوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے ؎۱

کرتا ہے۔

؎۱ کمیونسٹ مارکسی نظام کے علمبردار ملک رُوس اور چین میں آباد مسلمانوں کی تعداد عرب قوم سے کہیں زیادہ ہے۔ اور ان کے شہروں کا رقبہ براعظم یورپ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ علاقہ اور خطہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے، دُنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ معدنیات اور دوسری دولت سے مالا مال ہے۔

صفحہ ۲۱۹

اور گرے ہوئے لوگوں پر مسلح حملے پر ایمان رکھتا ہے۔

فریب اور خیانت پر قائم ہے۔

اس بات کی علامت ہے کہ آزادی اور حریت کی ہر کوشش کو کچلا جائے۔ اور سرخ رنگ سے عبارت ہے اپنے مخالفین اور باغیوں کے خلاف جلی ہوئی زمین کی سیاست کا اطلاق کرنا۔

ج - عیسائی مشنری کی حقیقت .... ایک خاکہ

توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور جھوٹے قصے اسرائیلیات گھڑنا تاکہ مسلمانوں کے عقیدہ پر زبان طعن دراز کریں اور ان کے دین کو ختم کریں۔

صفحہ ۲۲۰

مسیحی مشن لادینی مدارس قائم کرتے ہیں اور بچوں کے لیے باغات لگاتے ہیں۔

مسیحی مشن بہائی اور قادیانیت جیسی مہلک تحریکیں چلاتے ہیں۔

مسیحی مشن اپنے شکار کو دو راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں، نصرانیت قبول کرنا یا دائرہ اسلام سے خارج ہو جانا، میں تجھے قتل کروں گا یا تم اپنے آپ کو خود قتل کرو گے کے مصداق۔

مسیحی مشن اسلامی میراث اور ثقافت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

مسیحی مشن ضبط ولادت کا داعی ہے اور تعدد ازدواج کا مخالف۔

مسیحی مشن ایسا دیو ہے جس کے ہاتھ تمام عالم اسلام کے کونوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مسیحی مشن احکام شریعت ناپسند کرتے ہیں اور انہیں رجعت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔

مسیحی مشن نے سب سے پہلے ازہر کے خلاف تجدید کے پردے میں تحریک چلائی۔

مسیحی مشن دنیا کے عیسائیوں کو عالم اسلام کو غارت کرنے اور اس کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

مسیحی مبلغین عالم اسلام میں مغربی ممالک کے جاسوس ہیں۔

مسیحی مبلغین کے شرکاء، ایجنٹ کافر، ملحد اور مرتد ہیں۔

۹۸۔ مسلمان مبلغوں پر ارتداد کے محرکات اور سرچشموں کا مقابلہ واجب ہے

عصر حاضر میں ارتداد کی تحریک ہم سے جن فرائض کی متقاضی ہے ان کا تعین کرنے کے لیے ہمیں اس تحریک کے منبع اور سرچشمے کا سراغ لگانا ضروری ہے پھر ہم پر اس کے منبع اور سرچشموں کو خشک کرنا اور اس کے مچھروں اور حشرات کا مقابلہ کرنا لازم ہے پھر اس مصیبت بلکہ آفت کی تکرار کو روکنے کے لیے عملدرآمد کرنا لازم ہے۔

سیلاب ارتداد کے منبع اور سرچشمے دس عظیم امور پر منحصر ہیں جو درج ذیل ہیں :

اگر ہم ان سرچشموں اور ک کریں تو وہ اسباب ہیں:

کا زوال ۔

ان مہلک تحریکوں کے ارتداد کے سیلاب بلا کا سبب حاصل کرنے کے سوا چارہ نہیں مسیحی مشن کے مقابلے میں سے پہلے اور بعد سلطنت اسلا کے مسلمانوں کے لیے بحال کر کوئی مشکل کام نہیں اور نہ امری جب تک کمیونزم جس رکھی اور غاصب اسرائیلی حکوم وہ کتابیں جن میں دعائیں تھیں ا سے جنگ کی اور کمیونزم دنیا کی کو دعوت مبارزت دیتی ہے لیک

صفحہ ۲۲۱

اگر ہم ان سرچشموں اور کیڑے مکوڑوں سے پھیلنے والی گندگی کے اسباب کا کھوج لگانے کی سعی کریں تو وہ اسباب ہیں:

کا زوال۔

ان مہلک تحریکوں کے خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جو تمام عالم اسلامی میں متنوع اور بے پناہ ارتداد کے سیلاب بلا کا سبب ہیں دعوتِ اسلامیہ سے اغماض و غفلت اور لاپروائی سے نجات حاصل کرنے کے سوا چارہ نہیں۔

مسیحی مشن کے مقابلے میں مسلم مشن کی تحریک چلانے کے سوا بھی چارہ نہیں جیسا کہ ان سب باتوں سے پہلے اور بعد سلطنتِ اسلامیہ کے قیام اور منصب خلافت اور امامت عظمیٰ کے تمام عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے بحال کرنے کے لیے تند و تیز جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اللہ عزوجل کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں اور نہ امر بعید ہے۔

جب تک کمیونزم جس کا بانی کارل مارکس ہے اور صہیونیت جدید جس کی بنیاد موشہ ہس نے رکھی اور غاصب اسرائیلی حکومت جسے تھیوڈور ہرٹزل نے قائم کیا اور ہزاروں مسیحی مبلغین جنہوں نے وہ کتابیں جن میں دعائیں تھیں لکھیں اور صدقہ و خیرات جمع کیا پھر بے پناہ لشکر کے ساتھ عالم اسلام سے جنگ کی اور کمیونزم دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بن گیا اور اسرائیلی حکومت عربوں اور مسلمانوں کو دعوت مبارزت دیتی ہے لیکن ہماری تاریخِ اسلامی ہمارے لیے بہترین گواہ ہے اس بات کی

صفحہ ۲۲۲

کہ سب سے بڑا انقلاب حُریت صرف بندوق کی نالی سے پیدا ہوتا ہے۔ فلسطینی انقلاب کوئی دُور کی بات نہیں۔ اس کی یاد ذہن میں تازہ ہے لہٰذا ہمیں بھی آج ہی عمل شروع کر دینا چاہیے۔ آج نہ کہ کل اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

صفحہ ۲۲۳

نمائی سے پیدا ہوتا ہے فلسطینی انقلاب کو نئی روح میں بھی آج ہی عمل شروع کر دینا چاہیے۔ آج نہ

تیسرا باب

حاکم اور رعایا کا ارتداد

پہلی فصل: ــــــ حاکم کے ارتداد کا مقابلہ رعایا پر واجب ہے۔ دوسری فصل: ــــــ حاکم اور رعایا کے ارتداد کی صورت میں مومن اقلیت کونسی راہ اختیار کرے۔ تیسری فصل: ــــــ برائے نام مسلمانوں اور منافق مسلمانوں کے درمیان غریب مومنین کا مقام۔ ضمیمہ: ــــــ کتاب میں مستعملہ فقہی الفاظ اور اصطلاحات کی تشریح

لہ کتاب کے مقررہ حجم سے بڑھ جانے کے خدشے کے پیش نظر اور اس کی طباعت کے اخراجات کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے ہم ضمیمہ کی طباعت سے قاصر ہیں۔ اگر خدا نے چاہا تو دوسری طباعت میں شامل کریں گے۔

صفحہ ۲۲۴

فصل اوّل

حاکم کے ارتداد کی صورت میں رعایا پر کیا لازم ہے؟

کیا کیا جائے ۔

═◯═

صفحہ ۲۲۵

۹۹۔ تمہید

اولی الامر یا امام اعظم تین قسم کے ہو سکتے ہیں :

پہلی صورت : پہلی صورت میں اولی الامر کی اطاعت واجب ہے کیونکہ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے موجب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے " اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۱ ؎ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ اور تم میں سے جو اولی الامر ہوں ان کی اطاعت کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ خلیفۂ رسول اللہ جب مسلمانوں کے خلیفہ کی حیثیت سے منبر پر چڑھے تو لوگوں سے ان الفاظ میں خطاب فرمایا : جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرتے رہو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں ہے ۔ یعنی حاکم کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مترادف قرار دیا خواہ خوشی سے ہو یا مجبوراً ۔ اگر اولی الامر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے تو رعیت پر اس کی اطاعت واجب ہے ۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت رعیت پر لازم نہیں ۔

جہاں تک اُولی الامر کے لیے قریشیت کی شرط کا تعلق ہے تو اسلام نے یہ شرط نظام حکومت کی حفاظت ، ہیبت اور استقرار کے لیے عائد کی ہے ۔ کیونکہ قریش عربوں میں طاقتور غالب اکثریت والی پارٹی کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اگر ان میں سے کوئی خلیفہ ہوتا تو دوسرے قبائل میں سے کوئی اس کی نافرمانی یا ملک میں امن و امان کی صورتِ حالات میں بگاڑ پیدا کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ

۱ ؎ النساء : ۵۹ -

صفحہ ۲۲۶

عرب قریش سے اور اُن کی سطوت سے ڈرتے تھے اور اُن سے مرعوب تھے۔ اگر خلیفہ اُن کے علاوہ کسی قبیلے میں سے ہوتا تو قریش کے چند افراد اُٹھ کر بآسانی اس کی نافرمانی کر سکتے تھے اور امن و امان کی صورتِ حال میں بگاڑ پیدا کر سکتے تھے۔ اس کے برعکس خلیفہ ان کو سزا دینے کی بھی جرأت نہیں کر سکتا تھا یا کوئی قبیلہ اس نافرمان گروہ کے مقابلے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ایسا امر ہے جس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے جو عرب قبائل کے اطوار سے واقف ہے ان کے اُمور سے نمٹنے کے طریقے اور ان کے قبائل کے داخلی اور خارجی نظام کی حفاظت کے طریقے، کمزور پر طاقتور کا تسلط اور کمزور کا طاقتور سے خائف ہونے کو جانتا ہے جس کے زندہ ثبوت آج تک جزیرہ عرب اور خلیج عربی کی ریاستوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

لہٰذا قرشیت یہاں بذاتہ مقصود نہیں ہے بلکہ علت اور غرض کے طور پر یہ شرط عائد کی گئی ہے اور علم فقہ اور اصولِ فقہ سے شغل رکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حکم علت کے وجود یا عدم کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اگر قرشیت بذاتہ مقصود ہوتی جیسا کہ بعض جلیل القدر علماء کا خیال ہے تو اسلام دین قریش ہوتا، دین عرب نہ ہوتا یا محض عربوں کا دین ہوتا اور دو عالم کا دین نہ ہوتا۔

مزید برآں سقیفہ بنی ساعدہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد خلیفۂ اوّل کے انتخاب کے لیے سقیفہ بنی ساعدہ کا اجتماع اور خلیفۂ اکبر کی نامزدگی میں مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم اجمعین کا اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ قرشیت کی شرط ان مقبول معنوں میں فرض نہیں تھی جو آج کے علماء سمجھتے ہیں جب انصار (جن کے سردار سعد بن عبادہؓ تھے) نے مہاجرین (جن کی قیادت حضرات ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کر رہے تھے) سے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں خطاب نہ فرماتے :-

”ہم مہاجرین سابقین فی الاسلام ہیں (لوگوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں) عرب میں سب سے زیادہ اچھے نسب کے مالک ہیں ان سے زیادہ اچھے شہر والے ہیں اور ان سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے حامل ہیں “۔۔۔ الخ (یعنی مہاجرین کے اوصاف گنائے)۔

صفحہ ۲۲۷

”اور اے انصار ! تم ہمارے مسلم بھائی ہو، دین میں ہمارے ساتھی ہو، تم نے ہماری حمایت و نصرت کی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے ... الخ پس ہم امیر ہوں گے اور تم ہمارے وزیر اور عرب قریش کے سوا کسی قبیلے کی اطاعت نہیں کریں گے “ ... الخ۔ ”اور میں تمہارے امیر کے طور پر ان دو اصحاب میں سے ایک کو پسند کرتا ہوں عمر بن الخطاب اور ابوعبیدہ بن الجراح ...“ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور فرمایا ' آپ کے زندہ ہوتے ہوئے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آئیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دست مبارک اپنے ہاتھوں میں لیا اور خلافت کی بیعت فرمائی پھر تو لوگ آپکی تقلید میں خلافت کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے لگے۔

لہٰذا اگر قریشیت کی شرط فرض مفروض ہوتی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس خطاب کی حاجت نہ ہوتی اور انصار کے ساتھ اس امر کا فیصلہ دو لفظوں میں ہو جاتا ”الائمة من القريش“ امام قریش میں سے ہوں گے۔ اور اللہ مومنین کو جنگ وجدل سے روک دیتا۔ اس پر نہ سعد کو اور نہ جملہ انصار کو یہ مجال ہوتی کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اعتراض کریں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کریں۔ اس مفروضے پر کہ انہیں مذکورہ حدیث کا علم نہیں تھا یہ دلیل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حدیث ”الائمة من القريش“ صدر اول میں فرضیت ، شرط اور لزوم کے معنی کی حامل نہیں تھی کیونکہ خبر صداقت نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل ہوتی ہے جبکہ آپ نے یہ خبر دی تھی کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے تو کیا عملاً وہ سقوط خلافت عباسیہ تک تھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔

انصار کے لیے حضرت ابوبکر کا مقولہ دلیل وبرہان کے میدان میں خلافت کے لیے استحقاق قریش ثابت نہیں کرتا۔ جب آپ نے یہ فرمایا ” ولا تدین العرب الا لهذا الحي من قریش“ یعنی قبائل عرب کسی کے تابع فرمان نہیں ہوں گے اور اولی الامر میں سے کسی کی اطاعت قبول نہیں کریں گے،

صفحہ ۲۲۸

جب تک وہ قریش کے قبیلے میں سے نہ ہو، حضرت ابوبکرؓ نے حدیث مذکورہ سے استدلال نہیں کیا۔ اگر قریشیت بذاتہ مطلوب ہوتی تو قبائلی عصبیت یا خاندانی تعصب، یا قومیت کا تعصب یا جنس کی عصبیت شریعت میں پسندیدہ ہوتی ہے لیکن امر واقعہ اس کے خلاف ہے اور کتنے ہی شواہد اسلام میں عصبیت کی مذمت کرتے ہیں، جنس اور وطنی عصبیت مکروہ اور جہالت کا فعل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذرؓ کو کیا خوب فرمایا جب ابوذرؓ نے ایک آدمی کو اس کی ماں کے ساتھ قومیت پر عار دلایا تھا کہ اس کا ایک فقیر وحقیر خاندان سے تعلق ہے جسے کوئی عزو جاہ حاصل نہیں، فرمایا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم غریب نہیں تھے؟ کیا تم نے ان کی قومیت پر ان کو عار دلایا؟ تم میں سے ابھی جاہلیت کے طریقے نہیں گئے یعنی تمہارے اندر ابھی تک جاہلیت کی بُرائیاں ہیں جو حسب نسب پر فخر کرنا سکھاتی ہے، پھر آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو بغیر عمل صالح کے اپنے آپ کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے سے منع فرمایا کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ۱؎ ”تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے مکرم وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو“

بلکہ آپ (صلوات اللہ علیہ) نے تو ہمیں اس بات کی ترغیب دی ہے کہ ہم پر اگر ایک حبشی غلام بھی حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بھی اطاعت کریں۔

اگر امر واقعہ ایسے ہی ہوتا اور اسلام ہر قسم کی عصبیت خواہ وہ کسی شکل وصورت کی ہو، کا دشمن ہے تو عقل سلیم یہ کیسے باور کر سکتی ہے کہ اسلام نے مسلمانوں پر تاقیامت خواہ کوئی عہد ہو اور کوئی مقام ہو اور احوال وظروف کیسے ہی ہوں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں میں سے صرف ایک معینہ قبیلے کی اطاعت فرض کی ہے اور کسی کی نہیں اور وہ قریش ہے؟

اور ایک متوازن مزاج اور معتدل طبیعت کا مالک مسلمان یہ کیسے گمان کر سکتا ہے کہ اسلام قریشی عصبیت کی دعوت دیتا ہے خواہ مرور زمانہ کے ساتھ یہ ظاہر ہو جائے کہ قریشی کے علاوہ ایک

۱؎ الحجرات ۱۳

صفحہ ۲۲۹

شخص منصب امامت عظمیٰ کے زیادہ اہل ہے وہ اس سے زیادہ عالم اور عوام میں مقبول ہے۔ قرشیت کی شرط علت کے طور پر عائد کی گئی ہے اگر یہ علت غیر قرشی میں موجود ہو تو لازم ہے کہ خلیفہ قریش کے سوا ہو جس میں وہ علت پائی جاتی ہو جس کے ساتھ حکم بدل جاتا ہے اور ہم پر حرام ہے کہ ہم اس سے فرو تر شخص کی بیعت کریں اور صاحب حق اور امارت کے حقدار کو محض خاندان، قبیلے اور کے تعصب کی وجہ سے نظر انداز کر دیں۔

اگر مجرد قرشیت بذاتہ مقدس ہوتی ، اللہ عزوجل کی کتاب شریف میں قرشی (ابو لہب) کا اس بُرے انداز میں ذکر نہ کیا جاتا مسلمان اس کی مذمت بیان کرتے رہتے ہیں جب سے سورۃ ابی لہب نازل ہوئی اور تا قیامت کرتے رہیں گے ۔ جبکہ اس کے سوا مشرکین میں سے کسی کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔

قدیم و جدید تاریخ اسلام سے یہ بات واضح ہے کہ قوم کے سرکردہ لوگ جو اس نسب شریف کا دعویٰ کرتے تھے وہ اکثر بُری راہوں پر چل کر اپنے ساتھ برائی کرتے تھے کہ جس کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے لوگوں کو فرمایا تھا ”خدا کی قسم میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا اللہ کے ہاں“

ہم اس بات کی بھی تاکید کرتے ہیں کہ اگر یہ علت آج کسی قرشی میں پائی جائے تو حسد کی وجہ سے اس کے سوا کسی کو چن لینا جائز نہیں۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے کہ ہم ایسا کر کے جاہلین میں سے ہو جائیں کاش کہ آج بھی ہم ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ یا معاویہؓ اور عمرؓ بن عبدالعزیز جیسے قرشی امام کی سعادت حاصل کر سکتے ۔

قرشیت آج عبارت ہے اس جماعت ، مجموعہ اور طاقتور گروہ سے جس کی طرف ولایت امر منسوب کی جاتی یا پیش کی جاتی ہے یا انہیں حکمران مقرر کیا جاتا ہے اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں ، اس کی حمایت و نصرت کرتے ہیں اور یہی لوگ امن اور نظام کی درست حالت میں جاری رہنے اور ممالک میں قرار و اطمینان کا سبب ہیں اور قیام حدود اور احترام شریعت اور عدل و انصاف قائم کرنے میں حاکم کی مدد کرتے ہیں بغیر اس کے کہ حاکم اللہ کے سوا کسی سے ڈرے یا اپنے اعوان و انصار اور پارٹی و پیرو کاروں کی قلت یا اپنے حمایتی اور پشت پناہوں کی کمزوری کی وجہ سے

صفحہ ۲۳۰

اللہ کی نافرمانی کرنے والے کو محبوب رکھے۔ لہٰذا قرشیت اسلامی نظام حکومت میں نقص ڈالنے والی نہیں، نہ ہی ناپسندیدہ اور محلِ نظر ہے کیونکہ یہ قریش کی ذات کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ قابلِ فخر اور مدح و ستائش ہے اس دین کے لیے جو ہر زمان و مکان اور اقوام تک پھیل گیا ہے اور یہ کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے... کیونکہ یہ اس اللہ کا دین ہے جس نے ہر چیز کی تخلیق بہترین اور مضبوط طریقے سے کی ہے۔ اگر اس میں کوئی عیب، نقص یا خلل ہے بھی جیسے کہ اکثر وہمیوں کا وہم ہے تو وہ ہمارا اپنا ہے اپنا نقص اور خلل ہے جو ہمارے دلوں میں پوشیدہ ہے جو بعض اوقات ہماری عمیق فہم اور دقیق ادراک سے نصوص اور احکام کے متعلق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اوجھل کر دیتا ہے۔

قبیلہ قریش نے—قبیلے کی حیثیت سے—اس روز حقِ قرشیت ادا کیا۔ جیسا کہ اس کے معنی ہیں، جس روز کہ لوگ دائرہ اسلام سے نکلنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اور پھر جاہلیت کی طرف پلٹنے لگے اور سوائے اہلِ مکہ اور طائف کے عرب کا کوئی قبیلہ اپنے دین پر قائم نہیں رہا تو ابوبکرؓ قریشی خلیفۂ اوّل نے مُرتدین کے مقابلہ، ارکانِ سلطنت کے ثبات اور حکومت کی بقا کے تحفظ کے لیے اقدام کیا اور تمام قریش نے اس اقدام میں اپنے گھوڑوں اور شہ سواروں کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا، سب کے سب نکل کھڑے ہوئے اور ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہا۔ اس طرح گیارہ لشکر تیار ہوگئے جو ہولناک صحرا میں پھیل گئے۔ انہوں نے مرتدین کے ساتھ جہاد کیا حتیٰ کہ ان کا قلع قمع کر دیا۔ ان کے فتنے کی آگ کو بجھا دیا اور اس نوزائیدہ سلطنت میں دوبارہ امن و امان اور نظامِ حکومت برقرار کر دیا اور خلیفۂ اوّل نے زمامِ اقتدار کو ایسی مضبوطی سے سنبھال لیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ یہ اس قول کی تفسیر ہے ”اگر قریش نہ ہوتے تو عرب ہلاک ہوجاتے لیکن قبل اس کے کہ ان کی حکومت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی اکثر احوال و ظروف میں کہ ان کی حکومت کو زوال آنا تھا اور تمام مسلمانوں نے ہلاک ہونا تھا۔

غالباً بلیغ معجزاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک یہ ہے کہ آپؐ نے قرشیت سے

صفحہ ۲۳۱

اس معنی کی طرف اشارہ کیا جو ہم نے قرشیت کا معنی سمجھا ہے تاکہ یہ نقطہ خالص ہو جائے جو ہر میدان میں اپنا مطلب ادا کرے خصوصاً صدر اسلام میں اس حیثیت سے کہ اگر اس وقت خلیفہ غیر قریش میں سے ہوتا تو اسلام ایک قصۂ پارینہ بن کے رہ جاتا پس اللہ آپ پر یا رسول اللہ رحمتیں فرمائے۔

قریش حکومت اور ولایت عظمیٰ کے سلسلے میں صدیوں حق قرشیت ادا کرتے رہے اور فتوحات اسلامیہ میں انہوں نے عظیم کردار ادا کیا جو وسعت، سرعت اور عظمت کے لحاظ سے اس حد تک پہنچ گئیں کہ آج تک مسلمان مؤرخین کے علاوہ غیر مسلم مؤرخین تک ہکا بکا رہ گئے۔

قریش ایک مدت تک مختلف ظروف اور کٹھن حالات میں امامت عظمیٰ اور ملت اسلامیہ کے اعیان و انصار اور پشتیبان بنے رہے حتی کہ فتنۂ تاتار میں مبتلا ہو گئے اور ۶۵۶ھ میں خلافتِ عباسیہ کی مسندِ خلافت پلٹ دی گئی جس کے بعد قریش بحیثیت قبیلہ کے حقِ قرشیت ادا کرنے پر قادر نہیں رہے اس وقت سے مسلمانوں پر یہ واجب ہو گیا کہ وہ غیر قریش میں معناً قرشیت کی تلاش کریں تاکہ یہ ایک مضبوط کلیہ قاعدہ بن جائے جس کے سہارے ان کا امام اعظم یا اولی الامر (حاکم) پُرامن فضا میں اطمینان اور شان و شوکت کے ساتھ امور سلطنت انجام دے اور بآسانی فرائضِ حکومت ادا کرے جیسا کہ یہ ساتویں ہجری کے نصف تک خلیفہ کے لیے قاعدۂ کلیہ کا کام دیتی رہی۔

خلیفہ، اولی الامر (حاکم) یا رئیس مملکت کے قریشی ہونے کا اصول عصرِ جدید میں اہم اصولوں میں شمار ہوتا ہے۔ نیز یہ جمہوری یا غیر جمہوری حکومتوں اور ممالک میں برابر حاکم کی کامیابی اور تقویت کی اہم شروط میں سے ایک شرط ہے۔ مشرق و مغرب میں کتنی حکومتیں زوال پذیر ہوگئیں اور ان کے عہد میں امن و امان برقرار نہیں رہا۔ کیونکہ ان میں قرشیت کا عنصر مفقود تھا اور ان کی پشت پر کوئی جماعت کوئی گروہ کوئی قوم نہیں تھی جو اس کی حکومت کے بقاء و استحکام کی ضمانت دیتی اور اُمورِ سلطنت کو سدھارتی۔

آخر میں، اگر قرشیت - معناً - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی غیر قریش میں بہ کثرت موجود ہوتی تو واجباً خلیفہ غیر قریش میں سے ہوتا۔ آپ کے یہ شایانِ شان نہیں کہ آپؐ قریش

صفحہ ۲۳۲

کے لیے محض اپنے آباؤ اجداد کا قبیلہ ہونے کے ناطے تعصب فرماتے حاشا وکلا کہ آپ قریش کے لیے عصبیت جاہلیت سے کام لیتے حاشا کہ آپ قریش، عنصری قبائلی اور قومی عصبیت کے لیے کوشش فرماتے بلکہ آپ نے تو ہمیں ان سب باتوں سے منع فرمایا اور قومی عصبیت کی دعوت کو مکروہ اور جاہلیت کی باقیات میں سے قرار دیا ہے۔

—— دوسری صورت :۔ یہ ہے کہ امام اعظم یا رئیس مملکت اللہ کا نافرمان تو ہو لیکن ارتداد کے درجے کو نہ پہنچا ہو اور لوگوں پر جزئیاً یا تفصیلاً احکام الٰہی کے مطابق حکومت کرتا ہو۔ اس حالت میں اس کا یہ حق ہے کہ مسلمان اس کی اطاعت، حمایت اور نصرت کریں، اس پر خروج، اس کے خلاف بغاوت یا اس کے احکام کی نافرمانی کرنا ان اسباب کی وجہ سے جائز نہیں جو یہ ہیں : اگر مسلمانوں کو اس سے زیادہ صاحب کمال اور باصلاحیت فرد اُمت میں نہ ملتا ہو جو ہر عیب سے پاک ہو لیکن اصحاب حل و عقد اہل علم اور فقیہ حضرات اسے برابر اس کے معاصی اور خطاؤں سے توبہ کی ترغیب دیتے رہیں اور اسے وعظ و نصیحت کرتے رہیں نیز خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اس بلیغ اور مشہور خطبے کو مشعل راہ بنائیں جس کے ساتھ تاریخ میں پہلی مرتبہ انہوں نے نیابت رسولؐ اللہ کے عہد کا افتتاح ان الفاظ میں فرمایا ”اگر میں اچھے کام کروں تو میری اعانت کرو اور اگر میں غلط کام کروں تو مجھے راہ راست پر لاؤ“ اور غلطی کو درست کرنا اور شے ہے، حکومت کے خلاف خروج چیزے دگر۔ جن کو قدرت ہو تو ان کا رئیس مملکت کی خطاؤں پر اس کی سلطانی کی ہیبت کی وجہ سے یا اس کی رضا جوئی کی طمع میں خاموش تماشائی بنے رہنا حرام ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ ”دین نصیحت ہے“ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کن لوگوں کے لیے؟ آپ نے فرمایا ”اللہ، اس کے رسول اور جو تم میں سے اولی الامر ہوں اُن کے لیے“

اگر صدر مملکت کی نافرمانیاں اس قدر بڑھ جائیں کہ اس کی صفتِ عدالت پر اثر انداز ہو رہی ہوں یا حکومت اور اُمت کی شہرت کو داغدار کر رہی ہوں تو اگر وہ وعظ و نصیحت اور ترغیب و ترہیب کے علی الرغم توبہ سے انکار کرے تو اس کو معزول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

تیسری صورت :۔ یہ ہے کہ اگرچہ وہ فی نفسہ صالح ہو اور لوگوں حل و عقد یا ان لوگوں پر جو اس کو ہر طریقے سے جس کا انہیں موقع ملے ہی حرام ہے جیسے میت کا گھر میں حرام ہے۔

نیز اُولی الامر کے ارتداد کی بھی

۱۰۰۔ حاکم کے ارتدادِ صغریٰ کی

اگر اُولی الامر یعنی صدر مملکت وہ مُرتد ہو جاتے ، جیسے وہ ترکِ اعتقاد یہ ہو کہ آج کی توراۃ اور انجیل ق ہو ۔ ۔ ۔ ۔ الخ وغیرہ ۔ تو ایسی حالت ثانیاً ، اس پر ارتداد کا فتویٰ لگایا جائے منصب صدارت نہ سونپا جائے ۔ لیا جائے کہ اگر لوگوں میں اس کے شر بامشقت کی سزا دی جائے ۔ اگر وہ طرح زندگی بسر کرے ۔

۱۰۱۔ اگر حاکم ارتدادِ کبریٰ کا مرتکب

اگر صدر مملکت اللہ اور اس کے

۱؎ اس کتاب کا عنوان نمبر ۲۴ ملا

صفحہ ۲۳۳

تیسری صورت : یہ ہے کہ حاکم مرتد ہو یا لوگوں پر احکامِ الٰہی کے مُطابق حکومت نہ کرے، اگرچہ وہ فی نفسہٖ صالح ہو اور لوگوں کے ساتھ اس کا برتاؤ بھی اچھا ہو۔ تو اس حالت میں اُمت یا اصحابِ حل و عقد یا ان لوگوں پر جو اس کو معزول کرنے پر قادر ہوں، کا فرضِ اوّلین ہے کہ وہ اسے فی الفور اور ہر طریقے سے جس کا انہیں موقع ملے ایسے حاکم کو معزول کردیں اور اس میں بلاعذر تاخیر نہ کریں۔ تاخیر ایسے ہی حرام ہے جیسے میت کا گھر میں رہنا اور اس کو دفن کرنے میں عجلت نہ کرنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ حرام ہے۔

نیز اُولی الامر کے ارتداد کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ارتدادِ صغریٰ اور ارتدادِ کبریٰ ؎۱

۱۔ حاکم کے ارتدادِ صغریٰ کی صورت میں :۔

اگر اُولی الامر یعنی صدرِ مملکت ایسی معصیت میں مبتلا ہو کہ جس کے باعث وہ وہ مُرتد ہو جائے، جیسے وہ ترکِ صلوٰۃ پر مُصر ہو، یا اللہ کو گالیاں دے یا اُس کا اعتقاد یہ ہو کہ آج کی توراۃ اور انجیل قرآن کی مانند مقدس ہے، یا حشر و نشر کے بارے میں شک کرتا ہو ...... الخ وغیرہ ۔ تو ایسی حالت میں سب سے پہلے تو اسے اس کے منصب سے معزول کر دیا جائے۔ ثانیاً، اس پر ارتداد کا فتویٰ لگایا جائے۔ اگر تو تائب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے لیکن اسے کبھی بھی منصب صدارت نہ سونپا جائے۔ اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے جب وہ توبہ کرے تو یہ دیکھ لیا جائے کہ اگر لوگوں میں اس کے شر کے پھیلنے کا خدشہ ہے (اس کی آزادی کی صورت میں) تو اسے قید بامشقت کی سزا دی جائے۔ اگر وہ صالح ہو جائے تو اسے رہا کر دیا جائے تاکہ وہ ایک عام آدمی کی طرح زندگی بسر کرے۔

۲۔ اگر حاکم ارتدادِ کبریٰ کا مرتکب ہو ۔

اگر صدرِ مملکت اللہ اور اُس کے رسول کے احکام یعنی شرعی قانون کی جگہ خانہ ساز قوانین نافذ

؎۱ اس کتاب کا عنوان نمبر ۲۳ ملاحظہ ہو۔

صفحہ ۲۳۴

کر دے اور دلیل یہ دے کہ حالات وظروف کا تقاضا یہی ہے یا شرعی حدود میں سے کسی حد کو منسوخ کرنے اور اس کی جگہ خود ساختہ سزا (قابلِ تعزیر جرم کے ارتکاب پر) دینے کا حکم دے یا مسلمان عورتوں کو بے حجابی پر مجبور کرے (جیسے ترکی اور افغانستان میں کیا گیا) یا سُود کو حلال قرار دے دے، یا یہ عقیدہ رکھے کہ اشتراکیت زکوٰۃ سے بے نیاز کرتی ہے، یا کمیونزم یا لادینیت کو مستحسن جانے یا کافر دشمن کے ساتھ خفیہ ساز باز کرے یا اس کے ساتھ مودّت ومحبت سے پیش آئے یا اسی طرح کے دیگر کافر بنانے والے اُمور کا مرتکب ہو تو وہ اپنے منصب (صدارت) سے معزول کر دیا جائے۔ اور اس کے نائب کی وساطت سے بغیر اسے توبہ کی مہلت دیئے اس پر فوراً سزائے موت کا حکم نافذ کر دیا جائے (قتل کر دیا جائے) کیونکہ اس کا جُرم خطرناک ہے اور مسلمانوں میں اس کے ارتداد کی بیماری کے پھیلنے کا خطرہ ہے۔ عام حالات میں توبہ کی جو مہلت دی جاتی ہے اس صورت میں نہیں دی جائے گی، کیونکہ یہ طے شدہ ہے کہ عاقل بالغ کو توبہ کی مہلت دینا واجب نہیں ہے۔ اگر اس کا قتل فرض ہو جانے پر کسی نے اسے قتل کر دیا تو اس پر اجماع ہے کہ قاتل قصاص کے طور پر قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے بچایا جائے گا۔ کیونکہ مرتد کا خون اس کے ارتداد کے وقت سے حلال ہو جاتا ہے بخلاف اس کے اگر وہ توبہ کرے، پھر توبہ کے بعد قتل کر دیا گیا۔ غور کا مقام ہے۔

اگر اس کے نائب کے لیے اس کی موت کے حکم کا نفاذ دشوار ہو تو ہر شخص پر یہ واجب کہ اسے قتل کر دے، اللہ اسے اس نیک کام کا اجر دے گا۔ اگر لوگ مرتد حاکم کے قتل سے ڈریں تو سب کے سب گنہگار ہوں گے جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے۔ اگر وہ ناقابلِ تسخیر قلعے بنا کر اس میں پناہ گزین ہو گیا تو اُمت کو چاہیے کہ اس کے خلاف مسلح بغاوت کرے۔ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرے یہاں تک کہ ان پر اللہ کا حکم نافذ کر دیں۔ اگر انہوں نے جہاد سے منہ موڑا یا اس کی حکومت

۱ہ اس کتاب کا عنوان ۳۵ ملاحظہ ہو۔ ۲ہ " " " ۴۵ " " "

صفحہ ۲۳۵

کے زیر نگیں رہے اور اس کی ذرہ بھر پروا نہ کی تو اُن کے لیے برابر ہے کہ وہ ایمان لائیں یا کافروں میں سے ہو جائیں وہ مرتد حاکم کی طرح مرتد ہیں۔ اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس سے۔

اگر وہ ایسے ملک میں چلا جائے جہاں کے لوگ اس کے مددگار ہوں اور وہ لوگوں کے مقابلے میں اس کی مدافعت کریں تو اس ملک کے تمام باشندے حربی ہو جائیں گے اور ان پر دارالحرب سے متعلق احکام جاری ہوں گے ۱؎

۱۰۲ - دُنیا کی کمزور اور مجبور قوم

اگر اہل ملک ارتداد پر اتفاق کر لیں یا سب مرتد ہو جائیں سوائے چند مسلمانوں کے جو ایمان پر قائم رہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کریں اور اسلام کے شیدائی ہوں لیکن ارتداد اور مرتدین کے بحرِ زخّار میں اُن کی کوئی حیثیت نہ ہو، کوئی مقام اور کوئی آواز نہ ہو اور ان کے دین سے فرار کی استطاعت نہ رکھتے ہوں اور نہ خروج کی کوئی راہ ہو تو وہ زمین کے بے بس ولاچار لوگ ہیں جن کی طرف کتاب اللہ کی سُورۃ نساء میں اشارہ موجود ہے ۲؎۔

ایسے کمزور مومنین کے لیے خاص احکام ہیں جو ان کے ظروف وحالات کی مناسبت سے مختلف قسم کے ہیں طبائع میں اختلاف کی وجہ سے ہر شخص کے لیے اور ہر وقت کے لیے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں۔ اور مجبوری کی جیسی جیسی حالتیں ہیں، دائمی مجبوری ہے یا وقتی وغیرہ ۔ اسی طرح کے حالات مقامات اور مناسبت کے لحاظ سے احکام بھی مختلف ہیں۔

عہدِ حاضر میں (جس میں ہم رہ رہے ہیں) کمزور لوگ وہ تمام مسلمان ہیں جو ایسے ممالک میں بستے ہیں جہاں خانہ ساز قوانین کی حکمرانی ہے جہاں احکام الٰہی نافذ نہیں ہیں اور انہیں اس کی قدرت نہیں کہ ان خود ساختہ قوانین کو بدل دیں جبر واکراہ، سزائے موت، اذیت ناک تعذیب

۱؎ اس کتاب کا عنوان ۲۳۲ دیکھیے۔ ۲؎ صفحہ ۲۳۴ کے آخر پر دی گئی آیات ملاحظہ ہوں۔

صفحہ ۲۳۶

یا قید تنہائی اور ہر جگہ پھیلے ہوئے جاسوسوں کے خوف سے، نیز ہر ممکن کوشش اور جدوجہد کے باوجود کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ تمام عالم اسلامی کے مسلمانوں کی آج بعینہ یہی حالت ہے لیکن اس کثرت کے باوجود وہ آزاد اسلامی ممالک میں شریعتِ الٰہیہ یعنی اسلامی نظام قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ روس، چین، مشرقی یورپ اور مقبوضہ فلسطین کے مسلمانوں کا تو کیا رونا کہ ان ممالک کے سربراہ غیر مسلم ہیں لیکن افسوس تو عرب ممالک اور دوسرے اسلامی ممالک پر ہوتا ہے جن کے سربراہ خیر سے مسلمان کہلاتے ہیں لیکن وہ ان پر احکام الٰہی کے مطابق حکومت نہیں کرتے بلکہ خود ساختہ قوانین ان پر ٹھونستے ہیں۔

دنیا کے کمزور اور ضعیف لوگ جن پر ضعف کی شرائط کا اطلاق ہوتا ہے اور وہ مسلمان ہی رہ سکتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک منظم طور پر خفیہ نہ کہ علانیہ کوشش کرتے رہیں اور علم و عمل اور قوت و طاقت مجتمع کرتے رہیں اور جب ان اللہ کے باغیوں کے خلاف بغاوت کا وقت آجائے تو ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں، جہاد کریں، مقاتلہ کریں حتیٰ کہ فتح و نصرت یا شہادت سے ہمکنار ہو جائیں۔

کمزوری کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ کمزور لوگ اس بلاء پر قابو پانے اور دل سے اس سے نفرت کرنے کا کوئی لمحہ ضائع نہ کریں جس روز انہوں نے ان وضعی قوانین کو شرح صدر کے ساتھ قبول کر لیا، ان سے الفت کرنے لگے اُسی روز وہ بھی مرتد ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ بَعْدَ اِيْمَانِهٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ ، وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ لے

نیز مجبوری کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ مجبور لوگ کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کی طاقت نہ رکھتے ہوں جہاں واقعی امن و امان قائم ہو۔ اگر وہ اس کی قدرت رکھتے ہوں تو ان پر ہجرت فرض ہے

لے النحل : ۱۰۶

صفحہ ۲۳۴

لازم ہے۔ اگر وہ اپنے مال و منال، اپنے وطن، تجارت یا خاندان کی قربت و محبت کی وجہ سے ایسا نہ کریں تو پھر وہ بھی انہی کافروں کی طرح ہیں۔ اگر وہ ہجرت کر جائیں تو بھی ان پر سے یہ فرض ساقط نہیں ہو جاتا کہ وہ اس مرتد ملک کو جس سے انہوں نے ہجرت کی ہو مسلح طاقت وقوت کے بل پر فتح کرنے کی تیاری نہ کریں۔ اگر وہ قدرت کے باوجود سہل انگاری سے کام لیں تو سب کے سب قصور وار ہوں گے کیونکہ مرتدین کے ساتھ جہاد اور ملک کو گمراہی کے گڑھے سے نکالنے کے لیے تیاری ہر اُس مسلمان پر فرضِ عین ہے جو اسلحہ اُٹھانے اور چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اور جو اسی سہل انگاری کی حالت میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے۔

۱۰۳- اگر مرتدین کا ایک گروہ اپنی سرکشی اور آزادی کا اعلان کر دے تو کیا کیا جائے

اگر اسلامی ممالک میں سے کسی ملک کے رہنے والے مسلمان حکومت بغیر ما انزل اللہ پر متفق ہو جائیں اور اپنے لیے خانہ ساز دساتیر میں سے کوئی دستور منتخب کر لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے علانیہ ارتدادِ کبریٰ کا ارتکاب کیا ہے اور ان کا وطن دارالحرب قرار پائے گا۔ اس صورت میں امامِ اعظم پر واجب ہے کہ اگر وہ رجوع نہ کریں اور تائب نہ ہوں تو ہر ممکن وسائل سے ان کے خلاف قتال اور ان کے قتل کی فکر کرے جتنا بھی جلد ممکن ہو۔ نیز سوائے توبہ یا قتال کے ان کا کوئی عذر قبول نہ کرے۔ خواہ ان کا آخری آدمی یہ پیش کش کرے۔ نیز اُن کے مقتولوں، قیدیوں، زخمیوں اور اموال کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو ایک حربی کے ساتھ کیا جاتا ہے اور قتال میں بھی وہی طریقہ ملحوظ رکھا جائے جو طریقہ ایک حربی کے ساتھ قتال میں کیا جاتا ہے ۱؎

جنگ ساقط (بند) ہونے سے قبل اگر ان میں سے کوئی نجات کی ہر راہ مسدود ہو جانے کی وجہ سے مجبوراً اطاعت قبول کر لے تو وہ کافر مرتد ہے۔ جو جنگ اور فرار پر قادر ہونے کے باوجود اگر راہِ فرار

۱؎ مرتدین اور باغیوں (سیاسی مجرم) کے ساتھ قتال میں فرق کے لیے عنوان نمبر ۵۷ ملاحظہ ہو۔

صفحہ ۲۳۸

اختیار نہ کرے یا جنگ نہ کرے اور ہتھیار ڈال دے تو اس کے اس فعل کا توبہ کے شبہ کی وجہ سے جائزہ لیا جائے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے ورنہ بصورت دیگر قتل کر دیا جائے مرتدین میں سے تائب ہونے والے پر نہ کوئی تعزیر ہے نہ جرمانہ کیا جائے ، نہ تکلیف مالا یطاق دی جائے کیونکہ توبہ ماقبل فعل کو مٹا دیتی ہے اور یہ حسنِ اسلام اور راہِ ثواب کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتی ہے اگر امام کی رائے میں امن کی خاطر اس کا لوگوں سے دُور رکھنا ضروری ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا - اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًا - فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا - وَمَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةًؕ وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا - (النساء: ۹۷-۱۰۰)

ترجمہ : جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو اُن سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ ہاں جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے، بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ کے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہو گیا ! اللہ بہت بخشنے والا اور رحیم ہے ۔

صفحہ ۲۳۹

دوسری فصل

حاکم اور رعایا کے ارتداد کی صورت میں

مُسلم اقلیت کونسی راہ اختیار کرے؟

تمہید (جہاد کے لیے تیاری) ــــــــــــــــــ ۱۰۴

اپنے نفس اور ماحول کے لوگوں کے ساتھ مومن کا طرزِ عمل یا معاملہ۔ ــــــــــــــــــ ۱۰۵

مرتدین میں گھری ہوئی مسلم اقلیت کا سلوک ۔ ــــــــــــــــــ ۱۰۶

مسلم اقلیت کا مرتد معاشرے کے ساتھ معاملہ ۔ ــــــــــــــــــ ۱۰۷

مرتد حزبِ اقتدار کے ساتھ مسلم اقلیت کا معاملہ ۔ ــــــــــــــــــ ۱۰۸

صفحہ ۲۴۰

۱۰۴ - تمہید

اگر حاکم مرتد ہو جائے اور رعایا خاموش رہے تو اس کا مطلب ہے کہ تمام اُمت اس بلاءِ عظیم میں مبتلا ہو گئی ہے اُس وقت مسلم اقلیت کا یہ فرض عین ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ہر ممکن وسائل اور طریقوں سے اُمت کو جادۂ حق کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ط

”اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کر دیں پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے “

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلم اقلیت بغیر کسی تیاری اور صلاحیت کے جنگ چھیڑ دے بلکہ اسے جنگ کے لیے پوری تیاری کرنا چاہیے اور اپنے اندر جنگ کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے خواہ اس پر کچھ وقت لگ جائے لیکن اتنا وقت نہ لگایا جائے کہ جس سے فائدہ اٹھا کر دشمن مستحکم ہو جائے اور مسلمان عیش و نوش میں مصروف رہیں جب مطلوبہ طاقت اور قوت حاصل ہو جائے اور تیاری مکمل ہو جائے تو پھر فتح و نصرت، فوز و فلاح اور کامیابی اللہ پر چھوڑ دی جائے۔ اللہ پر توکل کر کے اقدام کیا جائے۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں اپنی استطاعت کے بقدر دشمن کے مقابلے کے لیے ساز و سامان تیار کرنے کا مکلف کیا ہے : وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ ۔ اور اپنی وسعت بھر تم ان کے مقابلے کے لیے ساز و سامان (قوت) تیار کرو ۔ اور ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم تعداد اور تیاری کے لحاظ سے دشمن کے مساوی ہوں کیونکہ اُمتِ مسلمہ کے لیے یہ امر (مساوات) دعوت کی مدت کے دوران

۱؎ النساء : ۷۴

صفحہ ۲۴۱

تو کیا حکومتِ اسلامیہ کے تمدّن اور طاقت وقوّت کے عروج وکمال کے عہد میں بھی ممکن نہیں رہی ، درحقیقت کافر دشمن تعداد اور تیاری کے لحاظ سے ہم سے ہمیشہ آگے بڑھے رہے ہیں اور ہم ان سے ایمان کی دولت کے لحاظ سے ممتاز رہے ہیں اور اکثر غلبہ مومنوں کا مقدّر رہا ہے ۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فتح ونصرت کے پیمانے (قوانین) لوگوں یعنی مخلوق کے اندازوں سے مختلف ہیں) ۔

جب مسلمان ہی فتح ونصرت کے لیے ضروری ساز وسامانِ جنگ کی تیاری میں کوتاہی برتیں تو قدرت ایسے تساہل پسند ، غبی اور کمزور لوگوں کی مدد سے تواضع نہیں کرتی کیونکہ ساز وسامانِ جنگ کی تیاری مطلوبہ فتح ونصرت کے لیے فرض ہے ۔ اگر مسلمان ہی اس شرط کا پورا حق ادا نہ کریں تو قدرت بدلہ دینے کی پابند نہیں ہے ۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے اور تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے ۔ بقول اقبالؒ : ع

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اگر ساز وسامانِ حرب کی تیاری کا ترک کرنا درست ہوتا یا توکّل کے مترادف ہوتا جیسا کہ وہمی لوگوں کا خیال ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت کی تمام مدت (۲۳ برس) کا نصف سے زیادہ وقت مومنوں کی ایک ایسی مضبوط اور طاقتور فوج تیار کرنے اور بڑے صبر وتحمل کے ساتھ اس کی تربیت کرنے میں صرف نہ فرماتے ۔ پھر اس کے ساتھ حریّت وامن کے گہوارہ (یثرب) کی طرف ہجرت نہ فرماتے پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنگ وجدل اور دفاع اور جہاد کی اجازت مرحمت فرمادی تو آپ کے مقدّر میں فتح ونصرت بھی لکھ دی ۔

عصرِ حاضر کی مسلم اقلیت پر لازم ہے کہ وہ اپنی تحریکوں کی تعداد میں اضافہ کرے ، نظم ونسق ، صبر واستقامت اور جہاد میں احکامِ الٰہی اور سنتِ نبویؐ کی پیروی کرے ، نیز اپنے نفس کے مجاہدے اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے مرتد معاشرے ، اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کی مخالف ہیئتِ مقتدرہ (حکومت) کے مقابلے کے لیے ایک خاص راہِ عمل اختیار کرے ۔

یہ امر ملحوظِ خاطر رہے کہ اکثر ممالک اپنے کمزور موقف ، اپنی مضبوط وضع کے لحاظ سے اس

صفحہ ۲۴۲

ارتدادِ کبرٰی کی بدولت جس میں تمام اُمّت مبتلا ہو جائے، شریعتِ اسلامیہ نہ ہونے اور امامِ اعظم کا منصب ختم کر دینے کی وجہ سے دارالحرب شمار ہوں گے۔ اِس صورتِ حال میں بعض احکام کا اہتمام کرنا ہوگا جو ایسے حالات کے لیے خاص ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :۔

نہیں اور کوئی ذمہ نہیں خصوصاً جبکہ وہ اس کمزور موقف کا سبب ہوں یا انہوں نے اسقاطِ شریعت میں اشتراک کیا ہو (ساتھ دیا ہو) یا مرتدین کی حکومت کی مدد کی ہو۔

کی مہلت دی جائے یا اسے آرام دہ طریقے سے قتل کیا جائے اور اس طرح کے دیگر اسباب تخفیف کا حقدار نہیں۔

بسا اوقات چند اسباب کی وجہ سے جو فقہاء سے مخفی نہیں ہیں ان (اسباب تخفیف) کا مہیا کرنا دشوار اور محال ہوتا ہے۔

جیسے قاتل چاہے، نیز بغیر کسی معقول وجہ کے اس کے قتل میں تاخیر، التواء اور کسی ڈر کی وجہ سے باز رہنے سے تمام مسلمان گنہگار ٹھہرتے ہیں۔

۱۰۵۔ اپنے نفس کے مقابلے اور ماحول کے لوگوں کے مقابلے میں مومن کا طرزِ عمل

جب بے بس مومن دین کی خاطر ہجرت کے لیے پوری طاقت لگانے کے باوجود کامیاب نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت پر یقین، ایمان اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے بلکہ مضبوطی سے تھام لے خواہ اُس پر کافی مدت گزر جائے جاہلیت کے سرچشموں اور اُس کے جھوٹے تمدّن پر قابو پانے اور ہر قسم کی ملاوٹ اور میل کچیل سے پاک عقائد کی بنیاد پر اور اس نہج پر جس پر صدرِ اوّل کے مسلمانوں کی تربیت ہوئی، منظم اور مسلسل عمل کی سعی کرے۔ اور اپنے آپ کو تاریخ، دعوت اور بے بس مومنین کے ہراول دستے کی سیرت کے مطالعہ کا پابند بنائے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے شہادت و فتح و نُصرت

صفحہ ۲۴۳

عطا فرمائی۔

اگر وہ اپنے وطن میں آرام سے بیٹھا ہے، اپنے دل میں تمناؤں اور آرزوؤں کو پالتا رہے اور یہ سمجھتا رہے کہ وہ ایک بے بس ولاچار اور ضعیف شخص ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی طرف ہجرت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے جو کسی ایسی جگہ رہتے ہوں جو ارتداد سے مامون و محفوظ ہو تو نیز بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل و دماغ کو تربیت کا پابند کرے یا اپنے ماحول میں پھیلی ہوئی جاہلیت سے شعوری طور پر اپنے آپ کو جدا رکھے اور اس پر اس طرح غلبہ پائے جیسے زمین پر آسمان، تو سمجھو اس کے نفس نے اس کو گمراہ کر دیا ہے اور اس کی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے آپ کو معذور شخص سمجھ رہا ہے۔

قرآن میں مستضعفین کی دو قسمیں ہیں، تیسری کوئی قسم نہیں ہے :-

میں ہیں۔

فرما دے گا یا ان کے لیے کشادگی کا حکم فرمائے گا۔ قرآن میں اس کی دلیل سورۃ نساء میں مذکور ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے:-

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ، قَالُوْا : فِيْمَ كُنْتُمْ ۙ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ قَالُوْا : اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِيْهَا ۙ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۙ وَسَآءَتْ مَصِيْرًا - اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا ، فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَن يَّعْفُوَ عَنْهُمْ ۙ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا

(۹۷ - ۹۸ - ۹۹)

۱۔ ترجمہ صفحہ نمبر ۲۴۴ پر ملاحظہ ہو۔

صفحہ ۲۴۴

سُوْرَۃُ اَعْرَاف میں اللہ عزوجل قومِ صالح کی ایک حکایت بیان فرماتے ہیں :

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صَالِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ “ (۷۵)

ترجمہ : ”اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے، کہا ”کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟“

سُوْرَۃُ غَافِر میں اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :

وَ اِذْ يَتَحَآجُّوْنَ فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَا اِنَّ اللهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ ۔ (۴۷-۴۸)

ترجمہ : ”پھر ذرا خیال کرو اس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دُنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نارِ جہنم کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لوگے ؟“ وہ جواب دیں گے ”ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے ۔“

آیاتِ کریمہ صراحتاً اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ محض کمزور ہونا یا کمزور خیال کرنا کوئی حُجّت نہیں ہے جو کمزور کی اللہ کے ہاں شفاعت کرے گی یا اس کی عاجزی و فروتنی یا زمین میں سرکشی اختیار کرنے والوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جواز بنے جیسا کہ اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت کے لیے ہجرت کا وجوب ۱؎ بھی صریحاً ثابت ہے۔ اگرچہ ہجرت سے اسے مال اولاد اور وطن میں خسارہ ہو۔ اللہ کے ہاں اس سے بہتر اجر ہے ۔

۱؎ اگر کوئی محفوظ و مامون ٹھکانا ہو تو ، ورنہ ہجرت واجب نہیں ۔

صفحہ ۲۴۵

عبدالقادر عودہ شہید اللہ ان کی قبر پر رحمتیں برسائے، فرماتے ہیں: ”اگر صاحب عقیدہ اپنی حفاظت سے عاجز آجائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس ملک سے جہاں اس کے عقیدے کا احترام نہیں کیا جاتا، اس ملک کی طرف ہجرت کر جائے جس کے باشندے اس کے عقیدے کا احترام کرتے ہوں ۔۔۔۔۔ اور اگر وہ قدرت کے باوجود ہجرت نہیں کرے گا تو گویا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور گناہ عظیم کا ارتکاب کیا اور اپنے آپ کو عذاب کا حقدار بنایا۔“

اگر وہ ہجرت کرنے سے عاجز ہو تو اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کیا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِهِمْ .... - الآیۃ ۔ ہر کمزور (مستضعف) جو اپنے جان، مال، اولاد، مکان، دکان یا تجارت یا جو کچھ بھی کم و بیش اس کی متاع حیات ہے اس کے بارے میں بزدلی اور بخل سے کام لے، ان کو اللہ کی راہ میں اپنے عقیدے اور اسلام کی سلامتی و تحفظ کے لیے ہجرت پر ترجیح دے۔ اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہے تو وہ کافر و خاسر ہے اگرچہ وہ دل میں کتنی تمنائیں کرے، اسلام کی واپسی کی خواہش کرے، بڑھاپے کا بہانہ بنائے، بناوٹی آنسو بہائے اور عذر بیان کرے، یا عاجزین جیسی بہت سی باتیں بنائے کہ قسمت میں یہی لکھا ہے، ہمارا مقدر یہی ہے، صبر کے سوا چارہ نہیں۔ بجائے اس کے اس صورت حال سے نجات کے لیے اپنے نفس کو جہاد کا مکلف نہ ٹھہرائے یعنی جہاد نہ کرے۔

ہم میں سے کتنے اس قابل ہیں کہ وہ اتنی تکلیف گوارا کریں کہ تمام عالم اسلامی کے ہر گوشے سے ان مؤمن مستضعفین کے حالات تلاش کریں جو ہم سے پہلے اپنے رب سے جاملے ہیں اور ان کو ایسے حالات سے واسطہ پڑا جیسے ہمیں اپنے ماحول میں جہالت سے سامنا ہے تاکہ ہم ان کے طریقے کی پیروی کریں اس طریق پر چلیں جو ان کے رب کی خوشنودی کی طرف لے جاتے ۔ جو یا تو شہادت پاگئے یا فتح و نصرت سے ہمکنار ہوئے۔

صفحہ ۲۴۶

درج ذیل اس موقف کی چند صورتیں ہیں جن پر زمین کے کمزور مومنین ڈٹے رہے ، ان پر جو افتاد پڑی اس سے نہ وہ کمزور پڑے اور نہ ہی سر تسلیم خم کیا۔ لیکن صبر اور بہادری سے برداشت کرتے رہے اور صبر میں غالب آئے حتیٰ کہ ان کو یقین حاصل ہو گیا۔

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَّبِّكُمْ وَإِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ - يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِيْنَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللّٰهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيْكُمْ إِلَّا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيْكُمْ إِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ - وَقَالَ الَّذِيْ آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّيْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ - وَيَا قَوْمِ إِنِّيْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ - وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُوْلًا كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْ آيَاتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ - وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْ أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ - أَسْبَابَ السَّمٰوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَى إِلٰهِ مُوْسَى وَإِنِّيْ لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْءُ عَمَلِهِ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِيْ تَبَابٍ - وَقَالَ الَّذِيْ آمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوْنِ أَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ - يَا قَوْمِ إِنَّمَا هٰذِهِ

الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِي اَصْحٰبُ النَّارِ - فَلَمَّا بِالْعِبَادِ - فَوَقٰهُ اللّٰهُ النَّارُ يُعْرَضُوْنَ الْعَذَابِ الخ -

ترجمہ :- اس موقع پر بول اٹھا: کیا تم ایک اللہ ہے ؟ حالانکہ اگر وہ جھوٹا ہے تو جن ہولناک نتائج کسی ایسے شخص کو ہلاک کے لوگو! آج تمہیں ہم پر آگیا تو پھر کون فرعون نے کہا

لہ سورۃ مومن : ۲۸ تا ۴۵

صفحہ ۲۴۷

الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَيٰقَوْمِ مَالِيْٓ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ تَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ، وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَآ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ۔ فَسَتَذْكُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَكُمْ وَاُفَوِّضُ اَمْرِيْٓ اِلَى اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌ بِالْعِبَادِ ۔

فَوَقٰهُ اللّٰهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ ۔ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْآ اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ لے

ترجمہ :- اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا بول اٹھا، ”کیا تم ایک شخص کو صرف اس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا، اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا، لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے، اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو۔ اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا ۔“ فرعون نے کہا ”میں تم لوگوں کو وہی راستے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر

لے سورة مومن : ۲۸ تا ۴۶ ۔ ان آیات کی تفسیر ”فی ظلال القرآن“ میں دیکھی جائے تو بہتر ہے۔

صفحہ ۲۴۸

آتی ہے اور میں اسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے“

وہ شخص جو ایمان لایا تھا اس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو! مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

اے قوم مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھرو گے، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا“ اسی طرح اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو، یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے اسی طرح اللہ ہر متکبر و جابر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

فرعون نے کہا ”اے ہامان! میرے لیے بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں، آسمانوں کے راستوں تک، اور موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے“ اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنا دی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چالبازی اس کی اپنی تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی“

(تفہیم القرآن)

کمزور مومنین کے سلوک کے اس نمونے پر غور کرنے والا فرط اعجاب کی بدولت اپنے آپ پر

صفحہ ۲۴۹

قابو نہیں رکھ سکتا کہ وہ اس مدرسہ سے درج ذیل اسباق سیکھے :۔

ڈر نہیں ہے بلکہ کتمان امن کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے۔ سرکش جاہلیت کے ساتھ معرکے کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان خفیہ رکھا جائے۔

تعین کرتے ہیں کہ وہ اپنے کو چھپائیں یا اس کا اعلان کریں۔ درحقیقت حکمت بار بار کتمان کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کتمان پر صبر کرنا شجاعت اور دلیری ہے جب حکمت کا تقاضا یہ ہو کہ کلمہ حق علانیہ اور بالجہر ادا کیا جائے تو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ مومن بڑا ذہین وفطین (وہ حالات کے تقاضے سمجھتا ہے) ہوتا ہے بظاہر معرکوں سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں اکثر اوقات اس سے زیادہ کتمان سے بہتر نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ اور جسے دانائی بخشی گئی بے شک اسے خیر کثیر دی گئی۔

ہونے والے خطرے کو اس خطرے سے ہٹائے جو وہ برداشت کر رہا ہے۔

کا برملا اظہار کرتے ہیں اور کسی کی مخالفت کو خاطر میں نہیں لاتے یا کوئی پروا نہیں کرتے۔

کی اس سزا سے ڈرانا جو ظالم قوم کو مل کر رہے گی اور کافر کے ہتھیار محض باتیں، دجل وفریب اللہ عزوجل کے مقام ومرتبہ کو گھٹانا، بے بنیاد اتہام تراشی اور ظلم ہیں۔

صفحہ ۲۵۰

جس کے سامنے شر اور سرکشی کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی اور سلطان و سلاح کی ہیبت اُسے نہیں ڈرا سکتی۔

کتمانِ ایمان جائز ہے لیکن تقیّہ بمعنی بچاؤ نیز کامیابی کے لیے اور خطرہ سے بچنے کے لیے جھوٹ کے معنوں میں تقیّہ کے مابین کسی قدر بُعد ہے۔

پوری طرح مسلح باطل کے درمیان صریح اور کھلم کھلا معرکے میں بدل جاتا ہے اور اس تقیّہ کے مابین کس قدر بُعد ہے جو امامِ منتظر کے ظہور تک شدائد و مصائب میں کذب و کتمان کو جائز قرار دیتا ہے۔

ہے جیسے بھی ظروف و حالات ہوں۔

اظہار مصیبت اور ناگوار امر کا باعث ہو۔)

لیے کیا باقی رہ جاتا ہے۔

ہرگز نہیں رُک سکتا۔

کے سپرد کر دیتا ہے۔

صفحہ ۲۵۱

مکاروں کے مکر و فریب کوئی گزند ہرگز نہیں پہنچا سکتے۔

— سُورۃ توبہ کے اسباق

”الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ وَاُولٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُوْنَ ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ ۔ خَالِدِيْنَ فِيْهَا اَبَدًا اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ اَجْرٌ عَظِيْمٌ ۔ يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ ۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ ۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاؤُكُمْ وَاَبْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِيْنَ“

(سورۃ توبہ: ۲۰-۲۴)

ترجمہ: اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں۔ ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں، تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہونگے۔

صفحہ ٢٥٢

اے نبی کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں ، تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا “

(تفہیم القرآن)

یہ ایسے اسباق ہیں جو واضح ہیں اور تحریک انگیز ہیں لیکن کسی تشریح کے محتاج نہیں ہاں غور و فکر اور فہم و فراست کے محتاج ہیں ، نیز یہ اسباق فقراء، اغنیاء اور اُمراء کے لیے برابر مفید ہیں

— نوجوان ابراہیم سے جو اسباق حاصل ہوئے

” وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيمَ ، اِنَّهُ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ۔ اِذْ قَالَ لِاَبِيهِ يٰاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْئًا ۔ يٰاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَاءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ ، فَاتَّبِعْنِيْ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا ۔ يٰاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ ، اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا ۔ يٰاَبَتِ اِنِّيْ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا ۔ قَالَ : اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِيْ يَا اِبْرٰهِيمُ ؟ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِيْ مَلِيًّا ۔ قَالَ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ اِنَّهُ كَانَ بِيْ حَفِيًّا ۔ وَاَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَاَدْعُوْ رَبِّيْ عَسٰی اَلَّا اَكُوْنَ بِدُعَاءِ رَبِّيْ شَقِيًّا ۔ (مریم : ۴۱۔۴۸)

ترجمہ : اور اس کتاب میں ابراہیم کا قصہ بیان کرو ، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا ( انہیں ذرا اس موقع کی یاد دلاؤ ) جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان ، آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی

صفحہ ۲۵۳

ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں ؟ ابا جان میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ، آپ میرے پیچھے چلیں ، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا ابا جان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے ۔ ابا جان مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں نہ مبتلا ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں ۔“ باپ نے کہا : ”ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا ۔“ ابراہیم نے کہا ”سلام ہے آپ کو ، میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے ، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے ۔ میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان لوگوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں ۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا ، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر نامراد نہ رہوں گا “ (تفہیم القرآن)

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ (التوبہ : ۱۱۴)

ترجمہ : ”ابراہیمؑ کا اپنے باپ کے بارے میں استغفار اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اپنے باپ سے پہلے کیا تھا ۔ جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ تو دشمنِ خدا ہے تو اُس سے اظہارِ براءت کر دیا ۔ ابراہیمؑ بلاشبہ بُردبار اور حلیم تھا “

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ ۙ (۴)

ترجمہ : تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ”ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں ۔ ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے

صفحہ ۲۵۴

اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔

(الممتحنہ)

ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کے مسلک میں بہت سے سبق ہیں اور بہت بڑی عبرت کی باتیں ہیں۔ یہ اس مسلم اقلیت کے لیے زندہ اور عملی مثالیں ہیں جو جاہلیت کے بحرِ ذخار میں ہر چہار طرف سے گھری ہوئی ہو۔ گھر میں خاندان اور وہ ساتھی جو اس کے ساتھ کھیتوں، بازاروں، مدرسوں، کارخانوں، محکموں اور سڑکوں پر کام کرتے ہیں، بیوی بچے، خاندان، عزیز واقارب اور دوست احباب اور اس مسلم اکثریت کے ساتھ جو بھی جاہلیت میں شریک ہیں جاہل ہیں۔ تو پھر کیا راہِ عمل اختیار کی جائے۔ اس کا جواب آسمان سے نازل ہوا ہے کہ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىْ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ہمیں چاہیے کہ ہم ابراہیمؑ اور اس کے اصحاب کی متابعت کریں اور ان کے سلوک یعنی طرزِ عمل سے اسباق اور عبرتیں حاصل کریں جو تہ بہ تہ تاریکیوں میں روشنی کے مینار کا کام دیں۔ ایسی تاریکیاں جن میں انسان حیران و پریشان رہ جائے اور اسے کوئی راہ نہ سجھائی دے اور دوست دشمن کی کوئی تمیز نہ کر سکے۔

ذیل میں مسلم اقلیت یا زمین کے کمزور و مجبور مومن کے لیے وہ بنیادی اصول دیئے جاتے ہیں جو ہم نے نوجوان ابراہیمؑ اور اس کے اصحاب جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر زمان و مکان کے مومنین کے لیے نمونہ بنایا ہے، کے طرزِ عمل سے اخذ کیا ہے :-

کی ترغیب دے اور بُرائی سے روکے۔

والد کو نہ دیا گیا ہو۔

نصیحت کرنے میں ہوشیاری سے کام لے اور اس طرح ادب کے ساتھ گفتگو کرے جس طرح

صفحہ ۲۵۵

بتوں کی پوجا کرتا ہے جو اسے کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پھر اس نے اس فضیلت سے اسے آگاہ کیا تھا جو اللہ نے اسے دی تھی تاکہ وہ ابراہیمؑ کی دعوت کو قبول کرے اور اس کی ہدایت پر مطمئن ہو پھر اسے صراطِ مستقیم یعنی حق کے اتباع کی ترغیب دی جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ پھر اسے شیطان کی عبادت سے روکا۔ شیطان اور جن و انس اور خواہش کے شیطانوں میں کوئی فرق نہیں۔ پھر اسے اس کے گناہ اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرایا یا رحمن کے بجائے شیطان کی پیروی سے ڈرایا۔

ہے (کتنا فرق ہے)

ہے اور سنگساری کی وعید ہے۔

قبول نہ کریں تو ان دونوں سے ادب سے اور ان چیزوں سے ادب سے علیحدہ ہو جائے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ مثلاً شہوۃ، مال وجاہ وسلطنت، عادت، تقلید خواہش نفس یا شیطان ان کے لیے نہ دعا کرے نہ بددعا کرے۔

جب اس پر یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ اللہ کا دشمن اور انکار کرنے والا ہے۔

کرے تو اس کے لیے کیسے جائز ہے کہ ان والدین کے لیے جو کفر سے بھی کئی قدم آگے ہیں استغفار کرے اور ان کا اس پر حق بھی کیا ہے؟

صفحہ ٢٥٦

راہ چننے کا مومن کو اختیار نہیں ہے یعنی وہ ایک ہی راہ اختیار کر سکتا ہے اور وہ ہے قطع رحمی کی راہ۔

لوگوں کے رب کے سوا پوجتے ہوں، وہ مومن جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا کسی موڑ، کسی موقع پر بہ صراحت اس بات کا اعلان کرے کہ وہ ان لوگوں کا اور ان کے خداؤں کا انکار کرتا ہے نہ ان کی تواضع کرتا ہے نہ ان کے ساتھ منافقت کرتا ہے، بلکہ وہ عملاً ان کا مقابلہ کرتا ہے اور قولاً ان سے اپنے بغض و عناد کا اعلان کرتا ہے تا قیامت جب تک کہ وہ اس جاہلیت سے توبہ نہیں کرتے جس کا اُٹھتے بیٹھتے وہ اظہار کرتے ہیں اور اس اللہ پر ایمان نہیں لے آتے جو ایک ہے اور جس کی الوہیت اور ربوبیت میں کوئی شریک نہیں کیونکہ اس کے سوا نہ کوئی معطی ہے نہ مانع ہے۔ نہ کوئی فتح و شکست دینے والا ہے نہ کوئی جوڑنے والا اور کاٹنے والا ہے، نہ حکومت کرنے والا اور قانون بنانے والا ہے۔ ہم اسی پاک ذات کی اس کے دین کے لیے خلوص کے ساتھ عبادت کرتے ہیں ہم حنفاء ہیں اطاعت کرنے والے ہیں، خواہ یہ بات کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

کیا ہے جو کافرین سے محبت رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔

والدین، اہل و عیال اور خاندان کو چھوڑ دے تو مسلم اخوت میں جو اس کے بھائی ہیں ان پر لازم ہے کہ اس کی حاجات پوری کریں، اس کی ضروریات کے کفیل بنیں، اس کے ضامن بنیں اور اخلاص سے اس کا ساتھ دیں اور نیکی اور تقویٰ میں اس سے تعاون کریں۔

اسے وہی کہنا چاہیے جو مومن کہتے ہیں۔ مومنوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ ہمیشہ اپنے پروردگار کی ضمانت میں، ربّ الناس کی مرضی اور تمنا کے سایہ میں اور خالق مخلوقات اور ربّ العالمین

صفحہ ۲۵۷

کے جوار میں رہیں گے۔

اُف بھی کرے اگرچہ وہ دونوں کافرین میں سے ہوں۔

ہو جائے کہ وہ دونوں اللہ کے دشمن ہیں۔ ان کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں، نہ وعدہ وعید کا نہ ترغیب و ترہیب کا کوئی فائدہ ہے۔ اور اس کی نصیحت سے وہ کفر اور بڑھاپے کی وجہ سے ناسمجھی، عناد اور تکبر میں بڑھتے ہی جاتے ہیں۔

یہاں اعتزال سے مقصود، جیسا کہ نص قرآنی سے واضح ہے، یہ نہیں ہے کہ مومن پہاڑ کی چوٹی یا غار کے اندر جا رہے اور اُمور کو ان کی مرضی کے مطابق چلنے دے۔ بلکہ اس سے مقصود وہ شعوری علیحدگی ہے جو انکار و کراہت اور قوت و اقتدار پر مبنی ہو۔ انکار جاہلیت کا، اس کی قیادت کا، اس کی تقالید اور قوانین کا، اس حق کی قید سے، آزادی سے ابا جس پر وہ ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی قوت و جبروت پر فخر کرنا اور نفس کی سرکشی گھر والوں کی نافرمانی اور معاشرے کی سرکشی پر قابو پانا اللہ کی نصرت و حمایت کے ساتھ۔

جب مومن پر مرتد کا ارتداد واضح ہو جائے تو وہ مرتد کا ذبیحہ نہ کھائے نہ مرتد عورت سے شادی کرے نہ مرتد مرد کو عورت دے، نہ اسے حاکم بنائے، نہ اس سے فیصلہ کرائے نہ اس کی شہادت و گواہی قبول کرے بلکہ اس کے ساتھ حربی جیسا معاملہ کرے اگر وہ توبہ نہ کرے اور اپنے رب کی طرف مسلمان حنیف ہو کر رجوع نہ کرے۔

اور اس بات سے مومن احتراز کرے کہ قلت تعداد کی وجہ سے مسلم اقلیت کو مرتدین کی کثرت گھبراہٹ میں ڈال دے کیونکہ اللہ کی اپنے مومن بندوں کے ساتھ یہ رحمت ہے کہ اُس نے اپنی عظیم کتاب میں مسلم اقلیت کی تعریف اور کفار کی کثرت کی مذمت کی ہے۔

صفحہ ۲۵۸

ذیل میں ”اقلیت“ اور ”اکثریت“ سے متعلق قرآنی آیات دی جاتی ہیں جو مومن کے مطالعے اور فہم و تدبر کی طالب ہیں :-

اقلیت کی مدح میں قرآنی آیات

(البقرۃ : ۲۴۹)

ترجمہ : بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔

(ھود : ۴۰)

ترجمہ : اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے۔

(سبا : ۱۳)

ترجمہ : میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔

(ص : ۲۴)

ترجمہ : بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔

مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ -

(الواقعۃ : ۱۰-۱۴)

ترجمہ : اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں، نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم۔

اکثریت کی مذمت میں قرآنی آیات

(المائدہ : ۴۹)

”اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں“

(المائدہ : ۶۶)

صفحہ ۲۵۹

”ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے“

(المائده : ۸۰)

آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کے مقابلے میں) کفار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں“

(الانعام : ۱۱۱)

”مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں“

(الانعام : ۱۱۶)

اور اے نبی ! اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے“

(یوسف : ۱۰۳)

”مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں“

(یوسف : ۱۰۶)

”ان میں سے اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں“

(الاسراء : ۸۹)

”ہم نے اس قرآن میں اکثر لوگوں کو طرح طرح سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے“

سَبِيْلًا ۔

(الفرقان : ۴۴)

”کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے“

(الشعراء : ۲۲۳)

صفحہ ۲۶۰

”سنی سنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں“

— وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ (النمل: ۷۳)

”حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے“

— وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ (الروم : ۶ - ۷)

”مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں“

— وَلَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ ۔ (الزخرف : ۷۸)

”ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا“

۱۰۶۔ مرتدین میں گھری ہوئی مسلم اقلیت کا سلوک

مرتدین میں گھری ہوئی مومنوں کی اقلیت اگر متحد ہو تو اللہ کا شکر واجب ہے۔ اور اگر وہ لڑی کے بکھرے ہوئے موتیوں کی مانند مختلف سمتوں میں بکھری ہوئی ہو (کسی کا قبلہ کسی طرف ہو کسی کا رُخ کسی طرف) تو پھر وہ خود قابل ملامت ہے، دوسروں کو کیا دوش دینا۔ کیونکہ اپنے آپ کو متحد اور مجتمع کرنا اس کا اولین فریضہ ہے کہ ہر زمان ومکان میں اللہ کا اپنے مومن بندوں کو یہی حکم ہے وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا ۔ کیونکہ اتحاد و اجتماع اور ایک رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے کتاب اللہ عزوجل اور ایک ہی راہبر و راہ نما محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کی پیروی اور یہ سب اسلامی نظام اور اس کے قوانین کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ نظم و نسق اور ربط و ضبط فطرت کے قوانین ہیں، بیکراں آسمان، اجرام فلکی، ستارے اور سیارے زمین پر جو کچھ ہے اور جو کچھ تحت الثریٰ ہے، نیز یہ خلا اور ہوا، یہ سب ایک نظام میں مربوط ہیں ان میں بے ربطی و بے نظمی نہیں ہے جیسا ہمارا خیال ہے اور یہ ایک منظم طریقے سے حرکت میں ہے اور یہ کارخانہ قدرت ساکن نہیں ہے جیسا کہ ہمارا گمان ہے۔ بقول کسے :۔

صفحہ ۲۶۱
سکوُں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں

جو کچھ بھی کائنات میں ہے منتظم ہے اور اس تمام کائنات کو اللہ نے مومنوں کے لیے مُسخّر کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو جو عقل نافذ بخشی ہے اُس کو اس کے زیر تسلّط کر دیا ہے اور کائنات میں ایسے اسباب اور قوانین جاری کیے ہیں جو باہم متصادم نہیں ہیں تو عقل سلیم یہ کیسے باور کرے کہ اس تمام کائنات میں جو ہمارے چہار اطراف پھیلی ہوئی ہے، ایک ہم ہی صرف غیر منتظم ہوں تتّر بتّر ہوں، اور تمام کائنات میں جو کچھ ہے منتظم ہو؟ یہ کیسے باور کر لیا جائے کہ بدنظمی نظم وضبط پر مسلّط ہو جائے یا نظم وضبط کو بدنظمی کی خدمت پر مامور کر دیا جائے جسے اسباب پر پورا قابو بھی حاصل نہ ہو اگر کائنات میں کبھی بدنظمی رُونما ہوتی بھی ہے تو یہ دائمی نہیں ہوتی۔ بدنظمی اور فساد ہمیشہ رُوبہ زوال ہوتے ہیں تاکہ اس کی جگہ منتظم اور مربوط کائنات میں نظم و نسق اور ربط و ضبط لے لے۔ کیونکہ فطرت کسی سے محبت نہیں رکھتی جس کی گرفت اسباب پر ہوگی وہ کامیاب ہو گا خواہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو اور جو اسباب کو ترک کرے گا وہ ناکام و نامراد ہو گا خواہ دوست ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی مخلوق کے لیے یہ اللہ کا طریقہ ہے اور اس میں کسی قسم کا تغیر اور تبدیلی ہرگز مطلق نہیں ہوتی۔

اور مسلم اقلیت جو عالم اسلامی کی قیادت کے لیے تیار کی گئی ہے پھر اُس نے تمام عالم (دنیا) کی قیادت کرنا ہے۔ وقت کا اس سے یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنے نظام، تحریک، پروگرام، مراحل اور آس پاس کی جاہلیت سے تعلقات میں مثالی تنظیم ہو۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسلام کئی نظاموں کا مجموعہ ہے۔ متنوع عبادات کے لحاظ سے مثلاً نماز، طہارت، زکوٰۃ، حج اور روزہ، امن و سلامتی اور جنگ وجدل اور معاملات اور شخصی احوال مثلاً شادی بیاہ اور طلاق، موت اور میراث کے بارے میں کتب فقہ میں جو کچھ منضبط کیا گیا ہے وہ ایسا مثالی ہے کہ آج تک قدیم و جدید تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اسلام ایک کامل اکمل عالمی ضابطۂ حیات ہے جو ہر زمان و مکان میں قابلِ عمل ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کی حاجت نہیں (حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے) گویا ایسا لگتا ہے گویا اس میں

صفحہ ۲۶۲

کوئی الیکٹرونک عقل آلہ کے طور پر کام کر رہی ہے جو اس عصر اور ہر علاقے کے لوگوں کی جدید ضروریات پوری کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ انسانی اعمال کے ہر میدان میں ، قوانین اور احکام کے ضمن میں شریعتِ اسلامیہ پر فخر کیا جاسکتا ہے جس پر اس کے انصاف پسند دشمن بھی گواہ ہیں ، مؤمنین اور اس پر عاملین کا تو کہنا ہی کیا، چودہ صدیاں گزر چکی ہیں لیکن اس میں کوئی خامی، کوئی نقص رونما نہیں ہوا جس کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں یہ پیچھے رہ جائے یا عہدِ حاضر کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہ جائے۔

جیسا کہ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے قوانین کے متعلق ہم سنتے رہتے ہیں کہ ان میں آئے دن ترامیم ہوتی رہتی ہیں کبھی کوئی شق بڑھا دی جاتی ہے اور کوئی شق حذف کر دی جاتی ہے، کوئی شق معطل کر دی جاتی ہے کبھی اس میں ضمیمے شامل کرتے ہیں اور کبھی انہیں نکال دیتے ہیں کبھی کچھ تغیر کرتے ہیں کبھی کچھ تشریح کرتے ہیں اور کبھی کچھ تاویل کرتے ہیں۔

لیکن شریعتِ اسلامیہ ان سب نقائص سے پاک ہے اور مخلوقات کے جملہ چیلنج قبول کرتی رہے گی کیونکہ یہ ان کے خالق دو جہاں کی طرف سے ہے جو یہ بہتر جانتا ہے کہ ہر زمان ومکان میں اس کی مخلوقات کی کس میں صلاح ہے اور کس میں نہیں۔

الا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير

ہر افراتفری اور بد نظمی جو جماعتِ اسلامیہ سے صادر ہو وہ اس تیر کی مانند ہے جس کا نشانہ اُمّتِ مُسلمہ کا مرکز ہو جو اس کے مستقبل کے لیے مستقل خطرہ ہے، اسلام کی شہرت کے لیے خطرہ ہے جس پر اس کا ایمان ہے اور نظامِ اقوام پر اس کو ترجیح دیتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمارا دشمن اس بات کی کیسے تصدیق کر سکتا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے اور عبادات کے لیے پاکیزگی کو نصف الایمان یا ایمان کا حصّہ قرار دیتا ہے۔ اگر ہم اسلام کے داعی ہیں پاک صاف نہ ہوں، ہمارے لباس، ہمارا کھانا پینا، مکان اور محفلیں پاک نہ ہوں اور سفر و حضر میں پاکیزگی شعار نہ بنائیں تو ہمارا دشمن اس بات کی کیسے گواہی دے گا کہ دین اسلام صداقت کا علمبردار ہے۔ آخر ہم جو اسلام کے داعی ہیں اپنے وعدوں اور معاہدوں کے سلسلے میں سچے نہ ہوں، سلامتی اور روشنی میں

اپنے گھروں اور محفلوں میں فخریہ

ایک طرف تو ہم یہ کہتے ہیں طرف ہمارے ہر قول وفعل کا مطالعہ افعال ہمارے ان اقوال کا مضحکہ

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ نظم اسلامیہ اسی بنیاد پر اپنی عمارت کھڑی ہے جبکہ یہ دوسروں پر واجب ہے کی تقلید لازم ہے یہاں تک کہ اس تو اُس کی نماز نہیں ہو گی اور اُسے

اسی طرح اگر رمضان کے روزے وقت سے خواہ ایک منٹ ہی پہلے اُس کی قضا اُس پر واجب ہو گی

اگر لاکھوں حجاج میں سے کوئی تو اس کا حج اور سعی باطل ہو جائے واجب ہے جس کے بغیر حج نہیں

اس طرح کی بے شمار مثالیں ونظم وضبط کا دین ہے، تو کیا ہی

اور مسلم اقلیت کا سب سے کی تنظیم کا مسئلہ ہے، ان کو ایک پھیلتی ہوئی باطل کی خفیہ اور ظاہر ہوں۔

صفحہ ۲۶۳

اپنے گھروں اور محفلوں میں خرید و فروخت میں، بلکہ اقوال و افعال، طرزِ عمل اور تصرفات میں سچے نہ ہوں۔

ایک طرف تو ہم یہ کہیں کہ اسلام ایک مکمل دین اور اکمل ضابطہ حیات (نظام) ہے اور دوسری طرف ہمارے ہر قول و فعل کا مدار بد نظمی ہو، جب تک ہم خود اس کی تصدیق نہ کریں اور ہمارے افعال ہمارے ان اقوال کا مصداق نہ ہوں تو دشمن کیسے ہمارے دعوے کی تصدیق کرے گا۔

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ نظم و ضبط وہ بنیادی وصف ہے جس سے ہم آراستہ و مزیّن ہوں اور جماعتِ اسلامیہ اسی بنیاد پر اپنی عمارت تعمیر کرے نیز یہ تحریک کے کارکنوں کے لیے تو فرض عین کا درجہ رکھتا ہے جبکہ یہ دوسروں پر واجب ہے کیونکہ نماز باجماعت میں مقتدیوں پر امام کی ایک ایک حرکت کی تقلید لازم ہے یہاں تک کہ اگر کوئی مقتدی امام سے پہلے سلام پھیرے خواہ ایک لمحہ ہی پہلے پھیرے تو اُس کی نماز نہیں ہوگی اور اُسے چاہیے کہ اپنی نماز دوبارہ پڑھے جیسے بھی حالات ہوں۔

اسی طرح اگر رمضان کے مہینے میں لاکھوں روزہ دار مسلمانوں میں سے ایک روزہ دار افطار کے مقررہ وقت سے خواہ ایک منٹ ہی پہلے کھانے پینے کا ارادہ کرے تو اُس روز اس کا روزہ نہیں ہوگا اور اُس کی قضا اُس پر واجب ہوگی۔

اگر لاکھوں حجاج میں سے ایک حاجی میدانِ عرفات میں وقت مقررہ گزر جانے کے بعد ٹھہرا تو اس کا حج اور سعی باطل ہو جائیں گے اور اس پر حج کا لوٹانا واجب ہوگا۔ (یاد رہے کہ وقوفِ عرفات واجب ہے جس کے بغیر حج نہیں ہوتا)۔

اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے بلاشک و شبہ یہ واضح ہے کہ اسلام دینِ نظام ہے نظم و ضبط کا دین ہے، تو کیا ہی اچھا ہو اگر اہلِ اسلام بھی نظم و ضبط کا مظہر ہوں۔

اور مسلم اقلیت کا سب سے اہم مسئلہ جس کا اہتمام بڑا ضروری ہے۔ عالم اسلامی کی مختلف جماعتوں کی تنظیم کا مسئلہ ہے، ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا مسئلہ ہے تاکہ وہ متحد ہو کر مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی باطل کی خفیہ اور ظاہری طاقتوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنا سکیں۔ ایک غالب قوت ثابت ہوں۔

صفحہ ۲۶۴

پھر امیر جماعت یا جماعت اسلامیہ کی تنگی و فراخی کی حالت میں سمع و طاعت، عطا و بخشش، ایثار و قربانی کی غرض سے بیعت نہایت ہی اہم مسئلہ ہے کیونکہ جو شخص بغیر بیعتِ امیر کے فوت ہو گیا تو وہ دین اسلام کے سوا کسی اور دین پر مرا۔

مؤمنین کے لیے امیر کی بیعت کرنے کی اہمیت ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ ہم عمل صحابہ کرام کا ذکر کریں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اختیار کیا۔ انہوں نے آپ کے جسدِ اطہر کی تدفین اس وقت تک نہیں کی جب تک امام اعظم یعنی خلیفہ کی بیعت سے فارغ نہیں ہو گئے تاکہ امت مسلمہ بغیر امیر کے افرا تفری کی حالت میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہ رہے، حالانکہ ان کے زہد و ورع اور تقویٰ اور حُبّ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بخوبی معلوم ہے۔

پھر امیر یا امام جماعت پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی بیعت کے فوراً بعد جماعت کے لیے ایک نظام، قانون اور نہج مرتب کرے۔ اس امر کی اہمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ثابت ہے جب آپ نے اپنی تمام عمر نبوت کا آدھے سے زیادہ حصہ مکہ میں عقائد و اخلاق کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کی سلطنت اسلامیہ کی عمارت کے لیے ایک بنیاد بنانے میں گزارا۔ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ اہلِ مکہ اور طائف کے مزید ریاضت و مشقت اور اپنے آپ کو بُرائیوں سے پاک کرنے کے لیے پختہ رائے اور دلیل کے محتاج تھے اور یہی وہ واحد لوگ تھے جو اس وقت اپنے دین پر ثابت قدم رہے جب ان کے سوا باقی تمام عرب اپنے دین سے پھر گیا تھا اور دنیا و آخرت کا خسارہ ان کا مقدر ٹھہرا تھا اور نو مولود سلطنتِ اسلامیہ کے زوال کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا لیکن اللہ نے اس کی سلامتی و بقا اور استحکام کا سامان کر دیا اور اس تعلیم و تربیت کے جو اُن کے وجدان و عقائد میں گھر کر گئی تھی اس وقت نتائج برآمد ہوئے کہ وہ حق پر ثابت قدم رہے، ڈٹے رہے اور اس کا دفاع اپنے جان و مال سے کرتے رہے اور فتح و نصرت یا شہادت میں سے ایک امر کے حصول پر مُصر رہے اور یہ صدرِ اوّل کے عامتہ المسلمین کا ہی حصہ تھا۔ شہادت ان کا نصیب تھا جن کے لیے اللہ نے حیاتِ جاوداں اور اپنے رب کی طرف سے رزق دیئے جانے کا وعدہ لکھ دیا تھا۔

صفحہ ۲۶۵

امیرِ جماعت پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ جماعت کے لیے مالیاتی نظام مرتب کرے۔ اموال زکوٰۃ، صدقات، نذر نیاز، تحفے تحائف، وصیتیں، میراث، شراکت اور تجارت کے ذریعے حاصل کردہ مال اور اسی طرح حلال اور پاکیزہ مال کمانے کے جو ذرائع ہیں ان سے تعرض نہ کرے لیکن شرط کے ذریعے کماتے ہوئے اموال کو قطعی حرام قرار دے تاکہ ایک نگران کی طرح وہ جماعت اور اس کی کارروائیوں میں شریک بھی رہے اور اس پر اسے قابو بھی حاصل رہے۔

ہر تنظیم اور نظام کے لیے ارکان اور مددگار بھی ضروری ہوتے ہیں۔ اُمتِ مسلمہ کے مددگاروں کے لیے درج ذیل اُمور ضروری ہیں:

حالیہ مرحلے میں مومن عناصر کو دوچند کرنے کے عزم کا اعلان الا ان تتقوا منھم تقاۃ ۔

ہے اگر اللہ اور اس کے رسول اور اُولی الامر کی ہو۔

مسلمان بھائی کے لیے فرض کی ہے ”وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ“

مومنین کی تعریف کی ہے جو اپنے محتاج بھائیوں کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود اس چیز کے حاجت مند ہوں جو وہ دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔ ”وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ“

کے ارکان کو اللہ کی اطاعت کے سوا مواقع پر صرف کرنے کی اجازت نہ دے اور اسی طرح انہیں بخل اور کنجوسی سے بھی روکے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں مسلمان کے دل میں ایمان کے ساتھ

صفحہ ۲۶۶

اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ اور اسلام اپنی فطرت کی مناسبت سے عبادت تک میں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ نہ غلو نہ غفلت بلکہ توازن اور اعتدال۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا ۔

ہر معاملے میں مؤمن کی یہی شان ہوتی ہے یہی حال ہوتا ہے اور اُمّتِ مسلمہ اپنے طرزِ عمل میں ہمیشہ اللہ کی اس دعوت کی مثال ہوتی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو“

لہٰذا اُمّتِ مسلمہ کے ارکان کو حقیقی تقویٰ کا آرزو مند ہونا چاہیے نہ کہ اس ظاہری تقویٰ کا جس سے آراستہ ہونے کے لیے لوگ محض نمائشی طور پر آمادہ ہوتے ہیں)

پھر وہ اس کے متمنی ہوں کہ ارکانِ اسلام اور ایمان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان کو موت آئے اور دینِ اسلام کے سوا کسی اور دین پر مرنے سے احتراز کریں یعنی مرتد ہو کر مرنے سے بچیں۔ اللہ ایسی موت سے بچائے۔

آخر میں وہ کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سُنت کو مضبوطی سے تھامنے کی طمع کریں کیونکہ یہ دونوں اللہ کی مضبوط رسیاں ہیں جن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا ہمارے ہاتھ میں۔ تو جس نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو وہ نجات پا گیا اور سلامت رہا اور جس نے اس رسی کو چھوڑ دیا تو وہ نادم ہوا اور تباہ ہوا۔

اور اسلامی جماعت نماز باجماعت کی پابندی کرے کہ یہ سنّتِ مطہرہ کی پیروی ہے اور اس نام کے ساتھ اس کی نسبت ہے جس کا وہ حامل ہے اور جس پر اسے فخر ہے۔ نماز باجماعت کی پابندی کی حرص سے جماعت کے ارکان میں مطلوبہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے جو ان کی زندگی میں نیکی کا ذخیرہ ہے اور موت کے بعد زادِ راہ اور ان کے اسلام اور ایمان کی صداقت کی دلیل۔ اَسْأَلُ اللہَ

ہمیں متقی بنا اور متقین کے... نوٹ ۔ ۱ ۔ مسلم اقلیت کا مسئلہ : اکثریت سے متعلق جو اپنے... طرزِ عمل کی غماز ہیں جس میں ہم... اس کا تعیّن کرنے کے لیے... السلام سے لے کر ہمارے... طرف ہم نے اشارہ کیا... تاریک رات میں چیو... جن کو اُس نے پیدا کیا... جہاں تک اس خالص... کرنا چاہیے تو اس کی دو قسمیں...

رسول کے مخالف ہیں ا... کرتے ہیں۔

گئے ہیں اور ان کا انت... ہے جبکہ پہلا گروہ... نوعیت یہ ہے کہ ان... دشمنوں جیسا سلوک...

۱؎ اس کتاب کے پہلے باب...

صفحہ ۲۶۷

ہمیں متقی بنا اور متقین کے ساتھ ہمارا حشر فرما۔ آمین

۱۰۔ مسلم اقلیت کا مرتد معاشرے کے ساتھ طرز عمل

اکثریت سے متعلق جو چند قرآنی آیات ہم نے سابق عنوان کے تحت پیش کی ہیں وہ مرتد معاشرے کے طرز عمل کی غماز ہیں جس میں ہم گھرے ہوئے ہیں۔ اس معاشرے کے ساتھ ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کا تعین کرنے کے لیے ہمیں ان اصلی طبیعتوں (محرکات) کا کھوج لگانا چاہیے جو ان میں نوح علیہ السلام سے لے کر ہمارے عہد تک کام کر رہی ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ سچی تصویر وہ آیات کرتی ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں جو سمیع علیم ہے جس سے سخت چٹان اور تاریک رات میں چیونٹے کی چال کی آواز بھی مخفی نہیں ہے تو وہ کیسے ان کی طبائع سے بے خبر ہوگا جن کو اُس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین اور خبیر ہے۔

جہاں تک اس خاص طرز عمل کا تعلق ہے جو مسلم اقلیت کو معاشرے کے مرتدین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے تو اس کی دو قسمیں ہیں :

رسول کے مخالف ہیں اور زمین میں فساد کے لیے کوشاں ہیں۔ اور شعائر دین کو مٹانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔

گئے ہیں اور ان کا ارتداد (مسلم اقلیت پر اپنے تاثر کے لحاظ سے سلبی ارتداد یا زبردستی کا ارتداد) ہے جبکہ پہلے گروہ کا ارتداد ایجابی (برضا و رغبت) ہے پہلی قسم کے گروہ کے ساتھ معاملہ کی نوعیت یہ ہے کہ ان کے اصلی اور ایجابی ارتداد کا مقابلہ کیا جائے اور ان مرتدین کے ساتھ حربی دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے ان کے متعلق احکام پہلے گزر چکے ہیں۔

لہ اس کتاب کے پہلے باب کی تیسری فصل کی طرف رجوع فرمائیے۔

صفحہ ۲۶۸

دوسری قسم کے گروہ کے ساتھ معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ ان کے ایجابی اور سلبی ارتداد کا علاج کیا جائے اور ان کے مرتدین کے ساتھ حکمت، موعظہ حسنہ اور تالیف قلوب کا معاملہ کیا جائے شاید اللہ تعالیٰ ان کے لیے اس کے بعد کوئی نیا راستہ پیدا فرما دے یا ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ عزوجل کی وحدانیت کے قائل ہو جائیں۔ جیسے کفار مکہ اور وحشی تاتار کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو اسلام کے علمبردار بنے اور اس دین کے لیے لڑے اور اس کی راہ میں جہاد کیا۔

یہ تو تھا معاملہ ان کے ساتھ نرمی یا سختی کا جہاں تک تعلق ہے ان کے طعام اور ان کے ساتھ شادی بیاہ اور اسی قبیل کے دیگر احکام کا، تو ان پر بھی کافر مرتدین جیسے احکام منطبق ہوتے ہیں۔

۱۰۔ اسٹیٹ حاکمہ یعنی مرتد حزب اقتدار کے ساتھ مسلم اقلیت کا معاملہ

مرتدین اور کفار کے اس طبقے سے متعلق احکامات بھی مختلف تو نہیں ہیں لیکن اُولو الامر کے ارتداد کے اعتبار کی حیثیت سے جس کے ساتھ تمام مخففات ساقط ہو جاتے ہیں اور ان کے ارتداد کا بوجھ بتمام کل بغیر کسی کمی کے اٹھاتے ہیں۔

اس طبقے سے بچنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت تاکید کی ہے جیسے اللہ جل شانہ کا یہ قول يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ۔

(الممتحنہ: ١)

ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت رکھو۔

پھر فرمایا : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے“۔

پھر ہمیں ان سے جنگ کا حکم دیا۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا :

فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۔ پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو۔

مرتدین کے معاشرے میں سے حزب اقتدار جو غیر ما انزل کے ساتھ حکومت کرتی ہے وہی گروہ ہے جن پر اکثر ان آیات کا اطلاق ہوتا ہے فقدان امامت عظمیٰ، ضیاع امت اور شریعت کی تنسیخ کی ذمہ داری اسی طبقے پر عائد ہوتی ہے۔ یہی گروہ بیسویں صدی میں الحاد پھیلانے اور ان کی

صفحہ ۲۶۹

سلطنتوں کی طاقت کے اسباب کے زوال کا باعث ہے۔

بہر حال مسلم اقلیت کے لیے مرتد معاشرہ سے مرحلہ وار علیحدگی کے سوا چارہ نہیں جو تین مراحل میں مکمل ہوتی ہے۔

جوں ہی زمین کے کمزور اور مجبور لوگوں پر سے کمزوری کا سخت دباؤ ہلکا ہو جائے تو ان کے لیے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں قدم رکھنا آسان ہو جاتا ہے جیسے منکر کا انکار پہلے دل سے ہوتا ہے پھر زبان سے اور پھر اعضاء و جوارح سے ۔ اسی طرح جاہلی معاشرے سے علیحدگی (جس کا سبق ہم نے نوجوان ابراہیم علیہ السلام کے مدرسے میں لیا ہے) پہلے شعوری ہوتی ہے پھر سلبی (مثلاً حزب شیطانی کی جملہ مظاہر تائید سے دستبردار ہو جانا اور ملک کے اندر اور باہر اس کو جملہ مادی اور روحانی وسائل اعانت کی پیش کش بند کر دینا وغیرہ دیگر امور)

جب مسلم اقلیت مہارت اور طاقت کی اس حد کو پہنچ جائے کہ اس کی کمزوری رفع ہو جائے اور کمزوری کے احکام منسوخ ہو جائیں تو عملی علیحدگی کا مرحلہ آجاتا ہے اور اس لمحے آسمان کے دروازے شہدا کے استقبال کے لیے کھول دیئے جاتے ہیں۔ ان کی ماؤں اور بیوگان کی صداؤں اور پکاروں کے ساتھ ... نصرت کی عید کے دن اور سلطنتِ اسلامیہ کے دوبارہ قیام اور کالعدم منصب امامتِ عظمیٰ کے پُر ہونے کا دن جس کے عدم سے سینے اس کی محبت سے خالی ہو گئے اور چہروں کی آنکھیں اس کی دید کو ترس گئی تھیں ۔ پھر اہل علم اور حکمت اتنا زیادہ غور نہیں کریں گے جتنا وہ سنیں گے اور مشاہدہ کریں گے۔

صفحہ ۲۷۰

تیسری فصل

برائے نام مسلمانوں اور منافق مسلمانوں کے

درمیان مؤمنین اجنبی ہیں

۱؎ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جاہلیت کی طغیانی و سرکشی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور بعد میں بھی اس کا کسی قسم کا مقابلہ نہ کیا اور نہ اس کی پروا کی۔

۲؎ یہ لوگ جو بظاہر اسلام میں داخل ہوئے اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی سعی کرتے حقیقت میں وہ اسلام کے دشمن اور حریف تھے۔

صفحہ ۲۷۱

١٠٩- بَدَأَ الدِّيْنُ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا .... فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَاءِ !

یہ امر بدیہی اور کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے کہ دین کی ابتدا غربت میں ہوئی۔ جب محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی طرف سے مامور ہوئے۔ آپ نے جہلاء کی جاہلیت، بحر ظلمات میں تن تنہا لوگوں کو دین حق یعنی اسلام کی دعوت دی تو فقراء، خواتین، اطفال اور خدام میں سے چند لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کی مثال بے آب و گیاہ صحرا میں بکھرے ہوئے گلاب کے پودوں کی سی تھی۔ یہ اپنے وطن میں اجنبی تھے۔ اپنے گھروں اور خاندانوں تک میں اجنبی تھے۔ اس عالم میں اجنبی تھے جس میں وہ حق و انصاف اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور جس میں تمام کے تمام لوگ ظلم، کفران اور باطل پر متفق ہو گئے تھے۔ صرف جزیرہ عرب کی بات نہیں بلکہ ہر جگہ جہاں سورج کی روشنی پہنچتی تھی۔ تو کیونکر یہ پودے ایک خوبصورت گلدستہ تشکیل دیتے جو تمام صحرا کو جمال، کمال اور خیر سے ڈھانپ دیتا یا اس عالم میں جس میں صدیوں سے آفتاب ہدایت نہیں چمکا تھا حق و ہدایت کا نور پھیلا دیتا؟

لیکن دین جدید نے جس کی آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وقفے وقفے سے نازل ہو رہی تھیں مومن گروہ کی تربیت ربانیہ اور ارض و سما جیسی وسیع و عریض نصرت کی امید کے ساتھ مدد کی جس نے انہیں ایسا بنا دیا کہ نہ وہ اپنی غربت کی پروا کرتے تھے نہ لوگوں کی نہ اپنے عجیب و غریب ماحول کی جب تک کہ ان کے کانوں میں اللہ کے اس قول کی گونج سنائی دیتی رہی۔

"قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ-"

(الزمر : ۱۱-۱۲)

”اے نبیؐ، ان سے کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں۔“

مسلم کو یہ حکم تھا کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی ایک کی بندگی کرے اور اس کی

صفحہ ۲۷۲

کوشش کرے کہ ایمان کے لحاظ سے سبسے پہلے خود مسلمان بنے جبکہ لوگ کفر کریں اور سب سے پہلے اخلاصاً خود مسلمان بنے جبکہ لوگ شرک کریں اور سبسے پہلے اسے لبیک کہے جبکہ لوگ پیٹھ پھیریں، پھر اس کے بعد وہ اس کی پروا نہ کرے جو ان میں سے ہو بہ رضا و رغبت یا جبراً .... تصدیق کرتے ہوئے یا انکار .... اقبالاً یا نفوراً .... اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول پیش نظر رکھے :

يٰأَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ .... وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ... وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ : ۶۷)

”اے پیغمبر! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے“

پس وہ لوگوں کی کیوں پروا کرے کہ ان کے شر سے بچانے کی رب الناس نے ضمانت دی ہے؛ وہ ہرگز ان کی پروا نہیں کرے گا خواہ لوگ کسی حال کو پہنچ جائیں۔

پھر اسلام اس قدر پھیلا کہ دُنیا نے اس کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے تاکہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو جائیں اور ربع صدی سے بھی کم عرصے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ طاقتور حکومت ان کی ہو جو مشرق و مغرب میں قیصر و کسریٰ کے تخت ہلا دے (یہ دونوں اس وقت کی دنیا میں سبسے بڑی حکومتیں تھیں) اور ان کے باشندوں کو زندگی کا تریاق، طاقت، عمدہ معاشرہ، سعادت، خوش بختی، اصول اور سیدھا راستہ فراہم کیا جس سے وہ صدیوں سیراب ہوتے رہے قبل اس کے کہ وہ اپنی ترقی تمدن اسلامی کی اساس پر شروع کریں کیا دمشق و حلب میں اور کیا بغداد و قاہرہ اور قرطبہ و غرناطہ میں اور یہ اس وقت دنیا بھر کے لیے علم و ہدایت کے مینار تھے پھر گردش دوراں نے کروٹ بدلی پس جو کل ہلال طلوع ہوا تھا اور پھر آنے والے کل کو بدر (چودھویں کا چاند) بن گیا تھا وہ دوبارہ ہلال بن کے رہ گیا۔ اور جبکہ اس کی علامات اندھیرے گھپ افق میں گم ہونے لگیں اور اسلام مسلمانوں کے دلوں میں افسوس پیدا کرنے لگا اور دنیا میں ان کی سلطنت کمزور ہونے لگی

صفحہ ۲۷۳

اسی لمحے اٹھارویں صدی عیسوی میں استعمار کا حملہ شروع ہوا، اس کی تیزی بڑھنے لگی اور اس کے شکار کئی گنا ہو گئے اور بھیڑیے بھیڑوں میں فساد برپا کرنے لگے اور مسلمان ہر جگہ استعمار کے زیر تسلط آگئے، خصوصاً بیسویں صدی کے اوائل میں سقوط خلافت کے بعد استعمار ہر جگہ مسلمانوں پر مسلط ہو گیا، اور بظاہر ہلال پر صلیب مسلط ہو گئی، لیکن حقیقتاً اس کے پس پردہ عالمی صہیونیت تھی جو صلیبیوں کی دولت و طاقت سے کھلم کھلا خدمت کرتی تھی اس طرح ہلال اژدہے کے پیٹ میں صلیب کی کارستانی سے ضائع ہو گیا ۔ اور مسلمانوں کا اتحاد پارہ کے موتیوں کی طرح پارہ پارہ ہو گیا اور وہ فوج در فوج ہولناک ارتداد کے ہولناک گڑھے میں گرنے لگے ان کے مفہوم مسخ ہو گئے اور ان کے پیمانے بدل گئے لہٰذا وہ جسے کل ناپسند کرتے تھے اب اسے پسند کرنے لگے اور جسے محبوب رکھتے تھے اس سے نفرت کرنے لگے ان کی مجلسوں میں منکر (ناپسندیدہ کام) معروف (نیکی) بن گیا اور نیکی ان کے معاشرے میں بدی بن گئی اور مؤمنین کی اقلیت لوگوں کے لیے ایک عجوبہ بن گئی اور بیوقوف ان کے عقل مندوں کا مذاق اڑانے لگے جیسے پاگل خانے میں دیوانے عقلمندوں کا مضحکہ اڑاتے ہیں یا شراب خانوں میں شرابی ان سے ٹھٹھہ کرتے ہیں جو انہیں نیکی کی ترغیب دیں اور بُرائی سے روکیں۔

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو اس سے قبل قوم لوط نے لوط کو عجوبہ سمجھا جب انہوں نے اسے اپنی محفلوں میں پاکدامنی، طہارت اور عزت و شرف اپنانے کو کہا اور انہیں ان فواحشات سے روکا جو ان کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے نہیں کیا تھا یعنی عورتوں کے سوا لڑکوں اور مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تو ان کے نبی نے انہیں کہا :

أَتَأْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم مِّنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِيْنَ ۔ إِنَّكُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاءِ ۔ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۔ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِٖ إِلَّا أَنْ قَالُوْا أَخْرِجُوْهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُوْنَ ۔

(الاعراف : ۸۰-۸۲)

ترجمہ : کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں

صفحہ ۲۷۴

کسی نے نہیں کیا ۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو“ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ”نکالو ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے“ بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ “

قومِ لوط کو ان شریف لوگوں کا وجود اپنے درمیان کھلتا تھا جو خود اپنے لیے بھی طہارت و عفت کے طالب تھے اور قوم لوط کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے تو اس جاہل معاشرے میں ان کا کام عجیب نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور وہ اس خسیس نجس و ناپاک معاشرے میں شرف کی حفاظت کے الزام اور طہارت کا لباس اختیار کرنے کے جرم میں اپنے وطن سے جلاوطنی کے مستحق ٹھہرے۔

اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین مکہ کے جاہل معاشرے نے بھی یہی سلوک کیا جبکہ وہ کمزور اور اجنبی تھے اور یہی صورتِ حال عصرِ حاضر (ارتدادِ کبریٰ کے عصر) میں ہمیں درپیش ہے کہ مسلمانوں کی اقلیت ہر جگہ کمزور و بے بس ہے اور لوگ ان کے کاموں اور دعوت کو عجوبہ سمجھنے پر متفق ہو گئے ہیں لہٰذا مؤمن اپنے وطن میں اجنبی ہوگیا ہے، اپنے خاندان اور اہل وعیال میں اجنبی ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کا مستقیم طرزِ عمل اجنبی ہے، عمل میں استقامت، صدقِ مقال، اس کی عفت وطہارت، اس کا ہر کام ہر فعل عجوبہ بن گیا ہے اور مؤمن تمام عالمِ اسلامی میں ارد گرد کے برائے نام مسلمانوں کے جاہل معاشرے اور منافق مسلمانوں کے ارتدادِ کبریٰ میں مبتلا معاشرے کی کثرت میں غریب الوطن ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کی پشت پر اصل کفار ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان میں سے کون ان پر زیادہ سخت گیر ہے، اور کون سب سے زیادہ ظالم اور سرکش ہے۔

لیکن ان غریبوں اور غریب الوطن لوگوں کے لیے خوشخبری ہے... ان کے لیے سعادت بشارت ہے... یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے رب نے لوگوں میں سے چن لیا ہے تو وہ ایمان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں ایمان کو مزین کردیا اور کفر، فسق اور نافرمانی سے نفرت ڈال دی۔ یہی صدرِ اوّل (پہلی جاہلیت کے غریب الوطن لوگ) کی نیابت اور رسالت کی ذمہ کا بوجھ اٹھانے کا

اہل بنایا تو ان کے لیے بہتر ہی کے لیے بڑا اجر ہے۔ ایسی ہمیشہ کے سپاہی ہیں اور مستقبل کے نا لوگ ہیں جب وقت گردش اسی طرح دین پہلے پہل ا یہ اس کے اللہ کے حکم سے ہور انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔ یہ اللہ نہیں پاؤ گے۔ یہ وہ وعدہ ہ خلاف نہیں کرے گا تو غرباء ک "وَعَدَ اللَّهُ الَّذِي كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِي وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّ " اللہ نے وعدہ عمل کریں کہ وہ ان ک ہوتے لوگوں کا ط قائم کرے گا جس حالتِ خوف کو ا کسی کو شریک ن ١١٠۔ اس کے بع تم سے پہلی اُمّتوں کافی حصہ لیا تو وہ فساد

صفحہ ۲۷۵

اہل بنایا تو ان کے لیے بہتری ہے۔ اس کے بدلے میں جو انہیں اللہ کی راہ میں پیش آتا ہے اور ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں وہ اللہ کے سپاہی ہیں اور مستقبل کے مرحلہ میں وہ لوگوں کی قیادت کے لیے تیار کیے گئے چنیدہ اور مخلص لوگ ہیں جب وقت گردش کرے گا اور ہلال اللہ کے حکم سے از سر نو بدر بن جائے گا۔ اسی طرح دین پہلے ہلال کی طرح شروع ہوا پھر بدر بن گیا، پھر آغاز کی طرح ہلال بن گیا لیکن یہ اس کے اللہ کے حکم سے بدر بن جانے کی ضرورت پر دال ہے جب تک یہ کاروانِ حیات کسی انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔ یہ اللہ کی عادت ہے اور تم ہرگز اس کی عادت میں کوئی تغیّر اور کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے اور وہ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرے گا تو غرباء کے لیے سعادت ہے مژدہ و بشارت ہے۔ سورۂ نور میں اللہ فرماتا ہے:

"وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ؕ يَعْبُدُوْنَنِیْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا ؕ "

"اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن میں بدل دے گا۔ پس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں"

تم سے پہلی اُمت میں ایک متقی اور صالح آدمی تھا، پھر اُس نے جاہلیت کے سمندر سے کافی حصہ لیا تو وہ فساد میں سب سے بڑھ گیا جس بات کا اسے حکم دیا جاتا وہ نہ کرتا اور جس کام

صفحہ ۲۷۶

سے اسے روکا جاتا وہ اسے ضرور کرتا لیکن اس کے دل میں رائی برابر ایمان ہمیشہ موجود رہا۔

حسب معمول یہ شخص آدھی رات کو اپنے گھر سے نکلا اپنے دوستوں یا اپنے ہی جیسے خبیث اور بدمعاش لوگوں کی تلاش میں یا کسی بڑی چوری کی غرض سے تو وہ ایک مکان کی دیوار پر چڑھا تاکہ حملہ کرکے صاحب مکان پر غلبہ پالے جب وہ دیوار پر چڑھا اور اُس نے مکان کے صحن میں کودنے کا ارادہ کیا تو معاً اس کے کانوں میں آواز آئی۔ کوئی نرم اور آہستہ آواز میں پاک کلمات پڑھ رہا تھا یہ آواز اس کے دل تک بادل ناخواستہ پہنچ گئی اور اس کے نفس پر جادو کا کام کرگئی۔ یہ آواز صاحب خانہ کی تھی جو اپنے رب کی عبادت میں مصروف تھا اور آدھی رات کو تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ کلام تلاوت کر رہا تھا :

اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ”کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں؟“

(الحدید:۱۶)

اس شخص نے جو دیوار پر چڑھا ہوا تھا اپنے بدن میں لرزہ محسوس کیا اور ایسا لگا کہ اس کا دل منور ہوگیا تو اس نے مرتعش آواز میں بڑبڑانا شروع کیا: حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ضرور اے میرے رب وقت آگیا ہے اور میں ابھی سے اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور تو گواہ رہنا کہ تو سب سے بہتر گواہ ہے۔ وہ شخص نیچے اُتر آیا اور گھر کی راہ لی غسل کیا اور لباس بدل کر قریبی مسجد میں گیا اس قبیلے کے امام کی اقتداء میں فجر کی نماز پڑھی جو اس نے کئی سالوں سے ترک کی ہوئی تھی۔

تو اے لوگو! تم میں کوئی ہے جس کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہو؟ کیا تم میں کوئی ہدایت یافتہ شخص نہیں جو ہدایت کی طرف رجوع کرے اور از سر نو اپنے رب کی طرف لوٹ جائے۔ کیا تمہارے دل اس طرح زنگ آلود اور خراب ہوگئے ہیں جیسے زنگ لوہے کو خراب کر دیتا ہے۔

صفحہ ۲۷۷

اے گمراہی میں ڈوبے ہوئے لوگو! کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیات نہیں سنیں جن میں تمہارا رب تمہیں توبہ اور قبول کی دعوت دیتا ہے، کیا تم توبہ کرنے والے ہو؟ اس کی دعوت پر عمل کرنے والے ہو؟

قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ؕ اِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ۰ وَاَنِيْبُوْا اِلٰى رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَهُ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ، وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ۙ اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ يٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُ فِيْ جَنْبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ ۙ اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ ۙ اَوْ تَقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ ۙ بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ ؕ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِيْنَ ۔ وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ ، لَا يَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ۔

(الزمر : ۵۳-۶۱)

(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفورٌ رحیم ہے پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے، افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ہوں بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا، یا کہے کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی

صفحہ ٢٧٨

ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔ یا عذاب دیکھ کر کہے کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں“

(اور اُس وقت اُسے یہ جواب ملے گا) کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آ چکی تھیں، پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبّر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم میں متکبّروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟

اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ان کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

(تفہیم القرآن)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :-

”اِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ، وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ“

(الانعام۔ ۳۶)

”دعوتِ حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں، رہے مُردے تو انہیں تو اللہ بس قبروں سے ہی اُٹھائے گا۔ اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے) واپس لائے جائیں گے“

١١١۔ اے مسئولین !

یہ ظاہر ہے کہ تم لوگ طاقت و عظمت کی اس حد کو نہیں پہنچے جس حد تک کہ تم سے پہلے فرعون پہنچا ہوا تھا اور تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، اور تم حساب کتاب اور سزا و جزا کے لیے اسی کی طرف لوٹنے والے ہو۔

اگر تم چاہو تو اللہ عز وجل کا یہ قول سُن لو :

وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ ۔ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ

صفحہ ۲۷۹

جَآءَكُمْ ط بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ ۔ وَقَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَا اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجْعَلَ لَهٗ اَنْدَادًا ط وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ط وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِىْ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ط هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ (سبا: ۳۱-۳۳)

”کاش تم دیکھو ان کا حال اس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہونگے۔ اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دینگے ”کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے۔“ وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے نہیں بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دینگے۔ کیا لوگوں کو اس کے سوا کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے انکے اعمال تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں گے؟“ (تفہیم القرآن)

پھر مومنین کی زبانی اللہ تعالیٰ کے اس قول پر کان دھرو :۔ يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا دَاعِىَ اللّٰهِ وَاٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْلَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ ۔ وَمَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِىَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِى الْاَرْضِ وَلَيْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَآءُ ط (الاحقاف : ۳۱-۳۲) ”اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اُس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا لیگا۔“ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ زمین میں کوئی بل بوتا نہیں رکھتا کہ اللہ کو زچ کرسکے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اسے بچالیں ۔“

اگر تم چاہو تو اُس جبار اور منتقم جل جلالہ کا یہ قول پڑھ لو :۔ وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط وَبَدَالَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ ۔ وَبَدَالَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ۔ (الزمر: ۴۷-۴۸) ”اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو اور اتنی ہی اور بھی تو یہ روزِ قیامت کے بُرے عذاب سے بچنے کے لیے

صفحہ ۲۸۰

سب کچھ فدیے میں دینے کو تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے ۔ وہاں اپنی کمائی کے سارے بُرے نتائج ان پر کھُل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلّط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں“ (تفہیم القرآن ۔ الزمر : ۴۷-۴۸)۔

اے مسئولین ! اے وہ لوگو جو غیر ما انزل اللہ کے ساتھ حکومت کر رہے ہو! کیا تمہارے خیال میں اس سے بھی بڑا کوئی ظلم ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک کرو؟ بے شک شرک بڑا ظلم ہے (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ) جب تم اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال کرو اور اُسے حرام قرار دو جسے اللہ نے حلال کیا ہے۔ اور اپنے آپ قانون بنا کر نافذ کرو جس کی اللہ نے تائید نہیں کی ہے اور لوگوں کو ظلم و جبر سے قتل کرو اور ان لوگوں کو قسم قسم کے عذاب دو جو کتاب اللہ پر عمل پیرا ہیں۔ اور تم بھی وہی کتاب پڑھتے ہو۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے؟ اس سے کیوں کام نہیں لیتے؟

اے مسئولین ! کیا تمہاری قساوتِ قلبی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں اور تمہارا کفر تاتار سے بھی بڑھ گیا ہے؟ جبکہ بعض تاتاری بادشاہوں نے اسلام قبول کیا اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے اور اپنے داغدار ماضی کو یکسر فراموش کر دیا اور اسلام کے غلبہ و برتری اور اسلامی ممالک کا دفاع کیا۔ کیا تم میں بھی کوئی ہے جو شرح صدر سے مافات کا انکار کرے اور آنیوالے دَور کے لیے تیاری کرے؟ پھر وہ اسلام اور اہل اسلام کی مدافعت کرے اور عمل کرنیوالوں میں اس کی دعوت پھیلائے؟

آخر میں اے مسئولین ! اس ہولناک مقام کو یاد کرو جس دن اللہ فرمائے گا : وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ ۔ (الصافات ۲۴-۲۶) اور ذرا انہیں ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھنا ہے کیا ہو گیا تمہیں اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ ارے ، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں! بے شک ہم نے انہیں اللہ و اسکے رسول کے نام سے ایمان کی جانب پلٹنے اور لوٹنے کی دعوت دی ہے کوئی ہے تم میں قبول کرنیوالا۔ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ... قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ لِكُلِّ نَبَا مُسْتَقَرٌّ وَ سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۔ (الانعام : ۶۵-۶۷) ــــــــــ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔

ــــــــ تمت بالخیر ــــــــ